پوسٹ تلاش کریں

سورہ قریش میں سردی گرمی کا سفر الفت ۔ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
لایلاف قریشOایلافھم رحلة الشتآء و الصیفOفلیغبدوا رب ھذا البیتOالذی اطعمھم من جوعٍ و اٰمنھم من خوفO

”قریش کی الفت کیلئے۔ان کی الفت سردی اور گرمی کے سفر سے ۔پس وہ عبادت کریں اس گھر کی جس نے بھوک میں ان کو کھلایا اور خوف سے امن دیا”۔ (سورہ قریش)

ٹانک شہر میںپیر صابر شاہ کا عرس میلہ جون کے ابتداء میں ہوتا تھا۔ چڑیا گھر ، سرکس اور چیزیں خرید وفروخت کیلئے آتی تھیں انتہائی گرمی مگرعوام کی اس سے الفت تھی، بھوک سے کھانا اور خوف سے امن کا سماں، ٹریفک کو سواری اور غریب امیر کی کمائی بنتی ۔ جس سے سورہ قریش بھی سمجھ میں آسکتی تھی۔ امام رازی کی تفسیر کبیر میں سب کچھ ہے مگر تفسیر نہیں:مولانا بنوری

پہلے مختلف علاقوں میں بڑے میلے لگتے تھے۔ مقامی سطح سے دور دراز سے آنے والوں کی آمد تک اپنا اپنا سامان ، پھل ، مصنوعات، جانور اور لونڈی وغلام کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ قریش کیلئے اضافی چیز حج اور عمرے کیلئے آنے والوں کی آمد بھی تھی۔ حج کا مہینہ سردی میں ہوتا توعمرہ گرمی اور حج گرمی میں آتا تو عمرہ سر دی میں کرتے ۔ اس لالچ میں قریش مکہ اپنے مفاد کی خاطرمہینوں کوکبھی بدل دیتے اور حج و عمرہ کا اکٹھا احرام ناجائز قرار دیا تھا تاکہ سردی اور گرمی دونوں موسم میں عوام کی آمد ہو۔

اسلام میںحج و عمرہ کااکٹھا احرام باندھناجائزتھا ۔ عمر نے الگ الگ احرام کی ترغیب دی۔ عثمان نے پابندی لگائی تو علی نے اعلانیہ احرام اکٹھے باندھے (بخاری) گورنر دمشق ضحاک نے کہا کہ اکٹھا احرام جاہل باندھے گا۔ سعد بن ابی وقاصنے فرمایا کہ ”یہ مت کہو، میں نے خود نبیۖ کو اکٹھے دونوں احرام باندھتے ہوئے دیکھا ہے”۔ حضرت لبیدنے شعار کہے تھے:

ذھب الذین یعاش فی اکنافہم
و بقیت فی خلف کجلد الاجرب

” وہ لوگ چلے گئے جن کے پاس زندگی گزرتی تھی اور ان میںپیچھے رہ گیا ہوں جو خارش زدہ کھال کی مانند ہیں ”۔

اماں عائشہ58ھ نے فرمایا ” اگر لبید ہمارا زمانہ دیکھ لیتے تو کیا کہتے؟”۔…..
ابوداؤد، بخاری ، مسلم تینوں احمد بن حنبل کے شاگردتھے جو شافعی کا شاگرد تھا۔ شافعی امام ابوحنیفہ کے شاگرد حسن شیبانی کا شاگرد تھا۔ یزید ثالث بن ولید اور بنوعباس کے حکمران معتزلی تھے۔ا بن حنبل پرتشددکیا۔10ویں عباسی خلیفہ جعفر متوکل نے شافعی مذہب اختیار کیا اور معتزلہ کا صفایا کیا۔ عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کی اجازت دی مگر پھر سختی شروع کی تھی۔ حسن بصری کی روایات مثال ہیں۔ مقدمہ ابن خلدوں میںہے کہ” ابوحنیفہ17احادیث مانتے تھے” ۔ امام ابوحنیفہ نے قیدمیں شہادت پائی ۔ درباری شاگردوں نے دین کیساتھ بدترین کھلواڑ کیا۔اصول فقہ اور فقہی مسائل سے واضح ہے کہ مستند احادیث کو مسترد اور ضعیف کو قبول کیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے شیر شاہ سوری نے صرف5سال حکومت کی۔ بنگال سے افغانستانGTروڈ بنایا۔زمینوں کی پیمائش کا پٹوار سٹم قائم کیا، نظام انصاف میں شاہ وگداکیلئے تفریق وامتیاز کو ختم کیالیکن پھر بارود سے اڑادیاگیا۔ مہدی7سے9سال تک حکوت کرے تو اس دور میں کیا سے کیا تبدیلیوں کے امکانات نہیںہوسکتے؟۔

پرتگال کا واسکو ڈیگاما ہندوستان تک بحری راہ کیلئے امریکہ کو پا گیا۔ پاکستان یورپ سے تائیوان تک تیز رفتار ریلوے ٹریک و روڈ کا آئیڈیا دیکر دنیا کا امام بنے۔ برطانیہ نے منافرت کا بیچ بویااور ایشیا اور جرمنی وفرانس وروس میں رابطے کی شہہ رگ کاٹی گئی۔ عمران خان کی ماں، شریف برادران ،فیڈ مارشل اور سید مودودی وغیرہ کے اجداد کا وطن مالوف ہندوستان تھا۔

مفتی حسام اللہ شریفی مودودی کیساتھ اپنے استاذ سے ملنے گئے۔دیوبند، بریلوی سبھی کے سر ہندوستان اور دُمیں پاکستان میں ہلتی ہے اسلئے نفرتوں سے خود اور دوسروں کو تباہ نہ کریں

یہود اور نصاریٰ ایک دوسرے سے مذہبی بنیاد پر بڑی سخت نفرت رکھتے تھے۔یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کے خلاف غلیظ ترین گالی بکتے تھے۔ نصاریٰ ان کو خدا کا بیٹا اور خدا کی بیوی قرار دیتے تھے۔ اسلام نے بڑا اعتدال اور میانہ روی کا درس دیا۔ تقدس کی آڑ میں شرک اور انتہا پسندی کی آڑ میں توہین دونوں کے ارتکاب کو منع کردیا۔

وہ ایکدوسرے کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا جائز نہیں سمجھتے تھے مگر قرآن نے دونوں طرح کے اہل کتاب سے ازدواج کی اجازت دے دی۔ جب جاویداحمد غامدی یہ کہتا ہے کہ امت مسلمہ اپنی باری لے چکی ہے اور اب قیامت تک مسلمان محکوم رہیںگے اور امریکہ ، یورپ ، آسٹریلیا،وسط ایشیا اور ہندوستان میںبڑی حد تک آباد حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قامت تک اقتدار میں رہے گی اور یہ میں فنون طبع کے طور پر نہیں کہتا ہوں بلکہ قرآن میں یہ واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے۔ غامدی کے اس فلسفے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا معاملہ قصہ پارینہ بن چکاہے۔ اس نے قرآن کو سات ابواب میں تقسیم کرکے مسلمانوں پر اقتدارکے سب دروازے بند کرنے کیلئے منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ اس کے شاگرد ڈاکٹر فرحان شہزاد کی کتاب ابھی چھپ نہیں سکی ہے مگر جب چھپ کر آئے گی تو قرآن سے حضرت علی ، حسن وحسین کی نااہلی کے علاوہ حضرت ابوبکر و عمر کی ناہلی بھی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش ہوگی۔ وہ سب سے زیادہ مضبوط شرعی خلیفہ صرف اور صرف یزید اور اس کے بعد بنوامیہ کو مانتا ہے۔

مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا طیب قریشی نے صحافی حسن خان سے کہا کہ” افغان طالبان دنیا کو بھی دیکھ لیں۔ رسول اللہۖ نے کچھ معاہدے صلح حدیبیہ مجبوری سے کیا”۔ ملاعمر کے پیچھے امریکہ، پاکستان، سعودیہ اور عرب امارات تھے۔صلح حدیبیہ اور میثاق مدینہ کسی کمزوری سے نہیں کیا تھا۔

مذہب پیشہ تھوڑا تھا کہ روٹی بند ہوجاتی؟۔ بھارت سے ہم کمزور نہیں مگر صلح حدیبیہ کریں ۔ جو منافق ہندو بننا چاہے شوق سے بن جائے اور بھارت ویزہ دے اور کوئی ہندو مسلمان بن جائے تو واپس کریں۔ عقیدہ منافقت اور زبردستی کا نہیں ہوتا بلکہ جبر والوں کیلئے مزید نقصان دہ ہے۔ منافق مسلمان بن کر کام کریں تو جہنم کے نچلے درجہ میں ہوںگے۔مسلمان کو جبری ہندو بنایا جائے تو فرق نہیں پڑتا۔

من کفر باللہ بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان و لکن من شرح بالکفر صدرًا فعلیھم غضب من اللہ و لھم عذاب عظیمO

” جو ایمان کے بعد اللہ کا منکر بنے مگر جس کو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،لیکن جس کا کفر پر شرح صدر ہوا تو اس پر اللہ کی طرف سے غضب ہے۔ اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے ”۔ (سورہ النحل:106)

قرآن میں ماضی ، حال اور مستقبل کا پوراآئینہ ہے اور اس میں نہ صرف حال کے کردارمیں اپنی شکل دیکھ سکتے ہیں بلکہ یہ حالات کو بدلنے کیلئے ہدایت کی بہترین دستاویر بھی ہے۔ اللہ نے قرآن میں یہود ونصاریٰ کے بارے میں کہا کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد ہماری سزا ختم ہوگی اور باقیوں کو اللہ نے جہنم کیلئے پیدا کیا ہے لیکن یہ ہم پر بھی فٹ ہے۔

واسالھم عن القریة التی کانت حاضرة البحر اذ یعدون فی السبت اذ تأتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعًا و یوم لا یسبتون لا تأتھیم کذٰلک نبلوھم بما کانوا یفسقونO ”اور ان سے سمندر کے پاس بستی کا حال پوچھو ، جب ہفتے میں زیادتی کی۔ جب انکی چھٹی کے دن انکے پاس مچھلیاں آکر راستہ بناگئیں اور ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتی تھیں اسی طرح ہم نے انکو آزمایا جس میں نافرمانی کرتے تھے ”۔

سورہ اعراف کی اس آیت163میں یہود کا ذکر ہے لیکن اگر کراچی، جہلم اورسوات کسی بھی شہر میں چھٹی کے دن لوگ تفریح کیلئے آتے ہوں اور مچھلیوں کا شکار ممنوع ہو تو لوگ خوراک ڈالیں گے، ان کی نسل بھی بڑھے گی ۔ پھر فرمایا کہ

واذقالت امة منھم لم تعظون قومًا اللہ مھلکم او معذبھم عذابًا شدیدًا قالوا معذرةً الی ربکم و لعلھم یتقونO ” اور پھر کچھ نے ان میں سے کہا کہ تم کیوں اس قوم کو نصیحت کرتے ہو ، جن کو اللہ نے ہلاک کرنا ہے یا عذاب دے گا سخت ترین عذاب؟۔ انہوں کہا کہ تمہارے رب سے معذرت کیلئے یا شاید کہ وہ پرہیزگار بن جائیں”۔

نافرمان اور اچھے لوگوں کا مکالمہ بتایا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسلام نے نابالغ بچیوں کے نکاح کی کوئی تبلیغ نہیں کی لیکن اگر اجازت دیتا تو انسانی حقوق کی وہ پامالی تو نہ تھی جوسود کو جواز بخشنے والا مفتی تقی عثمانی اپنے فتاویٰ میںمسلط کرتا رہاہے؟۔ اگر مچھلیوں کا شکار ایک دن معاشرے کی بھلائی کیلئے ممنوع ہوگا تو کیا بچیوں کی شادی پر خاص عمر تک پابندی میں حرج ہے؟۔ بلوچ ان عورتوں کو جن کی عمر زیادہ ہوجاتی ہے کلماٹ کہتے ہیں اور جو مولوی اپنی کلماٹ بہن بیٹیوں کی شادی نہیں کراتے ہیں مگر دوسروں کی نوعمر بچیوں سے غصہ میں شادی کرتے ہیں؟۔

قرآن نے مشرک اہل کتاب سے شادی کی اجازت دی اور مشرک قریش سے منع کردیا اسلئے کہ قریش نے مسلمان ہونا تھا اور وقت سے پہلے خلط ملط ہوتے تو بگاڑ درست نہیں ہوتا۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ عیسائی مشرک ہیں، نکاح جائز نہیں۔ حضرت عمر نے کہا کہ طلاق کو نہیں سمجھتا خلافت کیلئے نااہل ہے اور جاویدغامدی کہتا ہے کہ ”علماء عبداللہ بن عمر اور ابن عباس اور ابن مسعود عالم تھے”۔ تاکہ ان کی طرف منسوب بڑی غلطی سے امت کو گمراہ کرے؟۔ مصحف ابن مسعود سے سورہ فاتحہ اور آخری دو سورتیں موذتین پھٹ گئی تھیں تو کیا اس سے وہ منکر بن گئے؟۔ غامدی قرآن کیلئے بہت ادھارکھائے بیٹھاہے۔

فلما نسوا ماذکروا بہ انجینا الذین ینھون عن السوء و اخذنا الذین ظلموا بعذابٍ بئیسٍ بما کانوا یفسقونO ” جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحت کی گئی تو ہم نے ان کو نجات دی جو برائی سے روکتے تھے اور ظلم والوں کو مایوسی کے عذاب سے پکڑا ،بسبب نافرمانی کرتے تھے”۔

اگر انہوں نے سمندر یا دریا کاعلاقہ آپس میں بانٹ دیا ہو تو ایک کے ہاں خوشحالی اور دوسرے بدحالی میں ہوں گے۔

فلما عتو عن مانھو عنہ قلنا لھم قردةً خاسئینO ” پس جب وہ حد سے بڑھ گئے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا کہ بن جاؤ ذلیل بندر”۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے اسی طرح جب کچھ لوگ اپنی حد وں سے بڑھ کر ظلم میں ناکام ہوتے ہیں تو زندگی میں بندروں کی طرح ذلیل ہوکر گھومتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کو حقیقی بندر بنادیا ہو لیکن انسانی شکل میں بندروں کی طرح ذلیل ہونا کم نہیں۔

واذ تاذن ربک لیبعثن علیھم الی یوم الیقامیة من یسومھم سوء العذاب ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیمO ”اور جب تیرے رب نے منصوبہ دیا ان پر قیامت تک جو ان کو نشانہ بنائے گا بدعذاب کا ، بیشک اللہ جلدی انجام کو پہنچانے والا ہے اور بیشک وہ غفور رحیم ہے”۔

اس سے لوگوں نے یہود مراد لئے لیکن یہود نہیں ہردور میں انقلابی مصلح کا مقابلہ کرنے والے مراد ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ

وقطعناھم فی الارض اممًا منھم الصالحون و منھم دون ذٰلک و بلوناھم بالحسنات والسیئات لعھم یرجعونO ” اور ہم نے انہیں زمین کے مختلف جگہوں پر مختلف قوموں میں متفرق پیدا کیا۔ ان میں نیک بھی ہیں اور انکے علاوہ بھی ۔ہم نے انہیں اچھی نعمتوں سے آزمایا اور مصیبت میں بھی ڈالا کہ ہوسکتا کہ وہ رجوع کرلیں”۔

یہ یہود کی بات نہیں سبھی اچھے اور برے لوگ مراد ہیں۔ انقلاب سے اچھائی چھا جاتی ہے اور برے انجام کو پہنچتے ہیں یا سرنڈر بن جاتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ ابوسفیان و ہندہ کی بیٹی نے مسلمان شوہر کیساتھ حبشہ ہجرت کی۔ شوہر مرتد عیسائی ہوگیا، پردیس حبشہ میں چھوٹی بچیوں کی ماں پر کیا گزری تھی؟۔ ماں باپ دشمن ، سسرالی بھی نہ رہے ۔ پھرنبیۖ نے رشتہ لیا۔ بدر میں ماں ہندہ کا باپ اور چچا قتل ہوگئے اور احد میں ماں نے رسول اللہ ۖ کے محبوب چچا امیر حمزہ کے کلیجے کو چبا ڈالا۔ گستاخ دلے ذاکروں نے اسلام کے نام پر روٹیاں کھائی ہیں مگر قربانی نہیں دیکھی کہ کیا ہوتی ہے؟۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے والدین اور بھائی معاویہ کو اسلام کیساتھ عزت بھی دیدی۔

فخلف من بعدھم خلف ورثوالکتاب یأخذون عرض ھٰذا الادنٰی ویقولون سیغفرلنا وان یأتیھم عرض مثلہ یاخذوہ الم یؤخذ علیھم میثاق الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق و درسوا مافیہ و الدارالاخرة خیر للذین یتقون افلا تعقلونO
”پھر انکے بعد جانشین ہوئے جو کتاب کے وارث بنے اور دنیا سے معمولی حصہ لیا اور کہتے تھے کہ ہمیں بخش دیا جائے گا۔ ان کو اس طرح کااور معاملہ پیش آئے تو وہ بھی لے لیںگے۔ کیا ہم نے کتاب میں یہ عہد نہیں لیا ہے کہ تم اللہ پر نہیں بولو گے مگر حق بات اور جو اس میں اسی کو درس دیںاور آخرت کا گھر تقویٰ والوں کیلئے بہتر ہے ، کیا تم نہیں سمجھتے ہو”۔

آیت میں یزید، مروان بن حکم اور عبدالملک بن مروان کی تصویر دیکھو اور معاویہ بن یزید کی بھی تصویر دیکھو۔ عبدالملک کے بیٹوں کی تصویر دیکھو۔ قبضہ مافیا کو اگر ابو جہل یا فرعون کے عقائد اور آسائش مل جاتیں تو بھی ہڑپ کرلیتے۔ انہوں نے سوچا کہ ہند وابوسفیان کی طرح ان کو بھی معافی ملے جائے گی اور یہودو نصاریٰ کے اس اعتقاد کو قرآن سے کوئی تائید حاصل نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان ہوکر یہ قرآن سے انحراف اور اللہ کی طرف ناحق چیز کی نسبت ہے۔ جاویداحمد غامدی ان کے عشق میں گرفتار ہونے کے بعد امریکہ ، یورپ ، روس اورہندوستان کی بڑی حدتک قوموں کو یافث کی اولاد قرار دیکر اشتراک اقتدار کا ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ ہمارا کام ماضی ، حال اور مستقبل کا صحیح نقشہ عوام کو قرآن سے دکھانا ہے تاکہ لوگ رہنمائی لیں۔

والذین یمسکون بالکتاب واقاموا الصلاة انا لانضیع اجر المصلحینO ” اور جنہوں نے کتاب تھام لی اور نماز قائم کی تو ہم مصلح لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے”۔

آیت واضح ہے کہ انبیاء کے بعد قیامت تک مصلح لوگوں کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا جو غلو کرنے والوں کے فساد سے دین کو بچانے میں کردار ادا کرتے رہیں گے جیسے مجدد کا تصور ہے۔

سورہ اعراف163سے170تک دیکھیں۔ آگے عہد الست پھر بعلم بن باعوراء کاذکر ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور جاوید غامدی قرآن کا درست ترجمہ سمجھنے کے بعد بتاتے تو عزت بھی پاسکتے ہیں۔ابوطالب کو کافر بنادیا۔ علی، حسن اور حسین کیخلاف بکواس لیکن اللہ کی کتاب میں تو تحریف نہ کرو۔ مسلم امہ کو سود خوری اور مایوسی پر نہ لگاؤ۔ میرے اجداد رسول اللہ ۖ اور علی کا خون مجھ میں دوڑ رہاہے ۔ یہ وقت بدل جائے گا۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن اورخلق خداکی تبدیلی

ومن یشاق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدٰی و یتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولیٰ و نصلہ جھنم و ساء ت مصییرًاOان یدعون من دونہ الا اناثًا وان یدعون الا شیطانًا مریدًاOلعنة اللہ و قال لاتخذن من عبادک نصیبًا مفروضًاOولاضلنھم و لاٰمرنھم فلیبتکن اٰذان الانعام و لاٰمرنھم نیننھم فلیغیرن خلق اللہ ومن یخذ الشیطان ولیًا من دون اللہ فقد خسرخسران مبینًاOیعدھم و یمنیھم و مایعدھم الشیطان الا غرورًاOاُولئک مأواھم جھنم و لا یجدون عنھا محیصًاOوالذین اٰمنوا و عملوا الصالحات سندخلھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدًاوعداللہ حقًا ومن اصدق من اللہ قیلًاOلیس بانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوئً ا یجزبہ و لایجد لہ من دون اللہ ولیًا و لانصیرًاO

” اور جو رسول سے الگ ہو ہدایت واضح ہونے کے بعد اور اتباع کی مؤمنوں کی راہ سے ہٹ کر تو پھر ہم اس کو اسی طرف گھما دیں گے جدھر وہ گھوما ۔ اور جہنم میں پہنچادیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے بیشک اللہ نہیں بخشتا کہ کسی کو شریک بنایا جائے۔ اسکے علاوہ بخشتا ہے جس کیلئے چاہے اور جس نے اللہ کیساتھ شریک ٹھہرایا تو تحقیق بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ یہ لوگ اللہ کو نہیں پکارتے مگر زنانہ کو۔ نہیں پکارتے مگر شیطان سرکش کو۔ اللہ کی لعنت اور اس نے کہا کہ تیرے بندوں سے میں ضرور پکڑوں گا اپنا فرضی حصہ اور ضرور انہیں گمراہ کروں گااور انہیں اُمیدیں دلاؤں گا اور انہیں ضرور حکم دوں گا پس وہ ضرور جانوروں کے کان بتہ کریںگے اور انہیں ضرور حکم دوں گا پس وہ ضرور خلق خدا کو بدل دیںگے اور جس نے شیطان کو اللہ کے سوا اپنا حاکم بنایا تو کھلے خسارہ میں پڑا۔ وہ ان سے وعدہ کرتا ہے اور تمنائیں دلاتا ہے اور ان سے شیطان وعدہ نہیں کرتا ہے مگر دھوکہ بازی کا۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ نہیں پائیں گے کوئی محفوظ جگہ اور جنہوں ایمان لایا اور درست اعمال کئے عنقریب ان کو داخل کروں گا باغات میں جنکے نیچے نہریں بہتی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ابد الآباد تک۔اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ بات میں سچا کون ہے۔ نہ تمہاری تمناؤں پر اور نہ اہل کتاب کی تمناؤں پر جو برا عمل کرے گا تو اس سے ا س کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کوکسی کو حاکم و مددگار نہ پائے گا”۔
(سورہ النسائ:115سے124)

مقدمہ ابن خلدوں میں لکھاہے: ”امام ابوحنیفہ صرف17احادیث مانتے تھے”۔ حنفی مسلک میں نماز کے14فرائض میں سے آخری فرض یہ ہے کہ سلام واجب ہے اور نماز سے اپنے ارداے کیساتھ نکلنا فرض ہے بھلے ریح خارج کردے۔ یہ حدیث ہے کہ جس نے آخری نماز کے آخری قاعدے میں دھماکہ کردیا تو اس کی نماز مکمل ہوگی۔ مسلک سازی بعد میں ہوئی ہے، حدیث میں احدث کا لفظ ہے۔ ریخ خارج کرنا اور ریح کا خارج ہونا ایک بات تھی جیسے انتقال کرگیااور انتقال ہوگیا۔ عربی میں شیشہ ٹوٹ گیا ، کسرالزجاج میں فاعل شیشہ ہے لیکن اس کو حقیقی نہیں مجازی الفاظ کا گورکھ دھندہ کہتے ہیں۔

امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہے کہ بغیر ولی کی اجازت کے حوالے سے احادیث صحیحہ کو نہیں مانتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے5سو احادیث جمع کئے اور پھر جلائے کہ کہیں سمجھنے اور سمجھانے میں مجھ سے غلطی نہ ہوجائے۔80ھ میں امام ابوحنیفہ کی پیدائش اور150ھ میں انتقال ہوا۔40سال تک کسی سے نہیں سنا کہ حضرت اماںعائشہکا6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی اور دخول ہوا تھا مگر پھر بہت لوگوں کو احادیث بدلتے ہوئے دیکھاتھا۔1982ء سے مفتی تقی عثمانی کی ذات، الائنس موٹرز بینکاری ،فتوے،بدلتے دانت اور جن کو ورغلایا سبھی کو دیکھا۔ انسانی شیطان وصولی کے چکر میں گمراہ کرتا ہے لیکن قرآن کا آئینہ ہدایت کیلئے کافی ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کیخلاف کیا سازش کون کررہاہے؟

افلاطون2400سال پہلے سقراط کا شاگرد اورارسطو کا استاذ تھا۔ اس کی کتابیں محفوظ ہیں تو پھر قرآن پر کم عقل طبقہ روایات بناکر سازش کیوں پڑھاتا ہے ؟۔مدارس کی تعلیمات کو چیک کرلیں۔

ہندوؤں کے ویدوں،زرتشیوں کی اوستا،بدھسٹ کی تری پٹک، توراة، زبور، عہد نامہ عتیق، بائبل اور صحائف موجود تھے مگر قرآن کیلئے وسیلہ نہیں تھا۔ ہڈی ، پتے، پتھر وںپر لکھا جاتاتھا؟حیرت !

اللہ نے فرمایا:
شھررمضان الذی انزل فیہ القراٰن ھدًی للناس و بیناتٍ من الھدٰی و الفرقان ”رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں اللہ نے قرآن کو نازل کیا لوگوں کی ہدایت کیلئے ہے اور کھلے دلائل ہیں ہدایت والی اور امتیاز کرنے والی”۔

برصغیر کی آزادی27ویں رمضان لیلة القدرکی مبارک ساعت ہوئی۔ لاالٰہ الا اللہ نے تقسیم ہند کی بنیاد رکھ دی۔ بھارت نے ہندو جوگیندر ناتھ منڈل کو وزیرقانون بنانا چاہا مگر اس نے پاکستان کو ترجیح دی۔ پاکستان میں تعصبات کی گنجائش نہیں تھی۔

جنرل ایوب نے ہندوستان سے مراسم کی خاطر اردو رسم الخط کو ”ہندی” میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تو قدرت اللہ شہاب نے مطلع کیا۔نسیم حجازی نے دو گھنٹے میںجنرل ایوب کو سمجھایا تو فیصلہ واپس لیا فوج بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہاں تھی۔ ریاست سیاسی قیادت پر بھروسہ کرتی۔ سیاستدان ریاست سے رہنمائی لینے کی بنیاد پر اپنا سبق بھی بھولتے ہیں اور پھر الزام تراشی کایہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔

قرآن پر مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی بھروسہ کرتا تھا لیکن قرآن کی انتہائی گھٹیا قسم کی تحریفات پڑھائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے مولوی مرتد ہورہے ہیں۔

بدری کافر قیدی سے صحابہ لکھنا پڑھنا سیکھ گئے۔ قرآن میں ابراہیم و موسٰی کے صحائف کا ذکر ہے اور لکھنے کو کتابت اور لکھی ہوئی چیز کو مکتوب۔ یہ گہری سازش ہے کہ قرآن کوکتابی شکل بعدمیں دی گئی۔ یہ لکھاہے کہ قرآن المکتوب فی المصاحف ہے یعنی جو صحائف میں لکھا ہوا ہے ۔دوسری طرف پھر کہتے ہیں کہ مکتوب سے مراد لکھا ہوا نہیں کیونکہ وہ تو محض نقش ہے اور پھر یہاں تک بھی کم بخت گئے کہ علاج کیلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔

قرآن کی تعریف کیلئے قرآن سے بہت زیادہ اور زبردست مواد مل جاتا کہ سطور میں لکھا ہوا مقدس قرآن قرطاس اللہ کا کلام ہے۔ مزید صفات ہیں: المنقول عنہ نقلًا متواترًا بلاشبہ ” جو نقل ہوا ہے رسول اللہ ۖ سے تواتر کیساتھ بلاشبہ”۔ بس یہی بات ٹھیک تھی لیکن کیا بکواس پڑھاتے ہیں کہ

امام شافعی کے نزدیک یہی تعریف ہے۔ حنفیوں کے نزدیک غیر متواتر آیات بھی قرآن ہیں اور بسم اللہ میں شبہ ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر شبہ قوی ہے اسلئے اس کا منکر کافر نہیں ہے ۔

ایک طرف قرآن پر جھوٹی روایات سے شبہات کھڑے کر رہے ہیں اور دوسری طرف پھر روایات سے قرآن میں اضافے کا اعتقاد پڑھارہے ہیں۔

وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی ”کشف الباری شرح بخاری” میں لکھا ہے کہ ”ا بن عباسنے کہا: علی نے کہا کہ نبیۖ نے دو گتوں کے درمیان قرآن کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں چھوڑا ہے۔ بخاری نے اس روایت کو شیعہ کے خلاف نقل کیا کہ تمہارا عقیدہ تحریف قرآن کا غلط ہے اسلئے کہ تمہارے علی تحریف کے قائل نہیں تھے لیکن حقیقت میں قرآن کے اندر تحریف ہوئی ہے”۔( کشف الباری )

یہ بڑی منافقت ہے کہ عوام سے یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی نہیں ہوئی لیکن مدارس کے نصاب میں غلطی کا نوٹس نہیں لیتے ہیں۔

عبدالمالک کاکڑ نے لکھا کہ… سورہ اعلیٰ کے ترجمہ میں آیات و الذی اخرج المرعٰیOفجعلہ غثاء احویٰO …..کا ترجمہ غلط کیا ہے۔ ”اور جس نے چارہ نکالا پھر اس کو سیاہ چورا بنادیا”۔

ہم شکرگزارہیں کہ جو ہماری غلطی پر مطلع فرمائے البتہ اسکے بعد سنقرئک فلا تنسٰیO
”عنقریب ہم آپکو پڑھائیں گے پھرآپ نہیں بھولو گے” سے استنباط کیا کہ کچرہ سے مراد عام کچرہ نہیں بلکہ مذہبی مسائل کا کچرہ ہے اور جب انسان اپنی طرف سے دین میں کچرہ مسائل نکالتے ہیںتو اسکی نسبت اللہ اپنی طرف بھی کرتا ہے۔

وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفرٍ ومن البقر… ذٰلک جزینا ھم ببغیھم وانا لصادقونO(الانعام:146)

یہاں اللہ نے یہود پر کھانے کی چیزیں حرام کرنیکی نسبت اپنی طرف کی مگر دوسری جگہ واضح کیا:

کل الطعام کان حلًا لنبی الا ما حرم اسرائیل علی نفسہ من قبل ان تنزل التوراة قل فأتوا بالتوراة فاتلوھا ان کنتم صادقینO(ال عمران:93) ”

بنی اسرائیل کیلئے تمام کھانے کی چیزیں حلال تھیں مگر جو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کیں توراة نازل ہونے سے پہلے کہہ دو کہ تورات لاؤ اگر تم سچے ہو”۔

بصیرت سے محرومی ہو توبندہ گمراہ ہو سکتا ہے۔ قرآن ہرچیز کیلئے آئینے کی طرح وضاحت ہے مگر دل نہیں سر کی آنکھیں بھی کمزور ہوں توپھر کیا دکھائی دے گا؟۔ فقیہ کو ان آیات میں مذہبی مسائل کے گند کا کچرہ نظر آئے گا ۔ ساتھی عمران مالک نے کچھ سمجھا تو30سال پہلے کہا تھا کہ” غلط کتابوں کو جلاکر راکھ سمندر میں ڈلا جائے گا”۔طلاق کی آیات کو سمجھ لیا تو لوگوں کے دل ودماغ روشن ،بہت سے نفسیاتی مریضوں کو شفاء اور کئی عزتوں کو بڑا تحفظ ملے گا۔

سورہ اعلیٰ کی ان آیات میں سائنسدان کو تیل و کوئلے کے ذخائز نظر آتے ہیں کہ قدیم جنگلات کی ارضیاتی تبدیلی میںOil Migrationجس طرح ہوئی ،ان میں سائنسی حقائق موجود ہیں۔

قرآن مؤمنوں کیلئے رحمت اور شفاء ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارے کی طرف۔ اللہ انسان پر نعمت کرتا ہے تو اعراض کرتا ہے اور سائیڈ پکڑتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہوتا ہے۔ قرآن میں دل کی کیفیات کے وزن کا بھی پتہ چلتا ہے۔

والمحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم ”

اور عورتوں میں سے بیگمات مگر جن سے ایگریمنٹ ہوجائے”۔ صحابہ کرام نے اس کی تفسیر پر خاموشی اختیار کی اور بولا ہے تو اتفاق نہ تھا۔

موجودہ دورمیں اس سے پینشن والی معزز ایسی خواتین مراد ہوسکتی ہیں جن کی مراعات بھی برقرار ہوں اور ایگریمنٹ سے جنسی تسکین بھی لے سکیں۔ اگر امریکہ ،اسرائیل ، یہود ،عیسائی، چین ، روس، یورپ و دیگر ممالک اور مذاہب میں یہ تصور ہوگا کہ انکی شادی شدہ خواتین کو بھی لونڈیاں بنائینگے تو کیا اسلام اور مسلمانوں کیلئے مانگیںگے؟ سورہ المائدہ میںمؤمنات اور اہل کتاب کی محصنات کو حلال قرار دینے کا ذکر ہے۔ اگر مسلمانوں کی طرح ان سے بھی کہا جائے گا کہ قرآن نے کتابی خواتین کے حق کی بھی اسی طرح سے حفاظت کی ہے کہ نکاح کی بنیاد پر قانونی مالی فوائد کے بجائے ایگریمنٹ والا معاملہ کرو تو قرآن کے آئینہ میں ان کو اپنے تحفظ کا احساس ہوگا۔ رسول اللہ ۖ نے ایسی خلافت کی پیش گوئی فرمائی ہے جس سے سب خوش ہونگے۔

یا ایھا الذین اٰمنوا لا تتخذوا الیھود و النصاریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعضٍ ومن یتولھم منکم فانہ منھم ان اللہ لایھدی القوم الظالمینOفتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم یقولون نخشٰی ان تصینبا دائرة فعسی اللہ ان یأتی بالفتح او امرٍ من عندہ فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسھم نادمینO

” اے ایمان والو! یہوداور نصاریٰ کو اپنا حکمران مت بناؤ۔ یہ بعض بعض کے حکمران ہیں۔ جو ان کو حکمران بنائے تووہ انہی میں سے ہے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ پس تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں مرض ہے کہ اس معاملے میں جلدی کریںگے۔کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم پرگردش کی باری پہنچے گی۔ پس قریب ہے کہ اللہ فتح کیساتھ آئے یا اس کی طرف سے کوئی امر پس یہ نادم ہوجائیں جو مرض چھپائے بیٹھے تھے”۔ (المائدہ51،52)عربی فتی الشرق چینل نے یہ آیات موجودہ دور کیساتھ خاص کرنے کی نشاندہی محی الدین ابن عربی کے حوالہ سے کی کہ یہود ونصاریٰ کی ہمیشہ آپس میں دشمنی رہی۔ ہٹلر سے مار کھانے کے بعد معاملہ بدل گیا۔ غامدی کے مرض کی بھی یہ تشخیص ہے ۔ابراہم اکارڈ کی بنیاد پر یہود ونصاریٰ نے اقتدار کی منصوبہ بندی کی ہے۔

مسلمانوں کے حکمران اور سیاستدان پٹاخوں کی جگہ درست کام کریں۔ منبر و محراب سے حق کی صدا بلند ہونے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لے گی۔ انشاء اللہ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بلوچستان میں شادی کے بعد دلہن پہلی رات کو ظالم سردار کے حوالے کی جاتی ۔مولانا منظور مینگل

مولانا منظور مینگل نے اپنی تقریر میں کہا کہ پچھلے سال میں خیبر پختونخواہ دیر کے علاقہ میںگیا تو مجھے وہ عالم بھی ملا ۔ اس نے کہا کہ اس خان کو کہا تھا کہ تم حرام خور ہو، تم زناکار بدکار ہو! تو خان نے کہا کہ اس مولوی کو پکڑ کر لاؤ۔ ظالم پکڑ کر لائے اور اس کی زبان چھری سے کاٹ دی۔ وہ مولوی مجھے خود ملے، میں لوگوں سے سنتا تھا لیکن پروگرام میں گیا تو وہ مولوی خود مل گیا۔

ہمارے بلوچستان خضدار کا ایک سردار تھا، اس کا قانون تھا کہ لوگ نکاح کریں گے تو پہلی رات دلہن سردار کے حوالے کریں گے۔ ایک دن اس کی اپنی بہن کا نکاح تھا۔ سردار نے کہا کہ میں بہن کو نہیں جانتا ، عزت کو لوٹوں گا۔ بلوچ تو اس طرح کرے گا۔یہ سردار، چوہدری ، خوانین اور یہ بے دین ان کا حال یہی ہے۔ سردار کی بہن نے کچھ لوگوں سے کہا کہ میری عزت بچاؤ،سردار کے گن مین تھے رسائی مشکل تھے لیکن کچھ اللہ کے بندوں نے ہمت کرکے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔

ظالم لوگ بیوہ سے نکاح کرتے ہیں جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو اس کی پہلی شوہر کی بیٹی سے نکاح کرلیتے ہیں۔قرآن میں واضح ہے کہ اگر اس عورت سے ہمبستری نہیں کی ہے تو پھر نکاح کرسکتے ہیں لیکن ہمبستری کی ہے تو حرام ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے ایسے شخص سے کہا کہ تجھ پرلعنت ہو۔

مولانا مینگل کی خبر تہلکہ خیزہے کہ قوم سردار کے آگے لیٹی ہوئی تھی مگر بہن کا مسئلہ آیا توغیرت آئی؟۔ چلو کسی بہانے اچھا کام کیا۔مولانا مذہبی معاملات کو ٹھیک کرنے کی طرف آجائیں ورنہ کل اس کی اولادوں کی اولاد کہے گی کہ عتیق گیلانی نے بڑا کمال کیا ورنہ ہمارے بے غیرت مدارس میںیہ پڑھایا جاتا تھا وہ اپنی صلاحیت کو درست استعما ل کرے تو بلوچستان کے مظالم کا راستہ قرآن وسنت کی درست تعلیمات سے رک جائے گا۔

بخاری کا عنوان ہے کہ ابوسفیان کی بیٹی ام المؤمنین ام حبیبہ نے رسول اللہۖ کو اپنی سوتیلی بیٹیوں کی پیشکش کی تو آپۖ نے اپنے اوپر حرام قرار دیا۔ یہ سراسر جھوٹ تو نہیں ؟ اسلئے کہ بخاری کے استاذ الاستاذ مصنف عبدالرزاق کی روایت مولانا منظور مینگل کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے نقل کی ہے کہ حضرت علی نے ایک شخص سے کہا ،جس کی بیوی فوت ہوگئی تھی کہ اپنی بیوی کی اس بیٹی سے شادی کرو جو تمہارے حجرے میں نہیں پلی ہے۔ کہیں شافعی حنفی مسالک کیلئے روایات گھڑنے کا معاملہ تو نہیں تھااور یہ بھی لکھا ہے کہ ” لڑکے سے جنسی عمل کیا ہو تو اس کی ماں بالاجماع جائز ہے”۔(کشف الباری)

مولانا منظور مینگل بیوہ ماں کا بیٹا اور مولانا سلیم اللہ خان کا خاص الخاص شاگرد تھا۔ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کا صابر شاہ کیساتھ سکینڈل بھی آگیاتو پروپیگنڈہ کون روک سکتا ہے؟۔

دیر اور خضدار کی نسل کو مشکوک کردیا لیکن مسلکی غلاظتوں کو کیاصابر شاہ شیخ الحدیث بن کر ٹھیک کرے گا؟۔ اسی موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بات کہاں ہے؟۔ مولانا سلیم اللہ خان کی کشف الباری شرح بخاری پر کیوں نہیں بولتے؟۔ قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا بہت ہی بے غیرت طبقہ ہے جو مدارس کے نام پر حرام کی روٹی کھاتاہے۔

یزید ثانی بن عبدالملک کے دور میں بچیوں سے نکاح کو جائز کیا پھر بنوعباس دور میں حضرت عائشہ کا6سال میں نکاح اور9سال میں رخصتی کا جھوٹ گھڑا۔علماء حق، ریاست پاکستان، عوام اور صحافی یرغمال اسلام کو علماء سوء سے بازیاب کریں۔

وزیرستان و خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں کوئی خان ، نواب اور سردار ایسا تھا اور نہ ہی لوگ بے غیرت تھے اسلئے ان سے بہت بڑے معاشرتی اور عالمی انقلاب کی بڑی توقع ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عرب کو جاہلیت سے نکال کر قرآن نے سپر طاقت بنادیا۔عالمی سکینڈل ایپسٹین فائلزکے تناظر میںاب پاکستان کا نظام درست کرنا پڑے گا

ٹانک اور وزیرستان کی اقوم نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ عورت کی قیمت5لاکھ سے زیادہ وصول نہیں کی جائے گی۔ پہلے45لاکھ تک بھی رقم لی گئی ہے تو اس میں زاید رقم کو دونوں خاندانوں میں مشترکہ تقسیم کیا جائے گا اور آئندہ کسی لڑکی پر یہ پابندی نہیں لگاسکتے ہیں کہ دوسرے خاندان میں شادی پر پابندی ہوگی۔

طالبان نے9سالہ کو عورت قرار دیا۔ بنوامیہ و بنو عباس نے معاملہ بگاڑا ۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم کا مواد بدنام زمانہ اپیسٹین فائلز کی بنیاد ہے اور مسلمان بچیاں استعمال ہوئی ہیں عربی چینلز پر اس کا تذکرہ ہے اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔مفتی تقی عثمانی کے نزدیک9،10سال کی بچی نابالغ ہے اور اس کاوالد اور چچا اس کی مرضی کے بغیر نکاح کراسکتے ہیں۔والد نے کرایا تو بچی بالغ ہونے کے بعد نکاح کوفسخ کرنے کا حق نہیں رکھتی اور چچا نے کرایا تو پھر حیض آتے ہی نکاح فسخ کرسکتی ہے لیکن اگر نہیں کیا تو پھربعد میں نہیں کرسکتی ہے۔ ٹانک اور وزیرستان کی اقوام کے علماء کرام اور مشران عظام نے بڑا ہی انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ مولانا فضل الرحمن، مفتی تقی عثمانی،ڈاکٹراورنگزیب اور دے لندن ماسید ڈاکٹر کو بلالیں،بچوں کو معذور ی سے بچانے کی لسٹ لیں اور شرعی معاشرتی دہشت گردی سے انہیںبچائیں۔9سالہ بچی کے نکاح، جنسی عمل ،حد وتعزیزکے علاوہ حرمت مصاہرت کے دلچسپ مسائل مختلف ہیں۔ جس کو سمجھنے، سیکھنے اور عام کرنے کے بعدانقلاب کی زبردست توقعات بن سکتی ہیں۔ اسلام میں آزاد عورت، لونڈی، غلام اور بچیوں کے احکام الگ الگ ہیں۔ افغان طالبان نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے لونڈی و غلام بنانے کیلئے بلکہ فقہ کی اصطلاح میں مسائل کی وضاحت کیلئے دستور میں قوانین کی وضاحتیں کردی ہیں۔

حنفی مسلک کے نفاذ کو قانونی شکل دینے کا مطلب یہ ہے کہ فقہ حنفی کے مطابق عدالتیںفیصلہ کرنے کے پابند ہوںگی۔

مثلاً9سالہ بچی کا اسکے باپ یا چچا نے زبردستی سے نکاح کیا یا اپنی مرضی سے نکاح کیا یا نہیں کرنا چاہتی تو اس کی مرضی کو ہی جج قبول کرے گا۔ اور جنسی عمل پر حد نافذ ہوگی لیکن اس سے کم عمر کیلئے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کیلئے تعزیر کا قانون ہوگا جس کی چار کیٹیگریبیان کی گئی ہیں۔

مرثیہ لکھ دوں یا قصیدہ حیران ہے قلم
خوشی کا شادیانہ یا تازیانے کا ہے غم

ابراہم لنکن نے امریکہ میں غلامی پر پابندی کا آغاز کیا اور اقوام متحدہ نے1956ء میں ہر قسم کی غلامی پر پابندی لگادی ۔ ڈاکٹراسرار نے کہاکہ” اسلام میں لونڈی بنانے کا جواز ہے”۔

علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ” موجودہ دور میں غلام ولونڈی بنانا جائز نہیں پہلے ادوار میں و جزاء سیئة سیئة مثلھا فمن عفاو اصلح فاجرہ علی اللہ انہ لا یحب الظالمینO اور برائی کا بدلہ برائی ہے لیکن جس نے معاف کیا اور اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ پر ہے وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ہے(سورہ شوریٰ آیت40)کی وجہ سے جائز تھا مگر اب بین الاقوامی معاہد ہ ہوگیا ہے اسلئے جائز نہیں”۔

مولانا ولی اللہ معروف نے بردہ فروشوں کے ہاتھ بکنے والیوں کو خاندانوں سے ملایا جو غلامی سے بدتر ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ اصل غلامی ہے کیا؟۔ اگر فوج ہماری دم اٹھاکر اسکے نیچے انگلی رکھ دے اور ہمیں وزیراعظم بنادے تو ٹھیک ورنہ پھر سبھی غلام ہیں؟ غلامی کا یہ سیاسی تصور خود غرضی پر مبنی ہے۔ہم اسی وجہ سے پاکستان کے اندر سیاست کی نحوست سے نکل نہیں سکتے۔

اگر پختون و عرب بیٹیوں کو حق مہر کے نام پر بیچیں اورمذہبی طبقہ فتویٰ دے کہ کم سن بچیوں کا بلوغت سے پہلے جبری نکاح کا شرعی جواز ہے تو یورپ کے بدنام زمانہ سکینڈل میں مسلمانوں کی بچیوں کا انکشاف بھی ہواہے۔ عرب بچیوں کی جنسی ویڈیوز میںArab babiasکے نام سے بہتات تھی۔

مفتی محمد تقی عثمانی کا ” فتاویٰ عثمانی جلددوم ”دیکھ لیجئے گا۔

سوال : والد نے لڑکی کا نکاح ایسی جگہ یا خاندان میں کرایا جہاں پردہ کا کوئی انتظام نہیں اور نہ لڑکی اور اسکے خاندان کے رہن سہن کے مطابق ہے۔ اس لڑکی کے والدنے اس کی شادی سے پہلے لڑکی کے ماموں کو کہہ دیا تھا کہ آپ اپنے لڑکے کی شادی اس لڑکی کا بٹہ دے کر کرلو، مگر اس میں ایک شرط یہ ہے کہ مہاجرین سے رشتہ نہ کرنا ، مگر لڑکی کے والد نے خود اس سے خلاف کیا اور لڑکی کا نکاح مہاجرین سے کردیا اور ان کا کاروبار کاشتکاری ہے ۔ ٢:لڑکی نے بلوغ پر خود ہی نکاح فسخ کرنا منظور کیا ۔ ٣: لڑکی بالغ ہونے پر ایک دن بھی اپنے شوہر کے ہاں آباد نہیں ہوئی ۔ تو کیا اس صورت میں نکاح باقی رہتا ہے؟۔

جواب :۔ باپ، دادا کے کئے ہوئے نکاح میں لڑکی کو خیارِ بلوغ صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ باپ فاسق و فاجرہو یا لالچی ہواور اس کا سوئِ اختیار معروف و مشہور ہو اور غیر کفو میں نکاح کیا ہو، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس نے یہ نکاح محض لالچ کی بنا پر کیا تھا ، بٹہ پر نکاح کرنا بوجہ رواج عام کے کافی وجہ نہیں اسلئے مذکورہ صورت میں خیارِ بلوغ کی بناء پر نکاح فسخ کرنے کی گنجائش معلوم نہیں ہوتی، اگر دونوں میں نبھاؤ کی کوئی صورت ممکن نہیں ، تو سوائے اس کے کوئی صورت نہیں کہ شوہر سے معاوضہ وغیرہ کے ذریعے طلاق حاصل کی جائے۔ واللہ اعلم احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ ٢٦|٥|١٣٩١ھ ( فتویٰ نمبر٦٩١|٢٢ب(

حق مہر نہیں لیکن نکاح ختم کرنے کیلئے منہ مانگے معاوضے کے بغیر چارہ نہیں، یہ لونڈوں کی لونڈہ گیری نہیںتواور کیاہے؟۔ پھر معاوضہ پر بھی عورت چھٹکارا نہیں پاسکتی تو اس سے بڑھ کر غلامی کیاہے؟۔ مفتیان لکھتے ہیں کہ ” شوہر تین طلاق دیکر مکر گیا تو بیوی اس پر حرام ہے اور اگر معاوضہ پربھی شوہر خلع نہیں دے تو بیوی حرام کاری پر مجبور ہے لیکن لذت نہیں اٹھائے”۔

اس سے زیادہ غلاظت اور غلامی کا تصور اسلام کے نام پر ہوسکتا ہے جو علماء ومفتیان نے عورتوں پر مسلط کررکھاہے؟۔

علماء ومفتیان کی غلاظت کا ایک اور تصور ملاحظہ کیجئے گا۔

فرض کریں کہ مفتی تقو نے مولانا فضو کی9سالہ نواسی سے شادی کرلی۔ پھر مفتی تقو نے اپنی26سالہ ساس کا جگر پکڑا۔ بڈھا داماد جوان ساس کیساتھ ننگا تڑنگا کھیل رہا تھا۔ جیسے شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی صابر شاہ کیساتھ ننگی ویڈیو بھی دنیا نے دیکھ لی تو اس کا عجیب وغریب فتویٰ ملاحظہ فرمالیجئے گا۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ سے اگر ڈیلیٹ کردیا ہو تو ہم نے اسےSaveکررکھا ہے۔ فکر نہیں ہے۔ اگر شہوت کیساتھ کھیلتے ہوئے مفتی تقو نے اپنی ساس سے اپنا بدن الگ کرنے سے پہلے اپنی منی خارج کردی تو پھر اس کی زبردست جیت ہے اور اس کی بیوی اس کیلئے حرام نہیں ہوئی۔ لیکن اگر اس نے اپنی منی خارج ہونے سے پہلے کہیں دروازہ کھلنے یا دستک دینے یا کسی بھی وجہ سے اپنا بدن الگ کرلیا تو پھر وہ اپنی بیوی بھی ہار گیا اور وہ اس کیلئے اب وہ بیٹی بن گئی ہے۔

یہ ہے علماء سوء کا مذہب ۔ علماء حق نے تو دلوں، بے غیرت اور بے ضمیر وں کو سمجھا نہیں ۔ جامعہ دارالعلوم کراچی فتویٰ سازی کی فیکٹری لگتی ہے یا لگتا ہے؟ جامعہ مؤنث ، دارالعلوم مذکر ہے اور مولانا فضل الرحمن نے کچھ علماء ومفتیان کو خواجہ سرا قرار دیا۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ٹرنس جینڈر خنسیٰ نہیں مغربی اصطلاح ہے کہ مرد کو مؤنث قرار دے یا مذکر۔ جامعہ دارالعوم کراچی اپنی مرضی سے تیسری جنس بن گئی ہے؟۔ ہاہاہا…..

جامعہ دارالعلوم کراچی عوام سے کہتی کہتا کہ شادی بیاہ میں رقم کی لین دین سود ہے اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے اور عالمی سودی بینکاری میں سود کی شرح بڑھا کر اپنی ماؤں کیساتھ زنا کو جواز بخش دیا؟۔ سینیٹر مشاہداللہ خان نے بیان دیا کہ” اسلام میں کوئی حلالہ نہیں ۔ یہ قوالی سن کر مسلمان ہوئے ہیں”۔ کہیں انہیں زہر تو نہیں دیا ؟۔ مفتی منیب الرحمن کو کچھ کھلایا گیا تھا۔ مفتی محمود اور بقول مفتی تقی عثمانی کے علامہ شبیراحمد عثمانی کو بھی ۔ ارسطو سے امام ابوحنیفہشکار بنے تھے۔

مولانا سمیع الحق شہید نے نصاب کی تبدیلی کا بیان دیا اور علامہ یوسف بنوری نصاب کی تبدیلی کے خواہاں تھے ۔ مفتی محمد نعیم جامعہ بنوریہ عالمی سائٹ کراچی نے کہا کہ” نصاب کفریہ ہے اور طلاق و حلالہ کا معاملہ غلط رائج ہے مگر مفتی تقی عثمانی نے منع کیا ہے اور وہ وفاق المدارس سے نکال دیں گے”۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا تھا کہ ”نیا نصاب مرتب کریں مدارس میں وہ پڑھائیںگے”۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے ماہنامہ ”البینات” میں سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کی مخالفت میں لکھا تو جنگ کے صحافی نجم الحسن عطا اور ہمارے ایڈیٹرملک اجمل جب ملے تو ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے کہا کہ ”میرا مضمون مفتی تقی عثمانی کے خلاف نہیں۔ میرے شاگر سید عتیق الرحمن گیلانی نے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف ہم سے فتویٰ لیا اور پھر مفتی تقی عثمانی کے خلاف اپنے اخبار میں چھاپا جس پر مفتی تقی عثمانی بہت سخت ناراض ہوگئے تھے”۔

ملک اجمل نے ائیرپورٹ پر مفتی تقی عثمانی کو اپنا تعارف کرایا کہ انٹریو دیں گے تو مفتی تقی نے کہا کہ ”تم لوگوں نے کم گالیاں کھلائی ہیں،ابھی بھی تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا ہے؟”۔ ملک اجمل نے کہا کہ بریلوی تمہارے پیچھے پڑے تو ہم نے ان کا چھاپ کر ان کو ٹھنڈا کیا اور تمہاری جان چھڑائی تھی۔ جس پر مفتی تقی عثمانی نے زبان کو حرکت دئیے بغیر اعتراف کرلیا تھا۔

انفارمیشن سیکرٹری سندھ مہتاب راشدی نے بلایا کہ……

سستی شہرت کیلئے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی خبر چھاپی؟ تو میں نے کہا کہ اگر لکھتا کہ حنفی مسلک پر اعتراض غلط ہے، اہلحدیث کے نزدیک شیر خوار بچے کا پیشاب پاک ہے جس پر سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھا جائے تو مجھے بہت عزت ملتی کہ زبردست کام کیا لیکن غلطی کو سدھارنے کیلئے ہائی لائٹ کیا تومجھے جان کے لالے پڑے ہیں۔ جس پر مہتاب راشدی نے کہا کہ وزارت داخلہ کو پولیس وین کیلئے لکھ دیتی ہوں کہ آپ کی حفاظت پر مأمور ہو۔ مگر میں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔

اگر حکومت واپوزیشن قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں معاشرتی گند کو نکالنے پر کام کریں تو متحارب سیاسی پارٹیوں پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

طلاق کے مسائل پر حنفی و شیعہ کا قرآن وسنت کے قوانین پر نہ صرف اتفاق ہوگا بلکہ مسخ شدہ اسلام کی بازیابی ہوگی اور اسرائیل کا شہر عسقلان اسلام کا مرکز بن جائے گااور یہودیوں کو بھی اسلام کی افادیت اور نظام کو تسلیم کرنے میں خوشی ہوگی۔

مفتی تقی عثمانی ”فتاوی عثمانی جلد دوم” میں لکھتے ہیں کہ

(کفار،اہل کتاب اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان)

عیسائی عورت سے نکاح کا حکم

سوال :۔ میرے ایک عزیز کی شادی ایک عیسائی لڑکی سے ہوئی ہے۔لڑکے کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی، باپ چونکہ ہندوستانی فوج میں میجر تھااور مذہب کی بیگانگی اور شرافت سے بیگانگی کی وجہ سے لڑکی سے محبت ہوگئی۔ انہوں نے بزرگوں کی مرضی سے سول میرج کرلی، لڑکی کی ماں کہتی تھی کہ میں نکاح نہیں کرنے دوں گی، لڑکے کا باپ نکاح کرنے پر مُصر تھا، لڑکی کے باپ نے کہا کہ ابھی تو لڑکی کی ماں کا کہا مان لیں کیونکہ وہ بہت ضدی ہے ، آپ اپنے گھر لے جاکر نکاح پڑھوالیں، چنانچہ ایسا ہی ہوا، سب نے سمجھا کہ لڑکا مسلمان ہے تو لڑکی بھی مسلمان ہوگی۔جب دو بچے پیدا ہوگئے تو معلوم ہوا کہ لڑکی اپنی ماں کے مذہب پر عیسائی ہے اور لڑکی نے بھی اقرار کیا کہ میں عیسائی ہوں،اب شرعاً یہ شادی جائر ہے یانہیں؟۔

جواب : عیسائی عورت سے مسلمان کا نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے ،شرط یہ ہے کہ عورت واقعی عیسائی مذہب پر ہو۔ آج کل کے عیسائیوں کی طرح نہ ہو جو نام کے تو عیسائی ہوتے ہیںاور ان کے عقائد دہریوں کے عقائد ہوتے ہیںکہ خدا، رسول کسی کو نہیں مانتے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ نکاح شرعی طریقے سے دو گواہوں کے سامنے ہوا ہو،اگریہ دونوں شرائط موجود ہیں تو یہ نکاح درست ہوچکا۔ واللہ سبحانہ اعلم
٧| ٣|١٣٩٧ھ (1977) (فتویٰ نمبر ٣١١| ٢٨ب)

روس سے آزادی پانے والے تاجکستان،ازبکستان وغیرہ کے نکاحوں کا کیا حکم ہوگا؟۔ یہ100ملین ڈالر کا سوال ہے ، لونڈی کا جواز تھا تو مذہب کی شرط تھی یا عورت ہونا کافی تھا؟ پھر لونڈی سے نکاح جائز تھا یا نہیں؟۔ فقہاء کے ہاں فتح مکہ پر رسول اللہ ۖ نے فرمایا : انتم طلقاء تم آزاد ہو۔ اگر مسلمان چاہتے تو ہندہلونڈی اور ابوسفیان غلام بنتے۔ یزید چاہتا تو اہل بیت کو لونڈیاں بناسکتا تھا اور علی سے بھی مطالبہ کیا کہ جنگ جمل کی خواتین کو لونڈیاں بنائیں؟۔ حالانکہ جس طرح حق مہر کے عوض خریدی گئی کافرات کو واپس بھیج دیا تو اسی طرح نبیۖ پر واضح کیا کہ جو تمہیں مال غنیمت والیاں ملی ہیں تو وہ تمہارے لئے حلال کردی ہیں۔ معاملے کو غلط رنگ دیا گیا۔ ام المؤمنین جویریہ کا شوہر جنگ میں مارا گیا،وہ گرفتار ہوئی تو فدیہ سے رہا ہوتیں، خود نبیۖ سے رشتہ پسند کیا ، رشتہ دار مسلمان ہوگئے۔

ولی خان نے بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ تم عربوں کو مسلط کرنا چاہتی ہو جو ہماری پختون خواتین کو لونڈیاں بنائیںگے؟۔ اگر پاکستان اور افغانستان میں جنگ ہوگی توپھر کیا فتح وشکست میں لونڈیاں بنانے کا معاملہ ہوگا؟۔ سوات کے حالات پر نوائے وقت نے رپوٹ میں لونڈیاں بنانے کا تذکرہ کیا تھا۔

مفتی تقی عثمانی اپنی جہالت کا ازالہ کرے ۔ صلح حدیبیہ ہوا تو مکہ کی مسلمان عورتوں نے مدینہ ہجرت کی تو واپس نہیں کیا کہ ”یہ ان کیلئے حلال نہیں اور نہ شوہر ان کیلئے حلال ہیں”۔ پھرکافر عورتیں ولا تمسکوا بعصم الکوافر واپس کردیں مولانا علی نے استنباط کیا کہ ان کی مسلم بہن ام ہانی کیلئے مشرک شوہر جائز نہیں اور اس کو قتل کرنا چاہا مگر رسول اللہۖ نے اسے پناہ دی اورحرام کاری کا فتویٰ نہیں لگایا۔ یہ شکر ہے کہ سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ واضح فرمایا کہ ” وہ چچا کی بیٹیاں تمہارے لئے ہم نے حلال کی ہیں جنہوں آپ کیساتھ ہجرت کی” ۔ورنہ تو ام ہانی کے بارے خسیس قسم کے فقہاء کہتے کہ ا نتم طلقاء میں جمع کا صیغہ تھا اسلئے بیک وقت تین طلاقیں واقعی ہوگئی تھیں۔

فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی طاقت کا توازن جس دن بگڑ گیا تو شیعہ بیوی کی بنیاد پر بھی فتوؤں سے بچوں کیلئے مسئلہ پیدا ہوگا اور27ویں آئینی ترمیم سے علماء کا فتویٰ زیادہ خطرناک ہوگا۔

مفتی تقی عثمانی نے شیعہ کے حوالے سے دو متضاد فتوے لکھ دئیے ۔
پہلا سوال تھا کہ” ایک ایسی لڑکی جسکے والدین کا تعلق دیوبندی مسلک سے ہے۔ اس کی شادی ایک ایسے لڑکے سے جس کے والدین شیعہ ہیں اور ان کا لڑکا انکے ساتھ کسی تقریب میں شرکت نہیں کرتا اور نکاح دیوبندی سے پڑھایا جائے گا ۔ لڑکا کہتا ہے کہ میں نہ شیعہ ہوں اور سنی …….
جواب : .. حقیقت میں وہ شیعہ ہے یا پھر کوئی مذہب نہیں رکھتا دونوں صورتوں میں اس کا نکاح سنی القعیدہ سے جائز نہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم ۔ ٢٠|١٠|١٤٠٨ھ۔(1986ئ)

سوال : رافضی شیعہ اور اثناعشری میں کوئی فرق ہے ؟ ۔ نیز ایسے کسی سنی العقیدہ عورت یا مرد کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟،جبکہ خلفا ئے ثلاثہ پر تبرا پڑھتے ہیں ۔حالانکہ حضورۖ کی حدیث ہے کہ جس نے میرے صحابی کوتکلیف دی تو اس نے مجھے دی..
جواب : شیعوں کے بہت سارے فرقے ہیں وہ سب اپنے آپ کو شیعہ اور اثنا عشری کہتے ہیںاور اہل سنت ان کو رافضی کہتے ہیں۔ یہ تمام فرقے علی الاطلاق کا فر نہیں ہیںبلکہ ان میں جو حضرت علی کی خدائی کے قائل یا قرآن کو تحریف شدہ مانتے ہیںیا ام المؤمنین حضرت عائشہ پر تہمت لگاتے ہوں یا اس قسم کے کافرانہ عقیدے کے معتقد ہوں وہ کافر ہیں۔ ان سے نکاح نہیں ہوتا لیکن جو لوگ اس قسم کے کفریہ عقائد نہ رکھتے ہوں تو وہ کافر نہیں ہیں۔ان سے نکاح تو ہوجاتا ہے مگر مناسب نہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم ٥|١٠|١٣٩٧ھ (1977)

اور ساتھ ہی فتاوی عثمانی جلد دو م صفحہ262پر” حاجی عثمان کے پیروکارسے نکاح کا حکم” کے عنوان سے یہ فتویٰ ہے۔

1:ایسے گمراہ شخص کے مرید یا معتقد سے رشتہ کرنا جائز نہیں 2: کسی ناجائز کام کے بارے میں یہ دریافت کرنا کہ کرلیا جائے تو ہوجائے گا یا نہیں ؟۔سخت گناہ ہے بلکہ اس پر کفر کا خطرہ ہے اسلئے کہ نفس پرستی کیلئے ارتکاب حرام شریعت کی توہین وتخفیف ہے ۔ علاوہ ازیں حاجی عثمان جس ڈگر پر چل رہاہے … اسکے مریدین ومعتقدین کا کسی وقت بھی کفر تک پہنچ جانا کوئی بعید نہیںالعیاذ باللہ ایسی حالت میں اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟ عمر بھر کی حرام کاری اور اولاد الزنا ۔اللہ تعالیٰ اعلم مفتی عبدالرحیم الجواب صحیح مفتی رشیدا حمد الجواب صحیح مفتی ولی حسن

ہمیں اس سے اتفاق ہے کہ حاجی عثمان صاحب کے عقائد سے متعلق جو امور جواب میں بیان کئے گئے ہیں وہ گمراہانہ عقائد ہیں ایسے گمراہانہ عقائد کے حامل کسی شخص سے یا اس کے کسی پیروکار سے نکاح کرنا ناجائز ہے۔

2:اگر نکاح کر ہی لیا تو خواہ وہ منعقد ہوجائے مگر سخت گناہ کا کام ہے ۔ اللہ سبحان و تعالیٰ اعلم احقر محمد تقی عثمانی الجواب صحیح محمد رفیع عثمانی

حاجی عثمان کے مریدمولانا اشفاق احمد فاضل دیوبند کو کس لئے رکھا ؟۔…..
دوسروں کا حلالہ یا اپنی بیگمات کی تشفی کیلئے؟۔ حاجی عثمان کے معتقد جامعہ بنوری ٹاؤن ، جامعہ بنوریہ عالمیہ اور مولانا سلیم اللہ خان و مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید فتوؤں اور حاجی عثمان کی وفات کے بعد تشریف لائے اور علماء دیوبند، بریلوی ، اہلحدیث سبھی حاجی عثمان کے معتقد ہیں۔2006ء میں مجھ پر فائرنگ ہوئی تو تبلیغی جماعت کی شکل میں کراچی سے دہشتگردوں کی تشکیل کا شبہ تھا۔2007ء میں بھی13فراد دہشت گردوں نے شہید کردئیے تو اسکے پیچھے خطیر رقم کی باتیں زبان زدِ عام تھیں۔ پھراسکے بعدفتاوی عثمانی جلددوم میں یہ فتویٰ شائع ہوا۔ اخبار ضرب حق بند ہوا۔ جس میں حلالہ کے خلاف مضامین کھل کر شائع کئے گئے تھے۔

مفتی رفیع عثمانی نے پھر میڈیا میں پاکستان کے اندر خودکش اور دہشت گردی کے خلاف فتویٰ دینے سے بھی کھل کر انکار کیا اور بہت ساری ایسی باتیں ہیں جن کے ذریعے حقائق تک پہنچ سکتے ہیں لیکن ہمارا فوکس ذاتیات سے زیادہ مسائل پر ہے۔

مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں۔عجمیوں میں کفاء ت کا اعتبار نہیں:
سوال: ایک آدمی نے عاقلہ بالغہ لڑکی کا اغواء کیا اور اسے ڈرا دھماکر نکاح کرلیا،لڑکی کے والدین اس نکاح پر ناراض ہیں کیونکہ لڑکی آرائی قوم سے ہے اور لڑکی کا تعلق شیخ قوم سے ہے، (شیخ سے مراد کھوجہ قوم ہے) اور دونوں قوموں کی شرافت میں فرق ہے۔آرائیں معزز سمجھے جاتے ہیں اور شیخ ذلیل تو کیااس صورت میں نکاح ہوسکتا ہے؟۔

جواب: آرائیں اور کھوجہ دونوں عجمی نسلیں ہیں اور عجمیوں کے درمیان کفاء ت کا اعتبار نہیں ہے اور مذکورہ نکاح چونکہ لڑکی نے اپنی اجازت اور رضامندی سے کیا ہے اس لئے شرعاً نکاح منعقد ہوگیا،اب اگر لڑکی یا اس کے رشتہ دار ختم کرنا چاہتے ہیں تو سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ لڑکے سے طلاق حاصل کریں۔قال فی الدر المختار واما فی العجم فتعتبر حریة واسلاما۔ (شامی ج:2صفحہ319)
واللہ سبحانہ اعلم احقر محمد تقی عثمانی الجواب صحیح بندہ محمد شفیع
فتاوی نمبر٥٧|١٩ الف(فتاویٰ عثمانی جلددوم صفحہ280)

حاجی عثمان پر فتوے لگانے کے بعد شیخ الحدیث مفتی حبیب الرحمن درخواستی مدظلہ العالی نے حاجی عثمان کے حق میں فتوے دئیے تھے…..
اور چھوٹے بھائی میرے استاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے۔ ان کا تعلق آرائیں قوم سے ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے دونوں گروپ فضل الرحمن اور درخواستی کے علماء نے حاجی عثمان کا ساتھ دیا تھا۔ مولانا محمد بنوری شہید خطیب العصر مولاناسید عبدالمجید ندیم وغیرہ کو بھی حاجی عثمان کے پاس لائے تھے۔اگر اس فتوے کو دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمن اور درخواستی کے خاندان کی خواتین کو اغواء کرکے زبردستی سے نکاح پر مجبور کردیا جائے تو مفتی تقی عثمانی نے اغواء کاروں کو راستہ دے دیا ہے۔ علماء اور عوام کو نسل اور عورتوں کے تحفظ کیلئے کچھ کرنا چاہیے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ علماء ومفتیان کو صلح کیلئے بیچ میں ڈال دیا تھا اور وکیل کے نوٹس پر بھی مفتی تقی عثمانی نے لکھا تھا کہ ہم نے نام سے فتویٰ نہیں دیا اور تاریخ نے ثابت کیا کہ موقع پرست ہیں۔

مفتی تقی عثمانی کیلئے اسکے والد مفتی شفیع نے دارالعلوم کراچی میں وقف شدہ زمین میں مکان لیا ۔ جسکے خلاف مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ” وقف مال کی خرید اور فروخت جائز نہیں اور ایک ہی شخص باع و مشتری خریدنے اور فروخت کرنے والا نہیں ہوسکتا ہے”۔ تو اس کی مدرسہ میں پٹائی لگائی تھی۔ ہمارے استاذ مولانا شیرمحمدامیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے بتایا کہ وہ اس وقت دارالعلوم کراچی میں پڑھتے تھے ۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے چہرے پر شدید زخموں کے نشان دیکھ کر پیشکش کی کہ بدلہ لیتے ہیں مگر استاذ نے اجازت نہیں دی تھی۔

مفتی تقی عثمانی کے مختلف اور متضاد فتوؤں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے فتوے بیچے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ اولیاء کی رضامندی کے بغیر لڑکی کا غیر کفو میں نکاح کرنا۔

سوال : خلاصہ سوال یہ ہے کہ باپ کی مرضی کے خلاف میری لڑکی نے ایک ایسے آدمی سے نکاح کیا ہے جو نیک سیرت نہیں ہے، مزید بر آں اس کے پہلے سے ایک بیوی اور چار بچے بھی موجود ہیں ،گھر میں جھگڑے وغیرہ کی بناء پر اب اس لڑکی کو میں عاق کرنا چاہتا ہوں، رہنمائی کیجئے۔

جواب: سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی نے جس سے شادی کی ،اس کا باپ اپنے لئے کفو نہیں سمجھتااور شرعاً لڑکی کو یہ اختیار نہیںکہ باپ کی اجازت ورضامندی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرے لہٰذا وہ شخص واقعتا کفو نہیں تو اس کا یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، رشتہ داروں کو چاہیے کہ لڑکی کو نرمی سے سمجھائیں کہ یہ نکاح درست نہیں اس کیساتھ رہ کر وہ حرام کاری کی مرتکب ہوگی ، لما فی الدر المختار: فلاتحل مطلقة ثلاثانکحت غیر کفو بلا رضا ولی بعد معرفرفتہ ایاہ فلیحفظ (شامی: ج:٢ ص:٤٠٩) لیکن عاق کرنے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ۔ باپ کو کسی حال میں یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی میراث سے محروم کرے۔ واللہ سبحانہ اعلم احقرمحمد تقی عثمانی عفی عنہ الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ (فتویٰ نمبر ٢٦٣| ١٩ الف) فتاویٰ عثمانی جلد دوم :ص284

اس فتوے کا پس منظر بہت گہرا لگتا ہے اسلئے کہ جواب میں تین طلاق کے بعد کفاء ت کا حوالہ ہے اور یہ بھی کہ نسل کا نکاح کے بعد پتہ چل جائے۔ فتویٰ مفروضہ پر بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ شخص واقعی کفو نہیں ہے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔ پھر تیسرے گیر میں نرمی سے سمجھانے کا مناسب لگا۔ پہلے فتوے میں جبر کا نکاح کرنے والا اغواء کار ٹھیک تھا؟ اور اس میں خلاصہ لکھ کر کہ والد اس کو اپنا کفو نہیں سمجھتا؟۔ یہ فتویٰ نہیں ڈرامہ ہے۔

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مفتی عبدالسلام چاٹگامی نے تین طلاق کے بعد حلالہ کیلئے ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے لکھ دیا تھا کہ ”عورت طلاق کا اختیاراپنے پاس رکھے” مگرمفتی تقی عثمانی نے اس کو مستقل دھندہ بنارکھا تھا۔بعد میں بھی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔کبھی حلالہ کا مرتکب پیسہ مانگ کر معاوضہ سے طلاق دیتا اور کبھی عورت راضی نہیں ہوتی تو فتویٰ دیا جاتا۔

مفتی تقی نے لکھا:۔ تین طلاق کے بعد حلالہ کا شرعی طریقہ
سوال: اگست1960ء میں میری شادی ہوئی ۔1963میں ایک لڑکا تولد ہوا۔ جنوری1964ء کو میں نے اپنی زوجہ کو تحریری طور پر تین طلاق دے دی۔زوجہ ابھی تک لڑکے کیساتھ والدین کے ہاں ہے ،اب والدین بھی بہت ناراض ہیں۔میں خود بھی پریشان ہوں۔ یہ کام میں نے دوسروں کے ورغلانے سے کیاتھااب کوئی صورت ہوسکے تو تحریر فرمائی جائے۔

جواب: صورت مسئولہ میں بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی ہے ،اب حلالہ کے بغیر دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا۔جسکی صورت یہ ہے کہ بیوی کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس کیساتھ وظائف زوجیت بھی پورے کرے، اسکے بعد اگر وہ شخص کسی وجہ سے اسے طلاق دیدے یا انتقال ہوجائے تو آپ بیوی کی عدت گزرنے کے بعد اس کی صریح مرضی سے دوبارہ نکاح کر سکیںگے۔ اس عمل کو”حلالہ” کہتے ہیں۔لیکن حلالہ کی شرط لگا کر دوسرا نکاح کروانا ناجائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب احقر محمد تقی عثمانی (فتویٰ نمبر١٤١٠|١٨الف) فتاویٰ عثمانی ص:420

اگلے صفحہ پر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا فتویٰ رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ”ان (بیوی)پر شرعاً واجب ہے کہ وہ سردار محمود علی خان صاحب سے علیحدہ رہیںاور انہیں وظائف زوجیت کا موقع نہ دیںاور جب ان کیلئے یہ امر ناجائز ہے تو سردار محمود علی خان صاحب کو بھی چاہیے کہ وہ انہیں اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار نہ کریں۔تاکہ وہ بیوی کو گناہ میں مبتلا کرنے کا سبب نہ بنیں۔دیانت کا حکم یہی ہے اور اب اسی میں فریقین کی عافیت ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم ۔ فتاوی عثمانی صفحہ422

بہشتی زیور مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب میں طلاق 3 مرتبہ کہنے میں نیت کا اعتبار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن مفتی تقی عثمانی نے حضرت تھانوی کی بہشتی زیور کو منتہی کیلئے بھی قابل تقلید قرار دینے کے باوجود بار بار لکھ دیا ہے کہ تین مرتبہ طلاق صریح کو دہرانے کے بعد نیت کا کوئی اعتبار نہیں اور ایک فتوے میں حلالہ کے لفظ کو متعدد مرتبہ گھمایا ہے تو احقر تقی عثمانی کو حلالہ کی لعنت کا مزہ ملے اور جتنے بیکار اور باہمی متضادفتوے ہیں ان میں اس نے اپنے باپ کو الجواب صحیح لکھوایا ہے۔اسلئے

یا ایھا الذین اٰمنوا انّ من ازواجکم و اولادکم عدوًا لکم فاحذروا ھم وان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیمO

‘ اے ایمان والو! بیشک تمہاری ازواج میں سے اور تمہاری اولاد میں تمہارے لئے دشمن ہیں ۔پس ان سے بچ کے رہواور یہ کہ تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بھی غفور رحیم ہے”۔ (التغابن:14)

مفتی شفیع کی بیوی اور بیٹے مفتی تقی عثمانی ورفیع عثمانی اور اس کی بیٹی زوجہ مفتی عبدالرؤف سکھروی نے مدرسہ کی وقف زمین اور زکوٰة خیرات میں حصہ دار بن کر جو گل چھرے اڑائے اور جس طرح کے اللے تللے کئے ہیں ان کم بختوں کی شکلوں ہی سے نحوست ٹپک رہی ہے۔ نیک اولاد کا ایصال ثواب والدین کو ملتا ہے لیکن ان کم بختوں کا عوام کو یہ کہنا کہ شادی بیاہ میں بھی لفافے کی لین دین سود اور70سے زیادہ گناہوں میں کم ازکم گناہ اپنی سگی اماں سے زنا کے برابر ہے اور دوسری طرف تمام علماء کی طرف سے مخالفت اور سمجھانے کے باوجود عالمی سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے کی بدبختی ان کے حصہ میں آئی۔

مفتی تقی عثمانی کا ذوق فتوی بمقابلہ مفتی فرید اکوڑہ خٹک
ایک گانا عموماً ریڈیو ،ٹیلی وژن پر گایا جاتا ہے ۔ یہ شعر:
دل کا لگانا ہائے ہائے
دل کا لگانا ہم نے چھوڑ دیا ،چھوڑ دیا

اب اگر کوئی شخص یہ گانا سنتے وقت خود بھی گانے لگے اور بیوی موجود ہو وہ بھی گانے لگے۔….جواب از مفتی فرید دارالعلوم حقانیہ اکوڑ ہ خٹک: واضح رہے کہ یہ لفظ”چھوڑ دیا” طلاق اور غیر طلاق دونوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے ،قرائن کی وجہ سے کسی ایک کا تعین کیا جاتا ہے، بس بظاہر بلفظ ”ترکتھا” کی طرح کنایات سے ہوگا جن میں نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی ، نیز یہ لفظ اگر طلاق میں متعارف ہو تو طلاق بائن میں متعارف ہوگااہل عرف کے نزدیک بینونت مراد لی جاتی ہے والصریح قد یقع بہ البائن کما فی ردالمختار محمد فرید عفی عنہ دارالافتاء دارالعلوم حقانیہ (فتاوی عثمانی: صفحہ365)

جواب از مفتی تقی عثمانی۔ جو مثالیں آپ نے لکھی ہیں ان میں تو کسی کے نزدیک بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہاں غیر طلاق کے معنی میں صریح موجود ہے لیکن جب اس قسم کے قرائن موجود نہ ہوںاور کوئی شخض بیوی کہے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا تو راجح یہ ہے کہ ادو محاورے میں یہ صریح لفظ ہے تاہم مفتی شفیع نے امداد المفتین کے حاشیہ پر لکھا کہ غرض اس میں علماء کا اختلاف ہے سائل کو دیانةً جس پر زیادہ اعتماد ہو تو اسکے فتویٰ کو اختیار کرنا چاہے ۔ اور یہ ساری گفتگو اردو محاورے میں ہے پنجاب کے عرف سے احقر کو علی وجہ البصیرت واقفیت نہیں ہے اس میں پنجاب کے اہل فتویٰ سے رجوع کرنا چاہے۔ احقر

مفتی تقی عثمانی نے حلالہ میں بخشتا نہیں ، اسکے بیٹے کو ملازم نے کہا تھا کہ” اس بار نوشتہ دیوارنے تیرے ابے کو بخش دیا”۔

باپ کا کیا ہوا نکاح فسخ نہیں کیا جاسکتا (خلاصہ)
سوال: رحیم بخش نے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح9،10سال کی عمر میں شیر محمد کیساتھ کردیا۔ پھر شیرمحمد بیرون ملک گیا۔ لڑکی کی عمر زیادہ ہوگئی تو خدشات نے گھیر لیا۔ مجبور ہوکر عدالت میں تنسیخ نکاح کا کیس دائر کیا۔ عدالت نے شیرمحمد کے وارثوں کو کہا کہ لڑکے کو 3ماہ میں حاضر کردیں ورنہ تنسیخ کا حکم دیں گے، جب عدالت نے تنسیخ کا حکم جاری کیا تو لڑکی نے عدت گزار دی اور اس کی محمد شفیع کے ساتھ شادی ہوگی۔ پھر دو تین ماہ بعد شیرمحمد آگیا اور اپنی بیوی واپس لینے کیلئے فتویٰ کی مدد طلب کی۔

جواب: لڑکی کا نکاح باپ نے کیا۔ لڑکی نے بلوغت کے آثار ظاہر ہونے پر نکاح کی منسوخی کیلئے اقدام نہیں اٹھایا۔

لہٰذا اول تو چونکہ باپ کا کیا ہوا ہے (اور سیئی الاختیار ہونے کا لڑکی دعویٰ نہیں کرتی ) اسلئے لڑکی کو خیار بلوغ سرے سے حاصل ہی نہیں ہے کماھو صرح فی سائر کتب الفقہ دوسرے اگر حاصل بھی ہوتاتب بھی لڑکی نے خیار بلوغ کا وقت گزار دیا لہٰذا شرعاً خیار بلوغ کی بنیاد پر عدالت کو نکاح فسخ کرنے کااختیار نہیں تھا۔ اور شریعت کی رو سے اس کا نکاح صحیح نہ ہوا ، لہٰذا محمد شفیع سے اس کا نکاح باطل وکالعدم ہے اور اصل خاوند شیر محمد بدستور لڑکی کا شوہر ہے۔ البتہ اگر محمد شفیع اس کے ساتھ صحبت کرچکا ہے تو جب تک اس کو تین حیض نہ آجائیں شیرمحمد کیلئے اس سے صحبت کرنا جائز نہیں۔ احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ (فتویٰ نمبر٢١٢|١٩الف) الجواب صحیح بندہ محمد شفیع عفااللہ عنہ فتاویٰ عثمانی جلد دوم (صفحہ:283) غلیظ مواد اور بھی ہے۔

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
ہو بچیوں کا حق تو فولاد ہے نکاح
حلالہ ہو تو مکڑی کا جالا ہے طلاق

نکاح بچی کا ہو تو ٹوٹنے کا نام نہیں لے؟۔ طلاق مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور جب حلالہ کیلئے بہانہ درکار ہوتا ہے؟۔

یہ چشم بصیرت ہے یا زیر ناف کی شہوت
بے غیرت جسارت ہے یا بگڑی ہوئی فطرت

جس طرح سودی بینکاری کو اسلامی بینکاری کے مخالف علماء اپنے اکابر علماء ومفتیان کے برعکس سرعام چت ہوگئے۔ اور صابرشاہ نے لالچ اور شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن نے خواہش کیلئے جو کچھ کیا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ علماء میں بہتوں کا کوئی دین ایمان نہیںہوتاہے صحافیوں کی خبرشورش کاشمیری نے لی تھی اورمفتی تقی عثمانی پہاڑوں کی بلندی میں اقبال کو پڑھتا ہے۔

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

مفتی تقی عثمانی کی ویڈیوز دیکھو! پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی طواف میں دلے کو رمل نہیں آتا۔ الائنس موٹرز کے دو فیصد منافع پر بکا، سود خوراسلام فروش کا طاقتور ترین شخصیات میں نام ہے ، اسلئے کہ علماء حق بھی اسکے آگے بالکل ہی ناکام ہیں۔

ہم اہل قلم کیا ہیں؟ از شورش کاشمیری
الفاظ کا جھگڑا ہیں بے جوڑ سراپا ہیں
بجتا ہوا ڈنکا ہیں ہر دیگ کا چمچا ہیں
مشہور صحافی ہیں عنوان معانی ہیں
شاہانہ قصیدوں کے بے ربط قوافی ہیں
چلتے ہوئے لٹو ہیں بے زین کے ٹٹو ہیں
اُسلوب نگارش کے منہ زور نکھٹو ہیں
یہ شکل یہ صورت ہے سینوں میں کدورت ہے
آنکھوں میں حیا کیسی؟ پیسوں کی ضرورت ہے
اپنا ہی بھرم لے کر اپنا ہی قلم لے کر
کہتے ہیں کہ لکھتے ہیں انسان کا غم لے کر
تابع ہیں وزیروں کے خادم ہیں امیروں کے
قاتل ہیں اسیروں کے دشمن ہیں فقیروں کے
اوصاف سے عاری ہیں نوری ہیں نہ ناری ہیں
طاقت کے پجاری ہیں لفظوں کے مداری ہیں
تصویر زمانہ ہیں بے رنگ فسانہ ہیں
پیشہ ہی کچھ ایسا ہے ہر اک کا نشانہ ہیں
رہ رہ کے ابھرتے ہیں جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
کہنے کی جو باتیں ہیں کہتے ہوئے ڈرتے ہیں
بے تیغ و سناں جائیں باآہ و فغاں جائیں
اس سوچ میں غلطیاں ہیں جائیں تو کہاں جائیں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟

جاویداحمد یافثی قرآن کے نام پر امت مسلمہ میں ایک ناامیدی کی کیفیت پھیلا رہاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قیامت تک حکمران رہے گی ۔

ونبئھم عن ضیف ابراہیمOاذ دخلوا علیہ فقالواسلامًا قال انا منکم وجلونOقالوا لاتوجل نا نبشرک بغلامٍ علیمٍOقال ابشرتمونی علٰی ان مسنی الکبر فبم تبشرونOقالوا بشرناک بالحق فلا تکن من القانطینOقال و من یقنط من رحمة ربہ الاالضالونO

”اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔ جب اس پر داخل ہوئے تو کہاسلام کہا بیشک ہمیں تم سے ڈرلگا، کہاکہ ڈرو مت ہم آپ کو بڑے عالم لڑکے کی بشارت سنارہے ہیں۔کہا کیا بڑھاپے میں خوشخبری دیتے ہو تو کیسی خوشخبری ؟۔ کہا کہ ہم حق کیساتھ خوشخبری دیتے ہیں اللہ کی رحمت سے امید ختم کرنے والوں میں سے مت بنو۔ کہا کہ کون اللہ کی رحمت سے امید ختم کرتا ہے مگر گمراہ لوگ”۔ (سورہ الحجر51تا56)

اسحق واسماعیل، بنی اسرائیل ، خاتم الانبیائۖ تاقیامت آخری امیرامت محمداور عیسیٰ امید کو ختم کرنے والے گمراہ ہیں۔
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم…
”اور اللہ میںجد وجہد کا حق ادا کرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا،پہلے اور اس میں تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو، تونماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ اللہ کو مضبوط پکڑو، وہ تمہارا مولیٰ ہے ،اچھا مولیٰ اوراچھا مددگار”۔ (سورہ الحج آیت:78) غامدی آئینہ دیکھ لے قرآن کریم ایک آئینہ ہے جس میں ہردور کے اندر لوگ اپنا اپنا کردار، چہرہ اور ماضی حال مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ فرمایاکہ

قل انی علی بیننةٍ من ربی و کذبتم بہ، ما عندی ماتستعجلون بہ ان الحکم الا للہ، یقص الحق و ھو خیرالفاصلینOقل لو عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامر بینی و بینکم اللہ اعلم بالظالمینOو عندہ مفتاتیح الغیب، لا یعملھا الا ھو، ویعلم ما فی البر و البحر ، و ما تسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ، و لا حبةٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینٍO(سورہ الانعام)

”کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس نہیں جس کے جلدی کا تم مطالبہ کرتے ہو۔حکم نہیں ہے مگر اللہ کیلئے۔وہ حق کا قصہ بیان کرتا ہے اور بہترین فاصلہ قائم کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم جلدی مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں کوزیادہ جانتا ہے اور اسکے پاس غیب کی چابیاں ہیںجنہیں کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔اور وہ جانتا ہے جوخشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّہ نہیں گرتا ہے مگر وہ اس کو جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں ہے اور نہ کوئی تر اور خشک مگر کھلی کتاب میں”۔

پاکستان دنیا میں خشکی پر سمندر کے کنارے ایک خطہ زمین ہے جس میں قومی ترانہ بچے اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

پاک سرزمین شاد وباد…کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالیشانارض پاکستان
مرکز یقین شاد و باد
پاک سرزمین کا نظام…قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت…پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستارہ وہلال…رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال… جان استقبال
سایۂ خدائے ذولجلال

کتاب کے آئینہ میں پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ ، قومی ترانہ اور جاوید غامدی کا نظریہ سمجھنے کیلئے سورہ ابراہیم سے آیات پیش کی تھیں۔غامدی مایوسی کیلئے جھوٹ نہ بکے۔ ابراہیم کا عالم بیٹا بارہ خلفاء قریش کا سلسلہ قیامت تک قرآن اور بخاری، مسلم ، ابوداؤد، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ نواب قطب الدین خان، پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے بھی واضح کئے ہیں۔

جاویداحمد غامدی کی خدمت میں چند گزارشات یہ ہیں:

تیرا حرم ہے کوفہ ماتم حسین کا بیعت یزید کرو
مروان کے بیٹوں سے اسلام کی مٹی پلید کرو
اقتدار کو قید کردیا قیامت تک بنویافث میں
بنوہاشم کی اہانت کرو بنوامیہ کی تمجید کرو
خدا کے نام پر خلق خدا کو تم پوجتے ہو
شرک و نفاق میں ڈالو دعویٰ توحید کرو
فقہ اسلاف کو پہناؤ ملمع سازی کے چغے
آیات ہوں قصہ پارینہ اعتزال کی تجدید کرو
کلام الٰہی کا ہر جملہ ہر سورہ انقلاب ہے
زندگی ضائع کردی تو کچھ تحقیق مزید کرو
گند کے ڈھیر کا ٹھیہ لگا دیا تو کون خریدے
کھل کر توبہ کرو باطل کو حق سے مستفید کرو
بڈھی بڈھیوں کیساتھ تسبیح کیلئے خانقاہ چشتیہ آؤ
پہلے تجدید ایماں پھر مطالعہ سورہ حدید کرو
شیطان کا گروندہ بن گیا تیرا دل و دماغ
اجتہاد تیرے بس کا نہیں مردان خدا کی تقلید کرو
نکل جاؤ اختراع کے دنگل کی الجھن سے
اک اہل ساتھی کو منصب پر رجل رشید کرو
آیات بینات کو تم نے قدغن آلود کیا
خدا کیلئے نہیں تو اپنے لئے حق کی تمہید کرو
گدھے کے گوشت کا مسلماں روسٹ کھاتا نہیں
یہ سواری ذبح مت کرو خود ساختہ شہید کرو
خدا نے کہہ دیا یہ ہے زینت کی چیز بھی
اپنے سامنے باندھ کر خود کو خود سے سعید کرو
آفاقی کلام کو بند کیا خود ساختہ ابواب میں
گمراہی تلف کردو درست ترجمہ قرآن مجید کرو

طلوع اسلام: علامہ اقبال
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی

والفجرO…واللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم لذی حجرO

”فجر(طلوع انقلاب )کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے (کوئی نوید یا وعید) کچھ ہے”۔ (سورة الفجر)

عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

ولقدکذب اصحاب الحجر المرسلینOواٰتیناھم آیاتنا فکانوا عنھا معروضینO

”اور تحقیق کہ عقل والوں نے رسولوں کا جھٹلایا۔اور ہم نے ان کو آیات دیں تو وہ ان سے روگردانی کرتے تھے”۔ (الحجر:80،81)

مسلمان کو مسلمان کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
سرشک چشم مسلم میں نیستاں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترک شیرازی دل تبریز کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے نظر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
تیرے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلمان سے حدیث سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہے
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پرواز شاہینِ قہستانی
گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کرسکتا تھا اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط ایک ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہیںتصویریں
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیںفطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال وپر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے
ہوئے مدفونِ دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
غبارِ راہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلے
ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے
حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہوجا
غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہوجا
گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے
پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہے
بیا پیدا خریدا راست جان نا توانے را
پس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
بیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد
کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمد
سرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
کنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد
بہ مشتاقان حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہائے پہنا نش بچشمم آشکار آمد
دگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گردد
ببازار محبت نقد ما کامل عیار آمد
سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمد
بیا تا گل بفیشانیم و مے ور ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم

جاوید احمد غامدی اورمفتی تقی عثمانی مغرب کی سرمایہ داری کا دین بیچ رہے ہیں۔علماء و مشائخ کو چاہیے تھا کہ روحانی علاج کا پنڈال لگانے کے بجائے قرآن کی عام فہم آیات کو عوام کے سامنے لاتے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن اور علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری عمر میں توبہ کرکے اچھا کیا ۔قاری مفتاح اللہ صاحب نے تین باتوں پر زور دیا۔ ہزار کتابیںاور ہزار ورق کو جلادو اور خود کو اللہ والے کے قدموں میں روند ڈالو۔ انکے شاگردوں میں مرشد حاجی محمد عثمان کیلئے قربانی دینے والا بندہ ناچیز تھا۔ انہوں نے درمیانہ زمانہ کے مہدی کا حوالہ دیا جو ہماری تحریک کی تائید ہے اور انہوں نے فرمایا کہ عجم لوگوں کے ہاتھوں علم دوبارہ زندہ ہوگا چاہے ثریا پر پہنچ جائے۔ کوئی اس سے امام ابوحنیفہ اور کوئی امام بخاری مراد لیتا ہے لیکن جو بھی عجم لوگ ثریا سے علم کی واپسی کا ذریعہ بن جائیں وہ سب لوگ مراد ہیں۔

مجھے ڈاکٹر احمد جمال نے شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان کے سلام کو پہنچایا اور پھر میں نے ان کی زندگی کی آخری بیماری میں حاضری دی اور اپنا تعارف نہیں کرایا لیکن انہوں نے پہنچان لیا تھااور اپنے خاص شاگرد سے میری تعریف کی تھی۔ مجھے گمان تھا کہ قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کی وجہ سے مفتی صاحب کی رائے میرے بارے میں مثبت بنی تھی۔قرآن کی تعلیمات بہت سادہ اور آسان ہیں ۔ہزار کتاب ، اوراق جلانے اور اللہ والے کے قدموں میں روندنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور قرآن کی سادہ تعلیمات سمجھ میں آجائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

13برس کی عمرمیں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرناچاہتی تھی۔ بی بی سی اردو

میں13برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بی بی سی نیوز اردو 13 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئیں تو ان کی والدہ نے ان پر خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں بچیوں کی شادی صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتی ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔15جنوری2026

ایلن اولیوا…عہدہ بی بی سی منڈو…14سالہ پیٹریشیا لین سے27سالہ ٹموتھی کی شادی کی تقریب صرف چار منٹ تک جاری رہی۔پیٹریشیا نے سفید لباس پہنا نہ اپنے بالوں کو پھولوں سے سجایا۔ تقریب امریکی ریاست الاباما میں ایک جج کے دفتر میں ہوئی، جس کی واحد گواہ پیٹریشیا کی والدہ تھیں۔ریاست مینیسوٹا کے شہر سینٹ پال سے بی بی سی منڈو سے بات چیت میں58سالہ لین نے کہا: یہ سب بہت جلدی میں ہوا۔ مجھے وہ آدمی پسند نہ تھا، ماں غصے میں تھی یہ خوفناک تھا،شادی سرٹیفیکیٹ ملنے کے بعد عدالت کے سامنے پارک کے جھولے پر بیٹھ گئی۔ یہ بچوں والی ایسی حرکت تھی، جس نے ماں اور شوہر کو غصہ دلایا۔ کچھ بھی ایسا نہ تھا جیسا اپنی شادی کا سوچا تھا۔یہ حمل کے ابتدائی ہفتے تھے،21مئی1980کو ریاست الاباما کے قوانین میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ آج14سال کے بچے کی شادی نہیں ہو سکتی لیکن16سال کے نوجوان کی اپنے والدین میں سے کسی ایک کی رضامندی سے شادی ہو سکتی ہے۔

ایکوالٹی ناؤ( Equality Now) تنظیم شمالی امریکہ کی سربراہ اینستیسیا لا کہتی ہیں کہ اب بھی اضافی تحفظات نہیں۔ ریاست کو نابالغ کی آزادانہ رضامندی کی ضرورت نہیں ، نہ عدالتی اجازت کی۔الاباما34ریاستوں میں ہے جہاں18سال سے کم عمر قانونی استثنی کے ذریعے شادی کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کم عمری میں شادی کی تعریف رسمی اور غیر رسمی یونین کے طور پر کی جاتی ہے جس میں18سال سے کم عمر شامل ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی تسلیم کیا جاتا ہے۔
جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم (Unchained at Last) کے مطابق سنہ2000اور2021کے درمیان امریکہ میں کم از کم314,000نابالغوں کی قانونی طور پر شادی کی گئی۔

ان میں کچھ لڑکیوں کی شادی صرف10سال کی عمر میں ہوئی ۔زیادہ تر کی16یا17سال ، زیادہ تر لڑکیوں نے بالغ مردوں سے شادی کی کیونکہ امریکہ میں وفاقی سطح پر شادی کی کم از کم عمر مقرر نہیں، اسلئے ہر ریاست کم از کم عمر مقرر کرتی ہے۔ اینستیسیا لا نے کہا:وفاقی قانون نہ ہونے کا کم عمری کی شادیوں پر نمایاں اثر ہے۔ بچوں کے حقوق کی وکالت کیلئے ہر ریاست کے مختلف قوانین پر چلنا پڑتا ہے۔ کم عمری میں شادیوں کو ختم کرنے کیلئے وفاقی سطح پر کم از کم عمر کا نفاذ پہلا اقدام ہے تاہم امریکہ میں کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کیلئے جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔بغیر کسی استثنیٰ کے کم از کم18سال عمر مقرر کئے بغیر بچوں کا تحفظ ممکن نہیں۔ قانونی طور پر کم عمری میں شادی کی اجازت دینا اس عمل کی سماجی منظوری کے برابر ہے۔

پیٹریشیا بتاتی ہیں کہ میں اور میرا بھائی ثقافتی طور پر بہت اکیلے تھے۔ اگرچہ ہم بڑے امریکی شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتے تھے لیکن زندگی بہت سخت تھی۔بہت چھوٹی عمر سے جنسی استحصال کا شکار پیٹریشیا شدید ڈپریشن میں چلی گئیں۔ گھر سے مدد نہ ملنے پر مجبور ہو گئیں کہ مدد کیلئے بنائی گئی ہاٹ لائن پر رابطہ کریں۔ اس طرح25سالہ ٹموتھی گرنی سے ملی۔ وہ مشنری بننے کیلئے چھوٹی سی تنظیم میں انٹرن شپ کر تاتھا ۔ مشکلات کے شکار افراد کیلئے بنائی گئی ہاٹ لائن پر کالز کا جواب دیتاتھا۔13سال کی عمر میں حاملہ ہو گئی مگر اس کیساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ والدین کو بتایا تو والدہ نے خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیاکہ خاندان کی تمام شرمندگی کی ذمہ دار اور واحد حل یہ کہ شادی کر لوں۔ بچے کیلئے شادی کرنا پڑی۔ والد نے رضامندی کے فارم پر دستخط کیے اور اگلے دن عدالت کی تلاش میں جنوب کا سفر کیا جہاں شادی ہو کیونکہ یہ مینیسوٹا میں ممنوع تھا۔

پیٹریشیا، ان کی ماں اور ٹم پہلے کینٹکی پہنچے، جو مینیسوٹا کے قریب ریاست ہے لیکن حکام نے درخواست مسترد کر دی۔ انھوں نے کہا بالکل نہیں، یہ بہت چھوٹی ہیں اور وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، بالکل ٹھیک کیونکہ واقعی بہت چھوٹی تھی۔پھر الاباما گئے، جہاں شادی کر سکتی تھی بشرطیکہ انھیں والدین کی اجازت حاصل ہو ۔ جنوبی لاڈرڈیل کانٹی پہنچنے پر پیٹریشیا اور ٹم کی شادی چند منٹ میں ہو گئی۔ شادی کے سرٹیفیکیٹ پر دستخط نہیں کیے مگر نام ہے ۔ دستخط کرنے کی پابند نہیں تھی۔ ماں نے میرے لیے دستخط کیے تھے۔ انھوں نے میری زندگی ایک آدمی کو دے دی۔ اس طرح یہ شادیاں کام کرتی ہیں۔ لوگ آپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس شادی سے نہیں نکل سکتے جب تک آپ18سال کے نہ ہو جائیں۔حال میں قوانین تبدیل ہوئے ہیں تاہم سنہ2025میں بھی واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ صرف16امریکی ریاستوں میں بغیر کسی استثناء کے شادی کی عمر18سال ہے۔

شادی کے بعد پیٹریشیا کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا جیسے کہ اپنی بیٹی کو گود دینا اور شوہر سے طلاق لینا لیکن بعد میں دوبارہ شادی کر لی لیکن اس بار مرضی سے۔اینستیسیا لا نے کہا اس وقت سب سے زیادہ اجازت دینے والی ریاستیں، جہاں والدین یا عدالتی رضامندی سے شادی کی کوئی کم از کم عمر نہیں، میں کیلیفورنیا، مسیسیپی، نیو میکسیکو اور اوکلاہوما ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمر کا نابالغ کسی بھی عمر کے شخص سے شادی کر سکتا ہے۔وفاقی سطح پر قانون ان خامیوں کو ختم کر سکتا ہے جو فی الحال شادی کی آڑ میں جبری شادیوں اور بچوں کی سمگلنگ کی اجازت دیتے ہیںاور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

پیٹریشیا پر14سال کی عمر میں شادی مسلط کر دی گئی، جس سے تعلیم، سماجی روابط جیسے زندگی کے کئی پہلو متاثر ہوئے۔ امریکہ میں جبری اور کم عمری کی شادیوں کیخلاف کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق متاثرہ لڑکیاں اکثر الگ تھلگ ہو جاتی ہیں اور سکول چھوڑنے کا زیادہ امکان ہوتاہے ۔ وہ شوہروں پر اور بھی زیادہ انحصار کرتی ہیں۔میرے شوہر مجھے دوست رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ،میں مکمل طور پر اکیلی تھی۔ میں آج بھی جدوجہد کر رہی ہوں۔ میں تنہا محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے اب بھی لوگوں پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔

آخر کار میں ان انتہائی منفی خیالات سے چھٹکارا پانے میں کامیاب تو ہو گئی لیکن آج بھی تقریبا60سال کی عمر میں، مجھے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔سنہ2018سے16امریکی ریاستوں نے بچوں کی شادی پر پابندی کیلئے قوانین میں ترمیم کی لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔پیٹریشیا نے کہا کہ بہت لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا اب بھی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتا ہے ۔ یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے ان مردوں، یا یوں کہیے کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کیلئے شادی الزامات سے بچنے کا یہ طریقہ ہے۔ قانون بنانے والے اجازت نہ دیں جو16یا17سال کی عمر میں یہ بحث کرتے ہیں کہ یہ سچا پیار ہے تو بہت اچھا! اگر ایسا ہے تو یہ تب بھی سچا پیار ہو گا جب وہ18سال کے ہوں گے۔

BBCپرتبصرہ نوشتہ ٔ دیوار
برطانیہ کے دو بھائیوں کا ان کی سگی ماں کی طرف سے بچپن میں جنسی استحصال جب واقف کاروں سے بچپن میں اذیتناک تشدد سے گزارا گیا۔BBCنے حال میں رپورٹ کیا۔

1:امریکہ میں کیا محرکات ہیں کہ بچپن کا نکاح والدین کی اجازت سے مشروط ہے۔
2:یہ کہ18سال سے پہلے طلاق لینے کی اجازت کیوں نہیں؟۔یہ دونوں چیز یں سمجھنے کی ہیں۔
مغرب کا قانون ہے کہ طلاق کے بعد جائیداد بٹتی ہے اور بچوں کی جائیداد مسئلہ ہے اسلئے والد ین کی اجازت ضروری ہے۔ پھر طلاق پر آدھی جائیداد براہ راست اسکے نام ہوگی۔

جبکہ احادیث میں ولی کی اجازت کے بغیر عورت کانکاح باطل اور فقہ میںبچے کی طلاق معتبر نہیں۔ ان دونوں چیزوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو مسائل کاحل بن سکتے ہیں۔ ولی کی اجازت والی صحیح احادیث کو مسترد کرنے، بالغ لڑکی کے نکاح کو کفو کی اجازت سے مشروط کرنے اور نابالغ بچی کو نکاح پر مجبور کرنے کے متضاد مسائل کو قرآن وسنت پر پیش کرنا چاہیے۔

عیسائی اسلام سے پہلے سپر طاقت تھے مگر طلاق کی اجازت نہ تھی۔ تین سوسال قبل اجتہاد سے طلاق کو جواز بخشا۔ سپر طاقت بن گئے۔ طلاق میں عیسائیوں نے ہمارا اسلامی کلچر قبول کیا اور حلالہ کی لعنت میں ہم نے یہودی مذہب کو قبول کیا ہوا ہے۔

قرآن کے آئینہ میں نبی ۖ کی سنت کے مطابق آج حق مہر کا تعین ہوسکتا ہے۔ ایک عورت نے نبی ۖ سے کہا کہ میں خود کو ہبہ کرتی ہوں۔ ایک صحابی نے کہا کہ یارسول اللہ! آپ کو ضرورت نہیں تو مجھے ہبہ فرمائیں۔ نبیۖ نے پوچھا کہ اس کو دینے کیلئے تمہارے پاس کیا ہے؟۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں ہے لیکن نبیۖ نے فرمایا کہ گھر میں ڈھونڈو بھلے ایک لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ تلاش کرکے آیا مگر کچھ نہیں ملا۔ جس پر نبیۖ نے قرآنی سورتوں کی تعلیم دینے کا حکم فرمایا تھا۔

حدیث سے پتہ لگا کہ نکاح کا تعلق باہمی رضا اور حق مہر کا مرد کی مالی صلاحیت سے ہے۔ حضرت عمر نے کم حق مہر کا فیصلہ کیا تو عورت نے مسترد کیا کہ تم کون ہو جب اللہ نے ہمارے لئے فیصلہ نہیں کیا ہے جس پر حضرت عمر نے فیصلہ واپس لیا۔

قرآن کے حکم کا بہت بڑ اکمال ہے جس کی وضاحت زمانہ کرتا ہے اور اس کی سمجھ اور عمل سے دنیا میں انقلاب آئے گا۔

قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم و ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج ” تحقیق ہم جانتے ہیں جو ہم ان کی ازواج اور ایگریمنٹ والیوں کے بارے میں فرض کیا تاکہ آپ کیلئے مشکل نہ ہو”۔(الاحزاب)

یہ عجب العجائب ہے کہ حق مہر کا تعین نہیں کرنا نبیۖ کے مشکل کو ختم کرنا کیسے تھا؟۔کچھ اموال پر زکوٰة ہے کچھ پر نہیں۔ عورت شوہر کے مال میں شریک ہوتی ہے۔ رسول اللہۖ کے دور میں ایسا نظام نہیں تھا کہ غریب یا مالدار کا پر فیکٹ معلوم ہو۔ بیوہ و طلاق شدہ کا بھی حق ہے۔ شوہر زندہ ہوتو بیوی گھر کی ملکہ یا مالکہ ہوتی ہے۔ حق مہر کا تعین نہ ہو تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق و متعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المتقین ”اوران کو خرچہ دو مالدار پر اپنی وسعت کا وزن ، غریب پر اپنی وسعت کا وزن، یہ حق ہے نیکوکاروں پر”۔ جو سچے اچھے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا نے عورت کیساتھ بہت بڑی زیادتی کردی ہے برابری کی بنیاد پر حق مہر کا جس میں عورت کے مال میں بھی شوہر شریک ہوتا ہے۔ آج تک انسانی حقوق کی تنظیموں کیساتھ مغرب کا جمہوری معاشرہ بچیوںکو جنسی استحصال سے بچانے کی پاداشت میںنسل در نسل سزا ئیں کھانے میں مگن ،مگر فقہاء نے بھی عورت کے کم ازکم حق مہر میں اتنا مال فرض قرار دیا جتنے میں ایک چور کا ہاتھ کٹتا ہے اور علت میں یہ عزت افزائی فرمائی کہ جتنے مال میں چور ایک عضو ہاتھ سے محروم ہوتا ہے اتنے میں وہ اپنی بیوی کے ایک عضو شرمگاہ کا مالک بن جاتا ہے۔ لخ لعنت

یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ مرد کی دیت100اونٹ اور عورت کی50اونٹ ہے۔تو اصل حق مہر50اونٹ کا ہے لیکن عورت جتنی رعایت پر راضی ہوجائے؟۔ یہودی علماء نے عورت کی تذلیل کی تو کمثل الحمار یحمل اسفارًا قرار دیاگیا۔ انکی مثال گدھوں کی طرح ہے جنہوں نے کتابیں لادی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدیع السماوات والارض واذا قضی امرًا فانما یقول لہ کن فیکونO”آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جب کوئی چیز کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے”۔ (البقرہ117)

اللہ نے کائنات کو چھ دن اور زمین کو دو دن میں بنایا۔ آیت سے تدریجی عمل کی نفی مراد نہیں جیسا کہ سمجھاگیا۔ ا نقلاب بھی تدریجی عمل ہی کے ذریعے سے آتا ہے۔ چنانچہ پھر فرمایا کہ

وقال الذین لایعلمون لولا یکلمنا اللہ او تأتینا اٰیة کذٰلک قال الذین من قبلھم مثل قولھم تشابہت قلوبھم قد بیناالاٰیات لقوم یوقنونO”اور بے علم لوگ کہتے ہیں کہ اگراللہ ہم سے بات کرتایا کوئی نشانی ہم تک آتی ۔ اسی طرح سے ان سے پہلے لوگ ان کے جیسی بات کرتے تھے ،ان کے دل ایک جیسے ہیں۔ ہم نے آیات کو اس قوم کیلئے واضح کیا ہے جو یقین کرتے ہیں” ۔(البقرہ:118)

قالت یا رب لیتنی مت قبل ھٰذا کنت نسیًا منسیًا” مریم نے کہاکاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور بھولی بسری ہوتی”۔ (سورہ مریم:23)اگر قرآن و سنت سے قوانین اخذ ہوں تو مغرب ومشرق کی انسانیت قبول کرلے۔

اناارسلناک بالحق بشیرًا ونذیرًا ولا تسال عن اصحاب الجحیمO” بیشک ہم نے تجھے حق کیساتھ بھیج دیا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے جحیم والوں کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی”۔ (البقرہ:119)

یہود ونصاریٰ باطل مذہبی مسائل طلاق و حلالہ کی غلطیوں پر اصرار کررہے تھے تو یہ لوگ جانیں اور ان کا کام جانے۔

ولن ترضٰی عنک الیہود و لاالنصارٰی حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ھو الھدٰی و لئن اتبعت اھواھم بعد الذی جاء ک من العلم مالک من ولیٍ و لانصیرٍO” اور آپ سے یہود ونصاری راضی نہیں ہوںگے یہاں تک کہ ان کی ملت کے تابع بن جاؤ۔ کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہے اصل ہدایت۔ اور اگر آپ نے ان کی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد جب آپکے پاس علم آیا تو تمہارے لئے کوئی دوست و مدد گا ر نہیں ہوگا”۔البقرہ:120

یہ آیت صرف رسول اللہ ۖ کی ذات تک محدود تھی اسلئے کہ یہود ونصاریٰ کے مفاد پرست مذہبی طبقات نے عوام کو اپنا اسیر بناکر رکھا تھا اور مذہب فروش طبقات سے بدلنے کی امید نہیں ہوسکتی تھی مگر رسول اللہۖ نے ایک خلافت کا ذکر واضح فرمایا تھا کہ جس سے زمین وآسمان والے خوش ہوں گے۔

الذین اٰتیناھم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یؤمنون بہ ومن یکفر بہ فاولٰئک ھم الخاسرونO”وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے تو وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیںاور جو اس کا انکارکرتے ہیں تو وہی لوگ خود خسارہ پانے والے ہیں”۔(البقرہ:121 ) آج بھی جنہوں نے مذہب کو تجارتی اور سیاسی مفادات کے تابع بنادیا ہے تو ان کا رویہ علماء حق سے بالکل مختلف ہے مگر آخر خسارہ پائیں گے۔

اسلام کے نزول سے پہلے یہود اور نصاریٰ بنی اسرائیل کو اللہ نے جہاں والوں پر فضیلت بخشی تھی لیکن پھر مسلمانوں کے اچھے دن آگئے اور اب پھر یہودونصاریٰ نے اپنی باری میں بڑا ظلم کیا ہے اور اللہ چاہے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

مسلمانوں کو قرآن کی تلاوت اور سمجھنے کا حق ادا کرنا پڑے گا اور اسلام کے فطری دین کو پیش کیا گیا تو بچے ،بچیوں اور عورتوں کے علاوہ تمام مظلوم اور کمزور طبقات کو تحفظ ملے گا اور طاقتوراپنا ظالمانہ نظام طاقت کے بل بوتے پر مسلط نہیں کرسکیںگے ۔ اور دورہوسکتا ہے کہ اللہ نے تقدیر میں بہت ہی قریب کردیا ہو۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میڈیسن کمپنیوں کی طرف سے خطے میں خطرناک ترین دہشتگردی. فخر پاکستان ڈاکٹر اورنگزیب کا بڑا انکشاف

میڈیسن کمپنیوں کی طرف سے خطے میں خطرناک ترین دہشتگردی
فخر پاکستان ڈاکٹر اورنگزیب کا بڑا انکشاف

میڈسن پر یورپ میں پابندی لیکن ایشیا اور افریقہ میں فروخت کی جاتی ہیں
اگرحاملہ سردرد کی ایک گولی کھائے تو بچہ معذور ہوگا۔ انڈیا، بنگلہ دیش ، پاکستان ، فغانستان غربت کی سزادیتے ہیں؟
جج نے کہا کہ اگرعوام کو لسٹ دی تو شام کو تمہاری لاش ملے گی۔ ڈاکٹر اورنگزیب حافی کا بڑاانکشاف

پوری دنیا کی سطح پر16لاکھ افراد میں10افراد کا انتخاب اور ان میں چھٹے نمبر پر آنا ڈاکٹر اورنگزیب حافی جس نے نوبل انعام کیلئے نامزدگی کو مسترد کیا۔ بلقیس ایدھی کو سپورٹ کیا۔ کلاس فیلو کا انٹرویو ، جسکے بعد چینل ہی یوٹیوب پر بند کردیاگیا ۔ ڈاکٹر حافی نے کہا:ان کیمیکلز پر کام مکمل کیا جن سے بچے ماں کی پیٹ یا پہلے5سال میں معذور ہوجاتے ہیں۔ یورپ میں پابندی لگتی ہے، ایشیا اور افریقہ میں فروخت ہوتے ہیں اسی لئے معذوری کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے۔ قانون سازی اور گھر گھر آگاہی ہو ۔مثلاً ایک حاملہ عورت داڑھ درد کیلئے دوا لے تو اگر اس میں ٹیراٹوجن ہے تو درد کی قیمت پر بچہ زندگی بھر معذور ہوگا۔ انڈیا ، بنگلہ دیش، پاکستان ،افغانستان غریب ممالک کی سزا ہے کہ جو یورپ میں بین ہو یہاں وہ بکنا شروع ہوجائے؟۔ بین ہو، قانون بنے ۔عوامی آگاہی دی جائے۔ میرا بس چلے تو گھر گھر ٹیراٹوجنس کی لسٹ بتاؤں۔ کوشش کی تو اس وقت ہائیکورٹ کے ایک جج نے کہا نام میں نہیں لینا چاہتا کہ جس دن آپ کی لسٹ عوام کے پاس آئے گی تو شام کو اپنی قبر کا بھی بندوبست کرلینا۔میڈیسن کی کمپنیاں مار دیں گی۔

الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا سے تشہیر کی جائے ڈاکٹر اورنگزیب بہترین عالم دین بھی ہیں مگر ہماری قوم مردہ ہے اور مردوں کی پجاری ہے۔ ساری میڈیا پر حق بلند کرنا پڑے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

– المھدی موجود علی الانترنت

المھدی موجود علی الانترنت
والدلیل کلام عجیب للشیخ ابن عربی

فتی الشرق چینل: عربی کا ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم، خوش آمدید۔ ان اشعار پر گفتگو کریں گے جو ابن عربی نے کہے ۔ جن میں اللہ کے خلیفہ امام مہدی کے ظہور اور خروج کے وقت پر واضح اشارے اور نشانیاں ہیں، وہ علامات بیان کی گئی ہیں جب ظاہر ہوں گے، اور وہ واقعات جو ظہور سے پہلے پیش آئیں گے۔ ان اشعار میں یہ نمایاں ہے کہ ابن عربی ہمارے اسی زمانے کا کہہ رہے ہیں، جس میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں، جو انٹرنیٹ کا دور ہے، متحرک، دکھائی دینے والی اور سنی جانے والی تصاویر کا دور جو چند لمحوں میں دنیا کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو جاتی ہیں ،جنہیں سب لوگ دیکھ لیتے ہیں۔ ہم ابن عربی کے اشعار میں موجود معانی اور تشریح کو اخذ کرتے ہیں،یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شیخ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

شیخ ابن عربی نے اشعار میں فرمایا:

یہ خلیفہ، یہ سردار، یہ علم، یہ مقام، یہ رکن اور یہ حرم ہے۔ تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ چکا مگر اس کی حقیقی حکمرانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی، کیونکہ آنکھوں کے سامنے بچھڑا اور بت نمایاں ہو چکے ہیں۔ وہ ایسی قوم سے خوف زدہ ہیں جن کی ساری کوشش یہی رہتی ہے کہ وہ اس چیز کو حاصل کریں جو موسیٰ نے حاصل کی، حالانکہ وہ جانتے نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ ظاہری مشاہدہ ہر حال میں حرام ہے، جب بھی بصیرت کی آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تو اس کی اصل عدم ہوتی ہے۔

ان اشعار کو سننے کے بعد اے اللہ کیلئے بھائیو!آج ہم ان کی تشریح شروع کریں۔

شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں:

یہ خلیفہ، یہ سردار، یہ علم۔ اس خلیفہ سے مراد اللہ کا خلیفہ امام مہدی ہے۔ یہ سردار اور علم اس کی علامت ہے کہ یہ خلیفہ وہ ہستی ہو گا جو اس زمین پر سردار ہو گا، جب اللہ تعالی اسے اس زمین کی بادشاہی عطا فرمائیں گے، پس وہ علم اور علامت ہو گا، یعنی اس کی سرداری واضح نشانی ہو گی جو پوری زمین میں انسانوں اور جنوں کے درمیان پہچانی جائے گی، وہ سب پر خلیفہ اور بادشاہ ہو گا۔

پھر فرمایا:

یہ مقام، یہ رکن اور یہ حرم۔ اس مقام سے مراد وہ مقامِ فردانیت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندے مہدی کو عطا فرمایا ۔ جسکے ذریعے اسے اپنا خلیفہ بنایااور پوری زمین کا سردار، حاکم اور بادشاہ مقرر کیا۔ یہ رکن اور یہ حرم، یعنی یہ مقام اللہ تعالی کا وہ رکن ہے جس کی طرف مومن اور اللہ کے نیک بندے پناہ لیتے ہیں، پس وہ اللہ کی حفاظت، اس کی پناہ اور اس کی رحمت میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہ حرم وہ ہے جو مومنوں ، اللہ کے نیک بندوں کو گناہوں، معصیتوں، نفس کی خواہشات اور شیطان کے اعمال اور قدموں سے محفوظ رکھتا ہے۔

پھر شیخ ابن عربی کہتا ہے:

تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ چکا مگر اس کی حکمرانی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہاں شیخ اس زمانے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جب امام مہدی کا ظہور قریب ہو گا۔ اس دور میں امام مہدی کا ذکر اور ان پر گفتگو تمام انسانوں میں کثرت سے ہو گی، پوری زمین کی قومیں اور تمام دنیا کے لوگ اس خلیفہ اور اس نجات دہندہ پر بات کریں گے جو زمین پر عدل و انصاف کیساتھ حکومت کرے گا، فساد، ظلم، جبر، طغیان اور خونریزی کے خلاف جنگ کرے گا، لوگوں کو شراور شریروں سے نجات دے گا۔ یہ دور امام مہدی کے ظہور کی براہِ راست نشانی ہو گا،آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ نشانی حقیقت بن چکی ہے، کیونکہ ہم دیکھتے، سنتے اور مشاہدہ کرتے ہیں کہ امام مہدی کا ذکر اور ان پر گفتگو سوشل میڈیا پر غیر معمولی طور پر پھیل چکی ہے، بے شمار چینلز اور صفحات کے ذریعے جو انکے قریب ظہور اور خروج پر بات کر رہے ہیں، اور یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی کثرت سے چینلز اور صفحات ایک ہی وقت میں دنیا بھر میں امام مہدی کا ذکر کریں اور انکے ظہور کی بشارت دیں،
کیونکہ اس وقت انٹرنیٹ موجود نہیں تھا۔ پس جب ابن عربی کہتے ہیں کہ
تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ گیا مگر اس کی حکمرانی ظاہر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مہدی اس دور میں، یعنی انٹرنیٹ کے زمانے میں ، واقعی تمام انسانوں میں معروف ہو چکے ہیں، حالانکہ ان کی عملی حکمرانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ وہی حقیقت ہے جو ہم آج اپنے زمانے میں دیکھ رہے ہیں۔

پھر ابن عربی نے فرمایا:

جب آنکھوں کے سامنے بچھڑا اور بت ظاہر ہو گئے۔ اس شعر میں بھی وہ ہمارے اسی زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس بچھڑے سے مراد دجال کے فتنہ کی علامت ہے، یعنی امام مہدی کے ظہور سے پہلے دجال کا فتنہ ظاہر ہو جائے گا، جو سورج کی طرح واضح ہو گااور ہر صاحبِ بصیرت اسے حقیقت کیساتھ پہچان لے گا اور اس کی خباثت کو محسوس کرے گا۔ یہ وہی فتنہ ہے جس میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں، جو انسانوں میں سرایت کر چکا اور آزمائش میں ڈال رہا ہے۔ یہ بات اس شعر سے ثابت ہے کہ ابن عربی ہمارے ہی زمانے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی نظموں میں یہ بیان کیا کہ امام مہدی کے ظہور کا راز بچھڑے کے ظہور سے جڑا ہوا ہے اور بچھڑا دجال کی عبادت کی علامت ہے، جیسا کہ موسی علیہ السلام کی قوم نے سامری کے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔

ابن عربی نے ایک اور قصیدے میں فرمایا کہ

اللہ کیلئے ایسے لوگ ہیں جنکے دل جنت الفردوس میں بسنے سے مطمئن ہیں، وہ فضا اور آسمان میں سکون اختیار نہیں کرتے، کیونکہ بچھڑے میں وہ راز ہے جسکے سبب نچلے درجے میں آگ کے گرجنے والے بادل پھٹ پڑے، اور اسکے اطراف میں چمکنے والی بجلی ظاہر ہوئی جو انسان کے باطن میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں وہ امام مہدی اور انکے انصار مومنین کی بات کرتے ہیں، جنکے دل جنت الفردوس میں بستے ہیں اور وہ دجال کے فتنہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ پھر وہ اس عظیم فتنے کا ذکر کرتے ہیں جو زمین اور آسمان کو بھر دے گا، اور آخر میں امام مہدی کو اس چمکدار بجلی سے تشبیہ دیتے ہیں جو امید کی روشنی بن کر آئے گی اور اللہ کے نور سے اس عظیم فتنے کو ختم کرے گی، حالانکہ وہ خود بھی لوگوں کے درمیان اسی فتنے کی آگ میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔

پھر شیخ نے ایک اور عبارت میں فرمایا کہ اس کا زمانہ نوری ہے

اور اس کا وقت مرئی ہے، جس سے وہ ہمارے اس دور کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو روشنی اور دیکھنے کا زمانہ ہے، جہاں ہر جگہ روشنی اور ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے۔

آخر میں نہایت اہم بات کرتے ہیں کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے کی بیشتر نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اور جو باقی رہ گئی ہیں وہ نہایت کم ہیں
اور یہ آنے والا وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو گا، کیونکہ فتنوں کی کثرت ہو گی، دجال کا فتنہ عروج پر ہو گا اور یہ ہر انسان کے ایمان کا حقیقی امتحان ہو گا۔
جو سچے دل سے اللہ کا ولی ہو گا وہ نجات پائے گا، اور جو شیطان اور دجال کا پیروکار ہو گا وہ ہلاکت میں پڑ جائے گا، اور یہی بدترین انجام ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv