Author: zarbehaq
قاری مفتاح اللہ کے وصال پردل احترام کی گہرائیوں میں کھوگیا :عتیق
شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن شفقت ومحبت ،عدل و توازن، عقیدت واحترام ، شرافت و مروّت ، لطافت و مزاح ،حق گوئی و بیباکی کا حسین امتزاج اورانتہائی ذہین وفطین، عریق وعمیق، سادہ و پرکشش کرشماتی شخصیت
اناللہ وانا الیہ راجعون ،اناللہ وانا الیہ رجعون
استاذمحترم حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔ شیخ الحدیث مفتی زرولی خان ساتھ ہیں۔ قاری مفتاح اللہ درویش صفت انتہائی ذہین و فطین ، علم و عمل کے امین، قرآن و اسلام کے شہباز و شاہین تھے۔ علمی تنقید پر قاری صاحب بہت تعمیری تھے۔ علامہ زمحشری کی تفسیرکشاف انکے کہنے پر پڑھی ۔ کئی بار ا ن کا ذکر خیر تحریر میں پہلے کرچکاہوں۔ میرے علمی کمالات کا سہرا استاذ محترم کے سر پراور نقائص میرا قصور ہے۔ مچھلیوں کیلئے شفاف پانی ، پرندوں کیلئے صحت بخش فضا، ذکرو اذکار کیلئے روح پرور خانقاہیں اور علوم نبوت کیلئے مدارس میں قاری مفتاح اللہ جیسے اساتذہ کرام کمالِ علم وعرفاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری مادر علمی جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کی تمام شاخوں کو تا قیامت اعلیٰ ترین معیار کیساتھ شادآباد رکھے۔ قاری مفتاح اللہ صاحب انتہا درجہ کے خوش مزاج، شفیق و عمیق ، باوقار وبردبار اور نفیس و لطیف اور بغیر کسی مبالغے کے خدا کی صفات کے زمین پر مظہر اور تخلقواللہ باخلاق اللہ کے مصداق تھے۔ ابن تیمیہ نے لکھا کہ یہ کسی حدیث کی مستند کتاب میں نہیں لیکن کسی حدیث کا کتاب میں موجود ہوناتو ضروری بھی نہیں۔ صوفیاء کا سلسلہ صحابہ کرام ، حسن بصریتابعی سے چلتا آرہا ہے ۔ ابوذ غفاریجیسے صحابہ نے تصوف کی بنیاد رکھ دی۔ حدثنا اسماعیل ،قال حدثنی ابی ذئبٍ ، عن سعیدٍ القبری عن ابی ھریرہ قال حفظت من رسول اللہ ۖ وعاء ین فاما احدھما فبئثہ واما الآخر فلو بئثتہ قطع ھذا البلعوم ابوہریرہ نے فرمایا کہ” میں نے رسول اللہ ۖ سے دو برتن محفوظ کئے۔ایک میں نے پھیلایا اور اگردوسرے کو میں نے پھیلادیا تو یہ گلا کاٹ دیا جائے گا”۔ (صحیح بخاری )
اس حدیث سے کیا ثابت ہوا؟۔ یہی ناں کہ کچھ احادیث سینہ بہ سینہ بھی منتقل ہوئی ہیں۔ابی ذئب کون ہیں؟۔ جس نے خلیفہ ابوجعفرمنصور کے سامنے حق گوئی کی تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے سمجھا کہ جلاد ابھی گردن اتار دے گا اور اسکے خون کی چھینٹوں سے انکے کپڑے آلودہ ہو جائیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا صدیق سواتی نے بتایاتھا کہ مولانا طاہر مکی علامہ سید محمد یوسف بنوری کے شاگرد تھے۔ایک مرتبہ بخاری کی حدیث پر اشکال ظاہر کیا تو علامہ بنوری نے تھپڑوں سے خوب تواضع کی کہ مجھے بھی تم نے شک میں ڈال دیا۔مولانا محمد بنوری کو تو گھر میں شہید کرکے خود کشی کا جھوٹا الزام لگادیا۔
رسول اللہ ۖ کے بعد1500سال سے امت مسلمہ جس پل صراط پر چل رہی تھی جس میں پانچ پانچ سو سال کی وہ، وہ تثلیث کی مسافتیں ہیں کہ حق بات تو بڑی چیز ہے دین کے تحفظ کیلئے مدینہ کے سات فقہاء اور کوفہ کے فقہاء نے تشدد اور شہادت کا جام نوش کیا اور فقہ و حدیث کے ائمہ نے تشدد، جیل، شہادت اور کوڑوں کی سزائیں کھائی ہیں۔موجودہ دور میں تو پھر تبلیغی جماعت کی بھیڑیں بھی ایک دوسرے کیلئے بھڑیا بنتے پھر رہے ہیں جن کا سلسلہ مار کٹائی سے قتل وغارت تک پہنچا ہے۔
علامہ یوسف بنوری کی لحد پر سلام کیساتھ دل بھی جھکتا ہے اور اس احترام میں کوئی تصنع نہیں بلکہ بے پناہ عقیدت و محبت کا رشتہ ہے۔ قاری مفتاح اللہ صاحب اس گلستان بنوریہی کے فیضان کی ایک کرشماتی شخصیت تھے۔ والدین کی طرح اساتذہ کرام اور علماء ومشائخ عظام میں نرم ، سخت، غصہ والے، گالیاں دینے والے اور مارپیٹ کرنے والے آدمی کے بچے ہی ہوتے ہیں لیکن قاری مفتاح اللہ صاحب کی شخصیت عجیب و غریب تھی اور پاکستان اور بیرون ممالک میں انسانوں میں جو بڑی بڑی خوبیاں ہوسکتی تھیں وہ سب قاری صاحب میں موجود تھیں اور جتنی خامیاں ہوسکتی ہیں وہ ایک خامی بھی نظر نہیں آئی ہے۔
انسان کو اللہ نے اپنی خلافت کیلئے پیدا کیا ہے اور قرآن کی آیت میں رسول اللہ ۖ کو مؤمنوں پر رؤف و رحیم قرار دیا ہے لیکن جس کو توحید کی حقیقت کا پتہ نہیں بلکہ عقیدے کا محض ہیضہ لگاہو تو وہ اس کو بھی جہالت کی بنیاد پر شرک قرار دے گا۔
قاری مفتاح اللہ صاحب کی ویڈیو خود سن لیں۔ یہاں پر مختلف جگہوں سے چند جملے یا عبارتیں درج کرتا ہوں۔ فرمایا:
زندگی بس بندگی کا نام ہے زندگی بے بندگی ناکام ہے
اللہ ہم سب کو بندگی والی زندگی عطا فرمائے۔ امام بخاری نے شروع کے اندر نیت، اخیر میں تسبیحات اور ترازو ذکر کیا۔ اگر نیت صحیح ہوگی تو ترازو کے اندر اعمال بھاری ہوں گے اور اگر نیت صحیح نہیں تو جتنا بھی بڑا عمل ہوگا ترازو کے اندر صفر ہوگا۔
تمام علوم کی انتہا یہ ہے کہ قیامت کے دن میرا کیا بنے گا؟ اللہ کے سامنے سرخرو ہوں گا یا نہیں؟ ۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا عشق مراد ہے۔ علم نہیں ہے سوائے عاشقی کے یہ عاشقی علم ہے اور کوئی علم نہیں ہے، اِسکے علاوہ سارا تلبیس ہے ابلیسِ شقی کا۔
کہتے ہیں سینکڑوں کتابوں کو آگ لگاؤ اور اپنے سینے کو اللہ کے عشق سے روشناس کراؤ۔شیخ بیٹھے ہیں ان کی حالت کی مناسبت سے یہ شعر۔ کہتے ہیں قال کو چھوڑو حال کو اپنا۔ کسی شیخ مردِ کامل کے پاؤں کے اندر اپنے آپ کو روند لو۔
نہ گھبراؤ مسلمانو! خدا کی شان باقی ہے
ابھی اسلام باقی ہے ابھی قرآن باقی ہے
حضور علیہ السلام نے فرمایا بخاری سیاسیہ میں روایت ہے ”اہل حق کی ایک جماعت ہوگی جو قیامت تک غالب ہوگی”۔ یہ غلبہ کبھی طاقت سے ہوگا اور غلبہ کبھی دلائل کے اعتبار سے۔ صحابہ ، تابعین اور سلاطین اسلام کے دور میں طاقت کا غلبہ ہوا اور دلیل کا غلبہ ہر زمانے میں ہوگا ۔یہ الگ ہے کہ ہم کو دلائل سمجھنے کا سمجھانے کا طریقہ آ جائے۔ رات کے وقت اللہ سے تعلق رکھیں گے تو دن کے وقت مخلوق کو سمجھانا بہت آسان ہوگا وتبتل الیہ تبتیلا رب المشرق والمغرب لا الہ الا ہو فاتخذہ وکیلا و اصبر علی ما یقولون و اہجر ہجرا جمیلا سورہ مزمل میں بتا دیا اے کمبل اوڑھنے والے قم اللیل رات کے وقت کھڑے ہو و تبتل الیہ تبتیلا اور سب سے کٹ کے اسکے در پہ ڈٹ جا سب سے تعلقات توڑ اور اس سے تعلقات جوڑ اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے چلے جا تو رات کے وقت اللہ سے تعلق جوڑنا اللہ سے لینا اور پھر دن کے وقت اس کو تقسیم کرنا آپ نے فرمایا انا ما انا قاسم واللہ یعطی فرمایا میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اصل دینے والی ذات وہ اللہ ہے اللہ کہتا ہے قل قل قل قل پورا قرآن بھرا ہوا ہے قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا قل یا ایہا الکافرون قل ہو اللہ احد قل اعوذ برب الفلق قل اعوذ برب الناس اللہ کہتے ہیں کہو کہو کہو کہو اللہ کہتا ہے تو پیغمبر کہتا ہے وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی علمہ شدید القوی ذو مرة فاستوی و ہو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی فااوحی الی عبدہ ما اوحی معراج کا ذکر ہے اور اسرا ء کا ذکر ہے سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی پھر معراج کی رات سارے نبیوں کا امام بنایا آپ نے امامت فرمائی اور سارے نبیوں نے آپ کی اقتدا کے اندر نماز ادا کی آپ کو امام الانبیا بنایا اور دو قبلوں کی طرف آپ کی نماز ہوئی آپ امام الحرمین نبی القبلتین وسیلتنا فی الدارین بیت المقدس کے بھی امام بنے اور اس کی طرف بھی آپ نے رخ کیا بیت اللہ شریف کے بھی امام بنے اس کی طرف بھی آپ نے رخ کیا آسمانوں پر بھی آپ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی انبیاء سے ملاقات ہوئی ۔آدم علیہ السلام سے یوسف علیہ السلام سے عیسی علیہ السلام سے ادریس علیہ السلام سے اور حضرت ابراہیم علیہ الصلو والسلام سے ابراہیم علیہ الصلو والسلام کے ساتھ آپ کی خاص مناسبت تھی آپ نے اپنے بیٹے کا نام بھی ابراہیم رکھا اور آپ نے فرمایا :” میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت کا نتیجہ ہوں اور میں اپنی والدہ کے خواب کا نتیجہ ہوں ”ماں کا بڑا کردار ہے اولاد کے بنانے میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی ماں نے ان کو رخصت کیا علم کیلئے اور معین الدین چشتی نے فرمایا کہ میرے ہاتھ پر اتنے70ہزار کافروں نے کلمہ پڑھا اور70ہزار فاسقوں کو میں نے توبہ کرائی والدہ کے سامنے کہا تو والدہ نے کہا یہ تیرا کمال نہیں یہ میرا کمال ہے میں ہمیشہ با وضو تجھ کو دودھ پلاتی تھی اور تیری لیے دعائیں کرتی تھی میری وہ دعا آپکے حق میں قبول ہو گئی ۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی ماں بھی بڑی کاملہ فاضلہ تھی۔
الم نشرح لک صدرک و وضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک و رفعنا لک ذکرک یہ شان ہے ہمارے پیغمبر کی صاحب مشکوٰة نے اخیر کے اندر مشکوٰة شریف کے اخیر میں باب ثواب ھذہ الامہ قائم کیا ہے اس امت کا ثواب اور اس امت کی شان کہا اس امت کا کیا کہنا جس کے شروع میں میں ہوں جس کی بیچ میں مہدی ہیں اور جس کے اخیر کے اندر حضرت عیسی علیہ السلام ہیں عیسی علیہ السلام بھی آئیں گے تو وہ قرآن کریم کی تعلیم دیں گے وہ انجیل کی تعلیم نہیں دینگے اور علامہ اقبال کہتا ہے اگر میرا حساب لینا ہی ہے اللہ تو حضور علیہ السلام سے میرے نامہ اعمال کو چھپا کے رکھیے تاکہ میں آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔
حضرت الاستاذ قاری مفتاح اللہ صاحب نے اصول فقہ کی کتاب ”نورالانوار” کے دلائل کی کمزوری دیکھی تو ملا جیون کے لطیفے سنائے کہ سادہ بندے تھے۔ مقصد توہین نہیں تھا مگر اسلام کا تحفظ مقصد ہونا چاہیے۔ طلاق کے مسئلے پر جاوید غامدی نے کتنی ھڈ حرامی دکھائی؟۔ علماء حق کو ماحول میسر نہیں ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
نوشتہ دیوار جنوری ایڈیشن 2026
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 6
مسئلہ طلاق میں جتنی زبردست وضاحت قرآن نے کی ہے اس میں مزید وضاحت کی گنجائش نہیں لیکن فقہاء نے گھمبیر بنایا
یاایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لدتھن و احصوا العدة واتقوا اللہ ربکم لاتخرجوھن من بیتوتھن ولا یخرجن الا ان یأتین بفاحشةٍ مبیننةٍ وتلک حدوداللہ و من یتعدد حدوداللہ فقد ظلم نفسہ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرًا (سورة الطلاق آیت:1)
”اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو عدت کیلئے دواور عدت کو گن کر پورا کرو۔ اور اللہ سے ڈرو تمہارارب ہے، نہیں نکالو ان کو انکے گھروں سے اور نہ خود نکلیں مگر جب کھلی فحاشی کا ارتکاب کریںاور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدودسے تجاوز کیا تو اس نے تحقیق اپنے اوپر ظلم کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ نئی صورت پیدا کرے”۔ (دونوں معروف طریقہ سے صلح کریں)
فاذابلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف و اشھدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشھادة للہ ذلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجًا
(سورةالطلاق:آیت:2)
”پس جب وہ اپنی عدت کو مکمل کریں تو معروف طریقے سے انہیں روکو یا معروف طریقے سے انہیں چھوڑ دو۔اور دو عادل گواہ بھی مقرر کرو اور اللہ کیلئے گواہی قائم کرو۔یہ تمہارے لئے نصیحت ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔اور جو اللہ سے ڈرا ،اللہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنادے گا”۔
رکانہ کے ابو نے رکانہ کی ماں کواسی طرح عدت کے مراحل میں 3طلاق دی ۔عدت کے کافی عرصہ بعد نبیۖ نے رجوع کیلئے فرمایا اور یہی حوالہ دیا تھا ۔(ابودادشریف)
تفسیر:
ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر مولانا احمد رضا خان بریلوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے غلط کیا۔ جاوید احمد غامدی اور دیگرجاہلوں کی تو بات ہی بیکار ہے۔ عدت حمل کی بھی ہوسکتی ہے اور طہر وحیض کی بھی۔ جس میں باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا ہے اور تکمیل عدت کے بعد بھی معروف رجوع ہوسکتاہے۔ مفتی تقی عثمانی ومفتی منیب الرحمن کو قومی اسمبلی میں پوچھ لیں کہ بچہ آدھے سے کم نکلا ہو تو رجوع نہیں ہوسکتا اور زیادہ نکلا تو ہوسکتا ہے کہ یہ کیا بکواس ہے؟۔ ابوداؤد بخاری ،مسلم تینوںامام احمد بن حنبل کے شاگرد۔کیا رکانہ کے والدین کی حدیث سورہ طلاق کی صحیح تفسیر ہے اسلئے ابوداؤد معتبر نہیں؟ اسکے شاگرد نسائی کو فضائل علی بن ابی طالب لکھنے پرخوارج وناصبی نے شہیدکیاتو بخاری حلالہ کیلئے کارآمد تھا؟۔
ــــــــــ
المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر وبعلولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًاولھن مثل علھین بالمعروف و للرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیم (سورةالبقرہ:آیت:228)
”طلاق و الی عورتیں عدت کے تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیںاور ان کے شوہر اس میںان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔اور ان عورتوں کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر ہیں معروف اور مردوں کا ان پرایک درجہ ہے اور اللہ عزیز حکیم ہے ”۔
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جنا ح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونO فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ …(البقرہ:آیات:229اور230)
”طلاق دو مرتبہ ہے پھرمعروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے اور تمہارلئے حلال نہیں کہ ان کو جو دیا کہ اس میں کچھ لو مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رہ سکیں گے، اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر حرج نہیں عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک وہ کسی اور شوہرسے نکاح کرلے”۔
تفسیر:
ان آیات میں عورتوں کے حقوق کو واضح کیا گیا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ مگر کم عقل کہتا ہے کہ ایک نہیں دو مرتبہ بھی رجوع ہے۔ مگر آیت228میں اصلاح کی شرط اور میاں بیوی کے ایک دوسرے پر معروف حقوق ،آیت229میں معروف رجوع کو نہیں دیکھتا۔ یہ بھی نہیں سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو ایک عدت کا پابند بنایا اور یہ بے غیرت دلا حلالہ کی لت میں پڑا ہے اور عورت کو ایک سے زیادہ عدتوں پر مجبور کرنے کا شوہر کو ناجائز حق دیتا ہے؟ لیکن اس سے بڑے کم بخت جاہل اور انتہائی خسیس قسم کے ہٹ دھرم جماعت اسلامی اور جاویدغامدی والے ہیں جن کے ترجمہ میں الٹی گنگا ہے۔ اللہ3 طلاق کے بعد عورت کومالی تحفظ دیتاہے ۔ یہ الٹا خلع کی بلیک میلنگ کا درس دیتے ہیں۔
ــــــــــ
واذا طلقتم النساء فبلغن اجھلن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارًا لتعتدوا…Oو اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن تراضوا بینھم بالمعروف (البقرہ:231،232)
”اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور ان کی عدت مکمل ہوئی تو معروف طریقے سے ان کو روکو یامعروف طریقے سے چھوڑو اور ضرر کیلئے نہ روکو تاکہ تم زیادتی کرو”.. اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی اور ان کی عدت مکمل ہوئی تو مت روکو ،اپنے شوہروں کیساتھ ان کو نکاح سے جب وہ معروف طریقے سے آپس میں راضی ہوں”۔
قرآن کی تمام آیات میں باہمی رضاسے معروف رجوع عدت میں اور تکمیل عدت کے بعد واضح ہے لیکن عورت راضی نہیں ہو تو ایک مرتبہ کی طلاق کے بعد بھی شوہر کیلئے پھر رجوع حلال نہیں ہے لیکن عورت کے حقوق پھر بھی روند ڈالے گئے۔ یہ اصل میں ایک شیطانی القا کی لعنت ہے جس کی قرآن نے زبردست وضاحت پہلے سے کررکھی ہے۔
تفسیر:
حلالہ کی لعنت صرف یہود اور مسلمانوں میں ہے۔ قرآن نے حلالہ کی لعنت کو جڑ سے ختم کیا لیکن فقہاء نے یہود ی گدھے علماء کے نقش قدم پر امت مسلمہ کی عزتوں کا ستیاناس کردیاہے۔
حلالہ کیش علماء ومفتیان کے پاس یہ ایک دلیل ہے کہ اگر اکٹھی3طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہوتی تو نبیۖ اس پر غضبناک کیوں ہوتے؟۔
زبردست دلیل ہے لیکن صحیح بخاری کی کتاب تفسیر سورہ طلاق میںنبیۖ نے غضبناک ہونے کے باوجود بھی عبداللہ بن عمر سے رجوع کا حکم فرمایا۔ بخاری کی یہ روایت کتاب الاحکام، کتاب العدت اور کتاب الطلاق میں ہے لیکن ان میں غضبناک ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ شکر کہ ایک جگہ سے تو بھانڈہ پھوٹ گیا ہے اور حقیقت تو یہی ہے کہ محمود بن لبید نے بھی یہی واقعہ بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمۖ کی نیت میں دین فروشوں کے ذریعے شیطانی مداخلت کا ثبوت پیش کرنا تھا تاکہ مفتی تقی عثمانی اور جاویداحمد غامدی جیسے نام نہاد لوگوں کے چہروں سے نقاب اترے۔ مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی اور مفتی خالد حسن مجددی جیسے اہل علم کے ایمان میں اضافہ ہو اور حق کیلئے وہ جھک جائیں تو پوری دنیا ایک خوش منظر دیکھے۔ دیوبندی اور بریلوی علماء حق اپنے اپنے مسلک اور مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ۔ شیعہ اور اہل حدیث حضرات کے علماء بھی حق کی کھل کر تائید کررہے ہیں اور وہ بھی وقت آئے گا کہ پاکستان دنیا بھر کے علماء کو انشاء اللہ قرآن وسنت پر جمع کرے گا اور پاکستان سے ہی اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا اور دنیا بھر کے امن میں اسلام اور پاکستان اہم کردار ادا کرے گا ۔
ــــــــــ
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھائیں کسے گدھا قرآں کا قائل ہی نہیں
خلافِ فطرت بھی ہے حلالہ باطل ہی نہیں
ملوث ہیں علماء اور شرفا بھی جاہل ہی نہیں
عزتیں لٹتی ہیں مفتی اعظم کے کاشانے پر
دل کسی سانڈھ کا ابھی گھائل ہی نہیں
عزتوں کا بٹتا ہے فالودہ قرآں کے نام پر
گمراہی کے گڑھ قلعوں میں حائل ہی نہیں
فتویٰ سے پا بہ زنجیر لعنتوں کی جھنکار ہے
معروف رجوع کا قرآں میں پائل ہی نہیں
چھوٹا بڑا مرزا جاوید غامدی رہبر بن گئے
حنفی تو بہت ہیں کوئی جوہر قابل ہی نہیں
امام ابوحنیفہ پر ہوگا اب تمام امت کا اجماع
ضربِ حق کے بغیر حقائق کا حاصل ہی نہیں
بعد عمر کے فتنوں کا اٹھا جو بڑا طوفان
کون کہتا ہے اس سمندر کا ساحل ہی نہیں
شیطان ننگا کر گیا حضرت آدم کی اولاد کو
کتاب اللہ موجود ہے گویا نازل ہی نہیں
کشتی نوح اہل بیت ہے عزت کا وسیلہ
کم عقل کہتا ہے ناخدا عاقل ہی نہیں
ریپ ہو بنت حوا کا ریب کے فتوے سے
یقین سے قرآن کا مفتی ناقل ہی نہیں
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 5
امت جس شاخ پر بیٹھی ہے اسی کو کاٹ رہی ہے ،شیخ چلی نے پہلے نصیحت والے کو برا کہا جب گرا تواحمق نے پھر ولی قرار دیا
اللہ نے قرآن میں بہت وضاحت کے ساتھ بھیڑ چال کی سخت مخالفت کی جس کا تھوڑ ابہت پس منظر بھی ملاحظہ فرمائیں:
وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونًا واذا خاطبھم الجاہلون قالوا سلامًا
"اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان کو جاہل مخاطب کرتے ہیں تو کہتے کہ سلام ”۔(الفرقان)
اس طرح آیت63کے بعد اللہ کے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ” جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے۔اور نہ کسی جان کو قتل کرتے ہیں مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جس نے ایسا کیا تو گناہ میں جا پڑا۔ اور اللہ اس کیلئے قیامت میں عذاب کو دگنا کرے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلیل ہوکر پڑا رہے گا۔مگر جس نے توبہ کی اور درست عمل کیا تو ان لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ اور اللہ غفور رحیم ہے”۔(آیات:68سے70تک الفرقان)
عمل صالح سے مراد درست عمل ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو قتل کرو، زمینوں پر قبضہ کرو، رشوت اور ظلم کرو اور پھر تصوف یا تبلیغی جماعت کی چھتری تلے نمازیں پڑھو۔ فسادی عمل کا ازالہ کرنے کیلئے اپنے اعمال کو درست کرنا پڑے گا۔
فرمایا ”اور جو لوگ جھوٹ گواہی نہیں دیتے۔اور جب لغو عمل سے گزرتے ہیں تو عزت سے گزر جاتے ہیں”۔ نیٹ پر ترجمہ تک بھی غلط لکھ دیا ہے ۔ (آیت72الفرقان)
بھیڑ چال کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا:
والذین اذا ذکروا باٰیات ربھم لم یخروا علیھا صمًا و عمیانًا
” اور وہ لوگ جن کو اپنے رب کی آیات سے سمجھایا جاتا ہے تو اس پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے”۔ ( الفرقان:73)
قرآن کی آیت230البقرہ میں واقعی حلالہ کی لعنت کا حکم موجود ہے لیکن بھیڑ چال کی طرح اللہ نے اس کو ماننے کا نہیں فرمایا ہے بلکہ غور، تدبر اور آگے پیچھے کی آیات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا کہ قرآن سے کوئی حدیث متصادم ہو تو اس کو نہیں مانو۔ قرآن کی آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع کو اللہ تعالیٰ بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ امام باقراور امام جعفر تو پاکستان کی اصطلاح میں فورتھ شیڈول میں تھے۔ امام مالک کے سوفٹ وئر کو بہت بدترین تشدد کا نشانہ بناکر تبدیل کیا گیا تھا۔ مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی نے خلیفہ منصور کا لکھا کہ ”ابوزیب سے پوچھا کہ خلافت مجھے خدا نے دی ؟ تو اس نے کہا کہ تم نے غصب کی ہے اور تم نے اس کا استعمال غلط کیا تو خدا کے عذاب سے ڈرو۔ امام ابوحنیفہ وامام مالک نے سمجھا کہ ابھی جلاد کی تلوار اس کا سر تن سے جدا کرے گی۔ خون ہمارے کپڑوں پر پڑے گا۔ پھر امام احنیفہ سے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ تم نے خلافت غصب کی ہے اور اس میں اہل مشاورت کے لوگ شریک نہیں تھے۔ امام مالک نے جواب دیا کہ یہ منصب خدا نے دیا اگر اہل نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ نہیں دیتا”۔
جاویداحمد غامدی نے ناصبی محمود عباسی کی کتابیں پڑھی تھیں اور امام مالک کے قول کا سہارا مل گیا۔ اسلئے یزید اور مروان کی حکومت کو سپورٹ اور حضرت علی و حسنین کی مخالفت کو قرآن سے ثابت کرنے کا ملکہ حاصل کیا۔ پھر آئندہ کیلئے بھی اسلام کا قصہ تمام کرنے کیلئے حضرت نوح کے تیسرے بیٹے کے نام پر قیامت تک اسلام کے مغلوب کرنے کا ایک فلسفہ گھڑ دیا۔
مولانا مودودی دارالعلوم دیوبند کے داڑھی منڈوے ایک صحافی تھے۔ پھر جماعت اسلامی بناکر علماء کو جمع کیا۔ مدرسہ میں پڑھنے والا طالب علم عالم ہوتا ہے اور بیرون مدرسہ پڑھنے والا دانشور موج ہے دریا میںبیرون دریا کچھ نہیں ۔میرے ساتھی فیروز بھائی نے قرآن کی کسی آیت کا مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ قرآن میں نہیں ہے۔ اس نے دکھایا تو میں نے کہا کہ یہ ترجمہ غلط کیا ہوا ہے۔ کافی عرصہ گزر چکا ہے اور وہ آیت یاد نہیں لیکن مولانا مودوی نے ترجمہ کیا تھا۔ آیت229البقرہ میں خلع مراد نہیں ہوسکتا ہے اور مفتی تقی عثمانی نے مشکل قرار دیا ہے لیکن مولانا مودودی اور جاوید احمد غامدی نے اس کو آسانی سے خلع لکھ دیا۔ جاہل کی دم نہیں ہوتی ورنہ تو بہت لوگوں کے نقاب اُٹھ جاتے۔ علم سمجھ کا نام ہے۔ علماء نے تقلید کا سہارا اسی لئے لیا ہے کہ وہ خود کو علماء نہیں سمجھتے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب ”تقلید کی شرعی حیثیت” میں ان احادیث کو نقل کیا ہے کہ جس کے بعد علم اٹھ چکا ہے اور ان کو فقہ کے ائمہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی وغیرہ پر فٹ کیا ہے۔ جبکہ مولانا یوسف لدھیانوی نے موجودہ دور بلکہ اپنے دور پر ان احادیث کو فٹ کیا تھا۔
ایک روایت میں حضرت لبید کے شعر کو لکھا ہے کہ جن کے سائے میں زندگی بسر ہوتی تھی تو وہ لوگ اٹھ گئے اور میںناکارہ لوگوں میں پڑا رہ گیا ہوں۔ جس کو نقل کرتے ہوئے حضرت اماں عائشہ صدیقہنے فرمایا کہ ”لبید اپنے زمانے والوں کا رونا رو رہا ہے ،اللہ اس پر رحم کرے اگر ہمارا زمانہ دیکھ لیتا تو پھر کیا کہتا؟”۔ حضرت عائشہ صدیقہ کی وفات58ھ کو ہوئی اور اس کے دو سال بعد یزید نے اقتدار سنبھالا تھا۔ حضرت عائشہ کے دور میں ایک عورت نے اپنی عدت کو تین طہر کے بعد پورا سمجھا تو کچھ لوگوں کو تشویش ہوئی اور حضرت عائشہ سے رہنمائی لی۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ” اس نے ٹھیک کیا ہے قرآن میں ثلاثة قروء سے مراد ثلاثة اطہار ہیں”۔
قرآن کی آیت222البقرہ میں حیض کے اندر عورت کی تکلیف اور گند کا ذکر ہے جس میں مقاربت منع ہے اور طہر میں عورت کے پاس آنے کا حکم ہے۔ تو آیت228البقرہ میں عدت کے تین ادوار میں عورت طہر ہی میں انتظار کرسکتی ہے۔ معاملہ عورت کے انتظار کا ہے تو قرآن کو حضرت عائشہ نے بھی ٹھیک ہی سمجھا تھا۔ اہل کوفہ کا ماحول یونان کا فلسفہ تھا اور حضرت امام ابوحنیفہ نے بھی اپنی جوانی اور زیادہ عمر اسی فلسفہ میں گزار دی لیکن بعد میں پکی توبہ کرکے دین کی سمجھ میں کمال حاصل کیا اور ان کے اصولوں کے دعوے پر حنفی مسلک کو بنایا گیا ہے۔
جب اصول فقہ میں حنفی مسلک مولانا بدیع الزمان نے اپنا سبق پڑھایا کہ ”3کا لفظ خاص ہے جو ڈھائی نہیں ہوسکتا ہے اورطلاق کا مشروع حکم طہر میں طلاق دینے کا ہے تو پھر جس طہر میں طلاق دی جائے تو اس میں سے کچھ وقت گزرے گا اور اس کو ادھورا شمار کیا جائے تو عدت3سے کم ہوکر ڈھائی بن جائے گی اور قرآن کے خاص پر عمل نہیں ہوگا اسلئے قرآن میں عورت کی عدت کے تین ادوار سے مراد تین حیض ہیں”۔
مولانا بدیع الزمان بیمار اور ضعیف العمر تھے اسلئے سوال اور جواب مناسب نہیں لگتے تھے لیکن قاری مفتاح اللہ مدظلہ العالی سے کھل کر بولتا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ اگر عدت کے ادوار سے تین حیض مراد لئے جائیں تو جس طہر میں طلاق دی اس کی وجہ سے معاملہ ساڑھے تین تک پہنچے گا۔ قاری مفتاح اللہ مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان کے پاس بھیج دیتے تھے لیکن ان کے پاس بھی جواب نہیں ہوتا تھا۔ طلبہ نے کہا کہ عتیق بہت سوال کرتا ہے ۔ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے پڑھ نہیں پائیں گے تو
قاری مفتاح اللہ نے فرمایا کہ ” عتیق امام ابوحنیفہ ، امام مالک کی طرح ایک امام کا درجہ رکھتا ہے اور تم ایک دن فخر کروگے کہ ہم نے بھی عتیق کے ساتھ پڑھا ہے”۔ 95کے قریب طلبہ میں مفتی اعظم امریکہ مفتی منیر احمد اخون بھی شامل تھا۔
جب روزہ رکھا جائے اور رمضان میں سہری کے وقت میں آنکھ نہیں کھلے بلکہ صبح کی نماز بھی قضا ہوجائے تو سورج نکلنے پر بھی کچھ کھائے پیئے بغیر روزہ رکھا جائے تو روزہ پورا شمار ہوگا ۔ اسی طرح جس طہر میں جماع نہیں کیا تو طلاق کے بعد وہ بھی پورا شمار ہوگا۔ جب نورالانوار میں ملاجیون کی اس حماقت پر ہم حیران ہوئے تو قاری مفتاح اللہ صاحب نے ملاجیون کے وہ لطیفے سنائے جنہیں شیخ چلی کی کتابوں میں درج کرنا چاہیے۔
مجھے بچپن سے حساب کا ذوق تھا۔ سکول میں داخلے سے بھی پہلے اپنی طرف سے بھی پہاڑہ ایجاد کیا تھا۔ جس میں2،3،4اور5کے حاصل ضرب کو پھر اسی عدد سے ضرب دیتا تھا۔2ضرب2مثلاً4اور4کو2سے8اور8کو2سے16اور16کو2سے32، اس طرح64وغیرہ اور پھر3اور4اور5اور6کے میرے اپنے الگ بنائے ہوئے پہاڑے تھے۔
ایک آنہ 6پیسہ کا بنتا تھااور دو آنے12پیسے کے۔ لیکن چار آنے پر25اورآٹھ آنے پر50پیسہ۔ اس طرح ایک روپیہ100پیسے کا بھی بنتا تھا اور96پیسے کا بھی۔ میں نے بھائی سے کہا کہ یہ حساب غلط ہے لیکن اس نے معقول جواب نہیں دیا۔
مسلمانوں پر سال میں ڈھائی فیصد زکوٰة فرض ہے اور اپنا نالائق نظام نقد میں چار فیصد کے کھلے گھپلے میں ملوث تھا۔ جب9thکلاس گورنمنٹ ہائی سکول لیہ پنجاب میں پڑھتا تھا تو بیالوجی کی کتاب میں زندگی شروع ہونے کے دو نظریئے لکھ دئیے تھے۔ پہلا نظریہ مردہ سے زندہ پیدا ہوسکتا ہے۔ دلیل یہ کہ گوشت میں کیڑے پیدا ہوتے ہیں۔ دوسرا نظریہ : مردے سے زندہ پیدا نہیں ہوسکتے اسلئے کہ گوشت پر نیٹ رکھ ردیا اور پھر اس میںکیڑے پیدا نہیں ہوئے۔ لہٰذا دنیا میں زندگی پہلے نظریہ پر شروع ہوگئی لیکن اب دوسرے نظریہ پر عمل ہوتا ہے اور کسی بے جان یا مردے سے زندہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔
میں نے استاد جی سے سوال پوچھا کہ یہ سائنس ہے یا کوئی عقیدہ ہے؟۔ جب ایک چیز غلط تجربہ سے ثابت ہوگئی تو پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اس نظریہ پر عمل ہوا؟۔ استاذ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جس نصاب سے دل کو اطمینان نہیں ہو تو اس کو بندہ کیسے پڑھ سکتا ہے؟۔ علم اندھی تقلید کا نام نہیں بلکہ سمجھ کا نام ہے۔ مولوی حضرات مانتے ہیں کہ وہ مقلد ہیں لیکن جدید تعلیم یافتہ طبقہ ان سے بھی زیادہ کورا ہے۔
جب میں نے کبیر پبلک اکیڈمی کے نام سے سکول کھول دیا تو سکول کے طلبہ کو زیادہ تر الف ب تک بھی نہیں آتے تھے مگر جنہوں نے مسجد میں پڑھا ہوتا تھا تو قرآن کے حروف آتے تھے۔ پھول اور کلیاں ایک کتاب تھی جس کو میں نے امتحان کیلئے رکھا تھا۔ پانچویں تک پڑھے ہوئے طلبہ کو الف ب نہیں آتے تھے۔ جن کو عربی حروف آتے تھے تووہ مسجد کا کرشمہ تھا۔ وہ پھر چ، ڑ، ڈال اور اردو کے حروف نہیں جانتے تھے۔
سماء ٹی وی میں سید بلال قطب اور مولویوں کی جہالت
سیدبلال قطب کو میں نے اپنی کتاب ”ابر رحمت ” دی تو اس کے چیلے نے کہا کہ یہ خود بہت بڑا اسلامی سکالر ہے۔ پھر تقریباً ایک دو سال کے بعد رمضان پروگرام میں اس نے ایک مولانا آزاد جمیل سے پوچھا کہ سسر کو حدیث میں آگ کہا گیا ہے تو کیا شوہر مر جائے تو سسر سے شادی ہوسکتی ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں ۔ دوسرے مولوی بھی بیٹھ کر استفادہ کررہے تھے۔ میں رپیڈ پروگرام دیکھا تو جہالت پر حیران ہوا ۔
قرآن کے نزول سے پہلے جس جہالت میں معاشرہ گرفتار تھا تو آج پھر وہیں پر کھڑا ہے۔ قرآن نے ایک ایک معاملے کو الگ الگ کرکے بہت تفصیل سے سمجھایا تھا۔ کفا ر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن قرآن کے احکام کا جواب نہیں تھا۔
وکذالک جعلنا لکل نبیٍ عدوًا من المجرمین و کفٰی بربک ھادیًا و نصیرًاOوقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القراٰن جملةً واحدةً کذٰلک لنثبت بہ فوادک و رتلناہ ترتیلًاOولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق و احسن تفسیرًاO
”اوراسی طرح مجرموں میں سے ہر نبی کیلئے دشمن بنائے اور ہدایت اور مدد کیلئے تیرا رب کافی ہے۔ اور کافر کہتے ہیں کہ کیوں اس پر یکبارگی میں قرآن نازل نہیں ہوا۔ اسی طرح تاکہ ہم اس قرآن کے ذریعے تیرے دل کو اطمینان دیں۔ اور ہم نے ٹھہر ٹھہر مزے مزے سے اس کو نازل کیا۔ اور وہ نہیں لاسکتے تیرے پاس کوئی مثال مگر تیرے پاس حق کیساتھ لائیں گے اور بہت اچھی تفسیر”۔ ( الفرقان:آیات:31،32،33)
جاہل الجھی ہوئی جہالتوں کا شکار تھے۔ سورہ مجادلہ میں اللہ نے فرمایا کہ ”مائیں نہیں ہیں مگر وہی جنہوں نے جنا ”۔ سوتیلی ماں کو توحلال سمجھتے تھے ۔مقصد سوتیلی ماں کوحلال کرنے کا فتویٰ نہیں تھا بلکہ بیوی کو ظہار سے حقیقی ماں کی طرح حرام سمجھتے تھے۔اور فرمایا:
لاتنکحوا ما نکح اٰباء کم من النساء الا ماقد سلف انہ کان فاحشة ًو مقتًا وساء سبیلًا
” ان سے نکاح نہ کرو ، جن سے تمہارے باپ نے کیا مگرجو گزر چکا۔ بیشک یہ فحاشی، غضب کا کام اور برا راستہ ہے” ۔ (النساء:22) سورہ احزاب میں منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کی اجازت واضح کردی۔ سورہ طلاق معاملات کا حل تھا لیکن یہود کا اعتراض تھا کہ حلالہ کا ذکر نہیں۔ اللہ نے کوئی چیز بھی چھوڑ ی نہیں۔ حلالہ کا ذکر ہے انجیل میں نہیں تھا تو عیسائیوں نے طلاق کا تصور چھوڑ دیا اسلئے اللہ نے فرمایا:
ما نسخ من اٰیةٍ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلھا
” ہم کسی آیت کو محو کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لاتے ہیں”۔ (سورہ البقرہ106)
مولانا نور محمد رغزئی رمضان میں ماموں کے گھر کانیگرم آتے اور قاضی عبداللطیف بھی ساتھ ہوتا تھا۔ مولانا نور محمد کے بیٹے مولانا ظاہر شاہ نے قاضی عبدالکریم کلاچی کا ایک فتوی مجھے دکھایا کہ یہ لوگ علم کے سمندر ہیں۔ فتویٰ میں لکھا تھا کہ کراچی کے بعض علماء تین طلاق کو ایک قرار دیتے ہیں لہٰذا رجوع ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ”یہ تو اہل حدیث کا فتویٰ ہے جو پورے پاکستان میں ہیں ۔ میں فوٹو کاپی نکال کر شائع کرتا ہوں ”۔ پھر مولانا ظاہر شاہ نے کہا کہ ”یہ لوگ پھر مجھے نہیں چھوڑ یں گے”۔
عائلی قوانین میں اکٹھی تین طلاق کو تین مہینے تک غیر موثر قرار دیا ہے ۔ عائلی قوانین پر اور یا مقبول جان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بکنے والا سیاستدان مفتی محمود تھا۔اور1970ء کے الیکشن میں مولانا نور محمد نے کہا کہ ”مفتی محمود نے بس مانگی ہے”۔ ماموں غیاث الدین نے کہا کہ ” مفتی محمود نے اسلام کو بیچ دیا ہے ،اس کو تو نہیں دیتا لیکن آپ کو دیتا ہوں”۔
میرے والد پیر مقیم شاہ نے مفتی محمود کی پھر بھی حمایت کی ۔ چچا سید محمد صدیق شاہ نے میرے والد کا کہا کہ” وہ طلاق کو مانتا ہی نہیں ہے” اور اس وقت میری سمجھ میں بات نہیں آئی تھی۔1970ء میں عائلی قوانین اور طلاق کا مسئلہ ڈسکس ہوا ہوگا۔ جب قاضی عبداللطیف کے پڑوس میں ایک جوان لڑکی نے یہ دعویٰ کیا کہ میں نے رات کو لیلة القدر کو دیکھا اور اللہ نے لڑکا بنادیا تو اسکا بہت چرچا ہوا۔ میرے والد نے غلط قرار دیا تو لوگوں نے پوچھا کہ کیا اللہ ایسا نہیں کرسکتا؟۔ میرے والد نے جواب دیا کہ اللہ کرسکتا ہے لیکن یہ اس کی عادت نہیں ہے کہ دعا سے جوان لڑکی کو لڑکا بنادے ، اس لڑکی کا کوئی چکر ہے۔ پہلے لوگ توبہ کررہے تھے کہ پیر مقیم شاہ دادا نے اللہ کی قدرت کا بھی انکار کردیا لیکن ان کے خلاف بولتے نہیں تھے اسلئے کہ سبھی ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور جب پتہ چلا کہ لڑکی نے اپنے منگیتر سے انکار کیلئے جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو پھر حیران تھے کہ دادا اتنے زیادہ ہوشیار ہیں۔ شیخ چلی جس شاخ پر بیٹھا تھا اسی کو کاٹ رہا تھا تو کسی نے بتایا مگر جب تک گرا نہیں وہ مانا نہیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 4
اسلام کی نشاة ثانیہ کا حلالہ کی لعنت کے خاتمہ سے بڑا گہرا تعلق ہے جس میں شیطانی ٹولوں اور علماء حق کا واضح تعارف ہے
اللہ کی کتاب میں ایک ایک آیت سچائی کی دلیل ہے:
وماارسلنا من قبلک من رسول والا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنتہ فینسخ اللہ مایقی الشیطان ثم یحکم اللہ اٰیاتہ واللہ علیم حکیم
”اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں شیطانیت ڈال دی تو اللہ شیطان کی آمیزیش کومٹادیتا ہے پھر اپنی آیات کو استحکام بخش دیتا ہے ،اور جاننے والا حکمت والا ہے۔ ( الحج:52)
القائے شیطانی کی اسلام میں ایک مثال حلالے کا مسئلہ ہے۔ تعجب اس بات پر نہیں کہ حلالہ کیسے رائج ہوگیا بلکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ آیات میں اتنی وضاحتوں کے باوجود بھی شیطان کا القا ء کیسے کامیاب ہوگیا؟۔ قرآن کی صداقت کیلئے یہ بھی کافی ہے کہ اس آیت کے مطابق طلاق کے مسئلے میں شیطان کا القا ء کس طرح سے خلاف فطرت مسلط کیا گیا؟۔
1970ء میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اور دیگر علماء و مفتیان نے مشرقی اور مغربی پاکستان سے جمعیت علماء اسلام پر کفر کا فتویٰ لگایا تو جمعیت علماء کے ماہنامہ میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ، مفتی محمود ، مولانا عبیداللہ انور صاحبزدہ مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبداللہ درخواستی وغیرہ نے کراچی کے ان اکابر علماء ومفتیان گرامی کے نام شائع کردئیے جو حلالہ کے مرتکب تھے اور سرمایہ داروں سے اسکے عوض رقم لیتے تھے۔
1972ء میں احمد آباد ہندوستان کی کانفرنس میں حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے تمام مکاتب فکر کے نامورعلماء نے مقالے پڑھے جو مفتی عتیق الرحمن عثمانی بن مولانا عزیز الرحمن عثمانی رئیس دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کی صدارت میں ہوا تھا۔ شیطانی القا کاایک مقصد مفتی تقی عثمانی جیسے دل کے مریض اور جاوید احمد غامدی جیسے سنگ دلوں کے چہروں سے نقاب اٹھانا ۔ لیجعل اللہ ما یلقی الشیطان فتنةً للذین فی قلوبھم مرض و القاسیة قلوبھم وان الظالمین لفی شقاق بعیدٍ ”تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو ان لوگوں کیلئے آزمائش بنادے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم دور کی گمراہی میں ہیں”۔ (الحج:53)
مفتی تقی عثمانی دل کا مریض ہے، سود کو حلال کیا مگر حلالہ کو ختم کرنے میں رکاوٹ ہے ، غامدی قرآن کے مسائل کی بنیاد پر بکواس کرتا ہے لیکن مسئلہ طلاق کو الجھانے میں لگ گیا ہے۔
شیطانی القا کا دوسرا مقصد علماء حق کی نشاندہی کرنا ہی ہے۔
ولیعلم الذین اوتواالعلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھادالذین اٰمنوا الیٰ صراطٍ مستقیمٍ
”اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لائیں پھر ان کے دل اس کیلئے جھک جائیں۔ اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے”۔ (سورہ الحج آیت:54)
کوئٹہ سے لاہور ، گوجرانوالہ تک اور کراچی سے سوات تک اہل علم کی حمایت جاری ہے۔ کسی کو شک کی بنیاد پر فتویٰ دینا اور یہ کہنا کہ حلالہ کی لعنت کرو اور پھر لکھنا کہ واللہ اعلم بالصواب یعنی ٹھیک بات اللہ جانتا ہے۔ کتنی بڑی گمراہی ہے جس میں کئی مدارس کے علماء کرام اور مفتی عظام آج ملوث ہیں۔شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن ، شیخ الحدیث مولانا نذیراحمد جامعہ امداد العلوم فیصل آباد نے مدرسہ کے بچوں کو نہیں چھوڑا تو حلالہ کی لعنت پر کیا غیرت آئے گی؟۔ صابر شاہ نے امتحان پاس کرنے کیلئے مفتی عزیز الرحمن سے اپنا حلالہ کروایا تو عورتیں اپنے خاوند اور بچوں سے تعلق بحال کرنے کیلئے حلالہ کیسے نہیں کروائیں گی؟ لیکن جب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ قرآن و حدیث میں اس لعنت کے بغیر بھی معروف رجوع کا راستہ کھلا ہے تو اسلام اور مسلمانوںکی دنیا میں سربلندی شروع ہوجائے گی۔
البتہ اللہ کے واضح احکام سے انکار کرنے والے انقلاب کی آمد تک قرآن سے شک میں ہی رہیں گے ۔ چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا:
ولایزال الذین کفروا فی مریة منہ حتی تاتیھم الساعة بغتةًاو عذاب یومٍ عقیمٍ
”اور انکار کرنے والے ہمیشہ قرآن سے شک میں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر اچانک بڑا انقلاب آجائے یا بانجھ پن کا عذاب ان پر آجائے”۔(سورہ الحج آیت:55)
امام مہدی کا انقلاب اچانک راتوں رات آئے گا جس کی نشاندہی قرآن اور احادیث میں موجود ہے۔ پھر جنہوں نے سانڈھ جیسے صاحبزادگان اور جانشین پال رکھے ہیں ان کو اس بات کا احساس ہوگا کہ بانجھ ہوکر سارا منصوبہ دھرا رہ گیا ہے۔
الملک یومئذٍ للہ یحکم بیھم فالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات فی جنٰت النعیم
”اس دن اللہ ہی کی حکومت ہوگی جو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پس جو ایمان اور عمل صالح والے ہیں وہ نعمتوں والے باغات میں ہوں گے”۔ (سورہ الحج آیت:56)
پاکستان کے آئین میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور جب اس آئین پر عمل ہوگا تو یہی انقلاب ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کے آخری پارہ کی تفسیر ”المقام محمود” میں لکھاہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے پہلی صدی ہجری میں تجدید کا کارنامہ انجام دیا اور اس کے دور میں احادیث کو آزادی ملی لیکن اس کی وجہ سے امت مسلمہ میں زوال بھی شروع ہوا اسلئے کہ قرآن کی طرف توجہ کم ہوگئی اور امام ابوحنیفہ نے سب سے بڑا کارنامہ یہ انجام دیا کہ لوگوں کو قرآن کی طرف متوجہ کیا جس میں کامیابی نہیں ملی اسلئے کہ فقہی مسائل کے انبار میں قرآن کی اصل تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔اس خطہ زمین سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر ، پختونخواہ اور افغانستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی اور اس کو ایران بھی قبول کرے گا اسلئے کہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے۔ انہی کے مسلک کو بنیاد بناکر قرآن سیکھا تھا۔ قارئین مولانا سندھی کو پڑھ لیں۔
امام باقراور امام جعفر صادق ، ائمہ اہل بیت نے کوئی کتاب نہیں لکھی تھی اور زبانی فتویٰ سے رہنمائی کرتے تھے لیکن امام زید نے کتاب ”مجموع” لکھ دی تھی جس میں یہ واضح کیا تھا کہ ” عرب عورت کا نکاح عجم سے جائز ہے اور اس کیلئے یہ دلائل دئیے تھے کہ اگر عربی عورت سے کوئی عجمی نکاح کرے گا تو قرآن کے مطابق ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں وہ عورت نصف حق مہر کی حقدار ہوگی اور ہاتھ لگانے کے بعد اس کو پورے حق مہر کا حقدار قرار دیا جائے گا اور جب اس کو شوہر تین مرتبہ طلاق دے گا تو پہلے شوہر کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرے شوہر سے نکاح نہیں کرلے”۔
امام زید کے بڑے بھائی امام باقر کی عمر15سال زیادہ تھی جس کے بیٹے امام جعفر صادق تھے۔ امام ابوحنیفہ نے اس طلاق کو تین مرتبہ طلاق کے بجائے فدیہ کی صورت سے خاص کیا تھا جو آج بھی حنفی اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر تمام احادیث صحیحہ کا انکار بھی لازم نہیں آتا ہے اورقرآن کی واضح آیات پر بھی درست عمل ہوتا ہے۔ اہل تشیع کے امام غائب کے بعد فقہ جعفریہ کو فاطمی خلافت کے اسماعیلی فرقہ نے مدون کیا اور اس میں امام زید کی کتاب ”مجموع” کا ہی عمل دخل تھا اور اسماعیل صفوی نے بھی جب شیعہ مذہب قبول کیا تو امام زید اور اسماعیلی فرقہ کے فاطمی خلافت سے مسائل اخذ کئے۔
جس طرح ہندوستان میں کھوجہ امامیہ نے اسماعیلی مذہب چھوڑ کر امامیہ کو قبول کیا اسی طرح ایران کی صفوی حکومت نے اثنا عشری کے مسلک کو قبول کیا لیکن مسائل فاطمی حکومت سے لئے تھے۔ بہت اقسام کے شیعہ ہیں۔ نہج البلاغہ میں حضرت عمر کی وفات کے بعد حضرت علی نے زبردست تعریف کی ہے۔ غاصب بدعتی خلیفہ کی حضرت علی تعریف نہیں کرسکتے تھے۔ امام ابوحنیفہ کے قتل میں حکمران ٹولہ اور درباری علماء ملوث تھے اور حنفی مسلک کو بگاڑ کے رکھ دیا گیا۔ سنی مسالک کو بگاڑنے کے بعد چارامام بر حق اور فقہ جعفریہ سے اجتناب کی بنیاد حلالہ تھا اسلئے کئی حکمرانوں نے فقہ جعفریہ کوقبول کرلیا۔ لیکن حکمران اور درباری مولوی شیعہ سے نفرت دلاتے رہے ہیں اور دوسری طرف شیعہ کو بھی صحابہ کرام کی دشمنی کی طرف دھکیل دیا گیا تھا۔
سنی امام اعظم ابوحنیفہ کے درست مسلک کو تبدیل کیا لیکن درسی کتابوں نورالانوار اور اصول فقہ میںوہی پڑھایا جارہاہے جبکہ شیعہ امام جعفر صادق کی جگہ امام زید کے مسلک کو پڑھا رہے ہیں۔ عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا طریقہ کار قرآن اور سنت کے موافق ہے لیکن اس کی وجہ سے حلالہ کی لعنت کا مسلط کرنا شیطان کا بہت بڑا دھند ہ ہے جس کو شیعہ اور سنی ایک دن دونوں مل کر چھوڑیں گے۔ انشاء اللہ
جب دنیا میں انقلاب آجائے گا اور خلافت قائم ہوگی تو
والذین کفروا و کذبوا باییاٰیاتنا فاولئک لھم عذاب مھین
‘ ‘اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو ان کیلئے ذلت کا عذاب ہے ”۔ ( الحج آیت57)
سود کے عالمی نظام کو جواز بخشنے والے نام نہاد عزت داروں کو انقلاب کے آنے سے پہلے اپنی عزتوں کا لگ پتہ جائے گا اسلئے کہ لوگوں کی عزتیں مدارس گمراہی کے قلعوں میں دین پر اعتماد کی وجہ سے فالودہ بن رہی ہیں۔ جن بے غیرتوں کو لعنت کا شہد چکھنے اور چکھانے میں مزہ آتا ہے تو ان کی بات اور ہے لیکن جن کو غیرت وعزت کے باوجود دھوکہ دیا جارہاہے وہ ذلت کی دہلیز سے مذہبی لبادے والوں کو بھی بدلے میں اتاریں گے۔
قتل وغارت اور حسد وبغض کی دشمنیاں تو بہت چھوٹی بات ہے اور عداوت رکھنے والے آپس میں گرم جوش دوست بنتے ہیں لیکن جس کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو حلالہ کی ضرورت نہ ہو اور مولانا ، مفتی، ڈاکٹراورشیخ الحدیث کو معلوم ہو لیکن دوست اور عقیدت مند اور عوام الناس کو دھوکے میں رکھا ہوتو کون اس کے بعد ایسے ذلیل اور کمینہ لوگوں کو عزت کا مستحق سمجھے گا؟۔
میڈیا نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف ہوا کھڑا کیا کہ ”لال مسجد والے آبپارہISIکے ناک تلے موجود ہیں اور ان کو کچھ نہیں کہا جارہاہے”۔ جب فوج نے دباؤ میں آپریشن کیا تو سارا میڈیا فوج کے خلاف لگ گیا۔ مفتی عبدالرحیم نے بتایا کہ ”اس نے ضرب مؤمن اور اسلام اخبار میں بھی شہ سرخیاں اور بھڑک بازیاں لگائی تھیں کہ ”سینکڑوں یتیم اور لاوارث بچیوں کو شہید کیا گیا”۔ مؤمن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر فتنہ خوارج کہتا ہے مگر اس کو پتہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند ہندوستان سے افغانستان تک اور پاکستان میں ایک بہت بڑا طبقہ خوارج کے الفاظ سے متفق نہیں ہے۔ پاکستان کے باشعور لوگ ہیں وہ صرف علامہ طاہر اشرفی اور مفتی عبدالرحیم کے کہنے پر ایک دن کسی کو مجاہد اور دوسرے دن ان کو فتنہ خوارج نہیں سمجھیںگے۔ فتنہ خوارج کے میدان کو افغان طالبان اور علماء دیوبند سے علیحدہ کرنا بڑا مشکل معاملہ ہے۔ تبلیغی مرکز رائیونڈ والے بستی نظام الدین مر کز کے ذمہ داروں کو فتنہ خوارج کہہ سکتے ہیں لیکن طالبان طالبان کے متعلق نہیں کہہ سکتے ہیں۔ امریکہ کے خلاف سب نے قربانی دی ہے اور اللہ کرے کہ مسائل اچھے انداز میں حل ہوجائیں:
والذین ھاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا و ماتو لیرزقنھم اللہ رزقًا حسنًا وان اللہ لھو خیر الرازقین
”اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر وہ قتل کئے گئے یا مرگئے تو انہیں ضرور اچھا رزق اللہ دے گااور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے ”۔ (سورہ الحج:58)
اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے جن لوگوں نے ہجرت کی اور قربانی دی اور پھر وہ قتل کئے گئے یا مرگئے تو قبروں میں بھی ان کیلئے اچھی روزی کی خوشخبریاں ہیں اسلئے لواحقین کو فکر نہیں کرنا چاہیے اور جن لوگوں کی بچت ہوئی ہے تو اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ
لیدخلنھم مدخلًا یرضونہ و ان اللہ لعلیم حلیم
”ضرور بضرور اللہ ان کو داخل کرے گا جہاں وہ پسند کریں گے اور بیشک اللہ جاننے والا نرمی رکھنے والا ہے”۔(الحج:59)
ذٰلک ومن عاقب بمثل ما عوقب بہ ثم بغی علیہ لینصرنہ اللہ ان اللہ لعفعو غفور
”وہ اور جس نے اس قدر بدلہ لیا جس قدر اس کو تکلیف دی گئی پھر اس پر بغاوت کردی تو اللہ اس کی ضروربضرور مدد کرے گا ۔ بیشک اللہ معافی دینے والا مغفرت کرنے والا ہے”۔ (سورہ الحج:60)
ذٰلک بان اللہ یولج اللیل فی النھار و یولج النھار فی اللیل وان اللہ سمیع بصیر
”وہ اسلئے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کیاکرتا ہے اور بیشک اللہ سننے والا دیکھنے ولا ہے”۔ (سورہ حج:61)
ذٰلک بان اللہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھو الباطل و ان اللہ ھو العلی الکبیر
” یہ اسلئے ہے کہ حق اللہ ہی ہے۔اور اس کے علاوہ جن کو پکارا جاتا ہے وہ باطل ہے اور بیشک اللہ ہی عالی رتبہ بڑائی والا ہے ”۔ (الحج:62)
الم تر ان اللہ انزل من السماء مآئً فتصبح الارض مخضرةً ان اللہ لطیف خبیر
”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمان سے پانی اتارتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔بیشک اللہ نفاست رکھنے والا جاننے والا ہے”۔ (سورہ الحج:63)
لہ ما فی السماوات و مافی الارض وان اللہ لھو الغنی الحمید
”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بیشک اللہ غنی اور قابل تعریف ہے”۔ (الحج:64)
اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے افواج پاکستان اور طالبان ایک فریق تھے جنہوں نے امریکہ کو نکالنے کیلئے بڑی قربانیاں دیں لیکن حقیقی اسلام افغانستان اور پاکستان میں نافذ تو کیا علماء اور مفتیان بھی اسلام کی تعبیر ہی الٹی سمجھتے ہیں تو پھرکیا ہوگا؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 3
سورة الاعلیٰ میں عروج ملت اسلامیہ کا زبردست نقشہ موجود ہے
بِسمِ اللہِ الرحمٰنِ الرحِیمِ
سبِحِ اسم ربکِ الاعلٰی(1)
اپنے رب کے نام کی تسبیح کیا کر جو سب سے اعلی ہے۔
الذیِ خلق فسوٰی(2)
وہ جس نے پیدا کیا پھر برابر کردیا۔(عالم انسانیت کو)
والذِی قدر فہدٰی(3)
اور جس نے طبقات کی تقدیر لکھی اورپھرہدایات دیں۔
والذیِ اخرج المرعٰی(4)
اور جس نے دین پر فضول مسائل کا انبار کھڑا ہونے دیا۔
فجعلہ غثآء احوٰی(5)
پھراس کو کوڑا کرکٹ بناکر سیاہ کردیا۔(جلایا)
سنقرِئک فلا تنسٰی(6)
عنقریب ہم تجھے پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔
اِلا ما شآء اللہ اِنہ یعلم الجہر وما یخفٰی(7)
مگر جو اللہ چاہے، بیشک وہ ہر ظاہر اور چھپے کو جانتا ہے۔
ونیسِرک لِلیسرٰی(8)
اور ہم آپ کو آسانی سے آسانیو ں کیلئے لے جائیں گے ۔
فذکِر اِن نفعتِ الذِکرٰی(9)
پس آپ نصیحت کیجیے اگر نصیحت فائدہ دے۔
سیذکر من یخشٰی(10)
جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ جلد نصیحت حاصل کرلے گا۔
ویتجنبہا الاشقٰی(11)
اور بدبخت ترین اس سے اجتناب ہی بھرتے گا۔
الذیِ یصلی النار الکبرٰی(12)
جس نے دین حق کا انکار کرکے بڑی آگ میں پہنچنا ہے۔
ثم لا یموت فِیہا ولا یحیٰی(13)
پھر وہ کمبخت اس میں مرے گا نہیں اور نہ ہی جی سکے گا۔
قد افلح من تزکٰی(14)
تحقیق وہ کامیاب ہوا جس نے خود کو پاک کرلیا۔
وذکر اسم ربِہ فصلٰی(15)
اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔
بل تؤثِرون الحیاة الدنیا(16)
بلکہ تم تو دنیا کی زندگی (دنیاوی مفادات)کوترجیح دیتے ہو۔
والاخِرة خیر وابقٰی(17)
حالانکہ آخرت (دنیا سے) زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔
اِن ہذا لفیِ الصحفِ الاولٰی(18)
بے شک یہی (دین حق کی تعلیم )پہلے صحیفوں میں ہے۔
صحفِ اِبراہِیم وموسٰی(19)
(یعنی) ابراھیم اور موسی کے صحیفوں میں۔
ــــــــــ
بتوں اور علماء ومشائخ کے پجاری نسلی و مذہبی تفریق میں اونچ نیچ کے شکار تھے۔ رب اعلیٰ کی تسبیح کا حکم دیا اور تخلیق میں انسانیت کو برابری کا احسا س دلایا ۔ تقدیر و ہدایت کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی۔ ہر جگہ اچھے اور برے ہوتے ہیں۔ حقیقی دین فضول مسائل کو خس وخاشاک راکھ کا ڈھیر بنادیتا ہے۔
یہود اور مشرکیں عرب دونوں حضرت ابراہیم کو مانتے تھے جو حلالہ کی لعنت کو دین کا تقاضہ سمجھتے تھے۔ یہودی علمی بکواسات سے غضب کا شکار تھے جبکہ عیسائی عملی بدعات کی وجہ سے گمراہ تھے۔ حضرت عمر کے دور میں خلافت کا دائرہ وسیع ہوا تو اہل علم قاضیوں کی ضرورت پڑی اور ان میں ایک معروف نام قاضی شریح تھا۔نت نئے فیصلوں کا سلسلہ وسیع تھا۔ قاضی شریح کا ایک روپ قاضی کا اور دوسرا مفتی کا بھی تھا۔ حضرت عمر نے تین طلاق پر اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا تو اس کو طلاق مغلظ اور طلاق بائن کے فتویٰ میں تبدیل کرنے کا گر قاضی شریح جیسے لوگوں کو معلوم تھا۔جس کی وجہ سے اسلام بہت تیزی سے اجنبی بنتا چلا گیا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں حضرت عمر اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر کے مانند فتنے میں ایک بند دروازہ تھا۔ وہ فتنہ کیا تھا؟ اور حضرت عمر اور اس فتنے کے درمیان بند دروازہ کیا تھا؟۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی محدث ہوا تو وہ عمر ہے۔ محدث کا معنی وجدان سے درست فیصلے تک پہنچنا۔ قرآن کی ساری آیات میں عورت کے حقوق کا تحفظ تھا۔ حضرت عمر نے کمال کیا کہ اکٹھی تین طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے اختلاف کیا تو حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیدیا کہ طلاق کا مسئلہ نہیں سمجھتا ہے۔
اللہ نے مشرک اور مشرکہ سے نکاح کا منع کیا، غلام مؤمن اور لونڈی کو مشرکوں سے بہتر قرار دیا اور اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دیا۔ حضرت عمر نے اہل کتاب سے نکاح پر اسلئے پابندی لگائی کہ عرب کی اپنی عورتیں نکاح سے محروم نہ رہ جائیں۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ اہل کتاب بھی مشرک ہیںاسلئے ان سے بھی جائز نہیں۔لیکن یہ صریح نص ہے۔
الیوم احل لکم الطیبٰت و طعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم و طعامکم حل لھم والمحصنٰت من المؤمنٰت والمحصنٰت من الذین اوتوا الکتٰب (سورہ المائدہ:آیت5)
یہاں محصنات مؤمنات اور محصنات اہل کتاب دونوں کا ایک ہی لفظ کے ساتھ ذکر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو پہلے سے حلال تھیں تو ان کو کیسے حلال قرار دیا؟۔
سورہ النساء آیت:22اور23میں محرمات اور آیت24میں المحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم
یہ محصنات بھی محرمات میں داخل تھیں لیکن پھر ایک استثناء کیا گیاہے۔ جس میں نکاح کی جگہ ایگریمنٹ کا ذکر ہے۔ اور جب صحابہ کرام نے نبیۖ سے عرض کیا کہ کیا ہم خصی ہوں تو نبیۖ نے منع کیا اور ایگریمنٹ کی اجازت دی اور فرمایا کہ لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبات ” صحیح بخاری” جب اللہ نے نبیۖ کے نکاح پر پابندی لگائی تو ایک استثناء کا ذکر فرمایا الا ما ملکت یمینک ”الاحزاب:52 )
فتح مکہ کے وقت حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ام ہانی نے نبیۖ سے اس کیلئے پناہ لی۔ پھر وہ چھوڑ کر گیا تو نبیۖ نے ام ہانی سے نکاح کی پیشکش کی مگر ام ہانی نے معذرت کرلی کہ بچے بڑے ہیں۔ پھر اللہ نے ان چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کی بیٹیوں کو حلال قرار دیا جنہوں آپ کے ساتھ ہجرت کی ۔ (سورہ الاحزاب آیت50) پھر کسی بھی عورت سے نکاح کی اجازت نہیں دی مگر ایگریمنٹ اور علامہ بدرالدین عینی نے نبیۖ کی28ازواج کا ذکرکیا جن میں ام ہانی ہیںمگر یہ ایگریمنٹ تھا ،امہات المؤمنین میں شامل نہیں تھیں۔ حضرت ابوسفیان کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے اپنی سوتیلی بیٹیوں کی نبیۖ کو پیشکش کی مگر نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میرے لئے حرام ہیں۔ (بخاری)
قرآن وحدیث کی وضاحتیں اس وقت اچھی لگیں گی جب حنفی اور شافعی مسلکوں کی وکالت میں ڈھیر ساری بکواسیات نظر آئیں گی۔ حضرت عمر نے متعہ کو اسلئے منع کیا کہ اپنے بچوں سے لوگ منکر ہورہے تھے جیسے عمران خان نے ٹیریان کا انکار کیا۔ لیکن اسکے نتیجے میں لونڈی کے جسم کو بغیر نکاح یا متعہ کے جائز قرار دیا گیا۔ اسی طرح بڑی بڑی غلطیاں ہوگئی ہیں۔
سورہ الحدید کے آخر میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبر ہے۔
”اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی۔پس بعض ان میں راہ راست پر تھے اور بہت سے ان میں نافرمان۔ پھر ہم نے انکے بعد اور رسول بھیجے۔اور عیسیٰ کو بعد میں بھیجا اور ہم نے اسے انجیل دی اور اس کے ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحمت رکھ دی۔ اور رہبانیت کی بدعت خود ڈالی تھی ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی مگر انہوں نے اللہ کی رضا تلاش کرنے کیلئے کیاپس انہوں نے اس کی وہ رعایت نہیں کی جس رعایت کا حق تھا۔ پس ان میں اہل ایمان کو ہم نے اجر دیا اور زیادہ ان میں فاسق تھے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ، وہ تمہیں اپنی رحمت کے دو حصے دے گا۔اور تمہیں ایسا نور عطا کرے گا جس کے ذریعے تم چلتے پھروگے۔ اور تمہیں معاف کردے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔ تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھیں کہ (مسلمان) اللہ کے فضل سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ اور بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے وہ دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے”۔ (سورہ الحدید کی آخری آیات)
جاوید احمد غامدی نوجوان طبقے کو قرآن کی غلط تفسیر سے گمراہ کررہا ہے کہ نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں میں ایک بیٹے کی اولاد نے قیامت تک حکومت کرنی ہے۔ چین ، روس ، یورپ اور امریکہ میں ہیں اور قیامت یہ لائیں گے۔ سورہ حدید اور سورہ آل عمران کی آخری آیات بھی اس کی بکواس سے بدظن ہونے والوں کیلئے کافی ہیں۔ اپنے داماد حسن الیاس کو پردے پر لیکچر دے رہا تھا اور کہہ رہاتھا کہ اللہ نے مردوں کو شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا تو مرد کی شرمگاہ گھٹنوں تک ہے اور اپنے والد کا بتایا کہ وہ ناف سے گھٹنے تک تہبند پہنتا تھا۔ پھر عورت کی شرمگاہ کا بتایا کہ وہ ناف سے ذرا اوپر تک ہے۔ حسن الیاس کو بار بار لقمہ دینا پڑا کہ سینہ سے ذرا اوپر تک ۔ کیونکہ اس کو خوف تھا کہ کہیں ساس کا نہیں بول دے کہ یہاں تک کپڑا پہنتی تھی۔
حالانکہ انسان ویسے بھی کپڑے پہنتے ہیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کا مطلب کپڑوں کے اندر بھی بچانا ہے۔ ایک لمبی ویڈیو بنائی اور حاصل بکواس جمع بکواس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت کو حرام اسلئے قرار دیا کہ لوگ عام طور پر کھاتے ہیں۔ کتے اور گدھے کو نہیں کھاتے تو حرام کہنے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مرد اور عورت کپڑے پہنتے ہیں اسلئے عورت کو اجنبیوں کے سامنے دوپٹہ سینے پر لپیٹنے کا حکم دیا اور یہ فرمایا کہ سینے کے ابھار کی جھلک مت دکھاؤ جاہلیت کی طرح ۔
اللہ نے اہل کتاب کو عروج بخشنے کے بعد مسلمانوں کو اپنے فضل سے پھر عروج کی طرف لیجانے کیلئے واضح ارشاد فرمایا ہے ۔ جاوید غامدی پیٹ کا گیس نکال کر غلط بول رہاہے۔
سورہ حدید کی ان آخری آیات میں حضرت نوح و ابراہیم کے بعد حضرت عیسیٰ اور پھر امت محمدیہ کا ذکر ہے جن کو اللہ نے دو حصے رحمت کے دئیے ہیں ۔ پ ہلا حصہ نصف اول اور دوسرا حصہ نصف آخر ۔ یہ تقسیم حدیث میں ہے ۔ نبیۖ نے فرمایا: ”وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کا درمیان مہدی اور اس کا آخر عیسیٰ ہے مگر درمیان میں کج رو ہونگے ،میں انکے طریقے پر نہیں وہ میرے طریقے پر نہیں”۔
نبی ۖ نے فرمایاکہ ” میرے بعد خلافت، پھر امارت، پھر بادشاہت، پھر جبری حکومتیںاور پھر طرز نبوت کی خلافت ہوگی جس سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہوں گے”۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا: ” پہلا اس امر کا نبوت و رحمت ہے۔ پھر خلافت ورحمت ہے پھر بادشاہت ورحمت ہے۔ پھر اس پر گدھوں کی طرح چال چلن والے ہوں گے۔ پس تم پر جہاد لازم ہے۔ اور بہترین جہاد الرباط ہے اور بہترین رباط عسقلان ہے”۔ اللہ نے فرمایا:
وان من اہل الکتاب لمن یؤمن باللہ وما انزل الیکم وماانزل الیھم خاشعین للہ لایشترون باٰیات اللہ ثمنًا قلیلًا اولٰئک لھم اجرھم عند ربھم ان اللہ سریع الحسابOیایھا الذین امنوا اصبروا و صابروا و رابطوا عاتقوااللہ لعلکم تفلحونO ”
اور بیشک اہل کتاب میں سے وہ بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا اللہ سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کی آیات پر تھوڑا مول نہیں لیتے۔ان کیلئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس بے شک اللہ جلد حساب والا ہے۔ اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو اور رابطہ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ”۔( آل عمران کی آخری آیات)
مسلمانوں کو چاہیے کہ سب سے پہلے ان گدھوں کی چال چلن کو سمجھیں جو اسلام کے نظام کو ہر اعتبار سے تباہ کررہے ہیں اور پھر اسرائیل سے عسقلان میں رابطہ کریں، اگر یہود کو قرآن سے حلالہ کی لعنت سمجھ میں آجائے تو وہ اپنی کتاب کو بھی سمجھ لیں گے اور دونوں پر ایمان لائیں گے اور بیت المقدس بھی مسلمان قوم کے حوالہ کریںگے۔ حلالہ کی لعنت نے مسلمانوں اور یہود کو سخت دل بنادیا ہے۔ عیسائیوں میں نرمی اور رحمت اسلئے ہے کہ انہوں نے حلالہ کی لعنت کو چھوڑ رکھا ہے۔
عیسائیوں نے عملی طور پر رہبانیت کی بدعات ایجاد کیں جن کو وہ رعایت نہیں کرسکے لیکن مسلمانوں اور یہودیوں نے رعونت سے فضول بکواس قسم کے حیلے اور مسئلے مسائل ایجاد کررکھے ہیں جو اخرج المرعٰی کا منظر پیش کررہے ہیں۔
مسئلہ :
ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ تجھے تین طلاق اور پھر مکر گیا ، اب عورت خلع لے اگر وہ خلع بھی نہیں دیتا تو عورت اسکے ساتھ حرام کاری پر مجبور ہے۔ (حیلہ ناجزہ : مولانا اشرف علی تھانوی اور بریلوی دیوبندی فتاویٰ کی کتابیں)۔
مسئلہ :
ساس یا بہو کو شہوت کے ساتھ پکڑلیا۔ اگر خارج کیا تو مسئلہ نہیں لیکن خارج کئے بغیر چھوڑ دیا تو اپنی بیوی حرام ہوگی اور بیٹے پر بہو حرام ہوجائے گی۔ (فتاویٰ کی کتابیں)
مسئلہ :
ساس کی شرمگاہ کو باہر سے دیکھا شہوت آگئی تو یہ عذر ہے لیکن اس کی شرمگاہ کو اندر سے جھانکا یا نظر پڑی تو بیوی حرام ہوگی (نورالانوار، اور فقہ اور فتاویٰ کی کتابیں)
قرآن کی موٹی موٹی باتیں معلوم نہیں اور بکواسات سے عوام کا دماغ خراب کررہے ہیں۔ جو امت کیلئے عذاب ہے۔ سیدبلال قطب کے پروگرام میں بہو سے شادی کو جائز قرار دیا اورکہیں بہو کا حلالہ سسر سے کرنیکی خبرہے، مفتی تقی عثمانی رمل بھی غلط سکھارہا تھا۔ جہالتوں کا خاتمہ قرآن وسنت سے کرنا ہوگا۔
قرآن کی تعریف تک اصول فقہ میں انتہائی غلط پڑھائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں سورہ فاتحہ کو پیشاب لکھنا تک بھی جائز قرار دیا گیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ کرام نے طالب علمی کے دوران مجھے بڑا حوصلہ دیا تھا جس کی قدر و منزلت اس وقت میں نہیں سمجھ سکتا تھا لیکن اب سمجھتا ہوں کہ وہ مرد قلندر تھے اور قلندر ہرچہ گویددیدہ گوید کے مصداق ہیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 2
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں حلالہ کی لعنت کا تصور ممکن ہی نہیں ہے:قرآن اوراحادیث اصول فقہ حنفی کی روشنی میں
امام ابوحنیفہ اور قرآن کریم کے حوالہ جات
فان طلقہا فلاتحل لہ من بعدحتی تنکح زوجًا غیرہ
”پھر اگر اس نے اسے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”البقرہ:230کا تعلق حنفی کے نزدیک البقرہ229 فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ ” تو دونوں پر گناہ نہیں عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں” کیساتھ ہے۔(نورالانوار : بریلوی دیوبندی )
جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہمارے استاذمولانا بدیع الزمان حضرت مولاناقاری اللہ داد مدظلہ العالی، مفتی زرولی خان، مفتی تقی عثمانی کے بھی استاذ تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ” اگر فان طلقھا میں ”ف” تعقیب بلا مہلت نہ ہوتی تو قرآن واحادیث کا یہی تقاضہ تھا کہ الگ الگ مرتبہ تین طلاق پر حلالہ کا حکم جاری ہوتا”۔جبکہ مفتی منیب الرحمن صدر تنظیم المدارس مفتی اعظم کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے حنفی مسلک سمجھنے میں بڑا مغالطہ کھایا۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنے شاگرد مولانا اکرم سعیدی سے فرمایا: ”سید عتیق الرحمن گیلانی کا مؤقف درست ہے”۔ مجھے بھی بالمشافہہ ملاقات میں فرمایا تھا کہ ”مجھے فوت شدہ سمجھ لیں، سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف لکھا تو اپنے بریلوی علماء مارنے پہنچ گئے تھے”۔
حنفی واضح ہیں کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ کا مقصد عورت کی آزادی ہے ایماامرأة نکحت بغیر اذن ولھیا فنکاحھا باطل باطل باطل ” جس بھی عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے”۔ یہ کئی احادیث ہیں جو حنفیوں کے ہاں قابل قبول نہیں ہیں۔
قرآن وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ”اوراس میں انکے شوہر اصلاح کی شرط پر ان کو لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں”۔ پہلی بات یہ ہے کہ کوئی واضح حدیث نہیں جس میں اس آیت کے خلاف حکم ہو کہ عدت میں بھی حلالہ کرکے آؤ لیکن اگر ہوتی بھی تو حنفی بالکل مسترد کردیتے”۔
جمہور کے ہاں طلاق شدہ و بیوہ بھی اجازت کی محتاج ہے ۔ حالانکہ بیوہ کیلئے واضح الفاظ ہیں فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف ” اور جب وہ اپنی عدت مکمل کرلیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں جو بھی اپنے لئے معروف طریقے سے فیصلہ کرلیں”۔یعنی بیوہ فوت شدہ شوہر سے نکاح باقی رکھے یا نئے شوہر کا انتخاب کرے آزاد ہے”۔
وانکحوا لایامٰی منکم و الصالحین من عبادتکم …… ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا لتبتغوا عرض الدنیا و من یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیمO(سورہ نور آیت32،33)
ان آیات میں طلاق شدہ وبیوہ اور غلام ولونڈی کے نکاح کی ترغیب ہے۔ لونڈی کے حق مہر کا حکم ہے اور غلام کے پاس رقم نہیں ہے اسلئے اس کے ساتھ تحریری معاہدہ کے ذریعے نکاح ہوسکتا ہے اللہ نے کہا ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے تو کرلو اور اللہ کا دیا ہوا مال بھی اس پر خرچ کرو۔ اور پھر کنواری کا مسئلہ حل کیا ہے کہ اگر وہ نکاح چاہتی ہو تو اس کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ تم دنیا کی وجاہت چاہتے ہو ،اللہ آخرت چاہتاہے۔ اگر انہیں مجبور کیا تو ان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے۔ یعنی حرام کاری کا فتویٰ نہیں۔
وزیرستان کے ملنگ ”خورے نورا گل ”نے بتایا : بیٹا کراچی میں کنڈیکٹر تھا تو ایک لڑکی نے کہا کہ میں خود کشی کروں گی یا مجھ سے شادی کرلو۔ بیٹے نے شادی کی تو کچھ سالوں بعد لڑکی کا والد فوجی افسر ڈیرہ اسماعیل خان پوچھ گچھ کیلئے آیا اور پھر اس کا اڈریس معلوم کیا اور کراچی اس کے گھر گیا اور اس کو پیشکش کردی کہ یہ تمہاری عزت کا مسئلہ ہے جہاں چاہو میرے لڑکے اور اپنی لڑکی دونوں کو مار دو۔ فوجی افسر بڑا خوش ہوا اور کہا کہ تمہارے بیٹے کا کوئی قصور نہیں لیکن اب بیٹی کو بھی تمہاری خاطر معاف کرتا ہوں مگر بہت زیادہ منتوں کے باوجود گھر آنے کی بیٹی کو اجازت نہیں دی ۔ وزیرستان کے لوگوں کی غیرت کا اندازہ اس سے لگائیں۔
فوجی افسر نے بیٹی کی منگنی چچازاد سے کی تھی ۔سورہ نور آیت32،33کا مفہوم معاشرے میں عام کیا جاتا تو اچھے نتائج نکلتے ۔اگر فوجی افسر کو معلوم ہوتا کہ قرآن نے حکم دیا ہے کہ لڑکی کو مجبور کرنا جائز نہیں ہے اور حدیث میں لڑکی کی مرضی کو ضروری قرار دیا گیا ہے تو یہ ناگوار واقعہ پیش نہیں آتا۔ قرآن وحدیث میں لڑکی کو باپ نکاح پر مجبور کرے تو جائز نہیں لیکن اس مجبوری کو قرآن نے لڑکی کے حق میں جائز قرار دیا اسلئے کہ وہ مجبورہے۔ یہ قرآن کا بڑا احسان ہے ورنہ تو جاہل معاشرے کی عورتوں کیساتھ ایک تو جبر ہوتا اور دوسرا ا س کے بچے بھی ناجائز کہلاتے ۔ افسوس کہ علماء نے قرآن کے ترجمہ و تفسیر کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا کہ سورہ النور آیت33سے جبری طور پر لونڈی کو بدکاری میں استعمال کرنے کا مفہوم نکالا ہے۔ پھر بیرون ملک بیٹھا ہوا شہریار رضا روایات بتاتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے خاندان کا یہ دھندہ تھا۔ العیاذ باللہ۔ علماء حق اورعوام الناس کو چاہیے کہ منبر ومحراب اور عوامی مقامات پر لوگوں میں قرآن کے درست مفہوم کو عام کریں تاکہ امت کے عقائد، نظریات، مسالک اور اعمال کی زبردست اصلاح ہو۔
ــــــــــ
امام ابوحنیفہ اور احادیث کے حوالہ جات
حلالہ کی لعنت کو جواز فراہم کرنے والی احادیث اور فتاویٰ کی کتابیں دیکھو تو دلائل کے بہت بڑے انبار لگتے ہیں مگر کارآمد دلیل کوئی ایک بھی نہیں ہے۔
وفاق المدارس کے صدر استاذ العلماء محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ حنفی مسلک کے اصول سے کوئی بھی ایسی حدیث نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے حتی تنکح زوجًا غیرہ میں نکاح پر جماع کا اضافہ کریں۔ ہم قرآن میں نکاح سے جماع مراد لیتے ہیں۔ (کشف الباری :شرح صحیح البخاری)
قارئین ! احادیث میں حلالہ کی اوقات نہیں۔ نکاح سے عقد کی جگہ جماع ہو تو یہ حنفی شافعی اختلافی مسئلہ حلالہ سے زیادہ گندگی کابڑا ڈھیر ہے ۔امام ابوحنیفہ نے بادشاہ کو اسکے والد کی لونڈی کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا اور قاضی ابویوسف نے معاوضہ لیکر دیاپھرامام ابوحنیفہ کے خلاف حرمت مصاہرت کا جھوٹ پھیلایا گیا ۔
وربآئبکم الاتی فی حجورکم من نساء کم الاتی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلاجناح علیکم
” اور تمہاری عورتوں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے گھروں میں پرورش پائی اور جنکے اندر تم نے ڈالا اور اگرتم نے نہیں ڈالا، تو پھر ان سے نکاح میں گناہ نہیں”۔(النساء:23)
قرآن نے آنے والے گدھوں سے حفاظت کیلئے حفظ ماتقدم کے طور پریہ واضح الفاظ استعمال کئے کہ ”اگر نکاح کے بعد تم نے اسکے اندر ڈال دیا….”تاکہ حرمت مصاہرت کے بیہودہ مذہبی مسائل پیدا نہیں ہوں۔ سورہ بقرہ میں اللہ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا مگر انہوں نے سوالات پوچھ کر اپنے ہی لئے مشکلات کھڑی کردیں۔ کہتے ہیں کہ ”قرآن حجاز میں نازل ہوا، مصر والوں نے پڑھا اور ہندوستان والوں نے سمجھا”۔ علامہ اقبال نے ذہن ہندی کا کہا۔
عطاء مؤمن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
امام ابوحنیفہ کی پیدائش80ھ کو ہوئی ۔صحابی محمود بن لبید کی وفات97ھ کو ہوئی۔ کوفہ کے فقیہ اعظم سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے نکاح کا حکم ہے جماع کا نہیں تو حجاج بن یوسف نے95ھ میں بہت بے دری سے شہید کیا اورمدینہ کے فقیہ اعظم سعید بن مسیب پرانتہائی تشدداور قیدوبند کی صعوبتوں کے پیچھے مسئلہ طلاق تھا۔ ہشام نے چوتھی بیوی کوطلاق دی تو عدت میں کسی اور عورت سے نکاح کیا تو سعید بن مسیب نے کہا کہ عورت عدت میں انتظار کی پابند ہے تو شوہر رجوع کا دروازہ کھلا رہنے تک انتظار کا پابند ہے۔
لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن من ازواجٍ ولواعجبک حسنھن
”اے (نبی!) آپ کیلئے حلال نہیں اسکے بعد عورتیںاور نہ یہ کہ ان کے بدلے کسی اور کو بیویاں بناؤ اگرچہ آپ کو ان کا حسن اچھاہی کیوں نہ لگے”۔(الاحزاب:52)
بصرہ کے فقیہ اعظم حسن بصریبنوامیہ کے تشدد سے بچ گئے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ڈھائی سالہ اقتدار میں احادیث کے اظہار پر نرمی کی پالیسی بنائی اور101ھ میں زہر سے شہید کردئیے گئے۔ پھر انتہائی ظالم یزید اور ہشام نے اقتدار سنبھالا۔ حسن بصری110ھ میں فوت ہوگئے اور پتہ نہیں کیا دھمکی ملی تھی کہ فرمایا” مجھے20سال پہلے مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی پھر20سال تک دوسرا مستند شخص نہیں ملاجو اس کی تردید کرتا۔ پھر ایک زیادہ مستند شخص نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے ایک طلاق دی تھی ۔(صحیح مسلم) یہ مستند شخص کا قصہ کیا ہے؟۔ عمران بن حصین نے کہا کہ ”میں نے نبیۖ کیساتھ حج وعمرہ کا احرام اکٹھا باندھا پھر قرآن وسنت میں کوئی منسوخی کا حکم نہیں آیا، جس نے کیا ،اپنی رائے سے کیا مگر میری وفات تک مجھ سے نقل نہ کرو۔(صحیح مسلم) حسن بصری نے ایک اور نہلے پہ دہلا کیا کہ ” بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ بیوی سے حرام کہہ دیا تو یہ تیسری طلاق ہے جو حلالہ کے بغیر حلال نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری)
امام شافعی اکٹھی 3 طلاق کو سنت اور دلیل لعان کے بعد عویمر عجلانی کا واقعہ جو سورہ طلاق کا تقاضہ تھا نہ یہ کہ حلالہ کے جواز کیلئے آیات کی تنسیخ کا ثبوت ہے۔
امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے ہاں اکٹھی3طلاق بدعت دلیل محمود بن لبید نے کہا کہ ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو 3 طلاق دی نبیۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہیں کردوں”۔ (نسائی)قتل کی پیشکش عمر اور طلاق عبداللہ بن عمر نے دی تھی۔ نبی ۖ عبداللہ بن عمر پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا اور عدت میں3طلاق کا سمجھایا۔(تفسیر سورہ طلاق صحیح بخاری)بخاری نے کتاب الاحکام، طلاق و عدت میں نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر نہیں کیا۔اکٹھی تین طلاق کا باب باندھا اور حلالہ کی لعنت کیلئے بقرہ آیت229کے پہلے حصہ اوراس روایت سے مغالطہ دیا جس سے کوئی فقہی امام اور محدث متفق نہیں تھا بلکہ بخاری کی دوسری روایات سے اس واقعہ کا حلالہ کیلئے ”غلط درج ہونا” بھی ثابت ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ شیخ الحدیث بخاری پڑھانے والے کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
تین طلاق کے بعد عدت میں اور عدت کے بعد معروف رجوع سے قرآن و سنت نہیں روکتے۔ دیکھئے حصہ 1
و ما ارسلنا من قبلک من رسولٍ و لا نبی الا اذاتمنٰی القی الشیطان اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا(الحج:52)
قرآن وسنت کی بھرپور وضاحتوں کے باوجود شیطانی مداخلت سے حلالہ کی لعنت کا گھناؤنا فعل آیت52الحج کی سچائی ہے !
البقرہ:226،227
”جولوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کرتے ہیں ان کیلئے چار مہینے کا انتظار ہے۔پس اگروہ مل گئے تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے اور اگروہ طلاق کا عزم رکھتے تھے تو اللہ سننے جاننے والا ہے”
رسول اللہ ۖ نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا۔29دن بعد رجوع کیا تواللہ نے حکم دیا کہ ساری ازواج کو اختیار دیدیں اگر وہ رہنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ ۔یہ انہی کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔
احزاب کی آیت تخییرکا صحیح بخاری میں واقعہ ہے اور ایلاء کی عدت چار ماہ ہے ۔ جاہلیت میں ایلاء کی کوئی عدت نہ تھی ۔ایلاء میں طلاق کا اظہار نہیں ہوتا ہے اور اگر طلاق کی نیت ہو تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر اللہ کی پکڑہوگی اسلئے کہ ایک مہینے عدت بڑھ گئی۔ اور جو225،226،227البقرہ میں واضح ہے۔ طلاق صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے اور اللہ نے آیت225البقرہ میں واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لغو یمین سے نہیں پکڑتا بلکہ دل کے گناہ سے پکڑتا ہے۔ دل کا گناہ وہ ایلاء ہے جس میں طلاق کا عزم تھا مگر اظہار نہیں کیا اور لغو یمین وہ فضول بکواس ہیں جو یہود کی پیروی میں بنائے ۔ طلاق بائن، مغلظ، بتہ، رجعی وغیرہ۔ آیت224میں واضح کیا کہ اپنے یمین کو تقویٰ، نیکی اور صلح میں رکاوٹ مت بناؤاور آیت232تک واضح کیا کہ باہمی رضامندی سے صلح میں رکاوٹ مت بنو۔
سورةالبقرہ:228
”اورطلاق شدہ عورتیں خود کو انتظار میں رکھیں3ادوار تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے پیٹوں میں پیدا کیا اگر وہ اللہ و یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور انکے شوہر اس میں انکو لوٹالینے کے زیادہ حقدار ہیں بشرط یہ کہ وہ اصلاح چاہیں اور ان عورتوں کیلئے اسی طرح کے حقوق ہیں جو ان پرہیں معروف کیساتھ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔
طلاق رجعی میں کئی عدتوں کا اور مغلظ میں باہمی صلح سے بھی حلالہ کے بغیر رجوع کا حق نہیں تھا۔ یہ آیت اگلی پچھلی آیات سے متصادم نہیں۔ ایلاء کی4ماہ اور طلاق کی3ادواراور حمل میں بچے کی پیدائش تک اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع کا حق ہے اگر چہ اکٹھی تین طلاق دے یا الگ الگ تین مرتبہ طلاق دے ۔طلاق سے رجوع کا تعلق باہمی صلح کی بنیاد پر ہے نہ کہ طلاق کی تعدادپر۔1طلاق کے بعد بھی صلح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا اور3طلاق کے بعد صلح سے رجوع ہوسکتا ہے۔ اگلی آیت229میں صرف اس عدت کے طلاق کا طریقہ کار ہے جس میں عورت کا حیض آتا ہو ،حمل کا نہیںاور اس طریقہ کار سے طلاق دی جائے تب بھی حلالہ کے بغیر بھی معروف طریقہ سے رجوع ہوسکتا ،نبیۖ کا غصہ صرف طریقہ کار کی مخالفت پر تھا اور شیطان اللہ کے واضح حکم میں مداخلت کے اندر کامیاب ہوگیاہے۔
سورةالبقرہ :229
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کردینا ہے۔”
اور ابن عمر کی بیوی کی پریشانی ہوئی تو نبیۖ نے غضبناک ہوکر صرف یہ قرآنی طریقہ طلاق سمجھایا ۔
شیطان کی مداخلت
عبدااللہ بن عمر نے کہا اگر میںدوبار کے بعد طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کاحکم نہ دیتے”۔ ( بخاری)
اگر ان کی بیوی رجوع نہ چاہتی تو نبیۖ مذاق کی ایک طلاق پر بھی رجوع کا حکم نہیں دیتے۔حلالہ اور طلاق مغلظ کا یہاں کوئی تک نہیں بنتااسلئے کہ آئندہ کی آیت230سے پہلے ابھی مزید حدود بھی ہیں۔
تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تووہ لوگ ظالم ہیں”۔(البقرہ:229)
جامعہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا محمد سے طلبہ پوچھتے جو بات آئندہ آرہی ہوتی تو کہتے: ”کیماڑی ابھی آئی نہیں اور تین ہٹی پر شلوار اتاردی”۔ شیطان نے حلالہ غلط جگہ فٹ کیا اور سبھی کو ننگا کیا۔
سورةالبقرہ:230
” پس اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے …”۔
مسلک حنفی میںیہ طلاق فدیہ کی صورت سے ہے۔ (نورالانوار: ملا جیون)” ابن عباس کے ہاں یہ طلاق الگ الگ طلاق اور فدیہ سے سیاق و سباق کے مطابق ہے ”۔ (زادالمعاد:علامہ ابن قیم )
قرآن کی ہر آیت میزان اور فطرت کا انمول نمونہ ہے۔ آیت230سے پہلے کی دوواضح آیات میں اور بعد کی دو واضح آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع ہے لیکن جب امت نے قرآن کو چھوڑ کر قاضی شریح و قاضی ابویوسف سے لیکر مفتی تقی عثمانی وجاوید غامدی تک اپنی ناک کی نکیل مفاد پرست مردار خور مذہبی طبقے کے حوالہ کردی تو اللہ تعالیٰ نے غضبناک ہوکر حلالہ کی شیطانی لعنت سے ان کا معاشرتی نظام تباہ کیا۔
وہ معاشرہ جو14سوسال پہلے یورپ سے بھی زیادہ ایڈوانس ہوجاتا اور بیوی کیساتھ کسی کو رنگے ہاتھوں بھی دیکھ لیتا تو قتل کی جگہ لعان کرتا مگر اللہ کی نہیں مانی اور شیطان کی مان کر لعنت میں مبتلا ء ہوا۔
آیت230البقرہ کی طلاق سماجی مسئلہ تھا، سعد بن عبادہسردار کی طلاق شدہ بیویوں کو ابوبکر وعمر نے نکاح کی اجازت دی تو مدینہ چھوڑ کر شام دمشق کے قریب کسی گاؤں میں گئے۔ اہل مغرب تا قیامت حق پر قائم رہیں گے(ارشاد نبویۖ صحیح مسلم)
سورةالبقرہ:231
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ عدت کو پہنچ جائیںتو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دواور ان کو ضرر پہنچانے کیلئے مت روکو تاکہ تم زیادتی کرواور جو ایسا کرے تو تحقیق اس نے خود پر ظلم کیااور اللہ کی آیات کو مذاق مت بناؤ اور اس نعمت کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی ہے اور جو اللہ نے تم کتاب میں سے نازل کیا اور حکمت جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔
خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کو تین طلاق دی تھی ۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی نے خاور مانیکا کو حلالہ کی پیش کردی تو بشری بی بی یہ بے غیرتی نہیں مانی۔ عدت گھر میں گزار ی اور پھر اپنے گھر گئی۔ خاور مانیکا مناتا رہامگر حلالہ کے بغیر نہیں آسکتی تھی۔ مفتی عبدالقوی سے حلالہ کی لعنت سے بہتر تھا کہ کسی اور سے نکاح کرتی۔ عمران خان سے نکاح بہتر لگا۔ قانونی طلاق کا مطالبہ کیا اور پھر بعد میں لگا کہ قانون کے مطابق عدت پوری نہیں۔ اسلئے دوبارہ نکاح کیا۔ حالانکہ وہ بھی خلع بنتا تھا اور خلع کی عدت ایک ماہ ہے ۔سعودی عرب میں صحیح حدیث کے مطابق اس پر عمل ہوتا ہے لیکن بگڑے ہوئے فقہاء نے قرآن و احادیث کے مقابلے میں اپنا مذہب ایجاد کیا۔اب سود کو اسلامی قرار دیا تو کیا معاشی نظام کا بھی حلالہ ہوگیا ہے؟۔واہ۔ ہاہاہا
سورةالبقرہ :232
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدواور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیںتو ان کو مت روکو اپنے شوہروں کیساتھ نکاح سے جب آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔یہ ہے وہ جسکے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے ان کو جن کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے۔ اسی میں ہے تمہارا زیادہ تزکیہ اور پاکیزگی اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ”۔
اگر سورہ بقرہ کی ان آیات کا مفہوم عوام اور علماء سمجھ لیں تو مفتی سے فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں ۔ بغیر جبر کے عورت معروف طریقے سے راضی ہو تو قرآن کا اٹل فیصلہ ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری نے غلط عنوان کے تحت فراڈ کیا جس کا بھانڈہ پھوڑا گیا تو کوئی حدیث صلح میں رکاوٹ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق اعظم اور حضرت علی نے صلح میں رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ عورت صلح پر راضی نہ تھی تو قضاء یعنی ججمنٹ سے عورت کو تحفظ دیا، قاضی شریح و قاضی ابویوسف جیسوںنے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی یہودیت میں بدلا۔ امام ابوحنیفہ نے معروف رجوع کو منع نہیں کیا بلکہ حلالہ کی لعنت کو فدیہ سے جوڑا مگر ان کو جیل میںزہر دیکر شہید کیا۔ میں نے2007میں حلالہ کا مسئلہ کھولا تو کرایہ کے کچھ دہشتگردوں سے حملہ کرواکر مہمانوں سمیت13افرادکو شہید کیا۔ مفتی تقی عثمانی نے پھر فتاویٰ عثمانی میں میرے مرشد حاجی عثمان کوکفار کے زمرے میں شائع کردیا۔واہ
ــــــــــ
طلاق کے تیسرے دن بیوی کی مرضی کے بغیر شوہر تعلقات قائم کرلے تو کیا یہ زیادتی شمار ہوگا؟۔ اہلحدیث کے پیغام ٹی وی میں سوال
ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی پھر 3 دن بعد زبردستی جماع کیا تو جج نے شوہر کا حق قرار دیا۔اہل حدیث نے پیغامTVمیں کہا کہ طلاق رجعی میںشوہر کو عورت کی مرضی کے بغیر حق ہے”۔حالانکہ قرآن وسنت نے طلاق رجعی، طلاق مغلظ اور طلاق بائن کاجاہلانہ تصور ختم کیا۔ عورت راضی نہیں تو منکر رجوع ہے، عورت راضی ہو تو قرآن کا معروف رجوع ہے ۔ سورہ مجادلہ میں ظہار کو منکر قول اور جھوٹ قراردیا۔ معروف و منکر کا فرق واضح ہے۔
معروف رجوع واضح ممدوح
لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امرًاOفاذا بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ ”آپ نہیں جانتے ہوسکتا ہے کہ اللہ عدت میں رجوع کی نئی صورت پیدا کرے۔ پس جب وہ عدت کو پہنچ جائیں تو معروف طریقے سے رجوع کرو”۔ (سورہ طلاق:1،2) ”
وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل علیھن بالمعروف "اور انکے شوہر اس میں ان کواصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر شوہروں کے ہیں معروف کیساتھ ”۔
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے”۔ (البقرہ:28،229)
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچیںتو ان کو معروف کیساتھ روکو”۔
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچیںتو ان کو مت روکو جب وہ اپنے شوہروں کیساتھ نکاح کریں جب وہ معروف کیساتھ راضی ہوں” (البقرہ:231،232)۔ جس سے واضح ہے کہ” عورت کی رضامندی کے بغیر منکر رجوع کی کوئی اجازت نہیں” ۔
منکر رجوع واضح ممنوع
آیت226البقرہ میں ایلاء کی عدت4ماہ ہے۔ اگر طلاق کی نیت تھی تو اللہ کی پکڑ ہوگی اسلئے کہ ایک ماہ عورت کے انتظار میں اضافہ کیا۔ اللہ نے عورت کی اذیت کا اتنا خیال رکھا ۔ اللہ کے نام پر عورت کے حقوق کی کتنی جاہلانہ پامالی ہے؟۔ جب رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا تو ایک ماہ بعد رجوع پر سب خوش ہوگئے مگر اللہ نے حکم دیا کہ ازواج کو علیحدگی کا اختیار دے دو تاکہ مسلمانوں پر یہ واضح ہو کہ ایلاء کے بعد عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع نہیں۔
طلاق کے بعد عورت کی رضا کے بغیر منکر رجوع جائز نہیں۔ جو قرآن میں واضح ہے۔ نبیۖ کی نیت قرآن کے عین مطابق ہونے کے باوجود بھی شیطانی مداخلت نے مسلمانوں کے ذریعے معاملہ کردیا۔ایک طلاق ہو یا تین اورسنجیدگی میں ہو یا مذاق میں جب عورت راضی نہیں تو پھر منکر رجوع ہے اور اس پر فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ”پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرے” (البقرہ:230) کا فتویٰ لگتاہے۔
یہی رسول اللہۖ، حضرت عمر ، حضرت علی، حضرت امام ابوحنیفہ کی قرآن کے عین مطابق تعلیمات ہیں لیکن مذہبی تجارت کے فرقہ پرستوں کو شیطانی القا نے گمراہ کیا۔
اسلام کی اجنبیت یہ ہے کہ منکر کو معروف اور معروف کو منکر بنادیا۔ یہود کے نقش قدم پر علماء ومفتیان کا مذہبی طبقہ بد فطرت بن گیا۔ جس طلاق رجعی اورحلالہ کی لعنت سے قرآن کے ذریعہ ہم یہود کو نکالتے لیکن آج ہم ان کی چلن پر چل پڑے ہیں۔ خدار ا بس کرو بس، بہت ہوچکا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
پیکرانسانیت ظفر اقبال جتوئی کا جذبہ اخلاص
نوشتہ دیوار دسمبر2025خصوصی انتخاب یقینا علمی دنیا کیلئے قابلِ تحسین ہے،
دار العلوم نعمانیہ صالیحیہ اور عتیق گیلانی برصغیر کے اکابر مذہبی پیشواؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عربی تحقیق میں نہایت اہم مضمون محقق ڈاکٹر جہاں آرا لطفی، اسسٹنٹ پروفیسر شیخ زید اسلامک سینٹر، یونیورسٹی آف کراچی نے قلم بند کیا۔ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر مدلل روشنی ڈالی جو حلالہ کے ناجائز اور غیر شرعی تصور کے خلاف دیا گیا۔ بیٹنی قوم کا احسن اقدام پر جامع تحریر شامل ہے۔ تین طلاق کے فطری وحقیقی حل پر مشتمل تحریر میں یہ واضح کیا گیاکہ اگر قرآنی اصول کو سمجھ لیا تو پوری انسانیت کے خاندانی مسائل کو حل کرنے کی بنیاد فراہم ہو سکتی ہے۔ (جتوئی صاحب نے ملتان اورلاہور کے اخبارات میں معاملہ اجاگر کیا :شکریہ)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv