پوسٹ تلاش کریں

پاکستان کی سیاسی قیادت کی مثال دودھ کی کریم جیسی ہے لیکن یہ حرام جانوروں کے دودھ کی کریمیں ہیں۔

گیدڑ شیر کی کھال پہنے سے شیر نہیں بن جاتا، عمران خان نوازشریف بننے کی کوشش نہ کرے،مریم نواز۔ کہنا یہ چاہیے تھا کہ گدھا گیدڑ کی کھال نہیں پہن سکتا ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف نے پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی قیادت کا کریم معاشرے کو دیامگر بدقسمت اسٹیبلشمنٹ نے یہ سب مکھن قیادت حلال دودھ سے نہیں بلکہ کتیا،گیدڑ اور گدھی کے دودھ کو مشکیزے میں ڈال کر نکالا ہے جس نے قوم کو تباہ کردیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام اور جمہوریت برائے نام ہے اور اس کا نظام اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کی وجہ سے پیدا گیری ہے ۔جب تک پیداگیری سے اس کو پاک نہیں کیا جائے یہ اسم بامسمّیٰ پاکستان نہیں بلکہ پلیدستان رہے گا۔ خان، وڈیروں ، نوابوں اور انگریز کے پیداکردہ ملا شوربازاراور پیران شیر آغا نے عوام کو تباہ کیا، سیاستدانوں اور سول وملٹری بیوروکریسی نے آخری حدپارکردی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا ماضی ،حال اور مستقبل سب ڈھینچو ڈھینچو کے سواء کچھ نہیں ہے۔ پہلے خودکار ناکارہ نظام کی وجہ سے آرمی چیف کی مدت توسیع میں جو جگ ہنسائی ہوئی تھی وہ سمجھ میں آتی تھی کہ اس سے پہلے جتنے ڈکیٹیٹر مسلط ہوئے تھے ،وہ سب اس فوجی ایکٹ کے تحت ہوئے تھے کہ ” جب کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد مجرم ثابت ہوتا تو اس کو بحال کرکے سزا دی جاتی تھی” لیکن جب کوئی ڈکٹیٹر قبضہ کرتا تھا تو ہمارے سیاستدان اور عدلیہ مل بانٹ کر کہتے تھے کہ ” اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا”۔ کبھی کسی نے قانون کا جائزہ تک لینے کی زحمت نہ کی۔
اب وزیراعظم عمران خان کہتا ہے کہ” مجھ سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت سے کسی کے اچھے تعلقات نہیں ہیں ۔کسی تیکنیکی خرابی کی وجہ سے آئی ایس آئی چیف کی تقرری میں توسیع ہورہی ہے”۔ گدھے کو یہ پتہ نہیں کہ یہ جہانگیر ترین کا جہاز یا پاکستان ریلوے کا انجن تو نہیں ہے کہ اس میں تیکنیکی خرابی کی وجہ سے کوئی تاخیر ہوجائے۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سول سپرمیسی کی آواز اٹھانے والیPDMکی قیادت کو بہت بڑی خارش شروع ہوگئی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی بدنامی کا باعث عمران خان بن رہاہے۔ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے کو اصل مسئلے کا بھی پتہ نہیں کہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے یا عمران خان سے چپقلش ہے؟۔ حکومت کے ترجمان بک رہے ہیں کہ اپوزیشن قومی اداروں کے تقدس کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ حالانکہ کونسی ہتھنی کی ڈیلوری کس آپریشن سے ہورہی ہے؟۔ ابھی تویہ بھی معلوم نہیں کہ نوراکشتی ہے یا واقعی کوئی مسئلے مسائل ہیں؟۔
جب بھوک اور اقتدار کی جنگ شروع ہوجائے تو پھر ملک وقوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ مقتدر طبقات طاقت اور بھوک کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ جنرل ایوب خان کو طاقت کا شوق تھا تو اس نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے طاقت کا کھیل اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے سب کچھ کیا لیکن پھر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں شکار ہوگیا۔ جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف کو جنم دیا۔ نوازشریف تجارت پیشہ انسان تھا ، اس نے آئی ایس آئی ، اسامہ بن لادن اور جہاں جہاں سے بن پڑا تو اپنی تجارت بڑھائی۔ ملک وقوم میں کرپشن کرپشن کی رٹ لگی تو گہماگہمی میں پیپلزپارٹی اور نوازشریف کی باری باری حکومتوں کا بتدریج خاتمہ کرکے خان صاحب کو لایا گیا۔ بہت ہی معذرت کیساتھ لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو کتوں اور گدھوں سے بھی تشبیہ دی ہے۔ کتا بڑا کارآمد اور وفادار جانور ہے لیکن اس میں لالچ اور اپنی چوہدراہٹ جمانے کی کمزوری ہوتی ہے۔ گیڈر سے تشبیہ عام طور پربزدلی کی وجہ سے دی جاتی ہے اور گیدڑ کا کام یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت ہنر مندی سے ڈرپوک ہونے کے باوجودبڑی صفائی سے چوری کرتا ہے اورایک ساتھ جمع ہوکرعجیب و غریب آواز نکالنے کی مہارت رکھتا ہے جس کو گیڈر بھپکی کہتے ہیں۔ گدھا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کی آواز سب سے بدترین ہوتی ہے اور کوئی عقل اور عزت بھی نہیں رکھتا ہے۔
جب مشرقی پاکستان میں مجیب نے اکثریت حاصل کرلی اور ذوالفقار علی بھٹو کے پاس مغربی پاکستان میں اکثریت تھی تو بھٹو نے اسٹیلشمنٹ کیساتھ مل کر ہی اس ملک کو دولخت کردیا۔ جب93ہزار فوجی بھارت نے قید کرلئے تو بھٹو نے وفاداری دکھائی اور ان کو چھڑانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جنرل ضیاء الحق کو اپنا وفادار ،بزدل اور کمزور سمجھ کر آرمی چیف بنایا لیکن جب اپنی چوہدراہٹ کے چکر میں پڑگیا تو اپنے انجام کو جائز یا ناجائز بہرحال پہنچادیا گیا۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ”کتے میں10صفات ایسی ہیں جو ہر مؤمن میں ہونی چاہئیں” اور ذوالفقار علی بھٹو میں بہت سی خوبیاں تھیں لیکن انسانیت کا کوئی معیار نہیں تھا ۔ جنرل ضیاء الحق نے گیڈر نوازشریف کو پالا ۔ گیدڑ میں انسان بننے کی صلاحیت تو دور کی بات ہے کتا بننے کی صفات بھی نہیں ہے۔جب بینظیر بھٹو نے جمہوریت کیلئے مولانا فضل الرحمن اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کرMRDمیں جدوجہد شروع کی تو نوازشریف جنرل ضیاء الحق کی برسی پر گیڈر کی طرح آوازیں نکالتا تھا کہ ”تم شہید ضیاء الحق سے انگریز کے کتے نہلانے والے بھٹو کا مقابلہ کرتے ہو؟ اور پاک فوج زندہ باد اور جمہوریت مردہ باد ”۔ پھر جب اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر آئی ایس آئی نے پیسہ دیکر اس کو اقتدار میں لایا تو کرپشن کی بنیاد پر ہی صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کردیا۔ رحمن ملک نے اس وقتFIAکے ذریعے تمام ثبوت اکٹھے کرکے ایون فیلڈ لندن کے فلیٹ کا پتہ لگایا تھا۔ پھر جب مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرکے اس کی بہن بینظیر بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ کیا گیا تو آصف علی زرداری کو جیل میں ڈال کر دوبارہ مرکز میں نوازشریف کو لایا گیا۔ بینظیر بھٹو پر بھی کرپشن کے کیس بنائے گئے اور نوازشریف کی گیدڑ بھبکیاں جاری رہیں۔ پھر نوازشریف نے گیڈر کی طرح اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے پرویزمشرف کو ہٹادیا لیکن اس کی چال ناکام ہوگئی۔ پھر گیدڑ سعودیہ کی جلاوطنی پر دستخط کرکے گیا تھا تو اس نے معاہدے کا انکار کیا۔ جب معاہدہ اس کے مطالبے پر سامنے لایا گیا تو اس نے کہا کہ10سال نہیں5سال کا معاہدہ کیا تھا۔ ایون فیلڈ کے کیس دوبارہ اس کے خلاف کھول کر بند کئے گئے۔ سزائیں بھی سنائی گئیں تھیں اور گیدڑ کی بچی مریم نواز نے گیدڑ بھبکی ماری تھی کہ ”میرے پاس بیرون ملک تو کیا ملک کے اندر بھی کوئی جائیداد نہیں ہے اور کچھ بھی میرے پاس نہیں، باپ پال رہا ہے”۔
جب یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن گیا تو شہباز شریف رات کی تاریکیوں میں گیدڑ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کرتا تھا اور گیڈروں نے پھر جمہوریت پر یلغار کردی۔ بجلی کے کھمبوں، چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی بھپکیاں جاری رہتی تھیں۔ پھر جب اقتدار میں آگئے تو اسمبلی میں گیدڑ بھپکیوں سے پرہیز نہیں کیا۔ ایون فیلڈ کے فلیٹوں کا تحریری بیان جاری کیا کہ اللہ کے فضل وکرم سے الحمد للہ2005ء میں سعودیہ کی مل اور وسیع اراضی اور دوبئی کے مل کو بیچ کر اس رقم سے2006ء میں یہ فلیٹ لئے۔ جس کے تمام دستاویزی ثبوت الحمد للہ میرے پاس ہیں جو عدالت کو عند الطلب دکھا سکتا ہوں”۔ پھر جب عدالت میں پیش کرنے کا وقت آیا تو قطری خط سے سب حقائق کو جھٹلادیا تھا اور پھر اس قطری خط سے بھی انکار کردیا تھا۔ یہ سب گیدڑ بھپکیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ نوازشریف شیر نہیں گیدڑ ہے ۔ ووٹ کو عزت دو کے نام پر فوج ہی کو مودرد الزام ٹھہرایا کہ ”مجھے کیوں نکالا” لیکن جب عمران خان کے دور میں بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن کی ضرورت پڑی اور آئینی ترمیم بھی ضروری تھی تو گیدڑ نوازشریف نے لندن سے ترمیم کی حمایت کردی اور پھر آرمی چیف کا نام لیکر بک بک بھی شروع کردی اور پھر خاموشی بھی اختیار کرکے نام لینا بھی چھوڑ دیا۔ اسلئے مریم نوازشریف کو چاہیے کہ عمران خان سے کہے کہ گدھا گیدڑ کی کھال نہیں پہن سکتا ہے۔ شیر کو بدنام کرنا بند کردیا جائے۔
حضرت علی اور حضرت امیر حمزہ جیسے مقدس صحابہ کرام کو شیر کہنا مناسب ہے مگر نوازشریف کی وہ کونسی ادا ہے جس پر اس کو شیر کہا جائے؟۔ اگر پارلیمنٹ میں اس کو زبردستی سے کسی نے ایون فیلڈ کا جھوٹا بیان پڑھنے پر مجبور کیا ہے تو پھر وہ بتائے لیکن اس کی پوری زندگی جھوٹ اور کرپشن سے عبارت ہے۔ ہمارے مولانا فضل الرحمن کوPDMکی قیادت کے نام پر ن لیگ کے دُم چھلے کا کردار ادا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جس طرح آرمی چیف کی مدت توسیع کیلئے پتہ چل گیا کہ جس قانون کے تحت ڈکٹیٹر شپ پر قبضہ کرکے اپنی مدت بڑھاتے تھے تو یہ قانون ہی غلط تھا، اسی طرح سے فقہ کے نام پر جومسلکانہ مسائل بنائے گئے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ غلط ہیں۔ روزنامہ جنگ میں ” آپ کے مسائل اور ان کا حل” میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس دارالافتاء نے ایک سوال کے جواب میں لکھا تھا کہ ” میاں بیوی میں سے ایک کا انتقال ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے اسلئے دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن جاتے ہیں”۔ جس طرح عدلیہ کا قانون فوج کے جرنیلوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹوں کیلئے الگ ہے اور غریب عوام کیلئے الگ ہے۔ اسی طرح علماء کی شریعت بھی طاقتور اور کمزوروں کیلئے الگ الگ تھی۔ معاشرے میں کمزور اور طاقتور کیلئے قانون الگ الگ ہے لیکن اسلام نے کمزوروں اور طاقتوروں کیلئے یکساں قانون بنائے تھے۔ ہماری جمہوریت اس وقت کامیاب ہوسکتی ہے کہ جب ہم اسلام کے مطابق کمزور اور طاقتور کیلئے ایک ہی قانون بنائیں۔ مذہبی جماعتیں پاکستان کے آئین سے بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتی ہیں اسلئے کہ انہوں نے خودہی اسلام کو مسخ کردیا ہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلام میں پردے کے تین اقسام کے احکام بتائے۔نمبر1یہ ہے کہ گھر کی چاردیواری سے باہر نہ نکلا جائے اور حجاب کے پیچھے بات کی جائے۔ نمبر2یہ کہ چہرے اوراندر کے کپڑوں سمیت پورے جسم کا نقاب کیا جائے اور نمبر3یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کو کھلا رکھ کر باقی جسم کا پردہ کیا جائے۔( فقہی مقالات :جلد چہارم )
اسلام میں کوئی ابہام نہیں ہے لیکن نالائق نام نہاد علماء نے ابہام پیدا کیا ہے اور اگر یہ بات کوئی نہیں مانتا ہے تو علماء سے پوچھا جائے کہ تم خود اور تمہارے گھر کی خواتین کس قسم کا پردہ کرتے ہو؟۔ ٹی وی کے اسکرین، جہازوں اور بیرون ملک سفر کرنے والے کی اکثریت نے اپنے گھر والوں کو بھی سیر کروائی ہے۔ ان کے عمل وکردار سے ان کے شرعی پردے کا تصور بھی واضح ہوجائے گا۔ جب ان کی خواتین مساجد اور مدارس کی چاردیواری میں فل پیک ہوکر نکلتی ہیں اور بازار ، مارکیٹ ، شاپنگ مال اور پارک میں جانے سے پہلے اپنا برقعہ اتار دیتی ہیں تووہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ جس طرح سعودیہ اور ایران کی خواتین جہازوں میں بیٹھتے ہی اپنا برقعہ اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال دیتی ہیں اسی طرح مدارس کے ماحول سے نکل کر ان علماء کی خواتین بھی وہی کردار ادا کررہی ہیں۔
جب اسلام آباد میں ایک پختون بچے کو اغواء کرکے قتل کیا گیا تھا اور تھانے کا عملہ رپورٹ درج کرنے کی بجائے بچے کے والدین سے جھاڑو لگوارہا تھا تواس وقت معروف فیمنسٹ ہدیٰ بھرگڑی بھی وہاں مجمع اکٹھا ہونے پر پہنچی تھی اور دوپٹہ بھی اوڑھ لیا تھا۔ یہ اسلئے کہ اس ماحول کا تقاضہ تھا۔ اگر وہ مدارس میں داخل ہوتو ہوسکتا ہے کہ اپنے پورے جسم کو ڈھانپ کر آجائے اسلئے کہ وہاں ماحول کا بھی یہ تقاضہ ہوگا۔ عورت جہاں ماحول کو دیکھتی ہے تو اپنے تحفظ کیلئے اس طرح کا قدم بھی خود اٹھالیتی ہے۔ قرآن میں عورتوں کو جہاں جہاں پردے کا جس طرح سے بھی حکم دیا گیا ہے تو وہاں ماحول کے لحاظ کو سامنے رکھ کر حکم دیا گیا ہے۔
پاکستان میں بہت بھکاری عورتیں بھی پھرتی ہیں لیکن کسی نے نہیں دیکھا ہوگا کہ سرعام کسی عورت نے اپنے بچے کو دودھ پلایا ہو۔ حرم کعبہ کے پاس بھکاری عورتیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کیلئے اپنی چھاتیوں کو گریبان کے اوپر سے ہی نکال کر دودھ پلادیتی ہیں۔ دبئی کے کتب خانوں میں بسا اوقات برقعہ پوشوں کا منہ چھپا ہوا ہوتا ہے لیکن سینہ کھلا ہوا ہوتا ہے۔ پردہ کے شرعی اور رواجی تصورات میں بہت فرق ہے۔ پختون، بلوچ، پنجابی ، مہاجراور سندھی اپنے اپنے کلچر کے مطابق ہی پردہ کرتے ہیں۔شریعت کی غلط تشریحات کو بہت ٹھیک طریقے سے درست کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ” بیوہ کو چار ماہ دس دن کی عدت سے بھی پہلے اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دے سکتے ہیں لیکن اس سے کوئی پکا عہدو پیمان نہیں کرسکتے”۔(سورۂ البقرہ ) سورہ ٔ طلاق میں عورتوں کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدائش ہے۔ اس پر اختلاف ہے کہ اگر حمل کی عدت چار ماہ دس دن سے کم ہو تو پھر بھی بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے یا نہیں؟۔ حضرت علی کی طرف یہ منسوب ہے کہ وہ کم ازکم چارماہ دس دن اور حمل کی صورت میں اس مدت ہی کو عدت کیلئے ضروری قرار دیتے تھے۔ جبکہ حدیث میں عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد چند روز کے بعد بھی نکاح کی گنجائش دی گئی ہے اور اس پر فقہاء نے فتویٰ بھی دیا ہے۔ اگر چارماہ دس دن کے بعد حمل والی کو بھی نکاح کرنے کی ضرورت پڑتی تو نبیۖ اس کی بھی اجازت دے سکتے تھے۔ خلع کی عدت ایک حیض حدیث صحیحہ میں ہے لیکن بعض فقہاء نے اس کو اسلئے مسترد کیا ہے کہ قرآن میں طلاق کی عدت تین حیض کے یہ منافی ہے، حالانکہ حمل کی صورت میں عدت کی مدت چند لمحات بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن میں عدت کے حوالے سے اعداد و شمار اور احادیث کی رہنمائی پر فقہاء متفق بھی ہوسکتے ہیں۔
اللہ نے بیوہ کو چار ماہ دس دن کی عدت پوری ہونے کے بعد اپنی مرضی کا مالک بنایا ہے۔وہ اپنے مردہ شوہر سے نکاح برقرار رکھ کرقیامت کے دن تک اس کی بیگم رہ سکتی ہے اور عدت کے بعد وہ کسی اور سے بھی نکاح کرسکتی ہے۔ فقہاء نے جس طرح انتقال کے فوراً بعد نکاح ٹوٹنے کا تصور بنایا یہ قرآن وسنت کیخلاف ہے۔ حضرت عائشہ سے نبیۖ نے فرمایا کہ آپ مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں تو میں غسل دوں گا، حضرت ابوبکر کو ان کی بیگم نے غسل دیا اور حضرت فاطمہ کوحضرت علی نے غسل دیا۔ مفتی طارق مسعوداور علماء کے دل ودماغ سے جہالت نکالنے کی سخت ضرورت ہے۔اگر علماء ومفتیان کی مائیں اپنے شوہروں سے پہلے فوت ہوگئیں یا بعد میں تو نکاح ٹوٹنے کے بعد ان کی قبروں میں فلاں کی زوجہ بھی نہیںلکھنا چاہیے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر شیعہ اعتراضات اور باغ فدک کا مسئلہ اور عتیق گیلانی کے تسلی بخش جوابات

Shia object to Hazrat Abu Bakar and Hazrat Umar and the issue of Bagh-e-Fadik and satisfactory answers from Atiq Gilani

منگوپیر ہسپتال کراچی کے شیعہ سٹاف نرس جنس مرد فرمان علی کے سوالات کے تسلی بخش جوابات کی ایک ادنیٰ کوشش۔

قرآنی آیات کے درست ترجمے اور
تفسیر اُمت مسلمہ کے سامنے لائی جائے تو سارے مسلمان مخمصے سے نکل کر دنیا میں ترقی وعروج کی سب سے بڑی منزل پاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اتنا بھی
کمزور نہیں کہ امریکہ ونیٹو افواج کے ہوتے ہوئے طالبان سے قندھار ، کابل اور مزار شریف فتح نہیں کراسکتا تھا جونہی امریکہ گیا تو اللہ میدان میں کود گیا

محترم جناب سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب! السلام علیکم
میرے مندرجہ ذیل سوالات کے تسلی بخش جوابات عنایت فرمادیجئے۔ جزاک اللہ خیر۔ از طرف ایک شیعہ فرمان علی
سوال نمبر1:_ ر سول اللہ ۖ کی تدفین میں حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان شامل نہیں تھے ان لوگوں کو حکومت پر قبضہ کی فکر تھی۔ جواب
وعلیکم السلام ۔میرا پروگرام تھا کہ سنی بھائیوں کو یہ سمجھادوں گا کہ اہل تشیع کو کافر، مشرک ، گمراہ اور غلط کہنے کے بجائے ان کو ان کے عقائد اور نظرئیے سمیت اپنے سے زیادہ اچھا مسلمان سمجھنے کی کوشش کرو اور ہیں لیکن ان سوالات نے مجبور کردیا کہ پہلے اہل تشیع کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش بڑی ضروری ہے۔ افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد شیعہ کی آذان کو گستاخی قرار دیا گیا ہے اور کالعدم سپاہ صحابہ کے علامة الجہل اورنگ زیب فاروقی نے شیعوں سے کہا کہ تمہارے شناختی کارڈ پر بھی عمر لکھا ہوتا ہے، تمہارے باپ ، تمہاری ماں اور تمہاری بہن کے نام پر جب تک عمر نہ لکھا جائے تو شناختی کارڈ نہیں بن سکتا ہے۔
حضرت عمرفاروق اعظم سے مجھے محبت ہے ۔ میرے پہلے اور دوسرے بیٹے کا نام ابوبکر اور عمر ہیں۔ ہمارے قبرستان میں ہمارے بڑے شاہ محمد کبیر الاولیاء کے بیٹے کا نام بھی محمد ابوبکر ذاکرتھا۔ حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمرفاروق اعظم نبی کریم ۖ کے دنیا ، قبر اور آخرت کے رفقاء اور صحابہ ہیں۔عراق اور سعودی عرب سے بھاڑہ لیکر ان کا دفاع کرنے والوں نے جس طرح صحابہ کے نام پر اپنا کاروبار شروع کردیا ہے ، اسی طرح سے شیعان علی نے حضرت علی اور اہل بیت کے ائمہ کو اپنے کاروبارکی وجہ سے بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔
حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان سے کم محبت حضرت علی سے اسلئے نہیں کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی کے علاوہ میرے جدامجد بھی ہیں اور ماحول سے متأثر ہونے کی ضرورت مجھے اسلئے نہیں کہ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے باپ کو قید اور بھائیوں کو قتل کردیا اور تخت پر قبضہ کرلیا۔ 500علماء نے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کرکے یہ آئین لکھ دیا کہ ”بادشاہ قتل، زنا، چوری، ڈکیتی اور کوئی بھی مجرمانہ کردار ادا کرے تو اس پر کوئی حد اور سزا جاری نہیں ہوسکتی ہے”۔
فتاویٰ عالمگیریہ پر حضرت شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم کے بھی دستخط ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے اور اپنے والد صاحب کے بارے میں جو مبشرات لکھی ہیں اور اسی طرح مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے مشاہدات ملاحظہ کئے جائیں تو لوگ شیعہ ذاکروں کے ائمہ اہل بیت کے حوالے سے سارے ہی مبالغوں کو بھول جائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا فارسی میں اور ان کے صاحبزادوں نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا ہوتا تو ہم بھی قرآن کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے اسلام کو عاشورہ محرم کے جلوس اور علامتی ماتم تک ہی محدود رکھتے۔ کیونکہ زنجیر زنی کا ماتم اہل تشیع کے اشرافیہ اور علامہ صاحبان نے بھی جاہل اور جٹوں تک ہی محدود رکھا ہے۔ جبکہ ہم جاہل اور گنوار نہیں ہیں۔ جس طرح اہل تشیع کے جٹ اور گنوار جذبات میں ماتم کرکے اپنا جسم چھلنی کردیتے ہیں لیکن اشرافیہ ذاکرین کو اپنے ساتھ ماتم اورخون بہاتے ہوئے نہیں دیکھتے بلکہ صرف ذاکرین پر پیسہ لٹانے اور معاوضہ دینے کی طرف توجہ دیتے ہوئے داد دیتے ہیں اور یہ بہت بڑی جہالت ہے۔ اسی طرح کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکن یہ نہیں دیکھتے کہ علامہ اورنگزیب فاروقی جو بات کرتا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟۔ بس داد ہی دئیے چلے جاتے ہیں۔ شناختی کارڈ میں عمر لکھا نہیں ہوتا بلکہ عمر لکھی ہوتی ہے۔ جب کراچی میں اردو والے اس کو نہیں ٹوکتے کہ الو کے پٹھے تم نے حضرت عمر مذکر بھی عمر مؤنث میں بدل دیا۔ اگر یہ بات شیعہ کرتا کہ عمر ہوتی ہے تو تم لوگ اس پر حضرت عمر کی توہین کا الزام لگادیتے۔ مفتی ڈاکٹر شیخ التفسیر، شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل نے اورنگزیب فاروقی کی کتاب پر تقریظ لکھی جو مجھے کالعدم سپاہ صحابہ کے علامہ رب نواز حنفی کی طرف سے بطورِ تحفہ بھیجی گئی ہے۔ اس میں مولانا منظور مینگل نے لکھا ہے کہ اورنگزیب فاروقی کا نام تین لفظوں سے مل کر بناہے۔ اور، رنگ، زیب۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زیب کا تو رنگ ہی اور ہے ۔ حالانکہ یہ جہالت کی انتہاء ہے۔ پھر تو ” اور، نگ ، زیب بنتا ہے”۔ یہ وہ گدھے ہیں جنہوں نے کتابیں لاد رکھی ہیں ۔ اُلٹی سیدھی حرکتوں سے علم کو بدنام کردیا۔
اگر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے نبیۖ کی وفات کے بعد انصار سے خلافت کے مسئلے پر سیر حاصل بحث نہ کی ہوتی تو انصار ومہاجرین الجھ جاتے۔ قرآن وسنت نے صحابہ کرام کی ایسی تربیت نہیں کی تھی کہ مسلمانوں پر جو فرض کفایہ تھا کہ چند افراد بھی غسل اور تدفین کا فرض ادا کرسکیں لیکن پوری کی پوری امت اسی کام پر لگ جاتی۔ حضرت علی کی قبر کا بھی آج تک اسی لئے کوئی پتہ نہیں ہے کہ اس وقت قبروں کی اتنی اہمیت بھی نہیں تھی جتنی آج بنائی گئی ہے۔ اہل تشیع یہ نہیں سوچتے کہ رسول اللہۖ کے جن صحابہ کرام سے وہ اسلئے بہت زیادہ بغض رکھتے ہیں کہ نبیۖ کے غسل کو چھوڑ کر خلافت کے مسئلے میں لگ گئے تو شیعان علی نے تو حضرت علی کی قبر کا بھی خیال نہیں رکھا تھا؟۔ جنازے پر توخبریں مختلف ہوسکتی ہیں۔ شیعہ سنی کا نبیۖ کی وفات کے مہینے پر بھی اتفاق نہیں ہے۔ سنیوں کے نزدیک بارہ ربیع الاول ہے اورشیعوں کے نزدیک صفر ہے۔ اسی طرح نبی ۖ کی ولادت کے مہینے پر بھی دونوں کا اتفاق نہیں ہے۔
اگر قرآن وسنت میں قبروں اور ایام کی اتنی اہمیت ہوتی تو سب سے پہلے تو لاکھ سے زیادہ انبیاء کرام کی قبروں اور پیدائش ویوم وفات کو دریافت کیا جاتا ۔ پھر آج سب کی قبروں کی زیارات اور دن منانے کے علاوہ ہمارے پاس کچھ بھی نہ ہوتا۔ جس طرح ایک ہندو کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اللہ نے قرآن میں گائے کو ذبح کرنے پر اصرار کیوں فرمایا؟۔ اور گائے ذبح کرنے میں حیل و حجت سے بنی اسرائیل نے اپنی مشکلات میں اضافہ کیوںکیا تھا؟۔ اسی طرح بہت معاملے اہل تشیع کو اپنے ماحول کے حساب سے سمجھانا بہت مشکل کام ہے۔
سوال نمبر2:__

حضرت علی علیہ السلام کو مقرر کردیا گیا تھا پھر حدیث قرطاس کی کوئی ضرورت نہ تھی اور حضرت عمر کی آواز ہمارے نبی ۖ سے بلند ہوگئی تھی۔

جواب_
اگر حضرت علی نامزد ہوچکے تھے تو پھر حدیث قرطاس کی ضرورت نہیں تھی؟۔ یہ تو اہل تشیع کے ہی خلاف بات جاتی ہے اسلئے کہ اگر حضرت علی کو نامزد کردیا ہوتا تو پھر حدیث قرطاس کی کیا ضرورت ہوتی؟۔ قرآن کے سورۂ حجرات میں جاہل لوگوں سے کہا گیا ہے کہ نبیۖ کوحجرات سے دور مت پکارو لیکن اس کا مطلب مطلق آواز بلند کرنا نہیں ورنہ تو پھر لاؤڈاسپیکر کے ذریعے تقریر اور آذان کی بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ سورۂ مجادلہ میں ایک شرعی مسئلے پر نبیۖ سے ایک خاتون نے جھگڑا کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی ۔ اس سے اہل تشیع کا یہ عقیدہ باطل ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ سے کسی بات پر صحابہ نے اختلاف کیا تو وہ ناجائز تھا۔ قرآن میں متعدد امور کا ذکر ہے جن میں غزوۂ بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے کا بھی ذکر ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی و دیگر صحابہ کرام نے دنیا کو ترجیح دیدی اور اللہ نے فرمایا کہ” تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے”۔ بس بنیۖ اور صحابہ کرام نے دنیا کو طلب کیا اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ؟۔ شیعہ جس منطق سے صحابہ کے خلاف نتائج نکالتے ہیں اگر وہی منطق استعمال کی جائے تو پھر سارا دین تباہ ہوگا۔ قرآن میں حضرت آدم ، حضرت یونس اور حضرت موسیٰ کی طرف ظلم کی نسبت ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ شکر ہے کہ اہل تشیع انبیاء کے پیچھے نہیں پڑے ہیں ورنہ انبیاء کو بھی قرآنی آیات اور اپنی منطق سے ہدایت کے قابل نہ سمجھتے ۔
اہل سنت نے ایمان مجمل اور ایمان مفصل میں انبیاء کو شامل کیا مگر صحابہ کو شامل نہیں کیا ۔ جب وحی کا سلسلہ جاری تھا تب بھی انبیاء کرام کی رہنمائی کا سلسلہ اللہ نے جاری رکھا لیکن اہل تشیع کے نزدیک وحی کا سلسلہ بند ہونے کے بعد بھی ائمہ اہلبیت سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اگر اللہ ان کو اقتدار کے منصب پر فائز کردیتا تو مسلمان دنیا میں جمہوری روایات کی جگہ عجیب وغریب قسم کے نظام کا سامنا کرتے۔ جب نبیۖ نے امیر حمزہ کی شہادت کے بعد زیادہ انتقام کی بات فرمائی تو اللہ نے منع فرمایا۔ شیعہ کے ہاں خود ساختہ اقتدار کی صورت میں بدترین طرح کے انتقام لینے کی خواہش اسی لئے پائی جاتی ہے کہ وہ وحی پر زیادہ یقین کرنے کو بھی تیار نظر نہیں آتے ہیں۔ ایسے گنجوں کو کبھی اقتدار ملنا بھی نہیں۔ اولی الامر ایسا ہی ہونا چاہیے کہ جس پر تنقید کی گنجائش ہو اور اس سے اختلاف بھی کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو اور یہی قرآن وسنت کا خلاصہ ہے اور آج ایران میں بھی اس پر عمل ہورہاہے۔ نبیۖ کے ذریعے اللہ نے قیامت تک یہی رہنمائی بھی کردی ہے۔ اب مسلمان اس پر عمل کریں یا نہ کریں۔

سوال نمبر3:_
جب ہمارے نبی ۖ علی کو جانشین بنائیں اور وہ قابل قبول نہ ہو تو ابوبکر نے عمر کو نامزد کردیا وہ کس طرح صحیح ہے؟

جواب_
یہ عوام کا کام ہے۔ عوام نے حضرت امام حسن ہی کو خلیفہ بنایا تھا لیکن جب امام حسن نے معاہدے کے تحت امیر معاویہ سے صلح کرلی اور یہ کہہ کر صلح کرلی تھی کہ میرے دشمن سے میرے شیعہ بدتر ہیں تو پھر عوام نے امیر معاویہ کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اگر حضرت علی چاہتے تو ابوسفیان کی بات مان لیتے اور حضرت ابوبکر سے خلافت چھین لیتے۔ حضرت علی ، حسن اور اہلبیت سے زیادہ شیعہ ذاکرین اور علماء کو اپنی تقریروں کی فیسوں کی لت لگی ہو تو اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے؟۔ مدعی سست گواہ چست اسی کو تو کہتے ہیں؟۔ حضرت علی نے ابوسفیان کی پیشکش کو نہ ٹھکرایا ہوتا تو حضرت ابوبکر سے خلافت حضرت علی کو منتقل ہوسکتی تھی اور امام حسن نے امیر معاویہ سے صلح نہ کی ہوتی تو بنوامیہ کا مسند پر قبضہ ناکام ہوسکتا تھا لیکن جب امام حسن اور آپ کے شیعہ بروقت کسی دوسرے فیصلے پر مجبور ہوں اور پھر چودہ سو سال بعد آپ پٹ کر کوئی اور بات کریں تو اس کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟۔ اگر ائمہ اہلبیت اپنا بڑا بیٹا اپنا جانشین بنادے اور پھر وہ امام کی وفات سے پہلے فوت ہوجائے اور پھر امام اپنا دوسرا بیٹا امام مقرر کردے اور پہلے بیٹے کی اولاد اپنے حق کو برقرار ٍرکھ کر اپنا فرقہ بناسکتے تھے تو اقتدار ہاتھ میں ہوتا تو تلواریں بھی نکل سکتی تھیں اور مار کٹائی کا بازار بھی گرم ہوسکتا تھا۔ اللہ نے اہل بیت کوآزمائش میں ڈال کر اس گند سے محفوظ کردیا اور شیعہ غم کھاتے ہیں کہ اقتدار کی خاطر اورنگزیب کی طرح بھائیوں کو قتل کرنے والے ان میں پیدا کیوں نہیں ہوئے؟۔

سوال نمبر4:_
باغ فدک کیلئے حضرت فاطمہ علیہا السلام حضرت ابوبکر کے دربار میں جاتی ہیں تو ان سے گواہ مانگے گئے اور گواہوں کے طور پر اپنے شوہر حضرت علی اور حسنین کریمین کو پیش کیا مگر ابوبکر نے کہا کہ شوہر اور بیٹوں کی گواہیاں قابل قبول نہیں ہیں۔

جواب_
باغ فدک مال فئی تھا اور اس کے مصارف قرآن میں ہیں۔ زیب ِ داستان کیلئے بڑی کہانیاں بنائی گئی ہیں۔ کیا رسول اللہ ۖ قرآن کے منافی مال فئی اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے؟۔ میں نے پہلی مرتبہ پڑھا کہ حضرت فاطمہ نے حضرت علی اور اپنے صاحبزادوں کو گواہی کیلئے پیش کیا تھا۔ ملکوک اور انبیاء میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بادشاہ اپنے بیٹے ، بٹیوں اور دامادوں کو نوازتے ہیں جبکہ رسول ۖ نے اپنی بیٹی کو تسبیح فاطمہ عطاء کرکے امت مسلمہ کو قیامت تک اذکار سے نوازا تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی کہ باغِ فدک کوئی موروثی جائیداد نہیں تھی ، اس مالِ فئی میں فقراء ومساکین ، عامة المسلمین مہاجرین وانصار کا بھی حصہ تھا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی ۖ نے اتنی بڑی جائیداد اپنی بیٹی کو تحفے میں عطاء کی ہو اور وہ بھی غریب اور مساکین کا مال؟۔ اگر بالفرض ایسا ہوجاتا تو کیا دنیا میں اس کو تحسین کی نظروں سے دیکھا جاتا؟ نبی ۖ نے صدقات کو بھی اپنے اقرباء پر حرام کردیا تھا۔ شیعہ حضرات صرف اور صرف اس بات کا بتنگڑ بنانے پر تل جاتے ہیں جس میں صحابہ کی طرف سے اہل بیت کی حق تلفی کا پہلو نظر آتا ہو اور اس میں تمام حقائق کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں۔ اہل بیت کو اللہ نے دنیا نہیں آخرت کیلئے چن لیا تھا۔

سوال نمبر5:_
سورہ تحریم میں آیت نمبر 5میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ۖ سے فرمایا کہ ازواج مطہرات سے بہتر زوجہ دے سکتا ہوں اور سورہ تحریم آیت نمبر 10میں حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کی مثال بھی دی ہے۔ آیت نمبر10اور 11حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے لئے آئی ہیں۔

جواب_
بطور تنبیہ بہت معاملات انبیاء اور نبیۖ کیلئے آئے ہیں۔سورہ ٔ عبس میں کیانبیۖ کیلئے تنبیہ کے منطقی نتائج یہ نکالے جائیں کہ نعوذ باللہ آپ ۖ نے یہ معمول بنایا تھا کہ سرداروں کی بے رغبتی کے باوجود انکی طرف توجہ فرماتے تھے اور غریب غرباء اور نابینا کی طرف سے دلچسپی رکھنے کے باوجود انکی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے؟۔ کسی واقعہ سے سبق سیکھنے کے بجائے اپنے من چاہے مقاصد حاصل کرنا کوئی اخلاقی اور شرعی تقاضہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کرتے ہوئے توبہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ اگربدر کے قیدیوں پر میدان جہاد سے فدیہ لینے تک کا سارا معاملہ واضح ہو اور اس پر گرفت نہ کی جائے تو سورۂ تحریم کے واقعہ پر کیوں کر گرفت کی جاسکتی ہے؟۔ بدر کے میدان میں مسلمان اسلئے نہیں اترے تھے کہ جہاد کریں بلکہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش کا مال بردار قافلہ مقصد تھا۔ پھر اس قافلے کے تحفظ کیلئے آنے والوں سے اللہ نے سابقہ ڈال دیا۔ اللہ نے پورا پسِ منظر بیان کیا کہ کیسے اللہ نے دونوں لشکروں کو لڑادیا۔ پہلے دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کو کم کرکے دکھایا ۔ اگر اللہ ایسا نہ کرتا توبقیہ صفحہ نمبر3نمبر1پر

بقیہ شیعہ فرمان علی کے سوالات اور جواب
دونوں لڑنے سے گریز کرتے۔ پھر جب اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کو جیت عطاء کردی تو فدیہ لیکر اپنے اقارب کو چھوڑنے کا فیصلہ کیاگیا۔ جن کا مشورہ نبیۖ نے مان لیا۔ اسی پر وحی نازل ہوئی کہ ماکان للنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدین عرض الدنیا واللہ یریدالاٰخرة ” نبی کیلئے مناسب نہیں تھا کہ آپ کے پاس قیدی ہوں یہاں تک خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرة چاہتا ہے”۔ اگر یہ آیات نہ اترتیں تو مسلمان لوٹ مار اوراغواء برائے تاوان کو اسلامی احکام کا تقاضہ سمجھتے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ الزام لگادیا جائے کہ ان کا کام لوٹ مار اور اغواء برائے تاوان تھا۔ اسلام دشمن عناصرکے الزامات کا جواب ہم پرلازم ہے۔
جب مشرکینِ مکہ دشنمانِ اسلام نے مسلمانوںکے اموال اور جائیدادوں پر قبضہ کیاتھا ، خا نہ کعبہ کی زیارت حج وعمرے سے روکا تھا تو مسلمانوں کا یہ اقدام بھی معمول کے مطابق درست تھا۔ کئی گنا بڑے لشکر سے جنگ کے مقابلے میں مالدار قافلے کو لوٹنا یقینا زیادہ آسان ہدف اور ترجیح تھا۔اللہ تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ قافلہ لوٹا جائے،ان کا سامنادشمن کے بڑے لشکر سے کرادیا۔ پھر جب فتح دیدی اورمسلمانوں نے مشاورت سے فدیہ لیکرچھوڑنے کا فیصلہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ کے فیصلے کونامناسب اورمسلمانوں کے مشورے کو دنیا چاہنے سے تعبیر کرکے واضح کردیاکہ اللہ تم سے آخرت چاہتاہے۔ اگراللہ پہلے سے لکھ نہیںچکا ہوتا توتمہیںدردناک عذاب کامزہ چکھا دیتا۔
نبی ۖ نے فرمایاکہ وہ عذاب اللہ نے مجھے دکھایا اور اگر یہ نازل ہوجاتا تو عمر اور سعد کے سواء سب کو لپیٹ میں لے لیتا۔حضرت عمرنے مشورہ دیا تھا کہ جوجس کا قریبی رشتہ دارہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کو قتل کردے۔حضرت سعد نے ان کی تائید کی تھی ۔ حضرت علیاپنے چچا عباس کو گرفتارکرنے کے بجائے قتل بھی کرسکتے تھے۔ اسی طرح دیگر صحابہ کے بھی اپنے قریبی رشتہ داران دشمنوں میں موجود تھے۔ اور یہ فطری بات ہے کہ قریبی رشتہ داروںکو قتل کردیناآسان کام نہیںہوسکتاہے۔مہاجرین نے اپنے وطن اور عزیز واقارب کوچھوڑ دیا تھا۔
حضرت علی کی ہمشیرہ حضرت ام ہانی اولین مسلمانوںمیںسے تھیں ۔ نبوت سے قبل نبیۖ نے آپکا رشتہ بھی حضرت ابوطالب سے مانگا تھا۔لیکن ان کا رشتہ ایک مشرک سے حضرت ابوطالب نے طے کیا تھا۔معراج کا واقعہ ام ہانی کے گھرمیں پیش آیا تھا۔حضرت ام ہانی نے مشورہ دیا تھا کہ اس کو لوگوں میں عام کرنے سے گریزکریں ورنہ ساتھیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔حضرت ابوبکر نے زبردست انداز میںنہ صرف واقعہ معراج کی تصدیق کی تھی بلکہ تمام معاملات میںآگے آگے تھے۔ ابوطالب کواندیشہ تھا کہ نبیۖ کیلئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوسکتے ہیں اسلئے اپنی چہیتی بیٹی کا رشتہ نہیںدیا لیکن مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوگئے تو ابوبکرصدیق نے اپنی چہیتی بیٹی کا رشتہ دے دیا تھا۔ام ہانی نے اپنے شوہر اور بچوں کی خاطرہجرت کرنے کے حکم پربھی عمل نہیں کیااور ابوبکرنے اپنی بیوی بچوںکو چھوڑکر نبیۖ کیساتھ ہجرت کی تھی۔
دنیا کی چاہت صرف مال وولت نہیں ہے۔عزیز واقارب اور اپنے وطن کی بھی قربانی دینا بڑی بات ہوتی ہے۔ صحابہ کرام کے ان نفوس قدسیہ کا تزکیہ جس طرح کیا گیا تھاہم اپنے ماحول میں یہ سوچ صرف اس وقت رکھ سکتے ہیں جب فرقہ واریت کے ماحول سے دور ہم پرکچھ اس طرح کے مراحل سے گزریں۔اللہ نے وحی کے ذریعے انکا جس ماحول میںجس طرح کا تزکیہ فرمایا تھا وہ کمال کی بات تھی اور ہم اسکے غلط منطقی نتائج نکال کراپنی تباہی کے علاوہ کچھ اورنہیں کرسکتے ہیں اور ان سے حسن ظن رکھنا ہی ہمارے ایمان کی سلامتی کیلئے ضروری ہے۔
ہمارا گمان یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ نبیۖ کے اقارب کاخیال رکھ کر معاف کرنے کا مشورہ دیا اور اللہ نے اسی کو دنیا کی طلب قرار دیا ۔ اگر اس وقت حضرت عباسقتل کردیے جاتے تو بنی امیہ کے بعد ان کی اولادکواسلئے اقتدار سپرد نہیں کیا جاتا کہ ابوطالب نے اسلام قبول نہیںکیا تھا اور عباسنے اسلام قبول کیا تھااسلئے علی کی اولاداہل بیت سادات سے زیادہ عباس کی اولاداقتدارکی مستحق ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا تھا لیکن نبیۖ نے روک دیا۔ حالانکہ اس میں بہنوئی کا کوئی بھی قصورنہیں تھا۔کیا اس واقعہ کی بنیاد پرحضرت علی کے خلاف مہم جوئی کیجائے؟۔
حضرت ابوبکر نے اپنے لئے کتنا وظیفہ مقرر کیا پھر اس میںبھی کٹوتی کی؟۔ حضرت عمرنے اپنے بیٹے کوزناکی حد میںکوڑوں سے مروادیااور مرنے کے بعد بھی کوڑے پورے کروادئیے۔اپنی وفات سے پہلے اپنے بیٹے کوخلافت کیلئے نااہل قرار دیا تھا۔ حضرت عثمان نے ہمیشہ اپنا مال اسلام اورمسلمانوں پر قربان کیا اسلئے بھونڈے الزامات اور بدظنی کی کوئی وجہ نہیں بنتی ہے۔ آیت میں حضرت عمر اورحضرت سعد کے علاوہ تمام صحابہشامل تھے اور نبیۖ کے فیصلے کو بھی نامناسب قرار دیا گیا ہے۔جس کی درست تفسیر کی ضرورت ہے۔
قرآن نے ایک طرف صحابہ کرام کا تزکیہ کرنا تھا، دوسری طرف جمہور کے فیصلے کی توثیق کرکے یہ واضح کرنا تھاکہ اقلیت کی رائے کی بھی تحقیر نہیں تعظیم ہونی چاہیے اور تیسری طرف یہ رہنمائی مقصودتھی کہ اولی الامر کی حیثیت سے نبیۖ باہمی مشاورت اور اکثریت سے فیصلہ کریں تو بھی اس پر مثبت تنقید کرنے کی بھی گنجائش ہے اور قیامت تک جب وحی کا سلسلہ بند رہے گا توکسی کو مطلق العنان ڈکٹیٹر اورمعصوم عن الخطا ء والاصلاح امام بنانے کی گنجائش ہر گز نہیں ہے۔
بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کامعاملہ برقرار کھا گیا، تاکہ اولی الامرکے کسی بھی فیصلے کونامناسب سجھنے کے باوجوداس میں خلل ڈالنے کا راستہ بھی قطعی طور پر رُک جائے،ورنہ نظام مملکت نہیںچل سکے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میںجہاں تزکیہ کے راستے کھولے، وہاں حکمت ودانائی کاسبق بھی سکھادیا۔ مشرکینِ مکہ نبیۖ کی رحمت للعالمین ذات کو سمجھتے تھے اور اللہ نے ان کو یہ بتانا تھاکہ فدیہ سے حوصلہ پانے کا معاملہ غلط ہے۔ ان آیات کے بعد دوبارہ مسلمانوں سے لڑنے کی اس اُمید کیساتھ ہمت نہ کرناکہ پھر فدیہ سے جان چھوٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کومخاطب کرکے جاہل دشمن کے دماغ کوٹھیک کرناچاہتاتھا۔قرآن کی بہت ساری آیات اس پر واضح دلیل ہیں۔
اگر ان آیات سے نبیۖ اور اکابرصحابہ کرامکی تنقیص شروع کی جائے تو اس کے نتائج ناانصافی اورگمراہی کے سواء اورکیانکلیں گے؟۔جب اہل تشیع تھوڑا مثبت سوچنا شروع کریں گے تودنیا اور آخرت میں بہت اچھے نتائج پائیںگے۔ حضرت علیکی حیثیت کسی سے کم نہ تھی۔قرآن وسنت کے مطابق بہت سے معالات پر آپ کے درست تحفظات تھے لیکن آپ نے اہل اقتدارکا ساتھ دیا۔ منافقت اورمجبوری نہیںبلکہ دل وجان سے خلافت کا ساتھ دیا تھا لیکن کچھ یارلوگوں نے ایسی داستانیں گھڑ دیں کہ ائمہ اہلبیت کی شخصیتوں کو بھی مسخ کرکے رکھ دیا گیا ۔ حضرت علی کی سیرت مشعل راہ ہے جس نے اپنی جگہ بڑا اہم کردار اداکیا۔ کیاکوئی کہہ سکتا ہے کہ مغل دورمیںاونگزیب عالمگیر سے کوئی اچھا آدمی نہ تھا؟۔ ایران، پاکستان، افغانستان،سعودی عرب اوردنیا بھرکے ممالک میںکوئی حکمران اپنے تمام رعایاسے اچھا ہے؟۔حضرت یوسف علیہ السلام اپنے وقت کے بادشاہ سے افضل ، زیادہ باصلاحیت اور ہر اعتبار سے اچھے تھے لیکن خزانے کی وزارت سے اس ملک اور قوم کی تقدیر بدل دی۔ علامہ سید جواد نقوی ایک کٹر شیعہ عالمِ دین ہیں اور ان کی بہت زبردست مثبت سوچ سے انقلاب آسکتا ہے۔

سوال نمبر6:_
حضرت محمد ۖ کی ایک ہی بیٹی تھی حضرت فاطمہ علیہ السلام ورنہ مباہلہ میں باقی 3بیٹیوں کو بھی لاتے۔

جواب_
کیا حضرت علی اپنے باپ کے اکلوتے بیٹے تھے؟۔ عقیل اورجعفر پھرعلی کے بھائی نہیںتھے؟اسلئے کہ مباہلے میںان کو شامل نہیںکیا گیا۔ قرآن میں واضح ہے کہ قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین لیکن آیت مباہلہ میں ابنائنا ونسائنا وانفسنا کا ذکر ہے ، بنتک ایک بیٹی کا ذکر نہیں۔ مباہلے میں قربانی کا چیلنج ہے اور ابراہیم کی اسماعیل کے علاوہ بھی اولاد تھی ۔بنواسرائیل کے مقابلے میں بنو اسماعیل کوآزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ان کے علاوہ بھی کسی کو پیش کیا جاتا تو عیسائیوں ہی کی ہار ہوتی اور مسلمان بہر صورت جیت جاتے۔

سوال نمبر7:_
حضرت عثمان نے مروان کو چیف ایڈوائزر بنادیا تھا اور اس کو باغ فدک بھی دے دیا تھا۔ اور جتنی زکوٰة اور خمس جمع ہوتا تھا وہ بھی وہ لے جاتا تھا اور نبی ۖ نے اس کو اس کے باپ کو مکہ اور مدینہ سے باہر نکال دیا تھا۔

جواب_
ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ایک سچا پکا صحابی بن گیاتھا تواس کا راستہ نبیۖ نے روکاتھا؟ ۔ وحشی نے امیرحمزہ کو شہید اورہندنے ان کاکلیجہ چباڈالاتھاتوان پر کوئی پابندی لگادی گئی تھی کہ اسلام قبول نہیں کرنا ؟۔اپنی سوچ ٹھیک کرلیتے۔ حضرت عمربن عبدالعزیزاسی مروان کے پوتے تھے جن کی اہل تشیع اوراہل سنت تعریف کرتے ہیں۔اگرموجودہ دورکے شیعہ ماتمی جلوس سے دست بردارنہیںہوسکتے ہیں جن میںعوام کیلئے زنجیر زنی اور ذاکرین کیلئے کمائی کے علاوہ کچھ نہیںہے تو وہ حضرت علی،حضرت حسن اور حضرت حسین کی موجودگی میں دین کی پامالی پرکیسے یقین کرلیتے ہیں؟۔حالانکہ حضرت عثمان نامعلوم افرادکے ہاتھوں یرغمال بناکر شہیدبھی کئے گئے؟۔کیا نعوذ باللہ اہل بیت صرف فتوحات کی مراعات کھانے کیلئے بیٹھے تھے؟۔ دشمنوں کے کھلے حملوں سے زیادہ دوستوں کے رقیق حملے خطرناک ہوتے ہیں۔اہل تشیع مسخ شدہ تاریخی روایات کا یقین کرکے اہل بیت کی کردار کشی کرنے والوں کو انکے دشمنوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

سوال نمبر8:_
قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ آپ ۖ اپنے کام مشورہ سے کیا کریں تو کیا نبی ۖ کیلئے ضروری ہے کہ وہ صحابہ کے مشورہ پر عمل بھی کریں۔

جواب_
نہیں بالکل بھی نہیں۔ صلح حدیبیہ میں صحابہ کے مشورے پر عمل نہیں کیا گیا اور اس میں حضرت علی کی طرف سے رسول اللہ کے لفظ کو کاٹنے کاانکار بھی شامل تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قراردے دیا۔ جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو حضرت علی نے طلاق دینے کا مشورہ دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی وحی اس کے برعکس نازل ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا کہ ”اگر تم اچھا گمان رکھتے اور کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے”۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حضرت علی پر العیاذ باللہ بہتان لگانا شروع کردیں کہ اس مشکل وقت میں منشاء الٰہی کے خلاف مشورہ دیکر صحابیت سے خارج ہوگئے۔غلطیوں کی اصلاح بنی آدم کی کمزوری نہیں ان کی طاقت ہے۔ جس بات سے اللہ نے جنت میں منع کیا تھا تو اس کی خلاف ورزی ہوئی لیکن حضرت آدم کی عزت وشرف میں اضافہ ہوگیا۔ جب نبی کریمۖ نے صحابہ کی مشاورت پر بدری قیدیوں سے فدیہ لینے پر فیصلہ فرمایا تو اس کو نامناسب قرار دیکر اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو تقلیدکے دنگل سے نکالا تھا۔البتہ اس کا منطقی نتیجہ نکال کر رسولۖپرالزام تراشی بھی جائز نہیں ہے۔

سوال نمبر9:_
صحابہ جنگ اُحد میں نبی ۖ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور جگہ بھی چھوڑ دی اور اپنے سر منڈوانے سے بھی انکار کیا یہ کیسے صحابہ تھے۔

جواب_
اگر جنت سے نکالے جانے سے لیکر ہجرت کرنے تک ایک ایک چیز کو منفی انداز میں دیکھیں اور یہ کہنا شروع کریں کہ رسول اللہ ۖ اپنے نام سے رسول اللہ کے لفظ کوکاٹنے کا حکم دے رہے تھے اورعلی نے انکار پر اصرار کیا اور اس تضاد سے اسلام کو باطل کہنا شروع کریں تو کیا نتائج نکلیں گے؟۔ مثبت سوچیں۔

سوال نمبر10:_
حضرت عائشہ حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے پر آگئیں۔

جواب_
حضرت عثمان کی شہادت پر قرآن میں بیعت رضوان بہت پہلے سے لی گئی تھی اور اس کی پاسداری کا حکم بھی دیا گیا تھا۔جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تھا تو اس میں بھی قرآن نے حضرت عائشہ کی برأت کا اعلان کیا تھا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حضرت علی پر بہتان طرازی کی جائے۔ جس طرح حالات کے گھمبیر ہونے کی وجہ سے حضرت عائشہ کے خلاف محاذ کھڑا کرنے پر منافقین اور مخلصین کے درمیان فرق وامتیاز ضروری ہے ، حالانکہ مخلص لوگ بھی بہت غلط استعمال ہوگئے تھے تو بعد کے ادوار کی لڑائی پر بھی اپنی حدود سے نکل کر سوچنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام ، قرآن وسنت کے مزاج کوسمجھنا چاہیے۔جبکہ قرآن نے آپس میں لڑائی پر صلح کاحکم فرمایا اور واقعہ افک کی مذمت کی۔

سوال نمبر11:_
حضرت حسین علیہ السلام کا ساتھ کسی صحابی نے کیوں نہیں دیا؟۔

جواب_
لڑائی کا میدان اس معیار کانہیں تھا۔اکابر صحابہ جانتے تھے کہ جن لوگوں نے کوفہ میں حضرت علی کا ساتھ نہیں دیا بلکہ شیعان علی خوارج بن گئے۔ جوصرف اور صرف اسلئے بگڑ گئے کہ حضرت علی نے ایک شخص کو اختیار کیوں دیا۔ حضرت حسن نے اختیار سے بڑھ کر اپنے شیعوں سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے حکومت بھی سپرد کردی تھی۔ پھرشیعان حسین پرکوفہ میں کیسے اعتماد کیا جاسکتا تھا؟۔ اکابر صحابہ نے حضرت حسین کو ٹھیک مشورہ دیا تھا اورجب حضرت حسین گھیرے میں آگئے تو پھر کوفہ کی طرف جانے کا خیال بھی دل سے نکال دیا تھا۔ یزید نے خوف سے مکہ اور مدینہ کے اندر صحابہ کیساتھ بھی کوئی رعایت نہیں رکھی تھی۔ اہل تشیع کے دل ودماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جب حضرت علی، حسن اور حضرت حسین کیساتھ کوفی شیعوں کا برتاؤ درست نہیں تھا تو نبیۖ کے صحابہ پر بھی بدگمانی کرنے لگے۔ آدمی جیسے خود ہوتا ہے وہ دوسروں پروہی گمان رکھتا ہے۔

سوال نمبر12:_
معاویہ کو آپ رضی اللہ کہتے ہیں اس نے مولا علی سے جنگ کی اور یزید کو مسلط کیا اور اہل بیت کو گالیاں دلوائیں۔

جواب_
ہم تو حضرت سعد بن عبادہ کو بھی ایک جلیل القدر صحابی مانتے ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور مہاجرین کے خلاف مہم جوئی کا سلسلہ جاری رکھا تھا اور وہ ان کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے تھے۔ حضرت معاویہ کو حضرت حسن نے مسلط کیا تھا اور نبیۖ نے صلح حدیبیہ کیا تھا تو کہاں کہاں تک بات پہنچے گی؟۔

سوال نمبر13:_
حدیث میں آتا ہے کہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت۔ اب ہم 11اماموں سے ہدایت نہیں لیتے ان کے بغیر قرآن سمجھ نہیں آسکتا۔ ان کی تعلیمات ہی ہم کو قرآن سمجھا سکتی ہیں مگر اس پر بالکل عمل نہیں ہورہا۔

جواب_
بارہویں امام ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے کہ غائب ہیں؟ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںپھر قرآن پر عمل نہ کرنیکی ذمہ داری کس کے سر ہے؟

سوال نمبر14:_
حضرت عمر نے حضرت فاطمہ علیہ السلام کے گھر کو آگ لگادی تھی حدیث میں ہے یہ حکم حضرت ابوبکر نے دیا تھا وہ کہتے ہیں کاش میں یہ کام نہ کرتا یہ سنی کتابوں میں موجود ہے۔

جواب_
کیا حضرت علی نے نبیۖ کی ایک بیٹی کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا تھا؟۔ میں ایسی بزدلی پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ اگر ابوسفیان جیسے لوگ حضرت ابوبکر کی خلافت کے خلاف سازش کرنے کیلئے وہاں آتے جاتے ہوں اور حضرت عمر نے ان کو دھمکی دی ہو تو یہ الگ بات ہے۔آج کے دور میں ویڈیو کے بھی ہوتے ہوئے کتنے غلط پروپیگنڈے چلتے رہتے ہیں۔ شیعہ کے خلاف کیا نہیں ہے؟۔

سوال نمبر15:_
حضرت حسن علیہ السلام کو معاویہ نے زہر دے کر شہید کروادیا اور حضرت عائشہ نے حضرت حسن علیہ السلام کو نبی ۖ کے پہلو میں دفن ہونے نہ دیا اور حضرت عائشہ کے حکم سے مروان ابن حکم نے جنازے پر تیروں کی بارش کروادی۔ جس کی وجہ سے وہ وہاں دفن نہیں ہوسکے۔

جواب_
کہانیاں چھوڑدیں،آئیں انقلاب لائیںاورپھر مجھے وہاں دفن کردیں۔ یہ منفی سوچ ائمہ اہلبیت کے شیعوں نے رکھی تو آخری امام کو حضرت خضر کی طرح منظر عام سے غائب ہونا پڑا اور ایرانی انقلاب کے بعد بھی منظرِ عام پر نہ آئے۔ آنے والے بارہ اماموں کا تصور شیعہ سنی دونوں کی روایات میں موجود ہے جن کو اقتدار بھی ملے گا۔ یہ سلسلہ درمیانہ زمانے کے مہدی سے شروع ہونا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

Molana Modudi, Molana Fazal ur Rehman, Mufti Taqi Usmani, Molana Khan Muhammad Sherani, The issue of writing Surah Al-Fatiha with urine and Dr. Fiza akbar khan’s program on halala and muta on Bol Channel

بولTvپر ڈاکٹر فضانے حلالہ و متعہ کے موضوع پرشیعہ سنی علماء کا پروگرام کیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سنی دیوبندی بریلوی علماء کے نزدیک حلالہ کا تصور ہے اور متعہ حرام ہے۔ شیعہ کے نزدیک متعہ کا تصور ہے اور حلالہ کامروجہ تصور نہیں ہے۔شیعہ عالمِ دین علامہ امین شہیدی نے کہا کہ حلالہ اور متعہ کو مکس نہیں کریں،یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔ متعہ ایک وقتی نکاح ہے جس میں نکاح کے تمام شرائط ہیں ، بس یہ فرق ہے کہ مستقل نکاح عمر بھر کیلئے ہوتا ہے اور متعہ ایک مخصوص وقت کیلئے ہوتا ہے۔ یہ سعودی عرب میں مسیار کے نام سے جائز قرار دیا گیا ہے۔
مفتی ولی مظفر نے کہا کہ سعودی عرب میں مسیار اس نکاح کو کہتے ہیں جس میں عورت کو شوہر کے گھر میں جانا نہیں پڑتا ہے ، بعض عورتیں خود کفیل رہنا چاہتی ہیں اور وہ شوہر سے اپنے گھر میں تعلق قائم کرنا چاہتی ہیں، شوہر کے گھر نہیں جانا چاہتی ہیں،باقی وہ عام نکاح سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ متعہ ایک الگ چیز ہے۔
ایک دوسرے عالمِ دین نے کہا کہ ” اس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس ہمارے نزدیک متعہ پہلے جائز تھا، پھر فتح خیبر کے موقع پر اس کو حرام کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں یہ روایت ہے ۔یہ ہماری دلیل ہے۔
حلالہ متعہ نہیں بلکہ مستقل نکاح ہے ، جب تک شوہر اپنی مرضی سے بیوی کو چھوڑ نہیں دیتا ہے یا وہ فوت نہیں ہوجاتا ہے تو یہ اس کی بیوی رہتی ہے۔
حلالہ اور متعہ دونوں ایسے موضوع ہیں جن پر اینکر پرسن کو مکمل تیاری کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ نکاح، خلع،طلاق، رجوع، حلالہ اور متعہ کے الگ الگ تصورات کو پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر ان موضوعات پرٹی وی اینکر پرسن کو پروگرام کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام سے پہلے علماء کرام کو بھی مکمل تیاری کیساتھ آنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ اگر تیاری نہ ہو تو پھر جھوٹ اور حقائق کے منافی بات کرنے پر مجبور ہونگے اور تیاری کرنے کے بعد شاید وہ اپنا مؤقف بھی بدل ڈالیں اسلئے کہ جن گھمبیر مسائل کا ذکر کتابوں میں رائج ہے،اگر اسکے بھیانک نتائج سے آگاہ ہونگے تو کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کرنے پر مجبور ہونگے۔
فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط موجود ہے لیکن بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام بھی اس کے بھیانک نتائج سے قطعی طورپر آگاہ نہیں ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ سے پہلے مجھے اتفاق سے دارالعلوم کراچی میں داخلہ ملا تھا۔میں نے اسٹیل مل کراچی ایشین کمپنی میں ایک ویلڈر مستقیم کیساتھ ہیلپری کا کام کیا۔ مستقیم نے مجھے دارالعلوم کراچی میں پڑھنے کا مشورہ دیا تھا جہاں نوکری اور دینی تعلیم دونوں ساتھ ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے دارالعلوم کراچی حفظِ قرآن کی کلاس میں داخلہ مل گیااور چار گھنٹے کی آدھی دیہاڑی پر ماچس فیکٹری میں کام بھی مل گیا۔ اسٹیل مل میں19روپے دیہاڑی تھی اور ماچس فیکٹری میں26روپے دیہاڑی تھی۔ چار گھنٹے میں13روپے پر مجھے بہت آسانی اور خوشی تھی۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ نے کہا کہ جب سب کچھ قیام وطعام مدرسے کی طرف سے ملتا ہے تو مشقت اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میںنے عرض کیا کہ کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ بھی اپنی کمائی کرکے اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو میرا اپنا خرچہ اٹھانے میں کیا حرج ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہاںمفت میں سب کچھ ملتا ہے اور وہاں نہیں ملتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں سید ہوں ، میرے لئے زکوٰة جائز نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مدارس میں اتنے سارے سادات گزرے ہیں انہوں نے تو کبھی زکوٰة کی وجہ سے مدرسے کا کھانا نہیں چھوڑا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا ان کی وجہ سے میرے لئے زکوٰة جائز ہوجائے گی؟۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ،زکوٰة تو آپ کیلئے جائز نہیں۔ پھران کے تعجب کومزید بڑھانے کیلئے میں نے حدیث دکھائی کہ نبیۖ نے ایک صحابی پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ قرآن سکھانے کے بعد اس کی طرف سے ڈھال کو کیوں قبول کیا ہے، یہ جہنم کی آگ کا طوق بنے گا۔ انبیاء کرام میں کسی نے بھی تبلیغ پر اجرت نہیں لی اور نہ یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں قرآن اور نمازپڑھاؤں گا لیکن اس پر اجرت نہیں لوں گا۔ میری رپورٹ مدرسہ کے انتظامیہ کو پہنچادی گئی تومجھے بلاکر مدرسہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا کہ آپ کا داخلہ نہیں ہوسکا ہے۔
پھر جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی گیا لیکن وہاں معلوم ہوا کہ داخلے بندہیں۔ وہاں سے واٹرپمپ دارالعلوم الاسلامیہ فیڈرل بی ایریا بھیج دیا گیا۔ جہاں میں نے عبوری دور میں کچھ حفظ وناظرہ اور قرأت وتجوید کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے رمضان میںدرسِ قرآن کے دوران یہ سنا تو بڑی حیرت ہوئی کہ ” قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا ہے کیونکہ قرآن تحریری شکل میں اللہ کا کلام نہیں ہے، البتہ اگر زبان سے یہ کہہ دیا کہ قرآن یا اللہ کی کتاب کی قسم تو پھر اس حلف کا کفارہ دینا پڑے گا”۔ پھر شوال میں جامعہ بنوری نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ مل گیا تو سرِ راہ ہمارے استاذ جو اس وقت میرے استاذ نہ تھے مفتی عبدالسمیع نے ایک صیغہ پوچھا، پہلا سال تھا، ہم علم الصرف پڑھتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ماضی کا ایک صیغہ ہے ضربتما،اس کو دومرتبہ کیوں لکھا گیا ہے؟۔ وہ جواب دیتا تھا اور میں اس کوغلط قرار دیتا۔ آخر کار اس نے قرآن کا مصحف منگواکر پوچھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ یہ نقشِ کلام ہے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ آپ کافر ہوگئے،اسلئے کہ قرآن کی قرآنیت کا انکار کردیا۔ میں نے کہا کہ پھر تو مولانا یوسف لدھیانوی بھی کافر ہوگئے اسلئے کہ ان سے میں نے سنا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں نقش کلام ہے اور اس پر حلف بھی نہیں ہوتا۔ پھر مفتی عبدالسمیع نے مجھے خوب برا بھلا بول دیا کہ تم افغانی سب کچھ پڑھ کرآتے ہو اور تمہارا مقصد ہی ہمیں ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ مفتی صاحب دادو کے سندھی تھے۔ پھر جب میں نے مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب میں یہ دیکھا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے توجامعہ بنوری نیوٹاؤن سے اسکے خلاف فتویٰ لیکردونوں کو شائع کردیا تھا۔
اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے دباؤ میں آکر وضاحت کرلی کہ میں نے اپنی کتابوں ”فقہی مقالات جلد چہارم اور تکملہ فتح الملہم” سے اس مسئلے کو نکال دیا ہے۔ روزنامہ اسلام میں پہلے پورا مضمون شائع کیا اور پھر اشتہار دیا کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔ پھر ضرب مؤمن کے ایک ہی شمارے میں دونوں باتیں وضاحتی بیان جس میں شکریہ بھی ادا کیا گیا تھا کہ مجھے اس طرف توجہ دلائی گئی۔ میں نے صرف نقل کیا ہے مگرمیرایہ مسلک و عقیدہ نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہ مجھ پر بہتان لگانے والے اللہ کا خوف کریں۔
ان دنوں میں مفتی محمد تقی عثمانی نے قرآن وسنت کی تحقیقات رابطہ عالم اسلامی مکہ کی رکنیت سے بھی اس خوف کے مارے استعفیٰ دیدیا تھا کہ کہیں عرب علماء پوچھ گچھ نہ کرلیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر والے ان کے پیچھے پڑگئے تھے لیکن پھر ہم نے بریلوی علماء کے فتوے بھی شائع کردئیے جس سے مفتی محمد تقی عثمانی نے اس عذاب سے چھٹکارا پالیا تھا۔ ضرب حق کے پبلشر اجمل ملک نے مفتی محمدتقی عثمانی کو اخبار کیلئے انٹرویو کا کہا تو مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ” مجھے کم گالیاں کھلائی ہیں، جس پر تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا ہے؟”۔ ملک صاحب نے کہا کہ ہم نے تو تمہاری جان بریلوی مکتب سے چھڑائی ہے، جس پر اس نے سکوت اختیار کیا۔
فتاویٰ شامیہ، فتاویٰ قاضی خان اوروزیراعظم عمران کے نکاح خواں مفتی محمد سعید خان نے اپنی کتاب ”ریزہ الماس ” میں سورۂ فاتحہ کوپیشاب سے لکھنے کے مسئلے کو ٹھیک قرار دیا ہے اور مولانا الیاس گھمن کا ایک کلپ بھی موجود ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ علماء ومفتیان اپنی جہالت کو سمجھ بھی نہیں رہے ہیں کہ وہ کونسی جہالت ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے فقہاء نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا۔ جب اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف یہ ہے کہ” المکتوب فی المصاحف (جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے) لیکن لکھے ہوئے سے لکھا ہوا مراد نہیں ہے کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو اللہ کا کلام نہیں ہے”۔ تو پھر جب لکھائی کی شکل میں قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانا جاتا ہے تو اس پر حلف بھی نہیں ہوگا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب لکھائی کی شکل میں قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے تو پھر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
علماء ومفتیان کو اصول فقہ اور فقہ کے مسائل میں باہمی ربط کا بھی پتہ نہیں تھا اسلئے مفتی محمد تقی عثمانی نے پہلے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا اور پھر اپنی کتابوں سے اس کو نکال دیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کا پہلا اختلاف مفتی رشید احمد لدھیانوی سے وقف شدہ مدرسہ میں ذاتی مکان خریدنے پر ہوا۔ پھر اس کا دوسرا اختلاف مفتی محمود سے جنرل ضیاء الحق کے دورمیں زکوٰة کی کٹوتی پر ہوا۔ پھر تیسرا اختلاف سود ی نظام کو اسلامی بینکاری قرار دینے پر مدارس بشمول مولانا سلیم اللہ خان اور ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سے ہوا۔یہ بڑے زمینی حقائق ہیں۔
ڈاکٹر فضا نے بول ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام ” ایسا نہیں چلے گا” میں جن علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو دعوت دی تھی تو انہوں نے صفائی کیساتھ حقائق عوام کے سامنے لانے میں بڑے بخل سے کام لیا ۔جس طرح سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا اصل مسئلہ بڑے علماء ومفتیان کو اصولِ فقہ اور فقہ کی کتابوں میں باہمی ربط کیساتھ معلوم نہیں ہے اور نہ اس کے بھیانک نتائج سے آگاہ ہیں ،اسی طرح وہ نکاح، طلاق، خلع،رجوع، حلالہ اور متعہ کے موضوعات اور ان کے بھیانک نتائج سے بالکل آگاہ نہیں ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے کہا تھا کہ ” آپ مدارس کیلئے ایک نصابِ تعلیم تشکیل دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہی نصاب ہم مدارس میں پڑھائیںگے ”۔ لیکن جب وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق سے رجوع اور حلالہ کے خاتمے پر بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ان کی طرف سے تحریری خط کے باوجود بھی آخر کار معذرت خواہی کا نتیجہ نکل آیا اور چیئرمین اسلامی نظریانی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ” آپ علمی صلاحیت رکھتے ہیں اور علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں یہ مجھے مشکل سے اس منصب پر برداشت کررہے ہیں”۔
حلالہ اور متعہ کے موضوع پر ڈاکٹر فضا کے پروگرام میں علمی حقائق کا حق ادا نہیں ہوا ہے۔ محمد مالک نے ہم نیوز میں حلالہ کے موضوع پر قبلہ ایاز، علامہ طاہر اشرفی ، علامہ راغب نعیمی ، علامہ امین شہیدی اور ڈاکٹر ظہیر کو بات کرنے کا موقع دیا تھا لیکن جب تک فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں موجود فقہی مواد اور مسائل کے بھیانک نتائج عوام کے سامنے نہیں لائے جائیں گے اس وقت تک حقائق سے پردہ نہیں اُٹھ سکے گا۔ اس شمارے میں نکاح، طلاق، خلع، رجوع ، حلالہ اور متعہ کے حوالے سے بنیادی علمی حقائق اور اسکے نتائج ہمارے مدارس کے علماء اور طلباء کے سامنے بھی پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں اور ٹی وی چینل کے اینکر پرسنوں کو بھی یہ مواد پہنچاتے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔
افغان طالبان کے رہنماؤں کو ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد اسلام پر چلنے میں اور اپنا نظام تشکیل دینے میں بہت آسانی ہوگی۔ انشاء اللہ العزیز۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلام کا حال مسالک اور فرقہ واریت کے نام پر علماء ومفتیان اور علامہ صاحبان نے اس سے بھی بدتر بنایا ہے کہ جو مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے اپنے بیانیہ کیلئے وکیلوں، صحافیوں اور سیاستدانوں کے ذریعے سے پوری ریاست، حکومت، عدالت، سیاست اور قوم کا بنار کھا ہے۔جب مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں اپنا حال سدھار لیںگی تو الیکشن میں ان کو ووٹ بھی ملیںگے اور نوٹ بھی۔اسلام اور مسلمان جیتے گا۔ امریکہ کوان کے چھوڑے ہوئے خراب جہازوں سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔

نکاح پر علماء کے عجب مسائل_
عقدِ نکاح کے بارے میں سادہ لوح عوام ، نام نہاددانشوراور علماء و مفتیان بہت کچھ جاننے کے باوجود بھی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ نہیں جانتے ہیں اور اس میںمدارس کے علماء سے لیکر جماعت اسلامی کے مولانا سید مودودی اور ان کی باقیات تنظیم اسلامی کے ڈاکٹر اسرار اور جاوید احمد غامدی سب شامل ہیں۔
جن علماء کا تعلق دارالافتاء سے فتوے دینے کا ہوتا ہے وہ فقہی کتب کی تفصیل پر نظر رکھتے ہیں مگر جن کا تعلق قرآن یا احادیث یا عربی ادب، یا صرف ونحو سے ہوتا ہے وہ فقہی مسائل کی تفصیلات کو نہیں جانتے اور نہ ان سے کام رکھتے ہیں۔
قائدجمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے ایک بار میری دعوت پر علماء کے اجلاس میں آنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ” مجلس فقہی کے مولانا انور شاہ صاحب کے ذمے اس مسئلے کو رکھیںگے اور اگرانہوں نے ٹھیک قرار دیا تو پھر ہم سیاسی اعتبار سے اس پر غور کریںگے کہ مصلحت کس میں ہے؟”۔ پھر مولانافضل الرحمن نے میرے اصرار پر مولانا عطاء شاہ صاحب کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے دیگر علماء کو بھی ٹانک سفید مسجد میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی سرپرست اعلیٰ مولانا فتح خان کے ہاں آنے سے روک دیا تھا۔ اگر اس وقت عالمی اسلامی خلافت کے مسئلے پر علماء کرام کے درمیان بحث ہوتی تو آج برصغیر پاک وہند ، عراق وشام اور افغانستان کو داعش کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور جذباتی نوجوان اتنی بڑی تعداد میں قربانیاں دینے اور اپنی ریاستوں کو مشکلات میں ڈالنے کے مراحل میں نہ ہوتے۔ داعش اور خلافت کیلئے کام کرنیوالے طبقات پہلے اسلام کے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دیں تو پھر دنیا کی کوئی بھی طاقت اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ انشاء اللہ العزیز الرحمن۔
جب عورت کا اپنے شوہر سے نکاح ہوجاتا ہے تو اپنے اپنے رسم ورواج اور مسالک کے مطابق حقوق، معاملات اور مسائل چلتے رہتے ہیں لیکن جب کچھ معاملات پیش آتے ہیں اور میاں بیوی مدارس کے فتوؤں کا رخ کرتے ہیں تو یہ مسئلہ بڑا گھمبیر ہوجاتا ہے۔ مثلاً ایک عورت کو اس کے شوہر نے کہا کہ3طلاق، اور پھر مکر گیا تو عورت اس پر حرام ہوگی اور حلالہ کے بغیر ان کا دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوگا ۔ اگر شوہر نے انکار کیا تب بھی شرعی اعتبار سے عورت اس پر حرام ہوگی لیکن شوہر سے عورت کو اپنی جان چھڑانے کیلئے دو گواہ لانے پڑیںگے۔ اگر اس کے پاس دو مردگواہ نہیں ہوئے اور نہ ایک مرد اور دو خواتین گواہ ہوئے تو شوہر کو عدالت میں قسم اٹھانی پڑے گی۔ اگر اس نے جھوٹی قسم کھالی تو عورت بدستوراس کے نکاح میں رہے گی۔ عورت کو اس حرامکاری سے بچنے کیلئے ہرقیمت پر خلع لینا ہوگا اور اگر شوہر کسی صورت بھی خلع دینے پر آمادہ نہ ہو تو وہ عورت شوہر کے نکاح میں رہے گی اور عورت کو پوری کوشش کرنی ہوگی کہ س اسے حرامکاری نہ ہو لیکن اگر شوہر اس کے ساتھ حرامکاری کرے تو عورت اس سے لذت نہ اٹھائے ورنہ پھر گناہگار ہوگی۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے یہ مسئلہ اپنی کتاب ” حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے اور دارالعلوم کراچی نے مزید حواشی وتزئین کیساتھ اس کو شائع کیا۔
اب بھی بریلوی دیوبندی مدارس میں اسی فقہی مسئلے پر میاں بیوی میں جھگڑا ہونے کی صورت میں یہی فتویٰ دیا جارہاہے۔ نکاح میں دوسرا گھمبیر مسئلہ حرمتِ مصاہرت کا ہے ، جس کی تفصیلات سے ہوش اُڑ جائیںگے، اصولِ فقہ کی کتب میں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے پر شہوت کی نگاہ میں عذر ہے لیکن اگراندرونی حصے پر نظر پڑگئی اور اس میں شہوت آگئی تو شوہرپر بیوی حرام ہوجائے گی۔ درسِ نظامی کے نصاب میں پڑھائے جانیوالے ان مسائل کا اسلام سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ فقہاء کی اپنی ذاتی اختراعات ہیں۔

خلع پرعلماء کے عجیب مسائل_
ٹی وی کی اسکرینوں پر علماء و مفتیان اور نام نہاد جاہل دانشور جھوٹ بولتے ہیں کہ عورت کو اسلام نے خلع کا حق دیا ہے۔ وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری نے ایک مرتبہ عدالتوں کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا جہاں عورتوں کو خلع ملتا ہے اور کہا تھا کہ ”عورت اور عدالت کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے کہ عورت کو خلع دیا جائے۔ جب تک شوہر اپنی طرف سے راضی نہیں ہوتا ہے ،عورت کو اسلام میں خلع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے”۔
سورۂ بقرہ کی آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ درسِ نظامی کے نصاب میں حد درجہ حماقت کی گئی ہے کہ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا ذکر جملہ معترضہ ہے یا پھر تیسری طلاق سے متصل ہے؟۔ ایک مؤقف یہ ہے کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد یہ جملہ معترضہ ہے اسلئے کہ خلع بھی ایک مستقل طلاق ہے اور پھر تیسری طلاق کی گنجائش نہیں رہے گی ۔اور دوسرا مؤقف یہ ہے کہ عربی قواعد کے لحاظ سے فدیہ کی صورت سے تیسری طلاق کو متصل ماننا ضروری ہے اسلئے خلع کوئی مستقل طلاق نہیں ہے بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی چیز ہے۔ حنفی مؤقف کی وجہ سے علامہ تمنا عمادی نے ایک کتاب ”الطلاق مرتان” لکھ دی تھی ، جس میں حنفی مسلک ، قرآن اور عربی قواعد سے یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ طلاق صرف دو مرتبہ ہے اور حلالہ کا تعلق صرف خلع کیساتھ ہے۔ علامہ تمنا عمادی نے احادیث کا انکار بھی کردیا تھا۔ لیکن یہ بنیاد ان کو حنفی مؤقف کے اصولِ فقہ اور درسِ نظامی سے ہی فراہم ہوئی تھی۔
علماء و مفتیان کے نصابِ تعلیم میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت229کا خلع سے کوئی تعلق نہیں بن سکتا ہے۔ عدت کے تین مراحل میں تین بار طلاق کے بعد اگر عدت میں رجوع کا فیصلہ باہمی رضامندی، اصلاح و معروف طریقے سے کرنے کے بجائے عورت کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس کو قرآن نے او تسریح باحسان اور حدیث نے تیسری طلاق قرار دیا ہے تو پھر مسئلہ طلاق کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ” پھر تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ مگر یہ کہ جب دونوں کو خوف ہو کہ پھر اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو عورت کی طرف سے اس چیز کا فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے”۔ قرآن میں طلاق سے پہلے وضاحت ہے کہ دئیے ہوئے میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں اور پھر حدود پر قائم نہیں رہ سکنے کے خوف پر اس چیز کو واپس فدیہ کرنے کی بات ہے۔
خلع کا ذکر سورۂ النساء کی آیت19میں ہے۔ جس کے ناجائز ٹکڑے بناکر علماء ومفتیان نے قرآن کی اس خبرکو سچ ثابت کیا ہے کہ ”ان سے پوچھا جائے گا کہ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیوں کیا تھا؟”۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے جانے سے روکو، کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے،اس میں بعض واپس لے لو مگر یہ جب کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں اور ان سے اچھا سلوک کرو اسلئے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہیں بری لگتی ہوں اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر بنادے”۔ (سورہ النساء آیت19)
علماء ترجمے میں تحریف نہیں کرسکے لیکن تفاسیر میں لکھ ڈالا کہ پہلے جملے میں عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھنے کے حکم سے مراد فوت شدگان کی وراثت سے ملنے والی خواتین ہیں اور دوسرے جملے میں اپنی بیگمات مراد ہیں۔ حالانکہ یہ ترجمہ وتفسیر کسی صورت میں ممکن بھی نہیں ہے۔ اللہ نے اس میں خلع کا حکم بیان کیا ہے اور پھر اگلی آیات20،21النساء میں طلاق کے احکام واضح کئے ہیں۔

خلع وطلاق پر علماء چت ہیں _
قرآن وسنت میں خلع وطلاق کا بالکل الگ الگ تصور ہے لیکن علماء نے اس کو بالکل مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ قرآن وسنت میں سورۂ بقرہ آیت229کا تعلق صرف طلاق ہی کیساتھ ہے۔ رسول اللہ ۖ سے پوچھا گیا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ آپۖ نے فرمایا کہ آیت229میں الطلاق مرتٰن کے بعد تسریح باحسان (تیسری بار احسان کیساتھ چھوڑنا)تیسری طلاق ہے۔
مولانا سیدمودودی نے تفہیم القرآن میں آیت229کے ترجمے میں انتہائی غلطی کرکے عورت کی طرف سے فدیہ کو خلع میں معاوضہ قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی اپنے بانی کی غلطی کا کھل کر اعتراف کرکے خلوص کا ثبوت دیدے۔
علماء ومفتیان اپنے نصابِ تعلیم میںغلطی کا کھلے عام اعتراف کرکے قرآن کو ترجیح دیں اور امت مسلمہ کیلئے گمراہی کی جگہ ہدایت کا راستہ ہموار کریں۔ ناسمجھی اور جہالت کی وجہ سے اللہ نے غلطیوں کو معاف قرار دینے کا اعلان کیا ہے لیکن ہٹ دھرمی اور ہڈ حرامی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جب مسئلہ یہاں تک پہنچے کہ عورت شوہر کیلئے حرام ہو لیکن شوہر خلع دینے کیلئے راضی نہ ہو تو پھر بھی عورت حرامکاری پر مجبور ہو۔ کیا یہ بے حیائی اور بے غیرتی اسلام کا حکم ہوسکتاہے ؟ اور دنیا اس کو کس نظر سے دیکھے گی؟۔ عورت کی اس میں کس قدر حق تلفی ہے؟۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیںتو کہتے ہیںکہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اس کو کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بے حیائی کے کام کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔بھلا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو، جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ (سورة الاعراف آیت:28)
اللہ تعالیٰ نے طلاق کے احکام یہ بیان کئے ہیں کہ عدت میں بھی باہمی رضا مندی کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور باہمی رضامندی کیساتھ عدت کی تکمیل پر بھی رجوع ہوسکتا ہے لیکن علماء ومفتیان نے سارا معاملہ تلچھٹ کردیا ہے۔ اور حلالہ کی لعنت کیلئے قرآنی آیات اور احکام سے کھلم کھلا انحراف کا راستہ اپنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو نہ صرف خلع کا حق دیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے تمام منقولہ دی ہوئی چیزیں ساتھ لے جانے کی اجازت بھی دیدی ہے۔ البتہ عورت کو دی ہوئی غیر منقولہ اشیاء گھر، پلاٹ اورباغ وغیرہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ کپڑے،زیورات، نقدی، گاڑی اور تمام دی ہوئی منقولہ اشیاء میں سے بعض کو خلع کی صورت میں واپس نہیں لے سکتا ہے لیکن اگر عورت کھلی فحاشی کی مرتکب ہو جائے تو پھر سب نہیں لیکن بعض چیزیں واپس لی جاسکتی ہیں۔ایک صحابیہ نے اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہی تو نبیۖ نے فرمایا کہ ” اسکادیاباغ واپس کرسکتی ہو؟”۔ اس نے عرض کیا کہ ” اور بھی بہت کچھ واپس کرسکتی ہوں”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” اور کچھ نہیں”۔ وہ باغ واپس کیا گیا اور صحابی نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔
قرآن میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ ” خلع کی صورت میں زبردستی سے مالک بن بیٹھنا غلط ہے اور اس کو جانے سے اسلئے مت روکو کہ اپنی طرف سے دی ہوئی بعض چیزیں ان سے واپس لے لو مگر یہ کہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوجائیں”۔ قرآن کے قانون میں زبردست توازن ہے ۔ صحیح حدیث ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے۔ سعودی عرب میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔پاکستان کا آئین قرآن وسنت کے مطابق بنانے پر اتفاق ہے لیکن مدارس کے علماء کا قرآن وسنت پر اتفاق نہیں ہے۔ جاہل دانشور اسلام کے نام پر عوام کو مزید گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جب چھوڑرہی ہو تو پھر بھی اللہ نے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ بری لگتی ہوں تو بھی اس میں خیرکثیر کی نوید سنادی ہے۔ عورت واپس بھی آسکتی ہے لیکن زبردستی سے ساتھ رکھنے کے نقصانات سے بچت میں بھی خیر کثیر ہی ہے۔

میڈیا کوخلع کا مسئلہ اٹھانا چاہیے تھا! _ ایک ایرانی نژاد امریکن خاتون نے ” اسلام میں عورت کے حقوق پر” ایک بڑی کتاب لکھی ہے۔ جس میں زمینی حقائق اور کتابی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ایک شخص نے40ہزار میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ اس شخص کو لواطت کی علت پڑی تھی۔ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی تو اس نے خلع کا مطالبہ کیا۔ اس نے خلع دینے سے انکار کردیا۔ پھر اس نے50ہزار میں خلع لینے کی بات رکھی تو اس شخص نے طلاق دیدی تھی”۔ اگر خلع کے اسلامی تصور کو ملیامیٹ کرکے علماء کے تصور کو اسلام قرار دیدیا جائے تو اس کو مرد حضرات اپنا کاروبار بھی بناسکتے ہیں اسلئے کہ عورت کی خواہش پوری نہیں ہوگی اور وہ حق مہر سے زیادہ رقم وصول کرنے کا مطالبہ کریںگے جس میں عورتیں مجبور ہوکر ان کے مطالبات خلع میں بھی پوری کریں گی۔ عورت مارچ والوں نے اگر اسلام کی درست تعلیمات کو سمجھ لیا تو پوری دنیا کی خواتین ہمارے دین کو اپنے لئے سب سے بڑا ہتھیار قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائیں گی۔ این جی اوز کیلئے کام کرکے پیسے بٹورنے والی خواتین نہیں چاہتی ہیں کہ یہ استحصالی نظام ختم ہو اسلئے کہ ان کا دانہ پانی بھی پھر بالکل ختم ہوجائیگا۔ مخلص علماء کرام اور مفتیان عظام اپنے مدارس اور مساجد سے اسلام کی درست تبلیغ شروع کریں تو تمام مذہبی، ریاستی، سیاسی ، قومی، علاقی، لسانی اور عالمی استحصالی طبقات سے چھٹکارا ملنے میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔ یہ کوئی جیت نہیں ہے کہ نیٹو اور امریکہ مل کر افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کو ملیامیٹ کرکے چلے جائیں اور پھر کہیں کہ ہم نے اپنے مقاصد حاصل کرلئے لیکن افغانیوں کو افغانیوں سے ہی لڑانے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس میں ہم ناکام ہوگئے ہیں اور افغانستان کے بہت سارے مالی اثاثے بھی منجمد کردیں کہ ہمارا حق ہے اور تم نااہل ہوگئے ہو۔ پاکستان کے مخلص علماء کرام ومفتیان عظام کو سب سے پہلے علمی بنیادوں پر ایک عالمگیر انقلاب کی بنیاد رکھنی پڑے گی اور پھر افغانستان میں اس کو عملی جامہ بھی پہنانا ہوگا۔ طالبان زبردستی سے دین کے نفاذ کی جگہ ان مسائل کو اجاگر کرنا شروع کردیں جن سے خواتین کو ان کے حقوق مل جائیں تو مغرب میں بھی آواز اٹھے گی کہ خواتین کو افغانستان کی طرح حقوق دینے ہوں گے۔ جب میاں بیوی اکٹھے رہتے ہیں تو ایک قالب دو جان ہوتے ہیں مگر جب جدائی کا مسئلہ آتا ہے تو بیشمار طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر عورت کو قرآن وسنت کے مطابق خلع کا حق مل جائے تو پھر شوہر بیگم پر مظالم کا تصور بھی چھوڑ دے گا۔ مغرب اور ترقی یافتہ دنیا میں شوہرو بیوی دونوں کو طلاق کا حق ہوتا ہے اور دونوں کی جائیداد بھی جدائی کے بعد برابر برابر تقسیم ہوتی ہے لیکن اسلام نے حق مہر صرف مرد پر فرض کیا ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو پھر آدھا حق مہر دینا فرض ہے۔ اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر فرض ہے اور جو کچھ بھی دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حرام ہے، چاہے خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں۔ طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ وغیر منقولہ دی ہوئی اشیاء عورت سے واپس لینا حرام ہیں۔ رہائشی گھر بھی عورت ہی کا حق ہے لیکن خلع کی صورت میں عورت کو گھر اور غیرمنقولہ جائیداد سے دستبردار ہونے کی قرآن وسنت میں وضاحت ہے۔ اگر مغرب کو پتہ چل گیا کہ علماء ومفتیان ہی نے اسلام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اصل اسلام اس کے سامنے آجائے تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی نظام کی مخالفت کریں بلکہ مغرب بھی اسلام کے اصلی معاشرتی نظام اور خواتین کے حقوق پر افغانستان وپاکستان سے نہ صرف اتفاق کریگا بلکہ اس کو اپنائے گا بھی ۔ انشاء اللہ العزیز۔دیکھئے… بقیہ_
Page 2 and 3

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

وائٹ کالر دہشت گرد سر امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر افغانستان، عراق، لیبیا، شام، پاکستان میں لاکھوں افراد کو قتل کیا

وائٹ کالر دہشتگرد امریکہ سر نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر لاکھوں کو لقمۂ اجل بنانے کے بعد وزیراعظم نیازی سے نیاز لینا ہے اور آرمی چیف جنرل باجوہ سے باجا بجوانا ہے، علتِ غلامی سے سرشارمیاں مٹھو شاہ محمود قریشی نے بتاناہے کہ ”یہ ہماری خدمات کا اعتراف ہے اسلئے امریکہ سلامی لینے ایک ماہ شرپسندوں کو رکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ انگریزکے ٹرینڈ وفادار غلام کتوں کی دُم ہلتی رہے گی!”

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کی دھمکی اور ہماری زبوں حالی
قل ھو القادر علیٰ ان یبعث علیکم عذابًا من فوقکم او من تحت ارجلکم او یلبسکم شیعًا و یذیق بعضکم بأس بعض…
ترجمہ: ”کہہ دیجئے کہ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں بھڑادے مختلف گروہ کرکے اور چکھا دے لڑائی ایک دوسرے کی۔ دیکھ لو کہ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں شاید کہ وہ سمجھ جائیں۔ اور تیری قوم نے جھٹلایا جس کو ، اور وہ حق ہے ، کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں ۔ ہر ایک غیبی خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے اور جب آپ دیکھیں ان لوگوں کو کہ ہماری آیات میں موشگافیاں کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تویاد آنے پر مت بیٹھو اس ظالم قوم کیساتھ۔ اور ان لوگوں پر ان کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں۔ لیکن ان کو یاد دہانی کرانی ہے تاکہ وہ پرہیز کریں۔ اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے دین کو لہو ولعب بنایا ہوا ہے اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالا ہے اور آپ نصیحت کریں قرآن کے ذریعے کہ کوئی اپنے کئے کی وجہ سے گرفتار نہ ہوجائے۔ نہ ہوگا ان کیلئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا۔ اگر بدلے میں دیں سارا کچھ تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے کے سبب ۔ ان کیلئے گرم پانی ہے اور دردناک عذاب جو وہ کفر کرتے تھے”۔
سورہ انعام :65سے70تک میں اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے لوگوں کیلئے بڑی سخت دھمکی لگائی ہے۔ خاص طور پر پیغمبروں اور نبی کریم ۖ کے دور والوں کیلئے۔ آج ہمیں بھی افغانستان ، عراق، شام، لیبیا اور دیگر ان ممالک کی طرح مشکلات کا سامنا نظر آرہا ہے کہ جب اپنے اندر استحکام سمجھنے والے مختلف طرح کے عذاب کا شکار ہوئے۔ تورا بورا پر خطرناک بم برسائے گئے اور عراق و لیبیا کا برا حال کیا گیا۔ آپس میں بھی گروہ در گروہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔
ان آیات میں قرآن کے مقابلے میں جن موشگافیوں کا ذکر ہے ہمارے علماء و مفتیان ، مدارس و مسالک اور فرقے اسی مرض کے بدترین شکار نظر آتے ہیں۔ ان لوگوں نے دین کو کھیل تماشہ بنادیا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں مبتلا کیا ہے۔ اہل کتاب کی طرح اللہ کے واضح احکام کے مقابلے میں بہت ساری فضول کی موشگافیوں میں مبتلا ہیں۔
اس شمارے میں قرآن کی واضح آیات کی زبردست نشاندہی کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے۔ امید ہے کہ خطرناک حالات پیدا ہونے سے پہلے پہلے ہم قرآنی آیات اور احکام کے بارے میں فضول کی موشگافیاں چھوڑدیں گے اور حقائق کو دیکھ کر صراط مستقیم پر گامزن ہوجائیں گے۔ قرآن و احادیث میں ایک بڑے انقلاب کی زبردست خبر ہے ۔ جب ہم قرآن کی واضح آیات پر عمل پیرا ہوں گے تو نہ صرف ہماری مشکلات حل ہوں گی بلکہ قرآن کے ذریعے ہم مردہ قوم میں زندگی کی نئی روح دوڑجائے گی۔انشاء اللہ العزیز

_ طالبان کی جیت کابہت خیرمقدم_
طالبان کی افغانستان میں حکومت تھی اور پھر امریکہ نے حملہ کرکے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں بہت بڑا جانی نقصان دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر کیا۔ تیل کے ذخائر قبضہ کئے اور اپنا مشن مکمل کرنے کیلئے افغان حکومت اور طالبان کو لڑنے کیلئے چھوڑ دیا تھامگر بقول امریکہ کے اس کو یہ توقع نہیں تھی کہ افغان حکومت خون خرابہ کئے بغیر اتنی جلدی افغانستان کو طالبان کے حوالے کردے گی۔ اشرف غنی کا لڑائی کے بغیر حکومت چھوڑنا اور طالبان کا افغان حکومت کیلئے معافی عام کا اعلان خوش آئند اور بہت زیادہ مبارک بادی کے لائق ہے۔ افغانوں کا اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنا طالبان کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ جو کچھ ہوچکاہے وہ ہوچکا ہے ،اب تعمیر نو کی فکر سب کو مل بیٹھ کر کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
طالبان نے پہلے کہا کہ جہاں حکومت کی فوج خود ہتھیار ڈال رہی ہے اس جگہ کا ہم کنٹرول حاصل کررہے ہیں۔ پھر صوبائی دارالحکومتوں کو چھوڑ کر علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا شروع کردیا تھا۔ پھر ایک دم سے صوبائی دارالحکومتوں کے قبضے سے گھبراکر اشرف غنی نے اقتدار چھوڑ دیا۔ قندھار ، مزارشریف پر مزاحمت کا بھی اشرف غنی نے حق ادا کیا تھا لیکن طالبان کے طوفان کے آگے افغانستان کی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پرائی تنخواہ پر پلنے والی فوج اور نظریاتی لشکر میں جو فرق وامتیاز ہونا چاہیے وہی افغان فوج اور طالبان میں تھا۔
قیاس آرائیوں کا سب کو حق ہے لیکن افواہیں اُڑانے سے ملک وقوم کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ امریکہ اپنی سرزمین پر ہمارے آرمی چیف، وزیراعظم ، صدر، وزیرخارجہ اور کسی بھی سیاسی رہنما کو ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور ہم نے مہربانی کرکے کراچی اور اسلام آباد کے ہوٹلوں کو انکے حوالے کیا ہے۔ البتہ اس بات میں بھی شک نہیں ہے کہ بڑی تعداد میں پاکستانی اور مسلمان امریکہ میں سچی اور جھوٹی سیاسی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ایف سولہ طیارے امریکہ سے خریدے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کو زور آزمائی کا جواب دیا تھا۔
پہلے امریکہ 9/11کی وجہ سے پاگل ہوگیا تھا لیکن پھر بھی امریکہ میں بش کے بعد مسلمان حسین اوبامہ کا بیٹا بارک دومرتبہ امریکہ کا صدر بنا تھا۔ بڑابننے کیساتھ اللہ تعالیٰ دل بھی بڑا دیتا ہے۔ امریکہ نے انتہائی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے بارک حسین اوبامہ کو دومرتبہ صدر بنایا لیکن ہم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ کسی پسماندہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے بیٹے کو قبول کرلیں۔ امریکہ نے بڑی بڑی وارداتیں کرکے دنیا میں اپنی امامت کا مقام کھو دیا ہے۔ پاکستان، ایران اور افغانستان کو بڑا مقام پانے کیلئے اپنا دل بھی بہت بڑا کرنا پڑے گا۔ قرآن میں عورتوں کو ستانے والوں اور افواہیں اڑانے والوں کو بہت بڑا مجرم قرار دیکر واضح کیا گیا ہے کہ پہلے بھی لوگوں کی سنت یہ رہی ہے کہ جہاں یہ پائے گئے بے دریغ قتل کئے گئے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر جھوٹ کی مشینوں اور عورتوں کو ستانے کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔

طالبان بھی اپنی غلطیاں تسلیم کریں
جب وحی کی رہنمائی کا سلسلہ موجود تھا تو اللہ نے نبیۖ اور صحابہ کرام کی لمحہ بہ لمحہ رہنمائی فرمائی۔ تائید اور تنبیہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ایک نابینا عبداللہ بن مکتوم کی آمد پر نبیۖ چیں بہ جبیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ عبس وتولیٰ نازل فرمائی۔ نبی ۖ فرماتے تھے کہ اس صحابی کی وجہ سے اللہ نے مجھے ڈانٹا ہے ۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ نے نبیۖ سے ظہار( طلاق )کے مسئلے پر مجادلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذیعے نبیۖ کے فتوے کے خلاف حضرت خولہ کی تائید فرمائی اور سورۂ مجادلہ میں مذہبی ذہنیت کے فتوے کی تردید فرمائی ۔ حضرت عمر حضرت خولہ کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ غزوہ ٔبدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مشورہ حضرت عمر اور حضرت سعد کے علاوہ باقی سب اکابر صحابہ نے دیا تھا لیکن وحی اقلیت والوں کے حق میں نازل ہوئی تھی۔ پھر غزوۂ بدر میں سب نے انتقام لینے کی بات کی تھی تو اللہ نے معاف کرنے کا حکم دیدیا تھا۔
جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا گیا تو صحابہ کرام اس معاہدے کے خلاف بھی برداشت کی حد سے نکل چکے تھے لیکن نبیۖ کے احترام میں مجبوراً قبول کیاتھا اور پھر اللہ نے اسی کو فتح مبین قرار دیدیا۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کوئی بھی کسی گھمنڈ میں نہ رہے۔ قرآن کی تعلیمات کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے نامۂ اعمال پر غرور وتکبر کی جگہ اپنی غلطیوں اور محاسبے کا خیال رکھیں۔ اللہ سے بہت اچھے کی اُمیدبھی رکھیں اور شامتِ اعمال کا خمیازہ بھگتنے کا خوف بھی رکھیں۔ حالات بہت نزاکت خیز بھی ہوسکتے ہیں اور بہت زیادہ اچھے دن بھی آسکتے ہیں۔ اُمید و خوف کے بیچ میں مؤمن کا ایمان رہتا ہے۔ طالبان کیلئے مذہبی طبقات اور پوری دنیا کو مطمئن کرنے کا چیلنج جوئے شیر لانے سے بھی بہت زیادہ مشکل کام ہے۔
جب طالبان نے داڑھی، تصویر، پردہ، نماز، موسیقی اور بہت ساری چیزوں پر اپنا انتہائی سخت مؤقف رکھا تھا تو وہ اپنے جذبے میں مخلص تھے لیکن آج جس طرح فکروشعور کی منزل پر پہنچے ہیں تو یہ زیادہ خوش آئند ہے۔ جب مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کی جگہ بیت اللہ حرم کعبہ بن گیا تو بہت لوگوں کو اعتراض تھا مگر اللہ نے واضح کردیا کہ ” نیکی یہ نہیں ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرے”۔ جب طالبان نے پہلے شریعتِ اسلامی کو اس طرح سے سمجھا تھا تو ویسا عمل کیا اور آج جس طرح سے شریعت سمجھ میں آئی ہے تو اس پر عمل کررہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ جس طرح سے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مسلمانوں نے بادلِ نخواستہ قبول کیا تھا تو طالبان بھی مجبوری میں ساری دنیا کے طاقتور ممالک کو خوش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
اگر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا جائے کہ طالبان اپنے اندر جو گلٹی محسوس کررہے ہیں وہ بھی در حقیقت کوئی گلٹی نہیں ۔ صحابہ نے پہلے سمجھا تھا کہ روزوں کی رات میں اپنی بیگمات سے جماع کرنا درست نہیں مگر اللہ نے واضح کیا کہ ” اللہ جانتا ہے کہ تم اپنی جانوں سے خیانت کرتے ہو ۔روزوں کی رات کو اپنی عورتوں کیساتھ بے حجاب ہونا تمہارے لئے حلال ہے”۔

اپنا حکمران طبقہ راہِ راست پرآئے!
ہماری سیاست، ہمارا مذہب اور ہمارے کلچر کا معیار نااہلوں کے ہاتھوں میں ذلت ورسوائی کی آخری منزل تک پہنچ گیا ہے۔ اشرف غنی کی حکومت بھی امریکہ کے سہارے کھڑی تھی لیکن خان عبدالغفار خان کے پڑپوتے ایمل ولی کو لمحہ بھر کیلئے بھی امریکہ کی شرارت اس میں دکھائی نہیں دی لیکن جونہی طالبان کی جیت سامنے آئی اور پاکستان نے ایک ماہ کیلئے امریکہ کو سہولتکاری فراہم کردی تو ایمل ولی کے پیٹ میں درد اُٹھ گیا۔ بیس سال سے امریکہ کو پاکستان نے اڈے فراہم کئے تھے اور افغان حکومتیں امریکہ کے سہارے چل رہی تھیں اور طالبان قطر میں اپنے معاملات امریکیوں سے طے کررہے تھے تو یہ سب یکساں طور پر ایک ہی طرح کی بات تھی اور کسی کو بھی خراج عقیدت پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ ونیٹو نے اسلامی ممالک کا تیل چوری کرنے کیلئے افغانستان ، عراق، لیبیا اور شام کے لاکھوں لوگوں کو لقمۂ اجل بنایا۔ پاکستان نے سہولت کاری فراہم کی اور طالبان نے دہشت گردی، اغواء برائے تاوان اور جو ممکن ہوسکا وہ خراب دھندہ کیا جس کی وجہ سے مسلمان اور اسلام مزید بدنام ہوگئے۔ امریکہ و نیٹو کے اقدامات کو تقویت پہنچی اور مسلمانوں کو خود بھی بہت تکلیف کا سامناکرنا پڑگیا۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو پاکستان میں دہشت گردی کرنے والا طبقہ نظریاتی طور پر روس کا حامی ہوتا تھا۔ جو بھی اپنے استحکام کیلئے جس طرح کی پوزیشن لے سکتا ہے وہ اس سے دریغ نہیں کرتا ہے۔افغان حکومت اور بھارت ایک پیج پر تھے اسلئے پاکستان کا فطری جھکاؤ طالبان کی طرف تھا، پاکستان نے طالبان کیساتھ اپنی مجبوری میں زیادتی کی تھی ،طالبان سے حکومت چھن گئی تھی ، طالبان کی وجہ سے افغانستان میں خانہ جنگی کی فضاء ختم ہوسکتی تھی کیونکہ جب نیٹو کے ہوتے ہوئے طالبان کو ختم نہیں کیا جاسکا توافغان حکومت اکیلے صرف اور صرف بھارت کی مدد سے افغانستان امن کی جگہ بدامنی کی شرارت کرسکتا تھا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ مذہبی طبقے کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔ فوج کی مخالفت یا حمایت کی بنیاد پر اپنے پتے کھیلتے ہیں لیکن اپنے پلے کچھ بھی نہیں ہے۔ افغانستان میں کسی کی حمایت یا مخالفت کا تعلق محض طبقاتی بنیاد پر ہو تو اس سے افغانستان کے اپنے حالات کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی بھی درگت بنے گی۔ جب ہم اپنے حالات کو درست نہیں کرسکتے تو کسی اور کے بل بوتے پر آپس میں نظریات کی جنگ بھی نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کیلئے بھی ننگ وشرم کا مقام ہوناچاہیے لیکن ہم یہ مقام پار کرچکے ہیں۔ PDMنے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ چھیڑ دی مگر ن اورش لیگ نے کھلم کھلا دونوں طرف کھیلا ۔ ن فوج پر دباؤ اور ش مصالحت پر گامزن تھا۔ مرکزی اور پنجاب حکومت کو گرنے کا خطرہ تھا تو یہ ن لیگ نے اپنے مفاد میں پینترا بدل دیا۔ زرداری نے ٹھیک کہا کہ نوازشریف میدان میں آئے مگر ن لیگ نے بہت برا منالیا۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور افغانستان میں امارت اسلامیہ قائم ہوئی ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ دنیا کے سامنے اسلام کا اصل نظریہ اور عمل پیش کردیں۔

طالبان پر شک وشبہ کی بڑی گنجائش
” میں جانتا ہوں انجام اس کا جس معرکے میں ملا ہوں غازی ”۔ علامہ اقبال کے اس شعر کی طرح اگر بہت سارے لوگ طالبان کی فتح کو بڑی سازش سمجھتے ہوں تو ان کی اس ذہنیت کا مذہبی طبقے کو بالکل بھی برا نہیں منانا چاہیے۔
ملا اور طالبان نے حقیقی اسلام کی جگہ اپنے روایتی اسلام پر عمل کیا تھا۔ ہیروئن کی کاشت، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان ، غیرملکی ایجنسیوں سے رابطہ،گٹھ جوڑ ، دہشت گردی ، فرقہ واریت ، نسل پرستی اور دنیا کی وہ کونسی برائی ہے جس کا فقدان طالبان میںدکھائی دیتا ہو؟۔ لیکن یہ تمام خرابیاں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہی تھیں۔ اگر ان کو اچھا ماحول میسر آجائے تو پھر نہ صرف حقیقی اسلام کو نافذ کرینگے بلکہ عالمِ انسانیت بھی ان کو تہہ دل سے عقیدت وسلام پیش کرے گی۔
ایک تأثر یہ ہے کہ پہلے جو طالبان زبردستی سے نماز پڑھنے پر مجبور کرتے تھے تو اب اپنے مؤقف سے کیوں ہٹ گئے؟۔ کیا اسکے پیچھے امریکی ایجنڈا ہے؟۔
فقہاء نے لکھا، جس کا بریلوی مکتب کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن نے پچھلے سال کرونا کے مسئلے پر ذکر کیا کہ” عین لڑائی میں بھی نماز باجماعت فرض ہے۔ آدھے لوگ نماز پڑھیں گے اور آدھے لوگ اسلحہ لیکر دفاع کریںگے ”۔ عشرہ فاروق وشہیدحسینمنانے والے تقریر کرتے ہیں کہ حضرت عمر باجماعت نماز کی امامت کرتے وقت شہید کئے گئے اور اپنا دوسرا نائب بناکر نماز مکمل کی گئی اور حضرت عمر بہت زخمی حالت میں تڑپتے رہے۔ شیعہ عالم ایس ایم حیدر نے کہا تھا کہ ” حسین نماز میں نہ ہوتے تو دشمن شہید نہیں کرسکتے تھے”۔ اقبال نے کہا کہ
آیاجب عین لڑائی میں وقت نماز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودو ایاز
جب طالبان نے امریکہ کے خلاف جنگ لڑی تو نماز باجماعت چھوڑ دی اور عین لڑائی میں نماز پڑھنا بھی ممکن نہ تھا ۔مولانا طارق جمیل ، فقہاء اور شعراء کے مطابق نماز کی بہت زیادہ اہمیت کے باجود اس سے طالبان بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ کسی نے اقبال کو پڑھا تو سمجھا کہ ٹھیک کہا تھاکہ” نہ تونمازی نہ میں نمازی”۔
طالبان نے جہاد میں نماز اور باجماعت نماز کو چھوڑ دیا تو ان کا دوسروں کے بارے میں رویہ نرم پڑگیا۔ ملاعمر کے نظام سے انحراف کرنے پر طالبان کو اپنوں کی طرف سے خود کش حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ موسیقی کیخلاف ذبیح اللہ مجاہد کا بیان عکاسی کرتا ہے کہ طالبان کو اپنوںسے مزاحمت کا خطرہ ہے۔ اگر یہ آپس میں الجھ گئے تو اس کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔اگر آنکھیں بند کرکے اسلام کے بعض احکام پر عمل کیا گیا اور بعض کو نظر انداز کیا گیا تو پھر قرآن کی اس آیت کے مصداق ہوںگے أفتکفرون ببعض الکتٰب وتکفرون ببعض الکتٰب ” کیا تم کتاب کے بعض احکام کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟”۔
طالبان شوق سے تصاویر کھینچواتے ہیں اور اس کو اسلام کے خلاف بھی سمجھتے ہیں اور موسیقی نہیں سنتے ہیں اور پھر عوام پر بھی اس کی پابندی لگاتے ہیں؟۔ ان کا یہ رویہ قابلِ تعریف یا قابلِ تردید ہوگا؟۔ طالبان سے اتنی گزارش ہے کہ موسیقی پر صرف مغرب کی طرح پابندی لگائیں ۔ عوام کے گانے ہوں یا طالبان کے لیکن عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے دوسروں کو اذیت پہنچانے کے بجائے اپنے کانوں تک اس کو محدود رکھیں اور اس کو اسلام کا نام نہیں دیں بلکہ انسانیت کا دَم بھرنے کیلئے لوگوں کوایک پرسکون فضاء مہیا کریں۔

بہت بڑی غلط فہمی کا بہترین ازالہ
اللہ نے واضح فرمایا :وان خفتم فررجالًا او رکبانًا ”اور اگر تمہیں خوف ہو تو چلتے چلتے یا سوار ہوکر بھی نماز پڑھو”۔ ظاہر ہے کہ چلتے چلتے اور سوار ہوکر رکوع وسجود اور قیام پر عمل نہیں ہوسکتا۔پھر امن کی حالت آئے تو معمول کی نماز جس طرح سکھائی گئی ہے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نمازِ خوف کی وضاحت کے بعد سفر کی نماز کا حکم یہ ہے کہ” سفر میں نماز کے قصر کا حکم نہیں بلکہ اجازت ہے”۔ یعنی اگر پوری نماز پڑھ لیں تو حرج نہیں۔ مثلاً امام مسافر اور مقتدی مقیم ہیں تو مسافر امام پوری نماز پڑھ لے تو بھی حرج نہیں لیکن جب مقتدی مسافر امام کے پیچھے اپنی آدھی نماز پڑھیں تو فقہی مشکلات کا شکار ہوںگے۔ ایک طبقہ کہے گا کہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور دوسرا طبقہ کہے گا کہ فاتحہ پڑھی جائے گی۔ اللہ کے احکام کو موشگافیوں کا شکار کرنے والے مجرموں کی قطار میں شامل ہونگے۔
سفر میںنمازِ قصر کے بعد فرمایا کہ ” اگر تمہیں خوف ہو کہ دشمن تم پر کسی وقت بھی انجانے میں حملہ کرسکتا ہے اور نبی ۖ تمہارے اندر موجود ہوں اور وہ باجماعت نماز پڑھانا چاہیں تو پھر تمہیں چاہیے کہ ایک گروہ پہرہ دے اور دوسرا گروہ نماز پڑھتے ہوئے اپنے اسلحے کو تھامے رکھے اور اپناہوش ٹھکانے رکھے۔ پھرجب یہ گروہ سجدہ کرلے تو پیچھے ہٹ جائے اور دوسرا گروہ نماز میں شامل ہوجائے اور اپنا اسلحہ تھامے رکھے ۔ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہیں غفلت میں پاکر ایک دم حملہ کردیں اورکام تمام کردیں۔ جب بارش یا بیماری کی حالت میں تم اپنا اسلحہ رکھ دو تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور ایسی حالت میں کھڑے ہونے، بیٹھنے اور لیٹنے کی صورت میں اللہ کا ذکر کرو اور جب اطمینان کی کیفیت میں آجاؤ تو پھر نماز کومعمول کے مطابق قائم کرو اور بیشک اللہ نے اوقات کے مطابق تم پر نماز فرض کی ہے”۔
اس نماز کا جنگ سے تعلق نہیں بلکہ یہ سفر میں خوف کے وقت رہنمائی ہے۔ یہ واضح ہے کہ اگر نبیۖ نماز باجماعت چاہیں تو یہ حکم ہے۔ ضروری نہیں کہ سفر میں باجماعت نماز ہو اور بارش و مرض میں بھی اسلحہ رکھنے کی گنجائش واضح ہے۔ اگر قرآن سمجھ لیا جاتا تو طالبان رہنماؤں کو خوف کی حالت میں نماز باجماعت نہ پڑھنے کی گنجائش نظر آتی اور جذبہ جہاد سے سرشار لوگ میدان جنگ میں نماز نہ پڑھتے تو اپنے آپ کو ملامت کے قابل نہ سمجھتے۔ جب ایک طرف وہ مجبوری میں نماز ترک کریں اور دوسری طرف مولانا طارق جمیل جیسے لوگوں کو اپنا پیشواء سمجھیں جنکے نزدیک قتل، زنا بالجبر، ڈکیتی، شرک اور ہرچیز سے نماز چھوڑنابرا ہو تو پھر اسکے مذہبی خمیر کے آٹے سے عجیب لوگوں کی پکی پکائی روٹی تیار ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے روکا ہے یہاں تک جب وہ سمجھیں جو کہہ رہے ہیں اور حالت جنابت میں بھی مگرکوئی مسافر ہو، یہاں تک کہ تم نہالو۔ آیت میں نماز پڑھنے سے جنابت میں روکا گیا ہے اور مسافر کیلئے غسل کئے بغیر بھی اجازت ہے یعنی تیمم سے۔ حضرت عمر نے سفر میں جنابت کی وجہ سے نماز کو ترک کیا اور حضرت عمار نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نمازیں پڑھ لیں۔ نبیۖ نے قرآن کے مطابق دونوں کی تائید فرمائی اسلئے کہ ایک نے گنجائش کی وجہ سے نماز نہیں پڑھی۔ دوسرے نے گنجائش کی وجہ سے نماز پڑھ لی۔قرآن وسنت میں دونوں کیلئے گنجائش تھی لیکن بعد میں اس پر مسالک کی بنیاد رکھی گئی کہ کس کا مؤقف درست اور کس کا غلط ہے؟۔

طالبان کامیاب کیسے ہوسکتے ہیں؟
حنفی مسلک کا بالخصوص اور باقی مسالک کا بالعموم پہلا اصل اصول ہے کہ ”قرآن میں مسئلے کا حل موجود ہو تو قرآن سے حل کیا جائے ۔اگر حدیث قرآن سے ٹکرائے تو حدیث کو ترک کرکے قرآن پر عمل کیا جائے ”۔ پھر دوسرے نمبر پر حدیث ہے ، تیسرے نمبر پر اجماع اور چوتھے نمبر پر قیاس ہے۔ قیاس شریعت کی مستقل دلیل نہیں بلکہ کسی معاملے کو قرآن، حدیث یا اجماع پرقیا س کیا جائے تو یہ قابلِ قبول ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” میری اُمت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی”۔
یہ جہالت ہے کہ ”بنیادی دلیل اجماع ہے، قرآن پر حضرت عثمان کے دور میں اجماع ہوا لیکن حضرت ابن مسعود نے اختلاف کیا تھا۔ جب تک قرآن پر اجماع نہ تھا تو کسی آیت یا سورة کا انکار کرنا کفر نہ تھا لیکن جب اُمت کا اجماع ہوگیا تو اب کسی سورة یا آیت کا انکار کفر ہے”۔(علامہ غلام رسول سعیدی)
صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس نے حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ ” رسول اللہۖ نے ہمارے پاس دوگتوں کے درمیان (قرآن) کے علاوہ کچھ نہ چھوڑا تھا”۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے کہ ”ابن عباس نے حضرت علی کا یہ قول محض شیعوں کو رد کرنے کیلئے نقل کیا تھا ،ورنہ اصل بات یہ تھی کہ قرآن کے نقل پر صحابہ کا اجماع نہیں تھا”۔(کشف الباری)
مسلک حنفی میں خبر واحد یا مشہور کی آیات قرآن ہیں جو اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے تو پھراحادیث اور اجماع کی اپنی کونسی حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟۔ حنفی خبرواحد کی آیت سے دلیل لیتے ہیں لیکن شافعی اس کو نہیں مانتے اور جمہور حدیث کو دلیل بناتے ہیں مگر حنفی اس کو قرآن سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ اجماع کا اصولِ فقہ کی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ” اہل مدینہ، خلفاء راشدین اور ائمہ اہل بیت کا اپنا اپنا اجماع بھی حجت ہے”۔جس سے اجماع کی اپنی حیثیت بھی متنازع بنادی گئی ہے کیونکہ ان اجماعوں کا آپس میں بھی تصادم ہے۔
ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ مسالک کی بنیاد پر پہلے نمبرپر قیاس کو رکھتے ہیں، دوسرے نمبر پر الٹے سیدھے اجماع کا تصور پیش کرتے ہیں ، تیسرے نمبر پر احادیث کو موضوع بحث بناتے ہیں اور قرآن کو آخری چوتھے نمبر پر رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں آیات کا اضافہ نہیں تھا بلکہ جلالین کی طرح تفسیرلکھی۔ جب عرصہ بعد ابن مسعود کے مصحف کو کسی نے دیکھا تو اس کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا تھا اسلئے راوی نے کہا کہ میں نے ابن مسعود کے مصحف کی زیارت کی لیکن اس میں سورة فاتحہ اور آخری دو سورتیں موجود نہیں تھیں۔ راوی کی بات کا بتنگڑ بنانے والوں نے قیاس آرائیوں سے ملمع سازی کا بازار گرم کردیا اور ابن مسعود کو قرآن کی آخری دوسورتوں کا منکر بنادیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے رحم کردیا اور واضح کیا کہ ابن مسعود کے وقت میں قرآن پر اجماع نہیں تھا اسلئے وہ کافر نہ تھے مگر اب اجماع ہوگیا ہے اسلئے کوئی اس کا انکار کردے تو کافر ہوگا۔مگریہ نہیں سوچا کہ اجماع کو قرآن اور صحابہ پر مقدم کردیا۔
جمہور اور اجماع میں فرق ہے۔ اجماع کا معنی یہ ہے کہ کوئی ایک فرد یا گروہ بھی اس کا مخالف نہ ہو۔ امت مسلمہ کا کمال یہی ہے کہ اختلافات ہی اختلافات ہیں لیکن گمراہی کی کسی بات پر بھی الحمدللہ آج تک کسی دورمیں اجماع نہیں ہوا۔

جاگیرداری وسودی نظام اصل مسئلہ
علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات ہٹ دھرمی اور بے ایمانی کو چھوڑ کر مدارس کا نصاب درست کریں۔ پاکستان ، افغانستان ، سعودیہ، ایران اور دنیا بھر سے علماء و مفتیان کو دعوت دی جائے تاکہ ایک سلیس نصاب کیلئے دین کو اجنبیت سے ہم باہر نکالنے میں اپنا زبردست کردار ادا کریں۔ جب سود کی حرمت کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دے دیا۔ کاشتکاروں کو کاشت کیلئے مفت میں زمین دینے کا حکم فرمایا۔ غلام ولونڈی کا نظام جاگیرداری کی وجہ سے ہی دنیا میں آیاتھا۔ جنگوں میں ابوسفیان اور اس کی بیگم ہند سے کلبھوشن یادیواور ابھی نندن تک کسی کو گھر کا غلام اور لونڈی بناکر خدمت لینا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے۔ نبیۖ نے جاگیردارانہ نظام کو سود قرار دیا تو مزارعین کی غلامی کا دروازہ بند ہوگیا۔ فقہ کے چاروں امام نے احادیث کے مطابق مزارعت کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن حیلہ سازوں نے پھر قرآن وسنت اور فقہ کے ائمہ کرام سے انحراف کیا اورجاگیرداری کو جواز بخش دیا۔ پہلے جاگیرداری نظام واحد وجہ تھی جس سے لوگ لونڈی اور غلام بنانے کے دھندے کو تقویت دیتے تھے اور آج بینکنگ کا نظام وہ ناسور ہے جس سے پورے کے پورے ملکوں کو عالمی طاقتیں اپنا غلام بنارہی ہیں اور اس کو بھی آج نہ صرف اسلامی قرار دیا گیا بلکہ پاکستان کے ائیرپورٹ اورموٹر وے کو بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔ جب ہمارے پاس سودی قرض اتارنے کیلئے کچھ نہیں ہوگا تو عالمی طاقتیں ائیرپورٹ اور موٹر وے پر قابض ہوجائیں گی اور جس طرح صدام حسین کو عراق کے ججوں نے پھانسی کے پھندے پر چڑھایا اور عراق کا ڈھانچہ امریکہ کیلئے استعمال ہوا ، اس سے بڑھ کر عالمی طاقتیں پاکستان کو ایٹمی قوت ہونے کے باجود اونٹ کی طرح ناک میں نکیل ڈال دیں گی۔ اور ہماری عدالتوں ، پولیس اور فوج کی طرف سے غلامی کو بصد خوشی قبول کیا جائیگا۔
طالبان افغانستان کو اپنی حکمت عملی سے امن وامان کا گہوارہ بنائیں اور سود کی لعنت سے حلالہ کی لعنت تک اپنی جان چھڑائیں۔ جب عورتوں کو اسلام کے مطابق آزادی اور تحفظ ملے گا تو دنیا بھر سے اتنے سیاح آئیں گے کہ ان کی اپنی معیشت بہت مضبوط ہوجائے گی۔ افغانستان اور وزیرستان میں غیرملکی سیاح اسلئے نہیں آتے تھے کہ خواتین اور فیملی والوں کے دلوں میں ایک خوف تھا جس کو اسلامی احکام کے ذریعے تحفظ دیکر دنیا بھر سے نکالا جاسکتا ہے۔
جس دن طالبان نے عورت کے اسلامی حقوق کا نمبر وار اعلان کرکے اپنے آئین کو دنیا کے سامنے پیش کردیا تو پاکستان کی خواتین بھی اپنا ووٹ اسلام کے حق میں استعمال کریں گی۔ بندوق اور بارود کی جگہ گھروں میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ شروع ہوجائے گا۔ اسلامی حدود کے اجراء کو دنیا بھر میں بہترین اور قابلِ عمل قرار دیا جائے گا ۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام ، لیبیا اور دنیا بھر کی عوام جنگ وجدل سے تنگ آچکے ہیں۔ دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بنانے کیلئے افغانستان کے طالبان کا کردار سب سے اہم ہوسکتا ہے۔ حلالہ واحد سزا ہے جس کی لعنت کو علماء کرام نے زندہ کر رکھا ہے مگر یہ بھی قطعی طورپراسلام نہیں ہے۔
جب تک لعان کے حکم پر عمل، حلالہ کے بغیر رجوع کی آیات اور عورت کے جملہ حقوق کا معاملہ زندہ نہیں ہوتا تو اسلام کو اقتدار کی دہلیز تک پہنچانا ممکن نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جے یو آئی کے مولانا فضل غفور کا نبیۖ کے بارے میں مولانا ادریس کا خواب بیان کرنا اور اس پر گستاخی کے فتوے اور وضاحتوں پر وضاحتیں۔

جے یو آئی کے مولانا فضل غفور کا نبیۖ کے بارے میں مولانا ادریس کا خواب بیان کرنا اور اس پر گستاخی کے فتوے اور وضاحتوں پر وضاحتیں۔خواب میں نبیۖ کے ستر کا کھلا ہونا اور پاکستان کے. علماء کا ستر کو چھپانے کی کوشش اور شہزادہ محمد بن سلمان کا نبیۖ کے پاؤں کی انگلیوں اورعمران خان کا .ہاتھوں کیand انگلیوں کو کاٹنا اور نبیۖ کا رُخ مشرق کی طرف ہونا اور اس کی تعبیر کہ عرب سے حیاء نکل گئی اور پاکستانی علماء نے دین کی مدد کرنی ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امام ابن سیرین نے اپنی کتاب ”تعبیر الرویائ” میںand لکھا ہے کہ خواب میں برے شخص کے ستر کھلنے کی تعبیریہ ہے کہ اس کی برائی ظاہر ہوگی اور نیک شخص. کی تعبیر یہand ہے کہ اس کی اچھائی ظاہر ہوگی۔ یوم تبلیMaulana Fazal Ghafoor السرائر ” اس دن پوشیدہ راز ظاہر ہونگے”۔

_ مولانا فضل غفور پر گستاخی کے فتوے_

ایک دیوبندی عالم دین نے کہا. کہ جمعیت علماءand اسلام بونیر کے مولانا فضل غفور نے نبیۖ کی شان میں جو گستاخی کی ہے اس کا دوہرانا بھی مناسب نہیں ۔ اس کو گولی مار کر اس کی لاش کو چوک پر لٹکایا جائے۔
اگر کوئی جذباتی مسلمان اُٹھ کر. اس کو قتل کردے اور عوام میں ایسی فضاء بن جائے کہ مشعال خان کی طرح اس کی لاش کو بھی دفن کے بعد خطرہ ہو تو اپنے بھی مولانا فضل غفور کے فعل سے برأت کا اعلان کریں گے۔ جب جنید جمشیدپر ایک گستاخی کا الزام لگا تھا تو اس کے دیرینہ دلدادہ مولانا طارق جمیل نے بھی پھر جنید جمشید کی حمایت اور ہمدردی میں نہیں مخالفت میں بیان دیا تھا۔

جنید جمشید کی قسمت اسلئےso اچھی تھی کہ اس نے ” دل دل جان جان پاکستان” پڑھا تھا۔ ورنہ دوبارہ اس کے منظر عام پر آنے کا کوئی چانس نہیں بن سکتا تھا اور وہso کسی. حادثے کا بھی شکار ہوسکتا تھا۔ مذہبی جنونیوں کی طرف سے جو فضاء تیار کی جاتی ہے اس کو خاص سیاسی مقاصد کی خاطر زبردست طریقے سے پذیرائی ملتی ہے۔


مولانا فضل غفور کا تعلق ایک مضبوط سیاسیand جماعت جمعیت علماء اسلام سے ہے لیکن مذہبی جنون کے سامنے طاقتور سے طاقتور انسانوں کو بھی بڑے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ جب andذوالفقارMaulana Fazal Ghafoor علی بھٹو نے قادیانیتso کے کفر پر. دستخط کئے تو کہا کہ ” میں اپنی موت کے پروانے پر دستخط کررہا ہوں”۔

پھربھٹو نے .جس andکیس میں پھانسی کی سزا کھائی توso قاتل قادیانی تھا اور وہ وعدہ معاف گواہ بن کر چھوٹ گیا لیکن بھٹو کے خلاف عدالت نے پھانسیand کافیصلہ کیا۔پارلیمنٹ نے قادیانیت کے خلاف فیصلہ کیا۔ پھر قومی اتحاد بھٹو کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگا رہا تھا۔


جنرل ضیاء الحق نے اپنے بیٹے ڈاکٹر انوارالحقand کا نکاح جنرل رحیم الدین کی. بیٹی سے کردیا لیکن جب عوامی جذبات کا خدشہ ہوا تو امتناع قادیانیت آرڈنینس جاری کردیا اور پھرجہاز کے حادثے میں شکار ہونے پر قوم نے مٹھائیاں بانٹیں۔

_ علماء کاایکدوسرے کیخلاف فتویٰ_


مولانا محمد یوسف لدھیانویso شہید کی کتاب ” عصر. حاضر حدیث نبویۖ کے آئینہ میں” اس دور میںایک زبردست رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ عربی کی متعدد غلطیوںso اور کچھ احادیث .کا غلط ترجمہ اور تشریحMaulana Fazal Ghafoor بیان کرنے کے باوجود اس کتابچہ کی بہت زیادہ افادیت ہے۔

ایک حدیث یہ ہے کہ رسولso اللہۖ نے .فرمایاکہ ” گمان ہے. کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف الفاظ باقی رہ جائیںso گے ، ان. کی مساجد آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی اور ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ فتنہ انہی سے نکلے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا”۔

test


مولانا فضل غفور نے اپنے وضاحتی بیان میں andدو احادیث بیان. کی ہیں ،ایک یہ کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایاکہ ” نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بچا مگر مبشرات۔ اور مبشرات سے مراد رویائے andصالحہ ہیں”۔ دوسری حدیث یہso بیان کی. کہ ” نبوت کا 46واں حصہ رہ گیا ہے اور وہ رویائے صالحہ ہیں”۔

test

دونوں احادیث صحیح ہیں لیکنand اس کے ترجمے غلط کئے جاتے ہیں۔ عربی .میں نبوت غیب کی خبروں کو بھی کہتے ہیں۔ یہاں نبوت سے مراد غیب کی خبریں ہیں۔ اگرand نبوت کا چھیالیسواں حصہ رہ گیاso تو پھر. ختم نبوت پر ایمان کیسے ہوسکتا ہے؟۔ رویائے صالحہso سے مراد نیک .خواب نہیںso بلکہ وہ خواب ہیں جو شیطان کی دسترس سے محفوظ ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ کوئی نیک آدمی خواب دیکھے تو اس کا خواب شیطان کی دسترس سے محفوظ بھی ہو۔

test

علماء ایک دوسرے کے خلاف عوام کو اشتعالand دلانے میں مصروف. ہیں اورso اسلام کے ظاہری الفاظso .اور تعبیرات کو درست کرنے کیلئے کھلی آنکھوں سے تیار نہیں ہیںso تو خوابوں کی تعبیرso کو اپنے. مقاصد کیلئے استعمال کرنے. کا کیا جواز ہے؟۔ کہیں خواب کی تعبیر یہ تو نہیں ہے کہ حکمرانso اسلام کا بھلا کرنا. چاہتے ہیں مگر علماء اس میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟۔ خواب کی تعبیر ایک بالکل الگ علم ہے۔

علماء جب حکمرانوں سے مل جائیں


مولانا یوسف لدھیانویso کی کتاب ” عصر حاضر” .میں ایک حدیث یہ ہے کہ ” علماء دین کے محافظ اور نگران ہیں لیکن جب یہ اہل اقتدار سے مل جائیں اور دنیا میں گھس جائیں تو پھر ان سے الگ ہوجاؤ”۔
جمعیت علماء اسلام نے جبso تک اپوزیشن کی سیاست. کی تو وہ دین کی محافظ تھی لیکن جب باری باری اقتدار کے مزے اڑانے لگی تو اس نے دنیا میں گھس. کر دین کی حفاظت اور. نگرانی چھوڑ دی۔

جنرل ضیاء الحق ، بینظیر بھٹو کے پہلے دور اور اسلامی جمہور ی اتحاد کے دور 1981ء سے1992ء تکso مولانا فضل الرحمن .عوامی جلسوں میںMaulana Fazal Ghafoor بینک سے زکوٰة کے نام پر سود کی کٹوتی کو ”شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل ”قرارso دیتا تھا۔

پھر. جب. 1993ء میں بینظیر بھٹو دوسری بار اقتدار میں آئی اور مولانا فضل الرحمن کو اقتدار میں شریک کرلیا تو مفادات اٹھانےso کے نتیجے میں. اپنی جماعت کے لوگوں کو زکوٰة کمیٹی کا چیئرمین بنانا شروع کیا۔ پھر شریعت کا حکم سیاست، دنیا اور اپنے مفادات کی نذر کر کے غرقاب کردیا تھا۔

test


حکمران جب علماء کو اقتدار میں شریک کرتے. ہیں تو اپنےand تابع بنانے کیلئے ان کی soعزت افزائی نہیں. کرتے بلکہ تذلیل کرتے ہیں۔ وزیرستان کے MNA مولانا نور محمد نے اسلامی جمہوری اتحاد.. میں شمولیتand اختیار کی تھی تو اس کوso .فلموں کی سنسر شپ کا نوازشریف نے وفاقی وزیر بنایا تھا۔ جس پر روزنامہ اوصاف اخبار میں andزبردست کارٹون سے تصویر soکشی کی گئی تھی۔

بھٹو. کے دور میں ختم نبوت کے حق میں قرار داد پر بقول مفتی .منیب الرandحمن کے مولانا غلام غوث. ہزاروی اور مولانا عبد الحکیم نے جمعیت علماء اسلام کے MNAہونے کے باجوandد بھی اسلئے soدستخط نہیں. کئے کہ وہ پیپلزپارٹی کی Maulana Fazal Ghafoorصف میں شامل ہوگئے تھے۔
علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو چاہیے کہ پاکستانand اور افغانستان میں درست اسلامیso احکام کا نقشہ پیش کرکے. اس کو نافذ کریں تاکہ دنیا میں انقلاب آجائے۔

قادیانی اور نوازشریف دور کا وہ بل


نوازشریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ. کو آرمی چیف بنایا تو سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ آرمی چیف قادیانی ہے۔ شاید نوازشریف کی بھی ناک. میں بھنک. تھی تو اسلئے آرمی چیف بنایا تھا۔اوریا مقبول جان نے آکر آرمی چیف کے حق میں ایک خواب بھی بتادیا تھا۔ بہرحال نوازشریف. نے اپنے دور میں قادیانیوں پر ایک احسان کرنا چاہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ بھٹو اور جنرل ضیاء نے بھی اس طاقتور گروپ سے آخر کارمار کھائی. تھی۔ پارلیمنٹ سے بل پاس ہواتھا تو جمعیت علماء اسلام ن لیگ کی اتحادی تھی۔ جب مولانا فضل الرحمن ق لیگ کےso قریب تھے تو چوہدری شجاعت حسین نے قادیانی امریکن ڈاکٹر مبشر سے مولانا کو دل کے وال لگوائے تھے۔

test

مولانا عبدالغفور حیدری نے وفاق المدارس کے ایک پروگرامand میں اپنی اہمیت جتاتے ہوئے soبتایا تھا کہ ” جب قومی اسمبلی سے بل پاس ہوگیا تو مجھے دل میں ڈر تھا کہ اگر. سینٹ سے یہ پاس ہوگیاand تو پھر مجھے چیئرمین کیso .غیر موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے دستخط کرنے پڑیں گے لیکن. شکر ہے کہ بل سینٹ andمیں ناکام. ہوا۔ پھرMaulana Fazal Ghafoor جب بلso کو پاس کرانے کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تو شیخ رشید. نے جمعیت علماء اسلامand کی بھیگی. بلیوں کوso بھی سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور علماء دیوبند کے اکابرین کی قربانیاں یاد دلائیںتھیں مگرand اقتدار کے نشے میں soدھت علماء ومفتیان ٹس سے. مس نہیں ہورہے تھے۔

test


اگر علماء کرام نے بروقت ہوش کے ناخن. نہیں. لئے اور اقتدار کے چکر میں اسلام کے حق کو ادا کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی تو پھر عوام کا جمِ غفیر اُٹھے گا۔ علامہ خادم. حسین. رضوی نے ختم نبوت کیلئے جو قربانی دی وہ ایک تحریک تھی جس پر اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کا الزام بھی لگا۔ چلو اورand کچھ نہیں. تو جنرل باجوہ سے قادیانی ہونے کا داغ تو دھل. گیا لیکن جب عوام کا شعور اٹھے گا تو علماء ومفتیان کا کیا حال بنے گا؟۔ شریف اور اللہ والے اٹھیں اور اسلام کیلئے کھل کر آواز اٹھائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

جنوبی وزیرستان محسود قوم کے صدر مقام مکین میں کے قائد مولانا فضل الرحمن اور کے کامیاب جلسے شعور کی بیداری کیلئے مبارکباد کے مستحق ہیں

جنوبی وزیرستان محسود قوم کے صدر مقام مکین میں کے قائد مولانا فضل الرحمن اور کے کامیاب جلسے شعور کی بیداری کیلئے مبارکباد کے مستحق ہیں،انسان میں شر کا مادہ کم اور خیر کا زیادہ ہے مگر شر کے ماحول سے نکلنے کیلئے خیر کی فضاء پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی اسلام ہے!کشمیر اور ڈیورنڈ لائن سے زیادہ اندرونی معاملات و مسائل سے خطرہ ہے

جنوبی وزیرستان کی محسود قوم بہادر، آزاد منش، انسانیت کے اعلیٰ اقدارکے علاوہ انتہائی درجے کی مالی لالچ بھی رکھتی ہے۔ نقیب شہید کو محسود، پختون ، آرمی چیف اور پاکستان کی جملہ سیاسی قائدین ، حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے جس طرح کا پروٹوکول مل گیا وہ قوموں کی تاریخ بدلنے کا انقلابی حصہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی نقیب شہید کے والد نے مراعات کی لالچ سے سب کچھ پر پانی پھیر دیا تھا۔
امریکہ کی مخالفت میں تحریک طالبان پاکستان کو بیت اللہ محسود کی قیادت میں جس طرح کی مقبولیت مل گئی تو اس سے وزیرستان کے محسودپوری دنیا کے بڑے امام بھی بن سکتے تھے مگر لالچ اور بدکرداری نے نہ صرف ریاست کی نظر میں (TTP) کو گرادیا بلکہ اتفاقِ رائے سے قومی قیادت نے قومی ایکشن پلان کے ذریعے سے قبائل اور ملک بھر سے اس کو دہشت گرد قرار دیکر اس کے خاتمے کا لائحۂ عمل بھی تشکیل دیا تھا۔ پھر پختون نوجوانوں نے منظور پشتین کی قیادت میں (PTM) کی تحریک سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو بھی ہلا ڈالا تھا مگر اب رفتہ رفتہ( PTM) بھی اپنے منطقی انجام کی طرف پہنچ رہی ہے۔ کامیاب اجتماع اور جلسہ تحریکوں اور جماعتوں کی کامیابی کا معیار ہوتا تو تبلیغی جماعت ،دعوت اسلامی، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، عورت آزادی مارچ اورتماشوں میں ناچنے والی لڑکیوںکے گرد جمع ہونیوالے اجتماعات بھی کامیابی کا معیار قرار پاتے۔ سیاسی جلسوں میں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی کہانی بھی ہوتی ہے۔ مریم نواز نے اپنی اداؤں سے کشمیریوں کو ورغلانے کی ناکام کوشش کی تھی مگر کشمیریوں نے پاکستان مردہ باد اور آزاد وخود مختار کشمیرکے نعرے بھی لگادئیے۔
ایک بڑے ذمہ دار فوجی افسر کو آزادکشمیر کا وزیراعظم بننے کیلئے ایک ارب دیا گیااور اس کو برطرف بھی کردیا گیا جس پر نوازشریف کے حامی سوشل میڈیاکے صحافی سید عمران شفقت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی نہ صرف تعریف کی بلکہ یہ بھی کہا کہ ”مجھ پر خوامخواہ کا الزام ہے کہ میں جنرل باجوہ اور فوج کی مخالفت کرتا ہوں، یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور جوانسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتاہے وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتاہے”۔قرآن میں منافق اعرابیوں کی یہ مثال دی گئی ہے کہ جب ان کو خیر پہنچتی ہے تو خوش ہوتے ہیں اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو پھر دوسری زبان میں بات کرتے ہیں۔ یہی انسانی فطرت کا اصل مزاج بھی قرآن نے ہر جگہ بیان کیا ہے لیکن تعلیم وتربیت اور ایمان واسلام کی بدولت اس پر کنٹرول کرنا بھی اچھے انسانوں اور اچھے مسلمانوں کا زبردست فرض بنتا ہے۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے جس میں انسان کی عزت بڑھ جاتی ہے یا اس کی بے عزتی ہوجاتی ہے۔ نوازشریف اور مریم نواز کو اپنے بیانیہ میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز سے اختلاف ہو یا منصوبہ بندی کیساتھ سب کچھ ہورہاہو لیکن دونوں ہی اصل الاصل میںایک ہی ماں باپ کے روحانی اور جسمانی اولادیں ہیں۔ 3 بار وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کا منصب بار بار ملنے کے بعد کونسا انقلاب برپا کیا ہے جو اب ان سے بڑے انقلاب کی زبردست توقع رکھی جائے؟۔
وزیراعظم عمران خان کہا کرتا تھا کہ ”مجھے اللہ نے سب کچھ دیا ہے ۔ عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وزیراعظم بننے کی خواہش رکھتا ہوں”۔ پاکستان کا وزیراعظم بننا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ معین قریشی،ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز سے پہلے بھی بہت وزیراعظم بن گئے اور بعد میں بھی بنتے رہے ہیں اور شاید پھر بھی بنتے رہیںگے لیکن عمران خان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اب وزیراعظم کی دولاکھ روپے اور مراعات پر مشکل سے گزارا ہورہاہے تو پہلے کونسی دکان چل رہی تھی جو اب وزیراعظم بننے کے بعد بند ہوگئی ہے۔ جب بنی گالہ کا گھر تک بھی یہودن جمائما خان نے گفٹ کردیا تھا اور وہ متاع عزیز عورت بھی جب ہاتھوں سے نکل گئی ہے تو پھر جہانگیر ترین کے ٹکڑوں پر گزارا کیا اور اب اس متاع عزیز کو بھی کھو دیا ہے تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ ” وہ جو کہتا تھا کہ اللہ نے سب کچھ دیا ہے وہ امپائر کی انگلی کی طرح اینویں سیاسی بکواس ہی کا معاملہ تھا؟”۔
پاکستان کی ایک سرحد پر کشمیر اور دوسری سرحد پر ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہے اور اس کو بیرونی خطرات سے زیادہ اپنے اندر کے ناکام سیاسی، ریاستی ، معاشی اور معاشرتی نظام سے خطرات لاحق ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور (PTM)کے منظور پشتین کے جنوبی وزیرستان میں ایکدوسرے سے تضادات اور خلفشار عوام کے سامنے کھل کر سامنے آئے لیکن دونوں نے بڑے مہذب انداز میں سیاسی شعور کا ثبوت دیکر عوام کے جذبات کو مشتعل نہیں کیابلکہ دلائل سے اپنا اپنا مؤقف پیش کردیا۔ محسود قوم بہت سیاسی اور فطری شعور سے مالامال ہے، اگر کوئی اشتعال انگیزی کی کوشش کرتا تو عوام کی نظروں میں اسی نے گرجانا تھا۔
محسود قوم کی تاریخ میں یہ پہلے قومی سیاست کے تاریخی جلسے تھے۔ عوام کے شعور میں خاطر خوا اضافہ بھی ہوا ہوگا۔جب پہلی مرتبہ ہمارے گاؤں جٹہ قلعہ گومل میں میرے بھائی پیرنثار نے جمعیت علماء کا جلسہ کروایا تھا تو مولانا فضل الرحمن نے پرتکلف دعوت کو دیکھ کر مجھ سے کہا تھا کہ” اس کو آپ ناشتہ کہتے ہیں؟”۔ ایک محسود حاجی نے میرے بھائی سے کہا تھا کہ ”پیر صاحب ! اس دعوت کے یہ لوگ مستحق نہیں ہیں، ان کیلئے ایسا شوربہ ایسے برتن میں رکھا جائے کہ کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو اس میں ڈبودیں”۔ میرے بھائی کو غصہ تو بہت آیا مگر گھر بلائے ہوئے مہمان کی عزت کا مسئلہ سمجھ کر بات رفع دفع کردی۔ میرے ایک مجذوب قسم کے بھتیجے نے اس وقت کہا تھا کہ جب بینظیر بھٹو کے دوسری مرتبہ دورِ حکومت میں پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمن نے شرکت اختیار کی تھی کہ ” اپنے چچا سے ڈر لگتا ہے ،ورنہ دل چاہتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے چوتڑ کے نیچے بم رکھ دوں جو اس کے چھیتڑے اُڑائے اور پھر اس کے جوتے، رومال اور واسکٹ بھی بینظیر بھٹو کو بھیج دوں کہ یہ سنبھالو اور اپنے پاس تبرک کیلئے اب رکھ لو”۔
اب مولانا فضل الرحمن نے اونچی اُڑان بھر لی اور وہ وقت گیا جب کوئی محسود حاجی اس طرح کی بات کرتا تھا لیکن گئے وقت کی یادوں سے شعور اور کسی بھی طبقے اور قوم میں شدت پسندی کے رحجانات کا پتہ چلتا ہے۔ جب روس کے دور میں افغانستان کے اندر لڑائی تھی تب بھی پختونخواہ میںعوام دھماکوں کا شکار بنتی تھی اور جب امریکہ آیا تب بھی عوام دھماکوں کا شکار بنتی تھی۔ پہلے قوم پرست اور بعد میں مذہب پرست دھماکوں کی نظریاتی حمایت کرتے تھے اور مجذوبوں کو ہی پیسے دیکر دھماکوں میں استعمال کیا جارہاتھا اوراصل غلطی ہماری اپنی ہی تھی۔
مولانا فضل الرحمن، منظور پشتین، محسن داوڑ اور دیگر اپنی بات کو بڑی شائستہ انداز میں پیش کرتے ہیں لیکن پھر مجذوب ، نیم پاگل اور جنونی قسم کے لوگ پیسہ لیکر دھماکوں کیلئے استعمال بھی ہوتے ہیں۔ دوسری قوموں کی عورتیں اور لڑکیاں ناچ گانوں کیلئے استعمال ہوتی ہیں اور پشتونوں میں لڑکوں کو ناچ گانے میں اسی طرح استعمال کرنے کا رواج تھا جس کو ناٹوائی کہاجاتا تھا۔ جس قوم میں ناٹوائی ملتے ہوں تو اس میں دوسرے کاموں کیلئے کیا کیا کس کس کام کیلئے لوگ نہیں ملتے ہونگے؟۔ دوسروں کو براکہنے سے پہلے اپنے گریبانوں بھی میں جھانکنے کی سخت ضرورت ہے۔جو قوم اپنا احتساب نہیں کرسکتی ہے وہ انقلاب نہیں لاسکتی ہے۔
جب شیعہ نے ایرانی انقلاب برپا کردیا تو سب سے پہلے احتساب کے عمل سے گزرنا پڑا۔ شیعہ مسجد کے امام کو پیش نماز کہتے تھے لیکن پھر پہلی مرتبہ آیت اللہ خمینی کو اپنا ” امام ” بنانے کا اعلان کردیا تھا۔ ورنہ شیعہ کسی کو بھی حضرت علی سے مہدی ٔ غائب تک بارہ اماموں کے علاوہ 13واںامام کہنا شرعاً غلط سمجھتے تھے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے طالبان اگر اپنی پوری پود ختم کرکے تاریخ کا ایک ورق بننے کی بجائے اپنے آپ کو تاریخ میں زندہ وتابندہ رکھنا چاہتے ہیں تو وہ حکومت کے حصول کیلئے لڑنے مرنے کے بجائے اپنی زبردست اصلاحات کا اعلان کردیں۔ مولانا فضل الرحمن نے خراسان کے دجال کی حدیث نکال کر ان پر فٹ کردی تھی لیکن وہ اب خراسان کے مہدی کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ حدیث ہے کہ ” اسلام اور اقتدار دوجڑواں بھائی ہیں، جو ایکدوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتے ہیں۔ اسلام بنیاد ہے اور اقتدار اس کا محافظ ہے”۔ اسلام وہ دین ہے جس میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں ۔ زبردستی کا اقتدار اسلامی نہیں۔ اسلام دین ہے اور دین کا تعلق اللہ کی وحی اور رسول اللہۖ کی سنت سے ہے۔ اقتدار باہمی مشاورت اور انسانوں کی مرضی سے نظام ِ حکومت تشکیل دینے کا نام بھی ہے اور فرعونیت اور ظالمانہ نظام کو بھی اقتدار کہتے ہیں۔ مکی دور میں اقتدار نہیں تھا اور مدنی دور میں مسلمانوں کو عوام کی مرضی سے اقتدار ملا۔ اگر انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت طاقت کے زور پراقتدار حاصل کرتے تو یہ خلافتِ راشدہ کا نظام نہیں ہوتا۔ بعد کے ادوار نے خاندانی بنیادوں پر زبردستی سے ایکدوسرے کو قتل کرکے اقتدار پر قبضے کئے تو وہ طرزِ نبوت کی خلافت کا منہاج نہیں کہلایا۔
اگر داڑھی، پردے ، نماز اور دوسری چیزوں میں زبردستی کے اسلام سے اب افغان طالبان ہٹ گئے ہیں تو زبردستی سے اقتدار پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیں۔ یہ ہماری طرف سے خیرخواہی کا مشورہ ہے۔ افغان حکومت سے جنگوں میں بہت سارا اپنا جانی نقصان کرنے کے بعد پھر وہ جمہوری بنیادوں پر جنگ جیتنے کے قابل نہیں رہیںگے۔ امریکہ کے نکل جانے کے بعد دنیا میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے کابل میں ڈاکٹراشرف غنی جیسے دلیر افغان، پٹھان اورمسلمان کیساتھ مل بیٹھ کر مہذب اپوزیشن کا کردار بھی ادا کریں جو توپ اور میزائل کے گھن گرج میں جلسہ چھوڑ کر نہیں بھاگتا ہے اور نہ ہی نماز میں اس پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے صدارتی محل میں حملوں پر خوشی کا اظہار بھی غلط ہے اور فیصل مسجد میں صدر عارف علوی کا عید کی نماز میں غلطی سے امام سے پہلے اپنے ساتھیوں سمیت رکوع میں جانے پر مذاق اُڑانا بھی غلط ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین کا پشتو ن قوم، افغانستان وپاکستان اور دنیا کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ذاتی نوک جھونک کی بجائے وہ نظریہ اور عقیدہ ضروری ہے جو نہ صرف اپنے علاقے، ملک اور خطے کو بلکہ پوری انسانیت کو نجات کے راستے پر ڈال دے اور یہ اصلی اسلام ہے۔ ہر گھر میں کوئی مذہبی ،کوئی سیکولر، کوئی سیاسی ، کوئی غیرسیاسی اور کوئی تحریکی ، کوئی سرد مہری والاہوتا ہے۔ پھولوں کے اختلاف رنگ وبو سے ہی گلشن کی زینت ہے۔ اگر طالبان معروف افغان کامیڈین کو قتل کرنے کے بجائے اپنے اسٹیج سے کامیڈی کرواتے تو عوام کو افغان طالبان کی فکر میں انقلابی اور خوشگوار تبدیلی دکھائی دیتی۔ ایک صحابی جو لوگوں کو ہنساتے تھے ، نبیۖ نے اس کا نام حمار رکھا تھا لیکن اس کو برا بھلا کہنے سے بھی نبیۖ نے روک دیا تھا کہ مسلمانوں سے اور نبیۖ سے محبت رکھتا تھا۔ منظور پشین کی ٹیم میں شامل طالبان کامیڈین کی فیک ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین ومحسن داوڑ کا اختلاف سنجیدہ بات نہیں۔ جب امریکہ آیا تو علماء وطلباء سے زیادہ عوام نے بھڑکیاں مار یں۔ علماء وطلباء نے چندے زیادہ کھائے اور جہاد کم کیا لیکن عوام نے بڑے پیمانے پر طالبان کا ایسا ساتھ دیا کہ ریاست سمیت پوری قوم اور سیاسی قیادت بھی ان کی حمایت پر مجبور تھی ،یہ حمایت بھی دل وجان ہی سے تھی اور پھر رفتہ رفتہ فضاء بدل گئی اور طالبان کو ISI کی سازش کا نتیجہ قرار دیا جانے لگا۔ اپنی پوٹی پر دوسرے کے بڑوں کو بچوں کی طرح پدو مارنے کیلئے نہیں بٹھایا جاسکتا۔ پختون طالبان ایکدوسرے سے انتقام لے رہے تھے۔ پھر سارا الزام فوج پر لگادیا کہ ”یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے”۔ آج مولانا فضل الرحمن اور منظور پشتین سرینڈر طالبان کے سامنے سرنڈر ہیں اور امریکہ کے نکل جانے کے بعد افغانی لڑرہے ہیں۔
جب خڑ کمر میں( PTM)کے کارکن یا عوام مارے گئے تو محسن داوڑ نے جہاد کا بھی اعلان کردیا مگر پھر رضا کارانہ طور پر اپنی گرفتاری دیدی۔ عبداللہ نگیال بیٹنی اور بنوں کے حاجی عبدالصمد خان کے بیانات سوشل میڈیا پر آگئے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ (PTM)کی مرکزی قیادت میں کتنا تناؤ ہے جو پوری پشتون قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکرنے کا عزم لئے ہوئے ہیں؟۔ اگر محسن داوڑ نے واقعی دتہ خیل کے جلسے میں منظور پشتین کی تقریر سے پہلے کہا تھا کہ جلسہ ختم ہواہے اور نہ صرف خود چلے گئے بلکہ دوسروں کو بھی جانے کا کہا تھا اور پھر مکین کے جلسے میں بھی زبردستی سے بن بلائے مہمان بن کر نہ صرف شرکت کی بلکہ تقریر بھی کرلی ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ یہ پشتون قوم کو کس طرح متحد کریںگے؟۔
عبداللہ نگیال نے(PTM)پر آپس کی قوم پرستی کے شدید الزامات لگائے اور عبدالصمد خان نے کھلی بدمعاشی اور گالی گلوچ کے الزامات لگائے۔ منظور پشتین ایک شریف انسان ہیں لیکن انقلابی تحریکیں تبلیغی جماعت کی طرز پر نہیں چلائی جاسکتی ہیں۔ انقلاب کیلئے اپنی خامیوں کو اصول کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جاتی ہے بلکہ اپنی خامیوں پر قابو پاکر ہی قوم کو ایک مثبت انقلاب کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ چل گیا کہ اپنی وکالت اور مخالف کی اچھائیوں کو بھی برائیوں میں بدل دیں۔ اسلام نے سب سے پہلے عرب قوم کو جاہلیت سے نکالا تھا۔ آج اگر اصلاح کی جگہ پر مفادات کی بنیاد پر لڑائیاں شروع ہوں گی تو جس طرح طالبان اپنے وقت کی پیداوار تھے اور پھر وہ اپنے لئے بڑی مصیبت بن گئے ، اپنی قوم کیلئے مصیبت بن گئے اور جس امریکہ سے لڑائی تھی اس سے صلح ہوگئی۔ محسن داوڑ نے عوامی نیشنل پارٹی کے بعد (PTM)اور پھر اپنی نئی پارٹی میں پشتون اور پنجابی سب کو شامل کیا ہے۔ جو خوش آئند بھی ہے لیکن پھر وہ کم ازکم زبردستی (PTM)کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنے سے تو دریغ کرتے مگر وہ پھر بھی ایک پختون ہے اور پشتونوں کی جنگ اس انداز سے لڑرہاہے؟۔
فرقہ واریت، جہاد،قبیلہ پرستی ، کمیونزم ، اسٹیبلیشمنٹ مخالف نظریاتی رہنما وکارکن اور پدر شاہی نظام کے خلاف آواز اُٹھانے والوں سے پنجاب اور سندھ بھرا پڑا ہے لیکن پختون اور بلوچ نہ صرف ہتھیار اُٹھالیتے ہیں بلکہ آپس کی دھڑے بندیوں میں تقسیم ہوکر ایکدوسرے کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن کچے پودوں کی طرح چبانے اور(PTM)آپس کی چپقلش میں مبتلاء ہو تو الزام کس کے سر آئے گا؟۔ کامریڈلعل خان اورعاصمہ جہانگیرکی طرح نظریاتی لوگوںاور اسلامی جمعیت طلبہ،لشکر طیبہ، جیش محمد، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد جیسی تنظیموں سے پنجاب بھرا پڑا ہے لیکن کرائے کے قاتل اور جنونی ہم ہی کیوں؟۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اگر بھارت نے افغان حکومت کی حمایت کی اور پاکستان نے افغان طالبان کی حمایت جاری رکھی تو دونوں ملک اپنے پیروں پر ضرب لگائیں گے۔

مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے، مولانا معراج الدین قریشی اور مولانا نور محمد کو شہید کرنے کی وجہ نظرئیے و عمل کا اختلاف تھا جو خراسان کے دجال کی حدیث فٹ کی تھی یا مفتی عزیزالرحمن اورصابرشاہ کے کردار کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا تھا؟، بتادیا جائے!

آج پوری دُنیا میں عالمی قوانین، اخلاقیات، مذاہب اور انسانیت کی تباہی اور بربادی سے انسانوں، حیوانوں، جنگلات اورنباتات کے ذخائر کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ نے 1990ء میںصدام حسین کو کویت پر قبضے کا اشارہ دیا اور پھر تیل کے ذخائر میں شراکت داری کی قیمت پر کویت سے عراق کو نکال باہرکیا تھا۔پشتو کا مشہور خطیب جمعیت علماء اسلام ف کے صوبائی نائب امیر مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتا تھا کہ” روس اسلئے تباہ ہوا کہ افغانستان میں صحابہ کرام کی قبروں پر اس نے بمباری کی تھی اور امریکہ اسلئے تباہ ہوگا کہ عراق میں اس نے اہلبیت کی قبروں پر بمباری کی ہے۔ عراق کو شکست نہیں ہو سکتی ہے اسلئے کہ عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی لڑرہا ہے”۔
مساجد میں علماء کرام، اللہ والوں اور قلندروں نے امریکہ کے خلاف فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنی شروع کردی تھی جس میں امریکہ کے شہری آبادیوں کو بد دعاؤں سے تباہ وبرباد کرنے کے رقت آمیز مناظر ہوتے تھے اور مسلمانوں کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتوں کے اُترنے کی باتیں ہوتی تھیں۔ جب امریکہ نے کویت سے معاہدہ کرکے تیل کے کئی قیمتی ذخائر پر قبضہ کرلیا تو عراق سے نکل گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ صدام حسین نے امریکہ کو شکست دی۔ دجالی میڈیا نے یہ اُجاگر نہیں کیا کہ امریکہ اپنے مقصد کویت میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ لوگ اپنے بیٹوں کا نام صدام رکھ رہے تھے۔ امریکہ نے پھر اسامہ بن لادن کے بہانے افغانستان پر حملہ کیا اور ساتھ میں عراق، لیبیا اور شام کو کچلتے ہوئے تیل کے قیمتی ذخائر کو اپنے ہاں منتقل کردیا۔ جب کرونا کی وجہ سے پہیہ جام ہوگیا تو امریکہ میں تیل کی قیمت اسلئے منفی سے بھی نچلی سطح تک پہنچ گئی یعنی تیل کیساتھ ساتھ ڈالر بھی ملتے تھے۔ آج امریکہ افغانستان اور عراق سے نکل رہاہے اور ہمارے مذہبی بہروپئے دانشور کہتے ہیں کہ ایمان کی طاقت نے امریکہ کو شکست دیدی ۔ یہ کونسی شکست ہے کہ طالبان اتنے کنارے لگے کہ آج وہ اپنے اس ایجنڈے سے ہی دستبردار ہوگئے، جس کی بنیاد پر انہوں نے پوری افغان قوم کو یرغمال بنایا ہوا تھا؟۔ جب داڑھی، نماز، پردہ، تصویر اور ان سب معاملات سے دستبردار ہوگئے تو پھر حکومت کے حصول کیلئے افغان مسلمان بھائیوں کے مرنے اور مارنے کا جواز کس لئے ہے؟۔ جس پاکستان نے امریکہ کے پٹھو کا کردار ادا کیا اس کو اپنا باپ بناکر کس سے دشمنی کی جارہی ہے؟۔ ایک طالبان خطیب کہہ رہا تھا کہ ”امریکہ نے قرآن کی توہین کی ہے اسلئے امریکہ سے دشمنی طالبان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے”۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ” اس امریکہ کیساتھ تو تمہاری صلح ہوئی اور اس کیساتھ عرصہ سے تمہارے اکابرین قطر میں بیٹھ کر پلاننگ کر رہے ہیں”۔ کچھ طالبان پاکستان کو دھمکارہے ہیں کہ ” تم کافرستان کیلئے ہمیں فارغ ہونے دو، پھر تمہارے ساتھ بھی دیکھ لیںگے”۔ یہ سارے متضاد معاملات تاریک مستقبل کا پیشہ خیمہ ہیں۔
قبائل تحفظ موومنٹ کے ملک حسین آفریدی نے سوشل میڈیا ٹی وی کو جنرل حمید گل کے بیٹے عبداللہ گل سے پہلے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ” افغان جنگ میں دو فیصد بھی پنجابی اور سندھی نہیں مرے ہیں ،سب کے سب پشتون مرے ہیں۔ اگر افغان حکومت اورطالبان کے درمیان صلح کیلئے قبائل کو ذمہ داری سونپ دی گئی تو ایک ہفتے میں صلح کی گارنٹی دے سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ دوسرے لوگ اُنگلی بازی اور مداخلت سے رُک جائیں”۔ جبکہ عبداللہ گل نے کہا کہ ”حکومت کو چاہیے کہ قبائل کو بھی اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح معیاری زندگی کا حق دے۔ پہاڑوں اور جنگلات کی خوبصورتی اللہ نے دی ہے حکومت نے نہیں دی، حکومت نے جنگلات بھی کاٹ ڈالے ہیں۔جب افغانستان میں طالبان تھوڑے سے خون خرابے کے بدلے اسلامی امارت قائم کرلیں تو اسکے اثرات پاکستان پر بھی پڑیںگے۔ یہاں کا مغربی جمہوری نظام بھی طاقت کے زور سے پھر بدلا جائیگا”۔ ایک سوال کے جواب میں عبداللہ گل نے کہا کہ” یہاں لوگ خون خرابہ چھوڑ کر حقو ق کیلئے جمہوری جدوجہد کریں”۔ ابوسفیان محسود قبائل تحفظ موومنٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ”پشاور میں پشت خرے ، متنی وغیرہ کے ایک ایک تھانے میں جتنے جرائم ہیں ،تمام قبائل میں مجموعی طور پر بھی اتنے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم پاگل ہیں کہ اس نظام کو اپنے ہاں لائیں ؟”۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”قوم پرستوں کے باپ دادا کا کرداربھی مجھے معلوم ہے ۔ ببرک کارمل، نور محمدترکی، حفیظ الامین اور ڈاکٹر نجیب اللہ نے کابل میں ایکدوسرے کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو یہ ہر قاتل کا سرخ جھنڈوں سے استقبال کرتے تھے۔ یہ افغانستان میں کونسے امن کے خواہاں ہیں؟۔ مجھ پر 25 سالوں سے قبائل میں آنے پر پابندی تھی اور اس پابندی کا مقصد یہ تھا کہ قبائل کے دل سے فضل الرحمن کو نکال سکیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مدارس اور علماء کے دشمن اور مذہب سے بیزار ہیں لیکن یہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ افغانستان کے طالبان کل بھی مجاہد تھے جب وہ روس کیخلاف لڑرہے تھے ، آج بھی مجاہد ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین سے امریکہ کوشکست دیکر نکالا ہے۔ البتہ میں ہمیشہ افغانستان کے داخلی معاملات میں صلح کا خواہاں رہا ہوں۔ جب بھی کسی وفد نے مجھ سے رابطہ کیا ہے تو افغانیوں کے درمیان صلح کی بات کی ہے۔ طالبان کو فوجی ترجیح حاصل ہے لیکن وہ قوت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بجائے صلح کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آج جو لوگ اشرف غنی کی حمایت کررہے ہیں کل یہ لوگ اس کو افغانستان کا بھگوڑا اور امریکہ کا ایجنٹ کہتے تھے۔ اور یہ جو نئے نئے پودے اُگے ہیں ان کو لوگ پکاتے بھی نہیں بالکل کچا چباجاتے ہیں”۔
اگر افغان حکومت کی بھارت اور طالبان کی پاکستان نے مدد کا سلسلہ جاری رکھا تو دونوں ممالک اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارینگے۔ امریکہ کی منصوبہ بندی یہی لگتی ہے کہ خوشحال عراق ، لیبیا اور شام کے ممالک کو تباہی کے کنارے پہنچانے کے بعد تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا گیا اور اب برصغیر پاک وہنداور چین میں جنگ کا ماحول برپا کرکے اپنے اسلحے کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جارہاہے۔ جس طرح میڈیسن کی گولیاں اور دوائیاں ایکسپائر ہوجاتی ہیں،اسی طرح بارود کی گولیاں اور گولے بھی ایکسپائر ہوتے ہیں۔ دولتمند ممالک انسانیت اور اخلاقیات کو تباہ کرکے بھی اپنے مفادات اٹھاتے ہیں۔ہمارے حکمران وسیاسی لیڈر ہوش کے ناخن لیںاور عوام کو اپنے مفادات اور تضادات کی چکیوں میں پیسنے کی بجائے شعور کی دولت سے نوازیں۔ جنوبی وزیرستان محسود علاقہ کے صدر مقام مکین میں مولانا فضل الرحمن کایہ پہلا جلسہ تھا۔ پہلے وہ الزام لگاتے تھے کہ”( PTM) اسٹیبلشمنٹ کی ایجنٹ ہے، اسلئے وہ جلسے کرتی ہے” اور اب شاید اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا گیا کہ” کل کے اُگنے والے پودوں کو ہم کچا چباڈالیں گے”۔
وزیرستان کی سر زمین پر مولانا فضل الرحمن کی آمد سے پہلے (PTM)کے رہنما حیات پریغال نے تقریر میں کہا کہ ” آنکھیں بند کرکے (PTM)پر بھی اعتماد مت کرو۔ جو لوگ بھی یہاں امن، کاروباراور زندگی کی بحالی لیکر آئیں وہ وزیرستان اور ہمارے علاقہ کے خیر خواہ ہیں۔ وہ فوجی ہوں یا کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ، ہمارے لئے قابل قبول ہیں لیکن جو پھر تباہی اور بربادی کی باتیں کریں تو ان پر نظر رکھیں۔ جن لوگوں کو قوم نے نمائندگی کیلئے چن لیا تھا تو ان سے سوال کرنا ہمارا حق بنتا ہے کہ ہمارے لئے تم نے کیا کیا تھا؟”۔
متحدہ قبائل تحفظ موومنٹ کے شیرپاؤ محسودایڈوکیٹ نے کہا کہ ” جب یہاں مسلح طالبان لوگوں سے زبردستی کھانے لیکر جاتے ہیں اور فوج بھی مسلح ہے لیکن نہتے عوام اس جنگ میں دونوں طرف سے نشانہ بنتے ہیں تو ہماری چاہت یہ ہے کہ طالبان اور فوج میں صلح ہونی چاہیے”۔ سابق سینیٹر مولانا صالح شاہ نے کہا کہ ”پاکستانی طالبان کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی صلح میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی ادا کریںگے لیکن جب آرمی چیف اور افسران مل بیٹھ کر بات کرنے پر رضامندی ظاہر کردیں”۔جتنے منہ اتنی باتیں ہیں مگر مسائل کا یہ حل نہیں ہیں۔ مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ کی ویڈیوز سب نے دیکھ لی ہیں اور اب اگر کل یہ لوگ مدارس کے مسائل حل کرنے پر بات کرینگے تو انکے آگے ہاتھ جوڑ کرکہا جاسکتا ہے کہ تم بذاتِ خود مسائل ہو ،مسائل حل نہیں کرسکتے ۔ متحدہ مجلس کی حکومت میں مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو دجال کا لشکر قرار دیا تھا مگر حکومت میں ہونے کے باوجود کوئی مسائل حل نہیں کئے ،البتہ کرپشن کی ہے۔
محسود اور پختون کسی اور نہیں اپنے ہاتھوں سے خود تباہ اور برباد ہوگئے تھے۔ اگر خوف یا لالچ سے اپنے چھوٹے بچوں کو بڑے سجن کے ہاتھ میں نہ دیتے تو نہ ان کی اولاد بے ضمیری کا شکار بنتی ہے اور نہ ہی سجن لوگ جہاد فی سبیل اللہ کی جگہ بے راہروی کا شکار بنتے۔ لاہور و ملتان سے گورنر سلمان تاثیر و وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے بیٹوں کو اغواء برائے تاوان کیلئے افغانستان لیجانے والے اسلئے اچھے نہیں بن سکتے کہ برطانوی خاتون صحافی نے انکے سلوک کو سلام پیش کیا۔ افغان طالبان کے علاوہ پاکستانی طالبان نے ایک پشتون لیڈی ڈاکٹر کو اغواء برائے تاوان سے بھی گریز نہ کیا۔ امریکہ کے خلاف جنہوں نے جنگ لڑی ان کو ہم سلام پیش کرتے ہیں لیکن اسامہ گھر میں مارا گیا اورملاعمر گھر میں مراتھا۔ ملا برادر پاکستانی جیل میں تھااور طالبان قائدین قطر میں اورلڑائی کل بھی افغانوں اور آج بھی افغانوں میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا کباڑا ہوگیا اور امریکہ اور نیٹو کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ نیٹو میں شامل ترکی کا طیب اردگان افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کیساتھ افغان طالبان کیخلاف شانہ بشانہ تھا تب بھی وہ عالم اسلام کا عظیم مجاہد تھا۔ منافقت اور سیاست سے نکل کر ہمیں سچائی کی ڈگر پر آنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو حدیث کے مطابق خراسان کے دجال کا لشکر کہا تھا تو پاکستان کے میڈیا نے اس کو شائع نہیں کیا۔ اکرم خان درانی، مولانا نور محمد وزیر شہید ، مولانا معراج الدین قریشی شہید اور مولانا فضل الرحمن پر حملے کرنے والے طالبان اسلئے حملہ نہیں کررہے تھے کہ انکا کردار مفتی عزیزالرحمن کا تھا اور دہشت گردوں کا کردار صابرشاہ کا تھا بلکہ نظرئیے اور عمل کا اختلاف تھا اور کل اور آج کے مولانا فضل الرحمن میںکو ئی تضاد ہے تو یہ وہ سیاست وشریعت ہوسکتی ہے جو مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی سے کہا تھا کہ” تصویر حرام ہے اور قطعی حرام ہے لیکن کیمرے کی تصویر میں علماء کااختلاف ہے اوراس کا ہم فائدہ اٹھالیتے ہیں”۔جب یہ اختلاف نہ تھا تب بھی تم نے اور تمہارے باپ اوراکابر نے اس کا فائدہ اٹھایا تھا۔ یہ کھسیانی بلی کھمبہ نوچے والی بات ہے۔
جب نبیۖ سے عورت نے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی تو اللہ نے قرآن میں سورۂ مجادلہ کے عنوان سے اسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ بناکر پیش کردیا۔ اپنی غلطیوں پر شیطان ڈٹ جاتا ہے۔ انسان کو شیطان بن کر ڈٹنے کی بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرکے آدم و حواء کی صحیح اولادکا ثبوت دینا چاہیے۔ قابیل اور ہابیل نبی حضرت آدم کے بیٹے تھے۔ قابیل کا کردار کوئی بھی ملک، طبقہ اور فردادا کرے تووہ قابلِ فخر نہیں اس کو توبہ کی دعوت دینی چاہیے۔
اوریا مقبول جان اور سوشل میڈیا کے جو ایکٹوسٹ امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان کے ایمان کو مثالی قرار دے رہے تھے وہ خود اللہ پر بھروسہ کرکے افغان طالبان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار نہیں۔ آج بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی خبر آرہی ہے اور دونوں طرف سے اللہ اکبر کے نعرے لگ رہے ہیں۔ جب پیر پگارا کی پتنگ کو ایک لڑکی نے کاٹا تھا تو یہ شاید پیرپگاراکی حکمت عملی تھی اور وہ اپنی بوڑھی بیگم کو طلاق دے کر نئی شادی کرنا چاہتا تھا۔ اللہ کی مدد کشمیر ، فلسطین اور پاکستان میں لڑنے والے ٹی ٹی پی کو کیوں نہیں ملی؟۔ جب تک مسلمان اپنے علم و عمل کو درست نہیں کریں گے تو اللہ کی مدد کہاں سے آئے گی؟۔ پہلے ہمیں اپنا علم و عمل درست کرنا ہوگا اور حق بات اور صبر کی تلقین کرنی ہوگی پھر مدد آئے گی۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان کے گرینڈ مفتی مفتی محمد رفیع عثمانی نے لکھا کہ "خدا کے رسول نے فرمایا کہ حکمران اور رہنما دجال سے بھی بدتر ہوں گے۔”

مذہب، ریاست اور سیاست کے اشرافیہ کا گٹھ جوڑ اور عوام کے استحصال کابدترین نظام مگر سدھار کیلئے کوششیں جاری ہیں؟

آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا تو مسلم لیگ ، جمعیت علماء اسلام (س) ، جماعت اسلامی، سپاہ صحابہ اور نیشنل پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی جتوئی وغیرہ اس میں شامل تھے۔ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر اور( MRD)میں پیپلزپارٹی کے نمائندے جس نے پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر اپنی پیپلزپارٹی بنائی تھی۔ حیرت انگیز طور پر غلام مصطفی جتوئی اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر اور مولانا سمیع الحق سینئر نائب صدر تھے اور نوازشریف کی حیثیت پنجاب تک تھی۔ غلام مصطفی جتوئی نے الیکشن ہارا اور مولانا سمیع الحق نے نوازشریف کے حق میں وزیراعظم کا عہدہ چھوڑدیا۔ جماعت اسلامی اور نوازشریف کا چولی دامن کا ساتھ تھا۔ مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل اخبارات کی زینت بن گیا۔
یہ شریعت ، ریاست اور سیاست کا کمال تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو اپنے مکتبۂ فکر کے اکابرین نے اسلئے کافر قرار دیا کہ ایم آر ڈی میں پیپلزپارٹی کے شامل ہونے کے باوجود شمولیت کیوں اختیار کی ہے؟۔ جس طرح افغانستان میں خلق پارٹی کیمونسٹ ہے ، اسی طرح پیپلز کا مطلب بھی خلق ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع والد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مشرقی و مغربی پاکستان کے مشاہیر علماء نے بھی 1970ء میں فتویٰ لگایا تھا۔مولانا سمیع الحق میڈم طاہرہ اسکینڈل کی وجہ سے اپنا منہ دھونے کے قابل نہ تھے لیکن نوازشریف طاہرہ سید اسکینڈل کے باوجود شریف رہے۔ جس پر بعد میں رنگیلا وزیراعظم باقاعدہ کتاب بھی چھپ گئی ۔
جب بینظیر بھٹو کی فیک ننگی تصاویر سے لیکر بلاول بھٹو تک کو نہیں چھوڑاگیا تھا لیکن مذہبی ٹھیکیداروں کے سپر وائزرنوازشریف اپنے تمام کرتوتوں کے باوجود اسلامی ریاست کا سب سے بڑا قائد ، بادشاہ، خلیفہ اور امیرالمؤمنین بننے کا خواب دیکھ رہاتھا۔ تاریخ میں محمدشاہ رنگیلا اور خلیفہ سلطان عبدالحمید جیسے لوگ بھی بڑے منصبوں پر فائز رہے ہیں جن کے مشاغل حرم سراؤں کو سینکڑوں اور ہزاروں داشتاؤں اور لونڈیوں سے بھرکر انتہائی عیاشیوں اورفحاشیوں سے بھرپور تھے۔ ایسے میں نوازشریف کے کرتوت سے بھی ہاتھی کے دکھانے والے دانتوں پر جوں رینگنے سے فرق نہیں پڑسکتا ہے۔ البتہ ایک خاص انکشاف کی بات یہ ہے کہ مریم نواز اپنے کزن حمزہ شہباز سے میڈیا کے سامنے بغلگیر ہوتی ہے لیکن ن لیگ کے کارکن کے چھوٹے دماغ اس کو محض پروپیگنڈہ سمجھتے ہیں کہ ن لیگ کی جو اصل اور نقل قائد مریم نوازہے وہ اپنے شوہر کیپٹن صفدر اعوان سے فاصلہ رکھتی ہے تو اپنے کزن سے کیسے اس طرح بغل گیر ہوسکتی ہے؟۔
بعض مسلم لیگی رہنماؤں اور صحافیوں نے اس کو پنجاب کا عام کلچر بھی قرار دیا ہے۔ اصل معاملہ کچھ اور ہی لگتا ہے۔ جب ہم جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتے تھے تویہ خبر درسگاہ میں ملی تھی کہ بعض خواتین دارالافتاء سے رجوع کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے دامادوں کیساتھ جنسی مراسم رکھے اور اب پتہ چلا ہے کہ ” اپنی بیوی اس کے داماد پر حرام ہوچکی ہے اور اس کیلئے فتویٰ سے رہنمائی لینا چاہتی ہے”۔ فقہ حنفی کا فتویٰ یہ ہے کہ واقعی اس طرح اسکے داماد پر اس کی بیٹی یعنی داماد کی بیوی حرام ہوچکی ہے۔ تین طلاق کے بعد حلالہ سے بیوی حلال ہوسکتی ہے لیکن حرمت مصاہرت کی وجہ سے شوہر کیلئے اس کی بیوی کبھی حلال نہیں ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری پر پہلے نوازشریف کو اعتماد تھا اور پھر مولانا سمیع الحق سے اچھے مراسم بن گئے اور اب مولانا فضل الرحمن کیساتھ شریف فیملی کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان سب کا مشترکہ اور متفقہ طور پر یہ فتویٰ ہے کہ حرمت مصاہرت کے بعد عورت اپنے شوہر کیلئے کسی طرح حلال نہیں۔
حرمت مصاہرت کے جو مسائل درسِ نظامی اور فقہ کی کتابوں میں ہیں اور ان پر فتویٰ دیا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ اور عوام کو پیش کئے جائیں تو ان کو مدارس اور علماء ومفتیان سے شدید نفرت ہوجائے گی۔ یہ تک بھی ہے کہ ” ساس کی شرمگاہ کے بیرونی حصے پر نظر پڑجائے اور نظر میں شہوت آجائے تو اس میں عذر ہے لیکن اگر شرمگاہ کے اندر پر نظر پڑگئی اور نظر میں شہوت آگئی توپھر حرمت مصاہرت ہوگی”۔ (نورالانوار۔ دیوبندی بریلوی مکاتب فکر نصابی بورڈ کا حصہ ہے)
بعض کو اعتراض ہے کہ ان باتوں کو اخبار کی زینت کیوں بنایا جاتاہے ؟۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بڑے مدارس قرآن وسنت کی واضح تعلیمات اور فطرت کے برعکس لوگوں کو فتویٰ دیتے ہیں کہ تمہارے منہ سے تین طلاق کے الفاظ نکل گئے ہیں اور تمہاری بیگم تم پر اس وقت تک حرام ہوچکی ہے کہ جب تک کوئی دوسرا مرد اسکے ساتھ دوسرانکاح کرکے اس کی شلوار اتار کر اس میں شہوت کیساتھ ڈال کر حلالہ کی لعنت کرے”۔
قرآن نے جن واضح الفاظ میں بار بار باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے طلاق کے بعد رجوع کا تعلق باہمی رضامندی اور عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد سے جوڑا اور باہمی رضاکے بغیر ایک طلاق کے بعد بھی رجوع کو حرام قرار دیا ہے اور حضرت عمر کا فیصلہ اور حضرات ائمہ اربعہ کا فتویٰ بالکل قرآن وسنت کے مطابق تھا لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ قرآن وسنت کے برعکس باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع کو بھی یہ یہودونصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلنے والے علماء ومشائخ حلالہ کی لعنت سے مشروط کردیں گے۔
اصول فقہ میں بنیادی اصولوں کے نام پر جو خرافات پڑھائے جاتے ہیں وہ مسلمانوں کیلئے انتہائی تباہ کن ہیں اور پھر جن متضاد قسم کے مسائل کا ذکر کیا ہے تو فرشتے بھی اس پر حیران ہونگے۔ مولانا سلیم اللہ خان لکھتے ہیں کہ ” اس اثرکا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے کسی بچے کیساتھ بدفعلی کا ارتکاب کیا تو اس کی ماں اس پر حرام ہوجائے گی ۔ سفیان ثوری، امام اوزاعی اور امام احمد بن حنبل اس کے قائل ہیں لیکن جمہور علماء کے نزدیک لواطت سے حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ اسلئے کسی بچے سے بدفعلی کے ارتکاب کے بعد بھی وہ شخص اس کی ماں کیساتھ شادی کرسکتا ہے۔ (ارشاد الساری ۔ کشف الباری )یہ بھی لکھا کہ ” وربائبکم اللاتی فی حجورکم من نساء کم اللاتی دخلتم بھن ” تمہاری وہ رضاعی بیٹیاں جو تمہارے حجروں میں ہیں ان تمہاری عورتوں سے جن میں تم نے داخل کیا ہے”۔ ………. امام عبدالرزاق نے مالک بن اوس سے روایت نقل کی ہے ،اس میں ہے کانت لی امرأة قد ولدت لی فماتت فلقیت علی بن ابی طالب فقال لی : مالک ؟ فاخبرتہ فقال: ألہا بنة؟ یعنی من غیرک قلت نعم،قال: فی حجرک ؟،قلت: لا،ہی من الطائف،قال: فانکحھا قلت: فأین قولہ تعالیٰ”وربابکم” قال: قال انھا لم تکن من حجرک (فتح الباری 197/9 ۔ کشف الباری صفحہ 209 )
ایک طرف ایسی روایات کو مضبوط قرار دینا جس سے اپنی سوتیلی بیٹی کیساتھ شادی کی باقاعدہ مضبوط ذرائع سے ترغیب ملتی ہو اور دوسری طرف حرمت مصاہرت کے ان عجیب وغریب مسائل کی ترویج کرنا کتنا بڑا افراط وتفریط ہے؟۔ علماء کرام نے اسلام کی اس طرح سے حفاظت کی ہے کہ قرآن وسنت کے خدوخال عوام کے سمجھادئیے ہیں باقی ان کے علم وعمل اور عقل وسوچ کادائرۂ کار امت کی نجات کیلئے کوئی کشتی نوح نہیں ہے بلکہ تفریق وانتشار اور گمراہی کا ذریعہ ہے۔
مولانافضل الرحمن نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ” دیوبند ایک مسلک کا نام نہیں بلکہ ایک مدرسے کا نام ہے اور جن لوگوں کی علمی اسناد مدرسہ دیوبند کی طرف جاتی ہیں وہ دیوبندی کہلاتے ہیں۔ جیسے ندوة العلماء کے علماء کو ندوی کہا جاتا ہے۔ دیوبند اصل میں اسلام کی اجتماعی سوچ وفکر کا نام ہے۔ جمعیت علماء اسلام دیوبند الجماعت ہے۔ جو یہ کہتا ہے کہ دوسری جماعتیں بھی دیوبند سے ہی تعلق رکھتی ہیں تو اس میں وحدت نہیں ہر جائی ہے۔ دین کا حکم یہ ہے کہ لیس دین الا بالجماعة ، لیس جماعة الا بالامارة ، لیس الامارة الا بالطاعة، علیکم بالجماعة ” دین نہیں ہے مگر جماعت کیساتھ، جماعت نہیں مگر امیر کیساتھ، امیر نہیں ہے مگر اطاعت کیساتھ اور تم پر جماعت کی اطاعت فرض ہے”۔ جمعیت علماء اسلام کے علاوہ دیگر جتنی دیوبند کے نام سے جماعتیں اور تنظیمیں بنی ہیں ان کی تائید کرنا دین سے بغاوت اور ہرجائی ہے”۔
مولانا فضل الرحمن نے جب میرے سکول کبیر پبلک اکیڈمی کا افتتاح کیا تھا تو مجھے دعوت دی گئی کہ میں ان کا شکریہ ادا کروں۔ مجھے پتہ چلا کہ بعض علماء نے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ میرے سکول کا افتتاح کیوں کررہے ہو؟۔ میں نے شکریہ ادا کرنے کیساتھ یہ عرض کیا تھا کہ جب علماء ومفتیان مولانا فضل الرحمن پر فتوے لگارہے تھے تب سے میرا مولانا فضل الرحمن کیساتھ ایک تعلق ہے ۔ لیکن مولانا فضل الرحمن نے جب ہمارے خاندان کی مذہبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عتیق جیسے اہل علم بھی ہیں لیکن میں علماء کیساتھ ہوں، جماعت سے جو الگ ہوا ،من شذ شُذ ( جو پھسل گیا وہ آگ میں پھسل گیا)”۔ مہمان کی حیثیت سے اسٹیج پر ان کی بے عزتی انسانی فطرت اور مذہب کے خلاف تھی مگر مولانا فضل الرحمن نے پہلے بھی اپنی جماعت کی شوریٰ میں ان احادیث کو اپنی جماعت پر ہی فٹ کیا تھا جو خلافت کے بارے میں ہیں اور جس کی وجہ سے وعیدیں بھی ہیں۔
میں نے اپنی کتاب ” اسلام اور اقتدار” میں احادیث کے مفہوم اور مقاصد کو واضح کیا اور آخر میں مولانا فضل الرحمن کا نام لکھ کر واضح کیا کہ عاقل کیلئے اشارہ کافی ہے۔ پھر جمعیت علماء اسلام کے ضلعی رہنماؤں اور ٹانک شہر کے اکابرعلماء کرام ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر وغیرہ نے ہماری تحریری تائید کی ۔ یہاں تک کہ جمعیت علماء اسلام کو چھوڑ کر میرے ساتھ خلافت کیلئے کام کرنے پر بھی آمادہ ہوئے تو مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے خلاف کچھ لوگوں کو استعمال کیا۔ مارپٹائی ، لڑائی جھگڑے اور پولیس وجیل اور پابندی تک بھی بات پہنچ گئی لیکن جب سارے حربے ناکام ہوگئے توپھر ہمارے گھر تشریف لائے اور واضح کردیا کہ میں اسکے پیچھے نہیں تھا۔ ہم نے اس سے پہلے JUI پر احادیث کو غلط طور پر فٹ کرنے کی اخبار میں وضاحت بھی کی تھی۔
اب پھر مولانا فضل الرحمن نے اپنے پرانے مؤقف کو دہرایا ہے۔ ہم طالبان اور سپاہ صحابہ کیساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود بھی خیر خواہی رکھتے ہیں اور دین کا یہ تقاضہ ہے کہ سب سے خیر خواہی رکھی جائے۔ داعش بھی اپنے اوپر خلافت ہی کی احادیث فٹ بٹھاتی ہے۔ حزب التحریر ،جماعت المسلمین اور دوسری تنظیمیں بھی یہ کام کرتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعیت علماء ہند کے مقابلے میں جمعیت علماء اسلام بنی تھی تو ایک جماعت سے دوسری جماعت میں کس نے چھلانگ لگائی؟۔ دوسری بات یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے امیرمولانا عبداللہ درخواستی کا مقابلہ کس نے کیا تھا؟۔ تیسری بات یہ ہے کہ مولانا حق نواز جھنگوی ایک طرف سپاہ صحابہ کے امیر شریعت تو دوسری طرف جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر کیسے تھے؟۔ جبکہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری احرار کے امیر شریعت تھے اور جمعیت علماء ہند اور جمعیت علماء اسلام سے تعلق نہ ہونے کے باجود ان پر باغی اور آگ میں پھسلنے کا فتویٰ کسی نے نہیں لگایا تھا؟۔
مولانا فضل الرحمن پہلے بینظیر زدہ، پھر زرداری زدہ اور مریم نواز زدہ ہوگئے ہیں اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں؟۔ اگر کسی قادیانی ڈاکٹر مبشر سے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کی دوستی میں اپنے دل کے وال بدل سکتے ہیں تو پھر کسی اچھے ماہر امراض مسلمان ڈاکٹر سے اپنے دماغ کا علاج کرنے میں بھی حرج نہیں ہے۔ نفسیات کے ایک مسلمان ڈاکٹر منیر داوڑ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں۔ ایک چھوٹے بھائی کی طرح ان کو تشخص کرانے کا مشورہ ہے۔
میرے ایک قابل قدر دوست مولانا غلام اللہ حقانی نے مجھے فون کیا کہ محسود قوم کے ڈھول اور مولانا فضل الرحمن کے پول میں خلفاء راشدین کے حوالے سے یہ لکھنا عوام کو تشویش میں ڈال دے گا کہ ” وحی کے باوجود خلفاء راشدین کی طرف سے بامعنیٰ مشاورت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے خلافت راشدہ کے دور میں ہی فسادات ہوئے جبکہ وزیرستان میں وحی کی رہنمائی کے بغیر بھی مشاورت کا نظام تھا جس کی وجہ سے محسود ایریا تاریخ میں امن وامان کا گہوارہ تھا”۔ حالانکہ میں 1992,93سے اپنے کتابچہ ”دعوتِ فکر” میں یہ لکھتا رہا ہوں کہ حضرت ابوبکر کی خلافت حادثاتی طور پر قائم ہوئی ، جس کا ذکر بالکل عام طور پر کتابوں میں بھی موجود ہے۔ حضرت علی چھ ماہ تک ناراض رہے۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر و عمر کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھی اور پتہ نہیں کس قسم کے جنات نے ان کو قتل کردیا تھا؟۔ نبیۖ سے حدیث قرطاس میں وصیت لکھنے پر اختلاف کیا گیا اور حضرت عمر کی نامزدگی مشاورت کے بغیر ہوئی ۔ جبکہ حضرت عثمان کی مشاورت بھی وسیع البنیاد شوریٰ کی حیثیت سے نہیں ہوئی تھی۔ یہی حال حضرت علی کی نامزدگی کا بھی تھا جس سے حضرت حسن نے اختلاف بھی کیا تھا۔ محسود قوم کیساتھ بیٹنی بھی پشتون قوم ہے مگر اس میں حق کیلئے گواہی پر بھی پابندی ہے اور قرآن کی قسم اٹھانے کی بھی ایک قیمت مقرر ہے۔ محسود قوم کی تعریف کسی تعصب ، مفاد یا احسان کے بدلے کی وجہ سے نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ وزیر اوربیٹنی کے مقابلے میںمحسود قوم کے طالبان سے اس وقت میری مخاصمت رہی ہے جب محسود قوم کی اکثریت طالبان کیساتھ کھڑی تھی ۔
بیت اللہ محسود نے پہلے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود سے ہمارے واقعہ پر بھی بدلہ لینا چاہا تھا لیکن جب بیت اللہ محسود سے کہا گیا کہ ہمیں قصاص میں قتل کردو لیکن تمہارے حکم پر اپنے گاؤں کوٹ کائی کے خاندان ملک اور اس کی فیملی کے افراد کو بھی قتل کیا ہے تو بیت اللہ محسود اپنی بات سے پیچھے ہٹا۔ میری مولانا فضل الرحمن سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں ہے لیکن اس کو اپنے کردار کو ٹھیک کرنا ہوگا اور متضاد علمی فتوؤں کے اجراء سے پرہیز کرنا ہوگا۔ میرے لئے تو کسی بڑے سے بڑے پر تنقید کرنے میں ایک صحافی کی حیثیت سے زبردست پذیرائی ملتی ہے لیکن میں اس کا اپنا دینی فرض اور انسانی فطرت کا تقاضہ بھی سمجھتا ہوں۔ باقی مولانا فضل الرحمن اور طالبان سب کیلئے خلوص وہمدردی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جان کے بدلے جان ، کان کے بدلے کان ، ہاتھ کے بدلے ہاتھ او ردانت کے بدلے دانت کا حکم دیا ہے۔ نور مقدم کے قتل پر کوئی ابہام نہیں لیکن دیواروں کے پاس زبان نہیں اور بند کمرے میں کوئی چشم دید گواہ نہیں اسلئے عدالت شک کا فائدہ دے کر ملزم کو رہا کرسکتی ہے۔ یہ عدالت نہیں ڈھکوسلہ ہے اور اس کی وجہ سے انصاف کا ملنا مشکل نہیں ناممکن بھی ہے اور اگر ملزم کو جج صرف دباؤ کے بغیر اپنے اوپر لگنے والے الزام کو قبول کرنے کی بنیاد پر سزا دے یا گواہی ضروری ہو تو پھر اتنے مہنگے وکیلوں کو پکڑنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ اکثر ججوں نے وکیل کی ٹریننگ کی ہوئی ہوتی ہے اور اپنی مہارت کا بہت بڑا ثبوت دے کر آپس میں ایکدوسرے کے مخالف 180ڈگری پر فیصلہ دیتے ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے لکھا ” رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ حکمران اور لیڈر دجال سے بدتر ہوں گے ”۔ علامات قیامت اور نزول مسیح۔ افغان حکومت اور طالبان بھی افغان عوام کو تکلیف دینے کے بڑے مجرم ہیں۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

Maulana Fazlur Rehman and Mahmood Khan Achakzai should have played a leading role in reconciling the Taliban and nationalists in Afghanistan.

دنیا کے چیلنج اور اپنے اندورنی مسائل پر قابو پانے کیلئے مذہبی اور سیکولر طبقات اپنے علم و عمل کو ٹھیک اور حق و صبر کی تلقین کریں

آج پاکستان کے مذہبی اور قوم پرست مسلمانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ پڑوسی ملک افغانستان میں امریکہ کے نکلنے پر جس طرح کے قتل وغارت کا بازار گرم ہے اور جو آوازیں اُٹھ رہی ہیں تو یہ بہت شرم ، غیرت اورانسانیت کا مسئلہ ہے کہ امریکہ کی موجودگی میں برسوں سے قطر میں طالبان اور امریکہ کے مذاکرات تھے اور مذاکرات کی کامیابی کا کریڈٹ ہم لے رہے ہیں لیکن افغانوں کے درمیان جنگ میں پھر کسی فریق کی حمایت کا کھلم کھلا اظہار ہورہاہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ان افغانی باشندوں نے افغان حکومت کی حمایت کرنے پر قوم پرستوں کی طرف سے پاکستان میں حمایت کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس سے افغان حکومت کی مشکلات میں مزیداضافہ ہورہاہے۔
امریکہ کے خلاف جنگ میں طالبان کی اتنی لاشیں نہیں گری ہیں جتنی کی خبر اب سوشل میڈیا کے ذریعے عام ہورہی ہے۔ امریکہ اور نیٹو کی موجودگی میں جن کو جہاد اور جنت میں جانے کا شوق نہیں تھا اور اب پیدا ہوا ہے تو یہ قدرت نے زمین کو ان سے پاک کرنے کا اچھا انتظام کیا ہے تاکہ فسادی جلدختم ہوجائیں۔ جو لوگ ان کو ابھار رہے ہیں اور اُکسارہے ہیں یہ ان کی اچھی حکمت عملی ہوسکتی ہے لیکن یتیم بچوں اور بیواؤں کیلئے بھی کوئی اچھے انتظامات نہیں ۔ شدت پسندتو عراق وشام لڑنے کیلئے بھی پہنچے تھے اور بہت ساروں کا بخار بھی وہاں اتراتھامگر اب شاید اسلام کے نام پر شدت پسندوں سے زمین کو پاک کرنیکی یہ آخری کوشش ثابت ہو، ایران بھی بڑے طالبان کمانڈورں کو مالی مراعات سے امداد کر رہاہے اور افغانستان میں بھی ایسی قومیں ہیں جو دونوں طرف کی پالیسی چلتے ہیں اور پاکستان وافغانستان کے مشترکہ قبائل میں اچکزئی قبیلہ دونوں طرف سے لڑ رہاہے اور اس کی وجہ سے بہت نقصان اُٹھانے کا اندیشہ ہے۔ جبکہ نورزئی قبیلہ طالبان کی سائڈ پر کھڑا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو چاہیے تھا کہ وہ طالبان اور قوم پرستوں کی صلح میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرتے۔ ن لیگ کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح میں منافقانہ کردار ہوسکتا ہے مگر افغانوں کے مؤمنانہ کردار پر دونوں رہنماؤں کو بھروسہ ہے۔ پھر یہ اپنامثبت کردار (PDM)کی لاش پر ناچنے کے بجائے یہاں کیوں نہیں ادا کررہے ہیں؟۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن دونوں بڑے بھائیوں کی طرح محترم ہیں اور ان کا احترام اسی وقت سب میں بحال ہوسکتا ہے کہ جب وہ بروقت مثبت کردار ادا کریں۔
ہمارا افغان حکومت اور طالبان سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ کوئی فکری یا نظریاتی لگاؤ ہے لیکن پھر بھی کھلم کھلا ان دونوں کی ہمدردی میں اپنی طرف سے جو ممکن ہوتا ہے ،قلم کے ذریعے کردار ادا کرتے ہیں۔کوئٹہ میں ایک بااثر افغان آغا نے مجھ سے کہا کہ ”اگر آپ طالبان کو سمجھائیںگے تو امید ہے کہ امن وامان پر آمادہ ہوجائیںگے”۔ وہ شخص یتیموں اور بیواؤں کا اپنی وسعت کے مطابق خیال رکھ رہاہے اور طالبان سے اچھے مراسم ہیں۔ اگر میری کوئی مقبول حیثیت ہوتی تو پھر میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان صلح کرنے میں لمحہ بھر کی تأخیر بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ یہ میری فطرت اور طبیعت کے منافی ہے لیکن میں اپنی اوقات کو سمجھتا ہوں اور اپنی چادر سے زیادہ پیر پھیلانے کے خطرات مول نہیں لے سکتا۔
میں نے آغا صاحب سے عرض کیا کہ ہمارے علاقہ گومل میں ایک بدقسمت قسم کااسکول ٹیچرہے جس کی اپنے باپ سے بھی نہیں بنتی ہے اور وہ سکول کی اپنی ڈیوٹی بھی کرتا ہے لیکن شاگردوں سے کہتا ہے کہ ” تم اپنی زمینداری کرو، زمینوں میں ہل چلاؤ، بکریاں چراؤ، ہاتھ پیر کی مزدوری کرو اور کھیل تماشے دیکھو۔ سکول پڑھنا چھوڑ دو۔ جدید تعلیم میں سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئراور تعلیم یافتہ بننا انگریز اور گوروں کا کام ہے۔ یہ تمہارا کام نہیں ہے”۔ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ قوم کیساتھ جو کام کررہاہے تو سکول ٹیچر کی بات کوئی زیادہ غلط نہیں ہے۔ حال میں سلیم صافی نے شہباز شریف سے انٹرویو لیا ہے اور جیو ٹی وی کے مشن کی یہ مجبوری ہوگی لیکن سلیم صافی نے شہبازشریف کو خوامخواہ کی زحمت دے کر تھکایا۔ صاف الفاظ میں یہ کہنا چاہیے کہ لوہے کی سوداگری اور اتفاق فاؤنڈری کے کام کو چھڑا کر اسٹیبلشمنٹ نے غلط کیا تھا کہ نوازشریف اور تمہارے جیسے لوگوں کے ذریعے سیاست کو بہت گندا کیا گیا ہے۔ تمہیں اپنے کام اور کاروبار کی طرف واپس جانا چاہیے۔ملک اور قوم کی سیاست کرنا تمہارے جیسے کاروباریوں اور نہ عمران خان جیسے کھلاڑیوں کا کام ہے۔ نوابزداہ نصراللہ خان نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے سیاست سیکھ لی تھی لیکن دونوں کے ٹبروں نے پھر سیاست میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ آج سیاست پر ٹبروں کو مسلط کرنے والے سب نااہل لوگ ہیں۔
جب حضرت ابوبکرصدیق اکبرنے خلافت کا منصب سنبھال لیا تو ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا کہ قریش کے ایک کمزور خاندان کافرد خلیفہ بن گیا ہے اور اگر آپ اجازت دیں تو جوانوں سے مدینہ شہر کو بھردوں اور اس کو خلافت سے ہٹا دیں لیکن حضرت علی نے فرمایا کہ کفر کے وقت اسلام سے کم دشمنی کی تھی کہ اب اسلام میں داخل ہونے کے بعد اسلام سے تمہارا بغض وعناد نہیں جاتا ہے؟۔
جب حضرت عمر نے تلوار اٹھاکر نبیۖ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا توحضرت امیر حمزہ نے فرمایا کہ ” اس کو آنے دو، اگر اچھی نیت سے آیا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا سر اس کی اپنی تلوار سے اتاردوں گا”۔ جب ابوجہل نے نبیۖ کیساتھ بڑا گستاخانہ اور بہیمانہ سلوک کیا تو اس وقت حضرت امیر حمزہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن ابوجہل کو حرم میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ” او چوتڑ کو خوشبو لگانے والا ابوجہل! اگر تمہارے اندر ہمت ہے تو میرا مقابلہ کرو”۔ ابوجہل نے ہمت نہیں کی اور ابوسفیان اس وقت مکہ کا سردار بن گیا تھا جب دوسرے سردار قتل ہوئے تھے۔ جب حضرت عثمان کو مدینہ میں شہید کیا جارہاتھا تو امیرمعاویہ نے حضرت عثمان کی کوئی حمایت بھی نہیں کی تھی۔ جب حضرت علی اور حضرت عائشہ کی لڑائی ہوئی تو حضرت عمار نے حضرت علی کی طرف سے شہادت پائی۔ رسول اللہۖ نے بشارت دی کہ” باغی گروہ عمار کو قتل کر ے گا”۔ امیر معاویہ نے الزام لگایا کہ ”حضرت عمار حضرت علی کے لشکر کے ہاتھوں قتل ہوئے اور پھر اس کا الزام ہم پر لگادیا”۔ حضرت علی نے جواب دیا کہ ” یہ توا یسا الزام ہے کہ جیسے کہا جائے کہ امیرحمزہ کو اپنوں کے ہاتھوں شہید کرکے الزام دشمنوں پر لگادیا تھا” ۔
جس طرح صحابہ کی عزت واحترام کا اہتمام لڑائیوں اور الزامات کے باوجود ہم سب پر فرض ہے،اسی طرح افغانوں کی عزت واحترام کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا تھا کہ کاش میں حضرت علی اور امیر معاویہ کے درمیان غیرجانبدار رہنے کی بجائے حضرت علی کا ساتھ دیتا۔ حضرت عمر کے ایک صاحبزادے حضرت عبیداللہ حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔ اللہ کا حکم ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ میں لڑائی ہو تو اپنے بھائیوں میں صلح کراؤ ۔ اور اگر ایک دوسرے کیخلاف بغاوت کرے تو بغاوت کرنے والوں کے خلاف جنگ کرو،یہاں تک کہ وہ صلح پرآمادہ ہوجائے۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اگر اسلامی ممالک صلح نہیں کراسکتے ہیں اور نہ کسی ایک کا ساتھ دے سکتے ہیں تو جنگ میں تباہی کا سلسلہ جاری رہیگا اور آخر پھر کسی تیسرے گروہ کو سازش کے تحت افغانستان پر مسلط کیا جائیگا جس سے شیطانی قوتوں کو اپنا اسلحہ بیچنے کے مواقع میسر رہیں گے ،ہم اپنے قلم کی طاقت سے صلح ہی کے خواہشمند رہ سکتے ہیں۔
کوئٹہ میں آغا سے میں نے کہا تھا کہ ایک محسود خاتون اپنا جوان بچہ میرے پاس دم کیلئے لیکر آئی۔ میں نے کہا کہ میں یہ کام نہیں کرتاہوں مگر ایک ساتھی کو کہا کہ مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ” اعمال قرآنی” سے کوئی چیز دیکھ کر دم کرنا اور پھر جب اس نے دم کیا تو پاگل جوان نے کہا کہ ”یہ کونسی کتاب ہے؟”۔ میں نے کہا کہ یہ آپ اپنے ساتھ لے جائیں۔ اس کی ماں کہہ رہی تھی کہ مجھے ڈر ہے کہ خود کشی نہ کرلے تو جوان نے کہا کہ خود کشی تو مجھے ہر حال میں کرنی ہے۔ میں نے آغا سے کہا کہ جو طالبان ابھی گرم جوشی میں افغانستان شہید ہونے کیلئے جانا چاہتے ہیں تو ان کو روکنا اس جوان کی طرح بہت مشکل ہے ۔ جب تک بڑوں کی طرف سے ماحول کو بدلنے کی مؤثر کوشش نہ ہوجائے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا اور جب جوش ٹھنڈا ہوگا اور بات سننے پر آمادہ ہوجائیں تو سب اچھا ہوگا۔
جو لوگ حضرت امیرمعاویہ کی تائید اسلئے کررہے ہیں کہ وہ ایک جلیل القدر صحابی تھے تو ان کی بات دوسوفیصد درست ہے لیکن جو لوگ اپنی خاندانی حکومت، جاگیرادارنہ نظام کی طرح خاندانی سیاست کی حمایت کیلئے حضرت امیرمعاویہ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان خوارج سے بھی بدتر ہیں جو کہتے تھے کہ للہ الامر ۔ حضرت علی نے فرمایا تھا کہ ان کی بات درست مگر وہ اس سے غلط مراد لیتے ہیں۔
تبلیغی جماعت کا مرکز بستی نظام الدین بھارت میں بانی مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کی وجہ سے تبلیغی جماعت سے کٹ کر رہ گیا۔ جس کی وجہ سے تبلیغی جماعت امیر کے بغیر سرکٹی لاش بن کر دنیا میں گھوم رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کو صاحبزادگان نے دولخت کردیا اور جمعیت علماء اسلام کے ٹکڑے بھی ان صاحبزادگان کے اختلاف کا نتیجہ تھا۔ بنو امیہ اور بنوعباس نے خلافت اور اسلام کا بیڑہ غرق کیا تھا اور مدارس اور خانقاہوں کا بیڑہ بھی صاحبزادوں کی وجہ سے غرق ہوا ہے۔ ائمہ اہلبیت نے حضرت ابوبکرو حضرت عمر و حضرت عثمان سے لیکر تمام بنوامیہ و عباس تک اختلاف کاسلسلہ بھی جاری رکھا لیکن امت کے اتحاد کو بھی کبھی پارہ پارہ نہیں ہونے دیا۔ آج بھی ہم کسی سے اقتدار اور اسکے منصب اور عہدے چھین لینے کے بھوکے نہیں ہیں۔ صرف مسلمانوں کے نہیں غیر مسلم کے نااہلوں کو بھی اسلام اور انسانیت کیلئے زہرِ قاتل سمجھتے ہیں اور اتنی استدعا کرتے ہیں کہ جو عہدہ اور منصب تمہیں ملا ہے اس کا فرض صحیح طریقے سے ادا کرو۔ حضرت حسن نے بھی امیر معاویہ کے حق میں اسی لئے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور یہ اسلام کے اس بنیادی فطرت کا نتیجہ ہے جو وہ مسلمانوں اور انسانوں میں ابھارتا ہے۔
اہل تشیع اسلام کی اس بنیادی فطرت سے واقف ہوتے تو ان کی نظروں میں حضرت علی اور حضرت حسین کے درمیان حضرت حسن کی اہمیت کم نہ ہوتی۔ اثنا عشریہ والے توپھر بھی امام حسن کی امامت مانتے ہیں لیکن آغا خانی اور بوہری شیعہ تو حضرت حسن کی امامت کے بھی قائل نہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ دیکھا جائے تو وہ عزیز مصر کا عہدہ سنبھالنے اور اس پر قبضہ کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے تھے لیکن آپ نے مصر کی گورنری کی جگہ وزیرخزانہ بننے کوہی اہمیت دی اور وہ خزانہ لوٹنے کیلئے نہیں بلکہ غریبوں اور مستحقین تک حق پہنچانے کیلئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے حضرت زلیخا سے انتقام نہیں لیا بلکہ انکے اسلئے شکر گزار رہے کہ اس نے ایک غلام کی حیثیت سے عزت دیکر پالا تھا۔
صحافیوں اور سوشل میڈیا کے بھونکروں سے گزارش ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان والو! اللہ کیلئے انصاف کی گواہی دینے کیلئے کھڑے ہوجایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی اس بات پر تمہیں نہ آمادہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو اور یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ شک نہیں کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ (سورہ ٔ المائدہ آیت5)
میں نے اپنے کتابچہ ” پاکستان کی سرزمین سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز” میں سورۂ مائدہ کے تین معاملات کا حوالہ دیا تھا جس کی تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء نے بھی تائید کی تھی۔ اللہ نے جہاں یہ فرمایا ہے کہ ” جو اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہیں کرتا وہی لوگ کافر ہیں” تو اس کے پس منظر میں یہودکے علماء مشائخ کا ذکر ہے اور انہی پر فتویٰ لگایا گیا ہے اور جو مسلمان علماء ومشائخ بھی اپنا فتویٰ بدلیں گے تو ان پر بھی یہی حکم لگے گا اسلئے کہ ان کے فتوؤں سے دین بدلتا ہے۔ جبکہ دوسری مرتبہ اللہ نے فرمایا کہ ” جو اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں”۔ اس کا تعلق قصاص اور برسراقتدار طبقے سے ہے اسلئے ان پر کافر کا نہیں ظالم کا فتویٰ لگتا ہے۔ تیسری مرتبہ اللہ نے فرمایا ” جو اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو بیشک وہ لوگ فاسق ہیں” اور اس کے پسِ منظر میں اہل انجیل یعنی عوام مراد ہیں جن کے پاس فتوے اور اقتدار کی قوت نہیں تھی اور مسلمانوں میں بھی اگر عوام الناس اسلام کے احکام پر نہیں چلتے تو ان پر کافر اور ظالم کا نہیں فاسق کا فتویٰ لگتا ہے۔ مسلمان عوام مشکل میں اسلئے ہیں کہ علمائاور حکمرانوںکے درمیان چکی کے دوپاٹوں میں پس رہے ہیں ۔
حضرت علی اورحضرت عائشہ نے آپس کی جنگ میں قیادت کا فریضہ خود ہی ادا کیا تھا۔ طالبان قائدین اور اشرف غنی جنگوں کی قیادت نہیں کرتے بلکہ عوام ہی دونوں طرف سے لڑ اور مر رہے ہیں۔سیاسی میدان اور الیکشن میں بھی عوام کو لڑائیوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔( PTM)کا جلسہ اگر جنوبی وزیرستان کے محسود ایریا میں نہ ہوتا تو قیادت اور کارکنوں کے درمیان لڑائی سے پشتون قوم بھی بہت بدنام ہوجاتی۔( PTM)نے محسود کارکنوں اور رہنماؤں کو مکین کے جلسے میں سب سے زیادہ بے اختیار رکھا تھا اسلئے بنوں کے حاجی عبدالصمد خان اور عبداللہ نگیال کی وجہ سے بدمزگی شروع ہوئی اور دونوں طرف کے کارکنوں تک معاملہ پہنچ گیا لیکن یہ تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
مولانا فضل الرحمن نے پشتون قوم پرستوں کے باپ دادا اور ان کی اجتماعی غیرت کو اپنے ناخن سے بھی کم تر قرار دیا۔ محسن داوڑ نے کہا کہ امریکہ کے جانے کے بعد اب جہاد کا اعلان کیا ہے اور پھر (TTP)کا بھی عوام کو بتادیں کہ وہ مجاہد یا دہشت گرد ہیں؟۔ منظور پشتین نے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو سلام پیش کیا گیا تو افغانستان میں کمیونزم کے نام پر پشتونوں کو 40سالوں سے کیوں مروایا جارہاہے؟۔ کیا اسلام پاکستان کیلئے جمہوری اور افغانستان کیلئے جہادی نازل ہوا ہے؟۔ جب طالبان کی حکومت تھی تو بھی پاکستان نے ڈالر لیکر امریکہ کا ساتھ دیا اور طالبان کی حکومت کو گرادیا۔ یہ ڈالروں کے حامی ہیں تمہارے نہیں ہیں۔
پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ علماء ومشائخ نے یہودونصاریٰ کے احبار ورھبان کے نقشِ قدم پر اسلام کا حلیہ تو نہیں بگاڑا ہے؟ پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ حکمرانوںنے اسلام کے مطابق عدل وانصاف کا نظام نافذ کیا ہے یانہیں؟ پھر عوام بھی فسق سے نکل کر اللہ کے احکام کے مطابق چلیں گے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی عوام پر محنت کررہی ہیں لیکن علماء اور حکمرانوں کا قبلہ درست کرنا بہت ضروری ہے۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

It is not only difficult but also impossible to bring to light the facts behind the Noor Muqaddam murder case. In the battle between the elephant and the ant, the ant dies. Apparently, Jafar’s gang is an elephant.

ہم کوئی بندوق کی گولی یا راکٹ لانچر کا گولہ نہیں مارتے بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سب کی خیرخواہی چاہتے ہیں۔دنیا میں فساد کی جڑ امریکہ اور اس کی آلۂ کار شیطانی قوتیں ہیں مگر ہماری خواہش ہے کہ وہ بھی شیطانیت کا روپ چھوڑ کر انسانیت کی اعلیٰ قدروں کی طرف آجائیں۔دنیا میں کمزور مظلوم ہیں، سب سے بڑی مظلوم جبری ریپ کا شکار ہونے والی وہ عورتیںاور بچیاں ہیں جن کو موت کے گھاٹ اتارکر پھر انکی عزت بھی اُچھالی جاتی ہے!

نور مقدم وہ بدقسمت عورت ذات ہے جس کوبدمعاشوں کے گینگ نے اپنے مقاصد کیلئے ہدف کا عنوان بناکرنہ صرف بڑے بہیمانہ طریقے سے قتل کیا بلکہ اس کی عزت پر حملہ کرکے انکے عزتدار خاندان کو بھی انتہائی اذیت دیکر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے

َََََََََََََََََََََََََََََِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِاسلام آباد میں سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کو بہت اذیتناک طریقے سے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔ کورنگی ساڑھے 5نمبر کراچی میں ایک 6 سالہ بچی کو جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گردن توڑ کر شہیدکردیااور اس کی لاش کچرے میں پھینک دی اور یہ اس علاقے کا پہلا نہیں بلکہ چوتھا پانچواں واقعہ ہے۔ پولیس نے قاتل رکشہ ڈرائیورکو گرفتار کرلیامگر یہ ظلم کب ختم ہوگا؟۔ کیا ان مظالم کے اپنے گھروں تک پہنچنے کا انتظار کریں؟۔ ہمارا ناکارہ معاشرتی، مذہبی ، ریاستی، عدالتی ، حکومتی ، جمہوری اور ڈکٹیٹری نظام بالکل ناکام ہوچکا ہے۔
اگرہمارا معاشرتی نظام اچھا ہوتا تو ایسانہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں کیوں یہ وحشی درندوں سے بدتر انسان کی شکل میں شیطان بستے ہیں؟۔ جب پاکستان میں ”عورت آزادی مارچ” منانا شروع کیا گیا تو بعض لوگوں نے ان پر بہت سخت تنقید شروع کردی۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدابواعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ نبیۖ نے عورتوں کو مارنے پر پابندی لگائی تھی ۔ جب صحابہ نے شکایت کی صحابیات بہت زیادہ منہ پھٹ ہوگئی ہیں تو نبیۖ نے انکے مطالبے پر مارنے کی اجازت دیدی۔ دوسرے دن 70،80خواتین نے احتجاجی جلوس نکالا اور نبیۖ سے مردوں کے مارنے کی شکایت کردی۔ جس پر نبیۖ نے مرد صحابہ کرام کی ڈانٹ ڈپٹ کردی کہ ان کے ساتھ غلط ہوا ہے۔
اللہ نے قرآن میںغیرت کی بنیاد پر عورت کے قتل کی جگہ لعان کا قانون نافذ کردیا۔ سورۂ نور میں اللہ نے واضح کیا کہ ” اللہ کے نور کی مثال اس چراغ کی ہے جس پر شرق وغرب کا اثر نہیں پڑتا ”۔ پہلے مشرق ومغرب کی ہواؤں میں بڑا فرق تھا، جب عزیز مصر نے دیکھا کہ اس کی بیگم زلیخا نے حضرت یوسف پر غلط ہاتھ ڈالا اور حضرت یوسف بالکل معصوم و بے گناہ ہیں تو اپنی بیگم کو نہیں مارا۔ حضرت یوسف بے گناہ مجرم بناکر قید ہوئے۔ مگر رسول اللہۖ کو پتہ چل گیا کہ ” آپ کی لونڈی حضرت ماریہ قبطیہسے ایک قبطی ملتا ہے تو حضرت علی کو اسکے قتل کا حکم دیا مگر حضرت علی نے دیکھا کہ وہ مقطوع الذکر ہے تو اس کو چھوڑ دیا”۔ یہ حدیث قرآن کی آیت نہیں لیکن مشرق ومغرب کی غیرت کا معاملہ بہت مختلف تھا۔ عرب سے زیادہ برصغیر خراسان کے پشتونوں، ہندکے راجپوتوں، سندھ کے سندھیوں، بلوچستان کے بلوچوں اور پنجاب کے پنجابیوں کا پردہ تھا جو اللہ کو پسند تھا توننگا طواف کرنے والے حجازکے عربوں کو بھی گونگھٹ لٹکانے اور اپنے سینوں پر چادریں لپیٹنے کا حکم دیدیا اور اس میں زور وجبر کا مسئلہ نہیں تھا ۔ لونڈیوں کا بہت مختصر ترین لباس بھی اسلام اور مسلمانوں کیلئے قابلِ قبول تھا۔
درسِ نظامی کی احادیث میں پڑھایا جاتا ہے کہ مدینہ میں ایک خوبرو عورت ناچ اور گاناگارہی تھی، حضرت امیر حمزہ نے شراب پی تھی۔جب گلوکارہ نے شعر گایا ،جس کا مفہوم یہ ہے کہ ” لوگوں کیا ہے کہ موٹی موٹی فربہ اونٹنیوں کے پیر نہیں کاٹتے؟” تو حضرت امیر حمزہ نے حضرت علی کی اونٹنی کے پیر کاٹ ڈالے۔ حضرت علی نے نبیۖ سے شکایت کی اور نبیۖ نے اسکا نوٹس لیکر امیر حمزہ سے کہا کہ یہ کیا کیا ہے؟۔ حضرت حمزہ نے کہا کہ جاؤ، تمہارا باپ میرے باپ کے اونٹ چراتا تھا۔ نبیۖ سمجھ گئے کہ نشے میں ہیں اور واپس چلے گئے۔
اسلام نے وحی کے قانون، خلافت اور بہترین معاشرتی اقدار سے ماحول کو درست کیا تھا۔ آج کاا سلام ہوتا تو کوئی شدت پسند خود کش حملہ کردیتا اور کوئی حضرت حمزہ پر نبیۖ کی توہین اور اذیت کی تہمت لگاکر قتل کردیتا۔ علماء کرام اپنے منبر ومحراب سے قرآن وسنت کی درست آواز اُٹھائیں تو بات بن جائے۔
نور مقدم کے قتل کے وقت ظاہر جعفر کی بہن آمرہ اسی گھر میں موجود تھی لیکن وہ کیسے لندن پہنچ گئی ؟،یہ رپورٹ پولیس اور عدالت نے کیوںطلب نہیں کی؟۔ ظاہر جعفر کا سات لاکھ روپے طلب کرنا،نور مقدم کے ڈرائیور سے والدین سے چھپاکر 3 لاکھ دینا اورنور مقدم کا یہ آخری پیغام دینا کہ مجھے تلاش نہ کرنا قتل کردی جاؤں گی ۔ ظاہر جعفر کے دو ساتھی مراد جمالی اور ماہر کانور کو لانے میںکردار یہ سب واضح کرتے ہیں کہ ظاہر جعفر منظم گینگ کا حصہ تھا اور نور مقدم کو منصوبہ بندی سے عبرتناک انجام تک پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ پیسے بٹورنے، بلیک میلنگ اور عیاشی کیلئے قائم نام نہادکاؤنسلنگ سکول کے مرکزی کردار ظاہرجعفر، ماہر اور مرادجمالی بھی ہیں اور ان کو کوگرفتار کرکے منطقی انجام تک پہنچایاجائے۔
عورت آزادی مارچ میں دو خواجہ سراؤں نے پوسٹر اٹھائے تھے جن کیساتھ جبری جنسی زیادتی کی جاتی تھی۔ جس کی ہدی بھرگڑی اور عصمت رضا شاہجہان وغیرہ نے بھرپور وضاحت بھی کی تھی لیکن پھر بھی عورت مارچ کے خلاف مہم جوئی کی گئی کہ ”ان کا مشن ،اپنا جسم اپنی مرضی ہے”۔ حالانکہ مغرب میں عورتیں مکمل آزاد ہیں تو پھر وہ جنسی آزادی کیلئے ”عورت مارچ” کیوں کریںگی؟۔ وہ بھی جبری جنسی استحصال اور اپنے حقوق کیلئے عورت آزادی مارچ مناتی ہیں۔ جب میڈیا نے اشتعال دلایا تو پاکستان میں عورت مارچ میں ردِ عمل کے طور پر پوسٹر اٹھائے گئے ۔ ہمارے ہاں سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کرنے کی پالیسی غلط ہے۔
نور مقدم قتل کیس کے پیچھے پسِ پردہ حقائق کو منظر عام پر لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے۔ ہاتھی اور چیونٹی کی لڑائی میں چیونٹی مرتی ہے۔ اس کیس میں ایک بائیس گریڈ کے افسر اور معروف کاروباری شخصیت کا واردات کے وقت اس قاتل سے رابطے میں رہنا اور انکے نام کو صیغۂ راز میں رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ظاہر جعفر کا گینگ ایک ہاتھی ہے۔ کم لکھے پڑھے لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ کاؤنسلنگ اور اس کے سکول سے کیا مراد ہے؟۔ ظاہر جعفر کی والدہ نے اسلام آباد میں یہ سکول کھولا ہے اور اس میں ٹیچر پیسے لیکر ذہنی امراض کے شکار لوگوں کا بات چیت اور مسلسل ٹریننگ کے ذریعے سے علاج کرتے ہیں۔
ظاہر جعفر کا پہلا رابطہ نور مقدم سے اس سکول میں ہوا۔ اشرافیہ کو شریف سمجھ کر نور مقدم کے والدین نے ظاہر جعفر سے نور مقدم کا علاج کرانا شروع کردیا۔ نور مقدم کے والدین اور نور مقدم مذہبی رحجانات کے حامل تھے لیکن جب ایک اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے اور معالج اور مریضہ کا معاملہ ہوتا ہے تو بات کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ظاہر جعفر کی بہن بھی نور مقدم کی دوست تھی۔ اردو میں سہیلی کی جگہ پر اب عورتوں اور لڑکیوں نے بھی دوست کا لفظ عام طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ نورمقدم کے والدین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ سکول کے نام پر اسلام آباد میں کیا گینگ چل رہاہے؟ اوریہ بات کہاں تک پہنچے گی؟۔ پسِ پردہ ذہنی امراض کے علاج کے نام پر جو ادارہ چل رہا تھا اس میں امیر زادہ لوگوںکی لڑکیوں کو اپنا ہدف بناکر لوٹ مار ، ریپ ، بلیک میلنگ ، قتل اور ہر طرح کے جرائم کے عادی مجرم اپنی عیاشی بھی کرتے تھے اور پیسہ بھی بناتے تھے۔ اگر کسی ذہنی مریضہ سے کہا جائے کہ کاؤنسلینگ کیلئے سیرو تفریح ، ہوٹل اور گھروں میں کھیل کود وغیرہ ضروری ہیں اور پھر ان کو خفیہ طور پر مشروبات میں نشہ آور اشیاء کا عادی بھی بنادیا جائے اور عورت ذات کی ویڈیوز بناکر ان کو بلیک میل بھی کیا جائے تو اشرافیہ کے جال میں کتنے شریف لوگ پھنس گئے ہوں گے؟۔ ایک واقعہ کی خبر آئی ہے جس میں چارلڑکیاں ظاہر جعفر کی کاؤنسلنگ کے بعد نشے میں حادثے کا شکار ہوگئی تھیں۔ نورمقدم کے خلاف ناجائز تعلقات اور فحاشی کے پیچھے گینگ کا پیسہ چل رہا ہے۔
عورت آزادی مارچ میں جو نعرہ خواتین سے غیرانسانی،غیر اسلامی سلوک اور جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف اُٹھ رہاتھا،ان کو قابو کرنے کیلئے اسلام آباد میں ریاست گردی ، حکومت گردی اور ملا گردی کوناکامی کاسامنا کرنا پڑا تھا۔عورت مارچ کے منتظمین نے جان پر کھیل کر اپنا مارچ کامیاب بنایا تھا۔ اب ظاہر جعفر گینگ نے اس مافیا کی خدمات مستعار لی ہیں یا پھر اس مافیا نے ظاہر جعفر گینگ کو ہدف دیا ہے کہ عورت آزادی مارچ کو بدنام کرنے کیلئے یہ کھیل کھیلا جائے؟۔ سوشل میڈیا پر بے ضمیر اور بے غیرت قسم کا طبقہ روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے گھناؤنے جرائم کاجو کھل کر اظہار کررہا ہے یہ قیامت کی نشانی ہے۔ حسان ہاشمی اور عکاشہ گل وغیرہ سوشل میڈیا میںجس طرح بے شرمی سے اس کیس کو غلط رپورٹ کررہے ہیں ،یہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ سے بڑھ کر سنگین معاملہ ہے۔ عورت آزادی مارچ کاپدر شاہی کے خلاف آواز اُٹھانا ان کا سب سے بڑا جرم سمجھا جارہاہے ورنہ فوج میں اس کی ترقی بھی نہیں ہوسکتی ہے جس کی آل واولاد میں مذہبی رحجانات پائے جاتے ہوں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے کرتے دھرتے کے ہاں کونسے ملاعمر اور طالبان کی طرح پردہ ہے؟۔
نامور مصنف اور شخصیت طارق اسماعیل ساگر ہرموضوع پر جو بہتر سمجھتے ہیں، وہی بول لیتے ہیں۔نور مقدم کے قتل پر ساگر نے بھی دل کی خوب بھڑاس نکالی اور معاشرے پر ماتم اور سوزِ دل کا اظہار بھی کردیا ہے۔ بقیہ صفحہ 3 نمبر 1

بقیہ… نور مقدم کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا
طارق اسماعیل ساگر کے رحجانات بظاہر مذہبی اور فوجی نوعیت کے ہیں۔ اس نے نور مقدم پر الزام لگایا ہے کہ اس کا تعلق ”میرا جسم اور میری مرضی ” والیوں سے تھا اور اس کے والدین نے جو آزادی اس کو دی تھی تو اسکا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ نور مقدم نے تشدد سے بچنے کیلئے آخر کار کھڑکی یا روشندان سے چھلانگ بھی لگادی تھی اور پھر اس کے ملازموں نے اس کیلئے زخمی حالت میں بھی دروازہ نہیں کھولا تھا اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دی تھی۔ ظاہر جعفر نے پھر اس کو بالوں سے پکڑا اور سیڑیوں سے گھسیٹ کر اسی کمرے میں لے گیا۔ نور مقدم کے سر کو تن سے جدا کیا گیا تھا اور اس کے جسم پر پستول سے کئی فائر بھی کئے گئے تھے۔ یہ افغانستان اور عراق کی کسی جنگ کامنظر نہیں بلکہ ہمارے دارالخلافہ اسلام آباد کا پوش ایریا تھا جس سے ہماری یہ اُمید ہے کہ اس کی ہاں اور ناں میں دنیا کی ہاں اور ناں ہوگی۔
طارق اسماعیل ساگر نے اپنی غیرت، اپنے ایمان ، اپنے علم اور اپنی سمجھ کے مطابق اس کو میرا جسم میری مرضی کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ہمدردی کا بھی خوب اظہار کردیا اور یہ ماحول کا حصہ ہوتا ہے۔ جب امریکہ کے بلیک واٹر نے محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل کیا تو طارق اسماعیل ساگر کو معلوم تھا کہ راوالپنڈی روات میں بلیک واٹر کا مرکز ہے ۔ جہاں جرائم پیشہ پولیس اور کورٹ مارشل میں سزایافتہ برطرف کئے گئے جرائم پیشہ فوجیوں کو بڑے معاوضوں پربھرتی کیا جاتا ہے جو اس خطے کو دہشتگردی اور جرائم کا گہوارہ بنائے ہوئے ہیں تو ساگرصاحب نے اس پر کوئی زبان نہیں کھولی تھی ۔ اگر وہ بقول اسکے جان کیلئے لاحق خطرات کی وجہ سے زباں نہیں کھول سکتے تھے تو کم ازکم ایک بے نام مراسلہ لکھ دیتے کہ یہ کاروائی بلیک واٹر کی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بینظیر بھٹو نے پشاور میں طالبان کو فی کس دو سو ڈالر ماہانہ تنخواہ دینے کا کھل کر ذکر بھی کیا تھا۔ بینظیر بھٹو کے قتل پر سندھ کی علیحدگی کا خطرہ پیدا ہوا تھا۔صوبہ سرحد اور بلوچستان جل رہے تھے۔ طارق اسماعیل ساگرکی یہ بڑی خدمت ہوتی کہ اپنی اسٹبیبلشمنٹ سے اس الزام کا خاتمہ کرکے پاکستان کو بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے۔ مجاہدین کے سر سے بھی بدنامی کا الزام ہٹ جاتا اور پاک فوج بھی صاف ستھری قرار پاتی۔
پھرطارق اسماعیل ساگراپنی کتاب میں اسکا ذکر کرتے تو یہ جاسوسی کی تاریخ میں سب سے زیادہ مضبوط ، اہم ترین اور قابلِ عزت واحترام کارنامہ ہوتا لیکن افسوس کہ اس وقت طارق اسماعیل ساگرنے کچھ نہیں کیا۔ ایک بینظیر بھٹو نے جو کچھ کیا تھا اس کی قیمت بھی گولی کھاکر شہادت اور بم دھماکوں سے چکادی تھی۔ آج ہمارا پیارا وطن اور سب کا سہارا وطن خطرات کی دہلیز میں گھرا ہوا ہے اور اگر اللہ نے رحم نہ فرمایا تو ہمارے حالات سانحۂ مشرقی پاکستان، عراق ، لیبیا اور شام سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں۔ مجرمانہ کردار نہ صرف عوام ، ریاست اور حکومتوں کا ہے بلکہ خواص بھی اس مجرمانہ غفلت میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔
نور مقدم کے والد، والدہ اور خاندان والے ڈبل صدمے کا شکار ہیں ۔ایک تو بیٹی کا بہت بہیمانہ قتل اور دوسرا پھر میرا جسم میری مرضی کے دلخراش طعنے۔ طارق اسماعیل ساگر نے پتہ نہیں کہ افسانوی کتابیں لکھی ہیں یا تحقیقی ؟۔ لیکن اس کیس میں ایک ذمہ دار شخص کی طرح تحقیق کے تقاضے پورے کرتے تو بہت بہتر ہوتا۔ نور مقدم نفسیاتی مریضہ تھی اور ظاہر جعفر نے اس کو علاج کے بہانے بلیک میلنگ کا شکار کردیا تھا۔ ظاہر جعفر کا یہ جرم تھا کہ وہ جس ادارے میں بیٹھ کر نفسیاتی علاج کرتا تھا ،اس کی سند نہیں رکھتا تھا۔ اس جرم کے اصل کردار اسکے والدین اور وہ تمام بااثر اشرافیہ ہے جو یہ گینگ چلارہاہے۔ اگر ڈاکٹر خالد محمودسومرو کا کیس فوج اپنی عدالت میں چلاسکتی ہے تو اس کیس کو بھی فوجی عدالت میں چلایا جائے۔
نور مقدم کے والدکو اس پدرِ شاہی نظام سے انصاف کی کیا امید ہوسکتی ہے جو نور مقدم کو تازیانہ عبرت بنانے کیلئے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہاہے؟۔ نورمقدم کے وکیل شاہ خاور نے جس طرح پولیس کی تفتیش مکمل ہونے اور پوری نہ ہونے پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ تک بھی بارہ دنوں کے بعد بھی معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے کہ موقع واردات پر موجود ملزم کی بہن کہاں ہے؟ اور وہ کس طرح لندن پہنچ گئی ہے؟۔ مجرم کے جعلی ٹکٹ جاری کئے گئے تھے لیکن مجرمہ بہن کے اصل ٹکٹوں کا بھی پتہ نہیں لگایا گیا۔ مصطفی کانجونے ایک بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو شہید کرنے کے بعد بھی اس کی بیٹیوں کی عزت دری کی دھمکی پر کیس واپس لینے پر مجبور کیا تھا تو مصطفی کانجو ایک فرد تھا اور ظاہر جعفر کے پیچھے بہت بڑا مافیا کھڑا ہے۔ صحافیوں اور نورمقدم کے والدین پر کتنا بڑا پریشر ہوگا؟۔
ایک طرف پیسہ بٹورنے والے گینگ کے کٹھ پتلی ظاہر جعفر کو ذہنی مریض اور دوسری طرف ایک ذہنی مریضہ نور مقدم کو بے حیا ء مجرمہ ثابت کرنیکی کوششوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گینگ کتنا مضبوط ہے؟ اسلامی حکومت ہوتی تو نورمقدم پر بہتان لگانے والوں کو80،80کوڑے لگاکر انکی ویڈیوز الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چلائی جاتیں اور اس گینگ کے ایک ایک جرم اور ایک ایک مجرم کا معلوم کرکے سب کو قرار واقعی سزا بھی دی جاتی۔ کوئی غریب مجرم ہوتا تو پولیس و عدلیہ کا یہ رویہ بھی نہ ہوتا۔ شائستہ کنڈی پہلی خاتون جج ہیں جس نے ملزم سے سوال کیا۔ہرفورم پر پتہ چل رہاہے کہ ملزم مجرم اور مکار ہے لیکن بااثر مجرم کو پروٹوکول کا ملنا بھی انصاف کا خون کرنے سے کم نہیں ہے۔یہ ہے اسلامی پاکستان؟۔
وزیرستان میں ایک شخص دوبئی سے آیا تو ایک خاندان نے دھوکے سے اس کو خاندان سمیت قتل کردیا۔ جب علاقے والوں کو پتہ چل گیا تو قاتل خاندان کو نہ صرف ماردیا بلکہ ان کی لاشوں کو بھی کئی دنوں تک ایک سڑک کے پل پر لٹکائے رکھا اور ان کے جنازے اور قبرستان میں دفن کرنے پر بھی پابندی لگادی لیکن ان میں ایک بوڑھے شخص کو عبرت کیلئے زندہ چھوڑ دیا۔ اگر انصاف کی حکومت ہوتی تو نور مقدم کے قاتل کے خاندان، گھر کے نوکر چاکراور جعلی ذہنی امراض کے ذمہ داروں کو اجتماعی پھانسی دیکر ان کی لاشیں عبرت کیلئے اسلام آباد کے کسی برج پر لٹکا دی جاتیں اور کسی ایک مجرم کو عبرت کیلئے زندہ چھوڑ دیا جاتا۔
طارق اسماعیل ساگر نے جس انداز سے نورمقدم میں بدکاری کے الزامات لگائے ہیں ،اگر اسلامی حکومت ہوتی تو اس پر 80کوڑے سرِ عام لوگوں کے سامنے برسائے جاتے۔ فرض کریں کہ ایک کچرہ کنڈی والے بچے سے طارق اسماعیل ساگر اپنے جسم کی مالش کراتا ہو اور پھر وہ اسکے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو نور مقدم کیساتھ کیا گیا ۔ پھر الزام یہ لگایا جائے کہ طارق اسماعیل ساگر جنس پرستی کی موذی مرض میں مبتلاء تھا، اسکے چوتڑوں کی مالش کرتے ہوئے رنگ رلیاں مناتے ہوئے پھر اس کا یہ حشر کیا گیا تو طارق اسماعیل ساگر کی مردہ لاش اور اس کے لواحقین پر کیا بیتے گی؟۔ جب امریکہ کا بلیک واٹر پوری قوم کی ایسی کی تیسی کر رہا تھا تو یہ بے غیرت، بے شرم ، بے ایمان ،بدنسل اور کم ذات اس وقت خاموش تھا اور کسی شریف کی بیٹی کیساتھ زیادتی ہوگئی تو اس پر الزامات کی بارش کرنے میں ذرا بھی شرم ، حیاء ، غیرت، شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے؟۔
ہماری پاک فوج اور اسلام کو ایسے ہی بدذاتوں نے بدنام کرکے رکھا ہے اور سب سے پہلے انہی کے خلاف بڑے انقلاب کی سخت ضرورت ہے۔ شیخ رشید نے ٹھیک کہا کہ عدالتوں کا معاملہ ہے ورنہ میں قاتل کو بیس گولیاں مارتا۔ وسعت اللہ خان اور ضرار کھوڑو نے ڈان کے ذراہٹ کے میں ایک خاتون کو بلواکر بہت اچھا پروگرام کیا جس میں خاتون نے ”امت اخبار ” کی رپورٹنگ کی بھی تائید کی۔ جہاں نور مقدم کے معاملہ پر اچھی رپورٹنگ کی توقع نہیں تھی کیونکہ اس کا ٹریک ریکارڈ ایسا نہیں۔اللہ نورمقدم کوجلد انصاف اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
ہم ذاتی ذرائع سے جانتے ہیں کہ شوکت علی مقدم بہت شریف مذہبی رحجان رکھنے والی شخصیت ہیں لیکن اس کی عزت کو تارتار کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv