پوسٹ تلاش کریں

پاکستان میں اسلامی نظام کی بات سب کرتے ہیں مگر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کے علمبردار مساجد اور مدارس ہیں۔ جس نصاب کو پڑھ کر طالب علم علماء کرام اور مفتیان عظام بنتے ہیں۔ اس نصاب کی خامیاں دور کرکے فرقہ واریت اور قرآن سے دوری کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ آج مساجد میں آذان ہے لیکن روحِ بلالی نہیں۔ علماء ہیں مگر روحِ غزالی نہیں۔ حضرت بلال جیسوں کو ابوجہل جیسے گرم ریت پر لٹاکر وزنی پتھر کے نیچے دبا دیتے تھے۔ درباری علماء امام غزالی کی کتابوں کو مصر کے بازاروں میں جلا ڈالتے تھے لیکن آج کوئی انقلاب رہبر نہیں۔ جس کی وجہ سے بلال جیسے لوگوں کو وقت کے ابوجہل ریت پر لٹا دیں اور غزالی جیسے لوگوں کی کتابوں کو شہروں کے بازاروں میں جلا ڈالیں۔میرے ساتھ کچھ ایسا کرنے میں شاید بخل سے کام نہ لیتے مگر گھر جلا کر دیکھ چکے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ بچ گیا ورنہ منافقین اور مخلصین نے کوئی کمی کوتاہی اور کسر نہیں چھوڑی تھی۔
دنیا میں صراط مستقیم وہ ہے جس کی نشاندہی آخرت میں پلِ صراط سے ہوئی۔ دل ودماغ ذرا بھٹک جائے ،ہاتھ پیر کی لغزش سے انسان کھائی میں گر سکتا ہے۔ ڈگمگانے اورچھلانگ لگانے کی ہمہ وقت گنجائش ہے۔ اللہ کے رسول رحمة للعالمین خاتم النبینۖ سے بڑھ کر ہستی کس کی ذات ہے ؟۔ آپۖ بھی پنج وقتہ نماز کے علاوہ راتوں اور دن کے نوافل میں ہر رکعت کے اندر اھدنا الصراط المستقیم ”ہمیں سیدھی راہ پر چلادے”پڑھتے تھے۔یہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی بارگاہ میں دعا ہوتی تھی جو عبادت کا مغز ہے۔ اس کے باجود کبھی وحی نازل ہوتی تھی کہ جس عورت نے آپ کیساتھ اپنے شوہر کی بابت جو مکالمہ کیا تو اللہ نے بیشک سن لیااور وہ اللہ سے شکایت کررہی تھی ، اس کی بات ہی ٹھیک ہے اور مذہب والوں کا فتویٰ غلط ، فطرت اور عقل کے بالکل منافی ہے۔ کبھی وحی نازل ہوتی کہ نبیۖ کیلئے مناسب نہیں تھا یہاں تک کہ خوب خون بہاتے اور تم لوگ دنیا چاہتے اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ یہ غزوہ بدر کے بعد وحی نازل ہوئی تھی۔ پھرغزوہ احد کے بعد وحی نازل ہوئی کہ ” کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ” اور یہ کہ ”جتنا انہوں نے کیا ہے تم بھی اتنا ہی کرسکتے ہو۔ اگر معاف کردو،تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور معاف ہی کردو، اور معاف کرنا بھی اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں”۔
طالبان چوتڑ تک زنانہ بال رکھ کر دوسروں پر خود کش کرتے تھے اور جب ان کو مولانا فضل الرحمن نے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تو میڈیا نے پابندیوں یا خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیا اور آج مولانا فضل الرحمن بلاول بھٹو اور مریم نواز کی موجودگی میں پریس کانفرنس کررہے ہیں لیکن محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل کو وہاں سے شاید چلتا کردیا گیا ہے۔ سیاسی جلسوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے لیکن اس جلسے میں محمود خان اچکزئی اور اختر جان مینگل نے انقلاب اور پاک فوج کے مظالم کی نشاندہی کی تھی اور جلسے کی اہمیت بھی اسلئے تھی۔ اسلامی انقلاب کا نعرہ سب نے لگایاتھا لیکن اسلامی انقلاب کیلئے ایک دونکتے بھی بیان نہیں کئے۔ جس طرح ہمارا ملک پاکستان اسلام اور لاالہ الا اللہ کے نام پر بنا تھا لیکن بعد میں انگریز کی باقیات پر چلتا رہا ، اسی طرح سے سیاسی جماعتوں کے مفادات کیلئے اسلامی انقلاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے بنیادی نکات کا تعارف ضروری ہے۔
اسلام آزادی کا درس دیتا ہے۔ دین میں بھی زبردستی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ عبادات میں بھی خوشی اور مرضی کا معاملہ ہے۔ غسل ،وضو اور نماز کے فرائض سے لیکر موجودہ سودی نظام تک کو اسلام کا نام دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب صحابہ نے من گھڑت فرائض اور عبادات پر سزاؤں کا کوئی تصوررکھا تھا تو بعد کے فقہاء کو نئے اسلام بنانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار مختلف آیات میں طلاق سے رجوع کی بنیاد میاں بیوی میں معروف طریقے سے صلح اور باہمی رضامندی ہی کو قرار دیا ہے لیکن مولوی نے حلالہ کی لعنت سے اسلام کا بیڑہ غرق کررکھا ہے۔
حضرت آدم و حواء نے جنت میں شجرہ نسب کی ممانعت سے پرہیز نہیں کیا تو جنت سے نکالے گئے۔ جس کی وجہ سے قابیل کا حمل ٹھہر گیا اور قابیل نے خون کیا۔ اسلام نے لونڈی اور غلام سے نکاح کا تصور دیکر جبری نظام کی بنیاد ختم کردی تھی اور نکاح وایگریمنٹ کے ذریعے سے نسلِ انسانی کو تحفظ دیا تھا۔ زنا کے قریب جانے سے روکا ہے اور حضرت علی نے فرمایا کہ ”متعہ حج اور متعہ النساء پر حضرت عمر پابندی نہیں لگاسکتے تھے۔ جب نبیۖ نے ان کو جائز قرار دیا تھا”۔ متعہ حج پرپابندی کی بات اسلئے درست تھی کہ جاہل عوام بدبودار پسینے میں شرابور ہوکر حج کی فضاء کو متعفن بنارہے تھے اور متعہ النساء پر پابندی اسلئے درست تھی کہ کم سن بچیوں کو متعہ النساء کے نام پر شکار کیا جاتا تھا اور اپنی اولاد سے بھی انکار کیا جاتا تھا۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ”اگر حضرت عمر متعہ النساء پر پابندی نہ لگاتے تو قیامت تک کوئی زنا نہ کرتا مگر بہت بڑا کم بخت”۔ حضرت علی کی بات بالکل درست اسلئے تھی کہ جنت میں بی بی حواء اور حضرت آدم نے بھی اس شجرہ ممنوعہ سے پرہیز نہیں کیا تو اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ” ہم نے اپنے اختیار سے یہ غلطی نہیں کی ہے”۔ بھوک اور پیاس پر قابو پانا آسان ہے لیکن شہوانی جذبات پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی اور اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا”۔ جدید ترقی سے گوشت کا کولڈ اسٹوریج کی وجہ سے خراب نہ ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا بار بار تباہی کا شکار ہورہی تھی ورنہ تو دنیا بہت پہلے ترقی کرچکی ہوتی۔
آج جبری زنا اور غربت کی وجہ سے اسلامی ممالک کاحال بدکاری میں زیادہ برا ہے۔ اسلام کی غلط تعبیرات کی وجہ سے ایران کا متعہ اور سعودی عرب کا مسیار وبالِ جان ہے۔ پاکستان میں ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس بلائی جائے اور اسلام کی تعلیمات اور اسکے نتائج دنیا اور عوام کے سامنے لائے جائیں تو ہم آنے والی مشکل سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔پولیس، عدلیہ اور پارلیمنٹ کا موجودہ نظام بدلنے کی بہت ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندوں کی نہیں پیسوں کے نمائندوں کی حکومت ہوتی ہے۔ جس طرح اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کا جواز نہیں اسی طرح جو اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار لیڈر شپ اور حرام کے پیسوں سے جینے والے سیاستدان ہیں ان کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بہت اچھا ڈرامہ ہے کہ ملک سے باہر بیوی بچوں کے نام پر رشوت لی جاتی ہے اور ان کا سیاستدانوں، ججوں اور جرنیلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جن جرنیلوں، ججوں، بیوروکریٹوں ، سیاستدانوں، تاجروں اور عوام کے کسی بھی طبقے کے بال بچے باہر ہوں ،وہ ملک کی پالیسیوں اور انتظام میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل ہرگز نہیں ہیں۔ ان کی تمام مراعات بھی واپس لی جائیں۔ اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی ان کیلئے غیر قانونی قرار دی جائے۔ مرتکب لوگوں کی تمام جائیدادیں بحق سرکار ضبط کردی جائے۔ اگر اسلامی مزارعت ہوتی تو جاگیردارانہ نظام اور غلامانہ ذہنیت بالکل ختم ہوجاتی۔ دنیا میں یہود کے سودی نظام کا مقابلہ کرنے کیلئے سور کا نام دنبہ رکھنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ اسلامی نظام کو اپنی روح کے مطابق لانا ہوگا۔ یورپ ، روس اور ہندوستان سمیت ایک نئے نظام کی تشکیل سے دنیا میں ایک زبردست اسلامی انقلاب آسکتا ہے۔

اُم رباب چانڈیو کو آئندہ پی ڈی ایم کے جسلے میں مدعو کیا جائے

میہڑ دادو سندھ کی اُم رباب چانڈیو کے والد ، دادا ، چاچا کو 2017ء میں بے دردی کیساتھ شہید کیا گیا ۔ اُم رباب دُختر پاکستان ننگے پیر عدالت سے انصاف مانگ رہی ہے۔ اس کوجان کا خطرہ ہے اسلئے سکھر سے کراچی کیس منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن اسکا مطالبہ ماننے کے بجائے الٹا کیس گھوٹکی منتقل کیا گیا۔ آئندہ PDMکے جلسے میں مدعو کیا جائے۔ جبری حکومتوں میں رہنے والے ظالم محروم ہیں مظلوم نہیں!۔

آصفہ بھٹو اورمریم نواز جس اقتدار کے سائے میں پلی ہیں اسی نظام سے غریب اور بے بس عوام نے چھٹکارا پانا ہے۔ کوئٹہ اور پشاور چھوڑ کر گوادر موٹر وے کے رُخ کو تخت لاہور منتقل کرنیوالا خود غرض نواز شریف تھا۔ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے آواران میں موٹروے کی سیکورٹی پر مأمور اہلکاروں کو پھولوں کے گلدستے نہیں مزاحمت کا سامنا تھا۔ بلوچوں کے گاؤں جلانے یا اجتماعی قبروں کے ذمہ داراور اتحادیوں کی ابھی عدت پوری نہیںہوئی

اگر رحمت للعالمینۖ کا یہ اسلام پیش کیا ہوتا تو سیاسی اور اسلامی انقلاب آچکا ہوتا۔

جاگیردارانہ نظام غربت، غلامی اور انسانی حقوق کی پامالی کیلئے بنیادی نرسری ہے اسلام کاشتکار کو زمین دینے کا حکم دیتا ہے اور مزارعت کو سود قرار دیتاہے

سیاستدان، جرنیل، جج اور جاگیردار طبقہ مزارعین کو مفت میں زمین کاشت کیلئے دیں یا پھر خود ہی کاشت کرنا شروع کریں تو غریب امیر کا فرق ختم ہوگا

اسلام میں غریب امیر کی خواتین پر بہتان لگانے کی ایک سزا ہے، سورۂ نور کی آیات سے دنیامیں رحمة للعالمینۖ کا دین پھیل کر انقلاب آجائے گا۔

انسانی حقوق کی علمبردار طلبہ تنظیموں تک ہماری کتاب ”عورت کے حقوق ” پہنچائی جائے تو مدارس کی جان حلالہ کی لعنت سے چھڑائی جائے۔ مدارس رشد وہدایت کی جگہ گمراہی کے قلعے بن چکے ہیں۔ اسلام بنیادی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔ اسلامی جذبہ ہے تو اپوزیشن کی ساری قیادت مولانا فضل الرحمن کے پیچھے کھڑی ہیں۔ درست اسلامی تعلیم کے کچھ نکات بھی منبر و محراب سے اُٹھنے شروع ہوگئے تو لیفٹ اور رائٹ ایک صف میں کھڑے ہونگے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے اگر سورۂ نور کی آیات سے اپنی قوم کی رہنمائی کردی ہوتی تو بہت آسانی کیساتھ انقلاب آسکتا تھا۔ حضرت عائشہ پر بہتان کی سزا قرآن وسنت میں80کوڑے تھے اور عام غریب خاتون پر بھی بہتان لگانے کی سزا80کوڑے ہیں۔ اگر محمود خان اچکزئی نے ہماری بات مانی ہوتی اور مولانا فضل الرحمن کے اسلام آباد دھرنے میں رحمت للعالمینۖ کا یہ اسلام پیش کیا ہوتا تو سیاسی اور اسلامی انقلاب آچکا ہوتا۔ لیکن نعرۂ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے عوام کو دھوکا دینے کیلئے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ کبھی بھی عوام کی عزت وناموس کو اپنے برابر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ عمار علی جان اور منظور پشتین جیسے جوانوں کو چاہیے کہ زرخرید صحافیوں کو متنبہ کریں کہ اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ حکومتوں کے مزے اڑانے والے اشرافیہ کا بھی آلۂ کار نہ بنیں۔ ہرقسم کی طبقاتی تقسیم سے بالاتر ہوکر قوم کے مسائل کا اجتماعی حل نکالیںگے تو غریب کے مسائل حل ہونگے۔ اسلام کا زرعی نظام غربت کی لیکر سے نکالے گا۔

اپنی قوم، اپنے ملک، خطے اورعالمِ انسانیت پر رحم کرنا!

اداریہ: دوسر اکالم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

میرے مرشدحاجی محمد عثمان نے زندگی تبلیغی جماعت میں گزاری۔ بڑی خوبی یہ تھی کہ مریدوں کا دسترخوان لگتا تو اسی دسترخوان پر کھاتے۔ تبلیغی جماعت کے اسٹیج سے وعظ کرتے تو اکابر میں ہوتے مگراجتماع میں عوام کیساتھ بیٹھتے۔رائیونڈ میں کھانا بھی اکابر کیساتھ نہیں عوام کیساتھ بیٹھ کر کھایا کرتے۔ اکابر کی طرح مرکز میں بیٹھ کر چلے سے گریز کرنے کے بجائے بستر اٹھاکر سالانہ چلے بھی لگاتے۔ فرماتے تھے کہ جب تک ہم خود بستر اُٹھاکر عوام کیساتھ گلی کوچوں میں قریہ قریہ نہیں گھومیںگے تو ہماری اصلاح نہیں ہوسکتی۔ ان کی یہ ادا تبلیغی جماعت کے امیر مولانا محمد یوسف نے بڑی پسند کی تھی، ان کی طرف سے خصوصی اجازت تھی کہ حاجی عثمان چھ نمبروں وعظ کے پابند نہیں تھے۔ مولانا یوسف کی وفات کے بعد مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا تو حاجی عثمان سے جان چھڑانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ منظم پروپیگنڈہ کیا گیا کہ حاجی صاحب کی وجہ سے جماعت میں توڑ پیدا ہورہاہے، جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے اور جماعت کے اسٹائل اور ماڈل میں امتیازی صورت پیدا ہورہی ہے۔
حاجی عثمان کے بیان پر اجتماع و مراکز میں پابندی لگی مگر منبر تک حاجی عثمان کی رسائی تھی۔ ایک مرتبہ ایک تبلیغی نے خواب سنایا کہ مفتی محمود نے کہا کہ ”اگر مجھے تبلیغ کی افادیت کا دنیا میں پتہ ہوتا تو سیاست اور دیگر خدمات کی بجائے زندگی تبلیغی جماعت میں گزارتا” ۔ حاجی عثمان نے منبر پر چڑھ کر ڈانٹ پلائی اور فرمایا کہ ” مفتی محمود نے ختم نبوت کیلئے قربانی دیکر جیل میں انگلی سڑائی تھی ۔ سارے تبلیغی جماعت والے مل کر بھی مفتی محمود کی اس خدمت کو نہیں پہنچ سکتے ہیں جو انہوں نے ختم نبوت کیلئے دی ہے۔ مفتی محمود نے رسول اللہۖ کی جوارِ رحمت کے فیضان میں جگہ پائی ہے،ہم تبلیغی جماعت کی یہ اوقات نہیں کہ جھوٹے خواب بیان کرتے پھریں” ۔
حاجی عثمان کی خانقاہ میں بیان صرف مریدوں کیلئے ہوتا تھا، ایک بیان کیلئے اس وقت کے مرکز مکی مسجد کراچی کے اجتماع میں اعلان کروادیا کہ تبلیغی جماعت والے بھی اس بیان میں شرکت کرسکتے ہیں۔ جس میں اس پر زور تھا کہ رسول ۖ نے جماعت میں شخصیات پیدا کئے اور شخصیت کے بغیر جماعت بھیڑ ہے۔ وہ آڈیو کیسٹ شیخ الحدیث مولانا زکریا کوبھیج دی۔ مولانا زکریا نے تبلیغی اکابر کو بٹھاکر کیسٹ سنائی اور ان کو سختی کیساتھ حاجی عثمان کیخلاف سازشوں سے روک دیا۔ مدینہ میںحاجی عثمان کے وعظ میں مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مولانا فقیر محمد رو روکر گھومنا شروع کردیتے۔ مولانا فقیرمحمد نے کہا کہ ”مجھے الہام ہوا کہ حاجی امداداللہ مہاجرمکی کی نسبت سے باطنی خلافت آپ کو پیش کردوں”۔ حاجی عثمان نے فرمایا کہ ”مجھے تو الہام نہیں ہوا ۔ مجھے یہ اجازت مل جائے تو”۔ مولانا فقیر محمد نے مدینہ منورہ مسجد نبویۖ میں 27رمضان لیلة القدر کو اپنے ورود کا بتایا تو حاجی محمد عثمان نے قبول کرلیا ۔ مولانا فقیرمحمد نے جس انداز میں خلافت نامہ لکھ دیا اور قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا تو ایک ایک جملہ حقائق کی وضاحت کرتا ہے۔ عرصہ بعد مولانا فقیرمحمد نے اعلان کیا کہ ”میں نے خلافت واپس لی ہے ” لیکن اسکا حاجی عثمان کی ذات اور مریدوں پر کچھ اثر نہیں پڑا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی احمد الرحمن اور مفتی ولی حسن نے مولانا فقیرمحمد سے کہا کہ یہ خلافت درود سے دی تھی یا کسی کی مشاورت سے؟۔ کہنے لگے کہ خلافت ورود کی وجہ سے دی تھی لیکن سلب مشاورت کی وجہ سے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرعی اعتبار سے یہ درست نہیں کہ ورود کی خلافت مشاورت سے سلب کی جائے۔ پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کے لیٹر پیڈ پر مولانا فقیر محمد نے لکھ دیا کہ ”میں نے حاجی محمد عثمان کو خلافت ورود سے دی جو تا حال قائم او ر دائم ہے”۔ مفتی احمد الرحمن ، مفتی ولی حسناور مفتی جمیل خان کے بطور گواہ دستخط ہیں۔تبلیغی جماعت اور حاجی محمد عثمان کے مریدوں میں جھگڑے ہونے لگے تو حاجی عثمان نے اعلان کیا کہ جو مرید تبلیغی جماعت میں کام کرنا چاہیں تو خوشی سے اجازت ہے مگر جو مرید بن کر رہیں وہ جماعت میں نہ جائیںاسلئے کہ انتشار کی فضاء بن رہی ہے۔
تبلیغی جماعت نے طوفان برپا کرنے کی کوشش کی مگر مولانا خان محمد کندیاں امیر تحفظ ختم نبوت نے تبلیغی اکابر کو سمجھایا کہ قادیانی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔مفتی محمد تقی عثمانی ،مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی رشید احمد لدھیانوی نے تبلیغی جماعت کیخلاف فتویٰ داغ دیا کہ اکابرین اس جماعت کو کشتی ٔ نوح قرار دیکر گمراہی پھیلارہے ہیں۔ فتویٰ لینے والے تبلیغی جماعت کراچی کے امیر بھائی یامین کے صاحبزادے مولانا زبیر تھے، عبداللہ کے نام سے فتویٰ لیا۔ شرپسنداس محاذ پر مکمل ناکام ہوگئے مگر مخصوص افراد سازش کا حصہ ہوتے تھے لیکن مولانا زکریا کے خلفاء اور تبلیغی جماعت کا مخلص طبقہ اس کا شکار نہیں تھا۔ بلکہ وہ اس مہم جوئی کی اندرونِ خانہ مزاحمت بھی کرتا تھا۔ حاجی عثمان کے مرید حاجی شفیع بلوچ نے بتایا کہ” ایک مرتبہ پیپلزپارٹی کے رہنما شفیع جاموٹ نے کہا کہ تمہاری خانقاہ میں قادیانی گھسے ہیںجو اندر بیٹھ کر سازش کررہے ہیں تو میں نے کہا کہ غرق ہوجاؤ ،قادیانی کیا سازش کرینگے مگر جب اندر سے سازش ہوئی اور فتویٰ لگا تو معلوم ہوا کہ وہ درست کہہ رہا تھا”۔ فوج کے اعلیٰ افسران خانقاہ سے نہ صرف بھاگے تھے بلکہ ایک بریگڈئیر نے دھمکی آمیزفون کیا تو حاجی شفیع بلوچ نے جواب دیا کہ ”جو رات قبر میں لکھی ہوئی ہے وہ باہر ویسے بھی نہیں ہوسکتی ہے”۔
حاجی عثمان کیخلاف فتوؤں میں اپنے خلفاء استعمال ہوگئے۔ علماء نے بہت گھٹیا کردار صرف پیسوں کیلئے ادا کیا۔ زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں لیکن چشم فلک نے یہ تماشا دیکھا ہے کہ ایمان والوں کی شمعیں کس طرح بجھ رہی تھیں۔جب موقع تھا کہ فتویٰ لگانے والے اکابر علماء ومفتیان سے بدلہ لے سکتے تھے کیونکہ حاجی عثمان کی حسد میں سیدعبدالقادر جیلانی، شاہ ولی اللہ،مولانا یوسف بنوری اورشیخ الحدیث مولانا زکریا پر بھی کفر والحاد اور قادیانیت کے فتوے لگا چکے تھے لیکن حاجی عثمان نے منع کردیا کہ بدلہ نہیں لینا ہے، حالانکہ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے، بکروں کو ذبح کردینا ، ٹانگیں ہلائیںگے تو ہم پکڑ لیںگے۔
حضرت آدم کے بیٹے ہابیل اور قابیل میں مذہبی، لسانی، قومی، ملکی تعصبات کی نہیں شیطانی اور نفسانی جنگ تھی۔ ہابیل کی قربانی اللہ نے قبول کی تو قابیل کو قتل کی پڑی۔ ہابیل نے کہا کہ میرا ہاتھ آپ کو قتل کرنے کی طرف نہیں بڑھے گااسلئے کہ مجھے اپنے اللہ اور اپنی آخرت کا خوف ہے۔ حضرت یوسف نے بھائیوں کو معاف کیا اور نبیۖ نے اپنی دشمن مشرک قوم کو مکہ میں معاف کیا۔میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کا مذہبی تعصبات کے خاتمہ میں بنیادی کردار تھا۔ طالبان و ریاستی اہلکاروں نے ہم پر باہمی مشاورت سے حملہ کیا تو مہمان اور خواتین سمیت 13افراد شہید ہوگئے تھے اور فرانس نے اس خبر کوبڑی اہمیت دیکر شائع کیا۔ مجھے پیرس جانے کا موقع ملا، اس وقت چاہت کے باوجود سیاسی پناہ اسلئے نہیں لی کہ امریکہ کیخلاف جنگ میں اپنوں کو نقصان نہیں پہنچے۔ آج ہندوستان اور اسرائیل سمیت ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے کہ شیطان کا تباہ کن منصوبہ ہار جائے اور انسانیت اور اسلام کو فتح ملے۔
قرآن انسانیت کو بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انگریز کی باقیات کا نظام پختون، سندھی، بلوچی، پنجابی اور مہاجر کلچر اور اعلیٰ ترین روایات کو بھی تباہ وبرباد کر رہاہے۔ جب پاکستان کا ریاستی نظام ٹھیک ہوگا تو پوری دنیا پر ہم امامت کرینگے۔

www.zarbehaq.com

بہنوں کی شادی پر ایک روپیہ نہ لوں گا۔ منظور پشتین کا اعلان

دنیا کی کوئی قوم نہیں جو کسی گناہ پر متفق ہو لیکن پشتون قوم نے عورتوں کو حق نہ دینے پر متفق ہے سب سے پہلے میں گھر سے ابتداء کر کے بہنوں کی شادی پر ایک روپیہ نہ لوں گا۔ منظور پشتین کا اعلان

دوستو! ہمارا یہ مسئلہ ہے کہ خیلوں کے درمیان لڑائی ہے، خاندانوں کے درمیان لڑ ائی ہے ۔ خدا قرآن کا واسطہ کہ سو سال سے ہزاروں لاکھوں افراد ایک دوسرے کے قتل کئے تمہیں اس کا کیا صلہ ملا ؟ کیا خیر پہنچاہے؟۔ کوئی خیر نہیں پہنچا ۔ پنجابیوں نے کلومیٹروں کی زمین لے لی لیکن تم نے کچھ نہیں کہا اور اپنے عزیزوں کو اپنی زمین پر نہیں چھوڑتے ۔ یہ غیرت نہیں اپنے عزیز کو اپنی زمین پر قتل مت کرو ، اپنے بھائی کو قتل مت کرو۔ وہ معاشرہ اور وہ سوسائٹی جو عزیزانہ مخاصمت کی بنیاد پر کھڑی ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی ہے۔ یہاں اگر کوئی اسلام لاتا ہے شریعت لاتا ہے تو وہ بھی اسی مخاصمانہ تکبر کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوسکتا اگر کوئی سوشلزم لاتا ہے تو بھی مخاصمانہ تکبر کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ یہاں کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اسلئے کہ ہمارا معاشرہ اسی عزیزانہ مخاصمت کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ آج سے یہ عہد کرنا ہے کہ عزیزانہ مخاصمت نہیں بلکہ آپس کا بھائی چارہ ہے۔ ہم ایکدوسرے کے بھائی ہیں پختون ایکدوسرے کے ساتھ کسی صورت میں نہیں لڑینگے۔ جنگوں سے نکلنا ہے اور عورتوں کے حقوق دینے ہیں۔ ایک بھی دنیا میں ایسی قوم نہیں جس نے کسی گناہ پر اتفاق کیا ہو کہ اس کو بہر صورت کرنا ہے۔ ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر بحیثیت قوم اتفاق کیا ہے کہ ہم نے کسی کو پیسوں کے بغیر نہیں دینا ہے۔ یہ کام بند کرو۔ اپنی بہنوں اور ماؤں کے حقوق کی تلفی ہمیں تباہ کریگی۔ یعنی بیٹیوں اور بہنوںکی شادی کرانے پر زیادہ زیادہ پیسے وصول کرنا ۔ سب سے پہلے میں نے گھر سے یہ ابتداء کی کہ جب بھی میری بہن کی شادی ہوگی تو اس پر میں ایک روپیہ بھی نہیں لوں گا۔ میں نے ابھی بھی ایسا کیا ہے ۔اگر میری بہن میرے گھر سے جاتی ہے تو میں کیا اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ اس کیلئے جہیز لوں۔ عورتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے ۔ اپنے پڑوسیوں اپنے بھائیوں اور عزیزوں سے لڑنا جھگڑنا چھوڑ دو۔ میں اپنی قوم کا دل کیسے جیتوں؟۔ ایک طرف میری قوم کہتی ہے کہ انقلاب لاؤ دوسری طرف خیلوں میں معمولی زمینوں پر جھگڑے ہیں۔ کیسے انقلاب لائیں ان سب میں نا اتفاقی ہے۔ ہمیں ایک کام بتاؤ کہ اپنی قوم کو متحد کریں یا دشمن سے ٹکر لیں؟۔ دشمن ہمارے گھر میں گھسا ہے ہم اس کیلئے کھڑے ہوں یا جو اپنے بھائی آپس میں لڑ رہے ہیں ان کو دیکھیں PTMسے کون ناراض ہے اور کس لئے ناراض ہے؟۔ صرف اسلئے ناراض ہے کہ وہاں پر پکوڑے کھارہے ہیں۔ یہ بہت چالاک ہیں۔ گاؤں علاقے میں ایک آدمی کو ٹھیکہ دیتے ہیں ، پھر اس کو پکوڑے کھلاتے ہیں اور پھر اس کو چند میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں ۔ پھر اس کو قوم کی دشمنی کیلئے کھڑا کردیتے ہیں۔ یہ کام وہ چھوڑ دیں۔ قسم سے اس وقت تک یہاں کے حالات کی درستگی نہیں ہوسکتی کہ جب تک ہم آپس میں لڑنا جھگڑنا نہ چھوڑیں۔ دوستو! میں ہمیشہ دشمن کو مخاطب کرتا تھا اور آج اپنی قوم کو سمجھارہا ہوں۔ یہ لڑنے والا کام چھوڑ دیں جس کے جھگڑے ہوں وہ ایکدوسرے کو معاف کریں۔ ہم ایک ایک گھر کے پاس کھڑے ہوکر ان کو نہیں سمجھاسکتے ہیں تاہم ایک مصالحتی کمیٹی بنالیتے ہیں جو ہر جگہ پر پہنچے اور وہ جھگڑوں کا خاتمہ کردے۔ ان جھگڑوں نے بہت رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔ ان کو بند کردیں۔ آپس میں بھائی چارہ بنالیں۔

یہ غلط ہے کہ نبیۖ کا حضرت عائشہ سے نکاح ہوا تو 6 سالہ اور رخصتی میں 9سالہ بچی تھیں.

جبری نکاح کا تصور

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

1: حسن بصری و امام نخعی کے نزدیک عورت کا زبردستی سے نکاح کرایا جاسکتا ہے۔کنواری ہو بیوہ یا طلاق شدہ ۔ 2:ابن شبرمہ کے نزدیک عورت کا زبردستی نکاح صحیح نہیں 3: امام شافعی کے نزدیک کنواری کا نکاح زبردستی سے کرایا جاسکتا ہے مگر طلاق شدہ وبیوہ بچی ہویا بالغہ عورت کا نہیں۔ 4: حنفی مسلک میں بچی کا زبردستی سے نکاح کرایا جاسکتا ہے لیکن بالغہ کا نہیں کرایا جاسکتا۔ چار اماموں کا اتفاق ہے کہ کنواری بچی کا زبردستی سے نکاح کرایا جاسکتا ہے۔ (کشف الباری ج ٣ صفحہ٢٤٦:مولانا سلیم اللہ خان(
بچی کا زبردستی سے نکاح کرانے سے بہتر یہ ہے کہ اس کو زندہ زمین میں گاڑ کر دفن کیا جائے۔ پاکستان نے بہت بڑا احسان کردیا ہے کہ بچپن کی شادی پر پابندی لگادی ہے اور جب کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پولیس گرفتار کرلیتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں یہ بنیادی بات ہے کہ ” کوئی بھی قانون قرآن وسنت سے متصادم نہ ہوگا”۔
یہ غلط ہے کہ نبیۖ کا حضرت عائشہ سے نکاح ہوا تو 6 سالہ اور رخصتی میں 9سالہ بچی تھیں۔ عن عائشة ان النبیۖ تزوجہا وھی بنت ست سنین وادخلت علیہ وھی بنت تسع و مکثت عندہ تسعًا ”حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپۖ سے نکاح ہوا تو 6 سالہ لڑکی تھیں اوررخصتی ہوئی تو9سالہ لڑکی تھیں اور آ پ کیساتھ9سالوں تک رہیں”۔ (بخاری)
6 سالہ اور9سالہ ہو تو بجائے بنتکے طفلة ست سنین6 سالہ بچی ، طفلة تسع سنین 9سالہ بچی کے الفاظ استعمال ہوتے۔ یہ ترجمہ غلط ہے کہ 6 سالہ لڑکی تھی تو نکاح ہوا اور9سالہ لڑکی تھی تو رخصتی ہوئی۔دوسری روایت ہے کہ 9سالہ لڑکی تھی تو جماع ہوا ۔(بخاری )
نکاح سن11نبوی، رخصتی سن 1 ھ کو ہوئی۔ سن 11 نبوی کو اماں عائشہ کی عمر16 سال ہو تو 5سال قبل ازنبوت پیدائش بنتی ہے ۔ حضرت اسمائ کی وفات100سال کی عمر میں73ھ کو ہوئی۔ جو اماں عائشہ سے دس سال بڑی تھیں۔ 100 سے72سال نکالے جائیں تو حضرت اسماء کی عمر ہجرت کے وقت28 سال بنتی ہے اور 13 سال مکی دور کے نکالے جائیں توحضرت اسماء کی بعثت نبوی کے وقت15سال بنتی ہے۔ اس حساب سے اماں عائشہ کی عمر بعثت کے وقت عمر5سال اور11نبوی کوآپ کی عمر ٹھیک 16سال ہی بنتی ہے۔
یتیم لڑکوں کا اللہ نے فرمایا: ” مال انکے حوالہ کرو حتی اذابلغوا النکاح جب نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں” ۔ لڑکی کا نکاح کی عمر کو پہنچنا فطری بات ہے۔6اور9 سالہ بچی ہوتی ہے۔ بچی کا پردہ ہے اورنہ نکاح ۔ بنات کا پردہ اور نکاح ہے۔ مراھقہ کی عمر11، 12، 13سال ہوتی ہے بنات 14، 15سے 20،22 کی لڑکیاں ہیں۔
عربی میں عبدالقادر کو ” یاقادو” کہہ سکتے ہیں۔ کروڑوں کابنگلہ ہوتوخالی 10 کہنے سے 10کروڑاور لاکھوں کی گاڑی ہو تودس سے10 لاکھ مرادہوتے ہیں۔ عربی گنتی 11 سے19 تک احد عشرة، اثنا عشرة… ست عشرة… تسع عشرة کیلئے ست سے مراد 16 اورتسع سے مراد 19ہے۔ اسلئے کہ نکاح کیلئے بچی نہیں لڑکی کا ہونا ضروری ہے۔
چند سال پہلے اخبار ”عوام” جنگ میں خبر شائع ہوئی کہ کینیڈا میں 66سالہ شخص کا نکاح 36سالہ عورت سے ہوا۔ 30سال عمروں میں فرق ہے۔ 20سال معاشقہ چلااورآخرکار دونوں میںرشتہ ہوگیا۔ اگر اماں عائشہ سے متعلق درست معلومات ہوتیں تو گستاخانہ فلم کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا ۔جدید تحقیق کے مطابق بچے میں جنسی خواہش کا مادہ ہوتا ہے جبکہ بچی میں جنسی خواہش بالکل نہیں ہوتی۔
علماء کرام و مفتیان عظام آگے بڑھ کر اعلان کریں کہ جب تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر رخصتی کے وقت19برس تھی تو پوری دنیا کو پیغام پہنچادیں کہ نبیۖ کے خلاف کارٹون کی مہم بنیاد ہی غلط ہے۔ جس میں اغیار سے زیادہ ہماری غفلت کا نتیجہ ہے۔جب اغیار نبیۖ کی سیرت کا مطالعہ کرینگے تو گرویدہ بنیں گے۔

مشکواة کیساتھ الاکمال فی اسماء الرجال کی کتاب میں واضح طور لکھا ہے کہ حضرت اسماء کا انتقال 100سال کی عمرمیں 73ھ کو ہوا اور آپ اپنی بہن ام المؤمنین حضرت عائشہ سے 10سال بڑی تھیں۔
ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے خبر دی یوسف …نے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ اُم المؤمنین کے پاس تھا ۔ آپ نے فرمایا کہ جب یہ آیت اتری تھی: بل الساعة موعدھم و الساعة ادھٰی و امر تو اس وقت میں چھوکری تھی اور کھیلا کود اکرتی تھی۔( بخاری)
یہ سورة القمر ہجرت سے 5سال پہلے نازل ہوئی، جس میں شق القمر کا واقعہ ہے۔ اس وقت اماں عائشہ کی عمر 13 سال بنتی ہے۔ جب رسول ۖ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ میں پہلے جبیر بن مطعم کو ان کا رشتہ دے چکا ہوں۔ جب حضرت ابوبکر نے مطعم کے سامنے رشتے کی بات رکھی تو اس نے کہا کہ آپ لوگ اپنا دین بدل چکے ہو اسلئے میں اپنے بیٹے کیلئے تمہاری بیٹی نہیں لیتا ہوں۔حضرت ابوبکر بہت قریبی صحابی تھے ،یہ کیسے ممکن تھا کہ سن 5نبوی کو حضرت عائشہ کی پیدائش ہوئی اور 5 نبوی سے 11نبوی تک کے اس انتہائی کٹھن مرحلے میں ایک مشرک سے اپنی چھوٹی بچی کا رشتہ بھی طے کردیا ؟۔
5نبوی تک دارارقم میں چھپ کر تبلیغ ہوتی تھی۔ دار ارقم کے محدود افرادمیں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ بنت ابوبکر شامل تھیں۔ ابوبکر کی چار اولاد کی پیدائش نبوت سے قبل ہوئی ۔(طبقات ابن سعد)
آیت”جن عورتوں کو حیض نہیں آتا ”سے یہ دلیل غلط ہے کہ کم عمر بچیاں مراد ہیں حالانکہ وہ خواتین مراد ہیں، جن کا سلسلہ حیض ختم ہویا بانجھ ہوں۔ اگر کوئی بضد ہوکہ اماں عائشہ کی رخصتی اور جماع کا عمل 9سالہ عمر میں ہوا۔ عرب جتنا گرم پاکستان، بھارت ہیں تو کیاکوئی شریف انسان اپنی بچی کواس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس عمر میں نکاح کیلئے پیش کریگا؟۔
کیا عورت کے نکاح میں شریعت سازی کاحق تھا؟۔ بچی کا نکاح ہوتوپھر بلوغت کے بعد نکاح برقرار رکھنے یا توڑنے کے حق پر اختلاف ہوتو یہ شریعت ہوسکتی ہے؟۔ جس غلط مفروضے پر جعلی شریعت کی بنیاد رکھی گئی ہے اس کو ڈھانے کیلئے کسی مسیحا کے انتظار کا حکم ہے؟۔ مفتی اعظم پاکستان برادر شیخ الاسلام مفتی محمد رفیع عثمانی کہتے ہیں کہ ” ہم علماء کو معلوم نہیں ہے کہ کس کا مسلک حق اور کس کا غلط ہے۔ جب امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو اس کی ہر بات حق ہوگی اور اس کا مخالف باطل ہوگا”۔ کیا امام مہدی تک بیٹھ کر گمراہی میں رہنا ہے؟۔
نبیۖ نے فرمایا” جسکے پاس بچی(لونڈی) ہو، پھر اس کی بہترین تعلیم کرے، بہترین تربیت کرے۔ پھر اس کو آزاد کرے ، پھر شادی کرے تو اس کیلئے دو اجر ہیں” بخاری۔فائدہ :لونڈی بچی ہو تو جنسی تعلق نہیں تعلیم وتربیت دینی ہوگی اور پہلے بلوغت، آزادی اور پھر شادی کا تصور دیا گیا ہے۔کم عمر بچوں کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنانے والوں کا ضمیر کبھی اس بات پر نہیں جاگ سکتاہے کہ نبی پاکۖ کی توہین کاراستہ روکنے کیلئے حدیث کی زبردست تحقیق کو مان لیں۔ ان کا ضمیر جگانے کیلئے بڑی محنت درکار ہے۔

مرزائی اور نبوت کے دعویدار کا قتل اور اس کا حکم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
قرآن کریم نے دنیا کو چیلنج کررکھا ہے کہ ” قرآن کی طرح دس سورتیں بناکر لاؤ۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ آیات بناسکے ”۔
رسول اللہ ۖ کے دور میںابن صائد نے نبیۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے نبی ہیں اور میں تمام جہانوں کا نبی ہوں۔ لیکن نبیۖ نے اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ فرمایا کہ اس کے قتل میں کوئی خیر نہیں ہے۔( صحیح :بخاری)
کوئی شخص اگر موجودہ دور میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دماغ خراب ہوسکتا ہے اسلئے اس کو پکڑ کرڈاکٹر سے اس کا علاج کرانا چاہیے۔ اور اگر وہ پاکستان یا کسی بھی مسلم ملک میں سازش کرکے ایسی فضاء بنانا چاہتا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کو بدنام کیا جاسکے تو اس کی سازش کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔
فیصل خان عرف خالد خان غازی نے جس مرزائی کو نبوت کا دعویٰ کرنے پر قتل کیا تو اس پر ایک عجیب فضاء بنائی گئی۔ کیا صحابہ کرام اور نبیۖ میں ایمان نہیں تھا نعوذ باللہ من ذٰلک کہ ابن صائد نبوت کے دعویدار کو قتل نہیں کیا تھا؟۔
بخاری کی حدیث ہے کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہاہے مگر مبشرات اور وہ نیک خواب ہیں۔ بعض روایات میں نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ باقی رہنے کی خبر ہے۔ اگر نبوت سے مراد اصطلاحی نبوت لی جائے تو پھر ختم نبوت پر بھی ایمان باقی نہیں رہے گا۔ اسلئے کہ بہت بڑا حصہ اس کا باقی سمجھا جائے گا۔
حدیث میںنبوت مراد نہیں بلکہ غیب کی خبر ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: عم یتسا ء لونO عن النبأِ العظیمOالذی ھم فیہ مختلفون Oکلاسیعلمون Oثم کلاسیعلمونOالم نجعل الارض مھٰداO والجبال اوتادًاO ” کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں؟۔ بڑی خبر کے بارے میں۔ جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیںگے۔ پھر ہر گز نہیں وہ عنقریب جان لیںگے۔ کیا ہم نے زمین کو جھولا نہ بنایا ؟اور کیا پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا ؟”۔ ان آیات میں بڑے انقلاب کی خبر ہے اور جس سے نبوت مراد لینا بہت کم عقلی ہے، اسی طرح سے نیک خوابوں کی تعبیر سے بھی خوشخبری لینے کے بجائے نبوت مراد لینا انتہائی کم عقلی ہے۔ آج دنیا میں ایسے جھولے ہیں جیسے زمین سورج کے گرد چکر لگارہی ہے اور اپنے محور کے گرد بھی گھوم رہی ہے۔ اس طرح کے جھولے بھی ایجاد ہوچکے ہیں اور دنیا کے پارکوں میں لگے ہیں کہ جو دونوں محور پر گھومتے ہیں۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ زمین میں پہاڑ وہی میخوں والے کام کرتے ہیں جو قرآن نے بتایا ہے۔ ہندو، عیسائی، مجوسی، بدھ مت اور مسلمان سمیت پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب کی خوشخبری ہے لیکن یہ اسلام ہی کے ذریعے سے پوری ہوگی۔ جس کا عنقریب دنیا کو بھی پتہ چل جائیگا۔ کسی کواس حوالے سے اچھے خواب آتے ہیں تو اس کو حدیث میں غیب کی خبر سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کا نبوت کے اصطلاحی معنی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اگر عورت کے حقوق واضح ہوتے تو مرزا کو محمدی بیگم زبردستی مانگنے پر ضرور قتل کردیا جاتا جب عیسیٰ بننے کا شوق چڑھا تو حیض بھی آنے لگا ۔خود اپنے سے جن لیا۔ مرزا کا جانشین اتنا کم عقل ہے کہ کہتا ہے کہ قرآن مؤمنوں کی مثال میں دو عورتوں کا حوالہ ہے اسلئے مرزا کو بھی حیض آگیا۔ پھر توخلیفہ کو بھی حیض آتا ہوگا؟۔ چیک کیا جائے!

پاکستان میں مسئلہ قادیانیت کا حل!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
سب سے پہلے مخالف کی طاقت اور اس کی دلیل کو سمجھنے ، پھر اس کو رد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک عرصہ گزر گیا لیکن قادیانی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جارہے ہیں۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھا ہے کہ ” مرزا غلام احمد قادیانی کیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوسکتے ہیں؟۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام عیسیٰ اور اس کا نام غلام احمد تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں تھا اور غلام احمد کاباپ تھا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کا نام مریم تھا اور اس کی ماں کا نام فلاں تھا”۔ وغیرہ وغیرہ (علامات قیامت اور نزول مسیح : تصنیف مفتی محمد رفیع عثمانی)
جب مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ” حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوچکا ہے۔ آپ نے دنیا میں نہیں آنا ہے۔ یہ اسرائیلی روایات سے ہمارے ہاں بات آئی ہے۔ جیسے اہل تشیع کا امام مہدی غائب کے بارے میں عقیدہ ہے کہ وہ ہزار وں سال بعد بھی آئیںگے ، اسی طرح عیسیٰ کے بارے میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے۔ اسلام کا عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے پھر نبیۖ کی آمد کے متعلق ہونا چاہیے تھا۔ جب ہمارے نبیۖ قبر میں ہیں تو عیسیٰ کے بارے میں آسمانوں کا عقیدہ ان عیسائیوں کو تقویت پہنچانے کا باعث ہے جو اس کو خدا مانتے ہیں”۔
ایک عام پڑھا لکھا آدمی جب مفتی محمد شفیع اور مرزائی مبلغ کا موازانہ کریگا تو اس کو مفتی شفیع کی بات عجیب لگے گی۔ چلو وہ بزرگ تھے، ایک غلطی ہوگئی تو اس کے بیٹے مفتی اعظم پاکستان کو اپنی کتاب میں باپ کا حوالہ دیکر غلطی کو نہیں دھرانا چاہیے تھا لیکن پتہ نہیں کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے یہ ہورہاہے یا اسکے پیچھے کوئی بات ہے؟۔ ہمیں نہیں معلوم لیکن اس سے قادیانی فائدہ اٹھارہے ہیں۔
شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئی میں لکھا ہے کہ ” وہ وقت کا مہدی و مسیح ہوگا”۔ اور غالباً مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی سے اپنا دعویٰ کیا ہوگا۔ چونکہ یہودیوں کو بھی غلام احمد قادیانی کے پروگرام سے نظریاتی فائدہ پہنچ رہاہے۔ عیسائی بھی مذہبی عقیدہ سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں اسلئے مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو جو بھی فائدہ پہنچائیں ان پر کوئی اپنا زور مسلط نہیں کرسکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے جہاد منسوخ کرنے کا اعلان اسلئے کیا گیا تھا کہ برطانیہ کا دنیا میں غلبہ تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دجال اکبر کو قتل کرکے دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بنادینگے تو عملی طور پر جہاد کی ضرورت نہ ہوگی۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو منسوخ کیا مگر دنیا فتح نہیںکی تھی۔ البتہ مسلمان بھی جہاد کی بجائے عدمِ تشدد کی تحریک چلار ہے تھے۔ پھرصورتحال یہ بن گئی کہ فوج میں بڑے پیمانے پر قادیانی بھرتی ہوگئے اور جب ان پر جبر ہوتا ہے تو اپنی شناخت چھپالیتے ہیں۔ فوج کا پیشہ جہاد فی سبیل اللہ ہے لیکن مرزا غلام قادیانی کی جعلی نبوت نے جہاد کو منسوخ کردیا ۔ جنرل رحیم الدین وغیرہ کٹر قادیانی مبلغ تھے۔ مرزائی فوج میںتھے تو بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈالے۔ پاکستان میں عوام سے دشمن کی طرح سلوک کیا جس سے فوج بدنام ہوگئی۔ جب قادیانیوں سے اچھے ماحول میں افہام وتفہیم کے ذریعے بحث ہوگئی تو قادیانیت اور اسکے مضر اثرات سے قوم محفوظ رہے گی۔ کوئی پتہ نہیں چلتا ہے کہ کون کون قادیانی ایجنٹ ہیں مولانا منظور مینگل نے اپنے پر الزام لگایا۔

وزیرستان سے پوری دنیا کیلئے معاشرتی بنیاد پراسلامی انقلاب کا آغاز ہوسکتا ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

وزیرستان کی عوام میںاجتماعی شعور کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔ جس قوم میں اپنی فلاح و بہبود کی فکر اور اس پراجتماعی فیصلے اور عمل کرنے کی صلاحیت ہو وہ قوم صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کہلانے کی مستحق ہے۔ پاکستان کے چپے چپے پر منشیات کے اڈے ہیں مگر کسی ایک جگہ سے بھی منشیات کے خلاف اجتماعی فیصلے کی آواز سنائی نہیں دی ہے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ملک ابھی تک صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہوا ہے۔ عوام کے ہاتھ بندھے ہیں، پولیس ، عدالت اور تمام سرکاری ادارے اور ان اہلکار وں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اسلئے کوئی مثبت قدم اٹھانے کے بجائے ہر جگہ کھانچہ سسٹم چل رہا ہے۔
عوام کے ووٹ خرید لئے جاتے ہیں۔ سیاست قومی مفادات کی جگہ پارٹی مفادات کا نام ہے۔ پارٹی کا انجن پیسوں کے ایندھن سے چلتا ہے۔ جب کوئی قومی سیاسی پارٹی مرکز یا صوبے کی حکومت میں آتی ہے تواس کا سب سے پہلا کام اپنے انجن کو چلانے کیلئے ایندھن پیسوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے قومی دولت کو لوٹنا شروع کردیتی ہے۔ جب قومی سیاسی پارٹیاں اپنی ضرورت پیسہ میں ایکدوسرے سے سبقت لے جانے کا مقابلہ کرتی ہیں تو نتیجے میں قومی ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو بھی اس دوڑ میں برابر کے مقابلے کا احساس ہوتا ہے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ پھر طبقاتی بحث شروع ہے کہ انڈہ پہلے پیدا ہوا یا مرغی؟۔ عوام بیچارے اس بحث میں اُلجھ جاتے ہیں کہ کون اصل میں کرپٹ اور کون نتیجے میں کرپٹ ہے؟۔ کوئی فوج کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے اور کوئی سیاستدانوں پر بھونکتاہے۔ پھر کوئی پولیس کو اصل ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور کوئی عدالتی نظام کو اور آخر کار گیند پھر عوام کی طرف لوٹ کر آتی ہے کہ قصور اور نااہلی کی ذمہ دار ہماری عوام ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب معذور اور بے بس نظر آتے ہیں اور ہماری ریاست کے تمام اداروںسول ، ملٹری اور عدالتی بیورو کریسی عوام کو ایک آزاد قوم کا حق نہیں دیتی ہے۔ مگر دوسری طرف عوام بھی جس سیاسی قیادت پر اعتماد کرتی ہے وہ بھی پیسے بٹورنے کا فن اسلئے جانتی ہے کہ اس ایندھن سے انجن چلتا ہے۔
جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ قومی مفادات کو چھوڑ کر ایک پرزے کی طرح پیسہ بٹورتا ہے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کے نام لندن میں پراپرٹی ہے اور وہ کرپٹ نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ نوازشریف کے بچوں نے بھی اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے لندن میں بہت پیسہ کمالیا ہے۔ جج اور سیاسی قیادت فوج کو کرپٹ کہیںاور فوج اور اسکے حامی سیاست اور عدالت کو۔ صحیح اور غلط کون ہے؟۔
جب شمالی اور جنوبی وزیرستان میںطالبان کی آمد ہوئی تو میرانشاہ اور وانا وزیر علاقے اس کا مرکز تھے۔ محسود ایریا میں قومی سطح پر طالبان نہیں تھے۔ پورے پاکستان کی طرح امریکہ کیخلاف جذبہ محسودوں میں بھی تھا۔ جب امریکہ کا نزول ہوا تھا تو مقابلے میں سب سے پہلے شمالی وزیرستان کے راستے لشکر مولانا معراج الدین قریشی شہید کی قیادت میں افغانستان پہنچا تھا۔مولانا معراج الدین افغانستان میں طالبان کی مدد کیلئے پہنچے تھے لیکن ان کو واپس کردیا گیا تھا اور وہ اس جنگ کو شروع سے سازش قرار دینے لگے مگر کھل کر برملا اس کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ ایسا کرتے تو لوگ امریکی ایجنٹ کا الزام لگا سکتے تھے۔
جب مجھ پر 2006ء میںٹانک کے قریب فائرنگ ہوئی تو مولانا معراج الدین مجھ سے اظہارِ افسوس یا یکجہتی کرنے آئے،یہ ایک طرح کی رسم ہے اور مجھے بتایا کہ یہ جنگ ایک سازش ہے اور اسکے اصل مقاصد اور نتیجے کا کسی کو پتہ نہیں چلتا ہے۔ مولانا شیرانی نے بھی مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ یہ پتہ کریں کہ امریکہ کا اصل ہدف کیا ہے؟
مولانا معراج الدین اور مولانا صالح شاہ پہلے آئے تھے تو بھی انہوں نے یہی کہا تھا کہ ” یہ ہمارے علاقہ کے خلاف ایک سازش ہے اور مقاصد کا نہیں پتہ ہے”۔ اس وقت ہمارے بھائیوں کے غیض وغضب سے بچانے کی خاطر میں نے اپنے ماموں سے کہا کہ جب امریکہ نے اسامہ پر حملہ کیا تھا اور میں نے اسامہ کے حق میںامریکہ کو گالی دی تھی تو آپ لوگ کتنے ناراض تھے؟۔ جس پر میرا بڑابھائی مہمان علماء کرام پر برسنے کے بجائے مجھ پر برس پڑا ۔ یوں میں نے ڈھال بن کر اپنا کام دکھایا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مولانا معراج الدین فائرنگ کے بعد بھی میرے پاس آئے اور جب بڑے بھائی کی تعزیت کے سلسلے میں آئے تب بھی اسپیشل اُٹھ کر میرے پاس بیٹھ گئے تھے اور پھر میں ان کو رخصت کرنے باہر گاڑی تک ساتھ گیا۔
طالبان کی تحریک کو محسود ایریا میں سب سے آخر میں پذیرائی مل گئی لیکن سب سے زیادہ فوجی آپریشن، عوام کی بار بار نقل مکانی اور بمباری سے تباہی ونقصان بھی محسود قوم کو پہنچا ہے۔ آپریشن کیلئے محسود ایریا خالی کرالیا جاتا تھا تو طالبان ملحقہ وزیرایریا میں چلے جاتے اور آپریشن مکمل ہوتا اور عوام کیساتھ طالبان بھی پہنچ جاتے۔ محسود ایریا کو کلیئر قرار دیا گیا تو عسکری حکام نے اپنے علاقہ میں واپسی کی اجازت دی بلکہ کیمپوں میں راشن پہنچانے کا انتظام بھی ان کی ذمہ داری تھی اسلئے حکم تھا کہ وزیرستان واپس جاؤ۔ مولانا معراج الدین نے کہا پہلے سارا علاقہ کلیئر ہو تو پھر عوام کو جانا چاہیے۔ پھر مولانا شہید کردئیے گئے۔
جنوبی وزیرستان وزیر علاقہ میں طالبان تھے اور آج تک وہاں آپریشن نہیں ہوا۔ جب وزیر قوم کی ازبک سے لڑائی ہوئی تو وزیرطالبان اور پاک فوج نے وزیر قوم کوان دہشت گردوں سے بچایا تھا۔ پھر ازبک محسود ایریا میں پہنچ گئے اور جب حکومت نے بمباری کی تو قبائل کے کیمپ کو نشانہ بنایا، ازبک کے کیمپ کو چھوڑ دیا۔ جو تباہی کے مناظر کی ویڈیوز بنارہے تھے۔ مولانا عصام الدین محسود نے اس وقت گورنر جنرل ریٹائرڈاورکزئی سے پوچھا تھا کہ ہم اتنی معلومات نہیں رکھتے جتنی تمہارے پاس ہیں لیکن پھر قبائل کی بجائے ازبک کو کیوں نشانہ نہیں بنایا؟۔ جس پر گورنر نے کہا کہ ”اگر ہم نہ کرتے تو امریکہ تمہیں مارتا”۔
محسود قوم کی اپنی بھی بہت غلطیاں تھیں جن کی سزا بھی بہت بھگت لی لیکن آزمائش کے نتیجے میں قوم کے اندر بڑا نکھار پیدا ہوتا ہے، صدیوں کی منزل محسودقوم نے چند عشرے میں طے کرلی۔وزیرستان کا دنیا میں ایک نام پیدا ہوا ہے۔ امریکہ سے مقابلہ ہوگیا۔ طالبان نے پاکستان کو وزیرستان کی پہچان کروائی۔ PTMکو بھی شہرت مل گئی۔ لیکن کرنے کا کام کیا ہے؟۔ کیا مذہب کے بعد قومی جذبہ نئی آزمائش ،نجات یا عالمی سازش کاشکار بنادے گا؟۔
جب تلوار ، نیزوں ، اونٹوں ، گدھوں اور خچروں سے لڑائی لڑی جاتی تھی تو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں ایک چھوٹی سی ریاست کی بنیاد رکھنے والے مہاجر صحابہ تھے۔ رسول اللہۖ نے ہمیشہ تہبند پہنا لیکن یہودکا قومی لباس پسند فرمایا ۔ صحابہ سے شلوار پہنے کی تلقین فرمائی۔ تعصبات کی جگہ معاشرتی فلاحی معاملات کو سلجھایا۔ پھر اس دور میں یہ قوم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی کہ قیصر وکسریٰ کی سپرقوتوں کو اس اُمی قوم کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آج سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ محسود قوم کی تعداد مدینہ کے گرد رہنے والی عرب قوم سے زیادہ ہے۔ اگر یہاں وہ معاشرہ قائم کرلیا جاتا ہے جو مدینہ میں چودہ سو سال پہلے قائم ہوا تھا تو قبائل اور پاکستان کی اقوام اس خطے کی وجہ سے بدلنے پر مجبور ہونگے۔ وزیرستان میں معاشی بہتری کیلئے رسول اللہۖ کے دئیے ہوئے نظام سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ یہ طے ہے کہ کونسی زمین اور کونسا پہاڑ کس قوم ، کس خاندان کی ملکیت ہے۔ چند سالوں کیلئے کسی محنت کش کو زرعی کاشت اور باغ لگانے کی اجازت دی جائے تو وزیرستان جنت کا منظر پیش کریگا۔ اسکے عشر وزکوٰة سے معذور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونگے اور صحتمند افراد کو معاشی طور پر کھڑا ہونے کااچھا موقع ملے گا۔ قرآن کا بہترین معاشرتی نظا م دنیا سے اوجھل ہے ۔ وزیرستان کے لوگ بڑا انقلاب لاسکتے ہیں۔

مفتی صاحبان! اللہ کا خوف کرو۔ اللہ کا مقابلہ چھوڑدو!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی صاحبان! اللہ کا خوف کرو۔ اللہ کا مقابلہ چھوڑدو!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020
قل ےٰا ایھاالناس قد جاء کم الحق من ربکم فمن اھتدٰی فانّما یھتدی لنفسہ ومن ضلّ فانما یضل علیھا وما انا بوکیل Oواتبع ما یوحٰی الیک واصبر حتّٰی یحکم اللہ و ھو خیر الحٰکمینO
ترجمہ”کہہ دیجئے (اے میرے رسول !)کہ اے لوگو! بیشک تمہارے پاس حق آگیا تمہارے ربّ کی طرف سے۔پس جو ہدایت لینا چاہے تو اپنی جان کیلئے ہدایت لیتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی اسی پر پڑے گی اور میں کوئی وکیل نہیں ہوں ۔ آپ اتباع کریں اس کی جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرلیں ،حتی کہ اللہ فیصلہ فرمادے۔ اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں بہترین ہے۔ (سورہ ٔ یونس)
فرمایا:” اپنے عہد کو ڈھال نہ بناؤ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور عوام میں صلح کراؤ”۔(البقرہ آیت 224)۔آیت نے مذہب کے نام پر صلح نہ کرنے کی جڑ کاٹی ۔ اَیمان کے کئی معانی ہیں ۔ ملکت ایمانکم لونڈی ،غلام، معاہدہ، حلف ، حلیف۔نکاح و معاہدہ آزاد عورت ومرد، لونڈی وغلام سے ہوتاہے۔ میثاق غلیظ بیگم سے ہوتاہے۔ طلاق صریح وکنایہ کے الفاظ اَیمان ہیں۔ ذٰلک کفارة ایمانکم اذا حلفتم ” یہ تمہارے عہد کا کفارہ ہے جب تم نے حلف اٹھایا ” ۔ (المائدہ)
فرمایا: ”اللہ تمہیں لغو عہدپر نہیںپکڑتا مگر جو تمہارے دل نے کمایا اس پر پکڑتا ہے۔ جو لوگ اپنی بیگمات سے لاتعلقی اختیار کرلیں تو 4ماہ کا انتظار ہے۔ اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ اگر طلاق کا عزم رکھتے ہوں تو اللہ سننے جاننے والا ہے (آیت225،226،227البقرہ)۔ آیات سے واضح ہے کہ الفاظ نہیں نیت پراللہ پکڑتا ہے ۔ اگر طلاق کے عزم کا اظہار نہ کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اسلئے کہ اظہار نہ کیاتوعدت چار ماہ ہے اور اظہار کی صورت میں تین ماہ ہے۔ اللہ نے ایک ماہ کی مدت بڑھانا گناہ قرار دیا ہے۔ فقہاء نے عورت کے حق اور اذیت کو نہیں دیکھا اسلئے قرآن کی تفسیر میں اُلٹے سیدھے تضادات کا شکار ہوگئے۔ کسی نے کہا کہ چار ماہ تک عورت کے پاس نہ جانا عزم کا اظہار ہے، شوہر نے حق استعمال کرلیااور عورت طلاق ہوگئی۔ کسی نے کہا کہ طلاق کے عزم کا اظہارہی مرد کا حق ہے اور مرد نے حق استعمال نہیں کیا اسلئے طلاق نہیں ہوئی۔ کتے بھونکتے اور گدھے ڈھینچو ڈھینچو کرتے مگر اللہ کے واضح احکام میں تضادات پیدا نہ کرتے۔ قرآن کوبازیچۂ اطفال بنادیا۔
میاں بیوی میں علیحدگی کی زیادہ سے زیادہ تین اقسام ہیں۔1: دونوں جدائی چاہتے ہوں تو سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ صلح ہوسکتی ہے یا نہیں؟ بلکہ طلاق کے بعدبھی شوہر اس عورت کو اپنی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا۔ اس رسمِ بد کا خاتمہ اللہ نے آیت230البقرہ کے زبردست الفاظ میں کیا ہے۔2: شوہر نے طلاق دی ، بیوی الگ نہیں ہونا چاہتی تو پھر عدت کی تکمیل کے بعد معروف طریقے سے رجوع یا پھر چھوڑنے کا حکم ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کو ضرر پہنچانے کیلئے رجوع نہ کرو۔ طلاق کی دوسری قسم یہ آیت231البقرہ اور سورہ ٔ طلاق کی پہلی دو آیات میں ہے۔ 3: شوہر چھوڑنا نہیں چاہتا مگر بیوی خلع سے طلاق لے لیتی ہے۔ عدت کی تکمیل کے بعد عورت واپس جانا چاہتی ہے تو اللہ نے فرمایا کہ جب دونوں معروف طریقے سے راضی ہوں تو عورت کے اپنے شوہر سے نکاح میں رکاوٹ مت بنو۔ یہ تیسری قسم آیت232البقرہ میں ہے۔ اندھو، بہرو، لنگڑو، لولو۔ اُٹھو ! پڑھو اورکچھ تو سوچو!۔
فقہ میں طلاق کی اقسام1:طلاق احسن۔ 2: طلاق حسن 3: طلاق بدعت حنفی فقہاء کی بکواس ہے۔ جو حنفی ومالکی فقہاء کے نزدیک طلاق بدعت وگناہ ہے وہ شافعی فقہاء کے نزدیک طلاقِ سنت اور مباح ہے۔جس کو حنفی فقہاء نے طلاق احسن قرار دیا ،اسی کی وجہ سے غلام احمد پرویز، جاوید غامدی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک گمراہ ہوئے۔
امام شافعی کے نزدیک عویمر عجلانی پر لعان کے بعد نبیۖ ناراض نہ ہوئے اسلئے اکھٹی تین طلاق سنت ہیں۔جبکہ فحاشی پر فارغ کرنے کا سورۂ طلاق میں جواز ہے لیکن عام حالات میں اکھٹی تین طلاق دیکر فارغ کرنا جائز نہیں،یہ امام ابوحنیفہ و امام مالک کی دلیل محمود بن لبید کی روایت ہے کہ رسولۖ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟جبکہ میں تم میں موجود ہوں۔ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کردوں؟ ۔ (ترمذی) یاد رہے کہ یہ عبداللہ بن عمر والا واقعہ تھا۔زیادہ مضبوط روایت ہے کہ حسن بصری نے کہا کہ مجھے مستندشخص نے کہا کہ ابن عمر نے تین طلاقیں دیں۔ 20سال تک مجھے کوئی مستند شخص نہ ملا جو اس کی تردید کرتا۔ 20 سال بعد زیادہ مستند شخص نے کہا کہ ابن عمر نے ایک طلاق دی۔ (صحیح مسلم) احادیث کی کتابوں میں یہ مہم جوئی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق ثابت کیا جائے۔ چنانچہ فاطمہ بنت قیس کے واقعہ کو اکٹھی تین طلاق کے جواز کیلئے درج کیا ۔ حالانکہ حدیث صحیحہ میں الگ الگ طلاق دینا ثابت ہے جبکہ ضعیف احادیث میں آن واحد میں تین طلاق کا ذکر ہے۔ صحیح وضعیف احادیث کی یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ آن واحد میں تین طلاقیں دی ہوں اور پھر اس کو ایک شمار کرکے مرحلہ وار بھی تین طلاقیں دی ہوں۔ امام بخاری ابوحنیفہ کو پسند نہیں کرتے تھے اسلئے انکے مقابلہ میں امام شافعی و جمہور فقہاء کے دلائل کے ثبوت پیش کرنے کی کوشش فرمائی۔ ”جس نے تین طلاق کو جائز کہا”عنوان میں دیا کہ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے۔الآےة 229البقرہ ”۔ حالانکہ اس آیت میں اکٹھی تین کے بجائے الگ الگ طلاق کی خبر ہے۔امام بخاری نے رفاعة القرظی کے واقعہ کو بھی ایک ساتھ تین طلاق کے جواز کیلئے پیش کیا، حالانکہ یہ واقعہ ابوحنیفہ و مالک وشافعی کی بھی دلیل نہیںمگر افسوس کہ جب جمہور کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق واقع ہونے کی بات آجاتی ہے تو پھر ان واقعات کو بھی حدیث کی کتابوں میں نقل کیا گیا جنکے بارے میں واضح تھاکہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی گئی۔ رفاعة القرظی کے بارے میں بھی بخاری میں واضح ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی۔ وفاق المدارس کے صدر محدث العصر نے نہلے پر دھلا یہ کردیا کہ ” جس روایت میں تین طلاق کا ذکر ہے اس سے یہ ثابت ہے کہ رفاعة القرظی نے اکٹھی تین طلاقیں دی تھیں اور واقع ہوتی ہیں۔جس روایت میں رفاعة القرظی سے مرحلہ وار تین طلاق کا ثبوت ہے تواس سے پتہ چلتا ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دینی چاہیے۔ (کشف الباری) یہ تو ایک بڑے محدث العصر کا حال تھا اور اب تو معاملہ صاحبزادگان کے حوالے ہوتا چلا جارہاہے۔
رفاعة کی تین طلاق وعدت کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح اور خلوت اختیار کی ۔ دوپٹے کا پلو دکھاکر کہا کہ شوہر کے پاس ایسی چیز ہے اور نبیۖ نے فرمایا کہ آپ رفاعہ کے پاس نہیں جاسکتی جب تک دوسرا تیرا ذائقہ اور تو اس کا ذائقہ نہ چکھ لو، جس طرح پہلے کا چکھاتھا۔ کیا نامرد کے ذریعہ حلالہ ہوسکتا ہے؟۔ وہ تو رفاعة کی نہیں دوسرے شخص کی بیگم تھی، وہ طلاق چاہتی تھا ،رفاعة سے صلح کا معاملہ نہیں تھا۔ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ”یہ خبرواحد ہے۔اس حدیث میں اتنی صلاحیت نہیں کہ آیت پر نکاح کے علاوہ جماع کا اضافہ کریں ،احناف نکاح سے جماع مراد لیتے ہیں اس حدیث سے جماع کی شرط نہیں لگاتے۔ (کشف الباری) کیا احناف کواپنا مسلک نظر نہیں آتا ہے ؟۔ قرآن میں عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کو باربار واضح کیا گیا ہے۔ لیکن علماء قرآن کی طرف نہیں دیکھتے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی