پوسٹ تلاش کریں

قاری مفتاح اللہ کے وصال پردل احترام کی گہرائیوں میں کھوگیا :عتیق

شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن شفقت ومحبت ،عدل و توازن، عقیدت واحترام ، شرافت و مروّت ، لطافت و مزاح ،حق گوئی و بیباکی کا حسین امتزاج اورانتہائی ذہین وفطین، عریق وعمیق، سادہ و پرکشش کرشماتی شخصیت

اناللہ وانا الیہ راجعون ،اناللہ وانا الیہ رجعون

استاذمحترم حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ قدس سرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطافرمائے۔ شیخ الحدیث مفتی زرولی خان ساتھ ہیں۔ قاری مفتاح اللہ درویش صفت انتہائی ذہین و فطین ، علم و عمل کے امین، قرآن و اسلام کے شہباز و شاہین تھے۔ علمی تنقید پر قاری صاحب بہت تعمیری تھے۔ علامہ زمحشری کی تفسیرکشاف انکے کہنے پر پڑھی ۔ کئی بار ا ن کا ذکر خیر تحریر میں پہلے کرچکاہوں۔ میرے علمی کمالات کا سہرا استاذ محترم کے سر پراور نقائص میرا قصور ہے۔ مچھلیوں کیلئے شفاف پانی ، پرندوں کیلئے صحت بخش فضا، ذکرو اذکار کیلئے روح پرور خانقاہیں اور علوم نبوت کیلئے مدارس میں قاری مفتاح اللہ جیسے اساتذہ کرام کمالِ علم وعرفاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری مادر علمی جامعہ بنوری ٹاؤن اور اس کی تمام شاخوں کو تا قیامت اعلیٰ ترین معیار کیساتھ شادآباد رکھے۔ قاری مفتاح اللہ صاحب انتہا درجہ کے خوش مزاج، شفیق و عمیق ، باوقار وبردبار اور نفیس و لطیف اور بغیر کسی مبالغے کے خدا کی صفات کے زمین پر مظہر اور تخلقواللہ باخلاق اللہ کے مصداق تھے۔ ابن تیمیہ نے لکھا کہ یہ کسی حدیث کی مستند کتاب میں نہیں لیکن کسی حدیث کا کتاب میں موجود ہوناتو ضروری بھی نہیں۔ صوفیاء کا سلسلہ صحابہ کرام ، حسن بصریتابعی سے چلتا آرہا ہے ۔ ابوذ غفاریجیسے صحابہ نے تصوف کی بنیاد رکھ دی۔ حدثنا اسماعیل ،قال حدثنی ابی ذئبٍ ، عن سعیدٍ القبری عن ابی ھریرہ قال حفظت من رسول اللہ ۖ وعاء ین فاما احدھما فبئثہ واما الآخر فلو بئثتہ قطع ھذا البلعوم ابوہریرہ نے فرمایا کہ” میں نے رسول اللہ ۖ سے دو برتن محفوظ کئے۔ایک میں نے پھیلایا اور اگردوسرے کو میں نے پھیلادیا تو یہ گلا کاٹ دیا جائے گا”۔ (صحیح بخاری )

اس حدیث سے کیا ثابت ہوا؟۔ یہی ناں کہ کچھ احادیث سینہ بہ سینہ بھی منتقل ہوئی ہیں۔ابی ذئب کون ہیں؟۔ جس نے خلیفہ ابوجعفرمنصور کے سامنے حق گوئی کی تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک نے سمجھا کہ جلاد ابھی گردن اتار دے گا اور اسکے خون کی چھینٹوں سے انکے کپڑے آلودہ ہو جائیں گے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا صدیق سواتی نے بتایاتھا کہ مولانا طاہر مکی علامہ سید محمد یوسف بنوری کے شاگرد تھے۔ایک مرتبہ بخاری کی حدیث پر اشکال ظاہر کیا تو علامہ بنوری نے تھپڑوں سے خوب تواضع کی کہ مجھے بھی تم نے شک میں ڈال دیا۔مولانا محمد بنوری کو تو گھر میں شہید کرکے خود کشی کا جھوٹا الزام لگادیا۔

رسول اللہ ۖ کے بعد1500سال سے امت مسلمہ جس پل صراط پر چل رہی تھی جس میں پانچ پانچ سو سال کی وہ، وہ تثلیث کی مسافتیں ہیں کہ حق بات تو بڑی چیز ہے دین کے تحفظ کیلئے مدینہ کے سات فقہاء اور کوفہ کے فقہاء نے تشدد اور شہادت کا جام نوش کیا اور فقہ و حدیث کے ائمہ نے تشدد، جیل، شہادت اور کوڑوں کی سزائیں کھائی ہیں۔موجودہ دور میں تو پھر تبلیغی جماعت کی بھیڑیں بھی ایک دوسرے کیلئے بھڑیا بنتے پھر رہے ہیں جن کا سلسلہ مار کٹائی سے قتل وغارت تک پہنچا ہے۔

علامہ یوسف بنوری کی لحد پر سلام کیساتھ دل بھی جھکتا ہے اور اس احترام میں کوئی تصنع نہیں بلکہ بے پناہ عقیدت و محبت کا رشتہ ہے۔ قاری مفتاح اللہ صاحب اس گلستان بنوریہی کے فیضان کی ایک کرشماتی شخصیت تھے۔ والدین کی طرح اساتذہ کرام اور علماء ومشائخ عظام میں نرم ، سخت، غصہ والے، گالیاں دینے والے اور مارپیٹ کرنے والے آدمی کے بچے ہی ہوتے ہیں لیکن قاری مفتاح اللہ صاحب کی شخصیت عجیب و غریب تھی اور پاکستان اور بیرون ممالک میں انسانوں میں جو بڑی بڑی خوبیاں ہوسکتی تھیں وہ سب قاری صاحب میں موجود تھیں اور جتنی خامیاں ہوسکتی ہیں وہ ایک خامی بھی نظر نہیں آئی ہے۔

انسان کو اللہ نے اپنی خلافت کیلئے پیدا کیا ہے اور قرآن کی آیت میں رسول اللہ ۖ کو مؤمنوں پر رؤف و رحیم قرار دیا ہے لیکن جس کو توحید کی حقیقت کا پتہ نہیں بلکہ عقیدے کا محض ہیضہ لگاہو تو وہ اس کو بھی جہالت کی بنیاد پر شرک قرار دے گا۔

قاری مفتاح اللہ صاحب کی ویڈیو خود سن لیں۔ یہاں پر مختلف جگہوں سے چند جملے یا عبارتیں درج کرتا ہوں۔ فرمایا:
زندگی بس بندگی کا نام ہے زندگی بے بندگی ناکام ہے

اللہ ہم سب کو بندگی والی زندگی عطا فرمائے۔ امام بخاری نے شروع کے اندر نیت، اخیر میں تسبیحات اور ترازو ذکر کیا۔ اگر نیت صحیح ہوگی تو ترازو کے اندر اعمال بھاری ہوں گے اور اگر نیت صحیح نہیں تو جتنا بھی بڑا عمل ہوگا ترازو کے اندر صفر ہوگا۔

تمام علوم کی انتہا یہ ہے کہ قیامت کے دن میرا کیا بنے گا؟ اللہ کے سامنے سرخرو ہوں گا یا نہیں؟ ۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا عشق مراد ہے۔ علم نہیں ہے سوائے عاشقی کے یہ عاشقی علم ہے اور کوئی علم نہیں ہے، اِسکے علاوہ سارا تلبیس ہے ابلیسِ شقی کا۔

کہتے ہیں سینکڑوں کتابوں کو آگ لگاؤ اور اپنے سینے کو اللہ کے عشق سے روشناس کراؤ۔شیخ بیٹھے ہیں ان کی حالت کی مناسبت سے یہ شعر۔ کہتے ہیں قال کو چھوڑو حال کو اپنا۔ کسی شیخ مردِ کامل کے پاؤں کے اندر اپنے آپ کو روند لو۔
نہ گھبراؤ مسلمانو! خدا کی شان باقی ہے
ابھی اسلام باقی ہے ابھی قرآن باقی ہے

حضور علیہ السلام نے فرمایا بخاری سیاسیہ میں روایت ہے ”اہل حق کی ایک جماعت ہوگی جو قیامت تک غالب ہوگی”۔ یہ غلبہ کبھی طاقت سے ہوگا اور غلبہ کبھی دلائل کے اعتبار سے۔ صحابہ ، تابعین اور سلاطین اسلام کے دور میں طاقت کا غلبہ ہوا اور دلیل کا غلبہ ہر زمانے میں ہوگا ۔یہ الگ ہے کہ ہم کو دلائل سمجھنے کا سمجھانے کا طریقہ آ جائے۔ رات کے وقت اللہ سے تعلق رکھیں گے تو دن کے وقت مخلوق کو سمجھانا بہت آسان ہوگا وتبتل الیہ تبتیلا رب المشرق والمغرب لا الہ الا ہو فاتخذہ وکیلا و اصبر علی ما یقولون و اہجر ہجرا جمیلا سورہ مزمل میں بتا دیا اے کمبل اوڑھنے والے قم اللیل رات کے وقت کھڑے ہو و تبتل الیہ تبتیلا اور سب سے کٹ کے اسکے در پہ ڈٹ جا سب سے تعلقات توڑ اور اس سے تعلقات جوڑ اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے چلے جا تو رات کے وقت اللہ سے تعلق جوڑنا اللہ سے لینا اور پھر دن کے وقت اس کو تقسیم کرنا آپ نے فرمایا انا ما انا قاسم واللہ یعطی فرمایا میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اصل دینے والی ذات وہ اللہ ہے اللہ کہتا ہے قل قل قل قل پورا قرآن بھرا ہوا ہے قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا قل یا ایہا الکافرون قل ہو اللہ احد قل اعوذ برب الفلق قل اعوذ برب الناس اللہ کہتے ہیں کہو کہو کہو کہو اللہ کہتا ہے تو پیغمبر کہتا ہے وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی علمہ شدید القوی ذو مرة فاستوی و ہو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی فااوحی الی عبدہ ما اوحی معراج کا ذکر ہے اور اسرا ء کا ذکر ہے سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی پھر معراج کی رات سارے نبیوں کا امام بنایا آپ نے امامت فرمائی اور سارے نبیوں نے آپ کی اقتدا کے اندر نماز ادا کی آپ کو امام الانبیا بنایا اور دو قبلوں کی طرف آپ کی نماز ہوئی آپ امام الحرمین نبی القبلتین وسیلتنا فی الدارین بیت المقدس کے بھی امام بنے اور اس کی طرف بھی آپ نے رخ کیا بیت اللہ شریف کے بھی امام بنے اس کی طرف بھی آپ نے رخ کیا آسمانوں پر بھی آپ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی انبیاء سے ملاقات ہوئی ۔آدم علیہ السلام سے یوسف علیہ السلام سے عیسی علیہ السلام سے ادریس علیہ السلام سے اور حضرت ابراہیم علیہ الصلو والسلام سے ابراہیم علیہ الصلو والسلام کے ساتھ آپ کی خاص مناسبت تھی آپ نے اپنے بیٹے کا نام بھی ابراہیم رکھا اور آپ نے فرمایا :” میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت کا نتیجہ ہوں اور میں اپنی والدہ کے خواب کا نتیجہ ہوں ”ماں کا بڑا کردار ہے اولاد کے بنانے میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی ماں نے ان کو رخصت کیا علم کیلئے اور معین الدین چشتی نے فرمایا کہ میرے ہاتھ پر اتنے70ہزار کافروں نے کلمہ پڑھا اور70ہزار فاسقوں کو میں نے توبہ کرائی والدہ کے سامنے کہا تو والدہ نے کہا یہ تیرا کمال نہیں یہ میرا کمال ہے میں ہمیشہ با وضو تجھ کو دودھ پلاتی تھی اور تیری لیے دعائیں کرتی تھی میری وہ دعا آپکے حق میں قبول ہو گئی ۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی ماں بھی بڑی کاملہ فاضلہ تھی۔

الم نشرح لک صدرک و وضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک و رفعنا لک ذکرک یہ شان ہے ہمارے پیغمبر کی صاحب مشکوٰة نے اخیر کے اندر مشکوٰة شریف کے اخیر میں باب ثواب ھذہ الامہ قائم کیا ہے اس امت کا ثواب اور اس امت کی شان کہا اس امت کا کیا کہنا جس کے شروع میں میں ہوں جس کی بیچ میں مہدی ہیں اور جس کے اخیر کے اندر حضرت عیسی علیہ السلام ہیں عیسی علیہ السلام بھی آئیں گے تو وہ قرآن کریم کی تعلیم دیں گے وہ انجیل کی تعلیم نہیں دینگے اور علامہ اقبال کہتا ہے اگر میرا حساب لینا ہی ہے اللہ تو حضور علیہ السلام سے میرے نامہ اعمال کو چھپا کے رکھیے تاکہ میں آپ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔

حضرت الاستاذ قاری مفتاح اللہ صاحب نے اصول فقہ کی کتاب ”نورالانوار” کے دلائل کی کمزوری دیکھی تو ملا جیون کے لطیفے سنائے کہ سادہ بندے تھے۔ مقصد توہین نہیں تھا مگر اسلام کا تحفظ مقصد ہونا چاہیے۔ طلاق کے مسئلے پر جاوید غامدی نے کتنی ھڈ حرامی دکھائی؟۔ علماء حق کو ماحول میسر نہیں ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نسا ء رحیم نے بدھ مت سمجھنے سے اسلام کوزیادہ بہتر سمجھا

علامہ شمس الدین شکری نے نساء رحیم سے انٹرویو لیا۔

بدھ مت کو مذہب نہیں سائنسی فلسفہ قرار دیا۔ خطہ میں بدھ مت تھا اور محرب پور سندھ میں ایک پسماندہ خاندان ابھی تک موجود ہے۔ نساء رحیم کا گھرانہ خوشحال ہے۔ انٹرویو تفصیلی ہے۔ انبیاء کی بعثت جاری تھی تو رام کرشن اور گوتم بدھ انبیاء تھے یا نہیں؟۔ مشرکین عرب کا ابراہیم کی نبوت پر ایمان تھا مگر صحائف ابراہیمی انکیپاس نہیں تھے اور اہل کتاب نہیں کہلاتے تھے۔ اسلام نے تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو یکساں احترام دیا ۔سورہ حج میں اللہ نے فرمایا:

الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ و لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعضٍ لھدمت صوامع و بیع و صلوٰت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیرًا و لینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیزOالذین ان مکنا ھم فی الارض اقاموا الصلاة واٰتوا الزکاة وامروا بالمعروف و نھو عن المنکر وللہ عاقبة الامورO

”وہ لوگ جنہیں ناحق انکے گھروں سے نکال دیا گیا صرف یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ اگر اللہ ایکدوسرے کے ذریعے لوگوں کا دفاع نہ کرتا تو ڈھا دئیے جاتے خانقاہیں، مندر، گرجے اور مساجد جس میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ طاقتور زبردست ہے۔ وہ لوگ اگر زمین میں ہم انہیں حکومت دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں اور اللہ کیلئے کاموں کا انجام ہے”۔ ( الحج:آیت40،41)

جب طالبان کو حکومت مل گئی تو امیر المؤمنین ملاعمر نے بدھا کے مجسمے گرائے اور تصاویر کے خاکوں پر بھی پابندی لگائی تھی مگر اب طالبان میں شعور آگیا اور ویڈیوز بھی بناتے ہیں اور بدھا کے مجسموں کو بھی کچھ نہیں کہتے۔ طالبان کی اس غلطی میں ایک مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے غلط علمی اپروچ نے بنیادی کردار ادا کیا اور دوسرا بنیادی کردارمیرا تھا۔ اسلئے کہ1987ء میں اپنے گاؤں جٹہ قلعہ گومل سے سارے ٹی وی نکال دئیے اور پھر1990ء میں پاکستان کے تقریباً اکثر شہروں میں جاندار کی تصویر، داڑھی ، پردے اور نماز، زکوٰة اور حج کی ادائیگی کیلئے آواز اٹھائی۔ جس کے بعد پہلے تحریک نفاذ شریعت صوفی محمد اور پھر تحریک طالبان کی حکومت نے افغانستان میں عملی شکل دی۔

مولانا سید سلیمان ندوی نے ”معارف اعظم گڑھ” میں بڑا ایڈیشن تصویر کے جواز ،مجسموں کی نمائش اور دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں میں بتوں کے تحفظ کیلئے شائع کیا۔ جس پر خوامخواہ میں مفتی محمد شفیع اس وقت استعمال ہوگئے جب وہ پورے عالم ومفتی بھی نہیں بلکہ ایک منشی تھے۔ اگر چہ بعد میں مفتی شفیع نے بعض معاملات سے اگر مگر کرکے رجوع کیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے اس وقت ان کے علمی مقام کا پتہ نہیں تھا لیکن حق یہ تھا کہ جب علم ہوگیا تو کھل کر اس کا اظہار بھی کردیاجاتا۔

علامہ سیدمحمد یوسف بنوری کے نواسے عامر طاسین نے بتایا کہ ان کے گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا جس میں اپنے والد مولانا طاسین کے پروگرام دیکھتے تھے۔ علامہ بنوری وہاں گھر پر تشریف لاتے مگر کبھی ٹی وی کی مخالفت نہیں کی۔ علامہ بنوری نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے ساتھ گروپ فوٹو کھینچوانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں تقوی دار نہیں اور فوٹو سے پرہیز بھی نہیں کرتا مگر شاہ کیلئے یہ کام نہیں کرسکتا”۔

جب ہم نے تصاویر کیخلاف مہم شروع کی تو جماعت اسلامی کی شوریٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ” گروپ فوٹونہیں کھینچوائیںگے” اور اس پر2003ء میں جنگ گروپ کے ایک پروگرام”مذہبی انتہاپسندی اور پاکستان کا مستقبل” میں پروفیسر غفور احمد میرے ساتھ شریک تھے تو میں نے جماعت اسلامی کی شوریٰ کے اس فیصلے کا حوالہ بھی اس پروگرام میں دیا تھا۔ اور انتہا پسندی کی بنیاد ریاستی اداروں کے کردار کو قرار دیا تھا۔ لیکن مذہبی شدت میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

2004ء میں جاندار کی تصویر کے جواز کے انکشاف پر ایک کتاب”جوہری دھماکہ” لکھی ہے جس نے مذہبی رحجانات کا کھایا پلٹ دیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی کے دلائل بھی تھے ۔ علماء نے لاؤڈ اسپیکر پرنماز، آذان اور اقامت کو ناجائز قرار دیا تو تبلیغی جماعت اس میں پک گئی لیکن علماء نے بہت خیانت اور گونگے شیطان کا کردار ادا کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ وہ فتویٰ ہم نے بالکل غلط دیا تھا ورنہ تبلیغی جماعت والے خوار نہ ہوتے لیکن اس کا نقصان علماء کو بھی پہنچا کہ تبلیغی جماعت والے انہیں بے عمل سمجھنے لگے۔ افغانستان کے طالبان کی نظروں میں بھی یہ گرے ہوئے لوگ تھے۔ اگر علامہ سید سلیمان ندوی کے علم کو عام کردیا جاتا تو سارے اکابر علماء کی چھپی ہوئی تصویریں تقیہ کا شکار نہیں ہوتیں۔ جب ہم نے کتاب اور اخبار میں تشہیر کردی تو سارے اکابر تصویر کے معاملے پرماشاء اللہ چھپے رستم نکلے ۔

اگر ملاعمرکو سورہ حج کی آیت اور علامہ سید سلیمان ندوی کی کتاب کا علم ہوتا تو بدھا کے مجسموں کو بدھ مت کے پیروکاروں کیلئے چھوڑا جاسکتا تھا۔ چین، جاپان، برما،کوریا، تھائی لیند اور نپال وغیرہ بہت سارے ممالک کے لوگوں کو قرآن کی آیت پر عمل کرنا اچھا لگتا۔ جب سندھ کو فتح کیا گیا تھا تو ریاست کیلئے بہت زیادہ آمدن کے ذرائع بڑے بڑے مندر بھی تھے۔ قرآن نے مذہبی تجارتی مراکز کیلئے ”بیع” کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کو جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی آمدن سے حصہ نہیں ملتا تھا تو مولانا محمد خان شیرانی کو چلتا کردیا تھا اور مدارس، خانقاہیں، مذہبی وسیاسی جماعتیں اور قوم پرست لسانی تنظیمیں بھی تجارت کے محور ہیں۔ حامد میر نے اوصاف اخبار میں مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی بات لکھی تھی کہ ” واشنگٹن امریکہ سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے جہادی تنظیم کو پیسہ آرہا ہے جو علماء کرام کو خریدتے ہیں اگر یہ باز نہیں آئے تو ان کا بھانڈہ چوراہے کی بیچ میں پھوڑ دیںگے”۔ حامد میر نے اخبار کے اداریہ میں لکھ دیا کہ ”باز نہیں آئے تو یہ کام کرلینا”۔

ہمارا مذہبی بہروپیہ طبقہ اپنا دین سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ نساء رحیم کو سنیں ،سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک بہت زیادہ ذہین اور لکھا پڑھا شخص نفساتی مریض ہوسکتا ہے۔ نساء رحیم نے بتایا کہ جب وہ کسی بدھ مت والے استاذ کے پاس گئی تو اس نے کہا کہ تیری آمد متوقع تھی اور بتایا کہ ایک فرشتے نے تیری آمد کی خبر دی تھی۔ مسلمان مانتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فرشتوں اور شیطان نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ حضرت عمران بن حصین نے کہا کہ جب ہم سنت پر عمل پیرا تھے تو اس وقت گلیوں میں فرشتے ہم سے ہاتھ ملاتے تھے۔ اقبال نے کہا کہ ”فضا بدر پیدا کر آسکتے ہیں فرشتے قطار اندر قطار اب بھی” ۔2500علماء کی بیٹھک سے فیلڈ مارشلCDFحافظ سید عاصم منیر نے کہا کہ ”میں نے اللہ کی مدد بنیان مرصوص میں اترتی ہوئی دیکھی ہے”

اعمال صالحہ سے مراد عبادت نہیں بلکہ درست اعمال ہیں۔ ہمارے اسلام کے خول لگانے والے نفرتوں کے فروغ کو عمل صالح سمجھتے ہیں۔نساء رحیم نے بدھ مت میں فرشتے کی تعلیم سیکھ لی یا شیطانی عمل ؟ لیکن اسلام کو پہلے سے زیادہ بہتر سمجھنے کا دعویٰ کررہی ہیں۔ روحانی دنیا میں انکشافات عجیب وغریب تو ہوتے ہیں لیکن درست ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی ہے۔

تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
تخیلات کی دنیا غریب ہے لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا
عجب نہیں ہے کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا

علامہ اقبال خود صوفی تھے اور یہ خطاب بھی صوفی سے تھااور علماء دیوبند پر ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی نے گمراہی کے فتوے مشاہدات کی وجہ سے لگائے۔ حالانکہ قرآن میں اس سے بھی بڑے بڑے معجزات ہیں اور اس کی بنیاد پر معتزلہ بننے کی جگہ بہتر ہے کہ بندہ الحاد یا بدھ مت کا فلسفہ قبول کرلے۔ بدھ مت کے لوگ بہت ممالک میں بڑی تعداد کے اندر ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اس کو مذہب نہیں سائنس سمجھتے ہیں اسلئے اپنے مذہبی خانہ کو خالی چھوڑتے ہیں اور بعض ممالک میں کمیونزم کی وجہ سے ان پر مذہب کے نام کو استعمال کرنے کی پابندی بھی رہی ہے۔

اگر ہم نے درست اسلامی نظام کی حقیقت کو اجاگر نہیں کیا تو معاشی، معاشرتی، سیاسی ، اخلاقی ، ریاستی، حکومتی، تعلیمی اور مقامی وبین الاقومی سطح پربڑی مشکلات میں پڑسکتے ہیں۔

قرآن کے احکام کا درست ڈھانچہ کھڑا ہوگا تو پھر اسکے بعد عالم انسانیت کو اس میں عجیب و غریب علوم بھی نظر آئیں گے۔

آیات متشابہات مشتبہ مشکوک نہیں بلکہ مشابہ جن کی نظیریں دنیا میں نظر آئیں گی۔ سائنسی اعتبار سے الگ حقائق اور روحانی اعتبار سے الگ ۔ معاشرتی اور تاریخی اعتبار سے الگ ہیں۔14سو سال پہلے پہاڑ جیسے سمندری جہازوں اورقد کاٹ کے برابر گاڑیوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ بولنے والی کتاب کا تصور نہیں تھا لیکن کتاب ینطق بولنے والی کتاب اب سمجھ میں آرہی ہے۔ عربی میں جب پہیہ گاڑی ایجاد ہوئی تو اسکا نام عریبہ رکھا۔کیونکہ عربی قوم بھی خانہ بدوش تھی اور سفر میں نقل و حمل جاری رہتی تھی تواسکی مناسبت سے گاڑی کا نام رکھنا عرب زبان کی فصاحت وبلاغت اور قرآن کی پیشگوئی کا معجزہ ہے۔

قرآن میں ”عربًااترابًا: قد کے برابر گاڑیوں کا تصور” موجود ہے لیکن اس کی تفسیر اس وقت درست ہوسکے گی کہ جب ہم قرآن کے مرکزی احکام کے ڈھانچے کو معاشرے میں کھڑا کردیں گے۔ اگر قرآن کے الفاظ دیکھ کر پہیہ والی گاڑی کا نام عریبہ رکھا جاتا تو اس شعوری تفسیر کو اغیار نہیں مانتے لیکن جب لاشعور میں یہ نام رکھا گیا ہے اور پھر اس کی درست تفسیر سامنے آئے تو عالم انسانیت حیرت زدہ ہوکر مان جائے گی۔

نساء رحیم نے ماضی میں جھانکنے کی بات بدھ مت کے حوالہ سے کی ہے۔ و اذاخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم وذریتھم و اشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی شھدنا ” اور جب تیرے رب نے پکڑا ، بنی آدم میں سے ان کی پشتوں سے اور ان کی اولاد سے اور ان کو گواہ بنایا ان کی جانوں پر کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہاں !۔ ہم گواہی دیتے ہیں”۔ (اعراف:172)
قال اللیث عن عائشة رضی اللہ عنھاقالت سمعت رسول اللہ ۖ یقول : الارواح جنود مجندة فما تعارف منھا ائتلف و ماتناکر منھا اختلف (3336)

حضرت عائشہ سے رسول اللہ ۖ نے فریاکہ ” روحوں کے تہہ در تہہ جھنڈ تھے پس جو وہاں ایکدوسرے سے اچھے تھے تو یہاں بھی محبت ہوتی ہے۔اور جن کی وہاں پر آپس میں نفرت تھی تو یہاں بھی ایکدوسرے کی مخالفت ہے”۔ (صحیح بخاری)

اگر محترمہ نساء رحیم اتنی توجہ قرآن وسنت کی طرف دیں تووہ ایک انقلاب برپا کرسکتی ہیں۔ ہدی بھرگڑی نے عورت کے حق کیلئے بڑی جاندار آواز اٹھائی مگر نتیجہ خاص نہیں نکلا۔ اگر قرآن کی طرف توجہ کی ہوتی تو بہت بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل جاتی۔

علامہ شمس الدین اتنا ہی بتادیتے کہ ”شیعہ کے نزدیک بھی رجعت کا عقیدہ ہے”۔ہندو اورصوفیاء بھی ماضی میں جھانکنے کا کہہ سکتے ہیںمگر اس میں شیطانی کھیل ہوسکتا ہے۔ البتہ قرآن اور آسمانی کتابوں کی ”وحی” شیطانی مداخلت سے محفوظ ہے۔

سورہ بقرہ کے پہلے دو رکوع میں مؤمنین، کفار اور منافقین کا ڈیٹا بیان کیا گیا ہے۔ یہود تعصب میں عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹااور عیسائی حضرت مریم کوخدا کی بیوی اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ ان سے دین ابراہیمی پر قائم رہنے والے وہ لوگ بہترتھے جن کا شرکیہ عقیدہ نہیں تھا۔ رسول اللہۖ کے والدین اور چیدہ چیدہ صحابہ کرام جو اسلام سے پہلے بھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتے تھے۔ان کو سورہ بقرہ کے پہلے اور دوسرے رکوع میں کفار اور منافقین کے ترازو میں تولا جائے تو کفر ثابت نہیں ہوگا اسلئے کہ کفار کے دلوں اور کانوں پر اللہ نے مہرلگانے اورآنکھوں پر پردہ ڈالنے کا فرمایا ہے۔ رام کرشن اور گوتم بدھ کے بارے میں بھی اچھا گمان رکھ سکتے ہیں اللہ نے فرمایا:

”اور اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور ثمود نے بھی جھٹلایااور قو م ابراہیم اور قوم لوط نے اور مدین والوں نے اور موسیٰ جھٹلایا گیا تو میں نے کافروں کو مہلت دی پھر انکو پکڑلیا۔تو پکڑ کیسی تھی؟۔ سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو ظالم تھیں اور وہ چھتوں پر گری پڑی ہیں اور ویران کنویںاور کتنے پکے محلات اجڑے پڑے ہیں۔ کیا زمین میں یہ چلتے پھرتے نہ تھے ،توانکے دل تھے جن سے سمجھتے تھے اور کان تھے جن سے سنتے تھے ۔پس بیشک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ یہ تجھ سے عذاب جلدمانگتے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کیخلاف نہیں کرتااور ایک دن تیرے رب کے نزدیک ہزار سال کے برابر ہے جس کو وہ گنتے ہیں۔ اور کتنی بستیاں ہیں جن کو مہلت میں نے دی اور ظالم تھیں پھر ان کو پکڑ لیا۔ اور میری طرف ہی لوٹ کے آنا ہے۔ کہہ دو کہ اے لوگو! بیشک میں تمہارے لئے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پس جنہوں نے ایمان لایا اور اعمال کئے درست ،ان کیلئے مغفرت اور عزت والی روزی ہے۔ اور جنہوں نے ہماری آیات کو مغلوب کرنے کی کوشش کی تو یہی لوگ جحیم والے ہیں”۔( سورہ حج آیات:42سے51)

بعض لوگوں نے ڈیڑھ ہزار سال بعد قیامت کا تخمینہ لگایا تھا اور اللہ کے نزدیک ڈیڑ ھ سال ڈیڑھ دن کے برابر ہیں اور مروان ویزید کے دور میں جس طرح اقتدار پر قبضہ کرکے حلالہ کی لعنت مسلط کردی گئی تو گویا ابھی ڈیڑھ دن نہیں گزرے ۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستانی امام مسجد کی پادری پوتی کا کینیڈا میں انٹرویو : بہت ہی جاندار تجزیہ کیساتھ

 

پاکستانی مسجد امام کی عیسائی پوتی: پاکستان مسلم ملک ہے جس کی آبادی دو سو ملین سے زیادہ ہے، جہاں 1.2فیصد مسیحی ہیں۔ان کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے، اکثر اوقات انہیں وہ مواقع نہیں ملتے جو اکثریت کو حاصل ہیں۔ میرا دادا ایک مسلمان امام تھا، مذہبی پیشوا۔ پھر خدا نے بہت چھوٹی عمر میں انکے دل میں تبدیلی پیدا کر دی، وہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مناظرے کرتے تھے اور مسیحیوں کو اسلام قبول کرانے کی کوشش کرتے۔ خدا نے انکے دل میں بیج بویا،اسکے بعد وہ پادری بن گئے پھر سیاست میں بھی آئے۔یوں دونوں صلاحیتوں کو ساتھ رکھا، بہت لوگوں کو مسیحیت کی طرف لائے۔

میزبان: واقعی غیر معمولی ورثہ آپ کو ملا ہے۔ آج کے دور میں اسلام سے مسیحیت اختیار کرنا بہت دشوار ہے، بعض جگہوں پر اسے موت کی سزا کے قابل جرم سمجھا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کے دادا کے وقت میں یہ اور بھی خطرناک ہوگا۔
مسجد امام کی پوتی: جی ہاں!

سوال: اس فیصلے نے آپ کے والد پر اثر ڈالا۔ آپ کے والدین کی خدماتِ کلیسا میں تھیں۔ اس بارے میں بتائیں۔
جواب: میں تیسری نسل کی مسیحی ہوں۔ میرے دادا بہت کم عمر میں انتقال کر گئے، وہ45 کے لگ بھگ تھے۔ پھر میرے والد نے اس وراثت کو سنبھالا۔ اس نے کم عمری کی زندگی میں یسوع کو قبول کیا اور جان لیا کہ انہیں پادری بننا ہے۔ اس نے بائبل کو سیکھا اور اٹھارہ برس کی عمر میں اپنی پہلی کتاب لکھی، جو آج پاکستان کی جامعات اور اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ یعنی بہت جلد اپنی صلاحیت پہچان لی اور یہ بھی جان لیا کہ اپنے والد کی چھوڑی ہوئی میراث کو آگے بڑھانا ہے۔ پھر امی اور ابو کی شادی ہوئی اور وہ لاہور منتقل ہو گئے، جو پاکستان کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے اور وہیں سے انہوں نے اپنی خدمت کا آغاز کیا۔ پاکستان میں واقعی بہت سا جبر اور ایذا رسانی ہے، اسلئے میرے دادا اور والد کا یہ قدم بڑا جری اور بے خوف تھا کہ انہوں نے مسیح کا پیچھا کیا اور وہی بنے جو خدا نے انہیں بنایا تھا۔

سوال: کیا انہوں نے اس راہ کی کوئی خاص قیمت ادا کی ہے، یا زیادہ تر سماجی ردعمل اور دبا کی نوعیت کی بات تھی؟۔
جواب: سماجی ردعمل بہت زیادہ تھا، میرے دادا کیساتھ تو یہ ہوا کہ ان کا اپنا گھرانہ انہیں چھوڑ گیا، ان کے والد نے انہیں قبول نہ کیا، لہٰذا انہیں الگ رہنا پڑا، انہیں اپنے ہی خاندان نے عاق کر دیا۔ میرے والد کے معاملے میں چونکہ پورا قریبی خاندان مسیحی تھا، اسلئے خاندان میں ایسی اذیت نہیں ملی، لیکن معاشرے کی طرف سے بہت اذیت تھی، خاص طور پر جب ہم کھلے عام اپنے اجتماعات کرتے، تو لوگ، سیاست دان، حتی کہ ہمارے کچھ قریبی لوگ بھی ہمارے خلاف ہو جاتے۔

سوال: پاکستان میں اکثر سننے میں آتا ہے کہ لوگوں پر مذہب تبدیل کرنے کیخلاف قوانین کے تحت مقدمے بنا دیے جاتے ہیں، یا انہیں آگ لگا کر مار دیا جاتا ہے، افواہیں اڑتی ہیں اور پھر ہجوم قتل کر دیتا ہے۔ اس طرح کے خطرات دیکھ کر بھی آپ کے دل میں یہ بات جاگی کہ ضرور یسوع میں کچھ ایسا ہے جس کیلئے لوگ جان تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں۔
جواب: سب سے پہلے تو میں اپنے والدین کی وہ جرأت دیکھتی تھی کہ ہر اتوار کو، یہ جانتے ہوئے بھی کہ کلیسا کے باہر فائرنگ ہو سکتی ہے، ایذا رسانی ہو سکتی ہے، لوگ انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں، پھر بھی بغیر کسی رکاوٹ کے اتوار کی عبادت کرتے۔ وہ ہمیں ہر اتوار صبح تیار کرتے اور کہتے کہ ہم کلیسا جائیں گے اور خدا کیلئے اپنی زندگیاں پیش کریں گے، چاہے کچھ بھی ہو۔ یہی بات میرے دل میں بیج بن کر پڑ گئی کہ میں اپنے ایمان سے کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ پاکستانی مسیحیوں کا وہ جوش بھی میں نے دیکھا کہ وہ ہر قیمت دینے کو تیار ہیں۔ میرے والد ایک واقعہ سنایا کرتے ہیں کہ ایک خاتون دلہن کے لباس میں کلیسا آئیں اور کہا کہ اگر ابھی میری موت بھی ہو جائے تو میں یسوع، اپنے دولہا، کے پاس سیدھی جاؤں گی۔ ایسی باتوں نے مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو گہرائی سے چھوا اور ہم نے ٹھان لیا کہ اگر یہ لوگ ایسا کر سکتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔

سوال: آپ تیسری نسل کی مسیحی ہو کر پروان چڑھیں۔ گھر پر خدمتِ کلیسا کا ماحول تھا، پادری آپ کے ہاں ٹھہرتے تھے، آپ سب کچھ دیکھتی تھیں، مگر آپ کے دل میں کہیں نہ کہیں وہ بات پوری طرح نہیں اتر رہی تھی، جیسا کہ شاید آپ کے والدین چاہتے تھے۔ آپ کے اندر کیا چل رہا تھا؟
جواب: جب میرے والدین پاکستان میں اپنا کلیسا تعمیر کر رہے تھے جو تیزی سے بڑھتی ہوئی کلیساؤں میں سے ایک تھا۔ اب کلیسا کے30 ہزار ارکان اور 47 شاخیں ہیں۔ خدا Church of Pentecost کو بہت برکت دے رہا ہے۔ مگر اسی ماحول میں بہت اذیت تھی، لوگ آپ کے خاندان کو نشانہ بناتے ہیں۔ والدین نے ہمیں تحفظ کیلئے ایک طرح کے حجاب میں بہت محفوظ رکھا۔ اس سب کے درمیان میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں انکے پیشے کو اختیار نہیں کرنا چاہتی۔ اس وقت میرے لیے یہ بس پیشہ تھا۔ میں ایسی زندگی چاہتی تھی جس میں آزادی ہو، جو میں چاہوں وہ کر سکوں، چار دیواری میں مقید نہ رہوں، اسکول جاؤں تو سکیورٹی گارڈز کے ساتھ نہ جانا پڑے، اور یہ خوف نہ ہو کہ شاید واپس نہ آ سکوں۔ یہی باتیں ایک عرصہ تک مجھے دور دھکیلتی رہیں۔

سوال: آپ 2018میں کینیڈا آئیں۔ کلیسا جوائن کیا مگر بزنس اسکول میں داخلہ لیا، CEOبننے کیلئے آپ کے کلیسا نے انٹرن شپ کی پیشکش کی۔ اس کا بتائیں۔
جواب: یہ ہمارا مقامی کلیسا Lake Mount Worship Center ہے جو Grimsby میں ہے۔ میں کینیڈا آئی تو گریڈ 12تھا، یونیورسٹی دیکھ رہی تھی۔ میں کاروباری تعلیم چاہتی تھی اسلئے میں نے Toronto Metropolitan منتخب کیا تاکہ اچھی تعلیم لے سکوں، صحیح لوگوں سے جڑ سکوں اورتعلیم کے بعد اپنا بزنس شروع کروں۔ پھر COVIDآگیا، اور مجھے وہاں منتقل ہونے کا موقع نہ ملا، تمام کلاسیں آن لائن ہو گئیں۔ اس دوران والدین نے دیکھا کہ ہم نئے ملک میں تنہا ہو گئے ، کوئی کمیونٹی نہیں بنی، کمرے میں اسکرین کے سامنے رہتے ہیں۔ پھر میرے والد کی Lake Mount Worship Center سے شراکت شروع ہوئی۔ لیڈ پادری Pastor Matt Tapley ہیں ، انہوں نے والد کو انٹرن شپ پروگرام کے بارے میں بتایا۔ یہ گہرا discipleship پروگرام ہے، کردار سازی اور discipleship کیساتھ بائبل اسکول کورسز شامل ہیں، میں نے سمجھا کہ یہ paid internship ہوگی اور میں کما بھی لوں گی، یعنی سی ای او والے کیریئر کی سمت قدم ہوگا۔ مگر جب میں نے انٹرن شپ لیڈر Pastor Lisa سے باتیں کیں تو معلوم ہوا کہ آپ اپنا وقت اور خدمت کلیسا کو دیتے ہیں۔ میں نے والدین کی اطاعت میں اسے شروع کیا۔ ایک ہفتہ، پھر دوسرا ہفتہ، بہت overwhelming تھا، مگر اسی بے آرامی کے بیچ خدا نے میرادل بدل دیا اور میں نے جان لیا کہ مجھے یہی کرنا ہے۔ یہ تبدیلی بتدریج آئی۔ میں خود کو ضدی کہتی ہوں، اب اسے عزم کہتی ہوں، مگر اس وقت وہ ضد مجھے سب سے دور دھکیل رہی تھی۔ اس کے باوجود میں والدین کی عزت کرتی رہی اور خدا کی مرضی کا احترام کیا۔

سوال: تو بتائیں دل میں کیا تبدیلی آئی، آپ کی سوچ کیوں بدلی، کیا چیز بدل رہی تھی؟۔
جواب: ان لمحات میں مجھے ایک طرح کی تنہائی ملی جس میں میں نے جانا کہ مسیحیت یا خدا سے وفاداری کوئی ایسی بات نہیں جو مجھے صرف اسلئے کرنی ہے کہ میرے والدین اسکے پیرو ہیں۔ اسلئے مسیحی نہیں ہونا کہ والدین مسیحی ہیں، نہ اسلئے پادری بننا ہے کہ والدین پادری ہیں۔ یہ ایمان کی تلاش کا سفر تھا۔ میں چیزیں خود دریافت کرنا پسند کرتی ہوں، سو میں نے کہا کہ میں خود سمجھوں۔ جب خود سمجھنے نکلی تو خدا نے نہایت خوبصورتی سے میرا دل نرم کر دیا۔ میں نے اپنی ضد چھوڑ دی اور اسے اختیار دے دیا کہ وہ میری زندگی میں جو چاہے کرے۔ میں مزاحمت کر رہی تھی، دل میں بڑی دیواریں تھیں، مگر خدا خدا ہے، وہ اپنا راستہ بنانا جانتا ہے، سو اس نے سب کچھ بدل دیا۔

سوال آپ اسکوurrendered obedience کہتی ہیں۔ یہ ایک بار ہونے والی بات نہیں ہوتی، ہے نا؟۔
جواب: ہرگز نہیں۔ خدا کے آگے سر جھکا دینا یہ ہے کہ اپنی خواہشات چھوڑ دوں، CEO بننے، بہت پیسہ کمانے ،5 سالہ منصوبے کا خواب چھوڑ دوں، کیونکہ وہ سب زورِ بازو اور مرضی پر بھروسہ تھا۔ سچا سرنڈر یہ ہے کہ دل ومرضی خدا کے سپرد کر دیں اور کہیں کہ تیری تلاش ہی میری تلاش ہوگی۔ میں نے یہی کیا اور کرتی آ رہی ہوںکیونکہ اسکے راستے بہتر ہیںہمیشہ بہتر۔

سوال: پھر جب آپ نے وہ خواب چھوڑے اور وہ کرنے لگیں جو خدا نے آپ کیلئے رکھا تھا، یعنی (مسیحیت کیلئے خدمت) ministry، تو وہ کیسا تجربہ رہا؟۔
جواب: جب میں اپنی خواہشوں کے پیچھے بھاگ رہی تھی تو دل میں خوف تھا، گھبراہٹ تھی، کوئی سکون نہ تھا۔ لیکن جب میں نے انہیں چھوڑ کر خدا کو مختار کیا تو غیر معمولی سکون، خوشی اور طمانیت ملی۔ یوں لگا جیسے کوئی پھل چکھا اور کہا کہ یہ تو ہمیشہ سے کہاں تھا۔ یہ ایسی تسکین تھی جس نے مجھے بھر دیا۔ تب میں نے کہا کہ میں اس میں اور گہرائی تک جانا چاہتی ہوں، جاننا چاہتی ہوں کہ یہ یسوع کون ہے جس نے میرا دل جیت لیا ہے۔

میزبان: یہ ہم سب جیسے ہیں کہ ہم اسی چیز سے لڑتے ہیں جو ہمیں خوشی دینے والی ہوتی ہے، مگر ہمیں خبر نہیں ہوتی۔
پاکستانی مسجد کے امام کی پوتی: بالکل۔

سوال: آپ کلیسا میں Alphaپروگرام میں مددگار تھی، جو لوگوں کو مسیحیت سے بغیر دھمکائے انداز میں روشناس کراتا ہے۔ ایک کتابچہ پاکستانی زبان اردو میں دیکھا۔ اس نے آپ کے دل میں کیا چنگاری بھڑکائی، وہاں سے کیا شروع ہوا؟۔
جواب: انٹرن شپ میں ایک انٹرن پادری سے جوڑا جاتا ہے تاکہ آپ ان کی خدمت کے شعبے کو قریب سے دیکھیں۔ میرا جوڑ Pastor Heatherسے ہوا جو Alphaکی پادری ہیں۔ میں انکے زیرِ سایہ Alpha کی مدد کر رہی تھی۔ اس وقت Alpha کا کچھ معلوم نہ تھاکہ کیا مدد کر رہی ہوں۔ وہ باورچی خانے میں کتابچہ دیکھ رہی تھیں۔ اسی زمانے میں Lake Mount میں بھی Alpha شروع ہو رہا تھا۔ وہ سمجھا رہی تھیں کہ Alpha کیا ہے، ہم سب اسے بہترین طریقے سے چلانے کا سوچ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ کتابچہ اردو میں ترجمہ شدہ تھا، یہی بات میرے سامنے چمک اٹھی، میں اسے بھلا نہ سکی۔ میں گھر گئی اور والد کو بتایا کہ Lake Mountمیں Alpha پروگرام ہے ۔ میرے دل میں تھا کہ خدا ہمیں یہ پاکستان میں کرنے کو کہہ رہا ہے۔ انٹرن شپ میں میرا دل بہت نرم ہو گیا، خاص طور پر پاکستان کیلئے۔ چونکہ وہاں مسیحیوں کیساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک ہوتا ہے، بہت نوجوان صرف اسلئے ایمان چھوڑ دیتے ہیں کہ انہیں اپنی کمیونٹی میں عزت اور مواقع نہیں ملتے۔ خواہشوں کی خاطر مذہب تبدیل کر تے ہیں۔ یہ بات میرے دل کو توڑتی تھی کیونکہ میں نے اپنی خواہشیں چھوڑ کر خدا کی دی ہوئی راہ پکڑی اور مجھے سچی تسکین ملی۔ میں نے کہا خدایا اگر تو نے یہ میرے اندر کیا تو یہ وطن کے نوجوانوں میں بھی ہو۔ پھر Church of Pentecost اور Lake Mount کی قیادت نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم اسے پاکستان میں کریں گے۔میں اس وقت 19برس کی تھی۔

سوال: آپ نے Alpha Pakistanشروع کرنے میں مدد دی۔کتنے لوگ پروگرام سے گزر چکے ہیں؟۔
جواب: 18 ہزار۔ جی ہاں، تین سال ہوئے ہیں۔

میزبان:3 سال! کمال ہے۔ اور آپ یہیں نہیں رکیں۔ مجھے آپ کی یہ بات پسند ہے کہ لوگ عموما آپ کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی عمر، کبھی جنس، کبھی نسل یا زبان کی بنیاد پر، کہ یہ نہ کرو۔ آپ نے یقین کیسے کیا کہ آپ کر سکتی ہیں؟۔
جواب: مجھے معلوم تھا کہ اگر کوئی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا ساتھ ہے۔ میں خدا کو نہیں کہہ سکتی کہ نہیں، میں اسکے ساتھ ضد نہیں کر سکتی۔ کم عمری میں ہی میں نے جان لیا کہ جب یسوع کے پیچھے چلتی ہوں تو مجھے نہیں کہنا چاہیے، کیونکہ اس کی آواز بہت واضح تھی کہ یہ کرنا ہے۔ والدین اور خاندان کی پشت پناہی بھی تھی جو کہتے تھے ہم جانتے ہیں تم کر سکتی ہو۔ Alpha کو پاکستان لے گئے، سخت اذیت کے خطرات تھے اور انجام معلوم نہ تھا۔ کلیسا میں بہترین رہنما اور پادری ساتھ تھے جو ہمیں سنوار رہے تھے۔ اچھے لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ مجھے لگا تھا شاید یہ ایک چھوٹا سا کام ہوگا، دس پندرہ لوگ بیٹھ کر Alpha کریں گے۔ میرے ذہن میں بس یہی منظر تھا۔

سوال: آپ نے نہایت اہم نکتہ چھیڑا ہے۔ بائبل میں لوگ خدا سے کہتے ہیں کہ میں یہ نہیں کر سکتا، میں اچھا نہیں بولتا، میں قابل نہیں، تو خدا صرف یہ کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم بہت اچھے ہو، بلکہ یہ کہ میری معیت کافی ہے۔ آپ نے بھی یہی کیا، جو بہت دانائی کی بات ہے۔ اب آپ Wycliffe Bible Translators کیساتھ شراکت بھی رکھتی ہیں۔ اس کے بارے میں بتائیں۔
جواب: پاکستان میں بہت سی زبانیں ہیں۔کئی میں بائبل کا ترجمہ نہیں ہوا، جو حیرت کی بات ہے۔ بہت سے نوجوان اور عام لوگ اپنی مادری زبان میں بائبل پڑھ ہی نہیں پاتے اور یوں خدا سے جڑ نہیں پاتے۔ ہم نے کلیسا کے طور پر جانا کہ اس پہ کام ضروری ہے، اس لیے ہم نے Wycliffe کے ساتھ شراکت کی اور مختلف بولیوں میں بائبل کا ترجمہ کیا۔ پاکستان میں ناخواندگی کی شرح بھی خاصی ہے، اس لیے ہمیں معلوم تھا کہ بہت سے لوگ پڑھ بھی نہ پائیں گے۔ چنانچہ ہم نے اسے زبانی یعنی oral ترجمے کی صورت دی، جو نہایت خوبصورت بات تھی۔ مترجمین پورے پاکستان کے مختلف قبائل اور علاقوں سے آئے، ہم نے ان کے ساتھ تربیت کی، Wycliffe کی ٹیم ہمارے ساتھ تھی، انہوں نے ہمیں اچھی طرح سکھایا۔ پھر ہم بائبل کو پاکستان کے مختلف علاقوں تک لے گئے، جو بہت مبارک قدم تھا کیونکہ ہمارے ہاں یہی ضرورت ہے۔

میزبان: جن لوگوں کے پاس ہمیشہ سے مادری زبان میں بائبل رہی ہے، وہ شاید اس کے اثر کی قدر نہ جانتے ہوں۔ اپنی دل کی زبان میں اسے پڑھنے کی قوت کیا ہے؟۔
جواب: جب آپ زخمی یا روتے ہیں تو اپنی مادری زبان میں بولتے ہیں، والدین سے بات کرتے ہیں تو بھی مادری زبان میں۔ خدا سے جڑنے کیلئے سچا اور اصل ہونا ضروری ہے، اسلئے اپنی مادری زبان میں بائبل جاننا نہایت اہم ہے۔ ہمارا دل یہی تھا کہ ہر شخص، ہر نوجوان کو یسوع تک اپنی زبان میں رسائی ہو۔ انہیں انگریزی یا قومی زبان اردو سیکھنے کی مجبوری نہ ہو، بلکہ جس طرح چاہیں یسوع سے جڑ سکیں۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ زبان ان کے اور خدا کے بیچ رکاوٹ بنے۔

میزبان: یہ محبت اور عزت دینے والا عمل ہے۔ آپ کے دل میں خواب ہے کہ کل کے رہنما نوجوانوں کو تیار کیا جائے اور انہیں مشن فیلڈ میں بھیجا جائے۔ اس بارے میں بتائیں۔
مسیحی خاتون: انٹرن شپ کے دوران میرے دل میں تبدیلی آئی تو میں چار سال کی انٹرن شپ کر چکی ہوں اور مختلف پادریوں کے زیرِ سایہ خدمت کر چکی ہوں۔ تیسرے سال میں میں Pastor Becky کے زیرِ سایہ تھی جو Lake Mount میں ہماری missions pastor ہیں۔ ان کے ساتھ رہ کر میں نے دیکھا کہ خدا دنیا بھر میں کیا کر رہا ہے، اس نے میرا دل بدل دیا۔ مجھے مشنز کیلئے دل ملا اور ساتھ ہی ایسے نوجوان قائدین کیلئے جو صلاحیت اور بلاہٹ رکھتے ہیں کہ دنیا میں جیسے ممکن ہو انجیل سنائیں۔ میں نے محسوس کیا کہ خدا مجھے انہیں ابھارنے، ان کیساتھ چلنے اور ان کی شناخت مسیح میں یاد دلانے کیلئے پکار رہا ہے۔ شناختی بحران نوجوانوں کا بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا کی ثقافت ایک سمت، جبکہ بائبل کی ثقافت دوسری۔ لہٰذا کوئی تو ہو جو انہیں بتائے کہ وہ مسیحی کون ہیں۔ اسی لیے ہم نے نوجوانوں اور ینگ ایڈلٹس کی کانفرنسیں شروع کیں تاکہ انہیں بااختیار بنایا جائے ، بتایا جائے کہ وہ مسیحی کون ہیں۔

سوال: جب آپ یہ پیغام نوجوانوں تک لے کر جاتی ہیں، خاص طور پر جب انہوں نے پہلے یہ سنا ہو کہ ابھی انتظار کرو یا تم تیار نہیں، تو ان کا ردِعمل کیسا ہوتا ہے؟۔
جواب: پاکستان میں جب یہ پیغام ایک خاتون کی طرف سے آئے تو یہ خود بہت خوبصورت بات ہوتی ہے کیونکہ خواتین کو کم مواقع ملتے ہیں،جب یہ آواز ایک کم عمر خاتون سے آئے تو اثر اور بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ہمارے ہاں اکثر سمجھا جاتا ہے کہ پادری بڑے اور نہایت تجربہ کار ہوتے ہیں۔ مجھے لگا کہ کوئی ایسا بھی ہو جو ان سے مربوط ہو سکے۔ علم الکلام کی زبان نہیں، بلکہ دل سے دل کی بات۔ میں جانتی تھی کہ خدا نے یہ میرے اندر کیا اور یہ کسی بڑے شوروغل سے نہیں، بلکہ چھوٹی سی ملاقات سے شروع ہوا۔ میں نے عورتوں کو یہ کہتے سناکہ اگر وہ کر سکتی ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ ہم نے صرف نداسے بیشمار نجاتیں دیکھی ہیں۔ خواتین کو ہم نے کلیسا میں خدامت کرتے دیکھا۔ مرد بھی آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگرچہ ہم مرد ہیں مگر آپ ہمیں متاثر کرتی ہیں، جو خدا نے آپ میں کیا وہ ہم میں بھی کر سکتا ہے۔

میزبان: یہ بہت خوبصورت ہے، اور آپ تو ابھی آغاز ہی پر ہیں۔ آپ کی عمر 24 ہے۔ ابھی منگنی ہوئی ، مبارک ہو۔ آگے وہ کون سی باتیں ہیں جو خدا آپ کے دل میں ڈال رہا ہے، جو آپ دنیا میں اپنے وسیلے سے دیکھنا چاہتی ہیں؟۔
جواب: یہ تو گویا5 سالہ منصوبے کا سوال ہے۔ بہرحال، میں خود کو خدمتِ کلیسا میں ہی دیکھتی ہوں، خواہشات کے پیچھے نہیں دوڑنا چاہتی۔ اگر میں مستقبل کی طرف دیکھوں تو وہ وہی خدمت ہوگی جس کیلئے خدا نے مجھے بلایا ہے۔ میری تمنا ہے کہ نوجوان اور ینگ ایڈلٹس یسوع کو جانیں، خواہ منادی کے ذریعے، خواہ کلیسا کی خدمت کے ذریعے۔ وزارت صرف اسٹیج پر کھڑے ہو کر بولنے کا نام نہیں، بلکہ سب سے پہلے اپنی زندگی سپرد کرنا ہے کہ خدا تمہیں بدلے اور وہی اختیار سنبھالے۔ میرا پیغام نوجوانوں کیلئے یہی ہے کہ اس پر بھروسہ کرو، اور یہی پیغام میں دنیا کے ہر شخص تک، خاص طور پر ان علاقوں تک پہنچانا چاہتی ہوں جہاں مسیحیوں پر جبر ہے، جہاں نوجوان لڑکیاں زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کی جاتی ہیں، جن کے پاس آگاہی نہیں، جن کا کوئی محافظ نہیں۔ وہاں ایک آواز کی ضرورت ہے۔

میزبان: مسیحیت کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یسوع ہمیں اختیار دیتا ہے کہ ہم اسے چنیں، وہ ہمیں مجبور نہیں کرتا، نہ کنجِ دیوار میں لاتا ہے، فیصلہ ہمیں کرنا ہوتا ہے۔ جب میں دنیا بھر میں آپ کے اثرات دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ بہت سے لوگ کلیسا جاتے ہیں، ہم یسوع پر ایمان رکھتے ہیں، اپنے ایمان کے پابند ہیں، مگر آپ میں تبدیلی لانے کی آگ ہے، اور یہ ایک مختلف بات ہے۔ جو لوگ خود کو معمول پر آتا ہوا محسوس کرتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ خدا ان سے کچھ بڑا کام لے، وہ اس آگ کو کیسے پائیں؟
جواب: میں خود کو بار بار یاد دلاتی ہوں کہ خدا نے میری زندگی کیلئے ایک مقصد اور منصوبہ لکھ رکھا ہے جو میری پیدائش سے پہلے لکھا گیا۔ پھر میری زندگی کی آیت یہ ہے کہ میں مسیح میں سب کچھ کر سکتا ہوں جو مجھے قوت دیتا ہے۔ مجھے انسان پر بھروسہ نہیں کرنا، اپنی توقعات کسی اور میں نہیں رکھنی، بلکہ نگاہیں سیدھی اس پر رکھنی ہیں کہ وہ میری زندگی کا قائد ہو، وہی میرے لیے سی ای او ہو، اور وہی مجھے لے چلے، تب سب ٹھیک ہوگا۔ بس اسے ہاں کہو۔ اس کے راستے بہتر ہیں۔ اس کی تلاش کو اپنی تلاش بنا لو، اس کی ہاں کو اپنی ہاں بنا لو، اس کے آگے جھکنے پر آمادہ ہو جا، پھر خدا وہ کرے گا جو تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ عجب بات یہ ہے کہ اس کے منصوبے میں زیادہ تسکین ہے، زیادہ سکون ہے، زیادہ خوشی ہے۔ جب تم دوسری طرف پہنچتے ہو تو کہتے ہو اوہ، یہیں تھا جو مجھے چاہیے تھا، اور مجھے خبر نہ تھی۔ میری خواہش ہے کہ سب یہ جانیں کہ نجات میں خوبصورتی ہے، اور اپنے دل میں اسے آنے دینے اور اپنی زندگی اس کے سپرد کرنے میں بے پناہ حسن ہے۔

میزبان: کیا کبھی آپ کو ڈر لگتا ہے جب وہ آپ کو آپ کے کمفرٹ زون سے باہر کچھ کرنے کو کہتا ہے، آپ ہزاروں کے سامنے منادی کر چکی ہیں، تو کیا دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں؟۔
جواب: ایسا بھی ہوا ہے، میں یہ نہیں کہوں گی کہ کبھی خوف نہ آیا ہو۔ مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہے۔ جب بھی میں ہزاروں لوگوں یا نوجوانوں کے سامنے بولنے جاتی ہوں، میں خود بھی صرف چوبیس برس کی ہوں۔ دل میں آتا ہے کہ اگر لوگ مجھے جانچیں گے تو کیا ہوگا، اگر میں ان کی نظر میں کافی کول نہ ہوئی تو، اگر میری زبان ٹھیک نہ رہی تو، اگر میری بات انکے دل سے نہ لگی تو یہ سب ذہن میں آتے ہیں۔ مگر میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ میرا کام بس وہ کرنا ہے جو خدا نے مجھے کہا ہے، اس کے بعد روح القدس کو اختیار دینا ہے کہ وہ کام کرے۔ میں اپنی قوت سے کچھ نہیں کر سکتی۔ میں خود کو ایک خالی برتن سمجھتی ہوں اور خدا کو اپنے اندر سے بہنے دیتی ہوں، اور یہی مجھے زندگی کے سارے خوف اور اضطراب پر غالب آنے کی قوت دیتا ہے، خواہ ہزاروں کے سامنے منادی ہو یا کسی غیر ایمان والے کے سامنے اپنے ایمان کی بات کرنا۔
ــــــــــ

امام مسجد کی پادری پوتی : تجزیہ!

اس انٹرویو میں چند اہم نکات ہیں جو نوٹ کرنا چاہیے۔

1: اس لڑکی نے بچپن میں سمجھا تھا کہ والدین کا یہ ایک پیشہ ہے جو خطرات اور پابندیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جیسے کشتیوں پر رسک لینے والوں اور فوجی سپاہیوںکو جنگی محاذوں پرمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اس کو بطور پیشہ اختیار نہیں کرے گی۔

2: جب کینیڈا میں معلوم ہوا کہ اس کے پاس CEOبننے کا چانس نہیں ہے تو اس کو مجبوری میں پادری کیلئے وقف ہونا پڑا ہے۔ اگر اس کے پاسCEOبننے کا راستہ ہوتا تو وہی کرتی۔

3: اس کو بائبل کی تعلیم اور مذہب کی خدمت کے دوران یہ احساس نہیں تھا کہ وہ کیا خدمت کررہی ہیں لیکن ایک تنخواہ کیلئے گزارہ کرنا پڑتا تھا۔ صرف یہ بات اہم لگی کہ بائبل کا ترجمہ کسی اور زبان سے اردو میں ہوا اور دوسری زبانوں میں کرنا ہے۔

4: اس تعلیم میں ایک بنیادی بات مسیحی بنیاد پر مذہبی بننا ہے اور دوسرا دوسرا مسیحیوں کیساتھ امتیازی سلوک کا درد رکھنا ہے۔

5: مسیحیت کو پرانے مذہبی لبادے سے ایک ماڈل نوجوان لڑکی کی دلچسپ صورت میں تبدیل کرنا ہے۔ کیونکہ مذہبی تعلیم میں وہ دلچسپی نہیں جو جوان لڑکی جوانمردوں کو متاثر کرتی ہے۔

6: اس مجبوری میں ایک جوان لڑکی کو خطرات بھی لینے ہیں اور جس مذہب کی گوروں کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے تو پاک وطن کی اپنی نسل کو اس میں قربانی کے کاروبار میں لگانا ہے۔

7: اگر آزادی دی جائے تو جنسی اشتعال انگیزی اورتشدد کیا جائے تو مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ ملے گا۔

دوسری طرف حریم شاہ بھی مدرسہ کی فارغ التحصیل مولانا ہیں۔ گل چاہت اور مہک ملک بھی ڈانس اور تبلیغ دنوں ہی کرتی ہیں۔ مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کو مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع نے دارالعلوم کراچی میں گھر خرید کر دئیے تو مفتی رشیداحمد لدھیانوی نے فتویٰ دیا کہ وقف کی خریدوفروخت جائز نہیں اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ خریدنے اور بیچنے والا ایک ہی شخص ہو۔ اس پر مفتی رشیداحمدلدھیانوی کی تاریخی پٹائی لگائی گئی۔اب سودی نظام کو معاوضہ کے تحت جائز قرار دیا گیا ۔ مفتی محمد شفیع دیوبندی سے عثمانی بھی جعلی بن گئے کیونکہ عجمی نسل کی لڑکیوں کو بھگانے اور ان کا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست ہوتا ہے۔

حاجی محمد عثمان کی خانقاہ میں فوجی وپولیس افسران، علماء اور تمام طبقے شامل تھے۔ تھوڑی سی آزمائش پر ایسے بھاگے جیسے خدا کو پہنچانتے ہی نہ تھے۔ مسلمانوں کا بڑا المیہ قرآن کے محکم احکام کو مسخ کرنا ہے۔ جب تک مسلمان دین فطرت اسلام کی طرف توجہ نہیں دیںگے تو کل یہ مولوی پادری بن جائیں گے اور حلالہ سے خلاصی پر کہیں گے کہ مسیحی مذہب ہی فطری ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ نومبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شہریار رضا عابدی، حافظ عبد الخالق بھٹی اور سلفی سپاہی کو جواب

شہریار رضا عابدی کی ویڈیو پر تبصرہ:

شہریار رضاعابدی ہوسکتا ہے کہ اپنی رافضیت میں مخلص ہو لیکن جس بیہودہ انداز میں جھوٹے اور منطقی دلائل سے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرتا ہے تو یہ سنی مکتبہ فکر ہی نہیں اہل تشیع سے بہت بڑی دشمنی کے مترادف لگتا ہے۔

اگر بالفرض ہم مان لیں کہ نبیۖ اپنا جانشین بنانے میں ناکام تھے۔ صحابہ کرام مرتد ہوگئے۔ حضرت علی ناکام شہید کردئیے گئے۔ امام حسن نے اپنے ہی ساتھیوں کی دغابازی سے خلافت امیر معاویہ کے سپرد کردی۔ امام حسین کربلا کی زمین میں پھنس گئے۔ جانا چاہتے تھے مگر شہیدکیا گیا اور جنہوں نے بلایا تھا دھوکہ دے گئے۔ باقی ائمہ نے کبھی سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آخری غائب ہوگیا ۔ جس نے حسین کی طرح علم بلند کیا امام زید نے تو اس کو امامت سے نکال دیا۔ جنہوں خلافت فاطمی قائم کردی تو وہ قادیانیوں سے بھی بدتر ہوگئے اسلئے کہ امامت کے راستے میں بغاوت اختیار کی۔ آج ولایت فقیہ کی وجہ سے شیعہ کی اکثریت خمینی اور ایرانی شیعوں کو یزید سے بھی زیادہ برا سمجھتے ہیں۔ لیکن قرآن اور اسلام کے نتائج کیا نکلیںگے؟۔ پھر تو اچھا نہیں تھا کہ رسول اللہۖ اور امام علی سے حسن عسکری تک سبھی امام مہدی غائب کی طرح ہزارسال سے زیادہ غائب رہتے اور اچھے وقت کا انتظار کرتے؟۔جن کے نزدیک قرآن محفوظ نہیں احادیث کی کوئی مستند کتاب نہیں تو کیا تاریخ کی حفاظت پر ایمان بنتا ہے؟۔ اہل تشیع میں بہت ایمان والے پکے مؤمنین ہیں لیکن جاہل ان کو خوامخواہ میں گمراہ کررہے ہیں۔
ـــــــــــــــــ

حافظ عبد الخالق بھٹی کی ویڈیو پر تبصرہ:

حافظ عبدالخالق بھٹی کہتا ہے کہ” حضرت علی خلیفہ تھے مگر راشد نہیں۔ سلطنت بنی امیہ کے خلاف زہر اگلنے والے ڈاکٹر اسرار، اخوانی اور شیعہ سے مرعوب ہونے والے یزید کے خلاف سازشی نظریہ رکھتے ہیں۔ اگر مان لیا جائے کہ یزید نے مسجد نبوی میں گھوڑے باندھ دئیے اور یزید کی فوج میں شامل عیسائی سپاہیوں کے ہاتھوں بڑی تعداد میں خواتین جبری جنسی ہوس بجھانے سے حاملہ ہوگئی تھیں تو تب بھی وہ باغی تھے اور اہل حق یزید کی فوج تھی”۔ اہل حدیث کا ناصبی ہونا تو ایسا ہے جیسا مچھلی پانی سے باہر یا چھپکلی پانی کے اندر۔ احادیث کی وجہ سے ہی تو شیعہ شیعہ بن گئے ہیں۔مولانااسحاق کی علمی صلاحیت سے مجھے سخت اختلاف ہے لیکن ان کے خلوص پر شک نہیں ہوسکتا۔ احادیث کا وہی آئینہ دکھایا ہے جو اس کا حق تھا اور اسی سے اہل تشیع کو اپنے مسلک پر قائم رہنے کا جواز بھی ملتاہے۔

اگر سورہ مجادلہ ، سورہ طلاق ، سورہ بقرہ میں طلاق کے احکام، سورہ النساء میں خلع ونکاح اور سورہ احزاب کی چند آیات کو واضح کیا جائے تو ساری احماقانہ فرقہ واریت کا ایک دن میں خاتمہ ہوسکتاہے۔ جب قرآن کی محکم آیات فرقہ وارانہ عناصر کو اپنے اپنے مسلک کے توسط سے درست نہیں پہنچے تو پھر باقی چیزوں سے بھی منافرت پھیلانے کا کام نہیں کرنا چاہیے۔ تمام مکاتب فکر وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے جاہلیت کے دور میں قرآن کو سپورٹ کرنے کا شرف حاصل کیا اور وہ بھی ہیں جنہوں نے ابولہب وابوجہل اور دیگر جاہلوں کا کردار ادا کیا ۔
ـــــــــــــــــ

سلفی سپاہی کی ویڈیو پر تبصرہ:

سلفی سپاہی نے بارہ ائمہ قریش سے سلفی حافظ کا غیر تسلی بخش جواب دیا ۔ حدیث ہے کہ ”یہ دین مسلسل قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلفاء ہوں گے ،ان میں سے ہر ایک پر امت اکٹھی ہوگی”۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے لکھ دیا ہے کہ ”ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا اور ان کا تعلق مستقبل کیساتھ ہے جن پر امت اکٹھی ہوجائے گی”۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کے وجود سے پہلے نواب قطب الدین نے مظاہر حق شرح مشکوٰة میں اس کی تشریح میں یہ روایت نقل کی کہ ”مہدی کے بعد5 افراد حسن کی اولاد5 افراد حسین کی اولادسے اور آخری پھر حسن کی اولاد سے ہوگا”۔ علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑہ نے بھی لکھا کہ بارہ امام آئندہ آئیںگے۔(تصفیہ مابین سنی وشیعہ)۔ نبیۖ نے فرمایا :”وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں، اس کا درمیان مہدی اور آخر عیسیٰ مگر درمیان میں کج رو لوگ ہیں جن کا مجھ سے تعلق نہیں اور نہ میرا ان سے”۔ کشتی نوح کی ضرورت ہلاکت کے وقت پڑتی ہے اور اہل بیت کا دور درمیانے زمانے سے شروع ہوتا ہے۔ شیعہ کتب میں بھی مستقبل کے بارہ مہدیوں کا ذکر ہے جن کو اقتدار ملے گا اور قیام قائم سے پہلے انقلابی اشخاص کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔

ایک شیعہ نے امام خمینی کو درمیانہ زمانے کا مہدی قرار دیا اور مولانا محمد یوسف بنوری کے شاگرد نے ملاعمر کو مہدی قرار دیا اور پاکستان میں ڈنڈے والی سرکار کی پیشگوئی کا بھی ذکرکیا۔ فیلڈمارشل حافظ عاصم منیر بھی ڈنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اگر اسلام میں تصوف نہیں تو نماز میں چوتڑ اٹھا کر سبحان ربی اعلیٰ کی کیا ضرورت ؟

نماز مؤمن کی معراج اور فحاشی ومنکرسے بچنے کا ذریعہ ۔اللہ نے فرمایا: ” کہہ دو کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن تو اس کیلئے اچھے نام ہیںاور نماز نہ چلاکر پڑھ اور نہ آہستہ اور انکے بیچ کی راہ لو”۔

”اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ اسلام لائے ،ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا( حجرات:14)حدیث جبریل میں تصوف ہے؟

صحف ابراہیم وموسٰی قرآنی پاروں جیسے حجم میں برابرتھے ۔ سورة شہر، رکوع دروازہ ، آیت درسگاہ ہے ۔ جامعہ بنوری ٹاؤن علم کا شہر،اسکے 3 دروازے اور کئی درسگاہیں ہیں۔ فصلت آیاتہ اس کی آیات کو فصل بنایا۔ انا اعطیناک الکوثرO ” بیشک ہم نے آپ کو الکوثرعطا کی”۔ایک درسگاہ ہے۔ یؤتی الحکمة من یشاء و من یؤتی الحکمة فقد اوتی خیرا کثیرا و یذکر الا اولی الالباب (البقرہ آیت:269)”اللہ جس کو چاہے حکمت دے اور جس کو حکمت دی گئی تو اس کو خیر کثیر عطا کی گئی اور نصیحت نہیں لیتے مگر عقل والے”۔الکوثر کی تفسیر بھی ایک درسگا ہے۔ اور حکمت کی تفسیر بھی الگ درسگاہ ہے۔ سور ہ بقرہ کی پہلی آیت المOبھی ایک درسگاہ ہے۔ اسکے باطنی کمالات اور علم الاعداد تو اپنی جگہ لیکن جب فرشتوں نے اللہ کو نام نہیں بتائے اور حضرت آدم نے بتائے تو اللہ نے فرمایا”الم اقل لکم ۔کیا نہیں تم سے کہا تھا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ الم نشرح لک صدرککیا نہیںہم نے تمہارا سینہ کھولا؟۔ الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ ہم نے ہاتھی والوں کیساتھ کیا کیا؟۔ …

نبی ۖ صحابہ پر آیات کی تلاوت ، ان کا تزکیہ فرماتے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ۔اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے اور آخر والے جو ابھی ان سے نہیں ملے (سورہ جمعہ)

اسلام حجاز ، عرب اور دنیا پر چھا گیا، صحابہ کرام، اولاد صحابہ، سادات ،قرآن کی تفاسیر اور کمپوٹر،علم الاعداداور تسخیر کائنات کی آیات سبھی الکوثرکی تفسیرہے جو اللہ نے نبیۖ کو عطاء کیں۔
ولقد کذب اصحاب الحجر المرسلین (الحجر:80)”اور بیشک عقل والوں نے رسولوں کو جھٹلایا”۔ ابوجہل کم عقل نہیںابو الحکم کہلاتا تھا۔ ھل فی ذٰلک قسم لذی حجر (الفجر:5)” کیا اس قسم میں عقلمند کیلئے کچھ ہے”۔

الرٰ تلک اٰیات الکتاب و قراٰ ن مبین : ال ر یہ کتاب کی آیات ہیں اور قرآن مبین کی”۔ (الحجر آیت:1)
الحجر کی پہلی آیت میںمدارس کے نصاب کی اصلاح ہے کہ ”قرآن کتابت اور پڑھنے میں اللہ کا کلام ہے”۔ یونانی فلسفہ نے قرآن کی کتابت کو اللہ کا کلام نہیں مانا اور معاملہ فتاویٰ شامی اور قاضی خان میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے تک جا پہنچا۔

سود کو حلال کرنا قرآن کے منافی قیاس ہے۔سورہ الحجر کی دوسری آیت چودھواں پارہ ”بدرچاند”ہے ۔ جب عروج ملت اسلامیہ کا وقت آئے گا تو الحجر کی دوسری آیت اُجاگر ہوگی ۔
ربما یود الذین کفروا لو کانوا مسلمین ”کبھی کافر چاہیں کہ کاش مسلمان ہوتے”۔ مکہ اور قیصر وکسریٰ کی فتح پرابوجہل کا بیٹا، ابوسفیان، ہند اور مشرکینِ مکہ مسلمان ہوگئے ۔ جب دنیا میں پھر اسلامی اقتدار کا غلبہ ہوگا تو دنیا پر مظالم کے پہاڑ ڈھانے والے کافر کہیں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ۔
ابراہیم و اسماعیل کے بعد رسول اللہۖ تک کوئی نبی نہیں آیا اسلئے کہ قریش فطری دین پر تھے۔ نصاریٰ کا عیسیٰ ومریم کو خدا کا بیٹا اور بیوی بنانا اور عقل پرست یہود کا مقابلے میں عزیرکو خدا کا بیٹا بناناایسی گمراہی تھی جس کو قریش کے فطری مسلمان بھی قبول نہیں کرسکتے تھے۔ عربوں میں جہالت کی وجہ سے شرک کا رحجان بھی تھا لیکن پرامن اور سیکولرتھے۔ کعبہ 360 بتوں سے بھرا ہواتھا۔ قریش سمجھتے تھے کہ امن اور تجارت ہو۔ حلف فضول بھی ظالموں کے خلاف امن کیلئے کیا تھا۔ جس پر نبیۖ بعد میں فخر کرتے تھے۔ ہمارے وزیرستان میں بھی بڑا امن تھا۔

وزیرستان پر بھی عربوں کی طرح کسی نے حکومت نہیں کی ۔ اور وزیرستان کے معاملات اخلاقی روایات، خاندانی اقدار اور باہمی مشاورت سے چلنے کی دنیا میں اپنی مثال آپ تھے؟۔جو آج بھی عوام کے DNA میں اسی طرح سے موجود ہیں۔

ہندو پنڈت ڈاکٹر منوج چوہان نے کہا کہ”ہم اللہ کو اشور کہتے ہیںجس کی نقل تصویر اور مورتی نہیںبن سکتی ہے”۔ہندو روحانی شخصیات کو بھگوان کہتے ہیں۔جیسے آدم کے سامنے بھی فرشتے ، یوسف علیہ السلام کے سامنے بھائی سجدہ ریز ہوئے۔

علامہ اقبال نے ”روح محمدۖ” کو مخاطب کرکے کہا:

شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے
وہ لذت آشوب نہیں بحر عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں وہ طوفان کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بیاباں سے حدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد
آیات الٰہی کا نگہبان کدھر جائے!

ہندو پیغمبروں اور روحانی افراد کو بھگوان سے سمجھتے ہیں۔ بابا گرونانک مشترکہ اثاثہ تھا۔ خواجہ معین الدین چشتی نے کہا کہ

گنج بخش ، فیض عالم ، مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما

بنوامیہ کے دور میں حدیث خطبوں میں پڑھی جانے لگی کہ السطان ظل اللہ فی الارض من اہان اللہ فقد اہان اللہ ”بادشاہ زمین پر خدا کا سایہ ہے جس نے بادشاہ کی توہین کی اس نے اللہ کی توہین کی”ابن تیمیہ کہتا تھا کہ جیسے میں منبر پر بیٹھا ہوں ویسا اللہ مجسم عرش پر بیٹھا ہے۔ شیعہ کے ہاں وہ تصویر جائز نہیں جس کی جسامت ہو۔ اللہ آسمانوں و زمین کا نور ہے جس کی مثال کوئی نہیں۔ اللہ نے نبی ۖ سے فرمایاکہ ” آپ نے نہیں پھینکا جب آپ نے پھینکا مگر اللہ نے پھینکا”۔ ”ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر عالمین کیلئے رحمت بناکر”۔” آپ مؤمنوں پر رؤف اور رحیم ہیں”۔ اگردنیا میں رحمن کی خلافت قائم ہوگی تو مخلوق خدا کافروں اور مؤمنوں سب پر رحم ہوگا اور سبھی اس سے خوش ہوں گے۔ نبیۖ کو دنیا کا مقام محمود مل جائے تو پھرسبھی نبیۖ کی انسانیت پر صد رحمت کی صدائیں بلند کریں گے۔ قل یااہل الکتٰب تعالوا الیٰ کلمة سوآئٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئًا ولا یتخذ بعضنا بعضًا اربابٍا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون ”کہہ دو کہ اے اہل کتاب! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریںاور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور ہم میں کوئی اپنے بعض میں سے بعض کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے۔ اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں”۔

دیوبندی بریلوی کو اور اہل حدیث ان دونوں کو مشرک قرار دیتے ہیں لیکن ہر ایک کہتا ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتے۔ البتہ اپنے علماء کو حلال و حرام بنانے کا اختیار دیا ، یہ پتھر کے بتوں سے زیادہ خطرناک اسلئے ہیں کہ نفس اور بال بچے بھی رکھتے ہیں۔ حلالہ میں عزتوں کو پار لگادیتے ہیں بلکہ مدارس کو تجارت بنالیا تھا اب بینکوں کی نوکریاں بھی ہتھیالی ہیں۔ دیوبندی یہود کی طرح مقابلہ بازی کرتے ہیں۔ میلاد النبی ۖ کے جلوس کو بدعت لیکن حضرت عمر کے جلوس کو شیعہ کے مقابلے میں نکالتے ہیں۔ یہودی عقل پرست طبقہ تھا جو عیسائی راہبوں کے مقابلے میں کہتا تھا کہ جس عیسیٰ نے خود کو مظالم سے نہیں بچایا تو اس کو خدا کا بیٹا ماننے سے بہتر ہے کہ عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانیں جس کا گدھا بھی اللہ نے مارنے کے بعد زندہ کردیا تھا۔ یہ امت یہودو نصاریٰ کی طرح عقل وروحانیت سے عاری مذہبی تعصبات کا شکار ہے اور اس کی پیش گوئی رسول اللہ ۖ نے پہلے سے کی تھی۔

فرعون بھی خود کو رب کہتا تھا۔ مسلمان حکمرانوں نے جہاں اقتدار حاصل کیا تو خلافت راشدہ کی جگہ فرعونیت کا راستہ اپنایا۔ کوئی عیار سلطان کو ظل اللہ اور کوئی عیار درویش کو مدظلہ العالی کہے تو اس کی مرضی لیکن دونوں میں صرف طاقت کا فرق ہے۔ انسانی حقوق کو پامال کرنے والے ظالم حکمرانوں اور جاہل علماء و مشائخ کو اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت کے نور سے نواز دے۔

بنی اسرائیل حضرت اسحاق کی اولاد ہیں اور قریش حضرت اسماعیل کی اولاد ہیں۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو عالمین پر فضیلت بھی بخشی اور بداعمالی کے سبب ذلت ورسوائی بھی ان پر مسلط کی مگرابراہیم اور دونوں بیٹوں نے مشکلات میں زندگی گزاری ۔

درود میں محمد و آل محمد پر ابراہیم وآل ابراہیم کی دعا ہے جن کو نمرود کی آگ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جن کو بادشاہت کی طلب ہو تو وہ حضرت داؤد وسلیمان کی طرح کیلئے دعا مانگیں۔ کچھ لوگ تو فرعون وآل فرعون کی تمنا رکھتے ہوں تو بعید نہیں۔

وہ بنی اسرائیل جن پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے لعنت بھیجی گئی جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ آل ابر اہیم سے یہ بنی اسرائیل مراد نہیں ہوسکتے جن پر اللہ کاغضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔ بلکہ درود میں آل ابراہیم سے حضرت اسحا ق اور اسماعیل علیہما السلام مراد ہیں جو ابراہیم کے بیٹے تھے اور ان کے پاس بادشاہت نہیں تھی لیکن انہوں نے دورِ جاہلیت میں جاہل لوگوں کو دین فطرت کی تعلیم دی۔ نبیۖ کے اہل بیت آپ کی بیٹی کی اولاد تھی جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آل عمران سے تھے ۔حالانکہ حضرت مریم کی توسط سے یہ سلسلہ جڑا تھا ،اسی حضرت فاطمہ کے توسط سے اہل بیت کا سلسلہ نبیۖ سے جڑا ہے ۔

جاویداحمد غامدی نے اپنے حلقہ ارادت میں اتنا بارود بھردیا ہے کہ ایک نے پوچھا کہ نبیۖ کی آل کو ہم کیوں دعا دیں؟۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ سردارن جنت اور ان کی اولاد نے بڑی حد تک قربانیاں دیں اور یزید کے مران بن حکم کی اولاد اور پھر بنوعباس نے خلافت کے بھر پور مزے لئے ہیں۔ چشم بد دُور۔

اللہ نے فرمایا:”آفتاب ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھ۔اور صبح کا قرآن۔بیشک صبح کا قرآن زبردست مدلول ہوتا ہے”۔ (سورہ بنی اسرائیل آیت78)
شاہد گواہ اور مشہود جس کی گواہی دی جائے۔ دال نشاندہی کرنیوالا ، مدلول جس کی نشاندہی کی جائے۔ نبی ۖ شاہد اور قرآن مشہود۔ صبح کے وقت دماغ تازہ ہوتا ہے اسلئے قرآن کا مدعا سمجھ میں اچھی طرح سے آتا ہے۔ جبکہ دن بھر میں لوگوں کا دماغ تھک جاتا ہے اور نیند سے تھکاوت دور ہوجاتی ہے۔

اللہ نے فرمایا:” اور رات کی تہجد آپ کیلئے نفل ہے۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تجھے مقام محمودتک پہنچا دے۔ اور کہو کہ اے میرے رب! مجھے سچائی کیساتھ داخل کردے اور سچائی کیساتھ نکال دے اور اپنی طرف سے غلبے کو میرے لئے مدد گار بنادے اور کہو کہ حق آگیا اور باطل گیا بیشک باطل ٹلنے کیلئے ہی تھا اور قرآن میں سے ہم وہ نازل کرتے ہیں جو مؤمنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالم نہیں بڑھتے مگر خسارہ میں۔اور جب ہم انسان پر نعمت کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے اور جب اس کو تکلیف ہے تو پھر مایوس ہوجاتا ہے۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنی شکل پر کام کرتاہے اور اللہ اجانتا ہے کہ کون زیادہ ہدایت پر ہے”۔ (سورہ بنی اسرائیل :79سے84تک)

نعمت اور مایوسی میں بے اعتدالی سے بچنے کیلئے اللہ نے نماز میں سورہ فاتحہ کا سبق دیا کہ ” تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ہدایت دے ہمیں سیدھی راہ کی۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر نہ غضب ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے”۔

بینظیر بھٹو اور نوازشریف ننگے بابا سے اقتدار کی خاطر ڈنڈے کھاتے اور عمران خان نے پاک پتن کے مزار پر اپنی تشریف اٹھائی۔ یہود پر غضب ہوا، نصاریٰ گمراہ ہوگئے۔ نعمت میں انسان ناشکری سے ظالم بن سکتا ہے اور مصیبت میں مایوسی طاری ہوتی ہے اورمیانہ روی صراط مستقیم ہے لیکن جب تک اپنا تزکیہ نہ کریں تو نماز صرف ایک بدنی ورزش ہے۔

” کہہ دو کہ اگر تم رب کے خزانوں کے مالک بن گئے تو ان کو روک کر رکھتے خرچ ہونے کے ڈر سے اور انسان بڑا سیاہ دل ہے اور البتہ ہم نے موسیٰ کو 9 واضح آیات دیں۔ پھر بنی اسرائیل سے بھی پوچھ لو جب ان کے پاس آئے۔پس فرعون نے اسے کہا کہ اے موسیٰ مجھے لگتا ہے کہ تجھ پر جادو ہوا ہے۔ کہا کہ بیشک تجھے پتہ ہے کہ یہ اللہ نے نازل نہیں کیں مگر لوگوں کیلئے بصیرت افروزاور گمان کرتا ہوں اے فرعون تجھے تباہ۔ پس اس نے ارادہ کیا کہ ان کو زمین سے نکال دے تو ہم نے اس کو غرق کردیا اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو اسکے ساتھ۔ اور ہم نے بنی اسرائیل سے اسکے بعد کہا کہ رہو ! زمین میں جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو تمہیں بھی لپیٹ لائیں گے۔ اور ہم نے اس (قرآن) کو حق سے نازل کیا اور حق کیساتھ نازل ہوا۔اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر خوش خبری والااور ڈرانے والا۔ اور قرآن کو ہم نے فاصلوں سے بنادیا تاکہ مہلت پر لوگوں کو پڑھ کر سناؤ۔اور ہم نے اس کو خوب نازل کیا۔کہہ دو کہ تم ایمان لاؤ یا نہیں لاؤ ۔ بیشک جن کو پہلے سے علم دیا گیا ،جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو تھوڑیوں پر سجدہ میں گرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ، بے شک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہوکر رہے گااور تھوڑی پر روتے ہوئے گرتے ہیں اور ان کی عاجزی زیادہ کردیتا ہے۔ کہہ دو کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن ،اس کے بہت اچھے نام ہیںاور اپنی نماز کو زیادہ بلند آواز سے مت پڑھو اور نہ اس میں زیادہ آہستہ۔ اور اس کے درمیان کا راستہ کرو اور کہہ دو کہ ساری تعریفین اللہ کیلئے ہیں نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کے اقتدار میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مدد گار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔ بنی اسرائیل:100تا آخر۔

شب معراج میں رسول اللہ ۖنے تمام انبیاء کی امامت کی اور اللہ نے انسانوں پر اسلام کے غلبے کا خواب دکھایا۔ اس وژن کے خواب کو لوگوں کیلئے آزمائش بنادیا اور دوسرا قرآن میں شجر ملعونہ کے ذکر کو آزمائش کا ذریعہ بنادیااور ان کو خوف دلانے کے باوجود بھی سرکشی میں بڑھنے کی نشاندہی بھی کردی۔

جاویداحمد غامدی تصوف کے نام پر آنٹیاں لیکر بیٹھتا ہے تو خیر ہے مگر اسلام کے غلبے، معراج کی حقیقت اور مسلمانوں کے متفقہ معاملات سے انکار کرکے حلالہ کی لعنت میں ضعیف ترین روایت سے اپنا سارا بھانڈہ پھوڑ دیتا ہے۔ مستقبل کے عزم کو بھی خواب کہتے ہیں اور آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت بازیاب کیا ہے۔ سورہ معارج میں چڑھنے کی مقدار ایک دن کی 50 ہزار سال کے برابر کی سائنس نے بھی تصدیق کردی ہے۔ اگر جاویداحمد غامدی یہ مان لیتے ہیں کہ نماز میں شیعہ طرز عمل یا امام جعفر صادق کا طریقہ قرآن کے مطابق ہے اور حلالہ لی لعنت کو جاری کرنا کسی مجتہد اور حکمران کا حق نہیں تو یزیدیت کا سیلاب اس کی ساری محنت کو اٹھاکر اڑادے گا۔ چالاک پرندہ پھنستا نہیں مگر جب پھنستا ہے تو دونوں پیروں سے پھنس جاتا ہے۔

تصوف والوں کی یہ بات کہ سورہ اخلاص میں عوام کیلئے جو توحید ہے تو خواص کی توحید اور اخص الخواص کی توحید جدا ہے۔ جس کو غامدی متوازی دین اور کفر سمجھتا ہے۔ حالانکہ اعراب کا اسلام اور مؤمنوں کے ایمان میں قرآن نے فرق کیا۔ ابراہیم نے پرندوں کا مشاہدہ کیا اور فرشتوں کی مدد نہیں مانگی۔ اللہ نے خود فرمایا کہ ”اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈا ہوجا”۔ جاویدغامدی کی تحریک قرآن کے ایمانی جذبے کا انکار ہے لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کھل کر ان آیات کا انکار کرے۔ جو زمینی حقائق تھے لیکن اس کی آخری منزل یزیدی اسلام ہے لیکن اس کا قرآن سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔ جس دن قرآن کی طرف علماء وطلبہ اور اولیاء کرام متوجہ ہوگئے تو لوگ اسلام کو بغیر کسی باطل اجتہاد کے بھی مان لیںگے۔ جاوید غامدی مہدی کو بدعت کہتا ہے لیکن مہدی کی شخصیت کوئی نیا دین نہیں ،البتہ غامدی نئے دین کی وہ بنیاد ڈال رہاہے جو ایک عرصہ سے معتزلہ کے دل ودماغ میں چھایا ہوا تھا لیکن معتزلہ عملیت پسند لوگ تھے۔ غامدی کا اجتہاد بھی اس کی خانقاہ کی طرح ایک نرا فراڈ ہے۔ مجھے امید ہے کہ مدارس کے علماء ومفتیان اپنا ذاتی بغض وعناد چھوڑ کر دین حق کی صحیح تعبیرکو قبول کریں گے ،اگر نہیں تو جس طرح عمران خان کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کیساتھ کیا گیا تو اس سے بڑھ کر پھر جاویدغامدی مدارس کے علماء وطلبہ کونقصان پہنچائے گا۔ باقی جوکچھ ہورہاہے۔مجھے یقین ہے کہ اللہ نے بہتری رکھی ہے۔

نماز میں بسم اللہ اور آہستہ آواز سے تلاوت وتسبیحات سے اگر خشوع وخضوع میں اضافہ ہو تو نمازیوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ نبیۖ دو سجدوں کے درمیان اللٰھم اغفر لی و ارحمنی وارزقنی دعا مانگتے تھے۔ظاہر ہے کہ لوگ سنتے ہوں گے اور اس جامع دعا سے ہماری دنیا اور آخرت میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ ہم جس سپیڈ سے جس طرح کی نماز اللہ کی بارگاہ میں قائم کرتے ہیں تو شاید ہی کسی کو حاضر ناظر جان کر اتنی بے رغبی کوئی کرتا ہو۔ اللہ الرحمن ہمیں ہدایت عطا فرمائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جتنی بھی کنٹری ہیں وہ ، وہ، وہ ، وہ سب دوست بنیں،لڑائی مت کریں۔ بچہ میجر عدنان شہید

اس یتیم معصوم بچے کے دل کی آواز سلیم الفطرت انسانوں کی ترجمان ہے!

”سود کے 73گناہ ہیںاور اس کاکم ازکم گناہ ماں سے زنا کے برابرہے”۔ (حدیث) سودنے طاقتور ٹرمپ کو کمزور نیتن یاہو کے سامنے لٹادیا۔کیا اب بھی حدیث سچ ثابت نہیں؟۔

تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں ہے
فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے

ڈاکٹر ہما بقائی نے حامد میر کے پروگرام میں بتایا کہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ پر امریکہ خوش ہوگا کہ پاکستان کوسعودی عرب سے پیسہ ملے گا اور جس سے امریکی اسلحہ خریدا جائے گا۔

امریکہ ،اسرائیل ،عرب ممالک کو دیکھنا ہوگا اور خطے کے حالات کو سمجھنے اور سدھارنے کیلئے ان3ویڈیوز پر تینوں ممالک کے لوگ غور کریں۔ اردو ، ہندی اور پشتومیں۔ حامد میر نے عالمی ایوارڈ یافتہ موسیٰ ہراج صدر آکسفورڈ یونین، مصنفہ ملائکہ نوازاور ماہ نور چیمہ سے پوچھا تو تینوں نے کہا کہ AIکتابوں کا نعم البدل نہیں اور حامدمیرنے کہا کہ ”پاکستان کے مقتدر طبقات میں کتابوں کا رحجان نہیں اور ملک کے تمام ادارے اس وقت مضبوط ہوسکتے ہیں کہ جب کتاب پڑھنے کا رحجان ہو”۔

قرآن کتاب ہے اور نبیۖ کی سیرت اس کی عملی شکل تھی لیکن ہماری توجہ کیوں نہیں؟۔ سود کی آیات نازل ہوئیں تو اسکے بعد نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا۔ زمین خود کاشت کرو یا پھر مفت میں کسی کو کاشت کرنے دو۔ مدینہ میں اس پر عمل ہوا تو محنت کش توانا بن گیا، جس پرتاجر کو دن دگنی رات چگنی ترقی ملی اور یثرب گاؤن نہ صرف ایک شہر بن گیا بلکہ اس خوشحالی سے تو دنیا کے پسے ہوئے طبقات میں ایک انقلاب آیا۔ سپر طاقتیں لمبی پڑگئیں۔ اکابر صحابہ کرام کے بگڑے ہوئے صاحبزادوں نے پھر جاگیرداری کے نظام کو اپنے لئے سہارا بنایا۔ جاگیردار طبقہ ہی مزارعت سے غلام اور لونڈیاں پیدا کرکے مارکیٹنگ بھی کرتے تھے۔ سودی نظام غلامی کا ذریعہ تھا اور پھر لائن کٹ گئی اور غلامی کو ختم کرنے کا تاج امریکہ کے صدر ابراہم لنکن کے سر پر سج گیا۔ آج وہی سپر طاقت ہے۔ اب امریکہ کے مقتدر طبقے نے اصول کو چھوڑ کر ذاتی کاروبار اور خاندانوں کو محور بنایا ہے۔ اگر مسلمان ایک ایسا ایجنڈا لیکر کھڑے ہوں کہ انسانیت کی کوئی خدمت کریں تو امامت کا منصب پھر حاصل کرسکتے ہیں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ابراہم اکارڈ عیسائی،یہود اور مسلم کیلئے ہے۔ اسرائیل نے فلسطین کو وہی حقوق دئیے جو مسلمان بیوی کو دیتاہے۔ قرآن آرٹیفشل انٹیلی جنس سے زیادہ کمال رکھتا ہے۔ ایک آیت سے طلاق اور باہمی اصلاح سے رجوع سمجھ میں آجائیگا اورکتابوں کی غلطیاں بھی سمجھ جاؤگے۔ اسلام نے شعور دیکر دنیا میں عظیم انقلاب پیدا کیا،مسلمان آج چراغ تلے اندھیرے میں سسک رہا ہے۔ پاکستان آدم اکارڈ سے بھارت، چین، روس، برما اور کوریا سب دنیا کوشامل کردے جویورپ اورایشیاکو ملادے۔

یا رب ! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر
خود داری ساحل دے آزادی دریا دے
میں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں محتاج کو داتا دے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تبرج حسن نساء کی نمائش ،عورتوں کی زینت حسن نساء اورگھر سے باہر سینوں پر اپنے دوپٹے اوڑھنے کا حکم ہے

 

دورجاہلیت میں عربی بعض عورتیں حسن النساء کو نمایاں کرتی تھیں۔ ہندوستان میںاب ماحول خراب ہورہاہے۔ رعنا لیاقت علی خان کا خاندان عیسائی بن گیا تھا اسلئے ہندی لڑکیوں میں اکیلی سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ افغانی لڑکیوں کو امیر امان اللہ خان نے 1920ء کی دہائی میںاعلیٰ تعلیم کیلئے ترکی بھیجا تھا۔ ہمارا ماحول افغانی لڑکیوں نے خراب کیا تھا ۔ طالبان کو اسلام سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ولا یبدین زنتھن الا ما ظھر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن”اور اپنی زینت کو نہ دکھائیں مگر جتنا اس میں سے ظاہر ہو اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالیں”۔ عورت کو برقعہ کا حکم نہیں ۔ ولا یبدین زنتھن الا(دوپٹہ سے مستثنیٰ افراد) شوہر، باپ، سسر ، بیٹا، سوتیلا بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، عورتیں، معاہدے والے، ایسے تابع مرد جن میں میلان نہ ہو، یا بچہ جو عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے واقف نہ ہوں”۔ مولاناسیدابولاعلیٰ مودودی کے گھرکاباورچی اور نوکرسبھی مرد تھے۔ ولا یضربن بارجلھن لیعلم مایخفین من زنتھن وتوبوا الی اللہ جمعیعًا ایہ المؤمنون لعلکم تفلحون ”اور اپنے پاؤں کو پٹخا نہ کریں کہ ان کی چھپی زنیت کا پتہ چلے اور تم سب مسلمانو! توبہ کرو تا کہ فلاح پاؤ”۔( النور: 31)

اللہ نے پہلے مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ اپنی آنکھوں (نظروں)کو پست رکھیں (سورہ حجرات میں آوازپست ) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں پھر احکام بیان کئے ۔

مسلمانوں کو یہ حکم نہیں کہ ڈنڈے کا زور ہو تو عورتوں کو پردے پر مجبور کردیں ۔ مغربی لباس سے زیادہ لونڈیوں کا لباس مختصر ہوتا تھا۔ فقہاء نے ان کا سترعورت کم قرار دیا۔

افغان طالبان، ایران اور سعودی عرب غلط مذہبی تصور کا خوف پوری دنیا سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اللہ نے فرمایا:قد افلح من زکاھا وقد خابا من دسّاھا ”بیشک فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور غارت ہوا جس نے اسے دھنسادیا”۔ یہاںمسلم و غیرمسلم کا تصور نہیں۔نبی ۖ صحابہ کا تزکیہ فرماتے۔ عورتیں نماز، رفع حاجت ، پانی ،لکڑیوں وغیرہ کیلئے گھروں سے نکلتی تھیں۔ ولاتبرجن تبرج الجاہلیة اولیٰ ” اور حسن النساء کی نمائش نہ کرو پہلی جاہلیت کی طرح”۔ فرج کی حفاظت کا حکم اورعورت کیلئے ”برج ”کو نمایاں کرنے کی ممانعت ہے۔

والقواعد من النساء الاتی لا یرجون نکاحًا فلیس جناح ان یضعن ثابھن غیر متبرجاتٍ بزینة ”اور بوڑھی عورتوں پر جو نکاح کی رغبت نہیں رکھتی کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اُتاریں مگر اپنے حسن النساء کے علاوہ”۔

یریداللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ” اللہ چاہتا ہے اے اہل بیت کہ تم سے گند کو دور کردے” ۔ شکر کہ گندی ذہنیت والے ازواج النبویۖ مراد نہیں لیتے۔ حالانکہ آیت میں ازواج النبیۖ ہی مراد ہیں۔

احادیث میں حضرت علی کا خاندان بھی اس میں شامل کرنے کی دعا ہے اور اسی وجہ سے ان پر سختیاں آئی ہیں۔ ہندو ڈاکٹر بربیل سوہل کی تربیت فطری ہے۔ قرآن میں دورجاہلیت کے مسلمانوںکو بھی یہی تعلیم دی گئی ہے۔

 


جج ٹی وی پر آدھی ننگی،یہ ذاتی چیزیں عوام کو دکھانے کی نہیں۔ڈاکٹربربیل

ڈاکٹر بر بیل سوہل :ہر جگہ تباہی یُگ بدلنے کی باتیں ہیں لڑکی آئی، چھوٹی ٹی شرٹ ، نیچے پینٹ تھا، جسم بھاری ، ناف ننگی ، سینہ ابھرا ہوا۔ کوئی دوپٹہ نہیں تھا۔ دو بہنیں ،والد بھی تھے۔ میں چپ رہی۔ سوچا سیشن کیسے کراؤں؟ لڑکی کے بال کھلے تھے، زیادہ لمبے نہیں تھے۔ وہ میرے سامنے بیٹھی اور مجھے شرم محسوس ہو رہی تھی۔ والد بھی وہیں بیٹھے تھے تو میں اندر گئی ، شال نکال کر دیا ۔ میں نے والد کو کہا ،آنکھیں جھکی تھیں۔ ہم بھی بڑے ہوئے۔ ماں سے کوتاہی ہوتی بیٹی کا لباس مناسب نہ ہوتا تو باپ تھپڑ لگا تا،ہم نے کھائے کہ ڈھنگ کے کپڑے پہنو، گھر سے باہر ہمیشہ اچھا لباس پہننا چاہیے کیونکہ آپ اپنے خاندان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

آج کل یُگ کی شروعات ۔ شرم آتی ہے ماں، بیٹی، بہو ایسے نکلتی ہیں جیسے ابھی نہا کر باتھ روم سے آئی ہوں۔ بال کھلے ، بھوتنیاں لگتی ہیں۔ یہ فیشن ہے؟ ٹی شرٹیں، ٹراؤزر چار انچ نیچے، پیٹ اور ناف ننگی۔ پھرکہتے ہو ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ شرٹ اتنی کہ انڈر ویئر نیچے سے دکھ رہا ہے۔ کیا بولوں؟، روز دیکھتے ہونگے، کچھ لوگ دیکھ کر شرم سے منہ پھیرلیتے ہیں ،کچھ لڑکوں نے کہا کہ ہمیں شرم آتی ہے جب ہم دفتر میں اپنی ساتھی خواتین کو ایسے دیکھتے ہیں۔

جسم ننگا کرنا ماڈرن ہونا نہیں۔ مارکیٹ میں موبائل خریدنے جائیں تو بغیر ڈبے ، کور کے خریدیں گے؟ نہیں!۔ تو پھر لڑکیوں کے لباس کو لڑکے کیسے قبول کریں گے؟ وہ چار دن مستی ضرور کرلیں گے مگر لائف پارٹنر بنائیں گے؟۔ کبھی نہیں لکھ کر دیتی ہوں۔ ٹی وی پر جج بن کر بیٹھتی ہیں خاتون، نام نہیں لوں گی، آدھی سے زیادہ ننگی ہوتی ہیں۔ یہ ذاتی چیزیںعوام کو دکھانے کی نہیں۔ ران لوگوں کو دکھانے کیلئے نہیں ۔میں یہ نہیں کہتی کہ برقعہ پہن لو مگر کم از کم ڈھنگ کا لباس پہنو۔ خود کو کور کرکے رکھو۔ کئی بار لڑکیوں کو دیکھا کہ ڈرائیور، اردگرد کے لوگ دیکھ کر ہنستے ہیں۔ یہ بغیر پیسے اور ٹکٹ کی نمائش ہے۔ چار دن کی جوانی، کلچر کیا دیا بچوں کو؟ پھر شوہر کہتا ہے ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔لڑکے کہتے ہیں کہ یہ لڑکیاں گھر بسانے کی لائق نہیں ، بس وقتی تفریح ہیں۔ کلچر پر افسوس جو اولاد کو یہ تربیت دے۔ آپ کا لباس، گفتگو ، تعلیم ، رہن سہن ہی خاندان کی پہچان ہے۔ آج کل شراب پینا بھی عام ہے ، آپ امریکہ، کینیڈا سے کمپیئر کرتے ہو۔ مگر ہمارا بھارت، ہمارا کلچر کہاں گیا؟۔

چار پشتیں دیکھتے ہیں کہ کونسا خاندان ہے تب رشتہ ہوتا ہے۔ شادیاں جلد ٹوٹ رہی ہیں، دو سال بعد طلاق، ایک سال بعد علیحدگی۔ کئی کیسز آتے ہیں ساس سے نہیں بنتی فلاں سے نہیں بنتی، کلائنٹ سے پوچھتی ہوں کہ محبت کی شادی تھی ؟، کہتی ہے ہاں۔ پوچھا پھر کیا ہوا ؟کہا کہ 6مہینے بعد مجھے پیٹنا شروع کردیا۔ نہ گھر جاسکتی ہوںنہ کہیں اور۔

پڑھے لکھے دس گھر دیکھنے کے بعد بچوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ لباس کا بڑا رول ہے۔ اگر کہہ دیا کہ کپڑے ڈھنگ کے پہنو تو پھر گھر میں مہا بھارت مچ جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ کھڑے ہونے اور حلئے سے پتہ چل جاتا ہے کہ کیا چیز ہیں وہ؟۔ میں لڑکوں کو کیوں قصور وار ٹھہراؤں لڑکیاں بھی کم نہیں ۔ مگر پہل ہم نے کی پہناوے سے۔ ماں نے کپڑے پہنے ہیں ناف اور پیٹ باہر نکلا ہوا ہے اور نیچے کچھ اور پہنا ہے۔ بتاؤ کیا کروں؟۔ آزادی ہے مگر ہم جس میں رہتے ہیں جسم کی نمائش کیوں لگاتے ہو باہر؟ فلم دیکھنے کیلئے ٹکٹ لینا پڑتا ہے مگر یہاں مفت میں شو چل رہا ہے۔ 2028کے بعد کیا ہوگا، سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

 


مارچ 2028 انقلاب

ڈاکٹر بربیل سوہل نے کہا کہ انسانوں کو اس کی شخصیت کا فقط نور بچاسکے گا۔ عبادات کسی مسلمان، ہندو اور دیگر مذاہب والوں کو نہیں بچاسکتی ہیں۔ مجھے 2014ء میں پتہ چلا کہ 2012ء میں انقلاب آتا مگر ایک اور موقع دیا گیا۔ اگر نہیں سدھرے تو بہت بڑے عذاب کا شکار ہوں گے۔ امریکہ پر اللہ کی ناراضگی ہے جس نے دنیا کو برباد کیا۔ ہمیں انسانیت ہی اب بچاسکے گی ۔یہ اُوپر والے کا فیصلہ ہے۔

 


ماحولیات کا خیال نہ رکھا توپھر ہم جلد تباہ ہوںگے

پورے جنگل میں آگ ہی آگ ہے ۔ میں اوپر سے دیکھ رہا ہوں کہ زمین سیاہ ہو چکی ہے۔ آج کل یوٹیوب میں بھرا پڑا ہے کوئی علمِ نجوم کی اور کوئی سیاروںکے اثرات کی، کوئی نیبرولوجی کی؛ سب کے پیغامات ایک ہی بات پر ٹھہرے ہیں کہ دن، سال ، مہینے طے ہیں۔ ہم میں بہت لوگ خواب دیکھتے ہیں مگر ان کے معانی نہیں جانتے۔ خداہر ایک کو نہیں دکھاتا۔ میں اوپر گیا چاروں طرف آگ ہی آگ ہے اور یہ ہوگا۔ پچھلی ویڈیو میں میں نے کہا تھا کہ پوچھا تم کیسے ختم کرو گے؟۔ توجواب ملا: دنیا میں 25% لوگ بچیں گے۔ جنہیں میرے مرشد کی باتیں معلوم ہیں، وہ جانتے ہیں کہ بس مٹھی بھر رہ جاؤ گے۔ پھر سوال اٹھا: آکسیجن کہاں سے آئے گی؟ دو ڈھائی گھنٹے بات ہوئی۔ تو یہی کہا کہ ہر طرف آگ لگادیں گے۔

اور میرے دو یا تین کلائنٹ نے خواب میں دیکھا کہ چاروں طرف آگ ہے زمین سیاہ ہو گئی تو سانس کہاں سے لو گے؟ مطلب سمجھو۔ باقی دھرموں اور ویدوں میں لکھا ہوگا، تفصیل نہیں معلوم؛ مجھے گرو نانک کی گربانی یاد ہے ، جدید سکھ دھرم ہے۔ گرو نانک نے سبھی دھرموں کا خلاصہ کرکے ہمیں ”گرو گرنتھ صاحب” دیا۔ اس کی پہلی لائن ہے۔ پون گرو، پانی پِتا، ماتا دھرت مہت۔ زندگی آکسیجن پر ہے، چاروں طرف آگ ہو تو آکسیجن کہاں ملے گی؟ پھر پون گرو پانی پتا۔ زمین سیاہ ہوگئی، دریا ،ندیاں کچرے اور کارخانوں کے فضلے سے بھری ہوئی، جوتے اور چمڑے کی کمپنیاں ندیوں میں فضلہ گرارہی ہیں۔ آکسیجن بچے گی نہیں، پینے کوپانی نہ ہوگا ۔پھر ماتا دھت مہت۔ دھرتی ماں ، وہ چیخیں مار کر رو رہی ہے آپ کو سنائی نہیں دیتا۔ رشی منی (صاحب کشف)سے پوچھو؛ رشی منی آج 25-20 سال کے نوجوانوں کے روپ میں آئے ، صدیوں سے عبادت کررہے ہیں کیا مان سکتے ہو اس کو۔

میرے کچھ کلائنٹس کے والدین دکھی ہیں، لیکن انہوں نے بتایا یہ کرنے کیا آیا ہے۔ شادی مقصد نہیں، اس میں لڑکیاں بھی ہیںکہ آگے آپ نے کیا کام کرنا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے اب تو مٹھی بھر بھی نہیں۔ اس دن جب آئے تو میں نے کہا مجھے اجازت دے دو۔کہا ٹھیک ہے دی۔تو بتا تو دے گی پر مانے گا کون؟ کچھ لوگوں نے کہا بھگوان کرنے والا ہے۔ میں نے پچھلی بار سمجھایا تھا کہ بھگوان کا مطلب کیا ہے بھگوان لفظ کہاں سے آیا؟۔ بھگوان کرے گا تو بھگوان تو کر رہا ہے تو پھر رونا کس بات کا؟ لیکن بھگوان کو مجبور کس نے کیاکبھی سوچا؟ ہم نے۔ ایک ملک نے کائنات میں کچھ چھوڑا ہم نے بھی شروع کر دیا۔ ایک نے بمبارٹمنٹ شروع کی ہم نے بھی کردی۔ رشیا کا حال دیکھ رہے ہو جتنی بمبارٹمنٹ ہورہی ہے ہوا میں کیا جا رہا ہے؟ کبھی سوچا ہے؟۔ کون اس کا ذمہ دار؟ بھگوان ؟۔ ہاں! بھگوان ہے کیونکہ اب صفائی شروع کردی اس نے۔ بھگوان کہتا ہے تم نے بہت کرلیا بندے اب میری باری ہے۔ دن ، سال، مہینہ طے ہے۔

کوئی 2025کا کہتا ہے اس میں کچھ نہیں، صرف تنبیہات ملتی جائیں گی۔ پھیپھڑوں کاکینسر ،کھانسی زکام ، کھانسی کا مطلب ہمارے اندر آکسیجن نہیں ہے۔ آلودگی اتنی ہے کہ سانس کہاں لوگے؟ ہوا ہے کہاں پر؟۔ صرف گاڑیاں نہیں، شادیوں، تہواروں کے پٹاخے، ہم ACچلاتے ہیں ہم اپنا کمرہ ڈھنڈا کرنے کیلئے باہر کا ٹمپریچر کس نے گرم کیا؟۔ سب سے بڑی آلودگی ہماری سوچ ہے یہی ہمیں بیمار کرتی ہے ۔ پچھلی بار کورونا کے نام پر کتنوں کو مارا گیا مرے نہیں لفظ بول رہی ہوں مارا گیا۔ جنہوں نے انجکشن نہیں لگوائے وہ بچ گئے۔ کیوں؟، یہ ایک عالمی منصوبہ تھا۔ اب فضا میں آلودگی اور بڑھے گی، لوگ کھانستے رہیں گے، نزلہ زکام کا بہانہ بنائیں گے۔ خدا اور واہِ گرو کا واسطہ دے کر بولتی ہوں ڈاکٹروں سے بچ کر رہو۔ آکسیجن، پھر پانی کی بتادی۔ دھنتر(دیو، شفا دینے والے فرشتے) کہیں اور بیٹھے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ علامہ حیدر نقوی اور سنی جاوید غامدی میں فرق

علامہ حیدر نقوی کاشیعہ سنی کیلئے مینارۂ نور بڑا خطاب

محمد و آل محمد یہ اللہ کے حکم کو فالو کرتے ہیں یا اللہ کا حکم ان کو فالو کرتا ہے ؟۔یعنی جو یہ کہے اللہ کو حکم دیتا ہے یا اللہ جو حکم دیتا ہے وہ یہ کرتے ہیں؟۔ اور قرآن میں فرمایا سور ةالاحزاب کے شروع میں توجہ کریں و اتبِع ما یوحیٰ اِلیک مِن ربِک۔ پہلی ایت یہ ہے یا ایھا النبی اتق اللہ اب جو بات بتانے لگا ہوں میں اس مائنڈسیٹ کو دیکھیں اور دیکھیں کہ کیا پوزیشن ہے۔ کس نے قوم کے ساتھ یہ کام کیا؟۔یا ایھا النبی اتق اللہ اے نبی! اللہ سے ڈر اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ ولا تطع الکافرین والمنافقین اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مان ان اللہ کان علیماً حکیماً بے شک اللہ خوب علم رکھنے والا اور حکمتوں والاہے۔واتبع ما یوحٰی الیک من ربک اور اتباع کر اے رسول اس کی جو تیرے رب کی طرف سے تجھے وحی کیا جارہا ہے۔ واتبعاور اتباع کر حکم دیا جارہا ہے۔ کس کی ما یوحٰی الیک جو وحی کیا جا رہا ہے آپ کی طرف من ربک آپ کے رب کی طرف سے ان اللہ کان بما تعملون خبیراً بے شک جو تم عمل کر رہے ہو اللہ اس کی خوب خبر رکھتا ہے۔

رسول نے کس کو فالو کرنا ہے اللہ کے قرآن کو۔ اول المسلمین کا مطلب کیا ہے؟، سب سے پہلے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکانے والا ۔ وہ حکم کیا ہے قرآن۔ سورہ الزخرف میں فرمایا: فاستمسک بالذی اوحی الیک اے رسول !جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے فاستمسک اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ جس کو ہم تمسک کہتے ہیں۔ انک علیٰ صراط المستقیم ۔یعنی اس کو مضبوطی سے تھامے رکھ یقینا تو صراط مستقیم پر ہے۔ وانہ لذکرلک ولقومک اور یقینا یہ قرآن آپ کیلئے اور آپ کی قوم کیلئے بھی ذکر ہے نصیحت رہنمائی ہے، و سوف تسئلون اور عنقریب تم سب سے اس قرآن کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ یہ ہے قرآن کا لب و لہجہ ۔

کوئی صاحب ، اللہ تعالی ہم سب پہ رحم فرمائے وہ بلکہ آپ کو میں وہ عبارت سنا دوںانہوں نے لکھا ایک کلپ کے کمنٹ میں کہ نقوی صاحب! آپ نے دوسری مرتبہ گستاخی کی ہے کہ یہ ہستیاں قرآن کو فالو کرتی ہیں۔ یعنی یہ کہنا کہ رسول اللہ اور اہل بیت قرآن کو فالو کرتے ہیں یہ ان کی گستاخی ہے۔ جناب! یہ جو گھروں میں قرآن ہے یہ قرآن صامت ہے اور یہ ہستیاں قرآن ناطق ہیں اور یہ قرآن کے وارث ہیں اور اپنی دلیل ہے کہ وارث ہمیشہ ورثے سے افضل ہوتا ہے کبھی دیکھا ہے کہ بڑا چھوٹے کو فالو کرے۔ ہمیشہ بڑا ہی لیڈ کرتا ہے۔ پھر ان کو میں نے اپنی طرف سے یہ سورہ احزاب کی آیت نمبر 2 بھیجی۔ جبکہ عام طور پر بھیجتا نہیں ہوں۔ کیونکہ زیادہ فائدہ نہیں لگتا کیونکہ جو بات ہوتی ہے وہ تو ویڈیو میں کر دگئی ہوتی ہے۔ لیکن یہ آیت بھیجی اصل بات آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں۔ میں نے آیت کونسی بھیجی۔ واتبع ما یوحٰی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیراً ۔اور اے رسول آپ کے پروردگار کی طرف سے جو آپ پر جو وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع کیجیے اللہ یقینا تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے۔

یہ میں نے آیت بھیجی اسکا جو انہوں نے جواب دیا ہے اس کی طرف آپ توجہ کیجئے۔ یہ مائنڈ سیٹ اس کا مطلب قرآن مجید سے ہدایت کا راستہ بند ہے۔ لفظ دیکھیے انہوں نے کیا فرمایا۔ لکھتے ہیں پھر وہی بات، یعنی قرآن کی آیت پڑھ کے کہتے ہیں پھر وہی بات۔ قبلہ ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کر دیا۔یعنی قرآن کے ظاہر کو دیکھ کر آپ نے فیصلہ کر دیا۔ اس کا مطلب کیا ہے قرآن کے ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا۔ جب قرآن کے ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو آپ کے ائمہ نے فرمایا کہ روایات کو قرآن پر پیش کرو، تو ظاہر تو ویلیو نہیں رکھتا تو کس قرآن پر آپ نے پیش کرنا ہے۔

اب ان کے ذہن میں یہ بات کہاں سے آئی ہے؟۔ کس نے ڈالی؟۔ وہ مجرم ہے اصلی۔ وہ لوگ بھی ہیں جو عقل استعمال کرنے کو تیار نہیں کہ ائمہ فرما رہے ہیں روایات کو قرآن پر پیش کرو اور خلاف قرآن قبول نہ کرو۔ اورآپ کو کس نے پھر کہا کہ ظاہر قرآن کو دیکھ کر فیصلہ نہیں ہو سکتا تو پھر روایات کس کو پیش کر نی ہیں۔ ہوگا کیا اس کا نتیجہ؟، آپ کوئی روایت پڑھتے ہیں جو آپ کو قرآن کے خلاف لگ رہی ہے، آپ قرآن کی آیت کو پیش کرتے ہیں کسی اس فکر کے بندے کو وہ آپ سے کہے گا کہ ظاہر قرآن کو دیکھ کر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ روایات کو قرآن پر پیش کرنے کا دروازہ بند۔ یہیں پر ایک اور بات کی وضاحت کر دوں۔ روایات اہل بیت میں قرآن کے بطون، قرآن کے باطن کے بارے میں کہا گیا ۔بعض روایات میں لفظ آیا 7 بطون ہیں، بعض میں ہے 70 بطون ہیں۔ یعنی ایک قرآن کا ظاہر ہے ایک اس کا باطن۔ جیسے ایک سمندر ہوتا ہے نا آپ کو ایک تو سمندر کے اوپر چیز نظر آرہی ہوتی ہے لیکن اگر آپ غوطہ لگائیں اندر جائیں تووہ چیزیں بھی انسان کو دکھائی دیتی ہیں جو باہر سے دکھائی نہیں دیتیں مثال کے طور پر گہرائی اب کچھ لوگ یہ بطون کے لفظ کو غلط معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک قرآن کے باطن کا ایک صحیح معنی ہے اور ایک قرآن کے باطن کا غلط معنی ہے۔

خوب توجہ فرمالیں۔ صحیح معنی کیا ہے کہ قرآن مجید جیسے اللہ کے نبی کے فرامین میں اوراصول کافی میں بھی روایت ہے کہ قرآن ظاہرہ انیق، قرآن کا ظاہر بہت خوبصورت ہے۔ و باطنہ عمیق اور اسکا باطن بہت گہرائی والا ہے۔ ایک تہہ، دوسری تہہ، تیسری تہہ۔ اترتے جاؤ اترتے جاؤ۔ انسان اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔چونکہ یہ علم پروردگار سے نازل ہوا ہے۔ پروردگار کا علم لا محدود ہے۔ہاں تم جتنا اسکے قریب آؤ گے اور تمہارے سامنے گہری باتیں کھلیں گی۔ جو پہلے دن نہیں کھل سکتی تھیں، دوسرے دن ، تیسرے دن۔ توجہ فرمارہے ہیں؟، ایک ہے اس قرآن کی گہرائی ،یہ مراد باطن سے ہے۔ یہ ہے صحیح معنی بطون کا۔ اور ایک ہے غلط معنٰی ہے جو اس قسم کے لوگوں نے جو ظاہر قرآن کو تقریباً لفٹ نہیں کرواتے وہ کیا کہتے ہیں ایک حدیث مثلا ًحدیث اسلئے کہہ رہا ہوں کہ حقیقت میں خلاف قرآن حدیث ہو ہی نہیں سکتی لیکن چونکہ حدیث کی کتابوں میںآگئی ہے وہ چیز اسلئے اس کو حدیث روایت کہا جاتا ہے۔

حدیث ہمارے سامنے آئی جو خلاف قرآن ہے تو آپ کو کیسے پتہ چلا قرآن کے خلاف ہے ؟۔اسی قرآن کی ظاہری معنی سے لیکن یہ بندہ آپ سے کیا کہے گا، یہ کہاں سے تم کہہ رہے ہو قرآن کے خلاف ہے ۔ قرآن کے تو 70باطن ہیں، تو یہ ان 70میں سے ایک باطن ہے قرآن کا۔ یہ لوگ باطن سے کیا معنی لیتے ہیں جو ظاہر کے خلاف ہو۔ اگر ظاہر کے خلاف معنی بھی باطن میں شمارہو اور وہ بھی صحیح ہے تو بھی دروازہ بند ہو جاتا ہے روایات کو قرآن پر پیش کرنے کا۔ چونکہ آپ جو روایت بھی سخت خلاف لیکر آؤ قرآن کے توآپ سے کیا کہا جائے گا یہ قرآن کا باطنی معنی بیان کیا اہل بیت نے۔ حالانکہ اہل بیت نے فرمایا ہم خلاف قرآن نہیں بولتے۔ اور جب لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ روایت کو پیش کرو تو لوگ تو ظاہر دیکھیں گے نا۔ اور تو کوئی چیز نہیں ۔

بس قرآن کے بطون سے مراد اسکی گہرائیاں ہیں نہ کہ خلاف قرآن کوئی بات آگئی ہے روایات میں۔ کسی اور بندے نے ڈال دی ہے، کسی جھوٹے نے ڈال دی ہے، کسی غالی نے ڈال دی ہے اور اس روایت کو کہا جائے یہ تو خلاف قرآن ہے اور آپ کہیں کہ نہیں خلاف قرآن مت کہو قرآن کا ظاہر جو ہے اس کو دیکھ کے فیصلہ کر رہے ہو یہ قرآن کے باطنی معنوں میں سے ہے۔ خلاف ظاہر قرآن باطنی معنی یہ ناقابل قبول ہے یہ باطنی معنی نہیں ہے، ورنہ میں نے عرض کیا کہ وہ با ب ہی بند ہو گیا کہ جو بنیادی ترین اصول ہے غلط اور صحیح روایات کو پرکھنے کا کہ خلاف قرآن کونسی ہے اور قرآن کے مطابق کونسی ہے۔

پس بطون قرآن کا صحیح معنی بھی ہے اور بطون قرآن سے غلط معنی لے کر خلاف قرآن باتوں کو صحیح قرار دے دینا اور ان کو رد نہ کرنا یہ غلط معنی لے کر بطون سے بعض لوگ مثلاً عوام کے ذہنوں میں یہ ڈالتے ہیں اور قرآن کو گویا ریٹائرڈ کر دیا قرآن کے باطن کو ریٹائرڈ کر دیا ہے اور روز قیامت اللہ کے رسول کے اس شکوے سے نہیں ڈرتے کہ اے پروردگار!میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔( وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجورًا )(الفرقان )


 

غامدی صاحب اس ویڈیو میں قرآن، احادیث اور حضرت عمر کے اجتہاد کا حوالہ دیکر دراصل یزیدیت سے غامدیت تک اسلام کی اجنبیت بتاتا ہے

غامدی اور اس کی ذریت کو یزید سے پیار ہے۔اسکے شاگرد ڈاکٹر عرفان شہزاد نے ایک طرف کہا کہ حضرت علی کی خلافت منعقد نہیں ہوئی اور دوسری طرف کہا کہ حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، حسن اورامیر معاویہ کے مقابلے میں یزید کی خلافت سب سے زیادہ شرائط کے مطابق درست تھی۔

حضرت عمر نے حج وعمرے کے اکٹھے احرام سے روک دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے بھی اس حکم سے اختلاف کیا اور حضرت عثمان نے سختی سے پابندی لگانی چاہی تو حضرت علی نے اعلانیہ مخالفت کردی ۔ (صحیح بخاری)۔ حضرت عمر نے طلاق کے مسئلے پر غلط اجتہاد کیا ہوتا تو حضرت علی مزاحمت کرتے لیکن حضرت علی نے حضرت عمر کی تائید وتوثیق کی۔ جب حضرت عمرکے دربار میں تین طلاق کا تنازعہ آیا جس میں بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے اللہ کی کتاب قرآن ،سنت نبویۖ اور اسلام دین فطرت کے عین مطابق عورت کے حق کی حفاظت فرمائی اور شوہر کو رجوع سے روک دیا۔ ایک طرف دورِ جاہلیت میں عورت کی رضا کے بغیر شوہر کو ایک طلاق پر رجوع کا یک طرفہ اختیار حاصل تھا تو دوسری طرف 3طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ صحابہ نے شرح صدرکیساتھ سمجھ لیا تھاکہ حلالے کا تصور قرآن نے ختم کردیا لیکن عورت کا حق غصب ہونے کا خطرہ پھر بھی موجود تھا اسلئے حضرت عمر کے ہاتھوں اللہ نے عورت کے حق کی حفاظت قرآن کے عین مطابق کردی۔ سورہ بقرہ کی آیت228میں یہ بالکل واضح ہے کہ ” عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر طلاق کے بعد عورت کو لوٹانے کا زیادہ حقدار ہے”۔ عدالت یا حکمران کے پاس تنازعہ جاتا ہے ، اس نے نہ تو مدرسہ میںدالافتاء کھول رکھا ہوتا ہے اور نہ گدھ کی طرح TVاسکرین پر بیٹھ کر عوام کو گمراہ کرتا ہے۔ جب حضرت عمر کے پاس بیوی کو حرام کا لفظ کہنے پر تنازعہ آیا تو اس پر بھی یہی فیصلہ کرنا تھا مگر عورت رجوع کیلئے راضی ہوگئی تو پھر رجوع کی اجازت دیدی۔ پھر حضرت علی کے دور میں حرام کے لفظ پر تنازعہ آیا تو حضرت علی نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع کا کوئی حق شوہر کو حاصل نہیں ہے۔ قرآن وسنت سورہ تحریم و دیگر آیات میں سیرت نبویۖ سے یہ چیزیں واضح تھیں اور قرآنی آیات کی وضاحتوں میں کوئی تضادات نہیں ہیں لیکن غامدی کی دال اس ویڈیو میں بالکل بھی نہیںگل سکی۔

حضرت عمر کے سر پر طلاق بدعت، اجتہادی غلطی اور حلالہ کی صدیوں سے چالو لعنت ڈالنے کی جگہ یزیدیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایک اچھے معروف ضحاک عالم ہیں، دوسرا ظالم گورنر ضحاک تھا جس نے کہا کہ ”جو ایک ساتھ حج وعمرہ کا احرام باندھے تو وہ جاہل ہے۔ جس پر حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ایسی غلط بات مت بکو۔ میں نے رسول اللہۖ کو حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھے دیکھا۔ (صحیح مسلم) جس طرح بدبخت گور نر ضحاک نے جہالت سے نبیۖ کی توہین کا ارتکاب کیا ،اسی طرح یزیدیت کا کارنامہ تھا کہ حکمران فیصلہ کرلے کہ کس کی بیوی کو حلالہ کی مار کھلانی ہے اور کس کی نہیں؟۔ یہی مؤقف غامدی نے پھر سے تازہ کردیا ہے کہ فیصلہ تھانیدار یا جج کرے گا یا DC کے کس کی تین طلاق ہوگئی اور کس کی ایک طلاق؟۔

قرآن میں طلاق کا مسئلہ بالکل واضح ہے احادیث کی کتابوں میں بھی قرآن کے خلاف کوئی حدیث نہیں ہے۔ طلاق میں عورت کے حقوق زیادہ اور خلع میں کم ہیں اسلئے اگر شوہر طلاق دے اور پھر کہے کہ میں نے مذاق کیا تھا تو یہ طلاق پھر بھی مؤثر ہوگی اور عورت کو سورہ النساء آیت19 کے خلع نہیں سورہ النساء آیت20کے مطابق طلاق کے حقوق ملیں گے۔ اگر شوہر مکر جائے تو پھر معاملہ گواہ یا پھر حلف پر حل ہوگا لیکن اگر عورت راضی ہے تو پھر قرآن نے ڈھیر ساری آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی ترغیب ہے۔ قرآن میں جتنی طلاق کے معاملے پر وضاحت ہے اتنی کسی بھی اورمعاملے پر نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص سورہ الطلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ بقرہ کی آیت230سے پہلے 228اور 229اور پھر اس کے بعد 231اور 232البقرہ دیکھ لے تو واضح ہوجائے گا کہ عدت کے اندر اور عدرت کی تکمیل کے بعد رجوع کی بنیاد قرآن نے باہمی رضامندی سے رکھی ہے جس کو کہیں باہمی اصلاح اور کہیں معروف طریقے کا نام دیا گیا ہے۔ آیت230البقرہ سے پہلے 229میں تین مرتبہ طلاق اور پھردونوں اور فیصلہ کرنے والوں سبھی کی طرف آئندہ رابطہ نہ رکھنے پر بھی اتفاق کی وضاحت ہے۔ جس کا مقصد عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی حق دینا ہے جو لیڈی ڈیانا سمیت آج بھی چھین لیا جاتا ہے۔

بخاری کی حدیث نمبر3586 میں دو فتنوں کا ذکر ہے ایک میں مال اور اولاد کا فتنہ ہے اور دوسرے میں سمندر کی مانندٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑا فتنہ ہے۔ جس سے حضرت عمر نے خاص طور پر اس میں متنبہ کرنا چاہا تھا۔حضرت حذیفہ نے کہا کہ اے عمرتم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ وہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟۔ حذیفہ نے کہا کہ توڑا جائے گا۔ نبیۖ نے آخری خطبہ میں عورت کے حقوق کا خاص خیال رکھنے کی تلقین فرمائی اور اپنی عترت کا بھی خاص خیال رکھنے کی تلقین فرمائی۔ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے فتنے اور حضرت عمر کے درمیان کو نسا دروازہ تھا جس نے حضرت عمر کے بعد ٹوٹ جانا تھا؟۔

حضرت عمر کی شہادت کے بعد ان کے قاتل بیٹے سے قصاص نہیں لیا گیا ۔ قرآن نے قصاص میں حیات کا ذکر کیا ہے۔حضرت علی نے مطالبہ کیا مگر نہیں مانا گیا۔ پھر حضرت عثمان، حضرت علی کی شہادت سے فتنے شروع ہوگئے ۔ آج تک فرقہ واریت کا سمندر ٹھاٹیں ماررہاہے ۔ قرآن پر عمل معطل ہوگیا۔ ایک حرام کے لفظ پر بیسیوں اختلافات ہیں اور حلالہ کی لعنت زندہ کردی گئی۔ مزارعت کو جواز بخش دیا گیا اور خلافتیں خاندانی لونڈیاں بنادی گئی تھیں ۔ حضرت عمر نے خلافت کا حق اچھی طرح ادا کیا ،حضرت علی نہج البلاغہ

آج جاویداحمد غامدی نے اپنا پینترا بدل دیا ہے اور یزیدی ،مروانی اور عباسی سلطنت کی غلط باتوں کو خلافت راشدہ اور حضرت عمر کی گردن پر ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر حقائق کا پتہ چل گیا تو جس طرح فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر اور ان کا شیعہ سسرال ایک دوسرے کیساتھ شیر وشکر ہیں اور آپس میں کوئی ناچاکی نہیں ہے ،اسی طرح دیوبندی شیعہ اور لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ اور سپاہ محمد والے بھی ایک پلیٹ فارم پر شیر وشکر ہوجائیں گے ۔ انشاء اللہ۔ عتیق گیلانی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

1500سو سالہ جشن ولادت مصطفی ۖ

(1447ہجری۔2025عیسوی)
پیدائش سے ہجرت تک53سال
ہجرت سے اب تک1447سال
1447+53=1500

رحمت للعالمینۖ کی آمد سے یہودونصاریٰ عیسٰی کی شخصیت سوزی و سازی پر نرم پڑگئے ۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی منیب الرحمن سو دپر متفق مگر جشن ولادت پر نہیں؟۔ ڈیڑھ سو سالہ جشن دیو بند پر دیوبندی اکٹھے ۔ڈیڑھ ہزار سالہ جشن میلاد پر بریلوی منتشر؟۔ غسل ،وضو ، نماز کے فرائض حتی کہ قرآن پر اختلافات برداشت مگر مستحب دعا پر نہیں؟۔واہ !

ہو سود سے برباد تو بریشم کی طرح نرم
ہو فرقے کا فساد تو فولاد ہے مؤمن

علامہ تراب الحق قادری نے کہا”پوٹی کے بعد دبر سے پھول نما آنت کو دھویا ، دخول سے پہلے سکھایا نہیںتو روزہ ٹوٹ گیا۔ کھلا بیٹھنے اور سانس سے پانی معدہ تک پہنچے گا”۔ مفتی عزیز الرحمن کی مناپلی صابر شاہ ، عابد شاہ جیسے کردار کے مالک علماء اور پیر بن کر مسلکوں کا پرچار کریںگے تووہ اپنے مطلب کے فقہی مسائل بیان کریں گے۔ اسلام نے دنیا کو اپنی روشنی سے ایسا تبدیل کردیا کہ جیسے رات کا گھپ اندھیراسورج کی روشنی سے بدل جاتا ہے لیکن خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کی سرپرستی میں چھوٹی ذہنیت رکھنے والے مذہبی طبقات نے دن دیہاڑے اللہ کے دین کو اجنبیت کا شکار بنادیا۔یہود حلالہ کی لعنت میں مبتلا تھے اور عیسائی کے ہاں طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا جبکہ قریش دین ابراہیمی پر یہودونصاریٰ کی نسبت دین فطرت کے زیادہ قریب تھے اور جہالت و مفادپرستی کا شکار بھی۔

سیالکوٹ کے پنجابی مولانا عبیداللہ سندھی،جھنگ کے بلوچ خلیفہ غلام محمد سندھ ڈھرکی سکھر کے مرید۔ وزیرستان کا مظفرشاہ شہید خلیفہ غلام محمدکے مرید، مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید میرے استاذ و پیر بھائی۔خانپور ہمارا دل ہے جواسلام کی نشاة ثانیہ اور پاکستانیوں کیلئے حقیقی مرکزہے۔


خان پور میں فکری بیداری کا خاموش سفر
تحریر: ظفر اقبال جتوئی۔ نمائندہ نوشتہ دیوار: شاہ نواز تہیم۔

خان پور صرف دریا کنارے بسا ایک شہر نہیں، بلکہ تہذیب، روایت، اور فکری جمالیات کا ایک جیتا جاگتا منظرنامہ ہے۔ جو حالیہ دنوں ایک ایسی ادبی و فکری سرگرمی کا مرکز رہا جو عمومی اخباری رجحانات سے یکسر مختلف تھی۔ ہم بات کر رہے ہیں ”نوشتہ دیوار”کی، جو روایتی اخبار نہیں بلکہ یہ ماہنامہ شعور نامہ ہے، جو جلد10،شمارہ 8کی صورت میں خان پور کی فکری فضاؤں میں خوشبو بکھیر گیا۔یہ صرف خبریں دینے والا ایک پرچہ نہیں، بلکہ یہ با مقصد تحریری جہد کا تسلسل ہے۔ یہ ان موضوعات کو زبان دیتا ہے جنہیں دیگر اخبارات یا تو نظرانداز کر دیتے ہیں یا سرے سے ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ یہ اخبار فکری افلاس، طبقاتی تضاد، وسیبی محرومی، اور ثقافتی تنہائی جیسے اہم مگر غیر مقبول موضوعات کو صفحہ قرطاس پر وہ درجہ دیتا ہے جس کے یہ بجا طور پر مستحق ہیں۔شمارہ نمبر8کی خان پور میں تقسیم ایک غیر روایتی اور شعوری عمل تھا۔ یہ نہ صرف ایک ماہنامہ کی ترسیل تھی، بلکہ فکری مکالمے کو نئے مقامات تک لے جانے کی ایک بیدار شعور کوشش بھی تھی۔ اس عمل میں مقامی تعلیمی اداروں، صحافتی تنظیموں، ادبی حلقوں، اور فلاحی اداروں کو شامل کیا گیا۔ مقصدتھا کہ پیغام ان ہاتھوں تک پہنچے جو صرف خبروں کے قاری نہیں بلکہ سوچنے، پرکھنے ، سوال اٹھانے والے اذہان رکھتے ہیں۔ نوشتہ دیوار کا یہ شمارہ اپنے مواد، طرزِ پیشکش اور موضوعاتی جرأت کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ محض سطحی رپورٹس یا سرخیوں پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ ہر موضوع کو اس کی اصل روح کیساتھ پیش کرتا ہے۔ اخبار میں شائع تحریریں مختصر ہونے کے باوجود گہرائی رکھتی ہیں، قارئین کو صرف اطلاع نہیں بلکہ ادراک فراہم کرتی ہیں۔یہ شمارہ قرآن کریم کی بہتر تشریح، وسیب کی ثقافت، مزاحمت کی علامت بنتے کرداروں ، روزمرہ کے تضادات کو ایسی زبان دیتا ہے جو براہِ راست قاری کے ضمیر سے ہمکلام ہوتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ”نوشتہ دیوار”کو محض اشاعت نہیں بلکہ ادبی تحریک بناتی ہے۔خان پور میں اس کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شہر میں اب بھی فکری پیاس باقی ہے اور لوگ ایسے مواد کی قدر کرتے ہیں جو عام دھارے سے ہٹ کر ہو۔ یہ خاموش بیداری کا ایسا عمل ہے جو شاید روز کی خبروں کی ہنگامہ خیزی میں دب جائے، مگر اپنی گہرائی اور اثر پذیری کے اعتبار سے طویل عرصے تک ذہنوں میں نقش رہتا ہے۔اس کی تقسیم یادگار واقعہ ہے۔ نیا قاری، نیا سوال اور نئی سوچ کا بیج بو دیا۔ اس کا دائرہ اخبار پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ گفتگو، مکالمے اور سوالات کا محرک بھی بنا۔”نوشتہ دیوار”نے ثابت کیا ہے کہ اگر صحافت کو محض کاروبار کے بجائے شعور کی خدمت بنا دیا جائے، تو یہ ایک ایسا ہتھیار بن سکتا ہے جو بیداری، فہم، اور تبدیلی کی راہ ہموار کرے۔ جلد20کا شمارہ نمبر8خان پور میں جس خاموشی سے آیا، اسی گہرائی سے دلوں میں اتر گیا، اور ایک غیر محسوس ادبی انقلاب کی بنیاد رکھ گیا۔


امریکی سیاستدان گومیز نے قرآن کو نذر آتش کیا اورخدا سے مدد مانگ لی!

ڈونلڈ ٹرمپ کی حامی سیاستدان ولیٹینا گومیز نے قرآن کو فائر گن سے نذر آتش کیااور کہا ہے کہ اسلام کا ٹیکساس سے خاتمہ کردوں گی۔ مسلمان ہماری تہذیب پر حملہ آور ہیں۔ یہ عیسائی ریاستوں پر قبضہ کرکے عیسائی عورتوں سے جبری جنسی زیادتی چاہتے ہیں ۔میں خدا سے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگتی ہوں۔ صرف اسرائیل کا خدا برحق ہے ۔اسلام بالکل فراڈ ہے اور ٹیکساس میں مسلمانوں نے رہنا ہے تو قرآن سے اپنا تعلق ختم کرنا ہوگا۔ قرآن کو فائر گن سے جلاکر اس کی ویڈیو جاری کی اور تعصبات کو خوب ہوا دی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پختون ، بلوچ،سندھی، کشمیری،پنجابی، سرائیکی،ہزارے وال اور مہاجر سبھی یاد رکھو !اللہ نے غلو سے منع کیاہے

پیر آف واناجنوبی وزیرستان سے22 اپریل 1948 کو پشاور میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ملاقات ہوئی اور پوچھا پیر صاحب آپ ایک آزاد ملک کے رہنے والے آزادی اور غلامی میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟۔ آپ نے فرمایا 1938 میں صوبہ سرحد کے انگریز گورنر سے ملاقات ہوئی وہ نہایت متکبرانہ انداز میں فرعون وقت کی طرح گفتگو کرتا تھا آج جب آپ سے ملاقات کے واسطے اندر آنے لگا تو صوبہ سرحد کا موجودہ انگریز گورنر کھڑا تھا مجھے دیکھتے ہی ٹوپی اتار کر سلام کیا اور دروازے سے چک اٹھائی۔ اس وقت انگریزوں کی حکمرانی تھی اور ہم غلام تھے آج ہم آزاد ہیں اور وہ ہمارا ملازم ہے یہ آزادی اور غلامی کا فرق ہے اور شاید یہی ہے حقیقی آزادی ۔(یوٹیوب :ان سنی باتیں Batain Ansuni :جواد رضا خان)

پاکستان کی تمام اقوام کو غلو سازی کے اُتار چڑھاؤ سے اعتدال پر آنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور نے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی کی بنیاد ہمارے ہی ریاستی ادارے ہیں، پولیس دہشت گردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیتی ہے تو یہ لوگ چھڑالیتے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اس الزام کی صحیح تحقیق ہونی چاہیے اور الزام عائد کیا ہے کہ گنڈاپور خود طالبان کو بھتہ دے رہا ہے۔

یہ الزام تراشی کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔ گروہ بندی اور سیاسی جماعتوں سے لیکر لسانی جماعتوں اور فرقہ پرستوں تک یہ قوم الزام تراشیوں کی بحرانوں میں غرق ہے۔ اب تو معاملہ انتہا کو پہنچ گیا ہے حالانکہ جنرل قمر جاویدہ باجوہ کے دورمیں ایک صحافی نے کھلے عام کالے ویگو ڈالے اور کچھ طالبان پر ایک کروڑ تاوان کے مطالبے کا الزام لگادیا تھامگر کسی سیاسی ومذہبی جماعت نے اس پر آواز نہیں اٹھائی۔

قل یااہل الکتٰب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق ولا تتبعوا اھواء قوم قد ضلوا من قبل واضلوا کثیرًا و ضلوا عن سواء السبیل ۔ ترجمہ ” آپ فرماؤ ۔ ائے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو مت کرو اور ان لوگوں کی خواہشات پر مت چلو ،جو پہلے خود بھی گمراہ ہوچکے ہیں اور بہت سارے لوگوں کو بھی گمراہ کرچکے ہیں۔ اور سیدھی راہ بھٹک چکے ہیں۔ ( سورہ المائدہ ، آیت77)

مصیبت یہ ہے کہ ہر ایک غلو کا شکار ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی، جہادی ، سرکاری اور حکومتی مشن سے تعلق رکھتا ہو یا پھر قوم پرستی اور انفرادی معاملات سے تعلق رکھتا ہو۔ اللہ کی زمین میں خلافت کا تعلق ان ذمہ داریوں سے ہے جن میں انسان اپنی وسعت کے مطابق طاقت رکھتا ہے۔

ذمہ داریاں اور منصب مانگنے کے نہیں ہوتے مگر جب انسان کے متھے لگ جائیں تو اس کو احسن انداز سے پورا کرنا خلافت ارضی کا فریضہ ہے۔ دنیا میں ہر شخص اپنی اپنی وسعت کے مطابق زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔ خواہشات کی تابعداری سے بچنا بھی خلافت ہے۔ حضرت آدم و حواء سے اللہ نے فرمایا کہ لاتقربا ھذہ الشجرة ”اس درخت کے قریب مت جاؤ”۔جب انسان اپنے نفس ہی کا مالک ہو تو اس کی ذمہ داری اور خلافت نفس تک محدود ہے۔ اس طرح بال بچوں اور جہاں تک وسعت پائے۔

فیلڈ مارشل، وزیراعظم ، چیف جسٹس، پارلیمنٹ، علمائ، صحافی ، مجاہدین اور سبھی حضرات کی ذمہ داریاں اپنے اپنے دائرہ کار تک محدود ہیں اور تجاوز کرنا بالکل غلط ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم تجاوز نہیں کرتے بلکہ اعتدال پر چلتے ہیں تو یہ سچ بھی ہوسکتا ہے اور بہت بڑا مغالطہ بھی ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” اے ایمان والو! تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤجنہوں نے کفر کیا اور اپنے بھائیوں سے کہا جب وہ سفر پر نکلیں یا جہاد پر جائیں کہ اگر یہ ہمارے پاس ہوتے تو نہیں مرتے اور نہ قتل ہوتے ۔ تاکہ اللہ انکے دلوں میں ایک افسوس ڈالے۔اور اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے ۔اور اللہ سب کاموں کو دیکھنے والا ہے۔ اور اگر تم اللہ راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی طرف سے مغفرت اور رحمت بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ اور اگر تم مرگئے یا قتل کئے گئے تو تم سب کا اللہ کی طرف حشر ہوگا۔ پس اللہ کی رحمت کے سبب آپ ان کیلئے نرم ہوگئے۔ اور اگرآپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو ضرور یہ لوگ آپ کے ارد گرد سے بھاگ جاتے۔ پس ان کو معاف کردیں اور ان کیلئے بخشش مانگیں۔اور ان سے خاص بات میں مشورہ کریں۔ پھر جب عزم کرو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ بیشک اللہ توکل رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی بھی تم پر غالب نہیں آسکتا ہے۔ اور اگر وہ دھکا دے تو پھرکون ہے جو تمہاری اس کے بعد مدد کرسکے؟۔ اور مؤمنوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (آل عمران آیات156تا160)

ماکان لنبییٍ ان یغل و من یغلل یأت بما غل یوم القیامة ثم توفیٰ کل نفسٍ ما کسبت و ھم لایظلمون…. ”اور کسی نبی کے لائق نہیں کہ غلو کرے اور جو کوئی غلو کریگا تو قیامت کے دن اس غلو کوساتھ لائے گا ۔ پھر ہر کوئی پوراپالے گا جو اس نے کمایا ہے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ آیا وہ شخص جو اللہ کی رضا کا تابع ہے وہ اس کی طرح ہے جس پر اللہ کا غضب ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور برا ٹھکانہ ہے۔ اللہ کے ہاں لوگوں کے مختلف درجات ہیں۔ اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جب ان میں سے ایک رسول بھیجاجو ان کی جانوں میں سے ہے۔ ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ کیا جب تمہیں ایک تکلیف پہنچی ،حالانکہ تم ان کو اس سے دگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ تو تم کہتے ہو کہ یہ کہاں سے آئی۔ کہہ دو کہ یہ تمہاری اپنی جانوں کی طرف سے ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور کچھ تمہیں اسکی تکلیف پہنچی جب دونوں جماعتیں ٹکرائیں۔یہ سب اللہ کی اجازت سے ہوا۔تاکہ ایمان والوں کو اللہ ظاہر کردے اور تاکہ منافقوں کو ظاہر کردے۔ اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمنوں کو دفع کرو۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ وہ اس وقت بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں حالانکہ خود بیٹھے رہتے اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ کہدو ! اگر تم سچے ہو تو اپنی زبانوں سے موت کو ہٹاؤ اور تم مت سمجھو کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے مردہ بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خوش ہیں جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دیا ہے۔ اور ان کی طرف سے بھی خوش ہوتے ہیں جو ابھی تک انکے پاس ان کے پیچھے نہیں پہنچے ہیں۔ خبردار ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہیں۔ (آل عمران:161تا 170)

ان آیات میں غلو کا ترجمہ غلط کیا گیا ہے۔ انبیاء کرام کی طرف اس کی نسبت اسلئے کی گئی ہے کہ کوئی طبقہ خود کو مستثنیٰ نہیں سمجھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قتل ہوا،حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی سے کھینچا۔ نبیۖ نے حضرت امیرحمزہ کی شہادت پر سخت انتقام کا فرمایا تو اللہ نے معاف کرنے کا حکم دیا۔ بیوی سے ناراضگی کی مدت قرآن نے 4 ماہ رکھی ہے۔ نبیۖ حضرت زینب سے ناراض رہے۔

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ سفر میں تھے ،سیدہ صفیہ کی سواری کا اونٹ بیمار ہوااور سیدہ زینب کے پاس وافر سواری تھی۔ رسول اللہ ۖ نے سیدہ زینب سے فرمایاکہ صفیہ کی سواری کا اونٹ بیمار ہوگیا ، آپ اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سواری کیلئے دے دیں۔ تو سیدہ زینب نے جواب دیا کہ میں اس یہودی عورت کو اپنا اونٹ دوں؟ تو رسول اللہۖ نے سیدہ زنیب کے پاس اپنی آمد ورفت چھوڑ دی۔ ذی الحجہ اور محرم یہ دو مہینے یا تین مہینے آپۖ انکے پا س نہ آئے۔ سیدہ زینب فرماتی ہیں کہ میں پوری طرح آپ ۖسے ناامید ہوگئی اور اپنی چارپائی وہاں سے ہٹاکر رکھ دی۔ پھر سیدہ زینب نے فرمایا کہ اچانک ایک دن دوپہر کے وقت کھڑی اپنے آپ کو رسول اللہ ۖ کے سایہ مبارک میں پاتی ہوں۔یہ واقعہ ذی الحج کے سفر کا ہے۔( مسنداحمد ج6صفحہ231)

یہودی سخت جملہ اور مدد سے انکار ؟۔ نبیۖ کچھ عرصہ ناراض رہے۔ تحریک انصاف اور سیاسی وجہادی کارکن بھی اعتدال پر آجائیں اور علم وشعور کی شمعیں جلائیں۔ اپنے آپ کو 100% فیصد اعتدال پر سمجھنے کا دعویٰ یا گمان رکھنا ہی بہت بڑی گمراہی ہے اور اس کے مذہبی وسیاسی لوگ اور سرکاری حضرات کی اکثریت شکار ہے ۔ اگر پاکستان کے تمام لوگ اپنی اپنی بے اعتدالیوں کا اقرار اور توبہ کرکے راہ اعتدال پر نہیں آئے تو اس معاشرے کی تباہی وبربادی کے اوقات خدانخواستہ آن پہنچ گئے ہیں۔

تہمینہ شیخ ودیگر کے ویلاگ میں کیا خبریںہیں؟۔ فوج کے شہدائ، طالبان اور بلوچ قوم پرستوں کے احوال جس کو دیکھ مصائب وآلام کا شکارہے۔ عورتیں بیوہ، بچے یتیم اور انسانیت اجھڑ رہی ہے۔ بیٹا ماں باپ اور بیوی کو قتل ، ماں بچوں کو قتل کررہی ہے جو رپورٹ نہیں ہوتا تو وہ کیا ہوگا؟۔

نہ تو ریاست و حکومت اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے ، نہ ہی عوام کی حالت ٹھیک ہے۔ اس حالت میں امید کی شمع جلانا اور بنیادی کردار ادا کرنا فرض ہے۔ قرآنی آیات کا ترجمہ غلط ہوگا تو معاشرے میں اصلاح کا باعث کیسے بن سکتا ہے؟، قرآن کی رہنمائی مردہ امت کو زندہ کرسکتی ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ نبی کیلئے غلو یعنی بے اعتدالی مناسب نہیں اور جو بے اعتدالی کرے گا تو قیامت کے دن جو بے اعتدالی کی ہوگی تو اسکے ساتھ آئے گا۔ قرآن کا مقصد انبیاء کرام علیہم السلام کی بے اعتدالیوں کو اجاگر کرنا نہیں کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں لیکن لوگوںکو خوش فہمیوں سے نکالنا ہے۔ بدر کے قیدیوں سے نبی اکرم ۖ نے اکثریت اور خاص طور پر حضرت ابوبکر کے مشورے پر فدیہ لینے کافیصلہ فرمایا تو اللہ نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ”نبی کیلئے مناسب نہیں کہ اسکے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔…..”۔ ماکان للنبیٍ ان یکون لہ اسری

علماء نے اس آیت کی عجیب و غریب قسم کی تفاسیر کی ہیں جن میں علامہ رسول سعیدی کی تبیان القرآن میں کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ آیات کے ترجمہ و حالات کی حقیقت سے تفاسیر بالکل واضح ہیں۔حضرت ابوبکر نے اپنے بیٹے کیلئے نہیں بلکہ رسول اللہۖ کے چچا عباس کیلئے فدیہ لیکر معاف کرنے کا مشورہ دیا اور نبیۖ کا ایک داماد بھی ان قیدیوں میں شامل تھا۔ تاکہ نبیۖ کو اقارب کی وجہ سے فطری رنج و غم نہیں پہنچے۔ لیکن اللہ کو معلوم تھا کہ یہ فطری محبت حد اعتدال سے ہٹ جائے تو معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے دیکھا کہ بگڑا ہوا لاڈلہ بیٹا غرق ہورہاہے تو اللہ سے فریاد کی اور اللہ نے فرمایا کہ وہ چیز مت مانگو جس کا تجھے علم نہیں ہے اور حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے معافی مانگ لی۔

ایک طرف تو بدری صحابہ کے دلوں کو اللہ نے چمکادیاجو فتح کا جشن منانے کے بجائے رونے دھونے ، معافی تلافی میں لگ گئے اور دوسری طرف حضرت عمر و سعد نے قتل کا مشورہ دیا تھا جس سے اقلیت کی رائے کی عظمت بڑھ گئی۔ یعنی عمل تو اکثریت کے مشورے پر ہوا لیکن ٹھیک اقلیت کی رائے قرار پائی۔ یہی تعلیم وتربیت تھی ۔ مقصد قیدیوں کو قتل کرنا نہ تھا بلکہ اقارب کی جنگ میں رعایت پر تنبیہ تھی اور صحابہ نے اپنے لئے رعایت نہیں رکھی بلکہ نبیۖ کے اقارب کی رعایت رکھی تو اللہ نے یہ رعایت سے بھی ناپسند فرمائی۔ اور اس میں حکمت کی بھی زبردست تعلیم یہ تھی کہ جن کافروں کو فدیہ دیکر چھوڑ دیا تو ان کے دلوں میں بٹھا دیا کہ اگر آئندہ غلطی کروگے تو معافی نہیں ملے گی۔ صحابہ کی ڈانٹ سے اصل مقصد ان لوگوں کو خوف دلانا تھا۔

اس تزکیہ کا اثر یہ تھا کہ خلافت راشدہ میں نبیۖ اور اپنے اقارب کی رعایت نہیں تھی۔ حضرت ابوبکر، عمر ، عثمان اور علی کی خلافت اعتدال کے اعلیٰ ترین درجہ پر تھی۔ قرآن میں فتح مکہ سے پہلے اور بعد والوں کے درجات میں فرق ہے۔ حضرت علی کے بعد حادثے کے طور امام حسن نے منصب خلافت کا عہدہ سنبھال لیا مگر خلافت سے دستبردار ہوکر حضرت امیر معاویہ پر امت کا اتفاق کردیا تھا۔

اپنے نااہل بیٹوں اور دامادوں کو راستہ دینے کیلئے یزید کی حمایت کرنے والے انتہائی بے شرم اور بے غیرت قسم کے لوگ ہیں۔ شیعہ سے کہتا ہوں کہ امیر معاویہ پر اعتراض امام حسن و حسین پر اعتراض ہے جن کی رعایت و مصالحت سے اقتدار کررہے تھے لیکن یزید کی حمایت اور امام حسین کی مخالفت میں آسمان و زمین کی قلابیں ملانے پر جاوید احمد غامدی اور دوسرے بدشکلوں سے کہتا ہوں کہ اٹھو اپنا گندہ منہ ذرا دھو لو۔ آذان کی مخالفت کرنے والے ہندؤوں سے شاعرہ لتا حیا کہتی ہیں کہ ” تم بھی صبح اٹھو اور منہ دھولو”۔

رسول اللہۖ اور صحابہ کرام نے اسلئے قربانیاں نہیں دی تھیں کہ خلافت کو بنوامیہ وبنو عباس اپنی اپنی لونڈیاں ہی بنالیں، اگر بدر کی جنگ میںامیرحمزہ و علی نے حضرت عباس کی گردن اڑائی ہوتی تو حضرت علی کی اولاد کو اسلئے محروم اور ظلم وستم کا نشانہ نہیں بنایا جاتا کہ رسول اللہۖ کے چچازاد علی کی بہ نسبت چچا عباس کی اولاد خلافت کی زیادہ حقدار ہے۔ اگر یہ شریعت ہوتی تو پھر خلافت راشدہ کس کھاتے میں جائے گی؟۔ پھر حضرت عباس کی نسبت سے حضرت عمر بارش کیلئے دعامانگنے کے بجائے خلافت پر بٹھادیتے۔

حضرت علی سے زیادہ حضرت امیر معاویہ کی اہلیت پر سستی شہرت اور حمایت کمانے والے بے شرم جاوید غامدی کو پتہ ہونا چاہیے کہ امیر معاویہ کے باپ حضرت ابوسفیان نے حضرت علی کو حضرت ابوبکر سے بھی زیادہ اہل قرار دیا تھا اسلئے مدعی سست گواہ چست کی ڈرامہ بازی غلط ہے۔ لوگ جاویداحمد غامدی کا فتنہ نہیں سمجھ رہے ہیں۔ قرآن کی آخری دو سورتوں کے علاوہ قرآن کی بہت ساری سورتوں کا میں نے خود کلپ سنا ہے جو پھر مل نہیں سکا ہوسکتا ہے کہ ڈیلیٹ کردیا ہو کیونکہ میں نے بہت ڈھونڈلیا۔ جس میں وہ قرآن کی سورتوں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہاں تک قرآن ہے اور باقی مضمون قرآن نہیں ہے ۔ آخری دوسورتیں بھی قرآن نہیں ہیں۔ ایک طرف احادیث صحیحہ کا بے عقلی سے انکار اور دوسری طرف من گھڑت آثار کو ثابت سمجھتا ہے۔

اللہ کے فضل وکرم سے مدارس کا نصاب بھی ہم نے غلط قرار دیا ہے اور طالب علمی کے زمانے میں اساتذہ کرام نے تائید بھی کی ہے ۔ جس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ،قرآن اتنا واضح ہے کہ قرآن کی وضاحتوں کو نہیں سمجھنا کم عقلی ہے اور علماء کرام نے کوشش کی ہے کہ جس معاملے کو نہیں سمجھا تو اپنی طرف سے ڈنڈی نہیں ماری ہے لیکن جب بھی درست بات سامنے آئی ہے تو اس کی تائید کردی۔ بریلوی دیوبندی اہل حدیث جماعت اسلامی اور شیعہ میں بہت لوگ قرآن کے متن کی طرف رجوع کررہے ہیں اور اس کی وجہ سے ہم امت مسلمہ اور پوری دنیا کو بحران سے نکال سکتے ہیں اور یہی ہمارا اصل مشن بھی ہے جس کی سب نے تائید کی ہے۔

اپنی ذمہ داری کا فرض کو پورا کرنا خلافت ہے۔ ایک چڑیا کو پانی پلانے کیلئے ضرورت ہو گی تو فرشتہ نہیں اترے گا اور انسان کی پکڑہوگی۔جس کی جتنی بڑی ذمہ داری اتنا بڑا مواخذہ ہوگا۔سورہ البقرہ کی آخری آیت میں یہی ہے۔

محسود مجاہد کی ہندو بیوی کا واقعہ

پیر بغدادی پیر آف وانا نے آزادی کے بعد وانا جنوبی وزیرستان میںآزادی کا جھنڈا لہرایا اور ان کی قیادت میں قبائل کا لشکر کشمیر کے جہاد میں گیا، ایک محسود مجاہد سے اس کی ہندو بیوی بھی چھین لی ۔ میرے والد پیرمقیم شاہ نے بتایا کہ اس نے مجھ سے مدد مانگی تو اس کو پسٹل دیا کہ اس کو قتل کردو اور میرے پاس آجاؤ مگر بے غیرت نے نیناواتی میں جانور ذبح کئے حالانکہ کافی سارے سانڈھ جیسے اسکے بھائی تھے۔

وزیرستان کی عوام غیرت مند ہیں مگر بے غیرت بھی ہر جگہ ہوتے ہیں ۔ پیر صاحب کا ہندو لڑکی پر دل آیا ہوگا یا پھر سوچا ہوگا کہ نازک اندام لڑکی پر لکڑیاں، پانی اور مزدوری کے مشکلات پڑسکتے ہیں اسلئے چھین لی ہوگی اور مولوی نے فتویٰ دیا ہوگا کہ امیر جہاد کا زیادہ حق بنتا ہے …..ہاہاہا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv