پوسٹ تلاش کریں

جتنی بھی کنٹری ہیں وہ ، وہ، وہ ، وہ سب دوست بنیں،لڑائی مت کریں۔ بچہ میجر عدنان شہید

اس یتیم معصوم بچے کے دل کی آواز سلیم الفطرت انسانوں کی ترجمان ہے!

”سود کے 73گناہ ہیںاور اس کاکم ازکم گناہ ماں سے زنا کے برابرہے”۔ (حدیث) سودنے طاقتور ٹرمپ کو کمزور نیتن یاہو کے سامنے لٹادیا۔کیا اب بھی حدیث سچ ثابت نہیں؟۔

تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں ہے
فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے

ڈاکٹر ہما بقائی نے حامد میر کے پروگرام میں بتایا کہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ پر امریکہ خوش ہوگا کہ پاکستان کوسعودی عرب سے پیسہ ملے گا اور جس سے امریکی اسلحہ خریدا جائے گا۔

امریکہ ،اسرائیل ،عرب ممالک کو دیکھنا ہوگا اور خطے کے حالات کو سمجھنے اور سدھارنے کیلئے ان3ویڈیوز پر تینوں ممالک کے لوگ غور کریں۔ اردو ، ہندی اور پشتومیں۔ حامد میر نے عالمی ایوارڈ یافتہ موسیٰ ہراج صدر آکسفورڈ یونین، مصنفہ ملائکہ نوازاور ماہ نور چیمہ سے پوچھا تو تینوں نے کہا کہ AIکتابوں کا نعم البدل نہیں اور حامدمیرنے کہا کہ ”پاکستان کے مقتدر طبقات میں کتابوں کا رحجان نہیں اور ملک کے تمام ادارے اس وقت مضبوط ہوسکتے ہیں کہ جب کتاب پڑھنے کا رحجان ہو”۔

قرآن کتاب ہے اور نبیۖ کی سیرت اس کی عملی شکل تھی لیکن ہماری توجہ کیوں نہیں؟۔ سود کی آیات نازل ہوئیں تو اسکے بعد نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا۔ زمین خود کاشت کرو یا پھر مفت میں کسی کو کاشت کرنے دو۔ مدینہ میں اس پر عمل ہوا تو محنت کش توانا بن گیا، جس پرتاجر کو دن دگنی رات چگنی ترقی ملی اور یثرب گاؤن نہ صرف ایک شہر بن گیا بلکہ اس خوشحالی سے تو دنیا کے پسے ہوئے طبقات میں ایک انقلاب آیا۔ سپر طاقتیں لمبی پڑگئیں۔ اکابر صحابہ کرام کے بگڑے ہوئے صاحبزادوں نے پھر جاگیرداری کے نظام کو اپنے لئے سہارا بنایا۔ جاگیردار طبقہ ہی مزارعت سے غلام اور لونڈیاں پیدا کرکے مارکیٹنگ بھی کرتے تھے۔ سودی نظام غلامی کا ذریعہ تھا اور پھر لائن کٹ گئی اور غلامی کو ختم کرنے کا تاج امریکہ کے صدر ابراہم لنکن کے سر پر سج گیا۔ آج وہی سپر طاقت ہے۔ اب امریکہ کے مقتدر طبقے نے اصول کو چھوڑ کر ذاتی کاروبار اور خاندانوں کو محور بنایا ہے۔ اگر مسلمان ایک ایسا ایجنڈا لیکر کھڑے ہوں کہ انسانیت کی کوئی خدمت کریں تو امامت کا منصب پھر حاصل کرسکتے ہیں۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ابراہم اکارڈ عیسائی،یہود اور مسلم کیلئے ہے۔ اسرائیل نے فلسطین کو وہی حقوق دئیے جو مسلمان بیوی کو دیتاہے۔ قرآن آرٹیفشل انٹیلی جنس سے زیادہ کمال رکھتا ہے۔ ایک آیت سے طلاق اور باہمی اصلاح سے رجوع سمجھ میں آجائیگا اورکتابوں کی غلطیاں بھی سمجھ جاؤگے۔ اسلام نے شعور دیکر دنیا میں عظیم انقلاب پیدا کیا،مسلمان آج چراغ تلے اندھیرے میں سسک رہا ہے۔ پاکستان آدم اکارڈ سے بھارت، چین، روس، برما اور کوریا سب دنیا کوشامل کردے جویورپ اورایشیاکو ملادے۔

یا رب ! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر
خود داری ساحل دے آزادی دریا دے
میں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں محتاج کو داتا دے

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

خلیفہ موجود صرف خود کو ظاہر کرنا ہے۔ آفتاب اقبال

السلام علیکم !یہ سوال کہ جنگ سمیت بے شمار پیشگوئیاں کی ہیں بہت سوں کو100 فیصد یقین نہیں،ان تمام کو یکجا کر یں۔ تنقید پرخوشی لیکن رونما ہونے لگیں تو سافٹ کارنر پیدا کریں۔ ایک یادو چیزیں ہوگئیں تو باقی بھی ہو جائیں گی۔
نمبر1: ملک کا 75-70 سالہ نظام چند ہفتوں میں دھڑام سے گریگا۔ یہ نظام اللہ کا ہے۔ اسے لانے میں انسان ،گروپ یا ادارے کی شعوری کوشش کا عمل نہیں۔

نمبر 2: سزاؤں کا درد ناک سلسلہ ، جس نے کیا تمام طبقات سزا کے حقدار۔ بدعنوانی یا بدمعاشی سے اس مملکت ، عوام کو نقصان پہنچایا یا کرپشن کی تو سزا کا حقدار ہوگا۔ ملک نہیں retribution کا شکار پورا خطہ ہوگا۔کوئی ظلم ڈھایا، پاکستان یا اسلام سے غداری ملکی مفاد ذاتی منفعت کی بھینٹ چڑھایا، آئین پامال کیا، حلف کی کسی طور خلاف ورزی، حیثیت رکھتے ہوئے ظلم جبر پر صرف نظر کیا ، آواز احتجاج میں شامل کر سکتا تھا نہیں کیاوہ بھی کسی نہ کسی طور سزا کا حقدارہوگا۔ یہ نظام سب من جانب اللہ ،سپر کمپیوٹر کی CCTV فوٹیج سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔

نمبر3: جنگ: پھر جنگ ہوئی تو اتفاق بھی کرنے لگے۔ بہت سوں نے کہا جی fluke (اتفاقیہ) لگ گیا۔ جنگ لازماً ہوگی ۔ یہ نوشتہ دیوار ہے۔ دنیا کے حالات شدید پلٹا کھانے والے ہیں۔ جنگ ہوگی تو یہاں ساؤتھ ایشیا میں لیکن اثرات دنیا پر رونما ہونگے۔ 4، 5 دن خوب قتل و غارت ہوگی ۔ گھمسان کا رن پڑے گا اور اسکے بعد عجیب واقعہ رونما ہوگا، صورتحال احوال یکسر بدل جائے گی ، کیسے؟ خود دیکھئے گا۔

نمبر 4: ظہورخلیفہ: کئی ناک بھوں چڑھاتے ہیں ،میرے کچھ اساتذہ اختلاف کرتے ہیں۔ ظہورمہدی پر 100 فیصد پیشگوئیوں اورروایات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہوں لیکن وہ تقریباً8 ،10، 15 سال بعد۔ امام مہدی تشریف لائیں گے آخری معرکے کیلئے لیکن اس سے پہلے سسٹم بدلنا، سارے معاملات کو اس گند کو صاف کرنا ہے یہ فریضہ خلیفہ انجام دے گااور میرے حساب سے خلیفہ موجود ہیں انہوں نے صرف اپنے آپ کو ظاہر کرنا ہے۔ خلیفہ کون ہے؟۔ اللہ کا نائب۔ اگلی قسط میں کر لیں گے۔ شاید دو تین ہفتے بعد ڈسکس کریں۔ خلیفہ کی شخصیت ،اسکا طریقہ کار، اس کی ٹیم اور وہ وہ اثرات جو رونما ہوں گے ۔

نمبر5: دنیا تین بلاکس میں ہوگی۔پہلا امریکی بلاک یورپ، امریکی حلیف ہونگے۔ دوسرا ایشین بلاک چائنہ، رشیا ہے اور انکے حلیف اور تیسرا مسلم ممالک پر مشتمل زبردست، ایک نیا جدید ترین بلاک معرض وجود میںآئے گا اور انشااللہ اس کو لیڈ خلیفہ کریں گے۔ انتہائی دلچسپ بھارت کہاں ہوگا؟ بظاہر تو چائنہ کی طرف مائل ہے۔ راہ و رسم بڑھ رہے ہیں، لیکن سسپنس کو برقرار رکھتے ہوئے فی الحال آگے چلتے ہیں۔

نمبر6: یہ بلاک اسرائیل کو تنبیہ کرے گا سخت الفاظ میں ۔ اہل غزہ سکھ کا سانس لیں گے۔

نمبر7: آخری بات مسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حل ہونے جا رہا ہے سندھ طاس معاہدہ مسئلہ کشمیر کیساتھ ویسے ہی ختم ہو جائے۔
ـــــــــــــــــ

آفتاب اقبال کے منہ میں گڑ شکرلیکن حقائق پر مبنی ”تجزیہ”

چند ہفتے میں نظام گر ا تو ٹھیک نہیں تو آفتاب اقبال وڈیو کی قیمت لے چکا ۔ اوریا مقبول جان کا کسی نے کیا بگاڑا؟۔ انتظار ہے کہ گائے بچھڑا نہیں انڈہ دے گی اور انقلاب آجائے گا۔ یہ منجن بیچنے والے سمجھتے نہیں یا پھر بے ضمیرہیں؟۔

حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو عذاب کی ڈیڈلائن دی تو پھر قوم نے صرف امکان ظاہر کیا اور یہ مطالبہ رکھا کہ ” اللہ ہم پر صرف آپس کی لڑائی کا عذاب نازل نہ کرے اسلئے کہ اس میں بچت نہیں ہے۔ باقی پتھر برس جائیں تو ایک دوسرے کی مرہم پٹی کریںگے، بیماری میں علاج اور بیمارپرسی کریںگے۔ بھوک آئے تو گھاس کھالیںگے وغیرہ” ۔ اللہ کو قوم یونس کی یہ بات اتنی پسند آگئی کہ دنیا کی واحد قوم ہے جس سے عذاب ٹل گیا۔

امریکہ ،اسرائیل اور مغرب نے اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے افغانستان، عراق اور ایران کو شکست دی۔ آج بھی اوپر اللہ اور نیچے فرعون اعلیٰ ہے جس سے موسیٰ علیہ السلام نبوت اور معجزات کے باوجود اپنی قوم کو لیکر بھاگے تھے۔ آفتاب اقبال اپنی چھوٹی بچی کا غم نہیں بھولا تو کیا خلافت کے قیام سے مغربی اقوم اپنی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کو لونڈی بنانے دے گی؟۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی ممالک کیساتھ اچھے روابط سے دوستی قائم کرکے نہ صرف خود کو بلکہ پورے خطے کو مشکلات سے نکالیں۔ ڈھانچہ نہیں بدلیں ڈھانچے کی اصلاح کریں۔ تاکہ غارتگری رک جائے۔ علامہ اقبال نے” فلسطین عرب ”سے کہا تھا کہ

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش تیرے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں ہے
فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے

سوز کوسامری کے ساز میں بدل دیاگیا۔مرزا جہلمی، جاوید غامدی ،مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب ہزاروی اور انکے مرید۔

اقتصاد کی آزادی ہے نجات کا پروانہ
رمق ایمان کی موت ، جواز سود میں ہے
اپنے نفس پر دوسروں کو ترجیح ہے حیات
اپنی فلاح اوروں کی بہبود میں ہے
مسلماں میں فقدان نظر آتا ہے جس کا
وہ جذبہ کہیں کہیں زندہ ہنود میں ہے
بے یقینی کی فضاؤں میں رہنے والو!
اعتماد کا پروانہ خدا کے حدود میں ہے
حسن کی صلح شہادت حسین قابل رشک
قبح آل فرعون ذم نار نمرود میں ہے

نبی ۖ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ فطرت کے شاہکار ہندو سے نفرت نہیں محبت کا جذبہ فرض ہے۔دنیا سائنسی علوم اور ہم نفرت کی بازیافت میں مگن ہیں۔ محبت خلق خدا سے اور دشمنی مخلوق کے دشمنوں سے فرض ہے۔ صحافی اور سیاستدان اگر میاں بیوی کی صلح کی آیات کو سمجھ کر بتائیں تویہی انقلاب ہے۔

اسلام لونڈی بنانے والا نہیں ہوگا بلکہ مزارعت سے اس استحصالی نظام کا خاتمہ کرے جس سے لوگ غلام اور لونڈی بنتے تھے اور سودی نظام کا خاتمہ کرے گا ۔ اسرائیل بھی سودی قرضوں کی گرفت ہے۔ جب ممالک، کمپنیاں اور لوگ اس سے نجات پائیںگے تو روس، چین، بھارت اور مغرب کو احساس ہوگا کہ اسلام نے سب امیر وغریب کو خوشحا ل کردیا۔
ـــــــــــــــــ

آفتاب اقبال کی بیٹی کا غم زدہ ویڈیو پیغام

مئی 2023ء میں آفتاب اقبال کو گرفتار کرلیا گیا تو اس کی بیٹی نے کہاکہ السلام علیکم ایک چھوٹا سا ویڈیو پیغام۔ میں آپ سب سے گزارش کرتی ہوں کہ دعا کیجئے میرے والد صاحب کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کچھ عجیب و غریب سی گاڑیاں آئیں اور چند منٹ میں وہ انہیں لے کر وہاں سے نکل گئے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ، آپ سب میری مائیں، میری بہنیں، میرے بھائی سب لوگ پلیز ان کیلئے دعا کیجئے۔ شکریہ۔
ـــــــــــــــــ

18مئی 2025، اسماء بٹ السلام علیکم

پاکستان زندہ ،پاک فوج زندہ باد۔ آفتاب اقبال تمہارا منہ کالا کروں گی!۔ تفصیل نیچے یوٹیوب لنک کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=U4UNoTMil80&t=1s

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہدی کے قریبی افراد ہی اس پر سب سے زیادہ ظلم و ستم والے ہوں گے

فتی الشرق 2027
المہدی و أخوتہ و أقاربہ و المجتمع والظلم الواقع علیہ

25اگست 2025: بسم اللہ الرحمن الرحیم،
مہدی کے قریبی افراد ہی اس پر سب سے زیادہ ظلم و ستم والے ہوں گے۔ اللہ کے نیک اولیا ء نے مہدی کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا، حتی کہ ان کی زندگی کی نہایت باریک تفصیلات بھی بتائی ہیں۔ امام مہدی کا ذکر قرآن، انجیل اور تورات میں بھی آیا ہے۔ کہا گیا کہ امام مہدی پر جو سب سے زیادہ ظلم ان کے قریبی لوگوں کی طرف سے ہوگا، باالخصوص ابتدائی زندگی اور جو ”شبِ اصلاح”سے پہلے کا زمانہ ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بتایا، مہدی عام اور سادہ انسان ہوں گے۔ جو عوام، کمزور اور معاشرے کے نظرانداز طبقے کیساتھ زندگی گزار یں گے۔ انکے پاس دولت، حیثیت، طاقت یا حکومت نہیں ہوگی۔

یہ اللہ کی طرف سے ان کیلئے مقرر کردہ حکمت ہے، تاکہ وہ عام انسانوں کے مسائل اور مصائب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، درد محسوس کریں اور ان کیلئے مناسب حل تلاش کر سکیں۔ بالخصوص اسی زمانے میں ان پر سب سے زیادہ ظلم ہوگا، تو وہ ان تمام دردوں اور غموں کا ذاتی تجربہ حاصل کریں گے جو مسلمان، کمزور اور نظرانداز شدہ افراد پر بیتتے ہیں۔ ان پر اتنی سخت آزمائشیں آئیں گی کہ کچھ لوگ سمجھیں گے کہ یہ اللہ کی طرف سے ان پر سزا ہے اور ان پر ظلم ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے ”اگر وہ نیک ہوتے تو ان پر اتنی سخت آزمائشیں کیوں آتیں؟”یہ وہ حقیقت ہے جو مہدی کو جھیلنی پڑے گی۔ لوگوں کی زبانوں سے آنے والا ظلم، باوجود اسکے کہ وہ اکثر اپنے وقت کو تنہائی میں گزارتے ہیں۔ مگر لوگ ان کی برائیاں کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ یہ ہمیں نبی اللہ ایوب کی یاد دلاتا ہے، جنہیں شدید آزمائشوں سے گزرنا پڑا، یہاں تک کہ لوگوں نے ان کے تقوی پر شک کرنا شروع کر دیا۔

مہدی ”شبِ اصلاح ” سے پہلے طویل عرصہ تنہائی میں گزاریں گے، جو ان کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہوگا۔ کیونکہ ظلم ان پر صرف اجنبیوں کی طرف سے نہیں بلکہ ان کے قریبی افراد کی طرف سے ہوگا۔ قریبی افراد کا ظلم زیادہ تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے۔ وہ ان کے اچھے کردار کو جھٹلائیں گے، ان کی نیکیوں کو چھوٹا دکھائیں گے، ان پر باتیں کہیں گے جو ان میں نہیں ہوں گی۔ یہاں تک کہ مہدی کو شک ہونے لگے گا، سوچنے لگیں گے کہ شاید واقعی ان سے ہی کوئی غلطی ہوئی۔ یہ سب کچھ نبی یوسف کیساتھ بھی ہوا، جب انکے بھائیوں نے انکے خلاف سازش کی۔ اسی طرح، امام مہدی بھی ایسے معاشرے میں زندگی گزاریں گے جو ظلم، زیادتی اور بدعنوانی سے بھرا ہوا ہوگا یہاں تک کہ انکے قریبی بھی ان سے غداری کرینگے۔

مہدی کی برداشت اور صبر کسی ذاتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ تمام مظلوموں کی خاطر ہوگا جن پر ظلم ہوا ۔ بہت سی کوششوں کے بعد وہ اپنی صفائی میں ناکام ہو نگے تو خاموش ہو جائیں گے اور سب کچھ اللہ کے حوالے کر ینگے۔ جیسا اشعیاء نے فرمایا: وہ بکری کی طرح ہوگاجو اپنے پاؤں سے ذبح ہونے کیلئے لے جائے گی”۔ مطلب یہ ہے کہ مہدی کا دور ہوگاتو انسانوں کی صورت میں درندے ہونگے۔ شیخ ابن عربی نے بھی فرمایا:”اللہ نے مہدی کی پرورش ایک ٹولہ بدکار لوگوں میں کی”۔مطلب ہے کہ وہ معاشرہ یہاں تک کہ مہدی کے قریبی انکے خلاف ہونگے ،انکے دل بغض، حسد، نفرت سے بھرے ہونگے۔ مہدی ظالم و فاسد معاشرے میں زبردست مظالم کا سامنا کرے گا۔

سب سے زیادہ ظلم قریبی لوگوں کی زبانوں سے ہوگا الزام، بہتان اور جھوٹ۔ اشعیا ء کی مثال درست ہے:”وہ بکری کی طرح ذبح کیلئے جائے گا، اپنے پاں سے ”۔ ظالموں کے دلوں میں شر ہوگا، خیر نہیں۔ بالآخر لوگوں کی باتوں کا جواب دینا چھوڑ دیں گے۔ ابن عربی نے نبی نوح کی قوم سے تشبیہ دی۔ مہدی نے اپنی نظم میں انکے شر سے خبردار کیا جس کا نام ہے:”دعا کی نوح نے اپنی قوم کیلئے تاکہ اللہ ان کے گناہ معاف کرے”۔یعنی یہ بدکار لوگ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوں گے، جب تک وہ امام مہدی کو زمین پر اللہ کا خلیفہ نہ دیکھ لیں۔ اور شاید ان کی اصلاح بھی مہدی کے خوف سے ہی ہو، نہ کہ واقعی توبہ سے۔ واللہ تعالی اعلم۔

 


آج کل کی مناپلی :پیر عابد

سوال گندم جواب چنا جواب شکوہ میں گناہوں کی معافی اور ابراہیم علیہ سلام کی بات ہوئی دادی بختاور کو جس الفاظ سے یاد کیا، جٹہ میں انجام کو پہنچ جاتے سو اونٹوں کا صدقہ کرتا تمہاری گندی ذہنیت گندی سوچ و گندہ نطفہ دجال کا ہے ۔تم دنیا کی خاطر اپنی ماں پر تہمت لگانے والے ہو۔ اللہ کی پکڑ سے ڈرو مردہ کا معاملہ اللہ کے دربار میں ہے۔ تم کس باغ کی مولی ہو۔ بچپن میں ملا کو انتی دی کہ کیڑا پیدا ہوا ۔ خارش کا میں ابھی بتاتاہوں کس نے کیا تو تمہاری گیلی شلوار بیٹوں سمیت گیلی ہوجائے گی، عزت راس نہیں آتی۔کا لا جادوگر کی طرح من کے کالے ہو۔ ابلیس لعین کے پیرو کار شہید جٹہ کو گالیاںدیتے ہو۔

اگر غیرت تھی تو نقاب پہن کر برقعہ میںجنازہ چھوڑ کے روپوش نہ ہوتے۔ جبکہ مارنے والے نے ہی جنازہ پڑھایا وہ بھی دیوبندی مسلک کا اور مارنے والے بھی ایک شیعہ کو کافر کہتے ہیں اور دوسرے ماتم میں ساتھ دینے تک نرم ہیں۔ شیعہ کا ماتم نہیں بلکہ حسین کا ہے کبھی بھائی پر خیرات کی ۔ عرس کا پروگرام بناؤ علاقہ گومل میں اور اتنی جرأت کرو کہ اعلانیہ اسلحہ اورتمہارے ہینڈلرز کیساتھ تو قاتل تمہاری خیرات کی دیگ پر کھڑا ہوگا شرط لگاتا ہوں ہمت ہے تو اسی جگہ پر شوٹ کرو ورنہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرو بے گناہ کو مروانے اور کس کس کے ہاتھ پیسہ تقسیم ہوا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ،اب تک قاتل کا تعین نہ کرسکے ،دعوی ہے۔

واقعہ میں جتنے شامل افراد تھے جسکی لسٹ ادارے نے آپ کو دی ویڈو تک دی پھر سارے کو ٹھکانہ لگانے کا دعوی بھی ہے۔ اب ملوک بی بی فتح خاتوں بختاورہ دادی قاری حسین کی ماں اور بیٹی سے زیادہ عزتدار ہے اور چھودو قاری حسین کی بیوی و بیٹی کو سبخان ویل نے جب ڈالنا شروع کیا تو وہ کیڑا جو کراچی مدرسہ میں گانڈ دیتے ہوئے پیدا ہوا مر جائے گا۔منہاج کا لن بہت بڑا ہے عمر کے اس حصہ میں ہے کہ اللہ کی ذات کی طرف مکمل رجوع میںہے واری وٹہ پر عادی تھے اب اس آدمی کا پتا بتاؤتو ہم حاضر کر سکتے ہیں۔ نہیں تو اسرار تیار ہے۔ لیکن تمہاری پھکی گانڈ کو میر محمد کی اولاد سے چھودنا چاہتا ہوں تاکہ جس انجکشن سے پیداہوا اسی حکیم سے دوا کرو۔ آجکل خوبصوت لڑکوں میں جسکا لن بڑاہوتاہے اس کی مناپلی ہوتی ہے۔عثمان تو گانڈ میں تیس بور پستول سے سوراخ کرے گا، ویسے آپکا پرانا استاد وہ کتا اب بھی آپ پر عاشق ہے ۔

علی امین کا گھوڑا بھی آپکو ٹھنڈا نہیں کر پائے گا ورنہ ڈگری کالج کے ہاسٹل میں روز مجلس لگتی ہے۔ اکبر علی داؤد اورشپو میں کون تمہارا پرانا عاشق تھا وہ بھی ایکسپائر ہے مصر سے فرعون کے غلام جان کو کاٹ کر تمہارے منہ میں دیدیں تو گالی کی تاثیر ختم ہو جائے گی۔ سبحان تیری قدرت کانیگرم میں دو قدم زمین نہیں اور دعوی حسین کا پاک طینت امام کا نام زبان پر نہ لاؤتمہارا کھیل ختم، ڈالروں کا حساب باقی ہے ۔ تمہارے ہاتھ خود خنجر آلودہ ہے اسامہ کی ماں کو گالیاں دو گے تو رد عمل میں پھول نہیں گولیاں ملیں گی۔ دادا گالیاں دیتا تھا اور اسکی گالیوں پر قوم ہنستی تھی وہ محفل کو کشت و زعفران بنا دیتا تھا۔

حقانیہ دارلعلوم پر کوئی تعزیتی الفاظ ادا نہیں ہوتے، خیر کے کلمات آپکی گندی زبان سے آج تک کسی نے نہیں سنے، دادا کی تربیت میں کمی نہیںبلکہ آپکے منحوس چہرے سے شقاوت و بدبختی عیاں ہے۔ آپکے ہاتھ آزاد ہے تلوار تیز کرو میدان میں آو تاکہ قصہ کو مختصر کر دیں عورتوں کی طرح دماغی باتوں میں نہ اُلجھویا تو رواج میں دعوی ثابت کرو یا پھر میدان میں آجاؤ تاکہ حق و باطل عیاں ہو۔سبحان ویل قوم اس وقت رد عمل نہ دے، گالی کا جواب گالی سے نہ دے بلکہ اکھٹا ہو کر اپنا فیصلہ سنا دے۔ سردار اعلیٰ فیصلہ کر لے سر لے آنا پھر اولاد سبحان شاہ کاکام ہے۔ ڈاکٹر نجیب کے کان و ناک میں گولڈ لیف کی سگریٹ تھی اور چوراہے پر لٹکا۔ اب بھی موقع ہے رجوع کرو اور معافی مانگو ! شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔پیران پیر

 


گالی اور تحریر پر شرمندہ ہوں:پیر عابد

گزشتہ سے پیوستہ۔۔پیر منہاج سردار اعلی اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہے۔آپ جیسے شہرت و دولت کے حریص انسان کو کیا پتہ۔بیماری کا ذکر تمہاری طرف منسوب ہے نہ کہ سردار اعلی کی طرف۔قرآن پر صفائی دے دو کہ ضیا الحق شہید کے قتل میں تم لوگ مالی اور ادارے کے ذریعے ملوث نہیںہو اور نہ مخبری میں ملوث ہو۔الیاس شہید کا واقعہ جٹہ واقعہ سے مختلف خاندا نی مسئلہ ہے جسکا چچا پیر یعقوب شاہ نے وصیت کی ہے اگر خاندان ایک ہوتاہے تو معاف کر دو۔ ڈاکٹر ظفر علی میرے محسن و مربی ہے اگر میں نے کچھ ایسے الفاظ ادا کئے تو میرا اسکے ساتھ اب بھی محبت کا تعلق ہے تمہارے اچھالنے سے رشتہ ختم نہیںہو گا۔ بلکہ مزید مضبوط ہوگا۔تمہارا ایف آئی ار اولاد پر ہے۔

اگر کوئی جٹہ واقعہ میں سبحان ویل ملوث ہے سازش میں تو یقینا وہ تمہارے پلان وراز میں شامل تھا۔کراچی کی الائنس موٹر کی رقم جن کے توسط اور قبضہ میں ہے جٹہ واقعہ کے تانے بانے وہیں سے ملتے ہیں۔تمہاری فاش غلطیاں اس واقعہ کی بنیاد بن چکی۔ٹی ٹی پی قیادت کی خواہش اور طالبان کے اندر اداروں کی کش مکش رجیم چینج کی خواہش و اقتدار کا حصول بھی بنیادی وجوہات ہے۔ پیر دمساز شاہ کی نگاہ، دور اندیشی ،ملنگ فطرت انسان کی رحلت بنیادی نقصان کا سبب بنا۔دشمن طاقتور ہے اور شاطر بھی۔ عبداللہ شہید کی وجہ شہادت جٹہ واقعہ بنی۔ واقعہ کی ویڈیو ،رقم آپ لوگوں کو ملی، جسکے ہاتھ سے ملی وہ ثبوت ہے۔ کانیگرم میں آپ نے زمین کا کرنا کیا ہے۔ قبرستان کی زمین بابو ویل کی مشترکہ ہے صرف آپکی ذاتی ملکیت نہیں۔

اورنگزیب شہیدکی اولاد کو جو سبق و پٹی آپ پڑھا رہے ہو وہ تو نادان اور جاہل ہیں اپنے فائدے وہ نقصان سے لا علم اپنے ہاتوں سے اپنے وجود کو زخمی کر رہے ہیں۔قاری حسین سیاست میں بیت اللہ امیر صاحب سے زیادہ تیز و طرار تھا۔رجیم چینج ہوا جسکا رزلٹ آپس میں کشت و خون تک پہنچا اور آپکی دونوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا۔بقول ڈاکٹر ظفر علی صاحب کہ عتیق الرحمن بیمار ہے اسکے ساتھ صلہ رحمی کرو ۔اگر وہ اپنے مغلظات سے رجوع کرے اور معافی مانگے جرگہ میں تو میں نے یہ الفاظ کہے پھر وہ ہمارا مہدی اور رہنما ہے۔ کانیگرم میں جس جگہ وہ محل چاہتا ہے اسکو ملے گا۔ آپ اپنے گلہ میں سچے ہو ۔ آپکی گالیاں اور الفاظ کی بھی گنجائش ہو سکتی ہے کیونکہ جیسا المناک واقعہ ہوا ہے اس طرح واقعہ میں آپ کا ہر عمل قابل درگزرہے مگر واقعات کو بنیاد بنا کر اپنی تربیت ظاہر کی ہے وہ منصب مہدی کی شان نہیں۔میں اپنی گالی اور تحریر پر بالکل بھی شرمندہ ہوں۔

آپکے اخبار میں اسامہ کی بیٹی سے لیکر اور قاری حسین کی ماں و بیٹی کو گالیاں ۔شکرہے جھوٹ ہے۔اگر آپ واقعی اتنے پاک و شفاف کردار رکھتے ہیں واللہ پھرہم آپکے مجرم ہیں لیکن آپکے خاندان کے لوگوں کی جذباتی گفتگو اور انائیت سے نقصانات ہوئے ہیں تو ازالہ یہ ہے کہ نقصان والے کام نہ کئے جائیں۔ آپ نے امت کی رہنمائی کرنی ہے تو قاعدہ و قانون کے مطابق اپنی جہدو جہد کرو ۔اللہ تعالی نے کامیابی لکھی ہے کوئی روک نہیں سکتا۔جو مہدی اپنے خاندان کو بے وقوفی اور بڑے اور برے بول کی وجہ سے بد نام و ٹارگٹ کر سکتا ہے وہ امت کی رہنمائی کیسے کرے گا۔ اختلاف کی ہر نشست کا خاتمہ گفت و شنید ہے۔آپ رہبر بن کرنئے سرے سے احیاء خلافت کے خدوخال واضح کریں۔صلح کی طرف اور بہتری کی طرف قدم بڑھاؤ میں آپ کا ادنیٰ سپاہی بنوں گا۔آپ کامشن بھی یہ ہے کہ نیکی کے کام میں تعاون وہ برائی اور عداوت کے کام میں اختلاف آؤ مل کر گالیوں سے اجتناب اور نیکی میں بھائی بن جائے۔و سلام عاجز عابد

 


شرمندہ نہ ہو علاج کرو: عتیق گیلانی

سیداکبر وصنوبر شاہ پسرانِ سبحان شاہ نے انگریز سے رقم اوراسلحہ لیکر وزیرانقلابیوں کوقتل کروادیا پھر خانِ کانیگر م سید دل بند شاہ اوراپنے بھائی منور شاہ ،مظفرشاہ کو شہید کروادیا۔ مظفر شاہ انگریز مخالف خلیفہ غلام محمد دین پوری کے مرید اور مولانا عبداللہ درخواستی کے پیر بھائی تھے۔ صنوبرشاہ قتل ہوا۔ سبحان شاہ کے ایک مجرم اوردو مظلوم بیٹوں کی مشترکہ زمین کانیگرم میں خریدی گئی ۔ دل بند کی خانی پر قبضہ کیا گیا۔منور شاہ کااکلوتا بیٹا نعیم شاہ نے اپنی تہائی زمین لے لی۔ صنوبر شاہ کے 3بیٹوں کی وفات کے بعد مظفر شاہ کے 4 بیٹوں کو بیٹیوں کا درجہ دیکر زمین کی تقسیم ہوئی۔پھر بدمعاشی سے ان کی زمین پر قبضہ کیا۔ اب کچھ مقبوضہ کشمیر وفلسطین بنادی ۔ ہمارے واقعہ پر بھی وہی بے شرمی، بے غیرتی اوربے حیائی کی نسل در نسل کہانی دہرائی گئی تو تاریخی شواہد اور معروضی حقائق واضح لکھ دئیے ۔عابدشاہ منہاج کی گود میں پھسکڑیاں ماررہاہے تو اس کا قرآنی علاج ہے۔ حضرت علی کاعلم واضح ہوگا اور عابد شاہ کوخاندانی نسخہ مل جائے گا ۔ مظفر شاہ شہید کے پوتے اقبال شاہ نے بیٹے طارق شاہ کو سگریٹ چھڑانے کیلئے اس کا منہ جلادیا تھا۔ اگرجلیل شاہ کو عابد شاہ کی بیماری کا پتہ ہوتا تو وہ بھی اپنے بیٹے کی پچھاڑی کو ماچس کی تیلیاں جلاکر کرتا۔اور ڈگری کالج کے ہاسٹل کے قریب میں اپنا گھر بیچ کر کہیں اور لیتا جہاں بیماری لگی ہے۔

قرآن کا واضح حکم ہے کہ ”اور تم میں سے دو اشخاص بدکاری کریں تو ان دونوں کو اذیت دو ۔ پس اگردونوں توبہ کریں اور اصلاح کریں تو انہیں چھوڑدو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والااور نہایت رحم والا ہے۔ (النساء : 16)

مرد وں کی بد فعلی کرانے کی بیماری پڑجائے تو لاعلاج بیماری ہے اسلئے کہ اس کی پچھاڑی میں لگی آگ ٹھندی نہیں ہوسکتی ہے۔ حضرت علی نے ملوثی اور چند خوارج کی بیماری کا علاج ان کی پچھاڑی آگ سے داغ کر کیا تھا۔

حضرت لوط کی قوم نے ملائک کو خوبصورت لڑکے سمجھ لیا تو پچھاڑیاں سلگنے لگیں۔ حضرت لوط نے ان ملوثیوں سے کہا کہ میری بیٹیوں سے شادی کرلو۔ تو کہنے لگے کہ آپ کو پتہ ہے کہ ہمیں ان سے غرض نہیں۔ یعنی خوبصورت لڑکوں کے بڑے لن چاہتے ہیں۔ عابد شاہ نے جس مناپلی کا ذکر کیا ہے تو حضرت لوط کے قوم اور قرآن کی آیت کی درست تفسیر بھی سامنے آگئی کہ حضرت لوط نے ملویثی طبقہ سے کہا کہ تمہاری پچھاڑیاں ٹھنڈی ہونے والی نہیں ہیں، یہ میری بیٹیاں ہیں ۔مردوں کا کام چدھوانا نہیں ہے۔ ایک مشکل آیت کی بہترین تفسیر کا موقع دینے پر عابدشاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوںاور سورہ النساء کی آیت16میں توبہ واصلاح کی تفسیر کیلئے لاعلاج بیماری کیلئے حضرت علی کا عمل پیش کردیا۔

علاج اسلئے ضروری ہے کہ اس سے ایڈز پھیلتا ہے اور ایڈز قوت مدافعت کو ختم کردیتا ہے۔ مجھے دکھ ہے کہ مظفرشاہ مظلوم شہید ہوگئے۔ سرور شاہ اور جلیل شاہ سے زمینیں چھین لیں۔ اب ڈگری کالج کے ہاسٹل میں عابد شاہ کی عادت اتنی بگاڑدی گئی کہ منہاج کو سرداراعلیٰ کہتا ہے۔

جب خلافت قائم ہوگی تو یہ آئینہ قرآن دکھاتا ہے :

”اسی دن ملک حق کا ہوگا رحمن کیلئے اور کافروں پر وہ دن مشکل ہوگا۔ اور ظالم اپنے ہاتھ پر دانت لگائے گا کہ کاش میں رسول (ۖ) کی راہ کو اپناتا۔ ہائے میری شامت کہ میں فلاں کو اپنا دوست نہیں بناتا۔ بیشک اس نے مجھے میرے پاس نصیحت آنے کے بعدمجھے گمراہ کردیا۔ اور شیطان انسان کو رسوا کرتا ہے۔ اور رسول فرمائیں گے کہ بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا اور اسی طرح ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے دشمن بنائے ہیںاور کافی ہے تیرا رب ہدایت اور مدد کیلئے”۔ (الفرقان 26تا31)

عابد شاہ بے غیرت پھر افسوس کرے گا کہ سردار اعلیٰ منہاج کو اپنا دوست نہیں بناتا ۔قرآن اور نبیۖکی سنت کے مجرم دشمنوں کو اپنا چہرہ واضح دکھائی دے گا کہ قاتل طبقہ ان پر ایسا منڈلاتا تھا جیسے گرم کتیا پر کتے ٹھکانہ بناتے ہیں۔ اجرتی قاتل ٹارگٹ کلر کی خدمات حق کی آواز بلند کرنے پر تشکیل دیا جاتا تھا لیکن لگڑ بگڑ وں کا بے شرم لشکر رسواوذلیل ہوگا اور اللہ تعالیٰ اہل حق کو فتح و کامرانی نصیب فرمائے گا۔

لن یضروکم الا اذًی وان یقاتلوکم یولوکم الادبار ثم لاینصرون (آل عمران :111) ” یہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر تکلیف اور اگرتم سے لڑیں تو اپنی پیٹھ دکھائیں گے اور پھر ان کی مدد نہیں ہوگی”۔

مولانا طاہر پنج پیری نے دیوبندی مخالفوں کیلئے پشتو ترجمہ کیا: ”یہ کہیں گے کہ ہمیں نہیں مارو ہماری گانڈ مارو”۔
انگریز نے محسود قوم کو بھیڑیا ،وزیرقوم کو چیتا قرار دیا۔ شیر ببروںکے لشکر سے لگڑبگڑ کا غول دُم اٹھائے اور چوتڑ پھیلائے بھاگتاہے لیکن کبھی اکیلے شیر ببرکو گھیر لیتے ہیں۔ دیگ پر الیاس کا قاتل نہیں تو کون ہوگا؟۔ لگڑبگڑ کی مناپلی میں وہ سبق سکھادوں گا کہ دنیا بھی یادر رکھے گی۔ انشاء اللہ

صنادید مکہ نے رسول اللہ ۖ کے قتل کیلئے خفیہ جرگہ میں مختلف مشاورت کی۔ ابوجہل نے کہا کہ”ہر قبیلہ میں سے ایک ایک فردچن لیں۔ سب پر بات آئے گی تو بنوہاشم نہیں لڑ سکیںگے۔ اس مشاورت کا ذکر اللہ نے یوں کیا:
” جب کافر تیرے متعلق تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تمہیں قید کردیں یا قتل کریں یا دیس بدر کردیں وہ اپنے مکر کررہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کررہاتھااور اللہ ہی بہترین تدبیر کرنے ولا ہے ”۔ (سورہ الانعام : آیت30)

رسول اللہ ۖ پھر چھپ کر راتوں رات نکل گئے اور غارِ ثور میں تین دن چھپے رہے۔ اس وقت مناپلی نہیں تھی جو چوتڑ دکھاکربزدلی کا طعنہ دیتی۔عبداللہ شاہ اسلام آباد سے پہنچا تھا اور عبدالواحد اور عبدالرؤف کی دورنگی کہکشاں کی طرح واضح ہوگئی۔ اس مناپلی میں کون کون تھا؟۔ ہاہاہا.

شہداء کے عرس پر دیگ کے پیچھے مناپلی کا کھیل ہے مگر مجھے طیش میں آکر اس بدچلنی کا شکار بالکل نہیں ہوناہے۔
اللہ نے فرمایا: ” اور مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہو۔بیشک یہ فسق ہے اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں تاکہ تم سے لڑیں۔ اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو بیشک تم لوگ ضرورمشرک ہو۔ بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پس ہم نے اس کو زندہ کردیا اور اس کیلئے ہم نے نور بنایا جسے وہ لیکر چلتا ہے لوگوں میں، اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھیروں میں ہے اور اسے نکل نہیں سکتا؟۔ اسی طرح ہم نے کافروں کیلئے مزین کیا جو وہ کرتے تھے اور اسی طرح ہم نے ہربستی میں مجرموں کے سردار بنادئیے تاکہ اس میں مکر کریں۔اور وہ مکر نہیں کرتے مگر اپنی جانوں کیساتھ مگر وہ سمجھتے نہیں ہیں” (الانعام :121تا123)

لاش جیسا انسان زندہ کرنے سے اسلام کی نشاة ثانیہ سے مراد ہے۔ قرآن قیامت تک ہر چیز کی رہنمائی فراہم کرتاہے ۔ہرماحول کے افراد اس آئینہ میں خود کو دیکھیں۔

عابد شاہ تم نے کتنے پینترے بدلے؟۔قاری حسین کی ماں بہن کو عزت دینے کا تم نے گلہ کیا اور اب گالی کا الزام لگادیا؟۔ قاری حسین میں کتنی صلاحیت تھی؟۔یہ تم جانو لیکن منہاج نے بتایا کہ عینک والا نرم ونازک سا تھا۔ کوڑ میں کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں ،اکیلے دیکھ کر بہت بلایا مگر نہیں آیا ۔ کیا آپ نے قاری کو بتایا تھا کہ منہاج کا بہت بڑا لن ہے؟۔ اسامہ کی 22مائیں تھیں اور ایک بھتیجی وفابن لادن کی بڑی شہرت تھی کہ گرم ہے۔ میں نے متوجہ کیا کہ عوام کے کم بچے ہوتے ہیں جو خود کش میں مارے جاتے ہیںتو اپنے گھر کو دیکھو۔ حامد میر نے مولانا فضل الرحمن کو اسامہ کی دھمکی دی تھی ،اگر پیسہ تقسیم ہوا ہے تو القاعدہ سے کس کا تعلق تھا؟۔ کہیں تمہارے چچازاد القاعدہ والے اور منہاج نے جھاڑ تو نہیں پلادی کہ ہماری شلواراتاری اور ہم پر گواہی دی؟۔

الرٰ کتاب احکمت آیاتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر( سورہ ھود آیت:1)پروفیسر احمد رفیق اختر نے سورہ ہود کی پہلی آیت پر اپنی تقریرمیں ٹھیک کہا ہے کہ ”قرآن میں قیامت تک آنے والے تمام اقوام اور حالات میں ایک ایک چیز کی بھرپور نشاندہی کی گئی ہے”۔

صنوبر شاہ اور مظفرشاہ کے بیٹوں اورپوتوں کے حوالے سے میں نے جرم نہیں کیا تاریخ بیان کی ۔ اللہ نے فرمایاکہ
” اور قریب نہ جاؤ ،مال یتیم کے مگرجو احسن ہو،حتی کہ وہ اپنی پختگی تک پہنچ جائے اور ناپ و تول کو برابر رکھو۔ ہم کسی جان پرذمہ دار ی نہیں ڈالتے مگر اس کی وسعت کے مطابق اور جب تم بات کرو تو عدل کرو اگرچہ تمہارے قرابتدار ہوںاور اللہ کیساتھ کیا ہوا عہد پورا کرو ،یہی ہے جس کی تمہیں تاکید کی جاتی ہے۔ (الانعام:152)

سید حسن شاہ بابو کے دو بیٹے سیداحمد شاہ اور سیدامیر شاہ تھے اور سبحان شاہ کے تین مقتول بیٹوں کی یتیم اولاد کو سہارا دیا تھا۔ منور شاہ کے اکلوتے بیٹے نعیم شاہ کو الگ گھر دیا اور صنوبر شاہ ومظفر شاہ کے بیٹوں کو اپنے بیٹوں سے بڑا گھر دیا اور پھر سیداحمد شاہ اور سیدامیر شاہ نے صنوبر شاہ کے بیٹوں کو بڑے گھر کا علیحدہ مالک بنادیا اور مظفرشاہ کے بیٹوں کو الگ بناکر دیا۔ قومی جائداد میں بھی 8اور 5کے تناسب سے کافی بڑے حصے کا مالک بنادیا۔ میرے والد پیرمقیم شاہ اور چچوں نے ایک حصہ مزید عزت افزائی کیلئے سپرد کردیا۔ہماری تو وزیرستان میں اس سے بڑی زمین اور جائیداد منظور پشتین کے علاقہ میں غریب غربا ء کیلئے یونہی چھوڑ رکھی ہوئی ہے۔

ہم نے سبحان شاہ کی اولاد کوکبھی عار نہیں دلائی کہ انگریز کے پٹھو اور کرائے کی ٹٹو کی اولاد ہو۔ جتنا ممکن تھاتو عزت وتکریم اور محرومی کے احساسات کو دور کرنے کا خیال رکھا۔ جھڑکانہیں ،دھتکارا نہیں، احساس کمتری کا شکار نہیں بنایا۔ طعنہ نہیں دیا۔ تاریخی حقائق نہیں بتائے۔ قرآن میں ناپ تول میں برابری کا حکم یتیموں کے احساسات ہی کا ہے۔ رسول اللہۖ، صحابہ اور علماء حق قرآن کریم کو زندگی میں عملی جامہ پہناتے تھے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا تھا کہ ”یتیم بچے کے سامنے اپنے بچے کو مت بلاؤ، کہیں اس کے دل میں اپنے والد کی تمنا سے تکلیف پیدا نہ ہوجائے”۔

میرے والد نے اپنے 9سالہ پہلے بیٹے عبدالعزیز کی ان کی خاطر سخت پٹائی لگائی تھی توبخار چڑھا اور فوت ہوگیا۔ لیکن اللہ نے خبردارکیا کہ ” ہم کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے”۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے غلط ترجمہ کیا کہ ” ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے”۔
{We do not a suol beyund its capacity.}NET

فقہاء نے یتیموں کو دادا کی میراث سے محروم کردیا۔ اللہ کو ظالم کیساتھ کھڑا کردیا کہ بلال حبشی پر بڑے پتھر رکھ کر ریت کی تپش میں جلایا جاتا تھا تو یہ تکلیف اس کی برداشت سے باہر نہیں تھی اور لوگوں کی بیٹیوں کو داشتائیں اور بیٹوں کو جبراً لونڈا بنایا جائے تو یہ ان کی برداشت سے باہر نہیں۔

پیرعبدالغفار ایڈوکیٹ اپنے نانا کے گھر کا اپنا حصہ بیچتے تو کتنے برے لگتے؟۔ یہی کام دادا سلطان اکبر نے کیامگر یہ اچھا تھا کہ جٹہ قلعہ کرائے کے قاتلوںکو نہیں دیا۔ باپ اور بیٹے میں یہ انقلابی تبدیلی ہمارے اجداد کی برکت سے تھی۔ انگریز سے بھیک مانگی تو دئرہ دین پناہ کی زمین دیدی گئی ۔جب میرے والد کے دوست نے احسان کے بدلہ میں بڑی زمین سرکاری ریٹ پر لینے سے انکار کیا تو غیاث الدین اور علاء الدین نے کہا کہ ہمیں دیدو۔ میں اور ارشد حسین شہید جب لیہ پنجاب میں پڑھتے تھے تو جہانزیب بہت چھوٹا بچہ تھا ،پلیٹ میں گوشت دیکھتا تو چلاتا تھا کہ گھاگھہ (گوشت)۔ تربیت اچھی نہ ہو تو پھر بھیک ،چوری سینہ زوری، فراڈ اور حربوںسے حریص کاپیٹ نہیں بھرتا۔ اورنگزیب شہید نے بچپن میں کسی کے کھیت سے بھٹے کاٹے والدہ نے خوب سرنش کرکے واپس کروادئیے تو زندگی بھر چوری نہیں کی۔ عبدالرحیم چھوٹا تھا اورنگزیب شہید کچھ کھا رہے تھے تو بہن نے کہا کہ ‘ طمع سے دیکھ رہاہے کچھ دیدو” ۔ بھائی نے کہا کہ نہیں! اس سے عادت خراب ہوجاتی ہے۔ عبدالرحیم کھانا اٹکنے کی بد دعا دیتا ہوا بھاگا تھا۔ میری چھوٹی پوتی کو سکول میں انعام مل رہاتھا تو وہ نہیں لے رہی تھی۔ یہ منظر اتنا صحافی کو اچھا لگا کہ ایک سندھی چینل پر چلادیا۔ تربیت نسل کے DNA میں بھی ہوتی ہے۔ داؤد شاہ نے بتایا کہ اس نے جعفر سے کہا کہ ”اگر اپنی زمین میں بری نیت سے دیکھ لوں تو گانڈ میں 80 گولیاں اتار دوں گا”۔ جعفر شاہ نے کہا کہ ہم لے سکتے ہیں۔ یہ کوئی زندگی ہے؟۔

عابد شاہ نے قرآن پر صفائی مانگی کہ ضیاء الحق کو تم نے قتل نہیں کروایا؟۔ مجھے خطرہ تھا کہ ڈاکٹر ظفر علی کو ضیاء الحق کا بدلہ لینے کیلئے کوئی نشانہ نہیں بنائے۔ عابد شاہ کے بھائی نے پہلے اس پر الزام لگایاتھا۔ ڈاکٹر ظفر علی شاہ کی غیرت بھی ان بے غیرتوں سے برداشت نہیں ہورہی تھی۔

منہاج کو کہا تھا کہ” میرے بیٹے نقاب نہیں سہولت کار کو پکڑیںگے”۔ضیاء الحق القاعدہ والا نہیں تھا پہلے پیر غفار پر اور پھر ضیاء الحق پر الزام لگایا اور مروانے کی کوشش کی تھی ۔ تم آپس میں ایک دوسرے کو اپنا حق دو۔ عزت بڑی دولت ہے۔لالچ، بھوک، قبضہ اور بس چلے تو کمزور پر کھلی اور چھپی بدمعاشی سے اپنی دنیا وعاقبت کی خرابی مت کرو۔ مجھے اپنی مرضی کا محل نہیں چاہیے ۔میں باپ داداور پردادا کی سنت جاری رکھتے ہوئے زمین دوں گا۔ 5کنال صنوبر شاہ کی اولاد کی طرف سے مظفرشاہ کی اولاد کواور سوا 6 ، سوا 6 ، عبدالواحدشاہ ، داؤد شاہ، گلبہارشاہ اورسوا6 جنید گیلانی اور عارف شاہ میں آدھی آدھی پھوپیوں میں تقسیم ہوگی۔ میں چاہوں گا کہ 30کنال صنوبر شاہ کی اولاد میں ساڑھے 7 کے حساب سے برابر برابر چار حصے میں تقسیم ہوںیہ نہیں کہ طاقتور زیادہ قبضہ اور یتیم کو محروم رکھا جائے۔بھوکے کا پیٹ مٹی بھرسکتی ہے تو کچھ مستحق افراد کو پہنچادو ں گا۔ انشاء اللہ

سبحان شاہ کی اولاد سے پھڈے کی برکت نے قرآن کی تفسیر کردی۔ میرے لئے تو پھر صنوبر شاہ کی اولاد زیادہ قرابدار ہے لیکن اللہ نے الانعام کی آیت 152میں حکم دیا ہے کہ ” جب تم بات کرو تو عدل کرو اگر چہ قرابدار ہوں”۔

کتیا کے پیچھے ریلا لگے تو آخر کتے اور کتیا ہیں لیکن لڑکے کے پیچھے ریلہ لگے تو؟۔ اور جن کی ایسی رگڑ دی گئی کہ عادتیں خراب ہوگئی ہیں۔ اللہ نے بالکل سچ فرمایاکہ
” اور ہم نے جہنم کیلئے بہت سارے جن اور آدمی پیدا کئے ہیں ،ان کے دل ہیں مگر ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں ہیں۔ ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے چوپائے بلکہ ان سے زیادہ گمراہی میں ہیں۔ یہی لوگ ہی واقعی بڑے غافل ہیں ۔ (سورة الاعراف :آیت:179)

عابد شاہ تمہارے بھائی عارف شاہ اچھے ہیں۔ مناپلی کا علاج بڑا زبردست ہوگا، پنجاب میں نامرد کیا گیا ۔ کرائم والے کہیں مناپلی کو گانڈ میں گولیاں مارنا شروع کردیں؟۔
پھرعابدشاہ تم بھاگو کہ مظفر کے 4 بیٹوں کا صنوبر کے 3 بیٹوں کی نسبت زیادہ حصہ بقدر جثہ بنتاہے؟اور پیچھے پھینکنا پڑے۔لطیفہ: اونٹ ناراض ہوا کہ سرداراعلیٰ گدھے کو بڑا دیااور مجھے چھوٹااسلئے اسکے پیچھے قدرت کو پھینکنا پڑا۔ہاہا ہا

(پوسٹ کی تصویر میں تین ویڈیوز کی تصویریں لگائی گئی ہیں جن میں نہ صرف لڑکے لڑکے کی بدفعلی کے گند کا تذکرہ ہے بلکہ فری میسن اور پیسے کمانے کا دھندہ قرار دیا گیا ہے۔ پیر عابد شاہ کے فیس بک میں جس مناپلی کی خبر ہے تو شاید پوری دنیا میںیہ سب سے زیادہ گراؤٹ کی انتہا ہے۔ ہم پر فائرنگ اور قاتلانہ حملوں میں شہادتوں کے بعد معافیاں بھی مانگی گئی ہیں مگر ہمارا مقصد قرآن اور خلیفہ راشدامام علی کے عمل کی درست تشریح سے اصلاح معاشرہ ہے۔)

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

نکاح ثانی بھی جائز اولاد بھی حلال: امام ابو حنیفہ کا فتویٰ ، قرآن وسنت کے بھرپوردلائل

مولاناولی اللہ معروف یوٹیوب چینل پر درد ناک کہانی سنیں۔ 6بچوں کی ماں حوری اغواء ہوئی۔ دوسری جگہ شادی کرادی گئی۔اب دوسرے شوہر سے نکاح اور اولاد کا اسلام میں کیا حکم ہے؟۔اس کا حل امام ابوحنیفہ کے فتویٰ ، قرآن وسنت اور انسانی فطرت کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔

مولانا عبدالحمید حماسی نے کہا کہ ”امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے ”اگر کسی نے کسی کی بیوی چھین لی توشرعی نکاح ہے”۔ جیو کے شاہ زیب خانزدہ نے زور لگایا کہ ”خاور مانیکا کہے کہ ادارے نے مجبور کیا کہ پنکی کو عمران خان کے حوالہ کردے”

اصل معاملہ یہ ہے کہ بچی ہو، کنواری ہو، نکاح والی ہو ، بردہ فروشوں نے اغواء کرکے بیچی ہو یا ولی نے مجبور کیا ہو، کوئی کسی سے کنواری بیٹی چھین لے یا بیوی ۔عورت کا کیا قصور ہے؟۔ کسی کی جان لینا جائز نہیںمگر شہیدکوتو مردارنہیں کہہ سکتے ؟،مجبور عورت کیلئے حرام کیسے ؟۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ کے نالائق مقلدین کی بات ہے تو یہ حنفی نہیں بلکہ امام ابویوسف کی پود ہیں۔جس نے معاوضہ لیکر بادشاہ کیلئے اس کے باپ کی لونڈی جائز قرار دے دی تھی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی حدیث کے مطابق سود کے 73گناہ ہیں جس میں کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ جماعت اسلامی کا سراج الحق حدیث بیان کرتا تھا کہ سود کا گناہ اپنی ماں کیساتھ خانہ کعبہ میں 36مرتبہ زنا کے برابر ہے۔ ڈاکٹر اسرار نے اسلامی بینک کے نام پر سودکو ناجائز قرار دیا تھااور علماء دیوبند کا متفقہ فتویٰ مارکیٹ میں موجود ہے کہ مفتی تقی عثمانی نے عالمی سودی نظام کے جواز کا غلط فتویٰ دیا ہے لیکن پھر منافقین علماء متزلزل نظر آتے ہیں اور اب کھل کر حمایت و مخالفت کی جگہ عوام کو سود اور ماں سے زنا کے برابر گناہ کے جواز وعدم جواز میں لٹکادیا ہے۔

دین فروش علماء توغلط ۔ مخلص گدھوں کوسمجھ نہیں ۔ ایک مسئلہ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی لکھا ۔ حنفی متفق ہیں کہ ”اگر شوہر نے بیوی سے کہا کہ تجھے تین طلاق پھر مکر گیا اور عورت کے پاس گواہ نہیں تو عورت خلع لے گی اگر نہیں ملتا تو حرامکاری پر مجبور ہے”۔ پڑھا لکھا اور ذہین طبقہ اسلئے لادین بنتا جارہا ہے کہ گدھوں نے دین کو بگاڑ دیا ہے۔

بظاہر تو یہ نکاح پر نکاح کی وجہ سے کیسے جائز ہوگا؟۔ کیا امام ابوحنیفہ نے بادشاہوں اور بدمعاشوں کیلئے راستہ ہموار کردیاکہ جس کمزور اور لاچار کی بیوی چھین لے تو اس کیلئے حلال ہوجائے گی؟۔ اس کا جواب اچھی طرح سے سمجھو!۔

المحصنات من النساء الا ماملکت ایمانکم (النساء :24 )شادی شدہ عورت کا محرمات فہرست میں آخری نمبر ہے ۔ تفسیرپر اختلاف ہے۔ مولاناسلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس العربیہ نے کشف الباری شرح صحیح البخاری میں لکھا ہے کہ” جمہور کے نزدیک ایک ایسی عورت ہے جس کا شوہر کفار کے دارالحرب میں ہو اور اس عورت کو لونڈی بنادیا گیا ہو۔ جبکہ ایک صحابی نے کہاکہ اس سے مراد وہ لونڈی ہے جسکے مالک نے کسی اور سے نکاح کرایا ہو”۔

حضرت محمد ۖ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مشاورت سے دنیا کو ایک نیا قانون دیا کہ قیدی کو قتل کیا جاسکتااور نہ غلام بنایا جاسکتا ہے بلکہ فدیہ لیکر چھوڑ سکتے ہیں اور جن کے پاس وسعت نہیں تو احسان کرکے چھوڑنا ہوگا۔ سورہ محمد میں اللہ نے اس کی تائید فرمائی۔ پاکستان نے کسی جنگ میں کوئی قیدی غلام نہیں بنایا کیونکہ یہ فطرت کے منافی ہے اور اب دنیا میں غلامی کے خاتمے پر اتفاق بھی ہوچکا ہے۔

افغان طالبان اورغزہ مجاہدین نے لونڈی نہیں بنائی ۔ جاہل طبقہ کہتا ہے کہ لونڈی سے جنسی تعلق جائز ہے ۔اگر نکاح کرلیا تومرنجان مرنج اور سونے پر سہاگہ چشم بددور۔

داعش نے یزیدی عورتوں کی منڈیاں لگائی تھیں جس کا نظارہ پوری دنیا کو ٹی وی چینلوں پر دکھایا گیا ہے ۔سوات کی مسلمان عورتوں کو لونڈی بنانے کا معاملہ رپورٹ کیا گیا اور پھر ملافضل اللہ بھاگنے میں کامیاب ہوا تھا اور مسلم خان اور محمود خان اہم ترین رہنماؤں کو فوجی عدالتوں نے سزا تو سنادی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ ہم خود اپنے ساتھ کھیل رہے ہیں یا دنیا نے ہم لوگوں کو کھلواڑ بنادیا ؟۔

اللہ نے فرمایا: ”اپنی کنواری لڑکیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو اگر وہ نکاح چاہتی ہوں”۔ جس سے لونڈی مراد لی گئی کہ بدکاری پر مجبور کیا تو اس کیلئے دھندہ حلال ہے۔ کیا قرآن نے دھندے کی حوصلہ افزائی کی؟۔ نہیںہرگز نہیں بلکہ مجبوری کو رعایت دی ہے۔ قرآن میں دھندہ اور لونڈی نہیں بلکہ کنواری لڑکی کو نکاح کی اجازت دینا مراد ہے۔

اللہ کو پتہ تھا کہ پاکستان میں اسلام کے چودہ سو سال بعد بھی بچیاں ، کنواری لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور کھوئی ہوئی لڑکیوں کے معاملات نہیں رکیں گے تو ایک بڑا کلیہ بتادیا کہ شادی شدہ ہوں ، ولی کی اجازت کے بغیر ہوں اور کوئی بھی ناگوار صورحال ہو تو اس میں اماں حوری جیسی بھی شامل ہوں گی اور ان پر ناجائز اور حرامکاری کا فتویٰ نہیں لگتا ہے اور امام ابوحنیفہ کی بات کو لوگوں نے غلط رنگ دیا ہے۔

سورہ نساء کی آیت 24کی تفسیر سے دنیا میں ہر قسم کے ماحول کے اندر رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے بعد مکہ سے مشرکوں کی بیویاں مؤمن بن کر مدینہ پہنچیں تو وہ بھی مراد ہوسکتی تھیں۔ مسلمانوں کیلئے لونڈی بنانا ناجائز اور آل فرعون کا فعل ہے۔ جب قیام پاکستان کے وقت ہندو اور سکھ خواتین کو مسلمانوں نے پکڑ کر ان سے جبراً شادی کی تو یہ مسلمانوں کیلئے ناجائز تھا۔ لیکن ان خواتین کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے حرام اور ناجائز کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ البتہ ہندو اور سکھوں میں اگر جائز اور ناجائز کا تصور نہ ہو اور پھر بھی انہوں نے مسلمان خواتین کو پکڑ کر زبردستی سے شادی کی اور بچے جنوائے تو بھی مسلمان عورتوں کیلئے اور ان کی اولاد کیلئے ناجائز کا فتویٰ نہیں لگاسکتے۔ لونڈی اور غلام بنانے کا تصور اسلام نے ختم کیا ہے لیکن اگر کافر ختم نہیں کرتے تو مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا تھا۔

 


65سال بعد مردان میں بہنوں کی ملاقات

مولانا ولی اللہ معروف سوشل میڈیا کے ذریعے بہت گم شدہ افراد کواپنے خاندانوں سے ملاکر دنیا میں انسانیت کی انوکھی خدمت انجام دیتے ہیں۔ یہ بہنیں سوات کی ہیں ایک کی شادی مردان میں ہوئی ، دوسری بچپن میں اغواء اور کنڈہ یارو سندھ میں شادی ہوئی۔ اس کا سندھی بیٹا باکمال ہے ۔بتایا کہ وہاں7مزید پختون خواتین ہیں اور وہ سبھی کو خالہ سمجھتے ہیں۔ جب سندھی اور پختونوں میں ناچاکی ہوئی تو وہ پختون قوم ماموں کیلئے کھڑے ہوگئے۔ نبی اکرم ۖ نے ابراہیم کی وفات پر فرمایا کہ ” یہ زندہ رہتا تو کسی قبطی کو غلام نہیں رہنے دیتا”۔ جس سندھی نے پختوں ماں کو زندگی بھرخاندان سے ملنے کیلئے تڑپتے دیکھا ،اس نے کہا:شاید اللہ نے اس کو اپنی خواہش پوری کرنے کیلئے زندہ رکھا تھا۔

تقسیم سے پہلے اور تاحال بردہ فروشی جاری ہے ۔اللہ طاقت انہیں دے جو نظام کو بدلیں۔ بچیوں، لڑکیوں اور شادی شدہ عورتوں تک کو اغواء کرکے بیچ دیں۔ مذہبی طبقہ انسانیت کی خدمت کرکے اسلام کی نشاة ثانیہ کررہا ہے۔ مولانا ولی اللہ معروف، مفتی فضل غفور اور مدارس کے طلبہ اسلام ، پختون اور علماء کا چہرہ روشن کررہے ہیں۔ ماشاء اللہ

 


رخشندہ ناز کے فرزانہ علی سے عجیب انکشافات

رخشندہ ناز نے پہلی بار فرزانہ کیساتھ جو عجیب وغریب انکشافات کئے ہیں تفصیلی انٹرویو سوشل میڈیا پر دیکھ لیں۔ یہاں کچھ معاملات کا تذکرہ ضروری ہے تاکہ آئندہ کیلئے مختلف طبقات ان غلطیوں کو نہیں دھرائیں۔ میرے دوست مولانا زین العابدین لسوندی نے بتایا تھا کہ اس کے ایک کزن کو ہیرہ منڈی میں ایک محسود لڑکی کا بتایا گیا تو اس نے وہاں سے اس کی جان چھڑائی جس کو والد نے خود بیچ دیا تھا اور اب رخشندہ ناز نے انکشاف کیا ہے کہ قبائلی کیمپ سے لڑکیوں کو سیکس کیلئے بیچنے والوں نے باقاعدہ استعمال کیا ۔

ایک لڑکی کا بتایا کہ ازبک سے اسکی شادی کرائی گئی تھی جو کہہ رہی تھی کہ اس کو اپنے بچے سے نفرت ہے۔ پوچھا گیا کہ کیوں ؟۔ تو اس نے کہا کہ شادی تو ایک سے ہوئی تھی لیکن کئی افراد اس سے شیئر کررہے تھے اور پتہ نہیں کہ وہ کس کا بچہ ہے؟۔ رخشندہ ناز نے کئی انکشافا ت کئے ہیں جن میں قبائل کا بیٹیوں کو ان کی مرضی کیخلاف بیچنا اور مجاہدین کیساتھ رشتوں پر فخر وثواب شامل ہیں یہ دیکھنا ضروری ہے مگر رخشندہ ناز کی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ بچوں جانوروں کو پولیو کے قطرے فوجی چوکیوں پر پلائے جاتے تھے لیکن بچیوں اور عورتوں کو اس حق سے محروم رکھا گیا تھا۔

جب میں نے وائس آف امریکہ کے شمیم شاہد کو انٹرویو دیا تھا تو اندازہ تھا کہ شائع نہ ہوگا کیونکہ یہاں ایک مخصوص طرح کا بیانیہ تشکیل دیا جارہاتھا۔ اب اللہ ہی خیر کرے گا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

تبرج حسن نساء کی نمائش ،عورتوں کی زینت حسن نساء اورگھر سے باہر سینوں پر اپنے دوپٹے اوڑھنے کا حکم ہے

 

دورجاہلیت میں عربی بعض عورتیں حسن النساء کو نمایاں کرتی تھیں۔ ہندوستان میںاب ماحول خراب ہورہاہے۔ رعنا لیاقت علی خان کا خاندان عیسائی بن گیا تھا اسلئے ہندی لڑکیوں میں اکیلی سکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔ افغانی لڑکیوں کو امیر امان اللہ خان نے 1920ء کی دہائی میںاعلیٰ تعلیم کیلئے ترکی بھیجا تھا۔ ہمارا ماحول افغانی لڑکیوں نے خراب کیا تھا ۔ طالبان کو اسلام سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ولا یبدین زنتھن الا ما ظھر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن”اور اپنی زینت کو نہ دکھائیں مگر جتنا اس میں سے ظاہر ہو اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالیں”۔ عورت کو برقعہ کا حکم نہیں ۔ ولا یبدین زنتھن الا(دوپٹہ سے مستثنیٰ افراد) شوہر، باپ، سسر ، بیٹا، سوتیلا بیٹا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، عورتیں، معاہدے والے، ایسے تابع مرد جن میں میلان نہ ہو، یا بچہ جو عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے واقف نہ ہوں”۔ مولاناسیدابولاعلیٰ مودودی کے گھرکاباورچی اور نوکرسبھی مرد تھے۔ ولا یضربن بارجلھن لیعلم مایخفین من زنتھن وتوبوا الی اللہ جمعیعًا ایہ المؤمنون لعلکم تفلحون ”اور اپنے پاؤں کو پٹخا نہ کریں کہ ان کی چھپی زنیت کا پتہ چلے اور تم سب مسلمانو! توبہ کرو تا کہ فلاح پاؤ”۔( النور: 31)

اللہ نے پہلے مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ اپنی آنکھوں (نظروں)کو پست رکھیں (سورہ حجرات میں آوازپست ) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں پھر احکام بیان کئے ۔

مسلمانوں کو یہ حکم نہیں کہ ڈنڈے کا زور ہو تو عورتوں کو پردے پر مجبور کردیں ۔ مغربی لباس سے زیادہ لونڈیوں کا لباس مختصر ہوتا تھا۔ فقہاء نے ان کا سترعورت کم قرار دیا۔

افغان طالبان، ایران اور سعودی عرب غلط مذہبی تصور کا خوف پوری دنیا سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اللہ نے فرمایا:قد افلح من زکاھا وقد خابا من دسّاھا ”بیشک فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور غارت ہوا جس نے اسے دھنسادیا”۔ یہاںمسلم و غیرمسلم کا تصور نہیں۔نبی ۖ صحابہ کا تزکیہ فرماتے۔ عورتیں نماز، رفع حاجت ، پانی ،لکڑیوں وغیرہ کیلئے گھروں سے نکلتی تھیں۔ ولاتبرجن تبرج الجاہلیة اولیٰ ” اور حسن النساء کی نمائش نہ کرو پہلی جاہلیت کی طرح”۔ فرج کی حفاظت کا حکم اورعورت کیلئے ”برج ”کو نمایاں کرنے کی ممانعت ہے۔

والقواعد من النساء الاتی لا یرجون نکاحًا فلیس جناح ان یضعن ثابھن غیر متبرجاتٍ بزینة ”اور بوڑھی عورتوں پر جو نکاح کی رغبت نہیں رکھتی کوئی گناہ نہیں کہ کپڑے اُتاریں مگر اپنے حسن النساء کے علاوہ”۔

یریداللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ” اللہ چاہتا ہے اے اہل بیت کہ تم سے گند کو دور کردے” ۔ شکر کہ گندی ذہنیت والے ازواج النبویۖ مراد نہیں لیتے۔ حالانکہ آیت میں ازواج النبیۖ ہی مراد ہیں۔

احادیث میں حضرت علی کا خاندان بھی اس میں شامل کرنے کی دعا ہے اور اسی وجہ سے ان پر سختیاں آئی ہیں۔ ہندو ڈاکٹر بربیل سوہل کی تربیت فطری ہے۔ قرآن میں دورجاہلیت کے مسلمانوںکو بھی یہی تعلیم دی گئی ہے۔

 


جج ٹی وی پر آدھی ننگی،یہ ذاتی چیزیں عوام کو دکھانے کی نہیں۔ڈاکٹربربیل

ڈاکٹر بر بیل سوہل :ہر جگہ تباہی یُگ بدلنے کی باتیں ہیں لڑکی آئی، چھوٹی ٹی شرٹ ، نیچے پینٹ تھا، جسم بھاری ، ناف ننگی ، سینہ ابھرا ہوا۔ کوئی دوپٹہ نہیں تھا۔ دو بہنیں ،والد بھی تھے۔ میں چپ رہی۔ سوچا سیشن کیسے کراؤں؟ لڑکی کے بال کھلے تھے، زیادہ لمبے نہیں تھے۔ وہ میرے سامنے بیٹھی اور مجھے شرم محسوس ہو رہی تھی۔ والد بھی وہیں بیٹھے تھے تو میں اندر گئی ، شال نکال کر دیا ۔ میں نے والد کو کہا ،آنکھیں جھکی تھیں۔ ہم بھی بڑے ہوئے۔ ماں سے کوتاہی ہوتی بیٹی کا لباس مناسب نہ ہوتا تو باپ تھپڑ لگا تا،ہم نے کھائے کہ ڈھنگ کے کپڑے پہنو، گھر سے باہر ہمیشہ اچھا لباس پہننا چاہیے کیونکہ آپ اپنے خاندان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

آج کل یُگ کی شروعات ۔ شرم آتی ہے ماں، بیٹی، بہو ایسے نکلتی ہیں جیسے ابھی نہا کر باتھ روم سے آئی ہوں۔ بال کھلے ، بھوتنیاں لگتی ہیں۔ یہ فیشن ہے؟ ٹی شرٹیں، ٹراؤزر چار انچ نیچے، پیٹ اور ناف ننگی۔ پھرکہتے ہو ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ شرٹ اتنی کہ انڈر ویئر نیچے سے دکھ رہا ہے۔ کیا بولوں؟، روز دیکھتے ہونگے، کچھ لوگ دیکھ کر شرم سے منہ پھیرلیتے ہیں ،کچھ لڑکوں نے کہا کہ ہمیں شرم آتی ہے جب ہم دفتر میں اپنی ساتھی خواتین کو ایسے دیکھتے ہیں۔

جسم ننگا کرنا ماڈرن ہونا نہیں۔ مارکیٹ میں موبائل خریدنے جائیں تو بغیر ڈبے ، کور کے خریدیں گے؟ نہیں!۔ تو پھر لڑکیوں کے لباس کو لڑکے کیسے قبول کریں گے؟ وہ چار دن مستی ضرور کرلیں گے مگر لائف پارٹنر بنائیں گے؟۔ کبھی نہیں لکھ کر دیتی ہوں۔ ٹی وی پر جج بن کر بیٹھتی ہیں خاتون، نام نہیں لوں گی، آدھی سے زیادہ ننگی ہوتی ہیں۔ یہ ذاتی چیزیںعوام کو دکھانے کی نہیں۔ ران لوگوں کو دکھانے کیلئے نہیں ۔میں یہ نہیں کہتی کہ برقعہ پہن لو مگر کم از کم ڈھنگ کا لباس پہنو۔ خود کو کور کرکے رکھو۔ کئی بار لڑکیوں کو دیکھا کہ ڈرائیور، اردگرد کے لوگ دیکھ کر ہنستے ہیں۔ یہ بغیر پیسے اور ٹکٹ کی نمائش ہے۔ چار دن کی جوانی، کلچر کیا دیا بچوں کو؟ پھر شوہر کہتا ہے ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔لڑکے کہتے ہیں کہ یہ لڑکیاں گھر بسانے کی لائق نہیں ، بس وقتی تفریح ہیں۔ کلچر پر افسوس جو اولاد کو یہ تربیت دے۔ آپ کا لباس، گفتگو ، تعلیم ، رہن سہن ہی خاندان کی پہچان ہے۔ آج کل شراب پینا بھی عام ہے ، آپ امریکہ، کینیڈا سے کمپیئر کرتے ہو۔ مگر ہمارا بھارت، ہمارا کلچر کہاں گیا؟۔

چار پشتیں دیکھتے ہیں کہ کونسا خاندان ہے تب رشتہ ہوتا ہے۔ شادیاں جلد ٹوٹ رہی ہیں، دو سال بعد طلاق، ایک سال بعد علیحدگی۔ کئی کیسز آتے ہیں ساس سے نہیں بنتی فلاں سے نہیں بنتی، کلائنٹ سے پوچھتی ہوں کہ محبت کی شادی تھی ؟، کہتی ہے ہاں۔ پوچھا پھر کیا ہوا ؟کہا کہ 6مہینے بعد مجھے پیٹنا شروع کردیا۔ نہ گھر جاسکتی ہوںنہ کہیں اور۔

پڑھے لکھے دس گھر دیکھنے کے بعد بچوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ لباس کا بڑا رول ہے۔ اگر کہہ دیا کہ کپڑے ڈھنگ کے پہنو تو پھر گھر میں مہا بھارت مچ جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ کھڑے ہونے اور حلئے سے پتہ چل جاتا ہے کہ کیا چیز ہیں وہ؟۔ میں لڑکوں کو کیوں قصور وار ٹھہراؤں لڑکیاں بھی کم نہیں ۔ مگر پہل ہم نے کی پہناوے سے۔ ماں نے کپڑے پہنے ہیں ناف اور پیٹ باہر نکلا ہوا ہے اور نیچے کچھ اور پہنا ہے۔ بتاؤ کیا کروں؟۔ آزادی ہے مگر ہم جس میں رہتے ہیں جسم کی نمائش کیوں لگاتے ہو باہر؟ فلم دیکھنے کیلئے ٹکٹ لینا پڑتا ہے مگر یہاں مفت میں شو چل رہا ہے۔ 2028کے بعد کیا ہوگا، سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

 


مارچ 2028 انقلاب

ڈاکٹر بربیل سوہل نے کہا کہ انسانوں کو اس کی شخصیت کا فقط نور بچاسکے گا۔ عبادات کسی مسلمان، ہندو اور دیگر مذاہب والوں کو نہیں بچاسکتی ہیں۔ مجھے 2014ء میں پتہ چلا کہ 2012ء میں انقلاب آتا مگر ایک اور موقع دیا گیا۔ اگر نہیں سدھرے تو بہت بڑے عذاب کا شکار ہوں گے۔ امریکہ پر اللہ کی ناراضگی ہے جس نے دنیا کو برباد کیا۔ ہمیں انسانیت ہی اب بچاسکے گی ۔یہ اُوپر والے کا فیصلہ ہے۔

 


ماحولیات کا خیال نہ رکھا توپھر ہم جلد تباہ ہوںگے

پورے جنگل میں آگ ہی آگ ہے ۔ میں اوپر سے دیکھ رہا ہوں کہ زمین سیاہ ہو چکی ہے۔ آج کل یوٹیوب میں بھرا پڑا ہے کوئی علمِ نجوم کی اور کوئی سیاروںکے اثرات کی، کوئی نیبرولوجی کی؛ سب کے پیغامات ایک ہی بات پر ٹھہرے ہیں کہ دن، سال ، مہینے طے ہیں۔ ہم میں بہت لوگ خواب دیکھتے ہیں مگر ان کے معانی نہیں جانتے۔ خداہر ایک کو نہیں دکھاتا۔ میں اوپر گیا چاروں طرف آگ ہی آگ ہے اور یہ ہوگا۔ پچھلی ویڈیو میں میں نے کہا تھا کہ پوچھا تم کیسے ختم کرو گے؟۔ توجواب ملا: دنیا میں 25% لوگ بچیں گے۔ جنہیں میرے مرشد کی باتیں معلوم ہیں، وہ جانتے ہیں کہ بس مٹھی بھر رہ جاؤ گے۔ پھر سوال اٹھا: آکسیجن کہاں سے آئے گی؟ دو ڈھائی گھنٹے بات ہوئی۔ تو یہی کہا کہ ہر طرف آگ لگادیں گے۔

اور میرے دو یا تین کلائنٹ نے خواب میں دیکھا کہ چاروں طرف آگ ہے زمین سیاہ ہو گئی تو سانس کہاں سے لو گے؟ مطلب سمجھو۔ باقی دھرموں اور ویدوں میں لکھا ہوگا، تفصیل نہیں معلوم؛ مجھے گرو نانک کی گربانی یاد ہے ، جدید سکھ دھرم ہے۔ گرو نانک نے سبھی دھرموں کا خلاصہ کرکے ہمیں ”گرو گرنتھ صاحب” دیا۔ اس کی پہلی لائن ہے۔ پون گرو، پانی پِتا، ماتا دھرت مہت۔ زندگی آکسیجن پر ہے، چاروں طرف آگ ہو تو آکسیجن کہاں ملے گی؟ پھر پون گرو پانی پتا۔ زمین سیاہ ہوگئی، دریا ،ندیاں کچرے اور کارخانوں کے فضلے سے بھری ہوئی، جوتے اور چمڑے کی کمپنیاں ندیوں میں فضلہ گرارہی ہیں۔ آکسیجن بچے گی نہیں، پینے کوپانی نہ ہوگا ۔پھر ماتا دھت مہت۔ دھرتی ماں ، وہ چیخیں مار کر رو رہی ہے آپ کو سنائی نہیں دیتا۔ رشی منی (صاحب کشف)سے پوچھو؛ رشی منی آج 25-20 سال کے نوجوانوں کے روپ میں آئے ، صدیوں سے عبادت کررہے ہیں کیا مان سکتے ہو اس کو۔

میرے کچھ کلائنٹس کے والدین دکھی ہیں، لیکن انہوں نے بتایا یہ کرنے کیا آیا ہے۔ شادی مقصد نہیں، اس میں لڑکیاں بھی ہیںکہ آگے آپ نے کیا کام کرنا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے اب تو مٹھی بھر بھی نہیں۔ اس دن جب آئے تو میں نے کہا مجھے اجازت دے دو۔کہا ٹھیک ہے دی۔تو بتا تو دے گی پر مانے گا کون؟ کچھ لوگوں نے کہا بھگوان کرنے والا ہے۔ میں نے پچھلی بار سمجھایا تھا کہ بھگوان کا مطلب کیا ہے بھگوان لفظ کہاں سے آیا؟۔ بھگوان کرے گا تو بھگوان تو کر رہا ہے تو پھر رونا کس بات کا؟ لیکن بھگوان کو مجبور کس نے کیاکبھی سوچا؟ ہم نے۔ ایک ملک نے کائنات میں کچھ چھوڑا ہم نے بھی شروع کر دیا۔ ایک نے بمبارٹمنٹ شروع کی ہم نے بھی کردی۔ رشیا کا حال دیکھ رہے ہو جتنی بمبارٹمنٹ ہورہی ہے ہوا میں کیا جا رہا ہے؟ کبھی سوچا ہے؟۔ کون اس کا ذمہ دار؟ بھگوان ؟۔ ہاں! بھگوان ہے کیونکہ اب صفائی شروع کردی اس نے۔ بھگوان کہتا ہے تم نے بہت کرلیا بندے اب میری باری ہے۔ دن ، سال، مہینہ طے ہے۔

کوئی 2025کا کہتا ہے اس میں کچھ نہیں، صرف تنبیہات ملتی جائیں گی۔ پھیپھڑوں کاکینسر ،کھانسی زکام ، کھانسی کا مطلب ہمارے اندر آکسیجن نہیں ہے۔ آلودگی اتنی ہے کہ سانس کہاں لوگے؟ ہوا ہے کہاں پر؟۔ صرف گاڑیاں نہیں، شادیوں، تہواروں کے پٹاخے، ہم ACچلاتے ہیں ہم اپنا کمرہ ڈھنڈا کرنے کیلئے باہر کا ٹمپریچر کس نے گرم کیا؟۔ سب سے بڑی آلودگی ہماری سوچ ہے یہی ہمیں بیمار کرتی ہے ۔ پچھلی بار کورونا کے نام پر کتنوں کو مارا گیا مرے نہیں لفظ بول رہی ہوں مارا گیا۔ جنہوں نے انجکشن نہیں لگوائے وہ بچ گئے۔ کیوں؟، یہ ایک عالمی منصوبہ تھا۔ اب فضا میں آلودگی اور بڑھے گی، لوگ کھانستے رہیں گے، نزلہ زکام کا بہانہ بنائیں گے۔ خدا اور واہِ گرو کا واسطہ دے کر بولتی ہوں ڈاکٹروں سے بچ کر رہو۔ آکسیجن، پھر پانی کی بتادی۔ دھنتر(دیو، شفا دینے والے فرشتے) کہیں اور بیٹھے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

40ہزار طالبان مئی2022ء میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو لائے

 

پاکستان تحریک انصاف کے میجر سجاد آفریدی کا خیبر پختونخواہ اسمبلی سے خطاب: ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم 40ہزار طالبان کو پاکستان لائے حالانکہ ساری میٹنگ انکے، یہ معاہدہ مئی 2022 میں ہوا ۔ جب وزیراعظم ان کا شہباز شریف اور وزیر خارجہ انکا بلاول زرداری تھایہ ہم نہیں کہتے۔ تاریخ میں لکھا ہے ،یہ انہی کی حکومت تھی۔ PTM کیساتھ خیبر ہماری ڈسٹرکٹ میں حادثہ ہوا ۔ وفاقی حکومت بری پھنس گئی۔ اور وزیر اعلی کے پیر پکڑے کہ کسی طریقے سے فیس سیونگ دی جائے۔

ہماری حکومت نے فیصلہ کیا کہ گھمبیر حالات سے نکالیں ۔ہم وفاق کی اکلوتی جماعت ہیں، جناب سپیکر! یہ جتنی پارٹیاں ہیں ہر سطح پہ انکا ایک ہی مشن ہے کہ اوپر سے ہدایات آتی ہیں اسی پر یہ عمل کرتے ہیں ۔اتنا بڑا مذاق ہے کہ ان کے وفاقی کابینہ کے ارکان سینٹ میں اور اسمبلی میں پشتونوں کو دھمکی دیتے ہیں کہ کوئی مائی کا لعل آپریشن روک کے دکھائے۔ جو بندہ تنظیم سازی میں ملوث تھا اور ابھی ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔

مسلم لیگ ن ک کا وزیر دفاع کہہ رہا ہے کہ ہم امریکہ سے پیسے لیکر لڑتے تھے ،میں اس کیساتھ نہیں بیٹھنا چاہتا جس نے ہر دیوار پر لکھا تھا ”شریعت یا جہاد”۔ میرا کلچر تباہ کر دیا اور روزانہ میرے معصوم بچوںکو جہاد کے نام پہ شہید کروا دیا۔ پیپلز پارٹی جو ڈکٹیٹر کو ڈیڈی اوروہ زلفی کہا کرتا ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

امریکی سی آئی اے پاکستانی مذہبی لیڈروں کو کیسے خریدتی رہی؟ سلمان گیلانی

امریکی سی آئی اے پاکستانی مذہبی لیڈروں کو کیسے خریدتی رہی؟۔ مولانا فضل الرحمن کے والد سی آئی اے کے ہاتھوں غلطی سے کیسے استعمال ہوئے؟۔ والد کو سی آئی اے نے خط لکھا والد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے کہ یہ میں نے کیا کردیا!سلمان گیلانی

سوال: آپ PNA کے سٹیج پہ تقاریراور اشعار پڑھتے رہے ۔ اس تحریک کا جو ایجنڈا تھا وہ نفاذ اسلام ہی تھا نا؟۔
سلمان گیلانی: نہیں۔: مذہبی قوتیں اکٹھی ہو گئیں۔
سلمان: مذہبی نہیں، سبھی قوتیں اکٹھی تھیں۔ مفتی محمود اس کے سرخیل ،جماعت اسلامی بھی ،تمام مسلم لیگی ساتھ تھے ۔
سوال: بریگیڈئر سید احمد ارشاد ترمذی نے اپنی کتاب ”حساس ادارے” میں لکھا کہ امریکن سپورٹ کر تے تھے۔
سلمان گیلانی: بالکل! مجھ سے پوچھو۔ تحریک ختم ہو گئی تو جنرل تشریف (اقتدارمیں) لئے آئے۔ میرے والد (سید امین گیلانی) کے نام شیخوپورہ میںCIA امریکہ کا لیٹر آیا۔ (آہا آہا آہا، اچھا، اچھا اچھا: صحافی) پہلی دفعہ بتا رہا ہوں ۔ مجھے آواز دی سلمان ادھر آؤ۔ یہ انگریزی میں خط، میں نے دیکھا تو کہا کہ امریکن CIAسے آیا ہے۔ لکھا ہے کہ حالیہ تحریک میں آپ کے کردار نے ہمیں بڑا متاثر کیا ہم احسان فراموش نہیں ہیں۔ آپ مزید ہدایات کیلئے فلاں فلاں نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ہم آپ کی ضروریات کا خیال رکھیں گے (صحافی: او ہو، اوہو، اوہو) والد صاحب چیخیں مار کے روئے۔(صحافی : اللہ اللہ اللہ) کہنے لگے ۔ جو بچے مروائے، جیلوں میںغریب رضاکارانہ آتے تھے ،یہ امریکہ کیلئے کررہے تھے؟۔ خط ریزہ ریزہ کرو جلادو، راکھ نالیوں میں بہادو، بھنک نہ پڑے کسی کو۔ جن کے بچے مروائے، یہ حادثات تو کم ہوئے مگر لاٹھیاں پڑیں سر پھٹے ، کسی کا بازو ، کندھا اور ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہے۔ ممکن ہے اموات ہوئی ہوں ،گولیاں چلیں۔ لیاقت پارک میں کتنی گولیاں چلیں۔تین شہروں میں مارشل لاء لگائے۔

والد صاحب بہت ہی پریشان ہوگئے کئی دن کھانا نہیں کھایا زبردستی انہیں کھلاتے۔ پھر میں نے مفتی محمود سے خط کا ذکر کیا۔ معلوم ہوا کہ مولانا غلام غوث ہزاروی جمعیت علماء اسلام ناظم عمومی نے مخالفت کی تھی۔ بھٹو کے خلاف تحریک نہ چلائی جائے ،جمعیت علماء اسلام چھوڑ گئے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جس اتحاد میں جماعت اسلامی ہو وہ امریکہ نے چلائی ہے۔ (صحافی: اوئے ہوئے اوئے ہوئے)۔

صحافی : بریگیڈئیر ترمذی نے لکھا۔ سراج الحق سے میں نے باقاعدہ انٹرویو کیاکہ آپ کے پاس فنڈز آتے تھے۔
سلمان گیلانی: ہم چونکہ بھٹو کے مخالف کیمپ میں تھے ۔ تاویلیںکرتے تھے، میں لاہور آجاتا، رات کو رفیق باجوہ کیساتھ اب لوگوں کو کیا پتہ ؟۔اس نے میری پہلی نظم سنی نا

آگیا پیر پگاڑا بچو بھاگ بھی جا
دیکھ وہ شیر دھاڑا بچو بھاگ بھی جا
مفتی اور نورانی ہیں مردان خدا
کرے نہ تیرا کباڑا بھٹو بھاگ بھی جا

تو رفیق باجوہ نے 300روپیہ 1977میں سوسو کے کڑک نوٹ جیب میں ڈالے کہ میری طرف سے انعام ۔
سوال: سنا ہے تقریر کرتے تھے تو سما باندھ دیتے تھے۔
سلمان گیلانی: رفیق باجوہ ،شورش کاشمیری کا انداز تھا۔

سوال: بھٹو نے اخبارات کورفیق باجوہ کی وزیراعظم ہاؤس آمد کی خبر جاری کی ،سیاسی بیانئے کیسے بدلتے ہیں؟۔
سلمان گیلانی: بھٹو طلسماتی جیسے خان کے لوگ دیوانے کھمبے کو ٹکٹ دوتو جیتے، تحریک بڑے زوروں پر تھی۔ بھٹو نے کہا: مفتی محمود موٹا پیٹ چھوٹا قد لمبی داڑھی انگلش نہیں جانتا ہماری عوام طالب علم سپورٹ کریں گے؟۔ یہ تو خیر رہ گئے مگر جو جنرل سیکرٹری PNA نے بنایا وجیہہ ،لمبا چھ فٹ قد، انگلش فر فر وکیل، JUP نورانی کا تھا تو یہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں مولوی ہو تاکہ عوام موازنہ کرے تو کالج یونیورسٹی کے طلبہ کہیں کہ ایک طرف بھٹو ، پیرزادہ صاحب سونا منڈا ایک طرف یہ لوگ ہیں اور ایک طرف مفتی محمود اس کو ووٹ…

 


فوج قبائل میں شرع نافذ کرے مفتی کفایت اللہ

مفتی کفایت اللہ نے 25اگست 2025کو شکئی وزیرستان میں تقریر میں کہا کہ منہ میں مرچ نہیں ڈالی قبائل کیلئے امن چاہتاہوں۔ میری رائے ہے کہ شریعت کیلئے کام کرنے والے طالبان کا مشن ٹھیک ہے لہٰذا اسکے مردے کو شہید، زندہ کو غازی کہا جائے ۔بعض مدارس کا اختلاف ہے۔ جمعیت علما اسلام پر ا من راستہ چاہتی ہے اور طالبان نے بندوق اٹھائی ۔ طالبان اور فوج کی لڑائی سے پاکستان اور اسلام کمزور ہوگا۔ اگر لڑائی بند نہیں ہوتی تو برائے مہربانی بستی ، عوام کے درمیان ، گنجان آبادی سے حملہ نہ کریں۔ حملہ کروتو پہاڑ پہ چڑھو!، پوری بستی کاگھیراؤ ، ڈرون پھینکتے ہیں ،بمباری کرتے ہیں تو بے گناہ مرتے ہیں۔ طالبان کا قوم پر احسان ہوگا ۔ اور قوم طالبان کا ساتھ نہیں دے سکتی تو نہ دے ، انکے خلاف استعمال نہ ہو۔ فوج کیلئے استعمال ہونا اور فوج سے لڑنا شر سے خالی نہیں۔ نہ ان سے لڑو ، نہ انکے کہنے پر لڑو! ۔

پشتون قوم سے کہتا ہوں کہ مولوی کا معنی یہ نہیں کہ حقوق کی بات نہ کریں۔ جمعیت علما میں ہوں مولانا فضل الرحمن نے حقوق کی بات سے نہیں روکا۔ اگر کوئی تنظیم یا پشتون جرگہ حقوق کی بات کرے تو علما ء ساتھ دینگے۔ حجرہ اور مسجد ساتھ نہیں تو ہدف کو نہیں پہنچ سکتے!طالبان کا ساتھ نہیں دے سکتے ،مجبور ہونگے لیکن مقابلے میں استعمال نہ ہوں۔ لشکر نہ بنائیں انکے کہنے پر۔ طالبان کی بات صحیح ہے کہ شریعت نافذہونی چاہیے لیکن لوگوں میں اپنے لئے محبت پیدا کرو۔ شریعت کی بات کرتے ہو تو بھتہ ، اغواء برائے تاوان نہیں ہونا چاہیے۔ طالبان اور فوج کی صلح کراسکتا ہوں۔ طالبان بندوق رکھ لیں گے، ملیشیاء کے نام پہ یہ کام کریں گے لیکن طالبان کیلئے کوئی عذر بنا ؤان کا بہت خون بہا ہے۔ ہزاروں شہید اور زخمی ہو گئے ۔ انضمام سے پہلے 70 سال 40FCR جیسا گندہ قانون برداشت کیا۔ اس کی جگہ شریعت نافذ کر دو اور اپنی قانون سازی کر دو ۔ طالبان کو ہم پابند کریں گے کہ وہ قبائل کی شریعت کی نگرانی کریں خیبر پختون خواہ ، پنجاب ،سندھ، بلوچستان اور کشمیر میں شریعت نہ مانگیں۔ اسلئے کہ ہمارے فوجی راضی نہیں پھر تو صلح نہیں لڑائی ہوگی۔

میں لڑائی سے بچانا چاہتا ہوں ایک فائر بھی نہ ہو۔ لہٰذا اس عظیم اجتماع میں طالبان کی طرف سے بندوق رکھنے کی بات کرتا ہوں بشرطیکہ ہمارے جرنیل قبائل میں شریعت کا اعلان کریں۔اعلان شریعت سے اطمینان اور پاکستان آگے بڑھے گا ۔فائر کے بغیر امن ہو گا۔ انشااللہ العزیز۔ میں اپنی تمام فوج کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ چھوٹوں سے ہم ناراض بھی نہیں ہیں پالیسی ساز جرنیلوں سے ناراض ہیں۔ انہیں کہتا ہوں کہ قبائل کی شریعت میں رکاوٹ نہیں بنو۔

 


MINERAL WARS. PAKISTAN NEXT?
ملک جہانگیر اقبال

السلام علیکم میں ملک جہانگیر اقبال۔ سپر پاورز انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ۔یہ جنگ زمین کے نیچے گزشتہ 30، 40سالوں سے لڑی جا رہی ہے۔ جو لگ بھگ 60سے 70 لاکھ انسانوں کی جان لے چکی اور کوئی اس پر بات نہیں کر رہا۔ اگر یہ جاری رہی تو 10سے 20سال میں مزید 50سے 60 لاکھ یا شاید ایک ، دو کروڑ کی جان نگل جائے ۔ پتہ بھی نہ چلے کہ اصل قاتل کون ہے اور افسوس یہ جنگ پاکستان میں آ چکی ہی ہے۔ یہ نایاب معدنیات کی جنگ ہے۔

کیمسٹری کے پیریاڈک ٹیبل میں 17 ایلیمنٹس کا گروپ جسے Lanthanoids کہا جاتا ہے کی یہ جنگ ہے۔
بلند و بانگ دعوے سنے ہونگے کہ KPK کے بارڈر گلگت بلوچستان میں منرلز کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے یہ پاکستانی قسمت بدلیں گے۔ نیشنل جیوگرافک ، ڈسکوری چینل پر ہرن کا شکار کرتے دیکھا ہوگا۔ جونہی چیتے کو شکار ملتا ہے ۔ لگڑ بگوں اور شیروں کے طاقتور جھنڈ شکار چھین لیتے ہیں بعض اوقات چیتا مارا جاتاہے۔ ذخائر ملتے ہیں تو یورپین جائنٹس کی بڑی مائننگ کمپنیز ملک کو کمزور یا خون بہا تی ہیں تاکہ اونے پونے کنٹریکٹ ہو صرف منرلز نکالنے کا ۔ منرل نکال لو گھوسٹ ٹاؤن بنا دو، علاقے کو چھوڑ دو تڑپتے رہیں زہر اور ایسڈ سے وہاں کی عوام۔ حکومت جنگ سول وار کا شکار ہوتو باہر کی کمپنی کنٹریکٹ پر خوش ہوتی ہے کہ پیسہ لارہی ہے ۔ یہ پیسہ اتنا زہر گھول دیتا ہے کہ لاکھوں کی جان جاتی ہے۔

90کی دہائی افریقہ میں کانگو علاقے میں کلٹن دریافت ہوا تھا، کانگوکی گورنمنٹ کو کمزور کیا گیا۔ بانٹ دیا گیا نسلوں، قبائل اور مذہب میں۔ ہر وار لاڈ کو لگا کہ زمین پہ اس کا حق ہے ساتھ والے قبیلے کو کچھ نہیں دینا۔ نتیجتاً انفرادی کانٹریکٹ کیا یورپین جائنٹس سے اور کمپنیوں نے بدلے میں دیا اسلحہ ۔ جتنا متنازعہ علاقہ گورنمنٹ کمزور ہوگی اتنے کمزور معاہدوں پہ منرل نکالی جا سکے نتیجہ کیا نکلا 1997سے لیکر2003 تک5 سے6 سال وہ جنگ چلی اور اس میں 50لاکھ افراد مارے گئے ۔ اسکے ساتھ تنزانیہ، موزمبیق، سوڈان میں یہی روش اختیار کی گئی ۔ تنزانیہ کے نکالیہ ریجن سے تو اتنی بے دردی سے اور بے ڈھنگے طریقے سے نایاب معدنیات نکالے گئے کہ پانی زہریلا کر دیا۔ 2023کی رپورٹ میں ہزاروں بچے، جانور زہریلا پانی پینے سے مارے جا چکے ۔

اسکے علاوہ مڈغاسکر بائیو ڈائیورسٹی ہاٹ سپاٹ میں مائننگ کی گئی نتیجہ یہ ہوا کہ زمین بنجر ڈی فارسٹریشن ہوئی۔ جانور کیڑے اور پرندے ہمیشہ کیلئے ختم ہو چکے اور آئندہ اسکے کیا نقصانات ہونگے ؟افریقہ کا ریجن دیکھ سکتے ہیں۔ سینٹرل افریقہ، سوڈان ، موزمبیق، تمام علاقوں میں خانہ جنگی تب سے چلی تھی۔ ہیرے دریافت ہوئے اس دور کو کہا جاتا ہے بلڈ ڈائمنڈ ایرا ۔ آج بلڈ ڈائمنڈ ایرا افریقہ میںہے جس کا مین سٹریم میڈیا یا انسانی حقوق کی تنظیموں پہ اثر نہیں پڑرہا۔ اسکے پیچھے ہیں Glencore اور Umicore جیسے بڑے بڑے مائننگ جائنٹس، پس پردہ دنیا کا نظام چلا تے ہیں۔

1: ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اسلحہ ، جیٹ انجن میزائل بناتے ہیں۔
2: فارمیسیوٹیکل کمپنیز جو بیماریاں بناتی اسکا علاج بناتی ہیں۔
3َ: مائننگ کمپنیز جو پسماندہ علاقوں میں اسلحہ دیتے ہیں تاکہ جنگ و جدل میںانہیں ڈیلی ویجز پر رکھیں۔معدنی دولت جیب میں بھر سکیں۔

بارک اوباما کہتا تھا کہ میں آؤں گا اور افغانستان سے فوج واپس لیکر جاؤں گا لیکن جونہی معدنیات (Rare Earth Elements) دریافت ہوا تو جنگ کو پھر بڑھا دیا۔ 10سے 11سال بے دردی سے افغانستان کے منرلز کے خزانوں کو لوٹا گیا تو امریکہ وہاں سے تمام اسلحہ چھوڑ کر روانہ ہوا۔ آنے والے پانچ چھ سالوں میں جب دوبارہ سے افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا تو کوئی ایک فریق گرویدہ ہو گا جو ایک ٹریلین ڈالر کے ذخائر موجود ہیں انہیں حاصل کر لے گا ۔

بلوچستان میں دیکھ لیں KPK میں دیکھ لیں، تنظیموں کے سپوٹ سے قتل و غارت اور امن برباد ہوگا تو گورنمنٹ سستے داموں کانٹریکٹ کر سکے گی۔ یہ اپنی مرضی کے مطابق پرائیویٹ ملیشیا بنا کر گورنمنٹ کو بلیک میل کر سکیں گے۔ بلوچستان میں ریل کی پٹریوں، سوئی گیس کی لائنوں میں دھماکے ہو تے ہیں پر کبھی ریکوڈک میں دھماکہ ہوا؟ ریکوڈک پہ بیرک گولڈ کمپنی کا ابتک مزدور سائنسدان انجینئر کو نقصان ہوا ؟۔ کیونکہ کمپنیاں سپورٹ کرتی ہیں، اس علاقے میں کشت و خون جاری رہے اور نادان انجان لوگ جنہوں نے افریقہ کی ہسٹری نہیں پڑھی دنیا کے باقی علاقوں کی ہسٹری نہیں پڑھی محض چھوٹے سے فائدے کیلئے چھوٹے سے پیسے کیلئے پورے علاقے کو خون کی ندی سے رنگ دیتے ہیں۔نتیجہ کیا نکلتا ہے عوام کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آتا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے وہ لوگ جنہوں نے طوفانی بارش اور سیلاب میں انسانیت کی شاندار مثال قائم کردی

میاں بیوی نے انسانیت کی شاندار مثال قائم کردی

ٹریفک میں پھنسے بچوں کو نکال کر اپنے گھر لے گئے

نمائندٹی وی City21:باران رحمت زحمت نظر آئی ، کراچی شہر بلاک، شہری پریشان، بچے ، فیملیز یا خواتین باہر تھیں 8 ،8 گھنٹے سے زائد وقت شاہراہوں پر گزارا، خوف کی فضا پھیلی کہ بچے خیریت سے ہیں یا نہیں ۔یہ فیملی جنہوں نے کچھ بچوں کی مدد کی۔ ہیرو ثابت ہوئی اور کچھ بچوں کو اپنے گھر میں لائے۔ رات اپنے پاس رکھا۔ یہ ڈاکٹر صاحب اور ان کی مسز بھی ہیں۔

اسلام علیکم! آپ نے ہدایات جاری کیں تو کیا سچویشن تھی اور کیسے ہوا؟۔
خاتون: تقریبا 6 بجے کے بعد میری بھابھی کا فون آیا کہ میرا بھتیجا 2 بجے سکول سے نکلا ہوا تھا گھر پہ نہیں پہنچا اور اس کی وین 6-4 گھنٹے سے ناتھا خان برج پہ پھنس چکی تھی کیونکہ آگے کا راستہ نہیں تھا۔ مجھ سے رابطہ کیا ،بھائی شہر میں نہیں تھے تو ہم پریشان تھے کہ بچوں کا کیا ہوگا۔ ہم لوکیشن کے قریب تھے ،ان کی ملیر کی رہائش تھی تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں۔

میرے بھائی کا پریشانی سے کافی برا حال تھا بھابی کا بھی یہ پتہ تھا کہ بچے 2-1بجے سے پہلے یا شاید پوری رات گھر نہیں پہنچیں گے ۔میرے خیال سے ہم نے اس چیز کو قبول کر لیا کہ کچھ بھی کر لو پھنسنا ہی ہے روڈوں پر بدقسمتی سے ۔ جہاں وین پھنسی تھی، بچوں کی حفاظت کے خدشات تھے۔ کچھ کھایا پیا نہیں تھا ۔ وین ڈرائیور بیچارہ ذمہ داری سے ان کو سنبھالے بیٹھا تھا ، وین نہ آگے لے جا سکتا تھا نہ پیچھے ۔ بچوں کے پاس ایک دو فون تھے وہ حاضر دماغی سے لیکر چل رہے تھے۔ تو ہم نے ارادہ کیا کہ صرف بھتیجے ہی کو نہیں سارے بچوں کو لائیں کیونکہ انکے ماں باپ بھی پریشان تھے۔ ان سے اجازت لی کہ ہم انکے بچوں کی ذمہ داری لیکر کم از کم چھت کے نیچے لے آئیں وہ روڈوں پہ پوری رات نہ گزاریں۔پہنچنا آسان نہیں تھا پہنچ جاتے تو ہم بھی شاید پھنستے ،واپسی کا محفوظ راستہ دیکھنا تھا ،ہماری نیول ایریا میں رہائش ہے شاہراہ فیصل پر ایک راستہ یہ تھا کہ ہم ائیر فورس کے بیس کے اندر سے نکلیں وہاں پہ ڈاکٹر صاحب کے ایک دو وثوق ہیں وہ ائیرفوس اکیڈمی کے گریجویٹ ہیں تو وہاں پہ ہم نے رابطوں کو استعمال کیا۔ ڈاکٹر شعیب ڈائریکٹر نیسٹپ(NASTP) کے بہت شکر گزار ہیں۔ ہماری بہت مدد کی کہ ان کی وجہ سے ایئر فورس بیس روتھ فاؤ یونیورسٹی تک ہم پہنچ گئے۔ گاڑی ہم نے وہیں پارک کی ۔

ڈاکٹر اطہر: آپشن ہمارے پاس یہی تھا کہ پیدل جانے کی کوشش کریں اور ہمیں تھوڑا سا اندازہ ہے کہ شاہراہ فیصل پہ کہاں پہ پانی زیادہ کہاں کم ہوتا ہے اور ہر پچھلے کئی سالوں سے مخصوص جگہ سے شاہراہ فیصل بلاک ہوتی ہے ، سارا شہر دو حصوں میں بٹ جاتا ہے۔ ایک ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ ہے اسکے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا کہ یہ ہمیں پیدل ہی کرنا تھا۔ زیادہ خطرہ یہ تھا کہ کوئی مجھ سے فون چھین کر لے جائیگا جس سے ان سے رابطے میں ہوں جہاں سے میں انکی GPS لوکیشن ڈھونڈ رہا ہوں یا سڑک پہ جو مین ہولز ہیں اس میں خود نہ گر جاؤں یا بچے نہ گر جائیں۔ تو خیر ایک سوا گھنٹہ مجھے لگا وہاں پہنچنے میں۔ ا سکے بعد اپنے بچے کیساتھ جو دیگر بچے سٹوڈنٹ تھے تو انکے والدین سے پرمیشن لی کہ ہم ان کو ساتھ لے آئیں۔ بچوں کو کہا کہ ایک لائن بنا لو اور ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لو مضبوطی سے تاکہ خدانخواستہ اگر کوئی بچہ پھسل جائے یا گر جائے تو خطرہ تھا کہ 8 میں سے کو ئی بچہ راستے میں گم نہ ہو جائے کیونکہ بہت لوگ تھے پورا کراچی برج کے ایک طرف سے دوسری طرف جا رہا تھا۔


 

مولانا فضل غفور کی قیادت میں مدارس کے 5 ہزار طلباء JUIکے کارکنوں کی بونیر میں بلاتفریق بڑی خدمات

دینی مدارس کے طلبہ نے نئی مثال قائم کردی
سیلاب سے متاثرہ گھر کی صفائی کے دوران لاکھوں کا سونا ملا جو خاتون کے حوالے کردیا۔

کیچڑلدی آبادی میں بلاتفریق مذہب انسانی بنیاد پر5 ہزار کارکن کی میدان میں بڑی خدمات ہیں سکھ گھر، گوردوارہ شامل۔ 20 تولہ سونا ملا تو طالب علم نے امانت پہنچادی پھر 10ہزار انعام ملا تو مدد کیلئے جمع کیا۔ مولانا فضل غفورنے کہا کہ”کافی بڑے جنازے پڑھائے مگر مشکل ترین لمحہ وہ تھا جب بچے نے کہا:میری ماں کو میرے لئے لاسکتے ہو؟”۔


 

تینوں چرواہے قومی ہیرو قرار پائے

سیلاب کابروقت فون پر خبردار کیا تو 600 سے700کے درمیان افراد موت سے بچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف نے انعام دیا۔ اللہ نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل اور ایک کو بچانے کو تمام انسانوں کے بچانے کی طرح قرار دیا۔ خوش قسمت چہرے بہت قابل رشک ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے با صلاحیت نوجوان جنہوں نے کھیل اور تعلیم میں پاکستان کا نام روشن کردیا

فٹبال ورلڈ کپ نے پاکستان کا نام رو شن کیا

لیاری بلوچ انڈر15 گولڈ میڈلسٹ۔ 4پشاوری، 1 وزیرستانی۔ اوسلو ناروے پہلی بار بچیوں کی ٹیم گئی، 8ویں نمبرپر آگئی۔ پاکستانی فٹبال میں دنیا کی نمبر 1 کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 2014ء میں بھی یہ ٹیم سیکنڈ پوزیشن آئی تھی۔


 

اورنگی ٹاؤن سے ہارورڈ یونیورسٹی تک کاانوکھاسفر

کائنات انصاری کہتی ہے کہ میرا تعلق اورنگی ٹاؤن کی کچی آبادی گلشن ضیاء سے ہے۔ مہنگی تعلیم افورڈ نہیں کرسکتی تھی اور ایک چیلنج یہ تھا کہ خاندان میں عورتوں کو پڑھنے نہیں دیتے تھے۔ میری امی مجھے جب بینظیر بھٹو اور ملالہ کی کہانی سناتی تھی تو مجھے لگتا تھا کہ مجھے ان کی طرح بننا ہے ۔میری ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول کی تھی پھر اسکے بعد میرا داخلہ TCFمیں ہوا اور میں نے میٹرک کیا پھر اسکالر شپ ملا اور ناروے سے انٹر کیا۔ اسکالر شپ سے آکسفورڈ گئی اب ہارورڈ یونیورسٹی میں ہوں۔غریبوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا گیا تو پاکستان پوری دنیا کو بدل دے گا۔


 

آئن سٹائن سے بھی زیادہ ذہین ماہ نور چیمہ انوکھی بچی

ماہ نور چیمہ کا تعلق وزیرآباد حافظ آباد سے ہے۔ 9سال کی عمر تک لاہور میں پڑھا پھر والدین کیساتھ لندن تعلیم کیلئے گئی۔ اولیول میں عالمی ریکارڈ قائم کیا اور اب Aلیول میں۔ ماہ نور کے والدین لندن سے تعلیم یافتہ ہیں۔ ماں نے نوکری نہیں بچوں کی پڑھائی کیلئے خود کو وقف کیا۔ آئن سٹائن جیسے بہت مگر مواقع نہیں ملتے ۔ عوام کی معیشت اور ماحول کو بدلاتو ہم آگے نکل سکتے ہیں۔ تعلیم وتربیت اور کھیل کے رحجانات سے معاشرے میں بہت مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv