پوسٹ تلاش کریں

اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

برصغیر پاک وہند سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہونیوالا ہے۔ پشتون قوم کہتی ہے کہ ہم نے مشاورت سے اسلام قبول کیاتھا لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پشتو نیم کفر ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے اسلئے کہ اسلام میں ایک لعان کا قانون ہے۔ قرآن کا یہ حکم ہے کہ اگر بیوی کو شوہر کھلے عام کسی کیساتھ فحاشی میں مبتلاء دیکھ لے تو اس کے خلاف قتل کا اقدام نہیں کرسکتا ۔ پشتون نے اسلام کا یہ حکم نہیں مانا ہے۔ وہ کہتاہے کہ پٹھان غیرت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا ۔ دوسری طرف نام نہاد اسلام میں حلالہ کی لعنت ہے تو پشتون نے اپنے وسیع ترمفاد کیلئے اس بے غیرتی کو قبول کرلیا ہے۔ بنی اسرائیل میں یہ خصلت تھی کہ وہ اللہ کے بعض احکام پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے۔ یہی حشر پشتونوںنے اسلام اور غیرت کیساتھ بھی کررکھا ہے۔
حضرت خالد بن ولید بڑے بہادر تھے ،ان کا تعلق بھی اصل میں بنی اسرائیل سے تھا۔ قریش بنی اسماعیل تھے۔ جس طرح (1948) میں پشتون قبائل نے کشمیر کو فتح کیا تھا اسی طرح خالد بن ولید نے مکہ فتح کرنے کیلئے پشتونوں کا لشکر بلایا تھا۔ ہندی برہمن کا ذہن بہت تیز ہوتا ہے۔ جب اسلامی اقتدار دنیا میں آیا تو برہمن نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن اچھوتوں نے اسلام کو قبول کرلیا،جس طرح امریکہ کے گورے مسلمان نہیں ہوتے مگر کالی نسل والے اسلام قبول کرتے ہیں۔ اسلام میں نسلی امتیاز کا تصور ایک تعارف کے طور پر ہے ،انسانی حقوق میں کوئی فرق نہیں ہے اور اصل اہمیت نسل کی نہیں کردار کی ہے لیکن معروضی حقیقت یہ ہے کہ نسلی شرافت اپنے رنگ ڈھنگ دکھاتی ہے۔
عرب میں ایک نبوت کا دعویدار گزرا تھا جس کی شاعری کی کتاب ”المتنبی” درس نظامی میں پڑھائی جاتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”اگر شریف انسان کی عزت کرلی تو گویا اسکے آپ مالک بن گئے اور اگر رذیل کی عزت کرلی تو وہ خراب ہوجاتا ہے”۔ اسی طرح وہ عجم میں حکمران خاندانوں کا کہتا ہے کہ ” ان کی نسل اور حسب نہیں ہے ، لوگوں پر حکومت ایسے کرتے ہیں جیسے جانوروں کو چراتے اور ہنکاتے ہوں”۔اگر اچھے خاندان سے برصغیرپاک وہند میں حکمران آگئے تو اسلام کی نشاة ثانیہ کاچرچا ہوگا اور دنیا بھر میں اسلام کے ڈنکے کا صوربہت جلد بجے گا۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

سورۂ نجم کے حوالے سے القائے شیطانی کااصل جھگڑا کیا ہے؟

مولانا مودودی اور دیگر مفسرین میں عقل وعلم کا کیا فرق تھا اورسورۂ حج میں سورۂ نجم کے حوالے سے القائے شیطانی کااصل جھگڑا کیا ہے؟، آج جماعت اسلامی اور تمام مدارس کے علماء کرام کا فرض ہے کہ مل بیٹھ کر معاملات حل کریں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مودودی کی عقل تیز اور حق پرست انسان تھے مگر علم کمزور تھااور مدارس کے علماء ومفتیان کے ہاں علم تھا مگر عقلی صلاحیتوں سے بالکل محروم ،پیدل اور تقلیدی روش کے انتہائی درجہ پابندتھے!

اگر امت مسلمہ نے اپنی موٹی موٹی غلطیوں کی اصلاح کرکے قرآن کی طرف رجوع نہیں کیا تو پھر ہم بڑے عذاب سے بھی دوچار ہوسکتے ہیںلمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی!

ہندوستان میں قومی اسمبلی کی ایک ہندو خاتون کہہ رہی تھی جس کا تعلق بھی اپوزیشن سے تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق پر مسلمانوں کو سزا دینے کا قانون اسلام کے منافی ہے۔ اس سے میاں بیوی کے درمیان دشمنی مزید پکی ہوجائے گی اور قرآن میں جو طلاق کے بعد عدت و رجوع کے اعلیٰ وارفع قوانین موجود ہیں وہ صرف دیکھ لئے جائیں وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندو، عیسائی اور دنیا بھر کے غیرمسلموں کیلئے بھی طلاق ،رجوع اور عدت کے حوالے سے یہ قابلِ قبول ہیں بلکہ زبردست اور بہترین ہیں ،ان کو دنیا کا کوئی انسان مسترد نہیں کرسکتا ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان بلد طیب مکہ اور مدینہ کی طرح ہے لیکن یہاں پر ابوجہل، ابولہب اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے کردار کے لوگ ریاست، حکومت، اپوزیشن، قوی سیاسی و مذہبی جماعتوں اورفرقہ پرستوں وقوم پرستوں کی شکل میں مخلص اور اچھے لوگوں پر مسلط کئے گئے ہیں۔ چن چن کر گندے اور ناپاک لوگوں کو بااختیار اور ذمہ دار جگہوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔الا ماشاء اللہ
مجھے تو یہ خطرہ لاحق ہوگیاہے کہ کہیںہندوستان کے ہندو مسلمان بن کر اسلام نافذنہ کردیں اور پھر پاکستان کو فتح کرکے یہاں بھی اسلام نافذ کردیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی و موجودہ قبلہ ایاز صاحب اسلام کے نام پر روٹی اور بسکٹ توڑنے کیلئے بیٹھے ہیں۔ ان سے وہ ہندو خاتون لاکھ درجے بہتر ہے جو دنیا کو قرآن کی فطری طلاق کو قانون بنانے کا کہہ رہی تھی۔ ہمارا اسلام عقل، علم ، غیرت، حیاء ، شرم اور منطق سے عاری ہے۔
رسول اللہ ۖ کی تمنا تھی کہ بیت المقدس کی جگہ خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپۖ کی یہ آرزو بالکل پوری کردی اور ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا کہ ” نیکی یہ نہیں ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف رُخ پھیرو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈر گیا”۔ حضرت امام حسین کو اپنے کنبہ اور ساتھیوں کے ساتھ شہید کرنے والے یزیدی لشکر نے سمجھ لیا تھا کہ مسلمان پہلے گمراہ تھے اسلئے وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے اور پھر راہِ ہدایت پر آگئے اسلئے قبلہ بدل دیا لیکن اللہ نے کہا کہ نیکی کا مدار تقوی پر ہے ،مشرق یا مغرب کی جانب اپنا رُخ پھیرنا نہیں ہے۔ یزیدی لشکر سمجھ رہاتھا کہ ہم قبلہ رُخ ہوکر نماز پڑھتے ہیں یہ نیکی ہے، باقی رسول خداۖ کے کنبے کو شہید کرنے سے اسلام پر اثر نہیں پڑتا ۔ رسول اللہۖ کی تمنا یہ نہیں تھی کہ اہل قبلہ ظالم اور مظلوم ایک ہوجائیں گے بلکہ دنیا سے ظالمانہ نظام ختم کرنا مقصد تھا اور مسلمانوں نے القائے شیطانی سے سمجھ لیا ہے کہ اہل قبلہ ظلم، منافقت اور خناس ہونے کی آخری حد پار کرے تو بھی اس کی ماں کا شوہر اور وہ اس کا سوتیلا یا حقیقی بیٹاہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ نہیں!، نہیں!،ہرگز نہیں!، اصلی وسوتیلے باپ کا ظالم ہونا الگ بات ہے لیکن اہل قبلہ کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ جس کے اندر کردار ہوگا نیکی ہوگی وہی اچھا ہے، قبلے سے کوئی فرق پڑتا تو جب ابوجہل وابولہب کا قبلہ خانہ کعبہ تھا تو رسول خداۖ کا قبلہ اس وقت بیت المقدس تھا۔ اہل قبلہ کے نام پر دھوکہ دہی کی گنجائش بالکل بھی نہیں۔
جس طرح رسولِ خداۖ کی تمنا قبلہ بدلنے کی تھی اور اللہ نے اس آرزو کو پورا کردیا، اسی طرح رسول اللہۖ کی ایک تمنا یہ بھی تھی کہ عورت کیساتھ بہت زیادہ ظلم ہوتا ہے، اس ظلم کا خاتمہ ہو۔ ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کی لعنت اور بار بار مرد کو رجوع کا حق وغیرہ بڑا ظالمانہ نظام ہے اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولۖ کی اس تمنا کو بھی بھرپور طریقے سے پوراکردیا مگر القائے شیطانی نے وہ گل کھلائے ہیں کہ آج مسلمان قرآن کو چھوڑ کر اس شیطانی مہم جوئی کے دریائے مُردار میں غوطے کھا رہے ہیں۔
حضرت امام حسن نے اپنا اقتدار امیرمعاویہ کے حوالے کرتے ہوئے جن شرائط کو پیش کیا تھا،ان میں بنیادی باتیں دین کی پاسداری اور تحفظ کا معاملہ تھا۔ حضرت امام حسین نے بھی مدینہ سے کوفہ جانے کا عزم اسلئے کیا تھا کہ اسلام کے احکام پر القائے شیطانی کے غلبے کا خطرہ تھا۔ رسول اللہۖ کے ساتھیوں نے حبشہ ہجرت کی تو اس وقت سورۂ نجم کے حوالے سے مشرکینِ مکہ نے شیطانی القا کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا جس کی وجہ سے حبشہ ہجرت کرنے والے غلط فہمیوں کا شکار ہوئے تھے۔ پھر رسول اللہۖ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ جب انگریز ہندوستان کوچھوڑ کر جارہاتھا تومسلمانوں نے اپنے دین کو تحفظ دینے کیلئے پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج ہندوستان کے پنجاب میں جوان لڑکیوں اور جوان لڑکوں کے درمیان جس طرح سے کشتی ہوتی ہے ،اگر پاکستان نہ بنتا اور جنرل ضیاء الحق کوشش نہ کرتے تو حقوق کی جنگ لڑنے والی عورت آزادی آٹھ مارچ پر ” میرا جسم میری مرضی”کے غلط الزام بھی نہیں لگ سکتے تھے جس میں جبری جنسی تشدد کیخلاف آواز اُٹھائی جاتی ہے۔
سید مودودی نے اپنی عقل اور دینی غیرت کو بروئے کار لاکر سورۂ حج کی آیت کی تفسیر میںنہ صرف اکثر مفسرین کی طرف سے اس کی تردید کی تصدیق کی ہے بلکہ ان کی تردید کو ناکافی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” اگر اس کی سند صحیح ہوتی تو پھر اس شیطانی قصے کو مان لیا جاتا؟۔ اور محض اس وجہ سے اس کا انکار کرنا کہ اگر یہ مان لیا جائے تو پھر دین کا سارا معاملہ مشکوک ہوجائے گا۔ان لوگوں کیلئے تو فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جو ایمان کیلئے پر عزم ہوں مگر ان کیلئے یہ فائدہ نہیں کہ جو دین کے منکر ہیں یا پھر تحقیق کرکے راہِ حق کے متلاشی ہیں۔ وہ کیوں اس عذر کو قبول کریںگے کہ یہ قصہ مان لیا تو دین پر اس کا منفی اثر پڑے گا۔ وہ تو کہیں گے کہ اگر تمہارے دین پر کوئی اثر پڑتا ہے تو بھلے پڑے ،ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہم تمہارے دین کے غلط معاملات کے محافظ نہیں ہیں۔
مولانا مودودی نے جن اکابر مفسرین کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے دو باتیں کی ہیں ۔ایک یہ کہ اگر اس قصے کی سند صحیح ہوتی تو یہ اکابر مان لیتے؟۔ محض اس وجہ سے انکار کیا ہے کہ اس کی سند ان کے نزدیک درست نہیں ہے۔ پھر ان پر دوسرے لمحے میں سانپ کی طرح پلٹ کر یہ وار کردیا ہے کہ ا کابر مفسرین نے انکار کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اگر ہم نے اس کو مان لیا توسارے دین پراس کا بہت برا اثر پڑے گا اور ان کی اس بات سے ایمان کیلئے پرعزم لوگ مطمئن ہوجائیں گے لیکن کفار اور تحقیق کرکے حق تک پہنچنے والے اس سے مطمئن نہ ہوںگے۔
مولانا مودودی کی اپنی باتوں اور الزام میں بہت بڑا تضاد اور غلط بیانی ہے اور اس کی وجہ کوئی سازش نہیں بلکہ وہ کم عقلی ہے جس پر بھروسہ کرکے وہ دین کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ اگر اکابر کے ہاں اس قصے کی سند صحیح ہوتی تو پھر مان لیتے اور یہی دیانتداری کا تقاضہ بھی ہوتا۔ دین میں لوگ عقل نہیں روایت کے تابع ہوتے ہیں۔ رسول اللہۖ کو مذہبی اقوال کے ذریعے یہ روایت پہنچی تھی کہ ”اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح حرام قرار دے تو وہ حرام ہوجاتی ہے اور نبیۖ نے اس روایت پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک خاتون کو مذہبی فتویٰ دینے پر اصرار بھی فرمایا لیکن اس خاتون کو اپنا حال اور مستقبل اس مذہبی فتوے میں تاریک نظر آرہا تھا اسلئے وہ نبیۖ کیساتھ اپنے حق کیلئے مسلسل الجھ گئی تھی ۔ اس مجادلہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ کے ذریعے سے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی اور اس مذہبی روایتی فتوے کی بہت زبردست الفاظ میں تردید فرمادی ہے۔ سورۂ مجادلہ کے علاوہ سورۂ احزاب کی آیات بھی دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس وقت کفار اور منافقین کی کیفیت کیا تھی۔ جس میں اللہ نے حکم دیا کہ ” اے نبی! اللہ سے ڈرو،اور اتباع مت کرو کافرین ومنافقین کی ۔ جو اللہ نے آپ پر احکام نازل کئے ہیں اسی کی اتباع کریں …………..”۔
دین کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ عقل سے زیادہ روایت پسندی پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ اکابر مفسرین نے بہت دیانتداری کیساتھ جب یہ دیکھ لیا کہ اس قصے کی سند میں کوئی جان نہیں ہے تو اس کو مسترد کردیا۔ اگر مولانا مودودی نے دیوبند کے رسالے میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے کے بجائے درسِ نظامی کی تعلیم بھی اساتذہ کرام سے حاصل کی ہوتی تو پھر روایت کی سند کی قیمت کا بھی اس کو پتہ چل جاتا۔ درسِ نظامی کے تعلیمی بورڈ میں شامل نصاب کی کتابوں میں قرآن کی جو تعریف پڑھائی جاتی ہے اس اصولِ فقہ میں قرآن کریم کے حوالے سے ایسی آیات ہیں جو متواتر نہ ہونے کی وجہ سے قرآن کی غیرمتواتر آیات سمجھی جاتی ہیں اور ان میں خبر احاد اور خبر مشہور کی آیات شامل ہیں۔ حنفی فقہاء کے نزدیک خبراحاد کی آیات معتبر ہیں لیکن امام شافعی کے نزدیک خبر احاد کی آیات پر بھروسہ کرنا ہی دین میں تحریف اور بہت بڑا کفر ہے۔ امام شافعی کے نزدیک خبر واحد کی حدیث معتبر ہے لیکن آیت معتبر نہیں ۔ جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک خبرواحد کی آیت بھی معتبر ہے لیکن حدیث معتبر نہیں ہے۔
دین کا سارا ڈھانچہ عوام اور خواص میں جاہلانہ اور منافقانہ روش کا شکار ہے مگردین کے نام پر اپنے مفادات اُٹھانے والے حقائق کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ حضرت امام شافعی نے سورۂ نجم کے حوالے سے القائے شیطانی کے غلط پروپیگنڈے کی طرح ان تمام خبرواحد اور مشہور آیات کو بھی القائے شیطانی ہی قرار دیا تھا جو صحابہ کرام کے مختلف مصاحف کی طرف منسوب تھیں۔ اگر ان کو بھی آیات مان لیا جاتا تو پھر قرآن کے تحفظ پر ایمان باقی نہیں رہتا تھا۔ عالمِ حق کا کردار ادا کرنے کا یہ صلہ امام شافعی کو دیا گیا تھا کہ ان پر رافضی ہونے کی تہمت لگادی گئی تھی۔ حالانکہ آج بھی انہی کا نظریہ، عقیدہ اور عالمِ حق کردار اسلام اور ایمان کی درست ضمانت ہے۔ اصولِ فقہ میں ان کا مؤقف بھی پڑھایا جاتاہے اور حنفی مؤقف بھی پڑھایا جاتاہے۔ مثلاًحنفی مسلک یہ ہے کہ قرآن میں کفارے کے روزے میں تسلسل کا ذکر نہیں ہے لیکن خبرواحد کی آیت میں ہے اسلئے حنفی مذہب میں تین روزے کا تسلسل بھی ضروری ہے لیکن امام شافعی کے نزدیک خبر واحد کی آیت معتبر نہیں ہے اسلئے کفارے میں روزے کا تسلسل نہیں ہے۔
مولانا مودودی کے پاس عقل تھی مگر علم نہیں تھا اسلئے تجدیدواحیائے دین کی محنت میں کامیابی حاصل کرنے کے بجائے اپنے ناقص علم سے مزید گمراہی کا عوام کو شکار کردیا ہے۔ علماء نے تقلیدی ذہنیت کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو ختم کیا ہے اور مدارس کو احیائے اسلام کے بجائے دین وایمان کا کباڑ خانہ بناکر رکھ دیا ہے۔ ہمارے اندر اپنی جانوں سے زیادہ دین اور ایمان کے تحفظ کا جذبہ نہ ہوتو پھر ہم کس بات کے مسلمان ہیں؟۔ ہمیں کوئی قتل کرنا چاہتا ہے تو اپنا شوق ضرور پورا کرلے لیکن یزید یت حسینیت کا دعویٰ کرے تو یہ بہت بڑی منافقت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

رسول اللہۖ نے مسجد کی نماز باجماعت ، حج، جہاد ، سفر، تعلیم وتعلم اور تجارت میں خواتین کو شانہ بشانہ کردار ادا کرنے کا عملی نمونہ پیش کیا

خواتین آٹھ (8) آزادی مارچ

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خواتین دنیا بھر میں حقوق کیلئے خاص طور پر جبری جنسی تشدد کے خلاف ہرسال آٹھ (8)مارچ کو جلسے ،جلوس اور ریلیاں نکالتی ہیں اورکچھ سالوں سے پاکستان میں بھی یہ رسم شروع ہوگئی ہے۔
آزاد منش ،سیکولر اور مارکسیزم کی پیروکارخواتین کے مقابلے میں جماعت اسلامی نے حیاء مارچ کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اگرجماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان اوردیگر مذہبی جماعتیں تصادم کی فضاء پیدا کرنے کے بجائے قرآن وسنت میں موجود خواتین کے حقوق سے آگاہی شروع کردیں اور اس پر عمل درآمد کیلئے معقول اور مؤثر آواز اُٹھائیں تو پھر مذہبی خواتین ہمیشہ کیلئے مذہبی جماعتوں کے حق میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیںلیکن اگر ان کو مذہب میں موجود حقوق بھی نہیں دئیے گئے۔ حلالہ کی لعنت اور طلاق کے غلط مسائل سے بھی چھٹکارا دلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تو پھر حیاء مارچ کا وہی حال ہوگا جو پختون تحفظ موومنٹ کے مقابلے میں نام نہاد پاکستان تحفظ موومنٹ کا ہوا تھا۔ صوابی میں استعمال ہونے والا طبقہ کھلے عام سوشل میڈیا پر استعمال ہونے کی معافیاں مانگ رہا تھا۔ پھر حیاء مارچ والی بھی انہی آزاد منش کا حصہ ہوںگی ۔ جس طرح مولانا کوثر نیازی نے امیرجماعت اسلامی لاہور کا عہدہ چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
ہم اپنے ادارے کی طرف سے خواتین کی عزم وہمت کو بھی سلام پیش کرتے ہیں اور قرآن وسنت کے حوالے سے ان کے حقوق کی بحالی میں اپنا کردار بھی ادا کررہے ہیں۔ انسانوں کی تہذیب وتمدن میں فرق ہوسکتا ہے لیکن بنیادی حقوق میں کوئی فرق نہیں ہے۔ رسول اللہۖ نے مسجد کی نماز باجماعت ، حج، جہاد ، سفر، تعلیم وتعلم اور تجارت میں خواتین کو شانہ بشانہ کردار ادا کرنے کا عملی نمونہ پیش کیا۔ حضرت عائشہ سے حضرت زینب تک مقتول خلیفہ ثالث اور کربلا کے مقتولین کیلئے جس ہمت کا مظاہرہ کیا تھا وہ مردوں کے حصے میں بھی نہیں آسکا تھا۔
فرعون کی بیوی حضرت آسیہ، حضرت مریم ،حضرت حاجرہ ، حضرت سارا اور حضرت حواء سے لیکر قیامت تک آنیوالی تمام خواتین تمام مردوں کی مائیں ہیں جنکے قدموں کے نیچے جنت ہے اسلئے کہ بچوں کیلئے باپ سے زیادہ ان کی قربانی ہوتی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اللہ نے حضرت عائشہ پر بہتان کا تدارک ایسے شفاف انداز میں کیا کہ قرآن کی ایک ایک آیت میں زبردست سبق آموز درس وتدریس ہے

اللہ نے حضرت عائشہ پر بہتان کا تدارک ایسے شفاف انداز میں کیا کہ قرآن کی ایک ایک آیت میں زبردست سبق آموز درس وتدریس ہے مگر مذہبی طبقے نے قرآن کو چھوڑ کر اسلام کے چہرے کو بڑی خراب کالک لگائی ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حضرت عائشہ پر بہتان کے صلہ میں اُمت مسلمہ کو جو خیر ملی تھی وہ قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے ماحول کو درست رکھنے میں بنیادی کردار کی حامل ہے لیکن اس کو غلط رنگ دیا گیا!

قرآن نے عوام کی عدالت کو اصل عدالت قرار دیکر عدل وانصاف اور پاکیزہ معاشرے کے قیام کیلئے بنیادی آیات کو قرطاس میں محفوظ کرلیا مگر ملاؤں نے اسکا بالکل بیڑہ غرق کردیا

قر آن نے حضرت عائشہ کی صفائی جس انداز میں پیش کی ہے وہ قیامت تک ہر آنے والی پاکدامن خاتون کیلئے بہت بڑی دستاویز ہے لیکن افسوس کہ علماء ومفتیان کی شریعت نے کالے بادل بن کر اسلام کے سورج کو دنیا کے سامنے سے چھپا دیا ہے اور جب تک قرآن کی درست وضاحت نہ ہو مسلمانوں کو مشکلات سے نکالنے میں کوئی کوشش بھی کارگر ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے ایک طرف مردوں اور عورتوں کو اپنی نظروں اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے تو پھردوسری طرف عورتوں کو کچھ افراد کو چھوڑکر دوسروںسے اپنی زینت چھپانے کا حکم دیتا ہے۔
دور ِ جاہلیت میں دوپٹے کا تصور بھی ختم ہوچکا تھا۔ جاہل عورتیں برہنہ سینوں کی نمائش سے ماحول کوخراب کرنے میںاپنا کردار ادا کرتی تھیں۔ شرم وحیاء کا ماحول بھی موجود تھا اور خواتین ہی نہیں حضرت عثمان خلیفہ سوم بھی شروع سے مثالی حیاء کے پیکر تھے لیکن جب اسلام نے کچھ افراد کو چھوڑ کر خواتین کو اپنی زینت چھپانے کا حکم دیا تھا تو بات بڑی واضح تھی۔ لایبدین زینتھن الا ماظھر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن ” اپنی زینت کو مت دکھائیں مگر جو اس میں سے ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پراپنے دوپٹے کولپیٹ دیا کریں”۔
محرم اورکچھ ایسے بے تکلف لوگوں سے خواتین کا واسطہ پڑتا ہے جہاں پر دوپٹے لپیٹنے کا اہتمام بھی عام طور پر نہیں ہوتا ہے لیکن جونہی ماحول میں غیرمحرم یا غیر متعلقہ افراد پہنچتے ہیں تو خواتین اپنے دوپٹوں کو سنبھالنے کا اہتمام کرتی ہیں۔ یہ بالکل ایک فطری بات ہے اور اس فطری بات کو قرآن نے زبردست اجاگر بھی کیا ہے۔ اللہ نے سورۂ نور میں جن لوگوں کے گھروں میں کھانا کھانے کی اجتماعی وانفرادی اجازت دی ہے تو وہ بھی انسانی فطرت کی زبردست عکاسی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب اسلام سے دوری کا ماحول جتنا بڑھ رہاہے جاہل اسی کو اسلام سمجھ رہے ہیں۔ آج اس ماحول میں مذہب کی جس طرح کی تشریحات کی گئی ہیں ،اس سے حضرت عائشہ کے حوالے سے بہتان کا معاملہ سمجھ میں بالکل بھی نہیں آسکتا ہے۔ قرآن میں جن افراد کو محرم کی طرح پردے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ،ان میں غلام اور وہ تابع مرد بھی شامل تھے جن میں عورتوں کی طرف رغبت کرنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ عربی میں غلام کیلئے عبد کا لفظ ہے اور ماملکت ایمانکم میں جہاں غلام ولونڈی شامل ہیں وہاں اس سے مراد موقع محل کی مناسبت سے کسی طرح کا بھی کوئی ایگریمنٹ والے مراد ہوسکتے ہیں۔ ایک ایگریمنٹ تو وہ ہے جسے ایرانی متعہ اور سعودی مسیار کہتے ہیں لیکن غلامی بھی ایک معاہدہ ہی ہے۔ غلام اور لونڈی کیساتھ بھی نکاح اور متعہ ومسیار کا تعلق ہوسکتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت ہے کہ قیامت تک آنیوالے افراد اپنے اپنے ماحول کیمطابق ایک ایک جملے کی زبردست وضاحت سمجھ سکتے ہیں۔
حضرت عائشہ پر جس شخص کیساتھ بہتانِ عظیم کی افواہ اُڑائی گئی تھی تو اس وقت کے مذہبی ماحول کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جب پنج وقتہ نماز باجماعت میں خواتین پر حاضری کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ جس طرح آج بھی خانہ کعبہ میں اپنی فیملی کے سا تھ خواتین نماز پڑھنے جاتی ہیں۔اسی طرح سے ریاستِ مدینہ کی فضاؤں میں بھی آج کا مروجہ مذہبی ماحول نہیں تھا۔ حضرت صفوان نبیۖ کے بااعتماد خادم تھے اور آج بھی انسان کی فطرت میں قرآن کے مطابق ایسے افراد کو محرم کی طرح سمجھ کر ان سے اغیار کی طرح زیادہ پردے کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے۔
سورۂ نور میں سب سے پہلے بدکاری پر کھلے کوڑے برسانے کی آیات ہیں جس سے یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ کسی کو سزا سے بچانے کا کوئی سوال پیداہی نہیں ہوتا ہے۔ پھر بہتان لگانے والوں کو بھی سزا دینے کا حکم ہے۔ اسلامی شریعت سازی میں ایک بہت بڑا مغالطہ کافی عرصہ سے چلا آرہاہے کہ زنا کے اصل مجرم اور صحیح گواہی دینے پر بھی گواہوں کو سزا کا کوئی تصورہے یاپھر مجرم کو بچانے کا کوئی اہتمام نہیں ہے؟۔
حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے واقعہ کو اسلامی قانون سازی کیلئے بنیاد قرار دیا گیا تھا جس پر فقہی مسالک کے اختلافات ہیں۔ لیکن ابہام کی فضاؤں میں اُمت مسلمہ کی تاریخ بہت تاریک بن گئی جس سے نکالنے کیلئے زبردست تحریک کی ضرورت ہے۔
کسی بھی معاشرے میں نیک وبد کا ایک تصور ہوتا ہے۔ جب کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم ہوتی ہے تو معاشرے میں اس کے کردار پر سب کی نظر ہوتی ہے۔ کسی محلے، علاقے اور معاشرے میں کسی خاتون کا کردار مشکوک سے بدکرداری تک پہنچنے کیلئے ایک سفر کا تقاضہ کرتا ہے۔ جب چار شریف لوگ اسکے خلاف گواہی دیں تو پھر قرآن نے پہلے اس کو گھر میں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ کسی بدکردار خاتون کا کردار ایک معاشرے کو خراب کرنے میں بڑی بنیادی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ جس سے نہ صرف معاشرہ خراب ہوسکتا ہے بلکہ انسانی نسل کے تحفظ کو بھی شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج ناجائز بچوں کے حوالے سے زمانہ جاہلیت سے بھی زیادہ اس معاشرے میں خرابی پیدا ہوچکی ہے جس کے تدارک کیلئے ریاست بھی کچھ نہیں کرسکتی ہے۔اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اسلام کے قوانین سے واقفیت نہیں ہے۔
قرآن نے جس صالح معاشرے کی تشکیل میں ایک بنیادی کردار ادا کیا تھا اس کے ذریعے سے طیب وطیبہ اور خبیث و خبیثہ کے درمیان بہت زبردست امتیاز قائم ہوسکتا ہے۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ہماری پڑوسن نے ہمارے نوکر پر مرغی چوری کرنے کا دعویٰ کیا۔ جب میرے بڑے بھائی نے اس کی سختی سے تردید کردی تو بعض افراد نے کہا کہ پیر صاحب! اس بات پر ڈٹنے کی غلطی نہ کرو، خاتون کا غصہ بجا ہے۔ ایک دفعہ اس کے ہاتھ میں مرغی دیکھ لی تھی تو میں نے پوچھ لیا کہ کہاں سے لائے ہو؟ اس نے کہا کہ پیرصاحب کے گھر سے بیچنے کیلئے دی گئی ہے۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ مرغیاں تو نہیں بیچتے ہیں۔ اب کیوں ضرورت پیش آئی ہے۔ نوکر نے کہا کہ چینی ختم ہوگئی ہے ،اس کیلئے مرغی بیچ رہے ہیں۔ پھر نوکر کی چوری پکڑی گئی اور ہم نے اس کا جرمانہ بھی ادا کردیا تھا۔ انصاف کیلئے معاشرہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اسلام میں جبری اور باہمی رضامندی سے بدکاری کی سزا میں بھی بہت فرق ہے۔ ایک عورت اپنی رضا سے کسی مرد کیساتھ بدفعلی میں مبتلا ء ہوتی ہے اور پھر اس پر جبر کی تہمت لگادیتی ہے،اس پر تفتیش میں معاشرے کے افراد کی گواہی کا زبردست کردار ہوسکتا ہے۔ عورت اور مرد کا اپنا کردار معاشرے میں بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کی ایک مثال اسلامی جمہوری اتحاد کے دور میں جب IJIکا مرکزی صدر غلام مصطفی جتوئی الیکشن ہار گیا تھا اور سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق وزیراعظم بننے سے دستبردار ہوگئے اور آئی جے آئی (IJI)کے صوبائی رہنما نوازشریف کو وزیراعظم بنادیا گیا تھا، جو مولانا سمیع الحق مولانا عبداللہ درخواستی اورمولانا اجمل خان سے اتحاد کے باوجود مولانا فضل الرحمن کی خاطر جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے بھی ہٹنے کیلئے تیار نہیں تھے وہ نوازشریف کیلئے وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ گئے۔
پھر جب مولانا سمیع الحق نے سودی نظام کو ختم کرنے کیلئے تھوڑا سا زور ڈال دیا تو میڈم طاہرہ کے ذریعے سے اخبارات میں الزامات کی زینت بن گئے۔ مجھے اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں ایک سال قید بامشقت سزا کاچالیس ایف سی آر (40FCR)کے تحت سامنا تھا۔جب جیل میں محمد حنیف پارہ چنار والا اخبار کی خبر سنارہاتھا کہ مولانا عجیب و غریب حرکتیں کررہے تھے تو میں نے کہا تھا کہ اگر یہ سچ ہے تو بھی مولانا سمیع الحق کا نوازشریف سے اتحاد اور اس کے حق میں وزیراعظم کے منصب سے دستبردار ہونے کا فیصلہ بڑا جرم ہے۔ تاریخ کے اندر فاحشہ عورتوں کو الزام تراشی کیلئے استعمال کیا گیا ہے اور یہ کسی نے نہیں دیکھا کہ مولانا سمیع الحق یا میڈم طاہرہ کو اسلامی جمہوری اتحاد نے کیا سزا دی؟۔ افواہوں کا مقصد محض الزام تراشی ہو تو پھر تاریخ آنے والے وقت کو سزا دیتی ہے۔ پھر طاہرہ سید کے حوالے سے نوازشریف کی عزت خراب ہوئی تھی۔
اگر حضرت عائشہ پر تہمت میں تھوڑی بھی صداقت ہوتی تو پھر ایک ماہ تک اس اذیتناک کیفیت سے نکالنے کیلئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلتا۔ نبیۖ نے ازواج مطہرات سے لیکر آخر کار حضرت عائشہ کے والدین اور حضرت عائشہ تک سے بہتان کے معاملے میں پوچھ گچھ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ایک شریف النفس انسان پر جھوٹی تہمت لگے تو اس کا اعتراف کبھی نہیں کرسکتا ہے لیکن اگر ذرا سابھی انسان میں خیر کا مادہ غالب ہوتا ہے تو پھرافواہوں کے طوفانوں کی مسلسل زد میں رہنے کی جگہ وہ اعتراف جرم کرنے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ جب حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اگر جھوٹ بول کر اعتراف جرم کرلوں تو سب یقین کرلیںگے مگر جب سچ بولوں تو کوئی مانے گا نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے برأت کا اعلان نازل فرمادیا تھا۔
بہتان کے طوفان کی زد میں رہنے سے جھوٹااعتراف جرم کرکے سزا بھگتنے میں آسانی ہے لیکن کسی پاکیزہ روح کی جب اپنی وابستگی کسی پاکیزہ روح سے ہو تو پھر یہ ممکن نہیں ہوتا کہ جھوٹ سے اعتراف جرم کرکے نہ صرف اپنی عزت کو بلکہ شوہر نامدار کی عزت کو بھی ٹھیس پہنچائی جائے۔ معاشرے کیلئے اس میںبہت بڑا سبق ہے۔
حضرت عائشہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے جو آیات نازل کی ہیں، ان میں بڑا زبردست عبرت آموز سبق ہے۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے خیر ہے۔ کیا اورکونسی خیر ہے؟۔
اللہ تعالیٰ نے معاشرے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ جس چیز کے بارے میں خبر نہیں تھی تو کیوں نہیں کہا کہ ”ہم اس پر کوئی بات نہیں کریںگے”۔ ایک زبان سے دوسری زبان اور ایک منہ سے دوسرے منہ تک کسی تحقیق اور علم کے بغیر بات پہنچانے کی خرابی اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہو تو وہ معاشرہ بڑے عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ یہ قیامت تک کتنا زبردست اُصول ہے۔ کیا نوازشریف اور اسکے خاندان والے مولانا سمیع الحق شہید کے رشتہ داروں اور عقیدتمندوں سے معافی مانگیںگے؟۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی صفائی کیلئے عوام کو ایک زبردست قاعدہ کلیہ بتادیا تھا کہ ” تم لوگوں نے اپنے نفسوں کے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں رکھا”۔ جب انسان کسی پر بدگمانی کرتا ہے تو اس کی یہ بدگمانی اس کی اپنی ذات پر ہی پلٹ کر آتی ہے۔ جب وہ خود بہت ہی برا ہوتا ہے تودوسروں کیلئے بھی اسی طرح کا گمان رکھتا ہے۔ یہ قاعدہ بہت زبردست ہے جس میں معاشرے کیلئے بہت بڑی عبرت ہے۔ اگر کسی پاکدامن عورت پر کوئی بھی غلط گمان کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے نفس کی خباثت کا رہینِ منت ہے۔
معاشرے میں جب کسی کا کردار مشکوک ہوتا ہے اور پھر وہ لمحہ بھی آتا ہے کہ آنکھوں دیکھے حال سے اسکی پاکدامنی داغدار ہوجاتی ہے۔ جس کے بعد اس پر پاکدامنی کا اطلاق بھی نہیں ہوتا ہے۔ ایسے شہرت یافتہ خبیثوں اور خبیثات کا ماحول طیبون اور طیبات سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ بدکاروں اور بدکرداروںکو افواہوں کی زد میں آنے سے کسی قسم کے خطرات کا بھی سامنا نہیں ہوتا ہے۔ جب زلیخا کا کردار ایک پاکدامن حضرت یوسف کو داغدار کرنے تک نہیں پہنچ سکا تھا تب زلیخا کی شہرت مصر کے گھروں تک پہنچ گئی تھی اور جیل تک اس کے چرچے تھے۔ دوسری طرف حضرت یوسف کی پاکدامنی پر عزیز مصر تک سب کو اعتماد تھا اور مزید برآں ایک بچے نے زبردست گواہی بھی دی تھی۔
اگر زلیخا پر کسی طرف سے باقاعدہ کوئی تہمت لگ جاتی تو مختلف اطراف سے ایسے چار گواہوں کی گواہی دینے میں مشکل نہ ہوتی کہ یہ عورت ٹھیک نہیں ہے۔ حرکتوں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک جاسکتی ہے۔ کسی پر بدفعلی کا الزام لگ جائے تو پھر بہتان یا حقیقت کا پتہ چلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”تم نے کیوں نہیں بول دیا کہ یہ بہتان عظیم ہے؟”۔
جس معاشرہ میں افراد زندہ اور جاندار کردار ادا کرتے ہیں تواس معاشرے میں برائی کی جڑیں ناپید ہوجاتی ہیں۔ اگر چار نہیں بیس افراد بھی جھوٹ سے کسی عورت پر چشم دید گواہ بن جائیں لیکن گواہوں سے کچھ بھی توقع ہوسکتی ہو تو اس کی وجہ سے نہ تو سزا ہوسکتی ہے اور نہ ہی شہرت داغدار ہوسکتی ہے مگر جب اعتماد والے لوگ کسی کے خلاف گواہی دیں تو پھر گواہوں کو مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اندرونی صفحات پر آیات کی تفسیر دیکھ لیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

گلے کاٹنے والے دہشت گردوں سے بچیوں کا ریپ زیادہ بڑا فتنہ ہے!

پاکستان میں چھوٹی بچیوں کا ریپ کرکے قتل کرنیکا سلسلہ جاری ہے مگر ہم لسانیت، فرقہ واریت، جمہوریت، فوجیت، طالبیت اور اپنے مفاد کی جنگ لڑرہے ہیں۔ گلے کاٹنے والے دہشت گردوں سے بچیوں کا ریپ زیادہ بڑا فتنہ ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حضرت عائشہ پر بہتان سے بڑی اذیت اور آزمائش رسول اللہۖ کیلئے کوئی نہیں تھی لیکن اس سے جو سبق قرآن نے مسلمانوں کو سکھادیا تھا ،آج ہم تباہی کی کس سمت جارہے ہیں؟

اشرافیہ کے چھوڑے ہوئے کتے صحافی صبح سے بھونکتے ہوئے شام کردیتے ہیں اور شام سے بھونکتے ہوئے صبح کردیتے ہیںلیکن اُمت کی نجات کیلئے حقائق کو سامنے نہیں لاتے ۔

جب حضرت عائشہ پر بہتان لگادیا گیا تو آسمان کے فرشتے بھی اس غم کا بوجھ اُٹھانے کے بجائے معاشرے پر اجتماعی عذاب نازل کرنے کے حق میں ہونگے کہ ام المؤمنین پرہی اتنا بڑا بہتان لگانے سے گریز نہیں کیا گیالیکن اس سے اللہ تعالیٰ کیا سبق دینا چاہتا تھا؟۔
لولآ اذسمعتموہ ظن المؤمنون والمؤمنات بانفسھم خیرًا وقالوا ھٰذا افک مبینO
” کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب اس (بہتان) کو سن لیتے تو مؤمنین ومؤمنات اپنے نفسوں کے بارے میں اچھا گمان رکھتے اور کہتے کہ یہ کھلی گھڑی ہوئی بات ہے؟”۔
یہ کمال کی آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانوں نے حضرت ام المؤمنین کے بارے میں کیوں اچھا گمان نہیں رکھا؟۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ”مسلمانوں اپنے نفسوں کے بارے میں اچھا گمان کیوں نہیں رکھا؟”۔ اس کلام میں بہت بڑا کمال یہ ہے کہ عربی کامقولہ ہے کہ المرء یقیس علی نفسہ”آدمی اپنے نفس پر دوسروں کو بھی قیاس کرتا ہے”۔ یعنی جیسا خود ہوتا ہے ،دوسروں کیلئے بھی ویسا ہی خوش گمان یا بدگمان ہوتا ہے۔ یہ حدیث بھی ہے کہ المؤمن مرئآة المؤمن ” ایک مؤمن دوسرے مؤمن کا آئینہ ہوتا ہے”۔اس آیت میں اماں حضرت عائشہ سے بدگمانی نہ کرنے کی بجائے اپنے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ جنہوں نے اماں عائشہ سے بدگمانی رکھی تھی تو وہ دراصل اپنے نفسوں سے بدگمان تھے جس کا یہ نتیجہ نکلاکہ اللہ نے اس کو من گھڑت کہانی کہنے کیلئے حضرت عائشہ کے حوالے سے کھل کر بات کرنے کا اظہار نہ کرنے پر تنبیہ فرمائی۔
جن تین افراد پر حدقذف نافذ کی گئی تو وہ اس آیت کا نشانہ ہیں۔ ایک طرف حضرت عائشہ کے حوالے سے گھٹیا سوچ رکھنے کی بھرپور مذمت ہے تو دوسری طرف ایک عمدہ ترین سوچ کی دعوت اور عکاسی ہے۔ حضرت علی نے جب دیکھا کہ ایک کشمکش کا معاملہ ہے توپھر نبی ۖ کو مشورہ دیا کہ عورتیں کم تو نہیں ہیں، طلاق دے کر کسی اور سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور سورۂ تحریم میں بھی جب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے حوالے سے آیات اتریں تو اللہ نے فرمایا کہ ”اگر انہوں نے توبہ نہ کی توان سے بہتر خواتین بھی نبیۖ کے نکاح میں آسکتی ہیں”۔ حضرت عائشہ سے حضرت علی کی بے نیازی کا مقصد یہ ہرگز بھی نہیں تھا کہ حضرت علی نے ذرہ بھر بھی بدگمانی کی ہو۔ حضرت علی کے کاندھے پر خلافت کی ذمہ داری ڈال دی جاتی تو شاید حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ اور حضرت ابوبکر کا وہ اقدام جس سے اہل سنت کے چاروں ائمہ فقہ کا اتفاق نہیں تھا کہ مانعینِ زکوٰة کیخلاف قتال کیا جائے اور حضرت عمر کے کچھ اقدامات جن پر احناف کا بھی اختلاف ہے جیسے حج وعمرے کے احرام پر ایک ساتھ پابندی اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کے خلاف گواہوں کو تائب ہونے کی شرط پر یہ پیشکش کہ پھر ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اگر خلافت بنوامیہ وبنوعباس کی جگہ حضرت علی کے بعد حسن، حسین اور بارہ ائمہ اہل بیت کے پاس ہوتی تو بھی معاملہ زبردست ہوتا۔ اہل تشیع کو اپنے مؤقف پر بھرپور طریقے سے کھڑا ہونے کا حق کوئی نہیں چھین سکتا ہے۔
سیدابولاعلیٰ مودودی نے سورۂ النساء اور سورۂ نور میں رجم اور سو (100)کوڑے لگانے کا مؤقف بہتر طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن غلط مؤقف کو بہر حال درست قرار دینے کی کوشش ایک سعی لا حاصل ہوتی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیاور مولانا مناظر احسن گیلانی کا مؤقف بہت زبردست اور درست تھا۔ اگر کسی عورت پر معاشرے میں چار گواہ مہر تصدیق ثبت کردیں تو اس کو آلودگی پھیلانے سے روکنے کیلئے اپنے گھر میں نظر بند کرنے سے اصل مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ پھر اس کی کسی سے شادی یا سزا کی صورت میں معاملہ بدل سکتا ہے۔ سورۂ النساء میں شادی شدہ لونڈی کیلئے آزاد عورت کے مقابلے میں آدھی سزا سے بالکل یہ ثابت ہوتا ہے کہ پوری سزا رجم نہیں بلکہ سو (100)کوڑے ہیں۔ ازوج مطہرات کیلئے دہری سزا سے مراد دوسو (200)کوڑے ہی ہوسکتے ہیں۔ ڈبل سنگساری یا آدھی سنگساری کا تصور نہیں ہوسکتا ہے۔ چار افراد کی گواہی سے مراد فقہ کی کتابوں میں موجود شرائط ہوں تو پھر شریعت کی وجہ سے نعوذ باللہ من ذالک بے حیائی پھیل سکتی ہے ، ختم نہیں ہوسکتی ہے۔
لولاجآء وا علیہ باربعة شہدآء فاذلم یأتوا بالشہدآء فاولٰئک عند اللہ ھم الکاذبونO
” وہ اس پر چار گواہ کیوں نہیں لائے؟۔ پس جب چار گواہ نہیں لائے تو وہی لوگ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں”۔ معاشرے میں جو انسان بستے ہیں۔ وہ بہت بڑا پیمانہ رکھتے ہیں۔ صالح وبدکار کی شناخت معاشرے میں کوئی مشکل چیز نہیں۔ سید ابولاعلیٰ مودودی نے تفہیم القرآن میں تفصیل سے لکھ دیا ہے کہ رسول اللہۖ نے حضرت عائشہ سے متعلق مختلف لوگوں سے رائے طلب کی۔ تفتیش اور تحقیق کا حق ادا کردیا۔ جب کسی کے حوالے سے بات اُٹھتی ہے تو پھر معاشرے میں اس کیلئے چار گواہوں کا ملنا اس وقت زیادہ مشکل نہیں ہوتا ہے کہ جب وہ بدفعلی کی انتہائی حرکت تک پہنچ جائے۔ ہر فرد کے حوالے سے معاشرے میں ایک اچھی یا بری رائے بنتی ہے۔ یہ نہیں کہ مولانا صاحب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں مگر موقع پر تین گواہ تھے ، چوتھا گواہ اچھی طرح سے گواہی دینے میں تھوڑا مختلف انداز سے اپنی بات کررہاتھا۔ بس یہ لوگ جھوٹے ہیں اور ان پر بہتان کے کوڑے برساؤ اور جس کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا ،جس پر مختلف اوقات میں ایک ایک ، دودو گواہوں کا پہلے سے بھی سلسلہ جاری تھا۔ اگرمولوی صاحب کی اس خود ساختہ شریعت کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو پاکدامن قرار دیا جائے تودنیا میں اس پر کوئی یقین نہیں کریگا۔ اسلام نے اجنبیت کی طرف اسلئے بہت بڑا سفر کیا ہے کہ ہرچیزبالکل ہی اُلٹ کرکے رکھ دی گئی ہے۔
جب حضرت اماں عائشہکے خلاف بہتان کا بہت بڑا طوفان کھڑا تھا اور مسلمانوں کی اجتماعیت نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوکر اماں عائشہ کے دفاع کا حق ادا نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے بہت واضح پیغام دیا کہ ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا ولاٰخرة لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیمO
”اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت شاملِ حال نہ ہوتی تو دنیا اور آخرت میں تمہیں عذاب عظیم میں مبتلاء کردیتا جس چیز میں تم بہت بڑھ گئے”۔ بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے کے مسئلہ سے یہ بہت بڑا معاملہ تھا۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کا نقشہ بھی دکھادیا تھا لیکن یہاں اس سے کہیں بڑھ کر معاملہ تھا۔ حساس دل رکھنے والے اس کو سمجھ رہے تھے لیکن غفلت کے شکار لاپرواہی کے مرتکب ہورہے تھے۔ اللہ نے فرمایا: اذ تلقونہ بالسنتکم وتقولون بافواھکم ما لیس لکم بہ علم وتحسبونہ ھےّنًا وھو عنداللہ عظیمO
”جب تم اس کی اپنی زبانوں سے تلقین کرتے اور اپنے منہ سے کہتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں تھا۔ اور تم اسے بہت ہلکا سمجھ رہے تھے اور اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی”۔
ہماری ریاست کے کتے جس طرح سوشل میڈیا پر لوگوں کی عزتوں کو اُچھالنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ فیک تصویریں اور من گھڑت قصے کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کو خدا کا کوئی خوف نہیں ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ایک دوسرے کے خلاف اس فعل میں ملوث رہے ہیں۔ عورت کی عزت اچھالنا ایک محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اسلئے طرح طرح کے عذاب نازل ہورہے ہیں۔ اگر اللہ کی رحمت اور اس کا فضل نہ ہوتا تو تم کب کے غرق ہوچکے ہوتے۔ اللہ نے قرآن کو آئندہ نسلوں کیلئے قیامت تک بہترین سبق بناکر بھیجا ہے۔ اللہ نے فرمایا: ولولا اذ سمعتموہ قلتم ما یکون لنآ ان نتکلم بھٰذا سبحانک ہٰذا بہتان عظیمOیعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدًا ان کنتم مؤمنینOویبین اللہ لکم الاٰےٰت واللہ علیم حکیمO
”کیوں نہیں ایسا ہوا کہ جب تم نے اس کو سن لیا تو کہہ دیتے کہ ہمارے لئے حق نہیں ہے کہ اس پر بات کریں۔ پاکی تیرے لئے ہے یہ بہت بڑابہتان ہے۔اللہ تمہیں وعظ کرتا ہے کہ پھر اس طرح کے کسی بہتان میں ملوث ہوجاؤ،اگر تم مؤمن ہو تو۔ اور اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کو کھول کربیان کرتا ہے اوراللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۂ نور12تا18)
کسی بھی ماحول اور کسی بھی معاشرے میں مسلمانوں کیلئے کسی عورت پر بہتان کا مسئلہ انتہائی خطرناک ہے۔ جس کی ماں ، بیٹی، بہن اور بیگم پر بہتان لگایا جائے۔تو اس کی حالت کیا ہوگی؟۔ قرآن میں اس واقعہ افک سے کتنے اسباق ملتے ہیں۔ منفی سوچ اس کے اپنے نفس پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔ کن لوگوں کی سوچ منفی ہوتی ہے۔ منفی سوچ سے معاشرہ کس قدر متأثر ہوتا ہے ؟ اور اللہ نے منفی سوچ سے بچانے کیلئے رسول اللہۖ، اماں عائشہ ، حضرت ابوبکر وحضرت ام رمان اور سب کو کتنی زبردست مصیبت اور آزمائش میں ڈالا؟۔
کسی بھی پاکدامن عورت کیلئے بہتان بہت بڑا جرم ہے ؟۔ لیکن جب ہمارے معاشرے میں بچیوں کیساتھ پیش آنے والے واقعات کی روک تھام کیلئے بھی ہمارے پاس صلاحیت نہیں ہے۔ پوری دنیا میں بھی جبری جنسی زیادتی کے خلاف8مارچ یوم خواتین منایا جاتا ہے اور اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مغرب سے یہ مارچ شروع ہوا تھا جہاں جنسی آزادی کیلئے عورتوں کو مارچ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے یہاں ایک پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ8مارچ کا دن خواتین جنسی آزادی کیلئے مناتی ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک سے بہت زیادہ نہ صرف بچیوں کیساتھ جبری جنسی تشدد ہوتا ہے بلکہ بے دردی کیساتھ ان کو قتل بھی کردیا جاتا ہے۔ اشرافیہ پر ان واقعات کا کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ وہ اپنے دھندوں کے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ان کو اپنے مورال اور سیاست کی فکر ہوتی ہے۔ وہ عقیدے اور نظریاتی لڑائی کے لوگوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ اتنے بڑے مظالم کیخلاف ہمارے یہاں معاشرتی سطح سے لیکر ریاستی سطح تک کچھ بھی نہیں ہورہاہے۔
جس اسلام میں نظروں تک کی حفاظت کا حکم ہے،اس کے ہوتے ہوئے جبری جنسی تشدد کا سنگین جرم بہت تباہ کن ہے۔ بعض کم بخت انسان نظروں کی حفاظت نہ کرنے کے عمل کو جبری جنسی تشدد کو جواز فراہم کرنے کیلئے پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ جب نظروں تک کی حفاظت کا حکم ہے تو جبری جنسی تشدد کے جرم کی سنگینی بہت بڑھ جاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ نام نہاد شیخ الاسلام اور مفتی اعظم نے ریاست کے تنخواہ دار کی حیثیت سے ہمیشہ اسلام کا بیڑہ اپنی غلط تشریح سے غرق کیا ہے۔ آج خود ساختہ طور پر اس جرم کے مرتکب ہیں۔
قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذٰلک ازکٰی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعونOوقل للمؤمنٰت یغضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولایبدین زینتھن الا ماظھر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعولتہن او اٰبآئھن … وتوبوا الی اللہ جمیعًا ایہ المؤمنون لعکم تفلحونO
” کہہ دیجئے مؤمنوں سے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزگی ہے۔ بیشک اللہ جانتا ہے کہ وہ جو کار کردگی کرتے ہیں۔ اور مؤمنات سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیںاور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اوراپنی زینت کو مت دکھائیں الا یہ کہ جو ازخود اس میں سے ظاہر ہوجائے۔ اور اپنے دوپٹوں کو اپنے سینوں پر لپیٹ لیں۔ اور اپنی زینت کو نہ دکھائیں مگر اپنے شوہروں کو یا اپنے باپوں کو یا اپنے سسر کو یا اپنے بیٹوں کو یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کو یااپنے بھائیوں کو یا اپنے بھتیجوں کو یا اپنے بھانجوں کو یااپنی عورتوں کو یا اپنے غلاموں کویا جو مرد تابع ہوں جو عورتوں سے رغبت نہیں رکھتے۔ یا بچہ جو عورتوں کے پوشیدہ رازوں کی خبر نہ رکھتے ہوں۔اور اپنے پاؤں سے ایسی چال نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زنیت ظاہر ہوجائے۔ اور اللہ کی طرف سے سب توبہ کرو،اے مؤمنو! شاید کہ تم فلاح پاجاؤ”۔
عورتوں کی زینت سے مراد ”حسن النساء ” ہے جس پر دوپٹہ لپیٹنے کا حکم ہے ۔ گھر میں دوپٹہ لینے کا حکم بھی اپنے محرم اور تعلق رکھنے والے لوگوں سے نہیں۔ روایتی پردے اور شرعی پردے میں جس طرح کا توازن ہے وہ معاشرے میں اعتدال قائم کرتا ہے۔ جب ایک طرف اغیار کے سامنے بھی دوپٹے کا تکلف نہ ہو اور دوسری طرف گھروں میں بھی بڑا تکلف ہو تو پھر معاشرہ اعتدال کی جگہ پر افراط وتفریط کا شکار ہوجاتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

حضرت عائشہ کے خلاف بہتان میں کون لوگ ملوث تھے؟۔

حضرت عائشہ کے خلاف بہتان میں کون لوگ ملوث تھے؟۔ قرآن کی آیت میں تفاسیر کی وضاحت سے لوگوں کا قبلہ بالکل درست ہوجائیگا۔ شیعہ سنی فسادات کے بجائے علمی انداز میں پارلیمنٹ کے فلور پر مسائل حل کرینگے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بیشک جنہوں نے بہتان گھڑا،وہ تم میں سے گروہ ہے ، اس کو اپنے لئے شرنہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لئے خیر ہے، ہر ایک نے اپنا گناہ کمایااور جس نے بڑا حصہ اُٹھایا اس کیلئے بڑا عذاب ہے۔

بخاری، طبرانی اور بیہقی میں ہشام بن عبدالملک اُموی کا یہ قول منقول ہے کہ الذی تولّٰی کبرہ کے مصدق علی ابن ابی طالب ہیں( تفہیم القرآن ، جلد سوم :سیدا بوالاعلیٰ مودودی)

سورۂ نور میں اللہ نے فرمایا: ان الذین جآء و ا بالافکِ عصبة منکم لاتحسبوہ شرًالکم بل ھو خیرلکم لکل امریٔ منھم ما اکتسب من الاثم و الذی تولّٰی کبرہ منھم لہ عذاب عظیمO
” اور جو بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے۔ اس واقعہ کو اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے۔ ہر آدمی نے اس گروہ میں سے اپنے حصے کا گناہ کمالیا ہے۔ اور جو اس کاروائی کا سرغنہ تھا اس کیلئے بہت بڑا عذاب ہے”۔
بریلوی مکتبۂ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ ” اصل کردار مسلمانوں کا تھا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے صرف بہتان کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا”۔ بہتان لگانے والے حضرتوں کو اسّی اسّی (80،80)کوڑوں کی سزا بھی دی گئی تھی۔ جن منافقوںکا اس واقعہ میں اہم کردار تھا نبیۖ نے ان کو سزا نہیں دی لیکن جن مؤمنوں نے یہ کردار ادا کیا تھا ،ان پر حدِ قذف کے کوڑے برسائے گئے۔ مولانا مودودی اور علامہ سعیدی کی تفاسیر میں تفصیلات سے زبردست نتائج اخذ کرکے ہم اپنے موجودہ معاشرتی نظام کو بدل سکتے ہیں۔ ہم کافروں اور منافقوں پر سزاؤں کے نفاذ اور اپنوں پر نرمی برتتے ہیں۔
حضرت ابوایوب انصاری سے جب آپ کی بیوی نے ان افواہوں کا تذکرہ کیا تو پھر اس نے بیوی سے پوچھ لیا کہ ”اگر آپ حضرت عائشہ کی جگہ ہوتیں تو اس جرم کا ارتکاب کرتیں؟۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم ہرگز اس کا ارتکاب نہ کرتی۔ حضرت ابوایوب نے کہا : توحضرت عائشہ بدرجہا آپ سے بہتر ہیں۔ اگر میں صفوان کی جگہ پر ہوتا تو میں ہرگز یہ حرکت نہیں کرسکتا تھا، صفوان مجھ سے بہتر مسلمان ہیں۔ بہتان میں ازواج مطہرات نے کوئی حصہ نہیں لیا۔ حضرت زینب کی سگی بہن حمنہ بنت جحش محض ان کی خاطر ان کی سوکن کو بدنام کررہی تھیںمگر خود انہوں نے سوکن کے حق میں کلمہ خیر کہہ دیا۔ حضرت عائشہ کی اپنی روایت ہے کہ ازواجِ رسول اللہ میں سب سے زیادہ زینب سے ہی میرا مقابلہ رہتا تھا مگر واقعہ افک کے سلسلے میں جب رسول اللہ ۖ نے ان سے پوچھا کہ عائشہ کے متعلق تم کیا جانتی ہو؟۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ! میں اس کے اندر بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتی ہوں۔ حضرت عائشہ کی اپنی شرافتِ نفس کا حال یہ تھا کہ حضرت حسان بن ثابت نے آپ کو بدنام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا مگر وہ اس سے ہمیشہ عزت وتواضع سے پیش آتی رہیں۔ لوگوں نے یاد دلایا کہ یہ وہ شخص ہیں جس نے آپ کو بدنام کیا تھا۔ تو یہ جواب دیکر ان کا منہ بند کردیا کہ یہ وہ شخص ہے جو دشمنان اسلام شعراء کو رسول اللہۖ اور اسلام کی طرف سے منہ توڑ جواب دیا کرتا تھا۔
حضرت ابوبکر نے اپنے رشتہ دار حضرت مسطح کے سارے گھرکی کفالت لے رکھی تھی اور حضرت حسان ، حمنہ بنت جیش اور حضرت مسطح پر حدقذف لگائی گئی تھی۔ حضرت ابوبکر نے عہد کیا کہ آئندہ میں ان کی مالی مدد نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مالدارمؤمنوں کیلئے مناسب نہیں کہ ضرورت رکھنے والے مؤمنوں کی مدد سے دست کش ہوجائیں۔ پھر حضرت ابوبکر نے مدد بھی بحال کردی۔ ایلاء بھی یمین یعنی عہدوپیمان ہے اور یہ حلف نہیں ہے اسلئے حضرت ابوبکر نے اس کو توڑنے کا کفارہ بھی ادا نہیں کیا تھا۔
عربی میں لاتعلقی کے معاہدے کو ایلاء کہتے ہیں۔ ایلاء وہ یمین ہے جس میں حلف نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ سورۂ مائدہ میں یہ واضح ہے کہ یمین پر کفارہ اس وقت ضروری ہے کہ جب حلف اٹھایا جائے۔ سورۂ بقرہ اور سورۂ نور میں ایلاء سے مراد حلف نہیں ہے۔ مولانا مودودی نے بھی فقہ واصولِ فقہ کی کتابوں میں علماء کی وجہ سے مغالطے سے نقل کردیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ کی آیت میں ایک طرف بہتان طرازی میں ملوث گروہ کی بھرپور وضاحت کردی کہ یہ تم میں سے ایک گروہ ہے۔ ہر ایک نے حصہ بقدر جثہ نہیں بلکہ گناہ بقدر حصہ اس میں کمالیا ہے۔ پھر اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ جس نے افواہ سازی میں اپنا بڑا کردار ادا کیا تھا۔ وہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا ،اس کیلئے آخرت کے حوالے سے عذاب عظیم کا ذکر ہے۔ صحابہ کرام اگر زنا میں ملوث ہوتے تب بھی اپنے اوپر حد نافذ کرواتے اور بہتان طرازی میں حصہ لیتے تب بھی اپنی سزا دنیا میں بھگت لیتے تھے۔
پاکستان کی حکومت و ریاست ایک عظیم الشان اسلامی کانفرنس کا انعقاد کرکے دنیا بھر سے علماء ومفتیان اور اسلامی اسکالروں کو طلب کرے تو بہت سارے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ بخاری میں ہے کہ سورۂ نور کی آیات نازل ہونے کے بعد کسی پر سنگساری کی سزا کا مجھے یاد نہیں ہے کہ کسی پر نافذ کی گئی ہو۔ رسول اللہۖ نے پہلے کافر ومسلم اور مردو عورت پر یکساں سنگساری کا حکم نافذ کیا تھا لیکن سورۂ نور میں اتنی بڑی وضاحت کے بعد سنگساری کا حکم کیسے نافذ کیا جاسکتا تھا؟۔ ایک ایک واقعہ کو سینکڑوں دفعہ نقل کرنے سے واقعات کی تعداد نہیں بڑھ سکتی ہے۔ المیہ یہی رہاہے کہ ایک واقعہ مختلف انداز اور الفاظ میں نقل کرکے اصل واقعے پر پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل کا مسلک یہ ہے کہ مرد جب تک چار مرتبہ اپنی ذات پر زنا کی گواہی نہیں دے گا تو اس پر حد نافذ نہیں ہوگی لیکن عورت ایک مرتبہ بھی گواہی دے گی تو اس پرحدنافذ کردی جائے گی اور اس کی وجہ ان مسالک کا روایت پرست ہونا ہے جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک واقعہ کی تفصیل تمام روایات کو مدنظر رکھ کر مسئلہ استنباط کیا جاسکتا ہے۔ مختلف روایات میں واقعہ کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ نبیۖ نے عورت کو بار بار لوٹانے اور مختلف مدتوں میں اپنے اوپر اقرار جرم کے بعد آخر کار حد نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اگر حقائق کی طرف درست توجہ کی گئی تو عالم اسلام اور دنیا میں اسلامی نظام قابلِ قبول بلکہ ضروری قرار دیا جائے گا۔
قرآن وسنت میں زنابالجبر کی سزا قتل اور سنگساری ہے۔ اگر دنیا میں اس پر عمل ہوا تو پھر دنیا بھر سے جبری جنسی زیادتیوں اور قتل کے واقعات کا قلع قمع ہوسکے گا۔ زنا کی گواہی اور پاکدامن عورت پر بہتان لگانے کی گواہی میں بہت واضح فرق ہے۔ اگر پاکدامن پر کسی نے بہتان لگایا تو معاشرے میں ان کو سپورٹ نہیں مل سکتی ہے اور اگربدکار کیخلاف چار افراد نے گواہی دی تو معاشرے میں کافی لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو ایک ماہ تک وحی نازل نہیں ہوئی۔ حضرت یعقوب سے حضرت یوسف کے فراق کی آزمائش اور پھر آپ پر بہتان لگاکر قیدخانے کی سزا کو بہت عرصہ گزر گیا۔ انبیاء کرام اور اچھے لوگوں کی آزمائشیں معاشرے کیلئے بہترین نمونہ بنتی ہیں اورپھر عرصہ تک لوگ ان سے رہنمائی حاصل کرکے اپنی اصلاح کرتے ہیں۔
جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو لوگوں نے اپنی اپنی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے موقع پر مؤمنوں اور مؤمنات کیلئے مناسب ہوتا کہ اگر وہ یہ کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے۔ قرآن نے معاشرے کی تعلیم وتربیت کیلئے نبیۖ اور حضرت عائشہ اور آپ کے والدین حضرت ابوبکر اور حضرت ام رمان کو اتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ نبیۖ نے پھر پوچھ لیا کہ آپ کیا کہتی ہیں؟۔ اگر کوئی جرم نہیں کیا ہے تب بھی بتادیں اور جرم کیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں۔ حضرت عائشہ نے یہ سن کر اپنے والدین کی طرف دیکھ لیا کہ وہ جواب دیں۔ لیکن انہوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ اگر میں جھوٹ بول کر کہوں گی کہ میں نے جرم کیا ہے تو لوگ اس پر یقین کرلیںگے اور سچ بولوں گی کہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے تو میری بات کا یقین نہیں کیا جائے گا۔
اس دوران وحی نازل ہونا شروع ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں آپ کے برأت کی بھرپور آیات نازل کیں۔ جس پر والدین نے حضرت عائشہ سے کہا کہ رسول اللہۖ کا شکریہ ادا کرلو۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ میں نہ تمہارا شکریہ ادا کروں گی اور نہ رسول اللہ ۖ کا بلکہ صرف اللہ کا شکر ادا کروں گی۔ کیونکہ صرف اللہ نے میرا ساتھ دیا۔یہ توقع مجھے اللہ سے تھی کہ کسی طرح نبیۖ کو مطلع کرد یگا کہ میں بے قصور ہوں لیکن خود کو اس قابل نہیں سمجھ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کردیگا ۔
جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رسول اللہ ۖ کی عزت وتوقیر کرنے کا مؤمنوں کو حکم دیا ہے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ وحی میں اس طرح کی آزمائش کے بعد توقیر نہ کرتے؟۔اہل تشیع کے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ جب حضرت عائشہ نے حضرت علی سے جنگ کی تو شکست کے بعد حضرت علی نے نقاب پوشوں کا ایک بڑا لشکر ساتھ روانہ کیا تھا۔ (حضرت عائشہ کے بھائی حضرت محمد بن ابی بکر ساتھ تھے) حضرت عائشہ نے اعتراض کیا کہ مجھے اتنے مردوں کے لشکر میں بھیج دیا۔ یہ میری عزت وتوقیر کے خلاف تھا۔ پھر اس لشکر کو حکم دیا گیا کہ اپنے نقاب اٹھالوں۔ جب نقاب اٹھائے تو وہ سب خواتین تھیں۔
شیعہ سنی اختلافات کو بھڑکانے کے بجائے افہام وتفہیم کی طرف لیجانے کی کوشش ہی دونوں کیلئے فائدہ مند ہے۔ حضرت شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے بارہ ائمہ اہل بیت کے بارے میں جو کچھ اپنے مکتوبات میں لکھ دیا ہے اس سے زیادہ کے اہل تشیع بھی قائل نہیں ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے بھی اہل ولایت کے لئے بارہ ائمہ اہل بیت کو اصل اور تصوف کے سلسلوں کو ان کی فروعات قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی یہی باتیں لکھ دی ہیں۔ اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل تشیع اپنے ائمہ کو خلفاء راشدین کے مقابلے میں معصوم عن الخطاء سمجھتے ہیں اور انبیاء کرام سے بھی اونچا مقام دیتے ہیں؟۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ولایت کا مقام واقعی ایسا ہی ہے جو معصومیت کا تقاضہ کرتا ہے ۔ حنفی مسلک میں یہ مشہور مسئلہ ہے کہ ایک بات میں سو احتمال ہوں اور ان میں ننانوے(99)احتمال کفر اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا جائیگا۔ سنی لکھتے ہیں کہ” حضرت علی نے نبیۖ کو مشورہ دیا کہ جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا ہے تو طلاق دیدیں”۔ حضرت عمر نے کہا کہ” اللہ کے حکم سے نکاح کیا تھاتو برائی کا امکان نہیں ہوسکتا،وحی کا انتظار کریں”۔
حضرت عمر کی رائے کے مطابق وحی نازل ہوئی جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کی اس رائے کو رد کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ مؤمنوں نے یہ کیوں نہ کہا کہ یہ بہتان عظیم ہے۔
سنی علماء ومفتیان اور عوام کی رائے یہ ہے کہ منشاء خداوندی کا ادراک جس طرح سے حضرت عمر کو متعدد مواقع پر ہوا تھا ۔ جس میں حضرت عائشہ کی عصمت کے علاوہ بدر کے قیدیوں پر فدیہ نہ لینے کا مشورہ بھی شامل تھا تو کس طرح حضرت علی کیلئے معصومیت کا عقیدہ اس طرح سے درست ہوسکتا ہے کہ انبیاء کرام کیلئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ماکان لنبی ان یکون لہ اسریٰ حتی یثخن فی الارض ”نبی کیلئے مناسب نہیں کہ جب آپ کے پاس قیدی ہوں ، یہاں تک کہ زمین پر ان کا اچھی طرح خون بہادے”۔ جب حضرت موسیٰ نے غلطی سے ایک شخص کو قتل کیا ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات سے نواز دیا تھا،تب بھی حضرت موسیٰ خوف کھارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا : رسولوں میں سے کوئی ایسا نہیں گزرا ہے جو معجزات کے باجود خوف کھارہاہو مگر جس نے ظلم کیا۔ آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف ظلم کی نسبت کی گئی ۔ اب اگر کوئی یہ منطق بھی بنالے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ہے”۔ حضرت آدم ، حضرت یونس اور حضرت موسیٰ کی طرف ظلم کی نسبت قرآن نے کی ہے تو ہدایت کیسے ملی؟۔
اہل تشیع کو چاہیے کہ صحابہ کرام کے بارے میں الٹی سیدھی منطق سے اپنی عوام کے ذہنوں کو نہ بھریں۔ اگر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے بارے میں دو فرقے ہوتے تو پھر بات سر اور داڑھی کے بالوں سے پکڑنے تک محدود رکھنے کے بجائے نعوذ باللہ کپڑے اتارنے کی حد تک بھی پہنچادیتے۔ اللہ نے حضرت عائشہ کی برأت اس وقت کر دی جب وحی نازل ہونے کا سلسلہ جاری تھا ورنہ معاندین کہاں تک بات پہنچادیتے؟۔
تاہم اگراہل تشیع اپنے ائمہ کو پیغمبروں سے بڑھ کر بھی معصوم سمجھتے ہیں تو اس میں پھر بھی اسلام کا احتمال اسلئے موجود ہے کہ حضرت موسیٰ نے غلطی سے قتل کردیا تو معافی مانگنے کی ضرورت پڑ گئی ۔ حالانکہ قتل خطاء بڑا گناہ نہیں ہے اور حضرت خضر علیہ السلام نے جب معصوم بچے کو جان بوجھ کر بھی قتل کیا تو آپ کی معصومیت پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ ہمارے نزدیک وہ پیغمبر نہیں بلکہ ولی ہیں اور ان کا علم اور تجربہ حضرت موسیٰ سے زیادہ بھی تھا۔
اگرچہ ڈھیر سارے اولیاء کرام کے قصوں میں حضرت خضر کی داستان ملتی ہے ۔ قرآن میں انکے قتل عمد کو بھی معصومیت بلکہ فرض قرار دیا گیا ہے تو اہل تشیع کے امام زمانہ پر یقین رکھنا بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ہاں اہل سنت کے نزدیک امام ہر دور میں نہیں ہوتا ہے۔ پیغمبروں کے درمیان بھی فترت کا زمانہ ہوتا ہے۔ اگر امام حضرت خضر کی طرح ہی غائب رہے۔ بچے کے قتل کیلئے حاضر ہو اور بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل سے اور عورتوں کو عزت دری سے بچانے کیلئے حضرت موسیٰ کی بعثت ہو تو فی الحال دنیا کو حضرت خضر کے کردار کی نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کردار کی ضرورت ہے جس سے غلطی کی بنیاد پر کوئی قبطی قتل بھی ہوجائے تو کم ازکم بنی اسرائیل کی نجات کا ذریعہ بن جائے۔
کوئی بات ناگوار لگی ہو تو معذرت چاہتا ہوں ۔ مقصد شعور کی فضاء کو عام کرنا ہے اور جب تک کوئی اچھے دن نہیں آئیں اس وقت تک اپنی کوشش جاری رہے گی ۔ انشاء اللہ

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

بڑاسوال ہے کہ اسلام نے لونڈی و غلام کا نظام ختم کیا تو پھر یہ سلسلہ جاری رکھ کر اسلام پر عمل نہیں کیا گیا؟

بڑاسوال ہے کہ اسلام نے لونڈی و غلام کا نظام ختم کیا تو پھر حضرت عمر کے قاتل ابولؤلو فیروز سے محمود غزنوی کے غلام ایاز تک کا معاملہ کیا تھا؟، کیا اتنے عرصے میں غلاموں اور لونڈیوں کا سلسلہ جاری رکھ کر اسلام پر عمل نہیں کیا گیا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امریکہ کے ابراھم لنکن نے لڑکپن میں غلاموں و لونڈیوں کو دیکھ کر یہ سلسلہ ختم کرنے کا ارادہ کیا اور(1964ئ) میں انسانوںکی غلامی پر پابندی لگائی لیکن اسلام اتنے عرصہ میں نہ کرسکا!

جب قرآن میں لاتعداد لونڈیاں رکھنے کی اجازت ہے تو مسلمان لونڈی کے نظام کو کس طرح سے ختم کرسکتے تھے؟۔دنیا کو خوف ہے کہ اگر خلافت قائم ہوگی تولونڈیاں بنائی جائیں گی

دنیا میں ہماری تباہی وبربادی کی سازشیں ہیں اور ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی خلافت نے سپر طاقتوں فارس و روم کو پہلے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اگر لوگوں کا مذہب کی طرف رحجان ہوتا ہے تو اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب ایسا نہیں ہے کہ تعلیم یافتہ دنیا اس کو قبول کرلے۔ مغرب میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام کا مستقبل عالمی خلافت ہوگا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔ جو دہشت گرد بارود سے اپنی مساجد کو اُڑانے اور مسلمانوں کو سنگسار کرنے سے دریغ نہیں کرتے ہیں ،ہماری خواتین کو لونڈیاں بنانے سے پھر وقت آنے پر کیوں گریز کریںگے؟۔
مسلمان خواتین بھی ہرگز نہیں چاہیں گی کہ خلافت قائم ہونے کے بعد کافر خواتین ہمارے مردوں کی لونڈیاں بن جائیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی مثال فارمی مرغوں و مرغیوں اور پسماندہ ممالک میں جنگجو لوگوں کی مثال اصیل مرغوں کی ہے۔ اگر فارمی مرغیوں کی محفوظ پناہ گاہوں میں لڑاکو قسم کے اصیل یا کم اصل دیسی مرغے ڈال دیئے جائیں تو پہلے تو وہ انکے جراثیم سے بیماری میں مبتلاء ہوکر مرکھپ جائیںگے لیکن اگر زندہ بچ بھی گئے تو دیسی مرغے ان کا کیا حشر نشر کریںگے؟۔ مغرب اپنے خوف سے ہماری نسل کشی کو اپنی بقاء کی جنگ سمجھتا ہے۔ وسائل پر قبضہ تو یہودی کمپنیاں کررہی ہیں اور عیسائی ممالک جنگوں میں نقصانات اُٹھا اُٹھا کر دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ انتخابات کے بعد تباہی سے بال بال بچ گیا ہے۔ اگر مغرب کی عوام کے دلوں سے اسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا خوف بھی نکل جائے تو عوام اپنے حکمرانوں کو ووٹ اور نوٹ دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ سرِعام بازاروں میں منہ کالا کرکے گھمائیں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس اسلام نے لونڈی اور غلام کا تصور قرآن میں دیا اور پھر خلفاء راشدین ، ائمہ اہل بیت کے غلاموں سے لیکر محمود غزنوی کے ایاز اور برصغیر پاک وہند میں خاندانِ غلاماں کے اقتدار تک غلام ولونڈی کا تصور ختم نہیں کیا جاسکا ۔ اب دنیا میں اسلامی خلافت قائم ہوگی۔ جنگلی مخلوق سے بدتر علماء ومفتیان ہیں جو حلالہ کی لعنت سے مدارس میں شادی شدہ باعزت خواتین کی عصمت دری سے نہیں رُک سکتے ہیں تو پھر انگریز لڑکیوں اور خواتین کو لونڈی بنانے سے کیسے رُک جائیںگے؟۔
ہمیں دنیا کو سمجھانا ہوگا کہ ہمارے بھوکے وحشیوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کا دھندہ چھوڑ دو، یہاں شریف لوگوں کو ٹھگانے، لُٹانے اورمروانے کی ضرورت نہیں۔ شریف لوگ ہی کردار ادا کریں گے تو دنیا کی بچت ہوگی ورنہ تو خیر کی توقع کون رکھ سکتا ہے؟۔ یہود جب مدینے میں اپنے مضبوط قلعوں پر نازاں تھے تو مسلمانوں کوتوقع نہ تھی کہ وہ اتنی جلد بوریا بستر اُٹھانے پر ذلت کیساتھ مجبور ہوکر نکل جائیں گے۔
ابراھم لنکن نے جو نیک کام کیا کہ امریکہ میں غلاموں کی درآمد پر پابندی لگادی تو یہ بہت خوش آئند تھا۔ اس شخص کی نیکی سے ہی آج امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت بن گیا ہے۔ اب تو اقوام متحدہ نے انسانی غلامی پر عالمی پابندی لگادی ہے جو بہت ہی خوش آئندہے۔ مسلمانوں کی تو ایسی اوقات نہیں کہ انکے خوف سے یہ پابندی لگانے کا دعویٰ کیا جائے۔ البتہ ہم نے اسلام کا اصل چہرہ بھی دنیا کو دکھانا ہوگا اور آئندہ کے خوف سے بھی دنیا کو نجات دینے کا سامان بہم پہنچانا ہوگاتاکہ مسلمان سرخرو ہوں۔
اب ایک بے رحم تجزئیے کی طرف آئیے کہ کیا امریکہ نے غلاموں کی درآمد پر جو پابندی لگائی تھی تو کیا اس سے دنیا میں غلاموں کے مسائل حل ہوگئے؟۔ اگر امریکہ کی طرف سے غلاموں کو بنیادی انسانی حقوق دیدئیے جاتے تو کیا اس سے غلاموں کے مسائل حل ہوتے؟۔ جب امریکہ میں کالوں کو حقوق مل گئے تو بارک حسین اوبامہ بھی امریکہ کاکثیرالمدتی آٹھ سالہ صدر بن گیا تھا۔ اس کی کالی بیگم خاتون اول بن گئی تھی اور یہ تصور بھی اس وقت نہیں کیا جاسکتا تھا جب کالوں کو حقوق نہیں ملے تھے۔
اسلام نے دو بنیادی کام کئے تھے۔ ایک غلام اور لونڈی بنانے کی فیکٹریاں ختم کردیں تھیں۔ جاگیردارانہ نظام سے مزارعین لونڈی اور غلام بن کر شہری منڈیوں میں پہنچتے تھے۔ مزارعت کی مشقت سے جہاں اس جدید دور میں بھی بنیادی انسانی حقوق کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بھارت میں جابرانہ ڈکٹیٹر شپ نہیں جمہوریت ہے تو کاشتکار اپنے حقوق کیلئے دہلی پہنچ گئے ہیں۔ ہماری عمران خانیہ ڈکٹیٹر شپ نے لاہور میں تشدد سے مزارعین کو حال ہی میںاحتجاج سے رکنے پر مجبور کردیاتھا۔ جاگیرداروں کا ٹولہ پی ڈی ایم (PDM)مزارعین کا آقا ہے جن کی لڑائی ریاست سے اپنے مفادات کیلئے ہے۔
جب قرآن میں سود کی حرمت کے حوالے سے آیات نازل ہوئیں تو رسولۖ نے مزارعت کو سود قرار دیکر مسلمانوں کو اس سے روک دیا تھا۔ مدینہ کی زر خیز زمینوں سے مسلمان مزارعین جلد سے جلد غربت کی لکیر سے نکل کر خوشحال لوگوں کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ جب غریب اور امیر کواپنی محنت کا یکساں فائدہ ملنے لگا تو غریب کی غربت ختم ہوگئی اور امیر طبقہ محنت کش ہوگیا۔ مدینے میں جہاں زمیندار اور کاشتکار کی قسمت بدل گئی وہاں تاجروں کیلئے بھی ترقی وعروج کے راستے وسیع تر ہوگئے۔ جہاںمحنتی کاشتکار خوشحال ہوگا وہاں تاجروں کی بھی چاندی ہوگی۔ جہاں مزارعین کی حالت غیر ہوگی اور چندجاگیرداروں کو عیاشی کا موقع ہوگا تو عام تاجر بھی اپنی اشیاء کی فروخت میں مکھیاں مارنے کیلئے بیٹھے گاکیونکہ چند جاگیردار کتنے جوتے، دوائیاں اور کپڑے وغیرہ کے علاوہ اپنی ضروریات کی چیزیں خرید سکیں گے؟۔ جالب نے کہا:
ہر بلاول ہے ہزاروں کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
پھران غریبوں نے ہی دہشت گرد بن کر بینظیر بھٹو پر خود کش دھماکے بھی کئے تھے۔
اسلام نے سب سے بڑا بنیادی کام یہ کیا تھا کہ مزارعت کو سودی نظام قرار دیکر غلامی کی بنیادیں ختم کردی تھیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود ہے۔ جو قرآن میں اللہ اور اسکے رسولۖ سے جنگ ہے۔ اگر ائمہ عظام کے فتوؤں کے مطابق بنوامیہ اور بنوعباس اپنے ہاں اور دنیا میں مزارعت کا نظام رائج کرنے کے بجائے ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے تو پھر خلافت کو اپنے خاندان کی لونڈیاں بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہمارے بچپن میں یہ افواہ اُڑائی گئی کہ روس پاکستان پر قبضہ کریگا تو ہمارے مزارع کے چھوٹے بیٹے نے اپنے باپ کا نام لیا کہ اس کی کونسی زمینیں ہیں، روس آئے یا امریکہ ہم نے مزارعت کا کام ہی کرنا ہے۔ جب لوگوں کو انصاف تک نہیں ملتا ہے تو ریاست کیسے چلے گی؟۔
پاکستان میں مزارعت کو ختم کردیا جائے اور لوگوں کو زمینیں مفت میں دی جائیں تو صرف پاکستان نہیں بلکہ ہندوستان اور دنیا کی تقدیر بدلنے میں بھی دیر نہیں لگے گی اور پہلے جہاں افراد کی غلامی ہوتی تھی تو اب خاندان کے خاندان غلام بن گئے ہیں۔ علماء الو کے پٹھوں نے لکھا کہ ” اسلام نے مزارعت کو اسلئے ناجائز قرار دیا تھا کہ اس سے لوگوں میں غلامی پیدا ہورہی تھی، جب غلامی نہیں پیدا ہورہی ہے تو جائز ہے”۔ اب تو شیخ الاسلاموں اور مفتی اعظم پاکستانوں نے بینکاری کے سودی نظام کو جواز بخش دیا ہے۔ سارے مدارس اور علماء ومفتیان کی مخالفت کے باجود یہ فتویٰ اسلئے چل پڑا ہے کہ ریاست کی قوت اس کی پشت پر ہے۔ پہلے فقہ کے ائمہ کو اپنے شاگردوں کی طرف سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آج مفتی محمدتقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے بھی اپنے مسلک کے تمام مدارس اور اپنے اساتذہ کرام کو شکست سے دوچار کیا ہے۔
اسلام نے دوسرا بنیادی کام یہ کیا کہ غلام اور لونڈی کو انسانی حقوق سے نواز دیا۔ حضرت زید نے اپنے چچاؤں اور باپ کیساتھ جانے سے انکار کردیاتھا۔ سیدنا بلال نے آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے وطن حبشہ کا رُخ نہیں کیا۔ حضرت اسود نے بڑاسفر طے کرکے اسلام کی آغوش میں پناہ لی تو شادی کی خواہش رہ گئی۔ نبیۖ نے حکم دیا کہ کلاب قبیلے کے سردار سے بیٹی کا رشتہ مانگ لو۔ سردار پہلے اپنی سعادت سمجھ کر بڑا خوش ہوا لیکن رشتے کی بات سن کر خاموش ہوگیا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو سردار کی بیٹی نے کہا کہ مجھے رشتہ پسند ہے۔ نبیۖ نے شادی کیلئے ضروری سامان خریدنے کیلئے رقم دی تو جہاد کے منادی کی آواز سن لی۔ دولہے نے سامان حرب خریدا اور ذرا ہٹ کے قافلے کیساتھ چلا، جب میدان جہاد میں شہید ہوا تو پتہ چلا کہ اسود نے ایک نقاب اوڑھ رکھا تھا تاکہ نبیۖ دولہے کو دیکھ کر واپس جانے کا حکم نہ فرمادیں۔ محموداور ایاز کا قصہ تو مشہور ہے کہ سارے مشیروں اور وزیروں میں ایاز کو فوقیت بھی حاصل تھی اور ایاز شاہی محل جیسے گھر میں اپنا پرانا لباس پہن کر آئینے میںخود کو مخاطب کرتا تھا۔
غلام اور لونڈی وہ بے سہارا ہوتے تھے جن کے آبا اور خاندان کا بھی پتہ نہیں ہوتا تھا۔ نبی ۖ نے زید کیلئے فرمایا کہ یہ میرا لڑکا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جن کے باپ کا پتہ چل جائے تو ان کو انکے باپ کے نام سے پکارو اور جن کے باپ معلوم نہیں ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اللہ نے آزاد مشرک ومشرکہ پر غلام مؤمن اور لونڈی مؤمنہ کو زیادہ قابل ترجیح قرار دیا اور فرمایا کہ ان سے نکاح مت کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں۔ اللہ نے یہ حکم بھی دیا کہ اپنی طلاق شدہ وبیوہ خواتین اور نیک غلاموں و لونڈیوں کا نکاح کراؤ۔ اہل تشیع کے کئی ائمہ کنیزوں کی اولاد ہیں۔ آزاد عورتوں سے نکاح و ایگریمنٹ کی اجازت دی گئی تو یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ لونڈیوں سے بھی نکاح وایگریمنٹ کی اجازت دی گئی ہے۔
جنگ میں قید ہونے والوں کو غلام یا لونڈی بنانا ممکن نہیں۔ کیاحضرت عمر نے قیدی کو غلام سبنایا تھا جس نے شہید کردیا تھا؟۔ قیدیوں کو غلام اور لونڈی ہرگز نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اگر جنگ کا قیدی غلام ہو توپھرموقع ملتے ہی خدمت کرنے کی جگہ جان لے لے گا۔بدر یا احد کے قیدیوں میں کسی ایک کو بھی غلام نہیں بنایا گیا اور نہ اس طرح کا رسک لینا ممکن تھا۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جن فتوحات کے بعد جنت کانقشہ پیش کیا تھا لوگوں نے اس کو آخرت پر محمول کردیا ہے۔ سورۂ طور میں جس طرح اسلام کو جھٹلانے والوں کو دنیا میں ہی عذاب کا مژدہ سنادیا گیا ہے جنہوں نے اسلامی فتوحات کے بعد دیکھ لیاتھا کہ اسلام کی پیشین گوئیاں ہوبہو بالکل درست ثابت ہوگئیں۔ اسی طرح مسلمانوں نے بھی دنیا میںہی یقین کرلیا کہ اللہ نے وعدوں کے عین مطابق زبردست نوازشات کی برسات کردی تھی۔ خستہ حال مسلمانوں کے حالات کو بہت کم مدت میں اللہ نے بدل دیا تھا۔
عربی میں ”حور” شہری عورتوں کو کہتے ہیں۔ جب مسلمان دنیا کی امامت کررہے تھے تو اہل کتاب کی خواتین نے بھی نکاح کی پیشکشیں شروع کردی تھیں۔ حضرت عمر نے ان پر پابندی بھی لگادی تھی کہ پھرعرب خواتین شادی کے بغیر رہ جائیں گی۔ عبداللہ بن عمر نے فتویٰ جاری کردیا تھا کہ اہل کتاب بھی مشرک ہیں جو تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن ان کی بات کو حرفِ غلط کی طرح رد کردیا گیا تھا۔ فتوحات کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبیۖ پر پابندی لگادی کہ آئندہ کسی بھی عورت سے نکاح نہیں کرنا ہے بھلے کوئی اچھی لگے،پھر ایگریمنٹ کی اجازت دیدی۔ علامہ بدر الدین عینی نے نبیۖ کی طرف اٹھائیس (28)ازواج کی نسبت کی ہے لیکن ان میں سے بعض محرم تھیں جیسے حضرت امیر حمزہ کی بیٹی جس کا نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میرے دودھ شریک بھائی کی بیٹی ہیں، بعض سے ایگریمنٹ تھا ،ام ہانی جس کیلئے اللہ نے نکاح کے حوالے سے فرمایا کہ وہ چچاکی بیٹیاں حلال ہیں جنہوں نے ہجرت کی۔خیبر کی فتح کے بعد حضرت صفیہ کے حوالے سے بخاری میں تصریح ہے کہ اگر پردہ کروایاتو نکاح ہے اور نہیں کروایا تو پھر ایگریمنٹ ہے۔ کسی عورت کا ایک مرد سے جنسی تعلق ہوسکتا ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ایک کی لونڈی یا ایگریمنٹ والی ہو اور دوسرے کے نکاح میں ہو؟۔
جب قرآن میں اللہ نے نکاح اور ایگریمنٹ کا معاملہ جدا جدا کردیا تو بعضوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ بعض محرمات کا معاملہ ایگریمٹ کے حوالے سے جدا ہے جس کی واضح نظیر حضرت ام ہانی ہی کا معاملہ تھا۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ نے سوتیلی بیٹیوں کو پیش کیا تو نبیۖ نے فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ صحیح بخاری کایہ عنوان ہے۔ علماء کرام کو چاہیے کہ قرآنی آیات ، بخاری کی احادیث اور فقہ کی کتابوں میں غلط فہمی کا ازالہ کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اسلام کا معاشرتی نظام بہت مثالی ہے مگر ہمارے مذہبی طبقات پیچیدگیوں کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا رہے ہیں۔ملکت ایمانکم کا اطلاق غلام ولونڈی پر بھی ہوتا ہے اور ایگریمنٹ پر بھی۔ ایگریمنٹ مراد ہو تو ایگریمنٹ لیا جائے اور یہ بھی واضح ہے کہ غلام ولونڈی پر پر بھی ایگر یمنٹ ہی کا اطلاق کیا گیاہے اسلئے کہ اس کی وجہ سے ان کو تمام حقوق حاصل ہیںاور بہت معاملات میں رعایتیں بھی دی گئی ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن میں نبیۖ کے خواب اور شجرہ ملعونہ کا تصور کیا ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن میں نبیۖ کے خواب اور شجرہ ملعونہ کا تصور کیا ہے؟۔سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جاویداحمد غامدی میں کس بات پر اختلاف ہے؟ اور اصل حقائق کیا ہیں؟۔ علماء کرام اور قوم کے دانشورتوجہ کریںگے تو معاملہ حل کرسکتے ہیں !

رسول اللہۖ کو بیت المقدس کی دومرتبہ فتح اور اہل کتاب کی شکست کا بیداری کے عالم میں جو خواب دکھایا گیا تھا وہ پورا ہوگا تو اختلافات کے ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی

قرآن میں شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے اور یہ لوگوں کی آزمائش کیسے ہے؟۔ جنت سے نکلوانے، جنسی فتنہ سامانی کا خطرناک کھیل اورحلالہ کی لعنت کا غیرفطری تصورواقعی بڑ ی آزمائش ہے!

رسول اللہ ۖ نے آخری خطبہ میں فرمایا:” اے لوگو! وہ باتیں سن لو ! جس سے تم ٹھیک زندگی گزار سکوگے۔ خبردار ظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا۔
مسلمانو!تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزتیں حرمت والی ہیں۔
مسلمانو! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی پرستش کریں لیکن وہ تمہارے اندر رخنہ اندازی کرے گا۔
سب انسان ایک آدم کی اولادہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔ کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر ، عرب کو عجم پر اور عجم کو عرب پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ فضیلت کا معیار تقویٰ ( کردار) ہے۔ ……….. میرا یہ پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچادو!”۔
قرآن میں ایک صحابی زید کے نام کا ذکر ہے ، نبیۖ نے اس کو اپنا منہ بولا بیٹا اور جانشین بھی نامزد کیا تھا۔ حضرت زید نے نبیۖ کی حیات طیبہ میں شہادت کا مرتبہ پایا۔ جب وصال سے پہلے نبیۖ نے اسامہ بن زید کی قیادت میں لشکر تشکیل دیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کسی بڑے تجربہ کار شخصیت کو مقرر فرمائیں لیکن نبیۖ نے فرمایا کہ آپ لوگوں نے اسکے باپ زید پر بھی اعتراض کیا تھا لیکن اس نے اپنی اہلیت ثابت کردی تھی۔
خطبۂ حجة الوداع میں نبیۖ نے جو قاعدہ کلیہ بتادیا تھا وہ اس بات کا تقاضہ کررہا تھا کہ رسول اللہۖ کے وصال فرمانے کے بعد انصار وقریش ، اہلبیت اور آنے والے ہردور کے حکمرانوں کو منصبِ خلافت کا حقدار تسلیم کیا جائے۔ حکمران کے تقرر پر اختلاف کا وجود باعث رحمت تھا ۔ آج تمام امت مسلمہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھارہی ہے۔
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے جس طرح سے اقتدار کا نظم ونسق سنبھالا تھا وہ قابلِ تحسین تھا۔ رسول اللہۖ سے مختلف معاملات میں صحابہ نے اختلاف کیا اور کئی مرتبہ وحی بھی انکے حق میں نازل ہوئی جیسے سورہ ٔ مجادلہ اورغزوۂ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کے معاملے میں۔ خلفاء کیلئے اختلاف کی گنجائش نہ ہوتی تو پھر ان کا مقام ومرتبہ رسول اللہۖ سے بڑا تصور ہوتا۔ رسول اللہۖ کی رہنمائی وحی سے ہوتی تھی اور خلفاء کی رہنمائی باہمی مشاورت کے ذریعے سے ہورہی تھی۔ جب حضرت علی پر کسی نے اعتراض کیا کہ نظم ونسق آپ سے صحیح نہیں سنبھل پارہاہے ،آپ میں سابقہ خلفاء کی صلاحیت نہیں ہے تو حضرت علی نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر و عمر کے مشیر ہم تھے اور میرے مشیر تم لوگ ہو۔ یہ میری کمزوری نہیں بلکہ تمہاری غلط اور کمزور مشاورت کا نتیجہ ہے۔
خواب کے دو معانی ہیں۔ ایک نیند کی حالت میں خواب دیکھنا اور دوسرا مستقبل کے اندر اپنی تحریک اور مشن کے خواب دیکھنا۔ دونوں پر خواب کا اطلاق ہوتا تھا۔ بنی اسرائیل کی سورة میں جس خواب کا ذکر ہے جو نبیۖ کو بیداری کے عالم میں راتوں رات دکھایا گیا تھا۔ اس کی تعبیر اگلی آیات میں موجود ہے کہ بنی اسرائیل دو مرتبہ فساد برپا کریںگے۔ پہلی مرتبہ سخت قوم سے واسطہ پڑے گا۔ تاریخ میں روم کی سپر طاقت کو شکست دی گئی تھی ۔ یورپ کے بحر کو مسلمانوں کے جس طوفان نے آشنا کردیا تھا ، اس کی تعبیر نہ سمجھنے والے پاپڑ بیلیں یا بیچیں۔ اب دوبارہ پھر انشاء اللہ مسلمان فاتحانہ انداز میں ہی بیت المقدس میں اپنا داخلہ کرکے نبیۖ کے خواب اور قرآن کی آیات کو عملی جامہ پہنائیںگے۔
جب مسلمانوں کیخلاف ہونے والی سازشوں پر اہل کتاب کے کرتے دھرتوں کے منہ کالے ہونگے کہ کس طرح انسانیت کو تباہ وبرباد کیا۔ وسائل پر قبضہ کیا۔ ہیروئن و دیگر منشیات سمگلنگ کرنے کے جال بچھائے۔ نااہل حکمرانوں کے ذریعے لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی کی۔ ریاستوں کے نظام کو تباہ کیا۔ انسانی جانوں کو بے پناہ تشدد اور جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا۔ قرآن میں الفاظ یہ ہیں کہ
فاذا جاء وعد لاٰخرة لیسوء وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرة و لیتبروا ماعلوا تتبیرًاO
” جب دوسرا وعدہ آئے گا تاکہ تمہارے منہ کالے کردئیے جائیں اور تاکہ مسجد(اقصیٰ) میں داخل ہوں ، جیسے پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے، تاکہ تمہاری بڑائی خاک وخاکستر کردیں”۔ یہ شکست جسمانی تشدد اور بلڈنگوں کو تباہ کرنے کے ذریعے سے نہیں ہوگی بلکہ بہت بڑی اخلاقی شکست کا سامنا ان کو کرنا پڑے گا۔
سورۂ الحدید کے آخر میں بھی مسلمانوں کیلئے کفیلین دو حصوں کا ذکر ہے۔ پہلا حصہ گزر چکا ہے اور دوسرا حصہ باقی ہے۔ جس میں اہل کتاب کو یہ یقین ہوجائے گا کہ زمین پر ان کی اجارہ داری نہیں ہے۔ سورہ الحدید کی آخری دوتین آیات بھی دیکھ لیں۔
قرآن میں شجر ہ ملعونہ کا ذکر ہے۔ جنت سے نکلنے کا بھی یہی ذریعہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اے بنی آدم ! شیطان تمہیں ننگا نہ کرے جیسے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوادیا تھا۔ مذہبی طبقے نے ہمیشہ عوام کا استحصال کیا ہے۔ دورِ جاہلیت میں عورت کے حقوق پامال ہوتے تھے۔ قابیل نے ہابیل کا خون بھی عورت کی وجہ سے کیا تھا۔ آج جنسی تشدد کے بعد بچیوں کے واقعات جس طرح سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈارک ویب کے فتنے ہیں، عورتوں کی ہراسمنٹ کا ہر جانب فتنہ عروج پر پہنچا ہوا ہے۔ مولوی حلالہ کے نام پر جس طرح عورت کا شکار اور استحصال کررہاہے اس نے غیرت، عزت، ضمیر، قانون ، انسانیت اور اخلاقیات کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر لعنت کا ثبوت کیا ہوگا؟۔
قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کا معاملہ روزِ روشن کی طرح بالکل واضح ہے مگر مولوی اس کو سمجھنے کے باوجود نظرانداز کررہاہے۔ جس کے کرتوت مدارس کے طلبہ پر ہاتھ صاف کرنے سے بھی گریز نہ کرتے ہوں تو حلالہ کی لعنت پر اسکا ضمیر کیا جنبش کرے گا؟۔ ہم نے اپنی چار کتابوں اور اخبار کے بہت سے شماروں میں کافی وضاحت کردی ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ہاں حقائق نہیں پہنچے ہوں اور غلط فہمی کا شکار ہوں اسلئے بار بار مختلف شماروں میں مختلف انداز سے تھوڑی بہت وضاحت کرنی پڑتی ہے۔شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے؟ ۔ قرآن میں ناجائز جنسی تعلقات کے قریب جانے سے روکا گیا ہے۔
الذین یجتنبون کبٰرالاثم والفواحش الا اللمم ان ربک واسع المغفرة ھو اعلم بکم اذ انشاَکم من الارض و اذا نتم اجنة فی بطون امھٰتکم فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰیO
”جو لوگ اجتناب کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے مگر کچھ قصور سرزد ہوجائے۔ بیشک تیرا رب وسیع مغفرت والا ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے جب تمہیں زمین سے نکالا اور جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے پس اپنے نفس کی پاکی بیان مت کرو۔ وہ جانتا ہے کہ کون متقی ہے”۔( سورۂ النجم آیت32)
انسان کی پیدائش کس غلے سے ہوئی ہے وہ بھی اللہ جانتا ہے اور جب ماں کے پیٹ میں جنین ہوتا ہے تب بھی وہ جانتا ہے۔ انسان اتنی کمزور چیز ہے کہ کھیت کی ہریالی میں بھی مست ہوجاتا ہے، اپنے بود وباش میں بھی مست ہوجاتا ہے۔ اس کے دل ودماغ میں کسی چیز کی واضح تصویریں اور نفسانی ہیجانات میں خواہشات کے رحجانات میں بہت کمزور واقع ہوتا ہے اسلئے اپنے نفس کے تزکیہ کیلئے غرور ودھوکہ دہی سے منع کیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ کون تقویٰ اختیار کرتا ہے۔ اچھے لوگوں کی یہ خوبیاں بیان کی ہیں کہ وہ بڑے گناہوں اور فحاشی سے اجتناب کرتے ہیں مگر تھوڑا سا قصور سرزد ہوجائے۔
اگر اللہ تعالیٰ بڑے گناہوں اور فحاشی سے اجتناب کا حکم نہ دیتا تو معاشرہ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ بدتر ہوجاتا۔ انسانیت شرافت کا نام ہے جانور پن کا نہیں ۔ پاکستان ، ایران کا متعہ اور سعودی عرب کا مسیار بھی شجرہ ملعونہ کی فتنہ سامانیوں کا بادَ سموم ہی ہے۔ مغرب نے معاشرے کو بالکل تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ محمد شاہ رنگیلا اور خلافت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزار لونڈیوں کے علاوہ سعد اللہ جان برق کی کتاب ”دختر کائنات” اور دوسری متعلقہ کتابوں میں شجرہ ملعونہ کی داستانیں دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں جس طرح کی روش برپا ہے وہ کسی کی نظروں سے بالکل بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ جب اسلامی قانون سازی میں حضرت عمر فاروق اعظم کے دور میں بصرہ کے گورنرحضرت مغیرہ ابن شعبہ کے واقعہ میں بخاری کی روایات اور فقہاء کے اختلافات کاسلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے تو پھر اس بنیاد پر کسی کے اندر یہ ہمت نہیں ہوسکتی ہے کہ اس واقعہ اور اس کے حوالے سے قانون سازی کو دنیا کے سامنے کوئی پیش کرسکے۔ سب سے کمزور گواہ نے جس طرح سے گواہی دی تھی وہ بھی اتنی دلچسپ اور معانی خیز ہے کہ انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیںگے تو شاید کسی دوسرے کو دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہوگی۔ اسلامی قانون سازی پر ایک اچھی پیش رفت اور قابلِ لائحۂ عمل اس وقت ممکن ہے کہ جب علماء ، دانشور اور حکام مخلص ہوکر بیٹھ جائیں اور پھر اس پر عمل بھی کریں۔ سنگساری کی سزا صرف جبری جنسی تشدد کی صورت میں ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی وضاحت بھی ہے۔ سورۂ نور میں سب کیلئے یکساں سزا کا حکم ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہاہے۔
طلاق اور اس سے رجوع پر جتنی وضاحت قرآن وسنت میں موجود ہے،اگر اس کی حقیقت کھل کر عوام کے سامنے آگئی تو بڑے بڑے مولانا چہرے چھپاتے پھریںگے لیکن اس شرط پر کہ وہ اس میں ملوث رہے ہوں اور ان میں شرم وحیاء کی رمق بھی باقی ہو،جو بڑی مشکل بات ہے۔ طلاق اور اس سے رجوع کو جتنا حساس معاملہ قرار دیا گیا ہے قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں اس کی حساسیت اس سے بہت زیادہ ہے لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش پر کسی نے شاید اپنا وقت ضائع کرنے کی کوشش نہیں کی اور اگر کسی نے اپنا ایجنڈا بناکر مسائل کے حل کی کوشش کی ہو تو یہ نفسِ مسئلہ کیلئے نہیں ہے بلکہ اسکے اپنے مخصوص مقاصد کیلئے ہے۔
طلاق کے حوالے سے چند بنیادی باتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
(1:) طلاق سے رجوع کیلئے اللہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ لیکن شرط یہی کہ میاں بیوی اس طلاق کے بعد کسی بھی مرحلے پر صلح کیلئے رضامند ہوں۔
(2:) ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں عدت نہیں ہے لیکن مقرر کردہ حق مہر کا نصف ہے اور اگر مقرر نہ ہو تو غریب وامیر پر اپنی اپنی وسعت کے مطابق آدھا حق مہر ہے۔
(3:) ہاتھ لگانے کے بعد طلاق کی عدت بھی ہے۔ اگر طلاق کا اظہار نہ کیا جائے تو پھر عدت چار ماہ ہے اور رجوع کیلئے شرط باہمی رضامندی ہے اور اگر طلاق کا ارادہ تھا اور پھر اظہار نہیں کیا تو یہ دل کا گناہ ہے اس پر اللہ کی پکڑ ہے۔ اسلئے کہ طلاق کے اظہار سے عدت کی مدت میں ایک ماہ کی کمی آتی ہے۔
(4:) طلاق کے بعد عورت صلح پر راضی نہ ہو تو ایک طلاق کے بعد بھی رجوع کی اجازت نہیں ہے اور عورت اس کیلئے بالکل حرام ہے۔ زبردستی سے دس حلالے کے تصور سے بھی وہ حلال نہیں ہوسکتی ہے۔ یہی طلاق کی اصل اور بنیادی بات ہے۔ جو قرآن میں واضح کی گئی ہے اور اس کو اصلاح، معروف اور باہمی رضامندی سے واضح کیا گیا ہے۔
(5:) عورت کو حیض آتا ہو تو طلاق کی عدت تین طہرو حیض ہے۔ حیض نہیں آتا ہو یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے بہت جلد یاخلاف معمول دیر سے آتا ہو تو عدت تین ماہ ہے۔
(6:) عدت کے دوران کسی اور سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ عدت اللہ نے رجوع اور پشیمانی کیلئے رکھی ہے۔ طلاق کی گنتی کا اصل معاملہ صرف عدت کی گنتی کیساتھ ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ پہلے طہروحیض، دوسرے طہرو حیض اور تیسرے طہرو حیض کی عدت اور تین مرتبہ طلاق کا معاملہ قرآن واحادیث میں بالکل واضح ہے۔
(7:) قرآن میں اتنا بڑا تضاد تو نہیں ہوسکتا ہے کہ ایک آیت میں عدت کے اندر باہمی اصلاح سے رجوع کی اجازت دے اور دوسری آیت میں عدت کے اندر رجوع پرپابندی بھی لگادے؟۔ علماء وفقہاء نے قرآن کریم کو تضادات کی عجیب کتاب بناکررکھ دیا ہے۔
(8:) عدت میں رجوع کرنے کی وضاحت صرف اسلئے کی گئی ہے تاکہ عورت عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادی کا حق سمجھ لے۔ لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ قرآن میں بار بار وضاحت کی گئی ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی باہمی رضامندی سے رجوع ہے۔
(9:) آیت(228)البقرہ میں یہ واضح ہے کہ ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی اصلاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور دس مرتبہ طلاق کے بعد بھی عدت میں رجوع ہوسکتا ہے۔ رجوع کا تعلق عدد سے نہیں بلکہ باہمی رضامندی اور عدت سے ہے۔آیت(229)میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عدت کے تین مراحل سے تین مرتبہ طلاق کا تعلق ہے اور تیسرے مرحلہ میں بھی معروف طریقے سے ہی رجوع ہوسکتا ہے جس کو باہمی اصلاح ہی کہہ سکتے ہیں۔
(10:)جب عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو پھر کسی بھی طلاق کے بعد مرد کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں یہاں تک کہ عورت اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ لیکن اگر وہ راضی ہو تو معروف طریقے اور باہمی رضامندی سے عدت کی تکمیل کے فوراً بعد اور عرصہ بعد رجوع کا دروازہ اللہ نے نہ صرف کھلا رکھا ہے بلکہ دوسروں کو بھی رجوع میں رکاوٹ نہ بننے کا حکم دیا ہے۔ علماء ومفتیان کو تفصیل کی ضرورت ہو تو سورہ بقرہ و سورہ طلاق کی آیات دیکھ لیں اور نہیں سمجھ میں آتی ہوں تو ہماری کتابوں میں تفصیلات موجود ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

حضرت ابوطالب کے ایمان، حضرت عثمان کی شہادت اور سولہ (16)سال کی عمر میں حضرت عائشہ کے نکاح پر تحقیق

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر بڑے بڑے شیطان الجن کی طرح شیطان الانس نے بھی چپ کی سادھ نہیں توڑی تو ان کا مذہبی وسیاسی منصب غلط ہے۔

وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید مذہب کیلئے ٹھوس کردار ادا کریں۔

اگر تاریخ کے اوراق کو دیکھا جائے تو افراد کا اس پر بڑا اختلاف ہوسکتا ہے۔ موجودہ دور میں جاوید احمدغامدی کا نام ہے۔ عرب قبائل میں صدیقی، فاروقی،عثمانی اور علوی نہیںمگر برصغیر پاک وہند بھرا پڑا ہے۔غامدی عرب قبیلہ تھا۔ غامدیہ صحابیہ نے سورۂ نور میں زنا کی سزا نافذ ہونے سے پہلے خود کو سنگسار کروایا تھا۔ جاوید غامدی نے پہلے کلچر سے متأثر ہوکر اپنے لئے عربی قبیلے کا نام منتخب کیا لیکن جب اس کی توجہ شاید حضرت غامدیہ کی طرف گئی جس نے بچہ چھوڑا تھا تو یہ وضاحت کردی کہ میں نے اپنے شوق سے غامدی لکھنا شروع کیا ہے ،عرب قبیلے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
جب احادیث صحیحہ کی بات آتی ہے تو بڑے بڑے لوگ زبردست قسم کی احادیث صحیحہ کو نہیں مانتے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ابوطالب نے اسلام قبول کیا تھا تو کہتے ہیں کہ ہم حدیث کا انکار نہیں کرسکتے، کیونکہ ابوطالب نے کہا تھا کہ میں دین ابراہیمی پر ہوں۔ حالانکہ نبیۖ کو اور ملت اسلامیہ کو اللہ نے دینِ ابراہیمی پر قرار دیا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابوطالب سے شرک ثابت نہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ، انہوں نے بنوامیہ اور بنوعباس کی شکل میں خلافت پر خاندانی لحاظ سے قبضہ کرلیا۔ انہی کے ادوار میںاحادیث گھڑنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ انہوں نے ہی اپنے ان آبا واجداد سے یہ قصہ گھڑ لیا کہ ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور وجہ یہی تھی کہ حضرت علی پر منبروں سے سب وشتم کی جاتی تھی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے دور میں بڑی مشکل سے یہ سلسلہ روک دیا تھا۔
پاکستان بھر کے بڑے علماء کرام سے لیکر ضلع ٹانک کے تمام بڑے علماء کرام تک میری تائیدات اور ملاقات کا سلسلہ جاری رہتا تھا لیکن آج میرے مخالفین سے پوچھ لیا جائے تو جن علماء واکابرین کی سچائی پر ان کا عقیدہ وایمان ہے وہ پھر بھی میری مخالفت کریں گے۔ رسول اللہۖ پر چھ (6)سالہ حضرت عائشہ سے نکاح اورنو (9)سالہ سے رخصتی اور آپ کے ساتھ جماع کی حدیث بخاری میں ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت عائشہ کی پیدائش حضرت اسماء بنت ابی بکر سے دس (10)سال بعد ہوئی تھی ۔ ان کا انتقال سن 73ھ میں سوسال کی عمر میں ہوا۔ ہجری کے (72) سال نکالے جائیں تو حضرت اسمائ کی عمرپہلی ھجری کو اٹھائیس (28)سال بنتی ہے۔ تیرہ (13)سالہ مکی دور کو نکالا جائے تو آپ کی عمر نبوت کی بعثت سے پہلے پندرہ (15)سال بنتی ہے۔ مشکوٰة کے ساتھ شامل ”الاکمال فی اسماء الرجال” میں یہ موجود ہے۔ جس کی رو سے حضرت عائشہ کی عمر بعثت کے وقت پانچ (5)سال بنتی ہے ۔ اس طرح سن ایک ہجری میں حضرت عائشہ کی رخصتی ہوئی تھی تو اس وقت آپ کی عمر(19)سال بنتی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے پہلے لڑکی کیلئے کم ازکم سولہ (16)سال کا قانون بنایا تھا اور پھر بعد میںاٹھارہ (18)سال کردیا ہے۔
آج متعصب لوگوں کے ہاتھ میں شریعت و قانون کا ہتھیار دیا جائے تو وہ چھ (6)سال کی عمر میں اس شادی کو غلط قرار دینا شروع کریںگے اور دوسری طرف تعصبات کا یہ حال ہے کہ پانچ (5)سال کی عمر میں حضرت عائشہ کے اسلام کو اسلئے ٹھیک قرار دینگے کہ آپ کے والدین مسلمان تھے۔ لیکن حضرت علی کے اسلام کو غیرمعتبر قرار دیں گے اسلئے کہ دس (10) سال میں بچہ قانوناً والدین کے مذہب پر ہوتا ہے۔
خلیل جبران نے ایک کہانی لکھی ہے کہ ایک پادری کو شیطان زخمی حالت میں ملا، پہلے اسکے مرنے پربے تاب ہوا لیکن جب پادری کو ابلیس نے بتایا کہ اگر میں نہیں ہوں گا تو تیری روزی روٹی بھی بند ہوجائے گی۔ لوگ گناہ اور نیکی نہ کرنے پر کفار ہ دیتے ہیں۔ جب پادری کی سمجھ میں بات آگئی تو ابلیس کو کاندھے پر اٹھاکر علاج کیلئے لے گیا۔ ہمارے فرقہ پرست عناصر اور بڑے سیاسی مولوی بھی جان بوجھ کر عوام کے اندر شعور کی کوشش اپنے لئے نہیں کرتے۔
اہل تشیع کے بعض علماء بہت زبردست اور سچے مؤمن ہیں لیکن بعض بہت شرپسند ہیں۔ علامہ سید جواد حسین نقوی اور علامہ سیدحسن ظفر نقوی اور دیگر اچھے لوگوں سے بہت معذرت کیساتھ وہ سچے مؤمن اور مجاہد ہیں لیکن بعض علامہ صاحبان جیسے علامہ شہر یار عابدی جنہوں نے جمناسٹک کی طرح ٹریننگ کرکے سوشل میڈیا پر صحابہ کرام کے خلاف بہت نازیبا حرکتیں شروع کردی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ بعض کتاب کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ علامہ شہریار عابدی وضاحت کریںکہ اللہ نے فرمایا کہ
” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ومن اوفیٰ بما عٰھد علیہ اللہ فسیؤ تیہ اجرًا عظیمًاO (سورة الفتح آیت10)
ترجمہ ” بیشک جن لوگوں نے آپ سے بیعت کرلی، تو بیشک انہوں نے اللہ سے بیعت کرلی۔ اللہ کاہاتھ ان کے ہاتھوں پر تھا۔ پس جو اس عہد کو توڑے تو اس کے توڑنے کا معاملہ اس کی اپنی ذات پر پڑے گا اور جس نے پورا کیا جس پر اللہ سے عہد کیا تھا تو عنقرب اس کو بڑا جر ملے گا”۔
خطیب العصر سید عبدالمجید ندیم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ نبیۖ نے حضرت عثمان کا بدلہ لینے کیلئے بیعت لی تو فرمایا کہ یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ میرے شہید بھائی عثمان کا ہاتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پھر نبیۖ کے اس ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا تھا اور اللہ کو پتہ تھا کہ حضرت عثمان( 35)ھجری میں مظلومیت کیساتھ شہید کردئیے جائیں گے۔
علامہ شہریار عابدی بتائیں کہ اس آیت میں حضرت علی کی ولایت کیلئے نبی ۖ نے لوگوں سے بیعت تو نہیں لی تھی؟۔ اگر اہل تشیع کی معتبر کتابوں سے اس آیت کی تفسیر یوٹیوب پر بیان کریںگے تو بہت سارے شبہات کا ازالہ بھی ہوجائے گا۔ اور اگر یہ حضرت عثمان کا بدلہ لینے کیلئے ہو اور پھر حضرت عثمان کی حمایت سے اس وقت دستبردار ہوگئے ہوں جبکہ صلح حدیبیہ کی طرح مسلمان کمزور بھی نہیں تھے اور حضرت علی فاتح خیبر کی بہادری اور کرامات کا انتہائی زور بھی بتایا جاتا ہو۔ حضرت علی کیلئے اس سے زیادہ گھناؤنی اور گھٹیا سوچ نہیں ہوسکتی ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ حضرت علی چاہتے تھے کہ حضرت عثمان باغیوں کے ہاتھوں قتل ہوں اور پھر پرائے شکار پر خلافت کامنصب سنبھال لیں۔
حضرت علی کی ذات کو اس سے بالکل مبرا سمجھنا ہوگا۔ اگر حضرت علی اس کام پر خوش ہوتے تو خود قتل کرکے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑھ دیتے۔ شدت پسندوں کو قابو کرنا بہت مشکل کام ہے۔ دنیا میں ہماری فوج نمبر(1)ہے۔ ہماری ایجنسیاں نمبر(1)ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت نمبر (1)تھی اور پختون قوم اور پختونوں میں محسود نمبر (1) ہیں اور ہمارے خاندان کو نمبر (1)کہاجائے تو شاید کوئی مبالغہ نہیں ہوگا لیکن دہشت گردوں نے حملہ کرکے ہمارے گھر میں(13)بے گناہ شہید کردئیے تھے۔ منگل باغ نے کتنے ماردئیے اور کتنے افراد ساتھ لے گیا تھا؟۔ قوم بے بس تھی ۔ حضرت عثمان کا مسئلہ زیادہ گھمبیر تھا۔طالبان کا امیر بیت اللہ محسود پہلے ہمارے معاملے پر طالبان سے انتقام لینا چاہتا تھا مگر پھر وہ بے بس ہوگیا۔معاملہ بعض اوقات پیچیدہ ہوتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

پاک سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوچکا مگر علماء وعوام آمادہ ہوں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے بعدباہمی اصلاح اورمعروف طریقے سے عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے لیکن باہمی اصلاح کے بغیر طلاق کے بعد عدت کے اندر بھی شوہر کو رجوع کی اجازت نہیں دی ہے اور ایسی صورت میں جب میاں بیوی طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے اصلاح پر آمادہ نہ ہوں تو چونکہ شوہر کی غیرت کا تقاضہ ہوتاہے کہ طلاق کے بعد بھی عورت اپنی مرضی سے کہیں شادی نہ کرلے ،اسلئے اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا ہے کہ” طلاق کے بعد اس کیلئے حلال نہیںیہاں تک کہ وہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے ”۔جس طرح برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے لیڈی ڈیانا کو طلاق دی اور پھر کسی اور سے اس کا تعلق برداشت نہ ہوسکا اور فرانس کے شہر پیرس میں قتل کردی گئی، جس کا کیس عدالت میں چل رہا ہے۔
افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مدارس کے علماء ومفتیان قرآن وسنت کے صریح احکام کے برعکس باہمی رضامندی کے باوجود بھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ دیتے ہیں۔جس طرح آج سودی نظام کو اسلامی نظام کے نام سے جائز قرار دیا گیاہے۔ آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے فقہ کی کتابوں میں حلالہ کی لعنت کو سندِ جواز بلکہ کارِ ثواب قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے عورت کی جان چھڑانے کیلئے جو کارنامہ انجام دیا تھا جو قرآن کی آیات اور حضرت عمر کے فیصلے اور ائمہ اربعہ کے فتوے سے ثابت ہے وہ علماء ومفتیان نے بالکل خلافِ فطرت وبال جان اور زوالِ اسلام بنادیا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کو جس جہالت سے نکالا تھا، فقہاء نے مسلمانوں کو پھر بدترین قسم کی جہالتوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ شادی شدہ عورتوں کی اسلام کے نام پرحلالہ کی لعنت کے عنوان سے مدارس میں عصمت دری سے بڑی غضبناک بات کیا ہوسکتی ہے؟۔معاشرے میں عصمت دری کے واقعات کی روک تھام کیلئے گمراہی کے قلعوں مدارس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔حلالہ کی لعنت میں منہ پر کالک ملنے والے مذہبی لبادوں میں ملبوس شیاطین الانس بچوں اور بچیوں کیساتھ درندگی سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔جب تک اسلام کا درست تصور پیش نہ کیا جائے تو بدکردار قسم کے لوگ اپنے ذاتی مفادات کیلئے اسلام کے نام پر معاشرے کی شرافت کو اپنی بداخلاقی کی بھینٹ چڑھاتے رہیںگے ۔
پاکستان کی حکومت ، ریاست ، صحافت اور اپوزیشن بندگلی میںبری طرح پھنس چکے ہیں۔دن دیہاڑے مجید اچکزئی نے کیمرے کے سامنے ٹریفک کے غریب سارجنٹ کو کچل دیا، تمام میڈیا چینلوں نے دکھا دیا۔ مجیداچکزئی کے پیچھے ریاست نہیں کھڑی تھی لیکن عدالت نے عدمِ ثبوت کی بناء پر رہا کردیا۔ کیا ہزارہ برادری کے10مقتولین کے قاتلوں کو سزا ملے گی؟ جس کی ایف آئی آر بھی30گھنٹے تک اسلئے درج نہیں ہوسکی کہ پولیس اور لیویز کے ایریا کا تنازعہ تھا۔ میاں نوازشریف پر1995,96ء میں لندن فلیٹ کا کیس بن گیا۔ پرویزمشرف کے دور میں عدالت نے سزا سنائی۔ پھر عدالت نے جلاوطنی کے بعد بری کردیا۔ پھر میاں نوازشریف نے پارلیمنٹ میں خطاب کیا کہ الحمدللہ 2005ء میں سعودیہ مل کی وسیع اراضی اور دبئی مل بیچ کر 2006ء میں یہ لندن فلیٹ خرید لئے جسکے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو عدالت میں پیش کرسکتا ہوں پھر پانامہ لیکس کی وجہ سے عدالت نے طلب کیا تو وہ دستاویزی ثبوت پیش کرنے کے بجائے قطری خط لکھ دیا پھر قطری خط سے مکر گیامگر عدالت نے اقامہ پر نااہل قرار دیا۔ سزا کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے عدالت کے ڈر سے چھوڑ دیا کیونکہ ایمرجنسی عدالت نے باہر جانے کا حکم دیا اور وزیراعظم کو یہ سمجھ نہیں آیاکہ عدالت نے چھوڑا یا خود چھوڑنے کا فیصلہ کیا ؟ ،ایک دن اتوار کو اسلئے چھٹی بھی منالی تھی۔ ریاست کے اس نظام سے کسی عام آدمی کو انصاف کی توقع نہیں ،البتہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے سب کی جان نکل رہی ہے۔ اگر ملاؤںنے آذانیں دینااور ہارن بجانے سے احتجاج کیا تو بھی حکومت چھٹی کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔