پوسٹ تلاش کریں

قرآن وسنت کے احکام کا معاملہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کی تفسیر میں نقل کے علاوہ ڈھیر ساری جہالتوں کا مظاہرہ بھی کیا گیاہے!

قرآن کی تفسیر میںجس طرح علماء وفقہاء اور مفسرین نے مفہوم کو بگاڑنے میں کافی کردار ادا کیا ہے،اسی طرح مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی نے بھی حقائق کو مسخ کرنے میں اپنی جہالت کی وجہ سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تمام مکاتبِ فکر کے مذہبی طبقات کے بڑوں کو مل بیٹھ کر اپنی غلطیاں ٹھیک کرناسخت ضروری ہیں۔ رسول اللہ ۖ قیامت کے دن شکایت فرمائیںگے کہ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھٰذا القراٰن مھجورًا ” اور رسول (ۖ) عرض کریںگے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔قرآن
جے یوآئی کے مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے سراج الحق،تحریک لبیک کے علامہ خادم حسین رضوی ، اہلحدیث علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، اہل تشیع کے علامہ شہنشاہ حسین نقوی کے علاوہ تمام مکاتب فکر نمائندوں کو قرآن کے ترجمہ وتفسیر کے حوالہ سے مل بیٹھ کر معاملات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ توبہ کرنے کا مقصد تب ہی پورا ہوسکتا ہے کہ جب قرآن کے اندر جو معاملات مذہبی طبقات نے بگاڑدئیے ہیں پہلے انکی اچھی طرح اصلاح ہوجائے۔

قرآنی آیات پر مسلکی تضادات، عجیب واقعہ اور مولانا سیدمودودی کی جہالت!

حضرت مغیرہ ابن شعبہ جب بصرہ کے حاکم تھے تو انکے خلاف چار افراد نے زنا کی گواہی دی تھی، جن کے نام صحیح بخاری وغیرہ میںہیں۔ ان میں ایک صحابی حضرت ابوبکرہ بھی تھے اور آخری گواہ زیاد نے کہا تھا کہ میںنے دیکھا کہ سرین نظر آرہی تھی، لپٹے ہوئے سانسیں لے رہے تھے، اس عورت کے پاؤں مغیرہ کے کانوں پر ایسے لگ رہے تھے جیسے گدھے کے دوکان ہوں اور اسکے علاوہ میں نے کچھ اور نہیں دیکھا، جس پر حضرت عمر نے کہا کہ گواہی مکمل نہیں ہوئی ۔ باقی تین گواہوں کو حدقذف کے 80،80کوڑے لگائے گئے اور پھر یہ پیشکش کی گئی کہ اگر تم کہہ دو کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا تو تمہاری گواہی قبول کی جائے گی۔ حضرت ابوبکرہ نے پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کیا اور باقی حضرات نے پیشکش قبول کرلی۔ جمہورآئمہ حضرت امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل کے نزدیک حضرت عمر کی پیشکش ٹھیک تھی اور قرآن میں جھوٹی گواہی دینے کے بعد حدقذف کے علاوہ اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی لیکن توبہ کرنے والوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حضرت عمر کی پیشکش غلط تھی ، جھوٹ کی گواہی دینے والے کی گواہی ہمیشہ قبول نہیں کی جائے گی اور توبہ کا تعلق آخرت کے عذاب سے معافی کیساتھ ہے۔ جس واقعہ پر مسالک کی بنیاد رکھی گئی اور قرآن کی جو متضاد تفسیر کی گئی ہے اس کی شکایت قیامت کے دن رسولۖ اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن کرینگے۔ مسلکی رسہ کشی سے نکل کر حقائق کی بنیاد پر دنیا میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے پہلے فکری مرحلے کو درست کرنا ہوگا اور پھر عمل کا مرحلہ آسکے گا۔ جبکہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” وہ عورت حضرت مغیرہ ابن شعبہ کی اپنی بیوی تھی” ۔ حالانکہ حضرت مغیرہ کو معزول کردیا گیا تھامگر مودودی ایک پڑھے لکھے جاہل تھے۔

عثمانی خلیفہ کی 4500 لونڈیاں بمقابلہ موجودہ برطانوی وزیراعظم کی گرل فرینڈ

کرونا وائرس میں مبتلاء برطانوی وزیراعظم کی حاملہ گرل فرینڈبھی کرونا کا شکار ہے۔ ہمارا مذہبی طبقہ سمجھتا ہوگا کہ دونوں اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب کا شکار ہیں ، اگر خلافت قائم ہو تو شادی شدہ وزیراعظم کو سنگسار اور کنواری گرل فرینڈ کو 100کوڑے اور1سال جلاوطنی کی سزا دی جاتی۔ اگر اسی مذہبی طبقے سے پوچھ لیا جائے کہ عثمانی خلیفہ کی4500 لونڈیا ں جائز تھیں تو یہ فتویٰ دینگے کہ قرآن میں بیگمات کی محدودتعداد مقرر ہے لیکن لونڈیوں کی تعداد متعین نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں اسلامی خلافت کا یہ مذہبی تصور کافروں کیلئے تو بعیدازقیاس ہے مگر مسلمانوں کی اکثریت کیلئے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ پھر جس سے زمین وآسمان والے سب خوش ہوں ،کونسی طرزِ نبوت کی خلافت کا تصور ہوسکتا ہے؟۔صحیح بخاری میں رسول اللہۖ ہی نے قرآنی آیت لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت کی تفسیر کرتے ہوئے متعہ کو جائز قرار دیاہے۔ برطانوی وزیراعظم کی گرل فرینڈ کی حیثیت کو قرآن وسنت سے متعین کرنا ہوگا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے لونڈی بنانے کو آل فرعون کا وطیرہ قرار دیا ہے جو بنی اسرائیل کیلئے بڑی سخت آزمائش تھی۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے آیت کی تفسیر میں بخاری کی حدیث نقل کرنی تھی مگر تفہیم القرآن میں عیسائیوں کی رہبانیت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔قرآن میں لونڈی کوامہ اور غلام کو عبد قرار دیا گیا ہے اور ان سے نکاح کا تصور اور حکم بھی اجاگر کیا گیاہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ماملکت ایمانکم سے کیا مراد ہے؟ تو اسکا معنی ایگریمنٹ ہے اور اس ایگریمنٹ کا تعلق آزاد عورت کیساتھ بھی ہوسکتا ہے اور لونڈی وغلام کیساتھ بھی ۔ انسانی حقوق کی وجہ سے ہی دنیا میں مسلمانوں کو عروج حاصل ہوا تھا لیکن خاندانی بادشاہتوں نے نظریات کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا۔ ہم نے پہلے قرآن وسنت کے حقائق کو اجاگر کرنا ہوگا۔

قرآن وسنت میں کمزور کو حقوق دلانے میں بہت جلد جان چھڑانے کا تصورہے

مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینے کا حکم ہے۔مزارعین کو پوری فصل دینے کا حکم ہے۔ عورت کی جان چھڑانے کیلئے عدت تک مصالحت کرنے کا حکم ہے ۔خلع کی صورت میں عورت کی عدت صحیح حدیث میں صرف ایک حیض ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے بھی اگر عورت کو طلاق دی جائے تو مقرر کردہ نصف حق مہر دینے کا حکم ہے اور عورت پر عدت نہیں ہے۔ میاں بیوی کے درمیان ہی نہیں بلکہ عوام کے کسی بھی دو طبقے کے درمیان اللہ کے نام پر عہدوپیمان ، حلف اور کسی بھی قسم کے لغو الفاظ کو رکاوٹ ڈالنے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے مگر مسلم اُمہ بالکل الٹے پاؤں قرآن کے احکام کے برخلاف چل رہی ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ بہت واضح الفاظ کے قرآنی احکام اور معاملات کو انتہائی غلط طریقے سے بگاڑ دیا گیا ہے۔
دورِجاہلیت کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ ” جب عورت سے طلاق کے الفاظ کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا تو وہ لامحدود مدت تک بیٹھی رہتی تھی”۔ دورِ حاضر کی عدالتوں میں بھی کمزور و مظلوم کو بہت رُلایا جاتا ہے مگر ہمارے ضمیر پر یہ بوجھ اسلئے نہیں بنتا کہ خواتین کیساتھ اسلام کے نام پر یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ بیوی سے ناراضگی ہو تو جب تک شوہر طلاق نہ دے تو وہ بیٹھی رہے گی۔
قرآن نے دورِ جاہلیت کا یہ تصور طلاق کے مسائل میں سرفہرست حل کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” جو لوگ اپنی بیگمات سے ناراض ہیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے، اگر انہوں نے صلح کرلی تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر انہوں نے طلاق کا عزم کیا تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے”۔ (البقرہ: آیت227,226)۔اگر طلاق کا عزم تھا اور پھر اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے۔ اسلئے کہ طلاق کے اظہار کی صورت میں انتظار کی عدت4 ماہ نہیں3 ماہ ہے ،ایک ماہ کی اضافی مدت کی تکلیف پر طلاق کے عزم کی صورت میں پکڑ ہے۔ قرآن بالکل واضح ہے۔

فقہی مسالک کے نام پر قرآن کی واضح آیات سے انحراف نے تباہی مچائی ہے!

سورہ ٔ البقرہ کی آیات228,227,226,225میں یہ بالکل واضح ہے کہ اگر طلاق کا اظہار نہیں کیا تو عورت کی عدت 4ماہ ہے اور اگر طلاق کا اظہار کیا تو 3 مراحل یا 3 ماہ ہے۔اور اگر طلاق کا عزم تھا اور پھر اس کا اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اور اس پراللہ کی پکڑ ہوگی۔
اسلام فطرت کا دین ہے اور قرآن کی یہ آیات فطرت کے مطابق بالکل واضح اور سب ہی کیلئے قابلِ قبول ہیں لیکن ان کی تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ یہ ناراضگی نہیں صرف قسم کی صورت میں ہے جو بہت بڑی زیادتی ہے۔ امام مالک مدینہ کے باشندے تھے ،ان کے نزدیک بھی ایلاء کا تعلق قسم سے نہیں بلکہ قسم کے بغیر ناراضگی کو بھی ایلاء کہتے ہیں۔ مولانا سید مودودی نے بھی اس کا تفہیم القرآن میں ذکر کیا ہے۔ قرآن میں ابہام اور تضادات کا سوال پیدا نہیں ہوتاہے لیکن جمہور اور حنفی مسلک کے نام پر تفسیر کو جو غیرفطری رنگ دیا گیاہے وہ بڑاافسوسناک ہے۔
چنانچہ احناف کے نزدیک چار ماہ گزرتے ہی عورت کو طلاق واقع ہوجائے گی۔ پھر تعلق جائز نہیں ہوگا اور جمہور کے نزدیک جب تک طلاق کا اظہار نہیں کیا جائے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اختلاف کے نتیجے میں ایک طرف عورت نکاح سے نکل چکی ہوگی اور اس سے ازدواجی تعلق حرامکاری ہوگی اور دوسری طرف عورت بدستور نکاح میں ہوگی ، کسی اور سے نکاح کیا تو حرامکاری ہوگی۔ جب معاشرے میں ایک عورت کو جو کسی کی ماں ہوتی ہے، کسی کی بیوی ہوتی ہے ، کسی کی بہن ہوتی ہے اور کسی کی بیٹی ہوتی ہے اس قدر مشکلات میں ڈالا جائیگا تو یہ اسلام غیرمسلموں کیلئے قابلِ قبول ہوگا۔ ان اُلّوکے پٹھے علماء ومفتیان اور مذہب کے نام پر سیاست چمکانے والوں کو ریمانڈ دینے کی ضرورت ہے جنہوں نے قرآن کو غیرفطری تعلیم سے نقصان پہنچایا تھا۔ اب بھی ڈھیٹ اور مینسڑیں بنے بیٹھے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

قرآنی آیات کی غلط تفسیر کرنے کی اصل وجہ کیاہے؟۔ یہ سمجھ کر حیران ہوںگے!

قانون کا مقصد کمزور کا تحفظ ہوتا ہے۔ اللہ نے ناراضگی اور طلاق کی صورت میں عدت کا جو حکم دیا ہے تو عدت کا تعلق عورت سے ہی ہے اور عورت ہی کو تحفظ دینے کیلئے انتظار کی عدت ہے مگر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتظار میں بیٹھے ہوئے گمراہ فقہاء نے کمزور عورت کو بحث سے بالکل خارج کردیا ۔ حنفی فقہاء کہتے ہیں کہ شوہرنے اپنا حق استعمال کرلیا اسلئے 4ماہ گزرتے ہی عورت طلاق ہوگئی اور جمہور کے نزدیک شوہرنے اپنا حق استعمال نہیں کیا اسلئے عورت بدستور نکاح میں ہے۔ کیا اللہ کی واضح آیات کے احکام میں اتنا بڑا تضاد ہوسکتاہے؟۔ نہیں !ہرگز نہیں!۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے عورت ہی کی عدت بیان کی ہے۔ اگر عورت چاہے توپھر اس عدت کے بعد آزاد ہے، دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر عدت کے بعد بھی اپنی مرضی سے شوہرکیساتھ رجوع پر راضی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
جن آیات اور احکام کی بدولت قرآن کے قوانین کو پوری دنیا میں رائج کیا جاسکتا ہے ان کا حلیہ بگاڑنے میں مذہبی طبقے نے نہ صرف اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے بلکہ اس غلط روش پر آج بھی اڑے ہوئے ہیں۔ ایک معاملے میں نہیں بلکہ معاشرتی حقوق ومعاملات کی ہر چیز بالکل تہہ وبالا کرکے رکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف عورت کی جان چھڑانے کیلئے آخری حد تک اس معاملے کی انتہاء کردی ہے اور دوسری طرف بار بار عدت میں ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد رجوع کی گنجائش باہمی رضامندی سے رکھی ہے۔ دلائل پر دلائل ، مضامین پر مضامین اور کتابوں پر کتابیں شائع کردی ہیں لیکن حلالہ کی لعنت سے ان کی جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ہمارا معاشرتی نظام قرآن کے مطابق ہوتا تو دنیا کیلئے قابل فخر ہوتا مگرفقہاء نے قرآن کو پسِ پشت ڈال کر امت کو دنیا وآخرت میں مجرم کی حیثیت سے کھڑ اکیا

کورونا وائرس پر علماء کا افسوسناک رویہ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں معاملہ واضح ہونے کے باوجود علماء ومفتیان کا بدترین رویہ!

جب اللہ تعالیٰ نے معاشرتی مسائل کے درمیان نمازِ خوف کا حکم واضح کردیا ہے کہ ” نماز پر محافظت کرو، اور درمیان کی نمازکی۔ اگر تمہیں خوف ہو تو پھر پیادہ یا سوار ہوکر۔ پھر جب امن کی حالت میں آجاؤ ،تو اللہ کو یاد کرو(معمول کی نماز پڑھو) جس طرح تمہیں سکھایا گیاہے جو تم اس سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ (البقرہ :آیات۔ 239,238)
رسول اللہۖ نے فرمایا: ” جب آذان کی آواز سنوتو گھرکی نماز قبول نہیں ہوگی ۔ جماعت میں شرکت ضروری ہے مگر خوف یا بیماری کی وجہ سے انفرادی نماز درست ہے”۔سنن ابی داؤد
قرآن اور سنت کے اس پیغام کو عام کردیا جاتاتو مذہبی طبقے سے زیادہ عام تعلیم یافتہ لوگ بھی قرآن وحدیث سے زبردست رہنمائی لیتے۔ علماء نے اپنے کم عقل مقلدین کے ذہنوں میں یہ بٹھادیا کہ”مسجد میں جماعت کی نماز اور جمعہ چھوڑنا جائز نہیں۔ جامعہ ازہر اور قدیم فقہاء کے فتوے ہم نے چھان مارے، کوئی ایسی نظیر نہیں ملی، البتہ نماز مختصر کی جاسکتی ہے”۔ پھربہت جلد اپنا فتویٰ ایسا بدل دیا جیسامنہ کا بتیسہ بدل کر کم عقل بچوں کو حیران کیا جاتاہے۔

گدھے کے پاس ڈھینچو ڈھینچو کے سوا کیا ہے؟ بس پدو مارمار کے گزارہ کرنا ہے

جب چین میں کورونا وائرس کی خبر آئی اور پاکستان کی میڈیا پر بحث ہوئی کہ حکومت کو چین سے پاکستانی طلبہ کو واپس لانا چاہیے یا نہیں ؟۔ تو وبا والی حدیث اینکر پرسن حضرات نے بیان کی کہ چین کے اس علاقہ سے آنے اور جانے کی بات شریعت کے بھی منافی ہے۔پاکستان کی سرزمین پر وبا کی بازگشت سنائی دی تو حجازمقدس میں مساجد کی نمازوں اور حرم کعبہ میں طواف پر پابندی کی خبر عام ہوئی۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اورمفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کی طرف سے مساجدمیں جمعہ اور پنج وقتہ نماز کی پابندی کا فتویٰ آیا اور سیاسی لیڈروں نے مساجد اور ڈھیٹ تبلیغی جماعت کے خلاف سازش کرنے کی خوب افواہیں پھیلانا شروع کردیں۔
پھر مفتی تقی عثمانی نے اپنا آڈیو پیغام ریکارڈ کروایا اسلئے کہ شکل دکھانے کے قابل نہ رہا ہوگا کہ ” موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر جب حکومت نے جمعہ کی نماز پر پابندی لگادی ہے تو فقہاء کی کتابوں میں یہ مسائل مل گئے ہیں کہ ” اگر جمعہ فوت ہوجائے تو گھر میں باجماعت نمازکی اجازت نہیں، اسلئے کہ اندیشہ ہے کہ جمعہ کے مقابلے میں الگ سے لوگ اپنی جماعت کرائیں گے اور دوسرا یہ کہ جماعت مکرر ہوگی۔لیکن لوگ گھروں میں باجماعت نماز پڑھیںاسلئے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں باتیں نہیں ۔ جمعہ کا مقابلہ ہے اورنہ جماعت کی تکرار ہے۔ البتہ گھروں میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں مگر جو لوگ جمعہ پڑھارہے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے۔ اگر اس میں غلطی ہوتومیری ہے اور درست ہوتو اللہ کی طرف ہے”۔
مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن قرآنی آیت و حدیث کا حوالہ دیناکیوں گوارا نہیں کرتے؟ اوربدلتی ہوئی صورتحال پر اپنا اجتہاد کیوں جھاڑتے ہیں؟۔ جمعہ فوت ہونیکی صورت میں تو بات ہی دوسری ہے، جب یہاں جمعہ فوت ہوا نہیں تو اسکا حوالہ دینا بالکل غلط ہے۔(

میڈیا، حکومت اور علماء ومفتیان کو چاہیے کہ قرآنی آیت اور حدیث کی تشہیر کریں

جب اللہ تعالیٰ نے جہاں نمازوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے وہاں خوف کی حالت میں پیادہ اور سواری پر نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے تو جمعہ اور جماعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہ وقت تھا کہ قرآن کی آیت اور حدیث پیش کرکے اسلام کا روشن ترین چہرہ دنیا کے سامنے ہی لایا جاتا۔ علماء ومفتیان کہتے کہ خوف اور بیماری دونوں کا عذر اجتماعی طور پر اکٹھا ہوا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام مکان وزمان کے احاطوں پر اللہ رب العالمین جل جلالہ عم نوالہ کا دین ہے جس کے رسولۖ قیامت تک کیلئے واقعی رحمت للعالمین ہیں۔ اسلام کی ناک بلند کرنے کا وقت ہے مگر گدھے ڈھینچوڈھینچو کرنے اور پدو مارنے میں لگے ہوئے ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو چاہیے کہ خاتون پولیس افسر کی طرف سے اپنی ڈیوٹی کا فریضہ پورا کرنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے خراج تحسین پیش کرنے کا اہتمام کریں اور جنہوں نے خاتون ایس ایچ او کی مارکٹائی کی ہے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کریں۔اوریا مقبول کا سوشل میڈیا پر بیان اگرسچا ہے کہ ایک بزرگ نے دیکھا کہ رسول اللہ ۖ نے جنرل باجوہ کو خواب میں تحفہ دیا جس کو جنرل قمر باجوہ بائیں ہاتھ سے لے رہے تھے تو حضرت عمر نے ان کا دائیں ہاتھ آگے کروادیا تو کورکمانڈر کے علاوہ پاک فوج کی نیوی اور فضائیہ کو بھی شامل کرکے قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ پوری قوم بلکہ پوری دنیا کے سامنے پیش کریں۔ پاک فوج کا ترجمان میجر جنرل افتخار جب قرآنی آیت اور حدیث کا حوالہ دیںگے تو پاکستان کے آئین کا روشن چہرہ بھی سامنے آجائیگا۔ پارلیمنٹ نے قرآن وسنت کا دفاع کیا کرنا ہے ؟۔ یہ تو اپنا بوجھ قوم کے سر سے اتارکر غریب عوام تک روٹی روزی کی رسائی کا اہتمام کریں تو ہی مہربانی ہوگی اورجب صدرجنرل پرویز مشرف کے گرد جمع ہوسکتے ہیں تویہ اور کیا نہیں کرسکتے ؟۔

قرآن میں سورۂ قیامت کے بعدسورۂ دھر میں زمانے کے اتار چڑھاؤ کا ذکر؟

جب پوری دنیا نے کروناوائرس سے ایک خوفناک منظر کا سامنا کیا ہے تو علماء کرام کو چاہیے کہ قرآن کے ذریعے عوام الناس کو رہنمائی فراہم کریں۔ سورۂ الدھر میں اللہ فرماتا ہے کہ
ھل اتٰی علی الانسان حین من الدھرلم یکن شیئًا مذکورًاOانا خلقنا الانسان من نطفة امشاج نبتلیہ فجعلنٰہ سمیعًا بصیرًاOانا ہدینٰہ السبیل اماشاکرًا و اما کفورًاOانا اعتدناللکٰفرین سلٰسلاواغلٰلًاوسعیرًاOان الابراریشربون من کاسٍ مزاجھا کافورًاOعینًا یشرب بھاعباداللہ یفجرونھا تفجیرًاOیوفون بالنذرویخافون یومًا کان شرہ مستطیرًا O و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینًا ویتیمًا واسیرًاOانما نطعمکم لوجہ اللہ لانرید منکم جزائً ولاشکورًاO ”کیا انسان پر زمانے کا وہ وقت نہیں آیا جب وہ قابلِ ذکر چیز نہیں تھا۔ بیشک ہم نے انسان کو (ماں باپ) کے مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ ہم نے اس کو آزمائش میں ڈالا تو اس کو سننے والا دیکھنے والا بنایا۔بیشک ہم نے اس کو راستہ دکھایا یا تووہ شکر کی زندگی بسر کرے یا ناشکری کی زندگی بسر کرے۔ بیشک ہم نے ناشکری کرنے والوں کیلئے زنجیریںاور طوق اور دیوانی کی کیفیت کا تعین کردیا ہے۔ بیشک اچھے لوگ ایسے کپ پی رہے ہونگے جن کا مزاج(صفت جراثیم کش) کافوری ہوگا۔چشمہ ہوگا جس سے اللہ کے بندوں کو پلایا جائیگا اور اس سے جہاں چاہیںگے نہریںنکالیںگے۔ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہونگے اور اس دن کا خوف کھائیںگے کہ جس کا شر بہت پھیل چکا ہوگا۔اور اپنی چاہت سے کھانے کھلائیںگے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو۔ (کہتے ہونگے کہ) بیشک ہم اللہ کیلئے تمہیں کھلا رہے ہیں۔ تم سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے ہیں”۔ آیات کروناکا ہی منظر ہیں۔

مجدد ملت حاجی عثمان قدس سرہ نے روزانہ سورہ دھر کی تلاوت کو معمول بنا رکھا تھا

سورہ دھر کی ان آیات میں برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں اور حکمرانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہندی قومیت پر بننے والے ہندوستان میں مسلمانوں کیساتھ کیا سلوک ہورہاہے اور پاکستان میں اسلام کیساتھ کیا سلوک ہورہاہے؟۔ شکر کرنے یا ناشکری پر اللہ کی طرف سے کیا سلوک ہوسکتا ہے؟۔ پاکستان میں اسلام نافذ نہیں ہوا مگر شکر ہے کہ مذہبی تعصبات کے جس ڈگر پر چل رہا تھا ،اس سے باز آگیا۔ ہندوستان مذہبی تعصبات کے خلاف بناتھا مگر آج وہاں مسلمانوں کی شہریت بھی ختم کی جارہی ہے۔ شکر تو پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے بھی ادا نہیں ہواہے لیکن علماء ومفتیان نے بھی اسلام کا حلیہ بگاڑ رکھا تھا۔
قرآن کی تفسیر زمانہ کرتا ہے۔ کافوری مزاج کے جراثیم کُش کپوں اور نہریں نکالنے کے معاملات کی ضرورت دنیا میں ہوتی ہے جنت میں نہیں، مولانا مودودی نے لکھ دیا تھا کہ ” یہ مطلب نہیں ہے کہ کدال پھاوڑے لیکرنالیاں کھودیںگے”۔تفہیم القرآن۔انقلاب کا آغاز ہوگا تو برصغیرپاک وہند میں مذہبی تفریق کے بغیر سب اللہ کے بندوں کی پانی کے ذریعے ہی خدمت کی جائے گی اور جدید مشنری سے نہریں کھود کر محروم انسانوں کو خوشحال بنایا جائیگا۔ اس طرح نذریں پوری کرنا اور اس دن سے ڈرنا جسکا شر بہت پھیل چکا ہے۔مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے کا تعلق بھی دنیا ہی سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا وائرس نے تو انسانوں میں نفرت کی فضا ء ختم کردی ہے لیکن صرف بھارت کے حکمران ہی نفرتوں میں مگن نظر آتے ہیں۔ انسانیت کی بنیاد پر اسلامی انقلاب کا آغاز ہوگا تو مسلمان، ہندو، سکھ ، عیسائی، بدھ مت، پارسی اور قادیانیوں سمیت سب لوگ ایک پیج پر پوری دنیا کو برصغیر پاک وہند سے عظیم انقلاب کی بنیاد ساتھ دیںگے۔ سازش اور سازشی عناصر کا خاتمہ بالکل ہوگا۔

سورۂ قیامت میں قیامت کا ذکر ہے اور سورۂ دھر میں زمانے ہی کا ذکر ہے!

اچھے لوگ مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو اللہ کیلئے کھانا کھلانے کا اہتمام کریں ، کہیں کہ ہم اس کا بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے ۔ جس طرح وزیراعظم عمران خان اپنی سیٹ پکی کرنے اور ٹی وی پر اشہارات نشر کرکے بینظیر انکم سپورٹ کی رقم سے اپنا شکریہ ادا کرواتا ہے۔
جو لوگ غریبوں کی مدد کررہے ہیں وہ اس بدنما اور سخت دن سے ڈرتے ہیں جس کا سامنا دنیا کر رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا: انّا نخاف من ربنا یومًا عبوسًا قمطریرًاOفوقٰھم اللہ شرِ ذٰلک الیوم ولقّٰھم نضرة و سرورًاO ………” ہم اپنے رب کا خوف کھا رہے ہیںبدنما سختی کے دن سے۔ پس اللہ انکو اس دن کے شر سے محفوظ کردیگا اور انکو تازگی اور خوشیوں کی حالت بخشے گا۔ اور ان کو بدلہ دیگا بسبب انکے صبر کے۔ باغات اور ریشم کا۔ بیٹھے ہوںگے مسندوں پر جہاں ان کو سورج کی دھوپ اور سردی کی ٹِھر نہیں ستائے گی۔ باغات کی چھاؤں پڑرہی ہونگی اور خوشے جھکے ہونگے اور انکے آگے چاندی کے برتنوں اور شیشے کے کپوں کی گردشیں ہوںگی۔ شیشے بھی چاندی کے ڈیزائنوں سے مرصع ہوںگے۔ان کو ایسے کپوں سے پلایا جائیگا جس کا مزاج(صفات) ادرک ( غیربادی) ہوگا۔ ایسا چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل رکھا جائیگا اور انکے گرد ایسے لڑکے (ویٹر) گردش کررہے ہونگے جن کی ڈیوٹی ہمہ وقت (24گھنٹے) ہوگی۔جب آپ ان کو دیکھ لوگے تو گویا موتی بکھیر دئیے گئے ہوں۔اور جب پھر دیکھ لوگے اور پھر آپ دیکھ لوگے تو نعمت ہی نعمت ہوگی اور بہت بڑی سلطنت کا ایک ہی ملک ہوگا۔ ( دنیا بھر طرزِ نبوت کی خلافت کا قیام عمل پاکستان سے آچکا ہوگا)۔ان پرکپڑا ہوگا باریک ریشم کاسبز اور گاڑھے رشیم کا۔(پاکستان کی قومی شناخت) ،زیب تن ہونگی چاندی کی گھڑیاںاور ان کو انکا رب کوئی پاک مشروب پلائیگا”۔شریعت کا لحاظ رکھا جائیگا۔

علماء ومفتیان کو چاہیے کہ نازک موڑپراسلام کا درست معاشرتی نظام مانیں!

جب تھوڑے سے اجنبی افراد کے ہاتھوں ایک عظیم انقلاب برپا ہوگا تو اس سے پہلے علماء کو چاہیے کہ طلاق وخلع اور دیگراسلام کا درست معاشرتی نظام دنیا کے سامنے ضرور پیش کریں۔
اسلام کو اجنبیت سے نکالنے والے مقربین بارگاہ اور ان کی تائید کرنیوالے علماء ومفتیان کو یہ بہت بڑا انقلاب بہت خوشیوں اور مسرتوں کیساتھ نصیب ہوگا جس میں ہرمکتبۂ فکر کے علماء اور عوام الناس کی ایک بڑی تعداد اصحاب الیمین بن کر شامل حال ہوگی۔ اللہ نے اسکا نقشہ کچھ اس انداز میں کھینچاہے کہ سارے انقلاب عظیم کو انکی محنت وکوشش کے رہین منت قرار دیا
انّ ہٰذا لکم جزائً وکان سعیکم مشکورًاO” بیشک یہ تمہارا بدلہ اور تمہاری محنت شکریہ کی مستحق ٹھہر گئی”۔جب انقلاب آئیگا تو سب کو تائیدات کا وہ بدلہ ملے گا جس پر ان کے دل خوشیوں سے پھولے نہیں سمائیںگے۔ ٹانک کے مولانا فتح خان فرماتے تھے کہ انقلاب کا آنا بہت مشکل کام ہے لیکن اگر انقلاب آگیا تو عتیق علماء کی بہت قدر کریگا۔ ہماری چاہت یہ ہے کہ کسی کی تذلیل نہ ہو مگر حلالہ اور غیر اسلامی معاملے پر گناہ اور کفر کا ارتکاب نہیں کرسکتے۔
اللہ نے نبیۖ سے فرمایا:ان نخن نزلنا علیک القراٰن تنزیلًاOفاصبرلحکم ربک ولاتطع منھم اٰثم او کفورًاO”پس اپنے رب کے حکم کیلئے صبرکرو اور اطاعت مت کرو،ان میں سے کسی کی گناہگار اور ناشکرا ہوکر۔اور اپنے رب کا نام سویرے و شام کو یاد کرو اور رات میں اس کیلئے سجدہ کرو اور رات کو اس کی تسبیح بیان کرو لمبی مدت تک۔ یہ لوگ بیشک یہ جلدی حاصل ہونے والی دنیا چاہتے ہیںاور چھوڑ رہے ہیں اس دن کو جو بہت بھاری ہے۔ ہم نے ان کو پیدا کیا اور انکے اعصاب کو مضبوط کیا۔ جب ہم نے چاہا تو ان کے جیسوں کو بدل ڈلا”۔ سورہ دھر غور اور تدبر کیساتھ پڑھ لیں تو آنکھ کھلے۔ رہنمائی ملے گی۔

سورہ دھر نصیحت ہے اور اس کو دیکھ کر کوئی بھی اپنے رب کا راستہ پکڑسکتا ہے!

سورہ دھر کے آخر میں اللہ نے ارشاد فرمایا:انّ ہذہ تذکرة فمن شاء اتخذ الیٰ ربہ سبیلًاOوما تشاء ون الا ان یشاء اللہ ان اللہ کان علیمًا حکیمًاOیدخل من یشاء فی رحمتہ والظٰلمین اعدّلھم عذابًا الیمًاO ”یہ ایک نصیحت ہے۔پس جو چاہے اپنے رب کا راستہ پکڑلے۔ مگر تم نہیں چاہ سکتے ہو جب تک اللہ نہیں چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ اور ظالموں کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورۂ دھر)
جب انسان کا مطمع نظر آخرت ہو تو وہ غیب پر ایمان رکھ کر دنیا کی زندگی میں قربانیاں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم دل وجان سے مانگتا ہے۔ پھر اس کیلئے اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب ظالم نہیں چاہتا ہے تو اللہ بھی اس کو اپناراستہ نہیں دکھاتا ہے۔
ہماری زندگی بفضل تعالیٰ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب مولانا فضل الرحمن پر دیوبندی علماء ومفتیان نے کفر والحاد کے فتوے لگائے تھے تو شیخ الحدیث مولانا علاء الدین ڈیرہ اسماعیل خان کے صاحبزادے مولانا مسعودالرؤف میرے ہم جماعت اور کمرے کے رومیٹ تھے۔ علماء ومفتیان کے متفقہ فتوے کا اشتہار اس نے لگایا تھا اور میں نے پھاڑ ڈالا۔ اسکے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ پھر ایک نظم لکھ ڈالی جس سے فتوے کو شکست ہوئی تھی۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں یہ کہنے کی جرأت کی تھی کہ میں جدوجہد کررہاتھا اور تم فتوے لگارہے تھے؟ میں تمہارے فتوے کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ اکابر علماء ومفتیان نے حاجی عثمان پر فتویٰ لگایا تو بھی اللہ نے سرخرو کیا تھا۔ پھر ٹانک کے اکابر علماء کی تائید کے بعد ڈیرہ کے علماء ومفتیان نے مل کر ہم پر فتوے لگائے تو بھی منہ کی کھانی پڑی مگر پھر بھی ان کوشرم نہیں آئی۔ واہ جی واہ!۔

خواتین کی طرف سے اپنے حقوق کی جنگ کو اللہ نے سورہ مجادلہ میں دوام بخشا۔ عتیق گیلانی

 تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ النساء آیت19میں پہلی بات تویہ واضح ہے کہ عورت (بیوی) مرد کی جاگیر نہیں ۔ جبری ملکیت کے تصور کو اسلامی معاشرے سے بالکل حرفِ غلط کی طرح مٹادیا جائے۔
جب غیر مسلموں نے قرآن کے تراجم کرلئے تو ان پر اسلام اور مسلمانوں کی فتوحات کاراز کھل گیا۔ شاہ ولی اللہ نے دیکھا کہ اسلام مخالف پادریوں سے علماء اسلئے شکست کھاتے ہیں کہ وہ کوئی بات کرتے ہیں کہ قرآن میں یہ لکھا ہے تو علماء انکار کردیتے ہیں کہ قرآن میں ایسا کچھ نہیںلیکن جب قرآن کھول کر دیکھتے ہیں تو وہ بات قرآن میں ملتی ہے۔ اور اسی وجہ سے علماء کو شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے پھر شاہ ولی اللہ کو پتہ چلا کہ ان پادریوں نے اپنی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کررکھا ہے۔علماء میںان کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنے کیلئے پھر شاہ ولی اللہ نے بھی قرآن کا ترجمہ کرلیا۔
سیدا بوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” کیا وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ کے خاندان کا تقویٰ وکردار بھی قرون اولیٰ کی یادگار تھا، یہاں مسلمانوں کی حکومت بھی تھی لیکن انگریز نے ہم پر اپنا تسلط جمالیا اور شاہ ولی اللہ کے افکار ناکام ہوئے؟”۔
انگریز اسلئے کامیاب ہوا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے قرآن کا پیغام سمجھا۔ خواتین نے جب اپنے حقوق کیلئے وہاں جنگ لڑی تو حقوق دیدئیے۔ اسلام کی حریت فکر سے سبق حاصل کیا اور اپنی تقدیر بدل دینے میں دیر نہیں لگائی۔ جبکہ ہم مذہبی بحثوں میں اُلجھ گئے اور جب انگریز چھوڑ کر گیا تو پھرہم فرقوں ، مسلکوں اور جماعتوں میں بٹ کر رہ گئے۔
ایک طرف سورۂ النساء میں قرآن کہتاہے کہ (اے مسلمانو!) تم عورتوں( بیویوں) کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو ۔ تودوسری طرف علماء کہتے ہیں کہ شوہر بیوی پر لونڈی کی ملکیت سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے۔ آزاد عورت بیوی فدیہ دیکر خلع حاصل کرسکتی ہے جبکہ لونڈی کودوسرا شخص بھی آزاد کرسکتا ہے۔ آزاد عورت (بیوی) کو فدیہ دیکر بھی شوہر نے نہیں چھوڑنا ہو تو شوہر کو پھر بھی مکمل اختیار حاصل ہے۔
مولوی یہ بالکل فضول بکواس کرتاہے کہ اسلام نے یہ حق مردوں کو عورت کی بھلائی کیلئے دیا ہے اسلئے کہ مولوی کا مستند فقہی مسلک یہ ہے جس پر وہ انگریز کے دور میں بھی اپنا فتویٰ دیتا تھا اور آج بھی یہی فتویٰ دیتا ہے کہ ”اگر شوہر نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیدیں تو بیوی اس پر حرام ہوگی لیکن اگر شوہر نے انکار کردیا کہ اس نے تین طلاقیں نہیں دی ہیں تو پھر بیوی کو دو گواہ لانے پڑیںگے اور اگر اس کے دو گواہ نہ ہوئے تو پھر اسلامی عدالت شوہر سے حلف لے گی اور اگر اس نے حلف دیا تو عورت اس پر حرام ہوگی مگر اسکے نکاح میں رہے گی۔ پھر عورت کو چاہیے کہ وہ فدیہ دیکر خلع حاصل کرے لیکن اگر شوہر خلع نہ دے تو عورت بدکاری پر مجبور ہے”۔ (حیلہ ٔناجزہ: مولانااشرف علی تھانوی)
جب عدالت سے خلع کا فیصلہ بڑی مشکلات کے بعد ہوتا ہے تو مدارس فتویٰ دیتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے اپنا فتویٰ بدل دیا ہے مگر مفتی محمد تقی عثمانی نے سود کو حلال قرار دینے کے باوجود اپنا فتویٰ نہیں بدلا ہے۔ پھر شیخ الاسلامی کا منصب بھی خطرے میں پڑجائیگا۔ یہ مفتی نہیں استحصالی طبقات کے گماشتے ہیں۔
جب سورۂ النساء کے مطابق بیوی شوہر کی جاگیر نہیں ہوگی تو ماؤں کی کوکھ سے آزاد منش بچے جنم لیںگے اور سماج سے غلامی کے نظام کو بیخ وبن سے اُکھاڑ یںگے۔ جب شوہر کے تین طلاق کی ملکیت کا تصور ختم ہوگا تو عورت کے خلع میں مذہبی طبقہ رکاوٹ نہیں کھڑی کرسکتا اور پھر حلالہ کے نام پر شکار ہونے والی خواتین کی بھی بڑی بچت ہوگی۔
جو خواتین مذہب سے بغاوت پر اُتر آئی ہیں تو مولوی کے خودساختہ مذہب سے ان کی بغاوت کا خیر مقدم ہی ہونا چاہیے۔ اللہ کا دین اسلام ایسا ہے جس کو دیکھ کر غیرمسلم اور تمام باغی خواتین قرآن وسنت کی تعلیم کو اپنا منشور بنالیں گی۔ اگر جمعیت علماء اسلام کے دھرنے میں سازش سے کچھ لوگ طالبان کے جھنڈے لاسکتے ہیں تو عورت آزادی مارچ میں بھی کچھ سازشی عناصر اپنے بیہودہ پوسٹر لاسکتی ہیں۔
ہم شیر و ہرن کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے کی طرح علماء اور عورت آزادی مارچ کے آرگنائزروں کو اکٹھا کرینگے۔ ہم نے دیکھ لیا کہ مذہب مخالف جذبہ رکھنے والا کہہ رہا تھا کہ ”عورتوں کیوجہ سے میں مذہبی طبقہ سے مار نہ کھاتا اور ایک لڑکی تاڑ لی تھی کہ ہلا گلا ہو تواسے اٹھاکر رفو چکر ہوجاؤں”۔ یہ قائداعظم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیکولرقوم پرست پختون کا حال تھا۔
مرد اور عورت زندگی کے جزو لاینفق لازم وملزوم ہیں اور دونوں کے درمیان ایک بالکل آزاد معاہدے کی سخت ضرورت ہے۔ترقی یافتہ ممالک نے عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دئیے ہیں۔ عورت کو معاشرے میں قانون کے ذریعے تحفظ اور انصاف کا ماحول فراہم کیا ۔لیکن اسلام نے خواتین کو مساوی نہیں بلکہ زیادہ حقوق دئیے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رشتہ کے بعد طلاق ہوجاتی ہے تو اس کے تمام برے نتائج کا خمیازہ عورت ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے خاتون کو مروجہ مذہبی فتویٰ دیا کہ شوہر کی طرف سے ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینے کے بعدعورت حرام ہوجاتی ہے تو اللہ نے اس خاتون کے حق میں فتوی دیدیا۔ اس سورة کا نام مجادلہ ہے۔ عورت کی طرف سے جھگڑنے کا معاملہ اللہ نے قرآن کی زینت بنایا۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ سے جب سامنا ہوتا توحضرت عمر احترام کیلئے کھڑے ہوجاتے،کیونکہ اسی کی وجہ سے سورۂ مجادلہ نازل ہوئی تھی۔
پدرِ شاہی کے نوکروں کی اوقات کیا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق مانگنے پر کھڑے ہوجاتے ہیں؟۔ پاک فوج کا کمال ہے کہ خود کش حملوں کا ماحول ختم کردیا ہے مگر مولوی تو اس کی تائید کرتا تھا، امن کی فاختہ مولاناطارق جمیل نے کہا تھا کہ دہشت گردوں اور ہمارے راستے الگ ہیں مگر منزل ایک ہے۔ دہشت گرد تبلیغی جماعت کا عسکری ونگ تھے۔
سور ةٔ النساء کی آیات نمبر21,20,19میں خواتین کے جن حقوق کا تحفظ ہے اگر اس کی سمجھ خواتین کو آجائے تو پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجانے میں دیر نہیں لگائیں گی۔
ایک غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ البقرہ کی آیت229 میں خلع کا کوئی تصور ممکن ہی نہیں ہے لیکن پدرِ شاہی نے یہ غلط تصور عرصہ سے مسلط کیاہے۔ خلع کا ذکر سورۂ النساء کی آیت 19میں ہے جہاں عورت کو نہ صرف جانے کا حق دیا گیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ جائیداد بھی لے جانے کا حق دیا گیا ہے، فحاشی کی صورت میں بھی بعض چیزیں لے جانے کا حق دیا گیا ہے۔ رخصت کرتے وقت اچھا برتاؤ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جدائی کا یہ فیصلہ برا لگنے کے باوجود اللہ سے زیادہ خیر کی امید کا یقین دلایا گیا ہے۔ جبکہ آیات 21اور22میں طلاق کا حکم واضح کیا گیا ہے۔جس میں حق مہر کے علاوہ تمام دی ہوئی اشیاء منقولہ وغیرمنقولہ تمام دی ہوئی جائیداد میں سے کچھ بھی اس کا شوہر واپس نہیں لے سکتا ۔ جس کا ذکرالبقرہ آیت 229 میں بھی ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے ان آیات کی تفسیر وترجمہ میں انتہائی دجل سے کام لیا ہے۔
خلع کی صورت میں عورت کو شوہر کی طرف سے دی ہوئی غیر منقولہ جائیداد سے دستبردار ہونا پڑے گا لیکن طلاق کا معاملہ بالکل جدا ہے۔ طلاق کی صورت میں گھر عورت ہی کا ہے اور دی ہوئی تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد بھی واپس نہ لینے کا بھی حکم ہے۔ کھلی فحاشی کی صورت میں گھر کا معاملہ الگ ہے لیکن اللہ نے شوہر کو اپنے مفاد کی خاطر بیوی کو تہمت کا نشانہ بنانے پر بے غیرتی و تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عورت ماں بنتی ہے ، مردباپ بنتا ہے۔ماں بچوں کو پیٹ میں رکھنے سے دودھ پلانے اور بھوکے بچے کی خاطر بار بار نیند سے جاگتی ہے تو دوسری طرف باپ پر بہت سی ذمہ داریاں اللہ نے ڈالی ہیں۔ میری پہلی وائف سندھی ہیں جنکے آباد و اجداد کا تعلق لاڑکانہ اور شکار پور سے ہے۔ قوموں ، زبان اور کلچر کے فرق کے باوجود اپنی بیگمات سندھی اور بلوچ کی رفاقت بفضل تعالیٰ بالکل مثالی ہے۔ عورتوں کے حقوق ہی سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔ حضرت یعقوب کی دوسری بیگم نہ ہوتی تو یوسف پیدا نہ ہوتے ۔ حضرت ابراہیم کی دوسری سے اسماعیل پیداہوئے۔ میں اپنے باپ کی تیسری بیگم کا بیٹا ہوں۔ہم صدیوں سے جس وزیرستان میں ہیں ۔ ہمارا کردار بھی کوئی مثالی نہیں ہے مگر خواتین کے حقوق کے حوالے سے بہت سی برائیوں سے ہمارا خاندان وزیرستان میں رہتے ہوئے بھی مختلف ہے۔ انشاء اللہ ہم اپنا پورا کردارادا کرنیکی کوشش کرینگے۔

عورت آزادی مارچ کا ترانہ اور قرآن کی زبردست تائید۔ عتیق گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عورت کو خلع کابھرپور حق

اللہ نے عورت کے حقوق پر سورۂ النساء میں فرمایا کہ
ولاترثوا النساء کرھا………..” اور عورتوں کے جبری مالک مت بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے روکو کہ جو تم نے ان کو دیا ہے ،اس میںسے بعض لے اُڑو۔ مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں اور انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت ساخیر رکھ دے”۔ (سورۂ النساء آیت نمبر19)
علمائِ حق اور خواتین کے حقوق میں سنجیدہ طبقہ یاد رکھ لے کہ اللہ نے عورت کو جن حقوق دینے کا اعلان کیا تھا، وہ ظالم سماج نے چھین لئے ہیں ۔ قرآن کے تراجم وتفاسیر کو غلط رنگ دیا گیا ۔ جس کی وضاحت بڑاانقلاب ہوگا۔
عربی، اردو میں ”عورت” بیوی کو کہتے ہیں۔ فرمایا: اذا طلقتم النساء ”جب تم عورتوں کو طلاق دو”۔جس سے بیویاں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح فرمایا کہ عورتوں کے مالک زبردستی سے مت بن بیٹھو اور اسلئے ان کو نہ روکو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے ، بعض ان سے واپس لے لو۔
عربی ادب کی کتاب قرأت الراشدہ میں ایک چڑیا کی فریاد ہے جس کا ایک زبردست شعر یہ بھی ہے کہ
الحبس لیس مذہبی و ان یکن من ذہبی
” پنجرے کی قید میرا شغل نہیں ،اگرچہ سونے کا ہو”۔
کچھ سرپھری خواتین اسلام کو بدترین ”قید” سمجھ کر اپنی عورت آزادی مارچ منارہی ہیں۔ مسلمان خواتین دنیا بھر کی عورت آزادی مارچ کا حصہ اسلئے بن گئی ہیں کہ اسلام کو پدرِ شاہی کے پالتو ملاؤں نے بالکل غلط پیش کیا ہے۔ سب نہیں جانتے تو اب جان لیں کہ قرآن کے تراجم غیرمسلم کی طرف سے ہوئے تھے مگر مسلمانوں کے ہاں شاہ ولی اللہ نے پہلی مرتبہ ترجمہ کیا تو ملاؤں نے ان کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا۔ دو سال تک ان کو روپوش رہنا پڑا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم نے اورنگزیب کے” فتاویٰ عالمگیریہ ”میں کردار ادا کیا تھا۔ جس میں بادشاہ کیلئے تمام حدودمعاف قرار دئیے گئے ۔ قتل، چوری، زنا کوئی سزا بھی بادشاہ کو نہیں دی جاسکتی ہے۔ اگر اسلام کے درست احکام نافذ ہوتے تواپنے بھائیوں کے قاتل اورنگزیب بادشاہ بھی اسلامی عدالت میں بادشاہ بننے کے باوجود قصاص میں قتل کردئیے جاتے۔ یزید نے شہداء کربلا کے قاتلوں سے کوئی بدلہ لیا ہوتا تو یزید اس قدر بدنام نہ ہوتا لیکن پدرِ شاہی نظام بھی پھر باقی نہیں رہ سکتا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزائیں دلوانے کیلئے جنگ برپا کردی تھی۔ طاقتور کبھی سزا کھانے کیلئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ فرعون نے ہزاروں بچے قتل کر ڈالے مگرسزا کھانے کا کوئی تصور نہیں رکھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے غلطی میں قتل کا ارتکاب ہواتھا لیکن آپ کو معاف نہیں کرنا تھا۔ اسلام نے قتل عمد اور قتل خطاء کی حیثیت جدا جدا رکھ دی ہے۔ کوئی بھی خوشی سے سزا کھانے کیلئے تیار ہوتا تو حضرت موسیٰ نے بھی راہِ فرار اختیار نہیں کرنا تھی۔ ایک طاقتور صحابی کے بچے نے دوسرے غریب صحابی کے بچے کا دانت توڑ دیا تو یہ قسم کھالی کہ اسکے بدلے میرے بچے کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ مگر نبیۖ نے انصاف ہی قائم کرنا تھا۔ پھر غریب صحابی نے بدلہ لینے کے بجائے معاف کردیا تو نبیۖ نے فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کو اتنے محبوب ہوتے ہیں کہ وہ قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کردیتا ہے۔ (صحیح بخاری)
بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف چار افراد نے زنا کی عجیب وغریب گواہی دی ،جن میں حضرت ابوبکرہ صحابی بھی شامل تھے۔ آخری گواہ زیاد گواہی دینے آیا تو حضرت عمر نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ اس شخص کی وجہ سے نبیۖ کے صحابی کو اس ذلت کی سزا سے بچالے گا اور پھر جب وہ گواہی دینے لگا تو حضرت عمر نے بہت زور سے چلا کر کہا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا ،اس دھاڑ سے قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ پھر زیاد نے کہا: میں نے ننگا کولہا دیکھا، عورت (ام جمیل) کے پاؤں اسکے کاندھے پر گدھے کی کان کی طرح پڑے تھے۔ جس پر عمر نے کہا کہ گواہی پوری نہیں ہوئی۔ پہلے تین افراد پر قذف کا حد جاری کیا اور پھر ان سے کہا کہ اگر تم اعتراف کرلو کہ ہم نے جھوٹ بولا ، تو آئندہ تمہاری گواہی قبول کی جائے گی۔
حضرت ابوبکرہ نے کہا کہ میں نے سچ کہا ،اگرآئندہ میری گواہی قبول نہیں کی جاتی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ باقی دو افراد نے کہا کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے مسلک میں حضرت عمر نے پیشکش کی تھی اسلئے قرآن کی آیت میں جہاں جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی قبول نہ کرنے کا واضح ذکر ہے تو اس کا اطلاق توبہ کے بعد کی صورت پر نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ حضرت امام ابوحنیفہ نے پدرِ شاہی نظام کی نفی کرکے واضح کیا تھاکہ قرآن کی آیت میں واضح ہے کہ جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی اسلئے حضرت عمر کے غلط فیصلے کی وجہ سے قرآن کی تعبیر نہیں بدلی جائے گی۔
صحیح بخاری کے مصنف نے بھی حضرت امام ابوحنیفہ کی مخالفت کا ٹھیکہ لے رکھا تھا اسلئے یہ واقعہ تمام کرداروں اور ناموں کیساتھ پیش کیا گیا۔ ائمہ اربعہ کے درمیان جس واقعہ کی بنیاد پر مسلکانہ اختلافات ہیں ،اس کی حقیقت عوام کو سمجھانے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ ابوالاعلیٰ مودودی کوئی باقاعدہ عالم نہیں تھے اسلئے انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا ہے کہ ” وہ عورت حضرت مغیرہ ابن شعبہ کی اپنی ہی زوجہ تھی”۔ پدرِ شاہی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ”علم کی حقیقت کو عوام سے چھپانے کا وطیرہ بنالیا جاتاہے اور بے شعور لوگوں کے مذہبی جذبات کو ایک ہتھیار کے طور پر استحصالی طبقات کیلئے ناجائزہی استعمال کیا جاتاہے”۔
سورہ ٔ النساء کی آیت19میں واضح طور پر اللہ بیگمات کیلئے فرماتا ہے کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور ان کو اسلئے جانے سے مت روکو کہ جو تم نے ان کو دیا ہے اس میں بعض واپس لے لو”۔ وزیراعظم عمران کے نکاح خواں مفتی سعید خان صاحب سے بالمشافہ ملاقات میں جب کہا کہ اس آیت میں جن عورتوں کے مالک بننے سے روکا گیا ہے ،انہی کے بارے میں یہ فرمایا گیاہے کہ ان کو اسلئے مت روکو کہ جو ان کو تم نے دیا، ان میں سے بعض مال واپس لے لو۔ تو مفتی سعیدخان نے کہا کہ یہ آپ کے نزدیک ہے؟، میں نے کہا کہ آپ ہی بتاؤ کہ ان سے کوئی دوسری عورتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں؟۔ تو مفتی صاحب نے کہا کہ نہیں دوسری مراد نہیں ہوسکتی ہیں۔
جب پدرِ شاہی کے ایجنٹ علماء نے آیت کے ترجمے سے راہِ فرار کی گنجائش نہیں دیکھی تو تفسیر لکھ ڈالی کہ آیت کا پہلا جملہ ان خواتین سے متعلق ہے جنکے شوہر فوت ہوجاتے اور زمانہ جاہلیت میں لوگ انکے زبردستی سے مالک بنتے۔ دوسرا جملہ بیویوں سے متعلق ہے۔ حالانکہ دنیا کی کسی بھی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرکے یہ باطل معنی مرادلینا ممکن نہیں ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا ہے؟۔ اسکے پیچھے ایک بہت بڑا فلسفہ ہے۔ پدرِ شاہی میں مردوں کا عورتوںکو اپنی جاگیر سمجھنے کا تسلسل ہے جس کی قرآن نے بالکل نفی کردی ہے۔
جس دن دنیا نے سمجھ لیا کہ ” عورت مرد کی جاگیرنہیں ہے اور بیوی نہ صرف شوہر کو چھوڑ کر جانے کا حق رکھتی ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ شوہر کی طرف سے دی گئی تمام منقولہ جائیداد بھی ساتھ لے جاسکتی ہے” تو دنیا کے تما م شوہروں کا رویہ خود بخود بالکل درست ہوجائیگا۔ ترقی یافتہ دنیا نے بھی پھر اسلام کے عادلانہ نظام کی طرف فوری آنا ہے۔
جب عورت کھلی فحاشی کی مرتکب پائی جائے توپھر شوہر کو (خلع) کی صورت میں بعض چیزیں واپس لینے کا حق ہے۔ پھر بھی تمام چیزیں واپس نہیں لے سکتا، ورنہ تو مرد کپڑے اور جوتے اترواکر ننگا کرنے کو بھی اپنا حق سمجھتے۔ کھلی فحاشی کی صورت میںبھی کسی کو حق مہر واپس لینے کا اللہ نے حق نہیں دیا ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ دی ہوئی چیزوں کو واپس نہ لینے کا حکم دیا ہے۔جہاں تک حق مہر کا تعلق ہے تو اللہ نے اسکو ہاتھ لگانے سے پہلے نصف اور ہاتھ لگانے کے بعد پوراپورا دینے کا حکم واضح کردیاہے۔ ظالم سماج نے علماء کو بھی اپنا آلۂ کار بنالیا ہے اسلئے حق کو واضح نہیں کیا گیاہے۔
کاش ! خواتین اسلامی محاذ پر تھوڑی سی توجہ دیں تو پھر صدیوں کی منزلیں مہینوں میں مل سکتی ہیں۔ قرآن ان کے تحفظ سے بھرا پڑا ہے۔ حقوقِ نسواں کو بالکل نظر انداز کرکے قرآنی احکام کو بازیچۂ اطفال بنایا گیا ہے۔

حور سے مراد اگر دنیاوی عورتیں تو یہ بیویاں ہیں اگر اس سے مراد پریاں تو یہ ہم نشین کے معنی میں ہیں ۔

تحریر : سید عتیق الرحمن گیلانی

حور سے مراد اگر دنیاوی عورتیں ہیں تو یہ بیویاں ہیں اور اگر اس سے مراد پریاں ہیں تو یہ پھر ہم نشین کے معنی میں ہیں ۔

قرآن میں سورۂ الدخان کی آیت
وزوجنٰھم بحور عین کے بارے میں قرآن کی مشہور لغت مفردات القرآن میںامام راغب نے لکھا کہ” ہم نے ان کو حور عین کا ہم نشین بنایا ہے”۔
اگر حورسے مراد انسانوں سے الگ جنس کی مخلوق ہو تو پھر زوجنا سے مراد شادی کے معنیٰ میں نہیں ہوگا۔ بلکہ پریوں کو انکا ہم نشین بنانا مراد ہوگا۔ عربی کی مشہور لغت القاموس المعجم میں حوریات کے بارے میں لکھا ہے کہ ”شہری عورتوں کو کہتے ہیں”۔ شہری عورت پر حور کااطلاق ہوتا ہے جو زیادہ سفیدیا صاف ستھری ہوتی ہیں۔ اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے کہ عربی زبان کا معاملہ سمجھے بغیر قرآنی آیات کے مفہوم کو سمجھنا مشکل ہے۔ قرآن میں زوج کے کئی معانی ہیں۔ سورۂ واقعہ میں انسانوں کے تین ازواج یعنی اقسام کا ذکر ہے۔
اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور مقربین۔ یہ جنت اور جہنم اور درجہ کے اعتبار سے تین اقسام ہیں۔ قرآن میں واذا النفوس زوّجت ”اور جب نفسوں کو جوڑا جوڑا بنایا جائیگا”۔کے بارے میں علماء سمجھتے ہیں کہ جب لوگوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جائیگا۔ حالانکہ اس کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا تھا کہ جب لوگوں کو شادی کے بندھن میں جوڑا جوڑا بنایا جائیگا۔ اگر آیت سے سیاق وسباق کے مطابق معانی مراد لئے جائیں تو حقائق منظر عام پر آجائیںگے۔ جہاں قرآن میں یہ ہے کہ زندہ درگور کرنے والیوں سے پوچھا جائیگا کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئیں؟۔ اسی جگہ پر نفسوں کو جوڑا بنانے کا ذکر بھی ہے ۔ دورِ جاہلیت میں بچیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا اور میاں بیوی صلح چاہتے تھے تو بھی ان میں مذہب کے نام پر تفریق کرادی جاتی تھی اور دونوں برائیوں کو ایک پس ِ منظر میں دیکھا جائے تو اذاالنفوس زوجت سے نفسوں کے مختلف اقسام بنانا مراد نہیںہوسکتا ہے بلکہ اسلام کے نام پر اب بھی جس طرح طلاق اور تفریق کا سلسلہ جاری ہے تو اس تنبیہ سے علماء ومفتیان کو سبق سیکھنا چاہیے۔ جنت دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔ دنیاوی جنت کے حوالہ سے قرآن میں بہت سی آیات ہیں۔ اسی طرح جنت کے علاوہ دنیا میں بھی جحیم کی اقسام ہیں۔ حضرت ابراہیم کو بھی کافروں نے دنیا میں سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ کو قرآن کے الفاظ میںجیحم میں پہنچانے کا پروگرام بنایا۔ باغ کو بھی جنت کہتے ہیں۔ آخرت کی بنیاد پر جنت کی کیفیت کو سمجھنا ہمارے لئے ممکن نہیں ۔
دنیا میں اسلامی انقلاب آئے تو بھی نیک واچھے لوگوں کی ازواج یعنی بیویوں پر حوروں کا اطلاق ہوگا اور اسکے معانی پاکیزہ کے بھی ہیں۔ انقلاب کے بغیر بھی جس طرح متقی لوگوں کیلئے الطیبون لطیبات و الطیبات للطبین” پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کیلئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے ہیں”۔ ان پر بھی حوروں کا اطلاق ہوتا ہے۔ حور صرف مؤنث ہی نہیں بلکہ مذکر کیلئے بھی عربی لغت میں آتا ہے۔ جب ساتھی کے معنیٰ میں ہو تو پھر جس طرح حضرت عیسیٰ کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے الحواریون قرار دیا ہے جنہوں نے آپ کی مدد کی تھی۔ صحابہ کرام دنیا کی طرح آخرت میں نبیۖ کے ساتھی ہونگے۔ حور عین کا معنیٰ بڑی بڑی آنکھوں والا بھی ہے اور آنکھ کی سفیدی کا زیادہ سفید ہونا اور سیاہی کا زیادہ سیاہ ہونے کو بھی کہتے ہیں اور حور کا معنی نقصان اٹھانے کو بھی کہتے ہیں۔
ہمارے یہاں سخت ، بڑی اور موٹی روٹی بنتی ہے جس کو گاڈلیائی کہا جاتا ہے۔ کہاوت ہے کہ کوچے کے کتے کو چودھویں کا چاند بھی گاڈلیائی نظر آتا ہے۔ عربی کی کہاوت ہے کہ للناس فی مایعشوقون مذاہب ”لو گ اپنے ذوق کے مطابق رائے رکھتے ہیں”۔ نبیۖ اور صحابہ کرام کیلئے سیدنا بلال حبشی بھی حور تھے اور علة مشائخ رکھنے والوں کا ذوق کچھ اور ہوتا ہے۔
دھوبی کا کام کرنے والوں کو بھی حور کہتے ہیں اور باطنی صفائی رکھنے والے کو بھی حور کہتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ االسلام کا ساتھ دھوبیوں نے دیا تھا ،دھوبیوں کو حواریون کہا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھی صوفی باصفاء باطن کی صفائی رکھتے تھے اسلئے ان کو حواریون کہا گیا ہے۔
جنات اور پریاں ہماری باطن کی دنیا میں بھی ہیں اور اس کا ذکر قرآن میں ہے۔ تو جنت اور آخرت میں بھی ہوسکتی ہیں۔ سورۂ رحمن میں تو دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہی مخلوق جنت میں ہمارے ساتھ کھلے عام بھی ہوسکتی ہے۔اگر اس کی جنس الگ ہے تو جنسی تعلق کاامکان نہیں رہتاہے۔ ابلیس اور اس کی مادی بھی جنت میںپہنچ گئے تھے۔ جس کو اللہ نے آگ سے بنایا ہے اور ہمیں مٹی سے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھ دیا ہے کہ ” ابلیس اور اس کی بیگم نے حضرت آدم و حواء کو اپنے جنسی تعلق کا مشاہدہ کرایا تھا جس کے بعد یہ لوگ بھی اس شجرہ ممنوعہ کی شہوت میں پڑگئے۔ اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کردی”۔ قرآن میں تفصیل کے ساتھ قصے کا ذکر ہے ،جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے درخت کے قریب جانے سے منع کیا ہے پھر فرمایا کہ فاکلا” پھر دونوں نے اسے کھایا” تو اس ازواجی تعلق پر کھانے کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اکل کے معنی صرف کھانے کے نہیں بلکہ کھجلانے کے بھی ہیں۔ اکل راسہ ”اس نے اپنا سر کھجلایا”۔ (المنجد: عربی ، ارود لغت)
اللہ نے قرآن میں بیوی سے جنسی تعلق کیلئے کئی الفاظ استعمال کئے ہیں۔ باشر، تغشی، لامستم ”براہ راست ہونا، چادر میں چھپانا، ہاتھ لگانا”۔ لیکن قرآن میں وطی کا لفظ جنسی تعلق کیلئے کہیں نہیں آیا ہے اور فقہ کی کتابیں اس سے بھری ہوئی ہیں۔ تہجدکا وقت اشدوطائً واقوم قیلًا”نفس کو کچلنے کا ذریعہ اور بات سمجھنے کیلئے زیادہ اچھا ہوتا ہے”۔ عربی میں گھاس کو کچلنے کیلئے وطأ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں بیگمات کو شوہروں کیلئے حرث قرار دیا گیا ہے اور حرث کھیتی کو بھی کہتے ہیں اور اثاثہ (ایسٹ) کو بھی ۔ اثاثہ ایسٹ کے بھی دو اقسام ہیں۔ مال ودولت کو بھی کہتے ہیں اور عناصر کی صفات کوبھی کہتے ہیں۔ عناصر سے ان کی صفات جدا نہیں ہوسکتی ہیں لیکن مال کا متبادل ہوتا ہے اور قرآن میں بیگمات کو جس طرح کا اثاثہ قرار دیا گیا ہے، تمام اہل ذوق اپنے اپنے ماحول کے مطابق اسکا معنیٰ لیں گے۔ جب کوئی بیٹا زیادہ قابل اعتبار ہو گا تو اس کا باپ اس کو اپنا اثاثہ (ایسٹ) قرار دے گا۔
قرآن کا یہ کمال ہے کہ لوگوں کی اپنی اپنی ذہنی سطح کے مطابق اسکے معانی سمجھ میں آتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کا ذکر کیا ہے کہ وہ مغرب کے آخری کنارے تک پہنچا تو اس نے سورج کو پانی اور کیچڑ میں اترتے دیکھا۔ ظاہر ہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر کہکشاؤں کی جھرمٹ میں اپنی منزل کی طرف اپنی رفتار سے گامزن ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے لیکن جب ذوالقرنین کا زمانہ تھا تو اس نے اپنی ذہنیت ہی کے مطابق سورج کو کیچڑ میں اترتے دیکھا تھا۔ اچھے لوگوں پر غلط تہمت نہیں لگائی جاسکتی ہے کہ انہوں نے حوروں کے غلط تصورات پیش کرکے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ البتہ حوروں کے تصورات کے باجود بھی بہت لوگوں نے چند ٹکوں کی خاطر سودی نظام کو جائز قرار دیدیا ہے۔ اللہ کیلئے نہ کرتے تو حوروں سے شادی کیلئے ہی چند ٹکوں کی خاطر دین کو نہیں بیچنا تھا۔
اللہ والوں نے راتوں کو تہجد میں قرآن سمجھنے کیلئے اپنی عقل کو استعمال نہیں کیا مگر اس مشقت اور نفسوں کو کچلنے کے باعث علة مشائخ کی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ یہ بھی گھاٹے کا سودا نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن جس مقصد کیلئے نازل کیا گیا تھا اس کو صرف رونے دھونے اور پیشانیوں کو سجدوں کے نشانات سے چمکانا مقصد نہیں تھا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ ابلیس کا بڑا خوف تھا کہ سحرگاہی کے آنسوؤں سے وضو کرنے والے بہت خطرناک ہیں لیکن انکے خشک لہجوں میں مٹھاس اسلئے نہیں آسکتی تھی کہ قرآن بہت کامل معاشرے کی تشریح پیش کرتا ہے جس میں اچھی معیشت، معاشرت ، سیاست ، حکمت، فقاہت ، بڑی زبردست سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ترقی کی سب ہی راہیں اس میں موجود ہیں۔ فقہ سے زیادہ سائنس کے حوالے سے آیات ہیں۔ ہمارا مولوی طبقہ تو فقہ کی دنیا میں بھی آج سے نہیں پتہ نہیں کب سے پنچر ہوچکا۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ کی شکایت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے کہ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھٰذالقراٰ ن مھجورًا ”اور رسولۖ عرض کرینگے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ القرآن
پہلے دارالعلوم دیوبند کے اکابر کے استاذشیخ الہند محمود الحسن نے مالٹا کی جیل سے رہائی کے بعد یہ مشن بتایا کہ مدارس کے نصاب کو چھوڑ کر قرآن کی طرف امت کو متوجہ کیا جائے۔ لیکن ایک شاگرد مولانا انور شاہ کشمیری نے درسِ نظامی کی تدریس جاری رکھی، مولانا الیاس نے تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی، مولانا اشرف علی تھانوی نے تصوف کو زندہ رکھا ، مفتی کفایت اللہ نے فتوؤں کا کام زندہ رکھا، مولانا حسین احمد مدنی نے سیاست کا کام کیا اورصرف مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنے استاذ کی بات مان لی۔ امام انقلاب کہلائے لیکن ان پر کفروگمراہی کے فتوے لگائے گئے اور جب مولانا کشمیری کو آخر میں احساس ہوا تو معافی مانگ لی اور فرمایا کہ ” میں نے زندگی ضائع کردی ہے”۔ آج علماء دیوبند مختلف شعبۂ جات میں مذہب کو تجارت گاہ بناچکے ہیں۔ہر شعبے میں ماحول زوال کی آخری حد کو چھورہاہے۔ اللہ سب کو ہدایت عطاء فرمائے ۔آمین

خواتین اپنے حقوق کیلئے قرآنی آیات کو ملاحظہ کریں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ نورالسمٰوٰت والارض مثل نورہ کمشکٰوة فیھا مصباح المصباح فی زجاجة الزجاجة کانھا کوکب دری یوقد من شجرة مبٰرکة زیتونة لاشرقےة ولاغربےة یکاد زیتھا یضی ء ولو لم تمسسہ نارنور علی نور یھدی اللہ لنورہ من یشاء ویضرب اللہ الامثال للناس واللہ بکل شیء علیمO ( سورة النور :35) ”اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے، اسکے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہواور چراغ قندیل میں ہو اور قندیل جیساکہ چمکتا ہوا ستارہ ہو۔جو مبارک درخت زیتوں سے روشن ہورہا ہو۔ یہ قندیل نہ مشرق زدہ ہو اور نہ مغرب زدہ۔ قریب ہے کہ اسکا تیل روشنی دے اگرچہ اس کو آگ بھی نہ چھوئے۔ یہ نور علی نور ہے۔ جس کو اللہ چاہتا ہے اپنے نور کی رہنمائی دیتا ہے۔اور اللہ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے”۔
اللہ کانور علی نور فقہاء کی خود ساختہ شریعت ظلمات بعضہا فوق بعض کے برعکس بالکل واضح ہے۔ مولانا فضل الرحمن طالبان کی تائید کرتا تھا کہ زبردستی سے بھی مردوں کو داڑھی رکھوانا جائز ہے مگرپاکستان کی شریعت اپنے ماحول کے مطابق بتائی تھی اور اکرم درانی کو چھوٹی داڑھی رکھواکر علماء ومفتیان کی بڑی تعدادکے باوجود بھی وزیراعلیٰ بنوادیا تھا۔قاضی حسین احمدنے اپنی بیٹی ہی کو ایم این اے بنوادیا تھا۔
سورۂ نور کی پہلی آیات میں مسائل کو مغرب ومشرق سے بالاتر ہوکر حل کیا گیا۔ 1: عورت اور مرد سب کیلئے یکساں سزا کی وضاحت کردی ۔ 100کوڑے اعلانیہ مارے جائیں تو مساوات کا سبق ملے گا۔ عورت شادی شدہ ہوتی تھی یا کنواری لیکن غیرت کے نام پر قتل کردی جاتی تھی۔ عورت پر بہتان کی سزا 80کوڑے لگانے کا حکم ہے۔ اس میں اشرافیہ اور غریب خواتین کی عزتیں اور ان کی سزائیں برابر ہیں۔ 2: عورت پر بہتان کے بعد چار گواہ نہ لائے جائیں تو بہتان لگانے والے جھوٹے ہیں اور ان کی گواہی ہمیشہ کیلئے قبول نہیں کی جائے گی،یہ سب کیلئے قابل قبول ہے ۔ 3: زناکار مرد نکاح نہیں کرتا مگر زناکار عورت یا مشرکہ سے اور زناکار عورت کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زناکار مرد یاپھر مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کردیا گیا ہے۔ 4: اگر مردوں میں سے کوئی اپنی بیگمات کے خلاف بولیں تو ان کیلئے لعان کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے جس میں مرد اور عورت کی گواہیاں بالکل برابر اور مساوی ہیں۔
قرآن نے سورۂ نور کی ابتدائی آیات میں معاشرتی نظام کا جو نقشہ پیش کیا ہے تو اس میں مشرق ومغرب کا کوئی فرق نہیں ۔ لیکن مردوں نے ان قوانین کی بہت کھل کر خلاف ورزیاں کی ہیں اسلئے خواتین کی بغاوت کا جذبہ بھی فطری ردِ عمل ہے اور اس میں قصور قرآن وسنت سے ناواقف خواتین کا نہیں بلکہ ہٹ دھرم اور بے شرم علماء ومفتیان کا ہے جو قرآن وسنت کی واضح تعلیمات سے بالکل منحرف ہوگئے ۔
میں نے آپ نیوز اور زوم نیوز نیٹ ورک کوالگ الگ انٹرویو دیا تھا مگر مختصر انٹرویوز کو نشر کرنے کی جرأت بھی نہیں کی گئی۔لاہور عورت مارچ میں زیادہ تر لوگ مخالفت ہی کیلئے میدان میں اترے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے اس دھمکی کے بعد بتایا جارہاتھا کہ پہلے سے کم تعداد میں خواتین آئی ہیں۔ ہم نے اسلام آباد عورت مارچ کو قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے پروٹیکشن پر اطمینان کے بعد فیصلہ کیا کہ لاہور عورت مارچ کے آرگنائزروں کو کچھ دلائل سمجھاتے ہیں مگر ان سے پریس کلب میں ملاقات طے ہونے کے باوجود بھی ملاقات نہ ہوسکی۔ جب پتہ چلا کہ اسلام آباد میں حالات خراب ہیں ، مرد طلبہ نامردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشکل وقت میں 9اور2گیارہ ہونے کی بات کررہے ہیں۔ ایک طرف علماء نے مشتعل ہجوم کے ذریعے دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور دوسری طرف عورت مارچ کا انتظامیہ خوف وہراس کا شکار تھا تو ہم نے اسلام آباد پہنچنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
علماء ومفتیان کو مجھے انکے اپنے اسٹیج سے یا خواتین کے اسٹیج سے حقائق سے آگاہ کرنا تھا لیکن نہیں پہنچ سکا۔ پھر ڈی چوک میں بھی اس وقت ہم پہنچے جب پروگرام ختم ہوچکا تھا اور خواتین کو پریس کلب تک جانے میں خوف محسوس ہورہاتھا۔ ہم نے پہنچ کر یہ حق ادا کرنے کی کوشش کی کہ خواتین پر حملہ ہونے سے پہلے ہم اس کی زد میں آجائیں۔ جب پریس کلب سے ڈی چوک جانے کیلئے خواتین گئی تھیں تب بھی ان کے ساتھ ہماری نوشتۂ دیوار کی ٹیم ساتھ ساتھ گئی تھی۔ شاید خواتین کو پہلے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ یہ مولوی حضرات کے بھیجے ہوئے لوگ تو نہیں ہیں۔ ہم نے اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ کوئٹہ، کراچی، سکھر، حیدر آباد، میرپورخاص، نواب شاہ اور خیرپور میں بھی نوشتۂ دیوار کا شمارہ خوب عام کیا تھا جس سے علماء اور مذہبی طبقے کی بہت حوصلہ شکنی ہوئی ہوگی۔ ان کے پست حوصلوں کا نتیجہ ہی یہ نکلا تھا کہ وہ ناکام ہوگئے۔
اگر خواتین نے علماء ومفتیان کے خلاف دھمکیوں ، سازشوں اور ظلم وجبر کا نظام جاری کیا ہوتا تو پھر ہم نے علماء اور مذہبی طبقے کا ساتھ دینا تھا۔ ہماری ہمدرد یاں تمام مظلوم اور مجبور عوام کیساتھ ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم ہورہاہے تو وہاں کی لتا حیاء شاعرہ ہندو خاتون نے مودی کے خلاف اپنی آواز بلند کررکھی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ ”حضرت لبید نے اپنی زندگی میں کہاتھا کہ ہم نے بہت زبردست زمانہ دیکھا تھا لیکن اگر وہ لوگ زندہ ہوتے تو کیا کہتے ۔ لیکن اگر لبید نے ہمارا زمانہ دیکھا ہوتا تو کیا کہتے؟”۔ جب ایک خاتون نے طلاق کے بعد تیسرے حیض میں عدت پوری سمجھ کر شوہر کا گھر چھوڑ دیا تو لوگوں نے کہا کہ قرآن کی خلاف ورزی ہوگئی ہے لیکن حضرت عائشہ نے فرمایا کہ قرآن میں عدت کے تین اَقراء سے اطہار مراد ہیں۔اس نے ٹھیک کیا ہے۔ حنفی فقہاء نے حضرت عائشہ کے قول کو قرآن کے منافی قرار دیدیا۔ نبیۖ نے حضرت عائشہ اور ازواج مطہرات سے فرمایا کہ میرے بعد حج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حضرت عائشہ نے حج بھی کیا اور شام کے لشکر کی قیادت بھی کی۔ حضرت عمر کے بہنوئی مار کھا رہے تھے مگر آپ کی بہن نے للکارا کہ تم خطاب کے بیٹے ہو تو میں بھی خطاب کی بیٹی ہوں اور تم جو کچھ کرسکتے ہو کرڈالو، ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ عمر اپنی بہن کی جرأتمندانہ للکارسے مرعوب ہوکر اسلام لائے۔ علماء دہشت گردوں سے خوف کھا رہے تھے تو بینظیر بھٹو نے للکارا۔ جب نواز و شہبازشریف نے پرویزمشرف کیساتھ ڈیل کی تھی تو نصرت شہباز اور کلثوم نوازنے میدان میں مقابلہ کیا تھا۔ جب ولی خان کو جیل میں ڈالا گیا تو بیگم نسیم ولی نے میدان سنبھالا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو نصرت بھٹو ہی میدان میں اتری تھی۔ حضرت حسین کی شہادت کے بعد تحریک کی روحِ رواں آپ کی ہمشیرہ حضرت زینب نے تحریک کامیدان سنبھالا تھا۔
جب اسلام آباد دھرنے میں ایک بوڑھی خاتون سے کہا گیا کہ آپ چلو یہ لوگ مارینگے تو اس نے کہا کہ”میں بالکل نہیں اُٹھوں گی۔ یہ وہی لوگ تو ہیں جو اپنی ماں ، بہن ، بیٹیوں اور بیگمات کو اپنے گھروں میں مارتے ہیں۔اچھا ہے کہ مجھے بھی یہ لوگ ماریں۔انکے خلاف تو احتجاج کرنے نکلی ہوں”۔جب طالبان دہشتگردوں نے ہمارے گھر میں مہمان اور میزبان مرد و خواتین کو شہادت کی منزل پر پہنچایا تو میری بوڑھی مامی ان سے کہہ رہی تھی کہ تم نے امریکہ کے ڈالر کھا رکھے ہیں اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے ہو ، جس پر انکے سرپر بندوق کے بٹ مارے گئے۔بھارت میں مظالم کے خلاف مرد خاموش ہیں توایک ہندو شاعرہ لتا حیاء خواتین پر فخر کررہی ہیں۔

علتِ مشائخ کی تباہ کاریوں سے زمین پر لرزہ طاری؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کچھ عرصہ پہلے فیصل آباد کے معروف جامعہ کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا نذیراحمد کے خلاف فجر کی نماز کے بعد ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ مجھے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔پھر یکے بعد دیگرے ایک اچھی خاصی تعداد نے اپنی شکایت روتے ہوئے سنائی۔ شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد مفتی محمدتقی عثمانی کا دوست تھا۔ 25سے 30 بچوں نے اپنے اوپر جنسی تشدد کی گواہی دی۔ شیخ الحدیث نذیر احمد کے بیٹوں نے اپنے باپ سے تنازعہ کیا اور فیصلے کیلئے مفتی محمد تقی عثمانی کو بلایا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن وسنت میں علماء ومفتیان کے ہاں اس بات پر کیا سزا ہوسکتی ہے۔ اس کا بالکل بہت سادہ اور واضح جواب یہ ہے کہ ہر بچے اور لڑکے کو چار چار گواہ پیش کرنے ہونگے، تب ہی کسی سزا کا تصور ہوسکتا ہے لیکن اگر کوئی اپنے خلاف جبری جنسی تشدد کی شکایت نہ کرے تو پھر ”میرا جسم میری مرضی” کی گونج اپنی قومی اسمبلی میں بھی قادر پٹیل اور مراد سعید کے حوالے سے سنائی دیتی ہے۔
گوجرانوالہ سے تبلیغی جماعت کے کارکن سید زاہدشاہ گیلانی نے مختلف عوامی اور سرکاری حلقوں میں ناظرہ قرآن کا درس شروع کیا تو علماء کو کام پسندآیا مگر حسدبھی رکھا۔ زاہد گیلانی نے بتایا کہ علماء نے کہا کہ قوم لوط کاعمل علتِ مشائخ ہے۔ 17مارچ کو حافظ آباد سے خبر میڈیا پرنشر ہوئی ” 13 اور 16 سالہ دوبھائیوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کرکے پھینکا گیا ”۔ رحیم یار خان میں 10 سالہ بچی کو جنسی تشدد کے بعد قتل کیاگیا۔ڈارک ویب کا کارکن گینگ سمیت پکڑاگیا۔ تسلسل سے جنسی تشدد جاری ہے۔ قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔عورت مارچ نے جنسی تشدد اور پدرِ شاہی نظام کیخلاف نعرہ بلند کیا تو ریاست، صحافت، سیاسی ومذہبی پنڈتوں نے دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی اور یہ تأثر قائم کردیا کہ یہ بیہودہ خواتین اپنے جسم کو پیش کررہی ہیں۔
چلو مان لیا کہ یہ خود کو پیش کررہی تھیں حالانکہ سلیم فطرت خواتین ایسا نہیں کرسکتی ہیں لیکن جبری جنسی تشدد کیخلاف توکم ازکم آواز اٹھارہی تھیں۔ ”جب فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس عذاب دینے کیلئے آئے تو قوم نے کہا کہ ہم ان سے بدفعلی کرینگے۔ حضرت لوط ؑنے کہا یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کرتے ہو۔ کہنے لگے کہ ہمیں ان سے غرض نہیں، یہ آپ جانتے ہیں“(قرآن)۔ بدکردار قوم کیساتھ حضرت لوطؑ کی پردہ دار بیوی بھی ملی ہوئی تھی۔پھر اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا تو بیوی بھی اس کی لپیٹ میں آگئی۔یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ حیا مارچ کے نام پر مولوی اور جماعتِ اسلامی والوں کی بیگمات بگڑی تھیں یا جن خواتین کیلئے مذہبی طبقے نے معاشرے میں یہ تأثر قائم کیا کہ خبیث مردخبیث عورتوں کیلئے ہیں؟۔
دریا میں پشاور کے کارخانوں مارکیٹ کا کیمیکل اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت ساراگٹر سسٹم ڈالا جاتا ہے۔ یورپ میں جتنے لوگ کرونا وائرس سے مرتے ہیںاگر ان کو ہمارا پانی پلایا جائے تو اس سے کئی گنا شرح اموات میں اضافہ ہوگا۔ جب بنی اسرائیل کی حالت ناقابلِ اصلاح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے چالیس سال تک جنگل میں رہنے کی سزا دی۔ کروناسے زیادہ خطرہ پچاس سال سے زیادہ عمر والوں کیلئے ہے۔ جبری جنسی تشدد ، غلامانہ نظام اور محنت کش طبقات کی زندگیوں کا اجیرن ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ کرونا پر قابو پالیںگے لیکن جب تک ظلم وستم کے خاتمے کیلئے ایک مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل نہ دیا جائے تو ایکدوسرے کی مخالفت سے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔
خلیل الرحمن قمر نے ڈرامے لکھے مگر قرآن وسنت اور انسانی فطرت سے انحراف کی چالیں نہیں دیکھی ہیں۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں خواتین تحفظ بل منظور کرنے کی بات ہوئی ، جس کی بنیاد یہ تھی کہ 80فیصد سے زیادہ خواتین جیل میں بند تھیں کہ ان کیساتھ جبری جنسی زیادتی ہوئی تھی اور جب چار عادل گواہ پیش کرنے سے قاصر رہیں تو اُلٹا انہی کو قید کردیا گیا۔ حدود آرڈینینس میں تبدیلی کی بات ہوئی تو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اسکے خلاف بہت بھونڈے انداز میں لکھ دیا۔ جس کو جماعت اسلامی نے چھاپ کر بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کردی۔ اس وقت ہم ضرب حق کے نام سے اخبار نکالتے تھے۔ ہم نے ایک پمفلٹ لکھ کر مفتی تقی عثمانی کے دانت کھٹے کردئیے تھے۔ اسی لئے زرداری کے دور میں خواتین تحفظ بل کی کسی نے مخالفت نہیں کی ۔ قرآن میں زنا بالجبر کی سزا قتل اور حدیث میں سنگساری ہے ۔
اگر خواتین کو مغربی نظام اور مغربی لبادہ کسی قدر زنا بالجبر سے تحفظ دے اور برقعہ یا اسلامی نظام جبری جنسی زیادتی سے تحفظ نہیں دے سکتاتو آج چند خواتین ہیں ، کل خواتین کی بڑی تعداد ہوگی، انکا راستہ جبر وتشدد کے ذریعے سے نہیں روکا جاسکے گا۔
انسان کو زیادہ غیرت اپنی بیوی پر آتی ہے مگر ایسے بھی ہیں جن کو بیوی توکیا خود پر بھی غیرت نہیں آتی اسلئے کہ ان کی فطرت مسخ ہے ۔جو بیوی پر غیرت نہیں کھاتا بلکہ اس کو استعمال کرتا ہے تو اس کو دیوث کہتے ہیں۔ اشرافیہ کا گراف غیرت کے لحاظ سے افق پر نہیں۔ علتِ مشائخ نے مذہبی طبقے کا ضمیرمردہ بنایاہے۔ اسلام آباد عورت مارچ کیخلاف نکلنے والا مذہبی طبقہ غیرت رکھتا تو جنسی تشدد میں قتل کے خلاف عوام کو جلسے جلوسوں کی شکل میں احتجاج کیلئے ضرور نکالتالیکن وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔
ہمارے وزیرستان کےMNA پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر نے اسلام آباد عورت مارچ میں شرکت کی ، جس پر اسٹیج سے ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا مگر جب اس نے حالات کا جائزہ لیا تو موقع پر رفوچکر اور نو دو گیارہ ہونے میں عافیت جانی۔ فوج کیخلاف نعرہ لگانے والے کیلئے عورت مارچ میں مذہبی طبقہ کیخلاف کھڑا ہونا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ علی وزیر نے قومی اسمبلی میں کہا ”جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا۔سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہوں گا۔ قبائلی علاقوں کے بڑے پاک فوج کی حمایت کی وجہ سے طالبان نے شہید کئے۔ میرا خاندان بھی فوج کی حمایت کی وجہ سے شہید کیا گیا”۔ حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں ۔ البتہ جن لوگوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ فوج اور طالبان نے ملکر ان کو شہید کیا ہے تو اس کی نفی ہوگئی ۔ شمالی و جنوبی وزیرستان میں وزیر قبائل نے بڑے پیمانے پر طالبان کی حمایت کی۔ ڈاکٹر گل عالم وزیر پہلے طالبان کیساتھ تھا اور اب علی وزیر کا ساتھی ہے۔ منظور پشتین کی بات درست ہے کہ ”ہم ظلم کیخلاف ہیں ، ظلم کوئی بھی کرے تو اسکے خلاف ہیں”۔ مذہبی طبقہ کا ظلم سامنے نہ لایا جائے توہم ایمان نہیں بچاسکتے ۔ مخصوص طبقہ کو ٹارگٹ کرنے کا اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ پاکستانی آئین اور ہمارے معاشرے کی بنیاد اسلام ہے اور اسلام کوعلماء نے مظلوم بنایا ہوا ہے۔ پاکستان میں جہیز اور حق مہر کے نام پر خواتین کو فروخت کرنے کا جس طرح کا ظلم معاشرے میں روا رکھا گیا ہے اور ان کی عزتوں کو حلالہ کے نام پر جس طرح سے لوٹا جارہاہے ۔ جبری جنسی زیادتی کو جس طرح قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جب تک ان تلخ حقائق کو ہم درست طریقے سے ختم کرنے کا ٹھوس لائحۂ عمل تشکیل نہیں دیتے ،تو ہمارے مردہ معاشرے میں احسا س کی روح نہیں جاگ سکتی ہے۔
فوج، عدالت، سول بیوروکریسی ،سیاستدان، صحافی اورعلماء کرام ایک پیج پراس خطرناک وائرس کرونا سے بڑھ کرجرائم اور ظالمانہ رویوں کے خلاف قومی ایکشن کی تیاری کریں۔ قرآن وسنت ہی سے ظلم وجبر کے نظام سے چھٹکارامل سکتا ہے۔جب مذہبی لوگوں نے دہشت گردی کے ذریعے پوری دنیا کو ہلا ڈالا تودنیا میں اسلام بہت بدنام ہوا، لوگوں کو مسلمانوں سے نفرت ہونے لگی ۔ قرآن وسنت کے فطری قوانین کو دنیا میں متعارف کرایا گیا تو اسلام سے باغی اور تمام انسان اسلام کو پسند کرینگے۔

عورت آزادی مارچ پر حملہ اور خواتین کی ثابت قدمی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ نے فرمایا کہ ”اے بنی آدم ! تمہیں شیطان ورغلائے نہیں کہ تمہیں ننگا کر دے جس طرح تمہارے والدین کو ننگا کرکے جنت سے نکلوادیا تھا”۔(القرآن)
ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
ساحر لدھیانوی نے 1914ء میں یہ غزل لکھی تھی ، عورت آزادی مارچ اس کی عکاسی کرتی ہے۔عصمت شاہجہان کی تقریر غمازی کرتی ہے کہ یہ لوگ ظالمانہ نظام کیخلاف ہیںجس میںعورتوں،بچوں اور خواجہ سراؤں کا استحصال ہورہاہے۔
تشددکے بعدہدیٰ بھرگڑی نے جس تضاد کا ذکر کیا، یہ عورت پن کا کمال ہے ۔ مردوں کی نیچ حرکتوں اور جنسی ہراسمنٹ کا خدشہ غیرتمند عورت کوجتنا خوفزدہ کرتاہے اس کمزوری کے احساس کاتخمینہ جانور سے بدتر بے غیرت مرد نہیں لگاسکتے ۔طالبان نے میری وجہ سے میرے گھر پر حملہ کرکے 13افراد شہید کردئیے۔ میرابھائی، بہن، بھتیجا، بھانجی،ماموں زاداور خالہ زاد ، مسجد کے امام ، گھرکے خادم، دور و قریب کے مہمان محسود، مروت ، جٹ، آفریدی جن میں حافظ، عالم اور مجذوب شامل تھے۔ یہ چھوٹا کربلا برپا ہوا تو ایک بزرگ خاتون میری مامی نے موقع پر طالبان سے کہا کہ تم امریکہ کے ایجنٹ ہو، ڈالر تم نے کھائے ہیں ، اسلام کا تمہیں فکروغم نہیں ۔کوئی بوڑھی عورت نیک نمازی اور پرہیزگار ہو تو خود کش بمباروں، راکٹ لانچروں، بموں اور جدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں کو چیلنج کرتی ہے کہ آبیل مجھے مار۔ اسلام آباد میں مذہبی طبقے نے پتھر، ڈنڈے اورجوتے برسائے تو ایک معمر خاتون ڈٹ کر بیٹھ گئی کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے گھروں میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی مارتے ہیں، مجھے یہاں سے نہیں جانا بھلے مجھے بھی ماریں،انہی کیخلاف تو ہمارا احتجاج ہے۔ عوامی ورکر پارٹی کے کارکن قائداعظم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ سوات کے امجد نے اماں کو اٹھانے کی کوشش کی تو پتھر امجد کے سر پر لگا جس سے اسکے سر میں بہت بڑا گومڑ نکلا۔ جوان لڑکی کو اپنی عزت لٹنے کا جو خطرہ ہوتا ہے بوڑھی عورت کو اسکا خوف نہیں رہتا ۔
کافی عرصہ بیت گیا، ہمارے ساتھ ہونیوالے سانحہ پر ایک آنسو بھی نہیں ٹپکامگر جب اپنی بھتیجیوں کا واقعہ کے بعد ٹانک سے پشاور آتے ہوئے خوف کاماحول سن لیا تو مہینوں آنکھوں کے آنسو پر قابو نہیں پاسکتا تھا۔ جب میرے بڑے بھائی نے مجھے فون کیا کہ اس قربانی سے لوگوں میں امن کا ماحول قائم ہوگا تو یہ سستا سودا ہے تومیں نے عرض کیا کہ ہماری قربانی کچھ بھی نہیں ہے۔جن خواتین کو برہنہ کرکے پنجاب کی سرزمیں پر سرعام گھمایا جاتا ہے جب تک اسکا تدارک نہ ہو ،یہ عذاب ٹل نہیں سکتا ۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرنے کا واقعہ ہوا۔ جنسی تشدد کے بعد بچوں کو قتل کرنے کے واقعات صوبے صوبے، شہر شہر اور گاؤں گاؤں پہنچ رہے ہیں۔ تماشہ دیکھنے والے سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا مستقبل محفوظ ہوگا؟۔ بھارت کا حال بھی لتا حیا کی شاعری میں جھلک رہاہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کے فتوے سے مذاق مذاق میں خوف کا اظہار کیا تھا مگرمولوی کسی پر فتویٰ بھی لگاتا ہے تو عوام، تھانہ، عدالت ،ریاست اور حکومت اس کی تردید کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی ہے۔
عورت آزادی مارچ نے اسلام آباد میں جس طرح جرأتمندانہ کردار ادا کیا ہے تو ہماری حکومت، ریاست، سیاست اور صحافت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ اگلے الیکشن میں خواتین کو جتوائیں۔ جرأتمند خواتین سے گزارش ہے کہ لیفٹ اور رائٹ ونگ کا چکر چھوڑ کر معتدل معاشرے کی تشکیل میں اپناکردار ادا کریں، جس سے تمام باطل قوتوں کو جلد سے جلد شکست کا سامنا کرنا پڑے۔ عوامی ورکر پارٹی پنجاب کے صدر عاصم سجاد سے ایک ملاقات ہوئی تھی لیکن پھر وہ برطانیہ چلے گئے۔
کسی معاشرے میں ظلم کا راج ختم کرنا صرف ریاست کیلئے ممکن نہیں ہوتاہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اساتذہ کرام اور طلباء عظام بالکل اولیاء تھے لیکن جب وہاں مردان کے کچھ بدمعاش طلبہ نے اپنا راج قائم کیا تھا تو اللہ کے فضل وکرم سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کا راج ختم کرنے کی توفیق دی اور میں کامیاب ہواتھا۔
یاا یھا الجیش من نساء اہل المردان
ان کنتم رجالًا فتعالوا الی المیدان
ترجمہ:”اے مردان کی عورتوں کا لشکر اگر تم مرد ہو تو پھر میدان کی طرف آؤ”۔
مولانا نجم الدین مردانی نے شروع سے آخر تک جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تعلیم حاصل کی، جب وہ مفتی کا کورس کررہاتھا تو مار کٹائی پر فتویٰ لکھ دیا، وحشیانہ پٹائی کو ناجائز قرار دیا۔ طلبہ نے فتوے کی فوٹو کاپیوں سے آئینہ دکھایا تو مولانا نجم الدین کو مدرسہ نے نکال دیا۔ میں نے کہا کہ فتوے کا جواب فتویٰ تھا، مولاناکو نکالنا بہت ظلم ہے۔ مردانی طلبہ نے مجھے بتایا کہ نجم الدین نے مفتی محمد ولی کو دھمکی دی کہ ” ریلوے اسٹیشن پہنچوگے تو میں تمہاری شلوار اتاروں گا”۔ میں نے کہا کہ یہ جرأت تو مدرسے کے چوکیدار کیلئے بھی غلط ہے ۔ میں مفتی ولی سے پہلے اسٹیشن پہنچا تو ڈھونڈنے کے باوجود نجم الدین نہ ملا۔ مفتی ولی صاحب پہنچے تو میرے کلاس فیلو مولانا صادق حسین اور حاجی عبداللہ (خادمِ خاص مولانا بنوری) بھی ساتھ آئے تھے۔مفتی صادق حسین آف ٹل پاڑہ چنار نے بعد میںبتایا کہ وہ اپنے ساتھ پسٹل بھی لایاتھا۔میں نے بعد میں بہانہ سے مردانی طلبہ کی پٹائی لگائی اور ان کو چیلنج کیا ، انہوں نے جب مفتی ولی کو ایکشن لینے اورداد رسی کیلئے میرے اشعار دئیے تو مفتی صاحب گنگناتے ہوئے میرے اشعار درسگاہ میں پڑھتے تھے جس کی وجہ سے مجھے ان طلبہ پر رحم آیا۔
ہم نے عورت آزادی مارچ سے پہلے کراچی، کوئٹہ ،لاہور، سکھر، خیرپور، نواب شاہ ، حید ر آباد اور اسلام آباد میں نوشتۂ دیوار خوب پھیلانے کی کوشش کی۔ جس میں عورت آزادی مارچ کی زبردست حمایت اور مذہبی طبقے کے ایمان کا پول کھول کر بڑی حوصلہ شکنی کی تھی۔ اگر ہم چاہتے تو عورت آزادی مارچ کی دھجیاں بکھیرنے کی سرخیاں لگاکر خراج کی خیرات وصول کرسکتے تھے مگر ضمیر کا شفاف آئینہ بفضل تعالیٰ اتنا باریک ہے کہ بڑے حادثے کے بعد مظلومیت کی ہمدردی کا اظہار بھی غبارکی مانندایک بڑا بوجھ لگتا تھا۔ کمزوروں پر طاقت آزمائی بڑے کمینے لوگوں کا کام ہے۔
لاہور عورت مارچ میں آپ نیوز ٹی وی چینل نے میرا مختصر انٹرویو ریکارڈکیا مگر ایک جملہ نشر کیا ۔ مبشر لقمان اس کونشر کرکے علماء سے رائے مانگ لیں۔ عورت مارچ میں یہ پلے کارڈ بھی تھا کہ اسلام نے ہمیں حقوق دئیے مگر مسلمان نہیں دیتا ۔ میں نے بہت کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ عورت آزادی مارچ انقلاب ہے، عورت اپنے حق کیلئے نہیں اُٹھے گی تو مردوں نے ان کو حق نہیں دینا ہے۔ ایک طاقتور مرد کو قرآن کہتا ہے کہ اپنی بیوی کیساتھ کسی کوکھلے عام رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑلو تو فحاشی کی بنیاد پر اس کو چھوڑ سکتے ہو مگر قتل نہیں کرسکتے۔ لیکن طاقتور مرد کہتا ہے کہ میں قرآن کا حکم نہیں مانتا ہوں ، لعان کرنے کی بجائے اس کو قتل کروں گا۔ مولوی اور معاشرہ کبھی نہیں کہتا کہ قرآن کا حکم نہیں مانتا اسلئے کافر وفاسق ہوگیا۔ دوسری طرف طاقتور مرد کسی عورت کی عزت زبردستی سے اسکے کمزورخاوند کے سامنے لوٹتا ہے اور وہ انصاف لینے جب اسلامی عدالت پہنچ جاتے ہیں تو زبردستی سے زیادتی کرنے والوں کی داد رسی تو بہت دور کی بات ہے، الٹا شکایت کرنے والوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چار مرد گواہ لیکر آؤ۔ نہیں تو حدِ قذف کی سزا بھی کھاؤ۔ کیا مولوی کایہ اسلام قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟۔

عورتوں نے بہادری سے جنونی طبقے کا مقابلہ کیا

8مارچ 2020ء کو جہاں عورت آزادی مارچ والوں نے پریس کلب سے ڈی چوک تک اسلام آباد میں اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنا تھا وہاں مذہبی طبقات کو بھی حکومت نے ایک کپڑے کی دیوار کے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔ عمران خان نیازی نے خود سیاسی علماء کے خوف سے ایک طرف جمعیت علماء اسلام کے دھرنے کو اسلام آباد کے ایک کونے میں روکا تھا اور دوسرے کونے میں اپنی رہائش گاہ کے آگے کنٹینروں سے رکاوٹ کی بھرمار کر رکھی تھی ، واہ نیاز ی واہ۔ عورتوں نے جس بہادری اور خندہ پیشانی کے ساتھ جنونی طبقے کا مقابلہ کیا وہ انسانی تاریخ کے یادگار لمحات ہیں۔ ایک طرف غیظ و غضب سے بھرپور مذہبی لوگوں کا جوش و خروش ہے اور دوسری طرف صنف نازک کی طرف سے اپنے خوف پر قابو رکھ کر وکٹری کا نشان ۔
ہزار خوف ہوں مگر ہو زباں دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

مولانا فضل الرحمن اور مذہبی طبقے کا وائرس

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن نے حکومت اور ریاستی اداروں کو تنبیہ کردی ہے کہ جب علماء اورمذہبی طبقہ حکومت اور ریاستی احکام کیساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں تو مساجد اور تبلیغی جماعت سے امتیازی سلوک کیوں کیا جارہاہے؟۔ تبلیغی جماعت ایک پرامن جماعت ہے، اس پر تشدد کرنا بہت غلط ہے، جبکہ بازاروں اور دوسری جگہوں پر رش لگارہتا ہے وہاں کچھ نہیں ہورہاہے۔
حالانکہ میڈیا پر ہرچیز عیاں ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر لوگوں کو مرغا بنایا گیا، مرد ہی نہیں خواتین اہلکاروں کے ذریعے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کی بھی سرزنش کی گئی، کسی نے بھی مزاحمت نہیں کی۔ البتہ تبلیغی جماعت کے کارکن نے لیہ میں پولیس ایس ایچ او کو دوچھریاں ماریں اور کراچی میں خطیب وامام مسجد کے اکسانے پر نمازیوں نے پولیس پر ہلہ بول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سؤر کے گوشت اور مردار کھانوں کو حرام کہاہے مگر ضرورت کے وقت نہ چاہتے ہوئے اور حدسے تجاوزکے بغیر اجازت بھی دی ۔ جبکہ البقرہ آیت239میں نہ صرف مساجداور اجتماعی نمازوں سے خوف کی حالت میں استثناء دی ہے بلکہ چلتے چلتے اور سواری پر رکوع اورسجود نہ کرنے تک کا بھی کھلے لفظوں میں حکم دیا ہے۔ علماء و مفتیان کا اندھا پن یہ ہے کہ بدترین شرح سود میں اپنا معاوضہ شامل کرکے اسلام کا نام دیاہے اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے وبا کیلئے میڈیامیں واضح کیا تھا کہ ” فقہاء کامطالعہ کیا مگر کہیں مساجد میںباجماعت نماز چھوڑنے کا فتویٰ نہیں مل سکا”۔ جب ڈنڈے کا خوف ہوا تو پھر دارالعلوم سے گھروں میں نماز پڑھنے کا بھی فتویٰ جاری ہوا۔قرآن وسنت کسی کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں۔تبلیغی جماعت اپنے طریقۂ کار کو قرآن وسنت اور علماء ومفتیان فقہاء کی آراء کو قرآن وسنت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔مذہبی طبقات نے مذہب کو کاروبار بنالیا۔