پوسٹ تلاش کریں

دیوبندی، بریلوی،شیعہ اور اہلحدیث قرآن سے پاکستان میں انقلاب لائیں: سید عتیق الرحمن گیلانی

قائد اعظم کا بریلوی اور شیعہ نے محمد علی نام کی وجہ سے ساتھ دیا، اہلحدیث اقلیت میں تھے اور دیوبندی موافق تھے اور مخالف بھی ۔ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی نے پڑھایا۔ آغا خانی تھے اور بوہری آغا خانیوں کے زیادہ قریب ہیں۔

حجاز مقدس سے اسلام کی نشاة اول ہوئی تھی تو صحابہ انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت کا خلافت کے مسئلے پر اختلاف تھا لیکن پھر بھی دنیا کی سپر طاقتوں کو فتح کرکے جنت حاصل کی!

آج پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو افغانستان، ایران ، ترکی، سعودی عرب اور تما م مسلم ممالک کیلئے یہ بہترین نمونہ ہوگا اور پھر پوری دنیا کے تمام ممالک اس کو قبول کرینگے۔

قرآن مسلمانوں کا مشترکہ اور بہت بڑا اثاثہ تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ تمام فرقے قرآن سے اپنی دلیل پکڑتے ہیں۔ قرآن پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اگر آج کے دور میں بھلے کسی طرح سے بھی عوام الناس کو قرآن کی طرف متوجہ کیا جائے تو ماضی کا بھی درست فیصلہ ہوجائیگا ، حال بھی ہمارا ٹھیک ہوجائیگا اور مستقبل کیلئے بھی ہم ایک مشترکہ لائحہ عمل بناسکیں گے۔

علامہ اقبال کا شکوہ اور جواب شکوہ اس قوم کیلئے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر موجودہ زمانے میںشاعرافکار علوی کے گلے شکوے دیکھ لئے جائیں تو بجانظر آتے ہیں۔ قرآن عربی میں ہے مگر عربوں کیلئے نہیںبلکہ ہمارے لئے بھی ہے۔ ہمیں کچھ وقت چاہیے کہ اس کو سمجھ کر اپنا لائحۂ عمل تشکیل دے سکیں۔ فرقوں نے مطالب نکالے لیکن مقاصد توحل ہوئے مسائل حل نہیں ہوئے!۔

اہل تشیع کو قرآن کی سورۂ منافقون میں بڑے صحابہ کے کردار نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنا ماحول ہے اور دین میں زبردستی کا تصور بھی نہیں اور انکے عقیدہ سے اہل سنت کو قطعًا کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا البتہ اہل تشیع کی تسکین ہوتی ہے۔ بھڑا س نکلنے کا فائدہ ہو توپھر ہمیں اپنا ظرف وسیع رکھنا چاہیے۔ مجھے پورا پورا یقین ہے کہ اہل سنت کی طرف سے برداشت کا اہل سنت کو بالکل کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور اہل تشیع کی مجبوری ہے۔

اہل تشیع ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ شعراء کے عشق وادب سے بھی ہم کچھ سیکھ لیتے تو ہمارے لئے بڑا اچھا ہوتا۔ اہل اردو کی سب سے بڑی خاتون شاعرہ پروین شاکر نے اپنے بے وفا شوہر سے جس طرح کی محبت کی ہے ،اگر ہم مسلم فرقے ایکدوسرے سے بے وفائی کے باوجود کچھ نہ کچھ ہمدردانہ جذبہ بھی رکھتے تو ہم مذہب کا چہرہ مسخ کرنے میں انسانیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افراد کا بڑا یا چھوٹا مجمع دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتے۔

اپوزیشن کی جماعتوں نے پارلیمنٹ کو توڑنے، نئے انتخابات کرانے اور فوج کی مداخلت ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے جس طرح استعفوں ، انتخابات کے بائیکاٹ اور لانگ مارچ و دھرنے کا اعلان کیا تھا کہ ہم وزیراعظم کو پکڑ کرباہر پھینک دیں گے تو اس سے ہماری قوم کے جذباتی ہونے کا پتہ لگایا جاسکتاہے ۔

ایک دو شیعہ علامہ نے اپنی مجالس میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابوسفیان کی گستاخی کی تو کراچی میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث کے بہت بڑے بڑے جلوس نکالے گئے لیکن کیا یہ سلسلہ رُک گیا؟۔ نہیں بلکہ اہل تشیع نے یوٹیوب پر مزید دِلوں کی بھڑا س نکالی ہے اور دیکھنے والے ان سے بہت متأثر بھی ہورہے ہیں۔ بعض لوگوں کی نفرتوں میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں شیعہ نے کہا کہ ہم نے ”علی” نام دیکھ کر حمایت کا فیصلہ کیاتھا اور بریلوی کہتے ہیں کہ ہم نے ”محمد” نام دیکھ کر حمایت کی تھی۔ دیوبندیوں کی جمعیت علماء ہند و مجلس احرار نے مخالفت کی تھی اور جمعیت علماء اسلام نے حمایت کی تھی لیکن مولاناابوالکلام آزادنے مخالفت اسلئے کی تھی کہ وہ مذہبی طبقات کے اسلام کو سیکولر نظام سے زیادہ خطرے کی گھنٹی سمجھتے تھے۔ جمعیت علماء ہند کو قائداعظم کا نظریہ تقسیم ہند کی سازش کے علاوہ کچھ نہیں لگتا تھا۔ جمعیت علماء اسلام ہندو مذہب سے مسلمانوں کیلئے الگ مملکت بنانے کی زبردست حامی تھی۔ لیکن موجودہ جمعیت علماء اسلام کا تعلق اس جمعیت علماء اسلام سے نہیں ہے جس نے پاکستان کی حمایت کی تھی بلکہ اسکا نظریاتی تعلق بھی جمعیت علماء ہند سے ہے۔ جب جمعیت علماء ہند برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے حق میں نہیں تھی بلکہ قوم پرست و وطن پرست جماعت تھی تو موجودہ جمعیت علماء اسلام کو بھی ملک کا غدار کہنا بہت غلط ہے۔ پاک فوج کے جن بے دماغ فلاسفروں کی طرف سے جمعیت علماء اسلام کو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے ،ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کسی فوج کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ہے۔ جب انگریز کے دور میں برصغیر پر انگریز کا قبضہ تھا تو پاک وہند کی فوج کا حلف نامہ انگریز سے وفاداری تھی اور تقسیم کے بعد اپنی فوج پاکستان اوربھارتی فوج انڈیا کی وفادار بن گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو اندھوں میں کانا راجہ تھے لیکن اسلام اور سوشلزم کے نام پر فراڈیا تھے۔ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈال کر پاک فوج نے غلط کیا اور بھٹو نے ہندوستان کی قید سے آزادی دلاکر اچھا کیا تھا۔ پھر بھٹو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا گیا تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بھٹو مسلمان نہیں تھا اور اسکے ختنے کی تصویر بھی اسلئے کھینچ لی گئی۔ اگر ختنہ نہ ہوتا تو اسکے باپ دادا کو بھی ہندو ثابت کرنا تھا۔ نوازشریف کو بھٹو پرچھوڑدیا گیا جو اسکے باپ دادا کو انگریز کے کتے نہلانے والا کہتا تھا۔ آج سوشل میڈیا پر نوازشریف کی کلاس لی جاتی ہے کہ مودی کے ایجنٹ تم پاک فوج کے خلاف بھونکتے ہو؟۔ تمہارا دادا امرتسر میں طوائف کیلئے پھولوں کے ہار لاکر بیچتا تھا اور تمہارا خاندان اسی حرام کی کمائی سے پروان چڑھا ہے۔

پیپلزپارٹی نے پرویزمشرف کو نکالنے کیلئے مسلم لیگ ق کا ساتھ دینے کے بجائے ن لیگ کیساتھ ملکر پنجاب میں شہبازشریف کو وزیراعلیٰ بنوایا تھا۔ پھر نواز لیگ نے ق لیگ کو ساتھ ملاکر پیپلزپارٹی کو دھکیل دیا تھا اور آج پرویز الٰہی کے ذریعے سے پنجاب اور مرکزمیں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے اپوزیشن کو اقتدار میں لایا جاسکتا تھا لیکن ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ خفیہ معاہدہ کرکے ق لیگ کا راستہ روکا ہوا ہے۔ جب پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت سے ن لیگ نے ق لیگ کو ساتھ ملاکر نکال باہر کیا تو پیپلزپارٹی نے مرکز میں پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم بنادیا تھا۔ یہ ن لیگ کی مہربانی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسلئے چلنے دیا جائیگا کہ پرویزالٰہی کی انٹری بالکل ہی ختم ہوجائے ۔ یہ بھی ن لیگ ہی کی مہربانی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پہلے پی ٹی ایم (PTM)کو پی ڈی ایم (PDM)سے چلتا کردیا تھا اور اب وہ پرویز الٰہی کے خلاف ن لیگ کو خوش کرنے کی سیاست پر گامزن نظر آتے ہیں۔ اگر کھریاں کھریاں کے راشد مراد کی سیاست ن لیگ کے گرد گھومتی تو سمجھ میں آتا تھا کہ مالی مفادات اور نسلی امتیازات کا کوئی چکر ہوگا لیکن جب سلیم صافی اپنے تجزئیے میں ن لیگ کا بوجھ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں تو تحریک انصاف میں جس طرح افضل چن پنجابی ہونے کے باوجود بھی اس کا کردار قابلِ فخر لگتا تھا اور پختونوں کا باعث شرم۔ اسی طرح جیو گروپ میں سلیم صافی بھی مسلم لیگ کیلئے چن کا کردار ادا کرتے تو ہمارے لئے کوئی پختون قابل فخر ہوتا۔ جیو کے صحافیوں کا بھی ن لیگ کیلئے وہ کردارہے جو تحریک انصافی رہنماؤں کا عمران خان کیلئے ہے۔

صحافی عمران خان کیلئے گیلے تیتر سے گیلی بلی کی بات زبانِ زد عام ہوگئی ہے۔ صابر شاکر نے کہا ہے کہ ”پاکستان کی عدلیہ نے امریکہ کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرکے امریکی صحافی کے نامزد ملزم عمر شیخ کو رہا کیا ہے، جب امریکہ عافیہ صدیقی کے بارے میں کہے کہ ہم اپنی عدالت میں مداخلت نہیں کرسکتے توہمارے جج صاحبان کا فیصلہ بھی ہمارے ملک کی خود مختاری کی دلیل ہے۔ اب وہ وقت گیا کہ انکے حکم پر فیصلہ کریں”۔

صابر شاکر کی بات درست ثابت ہوجائے تو منہ میں گڑ شکر، لیکن معاملہ ایسا نہیں، عافیہ صدیقی کوہم نے حوالے کیا تھا، ریمنڈ ڈیوس کو بھی ہم نے حوالے کیا تھا اور ہمارا اپنی عدالتوں پر بھی اعتماد نہیں ہے۔ جب پرویزمشرف کے خلاف فیصلہ آیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر (DG-ISPR) کی طرف سے کیا ردِ عمل آیا؟۔ ارشد ملک نوازشریف کے کیس کو سن رہاتھا اور اسکے ساتھ رابطے میں بھی تھا اور فائزعیسیٰ براہِ راست چیف جسٹس بھرتی ہوا اور اسکے ریمارکس نے کھلبلی مچائی یا اسکی بیگم نے لندن میں اپنی پراپرٹی بنائی؟۔ مجید اچکزئی کے بعد کشمالہ طارق کے بیٹے کا معاملہ بھی عدالتوں پر سوالیہ نشان لگائے گا؟۔

اگر سنی شیعہ علماء کرام کسی بھی بہانے سے قرآن کی طرف مائل ہوگئے تو پھر عوام کا شعور بڑھ جائیگا اور اسلامی بینکاری کے نام پر عالمی بینک کے اداروں سے کم ازکم ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پاکستان کو قبضہ کرنے کی حد سے بچالیں گے۔ہمارا ہدف قرآن کا نظام ہے۔

سورۂ رحمن میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر موجودہ دور کیلئے ہے۔ ٹائی ٹینِک جہاز ڈوب گیا لیکن اللہ کی ذات باقی ہے

اسلامی انقلاب کا سورۂ رحمن میں نقشہ ہے ، اپنی بیگمات خیرات حسان ہونگی اور خیموں میں دنیا کی حیاء دار شہری خواتین سیروتفریح کی مہمان ہونگی،جو ماحول کو آلودہ نہیں کریں گی۔ آیات کا درست مفہوم سمجھ میں آجائے توماحول بنے گا : سید عتیق الرحمن گیلانی

علماء نے قرآن کی آیات کو اپنی خواہشات میں ڈھال دیا۔ خیموں میں حوروں کے غلط تصور نے ایسی فضاء پیدا کردی کہ عوام اپنے گھروں میں فیملی کیساتھ قرآن کا ترجمہ بھی سن نہیں سکتے ہیں

سورۂ رحمن میں پہاڑوں جیسے جہاز کا ذکر موجودہ دور کیلئے ہے۔ ٹائی ٹینِک جہاز ڈوب گیا لیکن اللہ کی ذات باقی ہے جس کی ہرروز ہردور میں اپنی شان ہے جو جدید دور میں ثابت ہے

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تسخیر کائنات کا ذکر کیا ہے۔مذہبی اعتبار سے اہلسنت کے مسائل میں بھی آخری حد تک بگاڑ ہے اور اگر اہل تشیع کے بارہ امام جن میں سے بعض کے عباسی خلفاء سے اچھے تعلقات بھی تھے اگر جدید سائنس کی ترقی ائمہ اہلبیت کے ہاتھ سے ہوجاتی تو عالمِ اسلام کے مسلمانوں کا بہت بڑا مقام ہوتا۔ سورۂ محمد میں اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنات۔ اگر یہ آیت صرف صحابہ سے متعلق ہوتی توشیعہ ذاکرین آسمان سروں پر اٹھالیتے۔ سورۂ حجرات میں اختلاف کرنے والے راشدوں اور اعرابیوں کو خلط ملط کرنا غلط ہے اور اگر انجانے میں ایسا ہورہاہے تو اللہ نے اعرابیوں سے بھی درگزر کا فرمایا۔

اگر قرآن کی درست تفسیر ہو تو اہلسنت کا کچھ نہیں بگڑتا اسلئے کہ ائمہ اربعہ کے حوالہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ اجتہادی غلطی کا امکان ہے اور اہل تشیع کا بھی کچھ نہیں بگڑتا ہے اسلئے کہ قرآن کی درست تفسیر امام زمانہ کا حق ہے جو حالتِ غیبت میں ہیں اور شیعہ علماء کی حیثیت بھی مجتہدین کی ہے۔ البتہ قادیانیوں کا بیڑہ غرق ہوتا ہے اسلئے کہ ان کا نبی، مہدی، مسیح سب کچھ ٹائی ٹینِک جہاز کی طرح تباہ وبرباد ہوجاتا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے اعترا ف کیا کہ وہ اس بات سے پریشان تھے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں جو ترمیم ہوئی تھی وہ اس کی چیئرمینی میں سینیٹ سے پاس نہ ہو۔ قومی اسمبلی سے بل پاس ہوچکا تھا، اگر سینیٹ سے بھی پاس ہوجاتا تو قانون بن جاتالیکن سینیٹ میں پاس نہیں ہوسکا ، جس کے بعد مشترکہ سیشن میں رکھا گیا اور اس میں واقعی شیخ رشید نے ہی شور مچایا تھا۔ جمعیت علماء اسلام تو ن لیگ کے دور میں حکومت کا حصہ تھی۔ اپوزیشن کے عمران خان کی جماعت نے بھی کوئی شور نہیں مچایا ،البتہ جماعت اسلامی نے مشترکہ سیشن میں مخالفت کی تھی جوشاید اسٹیبلشمنٹ سے شاکی اسلئے ہے کہ جو کام شیخ رشید سے لیا وہ ہم سے کیوں نہ لیا؟۔

تحریک لبیک کے علامہ خادم حسین رضوی نے کمال کردیا کہ حالات ایسے بنائے کہ حکومت کو نہ صرف بل سے ہاتھ اُٹھانا پڑا بلکہ متعلقہ وزیر کو بھی نکال دیا۔ البتہ جب مولانا سمیع الحق قتل کردئیے گئے اور علامہ خادم حسین رضوی گرفتار ہوئے تو بی بی آسیہ کی رہائی اور بیرون ملک بھیجنے پر علامہ خادم حسین رضوی کے جذبات ڈیلیٹ ہوگئے تھے۔ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ والے حق کی جنگ لڑرہے ہیں یا پھر انکے خلاف جنگ لڑنے والے حق پر ہیں ؟۔ بہرحال اگر علامہ سعد رضوی کو وہاں بھیج دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سمیت اسکے جذبات کا صحیح اندازہ لگ سکے گا۔ تحریک میں لوگوں کی طرف سے چندوں کا مزہ کچھ اور ہوتا ہے اور اصلی جہاد کچھ اور ہے۔

رسول اللہۖ کی زوجہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگانے والوں میں صحابہ شامل تھے۔ کیا ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا؟۔ سعد رضوی میں اتنی جرأت ہے کہ سورۂ نور پر بات کرسکے؟۔ ریاست مدینہ میں نبیۖ کی زوجہ اور کسی غریب کی عورت پر بہتان لگانے کی سزا ایک تھی اور وہ اسی (80)کوڑے۔ پاکستان میں لٹیروں کی ہتک عزت کا دعویٰ اربوں میں ہوتا ہے اور غریب کی ٹکے کی عزت نہیں ہوتی ہے۔

قرآن میں زنا کی سزا مرد اور عورت کیلئے سو (100) کوڑے ہے۔سورۂ نور کے بعد یاد نہیں کہ نبیۖ نے کسی کو سنگسار کیا ہو۔ بخاری میں صحابی کا قول۔ حضرت عمر سے منسوب ہے کہ” اگر مجھ پر یہ الزم نہ لگتا کہ قرآن میں اضافہ کیا ہے تو رجم کی سزا قرآن میں لکھ دیتا”۔ حضرت عائشہ سے منسوب ہے کہ” رسول اللہۖ کے وصال تک رجم اور بڑے کودودھ پلانے سے رضاعت کی آیات موجود تھیں، پھر بکری نے کھالیں”۔ جب مغیرہ ابن شعبہ پر چار گواہوں میں سے تین نے مکمل گواہی دی اور چوتھے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن رجم سے بچانے کیلئے حضرت عمر نے بھرپور کردارادا کیا اور اس پر بخاری میں جمہور فقہاء کی تائید اور حضرت امام ابوحنیفہ کی مخالفت بھی بہت حیرت انگیز ہے۔ واقعہ بذات خود مضحکہ خیز ہے جس میںفقہی اختلافات ہیں۔

درسِ نظامی کے فقہی اصولوں سے مسائل کو سلجھایا جاسکتا ہے۔ انجینئرمحمد علی مرزا ایک اچھا انسان ہے لیکن کتابوں کی جہالت سے ناواقف ہے اسلئے وہ بھی لکھا پڑھا اعرابی بنا ہوا ہے۔ جید علماء کرام کی ٹیم کو میدان میں اترکر امت مسلمہ کی رہنمائی کرنی ہوگی۔ ہر مکتبۂ فکر کے بااعتماد لوگوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ درست اور غلط کی تعبیر سمجھ سکیں۔ اہلحدیث بیچاروں کے پاس بھی درست سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ ہماری استدعا ہے کہ اتحاد تنظیمات المدارس سے قابل لوگوں کی ٹیم تشکیل دی جائے اور قرآن وسنت کی تفسیر وتشریح اور تعلیم وتعبیر کا متفقہ حل نکال لیں اور مذہبی طبقات کی جنگ سب سے زیادہ اسلام کے خلاف جاری ہے اور لوگ ملحد بن گئے ہیں۔

اب آئیے اصل بات کی طرف۔ اگر ہماری تعبیر وتشریح ہمارے مخالفین کیلئے بھی قابلِ قبول نہ ہو تو ہم اپنے مؤقف سے بھی ہٹ جائیں گے لیکن وہ مضبوط دلیل دیں اور مخالفت برائے مخالفت کسی کیلئے بھی مفید نہیں اور نہ ہی اسلام کا کسی کو ٹھیکہ ملا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ ” (الرحمنOعلّم القراٰن Oخلق الانسان Oعلّمہ البیانO الشمس والقمر بحسبان Oوالنجم والشجریسجدانOوالسمآء رفعھا ووضع المیزانOالا تطغوا فی المیزانOواقیموا الوزن بالقسط ولاتخسروا المیزانO)

”رحمن ، اس نے سکھایا قرآن، انسان کو پیدا کیااور اس کو بیان سکھایا، سورج اور چاند اپنے حساب سے ہیں اور بیل اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں اور آسمان کو اس نے بلند کردیا اور میزان کاتوازن بنالیا۔ خبردار توازن میں تجاوز مت کرو۔ اوروزن کو انصاف کیساتھ قائم کرو اور میزان میں خسارہ مت کرو”۔ سورہ ٔالرحمن۔

ایک کائنات کا توازن ہے جس میں آسمان وزمین کی دو دوچیزوں سورج و چاند کا حساب سے چلنے اور زمین میں بیل و درخت کے سجدہ ریز ہونے کا ذکر کیا ہے اور اللہ نے اپنی شریعت کے احکام میں توازن رکھا ہے لیکن ہرسطح پر اس کو بگاڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ انسانی معاشرے میں میاں بیوی کی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ نے طلاق وخلع میں بہت توازن رکھا ہے لیکن مذہبی طبقات نے اس کو بگاڑ کر رکھ دیاہے۔ طلاق اور طلاق سے رجوع میں میاں بیوی کے درمیان بڑا توازن رکھا ہے لیکن مولوی نے یہ توازن کباڑ خانے سے بھی زیادہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب عام معاشرتی روزمرہ کے معاملات کا یہ حال ہے تو دوسری آیات کا کیا حشر کیا ہوگا؟۔

قرآن میں اللہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ” رحمن نے قرآن سکھایا ہے”۔ جب وقت کیساتھ قرآن کی آیات زیادہ سے زیادہ سمجھ میں آتی ہیں تو یہ رحمان ہی کا سکھانا ہے۔ ولہ الجوار المنشئٰت فی البحر کالاعلام ” سمندر میں پہاڑوں کی طرح جہاز کا تصور پہلے زمانے میں نہیں تھا”۔ یہ قرآن اللہ ہی انسان کو سکھا رہاہے۔ آیت کی تصدیق زمانہ کررہاہے کہ پہاڑوں جیسے جہاز اور قرآن کی وضاحت درست ہے اور انسان کا اس پر ایمان ہے اور اس میں کسی دوسرے استاذ کی ضرورت نہیں ہے۔ (کل من علیھا فان O ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرامO)” ہر ایک وہ ہے جس پر فنا طاری ہوگی اور تیرے ربّ کی وجہات باقی رہے گی جو جلال اور اکرام والا ہے”۔ جہاں ٹائی ٹینِک جیسے پہاڑکے برابر جہاز غرقاب ہوگئے ہیں وہاں کسی کا کوئی بڑا اور اکابرین بھی باقی نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میںچوں چراں کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یسئلہ من فی السموٰت والارض کل یوم ھو فی شان ”سوال کرتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے ، ہر دن اس کی اپنی شان ہے”۔ فرشتوں نے حضرت آدم کی پیدائش اور خلیفة الارض پر سوال کیا تھا۔ حضرت ابراہیم کی مدد کا پوچھا تھا اور جب نبیۖ کو طائف کے میدان میں تکلیف پہنچائی تھی تو فرشتوں کوعذاب کی اجازت دیکر بھیجا تھا۔ لیلة القدر کی رات فرشتے اپنے رب کی اجازت سے زمین پر اترکے آتے ہیں۔ جب زمین پر اللہ کی نافرمانیوں کو دیکھتے ہیں تو فرشتے غضبناک ہوتے ہیں یہاں تک کہ قریب ہوتا ہے کہ آسمان پھٹ پڑے لیکن اللہ اجازت نہیں دیتا ہے جس کی وجہ وہ اللہ کی تسبیح وحمد بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت کی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے ”آسان ترجمۂ قرآن میں اتنی غلط تفسیر لکھ دی ہے کہ ” فرشتے اتنی تعداد میں آسمان پر عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان ان کے بھاری بھرکم وزن سے پھٹ جائے”۔

اللہ نے فرمایا” فاذا انشقت السمآء فکانت وردة کدھان ” جس دن (دورِ انقلاب میں)آسمان سے برکات نازل ہوں گی تو زمین گلاب کے پھول کا منظر پیش کرے گی جیسا کہ چمڑہ ہو”۔ فیؤمئذٍ لایسئل عن ذنبہ انس ولاجآن ” اس دن کسی انسان اور جن سے اسکے گناہ کا نہیں پوچھا جائے گا”۔ ”مجرموں کو انکے چہروں سے پہچانا جائے گا۔وہ پیشانی کے (پریشان )بال اور(لڑ کھڑاتے) قدموں سے پکڑے جائیں گے”۔ ”یہ وہ ( انقلاب کا ) جہنم جس کو مجرم جھٹلاتے تھے۔ وہ مجرم اور انکے گرم جوش دوست اسی حالت میں گھومتے رہیں گے”۔ ” اور جو اللہ کے ہاں کھڑے ہونے کا خوف رکھتا تھا ، اس کیلئے دو جنت ہونگے”۔” ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور”۔ ” دونوں میں دو دو چشمیں ہوںگے بہنے والے”(گرم اور ٹھنڈے) ۔ ” ان میں ہر پھل سے دو دو قسم ہوں گے”۔ ” وہ ایسے فرشوں پر بیٹھیں گے جسکے تکیوں کے غلاف موٹے ریشم کے ہونگے اور باغوں کی ڈالیاں جھکی ہوئی ہوںگی”۔ ” اس میں ان کی حیاء والی وہ بیگمات ہوں گی جن کو انس اور جن نے کبھی چھوا نہیں ہوگا”۔ (طیبات ازواج سے کسی نے بدکاری نہیں کی ہوگی)”وہ یاقوت اور مرجان کی مانند ہونگی”۔ ” احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے”۔ ومن دونھما جنتان ” اور اس کے علاوہ بھی دو جنت ہونگی”( اصحاب الیمین کیلئے، دنیا اور آخرت میں) ” یہ سرسبزشاداب ہونگے”” ان میں چشمیں فوارے اُبل رہے ہونگے”۔ ” ان میں پھل، کھجور اورانار ہونگے” ۔” ان میں ان کی نیک چنی ہوئی بیگمات ہوںگی”۔ ”دنیا سے آئی ہوئی سیر وتفریح کیلئے ” شہری خواتین خیموں میںٹھہرائی ہوئی ہوں گی ‘ ‘ ۔ ان کی طرف کسی کا برائی کیلئے دھیان بھی نہیں جائے گا اسلئے کہ پاکیزہ اسلامی حکومت کی مہمان ایسی فیملیاں ہوں گی جن کو اجنبی ” مردوں اور جنات نے چھوا بھی نہیں ہوگا”۔ ” یہ لوگ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے سبز قالینوں اور نادر نسلوں کے گھوڑوں پر”۔ ” بڑی برکت والا ہے تیرے رب کا نام جو جلال اور اکرام والا ہے”۔ (سورہ الرحمن)

سورہ ٔ واقعہ میں انسانوں کی تین اقسام کا ذکر ہے۔ مقربین ، اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال مجرمین۔ گزشتہ شمارے میں سورہ ٔ الدہرکے حوالے سے پاکستان میں جس انقلاب کا ذکر کیا تھا ، اس کی جھلک سورۂ رحمن میں بھی ہے۔ انقلاب کب ہوگا؟ اسکا پتہ اللہ کو ہے لیکن جب طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو اسلامی نظام خوشیوںکا انقلاب ہوگا۔ آسمان وزمین والے حتی کے مجرم بھی خوش اسلئے ہوں گے کہ ان کو قرارِ واقعی سزا دنیا میں نہیں ملے گی۔ البتہ وہ اپنے جرائم کی وجہ سے شرمندۂ تعبیر ہونگے اور جرائم پیشہ افراد کو دنیا میں بھی مقربین اور اصحاب الیمین کے مخصوص ٹھکانے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دنیا میں یہی ان کیلئے اس جہنم کا تصور ہوگا کہ انکے شر سے دوسرے لوگ محفوظ ہونگے۔ پاکستان اپنی معاشی حالت بھی درست کرے گا۔

جب دنیا میں انسان اچھا معاشرہ تشکیل دیگا تو جنات اور پریاں بھی اپنے ماحول میں مقربین، اصحاب الیمین اور مجرمین کے تین طبقات میں دکھائی دیں گے۔

ولی کا معنی حکومت کرنا بھی ہے اورحق سے پھرجانا بھی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

ہم نے لکھ دیا تھا کہ قرآن میں ”ذنب” سے مراد نبیۖ کیلئے گناہ نہیں بلکہ بوجھ ہے ۔ عربی میں جملے کے سیاق و سباق سے الفاظ کے معانی کی وضاحت ہوتی ہے۔ ولی کا معنی حکومت کرنا بھی ہے اورحق سے پھرجانا بھی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کے بعض احکام کا تعلق حکومت اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے ہے۔ اسلام میں اولی الامر کی اہمیت کو قرآن نے اُجاگر کیا ہے جس کا مقصد قرآن وسنت اور عدل کا نفاذ ہے

بلغ ماانزل الیک من ربک …… واللہ یعصمک من الناس ” پہنچادو! جو اللہ نے آپ کی طرف نازل کیا ہے…… اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا”۔

قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا ” تبلیغ کریں آپ جو بھی اللہ نے آپ کی طرف نازل کیا ، اگر آپ نے نہیں پہنچایا تو آپ نے رسالت کو نہیں پہنچایا۔ اللہ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرے گا”۔ شیعہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں حضرت علی کی امامت مراد ہے۔ خطبہ حجة الوداع میں نبیۖ نے اللہ کے پیغام کو پہنچانے پر سب کو گواہ بنادیا اور پھر اس کے بعد غدیر خم کے موقع پر فرمایا کہ من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ” جس کا میں مولیٰ( حاکم ) ہوں تو یہ علی اس کا حاکم (مولیٰ ) ہے”۔ نبیۖ نے حدیث قرطاس میں وصیت لکھوانا چاہی کہ ایسی چیز لکھ کردیتا ہوں کہ میرے بعدتم گمراہ نہیں ہوگے لیکن حضرت عمر نے کہا کہ ”ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے”۔

اسکا جواب مولانا غلام رسول سعیدی اور مفتی محمد تقی عثمانی نے یہ دیا ہے کہ حضرت علی سے چند دن بعد نبیۖ نے فرمایا کہ میرے پاس تشت لاؤ تاکہ میں کچھ وصیت لکھ دوں تاکہ میرے بعد گمراہ نہ ہوجاؤ، تو حضرت علی نے کہا کہ مجھے زبانی بتادیجئے میں ان کو یاد رکھوں گا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو۔ …”۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبیۖ کی یہ نافرمانی نہیں تھی اور جو نبیۖ لکھوانا چاہتے تھے وہ لکھوادیا تھا۔ اس وقت کاغذ کی کمی تھی اسلئے تشت لکھنے کیلئے منگوایا تھا۔ قرآن کو بھی قرطاس پر نہیں ہڈی ، لکڑی اور درخت کے پتوں پر لکھا جاتا تھا۔

مولانا غلام رسول سعیدی مناظر تھے اور اہل تشیع کو مناظرانہ جواب دیا تھا مگر وہ جواب تسلی بخش نہیں تھا جس کو میں نے اپنی کتاب” ابر رحمت ” میں نقل کیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے یوٹیوب پر جو جواب دیا ہے وہ مزید تشویشناک ہے اسلئے کہ قرآن کو ہڈی، پتھر، لوہے اور پتیوں پر لکھا جاتا تو کچھ آیات بھی مل جاتیں اور جب قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ” اگر ہم اس قرآن کو قرطاس میں بھی نازل کرتے اور اس کو پھر چھوتے بھی ۔ پھر بھی نہیں مانتے تھے”۔ توراة، انجیل اور افلاطون کی کتاب کیلئے وہ تصورات نہیں ہیںجو قرآن کے حوالے سے گھڑ ے گئے۔ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ” تدوین القرآن” میں ان خرافات کا قلع قمع کیا گیا جو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی طرف سے دوبارہ بھی شائع کی گئی ہے اور اس کو سمجھ کر نافذ العمل کرنا ضروری ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں رسول اللہۖ نے یمن کا حاکم حضرت معاذ بن جبل کو مقرر کیا تھا تو کیا اپنے بعد کسی کو خلیفہ بنانے کی فکر تھی یا نہیں تھی؟۔ اگر نبیۖ کسی کو نامزد کردیتے تو انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت کا اختلاف بن سکتا تھا جس کی آج تک اُمت سزا کھارہی ہے؟۔

غزوۂ تبوک سے واپسی پر منافقین نے نبیۖ کی سواری کو پہاڑ کی گھاٹی کی کھائی میں گرا کر شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عمار بن یاسر نے یہ حملہ ناکام بنادیا ۔ نبیۖ نے بارہ منافق کے نام حضرت حذیفہ کو بتادئیے ۔جن کی موت پھوڑے سے واقع ہونے کی نشاندہی بھی فرمائی تھی۔ منصوبہ سازوں کو پکڑنا اور ثابت کرنا آج بھی بہت بڑا مسئلہ ہے اور جب نبیۖ کو اللہ تعالیٰ نے گارنٹی دی تھی کہ لوگوں کے شر سے اللہ بچائے گا تو یہ نبیۖ کی اپنی حکمت عملی تھی کہ ایسے لوگوں کو تہہ تیغ کیوں نہیں کیا؟۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” ان کے کھوٹ کو میں ضرور باہر نکال کر لوگوں کو بتادوں گا”۔( سورہ ٔ ،محمد)

آج اسلام اجنبیت کا شکار ہوگیا ہے۔ حضرت علی نے تشت پر نماز و زکوٰة کی تلقین کا حکم لکھ دیا ہوتا تو غلام احمد پرویز کے پیروکار پنجاب میں محمدعلی اٹکی کے مرید بلوچستان میں نماز کے حکم کو منسوخ قرار دینے کی حد تک نہ پہنچتے۔ جو لوگ نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن خلافت کا نظام نہیں مانتے ہیں تووہ بڑے مغالطے کا شکار ہیں۔ اگر حضرت عمر حدیث قرطاس لکھنے دیتے تو تبلیغی جماعت ، دعوتِ اسلامی اور مدارس خلافت کی اہمیت کو ترجیح دیتے۔

اہل تشیع پر سب سے بڑا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ نبیۖ کیسے حضرت عمر کی وجہ سے اتنی بڑی امانت کو لکھوانے سے رُک سکتے تھے؟۔ جواب شیعہ یہ دے سکتے ہیں کہ جب حضرت زید نے اپنی بیوی سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی تو نبیۖ کے دل میں تھا کہ وہ اس طلاق شدہ سے پھر دلجوئی کیلئے نکاح بھی کرلیںگے مگر یہ خوف بھی تھا کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ اسلئے کہ منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی کو بھی حقیقی بہو کی طرح حرام سمجھاجاتا تھا۔ لیکن اللہ نے فرمایا وتخش الناس واللہ احق ان تخشٰہ ”اور آپ لوگوں سے ڈرتے ہیں اور اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے”۔

اس پر عثمان علی داتا گنج بخش اور مولانا اشرف علی تھانوی کی کتابوں میں جو گل کھلائے گئے ہیں ان پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کی ضرورت ہے جو حنفی اصولِ فقہ کے مطابق ہیں لیکن ان پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو زبردست حیرت ہوگی اور یہ مسائل عالمی فورم پربھی شائع ہورہے ہیں اور اسکا ترجمہ ارود زبان میں بھی آچکا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبیۖ کی ذات کیلئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے بچانے کا وعدہ کیا تھا تو کیا جس امام یا خلیفہ کو مقرر کرتے تو اسکے ساتھ بھی وعدہ تھا؟۔ قرآن کے الفاظ میں بھی نہیں ہے اور حضرت عمر وعثمان اور حضرت علی و حسین کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ شیعہ سنی خلفاء اور ائمہ کیساتھ یہ وعدہ نہیں تھا۔ جن اختلافات پر افہام وتفہیم سے کام ہوسکتا ہے ، شیعہ سنی مل بیٹھ کر ان معاملات کا حل نکالیں۔ جب تک اہل تشیع کے مہدی غائب تشریف نہیں لاتے ہیں تو پاکستان اور عالم اسلام پر جمہوری طرز کا متفقہ حکمران مقرر کرنے کی ایک کوشش کرلیتے ہیں۔ اہل تشیع کی مسجد کے امام کو بھی پیش نماز کہا جاتا تھا اور اب ایران میںآیت اللہ خمینی کو بھی امام کہتے ہیں۔

احادیث میں اہلبیت کے فضائل ہیں لیکن جب بنوامیہ و بنوعباس کے دور میں اہلبیت کے وہ امام موجود تھے جن کو شیعہ سنی عقیدت کی نظروں سے دیکھتے ہیں تو ان کودبایا گیااور امام مہدی کے انتظار میں بیٹھ گئے ۔ اگر قرآن واہلبیت سے وہ مراد ہیں تو اہل تشیع انتظار کریں لیکن جب تک امام کا ظہور نہیں ہوتا ہے تو کیا شیعہ سنی ایکدوسرے سے لڑتے ہی رہیں گے؟۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ”الحاوی للفتاویٰ ” میں لکھ دیا ہے کہ جن بارہ امام کا ذکر حدیث میں ہے وہ ابھی تک نہیں آئے ہیں کیونکہ ان پر امت کا اجماع ہوگا۔ اگر نبیۖ نے اہلبیت کو کشتی نوح سے تشبیہ دی ہے تو اہلبیت کو ایسے زمانے سے ابتداء کرنی چاہیے کہ جب امت ہلاکت کے کنارے پہنچ چکی ہو۔ افغانستان، عراق، شام ، لیبیا تباہ ہوگئے تو کیا ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی تباہی کا بھی انتظار کرنا چاہیے ؟۔ یا امت کو مشترکہ لائحۂ عمل سے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی سازشوں کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے؟۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ فتح میں نبی ۖ کو اگلے پچھلے بوجھ سے چھٹکارا دلانے کا یقین صلح حدیبیہ کے تناظر میں کیا تھا۔ جب نبیۖ کے صحابہ ان شرائط پر صلح کیلئے راضی نہیں تھے ، یہاں تک کہ حضرت علی نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی کاٹنے سے انکار کردیا تھا۔ پھر صحابہ معاہدے پر راضی ہوگئے تو نبیۖ کے بوجھ کو اللہ نے ختم کردیا۔ البتہ نبیۖ کو اپنے بعد خلافت کے حوالے سے بھی بوجھ کا سامنا تھا اسلئے کہ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ پہلے انبیاء کرام کے کچھ خلفاء جانشین رشدوہدایت کی راہ پر چلتے تھے اور بعد میں ناخلف جانشین اس راہ سے پھر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زبردست تسلی دی تھی کہ آنے والا بوجھ بھی میں اتار دوں گا۔ جب حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر نے خلافت کی تو آپ کی وفات پر حضرت علی نے آپ کی تعریف فرمائی ہے۔ نہج البلاغہ

شیعہ سنی کے اندر بہت اچھے اچھے علامہ اور خطیب بھی ہیں جو اس نازک صورتحال کو سمجھ کر بہت احترام کیساتھ اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کو معاملہ حل ہونے پر یقین نہیں ہوتا ہے۔ ڈر اور خوف کی ایک فضاء موجود ہے اور جب اعتماد کا فقدان ختم ہوجائیگا تو گھمبیرمسائل کاحل بھی نکل آئیگا۔

نبی ۖ نے من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ سے اپنا بوجھ اتار دیا تھا لیکن اگر اس کو تسلیم کرلیا جاتا تو وحی کے ذریعے سے نبیۖ سے مجادلہ اور اختلاف کا فیصلہ قرآن میں اترتا تھا ۔ اگر نبیۖ کے نامزد کردہ خلیفہ سے اختلاف کیا جاتا تو پھر اُمت کی کیاروش ہوتی؟۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے اختلاف کی گنجائش تھی لیکن حضرت علی سے خلافت بلافصل کی عقیدت کیا ہوتی؟۔ یزید اور مروان کی طرح مسلمانوں پر اہلبیت مظالم نہ کرتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صحابہ کرام نے نبیۖ سے اختلاف رکھا تھا۔ بعض معاملات پر اللہ نے صحابہ کرام ہی کی تائید بھی فرمائی ہے لیکن جن لوگوں نے حضرت علی سے بے انتہاء عقیدت رکھی وہی خوارج بن کر حضرت علی کے دشمن بن گئے۔ قرآن نے انتہاء پسندی کا نہیں اعتدال کا راستہ بتایا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے اپنے بیٹے کو بچانے کا عرض کیا تو اللہ نے فرمایا کہ انہ عمل غیر صالح انہ لیس من اہلک ” بیشک وہ غیرعمل غیر صالح تھا اور بیشک وہ آپ کی اہل میں سے نہیں تھا”۔ یہ نہیں فرمایا کہ ان عملہ غیر صالح کہ اسکا عمل غیر صالح تھا بلکہ فرمایا کہ وہ بذات خود عمل غیر صالح تھا۔ قابیل بھی نافرمانی کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا تو اسکے کرتوت بھی غلط تھے۔ سورۂ تحریم میں اللہ نے لوط ونوح کی بیگمات کے بارے میں فرمایا کہ کانتا تحت عبدین صالحین فخانتا ھما ” وہ دونوں میرے صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر پھر انہوں نے ان دونوں سے خیانت کی” بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی اور اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت کبھی خراب نہ ہوتا”۔ آج زمانہ قرآن وسنت کی تصدیق کررہاہے۔

حضرت ام ہانی حضرت ابوطالب سے نبیۖ نے مانگی تھی لیکن عطاء نہیں کی گئی۔ پھر نبی ۖ نے مانگا تو اس نے خود انکار کیا اور پھر اللہ نے فرمایا کہ” جن چچا کی بیٹیوں نے ہجرت آپ کیساتھ کی وہ ہم نے آپ کیلئے حلال کی ہیں”۔ پھر الا ملکت یمنک کی اجازت دیدی۔ بخاری کے شارح علامہ بدر الدین عینی حنفی نے نبیۖ کیلئے اٹھائیس (28)ازواج کاذکرکیا اور حضرت ام ہانی کو بھی ان میں شمار کیا ہے۔ نبیۖ نے حضرت صفیہ سے نکاح کا تعلق رکھا اور اُم ہانی سے متعہ یا ایگریمنٹ کا۔

اگر شیعہ اپنے مخصوص ماحول میں حضرت ام ہانی کے حوالہ سے اہلسنت کے کسی غلیظ عالمِ دین کی زبان سے حضرت ام ہانی پر خبیث اور مشرک کے حوالے سے آیت پڑھ کر ماحول کو آلودہ کریں تو کیا یہ قابلِ برداشت ہوگا؟۔غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے لیکن کیا مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں؟ اور سود کھانے کو اللہ اوراسکے رسول کیساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے لیکن کیاہم اس پر عمل نہیں کررہے ہیں؟حدیث میں سود کے ستر (70)سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیا گیا ہے لیکن کیا ہم سود سے رُک گئے ہیں؟۔

شیعہ ہر بات میں منطق نکالنے کے بجائے حقائق سیکھیں ۔ خود مشکل میں پڑیں نہ دوسروں کو ڈالیں۔ وجادلہم بالتی ہی احسن ” اور ان سے لڑائی کا یہ طریقہ اختیار کریں کہ یہ اچھا ہوتا”۔ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس” خشکی اور سمندر میں فساد لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی سے ہے”۔ صحابہ کے دور میں جو کچھ ہوا تھا ،ان میں ایکدوسرے پرذمہ داری ڈالنے کا فائدہ نہیں ہے۔ ہم اپنے معاملات کو سیدھا کریں تو اللہ حق کا راستہ سب کو دکھا دے گا۔سنجیدہ مسائل کا متفقہ حل نکالنے کیلئے حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے اور افہام وتفہیم کا راستہ نکالے۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

قرآن وسنت میں اہل تشیع کے امامیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن میں اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ اور اولی الامر کی حیثیت سے رسول اللہۖ سے بھی اختلاف کی گنجائش ہے مگر امامیہ میں اختلاف کی گنجائش نہیں!

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولٰکنّ اللہ حبّب الیکم الایمان و زےّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان

(اُولٰئک ھم الرّٰشدونO) اور جان لو ! کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول ہے، اگر بہت سے امور میں وہ تمہاری بات مان لیں تو تم خود ہی مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ نے تمہارے دلوں…

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا” اور جان لو! بیشک تمہارے اندر اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات اکثر امور میں مان لیں تو تم مشکل میں پڑجاؤ۔اور لیکن اللہ نے تمہارے اندر ایمان کی محبت ڈالی اور اس سے تمہارے دلوں کو مزین کردیااور تمہیں کفراور فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا اور یہی لوگ راشدین ہیں۔ اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے۔اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اگر مؤمنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو انکے درمیان صلح کراؤ۔ اور اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پس جب پلٹ آئے تو انکے درمیان صلح کراؤ عدل کیساتھ۔اور انصاف کرو۔بیشک اللہ انصاف والوں کو پسند فرماتا ہے، بیشک مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔ پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔اور اللہ سے ڈرو ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں کسی دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ اپنی جانوں پر طعن وتشنیع کرو۔ اور نہ ایکدوسرے کو بُرے القاب سے پکارو۔ برا ہے فسق نام بعد ایمان کے۔ اور جو اس روش سے توبہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ اے ایمان والو! زیادہ گمان سے اجتناب برتو۔بیشک بعض ظن گناہ ہوتے ہیںاور نہ کوئی ایکدوسرے کی غیبت کرے۔ کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے؟۔ توتم اس سے کراہیت کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم والا ہے۔ اے لوگو! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں برادری و قبائل میں تقسیم کردیا تاکہ تمہاری شناخت ہو۔ بیشک تمہارے اندر زیادہ عزتدار وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والاخبروالا ہے۔ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے اور لیکن تم کہو کہ ہم اسلام لائے۔ اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ اور اگر تم نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی تو تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ بیشک ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ۔پھر انہوں نے کوئی شک نہیں کیا۔ اور اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا، اللہ کی راہ میں۔ وہی لوگ سچے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اللہ کو اپنے دین کا بتا رہے ہو؟۔ اور اللہ جانتا ہے جوکچھ آسمانوںاور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ آپ کو جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ہیں۔کہہ دیجئے کہ مجھے مت جتاؤ اپنے اسلام کو بلکہ اللہ نے تمہارے اُوپر احسان کیا ہے کہ ایمان کیلئے رہنمائی کی ہے اگر تم سچے ہو۔ بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کررہے ہو۔ (سورۂ الحجرات آیت7 سے آخر تک)

اہل تشیع نے اپنی عوام کو اس قدر متنفر کردیا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش بھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان ، ایران، افغانستان، ہندوستان اور عرب وعجم میں عوام کی حیثیت بالکل اعرابیوں کی طرح ہے۔ وہ قرآن سے اپنی اصلاح نہیں چاہتے بلکہ اپنا اسلام کیش کرکے مسلط کررہے ہیں۔ بلکہ اعراب سے بھی کئی درجے آگے نکل چکے ہیں۔

سورۂ محمد کے حوالے سے ان باتوں کی نشاندہی کردی جسکے مخاطب آج کے دور سے لیکر پہلے دور کے مسلمان اور مؤمنین ہیں۔ بنی امیہ کے جن حکمرانوں نے تاریخی مظالم کئے ہیں وہ اہلسنت کی مستند تاریخ اور احادیث کی کتب میں بھی ہیں۔ فرقہ واریت اور سینہ زوری ایکدوسرے کو قرآنی آیات کی تفہیم سے بھی دُور کررہی ہیں۔

سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون نے رسول اللہۖ سے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی۔ جب میں نے علامہ طالب جوہری صاحب سے کہا کہ رسول اللہ ۖ سے اختلاف کی گنجائش تھی ؟۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے سورۂ مجادلہ کا حوالہ دیا تو اس نے قرآن منگوایا۔ قرآن میں سورۂ مجادلہ کی آیات پڑھ لینے کے بعد علامہ نے کہا کہ یہ متشابہات ہیں۔ محکم آیات ہیں کہ رسول سے اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ پھر میں نے بدر ی قیدیوں کے بارے میں فدیہ کا حوالہ دیا۔ اُحد کے موقع پر بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کا حوالہ دیا۔ عبداللہ بن مکتوم کے حوالہ سے آیات کا حوالہ دیا اور جب کل کسی چیز کے بارے میں کوئی وعدہ کریں تو انشاء اللہ کہنے کا حوالہ دیا اور ان آیات کی اہل تشیع کے ہاں امام کیلئے بھی گنجائش نہیں ہے۔ علامہ جوہری صاحب نے کہا کہ میرے تحفظات اپنی جگہ پر لیکن آپ اپنی محنت کریں ہوسکتا ہے کہ ہمارے لئے بھی آسانی پیدا ہوجائے۔ وہاںکافی لوگ موجود تھے۔

قرآن میں اولی الامر کیساتھ اختلاف کی گنجائش ہے۔ اہل تشیع کے ہاں کسی امام سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآنی آیت کی انتہائی گمراہ کن تحریف کی حد تک غلط ترجمہ وتشریح کی اور حدیث سے بھی انتہائی مضحکہ خیز نتائج نکالے ہیں۔ ان کی کتاب ” تقلید کی شرعی حیثیت” پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور ہوسکتا ہے کہ مارکیٹ سے کتاب غائب کی ہو۔ معروف شیعہ سنی عالم کی خستہ حالی اسلئے بتارہاہوں کہ یہ پہلے دور کے اعرابیوں سے بڑھ کر اعرابی بنے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ حجرات کی آیات میں صحابہ کرام سے فرمایا کہ ” جان لو!اللہ کے رسول ۖ تمہارے اندر ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہاری مان کر چلیں تو تم مشکل میں پڑجاؤگے”۔ کوئی شک نہیں ہے کہ حدیث قرطاس میں حضرت عمر نے رسول اللہ ۖ کو وصیت لکھنے میں اپنی بات منوائی تھی اور اس کی وجہ سے صحابہ کرام کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ انصار ومہاجرین کے درمیان خلافت کے مسئلے پر فتنہ وفساد برپا ہونے کی مشکل کھڑی ہوگئی تھی اور اہلبیت وصحابہ بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہوگئے تھے۔ رسول اللہۖ جنگوں میں جھنڈے کی خدمت جس ترتیب سے صحابہکے حوالے کرتے ،اسی ترتیب سے صحابہ نے باری باری جھنڈا اٹھایا تھا۔

اہل تشیع یہ بات سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ رسول اللہۖ سے اپنی بات منوانے کی بھی اللہ نے قرآن میں کہیں اجازت دی ہوگی اور اسکے باوجود اللہ نے یہ بھی فرمایا : ” اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈالی ہے اور تمہیں کفر، فسوق اور گناہوں سے متنفر کردیا ہے اور یہی لوگ راشدین ہیں ۔ اللہ کے فضل اور نعمت سے”۔ اہل تشیع کے ہاں یہ تصور بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ امام سے اختلاف رکھنے والے کو اتنی رعایت کا مستحق سمجھا جائے جتنا اللہ نے رسول اللہ سے اپنی اکثر بات منوانے والوں کو بھی رعایت نہیں بلکہ اپنے فضل سے بہترین صفات کا حامل قرار دیدیا ہے۔

اہل تشیع میں اتنا ظرف بھی نہیں کہ مؤمنوں کے دوگروہوں میں لڑائی کے باوجود دونوں کو مؤمن قرار دے۔ اگر دونوں میں صلح ہوجائے اور صلح کیلئے کردار ادا کرنے والا اہل تشیع کا اپنا دوسراامام ہو تب بھی اہل تشیع کو یہ بات مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔ مؤمنوں کے دونوں گروہ کو آپس میں قرآن بھائی بھائی قرار دیتا ہے مگر اہل تشیع تک ان کے بڑوں نے قرآن کی یہ تعلیم پہنچانے کی زحمت نہیں کی۔ ہزارہ برادری پرمظالم ہوتے ہیں تو ہمارا دل دکھتا ہے لیکن فرقہ واریت کو ہوا دینے والے کو اپنی فیس کی پڑی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ایکدوسری قوم کا مذاق اڑانے سے روکا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بہتر ہو جس کا مذاق اڑایا جارہاہے لیکن ہمارے اندر یہ حس بھی بیدار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا ہے۔ دونوں فرقوں میں ایکدوسرے سے اچھے اور ایکدوسرے سے برے ہرطرح کے لوگ موجود ہیں۔

سنی شیعہ کو کھٹمل اور شیعہ سنی اکابرکو کیا کہتے ہیں؟۔ لیکن اللہ نے اس برائی سے روکا ہے اور ایمان کے بعد ایسے فسق کے ناموں سے پکارنا بہت برا قرار دیا ہے۔ لیکن یہ تو ایمان والے نہیں اسلام والے اعرابیوں کی طرح ہیں۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ جو ان حرکتوں سے توبہ نہیں کرتا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ظن سے بھی اجتناب کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بہت سارے ظن گناہ ہوتے ہیں۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں میں سے ایک گمان کرتے ہیں اور یہود آپ کے بارے میں ولد الزنا کا ظن رکھتے ہیں۔ اہلبیت وصحابہ کے حوالہ سے شیعہ سنی اپنے بہت سارے ظنوں میں افراط وتفریط کا شکار ہوکر گمراہ ہوگئے ہیں۔

اللہ نے تجسس اور غیبت سے بھی منع کیا اور غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پھر اللہ نے ایک ہی آدم و حواء کی اولاد قرار دیکر واضح کیا ہے کہ برادری اور قبائل محض شناخت کیلئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ تقویٰ رکھتا ہے۔ پھر اعرابیوں کا ذکرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایمان نہیں وہ اسلام لائے ہیں۔ ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ کہ جب تک اللہ پر ایمان لانے اور اسکے راستے میں مال اور جان سے جہاد کی آزمائش سے نہ گزرا جائے تو ایمان کا دعویٰ بہت مشکل ہے البتہ ان کے اچھے اعمال میں ان کیلئے کوئی کمی نہیں کی جائیگی۔ ہمارے مولوی تو تحائف لینے کے عادی ہیں۔

سورہ حجرات کی ابتدائی آیات رہ گئیں ۔ان میں اللہ فرماتا ہے کہ ” اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کے درمیان اپنی حیثیت کو مت بڑھاؤ۔ بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے اُونچا مت کرواور نہ آواز سے آپ ۖ کو اس طرح سے پکارو ، جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہ تمہارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے۔ بیشک جو لوگ اپنی آواز اللہ کے رسول کے حضور پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کیلئے چن لیا ہے۔ ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ بیشک جو لوگ حجرات کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں اکثر سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں اور اگر یہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ انکی طرف نکلتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا اور اللہ غفور رحیم ہے۔اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس فاسق آئے ، کوئی خبر لے کر تو اس کی تحقیق کرلو۔ کہیں کسی قوم کو نادانستہ نقصان نہ پہنچادو۔ پھر اپنے کئے پر تم ندامت کرنے والوں میں سے ہوجاؤ”۔( الحجرات)

اُمت مسلمہ میں جتنی غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ان میں فاسقوں کا بڑا کردار ہے۔ اگر حقائق کا پتہ چلے تو اچھے لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہونگے۔ سالہا سال سے ایکدوسرے کیخلاف پروپیگنڈے کی مہم جاری ہے اور اگر فرقہ پرستی کی آگ بجھے تو جن کو فرقہ کے نام پر ورغلایا گیا ہے وہ ان لوگوں کو چندے دینا بند کردیں گے۔

اگر علماء وذاکرین کیلئے معاش کا درست بندوبست ہوجائے تو فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی محنت بھی نہیں ہوگی۔ جب حضرت حسین کے بعد ائمہ اہلبیت نے اپنے قیام کی جنگ نہیں لڑی اور مہدی غائب کا خروج ایرانی انقلاب کے باوجود بھی نہیں ہورہاہے تو اہل تشیع اپنے اعتقادات پر یقین رکھیں لیکن اہلسنت کا اس وقت ہی قصور ہوگا کہ جب ان کا ظہور ہو اور وہ نہ مانیں۔ جب جنگی آلات کی اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی تب بھی غیب کبریٰ میں گئے تھے تو اب ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کرلی ہے۔ ہم ایکدوسرے کے اکابرین کیلئے دلائل کی بنیاد پر بات کریں، سب وشتم نہ کریں۔ آج صلح کے ماحول میںہی ایکدوسرے کو سنی شیعہ حقائق پہنچا سکتے ہیں۔اغیار ماحول کو خراب کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو افغانستان، عراق اور شام کی طرح قتل قتال سے افہام وتفہیم کا موقع نہیں ملے گا۔ امریکہ نے عراق میں صدام کے خلاف ماحول بنایا اور شیعہ و کردوں نے ساتھ دیا۔ پھر داعش بن گئی تو امریکہ نے اس کو رستہ دیاتھا۔ اب پاکستان میں سازش کامیاب ہوگئی تو ہماری ریاست کچھ بھی نہیں کرسکے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

سورہ محمد میں دور اول کے مسلمانوں کے بعد بنی اُمیہ کی حکومت کا واضح ذکر

سورۂ محمد میں اللہ نے جو نقشہ کھینچا ہے اس میں دورِ اوّل کے مسلمانوں کے بعد بنی امیہ اور بعد میں آنے والوں کو حکومت دیکر آزمائش سے لیکر موجودہ دور تک دنیا اور آخرت کی کامیابی و ناکامی کے معاملات کا واضح ذکر کیا ہے! سید عتیق لرحمن گیلانی

(الذین کفرواوصدّوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہمO والذین اٰمنوا و عملوا الصّٰلحٰت واٰمنوا بما نزّل علی محمد وھوالحق من ربھم کفر عنھم سیآٰتھم واصلح بالھمOذٰ لک بان الذین کفروا اتبعوالباطل وان الذین اٰمنوا اتبعواالحق من ربھم کذالک یضرب اللہ للناس امثالمھمOمحمد)

” جن لوگوں نے کفر کیااور اللہ کی راہ سے روکا ،انکے اعمال گمراہی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے اور ایمان لائے اس پر جو محمد(ۖ) پر نازل ہوا اور وہ حق ہے انکے رب کی طرف سے انکے گناہوں کو ان سے دور کردیا اور ان کی حالت کو درست کردیا۔ یہ اسلئے کہ جنہوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی اتباع کی اور جو ایمان لائے انہوں نے حق کی اتباع کی اپنے رب کی طرف سے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کیلئے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے”(سورہ ٔ محمد)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اہل حق کی حالت اللہ نے ہمیشہ اچھی کردی ہے۔ ان کے گناہوں کو ان سے ہٹادیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایمان لائے ،عمل صالح کئے بلکہ حق کا بھی بھرپور ساتھ دیا ہے۔ صحابہ کرام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سورۂ محمد کے بعد قرآن میں سورۂ فتح ہے جس میں اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا ذکر کیا ہے اور ساتھ اس وقت کے منافقین کا بھی ذکر کیا ہے اور مفت خور اعرابیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جو قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے لیکن خوشحالی میں شرکت کا خود کو مستحق سمجھتے تھے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ نے مسلمانوں کا حال کتنازبردست اچھا کردیا تھا؟۔

(ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوالعلم ماذا قال اٰنفًا اُلئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم و اتبعوا اھواء ھم O والذین اھتدوا زادھم تقوٰھم Oفھل ینظرون الا الساعة ان تأتیھم بغتةً فقد جاء اشراطھا فانّٰی لھم اذا جاء تھم ذکرٰھمOفاعلم انہ لاالہ الا اللہ واستغرلذنبک و للمؤ منین والمؤمنات واللہ یعلم متقلبکم ومثوٰکمO سورۂ محمد )

”اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ کو سننے کیلئے متوجہ رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے وہ لوگ نکلتے ہیں تو ان میں اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی کیا کہا ہے؟۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جنہوں نے ہدایت حاصل کی ،ہم نے ان کی ہدایت کو مزید بڑھادیا۔ تو کیا یہ اس گھڑی کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک آئے گی؟۔ بیشک اس کی نشانیاں آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آجائے گی تو ان کو نصیحت کا کیا فائدہ؟۔ پس جان لو! کہ بیشک اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ۔اور اپنے بوجھ کیلئے اللہ سے استغفار کرو اور مؤمنین اور مؤمنات کیلئے بھی۔ اور اللہ جانتا ہے تمہاری قبولیت اورتمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے”۔

کفارکو دلچسپی تھی کہ قرآن کے احکام کیا نازل ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں کیلئے قتال اور پھر فتح کا دن کب آئے گا؟۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کو آزمانا بھی تھا تاکہ یہ عذر باقی نہیں رہے کہ کس کو موقع ملا یا نہیں ملاتھا۔ کفارکے دلوں پر مہریں لگ گئیں اور مسلمانوں کی ہدایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔

(ویقول الذین امنوالولا نزلة سورة فاذااُنزلت سورة محمکة و ذکر فیھا قتال رأیت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشیّ علیہ من الموت فاولیٰ لھمO طاعة وقول معروف فاذا عزم الامر فلو صدقوا اللہ لکان خیرلھمO سورۂ محمد)

”اور ایمان والے کہتے کہ کاش کوئی سورة نازل ہو اور جب محکم سورة نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ دیکھ لیںگے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے وہ آپ کو ایسی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر موت طاری ہے۔ پس یہی ان کیلئے مناسب بھی ہے۔ ( اللہ کا قانون یہ ہے کہ ) اطاعت اور معروف قول۔ (اللہ کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی فرمانبرداری) جب اولی الامر کسی بات کا عزم کرے۔اگر اللہ کی تصدیق کرتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا”۔

مسلمانوں اور کفار میں یہی فرق تھا کہ مسلمان چاہتے تھے کہ قرآن کی سورتوں کا نزول جاری رہے اور وہ کفار جن کے دلوں میں مرض تھا ،وہ اس مصیبت میں رہتے تھے کہ کب ان کی گوشمالی کیلئے کیا حکم نازل ہو۔ جب کوئی محکم سورة نازل ہوجاتی اور اس میں قتال کا بھی ذکر ہوتا تھا تو ان پر موت کے خوف کی کیفیت طاری ہوتی تھی۔ کفارِمکہ کی صلح حدیبیہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد یہی کیفیت جاری رہی تھی۔

جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد خلفاء راشدین کو خلافت کا موقع دیا تو انہوں نے عدل وانصاف قائم کیا اور کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کی۔ حضرت عثمان مدینہ میں شہید ہوگئے اور حضرت علی نے کوفہ میں شہادت پائی۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب بنی امیہ کی ظالمانہ حکومت قائم ہوگئی۔ مروان بن حکم نے مدینہ میں صحابہ کرام پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ حجاز مقدس میں اپنے اقتدار کی خاطربڑے مظالم کئے۔ حضرت حسن کی طرف سے حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری خوش آئند تھی مگر بنواُمیہ نے جس طرح کے مظالم صحابہ کرام اور اہلبیت پر روارکھے تھے یہ بالکل غلط تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکمO)” پس تم نافرمانی کروگے ،اگر تمہیں اقتدار مل جائے یہ کہ تم زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور قطع رحمی کے مرتکب بنوگے”۔ (سورۂ محمد آیت22)

حضرت حسین ابن علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی المناک شہادتوں سے لیکر کیا نہیں کیا گیا؟۔ کیا یہ فساد اور قطعہ رحمی کا مظاہرہ نہیں تھا؟۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت قائم ہونے کے بعد منبر ومحراب سے حضرت علی پر سب وشتم اور لعن طعن کے خاتمے کا حکم جاری ہوا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ قرآن میں جن لوگوں کا بالکل واضح حال بیان ہوا ہے ، ایک عرصہ تک اس کی درست تفسیر اور تعبیر پر بھی پابندی تھی کہ مسلمانوں پر فرعون وہامان اور نمرود وشداد کی آیات فٹ کی جاسکتی ہیں؟۔ نماز میں بسم اللہ تک جہری پڑھنے پر پابندی لگائی گئی تھی اور آج قرآن کی غلط تعبیر وتفسیر میں کئی لوگ اپنے نصاب کی گمراہی کو سمجھنے کے باجود جانتے بوجھتے اعراض کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ محمد میں مزید فرمایاکہ ” یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ،پس ان کو بہرہ بنادیا ہے اور ان کی بینائی کو اندھا کررکھا ہے۔ تو کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔ بیشک جو لوگ مرتد ہوگئے اپنے پیٹھ پیچھے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت واضح ہوگئی ، شیطان نے ان کو شکنجے میں لیا ہے اوران کو اُمید دلا دی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہہ رکھا ہے جو اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرتے ہیں کہ عنقریب بعض چیزوں میں تمہاری ہم اطاعت کرینگے اور اللہ ان کے خفیہ رازوں سے واقف ہے۔ پھر کیسے ہوگا جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں پر ماریںگے اور انکے پشت پر ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے اتباع کی جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور اس کی رضاجوئی سے نفرت کی تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا۔ کیا گمان رکھتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے کہ ان کے کھوٹ کو باہر نہیں نکالے گا؟۔ اگر ہم چاہیں تو آپ کو ان کی پیشانیوں سے پہچان کرادیں اورآپ ضرور ان کی بات کے انداز سے ان کو پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے تاکہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جان لیں۔ اور خبریں ہم نے تمہارے بارے میں دی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کریں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا ، اس کے بعد کہ ہدایت ان کے سامنے واضح ہوگئی تو اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچارہے ہیں اور عنقریب اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو،اپنے اعمال کو باطل مت کرو۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ، پھر مرگئے اور وہ کفار تھے تو اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ پس تم اپنی پستی مت سمجھو اور صلح کی دعوت دو، اور تم ہی اُونچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارے اعمال کو رائیگاں نہ چھوڑے گا۔ بیشک دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگار بنو تو دے گا تمہارا بدلہ۔ اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔ اور اگر وہ تم سے وہ مانگ لے تو تمہیں ننگے پاؤں کردے گا تم بخل کروگے اور تمہارے کھوٹ کو باہر ظاہر کردے گا۔ دیکھو یہ تم ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ تمہارے اندر وہ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کیلئے بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ کسی اور قوم کو تمہاری جگہ بدلے گا اور پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے” ۔ سورۂ محمد آیت تیئس (23)سے آخر تک

بنوامیہ نے بہت زیادتیاں کیں تو بنوعباس نے ان کی جگہ لی اور بنوعباس نے نااہلی کا مظاہرہ کیا تو چنگیزخان کی اولاد نے ان کا قلع قمع کردیا۔ پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہو ئی اور ان کا بھی خاتمہ ہوا۔ اسی طرح فاطمی سلطنت، مغل بادشاہ اور عرب بادشاہتوں کا سلسلہ اور پاکستان میں ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بینظیر بھٹو، نوازشریف، پرویزمشرف کے بعد پھر زرداری اور نوازشریف اور اب عمران خان تک بات پہنچی ہے۔ ایران اور افغانستان میں بھی حکومتیں بدلتی رہی ہیں۔ ایک سپر طاقت روس کا خاتمہ ہوا اور امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ برطانیہ کا اقتدار سمٹ گیا تھا۔ جرمنی اور جاپان نے بھی سپر طاقت کا مزہ چکھا تھا اورفرانس کی بھی بہت کالونیاں رہی ہیں۔

اسرائیل بھی عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت ہندو کی آزاد ریاست ہے۔ بنگالی بھی پاکستان سے آزادی حاصل کرچکے ہیں اور دنیا میں مختلف لوگوں کی حکومت اور اقتدار کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی بھی اقتدار کے مختلف معاملات دیکھ چکا ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کی طرف توجہ نہیں کرینگے تو ان کی تنزلی کا سلسلہ کبھی نہیں رُک سکتا ہے۔ اسماعیل ساگر نے مولانا فضل الرحمن کے انٹرویو پر بہت سخت ردِ عمل دیا جس میںڈاکٹر دانش کے سوال پر یہ جواب دیا ہے کہ ” امریکہ میں جوبائیڈن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے اور اس پارٹی کی تاریخ یہ ہے کہ جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اسلئے پاکستان میں جمہوریت کو سپورٹ مل سکتی ہے”۔ لیکن مولانا فضل الرحمن پر سنگین غداری کے مقدمات چلانے کا مطالبہ کرنے والے طارق اسماعیل ساگر نے ریپبلکن پارٹی کے صدر جارج بش کے دور میں بلیک واٹر کے کردار پر یہاں چپ سادھ لی تھی۔ ایک فوجی کا دماغ یہی ہے کہ جس کی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو دیوار میں چن دو۔ یہ بہت اچھا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید ذمہ دار عہدوں پر ہیں جو اشتعال میں نہیں آتے ہیں۔ پاکستان کسی قسم کی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک پرامن فضاء قائم ہوئی ہے جس میں فوج کی موجودہ قیادت کا بہت بڑا اہم کردار ہے۔بلیک واٹر کے شرمناک کردار سے ہمیں نجات ملی ہے ، اپنی شدت پسند تنظیموں کا بھی ہم نے خمیازہ بھگت لیا ہے اور اب پاکستان کی تعمیر کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور برے لوگوں کو اقتدار بھی دیتا ہے لیکن مشکلات کے اوقات بدلتے رہتے ہیں۔

بہت لوگوں نے اقتدار اور اچھے دنوں کے خواب دیکھ لئے اور اللہ نے ان کو اقتدار دیا بھی لیکن اُمت کی آزمائش میں مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ہے۔ پاکستان کی ریاست اب مزید کم عقلوں، مفادپرستوں اور نااہلوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں لگ رہی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

قرآن کی بنیاد پرپاکستان کو مشکلا ت سے نکالنے کابہترین راستہ: عتیق گیلانی

اللہ تعالیٰ نے قرآن صرف آخرت کی کامیابی کیلئے نازل نہیں کیاہے بلکہ دنیا میں کامیابی اور ناکامی کا بھی قرآن کو واحد ، پہلا اور آخری راستہ قرار دیا ہے اور مثالیں دے دے کرحضرت موسیٰ فرعون وھامان وغیرہ کا ذکر کیاہے!!

(ونزّ لنا من السماء مآئً مبٰرکًا فانبتنا بہ جنّٰت وحب والحصیدOوالنخل بٰسقٰتٍ لھا طلع نضیدOرزقًا للعباد واحیینا بہ بلدةًمیتًا کذالک الخروجOسورہ ق)

پاکستان کے محکمۂ جنگلات نے قدرتی جنگلات بیچ کر مبارک بارشوں کا راستہ روکا۔ آج ہم پھر کھیتی باڑی اورباغات کے ذریعے پاکستان کو جنت بناکر مشکلات سے نکال سکتے ہیں!

جب(1970ئ) کی دہائی میں مجھے مینگورہ سوات جانے کا موقع ملا تو اس وقت میرے ماموں محکمۂ جنگلات کے افسر تھے۔ ایک فوجی جوان سے زیادہ جنگلات کی حفاظت کرنے والے افسر کی محنت نظر آرہی تھی۔ پھر وہ وقت آیا کہ جب مچھلی کی چوکیداری بلی کے سپرد ہوگئی۔ جنگلات کی حفاظت کرنیوالا طبقہ جنگلات اُگانے کے بجائے صرف کھانے کی ہوس میں لگ گیا۔ پھر رہی سہی کسر اس وقت نکلی کہ جب سوات میں طالبان کو معاملات سپرد ہوگئے۔

طارق اسماعیل ساگر نے اپنی ایک ویڈیومیں کچھ عرصہ پہلے بتایا تھا کہ (1997ئ) میں امریکہ نے قبائلی علاقوں میں کیمپ بنانے کیلئے اربوں ڈالروں سے دہشت گردی کا پلان بنایا تھا۔ پرویزمشرف کے دور میں راولپنڈی کے قریب روات میں بلیک واٹر نے اپنا مرکز قائم کیا تھا۔ جس میں کریمنل فوجی اور پولیس کے نکالے جانے والے افراد بھرتی کئے گئے تھے۔ اس وقت مجھے حق کی آواز اُٹھانے کی ہمت نہیں تھی اسلئے کہ جان کیلئے خطرہ بن سکتا تھا۔

مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ دنیا میں جنگ امریکی مفاد میں ہے ہماری حکومت ،اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کی قومی جماعتیں،مذہبی جماعتیں اور قوم پرست جماعتیں پاکستان میں جنگ کیلئے فضاء ہموار کررہی ہیں۔ فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے پیچھے امریکہ ہے۔ جمعیت علماء ہند کے مشن پر جمعیت علماء اسلام پاکستان اور دنیامیںجنگوں کے خلاف ہے۔

ڈان کے پروگرام ذرا ہٹ کے میں وسعت اللہ خان، مبشر زیدی، ضرار کھوڑو نے اسلام کے سودی نظام کے ایک نام نہاد ایکسپرٹ کو بلایا ، جس نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کے ائرپورٹ ، موٹر وے وغیرہ کو اسلامی بینکاری کے تحت گروی رکھا گیا ہے جس کا نقصان نہیں فائدہ ہے۔ یہ سلسلہ اسلام کے نام پر موجودہ حکومت بھی جاری رکھے گی۔ جب طلاق اور حلالہ کے حوالے سے ڈاکٹر احمدجمال اور کسی خاتون نے ”ذرا ہٹ کے” میں ہماری نشاندہی کا تکلف کیا تو انہوں نے اپنی کم علمی کا اظہار کیا۔ حالانکہ جب اسلامی بینکاری کے حوالے سے ایک نام نہاد ایکسپرٹ کو اپنی رائے کا حق اسکرین پر دیا جو قوم کی کشتی ڈبو رہاہے تو ہمیں بھی بُلانا چاہیے جو قوم کی عزتیں بچا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے مبارک بارش کے ذریعے جہاں سورہ ق میں باغات کے ذریعے ملکوں اور شہروںکو زندہ کرنے اور مشکلات سے نکلنے کی نشاندہی فرمائی ہے وہاں قوم نوح اور کئی پیغمبروں کی قوموں کی تباہی کا بھی ذکر کیا ہے۔جب ہم قرآن کو پسِ پشت ڈال کرجنسی معاشرتی حلالہ کی لعنت سے سودی معیشت کے حیلے تک پہنچیں گے تو ہمارا ملک اور ہماری قوم کس باغ کی مولی ہے جو پھر تباہی سے بچ جائے؟ ۔ قرآن کی مثالیں آخرت کیلئے نہیں دنیا میں تباہی کے حوالے سے ہیں۔ پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کا احوال دنیا کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ آخرت آئی نہیں تو کس نے دیکھ لی؟۔

مولانا فضل الرحمن کے دائیں بائیں جانب والے کراماً کاتبین نہیں بلکہ ساتھی مولانا شیرانی ، حافظ حسین احمد، مولانا شجاع الملک اورمولانا گل نصیب خان ہیں۔ (مایلفظ من قولٍ الا لدیہ رقیب عتیدO وجاء ت سکرة الموت بالحق ذٰلک ماکنت تحیدO……)

سورۂ ق میں دنیا کے اندر جس انقلاب کا نقشہ پیش کیا ہے وہ وہی ہے جو فیض احمد فیض نے اپنے اشعار میں ذکر کیا ہے کہ یومِ حساب اورجزاء وسزا کی بات یہیں پر ہے۔ہر مجرم کے ساتھی ہی اسکے غلط کرتوت کی گواہی دیں گے۔ یہ دنیا میں موت کا وقت ہوگا جسکے مؤاخذے سے یہ خوفزدہ تھے۔ انقلا ب کے دن وعید کا صور پھونکا جائے گا۔ اس دن ہر مجرم کیساتھ ایک ہنکانے والا فوجی یا پولیس والا ہوگا اور دوسرا اسکے ساتھ گواہ بھی ہوگا۔ بیشک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تیرا نقاب اُٹھا دیا تو آج تیری دید پتھراکے لوہا بن گئی ہے۔ اور اس کا ساتھی کہے گا کہ یہ جو میرے پاس تھا ،حاضر ہے۔ پھینک دو جہنم میں ہر سخت ناشکرے عناد رکھنے والے کو۔ منع کرنیوالا خیر سے حد سے تجاوز کرکے شک میں ڈالنے والا۔ جس نے اللہ کے ساتھ اپنا دوسرا الٰہ بھی بنار کھا تھا۔ ڈال دو اس کو سخت عذاب میں۔ اس کا ساتھی کہے گا کہ ہمارے رب میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا تھا لیکن وہ خود بہت دور کی گمراہی میں تھا۔ کہے گا کہ تم آپس میں میرے پاس جھگڑا مت کرو۔میں تمہیں پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا۔ میرے پاس بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندے پر زیادہ ظلم کرنے والا ہوں۔ اس دن ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تو بھر گئی ہے؟۔ وہ کہے گی کہ کیا اور بھی مجرم ہیں؟۔ اور جنت کو مزین کیا جائیگا پرہیزگاروں کیلئے زیادہ دُور نہیں ہوگی۔یہ ہے جس کا وعدہ ہر ایک رجوع کرنے والے امانتدار سے ہے۔ جو رحمن سے غیب میں بھی ڈرا اور آیا اپنے گرویدہ دل کیساتھ آیا۔ داخل ہوجاؤ! سلامتی کیساتھ، یہ ہمیشہ کی کامیابی کا دن ہے۔ان کیلئے وہ ہے جو چاہیں ، اس کے علاوہ ہمارے پاس مزید بھی ہے۔ اور کتنوں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیاگزشتہ ادوار میں جن کی پکڑ بہت سخت تھی اور وہ نقب لگاتے تھے مگر پھر ان کو کوئی بچانے والا نہیں تھا۔یہ اس کیلئے نصیحت ہے جسکے پاس دل ہے اور اس نے پیغامِ حق کیلئے سننے کی طاقت کو استعمال کیا اور گواہی دینے والا ہے۔

جب پاکستان میں اسلامی انقلاب آئیگا تو ایک ایک مجرم سے حساب لیا جائیگا۔ جنت اور جہنم کا منظر یہیں پر ہوگا۔ یوم آخرت کے بعد کی سزا اور جزا الگ ہوگی۔ دنیا کی بہت مضبوط قوموں کو اللہ نے ناشکری ، حق سے روکنے اور حد سے گزر کر شک کے اندر ڈالنے والوں کو سخت سزائیں دی ہیں۔ قرآن آخری کتاب اور حضرت محمدۖ آخری نبی ہیں۔اس امت کے مختلف ادوار میں بھی کئی قومیں اپنے انجام کو پہنچتی رہی ہیں۔

قرآن کی آیات میں حور وقصور کے جو تصورات پیش کئے گئے ہیں ان کو ایک مہذب معاشرہ اپنی جوان بیٹیوں ، بہوؤں اور گھر کے ماحول میں پیش نہیں کرسکتا ہے۔ قرآن میں جو تصورات دئیے گئے ہیں وہ بالکل آئیڈل معاشرے کیلئے ہیں۔ پاکستان میں انقلاب آیا تو یہ خطہ زمین تین قسم کے لوگوں میں تقسیم ہوگا۔ مقرب لوگوں کیلئے باغات ہونگے جس میں ہر میوے کے دو دوقسم ہونگے ۔ ان کی حیاء دار بیگمات رہیں گی۔ جن کو کسی جن وانس نے چھوا نہیں ہوگا۔ کیونکہ طیب طیبہ اور خبیث خبیثہ کے درمیان واضح فرق آجائے گا۔دوسری قسم کے لوگ مجرم ہیں۔چہروں سے ان کی پہچان ہوگی اوران کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑا جائیگا۔

تیسری قسم کے اصحاب الیمین ہونگے ۔ انکے باغ میں کھجور ، انار ہوں گے اور فوارے ہونگے۔ ان کی بیگمات بھی نیک اور ان کی پسندیدہ ہوں گی۔ یہ عام معاشرتی معاملہ ہوگا۔ خوشحال زندگی سے لطف اندوز ہونگے۔ باہر دنیا سے بھی سیروتفریح کیلئے اچھے لوگوں کی آمد ہوگی اور ان کیلئے خیمے لگے ہونگے ۔ وہ فیملیاں بھی برائیوں کے تصورات سے دور ہوںگی۔ کسی اجنبی انسان یا جن نے ان کو چھوا نہیں ہوگا۔ فحاشی نہیں پھیلائیں گی۔

سورۂ الدھر اور سورۂ الرحمن میں بہت زبردست انداز میں دنیا وآخرت کیلئے حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ پچھلے شمارے میں سورہ الدھر کے حوالے سے تفصیل لکھ دی تھی مگر اخبار کم چھپ سکے تھے۔ نیٹ پر دیکھ لیں۔

صحابہ کرام کی ایسی جماعت نبیۖ نے تیار کی تھی کہ جنہوں نے حضرت عثمان اور حضرت علی کی طرح شہادت قبول کرلی لیکن دوسروں کو انہوں نے نہیں مارا۔ نبیۖ نے اپنے بعد کسی کو نامزد نہ کیا تب بھی حالات اطمینان بخش تھے۔ حضرت علی نے امام حسن کو نامزد کیا تو بھی خلافت امیر معاویہ کے سپرد کردی۔ہمیں اختلافات کی سرحدات سے نکل کر ایک اچھے دور کا آغازکرنا ہوگا اور اگر ہم نے سستی برتی تو وقت ہمیں ضائع کریگا۔

اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

مولانا فضل الرحمن نوازشریف کی چال سے ہوشیار کیوں نہیں ؟: عتیق گیلانی

نوازشریف نے شاہدخاقان عباسی کے ذریعے عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنے کا سودا کرلیا ہے۔ نائی صحافی سید عمران شفقت نے بہت پہلے خبر بریک کی تھی اور اب راشد مراد مولانا فضل الرحمن کو مزید چونا لگانا چاہتا ہے۔

  پنجاب میں پرویز الٰہی سے زیادہ عثمان بزدار ن لیگ کے فائدے میں ہے۔ مریم نواز اور نوازشریف نے مزید فائدہ اُٹھانے کیلئے مولانا فضل الرحمن کیساتھ پی ڈی ایم (PDM)میں رہنے کا فیصلہ کیا

  تحریک انصاف اورپی ڈی ایم (PDM)میں ٹوٹ پھوٹ ایک بڑے انقلاب کا زبردست پیش خیمہ لگتا ہے۔ نوازشریف کے زرخرید صحافیوں کا ٹولہ پوری طاقت کیساتھ اپنا نمک حلال کررہاہے

 ہم نے پچھلے شمارے میں لکھ دیا تھا کہ ”سید عمران شفقت نے راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ڈیل کے تحت لندن گیا ہے۔ صرف ٹائم پاس کرنے کی حد تک سیاست رہے گی۔ عمران خان کو مدت پوری کرنے دی جائے گی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہلکے پھلکے بیانات دئیے جائیں گے”۔

اس مرتبہ ہم نے اپنے کاغذ اور چھپائی کے خرچے کو بچانے کیلئے سیاست پر نہیں لکھا ہے اسلئے سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق پہنچارہے ہیں۔ جب مریم نواز نے کہاہے کہ پنجاب حکومت کو ہم نہیں گرنے دیںگے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کے کردار سے ن لیگ کو زیادہ خطرہ ہے۔ دھرنوں کے ذریعے حکومت کے گرانے کا معاملہ ہو تو تحریک لبیک ، تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی میں زیادہ افراد جمع کرنے کی صلاحیت ہے۔ پیپلزپارٹی لانگ مارچ پر صرف احتجاج کی سیاست پر درست یقین رکھتی ہے اور دھرنے کی سیاست جماعت اسلامی، ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان نے امپائر کی انگلیوں پر اب تک کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کی سیاست کرنے والوں کو دھرنوں کی سیاست راست نہیں آ سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بڑی قوتوں کے پیچھے ہونے کا اشارہ دیکر عوام کومغالطہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ کھریاں کھریاں کے دروغ گو مرغے نے بعض فوجی افسران کے معطل کرنے ، جبری ریٹائرڈ منٹ اور نظر بندی کی آذانیں بھی دینا شروع کردی تھیں۔ راشد مراد آر ایم ٹی وی (RM.tv) نے جو ویڈیوز بنائی تھیں ،ان کا سارا ریکارڈ دیکھا جاسکتا ہے۔ فوج کو چاہیے کہ نوازشریف کو کھل کر بڑا پیغام دے کہ ان جھوٹے کتوں کو بھونکنے کیلئے ہم پر کیوں چھوڑا ہے؟۔ اسد درانی را کا ایجنٹ ہرگز نہیں ہے لیکن نوازشریف نے اسکے خلاف کیس سننے والے ارشد ملک کو جس طرح سے خریدا تھا تو کیا اسد درانی ایک مناسب قیمت کے تحت نہیں بول سکتا ہے؟۔ فوجی بیچارے تو بہت بھوکے ہوتے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کو بھی لندن میں جائیداد کس نے دی ہے؟۔ ارشد ملک کا کسی جج یا صحافی نے کیوں نوٹس نہیں لیا؟۔ جسٹس شوقت صدیقی بتائے کہ پارلیمنٹ میں نوازشریف نے اپنے اثاثہ جات کی لکھی ہوئی تفصیل کسی جرنیل کے خوف سے پیش کی تھی؟۔ انصار عباسی، نجم سیٹھی اور دیگر اسلام پسند اور کامریڈ صحافی بتائیں کہ قطری خط کا مسئلہ کیا تھا؟۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ان لوگوں کا ضمیر نہیں بولتا بلکہ مسئلہ کچھ اور ہے اور ان سب کی صلاحتیں مول لی گئیں ہیں۔ جب نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ زرداری کے خلاف تھے تو انصار عباسی کہتا تھا کہ اسلام میں صدر کو استثنیٰ نہیں مل سکتا ہے ،ہمارا آئین اسلامی ہے اور صدر زرداری کا استثنیٰ غلط ہے۔ لیکن جب فوج پر تنقید کی بات آتی تھی تو انصار عباسی کہتا تھا کہ آئین میں فوج پر تنقیدنہیں ہوسکتی ۔ ہم نے اس وقت بھی انصار عباسی کی طرف سے اس بے ایمانی کو اسلام کے نام پر کھلواڑ قرار دیا تھا۔

بعد میں پتہ چلا کہ انصار عباسی کے گھر تک شہباز شریف نے کروڑوں روپے کا روڈ بناکر دیا ہے۔ شہبازشریف کی طرف سے صدر زرداری پر جسٹس خواجہ شریف کے خلاف قتل کی سازش کا افتراء کرنے میں بھی انصار عباسی نے کردار ادا کیا تھا اور نذیر ناجی نے اپنے خلاف سازش میں انصار عباسی کو کتے کا بچہ قرار دیا تھا۔

اسلام کے نام پر دہشت گردی اور سود کو جائز قرار دینے والے مفتی صاحبان بھی کم دھبہ نہیں کہ انصار عباسی بھی اپنا بوجھ اسلام کے کھاتے ڈال دے۔ رؤوف کلاسرا وغیرہ اچھے صحافیوں کو پیشکش کیوں نہیں ہوتی ہے؟۔

مولانا طیب طاہری نے کہاہے کہ مولانا فضل الرحمن کو مشکل وقت میں ساتھیوں نے چھوڑا۔جب انگریز نے خدائی خدمتگاروں کی لسٹ بناکر پٹائی شروع کردی تو ایک شخص نے کہا کہ مجھے بھی مارو۔ پولیس نے کہا کہ تمہارا نام لسٹ میں نہیں ہے ۔ اس نے کہا کہ لسٹ میں نہیں مگر میں ان کا ساتھی ہوں۔ جب پولیس نے مارا تو اس نے کہا کہ پہلے تو نہیں تھا مگر اب ان کا ساتھی بن گیا ہوں۔ سیاست سے مجھے دلچسپی نہیں ہے لیکن اگر میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھی ہوتا تو ان کو تنہاء نہیں چھوڑ تا۔

مولانا طیب طاہری کا بھائی میجر عامر نوازشریف سے کچھ مراعات لیکر مولانا طیب طاہری سے یہ بیان دلوارہاہوگا۔ مولانا طیب طاہری نے طالبان کا ساتھی ہوکر بھی طالبان کیلئے مشکل وقت میں کونسی قربانی دی ہے؟۔ وہاں قربانی دیتا تو یہاں بھی امید اور توقع کرنے میں کوئی حرج نہیں تھی۔

مولانا فضل الرحمن ایک انسان ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو موقع دیتا ہے۔ پہلے تو نوازشریف اور شہباز شریف نے لاہور میں ملاقات تک گوارہ نہیں کی تھی۔ پھر فائدہ اُٹھاکر ملک سے باہر گئے ۔ نوازشریف کے زر خرید صحافی سارا ملبہ زرداری پر ڈالتے ہیں لیکن نوازشریف، مریم نواز ، شہبازشریف یہ سب ایک ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری بھی ان سے بدرجہا بہتر ہے۔ شاہد خاقان عباسی کے ذریعے یہ سودا کرچکے تھے اور اب پرویزالٰہی کے خوف سے پنجاب میں بھی تبدیلی نہیں لانا چاہتے ہیں۔ فوج سے مراعات لینے کے چکر میں ایک مرتبہ پھر ن لیگ مولانا فضل الرحمن کو استعمال کررہی ہے۔ اگر ان سے کوئی پیسے وغیرہ نہیں لئے ہیں تو ان کو ازخود پھینک دیں۔

جمعیت علماء اسلام کی ساری تنظیم توڑ کر مولانا شیرانی کو مرکز یا بلوچستان میں ایک مرضی کی امارت دیدیں۔ امید ہے کہ وہ اس مرتبہ مرکز کی امارت آپ کیلئے چھوڑ دیں گے اور بلوچستان میں ان کو بلامقابلہ منتخب ہونا چاہیے۔ جنرل سیکرٹری کیلئے حافظ حسین احمد اور مرکزی وزیراطلاعات مولانا شجاع الملک اور پختونخواہ کا امیر مولانا گل نصیب کو بنادیں۔ جمعیت میں توڑ بالکل ہر قیمت پر ختم کردیں۔

پھر معاشرتی اور اقتصادی نظام کی تشکیل کیلئے جید علماء کرام کی کانفرنس کرنے کی مہم شروع کریں۔ جب انتخابات کا وقت قریب ہوگا تو جمعیت علماء پاکستان سمیت سارے دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونگے اور ملک میں جمہوری بنیادوں پر ایک انقلاب کا آغاز ہوجائے گا۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت میں وہی کچھ ملے گا جو عمران خان کو حکومت میں بھی دھکے کھانے پڑرہے ہیں۔ آئندہ انتخابات کی مہم چلانے میں سیاسی جماعتیں پیچھے پیچھے اور انقلابی اسلامی سیاست آگے آگے ہوگی۔ قوم پرست بھی پورا پورا ساتھ دیں گے اور اسٹیبلشمنٹ بھی پکار اُٹھے گی کہ یہ ملک بچانے نکلے ہیں، آؤ انکے ساتھ چلیں۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت لانے میں سارے کرپٹ مافیاز کے دل بھی خدا کے خوف سے پسیج جائیں گے اور ملک کی تعمیر وترقی میں پوری دنیا بھی زبردست ساتھ دیگی۔

 

NAWISHTA E DIWAR Feburary Breaking News 2021

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

#breaking_news #BreakingNews

مدارس اب گمراہی کے قلعے بن چکے ہیں اور ان کی اصلاح اب ضروری ہوچکی ہے۔

رعایا اور حکمران کے درمیان اعتماد، تعلقات ، حقوق وفرائض اور الفت ومحبت کی درست حقیقت سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ میاں بیوی کے حوالے سے قرآن وسنت اور معاشرے میں اسلام کے مسخ شدہ تصورات کے علمی حقائق کو سمجھیں

مدارس قرآن وسنت کو سمجھنے کیلئے رشد وہدایت کی پہلی اور آخری منزل ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب گمراہی کے قلعے بن چکے ہیںاور ان کی اصلاح اب ضروری ہوچکی ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور مغرب مدارس کے دشمن ہیں لیکن وہ دشمنی سے اتنا نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں جتنا مدارس کے اپنے ارباب اختیاراور اہتما م وفتویٰ اپنی غلطیوں سے پہنچا رہے ہیں!

بریلوی دیوبندی مدارس میں درسِ نظامی کی تعلیم کا نصاب ایک ہی ہے۔ امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کے آخری پارہ عم کی اپنی تفسیر ”المقام المحمود” میں سورة القدر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” سندھ، پنجاب، سرحد، بلوچستان، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تب بھی ہم اس خطے سے دست بردار نہیں ہونگے۔ اسلام کی نشاة ثانیہ اب عجم سے ہوگی اور اس کا مرکزی علاقہ یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے مسلک کے سواء یہاں کے لوگ کوئی دوسرا مسلک قبول نہیں کرینگے۔ امام ابوحنیفہ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے اسلئے شیعہ اور ایران بھی اس انقلاب کو قبول کرلیںگے”۔

پاکستان کی آزادی سے پہلے مولانا سندھی وفات پاگئے ۔مولانانے لکھاہے کہ ”قرآن کا معجزہ عربی الفاظ نہیں بلکہ وہ مفہوم ہے جس کی وجہ سے مردہ قوموں میں زندگی پیدا ہوتی ہے”۔ امام ابوحنیفہ نے عربی پر عبور رکھنے کے باوجود نماز کو فارسی زبان میں پڑھنے کی اجازت دی۔ حنفی مکتب نے درسِ نظامی میں اس کی یہ توجیہ پیش کردی ہے کہ ” امام ابوحنیفہ بڑے اللہ والے تھے۔ قرآن کی عربی تلاوت میں حسنِ قرأت کی سجاوٹ بندے اور اللہ کے درمیان پردہ حائل کرتی ہے اسلئے فارسی میں نماز کو جائز قرار دیا۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہۖ نے بعض فارسی الفاظ پر تلفظ فرمایاتھا اسلئے فارسی میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا تھا” ۔ (نورالانوار : ملاجیون ۔ نصاب درس نظامی )

مجلس احرار کے چوہدری افضل الحق نے پولیس کی نوکری چھوڑ کر حکومت مخالف تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ چوہدری افضل الحق نے اپنی کتاب ” دین اسلام ” میں مذہب ، قومی، مادری، علاقی اور سرکاری اعتبار سے زبان کے مسئلے پر علماء کے نصاب سے زیادہ بہتر باتیں لکھی ہیںکہ” ہماری مادری زبان کچھ ہے، رابطے کی زبان کچھ ہے، مذہبی زبان کچھ ہے اور سرکاری زبان کچھ ہے جس کی وجہ سے یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی ہے”۔

بنگلہ دیش نے اردو کے بجائے بنگالی زبان کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے پر زور دیا لیکن قائداعظم نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا تھا،البتہ بنگال کیلئے قومی زبان بنگالی قرار دینے کی اجازت دی تھی۔ تحریکِ پاکستان کا آغاز بنگال سے ہوا۔ سندھ اسمبلی سے بھی پاکستان بنانے کی قراراداد پاس ہوئی تھی اور سندھ میں سرکاری زبان بھی سندھی ہے۔ پنجابی، پشتو اوربلو چی پہلے سے عام ہوتی تو سندھ کی طرح پنجاب، پختونخواہ ، بلوچستان کی علاقائی زبان بھی سرکاری ہوتی، سندھ کے شہری علاقوں میں مہاجرین کی وجہ سے اردو بالکل عام ہوگئی اور اب میڈیا چینلوں کی وجہ سے پاکستان میں اردو عام ہوئی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کو خود بھی اُردو نہیں آتی تھی۔ مادری زبان کی اپنی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ” اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان سے ، تاکہ پیغام انکے سامنے واضح کردے”۔ یہ ہماری تاریخ کا المیہ ہے کہ ایک طرف حنفی درسِ نظامی میں پڑھارہے تھے کہ عربی پر قدرت کے باجود نماز فارسی میں پڑھنا جائز بلکہ بہتربھی ہے اور دوسری طرف جب حضرت شاہ ولی اللہ نے فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا تو ان کو علماء نے واجب القتل قرار دیا جس کی وجہ سے دوسال تک روپوش رہنا پڑا تھا۔ پھر ان کے بیٹوں نے اردو کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ کیا ۔ دوسری زبانوں میں بھی قرآن کے ترجمے ہوگئے اور جب پنجابی اور پٹھانوں کے ملے جلے علاقہ سے ایک عالم دین نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کیا تو اُن پر کفرکا فتوی لگا دیا گیا۔ سندھی میں تو شاہ ولی اللہ سے بھی بہت پہلے قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا اور سندھ میں جمعہ کا خطبہ بھی عربی میں نہیں سندھی میں پڑھا جاتا ہے۔

عورت زبان دراز ہوتی ہے مرد ہاتھ چھوڑ ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتیں زبان دراز اور پاک فوج ہاتھ چھوڑ ہے۔ پنجاب کی عوام زبان کی تیز اور پٹھان کا ہاتھ اُٹھ جاتا ہے۔ پختونخواہ سے زیادہ فرقہ وارانہ اور جہادی تنظیمیں پنجاب میں تھیں لیکن پختونوں نے ایکدوسرے کا کباڑہ کرلیا۔ مریم نواز نے عمران خان اور پاک فوج کو زبان درازی سے آڑے ہاتھوں بہت لیا لیکن محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن عمل سے انقلابی بن رہے ہیں۔

اگر نکاح وطلاق پر حقوق وفرائض کی آیات سے عوام کو آگاہ کیا گیا توپھر گھریلو تشدد، نا انصافی اور ناچاقی کا خاتمہ ہوگا اور طلاق سے رجوع کا رحجان معاشرے میں پروان چڑھے گا۔حکمرانوں اور باغی قوتوں کے درمیان بھی سمجھوتہ ہوسکے گا۔ جب دل ٹوٹتا ہے تو آنسو پھوٹتا ہے اور تعلق چھوٹتا ہے پھر شوہر بیوی کو ، حکمران رعایا کو کوٹتاہے، نصیب روٹھتا ہے اور طاقتور لوٹتا ہے ،اپنے معاشرے میں گھریلو حالات سے ریاستی معاملات تک بگاڑ آچکا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ کسی طرح اصلاحِ احوال کی طرف قوم متوجہ ہوجائے اور پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔

علماء ومفتیان یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیںکہ سب کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے کیوں پڑے ہو؟۔ ریاستی اور سیاسی نادانوں کو بھی شاید یہی گلہ ہو لیکن ہم نے کس کو چھوڑا ہے؟۔ تنقید کرنے میں اپنی ذات، خاندان ، شہر، علاقہ ، صوبے اور ملک سے لیکر پوری دنیا تک بہت فراخ دِلی سے کام لیا ہے۔ ہمیں کسی اور سے نفرت اسلئے نہیں ہوسکتی ہے کہ خود بہت ہی کمزور اور بیکار انسان ہیں۔

علماء کرام و مفتیانِ عظام میں سب سے زیادہ خوبیاں ہیں۔ دل وجان سے علمائِ حق کے پیروں کی خاک کو اپنی آنکھوں کی پلکوں پر اٹھانے کو بہت بڑی سعادت اپنے لئے سمجھتے ہیں۔ قرآن کا تلفظ ، قرآن کا ترجمہ اور اسلام کی تعلیمات ان کی قربانیوں کی بدولت دنیا میں زندہ اور تابندہ ہیں۔ غلطیاں کس طبقے میں نہیں ہیں؟۔ جب علماء ومفتیان کا وجود نہیں تھا تب بھی حضرت عثمان اور حضرت علی اپنے وقت کے مسلمانوں کے ہاتھوں سے شہید ہوگئے تھے؟۔ جب حکمرانوں نے باجماعت نماز کی قرأت میں بسم اللہ پر پابندی لگادی تھی تو مالکی فقہاء نے ہمت ہارکر کہا کہ فرض نماز میں بسم اللہ کوپڑھنا جائز نہیں کیونکہ بسم اللہ قرآن کا حصہ نہیںہے۔ شافعی فقہاء نے کہا کہ بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا بھی حصہ ہے اسلئے جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنا فرض ہے۔ حنفی فقہاء نے کہاکہ درست بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے لیکن اس کے انکار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس میں شبہ ہے اور شبہ اتنا قوی ہے کہ اس سے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتا ہے۔ حالانکہ عام آیت کے انکار سے آدمی کافر بن جاتا ہے۔ نورالانوار اور توضیح تلویح میںیہ بریلوی دیوبندی علماء کے درسِ نظامی کے نصابِ تعلیم کا حصہ ہے۔

پہلے تو علماء کے ظرف کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ بسم اللہ قرآن میں ہے ۔ اجتہادی مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ایکدوسرے کو برداشت کررہے ہیں بلکہ ایکدوسرے کا دل سے احترام کرتے بھی ہیں اور نصاب میں اس کو جگہ بھی دیتے ہیں ۔ دوسرا یہ ہے کہ اس جہالت کا تدارک کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر امریکہ واسرائیل نے لوگوں کو بتانا شروع کردیا کہ علماء کے نصاب میں یہ خرابی ہے تو کسی کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہیںگے، مشکل وقت سے پہلے سدھرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ نے قرآن میں فرمایا: ”ہم نے قرآن اور سات بار بار دوہرائی جانے والی عطاء کی ہیں”۔ سات دوہرائی جانے والی سے مراد قرآن کا مقدمہ سورۂ فاتحہ ہے۔ بسم اللہ کیساتھ سات آیات بنتی ہیں۔ آیات کیلئے گول دائرہ نشانی ہے۔ قرآن کے بعض نسخوں میں سورۂ فاتحہ پر آیات کے نمبر نہیں ہیں۔ بعض میں بسم اللہ کو پہلی آیت اور بعض میں الحمد للہ کو پہلی آیت لکھا ہے لیکن پھر اس میں آخری آیت میں دو آیات کے نمبر(6)اور( 7)لگائے گئے ہیں۔

یہ قرآن کی حفاظت کیلئے بہت بڑی دلیل ہے کہ کسی نے آیت کے گول دائرے کا اضافہ کرنے کی بھی جرأت نہیں کی۔جس طرح ایک سو چودہ (114) سورتوں میں ایک سورت کی ابتداء میں بسم اللہ نہیں تو کسی نے لکھنے کی جرأت نہیں کی ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ تفاسیر میں لکھا ہے کہ آخری دو سورتوں کو حضرت عبداللہ بن مسعود نے اپنے مصحف میں نہیں لکھا تھا اسلئے کہ ان کے قرآن ہونے کے قائل نہیں تھے۔ حالانکہ قرآن کی سورة کا منکر مسلمان نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے انکے قرآنیت سے انکار کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بہت لوگوں نے قرآن پڑھنا سیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے پہلا اور آخری صفحہ پھٹ گیا ۔ ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کرنے والے راوی نے یہ بات کہی کہ اس میں سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتین نہیں تھیں اور اس بات کا بتنگڑ بناکر کہانیاں گھڑی گئیں۔

شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور علامہ شبیراحمد عثمانی کی تفسیر عثمانی ،مولانا سید مودودی کی تفہیم القرآن اور علامہ غلام رسول سعیدی کی تبیان القرآن میں شیطان کا یہ حملہ کامیاب ہوا ہے کہ قرآن کی آخری سورتوں پر زبردست وار کیا گیا ہے۔ اللہ نے شیطان سے قرآن کے آگے پیچھے سے حفاظت کا ذمہ لیا۔ بریلوی، دیوبندی اور جماعت اسلامی والے اکٹھے ہوکر شیطان کی سازش کو ناکام بنائیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ”پہلے قرآن پر اجماع نہیں ہوا تھا اسلئے عبداللہ ابن مسعود پر آخری سورتوں سے انکار کے باوجود بھی کفر کا فتویٰ نہیں لگتا ہے لیکن اب اجماع ہوچکا ہے ،اگر اب کوئی انکار کریگا تو اس پر کفر کا فتویٰ لگے گا”۔ (تبیان القرآن جلد12) جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اجماع قرآن سے کوئی زیادہ معتبر چیز ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

بھیڑ چال میں مبتلاء علماء ومفتیان و مذہبی دانشوروں کو چاہیے کہ قرآن کے شروع اور آخر سے گمراہی اور ضلالت کی باتیں نکال دیں اور زور دار انداز میں حقائق عوام کے سامنے لائیں تاکہ آنے والے وقت میں مشکلات سے بچ سکیں۔ جب ضمیر پر غبار پڑا ہو تو عمل کی دنیا سے انسان دور ہوجاتا ہے۔

انجینئرمحمد علی مرزا نے نہ صرف محنت کرکے عربی کے تلفظ کو پڑھنا سیکھا ہے بلکہ مختلف موضوعات پر تعصبات کے بغیر ایک خلاصہ بھی نکالا ہے۔ اُنیس (19)گریڈ کے افسر ہیں اور مسائل عوام کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تھوڑی بہت غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیںگے کہ قرآن میں اضافہ کردیا تو رجم کا حکم قرآن میں لکھ دیتا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ”رجم کی آیت اور رضاعت کبیر کی آیات نبیۖ کے وصال تک پڑھی جاتی تھیں۔ بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں۔ یہ امام ابوحنیفہ جیسے لوگوں کا کمال تھا کہ اس طرح کے متضاد اعتقادات کا رستہ روک دیا تھا۔ مسلم علمی کتابوں کو وہابی اور بابی کا پتہ ہے لیکن روایات میں جو گل کھلائے گئے ہیں ان حقائق تک مرزا صاحب نہیں پہنچے ۔

علماء کرام کو میدان میں نکلنا ہوگا اور افہام وتفہیم کے ذریعے سے اچھا ماحول بنانا ہوگا۔ ہم مرزا صاحب کی بھی خدمت میں پہنچے لیکن وہ خود کو زیادہ اونچی چیز سمجھے ہیں۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ مہدی غائب آکر معاملہ ٹھیک کرے گا سنی عقیدہ ہے کہ قرآن مہدیوں کو بناتا ہے

جب تک عوام تبدیلی کیلئے کھڑے نہیں ہونگے ہمارامذہبی، سیاسی، ریاستی، سماجی اشرافیہ اور بدمعاش طبقہ مسلط ہی رہے گا۔ اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ مہدی غائب آکر معاملہ ٹھیک کریگا، سنی عقیدہ ہے کہ قرآن مہدیوں کو بناتا ہے۔

ایران میں شیعہ نے امام مہدی غائب سے پہلے انقلاب برپا کردیا اور پاکستان میں سنی مکتبۂ فکر نے اہل تشیع کے ساتھ مل کر بھی کوئی انقلاب برپا نہیں کیا، متحدہ مجلس عمل بڑا ڈھونگ تھا

مارشل لاء اور اس کی پیداوار سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تبدیلی کی کوئی توقع نہیں ہے۔ پاکستان میں معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلیوں سے استحکام آسکتا ہے ورنہ افراتفری پھیلے گی۔

علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں امامت اور مہدی کی وضاحت فرمائی۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلمان کو سلاطیں کا پرستار کرے
شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست نہ خوابیدہ نہ بیدار
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالمِ افکار
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی

علامہ اقبال کا تعلق سنی مکتبۂ فکر سے تھا۔ انہوں نے مہدی کاتصور وہ پیش کیا جو سنی مکتبۂ فکر کا عقیدہ ہے۔ جس طرح حیات خضر علیہ االسلام کا عقیدہ تھا اور آج بھی بہت سے لوگ حضرت خضر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے زندہ مانتے ہیں لیکن ان پر کفر وگمراہی کے فتوے نہیں لگتے،اسی طرح اہل تشیع کیلئے مہدیٔ غائب اور امامِ زمانہ کا عقیدہ رکھنا کوئی عیب نہیںہے اور جب تک علمی حقائق واضح نہیں ہوجاتے تو مناقشہ کرنا ضروری نہیں ہے۔

ایک سفید ریش پٹھان عالمِ دین نے کہا کہ ” شیعہ آذان میں حضرت علی کیلئے خلیفتہ بلافصل نبیۖ کا خلیفۂ بلافصل کہتے ہیںیہ حضرت ابوبکر کی توہین ہے اور ان کی آذان پر پاکستان میں پابندی لگنی چاہیے”۔ حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا لیکن آپ پر توہین کا الزام نہیں لگایا گیا۔ البتہ جنات نے قتل کیا تھا یا اس دور کے خفیہ مشن والوں نے قتل کیا ۔ جب حضرت عثماناور حضرت علی کی شہادت مسندِ خلافت پر بیٹھنے کے باوجود ہوئی تو حضرت سعد بن عبادہ کی شہادت بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ صحافی ہارون الرشید کی کلپ دیکھی کہ ”ہزارہ مزدوروں کو طالبان نے اسلئے قتل کیا کہ بھارت کی جاسوسی کرتے ہیں”۔ مولانا عادل خان کو اسلئے قتل کیا گیا ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے پیسوں سے یہاں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے تھے۔ ایک طرف علماء دین کا قتل اور دوسری طرف ہزارہ مزدروں کا قتل فرقہ واریت کے نام پر جاری رہے گا؟۔

تحریک طالبان پاکستان نے اپنے عروج کے دور میں بریلوی مکتبۂ فکر کے علماء اور پیروں کو قتل کیا۔ مینگورہ سوات میں ایک شخصیت کی لاش کو قبر سے نکال کر چوک پر لٹکایا گیا۔ ہماری سیکورٹی ایجنسیاں موجود ہونے کے باوجود بے بس تھیں کیونکہ مذہبی جوش وجنون اور غیظ وغضب کا سامنا کون کرتا؟۔ شیعہ کی آذان کو صحابہ کی توہین قرار دینے کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنیوالے وقت میں پنجاب سے آواز اُٹھے کہ ” جو لوگ آذان سے پہلے صلوٰةوسلام نہیں پڑھتے ہیں یہ گستاخ رسول ہیںاور ان کی قتل وغارت شروع ہوجائے”۔

تبلیغی جماعت کے ترجمان نعیم بٹ نے شاید حفظ ماتقدم کے طور پر ہی پہلے سے اس صلوٰ ةو سلام کی بہت تعریف کی ہے۔ لیکن جب فرقہ واریت کا بھوت سوار ہوجاتا ہے تو پھر قائد آبادخوشاب میں بریلوی مکتبۂ فکر والا گستاخ کے نام پر گارڈ کی گولی کا نشانہ بنتا ہے اور لوگ پولیس اسٹیشن پر چڑھ کر قتل کی تائید کررہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ دیوبندی ، اہلحدیث یا جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تب بھی حالات زیادہ مختلف ہوتے کیونکہ ان کو گستاخ ہی سمجھا جاتا ہے۔پنجاب میں شیعہ سنی کے علاوہ دیوبندی بریلوی فرقہ واریت کی فصل بھی تیار کھڑی ہے، صرف ماچس کی ایک تلی سے آگ لگانے کی دیر باقی ہے۔

علامہ اقبال نے ”پنجابی مسلمان” پر خوب لکھا تھا کہ

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندہ کوئی صیاد لگادے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

تحریکِ لبیک کے علامہ خادم رضوی سے حکومت نے معاہدہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو سترہ(17)فروری( 2021ئ) سے پہلے نکالا جائیگا۔ اوریا مقبول جان بھی چہلم پر گیا تھا، ڈاکٹر عامر لیاقت کے حوالے سے بھی تحریکِ انصاف چھوڑ کر تحریکِ لبیک میں شامل ہونے کی خبرپھیلائی جارہی ہے۔ شاید یہ تحریکِ لبیک تحریک انصاف کی متبادل کے طور پر بھی ہو، جس طرح مریم نواز نے کہا تھا کہ شہبازشریف عمران خان کے متبادل ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے تو امریکہ کا بھی کوئی سفیر موجود نہیں جو ہماری فوج، سیاسی جماعتوں اور جہادی طبقات کا باپ رہاہے۔ فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مسئلہ اہم ہے یا نہیں ہے ؟ لیکن ہمارے ملک کے حالات جس طرف جا رہے ہیں وہ بڑے تشویشناک ہیں۔ اسلام آباد میں پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے میں محترم محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ” مولانا فضل الرحمن فتویٰ جاری کرے کہ عوام بھوک مٹانے کیلئے حکومت کی املاک کو لوٹ سکتے ہیں”۔ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا تو عوام احتجاج سے زیادہ لوٹ مار میں لگے ہوئے تھے۔ طالبان نے اپنی تحریک لوٹ مار اور بھتہ خوری کے ذریعے چلائی تھی۔ براڈ شیٹ نے ایک روپیہ بھی برآمد نہیں کیا ہے لیکن اس کو اتنی رقم ادا کردی گئی ہے جتنی پاکستان کی نیب نے پاکستانی عوام سے وصول کی تھی۔ ریاست اور سیاست کے پہلوان بھی اپنے لئے بقدرِ ضرورت حکومت کا مال اور عوام سے بھتہ حلال سمجھتے ہیں اور جب انسان کی بھوک کھل جاتی ہے تو حدیث میں آتا ہے کہ مٹی سے ہی اسکا پیٹ بھر سکتا ہے۔ ہم بہتر مستقبل کی تلاش میںاپنا حال بھی برا کرسکتے ہیں۔

علامہ سید جواد نقوی نے وضاحت کی ہے کہ” اہل تشیع کے ہاں امام عوام کی طرف سے منتخب نہیں ہوتا بلکہ نامزد ہوتا ہے۔ نبیۖ نے حضرت علی ، علی نے حسن ، حسن نے امام حسین اور اس طرح بارہ امام نامزد ہوگئے۔ امام کا اسلام وہ ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اہل تشیع کا بھی وہی ہے۔ اہل تشیع ائمہ سے رہنمائی لیتے ہیں لیکن اب غیبت کبریٰ کا زمانہ ہے اورعمومی احکام سے رہنمائی لینی ہے”۔

اہل تشیع بھائیوں سے اتنی گزارش ہے کہ جب تک امام مہدیٔ غائب نہ نکلے تو اپنے کلمے اور آذان پر کاربند رہو۔ تمہارے علماء وذاکرین جو دلائل دیں ان پر جھومتے رہو، غمِ حسین کا ماتم مناؤ۔ ہندو، سکھ، عیسائی ، یہودی اور بدھ مت کے علاوہ بہت مذاہب دنیا میں ہیںلیکن ان سے پاکستان میں کوئی نفرت نہیں کرتا تو آپ سے نفرت کرنے والوں کا ایک مشن بھی ہے اور کاروبار بھی۔ جب تک اپنے اماموں کیلئے جذباتی بنیاد پر دوسروں سے اپنی نفرت کا اظہار کروگے تو مخالفین اپنا مشن زندہ رکھیںگے کیونکہ جب آپ اپنے اماموں کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے تو دوسروں کو سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔ دوسروں سے نفرت تمہاری مجبوری بھی ہے لیکن اتنا خیال کم از کم ضرور رکھو کہ امام کا تعلق زمانے کیساتھ ہوتا ہے۔ حضرت علی کے بعد اب تو بارہویں امام کے کلمے اور آذان میں جملے کی منطق بنتی تھی۔ جس طرح رسول کیساتھ کلمہ بدلتا ہے۔ ابراہیم خلیل اللہ، موسیٰ کلیم اللہ اور عیسیٰ روح اللہ کے بعد اب محمد رسول اللہ۔ حضرت علی کے بعد امام حسن ، امام حسین ، زین العابدین کیساتھ ساتھ اب تو بارہویں امام کا کلمہ ہونا چاہیے تھا۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ آپ نے اپنے امامِ وقت کیساتھ اپنا کلمہ بدلنے کی درست کوشش کیوں نہیں کی؟۔ ہم تمہیں تمہارے مخالفین کے قتل و غارت کا نشانہ بنانے سے بچانا چاہتے ہیں۔ ہماری سنی مکتبۂ فکر سے استدعا ہے کہ اپنی جہری نماز میں سورۂ فاتحہ اور دوسری سورتوں کا آغاز جہری بسم اللہ سے کرلو۔

پنجاب میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک ٹیم نکلے اور فرقہ واریت کی جگہ دلائل سے عوام کے شعور کو مالامال کردے۔ بلوچستان اور پختونخواہ کی تباہی کے بعد پنجاب اور سندھ میں فرقہ واریت کے نام پر قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوجائے تو پاکستان کی ریاست حالات کو سنبھال نہیں سکے گی اور اقوام متحدہ کی فوج عراق میں عورتوں کی جس طرح تلاشی لیکر توہین کررہی ہے اور امریکی فوج نے جس طرح کا جنسی تشدد القاعدہ والوں پر کیا ، بس اللہ کی پناہ۔ ایک فارسی بان یا ازبک وتاجک وغیرہ کی ویڈیو آئی تھی۔ اس پر بے پناہ جنسی تشدد کیا گیا تھا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب کے ذریعے جنت اور جہنم کا نقشہ پیش کیا ہے

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب کے ذریعے جنت اور جہنم کا نقشہ پیش کیا ہے جو پاکستان میں دیانت دارانہ نظام ہی کے ذریعے سامنے آسکتا ہے جس سے دنیابھر میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم اور آسمان وزمین والے خوش ہونگے

ہر شاخ پہ اُ لو بیٹھا ہے انجامِ گلستان کیا ہوگا؟۔ اسٹیک ہولڈروں کے بجائے گدھا گاڑی والوں کو مختلف طبقات پر مسلط کیا جاتا تب بھی حرص وہوس اور ایسی نالائقی کا کبھی مظاہرہ نہ ہوتا

پتہ نہیں کس خمیر کے جنرلزکو ترقی دیکر آرمی چیف اور ذمہ دار عہدوں پر بٹھایا جاتاہے اور کس خمیر کے سیاستدان عوام کے ووٹوں سے اسمبلی اور ممبران کے ووٹوں سے سینیٹ پہنچتے ہیں ؟

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی جنت اور جہنم کے تصور کا ذکر کیا ہے اور اس کی ایسی وضاحت ہے جس سے آخرت مراد لینا ممکن نہیں ۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان اس کی بالکل صحیح تصویر بن سکتا ہے۔پوری دنیا میں ایسا بڑا بہترین دریائی نظام نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عنایت فرمایا ہے لیکن اس میں نہری نظام کا بنانا حکومتِ پاکستان کا کام تھا۔ انگریز نے نہری نظام کو پاکستان میں اپنی ترجیحات میں شامل کیا تھا لیکن پاکستان نے اس کو نظرانداز کردیا ۔ قدرتی اور مصنوعی جھیلوں کا ہم بسہولت بڑا جال بچھاسکتے ہیں اور بہت آسانی کیساتھ پورے پاکستان کو نہری نظام سے مزین کرسکتے ہیں۔

قرآن میں سورۂ مدثر کے بعد سورۂ قیامت اور پھر سورۂ دہر ہے۔ جب اسلام نازل ہواتو اللہ نے نبیۖ کو سورۂ مدثر میں مخاطب کیا ہے۔ سورۂ مدثر میں بھی دنیاوی انقلاب اور آخرت کے حوالے سے واضح رہنمائی ہے ۔ پھر سورۂ قیامت میں صرف آخرت کے حوالے سے رہنمائی ہے اور پھر سورۂ دہر میں صرف زمانے اور دنیاوی انقلاب کے حوالے سے بھرپور رہنمائی ہے۔

رسول اللہ ۖ کے حوالے سے مؤمنین اور کفار نے ابتدائی مکی دور کا بھی مشاہدہ کیا تھا اور آخر میں مدنی دور اور انقلاب کا زمانہ بھی دیکھ لیا تھا۔ سورۂ مدثر کی آیات کو شروع سے آخرتک غوروفکر کیساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بہت ساری باتوں سے شروع دور کی مشکلات اور بعدکی فتوحات بہت واضح طور پر نظر آئیں گی۔ پہلے تیرہ (13)سال مکی دور کے اور پھر چھ (6)سالہ مدنی دور کے بعد جب صلح حدیبیہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح مبین قرار دیدیا۔ یہ اُنیس (19)سال کی مدت مشکلات کا زمانہ تھا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تھے۔ دس سال تک صلح حدیبیہ کا معاہدہ بہت بڑی فتح کی بنیاد تھی۔

اللہ تعالیٰ نے ایک طرف نبیۖ کے کردار کو پیش کیا ہے، دوسری طرف مخالفین کے سرغنے کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ” ہم آپ لوگوں کو آزمائیںگے، کچھ خوف سے، بھوک سے، اموال، جانوں اور ثمرات کی کمی سے ، پس بشارت دیدو صبر کرنے والوں کو”۔

ثمرات سے مراد پھل اور میوے نہیں ہیں کیونکہ وہ تو اموال ہی ہیں بلکہ ثمرات ان نتائج کو کہتے ہیں جو خیرکے کاموں کے نتیجے میں نکلتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے نبیۖ سے فرمایاکہ فلا تمنن تستکثر ”احسان کے بدلے ان سے زیادہ خیر کی توقع نہ رکھیں”۔ یہ ایک عام کلیہ ہے کہ اچھائی کے بدلے میں اچھائی کی توقع رکھی جاتی ہے۔ نیکی کا ثمرہ نیکی ہوتی ہے۔ جزاء الاحسان الا احسان” احسان کا بدلہ احسان ہی ہوتا ہے”۔

مفتی محمدتقی عثمانی نے اپنی تفسیر ” آسان ترجمۂ قرآن” میں سورۂ مدثر کی آیت سے سودکا نتیجہ نکالا ہے کہ نبیۖ کا احسان کے بدلے خیرکثیر کی توقع بھی سود کے زمرے میں آتا تھا اسلئے اللہ نے منع فرمایا۔ حالانکہ احسان کے بدلے احسان کی توقع فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جاہلوں سے خیر کے بدلے شر کی توقع تھی اسلئے سورہ مدثر میں اپنے رب کیلئے صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ اللہ نے خبر دی کہ جب مکہ میں انقلاب کا نقارہ اللہ مسلمانوں کے ذریعے بجا دے گا تو یہ دن مشکل ہوگا اور کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔ سورۂ مدثر میں اللہ نے جو نقشہ پیش کیا وہ دنیا میں انقلاب کے ذریعے دکھا بھی دیا تھا۔

جو دشمن کا سردار تدبیریں ڈھونڈتا تھا،اللہ کی وحی کا انکار کرتا تھا ، اس کو سحر قرار دیتا تھا اور اسکو بشر کاکلام کہتا تھا ، ایک دن اسکو اللہ نے ”سقر ” میں پہنچانا ہے۔ اور تمہیں کیا پتہ کہ سقر کیا ہے؟۔وہ ایسا انقلاب ہے کہ جس میں کوئی رورعایت باقی نہ ہوگی اورنہ کوئی عذرچھوڑا جائے گا۔ (رنگے ہاتھوں سب مجرم پکڑے جائیںگے) اللہ تعالیٰ نے اُنیس (19)سال کی مدت کے بعدصلح حدیبیہ کے ذریعے فتح مکہ سے پہلے چند سال آخری اتمامِ حجت کیلئے سب کو دیدئیے تھے۔ حضرت خالد بن ولید اور دیگر حضرات فتح مکہ سے پہلے اسلام کی آغوش میں آگئے تھے۔ قرآن میںاُنیس (19)کے عدد کو علم الاعداد کے اعتبار سے بھی حیرت انگیز حیثیت حاصل ہے۔ جس پر تحقیق کرنے والے نے بڑا کام کیا ہے اور کمپیوٹر کے ذریعے سے بھی ایسے کمال کی ترتیب قرآن کی سورتوں اور حروف میںممکن نہ تھی۔

کرونا کی بیماری کواکیسویں صدی کے اکیسویں سال میں بھی اُنیس (19)ہی کے سال کا نام دیا گیا ہے۔ امریکہ میں پارلیمنٹ کو فوج کا تحفظ دینا بھی نظام کی ناکامی کی دلیل ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کا مسلط ہونا اور پاکستان کے آوے کا آوا بگڑنا بھی کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ لگتا ہے۔ مشرکینِ مکہ نہ صرف ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے بلکہ ان کی پوجا کا بھی تصور رکھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ زمین پر اللہ کی نمائندگی کیلئے کسی بشر رسول کی بعثت ممکن نہیں ہے، نوری فرشتوں کا یہ منصب ہے جو انکے خدا ہیں۔

جب مکہ فتح ہوا تو فتح مکہ سے قبل اور فتح مکہ کے بعد کے مسلمانوں میں وہ واضح فرق تھا جس کی وضاحت قرآن میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ مدثر کے آخر میں حق سے اعراض کرنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ

فما لھم عن تذکرة معرضین

کانھم حمرمستنفرة

فرت من قسورة

” اور ان کو کیا ہے کہ نصیحت سے اعراض کررہے ہیں؟۔ وہ لوگ جیسے بدکے ہوئے گدھے ہوں جو بھاگ رہے ہوں ببرشیر سے”۔

ابوجہل وابولہب اور دیگر سردارانِ کفارنے نبی ۖ اور قرآن سے اسی طرح کا رویہ اختیار کررکھا تھا لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کہ دن ایسے بدل جائیں گے کہ فتح مکہ کے بعد ابوجہل کا بیٹا حضرت عکرمہ بھاگنے کے بعد سچے اورپکے مسلمان بن جائینگے۔ حضرت ابوسفیان اور حضرت ہندہ اسلام قبول کرلیں گے اور نبیۖ معافی تلافی دیکر فرمائیںگے کہ مجھے اپنا چہرہ مت دکھانا تجھے دیکھ کر اپنے چچا(سیدالشہدائ) امیرحمزہ یاد آتے ہیں۔ رسول ا للہۖ کے بعد بعض لوگ پھر مرتد بھی ہوگئے تھے۔ حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر کے دور میں بڑی خوشحالی آئی تھی۔ اہل ایمان خوشحالی کی حالت میں تھے اور مجرمین کی حالت غیر تھی۔ مجرموں سے بزبان حال پوچھا جاتا کہ تم اس قدر مشکلات کی دلدل میں کیوں پھنسے ہو؟۔ اسلئے کہ ان پر مؤلفة القلوب کی زکوٰة کا دروازہ بھی بند کردیا گیا تھا۔ مجرمین کہتے تھے کہ ” ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور ہم مخمصے میں پڑنے والوں کے ساتھ مخمصہ میں پڑے رہتے تھے اور ہم آخرت کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتی کہ ہمیں یقین آگیا۔ پس شفاعت نفع نہ دیگی ان کو شفاعت کرنے والوں کی”۔ صحابہ کرام کی سیرت کے واقعات میں ہے کہ مروان بن حکم کو نبیۖ نے جلاوطن کردیا تھا اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کے دور میں مروان کو مدینہ نہیں آنے دیا گیا تھا۔ پھر حضرت عثمان نے مروان کو داماد بنایا۔ حضرت امیر معاویہ نے مروان کو مدینے اور مکے کا گورنر بنایا تھا اور اس نے صحابہ کرام پر بڑا ظلم کیا تھا۔ رسول اللہۖ نے حضرت ابوسفیان کو عزت بخشی تھی لیکن یزید کے دور میں کربلا کا واقعہ ہوگیا تھا اورحضرت عمر بن عبدالعزیز مروان کا پوتا تھا جس کو دوسری صدی ہجری کا مجدد اور انکا دور خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ تاریخ اور احادیث کو درست طریقے سے مرتب کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

سورۂ مدثر میں بڑے حقائق پوشیدہ ہیں لیکن علماء کی ایسی ٹیم ہونی چاہیے جو تعصبات کے بغیر قرآنی آیات سے امت مسلمہ کو قرآن وسنت اور تاریخ کی روشنی میں درست رہنمائی فراہم کرے۔ سورۂ مدثر کے بعد سورۂ قیامة اور پھر سورۂ دہر ہے۔ یہاں اصل مقصد سورۂ دہر سے کچھ حقائق کی طرف توجہ دلانا مقصود تھی۔ جبکہ قیامت اور الدہر بالکل الگ الگ موضوعات ہیں۔ قرآن کا مقصد بھی دونوں سورتوں میں الگ الگ مضامین کی وضاحت ہی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سورۂ قیامةسے جیسے دنیا اور زمانے کے حالات مراد لینا بے معنی اور غلط ہے ،اسی طرح سے سورۂ الدہر سے بھی زمانے کے بجائے قیامت مراد لینا غلط اور بے جا ہے۔ سورۂ دہر کے تناظر میں ہم اپنے ملک پاکستان کو جنت کی نظیر بناسکتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں اسلام کے غلبے اور پوری دنیا میں دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی ہے۔

اگر نالائق طبقہ اپنی نالائقی بدل کراپنی لیاقتوں کے جوہر دکھائے تو ہم پھر نہ صرف امت مسلمہ میں بلکہ پوری دنیا میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔ مروان و یزید کا اقتدار نالائقی اور نااہلی کے باوجود خاندانی اور موروثی پسِ منظر کی وجہ سے تھا لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اچھا کردار ادا کیا تو موروثیت نے کوئی نقصان آپ کے کردار کو نہیں پہنچایا۔ افواج پاکستان میں آرمی چیف کے بیٹے کو آرمی چیف نہیں بنایا جاتا ہے لیکن بادشاہت کے علاوہ ہمارے اس نام نہاد جمہوری نظام میں نالائقی اور نااہلی کے باجود موروثی نظام کا عمل دخل ہے۔

پاکستانی قومی ترانے میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔ علماء کی نااہل اولاد کو موروثیث کی وجہ سے اپنے باپ کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔ جس کی اسلام اور جمہوریت میں قطعی طور پر گنجائش نہیں ۔ اگر آرمی چیف کا بیٹا آرمی چیف بنتا تو پاک فوج کب سے اپنی اہلیت کھو دیتی؟۔ جمہوری پارٹیاں بھی اپنے اندر جمہوریت اور میرٹ کی روح پیدا کرلیتیں تو پاکستان کی ترقی میں سیاسی پارٹیاں اپنی مظلومیت کا واویلا نہ کرتیں۔جب اہل کا نااہل بیٹا یا پوتا یا نواسہ وارث بنتا ہے تو مدرسے کا مہتمم یا پارٹی کا سربراہ اچھے اچھوں کی محنت ، صلاحیت اور قربانیوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔جب مدارس عوام کے چندوں اور پارٹیاں عوام کی صلاحیتوں سے بنتی ہیں تو ان پر موروثی اعتبار سے قبضہ شرعی اور دنیاوی لحاظ سے کہاں جائز اور مناسب لگتاہے؟۔ غریب کو تعلیم کے مواقع نہیں ملتے اور امیر میں صلاحیت کا فقدان ہوتا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی