پوسٹ تلاش کریں

تقرر ِامام ہمارے اندورنی وبیرونی حالات کے تقاضے: عتیق گیلانی

تقرر ِامام ہمارے اندورنی وبیرونی حالات کے تقاضے
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
مولانا محمد خان شیرانی نے علامہ سید جواد نقوی کیساتھ ایک تقریب میں بیٹھ کر نصبِ امام کا ذکر کیا ہے۔ شیعہ سنی کی اکثریت اس بات کو نہیں سمجھ رہی ہے کہ ایران میں شیعہ حکومت قائم ہونے کے بعد امام مہدی غیب کے پردہ سے نکل کر تشریف نہیں لارہے ہیں اور سنی عقیدہ رکھنے والے امامت کا تقرر کرتے ہیں تو اس کو سب سے بڑا جرم اور بغاوت کا جھنڈا سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان حکومت کی سطح پر تقرر امام کا اعلان کرے اور اس پر شیعہ سنی متفق ہوجائیں۔ مولانا شیرانی نے امام تنظیم کا ذکر کیا ہے جس سے مراد ” اتحاد ملت اسلامیہ محاذ” ہے۔ عمران خان نے شیعہ لابی کی وجہ سے پاکستان کو سعودیہ سے دور کرکے ایران کے قریب کردیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل میں مولانا فضل الرحمن کیساتھ مولانا اویس نورانی کے علاوہ تحریک جعفریہ بھی شامل تھی لیکن پی ڈی ایم (PDM)کے محاذ میں اہل تشیع عمران خان کے خلاف اپوزیشن کا حصہ نہیں ہیں اور مولانا شیرانی بھی مولانا فضل الرحمن سے ناراض ہیں اسلئے امام کی طرف گئے ہیں۔
جب انجمن سپاہِ صحابہ کے مولانا حق نواز جھنگوی شہید جے یوآئی پنجاب کے نائب امیر تھے تو جمعیت کے اسٹیج سے شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگاتے تھے لیکن مولانا شیرانی کا انجمن سپاہِ صحابہ کو الگ ذیلی تنظیم کی حیثیت سے جمعیت میں شمولیت پر اتفاق نہیں تھا اور پھر آخر مولانا شیرانی کا مؤقف درست ثابت ہوا۔ سپاہ صحابہ پے درپے قیادت سے محروم ہوگئی تو مولانا فضل الرحمن کے خلاف نعرہ لگایا کہ شیعہ کافر جو نہ بولے وہ بھی کافر۔ مولانا شیرانی نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست پر جمعیت علماء اسلام کو قائل کیا تھا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے باقاعدہ مولانا فضل الرحمن نے مشاورت کے فیصلے کا بھی اعلان کیا لیکن جب لاہور مینارِ پاکستان میں عوام کو بڑے پیمانے پر خوشخبری سنانے اور انقلابی سیاست کا آغاز کرنے کیلئے بلایا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے پاک فوج کے افسران کی دھونس سے اعلان کو مؤخر کرکے عظیم اجتماع کو ٹال دیا تھا۔ آج مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اسٹیبلیشمنٹ سے مکمل آزادسیاست کیلئے گیارہ جماعتوں کا اتحاد ہے اور اس کیلئے مریم نواز نے آر یا پار کا اعلان کررکھاہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی تیار ہیں۔نتیجہ جو بھی نکلے وہ کچھ دنوں میں عوام کے سامنے آئیگا۔ پیپلزپارٹی اقتدار کی قربانی دے گی یا نہیں لیکن وہ اس ایجنڈے کے حق میں ہے۔ محمود خان اچکزئی مشن کے روح رواں اور باقی جماعتوں کے میا ں افتخار، اخترمینگل ، عبدالمالک ، آفتاب شیرپاؤ ،علامہ ساجد میر اور مولانا اویس نورانی سب اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے بے دخل کرنے پر متفق ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ایک مضبوط سیکشن کی طرف سے وزیراعظم ، اسپیکر قومی اسمبلی اور سینٹ کے چیئرمین کی تبدیلی کی آفر ہے جو پی ڈی ایم (PDM)نے رد کردی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے گودی سیاستدانوں کا سلسلہ ختم کرنے کا عندیہ ہے، جسکا اظہار پروفیسر احمد رفیق اختر کے ایک دوست نے ٹیلی فون پر مجھ سے کیا ہے۔سعودی ایران جھگڑے کی زد میں آیا ہوا پاکستان لسانی ، نظریاتی اور مفادات کی سیاست کا بھی بری طرح شکار ہے۔
میرا ایک ایسا کزن ہے جو نیشنلسٹ ہے اور افغان بادشاہ امیر امان اللہ خان ہی کو مانتا ہے جسکے علامہ اقبال بھی مداح تھے جو انگریز کا مخالف تھا اور جرمنی کا حامی تھا۔ وہ خیبر پختونخواہ کے ترقی یافتہ اضلاع پشاور ، چارسدہ، سوات، دیر، بنیر اور صوابی وغیرہ کو پشتو اسپیکنگ پنجابی سمجھتا ہے اور وزیرستان کے محسود اور وزیر کو بھی پنجابی قرار دیتا ہے جنہوں نے بڑے پیمانے پر طالبان کو سپورٹ کیا اور افغانستان کے پشتونوں کو بھی پنجابی ذہنیت قرار دیتا ہے۔ پنجابیوں سے مراد اسکے نزدیک انگریز کے وفادار ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ محسود اور وزیر بھی اس قابل ہیں کہ مچھر کے اسپرے سے ان کو مار دیا جائے۔ یہ بہت پرانی روایت ہے کہ انگریز مخالف برصغیر پاک وہند کے حریت پسندوں کو بیرونی ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا اور اس میں کچھ نہ کچھ صداقت اسلئے تھی کہ جرمنی حریت پسندوں کا فیورٹ ہوتا تھا جہاں سے لیڈروں کو تحریک کیلئے بڑے پیمانے پر خفیہ امداد بھی ملتی تھی۔
جب رسول اللہ ۖ کا وصال ہوا تو مہاجرین وانصار اور قریش واہلبیت میں یہ اختلاف ہوا کہ خلافت کا حقدار کون ہے؟۔ حضرت ابوبکر وعمر کے بعد حضرت عثمان اور حضرت علی نے شہادت پائی۔ حضرت امام حسن دستبردار اور حضرت حسین یزید کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ بنوامیہ، بنوعباس اور سلطنت عثمانیہ تک موروثی اقتدار عروج پر رہا ۔ فاطمیہ ،مغل ، خاندانِ غلاماں موروثی اقتدار کے بعد انگریز نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ اچھے برے سب طرح کے حکمرانوں نے اپنی اپنی جگہ اقتدار کیا۔ محمودغزنوی، احمد شاہ ابدالی اور شیرشاہ سوری نے بھی نمایاں کارنامے انجام دئیے۔ انگریز کے جانے کے بعد سول وملٹری بیوروکریسی نے آزادی کی خاطر قربانی دینے والوں کو غدار اور گودی لے پالکوں کو وفادار کے سرٹیفکیٹ جاری کئے یہاں تک کہ فاطمہ جناح نے کہا کہ پاکستان کو نہیں بننا چاہیے تھا۔ اسلئے ان پر غداری کے الزامات عائد کئے گئے۔ نوازشریف نے جس طرح بھٹو کی پھانسی سے یوسف رضاگیلانی کی برطرفی تک اسٹیبلشمنٹ کے پالتو کتے کا کردار ادا کیا۔ پھر ملتان کے جلسے میں کٹھ پتلی کی تاریخ بیان کرکے مریم نواز نے نوازشریف کو ہیرو قرار دیا تو لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور آصفہ بھٹو کی مختصر گفتگو بہت اچھی اسلئے لگی کہ چرب زبانی کے گفتار کا جواب تاریخی کردار سے دیا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے کرونا کی وجہ سے مسجد میں نماز اور تراویح کو خیرباد کہا تھا تو ہم نے اس کو سراہا تھا اور اب اپوزیشن کی وجہ سے کرونا کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے تو یہ اس کی اپنی سیاست ہے۔ غربت سے تنگ عوام ریاست کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تو بھی خون خرابہ ہوگا اور سیاسی مفادات کیلئے عوام کو ریاست سے لڑایا گیا تو بھی خون خرابہ ہوگا اوریہ اللہ کاشکر ہے کہ پی ٹی ایم (PTM)کو پی ڈی ایم (PDM) سے باہر کیا۔ طالبان کے نام پرقربانی دینے والی قوم پہلے ہی بہت مصائب کا شکار ہے۔محسود اور وزیر لشکری قوم ہے ، اگرچہ پی ٹی ایم (PTM) کو وزیرستان میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے لیکن اگر پی ڈی ایم (PDM)کیساتھ ملکر لاہور کی طرف لانگ مارچ ہوتا تو اس کے بہت خراب نتائج نکل سکتے تھے۔ کیونکہ کسی انقلاب کی بجائے یہ مریم نواز کے مفاد کی بھینٹ چڑھتے۔ قبائل کے باشعور طبقات کو یہ گلہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کیلئے قربانیاں دیتے رہے ہیں لیکن ہمارے مفاد کیلئے کوئی بھی نہیں آیا ہے۔ جب قبائل کے حوالہ سے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا تو بادشاہی خان محسود نے ان سے گلہ کیا تھا کہ کراچی سے مہاجروں نے آکر ہمارے لئے پناہ گزینوں کیلئے خیمے اور امدادپہنچائی مگر آپ لوگوں نے ان مشکلات میں ہمیں یاد کرنے کی کوئی زحمت نہیں کی تھی۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ قبائل نے بالعموم اور وزیرومحسود نے بالخصوص بڑے پیمانے پر طالبان بن کر جی ایچ کیو(GHQ) ، آئی ایس آئی ملتان دفتر اور فضایہ کراچی تک کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ مساجد، بازاروں اور سرکاری دفاتر تک بہت لوگوں کا خون بہایا تھا۔ اب اگر پی ٹی ایم (PTM)کہتی ہے کہ پختون بے گناہ تھے۔ استعمال ہم ہورہے تھے ۔ ہمارے اندر کسی اور نے انگل ڈال کر مست کردیا تھا تو یہ قطعی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ وزیرستان سے ایک ایسے لشکر کی ضرورت ہے جو مینار پاکستان سے غیر متعصبانہ انقلاب کا اعلان کرے۔ پورے پاکستان کو ظالمانہ نظام سے نجات دلانے کیلئے حق کی وہ آواز ہو جس سے مخلوقِ خدا بالکل خوش ہوجائے۔ امن اور سلامتی کی ضمانت دے اور بھارت کے مسلمان پاکستان کے نظامِ عدل پر رشک کرکے دنیا کو تباہی وبربادی کے راستے سے روک لیں۔ ہندو، سکھ، بدھ مت اور عیسائی سب کے سب خیرخواہ اور ہمنوا ہوجائیں۔

لوگوں کیلئے اسلام دین اور مذہب ہے لیکن اسلام پختونوں کی زندگی کا حصہ ہے، نور اللہ ترین

وزیرستان میں لوگ باجماعت نماز پڑھتے ہیں، تبلیغی جماعت میں سب سے زیادہ ہیں ، لوگوں کے نکاحوں میں اپنی بیگمات ہیں، نائٹ کلب نہیں، عورتیں اور مرد ایک ساتھ نہیں بیٹھتے
نفاذِشریعت کی ضرورت لاہور یا وزیرستان میں ہے؟، باجوڑ میں یا کراچی میں؟۔ تمہارے ہاںچوبیس گھنٹے ہیرا منڈی چلتی ہے، نائٹ کلبوں میں اتنی شراب جتنی ہم لسی نہیں پیتے ہیں!
پنجابی اور سندھی مولوی کہتا ہے کہ وزیرستان میں شریعت نافذ کرو۔ کیا ہمارا قرآن الگ ہے اور تمہارا قرآن الگ ہے یا کوئی اور؟
کراچی پی ٹی ایم (PTM)کے رہنما نے کراچی میں جلسۂ عام کیلئے ایک کارنر میٹینگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ جاؤ، دیکھو،وزیرستان میں لوگوں نے داڑھیاں رکھی ہیں، نماز باجماعت مسجد میں پڑھتے ہیں۔ سینما نہیں ہے کہ لوگ فلمیں دیکھیں، نائٹ کلب نہیں ہیںکہ اس میں عورتین اور مرد ایک ساتھ بیٹھے ہوں۔ لوگوں نے نکاح میں اپنی عورتیں بٹھا رکھی ہیں۔ ہر کسی سے تبلیغی جماعت میں بھی ہم زیادہ ہیں۔ پھر ہم سے کیا شریعت مانگتے ہو۔ میں تو جب سے پیدا ہوا ہوں ، شریعت محمدی سے میرا تعلق ہے۔ ایک بات یہاں ہم کرلیتے ہیں کہ اسلام لوگوں کیلئے دین ہوگا، لوگوں کیلئے مذہب ہوگا مگر پشتونوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ پشتون پیدا ہو تو بھی مسلمان ہوگا اور مرے گا تو بھی مسلمان ہوگا۔ ہم سے کیا ہے؟۔ ہمارے اندر تو پہلے سے شریعت ہے۔ لیکن یہ ایک ڈرامہ تھا۔ پنجابی علماء کیا کررہے تھے، سندھی علماء کیا کررہے تھے، یہاں سے بیان دیدیتے تھے کہ وزیرستان کے علماء ٹھیک بات کرتے ہیں۔ شریعت ہے اور اس کا حق بنتا ہے کہ لوگ شریعت کا نظام پختونوں میں نافذکردیں۔ پنجابی علماء بھی یہی کہتے تھے، سندھی علماء بھی یہی کہتے تھے۔ اب ہم ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ کیوں مولوی صاحب ! کیا پشتونوں کا قرآن الگ ہے اور تمہارا الگ ہے؟۔تیرے لاہور میں سرِ عام ہیرامنڈی کھلی ہوئی ہے۔ یہ اڈہ چوبیس گھنٹے تم چلاتے ہو۔ تو شریعت یہاں ضروری ہے یا وزیرستان میں ضروری ہے؟۔ شریعت کراچی میں لازمی ہے یا باجوڑ میں ؟۔ نائٹ کلب تمہارے ہیں ڈیفینس میں، تم جاؤ،رات کو لوگوں کو دیکھو۔ ہمارے لوگ خدا کی قسم اتنی لسی نہیں پیتے جتنی لوگ وہاں شراب پیتے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ ڈرامہ تھا۔ شریعت مقصد نہیں تھا ،اگر شریعت مقصد ہوتا تو پھر چاہیے تھا کہ لاہور میں شریعت نافذ ہوتی، چاہیے تھا کہ کراچی میں شریعت کا نفاذ کرتے۔ یہ کیا تھا ڈرامہ تھا۔ شریعت کی بنیاد پر وہاں لوگ بیٹھ گئے اور کام کیا کیا؟
پہلا کام یہ کیا کہ جو تمہارے جرگہ والے لوگ تھے، خان ، سردار، ملک اس کو ذبح کر دیا۔ دوسرے مرحلے میں تمہارے تعلیم یافتہ لوگ وکیل، پروفیسر ، ٹیچر جو قوم کو شعور دے رہے تھے۔ قوم کو سمجھ وآگہی دے رہے تھے ۔ ان کو قتل کر دیا۔ آخر میں سڑک کو بموں سے اُڑا دیا، سکولوں کو بموں سے اُڑا دیا، اس کا شریعت سے کیا کام تھا؟۔
صرف اس بات سے ہمارے جوانوں کے سر کاٹ دئیے گئے کہ قمیص کا کالر جو تم نے کپڑے پہنے ہیں یہ شریعت کے مطابق نہیں ہیں۔ اس بنیاد پر بھی ہمارے پشتون جوانوں کے سر کاٹ دئیے گئے۔
راتوں کو بڑے بالوں والے آجاتے تھے انہوں نے پگڑیاں سروںپر باندھ رکھی ہوتی تھی، کلاشنکوف ساتھ ہوتے تھے۔ وہ ان کے گھر میں آجاتے تھے کہ ہمیں رات کو رکھوگے اور کھانا بھی دوگے۔ وہ بیچارا اکیلا ہوتا تھا، انکے ساتھ بال بچے، مائیں بہنیں ہوتی تھیں۔ بھائی ہوتے تھے اور یہ بلائیں ان کے ہاں آجاتے۔ پھر جب یہ چلے جاتے تو صبح فوجی آجاتے کہ تم ہی طالبان کو کھانا دیتے ہو؟۔ اگر طالبان کو روٹی دیدیتے تو فوجی مارتے اور اٹھاتے اور اگر نہیں دیتے تو طالب قتل کرتے اور یہ دونوں آپس میں حقیقت میں ایک تھے، صرف ہمارے علاقہ کیلئے چال بنایا تھا۔ اب پھر جب اس کے نتیجے میں ہمارے پشتون کراچی آگئے۔ یہاں ہم نے زندگی شروع کی تو ہمارے ساتھ کیا سلوک تھا؟۔ ہمیں پولیس اور رینجرز نے ستایا۔ کبھی ایم کیو ایم کو ہمارے لئے بلا بنادیتے تھے اور کبھی کسی اور کو۔ کتنے جنازے ہونگے جو تمہارے سلمان خیل قبیلے میں پہنچے ہوں گے؟۔ یعنی پشتونوں کے ہاں کوئی ایسا قبیلہ ، کوئی گاؤں اور کوئی گھر ایسا نہیں رہا جہاں لاش نہیں پہنچی ہو۔ تمہارے اربوں روپے کی جائیداد انہوں نے جلا ڈالیں۔ اور یہ کام کتنا عرصہ چلا؟۔ بارک خان 20 سال تک تو مسلسل یہ کام چلا ہوگا نا؟۔
مطلب یہ ہے کہ مسلسل مگر اب ہم پوچھتے ہیں اس دوران پاکستان کی آئی ایس آئی کہاں تھی۔ ایم آئی کہاں تھی؟۔ پولیس کہاں تھی، رینجرز کہاں تھی؟۔ انٹر نیشنل شہر میں ایک ایک دن میں سو سو( 100،100) پشتون قتل ہورہے تھے۔ اربوں روپے کی جائیداد یں لوگ ہماری جلا رہے ہیں۔ اور میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ میرا خوار غریب پشتون ہوٹل میں مزدوری کرتا ہے کوئی ڈمپر چلاتا ہے۔ کوئی نسوار بیچتا ہے۔ ان خوار غریب لوگوں کو دن دیہاڑے قتل کیا جارہاتھا، پھرادارے ہمیں دیکھ رہے تھے۔یہ اسلام کے نام پرجو اس ملک کو بنایا ہے ، یہ سب ہمیں کو دیکھ رہے تھے۔ پنجابی، سندھی ، بلوچ ہمیں دیکھ رہے تھے یہ سب ہمیں دیکھ رہے تھے۔یہ ادارے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ ہمارا کسی نے پوچھا تک نہیں ہے۔ کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ ان انسانوں اور مسلمانوں پر یہ ظلم کون کرتا ہے؟۔پھر راؤ انوار پیدا ہوگیا۔ راؤ انوار 19سال تک مسلسل بیٹھا رہا۔ ملیر کے ضلع میں۔ اس نے پھر ہلاکو خان اور چنگیز خان کی یادیں تازہ کردیں۔ ایک معمولی سا ایس ایس پی اور اسکے پاس اتنا بڑا پاور؟۔ اربوں روپے سہراب گوٹھ میں بھتے وصول کرتا تھا، ریتی والوں سے بھتہ لیتا تھا۔ وہ دکانوں پر قبضے کرتا تھا۔ مختلف لوگوں کو اس نے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ پھر اتنا بدمعاش بن گیا کہ سرعام کہا کرتا تھا کہ پشتون ، پشتون میں خاص کر محسود میرے لئے اے ٹی ایم (ATM )کارڈ ہیں۔ جب ہمیں پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے تو محسود کو اٹھالیتے ہیں۔ پھر اس کو کہتے ہیں کہ پیسے دیتے ہو یا طالبان کے ساتھ تجھے فٹ کردیں؟۔ یہ واقعات اس نے بہت کئے۔ ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں سینکڑوں لوگوں کو اس نے اٹھایا تھا۔ جو پیسے دیتا تھا تو وہ جان چھڑالیتا تھا اور اگر پیسے نہ دیتا تھا تو اس کو سپر ہائی وے پر لے جا تے اور قتل کردیتے۔ تھوڑے سے لمحہ کے بعد راؤ انوار نے کلاشنکوف اُٹھایا ہوتا تھا، جیکٹ پہنی ہوتی تھی۔ اور اعلان کردیتا تھا کہ اس کا فلاں کالعدم تنظیم سے تعلق تھا، اس کا ڈرائیور تھا، اسکے ساتھ یہ یہ تعلق تھا۔ اور قصہ ختم جوجاتا تھا۔ یہی پشتون پھر اپنے مردے کی لاش کو تین لاکھ چار لاکھ اور پانچ لاکھ میں اٹھاتے۔ چپکے سے رشوت نہ دیتے تو وہ لاش بھی حوالے نہیں کرتے تھے۔ اور دھمکی دیتے تھے کہ ہم رپورٹ کردیتے ہیں، یہ تو دہشت گرد تھا، یہ طالبان کا آدمی تھا، اچھا آپ اسکے چچازاد بھائی ہو، اسکے بھائی ہو تو بیچارہ پھر ڈرتا تھا اور چپکے سے پیسے دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمارا بھائی ناکے پر مار دیتے تھے اور پھر اپنے بھائی کی لاش کیلئے پانچ لاکھ رشوت بھی دیتے تھے۔ راتوں رات اس کو وزیرستان لیجاتے تھے۔ یہ ہماری زندگی تھی۔ہمیں سب دیکھ رہے تھے کوئی ایک بھی پاکستانی مسلمان نظر نہیں آیا جس نے ہم پشتونوں کے سر پر ہاتھ رکھا ہو،کہ ان انسانوں اور مسلمانوں کیساتھ یہ ظلم کیوں کر رہے ہو۔ آخر انکا گناہ کیا ہے؟۔سب خاموش تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ نقیب کو شہید کردیا۔ راؤ انوار کے ہاتھوں۔ اس سے پہلے زیادہ طاقتور جوانوں کو مارا تھا مگر ہم میں ہمت نہیں تھی۔ اس سے زیادہ خوبصورت جوانوں کو مارا ۔ میں خود یہ کہتا ہوں کہ ہماری کسی ایک ماں یا بہن کی آہ کو خدا نے قبول کیا ہوگا ۔یہ اتنے مظالم ہم پر ہوئے تھے اسلئے راؤ انوار گرفت میں آیا۔ تم میرے گھر پر کالے چشمے اور سادے کپڑے پہن کر آجاتے ہو اور میرا بھائی یا بھتیجا اُٹھالیتے ہو اور چار پانچ ماہ تک مجھے پتہ نہیں چلتا ہے کہ کس جرم پر تم نے اس کو اٹھایا ہے۔ کس تھانے میں لے گئے ہو۔ اس طرح سے مت کرو، اگر میرے بیٹے، بھائی یا بھتیجے نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو عدالت میں پیش کردو۔ہم کہتے ہیں کہ اس کو قرار واقعی سزا دیدو ۔ لیکن یہ مت کرو کہ نہ کوئی عدالت ہے اور نہ کوئی چیز ہے۔ کئی مہینے سے آپ نے غائب کیا ہے ، ہم سب روتے ہیں، مائیں بہنیںرورہی ہیں اور چار پانچ ماہ بعد پھر اسکی ایک جگہ لاش پڑی ہوتی ہے اور تم نے اس کو مارا ہوتا ہے یہ کونسا ڈرامہ ہے کہ شناختی کارڈ دکھاؤ۔ اور جب شناختی کارڈ دکھاؤ ،یہ تو وزیرستان کا ہے۔ یہ تو باجوڑ کا ہے ۔یہ تو چمن کا ہے۔ یار تمہارے نادرا والے نے دیا ہے ۔ اس کو میرے باپ نے تو نہیں بنایا ہے۔ یہ تمہارے پاکستان کا ادارہ ہے نادرا۔ میں پاکستانی ہوں۔ میں وزیرستان کا ہوں یا کراچی کا ہوں، مجھے فخر ہے وزیرستان پر، میرا وطن وزیرستان ہے۔یہ شناختی کارڈ کے بغیر بھی نہیں چھوڑتے اور اگر تمہارے پاس شناختی کارڈ نہ ہو توپھر واللہ ایک لاکھ روپے سے بھی جان نہیں چھڑا سکتے ہو۔ تیرے محلے میں سرکاری سکول نہیں ، کوئی سرکاری ہسپتال تمہارے محلے میں نہیں۔ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ بھی چھوڑیں کہ ان سہولیات سے محروم ہیں۔ بدلے میں کیا دیا ہے ۔ تمہاری گلی چرس کا اڈہ ہوگاشراب کا اڈہ ہوگا۔ چور کھلم کھلا گھومیں گے۔ میرا اور آپ کا نسل جب ہسپتال نہیں، سکول نہیں، خوبصورت پارک نہیں ہے۔کوئی سینٹر نہیں ہے۔ سائیڈ پر چرس ، ہیروئن اور شراب کے اڈے بنائے ہیں۔ ہماری نئی نسل جو پنپ رہی ہے۔ان سے کیا بنے گا چور اور دہشت گرد بنیںگے۔ معمار میں ہم ایک پارک میں گئے ، جسکی چاردیواری بھی نہیں تھی۔اس میں فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں، بچے تھے۔ ہم نے کیک کاٹا ، زندہ باد اور مردہ بعد کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ کسی منظم انداز میں بھی ہم نہیں گئے ، چند دوستوں کی ذاتی شوق سے ہم گئے۔ کیک کاٹا تو بچے بھی آئے۔ ہم نے ان کو بھی کیک دیا اور دوسری فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے بھی کیک منگوایا۔ وہ اردواسپیکنگ تھے کہ خانصاحب ہمارے لئے بھی تھوڑا سا کیک بھیجو۔ کیک بہت بڑا تھا۔ بحرحال ہم نے سب کو کیک دیدیا۔ پھر بھی تھوڑا سا رہ گیا۔ اس میں پولیس کی انٹیلی جنس آئی۔ انہوں نے بھی ہمارے ساتھ کیک کھایا۔ انہوں نے کہا کہ کیا پروگرام تھا۔ ہم نے کہا کہ کوئی پروگرام نہیں تھا ویسے ہی آئے تھے شغل کیلئے اپنی طبیعت سے۔ کیک کاٹا اور کھالیا ۔ انہوں نے بھی ساتھ میں کھایا اور کہا کہ ٹھیک ہے مہربانی۔ جب ہم تھوڑا دور گئے تو اس طرف سے پولیس آگئی اور ہم پرکلاشنکوف ، پسٹل تھامے اور بلٹ جلد سے چیمبر کردئیے۔انکا یہ طریقہ کار۔ ہم نے کہا کہ بابا کیا مسئلہ ہے ۔خداخیر کرے یہ تم کیا کررہے ہو۔ پھر یہ کونسا طریقہ…

بھارتی میڈیا چینلوں کے گدھ اینکروں نے پاکستانی کشمیر میں انڈین فوجی اسٹرائک کے جھوٹےفوٹیج دکھادیئے

بھارت میں کچھ میڈیا چینلز اورمودی سرکار کو خوش کرنے کی دوڑ میں لگے ان میڈیا چینلوں کے
گدھ اینکروںکی وجہ سے ملک میں لوگوںنے صحافت کو دلالوں کا پیشہ کہنا شروع کردیا ہے۔
میڈیا چینلوں نے جھوٹ سے پاکستانی کشمیر فوج کے اسٹرائک کے فوٹیج دکھادئیے ، پھر انہیں آہستہ آہستہ اس خبر کی جھوٹ کا پتہ چل جانے کی خبر کے بعد ڈیلیٹ کرنا شروع کردیا تھا
چینل مودی کو خوش کرنے کیلئے کہ اتنا جھوٹ بولتے ہیںکہ عوام کے دماغ میں اس قدر بیٹھ جاتا ہے کہ جب ان کو سچ بتایا جائے تو اسکا یقین نہیں کرتے بلکہ غدار کہنا شروع کرتے ہیں
بھارتی پروگرام ”پولیٹیکل تماشہ.. ود.. ڈاکٹر عرشی”
بھارت میں کچھ میڈیا چینلز اورمودی سرکار کو خوش کرنے کی دوڑ میں لگے ان میڈیا چینلوں کے گدھ اینکروںکی وجہ سے ملک میں لوگوںنے صحافت کو دلالوں کا پیشہ کہنا شروع کردیا ہے۔ 19 نومبر جمعرات کی شام تقریباً 7بجے کو اچانک سے کئی بڑے چینل بھارت میں گودی میڈیا کے ٹی وی چینلوں آج تک، اے بی پی نیوز، ٹائمز ناؤ، ریپبلک ٹی وی سمیت کئی ٹی وی چینل کی اسکرینیں پاکستانی کشمیر میں بھارتی فوج کی ایئر اسٹرائیک کی خبروں سے جگمگا اٹھیں۔ فوج کی ایئر اسٹرائک والی بریکنگ نیوزکیساتھ ہی آناً فاناً کچھ چینلوں کے بکاؤ اینکروں نے اس موضوع پر ہوائی پینل ڈسکشن کا تماشہ بھی شروع کردیا۔ ویسے ہی ایک چینل پاکستان یا مسلمانوں سے جڑی ہر خبر کو اس طرح سے سجاتے سنوارتے ہیں کہ اس سے فائدہ ملک کی مودی سرکار کو ہو۔ اور پھر بھاجپا (بی جے پی) کے نیتا عوام کو جاکر بتاتے ہیں کہدیکھو مودی جی نے کتنا زبردست کام کیا۔ اب آپ بھوکے پیٹ فخر محسوس کریں۔ یہاں پر سب سے زیادہ مشکل اسی بات کی ہے کہ جب عوام تک اس میڈیا کی طرف سے چلائی ہوئی جھوٹی خبر کی سچائی پہنچتی ہے اس سے پہلے جھوٹ انکے دماغ پر قبضہ جما کر اپنا کام کرچکا ہوتا ہے۔ جھوٹ پھیلانے میں یہ بکاؤ میڈیا اتنا ماہر اور چست ہے کہ ان چینلوں کو دیکھنے والے بھارت کے کروڑوں لوگ ان کی طرف سے دکھائی گئی خبروں کو اس حد تک سچ مانتے ہیں کہ اگر آپ ان چینلوں کے دیکھنے والے کسی شخص کو سچ بتائیں گے بھی تو وہ آپ کی بات پر یقین ہی نہیں کرے گا اور الٹا آپ کو ہی دیش کا غدار کہے گا۔ کئی بار ان چینلوں کے کارنامے اور حقیقتوں کو سوشل میڈیا پر بے پردہ کراجاچکا۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ تک اس بات کو کہہ چکا ہے کہ میڈیا پر کسی طرح کا تو سیلف ریگولیشن تو ہونا ہی چاہیے۔ لیکن مودی سرکار کے سائے میں پنپنے والے یہ نفرت کا زہر بیچنے والے سیلز مین اور سیلز وومین دونوں کسی کی بھی بات سننے کو تیار نہیں۔ ان چینلوں میں بیٹھے دانشور دہشت گرد نفرتی زہر کا کاروبار بند کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور حکومت کو خوش کرنے کیلئے یہ بنا کراس چیک کئے فرضی خبروں کو چلاتے رہتے ہیں۔ حالانکہ لگاتار سوشل میڈیا پر بے عزت ہونے کے باوجود یہ اینکر سرکار کو خوش کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دیتے آرہے ہیں۔ اور جو نیا تماشہ ان نام چین چینلوں نے انجام دیا ہے وہ ہے 19نومبر 2020کو۔ جی ہاں! ان چینلوں نے یہ خبر چلادی کہ بھارتی فوج نے پاکستانی کشمیر میں ایئر اسٹرائک کردی ہے۔ ستا دھاری پارٹی بی جے پی کو سب سے زیادہ خوش کرنے کیلئے انہوں نے دھواں دھار طریقے سے اس خبر کو ٹی وی سمیت سارے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرتیز رفتاری سے دوڑادیا۔ان اینکروں نے جوش میں بڑے بڑے دعوے تک کردئیے۔ آج تک کے اینکر روہت سردانا نے چیخ کر کہا کہ اس وقت ایک بڑی خبر آپ کو دے دیں کہ پاکستان کے دہشت گردوں پر بھارت نے ایک اور ایئر اسٹرائک کردی ۔ وہیں ٹائمز ناؤ نے تو ایئر اسٹرائک کے ویڈیو کلپ تک چلادئیے۔ ساتھ ساتھ چینل کے دو سینئر خود کو جرنلسٹ کہنے والے لوگوں نے اس ایئر اسٹرائک پر تفصیلی بحث شروع کردی۔ اسی طرح ری پبلک ٹی وی نے تو اس خبر پر بات کرنے کیلئے پینل ہی بٹھادئیے۔ اوراے بی پی نیوز نے اس خبر پر مودی کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ مودی سرکار کی بھارتی حکومت کی ایک اور بڑی کامیابی۔یہ تماشہ یہیں پر نہیں رکا ہر دن نیشنلزم اور دیش بھگتی کا ڈھول پیٹنے والے کچھ چاپلوس، فرضی اینکروں نے سرکار کو خوش کرنے کیلئے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی اس افواہ کو پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج تک کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انجنا اوم کاشیاپ نے 7بجکر 4منٹ پر ٹوئٹ کیا کہ پی او کے (pakistan occupied kashmir)میں بھارتی فوج کی ایک اور بڑی اسٹرائک۔ پی او کے میں اب تک کا سب سے بڑا آپریشن۔ یہی حال نیوز نیشن کے دیپک چورسیا کا بھی رہا۔ جو کہ حال کے دنوں میں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے فیک نیوز پھیلاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں انہوں نے بھی لکھا کہ پی او کے میں اب تک کا سب سے بڑا اسٹرائک۔ دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ، فوج کے جوانوں کا آپریشن کامیاب۔ اے بی پی نیوز کی روبیکا لیاقت کا جوش تو اس دوران دیکھنے کے لائق تھا۔ انہوں نے تو ٹوئٹ میں اسٹرائک کا تو ذکر کیا ہی ساتھ ہی دوسرے اینکروں سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اب کی بار آر پار کاٹیگ بھی چلادیا جیسے بہت ہی پختہ ثبوتوں کے ساتھ اس اسٹرائک کی پوری انفارمیشن انہوں نے حاصل کرلی ہو۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ پی او کے (POK)میں بھارتی فوج کی ایک اور بڑی ٹارگٹڈ اسٹرائک۔ دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ۔ بارود سے ہوگا سب کا سواگت (استقبال) اب کی بار آر پار۔ چینلوں نے اس معاملے کو لیکراسکرینوں کو اتنا گرمادیا کہ بھارتی فوج کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل پرم جیت سنگھ کو خود سامنے آنا پڑا۔ اور چینلوں پر دکھائی جانے والی خبروں کو انہوں نے پوری طرح سے بے بنیاد اور فیک بتاکر ان جوکروں کے تماشے کو بند کرایا۔ اسکے بعد ان چینلوں کے گودی اینکروں نے آہستہ آہستہ اپنے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے شروع کردئیے۔ اب آپ کو بتادوں کہ یہ تماشہ آخر شروع کیسے ہوا تھا۔ دراصل اس خبر کی ابتدائی سورس انڈین نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے حوالے سے آئی ایک رپورٹ تھی۔ حالانکہ اس خبر کے کچھ ہی دیر بعد بھارتی فوج نے پی او کے (POK)میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائک جیسے کسی بھی ایکشن کو خارج کردیا۔ فوج نے بیان جاری کیا کہ ایسی کوئی اسٹرائک نہیں کی گئی ہے۔ اسکے بعد زیادہ تر ٹی وی چینلوں نے یہ خبریں ہٹالیں۔ لیکن اس خبر کی بنیاد پر کچھ گھنٹوں کے دوران ان چینلوں نے پورے ملک میں طوفان سا کھڑا کردیاتھا۔ بعد میں پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کی طرف سے یہ وضاحت آئی کہ اس نے کسی نئے ایئر اسٹرائک کی بات نہیں کی تھی بلکہ اس نے 13نومبر کو اپنے ایک آرٹیکل میں ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی پر اپنا صرف ایک تجزیہ ہی جاری کیا تھا۔ اس آرٹیکل کی لینگویج ایسی تھی جس پر بعض چینلوں نے اپنی مرضی سے ایئر اسٹرائک بتا کر چینلوں پر چلادیا۔ جبکہ سچائی یہ تھی کہ 19نومبر کو ایل او سی پر سیز فائر کی کوئی خلاف ورزی ہی نہیں ہوئی تھی۔ لگ بھگ تمام گودی میڈیا کے نیوز چینلوں نے اس حساس مسئلے کو تازہ ائیر اسٹرائک کے طور پر پیش کیا۔ اور ان نیوز چینل کے اینکروں نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بے حد غیر ذمہ دارا نہ طریقے سے اس فرضی خبر کو چلایا اور پھیلایا۔ پوری دنیا کے سامنے ہنسی ور چاپلوسی کا نمونہ بن چکے ان نیوز چینلوں نے مودی سرکار کی واہ واہ کرنے اور مودی سرکار کو خوش کرنے کیلئے جو ہڑ بڑی اور جو گڑ بڑی دکھائی اس سے بہت آسانی سے بچا جاسکتا تھا۔ رپورٹنگ کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں وہ یہ کہ اس طرح کی بڑی اور حساس خبر کو ڈبل چیک کرنا۔ ساتھ ہی ساتھ کم از کم دو ذرائع سے ان کی تصدیق کرنا۔ لیکن صحافت کو دلالوں کا پیشہ بنانے والے ان لوگوں نے اپنے آقا کو خوش کرنے کی جلد بازی میں اصلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس فرضی خبر کو چلادیا۔ سب سے زیادہ دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ ان اینکروں نے جب پہلا ٹوئٹ کیا تو اس میں پی ٹی آئی کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا۔ لیکن فوج نے جیسے ہی اس خبر کو بے بنیاد بتایا تو ان اینکروں نے خود کو بچاتے ہوئے اس مسئلے کو پی ٹی آئی کے سرپر پھوڑ دیا۔ نیوز ٹی وی چینل اور اینکروں کے اس غیر ذمہ دارانہ تماشے کی وجہ سے دوسرے دن دن بھر ٹوئٹر پر فرضی گودی میڈیا معافی مانگے۔ ٹاپ پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ ویسے چاپلوس میڈیا کی اتنی دھلائی ہونے کے بعد امید تو یہ ہونی چاہیے کہ ان کو عقل آجائے اور وہ حکومت میں بیٹھے حکمرانوں کو خوش کرنے کے بجائے عام پبلک کے مفاد سے جڑی خبروں کو دکھائیں لیکن بنا کچھ سوچے سمجھے اپنے اور مودی سرکار کے فائدے کیلئے پچھلے کئی برس سے فرضی خبریں چلا کر عوام کو بیوقوف بنانے والے یہ لوگ آسانی سے سدھر جائیں گے اسکی امید تو کم ہی ہے۔

 

 

نسل کی بنیاد پر کسی سے تعصب نہیں شکل کالا گورااللہ نے بنایا ہے ، منظور پشتین

پشتون دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ پشتون دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم پر خواہ مخواہ میں دہشت گرد ہونے کا لیبل لگایا گیاہے۔
منظور پشتین وہی مؤقف پیش کررہاہے جو پاکستان کا دنیا کے سامنے ہے کہ پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہے

کراچی(پی ٹی ایم جلسہ عام )یہ وضاحت کرتا ہوں کہ ہم نسل پرست نہیں۔ نسل کی بنیاد پر ، شکل کی بنیاد پر، کھانے پینے کی بنیاد پر، پہننے کی بنیاد پر ہم کسی کے ساتھ کوئی تعصب نہیں کرتے ہیں۔ کوئی کالا ہے سفید ہے سرخ ہے اس کو اللہ نے شکل دی ہے کس نسل کا ہے وہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ کون کیا پہنتا ہے کیا نہیں پہنتا، کیا کھاتا ہے کیا نہیں کھاتا وہ ان کی اپنی مرضی لیکن ہمارے وطن کا استحصال کرکے اپنے آپ کو آباد کرو گے تب اس کے خلاف ہم اٹھیں گے۔ نسل نہیں استحصال کی بنیاد پر ہم اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔ اپنے وطن کا دفاع کرتے کرتے پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوانوں نے اپنے سر کا نذرانہ پیش کیا۔ اور ارمان لونی جو یہاں کھڑے ہوکر تقریر کرتے تھے انہوں نے قربانی دی۔ خرکمر اوروانہ اور دیگر پشتون شہداء کو ہم اس مجمع کی طرف سے ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

پاک فوج، حکومت، اپوزیشن، پی ٹی ایم اورایم کیو ایم،بلوچ اور سب لوگ یہ آیات غور سے پڑھ لیں!

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204) وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَئُوْف بِالْعِبَادِ (207) یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن (208) فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآئَتْکُمُ الْبَیِّنَاتُ فَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم (209) ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَآئِکَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (210) اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور نسل کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتااور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنی عزت کا مسئلہ سمجھ کر اور بھی گناہ کرتا ہے، سو اس کیلئے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیںاور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔اے ایمان والو! اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں( سورۂ بقرہ کی ان آیات کی روشنی میں سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک لیں)

عمران خان کی پہلی اولاد بھی ناجائز ہے اور پہلی حکومت بھی ناجائز ہے۔ چیئر مین پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن

وہ پشتون نہیں بے غیرت ہے جو پی ٹی آئی کا سپورٹر ہے۔چاہے خٹک ہو، مروت ہو یا بنوچی ہو یا پھر بیٹنی ہو۔جو عمران خان دلّے کو وٹ دے

مولانا فضل الرحمن نے مولانا امان اللہ حقانی کی یاد میں ایک تقریب سے لکی مروت میں خطاب کیا

مولانا فضل الرحمن نے لکی مروت میں مولانا امان اللہ حقانی کی یادگارمیں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ پشتون نہیں جو عمران خان کا سپورٹر ہو، چاہے وہ خٹک ہو، مروت ہو ، بنوچی ہو یا بیٹنی ہو”۔ عمران خان کی پہلی اولاد بھی ناجائز تھی اور پہلی حکومت بھی ناجائز ہے”۔ مولانا فضل الرحمن سے مروت قوم کے بعض لوگ بہت شدومد کیساتھ گلہ کررہے ہیں لیکن مولانا نے پشتون قوم کو غیرتمند قرار دیکر پاکستان کی دوسری قومیتوں پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ مولانا کے اس بیان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پنجابی، سرائیکی، بلوچ ، ہزارے وال ، کراچی کے مہاجر اور سندھی تو ویسے بھی بے غیرت ہیں اسلئے کہ ان کی اپنی جماعت کے راشد سومرو نے بھی لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیا ۔ باقی قوموں کو اثر نہیں پڑتا ہے لیکن پشتون بے غیرت ہیں جو عمران خان کا ساتھ دیتے ہیں اور اس پر تفصیل سے صفحہ نمبر2میں روشنی بھی ڈالی ہے۔
پاک فوج، حکومت، اپوزیشن، پی ٹی ایم اورایم کیو ایم،بلوچ اور سب لوگ یہ آیات غور سے پڑھ لیں!
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204) وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَئُوْف بِالْعِبَادِ (207) یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن (208) فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآئَتْکُمُ الْبَیِّنَاتُ فَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم (209) ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَآئِکَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (210) اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور نسل کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتااور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنی عزت کا مسئلہ سمجھ کر اور بھی گناہ کرتا ہے، سو اس کیلئے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیںاور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔اے ایمان والو! اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں( سورۂ بقرہ کی ان آیات کی روشنی میں سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک لیں)

خادم حسین رضوی کا دھوم سے جنازہ،اچانک وفات اورتحریکِ لبیک کے محرکات اور لوگوں کے بڑے خدشات

علامہ خادم حسین رضوی کا دھوم سے جنازہ،اچانک وفات اورتحریکِ لبیک کے محرکات اور اس پربہت سے لوگوں کے بڑے خدشات

تحریر: تیز و تند۔ عبد القدوس بلوچ

جب روس کیخلاف امریکہ کو اسلامی جہاد کی ضرورت تھی تو مجاہدین پیدا کئے گئے۔ پھر امریکہ اسامہ و طالبان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کیا۔ پھر پنجاب سے صوفی ازم کو زندہ کرنے کی ابتداء ہوئی کیونکہ جہادسے معاملہ خراب ہوا تو صوفی ازم والے اسلام کی پھر ضرورت پڑی۔ طاہرالقادری کی انٹری ناکام ہوئی لیکن پنجاب سے صوفیت کی کہانی شروع ہوگئی اس کا نتیجہ عاشق رسول علامہ خادم حسین رضوی کی شکل میں نظر آیا۔ آسیہ بی بی کو پہلے عدالت نے مجرم قرار دیا اور پھر سپریم کورٹ نے مظلوم قرار دیا۔جس پرگورنر سلمان تاثیر، عیسائی وزیراور ممتازقادری کے بعد مولانا سمیع الحق اس نظام عدل ہی کے ہاتھوں سوئے مقتل چلے گئے تھے۔
پاکستان نہیں تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ دیکھ کر دنیابڑی حیرت میں پڑگئی کہ پیغمبر اسلامۖ سے مسلمانوں کو اتنی والہانہ محبت ابھی تک اس حد تک موجود ہے کہ ہرمکتبۂ فکر کے لوگوں نے خراجِ عقیدت پیشکردی۔ مولانا فضل الرحمن نے جلسہ ٔ عام میںدعائے مغفرت و درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ اہلحدیث مسلک کے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے ختم نبوت و ناموسِ رسالتۖ کیلئے سب سے بلند آواز قرار دیا علماء کے ناقدصحافی حسن نثار بھی وفات کے بعد تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
اے خدا ،اے خدا ،اپنے بندوں کوخود سمجھا
ہر چڑھتے سورج کی کرتے ہیں یہ خود پوجا
ابوذر غفاری کا جنازہ چند افراد نے پڑھا اگر حسن نثار آرائیں اس وقت موجود ہوتا تو پہلا اور آخری فرد یہ ہوتا جو اُن پرتبرا کرتا
الطاف حسین ، صدر زرداری کی تعریف کی
ہجوم دیکھ کر یہ مخلص صحافی ہر ایک پر مراتھا
یہ حالت کسی ایک کی نہیں دیکھ لو شہید کربلا
یزیدکے دور میں کس نے آپ کو کندھا دیا
مولانا طارق جمیل نے زندگی بھر اس مشن کیلئے کبھی دعا بھی نہ مانگی ہوگی مگر جم غفیر کو دیکھ لحد پر پہنچ گئے اور اعلیٰ درجات کی دعا کردی۔ اسٹیبلیشمنٹ اور اپوزیشن کی سوشل میڈیا نے علامہ خادم رضوی سے عقیدت کا اظہار کیا۔ ایک کلپ بناکر کسی نے شرارت کی انتہاء کردی کہ فوج کو فیض آباد دھرنے میں بلانے کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا لیکن پوری بات سننے کے بعد یہ شرارت ناکام ہوگئی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ سازش کے ذریعے بھی فوج کو بدنام کرنے کا کام کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جاتا کہ فیض آباد دھرنے کی اصل محرک فوج تھی تو علامہ خاد م حسین رضوی کے عشق رسول کا مقام ٹیشو پیپر میں بدل جاتا اور اگر بلیک میلنگ قرار دیا جاتا توبھی رضوی کی حیثیت ختم ہوجاتی لیکن فوج کے بدخواہوں نے سوشل میڈیا پر خود کو بدنام کردیا۔ اگر وہ نادانستہ طور پر یہ سب کچھ کر گئے تو ان کو اپنی غلطی کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے تھا ورنہ وہ لفافہ دار ہیں۔
جس طرح جہاد پر دیوبند کا اجارہ تھا ۔ امریکہ کیخلاف پاکستانی قوم نے طالبان کو سپورٹ کیا، اسی طرح عشق رسولۖ پر بریلوی مسلک کی اجارہ داری ہے۔ امام مولانا احمد رضا بریلوی نے قادیانی، دیوبندی، اہلحدیث، وہابی، چکڑالوی اور شیعہ کو یکساں کافر قرار دیا لیکن قادیانیوں پر گستاخی کا فتویٰ نہیں لگایا۔ قادیانی فرقہ واریت کو بھڑکانے کے حوالے سے ذمہ دار بھی ہوسکتے ہیں اسلئے کہ طالبان نے شیعہ، بریلوی اپنے دیوبندیوں تک کو نہیں چھوڑا اورISI ملتان کے دفتر، GHQ، فضائیہ کراچی تک پر حملہ کیا مگر ربواچناب نگر میں قادیانیوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔
علامہ خادم حسین رضوی کے علاوہ پیر افضل قادری مولانا اشرف جلالی کی شہرت تھی۔ پیرافضل نے مولانا اشرف جلالی کو نکالنے میں کردار ادا کیا اور اب پیرافضل قادری نے تحریک لبیک کے نئے امیر سعد حسین رضوی پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔ علامہ اشرف جلالی اور پیرعرفان شاہ کے درمیان بھی اچھا خاصا پھڈہ چل نکلا۔
جب امریکہ نے جہاد سے ہاتھ اُٹھا یا تو سعودیہ بھی صوفیت کو تقویت پہنچانے کا فلسفہ اپنا رہاہے۔ علامہ الیاس قادری کی دعوت اسلامی کو مدینہ میں مرکز بنانے کی اجازت شاید مل گئی ہے تو وہابیت و صوفیت ایک دوسرے کے قریب ہونگے۔ پنجاب میں اگر اس نعرے کو جذباتی تقویت ملے گی کہ ” گستاخ کی سزا ،سر تن سے جدا” تو اس کا نشانہ دیوبندی ،اہلحدیث ، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور بریلوی مسلک والے بھی بن سکتے ہیں۔ اسرائیل کیساتھ قادیانیوں کے مضبوط تعلقات ہیں اور وہ اپنی شناخت چھپانے کیلئے بریلوی مسلک ہی کا لبادہ استعمال کرسکتے ہیں اسلئے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سب سے پرانے ہیں۔
فوج پر قادیانیت کا راج تھا اسلئے بھٹو نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ ن لیگ کا پنجاب پر ہولڈ ہے اسٹیبلشمنٹ کے قریبی صحافی قادیانیوں کی مخالفت پر ن لیگ کو کمزور کررہے ہیں اور ن لیگ نے مولانا فضل الرحمن کو بندوق تھمادی ہے کہ قادیانیت کا فتویٰ فوج ہی پر لگانے کی تیاری جاری رکھی جائے۔
یہ ہتھیار دشمن کے خلاف استعمال کرنا بہت مشکل ہے، اگر قادیانیوں نے کہہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن ہمارے ساتھ ہے تو مولانا فضل الرحمن کا بیڑہ غرق ہوگا اور اگر جنرل قمر جاوید باجوہ یا نوازشریف میں کسی کو اپنا مہرہ قرار دیا تو ان کا بیڑہ غرق ہوگا۔
انصار عباسی کو نذیر ناجی نے کتے کا بچہ کیوں قرار دیا؟۔ لیکن اتنے سخت الفاظ کے پیچھے وجہ تو ضرور ہوگی۔ انصارعباسی کو ن لیگ نے مری میں ذاتی گھر تک روڈ بناکر دیا توزرداری اور جمہوریت کا نہیں اسٹیبلیشمنٹ کا حامی تھا لیکن نوازشریف بھی اس وقت فوج ہی کی حمایت کرتا تھا۔ پھر عمران خان اور نوازشریف کا مقابلہ ہوا تو انصار عباسی نے فوج کیخلاف اپنا بیانیہ نوازشریف کیلئے وقف کیا۔ اب اس نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ پر قادیانیت کا الزام تھا لیکن پھر ایجنسیوں نے اس کو کلیئر قرار دیا ۔ اوریا مقبول جان نے اسلئے باجوہ کے حق میں ایک خواب بھی بیان کیا تھا۔
اگر مذہبی، سیاسی ، صحافتی اور فوج کی تقدیر کے فیصلے الزامات کی رہین منت بن جائیں تو اس سے زیادہ ملک کی کمزور اور خراب پوزیشن کیا ہوسکتی ہے؟۔ خوشاب میں ایک راسخ العقیدہ بریلوی بینک منیجر پر قادیانیت وگستاخی کا بہتان شہید کرنے کے بعد لگا تو قاتل کے حق میں طوفان کھڑا ہوگیا۔ پنجاب کے لوگ حکومت و ریاست نے سب سے زیادہ پسماندہ اور بے شعور رکھے ۔ افغانستان میں مجاہدین کے نام پر اور پھر مجاہدین کو ختم کرنے کے نام پر سرمایہ آگیا تو پختون قوم تباہ ہوگئی مگر اوریا مقبول جان اور کرنل امام جیسے لوگ مجاہدین کا پیسہ کھا کرحمایت کر رہے تھے اسلئے کہ خود اور اپنے بچوں کے بجائے دوسرے تباہ ہورہے تھے۔ کرنل امام کو طالبان نے ذبح کیا تھا لیکن اگر اس جنگ کو پنجاب کی سرزمین پر زندہ کیا گیا تو اوریا مقبول جان کا سر بھی تن سے جدا ہوگا اسلئے کہ مسلک کی لڑائی فرانس یا امریکہ میں نہیں پنجاب میں لڑی جائے گی۔ طالبان تو امریکہ کیساتھ صلح کرکے بیٹھ گئے اور اس بات کو ذہن نشین کیا جائے کہ بریلوی بھی امریکہ سے صلح کرکے بیٹھ جائیںگے کیونکہ ان کی لڑائی گستاخوں سے ہے اور یہ گستاخ کون ہیں ؟۔ اس کی تعلیم مساجد میں دی جارہی ہے۔ علامہ آصف گیلانی نے جیو کے پروگرام میں کہا تھا کہ میرے دم سے کینسر اور دیگر مریض درست ہوگئے ہیں تو عتیق گیلانی نے کہا تھا کہ اپنا پھونک امریکہ کو بھی مار دو۔ پھر چائے کی نشست میں علامہ آصف گیلانی نے کہا کہ امریکہ دشمن نہیں بلکہ طالبان ہمارے دشمن ہیں۔ اب تو طالبان بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ سے دوستی ہے لیکن افغان حکومت سے دشمنی ہے۔ جو رویہ پاکستان کے طالبان نے ریاست کیساتھ اپنایا،وہ پنجاب کے عاشقان کا بھی ریاست کیساتھ ہوسکتا ہے۔ ن لیگ کے خلاف دھرنا دیا گیا تو اس میں گیٹ4 کی طرف سے فیض آباد دھرنے کو حمایت دینے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے اسلئے کہ شیخ رشید اور فیض آباد کا ایک مشن تھا۔ پھر آسیا بی بی پر مولاناسمیع الحق کا قتل اور علامہ خادم رضوی کی جیل میں ٹیونگ ہوئی تو اس میں کسی اور کا ہاتھ نہیں ہوسکتا تھا اور اب کی دفعہ فیض آباد دھرنے کے پیچھے یہ تاثر قائم کرنے کی اطلاع دی جارہی ہے کہ ن لیگ کا ہاتھ تھا۔ مذہب اور سیاست کو جس طرح کا کھیل بنایا گیا اور حکومت ، اپوزیشن، ریاست کے علاوہ سوشل میڈیا کی منافقانہ صحافت بھی بہت بڑا کردار ادا کررہی ہے جسکے نتائج بہت خطرناک نکل سکتے ہیں۔ مفاہمت کی راہ بھی کام اسلئے نہیں آئے گی کہ مہنگائی کا طوفان سب مل کر بھی کنٹرول نہیں کرسکتے ہیں اور کمانے والے پیٹ نہیں اپنی بھوک مٹا رہے ہیں جس کو قبر کی مٹی ختم کرسکتی ہے اور اگر اسلام کے شاندار مسائل عوام کے سامنے آگئے تو یہ قوم بچ سکتی ہے۔
جماعتِ اسلامی نے اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف سلیم صافی کی منظق میں آکر مجبوراً فتویٰ دیا تو امارت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اب سراج الحق نے PDMپشاور جلسہ کے خلاف مینگورہ سوات میں جلسہ رکھا تھا تو اس کو معلوم ہوگیا کہ فضاؤں کا موڈ اب فوج کے خلاف ہے اسلئے دیر میں جلسہ رکھا تو امیر جماعت اسلامی نے فرمایا کہ ”فوج کو اپنا سیاسی کردار ختم کرنا ہوگا”۔
نوازشریف اور جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد کس کے کہنے اور کس کے پیسوں سے بنائی تھی؟۔ جب کشمیر کا جہاد فوج کا نہیں بلکہ جماعت اسلامی نے کرنا تھا اور سیاست فوج نے کرنی تھی پھر آج اپنا کعبہ قبلہ بدل کر کیوں دوسرا رُخ اختیار کیا جارہاہے؟۔ پاک فوج نے کتے بھی پال رکھے ہوتے تو وفادار ہوتے مگر چڑھتے سورج کے پُجاری بے نسل آدمی جانوروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
ہم نے چپ کر اور نہ کھل کر اس طرح فوج کا نام لیکر انکے کردار کی حمایت کی تھی اور نہ آج کررہے ہیں لیکن جب ملک کی فضاء مخدوش بن جائے اور ہرطرف سے مقبول نعرہ فوج کی مخالفت بن جائے اور تو اور جماعت اسلامی بھی…………

آصفہ بھٹو اور مریم نواز کو چھوڑ دو،مظلومہ اُم رُباب دیکھ۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

دختر سندھ ، دختر پاکستان اور دختر انسانیت اُم رباب کے والد، دادا اور چاچا ایک ساتھ انتہائی بے دردی سے شہید کئے جاتے ہیں ۔ اُم رباب موبائل سے ویڈیو بناکر فیس بک پر چلادیتی ہے۔ اپنی آواز اقتدار کے بے حس ایوانوں تک پہنچانے کیلئے کبھی چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے بیٹھ کر اپنی فریاد پہنچاتی ہے اور کبھی ننگے پاؤں احتجاج کرکے انصاف کی بھیک مانگتی ہے لیکن وہ ابتک اصل مجرم کو پکڑنے تک چین سے نہیں بیٹھ رہی ہے۔ تین تین دفعہ وزیراعظم کا مزہ لینے والے اور نسل در نسل اقتدار میں رہنے والے مریم نواز اور آصفہ بھٹو اپوزیشن کے جلسوں میں عوام سے شکایت کرتے ہیں کہ انصاف کا نظام چاہیے۔ محمود اچکزئی کے کزن مجید اچکزئی نے کھلے عام سڑک پر ٹریفک پولیس کے غریب اہلکار کو کچل دیا، عدالت نے ثبوت نہ ملنے پر بری کردیا ، حالانکہ کیمرے کی آنکھ نے سارے میڈیا چینلوں پر دکھایا۔ ایک رینجرز اہلکار نے ڈکیٹ کو پکڑ کر غلطی سے گولی چلنے سے قتل کردیا تو اس کو عدالت نے نہیں چھوڑا۔ نظام اداروں کا نہیں بلکہ بااثر طبقات کا ہے۔سیاست پیسوں کے کھیل سے چلتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کا بھائی PTCLسے DMGگروپ کا اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ دھوکے ہی دھوکے کا سارا نظام ہے۔
عوام کا شعور پاک فوج نے نہیں سیاستدانوں اور صحافیوں نے بیدار کرنا تھا۔ پاک فوج کے جنرلوں سے لیکر سپاہیوں تک خود شعور نہیں رکھتے تو دوسروں کو کیا دیں گے؟۔ انگریز کی آمد سے پہلے ہمارے ہاں مغل بادشاہوں کی حکومت تھی جنہوں نے اپنی محبوبہ بیگمات کے نام پر تاج محل بنائے ہیں، اورنگزیب بادشاہ نے بھائیوں کوقتل کیا تھا اور فتاوی عالمگیریہ میں نامی گرامی علماء نے یہ اسلامی دستور بناکر دیا تھا کہ اگر بادشاہ قتل ، چوری ، زنا، ڈکیٹی ، زنا بالجبر کچھ بھی کرلے تو اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی ہے اسلئے کہ بادشاہ دوسروں پر حد جاری کرتا ہے اس پر کوئی اور حد جاری نہیں کرسکتا ہے۔ پنجاب اور پختونخواہ میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی۔ شاہ اسماعیل شہید اور سیداحمد بریلوی نے خراسان کے مہدی کا دعویٰ کرکے پشاور اور ہزارہ سے خلافت کا نظام زندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انگریز کو یہ اپنے مفاد میں لگ رہاتھا کہ رنجیت سنگھ کی حکومت کو مجاہدین کمزور کردیںگے۔ افغانستان کے بادشاہ دوست محمد خان کے بھائی پشاور، دوسرے کوئٹہ ، تیسرے کشمیر پر حکمران تھے جو راجہ رنجیت سنگھ سے معاہدہ کرکے بیٹھے تھے۔ افغانستان کے بادشاہ دوست محمد خان انگریز سے لڑائیاں لڑرہے تھے مگر اسکے اپنے بھائی نے انکے بیوی بچوں کو انگریز کے ہاتھوں بیچ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہتھیار ڈالنے اور صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
انگریز نے مسلمانوں اور سکھوں سے نسبتاً بہترعدالتی نظام، نہریں، ریلوے، پولیس اور سہولیات دی تھیں۔ پشاور سے ٹانک اور کوئٹہ سے ژوب تک ریلوے لائن بھی ہمارے سیاسی اکابرین کھاگئے اور نوازشریف کی لوہے کی بھٹی میں جھونک دی۔ پیپلزپارٹی نے چین کیساتھ معاہدے اورمغربی کوریڈور کا معاہدہ کیا تھا لیکن نوازشریف نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی قوم کی اجتماعی لاشوں سے گزار کریہ شاہراہ تخت لاہور کے سپرد کردی۔ اختر مینگل ، محمود خان اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن اپنی قوم کیلئے نواز شریف کیلئے فوج سے لڑائی لڑ رہے ہیں تو ان کو طالبان اور سرماچاروں کیساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ فوج ایک ادارہ ہے ،اس کا سربراہ اگر جنرل وحید کاکڑ پختون اور جنرل پرویزمشرف مہاجر ہوسکتا تھا تو جنرل عبدالقادر بلوچ بھی ہوسکتا تھا۔ جس نواز شریف نے فوج کی گود سے اترنے کی چیخم دھاڑ مچا رکھی ہے وہ آج بھی اسلئے روتا ہے کہ مجھے چھاتیوں سے لگ دودھ چاہیے۔ اندورنِ خانہ اس کو فوج کی طرف سے ہی اشیرباد بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ فوج کا یہ کم گناہ نہیں ہے کہ غلیظ قسم کے نکمے ٹولے کو پال کر قوم پر مسلط کیا ہے اور اسی کی سزا بھی بھگت رہی ہے۔
PTMکے سربراہ منظور پشتین نے ایڈیٹر نوشتۂ دیوار ملک محمد اجمل سے گلہ کیا ہے کہ اب آپ ہمیں کوریج نہیں دیتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف جتنا ہم نے لکھا ہے شاید کسی سیاسی ، مذہبی ، لسانی اور صحافی فرد نے اتنی جرأت خوابوں میں بھی نہیں کی ہوگی لیکن ہم انصاف کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ پختون میری قوم ہے ۔ جب طالبان مقبول تھے۔ ہدی بھرگڑی اور معراج محمد خان تک کوئی ایسے مرد وزن نظر نہیں آتے تھے جو طالبان کی حمایت نہ کرتے ہوں لیکن ہم نے اپنی قوم کی عزتوں کے مستقبل کو بچانے کیلئے شعور کی صدا بلند کی تھی۔ جس کی ہم نے سزا بھی پائی اور انعام بھی مل گیاکیونکہ مفت میں کربلا کا اعزاز بہت بڑی عزت ہے۔
ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شہر اور مضافاتی گاؤں ہندکو سپیکنگ جٹوں کے تھے۔ جٹ بدترین پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے کبیر پبلک اکیڈمی میں استاذ رفیع اللہ جٹ MSC رینجرز میں سپاہی بھرتی ہوا۔ دوسرا بھائیMSC کیمسٹری تھا، دونوں بھائی بہت قابلیت رکھتے ہیں ۔ دوسرا بھائی واپڈا میں چپڑاسی کی حیثیت سے بھرتی ہے جو حافظِ قرآن بھی ہے۔ میرے بھائی ایکسین واپڈا نے افسر کی سفارش پر بھی صرف اسلئے بھرتی کیا کہ وہ حافظِ قرآن تھا ورنہ اس پر وہ کسی قبائلی پختون کو بھرتی کرنے کا حق سمجھتے تھے جنکے پاس ٹانک کا دومیسائل بھی ہوتاہے، اگر حکومت نے جٹوں کے ایریا سے قبائل پختونوں کو بے دخل کردیا تو قبائل منظور پشتین کو بڑی ننگی گالیاں دینا شروع ہوجائیںگے۔ بی بی سی کے نمائندے نے پہلی مرتبہ ٹانک کے مضافات میں ان ہندکو اسپیکنگ جٹوں کے مسائل میڈیا پر اُٹھائے ہیں جو پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہیں۔ تعصبات کی بجائے ہمدردی کو ہوا دی جائے گی تو سب مظلوم اور محروم طبقات کے مسائل حل ہونگے۔
جب اپوزیشن اور حکومت دونوںنے بظاہر فوج کی حمایت میں ایکشن پلان تشکیل دینے کا فیصلہ کیا لیکن بباطن دہشت گردی کے خاتمے پر فوج کے خلاف محاذ بنایا تو PTMکراچی اور اسلام آباد میں پولیس کے خلاف نقیب شہید کے نام پر نکل آئی۔ کراچی کے بعد اسلام آباد کا دھرنا بھی ختم کردیا اور منظور پشتین نے صرف اتنا گلہ ذہن میں رکھا تھا کہ میڈیا اور ہماری حمایت میں آنے والے لوگوں کو معاہدے سے آگاہ کردیا جاتا۔ قبائلی ملکان نے پولیس اور فوجی ایکشن سے خوفزدہ بھی کردیا تھا لیکن ہم نے شامِ غریبان میں ان کو حوصلہ دیا۔ جس اسٹیج سے سپاہ صحابہ کے مولانا احمد لدھیانوی کے بھیجے ہوئے نمائندے کو خطاب کرنے دیا گیا ،اس اسٹیج سے مجھے موقع دینے سے گریز کیا گیا تھا۔ میں نے شامِ غریباں کا سماں چھا جانے کے بعد نشاندہی کی تھی کہ اس نوجوان طبقے میں درد ہے لیکن تعصب نہیں ہے۔ جب تک منظور پشتین قوم کے درد کی بات کرتا تھا اور تعصب کی نفی کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ظلم کوئی بھی کرے ، ہم اس کے خلاف ہیں تو ہم نے ان کو زبردست کوریج دی۔ پختون تحفظ موومنٹ کی جگہ مظلوم تحفظ موومنٹ کا نام دینے کا مطالبہ کیا۔ پھر کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے اہل تشیع کو بھی اسٹیج پر آنے کی اجازت دی۔ ہزارہ کیساتھ شیعہ کی بنیاد پر جو زیادتی کا رویہ کوئٹہ میں روارکھا گیا تھا تو ہمارے کانیگرم میں پاکستان بننے سے پہلے جو لوگ غمِ حسین کا خود ماتم کرتے تھے انہوں نے بھی ہزارہ برادری کی نسل کشی کی تھی۔
پختون قوم میں بالعموم اورمحسود قوم میں بالخصوص اسلام اور غیرت کامادہ ہے لیکن اس کی آبیاری کی بہت سخت ضرورت ہے اور بس!۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اب توپاکستان کے ایک نئے دور کا آغازہواچاہتا ہے! سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

زرداری چور کو پکڑنے والے شہباز شریف اور نوازشریف خود چور نکلے لیکن ان دونوں چوروں کو پکڑنے والے تحریکِ انصافی بھی چور بن گئے ہیں۔ کیا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟۔ ریاستِ پاکستان سود تلے آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک کی اب لونڈی بن چکی ہے اور اس کو لونڈی بنانے تک پہنچانے والے مقدر طبقات کی گرفت موجودہ عدالتی ، مارشل لائی اور پارلیمانی نظام سے بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
آئینِ پاکستان میں قرآن وسنت کا نظام ہے۔ قرآن میں چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔ فقہاء کا اس بات پر اختلاف ہے کہ ہاتھ کہاں سے کاٹے جائیں تو منتخب حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے سے یہ متفقہ قانون پاس کرے کہ چوروں کی کیٹہ گری کا تعین کیا جائے۔ 7سٹار چوروں کے ہاتھ کاندھوں تک کاٹے جائیں اور 5سٹار چوروں کے ہاتھ کہنیوں تک کاٹے جائیں اور 3سٹار چوروں کے ہاتھ کلائی سے کاٹے جائیں اور ان کے خاندانوں کو بھی اس سزا میں برابر کا شریک کیا جائے۔
البتہ ساری دولت بمعہ منافع لوٹائی جائے تو پھر ان کو اس شرط پر معاف کرلیا جائے کہ آئندہ تمہاری نسلیں بھی اس فیلڈ میں خدمات انجام نہیں دیںگی اور پہلے کا جس طرح کفر معاف ہے اسی طرح چوروں کیلئے اسلامی جمہوری تعزیر بھی معاف۔ لوگ بھوک وافلاس سے مررہے ہیں اور یہ لوگ مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں بلکہ وسائل پر لڑرہے ہیں۔ حکمران کوئی بھی ہو ،اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن عوام اب عدل وانصاف چاہتے ہیں جو ان کو جی کر بھی نہیں ملتا ہے اور مرکر بھی نہیں ملتاہے۔
دنیا بھر سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائے بغیر پاکستان کے قرضے ختم نہیں ہوسکتے ہیں۔ جب تک قرضوں کے سود سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جائے تو بھاری بھرکم ٹیکسوں اور مہنگائی سے عوام کی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے۔ پاک فوج میں اکثر اچھے ہی لوگ ہیں، سیاستدانوں میں بھی اکثر اچھے لوگ ہیں ، مذہبی طبقات میں بھی اکثر اچھے لوگ ہیں اور عوام میں بھی اکثر اچھے لوگ ہیں۔ ایک خوشحال انقلاب کیلئے کچھ کرپٹ عناصر کی قربانی اب مجبوری بن گئی ہے۔ ان لوگوں سے شرم وحیاء نکل گئی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ جب حیاء چلی جائے تو جو مرضی کرو۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندرمودی سے عمران خان بھی کم نہیں ہے لیکن زردای، نوازشریف، فضل الرحمن، پرویز الٰہی ، بھائی لوگ ایم کیوایم والے اور بلوچستان کی سیاسی لیڈر شپ کے نمونے بھی کوئی غنیمت نہیں ہیں۔ اگر محمود خان اچکزئی ایک غریب ٹریفک اہلکار کی موت پر عدالت کے اس فیصلے کے حوالے سے آواز اٹھاتا جو دن دیہاڑے مجید اچکزئی نے کچل دیا تھا تو انقلاب کیلئے اس کے نعرۂ تکبیر میں بڑی جان ہوتی اور فضل الرحمن کی امامت میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہوجاتا مگر بے عملی سے منافقین کا ٹولہ نااہل ہونے کا ثبوت دے رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان کے خلاف ریاست کا ساتھ دے کر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ پختونخواہ کی پوری حکومت، بلوچستان کی آدھی حکومت اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی کا اپنا مفاد حاصل کیا اور طالبان کیساتھ جان گنوانے کی قیمت پر حکومت بھی زبردستی سے دھکیلتی تو نہیں جاسکتا تھا۔ اس کا تویہ پتہ بھی کسی کو نہیں چلتا تھا کہ طالبان کیساتھ ہے یا ریاست کے ساتھ ہے؟۔ لیکن ریاست کا خود بھی یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ طالبان کو پیدا کررہی ہے یا ختم کررہی ہے۔
صلاح الدین ایوبی کا تعلق کردستان سے تھا جہاں پر ترکی، ایران اور عراق اپنے اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ کرد قبیلے کا ایک شہر کانیگرم وزیرستان کی سرزمین پر بھی آباد ہے۔ سلمان فارسی اصل میں کرد تھے۔ سید عبدالقادر جیلانی کے شہر گیلان کا تعلق بھی ایران کے کردستان سے تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عجم تھے اور نبیۖ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وجہ سے بعد میں عرب بن گئے تھے۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی کرد تھے اور نبیۖ نے حضرت سلمان فارسی کو اپنے اہلبیت میں شمار کیا تھا۔ عربی میں مدینہ شہر کو کہتے ہیں۔ وزیرستان کا مرکزی شہر کانیگرم بھی شہر کے لفظ سے مشہور ہے۔ افغانستان کے بادشاہ نے کانیگرم میں اپنے لئے جس جگہ قلعہ کیلئے جگہ مانگی تھی مگرہمارے آباء واجداد نے دینے سے انکار کیا تھا، اب وہی جگہ کانیگرم کے باشندگان نے اپنی پاک فوج کو اپنے افسران کے کہنے پر دی ہے۔ آئی ایس آئی کے اس افسر کے بھائی گلشاہ عالم کو طالبان نے اپنے ابتدائی دور میں لاپتہ کیا تھا اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے لیکن جب طالبان نے انگریزوں کو اسامہ بن لادن کی تلاش میں کانیگرم تک لانیوالے گائیڈ ہمارے عزیز پیر زبیر شاہ کو پکڑ لیا تو TV چینلوں پر خبر کی سلائیڈ چلنے کے 5منٹ بعد طالبان کے ترجمان نے خبر جاری کردی کہ پیر زبیرشاہ اور ایک سومرو صحافی کو رہا کردینگے۔
ہم نے طالبان کی منافقانہ جنگ اور قوم کی منافقانہ پالیسوں کی ایک ایک چیز کادیکھ لی ۔ فوج کے جوانوں اور افسران سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن سب چیز کا موردِ الزام انہی کا ٹھہرانا انتہائی بھونڈی حرکتیں ہیں۔ پوری محسود قوم میں طالبان کے ہم سے زیادہ سپوٹر کوئی نہیں تھے اور ہم سے زیادہ طالبان کے کوئی شکار بھی نہیں ہوئے اور ہم سے زیادہ منافقانہ اور بے غیرتی کا کردار بھی کسی نے ادا نہیں کیا ہے۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
بہت ہی قابلِ احترام بزرگ سیاسی رہنما محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن کے جلسے میں کہا کہ افغانستان وپاکستان کے درمیان باڑ کو اکھاڑ پھینک دیںگے تو تاجر سے زیادہ اسمگلر طبقہ بڑا خوش ہواکہ پورے پاکستان میں کسٹم کے بغیر اسمگلنگ کا راستہ کھل جائیگا۔ لیکن جب چمن بارڈر پر سختی شروع ہوگئی اور بلوچوں کے راستے سے اسمگلنگ کا مال آنا شروع ہوگیا تو پختون تاجروں کا راستہ بند ہوا۔کوئٹہ جلسہ میں محمود اچکزئی اور اختر جان مینگل نے ایکدوسرے کی کاٹ کی اور ملتان جلسے میں اختر جان مینگل کی محمود خان اچکزئی نے تائید اور توثیق کی۔ حالانکہ تحریک انصاف کی حکومت چھوڑنے کی عدت بھی اختر جان مینگل نے ابھی پوری نہیں کی ہے اور بلوچوں کی جو اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں اور آواران میں پختون ایف سی اہلکاروں نے جو انکے گھروں کو جلایا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری مریم نواز کے بابا نوازشریف پر ہی پڑتی ہے۔ گوادر کو بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ سے چھین کر پنجاب کے تختِ لاہور تک پہنچانے والانوازشریف نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے علاقہ سے موٹر وے گزارنے کا کام کیا تو مزاحمت کاروں کے گاؤں فوج کو مسمار کرنے پڑے ۔ڈاکٹر اللہ نذر نے غدار سیاسی قیادت کی وجہ سے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمن اور اختر جان مینگل نوازشریف کیلئے سہولت کار نہ ہوتے تو پاک چین دوستی میں گوادر سے کوئٹہ اور پشاور مالا مال ہوتے۔ سرائیکیوں کو صوبہ دینے میں بہاولپور کے نام پر ن لیگ نے ہی منافقت کا بازار گرم کیا تھا لیکن اس نوازشریف کی مکار بیٹی مریم نواز بھٹو سے لیکر یوسف رضا گیلانی تک اپنے باپ کا سارا کردار بیان کرتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں کرتی ہے۔ قارئین اعتدال کا راستہ صراط مستقیم ہے جو پلِ صراط سے زیادہ مشکل ہے۔ گرتے پڑتے خود کو اس پر چلانے کی کوشش کرنی ہے اور بلند بانگ دعوے اور نعرے نہیں لگانے ہیں ۔ دوسری طرف منافقت کا بدترین راستہ ہے جو کفر اور اسلام کے درمیان ادھر ادھر دونوں کے درمیان بہت ہی قابل مذمت ہے۔

وزیرستان کی عوام میں اسلام کو نافذ کرنے کی صلاحیت۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب پاکستان اور ہندوستان کو انگریز نے آزاد کردیا تو افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس بھارت کی جیل سے آزاد ہوا۔ حالانکہ افغانستان میں اسکے کزن نادر شاہ اور ظاہر شاہ کی حکومت تھی۔ اس بات سے افغانی یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کا دشمن دوسرا نہیں، جب تک خود ایکدوسرے کی دشمنی اختیار نہ کریں۔ جب پاکستان کی آزادی کے بعد بھی انگریز کی باقیات نے امیر امان اللہ خان کے خاندان کو مجرم سمجھا تو پاکستان کے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی سخت ضرورت ہے۔امیرامان اللہ خان کا بیٹا جنڈولہ فقیر بیٹنی کے پاس پہنچا لیکن اس نے کہا میں پاکستان کی حکومت سے تمہیں نہیں بچا سکتا ہوں اور یہ مشورہ دیا کہ محسود قبائل میں یہ طاقت ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان سے آپ کو پناہ دے سکتے ہیں ، چنانچہ عبدالرزاق بھٹی آف شیخ اُتار علاقہ گومل ضلع ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان امان اللہ خان کے بیٹے کو سردار امان الدین کے دادا رمضان خان کے پاس لے گئے۔ رمضان خان نے اس کو پناہ دیدی۔ پھر جب وہ اپنی مرضی سے کسی وقت پاکستان کے سیٹل ایریا میں آئے تو حکومت نے اس کو گرفتار کرلیا۔ جیل ہی میں عبدالرزاق بھٹی نے کیمونسٹ نظریہ سے توبہ کرکے جماعت اسلامی میں شمولیت بھی اختیار کرلی۔ پاکستان کی ریاست کا اس امیر امان اللہ خان کے بیٹے سے یہ سلوک تھا جس کی حکومت کی بحالی کیلئے علامہ اقبال نے چندہ مہم سے باقاعدہ کوشش کی تھی۔
جب افغان جہاد سے لوگ امریکی ڈالر کما رہے تھے تو وزیرستان اور قبائل نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ کچرہ چننے والے افغانیوں کی جانوں پر رقم بٹورنے والے مجاہد علماء ، رہنما اور جرنیل کوئی اور ہی تھے۔ اگر ہمایون اختر اور اسکے بھائی کی دولت کچرہ چننے والے افغانیوں میں بانٹ دی جائے تو ہمارا افغانستان کیساتھ بھائی چارہ بحال ہوگا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو حوالے کرنے والی ہماری پاکستانی ریاست اس بات کو سمجھ لے کہ تحریک انصاف کے سابق رکن اسمبلی جناب داوڑ کنڈی کا والد ہیروئن کیس میں کراچی سے پکڑاگیا اور جیل سے وزیرستان پہنچا تو امریکہ اور دنیا بھر کے دباؤ پر فوج کو استعمال کرنے کی دھمکی پر بھی وزیرستان کی عوام نے اس کو حوالہ کرنے سے انکار کیا تھا، اسی طرح جب ایمل کانسی نے وزیرستان کی سرزمین پر پناہ لی تو اس پر آنچ نہیں آئی لیکن مقتدر طبقات نے دھوکہ کرکے اس کو بھی امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ افغان حکومت پر ہماری ریاست کے کٹھ پتلی صحافیوں نے ہمیشہ سخت تنقید کی ہے لیکن یہ نہیں دیکھا ہے کہ ہمارے اپنے کرتوت کیا ہیں؟۔
27اکتوبر یوم طلبہ یونین آزادی کے موقع پر ان عمر رسیدہ خواتین کو دکھایا گیا جو طلبہ یونین سے لاعلمی کا اظہار کررہی تھیں لیکن وہ ریاست سے شکایت کررہی تھیں کہ ہیروئن پر قابو نہیں پایا جارہاہے جس سے ہماری نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ افغان طالبان کو بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر بنایا تھا اور اس کیلئے پختون جنرل نصیراللہ بابر استعمال ہوا۔ امریکہ کا مقصد وہاں ہیروئن کی کاشت تھی اور جب طالبان نے ہیروئن کی کاشت بند کردی تو امریکہ کے ڈرگ اور اسلحہ مافیا نے افغانستان کے بعد عراق ، لیبیا اور شام پر جنگوں کو مسلط کیا تھا اور جس شدت پسندی کو بلیک واٹر کے ذریعے کھڑا کیا وہ دنیا کیلئے ڈراؤنا خوب بن کر رہ گیا۔ امریکہ اس دہشت گردی کے مقابلے میں ایک طرف صوفیت کو لایا تو دوسری طرف توہین رسالت کے حوالے سے پارہ چڑھادیا، جسکے پیچھے جو یہودی لابی کام کررہی ہے ،اس کا توڑ صرف اور صرف وزیرستان کے لوگ ہی کریں گے۔ مولانا اکرم اعوان نے قسم کھاکر کہا تھا کہ ” وزیرستان کے لوگوں سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لینا ہے”۔ علامہ اقبال نے بھی محراب گل افغان کے تخیلاتی نام سے وزیرستان کے محسود اور وزیر کا ذکر کرکے ان سے شکایت کی ہے کہ ابھی یہ خلعت افغانیت سے عاری ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی ایک مرد قلندر ضرور پیدا ہوگا۔
ایک فرد سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ فرد کی قوم میں ایسی صفات کا ہونا ضروری ہے جو امامت پراکثریت میں صادق آتی ہوں۔ وزیرستان کے لوگ ہی تھے کہ جب دنیا طالبان اور افغانستان کے خلاف جنگ کررہی تھی تو بھگوڑوں کو محسود اور وزیر پناہ دے رہے تھے۔ امریکہ کو شکست دینے کے بدلے ہر قسم کی قربانی کیلئے یہ قوم تیار تھی لیکن بد قسمت قوم کی قیادت ایک طرف آلتو ،فالتو اور پالتو طالبان کے ہاتھ میں تھی اور دوسری طرف انگریز کا کچرہ قبائلی عمائدین قوم کی نمائندگی کررہے تھے۔ جس کی وجہ سے وزیرستان کے لوگ فوج اور طالبان کے درمیان چکی کے دوپاٹوں میں پیس کر رکھ دئیے گئے۔ فوج اور طالبان کے درمیان سیاسی اور مذہبی دلالی کرنی والی قیادت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ جب نقیب شہید کے مسئلے پر محسود قبائل کا لشکر اسلام آباد پہنچا تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات میں ان کو ڈرا دھمکا کر بھیج دیا کہ ” ہماری دوتہائی اکثریت تھی، وزیراعظم نوازشریف کو فوج نے وزیراعظم ہاؤس سے پکڑ لیا تو عام لوگوں کی کیا اوقات ہے کہ فوج سے لڑسکے”۔ محسود قبائل کالشکر سرکاری ملکان کیساتھ راتوں رات دھرنے کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔ ہم نے نوجوانوں کا درد محسوس کیا اور شام غریباں میں حوصلہ دیا کہ وزیراعظم نے تم سے گیم کرلیا۔ فوج پر تنقید سے بھی کچھ نقصان نہیں پہنچے گا۔ ریاست کو ایسے مخلص لوگوں کی ضرورت ہے کہ جو ملک وقوم کیلئے کام کریں۔ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے کا نعرہ لگانے میں بھی حرج نہیں۔ اپنی تحریک کی بنیاد دوچیزوں پر رکھ لو۔ ایک دل کا درد اور دوسرا تعصبات سے پرہیز۔ فوج کے خلاف کیا سے کیا کچھ بولنے والے اقتدار کی دہلیز پر پہنچ سکتے ہیں لیکن تعصبات ابھارنے والے ناکام ہی ہوتے ہیں اور ان کی آخری منزل دلالی کے سوا کچھ نہیں ہوتی ہے۔
PTMکے دھرنے میں اسٹیبلیشمنٹ کے مہروں کو تقریر کی اجازت مل گئی۔ ن لیگ، تحریک انصاف ، مولانا فضل الرحمن، سپاہِ صحابہ کے رہنما مگر پیپلزپارٹی کو جذبہ خیر سگالی کی اجازت بھی نہیں دی جارہی تھی۔ آج محسن داوڑ کہتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا مشکور ہوں جس نے کراچی، کوئٹہ اور ملتان کے جلسے میں مدعو کیا تھا۔ ن لیگ کی مریم نواز نے PDMمیں شامل ہونے کے باوجود PTMکو گجرانوالہ میںنہیں بلایا تھا جس کا PTMوالوں نے شکوہ بھی کیا تھا۔ پشاور جلسے میں PDM کی میزبان جمعیت علماء اسلام اور ANPتھے۔ یہ دونوں بھی ن لیگ کے دلال ہیں اور ان کی وجہ سے PTMکو پشاور کے جلسے میں آنے نہیں دیا گیا۔ اگرمولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی کو پختونوں سے باہر کیا جائے تو پختونوں کی اکثریت بالکل بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے اسلئے منظور پشتین نے مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ نے ANPکے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے۔ البتہ قبائل میں بالخصوص اور سیٹل ایریا میں بالعموم PTMہی جمعیت علماء اسلام اور اے این پی کیلئے ایک نئی سوکن ہے ،اسی وجہ سے ایکدوسرے پر اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹ ہونے کے الزامات بھی شروع ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر سے ہیروئن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا لیکن وزیرستان کی عوام کو اللہ نے یہ طاقت دی ہے کہ ہیروئن کا خاتمہ کرسکتے ہیں،اس طرح اسلام کیلئے بھی یہ لوگ زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔ منظور پشتین نے عورت کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاکر آغاز کردیا اور عوام بھی بڑے پیمانے پر حقائق کی طرف جاسکتے ہیں۔

موجودہ گھمبیر صورتحال میں مملکت کی درست رہنمائی!سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستانی عدلیہ کے مایہ ناز، قابلِ فخر ایماندار چیف جسٹس سیٹھ وقار کی وفات اور دیوبندی سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرح بریلوی کی شاندار شخصیت علامہ خادم حسین رضوی کا ایک ایسا خلاء ہے جو برسوں پورا نہیں کیا جاسکے گا۔ چیف جسٹس سیٹھ وقار اور علامہ خادم حسین رضوی سے ہزار اختلافات کے باوجود انکے خلوص، ایمانداری اور عوامی مقبولیت سے انکار کرنا سورج کو انگلیوں سے چھپانا ہے۔ فوج وسول اعلیٰ قیادت کی طرف سے دونوں کیلئے ایک یادگاری تقریب میں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود صحافی نہیں ڈاکٹر ہیں اور ڈاکٹراسرار عالمِ دین اور پی ایچ ڈی نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ پنجاب کو خطابت کا فن قدرت نے دیا ہے۔ مسخروں سے لیکر سنجیدہ افراد تک ایک سے ایک خطیب پنجاب کی زر خیزمٹی سے مل سکتا ہے، زبان کی فصاحت انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن خلوص کا پایا جانا جس کی تصدیق اپنے اور پرائے سب کریں، سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے بڑی عوامی مقبولیت پائی ہے ۔قادیانیوں کو ڈاکٹراسرار نے اپنی جہالت سے قتل کا فتویٰ دیا تھا۔ مفتی محمود ، مولانا مودودی اور علامہ شاہ احمد نورانی نے یہ فتوی نہیں دیا تھا۔
رسول اللہ ۖ سے سچا عشق تمام مسلمانوں میں ہے۔جب تک انسان اپنے والدین، عزیز واقارب اور اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ ۖ سے محبت نہ کرے تووہ مؤمن نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ محبت کے جذبات کو اپنے اپنے ماحول کے مطابق بھڑکانا بھی ایک فن ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” بیشک بعض بیان سحر ہوتے ہیں”۔
اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھار کے پٹھان تھے اور ہندوستان میں بریلی دو مقامات ہیں۔ ایک رائے بریلی اور دوسرا اُلٹا بانس بریلی۔ رائے بریلوی ہندوستان میں علمی مرکز تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید کے مرشد سید احمد بریلوی سے لیکر حقیقی معنوں میں شیخ العرب والعجم سید ابوالحسن علی ندویکا تعلق رائے بریلوی سے تھا۔ ادب اور علم کے لحاظ سے ہندوستان کا کوئی دوسرا شہر اس کا ثانی نہیں تھا۔ الٹا بانس بریلی تو بالکل جاہل، ان پڑھ اور لٹھ ماروں کا شہر تھا۔ ایک قندھاری پٹھان کو ماحول بھی جٹوں کا مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم مولانا احمد رضا خان بریلوی کے اندر عشق رسول ۖ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے علمی خانوادے سے تصادم کا رسک ہر ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ علماء دیوبند نے شاہ اسماعیل شہید کی تحریک اور کتابوں کو اس طرح سے قبول کیا جس طرح ملاعمر کی تحریک طالبان اور اقدامات کو اہمیت دی تھی لیکن پھر جس طرح طالبان نہ صرف اپنے پر تشدد مؤقف سے پیچھے ہٹے ہیں بلکہ علماء دیوبند کی بھی اب آنکھیں کھل گئی ہیں۔
اکابر دیوبند نے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی وجہ سے تقلید کو دوبارہ قبول کیا بلکہ چاروں مسالک اور چاروں سلاسل سلوک کو شریعت کے مطابق قرار دیا۔ امام ابن تیمیہ نے چاروںفقہی مسالک کو دین میں تفرقہ قرار دیا تھا لیکن ان کی تحریک کامیاب نہ ہوئی ۔ شاہ اسماعیل شہید اور علماء دیوبند کی تحریک پر مولانا احمد رضا خان بریلوی نے گستاخانہ عبارات کے حوالے سے بھی گرفت کی جسکے بعد علماء دیوبند نے دوسروں پر بھی اپنی گرفت کا سلسلہ جاری رکھ کر مولانا احمد رضا خان بریلوی کی توثیق فرمائی ہے۔
پنجاب میں دیوبندی بریلوی فسادات کیلئے آگ کی چنگاریاں اورپیٹرول کا ذخیرہ موجود ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار شیعہ سنی ،بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کوشش کرینگے تو پنجاب سے قادیانیت کا مرکز ربوا چناب نگر بھی اس آگ کی لپیٹ سے بچ نہیں سکے گا۔ محرم میں شیعہ سنی آگ بھڑکانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد حنفی اہلحدیث اور بریلوی دیوبندی فسادات کی کوشش کامیاب ہوگئی تو پھر وہ خون خرابہ ہوگا جس سے ریاست اور حکومت بھی نہیں بچ سکے گی۔ ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ پہلے بھی فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے تھے۔
پاکستان خوش قسمت اسلئے ہے کہ سوشل میڈیا پر ناپاک عزائم رکھنے والے بھی اپنے خبثِ باطن کا پورا پورا اظہارِ خیال کرسکتے ہیں تو دوسری طرف غلط پروپیگنڈے سے ان کا چہرہ بھی بے نقاب ہوجاتا ہے۔ کچھ زر خرید یا جن کی سرشست میں خباثت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے انہوں نے پلاننگ کے تحت شوشہ چھوڑ دیا کہ جسٹس سیٹھ وقار اورعلامہ خادم حسین رضوی کو قتل کیا گیا ہے لیکن جنہوں نے علامہ خادم حسین رضوی کا کلپ چلادیا تو وہ اتنی عقل بھی نہیںرکھتے تھے کہ پوری بات بھی سوشل میڈیا پر ہے اور اسکے بعد ان کا خبثِ باطن بے نقاب ہوگایاپھر بھی شاید پیسوں کی خاطر کسی کی وکالت کرنے کا حقِ نمک ادا کرلیا۔ حکومت بہت بیکار ہے ورنہ ان نامی گرامی نام نہاد صحافیوں کو عوامی کٹہرے میں لاکھڑا کیا جاتا تاکہ آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرتے۔
جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاویدباجوہ سے پہلے دہشت گردی کا راج تھا۔ سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو لاہور اورملتان سے اغواء کرکے افغانستان پہنچایا گیا لیکن کسی میں آواز اُٹھانے کی جرأت نہیں تھی اور اب سیٹھ وقار اور علامہ خادم حسین رضوی کی طبعی موت کو بھی کھلم کھلا قتل قرار دیا گیاہے اور اس کا الزام فوج کے سر ڈالنے کی بہت ناکام کوشش کی گئی ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے ان حالات میں فاطمہ جناح کے قتل پر اپنا پروگرام ریکارڈ کرایا ہے جس سے فوج کے بارے میں شکوک وشبہات کو عام کیا جارہاہے اور عمران خان سے کاشف عباسی نے انٹرویو لیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ”سپاہِ صحابہ کے لوگ میرے پاس آئے کہ شیعوں سے ہماری صلح کراؤ، ایجنسیوں کے لوگ ہمیں استعمال کرکے ان کا دشمن بنادیتے ہیں”۔ اب آئی ایس آئی کے دفتر میں وزیراعظم عمران خان اورفوج کے سربراہوں کا اجلاس ایسے وقت میں جب اپوزیشن کے ملتان کا جلسہ روکنے کی تیاری تھی اور اسکے خراب نتائج نکلتے تو حکومت کیساتھ اپوزیشن ریاست کو بھی نشانہ بناتی۔ کیا یہ دانشمندی ہوسکتی ہے؟۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اپوزیشن فوج کو دھائی دے رہی ہے کہ ہمارا ساتھ دو، ورنہ ہم ریاست کے خلاف آواز اٹھائیںگے، اس کی وجہ سے حکومت اور ریاست کو ایک طرف دھکیلا جارہاہے ، تو دوسری طرف فوج کی منطق کہ حکومت کی تبدیلی پارلیمنٹ کے ذریعے سے ممکن ہے ،اگرچہ یہ منطق بالکل درست ہے لیکن جب سینٹ کے الیکشن کے نتائج دیکھے جائیں تو سب ایک ڈرامہ سے زیادہ کوئی سنجیدہ بات نہیں لگتی ہے۔ ریاست، حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی جگہ پر مجبور اور درست بھی ہیں اور غلط بھی ہیں ۔ سوشل میڈیا کا طوفان عوام الناس کے ذہنوں کو متأثر نہ بھی کرے تو بھوک وافلاس اور جبری نظام تنگ آمد بہ جنگ آمد کی طرف دھکیل رہاہے۔ عوام کی نظرمیں یہ گر چکے ہیں اور پاکستانی ریاست اور عوام کو ایک پیج پر لانے کیلئے اسلامی انقلاب ناگزیز ہوچکا ہے۔
اسلامی انقلاب سول وملٹری بیوروکریسی اور عوام کی ملی بھگت سے بھی اسلئے آیا چاہتا ہے کہ ریاستی قوت سے نہتے عوام طاقت کے زور پر لڑ نہیں سکتی ہے اور مقتدر طبقہ اپنے لئے اخلاقیات کا کوئی معیار بنانے کیلئے تیار نہیں جسکے نتیجے میں طبقات کی جنگ پر بیچاری عوام خوشیوں کے شادیانے بجائے گی اور آخر کار مقتدر طبقات بھی لڑمر کر آخری حد تک پہنچنے سے پہلے پہلے اقتدار کی نکیل کسی ایسے فرد کے سپرد کردینے میں عافیت سمجھیںگے جو کسی کا بھی کٹھ پتلی نہ ہو۔ اسلام کو عالم اسلام نہیں پوری دنیا ہی قبول کرے گی اور وہ اسلام ملا کا اسلام نہیں ہوگا بلکہ اللہ اور فطرت کا اسلام ہوگا۔