پوسٹ تلاش کریں

اسٹیبلیشمنٹ اورجمہوریت کی لڑائی میں آخری منزل!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ایمان کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک اقرار باللسان دوسری تصدیق بالقلب۔یعنی زبان سے اس کو تسلیم کرنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا۔
رسول اللہ ۖ کے دور میں اعرابی عرب نے اسلام قبول کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قالت الاعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولٰکن قولوا اسلمنا ”اعرابیوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے ۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا”۔ قرآن میں اعرابیوں کے حوالے سے کئی آیات میں کہیں فرمایا کہ ”کفر اور نفاق میں اعرابی بہت سخت ہے جو اردگرد اور اہل مدینہ میں سے ہیں”۔ کہیں فرمایا کہ ” اعراب میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں”۔ عرب ادب کی کتابوں میں ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ”امام نے جہری نماز میں وہ آیت پڑھی جس میں ان پر تنقید ہے تو ایک اعرابی مقتدی نے ڈنڈا مارا ۔ پھر امام نے وہ آیت پڑھی جس میں اعرابیوں کی تعریف ہے تواعرابی نے کہا کہ ڈنڈے نے تجھے سیدھا کیاہے”۔ سوال یہ ہے کہ اعرابی کی نماز ڈنڈا مارنے سے ٹوٹتی یا تائید کا جملہ کہنے سے؟ لیکن اس بحث کی ضرورت نہیں ۔ اچھے اعرابی بن جا یئے۔
70سالوں میں ہمارے فوجی حکام اور جمہوری اعرابیوں نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا ہے تو یہ دونوں طبقے اعرابی تھے۔ ان دونوں میں اچھی بری دونوں قسم کی صفات تھیں۔ کبھی مارشل لائی جمہوریت تھی تو کبھی جمہوری مارشل لاء تھا۔جب قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو ساری اپوزیشن جیل میں تھی اور جمہوری لیڈربغاوت کے مقدمات کا سامنا کررہے تھے۔اگر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نہ آتا تو ہوسکتا تھا کہ ولی خان ، بزنجواور حبیب جالب وغیرہ سب پھانسی کے تختے پر لٹکادئیے جاتے۔ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء الحق کی صحبت میں سیاست کے داؤ وپیچ سیکھنے والی بھٹو کی پیپلزپارٹی اور نوازشریف کی مسلم لیگ ن کس طرح جمہوری ذہنیت رکھ سکتے تھے؟۔ جبکہ رسول اللہ ۖ کے دورمیں اعرابی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ الاعراب اشد کفر ونفاقًا ”اعرابی کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں ”تو جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل ضیاء الحق ، جنرل بیگ سے لیکر پرویزمشرف تک اور جنر ل اشفاق پرویز کیانی سے لیکر جنرل قمر جاوید باجوہ تک فوجی حکام اور ان کے رفقاء کار جمہوری پارٹیوں کے قائدین کا کیا کہہ سکتے ہیں؟۔ ان میں ضرور اچھے اچھے لوگ بھی ہونگے لیکن نماز پڑھانے والے امام کو معقول تنخواہ اور ڈنڈا رسید ہوگا تو وہ دوسری طرح کی آیت پڑھنے پربھی مجبور ہوں گے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ فوجی حکام اور جمہوری پارٹیوں دونوں کا مزا نہیں ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ جنہوں نے ملک کو کھالیا ہے وہ اصولوں کی نہیں مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ہاتھیوں کی لڑائیوں میں ملک کے غریب طبقے کا نقصان نہ ہو، جن کو اپنی دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں ملتی۔ اپوزیشن کی موجودہ تحریک میں کھانے کے دانت نوازشریف اور دکھانے کے مولانا فضل الرحمن ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی ڈھکے چھپے نہیں کھلے ڈھلے گیم کھیلے جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے پرویزمشرف دور میں پختونخواہ کی حکومت سنبھال رکھی تھی۔ اس وقت این جی اوز دکھانے کے دانت تھے اور بلیک واٹر کھانے کے دانت تھے۔ بیرون ملک سے پاکستان بہت بڑی امداد آئی تھی۔ سندھ کراچی ، بلوچستان، خیبر پختوانخواہ اور پنجاب پورے پاکستان کا حلیہ تبدیل ہوگیا۔یہ پرویزمشرف کا کمال نہ تھا بلکہ غیرملکی ایجنڈے پر پختون قوم کو تباہ کرنے کی قیمت تھی۔ محمود خان اچکزئی کی بات سوفیصد درست ہے کہ بلوچ، سندھی اور پنجابیوں سے گلہ ہے کہ ہمارے پشتون قوم کو تباہ کرنے کی قیمت ریاست وصول کررہی تھی ۔ چیچن ،ازبک اور عرب دہشت گرد بسائے گئے اور پختونوں کی لیڈر شپ، گھر بار اور علاقے تباہ کئے گئے اور کسی نے پشتونوں کے حق میں کسی بڑے شہر میں مظاہرہ نہیں کیا۔ بہت بجا بات ہے لیکن اس وقت تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر MQM نے کراچی میں مظاہرہ ازبک چیچن کے حق میں کیا۔ قاضی حسین احمد نے بھی الطاف بھائی کا بڑا شکریہ ادا کیا تھا۔ اس دور میں مولانافضل الرحمن سمیت سب نے پختون کے خون سے آنے والے مال ودولت میں اپنا منہ گندہ کیا تھا۔ پورے پاکستان میں اس دور کے اندر بہت ریکارڈ ترقی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے فوجی حکام اور سیاستدان وہ پیسہ بیرون ملک منتقل نہ کرتے اور اپنی ذات پر لگانے کے بجائے ملک وقوم ہی پر لگاتے تو پختون کا خون بھی معاف ہوتا۔ سب سے زیادہ قربانی میرے گھر کے خون سے ہوئی ہے۔ میں نے اپنے اخبار ضربِ حق میں اس بات کی مخالفت کی تھی کہ بڑی سازش کے تحت بمباری کرکے قبائلی مجاہدین کا کیمپ تباہ کیا گیا جب کہ بالکل قریب میں ازبک کا کیمپ چھوڑ دیا گیا۔ جس کا انکشاف گورنر خیبر پختونخواہ جنرل اورکزئی نے جمعیت علماء اسلام کے مولانا عصام الدین محسود کے سوال پر جواب میںکیا تھا۔
جب فوج کہتی ہے کہ ”ہم جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں ” تو زبان کی حد تک بھی جو مارشل لائی نظام کی تائید نہیں کرسکتے تو مدعی سست گواہ چست کی حماقت کرنے والے ٹاؤٹ اگر تنخواہ دار نہیں تو اپنی بکواس سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا نقصان فوج کو وہی پہنچارہے ہیں جو سب سے زیادہ حمایت کا دم بھرتے ہیں۔ صحافی وہ بھی کہلاتے ہیں کہ اگر ابھی اپنا بیانیہ پیش کرنا چاہیں تو بڑی بے شرمی سے کہہ سکتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ بے چارے تو ایکسٹینشن کے حق میں نہیں تھے۔ یہ تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مجبور کیا کہ اگلا جرنیل کوئی خر دماغ بھی ہوسکتا ہے جو مارشل لاء کے نفاذ سے بھی دریغ نہ کرے اسلئے مدتِ ملازمت بڑھادی۔ جمہوری حلال زادے جو حرام کا نمک حلال کرنے کیلئے بکتے ہیں وہ نوازشریف سے پیسہ لیکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فوج نے ن لیگ کے رہنماؤں کو اسلئے لندن بھیج دیا تھا کہ نوازشریف جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن کی حمایت نہ کریں تو وہیں پر ڈاکٹر عمران فاروق کی طرح دو چار اینٹ مارکر ٹھکانے لگادینا۔جس طرح پارلیمنٹ میں لندن کے فلیٹ کی جھوٹی کہانی پڑھنے پر جنرل شریف اور بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے عدالت میں قطری خط لکھنے اور پھر واپس لینے پر نوازشریف کو مجبور کیا تھا۔ عوام سب جھوٹ کو سمجھ رہی ہے۔
طالبان و بلیک واٹر کی شکل میں ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کی بلا بہت مشکل سے اس قوم کے سر سے ٹل گئی تو اب داعش اور طالبان کے نام پر ایک اور مژدہ سنایا جارہاہے۔ شیعہ سنی، مہاجر سندھی ، بلوچ پشتون، سرائیکی پنجابی اور فوجی جمہوری جنگ وجدل کے علاوہ عورت اور مرد کے درمیان بھی تعصبات بڑھ رہے ہیں۔ محسن داوڑ کی باجوڑ میں جماعتِ اسلامی کے نوجوانوں کی طرف سے بے عزتی مہمان ہی کی نہیں میزبان کی بھی بے عزتی تھی، اسلام ہی کی نہیں پختون قوم کی بھی بے عزتی تھی۔ مسلمان ہی کی نہیں انسان کی بھی بے عزتی تھی۔ جماعتِ اسلامی کا یہ بڑاخراب ٹرینڈ ہے۔ جب عمران خان کو پنجاب یونیورسٹی میں الف ننگاکرنے کی خبریں تھیں تو جماعتِ اسلامی پنجابی رہنماامیرالعظیم نے اسلامی جمعیت طلبہ کی مذمت کی لیکن جماعت اسلامی کے پختون رہنما ؤں میں یہ اخلاقی جرأت بھی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ”پیسہ آگیا ہے” تو پیسہ کیلئے سب ہوتا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے اس خطے اور اسلام کو عالمی قصاب خانہ بنانے کی وضاحت کردی۔
اللہ کا شکر ہے کہ قاتلانہ حملوں میں دونوں قائدین بال بال بچتے رہے ہیں۔ دونوں نے سیاسی میدان میں اتنا کچھ کمالیا ہے کہ مینڈک تو ایک موسم سے دوسرے تک اپنی چربی پر گزاراہ کرتا ہے مگر یہ لوگ زندگی بھربسہولت گزر بسر کرسکتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اتنے بڑے بڑے فنڈز قوموں کو خریدنے کیلئے بیرون ملک سے آتے ہیں، البتہ افغان حمایت جہاد سے بہت لوگ گنگا میں نہائے اور طالبان مخالف فساد میںبہت لوگ جمنا میں نہائے۔ آنے والی سونامی میں پوری قوم کو ڈبونے کا کام بھی ہوسکتا ہے ۔جب مولانا فضل الرحمن کو نیب کا نوٹس ملااور آرمی چیف سے ملاقات کی خبر آئی تو 500ارب ڈالرز کی قسطوں کے معاملے سے پردہ بھی اُٹھادیا۔
صحافت کی دنیا میں حامدمیر گل سربد کی حیثیت رکھتا ہے۔ مفتی نظام الدین شامزئی کے حوالے سے روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں انکشاف کیا تھا کہ” رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے واشنگٹن امریکہ سے جہادی تنظیموں کو ڈالر آرہے ہیں جو علماء کرام کو خریدتے ہیں۔ اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو ہم چوراہے کے بیچ میں بھانڈہ پھوڑ دیںگے”۔ حامدمیر نے لکھا تھا کہ ” اگر واقعی یہ لوگ باز نہیں آئیں تو بھانڈہ پھوڑ دینا چاہیے”۔ وسیم بادامی کا معصومانہ سوال یہ ہے کہ جب پیسہ آرہا تھا تو بھانڈہ پھوڑنے نہ پھوڑنے کا کیا تُک بنتا تھا، پھوڑ ہی دینا چاہیے تھا۔ اگر علماء کو نہ خریدتے تو صحافیوں کو بھی خرید سکتے تھے؟۔ پھر حامد میر نے PTVکے ایک چینل ATVپر پیپلزپارٹی کی آخری دورِ حکومت میںانکشاف کیا کہ” بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر طالبان جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنائے تھے”۔ ہوسکتا ہے کہ اسی دباؤ کے نیچے زرداری نے اشفاق پرویز کیانی کو ایکسٹینشن بھی دی ہو۔ صحافیوں سے لیکر سیاستدانوں ،جرنیلوں ، مجاہدین اور علماء تک کس کس پر اعتماد کیا جائے؟۔
صحافت کا شعبہ کرائے اور غلط وکالت کرنے کا نہیں ۔قوم کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیساتھ سب سے زیادہ نقصان بھی صحافت سے پہنچتا ہے۔ ماضی میں جنگ کا دعویٰ تھا کہ وہ حکومتیں گرانے اور قائم کرنے میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔ جنگ اور جیو نے جتنی مار فوج سے کھائی ہے تو اس سے زیادہ فوج کو نقصان پہنچایاہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جھوٹا نواز بھی ریاست کا شوہر بنتا جارہاہے۔
میں سچ بولوں گی اور ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
کرپشن کے حوالے سے ن لیگ کے قائد نوازشریف پر عوام، سیاسی قیادت، صحافت، پارلیمنٹ اور عدالت سب گواہ ہیں، جنرل ضیاء الحق سے لیکر جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن دینے تک اس کا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے ۔ ماڈل ٹاؤن میں چودہ بندوں کے قتل سے آصف زرداری کا پیٹ چاک کرکے سڑک پر گھسیٹنے اور چوک پرلٹکانے کے بیانات تک اور مولاناطارق جمیل سے ملاقات اورمولانا فضل الرحمن سے لاہور میں نوازشریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کی طرف سے ملاقات سے گریز کرنے تک اسکے پلیٹ لیٹس کے اُتار چڑھاؤ کا سارا DNA معلوم ہے۔ مؤمن ایک سوراخ سے دودفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے ۔ اگر مولانا فضل الرحمن اسلام آباد کے دھرنے میں گلہ کرتے کہ جمعیت کے کاروان نے کراچی سے لاہور تک سفر کیا ۔
ہم چھالے چھالے پیروں ان سے ملنے آجاتے ہیں
وہ پھولوں جیسے ہاتھوں ہم پر پتھر برساتے ہیں
مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی نے سندھ میں چھوڑ کر رخصت کردیا تھا اور ن لیگ نے لاہور میں بھی ملنا گوارا نہیں کیا ۔ اسفند یار ولی خان مولانا کی آمد سے پہلے اسٹیج پر تقریر کرکے چلے گئے۔ البتہ محمود خان اچکزئی نے اول سے آخر تک اسلام آباد میں بھرپور ساتھ دیا۔ عربی میں مچھلی اور گوہ کے تضاد کو ضرب المثل سمجھا جاتا ہے۔ اسلئے کہ مچھلی پانی سے نہیں نکلتی اور گوہ خشکی میں رہتی ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کا بہت بڑا اسٹیک ہے۔ محمود خان اچکزئی اگر حکومت میں ہوتے تو جمعیت کو باہر رکھتے اور جمعیت حکومت میں ہوتی تو اچکزئی باہر ہوتے۔ اس دفعہ دونوں مرکز اور بلوچستان حکومت سے باہر ہیں۔
اگر اگلے الیکشن میں مولانا فضل الرحمن مرکز اور اچکزئی صاحب بلوچستان کے اقتدار پر آجائیں تو امید ہے کہ سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ آرمی نے بین الاقوامی بلا سے بچنے کیلئے یہ قربانی دی کہ طالبان سے امریکہ کو مروانے کیلئے چھوڑ دیا جس کی وجہ سے پوری ریاست یرغمال بن گئی۔ پشتون قوم تباہ ہوئی ۔ ملک کو بڑی سطح پر اقتصادی اور اخلاقی نقصان پہنچا۔ جب تک عمران خان آرمی کے خلاف بھرپور طریقے سے بولتا نہ تھا تو لوگوں کو اس پر اعتماد بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ ایم کیو ایم پر جناح پور کے الزام لگاکر ان کی قوت کو کراچی میں پاش پاش کیا گیا لیکن پھر الطاف بھائی کی جماعت کراچی اور ملک کی ایک مضبوط قوت بن گئی۔ ہمارا مدعا یہ ہے کہ قرآن مسئلے کا حل ہے اور سنت اس کا عملی نفاذ ہے۔ دنیا ہمیں تباہ کرنے پر تلی ہے ۔اس سے بچنے کا واحد راستہ اسلام کا حقیقی چہرہ عوام اور دنیا کو دکھانا ہے اور بس۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

پختونخواہ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے تجاویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
ہر گھر میں طالبان میزبان کوئی مہمان تھے۔ بوڑھے، عورت ، بچے جوان سبھی قدردان تھے۔ لوگ دھماکوں، خود کش سے پریشان تھے۔ ہم دلیری پر شادمان تھے۔ پاکستان پر قبضہ اپنے ارمان تھے۔ فضل الرحمن ، عمران خان ایک طالبان خان تھے۔ اپنے سر کی خیر مانگتے جب طوفان تھے ۔کشتی ڈوب جاتی تو قصور وار بادبان تھے۔
آج وزیرستان کاایک محسودپشتو کی اس زبان میں فیس بک پر کہہ رہاہے جس کو دوسرے پختون بھائی سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں کہ ”طالبان پھر آگئے ہیں، اب زیادہ نہیں کم ہیں، ہم ان کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اگر یہ پھر بڑھ گئے تو پھر جرگہ اور دھرنا سب کچھ بھول جاؤگے۔ یہ صرف مارنا اور ذبح کرنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔ خود کش حملوں کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ ان کی فکر کرو، وقت سے پہلے پہلے”۔
فضل خان ایڈوکیٹ پر کچھ دن پہلے قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اللہ تعالیٰ حفظ وامان میں رکھے۔ اسکے کھلے خط کی ایک ایک سطر اپنے بچے کے غم میں دل کے خون سے لکھی ہوئی ہے جس میں بچے کی ماں کا بھی درد پورا پورا جھلک رہاہے۔ ہم وہ نہیں کہ دوسرے کے دکھ پر بے حسی کا مظاہرہ کریں اور فتوے لگانے میں ملوث ہوجائیں لیکن حقائق کو بہت مشکل وقت میں بھی سچائی کیساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پوری پختون قوم کا جذبہ طالبان کیساتھ تھا اسلئے قتل وغارت کے باوجود ہماری ریاست ، فوج ، پولیس، عدالت اور جمہوری حکومت سب بے بس نظر آتے تھے۔ فضل خان ایڈوکیٹ صاحب! اگر 2014ء میں تمہارے معصوم پھول کی شہادت سے تمہارا اپنا ضمیر جاگ گیا تو بھی بڑی بات ہے۔ جب آرمی نے فیصلہ کیا کہ طالبان کو شمالی وزیرستان سے بھی بے دخل کرنا ہے تو ردِ عمل کا پہلے سے خطرہ تھا۔ عمران خان 2014ء میں پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیا کرتاتھا۔ شمالی وزیرستان میں احتجاجی مظاہرین کی لاشیں گھروں تک پہنچ گئیں لیکن معذرت کیساتھ احتجاج کی نمائندگی کرنے والے علی وزیر اور محسن داوڑ زندہ وتابندہ ہیں۔ شمالی وزیرستان کے ڈاکٹر گل عالم وزیر پہلے بھی اپنے قبیلے کے بڑے خان تھے اور آج بھی ہیں۔ پہلے طالبان کے ساتھی نہیں بلکہ بہت بڑے دلال تھے اور اب PTMکے بڑے رہنما ہیں۔ پہلے مذہب کے نام پر امریکہ نے پختونوں کا کباڑا کیا تھا اوراب قوم پرستی کے نام پر کررہی ہے۔ وائس آف امریکہ ، BBCاور اسکے تمام ذیلی ذرائع ابلاغ کے ادارے قوم پرستی کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں۔ پختون اب مذہب نہیں تو قوم پرستی کے نام پر ایک دفعہ پھر قربانی کیلئے تیار ہورہاہے لیکن جب اس دام کا شکار ہوںگے تو اپنی تمام کوتاہیاں دوسروں کے کاندھے پر ڈالیںگے۔ میرا وائس آف امریکہ نے انٹرویو لیا لیکن نشر نہیں کیا گیااور میں نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ نشر نہیں ہوگا، جس طرح جیو نے ہمارا پروگرام ریکارڈ کرنے کے بعد نشر نہیں کیا۔
ہماری ایک عزیزہ اور رشتہ دار نے اپنے لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے خون میں نہلادیا اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ وہ دوسروں کیلئے فسادی کا کردار ادا کرسکتا تھا۔ بھارت میں بھی ISISداعش والے پہنچے ہیں تو کیا بھارت نے ان کو اپنا مہمان ٹھہرایا ہواہے؟۔ اگر بھارت کی ریاست مسلمانوں کو تباہ کروانے کیلئے یہ سب کچھ امریکہ کے کہنے پر کررہی ہے تو مسلمانوں کو خود استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور جب داعش کا دہشتگرد پکڑا جائے اور بیگم صاحبہ کہے کہ ” دہشت گردی کا منصوبہ تھا اور میں منع کررہی تھی لیکن میری بات نہیں مانی اور اب اس کو معاف کیا جائے”۔
وزیرستان وقبائل میں پہلے بھی اغواء برائے تاوان وقتل کے کیس ہوتے تھے پھر طالبان کو ایکس ٹینشن ملی تو اپنی فطرت دکھادی۔ دیپالپور پنجاب میں بال بچے دارخاتون ایڈوکیٹ دوسری مرتبہ اغواء ہوئی تویہ ریاستی سازش ہے؟۔ بلوچوں کے گھر جلانے والے پشتو زبان بولتے ہیں۔ میرے دوست واحباب بلوچ بھی ہیں۔ ایک تعزیت میں بیٹھاتھا ۔ پختونوں کا بلوچوں کے ہاتھ قتل بڑی خبر تھی۔ بلوچوں نے کہا کہ یہ ایجنسیوں کا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گھر والی کا چاچا تربت کا بلوچ ہے ، اس کو پٹھان سمجھ کر بلوچ قتل کررہے تھے۔اپنی غلطی کو ایجنسی کے سر ڈالنا مسئلے کا حل نہیں ۔ایف سی میں وہی لوگ بھرتی ہونگے جن کا کوئی قتل ہواہوگا۔ وزیرستان میں فوج پرحملہ ہوا تو منظور پشتین کے پڑوسی نے بتایا کہ” ایک پنجابی سپاہی شعبان زندہ بچا تھا تو اس نے PCOسے ماموں کو فون کیا کہ قید ہوں، میری ماں کو نہیں بتانا۔ اس خون خرابے کے بعد طالبان سے نفرت ہوگئی”۔اگر اس وقت محسود قوم اٹھ کر دہشتگردی کا خاتمہ کرتی تو بہت برے دن نہ دیکھنے پڑتے۔
جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر اور سپاہ ِ صحابہ کے مولانا نیاز محمد ناطق بالحق سے میری جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اچھی دوستی تھی۔ مولانا مسعود اظہر کہہ سکتا ہے کہ ”میری پچھاڑی اللہ نے بنائی ہے تو کیا اس کا تقدس کعبہ سے زیادہ ہے؟”۔ چوتڑ کو خوشبو لگانے والا ابوجہل فصاحت وحکمت کی بات کرتا تھا لیکن مؤمن عزت کو اللہ نے اپنی عطاء قرار دیاہے ۔ ایک بلوچ بڈھا غصے میں کعبہ مادر، کعبہ مادر کہتا تھا تو ایک چھوٹی بچی نے پوچھا کہ اسکا کیا مطلب ہے؟۔ اس نے کہا کہ مجھے کیا پتہ؟۔ ہندوستان میں امریکہ داعش کے ذریعے دہشت گردی پھیلائے۔ اور ہمارا مولانا مسعود اظہر کعبہ مادر اعتراف کرکے احسان اللہ احسان کی طرح محفوظ مقام پر جائے پھر پتہ چلے کہ امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر نے پاکستان کی ریاست اور بھارت دونوں کو تباہ کرنے کیلئے اپنا پلان بناکر ڈرامہ رچایا تھا۔ فوجی افسران غداری میں تختہ دار پر چڑھ گئے مگریہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا کے امریکی ایجنٹوں کو جب ہماری ریاست نہیں پکڑ سکتی ہے تو فوج میں بیٹھے ہوئے لوگ کس طرح سے کسی کے دسترس میں آسکتے ہیں؟۔بھارت میں مولانا مسعود اظہر آزادی سے ہر ہفتے حالاتِ حاضرہ پر ضربِ مؤمن میں لکھتاتھا، اس سے سازش کی بد بوآرہی تھی۔بھارت میں بھارتی ریاست، امریکی سی آئی اے اور وہ مسلمان خاندان جو داعش کیلئے کام کرتا ہے سب ملکر بھارت اور مسلمانوں کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں لیکن مسلمان سیدھے ہیں۔
وزیرستان کی عوام اور منتخب نمائندے پاک فوج کیساتھ مل کر کھلے عام اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھیں۔ حکومت، فوج اور عوام ایک پلیٹ فارم پر مجرموں کو پکڑیں اور کسی بھی ایسے گڈ یا بیڈ کو اجازت نہ دیں جو اپنے ماں باپ سے الگ رہتا ہو۔ جب عوام ریاست کیساتھ بھرپور تعان کرینگے اور اپنے بھائی، بچے اور احباب دہشت گرد کو اپنے ہاتھوں سے انجام تک پہنچائیںگے تو امن وامان کا معاملہ بالکل حل ہوگا۔
بلوچ بڑی تعداد میں مرکھپ گئے اور اب آئندہ اپنی نسل بچانے کی فکر میں لگ گئے ہیں۔ ایک بے گناہ بلوچ سے پہلے ایک بے گناہ پشتون کے قتل پرردِ عمل آتا تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔وزیرستان میں قتل وغارت کے شروع میں طالبان پر قابو پایا جاتا تو اتنی تباہی وبربادی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ PTMکے لوگوں کو پتہ ہے کہ صرف فوج کی مخالفت سے طالبان ان کی حمایت کرینگے لیکن جب دوبارہ قومیت کے نام پر یہ کھیل شروع ہوگا تو کسی کے پاس جنت میں جانے ، حوریں پانے کا بھی کوئیسرٹیفکیٹ نہیں ہوگا۔ پشتون غیرت کے نام پر اپنی بیٹیوں، بہنوں، بیویوں اور ماؤں کو اسلامی حقوق دینا شروع کریں تو اس جبر سے نکلنے میں مشکل نہیں ہوگی جو ہم اور پوری دنیا پر مسلط ہے۔ کہیں ایک اور ڈرامے کاہم شکار نہ ہوجائیں۔
فیزبک پر پڑھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں
پختونخواہ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے تجاویز

سندھ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے ایک تجویز!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
سندھی و مہاجر اپنی الگ الگ تہذیب وتمدن کیساتھ رہتے ہیں۔ مہاجر وطن ہندوستان چھوڑ کر سندھ میں آباد ہوئے اور سندھی پرانی تہذیب کیساتھ رہتے ہیں۔ ایک شیعہ بچہ داد لینے کیلئے کہتا ہے کہ لیڈر دو تھے، ایک محمدۖ اور ایک حسین ۔ جب محمدۖ نے دن کے وقت لوگوں کو بلایا تو کوئی نہیں آیا اور حسین نے رات کی تاریکی میں جانے کا کہا تو کوئی نہیں گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑا لیڈر کون تھا؟۔
مہاجر بے وطن نہیں،پوراپاکستان مہاجر کا وطن ہے۔سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچ اپنے اپنے علاقوں میں رہ سکتے ہیں اور ایکدوسرے پر اپنے علاقوں میں بھی رہائش کے دروازے بند کرسکتے ہیں۔ لیکن مہاجر پورے پاکستان کے باسی ہیں۔
مہاجرصوبہ سندھ کی تقسیم پر بن سکتا ہے جو سندھیوں کیلئے قابلِ قبول نہیں۔ اگر کراچی کو صوبہ بنالیا تو سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں فساد بھڑک سکتے ہیں۔ بھارت سندھ سے لگا ہے۔ فسادات کے بعد بنگلہ دیش جیسی صورتحال سندھ میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ کچھ کٹھ پتلی قسم کے سمیع ابراہیم جیسے صحافی خود کو ملٹری اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹ ظاہر کرکے نادانستہ طور پر پاکستان کو بحران کی طرف گھیسٹ رہے ہیں۔ فواد چوہدری نے بہت غلط کیا ہوگا کہ اسکے چشمے کو مکا مار کر توڑ دیا تھا لیکن ایسی حرکت نہیں کرنا چاہیے کہ غلط تجاویز اور پروپیگنڈے سے ملک وقوم کو نقصان ہوجائے۔
رسول بخش پلیجو کے گلے شکوے سوشل میڈیا پر پھیل گئے تو انور مقصود نے بھی بہت اچھا بیان لکھ کر مہاجر بھائیوں کو حقائق سمجھانے کی زبردست کوشش کی۔ معاملہ اس وقت صلح ، امن و آتشی اور بھائی چارے کی طرف آئیگا کہ جب ایک دوسرے کی خوبیوں اور فوائد کی طرف نظر کرینگے اور اپنی خامیوں کو اجاگر کرکے اپنی قوم سے ہوا نکالیںگے۔ جب مہاجر صوبے کی بات عروج کی طرف بڑھ رہی تھی تو ایک عورت یا لڑکی کی طرف سے سوشل میڈیا پر بیان آیا جس نے اپنا تعلق حیدر آباد سے ظاہر کیا تھا اور سوشل میڈیا پر جعلی ایڈرس بھی ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق الطاف بھائی سے تھا۔ اور بہت مؤثر تحریر لکھی تھی کہ ” اپنا صوبہ بنانے سے اگر مسائل حل ہوتے تو بلوچستان اور پختونخواہ کے لوگ خوشحال ہوتے اور ریاستی جبر اور غلامی کا رونا نہ روتے۔ مہاجروں کو کراچی الگ صوبہ بناکر دیا تو ان کو مزید زیادہ مار پڑے گی۔ یہ بالکل کٹھ پتلی بن کر رہ جائیںگے۔ ہم پاگل نہیں کہ مہاجر صوبہ بنائیںگے بلکہ ہم الطاف بھائی کی قیادت میں سندھو دیش بناکر دم لیںگے”۔ الطاف بھائی کے کارکن عتاب میں ہیں اور ان سے اس قسم کے بیانات خلافِ توقع نہیں۔ پھر الطاف بھائی کا بیان بھی سامنے آگیا ،جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ”ہم نے پہلے بہت بڑی غلطی کردی کہ اپنا وطن ہندوستان چھوڑ دیا ۔ اب ہم سندھی ہیں، ہمارا کوئی دوسرا وطن نہیں ، سندھ سے غداری کی غلطی نہ کرو”۔ یہ معمول کی بات لگی کہ الطاف بھائی ہر اس قدم کی مخالفت کرینگے جسکے پیچھے وہ خود اور اس کی پالیسی کا عمل دخل نہ ہو۔ پھر ہندوستان کی اسمبلی میں پہلی بار سندھی زبان میں تقریر ہوئی اور ایک کروڑ سندھیوں کی ہندوستان میں نشاندہی اور سندھ کے مشترکہ اقدار منجو دھڑو وغیرہ کا ذکر کیا گیا۔ ہندوستان کے پنجاب میں سکھوں کیساتھ پہلی مرتبہ مراسم قائم کئے گئے۔ امریکہ کا حکمران طبقہ اسلحہ سازوں کا ایجنٹ ہے اور اس خطے کے ٹکڑے کرکے گریٹ پنجاب کیساتھ سندھ ، بلوچستان اور پختونخواہ میں بڑے پیمانے پر خونریزی کا چکر چلانا چاہتا ہے۔ ریاست کے دلال قوم پرستوں پر ایجنٹ کا الزام لگاکر خونریزی کی راہ مزید ہموار کررہے ہیں اسلئے کہ ایجنٹ ہونے کا کردار سب سے زیادہ پاکستان کی ریاست نے ادا کیا ہے۔
جب تک ہماری ریاست ہوش کے ناخن نہ لے اور عوام میں بیداری کی لہر نہ دوڑائی جائے ہم ایک نامعلوم اور بہت خطرناک منزل کی طرف جارہے ہیں۔ ایک نوکر پیشہ ملازم اور کٹھ پتلی سیاستدان کو اپنے ماحول کے نشے میں بات اسوقت تک سمجھ نہیں آتی جب تک اس کو سرکے بل پٹخ کر اس کی دنیاتبدیل نہیں کی جاتی۔ ہنوز دلی دور است ۔ ”ابھی دہلی دور ہے ” کی کہاوت بہت پرانی مشہور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کا زبردست نقشہ سورۂ نور میں کھینچاہے واذادعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم مغرضونO ” اور جب ان کو اللہ اور اسکے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ ہو تو ان میں ایک گروہ ٹال مٹول کرتا ہے” ۔ سندھ لینڈمافیا کا مرکز ہے۔ پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ سیکولر ازم ہے۔ اسلامی سوشل ازم کا نعرہ بھٹو نے لگایا تھا۔ آج قرآن وحدیث اور فقہ کے جمہوری مسالک کے مطابق مزارعت کا نظام سندھ میں ختم کیا جائے تو پورے پاکستان نہیں بلکہ دنیا میں انقلاب آئیگا۔ مزارعین کو مفت کی زمین کاشت کیلئے مل جائے تو سندھی عوام کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ عوام کو اسلام بھی چاہیے اور اپنا مفاد بھی اور اسلامی مزارعت میں دونوں باتیں ہیں لیکن سیاسی پارٹیاں اور اسٹیبلیشمنٹ دونوں اس میں وہی فریق ہیں جو اسلام سے اعراض میں قومی مفادات کو نظر انداز کرکے اپنے ذاتی وخاندانی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
اللہ اگلی آیات میں فرماتا ہے کہ ” اگر بات انکے حق میں ہو تو اس میں مطیع اور فرمانبردار ہونے کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا انکے دلوں میں مرض ہے یا یہ شک میں ہیں؟ یا ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اسکے رسول ان پر خوف مسلط کردیںگے؟۔ بیشک یہی لوگ ظالم ہیں۔ مؤمنوں کی بات یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ انکے درمیان فیصلہ ہو تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اطاعت کرلی۔ اور یہی لوگ فلاح والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے اور اللہ سے ڈرے اوراس کا پرہیزگار بنے تو یہ لوگ کامیاب ہیں اور یہ لوگ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیںکہ ان کو آپ حکم دو تو سب گھروں سے قربانی کیلئے نکل کھڑے ہونگے ،ان کو کہہ دیجئے کہ قسمیں مت کھاؤ، معروف اطاعت کرو، بیشک اللہ جانتا ہے جو تم عمل کررہے ہو۔ ( سورۂ نور آیات۔ آیات48تا53)
جو عام معاملات میں لینڈ مافیا، کرپشن، ظلم وجبر اور ہرطرح کی حرام زدگیوں میں ملوث ہیں وہ ملک وقوم اور اسلام پر مشکل وقت آن پڑنے پر قربانیوں کی قسمیں کھاتے ہیں اور جوش وجذبے کے مظاہرے کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پر تھپڑ مارا ہے کہ قسمیں مت کھاؤ، معروف اطاعت کرو۔ وقت پر تمہارے بدلنے کی ضمانت تمہاری قسمیں اور عہدوپیمان نہیں ۔ جسکا تم نے حلف اٹھایا، اس کی پاسداری بھی تم سے نہیں ہوتی۔ جب قوم کو محکوم، مجبور، مظلوم اور بہت پسماندہ رکھا جاتا ہے تو ان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ایک حکمران اپنی جگہ سے ہٹ جائے اور دوسرا آجائے۔ بنگلہ دیش پاکستان کی بنیاد تھا لیکن پھر آزاد ہوگیا تو آج خوشحال ہے۔ مزارع مزارع ہی رہے گا تو وہ ملک وقوم کیلئے کیوں قربانی دے گا؟۔ محنت کش خون پیسنے کی کمائی سے پیٹ نہیں پال سکتا تو کیوں بیوقوف بنے گا کہ سیاستدان نے ملک کو لوٹا ہے یا فوجی اسٹیبلیشمنٹ، عدالتی اسٹیبلیشمنٹ اور سول اسٹیبلیشمنٹ نے؟ اور کس کی حکومت آئے اور کس کی جائے؟۔ یہ درست ہے کہ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں بیرونی اور اندرونی قرضے نہیں بڑھے لیکن دونوں ادوار میں امریکہ کی جنگ لڑکر قوم کا اخلاقی اور جسمانی دیوالیہ بھی نکال دیا گیا اور افراد نے بہت کمایا لیکن قوم کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔ مہاجر سندھی بھائی بھائی زندہ پائندہ باد

بلوچستان کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کی ایک تجویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
حیات بلوچ کا بے گناہ قتل پوری پاکستانی قوم کا قتل ہے، تمام بلوچوں کا قتل ہے اور سب بے گناہوں کا قتل ہے اور پوری انسانیت کا قتل ہے۔ ایک جوان کی وجہ سے ماںباپ کا گلستان اُجڑتاہے ،بیوی بچوں کی دنیا برباد ہوجاتی ہے۔ انسان کوئی بھی ہو اسکے قتل سے زمین وآسمان پر اس وقت لرزہ طاری ہوتا ہے جب اس بے گناہ کے خون سے زمین رنگین ہوجاتی ہے۔ اسی لئے تو اللہ کی بارگاہ میں فرشتوں نے کہا تھا کہ زمین میں فساد پھیلانے اور خون بہانے والی قوم کو کیوں پیدا کررہے ہو؟۔
کعبہ کا مقام ہے کعبہ حضرت ابراہیم نے بنایا، انسان کو اللہ نے بنایا ہے۔ حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ کی لشکر کشی پر خون خرابے کا ماحول پیدا نہ کیا تو اللہ نے ایسا پوتا دیا جو رحمة للعالمینۖ کے نام پر دنیا کیلئے اُسوہ ٔ حسنہ ہے۔ آپۖ نے حضرت امیرحمزہ، سیدنا فاروق اعظم، علی حیدر کرار وابوبکر صدیق اکبر اور حضرت عثمان جیسے جانثاروں کے ہوتے ہوئے مکہ میں خون خرابے کے بجائے ہجرت کو ترجیح دی۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے میں دس سال تک خانہ کعبہ کو 360 بتوں کی بھرمار کے باوجود مشرکینِ مکہ کے حوالے کیا۔ جب ابوجہل نے نبیۖ کو گالی گلوچ دی تو امیر حمزہنے ابوجہل کو للکارا کہ ” او چوتڑ پر خوشبو لگانے والے بزدل! تجھ میں یہ ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بھتیجے کو گالی دی”۔ (سیرت النبی ۖ:الرحیق المختوم)
حضرت عمر اسکے بعد اسلام لائے اور اس وقت حضرت امیر حمزہ نے اسلام کو قبول بھی نہیں کیا تھا۔ اگر اس وقت مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوتا تو دہشت سے لوگوں کا بہت برا حال ہوسکتا تھا لیکن مکی دور میں جہاد کی اجازت نہیں تھی۔ فاروق اعظم نے اسلام قبول کیا تو اعلانیہ آذان بھی دی اور ہجرت بھی اعلانیہ کی تھی۔ چھاپہ مار جنگ کی اجازت ہوتی تو بدر میں مردار ہونے والے سردار مکی دور میں مارے جاچکے ہوتے۔
حیات بلوچ کی شہادت پہلی نہیں، بہت بڑی تعداد میں بلوچوں کے جوان بوڑھے، خواتین اور بچے شہید ہوئے ہونگے لیکن حیات کیمرے کے سامنے آگئے اور بہت ساروں کی تشدد زدہ لاشوں پر کوئی آواز بھی نہیں اُٹھ سکی۔ وجہ یہ ہے کہ جب ریاست کیخلاف کچھ نوجوانوں نے ہتھیار اُٹھالئے۔ ان کا بس چلتا ہے تو ریاستی اہلکاروں کو مارنے میں آسرا نہیںکرتے ۔جب ریاستی اہلکاروں کی زد میں آتے ہیں تو ریاست بھی ان سے دشمنوں جیسا رویہ روا رکھتی ہے۔ عدالت ، قانون اور انسانیت کی جگہ چھاپہ مار کاروائیاں ہوںتو زور آزمائی میں ایکدوسرے سے آگے نکلناہوتا ہے۔ کب تک یہ جنگ جاری رہے گی اور مزید کتنے بے گناہ اس جنگ کی آگ میں جھونک دئیے جائیںگے؟۔ اسکے آغاز اور خاتمے کا کچھ پتہ نہیں۔ اللہ کرے کہ ظالم اپنے ظلم سے رُک جائے ،حق وصداقت اور امن وامان کا پرچم جلد بلند ہو۔
آصف علی زرداری جب صدر مملکت اور پاک فوج کے آئینی سربراہ تھے تو انہوں نے بلوچوں سے معافی مانگ لی تھی مگر کس بات پر معافی مانگی تھی،اس کی کوئی خبر کسی کو نہیں ۔ جب تک پتہ نہ چل جائے کہ جرم کیا تھا؟۔ اس وقت تک اس معافی میں کوئی وزن بھی رہتا ہے۔ پھر تو استغفار اللہ ہی کی بارگاہ میں کرنا چاہیے۔ بندوں سے معافی مانگی جاتی ہے تو جرم کے ارتکاب پر ہی مانگی جاتی ہے۔
جب ذوالفقار علی بھٹومرکز میں وزیراعظم ،بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل اور پختونخواہ میں مفتی محمود وزیراعلیٰ تھے تو بھٹو نے بلوچستان اسمبلی توڑ کر گورنر راج قائم کیا ۔عطاء اللہ مینگل کو ہٹاکر اکبربگٹی کوگورنر بنادیا ۔ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کو ہٹا کٹھ پتلی گورنر نامزد ہوا، اسلئے کہ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت کو حکومت کا حق تھا۔ مفتی محمود نے ساز باز کرکے بلوچستان میں حکومت نیشنل عوامی پارٹی کو دی اور خود سرحد کے وزیراعلیٰ بن بیٹھے۔ اگر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت بنتی اور سرحد میں نیپ کاوزیر اعلیٰ خان عبدالولی خان ہوتے، تو جس طرح پنجاب سرکاری مسلم لیگ کا مرکزتھا اور سندھ پیپلزپارٹی کا مرکز ہے،اسی طرح پختونخواہ عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان جمعیت علماء اسلام کا مرکز بنتے۔ اگر یہ مفاد پرستی کی ساز باز نہ ہوتی تو آج پختونخواہ میں مذہبی جماعتوں کے بجائے قوم پرستوں کی حکومت ہوتی اوربلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اور مذہبی جماعتوں کا اقتدار رہتا سرحد میں کٹھ پتلی حکومت مذہب کے نام پر قائم ہوئی اور بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت قوم پرستی کے نام پر قائم ہوئی تو کٹھ پتلی تماشے کا جمہوری بنیادوں پر آغاز ہوگیا۔ جمہوریت کٹھ پتلی بن گئی تو قوم پرستوں نے اقتدار کیلئے ریاست سے قوم کو لڑانے پر غور شروع کیا اور مذہب پرستوں کے دماغ میں دہشت گردی نے جنم لیا۔
مریم نوازکے شوہر صفدراعوان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”ذوالفقار علی بھٹو نے مرزائیوں کو کافر قرار دیا ، بھٹو شہید کو سلام پیش کرتا ہوں، فوج میں قادیانی بھرے پڑے ہیں، بھٹو کو قادیانیوں نے شہید کیاہے”۔
کوئی صفدر اعوان سے یہ پوچھنے والا نہیں تھا کہ جس بنیاد پرجنرل ضیاء الحق کی مخالفت کرتے ہو، اسی کی پیداوار تمہارا یہ ٹبر ہے جس میں نوازشریف،شہباز شریف اور مریم نواز شامل ہیں، اگر بھٹو کو جنرل ضیاء الحق پھانسی نہ دیتا اور شریف برادران کی سیاسی پرورش نہ کرتا تو آج ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اعوان کسی پرائیویٹ کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کی خدمت انجام دے رہا ہوتا۔ اگرکیپٹن صفدر اعوان میں سیاسی بصیرت ہوتی تو وہ قومی اسمبلی کے فلور پر بیان دیتے ہوئے کم ازکم حقائق پر بھی بہت غور کرتے۔
حیات بلوچ شہیدکے پسِ منظر میں کٹھ پتلی قوم پرست سیاسی لیڈر شپ کا دامن بھی صاف نہیںہے۔ ریاست سے ملی بھگت کیساتھ خون دینے اور خون لینے کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے محفوظ مقامات پر بیٹھ کر پالیسی بیانات دینے کا معاملہ ہے۔ آزاد بلوچستان کا خواب دیکھنے والے اب درست کہتے ہونگے کہ ریاست بلوچوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے لیکن اپنا اور اپنے بچوں کو جنگ سے دور رکھ کر جنگ کی حمایت کرنے والے بھی معصوم خون کو بہانے میں بالکل برابر کے شریک ہیں۔ کوئی شک وشبہ نہیں کہ بلوچ بہادر، انسانی اقدار کے سب سے بڑے محافظ اور بہت شریف ، باغیرت، باضمیر اور سیاسی سمجھ بوجھ سے مالا مال لوگ ہیں ۔ ان کی جرأتمندی ، بہادری اور غیرت بہت مثالی ہے اور پاکستان میں قوم کی حیثیت سے یہ لوگ ہی سب سے زیادہ احترام ، عزت اور بہت پیار دینے کے لائق ہیں۔ ریاست کے کرتوت ایسے ہیں کہ اگر اتنی غیرت دوسری قوموں پنجابی، سندھی اور پختون میں ہوتی تو بنگلہ دیش سے بہت پہلے ہندوستان کی مدد سے نہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر فوج، پولیس، عدالت اور سول بیوروکریسی سمیت سب کو پکڑکر انگریز کی غلامی سے آزادی دلانے میں ستر سال ضائع نہ کرتے۔ قبائل مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی فوج سے آزاد کرسکتے تھے تو کیا اتنی بڑی عوام اپنی ریاست کو سیدھا نہیں کرسکتی تھی؟۔
بلوچوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ بندوق رکھ کر سیاسی راستہ اپنائیں تاکہ بلوچ قوم خونریزی کے اس عذاب سے نکل جائے اور اچھا انقلاب برپا ہوجائے۔ اسلامی منشور سے عرب کے صحراء سے نکلنے والے تہبند کے لباس میں ملبوس ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔ آج بھی حج وعمرہ کیلئے احرام تہبند کا لباس پہننا پڑتاہے تو بہت بڑی بڑی گھیر والی شلوار پہننے والے غیرتمند بلوچ بھی اسلام کی بنیاد پر دنیا فتح کرسکتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فتح مکہ کیلئے سب سے بڑی بنیاد بن گیا تھا کہ نہیں؟۔

مریم نواز شریف اور نیب کا کیس کیاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوازشریف نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی ٹرک استعمال کرتے ہوئے جو رائیونڈ کی زمینیں سستی کرکے مریم نواز کے نام پر لیں تھیں تو اب بدمعاشوں کو اکٹھا کرکے نیب کے دفتر میں سرکاری افسران کو ہراساں کیا گیا ہے۔ جس ملک میں جج بک جاتے ہوں۔ کسی کے خلاف کیس کی سماعت ہورہی ہو اور وہی جج عمرے ساتھ کرتا پھرے۔ کھانوں کی نشست میں رہائش گاہوں پر اسکے حق میں ویڈیو بنائے۔ پھر کسی اور سے خیر کی توقع کیا کی جاسکتی ہے؟۔
پاکستان زرعی ملک ہے ۔یہاں خوراک سب سے زیادہ سستی ہوسکتی ہے۔ جس طرح عرب میں تیل سستا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے کہ جسکا آئین اسلامی و جمہوری ہے۔ جب قرآن میں سود کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہۖ نے زمین کو مزارعت پر دینے کو سود قرار دیتے ہوئے منع فرمایا۔ کئی احادیث ہیں جہاں زمین کو مفت دینے یا اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب پاکستان میں محنت کشوں کو مفت زمینیں دی جائیںگی تو محنت کش طبقہ عروج وترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
علامہ اقبال نے اسلئے یہ نظم ” فرشتوں کے گیت” کے نام پر لکھی تھی کہ دنیا کی تاریخ میں کمیونزم ایک بڑا انقلاب برپا کرنے جارہا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر اور اسکے بھائی کا اخبار بھی ” کامریڈ” کے نام سے نکلتا تھا۔ جنہوں نے خلافت کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلائی تھی۔” اماں بولی ۔جان بیٹا خلافت پر دے دینا” انہی کی ماں تھی۔
مولانا ظفر علی خان کا اخبار ” زمیندار” اور مولانا حسرت موہانی بھی مسلمان کمیونسٹ تھے۔ کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ” انگریز کی دی ہوئی جاگیر آزادی کے بعد بحقِ سرکار ضبط ہوگی ، اسلئے کہ انگریز کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہندوستان کی زمین اپنے وفاداروں اور اپنی قوم کے غداروں میں تقسیم کرے”۔ پاکستان کے خانوں، نوابوں اور جاگیرداروں نے اسلام کی خاطر نہیں اپنی جائیداد کے تحفظ کیلئے تقسیم ہند اور پاکستان کا ایجنڈہ قبول کیا تھا۔جب پاکستان پر مختلف مافیاز نے قبضہ کرنا شروع کیا تو لینڈمافیا اور سیاستدان ایک نئی شکل میں میدان کے اندر اترے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کوئی عالم دین یاپی ایچ ڈی ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ ان کا خلوص، زبان کی فصاحت اور ایمان کا جذبہ اپنی جگہ پر لیکن انہوں نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام مالک کی رائے تھی کہ مزارعت جائز نہیں ۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے ،جب بات رائے کی آتی ہے تو پھر سود کی لعنت کو بھی رائے سے جواز مل جاتا ہے۔جو اللہ اور اسکے رسول ۖ کیساتھ اعلان جنگ ہے۔
جس دن پاکستان میں اتنی تھوڑی سی قربانی دیدی کہ جاگیرداروں کو مجبور کیا کہ اپنی زمینیں خود کاشت کرو یا مزارعین کو مفت میں دو تو روس کا راستہ دنیا نے آخر روک لیا مگر پوری دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔ جب کوئی کاشتکار اس قابل بن سکے گا کہ وہ اپنا سہل کاروبار کرسکے تو اپنے بچوں کو کاشتکاری کی مصیبت میں ڈالے گا۔ یہ اللہ کی زمین مخلوقِ خدا کیلئے غریب سے امیر بننے کا بہت بڑا ذریعہ بن جائیگی۔ حسن نواز، حسین نواز اپنی زمینیں خود کاشت کرینگے تو صحت بھی اچھی بن جائے گی۔کاشکاروں کی جگہ بلاول بھٹو ، بختا ور اور آصفہ کھیتی باڑی کرتے تو غریبوں کے دکھ درد کا پتہ چل جاتا۔ پاکستان خوراک کی ایکسپورٹ سے امیر بن جاتا۔

دنیا نئے نظام کی تلاش میں پھر جنگ کے دھانے پر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ اور چین میں دنیا کی معاشی سرگرمی پر ایکدوسرے سے جنگ ایک نئی صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔ قرآن میں سورۂ نمل موجود ہے جو اس چیونٹی کے نام پر ہے جس نے اپنی قوم کو آواز دی کہ” اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ، سلیمان کا لشکر آرہاہے ۔وہ تمہیں کہیں پاؤں تلے روند نہ ڈالے”۔ اپنی قوم کے مفاد میں یہ تاریخی جملہ چیونٹی کی زباں سے نکلا تو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک قرآن میں اس کواتنی عزت بخشی کہ انسانوں کیلئے ایک عمدہ مثال بنادیا۔ مقتدر طبقات کی حالت اور سوچ یہ ہے کہ جب عالمی جنگ میں ہماری حیثیت چیونٹیوں کی ہے تو کس لشکر کے بوٹوں سے چمٹ کر فوجی لنگر سے کچھ بچی کھچی خوراک مل سکتی ہے؟۔ روس اور امریکہ کی جنگ تھی تو یہ امریکہ کیساتھ کھڑا تھا اور افغانستان و بھارت روس کیساتھ کھڑے تھے۔ آج امریکہ نے بھارت کو اپنا گودی بچہ بنالیا تو پاکستان کسی دوسری گود کی تلاش میں ہے۔
جب کعبہ پر ہاتھیوں سے حملہ ہورہا تھا تو رسول اللہۖ کے دادا عبدالمطلب نے کہا تھا کہ ”میں اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کررہا ہوں، کعبہ کا مالک اس کی خود ہی حفاظت کریگا ۔ میرے لئے اونٹ تلاش کرکے کوئی نہیں دے گا”۔ بت شکن ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی بنیاد پر کعبہ کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن اس میں 360بت نصب کردئیے گئے تھے۔ رسول اللہۖ کی بعثت ہوئی تو کعبہ کو بتوں سے بھرا ہوا چھوڑ کر مدینہ ہجرت اختیار کرلی۔ بدر اور احد کے غزوات کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی کیا تھا لیکن آخر فتح مکہ پر بات پہنچ گئی۔ جب عرب کو شرک کی جگہ توحید، جاہلیت کی جگہ اسلام اور انسانیت کا سبق مل گیا تو وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ہم دوسروں کی جنگ بھی قومی مفادات کے نام پر لڑتے ہیں لیکن جب بلی تھیلی سے باہر نکلتی ہے تومعاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔ افغان وار امریکی سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے لڑی لیکن پاکستان کے فوجی حکام آرمی چیف، صدر ،امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل اختر عبدالرحمن سمیت حادثے کا شکار ہوئے تو نتیجے میں کوئلے کی دلالی کی بات کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھ میں کیا آیا تھا؟۔ البتہ اختر عبدالرحمن نے اپنی اولاد کیلئے حق حلال کی وہ کمائی چھوڑی جو امریکہ نے جنگ کیلئے بھیجی تھی۔
ایک تبلیغی جماعت کا فرد کہہ رہاتھا کہ ”ہم کیسے مسلمان ہیں۔ امریکہ سات سمندر پار سے افغان مہاجرین کیلئے امداد اور خوراک بھیجتا ہے اور ہم یہاں کھا جاتے ہیں؟”۔ رستم شاہ مہمند اور اوریا مقبول جان ان مذہبی خطیبوں کی طرح ہیں جن کو اچھا معاوضہ ملتا ہے تو بہت اچھے جذبے ، جوش وخروش اور ایمانی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ عناصر کو اپنوں اور بیرونی امداد نہیں ملے تو پھر اس جوش سے فسادات تک بات نہیں پہنچے گی۔ ہماری ریاست نے دوسری مرتبہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ مل کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی۔ پوری قوم تباہ ہوگئی لیکن آسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کی خبر اشفاق پرویزکیانی کی بتائی جاتی ہے۔ جو پرویز مشرف کے دور میں آئی ایس آئی کا چیف تھا اور آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ مدت پوری کرنے کے بعد دوسری مدت کیلئے بھی آرمی چیف بنادیا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قوم کو طبقاتی تقسیم میں گھسیٹنے کی بجائے اپنی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہماری اپنی حالت صحیح ہوگی تو ہم ہر جگہ سرخرو اور خوشحال ہوں گے۔

پچھلے 41برس سے پاک افغان تعلقات کی ایک داستان: سید عثمان الدین گیلانی

میرا تعلق پکتیا صوبے افغانستان سے ہے اور میں ایک سید خاندان سے ہوں ہمارے آباؤ اجداد کی پشتون عورتوں سے شادیاں ہوتی چلی آرہی ہیں۔ میرے بڑے چاچا کی کابل میں سپیئر پارٹس کی دکان تھی جو وہ جرمنی سے امپورٹ کرتے تھے اچھا خاصا کاروبار جاری تھا روسیوں نے جب ملک پر قدم رکھا تو دکان کم داموں میں فروخت کرکے ان کے خلاف جنگ میں لوکل عوامی لوگوں کے کمانڈر بنے پشاور میں مجاہدین کے لیڈرز کے دفاتر ہوا کرتے تھے جہاں سے ان کو اسلحہ ملتا تھا چند دفعہ وہاں جا کر ہی چاچا جو معاملات سے پتہ چل گیا تھا کہ یہاں تو لیڈرز اپنے مفاد کے بندوں کو رکھتے ہیں اور اسلحہ دینے میں اپنی چوری کرتے ہیں۔ بہرحال اس نے جنگ جاری رکھی جنگ کے دوران ہمارے خاندان نے کرم ایجنسی ہجرت کی تھی اور اللہ کے فضل سے لوکل لوگوں سے بہت اچھی دوستی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے عزت کے میدان میں علاقے میں شہرت بھی دی تھی۔جس کا ثبوت یہ تھا کہ سن 2000 میں جب ہم افغانستان واپس لوٹے تو دادا سے ملنے بہت سے کرم ایجنسی کے لوگ بھی آتے تھے۔ 1990 کے شروعات کے سالوں میں جب ڈاکٹر نجیب کی حکومت کا پانسہ الٹ گیا تو مجاہدین کے لیڈرز نے کابل کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے آپس میں سول وار شروع کی جن کی خودغرضی اور قتل و غارت دیکھ کر ہی میرا چاچا اس نتیجے پر پہنچا کہ جو جہاد ہم نے کیا وہ دراصل جہاد نامی فساد تھا۔ 2001 میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں پشاور آیا اور پڑھتے پڑھتے یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی میں” international relations ” نامی سبجیکٹ تھا جس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا۔ ہمیں 18 صدی کے فلاسفر Maciavelli کی فلاسفی متعارف کرائی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مقصد حاصل کرنے کیلئے انسان کو کوئی بھی ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے خواہ وہ غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیچرز ہمیں کہہ گئے کہ تب سے بین ال اقوامی تعلقات میں ” self interest first” کی ڈپلومیسی چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے پر آمادگی کے لیے جنرل ضیاء نے امریکہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جنگ جیتنے پر پاکستان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق formulate کرے جسے achieve کرنے کے لیے روس کے نکلنے کے بعد مجاہدین کو ڈاکٹر نجیب کے خلاف سپورٹ کیا گیا اور بعد میں 1996 کو طالبان موومنٹ تشکیل کیا گیا جو اسی سوچ کا تسلسل تھا۔
طالبان نے تاجک،ازبک اور ہزارہ جن کا ان سے طرز حکومت پر اختلاف تھا ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون ہی صرف اسلام کی پہچان قرار پائے اور تاجک، ازبک اور ہزارہ کے ساتھ نفرت پشتونوں میں پھیل گئی۔ جس کا ثبوت یہ تھا کہ نا صرف افغانستان کے پشتونوں میں منبر کے ذریعے یہ ذہنیت پھیل گئی بلکہ پاکستان میں بھی یہی حال تھا۔ مسلمان افغانستان سے آتے ہوئے لوگوں کو جب پولیس اور ایف سی گاڑی سے اتارتے تو پشتونوں کو چھوڑ دیتے اور تاجک،ازبک اور ہزارہ کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔ یہی حال شہروں میں رہنے والی ان اقوام کے افراد کا تھا نہ صرف پولیس بلکہ کچھ عوام بھی ان سے نفرت کرتی تھی۔ میں خود بھی اسی ذہنیت کا شکار تھا اور میں نے پشاور میں رہتے وقت تعلیمی اداروں میں ان کو کبھی دوست نہیں بنایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ بھی ایک تاجک ہی تھے۔ یہ سلوک دیکھ کر جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں ان لوگوں کی حکومت قائم کی تو انہوں نے صرف افغان پشتونوں سے بدلہ لینے کا بھرپور جذبہ دکھایا بلکہ پاکستان کے بارے میں بھی یہی حال رہا جسکا فائدہ انڈیا نے لیا۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان نے نہ صرف روس کے آنے سے قبل بار بار پاکستان کو دھمکیاں دیں بلکہ پاکستان بنتے وقت مخالفت بھی کی اور ان دونوں اطراف سے تلخی کی اصل بنیاد 1893 کی ڈیورنڈ لائن معاہدہ تھا جو انگریز چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے زندگی کے زیادہ تر ایام پاکستان میں گزارے ہیں اور افغانستان کو مکہ اور پاکستان کو مدینہ مانتا ہوں۔ پاکستان کے لوگ افغانستان کی نسبت زیادہ نرم طبیعت کے اور باشعور ہیں کیونکہ نہ صرف 300 سال انگریزوں کے ساتھ اور خلاف جدوجہد میں تحریکوں میں institution کا حصہ رہنے کے ساتھ ساتھ 73 سالہ پاکستانی جمہوریت سے گزرے ہیں بلکہ پاکستان زیادہ diverse اور جامع ہونے کے ناطے ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہے جبکہ افغانستان 18 صدیوں سے لیکر 1978 تک دو قبائل (درانی اور غلزائی) خاندانوں کی موروثی monarchies (شاہی حکومت)کا شکار رہا ہے اور جمہوری عمل اور سیاست سے عوام کو دور رکھا گیا تھا۔
1978 سے لے کر 2001 تک کمیونسٹ غلزائی پشتون تھے، ڈاکٹر نجیب بھی اسی قبیلے سے جبکہ ملا عمر درانی قبیلے سے تھا۔ کل اگر افغان یہ کہتے تھے کہ پاکستان پر انگریزوں نے حکومت کی ہے اس لحاظ سے ہم اس سے برتر ہیں تو خدا نے برطانوی انگریز کے کزن امریکی انگریز کی حکومت افغانوں پر قائم کر کے اسکا جواب دے دیا ہے اور حساب برابر ہوا ہے۔ اب اگر پاکستانی عوام یہ سمجھتی ہے کہ افغان آرمی مرتد ہے کیونکہ وہ یہودو نصاری کی صف میں کھڑی ہے تو انکو اس پر غور کرنا ہوگا کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف انگریزوں کی فوج میں رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر ترکی کی خلافت عثمانیہ کا تختہ بھی الٹا ہے۔ اگر وہ مرتد نہیں تھے تو یہ کیسے ہو؟؟؟ اس لیے یہ امید رکھنا بہتر ہوگا کہ حالات کچھ ایسے بن سکتے ہیں جو امریکہ کو انگلستان کی طرح جانے پر مجبور کر دے۔
افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں میں بہت زیادہ چیزوں میں مشابہت ہے اور ہونی بھی چاہیے اگر ایک قوم ہے تو۔ اسکا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ افغانستان کے علاقے خوست پکتیا اور غزنی کا رہن سہن، لباس،کھانا پینا، لہجہ اور دیگر رسومات تقریبا شمالی و جنوبی وزیرستان ، خیبر ، اورکزئی اور کرم ایجنسی سے ملتا جلتا ہے اور بہت سے قبائل بارڈر کے پار نہ صرف مشترک آباؤ اجداد کے دعوی ہیں بلکہ بارڈر کے دونوں طرف ایک قوم کے لوگ بھی رہتے ہیں جیسے منگل،وزیر اور بنگش۔ اسی طرح ننگہار (جلال آباد) کے رہائشی یوسف زئی اور قندہار اور ہلمند کے رہائشی بلوچستان کے پشتونوں کے قریب تر ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف روس کے حملے سے پہلے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی کاشت نہ ہونے کے برابر تھی البتہ اسمگلنگ ہوتی رہتی تھی کیونکہ زیادہ تر بارڈر پڑوس تھا مندرجہ بالا بحث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اخذ ہوتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں جسکا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں جسکی اصل بنیاد انگریز کا چھوڑا ہو مسئلہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ ہمیں ایک امت کے ناطے اصل اسلام جو اخوت اور بھائی چارے پر زور دیتا ہے کی طرف معاملات کو موڑنا چاہئے۔ جیسا کہ آیت ہے ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں مت پڑو ” اور حدیث ہے کہ مسلمان امت ایک جان کی مانند ہے جیسے جسم کے ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو دوسرا بھی محسوس کرتا ہے۔

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

بنت الوقت کو مواقع دئیے گئے مگر کورٹ میرج والی مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کیا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

عمران خان وزیرستان ، بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا عدم اعتماد کی فضا ہے

نواز شریف کی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں خواجہ سعد رفیق کا نعرہ ….

سندھ نے پاکستان بنایا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے اگر پختون کو سندھ پنجاب پاکستان سے دھکیلا تو طالبان و فوج کے مظالم بھولیں گے

سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی پختون قوم ایک طرف چڑھائی پر فخر کریں اور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں ؟ تفصیل نیچے اداریہ پر دیکھئے

اپنی صحافت اور سیاست کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے کشمکش

صحافی مطیع اللہ جان کا اسلام آباد سے اغواء اور فتح جنگ کے قریب چھوڑنا موضوع بحث بنا۔ رسول بخش پلیجو نے کیا کچھ نہیں کہا مگر کرپٹ سیاستدان نہ تھے۔ بلوچ وپختون قوم پرست، سندھی ، پنجابی، مہاجر کی شکایت ملٹری ایجنسی سے ہے۔ قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلی میں فوج کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ ANP رکن اسمبلی سردار بابک نے کہا کہ 6ستمبر کو 300 توپوں 14اگست کو 500توپوں اور 23مارچ کو 200توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ F16طیارے ہیں ۔ جدید میزائل ہیں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہیں ۔ سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اور مولاناعبدالغفورحیدری نے افواج پاکستان کو سنائیںاور سینیٹر محمد علی سیف نے پاک فوج کا دفاع کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی بھی فوج کیخلاف تقریریں موجود ہیں۔
پاکستان اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ فوج کی مخالفت میں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، جمعیت علماء اسلام ، قوم پرست ، دانشور ، صحافی، کامریڈ، جوان طبقہ ، خواتین کی تنظیموںکااپنا اپنا انداز ہے۔ تحریک انصاف والے عمران خان سے برگشتہ نہیں تو فوج پر یہ الزام دھر تے ہیں کہ کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ اس چھوٹے سے اخبار کے ذریعے سے پورے حقائق نہیں پہنچاسکتے ہیں لیکن مہنگائی ، بیروزگاری، سیاسی و صحافتی اور ریاستی بدچلنی سے تنگ عوام اٹھی توخون کا منظرہوگا مگر یہ کسی کیلئے بھی اچھا نہیں۔ عمران خان سوشل میڈیا پراپنی ہر بات سے پھرکی کی طرح حدِ رفتار 120کلومیٹر فی گھنٹہ سے گھوم رہا ہے۔ ڈر ہے کہ اسکرو ڈھیلے ہوکر سلپ نہ کرجائیں اورپرانا فوجی ساخت ہیلی کاپٹر گر کر تباہ نہ ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت کے ہیلی کاپٹر کو ہوا میں اڑانے والا انجن جہانگیر ترین فیل ہوکر کنارہ کش ہوااور اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔
عمران خان فوج کو گالی دیتا رہا ۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو ایکس ٹینشن کیلئے جو پاپڑ بیلنے پڑے، کفارہ چکانے کیلئے عمران خان کی نااہلیت کو چھپائیں گے تو حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے، پاکستان ایک بدترین دلدل میں پھنس چکا ۔مالی، اخلاقی، شرعی، قانونی اور ہرطرح کا بحران برپا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی بیگم کو اتنی دولت کس نے دی؟۔ کرپٹ مافیا جج اور صحافی کو نہیں خرید سکتا؟۔ وکلاء نے بڑی تعداد میں عدالت کیخلاف نعرہ لگانے کے بجائے ”یہ جو دہشت گردی ہے ،اسکے پیچھے وردی ہے” کا نعرہ لگایا۔پاڑا چنار میں دھماکے کے بعد فوج پہنچی تو عوام نے پتھروں سے دوڑیں لگوادیں ۔عیدک شمالی وزیرستان میں فوج کی کانوائے کو نعروں سے ریس کرایا گیا۔ وقت ہاتھ سے نکلا تو پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ مسمار ہوجائیگا۔ ڈھانچہ مسمار ہومگر افراتفری مچے اورنہ ایکدوسرے کاہم خون بہائیں ۔
پتہ نہیں کہ جوفوج کی حمایت یا مخالفت کرتاہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟۔ رسول بخش پلیجو نے کہاتھا”پاکستان توڑنے یا پنجابیوں کو تباہ کرنے کی باتیں کرنے والوں کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ کوئی سنجیدہ سندھی پاکستان توڑنے اور پنجاب سے لڑنے کی بات نہیں کرتا۔ دو ٹکے کا آدمی کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ آرمی آئے اور ہمیں ایجنٹ ثابت کرے”۔ عمران خان وزیرستان و بلوچستان میں فوج کا مخالف مگرووٹ ریفرنڈم میں پرویز مشرف کو دیا۔ امریکہ نے گڈ، بیڈ طالبان کہااور ہماری ایجنسیاں عمل پیرا تھیں مگر عوام کوحقیقت معلوم نہ ہوسکی۔ عدمِ اعتماد کی فضاء میں کوئی کسی پر اعتماد کیلئے تیار نہیں۔ طارق اسماعیل ساگرنے بلیک واٹر کے حوالے سے انکشافات کئے ۔ اس روش سے پاکستان اور ہماری عوام کا مستقبل یقیناخطرے میں ہے۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کیخلاف بڑی قوت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف اور اسکی بیٹی مریم نواز کو قرار دیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی بڑی انوکھی بیماری پلیٹ لیٹس کے اترنے اور چڑھنے کی طرح اسٹیبلشمنٹ سے جنگ مصنوعی کھیل سے زیادہ کچھ نہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے حق میں جج بولے تو خواجہ نے بھونڈے انداز میں نعرہ لگایا کہ
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
خواجہ سعد رفیق سے کوئی پوچھے کہ نواز شریف کو کیا مرد نہیں سمجھتے؟ جو بیماری کا بہانہ کرکے بھاگے؟،مریم نواز مرد نہیں جو یہ شعر پڑھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف پر رحمن ملک نے اسوقت کیس بنایا جب پیپلز پارٹی کے دور میں آئی بی کا ڈائریکٹر تھا۔ لندن فلیٹ سول اداروں کے ذریعے پوری تفتیش کے بعد نواز شریف کے نکلے۔ پھر مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی گئی۔ فاروق لغاری نے کردار ادا کیا جو بعد میں ن لیگ سے ملا ۔اسکے بچے ن لیگ ، ق لیگ اور تحریک انصاف سے ہوتے ہوئے ہر سیاسی جمہوری حکومت کے کیمپوں میں کیمپیئن چلاتے ہیں۔
ن لیگ کی حکومت میںسیف الرحمن نے سرے محل سوئٹزرلینڈ کے اکاؤنٹ اور دوسرے کرپشن کے کیس پیپلز پارٹی کے خلاف چلائے۔ جنرل پرویز مشرف فضا میں تھے کہ اس کی حکومت قائم کرکے ن لیگ کا تختہ الٹ دیا گیا۔ نواز شریف دس سال کا معاہدہ کرکے سعودیہ گئے۔ پرویز مشرف کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو شہباز شریف زرداری کو چوکوں پر لٹکانے کی بات کرتا تھا۔ پھر مرکز میں ن لیگ کی حکومت آئی تو نواز شریف نے پانامہ لیکس سے پہلے پارلیمنٹ میں تحریری تقریر پڑھ کر سنائی کہ 2005ء میں سعودیہ کی اراضی اور دوبئی مل بیچ کر لندن کے یہ فلیٹ خریدے۔ حالانکہ میڈیا پر ن لیگ کے سینئر ترین رہنماؤں کے بیانات موجود تھے کہ بیس، پچیس، تیس سالوں سے یہ نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو میاں نواز شریف نے بڑی دہائیاں دیں کہ بچاؤ لیکن جس راحیل شریف نے کرپٹ فوجیوں کیخلاف اقدامات اٹھائے تھے وہ نواز شریف کو کیوں بچاتے؟۔ جنگ اور جیو نے پیپلز پارٹی کے وزیر مذہبی امور مولانا حامد سعید کاظمی کیخلاف جھوٹی شہہ سرخیاں لگائیں کہ کرپشن کا اعتراف کرلیا لیکن نواز شریف کو بچانے کی مہم جوئی میں وکیلوں سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ بہادری کوسلام مگر مفادپرستی میں ہے کلام۔
صحافت کا نام مقدس ہے ۔ قرآن میں صحف ابراہیم و موسیٰ کا ذکر ہے۔یعنی ابراہیم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے صحیفے۔ اس مقدس پیشے کا قانونی تقاضہ یہ ہے کہ کرائے کی وکالت سے صحافت کو بدنام نہ کیا جائے۔ حکومت صحافت کی قانونی اجازت اسی وقت دیتی ہے جب غیر جانبدارانہ صحافت یقینی بن جائے۔ عورت کا شوہر سے نکاح ہو تو بدچلنی اور بے راہروی کو آزادی کا نام نہیں دے سکتے۔ خرچہ پانی لیکر وکالت کرنا صحافت کی توہین ہے۔ مطیع اللہ جان کی تصویر سوشل میڈیا پر آئی تھی جس میں سلمان شہباز، حسین نواز اور حسن نواز کیساتھ بیٹھے ہیں اور کیمرے سے بچنے کیلئے نام نہاد سیاسی خانوادہ منہ چھپا رہاہے۔ ہوسکتا ہے کہ حصہ وصول کیلئے ان کو اغوا کیا گیا ہو۔ حقائق پہنچانے میں خیانت ہوتی ہے۔ عوام سیاسی خانوادوں سے تو پہلے ہی بدظن تھے مگر اب فوج کیخلاف آنکھیں بہت تیزی سے کھل رہی ہیں۔ فوج کی وکالت الطاف حسین کے پسماندگان کریں۔ سینیٹر سیف با صلاحیت ہونگے مگر سوات سے الیکشن نہیں جیتے۔ ایم کیو ایم کی حیثیت سرکٹی ہے جسکا دل تو ہوسکتا ہے مگر دماغ نہیں اسلئے سینیٹر سیف نے کہا کہ کشمیر فتح کرنے آپ آگے بڑھیں فوج آپکے پیچھے ہے۔ استحکام پاکستان اتحاد کی چیئر پرسن ساجدہ احمد کا بیان دیکھا جس میں وہ افغانی کا کہہ رہی ہیں کہ ”پشتین کے پاس شلوار کے علاوہ کچھ نہیں رہا تو اس نے کہا کہ شلوار اتارنے کے بجائے میں خود ہی بتادوں کہ گند والا بیر کھالیا ہے۔ یہ گند کھانے والے افغانی پاکستانی پختون بھائیوں کو گل خان کہتے ہیں…”۔ ساجدہ احمد کے چہرے اور آواز کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر کیا یہ پی ٹی ایم کے مبارزین کو معقول جواب ہے؟۔ مہاجرین کے نام پر اختر عبد الرحمن نے کتنا مال کمایا ؟ ۔ بیٹے سیاسی جماعتیں بدل بدل کراپنے بدن پر شلواربھی نہیں چھوڑتے ۔بدبودارو زور دار ہوا خارج کرکے پھٹی شلوار نہیں سل سکتی ۔صوبائی،قومی اسمبلی اور سینٹ میں اٹھنے والی آوازیںخطرناک ہیں۔ افراتفری پھیلی توعوام کیساتھ بڑی تعداد میں طالبان کو بھی میدان میں اتارا جائیگا۔ جنگ ومحبت میں ہر چیز کو جائز سمجھنے والی قوم حشر برپا کرے گی تو مٹک مٹک کر بیان دینے والیوں کو خوابگاہوں میں بھی آرام نہیں آئیگا۔
پختونوں نے سندھ ، کراچی ، پاکستان کی ریاست سے بہت فائدے حاصل کئے، رسول بخش پلیجو کی طرح ہم خود کو بہت تہذیب یافتہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی ترجمہ کیا تو دو سال تک روپوش رہنا پڑا تھا اسلئے کہ ملا نے قتل کے فتوے جاری کئے تھے۔ یہ تو دینِ اکبری اور فتاویٰ عالمگیری مرتب کرنے والوں کا حال تھا مگر جب شاہ ولی اللہ کے صاحبزادوں نے قرآن کا اردو میں ترجمہ کیااور پھر تمام زبانوں میں تقریباً تراجم ہوچکے تھے تو پنجابی پختون مکس علاقہ چھجھ کا ایک پختون عالم مولانا غرغرشتو نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ جس پر پختون علماء نے ان پر کفر اور قتل کے فتوے لگائے۔شاہ ولی اللہ سے بھی700سال پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ رسول بخش پلیجونے ڈاکو کا الزام ریاست پر لگایا اسلئے کہ ریاست کیلئے ڈاکو ختم کرنا مسئلہ نہ تھا۔ سندھی قوم نے کسی پر چڑھائی نہیں کی۔ پختون ایک طرف چڑھائی پر فخر کریںاور دوسری طرف مظلومیت کا رونا روئیں؟۔ پختون کو کسی نے مجبور نہ کیا، جذبے اور مفاد کیلئے طالبان بن گئے۔محمود اچکزئی کہتا تھا کہ ریاست طالبان کو ختم کرسکتی ہے ، اقدام اٹھایا تو ظلم کا الزام لگایا؟۔انگریز سے ٹکر لینے والوں کو جرمنی سے امداد ملتی تھی۔ عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید نے مزدوری کرکے بچوں کو لندن میں تعلیم نہیں دلائی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان ہوتا توپھر پختون نسبتاً زیادہ بڑی ریاست سے حقوق لے سکتے تھے؟۔ علیحدگی پسندی کی تحریک سے سرحدی گاندھی اورخان شہید کی روحوں کو قرار ملے گا؟۔ سندھ نے پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا مگر پختون متحدہ ہندوستان والے تھے۔اگر پختو ن کو سندھ، پنجاب اور پاکستان سے دھکیلاگیا توطالبان اور فوج کے مظالم بھول جائیں گے۔ ڈاکٹر اسرار کی کلپ ہے کہ ”جماعت اسلامی کے میاں طفیل نے کہا کہ سندھی بزدل ہیں فوج میں بھرتی نہیں ہوتے ، جسکا جواب غلام مصطفی شاہ نے دیا کہ سندھی کوئی کرائے کے ٹٹو نہیں ”۔ اسلئے سندھیوں کو فوج میں کم ہونیکا گلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک شریف الطبع انسان لگتے ہیں۔ دوسری مدت ملازمت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ اوریا مقبول جان کی کسی بات پر اعتماد کرنا لوگوں کیلئے بڑا مشکل ہے۔ انہوں نے کسی بزرگ کا خواب بتایا کہ” جنرل باجوہ کو رسول اللہ ۖ نے خواب میں تحفہ دیا تو باجوہ نے بائیں ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی اور پھر حضرت عمر نے جنرل باجوہ کا دایاں ہاتھ تحفے کیلئے بڑھایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب باجوہ کے آرمی چیف بننے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا”۔
قوم کیساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے یہ بایاں ہاتھ ہی شاید استعمال ہورہا ہے۔ اب جنرل باجوہ کو چاہیے کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد کیلئے دو ٹوک انداز میں اپنی کور کمانڈر کانفرنس بلا کر سب سے پہلے پارلیمنٹ کے سامنے شکریہ کیساتھ یہ بات رکھ دیں کہ آرمی،فضائیہ ، نیوی کے چیف کے ایکس ٹینشن کا قانون پارلیمنٹ واپس لے۔ اب ہمیں پارلیمنٹ کی اسطرح کی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوںکو عدمِ استحکام کا شکار کرنے کیساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور فوج کے اندرونی پوزیشن کو بھی خطرات سے دوچار کرنے کا بدترین ذریعہ ہوگا۔
دوسرے نمبر پر پارلیمنٹ سے ایسی قانون سازی کروائیں کہ فوج اپنا کرپٹ طبقہ گرفت میں لانے کیلئے دنیا بھر سے پکڑ کر عدلیہ کے سامنے کھڑا کردے۔ جہاں سزا نہیںکہ ججوں کے ہاتھ قیدی کی طرح قانون سے بندھے ہیں۔ کرائے کا وکیل انصاف کی بجائے اندھیر نگری کی یاد دلادیتا ہے۔ پارلیمنٹ وہ قانون سازی کرے کہ جرائم اور کرپشن جو عوام کودکھتے ہیں جج کو بھی دکھائی دیں۔ نیب کا قانون بجا طورپر غلط استعمال ہوا مگر یہ اللہ کافضل ہے کہ تخت لاہور کے دُرِ یتیم خواجہ سراؤںکو دیکھ کر عدلیہ کے رحم مادر سے رحم کا درد تو آخر اٹھا۔ شاہ رُخ جتوئی کو دبئی سے لایا لیکن پنجاب کی بیوہ اپنے اکلوتے بیٹے کے قتل کا مقدمہ واپس لینے پر اسلئے مجبور ہوئی کہ اس کو اپنی جوان بچیوں کی عزتوں کا خطرہ تھا۔ وہ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا احوال سنارہی تھی۔ اسکے بیٹے کو ن لیگ کے صدیق کانجو کے بیٹے نے نشے میں دھت اور بدمست ہوکر شہید کیا تھا۔ نیب بے موسم بارش کی طرح برسی اور نہ ٹڈی دل کی طرح فصلوں پر حملہ کیا بلکہ یہ کہانی ہے۔ فوج کے بریگیڈیئر اسد منیر نے نیب سے خودکشی کرلی۔ عدالت اپنا کام اپنے وجود کے وقت سے درست کرتی تو احتساب عدالت ، نیب اور ماورائے عدالت قتل کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ مکافات عمل کب تک جاری رہے گا؟۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی عدل و انصاف کا صرف نام ہی لیا۔
Kالیکٹرک اور واپڈا ظلم کی انتہا کرتے ہیں۔ چوری بھی ہوتی ہے سینہ زوری بھی لیکن سبسڈی کے نام پر بہت کچھ مل بانٹ کر کھایا جاتا ہے۔ اگر ریاست عوام کو اجازت دے تو Kالیکٹرک اور واپڈا کے تمام دفاتر اور تنصیبات نذر آتش کی جائیں گی۔ پھر وہ جو آنکھ مچولی ہوتی ہے وہ بھی نہیں رہے گی اور مشکل بڑھ جائے گی۔
ریاست اپنے فرائض منصبی پورا کرنے کیلئے اپنے ملازمین سے کام لیتی ہے اور نوکر پیشہ لوگوں کا اپنا کوئی ویژن نہیں ہوسکتا۔ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن قیادت نوکر پیشہ لوگوں کے ذریعے سے پیدا نہیں کی جاسکتی۔ بنت الوقت کو تخلیق کرکے مواقع دئیے گئے مگر بغاوت کرکے کورٹ میرج کرنے والی لاڈلی بیٹیوں کی طرح مصنوعی قائد نے ڈیڈی کو بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستان میں امامت کا کردار کورٹ میرج والی روبوٹ ادا نہیں کرسکتی ہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ ” سمندر اور خشکی میں فساد برپا ہوا بسبب جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کمایا”۔ اسٹیفن ہاکنگ نے آخری کتاب میں لکھا ”دنیاکو سب سے بڑا خطرہ روبوٹوں سے ہوگا جو انسان نے بنائے ہونگے”۔ رسول اللہۖ کی شکایت پر غور کریں کہ ” میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ گھراور معاشرے سے ہمارا نظام درست ہوگا تو عالمِ انسانیت کو نیا نظام ہم دے سکتے ہیں۔

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

رسول بخش پلیجو کا ویڈیوبیان، جنرل حمیدگل کی موجودگی میں بڑ ے تلخ حقائق
ملکیت کی اقسام ہیں ذاتی ، خاندانی، قومی ، قبیلے کی ملکیت ، بلوچستان میں مری قبیلے کی ملکیت ہے۔ کارپوریٹ پراپرٹی ، قومی اور بین الاقوامی بھی ہوتی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ ملک کے اس ٹکڑے کو میں یہ کرنا چاہتا ہوں تو دنیا کو بچانے والے کہتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے، بالکل یہ آپکا ملک، آپ کی حدود ہیں لیکن اس میں وہ کام نہ کریں کہ جس سے دنیا کے لوگوں کا وجود اسکی بھلائی خطرے میں پڑ جائے سب لوگوں کا ایکدوسرے پر انحصار ہے اورایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ پر دنیا بنی ہے۔سندھی دنیا میں چھوٹی قوم ہے اور ہم پانچ ہزار برس سے اس علاقے پر رہ رہے ہیں اور لوگ بھی ہیں جرمن ، فرنچ ، جاپانی ۔ اگر کوئی نعرہ بلند کرے کہ دنیا انسانوں کی ہے بنی آدم علیٰ یک ود یگرم، اسلئے فرانس کے سارے وسائل سارے انسانوں کے ہوگئے تو فرانس میں لوگوں کو آنے کیوں نہیں دیتے؟ ۔ہم سے بہتر مسلمان حرمین شریفین کے محافظ ہیں یہ لیکچر انہیں کیوں نہیں پلایا جاتا کہ یہ سرزمین جہاں پر لوگ آتے ہیں غریب اور مسلمان تو ان کو تم حقوق کیوں نہیں دیتے ان کو شہریت کیوں نہیں دیتے؟۔ کہتے ہیں کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھا ۔ کس نے فیصلہ کرلیا تھا ہم کو پاکستانی بنانے کا؟
The bunch of rural ….. destory PakistanThe criminal gang with responsible for killing million of people
اس بنچ کو آپ نے حق دیا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ۔ یہ ہم کون ہیں جو ہماری ملکیت کا فیصلہ کریں؟ یہ سرزمین ہماری ہے۔ تو جناب! سندھ کی سرزمین کی حفاظت کیلئے ہمارے آباو اجداد نے مغلوں سے لڑائیاں کیں، افغانوں سے ، سلطانوں سے ، روس سے ، ہماری عورتیں، بچے لے گئے، ہمارے خون کی ندیاں بہیں، ہم کیوں لڑے ؟ اگر ایک دن یہ ہونا تھا کہ دنیا میں جو ملک سے غداری کرے ،ملک کے لوگوں کو خون میں نہلائے، وطن سے بے وفائی کرے وہ یہاں آکر اس سرزمین کے وسائل سے فیضیاب ہوسکتا ہے، تو پھر ہم نے یہ قربانیاں کیوں دی تھیں؟۔ پھر قومیت کیا ہے؟۔جہاں مسلمان کا حوالہ ہے تو مسلمان تو ایک قوم ہے۔ یہ کس نے ہمیں او ر آپ کو حق دیا کہ ہم کہیں کہ یہ پاکستانی قوم ہے۔ کیا قرآن میں پاکستانی قوم سے کوئی واقفیت رکھتا ہے؟۔ کیا اسلامک لاء او رشریعت محمدی کے مطابق دنیا میں کوئی واحد اسلامی ملک ہوسکتا ہے؟۔ یہاں تو ایک خلیفة المسلمین ہوتا ہے نبی کا جانشین۔ دنیا میں اگر اسلامی اور مسلمان مملکت بنی ہے تو وہ ایک ہے۔ حضور کی روش اور حضور کی سنت پچاس مملکتوں کوقبول نہیں کرتی۔ آپ یہ تو نہیں مانتے۔ اگر سارے لوگوں کو میرے ملک پر قبضہ کرنے کا حق ہے ۔میرا ذاتی، اجتماعی ، قومی وطن نہیں۔ پاکستان بننے کے دن 14اگست کو بے وطن بن گیا ، میرا مال مالِ غنیمت بن گیا، جو بھی جہاں سے آئے جس جنرل کی مرضی ہو میرے ملک ، میرے دریا، میری آباد ی ، میرے بچوں کے رزق پر قبضہ کرلے ، بانٹ دے، سخاوت کردے تو کیا اسلئے میں نے پاکستان بنایا؟، یہ تھا پاکستان کا مفہوم ؟،یہ اسلام سکھایا جاتا ہے، جو ان لوگوں نے اسلام کی تشریح کی، جس نے پاکستان کو 25برسوں کے اندر تباہ کردیا۔ آج بھی یہ دہشت گردی قائم کئے ہوئے ہیں۔آج بھی ملک کو آگ میں دھکیل رہے ہیں۔ concentration camp نازی کیمپ قائم ہیں، وہ لوگ ہمیں اسلام آئین سکھاتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کو سرِ بازار رسوا کیا، ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ان پر فخر کرو۔ بنگال میں بفضل تعالیٰ ہم سے بہتر مسلمان ہیں ۔ ہم اسلام کا ٹھیکہ اٹھائیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔ کیا وہ مسلمان نہیں جن کو قتل کیا گیا؟، جن کی عورتوں کو ذبح کیا گیا، جنکو کنوئیں میں ڈالا گیا۔ جنہوں نے انکو ذبح کرنے ان کی عصمت باختگی کرنے میں مدد دی ہم فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرح پاکستانی ہیں، ہم نے ریپ کیا وہ ہمارے ساتھ تھے، تو وہ ہمارے بھائی ہیں ان کو بلالو۔ This is a matte of shame…. 1940کے ریزولوشن کے تحت پاکستان میں شامل ہوئے کسی جنرل نے حکم نہیں دیا ،یہ آپ اس وقت تشریح کرتے کہ مسلمان کون ہوگا… ملک میرا ہوگا، تمہاری زمین کو میں فتح کرونگا، میں دور سے اچکوں اور بدمعاشوں کو بلا کر پورے ملک کو تقسیم کردونگا، پھر پاکستان میں شامل ہوتے توہم مجرم ہوتے۔ ہمارے ساتھ فراڈ ہوا، مس گائیڈ کیا گیا ہمیں کہا گیا کہ یہ اسلام کا ملک ہوگا، بھائی چارہ ہوگا، تمہارے حقوق کا تحفظ ہوگا، جمہوریت ہوگی، اسلام کے درخشاں اصولوں پر عمل ہو گا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جنرل اپنی فاشسٹ آئیڈیا لوجی کے تحت حکم دینگے کہ اسلام یہ ہے۔ اسلام ہمیں کوئی نہیں سکھا سکتا۔ ہم سب سے بہتر اسلام کے طالبعلم ہیں۔ پتہ ہے کہ اسلام کی روح کیا ہے، ہم عمر کو جانتے ہیں، ہم سارے اصحاب کے کردار اور انکے نکتہ نظر سے اچھی طرح سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ہمیں یہاں لوگوں سے سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اسلام کی روح اور رول کیا ہے۔ جمہوری رول کیا ہے؟ جناب من! سندھ میں ہمارے پاس مخصوص زمین ، وسائل ہیں، اگر پشتون بھائی آتے ہیں تو یہ ہمارے ساتھ دوستی نہیں، مجبوری ہے جبر ہے۔ پاکستان بنا کر ٹریپ کرکے آپ ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں کہ جی پشتون بھی آئیگا۔ پنجابی کیوں آتا ہے؟ یعنی ایک ہمارے ساتھ زیادتی اور اس کو آپ دلیل بناتے ہیں کہ دوسری بھی ہوگی پھر تیسری پھر چوتھی بھی ہوگی۔ یہ صحیح نہیں ۔ آپ آج جو کریں کرسکتے ہیں ۔یہ جابرانہ رویہ ہے جو پاکستان بننے کے پہلے دن سے ہی اختیار کیا گیا۔ آپ پچاس لوگ لیکر کسی ملک میں گھس جائیں اور کہیں کہ ہم نے جارحیت نہیں کی ۔ آپ لوگوں کے ہجوم لیکر منگولوں کی طرح کسی ملک میں گھسیں پھر کہیں کہ ہم مسلمان بھائی آگئے۔ یہ جارحیت ہے ہم پرجارحیت ہوئی پاکستان بننے کے بعد۔ ہمارے وسائل پر قبضہ،ہمارے شہر چھین لئے، ہمارے ساتھ دھوکہ ، فراڈ، دہشت گردی استعمال کی گئی۔ آج ہم اپنے شہروں میں کیوں رہیں؟ ۔ ہم یتیم ہیں مسکین ہیں آنکھیں ہماری نیچے ہیں، ساری دنیامیں ہندوستان کے جو بدترین جراثیم تھے دہشتگردی، نفرت، مذہبی تعصب کے، جودرندوں کی طرح لڑتے ہیں، یہاں یہ روایت نہیں، یہاں کسی ہندو کو کسی نے نہیں مارا، کیونکہ ہم تہذیب یافتہ قوم ہیں۔ انسان کی عزت اور تقدس کا احساس ہے۔ ہمارے محلے میں جو آدمی رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے۔ ہم بچوں کو ، عورتوں کو قتل نہیں کرتے، چھاتیاں نہیں کاٹتے، اسلام اسطرح نہیں پھیلاتے۔ تبلیغ اس طرح جائز نہیں سمجھتے کہ تمconcentration campحراستی کیمپ بناؤ، ٹارچر کیمپ بناؤ، لمبی تقریریں کرو، یہ قرآن ہے؟ یہ قرآن کی بے عزتی ، قرآن کی توہین ہے۔ ایسے نا مقدس اور ناپاک کام میں ایسی مقدس چیز کا نام لیا جائے۔ ہمارے ساتھ بین الاقوامی جرم کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی جرم ہٹلر کرتا تھا اسکے پاس بھی دلائل تھے… میں جرمنی گیا سارا ریکارڈ موجود ہے، بڑی دلیلیں اس کے پاس تھیں۔ کولون میرا ہے یوگو سلاواکیہ میرا ہے۔ بس ختم اینڈ۔ اس پر میں حملہ کرونگا، اس کو ختم کرنا ہے…۔ آپ آج بوتے ہیں تو کل نتیجہ ہوگا۔ آپ بورہے ہیں طاقت کے زور پر ۔ پنجاب کے وزیر اعظم سندھ کیخلاف پہلے دن سے حرکتیں کررہے ہیں۔ ایک گٹھ جوڑ ہے سندھ کیخلاف۔ شہر کھینچ لو، شہروں میں دہشتگردی کرو، لوگوں کی جماعتیں بناؤ، اندر سے ایجنسیز بناؤ، سارا دن ایجنسیز کہتی ہیں کہ ہم بغاوت کرتے ہیں ہمارے بھائیوں میں سے سندھ میں ایجنٹ بنائے، جو سارا دن کہتے ہیں کہ ہم پنجاب کو تباہ کرینگے۔ جو کہتے ہیں ہم پاکستان کو توڑینگے۔ وہ ناچ رہے ہیں یہ کس کے ایجنٹ ہیں؟ اسلام آباد کے ایجنٹ ہیں۔ سندھ نہیں کہتا، میں چیلنج کرتا ہوں کہ سندھ میں کوئی ذمہ دار آدمی یہ کہے کہ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں یہ کونسل کا ممبر تو بن کر دکھائے۔ یہ ایجنسیز کی مہربانیاں ہیں۔ یہ آپ کی نوازشیں ہیں کہ آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں کہ پاکستان کو توڑینگے ، تاکہ آپ کو موقع ملے آرمی لائیں، آپ ہمیں پاکستان دشمن، پنجاب دشمن ، عوام دشمن، قاتل ، بھارتی ایجنٹ، را کا ایجنٹ ثابت کریں۔ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں جناب من ! ہم تعلیمافتہ ہیں جاہل نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ آج انٹیلی جنس کی اسٹریٹیجیز کیا ہیں؟ ہم پڑھے ہوئے ہیں ہم tacticsحربے جانتے ہیں۔ ہم ڈائریکشنز جانتے ہیں۔ قطرہ قطرہ کرکے آپ ہمارے جسم میں زہر ڈال رہے ہیں۔ ایک لاکھ آگیا ،دو لاکھ آگیا، کوئی پرواہ نہیں اسلام کا دامن بہت وسیع ہے۔ آپکا دامن کیوں وسیع نہیں ؟۔ ہمارے لئے ایک نوکری نہیں چھوڑتے ۔ فوج میں ایک لیفٹیننٹ دینا نہیں چاہتے۔ آپکے دامن کی وسعتوں کو کیا ہوگیا؟۔ آپ تو ایک پرائم منسٹر کو برداشت نہیں کرسکتے کہ دو دن کیلئے وہ پرائم منسٹر بن جائے۔ ہمارے لئے تو سینٹ میں سیٹ نہیں۔ ہمارے لئے پاکستان میں کوئی جگہ ہو تو دکھائیں۔ سندھ کیلئے آپکے دامن میں کیا ہے؟، ہمیں سخاوت کاسبق پڑھارہے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ماما کے گھر مہمان آئے تو میرے دل کو کوئی اندیشہ نہیں ۔آپ اپنے مال پر کچھ سخاوت کرکے دکھائیں جناب! تو ہم دیکھیں، ہمارے بھائی ہندوستان میں تھے، 1940 ریزولوشن میں ایک آدمی کو سندھ لانے کیلئے ایگریمنٹ نہ تھا۔ ہم ان پڑھ نہیں، وکیل قانوندان ہیں۔ آپ کی تشریح ہم نہیں مانتے۔ آپ کہاں تھے جب پاکستان بن رہا تھا؟، لوگ جیلوں میں جارہے تھے تو آپ انگریز بہادر کے سامنے اپنے فلسفے جھاڑ رہے تھے۔ آپ تو دشمن کے کیمپ میں تھے۔ آپ ان کو سبق سکھاتے تھے جو جیلوں میں تھے۔ میں بچہ تھا ، ہم لڑے جلوس نکالے ، ہم نے 1946ء آرمی ونیوی کا جو انڈین باغی تھا، جلوس نکالا تھا کراچی میں آپ کہاں تھے؟۔ آپ تمام معزز اور قابل احترام جرنیل کہاں تھے؟۔ سندھ ایگریمنٹ یہ ہے کہ ایک بھی آدمی کو سندھ کے وسائل پر متصرف ہونے کا حق نہیں دیا گیا۔ پھر راستہ بند ہوگیا کہ اس تاریخ کے بعد لوگوں کا منتقل ہونا بند ہوجائیگا۔ آپ نے وہ بھی توڑ دیا اس کے بعد۔ ہندوستان میں تو لاکھوں مسلمان ہیں ۔ دس کروڑ مسلمان ابھی ہندوستان میںہیں۔اگریہ بہاری حضرات ہمارے بھائی جنہوں نے کچھ کارہائے نمایاں اسلام اور پاکستان کیلئے انجام دیا، جو ساری دنیا میں مشہور ہیں اگر وہ حق رکھتے ہیں تو10 کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں ہیں اسلامی مملکت میں رہنے کا حق کیوں نہیں رکھتا؟۔ آپ تو کل کھڑے ہونگے کہ یہ مسلمان ہے ہمارا دامن وسیع ہے۔ پھر پنجابی حضرات آپکے رہنے کی جگہ بھی نہیں ہوگی۔ آپ سخاوتیں کریں تو آپ مینورٹی میں بدلو گے۔ اگر 10کروڑ آیا تو تم کہاں جاؤ گے؟۔ آپکے دماغ چھوٹے ہیں، تاریخ نہیں پڑھی۔ آپ توکہتے ہیں ون ٹو تھری لیفٹ رائٹ مارچ ہوگا۔ جو بڑاتیر مارا، ہم نے بنگال میں دیکھا ، آپکی فہم و فراست، آپکے مشورے کہ قہر خداوندی بن کر ٹوٹ پڑو۔ قہر خداوندی بنکر ٹوٹ پڑے پاکستان کی سالمیت اور بقاء پر ۔ پاکستان کی حدود پر آپ ٹوٹ پڑے اور پوری دنیا میں آپ نے رسوا کردیا۔ ہم کہتے ہیں ان لوگوں کو مت لاؤ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ اسلئے لارہے ہیں تاکہ سندھی لوگوں کو جیسے میرے بھائی نے کہا کہ آپ سزا دے سکیں۔ آپ ہمیں پاکستان میں فٹ نہیں دیکھتے ہم آپ کو نہیں بھاتے۔ ہمیں پسند نہیں کرتے۔ جس طرح بنگالیوں کو تہہ تیغ کرنے کے منصوبے اور سازشیں بنارہے تھے ،پہلے دن سے آپ سندھ کیخلاف سازشیں بنا رہے ہو۔ آپ کی ہر ادا، نظریہ آپ کی ہر دلیل آپ کی ہر تشریح بتاتی ہے کہ آپ سندھ کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہیں۔ اس کیلئے آپ نے دلائل کے ابنار لگائے اور آہستہ آہستہ ہمیں پیرالائز کررہے ہیںاور سائیکالوجیکل پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سندھی نوکری نہیں کرتے؟۔ آپ دیں میں آپ کو پانچ ہزار نوجوان دیتا ہوں کہاں ہے نوکری؟۔ سب لے گئے آپ۔ میں دیتا ہوں نوجوان۔ لیفٹیننٹ چاہئیں میجر کیلئے کوالیفائڈ چاہیے میں۔ آپ ہمیں اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ میں 20سال پہلے لکھ چکا ہوں ۔ اسٹیبلشمنٹ بڑی گھناؤنی سازش کرکے سندھی لوگوں کے حق پرست انسان دوست مہذب وجود کو برداشت نہیں کرتی۔ آپ اپنے آپ کو خاص مخلوق سمجھتے ہیں کہ دنیا کو فتح کرنا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ خداوند عالم نے آپ کو حاکم کا منصب عطا کردیا کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرائیں گے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے والوں میں سے ہم نہیں۔ ہم انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں ، جمہوریت اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس کیلئے یہ فٹ نہیں ۔ اسلئے تہہ تیغ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دلائل لاتے ہیں دنیا بھر سے دہشتگرد جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے ان کو ہتھیار بند کیا یہ سارا کھیل آپکا ہے۔ پہلے دن سے پتہ ہے کہ ہم سے یہ ملکیت لیکرکنگال اور فقیر کرکے بے وطن کررہے ہیں۔ یہ ڈاکو آپکے پالے ہیں۔ آپ طاقت کے زور پر دہشت کریں، یہ دلائل ہم جانتے ہیں؟بنگالی مسلمان نہیں؟ انکے ساتھ کیوں نہیں رہے؟ کیا ضمانت کہ ہمیں خون میں ڈبونے کیلئے نہیں آئیں گے؟۔ کیا ضمانت ہے کہ کل آپ سے ملکر ہمارے یہاں وہی حالت اور وہی ڈرامہ نہیں کرینگے جو پہلے کیا، جو آج کیا جارہا ہے؟۔ کراچی پری ویو ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ 20برس سے ٹریلر آپ دکھارہے ہیں دہشتگردی کا، آپ نے سنا، پنجاب میں ایسی کوئی بات ہو؟ جو کراچی میں ہو رہی ہے۔ عورتوں کی چھاتیاں کاٹی جاتی ہیں ؟۔ پنجاب ، سرحد ،بلوچستان، سندھ میں یہ روایت ہے؟ عورتوں کی تذلیل کی یہ روایت ہے؟ یہ ٹارچر جس میں مشینیں لیکر گھساتے ہیں یہ کون ہیں؟ یہ ہمارے زبردست آدمی ہیں جو سکھاتے ہیں کہ اس طرح سے لوگوں کو دشمن بنایا جائے۔
جناب عالی! ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سندھیوں کیساتھ ظلم، بین الاقوامی جرم ہے۔یہ مظلو م محکوم اور پر امن قوم کا وجود مٹانے کی سازش کی بہت بڑی کڑی ہے۔ ہم پنجاب کی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ غور کریں ، آج ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ہم آپ کو متاثر کرسکیں کیونکہ آپکے پاس طاقت ہے۔ پنجاب کی عوام نہیں کیونکہ آپ تو خود محروم ہیں۔ حکمران طبقوں کے پاس طاقت ہے اور انکے دماغوں میں بڑے بڑے خواب ہیں ساری دنیا پر حکومت کرنے کے۔ ہٹلرسے بڑے خواب ۔ ٹھیک ہے، آپ یہ سمجھیں اخلاقاً کہ ہم آپکے ساتھ ہوئے مشکل وقت میں پاکستان ہمارے بغیر بن نہیں سکتا تھا۔ قائد اعظم ہم نے دیا۔ پاکستان کا پہلا ریزولوشن ہم نے دیا۔ پہلا تخت گاہ ہم نے دیا،میزبانی کیلئے راستوں پر ہم کھڑے تھے۔ دیگیں ہم نے پکائی تھیں، اپنے ہم زبانوں کیلئے نہیں جیسے پنجاب میں آئے ۔ ان کیلئے جن کی زبان ہماری نہیں تھی ۔ ہم سے نفرت کرتے تھے ہمیں دراصل فتح کرنے آئے مگر ہم نے اپنے دل ان کیلئے کھول دئیے۔ یہ نہیں کہ فصاحت و بلاغت سے متاثر ہوئے لمبی دھارائی، تقریریں اور ڈانس سے ہم متاثر ہوئے۔ ہم سیدھے لوگ دیہاتی ہیں یہ تقریریں ہمارے لئے وقعت نہیں رکھتیں۔ ہم انسان کا دل دیکھتے ہیں۔ دیکھا کہ مظلوم ہیں تو اپنا دل پیش کیا۔ آج ہمارے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے کیا اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا؟۔ آج آپ جو بورے ہیں، کیا کل نہیں کاٹیں گے؟ تاریخ میں کوئی بھی ایسا فعل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ نہ ہو۔ آج نہ ہو تو کل ہوگا ،کل نہ ہو تو پرسوں ہوگا۔

خلافت پاکستان سے شروع ہوگی دنیا کیلئے، امریکن پروفیسر آلان کیسلر

السلام علیکم ! میرا نام ہے آلان کیسلر۔ میں امریکہ میں بیٹھ کرہمیشہ پاکستان کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ اور ہم آج خلافت راشدہ کے بارے میں بات کریں گے۔ انشاء اللہ۔ ایک دعا کریں گے حضرت محمد ۖ کو یاد کرتے ہوئے ۔ اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد ۔(درودِ ابراہیمی) ۔سب دعا کریں کہ پاکستان میں خلافت راشدہ قائم ہوجائے۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے آمین بہت اچھا۔ اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے یہ ناممکن ہے فاطمہ علی کے کمنٹس تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بنائیں گے خلیفہ۔ یہ بات مجھے بہت ہی اچھی لگی کہ یہ حقیقت ہے۔ کوئی سیاستدان نہیں بناسکتا ہے فوج بھی نہیں بناسکتی ہے صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ خلیفہ راشد کو بناسکتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا سسٹم ہوگا یہ فاطمہ علی آگے بتارہی ہے شیر اور بکری ایک جگہ پانی پی سکیں گے۔ یہ بھی مجھے بہت ہی اچھا لگااور وہ آگے بتارہی تھی کہ لوگوں کی ضرورت نہیں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے یہ صرف اللہ تعالیٰ کرسکیں گے اور وہ کرے گا انشاء اللہ۔ وہ ایسا کرے گا جو ہمارے لئے سمجھنا تھوڑا سا مشکل ہے لیکن وہ سب کچھ کرسکتا ہے آسانی سے کرسکتا ہے۔ اس کیلئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ پاکستان میں خلافت راشدہ قائم کب ہوگی جب ہم سب پاکستانی لوگ خود پاک بن جاتے ہیں۔ جب ہم لوگ صراط مستقیم پر چلتے ہیں تو پھر کوئی سیاستدان نہیں بلکہ ہم سب عوام، جہاں تک میں سمجھتا ہوں خلافت پاکستان سے شروع ہوجائے گی لیکن یہ پوری دنیا کیلئے ہے۔ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ ہر ایک مذہب کے لوگوں کیلئے ہے۔ کیونکہ خدا ایک ہی ہے۔ آج جو سیاسی سسٹم ہے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ، جو سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اس سے کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان سیاسی پارٹیوں میں بہت کرپشن ہے اور کرپشن سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔ کیونکہ جو بڑے شیطانی لوگ ہیں انہوں نے یہ سسٹم بنایا ہے۔ یہ پولیٹیکل سسٹم جو آ ج ہم دیکھتے ہیں دنیا میں نام نہاد ڈیموکریسی عوام چن لیتی ہے کہ کون ہمارا لیڈر ہوگا نہیں یہ جھوٹ ہے۔ عوام نہیں چن لیتی ہے یہ الیکشن سب فکسڈ ہیں اور میں ان کو شیطان کے چمچے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو ایلومنارٹی کہتے ہیں یہ سب سیاسی پارٹیوں کو اپنے قبضے میں رکھتے ہیں۔ اور اگر کوئی ان کے قبضے سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے وہ انکے خلاف بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس بے حد پیسہ ہے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں کسی بھی پارٹی کو ختم کرنے کیلئے۔ رشوت کھلاسکتے ہیں اسی پارٹی کے برے آدمیوں کو ، اسلئے میں یہ کہہ رہا ہے ہوں کہ آج جو دنیا میں یہ سیاسی سسٹم ہے اس سے خلافت راشدہ کبھی قائم نہیں ہوسکتی۔ ایک نئے سسٹم کی ضرورت ہے۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ وہ کرے گا کوئی سیاسی پارٹی نہیں۔ اسلئے پاکستان کو مدینہ ثانی کہا گیا ہے۔ مدینے میں حضرت محمد ۖ نے خلافت کو قائم کیا تھا اور یہودی بھی تھے وہاں اور یہودیوں کو اپنے مذہب پر رہنے کی اجازت دی گئی وہاں ان کو مسلمان نہیں بنایا گیا تھا۔ ہاں جو بننا چاہتے تھے مگر جو نہیں بننا چاہتے تھے تو وہ اپنے مذہب میں رہے۔ یہی قائد اعظم کا بھی کہنا تھا جو کرسچن ہیں جو ہندو ہیں پاکستان میں وہ اپنے مذہب میں رہ سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ان کو مسلمان بننا پڑے گا۔ خلیفہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں سب کو مسلمان بناؤں گا۔ تو یہ وہی بات ہے جو میں بار بار بتارہا ہوں کہ مجھے یہ بتایا گیا تھا 1983ء میں پاکستان دا مطلب ہے او پاکستان جتھے حضور پاک اوڈے پاک مصاحف دے نال اسلام پاک پر قائم کریں گے۔ تو یہ خلافت راشدہ کا بھی جواب ہے۔ بیشک بہت سارے یزید ہیں یا دجال ہیں جو پوری دنیا کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور کررہے ہیں اور جو خود خلیفہ بننا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں بن سکے گا۔ دجال کا یہی پروگرام ہے لیکن وہ فیل ہوجائے گا انشاء اللہ۔ اگر الیکشن ہوتے ہیں تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ الیکشن ووٹر لسٹ میں بہت دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اور الیکشن میں بھی دھوکہ ہوتا ہے۔ الیکشن کام نہیں دے گا۔ الیکشن میں اتنے پیسے بھی خرچ کرتے ہیں پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں دھوکہ دیتے ہیں لوگوں کو دھمکی دیتے ہیں لیکن اصلی جو خلیفہ ہوتا ہے وہ یہ چاہتا بھی نہیں کہ وہ خلیفہ بن جائے وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کو یہ نہ کرنا پڑے لیکن جب اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے تو اس کو کرنا پڑتا ہے۔ یہی ہے خلافت کا راز۔ الیکشن نہیں چناؤ نہیں لیکن جو بنے گا وہ بننا بھی نہیں چاہتا ہے۔ یہ جو نام نہا د خلافت ہوتی ہے ISIS وغیرہ دہشت گردوں کی یہ بالکل خلافت کے برعکس ہے۔ یہ دجال کی نام نہاد خلافت ہے فتنہ ہے ۔ یہ ایک لڑائی ہے ابلیس کی۔ سب سے بڑا ہتھیار ہمارے دل میں ہے کہ فیصلہ کرنا ہے کہ جو کچھ اللہ چاہتا ہے وہی کروں گا۔ جو شیطان یا ابلیس غلط راستے پر لگانا چاہتا ہے ۔ ہم بس دعا کرتے ہیں کہ اھد نا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغصوب علیھم ولا الضالین۔ تو جب ہم یہ حقیقت میں چاہتے ہیں تو اللہ ہماری مدد کرے گا کہ ابلیس سے ہمیں ایسے لڑنا ہے اور پھر سب کچھ ہوجائے گا۔ فکر نہیں کریں۔