پوسٹ تلاش کریں

شیعہ علامہ حیدر نقوی اور سنی جاوید غامدی میں فرق

علامہ حیدر نقوی کاشیعہ سنی کیلئے مینارۂ نور بڑا خطاب

محمد و آل محمد یہ اللہ کے حکم کو فالو کرتے ہیں یا اللہ کا حکم ان کو فالو کرتا ہے ؟۔یعنی جو یہ کہے اللہ کو حکم دیتا ہے یا اللہ جو حکم دیتا ہے وہ یہ کرتے ہیں؟۔ اور قرآن میں فرمایا سور ةالاحزاب کے شروع میں توجہ کریں و اتبِع ما یوحیٰ اِلیک مِن ربِک۔ پہلی ایت یہ ہے یا ایھا النبی اتق اللہ اب جو بات بتانے لگا ہوں میں اس مائنڈسیٹ کو دیکھیں اور دیکھیں کہ کیا پوزیشن ہے۔ کس نے قوم کے ساتھ یہ کام کیا؟۔یا ایھا النبی اتق اللہ اے نبی! اللہ سے ڈر اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ ولا تطع الکافرین والمنافقین اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مان ان اللہ کان علیماً حکیماً بے شک اللہ خوب علم رکھنے والا اور حکمتوں والاہے۔واتبع ما یوحٰی الیک من ربک اور اتباع کر اے رسول اس کی جو تیرے رب کی طرف سے تجھے وحی کیا جارہا ہے۔ واتبعاور اتباع کر حکم دیا جارہا ہے۔ کس کی ما یوحٰی الیک جو وحی کیا جا رہا ہے آپ کی طرف من ربک آپ کے رب کی طرف سے ان اللہ کان بما تعملون خبیراً بے شک جو تم عمل کر رہے ہو اللہ اس کی خوب خبر رکھتا ہے۔

رسول نے کس کو فالو کرنا ہے اللہ کے قرآن کو۔ اول المسلمین کا مطلب کیا ہے؟، سب سے پہلے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکانے والا ۔ وہ حکم کیا ہے قرآن۔ سورہ الزخرف میں فرمایا: فاستمسک بالذی اوحی الیک اے رسول !جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے فاستمسک اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ جس کو ہم تمسک کہتے ہیں۔ انک علیٰ صراط المستقیم ۔یعنی اس کو مضبوطی سے تھامے رکھ یقینا تو صراط مستقیم پر ہے۔ وانہ لذکرلک ولقومک اور یقینا یہ قرآن آپ کیلئے اور آپ کی قوم کیلئے بھی ذکر ہے نصیحت رہنمائی ہے، و سوف تسئلون اور عنقریب تم سب سے اس قرآن کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ یہ ہے قرآن کا لب و لہجہ ۔

کوئی صاحب ، اللہ تعالی ہم سب پہ رحم فرمائے وہ بلکہ آپ کو میں وہ عبارت سنا دوںانہوں نے لکھا ایک کلپ کے کمنٹ میں کہ نقوی صاحب! آپ نے دوسری مرتبہ گستاخی کی ہے کہ یہ ہستیاں قرآن کو فالو کرتی ہیں۔ یعنی یہ کہنا کہ رسول اللہ اور اہل بیت قرآن کو فالو کرتے ہیں یہ ان کی گستاخی ہے۔ جناب! یہ جو گھروں میں قرآن ہے یہ قرآن صامت ہے اور یہ ہستیاں قرآن ناطق ہیں اور یہ قرآن کے وارث ہیں اور اپنی دلیل ہے کہ وارث ہمیشہ ورثے سے افضل ہوتا ہے کبھی دیکھا ہے کہ بڑا چھوٹے کو فالو کرے۔ ہمیشہ بڑا ہی لیڈ کرتا ہے۔ پھر ان کو میں نے اپنی طرف سے یہ سورہ احزاب کی آیت نمبر 2 بھیجی۔ جبکہ عام طور پر بھیجتا نہیں ہوں۔ کیونکہ زیادہ فائدہ نہیں لگتا کیونکہ جو بات ہوتی ہے وہ تو ویڈیو میں کر دگئی ہوتی ہے۔ لیکن یہ آیت بھیجی اصل بات آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں۔ میں نے آیت کونسی بھیجی۔ واتبع ما یوحٰی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیراً ۔اور اے رسول آپ کے پروردگار کی طرف سے جو آپ پر جو وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع کیجیے اللہ یقینا تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے۔

یہ میں نے آیت بھیجی اسکا جو انہوں نے جواب دیا ہے اس کی طرف آپ توجہ کیجئے۔ یہ مائنڈ سیٹ اس کا مطلب قرآن مجید سے ہدایت کا راستہ بند ہے۔ لفظ دیکھیے انہوں نے کیا فرمایا۔ لکھتے ہیں پھر وہی بات، یعنی قرآن کی آیت پڑھ کے کہتے ہیں پھر وہی بات۔ قبلہ ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کر دیا۔یعنی قرآن کے ظاہر کو دیکھ کر آپ نے فیصلہ کر دیا۔ اس کا مطلب کیا ہے قرآن کے ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا۔ جب قرآن کے ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا تو آپ کے ائمہ نے فرمایا کہ روایات کو قرآن پر پیش کرو، تو ظاہر تو ویلیو نہیں رکھتا تو کس قرآن پر آپ نے پیش کرنا ہے۔

اب ان کے ذہن میں یہ بات کہاں سے آئی ہے؟۔ کس نے ڈالی؟۔ وہ مجرم ہے اصلی۔ وہ لوگ بھی ہیں جو عقل استعمال کرنے کو تیار نہیں کہ ائمہ فرما رہے ہیں روایات کو قرآن پر پیش کرو اور خلاف قرآن قبول نہ کرو۔ اورآپ کو کس نے پھر کہا کہ ظاہر قرآن کو دیکھ کر فیصلہ نہیں ہو سکتا تو پھر روایات کس کو پیش کر نی ہیں۔ ہوگا کیا اس کا نتیجہ؟، آپ کوئی روایت پڑھتے ہیں جو آپ کو قرآن کے خلاف لگ رہی ہے، آپ قرآن کی آیت کو پیش کرتے ہیں کسی اس فکر کے بندے کو وہ آپ سے کہے گا کہ ظاہر قرآن کو دیکھ کر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ تو یہ روایات کو قرآن پر پیش کرنے کا دروازہ بند۔ یہیں پر ایک اور بات کی وضاحت کر دوں۔ روایات اہل بیت میں قرآن کے بطون، قرآن کے باطن کے بارے میں کہا گیا ۔بعض روایات میں لفظ آیا 7 بطون ہیں، بعض میں ہے 70 بطون ہیں۔ یعنی ایک قرآن کا ظاہر ہے ایک اس کا باطن۔ جیسے ایک سمندر ہوتا ہے نا آپ کو ایک تو سمندر کے اوپر چیز نظر آرہی ہوتی ہے لیکن اگر آپ غوطہ لگائیں اندر جائیں تووہ چیزیں بھی انسان کو دکھائی دیتی ہیں جو باہر سے دکھائی نہیں دیتیں مثال کے طور پر گہرائی اب کچھ لوگ یہ بطون کے لفظ کو غلط معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک قرآن کے باطن کا ایک صحیح معنی ہے اور ایک قرآن کے باطن کا غلط معنی ہے۔

خوب توجہ فرمالیں۔ صحیح معنی کیا ہے کہ قرآن مجید جیسے اللہ کے نبی کے فرامین میں اوراصول کافی میں بھی روایت ہے کہ قرآن ظاہرہ انیق، قرآن کا ظاہر بہت خوبصورت ہے۔ و باطنہ عمیق اور اسکا باطن بہت گہرائی والا ہے۔ ایک تہہ، دوسری تہہ، تیسری تہہ۔ اترتے جاؤ اترتے جاؤ۔ انسان اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔چونکہ یہ علم پروردگار سے نازل ہوا ہے۔ پروردگار کا علم لا محدود ہے۔ہاں تم جتنا اسکے قریب آؤ گے اور تمہارے سامنے گہری باتیں کھلیں گی۔ جو پہلے دن نہیں کھل سکتی تھیں، دوسرے دن ، تیسرے دن۔ توجہ فرمارہے ہیں؟، ایک ہے اس قرآن کی گہرائی ،یہ مراد باطن سے ہے۔ یہ ہے صحیح معنی بطون کا۔ اور ایک ہے غلط معنٰی ہے جو اس قسم کے لوگوں نے جو ظاہر قرآن کو تقریباً لفٹ نہیں کرواتے وہ کیا کہتے ہیں ایک حدیث مثلا ًحدیث اسلئے کہہ رہا ہوں کہ حقیقت میں خلاف قرآن حدیث ہو ہی نہیں سکتی لیکن چونکہ حدیث کی کتابوں میںآگئی ہے وہ چیز اسلئے اس کو حدیث روایت کہا جاتا ہے۔

حدیث ہمارے سامنے آئی جو خلاف قرآن ہے تو آپ کو کیسے پتہ چلا قرآن کے خلاف ہے ؟۔اسی قرآن کی ظاہری معنی سے لیکن یہ بندہ آپ سے کیا کہے گا، یہ کہاں سے تم کہہ رہے ہو قرآن کے خلاف ہے ۔ قرآن کے تو 70باطن ہیں، تو یہ ان 70میں سے ایک باطن ہے قرآن کا۔ یہ لوگ باطن سے کیا معنی لیتے ہیں جو ظاہر کے خلاف ہو۔ اگر ظاہر کے خلاف معنی بھی باطن میں شمارہو اور وہ بھی صحیح ہے تو بھی دروازہ بند ہو جاتا ہے روایات کو قرآن پر پیش کرنے کا۔ چونکہ آپ جو روایت بھی سخت خلاف لیکر آؤ قرآن کے توآپ سے کیا کہا جائے گا یہ قرآن کا باطنی معنی بیان کیا اہل بیت نے۔ حالانکہ اہل بیت نے فرمایا ہم خلاف قرآن نہیں بولتے۔ اور جب لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ روایت کو پیش کرو تو لوگ تو ظاہر دیکھیں گے نا۔ اور تو کوئی چیز نہیں ۔

بس قرآن کے بطون سے مراد اسکی گہرائیاں ہیں نہ کہ خلاف قرآن کوئی بات آگئی ہے روایات میں۔ کسی اور بندے نے ڈال دی ہے، کسی جھوٹے نے ڈال دی ہے، کسی غالی نے ڈال دی ہے اور اس روایت کو کہا جائے یہ تو خلاف قرآن ہے اور آپ کہیں کہ نہیں خلاف قرآن مت کہو قرآن کا ظاہر جو ہے اس کو دیکھ کے فیصلہ کر رہے ہو یہ قرآن کے باطنی معنوں میں سے ہے۔ خلاف ظاہر قرآن باطنی معنی یہ ناقابل قبول ہے یہ باطنی معنی نہیں ہے، ورنہ میں نے عرض کیا کہ وہ با ب ہی بند ہو گیا کہ جو بنیادی ترین اصول ہے غلط اور صحیح روایات کو پرکھنے کا کہ خلاف قرآن کونسی ہے اور قرآن کے مطابق کونسی ہے۔

پس بطون قرآن کا صحیح معنی بھی ہے اور بطون قرآن سے غلط معنی لے کر خلاف قرآن باتوں کو صحیح قرار دے دینا اور ان کو رد نہ کرنا یہ غلط معنی لے کر بطون سے بعض لوگ مثلاً عوام کے ذہنوں میں یہ ڈالتے ہیں اور قرآن کو گویا ریٹائرڈ کر دیا قرآن کے باطن کو ریٹائرڈ کر دیا ہے اور روز قیامت اللہ کے رسول کے اس شکوے سے نہیں ڈرتے کہ اے پروردگار!میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔( وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجورًا )(الفرقان )


 

غامدی صاحب اس ویڈیو میں قرآن، احادیث اور حضرت عمر کے اجتہاد کا حوالہ دیکر دراصل یزیدیت سے غامدیت تک اسلام کی اجنبیت بتاتا ہے

غامدی اور اس کی ذریت کو یزید سے پیار ہے۔اسکے شاگرد ڈاکٹر عرفان شہزاد نے ایک طرف کہا کہ حضرت علی کی خلافت منعقد نہیں ہوئی اور دوسری طرف کہا کہ حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، حسن اورامیر معاویہ کے مقابلے میں یزید کی خلافت سب سے زیادہ شرائط کے مطابق درست تھی۔

حضرت عمر نے حج وعمرے کے اکٹھے احرام سے روک دیا لیکن عبداللہ بن عمر نے بھی اس حکم سے اختلاف کیا اور حضرت عثمان نے سختی سے پابندی لگانی چاہی تو حضرت علی نے اعلانیہ مخالفت کردی ۔ (صحیح بخاری)۔ حضرت عمر نے طلاق کے مسئلے پر غلط اجتہاد کیا ہوتا تو حضرت علی مزاحمت کرتے لیکن حضرت علی نے حضرت عمر کی تائید وتوثیق کی۔ جب حضرت عمرکے دربار میں تین طلاق کا تنازعہ آیا جس میں بیوی رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو حضرت عمر نے اللہ کی کتاب قرآن ،سنت نبویۖ اور اسلام دین فطرت کے عین مطابق عورت کے حق کی حفاظت فرمائی اور شوہر کو رجوع سے روک دیا۔ ایک طرف دورِ جاہلیت میں عورت کی رضا کے بغیر شوہر کو ایک طلاق پر رجوع کا یک طرفہ اختیار حاصل تھا تو دوسری طرف 3طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے رجوع نہیں ہوسکتا تھا۔ صحابہ نے شرح صدرکیساتھ سمجھ لیا تھاکہ حلالے کا تصور قرآن نے ختم کردیا لیکن عورت کا حق غصب ہونے کا خطرہ پھر بھی موجود تھا اسلئے حضرت عمر کے ہاتھوں اللہ نے عورت کے حق کی حفاظت قرآن کے عین مطابق کردی۔ سورہ بقرہ کی آیت228میں یہ بالکل واضح ہے کہ ” عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر طلاق کے بعد عورت کو لوٹانے کا زیادہ حقدار ہے”۔ عدالت یا حکمران کے پاس تنازعہ جاتا ہے ، اس نے نہ تو مدرسہ میںدالافتاء کھول رکھا ہوتا ہے اور نہ گدھ کی طرح TVاسکرین پر بیٹھ کر عوام کو گمراہ کرتا ہے۔ جب حضرت عمر کے پاس بیوی کو حرام کا لفظ کہنے پر تنازعہ آیا تو اس پر بھی یہی فیصلہ کرنا تھا مگر عورت رجوع کیلئے راضی ہوگئی تو پھر رجوع کی اجازت دیدی۔ پھر حضرت علی کے دور میں حرام کے لفظ پر تنازعہ آیا تو حضرت علی نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ رجوع کا کوئی حق شوہر کو حاصل نہیں ہے۔ قرآن وسنت سورہ تحریم و دیگر آیات میں سیرت نبویۖ سے یہ چیزیں واضح تھیں اور قرآنی آیات کی وضاحتوں میں کوئی تضادات نہیں ہیں لیکن غامدی کی دال اس ویڈیو میں بالکل بھی نہیںگل سکی۔

حضرت عمر کے سر پر طلاق بدعت، اجتہادی غلطی اور حلالہ کی صدیوں سے چالو لعنت ڈالنے کی جگہ یزیدیت کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایک اچھے معروف ضحاک عالم ہیں، دوسرا ظالم گورنر ضحاک تھا جس نے کہا کہ ”جو ایک ساتھ حج وعمرہ کا احرام باندھے تو وہ جاہل ہے۔ جس پر حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ایسی غلط بات مت بکو۔ میں نے رسول اللہۖ کو حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھے دیکھا۔ (صحیح مسلم) جس طرح بدبخت گور نر ضحاک نے جہالت سے نبیۖ کی توہین کا ارتکاب کیا ،اسی طرح یزیدیت کا کارنامہ تھا کہ حکمران فیصلہ کرلے کہ کس کی بیوی کو حلالہ کی مار کھلانی ہے اور کس کی نہیں؟۔ یہی مؤقف غامدی نے پھر سے تازہ کردیا ہے کہ فیصلہ تھانیدار یا جج کرے گا یا DC کے کس کی تین طلاق ہوگئی اور کس کی ایک طلاق؟۔

قرآن میں طلاق کا مسئلہ بالکل واضح ہے احادیث کی کتابوں میں بھی قرآن کے خلاف کوئی حدیث نہیں ہے۔ طلاق میں عورت کے حقوق زیادہ اور خلع میں کم ہیں اسلئے اگر شوہر طلاق دے اور پھر کہے کہ میں نے مذاق کیا تھا تو یہ طلاق پھر بھی مؤثر ہوگی اور عورت کو سورہ النساء آیت19 کے خلع نہیں سورہ النساء آیت20کے مطابق طلاق کے حقوق ملیں گے۔ اگر شوہر مکر جائے تو پھر معاملہ گواہ یا پھر حلف پر حل ہوگا لیکن اگر عورت راضی ہے تو پھر قرآن نے ڈھیر ساری آیات میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی ترغیب ہے۔ قرآن میں جتنی طلاق کے معاملے پر وضاحت ہے اتنی کسی بھی اورمعاملے پر نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص سورہ الطلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ بقرہ کی آیت230سے پہلے 228اور 229اور پھر اس کے بعد 231اور 232البقرہ دیکھ لے تو واضح ہوجائے گا کہ عدت کے اندر اور عدرت کی تکمیل کے بعد رجوع کی بنیاد قرآن نے باہمی رضامندی سے رکھی ہے جس کو کہیں باہمی اصلاح اور کہیں معروف طریقے کا نام دیا گیا ہے۔ آیت230البقرہ سے پہلے 229میں تین مرتبہ طلاق اور پھردونوں اور فیصلہ کرنے والوں سبھی کی طرف آئندہ رابطہ نہ رکھنے پر بھی اتفاق کی وضاحت ہے۔ جس کا مقصد عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی حق دینا ہے جو لیڈی ڈیانا سمیت آج بھی چھین لیا جاتا ہے۔

بخاری کی حدیث نمبر3586 میں دو فتنوں کا ذکر ہے ایک میں مال اور اولاد کا فتنہ ہے اور دوسرے میں سمندر کی مانندٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑا فتنہ ہے۔ جس سے حضرت عمر نے خاص طور پر اس میں متنبہ کرنا چاہا تھا۔حضرت حذیفہ نے کہا کہ اے عمرتم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا کہ وہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟۔ حذیفہ نے کہا کہ توڑا جائے گا۔ نبیۖ نے آخری خطبہ میں عورت کے حقوق کا خاص خیال رکھنے کی تلقین فرمائی اور اپنی عترت کا بھی خاص خیال رکھنے کی تلقین فرمائی۔ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے فتنے اور حضرت عمر کے درمیان کو نسا دروازہ تھا جس نے حضرت عمر کے بعد ٹوٹ جانا تھا؟۔

حضرت عمر کی شہادت کے بعد ان کے قاتل بیٹے سے قصاص نہیں لیا گیا ۔ قرآن نے قصاص میں حیات کا ذکر کیا ہے۔حضرت علی نے مطالبہ کیا مگر نہیں مانا گیا۔ پھر حضرت عثمان، حضرت علی کی شہادت سے فتنے شروع ہوگئے ۔ آج تک فرقہ واریت کا سمندر ٹھاٹیں ماررہاہے ۔ قرآن پر عمل معطل ہوگیا۔ ایک حرام کے لفظ پر بیسیوں اختلافات ہیں اور حلالہ کی لعنت زندہ کردی گئی۔ مزارعت کو جواز بخش دیا گیا اور خلافتیں خاندانی لونڈیاں بنادی گئی تھیں ۔ حضرت عمر نے خلافت کا حق اچھی طرح ادا کیا ،حضرت علی نہج البلاغہ

آج جاویداحمد غامدی نے اپنا پینترا بدل دیا ہے اور یزیدی ،مروانی اور عباسی سلطنت کی غلط باتوں کو خلافت راشدہ اور حضرت عمر کی گردن پر ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر حقائق کا پتہ چل گیا تو جس طرح فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر اور ان کا شیعہ سسرال ایک دوسرے کیساتھ شیر وشکر ہیں اور آپس میں کوئی ناچاکی نہیں ہے ،اسی طرح دیوبندی شیعہ اور لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ اور تحریک جعفریہ اور سپاہ محمد والے بھی ایک پلیٹ فارم پر شیر وشکر ہوجائیں گے ۔ انشاء اللہ۔ عتیق گیلانی

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

گاندھی انگریز کے دلال تھے۔ بھارتی ہندو جج

اکبر بادشاہ انڈیا کے بابائے قوم ہیں۔ مارکینڈے کاٹجو کا انٹرویو

چیف جسٹس مارکینڈے کا زلزلہ برپا کرنے والا زبردست انٹرویو۔تاریخی حقائق کو سمجھو اور اپنے خطے کو سازشوں سے بچاؤ!

السلام علیکم! میں ہوں سجاد پیزادہ۔ 24نیوز ڈیجیٹل ۔ انڈیا کی تین ہائی کورٹس کی چیف جسٹس رہنے والی مشہور شخصیت انڈین سپریم کورٹ کے سابق سینیئر جج ، چیئرمین پریس کونسل آف انڈیا رہنے والے جسٹس مارکنڈے کانجو۔ ہمارے پروگرام میں بہت بہت خوش آمدید جسٹس کالوجی !

جسٹس مارکنڈے: تھینک یو تھینک یو السلام علیکم!

سوال: بہت شکریہ کہ آپ نے ہمارے لیے وقت نکالا اگست 1947میں آزادی کا اعلان ہوا آپ کی عمر کتنی تھی سنا ہے کہ آپ علامہ اقبال کے گیت سن کر بڑے ہوئے۔
جواب: میری پیدائش ستمبر 1946 تو اگست 1947 میں میں11مہینے کا تھا، اس وقت کی کوئی یادداشت ہوتی نہیں کسی میں۔ علامہ اقبال کے شاعری بہت ہی پسند ہے۔

سوال: کاجو جی تقسیم میں بستی کی بستیاں اجڑ گئیں لوگ ادھر سے ادھر آئے کیا آپ کا خاندان متاثر ہوا تھا اور آج کے پاکستان کے کسی شہر میں بڑوں کی کوئی یادیں ہیں؟۔
جواب: میرے دادا جی کے والد انڈیا کی چھوٹی اسٹیٹ جاوڑا میںرہتے تھے ، دادا کو 10 سال کی عمر میں ایجوکیشن کیلئے لاہور بھیجا۔ وہاںاچھی ایجوکیشن نہیںتھی ۔جبکہ لاہور تو بہت ایجوکیشنل اور کلچر سینٹر رہا تو وہاں قریب 1900 سے 1906تک میرے دادا ڈاکٹر کیلاش ناتھ کانجو لاہور میںپہلے رنگ محل ہائی سکول ہے وہاں ایجوکیٹ ہوئے پھر فارمین کرسچن کالج میں ہوئے پھر BA ڈگری کے بعد LLBکرنے کیلئے وہ الہ آباد آگئے۔ میرا خاندان ایسٹرن یو پی کے شہر الہ آباد میں رہتا تھا۔ پیدا ہوا لکھنؤ میں مگر میری پوری پرورش الہ آباد میں ہوئی۔

سوال: آپ کے بڑوں کا مغل کورٹ سے تعلق تھا مغل ہندوستان میں عدالتیں تھیں وہاں کسی جگہ وہ تعینات تھے۔
جواب: میں تو ہوں کشمیری پنڈت مگر میرے پرکھے پنڈت منشا رام کانجو1800میں جاوڑا اسٹیٹ تو وہاں نواب تھے ان کے کورٹ میں ان کو سروس ملی کیونکہ ہم لوگ کشمیری پنڈت اردو اور فارسی کے بڑے ماہر تھے۔

سوال:گاندھی نے پینٹ کوٹ اتار کے دھوتی پہننا شروع کی ، نوجوانی میں شہر چھوڑا اور گاؤں جا کر بسے تاکہ عام آدمی کا درد محسوس کر سکیں۔ تو کیا آپ مہاتمہ گاندھی سے امپریس ہیں؟، کیا آپ ان کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں؟۔
جواب: میں گاندھی کوتو برٹش ایجنٹ مانتا ہوں یہی شخص بٹوارے کا ذمہ دار تھے۔ وہ بٹوارا سب سے بڑا سانحہ ہوا۔

سوال:آپ کے فادر آف دی نیشن ہیںگاندھی جی تو آپ ان کا کہہ رہے ہیں کہ وہ برٹش ایجنٹ تھے۔
جواب: دیکھئے بیوقوفوں کیلئے میں تو ذمہ دار ہوں نہیں اگر یہ بٹوارا نہ ہوتا تو ہندوستان یونائیٹڈ انڈیا انڈر سیکولر ماڈرن لیڈر شپ آج جوائنٹ بن جاتا جیسے چائنہ ہے۔ گاندھی ایجنٹ تھے برٹش کے ان کی وجہ سے بٹوارا ہوا۔

سوال: آپ سمجھتے ہیں کہ اگر گاندھی مسلمانوں کو انکے حقوق مل جاتے تو آج یہ خطہ کسی اور شکل میں نظر آتا۔
جواب: حقوق کا مطلب جانتے ہیں آپ؟۔ دیکھئے 14اگست کو آپ یوم آزادی منارہے ہیں۔15اگست کو ہندوستان منا رہا ہے مگر میں نے کہا میں نہیں مناؤں گا کیونکہ اصل آزادی ہے غربت ،بے روزگاری ،بھوک سے حفظان صحت کے فقدان سے آزادی یہ ملی ہے لوگوں کو؟۔ تو یہ فرضی یوم آزادی ہے۔ ہم بیوقوف ہیں کہ15 اگست کو سیلیبریٹ کریں جب ملک آزاد ہی نہیں ہوا ہے۔ آزادی ہوتی ہے اکنامک آزادی ۔ جناح کو مانتے ہیں بابائے قوم قائد اعظم یہ سب ۔ ہم لوگ کہتے ہیں فادر آف دی نیشن۔ آپ سوچیے بٹوارے میں کئی 10لاکھ لوگ کتنے بے رحمی سے قتل ہوئے ہندو مسلم ۔20 سوں لاکھ لوگ گھر سے بھگائے گئے قتل ہوا مشکلات ہوئیں یہی لوگ ذمہ دار تھے۔

سوال: تین بڑوں میں کس کو سب سے بڑا لیڈر مانتے ہیں بادشاہ اکبر، مہاتما گاندھی یا قائد اعظم محمد علی جنا ح کو؟۔
جواب: گاندھی بدمعاش لوگ تھے ان کی وجہ سے بٹوارا ہوا جس سے کتنا نقصان ہوا آج تک ہم لوگ …

سوال: فادرآف دی نیشن کون ہے پھر انڈیا کا؟۔
جواب: جرنلسٹ خود بولو۔ حوصلہ رکھئے بتارہا ہوں۔ بادشاہ اکبر کو مانتا ہوں کیونکہ جو پالیسی کا نام تھا ”صلح کل” یعنی سب مذہب اور کمیونٹیز کو برابر عزت دو جس کی وجہ سے مغل امپائر اتنا لمبا 300سال چلا ، سب کو ساتھ لے کے چلتا تھا۔ مغل بادشاہ اکبر کی کورٹ میں ہندو بڑے بڑے عہدے پہ تھے جیسے راجا ٹوڈر مل ہو آپ سمجھئے فائنانس منسٹر آف دی مغل امپائر،سارا فائنانس کنٹرول کرتے تھے، مان سنگھ بہت گریٹجنرل تھے سب کو برابر عزت دی گئی تو اسی کو میں فادر آف دی نیشن مانتا ہوں ، ہماری بیوقوفی ہے کہ گاندھی کو فادر آف دی نیشن مانتے ہیں، کتنا نقصان کیا ہندوستان کا، ہم بھی کتنے بڑے گدھے ہیں95%۔ اتنا نقصان کیا کہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں بے روزگاری

سوال: دنیا مانتی ہے فادر آف دی نیشن۔ گاندھی کے سر میں دماغ نہ تھا کیا آپ نے تو برٹش ایجنٹ ان کو بنا دیا۔
جواب: دیکھئے ایک وقت تھا دنیا مانتی تھی کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے یہ جیو سنٹرک تھیوری پوری دنیا مانتی ہے پھر ایک آدمی نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے یہ ہے ہیلو سینٹرک تھیوری۔ 1523 میں اس نے لکھا تو یہ کہنا کہ دنیا مانتی ہے، یہ تو کوئی بات نہیں۔ اکثر ہوتا ہے کہ ایک آدمی صحیح بول رہا ہے ساری دنیا غلط بول رہی ہے ۔

سوال: مہاتما گاندھی کا مقام کہاں دیکھتے ہیں؟۔
جواب: میں نے بتایا نا کہ انگریزوں کے دلال تھے۔ انگریز وںکی جو پالیسی ڈیوائڈ اینڈ رول تھی، ان کی وجہ سے بٹوارا ہوا ہے۔ گاندھی جی آئے تھے انڈیا1915 میں اس سے پہلے 20سال وکالت کی تھی ساؤتھ افریقہ میں۔ 1915سے1948 تک جب ان کا قتل ہوا لگاتار ان کی تقاریر اور آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں جو گورنمنٹ آف انڈیا پبلی کیشن ہے۔ عوامی تقریروں میں وکالت کرتے ہیں ذات پات کا نظام خود گائے کے تحفظ کی وکالت کرتا ہے۔ ہمیں گائے کو بچانا ہے اور ہندو نظریات کی باقاعدگی سے تبلیغ۔ اب اس کا کیا اثر ہوگا ایک عام مسلمان کے دماغ میں۔ عام مسلمان ایسی جماعت کا ممبر ہوسکتا ہے جس کا لیڈر یہ کہہ رہا ہے۔ کانگریس دانشوروں کی پارٹی تھی، اکثریت ہندوؤں کی تھی تو گاندھی نے سوچا کہ ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے مذہب کا استعمال کرنا چاہئے تو مذہب کا استعمال کیا۔ مذہب سے حمایت تو ملی مگر صرف ہندوؤں کی۔ مسلمان اس جماعت میں کیسے شامل ہوسکتے تھے؟۔ وہ مستقل اپنی تقاریر میں ہندو مذہب کی تبلیغ کرتے تھے۔ بڑے مشہور انڈیا کے وکیل ایچ ایم سیروائی کی کتاب کا نام ہے ”Partition of India Legend and Reality” یہ نوٹ کرلیجئے۔ اس میں لکھا کہ گاندھی کی تقاریر براہ راست تقسیم کی طرف لے جاتی ہیں۔
1917کے آس پاس جناح سیکولر اور محب وطن تھے اورکانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے رکن تھے۔ گاندھی نے کانگریس میں ہندو خیالات کااظہار کیاتو ناراض ہوگئے اور انگلینڈ گئے۔ انہوں نے کئی سال انگلینڈ میں وکالت کی۔ انگریزوں کی پالیسی یہ تھی کہ ہندوستان کومتحد نہیں رہنے دینا۔ اگر یہ متحد رہا تو یہ ایک جدید صنعتی یونٹ بن جائے گا۔

سوال: آپ سے مزید ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ قائد اعظم محمد علی جناح ان کی کوئی ایک خوبی بتا دیجیے۔
جواب: 1917ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ سیکولر اور محب وطن تھے۔

سوال: سیکولر کا مطلب کیا ہے؟۔
جواب: سننے کا حوصلہ رکھیں۔ سیکولر کا مطلب ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ سیکولر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے مذہب کو پریکٹس نہیں کر سکتے بے شک آپ اپنے مذہب کو پریکٹس کر یں ہندو ہوتو مندر جائیے مسلم ہو تو مسجد جائیے۔ مگر مذہب نجی معاملہ ہے۔ ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ریاست کا مذہب نہیں ہوگا۔ سیکولرازم کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو اپنے مذہب پر چلنے کا حق نہیں ہوگا۔

سوال: برطانیہ نے آزادی ہند ایکٹ منظور کیا جس پر 15اگست کو ہندوستان تقسیم ہوا، 10لاکھ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور لاکھوں عورتوں کا ریپ ہوا ہزاروں اٹھا لی گئی تو اس میں آر ایس ایس کے غنڈوں کا کتنا کردار تھا ؟۔
جواب:دوسرے مذاہب کیخلاف نفرت پھیلانا تھا۔ یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کا حصہ تھے۔ 1857 سے پہلے فرقہ وارانہ مسئلہ نہ تھا ہندوستان میں اور کوئی مذہبی فسادات 1857سے پہلے نہیں ہوئے۔ ہندو اور مسلم ایک ساتھ رہتے تھے بھائی بہن جیسے ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے تھے ۔1857میں ہندو مسلم مل کے لڑے انگریز سے۔ پھر انگریزوں نے سوچا کہ ہندوستان کو کنٹرول کرنے کا تو ایک طریقہ ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ تو ساری فرقہ واریت شروع ہوئی 1857سے ۔

سوال:یہ کیا بات ہوئی کہ 15اگست کو تو اعلان ہو گیا کہ تقسیم ہوگی لیکن تقسیم کے دو دن بعد 17اگست کو اعلان ہوا کہ فلاں علاقے ہندوستان میں آگئے فلاں پاکستان میں۔ یہ کیا تھا کیا یہ انگریز کی چال تھی کہ اس کے بعد بہت بڑی تعداد میں نقل مکانی ہوئی لوگوں آپس میں لڑ پڑے۔
جواب: انگریزکی چال تھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے۔ دیکھیں انگریز جن ملکوں کو چھوڑتے تھے چونکہ قوم پرستی کی تحریکیں شروع ہو گئی تھیں تو وہاں پہلے تقسیم کر تے پھر چھوڑ دیتے تھے جیسے کہ آئرلینڈ میں تحریک آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی جسکے مغرب میں انگلینڈ ہے۔ تو انگریزوں نے اس کو تقسیم کیا چھوڑنے سے پہلے شمالی آئرلینڈپروٹسٹنٹ اور جنوبی آئرلینڈ جسے آئرش جمہوریہ کہتے ہیں کیتھولک۔ پھر سائپرس ایک آئرلینڈ ہے تو اس کو نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم کیا چھوڑنے سے پہلے وہ بھی مذہب کے نام پر۔ انڈیا کا بھی ایسے ہی تقسیم کیا۔ اسرائیل میں 95% لوگ پہلے عرب تھے تو اس کو پہلے اسرائیل بنایا اور دوسرا جارڈن بنایا۔ وہ بھی مذہب کے نام پہ۔ اسرائیل میں یہودی رہیں گے اور جو عرب تھے ان کو مار پیٹ کر بھگا دیا۔ پہلے 95% عرب اسرائیل میں ابھی 20% ہیں تو باقی 75%فیصد کہاں گئے؟۔ عورتوں بچوں کو مار ڈالا گیا یا بھگا دیا گیا۔ گالا میں ہیں یا ویسٹ بینک یا جارڈن میں ہیں یا لبنان میں۔

 

مارکنڈے کے انٹرویو پر تبصرہ

برطانوی ہند کو آزاد کرنے سے 3ماہ پہلے عرب خلیجی ممالک کو ہندوستان سے انتظامی اعتبار سے جدا کیاگیا۔ 1971ء میں وہاں سے نکلا۔ ہندوستان کو تقسیم کیا۔ عوام کو بے وطن اور بے آبرو کیا۔ ہم نے انگریزی نظام کا ڈھانچہ بدلنا تھا مگرمزید خراب کیا۔ کبھی کوئٹہ ژوب اور راولپنڈی سے بنوں، ٹانک اور مرتضی گومل تک ریلوئے لائن تھی وہ بھی ہم کھاگئے بھوکے کہیںکے۔ مارکنڈے ، لتا حیا اور ندی شرما جیسے لوگ غنیمت ہیں اور اپنی دشمنیاں ختم کرنی ہوں گی۔ لاکھوں فیلڈمارشل عاصم منیر ، ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کی ماں کی رشتہ داریاں بھارت میں ہیں اور ہندوستان میں لاکھوں ہندو سکھ ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے تو آپس میں نفرت نہیں محبت بنتی ہے انگریز گیا مگر ہماری نفرتیں ختم نہیں ہوئیں کتوں کی طرح لڑتے ہیں۔

جب تقسیم ہند کے باوجود بردہ فروشی کا دھندہ ہے تو اگر میدان وسیع ہوتا تو مزید مشکلات بڑھ جاتیں۔ جو کچھ ہوا تو اس میں خیر تھی لیکن آئندہ تجارت اور انسانیت کیلئے یورپی یونین اور عرب امارات کی طرح مضبوط اتحاد اور آمد ورفت کا ماحول قائم کرنا ہوگا، پنجروں کی جگہ آزادی کا ماحول سبھی کیلئے نفرتوں کا عذاب ختم کرنے کیلئے ضروری ہے۔


 

پاکستان کا وجود کفار کی وجہ سے قائم ہے۔ ارشد محمودمصنف دانشور
حوریں اور تنہا عورت

شہریار وڑائچ:ہیلو ویورز! ہمارے ساتھ ایک بڑے ہی مشہور اور لیفٹسٹ اور مصنف دانشور سکالر جناب ارشد محمود ہیں ۔ لندن میں ایک دریا کے کنارے ہیں ارشد صاحب سب سے پہلے ویلکم!۔السلام علیکم!
ارشد محمود: وعلیکم السلام آج بڑا اتفاق ہے ہماری ملاقات لندن میں ہورہی ہے ہم لاہور میں بیٹھا کر تے تھے۔
شہریار:آپ کی کتاب پاکستانی معاشرے کے گٹھن میں بہشت میں تنہا عورت یہ کانسپٹ ذہن میں آیا کیسے؟۔یہ کیسے آپ نے سوچ لیا ؟۔
ارشد محمود: جنت میں حوریں ہوں گی۔ مسلمان عورت ہماری بیویاں ، بہن بیٹیاں ، مائیں ہو سکتی ہیں تو مجھے لگا کہ وہاں یہ زمینی عورت بڑی اجنبی سی ہوگی ۔ہم تو وہی مرد حوروں کی ہوس کے مارے ہوئے ۔ عبادتیں ظاہر حوروں کیلئے کی ہیں ان کیلئے تھوڑی کی کہ پھر یہی ملے ہم کو ؟۔

سوال: پاکستانی معاشرے کی پکچر کس طرح ہے؟۔
جواب: افسوسناک نہ صرف ایک جگہ فکری، تہذیبی لحاظ سے کھڑی بلکہ آنے والا 14اگست 77سال ہوئے کہ ہم نے پیچھے کا سفر کیا گرنے کا ۔ انگلینڈ ترقی یافتہ دنیانئی چیزیں ایجاد کر رہے ہیں۔ ان کی ایکٹیوٹیز ہیں پاکستانی معاشرہ مذہب کے تنگ سے دائرے میں پھنس چکا ہے۔

سوال: قیامت کا ہمارا کانسپٹ ہے دنیا سے تعلق نہیں تو پھرکیسے کہہ رہے ہیں کہ ہم بیک ورڈ جا رہے ہیں؟۔
جواب: پاکستان کے تمام نوجوانوں اور پیرنٹس کی یہی لگن ہے کہ بچے مغربی ملکوں میں جائیں اور ہماری دنیا ہماری زندگی اسلام یا مذہب کے مطابق ہو۔یہ تضاد ہے ۔

سوال: بطور مسلمان پہلا حق ہے تو حرج کیا ہے ؟۔
جواب: دنیا میں جنہوں نے مادی ترقی کی چین جاپان ویسٹرن کنٹری یورپ جس نے ترقی کی اس کا دین چھوٹ گیا وہ سیکولر مذہب سے دور ہو گئے۔ پاکستانیوں کو سمجھ نہیں کہ اب کرنا کیا ہے ۔ پاگل بنایاہماری اسٹیبلشمنٹ ، ہماری سٹیٹ نے روکاہے ۔ پاکستانیوں کی یہ خواہش کہ ہمارا ملک خاندان ، اولادیں خوشحال ہوں، وہ باہر یونیورسٹیوں میں پڑھیں تو مطلب ہمارا دل کہیں اور ہے دماغ کہیں اور ہے پاکستانیوں کا۔ تو اس چکر میں پاکستان رکا ہے اور جو چیز رک جاتی ہے توہ بدبودار متعفن ہو جاتی ہے ۔

سوال:تو اس متعفن ،کرپٹ معاشرے کا ذمہ دار؟۔
جواب :علماء کہتے ہیں کہ دین سے دورہیں اسلئے زیادہ کرپٹ ہیں ۔پاکستان اسلام کے نام پہ بنا ،قائد اعظم نے کہا مدینے کی ریاست ماڈل ہے۔ آئین اسلامی ، قوانین اسلامی۔ ہر حرام چیز پر پابندی ،اسلام کیخلاف کوئی قانون ممکن نہیںمسجدیں مدرسے مولوی ماشااللہ 86% نمازیں پڑھنے والی قوم مسجدیں بھری ہوتی ہیں، ہمارے بچپن میں مسجدیں خالی، ابھی تو ماشااللہ لوگ دکانیں بند، ریڑیاں چھوڑ کے مسجد جاتے ہیں۔ ہم خاصے بنیاد پرست ہیں، تمام پالیسیاں کفار کے خلاف ہیں پوری پاکستانی سوچ اور اسکا دماغ ۔ اس سے بڑا عشق کیا ہو سکتاہے کہ بندہ مذہب کی خاطر قتل کر دے۔ مقبول نعرہ سر تن سے جدا ہے حالانکہ کتنا وائلنٹ ہے ٹوٹلی آج کی تہذیب سے یہ میچ نہیں کرتاہے لیکن ہمارے ہاں کوئی اسکے خلاف بولتا نہیں۔

سوال: ہمارے خلاف مغرب سازشیں کرتا ہے؟۔
جواب: یہ ساری ہم نے چیزیں بنائی ہیں۔ پاکستان کا وجود ہی کفار کی وجہ سے کھڑا ہے ۔امریکہ کی وجہ سے ہے دیکھو نا اگر امریکہ نہ چاہے توآدھا 50-40سال پہلے ٹوٹ گیا ،کوئی انٹرنیشنل سازش کرے توہم کچھ نہیں کر سکیں گے ، پاکستان کا وجود قائم ہی عالمی طاقتوں کی وجہ سے ہے، پاکستان تسلیم شدہ ملک ہے اس کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہمارا بڑا فائنانشل مددگار، سکیورٹی فورسز ہمیشہ امریکن اسلحے سے لیس ہماری ایکانمی انٹرنیشنل فائنانشل سیٹ اپ ہے ہمارا ملک ڈالروں کا ہے تو سازشیں کون کررہا ہے ہمارے خلاف ہے تو یہ چیزیں گلی محلے کی ہیں یہ علم و دانش کی چیزیں نہیں ہیں۔

سوال: آپ بچتے ہیں پاکستانیوں سے وجہ کیا ہے؟۔
جواب: میں آتا ہی سانس لینے ،آکسیجن مل جائے، خوبصورت، صاف ایماندار اسٹریٹ فارورڈ لوگ ہیں۔ لڑکیاں نیم برہنہ، مولوی کی نظر سے بے حیائی لیکن کتنا پاکیزہ ماحول ہے۔ کوئی کسی کو بری نظر سے نہیں دیکھ رہا، اتنا بڑا جرم بنا دیا ،عورت کو سب سے پہلے محفوظ کیا، کسی کو ہراس نہیں کر سکتے ۔ ہم تو برقعے والی کو بھی نہیں چھوڑتے دیکھنے سے ۔کوئی آلودگی نہیں ، کپڑے اورہوتے،شوز گندے نہیں ہوتے ۔کئی روز کے بعدشوز پالش کریں۔

سوال:اسی لئے ہم کہتے ہیں صرف ایک کمی ہے صرف اسلام قبول کر لیں باقی سب کام اسلام والے کرتے ہیں۔
جواب: یہ جو مغرب کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسلام کے اصول ان کے پاس ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ جن کو کافر جہنمی کہتے ہیں جو دوزخی ہیں ان کو آپ کہہ رہے ہیں کہ سارا اسلام انہوں نے نافذ کیا ہوا ہے تو یار یہ تو بڑی عجیب بات ہے کسی ایک جگہ پہ تو یار قائم دائم رہونا یار۔


 

غزہ کے منافق دشمن۔ ارشد محمود مصنف دانشور سے انٹرویو

شہریار وڑائچ: فلسطین پر UK کے اندر بھی بہت بڑی تعداد ہے جو روز گرفتار ہو رہی ہے احتجاج بھی کر رہی ہے لیکن منع نہیں ہو تی۔ ارشد صاحب کا موقف مختلف ،آپ فلسطین کے مخالف کیوں ہیں ؟۔
ارشد محمود : فلسطین کیا میں کسی انسان کا مخالف نہیں ہو سکتا ہوں یہ اانسانی مسئلہ ہے ۔ ہم پاکستان کے ماحول کا ذکر کرتے ہیں تو بطور مسلمان ہم یہود دشمن ہیں ، نفرت رکھتے ہے یہودیوں سے عقیدے کے طور۔ اب ان سے ہمیں کیا توقع ہے ۔یار یہ تو ہے ہی نیچ یہ تو ہے ہی ظالم یہ تو ہے ہی جتنا بھی برا ان کو کہہ سکتے ہیں ہم کہیں گے۔ پرو فلسطینی موقف جو پاکستان کا ہے۔ رائٹ لیفٹ ایک جیسا جماعت اسلامی، لبیک ،جمعیت علماء میں کوئی فرق نہیں ۔ لیفٹ لبرل مذہبی اور غیر مذہبی سارے فلسطین کیساتھ ہیں اور اسرائیل کی مذمت کرنی اس کو نسل پرست اورفاشسٹ کہنا اس کو صیہونی یہ ٹرمیں بنائی ہوئی ہیں اس کو یہ صیہونیت ہے تو ایک نفرت کے مختلف لیبز ہیں۔

سوال:جب اتنے ہزاروں لوگ اور بچے مارئیے تو۔
ارشد محمود: اچھا ٹھیک ہے، فلسطینی مظلوم اسرائیل ظالم ہے۔ اب سوال ہے کہ 1948میں یہ تنازعہ ہے اب تک تقریبا پاکستان جیسی عمر ہے ۔ظلم ہو گیا، بچے مر گئے عورتیں مرگئیں بڑے مرگئے کیا یہ بچے پہلی دفعہ مرے ہیں؟، یہ 1948سے مر رہے ہیں ٹھیک ہے نا ۔ اس شور شرابے سے فلسطینیوں کو کیا فائدہ ہوا ؟۔ کیا تبدیلی آئی ؟،کیا وطن مل گیا بچے مرنے سے بچ گئے؟، مجھے کوئی فائدہ کوئی چیز بتائیں۔ قیامت تک میں کہوں گا، سو سال بعد بھی یہی کہہ رہے ہوں گے بچے مر گئے، اسرائیل ان کو مار رہا ہوگا یہ ان پہ حملے کر رہے ہوں گے یہ دہشت گردیاں کر رہے ہوں گے۔

سوال: جب وہ مار رہا ہو تویہ ظلم نہیں لگتا کہ اگر ہم کچھ کر نہیں سکتے تو ہم کیا ایک مظلوم کے حق میں بولیں بھی نہیں۔
ارشد محمود: میرے سننے والے ہیں شاید سمجھ سکیں میرا گھر ہے ، میرے ماں باپ کا کوئی گھر تھا انہوں نے قبضہ کیا ہو۔ بڑے طاقتور، بدمعاش، دولت والے ہیں میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوں ۔ انکے ساتھ میں پنگا کروں گا تو یہ میرے بچوں کو مار دیں گے۔ تو ہرگز پنگا نہیں کروں گا میں کیوں راہ چلتے میں انہیں انگل دوں ، گھر میں پتھر پھینکنے دوں، گالی گلوچ دوں ۔اگر اپنے بچوں کو کہوں کہ کنکریاں مارو۔ تو جواب میں وہ میرے بچوں کو قتل کر دیں گے تو میں تو کبھی اپنے بچوں کو مروانے پہ راضی نہیں ہوں گا۔ یہ فلسطینی 1948سے 78سال سے بچوں کو مروا رہی ہیں مسلسل مروائے چلے جا رہے ہیں اور ان کی صحت پہ اثر نہیں ہوتا ساری دنیا دکھ کا، غم کا اور ظلم کا اظہار کرتی ہے۔ میں ہوں سولیوشن سائٹ کی طرف۔ میں ایک امن پسند آدمی ہوں۔ اگر میرا حق جاتا رہے لیکن زندہ رہوں اور میری میرے بچے زندہ رہیں تو میں تو اس طرف جاؤں گا۔ میں نہیں چاہوں گا کہ میری زندگی ہلاکتوں میں گزرے۔ مرنے مارنے پہ گزرے میری نسل در نسلیں لڑتی اور مرتی رہیں۔ آپ لوگوں کا قبائلی ذہن ہے، نسل در نسل مروانے والے جو فلسطینیوں کو سپورٹ کر رہے ہیں، ان کو مرواتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ شاباش لڑتے رہو مرتے رہو اسرائیل پہ حملے کرتے رہو، لوگ اٹھاتے رہو۔ یار ایک دن میں 1200لوگوں کا ایک فنکشن میں میوزک کنسرٹ ہورہا تھا ، ان کا قتل عام کر دیتے ہیں یہ کوئی چھوٹی سی بات ہے ؟، 300لوگ جن میں بچے عورتیں اور بوڑھے ہیں ان کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اگر یہ تماشے کرتے رہیں لڑتے رہیں مرتے رہیں آپ اسرائیل کا ماتم کرتے رہیں۔ اسرائیل کا ماتم کر کے 70-80 سال اس کا کیا بگاڑا لیاہے؟۔ وہ کمزور ہوا ہے 70-80 سال سے مجھے آپ یہ بتائیں ۔ہاں ناں تو کریں نا۔ کمزور ہوا ہے کہ طاقتور ہوا ہے؟۔

شہریار وڑائچ: وہ تو طاقتور ہی ہوا ہے۔
ارشد محمود: فلسطینی نے اپنی کچھ انچ زمین لے لی، یا جو پاس تھا وہ بھی کھو دیا بلکہ کمزور ہوئے ہیں۔ یہ 7اکتوبر آج سے ڈیڑھ دو سال پہلے غزہ جیتا جاگتا کوئی جگہ تھی نا، انکے ا سکول تھے، ہاسپٹل بھی، لائف ہوگی، ہزاروں لاکھوں فلسطینی زندہ ہوں گے، ماں باپ بچے اپنے بچوں کیساتھ پیار سے رہ رہے ہوں گے نا۔ تو آج وہی غزہ کی حالت ہے دیکھ لیں تو پایا کیا؟۔ یہ مستقل تنازعہ ہے۔ میرے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ مستقل تصادم کو زندہ رکھ رہے ہیں وہ 800سال میں بھی پورا نہیں ہونا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

1500سو سالہ جشن ولادت مصطفی ۖ

(1447ہجری۔2025عیسوی)
پیدائش سے ہجرت تک53سال
ہجرت سے اب تک1447سال
1447+53=1500

رحمت للعالمینۖ کی آمد سے یہودونصاریٰ عیسٰی کی شخصیت سوزی و سازی پر نرم پڑگئے ۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی منیب الرحمن سو دپر متفق مگر جشن ولادت پر نہیں؟۔ ڈیڑھ سو سالہ جشن دیو بند پر دیوبندی اکٹھے ۔ڈیڑھ ہزار سالہ جشن میلاد پر بریلوی منتشر؟۔ غسل ،وضو ، نماز کے فرائض حتی کہ قرآن پر اختلافات برداشت مگر مستحب دعا پر نہیں؟۔واہ !

ہو سود سے برباد تو بریشم کی طرح نرم
ہو فرقے کا فساد تو فولاد ہے مؤمن

علامہ تراب الحق قادری نے کہا”پوٹی کے بعد دبر سے پھول نما آنت کو دھویا ، دخول سے پہلے سکھایا نہیںتو روزہ ٹوٹ گیا۔ کھلا بیٹھنے اور سانس سے پانی معدہ تک پہنچے گا”۔ مفتی عزیز الرحمن کی مناپلی صابر شاہ ، عابد شاہ جیسے کردار کے مالک علماء اور پیر بن کر مسلکوں کا پرچار کریںگے تووہ اپنے مطلب کے فقہی مسائل بیان کریں گے۔ اسلام نے دنیا کو اپنی روشنی سے ایسا تبدیل کردیا کہ جیسے رات کا گھپ اندھیراسورج کی روشنی سے بدل جاتا ہے لیکن خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کی سرپرستی میں چھوٹی ذہنیت رکھنے والے مذہبی طبقات نے دن دیہاڑے اللہ کے دین کو اجنبیت کا شکار بنادیا۔یہود حلالہ کی لعنت میں مبتلا تھے اور عیسائی کے ہاں طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا جبکہ قریش دین ابراہیمی پر یہودونصاریٰ کی نسبت دین فطرت کے زیادہ قریب تھے اور جہالت و مفادپرستی کا شکار بھی۔

سیالکوٹ کے پنجابی مولانا عبیداللہ سندھی،جھنگ کے بلوچ خلیفہ غلام محمد سندھ ڈھرکی سکھر کے مرید۔ وزیرستان کا مظفرشاہ شہید خلیفہ غلام محمدکے مرید، مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید میرے استاذ و پیر بھائی۔خانپور ہمارا دل ہے جواسلام کی نشاة ثانیہ اور پاکستانیوں کیلئے حقیقی مرکزہے۔


خان پور میں فکری بیداری کا خاموش سفر
تحریر: ظفر اقبال جتوئی۔ نمائندہ نوشتہ دیوار: شاہ نواز تہیم۔

خان پور صرف دریا کنارے بسا ایک شہر نہیں، بلکہ تہذیب، روایت، اور فکری جمالیات کا ایک جیتا جاگتا منظرنامہ ہے۔ جو حالیہ دنوں ایک ایسی ادبی و فکری سرگرمی کا مرکز رہا جو عمومی اخباری رجحانات سے یکسر مختلف تھی۔ ہم بات کر رہے ہیں ”نوشتہ دیوار”کی، جو روایتی اخبار نہیں بلکہ یہ ماہنامہ شعور نامہ ہے، جو جلد10،شمارہ 8کی صورت میں خان پور کی فکری فضاؤں میں خوشبو بکھیر گیا۔یہ صرف خبریں دینے والا ایک پرچہ نہیں، بلکہ یہ با مقصد تحریری جہد کا تسلسل ہے۔ یہ ان موضوعات کو زبان دیتا ہے جنہیں دیگر اخبارات یا تو نظرانداز کر دیتے ہیں یا سرے سے ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ یہ اخبار فکری افلاس، طبقاتی تضاد، وسیبی محرومی، اور ثقافتی تنہائی جیسے اہم مگر غیر مقبول موضوعات کو صفحہ قرطاس پر وہ درجہ دیتا ہے جس کے یہ بجا طور پر مستحق ہیں۔شمارہ نمبر8کی خان پور میں تقسیم ایک غیر روایتی اور شعوری عمل تھا۔ یہ نہ صرف ایک ماہنامہ کی ترسیل تھی، بلکہ فکری مکالمے کو نئے مقامات تک لے جانے کی ایک بیدار شعور کوشش بھی تھی۔ اس عمل میں مقامی تعلیمی اداروں، صحافتی تنظیموں، ادبی حلقوں، اور فلاحی اداروں کو شامل کیا گیا۔ مقصدتھا کہ پیغام ان ہاتھوں تک پہنچے جو صرف خبروں کے قاری نہیں بلکہ سوچنے، پرکھنے ، سوال اٹھانے والے اذہان رکھتے ہیں۔ نوشتہ دیوار کا یہ شمارہ اپنے مواد، طرزِ پیشکش اور موضوعاتی جرأت کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ محض سطحی رپورٹس یا سرخیوں پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ ہر موضوع کو اس کی اصل روح کیساتھ پیش کرتا ہے۔ اخبار میں شائع تحریریں مختصر ہونے کے باوجود گہرائی رکھتی ہیں، قارئین کو صرف اطلاع نہیں بلکہ ادراک فراہم کرتی ہیں۔یہ شمارہ قرآن کریم کی بہتر تشریح، وسیب کی ثقافت، مزاحمت کی علامت بنتے کرداروں ، روزمرہ کے تضادات کو ایسی زبان دیتا ہے جو براہِ راست قاری کے ضمیر سے ہمکلام ہوتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ”نوشتہ دیوار”کو محض اشاعت نہیں بلکہ ادبی تحریک بناتی ہے۔خان پور میں اس کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شہر میں اب بھی فکری پیاس باقی ہے اور لوگ ایسے مواد کی قدر کرتے ہیں جو عام دھارے سے ہٹ کر ہو۔ یہ خاموش بیداری کا ایسا عمل ہے جو شاید روز کی خبروں کی ہنگامہ خیزی میں دب جائے، مگر اپنی گہرائی اور اثر پذیری کے اعتبار سے طویل عرصے تک ذہنوں میں نقش رہتا ہے۔اس کی تقسیم یادگار واقعہ ہے۔ نیا قاری، نیا سوال اور نئی سوچ کا بیج بو دیا۔ اس کا دائرہ اخبار پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ یہ گفتگو، مکالمے اور سوالات کا محرک بھی بنا۔”نوشتہ دیوار”نے ثابت کیا ہے کہ اگر صحافت کو محض کاروبار کے بجائے شعور کی خدمت بنا دیا جائے، تو یہ ایک ایسا ہتھیار بن سکتا ہے جو بیداری، فہم، اور تبدیلی کی راہ ہموار کرے۔ جلد20کا شمارہ نمبر8خان پور میں جس خاموشی سے آیا، اسی گہرائی سے دلوں میں اتر گیا، اور ایک غیر محسوس ادبی انقلاب کی بنیاد رکھ گیا۔


امریکی سیاستدان گومیز نے قرآن کو نذر آتش کیا اورخدا سے مدد مانگ لی!

ڈونلڈ ٹرمپ کی حامی سیاستدان ولیٹینا گومیز نے قرآن کو فائر گن سے نذر آتش کیااور کہا ہے کہ اسلام کا ٹیکساس سے خاتمہ کردوں گی۔ مسلمان ہماری تہذیب پر حملہ آور ہیں۔ یہ عیسائی ریاستوں پر قبضہ کرکے عیسائی عورتوں سے جبری جنسی زیادتی چاہتے ہیں ۔میں خدا سے مسلمانوں کے خلاف مدد مانگتی ہوں۔ صرف اسرائیل کا خدا برحق ہے ۔اسلام بالکل فراڈ ہے اور ٹیکساس میں مسلمانوں نے رہنا ہے تو قرآن سے اپنا تعلق ختم کرنا ہوگا۔ قرآن کو فائر گن سے جلاکر اس کی ویڈیو جاری کی اور تعصبات کو خوب ہوا دی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مہدی العبقری (عبقری مہدی) جو اپنے زمانے سے آگے ہے اور لوگوں کو حیران کر دیتا ہے۔

اللہ آپ کے اوقات کو خیر اور محبت سے معمور کرے۔ عنقاء مغرب چینل میں آپ کا خیرمقدم ہے۔ آج کی ہماری قسط کا عنوان ہے

مہدی العبقری (عبقری مہدی) جو اپنے زمانے سے آگے ہے اور لوگوں کو حیران کر دیتا ہے۔

فطرتاً لوگ اُس چیز سے ڈرتے ہیں جسے وہ نہیں سمجھتے۔ جب وہ پہلی بار مہدی سے ملتے ہیں تو اُس کی موجودگی سے ایک عجیب سا احساس اُن پر طاری ہوتا ہے، ایک ایسا احساس جسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے۔ اُس میں راحت بھی ہے اور بےچینی بھی، اُس میں ہیبت بھی ہے اور سادگی بھی، اُس میں قوت بھی ہے اور خاموشی بھی۔ وہ ہرگز پاگل نہیں ہے، مگر وہ اُنہیں اس قدر حیران کر دیتا ہے کہ وہ اپنی حیرت کو پاگل پن کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں تاکہ اپنے دل کو تسلی دے سکیں۔ انسان جب کسی چیز کی عقلی توجیہہ نہ پائے تو اُسے پاگل پن کا نام دے دیتا ہے تاکہ خود اپنے حواس پر قابو رکھ سکے۔

لوگ دیکھتے ہیں کہ وہ غیر معمولی انداز میں زندگی گزارتا ہے۔ وہ اپنے وقت سے آگے بڑھا ہوا لگتا ہے۔ وہ ان چیزوں پر بات کرتا ہے جو ابھی آنے والی ہیں، گویا وہ آنے والے کل میں جی رہا ہے جبکہ باقی سب لوگ آج میں اَٹکے ہوئے ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس زمانے کا آخری سانس ہے، سورج غروب ہونے سے پہلے کی آخری روشنی۔ کبھی کبھی وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اِس دنیا کو اُس کی انتہا کی طرف بڑھتا دیکھنے والا واحد شخص ہے۔

اس سب کے باوجود وہ معاملات کو سمجھنے میں عبقری (ذہین) ہے۔ وہ حالات کو فوراً پڑھ لیتا ہے، اور بغیر پوچھے لوگوں کی حقیقت پہچان لیتا ہے۔ وہ باتوں کے درمیان چھپے اشاروں کو سمجھ لیتا ہے، اور چہروں کے پیچھے کی حقیقت پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اُس پر ایسے راز کھول دیتا ہے جو باقی لوگ نہیں سمجھ سکتے۔

یہ عبقری شخص دوسروں کے ساتھ ایک متوازن تعلق میں نہیں رہ پاتا۔ اگر وہ محبت کرے تو دل کی گہرائی سے کرتا ہے، حتیٰ کہ اپنی جان جلا دینے تک دے دیتا ہے، مگر دوسرا فریق اُس شدید محبت سے گھبرا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایسی سچی محبت کا عادی نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ کسی سے خلوص دکھائے تو اپنی روح تک نچھاور کر دیتا ہے، مگر لوگ اس قربانی کو سمجھ نہیں پاتے اور اُس سے دور ہو جاتے ہیں۔

جب وہ کسی مجلس میں بیٹھتا ہے تو دوسروں کے ساتھ گھل نہیں پاتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ اُن کے خواب بہت چھوٹے ہیں، حالانکہ وہ اُن سے محبت کرتا ہے، مگر یہ سوچ کر تڑپتا ہے کہ وہ اُن کے دلوں کو بدل نہیں سکتا۔ اسی لیے مہدی کو اکثر لگتا ہے کہ وہ معاشرے میں نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ معاشرے کا سب سے بڑا عبقری ہے۔ وہ خود کو ایک اجنبی محسوس کرتا ہے، چاہے ہزاروں لوگ اُس کے گرد کیوں نہ ہوں۔ وہ اُن کے دلوں میں رہتا ہے مگر اُن جیسا نہیں ہے، اور یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ وہ اکیلا ہے، چاہے اُس کے ہزار دوست اور ہزار رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں۔

وہ ایک ایسا مرد ہے جو اپنے زمانے سے آگے ہے، لیکن اُسے لگتا ہے کہ وہ بہت دیر سے آیا ہے تاکہ اُس ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرے جو صدیوں پہلے ٹوٹ گئی تھی۔ اور اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ اُسے دوسروں کی طرح پیدا نہیں کیا گیا بلکہ وہ وہ کچھ دیکھتا ہے جو باقی لوگ نہیں دیکھ سکتے، اور وہ بوجھ اُٹھاتا ہے جو باقی لوگ نہیں اُٹھا سکتے۔

یہ گہرا تضاد — کہ وہ سب سے آگے بھی ہے اور سب سے آخر بھی — اُس کے اندر ایک خاموش جنگ پیدا کرتا ہے۔ یہ جنگ کبھی کبھی اُس کی لمبی خاموشی اور دور اُفق کی طرف اُس کی گہری نظریں ٹکائے رکھنے میں نظر آتی ہے۔ وہ عام زندگی نہیں گزار سکتا کیونکہ اُس کا دل غیرمعمولی حقیقتوں سے جڑا ہے، وہ اللہ کے راز سے جڑا ہے، اور ایک ایسے زمانے سے جڑا ہے جو ابھی آیا نہیں۔ اگر آپ اُس کے قریب جائیں تو یہ حقیقت آپ پر عیاں ہو جائے گی۔

لوگ اُس کو نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ وہ پاگل ہے، مگر اگر وہ اُسے سچ میں سمجھ لیں تو اپنی عقل کھو بیٹھیں۔ یہی مہدی کی شخصیت کا سب سے بڑا راز ہے:

وہ ایک ایسا مرد ہے جو عبقریت کو درد کی طرح جیتا ہے، نبوت کو ذمہ داری کی طرح جیتا ہے، صبر کو امتحان کی طرح جیتا ہے، اور تنہائی کو مقدر کی طرح۔

وہ ایک ایسا شخص ہے جسے یہ دنیا سمیٹ نہیں سکتی اور نہ ہی لوگ اُسے سمجھ سکتے ہیں۔

وہ ہمیشہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے مگر اُن میں سے نہیں۔ وہ اُن کے ساتھ ہوتا ہے مگر اُن کے لیے نہیں۔ وہ اُن سے محبت کرتا ہے، حالانکہ وہ اُسے نہیں سمجھتے۔ وہ اُن کا بوجھ اُٹھاتا ہے، حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اُنہیں محسوس نہیں کرتا۔

جو شخص مہدی سے قریب ہوتا ہے وہ کبھی بھی ویسا نہیں رہتا جیسا پہلے تھا، کیونکہ یہ شخصیت بڑی خاموشی سے روحوں کا راستہ بدل دیتی ہے اور یادداشت میں ایک ایسا نقش چھوڑ دیتی ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ اور یہی مہدی کی شخصیت کا سب سے بڑا راز ہے: وہ ایک مرد ہے جو عبقریت کو درد کی طرح، نبوت کو ذمہ داری کی طرح، صبر کو امتحان کی طرح، اور تنہائی کو مقدر کی طرح جیتا ہے۔ وہ ایسا شخص ہے جسے دنیا اپنی حدود میں قید نہیں کر سکتی، اور نہ ہی لوگ اُس کی اصل حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔

اسی لیے تم ہمیشہ اُسے دیکھو گے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہتا ہے مگر اُن میں سے نہیں ہوتا، اُن کے ساتھ ہوتا ہے مگر اُن کے لیے نہیں۔ وہ اُن سے محبت کرتا ہے مگر وہ اُسے سمجھ نہیں پاتے، وہ اُن کا بوجھ اُٹھاتا ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اُنہیں محسوس نہیں کرتا۔

گہری کھائی میں چلنے والا انسان:

جب تم مہدی کو دیکھتے ہو تو تمہیں لگتا ہے کہ اُس نے سب کچھ جھیل لیا ہے — سخت آزمائشیں، بار بار کی ناکامیاں، دل کو چیر دینے والی جدائیاں، بھاری تنہائی، ایسے صدمات جو کسی انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوں، اور قریبی لوگوں کی غداریاں۔ تم سوچتے ہو کہ وہ سب کچھ سہہ کر اور مضبوط ہو کر باہر نکلا ہے، زیادہ باشعور ہو گیا ہے، زیادہ پاکیزہ ہو گیا ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے باہر نہیں نکلا۔ وہ آج بھی ان سب چیزوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ لوگوں کی نظر میں وہ ایک پہاڑ کی طرح مضبوط لگتا ہے، لیکن اپنی نظر میں وہ کھائی کے سب سے نچلے حصے میں کھڑا ایک شخص ہے جو آسمان کو دیکھ رہا ہے، اور جانتا ہے کہ وہاں نہیں پہنچ سکتا جب تک اللہ نہ چاہے۔

ہر تجربہ جو اُس نے گزارا، اُس کے شعور کو بڑھاتا رہا، مگر اُس کے اندر یہ احساس بھی بڑھتا گیا کہ وہ سب سے زیادہ دور ہے، سب سے زیادہ اکیلا ہے۔ وہ انسانوں میں رہتا ہے مگر اُن کا نہیں لگتا، گویا یہ زندگی بس گزر رہا ہے مگر پکڑ نہیں رہا۔

وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ مسلسل اس کھائی کی طرف بڑھ رہا ہے، بلکہ یوں کہو کہ وہ پہلے ہی کھائی میں رہ رہا ہے۔ وہ اندھیروں کو بار بار دیکھتا ہے، چاہے کتنی بھی اصلاح کی کوشش کرے۔ وہ دلوں کو بند دیکھتا ہے، چاہے کتنی ہی نرمی اور سچائی سے اُنہیں کھولنے کی کوشش کرے۔ وہ رات کو حد سے زیادہ طویل محسوس کرتا ہے، چاہے اُمید کے کتنے ہی چراغ جلائے۔

مہدی کی اندرونی کیفیت:

وہ محسوس کرتا ہے کہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود آخر میں وہ وہیں آ کر رک جاتا ہے —
ایک گہری تنہائی، ایک خاموش غم، ایک جلتا ہوا دل جسے کوئی نہیں دیکھ پاتا۔
وہ کسی سے شکوہ نہیں کرتا، مگر وہ اس بوجھ کو ہمیشہ محسوس کرتا ہے۔
یہ بوجھ اُس کی خاموشی میں، اُس کی آنکھوں میں، اور اُس کی لمبی دعاؤں میں چھپا رہتا ہے جب وہ رات کے آخری پہر اپنے رب سے ہمکلام ہوتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ چاہے وہ کچھ بھی کرے، وہ ہمیشہ اس درد کا قیدی رہے گا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا مشن اُس کی طاقت سے بڑا ہے اور اُس کے پاس اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں۔ اُس کے پاس اگر کچھ ہے تو وہ اُس کا صبر اور اللہ سے تعلق ہے۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جب لوگ اُسے دیکھتے ہیں تو اُنہیں ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ خود کھائی (گہری اندھیروں) میں رہتا ہے، مگر دوسروں کو امید دیتا ہے۔ جیسے کہہ رہا ہو:

کھائی میں بھی اللہ موجود ہے۔

لوگ حیران ہوتے ہیں کہ یہ شخص اندر سے ٹوٹا ہوا ہے، پھر بھی اس کے پاس اتنی طاقت کہاں سے آتی ہے؟ یہ اتنا مجروح ہے، پھر بھی اس میں اتنی رحمت کیسے ہے؟ یہ خود اندھیروں میں ڈوبا ہے، پھر بھی دوسروں کو امید کی روشنی کیسے دیتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مہدی اس تضاد کو مسلسل جیتا ہے —
وہ درد جھیلتا ہے تاکہ دوسروں کو رحمت دے سکے،
وہ تنہائی جھیلتا ہے تاکہ دوسروں کو رفاقت دے سکے،
وہ خاموش رہتا ہے تاکہ دوسروں کو کلمۂ حق دے سکے،
وہ کھائی میں رہتا ہے تاکہ دوسروں کو اوپر اٹھنے کی امید دے سکے۔

اور جب لوگ اُس سے ملتے ہیں تو اُنہیں اُس کی نظروں میں یہ جنگ نظر آتی ہے، اُس کی ہلکی سی مسکراہٹ میں وہ چھپے آتش فشاں دیکھتے ہیں، اور اُس کی مختصر باتوں میں وہ سالوں کے دکھ محسوس کرتے ہیں جو اُس نے کسی سے بیان نہیں کیے۔

مہدی کی اصل طاقت:

وہ ایسا شخص ہے جو کھائی میں رہتے ہوئے بھی نہیں گرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اُس کے ساتھ ہے، چاہے وہ کھائی کے سب سے نچلے مقام پر کیوں نہ ہو۔
جو بھی اُس کے قریب آتا ہے، سمجھ لیتا ہے کہ مہدی کوئی عام شخص نہیں ہے، وہ عام زندگی نہیں گزارتا۔
وہ ایک ایسے کنارے پر چل رہا ہے جہاں ہر دن فنا کی طرف ایک قدم ہے، لیکن وہ پھر بھی مسکراتا ہے کیونکہ اُس کا دل صرف اللہ سے جڑا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ یہی کھائی اُس کا واحد راستہ ہے جو اُسے اللہ کے وعدے تک لے جائے گی جو اُسے آخرکار نصیب ہونا ہے۔

مہدی کی باطنی کیفیات اور تضاد:

مہدی کی شخصیت ایک مسلسل تغیر (تبدیلی) میں رہتی ہے۔
وہ عام لوگوں کی طرح ایک ہی فطرت یا رویے پر جم نہیں جاتا۔
کبھی تم اُسے دیکھو گے تو وہ نرم دل اور معاف کرنے والا ہوگا، کسی سے ٹکراؤ نہیں چاہے گا، سب کو رحمت کی نظر سے دیکھے گا۔
اور کبھی تم اُسے دیکھو گے تو وہ تلوار کی طرح سخت ہوگا، غلطی برداشت نہیں کرے گا، حق قائم کرے گا اور کسی کی پرواہ نہیں کرے گا۔

یہ تبدیلیاں کسی نفسیاتی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہوتیں، بلکہ یہ اُس کی روح کے آئینے کی عکاسی ہیں۔
وہ ہر لمحے حق کی عکاسی کرتا ہے۔
جب خیر دیکھتا ہے تو اُس کے ساتھ مہربان ہو جاتا ہے،
اور جب ظلم دیکھتا ہے تو اُس کا دل شعلہ بن جاتا ہے۔
وہ ہر لمحے کو صدقِ دل سے جیتا ہے، کوئی مصنوعی کردار ادا نہیں کرتا بلکہ دل میں جو ہے اُسے سچائی سے ظاہر کرتا ہے۔

اسی لیے لوگ اُس کے بارے میں حیران رہ جاتے ہیں:
کیا وہ رحم دل انسان ہے یا سخت؟
کیا وہ سادہ ہے یا گہرا اور پیچیدہ؟

مہدی کی شخصیت میں یہ دونوں کیفیتیں — نرمی اور سختی — ساتھ ساتھ موجود ہیں، اور یہی بات لوگوں کو الجھا دیتی ہے۔
کبھی وہ انتہائی سادہ اور عاجز لگتا ہے، جیسے ایک عام آدمی، اور کبھی وہ اتنا پیچیدہ نظر آتا ہے کہ لوگ اُس کی گہرائی کو سمجھ نہیں پاتے۔
یہ سب اُس کی روح کی حقیقت کا عکس ہے۔ وہ انسان نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہر وقت حق اور باطل کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔

مہدی کا درد اور مشن:

مہدی جانتا ہے کہ اس دنیا میں اُس کے لیے سکون ممکن نہیں، کیونکہ اُس کا دل اللہ کے راز سے جڑا ہے اور اُس کی جان ایک ایسے بوجھ سے بندھی ہوئی ہے جو عام لوگ اٹھا نہیں سکتے۔
وہ صبر کو اپنی ڈھال بنائے رکھتا ہے، کیونکہ اُس کے پاس اپنی ذات پر اختیار نہیں۔
لوگ جب اُسے دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ وہ کس طرح مسکرا سکتا ہے، حالانکہ اُس کا دل دکھ سے بھرا ہوتا ہے۔
وہ دوسروں کے لیے امید کا چراغ بنتا ہے، حالانکہ وہ خود اندھیروں میں جل رہا ہوتا ہے۔

مہدی کا اثر:

جو بھی مہدی کے قریب آتا ہے، اُس کی زندگی بدل جاتی ہے۔
وہ انسانوں کے دلوں کی سمت بدل دیتا ہے، چاہے وہ خود اس بات سے واقف نہ ہوں۔
وہ روحوں کے راستے پر ایک ایسا نشان چھوڑتا ہے جو کبھی مٹتا نہیں۔
لوگ اُس کے الفاظ بھول سکتے ہیں، لیکن اُس کی آنکھوں اور سکوت کا اثر نہیں بھولتے۔

آخری حقیقت:

مہدی کی زندگی درد اور قربانی کی ایک طویل کہانی ہے۔
وہ اپنے زمانے سے آگے بھی ہے اور پیچھے بھی،
وہ آخری لمحے کی آواز بھی ہے اور آنے والے زمانے کا پیامبر بھی۔
دنیا کے لوگ اُسے پوری طرح کبھی نہیں سمجھ سکیں گے۔
وہ اُن کے ساتھ ہوگا، مگر اُن میں سے نہیں۔
وہ اُن کے لیے دعا کرے گا، حالانکہ وہ اُس کے دل کو نہ پہچانیں گے۔
وہ اُن سے محبت کرے گا، حالانکہ وہ سمجھیں گے کہ وہ اُنہیں نہیں دیکھتا۔

گزشتہ سال امام مہدی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا خلاصہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الأمین سیدنا محمد و علی آلہ و صحبہ أجمعین۔

خلاصہ اس بات کا کہ امام مہدی کے ساتھ اس سال کیا واقعہ پیش آیا— یہ ہم نے خوابوں، رؤیاؤں اور زمینی حقائق کی پیش رفت سے اخذ کیا ہے۔ ہمیں امام مہدی کی ذاتی حیثیت سے کوئی معرفت حاصل نہیں، نہ ہی کسی اور کو ہے۔ وہ ایک عام انسان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن یہ وہی مہدی ہیں جن کے بارے میں کوئی یقینی طور پر اس وقت تک نہیں جانتا۔

سال 2024 میں جو کچھ ہوا، اس کی جھلک کچھ یوں ہے:

جو کچھ بھی امام مہدی کے ساتھ اس سال میں پیش آیا، وہ زیادہ تر رؤیاؤں اور زمینی حقائق کو ایک مخصوص منظرنامے کے ساتھ جوڑ کر اخذ کیا گیا۔ یہ سب ان کی بیعت اور اصلاح کی طرف قدم بہ قدم پیش رفت کا حصہ ہے۔

ابتدائی آزمائشیں:

امام مہدی کو شدید آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے ایک ایسی بھی تھی جس نے بظاہر انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے سے دور کر دیا۔ تاہم ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص نگہداشت میں ہیں۔ ان کی ہر ایک قدم اللہ کے حکم سے طے شدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے— اگر وہ دور کیے جائیں، تو کسی حکمت کے تحت، اور اگر قریب کیے جائیں، تو محض محبت اور شفقت کے تحت۔ اللہ انہیں اپنی نگرانی میں پرورش دیتا ہے، کبھی قریب کرتا ہے، کبھی دور، حتیٰ کہ ان کے لیے ایک خاص وقت آ جائے— اور وہ وقت ہے اصلاح کا۔

اصلاح کی ابتدا:

جس وقت امام مہدی کی اصلاح ہوگی، ان کا ظہور ہوگا، اور بیعت قریب آ جائے گی۔ جو آزمائش ان پر آئی، اس نے انہیں بظاہر اللہ سے دور کر دیا، اور ان کے اور رب کے درمیان ایک قسم کی دوری پیدا ہوئی۔ شاید وہ کسی خاص عنایت کے منتظر تھے، یا اس آزمائش کے ہونے کی توقع نہیں رکھتے تھے۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، انہیں سمجھ آیا کہ اللہ کا جو بھی فیصلہ ہوتا ہے، وہی خیر پر مبنی ہوتا ہے۔ انہوں نے صبر کیا، دل سے اعتراض نہیں کیا، اور نہ ہی گناہ گاروں کی طرح رب سے دور ہوئے، بلکہ محبوب کی ناراضگی کی طرح، ایک شکوے اور عتاب کی کیفیت میں رہے۔

اللہ سے تعلق کی گہرائی:

اللہ کے خاص بندوں کے اور بھی طریقے ہوتے ہیں، جو نہ دل سمجھ سکتا ہے، نہ عقل۔ یہ ایک ذوقی، روحانی راہ ہے۔ وہ اللہ سے ایسے تعلق میں ہوتے ہیں جیسے محبوب سے، ایک ایسا تعلق جس میں وہ ہر نظر میں، ہر مخلوق میں، ہر چیز میں اللہ کی جلوہ گری دیکھتے ہیں۔

ایسا یقین کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں۔ اگر وہ دنیا سے رخصت ہو کر آخرت میں پہنچ بھی جائیں، تو اللہ پر ان کا یقین ویسا ہی رہے گا جیسے دنیا میں تھا، کیونکہ یہ تعلق محض عقلی نہیں، بلکہ دید کی کیفیت میں ہوتا ہے۔

آزمائش کے بعد تقرب:

اس آزمائش نے انہیں بظاہر رب سے دور کیا، لیکن دل کے اعتبار سے وہ پختہ یقین اور استقامت پر قائم رہے۔ وہ رب سے صرف محبت کی بنیاد پر ناراض تھے، نہ کہ گناہ کی بنیاد پر۔

کچھ لوگ اس پر اعتراض کریں گے، لیکن اللہ کے اولیاء کا رب سے تعلق غلام اور آقا کا نہیں ہوتا، بلکہ ایک شفیق باپ، دوست، رفیق اور محبوب کا ہوتا ہے۔ وہ رب سے انس رکھتے ہیں، دنیا سے وحشت کرتے ہیں۔

اگر ان میں سے کسی کو خلوت سے نکال کر باہر لایا جائے، تو گویا جنت سے نکال کر دوزخ میں لے آئے ہوں۔ جب عام لوگ تنہا ہوں تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں، لیکن یہ اولیاء خلوت کو نعمت جانتے ہیں۔

ذکر میں لذت:

یہ خلوت اللہ سے انس کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ وہ تنہائی میں اللہ کے ذکر، تسبیح اور نماز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص صرف ایک گھنٹے کے لیے کسی انتظارگاہ میں بیٹھے تو بیزار ہو جاتا ہے، لیکن اولیاء کو اس ذکر میں ایسی لذت ملتی ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔

جس نے یہ لذت چکھی ہے، وہی اس کی حقیقت جانتا ہے۔ اسی لیے بعض صالحین کہتے تھے: "ہم ایک ایسی لذت میں ہیں، اگر بادشاہوں کو اس کا علم ہو جائے تو وہ تلواروں سے ہم پر حملہ کر دیں۔”

مزید تقرب اور پختگی:

2024 کی آزمائش کے بعد امام مہدی کا اللہ سے قرب مزید بڑھا، ان کی معرفت وسیع ہوئی۔ پہلے وہ اللہ کو صرف ایک پہلو—رحمت، محبت، شفقت، باپ جیسی مہربانی—سے جانتے تھے، مگر اب ان کا فہم بڑھا۔

اگر کوئی اس پر اعتراض کرے تو اللہ تعالیٰ نے خود کو "الحنان”، "المنان”، "الودود” کہا ہے۔ اگر یہ صفات ہمارے ساتھ اس کے سلوک میں ظاہر نہ ہوتیں، تو وہ ان سے متصف کیوں ہوتا؟

تجربات اور عملیت:

امتحانات نے ان کی شخصیت کو نکھارا، تجربات نے ان کا وزن بڑھایا۔ اب وہ ایک مجرب، عملی انسان بن چکے ہیں۔ اصلاح کے قریب آ چکے ہیں، حالانکہ مکمل اصلاح ابھی نہیں ہوئی۔

ان کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے، گو کہ ابھی مکمل مالی تحفظ حاصل نہیں۔ اللہ کے اولیاء کے نزدیک مال محض ایک ذریعہ ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو دنیا کی تمام دولت رکھتے ہیں مگر اللہ کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

مال اور اللہ کے تعلق کی نوعیت:

اللہ جانتا ہے کہ اس کے بعض اولیاء کی اصلاح صرف مال کے ساتھ ہی ممکن ہے، کیونکہ وہ جب مال کی حالت میں ہوتے ہیں تبھی اللہ کے ساتھ ان کا تعلق مکمل ہوتا ہے۔ یہ سب اللہ کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔

دنیا میں عام لوگوں کا رزق ان کی محنت سے ہوتا ہے، چاہے وہ چوری، فریب یا محنت سے حاصل ہو، مگر اولیاء کی دنیا الگ ہوتی ہے۔

خاتم الاولیاء اور خلیفہ:

امام مہدی نہ صرف مہدی ہیں بلکہ خاتم الاولیاء اور خلیفہ بھی ہیں۔ خلیفہ دنیا اور دین دونوں کے معاملات سنبھالتا ہے۔ دینی امور میں، ہم سمجھتے ہیں، کہ وہ فارغ ہو چکے ہیں، اب صرف دنیاوی پہلو کی اصلاح باقی ہے۔

یہ اصلاح انہوں نے اپنی خواہش اور اللہ کے حکم سے مؤخر کی تھی، لیکن اب ان کے پاس وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی اعلیٰ درجے کے عالم، تاجر یا کاروباری شخص کے پاس ہو سکتی ہیں۔

حکمت اور قیادت کی صلاحیت:

اب وہ خود پر اعتماد رکھتے ہیں، مسائل کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے اندر جذباتی استقامت آ چکی ہے، وہ زیادہ سمجھدار، بردبار اور عاقل ہو چکے ہیں۔

جوانی کی بے احتیاطی پیچھے رہ گئی، اور اب وہ عمرِ حکمت—چالیس سال—کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب وہ نہ ماضی کی آزمائشوں سے پریشان ہوتے ہیں، نہ مستقبل کے خدشات سے۔

وہ جان چکے ہیں کہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سستی اختیار کرتے ہیں، وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں، اسباب اختیار کرتے ہیں، پھر نتیجے کو اللہ پر چھوڑتے ہیں۔

مالی استحکام:

مالی اعتبار سے ان کی حالت بہتر ہو گئی ہے، اب ان کے پاس آمدنی ہے۔ شاید وہ آمدنی کافی نہ ہو، مگر پہلے سے بہتر ہے۔ اگرچہ یہ درمیانے طبقے کی آمدنی نہیں، مگر ان کے سابقہ حالات کے مقابلے میں یہ ایک نعمت ہے۔

اصلاح کے قریب:

اب وہ اصلاح کے بہت قریب ہیں۔ ان کی دنیاوی شخصیت مکمل ہو چکی ہے، وہ اب خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ روحانی طور پر وہ خاتم الاولیاء بن چکے ہیں، اب صرف اصلاح باقی ہے۔

یہ اصلاح دونوں پہلوؤں—مادی اور روحانی—سے ہوگی، تاکہ ان پر الٰہی فتح اور کشفِ شہودی نازل ہو، اور ساتھ ہی وہ ایک خلیفہ کے طور پر دنیا کے امور، فوج، معیشت، جنگ، حکمتِ عملی، حکمرانی اور بین الاقوامی تعلقات کو اللہ کے احکام کے مطابق سنبھال سکیں۔

اختتامیہ:

یہی وہ فرق ہے جو امام مہدی اور کسی عام حاکم کے درمیان ہوتا ہے۔
واللہ المستعان، اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته۔

یوٹیوب پر مفتی طارق مسعود کی ویڈیو پر تبصرہ

تبصرہ:

مرد کی غیرت یہ ہے کہ بیوی کے ساتھ کسی کو دیکھ لے تو قتل کرسکتا ہے لیکن اللہ نے منع کیا ہے اور لعان کا حکم دیا ہے مولوی اتنا بے غیرت ہوتا ہے اور بناتا ہے کہ حلالہ کی لعنت سے معاشرے کو بے غیرت بنادیتا ہے

 

نمبر 1

مہدی کیسے دوستوں ،ارد گرد والوں میں کیسے ظاہر ہوگا؟ اور اس پر تہمت کی وجہ کیا ہوگی؟۔ پہلی بار راز افشاء۔ عنقاء مغرب :30جولائی

ہمار ی آج کی قسط کا عنوان :” امام مہدی اپنی الجھن میں ڈالنے والی شخصیت کیساتھ اپنے دوستوں اور ارد گرد کے سامنے کیسے ظاہر ہوتے ہیں؟۔اور وہ ان پر غفلت کا الزام کیوں لگاتے ہیں؟”۔

ابن عربی امام مہدی کی وضاحت کرتے ہیں کہ لوگ اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔وہ اجنبی جو ان جیسا ہے بھی اور ان جیسا نہیں بھی ہے۔ جب لوگ امام مہدی کے قریب آتے ہیں تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک سادہ سا آدمی ہے۔ نہ وہ اپنی آواز بلند کرتا ہے ، نہ فخرکرتا ہے، نہ اپنی انفرادیت ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ مسکراتے ہیں تو وہ بھی مسکراتا ہے اور وہ غم گین ہوتے ہیں تو وہ بھی غمگین ہوتا ہے مگر جب وہ طویل وقت تک اس کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو اس کی اجنبیت ظاہر ہونے لگتی ہے۔ جیسے اس کی باتیں وقت سے آگے ہوں۔ جیسے اس کی نگاہیں وہ کچھ دیکھ رہی ہوں جو لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ اور جیسے اس کی خاموشی ایسے راز بیان کررہی ہوں جنہیں وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ وہ اسے اپنا جیسا سمجھتے ہیں لیکن جلد ہی دریافت کرلیتے ہیں کہ وہ ان جیسا نہیں ہے۔ وہ کم بولتا ہے لیکن اسکے الفاظ ذہنوں میںتکلیف دہ سوالات کھول دیتے ہیں۔ اور وہ ایسے سوال کو پسند نہیں کرتے جو ان کے دوہرے چہرے کو ظاہر کرکے ان کو ہلا ڈالے۔ اس کیلئے ممکن نہیں کہ اس تقدیر سے فرار حاصل کرلے۔ کیونکہ یہ اس پر لکھ دیا گیا ہے کہ وہی ہوگا۔ اس وجہ سے وہ دو خوفناک داخلی نفسیاتی کشمکش کے درمیان زندگی گزاررہا ہے۔

پہلی کشمکش اس انسان کی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ ایک عام آدمی کی زندگی گزارے۔اور دوسری کشمکش وہ عجیب چیز ہے جو بچپن سے اس کے ساتھ ہے۔اور جو اس پر غالب آنا چاہتی ہے اور اس کے ذریعے ظاہر ہونا چاہتی ہے۔ لیکن جتنی بھی وہ کوشش کرے یہ چیز ظاہر نہیں ہونا چاہتی جب تک کہ اس کا مقررہ وقت نہ آجائے۔ بس مہدی ایک عام شخص نہیں بلکہ وہ ایک غیرمعمولی انسان ہے جو اپنی سادی زندگی گزاررہاہے اور جانتا بھی نہیں ہے کہ وہ کون ہے؟۔

مہدی دو چہروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔

1:رحمت کا چہرہ۔اس کی موجودگی میں لوگ سکون محسوس کرتے ہیں۔ بچہ اس کے چہرے میں باپ کو دیکھتا ہے۔مظلوم اس کی خاموشی میں وعدہ دیکھتا ہے۔ فقیر اس کی سادگی میں تسلی پاتا ہے۔

2: سختی کا چہرہ۔جب ظلم دیکھتا ہے تو اس کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ اسکے الفاظ تلوار کی طرح واضح ہوتے ہیں۔ ایسے لہجے میں بولتا ہے جس میں کوئی سودے بازی نہیں ہوتی ۔

لوگ اس تضاد کو سمجھ نہیں پاتے۔ ایک شخص نرم ہوا کی طرح رحیم ہو، اور طوفان کی طرح سخت بھی ہوتووہ سختی سے ڈرجاتے ہیںاور رحمت سے بھاگتے ہیں۔کیونکہ وہ ان کی سنگدلی کو بے نقاب کرتی ہے۔ لوگ مہدی کو خاموش دیکھتے ہیں ،وہ مجلس میں کسی کی بات نہیں کاٹتا،اس کی آنکھیں سب کچھ نوٹ کررہی ہوتی ہیں جیسے وہ لمحے کی تاریخ اپنی یاد میں لکھ رہاہو۔جب وہ دیر تک خاموش رہتا ہے تو لوگ پریشان ہونے لگتے ہیں : کیا وہ ان میں کچھ دیکھ رہاہے جو وہ خود نہیں دیکھ سکتے؟۔ کیا وہ دل میں ان پر کوئی فیصلہ کررہا ہے؟۔کیا وہ ایسا سوچ رہاہے جو وہ نہیں جان سکتے؟۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ انکے سامنے کھل گئے ہیںاور لوگ نہیں چاہتے کہ وہ کسی کے سامنے بے بس محسوس کریں۔

لوگ مہدی جیسا نہیں سوچتے لوگ ان سے محبت کرتے ہیںجو ان جیسا سوچیں کیونکہ ایسے لوگ انہیں تسلی دیتے ہیں مگر مہدی مختلف انداز سے سوچتا ہے۔ وہ انکے مسائل کا ایسا حل دیکھتا ہے جو انکے ذہن میں نہیں آتا۔ ان کی باتوں اور عملوں کے پیچھے نیتوں کو سمجھتا ہے بغیر کہ وہ کچھ کہیں۔ وہ ایک ہلکی سی نصیحت دیتا ہے اگر وہ مان جائیںتو زندگی بدل دیتی ہے۔ ایک مسکراہت دیتا ہے جس کا مطلب مہینوں بعد سمجھ میں آتا ہے۔ یہ عبقریت انہیں پریشان کرتی ہے۔ کیونکہ یہ انہیں ان کی حقیقت کے سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ اور لوگ اپنی حقیقت سے فرار چاہتے ہیں۔ لہٰذاوہ مہدی پرالزام لگاتے ہیں تاکہ حقیقت سے بچ سکیں۔ کہتے ہیں کہ وہ پاگل ہے تاکہ اپنی عقل کو جھٹکا نہ لگے۔ وہ متکبر ہے تاکہ ان کا احساس کمتری چھپ جائے۔ وہ پر اسرار ہے تاکہ وہ اپنی ناکامی کو جواز دے سکیں کہ سمجھ نہ سکے۔

تعلقات میں الجھن:

لوگ سادہ تعلقات چاہتے ہیں : باتیں، ہنسی، مفاد، چاپلوسیاں۔ مگر مہدی ان کو ایک ایسی سچائی دیتا ہے جو وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ دوستی میں کوئی منافقت نہیں کرتا۔ سچائی سے نصیحت کرتا ہے۔ غلطی کا دفاع نہیں کرتاتو لوگ اسے چھوڑ دیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ یہ تو پیچیدہ انسان ہے۔ نکاح میں ظاہری زندگی نہیں چاہتا بلکہ اسی روحانی گہرائی مانگتا ہے جو عام دلوں کے بس کی بات نہیں۔معاشرے میں دکھاوے سے دور رہتاہے۔ شہرت اور طاقت سے گریز کرتا ہے تو لوگ اس کیلئے جگہ نہیں پاتے اور اس کو اجنبی سمجھتے ہیں۔ لوگ مہدی کیساتھ نہیں چل سکتے نہ اسلئے کہ مہدی ناکام ہے بلکہ اسلئے کہ وہ سچائی کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

مہدی کا احساس:

مہدی محسوس کرتا ہے کہ وہ زمانے کا آخری انسان ہے وہ اپنے کندھوں پر ایک امت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ دنیا میں پھیلے ظلم کو دیکھتا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے وقت سے آگے ہے۔اس کی نگاہیں ان سچائیوں کو دیکھتی ہیںجو لوگوں سے اوجھل ہیں۔ وہ ایک ایسے وقت میں زندہ ہے جو ابھی آیا نہیں۔ یہ دوہرا احساس اس کو جلا دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک گہری کھائی میں دیکھتا ہے۔وہ اپنے آپ کو عظیم نہیں سمجھا جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں بلکہ وہ خود کو ایک عاجز بندہ سمجھتا ہے جو درد ، تنہائی اور اجنبیت میں گرا ہوا ہے۔مگر اللہ اسے ایک ایسا نور عطا کرتا ہے جو کبھی بجھتا نہیں۔ وہ لوگوں کو ہنستا دیکھتا ہے خود انجام کو دیکھتا ہے۔لوگ ظلم کرتے ہیں وہ حساب کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں تو پہلے ہی کھائی میں ہوں، میرا ہرقدم اللہ کی طرف ہے۔ لوگ نہیں سمجھتے کہ مہدی کے صبر اور طاقت کا راز کیا ہے؟۔وہ اس کا رب سے تعلق ہے۔

لوگ حق کو نہیں پہچانتے جب وہ ان کی عادت کے خلاف ہو

اگر وہ عاجز ہے تو کہتے ہیں کہ قیادت کے لائق نہیں۔ اگر سخت ہو تو کہتے ہیں کہ اس میں رحم نہیں۔ اگرزاہد ہو تو کہتے ہیں کہ دنیا کے قابل نہیں۔ اگر خاموش ہو تو کہتے کہ علم نہیں۔ لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کو عادت سے نہیں ناپا جاسکتااور مہدی اسلئے آتا ہے کہ لوگوں کی مردہ روحوں میں حق کو زندہ کرے۔ اور جو اس کو حق نہیں سمجھتے تو دراصل وہ اپنے اندر کے حق کو جھٹلاتے ہیں۔ لوگ مہدی کو متضاد شخصیت والا سمجھتے ہیں کیونکہ سچ برداشت نہیں کرسکتے اور عدل سہہ نہیںسکتے۔اور اپنی حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتے ۔تو اس پر الزام لگاتے ہیں ،اس سے بھاگتے ہیں، اسے دایونہ کہتے ہیں۔ جبکہ وہ اللہ کی خاموشی میں جیتا ہے۔ اللہ کے فیصلے پر چلتا ہے ۔ تنہائی کی کھائی میں مسکراتاہے اور جانتا ہے کہ فتح کا دن قریب ہے۔ اور اللہ اسکے ساتھ ہے چاہے سب چھوڑ جائیں۔ مہدی کی تنہائی کوئی انتخاب نہیں بلکہ الٰہی مجبوری ہے۔یہ کوئی روحانی شوق یا صوفیانہ فرار نہیں بلکہ ایک الٰہی منصوبہ ہے۔ ایک حکم ہے ایک سخت شرط ہے جس کو توڑا نہیں جاسکتا ۔ یہ تنہائی ویسے ہی ہے جیسے سونے کو پگھلا کر خالص کیا جائے۔ یہ ایک آپریشن تھیڑ ہے جہاں آخری زمانے کے خلیفہ کی تیاری ہورہی ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یہود امام مہدی کی تلاش میں کیوں ہیں؟

پہلے ہمیں امریکہ اور یورپ میں یہ خطرناک نفسیاتی تصورکو سمجھنا ہوگا کہ ” جب کوئی جماعت کسی پیشین گوئی پر یقین رکھتی ہے اور اسکے پورا ہونے کا شدت سے انتظار کرتی ہے تو کائنات میں ایک توانائی حرکت میں آتی ہے جو اس پیشگوئی کو حقیقت میں بدل دیتی ہے”۔ چاہے یہ پیشین گوئی سچ ہو یاجھوٹ ؟ انکے خیال میں یہ توانائی اتنی طا قتور ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کو جنم دے سکتی ہے۔ ….. عنقاء مغرب

چینل قناة ”عنقاء مغرب”میں خوش آمدید ۔ آج ہماری قسط کا عنوان ہے : ” یہودی امام مہدی کو تلاش کررہے ہیں”۔

سوال یہ ہے کہ کیوں امام مہدی کا نام عالمی خفیہ ایجنسیوں کی میز پر موضوع بنا ہوا ہے؟۔ کیا خطرناک معلومات ان کے بارے میں حاصل کی جاچکی ہیں؟۔ امام مہدی کیوں دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں ؟۔ اے اللہ کے پیارو! آئیے ہم صدق دل اور سکون کیساتھ اس نازک اور حساس باب میں داخل ہوتے ہیں۔ کیوں امام مہدی کا نام خفیہ ایجنسیوں کے دفاتر میںزیر بحث ہے ؟، کیوں وہ ہر اس سراغ یا اشارے کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کی شناخت کی طرف جائے؟۔ پہلے ہمیں امریکہ اور یورپ میں موجود ایک بہت خطرناک اور نفسیاتی تصور کی حقیقت جاننا ہوگی۔ یہ نظریہ کہتا ہے :”جب کوئی جماعت کسی پیشین گوئی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور اس کو پورا ہونے کا شدت سے انتظار کرتی ہے تو پھر اس کی وجہ سے اس کائنات میں وہ خودکار توانائی حرکت میں آتی ہے جو اس پیشین گوئی کو حقیقت میں بدل دیتی ہے”۔ چاہے یہ پیشین گوئی سچ ہو یا جھوٹ ۔ان کے خیال میں یہ توانائی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کو جنم دے سکتی ہے۔

( مولانا عبیداللہ سندھی نے شاہ ولی اللہ کے حوالہ سے یہی نظریہ نقل کیا کہ اہل حق کا عزم مضبوط ہو یا اہل باطل کا تو اس کا اثر خطیرة القدس پر پڑتا ہے۔اور پھر دنیامیں غلبے کی بنیاد عزم کی مضبوطی پر ہوتی ہے)۔

مغرب مہدی کی صرف کہانی سے نہیں ڈرتا بلکہ اس کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔کیونکہ انکے نزدیک اجتماعی پر جوش سوچ چیزوں کو حقیقت میں بدل دیتا ہے۔ یہ ”قانون کشش” (Law of Attraction) کہلاتا ہے جس پر آپ توجہ دیتے ہیں وہی آپ کو حاصل ہوتا ہے۔

مغرب امام مہدی کو عدل کا منتظر نہیں نجات دہندہ سمجھ کر نہیں بلکہ اپنے نظام کیلئے ایک خطرہ سمجھ کر تلاش کررہا ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ مہدی محض ایک خرافہ ہے تو پھراگر ایسا ہے تو مغرب یہ معاملہ اتنا سنجیدہ کیوں لیاہے؟، کیوں اس پر بجٹ بنتے ہیں؟،خفیہ فائلیں اور رپورٹ اس پر مبنی ہیں؟۔ جواب بالکل واضح ہے کہ

مغرب جانتا ہے کہ دنیا کو اصل میں خیالات ہی چلاتے ہیں۔ ایک ”خیال” ہی زمین کی کایا پلٹ سکتا ہے۔ اسلئے وہ عوام کو سطحی چیزوں میں مصروف رکھتے ہیں۔ وہ انہیں ہر چیز سکھاتے ہیںمگر سوچنا نہیں سکھاتے۔ وہ انہیں آزادی کا دھوکہ دیتے ہیں مگر اصل میں انہیں صرف خواہشات اور لذتوں میں بند رکھتے ہیں ۔ گہری سوچ انکے منصوبوں کی سب سے بڑی دشمن ہے۔عالمی خفیہ ایجنسیاں جانتی ہیں کہ اگر کسی خاص شخص کا چرچا عام ہوجائے اگر ایک ارب سے زائد مسلمان اس پر یقین رکھتے ہوں تو یہ صرف خیال نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی تونائی بن جاتی ہے جو حقیقت بن سکتی ہے۔ اسلئے جب کوئی انٹیلی جنس آفیسر اس حقیقت کو جان لیتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ مہدی ایک نام نہیں بلکہ نظریہ ہے جو ان کے نظام کو ہلا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔مغرب سویا ہوا نہیں بلکہ بیدار ہے ۔انہیں معلوم ہے کہ مسلمان ایک دن یا سال نہیں بلکہ صدیوں سے مہدی کا انتظار کررہے ہیںاور جتنایہ انتظار بڑھتا ہے اتنا ہی اس کو پورا ہونے کی طاقت بڑھتی ہے اسلئے جب وہ مہدی کا نام سنتے ہیں تو انہیں خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔

مغرب میں ”تاریخ کے خاتمے کا نظریہ ” رائج ہے۔ جو بالواسطہ یہ اعتراف ہے کہ جب ان کی تہذیب ترقی کی آخری حد کو چھولے گی تو وہی ان کے زوال کی ابتداء ہوگی۔ یہی ابن عربی کا فتیٰ ساحل ہے۔ وہ مشرقی نوجوان جس کا انتظار اہل مشرق کررہے ہیں۔یہ پیشین گوئیاں صرف مسلمانوں نے کیں بلکہ مغربی نجومیوں نے بھی کیں۔

جین ڈکسن مشہور امریکی نجومی نے مشرق سے عظیم نوجوان کی آمد کی پیشین گوئی کی ہے

1:جو دنیا کا نقشہ بدل دے گا۔
2:مسلمانوں کو غیر معمولی فتوحات دے گا۔
3:مشرق وسطیٰ اور دنیا پر حکومت کرے گا۔
4:اس کی آنکھیں گہری بھوری ، رنگ سانولا، چہرہ لمبوترا،مضبوط جسم اورگھنگھریالے بال ہونگے۔
5:اس کا نام ”میم” سے وابستہ ہوگا۔
6:وہ پردے کے پیچھے کام کرے گا۔
7:اور اللہ کی طرف سے محفوظ ہوگا۔

یہ خواب 1962ء سے چھپائے رکھا کیونکہ دھمکیاں دی گئیں۔ ہم نجومیوں کی تصدیق یا تکذیب نہیں کرتے مگر جب20 ویں اور 21ویں صدی میں یہ پیشین گوئیاں بار بار سامنے آئیں۔ جب مسلمان ایک ارب امام مہدی کے منتظر ہوںتو یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔

نوسٹرڈیمیس نے بھی 1556میں ایک مسلم نوجوان کی آمد کی پیشین گوئی کی تھی۔ جو مشرق سے ابھرے گا ، بادشاہتوں کو گرائے گا اور تاریخ کا دھارا بدل دے گا۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مغرب ان پیشین گوئیوں کو نظر انداز کرسکتا ہے؟۔ ہرگزنہیں بلکہ وہ ان پر تحقیق کرتا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ پیشین گوئیاں ذہنوں اور جذبات پر نظر انداز ہوتی ہیں۔

مغرب اسلام سے خوفزدہ ہے نہ کہ عیسائیت یہودیت سے کیونکہ اسلام صرف عبادت نہیں ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اسلئے : صلیبی جنگیں ہوئیں۔ خلافت عثمانیہ گرائی گئی۔عراق پر حملہ ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں فتنہ بھڑکایا گیا۔یورپ میں مسلمانوں کے خلاف پالیسیاں بنائی گئیں۔اسلامی شعار کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ سب اس خوف کا اظہار ہے۔کہ امام مہدی کا ظہور کہیں ان کے نظام کو نہ گرادے۔ اے اللہ کے پیارو! جب آپ سچے دل سے دنیا کا جائزہ لیتے ہیںتو آپ کو ایک ایسا عالم نظر آتا ہے۔جو انتشار میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایک ایسا نظام جو بظاہر ترقی یافتہ ہے مگر پس پردہ ایک خفیہ ہاتھ اسے کنٹرول کر رہاہے۔ یہ قوتیں ہمارے سامنے اسکرینوں پر نظر آتی ہیں مگر عوام کو موبائل اسکرینز اور روزمرہ کے شور میں مصروف رکھ کر غافل کردیاگیا ہے۔ ان کے درمیان فکری انتشار پھیلادیا گیا ہے تاکہ وہ نہ جان سکیں کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟۔ خفیہ ایجنسیوں کے سائے دار کمروں میں جہاں اندھیرے اور اسرار چھائے رہتے ہیںوہاں مہدی کا نام بار بارگونجتا ہے ، وہ خاموشی سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ خوابوں، اشاروں اور علامتوں کی تعبیرات پر اس کی تحقیق کرتے ہیں۔حتیٰ کہ ایماندار دلوں کی کیفیات کو بھی دیکھتے ہیں۔کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ جب کوئی سچی اور زوردار ”فکر” جنم لیتی ہے تو کوئی رکاوٹ اور دیوار اس کا راستہ نہیں روک سکتی ہے۔

تو پھر مغرب کو امام مہدی کے تصور کا اتنا خوف کیو ں ہے؟۔ کیونکہ انہیں علم ہے کہ ایک ارب سے زائد مسلمان اس ایک شخص کے منتظر ہیںاور ہر گزرے دن یہ انتظار شدید تر ہوتا جارہاہے۔انہیں معلوم ہے کہ یہ مہدی کا تصور دماغی وہم نہیں، بلکہ یہ عقیدہ ہے جو انسان کے ایمان کی گہرائیوں میں پیوست ہے۔یہ تصور بچے کو ماں کے دودھ کے ساتھ پلایا جاتا ہے ، یہی تصور اسے ظلم سے آزادی دیتا ہے۔ اس عقیدے نے مغرب کو ہمہ وقت چوکنا کررکھا ہے اسلئے کہ وہ جانتے ہیں عظیم خیالات کبھی نہیں مرتے۔ اور وہ امت جو ایک زبردست خیال کی وارث ہو ،وہ کبھی ختم نہیں ہوسکتی ۔ چاہے وہ کمزور کیوں نہ نظر آئے۔

ان کا خوف صرف امام مہدی کی ذات سے نہیں بلکہ اس فکر سے ہے جو وہ مجسم کرتا ہے ۔کیونکہ امام ان کیلئے صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک عالمی نظام ظلم کے زوال کی علامت ہے۔

نظام پر مغرب کا تسلط ہے

1:ظلم پر قائم ہے۔
2:عوام کی محنت کو لوٹتا ہے۔
3:انسان کو شہوت پرست صارف (cosumrer) میں بدل دیتا ہے ۔
4:روحانی اقدار کو مٹاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جب امام مہدی آئیگا تو یہ سب کچھ زمین بوس ہوجائے گا۔یہ وہ کونیاتی قانون (UnivrsalLaw) ہے جس سے وہ ڈرتے ہیں۔”قانون کشش” یعنی جس خیال پر ایک گروہ خلوص نیت اور یقین کے ساتھ توجہ دے تو وہ خیال بالآخر طاقتور حقیقت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ جب وہ خود ہمیں میڈیا میں باور کراتے ہیں کہ امام مہدی ایک افسانہ ہے تو پھر وہ خود کیوں اربوں ڈالر اس پر خرچ کررہے ہیں؟۔ کیوں وہ مشرق ومغرب میں جاسوس بھرتی کرکے ہر حرکت ، ہرخواب اور ہر اشارے کی نگرانی کرتے ہیں؟۔ جواب واضح ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ افسانہ نہیں بلکہ ایک ایسی ”زندہ فکر”ہے ان کے نظام کیلئے زہر قاتل ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ یہ امت اگر کمزور بھی ہو تب بھی اس کے دل میں ایک بیج ہے ۔ مہدی کا بیج۔ جو کبھی نہیں مرتا۔ یہ وہ شخص عدل کا توازن واپس لائے گا۔جو ظلم کے ستونوں کو گرائے گاجو حق کو اس کے مقام پر رکھے گا۔ وہ جانتے ہیں کہ تاریخ اس لمحے کا انتظار کررہی ہے۔ اے اللہ کے پیارو!

نجومیوں کی رویائیں محض کھیل تماشا نہیں، جین ڈکسن جس نے فتیٰ مشرقی کی رؤیا دیکھی نہ صرف اس کا چہرہ دیکھا بلکہ :رنگ، آنکھیں،بالوں کی ساخت اور یہاں تک کہ اس کا نام ”میم” سے متعلق یہ بھی بتایا۔اور کہا کہ وہ پردے کے پیچھے کام کرے گا۔اللہ کے محفوظ منصوبے کا حصہ ہوگا۔ مشرق اور مغرب کو بدل ڈالے گا۔ یہی بات نوسٹر ڈیمس نے بھی کہی تھی کہ وہ مشرق سے آئے گا۔فتح کرے گا ، بادشاہتیں گرائے گا اور تاریخ کا دھارا بدل دے گا۔

تو کیا مغرب جو دنیا کی ہر چھوٹی بڑی بات پر نظر رکھتا ہے ، ان پیشین گوئیوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے؟۔ نہیں ! بلکہ وہ تحقیق کرتاہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ باتیں اگرچہ مذہبی عقائد میں لکھی ہوں مگر پھر بھی قوموں کے شعور پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔کیونکہ وہ امام مہدی کے تصور سے خوفزدہ ہیں اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام صرف عبادت کا دین نہیں بلکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اگر کوئی شخص آیا جس نے دلوں کو بیدار کردیا۔دین کو زندہ کردیا۔عدل کا نظام قائم کردیا تو ان کی ظالمانہ تہذیب جو ظلم ، حرص اور شہوت پر قائم ہے زمین بوس ہوجائے گی۔ اسلئے وہ حجاب کو روکتے ہیں۔اسلامی شعار پر حملہ کرتے ہیں ۔امت کو تقسیم کرتے ہیں۔خانہ جنگیاں کرواتے ہیں۔ گروہ بندیوں کو بھڑکاتے ہیں۔ تاکہ امت بیدار نہ ہو۔

وہ مہدی کے منتظر ہیں تاکہ اس سے لڑسکیں اور ہم منتظر ہیں تاکہ نجات پا سکیں۔ آج کا عالمی منظر عجیب تضاد سے بھرا ہوا ہے ۔ سائنسی ترقی عروج پر ہے مگر اخلاقی پستی انتہا پر۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا : فلسطین پر دنیا خاموش رہی ظالم کو بچایا گیا اور مظلوم کو مجرم ٹھہرایا گیا۔ یہ انحطاط، یہ زوال محض اتفاق نہیں ،یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ

حق کی آمد قر یب ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا(حق آگیا اور باطل مٹ گیا ،بیشک باطل مٹنے والاہی تھا)اسلئے مغرب کا خوف امام مہدی کے حوالے سے محض ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ یہ ان کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔اس خوف میں صلیبی جنگیں ہوئیں۔خلافت گری۔ عراق پر حملے۔مشرق وسطیٰ کی آگ۔ اسلامی علامات پر پابندیاں۔ یہ سب ایک فکر کے خلاف ہے ۔ مہدی کی فکر کیوں؟۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ امت اگر بیدار ہوجائے تو زمین کا چہرہ بدل سکتی ہے۔ یہ عام دور میں نہیں جی رہے بلکہ نقابوں کے گرنے اور حقیقتوں کے ظاہر ہونے کا دور ہے۔ یہ عالمی توجہ امام مہدی پر محض اتفاقی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہمیں بیدار کرنے کا اشارہ ہے۔ جب دنیا ظلم سے بھر جائے تو اللہ کی یہ سنت ہے کہ ایک نجات دہندہ بھیج کر حق کو غالب کرتا ہے۔ امام مہدی وہی شخص ہے جس کو اللہ نے چن لیا ہے۔جو عدل کو زمین میں واپس لائے گا جو ظالموں کا تخت گرائے گا۔ خفیہ ایجنسیاں کیوں نہیں سوتیں؟۔ کیونکہ انکے بند کمروں میںاور خفیہ فائلوں میں مہدی کا نام موجود ہے۔ وہ میڈیا میں اسے جھٹلاتے ہیں مگر اندرون خانہ مہدی کی حقیقت کو مانتے ہیں۔ وہ اسے مشرق میں، مغرب میں، شہروں ، دیہاتوں میں اور خوابوںاور مختلف زبانوں میں تلاش کرتے ہیں۔ کیونکہ ایک سچی فکر جب یقین بن جائے تو حقیقت بن جاتی ہے۔ اب مہدی ایک خیال نہیں بلکہ ایک ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔ یہ انتظار وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ ایک زور دار توانائی پیدا کرتا ہے جو کائنات کو ہلا سکتی ہے۔

کیوں اتنا شدید خوف؟۔ اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ رؤیا محض خواب نہیں بلکہ ”اللہ کے نظام کی علامتیں” ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مہدی محض ایک واقعہ نہیں بلکہ عالمی زلزلہ ہوگا جو ظالم نظام کو گرادے گااور انسانیت کو آزادی دے گا۔ اور اگر امت ایک دل کی طرح بیدار ہوجائے تو کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی ۔ امام مہدی ایک فوجی نہیں بلکہ فکر نجات ہے۔ اسے مارا ،اسے روکا نہیں جاسکتا۔کیونکہ وہ ایک وعدہ ہے اور ”وعدہ الٰہی” کبھی جھوٹا نہیں ہوتا ۔ وکان وعداللہ مفعولًا ” اللہ کا وعدہ تو گویا پورا ہوچکا”

فلسطین کے بچے، مائیں، مظلوم یہ سب قربانیاں اس دن کی تیاری ہے۔ جب مہدی آئے گا اور امت کو عزت واپس دے گا۔انسانیت میں معنویت کو لوٹائے گا۔ اور عدل کو زمین پر غالب کردے گا۔ تو اے بھائی ! ہمیں صرف انتظار نہیں کرنا بلکہ اپنے دل کو پاک کرنے میں اس وقت کیلئے تیار ہونا ہے کہ جب مہدی وہ شخص ہوگا جس پر مظلوموں کے دل متفق ہوجائیںگے۔ یہ محض ایک قیاس نہیں بلکہ ایک یقینی وعدہ ہے جس کی گھڑی صرف اللہ جانتا ہے۔ اور جب وہ گھڑی آئے گی تو انسانیت کی ایک نئی کہانی کا آغاز ہوگا جہاں ظلم ہارے گا اور حق جیتے گا۔ آخری پیغام یہ ہے کہ اے اللہ کے بندو!

آپ نے آج کے اس مبارک قسط میں وہ حقائق سنے جو عام لوگوں سے چھپائے گئے۔آپ کومعلوم ہوا کہ وہ امام مہدی سے کیوں خوف کھاتے ہیں؟،کیوں دن رات اس کی نگرانی کرتے ہیں ؟اور کیوں نیند ان کی آنکھوں سے غائب ہے؟۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہرظالم نے کہا کہ ہم ناقابل شکست ہیں مگر جب اللہ کا وعدہ آیا، وہ سب گر پڑے اور صرف حق باقی رہ گیا۔ جس نے یہ گمان کیا کہ یہ امت ابھی کبھی نہیں اٹھے گی ۔ وہ دیکھے کہ یہ امت ابھی جاگ رہی ہے۔ یہ وعدہ الٰہی ہے اور اللہ اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتا۔ وکان وعد اللہ مفعولًا

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

آذان کی تعریف میں ایسی نظم کہی کہ مودی اور یوگی شرمندہ ہوگئے

لتا حیاء: سنئے گا

یہ بھی تو ہیں آثار قیامت کے اے حیا !
جاہل اگرچہ ملک کے سردار ہو گئے
ابھی تلک تو یہی سنا تھا بڑی سیاست گندی ہے
لیکن اب ایسا لگتا ہے یہ بالکل ہی اندھی ہے
خوب بولتی ہے لیکن آنکھوں پر کالا چشمہ ہے
ایک ہاتھ میں لڈو ہے اور دوجے ہاتھ تمنچا ہے
اگر یہ مسلم عورت کے حق کی آواز اٹھاتی ہے
اور نجیب پہلو کی امی نظر نہیں کیوں آتی ہے
کتنی سازش کر لے انسان اس کی پلاننگ بہتر ہے
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
آنکھیں اندھی ہو یا نہ ہو دل تو ان کا اندھا ہے
اسی لیے سب کو بھڑکانا ان کا گو رکھ دھندھا ہے
مسجد سے آتی آوازیں ان کو نہیں سہاتی ہیں
اس سے بھی اونچی آوازیں لیکن ان کو بھاتی ہیں
چیخ سنائی دیتی ہے کیا ان کو لٹتی بچی کی
اک کسان کے بچے کی سینک کی بیوہ بیوی کی
ان کے دل کی دھڑکن خود نفرت کا لاؤڈ سپیکر ہے
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
اب جو ہم لوگ محسوس کرتے ہیں جو آپ نے کہا ہے
اذاں آڑھتی شبد کیرتین بھارت کی جاگیریں ہیں
صبح شام کے ورق پہ لکھی پاکیزہ تحریریں ہیں
یہی ایکتا اور محبت اپنی ہے پہچان مگر
ہندو مسلم سکھ عیسائی رہتے ہیں سب مل جل کر
اپنے گھر کی دیواریں جو ساؤنڈ پروف بنواتے ہیں
AC میں سونے والے جانے کیسے جگ جاتے ہیں
غنڈا گردی کرتے ہیں آوارہ لوفر اور جوکر
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
گھر میں تو جو اپنی ماں کی سیوا نہ کر پاتے ہیں
باہر جا کر گائے ماں کی خاطر لہوبہاتے ہیں
معصوموں کا لہو بہا ئے وہ غنڈا کہلاتا ہے
کوئی سونو کو سمجھاوے سر کب مونڈ ا جاتا ہے
سب سے پہلے دی بلال نے اذاں اسی کو کہتے ہیں
جو رسول کی کرے گواہی بیاں اسی کو کہتے ہیں
جس کو مذہب سے نفرت وہ شیطان سے بھی بدتر ہے
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
یہ ہے کچھ خود غرض لوگ جو اب چمچے کہلاتے ہیں
خبروں میں رہنے کی خاطر یہ کچھ بھی کر جاتے ہیں
ان کو جب کوئی نہ پوچھے ٹوئٹر پہ یہ آ جاتے ہیں
جو بھی نیتا بولے اس کی ہاں میں ہاں کر جاتے ہیں
جو کیول رب کو پوجے وہ اصل بھگت کہلاتا ہے
پر جو انساں کو پوجے وہ اند بگت کہلاتا ہے
دے دیتے نیتا ان کو اونچے عہدے پھر خوش ہو کر
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر
خواب دکھایا تھا اللہ نے کیسے ہمیں جگانا ہے
تمہیں کامیابی کی جانب کس طرح بلوانا ہے
صبح عبادت کرنے جانا کیا یہ غنڈا گردی ہے
اپنے رب کی طرف بلانا کیا یہ غنڈا گردی ہے
پشو پرندے جگ جائیں تب کوئی سونے جاتا ہے
نیند سے بہتر فجر نماز ہے یہ اسلام سکھاتا ہے
تم بھی جاؤ مندر میں کچھ پن کماؤ منہ دھو کر
اذاں یہی کہتی ہے سن لے کہ اللہ ہی ہے اکبر

خود بت پرست لوگ بت کو توڑ رہے ہیں حیرت کی بات ہے بت پرست بتوں کو توڑ رہے ہیں۔ اپنے آئیڈیل کو توڑ رہے ہیں تو اذان پہ پابندی لگانا تو دور کی بات ہے۔ اذان اور آرتی کی آواز سن کے ہمیں اچھا لگتا تھا ہماری نیند کھلتی تھی ، سکون ملتا تھا ۔جب پابندیوں کی بات آتی ہے تب میں نے ایک نظم کہی ہے۔ آپ لوگوں کی بات کرتی ہوں مجھ پر بہت سارے الزامات لگے۔ میں آج یہاں سے یہ اناؤنس کر رہی ہوں کہ جس ہندوستان میں ایک نیتا یہ کہتا ہے کہ میں صرف ہندو ہوں فخر ہے ہندو ہونے پہ میں عید نہیں مناتا وہاں ایک ہندوستانی یہ کہتی ہے کہ انشااللہ اگر میری حیات رہی تو میں ایک مسجد بنواؤں گی ۔ یقین جانئے بہ خدا میں بات آپ لوگوں کی محبتیں لینے کیلئے نہیں کہہ رہی یہ بات میرے دل سے نکلی ہے میں جو بھی کہتی ہوں دل سے کہتی ہوں ۔میں نے اپنا تعارف بھی جو کروایا تھا کہ

نام حیا ہے میرا لوگوں کی ہائے سے ڈرتی ہوں
ہیلو تو اچھا لگتا ہے پر بائے سے ڈرتی ہوں
حق گوئی سے خوف نہیں ہے اسی لیے سچ کہتی ہوں
پہلے چاہت سے ڈرتی تھی اب چائے سے ڈرتی ہوں
جو دل کہتا ہے کہتی ہوں تم اپنی اپنی سوچو
شعر و سخن پہ میں استادوں کی رائے سے ڈرتی ہوں
اور اب تو اس کا نام بھی لوں تو یہ طبیعت گھبراتی ہے
راستے میں بھی دکھ جائے تو میں گائے سے ڈرتی ہوں
اُف وہ شخص کتنا بولتا ہے اب اس سے خوف سا آنے لگا ہے
اگر فرعون کب کا مرچکا ہے تو پھر یہ سامنے کیسے کھڑا ہے
یہ سوچا تھا کہ سب اچھاہی ہوگا یہ اچھا ہے برا پھر کیا بلا ہے
وہ جس کے ہاتھ میں ہونا تھا کاسا مقدر سے سکندر ہو گیا ہے
ابھی دجال کا آنا ہے باقی ابھی کیوں ظلم اتنا بڑھ گیا ہے
اسے کب فکر گھر اور اہل گھر کی جو دنیا بھر میں ڈولا گھومتا ہے
کبھی جنگل میں جو ہوتا رہا وہ سب تو شہر میں اب ہو رہا ہے
میں جب سوچتی ہوں اس کو تو پھر حیا سے سر میرا جھکنے لگا ہے
اُف وہ شخص کتنا بولتا ہے اب اس سے خوف سا آنے لگا ہے

ایک نظم نفرتوں کے دور میں سناؤں گی لیکن اس سے قبل یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ ذمہ دار ہم لوگ بھی ہیں ہماری تباہی کے تین چار اشعارآپ تک سنا رہی ہوں کہ

خدا کی راہ پر چلتے تو یوں برباد نہ ہوتے
اگر فرقوں میں نہ بٹتے تو یوں برباد نہ ہوتے
خدا کی ایک رسی کو پکڑ کر ساتھ جو چلتے
تو شیطان راج نہ کرتے تو یوں برباد نہ ہوتے
ہمارے ایک ہی ماں باپ آدم اور حوا تھے
یہ دھرم و ذات نہ ہوتے تو یوں برباد نہ ہوتے
یہ دنیا چار دن کی ہے تو پھر کیوں قتل خون ریزی
فقط اتنا سمجھ لیتے تو یوں برباد نہ ہوتے
سبھی کا حق ہے دنیا پہ سبھی کی ہے حیا دنیا
اگر نیتا نہیں ہوتے تو یوں برباد نہ ہوتے

ابھی بھی جب میں نے یہ نظم کہی تھی لیکن جو ریپ ہیں وہ رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اب تو8مہینے کی بچی کو نہیں چھوڑا جاتا ہے 80 سال کی بزرگ مہلا(عورت) کو نہیں چھوڑا جاتا ہے۔ دلی میں جب ایک عورت مہلاآیوب کی ریپ روکو اندولن شروع کرتی ہے اور پی ایم سے ملنے کی کوشش کرتی ہے تو یوم خواتین کے دن اس پر لاٹھی برسائی جاتی ہے ۔ تب میں یہاں سے کہہ رہی ہوں کہ ہمیں بھی مل کر ساتھ دینا چاہیے صرف دلی سے نہیں ممبئی سے بھی آواز اٹھنی چاہیے جتنے بھی ادارے ہیں میں ان سے التجا کر رہی ہوں کہ یہ میری نظم صرف آپ کو سنانے کی خواہش نہیں ہے میں چاہتی ہوں کہ یہاں سے بھی آواز اٹھے سب لوگ جڑیں اور قانون بنانے پر مجبور کریں سرکار کو کہ کسی طرح سے ریپ رکیں اور اس کی سزا صرف پھانسی ہونا چاہیے اور کوئی اس کا دوسرا راستہ نہیں ہے۔ تو میں ایک بات کہنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

پوچھ رہی ہوں ہندوستاں کی طاقتور مہلاؤں سے
دولت ستہ اور سیاست کے اعلی آقاؤں سے
کب تک عورت کی عزت سڑکوں پر لوٹی جائے گی
ایک بچی گھر میں اپنے محفوظ نہیں رہ پائے گی
بھول گئے ہم ہندوستانی ہر تعلیم شرافت کی
سیکھ رہے ہیں مغرب کی ہم الٹی سیدھی اے بی سی
اب نا کوئی شرم نہیں رشتوں میں اور نہ مریا دا
بیٹی کو لوٹے والد اور پوتی کو لوٹے دادا
اور بہن پر بھائی کی نظروں کے چلتے وار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
یہ وہ دھرتی ہے جس میں عورت کو کہتے ہیں دیوی
آج مگر اس دیوی کی خودبھگتوں نے عزت لوٹی
جس بھارت میں گنگا ہے میا اور گائے ماتا ہے
آج وہاں ایک بیٹا خود اپنی ماں کو مرواتا ہے
گاؤں شہر ہو ،ہوٹل ہو مندر ہو یا سکول ہو
ہر جگہ بھدے فقرے کیا مال مست ہوکول ہو
اس سے بھی بڑھ کر بھدے الفاظ سنائی دیتے ہیں
بیٹے تک اپنی ماں کو ہائے جانو کہتے ہیں
یہ کیسی تہذیب شرافت کیسے ششٹہ چار ہیں
اس ساری بے شرمی کہ ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
اب کیول انجان نہیں اپنوں سے بھی ڈر لگتا ہے
چاچا، تا ؤ، ما ما، موسا، جیجا تک سے خطرہ ہے
عمر کوئی بھی ہو کیول بس عورت ہو نا کافی ہے
جس کو دیکھو نیت کھوٹی نظروں میں ناپاکی ہے
ہر رشتہ ایک داغ بنا ہے خون ہوا ہے اب پانی
یہ تو سب ہونا ہی تھا جب ساتھ نہیں دادی نانی
ٹوٹ رہے پریوار یہاں اب بچے تنہا رہتے ہیں
نوکر اور پڑوسی کی سب اوچھی حرکت سہتے ہیں
ہر جگہ صیاد کھڑے ہیں اور کلیاں لاچار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
فلمیں ہوں موبائل ہو یا کہ پھر انٹرنیٹ ہو
نان ویج میسج چلتے سب چاہیں ولگر چیٹ ہو
یہ کیسا مینر کلچر ایڈوانس ہوئی ہے ایجوکیشن
کم کپڑوں میں فخر کریں گالی دینا مانیں فیشن
فلموں سے لے کر خبروں تک صرف مصالحے بکتے ہیں
جسم جلے ایک عورت کا تب ان کے چولہے جلتے ہیں
عورت کو ایک چیز بنا بازار یہاں پر سجتے ہیں
ان کو دیکھ جواں ہوتے بچوں میں مجرم پلتے ہیں
سب دولت شہرت کی خاطر بکنے کو تیار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
ایسا لگتا ہے کہ اب یہ اپنا بھارت دیش نہیں
بس کیول شکشہ ملتی ہے پر اچھا سندیش نہیں
کب بچوں کو ایک بھی نیتک پاٹ پڑھایا جاتا ہے
بس کیسے آگے بڑھنا ہے یہ سمجھایا جاتا ہے
جہاں برائی ہیروئن ہو پاپ جہاں پر نائیک ہو
اس کو اتنی شہرت ملتی جو جتنا نالائق ہو
پاپ پنے کا فرق انہیں جب نہیں کوئی سمجھائے گا
خوف کہاں او پروالے سے پھر یہ انسا کھائے گا
جب ان کے آدرش بھی غنڈے ڈاکو سے کردار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
سنبھل سکو تو ابھی سنبھل لو اگر سنبھلنا آتا ہے
یاد مجھے اقبال صاحب کا شعر یہ اکثر آتا ہے
اب نہ سنبھلے تو ہندوستاں والوں تم مٹ جا ؤگے
دنیا کی تاریخ میں اپنا نام کہاں لکھوا ؤگے
اب بھی ہے کچھ وقت نہیں بدلا اب بھی سب کچھ بھائی
ہم چاہیں تو کر سکتے ہیں اس گھٹنا کی بھرپائی
سوچ بدل جائے اپنی قانون فٹافٹ مل جائے
اور سزا ایسی کہ جس کو دیکھ کے مجرم تھر ائے
کیا مجرم کی ماں بہنیں بھی لڑنے کو تیار ہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں
کب مجرم کی ماں نے یہ پوچھا ہے بیٹے سے جا کر
کوکھ پہ لعنت بھیجی ہے دنیا کے آگے کب جا کر
کب مجرم کی بہنا نے بھائی کو تھپڑ مارا ہے
اور بیٹے کے کرتوتوں کو ابا نے دھتکارا ہے
جب تک ان کے گھر والے نہ سبق انہیں سکھلائیں گے
سرعام جوتے مارے عریاں کر کے گھموائیں گے
کیوں عربی قانون یہاں پر نہیں چلایا جا سکتا
سات دنوں میں مجرم پھانسی پرلٹکایا جا سکتا
جب جنتا ہے راضی پھر کیوں قاضی جی بیزارہیں
اس ساری بے شرمی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں

تبصرہ : نوشتۂ دیوار

محترمہ لتا حیا ہندو شاعرہ ہیں اورنسل، ملکوں و مذاہب کی بنیاد پر نفرتوں کے خلاف مودی سرکار کے اقتدار میں صف آراء ہیں۔ ہمیں مسلمان ہوکر تعصبات پھیلانے میں شرم نہیں آتی ہے۔آج ہماری ضرورت ہے کہ سیاسی بنیاد پر ایک ایسی فضا قائم کریں کہ اس خطے میں امن وامان قائم ہو اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر ناجائز حملہ کیا اور منہ کی کھائی ہے لیکن اس کو ڈھول بناکر ہم بجاتے رہیں گے تو آخر میں پاکستان کی بج جائے گی۔

ایک وقت وہ تھا کہ ہماری طرف سے کھلی مداخلت تھی اور جہادی تنظیموں کی طرف سے حملے ہوتے تھے اور آج یہ حال ہے کہ ان کو بہانہ چاہیے ہم پر حملہ کرنے کیلئے اور جب ہم نے کچھ کیا بھی نہیں تھا اور پھر ہم نے مذمت بھی کردی۔ پھر بھی انہوں نے ہم پر جنگ مسلط کردی تھی۔ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ بلوچستان، پختونخواہ اور پنجاب میں کھلی مداخلتوں کے خلاف چیخ وپکار کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے مگر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ بالکل واضح ہے کہ کل ہم جو کچھ کرتے تھے آج وہ کررہے ہیں یا نہیں ؟ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم کررہے ہیں۔ مولانا سلمان ندوی کا بیان دیکھ لیں۔ ان کے پیشرو مولانا سید سلیمان ندوی پاکستان کے حامی اور مسلم لیگی ذہنیت سے تعلق رکھتے تھے اور جب اس کی یہ حالت ہے تو جمعیت علماء ہند اور دوسروں کی حالت کیا ہوگی؟۔ امریکہ نے ڈبل گیم بھی خود کھیلی اور موردالزام بھی پاکستان کو ٹھہرایا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ و اسرائیل نے افغان طالبان کے خلاف جرمنی کی قرار داد کو مسترد کیا اور 116ممالک سمیت پاکستان نے حمایت کی اور چین، بھارت، روس اور ایران غیر جانبدار بن گئے۔ اگر ہم نے ایران ، چین ، بھارت ، افغانستان کے درمیان تجارت و سپلائی شروع کردی تو خوشحالی آئے گی۔ انشاء اللہ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست 2025
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv