پوسٹ تلاش کریں

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے

فرزانہ علی بہت اچھے پروگرام کرتی ہیں

احسان اللہ ٹیپو محسوداور افتخار فردوس نے اہم معلومات کی طرف توجہ دلائی ہے اس سے پہلے جنرل طارق خان کا انٹرویو کیا۔ جنر ل احسان الحق کا بیان ۔ مذہبی طبقے کا مخصوص ذہن مذہبی بیانیہ سے بدلے گا۔ تبلیغی جماعت ،دعوت اسلامی، شیعہ اور سبھی مذہبی طبقات کا اپنا اپنا ماحول ہے ۔ خلافت و جہاد والوں کوصحیح تصور دینا ہوگا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نسا ء رحیم نے بدھ مت سمجھنے سے اسلام کوزیادہ بہتر سمجھا

علامہ شمس الدین شکری نے نساء رحیم سے انٹرویو لیا۔

بدھ مت کو مذہب نہیں سائنسی فلسفہ قرار دیا۔ خطہ میں بدھ مت تھا اور محرب پور سندھ میں ایک پسماندہ خاندان ابھی تک موجود ہے۔ نساء رحیم کا گھرانہ خوشحال ہے۔ انٹرویو تفصیلی ہے۔ انبیاء کی بعثت جاری تھی تو رام کرشن اور گوتم بدھ انبیاء تھے یا نہیں؟۔ مشرکین عرب کا ابراہیم کی نبوت پر ایمان تھا مگر صحائف ابراہیمی انکیپاس نہیں تھے اور اہل کتاب نہیں کہلاتے تھے۔ اسلام نے تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو یکساں احترام دیا ۔سورہ حج میں اللہ نے فرمایا:

الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ و لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعضٍ لھدمت صوامع و بیع و صلوٰت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیرًا و لینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیزOالذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلاة واٰتوا الزکاة وامروا بالمعروف و نھو عن المنکر وللہ عاقبة الامورO

”وہ لوگ جنہیں ناحق انکے گھروں سے نکال دیا گیا صرف یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اگر اللہ ایکدوسرے کے ذریعے لوگوں کا دفاع نہ کرتا تو ڈھا دئیے جاتے خانقاہیں، مندر، گرجے اور مساجد جس میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ طاقتور زبردست ہے۔ وہ لوگ اگر زمین میں ہم انہیں حکومت دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں اور اللہ کیلئے کاموں کا انجام ہے”۔ ( الحج:آیت40،41)

جب طالبان کو حکومت مل گئی تو امیر المؤمنین ملاعمر نے بدھا کے مجسمے گرائے اور تصاویر کے خاکوں پر بھی پابندی لگائی تھی مگر اب طالبان میں شعور آگیا اور ویڈیوز بھی بناتے ہیں اور بدھا کے مجسموں کو بھی کچھ نہیں کہتے۔ طالبان کی اس غلطی میں ایک مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے غلط علمی اپروچ نے بنیادی کردار ادا کیا اور دوسرا بنیادی کردارمیرا تھا۔ اسلئے کہ1987ء میں اپنے گاؤں جٹہ قلعہ گومل سے سارے ٹی وی نکال دئیے اور پھر1990ء میں پاکستان کے تقریباً اکثر شہروں میں جاندار کی تصویر، داڑھی ، پردے اور نماز، زکوٰة اور حج کی ادائیگی کیلئے آواز اٹھائی۔ جس کے بعد پہلے تحریک نفاذ شریعت صوفی محمد اور پھر تحریک طالبان کی حکومت نے افغانستان میں عملی شکل دی۔

مولانا سید سلیمان ندوی نے ”معارف اعظم گڑھ” میں بڑا ایڈیشن تصویر کے جواز ،مجسموں کی نمائش اور دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں میں بتوں کے تحفظ کیلئے شائع کیا۔ جس پر خوامخواہ میں مفتی محمد شفیع اس وقت استعمال ہوگئے جب وہ پورے عالم ومفتی بھی نہیں بلکہ ایک منشی تھے۔ اگر چہ بعد میں مفتی شفیع نے بعض معاملات سے اگر مگر کرکے رجوع کیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے اس وقت ان کے علمی مقام کا پتہ نہیں تھا لیکن حق یہ تھا کہ جب علم ہوگیا تو کھل کر اس کا اظہار بھی کردیاجاتا۔

علامہ سیدمحمد یوسف بنوری کے نواسے عامر طاسین نے بتایا کہ ان کے گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا جس میں اپنے والد مولانا طاسین کے پروگرام دیکھتے تھے۔ علامہ بنوری وہاں گھر پر تشریف لاتے مگر کبھی ٹی وی کی مخالفت نہیں کی۔ علامہ بنوری نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے ساتھ گروپ فوٹو کھینچوانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں تقوی دار نہیں اور فوٹو سے پرہیز بھی نہیں کرتا مگر شاہ کیلئے یہ کام نہیں کرسکتا”۔

جب ہم نے تصاویر کیخلاف مہم شروع کی تو جماعت اسلامی کی شوریٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ” گروپ فوٹونہیں کھینچوائیںگے” اور اس پر2003ء میں جنگ گروپ کے ایک پروگرام”مذہبی انتہاپسندی اور پاکستان کا مستقبل” میں پروفیسر غفور احمد میرے ساتھ شریک تھے تو میں نے جماعت اسلامی کی شوریٰ کے اس فیصلے کا حوالہ بھی اس پروگرام میں دیا تھا۔ اور انتہا پسندی کی بنیاد ریاستی اداروں کے کردار کو قرار دیا تھا۔ لیکن مذہبی شدت میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

2004ء میں جاندار کی تصویر کے جواز کے انکشاف پر ایک کتاب”جوہری دھماکہ” لکھی ہے جس نے مذہبی رحجانات کا کھایا پلٹ دیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی کے دلائل بھی تھے ۔ علماء نے لاؤڈ اسپیکر پرنماز، آذان اور اقامت کو ناجائز قرار دیا تو تبلیغی جماعت اس میں پک گئی لیکن علماء نے بہت خیانت اور گونگے شیطان کا کردار ادا کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ وہ فتویٰ ہم نے بالکل غلط دیا تھا ورنہ تبلیغی جماعت والے خوار نہ ہوتے لیکن اس کا نقصان علماء کو بھی پہنچا کہ تبلیغی جماعت والے انہیں بے عمل سمجھنے لگے۔ افغانستان کے طالبان کی نظروں میں بھی یہ گرے ہوئے لوگ تھے۔ اگر علامہ سید سلیمان ندوی کے علم کو عام کردیا جاتا تو سارے اکابر علماء کی چھپی ہوئی تصویریں تقیہ کا شکار نہیں ہوتیں۔ جب ہم نے کتاب اور اخبار میں تشہیر کردی تو سارے اکابر تصویر کے معاملے پرماشاء اللہ چھپے رستم نکلے ۔

اگر ملاعمرکو سورہ حج کی آیت اور علامہ سید سلیمان ندوی کی کتاب کا علم ہوتا تو بدھا کے مجسموں کو بدھ مت کے پیروکاروں کیلئے چھوڑا جاسکتا تھا۔ چین، جاپان، برما،کوریا، تھائی لیند اور نپال وغیرہ بہت سارے ممالک کے لوگوں کو قرآن کی آیت پر عمل کرنا اچھا لگتا۔ جب سندھ کو فتح کیا گیا تھا تو ریاست کیلئے بہت زیادہ آمدن کے ذرائع بڑے بڑے مندر بھی تھے۔ قرآن نے مذہبی تجارتی مراکز کیلئے ”بیع” کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کو جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی آمدن سے حصہ نہیں ملتا تھا تو مولانا محمد خان شیرانی کو چلتا کردیا تھا اور مدارس، خانقاہیں، مذہبی وسیاسی جماعتیں اور قوم پرست لسانی تنظیمیں بھی تجارت کے محور ہیں۔ حامد میر نے اوصاف اخبار میں مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی بات لکھی تھی کہ ” واشنگٹن امریکہ سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے جہادی تنظیم کو پیسہ آرہا ہے جو علماء کرام کو خریدتے ہیں اگر یہ باز نہیں آئے تو ان کا بھانڈہ چوراہے کی بیچ میں پھوڑ دیںگے”۔ حامد میر نے اخبار کے اداریہ میں لکھ دیا کہ ”باز نہیں آئے تو یہ کام کرلینا”۔

ہمارا مذہبی بہروپیہ طبقہ اپنا دین سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ نساء رحیم کو سنیں ،سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک بہت زیادہ ذہین اور لکھا پڑھا شخص نفساتی مریض ہوسکتا ہے۔ نساء رحیم نے بتایا کہ جب وہ کسی بدھ مت والے استاذ کے پاس گئی تو اس نے کہا کہ تیری آمد متوقع تھی اور بتایا کہ ایک فرشتے نے تیری آمد کی خبر دی تھی۔ مسلمان مانتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فرشتوں اور شیطان نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ جب ہم سنت پر عمل پیرا تھے تو اس وقت گلیوں میں فرشتے ہم سے ہاتھ ملاتے تھے۔ اقبال نے کہا کہ ”فضا بدر پیدا کر آسکتے ہیں فرشتے قطار اندر قطار اب بھی” ۔2500علماء کی بیٹھک سے فیلڈ مارشلCDFحافظ سید عاصم منیر نے کہا کہ ”میں نے اللہ کی مدد بنیان مرصوص میں اترتی ہوئی دیکھی ہے”

اعمال صالحہ سے مراد عبادت نہیں بلکہ درست اعمال ہیں۔ ہمارے اسلام کے خول لگانے والے نفرتوں کے فروغ کو عمل صالح سمجھتے ہیں۔نساء رحیم نے بدھ مت میں فرشتے کی تعلیم سیکھ لی یا شیطانی عمل ؟ لیکن اسلام کو پہلے سے زیادہ بہتر سمجھنے کا دعویٰ کررہی ہیں۔ روحانی دنیا میں انکشافات عجیب وغریب تو ہوتے ہیں لیکن درست ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ہے۔

تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
تخیلات کی دنیا غریب ہے لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا
عجب نہیں ہے کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا

علامہ اقبال خود صوفی تھے اور یہ خطاب بھی صوفی سے تھااور علماء دیوبند پر ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی نے گمراہی کے فتوے مشاہدات کی وجہ سے لگائے۔ حالانکہ قرآن میں اس سے بھی بڑے بڑے معجزات ہیں اور اس کی بنیاد پر معتزلہ بننے کی جگہ بہتر ہے کہ بندہ الحاد یا بدھ مت کا فلسفہ قبول کرلے۔ بدھ مت کے لوگ بہت ممالک میں بڑی تعداد کے اندر ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اس کو مذہب نہیں سائنس سمجھتے ہیں اسلئے اپنے مذہبی خانہ کو خالی چھوڑتے ہیں اور بعض ممالک میں کمیونزم کی وجہ سے ان پر مذہب کے نام کو استعمال کرنے کی پابندی بھی رہی ہے۔

اگر ہم نے درست اسلامی نظام کی حقیقت کو اجاگر نہیں کیا تو معاشی، معاشرتی، سیاسی ، اخلاقی ، ریاستی، حکومتی، تعلیمی اور مقامی وبین الاقومی سطح پربڑی مشکلات میں پڑسکتے ہیں۔

قرآن کے احکام کا درست ڈھانچہ کھڑا ہوگا تو پھر اسکے بعد عالم انسانیت کو اس میں عجیب و غریب علوم بھی نظر آئیں گے۔

آیات متشابہات مشتبہ مشکوک نہیں بلکہ مشابہ جن کی نظیریں دنیا میں نظر آئیں گی۔ سائنسی اعتبار سے الگ حقائق اور روحانی اعتبار سے الگ ۔ معاشرتی اور تاریخی اعتبار سے الگ ہیں۔14سو سال پہلے پہاڑ جیسے سمندری جہازوں اورقد کاٹ کے برابر گاڑیوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ بولنے والی کتاب کا تصور نہیں تھا لیکن کتاب ینطق بولنے والی کتاب اب سمجھ میں آرہی ہے۔ عربی میں جب پہیہ گاڑی ایجاد ہوئی تو اسکا نام عریبہ رکھا۔کیونکہ عربی قوم بھی خانہ بدوش تھی اور سفر میں نقل و حمل جاری رہتی تھی تواسکی مناسبت سے گاڑی کا نام رکھنا عرب زبان کی فصاحت وبلاغت اور قرآن کی پیشگوئی کا معجزہ ہے۔

قرآن میں ”عربًااترابًا: قد کے برابر گاڑیوں کا تصور” موجود ہے لیکن اس کی تفسیر اس وقت درست ہوسکے گی کہ جب ہم قرآن کے مرکزی احکام کے ڈھانچے کو معاشرے میں کھڑا کردیں گے۔ اگر قرآن کے الفاظ دیکھ کر پہیہ والی گاڑی کا نام عریبہ رکھا جاتا تو اس شعوری تفسیر کو اغیار نہیں مانتے لیکن جب لاشعور میں یہ نام رکھا گیا ہے اور پھر اس کی درست تفسیر سامنے آئے تو عالم انسانیت حیرت زدہ ہوکر مان جائے گی۔

نساء رحیم نے ماضی میں جھانکنے کی بات بدھ مت کے حوالہ سے کی ہے۔ و اذاخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم وذریتھم و اشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی شھدنا ” اور جب تیرے رب نے پکڑا ، بنی آدم میں سے ان کی پشتوں سے اور ان کی اولاد سے اور ان کو گواہ بنایا ان کی جانوں پر کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہاں !۔ ہم گواہی دیتے ہیں”۔ (اعراف:172)
قال اللیث عن عائشة رضی اللہ عنھاقالت سمعت رسول اللہ ۖ یقول : الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف و ماتناکر منھا اختلف (3336)

حضرت عائشہ سے رسول اللہ ۖ نے فریاکہ ” روحوں کے تہہ در تہہ جھنڈ تھے پس جو وہاں ایکدوسرے سے اچھے تھے تو یہاں بھی محبت ہوتی ہے۔اور جن کی وہاں پر آپس میں نفرت تھی تو یہاں بھی ایکدوسرے کی مخالفت ہے”۔ (صحیح بخاری)

اگر محترمہ نساء رحیم اتنی توجہ قرآن وسنت کی طرف دیں تووہ ایک انقلاب برپا کرسکتی ہیں۔ ہدی بھرگڑی نے عورت کے حق کیلئے بڑی جاندار آواز اٹھائی مگر نتیجہ خاص نہیں نکلا۔ اگر قرآن کی طرف توجہ کی ہوتی تو بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل جاتی۔

علامہ شمس الدین اتنا ہی بتادیتے کہ ”شیعہ کے نزدیک بھی رجعت کا عقیدہ ہے”۔ہندو اورصوفیاء بھی ماضی میں جھانکنے کا کہہ سکتے ہیںمگر اس میں شیطانی کھیل ہوسکتا ہے۔ البتہ قرآن اور آسمانی کتابوں کی ”وحی” شیطانی مداخلت سے محفوظ ہے۔

سورہ بقرہ کے پہلے دو رکوع میں مؤمنین، کفار اور منافقین کا ڈیٹا بیان کیا گیا ہے۔ یہود تعصب میں عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹااور عیسائی حضرت مریم کوخدا کی بیوی اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ ان سے دین ابراہیمی پر قائم رہنے والے وہ لوگ بہترتھے جن کا شرکیہ عقیدہ نہیں تھا۔ رسول اللہۖ کے والدین اور چیدہ چیدہ صحابہ کرام جو اسلام سے پہلے بھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتے تھے۔ان کو سورہ بقرہ کے پہلے اور دوسرے رکوع میں کفار اور منافقین کے ترازو میں تولا جائے تو کفر ثابت نہیں ہوگا اسلئے کہ کفار کے دلوں اور کانوں پر اللہ نے مہرلگانے اورآنکھوں پر پردہ ڈالنے کا فرمایا ہے۔ رام کرشن اور گوتم بدھ کے بارے میں بھی اچھا گمان رکھ سکتے ہیں اللہ نے فرمایا:

”اور اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور ثمود نے بھی جھٹلایااور قو م ابراہیم اور قوم لوط نے اور مدین والوں نے اور موسیٰ جھٹلایا گیا تو میں نے کافروں کو مہلت دی پھر انکو پکڑلیا۔تو پکڑ کیسی تھی؟۔ سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو ظالم تھیں اور وہ چھتوں پر گری پڑی ہیں اور ویران کنویںاور کتنے پکے محلات اجڑے پڑے ہیں۔ کیا زمین میں یہ چلتے پھرتے نہ تھے ،توانکے دل تھے جن سے سمجھتے تھے اور کان تھے جن سے سنتے تھے ۔پس بیشک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ یہ تجھ سے عذاب جلدمانگتے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کیخلاف نہیں کرتااور ایک دن تیرے رب کے نزدیک ہزار سال کے برابر ہے جس کو وہ گنتے ہیں۔ اور کتنی بستیاں ہیں جن کو مہلت میں نے دی اور ظالم تھیں پھر ان کو پکڑ لیا۔ اور میری طرف ہی لوٹ کے آنا ہے۔ کہہ دو کہ اے لوگو! بیشک میں تمہارے لئے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پس جنہوں نے ایمان لایا اور اعمال کئے درست ،ان کیلئے مغفرت اور عزت والی روزی ہے۔ اور جنہوں نے ہماری آیات کو مغلوب کرنے کی کوشش کی تو یہی لوگ جحیم والے ہیں”۔( سورہ حج آیات:42سے51)

بعض لوگوں نے ڈیڑھ ہزار سال بعد قیامت کا تخمینہ لگایا تھا اور اللہ کے نزدیک ڈیڑ ھ سال ڈیڑھ دن کے برابر ہیں اور مروان ویزید کے دور میں جس طرح اقتدار پر قبضہ کرکے حلالہ کی لعنت مسلط کردی گئی تو گویا ابھی ڈیڑھ دن نہیں گزرے ۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ایک دن خلافت بھی قائم ہوگی۔ گل احمد مروت

پاکستان گروپ آف جرنلسٹ کے صوبائی صدر، چیف ایڈیٹر روزنامہ ”پیغامات” پشاور گل احمد مروت نے نمائندہ نوشتہ دیوار سے گفتگو کرتے ہوئے حلالہ کیخلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی خوش آئند قرار دیا اورمزید کہا کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی جہد مسلسل کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں گو کہ وہ پس پردہ ہیں مگر ان کی تحقیقات ہیں جو فطرت اور قرآن کی واضح تعلیمات کے مطابق اُجاگر ہورہی ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو بڑا فیصلہ دیا ہے اسکے پیچھے گیلانی صاحب کی طویل جدوجہد اور لا تعداد علمی دلائل ہیں جو بالآخر عوام الناس، علماء و مفتیان کرام، دانشور حضرات اور اسلامی اسکالرز نے قبول کئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ اس کی واضح دلیل ہے۔ بعینہ اسی طرح آپ مسلمانوں کے عروج اور عالم اسلام کی سربلندی کیلئے قیام خلافت کی جو بات امت مسلمہ کو سمجھارہے ہیں ایک دن سب اس پر بھی انشاء اللہ متحد و متفق ہوں گے۔ یہی مسلمانوں کے مسائل کا حل اور وقت کا تقاضہ ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

ماما قدیر بلوچ۔۔۔انا للہ و انا الیہ راجعون

آہ ماما قدیر۔۔۔۔۔

بیماری گمنامی تو زندگی کٹھن مشکلات میں گزاردی۔ساغر صدیقی نے عورت کے عشق میں زندگی خود ساختہ جبر مسلسل میں کاٹی تو نے پریشان حال خواتین کی خاطر ریاستی جبر مسلسل میں جس طرح زندگی گزاردی ،آج استقامت کی ہوائیں تجھے سلام کہتی ہیں ، استقلال کے پہاڑ تیری شرافت پر جھومتے نظرانہ عقیدت میں خیمہ زن ہیں۔ 6ہزار سے زیادہ دنوں کا دھرنااورکوئٹہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کا لانگ مارچ بہت دکھ بھری ایسی داستانیں ہیں جن کی وجہ سے بلوچ قوم، پاکستان اور خطے کی ناک اونچی ہوئی۔ گہرنایاب کم سہی مگر ہیں ضرور ۔ کبھی نکھر نے کا موقع نہیں ملتا۔اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ماما قدیر بلوچ ایک فطری انسان تھے۔میری ملاقات نہیں تھی مگر مجھے انکے اعتماد اور محبت پر ناز ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنا وطن چھوڑا، قوم کی جانوں اور خواتین کی عزتوں کو قربان نہیں کیا۔ رسول اللہۖ کی مخالفت اپنی قوم قریش مکہ نے کی۔ اللہ نے فرمایا کہ ”کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابتداری میں محبت”۔ فتح مکہ کا موقع ملا تو نبیۖ نے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ عربی میں طلقاء خوشحالی تھی ،گالی نہیں مگر بنادی گئی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

طلاق اور حلالہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ پیر عتیق الرحمن کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ جہانگیر خان

پروفیسر احمدرفیق اختر، جنرل حمیدگل، صلاح الدین چیف ایڈیٹر تکبیر، مفتی محمود،شورش کا شمیری ودیگر کے ساتھی
پیر عتیق الرحمن مدظلہ العالی ہماری قوم کا ہماری ملت کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے جو خدمت اسلام کی کی ہے تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے اتنی خدمت کی۔

پیر عتیق الرحمن مدظلہ العالی ہماری قوم کا ہماری ملت کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے جو خدمت اسلام کی کی ہے تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے اتنی خدمت اسلام کی کی ہو۔ انہوںنے وہ تمام خرافات جو اسلام میں آرہی تھیں ان کو ہائی لائٹ اور تدارک کیا اور مسائل کا حل بتایا بالخصوص طلاق جو بہت بڑا متنازع مسئلہ تھا اور اس میں غلط فہمی تھی لوگ غلط فہمی میں مبتلا تھے ۔ جومؤقف اختیار کیا اور بالآخر نتیجہ یہ ہوا سپریم کورٹ نے اسی مؤقف کو جو پیر صاحب عرصہ دراز سے بیان کرتے آئے ہیں اس کو انہوں نے کنفرم کیا ہے اور یہ پیر صاحب کی درحقیقت بہت بڑی کامیابی کا شاخسانہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان کے مؤقف کو مان کر اپنا فیصلہ دیا ہے طلاق کے بارے میں جو ان کا مؤقف تھا۔ میری دعا ہے کہ پیر صاحب کو خدا تعالیٰ اپنی کاوشوں میں کامیاب رکھے ۔ اپنی حفاظت میں رکھے اور قوم کے اس سرمایہ کو دیر تک ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ ہم اس کیلئے بہت دعائیں کررہے ہیں اور بالخصوص میں اپنی ذات میں ہمیشہ ان کی گفتگو سے متاثر رہا ہوں۔ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ان سے اور آئندہ بھی ان کے اخبار کی وساطت سے ان کی تحریر کی وساطت سے میں سیکھتا رہوں گا اور دعا گو رہوں گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

رسول ۖ پر وحی نازل ہونے کی وہ دلیل جس کو مشرق اور مغرب والے سب قبول کرلیں گے انشاء اللہ تعالیٰ

سورہ نور میں لعان کی آیات1400سال پہلے کوئی اختراع نہیں ہوسکتا تھامگر ہم نے عمل نہیں کیا
حلالہ کی لعنت کو مشرق ومغرب میں کوئی بھی فطری دین نہیں کہہ سکتا ہے لیکن بے غیرتی مسلط کی گئی۔

اسلام کی حقانیت کو دنیا میں ثابت کرنے کیلئے کسی اور دلیل کی ضرورت بھی نہیں۔علماء ومفتیان سورہ نور میں لعان کی آیات کو قانون سازی کیلئے پیش نہیں کرتے مگر اسلامی نظریاتی کونسل کے حرام خور حلالہ کی لعنت کو ختم نہیں کرتے! ۔

 

قرآن نے کمزور کو تحفظ دیا اور طاقتور کو لگام ۔ اس سے بڑی بات نہیں کہ کوئی اپنی بیگم کھلی فحاشی پر پکڑ لے مگر سزا نہ دے سکے۔ عورت جھوٹ بولے تو جج بھی سزا نہیں دے سکتا۔ مذہبی طبقہ طاقتوروںکی ٹانگوں کے درمیان اپنی ماں کا نپل سمجھ کر پیشاب کو دودھ کی طرح چوس لیا کرے تو کیا اسلام اجنبیت کی گھاٹیوں میں عنقا ء نہ ہوگا؟۔
قرآنی آیات میں واضح ہے کہ عورت کے بھی معروف حقوق ہیں جیسے مردوں کے انکے پر ہیں ۔طلاق سے رجوع کیلئے ان کی مرضی شرط ہے۔ وضاحتوں کے باوجود عورت کا حق چھین لیا گیا اور جہاں حلالہ کا خدشہ اور احتمال بھی نہیں تھا تو وہاں پر ہوس پرستوں نے لعنتوں سے منہ کالے کردئیے؟اور اسلام کو اجنبی بناکر رکھ دیا گیا۔
اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان ومایدریک لعل الساعة قریبO(سورة الشوریٰ:17)

وہ اللہ جس نے حق کیساتھ کتاب نازل کی اور میزان ۔اور تمہیں کیا خبر ہے ؟ شاید کہ انقلاب کی گھڑی قریب ہے۔ فتح مکہ کے انقلاب کی گھڑی بھی قریب تھی اور اب اسلام کی نشاة کی گھڑی پاکستان کی فضاؤں میں شاید قریب ہو۔

 

اذا جاء نصر اللہ والفتحOورأیت النا س یدخلون فی دین اللہ افواجًاOفسبح بحمد ربک واستغفر ہ انہ کان توابًاO

”جب اللہ کی نصرت اور فتح آئے اور آپ دیکھ لیں کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہورہے تو اپنے رب کی پاکی اور تعریف بیان کر اور استغفار کر۔بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے”۔ فتح مکہ پر کوئی تکبر اور غرور نہیں تھا ۔ نبیۖ نے فرمایا: ”آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں”۔

حلالہ کی لعنت کو اسلام اور رجوع کی نعمت کو کفر بنانے والوں نے اسلام کا معاشرتی ، معاشی ، اخلاقی اور سیاسی نظام تباہ کیا اور مذہبی اشرافیہ بن گئے۔ دین فروش، وطن فروش، ضمیر فروش اور عزت فروش اشرافیہ کو لگام دینے کی آج ضرورت ہے۔

اگر اسلامی نظریاتی کونسل نے لعان کا قانون اسمبلی میں پیش کردیا اور حلالہ کی لعنت پر سزا دینے کیلئے قانون سازی کرلی تو پاکستان میں اقتدار اعلیٰ اللہ کیلئے ہوجائے گا۔ طاقتوروں کو ظلم کا موقع نہیں ملے گا اور گندی ذہنیت رکھنے والے مذہبی طبقے سے مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے گا۔

قرآن کے الہامی کتاب ہونے کی سب سے بڑی دلیل تو سورہ نور میں لعان کا قانون ہے ۔ رسول اللہ ۖ کی پیدائش کو ڈیڑھ ہزار سال ہوگئے۔ عیسائی مصنف نے100بڑے آدمی کی فہرست میں پہلا نام حضرت محمدۖ کا اور دوسرا حضرت عمر کا دیا ہے۔ اسلام نے دنیا میں عورت ماں، بیٹی ، بہن اور بیوی کو جو حقوق دئیے تھے اس کا تصور بھی دنیا کے انسان نہیں کرتے تھے لیکن افسوس کہ مغرب نے عورت کو کچھ نہ کچھ حقوق پھر بھی دئیے ہیں اور چراغ تلے اندھیرا مسلمانوں پر چھایا ہوا ہے۔

بہاولپور کی ریاست کے نوابوں کی کہانی بڑی انوکھی تھی جن میں سے کسی نے100اور کسی نے200سے زیادہ شادیاں کیں۔ چار بیویوں کو نکاح میں رکھا جاتا تھا اور باقی قلعہ بند ہوتی تھیں۔ اپنے محرمات سے ملاقات کی بڑی محدود اجازت ہوتی تھی اور اپنے والد کے ہاں سیکورٹی گارڈز کی معیت میں کافی عرصہ بعد آنا جانا کرسکتی تھیں۔ حافظ احمد سکنہ بہالپور چولستان نے اپنے ولاگ میں بتایا ہے کہ ان کے خاندان میں فسٹ کزن کیساتھ شادی کا جواز تھا اور باہر نکاح کو زنا سمجھا جاتا تھا اور کسی دوسری قوم میں نکاح کو اسلام سے بھی خارج ہونا تصور کیا جاتا تھا۔ عربی کا مقولہ ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ” لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں”۔

اسلام نے غلام اور خواتین کو بہت حقوق دئیے، محمود غزنوی کے دادا غلام تھے۔ صلاح الدین ایوبی اپنے بادشاہ نور الدین زنگی کے سپاہ سالار تھے اور اسکی وفات کے بعد اس کی بیوہ سے شادی کی اور تخت پر بیٹھ گئے۔ نور الدین زنگی کانسب عمادالدین زنگی سے شروع ہوا تھا جو غلام خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

امیر امان اللہ خان کی والدہ کو اس کے والد امیر حبیب اللہ خان نے طلاق دی تھی۔ تاریخ میں یہ ہے کہ اس کی والدہ نے ہی سازش کرکے حبیب اللہ خان کے قتل میں کردار ادا کیا تھا۔

عربوں نے بھی اسلام کو مسخ کیا ۔ممالیک خاندان غلاماں کا بھی مسلمانوں پر اقتدار رہاہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے جرمن یہودی سے مسلمان اسد سلیم کو پاسپورٹ جاری ہوا تھا۔ پاسپورٹ نمبر:000001تاریخ اجرائ:15ستمبر1947ء الجزائر پر قابض فرانس سے فاطمہ نسومر المعروف خولة الجزائر نے25000ہزار مجاہدین تیار کرکے جہاد کیا۔ آزادی کے بعد فرانس نے کچھ مجاہدین کے پاسپورٹ بلاک کردئیے جن کو پاکستان نے اپنی شہریت کے پاسپورٹ جاری کئے اور لاکھوں ٹن گندم الجزائر کو قحط سالی کے دوران مفت میں بھیج دی تھی۔

فاطمہ نسو کی جوانی میں شوہر سے علیحدگی ہو ئی تو شوہر طلاق نہیں دے رہاتھا اسلئے اس نے شادی نہیں کی ۔آخر میں فرانس کی فوج نے اس کو گرفتار کرلیا تھا۔ قرآن نے قیدی کو غلام اور لونڈی بنانے سے روکا ہے اور جنسی زیادتی کا جواز بھی نہیں۔

فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منًا بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا و لو شاء اللہ لانتصر منھم ولکن لببلو بعضکم ببعضٍ والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم (سورہ محمد:4)
ترجمہ:”پس جب تم کافرلوگوں سے لڑو تو ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کا خوب خون بہادو اور ان کو قیدی بناؤ۔ پھر اسکے ساتھ احسان کرو یا تاوان لیکر رہا کرو۔ یہاں تک کہ جنگ ختم ہو اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو خود ہی مغلوب کرتا لیکن وہ تمہار ا بعض کے ساتھ بعض کا امتحان چاہتا ہے۔اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے تو ان کے اعمال رائیگاں نہیں ہیں”۔

نبی ۖ نے غزوبدرمیں کسی قیدی کو غلام نہیں بنایا اور نہ ہی کسی سپاہی کو غلام بنانا عقل کی بات ہے۔ اللہ نے صرف ان دو صورتوں کا حکم دیا کہ احسان کرکے چھوڑ دیا یا فدیہ لیکر اور بس۔

پاکستان نے بوسنیا اور چیچنیا وغیرہ کی بھی مدد کی۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے باہمی افہام وتفہیم سے پوری دنیا کیلئے پاکستان کو ایک تحفہ خداوندی بناسکتے ہیں۔ تعصبات پھیلانے سے دھندہ بہت پرانا ہے۔ سکھ فوج نے میر چاکر بلوچ کے مزار کو نقصان پہنچایا۔ تقسیم ہند کے وقت انگریز کی سازش تھی کہ مذہبی بنیاد پر مسلمان اور سکھ اور ہندو کے نام پر نفرت ، تباہی و بربادی ہوئی۔ لیکن جب تک کوئی قوم خود کو سازشوں سے نہیں بچائے تو سب الزامات دوسروں پر تھوپنے سے کام نہیں بنتا ہے۔ گاؤں کی کتیا چوروں سے ملتی ہے تو پھر سازش کامیاب ہوتی ہے۔

پشتو کی کہاوت ہے کہ جب سچ پہنچتا ہے تو جھوٹ گاؤں کو بہاکر لے جاچکا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا سچ پھیلانے کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ کرکے جھوٹوں کو سچی ہدایت مل جائے اور ہماری قوم کی حالت بہتر سے بہترین ہوجائے۔

 

محفوظ جان کی26نومبر2025فیس بک پوسٹ سے

عبدالجبار خان المعروف ڈاکٹر خان باچا خان کے بڑے بھائی تھے ۔پہلی جنگ عظیم کے دوران ڈاکٹر خان فرانس میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ فرانس میں قیام کے دوران وہ سکاٹ لینڈ کی ایک نرس میریMary Victoria Kenmure سے ملے۔ وہ ایک دوسرے کے عاشق ہو گئے اور شادی کرلی میری طلاق شدہ تھی اور اسکی پہلے خاوند سے ایک بیٹیMuriel Mary Kenmure

پیدائش1914، سکاٹ لینڈتھی شادی کے بعد دونوں ماں بیٹی کو پشتون معاشرے میں ”میری بی بی”اور ”مریم”کہہ کر پکارا جانے لگا۔ تاریخی کتابوں اور خدائی خدمتگار دستاویزات میں بھی ”مریم”ہی لکھا1942کو مریم کو برٹش انڈین ائیر فورس کا ایک افسر فلائیٹ لیفٹیننٹ جسوات سنگھ پسند آیا۔ سکندر مرزا نے جو ان دنوں صوبہ سرحد میں تعینات تھا اپنے بنگلے پر چپکے سے انکی شادی کروادی تاکہ ہندومسلم فسادات اور خدائی خدمتگار تحریک کو بدنام کرواسکیں ۔ پورے صوبہ سرحد میں مشہور کرایا کہ باچہ خان کی بھتیجی سکھ افسر کیساتھ بھاگ گئی جبکہ اصل میں جسوات سنگھ سکھ نہیں تھا، مذھباً عیسائی تھا لیکن یہ پروپیگنڈہ کیاگیا کیونکہ پشتون عیسائیوں کی بجائے سکھوں سے زیادہ نفرت کرتے تھے ۔پشتو میں مثل ہے کہ” سکھ نہ مے بد ہ سی”۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضیا الدین احمد نے2مئی1942کو جناح صاحب کو خط میں لکھا کہ میرے پاس خوشخبری ہے۔ ہمارا اسٹاف کا رکن پشاور گیا، وہ واپس آیا اور کہا کہ پورا صوبہ سرحد اب مسلم لیگ اور پاکستان کیساتھ ہے۔ ڈاکٹر خان کی بیٹی سکھ سے شادی کر کے سندھ فرار ہو گئی۔ اس واقعے پر پشتون بہت غصے میں ہیں اور خان عبدالغفار اور کیپٹن خان کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس خط سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ کے رہنماں کی اخلاقی ساکھ کتنی گری ہوئی تھی جس نے ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو مجبور کیا کہ وہ اپنے نمبرز بڑھانے کیلئے جناح کو اس طرح کا غلیظ خط لکھے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنوں اور رہنماں کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ جناح صاحب کی بیٹی دینا واڈیا نے صرف چار سال پہلے سن1938کو مذہب زرتشت سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری آدمی سے شادی کی تھی جس پر جناح بہت ناراض ہوا تھا۔ جو پروپیگنڈہ مولوی حضرات برٹش ہندوستان میں جناح کے خلاف کررہے تھے ان سے دو قدم آگے بڑھ کے مسلم لیگ کے کارکن اور رہنما اپنے غلیظ ہتھکنڈوں سے باچہ خان کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

مریم کے خاوند جسوات سنگھ بعد میں انڈین ائیر فورس کا وائس ائیر مارشل بنا اور افریقہ کے ملک گھانا کے ائیر فورس کی قیادت بھی کی جبکہ جناح کی بیٹی دینا واڈیا کا نواسہ نس واڈیا اس سال انڈین پریمیئر لیگ کا فائنل کھیلنے والی ٹیم کنگ الیون پنجاب کا شریک مالک ہے لیکن اپنے سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کیلئے گھریلو خواتین پر کیچڑ اچھالنا آج بھی پاکستانی سیاست کا حصہ ہے۔ حوالہ جات

Jaffrelot, Christophe The Pakistan Paradox (2015)
Rittenberg, Stephen Alan Ethnicity, Nationalism, and the Pakhtuns: The Independence Movement in India’s North-West Frontier Province (1988)
Shah, Sayyid Wiqar Ali Ethnicity, Islam and Nationalism: Muslim Politics in the North-West Frontier Province 1937-47 (1999)
Banerjee, Mukulika The Pathan Unarmed (2000)
Khudai Khidmatgar Archives اور Quaid-e-Azam Papers (Shamsul Hasan Collection, Vol. 17)
Air Vice Marshal Jaswant Singh۔۔۔۔ کی سوانح عمری۔۔۔CAp TAin…
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

سورہ اللیل دراصل سورہ النہار ہے (آمد رسول ۖ دن کا اجالا) صحابہ نے آسانی کیساتھ عروج اور کفار نے زوال کا سفرطے کرلیا

جلد فتح مکہ اور قیصر وکسریٰ کو شکست اور بڑا اقتدار
غزوات میں شکست اورپھرفتح مکہ میں بڑا سرنڈر
واللیل اذا یغشٰیOوالنہار اذا تجلٰیOوما خلق الذکر والانثٰیOان سعیکم لشتٰیO(سورة اللیل:1،2،3،4)

رات کی قسم جب وہ ڈھانپ لے اوردن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے اورقسم جو نراور مادہ پیدا کیا ۔بیشک تمہاری کوششیں الگ الگ ہیں۔

فامامن اعطٰی واتقیOوصدّق بالحسنٰیOفسنیسرہ للیسریٰO (آیات:5،6،7)

پس جس نے حق دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھائی کی تصدیق کردی تو ہم اس کو عنقریب آسانی کیساتھ لے جائیں گے سہولت کیلئے۔
رسول اللہ ۖ چمکتے سورج کی طرح طلوع ہوگئے تو صحابہ کرام نے مستحقوں کو ان کے حقوق دینے شروع کردئیے اور تقویٰ اختیار کیا اور فطری شرعی احکام کی تصدیق کردی تو بہت آسانی کیساتھ آسانی کی منزل تک اللہ نے پہنچادیا۔

 

واما من بخل واستغنٰیOوکذّب بالحسنٰیOفسنیسرہ للعسریٰ (آیات:8،9،10)

اور پس جس نے بخل کیا اورحق سے لاپروا ئی برت لی اوراچھائی کو جھٹلادیا تو ہم اس کو آسانی کیساتھ لے جائیں گے مشکل کیلئے۔
اندھیری رات میں کفار نے حقوق غصب کئے ،پھر دن دھاڑے بھی بخل کیااور حق کی پرواہ نہیں اور فطری شرعی احکام کو جھٹلایا توپھر آسانی سے مشکل میں پہنچ گئے، جن پر مظالم کئے تھے انہی کے وہ دستِ نگربن گئے ۔

 

ومایغنی عنہ مالہ اذتردّ ٰ یOان علینا للھدٰیOفانذرتکم نارًاتلظیٰOلا یصلاھا الا الشقیOالذی کذّب و تولّیٰ

اور اسکا مال اسکو نہ بچا ئے جب گڑھے میںگرے۔بیشک ہمارا کام ہدایت ہے تو ہم نے بھڑکتی آگ سے تمہیں ڈرایا۔جس میں نہیں جائے گا مگر بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ موڑدیا۔ (11تا16) غیرتمند قبضہ مافیا، بھکاری ،طاقتور کے سامنے بھیگی بلی اور چڑھتے سورج کا پجاری نہیں ہوتا ۔

جب اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو پھر لوگ اپنے گرد وپیش سے پوری دنیا تک دو پارٹیوں میں بٹ جائیںگے۔

 

وسیجنبھا الاتقیOالذی یؤتی مالہ یتزکّیٰOومالاحد من نعمةٍ تجزٰیOالا ابتغاء وجہ ربہ الاعلٰیOولسوف یرضٰیO

اور عنقریب کفروتکذیب سے کناہ کش ہوگا جو پرہیزگار ہے جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ تزکیہ حاصل کرے اور کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو نعمت کا بدلہ دے سکے۔ مگر یہ کہ وہ اپنے ربّ اعلیٰ کی رضا جوئی میں مگن رہے۔ اور عنقریب وہ اس سے راضی ہوگا۔ (آیات17تا21)

 

صلح حدیبیہ سے قبل سیدنا ولید بن ولید اور بعدمیںسیدنا خالد بن ولید اور فتح مکہ کے بعدسیدنا ابوسفیان و سیدہ ہند اور پھرسیدنا عکرمہ بن ابوجہل کفر سے کنارہ کرکے دامن رسالتۖ میں پناہ گزیں ہوگئے۔یہ بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کسی نعمت کا بدلہ کوئی ایک بھی نہیں دے سکتا مگر یہ کہ اسکے بدلے اپنے رب اعلیٰ کی رضا میں مگن رہے توعنقریب وہ راضی ہوگا۔حضرت ابوبکر وعمر ، عثمان، علی ،حسن اور معاویہ خلافت کے بھوکے نہیں تھے، ذمہ داری کا بوجھ اٹھالیااور صحابہ کرام نے آزمائش اور مشکلات میں اللہ کی رضا جوئی کیلئے ہمیشہ کیلئے اپنی زندگیاں وقف کیں۔

یہ نری بکواس ہے کہ ایک ابوبکر نے نعمت کا بدلہ دیا۔ نعمت کا بدلہ ممکن نہیں ۔کسی کو منصب خلافت ملا یا نہیں ؟مگر اللہ سے راضی تھا اور اللہ اس سے راضی تھا اور ہر ایک کا معاملہ اپنا اپنا ہی تھا۔ لڑائی میں بھی خلوص تھا اور صلح میں بھی ایمان کا تقاضہ۔ جیسے رسول اللہ ۖ نے غزوہ بدر، اُحد، خندق، صلح حدیبیہ، فتح مکہ ، حنین اور یرموک غزوات میں تزکیہ فرمایا،تعلیم وتربیت دی اور حکمت سکھائی تھی۔ ماکان لنبی اں یکون لہ اسرٰ ی حتی یثخن فی الارض اور عصٰی اٰدم ربہ فغوٰی کی آڑمیںگندی ذہنیت کی گنجائش نہیں ۔ابوجہل وابولہب کی اولادخلوص کی پیکر بن گئی ۔اسلام کی سچائی کی تصدیق کی اور قبل اسلام کے کفر کو اللہ نے معاف کردیا مگر حقوق العباد انہوں نے پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئے واپس لوٹادئیے۔

یزید اور حسین ، فاطمہ وہندہ اور حسن ومعاویہ پر بحث حقائق سے منہ چھپانا ہے۔اپنے دور کے یزید و حسین کی بات کرو۔ عربی مقولہ ہے کہ ہر فرعون کیلئے موسیٰ ہے۔ عمران خان کے نکاح خواہ مفتی سعید خان کی جنید جمشید سے فون پر بات ہوئی تو اس آیت سے حضرت ابوبکر مراد لیا۔ میں نے کہا کہ آیت میں کسی ایک کا استثناء نہیں،اگر ہوتا تو بات بنتی؟۔ کہنے لگے کہ سارے مفسرین نے یہی مراد لیا۔ میں نے کہا کہ مفسرین نے متن کیخلاف تفسیریں کرکے اسلام کا بیڑہ غرق کیا اس نے پشتو میں مفتی ابراہیم سے میرا کہا کہ یہ تو بڑا انقلابی انسان ہے۔

البقرہ:230کی اصل تفسیر یہ ہے کہ جب عورت کو کسی بھی طلاق کے بعد پہلاشوہر کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو پہلے کیلئے رجوع حرام ہے۔ سعد بن عبادہ کی بیگمات سے لیڈی دیانا تک بہت مثالیں ہیںمگر مولوی حلالہ کیلئے تشنہ تھا۔ قرآن کو بازیچہ اطفال اور مذاق بنادیا گیا اسلئے متروک ہوا۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہو ا، یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا۔ پس خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے”۔ آج اسلام مذہبی طبقات کے ہاتھوں اجنبی بن چکا ہے۔ جب کوئی جماعت اس کو اجنبیت سے نکالے گی تو پھر حق اور باطل کے دو گروہ بنیں گے!

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذتِ کردار نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!
جھوٹے غامدی کے بک بک پہ نہ جا
علیکم بالعلم و علیکم بالعتیق
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تین طلاق کا وہ حقیقی اور فطری حل جس پر نہ صرف امت مسلمہ بلکہ عالم انسانیت کے مسائل حل ہوں گے

فتاویٰ قاضی خان کا شرمناک فتوی ملاحظہ کریں!

وفی الخانیة: رجل قال لامرأتہ ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فانت طالق ، وقالت المرأة ان لم یکن فرجی احسن من فرجک فجاریتی حرة، قال الشیخ الامام ابوبکر بن فضل : ان کان قائمین عند المقالة برت المرأة و حنث الزوج ،لوکان قاعدین بر الزوج وحنث المرأة لان فرجھا احسن من فرج الزوج والامر علی العکس حالت القعود ،ان کان الرجل قائما والمرأة قاعدة قال فقیہ ابو جعفرلا اعلم ماھذا: و قال ینبغی ان یحنث کل واحد منھما لان شرط البر فی کل یمین ان یکون فرج کل واحد منھما احسن من فرج الاخر و عند تعارض لا یکون احدھمااحسن من الاخرفیحنث کل واحد منھما

ترجمہ”اور خانیہ میں ہے کہ آدمی نے اپنی عورت سے کہا کہ اگر تیری شرمگاہ میری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق ! عورت نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔شیخ امام ابوبکر بن فضل نے کہا کہ اگر دونوں بات کرتے ہوئے کھڑے تھے تو عورت بری ہوگئی (لونڈی آزاد نہیںہوئی) اور مرد حانث ہوا(طلاق پڑگئی)اور اگر دونوں بیٹھے تھے تو مرد بری ہوا اور عورت حانث ہوگئی اسلئے کہ عورت کی شرمگاہ حالت قیام میں زیادہ خوبصورت ہے اور معاملہ برعکس ہے بیٹھنے کی حالت میں، اگر مرد کھڑا ہوا اور عورت بیٹھی تھی تو فقیہ ابوجعفر نے کہا : نہیں جانتا کہ یہ کیا؟مگر چاہیے کہ ہر ایک حانث ہو اسلئے کہ ہر یمین میں بریت کی شرط یہ ہے کہ اس کی شرمگاہ دوسرے سے خوبصورت ہواور تعارض کے وقت دونوں حانث ہوں گے۔(الفتاویٰ التاتارخیہ : تالیف شیخ فریدالدین دہلوی ۔تعلیق مفتی محدث شبیراحمد قاسمی جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد ہند۔مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)

سورہ بقرہ میں یمین کو طلاق کی جگہ قسم قراردینا غلط ہے ۔ سورہ المائدہ میں واضح ہے کہ ذلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم ۔ یہ تمہارے یمین کا کفارہ جب تم نے حلف اٹھا یا ہو۔ فتاویٰ خانیہ کا غلیظ حوالہ دیا تاکہ پتہ چلے کہ یمین طلاق ہے۔

ولا تجعلواللہ عرضةً لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس ( البقرہ:224)
”اور اللہ کواپنی طلاقوں کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ نیکی ، تقویٰ سے اور لوگوں کے درمیان مصالحت کرنے سے”۔

طلاقوں کے ذریعے نیکی، تقویٰ اور لوگوں میں صلح نہ کرنے کی ممانعت ہے۔ میاں بیوی میں جدائی خاندانوں میں جدائی ہے اور یہ آیت طلاقوں اورعورت کے حقوق کیلئے مقدمہ ہے۔

لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم و لکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیم
اللہ تمہیں تمہاری لغو طلاقوں سے نہیں پکڑتا لیکن پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ،اللہ غفور حلیم ہے۔(البقرہ225)

اس آیت نے طلاق مغلظ اور طلاق بائن کی جڑ ختم کردی۔ جو یہود کے نقش قدم پرچل کر فقہاء نے پھرایجاد کرلئے ہیں۔

للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھر فان فاء وا فان اللہ غفور رحیم( البقرہ:226)
” جولوگ ایلاء کریں اپنی عورتوں سے ان کیلئے چار ماہ ہیں اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔ طلاق کا اظہار نہ ہوتو عورت کی یہی عدت ہے۔ رسول اللہۖ نے اپنی ازواج مطہراتسے ایلاء کے ایک ماہ بعد رجوع کیا تو سبھی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی مگر اللہ نے حکم دیا کہ تمام ازواج کو علیحدگی کا اختیار دیں ۔ جدا ہونا شوہر کا اختیار اور رجوع کیلئے راضی ہونا بیوی کی بھی مرضی ہے ۔وہ بھی راضی تو اللہ غفور ہے۔ وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم (البقرہ:227) ”اور اگر طلاق کا عزم تھا تو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے”۔یہی دل کا گناہ ہے کہ طلاق کا عزم تھا اور اظہار نہ کرنے سے عدت ایک ماہ بڑھا دی۔ یہ آیات تسلسل سے ایک دوسرے کی تفسیر ہیں۔

المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر وبعلولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًاولھن مثل علھین بالمعروف و للرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیم (البقرہ:228) ”طلاق و الی عورتیں عدت کے تین ادوار تک انتظار کریں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے انکے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیںاور ان کے شوہر اس میںان کو اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔اور ان عورتوں کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر ہیں معروف اور مردوں کا ان پر درجہ ہے اور اللہ عزیز حکیم ہے ”۔

دورجاہلیت کے دو مذہبی مسائل تھے۔ تین طلاق پر حلالہ اور ایک ایک طلاق سے عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع دونوں کو بیخ وبنیاد سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اکھاڑ پھینکا۔ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جنا ح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظالمونOفان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ …(البقرہ : آیات:229اور230)

”طلاق دو مرتبہ ہے پھرمعروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے اور تمہارلئے حلال نہیں کہ ان کو جو دیا ہے کہ اس میں کچھ واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں کو ڈر ہو کہ پھر وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر حرج نہیں عورت کی طرف سے وہ چیز قربان کرنے میںیہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرواور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے وہ حلال نہیں ہے یہاں تک وہ کسی اور شوہرسے نکاح کرلے”۔

پوچھا گیاکہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے”۔جس سے پہلے معروف یا اصلاح کی شرط پر رجوع ہے اور اس تیسری طلاق کے بعد خلع نہیں عورت کے حقوق کا تحفظ ہے کہ جو دیا وہ واپس نہیں لے سکتے اور پھر استثنائی صورت ہے جس میں طلاق شدہ دئیے ہوئے میں ضرورتاً کچھ فدیہ قربان کرے تو دونوں پر حرج نہیں۔ یہی وہ صورت ہے کہ جس میں طلاق کے بعد شوہر رجوع نہیں کرسکتا۔( نورالانوار : مسلک حنفی)۔ بہت ہی عجیب بات یہ ہے کہ آیت229میں تسریح باحسان کے بعد بھی جاہل کو خلع دکھائی دیتا ہے ۔ اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا ہے جس کی وضاحت سورہ النساء آیت20میں بھی ہے اور خلع کو النساء آیت19میں واضح کیا ہے لیکن مذہبی طبقات آیت229کی بنیاد پر نہ صرف عورت کا استحصال کرتے ہیں بلکہ آیت230سے پہلے کی وہ تمام صورتحال بھی نظر انداز کرتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ میاں بیوی دونوں اور فیصلہ کرنے والے رابطہ کیلئے بھی کوئی چیز نہیں چھوڑتے۔ حنفی مسلک میں واضح ہے کہ آیت230کی طلاق سے مراد عورت کی آزادی ہے لیکن وہ پہلے شوہر سے آزادی کی جگہ کنواری لڑکیوں کے حوالہ سے صحیح حدیث کو ٹکراتے ہیں حالانکہ230میں طلاق کے بعدپہلے شوہر سے مکمل آزادی مراد ہے اور وہ ایک صورتحال سے مشروط ہے جو واضح ہے۔اگرعورت معروف طریقے سے رجوع کیلئے راضی ہو تو پھر اگلی آیات231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی رجوع کی ترغیب ہے لیکن یہ رجوع اذیت پہنچانے کیلئے نہیں ہو اسلئے کہ عورت کشتیاں جلاکر آتی ہے اور وہ جدائی نہیں چاہتی ہے۔ صلح میںرکاوٹ کو منع کردیا گیا ہے۔

عبداللہ بن عمر نے بیوی کو طلاق دی تو رسول اللہ ۖبہت غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا۔ فرمایا کہ پاکی کے دنوں میں اس کو اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دن آئیں اور حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دنوں میں چاہو تو رجوع کرلو اور چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق دینے کا امر کیا ہے۔

دنیا کی ہرزبان میں عربی سمیت مرتبہ کا تعلق ایسے فعل سے ہوتا ہے جس کی ابتداء بھی ہو اور انتہاء بھی ۔ مثلاً ایک مرتبہ کا ذکر ہے ۔ جب کہانی شروع ہوگی تو یہ ایک مرتبہ کا سلسلہ آخر تک چلے گا۔ ایک مرتبہ کی زندگی دنیا اور دوسری مرتبہ کی دوسری دنیا میں ملے گی۔ ایک مرتبہ نکاح کیا تو جب تک علیحدگی نہ ہو تو وہ چلتا رہے گا۔ ایک مرتبہ کھانا بلکہ دیکھنے کی ابتدا اور انتہا ہے بھلے پلک جھپکنے کی حد تک کیوں نہ ہو۔ ایک مرتبہ حلوہ کھایا ۔ ایک مرتبہ روپیہ نہیں کہہ سکتے۔10روپے کو10مرتبہ روپے نہیں کہہ سکتے۔10مرتبہ حلوہ کھانے کو10حلوہ کھانا نہیں کہتے۔

طلاق فعل ہے، تین مرتبہ طلاق کیلئے عدت کے تین مراحل ہیں۔3رات دن میں3روزے ہیں۔ حیض طہر کی عدت میں3مرتبہ طلاق لیکن حمل میں تین مرتبہ طلاق کا تصور نہیں ہے۔ رجوع کا تعلق عدت سے ہے نہ کہ تین مرتبہ طلاق سے۔ حیض کی صورت میں صرف تین مرتبہ طلاق کا طریقہ کار بتایاہے۔

آیت222البقرہ سے رکوع شروع ہے اور حیض کو اذیت قرار دیا ۔ حیض میں بیوی کی قربت سے روکا یہاں تک کہ پاک ہوں۔ پھر جیسے اللہ نے حکم دیا، ویسے انکے پاس آنے کا حکم ہے اور اللہ توبہ کرنے والوںاور پاکیزہ لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔

البقرہ آیت222میں عورت کے انتظار کا وقت واضح ہے کہ طہارت کا دور ہے اور اس کی اذیت کا احساس دلایا ہے۔ ایرانی نژاد امریکن خاتون نے ”اسلام میں عورت کے حقوق ” پر کتاب میں لکھا کہ ” ایک شخص نے40ہزار حق مہر میں عورت سے نکاح کیا ، جو پیچھے سے جماع کرتا۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی، اس نے خلع کا مطالبہ کیا۔ شوہر نے نہیں مانا اور پھر آخر میں مجبور ہوکر50ہزار کے عوض اس نے خلع لے لیا”۔

قرآن نے عورت کو خلع کا حق اور مالی تحفظ دیااور اذیت سے توبہ کی آیت222میں فرمایا مگرآیت223البقرہ میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ امام مالک اور عبداللہ بن عمر کے ہاں دبر میں جماع جائز اور امام ابوحنیفہ اور حضرت علی کے ہاں حرام ہے۔

آیت229میں دو مرتبہ طلاق رجعی کا نتیجہ کیا ؟۔ شوہر نے طلاق دی ۔ عورت عدت گزارے گی لیکن عدت کے ختم ہونے سے پہلے شوہر نے رجوع کرلیا اور پھر طلاق دی تو پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیا اور پھر طلاق دیدی ۔ تو لے بھئی وہ تیسری مرتبہ پھر عدت گزار نے پر مجبور ہوگی؟۔ کیا یہ حق اللہ کی طرف سے شوہر کو ملا ہے؟۔ یا اللہ نے ایک ہی عدت تک کسی بھی عورت کو انتظار کا حکم دیا ؟ ۔باقی یہودکا بچہ مسلط کرگیا؟۔

مسلک حنفی میں اگر شہوت کی نظر پڑگئی تو رجوع کی نیت نہ ہو تب بھی رجوع ہے اور مسلک شافعی میں رجوع کی نیت نہ ہو تو جماع سے بھی رجوع نہ ہوگا۔ شیخ المشائخ پیر سائیںکی روٹی چل رہی ہے اور کہتا ہے کہ چاروں مسلک بالکل بر حق ہیں؟۔

امام غزالی نے اسی کو گمراہی سے ”المنقذ من ضلال” (گمراہی سے نکالنے والی ) کتاب لکھ ڈالی۔ ارباب تصوف نے ان دلوں اور دلالوں کو ، یہود کے پیروکاروں کو درست طور پر گمراہ اور بے حقیقت قرار دیا جس کا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی کالے سوکھے سڑے ہوئے چہروں کا ذکر کیا۔ ائمہ اہل بیت کومجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ نے اصل قرار دیا تھا۔

آیت229میں جس طرح دو مرتبہ طلاق سے طلاق رجعی مراد لینا غلط ہے اسی طرح سے تسریح باحسان تیسری طلاق سے یہ مراد لینا بھی غلط ہے کہ اس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔

اسلئے کہ آیت228میں واضح ہے کہ اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی تو بھی اصلاح کی شرط پر رجوع کی گنجائش ہے اور اگر عورت کو حمل ہوا تو رجوع کیلئے پھر عدت اور طلاق کی گنتی نہیں بچے کی پیدائش ہے۔ اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی معروف طریقے، اصلاح کی شرط پررجوع کی گنجائش اللہ نے واضح کردی ہے۔ مولوی زن طلاق کہتا ہے کہ فتاویٰ کی کتابوں میں مسئلہ واضح ہے کہ اگر بچہ آدھے سے زیادہ ماں کی شرمگاہ سے نکلا تو پھر رجوع نہیںہوسکتا اور آدھے سے کم نکلا تو پھر رجوع ہوسکتا ہے۔ یہ نری بکواس ہے۔ سورہ طلاق میں اللہ نے واضح کیا کہ اگر عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق دی تو عورت کو اس کے گھر سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلے لیکن کھلی فحاشی کی مرتکب ہو تو اسلئے عدت میں اللہ موافقت پیدا کرسکتا ہے۔اور جب وہ اپنی عدت کو مکمل کریں تو معروف طریقے سے رجوع کرو یا معروف طریقے سے الگ کرو۔الگ کرنا ہو تو پھر دو عادل گواہ بناؤ اور پھر بھی جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اللہ مشکل سے نکلنے کا راستہ بنادے گا یعنی باہمی رجوع کا اور حضرت رکانہ کے والدین کیلئے اللہ نے راستہ بنادیا۔اسلئے کہ رکانہ کے والد نے اگرچہ دوسری عورت سے نکاح کیا لیکن رکانہ کی والدہ کو بھی مرحلہ وار تین طلاق اور عادل گواہوں کے بعد اس کو اسکے گھر سے نہیں نکالا۔ جمعیت علماء اسلام ضلع ٹانک کے امیر مولانا عبدالرؤف گل امام نے تین طلاق دی اور بیوی کو گھر سے نکالنے کے بجائے خود گھر سے باہر ہوگئے۔ اگر انکے دور میں مسئلہ طلاق واضح ہوتا تو اس کی خوب تبلیغ کرتے۔

حضرت عمر دور میں پہلی بار عورت کو شوہر نے3طلاق دی تو وہ رجوع پر راضی نہیں تھی۔ حضرت عمر نے طلاق کا فیصلہ دیا ۔ عبداللہ بن عمر نے مخالفت کی کہ رسول اللہۖ نے مجھے رجوع کا حکم دیا۔ بخاری میں سمندر کے موجوں کی طرح فتنے کا ذکراور حضرت عمر کے بچنے کی نوید ہے تو وہ عورت کی حق تلفی کا فتنہ تھا۔ عمر نے عبداللہ کو نااہل قرار دیا کہ جو طلاق میں عورت کو انصاف نہیں دے سکے تو امت مسلمہ کے امور سونپ دوں؟۔ حضرت علی نے حرام پر طلاق کا فیصلہ کیا جب عورت رجوع پر راضی نہیں تھی۔حضرت عمر کیلئے بہترین قاضی حضرت علی تھے۔ لولا علی لھلک عمر” اگرعلی نہیں ہوتا تو عمر ہلاک ہوتا”۔

بنوامیہ ،بنو عباس اور سلطنت عثمانیہ نے مذہبی طبقات کو ٹشو کی طرح استعمال کیا۔ لاتعداد لونڈیوں کیساتھ وہ کھیلتے تھے اور مولوی کو حلالہ کی شکل میں لذت کے خراج میں حصہ مل جاتا تھا۔ تاریخ اسلامی میں ایک عالم دین بھی حکمران نہیں بن سکا ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ وہ امت ہلاک نہ ہوگی جس کا اول میں ہوں،درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ ”۔ علم کا دروازہ علی شیعہ نے عمر کے بغض میں چھوڑ دیا جس کی وفات کے بعد علی نے نہج البلاغہ میں تعریف کی اور سنی علماء نے امام ابوحنیفہ کی جگہ امام ابویوسف کی دربار سازی کو ترجیحات میں شامل کررکھا ہے۔

اگر سنی قرآن کو مانتا تو شیعہ نہ صرف قرآن بلکہ حضرت عمر کی قرآن فہمی پرحضرت فاروق اعظم کوبھی مانتا۔ چاروں امام ،حضرت عمر کا فیصلہ قرآن و سنت کے مطابق تھا۔ چار امام کا فیصلہ حدیث کے مطابق تھا کہ مزارعت سود ہے مگر امام ابوحنیفہ کے دنیا پرست شاگرد امام ابویوسف نے تو خلیفہ وقت کیلئے اسکے باپ کی لونڈی جائز قرار دی۔ رسول اللہۖ کی حدیث کو بیان کرنے والا مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کا داماد اور خلیفہ مفتی عبدالرؤف سکھروی زندہ ہے کہ سود کے73گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی سگی ماں کیساتھ زنا کے برابر ہے اور شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین سود ہے، مواعظ شائع ہیں۔ دارالعلوم دیوبندنے مفتی محمد شفیع کے معارف القرآن سے فتویٰ دیالیکن مفتی تقی عثمانی نے استاذ مولانا سلیم اللہ خان اور علماء دیوبند کے متفقہ فتویٰ سے انکار کیا سود کو جائزقرار دیا جس پر امریکہ اور مغرب پنجہ یہود میں پھنسا تھا۔کہتے ہیں کہ میمن سے کسی نے پوچھا کہ جنت میں جاؤگے یا دوزخ میں؟۔تو میمن نے کہا کہ جہاں دو پیسے مل جائیں۔

حاجی محمد عثمان اللہ والے میمن تھے اور مفتی تقی عثمانی اور علماء سوء نے الائنس موٹرز کے دو فیصد منافع کیلئے اسلام بیچ دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھے کہا تھا کہ بکرے کو لٹادیا، چھرا ہاتھ میں ہے،تم پھیر دو۔اگر ٹانگیں ہلائیں گے تو ہم پکڑلیںگے۔ مولانا فضل الرحمن کے تو والد مفتی محمود کو شہید کیا۔ مفتی تقی عثمانی نے اصرار کرکے پان کھلایا ،مفتی رفیع عثمانی نے دورہ قلب کی گولی حلق میں ٹھونس دی۔ مفتی محمود نے چائے سامنے رکھ دی تو دونوں نے کہا کہ ہم دن میں ایک مرتبہ چائے پیتے ہیں۔مفتی محمود نے کہا کہ میں خود چائے زیادہ پیتا ہوں لیکن کوئی کم پیتا ہے تو یہ پسند ہے اور پھر مفتی تقی عثمانی نے پان کا بٹوہ دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی محمود نے کہا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے مفتی محمود کی وفات کے بعد وہ روداد ادھوری لکھی ۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہید نے مگر پوری لکھی۔ پہلے تو جمعیت علماء اسلام پر غصہ تھا کہ مفتی تقی عثمانی پر اتنا بڑا بہتان باندھا کہ پان میں زہر کھلا دیا۔ مفتی تقی کی تحریر سے کنفرم ہوجاتا ہے کہ مفتی محمود کو پان نہیں کھلایا مگر اقراء دائجسٹ میں مولانایوسف لدھیانوی کی تحریر چھپ گئی تو معاملہ کھلا۔ مفتی تقی عثمانی نے اس کے بعد جھوٹ بکا ہے کہ مفتی محمود مجھ سے بے تکلف پان کھانے کیلئے مانگتے تھے۔

جب پاک فوج کی مخالفت میں پاکستان میں سخت فضا بن گئی تو مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ علامہ شبیراحمد عثمانی کو بھی زہر دیا گیا تھا۔ اگر مفتی محمود اور علامہ شبیراحمد عثمانی دونوں پر ایک کمیٹی بن جائے اور مفتی تقی عثمانی کا نامECLمیں ڈالا جائے تو پھر میڈیااور کورٹ کی سطح پر حقائق تک عوام کی پہنچ ہوسکتی ہے۔
حضرت عمر نے اہل کتاب کی خواتین کے نکاح پر پابندی لگائی کہ اگر یہود ونصاریٰ کی سرخ وسفید لڑکیوں سے نکاح ہوگا تو عرب عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں گی لیکن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مشرک سے نکاح جائز نہیں تو عیسائی ویہود ی مشرک ہیںمگر انکا فتویٰ نص کے خلاف قرار دیکر قبول نہیں کیا گیاتھا۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد سیداحمد شاہ پیر صابر شاہ سابق وزیراعلی پختونخواہ کے والد تھے۔ بانی اتحاد امت خورشید وارثی کیساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات ہوئی تھی۔ جس کی تائید مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی سمیت دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہلحدیث اور جماعت اسلامی سبھی نے کی تھی۔

سیداحمد شاہ نے ساؤتھ افریقہ، برما اور بنگلہ دیش میں بھی خدمات انجام دیں تھیں مگر دیوبند سے بدظن ہوگئے تھے اور شیخ الہندنے مالٹا جیل سے رہائی کے بعد قرآن سے دوری اور فرقہ واریت کو زوال کا سبب قرار دیا تھا۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے وفات سے پہلے1933ء میں فرمایا ”میں نے اپنی ساری زندگی فقہ کی وکالت میں ضائع کردی ، قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے سوچا کہ جب مدرسہ میں زندگی ضائع کرنی ہے تو دنیا کمالیں ۔1970ء میں پیسہ لیکر جمعیت علماء اسلام پر کفر کا فتویٰ لگادیا تھا اور دارالعلوم کراچی میں مفتی تقی و مفتی رفیع عثمانی کو ذاتی گھر خرید کر دئیے۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی نے اس کو شریعت کیخلاف قرار دیا تو تاریخی پٹائی لگادی۔ ہمارے استاذ مولانا شیرمحمد امیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے انکے شاگردنے ان کو پیشکش کی کہ بدلہ لیتے ہیں ،انہوں نے منع کردیا کہ مزید مار پڑے گی۔

1985ء میں مولانا فضل الرحمن پر متفقہ فتویٰ لگادیا ۔پھر1987ء میں حاجی محمد عثمان پر کراچی کے علماء نے فتویٰ لگادیا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ”یہ سن70کا فتویٰ لگتا ہے اس پر مولویوں نے پیسہ کھایا ہوگا یہ پیر کوئی اچھا آدمی ہوگا”۔
علامہ اقبال نے ابلیس کی جڑ وں سے نقاب کشائی کی۔

یہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں
ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کار ساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہانِ کاف و نوں
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملکوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کرسکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کرسکتا ہے اس نخل کہن کو سر نگوں

علامہ انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ ”اگر 7فقہاء مدینہ کے نام کاغذ میں لکھ کر پانی میں ڈالے جائیں اور اس پانی سے چھت پر چھڑکاؤ کیا جائے تو چھت میں کبھی دیمک نہیں لگے گی”۔

7فقہاء مدینہ کے سرخیل سعید بن مسیب تھے۔ جس پر بڑا تشدد اسلئے کیا گیا کہ ہشام بن عبدالملک نے اپنی چوتھی بیوی کو طلاق دی تو اس نے کہا کہ جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہوجاتی تو چوتھی لڑکی سے نکاح حرام ہے اسلئے کہ رجوع کیلئے عورت انتظار کی پابند ہے تو شوہر بھی انتظار کا پابند ہے”۔ اسلئے طلاق مغلظ اور بائن کی بدعات آئیں۔ جہاں رجوع کا امکان ختم ہوجاتا ہے۔ فقہاء مدینہ کی طرح7فقہاء کوفہ کا سرخیل سعید بن جبیر تھے جس نے فتویٰ دیا کہ آیت230البقرہ میں حلالہ کیلئے نکاح کا ذکر ہے جماع کا نہیں ۔ جس پر حجاج بن یوسف نے انتہائی بے دردی سے95ھ میں شہید کردیا اور وجہ بھی نہیں بتائی کہ قصور کیا ہے؟۔ جبکہ7فقہاء بصرہ کے سرخیل حسن بصری نے اپنی جان بچائی کہ20سال پہلے ایک مستند شخص نے کہا تھا کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور پھر20سال تک کوئی دوسرا مستند شخص نہیں مل سکا جو اس کی تردید کرتا۔پھر ایک اور زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی (صحیح مسلم)۔

حسن بصری نے کہا کہ ”بعض علماء کا اجتہاد ہے کہ حرام لفظ تیسری طلاق ہے جسکے بعد حلالہ لازمی ہے (صحیح بخاری)۔

اہل بیت کے مقابلے میں بنوامیہ کا اقتدار اسی سہارے پر کھڑا تھا کہ اہل بیت حضرت عمر کے مخالف ہیں اور حلالہ کو نہیں مانتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ڈھائی سال کے اقتدار میں احادیث کی کھلی اجازت دی اور101ھ میں وفات پاگئے لیکن اس سے پہلے عبدالملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید اور سلیمان اور اس کے بعد یزید ثانی اور ہشام بہت ظالم بڑے عیاش تھے۔ حسن بصری نے نابالغ بچی سے نکاح کو جائز کہا اور امام اوزاعی نے نکاح سے پہلے شرمگاہ کے علاوہ عورت کا پورا جسم دیکھنا جائز قرار دیا۔ اہل ظواہر نے شرمگاہ کو بھی جائز قرار دیا جس کی علامہ ابن حزم نے تقلید کی۔ کشف الباری شرح صحیح بخاری میں مولانا سلیم اللہ خان نے تفصیلات لکھ دی ہیں۔

محمود بن لبید وفات95ھ نے بچپن میں رسول اللہۖ کی زیارت کی تھی اور کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ۖ کو خبردی کہ فلاں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ نبیۖ غضبناک ہوکر اٹھے اور فرمایا میری موجودگی میں تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیلتے ہو ایک شخص نے کہا کہ اس کو قتل کردوں؟۔(نسائی)

محمود بن لبید کی روایت کو بخاری ومسلم میں جگہ نہیں ملی لیکن حسن بصری کومل گئی؟۔ایک صحابی ، دوسرا تابعی۔ ایک7فقہاء میں شامل دوسرا نہیں؟۔ محمود بن لبید کی روایت میں شامل قتل کی پیشکش کرنے والے حضرت عمر اور طلاق والے عبداللہ بن عمر۔

امام ابوحنیفہ80ھ150ھ اور امام مالک93ھ179ھ نے محمود بن لبید کی روایت کو اپنی دلیل بنایا۔ امام شافعی مالک کے شاگرد تھے اور امام احمد بن حنبل امام شافعی کے۔امام بخاری اورامام مسلم احمد بن حنبل کے شاگرد تھے۔سبھی نے حکمرانوں کی سختیاں اور درباریوں کی مخالفت برداشت کی تھی۔ امام مالک کا آخر میں سوفٹ وئیر خوب اپڈیٹ کیا گیا تھا ۔ملاحظہ فرمائیں!

” منصور کے حاجب ربیع بن یونس کا بیان ہے کہ منصور نے امام مالک، ابن ابی زیب اور امام ابو حنیفہ کو بلا کر ان سے کہا کہ یہ حکومت جو اللہ تعالیٰ نے اس امت میں مجھے عطا کی ہے اس کے متعلق آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کیا میں اس کا اہل ہوں؟ امام مالک نے کہا کہ اگر آپ اس کے اہل نہ ہوتے تو اللہ اسے آپ کے سپرد نہ کرتا۔ ابن ابی زیب نے کہا دنیا کی بادشاہت اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ مگر آخرت کی بادشاہت اس کو دیتا ہے جو اس کا طالب ہو اور جسے اللہ اس کی توفیق دے۔ اللہ کی توفیق آپ سے قریب ہو گی اگر آپ اس کی اطاعت کریں ورنہ اس کی نافرمانی کی صورت میں وہ آپ سے دور رہے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت اہل تقوی کے اجتماع سے قائم ہوتی ہے اور جو شخص خود اس پر قبضہ کر لے اس کیلئے کوئی تقوی نہیں ہے۔ آپ اور آپ کے مددگار توفیق سے خارج اور حق سے منحرف ہیں۔ اب اگر آپ اللہ سے سلامتی مانگیں اور پاکیزہ اعمال سے اس کا تقرب حاصل کریں تو یہ چیز آپ کو نصیب ہو گی۔ ورنہ آپ خود ہی اپنے مطلوب ہیں۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ جس وقت ابن ابی زیب یہ باتیں کہہ رہے تھے ،میں نے اور مالک نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے کہ شاید ابھی ان کی گردن اڑا دی جائے گی اور ان کا خون ہمارے کپڑوں پر پڑے گا۔ اس کے بعد منصور امام ابو حنیفہ کی طرف متوجہ ہوا اور بولا آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا اپنے دین کی خاطر راہ راست تلاش کرنے والا غضب سے دور رہتا ہے۔ اگر آپ اپنے ضمیر کو ٹٹولیں تو آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے ہم لوگوں کو اللہ کی خاطر نہیں بلایا ہے۔ بلکہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ڈر سے آپ کے منشا کے مطابق بات کہیں اور وہ عوام کے علم میں آجائے۔ امر واقع یہ ہے کہ آپ اس طرح خلیفہ بنے ہیں کہ آپ کی خلافت پر اہل فتوی لوگوں میں سے دو آدمیوں کا اجماع بھی نہیں ہوا۔ حالانکہ خلافت مسلمانوں کے اجماع اور مشورے سے ہوتی ہے۔ دیکھیے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چھ مہینے تک فیصلے کرنے سے رکے رہے جب تک کہ اہل یمن کی بیعت نہیں آ گئی تھی۔ یہ باتیں کرکے تینوں صاحب اٹھ گئے۔ پیچھے منصور نے ربیع کو تین توڑے درہموں کے دیکر ان تینوں اصحاب کے پاس بھیجا اور اس کو ہدایت کی کہ اگر مالک لے لیں تو ان کو دے دینا۔ لیکن اگر ابو حنیفہ اور ابن ابی زیب انہیں قبول کر لیں تو ان کا سر اتار لانا۔ امام مالک نے یہ عطیہ لے لیا۔ ابن ابی زیب کے پاس جب ربیع پہنچا تو انہوں نے کہا میں اس مال کو خود منصور کیلئے بھی حلال نہیں سمجھتا اپنے لیے کیسے حلال سمجھوں؟ ابو حنیفہ نے کہا خواہ میری گردن ہی کیوں نہ مار دی جائے میں اس مال کو ہاتھ نہ لگاں گا۔ منصور نے یہ روداد سن کر کہا کہ اس بے نیازی نے ان دونوں کا خون بچا لیا”۔(مولانا سید مودودی)

صحیح بخاری نے حلالہ کی لعنت کو جاری کرنے کیلئے حدیث کا بالکل غلط حوالہ دیا تھا ۔امام زین العابدین کے شاگردابوخالد کابلی کابل افغانستان نے درست مسلک پھیلایا تھا اسلئے بخارا کے شہر میں امام بخاری کو دفن نہیں ہونے دیا گیا۔ تدفین شہر سے دور کی گئی۔امام ابوحنیفہ کے مسلک کو غلط رنگ دیا گیا کہ نکاح سے مراد جماع ہے اسلئے عدت کے بغیر عورت کاچھپ کر حلالہ کیا جاتا تھا۔کراچی سے ٹانک جاتے ہوئے نماز کیلئے اترے تو استنجاء کی جگہ نہیں تھی ،ایک محسود نے کہا کہ جو پانی کھڑا ہے اس میں ڈبو ؤو۔کسی نے کہا کہ پانی کا پتہ نہیں کہ پاک یا نہیں؟۔تو محسود نے کہا کہ چھوڑد و ،یہ کونسی پاک چیز ہے۔ حلالہ کی لعنت میں حلال حرام کیا؟اور حرمت مصاہرت کا معاملہ بہت براہے لیکن دیوبند نے ایک طرف عدت کا تصور دیا تھا اور دوسری طرف تبلیغی جماعت نے حلالہ کو سرعام کرنا شروع کیا۔

عصر حاضر کے تقاضوں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں
الحذر آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن مرد آزما مرد آفریں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بیٹنی قوم کا احسن اقدام

 

ٹانک بیٹنی قوم علماء ،بڑوں ،جوانوں کا فیصلہ:حق مہر30ہزار شریعت کے مطابق ہوگا۔ عرب اور پشتونوں میں عورت کی خرید کا مسئلہ ہے۔ رحمت اللہ بیٹنی نے اپنی اکلوتی بیٹی سے آغاز کیا کہ یہ رقم بھی نہیں لیتا۔ عورت فروخت ہو تو خلع کا اختیار کیسے ملتا؟۔ بے غیرتی نہیں ہوگی تو عورت کو قرآن کے مطابق خلع کا حق ملے گا۔جاہل عرب اور پشتون قوم میں بیچنے کی علت ہوتوخلع کا حق کیسے ملتا؟ پنجابی اور ہندوستانی تو جہیز دیتے ہیں مگروہ ہندو مذہب سے متاثر ہیں۔ حلالہ کی لعنت کی طرح حق سے سبھی جاہل ۔ حضرت عمر نے حق مہر کم مقرر کیا تو عورت نے مزاحمت کی کہ تم کون ہو ؟۔یہ ہمارا حق ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ اخطأ عمر واصابت المرأة ”عمر نے خطاء کی اور عورت ٹھیک بات پر پہنچ گئی”۔ فاروق اعظم جیسی شخصیت نے عورت کے مقابلے میں اپنی غلطی کا احساس کیا اور وجہ یہی تھی کہ عورت کو اسلام نے پہلی مرتبہ مقام بخش دیا کہ وہ برائے فروخت جنس نہیں کہ اسکی زیادہ یا پھرکم قیمت لگے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تحفظ کیلئے منہ مانگے سیکیورانشورنس کی ضمانت کا اہتمام حق مہر کی شکل میں کیا ہے جس میں نقد اورقرض کی شکل شامل ہے۔ فاروق اعظم جن کی صوابدید پر وحی بھی کئی مرتبہ نازل ہوئی۔بدر کے قیدیوں پر مشاورت پر حضرت عمر اور حضرت سعد کے احساسات کی اللہ نے حمایت کردی ۔

سورہ مجادلہ میں رسول اللہ ۖ نے مروجہ مذہبی منکر قول پر اصرار فرمایا تو اللہ نے ایک خاتون کے مجادلہ پر قیامت تک بڑا راستہ دکھادیا کہ کوئی ماحول میں مغالطہ کھائے تو رسول اللہۖ سے بڑھ کر تو نہیں ہوسکتا اسلئے قرآن کے ذریعے رہنمائی دیدی اور مغالطے سے اس کے تقدس پر حرف نہیں آتا لیکن کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ معاشرے میں اپنے مقام کا غلط فائدہ اٹھائے اور ہٹ دھرمی اور جہالت سے اپنا فتویٰ مسلط کردے۔

جب پچھنا لگانے پر فقہاء نے غور کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟۔اس وقت میڈیکل کے جدید آلات نہیں تھے اور انہوں نے احتیاط کی بنیاد پر کہا کہ اگر آنت کی صفائی کیساتھ ہی معدے میں پانی پہنچ جائے تو روزہ دوبارہ رکھ لینا چاہیے۔

پھر گدھا پارٹی فقہاء نے لکھاکہ پوٹی کے بعد آنت نکلتی ہے اگر دھونے کے بعد سوکھنے سے پہلے داخل ہوگئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا یہاں تک مفتی صاحبان پہنچ گئے کہ مرد اور خاص طور پر خواتین استنجاء کرتے وقت سانس نہ لیں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ گدھا پارٹی کی بدترین آواز ڈھینچو ڈھینچو کو اسلام قرار دیا گیا جو اسلام نہیں دشنام ہے۔ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کی خاطر لکھنے کو جائز قرار دینے تک بڑے بڑے گدھے پہنچ گئے۔ایک گدھے پر عوامی دباؤ پڑگیا تو پدومارتا ہوا اپنی بات سے پیچھے ہٹ گیا لیکن بہت معاملات میں ابھی تک حجت کا اتمام ہے۔

نبی ۖ سے خاتون نے کہا کہ میں خود کو ہبہ کرتی ہوںتو ایک صحابی نے عرض کیا کہ اگر آپ کو نہیں چاہیے تو مجھے دیں۔ نبیۖ نے پوچھا تمہارے پاس کچھ ہے؟۔ گھر میں لوہے کی انگوٹھی تک نہ تھی تو نبیۖ نے فرمایا کہ جو قرآن کی سورتیں آتی ہیں وہ سکھاؤ۔ اور اللہ نے واضح کیا کہ اگر کوئی خاتون اپنے آپ کو نبی کیلئے ہبہ کردے تو یہ آپ ہی کیلئے خاص ہے مؤمنوں کے بغیر۔اسلئے کہ عورت کا تحفظ درکار تھا۔ نبیۖ نے مرد کی مالی حیثیت کو مکمل پڑتال کے بعد فیصلہ کیا ، اسکے سوا چارہ نہیں تھا لیکن شوہر پر اس کی کفالت اور بہت ساری ذمہ داریاں آجاتی ہیں۔ قرآن میں حق مہر کا تعلق شوہر کی وسعت سے ہے۔

لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضة و متعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المحسنین ”تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر چھونے سے پہلے عورتوں کو طلاق دیدی یا حق مہر مقرر نہ کیا ہو تو ان کو خرچہ دو وسعت والے پر اپنی شان اور تنگ دست پر اپنی حیثیت کے مطابق، معروف طریقے کا خرچہ۔نیکو کار وں پر یہ حق ہے”۔

فقہاء نے لکھا کہ بیوی کا علاج شوہر پر نہیں اسلئے کہ خرچہ میں علاج شامل نہیں۔ حالانکہ کوئی سمجھے نہ سمجھے مگر بیٹنی ، محسود، وزیر، مروت ، سرائیکی اور بنوچی توسمجھتا ہے کہ خرچہ میں علاج اور نقدی بدرجہ اولی شامل ہے۔ کھرب پتی کیساتھ عورت اس کے مال کی وجہ سے نکاح پر راضی ہوجاتی ہے جس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو اس عورت کے ناموس کی قیمت بکری کی طرح نہیں بلکہ مرد کی وسعت کے مطابق ہے۔

وان طلتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضةً فنصف ما فرضتم الا ان یعفون او یفعفوالذی بیدہ عقدة النکاح و ان تعفوا اقرب للتقوٰی ولاتنسوا الفضل بینکم ان اللہ بما تعملون بصیر (سورہ بقرہ آیت237)۔اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی اور حق مہر ان کا طے کیا ہو تو اسکا نصف دینا ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑ دیں یا وہ چھوڑ ے جسکے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے اور شوہر چھوڑ دے تو یہ تقویٰ کے قریب ہے اور مت بھولو ایک دوسرے پر احسان کرنااللہ کو تمہارے عمل کی خبرہے۔

آیت236میں مرد کی حیثیت کے مطابق نصف حق مہر کا معاملہ ہے اور آیت237میں طے شدہ حق مہر کا نصف ہے۔
آیت میں معاملہ طلاق ہے خلع کا نہیں اسلئے اللہ نے نکاح کے گرہ کی نسبت مرد کی طرف کردی کہ وہ طلاق دے رہاہے تو اس کو رعایت دینی چاہیے۔اگر خلع کا ہوتا تو پھر یہ بات نہ آتی کہ عقدہ مرد کے ہاتھ میں ہے۔البتہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ عورت آدھے حق مہر سے محروم ہوجاتی لیکن ہمارے یہاں تو مذہبی طبقات اور غلط اقدار نے انسانیت کا ستیاناس کیا ہے۔

میرے بھانجے نے اپنی پھوپھی زاد کیساتھ شادی کرنی تھی جس کی منگنی ٹوٹ چکی تھی اور اس کا منگیتر بھانجے کی چچازاد سے شادی کرچکا تھا۔ اس کا والد اپنی بھانجی کی زندگی کیلئے فکر مند تھا اور اپنے بہنوئی سے کہا کہ اپنے بھائی کیساتھ فیصلہ کرلو۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ لڑکی پوری دنیا کیلئے آزاد ہے لیکن فیصلہ کرنے سے پہلے قاری محمد حسن شکوی شہید نے میرے بہنوئی سے یقین دہانی لی کہ وہ اپنے بیٹے کیلئے اس کو نہیں لے گا۔ پھر اس کی جب بعد میں منگنی کردی تو ایک طرح زبردست پھڈہ کھڑا ہوگیا۔ پھر میرے بہنوئی کا انتقال ہوا اور میں نے اس میں کردار ادا کیا۔

مجھ پر فائرنگ ہوئی تو مجھے احساس تھا کہ کرائے پر استعمال ہونے والے لوگوں کے پیچھے کوئی غیرت کا مسئلہ تو نہیں ہے؟۔ پھر تو خیر بڑا واقعہ ہوا اور اس کے محرکات پر سوالات بھی ہیں۔

یہاں اصل معاملہ یہ سمجھانا ہے جو میں ایک عرصہ سے اس کو سمجھانے میں ناکام رہا ہوں کہ آیت230البقرہ میں اللہ نے حلالہ کی لعنت کو لازم نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس میں عورت کیلئے آزادی کا ان الفاظ میں پروانہ ہے جس کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔

جب ایک منگیتر کو چھوڑنے اور آزاد کرنے کے باوجود بھی آج ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے قتل کرے گا توپھر اس سے لوگ آیت230البقرہ کی افادیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ اگرریحام خان عمران خان کے بعد اس کے سیاسی مخالف سے شادی کرتی تویہ مسئلہ ہوتا لیکن بشری بی بی اس کی شادی پر بہت سارے مذہبی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں جس پر عدت کا کیس ہوا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں اور مسلمان قوم کی اکثریت جنونی ہے۔
ــــــــــ

پوسٹ میں جس بچی کی تصویر ہے اسے ظالموں نے اغواء کیا بلوچستان میں8لاکھ میں بیج دیا۔ نام رخسار والد کانام فضل حسین ۔ فیصل آباد کبھی سیالکوٹ اور گوندل میانی نام لیتی ہے۔ذہنی توازن خراب ہے ، کچھ نہیں بتاسکتی ۔25نومبر2025۔29 031625298

30نومبرالحمدللہ بچی کی فیملی ملی ۔ ریکور کرنے کی کوشش ہے۔دعا کریں۔ولی اللہ معروف
جس دیس میں ہوتی ہو بچی اغوا
اس دیس کے ہر اک شخص کو جگا دو
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ دسمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv