پوسٹ تلاش کریں

Mullah Zaeef dreamed after 9/11 that his elder brother wanted to slaughter him. He did not understand why he wanted to slaughter him.

اختر خان کا روحانی اور قوم پرستانہ انکشاف!
ملا ضعیف نے 9/11کے بعد خواب دیکھا کہ بڑا بھائی ان کو ذبح کرنا چاہتا ہے یہ سمجھ نہیں آیا کہ کیوں ذبح کرنا چاہتا ہے؟

اگر افغان طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی سوانح عمری پڑھی ہو تو پاکستان اور افغان طالبان میں تعلقات کی گہرائیوں اور پیچیدگیوں کا صحیح اندازہ ہو سکے گا ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں خواب کا حوالہ دیاکہ بڑا بھائی ان کو ذبح کرنا چاہتا ہے جبکہ یہ سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ کیوں ذبح کرنا چاہتا ہے۔خواب 9/11کے بعد دیکھا۔ چند دن بعد پاکستان نے امریکی دبا پر ملا ضعیف کو انتہائی ذلت سے امریکہ کے حوالے کیااور گونتانامو جیل میں چند سال رکھا گیا۔ ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں خواب کی تعبیر یہ نکالی کہ ذبح کرنیوالا اسکا بڑا بھائی پاکستان تھا،جو ملا ضعیف و طالبان کو اپنے قومی تزویراتی مفادات کیلئے قربان کر رہا تھا۔ ملا ضعیف گوانتانامو سے رہا ہوئے تو جنوبی وزیرستان کے صحافی ابوبکر کو انٹرویو میں کہا کہ انہیں یعنی افغان طالبان کو سمجھ نہیں تھی کہ امریکہ اسامہ بن لادن کے پیچھے کیوں پڑ گیا ؟۔رحیم اللہ یوسفزئی سے میں نے خود سنا کہ انہیں ملا عمر نے کہا کہ اگر چیچنیا تک افغانستان سے کوئی راستہ جاتا ہے تو ہم طالبان انہیں وہاں بھیج دیں گے۔
ملا ضعیف خواب میںافغان طالبان کو پاکستان کا چھوٹا بھائی سمجھتا ہے اوریہ چھوٹا بھائی تاریخ، سیاست ،سائنس، سماجی ارتقا اور جغرافیائی علوم سے کس قدر غافل ہے جبکہ بڑا بھائی پاکستان ان علوم میں کس قدر ماہر ہے؟۔ اندازہ مثالوں سے لگائیں۔ جنرل مشرف نے2000میں صحافیوں سے کہا کہ افغان طالبان ان کی ریزرو فوج ہے، پاکستان کیلئے فسٹ لائن آف افنس کا کردار ہیں۔ وہ جب اورجہاں چاہیں ان کو استعمال کر سکتے ہیں 9/11کے پچیس دن بعد 7 اکتوبر 2001 کو امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ حملے سے ایک دن قبل میرے استاد ڈاکٹر وسیم نے ڈان اخبار میں کالم لکھا جسکا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا بھی افغانستان پر حملہ آور ہو تو بھی افغانستان میں پاکستان کی مرضی کے بغیر حکومت قائم نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر وسیم نے لکھا کہ امریکی حملے کے بعد افغانستان میں مرنے مارنے کا غضبناک سلسلہ شروع ہو گا، پاکستان میں طالبان کے حامی شریک ، پاکستان میں کافی خونریزی ہو گی ،پاکستان طالبان کے حامی جنگجوں کو آخرمیں کنٹرول کر لے گا۔ڈاکٹر وسیم کے مطابق پاکستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی سے جو ریاستی ڈھانچہ وراثت میں ملا ،وہ طالبان اور انکے حامیوں کی کاروائیوں کیخلاف ڈھال کا کردار ادا کرے گا۔یاد رہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس، کسٹم، انکم ٹیکس کیلئے جو ادارے اور قوانین بنائے ،اس کولارڈ میکالے نے 1835میں سٹیل فریم کا نام دیاجن کو توڑنا یا انکے خلاف لڑنا تقریبا ناممکن ہوگا۔ بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان کے ریاستی ادارے اسی سٹیل فریم کے پرزے ہیں۔جو ان تینوں کی عوام کو ایک نظم میں پروئے ہوئے ہیں۔ پاکستان بننے کے دو سال بعد 1949 میں لارڈ میکالے کے اس سٹیل فریم کو ہم نے قرارداد مقاصد کا تڑکا لگایا اور اسکے بعد سے ہم ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں کے اس ادارہ جاتی نظم کو اسلام کا قلعہ کہنے لگے۔
انگریز جب ہندوستان میں قبضہ جما رہاتھا تو اسکے خلاف شاہ ولی اللہ کے خاندان اور پیروکاروں نے سید احمد شہید اورشاہ اسمعیل شہید کی سربراہی میں 1820کی دہائی میں جنگ لڑی لیکن وہ انگریزکی تزویراتی فوجی چال، نظم، آپسی ربط، رسد و ترسیل کے نظام، فوجی قوت جیسے اسلحہ اور بندوقیں اور جغرافیائی عوامل کے بارے میں قدرے بہتر واقفیت کے سامنے ناکام ہوئے۔گو کہ شاہ ولی اللہ کے پیروکار 1857کی جنگ آزادی تک مختلف علاقوں طریقوں سے انگریز کیخلاف لڑتے رہے مگر بالآخر انہوں نے دیوبند میں مدرسہ قائم کیا اور روایتی دینی علوم کے درس و تدریس پر توجہ مرکوز کی۔پہلی جنگ عظیم سے پہلے اور جنگ کے دوران دیوبند سے فارغ یا منسلک طلبا نے شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی رہنمائی میں سیاسی اور جنگی مزاحمت تحریک ریشمی رومال شروع کی لیکن یہ بھی ناکام ہوگئی۔اسکے بعد علما دیوبند کسی سیاسی لائحہ عمل پر متفق نہ ہو سکے ۔1930کی دہائی کے اواخر تک دو دھڑے بن چکے تھے۔ایک دھڑا مولانا حسین احمد مدنی کی رہنمائی میں متحدہ ہندوستان کیلئے سیاسی جدوجہد کر رہا تھا،دوسرا دھڑا مولانا اشرف علی تھانوی کے خیالات افکار سے متاثر تھا جوقائداعظم کی مسلم لیگ کی سیاسی حکمت عملی کو درست سمجھنے لگاتھا۔ مسلم لیگ دراصل سر سید احمد خان کے پیروکاروں کی تنظیم تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں کے جس انتظامی ڈھانچے کیخلاف شاہ ولی اللہ کے پیروکار لڑنا چاہتے تھے ،سر سید نے اس انتظامی ڈھانچے کو اللہ کی رحمت کہا اور اسکے قوانین کی پاسداری کو عین اسلام کے مطابق کہاسر سید احمد نے روایتی دینی علوم کیساتھ ساتھ جدید سائنسی اور مغربی علوم کو سیکھنا اور سمجھنا ضروری سمجھا، سر سید کے مطابق مسلمان وقت کا دھارا نہ سمجھ سکے ۔ وقت کے تقاضوں کو اس وقت سمجھا جا سکتا ہے کہ جب مسلمان جدید سائنسی اور مغربی علوم حاصل کر لیں۔
قیامِ پاکستان سے لیکر عمران خان کو وزیراعظم بنانے تک مولانا اشرف علی تھانوی کے ہم خیال علما، مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں سے وراثت میں ملے انتظامی ڈھانچے کے درمیان ملک کو چلانے کے اصولوں پر اگر مکمل ہم آہنگی نہیں رکھتے تو کھلم کھلا اختلاف بھی نہیں رکھتے۔ مولانا تھانوی سے نسبت رکھنے والے علما اور صوفیا مسلم لیگی ذہنیت اور ریاستی اداروں کیخلاف سیاسی طور پر خود کو منظم اور متبادل نظم متعارف کرانے میں لگ جاتے ہیں جبکہ خود کو مولانا حسین احمد مدنی کی جدوجہد کا تسلسل سمجھنے والے دیوبندی علما پچھلے پینتیس سال سے مولانا فضل الرحمان کی رہنمائی میں سیاست کر رہے ہیںاور ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں کے اس انتظامی ڈھانچے جس کو لارڈ میکالے سٹیل فریم کہتا تھا کو مزید اسلامی بنانا چاہتے ہیںمگراس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ شاہ ولی اللہ کے پیروکار علما کے سیاسی اختلافات ہیں۔مولانا فضل الرحمان جنرل ضیا الحق کیخلاف مزاحمت اور مفتی تقی عثمانی جنرل ضیا الحق کا ہم خیال تھا۔علما اور اسلام کی حالت یہ ہے کہ فلموں میں آدھی ننگی ہو کر ڈانس کرنیوالی مہوش حیات کو اسی دن حسن کارکردگی پر تمغہ امتیاز دیاگیا، جس دن ملک کے سب سے مشہور عالم مولانا طارق جمیل کو مہوش حیات کے ڈانس سے پھیلنے والی بے حیائی کیخلاف وعظ و نصیحت کرنے پر تمغہ امتیاز سے نوازا جاتا ہے۔
مولانا عبیداللہ سندھی نے کہا کہ شاہ ولی اللہ کے جتنے پیروکار ہندوستان میں تھے اتنے ہی پشتون علاقوں میں تھے جن پر آج پاکستان اور افغانستان بنے ہیں۔ پاکستان کے پشتون علاقوں میں نظم ایسٹ انڈیا کمپنی کے انتظامی ڈھانچہ اور قوانین کا مرہون منت ہے۔ افغانستان ایسے انتظامی ڈھانچے اور قوانین کے بنانے کے ارتقائی عمل سے محروم رہا ہے۔ 40سال قبل افغانستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقے نے انتظامی ڈھانچے اور قوانین متعارف کرانے کی جو کوشش کی وہ غیر محتاط ہونے کے باعث خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔اس خانہ جنگی کے بطن سے افغان طالبان نے جنم لیا۔9/11کے بعد ملا عبدالسلام ضعیف کے خواب کے مطابق پاکستان نے اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے قربان کیا۔امریکہ بیس سال تک پاکستان کے چھوٹے بھائیوں کیساتھ لڑتا رہا اور اب نکل رہا ہے جبکہ ملا عبدالسلام ضعیف اور اسکے بھائی افغان طالبان ایک مرتبہ پھر افغانستان میں بزور قوت اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں،کیا پاکستان کے یہ چھوٹے بھائی افغان طالبان افغانستان میں اجتماعی نظم اور نظام کو چلانے کیلئے بڑے بھائی پاکستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیسائیوں سے وراثت میں ملے انتظامی ڈھانچے اور قوانین سے رہنمائی لیں گے یا وہی کچھ کرینگے جو 9/11 سے پہلے کر رہے تھے،اسکا پاکستان پر کیا اثر ہو گا، پاکستان میں افغان طالبان کی حمایت کرینگے اور علاقائی و بین الاقوامی طاقتیں اس سے کس طرح نمٹیں گی؟۔ یہ سوالات آنے والے دنوں اور مہینوں میں ہم سب کی بحث کا مرکز رہیں گے۔
تبصرہ نوشتہ دیوار: بھارت پرقابض انگریزکامدمقابل رنجیت سنگھ تھا۔ اسماعیل شہید نے رنجیت سنگھ کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹر فدا کے پیر مولانا اشرف کے پیرسلیمان ندوی کے استاذ شمس العما شبلی نعمانی تھے، پھر تھانوی کا مریدہوا ۔ سودجائز بن جائے تو نظام پر کیا لڑائی ہوگی؟۔ اختر خان اورعلی وزیر کاروحانی وسیاسی شجرہ الگ الگ ہے۔ سرڈاکٹراقبال نے خود کو مجموعہ اضداد کہا۔ رنجیت سنگھ سے پاکستان مضبوط یاکمزو رہے؟

Dr Tahir-ul-Qadri called the Taliban Kharijites but when he came to Pakistan hoping for the success of his movement, he declared the Taliban as his brother.

افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مصالحت ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے طالبان کو خوارج قرار دیا لیکن جب اپنی تحریک کی کامیابی کی امید پر پاکستان آئے تو طالبان کو اپنا بھائی قرار دے دیا۔

طالبان کی امارت اسلامیہ اور افغانستان کی جمہوری حکومت اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں پاکستان، پوری دنیا کے مسلمانوں اور افغانیوں کو مصالحت کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ کون حق پر ہے کون حق پر نہیں؟ توکسی تیسرے فریق کی طرف سے یہ کہنا نہیں بنتا ہے ۔جو یہ ڈھول بجاتا ہے کہ ایک حق پر ہے اور دوسرا باطل ہے تو وہ لڑائی کو جواز بخشنے ، قتل وغارت گری کو بڑھاوا دینے اور افغانی مسلمان بھائیوں کی تباہی وبربادی کا باعث بنتا ہے۔ صحابہ کرام کی آپس میں لڑائیاں ہوئی ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے نبی بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا تھا۔اب موقع پر موجود کوئی صلح صفائی کروانے کے بجائے ایک کو غلط قرار دیتا اور حضرت ہارون بھی بدلے میں ہاتھا پائی شروع کرتے تو لڑائی طول پکڑلیتی۔ بات مزید آگے نکل جاتی۔ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ امریکہ نے افغان طالبان کو جان بوجھ کر افغان حکومت کے خلاف لڑنے کیلئے چھوڑ دیا ہے اور یہ ہو سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا ۔ ہمارا بنیادی مقصد یہ ہے کہ افغان مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی ہوجائے۔ اگر اشرف غنی حکومت یا افغان طالبان میں سے کسی ایک کیساتھ سوفیصد ہمدردی اور دوسرے کیساتھ ایک فیصد بھی اتفاق نہ ہو تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جن سے اتفاق نہیں ہے انکے قتل وغارت پر دل کوخوش ہونا چاہیے۔ اسلام اور انسانیت دونوں کا یہ تقاضہ ہے کہ کسی طرح قتل وغارت گری رک جائے۔
جب امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے تھے تو ساری دنیا نے اس پر مذمت کے الفاظ ادا کئے ہوں یا نہیں لیکن دل سے بہت برا تصور کیا ہوگا۔ دنیا میں اکثر انسان چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور جہاں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ غالب اور خوشحال ہیں تو اس کی غلطیوں کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ہاں دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ چاہتا تو ایک جاپانی کو بھی زندہ نہ چھوڑتا۔ جب کسی پیغمبر علیہ السلام کو غصہ آگیا تو فرمایا کہ ” کسی بھی کافر کوزمین کے دیار میں زندہ نہ چھوڑنا”۔ رسول اللہۖ نے طائف والوں کی طرف سے انتہائی برا سلوک کے باوجود بھی فرشتوں کو عذاب کی اجازت نہیں دی۔ ہدایت کی دعا فرمائی ۔فرمایاکہ اگر ان کے مقدر میں ہدایت نہیں تو ان کی تقدیر بدل کر ہدایت عطا فرمااور اگر تجھے قطعی طور پر ان کو ہدایت دینامنظور نہیں ہے تو ان کی اولاد میں ہدایت والے آسکتے ہیں اسلئے مجھے اذیت پہنچانے والوں کی تباہی کا عذاب نہیں چاہتا۔
جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا توصرف افغانی نہیں پاکستانی اور دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردیاں افغان طالبان کیساتھ تھیں۔ البتہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ شمالی اتحاد والے اور مزار شریف کے ہزارہ شیعہ ہی طالبان کی مخالفت کی وجہ سے امریکہ کے حامی بن گئے۔ سقوطِ طالبان کے بعد پاکستان کی تمام قومیتیں، سیاسی جماعتیں، مذہبی تنظیمیں اور کیمونسٹ قوتیں سبھی مظلوم طالبان کے حامی اور امریکہ کے خلاف تھیں۔ البتہ بعض لوگ مسلکی بنیاد پر طالبان کی مخالفت اسلئے کررہے تھے کہ وہ بریلوی مکتبہ فکریا شیعہ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ 2004 میں جیوٹی وی چینل پر انیق احمد کی میزبانی میں ایک پروگرام میں ڈاکٹر اسرار احمد، ایک اہل تشیع اور ایک بریلوی علامہ آصف گیلانی اور مجھے دیوبندکے نمائندے کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ پروگرام میں سیدآصف گیلانی نے اپنے خرقہ اور امریکہ تک کینسر کے علاج پر بات کی تو میں نے کہا کہ ایک دم کی پھونک امریکہ کو تباہ کرنے کیلئے بھی ماردو۔ پروگرام کے خاتمے کے بعد چائے کیلئے بیٹھ گئے تو علامہ آصف گیلانی نے کہا کہ طالبان امریکہ سے بھی زیادہ بدتر اور ہمارے دشمن ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے طالبان کو خوارج قرار دیامگر جب اپنی تحریک کی کامیابی کی امید پر پاکستان آئے تو طالبان کو اپنا بھائی قرار دے دیا اسکی پارٹی کے رہنما خرم نواز گنڈہ پور (فوجی ریٹائرڈ) نے مجھ سے اس تضاد بیانی پر کہا کہ” طالبان میں شیطان بھی ہیں اور فرشتہ صفت بھی ہیں”۔
متحدہ مجلس عمل کی حکومت طالبان کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے آئی تھی۔ جب سارے پختون طالبان کے سپوٹر تھے تو پاکستان کی فوج امریکہ کی وجہ سے سب کو تو نہیں مار سکتے تھے اور جب سب کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ تھیں تو پاک فوج بھی کوئی ایسے جنگلی جانور نہیںکہ جن کے جذبات عام لوگوں سے مختلف ہوں۔ جب امریکہ القاعدہ کے پیچھے آیا تھا تو طالبان سے اس کی دشمنی صرف اسلئے تھی کہ اسامہ بن لادن کو کیوں پناہ دی ہے۔ اسامہ بن لادن کو طالبان زمینی راستے سے چیچنیا بھیجنے کیلئے بھی آمادہ تھے لیکن جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا تو طالبان نے حکومت چھوڑ دی اور وزیرستان سے مولانا معراج الدین شہید نے جس لشکر کی قیادت کی تھی اس کو بھی واپس کردیا۔ صوفی محمد لشکر لیکر گیا تو بہت دیر ہوگئی تھی اور جب وہ پاکستان واپس آیا تو حکومت نے گرفتار کرلیا۔ جس طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج طالبان کی حمایت کی وجہ سے سارے پختونوں کو نہیں مارسکتی تھی،اسی طرح امریکہ بھی سب افغان طالبان کو مارنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ بڑے پیمانے پر انسانوں کی تباہی وبربادی کا حامی کوئی انسان کا بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر اسرائیل چاہے تو ایک دن میں ہی فلسطینیوں کو ٹھکانے لگاسکتا ہے لیکن بڑے پیمانے پر انسانی تباہی کا حامی انسان کا کوئی بچہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ دو لڑنے والے فریق کے درمیان کسی ایک طرف زیادہ ہمدردی کا جذبہ ہو اور دوسری طرف کم لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ دونوں میں سے کسی ایک کی مکمل تباہی وبربادی پر کوئی بھی خوش ہوجائے۔
پہلے جب افغان طالبان نے جہادی ٹولوں سے جنگ کرکے افغانستان میں حکومت قائم کردی تھی اور پھر اپنی سمجھ کے مطابق اسلامی احکام نافذ کئے تھے تو وہ وقت مختلف تھا۔ افغان عوام ان جہادی گروپوں سے تنگ تھے مگر افغانستان میں ووٹ کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا طریقہ کار اچھا لگا ہے اور طالبان نے پہلے جسطرح کا اسلام نافذ کیا تھا تو طالبان بھی بہت بدل چکے ہیں۔ یہ پتہ چلا ہے کہ جہاں طالبان نے فتح حاصل کرلی تو ایک شخص کے سوا سب کو نہ صرف معاف کردیا بلکہ 30،30ہزار دیکر ملازم فوجیوں سے کہا ہے بقیہ صفحہ 2نمبر1
بقیہ ……….افغان طالبان اور افغان حکومت
کہ” اپنے بچوں کیلئے روزی ر وٹی کما”۔ طالبان کے اس روئیے سے ان کے مخالفین کے دلوں میں بھی ان کیلئے جگہ پیدا ہوگی۔ جب قرآن کے نظام کیلئے وحی کا نزول ہورہاتھا تو اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے قیدیوں کو معاف کرنے اور غزوہ احد کی شکست کا دشمنوں سے سخت ترین بدلہ لینے پر ڈانٹ پلائی اور رہنمائی فرمائی۔ اللہ نے پھر وہ بھی دکھادیا کہ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ،قریشِ مکہ کا بڑاسردار ابوسفیان اور بہت سے دشمن فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے ۔ اگر کوئی گروہ یہ سمجھتا ہے کہ نبیۖ اور صحابہ کرام کی مشاورت کے باوجود قرآن میں غزوہ بدر کے روئیے اور مشاورت کے بعد فیصلے پر سخت تنبیہ اور ڈانٹ کیساتھ وحی نازل ہوئی تھی لیکن ہم تنقید اور اصلاح سے بالکل بالاتر ہیں تو یہ خام خیالی کے علاوہ کسی بھی اسلام کے دعویدار مسلمان کیلئے بہت بدترین قسم کی گمراہی بھی ہے۔
افغان طالبان کو شاید بعض لوگ بہت منصوبہ بندی کیساتھ کچلنے کا پروگرام بناچکے ہیں۔ بگرام ائیربیس کے علاوہ امریکہ کی یہی چاہت ہوسکتی ہے کہ افغان آپس میں لڑتے اور مرتے رہیں۔ یہ خواہش چین ، روس ، ایران اور پاکستان کی بعض مافیاز کی بھی ہوسکتی ہے ۔اسلئے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے درد سر بن سکتے ہیں تو ان کی چاہت ہوگی کہ طالبان کا بخار افغانستان ہی میں نکل جائے اور بعض لوگ صرف مذہب اور جمہوریت کی بنیاد پر افغانیوں کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن ان کی اس سپورٹ سے قتل وغارتگری کی آگ کو مزید بھڑکایا جارہاہے۔ ہماری خواہش ہے کہ بڑے پیمانے پر کسی طرح بھی قتل وغارتگری کا ما حول نہیں ہونا چاہیے۔ وقت کیساتھ ساتھ ماحول اور مقف میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔
قرآن میں اللہ نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے اور اس پر نبیۖ نے عمل کرکے دکھایا تھا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سے زیادہ کسی نے نبیۖ کو اذیت نہیں دی لیکن وہ نبیۖ کے ہاتھوں دفن ہوا تھا۔ اور جنازہ بھی پڑھ لیا تھا۔ اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ ایسے کا جنازہ نہ پڑھیں اور ان کیلئے استغفار نہ کریں اور اگر70مرتبہ بھی استغفار کریں تو اللہ نے اس کو معاف نہیں کرنا ہے اور اس کی قبر پر بھی کھڑے ہوکر دعا نہ کریں۔ ہمارے ہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نماز جنازہ دعا ہے اور اس کے بعد قبر پر دعا بدعت ہے۔ حالانکہ قرآن میں عبداللہ بن ابی کی قبر پر دعا سے منع کیا گیا ہے تو دوسروں کو جن توحید پرست علما نے بدعتی قرار دیا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ انسے کہا جاسکتا ہے کہ رئیس المنافقین کی قبر پر دعا سے منع کیا گیا ہے ، اپنوں کو اس زمرے میں نہ ڈالو۔
نبیۖ کے دور میں مکہ مکرمہ صلح حدیبیہ کے ذریعے فتح ہوا تھا۔ افغانستان کے مسلمان کافر، مرتد ، مشرک اور اسلام دشمن نہیں ہیں۔ طالبان جنگ بندی اور افغان حکومت صلح کا اعلان کریں۔ افہام وتفہیم کی فضا بنائیں۔ قرآن میں ہے کہ ”صلح خیر ہے”۔ ہر معاملے میں صلح کے اندر خیر ہی خیر ہے۔ جب افغانیوں میں دشمنی کے بجائے دوستی کا ماحول قائم ہوجائے اور ایک دوسرے سے بالکل آزادانہ اور بھائی چارے کی بنیاد پر میل ملاپ کا آغاز ہوجائے تو اسکے اثرات پورے خطے پر بہت اچھے انداز میں پڑیں گے۔ نوازشریف کا چیلہ راشدمراد بھی RMtvلندن سے کھریاں کھریاں کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ جس نوازشریف کا گوشت، پوست، ناخن ،بال، ہڈیاں یہاں تک کہ گودا بھی اسٹیبلشمنٹ کے کارخانوں کی مارکیٹ میں بناہے ،اس کی اور فوج کے بیچ میں جس قسم کا بغض وعناد ہے ،اس کی ہلکی سی جھلک راشد مراد کی کھریاں میں دیکھ سکتے ہیں۔ افغانستان سے زیادہ پاکستانیوں کی حالت خراب ہے لیکن یہاں زبانی جمع خرچ کی لڑائی ہے اور وہاں بندوق سے خون بہایا جارہا ہے۔
افغان طالبان نے پہلے مرحلے میں دیسی ملاں کا دیسی اسلام رائج کیا تھا اور اب اپنے زیرکنٹرول علاقے میں اسلام کی نشا ثانیہ والا اسلام نافذ کرکے بھی دیکھ لیں۔ افغان حکومت ہی نہیں پاکستان ، ایران سمیت پوری دنیا بھی ان کے قدموں میں گرجائے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے جس طرح دجال کا لشکر کہا تھا وہ اسی سے بڑھ کر خراسان کے مہدی کا لشکر قرار دینے میں دیر نہیں لگائے گا۔

Akhtar Khan’s Manzoor Pashtun’s main role in PTM? But then the line was cut. The picture shows some of the documents on which I wrote the five demands with my own hands, which were agreed upon by the twenty-two young men who marched with Manzoor Pashtun after a long discussion.

اختر خان کاپی ٹی ایم (PTM) میں بنیادی کردار ؟ مگرپھر لائن کٹ گئی!
تصویر میںکچھ غذات نظر آ رہے ہیںجن پر میں نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ پانچ مطالبات لکھے جن پر منظور پشتین کیساتھ لانگ مارچ کرنے والے بیس بائیس نوجوانوںنے طویل بحث کے بعد اتفاق کیاتھا۔

یہ تصویر 30جنوری 2018کی ہے۔اس میں سب سے اوپر عتیق عالم وزیر بیٹھے ہیں۔ انکے بائیں طرف کچھ کاغذات نظر آ رہے ہیںان کاغذات پر میں نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ پانچ مطالبات لکھے جن پر منظور پشتین کیساتھ لانگ مارچ کرنے والے بیس بائیس نوجوانوںنے طویل بحث کے بعد اتفاق کیاتھا۔عتیق عالم وزیر سے ہم نے درخواست کی کہ وہ یہ مطالبات سب کو سنائے۔ڈاکٹر سیدعالم محسود اور ڈاکٹر مشتاق بھی موجود تھے۔ڈاکٹر سید عالم محسود نے ذمہ داری لی کہ وہ ان مطالبات کی ایک ہزار پرنٹ کاپیاں نکال لے گااور یہ ہم اسلام آباد دھرنہ کی جگہ پر آنے والے شرکا میں تقسیم کرینگے اور ارادہ کیا کہ ان مطالبات کیلئے نہ صرف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے بلکہ تحریک چلائیں گے۔اس رات ہم نے طویل بحث کی۔میں نے منظور پشتین کو اپنے رشتہ دار علی خان محسود کے پشتون قوم پرست نظریات سے بہت متاثر پایالیکن ہم نے اس پہلو پر اتفاق کیا کہ کسی بھی طرح ہم کسی سیاسی جماعت کے کندھے یا سیاسی نظرئیے کو استعمال نہیں کرینگے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو یہ اجازت دینگے کہ وہ تحریک کے پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی نظریات کے پرچار کیلئے استعمال کریںبلکہ جو نوجوان ہماری آواز کو حق سمجھے گا ہم اس کو اپنا دوست سمجھیں گے اور ان نئے نوجوانوں کا ایسا گروہ بنائیں گے جو ریاستی اداروں، پشتون قوم پرست جماعتوں اور پشتون کے مذہبی طبقات کے درمیان پل کا کردار ادا کریں تاآنکہ وہ کسی مصلحت اور نئی اجتماعی ترکیب پر پہنچ جائیں۔
ہم جب اسلام آباد گئے تو وہاں پرہی تحریک کے اغراض و مقاصد سمت اور بیانئے پر رسہ کشی شروع ہوئی۔وزیرستان کے ملکان اور مولوی اس میں پیش پیش تھے لیکن جن نوجوانوں نے پشاور میں ریٹائرڈ پولیس افسر رحمت خان محسود کے گھر پر جو مطالبات لکھے تھے انہوں نے ان ملکان اور مولویوں کو سائڈ لائن کیالیکن اسکے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور پی میپ کے کارکنان نے حتی الوسع کوشش کی کہ منظور پشتین اور اسکے ساتھ آئے ہوئے سکول کالج کے طلبا کو ان مطالبات پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے سو سالہ پرانی لر او بر یو افغان اور لوئی افغانستان اور آزاد پشتونستان کے جذباتی فریبی جگاڑ کی طرف مائل کر لیں۔ پشاور یونیورسٹی گومل یونیورسٹی اور ڈگری کالج ڈیرہ اسماعیل خان کے سابقہ اور موجودہ جتنے صدر صاحبان وہاں آئے تھے انہوں نے اپنی پوری کوشش کی کہ کسی طرح منظور پشتین کو اختر اور عتیق عالم وزیر سے دور رکھا جائے۔
اسلام آباد دھرنہ کے تیرہ دن بعد23 فروری2018کو منظور مردان میرے گھر آیا ۔ مجھے اپنے ساتھ اٹک لے گیا۔وہاں جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے ایک امیر محسود تاجر نے منظور کیلئے سابق وزیراعلی اکرم خان درانی کے فارم ہاوس میں بنے ریسٹ ہاوس میں مقامی گلوکاروں کو بلا کر میوزک پروگرام ارینج کیا تھا۔ڈھول کی تھاپ پر منظور پشتین اور ہم اتنڑ کرتے رہے۔رات کو میں اور منظور اور اس کا دوست گفتگو کرنے لگے۔سیاست سے لیکر ذاتی زندگی کے ہر پہلو پر ہم نے تفصیلی گفتگو کی۔منظور پشتین کے پاس تحریک کو آگے لیجانے کیلئے نہ کوئی منصوبہ بندی تھی اور نہ ہی کوئی فکر۔ 30جنوری 2018 کو ہمارے درمیان پانچ مطالبات پر جو فکری ہم آہنگی بنی تھی منظور اس سے کوسوں دور جا چکا تھا۔منظور پشتین لوئی افغانستان اور آزاد پشتونستان بنانے کے بارے میں اتنی لمبی لمبی چھوڑ رہا تھا کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ میرے استاد ڈاکٹر فدا کے پاس جائیں۔ عشا کی نماز کے بعد خانقاہ پہنچے۔ ڈاکٹر فدا نے بات سنی اور منظور پشتین سے کہا کہ آپ اور اختر دو دن بعد آئیں، مشورہ کر لیں گے۔ آپ کی آواز ملک کے نظام کو بدلنے سے جڑی ہے۔ اسکے بعد ہم پشاور یونیورسٹی گئے جہاں سوات کے پروفیسر الطاف اور پروفیسر درویش آفریدی نے پشاور یونیورسٹی کے چند پروفیسروں کو اکٹھا کیا تھا۔اس ملاقات میں صمد خان کے پیروکار پروفیسر درویش آفریدی نے مجھے لوئی افغانستان کا دشمن کہا۔ملاقات کے خاتمے پر میں نے منظور پشتین سے کہا کہ درویش آفریدی کی گفتگو سے آپ نے کیا اخذ کیا؟ تو منظور پشتین نے مجھے کہا کہ درویش آفریدی نے جو کچھ کہا اس کا سادہ الفاظ میں خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ اختر کو اپنے آپ سے دور نہیں کرتے تو ہم تمام لوئی افغانستانی اور آزاد پشتونستانی آپ سے دور رہیں گے۔
اسکے بعد منظور پشتین نے تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل اور خط حرکت کو پی میپ اور عوامی نیشنل پارٹی کے سابقہ اور موجودہ پارلیمانی غیر پارلیمانی کارکنوں اور بھگوڑوں جیسے ڈاکٹر سید عالم محسود، علی وزیر، محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال، گل مرجان وزیر ،پروفیسر درویش آفریدی، رضا وزیر وغیرہ وغیرہ کے حوالے کیا. 2018 کے پشاور جلسے میں ڈاکٹر سید عالم محسود نے ان کو دوئم احمد شاہ ابدالی کا خطاب دیا۔ سب نے منظور پشتین میں ایک ایسا غبار بھروا دیا جس سے منظور پشتین کو یہ احساس دلایا گیا کہ پانچ مطالبات کو چھوڑو، تم اتنے بڑے لیڈر ہو کہ جس لوئی افغانستان کو احمد شاہ ابدالی نے بنایا اور جس کو حاصل کرنے میں باچاخان اور صمد خان جیسے پشتون رہنماوں نے زندگیاں برباد کیں لیکن حاصل نہ کر سکے۔ تم اس لوئی افغانستان کو بنانے میں کامیاب ہو جاو گے…….
جولائی2018 کے الیکشن کے بعد منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ پانچ مطالبات کو بھول گئے ۔پاکستان میں بیٹھ کر موجودہ امریکہ نواز قوم پرست افغانستان اور افغان رہنماوں اشرف غنی، کمیونسٹ رہنما جبار قہرمان، قندہار کے را انوار اچکزئی کے ترجمان بنے۔منظور محسن امریکہ نواز افغانستان اور افغان رہنماوں کے حق میں ٹویٹس اور پوسٹ کرنے لگے۔پی ٹی ایم کے جلسوں میں افغانستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ ڈاکٹر نجیب کے پوسٹر آویزاں کئے گئے۔ یورپ اور امریکہ میں پناہ گزین افغانوں کو پی ٹی ایم کے حق میں ریلیاں اور جلوس نکالنے پر لگایااوروہاں ریلیوں میں افغانستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ افغانستان کے باشندے ریلیوں سے خطاب کرنے لگے۔پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔یورپ اور امریکہ سے لاکھوں کروڑوں روپے چندے کی مد میں وصول کیے گئے لیکن اسکا کوئی شفاف طریقہ کار نہ تھا اور نہ اب ہے۔پی ٹی ایم کے اندر جو جتنا طاقتور ہے اس نے اس میں اپنی نظریات والی دوکان کھول لی،پی ٹی ایم کے اسٹیج سے ایسا بیانیہ جاری ہوا جہاں پشتون قوم کے اندر جمعیت علما اسلام، تحریک انصاف اور مسلم لیگی ذہنیت والے پشتونوں کی تضحیک کی گئی۔
خلاصہ یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے مرکزی کرداروں منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ نے حالات کی غلط تشخیص کی اور غلط راہ پر چلنے لگے۔
تینوں کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے قبائلی علاقوں کے عوام کو تحریک کے مطالبات کے اردگرد منظم کرتے، پشتون قوم پرست جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے، پھر تحریک انصافی اور مسلم لیگی اور جمیعتی پشتونوں کو قائل کرتے اور پاکستان کی باقی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے فعال اراکین سے رابطے بناتے اور اپنی آواز مستحکم کرتے اور پشتونوں کیساتھ ساتھ ملک کے باقی عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بنتے لیکن منظور علی اور محسن اپنے پشتون قوم پرستانہ تعصبات، کم علمی اور کم عمری کے باعث ایک ایسے راستے پر چل نکلے جہاں وہ نہ صرف آپس میں تینوں گتھم گتھاہیں بلکہ انہوں نے جمعیت علما اسلام، تحریک انصاف اور مسلم لیگی ذہنیت والے پشتونوں کو تو چھوڑیں، پی میپ اور عوامی نیشنل پارٹی سے جڑے پشتونوں کو بھی متنفر کرنا شروع کر دیا۔ایسے میں پنجاب یا سندھ کا کوئی بندہ منظور علی محسن یا پی ٹی ایم کے ساتھ کیوں ہمدردی رکھے۔

Drum of Mehsud nation of Waziristan and pool of Maulana Fazlur Rehman in Saleem Safi’s program, Maulana Fazlur Rehman admitted that Maulana had signed permission for drone strikes on tribes under Pervez Musharraf.

وزیرستان کی محسود قوم کا ڈھول اور مولانا فضل الرحمن کا پول

سلیم صافی کے پروگرام میں مولانا فضل الرحمن نے اعتراف کیا کہ پرویزمشرف دور میں قبائل پر ڈرون حملوں کی اجازت پر مولانا نے دستخط کئے ۔

دی پٹھان (The Pathan Book)نامی انگریزی کتاب میں ہے کہ” وزیرستان ایسا علاقہ ہے جہاں کسی نے بھی صحیح معنوں میں حکومت نہیں کی ”۔ اقتدار میں لوگ محکوم بنتے ہیں، حکمران ٹیکس وصول کرتے ہیں ، نمائندوں کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنی مرضی کا پابند بنایا جاتا ہے لیکن تاریخ میں ایسا کوئی حکمران نہیں آیا جس نے وزیرستان میں ایسے احکام نافذ کئے ہوں جو حاکم اور محکوم کے لوازمات ہیں۔ بیش بہا مراعات کے بدلے آزاد منش کسی علاقہ کی عوام کو کچھ معاہدوں کا پابند بنانا حکومت قائم کرنے کا تصور نہیں ہوتا ہے۔ وزیرستان کے سرکاری ملکان کو عوام جاسوس کہتے تھے۔ سرکار ی نمائندوں کی کوئی عوامی اوقات نہیں تھی۔
جب میں نے کانیگرم وزیرستان سے خلافت کے آغاز کیلئے ڈیرہ ڈال دیا تو ماموں چیف آف کانیگرم نے میرے بھائی سے کہا کہ (40FCR)کے تحت جیل بھیجتے ہیںتاکہ عوام ڈھول کی تھاپ پر چڑھائی نہ کردیں۔ محسود قوم ڈھول اٹھالے توبڑے بڑوں کی ہمت ختم ہوجاتی ہے ۔ رسول اللہۖ کی بعثت سے قبل اہل مکہ نے ”حلف الفضول” کا معاہدہ کیا ۔اس میں ظالم کیخلاف مظلوم کی مدد اہم بات تھی۔ نبیۖ نے آخری خطبہ میں بھی فرمایا کہ ”مجھے سرخ اونٹوں سے عزیز حلف الفضول ہے”۔ اگرچہ معاہدے پر عمل نہ ہوسکا۔ورنہ تو نبیۖ کے حامی خاندان کو شعب ابی طالب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور نہ نبیۖ اور مسلمانوں کو مکہ چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑتی۔ عرب اسلام سے پہلے کسی کے محکوم تھے نہ وہاں کوئی باقاعدہ آئین تھا۔ وزیرستان کی محسود قوم کا یہ بڑا کمال تھا کہ حکمران کا تصور نہیں تھا لیکن ایک دستور کے وہ بالکل پابند تھے اور وہ دستور حلف الفضول کے عہدنامہ کی طرح عظیم الشان روایات واقدار کی شکل میں تھا۔باہمی مشورہ کے بعد فیصلہ ہوتاتھا تو اس پر عمل درآمد ڈھول کی تھاپ پر کرایا جاتا تھا۔
محسود قوم کا دنیا میں ایک بالکل منفرد کردار تھا۔ سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آزادانہ مشاورت کے بعد فیصلہ ہوتا تھا اور ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد ہوتی تھی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی خلفا راشیدین تھے لیکن مشاورت کی وہ روح وہاں بھی ناپید تھی جو وزیرستان کی مقدس سرزمین پر وحی کی رہنمائی نہ ہونے کے باوجود موجود تھی۔اسی لئے خلفاء راشدین کے ادوار میں فسادات ہوئے لیکن محسود اجتماعی فتنوں سے محفوظ تھے۔
پاکستان (1947) میں بن گیا لیکن اب تک( 1973) کے آئین پر عمل در آمد نہ کرنے کا رونا رویا جاتا ہے۔ محکمہ تعلیم پنجاب کے افسر ڈاکٹر نعیم باجوہ نے غلطی سے ن لیگ کے (MNA)پرویز خان کوبورڈ کے امتحان میں اپنی جگہ دوسرے بندے کو بٹھانے پر پکڑلیا تو نوازشریف کے بدمعاش بھانجے عابد شیر علی نے میڈیا کی اسکرین پر اس بیچارے کو ایسا ذلیل کیا تھا کہ الحفیظ الامان ۔
اگر مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ سمیت (PDM)کا اتفاق ہے کہ آئندہ فوج کو سرحداور بیرکوں میں بھیجنا ہے تو خوش آئند ہے لیکن عوام پر واضح کیا جائے کہ پارلیمنٹ میں نوازشریف کے لندن فلیٹ کاتحریری بیان اور قطری خط کیا تھا؟ اگر نوازشریف نے اپنا درست بیانیہ ثابت کیا تو محسود قوم ڈھول کی تھاپ پرمخالف کے خلاف راست قدم اٹھائے ۔یہ وہی قوم ہے جس نے آزادکشمیر فتح کیاتھا۔ اگر نوازشریف درست وضاحت نہ کرسکے تو محسود قوم ڈھول کی تھاپ پر رائیونڈ کے محل کو مسمار کرنے پہنچے۔ یہاںزیادتیاں کرنے والوں نے تماشہ لگا رکھا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کرائے کے مکان میں تھا اوراب لائن سے بنگلے اور بڑی جائیدادیں ہیں۔اللہ تعالی موصوف کے اقبال میں مزید اضافہ کرے۔ مفتی محمود کے چھپر اور ٹین کے دروازے پر دھوکہ کھانے کی طرح معاملہ ٹھیک نہ تھا۔جب حرام خوری کا معاملہ آتا ہے تو اس بھیڑ میں بہت ہیں،اگر مولانا شامل ہوجائے تو مضائقہ نہیں لیکن عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بہت بری بات ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو اصولی سیاست اور جمہوریت کیلئے فوج کی مخالفت کا بڑا کریڈٹ جاتا ہے۔ کچھ معاملات کی نشاندی اور وضاحت کرنا انتہائی ضروری ہے۔
حامد میر نے پوچھا کہ مولانافضل الرحمن نے جنرل مشرف سے مراعات لی ہیں؟۔ مولانا راشد سومرو نے مولانا کیلئے ایمان کی قسم کھائی ۔ انصار عباسی نے کہا کہ جنرل مشرف نے (GHQ)سے مولانا فضل الرحمن کو ساتھیوں کے نام پر اتنی اتنی زمینیں الاٹ کی ہیں۔ جسکے دستاویزی ثبوت ہیں۔ اگرانصار عباسی نے غلط بیانی کی ہو تو وزیرستان کے محسود جمعیت علما اسلام کے( MNA)مولانا جمال الدین محسود اور (MPA )مولانا عصام الدین قریشی کی قیادت میں ڈھول کی تھاپ پر انصار عباسی کا گھر گرانے کیلئے پہنچ جائیں اوراگر انصار عباسی کی بات درست ہو تو پھر مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لیں کہ کونسی خدمات کے عوض یہ زمین (GHQ )نے دی ؟۔ یہ کونسی ڈرامہ بازی ہے کہ ایک طرف قوم کو جمہوریت کی بالادستی اور فوج کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے اور دوسری طرف ناجائز مراعات بھی لی جائیں؟۔ سلیم صافی کے پروگرام میں مولانا فضل الرحمن نے اعتراف کیا کہ پرویزمشرف دور میں قبائل پر ڈرون حملوں کی اجازت پر مولانا نے دستخط کئے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلئے (GHQ)نے زمین الاٹ کی تھی؟۔
وزیرستان کے سینٹر دوست محمد محسودکا رونا کسی کام کا نہیں کہ” کاش میں فلسطینی یا کشمیری ہوتا تو میرے لئے کوئی دو آنسو بہاتا۔ پنجاب میں آئل چوری کرنے پر ڈھائی سو افراد مرتے ہیں تو ان کو چالیس چالیس لاکھ معاوضہ مل جاتا ہے جبکہ ہم تباہ وبرباد ہوگئے اور ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ”۔ (PTM)کے نعروںمیں گلہ تھا کہ ”یہ کیسی آزادی ہے کہ ہمارے گھراجڑ رہے ہیں، ہمارے جوان قتل ہورہے ہیں”۔یہ محسود قوم کی خلعتِ افغانیت کے اعلی اقدار کے منافی ہے۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یابندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی
جو فقر ہوا تلخی دوران کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
نام رہ گیا ہے ابھی وزیری ومحسود یہ خلعتِ افغانیت سے ہیں عاری
احادیث صحیحہ اور امام بوحنیفہ کے نزدیک زمین کو مزارعت ، ٹھیکہ اور کرائے پر دینا سود اور حرام ہے ۔ مولانا فضل الرحمن الاٹ کی گئی زمین وزیرستان کے غریب متاثرین کو دیں تاکہ اسلام کی نشا ثانیہ کا آغاز ہو۔ اگر محسود قوم مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لے کہ پارلیمنٹ میں تمہارے نمائندوںکو اسلئے بھیجاہے کہ ہماری تباہی وبربادی پر تم مراعات لو، زمینیں نام کرا، صوبائی حکومت لو؟۔ احتجاج سے حکومتیں ہل جاتی ہیں لیکن احتجاج کرنا محکوم قوم کا کام ہے۔جب دنیا میں طالبان مظلوم تھے تو محسود قوم نے امریکہ کو شکست یا فتح کرنے کے چکر میں ساتھ دیا لیکن اب تو طالبان امریکہ سے صلح کرچکے ہیں۔ محسود قوم آخری حد تک تذلیل کی پاتال میں پہنچادی گئی اور یہ اپنے اعمالنامے کا نتیجہ تھا۔ چھڑی بڑی طالبان اور انتہائی سخت گیر جاہل و مفاد پرست فوج نے انکا کباڑہ کرکے رکھ دیا۔ محسود قوم پر طالبان نے حکومت کی اوراب آدابِ محکومی سکھائے جارہے ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پرمولانا فضل الرحمن سے GHQکی زمین چھین لیں تو بیت المقدس کی فتح بھی یقینی بن سکتی ہے۔ پرامن انقلاب کیلئے محسود قوم کو اپنے اندراور باہر سے فساد کا خاتمہ کرنا ہوگا۔قومی مشاورت سے مجھے بھی طلب کریں تو میں خیرمقدم کروں گا۔ محسود قوم کی یہ سب سے بڑی خوبی تھی کہ آپس کی دشمنیوں کا بھی تیسرے فریق کے دائرے کار میں بدلہ نہیں اتار تے تھے بقیہ صفحہ2نمبر2 بقیہ ………محسود قوم کا ڈھول اور مولانا فضل الرحمن کا پول
مجھ سے یہ غلطی ہوگئی تھی کہ حاجی قریب خان کی پیشکش کو نہیں مانا کہ یہ علما کا کام ہے۔ علما نے بندکمرے کا حال نہیں بتایا۔ریکارڈنگ بھی نہیںکرنے دی تھی۔ اختلافات بڑا مسئلہ نہیں۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ”منصبِ امامت ” میں لکھ دیا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالی نے ملا اعلی کے فرشتوں کا ذکر کیا ہے کہ ایک گروہ ایک طرف کی حمایت کرتا ہے اور دوسرا گروہ دوسری طرف کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان بن رہاتھا تو جمعیت علما ہند اور جمعیت علما اسلام کے علما آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑے تھے اور دونوں طرف کے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی متحدہ ہندوستان اور پاکستان کے مقف پر اپنے اپنے دلائل دے رہے تھے اور ایکدوسرے کو ہندں اور انگریزوں کا ایجنٹ قرار دے رہے تھے۔
جب مولانا فضل الرحمن پہلی مرتبہ ہمارے گھر تشریف لائے توجٹہ قلعہ علاقہ گومل کی تاریخ کا یہ پہلا سیاسی جلسہ تھا۔ مولانا قاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ بھی اس میں شریک تھے۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت نہیں آئی تھی لیکن کلاچی کے قاضیوں نے پروپیگنڈہ کیا کہ مولانا فضل الرحمن نے نبوت کا دعوی اور مہدی کا دعوی کرنے والے کی صدارت میں جلسہ کیا ۔ عثمان دوتانی کا تعلق جمعیت س سے تھا ، اس نے بتایا کہ قاضی عبدالکریم اور قاضی عبد اللطیف سے میں نے کہا کہ جیل میں اس شخص کو میں جانتا ہوں، یہ سیاسی جماعتوں سے بالاتر ذہن رکھتا ہے۔ قاضی فضل اللہ سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی ، مولانا نیاز محمد قریشی وغیرہ سے کہا تھا کہ اگر سید عتیق الرحمن گیلانی ہماری پارٹی میں شامل ہوجائے تو جمعیت میں بھی انقلاب آجائیگا۔ قاضی فضل اللہ کے کان میں ہمارے رشتہ دار مولانا سید آصف گیلانی نے کچھ کہا تھا تو مولانا فضل الرحمن سے قاضی فضل اللہ نے میرا تعارف پوچھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”یہ ہم سے بڑا انقلابی ہے مگر تھوڑا جذباتی ہے”۔ ٹانک کے سب اکابر علما کرام ہماری تائید کرتے تھے اور پاکستان کی سطح پر بھی تمام مکاتبِ فکر کے علما کرام نے ہماری زبردست تائیدکی تھی۔
طالبا ن کی حکومت سے پہلے افغاستان میں قندھار کے لوگ قوم لوط کے عمل سے مشہور تھے۔ ہمارے ہاں بنوں، لکی مروت، گومل اور دوسرے پختونوں میں قوم لوط کا عمل مشہور تھا لیکن محسود اور وزیر میں یہ خطرناک بیماری نہیں تھی لیکن جب کنڈیکٹری اور طالب گردی کی زد میں یہ قومیں آگئیں تو اس بیماری نے بھی وزیرستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مولانا گل نواز محسود نے کہا تھا کہ طالبان کے بہت گروپ ہیں لیکن دو زیادہ مشہور ہیں ۔ایک اپنے لبوں کو لال کرتے ہیںاور دوسرے اپنے ہاتھوں کو مہندی لگاتے ہیں۔ آئی ایس آئی تو بہت اچھی ہے لیکن یہ دونوں گروپ قوم لوط کی بیماری میں بھی مفعولیت کا کردار ادا کررہے ہیں۔
جب انسان کی غیرت مرجاتی ہے تو اس سے کوئی بھی توقع رکھی جاسکتی ہے اور اس بات پر بہت خوشی ہے کہ گودام مسجد ٹانک کے امام مولانا قاری حسن شکوی شہید مجھ سے صرف محبت نہیں بلکہ عقیدت بھی رکھتے تھے۔ پہلے انہوں نے جب القاعدہ والوں کو اپنے پاس رکھا تو مجھ سے کہا کہ وہ فرشتے اور صحابہ کرام کی طرح لگتے ہیں لیکن جب میں نے عرض کیا کہ ازبکستان سے جہاد کی غرض سے آنے والے یہاں کیوں آگئے ہیں؟۔ مجھے لگتا ہے کہ امریکہ کی گہری سازش ہے اور یہ ان لوگوں کو بھی پتہ نہیں ہوگا۔ پھر انہوں نے تحفظات رکھنا شروع کردئیے تو ان کو شہید کردیا گیا۔ پھر ان کی شہادت کے بعد تعزیت پر گیا تو ایک وزیرصحافی کے چچا کہہ رہے تھے کہ ”وزیر تو پہلے سے بے غیرت ہیں لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ غیرتمندمحسود قوم کو کیا ہوا ہے ؟۔ پہلے تو یہ ماں اور بیوی کی گالی پر قتل کردیتے تھے اور اب کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ فلاں طالب نے یہ کیا مگر کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں ہے”۔ جن بے غیرت بدکرداروں نے محسود اور وزیرقوم کے اچھے لوگوں کو قتل کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی وہ علتی ہیں۔ جب تک ماحول نہیں بدلے گا تو یہ بھی نہیں بدلیں گے لیکن محسود قوم کو اپنی پرانی یادیں تازہ کرکے بڑا زبردست کردار ادا کرنا ہوگا۔ مجھے اچھے کی توقع ہے باقی اللہ جانے کہ کیا ہوگا؟۔

Chozo (Maulana Fazlur Rehman, Maulana Owais Noorani, Shahbaz Sharif, Mahmood Khan Achakzai put your hands on your chest and tell (Maryam Nawaz did not teach politics by holding a finger

چوزو(مولانا فضل الرحمن، مولانا اویس نورانی، شہباز شریف، محمود خان اچکزئی)! اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ ،مریم نواز نے انگلی پکڑکر سیاست نہیںسکھائی!۔

نازک پری کو بھوتوںسے بچاؤ چاچوشعبدہ باز، جلدی قابو پاؤ!
چوزو! کان کھول کر سن لو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ ،مریم نواز نے انگلی پکڑکر سیاست نہیںسکھائی!۔ میں فوج نال نئیں لڑسگدی! وڈے وڈے بال نئیں پھڑ سگدی!۔مریم اک گل دَس گئی، شوباز’باپو’بنڑا چس گئی!۔ راجکماری فھر برس گئی ،پڈم دیدار نو ترس گئی۔کھتے ہونڑ پھنس گئی؟ ساڈی بھونڈگھس گئی !۔ کشمیرچھڈ کے سانو ٹھگ بنارس گئی، کتیا ریلا چھڈ کے نس گئی ۔ رسی نالے کس گئی،چھلکے رہ گئے رس گئی۔پڈم شرم میں دھنس گئی، قیادت پردنیا ساری ہنس گئی۔ مفتی عزیزکی لیلائے سرکس گئی، جمعیت کی نکل اب بھرکس گئی۔ انقلاب کی ہوس گئی۔ تمنا تک جھلس گئی۔
منفی شخصیات رہ گئیں کہ پلس گئی
تیلیاں جلتی نہیں کہ ماچس گئی
PDM اپ ڈیٹ

Comparison of Maulana Rashid Mahmood Soomro and his ancestors with Dr. Farooq Sattar

مولانا راشد محمود سومرو اور اسکے باپ اور دادا کے ساتھ ڈاکٹر فاروق ستار کا تقابلی جائزہ۔

جب کراچی میں لسانی فسادات شروع ہوئے تو میں مہاجروں کے اکثر علاقوں میں گھومتا پھرتا تھا لیکن کبھی کسی نے تعصبات کی نگاہ سے نہیں دیکھا کہ مخصوص شرپسندہرجگہ ہوتے ہیں۔ جب ایم کیوایم کیخلاف جناح پور اور غداری کے مقدمات چل رہے تھے،الطاف بھائی (MQM)سے دستبردار ہواتھا لیکن ڈاکٹر فاروق ستار(doctor farooq sattar) نے بڑی قربانیاں دیں۔ امت اخبار و ہفت روز ہ تکبیر کراچی میں ڈاکٹر فاروق ستار کی تعریف ہوتی تھی کہ والدین بھی بہت نیک اور اچھے ہیں۔ ایم کیوایم کے اتارچڑھامیں ڈاکٹر صاحب نے بہترین اور اہم کردار ادا کیا۔ الطاف بھائی جو مشکلات کھڑی کرتا تھا تو ڈاکٹر فاروق ستار کو بھگتنا پڑتے تھے۔ الطاف بھائی کو چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب اور ایم کیوایم کے دیگر رہنماں سے دل کی گہرائیوں کیساتھ معافی تلافی کریں اور پاکستانی ادارے بھی الطاف بھائی کو معاف کرکے پاکستان میں اہم کردار کا موقع دیں۔ ہم نے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پرمفتی تقی عثمانی(mufti taqqi usmani) کیخلاف آواز اٹھائی تو( MQM)نے ساتھ دیا۔
رینجرز اہل کار(rengers) نے اپنی ڈیوٹی انجام دیکر مولانا راشد سومرو(rashid soomro) کے کلاشکوف کا لائنسس چیک کیا اور ضابطے کی کاروائی کرکے گاڑی کے نمبر پلیٹ کی پیچھے سے تصویر اتاری، جس پر مولانا راشد سومرو نے روڈ بلاک کرکے بڑا شور مچایا۔ جب ڈاکٹر فاروق ستار کے عروج کا دور تھا تو ائیرپورٹ پر ٹکٹ ایشو کرنے والی لڑکی نے پوچھا کہ شناختی کارڈ ہے؟۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں ، کوئی کارڈ وغیرہ مل جائے تو؟، لڑکی نے کہا کہ صرف شناختی کارڈ ہی چلے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے بیگ ٹٹولا اور پوچھا کہ پاسپورٹ چلے گا؟۔ اتنے میں ائیرپورٹ کابڑا افسر پہنچ گیا اور ڈاکٹر فاروق ستار سے معذرت کرلی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ” کوئی بات نہیں، ضابطے کی کاروائی ضروری ہے”۔ اس سے شاہین ائیرلائن اور ائیرپورٹ کے عملے میں ڈاکٹر فاروق ستار کا قد بڑھ گیا۔بالکل غیرمعروف (MNAاورMPA )خواتین بھی چلاتی ہیں کہ ہمیں نہیں پہچانا۔
مولانا عبدالکریم بیرشریف مرکزی امیر(JUIF) نے ہماری حمایت کی تھی۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے اسلام کی نشا ثانیہ کیلئے تائید میں تحریرلکھی لیکن ڈاکٹر خالد سومرو کے باپ نے ہمارے ساتھیوں سے کہا کہ”( 40)سال سے چوتڑ ہم رگڑرہے ہیں اور امام تم بنوگے؟”۔ ہمارے ساتھی مختارسائیں نے کہا کہ ”آپ نے چوتڑ کیوں رگڑی؟، نہ رگڑتے!”۔ شکار پورمدرسہ جلسہ کے اشتہارمیں میرا نام تھا تو ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کہا کہ ہم ہونگے یا یہ ہوگا؟۔ وڈیرے نے کہا کہ معزز شاہ صاحب کو اس بھان فروش کے بیٹے کی وجہ سے ہم روکیں گے؟۔
(MRD)کی تحریک کی پارٹیوں نے فیصلہ کیا کہ قائدین کے مقابلے میںکوئی پارٹی کسی کو کھڑا نہیں کریگی تو ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے جمعیت علما کی ناک کاٹ دی اور بینظیر بھٹو (benazir bhutto)کے مقابلے میں کھڑا ہوا۔مذہبی جذبات اور قومی تعصبات کے معاملے میں ڈاکٹر فاروق ستار جیسے عالی ظرف کے مقابلے میں ان لوگوں کا راج چل رہاہے جن کو حدیث میں ” روبیضہ” نکمے قسم کے لوگ قرار دیا گیا۔ ان کا کوئی ضمیر نہیں ورنہ راشد سو مرو مولانا سے( GHQ)کی زمین کی وضاحت مانگ لیتا۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Tragedy of Dr. Abdul Razzaq Sikandar:Maulana Talha Rahmani,Jamia Uloom Al Islamia Allama Banuri Town Karachi.

ڈاکٹر عبدالرزاق سکندرکا سانحۂ ارتحال : مولانا طلحہ رحمانی ، جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

الوداع الوداع. اے شیخ سکندر الوداع.یاد گار اسلاف،آفتاب علم ماہتاب عمل،نابغہ روزگارہستی،محبوب العلما و الاتقیائ،شیخ المحدثین،محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے گلشن کے باغباں اور مسند نشیں حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ رحم واسع کے سانحہ رحلت نے امت مسلمہ کی دنیائے علم کو سوگوار کردیا،آج اس باغیچہ بنوری کے درودیوار ماتم کناں ہیں۔علم و دانش کی اس عظیم درسگاہ کی مسندیں ایک مرد درویش کی تلاش میں مغموم اور افسردہ افسردہ سی ہیںلیکن انوارات سے منور اور روح پروری سے لبریز ایک ”گوشہ ” آباد ہے ۔تصورات کی دنیا میں کئی خوشگوار احساسات کا منظر دماغ میں آ رہا ہے تو یادوں کا اک جہاں بھی معطر معطر سا ہورہا ہے۔اس ”گوشہ” کے چاروں مکین نئے آنے والے مہمان کی آمد پہ کس طرح نہال ہورہے ہونگے۔ گزشتہ تین دنوں سے جو محفل سجی ہوگی اور اس دلبر ماحول میں گزرے دنوں کی کتنی یادوں کا ذکر چل رہا ہوگا۔چلیں دل کا یہ پھپھولا پھر کبھی ان شااللہ۔ حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی حیات کے درخشندہ وتابندہ پہلوں میں ایک بہت بڑا پہلو ان کی عالی و ارفع نسبتیں ہیں۔ کئی نسبتوں کے امین اس عظیم المرتبت شخصیت پہ بہت کچھ تحریر و تقریر کی شکل میںآرہا ہے اور اس مرد قلندر کیلئے کروڑوں دلوں میں لاکھوں عشق و عقیدت کے جذبات کا سیل رواں بھی آج اشکوں کی صورت ہر طرف بہہ رہا ہے۔پیکر علم و حلم لازوال محبتوں کے مرجع ایک حسین اور وجیہہ شبیہ کی صورت کا سراپا سب کی نظروں میں گھوم رہا ہے۔ سردست تو مسنون تعزیت کے تیسرے دن کا اختتام ہوااور ان تین دنوں میں ”ان”کے بارے بہت کچھ لکھنا ضروری تھا۔ لیکن کچھ غم واندوہ کے پرکیف ماحول اور ملک بھر سے مسلسل مہمانوں کی کثیر تعداد میں آمد کی مصروفیت کیوجہ سے باوجود کوشش کے نہ لکھ سکا۔ ان تین دنوں میں مختصرا بعض احباب کی مختلف انداز میں خراج عقیدت کی تحریریں نظم ونثر کی شکل میں نظر سے گزریں۔کچھ درد میں ڈوبی صدائیں بھی سماعت سے ٹکرائیںلیکن مکمل انہماک سے نہ سن پایا۔ آج پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خواں برخوردار حافظ ابوبکر سلمہ اللہ تعزیت کیلئے جامعہ آئے تو انکے پاس دو تین شعرا کے کلام تھے۔انہوں نے سنائے تو نہیں لیکن پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔اس میں ایک کلام محترم آفتاب احمد (جن کا تعلق سانگھڑ سے )کا تھا۔اس منظوم خراج عقیدت کو حافظ صاحب سلمہ اللہ نے فوری طور پہ اسٹوڈیو جاکر ریکارڈ کروایا۔ابھی کچھ دیر قبل شاعر موصوف کے کلام کو حافظ صاحب کی زباں ملی تو سن کر دل حضرت ڈاکٹر صاحب نوراللہ مرقدہ کی فرقت پہ مزید مغموم ہوگیا ۔بہرحال وہ کلام اپنے برخوردار حافظ ابوبکر کی خوبصورت آواز میں آپ حضرات کیلئے شئیر کررہا ہوں۔سنیںاورحضرت رحمہ اللہ کے رفعت درجات کی بلندی کیلئے ضرور اہتمام سے دعا فرمائیں۔وہ ہماری دعاں کے شاید اتنے محتاج نہیں جتنے ہم جیسے سیاہ کاروں کو ضرورت ہے۔ لاکھوں افراد نے ان کو جس عقیدت بھرے احساسات اور والہانہ جذبات کیساتھ الوداع کیا۔ جنازہ کا وہ منظر کراچی جیسے شہر نے شاید اس سے قبل کبھی نہ دیکھا ہو۔الوداع الوداع۔ اے شیخ اسکندر الوداع ،اس صدی کے اے قلندر اے سکندر الوداع۔ علم احمد مجتبی کے اے سکندر الوداع ۔الوداع الوداع، اے شیخ اسکندر الوداع۔ مولانا طلحہ رحمانی صاحب ……جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹان کراچی۔
الوداع الوداع اے شیخ سکندر…تیری گردِ پا کو بھی نہ پہنچے کوئی قلندر
لالچ تھی نہ شہرت کی کوئی طلب…. تحمل کے سمندر،علم نبویۖ کے البدر
اے عربی لغت کے شبِ قدر ….. طلوع ہو گی تیرے فیض سے الفجر
ازماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Maulana Syed Muhammad Banuri was martyred and charged with suicide. After finding evidence of murder, it was decided to accuse Dr. Abdul Razzaq.

مولانا سید محمد بنوری کو شہید کرکے خود کشی کا الزام لگایا گیا پھر قتل کا ثبوت ملنے پر ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔

ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سے متعلق
رئیس و شیخ الحدیث جامع العلوم الاسلامیہ بنوری ٹان کراچی، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان ،مرکزی امیرعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت!
………………پیدائش اور بچپن:(1935 )میں ایبٹ آباد کے گاں کوکل کے دینی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔آپ بچپن سے سلیم الفطرت تھے ۔ معاصرین گواہی دیتے ہیں کہ آپ میں جو نیکی و صلاح پیرانہ سالی میں نظر آتی ہے ، جوانی میں اسی طرح دکھائی دیتی تھی۔ گویا آپ کا بچپن، جوانی، اور بڑھاپا نیکی و تقوی کے لحاظ سے ایک جیسے تھے ۔
…………..آپ کے والد گرامی:سکندر خان بن زمان خان(sikandar khan bin zaman) اپنے حلقہ میں بڑے باوجاہت تھے۔ خاندان اور گاں کے تنازعات میں ان سے رجوع کیا جاتا تھا ، جنہیں وہ خوش اسلوبی سے نمٹادیا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے علما و صلحا سے گہرا تعلق تھا ، جس کا اثر ان کی زندگی پر ایسا نمایاں تھا کہ دینی معلومات آپ کو خوب مستحضر تھیں ، جس کی بنا پر بہت سے علما بھی آپ سے محتاط انداز میں گفتگو کرتے تھے، کیوں کہ غلط بات پر آپ ٹوک دیا کرتے تھے۔ نماز باجماعت کی پابندی ، تلاوتِ قرآن کریم، ذکرِ الہی، صلہ رحمی ، اصلاح ذات البین، رفت و شفقت، اور ضعفا کی خبرگیری؛ان کے خصوصی اوصاف تھے۔ مسجد کی خدمت و تعمیر سے بہت شغف تھا۔
………….تعلیم:قرآن کریم کی تعلیم اور میٹرک تک دنیاوی فنون گاں میں حاصل کیے۔ اس کے بعد ہری پور کے مدرسہ دارالعلوم چوہڑ شریف میں دو سال، اور احمد المدارس سکندر پور میں دو سال پڑھا۔ 1952) (میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالی کے مدرسہ دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں درجہ رابعہ سے درجہ سادسہ تک تعلیم حاصل کی ۔ درجہ سابعہ و دورہ حدیث کیلئے محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحم اللہ علیہ کے مدرسہ جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹان(binoritown) میں داخلہ لیا، اور (1956) میں فاتحِہ فراغ پڑھا ۔ (واضح رہے کہ اس مدرسہ میں درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم آپ ہی تھے۔) اسکے بعد آپنے (1962) میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ(جسکے قیام کو ابھی دوسرا سال تھا) میں داخلہ لیکر چار سال علومِ نبویہ حاصل کیے۔ بعد ازاں جامعہ ازہر مصر (jamia azhar misar)میں( 1972) میں داخلہ لیا اور چار سال میں دکتورہ مکمل کیا؛ جس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہ العراقی کے عنوان سے مقالہ سپردِ قلم فرمایا۔
………….آپ کے اساتذہ کرام:
(1)۔۔۔: علامہ سید محمد یوسف بنوری (تلمیذ:محدث علامہ کشمیری )
(2)۔۔۔: مولانا عبدالحق نافع کاکاخیل (تلمیذ:حضرت شیخ الہند )
(3)۔۔۔: مولانا عبدالرشید نعمانی
(4)۔۔۔:مولانا لطف اللہ پشاوری۔
(5)۔۔۔: مولانا سحبان محمود۔( سبحان محمود شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی)
(6)۔۔: مفتی ولی حسن ٹونکی۔(رئیس دارالافتا وشیخ الحدیث بنوری ٹان)
(7)۔۔۔: شیخ التفسیرحضرت مولانا بدیع الزمان۔ (رحمہم اللہ تعالی اجمعین )
………….درس و تدریس:دارالعلوم نانک واڑہ میں دورانِ تعلیم ہی عمدہ استعداد و صلاحیت کی بنا پر، کراچی میں لیبیا و مصر حکومتوں کے تعاون سے،عربی زبان سکھانے کیلئے مختلف مقامات پر ہونے والی تربیتی نشستوں میں پڑھانے کا موقع ملا، اس سے آپ کو تدریس کا کافی تجربہ حاصل ہوا۔ علاوہ ازیں بنوری ٹان میں درسِ نظامی کی تکمیل سے پہلے ہی حضرت بنوری نے آپ کی صلاحیتوں کو جانچتے ہوئے اپنے مدرسہ کا استاذ مقرر فرمایا۔آپ کا زمانِ تدریس( 1955) سے تاحال جاری تھا۔
………بیعت و خلافت:ظاہری علوم کی تکمیل کے علاوہ آپ کی باطنی تربیت میں شیخ بنوری کا سب سے زیادہ حصہ تھا۔ علاوہ ازیں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی اور حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفی نور اللہ مرقدہما کی صحبت سے مستفید ہوئے اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید اور حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہما اللہ تعالی سے اجازتِ بیعت و خلافت حاصل ہوئی۔
جامع العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹان سے تعلق(1955 )میں اس مدرسہ کے درسِ نظامی کے پہلے طالبِ علم کی حیثیت سے یہ تعلق استوار ہوا، دورانِ طالبِ علمی میں حضرت بنوری نے آپ کی عمدہ استعداد دیکھتے ہوئے آپ کو استاذ مقرر فرما کر یہ تعلق مضبوط کردیا۔ (1977 )میں انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں ناظمِ تعلیمات مقرر ہوئے۔ (1997) میں مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی شہادت کے بعد رئیس الجامعہ کیلئے آپ کا انتخاب ہوا اور (2004 )میں مفتی نظام الدین شامزئی شہید کی شہادت کے بعد شیخ الحدیث کے مسند نشین بنے؛ یہ دونوں ذمہ داریاں آپ تاحال بحسن و خوبی نبھارہے تھے۔
………عالمی مجلس تحفط ختم نبوت سے تعلق
عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ ، فتنہِ قادیانیت کے تعاقب کیلئے یہ جماعت قیامِ پاکستان کے بعد امیر شریعت سید عطااللہ شاہ بخاری کی زیرِ امارت قائم ہوئی۔( 1974) میں شیخ بنوری کی زیرِ امارت چلائی جانے والی تحریک کے نتیجہ میں آئینِ پاکستان میں عقیدہِ ختمِ نبوت کا تحفظ ممکن ہوا،( 1984) میں اسی جماعت کے تحت چلائی جانے والی تحریک کے نتیجہ میں امتناعِ قادیانیت آرڈیننس آیا۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی بحالی اور (2010) میں ناموسِ رسالت کے قانون کے تحفظ کیلئے چلائی جانے والی تحریک میں اس جماعت کا بنیادی و کلیدی کردار رہا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب( 1981) میں جماعت کی شوری کے رکن منتخب ہوئے۔ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ کے وصال(2008 )کے بعد آپ نائب امیر مرکزیہ بنائے گئے۔ حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے انتقال (2015) کے بعد آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیرمرکزیہ منتخب ہوئے۔ آپ نے مجلس کی کئی اردو مطبوعات کا عربی میں ترجمہ کرکے عرب ممالک میں اِنہیں عام فرمایا۔
……اقرا روض الاطفال ٹرسٹ پاکستان سے تعلق:
اکابر و اسلاف کی دعاں میں قائم کردہ پاکستان کے پہلے دینی علوم و دنیاوی فنون کا امتزاج رکھنے والے ادارہ کے سرپرست اور صدرمفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت سید نفیس الحسینی، حضرت مولانا خواجہ خان محمد، مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہم اللہ تعالی ایسے اکابر رہے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب اس ادارہ کے پہلے سرپرست رہے ہیں اور اب صدر بن گئے تھے۔بقیہ صفحہ 3نمبر1
……………..وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے تعلق:
قیامِ پاکستان کے بعد مسلمانانِ پاکستان کے اسلامی تشخص، مملکتِ خدا داد پاکستان میں دینی مدارس کے تحفظ و استحکام، باہمی ربط کو مضبوط اور مدارس کو منظم کرنے کیلئے اکابر علمائے اہلِ سنت دیوبند کی زیرِ قیادت( 1379ھ /1959) میں اس ادارہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت یہ ملک کا سب سے بڑا دینی مدارس کا بورڈ ہے،جس سے تقریبا بیس ہزار مدارس ملحق ہیں۔ ان مدارس میں تقریبا چودہ لاکھ طلبہ و آٹھ لاکھ طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ جبکہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ علما و پونے دو لاکھ عالمات فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔آٹھ لاکھ سے زائد حفاظ و دو لاکھ سے زائد حافظات بھی اسی وفاق سے ملحق مدارس کے فیض یافتہ ہیں۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کے شیخ محدث بنوری کا اس ادارہ کے قیام میں دیگر اکابر کے ساتھ بنیادی کردار رہا ہے۔ (1997) میں حضرت ڈاکٹر صاحب وفاق کی مجلسِ عاملہ کے رکن بنائے گئے۔ (2001) میں نائب صدر مقرر ہوئے، اس دوران آپ صدرِ وفاق شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان (molana saleemullah khan)کی بیماری و ضعف کے باعث کئی بار ان کی نیابت کرتے رہے، اور ان کی وفات کے بعد تقریبا 9 ماہ قائم مقام صدر رہے۔ (14 محرم الحرام 1439ھ05 اکتوبر 2017 )کو آپ متفقہ طور پر مستقل صدر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ آپ وفاق کی نصاب کمیٹی اور امتحان کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔
……….تصانیف و تالیفات:(1)…: الطریق العصری۔(2)….: کیف تعلم اللغ العربی لغیر الناطقین بھا۔(3)…: القاموس الصغیر۔(4)…: مقف الام الاسلامی من القادیانی۔(5)…: تدوین الحدیث۔(6)….: اختلاف الام والصراط المستقیم۔(7)…: جماع التبلیغ و منھجہا فی الدعو۔(….: ھل الذکری مسلمون؟۔(9)….: الفرق بین القادیانیین و بین سائر الکفار۔(10)…: الاسلام و اعداد الشباب۔ (11)….: تبلیغی جماعت اور اس کا طریقِ کار۔(12)….: چند اہم اسلامی آداب۔(13)….: محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔(14)….: حضرت علی اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین۔
آپ کی زیادہ تر تصانیف اردو سے عربی، اور کچھ عربی سے اردو میں مترجم ہیں۔ جبکہ مشہور کتاب الطریق العصری عرصہ دراز سے وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہے۔علاوہ ازیں آپ نے عربی و اردو میں بیشمار مقالات و مضامین سپردِ قلم فرمائے ہیں، جو عربی و اردو مجلات، رسائل و جرائد، اور اخبارات کی زینت بنے اور مختلف کانفرنسوں میں پڑھے گئے ہیں۔ اِن میں سے اردو مضامین تین مجموعوں کی شکل میں مرتب ہوچکے ہیں:
(1)۔۔: مشاہدات و تاثرات۔(2)۔۔۔: اصلاحی گزارشات۔(3)۔۔۔: تحفظِ مدارس اور علما و طلبہ سے چند باتیں۔اس کے علاوہ آپ روزنامہ جنگ کے مقبولِ عام سلسلہ آپ کے مسائل اور ان کا حل کے مستقل کالم نگار ہیں، جبکہ ماہ نامہ بینات کے مدیر مسل اور مجلہ البینات کے المشرف العام بھی ہیں۔
شیخ بنوری کی نسبتوں کے امین اور مرجع الخلائق شخصیت:شیخ بنوری سے آپکا تعلق اس وقت قائم ہوا جب آپ جامع مسجد نیو ٹان میں عربی کلاس پڑھانے کیلئے تشریف لایا کرتے تھے، کلاس پڑھانے کے بعد کچھ دیر حضرت بنوری کی خدمت میں حاضر رہتے، اگلے سال اسی مدرسہ میں داخلہ لیکر آپ نے یہ رسمی تعلق دائمی کرلیا، سفروحضر میں خادم کی حیثیت سے ہمیشہ ساتھ رہتے۔ حضرت کو بھی آپ سے ایسی محبت تھی کہ اپنے مدرسہ میں استاذ مقرر فرمایا، مدینہ یونیورسٹی میں پڑھنے کیلئے چار سال کی رخصت دی، جامعہ ازہر(jamia azhar) میں داخلہ کیلئے خود ساتھ لے گئے، (1961 )میں حج پر ساتھ لے گئے تو حج کے تمام مناسک اپنی نگرانی میں کروائے، کیونکہ یہ ڈاکٹر صاحب کا پہلا حج تھا۔
انہی محبتوں و شفقتوں نے آپ کو اپنے شیخ کا ایسا گرویدہ بنایا کہ زندگی بھر کیلئے انکے ہوکر رہ گئے۔ شیخ کے وصال کے بعد کچھ عرصہ تک یہ کیفیت رہی کہ جہاں شیخ کا تذکرہ چھڑتا تو آپ کی آنکھیں ضبط نہ کرپاتیں۔ پھر بڑے والہانہ انداز میں شیخ کے واقعات سناتے۔ آپ اپنے شیخ کی تمام نسبتوں کے امین اور انکے مسند نشین و جانشین تھے۔ شیخ بنوری بیک وقت صدرِ وفاق، امیرِ مجلس تحفظ ختم نبوت، رئیس و شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹان تھے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب (doctorabdulrazaqsikandar)بھی ان تمام مناصب پر اپنے شیخ کی یادگار تھے۔ آپ فنا فی الشیخ کی تصویر اور شیخ کی نسبتِ اتحادی کا مظہر اتم ہیں۔ اپنے شیخ ہی کی نسبت سے آپ اس وقت پورے ملک کے مشائخ و اہل اللہ کے معتمد، مرجع الخلائق اور ایسی غیرمتنازع شخصیت تھے کہ سب کی عقیدت و احترام آپ کو حاصل تھی اور آپ کی مجلس و صحبت سے استفادہ کرنا ہر کوئی اپنی سعادت سمجھتا تھا۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست
یہ معلومات جامعہ بنوری ٹان کراچی کے فیس بک اکاونٹ پر درج ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نوراللہ مرقدہ
ازقلم : شاگرد سید عتیق الرحمن گیلانی
شاگرد کیلئے استاذ کی نسبت زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ تبلیغی جماعت، تصوف کے پیرومرشد اور مدارس کے فیض میں کیا فرق ہے؟۔ طالب علمی کے زمانے میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کو چراغ سے اور تصوف وسلوک کو ہاتھ کی بجلی(ٹارچ) سے اور مدارس کو الیکٹرک سے تشبیہ دی تھی اور یہ واضح کیا تھا کہ تبلیغی جماعت کے لوگ اپنے اندر مٹی کا تیل جلاکر چراغ سے چراغ روشن کرتے ہیں۔ ایک جاہل کے پلے مٹی کے تیل کی طرح ایک خطرناک اور بدبودار جہالت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا یہ کمال ہوتا ہے کہ دنیا کی اندھیر نگری میں اپنی جان، اپنا مال اور اپنا وقت لگاکر تسلسل کیساتھ قربانیاں دیتا ہے۔ چھ باتوں کی تبلیغ ، چند گھنٹے کی تعلیم، شبِ جمعہ کا بیان ، سہ روزہ، چلہ اور چارماہ سے نہ صرف خود ایک تبلیغی کارکن چراغِ راہ بنتا ہے بلکہ دنیا میں چراغوں کا ایک زبردست سلسلہ شروع کردیتا ہے۔ اس کے پاس علم وعمل کا کوئی بڑاخزانہ نہیں ہوتا ہے۔ زندگی بھر جاہل ہی رہتا ہے لیکن ایمان کے نور سے چراغ جلادیتا ہے اور ایمان کے نور کے چراغوں کا سلسلہ اپنی بساط کے مطابق جاری رکھتا ہے اور یہ عمل بہت آسان ہے۔گویا موم بتی سے موم بتی جلانے میں مشکل نہیں۔
دوسری چیز سلوک وتصوف ہے۔ جس کی مثال سیلوں سے چلنے والی ہاتھ کی بیٹری ہے۔ اس میں مٹی کا تیل نہیں ہوتا بلکہ انتہائی خوبصورت سیل ہوتے ہیں۔ اس کی اتنی تیز روشنی ہوتی ہے کہ اگر الیکٹرک کے بلب پر اسے مرکوز کردیا جائے تو روشن بلب کا سایہ بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔ تصوف کاایک پیرطریقت جب اپنے مرید عالم پر اپنی باطنی توجہ مرکوز کردیتا ہے تو اس کو تڑپنے پر مجبور کردیتا ہے۔ مولانا روم کو شمس تبریز اور شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو خواجہ باقی باللہ اور مولانا نانوتوی، مولانا گنگوہی، مولانا تھانوی جیسے علما کو حاجی امداد اللہ (hajiimdadullah)کی مریدی پر مجبور کردیتا ہے۔ نبیۖ سے ایمان، اسلام ، احسان کا پوچھا گیا تو تینوں کے الگ الگ جواب عطا فرمائے تھے۔ تبلیغی جماعت عوام پر ایمان کی محنت کرتی ہے ، اہل تصوف احسان کی محنت اور مدارس اسلام کی محنت کرتے ہیں۔ تینوں شعبوں کی اپنی اپنی جگہ بہت اہمیت ہے لیکن مدارس کا درجہ سب سے اعلی ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ بعث معلما ” مجھے معلم بناکر بھیجا گیا ہے”۔
مدارس کی مثال الیکٹرک کی ہے۔ اگر کہیں پر بجلی لگانی ہو تو اس کیلئے دور دراز سے بجلی کے پاور اسٹیشن سے بڑی لائنوں سے بڑے بڑے کھمبوں پر بجلی کی سپلائی لانی ہوگی۔ شہروں میں گرڈ سٹیشن اور فیڈر بنانے ہونگے۔ وہاں سے پھر کھمبوں اور (PMT)اور میٹروں کے ذریعے بجلی کی سپلائی لائن لینی ہوگی۔ اس محنت میں سالوں کا عرصہ لگتا ہے لیکن اس کی وجہ سے گھروں میں ہیٹر، فریج، پنکھے،بلب، واشنگ مشین، پانی کی موٹرسے لیکر بڑے بڑے کارخانے، فیکٹریاں اور مل سب کچھ چلتے ہیں۔ ناظرہ قرآن ، ترجمہ قرآن، حفظ قرآن، استنباط مسائل ، فقہا کے درجات، احادیث وتفسیر، فتوے کا شعبہ، قاضی کا نظام، سیاست شریعہ، ملک کا نظام ، فتنوں کی روک تھام اور تمام شعبے ان مدارس کے مرہون منت ہیں۔
جامعہ بنوری ٹان کراچی میںزمانہ طالب علمی سے ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کی شخصیت کو مختلف معاملات میں بہت اچھے انداز میں دیکھا ہے۔شاعر حبیب جالب کا تعلق ولی خان کی پارٹی سے تھا۔ ولی خان کے ہم عصر اور مخالفین بھی تھے اور ولی خان(wali khan) کیلئے حبیب جالب (habibjalib)نے کچھ اشعار لکھے تھے۔
ولی خان
مرے کارواں میں شامل کوئی کم نظر نہیں ہے
جو نہ مٹ سکے وطن پر میرا ہم سفر نہیں ہے
درِ غیر پر ہمیشہ تمہیں سر جھکائے دیکھا
کوئی ایسا داغِ سجدہ مرے نام پر نہیں ہے
کسی سنگ دل کے در پر مرا سر نہ جھک سکے گا
مرا سر نہیں رہے گا مجھے اس کا ڈر نہیں ہے
مجھے لگتا ہے کہ اپنے استاذ محترم ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر(abdulrazaq sikandar) سے متعلق جوبڑے قریبی معلومات رکھتے ہیں وہ ضرور یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ حبیب جالب کی طرف سے اپنے سیاسی لیڈر کیلئے یہ اشعار لکھنا کارکن اور لیڈر کے جس ذوق کی عکاسی کرتا ہے ،اس کی ڈاکٹر صاحب جیسے شریف النفس انسان سے کسی طرح کی کوئی بھی مناسبت نہیں لگتی ہے لیکن ایک شاگرد کا کام یہ ہوتا ہے کہ اپنے استاذ کی ان خفیہ صفات کو عوام وخواص کے سامنے لائے جن کی کسی دوسرے کو ہوا بھی نہیں لگی ہو۔ جی ہاں! میں انہی گوشوں کو بہت اچھے انداز میں سامنے لارہا ہوں۔
(1): پہلا مرحلہ یہ تھا کہ سواداعظم اہلسنت کے نام پر جن لوگوں نے اہل تشیع (shia)کی مخالفت اور ان پر کفر کا فتوی لگایا تھا، اس کی ڈاکٹر صاحب نے شروع سے بہت سخت مخالفت کی تھی۔ پھر وہ دن دنیا نے دیکھ لیا کہ ہندوستان کے مولانا محمد منظور نعمانی(manzoor nomani) کے استفتا کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی نے فتوی لکھ دیا ۔جس پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بڑے مدارس کے علما اور مفتی صاحبان نے دستخط کئے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ شیعوں کے خلاف جنہوں نے قادیانیت سے زیادہ بڑے کفر کا فتوی لگایا وہ اپنے فتوں سے الٹے پاں مڑ کے بھاگے ہیں۔ مولانامحمد منظورنعمانی کے صاحبزادے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اپنے باپ کے فتوں سے (180)ڈگری کے زوایہ پر پلٹ گئے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹان کراچی کے اکابر علما میں کچھ بدھو تھے اور کچھ مفادپرستی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ڈاکٹر صاحب پر کوئی ایسا داغ نہیں ہے۔
(2): الائنس موٹرز سے کراچی کے اکابر علما ومفتیان نے گاڑیاں اور مراعات حاصل کیں۔ الائنس موٹرز مالکان کے مرشد حاجی عثمان کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے اکابرین تک پر بھی فتوے لگائے جن میں دارالعلوم کراچی ، جامع الرشید کے مفتی رشیداحمد لدھیانوی شامل تھے۔ لیکن پھر جب الائنس موٹرز کے مالکان نے حاجی عثمانکے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا تو بڑے اکابر کہلانے والوں کا بڑا شرمناک کردار سامنے آگیا۔ فتوں کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے لیکن مولانا بدیع الزمان ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، قاری عبدالحق، مفتی عبدالسلام چاٹگامی وغیرہ نے اس میں پہلے اور بعد میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا اور مولانا یوسف لدھیانوی نے حاجی عثمان سے عقیدت کا اظہار کرنے کے باوجود بھی اپنی طرف منسوب فتوے کی تردید سے معذوری کا اظہار کردیا۔ مفتی نظام الدین شامزئی نے جامعہ فاروقیہ کے دور میں حاجی عثمان کی تائید میں فتوی دیا تھا حالانکہ مولانا سلیم اللہ خان نے مخالفت میں فتوں پر دستخط کئے تھے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کے نام پر ایسا کوئی داغ نہیں ہے جس سے آپ کی اولاد کو قیامت تک خفت کا سامنا ہو۔ میری تحریروں میں بہت چیزیں واضح ہیں۔ طوالت کے خوف سے تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا ہوں۔
(3): ڈاکٹر صاحب خود ختم نبوت کے امرا اور اقرا روض الاطفال کے بڑے سرپرستوں سے زیادہ علمی شخصیت کے مالک تھے مگرظلم یہ ہوا کہ مفتی نظام الدین شامزئی کے بعد آپ کو شیخ الحدیث کے درجے پر رکھاگیا۔ اگر مدارس اور اقرا کے ارباب حل وعقد اخلاص رکھتے تو ڈاکٹر صاحب میں دیسی اور برائے نام اس نصابِ تعلیم کے مقابلے میں جدید اور جاندار نصاب بنانے کی صلاحیت تھی لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ شخصیات کی زندگی سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ قبر پرستی کا مزہ لیتے ہیں یا جب پیرانہ سالی میں دل ودماغ کا ضعف انسان کو آخری نکمی عمرتک پہنچادیتا ہے تو تبرک کیلئے عہدے ومناصب ان کی گردنوں کا طوق بنادیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید انورشاہ کشمیری کو آخری میں اپنی زندگی درسِ نظامی میں تباہ کرنے کا خیال آجاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بلند قامت شخصیت اپنی شرافت کے علاوہ اپنے علمی استعداد کی وجہ سے تھے لیکن ان کی ذات سے استفادہ نہیں لیا گیا۔
(4): میری تحریک کے بارے میں مفتی نظام الدین شامزئی کے فتوے کو بہت جلی حروف کیساتھ ہم نے شائع کیا تھا جس میں ان کی غلطی اور نالائقی کو بھی بہت نمایاں کردیا تھا اور ڈاکٹر صاحب نے جو تحریری رہنمائی فرمائی تھی وہ ہماری تحریک کی جان تھی۔ میں نے اپنی کتاب” عورت کے حقوق” کے بالکل آخری جملے میں اس تحریر کو تمام مکاتبِ فکر کی تائیدات سے بھاری قرار دیا۔ اپنے استاذ کی خدمت میں اپنے بیٹے ابوبکر کیساتھ حاضری دی تو ملاقاتیوں کا تانتا بندھا تھا۔
(5): جب مولانا سید محمد بنوری کو مدرسہ میں شہید کرکے پہلے خود کشی کا الزام لگایا گیا اور پھر قتل کا ثبوت ملا تو ڈاکٹر صاحب کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ ہم نے کرائے کے قاتل کالعدم سپاہ صحابہ اور مفتی جمیل خان کی روزنامہ جنگ میں خود کشی کے بہتان کی سخت مذمت کی اور لکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے کبھی مکھی بھی نہیں ماری ہوگی۔ مولانا یوسف بنوری کے صاحبزادے سید محمد بنوری کے قتل کا الزام انتہائی گھنانا فعل ہے۔ مفتی محمد نعیم صاحب ہمارے استاذ تھے اور ان کی وفات سے قبل متعدد بار خدمت میں حاضر ہوا لیکن جب پتہ چل گیا کہ وہ بنوری ٹان کراچی پر قبضہ کرنے کے موڈ میں تھے تو دکھ ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان پر لکھی جانے والی کتاب میں مجھے تاثرات لکھنے کا کہا گیا لیکن میں نے نہیں لکھے اور نہ لکھنے پرخوش ہوا۔ انکا داماد مولوی امین مارا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے جامعہ ، اردگرد ،اندرونِ ملک اور بین الاقومی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ڈینگیں نہیں ماریں لیکن اللہ نے ہرسازش سے آپ کو محفوظ رکھا۔کہاجاتا ہے کہ اللہ کے ولی ایسے ہی محفوظ ہوتے ہیں کہ سمندر میں بھی پاں کو نہ لگے پانی۔ اگر مجھے تھوڑا سا ملاقات کا موقع دیا جاتا تو میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے نہ صرف طلاق کے حوالے سے بلکہ اسلام کی نشا ثانیہ اور قرآن واحادیث کی تشریحات کے حوالے سے بھی مجھے اپنی زبردست تائید سے مفتی محمد حسام اللہ شریفی اور دیگر حضرات کی طرح بالکل نوازنا تھا۔ بس ملاقات کے دوران میں نے اپنی بات کا آغاز کیاہی تھا کہ ملاقات کے مالک کے صبر کا پیمانہ بہت ہی لبریز ہوگیاتھا اور مجھے وہاں سے جانے پر مجبور کردیاتھا لیکن ڈاکٹر صاحب نے مجھے دوسرے ملاقاتیوں کے برعکس اپنی طرف سے عطر کی شیشی کا بھی تحفہ عنایت فرمایاتھا۔
(6):قرآن کادرست ترجمہ آئیگا توڈاکٹر صاحب کی شخصیت، اہمیت، افادیت نورانیت،علمیت،انقلابیت، مجددیت، سیادت، قیادت امامت کا لگ پتہ جائیگا ایک ساتھی سے فرمایا کہ” میرا شاگردہے میری بہت عزت کرتا ہے ”۔ جسے سن کر دل تڑپ اٹھا۔استاذمحترم شریف النفس تھے،اگر آپ کی سیرت و اخلاق کو اپنانے کی توفیق ملتی تو دنیا بدل دیتے مگر نصیب اپنا اپنا۔سید عتیق الرحمن گیلانی
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

USA & Israel planted Taliban & Al-Qaeda as a conspiracy against Muslim community. The Quran already revealed severity of conspiracies designed by Jewish and Christ that even rocks could get demolished.

rustam shah mohmand
dr afia siddiqui
rauf klasra
asad toor journalist
osama bin laden
usman kakar
majeed achakzai

اللہ نے فرمایا : اے ایمان والو! کہو سیدھی بات ، تمہارے اعمال کی اصلاح اور گناہوں کی مغفر ت کردیگا۔ القرآن: آؤ سیدھی بات کریں

طالبان اور القاعدہ کے نام پر امریکہ اور اسرائیل نے اُمت مسلمہ کیخلاف سازش کی ۔قرآن میں یہودونصاریٰ کی اس سازش کا ذکر ہے کہ جس سے پہاڑ بھی ہل جائیں

تحریر : سید عتیق الرحمان گیلانی
وزیراعظم کی تقریر کو خوش آئند کہا گیامگر یہ جنگ کی کوئی نئی سازش نہ ہو۔ رؤف کلاسرا نے کہاکہ” القاعدہ و طالبان نے پولیس،فوج، عوامی مقامات، کھیل کے میدانوں، مساجد، گھروں ، بازاروں، ہوٹلوں اور کچہریوں کو نشانہ بنایا۔ دجالی لشکر کے ظلم کی انتہاء ہوگئی تو فوج نے انکا قلع قمع کیا۔ وزیراعظم کا ان کو مظلوم اور فوج کو ظالم کہنا قابلِ مذمت ہے۔ پرویزمشرف(parvaiz musharraf) نے امریکہ کو ہاں کی تو اسکے ریفرینڈم کی حمایت کیا ایوبیہ کے بندروں نے کی تھی؟۔ دھرنے سے پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان (taliban)کے سپرد کرنے کا اعلان کس نے کیا؟”۔ رؤف کلاسرا (rauf clasra)نے طالبان کے کرتوت کی تفصیل اور باقی بے گناہ افراد کی فہرست کا ذکر نہیں کیا مگر طالبان کے مظالم کوخالی فوج کی شہادت تک محدود کرنا غلط ہے۔
افغانستان کو خونریزی کا سامنا ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ریاست، حکومت ،عوام کا ترجمان ہوتا ہے۔ کسی میں اشرف غنی اور اس کی حکومت سے ہمدردی ہے۔توزیادہ تر اشرف غنی(ashraf ghani) اور اس کی ٹیم کو کچلنے کے خواب دیکھتے ہیں۔کچھ طالبان کو کچلنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت ، ریاست اور عوام کو چاہیے کہ بڑھ چڑھ کر امریکی انخلاء سے پہلے اس خانہ جنگی کو روکنے میں اپنا کردارادا کرے۔ امریکہ نے پیسہ دیا تو ہم نے افغان وار لڑی۔ امریکہ نے مجبور کیا تو طالبان کی حکومت کو گرانے میں کردار ادا کیا اور اب کچھ نہیں مل رہاہے تو افغانیوں کی صلح کیلئے کلمات تک ادا کرنے سے قاصر ہیں؟۔ خونریزی کے عزائم بیان کرتے ہیں؟۔ اوریا مقبول جان() کو پیراشوٹ سے طالبان کے ہاں اتارا جائے تاکہ انسانی شکل میں شیطان کا پتہ چل جائے۔ کیا اوریامقبول جان اپنی اس آخری عمر میں بھی شوقِ شہادت نہیں رکھتا ہے؟۔
صحافی صا بر شاکر(sabir shakir) نے کہا ”امریکہ کے نکلنے کے بعد چھ ماہ میں اشرف غنی کی حکومت گرے گی (30)ہزار امریکن فوجیوں نے(9/11)کے بعد خود کشیاں کیں۔ اگر طالبان کابل پر قبضہ کریں تو امریکہ طالبان کی حکومت تسلیم نہیں کریگا”۔

Rustam Shah Mohmand disclosed that he himself heard the cries of a girl being tortured sexually and physically at Bagram Air base, later, She was known as Dr. Aafia Siddiqui.


رستم شاہ مہمندنے بتایا کہ بگرام ائیر بیس پر ایک لڑکی پر جنسی اور جسمانی تشدد ہورہاتھا میں چیخوں کی آوازیں اپنے کانوں سے سن رہاتھا بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھیں۔

رستم شاہ مہمند(rustam shah mumand)نے افغان رفیوجز کے ڈٹ کر پیسے کھائے۔ پھر افغانستان کا سفیر بن گیا اور بعد میں میڈیا پر اپنی زبان سے داستان سنائی کہ” بگرام ائیر بیس پر ایک لڑکی پر جنسی اور جسمانی تشدد ہورہاتھا وہ چیخوں کی آوازیں اپنے کانوں سے سن رہاتھااور بتایا گیا کہ کوئی پاکستانی خاتون ہیں اور بعد میں پتہ چلا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھیں”۔ ہم نے لکھا تھا کہ پرویزمشرف کے بعد یہ داستانیں سنانے کے بجائے اسی وقت چاہیے تھا کہ اپنی کرسی سے چمٹے رہنے کے بجائے رسم شاہ مہمنداستعفیٰ دیتا۔( 30ہزار) امریکن فوجیوں نے خود کشی کی یا نہیں لیکن ہمارے ہاں تو کوئی ایک بھی ایسا غیرتمند نہیں ہے جس نے خود کشی کی ہو۔
طالبان اپنی پیش قدمی جاری رکھ کر اپنی اور اپنے افغان (afghan)بھائیوں کی تباہی کا سامان نہ کریں۔ جو کسی ایک کی طرفداری کرکے ان کو آپس میں لڑارہے ہیں یہ شیاطین الانس ہیں۔ جن خناسوں کے وسوسوں سے آخری سورة الناس میں اللہ نے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ عثمان کاکڑ پاکستان اور پشتون قوم کا بڑا سرمایہ تھا وہ کہتا تھا کہ ہم پاکستان میں آئینی حقوق مانگتے ہیں، افغانستان میں مداخلت نہیں چاہتے۔ عثمان کاکڑ کھل کر نظرئیے کی بات کرتاتھا، اپنے مفادات کیلئے بلیک میلنگ نہیں کرتا تھا۔( PDM)کے قائدین نے سیاست کو بلیک میلنگ بنایا ہے۔ عثمان کاکڑ(usman kakar) ان سے بالکل الگ تھلگ تھا۔ اسٹیبلشمنٹ (establishment)پر پریشر ڈال کر سیاسی مفاد حاصل کرنا نظریاتی سیاست نہیں بلکہ بدترین قسم کی بلیک میلنگ ہے۔ عثمان کاکڑ اس وقت شہید کیا گیا کہ جب پاکستان، پشتون قوم اور انسانیت کو اس مردمجاہد کی سخت ضرورت تھی۔ گلبدین سے ملاقات پر مفاد پرستوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ۔ آج عثمان کاکڑ نے افغانستان میںعدم مداخلت سے زیادہ صلح پر زور ڈالنا تھا۔
جب (PDM)کے قائدین بکاؤ مال اور گمنام صحافی اسد طور کی پٹائی پر پہنچ سکتے تھے تو عثمان کاکڑ کیلئے ان کا متحدہوکر نہ پہنچنا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟۔ کیا عثمان کاکڑ شہید کی حیثیت اسد طور سے بھی کم درجہ کی تھی؟۔ مولانا عطاء الرحمن کا یہ کہنا کہ قاتل معلوم ہیں ان کو پکڑا نہیں جارہا ہے اور محمود خان اچکزئی کا یہ کہنا کہ اگر پاکستان میں کوئی ادارے ہیں تو میرے پاس آجائیں میں قاتلوں کے ثبوت دوں گا۔ عثمان کاکڑ کے بیٹے کا یہ کہنا کہ ہم نے قتل کا سیاسی انتقام لینا ہے اور اگر مجید اچکزئی(majeed achakzai) کو ہمارے ادارے سزا نہیں دے سکتے تھے تو عثمان کاکڑ کے قاتل کو کونسے ادارے سے سزا دلوانا چاہتے ہیں؟۔ محمود اچکزئی تو ان پشتونوں کو بڑا بے غیرت کہتا تھا جو اپنا بدلہ لینے کے بجائے درگزر پر گزارہ کررہا ہو؟۔
طالبان قرآن و سنت کے احکام پر سب کو متفق کردیں اور پھر افغانستان کے الیکشن میں حصہ لیکر اقتدار کی دہلیز تک پہنچیں۔ سیاسی ایجنڈے اور عوام کی تائیدسے طالبان کو افغانستان کا اقتدار مل جائے تو سب سے بڑا نقصان شیطان کا ہوگا۔ مسلمان اور افغان کی خونریزی طالبان کیلئے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ نبیۖ نے مکہ فتح کیا تو دشمن ابوسفیان کوعزت بخش دی۔ صدر نجیب کی شہادت کا قرض ابھی افغان طالبان کی گردن پر ہے۔ اگرافغان نہیں لڑیں تودنیا کی کوئی طاقت ان کو نہیں لڑاسکتی مگرانسانی شکل میں شیطان کی انگل کا خیال رکھنا ہوگا۔ اوریامقبول جان پاکستان میں سکون چاہتا ہے تو افغانستان میں کیوں نہیں؟۔
پرویزمشرف سے زیادہ بڑا ضمیر فروش اور مجرم ڈاکٹر نجیب اللہ بھی نہیں تھے لیکن پرویزمشرف کو جج نے قدرے سخت سزا سنادی تو میجر جنرل آصف غفور کا سخت ردِ عمل سامنے آیا لیکن ڈاکٹر نجیب اللہ(doctor najeebullah) کو پھانسی دیکر کابل کے چوک میں لٹکا کر ناک میں سگریٹ ٹھونسے گئے تو خوشیوں کے شادیانے بجتے تھے۔
افغانیوں کی قتل وغارتگری پر خوشی کا شادیانہ ؟، حامد میر کہتاہے کہ ”ا شرف غنی کے گاؤں سرخاب میں آبائی گھرپر طالبان نے جھنڈا لگادیا” تو خدا نخواستہ پاکستان کیساتھ ایسا نہ ہو۔ اگر افغانی افغانیوں کے نہیں تو پاکستانیوں کے ہیں؟۔ بھارت میں مودی بیٹھا ہے۔ عمران خان کہتا ہے کہ مودی نہ ہوتا تو بھارت سے دوستی ہوتی ،یہ بھی کہے کہ امریکہ میں ٹرمپ ہوتا تو دوستی ہوتی۔ ایران اور عرب سے بھی ہمارے اعتماد کے دوستانہ تعلقات نہیں ۔چین وہ واحد ملک ہے جس میں مسلمانوں کیساتھ اسرائیل سے زیادہ انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
گوگلی نیوز نے معاشی ایمپائر فوج کا بتایا کہ اسکے تجارتی اداروںنے کاروبار پر قبضہ کیا جو خسارے میں چلتے ہیں، ہر حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہے، سودی قرضہ اسی میں کھپ جاتا ہے۔ گوگلی نیوز ن لیگ کے مشن پر ہے جبکہ نوازشریف، مریم اور شہباز شریف کہتے ہیں کہ حکومت نے دفاعی بجٹ میں خسارہ کردیا اور ہم پورا کرینگے۔ فوج نے معاشی خسارے کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ نہیں لیا تو ن لیگ دم اٹھاکر کہہ رہی ہے کہ ہم نوازیں گے جو فوج کو کھلم کھلا رشوت دینے کے زمرے میں ہی آتا ہے یہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاستدانوں کے سرغنوں کا وہ بیانیہ ہے، جس پر PDMکی مذہبی اور قوم پرست جماعتیں فخر کرتی ہیں؟۔
راشد مراد RMٹی وی لندن نے عثمان کاکڑ کی شہادت پر زہر اگل دیا مگر یہ نہ بتایا پھر نوازشریف، مریم نواز اور شہباز شریف ن لیگ کی سیاسی غیرت کہاں مرگئی ہے؟۔اور حضرت مولانا فضل الرحمن کہاں کھڑا ہے؟۔ صفحہ 3نمبر1بقیہ… اللہ نے فرمایا : اے ایمان والو! کہو سیدھی بات
پاکستان میں جمہوریت اور انصاف پیسوں کا کھیل ہے ۔ اگر اسلامی اقتدار کیلئے قریش کا ہونا ضروری تھا تو افغانستان پر حکومت کیلئے افغانی ہونا لازم ہونا چاہیے اور اس کی بڑی حکمت یہ ہے کہ بیرونی قوتوں کی سازش سے مقامی لوگ محفوظ ہونگے۔ جب رسول اللہ ۖ نے مکہ کو فتح کیا تو مدینہ کے مجاہدین کو واپس جانے کا حکم دیا اور مقامی شخص کو مکہ کا گورنر بنادیا، جو حضرت بلال کی آذان پر کہہ رہا تھا کہ ”ہم بے غیرت ہیں کہ خانہ کعبہ کی چھت پر یہ کالا گدھا ڈھینچو ڈھینچو کر رہا ہے اگر میرا باپ زندہ ہوتا تو اس کو قتل کردیتا”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ جن لوگوں کے گھروں پر قبضہ ہوچکا ہے وہ مسلمان اپنے گھر اہل مکہ سے واپس نہ لیں اسلئے کہ اللہ ان کو آخرت میں ان گھروں سے بہتر گھر عطاء فرمائے گا۔
جب پاکستان اور افغانستان کے اقتدار سے اپنے حامی اور مخالف سب عوام خوش ہوں تو پوری دنیا میں اسلامی جمہوری بنیادوں پر انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ لڑنے مرنے، الزام تراشیوں، تہمتوں اور دشمنیوں کا بہت ہوگیا ہے اور اب امن وسکون کی زندگی اسلامی ممالک نے اپنی عوام کو دینی ہوگی۔ پشتون عوام بالخصوص اور باقی لوگ بالعموم جنگ وجدل اور لڑائی و جھگڑوں سے باہر نکل جائیں۔ میڈیا ان نکات کو اٹھائے جن سے طالبان اور اشرف غنی میں کوئی ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوجائے۔ بڑے پیمانے پر قتل وغارتگری کیلئے افغانوں کو مزید بھڑکانا ابلیس اور اس کی انسانی ذریت کا بہت بڑا دھندہ ہے۔ جو بھی جنگ برپا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے تو اس کو یہاں بک بک کرنے کے بجائے اپنا عملی کردار ادا کرنے کیلئے طالبان یا اشرف غنی کی حمایت میں پہنچ جانا چاہیے۔ یہ شیطان کا کردار ہے کہ دوسروں کو جنگ میں جھونک کر خود اپنی دُم دباکر بیٹھ جائے۔
سلیم صافی نے کہا کہ” امریکہ نے جان بوجھ کر قتل وغارتگری کی فضاء پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پرامن افغانستان ہے لیکن اس کا بس نہیں چلتا ہے کہ اس کیلئے کیا اقدامات اٹھائے اسلئے پاکستان کے حق میں بھی یہی ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی اور بڑے پیمانے پرجنگ نہ ہو اور اگر ایسا ہوا تو اس کے بہت برے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے”۔
رمضان میں بڑے بڑے شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے لیکن پھر بھی شیاطین الانس اور چھوٹے شیطان اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں، اگر آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید(dgisi faiz hameed) اور بڑے کورکمانڈرز بھلائی کے فیصلے پر متفق ہوجائیں تو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے شیاطین انکے نام پر شرارتوں کا سلسلہ جاری رکھیںگے۔ پاک فوج کو چاہیے کہ ان کو شٹ اپ کی کال دیں۔
رؤف کلاسرا نے اپنے ویلاگ میں ایک مثبت خبر لانے میں اپنا تجزیہ مارکھپایا ہے کہ” جوبائیڈن ایک کال کا تکلف کیوں گوارا نہیں کررہاہے؟۔ اگر چہ ہم اس کیلئے مر نہیں رہے ہیں لیکن امریکی صدرنے یہ رویہ کیوں اختیار کیا ہوا ہے؟۔ کیا یہ وجہ ہے کہ طالبان کو ہم نے بات کیلئے راضی کیا توحسبِ معمول امریکہ کو ہماری ضرورت نہیں رہی؟۔کیا بھارت کو زیادہ اہمیت دینا چاہتاہے اسلئے ہمیں گھاس ڈالنا مناسب نہیں سمجھتا؟۔کیا اڈے دینے کیلئے دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے؟۔ جب ہم اڈے دیں گے تو تھینک یو کی کال کرلے گا؟۔کوشش کے باوجود کسی نتیجے پر پہنچنے میں کا میابی نہیں ہوئی ہے لیکن عمران نے برابری کی سطح پر ان سے بات کرنے کا واضح اعلان کیا ہے اور یہ اعلان ملٹری اسٹیبلیشمنٹ ہی کے کہنے پر کیا ہے۔ ماضی میں جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویزمشرف نے امریکہ سے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کیلئے اڈے دئیے تھے اور ان کی خدمت کی تھی لیکن اس مرتبہ ہمارے رویے میں تبدیلی آئی ہے”۔
صابر شاکر نے کہا کہ” طالبان نے ضلعوں میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ صوبائی دارالحکومتوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ وائٹ ہاوس کے مہمان بن گئے ۔ اپنے مقاصد میں اسلئے کامیاب ہوگئے کہ امریکہ کیلئے اپنی خدمات انجام دی تھیں اسلئے امریکہ بھی ان کو جاسوسی کے بدلے نوازنے کا حقدار سمجھ رہاہے۔ عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا ۔ اس مرتبہ ہم استعمال نہیں ہونگے۔ عمران خان نے طالبان کو واضح پیغام بھیج دیا ہے کہ میرا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا یہ مشترکہ فیصلہ ہے کہ نہ تو ہم افغان طالبان کی مدد کریں گے اور نہ افغان حکومت کی۔ اگر طالبان طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کرلیں تو ہم ان کی حکومت کو نہیں مانیں گے بلکہ افغانستان کیساتھ اپنی سرحد مکمل سیل کریں گے۔ ہم افغانستان میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کریں گے”۔
وزیرستان (waziristan)کی کہاوت ہے کہ زڑہ مے شئی سوڑہ مے شئی” میرا دل بھی کرتا ہے مگر سردی بھی لگ رہی ہے”۔ دل چائے پینے کو کرے، مہمان وہ بہانہ تراشے کہ میزبان بول دے کہ یہ تو بہانہ نہیں ہے۔ پاکستان کی بار بار اپنی اس بات کو دہرانے کی وجہ سمجھ میں آرہی ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوگی لیکن ہم کوئی کردار ادا نہیں کرینگے تاکہ امریکہ بہادر کہہ دے کہ شاباش،آؤ ہم تمہارے کردار کے منتظر ہیں لیکن امریکہ گھاس نہیں ڈال رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان دوغلی پالیسی کی وجہ سے اپنے ملک میں بھی گرے لسٹ میں پڑا ہواہے۔ ہم آج تک اپنی قوم اور دنیا کو یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ” ہمیں امریکہ کا ساتھ دینے پر فخر ہے یا طالبان کی خدمت پر؟”۔ ظاہر ہے کہ دونوں کام کئے بھی ہیں۔ہماری اس میں مجبوری بھی تھی اور اس میں ہم نقصان اٹھانے کیساتھ ساتھ فائدے میں بھی رہے۔ عراق، لیبیا اور شام جتنا تباہ ہوا،ہم پڑوس میں رہ کر بچ گئے۔ بخاری کی حدیث ہے کہ الحرب خدعة ” جنگ دھوکے کا نام ہے”۔
حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ امریکہ کی طرف سے کچھ بولنے کی فکر کے بجائے بہت آگے بڑھ کر افغانستان کی خانہ جنگی روکنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ صرف خواہش رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا کہ ”دل تو چاہتا ہے مگر سردی لگ رہی ہے”۔ امریکی امداد، شاباشی اور کسی قسم کی کوئی لالچ کو بھول جاؤ۔ اگرطالبان اور اشرف غنی میں غیرجانبدار بنتے تو بھی اچھی بات ہے لیکن یہ کونسی دانشمندی ، غیرت ، ضمیر، ایمان، انسانیت، رسم وروایت اور اخلاقی قدر ہے کہ خود کہہ رہے ہو کہ ہم ٹشوپیپر کی طرح استعمال ہوئے ہیں اور پھر اشرف غنی کو طعنہ بھی دیتے ہو؟۔ اشرف غنی کو تو افغانستان کی بھلائی کیلئے بہت بعد میں عوام نے بلایا ہے اور تم نے طالبان کو تباہ کرنے کیلئے کس حد کو پار نہیں کیا ہے؟۔
عثمان کاکڑ نے سینٹ میں کہاتھا کہ” تمہاری کٹھ پتلی حکومت نے وہ کرناہے جس کا اس کو حکم مل جائے۔ میں کبھی پرسنل نہیں ہواہوں لیکن جب تم پرسنل اٹیک کروگے تو جواب دوں گا۔ محمود خان اچکزئی نے ٹھیک کہا کہ پشتون کی قومی زبان پشتو، پنجابیوں کی پنجابی، سرائیکیوں کی سرائیکی، بلوچوں کی بلوچی اور سندھیوں کی پانچ ہزار سال سے سندھی قومی زبان ہے۔ تمہارے مخدوم کے خاندان نے انگریزوں کی خدمت کی ہے اور ہمارے خان شہیدعبدالصمد اچکزئی نے انگریز کے خلاف قربانی دی، تیس سال جیل میں گزارے ہیں۔ ہماری پارٹی نے جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاؤں میں کوڑے کھائے ہیں اور پرویزمشرف کے خلاف قربانیاں دی ہیں۔ تمہارا وزیراعظم ایک کرنل کے حکم پر چلتا ہے اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہے”۔
عثمان کاکڑ نے یہ بھی کہا تھاکہ” قومی ایکشن پلان پختونوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے ”۔مگر قومی ایکشن پلان پرصرف پیپلزپارٹی کے رضاربانی نے روتے ہوئے پارٹی کی امانت سمجھ کر دستخط کئے اور تمام جمہوری پارٹیوں بشمول ( pdm)کی موجودہ پارٹیوں کے سب نے نہ صرف دستخط کئے بلکہ مولانا فضل الرحمن، نوازشریف،سراج الحق، اسفندیار ولی اور تحریک انصاف سب اسکا کریڈٹ بھی لے رہے تھے۔ محمود خان اچکزئی (mehmood khan achakzai)کا توشروع سے مطالبہ تھا کہ ”ہماری ایجنسیا ں چاہیں تودہشت گردوں کو ختم کرسکتی ہیں اور امریکی (CIAدے ہماری ISI)زیادہ ہوشیار ہے۔ اس کھیل کو یہاں سے ختم کیا جائے”۔ جب وزیرستان کی عوام کو ایکشن پلان کی وجہ سے مہاجر کیمپوں میں ڈالا گیا تو مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی ، اسفندیار ولی وغیرہ نے اسلام آباد میں ایک جرگہ بلایا تھا ۔ کامران مرتضیٰ نے بادشاہی خان محسود کو 3منٹ کا ٹائم دیکر اپنی بات مکمل کرنے کا کہا تھا اور بادشاہی خان(badshahi khan) کی وہ تقریر سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ اس نے عبدالصمد خان اچکزئی، خان عبدالغفار خان اور مفتی محمود کے وارثوں سے گلہ کیا کہ” کراچی سے مہاجر ہماری مدد کرنے کو آگئے لیکن ہمیں کسی پشتون قوم پرست اور مذہبی قیادت نے پوچھا تک بھی نہیں”۔ لیکن اس کو اپنا مختصر وقت بھی پورا نہیں کرنے دیا گیا۔ بادشاہی خان برملا کہتا تھا کہ” حکومت ہمارے لوگوں کو بھکاری بنارہی ہے اور یہ تذلیل ہمیں برداشت نہیں”۔ لاہور ہائیکورٹ نے عوام کو حکومت کی طرف سے چینی دینے کیلئے برہمی کا اظہار کیا تھا لیکن پشتون قوم کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ البتہ اس میں پشتونوں کا اپنا بھی قصور تھا اسلئے کہ خود کش حملہ آوروں کے ذریعے مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد ، اسفندیار ولی اور آفتاب شیرپاؤ کسی کو نہیں چھوڑا گیا۔البتہ محمود خان اچکزئی پر کوئی حملہ نہیں ہوا ۔اگر ہوتا تو عثمان کاکڑ شہید قومی ایکشن پلان کی مخالفت بھی شاید پھر کبھی نہ کرتے۔ قومی ایکشن پلان سے ہی خیبر پختونخواہ کے لوگوں کی زندگی بحال ہوئی تھی۔ پختونوں کو اپنے صوبے میں مشکلات کا سامنا تھا اور دیگر صوبوں میں بھی ان کو دہشتگرد سمجھا جاتاتھا۔
پاک آرمی کو اگر کٹھ پتلی ، بھاڑے و کرائے پر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے کے بجائے مقتدر طبقے نے صحیح استعمال کیا تو افغان خونریزی رُک جائیگی بلکہ اسلام، انسانیت اور پاکستان کی بچت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ پرویزمشرف اور جنرل محمود(genral mehmood) نے بھاڑہ لیا تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ جنرل قمر باجوہ اور فیض حمید نے اگر اپنا مثبت اور بہت مؤثر کردار ادا کیا تو رہتی دنیا تک کیلئے وہ امر ہونگے،پاک آرمی اور پاکستان کو بھی امر کردینگے۔انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم۔ اچکزئی عثمان کاکڑ کی شہادت کا معمہ حل نہیں کرسکتا تو پشتونخواہ کا کیسے کریگا؟۔
ایک طرف اوریا مقبول جان جیسے طالبان کی قوتِ ایمانی پر رشک کریں اور دوسری طرف قوم پرست اپنا مسئلہ حل نہ کرسکیں اور پشتونوں کو آرمی و پنجابیوں سے لڑائیں تو پشتون قوم کا مستقبل کبھی نہیں سدھر سکتا ہے۔ محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن فوج اور اسکے کٹھ پتلی پنجابی سیاسی لیڈر شپ کے کھیل میں پشتونوں اور مذہبی لوگوں کو فٹ بال نہ بنائیں۔ جب لاہور میں( PDM)کا جلسہ تھا تب بھی لاہوریوں کو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں نے نکالنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ اگر پشتونوں کی قوم پرست اور مذہبی لیڈرشپ اپنے لوگوں کو چوکیداروں اور رینٹ کار وں کی طرح استعمال کریںگے تو پشتون قوم کبھی اچھا دن نہیں دیکھ سکے گی۔ عام پنجابی کی حالت پشتون اور بلوچ سے بدتر ہے۔ افغانستان و ایران سمگلنگ سے فائدہ اٹھانے والوں کی طرح پنجابی بھی فائدہ اٹھائیں تو انکے منہ بھی دُھلے ہوئے نظر آئیں۔ پسماندہ پنجابیوں کے خلاف نفرت کے بیج بونا اور اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹوں کی دلالی کرنا کونسی سیاست کا تقاضہ اور دانشمندی کی بات ہے؟۔
نفرتوں کے بیج بونے کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تربت ، گوادر اور بلوچستان کے دُور دراز علاقوں سے محنت مزدوری اور بچوں کا پیٹ پالنے والے غریب پنجابیوں کی لاشیں آتی ہیں۔ پنجاب خوشحال ہوتا تویہ لوگ موت کے کنویں میں کودتے؟ یا یہ لکی ایرانی سرکس ہے؟۔ بلوچ پنجابیوں کو مارتے ہیں تو کوئی بلوچ پنجاب میں محنت مزدوری کرنے نہیں جاتا۔ اگر پشتون نے نسلی لڑائی شروع کردی تو پنجاب سے ایسی خونریزی کا آغاز ہوگا کہ لوگ پشتونوں کو دوزخی سمجھ کر قتل کرینگے اور دریائے سندھ کو انکے خون سے بھر دینگے۔ شاہ نعمت ولی کی پیش گوئیاں بھی ان پر فٹ کرینگے کہ پنجاب کے قلب سے دوزخی خارج اور دریائے اٹک انسانی خون سے بھر جائیگا۔ اگر احمد شاہ ابدالی اور شیرشاہ سوری نے ہندوستان فتح کیا ہے تو وہ مغل سلطنت کا دور تھا مگر راجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب اور تختِ لاہور کا اقتدار سنبھالا تو جب تک انگریز نے ہماری جان نہیں چھڑائی ،کسی مائی کے لعل پٹھان نے سکھ دھرم کے اس پنجاب کا مقابلہ نہیں کیا اور جب شاہ اسماعیل شہید اور سیداحمد بریلوی نے خلافت کا آغاز کرنا چاہاتھا تو پختون حکمران راجہ رنجیت سنگھ کے اتحادی تھے۔ آج افغانستان میں طالبان کی طاقت قوم پرست پشتونوں کے نہیں پنجابی اسٹیبلیشمنٹ کی حامی ہے۔ وہ وقت گیا جب ہندو کو زبردستی سے کلمہ پڑھایا جاتاتھا ۔اب تو محسود جیسی بہادر قوم نے پنجابی فوج سے دُم دبا رکھی ہے۔
اس معرکے میں پشتونوں کولے جاناغلط ہے جہاں طالبان حوروں کو بھول کر افغانستان میں پناہ لئے بیٹھ گئے۔ گلبدین کی ہارون الرشید جیسے صحافی امریکائی جہاد کے وقت تعریف کرتے تھے تو پوچھا گیا کہ اسکے دوست کون ہیں؟۔ جواب ملا کہ جماعت اسلامی !(jamat e islami) اس پر کہاگیا کہ دوسرے گاؤں کے بے غیرت کو پہچاننے کا یہ طریقہ ہے کہ اس کی آپ کے گاؤں کے بے غیرتوں سے دوستی ہو۔ میجر مست گل کی کہانیاں قوم کو سنانے والی جماعت اسلامی آج کہاں کھڑی ہے؟۔
یہاں طالبان کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد تھی تو یہ بہادر تھے اور فوج نے ایکشن لیا تو لمبے بالوں والے صابرشاہ(sabir shah) جیسی حوروں کو لیکر ایسے بھاگے کہ ہماری قوم نے برطانیہ کے سامنے بھی ایسا سرنڈر نہیں کیا جس کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج جن کو قوم کا چیف، خان اور ملک کہا جاتا ہے یہ سب برٹش سرکار کے جاسوس تھے۔ یہ دلیل ہے کہ نیٹو کی اشیر باد طالبان کو حاصل نہ ہوتی تو وہاں سے بھاگ کر یہاں آتے۔ پرویزمشرف دور میں جن کو امریکہ کے سپرد کیا جا رہا تھا تو وہ افغانستان میں امریکہ سے لڑنے کے بجائے پاکستان میں پناہ لینے سے بھی نہیں شرماتے تھے۔ غیرت بھی کوئی چیز ہے جہانِ تگ ودو میں۔ہم یہاں کی طالبان مافیا سے وہاں کی طالبان مافیا کے کردار اور بہادری کو سمجھ سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی مذہب اور قوم پرستی کے کارڈ پر اچھا کام کریں۔ طالبان اور اشرف غنی کو جنگ وجدل سے بچانے اور اسلامی جمہوری حکومت تشکیل دینے پر راغب کردیں۔ اگر افغانستان میں اسلام کا درست نظام نافذ ہوا تودنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔ اگر نبیۖ نے کفارِمکہ سے دس سال کیلئے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا اور اللہ نے اس کو فتح مبین قرار دیا تو کیا طالبان مسلمان افغانی بھائیوں سے یہ صلح نہیں کرسکتے ہیں؟۔
وزیراعظم عمران خان ، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف نے جب یہ واضح کردیا ہے کہ ” اگر طالبان نے طاقت کے زور سے افغانستان کے اقتدار پر قبضہ کیا تو ہم ان کی حکومت نہیں مانیںگے اور اپنی سرحداتْ بھی سیل کردیںگے”۔ تواس کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن صلح کیلئے یہ ایک بہت بڑی بنیاد ہے۔ ایک پٹھان نے طالبان(taliban) کو دعوت دی کہ” آؤ ہم افغانی مل کر امریکہ اور اسکے ایجنٹ پاکستان کیخلاف متحد ہوکر ہتھیار اُٹھائیں ، پنجابیوں کیخلاف جہاد کریں۔ ملامنصور کو کس نے قتل کیا، ملابرادر کو کس نے پکڑا تھا؟…. وغیرہ”۔ مگریہ نہیں سوچا کہ طالبان اور اشرف غنی کے حامی دونوں ایکدوسرے پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگاتے ہیں۔
صحافی عمران خان جیسے لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہے جس نے پہلے آرمی چیف پر کرپشن کا الزام لگایا پھر معافی مانگ لی۔ مولانا فضل الرحمن پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کھلے عام جھوٹا بہتان لگادیا۔ لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ اندورنِ خانہ آرمی چیف کو قادیانی اور اسرائیل کا ایجنٹ کہا جارہاہو ۔ اگر مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان اور آرمی چیف کی کھلم کھلاتحقیقات ہوجائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائیگا۔ صحافی عمران خان نے اسرائیل میں پاکستانی قادیانی فوج پر ویلاگ کیا تھا ،اب یہودیوں کے داماد عمران خان کے دامادزلفی بخاری پر اسرائیل کے دورے میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف باجوہ کی طرف سے اسرائیل کی حکومت اور موساد کو خفیہ پیغامات پہنچانے کی باتیں خاص طور پر ن لیگ کی میڈیا سیل سے چل رہی ہیں۔ پہلے بھی نوازشریف نے بینظیر بھٹو پر امریکہ کے اور بینظیر بھٹو نے نوازشریف پر اسرائیل کے ایجنٹ کا الزام لگایاتھا۔ بینظیر بھٹو (benazir bhutto)نے طالبان بنائے تھے اور نوازشریف نے اسامہ بن لادن(usama bin ladin) سے پیسے لئے تھے۔ طالبان اور القاعدہ کے نام پر اگر امریکہ اور اسرائیل نے ہمارے ہاں اپنے کرتوت دکھائے ہوں تو یہ ممکن ہے اسلئے کہ قرآن میں یہودونصاریٰ کی اس سازش کا ذکر ہے کہ جس سے پہاڑ بھی ہل جائیں۔ مشتری ہوشیار باش؟۔

what measures should be taken to protect Forests of Waziristan? Suggestions from Shafqat Ali Mahsud

shafqat ali mehsud
badar velly
mehsud tribe
waziristan forests
plant for pakistan
green pakistan
pakistan independence day

وزیرستانی جنگلات کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟ چند تجاویز: تحریر: شفقت علی محسود

وزیرستان (waziristan)کے جنگلات کے تحفظ کیلئے سینٹ اور اسمبلیوں میں آواز اٹھنے کے بعد وزیراعظم کا خود اس سلسلے میں ایم این ایز سے ملاقات کرنا خوش آئند ہے لیکن کیا انتظامیہ اکیلے ہی بزور بازو ان جنگلات کی روک تھام کر پائے گی؟ کیا مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہ لیکر یہ کام ممکن ہو سکتا ہے؟۔
کچھ تجویزات ہیں امید ہے کہ اگر ان پر عمل کیا جائے تو موجودہ جنگلات کے تحفظ کیساتھ ساتھ نئے پودے کے اگانے میں بھی آسانی ہوگی اور انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کم وسائل استعمال کر کے اپنے مقصد کا حصول یقینی بنا سکتے ہیں۔
1۔ انتظامیہ کا جنگلات کے بارے میں حکومتی پالیسی کا واضح کرنا:قبائل بالخصوص شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ حکومت جنگلات پر قابض ہوکر انکے جنگلات چھیننا چاہتی ہے یا ساتھ دیکر تحفظ فراہم کریگی؟۔
حکومتی قبضے کے ڈر کیوجہ سے گزشتہ سال سے کافی جنگلات کاٹے جا چکے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ یہ واضح کر دے یہ جنگلات ان مقامی لوگوں ہی کی ملکیت ہیں۔ جنگلات سے حاصل ہونے والی ہر قسم کی آمدنی اور فوائد کے حقدار یہاں کے مقامی لوگ ہی ہونگے۔ تب جاکر ان جنگلات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
2۔جنگلات آگاہی مہم:کسی کو فوائد اور نقصانات بتائے بغیر قائل کرنا مشکل کام ہے جب تک جنگلات کے فوائد اور کاٹنے کے نقصانات سے لوگوں کوآگاہ نہیں کیا جائیگا تب تک تحفظ کی ہر کوشش رائیگاں جائے گی۔ انتظامیہ کو چاہئے کہ ان علاقوں میں اس سلسلے میں سیمینار کا انعقاد کروائے، سوشل میڈیا کمپین سے لوگوں میں شعور اُجاگر کیا جائے۔ گلوبل وارمنگ ,بارش کا برسنا، آکسیجن کی فراہمی، زمینی کٹاو کی روک تھام کے علاوہ جنگلات کے ہر قسم کے فوائد اور جنگلات کے خاتمے کے سارے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو شعور دینا چاہئے۔
3۔ قومی کمیٹی برائے جنگلات تحفظ کا قیام:حکومت و محکمہ جنگلات ان جنگلات کا تحفظ تب تک ممکن نہیں بنا سکتی جبتک مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیکر جنگلات کے تحفظ کیلئے کمیٹیاں نہ بنائی جائیں۔صدیوں سے جولوگ جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں اب بھی ان جنگلات کا تحفظ ان ہی کی مدد سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ مقامی مالکان کے تعاون سے مشترکہ جرگے کا انعقاد کرے، لوگوں کو اپنی جنگلات دوست پالیسی سے آگاہ کرے۔اس سلسلے میں حکومت کو فارسٹ گارڈ کیلئے مقامی افراد کو بھرتی کرنا چاہئے تاکہ جنگلات میں موجود ہر درخت کے تحفظ کیساتھ ساتھ ان جنگلات کے اصل مالکان کو ہی فائدہ حاصل ہو سکے۔
4۔ سوکھی اور گھروں کی تعمیر میں استعمال کی لکڑی:چونکہ قبائل گیس، بجلی سے محروم ہیں۔ جلانے کیلئے لکڑیوں کا استعمال ہے۔ جنگلات کی سوکھی لکڑی کو جلانے کیلئے لیجانے پرپابندی نہ ہو ۔ اگر کوئی گھر کی تعمیر میں لکڑی استعمال چاہتا ہے تو متعلقہ کمیٹی کی اجازت سے ضرورت کے مطابق درخت کی کٹائی کی اجازت ہو۔
5۔پرانے گھنے جنگلات:وزیرستان کے جنگلات سینکڑوں سال پرانے ہیں اور ان میں ایسے درخت ہیں جن کا تنا اندر سے گھل چکا اور باقی درختوں کی بڑھوتری میں رکاوٹ ہیں ان درختوں کو شمار کر کے کاٹا جائے تاکہ جنگلات میں چھوٹے درخت جلد نشوونما پا سکیں اوروہ جنگلات جو کافی گھنے ہیں، درختوں کی بڑھوتری میں رکاوٹ ہیں ان کو کاٹ کر ہلکا کیا جائے، کاٹی جانیوالی لکڑیوں کو کسی میدان میں لاکر، ملک بھر سے بڑے سوداگروں کو بلاکربولی لگائی جائے، فروخت ہونے کے بعد وصول ہونیوالی رقم کو مقامی اصل مالکان میں تقسیم کیا جائے۔
6۔سرکاری نرسریوں کا قیام: جن علاقوں میں جنگلات کاٹے جا چکے ہیں یا جنکو پرانے یا گھنے ہونے کیوجہ سے کاٹا جائیگا ان میں باقاعدہ بقیہ صفحہ 3نمبر3بقیہ…وزیرستانی جنگلات کا تحفظ کیسے ممکن ہے؟
درخت اُگانے کیلئے سرکاری نرسریوں کا قیام ضروری ہے۔ جن میں علاقے کے موسم کے مطابق پودے دستیاب ہوں۔ نرسریوں سے پودوں تک رسائی میں آسانی ہوگی اور لوگوں میں درخت لگانے کا رجحان بھی بڑھتا جائے گا۔
7۔ الیکٹرک آراپر مکمل پابندی:پہاڑی علاقوں میں جاری موجودہ کٹائی میں سب سے اہم کردار الیکٹرک آرے کا ہے۔ اس آرا کی مدد سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں درخت کاٹے جارہے ہیں۔ اس کے استعمال پر نہ صرف پابندی عائد کی جائے بلکہ برآمد ہونے پر ضبط کرنے کیساتھ ساتھ سزا بھی دینی چاہئے۔
8۔ سمگلنگ کی روک تھام :درج بالا تجاویز پر عمل ہوا تو سمگلنگ کا امکان پیدا نہیں ہو سکتا مگر احتیاطاً ہر علاقے کے داخلی ، خارجی راستوں اورچور راستوں پربنائی گئی کمیٹی کے افراد کوپہرا دینا چاہئے، کمیٹی کو ضلعی انتظامیہ کا براہ راست تعاون حاصل ہو۔یہ میری ذاتی تجاویز ہیں ان سے کوئی بھی اختلاف کر سکتا ہے۔
اگر آپ لوگوں کی بھی کوئی تجویز ہو تو ضرور شیئر کریں
تبصرۂ نوشتۂ دیوار: تیز وتند عبدالقدوس بلوچ
ایک جوان صحافی کی اچھی سوچ اس بات کی نشاندہی ہے کہ اس قوم میں ایک بیداری کی فضا پیدا ہوچکی ہے۔ اچھی سوچ کی حوصلہ افزائی اور پروان چڑھانے سے پوری قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ اگر علماء یہ کہیں کہ مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ کے کردار سے علماء کو بدنام کیا گیا یا پشتون قوم پرست کہیں کہ پشتون قوم کو بدنام کیا گیا ہے تو اس سے مدارس اور پشتون قوم کا تحفظ نہیں ہوسکتا ہے ۔ پشتون قوم اسلام کی درست خدمت کیلئے صحیح بنیادوں پر آگے بڑھیں۔ مار دھاڑ کی جگہ امن وامان ہو تو بلوچ، پنجابی، سندھی، مہاجر، کشمیری سب ساتھ دینگے۔
رقیب اللہ محسود اور شفقت علی محسود کا اپنی قوم کے غریب افراد اور جنگلات کی فکر وہ انقلاب ہے جس سے دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگر بچوں کو شروع سے ایسی تربیت اور ذہنیت دی جائے کہ اپنے باپ دادا کے غلط نقشِ قدم پر چل کر تم نے دنیا میں سیاست، سول وملٹری بیوروکریسی، استحصالی نظام کے ذریعے کیسے اپنا مفاد حاصل کرنا ہے اور کس طرح لوٹ مار کرنی ہے تو پھر دنیا کا اللہ حافظ ہے!
(syed atiq ur rehman gillani shafqat ali mehsood_waziristan k janglat ka tahaffuz _zarbehaq.com_navishta e dewar _afghanistan June=Special-2–page-4-navishta e diwar_smugling)