Month: 2026 ستمبر
سورةالاعراف میں اسلامی انقلاب
مفتی تقی عثمانی سے سوال:قریبًا4-1|2سال قبل میں (محمود شوکت) ایک بیٹی عمر6ماہ کے ہمراہ سسرال میں تھا۔ گھر پنجاب میں ہے۔ کراچی میں اکثر مجھے گیس ٹریبل کی تکلیف ہوتی۔ معمولی بات پر چھوٹی سالی سے تکرار اور شدید غصے کے عالم میں اپنے مرض کی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہوئے نادانی میں تحریراً طلاق لکھ دی۔ یہ صرف سسر پر دباؤ ڈالنے کیلئے تھا۔ اسلئے طلاق کی تعداد کا کامل یقین نہیں کہ کتنی دفعہ دی۔ پھربیوی سے معافی مانگی اور اس نے معاف کردیا۔ بیوی اور بچی کو لیکر بھائی کے گھر گیا اور لیٹر (طلاق نامہ ) پھاڑ دیا۔واقعہ کے چوتھے روز میں خود مفتی شفیع صاحب مرحوم کی قیام گاہ پہنچا ، انہوں نے تعداد کے یقین کے بارے میں پوچھا ۔ میں خود بھی تعداد کے بارے میں یقین نہیں رکھتاتھا اور اسی دن اپنی بیوی اور بچی کو لیکر پنجاب چلا گیا۔
آج واقعے کو گزرے ساڑھے چار سال گرز چکے ہیں لیکن میرے سسر مطمئن نہیں ہورہے ہیں…
جواب: محمود شوکت و فرحت دونوں کو پوری احتیاط سے یاد کرنا چاہیے کہ کتنی طلاقیں تھیں؟…
مذکورہ صورت میں اگرچہ محمود اشرف کو اپنی بیوی کو رکھنے کا اختیار ہے مگر چونکہ حلال و حرام کا معاملہ نازک ہے ۔ بعض فقہاء ایسی صورت میں بھی تین طلاقوں کے وقوع کا فتویٰ دیتے ہیںلہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ وہ بہر صورت بیوی سے علیحدگی اختیار کرلے،اسکی عدت گزار کر بیوی کسی اور جگہ نکاح کرلے۔پھر دوسرا شوہر خود طلاق دیدے تو عدت کے بعد محمود اشرف بھی نکاح کرسکے گا۔
1: فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی…
2:عن علی:سمع النبیۖرجلا طلق البتة فغضب وقال:تتخذون اٰیات اللہ ھزوًااو دین اللہ ھزوًا اولعبًا؟ من طلق البتة الزمناہ ثلاثًا لا تحل لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ .وفی حدیث ابن عمرقال :قلت: یارسول اللہ ارأیت لو طلقتھا ثلاثًا :قال: اذا عصیت و بانت منک امرأتک (المغنی لابن قدامة )وقد اخرجہ البیھقی قصة طلاق حسن بن علی امرأتہ ثلثًا وفیہ حدیث مرفوع الی النبیۖ
3:قال ابن نجیم: شک انہ طلق واحدة او اکثر بنی علی الاقل کما ذکرہ اسیجابی الا ان یستیقن بالأکثراو یکون اکثر ظنہ علی خلافہ وان قال الزوج عزمت علی انہ ثلاث یترکہا(الاشباہ ولنظائرمجتابی،….)
4:و عن الامام الثانی اذا کان لایدری أثلاث ام اقل یحری وان استویا عمل بأشدذلک علیہ اشباہ عن البزاریة قال ط وعلی قول الثانی اقتصر قاضی خان ولعلہ لانہ یعمل بالاحتیاط خصوصًا فی باب الفروج اھ۔ قلت ویمکن حمل الاول علی القضاء والثانی علی الدیانة (شامی ج:2ص454)
ضروری وضاحت مفتی کو علم غیب نہیں…چونکہ معاملہ حلال و حرام کا ہے ۔اگر ذرا بھی گمان غالب تین طلاقوں کا ہو تو دونوں کا ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیںہے۔ اللہ سبحانہ اعلم ٨ا\٧|١٣٩٨ھ(فتویٰ نمبر ٨٠٥|٢٩ ب)فتاویٰ عثمانی جلددوم ص346
فتویٰ غلط اورجواب یہ کہ
یہ فتویٰ نہیں بدترین نوسربازی ہے۔گنجائش پر ”بہرصورت”حلالہ کا فتویٰ دیا۔فتویٰ فرضی نام پر دینا فرض ہے ۔فتویٰ اور فیصلہ میں یہ فرق ہوتا ہے۔
محمود اشرف اور اس کی بیوی فرحت کا نام سوال وجواب میں خود ہی دیا۔ساڑے چار سال میں اس کی اولاد ہوئی تو اس کا کیا بنے گا؟۔ مفتی تقی عثمانی کی ماں، بیوی اور بیٹی کا نام درج کرکے ایک عرصہ تک حرام کاری سے اولاد پیدا کرنے کا انکشاف کیا جائے تو اس پرکیا اثرات پڑ جائیں گے؟۔
البقرہ آیت228میں ہے کہ عدت میں باہمی رضا سے شوہر بیوی کو لوٹانے کا زیادہ حقدار ہے۔ درست رجوع تھا۔ پاکستانی قانون قرآن وسنت، مسلک حنفی کے مطابق ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن صدروفاق المدارس نے جنگ اخبارمیںلکھا کہ غصہ میں طلاق نہیں ہوتی اور اعراف آیت28میں حلالہ کے حوالہ سے آباء اور اللہ کے نام پر فحاشی کا عمل اور فتویٰ بالکل ناجائز ہے پھراحادیث و فقہ سے بالکل غلط استدلال لیا ہے۔
قل ھل عندکم من علمٍ فتخرجوہ لنا ان تتبعون الا الظن وان انتم الا تخرصونOقل فللہ الحجة البالغة فلوشاء لھدٰی کم اجمعینOقل ھلم شہداء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا فان شہدوا فلا تشھد معھم ولا تتبع اھواء الذین کذبوا باٰیٰتنا والذین لایؤمنون بالاخرة وھم بربھم یعدلوںOقل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئًا(الانعام:148تا151)
”(اور عنقریب کہیں گے جنہوں نے شریک کیا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شریک نہ کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کہتے ۔اسی طرح ان سے پہلوں نے بھی جھٹلایا یہاں تک ہمارا عذاب چکھ لیا) کہہ دو کہ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے لئے نکال لاؤ۔ تم نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور تم نہیں ہو مگر تخمینہ سے جھوٹ گھڑتے ہو۔ کہہ دو کہ اللہ کیلئے(لٹکانے والی نہیں) پہنچی ہوئی حجت ہے۔اور اگر اللہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دیدے۔ کہہ دو کہ اپنے گواہوں کو بھی یہاںکھینچ کر لاؤ۔پس اگروہ (ان جیسے جھوٹے) گواہی دیں تو ان کے ساتھ تم گواہی مت دو۔اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کروجو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اپنے رب سے انحراف کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ آؤ میں تلاوت کرتا ہوں جو اللہ نے تم پر حرام کیا ہے۔مگر یہ جو تم اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک کرو”۔
وبالوالدین احسنانًا ولاتقتلوا اولادکم من املاق ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منھا ومابطن ولاتقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ذٰلکم وصٰکم بہ لعلکم تعقلونOولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن حتٰی یبلغ اشدہ واوفوالکیل و المیزان بالقسط لا نکلف نفسًا الا وسعھا واذا قلتم فاعدلوا ولوکان ذا قربٰی و بعہد اللہ اوفوا ذٰلکم وصٰکم بہ لعلکم تذکرونO
”اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔اور اپنی اولاد کو قتل مت کرو مفلسی کے ڈرسے۔ ہم تم کو اور ان کو بھی روزی دیتے ہیں۔ اور فحاشی کے قریب مت جاؤ جو ظاہر میں یا باطن میں۔ اور کسی جان کو قتل مت کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ یہی ہے جس کی تمہیں تاکید کرتے ہیں شاید تم عقل سے کام لو اور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اچھائی کیلئے یہاں تک کہ وہ سمجھداری میں پختہ ہوجائے۔ اور ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ ہم کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ دار نہیں ٹھہراتے۔پس جب تم بات کرو تو عدل کرو، اگرچہ تمہارا قرابت دار ہو اور اللہ کے عہد پر پورا اترو۔ یہ تمہارے لئے تاکید ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو”۔ الانعام:151،152
ان آیات کے آئینہ میں مفتی تقی عثمانی اپنے فتوے اور اپنے کردار کو ذرا ملاحظہ کرے؟۔ قرآن کا فتویٰ ٹھوس ہوتا ہے اور خواتین کے بارے میں مذہبی طبقات بگاڑ کی جڑ رہے ہیں۔ خلفاء راشدین حضرت عمر اور حضرت علی نے خواتین کو حلالہ کے فتوے نہیں دئیے ہیں بلکہ حقوق کیلئے فیصلے دئیے ہیں۔
ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلٰی علیکم فی الکتٰب فی یتٰمی النساء الٰتی لا تؤتؤنھن ما کتب لھن وترغبون ان تنکحوھن والمستضعفین من الولدان وان تقوموا للیتٰمٰی بالقسط وما تفعلوا من خیرٍ فان اللہ بہ علیمO
” اور آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دو کہ اللہ انکے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو تم پر تلاوت کی جائے کتاب میں سے یتیم عورتوں کے بارے میں جن کو تم حق مہر نہیں دیتے ہو جو اللہ نے ان کیلئے لکھ دیا ہے اور تم رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرو اور جو کمزور ہیں بچوں میں سے۔ اور یہ کہ تم یتیموں کیلئے انصاف کیساتھ کھڑے ہوجاؤ۔ اور تم جو بھلائی کروتو بیشک اللہ اس کو جانتا ہے”۔ (سورہ النسائ:127)
ایک تو اللہ نے واضح کیا ہے کہ عورتوں کے بارے میں کوئی فتویٰ علماء و مفتیان کی صوابدید پر نہیں ہے بلکہ اللہ نے رجوع کی کافی وضاحتیں کردی ہیں۔ سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم کے علاوہ صرف عورت معروف طریقے سے راضی ہو تو حلالہ کی ضرورت نہیں۔ نبیۖ نے ام رکانہ کیلئے ابورکانہ کے ہاں سورہ طلاق کی آیت کی تلاوت سے رجوع کا فتویٰ دیا۔ ایک طویل عرصہ سے حلالہ کی شروعات یتیم عورتوں اور ان کے غریب بچوں سے ہوئی جن کو حق مہر بھی نہیں دیا جاتا تھا اور حلالہ سے پار کردیتے تھے۔ جب لوگ یتیم عورتوں کیلئے انصاف کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو پھر اس عذاب کو اشرافیہ پر بھی مسلط کردیا ہے۔ کاش مساجد اور مدارس میں قرآن کی درست تعلیم عام ہو۔
جب31مئی2007ء کو کرایہ کے دہشت گردوں نے ہم پر حملہ کرکے13افراد کو شہید کیا تو اسکے بعد مفتی تقی عثمانی نے ”حاجی عثمان کے پیروکار سے نکاح کا حکم فتاوی عثمانی جلد دوم صفحہ262پر کہ ”یہ دریافت کرنا کہ کرلیا جائے تو ہوجائے گا تو کیا ہوجائے گا یا نہیں؟۔سخت گناہ ہے۔بلکہ اس پر کفر کا اندیشہ ہے اسلئے کہ نفس پرستی کیلئے ارتکاب حرام میں شریعت کی تخفیف و توہین ہے ۔ … اس کے مریدین ومعقتدین کا کسی وقت بھی کفر تک پہنچ جانا کوئی بعید نہیں۔العیاذ باللہ ۔اسی حالت میں اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اولاد ولد الزنا۔ اللہ تعالیٰ اعلم عبدالرحیم الجواب صحیح رشیداحمدالجواب صحیح ولی حسن
جواب :۔ از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ
1:ہمیں اس بات سے اتفاق ہے کہ حاجی عثمان صاحب کے عقائد سے متعلق جو امور جواب میں بیان کئے گئے ہیں وہ گمرانہ عقائد ہیں۔ایسے گمراہانہ عقائد کے حامل کسی شخص سے یا اس کے کسی پیروکار سے نکاح جائز نہیں ہے۔
2:اگر نکاح کرہی لیا ہے تو خواہ وہ منعقد ہوجائے مگر سخت گناہ کا ہوگا۔ احقر محمد تقی عثمانی الجواب صحیح محمدرفیع عثمانی
یہ سوال جواب مفتی عبدالرحیم نے مرتب کئے۔
حال میں کہا کہ ”اگر میںوفاق المدارس کے نصاب کیخلاف کام کروں تو میں حرام کی اولاد ہوں ”۔ اس نصاب میں کفریہ چیزیں ہیں تو اس کے خلاف کام کرنا فرض بن جائے تو پھر یہ فتویٰ لگے گا؟۔ پھر سائل بھی خود ہے اور سوال کرنے والے پر فتویٰ لگادیاہے۔
شیعوں کو قادیانیوں سے زیادہ بڑا کافر3وجوہات کی بنیاد پر قرار دیا لیکن پھر وضاحت کردی کہ پہلے ہم نادان تھے۔
حاجی عثمان کے مرید مولانا اشفاق احمد فاضل دیوبند مقیم دارالعلوم کراچی نے بتایا کہ بیٹے نے کہا کہ پٹھان نے چیلنج کیا تو سبھی بھاگ گئے۔ مولانا عبدالحق فاضل دیوبند حاجی عثمان کے مرید خلیفہ مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کے استاذ بھی تھے لیکن وہ فتوؤں کے بعد آئے بھی نہیں اور پھر بھی مفتی تقی عثمانی نے ان کو نکلنے کا حکم دیا تو انہوں نے مفتی شفیع کی لکھی ہوئی تحریر دکھائی کہ تاحیات تمہیں گھر سے کوئی نکال نہیں سکتا۔
مفتی تقی عثمانی کے تین بچے7،7سال کے وقفہ سے ہیں جس میں کوئی برائی نہیں لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ حلالہ کا کاروبار موقع نہیں دیتا ہو؟۔ دوسروں پر حرام کاری اور بیگمات کا حلالہ کرنے کے فتوے دینے والے نے مولانا اشفاق احمد کو بیوی کو تسکین پہنچانے کیلئے تو نہیں رکھا؟ اسلئے کہ وہ خودرنڈوا تھے۔
خالدبن ولید کے والد ولید بن مغیرہ نے نبیۖ کیخلاف زعماء قریش کی نمائندگی میں تیزی دکھائی تو اللہ نے سورہ القلم میں تفصیل سے ذکرکیا اور اسکو ثم بعد ذٰلک زنیم ”پھر اسکے بعدوہ بد نسب ہے”۔ زنا کی اولاد کہنا غلط مگر حلالہ کی نسل ہوگا۔قریش و بنی اسرائیل کی نسبت ہے، زید بن ابیہ کا معروف والد تھا لیکن ماں نے ابوسفیان سے حلالہ کیا تھا تو اس نے بیٹے کی حیثیت سے اپنا نام نہیں دیا اسلئے46ھ میں امیر معاویہ نے اس کو اپنا بھائی زید بن ابی سفیان باقاعدہ طور پر قرار دیا۔
مفتی شفیع دیوبندی تھے مگر عثمانی نہیں تھے۔ اگر مفتی تقی عثمانی خود کو علامہ شبیراحمد عثمانی کی ناجائز اولاد قرار دیں تو مولانا ولی رازی مفتی شفیع کے مدرسہ سے بے دخل کرسکتے ہیںاور پھر اس کو اپنے باپ کی قبر پر مجاور بننا ہوگا لیکن یہ فائدہ ملے گا کہ نسلوں میں لڑکیاں بھاگ جائیں توولی کی اجازت کے بغیر شادی نہیں ہوسکے گی۔اس کی اکلوتی بیٹی کی ٹویٹر سے معاشقے کی خبر ذرائع نے دی تھی جس کا بتاؤں بھی تو مسئلہ نہیں کہ زبردستی روکا گیا تھا لیکن یہ حق عثمانی نسل کو پہنچتا ہے عجم ہندوستانی مولانا درخواستی، مولانا فضل الرحمن اور کسی عجم کے نسل کیلئے یہ سہولت نہیں ہے۔ دورجاہلیت کا حلالہ اور نسل کی اونچ نیچ کو اسلام نے ختم کیا لیکن حلالہ کے علاوہ نسلی تبدیلی کا جاہلیت سے بھی بڑا فائدہ ہے۔
حضرت عمر نے حلالہ کرنے ، کروانے پرسنگساری کا فرمایا۔
حجاج بن عتیک ثقفی نے ام جمیل کو تین طلاق دی تو زیاد بن ابیہ نے اپنا عیب چھپانے کیلئے حلالہ کرتے ہوئے مغیرہ ابن شعبہ کے ساتھ پکڑلیا اور ابوبکرہ، نافع اور شبل کو موقع پر کھڑا کردیا۔
سورہ القلم میں سرداران قریش کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ
ہم نے تمہیں باغ والوں کی طرح آزمائش میں ڈالا جو فصل نہیں لے سکے اور سورہ فتح میں ان کے مقابلے مسلمانوں کو کھیت سے تشبیہ دی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین دی ہے تاکہ آپ کا اگلا اور پچھلا بوجھ آپ سے اٹھادیں”۔
عربی میں ”وزر” گناہ اور بوجھ ۔سورہ الشرح میں علماء نے ترجمہ بوجھ کیا۔ سورہ فتح میں ذنب کا معنی گناہ اور دُم یعنی بوجھ ہے لیکن اس کا ترجمہ غلط ہے۔ سیاق وسباق میں گناہ نہیں بنتا۔
اللہ نے صلح حدیبیہ پرمسلمانوں کی کمزوری اور مجبوری کی نفی کی
ولولا رجال مؤمنون ونساء مؤمنٰت لم تعلموھم ان تطئوھم فتصیبکم منھم معرة بغیر علم
” اگر مؤمن مرد اور عورتیں وہاں موجود نہ ہوتے جن کا تمہیں علم نہیں کہ انکو تم کچلتے تو انکی طرف سے تمہیں بغیر علم کے داغ پہنچتا”۔
فقہ میں وطی جماع ۔ فتح مکہ ہواتو نبیۖ نے تین دن تک متعہ کی اجازت دی تھی۔ اگر مسلمانوں میں کوئی طلاق شدہ جوڑا حلالہ کی خواہش رکھتا اور بغیر علم کے ان کی طرف سے عورت کا حلالہ ہوجاتا تو اس کی وجہ سے مسلمانوں کو ”داغ ” پہنچتا۔ جیسے خالد بن ولید نے جب مالک بن نویرہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کی تو خالد بن ولید کے بارے میں حضرت عمر کی رائے سنگسار کرنے کی تھی اور حضرت ابوبکر کی درگزر کی اور اس وجہ سے کردار پر ایک تاریخ کے لحاظ سے داغ لگ گیا۔
لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذابًا الیمًا
” اللہ جس کو چاہے گا اپنی رحمت میں داخل کرے گا اگر حلالہ کی گندی زائل ہوجائے تو ہم کافروں کو دردناک عذاب دیں گے۔ (سورہ فتح آیت:25)
فتح مکہ کے بعد متعہ کی اجازت دی لیکن حلالہ کی لعنت سب سے زائل ہوگئی تھی۔جب عبداللہ زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے تو علی نے کہا کہ ”تم خود بھی متعہ سے پیدا ہوئے ہو”۔
”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائیگا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے”(حدیث)
دورجاہلیت میں ایک عورت10یا10سے کم افراد کیساتھ نکاح کرسکتی تھی اور ادنیٰ خاندان والے اعلیٰ خاندان والے سے اپنی عورتوں کا حمل کرواتے تو نسل بدلتی تھی۔ جیسے مفتی محمد شفیع دیوبندی علامہ شبیراحمد عثمانی سے کچھ اولاد جنوادے کہ عثمانی نسل کہلائیں۔ایک قسم یہ تھی کہ عورت جھنڈا لگاتی اور لاتعداد لوگ جماع کرتے۔ قیافہ شناس جس کا بچہ قرار دیتے تو بن جاتا اور10یا کم افراد کو لائن میں کھڑا کرتے۔ عورت جس کا بولتی تو بچہ اس کا بنتا ۔ حلالہ کیلئے کمزور مردانہ قوت والے کو تلاش کیا جاتا تاکہ عورت خوشی سے پہلے شوہر کے پاس واپس جائے۔
بخاری نے آیت و حدیث کو غلط جگہ لکھ کر حلالہ مسلط کیا ۔ بخاری کو خرتنگ میں دفن کیا گیا۔ یہود ی قبیلہ بنوقریظہ کے رفاعة القرظی،عبدالرحمن بن زبیر القرظی کاحلالہ کے سوا کردار نہیں تھا ۔ ایک عورت کیلئے نامرد اور دوسری کیلئے وہ مردانہ قوت والااور راوی اپنا بیٹا۔علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی نے حلالہ کیخلاف حنفی دلائل دئیے مگر فرقہ پرست بندری لڑائی کونوا قردةً خٰسئین ”بن جاؤ ذلیل بندر ” کے مصداق بن گئے۔تاریخ کا پہلا شیخ الحدیث مولانا زکریا اور تبلیغی کا حلالہ شیخ الحدیثوں کی بھرماربن گیا۔ ختم بخاری پریہ سہرے عورتوں کے حلالہ کیلئے سجتے ہیں ۔
مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں
لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم
تلاوت کرکے بتایا کہ”اللہ کسی کے چیخ کر بولنے کو پسند نہیں کرتا مگر جس کیساتھ ظلم ہواہو۔ تو اسکے چیخنے اور چلاکر بولنے کو پسند کرتا ہے”۔ اگرچہ ترجمہ غلط کیاہے ۔پالیمنٹ ریکارڈ درست کرے۔” اللہ کسی کا برائی سے تذکرہ پسند نہیں کرتا مگر جسکے ساتھ ظلم ہواہو”۔
ہمارا مقصد انتقام نہیں ہم صحابہ کی صفائی پیش کرتے ہیں۔ قرآن کی درست تفسیر، حدیث کی درست تشریح اور فقہ کے درست فتوے اور تاریخ کی درست تعبیر کرتے ہیں اور ہواؤں کا رخ مسلمانوں کی عزتوں کو بچانے کی طرف موڑتے ہیں۔
عن ابی سعید الخدری قال : سمعت رسول اللہ ۖ یقول ”ان منکم من یقاتل علیٰ تاویل القرآن کما قاتلت علی تنزیلہ قال ابوبکر : اناھو یا رسول اللہ؟ قال : لا، قال عمر: انا ھو یارسول اللہ؟ قال: لا، ولٰکن خاصف النعل، قال: وکان اعطیٰ علی نعلہ یخصفہ
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تم میں سے ایک ایسا شخص ہے جو قرآن کی تاویل کیلئے لڑے گا جس طرح میں نے اسکے نازل ہونے کی بنیاد پر لڑائی کی تھی۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں ہوں وہ یا رسول اللہ؟۔ فرمایا: جی نہیں۔ حضرت عمر نے کہا میں ہوں وہ یا رسول اللہ؟۔ فرمایا:جی نہیں بلکہ وہ جوتے گانٹھنے والا ہوگا۔ پس نبی ۖ نے اپنا جوتا علی کو گانٹھنے کیلئے دیا۔
(حدیث نمبر6937۔ صحیح بخاری ، کتاب مناقب صحابہ)
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تاؤیل کا کھانے کی آمد سے پہلے کا وعدہ کرکے اپنے جیل کے ساتھیوں سے کہا: ”اور میں اپنے آباء ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کرتا ہوں۔ہمارے لئے جائز نہیں کہ کسی کو اللہ کیساتھ شریک کریں۔یہ ہمارے اوپر اللہ کا فضل ہے اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اے میرے جیل کے ساتھیو کئی رب بہتر ہیں یا ایک واحد قہار ”۔ سورہ یوسف:38،39
کتاب ”امام ابوحنیفہ شہیداہل بیت” فاضل بنوری ٹاؤن۔ مفتی شفیع کو مفتی رفیع و مفتی تقی عثمانی نے نقصان پہنچایا ۔ بہنوئی جاہل یا شریک جرم ؟ ۔ شادی بیاہ کالفافہ سود اور70گناہ میں کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا اورسودی نظام کو جائز قرار دیا ۔
یا ایھا الذین اٰمنوااذا لقیتم فئةً فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرًا لعلکم تفلحونOواطیعوا اللہ ورسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم واصبروا ان اللہ مع الصابرینO (سورہ انفال آیات:45،46)
”اے ایمان والو!جب تم کسی گروہ سے لڑو ہو تو ثابت قدم رہو۔ اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اوراللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرواور آپس میں تنازعہ نہ کروتو تمہاری ہوا نکل جائے گی اور صبر کرو بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔
مولانا عبیداللہ سندھی سے مولانا انور شاہ کشمیری نے معافی مانگی اور اب دنیا مولانا سندھی کی بعض درست تفسیر کو قبول کرتی ہے لیکن مفتی تقی عثمانی نے اپنا دھندہ چلانے کیلئے اعتراف کرنا نہیں ہے اسلئے ہماری وضاحتیں بہت کارگر ہوں گی۔ انشاء اللہ
فوسوس لھما الشیطان لیبدی لھما ماوری عنھما من سواٰتھما و قال مانھٰکما ربکما عن ھذہ الشجرة الا ان تکونا ملکین او تکون من الخٰلدینOوقاسمھما انی لکما لمن النٰصحینO
” توشیطان نے دونوںکو وسوسہ ڈال دیا تاکہ ایکدوسرے کے سامنے ان کی شرمگاہیں کھولے اور کہا کہ تمہیں تمہارے رب نے منع نہیں کیا اس شجرہ سے مگر یہ کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جاؤ اور ہمیشہ کیلئے ہوجاؤ اور دونوں کو قسم کھائی کہ میں تمہارے لئے نصیحت والوں میں ہوں”۔(اعراف:20،21)
اس آیت کا مفہوم اور قرآن و حدیث اور فقہ کی تفہیم کیلئے ہم نے فرض کیا کہ مفتی شفیع دیوبندی منشی نے سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد کو تصویر کے جواز سے سرینڈر پر مجبور کیا۔ مفتی شفیع کے بچے زکی کیفی اور ولی رازی پیدا ہوگئے تو غصہ میں بیوی کو طلاق دی۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کی اولاد نہیں تھی اور حلالہ عام تھا۔ آیت کے تناظر میں شیطانی وسوسہ آیاکہ ہم فرشتے نہیں ۔اولاد سے ہمیشہ زندہ میرا حق ہے۔ حلالہ کیا توغڑم مفتی محمد رفیع عثمانی کو جنم دیا پھر علامہ شبیراحمد عثمانی نے طلاق دی ۔ اپنی کوئی اولاد تھی نہیں جمع پونجی بیٹے کیلئے اس کی ماں کو حوالہ کی اور ملنا جلنا بھی رکھا اور چند سالوں بعد پھر شیطان نے دونوں پر حملہ کیا اور میل ملاپ سے اللہ کی حدود کو توڑ دیا اور مفتی تقی عثمانی نے جنم لیا۔ البقرہ آیت229کا آخری حصہ تیسری طلاق کے بعد مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
بہت سمجھایا اور دنیا کو سمجھ میں آگیا لیکن مفتی تقی عثمانی سمجھنا نہیں چاہتا تھا لیکن اب اللہ نے اس کے دماغ کا بھیجا نکالنے کیلئے سورہ انبیاء کی آیت کو سمجھنا بھی آسان کردیا اور ولید بن مغیرہ کو سونڈ پر داغنے کی آیت بھی عوام کو سمجھنے کیلئے آسان اور بالکل تازہ ہوگئی ہے۔ ہم اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ فکر مت کرو جس نے تم پر تمہاری بیگمات اور اولاد پر حرامکاری ، ناجائز اور اولاد الزنا کے فتوے کتاب میں شائع کئے ہیں جب لوگوں کو پتہ چلے گاکہ ہم سے تو غلط حلالہ کروائے ہیں اور فتویٰ کی کتاب میں حلالہ اور حرام کی اولاد بنادیا ہے توبڑے بھائی مفتی رفیع عثمانی حلالہ اور چھوٹے میاں مفتی تقی عثمانی سبحان اللہ بالکل حرام کی اولاد لگتاہے لیکن حلال کا ہو توDNAاور شجرہ نسب کا ثبوت دینا ہوگا۔ مولانا ولی رازی واقعی بڑے تھے تو پھر سچ یہ ہے کہ مفتی رفیع کا جنازہ پڑھانا ان کا حق بنتا تھا ۔
اسلام دین فطرت میں حلالہ کی لعنت کا تصور نہیں ہوسکتا ۔ لیکن شیعہ اور سنی فرقوں کی بھینٹ چڑھ گیا اور آج تک سب اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ لیکن اب اس کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔ حلالہ بالکل ختم ہوگا اور یہود ونصاریٰ اور ملحد بھی اسلام کامعاشرتی نظام مانیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا کہ ”میں نے ساری زندگی ضائع کردی اور قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔اس قول کو مفتی شفیع نے1970سے پہلے اپنی تقاریراور البلاغ کے اندر اسلئے شائع کیا کہ سید مودودی نے قادیانیت کے خلاف کتاب لکھی تھی اور اس پر پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا تھا اور مفتی شفیع نے قادیانیوں کیلئے مولانا انورشاہ کشمیری کے قول سے رعایت دینے کی کوشش کی تھی۔ ان کے خلاف ایسے دلائل لکھے تھے جس سے قادیانیت کو فائدہ بھی پہنچ رہاتھا ۔
1970ء میں جنرل یحییٰ نے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر شفاف الیکشن کروایا تو جاگیرداری نظام کو خطرہ ہوا۔ جمعیت علماء اسلام پرکفر کا فتویٰ مفتی شفیع ، مفتی تقی ، مفتی رفیع دارالعلوم کراچی کے چوکیدارتک کے دستخط تھے توجمعیت علماء اسلام نے حلالہ کا معاملہ اٹھایا ۔ مولانا شبیراحمد عثمانی کے بھتیجے مفتی عتیق الرحمن عثمانی نے1972ء میں احمد آباد ہندوستان میں حلالہ ختم کرنے کیلئے سیمینار منعقد کیا جو کتابی شکل میں لاہور سے شائع ہوا ۔ زکی کیفی کا1975ء لاہور میں انتقال ہوا۔پہلے ہجرت نہیں کی اور پھر لاہور میں رہائش اختیار کی۔ مفتی تقی عثمانی کو رات گئے بلایا تھا ماں شریک بھائی جو تھا ۔مولانا اعظم طارق کو ماں شریک بھائی کبھی عیب نہیں لگا۔ یہ کیس الگ تھلگ ہے۔ علامہ شبیراحمد عثمانی نے جو زیورات دئیے تھے تو مفتی تقی عثمانی کے بیٹے نے شاید اسی کا تذکرہ میڈیا پر پہلی مرتبہ کیا جو بھارت کی سرحد پر آتے ہوئے چھن گیا تھا۔ قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ
یایھا الذین اٰمنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوًا لکم فاحذروھم وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمO(سورة التغابن آیت:14)
”اے ایمان والو! بیشک تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیںپس ان سے بچو۔ اور اگر معاف کرو اور درگزر کرو اوربخش دو تو بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔
مفتی شفیع کو مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی اور ان کی ماںنے کہا کہ کل علامہ شبیراحمد عثمانی کے ان دونوں بچوں کو دارالعلوم سے نکال باہر کرو گے اسلئے ذاتی مکان خرید کردئیے۔ مولانا رشید احمد لدھیانوی نے ناجائز قرار دیا تو سخت ترین پٹائی لگائی تھی۔
مفتی شفیع کو علامہ شبیراحمد عثمانی کی قبر کے پاس اسلامیہ کالج کی جگہ مدرسہ کیلئے مل رہی تھی لیکن ان کی بیوہ محترمہ پھول ماں نے وہاں مفتی شفیع کو مدرسہ نہیں بنانے دیا۔ حالانکہ ان کی اولاد یا کوئی رشتہ دار بھی نہیں تھے۔ شوہر کی قبر کے پاس مدرسہ بننے کی اجازت نہیں دینا بہت سارے حقائق کی بڑی غمازی کرتاہے۔ یہ لوگ1972ء تک پھول اماں کی وفات تک عثمانی لکھنے کی شایدجرأت بھی نہیں کرسکتے تھے۔ باپ کا نام تو وفات کے بعد عثمانی کردیا۔ چالاک پرندہ پھنستا نہیں جب پھنستا ہے تو دونوں پیروں سے پھنس جاتا ہے۔ اپنی حرکتیں چھوڑتے نہیں ہیں۔
مولانا رفیع عثمانی نے ایک پرواگرم میں کہا کہ میں نے نام کے ساتھ دیوبندی لکھا تو والد ماجد بہت غصہ ہوگئے کہ آئندہ یہ نہیں لکھنا۔ ایک دیوبندی عالم نے کہا کہ معارف القرآن جلد اول ابھی شائع ہوئی ہے۔ اس پر دیوبندی لکھا ہوا ہے لیکن اس نے جواب گول کردیا اسلئے کہ مفتی شفیع نے قرآن کا حکم دیکھا تھا کہ اپنے باپ کی طرف نسبت کرو۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کی بقاء کا سامان ہوگا ۔ حضرت زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے تو یہ بھی زیادہ دین کے خدمت گار اور معزز نہیں ہیں اور بیٹیاں بھی عجم کیساتھ بھاگیں گی یا کوئی جبری نکاح کرے گا تو پھر ولی کی اجازت کے بغیر یہ نہیں ہوسکے گا۔ مشرکین مکہ سے زیادہ فوائد ہیں اور اسلام کے نام پر ایک غلیظ شکل دیدی گئی ہے۔
یا بنی اٰدم خذوا زینتکم عند کل مسجدٍ و کلوا و اشربوا ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفینO
”اے بنی آدم ! اپنی زینت کا ہر مسجد کے سامنے مظاہرہ کرو اور کھاؤ ، پیئو اور اسراف مت کرو۔ بیشک وہ اصراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے”۔ (سورہ الااعراف:31)
عالمی خلافت کے قیام کیلئے پیش قدمی ہوگی توپھر اللہ تعالیٰ آداب سکھا رہاہے کہ خوبصورت کپڑے اور گاڑیاں، موبائل اور گھڑیاں وغیرہ کوئی چیز منع نہیں ہے حلالہ کی لعنت والے منحوس مساجد چھوڑ جائیں گے۔ انقلاب کی آمد آمد ہوگی تو خصوصی احکامات خوشی میں ہوتے ہیں۔
قل من حرم زینة اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق قل ھی للذین اٰمنوا فی الحیاة الدنیا خالصة ً یوم القیامة کذٰلک نفصل الاٰیات لقوم یعلمونO
”کہہ دو کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے استقبال کیلئے نکالی ہے اور پاک چیزیں رزق میں سے۔ کہہ دو کہ یہ ایمان والوں کیلئے ہیں اس دنیا کی زندگی میں خالص قیام (انقلاب) کے دن ۔ اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں سمجھدار قوم کیلئے”۔ (سورہ اعراف:32)
دنیا کی زندگی میں قیامت کیلئے خاص سے کیا مراد ہے؟۔ اس میں تضاد ثابت ہوگا کہ دنیا کی زندگی بھی ہے اور یہی پھر قیامت کے ساتھ بھی خاص ہے؟۔ اس سے دنیا کی قیامت ایک انقلاب کا دن مراد ہے جس کی قرآنی آیات اور احادیث میں بہت ساری پیش گوئیاں ہیں۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔
آیت کے اندر بالکل واضح ہے کہ انقلابیوں کا ہاروں کے ساتھ استقبال ہوگا۔ انعام واکرام ہوگا اور پاکیزہ چیزیں کھلائی جائیں گی۔ اور خاص طور پر فرمایا کہ
قل ھی للذین اٰمنوا فی الحیاة الدنیا خالصة ً یوم القیامة
‘ ‘ کہہ دو کہ یہ دنیا کی زندگی میں مؤمنوں کیلئے خالص اقامت کے دن ہے”۔
دنیا میں قیامت سے پہلے قیامت کی اس آیت میں بہت زبردست وضاحت ہے۔ ان اقامتوں کے قیام کا ذکر پہلے بھی سورہ کی آیات میں اور آخر میں پھر حضرت نو ح کے یوم عظیم کا انقلاب اور دیگر انبیاء اور انقلابات کا ذکر ہے۔
قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا و ما بطن والاثم والبغی بغیر الحق وان تشرکوا باللہ ما لم ینزل بہ سلطانًا وان تقولوا علی اللہ ما لاتعلمونO
”کہہ دو کہ بیشک میرے رب نے فواحش حلالہ کو حرام کیا جو اس میں کھلم کھلا ہو یا چھپ چھپاکر اور گناہ اور بغیر حق کے بغاوت کو اور یہ کہ تم شرک کرو اللہ کیساتھ جس کی کوئی دلیل نہیں اتری ہو اور اللہ پر وہ بات کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے”۔(اعراف:33)
اس آیت میں پھر حلالہ کی فحاشی سمیت سارے فواحش کے حوالے سے خاص تنبیہ کی گئی ہے لیکن دوسرے فواحش سے توبہ کی توفیق ملتی ہے اور حلالہ کی فحاشی کو مذہب سمجھا جاتا ہے۔
ولکل امةٍ اجل فاذا جاء اجلھم لا یستأخرون ساعةً و لا یستقدمونO
” اور ہر امت کیلئے ایک معیاد ہے پھر جب ان کا میعاد آجاتا ہے تو ایک لمحہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ آگے بڑھیںگے”۔ (سورہ اعراف:آیت34)
یہ اجل انفرادی اموات سے متعلق نہیں ۔ جیساکہ اس کا غلط ترجمہ کیا گیاہے بلکہ دنیا میں یہ اجتماعی تقدیر کا ”اجل” ہے ۔
حذیفہ یقول : بینا نخن جلوس عند عمر اذ قال : ایکم یحفظ قول النبیۖ فی الفتنة؟۔ قال : فتنة الرجل فی اہلہ و مالہ والدہ وجارہ تکفر ھا الصلوٰة و الصدقة والامر بالمعروف و نہی عن المنکر، قال : لیس عن ھذا اسألک ولکن التی تموج کموج البحر ، قال: لیس علیک منھا بأس یا امیر المؤمنین ان بینک و بینھا بابًا مغلقًا قال عمر ایکسر الباب ام یفتح قال: یکسر قال عمر: اذًا لایغلق ابدًا قلت: اجل ، قلنا لحذیفة : اکان عمر یعلم الباب قال : نعم کما یعلم ان دون غدٍ لیلةً وذلک انی حدثتہ حدیثًا لیس بالاغالیط فھبنا ان نسألہ من الباب فامرنا مسروقًا فسالہ فقال : من الباب قال عمر (صحیح البخاری:حدیث نمبر:7096)
” حذیفہ نے کہا کہ ہم عمر کے پاس تھے۔ پوچھا کہ تم میں سے کس کو فتنہ کے بارے میں نبیۖ کی حدیث یاد ہے؟۔ حذیفہ: انسان کا فتنہ اس کی بیوی ، اسکے مال، اسکے بچے اور پڑوسی کا معاملہ ہے جس کا کفارہ نماز، صدقہ ،مر بالمعروف و نہی عن المنکر کردیتا ہے۔ عمر : میں نے یہ نہیں پوچھا بلکہ اس فتنے کا پوچھتا ہوں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حذیفہ: امیر المؤمنین آپ پر اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسکے اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ عمر :وہ بند دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھول دیا جائے گا؟۔ کہا: توڑ دیا جائے گا۔عمر: پھر وہ بند نہیں ہوسکے گا۔ حذیفہ : اجل تک۔ حذیفہ سے پوچھا کہ حضرت عمر اس دروازے کے بارے میں جانتے تھے؟ فرمایا : ہاں! جس طرح میں جانتاہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے کوئی اغلاط سے غلط بات بیان نہیں کی ۔ ہمیں حذیفہ سے پوچھتے ہوئے ڈرلگا اسلئے مسروق سے پوچھنے کا کہا تو مسروق نے پوچھا کہ یہ دوازہ کون تھا۔حذیفہ نے کہا: عمر!۔
قال عمر: اذًا لایغلق ابدًا قلت: اجل حضرت عمر نے کہا: پھر تواس فتنے کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا؟۔ حذیفہ : میں نے کہا کہ اجل ۔ یہ اجل میعاد سورہ اعراف آیت:34میں ہے۔
وما تفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلمة سبقت من ربک الٰی اجل مسمًی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعد ھم لفی شکٍ منہ مریبٍOفلذٰلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھواء ھم وقل اٰمنت بما انزل اللہ من کتابٍ و امرت لاعدل بینکم اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا و لکم اعمالکم لا حجة بیننا و بینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیرOوالذین یحآجون فی اللہ من بعد مااستجیب لہ حجتھم داحضة عند ربھم و علیھم غضب و لھم عذاب شدیدOاللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان وما یدریک لعل الساعة قریبOشوری14تا17
” اور مذہبی طبقات الگ الگ نہیں ہوئے مگر جب ان کے پاس علم آیا آپس کی بغاوت کی وجہ سے۔ اگر تیرے رب نے پہلے سے ایک مقرر میعاد نہیں رکھی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور بیشک جن لوگوں کو کتاب کی وراثت دی گئی تو اس کے بعد وہ اس شک میں پڑگئے اس سے شبہ کی وجہ سے۔ تو اسلئے ان کو دعوت دیںاور سیدھے کھڑے رہیں جیسا آپ کو حکم دیا گیاہے۔کہہ دو کہ میں ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کیا ہے کتاب میں سے۔ (طلاق کے احکام نصاریٰ کے زعم سے مخالف اور حلالہ کی لعنت کے خلاف احکام مشرک و یہود کے زعم کے مخالف) اور مجھے حکم دیا گیا کہ تمہارے اندر انصاف کروں اللہ ہمارا بھی رب ہے تمہارا بھی۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال اور ہمارے اور تمہارے بیچ کوئی حجت بازی (مناظرہ سازی )نہیںہے ۔اللہ ہمیں جمع کرے گا اور اسی کی طرف ٹھکانہ ہے۔ اور جو اللہ کے حوالے سے جھگڑتے ہیں اس کے بعد کہ انہوں نے اس کی دعوت قبول کی ہے تو ان کی حجت ناقابل قبول ہے اپنے رب کے ہاں اور ان پر غضب ہے، ان کیلئے شدید عذاب ہے۔ اللہ نے کتاب نازل کی ہے حق کیساتھ اور میزان کو اور تجھے پتہ نہیں ہوسکتا کہ الساعة (یعنی دنیا میں میزان قائم کرنے کا) وقت قریب ہے”۔
مفتی تقی عثمانی نے سورہ شوریٰ آیت5کا لکھا کہ فرشتے اتنی کثرت سے عبادت کرتے ہیں کہ آسمان وزن سے پھٹ نہ جائے۔ حالانکہ اہل زمین پرکاروائی کی اجازت نہیں ملتی ہے۔
یا بنی اٰدم اما یأتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیاتی فمن اتقٰی واصلح فلا خوف علیھم و لاھم یحزنونO
”اے آدم کی اولاد اگر تم میں سے تمہارے پاس رسول آئے ہوں اور تمہیں میری آیات کے قصے سنائے ہوں تو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور اپنا عمل درست کیا تو اس پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے”۔ (اعراف:35)
یہ عالمی اسلامی انقلاب تاریخ کے سارے داغ دھولے گا۔ کسی پر مذہب کی زبردستی اور معمولی دباؤ کا بھی امکان نہ ہوگا۔ مسلمان حقیقی اسلام میں پورے پورے داخل ہوں گے، سبھی کو اپنے اپنے مذاہب کے حقیقی دین کو ان کے منہاج پر چلنے کے مواقع آئیںگے۔ یہود ونصاریٰ توراة و انجیل اور ہندو اپنے وید اور سکھ گرنتھ سب کو اپنے دین پر عمل کی مکمل آزادی ہوگی۔
والذین کذبوا باٰیاتنا و استکبروا عنھا اولٰئک اصحاب النار ھم فیھا خالدونO(اعراف:36)
”اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اس سے تکبر کیا یہ لوگ اصحاب جہنم ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے”۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو یہود ونصاریٰ کے مذہبی طبقات نے ماننے سے انکار کیا تھا۔ نصاریٰ طلاق کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور یہودی حلالہ کے پیچھے پڑے تھے۔ نصاریٰ نے طلاق کو عملی طور پر قبول کیا لیکن خلع وطلاق اور حلالہ کے مسائل میں اب مسلمان مذہبی طبقہ یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر چل رہاہے اور اہل حق میں ہر طبقہ نے حق کو قبول کیا ہے۔
فمن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا او کذب باٰیاتہ اولٰئک ینالھم نصیبھم من الکتاب حتٰی اذا جاء تھم رسلنا یتوفونھم قالوا این ما کنتم تدعون من دون اللہ قالوا ضلوا عنا و شھدوا علی انفسھم انھم کانوا کافرینO(سورہ اعراف:37)
”پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے۔ یا وہ اس کی آیات کو جھٹلائے۔ ان لوگوں کو لکھے ہوئے میں سے اپنا نصیب مل جائے گا یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کے پاس آئیں ان کا معاملہ پورا کرنے کیلئے کہیں کہ تم اللہ کے علاوہ کیوں بلاتے تھے۔ تویہ مجرم کہیں گے کہ آیات ہم سے گم تھے اور اپنے اوپر گواہی دیں گے کہ وہ آیات کے کافر تھے ”۔
مفتی تقی عثمانی اور جاویداحمد غامدی سے پوچھا جائے گا کہ حلالہ کی اللہ کی طر ف نسبت اور سود کے جواز کی خباثت تم نے کس لئے کی؟ ،اللہ کے علاوہ تمہارا آقا کون تھا؟۔ تو یہ مان بھی جائیں گے کہ آیات ہم سے بھٹک گئی تھیں اور ہم کافر تھے۔
قال ادخلوا فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النارکما دخلت امة لعنت اختھا حتی اذا ادارکوا فیھا جمیعًا قالت اخراھم لاولٰھم ربنا ھٰؤلاء اضلونا فاٰتھم عذابًا ضعفًا من النار قال لکلٍ ضعف ولکن لا تعلمونO(سورہ اعراف:38)
کہا:سابقہ امتوں میں تم داخل ہوجاؤ جو تم سے پہلے گزری دنیا وی عذاب والی جن وانس میں سے آگ میں۔ جب بھی کوئی جماعت اس میں داخل ہوتی ہے تو اس کی بہن اس پر لعنت کرتی ہے ۔یہاں تک کہ ساری مجرم مذہبی جماعتیں جمع ہوں گی۔ پچھلی جماعت پہلے والی کیلئے کہے گی کہ اے ہمارے رب یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تو ان کو دگنا عذاب دے۔ کہے گا کہ ہرایک دگنا ہے لیکن تم سمجھ نہیں رہے ہو ”۔
جب عذاب آتا ہے تو انسانوں کیساتھ جنات شیاطین بھی شکار ہوتے ہیں۔ سورہ رحمان اور سورہ ق وغیرہ میں زبردست وضاحتیں ہیں ۔ہم عملی شکل کا تھوڑا آئینہ دکھارہے ہیں۔
وقالت اولاھم لاخراھم فما کان لکم علینا من فضل فذوقوا العذاب بماکنتم تکسبونO
اور پہلی جماعت پچھلی سے کہے گی کہ تمہاری ہم پر کوئی بھی فضلیت نہیں ہے تم عذاب چکھو جو تم نے کمایا ہے۔ آیت39
مفتی زبیر رکن کی جماعت بولے کہ ہمیںبڑوں نے گمراہ کیا ان کو ڈبل عذاب دو تو مفتی تقی عثمانی کی جماعت کہے گی کہ ہم پر تمہاری کوئی فضیلت نہیں ہے تو نے جو کیاخود ہی بھگت لو۔
ان الذین کذبوا باٰیاتنا واستکبروا عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء ولا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذٰلک نجزی المجرمینO(سورہ اعراف آیت:40)
”بیشک جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اس سے تکبر کیا تو ان کیلئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلیں گے اور ان باغ میں داخل نہیں ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں”۔
لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواشٍ وکذٰلک نجزی الظالمینO( اعراف آیت:41)
”ان کیلئے جہنم کا جھولا ہوگا اور ان کے سرپر سائبان ہوگا اور ہم ظالموں کی اسی طرح سے بدلہ دیتے ہیں”۔
انڈسٹریل ایریا میں گھروں اور فیکٹریوں کے درمیان انکے لانے لے جانے کی گاڑیاں ہوں گی اور دھوپ سے بچانے کی بنیاد پر چھتیں ہوں گی تاکہ دلے وقت سے پہلے مرنہ جائیں ۔
والذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحات لانکلف نفسًا الا وسعھا اولٰئک اصحاب الجنة ھم فیھا خالدون
” اور جو لوگ ایمان اور درست اعمال والے ہیں ہم کسی انسان کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے مگر اس کی وسعت کے مطابق یہی لوگ باغ والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے”۔ (42)
اچھے لوگوں کا تعلق جس کیساتھ بھی ہوگا اور ایمان سب کیلئے اپنے اپنے دین کے مطابق معتبر ہوگا۔صالح درست اعمال کو کہتے ہیں۔ تہجد گزار کا تعلق ایمان کیساتھ ہے اور رشوت نہیں لینے والے کا تعلق درست اعمال کیساتھ ہے۔
ونزعنا ما فی صدورھم من غلٍ تجری من تحتھم الانھٰر وقالوا الحمد للہ الذی ھدٰنا لھٰذاوما کنا لنھتدی لولا ان ھدٰنا اللہ لقد جاء ت رسل ربنا بالحق ونودوا ان تلکم الجنة اورثتموھا بما کنتم تعملونO(اعراف:43)
”اور ہم ان کے سینوں سے کدورت کو نکال دیں گے بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں اور کہیں گے کہ الحمدللہ کہ اللہ نے ہمیں اس کیلئے ہدایت دی اور ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ بیشک ہمارے رب کے رسول حق کیساتھ آئے اور انہیں آواز دی جائے گی کہ وہ ہے تمہارا باغ جس کے وارث بنائے گئے ،بسبب تم جو عمل کرتے تھے ”۔
صحابہ کرام نے رسول اللہۖ کی صحبت سے اسلام قبول کیا اور پھر لڑائیاں ہوئی تھیں مگر اعلیٰ ظرفی تھی لیکن موجودہ دور میں اللہ اپنے فضل سے لوگوں کے دلوں سے کدورت نکالیں گے۔
ونادٰی اصحاب الجنة اصحاب النار ان قد وجدنا ماوعدنا ربنا حقًا فھل وجدتم ماوعدربکم حقًا قالوا نعم فاذن مؤذن بینھم ان لعنة اللہ علی الظالمینO
باغ والے آگ والوں سے کہیں گے کہ بیشک ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا وہ ہم نے حق پایا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا۔ کہیں گے کہ ہاںجی۔پھر اعلان کرنے والا ان کے درمیان اعلان کردے گا کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہو”۔ (اعراف:44)
یہ لعنتی حلالہ والے ہی پہلے نمبر کے ظالم ہوں گے۔ مفتی تقی عثمانی وغیرہ علماء کو حلالہ کے خلاف بیانات سے روکتے تھے۔
الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونھا عوجًا وھم بالاٰخرة کافرونO(سورہ اعراف:45)
”وہ لوگ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور ٹیڑھا پن تلاش کرتے تھے اور وہ آخر ت کے بالکل کافر تھے”۔
”اصحاب اعراف ” حکومت کے ملازمین کو قرار دیا ہے۔
تڑپ رہا ہے فلاطوں میان غیب و حضور
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
وبینھما حجاب و علی الاعراف رجال یعرفون کلًا بسیما ھم و نادوا اصحاب الجنة ان سلام علیکم لم ید خلوھا و ھم یطمعونOاعراف:46
”پھر دونوں کے درمیان پردہ ہوگااور معرفت کی گیلری پر وہ آدمی بیٹھے ہوں گے جو ہر ایک کو نشانی سے پہچانتے ہوں گے وہ باغ والوں سے کہیں گے کہ السلام علیکم! لیکن وہ خود باغ میں داخل نہیں ہوں گے اور حسرت ہوگی کہ وہ اس جگہ پر ہوتے”۔
یہ حکومتی اہلکار انٹیلی جنس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ اچھے اور برے دونوں طبقات کا ان کے پاس ریکارڈ ہوگا ۔
واذا صرفت ابصارھم تلقاء اصحاب النار قالوا ربنا لا تجعلنا مع القوم الظالمینOاعراف:47
”جب ان کی نگاہیں آگ والوں پر پڑیں گی تو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ظالم قوم کیساتھ مت بناؤ”۔
حکومتی کارندے کہیں گے کہ ہم بھی فرشتے نہیں ہیں لیکن دین کے نام پر جو عزتیں بچاتے تو ان کا جھوٹ سے فحاشی کو اللہ کا حکم قرار دینا اور سود میں اضافہ کرکے سود کو اسلام قرار دینا ۔
ونادٰی اصحاب الاعراف رجالًا یعرفونھم بسیماھم قالوا ما اغنٰی عنکم جمعکم وکنتم تستکبرونO(سورہ الاعراف:آیت:48)
”اور اصحاب اعراف (ایجنسی پہچان رکھنے والے) کچھ آدمیوں کو آواز دیں گے کہ تمہارا مال جمع کرنا تمہیں کام نہیں آیا؟ اور وہ جو تم تکبر کرتے تھے ؟”۔
مفتی محمود کوضدسے مفتی تقی عثمانی نے پان کھلادیا اور جب وہ بیہوش ہوکر نڈھال ہوگئے تو مفتی رفیع عثمانی نے حلق میں گولی ڈالی دی۔ نہ حکیم نہ ڈاکٹر اور نہ دل کا مریض تو گولی کہاں سے آئی؟۔ علامہ شبیراحمد عثمانی کو زہر کھلانے کا معاملہ مفتی تقی عثمانی نے فوج پر ڈالنے کی کوشش کی تو تحقیق کرنی چاہیے۔
اھٰؤلاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمةٍ ادخلوا الجنة لا خوف علیکم ولا انتم تحزنونO
”کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسم کھاتے تھے کہ اللہ ان سے رحمت کیساتھ نہیں ملے گا؟۔ داخل ہوجاؤ باغ میں تمہارے اوپر کوئی خوف ہوگا اور نہ تم غم کھاؤگے”۔ (49)
ایک طرف فوج، بیوروکریسی ، تاجروں، پڑھے لکھے طبقے ، مذہبی جماعتوں اور عوام الناس کی خواتین کی عزتیں حلالہ کے نام لوٹنے والے ہوں اور دوسری طرف بچانے والے۔ لوٹنے والے شیطان کے ساتھی بن کر جھوٹی قسمیں کھاچکے ہوں گے۔
ونادٰی اصحاب النار اصحاب الجنة ان افیضوا علینا من الماء او ممارزقکم اللہ قالوا ان اللہ حرمھما علی الکافرینO(سورہ الاعراف:50)
” اور آگ والے باغ والوں کو پکاریں گے کہ ہمیں جو اللہ نے تمہیں پانی اور کھانا دیا ہے اس کا فیض پہنچائیے۔ وہ کہیں گے کہ بیشک اللہ نے کافروں پر دونوں کو حرام کیا ہے”۔
کافر کے سینگ اور لمبی دم نہیں ہوتی ہے جو قرآن کے منکر ہیں وہی کافر ہیں ۔ حلالہ اور طلاق کوکھیل کود بنایا ہوا تھا۔
الذین اتخذوا دینھم لھوًا و لعبًا و غرتھم الحیاة الدنیا فالیوم ننساھم کما نسوا لقاء یومھم ھٰذا و ما کانواباٰیاتنا یجحدونO(سورہ اعراف:آیت51)
” جنہوں نے اپنے دین کو لغو بنادیا اور کھیل بنادیا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں رکھا۔پس آج ہم تمہیں بھلا دیتے ہیں جیسے آج کے دن کا جھگڑا تم نے بھلایا تھا۔ اور جو تم ہماری آیات کے بالکل آخری حد تک انکار کے مرتکب تھے”۔
ولقد جئناھم بکتاب فصلنٰہ علٰی علمٍ ھدًی و رحمةً لقومٍ یؤمنونO(سورہ اعراف آیت:52)
”اور تحقیق ہم انکے پاس کتاب لائے ہیں جس میں ہم نے ہدایت کے علم اور رحمت کو واضح کیا ہے مؤمن قوم کیلئے”۔
حلالہ کی لعنت سے تحفظ دینے کیلئے علوم ہدایت ابواب کے ابواب کھول دئیے ہیں اور اس کے آگے پیچھے اور خود اس آیت میں عزت کو تحفظ دینے کیلئے رحمت کا وہ بیانہ واضح کیا ہے۔
ھل ینظرون الا تأویلہ یوم یأتی تأویلہ یقول الذین نسوہ من قبل قدجاء ت رسل ربنا بالحق فھل لنا من شعفاء فیشفعوا لنا او نرد فنعمل غیرالذی کنا نعمل قد خسروا انفسھم وضل عنھم ما کانوا یفترونO(سورة الاعراف آیت:53)
” کیا یہ دیکھتے مگر صرف اس کی تاویل کو۔ اس دن اس کی تاویل آئے گی تو کہیں گے کہ ہم پہلے بھول گئے۔بیشک ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تو ہمارا کوئی سفارشی ہے جو ہماری سفارش کرے یا ہم واپس لوٹ جائیں تاکہ عمل کریں وہ جو نہیں کرتے تھے ۔بیشک انہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا۔ اور جوا فتراء کرتے تھے وہ چھوٹ گئیں”۔
حضرت علی نے قرآن کی تاویل حلالہ کے خلاف لڑائی لڑی تھی اور آج علی کا بیٹا اسی مشن پر اللہ کے فضل سے گامزن ہے۔
سورہ رحمان اور سورہ واقعہ میں دنیاوی باغات، ڈبہ پیک اشیاء ، ہائی بریڈ پھلوں اور قد کے برابر گاڑیوں کا ذکر ہے جب وہ سمجھ جائیں گے کہ قرآن کی آیات کی یہ تاویل تھی تودیکھتے ہی رہ جائیںگے۔ وہ کہیں گے کہ ہم یہ سمجھنا بھول گئے تھے۔
ان ربکم اللہ الذی خلق السمٰوات والارض فی ستة ایامٍ ثم استویٰ علی العرش یغشی اللیل النھار یطلبہ حثیثًا والشمس والقمر و النجوم مسخراتٍ بامرہ الا لہ الخلق والامر تبارک اللہ رب العالمینO
”بیشک تمہارا رب اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر سیدھا ہوا۔ رات سے دن کو ڈھانپا ہے تیزگام اور سورج ، چاند اور ستاروں کو مسخرکیا اپنے امر سے
بڑی برکت والا ہے تمام جہانوں کا رب”۔( اعراف:54)
ادعوا ربکم تضرعًا و خفیةً انہ لاحب المعتدینO
”اپنے رب کو عاجزی اور چپکے سے پکارو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے”۔(اعراف:55 )
ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا وادعوہ خوفًا و طمعًا ان رحمت اللہ قریب من المحسنینO
”اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت کرو اور اس کو پکارو خوف اور امید سے بیشک اللہ کی رحمت اچھائی کرنے والوں کے قریب ہے”۔ (سورہ اعراف:56)
پوری دنیا کے حکمرانوں کی پوٹی پچھاڑی میں پھنسی ہوئی ہے جو آزادنہ نقل و حرکت نہیں کرسکتے ۔ برسر اقتدار ہیں تو خوف کہ حملہ ہوگا اور چھوڑیں تب بھی خوف تو اس سے زیادہ بگاڑ تاریخ کے کس دور میں لوگوں نے دنیا میں دیکھا ہے؟۔ قرآن کی برکت سے کافروں کے دلوں سے وہ نفرت اور خوف ختم ہوگا۔
وھو الذی یرسل الریاح بشرًا بین یدی رحمتہ حتٰی اذا اقلت سحابًا ثقالًا سقناہ لبلدٍ میتٍ فانزلنا بہ الماء فاخرجنا بہ من کل الثمرات کذٰلک نخرج الموتٰی لعلکم تذکرونO(سورہ اعراف:57)
” اور وہ وہی ہے جو خوشخبری کی ہوائیں بھیج دیتا ہے جو اسکی دست قدرت سے اسکی رحمت ہے۔ یہاں تک کہ جب ہوا بھاری بادل کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس بادل کو مردہ شہر کی طرف لے آتے ہیں ،پس اسکے ذریعے پانی نازل کرتے ہیں تو اسکے ذریعے ہر قسم کے پھل اگا تے ہیں۔ اس سے ہم مرد ہ ضمیروں کو بھی نکالتے ہیں شاید کہ تم اس سے کچھ نصیحت حاصل کرو”۔
مردہ زمین کی آبیاری کیلئے قدرت وہ کرتی ہے جو مردہ ضمیر چلتی پھرتی لاشوں میں ہدایت کی ہوائیں بھی چلاتی ہے۔
والبلد الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ والذی خبث لا یخرج الا نکدًا کذٰلک نصرف الاٰیات لقوم یشکرونO(سورہ اعراف:58)
”اور جو شہر پاک ہے وہ اپنی پود نکالتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور جو خبیث ہے وہ نہیں نکالتامگر منحوس ۔ اسی طرح ہم شکر گزار قوم کیلئے آیات کو مختلف انداز میں پھیرتے رہتے ہیں”۔
مکہ پاک شہر تھا ۔ بدرمیں70، غزوات میں جو مارے گئے اور ابولہب سے زمین کی پاکی پر اثر نہیں پڑا ۔ مدینہ میں منافقین ویہود تھے۔ پاک سر زمین شاد وباد کی فضائیں آزمائش سے آلودہ ہیں لیکن یہ انشاء اللہ جلد از جلد معاملہ بدلے گا اور ظلم وجبر اور خناس کے تمام فسادات کا جڑوں سے خاتمہ ہوجائے گا۔ انقلاب کی آیات کا بلد طیب پاک ملک پر اختتام معنی خیزہے۔ پنجابی مولانا عبیداللہ سندھی اور خلیفہ غلام محمد بلوچ خانپور کی مضافاتی بستی دین پور کا فیضان انقلابی زمین کابڑا مرکزہے ۔
لقد ارسلنا نوحًا الی قومہ فقال یاقوم اعبدواللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ انی اخاف علیکم عذاب یومٍ عظیمٍO
”تحقیق ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجاتو کہا اے میری قوم!اللہ کی غلامی کرو تمیں کیا ہے کہ غیر کو معبود بنایا۔ بیشک میں تم پر عذاب عظیم کے دن سے ڈرتا ہوں”۔ (59)
سورہ اعراف میں پھر انبیاء کا ذکر ہے اور ان قوموں کا جن پر اچھے یا برے دنوں کا عذاب یا انعام آیا۔ مولوی اس کو قیامت پر ڈال دیتا ہے۔ خدا کا بندہ عذاب تو دنیا میں قوم نوح کو غرق کرگیا اور صرف کشتی والے بچ گئے۔ حلالہ والا بھی نہ بچا جو حقیقی بیٹا نہیں تھا اور حلالہ کا بیٹا ہونا اصل قصور نہیں تھا بلکہ اسکے کرتوت تھے۔
رسول اللہ ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا۔ سبھی ائمہ مجتہدین ائمہ اہل بیت کے قدردان تھے لیکن شاگردوں نے اپنے ائمہ کو چھوڑ دیا تو ائمہ اہل بیت کو کون پکڑتا؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
قرآن و حدیث ترمذی و بخاری
ترمذی کی شرح معارف السنن علامہ سیدیوسف بنوری نے لکھی ۔بخاری استاذ اور ترمذی شاگرد ہیں،ترمذی کی قرآن سے متعلق حدیث علماء دیوبند میں سب سے زیادہ اچھی فکر کے عالم دین مولانا سید محمد میاں نے خطبات مسنونہ میں نقل کی ہے۔
طلاق سے متعلق اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر قرآن سے رہنمائی لے گا تو منٹوں میں اس کا دماغ کھلے گا۔احادیث میں جتنا الجھاؤ ہے اور قرآن میں جتنی صفائی ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب ممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو ساتھ میں من گھڑت اور ضعیف اور الجھے ہوئے واقعات کی ایسی بھر مار کردی گئی کہ لوگ فرقہ فرقہ بن گئے ۔
طلاق پرقرآن کی سب واضح آیات البقرہ228ہے جس میں عدت کے تین ادوار کا تصور واضح ہے اور حمل کا بھی ذکر۔ پھر اس روڈ میپ کے اندر باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر وں کو اپنی عورتیں لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیاہے اور ساتھ میں واضح کیاہے کہ عورتوں کے مردوں کی طرح وہی معروف حقوق ہیں۔
سورہ الطلاق آیت4میں واضح ہے کہ جو عورتیں حیض سے ناامید ہوں اور عدت میں الجھن ہو یا حیض نہ آتا ہو تو3ماہ ہے اور حمل والوں کی عدت جب بچہ جننے تک ہے۔ بچے کی پیدائش بھی واضح ہے اور3مہینے کی عدت بھی واضح ہے۔ عورت دعویٰ کرے کہ حیض مہینے تین یا دو مہینے میں ایک تو یہ فضو ل ہے۔
پاکستان کے آئین ترمیمی بل1964میں طلاق کا معاملہ بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ جس میں حلالہ کی لعنت کو ختم کیا۔ باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش دے دی گئی ہے۔ یہ چیز پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ النساء آیت35میں ہے۔
قرآن میں کوئی چیزبالکل متصادم اور غیر واضح نہیں ہے مگر احادیث نے بہت غلط انداز میں وضاحتوں کو الجھا دیا ہے۔
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔ البقرہ آیت229
یہ آیت228کی بہت واضح تفسیر ہے ۔پہلی صورت وہی ہے کہ معروف یعنی باہمی اصلاح کی شرط پر صلح ہوسکتی ہے جس میں نہ جبر کا کوئی تصور ہے اور نہ قرآن کی واضح کردہ عدت کی۔ بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب التفسیر ہر جگہ رسول اللہ ۖ کی عبداللہ بن عمر کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3مراحل کے ساتھ ہے ۔ معروف رجوع کا معنی منکر رجوع نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں نیت نہیں تھی اور شہوت آگئی تو بھی رجوع ہے اور شافعی کے نزدیک نیت نہ تھی تو جماع بھی رجوع نہیں ہے۔
جیسے انکے باپ کے مال کی شریعت ہو؟۔ عورت راضی ہو تو یہ معروف رجوع ہے اور باہمی صلح کے بغیر رجوع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بغیر عورت کی رضامندی کے طلاق رجعی کا تصور ہی آیت228البقرہ کے حدود کو پاش پاش کردیتا ہے۔ عدت بھی بڑھ سکتی ہے اور عورت کی رضامندی بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہے۔ اکٹھی3طلاق کے بعدباہمی صلح کی رجوع پر پابندی بنوامیہ اور بنوعباس کے دلوں اوردلالوں کی عدالتیں نہیں رجواڑے تھے۔
قرآن نے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کی معروف شرط واضح کی ہے۔
اسے منکر میں بدلنا غلیظ ذہنیت کی انتہائی غلاظت ہے جس کے گند کیلئے احترام کا لفظ استعمال کرنا کفر ہے اور مجھے کسی سے عقیدت ہو مگر کفر کا ارتکاب بالکل نہیں کرسکتاہوں۔
لوگوں کی ماؤں ، بہنوں، بیویوں ، بیٹیوں ، بہوؤں اور دیگر خواتین کی عزتیں قرآن، اسلام، صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین اور علماء ومشائخ کے نام سے قرآن وسنت کے خلاف لٹ جائیں؟ اور ہم اس کو خندہ پیشانی سے احترام کے ساتھ برداشت کریں؟ یہ ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کو برداشت نہیںہے۔
حضرت عمر فاروق اعظم نے100فیصد درست فیصلہ کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر وہ کوئی فتویٰ نہیں فیصلہ تھا۔ فتویٰ اور فیصلے میں فرق ہے۔ فیصلہ تنازعہ میں ہوتا ہے اور فتویٰ مسئلے کی وضاحت کیلئے ہوتا ہے۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو البقرہ آیت228اور229کے اندر بالکل واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اکٹھی3طلاق ہی نہیں بلکہ ایک طلاق کے بعد بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ رجوع کو باہمی رضامندی ،اصلاح اور معروف کیساتھ مشروط کردیاہے۔
حضرت عمر سے سب سے پہلا اختلاف عبداللہ بن عمر نے کیا تھا اسلئے کہ وہ تین طلاق دے چکا تھا اور نبیۖ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور پھر عدت و طلاق کو ایکدوسرے سے لازم وملزوم قرار دینے کا تصور دیا تھا ۔ جیسے عدت ظرف ہے اور طلاق مظروف ہے۔ تین روزے تین دن کیساتھ ظرف اور مظروف کا تعلق رکھتے ہیں۔ دن ظرف اور روزہ مظروف ہے اور جس طرح رمضان کے مہینے میں دنوں کیساتھ روزوں کا تعلق ہے ویسے تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل کے ساتھ ہے۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ عدت کے بھی تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی اللہ نے فتویٰ کے اعتبار سے باہمی رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ رجوع میں رکاوٹ ڈالنے کے اوپر پابندی لگائی ہے جیسے سورہ البقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ عورت کسی اور سے عدت میں نکاح نہ کرنے کی پابند ہے۔ اگر اس کی ترجیحات خاور مانیکا کی جگہ عدت میں بھی عمران خان بن جائے تو خاور مانیکا عدت میں شوہر ہوکر بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدلیہ نے بعد میں جیسے کیسے بھی مگر ٹھیک دیا ہے اور جس نے پہلے فیصلہ دیا تھا کہ خاور مانیکا کا حق مجروح ہواہے وہ غلط تھا۔
قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عدت کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا شوہر کو حق ہے لیکن جب عورت راضی ہو تو بھی اسلئے شوہر کو رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو ضرر پہنچائے ۔ آیت231البقرہ میں وضاحت دیکھ لیں۔ پھر مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ قرآن کے تراجم تک میں تحریف کر ڈالتے ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آخری حد کردی کہ جب کافی عرصہ گزر چکا ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح سے مت روکو ، جب وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے کیلئے آپس میں باہمی رضامندی سے معروف طر یقے سے راضی ہوں۔ البقرہ232۔ بہت بہترین وضاحت ہے۔
آیت229میں دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ جب شوہر چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس میں طلاق شدہ عورتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ جس کا واضح مطلب عدت کے تیسرے مرحلہ میں عورت کے اپنے حقوق سے بھی احسان کرکے زیادہ حقوق دینے ہیں۔ سورہ النساء آیت19خلع کا عورت کاحق اور حقوق ہیں۔ حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ اور سورہ النساء آیت20میں طلاق اور عورت کے طلاق کے اندر خلع سے زیادہ حقوق ہیں۔ البقرہ آیت229میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پہلے یہ واضح ہے کہ کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے اور پھر اس صورت میں استثناء رکھا ہے کہ جب آپس میں رابطے اور حدود کے توڑنے یعنی جنسی بے راہ روی کا خدشہ ہو تو وہ چیز عورت قربان کرسکتی ہے اور اس میں بنیادی شرط فیصلہ کرنے والے کے کردار کا بھی ہے۔ جب وہ بھی یہی سمجھیں۔ پھر جب عورت وہ چیز واپس کردے تو کنفرم ہوجاتا ہے کہ اس نے اب رجوع نہیں کرناہے اور جب یہ کنفرم ہو کہ اس نے رجوع نہیں کرنا ہے تو آیت230کا حکم ہے جس کا مقصد حلالہ کی کوئی سزا نہیں بلکہ عورت کو مکمل آزادی دینی ہے جو بالکل واضح ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
قرآن و حدیث کے آئینہ میںپاکستان کے روشن مستقبل اور دنیا میں انقلاب عظیم کی خبر ؟
سنن ترمذی حدیث:2906
باب:قرآن کی فضلیت ۔کتاب: فضائل القرآن عن نبیۖ
حدثنا عبد بن حمید، حدثنا حسین بن علی الجعفی،قال سمعت حمزة الزیات ، عن ابی المختار الطائی ،عن ابی اخی الحارث الاعوار ،عن الحارث قال:مررت فی المسجد فاذاالناس یخوضون فی الاحادیث فدخلت علی علی فقلت: یا امیر المؤمنین،الا تری ان الناس قدخاضوا فی الاحادیث ؟ قال: وقد فعلوہا، قلت: نعم، قال: اماانی قد سمعت رسول اللہ ۖ یقول: الاانھا ستکون فتنة فقلت: مالمخرج منھا یا رسول اللہ ؟ ،قال : کتاب اللہ فیہ نبأ ماکان قبکم وخبر مابعدکم وحکم ما بینکم وھو الفصل لیس بالھزل ،من ترکہ من جبارٍ قصمہ اللہ ومن ابتتغی الھدی فی غیرہ اضلہ اللہ و ھو حبل اللہ المتین وھوالکذکر الحکیم،وھوالصراط المستقیم ،وھو الذی لایزیع بہ الاھواء ولاتلبس بہ الالسنة ولا یشبع منہ العلماء ولا یخلق علی کثرالردولا تنقضی عجابہ ،وھو الذی لم تنتہ الجن اذسمعتہ حتی قالوا: انا سمعنا قرء انًا عجبًا ھدی الی الرشد سورة الجن آیة1،2من قال بہ صدق ومن عمل بہ اجر ومن حکم بہ عدل و من دعا الیہ ھدی الی صراط مستقیمٍ خذھا یا اعور
ترجمہ: حارث اعور نے کہا کہ میں مسجد میں گیا توکیا دیکھتا ہوں کہ لوگ احادیث میں مشغول تھے میں حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین !کیا آپ نہیں دیکھتے (آپ کی کیا رائے ہے) کہ لوگ احادیث میں غور وخوض کررہے ہیں؟۔ فرمایاکہ کیا وہ اسکے مرتکب ہوچکے ہیں؟۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: بیشک میں نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے : آپ ۖفرماتے ہیں: خبردار ! عنقریب فتنہ ہوگا، میں نے عرض کیا: ”اس سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ یارسول اللہ ؟۔ آپ ۖ نے فرمایا: اللہ کی کتاب، اس میں خبریں جو تم سے پہلے لوگ گزر گئے اور اس میں پیش گوئیاں ہیں جو تم سے بعد آنے والے ہیں اور حکم ہے جو تمہارے درمیان میں ہے اور وہ ایک فیصلہ کن معاملہ ہے حق اور باطل کے درمیان کوئی مذاق نہیں ہے۔ کسی جابر حکمران کی طرف سے اس کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ اس کو توڑ کر رکھ دے گا،اور جس نے اسکے علاوہ کہیں دوسری چیز میں ہدایت کو تلاش کیا تو اللہ اس کو گمراہ کردے گا۔اور وہ اللہ کی رسی ہے مضبوط۔وہ حکمت سے بھرپور نصیحت ہے اور وہ سیدھی راہ ہے۔ اور وہ وہ ہے جس کو لوگوں کی خواہشات ادھر ادھر موڑنے کی صلاحیت قطعاً بھی نہیں رکھتی ہیں۔ باطل اس کے الفاظ کو اپنے رنگ میں نہیں ڈھال سکتا ہے۔ اور نہ اس میں زبانوں کا بس چلتا ہے کہ کوئی اشکال پیدا کریں۔ اوراس کی علمی وسعت سے علماء کبھی بھر نہیں سکتے۔ اور اس کی تردید میں کتنی کثرت کیساتھ ایڑی چوٹی کا زورلگایا جائے لیکن اس سے اس کی تخلیق میںاپنی مرضی کا کلام مرتب کرنے کی کوئی ساز ش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور اسکے عجائب کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتے ہیں یعنی زمانوں کے عروج سے اس کا آئینہ مزید وسعتوں کے ساتھ سمجھ میں آتا رہے گا لیکن اس پر تعجب والی کیفیات کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ وہ ہے کہ جب جنات نے اس کو سنایہاں تک کہا کہ ”ہم نے عجب قرآن سنا جو بھلائی کا رستہ دکھاتاہے”۔ سورہ جن آیت1،2۔ جس نے اس کے ذریعے کہا اس نے سچ بولا۔ جس نے اس پر عمل کیا اس کو اجر مل گیا۔ جس نے اس پر فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔اس کو مضبوط پکڑو یا اعور!
( خطبات مسنونہ :مولانا سیدمحمد میاں برائے جمعہ)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
3باتین یاد رکھو!
1:بنوامیہ کاکردارایک سا نہیں
الف:سیدنا عثمان غنی خلیفہ راشد سوم ذوالنورین۔
ب:ابوسفیان ، امیر معاویہ ، یزیداور معایہ بن یزید۔ ج: مروان بن حکم ،عبدالملک بن مروان اینڈ کمپنی!
بدتمیز ضحاک نے کہا:حج و عمرہ کا احرام باندھنے والا جاہل ہے۔سعد بن ابی وقاص نے کہا : ”یہ نہ کہو نبیۖ کو میں نے باندھتے دیکھا ہے”۔
عمران بن حصین نے52ھ میں بصرہ کے اندر انتقال فرمایا، صحیح مسلم کی احادیث دیکھ لیں۔ بعض نبیۖ کی حرمت ، صحابہ کی عظمت ، احادیث کی کا احساس نہیں رکھتے ۔ حلالہ کی لعنت سے پھڑکتی رگوں کی پیدوارہیں لیکن ہم انشاء اللہ ان کی دکانیں بند کریں گے ۔ صحابہ کرام ہادی فاتح عالم تھے ۔
بنو زرقاء بنومروان نے حجاج جیسوں کو مسلط کیا، جبراً حلالہ عمر کے سر پر ڈالا اور علی کے جہنمی کہنے کی سعید بن جبیر جیسے پر کوشش کی اور شہید کردیا۔ مگر حضرت عمربن عبدالعزیز نے عمدہ کردار ادا کیا تھا۔
2:ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
امام ابوحنیفہ نے حلالہ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے اصول وضع کیا تھا کہ خبر واحد کی حدیث کو قرآن کے واضح حکم کے خلاف رد کرو مگر ملا جیون جیسے علماء نے میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں نزلہ ولی کی بغیر اجازت والی احادیث پر گرا دیا ہے۔
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنون نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
3:حرمت مصاہرت کے مسائل
من نساء کم الٰتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم
”اورتمہا ری بیویوں سے جن میں تم نے ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ”۔
حرمت مصاہرت کیلئے منکوحہ میں دخول کی شرط سے غلیظ ترین مسائل کوچھڑا ؤ۔ بچہ پیدا ہونے پر بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے اصولی طور پر حرام اور ضرورتاً جائز قرار دیا ۔ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے کو عذر اور اندورونی پر نظر پڑگئی توبیوی پھر حرام ہوگئی۔بیٹی ، بہو، ماں ، بہن اور بھانجی بھتیجی کسی محرم کو ہاتھ لگا اور شہوت آگئی تو پھر اگر خارج کردیا تو حرمت مصاہرت نہیں ہوگی اور نہیں کیا تو ہوگی؟۔
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدم جواں ہیں لات و منات
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ــــــــــ
قتل کا ذمہ دارکون؟ الٹی گنگا بہانے سےمسائل حل ہونگے؟
کراچی دعا زہرا کیس پہلے بڑا مشہورہواتھا اور پاکستان کی سطح پر ہلچل تھی۔ سندھی فاطمہ زہرا قتل اور اکبر علی انصاری کورٹ میرج واقعہ گلشن حدید کراچی میں پیش آیا۔ قتل قبائلی معاملہ ہے تو قرآن کی تفسیر ، حدیث کی تشریح کا بھی عمل دخل ہے اوراگرعوام کو معقول طریقے سے آگاہی مل جائے تو مسائل کا زبردست حل نکلے گا۔
وانکحوا الایامٰی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO
”اور جو تم میں طلاق شدہ وبیوہ ہوں ان کے نکاح کراؤ اور اپنے درست غلاموں کے اور اپنی لونڈیوں کے اگر وہ غریب ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے امیر کردے گا اور بہت وسعت والا علم والا ہے”۔ (سورہ نور:آیت32)
عربی میں ایامٰی بیوہ وطلاق شدہ کو کہتے ہیںاور حدیث میںآیا ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ سے اجازت کا باقاعدہ اظہار کرنے کے بعد اس کا نکاح کراؤ۔ کنواری کی خاموشی لیکن رضامندی ضروری ہے ۔
من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل
”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔(حدیث :اصول فقہ)
جمہور کے ہاں عورت کنواری ہو یا طلاق شدہ و بیوہ نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ حنفی مسلک میں عورت آزاد ہے اور قرآن نے اس کواپنے نکاح میں خود مختار بنایا ہے۔
آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ (البقرہ:230) میں عورت کو نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔ مسلک حنفی میں جو حدیث خبرواحد قرآن سے ٹکرائے تو وہ ناقابل عمل ہے۔
قرآن و حدیث کی تطبیق ہے۔ آیت سے مراد طلاق شدہ ہے ۔ جبکہ حدیث سے کنواری ہے۔
ولاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الحیاة الدنیا و من یکرھھن فان اللہ بعد اکراھھن غفور رحیمO
”اور اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور مت کرواگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔تاکہ تم اس کے ذریعے اپنی دنیاوی زندگی کی وجاہت چاہو۔ اور جو لڑکی مجبور کی گئی تو اللہ اس کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے”۔ (النور:33)
اس آیت سے لونڈی مراد لی گئی کہ جبراً بدکاری پر مجبور مت کروجب وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہو۔
حالانکہ کنواری لڑکیوں کے حوالے سے رہنمائی ہے جومستقبل اور سب کچھ بالکل داؤ پر لگاتی ہیں۔
مولانا احمد رضا خان بریلوی، مولانا رشیداحمد گنگوہی ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن ، مفتی عزیزالرحمن عثمانی ، مولانا برساتی کا غلط فتویٰ اور اس پر گرفت۔
فتاویٰ رشیدیہ: اختلافی مسئلہ
غیر کفو میں نکاح ہو تو فسخ کا مسئلہ
سوال:زید ایک شخص اجنبی کے مکان پر رہتا تھا عمرو نے وارثانِ ہندہ کو بہکا کر اور دھوکہ دیکر زید کو نسب سید بتلایا اور نکاح کرا دیا بعد چند مدت کے معلوم ہوا کہ زید سید نہیں ہے نورباف ہے اب وارثانِ ہندہ کو شرم و حیا معلوم ہوتی ہے کہ بہت اہانت ہے کیونکہ سید اور نورباف کا نکاح نہایت عار کی بات ہے لہٰذا شرع کے مطابق وارثانِ ہندہ کو فسخ کرنا فی زمانہ جائز ہے یا نہیں دیگر زید بعدِ ظاہر ہونے کفو کے وہاں سے چلا گیا وقتِ رخصت زوجہ سے کہا کہ میں اس گھر میں ونیز قریہ میں تا حیات نہیں آؤں گا اور قسم بھی کھائی اور بعد کو ایک خط بھی اسی مضمون سے لکھا اب اس کا کیا حکم ہے۔
جواب: صورِ مذکورہ میں ہندہ کو اور اولیاء ہندہ کو اختیارِ فسخ ہے۔ کما فی العالمکیریة ولو انتسب الزوج لہا…
(٢)زید کا قسم کھانا مستلزمِ ایلاء نہیں ہے ۔ کمافی االدر…
(٣) اس زمانہ میں اگرچہ قاضی نہیں ہے جبھی شہر کے مفتی سے حکم لیکر فسخ کر سکتا ہے کیونکہ قائم مقامِ قاضی کا مفتی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ محمد عبد الرحمن برسانی تعقبہ بعضہم وہو مندرج فی الذیل
(٤)ایضا صورتِ مستفسرہ میں وہ سرے سے خود ہی نہ ہوا سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کیلئے کفائت شرطِ نکاح ہے یا ولیِ اقرب پیش از عقد عدمِ کفائت پر اپنی رضا ظاہر کر دے بعدِ عقد راضی ہونا بھی نفع نہیں دیتا والمختار…
(١)یہاں جب کہ وہ کفو نہیں اور ولی کو دھوکا دیا گیا دونوں امر سے کچھ متحقق نہیں ہوا تو نکاح باطل محض رہا بعدِ ظہورِ حال زید کے قسم و تحریر سب مہمل ہے جس پر ہندہ کیلئے کوئی مرتب نہیں ہو سکتا واللہ تعالی اعلم۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمدن المصطفے النبی الامی ۖ
فتنازعوا بینہم فرجعوا الی علمائنا خصوصا الی شیخنا الاجل امام الفقہا فی عصرہ المولانا رشید احمد سلمہ اللہ تعالیٰ فاجاب باحسن التفصیل وہو ہذا
(٢)صورتِ مندرجہ ذیل مسئلہ ہذا میں اولیا کو حقِ فسخِ نکاح ہے اور وہ کسی حاکم یا قاضی مسلمان سے رجوع کریں کہ وہ فسخ کرے مفتی کو حنفیہ کے نزدیک بغیر تحکیمِ طرفین اختیارِ فسخ نہیں ہے واللہ تعالی اعلم کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ الجواب صحیح۔الٰہی عاقبت محمود گرداء محمود عفی عنہ ۔ الجواب صحیح ۔محمد منفعت علی۔بندہ مدرسِ اول مدرسہ عالیہ عربیہ دیوبند و توکل علی العزیز الرحمن ،جوابِ مجیبِ اول صحیح ہے اولیا ء کو اختیارِ فسخِ نکاح ہے۔ فقط۔ واللہ تعالی اعلم۔ عزیز الرحمن عفی عنہ دیوبند
فتویٰ غلط اور جواب یہ کہ
البقرہ آیت226:ایلاء میں4ماہ کی عدت۔ نبیۖ کے29دن میں ایلاء سے رجوع پر اللہ نے ازواج پر علیحدگی کا اختیار واضح کرنے کافرمایا ۔ (صحیح بخاری) نکاح نہ ہو تو بدکاری ؟۔ نکاح ہوا ۔ ہاتھ لگایا تو پورا حق مہر قرآن واضح کرتا ہے۔ عورت بیچنے والا پٹھان اور عرب قرآن نہیں سمجھتااور نہ جہیز وصول کرنے والا ہندو نسل ،عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے ۔ مہربانی کرکے فیکٹریوں پراپنا رزق کمائیں۔
قرآن وسنت کیخلاف متضاد اور غلط فتوؤںنے مسلمان قوم کا ستیاناس کردیاہے ۔
نمبر1:سورہ النساء آیت19میں خلع کا حق عورت کو ملا اور مالی حقوق کا تحفظ بھی اورسورہ النساء آیت20میں مرد کو طلاق کا حق اور اس میں عورت کے خلع کے مقابلے میں زیادہ حقوق ۔
قرآن چھوڑ کر عورت سے خلع کا حق چھینا۔ حدیث صحیح میں اسکی عدت ایک ماہ ہے تو انگریز دور میں ایک عورت عیسائی بن گئی کہ شوہر گم ہے اور80سال تک انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر علماء مفتیان نے فقہ حنفی سے فقہی مالکی میں چھلانگ لگائی اور انتظار کی مدت4سال کردی۔ یہ کاکروچ80سے4سال کی کھائی میں ڈوب مرنے کے بجائے زندہ ہیں ،کمال کا پڑتال ہے؟۔
دیوبندی بریلوی دلے بغیر ولی کی اجازت احادیث صحیحہ کو قرآن سے متصام قرار دیکر نہیں مانتے ہیں تو کفوء کا مسئلہ ان کی پچھاڑیوں کی پھڑک کا نتیجہ ہے؟یاپھر کہاں سے برآمد ہوا؟۔ یہ طالب صابر شاہ ، حافظ حاشراور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ضمیرنہیں رکھتے یا آخر بے ایمان سمجھتے کچھ نہیں ہیں ؟۔
ہندوستان میں ایک عورت عیسائی بن گئی تو مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کو گالیاں دیکر حیلہ ناجزہ شرمناک کتاب لکھ ڈالی اور موجودہ دور میں بہت بڑے پیمانے پر جوان طبقے کا بھی ارتداد جاری ہے اور یہ خود کو بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے میں لگے ہوئے ہیں جن کی بہت کھل کر ترید کی ضرورت ہے۔
پھر لکھ دیا کہ شوہر نے تین طلاق دی اور پھر مکر گیا تو عورت خلع لے اور نہیں ملے تو حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں لے ورنہ گناہ گار ہوگی؟۔ یہ اپنی ماؤں نے دلوں کو بتایا ہوگا کہ تین طلاق ہوگئی ہے لیکن باپ کی لذتیں نہیں اٹھارہی ہیں؟۔ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی ماں کو گالی مت دو۔ عرض ہوا کہ اپنی ماں کو کون گالی دے گا یارسول اللہ (ۖ) فرمایا : دوسروں کی ماں کو گالی دوگے تو تمہاری ماں کو گالیاں پڑیںگی۔ علماء فتویٰ اور کتابوں میں حرام کاری اور اولادلزنا کے شرعی فتوے لگارہے ہیں؟۔ رسول اللہۖ نے حضرت علی کی بہن ام ہانی کے اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہنے پر حرام کاری اور اولاد الزنا کا فتویٰ نہیں لگایا ۔ کن چوڑوں چماروں نے دین پر قبضہ جما دیا؟۔
اگر طاقتور کمزور سے بیوی چھین لے تو امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ حلال ہے لیکن جب عورت سے خلع کا حق چھین لیا جائے تو اس کا بھاگ جانا کیوں حرام ہے؟۔ جب ولی خاندانی تفوق کی وجہ سے لڑکی کو اپنی مرضی سے بغاوت پر مجبور کرتا ہے اور اس کو اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو اس پر حرامکاری کے فتوے کیوں؟۔ حال ہی میں کھوکھر برادری کی19سالہ مہوش نے شادی میں رکاوٹ پر55سالہ عاشق خالد چوہاں کیساتھ مل کر ٹارگٹ کلر سے اپنے والد کو قتل کروادیا ہے۔ مذہبی طبقات قرآن کو سمجھتے نہیں تو تبلیغ کیسے پھر مؤثر ہوگی؟۔ قرآن کا درس کوئی صوفیانہ ریاضت نہیں بلکہ دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایک سکھ سندھی مسلمان ہوتا ہے تو اس کو بھی انقلابی بننے پر فتوؤں کا نشانہ بنادیتے ہیں۔
ہمارے ہاں مزارع جٹ خاندان کے عبداللہ جان کیساتھ ایک مولوی کی بچے دار بیوی کمترہ (کبوتری)بھاگ کر آئی تھی، مولوی شاید اس سے قتل کی دھمکی پر پیسہ وصول کرنا چاہتا ہوگا۔
علی شاطئی الوادی نظرت حمامة
اطالت علیّ حسرتی و تندمی
”میں نے وادی کے کنارے پر ایک کبوتری دیکھی جس نے مجھ پر میری حسرت اور ندامت کی زندگی طویل کردی ”۔
یہ عربی اشعار یزید بن معاویہ کے مشہور قصیدہ کے ہیں جس نے عراق کے گورنر عبداللہ بن سلام کی بیوی ارینب بنت اسحاق کو دیکھا اور اس کے شوہر سے طلاق دلوائی لیکن اس نے امام حسین سے شادی کی اور امام حسین نے پھر دونوں کی آپس میں محبت دیکھ کر طلاق دی اور عبداللہ بن سلام نے پھر شادی کی اور یزید کی حسرت اس کے دل میں رہ گئی اوریہ قصیدہ مشہورہے۔
اصابک عشق ام رمیت باسھم
فما ھذہ الاسجیة مغرم
خذوا بدمی منھافانی قتیلھا
ولا مقصدی لا تجود و تنعمی
ولا تقتلوھا ان ظفرتم بقتلھا
ولکن سلوھا کیف حل لھا دمی
وقولولھا یامنیة النفس اننی
قتیل الھوٰی والعشق ولو کنت تعلمی
ولا تحسبوا انی قتلت بصارم
ولکن رمتنی من رباھا باسھم
لھا حکم لقمان و صورة یوسفٍ
ونغمة داؤد ٍ و عفت مریم
ولی حزن یعقوبٍ و وحشة یونسٍ
و الاٰم أیوبٍ و حسرة آدم
”تجھے عشق کی تکلیف پہنچی یا تیر کا شکار ہوگیا؟یہ اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ محبت کے دلدادہ کو پہنچتا ہے۔ اس کو پکڑو میرے خون سے میں اس کا مقتول ہوں۔ میرا مقصد نہ ہی کوئی جواب ہے اور نعمتیں حاصل کرنا اور نہ آسائش پانا ہے بلکہ محبوبہ کی ذات حاصل کرنا مقصدہے۔ اور اس کو قتل مت کرو اگر تم اسکے قتل کی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن یہ اس سے پوچھ لو کہ میرا خون کیسے اس کیلئے حلال ہوگیا؟۔ اور تم سب اسے کہو کہ اے میری جان تمنا، میں تو محبت وعشق کا مارا ہوا ہوں اگر توسمجھے تو۔ اور یہ مت سمجھو کہ اس نے مجھے تلوار سے قتل کیا ہے بلکہ اپنی بلندی سے نظروں کے تیر چلاکر مجھے قتل کیا ہے۔ اس کے پاس لقمان کی حکمت، یوسف کی صورت ہے اور داؤد کا نغمہ ہے اور مریم کی پاکدامنی ہے۔ اور میرے لئے یعقوب کا غم ہے اور یونس کی( مچھلی کے پیٹ میں) وحشت ہے۔ایوب کے درد ہیں اور آدم کی حسرت ہے”۔
یزید بن معاویہ نے اقتدار کیلئے امام حسین کی شہادت میں کامیابی حاصل کرلی مگر اپنے ماتحت گورنر کی بیوی سے طلاق لینے کے باوجود بھی اسکے ساتھ اپنی شادی کرنے کی حسرت پوری کرنے کی تمنا دل میں رہ گئی ۔
یزید کیلئے عبداللہ بن سلام کی بیوی سے طلاق اور امام حسین سے اس کا نکاح اور اس کو طلاق ایک اتفاق تھامگر شیطان نے اس کے پیچھے ایک بہت بڑا جال بچھادیا اور کسی نہ کسی صورت کو آیت سے حلالہ قرار دینے کا جواز فراہم کیا ۔ حالانکہ اللہ نے تو حلالہ کی کسی صورت کا بالکل بھی کوئی جواز نہیں رکھا تھا اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی۔ عربی لڑکی کی عجم سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا معاملہ تاریخ کے ایک جبر نے پیدا کیاتو پھر؟
یہ اتفاق تھا لیکن اس کو حلالہ پر محمول کرنے کی غلطی فرقہ زیدیہ کے امام زیدبن باقر بن زین العابدین بن امام حسین نے پہلی مرتبہ کی تھی۔ ظالم عرب کو عجم اپنے کفوء نہیں لگے تو چمچہ گیروں نے فتویٰ دیا کہ عرب کی لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ امام زید نے اس پر سوالات اٹھائے کہ لڑکی سے نکاح کیا اور ہاتھ نہیں لگایا تو قرآن آدھے حق مہر کو فرض قرار دیتا ہے اور ہاتھ لگایا ہے تو پورا حق مہر فرض ؟ اوراگر اس نے تین طلاقیں دیں تو پھر حلالہ کے بغیر جائز ہوگایا نہیںہوگی؟۔ کتاب المجموع : امام زید ،زیدیہ کے امام ۔
زید کا استنباط تھاکہ تیسری طلاق کا تعلق حلالہ کی لعنت ہے۔ حالانکہ عدی بن حاتم نے پوچھاتھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟ تو رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”البقرہ229میں دومرتبہ طلاق کے بعد او تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔ جبکہ اسی تیسری طلاق کے بعدہی تحکیم کا ہے۔
جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توقرآن نے حلال نہ ہونے کا حکم لگاکر طاقتور کا ہاتھ روکا ہے مگر الو کے پٹھے ہیں۔
ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذت کردار نہ افکار عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکمومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خودبدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مؤمن کو غلامی کے طریق
حدیث میں بھی توازن ہے کہ لڑکی اور اس کے ولی کو نکاح میں باہمی رضامندی ہے اور جبر کا خاتمہ ہے اور لڑکی جب کشتی جلادیتی ہے تو اپنے خاندان کی سپورٹ سے محروم ہوجاتی ہے اسلئے ولی کو راضی کرنے کی ترغیب ہے اور دوسری طرف جمہور نے بیوہ وطلاق شدہ کو بھی حدیث کی بنیاد پر ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا ہے ۔قرآن و حدیث کی افہام وتفہیم کی جگہ مسالک کی جنگ میں عربی اور حقائق سے ناوقف ذہن بھٹکتا ہے۔
فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف واللہ بما تعملون خبیرO
” پس جب وہ (بیوہ عورتیں) اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو تم پر کوئی حرج نہیں جو بھی وہ اپنی جانوں کے بارے میں فیصلہ کریںمعروف طریقے سے۔ جو تم کرتے ہو اللہ کو خبر ہے”۔
البقرہ:آیت237میں بیوہ کو اجازت دی گئی لیکن فقہاء نے مسالک کے چکر میں قرآن دیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ
الذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسألنھم اجمعینO
”وہ لوگ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا تیرے رب کی قسم کہ ان سب سے ہم ضرور پوچھیں گے”۔ (سورہ الحجر:91،92)
قرآن کی طرف توجہ اور امام ابوحنیفہ کے مسلک کا تقاضہ پورا کریں تو بیڑہ پار ہوگا۔انشاء اللہ العزیز
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
جانشین راجہ رنجیت سنگھ مہاراجا دلیپ سنگھ اور مولانا سندھی کے امام راجہ مہندرا پرتاب سنگھ
رنجیت سنگھ کی مسلم بیوی کا محل سرکاری ورثہ بنا مگر جانشین دلیب سنگھ کو وطن نہیں آنے دیاتھا۔ راجہ مہندر پرناب سنگھ(1886تا1972) جنگ1914 میں آزادی کیلئے سوئیزرلینڈ، جرمنی ،ترکی1915کابل پہنچا، مولانا عبیداللہ سندھی کو آزاد کیا، عبوری حکومت کا تاحیات صدر،مولانا سندھی وزیر داخلہ۔1918میں ترکی وجرمنی شکست کھاگئے ۔1919میں افغان بادشاہ امیر حبیب اللہ قتل ہوا۔ امیر امان اللہ خان کی انگریز کیخلاف جنگ ،راولپنڈی معاہدہ اورافغانستان کی آزاد حیثیت تسلیم مگرپھر انگریزنے سازش سے1929میں امان اللہ خان کو بھگایا۔ سکندر مرزا نے1930میں میرے نانا سید سلطان اکبر سے جٹہ قلعہ افغان پیر کیلئے کرائے پر مانگا توکہا: ” افغان بھائی کاخون گرانے کیلئے نہیں دیتا”۔ پھر انگریز دوسروں کو زمینیں دیں تو نانا نے کہا کہ مجھے بھی توپنجاب دائرہ دین پناہ کوٹ ادو میں زمین دیدی۔ میرجعفر کا پڑپوتاسکندر مرزا پہلا صدر پاکستان بنا جو جنرل ایواب نے ہٹادیا۔ جنرل یحییٰ نے پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر1970کا الیکشن کرایاتو جمعیت علماء اسلام پر مفتی شفیع نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ ”خطرے میں اسلام نہیں” سے جالب مشہوراہوا۔1977میں ڈالری نظام مصطفی تحریک چلائی گئی۔1877میں میرے دادا سیدامیر شاہ کے ہمراہ محسود اور انکے بھائی سیداحمد شاہ کے ہمراہ بیٹنی وفد امیر شیرعلی سے ملنے کابل گیا۔1878میں انگریز نے افغانستان پر حملہ کیا، شیر علی کا بیٹا یعقوب بیٹھادیا۔ پھر1880میں اسکے چچا زاد امیر عبدالرحمن کو کابل تخت پر بٹھا یا۔ امیر حبیب اللہ انقلابیوں کا سپورٹر مگر خود انگریز کا پالتو ۔1920میں فتویٰ پر مولانا احمد علی لاہوری ،باچا خان50ہزارافراد افغانستان گئے۔
ــــــــــ
حکیم عبد الرحمن جعفر، فیس بک
مولانا عبید اللہ سندھی کی ریسرچ علماء مان لیتے، تو ہندوستان نہیں اسکے اثرات دنیا میں ہوتے۔ آج کل یونیورسٹیاں اپنے بڑے سینئر پروفیسر کو بھیجتی ہیں، این جی اوز اور گورنمنٹ پیسے دیتے ہیں کہ فلاں مسئلہ ہے، کوئی تھیسس لکھو۔تو شیخ الہند مولانا محمود الحسن اسیرِ مالٹا، انکے یہ شاگرد مولانا سندھی، مولانا تھانوی کو تصوف سونپا۔ مولانا الیاسنے تبلیغی جماعت بنائی۔ مولانا حسین احمد مدنی کے ذمے سیاست لگائی۔ مدرسہ بھی ذمے لگایا، مفتی کفایت اللہ بانی جمعیت علما ہند تھے، جبکہ مولانا عبید اللہ سندھی کو انہوں نے باہر سروے کیلئے تحریکِ ریشمی رومال شروع کرائی تھی کہ جا ؤ افغانستان، روس، جرمنی۔ اس وقت مولانا سندھی کی بات پہ عمل ہو جاتا تو آج دنیا کا اور مسلمانوں کا نقشہ بھی اور ہوتا۔ آج پاکستان میں مولانا سندھی کی سیاست کی تعریف صرف حضرت مولانا مسعود گدی نشین دین پور کرتے ہیں ۔باقی علما ء کو تو پتہ نہیں کہ شاہ ولی اللہ کی تحریک کیا تھی، مولانا عبید اللہ سندھی کیا تھا، وہ اکابر کیا تھے، وہ بیچارے آج بس صرف جو ریڈیو ٹی وی یا جس کا انبوہ بڑا دیکھتے ہیں، جس کا جلسہ بڑا دیکھتے ہیں وہ اس طرف جاتے ہیں، اپنے اکابر کی تاریخ اور قربانیوں کا ان کو پتہ ہی نہیں۔
ــــــــــ
تاریخ کومسخ مت کرو
مولانا سندھی کی قبرپر انقلاب کی دعا1987میں مانگی۔ان کی عظمت انکی تعلیم لیکن جھوٹی کہانیاں مت گھڑو۔شاہ ولی اللہ سے دیوبند تک مقصد اسلام کی نشاة ثانیہ مگر حلالہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکاہے۔
بھارتی وزیراعظم مرار جی دیسائی کو ڈاکٹر قدیر کی طرح” نشان پاکستان ”بڑی مثالی انسانیت ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
قرآن کی یہود ونصاریٰ کیلئے ہدایت
واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO
”اور جب نے ہم نے آپ سے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کو گھیرا ہے اور آپ کا خواب نہ بنایا مگر لوگوں کی آزمائش اور قرآن میں شجرہ ملعونہ اور انہیں ڈراتے تو ان کو نہیں بڑھاتا مگر بڑی طغیانی میں”۔ (بنی اسرائیل:60) شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت ہے۔
وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہO(المائدہ آیت:48)
”اور ہم نے تیری طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی جو اسکے ہاتھ میں کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس پر محافظ ہے”۔
یہود نوح کی بیوی بدکار، عیسائی پاکدامن کافرہ اور ابن عباس ، جمہور کے نزدیک پاکدامن، حسن بصری اور مجاہد کے نزدیک بدکار ۔ (تفسیر قرطبی) قرآن تصدیق بھی کرتا ہے اور غلطی کی درستگی بھی؟۔
امرات فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتًا فی الجنة ونجنی من فرعون و عملہ و نجنی من القوم الظالمینO
”فرعون کی بیوی نے جب کہا کہ اے میرے رب ! میرے لئے جنت میں گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ”۔ (سورہ التحریم آیت:11)
3 طلاق اور حرمت پر جبری حلالہ کیا جاتا تھا اور اسلئے فرعون کی بیوی نے حلالہ سے پناہ مانگی تھی۔
نوح نے بتایا کہ حلالہ نہیں ،3طلاق دی مگر اس نے مجنون کہا۔ چھپاکر حلالہ کیا تو پھروہ لڑکا جم گیا ۔
قال یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالحٍ فلا تسألن مالیس لک بہ علم انی اعظک ان تکون من الجاھلینO(سورہ ھود:آیت:46)
” فرمایا: اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ یہ نادرست عمل ہے۔ پس مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں ،میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جاہلوں میں سے مت بنو! ”۔
یہ نہیں کہا:
ان عملہ غیر صالح
اس کا عمل صالح نہیں بلکہ
انہ عمل غیر صالح
”بیشک وہ غیر صالح عمل ہے”۔
غیر صالح ”حلالہ کی پیدوار” اور حلالہ زنا تو نہیں لیکن جب نوح نے واضح کیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع ہے ۔ اس نے نہیں مانا تو کافرہ ہوگئی اور شوہر سے خیانت کرکے چھپا کرحلالہ کیا ۔
امرات نوحٍ و امرات لوطٍ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا ھما
”نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو میرے صالح بندوں کے نیچے تھیں اور پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی ”۔ (سورہ تحریم:10)
قال النبیۖ لولا بنوا سرائیل لم یخنز اللحلم و لولا حواء لم تخن انثی زوجھا صحیح بخاری نمبر 3330۔
”نبی ۖ نے فرمایا : اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ”۔
اہرام مصر کی ترقی میں پیش رفت بنی اسرائیل نے نافرمانی سے روکی ،ورنہ گوشت نہیں سڑسکتا تھا۔ اگر حوا حضرت آدم کے ساتھ شریک نہ ہوتی توکوئی عورت اپنے شوہر سے چھپ کر حلالہ نہ کرتی۔
اناجیل میں ہے کہ حضرت مریم یوسف نجار کی منگیتر تھی لیکن جبرائیل نے یوسف نجار کی شکل میں خدا کی روح پھونک دی ۔یوسف نجار نے توراة کے مطابق سزا سے بچانے کیلئے مریم کو تحفظ دیا۔
مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا و صدقت بکلمات ربھا و کتبہ
”مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اسمیں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اوراسکی کتابوں کی تصدیق کردی”۔ (سورہ التحریم:12)
عیسائی3سوسال پہلے طلاق کے قائل ہوگئے۔ یہود حلالہ چھوڑیں گے ۔ سورہ نور میں لعان کا حکم اور زنا پرسوکوڑوں کی سزا ہے۔ شوہررنگے ہاتھ پکڑلے اور عورت جھوٹ بولے توبھی کوئی سزانہیں ہے ۔
قرآن سے توراة وانجیل کو سمجھاتو عیسائی مذہبی طلاق کومانیںاور یہود حلالہ چھوڑدیں۔نبیۖ کی نرینہ اولاد کو اللہ نے بچپن میں اٹھایا۔ عیسیٰ کی آمد تو نبیۖ کا مقدمہ تھادادا نہیںنانا کے وارث تھے۔ میرے اجداد نے یتیم نواسوں کو ذاتی و قومی جائیداد میں حصہ دیا۔ ”میراث آدھا علم ہے”۔نبیۖ۔ داؤود کا وارث سلیمان ذاتی و قومی جائیداد، خاندانی املاک ، حجرات اور باغ فدک میں فرق ۔ ازواج مطہرات کے اخراجات تھے مگر اولاد نہ تھی تواولاد فاطمہ کو ملنا تھا۔ طلاق اور مسائل کا فضول حجم ختم تو میراث اور باقی علم کا توازن برابر !۔ مفتی تقی عثمانی وارث تومولانا ولی رازی کیوں نہیں؟۔ زکی کیفی کے یتیم بچوں کو داداکی میراث کا حق کتنا مل سکا؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کی روح کو سمجھ لیا
جاویداحمد غامدی نے کہا کہ”3طلاق کہہ دیا تو قرآن واضح نہیں۔نبی ہۖ نے اجتہاد سے رکانہ کی 3طلاق پر قسم اٹھوائی تو ایک قرار دی۔ ابوداؤد کی حدیث ضعیف مگرایسے معاملے میں ٹھیک ۔سیدنا عمر نے اجہتاد سے3قرار دیا، یہ بھی درست تھا۔جیسے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی تو فیصلہ خود نہیں کرسکتے ویسے ہی مفتی عذر قبول کرے یا سزا دے۔
مثلاً جاویداحمد غامدی کے والد نے3طلاق دی اور اسکے حلف پر ایک قرار دی مگر بیوی نے اعتبار نہ کیا اور چھپ کر حلالہ کیا اور جاوید غامدی کو جنم دیا ۔
جاوید غامدی کے داماد حسن الیاس نے3طلاق دی تو بیٹی کوحلالہ کی سزا دیدی۔ یہ کونسا اسلام اپنے نواسیوں اور مسلمانوں کیلئے پھیلا رہاہے دلا؟۔
ابوداؤد میں رکانہ کے والدین سے سورہ طلاق کی تفسیر دیکھتا اور سیدنا عمر و علی کا فیصلہ دیکھتا تو پھر گانڈ میںجماہوا ناصبی ڈانبر بلبلے کی طرح اُڑجاتا۔
حلالہ فحاشی کا لنڈابازارلگانے والے بنو زرقاء کو گالی وادی مہران کے اصحاب صفہ کے صحابی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے تخلیق کی تھی جو جاوید غامدی کا کلچر تھا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے پدو مارنے والی جاٹ قوم کاحدیث میں واضح تذکرہ کیاہے ۔
برصغیر پاک وہند اور ایران میں حلالہ ومتعہ کلچر نہیں تھا۔حلالہ بنوزقاء کا تحفہ ہے ۔ عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ متعہ زنا ہے توحضرت علی نے کہا: ”تم بھی متعہ ہی کی پیدوار ہو”۔ جدید ایران کا بانی اسماعیل صفوی سنی تھا مگر اس کا پوتا اسماعیل صفوی شیعہ بن گیا کہ حلالہ کی دلاگیری سے مرضی کا متعہ اچھاہے۔
رسولۖ نے ماریہ قبطیہ اپنے اوپر حرام قرار دی توسورہ تحریم دنیا بھر کیلئے ہدایت کا سبب بن گئی
لقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم
” بیشک اللہ نے تمہاری طلاق کی مغلظات کو حلال کردیا”۔
سورہ مجادلہ میں ظہار کی سخت ترین طلاق کابالکل جڑ سے خاتمہ کردیا کہ ”یہ قول منکر اور جھوٹ ہے”۔ سورہ تحریم میں نہ صرف یہ کہ لفظ حرام کو لغو اور بالکل بے معنی اور بے وقعت قرار دیا بلکہ جتنے بھی الفاظ وہ تھے جو میاں بیوی کے درمیان مذہبی رکاوٹ بننے کی کچھ بھی صلاحیت رکھتے تھے سب کا خاتمہ کردیا اور ہرقسم کی طلاق کے ایمان کو حلال قرار دینے کا اعلان کردیا۔ حجاج بن یوسف اگر جان بوجھ کر حرامی پن کا مظاہر ہ نہیں کرتا تھا تو علی کو جہنمی قرار دینے پر زور ڈال کر حضرت سعید بن جبیر کی شہادت پر بھی بہت بڑا اجر مل گیا ہوگا۔ اسلئے کہ حضرت عمر کی تین طلاق ہی کیا کم تھے کہ حرام کے لفظ پر حلالہ کی فحاشی کیلئے نیا میلہ بھی لگ جاتا۔ اور جن لوگوں نے حلالہ کروائے تھے اور انہوں نے اس کو شرعی مجبوری سمجھ لیا تھا تو ان کو بھی توبہ واصلاح کرنے پربہت بڑا اجر ملے گا۔
والذین لایدعون مع اللہ الھًا اٰخر ولایقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق و یزنون ومن یفعل ذٰلک یلق اثامًاOیضاعف لہ العذاب یوم القیامة و یخلد فیہ مھانًاOالا من تاب واٰمن و عمل عملاً صالحًا فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات وکان اللہ غفورًا رحیمًاO
”اور وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ کسی او ر آقا کو نہیں پکارتے اور نہ قتل کرتے ہیں کوئی جان مگر حق کیساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے تو بڑے گناہ میں پڑگیا اور اس کیلئے قیامت کے دن ڈبل عذاب ہوگا اور اس میں ہمیشہ ذلیل رہے گا۔ مگر جس نے توبہ کی اور درست عمل کیا تو انکے گناہوں کو نیکیوں میں اللہ بدلے گااور اللہ غفور رحیم ہے”۔ فرقان:68تا70
اللہ کے بندوںکی صفات کو آگے پیچھے واضح کیا
والذین لایشھدون الزور واذا مروا با للغو مروا کرامًاOوالذین اذا ذکروا باٰیٰت ربھم لم یخروا علیھا صمًا و عمیانًاO وہ لوگ جو جھوٹ کی گواہی نہیں دیتے اور جب لغو سے گزرتے ہیں تو عزت سے گزرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو اپنے رب کی آیتوں سے سمجھایا جائے تو ان پر اندھے بہرے نہیں گرپڑتے”۔ فرقان:72،73
یہ نہیں کہ آیت230البقرہ کا حوالہ دیا اور حلالہ کی لعنت سے لوگوں کی عزتیں خراب کرنے کیلئے وہ اندھے بہرے ہوکر نفسانی لذات کیلئے گر پڑیں۔
سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم کی وضاحتوں کے بعد سورہ البقرہ224سے دیکھ لیں تو پتہ چلے کہ قرآن نے واضح کردیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ تو چھوڑ دیں لوگوں کے درمیان بھی صلح میں رکاوٹ بننے کا تصور ہی اللہ نے بالکل ختم کردیا ہے۔ یہ طلاق کا مقدمہ ہے۔پھر البقرہ225میں واضح کردیاکہ لغو ایمان یعنی طلاق کے صریح و کنایہ کے لغویات پر اللہ نہیں پکڑتا ہے البتہ دل کے گناہ پر پکڑتا ہے۔ پھر آیت226میں ایلاء کی عدت4ماہ ہے۔ رسول اللہۖ نے ایلاء کیا اور29دن میں رجوع فرمایا تو اللہ نے منع کردیا کہ پہلے عورتوں پر واضح کردو کہ اب بال کی ان کی کورٹ میں ہے جس پرحضرت عمر کے کانوں سے سنسنی خیز دھواں نکلنا شروع ہوگیا کہ یہ ماجرا آخر کیا ہے؟۔ کیونکہ جب سورہ تحریم نازل ہوئی تھی تو امہات المؤمنین حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے بڑی ڈانٹ کھائی تھی۔ ماریہ قبطیہ سے حرام کا سخت ترین لفظ استعمال کیا لیکن اللہ نے واضح کردیا کہ یہ کچھ نہیں ہے ،اللہ نے اَیمان(طلاقوں) کو حلال کردیا ہے۔
اب نبی اکرم ۖ نے ایک لفظ حرام، طلاق اور کچھ بھی منہ مبارک سے ادا نہیں کیا ہے تو ساری ازواج مطہرات کو اختیار دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نازل کردیا؟۔ یہ ساتوں آسمانوں کی حدود میں رہنے والی مخلوقات کا آرڈر قطعاً نہیں ہوسکتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ نے صدیق اکبر کی بیٹی کا ثبوت فراہم کردیا کہ مجھے کسی طرح والدین سے مشاورت نہیں کرنی ہے۔ مجھے نبیۖ کیساتھ ہی رہنا ہے۔ حضرت حفصہ فاروق اعظم کی بیٹی سے خدا نے کچھ اور کام لینا تھا۔ ورنہ بات وضاحتوں کے ساتھ پھر سامنے نہیں آسکتی تھی۔ حضرت عمرفاروق اعظم کی روح میں قرآنی آیات کی تاثیر مسیحائی کچھ اس طرح سے اتر گئی کہ رہتی دنیا کیلئے فاروق اعظم بین الحق و الباطل ایک امتیاز بن گئے۔ ایک طرف قرآن نے طلاق کے الفاظ سے رکاوٹوں کی دھجیاں بکھیر دیں تو دوسری جانب ایلاء میں بھی عورت کے اس اختیار کا ایک اعلیٰ ترین اسوۂ حسنہ کا قانون بنادیا کہ طلاق کے اظہار کے بغیر بھی عورت سے کوئی شوہر ناراض ہوجائے تو پھر بال عورت کی کورٹ میں جاتی ہے اور شوہر کو رجوع کرنے کا کوئی حق نہیں رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شوہر ناراضگی کا فائدہ اٹھاتے ، انتقام لیتے اور اس کو تکلیف پہنچاکر مزے کرتے؟۔
یہی وہ چیز تھی جس نے حضرت عمر کے ذریعے پہلی مرتبہ اللہ نے عورت کے حق کو زبردست تحفظ دے دیا۔
حضرت عمر کے دور میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور قرآن کی آیات عرب پر زبان کی وجہ سے اور عجم پر سادہ سے مفہوم کی وجہ سے بالکل واضح تھیں۔ ایک شخص نے تین طلاق دی اور اس کی بیوی نے رجوع سے انکار کردیا۔ آیات میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ عورت راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن حضرت عمر فاروق اعظم کی روح کا تو معاملہ ہی بالکل جدا تھا۔ چنانچہ قرآن وسنت کے عین مطابق عورت کے حق میں فیصلہ دیا اور لوگوں نے اسلئے ٹھیک سمجھا کہ قرآن میں ابہام نہیں تھا۔
لیکن دراڑ عبداللہ بن عمر کے اختلاف نے ڈال دی کیونکہ وہ بھی فاروق اعظم ہی کا بیٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ یہ مرد کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ مجھے رسول اللہۖ نے رجوع کا حکم دیا تھا۔ حضرت عمر کے سامنے بیٹی حفصہ نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا اور حضرت عمر کے سامنے بہو نے بھی اپنا قصہ رکھا تھا ۔ بیٹی کے قصہ سے عورت کے حق کی وضاحت تھی اور بہو نے اپنا رونا دھونا مچایا ہوا تھااسلئے کہ وہ رہنا چاہتی تھی۔حضرت عمر نے بہو کا قصہ نبی ۖ کو سنایا تو رجوع کا حکم فرمایا۔ لیکن بیٹی کا قصہ واضح کرتا تھا کہ عورت راضی نہیں ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
حضرت عمر نے طلاق میں عورت کا حق نہ سمجھنے کے پیش نظر عبداللہ بن عمر کے خلاف خلافت کی نااہلی کی ڈگری جاری کی۔
حضرت عبداللہ بن عمر نے باپ کی بات پر نبیۖ کی رہنمائی کو ترجیح دینے کا معاملہ زندگی کی آخری سانس تک برقرار رکھا تھا۔ کوئی کہتا کہ اپنے باپ کو نہیں مانتے؟ تو جواب دیتے تھے کہ میں نبیۖ کی نبوت پر ایمان لایا ہوں اپنے باپ پر نہیں !۔
حضرت حسین کی ایرانی بیوہ حضرت زین العابدین کی والدہ ماجدہ حضرت عبداللہ بن عمر کی سالی تھیں۔ زین العابدین نے حضرت عمر کے خلاف انکے بیٹے عبداللہ بن عمر کی گواہی کو سچ جانا کہ قرآن وسنت کے خلاف ایک بدعت کو رائج کردیا۔ پھر حسینی سادات کی عقیدت ومحبت نے روافض کو جنم دیا ۔ حضرت عمر پر گولہ باری کرنے کو ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور غلطی بھی نہیں کہ ایک بدعت جاری کرنے کی بدظنی دل میں بیٹھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے حلالہ کے نام پر بے حیائی اور گھر ٹوٹ رہے ہیں۔
لیکن حسن کے بیٹے حسن مثنی جانتے تھے کہ حضرت عمر نے تو بالکل ٹھیک کیا ہے
اور حضرت علی نے حرام کے الفاظ عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ ایک طرف حضرت عمر کے دشمن بن گئے اور دوسری طرف حضرت علی کے دشمن بن گئے لیکن حق یہ ہے کہ دونوں نے بالکل ہی اعتدال سے ہٹ کر کردار ادکیا۔ امام حسن مثنی کی کسی نے سنی نہیں۔ عبداللہ محض کو قید میں شہید کیا۔
وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنا القی الشیطٰن فی امنیتہ…
”اور ہم نے کسی رسول اور نبی کو آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا۔(سورہ حج:آیت52)
جب عبداللہ بن عمر نے بیوی کو طلاق دی اور نبیۖ اس پر غضبناک ہوگئے کہ قرآن کی وضاحتوں کے باوجود کیوں اس طرح کی حرکت کردی اور رجوع کا حکم فرمایا تو شیطان نے اس میں القا کردیا کہ غضبناک ہونے کا مطلب ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ہوسکتاہے؟۔ حالانکہ معروف رجوع اور باہمی رضا مندی کی بنیاد پر رجوع بالکل واضح کیا ہے قرآن نے ۔
لیجعل ما یلقی الشیطٰن فتنة للذین فی…
”تاکہ شیطانی القا کو ہم آزمائش بنادیں جنکے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل بہت سخت ہیں”۔ (سورہ الحج آیت53)
جب مسجد کے امام کا پتہ چل جاتا ہے کہ بچیوں کیساتھ فحاشی کا مرتکب ہے توپھر برداشت نہیں کیا جاتا۔ جب عوام الناس کو پتہ چل جائے کہ حلالہ کے نام پر ان کی عزتیں مفت میں لوٹی جا رہی تھیں تو ایسے مذہبی پیشواؤں کے خلاف انقلاب آتا ہے۔
ولیعلم الذین اوتواالعلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھاد الذین اٰمنوا الی صراط مستقیمO(سورہ الحج:آیت54)
”اور تاکہ وہ لوگ جان لیں جن کو علم دیا گیا کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے۔ سو وہ اس پر ایمان لائیں۔ اور انکے دل اس حق کیلئے جھک جائیں۔بیشک اللہ ایمان والے لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت فرمانے والا ہے”۔
جس دن شیعہ سنی فرقہ واریت سے ہٹ کر قرآن، ایمان، علم و حق کی طرف رجوع کرینگے تو دنیا میں بھی اسلامی انقلاب آجائے گا اور افغانستان ، ایران، پاکستان اور عرب کے علاوہ عالم انسانیت پر قرآن کے انسانی اخلاقیات کا بہت عظیم اثر ہوگا اور مجھے لگتا ہے کہ وقت بدلنے میں زیادہ دیر نہیں۔ انشاء اللہ
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv