پوسٹ تلاش کریں

سیاسی ،لسانی اور فرقہ پرستی کے تعصبات عروج پر ہیں کارکن اپنے بڑوں کو ہی اب لڑنے دیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قال اللہ تعالٰی جدہ: الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلٰم دینًا
وقال رسول اللہ خاتم الانبیاء ۖ : ایھا الناس اقرأ وامنی السلام من تبعنی من امتی الا یوم القیامة

بلندشان والے خدا نے فرمایا: ” آج میںنے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پراپنی نعمت کو پورا کردیا اور میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے”۔

اور خاتم الانبیاء رسول خدا ۖ نے ارشاد فرمایاکہ:”اے لوگو! میری طرف سلام پڑھو جو میری اتباع کرے میری اُمت میں سے قیامت کے دن تک”۔ رسول اللہۖ کا آخری پیغام

وزیراعظم کا ذہنی توازن چیک کرنے سے پہلے اس کوکنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، کہیں تمام ریاستی و حکومتی اداروں اور انکے سربراہوں کو فارغ کرکے پوری دنیا میںتماشہ نہ بن جائیں

بلند شان والے خدا نے فرمایاکہ ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیااور اپنی نعمت کوتمہارے اُوپر پورا کردیااور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیاہے”۔ (القرآن المجید)جد کا معنی دادایا نانا نہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ سورج،چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ پھر اس خواب کی تعبیر اس وقت پوری ہوئی کہ جب دس ستارے بھائیوں نے آپ کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا۔ پھر ایک ویران کنویں میں پھینک دیا۔ پھر قافلے نے اٹھایا اور مصر کے بازار میں ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ عزیز مصر اور اس کی بیوی کے گھر میں جوان ہوئے۔ پھر بے گناہ جیل کی سلاخوں میں بند ہوئے۔ جس گناہ کی طرف بلایا جارہاتھا تو آپ نے فرمایا کہ السجن احب الیی مما تدعوننی الیہ ” جیل مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ جس کی مجھے آپ دعوت دے رہی ہو”۔
وزیراعظم عمران خان کو کرکٹ کے میدان اور شوکت خانم پر چندوں کے باران سے اللہ تعالیٰ ، اس قوم اور ہماری ریاستی اداروں نے وزیراعظم کے ایوان تک پہنچادیا۔ کتنے وعدے کس سے پورے کئے اور کس کے سامنے سرخروہوا؟۔ یہ بات چھوڑئیے،اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں لگتا ہے۔ سینیٹرز کے الیکشن میں ووٹ خریدنے اور الیکشن کمیشن سے کوئی معجزہ دکھانے کی استدعا ٹھیک تھی یا نہیں مگر کہنے کی حد تک ایک بات تھی لیکن جب سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت تھی تو بھی یہ شخص کہہ رہا تھا کہ زرداری ہمارے ووٹ خرید کر ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔ نظام قدرت کو پتہ تھا کہ اگر صادق سنجرانی پھر ہار گیا تو یہ شخص پارلیمنٹ کو توڑ دے گا جس کی ہوائیاں بھی اسکے چہرے پر اُڑرہی تھیں۔ بشریٰ بی بی نے پتہ نہیں کیا وظائف پڑھ کر اس شخص کو سنبھالنے میں اپنا کردار ادا کیا؟۔ ہمارے ہاں تو پہلے بھی نوازشریف اور بینظیر بھٹو کو اقتدار کیلئے ڈنڈی والی سرکار سے جتنے ڈنڈے پڑتے تھے اتنے سال کی مدت تک وزیراعظم بنتے تھے۔ ایک پیر پینچرسرکار بھی لکھ پڑھ کر کچھ پیش گوئیاں سنانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
کچھ باکمال لوگ لاجواب سروس والے صحافیوں نے بھی وزیراعظم کے حوالے سے بڑی مثبت خبروں کی رہنمائی کی کہ عمران خان میں بڑا حوصلہ ہے اور وہ اپوزشن کی بینچوں پر بھی بیٹھ سکتا ہے لیکن اس سے پہلے پہلے کہ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی ، چیف جسٹس ، صدرمملکت ، چیف الیکشن کمشنر اور سارے گورنرز اور سینیٹ وقومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بیک وقت فارغ کردے اس شخص کا دماغی توازن صرف چیک نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی جگہ پر لانا چاہیے۔
انصار و قریشاور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلے پر چپقلش ہورہی تھی۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد تو صف بندی کرکے لڑائی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے اُمت کے اختلاف کو بھی رحمت سے تعبیر فرمایا تھا لیکن اختلاف میں اعتدال کی حد سے بڑھ کر انتقام تک اعتدال سے ہٹ جانا رحمت نہیں عذابِ خداوندی ہے۔ اللہ نے امت مسلمہ پر سابقہ امتوں کی طرح کوئی اجتماعی عذاب نازل نہیں کرنا ہے لیکن آپس کی لڑائی کے عذاب سے بچنے کیلئے رسولِ خداۖ نے فرمایا کہ اللہ کا کوئی وعدہ نہیں ۔
جب بھی کسی قوم پر عذا ب کا وقت آیا ہے تو اللہ نے عذاب کو نہیں ٹالا ہے مگر قومِ یونس سے ۔اسلئے کہ انہوں نے مشاورت کے بعد کہا تھا کہ جس طرح کا عذاب خدا نے ہم پر نازل کرنا ہو ،ہم نہیں ڈرتے مگر آپس کی لڑائی کا نہیں۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اس قوم سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ آپس کی لڑائی اللہ کا واقعی بڑا عذاب ہے لیکن یہ عذاب انسانوں کے اپنے ہاتھوں میں بھی ہے۔ جب تک کوئی قوم اپنی پرامن حالت بدلنے کیلئے بدامنی کا راستہ اختیار نہیں کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حالت کو نہیں بدلتا ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی قوم خراب حالت کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتی ہے تو اللہ تعالی بھی اس کی حالت نہیں بدلتا۔
آج افغانستان، عراق ، شام اوریمن کی قومیں آپس میں فیصلہ کرلیں کہ انہوں نے اپنی حالت بدلنی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو نہیں لڑا سکتی ہے۔ ہم پاکستانی بھی اپنے دشمن آپ ہیں اور پشتون بھی ایک دوسرے کے دشمن خود ہیں لیکن اگر ہم آپس کی دشمنی ختم کرنے کے بجائے ”یہ جرنل کرنل دہشت گرد” کے نعرے لگائینگے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کیلئے کوئی کوشش نہیں کرینگے تو پھر مزید تباہی اور بربادی کا خدانخواستہ سامنا کرناپڑسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی قوتوں نے ہمیں کمزور کرنے کیلئے آپس میں لڑانے کی سازشیں کیں ہیںمگر جب تک ہم خود ان قوتوں کے آلۂ کار بننے کا کردار ادا نہ کرتے تو بات نہ بنتی۔
رسول اللہ ۖ نے آخری وعظ میں امت کو بڑی دعائیں دینے کے بعد اپنا آخری پیغام قیامت کے دن تک آنیوالے رسول ۖ کا اتباع کرنے والوں کو اپنی طرف سے سلام پہنچانے کا حکم فرمایا تھا، مسجد کے علماء کواپنے نمازیوں کا حال بھی معلوم ہے اور اپنا حال بھی معلوم ہے اسلئے رسول اللہ ۖ کے پیغام اور سلام کو پہنچانے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں۔ رسول اللہۖ نے سلام پھیلانے کا حکم دیا تھا اور اپنے آخری پیغام سے بھی امت میں سلام کو عام فرمایا ہے۔
پاکستان میں سیاسی جھگڑے بھی عروج پر ہیں۔ لسانیت اور فرقہ پرسی کے تعصبات بھی عروج پر ہیں۔سیاسی، لسانی اور فرقہ پرستی کے بیوقوف کارکن آپس میں لڑنے کے بجائے بڑے بڑوں کو آپس میںلڑائی کا شوق پورا کرنے دیں۔ ہزارہ میں منظور پشتین کے خلاف اشتعال انگیزی اور انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ قابل مذمت ہیں۔ گالی گلوچ، بدتمیزی اور اخلاق باختگی کا مقابلہ دلائل سے کیا جاسکتا ہے لیکن چاقو اور پتھروں سے حملوں کا مقابلہ دلائل سے نہیں ہوسکتا۔ مذہبی اور لسانی ماحول کی خرابی پاکستان کو عراق کی طرح تباہ وبرباد کرسکتی ہے۔
اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے لڑائی جھگڑے کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ پاکستان میں چند سیاسی رہنماؤں کے سوا باقی سب موروثی اور پیسہ کی بنیاد پر سیاست کررہے ہیں۔ لوٹوں سمیت ان سب سیاسی رہنماؤں اور قائدین سے خیرکی کوئی توقع نہیں جنہوں نے عوام اور سیاسی حالات دیکھے بغیر مفادات کیلئے سیاست میں قدم رکھا ہے۔ یہ لوگ عوام کی خیرخواہی کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی نہیں کرینگے۔ ان کو گدھوں کی طرح رسی نہیں روپیہ سے باندھا جاتا ہے ۔

NAWISHTA E DIWAR March 2021 – Ilmi Edition Number#2
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

مولانا مفتی محمود نے کہا تھا کہ شکر ہے کہ پاکستان بنانے کے گناہ میں ہم شریک نہیں تھے

مولانا مفتی محمود نے کہا تھا کہ شکر ہے کہ پاکستان بنانے کے گناہ میں ہم شریک نہیں تھے، اگرحضرت ابوسفیانبھی کہتے کہ شکر ہے کہ ہم اسلام کے گناہ میں شریک نہیں تھے جس کی وجہ سے عرب کلچر کی پامالی سے عالمی دہشتگردی تک بات پہنچ گئی!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہندوستان میں تبلیغی جماعت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور پاکستان میںتبلیغی جماعت اور دہشتگرد ایک جسم دو قالب کی طرح تھے ، مولانا طارق جمیل نے کہا:راستے دو ہیںمگر منزل ایک ہے!

جب شیعہ کے بقول چار صحابہ کے علاوہ سب مرتد ہوگئے تو پھر جنگوں میں تباہی اورقربانی سے لیکر بنوامیہ وبنوعباس کا ملیا میٹ اور موجودہ سعودی حکمرانوں تک اسلام کا کیا فائدہ ہوا ہے؟

سنی شیعہ اور امن پسند ودہشتگردوں کے اسلام میں کیا فرق ہے؟۔ تبلیغی جماعت کا نظم ونسق اور امن پسندی مثالی ہوا کرتی تھی۔ اب حال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے عالمی مرکزبستی نظام الدین ہندوستان میں مولانامحمد الیاسکے پڑپوتے کی تبلیغی جماعت اور ان سے الگ ہونے والی شوریٰ کی تبلیغی جماعت دوالگ الگ حصوں میں تقسیم ہیں۔ لڑائی اورمارکٹائی کا سلسلہ ہے۔ ایک مسجد سے الگ الگ دونوں جماعتوں کی تعلیم ، جماعتیں نکالنے کی ترتیب اور حدود میں رہنے کی ترکیب کیلئے جمعیت علماء ہند دہلوی کا مفاہمتی کردار بھی دارالعلوم دیوبند کے ترجمان مولانا فضیل احمد صاحب کی دردناک آواز میں سامنے آچکا ہے۔
مولانا طارق جمیل نے بتایا ہے کہ جب تبلیغی جماعت کے آخری امیر مولانا انعام الحسن کو مشورہ دیا گیا کہ حضرت ابوبکر کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بعد کیلئے ایک امیر منتخب کرلیں تو ان کے صاحبزدے مولانا زبیراور مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد میں سے کسی کو امیر بنانے پر خدشہ ہوا کہ جماعت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ حاجی عبدالوہاب اور چند دوسروںکی رائے یہ تھی کہ مولانا سعد کو امیر نامزد کیا جائے اور کچھ کی رائے یہ تھی کہ مولانا زبیرکو امیر نامزد کیا جائے۔ پھر تین شخصیات کی ایک نظم بنائی گئی تاکہ جماعت تقسیم نہ ہوجائے۔ مولانا طارق جمیل نے ایک بیان میں کہا کہ مولانا زبیراور مولاناسعد کے حامیوں نے ایکدوسرے پر بندوقیں تک تان لی تھیں۔ قتل وغارت کے خدشہ سے ہی جماعت کیلئے امیر کے بجائے نظم کا فیصلہ کیا گیا۔ پھرنظم کے دو ارکان مولانا زبیر اور دوسرے کا انتقال ہوا تو مولانا سعد نے کہا کہ اب میں ہی امیر رہ گیا ہوں اور حاجی عبدالوہاب نے مرکزی شوریٰ کے ارکان بڑھانے کا فیصلہ کرلیا لیکن مولانا سعد نے شوریٰ کے ارکان بڑھانے کا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر مسترد کردیا۔ اب تبلیغی جماعت کا سر کٹی لاش ہے۔ مولانا سعد اور مولانا احمد لارڈ کی الگ الگ جماعتیں ہندوستان اور بنگلہ دیش میں کام کررہی ہیں۔
جب پاکستان میں طالبان کی دہشتگردی عروج پر تھی تو ریاست نے علماء کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا۔ صحافی سلیم صافی نے مولانا طارق جمیل کو پروگرام میں بلایا تاکہ ہشتگردی کی روک تھام کیلئے کچھ ارشاد فرمائے لیکن مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ہماری منزل ایک ہے، طریقۂ کار میں فرق ہے۔ جب دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی تبلیغی جماعت اور طالبان ایک جان دوقالب تھے۔ تبلیغی جماعت کا اجتماع ہوتا تو دہشت گرد جنگ بندی کا اعلان کردیتے تھے۔ بدمعاش دہشتگردوں پرمذہبی رنگ وروغن چڑھانے کیلئے ان کو تبلیغی جماعت میں وقت لگانا پڑتا تھا۔ کوڑ علاقہ گومل میں دہشت گرد بمبار کو پولیس والے نے مار دیا تھا تو وہ تبلیغی جماعت سے تازہ تازہ آیا تھا۔ ہمارے عزیزوں نے کیوں اور کس کیلئے رکھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں وہ کس کی تلاش میں تھے؟۔ کریم پیر کا ایک بیٹا کچھ معلومات دینے پشاور آیاتھا اور تفصیل کا درست تفتیش پر پتہ چل سکے گا۔
مجھے بچپن سے دین وایمان کی چاہت تھی۔ جب نویں جماعت کوٹ ادو لیہ میں تھا تو علامہ دوست محمد قریشی کے بیٹے مولانا عمر قریشی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زیرتعلیم تھے۔ ان کے مسجد ومدرسہ کا انتظام اللہ وسایا نے سنبھال رکھا تھا۔ ایک مرتبہ اچانک مولانا عمرکے بہنوئی نے اللہ وسایا کے سر پر بہت زور دار طریقے سے بہت موٹا ڈنڈا مار دیا لیکن بچت ہوگئی اس کے دماغ کا بھیجا باہر نہیں آیا۔ جسے اللہ رکھے اسے کون جان سے مار سکتا ہے۔ مولانا سید محمد بنوری کو مدرسہ میں شہید کرکے خود کشی کا جھوٹا الزام لگایا گیاتھا۔ وزیرستان کے مولانا نور محمد وزیر اور مولانا معراج الدین قریشی محسود جنوبی وزیرستان کے ایم این اے (MNA) اور مسلمہ مذہبی شخصیات تھیں لیکن دونوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیاتھا۔
مفتی محمود نے کہا تھا کہ ”ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے” ۔ اسلے کہ برصغیر میں بڑے پیمانے پر جانیں گئیں، عزتیں لٹ گئیں، خاندان کے خاندان بچھڑ گئے اور لوگوںکو اپنے مستقل گھروں، زمینوں، جائیدادوں، نقد رقوم، زیورات وغیرہ کی قربانی کیساتھ اپنے اپنے وطن وعلاقہ کو چھوڑنا پڑگیاتھا۔ جس کا حاصل انگریز کی باقیات عدلیہ، پولیس ، فوج اور بیوروکریسی تھی اور 22خاندانوں کی سیاست تھی۔ عوام کو کالے انگریز کی شکل میں غلاموں اور نااہلوںکے اقتدارپر قبضہ کرنے کے بعد غلامی سے زیادہ یہ آزادی بھی ایک سزا لگ رہی تھی جس کی بھیانک شکل میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا تھا۔
انیس سو اڑتالیس (1948) بابڑہ میں پختونوں کے قتل عام سے لیاقت باغ راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے فیصل آباد جیل سے بدمعاش رہاکرکے پختونوں کاخون بہایاگیا تھا۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کی تقاریر میں انگریز وں کے نکالنے اور مرزائیت کی مخالفت کا معاملہ ہوتا تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد سرکار نے ختم نبوت کا نعرہ لگانے پر بھی گولی مارنے اور پھانسی پر چڑھانے کی سزاؤں سے انگریز کو پیچھے چھوڑ دیا۔ حبیب جالب کی شاعری ایوب خان کے ایسے دستورکو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا، بھٹو کے لاڑکانہ چلو نہیں تو تھانے چلو اور ضیاء کے دور میں ظلمت کو ضیاء کیا لکھنا ، بادل کو ردا ء کیا لکھنا بھی ظالمانہ تاریخ کی عکاسی تھی لیکن پرویزمشرف نے پاکستان کو قصاب خانہ بنادیا تھا۔ جس کی بھرپور تائیدنوازشریف، شہبازشریف اور عمران کی طرف سے بھی ہورہی تھی۔
مفتی محمودکی طرح ممکن تھا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت یہ ابوسفیان نے بھی کہہ دیا ہو کہ ”ہم اسلام کے گناہ میں شریک نہیں تھے” اسلئے کہ سرزمین حجاز میں حضرت سمیہ کی ٹانگیں اونٹوں سے باندھ کر چیر نے، بلال کے سینے پر بھاری پتھر رکھ کر گرم ریت پر لٹانے اور شعب ابی طالب تک مظالم تھے؟۔ بدرواحداور دوسری جنگوں میں کتنے مشرکینِ مکہ ومسلما ن قتل ہوئے؟۔ رسول اللہۖ کے وصال پر قریب تھا کہ انصار ومہاجرین میں خلافت کے مسئلے پر قتل وغارت برپا ہوجاتی اور پھر ارتداد اور زکوٰة دینے سے انکار اور نبوت کا دعویٰ کرنیوالے کے خلاف جہاد سے کتنے قتل کئے گئے۔ جب قریشِ مکہ نے نبوت کے دعویدار حضرت محمدۖ کے خلاف اقدام اٹھایا تو وہ ناجائز تھا لیکن مسلیمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو اس کو ساتھیوں سمیت تہہ تیغ کیا گیا تھا؟۔
رسول اللہۖ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی صفت بیان کی تھی کہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں مگر پھر عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت طلحہ و حضرت زبیر اور حضرت علی تک نے ایکدوسرے کے مقابلے میں جہاد کیا اور ستّر (70) ہزار ایک جنگ کی نذر ہوگئے جو پاکستان میں اس وقت بھی مشکل سے ہوئے کہ جب ریاست کی رٹ ختم ہوچکی تھی اور پاکستان بالکل قصاب خانہ بن چکا تھا۔ اتنے افراد سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کی شیعہ سنی شدت پسند تنظیموں نے بھی ایکدوسرے کے قتل نہیں کئے۔ پھر بنی امیہ کے دور میں کربلا کا واقعہ پیش آیا۔ مسجد نبوی اورمدینہ شہر کی حرمت بھی پامال کی گئی اور عبداللہ بن زبیر سے جنگ کرنے کے دوران خانہ کعبہ کا مطاف پتھروں سے بھر دیا گیا اور ابن زبیر کے قتل کے بعد انکی نعش کئی دنوں تک لٹکائی گئی۔ اس کی سو (100) سالہ بوڑھی ماں حضرت اسماء بنت ابی بکرکے حال پر بھی رحم نہیں کھایا گیا۔ پھر بنوامیہ کے خاندان کو بنوعباس نے بہت بے دردی سے کچل دیا اور بنوعباس کو ہلاکو خان چنگیزی نے ہی تخت وتاراج کیا ۔ انسانی سروں سے مینار تعمیر کئے گئے۔ جب اہل تشیع کے نزدیک صرف چار صحابہ مسلمان باقی بچے تھے باقی سب مرتد ہوگئے تھے تو کیا ابوسفیان کی طرف سے بات بنتی نہیں ہے کہ جس اسلام نے عرب کے اقدار کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا تھا ،اچھا ہوا کہ یزید نے رسول اللہۖ کے کنبے کو پہلے بھی کربلا میں قتل کردیا تھا اور طالبا ن اور تبلیغی جماعت کی مشترکہ کاروائی اور حکمت عملی کے نتیجے میں سن د وہزار سات (2007) میں سیدعتیق الرحمن گیلانی کو قتل کرنے کی غرض سے آنے والوں نے بہن ،بھائی، بھتیجے ،بھانجی ،خالہ زاد ،ماموں زاد ، مسجد کے امام اور گھر کے خادم کے علاوہ آنے والے مہمانوں آفریدی، مروت، جٹ اور محسود سب کو قتل کیا تھا اور اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب دیکھنے والے عتیق گیلانی کو قتل کرنے کے بعد تیزاب کے بڑے بڑے کین لاکر عبرت کا نشان بھی بنانا تھا لیکن اللہ کے فضل سے وہ بچ نکلا تھا۔
ایک طرف شیعہ ہزارہ کے ذبح کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تو دوسری طرف عراق وشام میں مسلمان ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے بعد یہ سلسلہ پاکستان میں گرم کرنا چاہتے ہیں۔ شیعہ سنی اور دیوبندی بریلوی کے علاوہ حنفی واہلحدیث اور ایک ایک فرقے والے بھی ایکدوسرے کے خلاف رندے تیز کررہے ہیں۔ اگر بس چل گیا تو قادیانی صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں۔ اگر بس چلا تو وہابی گستاخ صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں اور اگر بس چلا تو بریلوی مشرک بھی صفحہ ہستی سے مٹادئیے جائیں۔ حجاز مقدس پر جن عرب حکمرانوں کا قبضہ ہے وہاں کفیلوں کے ذریعے غیر ملکیوں کو تمام انسانی اور تجارتی حقوق سے محروم کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔ اگر وہ پیسے دیں تو اچھے ورنہ پھر ہمارے اہلحدیث بھی بریلوی کیا ہندو بننے کیلئے بھی آمادہ ہیں۔
جب سنی مسلمانوں کو پتہ چل گیا کہ قرآن وسنت میں حلالہ کی لعنت کا کوئی تصور نہیں تھا تو گمراہی کے قلعوں مدارس کو چاہیے تھا کہ قرآن کی تعریف میں تحریف کا عقیدہ پڑھانے اور حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت 6سال اور رخصتی کے وقت 9سال کی بجائے سولہ (16)سال اور(19)کی درست تحقیق پر جشن منانے سے لیکر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز تک ہر معاملہ پر علاقائی سطح سے لیکر ملکی اور بین الاقوامی سطح تک جلسے جلوس کرتے ۔ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرتے۔ اپنے غلط عقائد ونظریات اور نصاب سے توبہ تائب ہوجاتے ۔ اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے کہ رسول اللہۖ کی آل اولاد میں ایک شخص نے زبردست طریقے سے جہالتوں کی نشاندہی کردی ہے۔ تمام فرقوں کے مسائل کا حل قرآن وسنت سے حل کرنے کی زبردست کوشش نے اسلام کی نشاة ثانیہ کے خواب کی تعبیر کو قریب تر کردیاہے ۔ حلالہ کے نام پر خاندانوں کو تباہ اورعزتیں لٹوانے سے بچانے کا راستہ نکال دیا ہے۔ اسلام کی درست نشاندہی کردی ہے۔ اسلام کے نام پر مفادات کی سیاست اور سودکے جواز میں مذہبی رنگ سازی کے دانت کھٹے کردئیے ہیں۔ اہل تشیع کے گیارہ ائمہ نے بہت کچھ کیا ہوگا مگرمنصبِ خلافت پر براجمان ہونے یا نہ ہونے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں مل سکا ہے اور بارہواں امام مہدیٔ غائب ہزار (1000)سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ اہل تشیع کا ان سے رابطہ نہیں ہے۔ جب آئیں گے تو آئیںگے لیکن قرآن میں ایسے اولی الامر کی اطاعت کا ذکر ہے جس سے اختلاف کرنے اور بات اللہ اور اسکے رسول ۖ کی طرف لوٹانے کی گنجائش بھی ہو۔ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی اچھے ذاکر اور خطیب ہیں لیکن اس کی یہ بات شاید کسی شیعہ کی معتبر کتاب میں بھی نہیں ہوگی کہ رسول اللہۖ قیامت کے دن اپنی قوم سے قرآن کو چھوڑنے کی شکایت کریںگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو علی کے بغیر چھوڑ دیا ہے اور یہ ممکن ہے کہ ان کی کسی تفسیر میں ہو بھی سہی، کیونکہ مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے معتبر اکابر شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب”منصبِ امامت” میں حضرت علی کے بارے میں ایسی احادیث لکھ دی ہیں۔ اگر رسول اللہۖ کو یہ شکایت صحابہ سے ہوگی تو ہمارا قصور تو نہیں ہوگا۔ البتہ یہ سمجھا جائے گا کہ جب تک مہدی غائب کا ظہور نہیں ہوتا ہے تو قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہوگا اسلئے کہ حضرت علی اپنے وقت کاامام اور موجودہ دور کا امام زمانہ مہدی ٔ غائب ہیں۔ ایران اور عراق کی حکومت بھی اہل تشیع کے پاس ہے لیکن جب تک مہدی ٔ غائب کا ظہور نہیں ہوتا ہے تو شیعہ کے روحانی پیشواء کی طرح ایک ایسا اولی الامر عالمِ اسلام کو تشکیل دینا ہوگا جس سے دنیا کی سپر طاقتیں بھی اسلام کا نظام قبول کرنے کیلئے بخوشی تیارہوجائیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

مفتی منیر شاکر اور علامہ عابد حسین شاکری کی دوبہت ہی متضاد شخصیات بھی اللہ اور اسکے رسولۖ کے نام پر اکٹھے ہوکرکام کرسکتے ہیں

مفتی منیر شاکر اور علامہ عابد حسین شاکری کی دوبہت ہی متضاد شخصیات بھی اللہ اور اسکے رسولۖ کے نام پر اکٹھے ہوکروہ کام کرسکتے ہیں کہ پاکستان اور سب سنی شیعہ اور تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مسجد نہیں بلکہ دنیا کی امامت کریں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مفتی منیر شاکر پختونخواہ میں اپنے سنی ، دیوبندی اور پنج پیریوں کیلئے بھی ایک انتہائی متنازع شخصیت ہیں لیکن یہ شخص اچھے انداز میں سب کیلئے قابلِ قبول اور بہت زبردست ہوسکتے ہیں

علامہ جواد حسین نقوی اہل پاکستان میں اپنے اہل تشیع کیلئے متازعہ ہیں لیکن اہلحدیث ، دیوبندی اور بریلوی مکتبۂ فکر میں بہت تیزی کیساتھ قابلِ قبول اور انتہائی عروج پر پہنچ رہے ہیں

سنی اور شیعہ اپنے اپنے مؤقف پر مضبوطی سے ڈٹنے کا حق رکھتے ہیں اسلئے کہ نسل در نسل ہندو، سکھ اور عیسائی کو اپنے آبائی مذہب سے بدلنا آسان نہیں ہے اور جہاں شدت پسندی آتی ہے تواللہ نے ملائکہ کے استاذ عزازیل علیہ الصلوٰة والسلام کو بھی اپنے مقام ومرتبہ سے اُتار کرابلیس لعین الی یوم الدین ہمیشہ کیلئے لعنت اللہ علیہ والملائکہ اجمعین بنادیاہے۔ نورانی ملائکہ نے بھی اعتراض کیا کہ حضرت آدم کو خلیفہ بنانیکی کیا ضرورت ہے جو زمین پرخون بہائے اور فساد پھیلائے ؟ لیکن اللہ نے کہا کہ ”میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”۔ فرشتوں کا لاعلمی میں سوال اُٹھانا اخلاص کی دلیل ہے ، گستاخانہ لہجے کی نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا جہالت ہے لیکن معصومانہ سوالات کا اظہار کوئی گناہ نہیں ہے۔ جبکہ شیطان اسلئے راندۂ درگاہ ہوا کہ اس نے شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے ، تمہارے حکم پر میں اسکے آگے سجدہ نہیں کروں گا۔سب ملائکہ نے سجدہ کیا تھامگر ابلیس نے نہیں کیا۔
آج ہم نے بنی آدم کو فساد پھیلانے اور خون بہانے کے شیطانی عمل سے روکنے کیلئے عدل واعتدال اور صراط مستقیم کا راستہ اپنانا ہے۔ رسول اللہۖ نے حضرت عثمان کے نا حق قتل کی خبر پر صحابہ کرام سے احرام کی حالت میں جہاد کیلئے بیعت لی تھی لیکن جب پتہ چلا کہ خبر جھوٹی ہے تو صلح حدیبیہ کی شرائط پردستخط کئے اور اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ پر مخالف فریق مشرکینِ مکہ کا اقتدار تسلیم کرلیا ہے۔ اولی الامر کی حیثیت سے مشرکینِ مکہ نے یہ شرائط رکھی تھیں کہ تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں لاؤگے۔ تین دن سے زیادہ قیام نہ کروگے اور جب بھی نکلنے کیلئے کہا جائے تو نکلوگے۔ ایکدوسرے کیساتھ خفیہ اور اعلانیہ دشمنی نہیں کرینگے۔ اگر قریش کا کوئی فرد مسلمانوں کے پاس آجائے تو اس کو واپس کردیا جائیگا لیکن اگر مسلمانوں کا کوئی فرد قریش کے پاس آجائے تو اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔
آج جوغیرملکی مسلمان سعودی عرب میں رہتے ہیں ،ان کو عیسائی ممالک کی نسبت بہت کم انسانی حقوق حاصل ہیں۔ رسول اللہۖ نے اسلام کے بدترین دشمنوں یہود اور مشرکینِ مکہ کیساتھ بھی میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ کے معاہدے ریاستِ مدینہ کے داخلی اور خارجی محاذ پرفرمائے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام سلامتی اور ایمان امن کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر ہمیں فرقہ وارانہ مسائل کی دلدل سے فرصت مل جائے تو اسلام کی ایک ایک بات سے پوری دنیا میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ اسلام میں آزادیٔ رائے کا بھرپور حق ہے اور اس حق سے معاشرے میں امن وسلامتی اور آزادیٔ رائے کی اعلیٰ مثال نظر آسکتی ہے۔ رسول اللہۖ کے دور میں حضرت عائشہ پر بہتان طرازی کے مرتکب حضرت حسان، حضرت مسطح اور حضرت حمنہ بنت جحش نے اسّی اسّی (80،80) حدِ قذف کے کوڑے کھائے اگر اسلام نے برائی کو ہاتھ اور زبان سے روکنے کا حکم دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز بھی نہیں ہے کہ اگر قانونی چارہ جوئی کیلئے کسی کے خلاف حق کی گواہی دی جائے تو اس پر اسّی (80)کوڑے حدِ قذف کی سزا بھی مسلط کی جائے۔
خلیفہ ٔ دوم حضرت عمرنے بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ کے خلاف گواہی دینے پر تین افراد کو کوڑے مارے تھے اور چوتھے فرد کی گواہی ناقص قرار دی تھی۔ اسلام کے چہرے سے جب تک اجنبیت کی یہ اُلجھنیں دور نہ کی جائیں اس وقت تک مسلمانوں کا کسی عقیدے اور نظام پر اتفاق نہیں ہوسکتا ہے۔
اگر دنیائے کفر کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے کہ مسلمان چوری اور سینہ زوری کے مرتکب ہیں تو وہ مسلمانوں کو امامت کے قابل سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے بلکہ اپنے اسلامی اقدار کیمطابق زندہ رہنے کا حق دینا بھی ان کیلئے مشکل ہوگا۔ مثلاً علامہ خادم حسین رضوی کے بیٹے علامہ سعد رضوی نہیں بلکہ وہ چھوٹے بیٹے جو بہت سیدھے سادے لگتے ہیں۔ اس کی رہائش فرانس یا کسی دوسرے مغربی ملک میں ہو۔ ایک بیگم اسلامی تعلیمات کے مطابق عیسائی یا یہودن ہو۔ اگر تین افراد اس پر چشم دید گواہ بن جائیں کہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب پائی گئی ہے لیکن وہ اعتراف جرم سے انکاری ہوجائے تو کیا اسلامی تعلیمات کا تقاضہ یہی ہوگا کہ ان گواہوں پر اسّی اسّی (80،80)کوڑے برسانے کا قانون بھی نافذ کیا جائے؟۔
دنیا میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسلام کا تقدس بالکل مصنوعی ،چوری اور سینہ زوری پر مبنی ہے لیکن ہم نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقت کو واضح کرنا ہوگا کہ مغیرہ ابن شعبہ پر الزام لگنے اور گواہوں پر کوڑے برسانے اور ام المؤمنین حضرت اماںعائشہ صدیقہپر بہتان لگانے والوں میں بڑا اور بنیادی فرق تھا۔ دونوں معاملات کو خلط ملط کرنے سے دنیا میں اسلام کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔ اسلام میں برائی کو روکنے اور آزادیٔ اظہار رائے کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کیخلاف پوری قوت اور شدومد سے آواز اٹھائی گئی۔ اگر واقعی جرم کی مرتکب ہوتیں تو قرآن نے امہات المؤمنین کیلئے فحاشی پر دوہری سزا کی وضاحت کردی ہے ۔عام عورت کو سو( 100)کوڑے کی سزا تو ان پردو سو (200)کوڑے کی سزا نافذ ہوتی۔ دوسری بات یہ ہوتی کہ ان کا نکاح بدکار یا کسی مشرک سے کردیا جاتا۔ کیونکہ طیب طیبہ اور خبیث خبیثہ ایک ساتھ ہوسکتے ہیں مگر بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کو مؤمنین پر حرام کردیا گیا ہے۔ اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہر مشرک مرداور مشرکہ عورت بدکار ہوتے ہیں لیکن ان کا قانون یہ تھا کہ مشرکین کے ہاں قانونی اور اخلاقی لحاظ سے ایسے جوڑوں کی کھلی چھوٹ تھی۔ ویسے تو حضرت ام ہانی کے شوہر بھی مشرک تھے اور صحابہ جب مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے تو تب بھی بہت سے لوگ اچھے کردار کے مالک تھے۔
جب حضرت یوسف علیہ االسلام پر زلیخا نے بہتان لگایا تھا تو ایک بچے نے شواہد کے ذریعے سے غلطی اور جبر کی مرتکب حضرت زلیخا کو مجرم ثابت کیا تھا کہ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹ گئی ہے تو یوسف علیہ السلام مجرم ہیں اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹ گئی ہے تو حضرت یوسف پاک اور وہ زلیخا مجرم ہے۔ جب کسی کوبات کرنیکی اجازت نہ ہو تو پتہ نہیں کیا کیا قیامت ڈھائی جائے گی؟ اور جب نبی اور انکے حرم پر بات کی گنجائش ہو تو ان سے بڑا پھنے خان کوئی نہیں۔
حضرت عائشہ کی پاکدامنی کی گواہی بہتان لگانے والی حمنہ بن جحش کی سگی بہن ام المؤمنین حضرت زینب نے بھی دی جو مقابلہ رکھنے والی سوکن بھی تھیں۔ ایک ایک گوشے سے نبیۖ نے تسلی فرمالی توپھر وحی اُتری تھی۔ اسلام بڑا زبردست دین اسلئے ہے کہ ایک تو رائے کی آزادی ہے تاکہ برائی کہیں بھی پنپ نہ سکے اور دوسرا یہ کہ ام المؤمنین اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا بالکل یکساں ہے تاکہ کوئی مذہبی اور طاقتور شخصیت اسلام کے دامن میں جھوٹی پناہ نہ لے سکے۔ معاشرے میں بے لاگ اظہار رائے کی آزادی سے پاکدامن اور خبیث کے درمیان تفریق قائم کرنے میں بالکل بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔جب بلاخوف ماحول کا جائزہ لیا جائے توپاک اور پلید کی نشاندہی بہت آسان ہے۔
اسلام وحی کے ذریعے سے معاشرے کی اصلاح کے اصول بتاتا ہے لیکن معاشرے کی اصلاح صرف عقائد، نظریات اور الفاظ سے نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کیلئے صالح اعمال کی ضرورت ہے۔ انسانوں کے صالح اعمال کا تعلق انفرادی اور اجتماعی معاملات سے ہوتا ہے۔ ایمان، صالح اعمال ، تلقینِ حق اور تلقینِ صبر انسان کو خسارے سے بچانے کیلئے ضروری ہیں۔ (سورۂ عصر) غلط گواہی دینے پر قرآن نے انسان کے دل کو گناہگار قرار دیا ہے۔ جب کوئی درست گواہی دیتا ہے تو معاشرہ اس کی سچائی کا قدر شناس ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبیۖ نے عصر کی نما ز دو رکعت پڑھائی تو کچھ لوگوں نے سمجھا کہ چار رکعت سے نماز کم ہوگئی ہے، کچھ لوگوں نے نبیۖ کے سامنے بات کرنے کی جرأت نہیں کی لیکن ایک شخص نے نبیۖ کے سامنے کہا کہ دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ شروع میں اس شخص کی بات پر نبیۖ نے یقین نہیں کیا لیکن جب تفتیش کرنے کے بعد بتایا گیا تو نبیۖ نے دو رکعت مزید پڑھائے اور فرمایا کہ ذی الیدین نے سچ کہاہے۔ انسانوں میں بعض اوقات سچ کہنے اور بے باکی میں فرق ہوتا ہے۔
مفتی منیر شاکر کی کلپ مشہور ہے کہ رسول اللہۖ کو میں اسلئے نہیں مانتا ہوں کہ میرے چچازاد یا خالہ زاد بھائی ہیںبلکہ اللہ کے حکم کی وجہ سے آپۖ کو مانتا ہوں۔ آپۖ کے والد عبداللہ، والدہ آمنہ، دادا عبدالمطلب ، چچاابوطالب کو میں نہیں مانتا ہوں۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی نے کہا ہو کہ آمنہ نے یہ فرمایا ہے۔ نبیۖ اللہ کے رسول ہیں اسلئے ہم آپۖ کو مانتے ہیں۔
مفتی منیر شاکر کی اس بات سے بہت سے لوگوں نے زبردست اختلاف کیا ہے اور کچھ لوگ اسکے حق میں بھی ہیں۔ مفتی منیر شاکر کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ ہمارے لئے صرف قرآن وحدیث معتبر ہے۔ مفتی صاحب مولانا حسین علی کی جماعت اشاعت التوحید والسنة کے قائل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مولانا طاہر پنچ پیری کے بیٹے مولانا طیب طاہری نے حق کے مشن سے انحراف کیا ہے اسلئے وہ مخالف پیر سیف الرحمن اور مولانا طیب طاہری میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔
جب لعان کی آیات نازل ہوئی تھیں تو انصارکے سردار سعد بن عبادہ نے کہا کہ میں قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے لعان نہیں کروں گا بلکہ بیوی اور اس کیساتھ ملوث شخص کو قتل کردوں گا۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز نے ہندوؤں کی رسم ستی کو ختم کردیا کہ جب وہ خاوند کے مرنے کے بعد اس کی بیوی کو جلاڈالتے تھے۔ بلوچوں کی رسم تھی کہ چور کو اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے آگ کے انگاروں سے گزرنا پڑتا تھا۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں میں یہ رسم تھی کہ بیوی کو فحاشی میں مبتلا دیکھ موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا تھا، انگریز نے بھی تعزیراتِ ہند میں غیرت کے نام پر قتل کی اجازت دیدی تھی اور اب بھی یہ رسم موجود ہے۔
مفتی منیرشاکر ایک غیرتمند پختون اور مسلمان خود کو سمجھتا ہے لیکن اگر قرآن میں اللہ نے اور سنت میں رسول ۖ نے حلالہ کی لعنت پر عمل کرنیکا حکم نہ دیا ہو بلکہ اس رسمِ جاہلیت کو بالکل بنیاد سے ختم کردیا ہو توپھر نام نہاد اکابرعلماء و مفتیان کو احبار ورہبان کی طرح اپنا ارباب بنانا کیاجائز ہوگا کہ لوگوں کو رسم جاہلیت کے حلالے پر مجبور کیا جائے؟۔ مشرکینِ مکہ میں حلالہ کی رسمِ جاہلیت بے غیرتی کے لحاظ سے ہندوؤں کی رسم ستی سے بدرجہا بدترین تھی۔ آج بھی غیرتمند عورتیں ہندوؤں کی رسم ستی کو قبول کرلیںگی مگر حلالہ کی لعنت کو قبول نہیں کریں گی۔
پچھلے سال اسلام آباد میں پورا الیکٹرانک میڈیا، مذہبی وسیاسی لیڈر شپ ، حکمران اور اپوزیشن اورعمران خان ، مولانا فضل الرحمن، ن لیگی رہبران اور سبھی آٹھ (8)آزادی عورت مارچ کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔روڈکے ایک طرف کپڑے پیچھے کے خواتین تھیں اور دوسری طرف پر جوش مذہبی طبقہ تھا۔ خون آلود ہونے کی خبر خواتین نے اپنے کیمپ کے حوالے سے دی لیکن ایف آئی آر ایک بے غیرت کاکڑ مولوی نے اپنے زخمی ہونے کی کٹوائی تھی ۔ ان کو کاٹو تو ایک قطرہ ٔ خون بھی غیرت کا نہیں نکلے گا۔ قرآن نے طلاق سے رجوع کیلئے شرط عدت اور اصلاح کی رکھی ہے مگر یہ قرآن کے فطری حکم کا انکار کرکے نہ صرف کفر کے مرتکب بلکہ انتہائی بے غیرتی، بے شرمی، بے حیائی، بے مروتی، بے حسی، بے ضمیری اور بے تکے الفاظ ومعانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مفتی منیر شاکر میری کتابوں کا مطالعہ کرکے دلائل سے مطمئن ہوکر قرآن کی آیات سے لوگوں کو آگاہ کرسکتے ہیں۔
علامہ عابد شاکری کہہ سکتے ہیں کہ مفتی صاحب ! اگر آپ نے یزید کو ماننے کی بجائے ابوطالب کو مانا ہوتا تو حلالہ سے خواتین کی عزتیں تارتار نہ ہوتیں۔ ہوسکتا ہے کہ ابوطالب نے اسلام کو بھی قبول نہیں کیا ہو کہ سجدوں میں چوتڑ ہم سے نہیں اٹھائے جاتے ہے مگر غیرت پاسبان رہتی تو حلالہ کی بے غیرتی اور یزید کے مظالم تک کم ازکم بات نہ پہنچتی۔علامہ ساجدنقوی ابوبکر و عمر کی خلافت کو نہیں مانتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جب سعد بن عبادہ نے ان کی خلافت کو نہ مانا، تب بھی سعد بن عبادہ کی صحابیت پر کوئی اثر نہ پڑا۔ اگر جن نے ان کو شہید کیا اور وہ جن زندہ ہے تو جنات سے اسکو سزائے موت دی جائے۔ علامہ ساجدنقوی کہتے ہیںکہ توحیدورسالت کی گواہی کوفہ ،عراق اور کربلا میں ہے مگر شہادت ثالثہ ”علیاً ولی اللہ وخلیفہ بلا فصل” وہاں نہیں جو پشت درپشت ائمہ اہلبیت سے منسلک ہیں اسلئے برصغیر پاک وہند کے شیعہ بھی اپنی اس بدعت سے باز آجائیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

بلٹ نے اس مرتبہ پروف کردیا کہ بیلٹ کے پیچھے اسکا کوئی کردار نہیں تھا.

پنجاب میں سینٹ الیکشن کا کریڈٹ چوہدری پرویز الٰہی اور مرکز میں پی ڈی ایم (PDM)کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمن کو جاتا ہے۔ جمہوریت سرخرو ہوئی مگر نظام کے منہ پر انتخابات نے کالک مل دی

(کالم تیز و تند)  تحریر: قدوس بلوچ

بلٹ نے اس مرتبہ پروف کردیا کہ بیلٹ کے پیچھے اسکا کوئی کردار نہیں تھا لیکن یہ پتہ کیسے چل سکتا ہے کہ خفیہ بیلٹ میں ضمیر کی آزادی کا معاملہ ہے یا بے دریغ پیسہ اس میں ملوث ہے؟

جہاں قلم اور اسکی سطروں کا تقدس بکتا ہو،جہاں اینکر پرسن اور میڈیا ہاؤس اپنی عزت کا بھرم کسی کی وکالت کرتے ہوئے گٹروں میں ڈبکیاں کھاتادکھائی دے وہاں ضمیر کا کیا سوال ہے؟

پہلے زمانوں میں جب معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا تھا تو اللہ تعالیٰ کسی نبی یا رسول کی بعثت سے اصلاح وہدایت کے راستے کھول دیتا تھا۔ یقین وایمان والے اپنے اعمال کی پوری اصلاح کرکے سرخرو ہوجایا کرتے تھے۔ اور کافر ومنافق اپنے حربوں کے ذریعے عتاب وعذاب تک پہنچ جاتے تھے۔ جب سے نبوت کا سلسلہ ختم ہوا ہے تو امت کی اصلاح کیلئے قرآن کی رہنمائی موجود ہے اور علماء کرام و اولیاء عظام نے ہردور میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جب انگریز نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا تھا تو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے ایک طرف مجاہدین کی قیادت کرنے کی کوشش فرمائی ، دوسری طرف سیاسی محاذ پر اپنی جدوجہد کو تیز کرنے کی مہم کی سرپرستی فرمائی اور تیسری طرف فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرنیکے محاذ پر کام کیا۔ فیصلہ ہفت مسئلہ دیوبندی بریلوی اختلافات کا حل تھا۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے حیدر آباد دکنی ماموں نے فرقہ واریت ہی سے توجہ ہٹانے کیلئے وہ بیہودہ حرکت کی ہو جس کی وجہ سے علماء دیوبند نے شیعہ اور بریلوی مکتب کا پیچھاچھوڑا ہو کہ ” اپنے مسلک کو چھوڑو مت اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑومت”۔
مولانا فضل الرحمن میرے بڑے بھائی عبدالقیوم کے ہم جماعت تھے ، ملتان میں ہم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ میرے والد مولانا عبدالمالک کے مرید تھے۔ علماء دیوبند سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ مذہبی جلسے جلوسوں میں ایک روحانیت ملتی تھی ۔ ہمارا تعلق حضرت حاجی محمد عثمان سے تھا۔ مفتی محمد تقی و مفتی محمد رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق صاحب نے حاجی عثمان سے بیعت کی تھی اور وہ بڑے خلیفہ بھی تھے۔ پھر وقت آیا اور آزمائش کی وجہ سے علماء سمیت بڑے فوجی افسران اور دنیا دار لوگ سب بھاگ گئے۔ جلسوں اور الیکشن میں ہم نے مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کرتے ہوئے سید عتیق الرحمن گیلانی کی بھرپور حمایت بھی دیکھی ہے ۔ جب نیب کی طرف سے مولانا کی گرفتاری کا شدید خطرہ تھا تو شہہ سرخی کیساتھ مولانا کی ایسی حمایت کردی کہ دنیا حیران اور پریشان ہوگئی لیکن جونہی خطرہ ٹل گیا تو پھر ہمیں خبر لینے کی بھرپور اجازت بھی مل گئی ۔
ہم نے بہت پہلے کارٹون شائع کیا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں مولانا فضل الرحمن اتحاد کی کوشش کررہے ہیں اور ہمیں اس کوشش سے کوئی اختلاف بھی نہیں اور صحافت میں اپوزیشن ہی کو سپورٹ کرنا ایک صحتمند صحافت کا تقاضہ ہوتاہے۔ اگر بالفرض مولانا فضل الرحمن کو نیب گرفتار بھی کرلیتی تو جمعیت کے کارکن بھی پی ٹی ایم (PTM)کی طرح جذباتی بن جاتے ۔ن لیگ و پیپلزپارٹی کے قائدین، رہنما اور کارکن بھی اپنے مقاصد کیلئے مولانا کی حمایت اور حکومت وریاست کی مخالفت کرتے۔ ہمارا مقصد مولانا فضل الرحمن کو سیاست کی طرح مذہبی معاملات میں بھی سردمہری کا شکار ہوجانے کے بجائے فعال کردار ادا کرنیکی طرف متوجہ کرنا ہے۔ جو ان کا اصل منصب اور ہدف بھی ہے۔
ہم نے لکھ دیا تھا کہ مشہور ہے کہ اونٹ اور اونٹنی کا ملاپ انسان کی مدد سے ہی ہوتا ہے۔ دیہاتوں میں جانوروں کے چھوٹے جراح ہوتے تھے جن کو سلوتری کہا جاتا تھا۔ ان کا کام جانوروں کے پیٹ میں مرے ہوئے بچوں کو بھی ہاتھ سے ہی نکالنا ہوتا تھا۔ اونٹوں کے معاملے میں بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ پہلے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو ملانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب شاید بلکہ یقینا چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں تحریک انصاف اور ن لیگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پنجاب میں ن لیگ بھی متفق ہوجاتی تو تحریک انصاف کی حکومت کو پنجاب سے چلتا کرنے میں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور ق لیگ کیلئے کوئی مشکل نہ تھی لیکن ن لیگ کی چاہت نہیں تھی اسلئے مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ نے پیپلزپارٹی کیساتھ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ ہم نے حقائق سے پردہ اُٹھانے میں دیر نہیں لگائی اسلئے ن لیگ اور جمعیت والے دبک کر بیٹھ گئے۔ پھر پیپلزپارٹی کی مدد سے ق لیگ نے سینٹ الیکشن کو پنجاب کے اندر بلامقابلہ انتخابات میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔ایک اچھی اور جاندار صحافت کے بہت ہی زبردست نتائج نکل سکتے ہیں۔ مریم نواز سے پنجاب کے متفقہ سینٹ پر سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ ”میں اس پر تبصرہ نہ ہی کروں تو اچھاہے”۔ سلوتری کے کردار پر راضی ہوتی توتبصرہ بھی کرتی۔
پیپلزپارٹی سے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے تحریکِ عدم اعتماد پر اعداد وشمارمانگ کر پنجاب اور مرکز میں یہ امکان ن لیگ کی وجہ سے مسترد کیا تھا وہ بالکل ہی غلط تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کو بھی مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز کی ایماء پر ڈانٹ دیا تھا۔ جس کا چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہاہے کہ مولانا مجھ پر کس بات کا غصہ نکال رہے ہیں؟۔
پنجاب اور مرکز میں ق لیگ کیساتھ مل کر ن لیگ کردار ادا کرنے کیلئے آمادہ ہوجائے تو مریم نواز کا کہنا بنتا ہے کہ لانگ مارچ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ نے وعدہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی مدت پوری ہونے دیگی تو پھر اپوزیشن کا شوشہ چھوڑ کر عوام اور صحافیوں کا وقت بھی ضائع نہ کیا جائے۔ البتہ اگر پی ڈی ایم (PDM) لانگ مارچ کے ذریعے سے حکومت گرانا چاہتی ہے تو بھی اچھی بات ہے۔ نظام میں تبدیلی کیلئے ہل چل کے حق میں ہم بھی ہیں۔ اگر اس ہل چل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نوازشریف کی طرح مریم نواز بھی علاج کی غرض سے چھوٹے سے آپریشن کیلئے باہر چلی جائے تو جتنا خرچہ مولانا فضل الرحمن پر کیا گیا ہے وہ بھی وصول ہوجائیگا۔
ہماری چاہت ہے کہ اہم اسلامی معاملات کو اُٹھاکر بحث کا آغاز کیاجائے تاکہ میثاق مدینہ سے یہود کی سازشوں کیلئے زبردست بند باندھا جاسکے۔ اسلامی مزارعت سے سود خوروں اور مفاد پرستوں کے قلع قمع میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

پارلیمنٹ سے اسلامی زارعت،عدالت، معیشت اور سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے.

چہرے نہیں اب نظام کی تبدیلی
پارلیمنٹ سے اسلامی زارعت،عدالت،
معیشت اور سیاست کا آغاز ہوا چاہتا ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن ایک متفقہ بل پیش کریں۔ جس پر پاک فوج، عدلیہ ،صحافیوں ، علماء ومفتیان اور دانشوروں کو بھی اعتماد میں لیا جائے ۔
(1) حدیث صحیحہ،امام ابوحنیفہ اور جمہور ائمہ کے نزدیک زمین کو مزارعت ، کرایہ اور کسی بھی طرح کا نفع اٹھانے کیلئے دینے کو ممنوع قرار دیا جائے۔ جب کسانوں کو مفت میں زمین مل جائے گی تو کاشتکار اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے قابل ہونگے۔ ضرورت کی چیز خرید سکیںگے تو ہمارے تاجروں کے کارخانے، فیکٹریاں اور مل چلنا شروع ہوں گے اور بازاروں اور دکانوں میں ریل پیل ہوگی۔ کاروبارِ زندگی رواں دواں ہوگا۔ جب سود حرام ہونیکی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ مدینہ کی جس ریاست نے دنیا کی سپر طاقت کو شکست دی تھی تو اس کی وجہ کاشتکاروں اور تاجروں کی ہی خوشحالی تھی۔اگر وہ خود بھوکے مرتے یا قرض پر چلتے تو دنیا کو مظالم سے چھٹکارا دلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے تھے۔ ملک میں محنت کشوں کی خوشحالی کا راستہ ہموار ہوگا تو پھر ریاست، حکومت اور عوام الناس سب خوشحال ہونگے۔ جاگیردار اپنے لئے مہنگی گاڑی، بیرون ملک سفر اور عیش وعشرت کا سامان کرتا ہے تو ایک طرف کاشتکار بھوکا مرتا ہے تو دوسری طرف مقامی تاجروں کا کاروبار نہیں چلتا ہے۔
(2) ریاست اور حکومت سے عوام الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے یہ ختم کی جائیں۔ ٹریفک اور عام پولیس سے لیکر نچلی سطح سے اعلیٰ عدالت تک لوگوں کو جس غضب سے گزرنا پڑتا ہے اس کا احساس وہی کرسکتا ہے جس کو ان سے واسطہ پڑجائے۔ پیٹ کے چکر میں ریاست کے اہلکار عوام سے وہ سلوک کرتے ہیں جو اپنے جانوروں سے بھی کوئی نہ کرے۔ ہماری چھبیس (26) خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ دن دیہاڑے زمینوں، دکانوں اور پلاٹوں پر قبضے ہوجاتے ہیں۔ جعلی کاغذات کے چکر چلائے جاتے ہیں۔ پیسہ اور طاقتور طبقہ کی وجہ سے مظلوم سالوں اپنے حق کیلئے رُلتا ہے مگر اس کو انصاف نہیں ملتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی نے کہا کہ اُوپر انصاف کا جھنڈا ، تلے انصاف بکتا ہے ایسی عدالتوں کو بمع عملہ ڈھادو۔
(3) ریاست، حکومت اور سیاسی پارٹیوں نے پرائیوٹ بدمعاش رکھے ہیں۔ظالموں کا خاتمہ کرنے کیلئے پورے معاشرے میں گلوبٹوں کو ہرقیمت پر تاریخی سبق سکھانا ہوگا اور ریاست کے اندر ریاست کا تصور بالکل ختم کرنا ہوگا۔ شریف عوام کے ٹیکس کی رقم سے اور شریف شہری پر بدمعاشوں کو مسلط کرنے والوں کو بھی سخت سے سخت سزا دینی ہوگی۔ البتہ یہ بھی نہیں ہوگا کہ کسی علاقہ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہو اور عوام حملہ آوروں کو چھپائیں کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ریاست جانے اور اس کا کام جانے۔ خطرناک باغیوں کو پھانسی سے لیکر اصلاحی سینٹروں تک منتقل کرنے کی ایسی قانون سازی کی جائے کہ کوئی خاتون اپنے بے غیرت شوہر، بیٹے اور بھائی کیلئے کبھی احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔
(4) آرمی چیف اور دیگر عہدوں میں مدت کی توسیع کا قانون ختم کیا جائے اسلئے کہ پھر پرویز مشرف کی طرح وردی کو کھال قرار دینے والے پاک فوج کے پروفیشنل افسروں کے حقوق معطل کریںگے۔ ایسے نالائق لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی نہیں دی جائے جو اس اہم عہدے کو سنبھالنے کی صلاحیت سے عاری ہوں۔ اس کی وجہ سے پاک فوج میں بھی بد دلی پھیلتی ہے۔ سینئر جرنیلوں میں سے ٹاس پر نام نکالا جائے تاکہ کسی جرنیل کو منتخب کرنے کا سہرا کسی وزیراعظم یا آرمی چیف وغیرہ کے بھی مرہونِ منت نہ ہو۔
(5) مجرم کی غلط پشت پناہی اور کسی کیساتھ ناجائز کرنے پر وکیل، جج اور پولیس والے کو بھی کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ کسی بھی سرکاری محکمہ میں رشوت پر پھانسی کی سزا مقرر کی جائے۔ ووٹ خریدنے اور بیچنے والی پارٹیوں اور ارکان اسمبلی کو تختہ دار پر لٹکانے سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ وردی یا وردی کے نام پر لوگوں کو تنگ کرنے والوں کو چوکوں پر لٹکایا جائے۔ ام المؤمنین اور عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن اب کرپٹ سیاستدان کی ہتک عزت اور عام آدمی کی سزا میں بہت فرق ہے۔ پاکستان کے آئین کو اسلامی بنانے کیلئے حلالہ کی لعنت میں ملوث علماء نے بھی کوئی کردارادا نہیں کیا ہے اور خواتین کے شرعی، معاشی، معاشرتی ،اخلاقی اور سیاسی حقوق بھی غصب کررکھے ہیں۔ یہ چند نمونے ہیں اور اگر اخلاص کا مظاہرہ ہوا تو ملک کی بچت ہوگی۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اللہ نے طالوت کو اسلئے منتخب کیا ہے کہ علم اور جسمانی اہلیت اسکی زیادہ ہے۔

بنی اسرائیل نے پہلے اپنا بادشاہ مانگا جب طالوت کو بنادیا گیا تو کہنے لگے کہ اس کو کیوں بنایا گیا؟،ہم زیادہ حقدار تھے، اسکے پاس مال کی وسعت نہیں، کہا کہ اس کو اللہ نے اسلئے منتخب کیا ہے کہ علم اور جسمانی اہلیت اسکی زیادہ ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفسی فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امینOقال اجعلنی علی خزآئن الارض انی حفیظ علیمOیوسف

بادشاہ نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ،تاکہ اپنے لئے خاص کروں، جب اُس سے بات کرلی تو کہا کہ آج آپ ہمارے پاس مقیم امین ہیں، کہا کہ مجھے وزیر خزانہ بنادو،نگران عالم ہوں

یوسف علیہ السلام مصر میں غلام اور مظلوم قیدی بن گئے لیکن خواب کی تعبیر اور مظلومیت نے اقتدار تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت اہل مصر کے ہاں ایسی تھی جیسے تختِ لاہور کے مقابلے میں پختون کی ہے۔ انگریز سے پہلے راجہ رنجیت سنگھ کا اقتدار تھا اور اب جمہوری عوام اور فوجی افسران کی وجہ سے پنجاب ہی کا اقتدار ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح وفاطمہ جناح، لیاقت علی خان ،بیگم راعنا لیاقت ،بنگالی سکندر مرزاکی ناہید ایرانی سے لیکر ذولفقارعلی بھٹو،نصرت بھٹو سے ہوتے ہوئے بات عمران خان اور بی بی بشریٰ تک جاپہنچی ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے اپنا براہِ راست اقتدار کیا اور پاک فوج نے کٹھ پتلیوں کے ذریعے بھی حکومت کی ہے۔
جنرل راحیل نے کہا تھا کہ وہ ملازمت میں توسیع نہیں لیںگے۔ فوج میں کرپشن پر زبردست ایکشن لیا تھا اور نوازشریف کو کرپشن سے بچانے میں کردار ادا کرنے سے بالکل معذرت کی تھی تو ان پر ملازمت میں توسیع کی بھیک مانگنے کا ناجائز الزام لگادیا گیا۔ جب عدالت میں آرمی چیف کی توسیع کا پنڈورا بکس کھل گیا تو پتہ چل گیا کہ آج تک آرمی چیف کی توسیع کا آئین میں ذکر اور گنجائش تک نہیں ۔ جس شق کے تحت توسیع کا عمل ہوتا تھا تو اس کا تعلق کرائم کے باب سے تھا۔ فوجی کو سزا دینی ہوتی تھی تو ریٹائر منٹ کے بعد اس شق کے تحت بحال کرکے فوجی کورٹ میں سزا دی جاتی تھی۔ جس پر ان صحافیوں کے چہروں سے بھی نقاب اُٹھ گیا جو نوازشریف کو نظریاتی شاہین ثابت کررہے تھے ۔ جس کی زندگی کوئے کے گھونسلے میں گزری ہو تو اس کو شاہین ثابت کرنا شاہین نہیں کوئے کیساتھ بھی بڑی زیادتی ہے۔ نوازشریف کی جھوٹی بیماری کی کہانی کے چرچے ابھی ختم نہیں کہ مریم نواز کو چھوٹے آپریشن کیلئے لندن جانا پڑرہاہے جسکا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا۔ کالے کوئے کا بچہ سفید ہو تب بھی شاہین نہیں بن سکتا بلکہ کواہی ہوگا۔ وکیل سے زیادہ صحافی آرٹسٹ اپنا کمال رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور گالیوں کی گنجائش ترقی یافتہ ممالک میں نہیں اور فیس بک وغیرہ کے بھی قوانین ہیں۔ جب ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے بدتمیزی کی سوشل میڈیا پر انتہاء کردی توچندصحافیوں نے اس پر ایک پروگرام رکھا۔ حامد میر نے کہا کہ انگریزی میں نیٹ کے ذریعے جب اردو اور پنجابی کی گالیوں کا ترجمہ ہوتا ہے تو لفظی ترجمہ کی وجہ سے ان تک بات صحیح پہنچتی نہیں۔ مثلاً علامہ خادم حسین رضوی کی معروف گالی کہ تیری پھینڑ دی سری کا انگریزی کا یہ ترجمہ ہوگا کہ (Your head of sistar) ان کو اس سے گالی کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ ویسے یہ مقولہ ہے کہ ”پنجابی گالی کی زبان ہے”۔ اور ہم نے چیچہ وطنی میں انتہائی مخلص اور اچھے انسان صدیق استاذ کی زبان پر گالی کی بہتات دیکھ لی تھی۔ اسکے بجلی کامیٹر لگانے کا کام بھائی ایس ڈی واپڈا نے کیا تھا اور کلرک رکاوٹ ڈال رہاتھا تو اس نے کہا تھا کہ کلرک کے شروع اور آخر میں کتے کے دو کاف ہوتے ہیں اسلئے ڈبل کتے کی خاصیت رکھتا ہے۔ خلوص اورگالیوں کی وجہ سے وہ استاذ طلبہ کیلئے سکول میں ہردلعزیز تھے۔ عمران خان کی زبان پر جب چور، ڈکیت، ڈیزل اور سیاسی رہنماؤں اور پاک فوج کے خلاف ہرقسم کی بے باکی تھی تووہ پنجاب بلکہ پاکستان کے ہردلعزیز لیڈر بن گئے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے خلوص کے ساتھ گالیوں کی بوچھاڑ کردی تو ان کا تاریخی جنازہ ہوا۔ گالیوں سے خلوص کی تاثیرِ مسیحائی سرکے بالوں سے پیروں کے ناخن تک پہنچ جاتی ہے اسلئے کہ یہ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کا اب آرٹ ہے۔ کلام کی بلاغت کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ بات صحیح پہنچ جائے۔
الٰہ اور معبود کا ترجمہ ہرزبان ، مذہب اور کلچر میں مختلف ہے۔ عربی میں ال کا اضافہ ہوتا ہے جیسے حمد سے الحمد اور حسین سے الحسین ، الٰہ کے شروع میں ال لگانے سے اللہ بن گیا ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ” ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زباں سے”۔ جب لوگ خدا خدا کرتے تھے تو اس کی تاثیر مسیحائی رگِ جان میں اترجاتی تھی اور جب خدا پر قدغن لگنا شروع ہوا کہ اللہ ہی اسم ذات ہے تو لوگوں کا تعلق کمزور ہوا۔حالانکہ اگر اللہ اسم ذات ہوتا تو سنکسرت، عبرانی، انگلش ، ہندی اور فارسی میں بھی اللہ ہی ہوتا۔
سات (7)سال سے ستر (70)سال تک باقاعدگی سے نماز پڑھنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ سے کیا مانگتے ہیں؟۔ ہدایت اور صراط مستقیم مانگی جائے تو ضرور مل جائے ۔ نماز پڑھنے والوں کے دل وذہن روشن وکشادہ ہونے کے بجائے تاریک وتنگ اسلئے ہیں کہ مسلسل بہت کچھ مانگنے اور ذکر کرنے کے باوجود بھی طوطوں کی طرح بولتے اور بندر کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ اللہ نے سابقہ قوموں کو بندر بنانے کی جو سزا دی تھی اس کی عکاسی ہمارے یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔ جو اخلاقی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ہماری حالت ہے کسی اور میں نظر نہیں آتی ہے ۔ مولانا عبیداللہ سندھی اور علامہ اقبال کو یورپ میں اسلام نظر آتا تھا کیونکہ مسلمان ہونے کیلئے جانور سے پہلے ایک انسان بننا بھی بہت ضروری ہے۔
اگر پاک فوج اور پاکستان کے اصحاب حل وعقد کسی تجربہ کار ،عالم فاضل ، قربانی اور جہاندیدہ امانتدار پٹھان کو اقتدار سونپ دیں تو سب سے پہلے پٹھان کہیں گے کہ ہمارے اندر مالی لحاظ سے یہ کمزور تھا اس کی جگہ ہمارا حق تھا کہ اقتدار سپرد کردیتے۔ سورۂ بقرہ میں آیت(242)سے(254) تک میں زبردست رہنمائی ہے۔ کوئٹہ سے سوات تک ہمارے چند پختون ساتھی ہیںجن کا طالوت کے ایماندارساتھیوں کی طرح ایمان ہے کہ کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ ” کتنے ایسے کم تعداد والے گروہ ہیں جو زیادہ تعداد والے گروہ پر اللہ کے حکم سے غالب آئے ہیں۔ اگر حجاز کے لوگ انصار ومہاجرین ، قریش واہلبیت کی بنیاد پر اختلافات اور بنی امیہ وبنی عباس کے خاندانی قبضے کے باوجود بھی دنیا میں اپنی طاقت منواسکتے تھے تو آج پاکستانی قوم اسلام اور عالم اسلام کی بنیاد پر کامیابی سے ہم کنار کیوں نہیں ہوسکتی ؟خالی ایمان اور کردار درست کرنیکی ضرورت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

پاکستان میں پٹھان پنجابی،بلوچ اورسندھی میں کس کو اقتدار دیا جائے تو تبدیلی آئیگی؟؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم اُلوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم ان اللہ لذوفضل علی الناس ولٰکن اکثر الناس لایشکرونO(القراٰن:سورة البقرہ آیت243)

کیا آپنے ان لوگوں (بنی اسرائیل کے قبائل )کے حالات پر غور نہیں کیا،جن کو اپنے مُلک سے مہاجر بناکر نکالا گیااور وہ ہزاروں میں تھے، موت سے بچنے کا خوف ان پر طاری کیا گیا ۔

پھراللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ!۔ پھر اللہ نے ان کو زندگی بخش دی ، بیشک اللہ لوگوں پر اپنا فضل کرتا ہے مگر لوگوں میں اکثرشکر ادا نہیں کرتے ہیں۔ ( پختون قبائل کی بڑی عکاسی ہے)

پاکستان بنا تو ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین اور فوج میں پنجابیوں کی اکثریت کی وجہ سے سول وملٹری بیوروکریسی نے پاکستان پر حکومت کی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے مہاجر پنجابی اتحاد ختم کرکے سندھی پنجابی اقتدار کا آغاز کیا اور بنگلہ دیش میں اکثریتی پارٹی جیتنے کے باجود بھی مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل کرنے میں دیر کردی اور اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگاکر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کردیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا اور پھر جب دھاندلی کا حربہ استعمال کیا اسکے خلاف قومی اتحاد کے نام پر تحریک نظام مصطفی ۖچلی ۔ ڈیڈی جنرل ایوب خان کی گود کے بھٹو پر اتنے اثرات تھے کہ لاڑکانہ میں اپنے مخالف امیدوار کو کمشنر خالد کھرل کے ذریعے اغواء کرکے کاغذات نامزدگی بھی داخل نہیں کرانے دئیے ۔
پھر اپوزیشن کو جسکے قائد عبدالولی خان تھے، حیدر آباد جیل میں بند کردیا تھا۔ پختون، بلوچ، سندھی اور پنجابی سیاسی قائدین ، رہنماؤںاور کارکنوں پر بغاوت کا مقدمہ چل رہاتھا۔جب اپوزیشن لیڈر ولی خان سے کہا گیا کہ آپ کیلئے جیل میں کمرہ سجادیا گیا ہے اور یہاں سے آپ نے پھانسی کے پھندے پر لٹک جانا ہے تو ولی خان نے کہا تھا کہ یہ کمرہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جیل کاٹنے کیلئے تیار کیا ہے۔ پھر وقت آگیا کہ مارشل لاء لگ گیا اور بھٹو نے اسی کمرے میں ہی اپنی جیل کاٹی۔ بلاول بھٹو زرداری کو معلوم نہیں ہوگا کہ جب بلوچستان کی جمہوری حکومت ختم کرکے وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کی جگہ اکبربگٹی کو گورنر بنایا گیا تو جب عطاء اللہ مینگل کے بیٹے کو اغواء کرکے ماردیا گیا تھا تو اس وقت اس کا نانا ذوالفقار علی بھٹو ایک طاقتور اورتاریخی مگر کٹھ پتلی وزیراعظم تھا۔ جو دھاندلی سے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا اور اپنے وقت کے بدترین ڈکٹیٹروں سے بڑاکٹھ پتلی ڈکٹیٹر تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو بیوقوف جیالوں کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کی ساری سیاسی لیڈر شپ ممتاز بھٹوسے غلام مصطفی کھراور مولانا کوثر نیازی تک نہر میں ڈوبتی ہوئی کشتی کو دیکھ کر کنارے پر بھاگ گئی۔مولانا نے”اور لائن کٹ گئی” کتاب لکھ دی تھی۔ کھر نے خواتین سے نکاح اور چھوڑ نے کا سلسلہ جاری رکھا اسلئے کہ اداکارہ ممتاز کو بھٹو نے زبردستی سے نچوانے کیلئے لاڑکانہ بلوایا تھا۔ جس پر حبیب جالب نے ” لاڑکانہ چلو ورنہ تھانہ چلو” مشہور غزل لکھی تھی۔ صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند۔ جب طالع آزما بھٹو کی دوستی کرلی تھی تو عورتوں کے معاملے میں طالع آزما بننا ہی تھا۔
جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد اورمہاجرین کے نام اپنے ملک وقوم کو خوب پالا تھا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ گمنام ہیرو آئی ایس آئی کے جنرل اختر عبدالرحمان کے صاحبزادوں کے گھر سے کتنی دولت برآمد ہوئی ہے لیکن مجاہد ایک بیٹا بھی نہیں بنا ہے۔ پٹھان کہتے تھے کہ جب اختر عبدالرحمن نے ہندوستان سے ہجرت کی تھی توگدھا گاڑی پر آئے تھے اب اتنی دولت کہاں سے آئی ہے؟۔ جنرل ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ بناکرا رکان کو پانچ پانچ کروڑ دئیے تھے۔ نجم سیٹھی کے رشتہ دار نے مجلس شوریٰ کی رکنیت سے فائدہ اٹھایا تو بیرون ملک سے دودھ پیک کرکے بیچنے کی کمپنی متعارف کروائی۔ چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کی مال منڈی میں ہر مہینے آٹھ دس دن ڈیڑھ روپے کلو والا دودھ چارآنہ میں ملتا تھا اور لوگ منوں دودھ خریدتے تھے۔ لاہور سے اوکاڑہ ، ساہیوال اور چیچہ وطنی راوی کے کنارے صحت مند دودھ کم قیمت پر ملتا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول چیچہ وطنی میں تقریری مقابلہ ہوا تو ” عقل وڈی کے منجھ ” میں منجھ وڈی والے نے مقابلہ جیتا تھا۔ میں اسی سکول میں تھا ۔ بھٹو کو اسی دور میں پھانسی دی گئی تھی۔مقرر نے کہا تھا کہ عقل انسان میں خوف پیدا کرتی ہے، عقل ہوتی تو (1971ئ) کی فوج نے ملک کا دفاع کرنے کے بجائے ہتھیار ڈال دینے تھے (1965ئ) کی جنگ ہم نے عقل سے نہیں بھینسوں کا دودھ پینے کی وجہ سے جیت لی تھی۔
نجم سیٹھی ہوسکتا ہے کہ اپنے نام رشتہ دار کے اثاثوں کی وجہ سے بھی نوازشریف اور دیگر سیاستدانوں سے کئی لاکھ گنا زیادہ ٹیکس جمع کراتے ہوں۔ پہلے نیب کا خوف نہ ہونے کے باوجود بھی لوگ سرکار سے لوٹے ہوئے مال اور املاک کو چھپاتے تھے۔ نجم سیٹھی کے رشتہ دار نے نیسلے کے جوس کی پارٹنر شپ اورتعلیمی ادارے وغیرہ کے مالک جس نے کافی رشتہ داروں کو روزگار دلایا ہے جس کی جتنی تعریف نجم سیٹھی کی بیگم جگنو محسن نے کی ہے اس سے زیادہ کی جگنو محسن خود مستحق اور زبردست سیاستدان ، ادیب اور صحافی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کی شوریٰ کے ارکان سے غلطی منوانا اور جنرل ضیاء کے شوربے نواز شریف کی مداح ہونا بھی سیاست کا کمال ہوسکتا ہے اور ضرورت اور مجبوری بھی ہوسکتی ہے لیکن نظریہ کی سیاست عنقاء بن گئی ہے یاکہیے کہ ڈائناسور کی طرح ناپید ہے۔ البتہ کسی کی تعریف کے گن گانا یا تعریف سے گھبرانا یا مخالف کے پیچھے پڑجانا یا مخالفت سے گھبرانا بھی چھوٹی ذہنیت اور خاندانی پسماندگی کی علامت ہے جس سے جگنو محسن بالاتر ہیں۔مجھے ان کے نظرئیے اور کردار کا کچھ پتہ نہیں لیکن دبنگ باتوں سے قدکاٹھ بڑا لگتا ہے۔
جب ایم آرڈی کے رہنماؤں نے (1988ئ) کے الیکشن میں حصہ لیا تھا تو قائدین کے مقابلے میں پارٹیوں نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔ البتہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بینظیر بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا۔ تحریک عدم اعتماد میں پیپلزپارٹی نے سوات اور ن لیگ نے چھانگا مانگا کو اپنی مویشی منڈی بنایا تھا مگر جمعیت علماء اسلام ف کے ارکان خریدوفروخت سے بے نیاز آزاد گھوم رہے تھے۔ عمران خان کی خاتون اول بشریٰ بی بی کا سسر غلام محمد مانیکا بھی اس وقت مسلم لیگ ن سے بکاتھا۔ مولانا فضل الرحمن نے صدر قذافی کی طرف سے یونیورسٹی کو ملنے والی رقم بھی مسترد کرکے اس دور میں تحریک عدم اعتماد کی شمولیت سے پیچھے ہٹنے کی بات قبول نہیں کی تھی۔ پھر جب ولی خان کو مولانا حسن جان کے ذریعے ہروایا تھا تو جمعیت کے نظریاتی لوگ مولانا فضل الرحمن کو برا بھلا کہہ رہے تھے اسلئے کہ مفتی محمود وزیراعلیٰ مفتی ولی بھائی بھائی سے بنے تھے۔
بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو پیپلزپارٹی کو صلے میں اقتدار مل گیا، زرداری صدرمملکت اور یوسف رضا گیلانی سرائیکی اور راجہ پرویز اشرف پوٹھوہاری وزیراعظم بن گئے۔ نواز شریف کو ٹبر کیساتھ جلاوطن کیا گیا تو اس کو پھر تخت لاہور کے ذریعے پاکستان کا اقتدار مل گیا اور پھر عمران خان کو اقتدار ملا لیکن وہ نیازی پٹھان ہونے کے باجود نیازی کہنے پر بھی خار کھاتا ہے۔ پختونوں کو بڑے پیمانے پر شہید کیا گیا اور بڑے پیمانے پر بے گھر کیا گیا مگر ان میں کسی کو اقتدار میں نہیںلایا گیا ہے اسلئے اس مرتبہ اقتدار کا حق کسی پختون کا بنتا ہے۔کوئی نیک سیرت اور باصلاحیت اچھا بیوروکریٹ بھی پاکستان میں اچھی تبدیلی لاسکتا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Special Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اسلامی شریعت کے نظام عدل کا حلیہ بگاڑ کر پوری دنیا کو ظلم وجور سے بھرنے کی ذمہ دارنام نہاد اُمت مسلمہ ہے۔

اسلامی شریعت کے نظام عدل کا حلیہ بگاڑ کر پوری دنیا کو ظلم وجور سے بھرنے کی ذمہ دارنام نہاد اُمت مسلمہ ہے۔ اگر اُمت کی اصلاح ہوگی تو پوری دنیا کی اصلاح میں دیر نہیں لگے گی۔ مولوی ظلم کی شریعت سے فائدہ اُٹھاتا ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اگر جبری و رضامندی کی بدفعلی پر چار افراد کی چشم دید گواہی ضروری ہو اور ان سے کم افراد کو گواہی دینے پر کوڑے مارے جائیں اور بدکار پاکدامن ہو تو پھر ماحول کس قدر بگڑجائیگا؟

دنیا نے مسلمانوں کی جابرانہ ذہنیت سے عدل کا نہیں ظلم وجبر کا نظام سیکھا ہے۔ آج اگر پاکستان میں شریعت کی درست تعبیر سامنے آجائے تو ہم ہی نہیں پوری دنیا بھی بدل جائے گی!

جب بنوامیہ نے خلافت کو اپنی لونڈی بنالیا اور پھر بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کے خاندانوں نے اپنی اپنی بادشاہت قائم کی تب پوری دنیا کے سامنے اسلامی اقتدار کا سورج بھی آب وتاب کیساتھ چمک رہا تھا۔ دنیا میں اس سے پہلے ادیان اور مذاہب کی بالکل مسخ شدہ شکلیںموجود تھیں۔ اسلام کا مذہب اورنظام عدل دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر تھا لیکن حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی بہت بگاڑ اور فتنہ و فساد کا آئینہ تھا۔ مولوی حضرات کا مذہب بھی ظالم حکمرانوں کو راستہ دئیے جاتا تھا۔ شریعت کا حلیہ بگاڑنے میںبھی مذہبی طبقات کا بنیادی کردار ہوتا تھا۔ بنی امیہ کے یزید نے حضرت حسین کی کربلا میں شہادت پر انصاف فراہم نہیں کیا اور یہ اس کی اپنی فوج کی کاروائی تھی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کی لاش کو بھی مکہ میں چند دن لٹکائے رکھا جو حضرت ابوبکر کے نواسے تھے۔ دنیا نے اس سے یہی سبق سیکھ لیا کہ حکومت کے استحکام کیلئے ظلم وجبر کا انتہائی قدم بھی ایک مجبوری ہے آزاد مذہبی طبقے نے اس ظلم وجور کو شرعی جواز فراہم نہیں کیا تھا، البتہ اہل اقتدار کے حاشیہ برداروں کا ٹولہ اس کو اسلام کا تقاضہ قرار دیتا تھا۔ پھر ایک وقت آیا کہ لوگوں نے بنی امیہ کو اپنے اقتدار سمیت بہت خراب انجام تک پہنچایا اور پھر بنوعباس اقتدار میں آگئے ۔ پھر ان کا حشر نشر ہوا اور ایک دن سقوطِ بغداد سے بہت برے انجام کو پہنچ گئے۔
جب دنیا میں یہ روایت بن گئی کہ ایک ظالم کو ختم کرنے کیلئے دوسرے ظالم نے اس سے زیادہ مظالم کے پہاڑ توڑ کر اقتدار حاصل کیا تو مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان تفریق مٹ گئی۔ اس وقت ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کس طرح ایک بادشاہ نے اقتدار تک پہنچنے کیلئے دوسرے پر مظالم کے پہاڑ توڑے بلکہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ظالمانہ اقدامات کیساتھ ساتھ علماء ومفتیان نے شریعت کو بدلنے میں کیا کردار کیا تھا؟۔ جب مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے اپنے باپ شاہجہان کو جیل میں قید کرکے اپنے سارے بھائیوں کو قتل کردیا تو سرکاری مذہبی طبقہ اور میڈیا نے اس ظالمانہ اقدام کو کیسے جواز بخشا تھا اور شریعت میں کیا تبدیلی کر ڈالی تھی؟۔ وقت کے پانچ سو علماء ومفتیان نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کیا تھا جن میں حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم کے دستخط بھی تھے۔ جب ہمارے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان کے ملاؤں نے مولانا فضل الرحمن کی ایماء پر یہ فتویٰ دیا تھا کہ ”مہدی کی بات کوئی مسئلہ نہیں لیکن امت کا اجماع ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور یہ شخص اس اجماع کو نہیں مانتا ہے اسلئے گمراہ ہے”۔ اس پر مولانا فتح خان صاحب نے دباؤ میں آکر تائید ی دستخط کئے تھے لیکن مولانا عبدالرؤف امیر جمعیت علماء اسلام ف اور شیخ محمد شفیع شہید امیر جمعیت علماء اسلام س اور تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا غلام محمد نے اس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ مولانا فتح خان سمیت ٹانک کے اکابر علماء کی ہماری کھلی تائید کے باوجود جس طرح مخصوص طبقہ ہمارے خلاف سرگرم تھاوہ بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
بہرحال یہاں بنیادی بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ” فتاوی عالمگیریہ ” میں یہ لکھ دیا گیا کہ ” بادشاہ پر قتل، زنا ، چوری، ڈکیتی اور ہر طرح کے مظالم ڈھانے کے باوجود کوئی شرعی حد نافذ نہیں ہوگی کیونکہ وہ دوسروں پر حد نافذ کرتا ہے ،اس پر کوئی حد نافذ نہیں کرسکتا ہے”۔
جب انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو اس نے بھی حاکموں اور محکوموں کیلئے جدا جدا قانون نافذ کردئیے۔ لوگوںنے مجبوری میں اسلئے ان قوانین کو قبول کرلیا کہ اکبر بادشاہ کے آئین اکبری سے فتاویٰ عالمگیریہ تک بادشاہوں نے امتیازی رویہ سجدہ تعظیمی سے لیکر قتل کو معاف کرنے تک کیا کچھ نہیں کیا تھا؟۔ غلام در غلام ریاستی مشینری میں پنپنے والے اوریا مقبول جان جیسے لوگ شریعت اور آزادی کی تڑپ ضرور رکھتے ہوں گے لیکن شب کور کیلئے رات کے اندھیرے میں کچھ دکھائی نہ دینا مرض ہے اور اس مرض کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب طلوع سورج سے دنیا میں رات کا اندھیرا بالکل ختم ہوجائے۔
جب حضرت امام حسین نے کربلا میں یزید کی بیعت سے انکار کرکے اپنی جان ، کنبے اور ساتھیوں کی قربانی پیش کرکے ذبیح اللہ کی طرح خواب کی تعبیر پیش کردی تو اس وقت کے شیعہ اور سنی دونوں نے صرف تماشائی بننے کا کردار ادا کیا۔ ظالم حکمرانوں سے ٹکرانا حضرات انبیاء کرام کی سنت ہے۔ اس سنت کو زندہ کرنا مشکل کام ہے،اسلئے کہ حکمرانوں نے کچھ بدقماش پال رکھے ہوتے ہیں اور جونہی کسی سے خطرہ محسوس کرتے ہیں تو فوج کشی سے لیکر بدمعاش اور غنڈے طبقے تک ایک اشارے پر سب کچھ کرگزرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ سوال اٹھانے کی جرأت بھی کسی میں نہیں ہوتی ہے۔ نوازشریف نے مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگائی اور اس کو جرأت کا انتہائی قدم قرار دیا گیا لیکن نوازشریف سے کسی صحافی اور سیاستدان سے لیکر عدالت اور ایوانِ اقتدار تک کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پارلیمنٹ میں لکھی ہوئی تقریر اور قطری خط لکھنے اور اس سے مکر جانے کی آخر کہانی ہے کیا؟۔
بہر حال ہمارا موضوع حالات کا مرثیہ پڑھنا نہیں بلکہ کچھ ایسے حقائق کی طرف توجہ مبذول کرانی ہے کہ اگر ہم نے بروقت اپنے مفاد کیلئے اس کی اصلاح کردی تو پاکستان کی حالت بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک وکیل نے بتایا کہ ایک مولوی نے ایک لڑکے کیساتھ زیادتی کی تو وہاں کے مفتی صاحب کوبلایا گیا تاکہ شریعت سے رہنمائی کرے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ ” دخول ثابت ہے مگر خروج نہیں”۔ یہ شریعت دین اسلام کی ترجمانی کرتی ہے یا مفتی صاحب کی اپنی خواہش کی وکالت کا آئینہ ہے؟۔ جامعہ دارلعلوم کراچی کے ایک فاضل میرے دوست ایرانی بلوچ نے بتایا کہ ایک عورت کا ایک مولوی نے حلالہ کیا تھا، جب کچھ دنوں کے بعد مولوی صاحب کا اس عورت سے سامنا ہوا تو اس سے پوچھ لیا کہ تجھے مزا آیا تھا، عورت نے کہا کہ نہیں۔ مولوی نے کہا کہ پھر تو آپ حلال نہیں ہوئی ہو،اسلئے کہ حدیث میں آتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کامزا چکھ لیں ۔ پھر دوبارہ اس کو لے جاکر معاملہ کرلیا اور پوچھا کہ اب مزا آگیا؟۔ عورت نے کہا کہ ہاں!۔ جب دوسروں کوپتہ چل گیا تو مولوی کو ڈانٹ دیا کہ یہ کیا خباثت کی ہے۔ تمہارے اوپر دو حق مہر کی رقم بھی ضروری ہے لیکن اس نے کہا کہ میری جیب میں ایک روپیہ تک نہیں ہے۔
یہ انفرادی معاملات بھی چھوڑ دیجئے۔ جب دارالعلوم کراچی سے فتویٰ دیا جاتا تھا تو آیات اور احادیث کو سیاق وسباق اور اصل حقائق سے ہٹاکر نہ صرف حلالے کا فتویٰ دیا جاتا تھا بلکہ شرعی گواہوں کی موجودگی اور فقہ کی کتابوں سے التقاء الخطانین کا حوالہ دے کر یہ تأثر دیا جاتا تھا کہ یہ کام مذہبی طبقہ کے علاوہ دوسرے کے بس کا نہیں ہے۔ جب ہم نے قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کی وضاحت کردی کہ دارلعلوم کراچی کے فتاویٰ میں اس کا بالکل غلط حوالہ دیا جاتاہے تو پھر انہوں نے فتوے کو اس بات تک محدود کردیا کہ ” تمہاری طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے اورحلالہ ضروری ہے”۔ باقی لوازمات زبانی بتاتے ہیں تاکہ فتوے پکڑ میں نہیں آسکیں۔ طلاق سے بغیر حلالہ کے رجوع کا مسئلہ عوام وخواص پر بہت اچھی طرح واضح ہوجانے کے بعد بہت سے لوگوں کو ہم نے اس لعنت سے بچایا ہے۔
اس وقت ہمارے موضوع کا مقصد اپنے داخلی تنازعات پر گفتگو کرنا نہیں ہے لیکن اس تمہید سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ جس طرح وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان سے لیکر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، مفتی زر ولی خان اور سب اکابر واصاغر علماء و مفتیان نے سود کو جواز فراہم کرنے کے خلاف کتابیں لکھ دیں اور بالمشافہ سمجھایا تھا لیکن ریاست کے علاوہ عالمی قوتوں کی سرپرستی نے مفتی محمد تقی عثمانی کو شیخ الاسلام بنادیا ہے، اسی طرح سے پہلے بھی علمائِ حق کے کردار کو مسترد کرکے درباری ملاؤں نے ہردور میں اسلام کا بیڑہ غرق کیا ہے ، یہاں تک کہ اسلام دین نہیں رہاہے بلکہ مولوی کی خورد بین بن گیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے یوٹیوب پر ایک توہین آمیز فلم بن گئی تھی جس کی وجہ سے بہت سارے اسلامی ممالک میں احتجاجاً یو ٹیوب بند کردیا گیا لیکن یوٹیوب نے کوئی معافی نہیں مانگی اور آخر کار پاکستان، سعودی عرب اور ایران وغیرہ کو اپنا احتجاج ختم کرکے یو ٹیوب کو بحال کرنا پڑگیا۔ اب فرانس کے خلاف حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان سفیر کو نکالنے کی تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے لیکن ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا ہے کہ یوٹیوب کے بائیکاٹ کا کیا ہواتھا؟۔ ہمارا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ فرانس کا سفیر نکالنے کیلئے تاریخ پر تاریخ دینے کا حق کس کو ہے اور کس کو نہیں ہے؟۔ لیکن ایک ایسے موضوع کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جس سے پوری امت مسلمہ کا ماضی ، حال اور مستقبل وابستہ ہے۔ اچھی قسمت ہماری یہ ہے کہ ہمارے قومی ترانے میں ”ترجمانِ ماضی، شانِ حال ، جان استقبال، سایۂ خدائے ذوالجلال” ہے۔ پاکستان اسلام کا مرہون منت ہے۔
فرانس نے اسلام پر نئی پابندیاں بھی لگادی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سلسلہ یورپ اور امریکہ کے ساتھ ساتھ تما م غیر مسلم ممالک تک پھیل جائے۔ دنیا کی نمبر1پاک فوج نے دہشت گردوں سے نمٹنے میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ نیٹو کو افغانستان اور عراق وغیرہ میں حاصل نہیں ہوسکی ہے لیکن جب دنیا کے میڈیا کے سامنے پاک فوج کے ترجمان کو یہ وضاحت دینا پڑتی ہے کہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں اور احسان اللہ احسان کے فرار میں ایک سے زیادہ فوجی ملوث تھے جن کو سزا ئیں دی جاچکی ہیں اور اس کی تفصیلات سے عنقریب ہم میڈیا کو آگاہ کرینگے تو دیکھنا یہ ہے کہ دنیا نے ہم پر ریاستی دہشت گردی کی تہمت لگائی ہے یا حقیقت ہے ؟۔فیصلہ انہوں نے ہی کرنا ہے۔
دنیا یہ جانتی ہے کہ نائن الیون (9/11)سے لیکر دہشت گردی کے خاتمے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اپناکردار بھی پاکستان سے زیادہ مشکوک ہے لیکن پاکستان کو جرم ضعیفی کی سزا مل رہی ہے۔ جب تک پاکستان ایک مضبوط اور توانا پوزیشن والا ملک نہیں بن جاتا ہے تو کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرسکتا ہے۔ہمارا اصل موضوع یہ بھی نہیں ہے لیکن اصل موضوع کیلئے یہ ایک ماحول بنانے اور تمہید کی بات ہے۔ اصل موضوع کی طرف تفصیلی رہنمائی اور نشاندہی اندرونی صفحات پر موجود ہے یہاں صرف اس کا خلاصہ اور ان حقائق کی نشاندہی کرنا مقصد ہے جس کی وجہ سے امت مشکل کا شکار ہوسکتی ہے۔
ہمارے ایک مہربان سپین جماعت (سفید مسجد) مردان کے خطیب وپیش امام علامہ پیر شکیل احمد قادری صاحب نے کہا کہ ” شہیر سیالوی اس وجہ سے مصیبت میں آگئے ہیں کہ اس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے والے کے خلاف اقدام اُٹھایا تھا”۔ ہمیں اس کہانی سے بالکل بھی اتفاق نہیں تھا لیکن اُمت کو مشکلات سے نکالنے میں کردار ادا کرنا ہوگا اور سب اس میں اپنا حصہ اس وقت ڈال سکتے ہیں کہ جب ہم اس کی نشاندہی میں بخل نہ کریں۔
حضرت عائشہ پر بہتان لگانے سے زیادہ اذیت رسول اللہۖ کو طائف کے اندر پتھروں کی بارش سے بھی نہیں ملی تھی۔ جس کا جتنا بڑا رتبہ ہوتا ہے ،اس کی آزمائش بھی اتنی بڑی ہوتی ہے۔ پہلی اُمتوں میں اہل حق کو آروں سے چیرا گیا۔ اسلام کی پہلی شہیدہ حضرت سمیہ سے کیا سلوک ہوا؟۔ ایک ٹانگ ایک اونٹ اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے باندھ کر زندہ خاتون کو اس طرح جاہلوں نے شہادت کی منزل پر پہنچایا تھالیکن حضرت عائشہ پر بہتان کا معاملہ حضرت عائشہ، رسول اللہۖ اور حضرت ابوبکر کیلئے اس سے بھی زیادہ اذیتناک تھا۔ بچہ جننے کی تکلیف ہر عورت کوہوتی ہے لیکن حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کو جن لیا تو پکار اُٹھی کہ اے اللہ مجھے میری ماں نے جنا نہ ہوتا اور میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام ونشان بالکل مٹ کر لوگوں کے ذہنوں سے نکل چکا ہوتا۔
حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو اس بہتان سے پاک قرار دینے کیلئے کیا یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا جو مولوی کی خود ساختہ شریعت کا لب لباب ہے کہ اگر چار گواہ نہیں لائے تو پھر جس کے خلاف گواہی دی جائے وہ پاک ہے اور گواہی دینے والے مجرم ہیں؟۔
قرآن وسنت میں حضرت عائشہ کی برأت کیلئے مولوی کی خود ساختہ شریعت کا سہارا نہیں لیا گیا ، جس میں چوری اور سینہ زوری کا تصور اُبھرتا ہے بلکہ ایک ایسا عادلانہ تصور دیا گیا ہے کہ دنیا کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے تو نہ صرف اسلام کے چہرے سے اس اجنبیت کی کالک ہٹ جائے گی بلکہ دنیا میں پاکدامنی اور نظامِ عدل کا ایک ایسا تصور قائم ہوگا کہ پوری دنیا کو ظلم وجور اور بے حیائی سے پاک کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ انشاء اللہ
مولانافضل الرحمن ووٹ مانگتا ہے تو لوگوں سے جمعہ کی تقریر میں کہتا ہے کہ آپ سمجھتے ہو کہ اسلام سخت مذہب ہے۔ اگر دوافراد بدکاری کے مرتکب ہوں۔ ایک آدمی دیکھ لے تو بھی کوئی سزا نہیں ۔ دو آدمی دیکھ لیں تو بھی کوئی سزا نہیں اور تین آدمی دیکھ لیں تو بھی کوئی سزا نہیں ۔ بلکہ بیک وقت چار آدمی یہ ماجراء دیکھ لیں اور اس میں بھی شفاف آئینے کی طرح جو الٹراساونڈ کے بغیر ممکن بھی نہیں ہے اور الٹرا ساونڈ لگاکر دیکھنا معتبر بھی نہیں ہے۔
حالانکہ یہ اسلام نہیں بلکہ اسلام کے نام پر بہت بڑی کالک ہے جس کو واضح کرنا ہے

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

قرآن سے دُوری نے غیر تو غیر مسلمان سے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا

اسلام کا قانونی اور معاشرتی نظام پوری دنیا کیلئے رول ماڈل ہے لیکن قرآن سے دُوری نے غیر تو غیر مسلمان سے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا، جب خود مؤمن محروم یقین ہوگا تو باقی دنیا کے سامنے اسلام کو پذیرائی کسطرح ملے گی؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

یہ سراسر جھوٹ ، منافقت اور کھیل ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔ ہمارامعاشرتی، معاشی، قانونی ، سیاسی ، مذہبی، سماجی ، ریاستی اور حکومتی نظام کا اسلام سے دُور کا بھی واسطہ نہیں

جب اسلام کا نظام صحرائے عرب کے بادہ نشینوں نے اپنایا تھاتو دنیا کی سپر طاقتیں اسلام کی شرافت پر نچھاور کرنے کیلئے انسانیت نے قربانی دیں لیکن آج انسانیت ہے ہم انسان نہیں

انسانوں میں فطرتی طور پر خیر کا مادہ زیادہ اور شر کا مادہ کم ہے۔ جنات میں فطری طور پر شر کا مادہ زیادہ اور خیر کا مادہ کم ہے۔ جب انسانوں کو اچھا ماحول ملے گا تو زمین میں ایک اچھی فضاء بھی قائم ہوجائیگی پھر انسانوں کیساتھ ساتھ جنات کا ماحول بھی اچھا ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ سورۂ فاتحہ کے بسم اللہ اورالحمد للہ رب العالمین سے لیکر سورۂ فلق کے من شر ما خلق اور سورۂ الناس کے من الجنة والناس تک قرآن کا ایک ایک لفظ ،ایک ایک جملہ، ایک ایک آیت اورایک ایک سورت سراپا ہدایت ہے مگرہم نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
مذہبی طبقات نے قرآن کی صاف صاف اور واضح واضح باتوں کو معاشرے میں رائج کرنے کے بجائے اس کے ساتھ مکڑی کے جالے بُن دئیے ہیں۔ اگر ہمت کرکے ان جالوں کو صاف کرلے گا تو خیر اور شر کی تفسیر کھل کر سامنے آجائے گی۔ جب مولوی نے بھی قرآن کی طرف رجوع کرنے کی بجائے فتوؤں کی کتابوں سے فتویٰ مرتب کرنا ہو کہ باہمی رضامندی کی صورت میں میاں بیوی کا رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ تو پھر دیگر مسائل کا کیا حال بنارکھا ہوگا؟۔ علمائِ حق کو میدان میں اترنا ہوگا ورنہ جب عوام کا غیض وغضب جہالتوں کی پرورش میں جوش مار کر طوفان کھڑا کرے گا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی؟۔ اس سے پہلے پہلے کہ لسانی، فرقہ وارانہ اور دیگر فتنوں کے شعلے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں شعور اور بیداری کی فضاؤں کا کھل کر ساتھ دینا ہوگا۔ مذہبی جماعتیں اسلام اسلام تو کرتی ہیں لیکن جمعیت علماء اسلام کے چیتے اور تحریک لبیک کے زیبرے وغیرہ وغیرہ نے موٹر وے کو زیبرا کراسنگ بناکر رکھ دیا ہے۔جہاں ٹریفک کی روانگی کا کوئی سوال نہیں۔ ایک کا اسلام محترمہ مریم نواز کے دوپٹے میں لپٹ یا اٹک گیا ہے اور دوسرے نے فرانس کے سفیر کو ڈیڈ لائن دینے کے مشغلے کو اپنا شغل بناکر رکھا ہے۔ اوریا مقبول جان سے پوچھا جائے کہ جمہوریت کفر ہے لیکن جناب نے جس نظام میں زندگی گزاری ہے اور آج اس کی پینشن کھارہے ہیں یہ اسلامی ہے؟۔ ہمارے ہاں کلمہ پڑھانے کیلئے اوریا مقبول جان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے علاوہ کوئی نہیں ملتا؟۔ جس بھی نوزائدہ نومولود تنظیم کے ایک کان میں آذان دینی ہو تو عامر لیاقت اور دوسرے کان میں اقامت پڑھنی ہو تو اوریا مقبول جان کی خدمات ہی پتہ نہیں کیوں لی جاتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر (DGISPR)نے ٹھیک کہاہے کہ جن فوجیوں نے احسان اللہ احسان کو چھوڑنے کا جرم کیا تھا ،ان کو سزا دی جاچکی ہے۔ اگر وہ کسی طرح قید میں رکھے گئے ہیں تو آذان واقامت کیلئے اوریا مقبول جان اور عامر لیاقت بھی ضرور حاضر خدمت ہیں۔ البتہ میڈیا پر ان نالائقوں کو وکالت کی خدمت نہ سونپی جائے۔ شہیر سیالوی پتہ نہیں انگریز کے کونسے بٹ مینوں اور کتے نہلانے والوں کو سبق سکھانے کا کہہ رہے ہیں۔ اوریا مقبول جان نے بھی اس کی تائید کردی ہے۔
اگر واقعی اسلامی نظام ملک میں نافذ ہوتا تو پھر شاہ فیصل مسجد میں امام ، مؤذن ، خادم کی خدمات ڈاکٹرعامر لیاقت، اوریامقبول جان اور شہیر سیالوی سے بھی لی جاتی تو بہترین کام ہوسکتا تھا۔ حالانکہ پیشہ ، تعلیم اور سند کے لحاظ سے عامر لیاقت ڈاکٹر نہیں ہیں بلکہ جس طرح کوئی غیرسید اپنے نام کا حصہ سید کوبھی بنالیتا ہے وہ اسی طرح کے نام کے ڈاکٹر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے سورۂ نور کی ایک ایک آیت میں وہ نور بھر دیا ہے کہ اگر اس سے روشن کردیا جائے تو مشرق ومغرب میں طلوع شمس کا منظر ہوگا۔
وانکحوا الایامیٰ منکم والصٰلحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ واللہ واسع علیمO
” اور نکاح کراؤتم میں جو بیوہ وطلاق شدہ ہیں۔ اور جو تمہارے نیک غلام اور لونڈیاں ہیں ۔ اگر وہ فقراء ہیں تو اللہ ان کو اپنے فضل سے دولتمند بنادے گا اور اللہ وسعت دینے والا جاننے والا ہے”۔
دورِ جاہلیت میں نکاح کی ایک قسم یہ تھی کہ دس (10)یا اس سے کم متعدد افراد کسی عورت سے تعلق رکھتے تھے، جب اولاد پیدا ہوتی تھی تو وہ افراد ایک لائن میں کھڑے ہوجاتے ، جس کی طرف عورت اشارہ کرتی وہی مرد بچے کا باپ بن جاتا تھا۔ دوسری قسم یہ تھی کہ کوئی عورت اپنے گھر پر جھنڈا لگادیتی تھی اور لاتعداد لوگوں کا اس کے پاس آنا جانا ہوتا تھا۔ پھر جب اس کا کوئی بچہ پیدا ہوتا تو چہروں کا علم رکھنے والے ماہرین قیافہ شناسوں کی ٹیم طلب کی جاتی تھی اور جس سے چہرہ ملتا تھا ،بچے کو اسی شخص کا قرار دیا جاتا تھا۔ تیسری قسم یہ تھی کہ کوئی شخص اپنی بیگم کسی اچھے نسل والے کو دے دیتا تھا،پھر جب اس کو حمل ٹھہرتا تو عورت اپنے شوہر کو واپس کردی جاتی اور یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ نسل اچھی ہوگئی ہے۔جاہلیت میں نکاح کی ایک قسم وہ بھی ہے جو درست تھی اور اسلام نے اس کو باقی رکھا۔ (صحیح بخاری)
بخاری کی صحیح حدیث کو نقل کرنے پر بھی بعض لوگ چیں بہ جبیں ہونگے کہ اخلاقیات سے گری باتوں کو یہاں نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ حالانکہ ہمارا معاشرتی نظام تو جاہلیت سے بھی زیادہ گیا گزرا ہے۔ بغیر ماں باپ کی شناخت والے جھولوں کے بچوں کی بہت بڑی تعداد پیدا ہورہی ہے۔ مولانا عبدالستار ایدھی اور اسطرح کے دوسرے لوگ یہاں ایک مسیحا کے روپ میں بیٹھے ہیں جو بھیک مانگ کر زکوٰة خیرات سے ان بچوں کے باپ بن رہے ہیں۔ ایام جاہلیت میں ماں کے ساتھ ایک باپ پر بھی بچے کی ذمہ داری ڈال دی جاتی تھی تو یہ بچے اور معاشرے کیلئے خوش آئند تھامگر جب ماں باپ دونوں سے محروم بچے معاشرے کا حصہ بن رہے ہوں تو یہ جاہلیت کے معاشرے سے ہزار درجہ بدتر ہے۔
جب دین اسلام آیا تو ناجائز حرام کاری کی روک تھام اور انسانی شرافت کا بہت اعلیٰ ترین معیار قائم کردیا ۔ اس زمانے میں بیوہ وطلاق شدہ سے نکاح کو اتنا معیوب سمجھا جاتا تھا کہ بچے اپنے آباء کی متروکہ منکوحہ عورتوں سے مجبوراً شادی کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولاتنکحوا مانکح اٰبائکم من النساء الا ما قدسلف ”اورنکاح مت کرو جن عورتوں سے تمہارے آبا ء نے نکاح کیا مگر جو پہلے گزرچکا ہے”۔اصولِ فقہ میں اس پر اتنا گند پھیلایا گیا ہے کہ اگر عوام کو پتہ چل گیا اور ڈنڈے والی سرکار کو حکومت مل گئی تو اسلام کے نام پر غیر فطری تعلیم دینے والوں کو سوٹے مارمارکرباز آنے پر مجبور کریںگے۔ جن خواتین کی ایسی حیثیت ہو ، جو اپنے لئے بیوہ ہونے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کو اپنی توہین سمجھ رہی ہوں تو محرمات کی فہرست مانکح آباء کم اور حرمت علیکم امہاتکم سے شروع ہے تو اس کا خاتمہ والمحصنات من النساء پر کردیا ہے۔ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ جب انسانی معاشرے میں ایک خاتون کو ایسی عزت کا مقام حاصل ہو کہ وہ بیوہ بننے کے بعد شادی نہیں کرنا چاہتی ہو اور لوگ اسکو پیغام ِنکاح کے انبار لگانا شروع کردیں۔ رسول اللہ ۖ کی حیثیت مسلم معاشرے میں مسلمہ تھی تو اللہ نے ہمیشہ کیلئے آپ ۖ کی ازواج سے نکاح کرنے کی بات کو بھی ناجائز اور اذیت کا باعث قرار دیا تھا۔
حدیث میں کنواری کے مقابلے میں الایم کا ذکر آیا ہے۔ کنواری سے شادی کرنے میں کوئی عار اور مشکل نہیں تھی اسلئے اللہ تعالیٰ نے بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کرانے کا حکم دیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ جب معاشرے میں ان کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہو تو اس سے بہت مثبت تبدیلی آتی ہے۔ ریحام خان سے عمران خان کا نکاح اس اصول کے مطابق بڑا اچھا فیصلہ تھا۔ البتہ معاشرے میں نکاح کیلئے شادی شدہ سے نکاح کرنے کا اقدام بہت معیوب ہے۔ عورت شوہر سے راضی نہ ہو تو پہلے خلع لیا جائے اور پھر دوسرے سے نکاح کی بات ہو تو پھر بھی مدینہ کی ریاست بنانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔ جب جوان بچوں کو معلوم نہ ہو کہ ماں نے انکے باپ سے خلع لیکر کسی اور سے شادی رچالی ہے اور پھر وہ میڈیا میں کسی معروف شخصیت سے شادی کی تردید کریں تو اللہ ایسی آزمائش سے ہمارے گرویدہ نہیں بلکہ دشمن ہندؤوں کے بچوں کو بھی بچائیں۔ پھر یہ الزام کہ عدت میں شادی ہوئی ہے اور مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے گھر کو ریگولرائزکردیا ہے اب ایک اور چیز کو ریگولرائز کرنے کا معاملہ باقی رہ گیا ہے۔
جب اللہ نے شادی کی طلبگار اور ضرورت مند بیوہ وطلاق شدہ خواتین کی شادی کرانے کا حکم دیا ہے تو اس سے معاشرے پر کتنے زبردست اثرات مرتب ہوںگے؟ اللہ نے صرف طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا نہیں بلکہ غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا بھی حکم دیا تھا۔ نوشہرہ کی معروف سیاسی شخصیت ہمارے علاقہ کے مولانا گل حلیم شاہ کنڈی نے ایک مرتبہ بالمشافہہ ملاقات میں مجھ سے کہا کہ ایک عورت بہت بوڑھی تھی، کمزور اور بہت لاغر جسم کی وجہ سے اسکا بیٹا ٹوکری میں رکھ کر اپنے سر پر حج کے دوران گھما رہا تھا۔ ایک شخص نے کہا کہ اللہ کا حکم ہے کہ بیوہ وطلاق شدہ کا نکاح کراؤ، اس نے کہا کہ اتنی بوڑھی کا نکاح سے کیا کام ہے ؟۔ تو بوڑھی اماں نے کہہ دیا کہ میرا نکاح کسی سے کردو۔ مولانا نے فقہ کی کسی کتاب کا حوالہ بھی دیا تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ نے ان خواتین کا بھی قرآن میں ذکر کیا ہے جن کوپکی عمر کی وجہ سے نکاح کی حاجت نہیں رہتی ہے۔ بہرحال ہوسکتا ہے کہ بوڑھیا اپنے بیٹے کے سرسے بوجھ ہٹاکر کسی دوسرے کے کاندھے پر ڈالنا چاہتی ہو اور مولوی نے سوچا ہو کہ الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموا ھما کی زد میںکہیں یہ بڑھیا اور کوئی بوڑھا نہ آجائے۔ اسلئے کہ جوانوں پر تو یہ حد نافذ ہونے سے رہی ہے اور نہ اسکے الفاظ یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ جوانوں پر اسکا اطلاق ہوکیونکہ یہ اقتضاء النص بھی نہیں ہوسکتا ہے۔
جس معاشرے میں غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کی تعلیم ہو تو وہ معاشرہ سپر طاقت کیسے نہیں بنے گا؟۔ کوئی ملحد یہ بکواس کرسکتا ہے کہ دشمن کو دبانے کیلئے ابوجہل اور ابولہب کے مقابلے میں سیدنا بلال کا درجہ بڑھادیا گیا تھا ورنہ تو مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ مہاجر قریش صحابہ نے اولین سبقت لے جانے والے انصارکے سردار کو بھی خلافت کے قابل نہیں سمجھا تھا۔ رسول اللہۖ کے کفن دفن کو چھوڑ کر خلافت کے استحقاق پر لڑتے لڑتے رہ گئے تھے۔ پھر حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ بہت کم عرصہ میں پیش آیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عثمان اور حضرت علی کے جھگڑے کا ذکر ہے ۔ حضرت عثمان نے کہا کہ حضرت عمر نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے پر پابندی لگائی ہے اور کہا ہے کہ میں کسی کو احرام اس نیت سے باندھنے نہیں دوں گا، نہیں دوں گا، نہیں دوں گا۔ حضرت علی نے اعلانیہ طور پر کہا کہ میں رسول اللہۖ کی سنت کے مطابق ایک ساتھ احرام کی نیت کرتا ہوں توکوئی مجھے روک کر دکھائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور احناف نے بھی حضرت عمر کے اقدام کی مخالفت کی اور بنوامیہ کے ظالم گورنر ضحاک نے جب کہا کہ حج وعمرے کااکٹھا احرام باندھنا جہالت ہے تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا کہ ضحاک یہ بات مت کرو۔ میں نے نبیۖ کو خود اپنے مشاہدے سے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھتے دیکھا ہے۔
جس قوم کی جہالت کا یہ حال ہو وہ ایک غلام کو کس طرح خلیفہ بناسکتے تھے؟۔ امریکہ نے بہت کم عرصہ ہوا ہے کہ کالوں کو گوروں کی طرح حقوق دیدئیے تو بارک حسین اوبامہ صدر اور مشعل اوبامہ خاتون اول بن گئی ؟۔ خلافت کو خاندانی لونڈی بنانے والے غلام کو کبھی بھی اپنا خلیفہ نہیں بناسکتے تھے۔ کہنے والوں کو بہت کچھ کہنے کا حق ہے لیکن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو اسلام کی ایک ایک بات سے لوگ مطمئن ہوجائیں گے۔ رسول اللہۖ نے اپنے غلام حضرت زید ہی کو اپنا جانشین بنایا تھا۔ اگر وہ شہادت کی منزل کو نہ پہنچتے تو انہی کو خلیفہ نامزد کرنے پر دل وجان سے اتفاق ہوسکتا تھا جو نہ قریش تھے اور نہ انصارمیں سے تھے۔ رسول اللہۖ نے انہی کے بیٹے اُسامہ کو لشکر کا آخری سپہ سالار بھی مقرر فرمایا تھا۔ جن پر بعض صحابہ نے اعتراض کیا لیکن نبیۖ نے انکا اعتراض مسترد کردیا تھا۔ نبیۖ نے اپنی کزن حضرت زینب سے شادی بھی کرادی تھی لیکن جب اس شادی کی ناکامی میں جاہلانہ ماحول نے اپنا کردار ادا کیا تو نبیۖ نے اس طلاق شدہ کو بھی اللہ کے حکم سے شرف زوجیت بخش کر ام المؤمنین بنادیا تھا۔
جہاں تک ایک ساتھ احرام باندھنے کی بات ہے تو رسول اللہۖ نے رسم جاہلیت توڑنے کیلئے حج وعمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا تاکہ جنہوں نے عمرے کی کوئی نذر مانی ہو تو ان کیلئے اس سہولت سے فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے۔ منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے شادی کا حکم بھی اللہ نے نبیۖ کو اسلئے دیا تاکہ مؤمنین کیلئے راستہ آسان ہوجائے۔ جس کی قرآن نے وضاحت کردی ہے۔ حضرت عمر نے ایک ساتھ احرام پر جو پابندی لگائی تھی تو حضرت عمر کے دشمن اس سے یہ تأثر پھیلانے کی کوشش میں کامیاب ہیں کہ اسلام کے احکام کی جگہ جہالت لائی جارہی تھی۔ حالانکہ حضرت عمر یہ فیصلہ نہ کرتے تو پھر جاہل سنت سمجھ کر بڑے پیمانے پر حج کی فضاء کو بدبودار پسینوں سے متعفن بناسکتے تھے۔
اسلام کے ہرے بھرے کھیت اور کھلیان کو نااہلوں ،فرقہ بازوں ، مسلک سازوں اور مفاد پرستوں نے کھائے ہوئے بھوس کی طرح روند اور کچل کر رکھ دیا ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

شیعہ سنی اتحاد سے ایران، سعودیہ، عراق ، شام ،ترکی عرب وعجم کاپاکستان امام بن جائیگا.

شیعہ سنی اتحاد سے ایران، سعودیہ، عراق ، شام ،ترکی عرب وعجم کاپاکستان امام بن جائیگا ،عالم اسلا م ہی نہیںدنیا کا بھی پاکستان نے امام بننا ہے۔پاکستان لیلة القدر کی رات کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب دیکھنے کیلئے وجود میں آیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ شیعہ ذاکر نے کہا: میں قرآن سے علم کا جلوس اور اسکاراستہ تک ثابت کرتا ہوں۔ الم نشرح لک صدرک۔ علم کا جلوس نشترپارک سے صدر تک !

شیعہ سنی تفاسیر میں جو جو بیانات مرتب ہورہے ہیں، عوام ان کی نکتہ دانیوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے لیکن جو آیات محکمات ان کو بھی متشابہات کے درجے تک پہنچاکر ناقابل عمل بنایاہے!

سورۂ نور میں جتنی تاکیدات سے اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ سورة انزلنٰھاو فرضنٰھا و انزلنافیھا آےٰتٍ بینٰتٍ لعکم تذکرونOالزانیة والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائة جلدة ولاتأخذ کم بھما رأفة فی دین اللہ ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاٰخر ولیشھد عذابھما طائفة من المؤمنینOالزانی لاینکح الا زانیة او مشرکة والزانےة لاینکحھا الا زانٍ او مشرک و حرم ذٰلک علی المؤمنینOوالذین یرمون المحصنٰت ثم لم یأتوا باربعة شہدآء فاجلدوھم ثمٰنین جلدةً ولاتقبلوا لھم شھادةً ابدًا واولئک ھم الفٰسقون
ترجمہ ” یہ ایک سورت ہے ،اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اورہم نے اس میں نازل کی ہیں بالکل واضح آیات شایدکہ تم سبق لے لو۔زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہارے دلوں میں ان دونوں کیلئے نرمی نہ ہو ،اللہ کے دین کے معاملے میں۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔اور ان دونوں کے عذاب(سزا) پر مؤمنوں کا ایک گروہ موجود رہے۔ زانی مرد نکاح نہیں کرے مگر زانیہ عورت یا مشرکہ سے اور زانیہ عورت نکاح نہ کرے مگر زانی مرد یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے۔ اور جو لوگ بیگمات پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو ان کواسی (80)کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول مت کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں”۔
مسلمان معاشرے میں بڑی مدت سے یہ تأثر جم گیا ہے کہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ لیکن جب اس سے بدکاری کا ارتکاب ہوتا ہے تو اس کو جان سے ماردیا جاتا ہے لیکن مردوں کیلئے زنا کار ہونے پر کوئی اخلاقی اور قانونی جرم کی سزا کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسلئے مسلمان معاشرے میں عورتوں کی اکثریت محفوظ اور مردوں کی خطاء کار ہے۔ اگر قرآن کی واضح آیات کے مطابق دونوں کو ایک ہی طرح کی سزاسو (100)کوڑے لگائے جائیں تو اس سے معاشرے میں ایک بہت ہی پاکیزہ ، زبردست اور بہترین فضاء بنے گی۔
سید ابولاعلیٰ مودودی نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں پہلے زنا سے متعلق یہود ونصاریٰ اور دوسری اقوام کے حوالے سے ایک طویل مضمون پیش کیا ہے۔ پھر اسلام کے حوالے سے بھی فقہی معاملات کا کم وبیش وہی مضمون پیش کیا ہے۔ گویا امت مسلمہ بھی اپنی سابقہ امتوں کے عین مطابق انکے نقش قدم پر اسی طرح اللہ کے دین کے بارے میں گامزن ہے۔
جب معاشرے میں مردوں کا حال بہت خراب ہوگا اور شادی شدہ عورتیں مقید ہوں تو یہ اسلامی معاشرہ کیسے کہلاسکتاہے؟۔ قربان میری گلیوں کے اے وطن کہ خشیت مقید ہیں جہاں سگ آزاد۔ عورت کو سزا مل جاتی ہے لیکن مرد کھلے عام قانون سے بالاتر ہیں۔
جب عورتوں اور مردوں پر اللہ کی بالکل واضح آیت کے مطابق زنا کرنے پر نہ صرف سرعام سو (100)کوڑے برسائے جائیں بلکہ انکا آپس میں نکاح بھی کردیا جائے یا پھر پڑوس کے ملک ہندوستان میں کسی مشرک یا مشرکہ سے نکاح کرایاجائے جہاں وہ فلم انڈسٹری کی مدد سے اپنا پیٹ بھی پالیں تو مسئلہ نہیں ہے ۔معاشرے میں یہ پتہ ہوتا ہے کہ کون بدکار اور کون نیکوکار ہے۔ بدکاروں کی اسلامی معاشرے میں یہی گنجائش ہے کہ وہ آپس میں یا پھر کسی مشرک اور مشرکہ سے اپنا ناطہ جوڑیں۔ اگر قرآن کی ان واضح آیات پر عمل ہوتا توآج مسلم معاشرے میں بے راہ روی اس انتہاء درجہ تک نہ پہنچتی جو کچھ آج ہورہاہے بھارت بھی اپنے ہاں مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ہندؤوں پر بھی اس قانون کو جاری کرنے میں دیر نہ لگاتا۔
عورت آزادی مارچ کے شرکاء نے اگر منظم انداز میں خواتین کے تحفظ کیلئے سورۂ نور کا سہارا لیا تو پھر پاکستان میں وہ انقلاب آئیگا جس کا خواب وہ ہزار سال کی جدوجہد کے بعد بھی نہیں دیکھ سکتی ہیں۔ اسلام نے مرد اور عورت کیلئے بدکاری پر یکساں سزا کا حکم دیا ہے اور معاشرے میں عورت کیساتھ نہ صرف یک طرفہ اور بغیر کسی تفریق کے زیادتیاں ہوتی ہیں بلکہ اپنی عزتوں کی حفاظت کرنے والی خواتین انتہائی اذیت کی زندگیاں گزار رہی ہیں اور اس سے نجات کا رستہ قرآن نے دیا ہے۔ پروین شاکر نے عورت کی تہذیب کو نقل کیا ہے کہ ”وہ کہیں بھی گیالوٹا تو مرے پاس آیا، بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی”۔
جب شرعی اور قانونی طور پر بدکار مردوں کو یہ حق ہی نہیں ہوگا کہ وہ پاکدامن عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکیں ۔ اللہ نے ان پر یہ حرام کردیا ہوگا تو معاشرے میں پاکیزہ ماحول قائم کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ بدکارعورتوں کو مرد اپنے نکاح میں رکھنا حرام سمجھتے ہیںمگر خود بدکاری اور بدکرداری کے مرتکب ہونے کا مرد اپنے لئے جواز رکھتے ہیں۔ معاشرے کو اسلامی بنانے کیلئے عورتوں سے زیادہ مردوں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ انشاء اللہ
بہتان ایک سنگین جرم ہے ، اگر مرد پر لگایا جائے تو اس کی بیوی پر اتنا اثر نہیں پڑتا ہے لیکن جب عورت پر لگایا جائے تو اس کے شوہر پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ کیپٹن صفدر بھی کہے گا کہ مجھ پر الزام مسئلہ نہیں لیکن سوشل میڈیا پر چھوڑے ہوئے کتوں کے ذریعے مریم نواز کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے شادی شدہ خواتین پر بہتان لگانے کا خاص طور پر ذکر اسلئے کیا کہ مردوں کو اذیت پہنچانے کیلئے انکی بیگمات کو جس طرح گالی گلوچ سے کچلنے کی روش اپنائی جاتی ہے ، یہاں تک کہ کلچر میں عورت بھی بسا اوقات دوسرے کو بیوی کی گالی سے نوازتی ہے۔ حالانکہ عورت کے شوہرکو بھی گالی دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح مردوں کو نشانہ بنانے کیلئے عورتوں پر ہی بہتان لگایا جاتا ہے۔ قرآن نے اس کا حل پیش کیا ہے۔
اسلام اتنا عظیم دین ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو بھی اس کی سزا اسّی (80)کوڑے رکھی اور ایک ادنیٰ درجے کی غریب عورت پر بہتان لگایا جائے تو بھی اس کی سزا اسّی (80)کوڑے ہے۔ اسلام کی یہ مساوات دیکھ کردنیا اسلامی انقلاب کو قبول کرسکتی ہے لیکن ہمارا میڈیا اس کو عوام تک پہنچانے سے قاصر ہے۔ روزنامہ پیغامات اخبار پشاور کے چیف ایڈیٹر جناب گل احمد مروت سے میں نے اسلام کے اس آفاقی نظام کا ذکر کیا کہ اگر پاکستان میں اس کو نافذ کیا گیا تو امیر وغریب میں مساوات کی فضاء قائم ہوگی۔ کرپٹ امیروں نے انتخابات ، جمہوریت اور اقتدار کو تجارت بنالیا ہے لیکن آئین میں قرآن اور سنت کی بالادستی ہونے کی وضاحت کے باوجود منافق مولوی اور مذہبی طبقہ بھی حقیقت کی بات عوام کے سامنے نہیں لاتاہے۔ یہاں امیر کی ہتک عزت اربوں میں غریب کی ٹکوں میں بھی نہیں ہے۔ وہ جتنی ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے ،اس سے زیادہ وکیل اور عدالت میں خرچہ آئے گا۔ ایک غریب کیلئے دس ہزار بھی بڑی سزا ہے۔ جیلوں میں بہت سے لوگ اس لئے قید پڑے ہوئے ہیں کہ وہ پانچ سو روپیہ جرمانہ نہیں بھرسکتے ہیں جبکہ مریم صفدر نے ایک دن میں دس (10)کروڑ کی ضمانت عدالت میں جمع کرکے رہائی پالی ۔ اب شاید عدالت کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ واپس کرکے مریم نواز کو دوبارہ گرفتار کرلے ،اسلئے کہ تیمارداری کا مسئلہ تو نہیں، کب کے نوازشریف باہر چلے گئے ہیں؟۔
اگر مذہبی طبقہ اٹھتا اور قرآنی آیات کے مطابق خواتین پر بہتان لگانے کی سزا کے مطابق ہتک عزت میں امیرو غریب کی تفریق کے بغیر ایک سزا مقرر کرتا اور یہ سزا پیسوں میں نہیں کوڑے لگانے کی صورت میں ہوتی تو سوشل میڈیا پر بھی کوئی غلط الزامات لگانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ معاشرے میں جمود بھی ایک زبردست زلزلے کی طرح ٹوٹ جاتا۔ قرآن میں جس یوم دین یا یوم انقلاب کا ذکر ہے وہ دنیا میں جو قومیں عذاب کا مزہ چکھ چکی ہیں اور فتح مکہ کی طرح انقلاب دیکھ چکی ہیں۔ اس سے دنیا ہی میں عذاب مراد ہے لیکن قرآنی آیات میں عذاب و ثواب سے مراد لوگوں نے آخرت ہی لیا ہے۔
حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو زنا پر جان سے مار ڈالا۔ بیگم نے بیچ میں سفارش کرنے کی بات کی تو حضرت عمر نے کہا تھا کہ میں سفارش نہیں مانوں گا۔ اس نے کہا کہ صرف سن لیں،پھر ماننا نہ ماننا آپ کا کام ہے۔ سفارش یہ کردی کہ کوڑے والے آدمی کو بدلتے رہو تاکہ بیٹا دنیا میں عذاب پورا کرلے۔ ایک ہی آدمی نے مارا تو وہ تھک کر زیادہ سخت کوڑے پورے نہیں کرسکے گا۔ بیٹے پر گواہوں کو بھی طلب نہیں کیا جبکہ مغیرہ بن شعبہ پر چار گواہ تھے اور اس کو سنگساری سے بچانے کیلئے تین گواہوں کو اسّی اسّی (80،80)کوڑے مروائے تھے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین مفتی سعید خان کو بنایا جائے۔ پہلے مولانا محمد خان شیرانی اور اب قبلہ ایاز صاحب روٹیاں توڑ رہے ہیں۔ شیعہ سنی علماء اور ذاکرین حقائق کی وضاحت سے بالکل قاصر نظر آتے ہیں۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ شیعہ ذاکر نے یہ اعلان کیا کہ قرآن میں محرم کا جلوس اور اس کا راستہ بھی موجود ہے۔کراچی میں نشترپارک سے صدر کی طرف ایک جلوس نکلتا ہے ۔ لوگ حیران تھے کہ قرآن میں یہ کہاں ہے؟۔ اس نے کہا کہ الم نشرح لک صدرک میں الم سے علم ہے اور نشرح سے مراد نشتر پارک ہے اور مطلب یہ ہے کہ نشتر پارک سے صدر تک علم کا جلوس۔ یہ سن کر سامعین نے زبردست داد بھی دی اور ان پر وجد کی کیفیت بھی طاری ہوگئی کیا زبردست دلیل نکالی ہے۔
والفجرOولیال عشرOوالشفع والوترOوالیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم الذی حجرO
” فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم ، جفت اور طاق کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے کوئی قسم ہے؟”۔
شیعہ علامہ نے کہا کہ فجر سے مراد امام مہدی ہیں۔ دس راتوں سے دس امام مراد ہیں۔ جفت سے حضرت علی و حضرت فاطمہ مراد ہیں اور وتر سے رسولۖ مراد ہیں۔ ان میں چودہ معصومین کا ذکر ہے لیکن اس میں عقل والوں کیلئے قسم ہے۔
سنی علامہ کہہ سکتے ہیں کہ فجر سے رسول اللہۖ کا انقلاب مراد ہے۔ دس راتوں سے عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام مراد ہیں۔ اور جفت سے حضرت حسن و حضرت معاویہ مراد ہیں اور وتر سے حضرت امام حسین یا عمر بن عبدالعزیز مراد ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فجر سے امام مہدی مراد ہیں۔ پھر دس راتوں سے آئندہ آنے والے دس آل بیت امام مراد ہیں جن سے پہلے رات کی طرح ایک ایک مرتبہ اندھیرا چھا جائیگا۔ پھر جفت سے مراد امام مہدی آخر زمان اور حضرت عیسیٰ مراد ہیں ۔ پھر وتر سے توحید مراد ہے کہ اگر ایک بھی اللہ اللہ کہنے والا دنیا میں موجود ہوگا تو قیامت نہیں آئے گی۔ ہرانقلاب کے عمل کو الفجر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس سے پہلے کی رات آسان ہوجاتی ہے ۔ علامہ اقبال نے طلوعِ اسلام کا ذکر کیا ہے۔ ایران کو مشرق کا جنیوا قرار دینے کی خواہش اور نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر مسلمانوں کو ایک ہونے کی دعوت دی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے سندھ ، بلوچستان، پنجاب ، کشمیر ، پختونخواہ اور افغانستان میں رہنے والی تمام قوموں میں دنیا کی امامت کی صفت کا ذکر سورۂ القدر کی تفسیر کرتے ہوئے کیا ہے۔ جس کو ایران بھی قبول کرلے گا۔ کیونکہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے۔ مولانا سندھی کی تفسیرمقام محمود میں تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے ماحول خوشگوار بنانا بہت ضروری ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat