پوسٹ تلاش کریں

سورۂ مدثر میں ایک بڑے انقلاب کا اشارہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کا وقت ہے کیا؟

قرآن کی طرف متوجہ ہوئے بغیر اسلام کی نشاة ثانیہ کے آغاز کا تصور نہیں ہوسکتا

روزنامہ مشرق پشاور میں سورۂ مدثر کی بعض آیات کا حوالہ دیا گیا کہ اس میں کورونا وائرس کا چین سے ہونے کا ذکر ہے۔ آیت8میں ناقور سے مراد کورونا اور آیت12،13میں مال کی کثرت اوراولاد کی حاضری سے مملکت چین مراد لیا گیا۔ کبھی پاکستان جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دیتاتھا مگر اب قرضہ دیتا نہیں لیتا ہے۔ اگر دنیا سے سود کا نظام ختم ہوجائے اور پاکستان کا سود معاف ہوجائے تو پاکستان کیلئے اس سے زیادہ خوشخبری کیا ہوسکتی ہے؟۔ نوازشریف نے ڈھیر سارے سودی قرضے لئے اور پھر اپنی شوگر ملوں کیلئے اربوں کی سبسڈی لی۔ شوگر مافیاپکڑا گیا تو تحریک انصاف سے زیادہ ن، ق لیگ اور پیپلزپارٹی کے بکروں کو چھرا دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ لوگ وہ سبسڈی کا مال بھی غریب عوام کو اس مشکل میں دیدیں تو غریبوں کا بھلا ہوجائے۔
جاپان نے ایک کھرب امریکی ڈالر کورونا وائرس کے خلاف پیش کردئیے ہیں۔ ہمارے پھنے خان،ننھے خان اور منے خان لوٹی ہوئی دولت بھی واپس نہیں کرتے۔ کرونا کانقارہ بج چکا ہے۔ سورۂ مدثر میں سقر سے جہنم نہیں بلکہ شکرے کی نحوست مراد ہوسکتی ہے، قرآن میں نحوست کوپرندے سے تعبیر کیا گیا ۔ لاتبقی ولاتذرO لواحة للبشر”نہ رازباقی چھوڑے اورنہ کوئی معاملہ رہنے دے۔جھلساکر انسان کو بگاڑ کر رکھ دے”۔ علماء ،سیاستدان، صحافی اور سب طبقات کیلئے یہ بڑی وارننگ ہے جو آخرت میں نہیں دنیا میں انقلاب کے حوالے سے ہے۔ ومایعلم جنود ربک الا ھو”اور کوئی نہیں جانتا تیرے رب کے لشکر کو مگر وہ، اوربشر کیلئے نصیحت ہے”۔ یہ کرونا وائرس بھی اللہ کا لشکر ہے۔جب انقلاب آئیگا تو ہر شخص اپنے کئے میں گرفتار ہوگا مگر دائیں جانب والے( اچھے لوگ )وہ جنت نظیر دنیا میں مجرموں سے پوچھیں گے کہ اس سقر(کم بختی کی نحوست میں) کس چیز نے پہنچایا؟

 

سورۂ مدثر میں ایک بڑے انقلاب کا اشارہ؟

قرآن کے رموز اور حقائق کبھی ختم نہیں ہوتے بلکہ ہردور میںرہنما اصول ہیں!

قرآن وسنت میں دو انقلابات کا ذکر ہے۔ پہلا انقلاب رسول اللہۖ کے دورمیں آیا۔ جسکے اثرات خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ تک قائم رہے۔ دوسرا انقلاب درمیانہ زمانے سے آخری دورحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجالِ اکبر تک قائم رہے گا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بن گیا مگر اسلام سے سیاستدان تو دور کی بات ہے علماء ومشائخ بھی ناواقف ہوگئے تھے۔ مسٹر جناح کوئی مذہبی شخصیت نہیں تھی بلکہ مذہب سے دور ہونا ہی اس کا سب سے بڑا کمال تھا لیکن اسلام اور مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا کام اس سے لے لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں شیاطین اپنا مکروہ جال بنارہے تھے لیکن بہرحال انہم یکیدون کیدا واکیدکیدا
کرونا وائرس کے نقارے نے انسانیت کے دل ودماغ سے انسان دشمنی کا انتقام نکال دیا ہے۔ جہاں سورۂ مدثر میں دورِ نبوتۖ کے انقلاب کاذکر ہے وہاں پاکستان میں بھی بڑے انقلاب کی خوشخبری دے رہاہے۔ سیاست،صحافت، علماء ، مذہبی طبقے، سول وملٹری اور عدالتی بیوروکریسی سے معاملات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ مجرم اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں اور بہت قریب ہے کہ لوگ اس اسلام کی طرف متوجہ ہوں، جو قرآن وسنت کا عین تقاضہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ایک ایسی خلافت کا قیام عمل میں آئے کہ پوری دنیا اسکے سامنے سرنگوں ہو۔
روس، امریکہ اور چین سمیت بھارت واسرائیل بھی اسے قبول کرکے خوش ہونگے۔ جب یہ انقلاب برپا ہوگا تو کسی شخص اور اسکے حواریوں سے شیخ الاسلامی کا تاج اتریگا اور وہ اعتراف کر لیںگے کہ ہماری نمازیں ڈھونگ تھیں، ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، پھر ان کی کوئی سفارش بھی نہیں کرسکے گا اسلئے کہ ہر ایک اپنی بداعمالیوں کے سبب مشکلات میں گرفتار ہوگا۔ البتہ اصحاب الیمین ہر طبقے سے ہونگے اور وہ ان سے انٹرویو لیتے ہونگے۔

 

کیاسورۂ الدھر میں دنیاوی انقلاب کی خبر؟

اگر حدیث کی خوشخبری ایک عظیم انقلاب کی ہے تو پھر قرآن میں یہ خبر کیوں نہیں!

جب دنیا اس کورونا وائرس کے چیلنج سے نکل جائے گی تو پھر سائنسی تحقیق کے نتیجے میں ایسے گلاس اور کپ بنائے جاسکتے ہیں جن کا مزاج کافوری ہو ؟۔ قرآن میں سورۂ قیامت کے بعد سورۂ الدھر ہے، جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ قیامت کا ذکر سورۂ قیامت میں ہے اور دھر کا ذکر سورۂ الدھر میں ہے۔ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جس کو پانچ دریاؤں کے نہروں سے ہی آسانی سے سجایا جاسکتا ہے۔ وزیرستان کا بڑا قدیمی شہر کانیگرم صدیوں سے آباد ہے لیکن پہاڑ پر بنے ہوئے اس شہر کے نیچے ندی اور نالے کے شفاف پانی کو آج تک شہر کا گند آلودہ نہیں کر رہاہے۔ پاکستان کے دریاؤں کو بھی آلودہ کیا گیا ہے۔ صنعتوں کو بلوچستان منتقل کیا جائے اور تیز رفتار ٹرینوں کے ذریعے کراچی کولاہور، پشاور،کو ئٹہ اور گوادر سے ملایا جائے۔تو ہمارے سیاستدان اور بیوروکریٹ اپنا سارا جائز اور ناجائز سرمایہ واپس پاکستان لائیںگے۔
حکومت سندھ علاقہ وائز اعداد وشمار کے ذریعے امدادی رقم غریب غرباء اور مزدور طبقہ تک پہنچائے، لوٹ مار سے بچنے کیلئے رینجرز اور پاک فوج کے جوانوں کی مدد لے۔ دنیا بھر سے لوگ اس مشکل گھڑی میں انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ ایسے بُرا دن کے دیکھنے سے قبل جس کا شر بہت وسیع ہے عام لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ضروتمند طبقے کو امدادپہنچاتے ہیں جو کسی قسم کی جزاء اور شکریہ ادا کرنے کی توقع نہیں رکھ رہے ہیں بلکہ خالص اللہ کی خاطر کرتے ہیں۔ سورۂ الدھر میں معاملات بالکل واضح ہیں۔ جب انقلاب آئیگا تو پاکستان سمیت دنیا پر نعمتوں کی ایسی بارش ہوگی کہ سورج کی تپش اور سردی کی ٹھٹر سے سب محفوظ ہونگے۔ نوجوان طبقہ بہت خوشی سے خدمت کا فریضہ انجام دے گا۔ پھلوں کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ خلافت کے قیام کے بعد جس قسم کی نعمتوں کا ذکر ہے وہ سورہ الدھر میں مذکور ہیں۔

قرآن میں دنیاوی عذاب کا ذکر

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ٹارگٹ کیوں؟ 

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ بھی مفتی تقی پر تکیہ اور تقیہ کئے بیٹھے ہیں!

مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں” فقہی مقالات جلد چہارم” اور” تکملہ فتح المہلم” میں لکھ دیا تھا کہ ” علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے”۔ جبکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے ہم نے اسکے خلاف فتویٰ لیا تھا۔ پھر جب عرصہ بعد ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرپرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے سودکے نام پر اسلامی بینکاری کے خلاف لکھا تو ملک اجمل نے جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء کیساتھ ڈاکٹر صاحب کی جرأت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے حاضری دیدی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے گھبرا کر کہا کہ ” میں نے مفتی تقی عثمانی کے خلاف کچھ نہیں لکھا ہے، پہلے بھی میرے ایک شاگرد نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے خلاف ہمارا فتویٰ شائع کیا تو مفتی تقی عثمانی ہم پر بہت برہم ہوگئے تھے۔ مفتی تقی عثمانی نے مولانا یوسف لدھیانوی پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا کہ مفتی محمود کے حوالہ سے اپنی تحریر میں پان و گولی کھلانے کا ذکر کیوں کیا تھا؟۔ طلاق کے مسئلے پر مفتی نعیم کو بھی مفتی تقی عثمانی نے ڈانٹا تھا اور مولانا انور بدخشانی مدرس جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی ہی کا سکہ چلتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن بھی شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کو بڑا قابل عالم سجھ رہے ہیں

طلاق وحلالہ کے غلط فتوؤں اور درسِ نظامی کے علاوہ حال ہی میں ” آسان ترجمہ قرآن” میں فاش غلطیوں کے ارتکاب میں مفتی تقی عثمانی نے ایک سرغنہ کا کردار ادا کیا ہے۔ علماء کرام کو ثالثی کی پیشکش ہم کررہے ہیں۔ صحافی موسیٰ خان خیل شہید کے بھائی مفتی احمدالرحمن کے داماد سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں درسِ نظامی کے نصاب اور طلاق وحلالہ کے حوالہ سے ہماری بات ہوئی تھی لیکن جامعہ بنوری ٹاؤن کے اکابر علماء پہلے سے ہی اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے تھے ،اسلئے وہاں بحث ومباحثہ کیلئے جانا مناسب نہیں سمجھا۔ وہاں بدمعاش لوگ پہلے بھی صاحبزادہ مولاناسید محمد بنوری کو شہید کرچکے تھے اور اسکا الزام شریف النفس ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پر لگا رہے تھے۔ ہم نے ٹانک شہر میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے مقتدر علماء کرام کو بات کرنے کیلئے دعوت دی تھی تو مولانا فضل الرحمن نے اس اجتماع میں رکاوٹ کا خفیہ طور پر اظہار کیا ،پھرہم نے بالمشافہہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ،کافی لیت لعل کے بعد اس نے سید عطاء اللہ شاہ منتظم معارف شرعیہ کو جانے کا حکم دیا مگر ڈیرہ اسماعیل خان سے علماء کرام وعدے کے باوجود نہیں آئے تھے۔ ٹانک کے اکابر علماء نے میرا مؤقف سننے کے بعد کھل کر حمایت کرنے کا اعلان کیا اور پھر ایک جلسہ عام میں بھی حمایت کردی جس کو ہم نے اخبار میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا تو ڈیرہ کے علماء نے اخبار میں حمایت دیکھنے کے بعد رکاوٹ ڈالنے کا پرواگرام بنایا۔ اگلی مرتبہ جھگڑا کیا۔ پھر طے ہوا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک سے مولانا فتح خان اور مولاناعبدالرؤف بھی آئیںگے اور مولانا علاء الدین کے مدرسہ نعمانیہ میں ایک نشست رکھیںگے لیکن پھر انہوں نے حالات خراب کردئیے اور حکومت نے ٹانک کے علماء پر پابندی لگادی اور ہمیں 16ایم پی اے کے تحت گرفتار کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا

مولانا عطاء الرحمن نے مولانا شیرانی کے سامنے علمی بحث سے راہِ فرار اختیار کی

مولانا شیرانی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمیں تھے تو قصر ناز میں مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان سے بھی اچانک ملاقات کا موقع ملا تھا، وہ لوگ ریاستِ پاکستان کا مذاق اڑارہے تھے اور جب مجھ سے رائے پوچھی تو میں نے درسِ نظامی میں قرآن کی تعریف کا کہا کہ جب تم لوگ قرآن کو نہیں مانتے۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھی ہوئی کتاب(قرآن) مُراد نہ ہو تو قرآنی آیات اور لکھی ہوئی کتاب کا انکار لازم ہے ،جس کیوجہ سے اس کو پیشاب سے لکھنا بھی جائز قرار دیتے ہو۔جب نقل متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں تو قرآن کی حفاظت کا عقیدہ کہاں باقی رہتا ہے؟۔ جب بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی تو ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ایمان کہاں باقی رہتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ جب بھوکے کو روٹی نہیں مل رہی تھی تو دوسرے نے کہا کہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟۔ ہم پاکستان کی بات کررہے تھے ، یہ اپنا مقصد قرآن لیکر آگیا۔ حامد میر جب روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے ایڈیٹر تھے توڈیرہ اسماعیل خان میں علماء کے چیلنج کو قبول کرنے کی بجائے میرے بھاگنے کی خبر اس نے لگائی تھی اور پھر دوسرے دن میرے جواب کی بھی چھوٹی سی خبر شائع کی تھی۔
اسکائپ کے ذریعے بھی الیکٹرانک میڈیا پر حقائق کو سامنے لانے کا اہتمام ہوسکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں سے ” سورۂ فاتحہ ” کو پیشاب سے لکھنے کا جواز نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن اسکے بعد وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں” مفتی سعید خان”نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس” شائع کی جس میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جوازکا دفاع کردیاہے۔
درسِ نظامی کے نصاب پر امریکہ کی طرف سے کوئی دباؤ ہے یا نہیں لیکن ہم ایمان کا تقاضہ سمجھتے ہیںکہ علماء ومفتیان کودرسِ نظامی درست کرنیکا فریضہ بہر صورت ادا کرنا چاہیے۔

سورۂ مدثر، سورۂ دھر کیلئے قرآن کی دوسری سورتوں کوپیشِ نظر رکھ کرہی سمجھنا ہوگا!

قرآن کی سورۂ القلم میں بسم اللہ کے بعدن والقلم ومایسطرونOوانت بنعمة ربک بمجنون O وانَّ لک لاجرًا غیرممنونO وانک لعلیٰ خلق عظیمOفستبصرویبصرونO بایکم المفتونOان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین O”ن۔ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے۔ نہیں آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون۔ آپ کا مشن اجر ہے نہ ختم ہونے والا۔ اور آپ اخلاق کے عظیم رتبے پر ہیں۔سو عنقریب آپ دیکھ لیںگے اور وہ بھی دیکھیںگے کہ کون مبتلا ہے؟۔ بیشک تیرا رب جانتا ہے کہ جو راہ سے ہٹا ہے اور وہ ہدایت والوں کو بھی زیادہ جانتا ہے”۔اللہ تعالیٰ قلم اور سطروں میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھارہاہے لیکن علماء کو فقہ واصول کی باطل تعلیم سے فرصت نہیں کہ قرآن کی تعریف کا غلط معاملہ سمجھ کر درست کرلیں۔ مشرکین نے نبیۖ کو مجبون قرار دیا، اور کہا کہ عنقریب آپ کا مشن ملیامیٹ ہوجائیگا۔ آپ کے اخلاق اچھے نہیںمگر اللہ نے ان کی سب باتوں کو بالکل رد کردیاتھا۔ہر بات آخرت پر نہیں چھوڑی بلکہ دنیا میں ہی نتائج سے آگاہ کردیاکہ عنقریب پتہ چل جائیگا کہ جنون اور بداخلاقی میں کون مبتلاہے اور کون ہدایت پر اور کون گمراہ ہے۔ سورۂ مدثر، سورۂ دھر میں بھی دنیاوی انقلاب ہی کا ذکر ہے مگر علماء نے اس کی غلط تفسیر کرکے آیاتِ قرآنی کے اصل معانی کو ہوا میں اڑادیا ہے۔ قرآن میں زمینی حقائق کے حوالہ سے بھی قرونِ اولیٰ اور اسلام کی نشاة ثانیہ کے انقلابات کی خبر یں ہیں۔
جب باطل قوتوں کا غلبہ ہوتا ہے تو ہتھیار کے بغیر بھی اہل حق الزامات کی زد میں ہوتے ہیں۔ شریف کو مجنون، اخلاق وآداب کے منافی قرار دیا جاتا ہے مگر پھر وہ وقت دور نہیں ہوتا ہے کہ اہل حق غالب اور باطل ناکام ہوتے ہیں۔ قرآن میں بہترین رہنمائی ہے۔

سورۂ قلم کی تفصیل سے ظاہر ہے کہ آخرت سے پہلے دنیا میں مجرموں کا پتہ چلے گا

اورارشادفرمایا:فلاتطع المکذبینOودّوالوتدھن فیدھنونO و لا تطع کل حلاف مھینOھمازٍ مشائٍ بنمیمOمناعٍ للخیرِ معتدٍ اثیمOعتلٍ بعد ذلک زنیمٍOو ان کان ذامالٍ وبنینٍOاذتتلٰی آےٰتنا قال اساطیر الاولینO سنسمہ علی الخرطومOانا بلونٰھم کما بلونآ اصحٰب الجنة اذا اقسموا لیصرمنھا مصبحینO”لہٰذا ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانو۔ یہ توچاہتے ہیں کہ آپ کچھ مداہنت کریں تو یہ بھی مداہنت کریں۔ہرگز بات نہ مانو، ہر ایک بہت قسم کھانے والے ہلکے آدمی کی، طعنہ دینے والے،چغلیاں کھانے والے کی،خیر کیلئے رکاوٹ کھڑی کرنیوالا، حدسے گزرا ہوا گناہ گار، کھاؤ پیو جھگڑالوبدخلق اور بداصل ۔گرچہ وہ مال و اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیںگے۔ ہم نے ان کو اس طرح آزمائش میں ڈالا۔ جس طرح جنت( باغ ) والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ جب انہوں نے قسم کھائی کہ ہم صبح ضرور اس کا پھل توڑیںگے”۔
سورۂ قلم کی ان آیات میں جھٹلانے والوں کے دباؤ میں آنے سے منع کیا۔ جو چاہتے تھے کہ آپۖ ڈھیلے ہوں تو وہ بھی ڈھیلے پڑیں۔ باطل گھناؤنی صفات رکھتے تھے۔ مال و اولاد کے زعم میں مبتلاسمجھتے تھے کہ آیات پرانے قصے ہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ” عنقریب اس کی سونڈ کو داغ دینگے” سونڈ سے مراد ناک، چہرہ ہے جو دنیاوی عزت ، جاہ وجلال ہوتاہے۔
سورہ ٔ قلم میں پھر جنت(باغ) والوں کا قصہ ہے جو اپنی نعمت کھونے کے بعد ایکدوسرے کی ملامت کررہے تھے۔ کذٰلک العذاب ولعذاب الاخرة اکبر ”ایسا ہی ہوتاہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے”۔دنیاوی انقلاب بالکل واضح ہے۔

پہلے رکوع کے بعد سورۂ قلم کے دوسرے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں

ان للمتقین عند ربھم جنّٰت النعیمOافنجعل المسلمین کالمجرمینOما لکم کیف تحکمونOام لکم کتٰب فیہ تدرسونOانّ لکم لما تخیّرونO ام لکم اَیمان علینا بالغة الیٰ یوم القیامة ……”بیشک پرہیزگاروں کیلئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں۔ کیا ہم حق قبول کرنے والوں سے مجرموں کا سا سلوک کرینگے؟۔تمہیں کیا ہوا ہے، کیسا فیصلہ کرتے ہو؟۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس کا تم درس دے رہے ہو؟اور اس میں تمہارے لئے ہے کہ تمہارے پاس اپنے لئے اختیار ہوگا؟۔ یا تمہارا ہمارے ساتھ کوئی عہدوپیمان ہے جو قیامت تک جو چاہو اپنے لئے فیصلہ کروالو؟”۔
فذرنی ومن یکذّب بھٰذالحدیث سنستدرجھم من حیث لایعلمون ….. ……”پس مجھے اور اس بات کو جھٹلانے والوں کو آپ چھوڑ دیں۔ ہم درجہ بہ درجہ انہیں لے جائیںگے جسکا ان کو پتہ بھی نہ چلے گا۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور میری تدبیر مضبوط ہے۔ کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہو،جسکے بوجھ تلے وہ دبے جارہے ہیں؟۔کیا ان کے پاس کوئی غیب ہے جس سے وہ لکھ رہے ہوں؟۔ پس آپ اللہ کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ بنیں۔جب اس نے پکارا تھا اور پھر مغموم تھا۔ اگر اپنے رب کی نعمت اس کو نہ ملتی تو چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا اور وہ دبوچا ہوا ہوتا۔ پھر اللہ نے اسے چن لیا اور اس کو صالحین میں سے بنایا۔ اور قریب ہے کہ جنہوں نے کفر کیا کہ اپنی آنکھوں سے پھسلادیںجب یہ ذکر کو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک یہ مجنون ہے اوریہ اور کچھ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔ سورۂ قلم میں جہاں قرآن کیلئے مہم جوئی کرنیوالے متصدقین اور مخالفین مکذبین کا حال ہے وہاں دنیا میں بھی سزا اور جزاء کی بھرپور وضاحت ہے۔

عذاب وجنت سے آخرت ہی نہیں بلکہ دنیامیں بھی جزاء وسزا مراد ہوتی ہے!

قرآن میں جہاں دنیا کا عذاب یا جنت مراد ہواور اس سے آخرت مراد لی جائے تو قرآن سمجھ میں نہیں آئیگا۔ قرآن صرف آخرت کے عذاب اور جنت کی کتاب نہیں بلکہ اس کامفہوم درست پہنچانے کا نتیجہ دنیاکوجنت بناسکتا ہے اور اسے جھٹلانے کا عذاب دنیا میں مل سکتا ہے۔
قرآن کو جھٹلانے والوں کا سب سے بڑا وطیرہ دنیاوی مفادات اور آخرت کا انکار یا مفت میں اپنے لئے آخرت میں اپنی مرضی کے فیصلے۔ سورۂ قلم میں تفصیل سے اس کا ذکر ہے۔ اس کو تدبر کیساتھ پڑھنے کے بعد ذہن کھل جائیگا۔ مال اور اولاد کو ترجیح دیتے ہوئے آیات کیلئے پُرانے قصے کہانیوں کی سوچ رکھنے والے کیلئے ہے کہ ” عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے”۔ سورۂ مدثر اور سورۂ دھر کے علاوہ کئی سورتوں میں دنیاوی عذاب، قرآنی انقلاب ، اسلام کی نشاة اول اور نشاة ثانیہ کے حوالے یوم الفصل اور جزاء وسزا کابالکل بہت واضح ذکرہے۔
مفتی تقی عثمانی نے اپنے مال اور اولاد کیلئے بینکوں کو اپنا ٹھکانہ بنالیاہے۔ سودی نظام کو جائز قراردینے کی معصیت سے توبہ کئے بغیر قرآن وسنت کی طرف رجوع نہیں ہوسکتا۔(

 

جب قرآن وسنت فرقوں، مسلکوںاور گروہوں میں بٹ گیاتو امت کا زوال آیا!

قرآن کریم میں آخرت کا تصور تو بالکل اپنی جگہ پر واضح ہی ہے لیکن قرآن کیلئے مصدقین و مکذبین کا کردار ادا کرنے والے دنیا میں ہی فلاح پاتے ہیں یا اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔جب قرآن موضوعِ بحث تھا تو فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے والے قرونِ اولیٰ کے مسلمان پوری دنیا سے اپنے عقائد اور اعمال کی بدولت ممتاز تھے۔ البتہ جب خلافتِ راشدہ کے بعد حکومت پر بنی امیہ، بنی عباس اور ترکی خاندان سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہوا۔ ہندوستان میں مغل تو افغانستان میں ایکدوسرے کا خون کرنے والے بادشاہ تھے تو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا وجود نہیں تھابلکہ بادشاہوں کے مرغے شیخ الاسلامی کے عہدوںپر قاضی القضاة کا کردار ادا کرتے تھے، جو حق کہنے والوں کو گردن زدنی، جیل، کوڑوں اور جلاوطنی کی عبرتناک سزادیتے۔
اورنگزیب عالمگیر نے اپنے بھائیوں کو قتل اور باپ کو قید کردیا تھا مگر جب شاہ ولی اللہکے والد شاہ عبدالرحیم سمیت پانچ سو جید،مستند، معروف اور تقویٰ وپاک دامنی کے نجوم، آفتاب و مہتاب نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا تو اس میں بادشاہ کیلئے قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور ہرقسم کی حد اور سزا معاف کردی اور حیلہ یہ ڈھونڈ نکالا کہ ”بادشاہ تو خود ہی دوسروں پر حد نافذ کرتا ہے مگر اس پر کون حد نافذ کردیگا؟۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا،اسلئے بلّا دودھ پی جائے تو معاف ہے”۔ انگریز نے تسلط حاصل کیا تو آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد جن جماعتوں اور فرقوں نے ایکدوسرے کیخلاف محاذ کھولے ہیں ان میں حق وباطل سے زیاد اپنے گروہی و فرقہ وارانہ مفادات ہیں۔ بریلوی،دیوبندی، اہل تشیع، اہلحدیث ، جماعت اسلامی، پرویزی اور انواع واقسام کے نت نئے فرقے طلوع وغروب ہوتے رہتے ہیں۔ مرزائیوں کو پہلے بھی کافر سمجھا جاتا تھا مگر مولانا احمد رضاخان بریلوی تو دوسروں کو قادیانی جیسا سمجھتے تھے

 

حق وباطل کی کشمکش مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ قرآن کی بنیاد ہے

دارالعلوم دیوبند کے شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا جیل سے رہائی کے بعد اُمت کے زوال کے دواسباب قرار دئیے۔ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” یہ دراصل ایک ہی سبب ہے۔ قرآن سے دوری۔ فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے”۔ دارالعلوم کراچی میں مفتی شفیع کے داماد مفتی عبدالرؤف سکھروی کو جاندار کی تصویر ناجائز لگتی ہے جبکہ مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ اسکے منافی ہے۔ ایک شادی بیاہ میں تصاویر کھینچوانے پر اپنے مریدوں کو سخت ترین عذاب کی وعیدیں سناتا ہے اور دوسرے کی اپنی ویڈیوز مسجد میںبنتی ہیں۔ایک شادی بیاہ میں لفافے کی لین دین کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیتا ہے اور دوسرے نے اسلامی نام پر سودی بینکنگ کا کاروبار اپنا مشن بنایا ہواہے۔ ایک علم آفتاب اور دوسرا تقویٰ کا مہتاب ہے۔ ماشاء اللہ چشم بد دور۔
شیخ الہند کے شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کی طرف دعوت دی تو ان کو پاگل اور گمراہ قرار دیا گیاتھا لیکن آخر کار مولانا انور شاہ کشمیری نے معافی طلب کرلی اور اعلانیہ کہا کہ ”ہم نے قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی بلکہ مسلکوں کی وکالت کرکے زندگی ضائع کردی”۔ مولانا الیاس نے امت کا درد لیکر تبلیغی جماعت کے ذریعے دنیا میں دعوت کا کام عام کردیا مگر جماعت نے بستی نظام الدین مرکز سے بھی جان چھڑائی اور اب کوئی امیر بھی نہیں ہے۔ جب دارالعلوم دیوبند میں مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادوں اور قاری طیب اور مولانا انور شاہ کشمیری کے صاحبزادوں میں مہتمم کے عہدے پر جھگڑا ہوا تو دارالعلوم دیوبند دوٹکڑے ہوگیا۔ آج تک مولانا سید محمد بنوری شہید کے قاتلوں کا بھی سراغ نہیں مل سکا لیکن وہ کونسے بدمعاش ہیں جو اتنے مضبوط بن گئے ہیں؟۔کیامولانا امداداللہ مردانی بتاسکتے ہیں قاتل؟۔

 

مدارس پر بدمعاشوں اور مافیاز کے قبضے ہیں، یہی حال تبلیغی جماعت کا لگتاہے!

مولانا الیاس نے تبلیغ کا کام شروع کیا تو اپنوں سے زیادہ غیروں نے پذیرائی بخش دی تھی اور یہ بات میں رجماً بالغیب نہیں کہتا ہوں بلکہ بچپن میں جب تبلیغی جماعت میں وقت لگایا تھا تو بریلوی مساجد کے بعض ائمہ بھی تبلیغی جماعت کو غیرمتنازع کہتے تھے۔ ہمارے مرشد حاجی عثمان کراچی کی جس مسجد میں عصر سے عشاء تک بیان کرتے تھے تو اسکے خطیب وامام مشہور مبلغ مولانا شفیع اوکاڑوی تھے، جس کو تعصبات پھیلانے پر مسجد کے متولی نے بروزِ جمعہ منبر سے اتارا اور حاجی عثمان سے تقریر کرنے کاکہا اور اوکاڑوی صاحب کو بتایا کہ تقریر ان سے سیکھ لو۔ پھر آہستہ آہستہ مولانا اوکاڑوی نے بستر گول کیااور مسجد نور جوبلی رنچھوڑ لائن کو چھوڑ کر گلزار حبیب مسجد کارُخ کیا۔ جہاں سے مولانا الیاس قادری نے دعوت اسلامی کا آغاز کیا تھا۔
پہلے تو اکابر اللہ والے ہوا کرتے تھے،اب جوکروں نے مشیخت کا لباس زیب تن کیا ہے۔ تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی اور مدارس کے علاوہ تمام مذہبی جماعتوں کے نیک لوگ امت کا بہت بڑا اثاثہ ہیں مگر انکے بڑے اکابر نے دانستہ یا نادانستہ طور پر مفادات کو شغل بنایا ہے۔
ہرمکتب فکر، گروہ، جماعت اور تنظیموں میں اچھے برے لوگ ہیں۔ اچھوں کی تعداد بروں کے مقابلے میں زیادہ ہی ہوتی ہے لیکن بدمعاش طبقہ سب پر غالب رہتا ہے اور پیدا گیر قسم کا ٹولہ ہمارے شیخ حاجی عثمان کی خانقاہ پر بھی براجمان تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی حاجی عثمان کے خلیفہ سروربھائی النور والے نے دعوت کی تھی تومجھ سے جمعیت والوں نے پوچھا، میں نے کہا کہ ڈٹ کر کھاؤ، اچھا آدمی ہے۔ پھر ان کو جمعیت کا فیڈرل بی ایریا کا امیر بنانے کی تجویز آئی تو میں نے منع کردیاکہ ”یہ خبیث سدھرے گا، گدھے کی طرح کارکن بناکر اس سے کام لو”۔ میں نے کہا کہ دوسرے خلفاء بھی ایسے ہی ہیں تو سب حیران تھے مگر پھر ثابت ہوا۔

 

حاجی عثمان کے خلفاء ٹی جے ابراہیم اور الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا حال

طیب، جاوید ، ابراہیم نے 1500ر وپے سے چائے کا مشترکہ کام شروع کیا، حاجی عثمان نے دعا دی اور وعدہ لیا کہ اپنی ضروریات کے علاوہ منافع دین کیلئے خرچ کروگے۔ برکت کی انتہاء ہوگئی تو یتیم اور بیواؤں کا سرمایہ بھی شریک کرلیا۔ علماء ومفتیان نے اپنا سرمایہ بھی لگانے کی استدعا کردی۔ حاجی عثمان نے کمپنی کو شرعی قوانین مرتب کرکے اجازت دی۔ مضاربہ کی کمپنی کی یہ شرائط تھیں کہ ” 40 فیصد منافع سرمایہ کار اور60کمپنی کا ہوگا۔سرمایہ واپس لیتے وقت ایک ماہ پہلے اطلاع دینی ہوگی اور اس اطلاعی مدت کا منافع نہیں ملے گا”۔ جبکہ کمپنی کا ایجنٹ بھی سرمایہ کار سے 2فیصد منافع لیتا تھا۔ بڑے علماء ومفتیان سب ایجنٹ بن گئے تھے۔ حاجی عثمان کی خانقاہ پر جلی حروف سے لکھا تھا کہ ” رسول اللہ ۖ تشریف لائے اور فرمایا کہ حاجی محمد عثمان کا کوئی مرید ضائع نہ ہوگا،الّاا سکے جو اخلاص سے نہ جڑا۔ خلیفہ اول محمدابراہیم”۔
پھر حاجی عثمان نے تبلیغی جماعت کی طرف سے ٹی جے ابراہیم سے لاتعلقی کااظہار کرنے کے بعد کمپنی کو بند کرنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے نام بدل کر ”الائنس موٹرز” رکھ دیا۔ پھر پتہ چل جانے سے بچنے کیلئے بڑے گر استعمال کئے اور آخر کار حاجی عثمان کو بیماری کا جھوٹ بناکر گھرمیں نظر بند کردیا گیا۔ چہیتوں نے آنکھیں پھیر یں اور بدمعاشی پر اتر آئے۔ اکابر علماء و مفتیان نے الائنس موٹرز کے کرتے دھرتوں کا ساتھ دیا، لوگوں کا سرمایہ پھنسا بیٹھے تھے لیکن سازش، اسلام کو غلط استعمال کرنیکی بھی حد ہوتی ہے، انہوں نے تمام حدود پھلانگ لئے تھے مگرحاجی عثمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام تھا جو سید عتیق الرحمن گیلانی جیسا مرید بھی عطاء کیا تھا۔ ہم ان فتوؤں پر علماء ومفتیان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکیونکہ حاجی عثمان کی شخصیت کے گرد حصار ٹوٹنے سے کئی بڑوں کے چہروں سے نقاب اترا،البتہ قرآن کی طرف توجہ دینی ہوگی۔

 

سورہ المطففین کے پہلے رکوع کی چیدہ چیدہ آیات ملاحظہ کریں

ویل للطففینOالذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفونOواذا کالوھم او وزنوھم یخسرونOالایظن اولٰئک انھم مبعوثونOلیوم عظیمOیوم یقوم الناس لرب العٰلمینOکلا ان کتاب الفجار لفی سجینOوماادراک ما سجینOکتاب مرقومO ویل یومئذٍ للمکذّبینOالذین یکذبون بیوم الدینOومایکذب بہ الاکل معتدٍ اثیمٍOاذا تتلٰی علیہ آیٰتناقال اساطیر الاولینOکلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبونOکلا انھم عن ربھم یومئذٍ لمحجوبون Oثم انھم لصالوا الجحیمOثم یقال ھٰذا الذی کنتم بہ تکذبونO”تباہی ہے کمی کرنے والوں کیلئے جب لوگوں پر بانٹنے کیلئے تولتے ہیں تو پورا پورا حساب شمار کرتے ہیں اور جب چندہ بٹورنے کیلئے ناپ یا تول کا حساب لگاتے ہیں تو اس میں گھٹانے کا کام کرتے ہیں۔ کیا ان کو یہ گمان نہیں کہ ایک دن ان کی پیشی ہونے والی ہے،ایک بڑے دن کیلئے۔ جس دن لوگ کھڑے ہونگے اپنے رب العالمین کے سامنے؟۔ ہرگز نہیں،فاجروں کا حساب کتاب جیلوں میں ہوگا اور تمہیں کیا معلوم کہ جیل کیا ہے؟۔ لکھے ہوئے رجسٹر ہونگے۔ وہ دن تباہی کاہوگا جھٹلانے والوں کیلئے۔ جو جھٹلاتے ہیں ،آخرت کے دن کے ذریعے( کہ حساب کتاب وہاں ہوگا) اور اس کے ذریعے سے کوئی نہیں جھٹلاتا مگر ہر حد سے گزرا ہوا گناہگار۔ جب اسکے سامنے ہماری آیات کو تلاوت کیا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ پرانے لوگوں کے قصے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ انکے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ جو انہوں نے کمایا ہے اسکے سبب۔ ہرگز نہیں ،اس دن وہ اپنے رب سے حجاب میں ہونگے۔ پھر یہ جحیم میں پہنچ جائینگے اور ان سے کہا جائیگا کہ یہ وہی ہے جسکے ذریعے سے تم جھٹلاتے تھے”۔

 

آج چندہ لیاجارہاہے اور اسلامی انقلاب کے عظیم دن حساب کتاب بھی ہوگا

قرآن بہت واضح عربی زبان میں ہے۔ پوپ فرانس سے لیکر امریکی جوانوں تک مظالم کا احساس ہوگیا ہے۔ کرونا وائرس کے متاثرین کیلئے چندوں کی ضرورت ہے ،چندہ لینے والے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں نہیں آخرت میں ہم اپنا حساب کتاب دیںگے۔ وہ اپنی بداعمالیوں کو آخرت کی سزا اور جزا سے جوڑ کر اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ برے لوگوں کا حساب کتاب جیل ہے اور انکا اعمالنامہ رجسٹر میں درج ہوگا۔ حکمرانوں ، سیاستدانوں، جرنیلوں،آفیسروں کے علاوہ این جی اوز، مذہبی وسیاسی جماعتوں اورسماجی کارکنوں میں نیک وبدکی تفریق کا حساب دنیا ہی میں سامنے آئیگا۔ نسل، رنگ، زبان، ملک اور مذہب کی تفریق کے بغیر اچھے لوگوں کی قدرومنزلت دنیا ہی میں ہوگی۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے بنایا ہے۔
عالمی اسلامی نظام کی طرف دنیا کا سفر شروع ہے۔ شدت پسندی ،فرقہ پرستی اورمفاد پرستی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔ انشاء اللہ۔ زنگ آلودہ دلوں کے فتح ہونے کا وقت آگیا ہے اور سب کا اعتقاد قرآن کے مطابق بنے گا کہ ذرہ برابر شرہو یا خیر اس کو انسان دیکھے گا۔

 

سورۂ مطففین میں دنیاوی انقلاب عظیم کا بھی ذکر ہے، علماء ومفتیان غور کرینگے؟

جب رسول اللہ ۖ کے دور میں مکہ فتح ہوا، انقلاب عظیم آگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام کو قبول کرکے اسلام میں داخل ہونے لگے مگر وہ اپنے رب سے حجاب میں تھے۔ ابوسفیان و دیگر افراد کیلئے معافی عام کا اعلان نارِ نمرود سے کم نہیں تھا۔ نبیۖ کا وصال ہوا تو بہت لوگ فوج در فوج پھر اسلام سے مرتد ہوگئے۔ ابراہیم علیہ السلام کیلئے کافروں کا فیصلہ جحیم میں ڈالنے کاتھا مگر اللہ نے آگ کو سلامتی والا ٹھنڈا بنادیا۔ نبیۖ نے فتح مکہ پر معافی دی۔ کافر ومؤمن میں یہ فرق ہے کہ کافر آگ میں جھونکتے ہیں اور مسلمان معاف کرنے کوہی اپنا شعار سمجھتے ہیں۔
کلا ان کتٰب الابرار لفی علیینO………………ھل ثوّب الکفار ماکانوا یفعلونO”ہرگز نہیں! نیکی کرنیوالوں کارجسٹر بلند پایہ مقام پر ہوگا۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ بلند پایہ مقام کیا ہے؟۔ یہ ایک لکھا ہوا رجسٹر ہے جس کا مشاہدہ مقربین کرینگے۔ (اسلامی انقلاب کے بعد اعلیٰ ترین لوگ) بیشک نیکی کرنے والے مسندوں پر بیٹھ کر نظارے دیکھتے ہونگے۔ انکے چہروں پر آپ نعمتوں کا نظارہ دیکھوگے، ان کو سیل بند اعلیٰ شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی سیل ہوگی۔ اس میں رشک والے ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے۔ جسکاوصف تسنیم ہوگا، یہ چشمہ ہوگا جس سے مقرب لوگوں کو پلایا جائیگا۔ بیشک مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنستے تھے اور جب انکے قریب سے گزرتے تھے تو اشارہ بازی کرتے تھے۔ جب وہ اپنے گھروں میں لوٹتے تھے تو مزے لیتے تھے۔ جب وہ انکو دیکھ لیتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ وہ گمراہ لوگ ہیں اور ان پر انکو نگران بناکر نہیں بھیجاگیا تھا۔ تو آج ایمان والے کفر والوں پر ہنسیں۔مسندوں پر بیٹھ کر نظارہ دیکھیں۔ کیا کفار کو ثواب مل گیا جو وہ کرتے تھے؟”۔ یہ سورة المطففین عظیم انقلاب کی خبر دے رہی ہے۔ کاش دنیا اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔

 

جس انقلاب عظیم سے زمین اور آسمان والے دونوں خوش ہوں تو اسکاذکرہے؟

سورۂ مطففین میںان ایمان والوں کا بھی ذکر ہے جس کو دیکھ کر جھٹلانے والے ہنستے تھے۔ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام میں سیدھے سادے مگر مخلص لوگوں کا بنیادی کردار ہوگا، جن لوگوں نے قرآن کے واضح احکام کے باوجود بھی ان کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوگا تو کفرکے معنی ہی اصل میں انکار کرنے کے ہیں۔ عربی میں منکرین کا ترجمہ الذین کفروا ہے۔جس جگہ حق کا پرچار کیا جائے تو ایک منکرین کا درجہ ہوتا ہے اور دوسرا مکذبین کا درجہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مکذبین کا مقام حاصل کیا ہوتا ہے تو وہ منکرین سے بھی سخت ہے۔
اگر دنیا میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوجائے تو پھر لوگ دو حصوں میں تقسیم ہونگے،ایک فجار(حقوق العباد کو پامال کرنے والے) اور دوسرے ابرار( حقوق العبادکیلئے خدمات انجام دینے والے)۔ ایک عذاب نبوت کی تکذیب کی وجہ سے آتا ہے۔ وماکنا معذبین حتیٰ نبعث رسولا، ”ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کوئی رسول مبعوث نہ کردیں”۔نبیۖ کی ختم نبوت کی وجہ سے اب کسی قوم پرایسا عذاب بھی نہیں آسکتا ہے۔ البتہ ظلم وزیادتی، سود اور مختلف منکرات کی وجہ سے اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ دنیا میں سودی نظام عذاب کا ذریعہ ہے۔ جب پاکستان اور دنیا میں مزارعین کو مفت زمینیں دی جائیںگی اور سودی نظام کا خاتمہ ہوگا تو پھر ایک عظیم انقلاب کی آمد ہوگی۔ جنہوں نے ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کامظاہرہ کرتے ہوئے غریب غرباء کے نام پر زکوٰة ، صدقات ، چندے بٹورے ہیں تو ان کو سونڈ پر داغا جائیگا۔ باقی اگر دنیا میں شراب کی بات ہوتو شرابی ہی ایکدوسرے پر رشک کرینگے اور مفتی تقی عثمانی کی طرح مفتی محمود کی طرف سے بدتر قرار دینے کے باوجود کسی کو اصرار کرکے مشروب نہیں پلائی جائے گی۔اس عظیم انقلاب کے نقشے میں دنیا کی خوشحالی ہوگی۔

 

سورۂ المطففین کے بعد متصل سورۂ انشقاق میں بھی انقلابِ عظیم کا ہی منظر ہے

اذا السماء انشقتOواذنت لربھا وحقتO…….” اور جب آسمان پھٹ پڑیگا اور اسکے رب کی طرف سے اجازت مل جائے گی اور یہی حق ہے۔اور جب زمین کھینچ جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے سب اُگل دے گی اور خالی ہوجائے گی۔اسکے رب کی طرف اس کو اجازت ہوگی اور یہی حق ہے۔ …………………”۔ یہ تو طے ہے کہ احادیث میں آتا ہے کہ انقلابِ عظیم کے دور میں زمین اپنے خزانے اُگل دے گی اور آسمان سے خوب بارشیں ہونگی مگریہاں آسمان سے پھٹ پڑنے سے مترجمین اور مفسرین نے قیامت مراد لیا ہے۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ”قرآن کی تفسیر زمانہ کریگا”۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ سورۂ الشوریٰ میں آئندہ کے حالات اور آسمان پھٹنے کا پسِ منظر ہے۔ تکاد السمٰوٰت یتفطرن من فوقھن والملٰئکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھوالغفور الرحیمO ”قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے انکے اوپر سے اور ملائکہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کیساتھ۔ اورجو زمین میں ہیں ،ان کیلئے استغفار کرتے ہیں۔خبردار! کہ بیشک اللہ مغفرت والا رحم والا ہے”۔ (الشوریٰ :5)
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے لکھ دیا ہے کہ” قریب ہے کہ فرشتوں کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑے”۔(آسان ترجمہ قرآن کا حاشیہ)۔حالانکہ اللہ فرماتا ہے کہ” مغفرت کی طرف دوڑ پڑو، جو جنت عطاء کریگا جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کے برابر ہے”۔
اللہ نے شوریٰ میں واضح کیا ہے کہ …. اور فرقو میں مبتلاء نہ ہوئے مگر علم کے بعد آپس کی بغاوت سے۔اگر تیرے رب کی طرف سے لکھا نہ ہوتا توانکے درمیان فیصلہ کرچکا ہوتا۔ بیشک جن کو کتاب کا وارث بنایاگیاانکے بعد تو وہ شک میں پڑے ہیں شبہ کیوجہ سے

 

سورۂ انشقاق سے دنیاوی انقلاب کی خبر مرادہے جو اسکی آیات سے واضح ہے!

سورۂ شوریٰ میں بہت حقائق واضح ہیں جس میں آسمان پھٹنے اور فرشتوں کا زمین والوں کی مغفرت طلب کرنا اور اللہ کا جلال واضح ہوناکہ اگر پہلے سے لکھا نہ جاچکا ہوتا تو کتاب کے بہت نالائق وارثوں پر غضب الٰہی کا آسمان سے فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ لیکن اللہ غفور رحیم ہے۔ جب تک آسمان کے پھٹ جانے کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ظالموں کو مہلت بھی ہوگی۔ جب آسمان پھٹے گا تو پھر ظالموں کی مہلت بھی ختم ہوگی۔ زمین کے خزانے اُگلنے کی بات تقاضہ کرتی ہے کہ مؤمنوں کیلئے خوشخبری کا پیغام ہو۔اللہ نے فرمایا کہ ” اوراسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی عربی قرآن کی تاکہ آپ ڈرائیں اہل مکہ کو اور جو انکے ارد گرد ہیں اور ڈرائیں جمع ہونے والے دن کیلئے جس میں کوئی شک نہیں ہے، فریق فی الجنة وفریق فی السعیر”ایک گروہ جنت (خوشی میں ہوگا) اور دوسرا گروہ سعیر(پاگل پنے میں ہوگا) ۔ (الشوریٰ:7)
ےٰاایھاالانسان انک کادح الیٰ ربک کدحاً فملٰقیہO…..” اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف مشقت اٹھاکر چل رہاہے اور اس سے سامنا کرنا ہے۔ پس جس کو دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ مل جائے تو عنقریب اسکا آسان حساب لیا جائیگا اوروہ اپنے اہل کی طرف خوش ہوکر لوٹے گااورجس کو پیٹھ پیچھے اس کا اعمالنامہ دیا جائے تو وہ موت پکاریگا اور پاگل پن میں پہنچ جائیگا۔ بیشک وہ اپنے اہل وعیال میں خوش تھااور اس کا گمان تھا کہ وہ ہرگز نہیں لوٹے گا۔جی ہاں! اللہ اس کے کرتوتوں کو بخوبی دیکھ رہاتھا۔ ( الانشقاق:آیت6تا15)
یہ دنیا میں حساب کتاب اور گھر کے سربراہ کی بات ہے، آخرت میں تو انسان اپنے بھائی، ماں باپ، بیوی اور بچوں سے بھاگے گا۔ سب کا اپنا اپنا حساب ہوگا لیکن دنیا میں گھر کا سربراہ حساب کتاب دیگا۔ بیوی بچوں ،اہل وعیال کا کوئی قصور بھی نہ ہوگاجس پر پکڑ ہو۔

 

سورۂ انشقاق کے آخری حصہ میںبھی پہلے اور درمیانہ حصے کی طرح انقلاب کی خبر!

فلآ اقسم بالشفقOوالیل وماوسقOوالقمر اذا تسق Oلترکبن طبقًا عن طبقٍOفمالھم لایؤمنونO…………” پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی اور رات کی جب وہ سمیٹ لے اور چاند کی جب وہ کامل بنے۔ تم نے ضرور ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ کی طرف سوار ہو آنا ہے۔ پس ان کو کیا ہے کہ ایمان نہیں لاتے؟اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟۔بلکہ جنہوں نے انکار کیا، وہی لوگ جھٹلاتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کیا جمع کررکھا ہے۔ پس ان کودردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔مگر جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے صالح عمل کئے تو ان کیلئے بدلہ ہے کبھی نہ ختم ہونے والا”۔
رات کی سرخی انقلاب ہے ، جب رات کی طوالت آخری حد کو پہنچ جائے تو سب کچھ سمیٹ لیتی ہے۔ رات جل اٹھتی ہے شدتِ ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
چاند کا مکمل ہوکر طلوع ہونا بھی رات کے اندھیرے میں اچھی علامت ہے۔ حدیث میں نبوت ورحمت کے دور کے بعد امارت، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے بعد پھر طرزِ نبوت کی خلافت کا دور ہے۔ جس کو امت مسلمہ کے سارے طبقات مانتے ہیں مگر پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ہیں؟۔ جب قرآن کی آیات سامنے آجائیں تو پھر بھی اپنے فقہی کمالات بھگارتے ہیں مگر قرآن کی نہیں مانتے ہیں۔ یہی وہ کفر کرنے والے ہیں جنہوں نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔
جب بھی انقلاب عظیم آئیگا تو بڑے بڑوں کی پول کھلے گی۔ ہوسکتا ہے کہ انقلاب زیادہ دور نہ ہو۔ سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ ، سورۂ شوریٰ ، سورہ ٔ مدثر ، سورۂ دھر، سورۂ مطففین، سورۂ انشقاق اور اس سے متصل سورۂ البروج کے علاوہ سورہ الفجر اور سورہ البد وغیرہ میں انقلاب عظیم کی خبر بڑی وضاحتوں کیساتھ موجود ہے مگر قرآنی احکام اور معاملات کی طرف توجہ کرنی ہوگی۔

کیا یوم انقلاب کی خبر سے بے خبر ہیں؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورہ دھر نصیحت ہے اور اس کو دیکھ کر کوئی بھی اپنے رب کا راستہ پکڑسکتا ہے!

سورہ دھر کے آخر میں اللہ نے ارشاد فرمایا:انّ ہذہ تذکرة فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلًاOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOیدخل من یشاء فی رحمتہ والظٰلمین اعدّلھم عذابًا الیمًاO ”یہ ایک نصیحت ہے۔پس جو چاہے اپنے رب کا راستہ پکڑلے۔ مگر تم نہیں چاہ سکتے ہو جب تک اللہ نہیں چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورۂ دھر)
جب انسان کا مطمع نظر آخرت ہو تو وہ غیب پر ایمان رکھ کر دنیا کی زندگی میں قربانیاں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم دل وجان سے مانگتا ہے۔ پھر اس کیلئے اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب ظالم نہیں چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپناراستہ نہیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی بفضل تعالیٰ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء ومفتیان نے کفر والحاد کے فتوے لگائے تھے تو شیخ الحدیث مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان کے صاحبزادے مولانا مسعودالرؤف میرے ہم جماعت اور کمرے کے رومیٹ تھے۔ علماء ومفتیان کے متفقہ فتوے کا اشتہار اس نے لگایا تھا اور میں نے پھاڑ ڈالا۔ اسکے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر ایک نظم لکھ ڈالی جس سے فتوے کو شکست ہوئی تھی۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میں جدوجہد کررہاتھا اور تم فتوے لگارہے تھے؟ میں تمہارے فتوے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ اکابر علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتویٰ لگایا تو بھی اللہ نے سرخرو کیا تھا۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ کے علماء ومفتیان نے مل کر ہم پر فتوے لگائے تو بھی منہ کی کھانی پڑی مگر پھر بھی ان کوشرم نہیں آئی۔ واہ جی واہ!۔

 

قرآن میں متشابہات کی تفسیر زمانہ کرتاہے مگر واضح آیات ابہام کی متحمل نہیں !

والمرسلٰت عرفاOفالعٰصفٰت عصفاOوالنٰشرٰت نشراOفالفٰر قٰت فرقاOفالملقےٰت ذکراOعذرا او نذراOانما توعدون لواقعO
”قسم ہے معروف طریقے سے بھیجی جانے والیوں کی، جوپھر طوفانی کیفیت برپا کرتی ہیں اور نشر ہوجاتی ہیں اچھی طرح سے نشر ہونا۔پھر تفریق پیدا کرتی ہیں اچھے طریقہ سے۔پھر وہ نصیحت کو (دلوں میں) القاء کردیتی ہیں۔کوئی عذر پیش کرتا ہے اور کوئی ڈرتا ہے۔ بیشک جس (یوم انقلاب عظیم)کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور واقع ہونے والا ہے۔(سورۂ : المرسلات)
سیدابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک والمرسلات عرفا” پے در پے بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں” ۔دوسرے العٰصفٰت عصفا” بہت تیزی اورشدت کیساتھ چلنے والیاں”۔ تیسرے النٰشرٰت نشرا” خوب پھیلانے والیاں”۔چوتھے الفٰرقتِ فرقا: الگ الگ کرنے والیاں۔ پانچویں الملقےٰت ذکرا ”یادکا القاء کرنے والیاں”۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں کہ یہ کن چیزوں کی صفات ہیںاسلئے مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ پانچوں صفات ایک ہی چیز ہیں یا الگ الگ چیزوں کی۔ اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں ۔ایگ گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور دوسرے دو فرشتے۔ چوتھا کہتا ہے کہ پہلے تین فرشتے دوسرے دو ہوائیں۔ایک گروہ کی رائے یہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دوسرے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں”۔تفہیم القرآن میں مختلف تفاسیر ہیںلیکن اگلے صفحات پر غور کریں۔

 

مفسرین نے قرآن کی واضح آیات کومختلف آراء کی ہواؤں کے رحم وکرم چھوڑ دیا!

مفسرین خود ہی مختلف آراء میں سرگرداں ہونگے تو عوام اور کافروں کی کیا رہنمائی ہوگی؟۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار انبیاء کرام اور انکے معاندین کا ذکر کیا ہے، انبیاء کرام کے ذریعے واضح رسالات اور پیغامات کا ذکر کیا، صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر کیا ہے۔ جب بھی یہ رسالات یا پیغامات لوگوں تک پہنچی ہیں تو اس کے ذریعے سے طوفان کھڑے ہوئے ہیں اور جب یہ خوب نشر ہوتے ہیں تو حق و باطل کے درمیان تفریق وامتیاز کھڑی کردیتی ہیں۔ عوام اور خواص کے دلوں تک جب حقیقت پہنچ جاتی ہے تو اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے میں لوگوں کو عذر یا خوف در پیش ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ دن پہنچ جاتا ہے جس میں دنیا ہی کے اند ر باطل کے عذاب اور اہل حق کی نجات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ جب تک نبوت ورسالت کا سلسلہ جاری رہا تو یہ رسالات وپیغامات بھی لوگوں کو معروف طریقے سے ملتے رہے لیکن جب ختم نبوت کے بعد ان رسالات کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا تو قرآن کی شکل میں قیامت تک کیلئے یہ محفوظ ہے۔ البتہ قیامت سے پہلے بھی عظیم انقلاب کی خبر ہے جس کو مولانا سیدا بوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ”ا حیائے دین ” میں واضح کیا ہے اور سب مسلمان اپنے اپنے دائرے میں اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب اسلام ہربنگلہ اور جھونپڑی میں داخل ہوگا لیکن قرآن کی طرف توجہ کی ضرورت شاید کسی نے محسوس نہیں کی الاماشاء اللہ کہ اس یوم الفصل کی بات بہت واضح ہے۔
یوم موعود سے مرادقیامت نہیں بلکہ انقلابِ عظیم کا دن ہے۔قرآن آسمانی کتب و صحائف کا مجموعہ ہے اور ایک دن دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب قرآنی انقلاب کے تحت جمع ہوںگے۔ قرآن اسلئے نازل نہیں ہوا کہ نزول کے وقت کے بعد قیامت تک اسکے راز پوشیدہ رہیں بلکہ دنیا میں ایک لمبے عرصہ تک قرآن کی بنیاد پر دنیا نے ہدایت سے فائدہ اٹھاناہے۔

 

قرآن میں استعارات کی زبان متشابہات کا راز کھلے توپھریہ محکمات بنتے ہیں

جب انقلاب کا دن آجائیگا تو چاند، سورج اور ستاروں کی طرح پوجے جانے والے لوگوں کی حیثیت ماند پڑجائے گی۔ مذہب اور سیاست میں آفتاب ومہتاب کی لیڈر شپ تو ویسے نہ ہوگی مگر ستارے سمجھے جانے والے بھی اپنی حیثیت ایسی کھو دیںگے جس طرح روزانہ دن کے نکلتے ہی ستارے غائب ہوجاتے ہیں۔ آسمان سے خوشیوں کی بہار آئے گی اور علم کے بڑے پہاڑ سمجھے جانے والے اُڑ جائیںگے۔ فرشتوں کی مدد کا وقت آجائیگا۔ فیض احمد فیض نے جس انقلاب کا ذکر اپنے اشعار میں کیا تھا وہ منظر نقارۂ خدا بن کر عوام میں بجنا شروع ہوجائیگا۔
المرسلات میں آگے اللہ فرماتا ہے۔ فاذا النجوم طمستOواذا السماء فرجت Oواذالجبال نسفت Oواذا لرسل اقتتO لایّ یوم اجلتOلیوم الفصلOوما ادراک ما یوم الفصلO ویل یومئذٍ للمکذّبینO………… ”پھرجب ستارے ماند پڑجائیںگے اورجب آسمان سے خوشیاں آئیںگی۔ جب پہاڑ اُڑ جائیںگے۔ جب فرشتوں کی آمد کا وقت پہنچے گا۔ یہ کس دن کیلئے جلدی کررہے ہیں۔ فیصلے کے دن کیلئے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟۔ تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہ کیا اور پھر انکے بعد والوں کو انکے پیچھے (ہلاک ) نہیں لگایااور ہم ایسا ہی مجرموں کیساتھ (دنیا ہی میں )کرتے ہیں۔ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟۔ پھر ہم نے اسے بنایامحفوظ ٹھکانے میں۔ معلوم مدت تک اور ہم نے تقدیر مقرر کی اور ہم اچھی قدرت رکھنے والے ہیں، تباہی ہے ہلاکت والوں کیلئے ۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والا نہ بنایا۔ زندگی اور اموات میں”۔ عربی میں فرج عام طور پرخوشی ہی کو کہتے ہیں۔انقلاب مؤمنوں کیلئے خوشیوں ہی کا باعث بنے گا۔

 

قیامت سے پہلے دنیا میں عظیم انقلاب کے ذریعے بھی قرآن کا اعجاز ثابت ہوگا

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت سے پہلے دنیا میں بھی عظیم انقلاب کے ذریعے خاکہ پیش کردیا ،تا کہ لوگوں کیلئے حق اور باطل کا راستہ قیامت کے دن تک واضح رہے گا لیکن انسان پھر آخر انسان ہے اور جب تک دنیا قائم رہے ،انسان غفلت کا شکار ہوتا رہے گا۔وسعت اللہ خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے جو تحریر لکھ دی وہ جلی حروف کیساتھ ہی نہیں مرثیہ وغیرہ کی طرح میڈیا کے تمام چینلوں پر بار بار پڑھ کر سنانے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
سورۂ واقعہ میں قیامت کا پورا نقشہ ہے جس میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہونگے۔ ایک مقربین جو پہلوں میں سے بڑی جماعت اور آخرین میں تھوڑے ہونگے۔ دوسرے اصحاب الیمین جو پہلوں میں بھی بڑی جماعت ہوگی اور آخر میں بھی بڑی جماعت ہوگی۔ تیسرے کو اصحاب المشئمہ قرار دیا گیاہے۔ مقربین کو جو شراب پیش کی جائے گی تو اس سے سر چکرائے گا اور نہ عقل میں کوئی فتور آئیگا۔ دنیا میں بھی انقلاب کے ذریعے آخرت کا نقشہ سامنے آئیگا۔
مرسلات میں فرمایا: وجعلنافیھارواسی شٰمخٰت وا سقینٰکم مائً فراتاOویل یومئذٍ للمکذبینO……….”اور ہم نے اس میں بلند پہاڑ بنائے اور تمہیں میٹھا پانی پلایا اور تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ پس اب چلو،اس کی طرف جسکے ذریعے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو اس سایہ کی طرف جو تین قبیلے( اقسام) والا ہے۔ جو نہ سایہ دار ہے اور نہ شعلے سے مستغنی کرنے والا ہے۔ بیشک یہ محل کی طرح بگولے پھینکے گا۔ گویا کہ وہ سرخ اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ یہ دن ہے جب وہ بولتے نہ ہونگے اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ معذرت پیش کریں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے”۔صرف طلاق و حلالہ پر تین کتابیں،کافی مضامین اور فتاویٰ لکھ دئیے مگر ڈھیٹ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

 

مجرموں کو تھوڑا فائدہ اُٹھانے کا ذکر ہے اسکا تعلق دنیا کے انقلاب ہی سے ہے!

درسِ نظامی کی بنیادی تعلیم، قرآن کی تحریف، سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے اور نبیۖ کی سخت ترین توہین کے ارتکاب سے لیکر ایک ایک چیز کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ انقلاب کا وقت آئیگا اور ہم دلائل کے آگ کے بڑے بڑے بگولے سے نشانہ بنائیںگے تو یہ بالکل سرخ اُنٹوں کی طرح نشانہ بننے کیلئے تیار ہونگے۔ پھر وہ بولیںگے بھی نہیں اور حلالہ کی لعنت کا شکار کرنے والی مخلوق اس قابل بھی نہیں ہوگی کہ ان کو معذرت کی اجازت دی جائے۔
اللہ نے مرسلات میں فرمایا: ھٰذا یوم الفصل جمعنٰکم والاوّلینOفان کان لکم کید فکیدونO ویل یومئذٍ للمکذبینO ……..’.’یہ جدائی کا دن ہے۔ہم نے تمہیں اور پہلوں کو جمع کرلیا( جیسا پہلوںکو اہل حق کے سامنے مجبور کردیا تھا ،اسی طرح تمہیں کردیا) پس اگر تم کوئی چال چل سکتے ہو تو کرکے دکھاؤ۔تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ بیشک متقی لوگ اس دن سایہ میں ہونگے اور لوگوں کی نظروں میں(چڑھے ہونگے) اور پھلوں تک ان کی رسائی ہوگی ،ان میں سے جو وہ چاہتے ہونگے۔کھاؤ ، پیو مزے سے جو تم نے عمل کئے۔ بیشک ہم اس طرح نیکوکاروں کو بدلہ دیتے ہیں اور تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ تم بھی کھاؤ اور تھوڑا فائدہ اٹھالو بیشک تم مجرم ہو۔ تباہی اس دن جھٹلانے والوں کیلئے اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ ،تو نہیں جھکتے تھے۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس( واضح کلام کے احکام) کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیںگے؟”۔ (سورہ المرسلات)
ہم دعوت دیتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن ، علامہ شہنشاہ حسین نقوی اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہ درسِ نظامی اور مذہبی طبقات کی طرف سے دین کو مسخ کرنے کے رویہ پر میڈیا میں ہی ہم سے بات کریں تو بھی انقلاب آجائے گا۔

 

اطلاق النار بندوق کی فائرنگ کو کہتے ہیں، قرآن زمان وکمان پر حاوی ہے

ہم نے دیکھا کہ حاجی عثمان کے ساتھ علماء ومفتیان نے کیا رویہ رکھا تھا۔ اس کی تفصیل کبھی سامنے آئے گی۔ لوگ حیران ہونگے کہ بڑے بڑوں نے کس قدر ضمیر فروشی کا مظاہر ہ کیا تھا۔ اور ہماری جیت کے باوجود کھڈے کھودنے والوں کو کتنی رعایت دی گئی۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء نے کس طرح مولانا فضل الرحمن کے ایماء پر کھڈا کھودا تھا مگر پھر وہ انجام کو پہنچ گئے، اس کی بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ جب کبھی موقع ملے گا اور ضرورت ہوگی تو ایک ایک بات آمنے سامنے بیان کرنے میں بہت مزہ آئیگا۔پھر وہ وقت آیا کہ طالبان نے میری وجہ سے ہمارے گھر کو نشانہ بنایا۔ میزائل، راکٹ لانچروں اور بموں کیساتھ چھوٹے بڑے جدید ہتھیاروں کیساتھ دھماکوں سے گونجتا رہااور بہت سے معجزانہ طور پر بچ گئے اور کئی ساروں کو شہادت کی منزل پر پہنچادیا۔ پچھلی تحریر میں سورہ الانشقاق کا ذکر کیا تھا اور اب اس سے متصل سورۂ البروج کے اندر ”یوم موعود” کے حوالے سے حقائق دیکھ لیں۔
والسماء ذات البروج Oوالیوم الموعودOوشاہدٍ ومشہودٍOقتل اصحاب الاخدودO النار ذات الوقودOاذھم علیھا قعودOوھم علی مایفعلون بالمؤمنین شہودO ومانقموا منھم الا ان یؤمنوا باللہ العزیزالحمیدOالذی لہ ملک السمٰوٰت والارض واللہ علیٰ کل شی ء شہیدOان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنات ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریقO………….”قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور جس دن کا وعدہ ہے اورگواہ اور جس کی گواہی دی جائے۔ مارے جائیں گڑھے کھودنے والے، ایندھن والی آگ کی۔جب وہ اس پر بیٹھے تھے اور مؤمنوں کیساتھ جو ہورہاتھا ،اس پر گواہ تھے۔

 

اللہ تعالیٰ نے ماضی کی طرح مستقبل کے حالات بھی قرآن میں بیان کئے ہیں!

اور ان سے انتقام نہیں لے رہے تھے مگراسلئے کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جوبڑا زبردست اور تعریف کے لائق ہے۔وہی جس کیلئے آسمان اور زمین ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بیشک جن لوگوں نے آزمائش میں ڈلا مؤمنین و مؤمنات کو اور پھر انہوں نے توبہ نہیں کی تو ان کیلئے عذاب ہے جہنم کا اور ان کیلئے عذاب ہے جلانے والا۔ بیشک جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کیلئے باغات ہیںجس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ بیشک وہ پہل کرتا ہے اور لوٹاتا ہے اور معاف کرنے والا محبت کرنے والا ہے۔ عظمت والے عرش کا مالک ہے۔جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ کیا آپ کو لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟۔ فرعون اور ثمود کی۔ بلکہ کفر کرنے والے جھٹلانے میں لگے رہتے ہیں اور اللہ نے ان کو پیچھے سے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں”۔
اللہ نے مجرموں کو معافی مانگنے کا راستہ دیا ہے لیکن انقلاب عظیم قربانیوں کے بغیر نہیں آسکتا تھا۔ نکاح وایگریمنٹ ،طلاق وخلع ، اسلامی حدود اوراسلامی خلافت کے تقاضوں سے علماء ومفتیان آگاہ کرنے پر کان دھرتے تو ہم بھی مشکلات کے شکار نہ ہوتے اور تائید کرنے والے بھی معاشرے میںاپنا بھرپور کردار اداکرتے۔ سب کے سب سرخرو ہوتے۔ جب ہم اسلام کے نام پر بینک کے سود کو اسلامی قرار دینے کے باوجود علماء ومفتیان کو شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کے القاب سے نوازیںگے تو غیر مسلموں کو کس اسلام کا سبق دیںگے؟۔ سوشلزم کے بعد دنیا میں کپٹلزم بھی ناکام ہوگیا ہے۔ اسلام واحد راستہ ہے جو دنیا کو ایک فطری نظام دے سکتا ہے۔ جمہوریت دولت کی لونڈی اور سیاستدان بھونڈے لوٹے ہیں۔ اگر درست اسلامی نظام کا معاشرتی اور بین الاقوامی ایجنڈا پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسکاخیرمقدم کرے گی۔

 

حضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں عروج ملت کا روشن تارہ تھے

اپنے دور میںحضرت حاجی محمد عثمان رات کے اندھیرے میں ایک روشن ستارے تھے، جن کی وجہ سے مخلوقِ خدا کو بہت فائدہ پہنچ رہاتھا۔ اعتکاف کیلئے 700آدمی بیٹھنے کیلئے تیار تھے مگر 350 افراد سے زیادہ کیلئے مسجدالٰہیہ خانقاہ چشتیہ سوکواٹر کورنگی کراچی میں جگہ نہیں تھی۔
دیوبندی ،بریلوی، جماعت اسلامی، اہلحدیث ، تبلیغی جاعت کے بڑے علماء ومفتیان اور فوجی افسران ، پولیس افسران وغیرہ سب بیعت تھے۔ سعودی عرب کے عرب بیعت تھے اور شام کے عرب بھی بیعت تھے۔آپ نے کہا تھا کہ تین قسم کے افراد میرے مرید ہیں۔ ایک تو دنیا دار ہیں، یہ تیسری جنس کھدڑے ہیں چھوڑ کر بھاگ جائیںگے۔ ایک آخرت والے ہیں جن کی حیثیت عورتوں کی ہے، ان میں مردانہ قوت نہیں ہوتی ہے۔پھر بھی بہرحال بہتر ہیں۔ تیسرے اللہ والے ہیں، یہ میدان کے مرد ہیں۔ انہوں نے اصل کام کرنا ہے۔ پھر وہی کچھ ہوا۔ کچھ لوگوں نے ہمارے ساتھ نکل کر خانقاہوں سے ادا کی رسمِ شبیری۔ماشاء اللہ
سورۂ البروج کے بعد سورۂ الطارق میں اللہ فرماتا ہے۔ والسماء والطارق Oوماادرٰک ما الطارقOالنجم الثاقبO………….”اور قسم ہے آسمان کی اور طارق کی اور آپ کو کیا معلوم کہ طارق کیا ہے؟۔ چمکتا ہوا تارہ ہے۔ ہر ایک جان پر ضرور کوئی نگہبان ہے۔ پس انسان دیکھ لے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟۔پیدا کیا گیاہے اچھلتے پانی سے۔جو پیٹھ اور سینے کے بیچ سے نکلتا ہے۔بیشک وہ اس کو لوٹانے پر بھی قادر ہے۔اس دن تو پوشیدہ راز واضح ہونگے۔تو اسکے پاس کوئی طاقت ہوگی اور نہ مددگار۔قسم ہے لوٹانے والے آسمان کی اور پھٹنے والی زمین کی۔ بیشک یہ فیصلہ کن بات ہے اور نہیں ہے کوئی مذاق۔وہ اپنی چال چلتے ہیں اور میں اپنی چال چلتا ہوں۔ کافروں کومہلت دو،ذرا اپنے حال پر چھوڑ دو”۔

دنیا میں ایک انقلابِ عظیم کی واضح خبر

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن تقویٰ والوں کیلئے بھی ہدایت کا ذریعہ ہے اور عوام الناس کیلئے بھی ہے

قرآن امت مسلمہ کیلئے قرون اولیٰ سے درمیانہ زمانے تک ھدی للمتقین اور درمیانہ زمانے سے آخری دور تک ھدیٰ للناسپوری عالم انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔دنیا کی قوموں پر زوال وعروج کے مختلف ادوار آتے رہتے ہیں۔قرونِ اولیٰ کا زمانہ بہ لحاظِ تقویٰ اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔ ایک ادنیٰ صحابی کے تقویٰ کو اولیاء کے بڑے سے بڑے گروہ بھی پہنچ نہیں سکتے ہیں، یہ اٹل بات ہے۔ پھر بتدریج تابعین، تبع تابعین دور بہ دور ، زمانہ بہ زمانہ اس طرح تقویٰ کا معیار مولانا شاہ احمد نورانی کے باپ مولانا عبدالعلیم صدیقی، شیخ الحدیث مولانا زکریا،مولانا محمد یوسف بنوریکے دور سے ہوتے ہوئے ہمارے مرشد حضرت حاجی محمدعثمان کے دورتک جا پہنچا۔ملا عمر مجاہد اور دوسرے نیک لوگوں کی جگہ اب ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تقویٰ نہیں شعور وآگہی کا دور آگیا ہے ۔ مفتی محمودکیلئے تقویٰ معیارتھا مگر مولانافضل الرحمن کو تقویٰ نہیں شعور پر گزارہ کرنا ہے۔ طالبان رہنما جو برقعہ پوش خواتین سے ڈنڈے کی زبان پر بات کرتے تھے،اب ننگی ٹانگوں والیوں کے سامنے اپنی مرضی سے بیٹھ جاتے ہیں۔

 

مساجد میںنماز باجماعت اور جمعہ کی چھٹی کا فتویٰ دینے والے پھر کیوں گئے؟

آج سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ رمضان شریف میں عوام کی روحانی غذاء مساجد میں نماز باجماعت اور تراویح کی فکر کرنیوالوں کا اپنا حال یہ ہے کہ معاوضہ حاصل کرنے کیلئے سود کو جواز دے دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن کو عوام کے تقوے کی فکر ہے؟۔یا مذہب کے نام پر کاروبار، دھندے اور مذہبی لوگوں کے جذبات کیش کرنے کا جذبہ ہے؟۔ فتویٰ تودیا تھا کہ نماز باجماعت اور جمعہ کی جگہ ظہر کی نماز باجماعت گھر میں پڑھو!۔ پاکستان میں کورونا کی شرحِ اموات بہت کم تھی تو گھروں میں نماز کا فتویٰ دیدیا اور جب شرح اموات بڑھ گئی توپھر دوبارہ لاک ڈاؤن توڑنے اور نماز باجماعت، جمعہ اور تراویح کی فکر کے جذبات اُبھرے؟۔ جب شکوک وشبہات تھے کہ بیماری ہے یا ڈرامہ ہے تو گھروں میں نماز پڑھنے کی ہدایت دی؟ اور جب یقین کرلیا کہ واقعی بیماری ہے تو عوام کی روحانی غذاء کا درد پیٹ میں اُٹھ گیا ہے؟۔
چلو اس وقت تو تمہاری فطری مجبوری تھی کہ مجاہدین طلبہ کو جہاد کے فتوے دیتے تھے مگر اپنے بچوں کو شہادت کی منزل پر پہنچانے کا اہتمام کرنے سے ڈرتے تھے؟۔ جب تک ریاست کی طرف سے دہشتگردوں کے خلاف نیک نیتی سے اقدامات اٹھانے کی فکر سامنے نہیں آئی تو تم نے مساجد،بازاروں، اداروں اور پاکستان کے چپے چپے پر خود کش حملے ، ریموٹ بم دھماکے اور چھاپہ مار کاروائیوں کے خلاف کبھی فتویٰ نہیں دیا۔ مفتی رفیع عثمانی میڈیا پر کہتے تھے کہ اس جہاد کو ہم ناجائز نہیں کہہ سکتے۔ مولانا طارق جمیل کہا کرتا تھا کہ ہماری منزل ایک ہے، صرف راستے جدا ہیں۔ طارق اسماعیل ساگر آج پاکستان میں بلیک واٹر کا انکشاف کررہے ہیں لیکن جب دنیا میں انقلاب آئے تو بہت سے رازوں سے پردہ اٹھے گا۔ سیاستدان، علماء ومفتیان اورحکمران اپنی اپنی زبانوں سے ضرورعجیب وغریب حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

 

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ قرآن کا پہلامخاطب عرب اور دوسرا عالمگیر ہے

خواب کے نبوت کا چالیسواں حصہ ہونے سے مراد وحی کا سلسلہ نہیں غیب کی خبر!

قرآن کا اگلا دور انسانی شعور کے دور میں ایک عظیم انقلاب برپا کریگا؟۔اب تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پڑھ دورِ جاہلیت کے بدو عربوں کو ایک عظیم رہبر انسانیتۖ نے اپنے ساتھیوں کی تربیت کرکے فاتح عالم بنادیا لیکن اس وقت دنیا پسماندہ تھی۔ ظلم وجبر تھا۔بڑاانسانیت سوز معاشرہ تھا جس میں نسبتاً بہتر لوگ پذیرائی پالیتے تھے۔ خلافتِ راشدہ سے بنی امیہ وبنی عباس کے دور میں زیادہ فتوحات ہوئیں اور خلافت عثمانیہ کے دور میں تو سب سے زیادہ علاقے پر قابو پالیا گیا۔ جدید ترقی یافتہ دنیا میںانسانیت، عدل وانصاف اورجمہوریت کے اصولوں سے مالامال مغرب کو پسماندہ مسلمانوں کے زیراثر آنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن سالگتا ہے۔اب بھی امریکہ ، یورپ اور مغربی ممالک نے شعور کی کمی کی وجہ سے مسلم دنیا کو شکست سے دوچار کردیا۔ کورونا وائرس کے دور میں ہمارا کام شعور کی تحریک ہونا چاہیے۔ جب نبیۖ نے اپنی حیات طیبہ (زندگی)میں لوگوں کو وبا سے بچنے کیلئے کوئی دعا، دم اور وظیفہ تلقین نہیں فرمایا تھا؟۔ حضرت عبیداللہ بن جراح ، حضرت معاذ بن جبل اور دیگر بہت سارے جلیل القدر صحابہ نے وبا سے شہادت پائی تو مفتی تقی عثمانی کے ذریعے تبلیغی جماعت کے بزرگ کو نبیۖ نے کسی خواب کے ذریعے تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو مروانا تھا؟۔ اور مراکز بند کروانے تھے؟۔
صحابہ نے نبیۖ کے خواب کی بنیاد پر سمجھا کہ اسی سال عمرہ کرینگے توصلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنا پڑگیا۔اللہ نے فرمایا لقد صدق اللہ رسولہ الریا بالحق لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ اٰمنین محلقین رء وسکم ومقصرین لاتخافون فعلم مالم تعلموا فجعل من دون ذٰلک فتحًا قریبًاO …” بیشک اللہ نے رسول کو سچا خواب دکھایا ، تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے انشاء اللہ امن کیساتھ سرکے بال منڈاتے اور کم کرتے ہوئے۔تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ پس اللہ جانتا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ پس اللہ نے اسکے بغیر تمہیں عنقریب فتح دیدی۔ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیج دیا ہے تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ محمدۖ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کیساتھ ہیں، کافروں پر سخت ،آپس میں ایکدوسرے پر رحم کرنے والے ہیں آپ ان کو دیکھوگے رجوع ،سجود، فضل چاہنے والے اللہ سے اور اس کی رضامندی، سجود کے اثرات سے انکے چہروں پر نشان ہیں، یہ وہ جن کی صفات توراة اور انجیل میں ہیں۔ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی پھر اس کی کمربنائی ،پھر مضبوط کردی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی جو بھلی لگتی ہے کاشتکار کو،تاکہ کفار انکے پھلنے پھولنے پر غصہ کھائیں۔ وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے ان کی مغفرت اور اجرعظیم کا”۔
سورہ فتح کی ان آیات میں ایک بات یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ۖ کو سچا خواب دکھایا تھا۔ جس کی تعبیر عنقریب پوری ہوگی جس کو صحابہ نے نہیں جانا لیکن اللہ جانتاتھا۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ کی تصویر خواب میں دکھائی گئی ۔ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو پورا ہوگا اور شیطان کی طرف سے ہے تو پورا نہیں ہوگا۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ خواب رحمانی اور شیطانی دونوں ہوسکتے ہیں۔نبیۖ نے درست فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے مگر مبشرات یعنی رویائے صادقہ۔یہ بھی فرمایا کہ سحری کے وقت میں زیادہ ترخواب سچے ہوتے ہیں اورفرمایا کہ خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔
اگر نبوت کا چالیسواں حصہ رہتا ہے تو ختم نبوت پر ایمان باقی رہتاہے؟۔ نبوت سے مراد وحی ، رسالت ، نبوت کا معروف معنیٰ نہیں بلکہ نبوت غیب کی خبروں کو بھی کہتے ہیں۔

 

صحابہ کے دور میں دین تمام ادیان پر غالب نہیں ہوا، یہ وعدہ پوراہوناباقی ہے!

سورہ فتح کی آیات میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق کے غلبے کا تمام دنیا اور تمام ادیان پر جو وعدہ کیا تھا ، اس کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بھی یہ لکھ دیا کہ آئندہ خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوگی تو یہ وعدہ بھی پورا ہوجائیگا۔ (ازالة الخفائ) ان آیات کی ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے صحابہ کرام کی مثال کھیتی سے دی ،پہلے کونپل نکالا، پھر کمر کس لی،پھر مضبوط کرلی ،پھر اپنے تنے پر کھڑا ہونے کا وقت آیا جس سے کھیتی والا خوش ہوا،اور انکار کرنے والوں کو جلن لگ رہی تھی۔ جلن سے گویا گندھک کی شلواریں پہنی تھیں۔ پیٹ جلتا ہے تو بار بار قضائے حاجت کیلئے جانا پڑتا ہے ، دشمن کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ ہزاروں افراد خانقاہِ چشتیہ میں نماز، ذکر واذکار، تعلیم وتعلم، تلاوت قرآن اور ایمان ویقین کے روحانی محافل میں مشغول رہتے ۔ خواب ومشاہدات کا سلسلہ بدستورتھا لیکن پھر اچانک سازش شروع ہوئی، فتوے لگ گئے اور لہلاتے کھیت نیست ونابود ہوگئے۔ جس دن انقلاب آگیا تو سربستہ راز کھل جائیںگے۔ یوم تبلی السرآئر Oفمالہ من قوة و لاناصرO”جس دن پوشیدہ رازوں سے پردہ اُٹھ جائیگا تو اس کیلئے کوئی قوت ہوگی اور نہ مدد گار ہوگا”۔ (سورۂ الطارق)۔ یوٹیوب پر مفتی تقی عثمانی کو دنیا کا پہلا نمبر طاقتور انسان قرار دیا گیاہے۔ مولانا فضل الرحمن ، مفتی منیب الرحمن، قاری حنیف جالندھری وغیرہ کو بھی وہ تخلیہ میں بٹھادیں اور کچھ معاملات واضح کردیں۔ مفادات ، شہرت، دھونس دھمکی کو چھوڑدو۔ ہم نے خانقاہ کا انتقام نہیں لینا: والذی اخرج المرعٰی Oفجعلہ غثآئً احوٰیO ”اورجس نے نباتات اُگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا بنادیا”۔ (سورة الاعلیٰ)مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق اور میرے استاذ مولانا فضل محمدسب گئے۔

 

قرآن میں جس طرح نماز جماعت کا ذکر ہے اسی طرح انفرادی نماز کا بھی ہے!

سورہ ٔالاعلیٰ اور اسکے بعد سورۂ الغاشیہ، سورۂ الفجر ، سورۂ البلداور سورۂ الشمس میں انقلاب کی زبردست خبر اوراوصاف ہیں۔ جناب علی محمد ماہی نے اپنی کتاب ”سرالاسرار المعروف یوم الفصل ”میں کیا لکھ دیا مگر ہم نے اپنی آنکھوں سے قیامت کا منظر دنیا میں اپنی گناہگار آنکھوں سے اسوقت دیکھا ،جب بڑے بڑے نام نہادعلماء وصلحاء کے چہروں سے نقاب اٹھتے دیکھے۔
سیذکر من یخشٰی Oویتجنبھا الاشقیOالذی یصلی النار الکبرٰی Oثم لایموت فیھا و لایحےٰیOقد افلح من تزکّٰی O وذکر اسم ربہ فصلّی Oبل تؤثرون الحےٰوة الدنیاOوالاخرة خیر و ابقٰی Oانّ ھٰذا لفی الصحف الاولیٰ Oصحف ابراہیم وموسٰیO”عنقریب نصیحت حاصل کریگا جو ڈرتا ہے اور گریز کریگا جو بدبخت ہے۔ جو بڑی آگ میں جائیگا، جس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ ہوگا۔ تحقیق کہ فلاح پاگیا جس نے تزکیہ حاصل کیا اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھ لی بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ یہی بات پہلے صحائف میں بھی ہے۔ ابراہیم کے صحیفوں میں اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔(سورةالاعلیٰ)۔ قرآن کریم کی آیات صرف پہلے ادواراور آخرت کیلئے نہیں بلکہ ہردور کے ہر ماحول کیلئے ہیں۔ان آیات میں نماز باجماعت نہیں بلکہ انفرادی نماز کا ذکر ہے۔اور یہ واضح ہے کہ حقیقی خوف رکھنے والا نصیحت حاصل کرلے گا اور بدبخت اجتناب کریگا۔ یہی با ت پہلے صحیفوں ابراہیم وموسیٰ کے صحیفوں میں بھی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ فلاح اس شخص نے نہیں پائی جس نے تزکیہ حاصل نہ کیا اور نماز پڑھ لی بلکہ فلاح اس نے پائی جس نے تزکیہ حاصل کیا ، پھر نماز پڑھ لی۔جعلساز دکانداروں اور مولویوں کے نماز کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہی یاد رکھئے گا۔

 

قرآن میں جہاں دوسری باتوں کا ذکر ہے وہاں کورونا عالمگیر وباکا ذکر بھی ہے!

معمولی معمولی باتوں کا ذکر قرآن میں ہے۔ کائنات پھیلنے کا ذکر ہے۔ آسمان سے لوہا اترنے کا ذکر ہے۔ پانچ چیزوں کا ذکر ہے جس کو نبیۖ نے مفاتیح الغیب قرار دیا۔ ساعة کا علم، وہ بارش برساتا ہے، جو ارحام میں ہے اس کو جانتا ہے اور تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کل کمائے گا اور کس زمین پر مرے گا۔ پہلی بات ثابت ہوگئی کہ الساعة کا علم غیب کی چابی ہے اور یہ نبیۖ نے اسلئے فرمایا تھا کہ معراج کی رات نظریہ اضافیت کا راز کھل گیا تھا۔ بارش برسنے سے آسمانی بجلی گرتی ہے جس کی وجہ سے الیکٹرک کی تسخیر نے دنیا کو غیب کی چابیوں سے آگاہ کیا اور ارحام میں صرف انسان نہیں بلکہ حیوانات ، نباتات اور جمادات سب شامل ہیں ۔ آج فارمی جانور، پرندے ،نباتات ،ایٹمی طاقت ،الیکٹرانک کی دنیا نے ثابت کردیا کہ واقعی غیب کی چابی یہی ارحام کا علم ہے۔ قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تشریح زمانے نے کردی ہے۔
کورونا ایک عالمی وبا ہے تو کیا اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہوگا؟۔ قرآن میں عذاب کا تعلق دنیا اور آخرت کیساتھ ہے۔ جب آدمی غریب ہوتا ہے اور دو وقت کی روٹی کیلئے ترستا ہے پھر خوشحالی کیلئے نذریں مانتا ہے لیکن خوشحالی کے بعد سب کچھ بھول جاتا ہے۔ مولانا مودودی اور حاجی عثمان نے ایک مشکل دور کے بعد آسانی بھی دیکھ لی ۔ ہم نے بھی غربت اور بھوک دیکھ لی تھی اور اپنا گزارہ کرنے کے علاوہ سب کچھ غریبوں پر بانٹنے کی نذریں مانی تھیں مگر وہ وعدہ کیاجو وفا ہوجائے۔ آج شکر ہے کہ بڑے پیمانے پر بینک بیلنس نہیں ورنہ پتہ نہیں قربانی سے بھی گریز کرتے۔ اللہ نے فرمایا: ” وہ نذروں کو پورا کرتے ہیںاور اس دن کے شر سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر جانب پھیلی ہے ۔کھانا کھلاتے ہیں اپنی چاہت سے مسکین، یتیم اور قیدی کو۔بیشک ہم تمہیں اللہ کیلئے کھلاتے ہیں کوئی بدلہ اور شکریہ تم سے نہیں چاہتے ہیں۔

 

علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب” ظہور مہدی” میں سید گیلانی کا ذکر کیا ہے

ہیں اپنے رب سے اس بدنما بہت لمبی مدت والے دن کے شر سے ”۔ (سورہ ٔالدھر)
یہ آیات موجودہ دور میں کورونا کے معاملے کو بہت زبردست طریقے سے اجاگر کرتے ہیں اور مساکین ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانا اس موقع پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لوگوں میں زمانے کے اس موڑ پر احساسات اجاگر ہورہے ہیں۔ جہانگیر ترین سمجھتا ہوگا کہ عمران خان کو جہازوں میں گھمانے اور خرچے کرنے کے بجائے غریب غرباء کے کام آتے۔ کاشتکاروں ہی کو حدیث کے مطابق پوری فصل دیدیتے تو ایک انقلاب اور حقیقی تبدیلی آسکتی تھی۔ انتخابات کے موقع پر ایک ہی قومی اور صوبائی حلقے میں مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کو جمعیت کے صوبائی ممبر سے ٹانک میں تین ہزار کم ووٹ ملے۔ اس نے کہا کہ میں نے خرچہ زیادہ کیا تھا۔ دونوں کے مجموعی خرچے سے ایک ایک ووٹ لاکھ لاکھ روپے کا پڑا تھا۔آج کاغریب بدحال ہے۔
ایک عظیم انقلاب سے پہلے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کا ذکر قرآن میں ہوسکتا ہے؟۔ علی محمد ماہی نے کیا لکھا تھا ؟۔ مجھے معلوم نہیں مگر اپنے خاص علم کا اظہار کرکے اس نے داد کیا پائی تھی ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم ۔ البتہ 1988ء میں لکھی گئی کتاب ” سرالاسرار المعروف یوم الفصل ” کو قرآن کی سورتوں سے جوڑنا علم الاعداد کے حساب سے اسکا اپنا فن تھا۔ انقلاب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کو مہدی کی یاد دلائی۔ علامہ طالب جوہری نے” ظہورِ مہدی” کے حوالہ سے1987ء میں کتاب شائع کی جس میں مشرقی دجال کے مقابلہ میں حسنی سید کا ذکر ایک روایت میںہے۔ علامہ طالب جوہری نے لکھا کہ ”اس سے مراد سید گیلانی ہیں”۔
شیعہ سنی ، دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی والے سب قرآن واحادیث کی طرف متوجہ ہوں اور اسلام کے غلبے کیلئے پاکستان سے جدوجہد کا آغاز کردیں۔

 

کوروناوائرس کی شکل میڈیا پر خاردار جھاڑ کی طرح ہے۔ضریع یہی تو ہے !

فرمایا: ھل اتٰک حدیث الغاشےةOوجوہ یومئذٍ خاشعةO………’ ‘ کیا آپ کو چھا جانے والی کی خبر پہنچی ہے؟۔کچھ چہرے اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ عمل کرنے والے تھکے ہوئے ہونگے۔ ان کو چشمے کااُبلا ہوا پانی پلایا جائیگا۔ان کیلئے کھانا نہیں ہوگا مگر خاردار جھاڑ۔ جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے چھٹکارا دلائے گا۔بعض چہرے اس دن تازہ ہونگے اور اپنی محنت پر خوش ہونگے۔ وہ عالی درجہ باغات میں ہونگے۔ اس میں لغو بات نہیں سنیںگے۔ (جس طرح آج کل کی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا بکواسیات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں)اس میں چشمے بہتے ہونگے۔ اسکے اندر اونچی مسندیں ہوں گی اور پیالے رکھے ہونگے۔ گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہونگی۔ نفیس ماربل وٹائیل کے فرش بچھے ہوںگے۔ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس کو کیسے پیدا کیا؟ اور آسمان کی طرف کہ کیسے اونچا کردیا ؟، اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے جمالیا؟۔اور زمین کی طرف کہ کیسے بچھادی؟۔پس آپ ان کو نصیحت کیجئے، بے شک آپ نصیحت کرنیوالے ہیں۔ان پرآپ جبری مأمور نہیں۔ (خود کش حملوں اورجمعیت علماء اور اسلامی جمعیت طلبہ کی طرح) مگر جس نے منہ موڑا اور انکار کیا تو اللہ بڑا عذاب دے گا۔ ان لوگوں نے ہماری طرف پلٹنا ہے اور ہم پر ان سے حساب لینا ہے”۔ (سورۂ الغاشیہ)
کورونا وائرس کی خار دار جھاڑ تصویر کی شکل میں میڈیا پر دکھائی جارہی ہے۔ کتنے لوگ اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلاء ہیں۔ پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ سورة کے آغاز میں جس طرح چھا جانے والی کی بات کی خبر پہنچنے کا ذکر ہے اور پھر بعض چہرے خوفزدہ ہونے اور بعض کے تروتازہ ہونے کا ذکر ہے اس کا تعلق دنیا ہی کے معاملے سے معلوم ہوتا ہے۔ دانشور وعلماء اور امت مسلمہ کے اصحاب حل وعقد مشاورت سے اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دیں!

قرآن کریم میں اسلام کی نشاة ثانیہ یوم الفصل اور انقلاب عظیم کی واضح خبر موجود ہے۔ عتیق گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
احادیث صحیحہ میں ایک بڑے انقلابِ عظیم کی خبر موجود ہے۔ شاعر انقلاب مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے کہاکہ
آملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے
پروفیسر باغ حسین کمال،پروفیسر علی محمد ماہی، پروفیسر احمد رفیق اختر، صوفی برکت علی لدھیانوی کے علاوہ بزرگ حضرات پاکستان کے بارے میں بڑی بڑی پیش گوئیوں کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ استحصالی نظام کے ہوتے ہوئے جس طرح پہلے پاکستان دو لخت ہوا، اب اسکا قائم رہناہی دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ گھناؤنے کردار کے مالک طبقوں کی آشیرباد پر پلنے والے بزرگوں کے دل ودماغوں کیلئے اس قدر فارغ نہیں کہ ان کی زبانوں سے نکلنے والے الفاظ کی لاج رکھ لے۔ جبری جنسی تشدد سے زیادہ مدارس میں ایک ساتھ تین طلاق کے نام پر اللہ کے کلام کی توہین اور اسکی بے گناہ بندیوں کی مذہب کے نام پر عصمت دری ہے۔
قرآن میں نکاح وطلاق کے حوالے سے نہ صرف مرد اور عورت میں بہترین توازن ہے بلکہ عورت کو شوہر کے استحصال سے بچانے میں کمال کی آخری حدوں کوچھولیاگیا ہے۔ ایک طرف مرد کی غیرت کا یہ عالم ہے کہ برطانیہ میں شہزادہ چارلس لیڈی ڈیانا کو طلاق دیتا ہے تو ڈیانا اس کا یہ انتقام لیتی ہے کہ جہاں شاہی خاندان کو ٹھیس پہنچے،وہ وہیں پر شادی کرے۔ پہلے ایک پاکستانی ڈاکٹر سے شادی کی کوشش شروع کی لیکن اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ پھریہ قرعہ ایک عرب دودی الفہد کی قسمت میں آیا۔ ڈیانا فرانس کے شہر پیرس میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئی ،جس پر قتل کی سازش کا کیس عدالت کی زینت بن گیا۔ ترقی اور آزادی سے آراستہ برطانیہ میں مردوں کے اقدار کا حال اس آخری دور میں یہ ہو تو چودہ سوسال سے مسلمانوںمیں غیرت کا تناسب کیا ہوگا؟۔ ہمارے مشرقی اقدار کا تقاضہ کیاہے؟۔ مغرب پر تو بنی اسرائیل کی اجارہ داری ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام پر عزیز مصر کی بیگم نے ہاتھ ڈالا تھا اور پتہ چلا تھا کہ غلطی بادشاہ کی بیگم کی ہے لیکن اس کو تہہ تیغ کرنے کے بجائے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف کے حوالے سے اس بادشاہ کے کلچر کواپنے مذہبی اقدار کی اہم بات سمجھتے تھے۔ جس کے اثرات آج بھی مغربی اقدار میں موجود ہیں۔
ہندوستان میں نوح کے بعد ہندو قوم نے ذوالکفل کو نہ مانا جسے بدھ مت والے گوتم بدھ کہتے تھے۔ عربوں میں اسماعیل کے بعد آخری نبیۖ تک کوئی نبی نہیں آئے۔ ہندو اقدار قدیم ہیں، بابِ اسلام سندھ کی اکثریت نے بدھ مت قبول کیا تھا۔ عرب قدیم اقدار کے مالک تھے۔ نبیۖ پر سورۂ نور میں لعان کا حکم نازل ہوا تو مدینہ کے اسٹیک ہولڈرحضرت سعد بن عبادہ نے کہا کہ ہم آیت پر عمل نہ کرینگے، عورتوں کو قتل کرینگے۔ نبیۖ نے انصار سے شکایت کی تو انصار نے کہا کہ یارسول اللہ ۖ درگزر کیجئے! یہ بہت غیرت والا ہے، کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہ کی۔ ہمیشہ کنواری سے شادی کی ، جس کو طلاق دی تو اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی۔ نبیۖ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرتمند ہے۔ ( صحیح بخاری)
علماء نے پدرِ شاہی نظام کیلئے اس حدیث کی غلط تعبیر لکھ دی کہ نبیۖ نے حضرت سعد کی غیرت کی تعریف کی۔ حالانکہ نبیۖ نے سچ فرمایا تھا کہ وہ زیادہ غیرتمند ہیں، جبھی تو اللہ نے فرمایاکہ” آپ کی ازو اج سے کبھی بھی نکاح نہ کرو، اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے”۔ (القرآن)
نبیۖ کی غیرت کا یہ عالم تھا کہ احادیث کی کتابوں میں لکھاہے کہ آپۖ کو اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ پر اسکے ایک ہم زباں کا شک گزرا تو حضرت علی کو قتل کرنے کا حکم دیا مگر حضرت علی نے اس کو کنویں سے نکالا تو عضو ء تناسل کٹا ہوا تھا ، جس کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا۔ لونڈی سے کئی گنا زیادہ غیرت بیگم پر ہوتی ہے اسلئے کہ قرآن میں جس طرح آزاد بے نکاح عورتوں کے نکاح کرانے کا حکم ہے، اسی طرح سے غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کرانے کا حکم ہے۔ قرآن و احادیث میں مستقل نکاح کی طرح سے ایگریمنٹ کی بھی وضاحت ہے۔ ایگریمنٹ اور نکاح آزاد عورتوں سے بھی ہوسکتا ہے اور لونڈیوں سے بھی ۔ آج مغرب اسلام کے زیادہ قریب اسلئے ہے کہ قرآن واسلام کے فطری نظام ہی کے قریب ہے اسلئے علامہ قبال کو مشرق میں مسلمان نظر آتا ہے مگر اسلام نظر نہیں آتا اور مغرب میں مسلمان نظرنہیں آتا ہے مگراسلام نظر آتا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کا انقلاب دنیا میںنشر ہونے کا اعتراف کیا اور مسلمان ہی کو محروم قرار دیا ہے۔ پدرِ شاہی نے قرآن کے الفاظ سے بالکل غلط مفہوم لیا اور ماملکت ایماکم سے نکاح کے قانونی بندھن سے آزاد ایگریمنٹ مرادلینے کے بجائے لونڈیاں مراد لیا۔ جس کی وجہ سے اسلام کے نام پر عیاشی کرنے والا بادشاہ اور اسکے مشیراوروزیر اپنی اپنی خواہشات کے مطابق کئی ہزار اور سینکڑوں دوشیزاؤں کو محل سراؤں میں رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کی سیرت طیبہ کو اعلیٰ نمونہ اسلئے قرار دیا کہ وحی کے ذریعے ہر چھوٹی بڑی بات میں رہنمائی کا اہتمام کیا۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان عظیم کا معاملہ آیا تو نبیۖ نے شک کی بنیاد پر قتل کرنے کے بجائے آپ کو گھر جانے کی اجازت دی ۔ سورۂ نور میں زناکی سزا اور پاکدامن خواتین پر بہتان لگانے کی سزا کا حکم نازل ہوا تو بہتان لگانے والوں کو 80، 80 کوڑے لگائے گئے۔
مرد گالی دینے کو عزت سمجھے تو بہتان پر سزا کیوں؟۔ قرآن نے صرف عورت کوتحفظ دیا ۔ یہ سزا اُم المؤمنین پر بہتان لگانے والوں کیلئے بھی تھی اور ایک عام غریب ونادار عور ت پر بہتان لگانے کی بھی یہ سزا تھی۔ قرآن وسنت کا یہ قانون آج نافذ ہوجائے توپھر پدرِ شاہی نظام بالکل دھڑام سے گرے گا۔ پدرِ شاہی نے جن شخصیات اور خاندانوں کی آبیاری کی، ان کی عزت عدالتوں میں اربوںکی ہے اور عوام کی ٹکے کی عزت نہیں۔ منظور پشتین مولوی بن کر نماز پڑھاتا ہے لیکن اسلام کی انصاف پر مبنی بات نہیں کرتا۔ تعصبات کو ہوا دینا پدرِ شاہی نظام کو تقویت دینے کا سبب بنتاہے۔ مذہبی ، قومی، لسانی اورملکی تعصبات پدرِ شاہی نظام کے عالمی استعمار کوہی تقویت پہنچانے کا خواب ہیںلیکن اب انشاء اللہ یہ پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بلیک واٹر کا کردار تھا؟۔
لیکن اس وقت طارق اسماعیل ساگر جیسے لوگ سب سمجھ کر بھی کچھ نہیں کہتے تھے۔ اب افغانستان میں اشرف غنی اور طالبان کے حمایتی قتل وغارتگری کی ذمہ داری بلیک واٹر پر ہی ڈال رہے ہیں۔ دونوں طرف کے بڑے امریکہ کی گود میں بیٹھ کر امریکہ کے کردار پر بات نہیں کرسکتے اسلئے ایک طرف ہندوستان دوسری طرف پاکستان کا نام لیتے ہیں۔ اور دونوں ہی شریعت،اسلام اور قرآن کا نام لیتے ہیں۔
ہندوستان کے پاس ہندوازم کا نظام نہیں تھا اسلئے عالمی استعمار کیخلاف کھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ملا لیکن پاکستان کے پاس قرآن اور اسلام جیسی نعمت ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ علماء نے جس طرح اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ عباسی دور میں جس طرح کی اسلام سازی سے آغاز ہوا تھا، وہ اب شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے ہاتھوں بالکل آخری حدوں کو چھورہاہے۔ ایک طرف قرض سے فائدہ ہی فائدہ اٹھانے کی بنیاد پربینکنگ کا سودی نظام جائز قرار دیا گیا اور دوسری طرف اپنا چہرہ چھپاکر ویڈیوبھی نشر کردی کہ” لوگ علت اور حکمت کا فرق نہیں سمجھتے۔ اسلئے کہتے ہیں کہ سود کا تعلق ظلم سے ہے ۔جب سود میں ظلم نہ ہو تو پھر جائز ہونا چاہیے لیکن میں کہتا ہوں کہ ظلم سود سے روکنے کی حکمت ہے مگر یہ اس کی علت نہیں ۔ سود کی علت قرض پر نفع حاصل کرنا ہے۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں کہ لال بتی میں حکمت ٹریفک حادثات سے بچنا ہے مگر اس کی علت لال بتی کا جلنا ہے۔ اگر کوئی ماحول دیکھ کر لال بتی کی خلاف ورزی کریگا تو قانون کی گرفت میں آئیگا، چاہے وہ حادثہ سے بچنے کی حکمت اختیار کرے”۔ مفتی تقی عثمانی۔
دنیا نے سود کو ظالمانہ نظام تسلیم کرلیا۔ شیخ عبداللہ ناصح علوان کی کتاب ”مسلمان نوجوان”کا ترجمہ ہمارے استاذ ڈاکٹر حبیب اللہ مختارپرنسپل جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن (نیوٹاؤن) کراچی نے کیا، جس میں دنیا بھر کے معاشی ماہرین کی طرف سے سودی نظام کو ظلم کہا گیاہے۔ لیکن یہ کتاب مارکیٹ سے غائب کردی گئی اور ڈاکٹر حبیب اللہ مختار کو شہید کرکے جلاکر راکھ کردیا گیا۔
میرے گھر پر حملہ کرکے بہت سوں کو شہید کیا گیا تو میرے لئے تیزاب کے بڑے بڑے کین لائے تھے۔ میری ان سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور طالبان کے امیر نے ذمہ داروں سے قصاص لینے کا عزم بھی کیا تھا۔ قوم محسود کے نمائندے معافی تلافی کیلئے تو ساتھ آئے لیکن فیصلے کا وقت آیا تو طالبان نے ان کو کانیگرم نہیں آنے دیا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں ہندوستان کے فوجی طیارے استعمال کرکے باغی کشمیریوں کو نہیں مارتے اور پاکستان کی آرمی نے وزیرستان میں محسود قوم پر بمباری کرکے خواتین اور بچوں سمیت بہت بے گناہ افراد کو بھی شہید کردیا۔ لیکن جب دہشت گرد حملے کے بعد اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں جاتے تھے تو پوری قوم بے غیرت بن کر انکے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ مجھ پر پہلے حملہ ہوا تھا توبھی میرے ساتھ دو معصوم افراد بھی بال بال بچ گئے تھے اورپھر بھی ہمارا گھر اور ہمارے عزیز واقارب طالبان کو سپورٹ کرنے میں بے شرمی اور بے غیرتی محسوس نہیں کرتے تھے۔ کربلا کے بعد بھی طالبان کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ معاشرے میں کوٹ کوٹ کر بے غیرتی ہو تو پدرِ شاہی اور عالمی استعمار کا نام لینا حقائق سے فرار کی ایک بدترین صورتحال ہے۔
جب برطانیہ کے شہزادہ چارلس کوبھی غیرت کا سامنا تھا جس کی جھلک نجم سیٹھی کی بیگم جگنومحسن کی طرف سے ARYنیوز کے پروگرام میں نیٹ پر ملے گی تو پھر ہمارے شہروں، دیہاتوں اور قبائلی ماحول میں مردانہ غیرت اور خواتین کیساتھ مظالم کا حال کیا ہوگا؟۔ دنیا بھر میں عورت مارچ جنسی تشدد اور حقوق کیلئے آواز بلند کرتا ہے، جس نے پاکستان میں بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔
جب ریحام خان مسیج پر طلاق ملنے کے بعد بر طانیہ سے واپسی کا عزم کررہی تھی تو اس کو قتل کی دھمکیاں ملی تھیں لیکن قدرت نے اس قوم سے ایک ایسی تبدیلی کا انتقام لیا کہ عمران خان نے ایک شادی شدہ خاتون بشریٰ بی بی ہی سے خلع لینے کے بعد شادی کرلی تو قوم نے وزیراعظم بنایا اور جب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پختون کا لباس ودستار پہن کر بلاول صاحبہ پکار رہاتھا جس کو فیاض الحسن چوہان، عامر لیاقت، مراد سعید ، شہریار آفریدی اور اجمل وزیر نے بڑی داد بھی دی ہوگی لیکن وہ یہ سمجھتے تھے کہ بشری بی بی کا نکاح بھی ایک پختون مفتی محمدسعید خان نے ہی پڑھایا تھا۔ جب بہنوں اور بیٹیوں کی قیمت وصول کی جاتی ہے تو کوئی غیرت نہیں آتی ہے لیکن جب بیگم گھر میں بیٹھ جائے تو پھر غیرت کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے؟۔ غیرت کا مسئلہ الگ ہے مگر مفادات کو غیرت کا نام دینا الگ ہے۔
ہمارے کانیگرم شہر میں پڑوسی زنگی خان نے شادی کے بعد اپنی بیگم کو بیڑیاں ڈال کر قید کیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ وزیرستان میں اچانک عورت کا ریٹ بڑھ گیا ۔ اس کو فروخت کرنے والے باپ اور بھائیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ یا نئے ریٹ دو یا پھر طلاق دو اوراپنا پیسہ واپس لے لو تاکہ ہم زیادہ قیمت وصول کرکے اس کو دوبارہ فروخت کردیں۔ یہ لوگ بعد میں طالبان بن گئے اور اپنی دہشت و غیرت سے اسلام کی غیرت دنیا پر مسلط کرنے لگ گئے۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” جب دوبارہ خلافت قائم ہوگی تواسلام زمین میں جڑ پکڑے گا”۔ قرآن میں یہ انقلاب بہت واضح ہے۔ بہت ساری آیات اور سورتوں میں اس عالمگیر انقلاب کا نقشہ بہت واضح ہے۔ سورہ جمعہ، سورہ محمد اور سورہ واقعہ میں صحابہ کے بعد پھر سے ایک نئی قوم کا ذکر ہے، نئی جماعت کا ذکر ہے اور تھوڑے مقربین اور بہت ہی زیادہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھینے کوشش کی تھی کہ قوم اس طرف توجہ کرے۔ قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے چیئرمین مولانا سندھی کی اس کاوش کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن نوکری اور اختیار مل جاتا ہے تو مشکلات کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا ہے۔
غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کی روح کو نہیں سمجھا تھا اسلئے قرآن کی خدمت کے باوجود قرآن فہمی سے محروم رہاتھا۔غلام احمد پرویز سے زیادہ حنفی نصاب میں احادیث سے روگردانی کا قرآن کی بنیاد پرارتکاب ہے لیکن قرآن و سنت نہیں مسالک اورنظریات کی خدمت ہورہی ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ قرآن وسنت کے تابع بننے کے بجائے مسلک پرستی اور نفس پرستی کے تابع اسلام کو بنایا جائے۔
فاذا جاء ت الصاخةOیوم یفر المرء من اخیہ Oامہ وابیہOو صاحبتہ وبنیہ O لکل امری ئٍ منھم شان یغنیہOوجوہ یومئذ مسفرةO ضاحکة مستبشرة Oو وجوہ یومئذ علیھا غبرہ Oترھقہا قترةOاُولئک ھم الکفرة الفجرةO( سورہ ٔ عبس کی آخری آیات)
جب انقلاب کی وہ آواز آئے جو دلوں کے اندھوں کو بھی سنائی دے تو آدمی اس دن اپنے بھائی سے فرار ہوگا۔ اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اپنی بیوی، اپنے بچوں سے۔ ہر ایک اپنے سردرد میں مگن ہوگا۔ انقلاب کے داعی اچھے لوگوں کے چہروں پرخوشی نمایاں ہوگی،ان پرہنستے ہوئے بشارت کے اثرات ہونگے اور انقلاب دشمن لوگوں کے چہروں پر مجنونوں کی طرح بھاگنے اور رقص کرنے کی وجہ سے گرد وغبار چڑھا ہوگا۔ ان پر سیاہی کی تہہ چڑھی ہوگی۔ یہ وہی لوگ ہونگے جنہوں نے کفر و فجور کا راستہ اختیار کیا ہوگا۔ قرآنی احکام کو رد کرنے کا نتیجہ وہ بھگت لیںگے۔
اسلامی خلافت علی منہاج النبوة بعض مجرموں کو طوق وسلاسل پہنائے گی لیکن اس کی وجہ انتقام نہیں بلکہ اس دنیا کو انکے شر سے بچانا ہوگا۔ہندوؤں کا حکمران طبقہ زیادہ تر اس کا شکار اسلئے ہوگا کہ ہندوستان میں اسلام کا سورج ہی ہندوؤں کے ہاتھوں سے طلوع ہوگا۔ مودی کے تعصبات لتا حیا شاعرہ جیسے کروڑوں ہندوؤں کیلئے قابلِ نفرت ہے اور پاکستان میں ہندوؤں کیخلاف نفرت کو کوئی ہوا نہیں دی گئی ہے۔ جب پاکستان میں نفرت کی آگ بھڑ کائی گئی تو مشرقی پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھارت کو بھی نفرتوں کی آگ اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ جو لوگ امریکی عوام پر مہذب ہونے کا فتویٰ صادر کرتے تھے تو انہوں نے دیکھ لیا کہ کس طرح انسانیت دشمنوں نے بے گناہ لوگوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔ جب تک پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کا نفاذ نہیں ہوتا ہے تو ہماری عوام اور ریاست بھی خطرات کی منڈیر پر طوفانوں کے گھیرے میں رہے گی اور لوگوں کو استحصالی طبقات کے غیرانسانی رویوں پر سراپا احتجاج بننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ عدالتوں سے ہم انصاف کی امید نہیں رکھتے۔ سیاسی نظام کٹھ پتلی اور دلالی کا شاخسانہ ہے۔ مولوی کا اسلام فطرت کیخلاف کھڑا ہے۔ میڈیا اشتہار کیلئے مررہا ہے۔میڈیسن کا جعلی ہونا اور ڈاکٹروں کا غریب مریضوں کی کھال کھینچنا تو ایک معمول بن چکا۔ تاجر راہزن اور ٹرانسپورٹر غنڈے بن گئے ۔ ریاست اغواء برائے تاوان کیلئے غائب ہونیوالی ماں بن چکی ۔ جس کا دل دھڑکتاہوگا مگر دودھ اغواء کاروں کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن کریم جہاں آخرت کی خبر دیتا ہے اسلئے کہ سبھی نے موت کا ذائقہ چکھ لینا ہے اور ہر ایک کو قبرو آخرت سے واسطہ پڑنا ہے لیکن ساتھ ساتھ قرآن دنیاوی انقلاب سے بھی لوگوں کو آشنا کرتا ہے۔ یہود، نصاریٰ، ہندو، بدھ مت اور تمام مذاہب میں انقلاب عظیم کی خبر ہے۔ قرآن نے بھی خبردی وماھو بقول الشیطٰن الرجیمOفاین تذھبونOان ھوالا ذکر للعٰلمین ”اور یہ شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔پھر تم کہاں جارہے ہو؟۔ بیشک یہ نہیں مگر تمام جہانوں کیلئے نصیحت ہے”۔(سورۂ تکویر)
بنوامیہ و بنوعباس کے دور میں سرکاری ملاکی آبیاری ہونا شروع ہوئی۔ خلافت عثمانیہ اور انگریز کے دور سے آج تک ملاؤں اور سرکاری سرپرستی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔جمعہ کے خطبہ میں السلطان ظل اللہ فی الارض من اھان سلطان اللہ فقد اہانہ اللہ کی حدیث پڑھی جاتی ہے۔زمین میں بادشاہ اللہ کا سایہ ہے، جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی تو اس نے اللہ کی توہین کی۔ بادشاہ نے چاہے فرعون ونمرود جیسا ظالمانہ نظام نافذ کیا ہو۔ اللہ نور السموات والارض کا بھلے کوئی اپنا سایہ نہ ہو مگر ظالموں کا اعزاز یہی ہے کہ وہ اللہ کا سایہ ہیں۔ وہ کربلاؤں کی تاریخ رقم کریں اور ہم یہ آیت پڑھیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ملک کا مالک بنادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک کو چھین لیتا ہے۔ ایک طرف عوام کو ظالم وجابر حکمرانوں کے سایہ میں رہنا پڑتا ہے تو دوسری طرف انکے گماشتے زمین میں مدظلہ العالی کا استحقاق رکھتے ہیں یعنی انکے سایہ کو اللہ مزید کھینچ کر لمبا کردے۔ حکمرانوں اور مذہبی طبقات کے سایوں کا عوام کو فائدہ ہو نہ ہو مگر یہ ظل الٰہی زبردستی کیساتھ بھی اپنے سایوں کو مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔
جب انقلاب عظیم آئیگا تو دنیا میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ان جھوٹے سایوں سے اس دن چھٹکارا مل جائیگا۔ اس دن انکے سایہ میں پلنے والوں کیلئے سایہ نہیں ہوگا۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ لاظلیل اس دن کوئی سایہ ان مجرموں کیلئے نہیں ہوگا۔ اسی کیفیت کو سورۂ مدثر میں بتایا گیا ہے کہ وہ سقر میں پہنچ جائیںگے۔ القاموس المعجم میں ہے کہ سقر کھلے آسمان تلے اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ جب ان سے سورج کی تپش میں رکاوٹ نہ ہو۔ ان لوگوں کی اس خاص تعریف کا ذکر ہے کہ قرآنی آیات سے ایسے بھاگتے ہونگے جیسے گدھے بدک جاتے ہیں شیروں سے۔ ان کی یہ خواہش ہے کہ بس ان کی اپنی کتابیں نشر ہوتی رہیں، ان کو قرآن کی آیات عام کرنے سے کوئی غرض نہیں ۔
سورۂ دھر میں انقلاب کے بعد ادرک کے مزاج کے مشروبات کا ذکر ہے جس کی خاصیت قوتِ مدافعت اور بادی کا خاتمہ ہے۔ سورہ ٔ جمعہ میں واٰخرین منھم کا ذکر ہے جس سے اہل فارس مراد ہیں تو سورۂ الشوریٰ میں فرمایا کہ نبیۖ کو اللہ نے اہل مکہ اور آس پاس کے علاقوں کیلئے مبعوث کیا اور یوم جمع کیلئے بھی ۔ یوم جمع سے مراد اس دنیاوی انقلاب پر پوری دنیا کا جمع ہونا ہے جس کا ذکر تمام مذاہب کی کتابوں میں بہت واضح طور پرموجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ نبأء میں فرمایا کہ ” اور آپ سے پوچھتے ہیں ایک عظیم خبر کے بارے میں ۔جس میں لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیںگے، ہرگز نہیں عنقریب یہ جان لیںگے”۔ قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں عظیم انقلاب کی خبر دنیا سمجھ چکی ہے اسلئے کہ فارس و روم کی سپر طاقتوں کو پہلے بھی مسلمانوں نے شکست دی تھی اور کسی بھی مذہب میں یہ صلاحیت نہیں کہ اس کو اس قابل سمجھا جائے کہ کسی بڑے انقلاب کی صلاحیت رکھتا ہے۔
علامہ اقبال نے ”ابلیس کی مجلس شوری” کے حوالے سے لکھا ہے کہ شیطان کو صرف اور صرف آئین پیغمبر سے خوف ہے جو حافظِ ناموسِ زن ، مرد آزما ،مرد آفریں ہے۔
قرآن واحادیث میں ایک عظیم انقلاب کا ذکر ہے۔ اسلام نے توہمات، غلط عقیدتوں ، رسم وروایات کے غلط بندھنوںاور استحصالی معاشی نظام کو بیخ وبن سے اُکھاڑ دیا تھا اور دنیا کو حریتِ فکر کا سیاسی نظام سکھادیا تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں بہت بڑی تبدیلی آگئی البتہ مؤمنوں کا اپنا کردار یہود کے احبار اور نصاریٰ کے رھبان والا بن گیا تو دنیا نے چراغ تلے اندھیرے کی کیفیت دیکھ لی ہے۔
ارتغل غازی کے کردار، شخصیت اور ڈرامے کا مجھے کچھ پتہ نہیں ہے لیکن اتنا جانتا ہوں کہ شیطان نے پھر کوئی داؤ کھیل کر امت مسلمہ پر نقب لگادی ہے۔ دنیا میں ہمارا مسئلہ کفار اور مسلمانوں کی جنگ نہیں بلکہ کفر اور اسلام کے درمیان جنگ ہے۔ پہلے بھی طالبان بہت نیک نیتی کے ساتھ اچھے جذبے سے امریکہ کیخلاف کھڑے ہوگئے تھے لیکن پھر نتیجہ یہ نکلا کہ افغان اور پاکستان حکومت کیخلاف بھی جنگ کا دائرۂ کار بڑھادیا۔ جب تک ہم اپنے معاشرہ سے کفر نہیں نکالیںگے اور جب تک ہم اپنے مدارس سے کفر نہیں نکالیںگے اس وقت تک ہم نہ معاشرتی نظام کی اصلاح کرسکتے ہیں اور نہ ملکی اور بین الاقوامی نظام کی کوئی اصلاح کرسکتے ہیں۔مدارس کے نصاب کی اصلاح کیلئے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی، بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی اور مولانادرخواستی صاحب کی آل اولاد کے ارباب اہتمام و فتویٰ مجھے طلب کرلیں۔ سب کچھ دنوں میں صحیح سمت چلنا شروع ہوجائیگا۔ ہمیں اپنے اساتذہ کرام کا احترام ہے۔
اگر قرآن کی آیات میں ایک طرف عدت کے اندر طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش ہو، پھر عدت کی تکمیل کے بعد بھی گنجائش ہو اور پھر عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد تک بھی رجوع کی گنجائش ہو تویہ قرآن بہت بڑے تضادات کا مجموعہ بن جائیگا۔ علماء وفقہاء نے اس کی بالکل غلط اور لغو تطبیق کی ہے۔ قرآن میں رجوع کیلئے اصل مدار باہمی صلح ہے اور اسی کو قرآن میں معروف رجوع کا نام دیا گیاہے۔
میاں بیوی میں طلاق کے بعد کسی بھی مرحلے پر صلح کی ترغیب اور گنجائش موجود ہے۔ قرآن کی ہرایک آیت کا مقصد واضح ہے۔ دوسری طرف کسی بھی مرحلے پر صلح کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں ہے، اس پربھی قرآن کی ہرآیت کی بھرپور وضاحت ہے۔ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں تو قرآن کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انکے درمیان صلح میں رکاوٹ بن جائے۔ اس کی اللہ نے بار بار وضاحت بھی کی ہے۔ البتہ جب عورت جان چھڑانے پر آمادہ ہوتو پھر شوہر کیلئے اس پر زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اس کی راہ میں کسی اور شوہر سے نکاح کرنے میں رکاوٹ بن جائے۔ پھر کباب میں یہ ہڈی برداشت نہیں ہے جو اپنے معاشرے اور انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ منگیتر کو چھوڑنے کے باوجود اپنی مرضی سے شادی نہیں کرنے دی جاتی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ عورت کو طلاق دی تو پھر دوسری جگہ اس کو شوہر اپنی مرضی سے شادی کرنے نہیں دیتا ہے۔ میرے والد مرحوم نے پاکستان بننے سے پہلے ایک بیوی کو طلاق دی تھی اور پھر اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی تھی کہ جہاں شادی کرنا چاہے کرسکتی ہے تو اس کو بہت بڑے انوکھے کردار کی حیثیت دی گئی تھی۔ کمزور پر ظلم نہ کرنااصلی اور نسلی ہونے کی نشانی ہے۔ جب انقلاب آئے اور قاتل ہمارے ہاتھ چڑھ جائیں اور اعتراف جرم کرلیں تو ان پر دسترس حاصل ہونے کے بعد معاف کرنے میں ہماری روح کو بڑی تسکین ملے گی۔ صحابہ کرام اور اسلاف کا فیصلہ اور فتویٰ طلاق کے حوالے سے سوفیصد درست تھاکہ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو تو شوہر کیلئے اس وقت تک حرام ہے کہ جب تک وہ عورت اپنی مرضی سے نکاح نہ کرلے۔ آیت کا مقصد میاں بیوی کو سزا دینا نہیں بلکہ عورت کی اس ظالم سے جان چھڑانا ہے جو اس کی مرضی کا لحاظ نہیں رکھتا ہے بلکہ اپنی غیرت کیخلاف سمجھ کر اس کو اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔
قرآن وحدیث میں تین طلاق کو تین مراحل کیساتھ خاص قرار دیا گیا ہے۔ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ”طلاق دو مرتبہ میں ہے۔ پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ احسان کیساتھ چھوڑنا ہی تیسری طلاق ہے۔ نبی ۖ نے طہرو حیض کے مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے بھی تین مرتبہ طلاق کے عمل کو اس عدت کیساتھ خاص کردیا جس میں عورت کو حیض آتا ہو۔ بخاری کی کتاب تفسیر سورہ ٔ طلاق ، کتاب الاحکام، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں حدیث موجود ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد کی صورت کا ذکر ہے۔ جس میں طلاق کے بعد بیوی سے شوہر کے دئیے ہوئے مال میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے مگر جب دونوں کا اتفاق ہو کہ اگر وہ مخصوص چیز واپس نہ کی گئی تو دونوں کیلئے اللہ کی حدود پر قائم رہنا بڑا مشکل ہوگا اسلئے کہ میاں بیوی نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ۔ دونوں کی راہیں جدا ہیں، الگ الگ شادیاں دوسری جگہ ہوسکتی ہیں۔ پھر وہ چیز ملنے کا ذریعہ ہو تو پہلے سے دونوں کا ایک تجربہ رہاہے جس کی ایکسرسائز ہوسکتی ہے تو پھر وہ چیز واپس کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ معاشرے نے بھی یہی فیصلہ کیا ہو توپھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ؟۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے بعد بھی عورت کو مرضی کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ اسی کو ہی آیت230 البقرہ میں بیان کیا گیا ہے۔

ہم نے ایک ماہ میں‌ووہان کا ریکارڈ توڑا اور نمبر 2 پر آگئے. ہدیٰ بھرگڑی

ہدیٰ بھرگڑی:

رات کے ساڑھے 12بج رہے ہیں،آپ میں سے کئی لوگ نیند میں ہونگے۔ شاید کافی لوگ جاگ رہے ہونگے ۔ آج کے دن میں ہم نے ووہان سٹی کا ریکارڈ پاس کرلیا۔اور دنیابھر میں پاکستان اس وقت دوسرے نمبر پر ہے۔ پچھلے ایک مہینے کے اندر 500%کیسز کی تعداد بڑھی ہے۔ میں اس وقت اسلام آباد میں ہوں اور میرے گھر کی ساتھ والی گلی جو کہ 11-E میں ہے وہ سیل ہوچکی ہے اور آہستہ آہستہ ہم سب کی محفوظ پناہ گاہیں کورونا پوزیٹیو کے گھیرے میں آرہی ہیں۔ مجھے اس وقت 24سے 26ہزار لوگ فالو کرتے ہیں ۔ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ۔ میرے ساتھ ہر قدم پر رہے ہیں، میری بات کو آپ نے اہمیت دی، آپ نے مجھ سے اختلاف رائے بھی رکھا ہوگا میری باتوں پر مجھے سپورٹ بھی کیا ہوگا۔لیکن اس وقت ملک میں جس چیز کی کمی ہے اور جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے ایک پالیسی ریفارم کی او رابھی تک ہمیں یہاں کوئی پالیسی میں اصلاحات بالکل بھی نظر نہیں آرہی ہیں۔ 2020یہ سال جس میں ہم رہ رہے ہیں اس نے ہماری نظریں اور ہمارا دماغ کھول دیا ہے اور ہمیں یہ بھی بتادیا ہے کہ جو فیصلے ہم نے کئے ہیں اپنی حکومت سازی کیلئے وہ تمام فیصلے بہت بری طریقے سے فیل ہوچکے ہیں۔ میں کام کے سلسلے میں راولپنڈی اسلام آباد گئی ہوں ، میںہسپتالوں میں بھی جاچکی ہوں کام کے سلسلے میں اور چونکہ سوشل ورکر کے طور پر کووڈ رسپونس پر کام کرہی ہوں تو میرا اپنا تجزیہ اور آنکھوں دیکھا تجربہ ہے جو میں نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ ہم سب کے سب Death Row پر آرہے ہیں اور Death Row کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کے سب بس اب موت کے انتظار میں ہیں۔ ایک ماہ میں 500%کیسز کا بڑھ جانا ، عید کے دنوں میں لاک ڈاؤن کو چھوڑنا اور اس وقت جو صورتحال ہے کہ آپ کے بڑے بڑے شہروں میں تو پالیسی ہے دکانیں بند ہورہی ہیں پولیس چل رہی ہے سب کچھ ہورہا ہے لیکن اگر آپ چھوٹے چھوٹے شہروں میں چلے جائیں جیسا کہ راولپنڈی ہے جہاں میرا ایک دو دن پہلے چکر لگا تھا تو آپ اکا دُکا لوگوں کو ماسک پہنا ہوا دیکھیں گے ، اِکا دُکا لوگ سوشل ڈسٹنسنگ کررہے ہیں ۔ ہر چیز، ہر مارکیٹ، ہر روڈ، ہر بازار ، ہر راستہ بالکل معمول کے مطابق چل رہا ہے جیسا کہ کچھ غلط اس ماحول میں ہے ہی نہیں۔ ہم اس طرح سے دکھاوا کررہے ہیں اور اس طرح کے Denialمیں ہیں کہ ہمیں کچھ ہوگا ہی نہیں، ہم بچ جائیں گے۔ آسمان سے کوئی قوت اتریگی کچھ ہوگا کہ ہم پاکستانیوں کو اس پوری صورتحال سے بچالے گی۔ میرا اس ویڈیو کے بنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ سب لوگ جنہوں نے مجھے ہمیشہ سنا ہے ، مجھے سپورٹ کیا ہے، میری بات کو کچھ اہمیت دی ہے میں آپ سے درخواست کرتی ہوں ، اپیل کرتی ہوں کہ کل شام (5جون)آپ سب لوگ 5بجے سے لیکر 7بجے تک Twitterکے اوپر #ImposeCompleteLockdownکے ہیش ٹیگ کے ساتھ اس ٹویٹر کیمپیئن میں حصہ لیں اور اس سوشل میڈیا کو ٹول بنائیں تاکہ ہم اپنے اس احتجاج کو ریکارڈ کرسکیں کہ خدارا اس ملک کے اندر مکمل لاک ڈاؤن کو نافذ کیا جائے۔ اب اس کیلئے دلیل یہ دی جائے گی کہ ڈیلی ویجز کو کام نہیں ملے گا۔ ڈیلی ویجز کے پاس پیسے نہیں ہونگے۔ تو اس کا جواب بس اتنا سا ہے کہ جو10 بلین جمع کئے تھے پاکستان کی عوام نے ڈونیشن دیکر پیسے دیکر تاکہ ان سے کورونا وائرس کے جو متاثرین ہیں ان کو کسی قسم کی کوئی مددفراہم کی جائے ان 10بلین پاکستانی روپے سے Circular Deathہے وہ چکایا گیا ہے۔ تومطلب یہ ہے کہ ڈیلی ویجز اور غریب کوپیسے تو آپ نے ویسے بھی نہیں دینے تو کم سے کم انہیں موت کا تحفہ تو نہ دیں۔ غریب کی تو آپ نے مدد نہیں کرنی ۔ آپ نے تو صرف اور صرف سرمایہ داروں اور فیکٹری مالکان کو سہولت دینی ہے۔ آپ نے صرف Big Giant بڑے بڑے دیو جو کہ اشرافیہ ہیں اس ملک کے آپ نے تو ان کو سہولت دینی ہے ۔ جب آپ نے غریب کو کچھ دینا نہیں تو کم سے کم ان کو مرنے کی اتنی چھوٹ تو نہ دیں۔ اس طرح آزاد تو کم سے کم نہ پھرنے دیں۔ اگر کچھ دے نہیں سکتے تو اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے آپ ان کو شکار اورر چارے کے طور پر کمزور حالت میں چھوڑیں۔ یہ کس طرح کا پالیسی ریفارم ہے؟ یہ کوئی پالیسی بھی ہے کہ نہیں ؟ میں عام انسان ہوں، ایک عام اسٹوڈنٹ، ایکٹیوسٹ ہوں، میرے پاس اتنا زیادہ پاور نہیں لیکن کم سے کم دماغ ہے اور دماغ یہ دلیل دے رہا ہے کہ ہماری حکومت کر کیا رہی ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ یہ کیا پالیسی چینج ہوگا ؟ آپ نے ایک مہینے میں ووہان کا ریکارڈ توڑ دیا اور نمبر 2پر آگئے ہیں۔ آخر کیا ہے جو آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا؟۔ تو میں تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں اس سے پہلے کہ موت کا شکار ہوں، موت کی لکیر کے قریب پہنچ جائیں ، زندگی کی بقاء ا س ملک میں نا ممکن ہوجائے ، اب یہ وقت ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ چھوٹے بچوں کو … پرائیویٹ اسکول تو اسکول کھولنے کی باتیں کررہے ہیں ظاہر سی بات ہے انہیں فیس چاہئے۔ ان کو پیسے چاہئیں ان کو کوئی پرواہ تھوڑی ہے کہ چھوٹے بچوں کو کچھ ہوتا ہے اگر وہ ہلاک ہوجاتے ہیں تو ہوتے رہیں ۔ سرمایہ داری کا بس پہیہ نہیں رکنا چاہیے،جو سرمایہ مارکیٹ ہے بس وہ چلتا رہنا چاہے بیشک وہ مارکیٹ کا پہیہ غریب عوام کے خون پر ہی کیوں نہ چلے مگر اسے چلانا چاہیے۔ اگر یہ اس وقت کی پالیسی ہے تو بہت ضروری ہے کہ ہم اس پالیسی کو رد کریں اور ہم اپنی آواز اٹھائیں۔ مجھے پتہ ہے کہ ہم اسوقت بہت ہی زیادہ انتشار کا شکار ہیں ۔ ہمارے سامنے روزانہ سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی نیا پروپیگنڈہ آجاتا ہے جس میں ہم سوشل میڈیا کو استعمال کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ہماری بقاء اور مزاحمت کی جنگ ہے۔ اب جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ کیا آپ خود کو ، اپنے گھر والوں کو، اپنے بوڑھوں کو بزرگوں کو بچاسکتے ہیں یا نہیں بچاسکتے؟۔ میں ان تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں جو مجھے فالو کرتے ہیں اور ان سے بھی جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں صرف ایک بار صرف ایک بار ہمیں یہ فیور دیں کہ ہمیں جائن کریں اور ملک میں کل(5جون( سے مکمل لاک ڈاؤن کی حمایت کریں۔ برائے مہربانی ہماری اس کیمپئن میں شامل ہوجائیں اور ٹویٹر پر 5بجے سے 7بجے تک ایک طوفان کھڑا کردیں۔ کم سے کم ہمیں یہ دکھ نہیں ہوگا کہ ہم نے اپنی طرف سے یا اپنا احتجاج حکومت وقت کے سامنے نہیں رکھا۔ آپ لوگوں نے مجھے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ اس وقت بھی آپ مجھے سپورٹ کرینگے۔آپ مجھے سپورٹ کریں میری خاطر نہیں بلکہ اپنی خاطر۔ اپنے مستقبل کی بقاء کیلئے، ان لوگوں کیلئے جن کو آ پ تحفظ دینا چاہتے ہیں ،اپنے بچوں کیلئے، اپنے ان پیاروںکیلئے جن کی آپ تدفین بھی نہ دیکھ سکیں۔

پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغازمگرسمجھو توسہی! عتیق گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اسلئے نازل نہیں فرمایا کہ یہ مذہبی طبقے کا ایک کاروبار بن جائے۔ مسٹنڈے لوگ فرقہ واریت کے نام پر ایکدوسرے کی مخالفت کا بازار گرم کرکے نفرتوں کے بیج بوتے رہیں اور اپنا کاروبار چمکائیں اور عوام رشد وہدایت کی دولت سے محروم رہے ۔یہ تو قیامت تک لوگوں کی ہدایت کا آخری ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیۖ سے فرمایا کہ انک لاتھدی من احببت ” بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں”۔روایت میں ابوطالب نے آپۖ کی چاہت کے باوجود اسلام قبول نہ کیا۔ نبی ۖ نے عمر بن خطاب و عمرو بن ہشام عمروین میں ایک کیلئے ہدایت مانگی جو عمر بن خطاب کے حق میں قبول۔ عمرو بن ہشام ابوجہل ہی رہا۔ عرب دو الگ ناموں کوایک کرتے ۔ حسنین کا معنی دو حسن ہیں اور مراد حسن و حسین ہیں۔ عمرو اور عمر دو الگ نام ہے۔ آخر میں واؤ لگانے سے عمر و کا تلفظ اردومیں عمروعیار غلط مشہور ہے۔ یہ عَمر ہے اور بغیر واؤ کے عُمر ہوتا ہے۔
رسول اللہ ۖ کے ذریعے اللہ نے اقدار دکو بدل دیا تھا۔ نسب وسرداری اور دنیا داری ومالداری کو سب کچھ سمجھنے والے ابوجہل، ابولہب، امیہ، عتبہ اور ابوسفیان وغیرہ کے مقابلے میں بلال حبشی، صہیب رومی، سلمان فارسی اور حضرت ثوبان وغیرہ کے کردار نے عزت اور جگہ بنالی۔ حضرت ابوبکر و عمر ، حضرت عثمان و علی اور حضرت حسن نے خلافت راشدہ کا اعزاز حاصل کیا۔ اہلسنت اور اہل تشیع دونوں نے حضرت حسن کی شخصیت کو خاص وہ اہمیت نہ دی، جسکے وہ مستحق تھے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”خبردارظلم نہ کرنا، خبردارظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا ! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو”۔جنگ جمل وصفین میں ایک دوسرے کی گردنیں ماریں ۔آج تلخ یادوں کو مختلف انداز میں زندہ کیا جارہا ہے اور نبیۖ نے فرمایا تھا کہ میرے بیٹے حسن کے ذریعے اللہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروادے گا۔ حضرت حسن کے کردار سے خونریزی رُک گئی مگر طرزِ خلافت امارت میں بدل گیا۔ بنوامیہ پھر بنوعباس نے اقتدار کوخاندانی بنیاد پر قابو میں رکھا۔
جب خلافت کے استحقاق پر بحث چل پڑی تو دیندارطبقہ بنوعباس سے زیادہ اہلبیت کو حکومت کا حقدار قرار دیتاتھامگر ابن الوقتوں نے فیصلہ کیا کہ اہلبیت نبی ۖ کے چچازاد علی کی اولاد ہیںاور بنوعباس نبیۖ کے چچا عباس کی اولاد ہیں جس کی وجہ سے بنوعباس خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت ابوطالب کو غیرمسلم قرار دینے کیلئے کہانی گھڑی گئی یا حقیقت تھی؟ مگر بنوعباس کے خلفاء کو سپورٹ کیا گیاتھا۔ پھر یہ بھی بھول بیٹھے کہ چچا اور بھتیجے کی اولاد کی بنیاد پر خلافت کے استحقاق کا مسئلہ بنتا تھا تو پھر حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی خلافت کا کیا بنتا ہے جو چچاتھے اور نہ چچازاد بلکہ بنی ہاشم کے خاندان سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے؟۔ ڈھیرسارا مواد سیدھے سادے طریقے سے فرقہ واریت کی پیچیدگیوں کیلئے زبردست ایندھن بن گیا۔ شیعہ ، اہلسنت، معتزلہ اور بہت سے غالی اور عالی گروہوں نے جنم لیا تھا۔
احادیث کی کتب میں فضائل اہلبیت اور فضائل صحابہ کے حوالہ سے بڑا مواد تھا مگر معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچتا۔ محققِ عصرِ رواں علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی کی ضخیم تصنیف” تفتازانیہ” میں درسِ نظامی کے حوالہ سے ایک بڑی معروف شخصیت علامہ سعدالدین تفتازانی کے حوالے سے بحث ہے کہ وہ صحیح اہلسنت کے نمائندے تھے یا اہل تشیع سے متأثر تھے؟۔ درسِ نظامی کے طلبہ ہی نہیں فرقہ وارانہ ، مسلکانہ اور مذہبی معاملات سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ بڑا تحفہ ہے۔ اعتدال و توازن کی بنیادپر باکمال لوگ لاجواب سروس کی عمدہ کوشش ہے۔ تاہم انسان میں ماحولیاتی کمزوری ہوتی ہے اور اس سے کسی نہ کسی حد تک سب متأثر ہوتے ہیں اور کوئی اس سے مبرا نہیں ہوتا ہے لیکن مخالف بھی اس علمی گفتگو اور اسکے اندازِ بیان کو داد ضرور دیں گے۔
میرے نزدیک تو فرقہ واریت کی بھول بھلیوں اور پگڈنڈیوں سے نکلنے کیلئے یہ کہنے میں بھی حرج نہیں کہ اسلام کا یہ حشر کیا گیا ہے کہ جس طرح تفتازانیہ میں کتاب کی تمام علمی مباحث کو چھوڑ کر تفتازان اور تفتازانی کی نسبت کو چھوڑ کر” تفتا”کے لفظ کوالگ اور” زانی” کے لفظ کو الگ کرکے صاحبِ تصنیف کا مذاق اڑایا جائے۔ جس کا وہم وگمان بھی علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی کے افکار میں نہیں۔ سہیل وڑائچ نے ایک دن جیو کیساتھ علامہ اقبال سے خاص شغف رکھنے والے کا انٹرویو لیا۔ نیٹ پر موجود ہے جس میں وہ علامہ اقبال کی فارسی شاعری سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ”ہم پر علماء ومشائخ کا بڑا احسان ہے جن کے توسط سے اسلام ہم تک پہنچا ہے، مگر اللہ اور رسول ۖ اور جبریل حیران ہونگے کہ ہم جو اسلام لائے تھے اور ان لوگوں نے اسلام کا جوحال بنارکھا ہے اسکا اس اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ”۔
مفتی سیدشاہ حسین گردیزی نے لکھاہے کہ ” قرآن حکیم ہے لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا اللہ تعالیٰ ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری دیتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا فرمان اذا وسد الامر الیٰ غیر اہلہ تنظر الساعة جب معاملہ غیر اہل کے سپرد ہوجائے تو پھر قیامت ہی کا انتظار کیا جائے، انصاف وہیں ملے گا، اس نظام اور اس دنیا میں اس کی امید عبث ہے”۔ تفتازانیہ، صفحہ:13
اگر علامہ شاہ حسین گردیزی مولانا مودودی، مولانا احمدرضاخان بریلوی اور مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ سمیت قرآن کے تمام معروف مترجمین کا اسی آیت پر محاسبہ یا اصلاح کرتے تو یہ تفتازانیہ کی ابحاث سے زیادہ مفید ہوتا ۔سورہ بقرہ کی اس آخری آیت کا اتنا غلط ترجمہ مشہورکیا گیا ہے کہ اللہ کے کلام قرآن پاک کے اندر بھی تضاد نظر آتا ہے اور انسانی فطرت سے بھی اس کا مفہوم قطعی طورپر ہم آہنگ نہیں لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ اللہ ہم سے کیا کہہ رہا ہے بلکہ ہم بہت خشوع وخضوع کیساتھ اپنے اوپر جھوٹی رقت طاری کرکے تلاوت کے ثواب کو ہتھیانے کے درپے ہوتے ہیں۔ فلم اور ڈرامہ کے اداکاروں کی طرح عوام کو کسی حد تک انٹرٹین کرکے اپنی دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کے گر سمجھ گئے ہیں۔
میری سکینڈ وائف ( دشتی بلوچ تربت ) نے مجھ سے فون پر کہا کہ ” اللہ بھی جھوٹ بولتا ہے۔ اس نے قرآن میں کہا ہے کہ میں انسان کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر میں نے دیکھ لیا کہ مجھ پر میری طاقت سے زیادہ بوجھ آپ کی ڈانٹ سے پڑگیا تھا”۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ قرآن کو سمجھنا اب مشکل نہیں رہا، جب سوال اٹھتا ہے تو جواب آتا ہے۔ درسِ نظامی کی تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قرآن سمیت ہر معاملے پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مفاد پرست ٹولے نے درسِ نظامی پر آج قبضہ کررکھا ہے۔ ذلک الکتٰب لاریب فیہ فاتحة الکتاب کے بعدالبقرہ کا الم کے بعد پہلا جملہ ہے۔ جس پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ذٰلک اسم اشارہ دور کیلئے ہے جبکہ کتاب قریب ہے لہٰذا ھذا الکتاب ہونا چاہیے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے روایت نقل کی، جو ضروری علم کے حوالہ سے ہے، فرمایا کہ ” علیکم بالعلم وعلیکم بالعتیق تم پر علم کی پیروی لازم ہے اور تمہارے اوپر عتیق کی پیروی لازم ہے”۔ نبیۖ نے فرمایا: علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین”تمہارے اوپر میری سنت کی پیروی لازم ہے اور رشدوہدایت والے خلفاء کی پیروی لازم ہے”۔خلفاء راشدین نے مہدیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے خلافت کو خاندان کی لونڈی نہیں بنایا تھا۔ بخاری کے استاذ نعیم بن حماد نے یہ روایت چار مرتبہ اپنی کتاب ”الفتن” میں نقل کی ہے کہ عن عبداللہ بن عمروقال : قال رسول اللہ ۖ اذا ملک العتیقان عتیق العرب و عتیق الروم کانت علی ایدیھما الملاحم
حدیث نمبر1315،1349،1358،1417، عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ دوعتیقوں کوجب اقتدار ملے گا تو انکے ہاتھوں سے جنگیں جاری ہونگی ، عتیق العرب اور عتیق الروم ۔ قیامت تک بہت سی شخصیات کا احادیث میں ذکر ہے۔کئی مہدیوں اور دجالوں کا ذکر ہے۔ اگر میں اپنے بارے میں کہوں کہ میں وہ عتیق ہوں جسکا ذکر مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب میں ہے تو کوئی کم عقل یہ سوال اٹھائیگا کہ میں وہ ہوں کا جملہ غلط ہے اسلئے کہ وہ دور کیلئے آتا ہے ،آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ میں یہ عتیق ہوں۔ اردو کے اہل زبان یہ سمجھتے ہیں۔ قرآن کی آیت ذلک الکتاب لاریب فیہ پر ابوجہل وابولہب نے سوال نہ اٹھایا کہ عربی غلط ہے مگر جو لوگ گرائمر کی مدد سے عربی سیکھتے تھے انکے ذہن میں سوال اٹھ گیا۔ درسِ نظامی میں سوال وجواب رٹے رٹائے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے”۔ ترجمہ کرنیوالوں نے اپنا غلط رنگ جمایا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ ” اللہ کسی نفس کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ نفس پر اس کی طاقت سے بڑا بوجھ پڑتا ہے جبھی تو اس کی روح پرواز کرتی ہے۔ اگر اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو پھر کیا اللہ کوئی کم عقل مولوی ہے؟۔ جو سکھائے کہ ربنا ولاتحمل علینا اصرًا کما حملتہ علی الذین من قبلنا ربنا لاتحملنا مالا طاقة لنا بہ”اے ہمارے ربّ! ہم پروہ بوجھ نہ ڈال جس طرح ہم سے پہلوں پر آپ نے بوجھ ڈالا تھا ،اے ہمارے ربّ! ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا”۔ اللہ تعالیٰ انسان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھر اسی آیت کی یہ دعا بے معنیٰ ہوگی۔ اللہ نے یہ فرمایا :اللہ ہرنفس کو وسعت کے مطابق مکلف بناتا ہے( یعنی دائرہ اختیار کے مطابق اس سے پوچھ گچھ ہوگی) آرمی چیف ، وزیراعظم اور سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم کیلئے ناک رگڑوائی ۔ایران امریکہ کی جنگ چھڑنے کے خدشے پر پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم بلاسوچے سمجھے کر ڈالی مگر جس آئین میں قرآن و سنت کا سب سے اہم اور بنیادی کردار قرار دیا گیا ہو ،اسکے ترجمے میں بہت بڑی غلطی کو برداشت کرنا اسلام اور پاکستان دونوں کیساتھ غداری ہے۔ پارلیمنٹ کا مقصد اقتدار کیلئے ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچنا ہی رہ گیا ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہے شعور کا راستہ روکا گیا تو بڑا تصادم ہوسکتا ہے۔
مفتی شاہ حسین گردیزی نے حدیث لکھی کہ ”معاملہ نااہلوں کے سپردہوجائے تو پھر ساعہ کا انتظار کیا جائے”۔ ساعة سے مراد قیامت نہیں بلکہ دنیا میں دوبارہ خلافت علی منہاج النبوة کے قیام کی خوشخبری بھی ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ، مودی، عمران خان اور دنیا بھر کے موجودہ حکمرانوں پر تاریخ کے بدترین نااہلی کا گمان نہیں یقین ہے اور اس سے بڑی نااہلی کیا ہے کہ عمران خان کرپشن کیخلاف آیااور کہتا ہے کہ حکومت نے ناجائز سبسڈی دی اور ذمہ دار حکومت سے باہر جہانگیرترین ہے جس نے جہاز بھر بھرکر لوٹوں کے ذریعے لوٹوں کی مخالفت کرنے والے کی حکومت قائم کی۔ مودی کے دور میں ہندوستان، ٹرمپ کے دور میں امریکہ جل رہاہے اور سعودی عرب بدترین کرائسس میں ہے۔ایران نے جہاز گرانے کے بعد حقائق کا انکار کیا پھر اعتراف بھی کرلیا۔ یہ حکمرانوں کی نااہلی کی انتہاء ہے جو دنیا پر مسلط ہیں۔
قرآن میں باربار پڑھی جانے والی سات آیات پر مشتمل سورۂ فاتحہ اور قرآن کا خاص طور پر ذکر ہے۔ بعض مصاحف میں فاتحہ کی آیات کے نمبر دینے سے اجتناب کیا گیا ہے اور بعض میں آیت کے گول نشانOکے بغیر ہی غلط نمبر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ ایک گول نشان کااضافہ کرنے کی جرأت بھی کسی سے نہیں ہوئی ہے۔ یہ بھی قرآن کا معجزہ ہے کہ 114سورتوں میں صرف ایک توبہ کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں ہے تو کسی نے جرأت نہیں کی ہے کہ اسکا اضافہ کردیتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح سورتوں کے اپنے نام ہیں،اسی طرح عام زباں میں سورہ کی ابتدائی آیت سے مراد بھی وہی سورت لی جاتی ہے۔ جیسے سورة الاخلاص اور قل ھواللہ احد سے مراد ایک ہی سورت ہے۔ چونکہ بسم اللہ سورتوں کے آغاز میں موجود ہے اسلئے بسم اللہ کو چھوڑ کر بعض روایات میں آیا ہے کہ ہم نے نماز کی ابتداء پر الحمدللہ رب العٰلمین سنا ہے جس کا مقصد یہی تھا کہ صحابہ کرام سورۂ فاتحہ سے نمازکا افتتاح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں کم عقل اور متعصب طبقات نے اس کو دوسرا رنگ دیدیا کہ صحابہ بسم اللہ کے بغیر ہی نماز پڑھتے تھے۔پھر اس بحث کو مزید الجھاؤ کا ذریعہ بنادیا گیا کہ کس کے نزدیک بسم اللہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی؟، کس کے نزدیک فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں؟۔ کس کے نزدیک دونوں کی گنجائش ہے؟۔ پھر یہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنادیا گیا کہ امام شافعی کے نزدیک بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا حصہ ہے اور امام مالک کے نزدیک قرآن کا حصہ بھی نہیں ہے۔ احناف کے نزدیک اصل اور درست بات یہی ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے اور شبہ اتنا قوی ہے کہ اگر قرآن کی کسی آیت پر شک کیا جائے تو بندہ کافر بن جائیگا مگر بسم اللہ پر شک کرنے یا اس کا انکار کرنے سے کوئی کافر نہیں بنتا۔ بریلوی دیوبندی نصابِ تعلیم کی کتابوں ”نوالانوار” اور ” توضیح تلویح” میں یہی تعلیم دی جارہی ہے۔
پڑھایا جاتاہے کہ کتابت کی صورت میں قرآن نہیںاور فقہ وفتوے کی کتابوں میں مسائل ہیں کہ قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا اور سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے۔مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن امتحان میں ناکامی کی وجہ سے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی چھوڑ کر گئے تھے اور بفضل تعالیٰ مجھے پہلے سال کے ابتدائی مہینوں میں علم الصرف اور قرآن کی کتابت پر بحث کرنے میں ایک معتبرمفتی کو بدترین شکست دینے کی وجہ سے علامہ تفتازانی کا خطاب مل گیا تھا۔
علماء ومشائخ سب کے سب نیک وصالح ضرور گزرے ہیں اور مجھے عربی کے اس شعر کو دل سے بہت عقیدت کیساتھ گنگنانے میں بڑا زبردست لطف آتا ہے۔
احب صالحین ولست منھم لعل اللہ یرزقنی صلاحا
ترجمہ:” میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں مگر خود ان میں سے نہیں ہوںشاید کہ اللہ تعالی ان سے اس محبت کی برکت سے میری بھی اصلاح فرمادے”۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الا بذکراللہ تطمئن القلوب ” خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے”۔ آیت کے سیاق وسباق میں واضح ہے کہ یہاں آیت میں ”ذکر”سے مراد قرآن پاک ہے۔ کافروں کو اعتراض تھا کہ اللہ کی آیات ہمارے لئے اطمینان بخش نہیں اسلئے دوسری آیات نازل ہونی چاہییں۔ انکے جواب میں اللہ نے ایمان والوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ آیات سے مطمئن ہیں۔
ہم نے علماء وصوفیا کی زباں سے سن کر یقین کرلیا کہ ذکرکے وظائف مراد ہیں اور اس پر کسی دور میںخوب عمل بھی کیا بلکہ ہماری وجہ سے طلبہ اور علماء میں تصوف ہی کے ذریعے دینداری کی ایک نئی لت بھی پڑگئی۔تصوف اور تشدد دونوں کو بنیاد فراہم کرنے کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم بفضل تعالیٰ میں نے ہر میدان میں عتیق ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ جب ہماری خانقاہ کے علماء ومشائخ تصوف کی دنیا میں مست تھے تو ہم نے ان کو جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے سیاست سکھائی اور جب ہمارے شیخ حاجی عثمان پر فتوے لگے تو بڑے بڑے علماء ومشائخ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے تھے اور ہم نے طوفانوں کارخ بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگائی تھی۔
طوفان کررہاتھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے
جب مجاہدین امریکہ کیلئے لڑبھی رہے تھے اور شکایت بھی تھی تو ان کو خلافت کے راستے سے ہم نے پہلی بار آشنا کیا تھا۔ تصویر کو ناجائز سمجھا تو ایک دنیا کو اس کا مخالف بنادیا اور جب بات کھل گئی تو لگی لپٹی کے بغیر نام نہاد مفتیان اعظم کا پول کھولنے میں کوئی دیر نہیں لگائی ۔ نتیجے میں تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے جو لاؤڈاسپیکر پر نمازو آذان دینے کے قائل نہیں تھے،سرِ عام ویڈیو کے ذریعے اپنے بِلوں سے باہر آگئے۔ وہ پختون اور علماء جو کسی کو بھی مہدی کا نام لینے پر قتل کرتے تھے ،کسی حدتک پختون قبیلے کے ملاعمرسے بھی خراسان کے مہدی کا گمان کرنے لگے۔
مولانا یوسف بنوری کے شاگرد نے ” مہدی منتظر” پر کتاب لکھی۔ اپنے سے بڑا نام مولانا بنوری کا لکھ دیا ، دور سے لگتاہے کہ مولانا بنوری کی کوئی کتاب ہے۔ جس میں تفصیل سے مہدی کی حکومت قائم ہونے کے بعد کئی شخصیات اور انقلابات کا ذکر ہے۔ پھر ان کے بعد منصور کا ذکر ہے اور اس کو بھی مہدی قرار دیا گیا ہے۔ موصوف نے تمام تفصیلات کا ذکر کرنے کے باوجود لکھ دیا کہ ”ملاعمر وہی منصور تھا”۔ جب وہ مہدی آیا ہے اور نہ اسکے بعد انقلابات آئے ہیں تو پھر منصور کیسے آگیا؟۔
پاکستان میں نظام ہے، عدالت ہے، ریاست ہے، میڈیا ہے، حکومت اورعلماء ہیںبلکہ اب تو ایک سوشل میڈیاکا بھی بہت بڑا کردار ہے۔اپنا مثبت پیغام عوام تک اور اہل اقتدار تک پہنچانا بہت آسان ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے بارہ خلفاء کا ذکر احادیث کے حوالے سے کیا ہے اور لکھ دیا ہے کہ ابھی تک یہ بارہ خلفاء نہیں آئے ہیں جن پر امت کا اجماع ہوگا اور یہ سب قریش سے ہونگے۔ حضرت علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف (مرشد سیدعطاء اللہ شاہ بخاری) نے اپنی تصنیف ”تصفیہ ما بین شیعہ وسنی” میں لکھ دیا ہے کہ ”یہ بارہ خلفاء ابھی تک نہیں آئے ہیں جن پر امت کا اجماع ہوگا”۔ ہم نے نقشِ انقلاب، اخباراور کتابوں میں حدیث صحیحہ کا نقشہ بھرپور طریقے سے واضح کیا جس کی تمام مکاتب کی معروف شخصیات نے بھرپور حمایت کی، ڈاکٹر اسرار، پروفیسر غفور،جے یوآئی کے امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف، علامہ طالب جوہری ، مولانا عبدالرحمن سلفی اور اتحادا لعلماء کے مولانا عبدالرؤف۔
کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز” میں سینکڑوں علماء کی تائیدات تھیں۔میرے استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالیٰ نے لکھا کہ ” اسلام کی نشاة ثانیہ والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھنا ہوگا کہ اس امت کی اصلاح اسی طرح سے ہی ہوسکتی ہے جس طرح اس کی ابتداء میں اصلاح ہوئی تھی یعنی پہلے تعلیم تربیت اور پھر نظام کی طرف آنا ہوگا” ۔ مولانا فضل الرحمن کی نوشہرہ دیوبند کا نفرنس میں امام کعبہ کی آمد پر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے بھی عربی میں خیر سگالی کے کلمات کہے تھے اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے بھی کلمات کہے تھے۔ دونوں کی عربی ، علم واستعداد اور لہجے اور قابلیت کا اندازہ اس مختصر آزمائش سے لگایا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالی نے عربی کی تقریر میں پاکستان ، پاکستانیوں کی لاج رکھ لی اور مفتی تقی عثمانی کو مولانافضل الرحمن نے شاید اپنے باپ کا بدلہ لینے کیلئے سب کے سامنے ایکسپوز کردیا تھا۔بالکل جاہل پختون اس سے زیادہ اچھی اردو بول لیتے ہیں جو ایک عالم فاضل عربی بول رہا تھا۔
کچھ تو مفتی تقی عثمانی نے سودی زکوٰة اور بینکاری کے نظام کیلئے خالصتاًمفاد کی خاطر بھی اپنے فتوے دئیے ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ بھی لگتاہے کہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہاہے جس کے ہمارے پاس دستاویزی ثبوت بھی ہیںاور ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بڑا نالائق ہے۔ قرآن کے ترجمے کی جو ریڑ ھ ماری ہے اور جو تفسیر لکھی ہے تو اس سے اسکی نالائقی پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے۔ جب بھی ان سے سنجیدہ رابطے کی کوشش کی ہے تو انکار کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ڈنڈے کے زور پر ہم انکے خلاف بول نہیں سکتے۔ ہماری تحریرات میں لٹھ مار کی کیفیت نمایاں ہے لیکن انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور ہمارے پاس ان کی بہت کمزوریاں ہیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ہمارے مرشد حاجی عثمان نے شدید مخالفت کے دور میں ہمارے ساتھیوں کا کوڈ نام رکھا تھا، میرا نام ڈنڈے مار رکھا تھا۔ مولانا یوسف بنوری کے شاگرد نے مہدی کے حوالے سے جو کتاب میں پاکستان کے ڈنڈے والی سرکار کی طرف سے کردار کا ذکر کیا ہے۔اگر پاکستان کے اصحاب حل وعقد ہمیں کوئی کردار دیں تو پھر وہ دن دور نہیں کہ قرآن وسنت اور پاکستان کے جمہوری آئین کی مدد سے دنیا بھرمیں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجائیگا۔ علامہ اقبال کی شاعری کو پھر ہر پاکستانی گائے گا۔
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے تو فیق
مولانا ابوالکلام آزاد نے حضرت علی ، حسن علیہ السلام اور فاطمہ علیہا السلام لکھ دیا تو کل مولانا آزاد پر شیعہ کی طرف راغب ہونے کا فتویٰ لگ سکتا ہے اور صحیح بخاری کو بھی اسی بنیاد پر شیعہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مرزائی، شیعہ بریلوی کا فتویٰ لگانے والے اس بات کو سمجھ لیں کہ ختم نبوت اور سپاہ صحابہ کے مرکزی قائدین بھی ہمارے شانہ بشانہ ہونگے۔ صرف اس سے بھی قادیانی اور شیعہ پر بڑی زد پڑتی ہے کہ احادیث صحیحہ میں بارہ خلفاء قریش میں آئندہ ہر ایک پر امت کا اجماع ہوگا۔
پاکستان میں دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کا تعلق حنفی مسلک سے ہے اورمذہبی تعلیمی نصاب” درسِ نظامی ” دونوں کا ایک ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھ دیا ہے کہ ”سندھ ، بلوچستان، پنجاب، فرنٹئیر(پختونخواہ) ، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز یہی خطہ ہے ۔اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئے تو ہم اس سے دستبردار نہ ہونگے۔ حنفی مسلک کے بنیادی اصول قرآن کی طرف رجوع سے یہ انقلاب آئیگا۔ ایران کے شیعہ بھی اس کو قبول کرینگے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اہلبیت کے شاگرد تھے۔ حنفی مسلک کے علاوہ یہاں کے لوگ کسی بات کو قبول نہیں کرینگے”۔ مولانا سندھی کی تحریر قرآن کی آخری پارے کی تفسیر ”المقام المحمود” میں سورة القدر کی روشنی میں ہے اور اتفاق کی بات یہ کہ مولانا سندھی مسلم لیگ کے نہیں کانگریس کے رکن تھے اور ان کا کسی ایک خطے اور قوم پر توجہ دیکر قرآنی انقلاب برپا کرنے کی تحریک پاکستان سے پوری ہوسکتی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو بھی مسلم اکثریت والے علاقوں میں ہم قرآنی انقلاب برپا کرکے ہندوستان بلکہ دنیا کو جہالتوں کے اندھیروں سے نکال سکتے تھے۔ اسلام نفرتوں اور تعصبات کا خاتمہ کرکے انسانی بنیادوں پر انقلاب کا داعی ہے لیکن سرکاری مولوی حضرات ہمیشہ دوسروں کے آلۂ کار بن کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اسٹیبلشمنٹ کے پیداوار نوازشریف کی چشم وچراغ مریم صفدر نواز کے پیروں کے ناخن پر منظور پشتین کو قربان کردیں گے اور قوم پرستوں اور ملاؤں نے ہی اسلام، جمہوریت اور اپنی قوم کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت تھی، جہاں پختونوں اور اسلام کا اقتدار قائم ہوتا مگر قوم پرستوں اور ملاؤں نے مل کر عطاء اللہ مینگل کووزیراعلیٰ بنادیا تھا اور صوبہ سرحد میں قوم پرستوں کی اکثریت تھی مگر مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنادیا گیا۔ یہ لوگ نہ تو جمہوری ہیں ، نہ قوم پرست ہیں اور نہ اسلام کے وفادار بلکہ پرائے گو پر پادمارکر شرم بھی نہیں کھاتے ہیں۔ قوم ،وطن اور اسلام سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے لیکن اس سے بھی کوئی بڑی منافقت نہیں کہ پہلے ہندوستان کو اسلام کے نام پر دولخت کردیا کہ وطن سے محبت بولہبی ہے پھر اسلام کو وطن پر قربان کیا کہ سب سے پہلے پاکستان۔
دَ خپلے خاورے لُٹے وی کہ کانڑی
ما تہ خکاری د جنت د گلو پانڑی
مرگ پہ ژوند زما لہ چا گلہ نشتہ
کہ دے نہ کرل غنم بیا بے وانڑی
جناور ڈیر دی خو یو سپیی بل خر
پریدہ کہ سوک غاپی کہ سوک ہانڑی
د اللہ سرہ د بندگانو سہ کمی دہ؟
پہ خپل فضل زمونگ قام چھانڑی
اصلی خبرہ د تقویٰ و دکردار دہ
بے خوی سید نہ اعلیٰ یو خہ کٹانڑی
چرتہ ابولہب وابوجہل چرتہ بلال
داسے قریش نہ خلق حبشی خہ گانڑی
وینہ د پلار آدم، مینہ د مور حواء دہ
کزشہ دے تعصب لہ بالا مانڑی
پنجاپی تہ ولے وای تور شاہین
پختون دے پڑے کڑو د زانڑی
ملا پہ خپل جنت ھم اُور لگہ وی
کہ مومی بُٹی د اخزی او لانڑی
دَ وران نصاب کہ اصلاح اُو نہ شوہ
نو ورک بہ شئی د جماعت ملوانڑی
داہل حق دتاریخ بدلہ مے واخستہ
دفتوے ماہر بربنڈ دی تنڑپتانڑی
دانقلاب پہ کنڑ غرب بہ زر پوہ شے
ماگڑدولی دی دکفر ڈیر چپانڑی
عتیق ستانہ غٹ غٹ شیخان زغلی
تہ کارمہ لرہ پہ چنڑی چانڑی
” اپنی مٹی کے ڈھیلے ہوں یا پتھر، مجھے جنت کے پھولوں کے پتے دکھتے ہیں۔ موت و زندگی پرمیرا کسی سے گلہ نہیں، اگر گندم بوؤ نہیں تو پیسوگے۔ جانور دنیا میں بہت ہیںایک گدھا،دوسرا گھوڑا،چھوڑدو کوئی بھونکے یا کوئی ڈھینچو ڈھینچو کرے۔ زمین پر اچھے بندوں کی کیاکمی مگر اللہ نے فضل سے ہماری قوم کا انتخاب کیا۔ اصلی بات تقویٰ وکردار کی ہے، بد خصلت سید سے اعلیٰ وارفع اچھا خانہ بدوش ہے۔ خون باپ آدم کا محبت ماںحواء کی ہے، اُتروتعصب کے بلند مورچہ سے۔ پنجابی کو کیوں کہتے ہو کالے شاہین، پختونوں کو بنادیاہے کونجوں کی رسی۔ملا پھر اپنی جنت کو بھی آگ لگاتا ہے، اگر اسے کانٹے دارجھاڑیاں یا لائیاں مل جائیں ۔بگڑے نصاب کی اگر اصلاح نہ کی تو مسجدکے ملوانڑے( مُلے) صفحہ ہستی سے غائب ہونگے۔میں نے اہل حق کی تاریخ کا بدلہ چکادیا، فتوے کے ماہر ننگے تتر بتر ہوگئے ہیں۔انقلاب کی گھن گرج کو جلد سمجھ جاؤگے، میں نے کفر کے کافی چیتھڑے اُڑادئے ہیں۔ عتیق تم سے بڑے بڑے شیخ علماء بھاگتے ہیں،آپ غرض نہ رکھو ،ان طلبہ ملبہ سے”۔
جب خان عبدالغفار خان ، عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے گاندھی ، نہرو اور سردار پٹیل سے نہ صرف محبت رکھی بلکہ افغانستان کو چھوڑ کر بھارت کیساتھ متحدہ ایک ہندوستانی قومیت کا راگ الاپا توہم سندھی، بلوچ اور پنجابیوں سے پختونوں کو کیسے جدا کرسکتے ہیں؟۔ جمعیت علماء اسلام کو ہندوستان میں جمعیت علماء ہند کابھارت میں سیکولر اسلام پسند ہے تو پاکستان طالب زدہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ ہم تو وہ ہیں کہ اپنے وطن کے ڈھیلوں اور پتھروں کو بھی جنت کے پھولوں کی پتیاں سمجھتے ہیں۔ جس طرح نوح علیہ السلام کی بیٹے کنعان اور ابراہیم علیہ السلام کی باپ آذر سے محبت فطرت کا تقاضہ تھی اسی طرح اپنے قبیلے، شہر، علاقے، ملک اور براعظم سے محبت فطرت کا تقاضا ہے۔جب عقیدے اور نظرئیے میں دورنگی آتی ہے تو پھر ہمیشہ انسان قوتِ پرواز سے محروم رہتا ہے۔ منافق ادھر کا رہتاہے اور نہ ہی ادھر کا۔ لا الی ھا اولاء ولا الی ھا اولاء وابتغ بین ذٰلک سبیل ” نہ وہ ادھر کے ہوتے ہیں نہ ادھر کے ،دونوں کے بیچ میں راستہ تلاش کرتے پھرتے ہیں”۔
حضرت امام ابوحنیفہ کے مسلک کی بنیاد پر جو اصولِ فقہ کی تعلیم دی جارہی ہے تو اس کی بنیادی روح یہ ہے کہ قرآن کی واضح آیات کے مقابلہ میں احادیث صحیحہ کو بھی بالکل رد کردیا جائے، کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہیں ہوسکتی ہے اور اگر حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو پھر میرے مسلک کو دیوار پر دے مارا جائے۔ جو حدیث صحیحہ ہی میرا مذہب ہے۔ علامہ اقبال نے ہندوستان کے بارے میں کہا تھا کہ ”میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے یعنی ہندوستان” مگر اپنے مؤقف سے پھر رجوع کرلیا تھا۔ امام ابوحنیفہ اپنے مؤقف پر ڈٹے تھے۔ احناف کا سب سے اچھا اور اہم اصول یہ بھی ہے کہ ضعیف احادیث میں تضاد ہوتو بھی رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تطبیق دی جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلکِ حنفی کے نام پر قرآن کو بھی تضادات کا مجموعہ بنادیا گیا اور یہ سب جہالتوں کا ہی نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مالٹا کی قید سے رہائی پائی تھی تو امت کے زوال کے دواسباب بتائے ،قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی۔ مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان نے لکھا کہ ” فرقہ پرستی بھی قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے”۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے کہا کہ ” ہم نے مسلکوں کی وکالت کرتے ہوئے اپنی زندگی ضائع کردی، قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی ہے”۔ جنہوں نے زندگی بھر درسِ نظامی کی خدمت کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا وہ نصابِ تعلیم کو سمجھتے تھے کہ اس کا کیا کردار ہے؟مگر جن نالائق در نالائق در نالائقوں نے اس کواپنا سہل ذریعہ معاش سمجھ رکھا ہے انکے دل میں نہیں بلکہ پیٹ کی اوجھ اور دماغ کی رگ میں درد اُٹھ رہاہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی عصر حاضر میں مساجد کے علماء و مقتدی اور مدارس کے مفتیان اپنا حال دیکھ سکتے ہیں۔ سیاسی مذہبی علماء اور مذہبی لبادے والے فرقے ، جماعتیں اور تنظیموں کو اپنا عکس دکھائی دے سکتا ہے۔ سود کو حلال کرنے کیلئے تقلید کی بھی ضرورت نہیں ہے اور باقی ہر اس کام میں تقلید کی ضرورت ہے جن کو سود کی طرح مختلف ادوار حیلے باز اور سرکاری ملاؤں نے بدل ڈالا تھا۔ احادیث میں تو مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیاگیا ہے اور امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا مزارعت کے ناجائز اور سود ہونے پر اتفاق تھا مگر جنہوںنے اس حکم کو بدل ڈالا تھا تقلید ان حیلہ سازوں کی ہورہی ہے جن کا مسلک سرکار کی سرپرستی کیوجہ سے ہر دور میں سکہ رائج الوقت رہا ہے۔ مفتی محمود سے مولانا فضل الرحمن تک اور مفتی زرولی خان،مولانا سلیم اللہ خان ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور پاکستان کے مدارس نے مفتی تقی عثمانی ومفتی رفیع عثمانی کی طرف سے پہلے زکوٰة اور سودی بینکاری پر کسی کی بات نہیں مانی لیکن سکہ رائج الوقت سرکارکی سرپرستی کی وجہ سے عثمانی برادران ہی رہے ہیں۔ آنیوالے دور میں تاریخ کے تمام سرکاری مرغوںشیخ الاسلاموں کی طرح مفتی تقی عثمانی اور انکے فرزندوں کا ہی نام رہے گا۔ مولانا آزاد کی کتاب” تذکرہ” میں شیخ الاسلاموں کی اہل حق کے خلاف حقائق کی تاریخ پڑھ سکتے ہیں لیکن اس دور کے شیخ الاسلام کچھ کچھ قابلیت بھی رکھتے تھے اور حکومت نے باقاعدہ ان کو عہدے کا اہل سمجھ کر شیخ الاسلام کا منصب سونپا ہوتا تھا۔ یہ لوگ تو اپنے آپ ہی شیخ الاسلام بنے پھرتے ہیں۔ ان سے کوئی اپنا پوچھ ہی لے کہ بھیا شیخ الاسلام کس نے بنایا ہے؟۔
پہلی بات یہ ہے کہ طلاق و حلالہ کے حوالے سے قرآنی آیات اور احادیث میں کوئی تضاد نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی کے علاوہ تمام صحابہ میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ائمہ اربعہ کا مسلک درست تھا اور چوتھی بات یہ ہے کہ طلاق وحلالہ کے حوالے سے درسِ نظامی کی تعلیم کا تقاضہ یہی ہے کہ باہمی صلح کی بنیاد پر معروف طریقے سے عدت میں، عدت کی تکمیل پر اور عدت ختم ہونے کے عرصہ بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے اور باہمی صلح اور معروف طریقے کے بغیر عدت کے اندر بھی رجوع نہیں ہوسکتا۔ جن احکام کو قرآن وسنت و اسلاف نے پیش کیا ان کو غلط رنگ دیا گیا،وہ غیرمسلم کیلئے بھی قابلِ قبول ہیں۔

قرآن کریم عظیم الشان انقلاب کی ہی خبر دے رہا ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
دنیا میں اسلام کا تعارف مذہب ہے مگراسلام دینِ فطرت ہے۔ شیعہ وسنی علماء وذاکرین نے مذہب کو اپنا ذریعہ معاش بنارکھا ہے اور سیاست کے علمبردار اسلام کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔شیعہ کیلئے بڑی بات حدیثِ قرطاس کی ہے۔ نبیۖ نے تحریری وصیت لکھناچاہی کہ خلیفہ و امیرالمؤمنین علی ولی اللہ کو بنایا جائے۔ حضرت عمرنے کہا کہ” ہمارے لئے قرآن کافی ہے”۔ حنفی مسلک کا سارا اصولِ فقہ اسی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے کہ قرآن کے مقابلے میں صحیح احادیث قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ نبیۖ کو اپنا جانشین نامزد کرنے کا اس سے زیادہ حق تھا جس طرح حضرت ابوبکر نے اپنا جانشین حضرت عمر کو نامزد کیا تھا۔ البتہ جانشین نامزد کرنے پر اختلاف جائز تھا اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے وامرھم شوریٰ بینھم و شاور ھم فی الامر کی آیات میں اصول وضع کردیا ہے ۔صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اہل مغرب کو قیامت تک حق پر قائم ہونے کی خبر دی گئی ہے اور اس سے مغرب کا جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے۔ اسلام ہی نے دنیا کو جمہوریت سکھائی ہے اور جمہوریت کے ذریعے سے خلافت کا قیام دنیا میں آئیگا تو اس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ انصار وقریش،قریش واہلبیت کے درمیان خلافت کے استحقاق کی مہم نے اسلامی سیاسی نظام کی جڑوں کو اتنا کمزور کردیا تھا کہ حضرت ابوبکر وعمر کے بعد تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کو مسند پر شہید کردیا گیا اور پھر خونریزی ، عدمِ اعتماد اور اسلام کی روح مفقود ہونے کا سلسلہ شروع ہوا، جو آج اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے۔ اہل تشیع کی اکثریت کو قرآن اسلئے اچھا نہیں لگتا ہے کہ علی اور حسین کی اسمیں کھل کرتائید نہیں ہے اور اہلسنت کو قرآن سمجھنے کا شوق نہیں مگر اسلئے اچھا لگتا ہے کہ ہردور کے فرعون کیلئے بھی آیات پڑھی جاتی ہے کہ ” جس کو اللہ عزت دے اور جس کو ذلت دے ، جسے چاہے ملک کا اقتدار دے اور جس کو چاہے اس سے اقتدار چھین لے”۔ خلافت راشدہ کے بعد امیہ ، بنو عباس، خلافت عثمانیہ اور انگریز سرکار تک قرآن کی آیات کا سہارا لیا گیا۔ جسکے ہاتھ میں ڈنڈا تھا، اسکے گن گانے کی فقہ ایجاد کی گئی۔ ائمہ مجتہدین کے نزدیک دینی فرائض پر کوئی معاوضہ لینا جائز نہیں تھا ، احادیث صحیحہ میں زمین کو مزارعت یا کرائے پر دینا ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ سُود کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ۖ نے زمینوں کو مزارعت پر دینا بھی سُود قرار دیا۔ ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، امام مالک کے نزدیک متفقہ طور پر زمین کو مزارعت پردینا سُود اور ناجائز تھا پھر بعد میں بعض حنفی علماء نے اپنا مؤقف بدل دیا اور زمین کو مزارعت پر دینا جائز قرار دیا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت مولانا یوسف بنوری کے داماد حضرت مولانا طاسین صاحب نے بھی حقائق پر مبنی بڑی تفصیل کے ساتھ اپنا نکتہ نظر پیش کیا جس کو جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن سمیت بہت سے معتبر علماء نے بہت سراہا لیکن وہ گوشہ گمنامی کا شکار ہوئے اور مفتی تقی عثمانی نے پہلے سودی رقم سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا اور پھر بینکنگ کے سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دیا۔ آج کی طرح ہر دور میں علماء حق کا کردار پسِ منظر میں چلاگیا اور اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے والے شیخ الاسلام بن گئے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کی مشہور شخصیت حضرت مولانا قاری اللہ داد صاحب نے بتایا کہ ایک بڑے تاجر نے یہاں آکر کہا کہ تم لوگ اپنا حق ادا نہیں کررہے ہو، سُود کو مفتی تقی عثمانی نے جائز قرار دیا ہے اور آپ لوگ کھل کر ان کی مخالفت نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ ”ہماری سنتا کون ہے؟ ”۔ مولانا قاری اللہ داد صاحب مدظلہ العالی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت آپ مجھے بڑے یاد آئے۔
حیدر آباد میں مفتی تقی عثمانی کے ایک شاگرد نے الزام لگایا ہے کہ طلاق و حلالہ کے حوالے سے مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی پر دباؤ ڈالا گیاتھا۔ یہ بھونڈے الزام کسی کام کے نہیں ہیں۔ قرآن و سنت اور تمام مکاتب فکر کے ہاں اسلام کے غلبے کا تصور موجود ہے۔ اسلام کا غلبہ فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات کی بنیاد پر نہ ہوگا بلکہ اسلام آفاقی دین ہے جو انسانی فطرت کا بہترین شاہکار ہے۔ پاکستان کی سرزمین سے قوم ملک سلطنت کے ذریعے تمام مذہبی طبقات کی یکجہتی سے اللہ کا دین نافذ ہوگا اور پوری دنیا اسلام کو دیکھ کر اسکے سیاسی ، معاشی ، اخلاقی ، معاشرتی اور مذہبی معاملے کو قبول کرے گی۔ اسلام میں نسلی تعصبات نہیں، وطنی تعصبات نہیں، لسانی تعصبات نہیں ، قومی تعصبات نہیں، فرقہ وارانہ اور مذہبی تعصبات نہیں بلکہ انسانیت کا بہترین نظام موجود ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں اور ظالمانہ نظام کسی طرح سے بھی کہیں بھی قابل قبول نہیں۔ کوئی انسان ایسا نہیں جو ظلم کو اپنی فطرت کے مطابق صحیح سمجھتا ہو۔ البتہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جب وہ بالادست ہوتے ہیں تو کمزور پر ظلم کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ جب عدل کا نظام قائم ہوگا تو کوئی ظالم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ اسلام نے دنیا سے غلط اور باطل عقائد اور عقیدتوں کا جنون و جمودتوڑا تھا مگر آج فرقہ پرستی کی بنیاد پر لوگ پھر اسی جنون و جمود کا شکار ہوئے ہیں۔
غلطیاں سب سے سرزد ہوئی ہیںاور غلطیوں سے توبہ کا دروازہ موت تک بالکل کھلا ہے۔ ہم بہت سے تضادات کا زبردست شکار ہیں جب مذہبی طبقات حلال اور حرام کا تصور لیتے ہیں تو اس میں اپنے لئے گنجائش نکالتے ہیں اور دوسروں کیلئے راہ تنگ کردیتے ہیں۔ تصویر کو ناجائز سمجھتے ہیں مگر شوق سے ویڈیو بنواتے ہیں۔ پردے کو ضروری سمجھتے ہیں مگر اپنے اور پرائے کے درمیان اپنے کردار کا بہت تضاد رکھتے ہیں۔ کوئی سُود کو جائز قرار دے تو یہ رائے کا اختلاف ہے اور جوحقوق کی جنگ لڑے تو وہ اسلام کا باغی اور مرتد قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان امریکہ کی مدد کرے تو مجاہد لیکن افغان حکومت امریکہ کی آشیر باد لے تو کافر و گمراہ۔ یہ تضادات چلنے والے نہیں۔
ISIکے سابق افسر طارق اسماعیل ساگر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کو کھلی چھوٹ ملی تھی جس نے مذہبی دہشتگردوں کو پیدا کیا۔ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ میں جب دہشتگردوں سے ملتا تھا تو اس وقت پوری دنیا ان کی حمایت کرتی تھی۔ سوشل میڈیا پر دونوں بیانات موجود ہیں۔ جب مشرکین مکہ کو جہالت ، سابقہ کفر اور اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرنا معاف ہوگیا تو ہم بھی مختلف جہالتوں سے گزرے ہیں اور توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ سب کو معاف کرسکتا ہے۔ جو ہوا سو ہوا مگر اب آئندہ کیلئے کوئی درست لائحہ عمل تشکیل دیں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہوجائے۔
رسول اللہ ۖ نے حضرت ابو طالب کیلئے ہدایت کی دعا مانگی تھی مگر اہل سنت کے بقول قبول نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ۖ نے حضرت امیر معاویہ کیلئے دعا مانگی تھی کہ اللہ ان کو ہادی اور مہدی بنادے۔ حضرت امیر معاویہ کے حق میں یہ دعا قبول تھی یا نہیں مگر ان کے دورِ حکومت کو خلفاء راشدین مہدیین میں شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ اور سنی سادات ہی نہیں اہل تشیع کیلئے بھی معاویہ کے نام سے کوئی بغض نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ یزید کے بیٹے معاویہ نے اہل بیت کی وجہ سے اقتدار چھوڑ دیا تھا۔ مگر معاویہ کا معنیٰ عربی میں ٹھیک نہیں ہے۔ اسلئے یہ نام نہیں رکھا جاتا ہے۔ صاحب کشاف تفسیر کے امام جار اللہ زمحشری نے لکھا ہے کہ معاویہ اس کتیا کو کہتے ہیں جو کتوں کو شہوت پر ابھارنے کیلئے آواز نکالتی ہے۔ بھیڑئے اور لومڑی کے بچے کو بھی معاویہ کہتے ہیں۔ حضرت علامہ مفتی شاہ حسین گردیزی نے اپنی کتاب ”تفتازانیہ” میں ساری تفصیل لکھ دی ہے جو حال میں چھپی ہے اہل ذوق دیکھ سکتے ہیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام آباد عورت آزادی مارچ 2020

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وہ بھیانک دور جب دہشتگرد دندناتے پھرتے تھے اور سرکاری عمارتوں ، گاڑیوں اور شخصیات کے علاوہ مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بناتے تھے۔ لیکن ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالتا تھا۔ عمران خان کھلاڑی نے جب ڈاکٹر طاہر القادری کیساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو ایک طرف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع کیا تھا تو دوسری طرف عمران خان پنجاب پولیس کے گلوں بٹوں کو طالبان کے حوالے کرنیکی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس وقت حیاء مارچ کی نمائندگی ڈاکٹر طاہر القادری کی خواتین کررہی تھیں اور میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی عمران خان کا دھرنا کررہا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے حیاء مارچ کی نمائندگی کرنے کے بعد ایک ضمنی سیٹ کا الیکشن ہارا تو بعد ازاں اس سیاست کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ جبکہ میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی کرنے والے عمران خان کو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ سیٹیں اور ووٹ مل گئے۔ یہ کس کا کرشمہ تھا ؟ لیکن انہی خواتین نے جب پدرِ شاہی نظام کے خلاف علم بلند کردیا تو حکومت ، ریاست ، سیاست اور مذہبی طبقات کی طرف سے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی ایم کا تعلق بھی پی ٹی آئی والوں سے ہی تھا۔ جب کوئی انصاف طلب کرتا ہے تو اس کو ملک دشمن اور اسلام دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین روزانہ کی بنیاد پر جرنیلوں کو قبضہ کرنے کی دعوت گناہ دیتا تھا تو اس کی تمام دہشتگردی اور اجارہ داریوں کو برداشت کیا جاتا تھا۔
ہمارا ریاستی نظام امریکہ سے زیادہ کمزور ہے لیکن کوئی واقعہ جب امریکہ کے وائٹ ہاؤس سے صدر ٹرمپ کو بھگا سکتا ہے تو کوئی تحریک ہمارے نظام کو بھی تتر بتر کرسکتی ہے۔ جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں بینظیر بھٹو آئی تھیں تو نظام کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ حبیب جالب نے کہا تھا کہ
ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے
عورت آزادی مارچ والوں نے پدرِ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو ہر طرف سے لوگ اور ان کی جعلی لیڈر شپ انکے خلاف ہوگئی۔ نوشتہ ٔ دیوار کی ٹیم نے ثابت قدمی کے ساتھ ان نہتی خواتین کی حفاظت کا فریضہ پورا کرنے کی کوشش کی جن کو ریاست کی پولیس پر بھی اعتماد نہ تھا۔ درج بالا تصویر میں نوشتہ دیوار کی ٹیم نمایاں ہے جو خواتین پر پتھراؤ کے بعد پریس کلب سے ڈی چوک کی طرف کے سفر میں بالکل ساتھ ہے۔ سید شاہجہان گیلانی ، بلال خان ، علی خان نے بہت جرأت مندی کے ساتھ ظالموں کیخلاف مظلوموں کا ساتھ دیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سوشل میڈیا کے ورکر مرد میدان نہیں ہوتے لیکن یہ تصور غلط ثابت ہوا ہے۔
بلوچ نژاد سندھی ہدیٰ بھرگڑی وہی خاتون ہیں جس کی پہلی تقریر امریکہ کے خلاف اور طالبان کے حق میں تھی لیکن وزیرستان میں طالبان کیلئے سب سے زیادہ ایکٹو قوم محسود کے سرنڈر طالبان کو ایک مخصوص لباس پہنا کر پاکستان کا قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے جس پر پاک فوج کو دل کی گہرائی سے سلام پیش کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ بے ضمیر قومی جذبات کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنی پشت میں بارود دبا کرملکی اثاثوں اور اپنی عوام کو تباہ کررہے تھے۔ ذیل میں ہم نے شہباز تاثیر اور قاری سعد اقبال مدنی کے بی بی سی پر نشر ہونے والے انٹرویوز بھی دئیے ہیں۔ اسلام کی خاطر قربانی دینے والے طبقات میں اگر درست شعور اجاگر ہو تو پھر بعید نہیں کہ ہماری ریاست ، ہماری سیاست اور ہمارا نظام بھی بدلے اور اس کیلئے صنف نازک خواتین کی طرح صرف اور صرف آواز اٹھانے کی قربانی اللہ کے ہاں قبول ہوجائے۔

 

اسلام مشرق و مغرب کی تہذیب سے بالاتر دین ہے: عتیق گیلانی

 

جب دنیا میں جہالت کی اندھیر نگری تھی تو خانہ کعبہ کا ننگا طواف کیا جاتا تھا۔ لونڈیوں کا لباس ناف سے رانوں تک اور حسن نساء (سینے کے ابھار) تک محدود ہوا کرتا تھا۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا غیرت کا تقاضہ سمجھتے تھے ۔ مظالم کی کوئی حد طاقتور لوگوں کیلئے نہیں ہوتی تھی۔ فرقہ پرستی اور قوم پرستی نے انسانیت کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔ عرب عجم، سفید فام و حبشی اور کالے گورے کی بنیاد پر نسل آدم تقسیم تھی۔
اسلام نے لوگوں کے اقدار بدل دئیے۔ رسول ۖ نے فرمایا کہ لوگ چار وجوہات کی بنیاد پر اپنے لئے بیگمات کا انتخاب کرتے ہیں۔1: نسل و نسب کی بنیاد پر ۔ 2: مال و دولت کی بنیادپر۔ 3: حسن و جمال کی بنیاد پر ۔ 4: کردار کی بنیاد پر۔ تیری ناک خاک آلودہ ہو آپ کردار کو ترجیح دو۔
یہ روایت صحیح بخاری میں ہے اور وفاق المدارس کے صدر محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان بانی جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھ دیا ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ یہ چاروں خوبیاں عورت میں موجود ہونی چاہئیں ۔ (کشف الباری)۔ حالانکہ اس حدیث میں لوگوں کے فطری رجحانات کا ذکر ہے۔ کوئی مالی کمزوری کو دور کرنے کیلئے مالدار عورت کو ترجیح دیتا ہے تو کوئی حسن و جمال کو ترجیح دیتا ہے، کوئی نسب کو ترجیح دیتا ہے اور کوئی کردار کو ترجیح دیتا ہے۔ نبی ۖ نے فرمایا کہ تمہیں کردار کو ترجیح دینی چاہیے۔ جب کردار کو ترجیح دی جائے گی تو مالدار ، حسن و جمال اور اعلیٰ نسب والے اپنے کردار کو ہی بدلیں گے۔ جس سے معاشرے کی اقدار بدل جائیں گی۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسلام کی درست تشریح کریں گے وہی اسلام کی تعلیمات کا بیڑہ غرق کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں جب علم ہی درست نہ ہوگا تو کردار سازی کہاں ہوگی؟۔ مگر جب علم درست ہوگا تو کردار سازی کیلئے مضبوط بنیادیں ہم فراہم کرسکیں گے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم مذہبی طبقات کی ہی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ ہم مذہبی طبقات کی جہالتوں پر تنقید کرکے اپنی جانوں کے سروں کیساتھ کھیل رہے ہیں۔
جو لوگ ”میرا جسم میری مرضی” کے نام پر خواتین کے خلاف مہم جوئی کررہے ہیں وہ اپنی دانست میں درست ہی کررہے ہونگے۔ لیکن جو خواتین اپنے حقوق کا علم بلند کئے ہوئے ہیں انکی بات کو غلط رنگ دینے کے بجائے درست توجیہہ دینے کی ضرورت ہے۔ جو عورت چیخ رہی ہے، چلا رہی ہے اور غیظ و غضب کا اظہار کررہی ہے کہ مجھے رستے میں آتے جاتے تاڑ کر مت دیکھو، کہنیاں مت مارو، ریپ مت کرو، ریاست ہمیں تحفظ دے تو اسکے خلاف یہ کہنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ہم لوگوں کو اپنا جسم ہی پیش کرکے دنیا میں رہنا چاہتی ہیں۔ مینار پاکستان پارک لاہور کے قریب ہیرا منڈی ہے اور وہاں آئے روز مذہبی و سیاسی لوگ جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی انہوں نے ہیرا منڈی کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔ اب تو یہ معاملہ فیس بک کے آن لائن شاپوں سے بڑے بڑے عالی شان بنگلوں تک کھلے عام پھیلا ہوا ہے۔ ایک عورت بگڑتی ہے تو آس پاس کا پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔ کیونکہ عورتوں میں قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی حفاظت کا بڑا مادہ رکھا ہے۔ قرآن میں اس کو اللہ کی حفاظت کا نام دیا ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد پیپلز پارٹی کے خلاف بنایا گیا تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفی جتوئی ہی تھے۔ نائب صدر مولانا سمیع الحق تھے اور اس اتحاد کے نتیجے میں میاں نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا وہ اسکینڈل اخبارات کی زینت بنا جس سے علماء اور اسلامی جمہوری اتحاد کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔ میاں نواز شریف پر بھی طاہرہ سید ایکس وائف نعیم بخاری رہنما پی ٹی آئی کے حوالہ سے اسیکنڈل تھا۔ رہ گئے موجودہ امیر المؤمنین عمران خان نیازی تو ریحام خان کی طلاق کے بعد صحافیوں نے پوچھ لیا کہ تیسری شادی کا ارادہ ہے؟، عمران خان نے کہا کہ ہاں ! پھر صحافی نے پوچھا کوئی نظر میں ہے؟ ۔ عمران خان نے پھر جواب دیا کہ ہاں!۔ صحافی نے کہا کہ اسکے بارے میں کچھ بتاسکتے ہیں کہ وہ کون ہے؟۔ عمران خان نے کہا کہ نہیں!۔ صحافی نے پھر پوچھا کہ کنواری ہے، طلاق شدہ ہے یا بیوہ؟ مگر عمران خان نے اس پر مسکرا کر جواب ٹال دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بی بی بشریٰ نے خلع لیکر نکاح کرلیا۔ جیو کے تحقیقی صحافی نے میڈیا پر بتایا کہ اس وقت وہ عدت میں تھی۔ اب اس سے بڑھ کر ”میرا جسم میری مرضی” کا تصور ہوسکتا ہے؟ مگر طاقتور کیلئے قانون کچھ اور کمزور کیلئے کچھ اور ہے۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اور سعودی عرب و دیگر ائمہ مجتہدین کے نزدیک حدیث پر عمل ہوتا ہے لیکن احناف اس حدیث کو قرآن سے متصادم سمجھ کر رد کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث قرآن سے متصادم نہیں ہے اور حنفی اصولوں کے مطابق بھی احناف کیلئے قطعی قابل قبول ہونا چاہیے۔ جس کے مضبوط دلائل بھی ہیں۔
میر شکیل الرحمن نے روزنامہ جنگ میں مولانا حامد سعید کاظمی کے خلاف بالکل جھوٹی خبر لگائی تھی اور پھر کاظمی نے ایک بے گناہ قید بھی کاٹی ۔ جنگ اور جیو کے ملازمین اس گناہ کا کیا کفارہ ادا کریں گے؟ ۔ میر شکیل الرحمن کی قید ؟ ۔ وکالت کیلئے وکیل کے پاس قانونی لائسنس ہوتا ہے مگر صحافی کیلئے کسی کی وکالت یا کسی کی بے جا مخالفت صحافت پر بڑا دھبہ ہے جو قانون کیخلاف ہے۔ صحافت کا کام قوم کا شعور بیدار کرنا ہے نہ یہ کہ بلیک میلنگ کے ذریعے سے اپنے اشتہارات کے مسائل حل کرنا۔ جن صحافتی اداروں پر ذرہ برابر بھی جانبداری کا شبہ ہو تو ان کو قانون کے شکنجے میں لاکر بند کردینا چاہیے۔ کیونکہ صحافت کیلئے یہی قانون ہے۔ ہمارا کام قوم ، ملک ، ریاست اور حکومت میں شعور بیدار کرنا ہے۔