پوسٹ تلاش کریں

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv

Is Ansar Abbasi’s attack on Quran the Trinity of Lahore the Islam of the Royal Mosque, Data Darbar, and Heera Mandi?

Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool jan, Women rights in Islam, Reham Khan, Surah Noor, Journalist Ansar Abbasi, Reham Khan, Reham Khan, Reham Khan, Reham Khan, Reham Khan, Surah Noor, Surah Noor

انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) کا قرآن پرحملہ کیاتختِ لاہور کی تثلیث شاہی مسجد،داتا درباراور ہیرہ منڈی کا اسلا م ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

انصارعباسی نے کہا ”اگر بیوی سے کوئی بدکاری کا تعلق رکھے تو قرآن میںبستر الگ کرنے کا حکم ہے” حالانکہ یہ قرآن نہیں بہت بڑابہتان ہے ۔ اوریامقبول جان(Orya Maqbool Jan) ، راجہ سلمان اکرم اور حسن نثار نے بھی قرآن اور فطرت کاکوئی دفاع نہیں کیا۔

اللہ نے فرمایاکہ ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کیلئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کیلئے ہیں ، پاک مرد پاک عورتوں کیلئے اور پاک (Surah Noor) عورتیں پاک مردوں کیلئے ہیں”۔سورۂ نور

اللہ نے فرمایا کہ ”زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کردیا گیا ہے”۔سورۂ نور(Surah Noor) ۔قرآن واضح ہے۔

اسلام کے نام پر امریکہ اور تختِ لاہور نے پختون معاشرہ دہشتگردی سے تباہ کردیا لیکن میڈیا پر اصلی اسلام اور قرآن کی جگہ من گھڑت اسلامی احکام کی ترویج کا سلسلہ جاری رکھا ہے

کسی بھی شوہر کیلئے اپنی عورت کا سب سے بڑا سنگین معاشرتی جرم یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے جنسی تعلقات قائم کرے۔ جو انسانی فطرت اور غیرت کا جنازہ ہے۔ ایسا معاشرہ جانوروں سے بدتر ہے۔اللہ نے فرمایا ” زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کیا گیا ہے”۔ (سورۂ نور-Surah Noor) نعیم بخاری نے اداکارہ طاہرہ سید سے نکاح کیا، نواز شریف سے تعلق پر چھوڑ دیا۔ بیوی کے غلط تعلق پر بستر الگ کرنے کا معاملہ قرآن نہیں کوئی دیوث کریگا۔ کیپٹن صفدر اور مریم نواز کیلئے قرآن کے احکام میں تبدیلی کی حرکت بہت گھناؤنی سازش ہے۔
اچھے معاشرے کیلئے ضروری ہے کہ انسانوں کا نسب اور غیرت محفوظ ہو اسلئے کہ نسل وغیرت غیرمحفوظ ہو تو معاشرے میں ہر چیز بے اعتبار ہوگی۔ انتہائی کمینہ طبقہ بھی کہتا ہے کہ” عورتیں پرائی مگر بچے اپنے اچھے لگتے ہیں”۔ خبیث اور ناپاک معاشرے میں بیوی بچوں پر بھی اعتبار نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ہیں بھی یا نہیں؟۔ مذہب اور توحید کے مسئلے میں ہم ایکدوسرے کو گلے لگاسکتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کیا کہ ” دین میں کوئی زبردستی نہیںہے”۔ مسلمان کاعیسائی ویہودن عورتوں سے نکاح ہوسکتاہے۔ یہودی، ہندو اور عیسائیوں سے مسلمانوں کے شدید اختلافات کے باوجودسب اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل وفلسطین ، ہندوستان اور امریکہ و یورپ میں اچھے تعلقات رکھتے ہوئے امن وسکون سے رہ سکتے ہیں مگراپنی بیوی کی بیوفائی اور اس کی گود میں پرائے بچوں کی پرورش بالکل ناقابلِ برداشت ہے۔یہ انسانی فطرت اور غیرت کیخلاف ہے اور اللہ نے کوئی ایسا غیرفطری درس نہیں دیا ہے۔
انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) خود کوپکا مؤمن اور قرآن کا علمبردار سمجھتا ہے جو انتہائی درجے کا مکار ہے۔ سیاسی مفاد کیلئے اپنے کرتوت جیسے چاہے بدلے لیکن قرآن پر اتنا بڑا بہتان لگانا انتہائی درجے کی نااہلی ہے۔ اوریا مقبول جان(Orya Maqbool Jan) کو اللہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ وہ امام مہدی کی آمد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر ڈیڈ لائن اورلوگوں کو جھوٹی اُمیدوں کے جھانسے دے بلکہ قرآن ہی ہدایت کا ذریعہ ہے۔ سورۂ الفاتحہ میں یہ دعا ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم ”ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت دے”۔ہر نماز کی ہر رکعت میں مسلمان سورۂ فاتحہ کی یہ دعا مانگتے ہیں۔
صراط مستقیم قرآن ہے۔ المOذٰلک الکتاب لاریب فیہOہدیً للمتقینOالذین یؤمنون بالغیب ”یہ وہ کتاب ہے جس میں شک نہیں ، ہدایت ہے پرہیز گاروں کیلئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں”۔ (البقرہ) قرآن میں کوئی شک نہیں اور اپنی طرف سے جو لوگ ذہنی تخمینہ لگاکر لوگوں کو اس کے پیچھے لگائے رکھتے ہیں تو اس کا سارا معاملہ مشکوک ہوتاہے۔ پورے کا پورا قرآن وہ علم غیب ہے جس پر ایمان لائے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا ہے۔ علم غیب اسلئے ہے کہ اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان ہی علم غیب پر ایمان ہے۔
قرآن کا علم غیب انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مذہبی طبقات کے علاوہ پنجابی ، سندھی ، پختون ، بلوچ اور مہاجرکے رسم ورواج میں بڑابگاڑ ہے۔
اوریا مقبول جان(Orya Maqbool Jan) سے حسن نثار نے ٹھیک کہا کہ جب تک تمہارے جیسے لوگ ہوں گے تو یہ امت کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔
انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) نے قرآن پر اپنی طرف سے بڑا جھوٹا بہتان لگادیا لیکن مذہبی طبقات نے اسکا کوئی نوٹس نہیں لیا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کا اپنی تعلیمات سے بھی یقین وایمان بالکل اُٹھ چکاہے۔
قرآن و حدیث کے نام سے نت نئے گروہ جنم لے رہے ہیں۔ ایک سیدھی بات سب کو سمجھانا ضروری ہے کہ ”اللہ کو سب مانیں لیکن اللہ کی کوئی نہیں مانے توہم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں”۔ غیب پر ایمان یہ ہے کہ قرآن میں جو بھی ہے اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مسائل کا حل ہے۔ قرآن میں بات نہ ہو تو اس کو قرآن کی طرف منسوب کرنا انتہائی غلط اور غلیظ حرکت ہے۔ قرآن کی تعلیم بہت سادہ،سہل سلیس ہے۔ جو مذہبی تشخص پیش کرکے اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ دیتے ہیں انکے مکروہ چہروں سے نقاب کھینچنے کی سخت ضرورت ہے۔
نوازشریف نے پارلیمنٹ میں لندن فلیٹ کے حوالے سے تحریری مؤقف پیش کیا اور عدالت میں طلب کرنے پر دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کا بیان دیا لیکن جب عدالت نے طلب کیا تو قطری خط پیش کیا اور پھر قطری خط سے انکار کردیا۔ اگر یہ جمہوریت اور عدالتی نظام ہے اور اس کو ہم آئین پاکستان کے عین مطابق قرآن وسنت سمجھ کر دفاع کررہے ہیں تو ایسے اینکرپرسن اور صحافیوں کو بڑی شاباش دینا چاہیے۔ اس معاشرے میں ہرقسم کے لوگ بستے ہیں تو صحافیوں کو بھی دلالی کے ذریعے اپنے بچوں کو پالنے کا حق بالکل ملنا چاہیے۔
انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) نے جس پروگرام میں کامران شاہد کیساتھ(2014 ) میں قرآن کے جعلی حکم نامے کا بیان ریکارڈ کروایا تھا تو اس کو 4سال پہلے یوٹیوب پر دیا گیا ہے۔ جس کو حقیقت سمجھ کر دیکھا جارہاہے لیکن اس پر کوئی ردِ عمل نہیں آیاہے۔ انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) کو پرواسٹیبلیشمنٹ سمجھا جاتا ہے اور اسلام کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے چند ماہ پہلے اسلام اور آئین پاکستان کے مضبوط تعلق کا ذکر کیا تو میڈیا نے اس کو زیادہ اہمیت نہ دی جس پر انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) نے میڈیا کو لبرل اور اسلام کیخلاف سازش قرار دیا ۔ حالانکہ درباری علماء سود کو جائز قرار دیتے ہیں تو سود کے نام پراسلام کو استعمال کرنے کا جواز نہیں ہے۔ مغربی سود اور اسلامی سود میں یہ فرق ہے کہ وہاں عوام کو کم شرح سودپر قرضہ ملتا ہے اور اسلام کے نام پر یہ شرح سود عام بینکوں کی طرح مزید بڑھایاگیا اور عذرِ گناہ بدتر ازگناہ بلکہ اسلام کو بدلنے کا جرم ہے۔
انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) دیگر کئی صحافیوں کی طرح ن لیگ کے سپوٹر ہیں مگر سیاسی سپوٹ کیلئے عدالتوں کے وکیل اور ٹی وی چینلوں کے اینکرپرسن کافی ہیں۔ قرآنی تعلیم کو مسخ کرنا انسانی فطرت کے منافی ہے۔ شوہر بیوی کے غلط تعلق پر بستر الگ کریگا تو دنیا اور تمام گھروں میں بڑا بگاڑ پیدا ہوگا۔مذہبی جماعتیں انصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) پر کھلے عام توبہ کرنے کیلئے بالکل واضح دباؤ ڈالیںیا ان کی دُم کو متحرک کرنا ضروری ہے؟۔
جب عمران خان نے ریحام خان(Reham Khan) کو طلاق دی تو قندیل بلوچ نے انکشاف کیا کہ عمران خان کا کسی عامل پیرنی سے تعلق ہے۔ اسی سے شادی کریگا پھر قندیل بلوچ قتل ہوگئی۔ کچھ عرصہ عمران خان تیسری شادی کی بات اور کسی خاتون کی نامزدگی کا زیرِ لب اظہار بھی کرتا رہا ۔ لیکن نام بتانے سے انکار کرتا تھا اور یہ بھی نہیں بتاسکتا تھا کہ وہ کنواری ، طلاق شدہ یا بیوہ ہے کیونکہ وہ کسی کے نکاح میں تھی۔ پھر شادی کی خبر آئی تو بشریٰ بی بی کے بچوں نے تردید کردی لیکن پھر شادی کا اعلان ہوا۔ جنگ اور جیو کے صحافی نے عدت کے اندر شادی کاکہہ دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان نے اپنے گھر کو لیگل کردیا ہے لیکن وہ اپنی بیگم کو کب لیگل کرے گا؟۔
اگرانصار عباسی(Journalist Ansar Abbasi) اسٹیبلیشمنٹ کی پیداوارسیاسی طبقہ نوازشریف، عمران خان اور مریم نواز کیلئے اپنا خود ساختہ اسلام بیان کررہاہے تو اس کیلئے قرآن کو مسخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ درباری علماء کی طرف سے فتوے لیں۔ قرآن میں فحاشی پر اپنی عورت سے بستر الگ کرنے کی بات نہیں بلکہ گھر سے نکالنے اور لعان کا حکم دیاہے۔ بستر الگ کرنے کی بات کا فحاشی سے کوئی تعلق نہیں ۔ سورۂ النساء اور سورۂ الطلاق اور سورۂ النور(Surah Noor) میں معاملہ واضح ہے۔
غلام احمد پرویز نے قرآن کی خود ساختہ تعبیر کی ہے جس کی وجہ سے معاملات اتنے گھمبیر ہوگئے کہ بڑی بڑی فحش اور فاش غلطیوں کا بھی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔ جب مخلص اور اچھے علماء ودانشوروں کے اجتماع میں ان غلطیوں کے ازالہ کیلئے موثر کوشش کی جائے تو ہم اورسب لوگ مشکلات سے نکلیں گے اور اچھے دن بہت جلد دیکھنے کو ملیںگے۔انشاء اللہ


باد شاہی مسجدکی یہاںشریعت ہے، عقیدت داتا دربار سے اور عمل کا تعلق ہیرہ منڈی سے ہے۔ تختِ لاہور کی تثلیث نے(70)سالوں میں ملک کا آدھا حصہ پہلے گنوادیا۔پختونخواہ کو دہشتگردی سے تہس نہس،بلوچ کو ملیا میٹ، کراچی کے مہاجروں کو انسانیت کے دائرے سے باہر اور سندھیوں کو بدظن کردیا۔ پنجابیوں اور سرائیکیوں کا بھرکس نکال دیا۔ موٹروے ،ائرپورٹ ، سرکاری املاک کو بینکوں میں گروی رکھوادیا اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا اور غریب کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے مگرمدارس پرغلط علماء اور میڈیا پر غلط سرکاری اورغلط صحافیوں کی اجارہ داری ہے۔

اسلامی احکام کو پشتون قوم نے اگر من حیث القوم رائج کرنیکی کوشش شروع کردی جواپنی پشتوں میں بارود ڈال کر خودکُش دھماکوں سے زیادہ آسان ہے تو اس سے پاکستان، افغانستان اور ہندوستان میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی رُوح دوڑ جائے گی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن میں شجرہ ملعونہ کو فتنہ قرار دیا گیا ہے، سورۂ نور میں لعان کے حکم پر پشتون عمل نہیں کرسکتے مگرسورہ ٔ بقرہ میں حلالہ کی لعنت کے فتنے سے فقہاء نے دوچار کیا جس سے نکل جائیں گے!

قرآن کی وجہ سے صحابہ کرام نے عروج حاصل کیا،آج قرآن پر دنیا عمل پیرا ہے لیکن مسلمان اندھیر نگری کا شکار ہیں اور جب قرآن کی طرف رجوع ہوگا تو عروج ملنے میں دیر نہ لگے گی !

ایک شخص اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ تجھے تین طلاق۔ جب علماء ومفتیان اس کو فتویٰ دیتے ہیں کہ جب تک کسی اور شخص سے حلالہ نہیں کروائے گا تو اس کیلئے یہ بیوی حلال نہیں ہوگی۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اگر بیوی سے حلالہ کی لعنت کیساتھ رجوع کرتا ہے تو عزت خراب ہوجاتی ہے لیکن ایمان بچ جاتا ہے تو وہ عزت کی قربانی دے کر اپنا ایمان بچانا ضروری سمجھ لیتا ہے۔ مدارس میں قرآن وسنت، صحابہ اور اہل حق کے خود کو بڑے علم بردارسمجھنے والے حنفی علماء کی اکثریت ہے۔ میرا اپنا اور میرے آبا واجداد کا بھی حنفی مسلک سے تعلق ہے۔ میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں شیخ التفسیر مولانا بدیع الزمان سے اصولِ فقہ کی کتابیں پڑھی ہیں اور وفاق المدارس پاکستان سے ان کی سند بھی حاصل کرلی تھی۔
اصولِ فقہ میں حنفی مسلک کی بنیاد یہ ہے کہ پہلے قرآن کو اولیت حاصل ہے، دوسرا نمبر سنت کا ہے، تیسرا نمبر اجماع کا ہے اور پھر قیاس ہے۔ قیاس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قرآن ، سنت اور اجماع میں سے کوئی دلیل ہو تو اس پر مسئلے کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ قیاس کی ایسی ہی مثالیں پڑھائی جاتی ہیں۔ جب قرآن میں کوئی بات ہو تو سنت کی ضرورت نہیں ہے اور سنت میں کوئی بات ہو تو اجماع کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ طالب علمی میں درسِ نظامی پڑھانے کا مقصد طلبہ میں علم پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ وہ علم کی تحصیل سے فارغ ہوگیا ہے۔ یہ جاہلوں کا شیوا ہے کہ خود کو فارغ سمجھیں۔
حنفی مسلک کا یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر حدیث کی خبر واحد قرآن کی آیت سے ٹکرائے تو پہلے تطبیق یعنی موافقت کی کوشش کی جائے گی تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہو۔ لیکن اگر دونوں میں تضاد ہو تو پھر قرآن پر عمل ہوگا اور اس کے مقابلے میں خبرواحد کو چھوڑ دیا جائے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورۂ بقرہ آیت (230) میں اللہ نے فرمایا: حتی تنکح زوجاً غیرہ ” یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”۔ قرآن کی اس آیت میں عورت کو نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسکے مقابلے میں حدیث ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے”۔ قرآن کی اس آیت اور حدیث میں تطبیق نہیں ہوسکتی ہے کہ دونوں پر عمل ہو اسلئے حنفی مسلک کے مطابق یہ حدیث ناقابلِ عمل ہے۔
اصول فقہ کی تعلیم کے وقت طلبہ قرآن وحدیث سے واقفیت تو دُور کی بات عربی پڑھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے ہیں اسلئے اصول فقہ کی کتابوں ”اصول الشاشی ”اور” نورالانوار” میں یہ سمجھنابھی بڑی بات ہوتی ہے کہ کتاب کی عبارت کا مفہوم کیا ہے؟۔ نسبتاً ذہین طلبہ تکرار کی بنیاد پر بڑی مشکلوں سے خود بھی ترجمے کا مفہوم رٹ لیتے ہیںاور دوسروں کو بھی رٹا دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے میرے اندر ذہنی صلاحیت رکھی تھی ۔ مجھے یہ خیال آیا کہ قرآن وحدیث میں پہلے تطبیق کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر اگر قرآن کے مقابل حدیث ہو تو حدیث کو چھوڑنا چاہیے۔ قرآن کی آیت (230)کے ان الفاظ میں طلاق شدہ عورت کو نکاح کی اجازت دی گئی ہے جبکہ طلاق شدہ اور کنواری کے احکام معاشرے اور شریعت میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا قرآنی آیت سے مراد طلاق شدہ اور حدیث سے کنواری لڑکی مراد لی جائے۔ مولانا بدیع الزمان نے میری بات میں بہت وزن قرار دیکر آئندہ کیلئے حوصلہ افزائی فرمادی تھی۔
مفتی عبدالمنان ناصر اور قاری مفتاح اللہ صاحب بھی ہمارے اساتذہ کرام تھے اور میری طرف سے کتابوں پر اعتراض ہوتا تھا تو فرماتے تھے کہ عتیق زیادہ ذہین اور درست بات کہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا کہ جب درسِ نظامی کے ساتویں درجے میں تفسیر کی آخری کتاب” بیضاوی شریف” پڑھی تو اس میں سورۂ بقرہ کی تفسیر میںلکھا ہے کہ المO سے کیا مراد ہے؟۔ اللہ ہی اس کو جانتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الف سے اللہ، لام سے مراد جبریل اور میم سے مراد محمدۖ ہیں۔ یعنی اللہ نے جبریل کے ذریعے یہ کتاب محمد ۖ پر نازل کی ہے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ اس تفسیرمیں دو تضادات ہیں۔ جب اللہ کے سوا کسی کو الم میں پتہ نہیں تو پھر یہ کہنا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے جبریل کے ذریعے اس کو حضرت محمدۖ پر نازل کیا ہے تو یہ سب کو معلوم ہے۔ متضاد چیزیں تو نہیں ہوسکتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پھر تو الف ، جیم ، میم ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ جبریل کا پہلا حرف جیم ہے لام نہیں ہے۔ استاذ نے کہا کہ عتیق کی بات ٹھیک ہے اور بیضاوی نے بالکل غلط لکھ دیا ہے۔ یہ متضاد تفسیر نہیں بنتی ہے۔
سورۂ بقرہ کی طلاق و رجوع سے متعلق آیات میں مسلکی تضادات کی تفسیر کو مسلمانوں اور کفار کے سامنے پیش کیا جائے تو پوری دنیا ہم پر تعجب کرے گی کہ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب میں جو تعلیم دی گئی ہے جس کی وجہ سے صحابہ کرام نے پوری دنیا کو اندھیر نگری سے نکال دیا تھا ،آج مسلمان خود کتنے اندھیرے کی فضاء میں قرآن کی تعلیم کے نام پر رہتے ہیں؟۔ جے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمن میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔ مجھے مفتی محمد تقی عثمانی اور دیگر علماء کرام کے سامنے بٹھادیں اور پھر دیکھ لیں کہ کس کی بات میں وزن اور کس کی بات میں جہالت ہے؟۔ پاکستان میں مدارس اور علماء کرام کی کمی نہیں ۔ مولانا سمیع الحق کا بیان ہمارے اخبار ”ضرب حق ” میں شہ سرخی کیساتھ چھپا تھا کہ” درس نظامی کا نصاب کوئی قرآن وسنت نہیں ۔اس میں تبدیلی کی گنجائش ہے اور غلطیوں کو دور کرنا چاہیے”۔جب تحریک طالبان نے میری وجہ سے میرے گھر پر حملہ کیا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے جامع مسجد ٹانک جمعہ کی تقریرمیں طالبان کو خراسان سے نکلنے والے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ محسود قوم کو پتہ تھا کہ جب ٹانک اور پاکستان کے معروف علماء اپنی تقاریر اور تحریر کے ذریعے میری حمایت کررہے ہیں تو چند ملوثی قسم کے دہشت گردوں کو حملہ کرکے دہشت گردی کا حق نہیں پہنچتا ہے۔
آیت (230) البقرہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے کی آیات میں بھی تسلسل کیساتھ عورت کو اس کے شوہر کی دسترس سے باہر نکالنے کی وضاحتیں کی گئیں ہیں اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ناراضگی اور طلاق کے بعد جب تک عورت راضی نہ ہو تو شوہر کو رجوع کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے۔ اگر علماء یہ وضاحت کرتے کہ باہمی اصلاح اور معروف طریقے کے بغیر رجوع کرنا حلال نہیں حرام ہے تو بہت مناسب ہوتا اور یہی قرآن کی آیات کا واضح ترجمہ اور مفہوم بھی ہے۔
حدیث میں ولی کی اجازت کواس آیت سے ٹکرانا بھی موقع محل کی مناسبت سے بالکل غلط ہے۔ طلاق کے بعد ولی اسکے نکاح میں رکاوٹ نہیں بنتا ہے بلکہ اس کا شوہر بنتا ہے اور شوہر کی دسترس سے باہر نکالنے کیلئے تسلسل کیساتھ اصلاح اور معروف کی شرط بالکل واضح ہے۔ جب تک اس انتہائی درجے کے الفاظ کا استعمال نہ کیا جاتا تب تک عورت کی جان شوہر نے نہیں چھوڑنی تھی۔ قرآن کی اس آیت (230) کے ان الفاظ نے بہت سی خواتین کی جان انکے شوہروں سے بھی چھڑائی ہے۔ صحابہ کرام نے اپنی زبان میں قرآن کو سمجھا تھا اسلئے وہ رجوع کیلئے عدت میںاور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا معاملہ سمجھتے تھے۔ باقی دنیا میں اہل کتاب عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد تھی جنکے ہاں طلاق کا شرعی تصور بھی نہیں تھا۔ عورت شادی کے بعد زندگی بھر طلاق نہیں ہوسکتی تھی اور یہی تصور ہندو، یہود اور دوسرے مذاہب میں بھی تھا۔ لوگوں کا کلچر بھی یہی تھا۔
جب قرآن نے بار بار واضح فرمایا ہے کہ عدت میں باہمی اصلاح کی بنیاد پر رجوع ہوسکتا ہے، معروف طریقے سے عدت میں رجوع ہوسکتا ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے تو کوئی ایسی ٹھوس حدیث اس کے مقابلے میں ہونا چاہیے کہ رسول اللہۖ نے رجوع سے منع فرمایا ہو۔ اگر کوئی حدیث ہوتی بھی کہ نبیۖ نے ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع سے منع فرمایا ہو تو اسکے مقابلہ میں قرآن کی آیات کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تھا کہ جب قرآن رجوع کی مشروط اجازت دیتا ہے اور یہ شرط باہمی اصلاح اور معروف طریقے کی ہے تو اگر نبیۖ نے واضح طور پر رجوع سے منع بھی فرمایا ہوتا تو حنفی مسلک میں پھر بھی قرآن کے مقابلے میں احادیث کو چھوڑ دیا جاتا ۔ لیکن حلالے کی لعنت نے اس امت کو بہت بڑے فتنے اور آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اس کی وجہ سے یہ فائدہ بھی ہوا ہے کہ بہت ساری خواتین جو جان چھڑانا چاہتی تھیں ان کی جانیں اپنے ناپسندیدہ شوہروں سے چھوٹ گئی ہیں۔
قرآن کی سورۂ بنی اسرائیل آیت (60) میں شجرہ ملعونہ کو لوگوں کیلئے فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ سورہ نور کی آیت میں لعان کرنے کا حکم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی کیساتھ کھلی ہوئی فحاشی میں دیکھ لے تو قتل نہیں کرسکتا ہے بلکہ لعان کے ذریعے دونوں ایکدوسرے کی جان چھڑائیں گے۔ یہ حکم بھی لوگوں کیلئے بڑی آزمائش تھی۔ پشتونوں نے اجتماعی اسلام قبول کیا تھا مگر اللہ کی کتاب کو سمجھا نہیں تھا اور جب سمجھ لیا تو کہا کہ پشتو نیم کفر ہے ۔ہم اس پر عمل نہیں کرینگے۔ پشتون قوم بنی اسرائیل کا قبیلہ تھا اور اہل کتاب کا یہ ٹریک ریکارڈ تھا کہ” بعض کتاب پر ایمان لاتے تھے اور بعض کتاب کا انکار کرتے تھے”۔
پشتون اور سکھ میں قومیت کا فرق تھا لیکن مزاج میں یہ ہم آہنگی تھی کہ پہلے کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور بعد میں سوچتے ہیں۔ پشتونوں نے اسلام اور سکھ نے گرونانک کے نئے دین کو قبول کرلیا۔ سکھ اپنے مذہب کی بنیاد پر حکومت کرچکے ہیں، پشتون نے ابھی اسلام کے نام پر دنیا میں حکومت قائم کرنی ہے ۔ جب پشتونوں کو پتہ چلے گا کہ حلالہ کی لعنت اسلام میں نہیں ہے تو علماء ومفتیان کو متحرک کرینگے اور حلالہ کی لعنت کو جڑ سے ختم کرینگے ۔ خواتین کو بھی قرآن کے مطابق حقوق دینگے۔ پشتوں میں بارود بھر کر خود کش حملوں سے زیادہ آسان یہی ہے کہ اسلام کے نام پر بے غیرتی کا خود ساختہ معاملہ ختم کیا جائے۔ پختونخواہ ، بلوچستان اور افغانستان کے پشتون اجتماعی فیصلہ کرینگے تو اس کے اثرات پنجابی، بلوچ، سرائیکی، سندھی، مہاجر، کشمیری اور خطے پر پڑیںگے۔ پھر ہندوستان کے برہمن جو اپنے اصل کے اعتبار سے یہود اور ابراہیمی ہیں اسلام کو قبول کرلیں گے۔ اچھوت تو بہت پہلے ہی مسلمان ہوگئے لیکن قریش نے قومی حیثیت سے اسلام کو قبول کیا تو پھر دنیا نے اسلام کو قبول کیا، اسی طرح سے ہندوستان کے برہمن بھی اسلام کو اپنی مرضی اور خوشی سے قبول کرینگے تو علامہ اقبال کا قومی ترانہ ”ساری دنیا سے اچھا ہندوستان ہمارا میرعرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے” ہم سب مل کر پڑھیںگے۔ کرونا نے انسانیت جگانے کی بنیاد رکھ دی ۔ انگریز نے زبردستی سے ہندو رسم ”ستی” کا خاتمہ کردیا تھا اور اب ہندو قوم کو مردے جلانے کی رسم کا بھی از خود خاتمہ کرنا چاہیے اسلئے کہ بیمارہندو جب لاش جلانے کے ڈھیر دیکھتے ہیں تو پھر ڈپریشن بھی موت کا باعث بنتی ہے۔ اسلام نے لاش کی حرمت کی بنیاد انسانیت کی وجہ سے رکھی ہے۔ مسلمانوںمیں یہ تعصبات جاہلیت کی وجہ سے تھے کہ ہندوؤں کی لاشوں کو جلانے پر خوش ہوتے تھے۔
مذہبی لوگ جب قرآن کی طرف رجوع کریںگے تو حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلیشمنٹ کیلئے آلۂ کار کے طور پر استعمال نہیں ہوںگے بلکہ مسلمان عوام مرد اور خواتین کے دل جیت لیںگے۔ عدالت، سیاست ، قوم پرست اور مذہبی طبقے اسٹیبلیشمنٹ کی گرفت سے نکل چکے ہیں۔ تحریک لبیک آخری مہرہ تھا جس نے پنجاب پولیس کے خلاف تاریخی کاروائی کی ۔ فوجی سپاہی اور لبیک کے کارکنوں نے ایکدوسرے کے حق میں نعروں سے سوشل میڈیا میں ہیجان پیدا کردیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو انصاف ملا ، اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی یا ججوں نے اپنے پیٹی بند کو رعایت دی؟۔ یہ سوال بڑا اہم ہے ۔ الطاف بھائی نے شاید نوازشریف سے پیسہ لیکر فوج کیخلاف محاذ کھول دیا۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں کی وقعت نہیں ۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر فوج کے حامی صحافیوں نے اپنی اور اسٹیبلیشمنٹ کی مٹی پلید کرکے رکھ دی ۔نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اپنے لئے اقتدار کا راستہ تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنے اقتدار کیلئے چودہ (14) افراد کو قتل کرنے والے نواز شریف اور شہبازشریف کو پنجاب والے بھی مسترد کردینگے لیکن پشتونوں کو بڑی جاندار اور غیرمتعصبانہ تحریک چانے کا پاکستان اور دنیا کیلئے آغاز کرنا پڑے گا۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

شیطانی القا کے مقابلے میں قرآن اور حدیث کی وضاحتیںاور اُمت مسلمہ کا بتدریج فتنے کا شکار ہونے کے مراحل کی وجوہات کا زبردست ، معقول اور قابلِ قبول جائزہ۔ جس دن اُمت مسلمہ نے شیطانی القا کی جگہ قرآنی آیات کو دیکھا تو انقلاب آجائے گا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حلالہ کی لعنت اللہ کی سنت نہیں شیطان کی کنت ہے، قرآن میں اللہ نے اس کو مٹادیا ہے مگر رسول اللہۖ کی تمنا میں شیطان نے اپنا القا کرکے اُمت کو سابقہ اُمتوں کی طرح گمراہ کردیا

ہندوستان کی ہندو خاتون رکن پارلیمنٹ نے قرآن پڑھ کر طلاق اور اس سے رجوع کا معاملہ سمجھ لیا لیکن مریم نواز کا سرپرست مولانا فضل الرحمن اس کو سمجھنے کیلئے جان بوجھ کر تیار نہیں ہوتا

اب سوال یہ ہے کہ مسئلہ طلاق پر قرآن کی طرح احادیث میں بھی یہ وضاحتیں موجود ہیں؟۔ تو جواب یہ ہے کہ قرآن میں مسائل کی وضاحت کے بعد کیا احادیث کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟۔ قرآن تسلسل کیساتھ صحابہ کرام و تابعین اور تبع تابعین کے ادوار میں موجود تھا جبکہ احادیث کے ذخائر مدینہ کے سات مشہور فقہاء قاسم بن محمد بن حضرت ابوبکر، عروہ بن عبداللہ بن حضرت زبیر ، سعید بن المسیب وغیرہ کے دور میں بھی نہیں تھے جن میں ایک حضرت ابوبکر کے پوتے اور دوسرے حضرت ابوبکر کے نواسے تھے۔ ان کے بعد پھر ائمہ اربعہ کے دور میں احادیث مرتب ہونا شروع ہوگئیں ۔ ائمہ اربعہ کے عرصہ بعد صحاح ستہ احادیث کی چھ کتابیں مرتب ہوئی ہیں۔ قرآن کو اولیت دینے پر اتفاق ہے۔
حضرت عمر نے نبیۖ کو خبر دی کہ ابن عمر نے حیض کی حالت میں طلاق دی ہے تو رسول اللہۖ غضبناک ہوگئے اور پھر اس کو رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ پاکی کے دنوں میں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دنوں میں پاس رکھو یہاں تک کہ حیض آجائے۔ پھر پاکی کے دنوں میں رجوع کرنا چاہو تو رجوع کرلو اور طلاق دینا چاہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح طلاق کا امر کیا ہے”۔( بخاری کتاب التفسیر سورۂ طلاق)۔
ابورکانہنے ام رکانہ کو طلاق دی اور دوسری خاتون سے نکاح کیا تو اس نے نبیۖ سے اسکے نامرد ہونے کی شکایت کی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ یہ اسکے بچے کس قدر ابورکانہ سے مشابہت رکھتے ہیں؟۔ اس خاتون کو طلاق کا حکم دیا اور اُم رکانہ سے رجوع کا فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا وہ تین طلاق دے چکا ، نبی ۖ نے فرمایا مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی آیات کی تلاوت فرمائی۔ (ابوداؤد)
قرآن اور احادیث میں بالکل بھی کوئی تضاد نہیں ہے۔ابن عباس نے کہا ہے کہ رسول ۖ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور میں ابتدائی تین سال تک ایک ساتھ تین طلاق کو ہم ایک شمار کرتے تھے۔ پھر حضرت عمر نے فیصلہ کیا کہ آئندہ جو بھی ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو اس پر تین ہی جاری کروں گا،جس چیز میں اللہ نے تمہیں سہولت دی ،اسکا تم غلط فائدہ اُٹھارہے ہو۔ (صحیح مسلم)
صحیح بخاری کی احادیث میں تین مرتبہ طلاق کو عدت کے تین مراحل کا فعل قرار دیا گیا ہے۔ بخاری کی کتاب التفسیر سے واضح ہے کہ قرآن کی یہ تفسیر ہے۔ کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق اور کتاب العدت بخاری میں بھی یہ حدیث ہے جس کامطلب یہی ہے کہ قرآن وسنت میں تین مرتبہ طلاق عدت کافعل ہے۔
امام ابوبکر جصاص حنفی رازی نے طلاق سنت کی وضاحت میں لکھ دیا ہے کہ ”قرآن میں الطلاق مرتان (طلاق دو مرتبہ ہے ) سے یہ واضح ہے کہ طلاق عدد نہیں فعل ہے۔ عدد اور فعل میں فرق واضح ہے۔ 2 روپیہ کو 2مرتبہ روپیہ نہیں کہا جاسکتا ۔2مرتبہ حلوہ کھانے کو 2حلوہ کھانا نہیں کہاجاسکتا ۔( الاحکام القرآن)
نکاح فعل ہے۔ تین (3)بار قبول کیا، قبول کیا، قبول کیا کہنے پرتین (3) نکاح نہیں ہوتے اور تین (3)بار حلوہ کھایا، حلوہ ، حلوہ کھایا سے تین حلوئے کھانے نہیں سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح تین (3) طلاق کہنے سے تین مرتبہ طلاق کے الگ الگ فعل کا تصور نہیں ہوتا۔
اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے اکٹھی تین طلاق کا حکم کیسے جاری کیا؟، کیا آپ نے قرآن وسنت اور عربی لغت کو نہیں سمجھاتھا؟۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ حضرت عمر اقتدار میں تھے اور اقتدار میں فریقین کا جھگڑا سامنے آتا ہے۔ حضرت عمر نے جھگڑے میں فیصلہ دیا اسلئے کہ قرآن میں تنازع کی صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا ہے بلکہ صلح کی شرط پر رجوع ہے۔
بہت بڑا سوال یہ ہے کہ محمود بن لبید سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں تو اس پر نبیۖ غضبناک ہوکر کھڑے ہوگئے۔ فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب سے کھیل رہے ہو؟۔ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کردوں؟۔
اگر اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع ہوسکتا تھا تو نبیۖ غضبناک ہونے کے بجائے رجوع کا حکم دیتے۔ رسول اللہۖ کے ”غضبناک ” ہونے کا یہی مطلب نکلتا ہے کہ تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا تھا؟۔ یہ بات معتبرعلماء اور مفتیان نے اپنی اپنی کتابوں میں حلالہ کے حوالے سے لکھ دی ہے؟۔
جواب یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا:” آپ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں آیا مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا، پس اللہ مٹادیتا ہے جو شیطان نے القا کیا اورپھراپنی آیات کو استحکام بخش دیتا ہے ”۔(الحج:52)
نبیۖ کا غضبناک ہونا اس وجہ سے نہیں تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ نبیۖ کی یہ تمنا تھی کہ قرآن کے مطابق مرحلہ وار طلاق دی جائے۔ جنہوں نے کہاکہ نبیۖ کا غضبنا ک ہونا دلیل ہے کہ پھر رجوع نہیں ہوسکتا ہے انہوں نے شیطانی القا کو مذہب بناکر دین کا تحفظ نہیں کیا بلکہ دین کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور پہلے انبیاء کرام کی تمناؤں کا بھی شیطانی القاؤں نے بیڑا غرق کیا ۔ اگر نبیۖ کا غضبناک ہونا اسلئے تھا کہ رجوع نہیں ہوسکتا تو پھر عبداللہ بن عمر پر غضبناک ہونے کے بعد رجوع کا کیوں حکم دیا تھا؟۔
جس شخص نے نبیۖ سے عرض کیا تھا کہ کیا میں اس کو قتل کردوں؟۔ تووہ حضرت عمر ہی تھے اور جس شخص کے بارے میں خبر دی تھی کہ اس نے اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں تو وہ حضرت عبداللہ بن عمر تھے۔ صحیح مسلم کی روایت محمود بن لبید کی روایت سے زیادہ مضبوط اور واضح ہے کہ عبد اللہ بن عمر نے اکٹھی تین طلاق دی تھیں اور بیس سال تک کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا جو اس بات کی تردید کرتا۔
ایک مضبوط سوال یہ ہے کہ چاروں اماموں نے اس پر کیوں اتفاق کیا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں؟۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل مسئلہ تو تنازع میں رجوع کے حق کا تھا لیکن پھر شیطان نے اپنے القا سے معاملہ بگاڑ دیا۔ شیعہ اور اہلحدیث کہتے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق ہے اور یہ قرآن کی روح کے خلاف ہے ، حضرت عمر اور ائمہ اربعہ کے مؤقف کی تائید قرآن سے ہوتی ہے کہ تنازع کی صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جہاں تک باہمی صلح معروف طریقے سے رجوع کا تعلق ہے تو قرآن میں اللہ نے اس شیطانی القا کو مٹادیا ہے اور اپنی آیات کو استحکام بخش دیا ہے۔ قرآن کے مقابلے میں شیطانی القا کچھ نہیں ہے۔
قرآنی آیات میں بڑے تسلسل کیساتھ طلاق کے بعد رجوع کیلئے عورت کی رضامندی ، صلح کی شرط اور معروف طریقے کی وضاحت ہے لیکن شیطانی القا نے قرآنی آیات کی روح کے خلاف عورت سے ناراضگی ،ایک یا دومرتبہ طلاق کے بعد باہمی اصلاح اور معروف رجوع کا حق چھین کر مسائل کا ستیاناس کردیا ہے۔ ان آیات کی تفاسیر میںشرمناک فقہی اختلافات اور تضادات کو بیان کردیا جائے تو علماء ومفتیان خود بھی اس بیوقوفی کی تعلیمات پر ہنس پڑیںگے۔
سورہ حج آیت (53) میں علماء سو کا ذکر ہے ”تاکہ جنکے دلوں میں مرض ہے ان کیلئے شیطانی القا اور مستحکم آیات فتنہ بن جائیںاور جنکے دل سخت ہوچکے ہیں اور جوبدبخت دور کی گمراہی میں جاپڑے ہیں” ۔ اور سورۂ حج آیت (54) میں علماء حق اہل علم کا ذکر ہے ” تاکہ اہل علم جان لیں کہ حق نبیۖ کے رب کی طرف سے ہے اور مؤمنوں کیلئے اس فتنے میں صراط مستقیم کی رہنمائی مل جائے”۔
قرآن سورۂ طلاق میں فحاشی پر عورت کو ایک دم فارغ کرنے کی اجازت ہے۔ حضرت عویمرعجلانی نے بیوی سے لعان کا معاملہ کرنے کے بعد اکٹھی تین طلاق دینے کا اظہار کیا۔ ظاہر ہے کہ فحاشی کے بغیر اکٹھی تین طلاق دینا قرآن کے منافی اور غلط ہے۔ البتہ اگر ایک ساتھ فارغ کیا جائے تو گناہ اور غلط ہونے کے باجود اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پھر رجوع بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ دونوں باتیں افراط وتفریط کی انتہاء اور شیطانی القا ہے۔ یہ بھی غلط ہے کہ فارغ نہیں ہوسکتی ہے اور ایک ساتھ تین طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی غلط ہے کہ اس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ جب عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو ایک ساتھ تین طلاق تو اپنی جگہ پر ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اور جب عورت راضی ہو تو اکٹھی تین طلاق کے بعد عدت میں رجوع کا ہونا تو بہت معمولی بات ہے جو قرآن میں بالکل واضح ہے بلکہ اگر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق دی ہو ، عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی اللہ نے رجوع کو واضح کیا ہے۔
جہاں تک رفاعة القرظی سے طلاق کے بعد عبدالرحمن بن زبیرالقرظی سے نکاح کے بعد اس عورت کے واقعے کا تعلق ہے جس سے نبیۖ نے فرمایا کہ ”آپ رفاعة کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟۔ آپ نہیں لوٹ سکتی ،یہاں تک کہ دوسرا شوہر تمہارا شہد( ذائقہ) چکھ لے اور آپ اس کا ذائقہ چکھ لو”۔ ( صحیح بخاری) تو یہ روایت بھی صحیح بخاری میں پوری تفصیل کیساتھ موجود ہے۔ جب یہ عورت اپنی شکایت لیکر نبیۖ کے پاس پہنچی تھی تو حضرت عائشہ نے اس کے جسم پر مارنے کے نشانات دیکھے تھے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ جسم پر تشدد سے نیل کے نشانات پڑگئے تھے۔ اس نے اپنے شوہر کے نامرد ہونے کی شکایت کی تو اس کا شوہر عبدالرحمن بن زبیر القرظی اپنے بچوں کو لیکر پہنچ گئے۔ نبیۖ سے عرض کیا کہ یہ جھوٹ بولتی ہیں، میں نامرد نہیں ہوں۔ مباشرت میں اس کی چمڑی ادھیڑ کے رکھ دیتا ہوں۔ ان کے بچوں کو دیکھ کر اور ان کی بات سن کر نبیۖ نے فیصلہ کیا کہ عورت اس کے ساتھ رہے۔ (صحیح بخاری)
روایت کی تفصیل سے یہ واضح ہے کہ معاملہ حلالہ کروانے کا نہیں تھا بلکہ شوہر کی طرف سے تشدد اور عورت کی طرف سے نامرد کے جھوٹے الزام کا تھا۔ نبیۖ نے تشدد سے روکا تھا اور میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی کروائی تھی۔ ہمارے ساتھیوں میں بھی یہ واقع ہوا تھا کہ عورت نے اپنے شوہر پر نامرد ہونے کا جھوٹا الزام لگادیا اور طلاق کا مطالبہ کیا۔ شوہر نے طلاق دیدی اور پھر عورت نے بعد میں اپنے جھوٹ کا اعتراف کیا اور پھر دونوں کی آپس میں صلح ہوگئی۔ ان کی طلاق سے پہلے بھی ایک بچی تھی اورصلح کے بعد بھی کئی بچے پیدا ہوگئے ۔ اس حدیث کو میاں بیوی کے درمیان صلح کی آخری حد تک کوشش پر محمول کرنا چاہیے تھا لیکن حلالہ کے خوگروں نے قرآن وسنت کی حدود پھلانگتے ہوئے شیطان کو خوش کیا ہوا ہے اور خود بھی سراپا شیطان بنے ہوئے ہیں۔
محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ” یہ روایت خبر واحد ہے اور اس میں اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ قرآن کے لفظ نکاح پر جماع کا بھی اضافہ کیا جاسکے ۔ حنفی فقہاء اس حدیث کی بنیاد پر جماع کا فتویٰ نہیں دیتے ہیں بلکہ نکاح کو جماع کے معنی میں لیتے ہیں”۔( کشف الباری شرح صحیح البخاری)
امام ابوحنیفہ کے مسلک میں جہاں تک ہوسکے تو ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جائے اور اگر قرآن کے مقابلے میں صحیح حدیث ہو تو بھی اس کو ناقابل عمل قرار دیا جائے۔ حضرت فاطمہ بنت قیس کے متعلق صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ ان کو الگ الگ مراحل میں تین طلاقیں دی گئیں تھیں اور ضعیف روایت میں ہے کہ اکٹھی تیں طلاقیں دی گئیں تھیں۔ دونوں میں تطبیق یہی ہوسکتی ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہوں اور پھر ان کا ایک شمار کیا ہو۔اسلئے الگ الگ بھی تین مرتبہ میںتین طلاق دی گئی ہوں۔ بعض روایات تو بالکل من گھڑت بھی ہیں جن میں ایک ساتھ تین طلاق کے عجیب الفاظ ہیں ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ حلالہ کیلئے راہیں ہموار کرنے والوں نے اتنا زور لگادیا کہ نبیۖ پر جھوٹ باندھنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ علاوہ ازیں مسئلہ یہ بھی تھا کہ حضرت عمر کیخلاف بدعت کی طلاق ایجاد کرنے والوں کو جواب دینا تھا لیکن من گھڑت احادیث میں بدعت کی طلاق جاری ہونے کے الفاظ بھی بنائے گئے ہیں۔بہت ساری احادیث میں زمین کو مزارعت پر دینا سود قرار دیا گیا جس پر چاروں اماموں کا اتفاق بھی تھا لیکن بعد کے فقہاء نے احادیث اور ائمہ اربعہ سے کھلم کھلا انحراف کیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اللہ تعالیٰ نے مردوں پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ یہ ہے اس کا درجہ

ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف..” اورانکے مردوں پر معروف طریقے سے ویسے ہی حقوق ہیں اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،طلاق دومرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یااحسان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کیساتھ چھوڑ ناہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جوبھی ان کو دیا کہ اس میں سے کچھ واپس لو مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اوراگرتم ڈرو کہ اللہ کی حدود

پردونوں قائم نہ رہ سکیںگے تو دونوں پر حرج نہیں عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تووہی لوگ ظالم ہیںO

صفحہ نمبر( 3)کے نچلے حصے پر سورہ ٔبقرہ کی آیت(228)کا کچھ حصہ رہ گیا تھا وہ بھی درج بالا سرخی میں نقل کردیا۔ جس طرح سے طاقتورحکمران اور اسکی رعایا کے ایکدوسرے پر حقوق ہوتے ہیں لیکن حکمران اپنے درجے کا خیال رکھے بغیر رعایا کے حقوق کو غصب کرلیتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پختون قبائل مرگئے۔ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی لیکن ن لیگ نے نہیں کہا کہ اگر مزید قتل اور غارتگری کا سلسلہ جاری رہا تو پھر ہمیں پاکستان نہیں چاہیے۔ مریم نواز نے جیل کے واشروم میں خفیہ کیمروں کاالزام لگایا کہ تصویریں اتاری گئیں ہیں لیکن پھر بھی ن لیگ نے یہ نہیں کہا کہ عزت کی قیمت پر پاکستان نہیں چاہیے ۔ پنجاب کے غیورخطیب اور آزادی کے مجاہد سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے فرمایا تھا کہ جب انسان کی جان پر آجائے تو اپنے مال کو قربان کرکے اپنی جان بچائے اور جب اس کی عزت پر بات آجائے تو اپنی جان دیکر اپنی عزت بچائے اور جب ایمان پر آجائے تو اپنامال،اپنی جان اور عزت سب کچھ اس پر قربان کردے۔
مکافاتِ عمل بھی ایک چیز ہے۔ بینظیر بھٹو کی ننگی تصاویر سے کردار کشی ہوئی ہے اور بلاول بھٹو زرداری کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اب ایسا نہ ہو کہ وقت پر مریم نواز کیساتھ بھی کوئی معاملات پیش آجائیں۔ زمانے کے زناٹے دار تھپڑ بہت بے رحم موجوں کی طرح بڑے بڑوں کا بیڑہ غرق کردیتے ہیں۔اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی الیکشن ہار گئے اور سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق نے آئی جے آئی (IJI) پنجاب کے صدرنوازشریف کیلئے وزیراعظم کی سیٹ چھوڑ دی تھی ، جب مولانا سمیع الحق نے سودی نظام کو ختم کرنے کے وعدے پر زور دیا تو میڈم طاہرہ سے اس کی عزت تارتار کردی گئی۔ (1988) میں عابدہ حسین نے جھنگ سے دونوں نشستوں کو جیتا تھا۔ جس نشست پر مولانا حق نواز جھنگوی کو شکست دی تھی وہی اپنے پاس رکھی تھی۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے اعلان کیا تھا کہ شیعہ مجھے اپنا ووٹ نہ دیں۔ پھر (1990) میں جھنگ کی ایک نشست پر مولانا ایثار الحق قاسمی آئی جے آئی (IJI)کی ٹکٹ پر کھڑے تھے اور دوسری نشست پرعابدہ حسین آئی جے آئی (IJI)کی ٹکٹ پر کھڑی تھیں۔ مولانا حق نوازجھنگوی جمعیت علماء اسلام (ف) پنجاب کے نائب صدر تھے اور مولانا ایثارالحق قاسمی سپاہِ صحابہ کے قائد بن گئے تو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے اہل تشیع سے اتحاد کے باوجود جمعیت علماء اسلام ف کے مولانا فضل الرحمن پر کفر کا فتویٰ اسلئے لگایا جارہاتھا کہ وہ شیعہ کو کافر نہیں کہتے۔ جب یہ نعرہ عروج پر تھا تو (1992) کی ابتداء میں اپنی کتاب ” عروج ملت اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ” میں سوال اٹھایا کہ سعودی عرب اہل تشیع کو حرم میں داخل ہونے دیتا ہے وہ کافر نہیں اور مولانا حق نواز جھنگوی کے قائد مولانا فضل الرحمن کافر؟۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ مولانا فضل الرحمن کی سرپرستی میں قاضی عبدالکریم کلاچی نے مجھ پر یہ فتویٰ لگایا کہ شیعہ کے کفر پر اجماع ہے اور اس اجماع کو نہ ماننے کی وجہ سے یہ شخص گمراہ ہے۔ اگر فضل الرحمن گروپ والے تائید کرتے ہیں تو وہ قادیانی کا بھی استقبال کریںگے۔مجھ سے زیادہ بڑا فتویٰ مولانا فضل الرحمن پر لگادیا تھا ۔ جب ہم نے فتوے کا پوسٹ مارٹم کیا تو قاضی عبدالکریم نے فتویٰ مجھ پر لگایا تھا اورمعافی مولانا عبدالرؤف گل امام جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر سے مانگ لی۔ جس نے مجھے حوصلہ دیاتھا اور لکھا کہ قاضی صاحب بھونڈی حرکتیں چھوڑ دو۔
عمران خان نے نجم سیٹھی پر (35)پنکچر کا الزام لگایا تھا اور جب(2018) کے الیکشن ہوئے تو (35)سے زیادہ پنکچروں کاسہارا لیا جو جہانگیرترین کے جہاز سے پہنچارہے تھے۔ تحریک انصاف کے وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ایم ایم اے (MMA) کے ارکان اسمبلی کو خرید ا ،پھر جمعیت علماء اسلام (ف) میں شامل ہوگئے۔ پاکستان میں کوئی کرپٹ بیوروکریٹ ریٹائرڈ ہونے کے بعد اپنے پاس زیادہ پیسے دیکھتا ہے تو الیکشن لڑتا ہے اور جب ہار جاتا ہے تو پارٹی اسکو اس خرچہ کے بدلے سینیٹر بنادیتی ہے۔
سینیٹ کے الیکشن میں وزیراعظم عمران خان نے جس طرح کی قلابازیاں کھائی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ اگر عمران خان اعلان کردیتا کہ اکثریت تو یوسف رضا گیلانی کی ہے اور غلطی سے ووٹ کٹ گئے ہیں وہی چیئرمین ہیں تو مولانا عبدالغفور حیدری کی پیشکش سے یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ اب تو ایسا ہے کہ جیسے دولتی مارکر جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم ( PDM)کی طرف دھکیل دیا ہو۔سیاست میں ایک عمران خان سے کچھ لوگوں کو امید یں تھیں وہ سامنے آگیا ہے۔ہمارے حکمران اورسیاسی و مذہبی رہنماؤں کا مزہ نہیں ہے لیکن کارکن بہت اچھے ہیں۔
سورۂ بقرہ آیت(228) میں مردوں پر عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے ان پر ہیں۔ جس طرح حکمران طبقہ عوام کے حقوق غصب کرتا ہے اسی طرح علماء نے خواتین کے حقوق غصب کردئیے ہیں۔ مرد کو طلاق اور عورت کو خلع کے حق میں دیکھا جائے تو مردوں کا ایک درجہ زیادہ ہے لیکن عورت کے حقوق زیادہ ہیں۔ عورت ایک مرتبہ شادی کرلیتی ہے اور اسکے بچے ہوجاتے ہیں تو طلاق پر بڑی مشکل کا شکار ہوجاتی ہے لیکن مرد کو زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے اسلئے اللہ تعالیٰ نے مردوں پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ یہ ہے اس کا درجہ ۔ باقی حقوق کے حوالے سے اللہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں کے ایکدوسرے پر ایک جیسے معروف حقوق ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب مردیا عورت کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے توپھر اس کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی مثال بہت واضح ہے۔
البقرہ آیت(229) میں پہلے فرمایا کہ ” طلاق دو مرتبہ ہے ،پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ اس میں راکٹ سائنس نہیں ہے کہ مطلب سمجھنے کیلئے بڑی ڈگریوں کی ضرورت ہو۔ آیت (228) میں عدت کے تین مراحل (تین طہر وحیض ) کی وضاحت تھی اور دوبارہ اس عدت میںمرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کا ذکر ہے۔ جب حضرت عبداللہ بن عمر نے اتنے بڑے مسئلے کو نہیں سمجھا تو رسول اللہۖ غضبناک ہوگئے اور پھر رجوع کا حکم دیا اور عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت فرمادی ۔ اس حدیث کو صحیح بخاری میں کتاب التفسیر سورۂ طلاق، کتاب الاحکام ،کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں مختلف الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ تو نبیۖ نے فرمایا کہ آیت (229 ) البقرہ میں دومرتبہ طلاق کے بعداو تسریح باحسان (یاپھر احسان کیساتھ چھوڑ دو) ہی تیسری طلاق ہے۔ کوئی بھی عام انسان آیات کے تسلسل سے کوئی دوسرا نتیجہ نہیں نکال سکتا ہے۔ رحمة للعالمینۖ کا عبداللہ بن عمر پر غضبناک ہونا بھی اس بات کی نشاندہی ہے کہ قرآن کی سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق میں عدت کے دوران مرحلہ وار طلاقوں کا تصور بالکل عام فہم تھا۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاقیں دی تھیں۔ محمود بن لبید کی روایت میں ایک شخص کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق پر نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل رہے ہو؟۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل کردوں؟۔
حضرت عمر نے ہی عبداللہ بن عمر کی اطلاع دی تھی، جب رسولۖ غضبناک ہوگئے تو حضرت عمر نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ احادیث پر شروع میں پابندی لگائی تھی اسلئے معاملات نایاب ہوگئے۔ حضرت حسن بصری نے کہا کہ ایک شخص نے مجھے کہا کہ ابن عمر نے تین طلاق دی تھیں ،پھر(20)سال تک کوئی شخص نہیں ملا جس نے اس کی تردید کی ہو۔ بیس سال بعد ایک اور شخص نے بتایا کہ ایک طلاق دی تھی۔ احادیث کی روایات پر صحیح تبصرہ کیا جائے تو ان کو اہلحدیث بھی نہیں مانیں گے۔ ابن عمر نے قرآن کے خلاف اہل کتاب سے بھی شادی کو ناجائز قرار دیا اور جماع فی الدبر کی بات بھی ان کی طرف منسوب ہے۔
عبداللہ بن عمر کی طرف منسوب بخاری میںہے کہ ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو پھر مجھے اللہ کے رسول ۖ نے رجوع کا حکم نہیں دینا تھا”۔ اس روایت سے بھی قرآن کی تردید نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ مرحلہ وار دوبار طلاق کے بعد تیسری بار طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ دیتے۔ یہ بھی ان کی اپنی فقہ ہے جبکہ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”اس کو طلاق کی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے اور آپ لوگ کہتے ہو کہ اس کو مسلمانوں کا خلیفہ بنادوں۔ اس کو خلیفہ بنانے پر میں نے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے”۔
مذہبی بہروپیوں میں نااہل جانشینوں کا تسلط ایک عام سی بات ہے۔ جس کا نتیجہ امت بھگت رہی ہے۔ اگر مفتی محمد شفیع نے مفتی تقی عثمانی کو جانشین بنایا ہے تو معاوضہ لیکر بینک کے سود پر ایصال عذاب ملے گا۔اگر دو مرتبہ طلاق کے بعد یہ لیا جائے کہ تیسری بار عدت میں بھی رجوع نہیں ہوسکے گا تو پھر آیت (228) سے اس کا بڑا تضاد ثابت ہوگا۔ الگ الگ تین بار طلاق کے باوجود بھی عدت میں اگر رجوع کا دروازہ بند کردیا جائے تو قرآن میں بہت بڑا تضاد ثابت ہوگا۔ اللہ کی طرف سے یہ مراد بھی نہیں ہے کہ تیسری مرتبہ کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
البتہ جب مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا جائے پھر اگر رجوع کرنا ہو تو معروف طریقے سے رجوع ہوسکتا ہے۔جس کا مطلب باہمی رضامندی ہے۔ احناف کے نزدیک اگر رجوع کی نیت نہ بھی ہوتو شہوت کی نظر پڑنے یا نیند میں ہاتھ لگنے وغیرہ سے رجوع ہوجائیگا اور امام شافعی کے نزدیک نیت نہ ہوتو اس کے ساتھ جماع کرنے سے بھی رجوع نہیں ہوگا۔ یہ باتیں فقہ کی معتبر کتب میں موجود ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات نے بھی اسے شائع کیا۔ معروف کی جگہ پر شیطانی القاکے منکر نے مذہب کا روپ دھار لیا ۔
جب تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق دینے کا فیصلہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے اسکے بعد مزید فرمایا ہے کہ ” تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے………..”۔ طلاق کے فیصلے کے بعد حق مہر کے علاوہ عورت کے اس حق کو بھی محفوظ کیا گیا ہے کہ شوہر نے جو کچھ بھی دیا ہے اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتا ہے۔ لیکن بعض اوقات کوئی ایسی چیز بھی ہوسکتی ہے کہ اگر وہ واپس نہیں کی گئی تو پھر طلاق کے بعد دونوں میں اختلاط کی وجہ سے وہ چیز اللہ کی حدود کو توڑنے کا خدشہ بن سکتی ہو۔ ایسی صورت میں اگر فیصلہ کرنے والے بھی یہ خدشہ محسوس کریں تو پھر شوہر کی دی ہوئی اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پرکوئی حرج نہیں ہے۔ آیت کا مطلب بالکل واضح ہے لیکن افسوس کہ فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں حماقت کی انتہاء کرتے ہوئے یہاں خلع مراد لیا گیا ہے۔ فدیہ اور معاوضے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ اس آیت کا ترجمہ کرنا بڑا دشوار ہے مگر جماعت ِ اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے اس کا ترجمہ یوں کردیا کہ ” عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے ”۔ مولانا مودودی سید زادے تھے ،اگر وہ زندہ ہوتے تو اپنے ترجمے وتفسیر کی اصلاح کا اعلان کرتے لیکن اب جماعتِ اسلامی نے مولانا مودودی کو پیغمبر کے درجے پر فائز کردیا ہے۔ جب تک جماعت اسلامی کو پاک فوج کی طرف سے آرڈر نہ دیا جائے انہوں نے یہ غلطی جوں کی توں جاری رکھنی ہے۔ جس غلطی کا ارتکاب مولانا مودودی نے کیا تھا ، اب مفتی تقی عثمانی نے بھی آیات کے ترجمے و تفسیر میں بڑی تحریف کی ہے۔
علامہ تمنا عمادی بڑے حنفی عالم تھے اور انہوں نے قرآن اور اصول فقہ کی بنیاد پر اپنی کتاب ” الطلاق مرتان ” میں احادیث کا انکا ر کیا اور اس آیت سے خلع مراد لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ حلالہ اس صورت میں ہوگا جب عورت نے خلع لیا ہوگا۔ اس کی کتاب کی ہمارے استاذ نے بہت تعریف کی تھی ۔ غلام احمد پرویز کی طرف سے انکارحدیث کا فتنہ بعد میں آیا لیکن احناف کی اصول فقہ میں حدیث کا انکار ہی تو پڑھایا جاتا ہے۔حالانکہ قرآن ، احادیث اور ائمہ اربعہ کے مؤقف میں فرق نہیں تھا البتہ بعد کے علماء وفقہاء نے افراط وتفریط کی رسیاں کاٹی ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن کی تفسیر اور ترجمہ میں اذی کے معنی گند کے یہ شیطانی القا ہے

ویسئلونک عن المحیض قل ھواذیً…”اور تجھ سے حیض کا پوچھتے ہیں،کہہ دو کہ وہ اذیت ہے،پس کنارہ کش رہو عورتوں سے اور انکے قریب مت جاؤ،یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں،جب پاک ہوجائیں تو جاؤانکے پاس جیسے اللہ نے حکم دیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بیشک اللہ پسندکرتا ہے توبہ والوں کو اور پاکبازوں کوOتمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں،اپنے اثاثہ کے پاس آؤ جیسے چاہو،اپنے نفسوں کیلئے آگے بھیجواور اللہ سے ڈرواور جان لوکہ تم نے

اس سے ملنا ہے اورخوشخبری دو مؤمنوں کوOاورمت بناؤتم اللہ کواپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو،تقویٰ اختیار کرواور لوگوں میں صلح کراؤاور اللہ سننے والاہے جاننے والا ہےO

سورۂ بقرہ کی مندرجہ بالاآیات(222)سے(224)تک عورتوں کے حقوق کا مقدمہ ہیں۔قرآن کی سب سے بہترین تفسیرآیات سے آیات کی تفسیر ہے اور آیت (222)میں اذی کے معنی اذیت کے ہیں۔ قرآن میں کہیں پر بھی اذی کے معنی گند کے نہیں۔ سید مودودی بریلوی دیوبندی علمائ نے اذیت کا ترجمہ گند کیا۔ عربی کی لغت کی کتب میں بھی اذی کے معنی گند نہیں ۔ عربی بہت وسیع ہے،شیر کے عربی میں (500) نام ہیں لیکن گند کیلئے اذیت کا کہیں ایک بھی لفظ نہیںہے۔
اب مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن وسنت اورعربی لغت میں اذی کے معانی گند کے کہیں نہیں تو پھر قرآن کی تفسیر اور ترجمہ میں اذی کے معنی گند کے کیسے اور کہاں سے آئے؟۔ اس کا بالکل دو ٹوک جواب یہ ہے کہ یہ شیطانی القا ہے جس کا ذکر سورہ ٔ حج کی (آیت52)میں اللہ نے بہت واضح طور سے کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس شیطانی القا کا نقصان کیا ہے؟۔ جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے عورتوں کے حقوق کی ساری بنیادیں ختم کردی گئیں ہیں۔
جماع فی الدبرکی اذیت سے لیکر ،عورت کی شوہر سے صلح، عدت میں اذیت کا خیال ،طلاق کے بعد رجوع کیلئے عورت کی رضامندی اور عورت کے مالی حقوق کا تحفظ سب کے سب کواس شیطانی القا نے پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ آیت(222)سے (232) تک ہم نے بار بار وضاحت کی ہے۔ علماء کا ضمیر اسلئے نہیں جاگتاہے کہ ان کو اپنے مذہبی ریاست کا پوراڈھانچہ گرتا دکھائی دیتا ہے۔ بادشاہوں کے دربارمیںایک طرف علماء حق کا زبردست، دوسری طرف علماء سوء کابدترین کردار تھا۔ درباری علماء نے ہر دور میںاسلام کا حلیہ بگاڑ دیاہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اورمفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی تو درباری علما ء کا ٹولہ تھا مگر حضرت مولانا سیدمحمد یوسف بنوری اور انکے استاذ مولانا سیدانورشاہ کشمیری اور انکے شاگرد حضرت مفتی محمد زرولی خان ، حضرت مولاناقاری اللہ داد مدظلہ العالی تو درباری علماء نہیں ،پھر وہ اس القا شیطانی کے کیوں شکار ہوئے ہیں؟۔
علامہ سید سلیمان ندوی نے معارف اعظم گڑھ میں جاندار کی تصویر کو جواز بخشنے کیلئے زبردست دلائل دئیے۔ دارالعلوم دیوبند کا ماہنامہ جریدہ تھا جس طرح مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا تعلق تعلیم و تدریس اور فتویٰ سے نہیں تھا بلکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ماہنامہ البینات سے تھا۔ یا جن کا تعلق دارالعلوم کراچی کے ماہنامہ البلاغ سے ہے۔ ڈاکٹر اسرار کی تنظیم اسلامی کے جرائد، جماعت اسلامی کے ترجمان القرآن اور غلام احمد پرویز کے ماہنامہ طلوع اسلام لاہور وغیرہ ہیں۔ اسی طرح مولانا ندوی نے معارف اعظم گڑھ میں اپنی تحقیق لکھ دی تو دارالعلوم دیوبند کے ماہنامہ کے ایڈیٹر پہلے سید ابولاعلیٰ مودودی تھے، اس کی شکل اورداڑھی ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی طرح تھی۔دارالعلوم دیوبند کے علماء کے پاس جب علامہ سید سلیمان ندوی کی طرف سے جاندار کی تصویر پر کوئی علمی جواب نہیں تھا تو مفتی محمد شفیع جو اس وقت ان کے بقول طالب علمی اور عالم ہونے کے درمیانی درجہ میں تھے، اساتذہ نے علامہ ندوی کے معارف کا جواب لکھنے کا کہا کہ اس کوماہنامہ رسالے میں چھاپ دیا جائیگا۔ چناچہ مفتی محمد شفیع نے جاندار کی تصویر پر ایسی بچکانہ خرافات لکھ دیں کہ پانچویں جماعت کے بچے کو بھی اس پر ہنسی آئے گی۔ علامہ سید سلیمان ندوی اورمولانا ابواکلام آزاد نے ان جاہلوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے اور سیدابوالاعلیٰ مودودی نے انکی علمی اوقات کا اندازہ لگایا اور خود بتدریج ایک لمبی داڑھی رکھ کر جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت کی بنیاد ڈال دی اور بڑے بڑوں کو پہلے ہنکایا لیکن پھر مولاناعلی میاں ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی اور دیگر لوگ چھوڑ کر گئے اور سید مودودی نے لکھا کہ ” مجھے پتہ تھا کہ جس ہاون دستے میں اپنا سر میں نے دیا ہے یہ بدھ مت میں بخشو قسم کے لوگ اس کی دھمک کی آواز دور سے سن کر بھاگ جائیںگے”۔ پھر مولانا مودودی سے الگ ہونے کے بعد ڈاکٹر اسرار اور جاویدغامدی جیسے لوگوں نے اپنی اپنی دکانیں دین کے نام پر چمکائیں۔
اگر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی چاہتے تو حکومت پاکستان کی طرف سے کرنسی پر قائداعظم کی تصویر کو ختم کردیا جاتا اسلئے کہ شب قدر میں بننے والے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا تھا، فرشتوں کو نہیں بھگانا تھا لیکن مفتی شفیع نے کرنسی کے نوٹ اور تجارت کی اشیاء پر تصاویر کو اپنی کتاب میں جائز قرار دیا۔ جے یو آئی ف کے مرکزی امیر مولاناعبدالکریم بیرشریف نے حج وعمرے کئے لیکن شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کیلئے بھی تصویر نہیں نکالی تھی لیکن جب ہم نے کرنسی کے حوالہ سے فقہ کی معتبر کتاب مجموعة الفتاویٰ کا حوالہ دیکر پاکستانی کرنسی پر تصویر کے ناجائز ہونے کا فتویٰ مانگا تو انکار کردیا اسلئے کہ شکرانے کے نوٹ پھر جیب میںنہیں پڑسکتے تھے۔ شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب مولانا فضل الرحمن نے یہ دیکھا تو جے یو آئی کے امیرکے عہدے پر اس کو شکست بھی دیدی۔ یہ سارا دیمک زدہ ماحول ہے جس کے خول سے بھی لوگ ڈرتے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ تاریخی درباری علماء سے آج کی جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی اور جاوید غامدی سب کے سب ٹی وی پر پیش ہونے والے اشتہار کی طرح بادشاہوں ، عالمی قوتوںاورریاستی اداروں کیلئے کنڈوم ہیں تو اس سے ان لوگوں کو کتنی اذیت پہنچے گی؟۔ یا اگریہ کہا جائے کہ اسلام کی خدمت نہیں کرتے بلکہ عالمی قوتوں و ریاستی اداروں کیلئے ٹشوپیپر ہیں تو کس قدر اذیت ہوگی؟۔
جب دہشتگرد وں نے قتل وغارتگری کا بازار گرم کررکھاتھا، پیپلزپارٹی اور اے این پی (ANP) کو مرکز اور صوبہ پختونخواہ میںنشانہ بنارہے تھے تو جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم ،ڈاکٹر فریدپراچہ اور جمعیت علماء اسلام کے مفتی کفایت اللہ وغیرہ کس طرح طالبان کو سپورٹ کررہے تھے؟۔ شہباز شریف اور عمران خان نے کس طرح سپورٹ دی تھی؟۔ انصار عباسی کس طرح اسلام پسند تھے؟۔ جس کی وجہ سے پنجاب میں جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ قسم کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنیکی سازش تخلیق کرکے گورنر پنجاب سلمان تاثیراور آصف علی زرداری کو صدارت کی کرسی سے فارغ کرکے پھانسی پر لٹکانا تھا؟۔ یہ وہی انصار عباسی ہے جس کوجماعت اسلامی کا تربیت یافتہ اورمشرف کا جھوٹا وزیر اطلاعات محمد علی درانی واحد ایماندار صحافی کہتا تھا۔ جس نے کہا تھا کہ خلافت راشدہ میں کسی خلیفہ کو استثنیٰ حاصل نہیں تھا تو صدر مملکت آصف علی زرداری کو اسلامی آئین کے تحت استثنیٰ نہیںمل سکتا ہے لیکن پاک فوج پر تنقید آئین کے خلاف ہے۔
آج ن لیگ کہتی ہے کہ آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کے قتل پر کہا تھا کہ پاکستان کھپے لیکن اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں بالکل بھی نہیں لگائیںگے۔ انصار عباسی پاکستان، اسلام اور پاک فوج کی وفاداری کو نوازشریف پر قربان کریںگے اسلئے تو نذیر ناجی نے میڈیا پر اس کو کتے کا بچہ کہا تھا حالانکہ دونوں کا تعلق جیو ٹی وی سے تھا۔ ریاستی اداروں نے جن ضمیر فروشوں کو پالا تھا، آج سب سے زیادہ بے ضمیری کا مظاہرہ یہی لوگ کررہے ہیں۔
حضرت علی کا قول ہے کہ کسی پر طنز مت کرو اسلئے کہ جب سمندر میں پتھر پھینک دیا جاتا ہے تو یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ کتنا گہرا ئی میں جاتا ہے۔
جب ایک عورت کو حلالے کی ضرورت نہ ہو اور اس کو اس لعنت کی اذیت سے گزارا جائے تو اس خاتون، اسکے بچوں، اسکے والدین، اسکے بہن بھائیوں، اسکے سسرال والوں اور اسکے عزیز واقارب اور جاننے والوں پر کیا گزرتی ہے؟ لیکن ان مردہ ضمیر لوگوں میں احساس تک نہیں ہے۔ بہت لوگ تو اسلام چھوڑ چکے ہیں اور وہ خوف اور ڈر کے مارے مسلمان ہیں کہ مرتد کا فتویٰ لگاکر ماردیا جائیگا۔ ایک بڑی مسجد کے امام نے کہا کہ اسلام سمیت تمام مذاہب باطل ہیں ، ان سے لوگوں کو فائدہ نہیں نقصان ہی پہنچا ہے۔ ہمارا ساتھی سیدھا سادا تھا اس نے کہا کہ تمہارے لاؤڈاسپیکر کی آواز خراب ہے ،اس کو ٹھیک کرو۔ میں نے کہا کہ اس سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ”پھر مسجد میں لوگوں کو بندر کی طرح پریڈ کرانے کی امامت کا کیا فائدہ ہے۔ پھر مسجد کے مقتدیوں میں اعلان کرکے مسجد کی جان کیوں نہیں چھوڑتے ہو”۔ بہت سارے مذہبی لوگ ابھی چھپے رستم بنے ہوئے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان نے قرآن کی آیت کی تفسیر اور ترجمے میں یہ نقب کیسے لگائی اور اس کا حل کیا ہے۔ اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ قرآن کی آیت کے غلط استنباط سے شیطان نے القاء کا فائدہ اُٹھایا۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو اللہ نے حیض کو اذیت قرار دیا ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرو ،حیض میں ان کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔ اس تناظر میں یہ استنباط کیا گیا ہے کہ حیض اذیت ہے اور اذیت کا معنی گند ہے۔ حالانکہ اللہ نے آیت میں توبہ کرنے والوں کو بھی پسند کرنے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو بھی پسند کرنے کا فرمایا ہے۔ اذیت سے توبہ ہوتا ہے اور گند سے دوری پاکیزگی ہوتی ہے۔ حیض میں عورت کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور ناپاکی بھی۔ قرآن نے شیطانی القا کو راستہ بھی دیا ہے تاکہ جن دل کے مریضوں نے فتنہ میں مبتلا ء ہونا ہو ،ان کو گمراہی کا موقع ملے اور آیات سے محکم احکام کو بھی واضح کیا ہے تاکہ اہل علم اس سے رہنمائی حاصل کرکے اللہ کے احکام پر چلیں۔ انبیاء کرام اسلئے معصوم تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بروقت رہنمائی کی تھی لیکن علماء وفقہاء معصوم نہ تھے اور اللہ نے آیات میں دین کو محفوظ کیاہے۔
پھر سورۂ بقرہ کی اگلی آیت(223)میں فرمایا کہ ” تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں، اپنے اثاثہ کے پاس آؤ جیسے چاہو”۔ اگر عورت کو کھیتی قرار دیا جائے تو اسکے حقوق جانور سے بھی بدتر ہونگے۔ لاہور میں ایک بلی کے بچے پر زیادتی کا شور ہوا تھا لیکن کم سن بچیوں کی شادی اور ان کو اذیت پہنچانے کا خیال کبھی فقہاء کرام اور علماء عظام کے دل ودماغ میں نہیں آیا اسلئے کہ عورت کی اذیت اور اس سے توبہ کرنے کا کوئی سوال نہیں بنتا تھا، حیض کی اذیت محض گند تھا اورشب زفاف سے بچے کی پیدائش تک تقدیر نے اس کی قسمت میں ویسے بھی اذیت ہی اذیت رکھی ہے تو پھر ایک حیض کی اذیت کو گند سے بدلنے میں کیا فرق پڑتا ہے جبکہ حیض ایک گند ہے بھی سہی؟۔ پھر فقہاء نے جماع فی الدبر میں بھی اذیت کا خیال نہیں رکھا بلکہ کسی نے کہا گند ہے اور کسی نے کہا جماع فی القبل میں کونسی پاکی ہے وہ بھی تو پیشاب کا راستہ ہے۔ یہ تو خیال رکھا ہی نہیں کہ عورت کا بھی کوئی حق ہے یا نہیںہے؟۔ واضح آیات پر حلال و حرام میں تفرقے قائم کئے گئے ہیں۔
عربی میں حرث اثاثہ کو بھی کہتے ہیں اور کھیتی کو بھی۔ اثاثہ کا لفظ انگریزی اور اردو میں بھی دونوں معانی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ سائنس میں عناصر کی صفات کوا ن کا ایسٹ اثاثہ کہتے ہیں۔ عناصر سے ایسٹ کا تعلق دائمی ہوتا ہے اسلئے جب کوئی اپنے قابل بیٹے کو اپنا اثاثہ یا ایسٹ کہتا ہے تو یہ مالی اثاثہ جات کی طرح نہیں ہوتا ہے۔ بیگمات کو بھی اثاثہ اس خاص معنی میں کہا گیا ہے جس سے اولاد کا شجرہ خلد بھی وابستہ ہے اور جنت تک یہ تعلق نیکوکاروں کیلئے بحال رہتا ہے۔
پھر آیت(224)میں اللہ نے اَیمان یعنی عہدو پیمان کا ذکر کیا ہے۔ کوئی عہد کرتا ہے کہ میں مولوی کو دوروپے نہیں دوں گا، پیرصاحب کو شکرانہ نہیں دوں گا اور اس مذہبی طبقے سے لاتعلق رہوں گا یا انکے درمیان صلح نہ کراؤں گا تو پھر علماء ومفتیان اپنے لئے فوری طور پر سورہ ٔ بقرہ کی آیت(224) نکال کر حقیقت واضح کرینگے۔ لیکن جب میاں بیوی کے درمیان صلح کا معاملہ آئے گا تو پھر فقہ کی کتابوں سے مسئلہ کی تلاش شروع کرینگے۔ فقہی مسائل ایک دو نہیں سب کے سب شیطانی القا کا ملغوبہ ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں عورت کی اذیت کو ہی مدنظر رکھ کر واضح کیا ہے کہ مذہبی بہروپیوسے ہوشیار بنو اور مذہب کو ڈھال بناکر یہ فتویٰ مت دو کہ اللہ صلح میں رکاوٹ ہے۔ ظہار کے معاملے میں باطل مذہبی قول صلح میں رکاوٹ تھا تو اللہ نے عورت کو اذیت سے نجات دی۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

عورت کے حقوق کی ضرورت؟

علمی مغالطے کے ازالے اور کردار سازی کے مراکز آج فکروعمل سے محروم کیوں؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہۖ نے آخری وصیت نماز کے اہتمام اور عورت کے حقوق کی فرمائی تھی۔ اللہ نے فرمایا کہ ”نماز فحاشی اورمنکرات سے روکتی ہے”۔ وہ نماز کیا نماز ہے جو فحاشی اور منکرات سے نہ روکے؟۔ رسول اللہۖ نے معراج میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی تھی۔ اس کی تعبیر پہلی مرتبہ اس وقت پوری ہوئی کہ جب پہلی مرتبہ حضرت عمر نے بیت المقدس کو فتح کرکے دنیا کی دونوں سپر طاقتوں قیصر وکسریٰ کو شکست دی تھی۔ دوسری مرتبہ بیت المقدس فتح ہوگا اور دنیا کی کوئی ایسی جگہ گھر اور جھونپڑی نہ ہوگی کہ جہاں اسلام داخل نہ ہو۔ پوری دنیا پر خلافت قائم ہوگی۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ دین کا غلبہ دنیا پر ہوکر رہے گا ۔یہ وعدہ قرآن میں ہے۔ قیصر وکسریٰ کی حکومتوں کا وعدہ نبیۖ سے تھا اور اللہ نے آپ ۖ کے خلفاء کے ہاتھوں اس کو پورا کیا تھا۔ آئندہ بھی خلافت قائم ہوگی اور نبیۖ سے تمام ادیان پر دین کے غلبے کا وعدہ پورا ہوگا۔
شیخ الحدیث مولانا زکریا نے مدارس میں قوم لوط کا عمل زیادہ ہونے کی وجہ سے ذکرو اذکار کا سلسلہ شروع کیا ۔ خانقاہی نظام تزکیہ نفس کا ذریعہ تھا اور دیوبند کے علماء بھی حاجی امداداللہ مہاجر مکی سے تزکیہ نفس کیلئے بیعت تھے۔ دیوبندی خطیب شاہی مسجدلاہور مولانا عبدالقادر آزاد کے سسرمولانا عبدالمالک قریشی اور مولانااکرم اعوان کے مرشد مولانا اللہ یار خان بھی اللہ والے تھے۔ مولانا عبدالقادر رائے پوری اور مولانا خان محمد کندیاں امیر مجلس تحفظ ختم پاکستان سے کافی علماء کرام بیعت تھے۔ڈاکٹر عبدالحی اور مولانا حکیم اخترنے بیعت کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ حضرت حاجی عثمان نے ایک دن بھری محفل میں کہاتھا کہ” ایک عالم مسجد کا امام اپنی بیگم سے دبر میں جماع کرتا ہے ،اگر اس نے توبہ نہیں کی تو میں اس کو پھر بھری محفل میں اُٹھاکر ذلیل کروں گا”۔ یہ شاید اس کی بیوی کی طرف سے شکایت ہوگی ، کیونکہ خواتین بھی بڑی تعداد میں بیعت تھیں۔ لیکن اگر کھل کر اس بات کا اظہار کیا جاتا کہ بیوی نے شکایت کی ہے تو گھر میں معاملہ خراب ہوسکتا تھا ۔ اگر طلاق ہوجاتی ہے تو اس کا نقصان عورت ہی کو اٹھانا پڑتا ہے اسلئے کہ عورت کے حقوق معاشرے میںمحفوظ نہیں۔ سادہ لوح مریدوں نے سمجھ لیا تھا کہ مرشد جی کی کرامت ہے کہ میاں بیوی کے خاص عمل کے وقت بھی حاضر ہوتے ہیں۔حاجی عثمان فرماتے کہ نبیۖ کے حاضر ناظر پر دیوبندی بریلوی اختلاف کی شدت فضول ہے۔ اگر مطلق حاضر ناظر مان لیں تو یہ نبیۖ کی توہین ہے اسلئے کہ بیگمات سے لوگ مباشرت کرتے ہیں اور اللہ کیلئے انسان کے کپڑے کی حیثیت بھی نہیں اور اللہ جنسی معاملے سے پاک ہے، بشری آنکھوں کیلئے حیاء ایک اہم چیز ہے۔اگر بالکل انکار کریں تو قبر میں نبیۖ کی ذات مبارکہ کی زیارت کرائی جائے گی اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟۔
ایک ایرانی نژاد امریکی خاتون نے بڑی ضخیم کتاب ”اسلام میں عورتوں کے حقوق ” لکھی ہے۔ جس میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کو اس کا شوہر اس کے پیچھے کی راہ سے استعمال کرتا تھا جس سے اس کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی اور پھر اس نے حق مہر سے زیادہ خلع کی رقم دیکر جان چھڑائی۔ یوٹیوب پر ایک شیعہ عربی نے اہل سنت کے بہت معتبر حوالہ جات دیکر کہا ہے کہ شیعہ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ بیوی کیساتھ دبر میں جماع کو جائز سمجھتے ہیں لیکن اہل سنت کے علامہ ابن حجر، ملاعلی قاری اورصحیح بخاری تک میں کذاو کذا ، ثم مضی تک یہ روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جب ایک شخص نے عورت کیساتھ اسکے دبر میں جماع کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نساء کم حرث لکم فأتوا حرثکم انی شئتم ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں جیسے مرضی ان کے پاس آؤ”۔ شیعہ عالم نے عربی میں کہا ہے کہ ہمارے ہاں جماع فی الدبر جائز ہے مگر سخت مکروہ ہے لیکن ہم شیعہ پر اعتراض کرنے والے اپنے معتبر لوگوں کے حالات کو بھی دیکھ لیں۔ امام مالک نے کہا تھا کہ میں اپنی بیوی کیساتھ ابھی یہ کام کرکے آیا ہوں۔ وغیرہ۔ آج عورت مارچ میں میرا جسم میری مرضی کی بات بھی چل پڑی ہے، عورتیں اپنے شوہروں کا حال دوسری خواتین سے بیان کرتی ہیں اور نبیۖ کی وصیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے علمی مغالطے کا ازالہ بھی کرنا ہوگا۔ علماء ومفتیان اپنی علمی کمزوری سے واقف ہیں لیکن ہمت کرنے کی جرأت نہیں رکھتے اور اگر انہوں نے جرأت دکھائی تو خاتم النبیینۖ سے وفاداری ہوگی۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن میں رسول اللہۖ کی تمنا پرالقائے شیطانی سے کیا مراد ہے؟، اسکا جواب بہت آسان ہے۔

قرآن میں رسول اللہۖ کی تمنا پرالقائے شیطانی سے کیا مراد ہے؟، اسکا جواب بہت آسان ہے لیکن علماء اور مذہبی طبقے خود ہی اسکے بری طرح شکار تھے اسلئے قرآن وسنت کا اسلام ان کی نظروں سے ثریا ستاروں تک پہنچنے کے مانند غائب ہوا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

لعان پر غیرت کا معاملہ ہو یا تین طلاق کے پڑجانے کا مسئلہ ، طلاق سے رجوع کا مسئلہ ہویا خلیفہ بنانے کی بات ہو، حضرت علی واہلبیت کی تعریف ہویا اپنے بعد آپس کے قتل پر تنبیہ ہو۔

اسلام کی اجنبیت کا بہت ہی جلد آغاز ہوگیا تھا اور اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ دجال کا کردار ادا کرنے والے سے وہ حکمران اور علماء بدتر ہیں جو اسلام کے نام پر کھیل رہے ہیں!

مفتی اعظم پاکستان ابن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” دجال سے زیادہ خطرناک حکمران اور لیڈرہیں”۔ ( علامات قیامت اور نزول مسیح: تصنیف مفتی محمد رفیع عثمانی)
مفتی رفیع عثمانی نے لیڈر سے سیاسی رہنما مراد لئے ہیں ،حالانکہ لیڈر ہی تو حکمران بنتے ہیں اسلئے لیڈر سے مراد مذہبی علماء ہیں۔ مولانا یوسف لدھیانوی کی کتاب ”عصر حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” بہت کچھ موجود ہے۔ نوازشریف ، زرداری، جرنلوں کے بعد عمران خان کو بھی دیکھ لیا ہے۔ اس کتاب میں سبھی کو اپنا چہرہ صاف دکھائی دے گا اسلئے اس کو بہت عام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس میں احادیث کے ترجمے اور تشریحات میں کچھ غلطیاں بھی ہیں اور معاملات پہلے سے زیادہ اب واضح بھی ہوگئے ہیں۔ اگرموقع مل گیا تو غلطیوں کی وضاحت کیساتھ اس کی مختصر شرح لکھ دوں گا۔انشاء اللہ العزیز
رسول اللہۖ کا وصال ہوا تو انصار سردار سعد بن عبادہ نے مسندِ خلافت سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت ابوبکر وعمر نے موقع پر پہنچ کر قابو پالیا لیکن ہنگامی خلافت کی وجہ سے اُمت کو بنیاد ی دھچکا پہنچا۔ لعان کی آیت نازل ہوئی توسعد بن عبادہ نے کہا تھا کہ میں لعان کے بجائے بیوی اور اسکے ساتھ ملوث شخص کو قتل کردوںگا۔ نبیۖ نے انصار سے شکایت کی تو انصار نے عرض کیا کہ یہ بہت غیرت والے ہیں، آج تک ہمیشہ کنواری ہی سے شادی کی،کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے نکاح نہیں کیا اور جس کو طلاق دی تو اس سے کسی اور کو نکاح نہیں کرنے دیا۔اس پر نبیۖ نے فرمایا :میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اوراللہ مجھ سے زیادہ ہے۔
نبیۖ کی یہ تمنا تھی کہ امت اللہ کے قرآن پر عمل کرے مگر فقہاء نے اس تمنا کی غلط تشریح کرتے ہوئے لکھ دیا کہ نبیۖ نے حضرت سعد کی غیرت کی تائید فرمائی۔ حالانکہ نبیۖ نے اس کی غیرت کو بالکل غلط قرار دیا ۔نبیۖ کا حضرت خدیجہ اور دوسری طلاق شدہ وبیوہ خواتین سے نکاح غیرت کے منافی نہ تھا۔ جب رسول اللہۖ کو شک ہوا تھا تو حدیث میں آتاہے کہ حضرت علی سے فرمایا کہ حضرت ماریہ قبطیہ کے ہم زبان کو قتل کردو، حضرت علی نے اس کو کنویں سے نکالا تو وہ مقطوع الذکر تھا اسلئے چھوڑ دیا۔ فتح مکہ کے موقع پر حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہاتھا لیکن رسول اللہۖ نے روک دیا تھا۔
جب اسلام نازل ہوا تھا تو دورِ جاہلیت میں بعض بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور دنیا کے مختلف مذاہب میں طلاق کا تصور بھی ناجائز تھا اور کہیں طلاق کے بعد عورت کو دوسری جگہ نکاح سے روکا جاتا تھا۔ یہود ،نصاریٰ اورمشرکین مکہ خود کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے تھے لیکن طلاق اور اس سے رجوع کے حوالے سے بہت افراط اور تفریط کا شکار تھے۔ ہندوستان میں حضرت نوح کی اولاد آباد ہوگئی لیکن برہمن اسرائیلیوں نے ہندو، بدھ مت اور دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی قبول کیا ہوگا۔ البتہ جس طرح فتح مکہ کے بعد مشرکین مکہ نے مجبوری کا نام شکریہ کے طور پر اسلام قبول کیا تھا جس کی وجہ سے بنوامیہ ،بنوعباس نے بعد میں مسندِ خلافت پر خاندانی قبضہ بھی کیا ، یہ وہی تھے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد ہی اسلام قبول کیا تھا۔ اگر ہندوستان کے برہمن بھی اسی طرح اسلام کو قبول کرتے تو پھر خاندانی بنیادوں پر مغل سے زیادہ خودہی بادشاہت کرتے۔
حضرت مولانا سیدضیاء اللہ شاہ بخاری درست کہتے ہیں کہ قرآن میں فتح سے پہلے اور فتح کے بعد میں مسلمان ہونے والوں کے درمیان فرق کیا گیاہے ۔ اس سے بڑا فرق اور کیا ہوسکتا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہونے والوں نے خلافت راشدہ کا نظام قائم کیا اور بعد والوں نے خاندانی بادشاہت قائم کرلی؟۔ سعودی عرب کو حضرت معاویہ سے پیار اور یزید سے سروکار نہیں بلکہ بادشاہت کو سپورٹ کرنے کی فکرمیں اپنا خیال رکھ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کتا مالک کیلئے بھی بھونکتا ہے اور اپنے لئے بھی لیکن کچھ کتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اپنے ہی لئے بھونکتے ہیں۔ سعودی شاہی خاندان اور انکے پالتو اہلحدیث بھی یزید سے زیادہ ہل من مزید کی جہنم بھر رہے ہیں ۔ شیعوں سے نہیں حضرت حسین کے کردار سے ان کو خطرہ ہے اسلئے بھارتی فوج سے معاہدے کررہے ہیں۔
رسول اللہۖ نے حضرت علی کی نامزدگی چاہی بھی تو حدیث قرطاس نے اس تمنا کو عملی جامہ نہیں پہنانے دیا۔ اگر نبیۖ اس کو اسلام اور کفر کا مسئلہ سمجھتے تو غدیر خم کے بجائے آخری خطبے میں حضرت علی کو نامزد کردیتے ، حضرت علینامزد ہوئے اور نہ قریش کو اپنے بعد امام مقرر کرنیکاا علان ہوا تھا۔ ورنہ انصار وقریش اور اہلبیت کے درمیان خلافت کے مسئلے پر اختلاف کی نوبت نہ آتی۔ حضرت علی ہی کو مقرر کرنا ہوتا تو پھر نبیۖ اس کیلئے باقاعدہ بیعت لیتے جس طرح حضرت عثمان کی شہادت پر صلح حدیبیہ سے پہلے صحابہبیعت ہوگئے اورصلح حدیبیہ کے بعد خواتین سے اصلاح کیلئے بیعت لینے کی اللہ نے وضاحت فرمائی ہے۔
رسول اللہۖ نے اہلبیت اور اپنی عترت کو قرآن کیساتھ دوسری بھاری چیز بھی قرار دیا اور اپنے اہل بیت کو کشتی نوح کے مانند بھی قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خلافت راشدہ سے لیکر بنوامیہ وبنوعباس کے ادوار تک اہلبیت پر بہت مظالم بھی ہوئے ہیں لیکن اگر اقتدار سے محروم کرنے کو بنیاد بنایا جائے توپھر یہ دین کیلئے درست کردار ادا کرنے کے بجائے محض خاندانی جھگڑے کا معاملہ ہی باقی رہ جاتا ہے۔ بعض معاملات کا بالکل انکار کرنا بھی درست نہیں کہ حضرت موسیٰ نے بھائی حضرت ہارون کو کیسے داڑھی اور سرکے بالوں سے پکڑا ہوگا؟، مگر اس کی وجہ سے اتنی کہانیاں گھڑنا بھی درست نہیں کہ انسانیت دم بخود رہ جائے۔
نبیۖ کی تمنا حضرت علی اور قریش کے حوالے سے امامت کی تھی مگر اس میں شیطان نے جو القا کیا ہے اس کی گلوکاری پر بھی بہت ہی بڑی حیرت ہے۔ رسول اللہۖ نے لعان کے بعد ایک ساتھ تین طلاق پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا اور ایک ساتھ تین طلاق اور حیض میں طلاق دینے پر غضبناک بھی ہوئے مگر اُمت جس طرح رسول اللہۖ کی معتدل تمنا سے ہٹ کر افراط وتفریط کا بری طرح شکار ہوگئی ہے اس القائے شیطانی پر بھی کوئی لانگ مارچ کرے گا؟۔
اگر میاں بیوی میں کھلی ہوئی فحاشی کے الزام کی طرح کوئی ناچاقی ہوتو پھر قرآن اچانک جدائی وتفریق کی واضح الفاظ میں اجازت دیتا ہے۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت میں اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ اگر بلاوجہ ایک ساتھ تین طلاق سے فارغ کیا جائے تو نبیۖ کی طرف سے غضبناک ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ قرآن میں عدت کے اندر مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کی جس طرح وضاحت ہے اسکے ہوتے ہوئے جاہلانہ طرزِ عمل کو اپنانا بہت بڑی کوتاہی کا پیش خیمہ تھا۔
رسول اللہ ۖ کی تمناؤں کا شیطانی القا سے خون کرنے والے مذہبی طبقے نے عجیب روش اپنالی ہے۔ جب شوہر اور بیوی جدا ہونا چاہتے ہوں تو پھر طلاق میں بھی حرج نہیں ہے۔ خلع کی صورت میں رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ایک ہی حیض کی عدت کافی ہے۔ جمہور فقہاء اور سعودی عرب میں اس پر عمل ہوتا ہے۔ جب شوہر تین طلاق دے اور عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو توپھر شوہر کو اللہ نے رجوع کا حق نہیں دیا ہے۔ تین طلاق ہی نہیں ایک طلاق پر بھی رجوع کا حق نہیں دیا ہے اور ایک طلاق ہی کیا؟، اگر ایک مرتبہ ناراضگی شروع ہوئی تو پھر جب تک باہمی رضامندی سے دونوں راضی نہ ہوں تو شوہر کیلئے رجوع کرنا حرام ہے۔
قرآن میں ایک ایک بات کی زبردست وضاحت ہے لیکن شیطان نے اپنے القا سے جس طرح مذہبی طبقات کے مسالک کوبھر دیا ہے تو اس کا انجام یہ نکلا ہے کہ امت قرآن سے بالکل دور ہٹ گئی ۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اوررسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔(القرآن)
یمین کا مفہوم بہت وسیع اور واضح ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں فتویٰ لکھاہے کہ شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو تجھے طلاق اور بیوی نے کہا کہ اگر میری شرمگاہ تیری شرمگاہ سے خوبصورت نہ ہو تو میری لونڈی آزاد ہے۔ اگر دونوں کھڑے ہوں تو مرد کی طلاق ہوگئی ،عورت بری ہوگئی ۔ دونوں بیٹھے ہوں تو مرد کی طلاق نہیں ہوئی اور عورت کی لونڈی آزاد ہوگئی اسلئے کہ کھڑے ہونے والی حالت میںعورت کی زیادہ خوبصورت ہوتی ہے اور بیٹھنے کی حالت میں مرد کا زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔ اور اگر عورت کھڑی ہو اور مرد بیٹھا ہو تومجھے بھی نہیں پتہ کہ کیاہوگا؟۔امام ابوبکر بن فضل نے کہا ہے کہ مناسب ہے کہ دونوں حانث ہوں کیونکہ دونوں نے اپنے یمین میں اپنی شرمگاہ کے زیادہ خوبصورت ہونے کی شرط لگائی ہے جبکہ اسکے برعکس میں حانث ہونگے اور باقی اللہ صحیح بات جانتا ہے۔ یہ فتویٰ سلطنت عثمانیہ کے ”فتاویٰ تاتار خانیہ” میں چھپ گیا ۔ پھر ہندوستان کے شاہی مدرسہ مراد آباد سے مزید قرآن وحدیث کی تخریج وتالیق سے علماء دیوبند نے آراستہ کرکے شائع کیا تھا اور پھر کوئٹہ سے یہ فتاویٰ تاتارخانیہ شائع ہوا ہے۔ اگر صادق سنجرانی نے مولانا عبدالغفور حیدری اور مولانا عطاء الرحمن سے پوچھ لیا ہوتا کہ پی ڈی ایم (PDM)کے مولانافضل الرحمن نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر ، نوازشریف اور بیگم کلثوم کو مسئلے کا کیا جواب دینا تھا؟۔ تو پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اسلامی آئین سازی کا آغاز ہوسکتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے القائے شیطانی کے دریامردار میں غرق علماء ومفتیان کو بہت واضح انداز میں قرآنی آیات سے رہنمائی فراہم کی ہے لیکن ایک طرف درباری علماء نے قرآن وسنت کے مقابلے میں انتہائی گھٹیا قسم کا کردار ادا کیا ہے تو دوسری طرف حکمرانوں نے بھی استنجے کے ڈھیلوں کی طرح ان کو استعمال کرکے پھینکا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے طالبان دہشت گردوں پر خراسان کے دجال والی روایت بالکل درست فٹ کی تھی مگر ان جاہلوں کو سیدھی راہ نہ دکھانے والے علماء اور انکو غلط راہ پر ڈالنے والے حکمران دجال سے زیادہ بدتر اور خطرناک ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ جو طالبان مولانا فضل الرحمن پر بھی خود کش حملے کررہے تھے تو پھر وہ پیپلزپارٹی کے دور میں میاں نواز شریف اور عمران خان نیازی کو اپنی طرف سے نمائندہ نامزد کررہے تھے۔ اگر پیپلزپارٹی، ن لیگ، تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام کے حکمران اور لیڈر ، پاکستان کی مذہبی اور سیاسی قیادت اُمت مسلمہ کو قرآن کی طرف رجوع کرنے پر راغب کرتے تو ایکدوسرے سے لوٹ مار میں اضافے اور سبقت لے جانے کے بجائے انسان جیسے انسان بن کر رہتے۔
دورِ جاہلیت میں ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کی لعنت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عورت کو زندگی بھر انتظار کرنا پڑتا تھا مگر قرآن نے ایک ایک مسئلے کو کچھ اس انداز سے حل کردیا ہے کہ جب عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو پھر ایک مرتبہ نہیں دس مرتبہ حلالہ کرانے کے بعد بھی وہ حلال نہیں ہوسکتی ہے، کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر بنوں کے اندر زبردستی سے حلالے کی لعنت والے کیس پر عدالت نے مولوی اور ملوث شخص کو جیل بھیج دیا تھا۔
جب عورت راضی ہو تو پھر حلالہ کی لعنت کا کوئی تصور اسلام میں نہیں تھا لیکن شروع میں عورت کو قرآن کے مطابق تحفظ دیکر حضرت عمر نے طلاق کا فیصلہ کردیا اور صحابہ کرام اہل زبان تھے اسلئے عدت میں رجوع کرلیا کرتے تھے اور تنازع کی صورت میں حرام کے لفظ پر تین طلاق کا فتویٰ دیتے تھے۔ صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ نے تنازعہ کی صورت میں بالکل ٹھیک فتویٰ دیا لیکن جب امت نے قرآن کو چھوڑ دیا اور میاں بیوی صلح پر راضی ہونے کے باوجود بھی فقہاء سے فتویٰ طلب کرنے لگے تو پھر بہت بڑا فاصلہ کھڑا ہوگیا۔ اس فاصلے کی بنیاد اس طرح بن گئی کہ بادشاہ سے عورت جان چھڑانا چاہتی تھی اور جب بادشاہ مشروط طلاق دیدیتا تھاتو مولوی فجر کی آذان کا مغالطہ دیکر تہجد کے وقت میں آذان دیتا تھا۔ پھر فتویٰ دیا جاتا تھا کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔ پہلے دنیا میں عورت کے حقوق نہیں تھے اسلئے لعان کا قرآنی قانون لوگوں نے مسترد کردیا تھا۔ یہاں تک کہ تعزیرات ہند میں انگریز نے بھی غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دی تھی ۔ اب حلالہ کی لعنت سے جان چھڑانے کیلئے قرآن کی آیات میں بہت وضاحت ہے جس سے شیطانی القا کا نہ صرف خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ اسلام کوبرصغیر پاک وہندکے غیرتمندلوگوں اور دنیا بھر کے مسلمان،کافر سمیت سب قبول کرینگے۔دجال سے بدتر حکمران اور علماء ومفتیان کو اپنی روش بدلنا پڑے گی اور خلافت کا نظام دنیا میں قائم ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat