پوسٹ تلاش کریں

کیا جاوید غامدی ایک خناس ؟

جاویداحمد یافثی قرآن کے نام پر امت مسلمہ میں ایک ناامیدی کی کیفیت پھیلا رہاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد قیامت تک حکمران رہے گی ۔

ونبئھم عن ضیف ابراہیمOاذ دخلوا علیہ فقالواسلامًا قال انا منکم وجلونOقالوا لاتوجل نا نبشرک بغلامٍ علیمٍOقال ابشرتمونی علٰی ان مسنی الکبر فبم تبشرونOقالوا بشرناک بالحق فلا تکن من القانطینOقال و من یقنط من رحمة ربہ الاالضالونO

”اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔ جب اس پر داخل ہوئے تو کہاسلام کہا بیشک ہمیں تم سے ڈرلگا، کہاکہ ڈرو مت ہم آپ کو بڑے عالم لڑکے کی بشارت سنارہے ہیں۔کہا کیا بڑھاپے میں خوشخبری دیتے ہو تو کیسی خوشخبری ؟۔ کہا کہ ہم حق کیساتھ خوشخبری دیتے ہیں اللہ کی رحمت سے امید ختم کرنے والوں میں سے مت بنو۔ کہا کہ کون اللہ کی رحمت سے امید ختم کرتا ہے مگر گمراہ لوگ”۔ (سورہ الحجر51تا56)

اسحق واسماعیل، بنی اسرائیل ، خاتم الانبیائۖ تاقیامت آخری امیرامت محمداور عیسیٰ امید کو ختم کرنے والے گمراہ ہیں۔
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم…
”اور اللہ میںجد وجہد کا حق ادا کرو،اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی مشکل نہیں رکھی۔تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت ہو،اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا،پہلے اور اس میں تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو، تونماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔ اللہ کو مضبوط پکڑو، وہ تمہارا مولیٰ ہے ،اچھا مولیٰ اوراچھا مددگار”۔ (سورہ الحج آیت:78) غامدی آئینہ دیکھ لے قرآن کریم ایک آئینہ ہے جس میں ہردور کے اندر لوگ اپنا اپنا کردار، چہرہ اور ماضی حال مستقبل دیکھ سکتے ہیں۔ فرمایاکہ

قل انی علی بیننةٍ من ربی و کذبتم بہ، ما عندی ماتستعجلون بہ ان الحکم الا للہ، یقص الحق و ھو خیرالفاصلینOقل لو عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامر بینی و بینکم اللہ اعلم بالظالمینOو عندہ مفتاتیح الغیب، لا یعملھا الا ھو، ویعلم ما فی البر و البحر ، و ما تسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ، و لا حبةٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینٍO(سورہ الانعام)

”کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ میرے پاس نہیں جس کے جلدی کا تم مطالبہ کرتے ہو۔حکم نہیں ہے مگر اللہ کیلئے۔وہ حق کا قصہ بیان کرتا ہے اور بہترین فاصلہ قائم کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم جلدی مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں کوزیادہ جانتا ہے اور اسکے پاس غیب کی چابیاں ہیںجنہیں کوئی نہیں جانتا مگر وہی۔اور وہ جانتا ہے جوخشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتّہ نہیں گرتا ہے مگر وہ اس کو جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں ہے اور نہ کوئی تر اور خشک مگر کھلی کتاب میں”۔

پاکستان دنیا میں خشکی پر سمندر کے کنارے ایک خطہ زمین ہے جس میں قومی ترانہ بچے اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

پاک سرزمین شاد وباد…کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالیشانارض پاکستان
مرکز یقین شاد و باد
پاک سرزمین کا نظام…قوت اخوت عوام
قوم ملک سلطنت…پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد
پرچم ستارہ وہلال…رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال… جان استقبال
سایۂ خدائے ذولجلال

کتاب کے آئینہ میں پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ ، قومی ترانہ اور جاوید غامدی کا نظریہ سمجھنے کیلئے سورہ ابراہیم سے آیات پیش کی تھیں۔غامدی مایوسی کیلئے جھوٹ نہ بکے۔ ابراہیم کا عالم بیٹا بارہ خلفاء قریش کا سلسلہ قیامت تک قرآن اور بخاری، مسلم ، ابوداؤد، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ نواب قطب الدین خان، پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے بھی واضح کئے ہیں۔

جاویداحمد غامدی کی خدمت میں چند گزارشات یہ ہیں:

تیرا حرم ہے کوفہ ماتم حسین کا بیعت یزید کرو
مروان کے بیٹوں سے اسلام کی مٹی پلید کرو
اقتدار کو قید کردیا قیامت تک بنویافث میں
بنوہاشم کی اہانت کرو بنوامیہ کی تمجید کرو
خدا کے نام پر خلق خدا کو تم پوجتے ہو
شرک و نفاق میں ڈالو دعویٰ توحید کرو
فقہ اسلاف کو پہناؤ ملمع سازی کے چغے
آیات ہوں قصہ پارینہ اعتزال کی تجدید کرو
کلام الٰہی کا ہر جملہ ہر سورہ انقلاب ہے
زندگی ضائع کردی تو کچھ تحقیق مزید کرو
گند کے ڈھیر کا ٹھیہ لگا دیا تو کون خریدے
کھل کر توبہ کرو باطل کو حق سے مستفید کرو
بڈھی بڈھیوں کیساتھ تسبیح کیلئے خانقاہ چشتیہ آؤ
پہلے تجدید ایماں پھر مطالعہ سورہ حدید کرو
شیطان کا گروندہ بن گیا تیرا دل و دماغ
اجتہاد تیرے بس کا نہیں مردان خدا کی تقلید کرو
نکل جاؤ اختراع کے دنگل کی الجھن سے
اک اہل ساتھی کو منصب پر رجل رشید کرو
آیات بینات کو تم نے قدغن آلود کیا
خدا کیلئے نہیں تو اپنے لئے حق کی تمہید کرو
گدھے کے گوشت کا مسلماں روسٹ کھاتا نہیں
یہ سواری ذبح مت کرو خود ساختہ شہید کرو
خدا نے کہہ دیا یہ ہے زینت کی چیز بھی
اپنے سامنے باندھ کر خود کو خود سے سعید کرو
آفاقی کلام کو بند کیا خود ساختہ ابواب میں
گمراہی تلف کردو درست ترجمہ قرآن مجید کرو

طلوع اسلام: علامہ اقبال
دلیلِ صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی

والفجرO…واللیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم لذی حجرO

”فجر(طلوع انقلاب )کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے (کوئی نوید یا وعید) کچھ ہے”۔ (سورة الفجر)

عروق مردہ مشرق میں خون زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

ولقدکذب اصحاب الحجر المرسلینOواٰتیناھم آیاتنا فکانوا عنھا معروضینO

”اور تحقیق کہ عقل والوں نے رسولوں کا جھٹلایا۔اور ہم نے ان کو آیات دیں تو وہ ان سے روگردانی کرتے تھے”۔ (الحجر:80،81)

مسلمان کو مسلمان کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ، ذہن ہندی ، نطق اعرابی
سرشک چشم مسلم میں نیستاں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترک شیرازی دل تبریز کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے نظر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا
تیرے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دے
مسلمان سے حدیث سوز و سازِ زندگی کہہ دے
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہے
مکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہے
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کی
جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
جہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطر
نبوت ساتھ لے گئی وہ ارمغاں تو ہے
یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
میان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تک
ترے بازو میں ہے پرواز شاہینِ قہستانی
گماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کا
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانی
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سے
تماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کرسکتا تھا اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط ایک ایماں کی تفسیریں
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنالیتی ہیںتصویریں
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیںفطرت کی تعزیریں
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے
عقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال وپر نکلے
ستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلے
ہوئے مدفونِ دریا زیر دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
غبارِ راہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلے
ہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے
حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلے
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا
خودی کا رازداں ہوجا خدا کا ترجماں ہوجا
ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہوجا محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانی
تو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہوجا
غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہوجا
خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہوجا
مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر
شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہوجا
گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
ابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہے
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہے
تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
خروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تو گلستاں کے واسطے باد بہاری ہے
پھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کی
زمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہے
بیا پیدا خریدا راست جان نا توانے را
پس از مدت گزار افتاد برما کاروانے را
بیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمد
کشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمد
سرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد
کنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کش
پس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمد
بہ مشتاقان حدیث خواجہ بدر و حنین آور
تصرف ہائے پہنا نش بچشمم آشکار آمد
دگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گردد
ببازار محبت نقد ما کامل عیار آمد
سر خاک شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمد
بیا تا گل بفیشانیم و مے ور ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم

جاوید احمد غامدی اورمفتی تقی عثمانی مغرب کی سرمایہ داری کا دین بیچ رہے ہیں۔علماء و مشائخ کو چاہیے تھا کہ روحانی علاج کا پنڈال لگانے کے بجائے قرآن کی عام فہم آیات کو عوام کے سامنے لاتے۔ شیخ الہندمولانا محمود الحسن اور علامہ انور شاہ کشمیری نے آخری عمر میں توبہ کرکے اچھا کیا ۔قاری مفتاح اللہ صاحب نے تین باتوں پر زور دیا۔ ہزار کتابیںاور ہزار ورق کو جلادو اور خود کو اللہ والے کے قدموں میں روند ڈالو۔ انکے شاگردوں میں مرشد حاجی محمد عثمان کیلئے قربانی دینے والا بندہ ناچیز تھا۔ انہوں نے درمیانہ زمانہ کے مہدی کا حوالہ دیا جو ہماری تحریک کی تائید ہے اور انہوں نے فرمایا کہ عجم لوگوں کے ہاتھوں علم دوبارہ زندہ ہوگا چاہے ثریا پر پہنچ جائے۔ کوئی اس سے امام ابوحنیفہ اور کوئی امام بخاری مراد لیتا ہے لیکن جو بھی عجم لوگ ثریا سے علم کی واپسی کا ذریعہ بن جائیں وہ سب لوگ مراد ہیں۔

مجھے ڈاکٹر احمد جمال نے شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان کے سلام کو پہنچایا اور پھر میں نے ان کی زندگی کی آخری بیماری میں حاضری دی اور اپنا تعارف نہیں کرایا لیکن انہوں نے پہنچان لیا تھااور اپنے خاص شاگرد سے میری تعریف کی تھی۔ مجھے گمان تھا کہ قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کی وجہ سے مفتی صاحب کی رائے میرے بارے میں مثبت بنی تھی۔قرآن کی تعلیمات بہت سادہ اور آسان ہیں ۔ہزار کتاب ، اوراق جلانے اور اللہ والے کے قدموں میں روندنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور قرآن کی سادہ تعلیمات سمجھ میں آجائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

13برس کی عمرمیں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرناچاہتی تھی۔ بی بی سی اردو

میں13برس کی عمر میں حاملہ تھی لیکن اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بی بی سی نیوز اردو 13 سال کی عمر میں وہ حاملہ ہو گئیں تو ان کی والدہ نے ان پر خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں بچیوں کی شادی صرف تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتی ہے لیکن نہیں، یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔15جنوری2026

ایلن اولیوا…عہدہ بی بی سی منڈو…14سالہ پیٹریشیا لین سے27سالہ ٹموتھی کی شادی کی تقریب صرف چار منٹ تک جاری رہی۔پیٹریشیا نے سفید لباس پہنا نہ اپنے بالوں کو پھولوں سے سجایا۔ تقریب امریکی ریاست الاباما میں ایک جج کے دفتر میں ہوئی، جس کی واحد گواہ پیٹریشیا کی والدہ تھیں۔ریاست مینیسوٹا کے شہر سینٹ پال سے بی بی سی منڈو سے بات چیت میں58سالہ لین نے کہا: یہ سب بہت جلدی میں ہوا۔ مجھے وہ آدمی پسند نہ تھا، ماں غصے میں تھی یہ خوفناک تھا،شادی سرٹیفیکیٹ ملنے کے بعد عدالت کے سامنے پارک کے جھولے پر بیٹھ گئی۔ یہ بچوں والی ایسی حرکت تھی، جس نے ماں اور شوہر کو غصہ دلایا۔ کچھ بھی ایسا نہ تھا جیسا اپنی شادی کا سوچا تھا۔یہ حمل کے ابتدائی ہفتے تھے،21مئی1980کو ریاست الاباما کے قوانین میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ آج14سال کے بچے کی شادی نہیں ہو سکتی لیکن16سال کے نوجوان کی اپنے والدین میں سے کسی ایک کی رضامندی سے شادی ہو سکتی ہے۔

ایکوالٹی ناؤ( Equality Now) تنظیم شمالی امریکہ کی سربراہ اینستیسیا لا کہتی ہیں کہ اب بھی اضافی تحفظات نہیں۔ ریاست کو نابالغ کی آزادانہ رضامندی کی ضرورت نہیں ، نہ عدالتی اجازت کی۔الاباما34ریاستوں میں ہے جہاں18سال سے کم عمر قانونی استثنی کے ذریعے شادی کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کم عمری میں شادی کی تعریف رسمی اور غیر رسمی یونین کے طور پر کی جاتی ہے جس میں18سال سے کم عمر شامل ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی تسلیم کیا جاتا ہے۔
جبری اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم (Unchained at Last) کے مطابق سنہ2000اور2021کے درمیان امریکہ میں کم از کم314,000نابالغوں کی قانونی طور پر شادی کی گئی۔

ان میں کچھ لڑکیوں کی شادی صرف10سال کی عمر میں ہوئی ۔زیادہ تر کی16یا17سال ، زیادہ تر لڑکیوں نے بالغ مردوں سے شادی کی کیونکہ امریکہ میں وفاقی سطح پر شادی کی کم از کم عمر مقرر نہیں، اسلئے ہر ریاست کم از کم عمر مقرر کرتی ہے۔ اینستیسیا لا نے کہا:وفاقی قانون نہ ہونے کا کم عمری کی شادیوں پر نمایاں اثر ہے۔ بچوں کے حقوق کی وکالت کیلئے ہر ریاست کے مختلف قوانین پر چلنا پڑتا ہے۔ کم عمری میں شادیوں کو ختم کرنے کیلئے وفاقی سطح پر کم از کم عمر کا نفاذ پہلا اقدام ہے تاہم امریکہ میں کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کیلئے جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔بغیر کسی استثنیٰ کے کم از کم18سال عمر مقرر کئے بغیر بچوں کا تحفظ ممکن نہیں۔ قانونی طور پر کم عمری میں شادی کی اجازت دینا اس عمل کی سماجی منظوری کے برابر ہے۔

پیٹریشیا بتاتی ہیں کہ میں اور میرا بھائی ثقافتی طور پر بہت اکیلے تھے۔ اگرچہ ہم بڑے امریکی شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتے تھے لیکن زندگی بہت سخت تھی۔بہت چھوٹی عمر سے جنسی استحصال کا شکار پیٹریشیا شدید ڈپریشن میں چلی گئیں۔ گھر سے مدد نہ ملنے پر مجبور ہو گئیں کہ مدد کیلئے بنائی گئی ہاٹ لائن پر رابطہ کریں۔ اس طرح25سالہ ٹموتھی گرنی سے ملی۔ وہ مشنری بننے کیلئے چھوٹی سی تنظیم میں انٹرن شپ کر تاتھا ۔ مشکلات کے شکار افراد کیلئے بنائی گئی ہاٹ لائن پر کالز کا جواب دیتاتھا۔13سال کی عمر میں حاملہ ہو گئی مگر اس کیساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ والدین کو بتایا تو والدہ نے خاندان کی بے عزتی کا الزام عائد کیاکہ خاندان کی تمام شرمندگی کی ذمہ دار اور واحد حل یہ کہ شادی کر لوں۔ بچے کیلئے شادی کرنا پڑی۔ والد نے رضامندی کے فارم پر دستخط کیے اور اگلے دن عدالت کی تلاش میں جنوب کا سفر کیا جہاں شادی ہو کیونکہ یہ مینیسوٹا میں ممنوع تھا۔

پیٹریشیا، ان کی ماں اور ٹم پہلے کینٹکی پہنچے، جو مینیسوٹا کے قریب ریاست ہے لیکن حکام نے درخواست مسترد کر دی۔ انھوں نے کہا بالکل نہیں، یہ بہت چھوٹی ہیں اور وہ ٹھیک کہہ رہے تھے، بالکل ٹھیک کیونکہ واقعی بہت چھوٹی تھی۔پھر الاباما گئے، جہاں شادی کر سکتی تھی بشرطیکہ انھیں والدین کی اجازت حاصل ہو ۔ جنوبی لاڈرڈیل کانٹی پہنچنے پر پیٹریشیا اور ٹم کی شادی چند منٹ میں ہو گئی۔ شادی کے سرٹیفیکیٹ پر دستخط نہیں کیے مگر نام ہے ۔ دستخط کرنے کی پابند نہیں تھی۔ ماں نے میرے لیے دستخط کیے تھے۔ انھوں نے میری زندگی ایک آدمی کو دے دی۔ اس طرح یہ شادیاں کام کرتی ہیں۔ لوگ آپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس شادی سے نہیں نکل سکتے جب تک آپ18سال کے نہ ہو جائیں۔حال میں قوانین تبدیل ہوئے ہیں تاہم سنہ2025میں بھی واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ صرف16امریکی ریاستوں میں بغیر کسی استثناء کے شادی کی عمر18سال ہے۔

شادی کے بعد پیٹریشیا کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا جیسے کہ اپنی بیٹی کو گود دینا اور شوہر سے طلاق لینا لیکن بعد میں دوبارہ شادی کر لی لیکن اس بار مرضی سے۔اینستیسیا لا نے کہا اس وقت سب سے زیادہ اجازت دینے والی ریاستیں، جہاں والدین یا عدالتی رضامندی سے شادی کی کوئی کم از کم عمر نہیں، میں کیلیفورنیا، مسیسیپی، نیو میکسیکو اور اوکلاہوما ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمر کا نابالغ کسی بھی عمر کے شخص سے شادی کر سکتا ہے۔وفاقی سطح پر قانون ان خامیوں کو ختم کر سکتا ہے جو فی الحال شادی کی آڑ میں جبری شادیوں اور بچوں کی سمگلنگ کی اجازت دیتے ہیںاور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

پیٹریشیا پر14سال کی عمر میں شادی مسلط کر دی گئی، جس سے تعلیم، سماجی روابط جیسے زندگی کے کئی پہلو متاثر ہوئے۔ امریکہ میں جبری اور کم عمری کی شادیوں کیخلاف کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق متاثرہ لڑکیاں اکثر الگ تھلگ ہو جاتی ہیں اور سکول چھوڑنے کا زیادہ امکان ہوتاہے ۔ وہ شوہروں پر اور بھی زیادہ انحصار کرتی ہیں۔میرے شوہر مجھے دوست رکھنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ،میں مکمل طور پر اکیلی تھی۔ میں آج بھی جدوجہد کر رہی ہوں۔ میں تنہا محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے اب بھی لوگوں پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔

آخر کار میں ان انتہائی منفی خیالات سے چھٹکارا پانے میں کامیاب تو ہو گئی لیکن آج بھی تقریبا60سال کی عمر میں، مجھے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا مشکل لگتا ہے۔سنہ2018سے16امریکی ریاستوں نے بچوں کی شادی پر پابندی کیلئے قوانین میں ترمیم کی لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔پیٹریشیا نے کہا کہ بہت لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا اب بھی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری دنیا کے ممالک یا مخصوص مذاہب میں ہوتا ہے ۔ یہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے ان مردوں، یا یوں کہیے کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کیلئے شادی الزامات سے بچنے کا یہ طریقہ ہے۔ قانون بنانے والے اجازت نہ دیں جو16یا17سال کی عمر میں یہ بحث کرتے ہیں کہ یہ سچا پیار ہے تو بہت اچھا! اگر ایسا ہے تو یہ تب بھی سچا پیار ہو گا جب وہ18سال کے ہوں گے۔

BBCپرتبصرہ نوشتہ ٔ دیوار
برطانیہ کے دو بھائیوں کا ان کی سگی ماں کی طرف سے بچپن میں جنسی استحصال جب واقف کاروں سے بچپن میں اذیتناک تشدد سے گزارا گیا۔BBCنے حال میں رپورٹ کیا۔

1:امریکہ میں کیا محرکات ہیں کہ بچپن کا نکاح والدین کی اجازت سے مشروط ہے۔
2:یہ کہ18سال سے پہلے طلاق لینے کی اجازت کیوں نہیں؟۔یہ دونوں چیز یں سمجھنے کی ہیں۔
مغرب کا قانون ہے کہ طلاق کے بعد جائیداد بٹتی ہے اور بچوں کی جائیداد مسئلہ ہے اسلئے والد ین کی اجازت ضروری ہے۔ پھر طلاق پر آدھی جائیداد براہ راست اسکے نام ہوگی۔

جبکہ احادیث میں ولی کی اجازت کے بغیر عورت کانکاح باطل اور فقہ میںبچے کی طلاق معتبر نہیں۔ ان دونوں چیزوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو مسائل کاحل بن سکتے ہیں۔ ولی کی اجازت والی صحیح احادیث کو مسترد کرنے، بالغ لڑکی کے نکاح کو کفو کی اجازت سے مشروط کرنے اور نابالغ بچی کو نکاح پر مجبور کرنے کے متضاد مسائل کو قرآن وسنت پر پیش کرنا چاہیے۔

عیسائی اسلام سے پہلے سپر طاقت تھے مگر طلاق کی اجازت نہ تھی۔ تین سوسال قبل اجتہاد سے طلاق کو جواز بخشا۔ سپر طاقت بن گئے۔ طلاق میں عیسائیوں نے ہمارا اسلامی کلچر قبول کیا اور حلالہ کی لعنت میں ہم نے یہودی مذہب کو قبول کیا ہوا ہے۔

قرآن کے آئینہ میں نبی ۖ کی سنت کے مطابق آج حق مہر کا تعین ہوسکتا ہے۔ ایک عورت نے نبی ۖ سے کہا کہ میں خود کو ہبہ کرتی ہوں۔ ایک صحابی نے کہا کہ یارسول اللہ! آپ کو ضرورت نہیں تو مجھے ہبہ فرمائیں۔ نبیۖ نے پوچھا کہ اس کو دینے کیلئے تمہارے پاس کیا ہے؟۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں ہے لیکن نبیۖ نے فرمایا کہ گھر میں ڈھونڈو بھلے ایک لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ تلاش کرکے آیا مگر کچھ نہیں ملا۔ جس پر نبیۖ نے قرآنی سورتوں کی تعلیم دینے کا حکم فرمایا تھا۔

حدیث سے پتہ لگا کہ نکاح کا تعلق باہمی رضا اور حق مہر کا مرد کی مالی صلاحیت سے ہے۔ حضرت عمر نے کم حق مہر کا فیصلہ کیا تو عورت نے مسترد کیا کہ تم کون ہو جب اللہ نے ہمارے لئے فیصلہ نہیں کیا ہے جس پر حضرت عمر نے فیصلہ واپس لیا۔

قرآن کے حکم کا بہت بڑ اکمال ہے جس کی وضاحت زمانہ کرتا ہے اور اس کی سمجھ اور عمل سے دنیا میں انقلاب آئے گا۔

قد علمنا مافرضنا علیھم فی ازواجھم و ما ملکت ایمانھم لکیلا یکون علیک حرج ” تحقیق ہم جانتے ہیں جو ہم ان کی ازواج اور ایگریمنٹ والیوں کے بارے میں فرض کیا تاکہ آپ کیلئے مشکل نہ ہو”۔(الاحزاب)

یہ عجب العجائب ہے کہ حق مہر کا تعین نہیں کرنا نبیۖ کے مشکل کو ختم کرنا کیسے تھا؟۔کچھ اموال پر زکوٰة ہے کچھ پر نہیں۔ عورت شوہر کے مال میں شریک ہوتی ہے۔ رسول اللہۖ کے دور میں ایسا نظام نہیں تھا کہ غریب یا مالدار کا پر فیکٹ معلوم ہو۔ بیوہ و طلاق شدہ کا بھی حق ہے۔ شوہر زندہ ہوتو بیوی گھر کی ملکہ یا مالکہ ہوتی ہے۔ حق مہر کا تعین نہ ہو تو ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق و متعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعًا بالمعروف حقًا علی المتقین ”اوران کو خرچہ دو مالدار پر اپنی وسعت کا وزن ، غریب پر اپنی وسعت کا وزن، یہ حق ہے نیکوکاروں پر”۔ جو سچے اچھے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا نے عورت کیساتھ بہت بڑی زیادتی کردی ہے برابری کی بنیاد پر حق مہر کا جس میں عورت کے مال میں بھی شوہر شریک ہوتا ہے۔ آج تک انسانی حقوق کی تنظیموں کیساتھ مغرب کا جمہوری معاشرہ بچیوںکو جنسی استحصال سے بچانے کی پاداشت میںنسل در نسل سزا ئیں کھانے میں مگن ،مگر فقہاء نے بھی عورت کے کم ازکم حق مہر میں اتنا مال فرض قرار دیا جتنے میں ایک چور کا ہاتھ کٹتا ہے اور علت میں یہ عزت افزائی فرمائی کہ جتنے مال میں چور ایک عضو ہاتھ سے محروم ہوتا ہے اتنے میں وہ اپنی بیوی کے ایک عضو شرمگاہ کا مالک بن جاتا ہے۔ لخ لعنت

یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ مرد کی دیت100اونٹ اور عورت کی50اونٹ ہے۔تو اصل حق مہر50اونٹ کا ہے لیکن عورت جتنی رعایت پر راضی ہوجائے؟۔ یہودی علماء نے عورت کی تذلیل کی تو کمثل الحمار یحمل اسفارًا قرار دیاگیا۔ انکی مثال گدھوں کی طرح ہے جنہوں نے کتابیں لادی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدیع السماوات والارض واذا قضی امرًا فانما یقول لہ کن فیکونO”آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جب کوئی چیز کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے”۔ (البقرہ117)

اللہ نے کائنات کو چھ دن اور زمین کو دو دن میں بنایا۔ آیت سے تدریجی عمل کی نفی مراد نہیں جیسا کہ سمجھاگیا۔ ا نقلاب بھی تدریجی عمل ہی کے ذریعے سے آتا ہے۔ چنانچہ پھر فرمایا کہ

وقال الذین لایعلمون لولا یکلمنا اللہ او تأتینا اٰیة کذٰلک قال الذین من قبلھم مثل قولھم تشابہت قلوبھم قد بیناالاٰیات لقوم یوقنونO”اور بے علم لوگ کہتے ہیں کہ اگراللہ ہم سے بات کرتایا کوئی نشانی ہم تک آتی ۔ اسی طرح سے ان سے پہلے لوگ ان کے جیسی بات کرتے تھے ،ان کے دل ایک جیسے ہیں۔ ہم نے آیات کو اس قوم کیلئے واضح کیا ہے جو یقین کرتے ہیں” ۔(البقرہ:118)

قالت یا رب لیتنی مت قبل ھٰذا کنت نسیًا منسیًا” مریم نے کہاکاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور بھولی بسری ہوتی”۔ (سورہ مریم:23)اگر قرآن و سنت سے قوانین اخذ ہوں تو مغرب ومشرق کی انسانیت قبول کرلے۔

اناارسلناک بالحق بشیرًا ونذیرًا ولا تسال عن اصحاب الجحیمO” بیشک ہم نے تجھے حق کیساتھ بھیج دیا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا اور تجھ سے جحیم والوں کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی”۔ (البقرہ:119)

یہود ونصاریٰ باطل مذہبی مسائل طلاق و حلالہ کی غلطیوں پر اصرار کررہے تھے تو یہ لوگ جانیں اور ان کا کام جانے۔

ولن ترضٰی عنک الیہود و لاالنصارٰی حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ھو الھدٰی و لئن اتبعت اھواھم بعد الذی جاء ک من العلم مالک من ولیٍ و لانصیرٍO” اور آپ سے یہود ونصاری راضی نہیں ہوںگے یہاں تک کہ ان کی ملت کے تابع بن جاؤ۔ کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہے اصل ہدایت۔ اور اگر آپ نے ان کی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد جب آپکے پاس علم آیا تو تمہارے لئے کوئی دوست و مدد گا ر نہیں ہوگا”۔البقرہ:120

یہ آیت صرف رسول اللہ ۖ کی ذات تک محدود تھی اسلئے کہ یہود ونصاریٰ کے مفاد پرست مذہبی طبقات نے عوام کو اپنا اسیر بناکر رکھا تھا اور مذہب فروش طبقات سے بدلنے کی امید نہیں ہوسکتی تھی مگر رسول اللہۖ نے ایک خلافت کا ذکر واضح فرمایا تھا کہ جس سے زمین وآسمان والے خوش ہوں گے۔

الذین اٰتیناھم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یؤمنون بہ ومن یکفر بہ فاولٰئک ھم الخاسرونO”وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے تو وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیںاور جو اس کا انکارکرتے ہیں تو وہی لوگ خود خسارہ پانے والے ہیں”۔(البقرہ:121 ) آج بھی جنہوں نے مذہب کو تجارتی اور سیاسی مفادات کے تابع بنادیا ہے تو ان کا رویہ علماء حق سے بالکل مختلف ہے مگر آخر خسارہ پائیں گے۔

اسلام کے نزول سے پہلے یہود اور نصاریٰ بنی اسرائیل کو اللہ نے جہاں والوں پر فضیلت بخشی تھی لیکن پھر مسلمانوں کے اچھے دن آگئے اور اب پھر یہودونصاریٰ نے اپنی باری میں بڑا ظلم کیا ہے اور اللہ چاہے تو مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

مسلمانوں کو قرآن کی تلاوت اور سمجھنے کا حق ادا کرنا پڑے گا اور اسلام کے فطری دین کو پیش کیا گیا تو بچے ،بچیوں اور عورتوں کے علاوہ تمام مظلوم اور کمزور طبقات کو تحفظ ملے گا اور طاقتوراپنا ظالمانہ نظام طاقت کے بل بوتے پر مسلط نہیں کرسکیںگے ۔ اور دورہوسکتا ہے کہ اللہ نے تقدیر میں بہت ہی قریب کردیا ہو۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

میڈیسن کمپنیوں کی طرف سے خطے میں خطرناک ترین دہشتگردی. فخر پاکستان ڈاکٹر اورنگزیب کا بڑا انکشاف

میڈیسن کمپنیوں کی طرف سے خطے میں خطرناک ترین دہشتگردی
فخر پاکستان ڈاکٹر اورنگزیب کا بڑا انکشاف

میڈسن پر یورپ میں پابندی لیکن ایشیا اور افریقہ میں فروخت کی جاتی ہیں
اگرحاملہ سردرد کی ایک گولی کھائے تو بچہ معذور ہوگا۔ انڈیا، بنگلہ دیش ، پاکستان ، فغانستان غربت کی سزادیتے ہیں؟
جج نے کہا کہ اگرعوام کو لسٹ دی تو شام کو تمہاری لاش ملے گی۔ ڈاکٹر اورنگزیب حافی کا بڑاانکشاف

پوری دنیا کی سطح پر16لاکھ افراد میں10افراد کا انتخاب اور ان میں چھٹے نمبر پر آنا ڈاکٹر اورنگزیب حافی جس نے نوبل انعام کیلئے نامزدگی کو مسترد کیا۔ بلقیس ایدھی کو سپورٹ کیا۔ کلاس فیلو کا انٹرویو ، جسکے بعد چینل ہی یوٹیوب پر بند کردیاگیا ۔ ڈاکٹر حافی نے کہا:ان کیمیکلز پر کام مکمل کیا جن سے بچے ماں کی پیٹ یا پہلے5سال میں معذور ہوجاتے ہیں۔ یورپ میں پابندی لگتی ہے، ایشیا اور افریقہ میں فروخت ہوتے ہیں اسی لئے معذوری کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے۔ قانون سازی اور گھر گھر آگاہی ہو ۔مثلاً ایک حاملہ عورت داڑھ درد کیلئے دوا لے تو اگر اس میں ٹیراٹوجن ہے تو درد کی قیمت پر بچہ زندگی بھر معذور ہوگا۔ انڈیا ، بنگلہ دیش، پاکستان ،افغانستان غریب ممالک کی سزا ہے کہ جو یورپ میں بین ہو یہاں وہ بکنا شروع ہوجائے؟۔ بین ہو، قانون بنے ۔عوامی آگاہی دی جائے۔ میرا بس چلے تو گھر گھر ٹیراٹوجنس کی لسٹ بتاؤں۔ کوشش کی تو اس وقت ہائیکورٹ کے ایک جج نے کہا نام میں نہیں لینا چاہتا کہ جس دن آپ کی لسٹ عوام کے پاس آئے گی تو شام کو اپنی قبر کا بھی بندوبست کرلینا۔میڈیسن کی کمپنیاں مار دیں گی۔

الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا سے تشہیر کی جائے ڈاکٹر اورنگزیب بہترین عالم دین بھی ہیں مگر ہماری قوم مردہ ہے اور مردوں کی پجاری ہے۔ ساری میڈیا پر حق بلند کرنا پڑے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ فروری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

– المھدی موجود علی الانترنت

المھدی موجود علی الانترنت
والدلیل کلام عجیب للشیخ ابن عربی

فتی الشرق چینل: عربی کا ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم، خوش آمدید۔ ان اشعار پر گفتگو کریں گے جو ابن عربی نے کہے ۔ جن میں اللہ کے خلیفہ امام مہدی کے ظہور اور خروج کے وقت پر واضح اشارے اور نشانیاں ہیں، وہ علامات بیان کی گئی ہیں جب ظاہر ہوں گے، اور وہ واقعات جو ظہور سے پہلے پیش آئیں گے۔ ان اشعار میں یہ نمایاں ہے کہ ابن عربی ہمارے اسی زمانے کا کہہ رہے ہیں، جس میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں، جو انٹرنیٹ کا دور ہے، متحرک، دکھائی دینے والی اور سنی جانے والی تصاویر کا دور جو چند لمحوں میں دنیا کے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہو جاتی ہیں ،جنہیں سب لوگ دیکھ لیتے ہیں۔ ہم ابن عربی کے اشعار میں موجود معانی اور تشریح کو اخذ کرتے ہیں،یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شیخ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

شیخ ابن عربی نے اشعار میں فرمایا:

یہ خلیفہ، یہ سردار، یہ علم، یہ مقام، یہ رکن اور یہ حرم ہے۔ تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ چکا مگر اس کی حقیقی حکمرانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی، کیونکہ آنکھوں کے سامنے بچھڑا اور بت نمایاں ہو چکے ہیں۔ وہ ایسی قوم سے خوف زدہ ہیں جن کی ساری کوشش یہی رہتی ہے کہ وہ اس چیز کو حاصل کریں جو موسیٰ نے حاصل کی، حالانکہ وہ جانتے نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ ظاہری مشاہدہ ہر حال میں حرام ہے، جب بھی بصیرت کی آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تو اس کی اصل عدم ہوتی ہے۔

ان اشعار کو سننے کے بعد اے اللہ کیلئے بھائیو!آج ہم ان کی تشریح شروع کریں۔

شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں:

یہ خلیفہ، یہ سردار، یہ علم۔ اس خلیفہ سے مراد اللہ کا خلیفہ امام مہدی ہے۔ یہ سردار اور علم اس کی علامت ہے کہ یہ خلیفہ وہ ہستی ہو گا جو اس زمین پر سردار ہو گا، جب اللہ تعالی اسے اس زمین کی بادشاہی عطا فرمائیں گے، پس وہ علم اور علامت ہو گا، یعنی اس کی سرداری واضح نشانی ہو گی جو پوری زمین میں انسانوں اور جنوں کے درمیان پہچانی جائے گی، وہ سب پر خلیفہ اور بادشاہ ہو گا۔

پھر فرمایا:

یہ مقام، یہ رکن اور یہ حرم۔ اس مقام سے مراد وہ مقامِ فردانیت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے بندے مہدی کو عطا فرمایا ۔ جسکے ذریعے اسے اپنا خلیفہ بنایااور پوری زمین کا سردار، حاکم اور بادشاہ مقرر کیا۔ یہ رکن اور یہ حرم، یعنی یہ مقام اللہ تعالی کا وہ رکن ہے جس کی طرف مومن اور اللہ کے نیک بندے پناہ لیتے ہیں، پس وہ اللہ کی حفاظت، اس کی پناہ اور اس کی رحمت میں داخل ہو جاتے ہیں اور یہ حرم وہ ہے جو مومنوں ، اللہ کے نیک بندوں کو گناہوں، معصیتوں، نفس کی خواہشات اور شیطان کے اعمال اور قدموں سے محفوظ رکھتا ہے۔

پھر شیخ ابن عربی کہتا ہے:

تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ چکا مگر اس کی حکمرانی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہاں شیخ اس زمانے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جب امام مہدی کا ظہور قریب ہو گا۔ اس دور میں امام مہدی کا ذکر اور ان پر گفتگو تمام انسانوں میں کثرت سے ہو گی، پوری زمین کی قومیں اور تمام دنیا کے لوگ اس خلیفہ اور اس نجات دہندہ پر بات کریں گے جو زمین پر عدل و انصاف کیساتھ حکومت کرے گا، فساد، ظلم، جبر، طغیان اور خونریزی کے خلاف جنگ کرے گا، لوگوں کو شراور شریروں سے نجات دے گا۔ یہ دور امام مہدی کے ظہور کی براہِ راست نشانی ہو گا،آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ نشانی حقیقت بن چکی ہے، کیونکہ ہم دیکھتے، سنتے اور مشاہدہ کرتے ہیں کہ امام مہدی کا ذکر اور ان پر گفتگو سوشل میڈیا پر غیر معمولی طور پر پھیل چکی ہے، بے شمار چینلز اور صفحات کے ذریعے جو انکے قریب ظہور اور خروج پر بات کر رہے ہیں، اور یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی کثرت سے چینلز اور صفحات ایک ہی وقت میں دنیا بھر میں امام مہدی کا ذکر کریں اور انکے ظہور کی بشارت دیں،
کیونکہ اس وقت انٹرنیٹ موجود نہیں تھا۔ پس جب ابن عربی کہتے ہیں کہ
تمام انسانوں پر اس کا ذکر غالب آ گیا مگر اس کی حکمرانی ظاہر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مہدی اس دور میں، یعنی انٹرنیٹ کے زمانے میں ، واقعی تمام انسانوں میں معروف ہو چکے ہیں، حالانکہ ان کی عملی حکمرانی ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ یہ وہی حقیقت ہے جو ہم آج اپنے زمانے میں دیکھ رہے ہیں۔

پھر ابن عربی نے فرمایا:

جب آنکھوں کے سامنے بچھڑا اور بت ظاہر ہو گئے۔ اس شعر میں بھی وہ ہمارے اسی زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس بچھڑے سے مراد دجال کے فتنہ کی علامت ہے، یعنی امام مہدی کے ظہور سے پہلے دجال کا فتنہ ظاہر ہو جائے گا، جو سورج کی طرح واضح ہو گااور ہر صاحبِ بصیرت اسے حقیقت کیساتھ پہچان لے گا اور اس کی خباثت کو محسوس کرے گا۔ یہ وہی فتنہ ہے جس میں ہم آج زندگی گزار رہے ہیں، جو انسانوں میں سرایت کر چکا اور آزمائش میں ڈال رہا ہے۔ یہ بات اس شعر سے ثابت ہے کہ ابن عربی ہمارے ہی زمانے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کئی نظموں میں یہ بیان کیا کہ امام مہدی کے ظہور کا راز بچھڑے کے ظہور سے جڑا ہوا ہے اور بچھڑا دجال کی عبادت کی علامت ہے، جیسا کہ موسی علیہ السلام کی قوم نے سامری کے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔

ابن عربی نے ایک اور قصیدے میں فرمایا کہ

اللہ کیلئے ایسے لوگ ہیں جنکے دل جنت الفردوس میں بسنے سے مطمئن ہیں، وہ فضا اور آسمان میں سکون اختیار نہیں کرتے، کیونکہ بچھڑے میں وہ راز ہے جسکے سبب نچلے درجے میں آگ کے گرجنے والے بادل پھٹ پڑے، اور اسکے اطراف میں چمکنے والی بجلی ظاہر ہوئی جو انسان کے باطن میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں وہ امام مہدی اور انکے انصار مومنین کی بات کرتے ہیں، جنکے دل جنت الفردوس میں بستے ہیں اور وہ دجال کے فتنہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ پھر وہ اس عظیم فتنے کا ذکر کرتے ہیں جو زمین اور آسمان کو بھر دے گا، اور آخر میں امام مہدی کو اس چمکدار بجلی سے تشبیہ دیتے ہیں جو امید کی روشنی بن کر آئے گی اور اللہ کے نور سے اس عظیم فتنے کو ختم کرے گی، حالانکہ وہ خود بھی لوگوں کے درمیان اسی فتنے کی آگ میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔

پھر شیخ نے ایک اور عبارت میں فرمایا کہ اس کا زمانہ نوری ہے

اور اس کا وقت مرئی ہے، جس سے وہ ہمارے اس دور کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو روشنی اور دیکھنے کا زمانہ ہے، جہاں ہر جگہ روشنی اور ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے۔

آخر میں نہایت اہم بات کرتے ہیں کہ امام مہدی کے ظہور سے پہلے کی بیشتر نشانیاں پوری ہو چکی ہیں اور جو باقی رہ گئی ہیں وہ نہایت کم ہیں
اور یہ آنے والا وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو گا، کیونکہ فتنوں کی کثرت ہو گی، دجال کا فتنہ عروج پر ہو گا اور یہ ہر انسان کے ایمان کا حقیقی امتحان ہو گا۔
جو سچے دل سے اللہ کا ولی ہو گا وہ نجات پائے گا، اور جو شیطان اور دجال کا پیروکار ہو گا وہ ہلاکت میں پڑ جائے گا، اور یہی بدترین انجام ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن کی روشنی میں شیخ ابن عربی کی فکرکا تجزیہ

شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا:”یہ خلیفہ یہ پہاڑ سردار۔ یہ مقام اس جھکنے اور حرمت والی جگہ پر۔یہ تمام مخلوقات کی قیادت کررہاہے باوجود اسکے کہ اس کی قیادت ظاہر نہیں ہوئی ۔ جب ایک بچھڑا اور بت ظاہر ہوگا آنکھوں کے سامنے ۔جس کا خوف قوم کے اعصاب پر سوار ہوگا۔ جس کا سامنا موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا جو وہ جانتے ہیں۔ نظر آنے والی چیز حرام ہے جب نظر آئے۔ بصیرت کی آنکھ میں ہر چیز کی اصل عدم ہے”۔

کیا بنی نوع انسان پر امام مہدی کا انقلاب آئے گا؟۔ شیخ محی الدین ابن عربی کی فکر کا ہم قرآن سے جائزہ لیتے ہیں۔

ولقد کرمنا بنی اٰدم و حملنا ھم فی البر و البحر و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی کثیر ممن خلقناتفضیلًاOیوم ندعو ا کل اناس باماھم فمن اوتی کتابہ بیمینہ فاولئک یقرء ون کتابھم ولا یظلمون فتیلًاO

” اور ہم نے بنی آدم پر کرم کیا ہے اور ہم نے خشکی اور سمندر میں اسے سوار کیا اور پاک چیزوں میں سے روزی دی اور ہم نے بہت ساری مخلوقات پر اس

کو فضیلت بخشی واضح فضیلت۔ اس دن تمام لوگوں کو پکارا جائے گا انکے امام کیساتھ۔ پس جس کو دائیں ہاتھ سے اعمال نامہ ملے گا تو وہ اپنی اعمال نامہ پڑھے گا اور اس پر ذرا ظلم نہیں کیا جائے گا”۔

سورہ بنی اسرائیل کی آیات70،71میں کوئی انسان اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ دور میں خشکی اور سمندر کی سواریوں کی جو حالت ہے وہ واضح ہے اور انسانوں کو بہت سی مخلوقات پر فضیلت کا اقرار ہر ایک کوہے۔ اصل بات امام مہدی کی جس کی فردانیت کا ذکر شیخ ابن عربی اور حاجی عثمان نے کیا تھا لیکن علامہ زمحشری صاحب کشاف نے ”امام ” سے مائیں مراد لیا۔ جومعتزلی اچھا آدمی تھا لیکن ضعیف حدیث کو دیکھا اور صحیح کو نظر انداز کیا ۔آیت میں اصحاب الشمال کا نہیں؟۔ اسلئے کہ اصحاب الیمین کو اہلیت کے مطابق ذمہ داریاں دی جائیں گی اور ان پر ظلم نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نا اہل کو ان پر ترجیح نہیں دی جائے گی لیکن اہلیت سے زیادہ بڑا منصب بھی نہیں ملے گا۔ اسی نے تو عالم انسانیت کا بیڑہ غرق کیا ہے ۔ امام مہدی کا کام عدل کا قیام اور توازن کی بالکل برابری ہوگی جو انسانیت کیلئے ہوگا۔

من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرة اعمٰی و اضل سبیلًاO”

جواس میں اندھا وہ آخرت میں اندھا ہے اور زیادہ گمراہ ”۔(بنی اسرائیل:72) اسلام کی نشاہ اول کا اندھا اسلام کی نشاة ثانیہ میں بھی اندھا ہوگا ۔جیسے فتح مکہ میں معاف، ویسے اسلام کی نشاة ثانیہ میں برا سلوک نہیں ہوگا۔ حضرت ابوبکر نے خلافت کا منصب سنبھالا تو ابوسفیان نے کہا : ”علی اجازت دے تو ابوبکر سے مسند چھیننے کیلئے مدینہ کو پیادہ اور سواروں سے بھر دوں؟”۔ علی نے کہا کہ ابھی اسلام کی دشمنی سے باز نہ آیا؟۔ ابوسفیان خود کو ابوبکر سے زیادہ حقدار سمجھتا تھا۔

و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشةً ضنکًا و نحشرہ یوم القیامة اعمٰیOقال رب لم حشرتنی اعمٰی و قد کنت بصیرًاO

” اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی تنگ ہوگی اورحشر کریںگے قیامت کے دن ہم اس کا اندھا۔کہے گا کہ اے میرے رب میرا حشر کیوں اندھا کیا جبکہ میں تو دیکھتا تھا”۔( طہ:124،125)

مہدی کے رکن و حرم کے مقام سے مراد خانہ کعبہ نہیں بلکہ وحی پر ثابت قدمی اور من گھڑت مسائل کیلئے جھکنا نہیں ہے۔

ولا لو ان ثبتنا ک لقد کدت ترکن الیھم شیئًا قلیلًاOاذًا لاقناک ضعف الحیاة و ضیف الممات ثم لا تجد لک علینا نصیرًاOو ان کادوا لستفزونک من الارض لیخرجوک منھا و اذًا لا یلبثون خلافک الا قلیلًاOسنة من ارسلناقبلک من رسلنا ولا تجد لسنتا تحویلًاO

” اور اگر آپ کو ہم ثابت قدم نہ رکھتے اور تحقیق آپ ان کی طرف تھوڑا سا جھک جاتے تو پھر ہم آپ کو زندگی اور موت میں کمزوری کا مزہ چکھا دیتے اور ہم پر کوئی مدد گار نہ پاتے ۔ اور اگر ان کا بس چلتا تو وہ تجھے زمین سے دھکیل دیتے تاکہ اس سے آپ کو نکالتے اور پھر یہ بھی زندگی نہ گزارتے مگر تھوڑی۔ یہ سنت ہے جن کو ہم نے تم سے پہلے بھیجا اور ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے”۔

بنی اسرائیل کی آیت74تا77میں رکن جھکنے کو کہتے ہیں۔

دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
عذاب دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا مثل خلیل
فریب خوردہ منزل ہے کارواں ورنہ
زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل
نظر نہیں تو میرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتۂ ہائے خودی ہیں مثل تیغ اصیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
تیرے لئے ہے میرا شعلۂ نوا قندیل
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
کھلے جاتے ہیں اسرار نہانی
گیا دورِ حدیث لن ترانی
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قرآن عدل وتوازن سے وہ انقلاب پیدا کرتاہے کہ زمین میں انصاف ، برزخ اور آخرت کی بشارت ہو۔

اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے :
ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک وماکنت لدیھم اذ اجمعوا امرھم و ھم یمکرونOو ما اکثر الناس و لو حرصت بمؤمنینOو ماتسالھم علیہ من اجرٍ ان ھو الا ذکر للعالمینOوکاین من اٰیةٍ فی السماوات و الارض یمرون علیھا و ھم عنھا معرضونOومایؤمن اکثرھم باللہ الا و ھم مشرکونOافامنوا ان تأتھیم غاشة من عذاب اللہ او تأتھیم الساعة بغتةً و ھم لا یشعرونOقل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرةٍ انا ومن اتبعنی و سبحان اللہ و اما انا من المشرکینOوما ارسلنا من قبلک الا رجالًا نو حی الیھم من اھل القرٰی افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبة الذین من قبلھم ولدارالاٰخرة خیر للذین اتقوا افلا تعقلونOحتی اذا استیاس الرسل و ظنوا انھم  قد کذبوا جاھم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین

O(سورہ یوسف:102تا110)

” یہ غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم آپ کو وحی کرتے ہیں۔اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب انہوں نے میٹنگیں اپنا معاملہ نمٹانے کیلئے کررکھی تھیں اور سازش کررہے تھے۔اور اکثر لوگ مؤمن نہیں بنتے اگر چہ آپ کی چاہت ہو۔ اور آپ ان سے اس پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے ۔ یہ تو نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ۔ اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ایک نشانیاں ہیں جن سے یہ گزرتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں۔اور اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر وہ مشرک ہیں۔ کیا یہ امن پاچکے کہ ان پر کوئی گھیرنے والی آفت آئے یا اچانک انقلاب آئے اور انہیں خبر نہیں ہو۔ کہہ دو کہ یہ میرا راستہ ہے ۔اللہ کی طرف میں دعوت دیتا ہوں بصیرت کیساتھ میں اور جو میری اتباع کرے۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ اور ہم نے آپ سے پہلے کسی کو نہیں بھیجا مگر آدمیوں کو جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے بستیوں والوں میں سے ۔کیا یہ زمین میں نہیں گھومتے تو دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کا کیا حشر کیا۔ اور تقویٰ والوں کیلئے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ہو ۔یہاں تک جب رسول ناامید ہونے لگے اور گمان کیا کہ تحقیق ان سے جھوٹ کہا گیا ہماری مدد آئی تو ہم جس کو چاہیں نجات دیں اور ہماری سختی مجرموں سے ٹلنے والی نہیں ہے”۔

قرآن میں عالم انسانیت کیلئے یہ نقشہ ہے کہ اللہ اس وقت بھی تمہیں جانتا تھا کہ جب زمین سے تمہاری نشو و نما ہوئی تھی اور اس وقت بھی جب اپنی ماں کے پیٹ میں جنین تھے۔زمین سے نشو ونما کے بعد ، ماں کے پیٹ میں جنین سے پہلے عالم ارواح میں عہد الست کیا تھا؟اور کس طرح ایک خود مختار حیثیت سے اپنے لئے ایک کردار کا انتخاب کیا؟۔

یَسْــٴَـلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا(الاحزاب:63)

” آپ سے لوگ انقلاب کاوقت پوچھتے ہیں۔کہوکہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور تمہیں پتہ نہیں اورشاید کہ انقلاب کا وقت قریب ہے”۔(الاحزاب63)

فتح مکہ ہوا اور قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست ہوئی۔ حضرت عمر کے دور میں ایک بھاگا ہوا شخص اسلام لانے کیلئے واپس آیا۔ حضرت عمر نے غیر معمولی پروٹول دیا تو سب حیران تھے۔ اس نے کہا کہ میں نے نبیۖ سے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ عرب اپنے اجداد کے دین کو چھوڑ دیں اور یہ نیا دین قبول کرلیں۔اگر بالفرض یہ ہوا تو پھر دنیا کی بڑی طاقتوں کو شکست کیسے دیں گے؟۔ اور وہ بھی ہوگیا تو قبروں کے بعد قیا مت کے دن دوبارہ سب کا جمع ہونا کیسے ممکن ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا کہ پہلی دو چیزیں اپنی زندگی میں دیکھ لوگے۔ آخرت میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر بتاؤں گا کہ اب یقین آگیا۔ میں نے سوچا کہ دو باتیں ٹھیک ثابت ہوئی ہیں تو تیسری بھی ہوسکتی ہے اور اسلام قبول کرلیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ اس موقع پر میں موجود تھا اور میں نے سوچا کہ نبیۖ نے اس کا ہاتھ پکڑنا ہے اور اگر ہم سے نبیۖ کے بعد کوئی کوتاہی ہو تو یہ سفارش کرے گا۔

حضرت عمر نے حذیفہ بن یمان سے پوچھا کہ منافقین میں میرا نام تو نہیں ہے۔ حضرت عمر بہت سخت زخمی تھے اور موت کا وقت قریب تھا۔ حذیفہ نے کہا کہ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہرگز نہیں بتاتا کیونکہ یہ راز ہے۔پھر کہا کہ آپ نہیں ہو۔ حضرت عائشہ سے قبر کیلئے حجرے میں اجازت کیلئے عبداللہ بن عمر گئے۔حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے اپنا سوچا تھا لیکن عمر کیلئے اجازت ہے۔ حضرت عمر نے عبداللہ سے کہا کہ حذیفہ میرے جنازے میں شریک نہ ہو تو مجھے نبیۖ کے پاس دفن نہ کرنا اور شریک ہو تو حضرت عائشہ سے دوبارہ اجازت لینا، ممکن ہے کہ زندگی میں رعایت کرکے اجازت دی ہو پھر عبداللہ نے حذیفہ کی جنازے میں شرکت دیکھی اور حضرت عائشہ سے دوبارہ اجازت لی اور وہاں دفن کردیا گیا۔اسلام کی قربانی دینے والے یہ صحابہ کرام تھے۔ماشاء اللہ

اللہ تعالیٰ سورہ یوسف میں فرماتا ہے :
ان اللہ لعن الکافرین واعدلھم سعیرًاOخالدین فیھا ابدًا لایجدون ولیًا و لانصیرًاO…

” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے سختیاں تیار کرکھی ہیں ۔جس میں وہ ہمیشہ رہیںگے اور کوئی دوست اور مدد گار نہیں پائیں گے۔ جس دن ان کے چہرے ہم الٹیں گے آگ میں تو کہیںگے کہ اے کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے۔اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں اور بڑوں کی تو انہوں نے ہمیں راستے سے گمراہ کیا۔ اے ہمارے رب ان کو ڈبل عذاب دے اور ان پر لعنت کر بڑی لعنت۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی تو پھر اللہ نے اس کو بری کردیا جو وہ کہتے تھے اور اللہ کے نزدیک اس کا بڑا مقام تھا۔اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور بات کرو بات سیدھی۔ تو تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کئے جائیں گے۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ الاحزاب:64تا71)

انا عرضنا الامانة علی اسماوات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا و حملھا الانسان انہ کان ظلومًا جھولًاOلیعذب المنافقین و المنافقات و المشرکین و المشرکات و یتوب اللہ علی المؤمنین و المؤمنات و کان اللہ غفورًا رحیمًا
” بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کیا کہ اس کو اٹھائیں اور اس سے انہوں نے احتیاط بھرتی اور انسان نے اسے اٹھایا۔ بیشک وہ بڑا اندھیرے میں اور لاعلمی میں تھا۔ تاکہ عذاب دے منافقین اور منافقات کو اور مشرکین اور مشرکات کو اور توجہ دے مؤمنیں اور مؤمنات پر اور اللہ تو ہے ہی غفور رحیم”۔(سورة الاحزاب:73،74)

بالفرض ایک آدمی ایک فلم یا ڈرامہ تیار کرتا ہے ۔اداکار اور ادا کارائیں اپنی مرضی سے ہیرو یا ولن اور جس طرح کردار بھی چن لیں تو کون کتنی کامیابی سے کردار ادا کرتا ہے؟۔ اس میں انسان کے دل ودماغ کی کیفیات اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ نیک اور بد خواہشات اس کی ذاتی پراپرٹی ہوتی ہیں۔جس پر اس کو خدا کی طرف سے معاوضہ یا عتاب ملتا ہے۔ ایک شہید، ایک عالم اور ایک سخی کو اسلئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ اس نے اچھے کردار کی اداکاری کیلئے انتخاب کیا مگر اللہ کیلئے کچھ نہیں کمایا۔

بلکہ اس کی زیادہ اچھی مثال حکومت اور ریاست میں اپنی ذمہ داریوں کیلئے حلف اٹھانے والے لوگ ہوتے ہیںجن کے ساتھ اگر درست عدالت میں انصاف ہوجائے تو پھر ان کی دنیا میں ہی پکڑ بھی ہوگی۔ جب کچھ لوگوں کو کڑی سزائیں ملیں گی تو احتساب کیلئے قوانین ایسے بنائے جائیں گے کہ جتنی بڑی سے بڑی ذمہ داری ہو تو اس طرح گرفت کا شکنجہ بھی اس پر بہت ہی مضبوط اور فوری ہو تاکہ ایسی جگہ گھیرے میں نہیں آئے کہ اس کی پھر واپسی ممکن نہیں ہو۔ جب تمام جہانوں کا ایک منصوبہ تشکیل دیا جارہاتھا تو اللہ کی کائنات میں زمین کی مٹی سے کچھ بے چین روحوں نے کہا کہ ہم اس میں اپنا کردار ادا کرینگے جبکہ مٹی کی اس جرأت پر آسمانوں وزمین اور پہاڑوں کو حیرت بھی ہوئی اور حسرت بھی ۔چھوئی موئی کا پودا اور پھول قارئین نے دیکھا ہوگا یا نہیں؟۔جب اسکے پتوں کو ہاتھ لگایا جاتا ہے تو فوراً اپنی دفاعی نظام کے تحت بند ہوجاتے ہیں۔ پارکوں میں بچوں کے جھولے وغیرہ کیساتھ کہیں پر بیل بھی ہوتا ہے جس پر بیٹھا جائے اور نہیں گرا جائے تو انعام بھی ملتا ہے۔پشاور میں میرا بیٹا حمزہ چھوٹا تھا اور اس پر بیٹھنے کا چیلنج قبول کیا تو سب حیران تھے کہ کراچی کا بچہ بہت بہادر ہے لیکن لمحہ بھر میں اس کو گرا دیا تھا۔ پھر کراچی میں میرے چھوٹے بچے مقیم نے بڑی ضد کی اور بہر صورت بیٹھنا چاہتا تھا۔ بڑے بھائی ابوبکر نے بہت سمجھایا اور آخر میں جب پارک والے نے کہا کہ بڑے بھی نہیں بیٹھتے اور اتنے چھوٹے بچوں کی اجازت ہی نہیں تو بادل نخواستہ مان گیا۔

پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدے چلانے کیلئے پوڈری تک بھی تیار رہتے ہیں ۔ انسان کی فطرت میں امانت اٹھانے کا وہ جرثومہ ڈال دیا گیا ہے کہ مقناطیس کی طرح کشش رکھتا ہے۔

اذا الشعب یوما اراد الحیاة
فلا بد أن یستجیب القدر

جب ایک قوم زندگی کا ارادہ کرتی ہے تو پھر اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے کہ تقدیر بھی اس کی بات کو قبول کرلیتی ہے۔

جاوید غامدی کے استاذ امین اصلاحی، دادا استاذ حمید الدین فراہی ، پردادا استاذ شمس العلماء شبلی نعمانی، لکڑدادا شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد۔ جس نے انگریز کو پہلی مرتبہ قرآن کی تفسیر میں ”اولی الامر” قرار دیا ۔ سرسید احمد خان نے مخالفت کی تھی۔

شبلی نعمانی پہلے وکیل تھا، جب ناکام ہوا تو علیگڑھ میں ایک فارسی کا استاذ بھرتی ہوگیا۔ حمیدالدین فراہی کو خلافت عثمانیہ کو گرانے اور عرب اور انگریز کے درمیان ترجمانی کیلئے بھرتی کیا اور اس راز کو ہمیشہ پوشیدہ رکھا جو عرب اور انگریز میں مذاکرات اور معاہدات ہوئے تھے۔ فراہی کی نسبت جعل سازی تھی اور غامدی کی نسبت بھی جعل سازی ہے۔ البتہ اپنے شجرہ نسب کے ساتھ کس درجہ کا لگاؤ ہے؟۔ قرآن کی آیت سے خود ساختہ معنی نکال کر مسلمانوں پر قیامت تک مسلط کرنے کا مشن اپنا لیا۔

اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جاویداحمد غامدی کا کیا قصور ہے؟،وہ تو تقدیر کے آئینہ قرطاس میں لکھا جا چکا؟۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل قصور ہے اسلئے کہ پہلے بھی یہ انتخاب اس کا اپنا ہی تھا اور آج بھی اس کا یہ انتخاب اپنا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں کہتا ہے کہ عورت کی ایک عدت ہے اور اس عدت میں باہمی اصلاح اور معروف کی شرط پر رجوع ہے اور امام ابوحنیفہ کے مسلک میں اس آیت سے کوئی حدیث بھی متصادم ہو تو اس کو نہیں مانا جائے گا۔ آیت228البقرہ۔ جس میں رجوع کی گنجائش بھی ہے اور صلح نہیں ہو تو نہیں بھی ہے۔ جب عورت راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق اورحضرت علی نے حرام کے لفظ پر رجوع کا فیصلہ نہیں کیا۔ جبکہ اگلی آیت229میں بھی یہی دو صورتیں ہیں ۔ معروف کی شرط پر رجوع یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا۔ اگر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو پھر تفصیل ہے جس میں فدیہ کی صورت تک معاملہ پہنچتا ہے اور فدیہ تک معاملہ پہنچنے کے بعد یہ کنفرم ہوجاتا ہے کہ عورت اب کسی صورت رجوع نہیں چاہتی اور اس وضاحت کے بعد اللہ نے آیت230البقرہ میں حلالہ کا حکم واضح کیا ہے لیکن عورت راضی ہو تو آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف کی شرط پر رجوع کی اجازت ہے۔ حنفی مسلک میں آیت230کا تعلق آیت229کے خلع سے ہے۔ حنفی کے علاوہ کوئی دوسرا طبقہ اس لعنت میں ملوث بھی نہیں ہے۔

ایک پیر صاحب کو مرید نے چیک کرنے کیلئے پلیٹ میں گوشت چاول میں چھپا کر دیا تو وہ غصہ ہوا کہ میری توہین کی۔ مرید نے کہا کہ تم دور ازکار غیب کی باتیں بتاتے ہو اور پلیٹ کا پتہ نہیں چلا؟۔ بہت کھلایا پلایا مگر تم دلے، بے غیرت، بے حیا، بے شرم اور بے ضمیر آئندہ اپنی روزی روٹی کیلئے محنت مزدوری کرو۔اور یہاں نظر نہیں آؤ۔ لیکن پیر منتیں ترلے پر اتر آیا۔

جاویداحمد غامدی قرآن سے حضرت نوح علیہ اسلام کا بیٹا یافث تلاش کرسکتا ہے جس کی اولاد قیامت تک مسلمانوں پرہی حکومت کرے گی تو اس کو تھوڑا چیک کیا جائے کہ بقول حضرت مولانا مفتی منیب الرحمن مفتی اعظم پاکستان صدر تنظیم المدارس العربیہ پاکستان” جس کا کھاؤ اس کا گاؤ” پر عمل کرتا ہے یا پھر کھاتا مسلمانوں سے ہے اور کام ان کیلئے کرتا ہے؟۔ ہاہاہا

واذقلنا لک ان ربک احاط بالناس و ما جعللنا الرویا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القرآن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO

”اور جب ہم نے آپ سے کہہ دیا کہ کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔اور ہم نے نہیں بنایا اس خواب جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور شجرہ ملعونہ کو قرآن میں اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو وہ نہیں بڑھتے مگر بہت بڑی سرکشی میں”۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت:60) اللہ نے معراج میں پوری دنیا پر خلافت علی منہاج النبوت کے قیام کا خواب دکھایا جہاں تمام انبیاء کرام کو نماز کی امامت کرائی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ معراج بیداری میں ہوا یا خواب میں؟۔ خواب نصب العین کو بھی کہتے ہیں جو واضح ہے لیظہرہ علی الدین کلہ ”تاکہ تمام ادیان پر غالب آجائے”۔ جاویداحمد غامدی اپنے لکڑدادا کے مشن کا خواب آگے بڑھارہاہے۔ شمس العلماء اور امام مجتہد جو تمغہ مل جائے ،ناکامی ہی مقدر میں ہے۔انشاء اللہ

جب جاوید احمد غامدی نے قرآن سے تلک الایام نداولھا بین الناس کو اپنا خود ساختہ معنیٰ پہناکر حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافث کی اولاد کو قیامت تک اقتدار سونپنے کا فلسفہ گھڑدیا ہے تو اس کو غامدی کے بجائے یافثی کی طرف جانا چاہئے تھا۔ حمید الدین کا فراہی ہونا بھی عربوںکو دھوکہ تھا۔ حالانکہ قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے وہ مشرک اور مسلمانوں کے درمیان تھا۔ مشرکوں نے پہلے کوئی حکومت نہیں کی تھی لیکن ان کاظلم و ستم مسلمان سہہ چکے تھے۔ سورہ حدید کی آخری آیت میں بنی اسرائیل کے طاقتور ہونے کے بعد اورمسلمانوں پر مظالم کے بعد آیت کے ٹھوس مفہو م سے یہ اخذ کرنا چاہیے تھا کہ مسلمانوں پر بہت مظالم ہوچکے ہیں ان کی خلافت توڑ ی گئی اور مظالم کئے اب پھر اللہ حکومت دے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شاگرد علی قاضی گورنر بصرہ ابوالاسود الدولی اُمت کا بہت بڑا محسن

تبلیغی ڈانسر مہک ملک کا مولانا خرم کو پتہ چلا کہ سوشل میڈیا پر بہت فالورز ہیں تو ملنے کی خواہش ظاہر کی، ڈیرہ پر ملا تو مہک نے کہا کہ آپ ہوں توتبلیغ میں نکلتی ہوں ۔ مولانا نکلے تو پولیس وین کھڑی تھی ۔ ایک پولیس اہلکار مولانا کے محلے کا تھا۔ وہ دیکھ کر حیران ہوا کہ مسجد کا خطیب کہاں؟۔ پولیس نے کہا کہ اس شرط پر ہم جانے دیں گے کہ مہک ملک سے ہمیں بھی ملاؤ۔

نندور ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مولانا نے کہا کہ ” اگر عورت بچہ جن رہی ہو تو مواد نکلنے سے پہلے جتنا بچہ باہر نکلا ہو تو نماز پڑھنا فرض ہے”۔ ایک عورت نے کہا کہ ” تمہارے اندر مولی ڈالتی ہوں تو دیکھتی ہوں کیسے نماز پڑھتے ہو؟”۔

عربی گرائمر کے بانی خواجہ سرا تھے۔انگریزیG,I,Cکی مختلف آوازیں ہیں ۔ انگلش بغیر معانی ہوCatاورIceکا فرق کیاہے؟۔ انگریز کیلئے مشکل نہیں ۔ زبان سمجھے بغیر کیٹ (بلی) اور آئیس(برف) پر ثواب ملے تو تلفظ کا کیا ہوگا؟۔ مثلاًCکے اندر نقطہ تو کاف اور بغیر نقطہ سین پڑھا جائے۔GاورIپر نقاط مختلف آوازوں کی شناخت ہو۔ جن کو انگریزی نہیں آتی ہے تو حروف کی مختلف آوازوں کے قواعد لکھے ہوئے ہیں۔

جب اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پھیل گیا تو قرآن کو پڑھنا عجم کیلئے بڑا مسئلہ تھا۔ مثلاً حاجی کے لفظ کو ” حاحی” لکھتے تو بھی عربی ”حاجی ” پڑھتے مگر عجم ”خاخی، خاجی، جاحی اور حاخی پڑھتے۔ امام علی نے ابوالاسود الدولی کو عربی گرائمر کی تعلیم دی۔ اگر عربی پر اعراب و نقاط نہ ہوں تو عجم کیلئے ہی نہیں عرب کیلئے بھی مشکل ہوتی۔ خان عبدالغفار خان نے اپنی آپ بیتی میں لکھاہے کہ ” ہمیں علماء قاعدہ پڑھانے کے بجائے براہ راست قرآن پڑھاتے تھے۔موٹا ڈنڈا ہوتا تھا اور خوب مارتے تھے۔ جب میرا قرآن ختم ہوا تو والد نے بڑی دعوت رکھی تھی”۔

مفتی محمد امجد علی قادری ”تعارف امام ابوحنیفہ: بشارات و اقوال کی روشنی میں” لکھتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ کے مقام، شان، فضائل، مناقب پر مختلف احادیث رسول (ۖ) اور اقوال ائمہ کرام ، مفسرین ، محدثین ، اہل مذہب اور صوفیاء کرام نے بیان کئے ۔ دعائے مولائے کائنات شیرخدا رضی اللہ عنہ:

(1):اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت فرماتے ہیں کہ

حضرت ثابت بچپن میں حضرت علی المرضیٰ شیر خدا کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپنے ان کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے برکت کی دعا فرمائی ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا کی دعا کو ہمارے حق میں قبول فرمالیا ہے اور (اس کا نتیجہ حضرت امام ابوحنیفہ ہیں)

(11):حضرت سخی سلطان با ھو ارشاد فرماتے ہیں :

یادرہے کہ اصحاب کرام ۖ کے بعد فقر کی دولت دو حضرات نے پائی۔ ایک غوث صمدانی شاہ محی الدین عبدالقادر (قدس سرہ) اور دوسرے امام ابوحنیفہ کوفی جو ایک تارک دنیا صوفی تھے ۔ آپ نے ستر برس تک کوئی نماز قضا کی نہ روزہ۔ کیونکہ ان اعمال کی قضا بندے کو اہل دنیا کا ہم نشین بناتی ہے۔

(12):آپ مشکل سے مشکل مسئلے کو اتنی آسانی سے حل فرماتے کہ بڑے علماء حیران ہوجاتے،

کس قدر عقلمند تھے ؟ اس کا اندازہ امام شافعی کے اس فرمان سے لگا لیجئے کہ” عورتوں نے امام اعظم ابوحنیفہ سے زیادہ عقلمند شخص پیدا نہیں کیا”۔

اورنگزیب عالمگیر مغل بادشاہ کے دور میں ملاجیون نے یہ لکھا کہ ” امام ابوحنیفہ کے نزدیک عربی میںنماز پڑھنے پر قادر ہونے کے باوجود بھی فارسی میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے اور اس کی علماء نے ایک وجہ یہ لکھی ہے کہ امام ابوحنیفہ ایک بہت ہی بڑے اللہ والے تھے اور عربی کی خوبصورت قرآت سجاوت اور الفاظ کی بناؤٹ کو بندے اور اللہ کے درمیان مخل سمجھتے تھے جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ رسول اللہۖ نے فارسی پر تلفظ فرمایا ہے”۔

جب تک کوئی امام ابوحنیفہ کے مذہب کی بہتر تاول پیش نہیں کرتا تو مدارس کے نصاب تعلیم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

میرے بہت معتمد ساتھی منیر احمد عباسی نے خواب دیکھا:

”میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہوں اور بہت بڑا میدانی علاقہ ہے ،اس جگہ پرگھوڑوں پرلوگ جمع ہورہے ہیں جنگی سامان کیساتھ، پھر اچانک ایک شخص گھوڑے پر سوار پہنچتا ہے ،انکے بال لمبے تھے اور غالباً سفید رنگ کا عمامہ سر پرتھا ، ہاتھ میں تلوار تھی تو دوران میں نظر ایک اونچی دیوار پر پڑتی ہے اور میرے ذہن میں القا ہوتا ہے کہ یہ شخص حضرت علی ہیں ،یہ تقریبا14سو سال سے حالت جنگ میں ہیںاور وہ (حضرت علی) اور ان کا لشکر اس دیوار کے پاس آکر رک جاتا ہے۔ پھر جب میری آنکھ کھلی تو فجر کی آذان ہورہی تھی۔ منیراحمد عباسی کورنگی کراچی

جنگ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علی کے ساتھی ابوالاسودبعثت نبوی سے16سال پہلے پیدا ہوئے۔ بصرہ کے قاضی رہے اورپھر گورنر بنے۔ قرآن پر اعرب لگادئیے تو بغیر سمجھے قرآن پڑھنا آگیا ۔ امام ابوحنیفہ نے نماز بغیر سمجھے پڑھنے سے فارسی میں سمجھ کر پڑھنا بہتر قرار دیا۔ جس میں صراط الذی انعمتَ علیھم (تو نے انعام کیا)اور انعمتُ (میں نے انعام کیا) کا پتہ نہیں چلتا ۔جاہل یہ کفر بکتا تھا۔چوہدری افضل حق نے لکھا: ہماری مذہبی زبان عربی، سرکاری انگریزی ، قومی اردو، مادری اپنی اسلئے پسماندہ ہیں۔ اللہ نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر قوم کی زبان سے۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے لکھا کہ ” قرآن میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانا منع ہے یہاں تک کہ سمجھ میں آئے کہ کیا کہہ رہاہے لیکن جب معنی نہیں آتا ہو تو پھر عربی میں پڑھنے کے باوجود سمجھ نہیں آتا”۔

اورنگزیب بادشاہ کے دور میں ملاجیون نے ”نورالانوار” میں امام ا بوحنیفہ کے مسلک کا لکھا کہ عربی سے فارسی میں نماز پڑھنا بہتراورنگزیب کا پوتا محمد شاہ رنگیلا بالاخانے پر ننگی لڑکیوں کے سینے پکڑپکڑ کر سیڑھیاں چڑھتا۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا تو علماء نے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور خوف سے کئی سال روپوش رہنا پڑا۔

منیراحمد عباسی کے خواب کی تعبیر پاکستان ہے۔

ایرانی امام علی کے نام لیوا مگر پیروکار نہیں۔ افغان طالبان امام ابوحنیفہ کے دعوایدار مگر پیروکار نہیں۔ :

الذین یجتنبون کبائر الاثم و الفواحش الا اللم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذ انشأکم من الارض و اذ انتم اجنة فی بطون امھاتکم فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰیO

”وہ جو بڑے گناہوں اور فحاشی سے بچتے ہیںمگر …بیشک تیرا رب بہت ہی وسیع بخشش والا ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے جب تمہیں زمین سے نشوونما دی اور جب تم ماؤںکے پیٹ میں جنین تھے۔ پس تم اپنے آپ کو پاک مت سمجھو ، وہ تقویٰ کو زیادہ جانتا ہے”۔ (سورہ النجم آیت:32)

پشتو میں ”خو” استثناء کیلئے اور بے عیب کیلئے اور عربی میں ”الا”استثناء کیلئے ۔عربی لغت میں اللمم نہیں ۔ یہ لِمَ لِمَ لگتا ہے ۔ خواجہ سرا کو بچے چھیڑتے ہیں۔گھراور باہر عزت نہیں ۔ سرغنہ بدمعاش پناہ دینے کے عوض بدکاری کرواتا ہے، جنسی خواہش نہیںمگر جبری زیادتی۔ پولیس تشدد کرتی ہے۔ عورت مارچ میں ایک خواجہ سرا نے ”میرا جسم میری مرضی”کا پلے کارڈ اٹھایا تو مذاق بنایا ۔ گناہ صغیرہ کی تفسیرکی واسع المغفرةکا لفظ نفی کرتا ہے۔
سورہ فرقان میں شرک، قتل اور زنا کو سخت جرم قرار دیا لیکن توبہ اور اصلاح کے بعد گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کی بشارت ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم خصی نہ ہوجائیں؟ مگر نبیۖ نے منع کیاپھر ایک کپڑے پر عورت سے نکاح کی رخصت دی اور یہ آیت تلاوت فرمائی ” اے ایمان والو! حرام نہ کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اور حد سے تجاوز نہ کرو بیشک اللہ حدسے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” ۔المائدہ87صحیح بخاری کی اگلی روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایاکہ ”جو تمہارے ساتھ پیش آنے والا ہے اس پر قلم خشک ہوا ہے۔ ابن عباس نے کہا کہ سعادتمندوں کا مقدر لکھا جاچکا ہے”۔

مناظرہ ہواتوملحد نے خدا کو مانااور عالم ملحد بن گیا۔ مولانا احمد رضا خان نے بچپن میں خواتین سے پردہ کیلئے قمیص سے منہ چھپایا ۔شلوار نہ تھی اوزار دِکھ گئے۔سعودی عرب نے وہابی اسلام نافذ کیا اور ایران نے شیعہ۔ ایران نے متعہ جاری رکھا ، عورتوں کو پردہ کروایا۔سعودیہ نے شیعہ کی پیروی میں مسیار بلکہ شاہ ایران کی یاد تازہ کردی۔ ہمارے افغانی بھائی پھنس گئے۔

دین میں جبر،رسولوں کی تفریق نہیں ۔ علماء کو رب بنانا منع مگر سودی نظام کو اسلامی قرار دیاتو کیا باقی ہے؟۔ نبیۖ نے فرمایا: اگر جریج راہب سمجھدارعالم ہوتا توجانتا کہ ماں کی آواز کا جواب دینا اپنے رب کی عبادت سے بہترہے۔ (بخاری) علماء نے اس سے یہ مولی والا فقیہ مراد لیا ہے مگر سمجھدار مراد ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پختونوں کی موجودہ حالت اور اسکا حل:

میں کافی عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ پختونوں کو آنے والے اور موجودہ حالات کے حل کاتفصیلی مضمون میں سمجھانے کی کوشش کروں گا ۔ پختون اگر میری تجاویز پر عمل کرتے ہیں تو اگلے دس سالوں میں حالات کافی بدل چکے ہوںگے مگر ہم نے کافی محنت کرنی ہے اور آنے والی نسلوں کو کامیاب بنانا ہے ۔

سب سے پہلے سمجھ لیں کہ پشتون دنیا کی پہلی قوم نہیں جنہیں چین نصیب نہیں ہورہا اور مختلف دشمنوں کے نشانے پر ہے ۔ پہلے ہمارے بھائیوں آل یہود کیساتھ بھی یہی کچھ ہوا ۔ یہود کو ہر جگہ مار پڑ ی ۔ ہٹلر نے تو نسل کشی بھی شروع کی تھی۔یہودیوں اور ہم میں ایک مشترک صفت یہ بھی ہے کہ ایک جگہ آرام نہیں آتا اور قبضہ بڑھانے کی تاک میں رہتے ہیں ۔انسانی بقا کیلئے یہ ضروری ہے ۔ دنیا میں صرف طاقتور سروائیوو کرسکتا ہے ۔ پختون کا ایک صدی پہلے تک دنیا میں ایک نام تھا، ہم طاقتور تھے ۔ مگر پھر وقت بدل گیا ۔ دنیا میں کامیابی کا دارومدار ٹیکنالوجی ، اقتصاد اور تعلیم کی بنیاد پر ہونے لگا ۔ آل یہود یہ بات سمجھ گئے تھے ۔ اسلئے انہوں نے ہر ظلم کا سامنا کیا مگر خاموشی کیساتھ اپنے اقتصاد اور عصری علوم پر توجہ دینے لگے ۔کاروباری دنیا پر یہ راج کرنے لگے ۔ اپنے لئے الگ ملک بنایا اور عصری علوم کی بنیاد پر ایٹم بم بھی بنایا ۔ آج تھوڑی سی آبادی کے باوجود بھی سارے عرب ممالک بشمول پاکستان ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ۔

ہمارے حریفوں کو خدشہ تھا کہ پشتون عصری علوم اور اسلحہ سازی کے میدان میں اترے تو پورے خطے کوبدل سکتے ہیں، یوں مولویوں کی صورت میں ایک فتنہ ہم پر مسلط کیا ۔ ان کا کام پختونوں کو الجھانا تھا کہ گانڈ کس ہاتھ سے دھونا ہے ، استنجاء کا صحیح طریقہ کار کیا ہے ، ہمبستری کا اسلامی طریقہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی ان مولویوں نے پشتون قوم کو یہ بھی سمجھایا کہ عصری علوم تو صرف نوکری یا ہنر کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ اصل علم تو قدوری و شروط الصلاة پڑھنا ہے اور ہم نے اگر آگے بڑھنا ہے تو صرف اسلامی علوم پر توجہ دیں ۔ عصری علوم فتنہ ہے ۔

یوں ہم سو سال پیچھے چلے گئے ۔ بدقسمتی سے جو مولوی حضرات یہ کہتے ہیں ان کی اکثریت کے بچے آج اعلی یونیورسٹیوں میں ہیں ۔ اسلامی احکامات کے مطابق ہر مسلمان پر اتنا علم فرض ہے کہ انہیں حرام و حلال کی تمیز ہو اور روزمرہ زندگی گزارنے میں کام آئے ۔ لیکن مولویوں کے مطابق آپ نے آٹھ سال تک مدرسے میں وہ کتابیں پڑھنی ہیں جن کا وجود پیغمبرۖ کے دور میں تھا ہی نہیں ۔

افغان طالبان حکومت قائم ہوئی تو کابل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کیلئے افغان حکومت کے پاس انجینئرز ہی نہ تھے ۔ یوں قطری انجینئرز نے ائیرپورٹ کو بحال کیا ۔ ہم نے اگر دنیا میں نام کمانا ہے ۔ طاقتور بننا ہے تو مذہبی ہونے کیساتھ عصری علوم پر توجہ دینا ہے ۔ ورنہ ہم مار کھاتے رہیں گے ۔ کچھ لوگ شکوہ کریں گے کہ تعلیم کے مواقع نہیں ۔ عرض ہے کہ افغانستان میں تو پختون نمائندہ حکومت ہے۔وہ عصری علوم کو مباح کہہ رہے ہیں تو پنجابیوں سے تو گلہ کا حق ہی نہیں بنتا ، باقی تعلیم میں فی الحال کہیں پر بھی رکاوٹ نہیں، اگر آپ بہانے بازی کریں تو الگ بات ہے ۔

ہمارا تعلیمی نظام یہودی سٹینڈرڈ کا نہیں مگر فی الحال اسی سے کام چلاؤ ۔آل یہود میں ہر مرد ، عورت و بچے پر مخصوص وقت تک فوجی ٹریننگ اور فوج میں سروس قانونا لاگو ہے ۔خالصتا یہودی طرز پر بچوں کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دیں ۔ تعلیم کیساتھ ہتھیاروں کی ٹریننگ انتہائی ضروری ہے مگر ہتھیار صرف دشمن کیخلاف استعمال کرنا ہے، بھائی ، بھتیجے یا تربور کیخلاف نہیں۔

تیسرا کام آل یہود نے یہ کیا کہ پیسہ سے دنیا کو کنٹرول کیا ۔ نارکوٹکس سے پیسہ اکھٹا کریں یا کسی بھی غیر قانونی کام سے مگر کوشش کریں کہ کاروباری دنیا میں ہماری اجارہ داری قائم ہو۔ کراچی میں دو افغان لڑے۔ ایک غریب ،دوسرا امیر ۔ امیر افغان نے زیادتی بھی کی تھی مگر( رینجرز نیم فوج ادارے )نے دولتمند افغانی کی طرف داری کی، غریب افغانی کی پھینٹی لگائی ۔ مضبوط اقتصاد طاقت کی کنجی ہے۔ پشتون قوم ڈیرنگ نسل ہے یعنی جو کام دوسرے نہیں کرسکتے وہ ہم کرسکتے ہیں اسلئے کوشش کریں پیسہ بنائیں ، اپنی اقتصاد کو مضبوط بنائیں ۔ اگر کوئی آپ سے زیادہ طاقتور ہے تو ان کو پیسوں کے ذریعے خریدیں۔

چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ کم بچے پیدا کرنے ہیں مگر باصلاحیت اور صحت مند بچے ۔ دس بے روزگار بچوں کو پیدا کرنے کی جگہ دو باصلاحیت اور قابل بچے پیدا کرنا ضروری ہے پنجاب سے اگر ہماری آبادی کم بھی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ۔ باصلاحیت ، لڑاکو اور طاقتور ہونگے تو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔

پانچواں یہ کہ ملیشے یا فوج میں بھرتی نہ ہوں۔ چھوٹے موٹے کاروبار اور فیکٹریوں پر توجہ دیں ۔ پختونوں کی ایک تنظیم ہونی چاہیے جو پوری دنیا میں پختونوں کیلئے کاروبار کے مواقع فراہم کریں ۔ فوج میں صرف لیفٹنینٹ اور آفیسر بھرتی ہونگے۔ سپاہی کے طور پر بھرتی ہونے سے گریز کریں گے ۔

چھٹا کام ہم نے یہ کرنا ہے کہ پاکستان میں جتنی مسلح تنظیمیں ہیں ، انکے اوپر خاموشی اختیار کرنی ہے ۔ کسی کیساتھ پنگا نہیں لینا ہے ۔ صرف تعلیم اور اقتصاد پر توجہ دینی ہے ۔۔ اپنے بچوں کو برگر بچے ، یا بزدل بنانے کی بجائے انہیں لڑنا بھی سکھائیں مگر آل یہود کی طرح مضبوط اعصاب کے بچے پیدا کریں ۔

آپ کے گھر میں آئن سٹائن تو پیدا ہونے سے رہا ۔ اگر آپ نے دس بچے پیدا کئے ہیں اور سب کے سب مزدوری میں جھونک دئے ہیں ۔مزدور شخص کو اپنے دو وقت کی روٹی کی فکر ہوتی ہے ۔ آپ ان سے عقل و شعور کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔

آپ کے سامنے رکاوٹیں آئے گی لیکن میری ان باتوں پر عمل کرتے ہوئے انشا اللہ اگلے دس سالوں میں ہم بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں ہم پختونوں کو بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ دیوار سے لگانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ بہتر ہے کہ ہم جذباتی فیصلوں کی بجائے عقل و شعور کا راستہ اختیار کریں ۔
وماعلینا الالبلاغ المبین احمد حسین طوری حفظہ اللہ

عبدالغفار خان کے بڑے بھائی عبدالجبار ڈاکٹر خان پیدائش1882ء ۔ اعلیٰ طبی تعلیم لندن سے۔ برطانوی ہند کی فوج میں بھرتی ۔ سبکدوش ہوکر میڈیکل کی پریکٹس شروع کی1930ء میں سیاست میں حصہ لینا1931ء سے1934ء تک جیل کاٹی۔1937ء میں صاحبزدہ عبدالقیوم کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیالیکن تحریک عدم اعتماد کے بعد ڈاکٹر خان منتخب ہوگئے۔ کانگریس کے فیصلے پر پھرمستعفی ہوگئے ۔ پھر دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ قیام پاکستان کے بعد حکومت بر طرف کردی گئی ۔6سال تک ہزارہ میں نظربند رکھا گیا۔1954ء میں مرکزی کابینہ میں لیا گیا۔ وزارت مواصلات کا قلمدان دیا گیا۔ اکتوبر1955ء میں مغربی پاکستان کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔1957ء میں برطرف کیا گیا۔

خان عبدالغفار خان بڑے خان سیف اللہ خان کے بیٹے تھے جس نے بونیر پر قبضہ کیخلاف انگریز سے جنگ لڑی تھی۔ دادا کو اپنی قوم سے وفاداری کی وجہ سے افغانستان کے درانیوں نے حکومت میں ہونے کی وجہ سے پھانسی دی تھی۔ قوم کوتاریخ و حقائق اور مذہب کے اصل رنگ دکھائیں تو اعتدال آئے گا۔

رکھیو غالب اس تلخ نوائی میں مجھے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
٭٭٭

اوٹ پٹانگ
کانوں کی اک نگری دیکھی جس میں سارے کانے دیکھے
ایک طرف سے احمق سارے ایک طرف سے سیانے دیکھے
کانوں کی اس نگری کے سب ریت رواج علیحدہ تھے
روگ علیحدہ بستی میں تھے اور علاج علیحدہ بستی میں تھے
دو دو کانے مل کر پورا سپنا دیکھا کرتے تھے
گنگا کے سنگم سے کانے جمنا دیکھا کرتے تھے
چاندنی رات میں چھتری لے کر باہر جایا کرتے تھے
اوس گرے تو کہتے ہیں واں سر پھٹ جایا کرتے تھے
دریا پل پر چلتا تھا پانی میں ریلیں چلتی تھیں
لنگوروں کی دُم پر انگوروں کی بیلیں پکتی تھیں
چھوت کی ایک بیماری پھیلی ایک دفعہ ان کے کانوں میں
بھوکے کیڑے سنتے ہیں نکلے گندم کے دانوں میں
روز کئی کانے بیچارے مرتے تھے بیماری میں
کہتے تھے راجا سوتا تھا سونے کی الماری میں
گھنٹی باندھ کے چوہے جب بلی سے دوڑ لگاتے تھے
پیٹ پہ دونوں ہاتھ بجا کر سب قوالی گاتے تھے
تب کانی بھینس نے پھول پھلا کر چھیڑا بین کا باجا
اور کالا چشمہ پہن کے سنگاسن پر آیا راجا
دکھ سے چشمے کی دونوں ہی آنکھیں پانی پانی تھیں
دیکھا اس نے کانا راجا کی دونوں آنکھیں کانی تھیں
جھوٹا ہے جو اندھوں میں کانا راجا ہے کہتا ہے
جاکر دیکھو کانی نگری اندھا راجا رہتا ہے
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پشتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات

شتون، افغان اور پٹھان کی حیران کن تاریخ شجرہ کہاں سے آیا؟۔بریگیڈئیر (ر) ہارون کے چونکا دینے والے انکشافات

1857 ء کے غدار خان اور نواب تھے محمود جان بابر کا یہ انٹرویو مثبت رحجان پیدا کرسکتا ہے لیکن تفصیلات عوام کے سامنے لائیں مزید

محمود جان: وقتا فوقتا ہم ایسی شخصیات سے ملتے ہیں جن کے پاس معلومات، احساسات اور ان کی آپ بیتیاں ہوتی ہیں۔ یہ خزانے اس لیے لائے جاتے ہیں تاکہ آپ انہیں دیکھیں اور آپ کو معلوم ہو کہ آج ہم جس حالت میں ہیں، یہ پاکستان جو بچا ہوا ہے، آخر کن لوگوں کی وجہ سے بچا ہے۔ جی سر، شکریہ۔

پٹھانوں کی تاریخ کے حوالے سے، اور آپ کی تحقیق کے حوالے سے، بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں سنی ہیں۔ یہ کام کیسے شروع ہوا جناب؟
ہارون الرشید: یہ کام1987میں شروع ہوا۔ اسلام آباد ایک سیمینار میں شریک ہوا جو کشمیر کی جنگ1947-48کے بارے میں تھا۔ بہت سارے مقرر اور بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ تقریباً سب نے برا بھلا کہا کہ اگر پٹھان کشمیر نہ آتے تو ہم سری نگر بھی فتح کر لیتے، ہم لداخ بھی پہنچ جاتے۔واقعی مجھے بہت حیرت ہوئی۔میں نے سوچا، کیا واقعی ہم اس طرح کے تھے؟۔

نامور صحافی محمود جان بابر: کیا وہ کشمیری تھے؟۔
جواب: نہیں۔ بولنے والے عام لوگ نہیں تھے۔ یہ چانسلر تھے۔سندھ اور پنجاب سے بڑے سینئر اور پڑھے لکھے لوگ تھے۔اس پر مجھے شدید احساس ہوا کہ یہ کیا بات ہے؟کیا واقعی ہم ایسے تھے؟۔میں واپس آیا اور اپنے بڑے بھائی ریٹائرڈ جرنل سے کہا کہ میں نے تو اپنے بڑوں سے یہ سنا ہے کہ آج آزاد کشمیر ہے، تو پٹھانوں نے آزاد کروایا۔لیکن وہاں جا کر ہمیں گالیاں دی جا رہی ہیں۔

سوال: یہ بات ہم نے خود کشمیریوں سے بھی سنی ہے۔
جواب: کشمیری خود کہہ رہے تھے کہ یہ کام پٹھانوں نے کیا ۔میرے بھائی نے مجھے مشورہ دیا کہ اس لڑائی میں جو پٹھان شہید ہوئے ، ان کو تلاش کرو۔وہ پٹھان جو بطور مجاہد اور لڑاکا، قبائلی آئے ۔ شہداء کے ناموں کی لسٹ ایک کتاب تیار کرو۔ میں نے کتابیں دیکھیں محسوس ہوا کہ پٹھانوں کی تاریخ مکمل نہیں ۔وہcomprehensiveنہ تھی۔ہر ایک نے اپنے قبیلے کے بارے میں لکھا وہ بھی بہتmediocreانداز میں۔ سرسری باتیں تھیں،shallowقسم کی گفتگو تھی۔میرا ارادہ تھا کہ اس کام کو زیادہ ایڈوانس سطح پر لے جاؤں۔ بہتomprehensiveشکل میں پیش کروں۔Research methodologyکے ذریعے۔اسلیے میں نے میں نےarchives visitکیے۔Peshawar Archive،Quetta Archive،Islamabad Archive۔کیبنٹ ڈیویژن سیکریٹری صاحبزادہ امتیاز سے درخواست کی اصل حقیقت چاہیے۔انہوں نے اس طرح مدد کی کہ لندن میں ہماری انڈین آفس لائبریری کی مائیکرو فلم منگوائیں۔ان مائکرو فلمز کی مالیت کروڑوں میں تھی۔ انہوں نے کیبنٹ ڈویژن میں نیشنل ڈاکیومینٹیشن سینٹر بنایا، وہاں سے میں نے معلومات حاصل کی۔میں نےgazetteers، ہماری جتنی پرانی کتابیں تھیں، افغان میگزین دیکھے۔Gazetteersمیں وہ تمام خطوط ہیں جو ایکدوسرے کو لکھے گئے ۔ کچھgazetteersمیں اس وقت کی خاندانی ہسٹری ،کچھ میں قبائلی ہسٹری ہے۔ہر ضلع کا الگgazetteerہے اور ان کی دو تین اقسام ہیں۔پھر ان کی سپلیمنٹ رپورٹس ہیں۔ سپلیمنٹ رپورٹس سے کسی قبیلے کے بارے میں بہت اندر کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

سوال: میں آپ کی ریسرچ کے ذرائع بھی ساتھ ساتھ سمجھنا چاہ رہا ہوں؟۔
جواب: انگریزوں کی جو یہاں موجودگی رہی ،1848کے بعد، انہوں نے بہت اچھی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔بطور مثال ایک ہیںDoctor Bell۔
Doctor Bell first Afghan war میں گئے تھے، جو1839سے1842تک ہوئی۔وہdoctorلیکن وہ جوان کیپٹن بھی تھے۔قندھار میں جو بادشاہ کی بہت اچھی لائبریری تھی، انہوں نے وہاں سے ساری کتابیں اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیں انہوں نے پٹھانوں پر چھ کتابیں لکھیں۔
Races of Afghanistan اور اسی نوعیت کی دوسری مختلف کتابیں مشہور انگریز مصنفین نے لکھی ہیں۔ ان سب کی ایسی کتابیں ہیں جو بڑی محنت سے لکھی گئی ہیں۔اور ان میں آپ کو سچ نظر آتا ہے۔

سوال: کہتے ہیں انگریز نے ہماری تاریخ کو مسخ کیا، تعصب کے ساتھ لکھا۔
جواب: انگریزوں کی بہت سی کتابوں میں پٹھانوں کی تعریف بھی دیکھی۔ یہ الگ ہے کہ جب ہمارے لوگ انکے غلام بن گئے،چند فیملیاں جن کو انہوں نے نواب بنایا، خان بہادربنایا،ان خاندانوں کے بارے میں انہوں نے غلط باتیں لکھی ہیں۔لیکن پٹھانوں کے بارے میں مجموعی طور پر غلط باتیں نہیں لکھیں۔

سوال: پٹھانوں کے بارے میں نہیں، مخصوص خاندانوں کے بارے میں؟
جواب: جی ہاں، بالکل۔ ایک مثال دیتا ہوں1857کی جنگ شروع ہوئی تو پشاور میں چار انگریز افسر تھے۔Edwards،Nicholson،اور دو اور افسر تھے۔Edwardsکا نام آج اسی کے نام پر ہے۔ان چاروں کوGovernor General، جو لاہور میں تھا، نےorderدیا کہ آپ لوگwithdrawکریں۔Edwardsنے کہا کہ نہیں کرتا۔اس نے وہ صوبیدار میجرز کو، جو باغی پلٹنیںتھیں،ان کو چوک میں پھانسی دے دی۔اس کے بعد جتنے بھی خان تھے،وہ سب اس کے پاس حاضر ہو گئے۔انہوں نے کہا:ہم حاضر ہیں، ہمیں حکم دیں، ہمیں حکم دیں۔اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے،جو آج شیشے میں پڑی ہوئی ہےarchivesمیں،وہ لکھتا ہے:
Now the Khanzadas, the Wazirzadas, the Nawabzadas they are waiting outside and they want to be enrolled.
پھر اس نے ان تمام لوگوں کی تفصیل لکھی جو اس قسم کے تھے۔اس بات سے واقعی میرے دل میں درد تھاجبکہ اصل پٹھانوں کی تاریخ پہلے تو اتنی مسخ نہ تھی لیکن اب لوگ اسے مسخ اور غلط باتیں شامل کر رہے ہیں۔ دس سال صرف مواد کے حصول پر لگائے۔ جتنی پرانی کتابیں تھیں،ہر والیم پر میں نے ہزارannotationsدی ہیں ہر صفحے پرannotationsہیں۔یعنی ایک کتاب میں ہزارannotationsہوں گی،جن میں میں نے واضح کیا ہے کہ اس کا کیا مطلب تھا،یہ کیوں ہوا تھا۔

سوال: آپ نے دس کتابیں لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟۔
جواب: جب میں نے مواد کا حصول کر لیااور تقسیم کیا،تو میں نے دیکھا کہ یہ بنیادی طور پر دس والیم بن رہے ہیں۔ہر صفحے پر حوالہ ،صفحہ نمبر دیا ہے،کتاب کا نامbibliographyمیں دیا ہے۔میں نے چار چار انڈکس بنائے ہیں۔

سوال: یہ تو میں اسلئے مانتا ہوں کہ جب کتاب کیauthenticityکی بات آتی ہے،تو میں نے امریکہ میں لوگوں سے سنا،میں نےEnglandمیں لوگوں سے سنا،وہ لوگ کسی کتاب کا حوالہ اس وقت تک نہیں دیتے۔
جواب: یہ کتاب پبلش ہوئے ایک مہینہ ہوا تھا،یہ2002کی بات ہے، مجھے امریکہ سے فون آیا۔وہ عورت جو بات کر رہی تھی،وہ چیئر پرسن تھی
Strategic Studies of America
کی۔اس نے کہاکہ وہ کوہاٹ آنا چاہتی ہیں اس کتاب کیلئے۔ اسی وقت War onTerrorبھی ابھی ابھی شروع ہوئی تھی۔اس وقت دھماکے ہو رہے تھے۔میں نے ہوم سیکریٹری سے بات کی ۔ انہوں نے کہا:Nothing doing، ہم اجازت نہیں دے سکتے۔میں نے اس خاتون کو کہاکہ آپ نہیں آ سکتیں،security problem ہے۔اس پر اس خاتون نے کہا:
This is none of your job. My government will look after me.
اور وہ آ گئیں۔وہ کوہاٹ آنا چاہتی تھیں،ہم نے پشاورمیں روک لیا، ہمارا سفیر ساتھ تھا۔پھر نیویارک سے ایک عورت آگئی، ناروے سے ایک عورت آئی وہ سب میرے گھر اس کتاب کیلئے ٹھہریں ۔
واجپائی مشرف کے دور میں یہاں آئے تو ساتھ تین چار لوگ آئے تھے، انہوں نے پہلے ہی کسی ذریعے سے مطلع کیا تھاکہ وہ مجھ سے اس کتاب کیلئے ملنا چاہتے ہیں۔وہ بھارت سے آئے تھے۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اس کتاب کو والیم کے لحاظ سے بڑا نہ سمجھیں۔
This is when you and you find references at every start reading it point
میں نے ہرfamilyکو اس میں شامل کیا ہے۔
I have not left a single group۔

سوال:یہ کتاب اب دنیا میں کس طرح دیکھی جاتی ہے؟سر، یہ واقعی بہترین کام ہے۔پوری دنیا میں لوگ اس کتاب کو مانتے ہیں۔وہ اسے پڑھتے ہیں،خاص طور پر پختونوں کو سمجھنے کیلئے اسی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ آپ نے پختون اور افغان کو الگ الگ کیا ہے۔یہ کیسے؟۔
جواب: اصل میں،ایکraceکوdescribeکرنے کیلئے ہم دو طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ایکlegendaryطریقہ ہے،جو ماں باپ دادا، پردادا سے سنتے آئے ہیں۔دوسرا سائنٹفک طریقہ ہے۔ہم نے دونوں طریقوں سے پٹھان اور افغان کو الگ ثابت کیا ۔Legendaryطریقے میں ہم وہی باتیں کرتے آئے ہیںجو کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کاکوئیdemonstrative proofنہیں ۔ یہ باتیں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہیں۔ ہم طالوت علیہ السلام کو جد امجد مانتے ہیںافغانوں کا بھی۔ طالوت کے دو بیٹے تھے، ارقیا اور ارمیا۔ارقیا کا بیٹا آصف،ارمیا کا بیٹا افغان ۔ بخت نصر کا ظلم شروع ہوا،یا یہودیوں پر ظلم ہوا،تو افغان بھاگ کر افغانستان غور میں آباد ہو گیا۔ ارقیا کا بیٹا آصف حجاز گیا۔ اولاد میں خالد بن ولید بنی آصف بنے۔ ادھر جو افغان تھا، قیس عبدالرشد طالوت علیہ السلام سے37ویںنسل میں آتا ہے۔ قیس عبدالرشید کے3بیٹے تھے:سرنن، غرغشت اور بیٹن۔ سرنن بڑی قوم ہے اس میں چھ سات قبائل ہیں، درانی، شیرانی، ترین یہ سب اس میں آتے ہیں۔

اور اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام متو تھا۔متو کا خاوند ترک تھا، لیکن اسے قیس نے پالا تھا۔ اسی خاندان میں اس کی شادی ہو گئی۔اس سے نیازی، لودھی اور دوسرے لوگ پیدا ہوئے جن کو ہم تھوڑا سا کم سمجھتے ہیں۔پٹھانوںکے بڑوں نے انہیں قبول کیاکہ ہم انہیںhalf Pathanمان لیتے ہیں۔لیکن جو آج کے پٹھان ہیں،وہ اسlegendaryشجرے میں نہیں آتے۔ پٹھانوں کا شجرہ کران سے بنتا ہے۔ کران کون تھا؟اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ افغانستان کے علاقے میںجہاں قیس عبدالرشید رکے رہتے تھے،ان کا ایک پوتا تھا عبداللہ اُرمڑ۔اسے ایک جگہ ایک بچہ ملا جہاں پر ایک قافلہ رات کو رکا تھا، اور ان کا ایک بچہ گم ہو گیا تھا۔وہ شیر خوارتھا۔اس کا نام کران رکھا۔ قیس عبدالرشید نے اس بچے کو پالا اور اپنے خاندان میں اس کی شادی کر دی۔ اس کی اولاد کوپٹھان کہا جاتا ہے۔ اس لیے پٹھانوں کا یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یہlegendaryروایت ہے۔اب سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

سائنسی تحقیق اور جدید مصنف یہ کہتے ہیں کہ افغانوں کاnucleusان کاSemiticہے۔ لیکن ان کےperipheralعلاقوں میںدوسرے قبائل شامل ہوتے گئے۔افغانوں کے بارے میںماڈرن مصنف کہتے ہیں کہ گندھارا کے علاقے میںAryansآئے ہیں انڈو پاک میں۔ ان کے چار قبائل اس علاقے میں رہ گئے جو آج پاکستان کی طرف ہے۔ گندھارا،پشاور، تیرہ ویلی اورDeadshiوہ نارتھ میں تھی۔ جو گندھاری تھے وہ آباد تھے پشاور کی وادی میں۔یہ پانچویں صدی عیسوی کی بات ہے۔اس زمانے میںWhite Hunsآئے۔White Hunsکون تھے اور ان کا مذہب کیا تھا؟ ان کا مذہبMagian religionتھایہ بدھ مت مذہب تھا۔ اس وقت بدھ مت اس پورے علاقے میں بہت پھیلا ہوا تھا۔ بامیان کے بڑے مجسمے بھی بدھ مت کے تھے۔ان کوWhite Hunsنے یہاں سےshiftکیا۔یہ لوگ ہلمند دریا کے کنارے چلے گئے،اور وہاں انہوں نے اپنیsettlementبنا لی۔ انہوں نے اپنی نئی بستی کا نام گندھار رکھا، جو بعد میں قندھار کہلایا۔ ان کے پاس ایک پیالہ تھا جو بارہ فٹ قطر کا تھا اور وہ پتھر میں چٹان کاٹ کر بنایا گیا تھاکہا جاتا ہے کہ اس میں گوتم بدھ نے غسل کیا تھا۔ یہ ان کیلئے مقدس تھا۔وہ ہاتھیوں پر رکھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔یہ آج کابل کے میوزیم میں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب اس کے اندر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے۔ جب یہ لوگ وہاں گئے تو اس علاقے میںافغان پہلے سے آباد تھے۔ شروع میںدو تین سو سال تک ان کا آپس میں کوئی ملاپ نہیں ہوا۔ بعد میں ان کا ملاپ شروع ہوا۔ پشتو زبانAryanتھی۔ یہEast Iranian languageتھی، یعنی قدیم فارسی سے جڑی ہوئی۔ میں نے اس پر ایک ٹیبل بنائی ہے۔ اگر آپ اس کی فوٹو بھیج دیںتو میں آپ کو دے سکتا ہوں۔ جب انکا آپس میں ملنا جلنا ہوا تو گندھاری مسلمان ہو گئے۔انہوں نے اپنی زبان افغانوں کو دے دی۔اس طرح پشتو وہاں منتقل ہو گئی۔اس میں جو شادیاں ہوئیں تو باپ افغان ہے اور ماں گندھاری ہے تو وہ سیکنڈ کلاس افغان کہلاتا ہے۔اس میں یوسفزئی، خلیل، مہمند اور کئی دوسرے قبائل آتے ہیں۔جہاں پہ باپ اور ماں دونوں افغان ہیں وہ فرسٹ کلاس ہے اور اس میں درانی، شیرانی اور ترین یہ اس میں آتے ہیں۔

سوال:یہ لوگوں کو جب پتا چلے گا اور آپ یہ باتیں کرتے ہیں تو کوئی ناراضگی کسی نے کبھی کسی نے کانٹیسٹ کیا کسی نے ؟۔ چیلنج کیا کسی نے ؟۔
جواب: چیلنج آج تک کسی نے نہیں کیا ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں جو میں خود ڈر رہا تھا اور مجھے بڑے لوگوں نے کہا تھا کہ اس طرح مت لکھنا۔ میں نے خوشحال خان خٹک کے خلاف لکھا، خٹک نے جرگہ کیا میرے برادر اِن لا تھے جان بیکری والے امجد۔ تو اس کے پاس گئے کہ یار اس کو منع کرو کہ یہ بات لکھ رہا ہے تو میں نے کہا کہ میں اپنی طرف سے نہیں لکھوں گا جو خوشحال خان خٹک نے خود کہا ہے میں وہ کوڈکروں گا، جو افضل خان خٹک نے لکھا ہے میں اس کو کوڈکروں گا۔ ایک اعتراض کیا ڈان اخبار میں ایک کوئی رائٹر تھا کہ پٹھان بہت ہی گندے لوگ ہیں اور انہوں نے بڑا پنجاب میں ہم لوگوں کو مارا ہے احمد شاہ ابدالی کو کہا انہوں نے۔ پشاور کے کچھ ڈاکٹر وغیرہ نے مجھے فون کیا اس کا جواب دو۔ میں نے پورے ڈان کے پیج کا جواب دیا اور میں نے اس کو یہ کہا کہ میں اپنی پٹھان والی آتھر کی کتاب سے کوڈ نہیں کروں گا جو پنجابیوں نے میرے پٹھانوں کے بارے میں لکھا ہے میں وہ کوڈ کروں گا۔ اور یہ اس کو دیکھ کے بلوچ والوں نے لکھا کہ جی پٹھانوں نے ہم کو مارا ہے اور بڑے خراب لوگ ہیں اس کا جواب بھی میں نے دیا کہ میں بلوچ کی کتاب سے آپ کو کوڈ کروں گا پھر تیسرا آیا پھر چوتھا آیا وہ انکاؤنٹر شروع ہو گیا ڈان اخبار میں۔ ہم پھر آسٹریلیا سے کسی نے لکھا کہ یار اس نے ساری باتیں بتا دی ہیں ابھی اس کا پیچھا چھوڑو وہ تب ختم ہوا۔

سوال: ٹھیک ہے کانٹیسٹ بھی ختم ہوا چیلنج جو کیا وہ بھی ناکام ہوئے آپ نان پختونز کو کیسے ڈیفائن کرتے ہیں ؟۔
جواب: یہ بات میرے لیے مشکل تھی لیکن ایک ریس جو ہے نا ریس جینیٹک ہوتی ہے
it isnot acquired
ہمacquiredچیز جینز میں نہیں جاتی۔ ایک انگریز پشتو بول رہا ہے وہ پٹھان تو نہیں بن سکتا، سید کا یہ شجرہ ہے تو وہ پٹھان نہیں ہو سکتا۔ گنڈاپور ، سواتی وہ پٹھان نہیں، پشتو بولتے ہیں پٹھان کا لفظ جو ہے نا یہ عام نام ہے۔ جو آدمی پٹھان کے علاقے میں رہ رہا ہے وہ اپنے کو پٹھان کہہ سکتا ہے جو پشتو زبان بول رہا ہے وہ کہہ سکتا ہے جو پٹھانوں کے ساتھ اس کا ریلیشن شپ ہے چاہے وہ پنجاب کا ہو کچھ بھی ہو ادھر رہ رہا ہے وہ کہہ سکتے ہیں تو یہ چار لوگ اس کو کہتے ہیں جینیرک نام۔ اصل پٹھان کون ہے اصل پٹھان وہ ہے جو ان سے نکلا ہے انڈو ایرین سے جو میں نے آپ کو بتایا ہے ۔

سوال: ٹھیک ہے۔ یہ جو اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں اور افغان کہتے ہیں ہندوستانی سلطنتوں کے جو زمانہ وسطی کے جو لوگ تھے کیا وہ ٹھیک کہتے ہیں؟۔
جواب: نہیںبہت ساری پرانی کتابیں انکے نام پڑھوں تو بہت ہیں وہ ان میںmisprintہیںیاintentionalیا غلطی سے۔ ایک آدمی کو تغلق بتا رہے ہیں کہ ترک تھے یہ تھے وہ تھے اور ان کا باپ جو تھا نا پٹھان ہے بھائی آپ ثابت کر رہے ہیں لکھ رہے ہیں اپنی کتاب میں کہhe is a Turkاس کو پٹھان کہہ رہے ہیں۔ غور والوں کو جنہیں غوری کہتے ہیں یہ پٹھان نہیںthey are Turks۔ ان کی کتابیں دیکھیں پٹھان لکھا ہوا ہے تو وہ لوگ یہ نہیں سمجھتے وہ پٹھان نہیں ۔ خلجی ترک لفظ ہے اور غلزئی پٹھان ہیں اس کا شجرہ ہمارے پاس ہے۔ اپنے کو غلجی کہتے ہیں خلجی نہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کسی پرانی کتاب میں لکھا ہے” الامرا” اس کو آگے لکھنے والے نے ”الامرا” کا ترجمہ جب کیا تو اس کو لکھ دیا لودھی۔ اچھا تو اس طریقے سے جب ان کی اصل فارسی زبان میں جو کتابیں ہیں جو پشتوں کی ہیں انکے ترجمے بڑے غلط ہوئے ہیں اسی لیے میں نےoriginalکتابیں پیدا کی ہیں۔تاریخ وہ جو ہے خورشید جہاں اچھا اور یہ حیات افغانی سولت افغانی یہoriginalمیں نے پیدا کی ہیں اور بڑے لوگوں نے میری مدد کی ہے۔ کوہاٹ کیsettlement reportمجھے انہوں نے کلکتہ سے منگوا کے دی ہے کہ1884کی۔

سوال: کن معیار کی بنیاد پہ کچھ خاندانوں کو اپنے اس کام میں شامل کیا ہے۔
جواب:1857کی مثال دوں گا۔ کوہاٹ میںcavalry wasادھر فوجی کیپٹن تھا۔ جوEdwardsنے پھانسی کر دیا تھا ان سب صوبیدار میجرز اور صوبیدار وغیرہ جنہوں نے بغاوت کی پوری پلٹن نے بغاوت کی لیکن اس نے ان کو پھانسی کیا تھا پھر سارے رام ہو گئے چاہے وہ جو بھی تھے جو پٹھان تھے۔

میں اس کا الگ نام نہیں لیتا لیکن یہ کیا نام ہےcavalry cavalryاس کیلئے مبارک شاہ بنوری اس وقت تھا تو وہ اس کے پاس پہنچ گیا جی حاضر ہیں ہمیں بتائیں۔ اس نے کہا جی خزانہ تو لاکھ روپیہ کا ہے اس کو بچاؤ۔ اس نے کہا بالکل بچاتے ہیں اور آرڈرآیا کہ تم جلدی پٹھان لوگrecruitکرو اور دہلی پہنچو۔ مبارک شاہ دہلی گیا جہاں مار دیا گیا۔ اس کے جسم اور انتڑیوں کو سمیٹ کر یہاں لایا گیا اس کا پورا محلہ ادھر پشاور میں آباد کیا گیا اس کا نام مبارک شاہ محلہ ہے۔ جو لوگ تھے ان کو پیسے چاہیے تھے پشاور کے لوگوں نے دیے جو خان تھے وہ ایسے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہو گئے
they said anything you want will provide you against pathans.

مسلمانوں کیلئے سوات کے جو بڑے تھے انہوں نےNicholsonنے کہا کہ جو ان کا سر کاٹ لائے50روپیہ انعام دیں گے ۔سوات کے مذہبی لوگوں نے انکے سر کاٹ کے دئیے۔ چمکنی گاؤں کے خان کو رنجیت سنگھ نے کہا کہ آدم خیل آفریدی کے50سر ہر سال مجھے مہیا کیا کرو۔ ہر سر پہ50روپیہ دیں گے۔ اگر نہیں دو گے تو پچاس روپیہ تمہارے کٹ جائیں گے اور جو بھی ملا اس کا سر کاٹا اس نے کہا جی آفریدی ہے اس کی رسیدیں میرے پاس ہیں۔

سوال: نہیں تو یہ آفریدی ٹارگٹ کیوں تھے؟۔
جواب: اسلئے تھے کہ آفریدیوں کی وجہ سے انگریز کوہاٹ سے بھی نکلے تھے ۔

سوال: یہ تو بڑا منصوبہ لگ رہا ہے سر اس کی تکمیل کب تک ممکن ہے؟۔
جواب: جی ابھی میں
last ninth and tenth volume
کر رہا ہوں اور یہی والیم ہے جس کیلئے میں نے سارا کام کیا ہے اسvolumeکیلئے کیاten volumeکیلئے۔
this is pathan and 1947 war
اس میں پٹھانوں نے کیا کام کیا؟۔ کیا انہوں نے قربانیاں دیں کس طرح لڑے؟۔ جرمن فوج جنگ عظیم دوم میں مشہور تھیblitzkriegتھوڑے وقت میں بہت علاقہ قبضہ کرنا۔ پٹھانوں نے اس ریکارڈ کو توڑا ۔ انہوں نے چار دنوں میں میں 80میل کا علاقہ فتح کیا۔

سوال : کیا پٹھان اس وقت ایک فارمل فوج کے طور پر لڑا؟۔
جواب: یہ قبائل تھے
they were gathered together by the peer of Manki Sharif.
جرمن آرمی تھی ان کی آرمی نہیں تھی لیکن ایک رات میں مظفرآباد فتح کیا اور دوسرے دن بارہ مولہ80میل تک پہنچ گئے ۔ جنرل اکبر ان کی گاڑیوں کا بتارہا ہے کہ یا ٹائر نکلا ہوتا تھا یا ایکسل ٹوٹا ہوتا تھا اور پھر وہ اتر کے اس کو ٹھیک کرتے تھے اور پھر آگے چلتے تھے۔ لیکن ان کو دیکھ کر ڈوگرا آرمی رک نہیں سکی۔شور ہوتا کہ پٹھان آ گئے۔

سوال : آپ کی سورس کیا کہتی ہے ؟۔ پٹھان لوگ تو کہتے ہیں کہ سری نگر بھی فتح کر جاتے اگر ٹیبل پر یہ جنگ نہ ہارتے تو۔
جواب: نہیں اس کی ایک خرابی ہوئی ہے ،بارہ مولہ سے سری نگر35کلو میٹر تھا۔ بارہ مولہ میں جو ان کے بڑے تھے میجر خورشید انور، میجر اسلم انہوں نے ان کو حراست میں لیا۔detainedالٹا پڑ گیا ہمارے لیے انڈیا نے کہا کہ یہ دو دن تک ریپ کرتے رہے ہیں لوٹ مار کرتے رہے۔ حقیقت یہ تھی کہ اس دن فیصلہ کرنا چاہتے تھے کہ بھائی ابھی سری نگر تو ہمارے پاس ہے ہم نے ابھی فتح کر لینا ہے اس کے بعد صدرکون بنے گا؟۔ اس پر لڑائی ہو رہی تھی۔

میزبان محمود جان بابر: جی دوستو! دیکھا آپ کو کیا مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا اتنی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی مجھے نہیں پتا تھا کہ ہم پختون کون ہیں کہاں سے آئے، کس کا شجر نسب اسرائیل کے ساتھ اور کس کا کس کے ساتھ ہے اور یہ کتاب آپ کو معلوم ہے ابھی ہمیں محترم ہارون رشید صاحب نے بتایا کہ جب یہ کتاب چھپی تو یہ اس وقت پاکستان کے تمام جتنے بھی سفارت خانے دنیا میں موجود ہیں ہمارے لیے کام کرتے ہیں فارن آفس نے انہیں کہا ہے کہ یہ کتاب اپنے پاس رکھیں گے اور یہ ان سب کو بھیج دی گئی ہے انہیں کہا گیا ہے اسے پڑھیں۔دنیا میں جہاں پہ بھی لوگ علم پر یقین رکھتے ہیں وہ اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں سوائے ان کے جن کے بارے میں یہ کتاب لکھی گئی ہے پختون خود۔ اس سے زیادہ میں کیا کہوں ۔ اللہ حافظ سماء ٹی وی چینل ڈیجیٹل
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ نے تدبیرکے اوپر پورا پورا زور اور پھر تقدیر کا زبردست معاملہ کہ رائٹر پہلے ہی سب کچھ لکھ چکا اسلئے اِترانے اور فخر کی اجازت بھی نہیںدی

اللہ نے تدبیرکے اوپر پورا پورا زور اور پھر تقدیر کا زبردست معاملہ کہ رائٹر پہلے ہی سب کچھ لکھ چکا اسلئے اِترانے اور فخر کی اجازت بھی نہیںدی

ایمان و اسلام کی ضد کفرونفاق اور مصدق کی ضد مکذب ہے۔ویل للمکذبین جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے۔ کفر ونفاق سے زیادہ مکذب اور مصدق وصدیق کا مدمقابل۔

سورہ الحدید میں اسلام کی نشاة ثانیہ واضح ہے۔ الم یأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ ومانزل من الحق ولایکونوا کالذین اوتوا لکتاب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم و کثیر منھم فاسقون
”کیاایمان والوں کیلئے وقت نہیں پہنچا ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کیلئے خشیت اختیار کرلیں اور جو حق نازل ہوا ہے؟اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی اور پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر لوگ فاسق بن گئے”۔ (الحدید:16)

یہ آیت اسلام کی نشاة ثانیہ کی دعوت ہے جو جاوید غامدی کی فکرکو کالعدم کرتی ہے کہ مسلمان اپنا دور گزار چکے ہیں ۔ شیطان مذہب کو صرف دنیاوی مفادات کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

سورہ الحدید آیت17میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبر ہے:
اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینا لکم الایات لعکم تعقلون
”خوب جان لو! کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد ۔ ہم نے تمہیں کھول کھول کر آیات کو واضح کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ تم عقل سے کام لو”۔

یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیا ہی زبردست حوصلہ افزا خبر ہے۔

ان المصدقین والمصدقات واقرضوااللہ قرضًا حسنًا یضاعف لھم ولھم اجر کریمOوالذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولٰئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم لھم اجرھم و نروھم والذین کفروا و کذبوا باٰیاتنا اصحاب الجحیمO

” بیشک تصدیق کرنے والے مرد اور عورتیں اور اللہ کو اچھا قرضہ دینے والوں کیلئے دگنا کیا جائے گا اور ان کیلئے عزت والا بدلہ ہوگا اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں تو وہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اپنے رب کے ہاں،ان کیلئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں ہماری آیات کو تو وہ لوگ جحیم والے ہیں”۔ (الحدید18،19)

مذہبی طبقہ مکذب کو سمجھتا ہے لیکن مصدق کو نہیں اور جنت اور جحیم کا تعلق دنیا، عالم برزخ اور قیامت کے بعد سبھی سے ہے۔

جب حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑ دیا تو کفار نے کہا کہ قالوا ابنوا لہ بنیانًا فالقوہ فی الجحیم ” کہنے لگے کہ ایک جگہ بناؤ اس کیلئے اور جحیم میں ڈال دو”۔(الصافات97)
اعلموا انما الحیاة الدنیا لعب و لھو و زینة و تفاخر بینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد کمثل غیثٍ اعجب الکفار نباتہ ثم یھیج فتراہ مصفرًا ثم یکون خطامًا وفی الاٰخرة عذاب شدید و مغفرة من اللہ و رضوان وما الحیاة الدنیا الا متاع الغرورO
” جان لو!بیشک دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، تزئین اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر اور مال واولاد میں زیادتی ہے۔جیسے کہ بارش اچھی لگے کفار کو کھیتی کیلئے پھر (پانی نہ ملنے پر) سوکھ جائے تو اس کو پیلا دیکھے پھر وہ تنکے بن جائے۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی اور دنیا کی زندگی کیا ہے مگر دھوکہ دینے کا سامان ”۔ (الحدید:20)

دنیا کی زندگی عالم برزح کے سامنے ایسی ہے جیسے ماں کی پیٹ سے دنیا میں بچہ نکلتا ہے لیکن اس میں شعور نہیں ہوتا۔ایک فارسی کاقول ہے کہ جب تم دنیا میں آئے تو تم رورہے تھے اور لوگ ہنس رہے تھے جب تم دنیا سے جاؤ تو ایسا کردار ادا کرو کہ لوگ رو رہے ہوں اور تم ہنس رہے ہو۔

سابقوا الی مغفرةٍ من ربکم و جنةٍ عرضھا کعرض السماء ولارض اعدت للذین اٰمنوا باللہ و رسولہ ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم

”دوڑو! اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض جتنا ہے جو تیار کی گئی ہے ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے ”۔(سورہ الحدید:21)

نیک روحین اعلیٰ علیین اور بدکی اسفل السافیل میں ۔سورہ النباء میں یوم فصل انقلاب کا میقات ہے۔پھر عالم برزخ کا بھی واضح ذکر ہے جہاں ایک طبقہ احقاب ( حقب80سال) پیپ اور گرم اسفل رزق پائیں گے اور نیک لوگوں کو آسمانوں کی بلندیوں میں اچھی عزت والی روزی ملے گی۔

کھربوں کہکشاں کو ماننے والے سے کہا جائے کہAIسے ماضی ،حال اور مستقبل فلما دیاہے تو مان جاتا ہے لیکن قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ہے؟۔اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رائیٹر کی طرح کتاب میں سب کچھ لکھ دیا ہے اور دنیا میں جس قالب کی نمائندگی ہے یہ کردار ہم نے عالم ارواح میں اپنے لئے خود ہی چن لئے ہیں۔ جاوید غامدی نے اپنا کردار خود چن لیا اور میں نے بھی خود چن لیا اور ہر بندے نے خود چنا ہے۔

واذ اخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالو ا بلی شھدنا ان تقولوا یوم القیامة انا کنا عن ھذا غافلین

” اور جب تیرے رب نے عہد لیا پیچھے سے جوانکی اولادیں ہیںانکی اپنی ذاتوں سے کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں۔ اسلئے کہ تم قیامت کو یہ نہیں کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے ”(سورہ اعراف:172)
ایک چھوٹی قیامت تو یہاں بھی برپا ہونی ہے۔ ابوجہل ، ابولہب اور ابوبکر وعلیاور ان کی اولادیں مجبور محض نہیں تھیں ۔ جو کردار اپنے لئے منتخب کیا تھا اس میں وہ اپنی مرضی سے اپنا کردار ادا کررہے تھے۔

مااصاب من مصیبة فی الارض و لافی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذٰلک علی اللہ یسیرO
” کوئی مصیبت زمین میں نہیںپہنچتی ہے یا نہ تمہاری جانوںکو مگر لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو نمودار کریں بیشک یہ اللہ پر آسان ہے”۔ (سورہ الحدید:22)
تلک الایام ندوالھا بین الناس

” یہ دن ہم لوگوں میں بدلتے ہیں” سے حضرت نوح کے تین بیٹے مراد لینا غامدی کی ہفوات ہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ فتح مکہ اور کربلا اس کے مصداق تھے۔ اب عالم اسلام اور امریکہ ویورپ کا منظر ہے۔

لکیلا تأسوا علی مافاتکم ولاتفرحوا بما اٰتاکم واللہ لا یحب کل مختالٍ فخورٍO

” تاکہ جو چیز تم کھو دو،اس پر افسوس نہ کرواور جو تمہیں ملے اس پر اتراؤ نہیں۔ اللہ پسند نہیں کرتا ہرشیخی خوراترانے والے کو۔ (سورة الحدید:23)

قرآن مصیبت اور نعمت کی تقدیر سے نفسیاتی امراض دور کرتا ہے کہ نہ واویلا مچاؤ اور نہ اتراؤ۔بس قربانیاں دیتے جاؤ۔

الذین یبخلون و یأمرون الناس بالبخل و من یتول فان اللہ ھو الغنی الحمیدO

”جو بخل کرتے ہیں اور بخل کی تلقین کرتے ہیںاور جو منہ موڑے تو اللہ بے پروا تعریف کے لائق ہے”۔ (سورہ الحدید:24) بخل صرف مال کا نہیںہوتا ہے بلکہ حق بات کی تائید نہ کرنا بھی بخل ہی ہے۔

لقد ارسلنا رسلنا بالبینات وانزلنا معھم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیزO

” تحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا دلائل کیساتھ ااور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں میں انصاف کیساتھ کھڑے ہوں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت حرج ہے اور لوگوں کیلئے منافع تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی مدد کرتا ہے اور رسولوں کی غیب کے باوجود بھی۔ بیشک اللہ زورآور غالب ہے”۔ (الحدید25)

غیب پر ایمان کا امتحان ہے۔ افغانستان ،عراق،یوکرین، غزہ اور دنیا کو تباہ کردیاگیا ۔ہم لوہے کو نفع بخش بنائیں گے۔

یا ایھاالذین اٰمنوا اتقواللہ و اٰمنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورًا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور رحیمOلئلا یعلم اھل الکتاب الا یقدرون علی شی ئٍ من فضل اللہ و ان الفضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیمO

”اے ایمان والے لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرواور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ،تمہیں دی ہیں اپنی رحمت سے دو حصے۔ اور تمہارے لئے نور بنایا ہے جس کے ذریعے تم چلتے ہواور تمہاری مغفرت کرتا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ تاکہ اہل کتاب یہ نہیں سمجھ بیٹھیں کہ مسلمان اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہیں۔بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔ (الحدید:28،29)

اسلام کی نشاة اول میں ایمان کا نور تھا اور نشاة ثانیہ میں بھی نور ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: اتقوا فراسة المؤمن انہ ینظر بنوراللہ ”مؤمن کی فراست سے ڈرو، بیشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے”۔ بخاری ، مسلم وغیرہ سورہ جمعہ میں واٰخرین منھم لما یلحقوبھم ” اور ان سے آخرین جو پہلے سے مل جائینگے ” کی تشریح حدیث میں ہے کہ ”اگر دین، ایمان اور علم ثریا پربھی ہوں تو یہ لوگ وہاں سے لائینگے”۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ نے نبیۖ کو تنبیہ کردی کہ ”اگر اللہ چاہے تو پھرنازل وحی کو اٹھالے اور پھر تم اللہ کے سوا کسی کو مدد گار نہ پاؤ مگر اس کی رحمت ہے ”۔ موجودہ دور میں جاوید غامد ی اور مفتی تقی عثمانی اور امت مسلمہ کے دوسرے ہم جیسے لوگ اس قابل تھے کہ قرآن کو اٹھالیا جاتا مگر اللہ نے رسول خاتم الانبیائۖ کی برکت سے یہ محفوظ رکھا ہے۔ دین، علم اور ایمان کی پھر ترویج ہورہی ہے۔

جس طرح آج یہودی دیوار گریہ پر روتے ہیں۔ شیعہ بھی امام مہدی غائب کیلئے فریاد کرتے ہیں۔ علماء ومشائخ بہت ہی خلوص کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہیںلیکن قرآن اور انقلاب کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ یہی حالت جب راہبوں کی تھی تو پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ سے کیا زبردست فرمایا تھا کہ

ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغداة والعشی یریدون وجھہ ماعلیک من حسابھم من شی ئٍ وما من حسابک علیھم من شیئٍ فطردھم فتکون من الظالمینOو کذٰلک فتنا بعضھم ببعضٍ لیقولوا اھٰولآء من اللہ علیھم من بیننا الیس اللہ باعلم بالشاکرینOواذا جاء ک الذین یؤمنون باٰیاتنا فقل سلام علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمة انہ من عمل منکم سوئً بجھالة ٍ ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیمOوکذلک نفصل الایات و نستبین سبیل المجرمینOقل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھواء کم قد ضللت اذًا وما انا من المھتدینOقل انی علی بینةٍ من ربی وکذبتم بہ ان الحکم الا للہ یقص الحق وھو خیر الفاصلینOقل لو ان عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامربینی و بینکم واللہ اعلم بالظالمینOوعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھاالا ھو و یعلم مالبروالبحروماتسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ولا حبةٍ فی الظلمات الارض و لا رطبٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینO

” اور جو لوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں ان کو مسترد مت کروجو اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ تمہارے ذمہ انکے حساب میں سے کچھ نہیں اورانکے ذمہ تمہارے حساب میں کچھ نہیں۔پس اگر تم نے ان کو مسترد کیا توظالموں سے ہوجاؤگے۔ اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایاتاکہ یہ لوگ کہیں کہ کیا یہ لوگ ہیں ہمارے درمیان جن پر اللہ نے فضل کیا۔کیا اللہ شکر گزاروں کو جانتا نہیں ہے؟۔اور جب ہماری آیات پر ایمان لانے والے آپ کے پاس آجائیں تو کہو کہ تم پر سلام ہو۔تمہارارب خود پر رحمت کو لکھ چکا ۔بیشک جو تم میں سے نادانی سے برا کرے پھر توبہ کرے اور اصلاح کرے تو بیشک وہ غفور رحیم ہے اور اسی طرح ہم آیات کو جدا جدا کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔کہہ دو کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ بندگی کروں جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ۔ کہہ دو میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا پھر تو تحقیق کہ میں گمراہ ہوجاؤں گا اور میں ہدایت پانے والوں میں نہیں رہوں گا۔ کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم نے اس کو جھٹلایا اور جس کی تمہیں جلدی ہے میرے پاس نہیں۔حکم صرف اللہ کا چلتا ہے۔وہ حق بیان کرتا ہے اور وہ بہترین امتیاز پیدا کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے بس میں ہوتا جس کی تمہیں جلدی ہے تو معاملہ انجام کو پہنچ چکا ہوتامیرے اور تمہارے درمیان۔اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔ اور اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیںکوئی نہیں جانتا مگر وہ۔جانتا ہے جو بھی خشکی اور سمندر میں ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ جانتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کی اندھیر نگریوں میں نہیں اور نہ تری اور خشک میں مگر وہ کھلی ہوئی کتاب میں ہے”۔(الانعام:52تا59)

اللہ کو مخلوق سے بہت محبت ہے۔ مذہبی طبقہ جوش و جذبات میں جہالت سے غلط اقدام بھی اٹھائے تو دروازہ بند نہیں کرتا۔ حاجی عثمان کی خانقاہ میں صبح وشام لوگ ذکر واذکار میںہونگے اور بڑی سکرین کو تعلیمی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا تو دنیا بھر سے علماء کرام اور عوام قرآن کو سمجھنے آئیں گے۔ انشاء اللہ

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

فیض احمد فیض نے قرآن و حدیث کی یہ ترجمانی کی ہے:

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم وستم کے کوہِ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حرم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی حاضر بھی جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

زمین دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی سورہ الفجر کی آیت اذا کت الارض دکا دکا کی ترجمانی ہے۔
جب دروازے پر دستک دی جائے تویہی دک دک مراد ہے جب دل کانپ جاتا ہے۔ سورہ فجر میں ماضی و مستقل کا انقلاب ہے اور حجر سے مراد عقل ہے جبکہ ابن حجر عسقلانی اور ابن حجرمکی عقل کے لحاظ سے تھے اور ہم نے پتھر بنادئیے ۔ حق بھی یہی تھا اسلئے کہ دونوں انتہائی کم عقل تھے۔ عسقلانی نے شافعی مسلک کی بنیاد پر قرآن وسنت سے انحراف کیا جبکہ مکی نے شیعہ کے خلاف کتاب لکھ کر مزید بھی سخت کردیا۔حق سامنے آیا تو باطل نہیں ٹھہر سکتا،یہ طے ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv