پوسٹ تلاش کریں

پشتون قوم اورعالمی حالات میں پاکستان کی صورتحال پر دیانتدارانہ تجزئیے کی کوشش!

پشتون قوم اورعالمی حالات میں پاکستان کی صورتحال پر دیانتدارانہ تجزئیے کی کوشش!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی اور انگریز کیلئے بڑا دردِ سر رنجیت سنگھ تھا۔ خیبر پختونخواہ پنجاب کا حصہ تھا۔ سیداحمد بریلوی اور شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے خلافت کا خواب دیکھا تو انگریز نے اس کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی۔ اسلئے کہ خراسان کے مہدی کی خلافت قائم کرنے میںوہ کامیاب ہوتے یا نہیں لیکن راجہ رنجیت سنگھ کو نقصان پہنچاسکتے تھے۔ رنجیت سنگھ نے یہ خواہش بالاکوٹ کی سرزمین میں دفن کردی اور یہ نظریہ ٔپاکستان کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ ہندوستان سے خلافت کیلئے ہجرت کرنے والوں نے اپنی بیگمات و بچے سندھ میں چھوڑے تھے اور کیا پتہ کہ کراچی رنچھوڑ لائن کا علاقہ اسی لئے مشہور ہو کہ لوگ اپنی رن یعنی بیگم چھوڑ کر اطمینان سے جہاد پر جاتے ہوں۔ ایم کیوایم کی تحریک زوروں پر تھی تو رنچھوڑ لائن والوں نے کافی عرصے تک اپنے علاقے میں گھسنے نہیں دیا تھا۔
پختون قوم پرستوں میں غفار خان اور عبدالصمد خان نمایاں ہیں، دونوںکا تعلق کانگریس سے تھا۔ تحریک بالاکوٹ سے تعمیر پاکستان اورروس سے امریکہ تک کے مجاہدین کے خلاف رہے۔ انگریز دور میں علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور جو ہجرت نہ کرے گا ،اس پر بیوی حرام ہوجائے گی تو غفار خان نے کہا کہ اس فتوے کی وجہ نہ صرف ہم نے افغانستان ہجرت کی بلکہ ہماری بیویاں بھی ہم سے آگے آگے بھاگ رہی تھیں۔ افغانستان کی ہجرت ناکام ہوگئی تو علماء کے فتوے بھی ناکام ہوگئے۔ ملاعمر کے اسلام سے آج طالبان منحرف ہیں لیکن ملاعمر کا اسلام پہلے بھی متضاد تھا اور آج بھی قابلِ عمل نہیں ۔
پاک فوج راجہ رنجیت سنگھ کی فوج سے زیادہ مضبوط ہے۔ طالبان کا یہ گھمنڈ ہے کہ نیٹو جیسی طاقت کو شکست دی تو پاکستان کو بھی شکست دے سکتے ہیں۔ انگریز نے دی پٹھان میں لکھا ہے کہ” وزیرستان پر کبھی بھی کسی نے حکومت نہیں کی ہے اسلئے کہ حکومت کا کام ٹیکس وصول کرنا ہوتا ہے اور وزیرستان کے لوگوں نے کبھی کسی حکومت کو ٹیکس نہیں دیا ہے”۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیرستان میں اتنے بڑے پیمانے پر اناج اور وسائل نہیں تھے کہ کوئی حکومت قبضہ کرکے ٹیکس کا حصول یقینی بنانے کی تگ ودو میں اپنا وقت اور فوجیوں کو ضائع کردیتی۔
ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ برطانیہ اور افغانستان کے درمیان بعد میں ہواتھا۔ پہلے ایک طرف قبائل نے انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور دوسری طرف وہ خود کو افغانستان کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ افغانستان کی حکومت نے قبائل سے مدد ضرور لی ہے لیکن قبائل کو افغانستان کا باقاعدہ حصہ کبھی نہیں سمجھا ہے۔ انگریزی سرکاری رپورٹ اور ہمارے خاندانی ذرائع سے یہ معلومات کہ ”میرے دادا سیدامیرشاہ اوردومحسود قومی نمائندے گئے اور افغانستان کے بادشاہ امیر شیرعلی سے انگریز کے خلاف ایکدوسرے کیساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا اور افغانستان کے بادشاہ نے کانیگرم میں آسمانہ منجہ کے مقام پردفاعی قلعہ کی بھی اجازت مانگی تھی”۔ کسی ایک ملک کے افراد میں اس طرح باہمی تعاون کا معاہدہ نہیں ہوتا۔ پھر میرے دادا کے بڑے بھائی سیداحمدشاہ کی قیادت میں بیٹنی قبائل کاوفد بھی افغانستان گیا اور وہاں سے تحائف، نقدی بھی دئیے گئے۔ جب امیر امان اللہ خان کے خلاف بغاوت ہوگئی اور بچہ سقہ نے حکومت پر قبضہ کیا اور پھر وزیرستان کے قبائل نے بچہ سقہ کے خلاف لشکر بھیجا جس پر انگریز نے بمباری بھی کی اور1937کے زمیندار اخبار میں اس پر تبصرے ہوئے۔ امیرامان اللہ خان کی جگہ اس کے کزن نادر خان نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور حکومت پر قبضہ کرلیا جو ظاہرشاہ کا باپ تھا۔ جب امیر امان اللہ خان کے بھائیوں کی طرف سے نادرشاہ خان کاتختہ الٹنے کی سازش کا انکشاف ہواتو سیدایوب شاہ عرف آغا ولد سیداحمد شاہ کو توپ سے اُڑانے کاحکم سنایاگیا اور بعد از آں افغانستان سے ہمیشہ کیلئے جلاوطن کردیا گیا،جو افغانستان میں پہلے اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے۔
سرحدکے گاندھی اور بلوچستان کے گاندھی متحدہ ہندوستان کا حصہ رہنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو پھر افغانستان سے ملنے کی دھمکی ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ ناراض بلوچوں سے ناراض پختونوں کے قائدین بھی پہلے سے موجود تھے لیکن بلوچ بندوق اٹھانے میں جلد بازی کا مظاہرہ روایتی طور پر کرتے ہیں۔ پختون طالبان بھی بنتے ہیں تو ایک طرف قطر میں مذاکرات اور دوسری طرف نیٹو سے افغانستان میں لڑائی کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہیں۔ کوہِ سلیمان میں سلمان تخت کے قریب قیس عبدالرشید کی قبر ہے اور اس پہاڑ کا نام بھی ”قیسے غر” یعنی قیس کا پہاڑ ہے۔ فتح مکہ میں پختون قبائل نے اہم کردار ادا کیاتھا ۔ خالد بن ولید کا تعلق در اصل بنی اسرائیل سے تھا اور پختون بھی بنی اسرائیل تھے۔ سلیمان تحت کے ارد گرد شیرانی قبیلہ آباد ہے اور مولانا محمد خان شیرانی اورشیرانی قبیلے نے تحریک طالبان کو اپنے ہاں گھسنے نہ دیا ۔ مولانا شیرانی کہتے تھے کہ اغیار کی اس جنگ کا مقصد مسلمانوں ، پشتون اور خطے کا کباڑہ ہے۔ پاکستان کرائے کا وہ چوک ہے جس میں سیاستدان بھی کرائے پر ملتا ہے، مجاہد اور صحافی اور مفتی بھی کرائے پر ملتا ہے اور فوج اور حکومت بھی کرائے پر ملتی ہے۔ جیسے مزدور اپنے اوزار لیکر چوک پر موجود ہوتے ہیں۔
جب امریکہ افغانستان میں اترنے کیلئے شمالی اتحاد سے مدد لے رہاتھا تو مولانا معراج الدین قریشی محسود قبائلی لشکر کی قیادت کرتے ہوئے افغانستان پہنچا تھا۔ وہاں سے واپسی پر وہ طالبان اور افغانیوں سے سخت ناراض تھے اور اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ یہ بڑی گیم ہے جس کا طالبان بھی حصہ ہیں۔ جب مجھ پر فائرنگ ہوئی تو اس سے پہلے بھی مولانا معراج الدینMNAاور مولانا صالح شاہ سینیٹر نے طالبان کو سازش قراردیا اور پھر مولانا معراج الدین نے مجھ پر فائرنگ کے بعد کہا تھا کہ مولانا شیرانی صاحب نے مولانا فضل الرحمن سے پوچھا تھا کہ ”یہ معلوم کیا جائے کہ امریکہ کی آخری منزل کیا ہے؟”۔ آج صورتحال تبدیل ہوگئی ہے ۔ امریکہ اور طالبان کی ڈیل ہوگئی ہے۔ جب قبائل خود مختار تھے توپھر افغانستان تو بہت دور کی بات ہے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کی حدود پر قبضہ اور جرائم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن اب عوام بھی بے اختیار ہوگئے ہیںاور حکومت بھی اپنی رٹ وہاں قائم نہیں کرسکی ہے۔ نیازی نسلاً پٹھان اور سرائیکی زبان بولتے ہیں جس کی وجہ سے سب کیلئے درمیانی حیثیت رکھتے ہیں۔ عمران خان نیازی اپنے والد سے زیادہ اپنی والدہ شوکت خانم برکی پر نازکرتا ہے لیکن اس کی والدہ جالندھر بھارتی پنجاب سے تعلق رکھتی تھی اسلئے عمران خان کبھی خود کو قبائل کانیگرم جنوبی وزیرستان کے برکی قبیلے کا بھانجا کہتا تھا اور کبھی خود کو ماں کی وجہ سے آدھا مہاجر کہتا تھا۔ کرکٹ میں بینٹنگ اور بالنگ کے علاوہ آوارہ گردی اور شوکت خانم کے نام پر چندوں کا تجربہ بھی رکھتا تھا۔ سیتاوائٹ، جمائماخان، ریحام خان کے ناکام تجربات کے بعد بی بی بشریٰ سے شادی رچائی ہے۔ عوام نے اس کی شہرت اوربونگی مارنے پر اعتماد کرکے ووٹ دئیے لیکن جسٹس وجیہ الدین، جاوید ہاشمی، جہانگیر ترین، افضل چن سے لیکر حفیظ شیخ اور شہزاد اکبر تک پتہ نہیںکہ لباس مکمل ہے یا اس حمام میںچڈی اُترچکی ہے؟۔ پیرنی کا گھر اُجاڑ دیا اورمدینہ کی ریاست کے نام پر ملک کو تباہ کردیا۔
میاں نوازشریف کا پارلیمنٹ میں بیان اور قطری خط تک کی داستان سامنے ہے۔ پیپلزپارٹی بھی حقیقی بھٹوز اور نظریاتی لوگوں کے ہاتھوں سے نکل کر زرداری آپاؤں کی چنگل میں ہے۔ میڈیا کاروباری ہے۔ اگر منظور پشتین محسن داوڑ اور علی وزیر کو الیکشن میں حصہ لیتے ہی پارٹی قیادت سے ہٹادیتے اور خان زمان کاکڑ کو متوازی حیثیت دیدیتے تو پھر خیبر پختونخواہ اور بولان میںPTMایک مضبوط قوت بن کر ابھرتی۔ اب کالے تیتر کی طرح دوسروں کا شکار ہونے کیلئے ”سبحان تیری قدرت” کہہ سکتے ہیں لیکن کالے عقاب کی طرح کالی چٹانوں پر بیٹھ کر شکار نہیںکھیل سکتے ۔ ہماری حکومت وریاست کوTTPسے خطرہ لگتا ہے لیکن ابPTMسے خطرہ نہیں۔ جب لوگ طالبان کوانبیاء کی طرح مقدس اور فرعون کی طرح طاقتور سمجھتے تھے تو بھی ہم نے ان کے غلط تقدس اور غلط خوف کو بڑے اچھے انداز میں پامال کرکے رکھ دیا تھا۔ آج تو انقلاب آچکاہے کہ وہی لوگ ان سے خوف بھی نہیں رکھتے اور تقدس کا درجہ بھی نہیں دیتے ۔ اگر پاکستان کاقومی ترانہ زبردستی سے گانے اور مخصوص لباس پہننے پر انہیں سرنڈر کرکے مجبور کیا جائے تو ان کا دل ودماغ جبر سے نہیں بدل سکتا ہے لیکن جب اسلام کی حقیقت اور پشتو روایت کی حقیقت سمجھائی جائے تو ان کا ذہن بدل سکتا ہے۔PTMنے بہت کام اس طرح سے کیا کہ عوام کو اپنی رسم وروایت کی طرف راغب کرکے تشدد سے نکال دیا لیکن تعصبات پھیلانے والے خود شکار ہوگئے اور اب محسن داوڑ اور عبداللہ ننگیال مخالف صفوں میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
ایسی تحریک کی ضرورت ہے جہاںعوام کے دل ودماغ میں مذہب کا غلط بھوسہ یاغلط فہمی پیداکی گئی ہے اس کی جگہ اسلام کی لہلہاتی ہوئی کھیتی سامنے لائی جائے۔ جس سے پاکستان بلکہ افغانستان وایران میں بھی پھلوں اور پھولوں کی بہار آئے۔ پھر عرب بھی اس بہار سے فائدہ اٹھائیں گے، پوری دنیا بھی اسلامی بہار سے استفادہ کرے گی۔ اسلامی خلافت کسی سے اختیار چھین لینے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنا اختیار درست استعمال کرنااور اپنا فریضہ پورا کرنا حقیقی خلافت ہے۔ رسول اللہ ۖ نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھے تھے تو ان میں دھمکی نہیں دعوت تھی۔ اگر حق کو قبول کرکے ظالمانہ نظام کو ختم کرتے تو نبیۖ نے ان سے اقتدار چھین کر اپنے ساتھیوں کے حوالے نہیں کرنا تھا۔
آج دنیا میں حقیقی جمہوریت نہیں بلکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے اقتدار میں لوگ اپنے مفاد کیلئے آتے ہیں۔ عمران خان اتنا کم عقل تھا کہ جب فوج ضرب عضب کے نام سے طالبان کے خلاف آپریشن کررہی تھی تو وہ پنجاب پولیس کو اسلام آباد دھرنے سے طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حاضری دی تو راہ گیروں کے پیروں کی جگہ راہداری کو بوسہ دے دیا۔ کھلاڑی کو تصوف، سیاست، جہاد اور کسی چیز کا بھی کبھی ڈھنگ نہیں آیا۔ البتہ لوگ پھر بھی خوش اسلئے ہیں کہ سیاسی ڈھونگ رچانے والی جماعتوں کا پول کھول دیا۔ اللہ نے کوئی مکھی بھی بے فائدہ پیدا نہیں کی ہے تو ایک اہم ملک پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے قائد اور وزیراعظم سے کوئی نہ کوئی خدمت تو ضرور لینی تھی۔ بے شرموں کا مقابلہ بے شرمی سے کیا جاسکتا تھا۔
پاکستان نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہندوستان، اسرائیل، امریکہ، ایران اور افغانستان سے اسکے خلاف محاذ کھڑا ہوجائے تو نیست ونابود ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یمن میں حوثی باغیوں کے پیچھے ایران ہے اور اسلامی ممالک کے نیٹو کا سربراہ جنرل راحیل شریف ہیں۔ یمن میں عوام تباہ ہیں۔ یوکرین پر روس قبضہ کے چکر میں ہے۔ دوسری طرف امریکہ و نیٹو روس کے خلاف کھڑے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف قتل عام کی علامات پوری ہیں۔کردوں اور داعش کے درمیان پھرقتل وغارت کیلئے بین الاقوامی ایکٹرز سرگرم ہیں ۔ پاکستان کے خلاف بھی اندرونی اور بیرونی سازشیں اپنا کام دکھا سکتی ہیں۔ اپنی تباہی کیلئے ہمارا اپنا ہوم ورک بھی کافی ہے۔ دنیا میں قتل وغارتگری شروع ہونے سے پہلے پاکستانی ریاست کو بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام قاری محمد طیب کی طرح مدارس ومساجد، فوجی بیرکوں، قلعوں اور کینٹ ایریاز میںپھر بے بسی کے عالم میں اس قسم کی نعت پڑھنے کی محفلیں سجانے لگ جائیں اور پھر اس کا کوئی فائدہ بھی دکھائی نہیں دے۔
باچا خان سے گاندھی جی نے کہا تھاکہ اپنی پختون قوم پر محنت کریں ۔جس کے جواب میں باچا خان نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بازار چلیںاور ایک ہندو موچی کے کیلوں کا برتن ٹھوکر سے بکھیر دیں۔ گاندھی نے ٹھوکر ماری تو ہندو غصہ ہوا لیکن جب اس کو تعارف کرایا کہ گاندھی جی ہے تو ہاتھ جوڑ کر گستاخی پر معافی بھی مانگ لی۔ پھر آگے چل کر باچا خان نے پختون موچی کے کیلوں کوٹھوکر مار کر گرایا تو پختون موچی نے کہا کہ ایسا کیوں کیا؟۔ باچا خان نے کہا فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کیلئے ہے ،آپ کے ٹھئے لگانے کیلئے نہیں۔ غلطی سے پیر لگ گیا تو کیا ہوا؟۔ میںپختونوں کا اتنا بڑا لیڈر باچا خان ہوں۔ پٹھان موچی نے کہا کہ فٹ پاتھ پر سب ٹھئے لگاتے ہیں اور آپ جو بھی ہیں، اپنی غلطی کا ازالہ کریں اور کیلیں اکٹھی کرکے دیدیں۔ باچا خان نے گاندھی سے کہا کہ یہ ہماری قوم کا حال ہے۔ باچا خان اور گاندھی دونوں نے قوم کے جوہر آزادی کو سمجھنے میں غلطی کی تھی۔ ایسی قوم اور اس کے جذبات سے دنیا کو فتح کیا جاسکتا ہے لیکن غلامی کے خوگر ہندو اور آزادی کے پاسبان پختون قوم کے جوہر کو سمجھا نہیں گیا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پٹھان موچی معروف شاعر حبیب جالب کے والد ہوںجو میانی پٹھان قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ ہمارے گومل میں میانی قوم کے افراد بھی سفید نہیں سانولے رنگ کے ہیں اور شکلیں بھی حبیب جالب سے ملتی ہیں۔ ہمارے ایک پڑوسی شاعر حبیب آباد نے بھی پشتو میں آزادی کی بڑی زبردست غزلیں گائی ہیں۔ اس کے کچھ اشعارارود ترجمہ کیساتھ ہم نے شائع بھی کئے تھے۔
جالب نے جنرل ایوب ، جنرل ضیاء الحق سب کیخلاف آواز اٹھائی اور آخر میں نوازشریف، شہباز شریف اور بینظیر بھٹو کو بھی نہیں چھوڑا لیکن اعتزاز احسن نے جھوٹی وکالت کرکے روایتی پنجابی ہونیکا ثبوت دیا کہ ”بی بی جالب نے آپ کی تعریف کی ہے”۔ قابل خوشامدی ٹولہ ہمیشہ قومی قیادت کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔ پختونوں سے اس وقت دھوکہ ہوا تھا جب بلوچستان میں سردار مینگل اور سرحد میں مفتی محمود کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ جو اسلام ، جمہوریت اور پشتو کے لحاظ سے غلط تھا۔ قائداعظم اور قائدملت کی طرح باچاخان و اچکزئی خاندان کا بھی غریب عوام سے فاصلہ تھااور مولانا فضل الرحمن نے بھی اڑان بھری ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے طبقاتی تقسیم کے بجائے نظام کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

مولانا نور محمد فاضل دار العلوم دیوبند ، نورانی بستی کورنگی کراچی کے ستمبر 2001 میں شائع اشعار

مولانا نور محمد فاضل دار العلوم دیوبند ، نورانی بستی کورنگی کراچی کے ستمبر2001میں شائع اشعار

کب تلک شکم کی آگ بجھاؤ گے؟
چھوڑ دو مفادات تو فلاح پاؤ گے
اختلاف بھڑکانا ڈیوٹی نہیں للہ
خفیہ اشارے پر ہمیں لڑاؤ گے
قرآں میں ممنوع آپس کی لڑائی
طاغوتی جال میں سادے پھنساؤ گے
مساجد میں غارت گری کے مقاصد
دین داغدار ، جنازے بھی اٹھاؤ گے
آستیں چڑھائے رکھنا دسترخواں پر
قربانی کے بکرے کارکن مکاؤ گے
فرقہ وارانہ ہڈی کتوں کا راشن
مالک چھیڑے تو بھی غراؤ گے
اغیار تھامے ہیں گلے کی رسی
بغاوت سے دار چڑھ جاؤ گے
ذلت کی زندگی سے مرگ بہتر
شہادت سے ملت کو بچاؤ گے
مفاد پرستی میں سرمست ، عمل میں بدمست
دائم خرمست ! اُمت کو ستاؤ گے
اظہار حق سے بڑوں کو خوف
انہیں موت کی نیند سلاؤ گے
پیارے باز آؤ جانب منزل ورنہ
معاشرے میں رہی ساکھ گھٹاؤ گے
ادھر کے رہو گے نہ اُدھر کے
بیچ رہبر و سپاہ لٹک جاؤ گے
انتشار راس نہ آیا تو ہوا ڈر
راہِ حق میں بھی بھٹک جاؤ گے
کرلو توبہ دروازہ بند نہیں ہوا
جہنم میں کیا راکھ اڑاؤ گے
لا تفرقوا فرض ، نہیں مروڑِ پیٹ
وحدت کی راہ سے سدھر جاؤ گے
ضرب حق سے ہوجائے شرح صدر
میری غزل گا گا کے سناؤ گے
نعرہ بدلے ہوا کے ساتھ ساتھ
”عتیق ہے ہمارا” کبھی جتلاؤ گے
بہر صورت کسی قیادت پر کرو اتفاق
ورنہ جہالت کی موت مرجاؤ گے
اتفاق سے قائم کرو نظام خلافت
بفضل ربی تقدیرِ قوم جگاؤ گے
دیوبندی رہے نہ پھندے میں بند
سی آئی اے امریکہ مار بھگاؤ گے
بریلوی رہے نہ روزگارِ جہالت
موالی مجاور کو ریس کراؤ گے
رہے نہ اہل حدیث سعودی فیس
ان نسبتوں سے جان چھڑھاؤ گے
ابراہیم نے رکھا نام مسلم تمہارا
اُمت مسلمہ سے چھا جاؤ گے
اُمةً وسطاً کی گواہی ہوگی ضرور
پھل دار ٹہنی جیسے نفس جھک جاؤ گے
دوستو! گیلانی کی مجالس میں بیٹھو
ان فتنوں کے نشان مٹاؤ گے
قوت یکجا کرو مانند قرونِ اولیٰ
اسلام دنیا میں غالب پاؤ گے
لڑنے سے اکھڑے گی ریح تمہاری
انتشار کی خاطر کافر بلاؤ گے
خانہ جنگی کی کیفیت ہوگی یہاں
در اقوام متحدہ کھٹ کھٹاؤ گے
دہشت گرد را موساد ، کھاتہ تمہارا
گر لگی آگ کدھر جاؤ گے
بھڑکے فرقہ پرستی کے شعلے قاسمی
وحدت کی برسات کب برساؤ گے
مولانا نور محمد قاسمی ۔ فاضل دار العلوم دیوبند ، مدیر مدرسہ ابوبکر صدیق، مسجد نبوی نورانی بستی کورنگی کراچی کے یہ اشعار ”وحدت کی برسات” ماہنامہ ضرب حق کراچی میں شائع ہوئے تھے ۔ آج پل کے نیچے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے ۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

کراچی سے ایک پائیدار اسلامی جمہوری انقلاب آسکتاہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ڈاکٹر فاروق ستار اور اس کا گروپ، ایم اکیو ایم بہادر آباد، ایم کیوا یم حقیقی، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن، پیپلزپارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، سندھ کی تمام مقامی پارٹیاں اور مہاجر،پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، ہزارے وال،کشمیری اور پاکستان کے چپے چپے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد کراچی میں پرامن طریقے سے اپنے روزگار کیلئے رہتی ہے۔ اگر یہاں اخوت اوربھائی چارے کا ماحول پیدا کیا گیا تو مقتدر قوتوں کو بھی عوام کے مفاد میں اپنی مفادپرستی سے ہاتھ اُٹھانے پڑیں گے۔ یہاں بجلی، گیس، پانی ، ٹوٹی ہوئی سڑکوں، تعلیم اور علاج کے علاوہ قبضہ مافیا ز کے بہت سارے مسائل ہیں۔ ہلڑ بازی اور لڑائی سے مسائل بڑھ سکتے ہیں لیکن کم نہیں ہوسکتے ہیں۔ کون کس کو ماموں بنارہاہے؟ ۔ اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی سے کامیاب معاہدہ کیا لیکن گیم سندھ پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے جس پرمعاہدہ کرنے والے عمل در آمد نہیں کراسکتے ہیں۔ اب عدالت نے ایم کیو ایم کی درخواست پر سندھ حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے کہ شہری حکومت میں صوبائی حکومت مداخلت نہیں کرسکتی۔
ڈکٹیٹر شپ نے بھی روشنی اور امن وامان کے شہر کراچی کو ہتھوڑا گروپ سے لیکر بیت الحمزہ کے نام سے ٹارچر سیل بنانے اور گرانے تک پتہ نہیں کیا کیا دیا؟۔ اب پھر عوام کے اندر تعصبات کا کیڑا جگانے کی ناکام کوشش ہورہی ہے لیکن اب عوام کا کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے کیونکہ عوام کیلئے کسی نے بھی کچھ نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار، حافظ نعیم الرحمن، ایم کیوایم متحدہ اور ایم کیوایم حقیقی کے اصحاب حل وعقد کے علاوہ تمام پارٹیوں اور قومیتوں کے سرکردہ لوگ بیٹھ جائیں۔ ماؤں ،بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کی عزتوں کے تحفظ کیلئے سب سے پہلے کراچی شہر سے حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے بڑے بڑے مدارس میں میٹنگ رکھ کر فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ اسلام، مذہب اور معاشرے کی سمت درست ہوجائے گی تو پھر دوسرے مسائل کی طرف بھی توجہ جائے گی۔ جماعت اسلامی سندھ کے دفتر فیڈرل بی ایریا میں اتحادالعلماء سندھ کے صدر مولانا عبدالرؤف سے ملاقات کیلئے حاضری دی تھی تو ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے بھی سرسری دعا سلام ہوئی تھی۔ مولانا عبدالرؤف کے داماد مفتی محمود شاہ نے پیشکش کی تھی کہ حلالہ کے بغیر رجوع کیلئے ایک مدرسہ قائم کرلیتے ہیں لیکن مجھے گروہی کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام ایک اجتماعی دین ہے اور سواداعظم کے نام سے لوگوں نے اپنے چہرے سیاہ کئے ہیں لیکن ایسا کام نہیں کیا کہ اس کی وجہ سے امت مسلمہ کی ایک بہت بڑی جماعت عوام کا رُخ درست جانب موڑ سکے۔ ویسے اعظم کے معنی اکثر کے نہیں ہیں اسلئے کہ عربی میں اکثر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور قرآن نے اکثریت کو معیار بنانے کی مخالفت کی ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ سب پر غالب ہونگے”۔
جس کو اہل حق ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہ صلح حدیبیہ کی شرائط پر بھی صلح کرتا ہے اور فاتح مکہ بن کر بھی اپنے دشمنوں کو عزت بخش دیتا ہے لیکن جو اندرسے بڑا کمزور ہوتا ہے وہ گروہ پرستی اور طبقات پرستی کے تعصبات کو ہوا دینے میں عافیت ڈھونڈتا ہے۔ انگریز نے لڑاؤ اور حکومت کی پالیسی بنائی اور آج بھی اس کی باقیات اپنی سوچ سے تائب ہونے کیلئے تیار نہیں ہے لیکن اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سلیم صافی نے چند جنرلوں امجد شعیب ، اعجاز اعوان اور اسد خٹک کی بیٹھک کرائی اور تینوں نے اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کیا ۔ امجد شعیب نے فوج کے خلاف سخت پروپیگنڈے کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس بات کی طرف نہیں دیکھا کہ جب سروس روڈ ، پبلک پارک اور سرکاری تعلیمی اداروں پر فوج کے ادارے قبضہ کریں تو عام آدمی کی زبان پر بھی حقائق آئیں گے اور جو غلط وکالت کریگا وہ بھی مسترد ہوگا۔ اعجاز اعوان نے بہت اچھی باتیں کیں کہ اشرافیہ کا تعلق جس طبقے سے بھی ہو اسکی بے تحاشاہوس زر نے قوم کو اس حد تک پہنچادیا ہے۔ اسد خٹک نے عام آدمی کے نام سے سیاسی پارٹی بنانے کی خبر دی ہے۔
قرآن کی سورۂ واقعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو بڑے بڑے ہاتھ مارنے پر مسلسل اصرار میں مگن ہوں اور ان کا دنیا میں حشر نشر بھی بتایا ہے۔ سورہ دھر میں ایک انقلاب عظیم اور ملک عظیم کی خبر ہے اور ایک بدنما بیماری کا ذکر بھی ہے۔ کرونا کے حوالے سے مولانا سلیم اللہ خان نے صحیح بخاری کی حدیث کا ذکر کیا ہے۔ اب قرآنی اور اسلامی انقلاب کی راہ میں عوام اور سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ مذہبی لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے۔ جمعیت علماء اسلام ایک بڑی مذہبی جماعت ہے اور بریلوی ، دیوبندی ، شیعہ اور اہلحدیث بڑے بڑے فرقے ہیں۔ سب اسلام چاہتے ہیں لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جب تک اسلام کا سماجی اور معاشی نظام قائم نہیں ہو گا پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہو گا۔ عتیق گیلانی

پچھلے شمارے میں اتفاق سے ہم نے ملک میں صدارتی نظام کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا میں صدارتی نظام کی بحث چھڑ گئی اور اب اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی کردیتے ہیں۔ جب تک اسلام کا معاشرتی اور معاشی نظام رائج نہیں ہوجاتا تو پاکستان میں کوئی نظام کامیاب نہیں ہوگا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان اسلام کے نام پر جمہوریت سے بنا۔ مملکت کانام اور آئین بھی اسلامی جمہوری ہے ۔ جمہوریت سکہ رائج الوقت ہے۔ لیکن آج تک ملک کو جمہوری اسلامی پاکستان ہمارے اصحاب حل وعقد نہیں بناسکے ۔ قائداعظم نے منتخب صدر کی جگہ نامزد گورنر اور قائدملت لیاقت علی خان نے غیرمنتخب وزیراعظم بننا قبول کیا۔ مسلم لیگ کے نظریاتی رہنماؤں نے چاہا کہ پارٹی صدارت اور سرکاری عہدے جدا جدا ہوں لیکن لیاقت علی خان کا کوئی حلقہ انتخاب بھی نہیں تھا اسلئے وہ مسلم لیگ کی صدارت اور وزیراعظم کا عہدہ دونوں اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ قائداعظم کا قائدملت سے یہ پھڈہ تھا کہ وہ کیوں اپنا حلقہ انتخاب بنانے کیلئے ہندوستان کے مخصوص مہاجرین کو کراچی میں آباد کرنا چاہتے ہیں۔ لسانی پھڈہ اسلئے شروع ہوا کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے لوگ بنگالی کو سرکاری زبان بنانا چاہتے تھے لیکن بابائے قوم قائداعظم نے خود ارود نہ بولنے کے باوجود اردو کو مسلط کردیا۔ ہندوستان کی ہندی اور اردو زبان میں معمولی فرق ہے۔مشرقی اور مغربی پاکستان کوایک قومی رابطے کی زبان پر متحدکرنے کیلئے اردو کے علاوہ دوسرا چارہ نہ تھا۔ پاکستان کی بنیاد بنگال اور سندھ سے پڑی اور سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص،سکھر اور نوب شاہ وغیرہ میں ہندوستان سے آئے ہوئے اردو بولنے والے مہاجرین دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن سندھی زبان لکھائی اور پڑھائی میں مضبوط ہونے کی وجہ سے پورے پاکستان میں ایک واحد زبان ہے جواردو کے مقابلے میں مضبوط چٹان کی طرح کھڑی ہے۔ پنجابی، سرائیکی، پشتو اور بلوچی کے مقابلے میںاردو نے اپنا زیادہ اثر اسلئے دکھایا کہ مقامی زبان میں لکھائی پڑھائی کا سلسلہ بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ جتنے بھی لکھے پڑھے لوگ تھے وہ مقامی زبان سے زیادہ دوسری زبانوں میں لکھنے پڑھنے کی مہارت رکھتے تھے۔ خان عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان شہید کے خاندان اردو اور انگریزی زبانوں میں زیادہ مہارت رکھتے تھے۔ اردو زبان کو پختونخواہ، پنجاب، اور بلوچستان سے بہت زیادہ ادیب اور شاعر بھی مل گئے ۔سندھی زبان کا یہ اعزاز تھا کہ فارسی واردو سے پہلے سندھی میں قرآن کا ترجمہ ہوچکا تھا۔ اگرشاہ عنایت شہید کا مشن کامیاب ہوجاتا جو اس نے اسلامی نظام کیلئے شروع کیا تھا کہ ”جو فصل بوئے گا وہی کھائے گا” تو کارل مارکس اور اس کے نظرئیے کیمونزم اور سوشلزم کی پوری دنیا میں پذیرائی نہیں ہوسکتی تھی۔ اسلئے کہ سندھ سے اُٹھنے والے اسلامی نظام نے پوری دنیا میں عدل واعتدال کا جھنڈا بلند کرنا تھا۔ یہ وہی شاہ عنایت شہید کی روح اوراس کے ہزاروںساتھیوں کی قربانی تھی جس نے آنے والی نسل کوپاکستان بنانے میں پہل پر آمادہ کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پاکستان کو اسلامی آئین دیا، مرزائیوں کو کافر قراردیا اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا لیکن جب اس کوپھانسی دی گئی تو اس کو ہندو ثابت کرنے کیلئے اس کے ختنے کی تصویرلی گئی۔
جنرل ایوب خان نے فوجی وردی میں الیکشن لڑا تو مقابلے میں مادر ملت فاطمہ جناح تھی۔ جوقائداعظم کی بہن تھی لیکن اگر قائداعظم کی غیرمسلم بیگم رتن بائی زندہ ہوتی یا اس کی بیٹی دینا جناح اپنے غیرمسلم کزن سے شادی نہ کرتی تو قائداعظم کے ولی وارث بیوی اور بیٹی بنتے۔ ایک طرف فوجی ڈکٹیٹر الیکشن لڑرہاتھا تو دوسری طرف مادر ملت نے پاکستان مخالف جماعتوں نیشنل عوامی پارٹی اور جماعت اسلامی وغیرہ کی قیادت کرتے ہوئے الیکشن لڑا۔ مخالفین الیکشن میں الزام لگانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسلئے فاطمہ جناح پر بھارتی ایجنٹ کا الزام لگادیا ۔
پاکستان کاایک بہت بڑا نمایاں سانحہ یہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے ریفرینڈم سے منتخب ہونے کیلئے لوگوں سے پوچھا تھا کہ ”تم اسلام چاہتے ہو یا نہیں؟”۔ اسلام چاہنے کا مطلب اسلام نہیں بلکہ جنرل ضیاء کا وردی میں صدر منتخب ہونا تھا اور اسلام نہ چاہنے کا مطلب کافر بن جانا تھا۔گویا امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کوسراپا مجسمۂ اسلام ماننا تھا۔ جماعت اسلامی اور کراچی کے اکابر مفتیان نے جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کو اسلام اور کفر کا محاذ قرار دیا۔ جماعت اسلامی واحد جمہوری جماعت ہے لیکن اس کا اپنا طرزِ عمل ڈکٹیٹر شپ اور ڈکٹیٹروں کی لونڈی والارہاہے۔ جماعت اسلامی نے اسلامی جمہوری اتحاد میں غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں آئی ایس آئی کی مدد سے انتخابات میں حصہ لیا تھا تو جماعت کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفوراحمد کوبہت بعدمیںخبر ہوئی کہ جماعت اسلامی استعمال ہوگئی ۔ کیا اسلامی اور جمہوری پارٹی کا یہ کردار ہوسکتا ہے؟۔ مدارس کے علماء ومفتیان اور جماعت اسلامی کی اپنی سب سے بڑی کمزوری اسلام اور جمہوریت دونوں سے جہالت ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور ہمارے مرشد حاجی محمد عثمان دونوں نے ریفرینڈم اور اس کے حق میں دئیے جانے والے فتوؤں کی مخالفت کی تھی اور پاکستان بھر سے علماء نے پہلا فتویٰ مولانا فضل الرحمن پر لگایا تھا جس کے خلاف بائیس بہترین اشعار لکھ کر میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا اور پھرکراچی کے اکابرنے حاجی محمد عثمان پربھی بھونڈے فتوے لگائے اس کو بھی میں نے بفضل تعالیٰ ناکام بنایا تھا۔
میں عربی کی درجہ ثانیہ میں تھا تو جنرل ضیاء الحق کے ریفرینڈم پر طلبہ میں تقریر کی کہ عربی میں اعراب کی16اقسام ہیں۔ زیدُ’،زیداً،زیدٍ۔ ابو، ابا، ابی اور موسیٰ، موسیٰ ، موسیٰ…….۔ضیاء الحق کے ریفرینڈم کیلئے اعراب کی نئی17ویں قسم ایجاد کرنی پڑے گی۔ جو اس کی مدت کوکھینچنے پر دلالت کرے۔ اعراب ضیاء پر آتا ہے ۔ جب ضیاء کے ہمزہ کو کھینچ لیا جائے تو ضیاء الحق سے ضیاع الحق بن جائے گا۔ مدارس کے مفتیوں کا کام سیاسی فتوے نہیں۔ سیاسی میدان کا آدمی مولانا فضل الرحمن ہے ، ہرفن کا اپنا آدمی ہوتاہے۔ شریعت، تصوف اور سیاست کااپنا اپنا میدان ہے۔ فتوے کا کام فقہ کے مسائل کا حل ہے۔ علماء ومفتیان نے اس وقت سیاست اور تصوف دونوں اعتبار سے انتہائی غلط فتوے دئیے۔پھر پتہ چلا کہ یہ فقہی میدان کے گدھے ہیں۔ قرآن نے عقل وسمجھ کے اعتبار سے بعض کو گدھا قرار دیا لیکن لالچ کے لحاظ سے (عالم باعورائ) کو کتا قرار دیا، جس نے دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھکاؤ اختیارکرلیا تھا۔مفتی ولی حسن سیدھے سادے تھے اورمفتی تقی عثمانی چالاک ہیں۔
پنجاب کے پانچ دریا سندھ کی شاخیں ہیں۔پانی سے پاکی ہے۔ پاک دریا کو ناپاک کرنے کیلئے فیکٹریوں، کارخانوں اور ملوں کے علاوہ گٹر کے گند سے دریا کے پانی کو آلودہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ زیرِ زمین ذخائر بھی آلودگی سے بھر دئیے گئے ۔ پاکستان کا ظاہر اور باطن دونوں گندے کردئیے گئے تو اس کو پاکستان کی جگہ ناپاکستان کہا جاسکتا ہے۔ کیا فوج، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف نے کبھی پاکستان کو اس گند سے پاک رکھنے کی کوشش کی؟۔ علماء ومفتیان نے فتویٰ جاری کیاہے کہ دریا میں گند ڈالنا جائز نہیں؟۔ فوج تو ادارہ ہے جسکے سربراہ بدلتے رہتے ہیں لیکن پارٹیوں میں کیا جمہوریت کا تصور ہے؟ جہاں قیادت کی تبدیلی ممکن ہو؟۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ زمین ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا۔ بلاول بھٹوزرداری، نوازشریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن ، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور سب چھوٹی بڑی پارٹیوں کے سربراہ اپنی پارٹیوں کے گل محمد ہیں۔ جماعت اسلامی کوحقیقی جمہوری پارٹی کہا جاتا ہے جو ہمیشہ بد چلن رہی ہے ۔ جب سید منور حسن سے سلیم صافی نے بیان اگلوایا تھا کہ ”طالبان کے مقابلے میں امریکی فوجی شہید نہیں ہیں تو پاک آرمی بھی شہید نہیں ”۔ جسکے بعد امیر جماعت سیدمنور حسن کو جانا پڑا تھا اورچالاک سراج الحق کو جماعت اسلامی کا امیر بنانا پڑا تھا ۔
جمہوری پارٹیاںاپنا بااختیار صدر چاہتی ہیں لیکن پارلیمانی نظام کیلئے صدارتی نظام کے بجائے کٹھ پتلی وزیراعظم کا نظام اسلئے چاہتی ہیں کہ اس میں ان کو ہر حکومت میں حصہ بقدر جثہ ملتا ہے۔وہ ہمہ وقت اقتدار میں رہتی ہیں۔ مسلم لیگ ق کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں جمعیت علماء اسلام ف حکومت کا حصہ تھی تو ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکاری محکموں کے آفیسر کی تعیناتی مولانا کے اختیار میں ہوتی تھی اور انکے بھائی پیسوں کے لین دین پر تبادلے کرتے تھے۔ لوگ اگر علماء کو چندے دیتے تو دوسرے علماء کرام مولانا کے مقابلے میں زیادہ دولتمند نظر آتے۔ سیاست مفادات کا ایک پیشہ بن چکا ہے۔اگر نوازشریف اور شہباز شریف سیاسی مصروفیت کے باوجود اتنے کا میاب موروثی طور پر کاروباری بن سکتے ہیں تو دوسرے بھائی اور کزنوں کو زیادہ امیر ہونا چاہیے تھا اسلئے کہ وہ خالص کاروبار کررہے تھے۔ کیپٹن صفدر کو اپنی چہیتی بیٹی مریم نواز دینے والے اور جنرل ضیاء الحق کو شہید اور امیرالمؤمنین کہنے والے نوازشریف کیابدل گئے ؟۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے
پنجاب، پاک فوج اور کٹھ پتلی جمہوریت میں چولی دامن کا ساتھ تھا لیکن نواز شریف کے بعد عمران خان کی صورت میں نیا مہرہ تلاش کیا گیا تو نوازشریف نے پنجاب میں فوج کے خلاف آگ لگائی۔ پختونخواہ، بلوچستان اور کراچی نے اقلیت ہونے کے ناطے نظریۂ ضرورت کے تحت اپنا ذاتی مفادحاصل کرنا ہوتاہے اورپیپلز پارٹی سندھ میں واحد وفاق کی حامی پارٹی ہے جس کی پنجاب و دیگر صوبوں میں اپنی جڑیں مضبوط نہیں۔ پہلے مشرقی پاکستان کی کہانی ختم ہوگئی اور اب سندھ، پختونخواہ، بلوچستان ، کراچی اور پنجاب تعصبات کی زد میں ہیں۔ عمران خان کی بھڑکیوں نے باشعور، پڑھے لکھے طبقے اور سیاسی کارکنوں و رہنماؤں کیساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی متأثر کیا لیکن اب اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں نکل کھڑا ہوا تو عوام کسی بھی اشارے کے بغیر وہ خالی کرسیاں اسکے سرپر ماریں گی جو میڈیا اس کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات دکھاتا رہتا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کمزور ہے اور سیاسی پارٹیوں میں بھی دَم نہیں رہا بلکہ گھوڑوں، لوٹوں اور گدھوں سے بات آگے نکل چکی ہے۔ عوام کے اعتماد کے بغیر کوئی حکومت اور ریاست بھی نہیں چل سکتی ہے۔اگر ابوسفیان کے کہنے پر حضرت ابوبکر مسند سے اتار دئیے جاتے اور علی کو بٹھادیا جاتا تو خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں فتنے کھڑے ہوجاتے اور حدیث قرطاس لکھوائی جاتی تو مدارس اور مساجد سے لیکر پارٹیوں ، جماعتوں اور اقتدار کے ایوانوں تک وصیت پر کام چلتا۔
اسلام کے قلعے مدارس گمراہی کے مراکز بن گئے ۔ ان گمراہیوں کے قلعوں کا حدیث میں ذکرہے۔ معیشت کی اہمیت کا اندازہ قرآن کی سورۂ جمعہ سے لگائیں۔ عبادا ت میں اہم ترین نماز اورنمازِ جمعہ کی سب زیادہ اہمیت ہے لیکن جمعہ کی آذان پر تجارت چھوڑ نے اور نماز پوری ہونے کے بعد اللہ کے فضل کیلئے نکلنے کے حکم سے معیشت کی اہمیت کا زبردست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علماء ومفتیان دنیا کی بے رغبتی دلاکر چندہ مانگتے ہیں تو ان کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف راغب ہونگے؟۔
قرآن وسنت کے تحفظ میں علماء کرام کی خدمات سب سے زیادہ ہیں لیکن پھر اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیلنے میں بھی سب سے بڑا گھناؤنا کردار انہی کا ہے۔ جب حامدمیر کو افغانستان میں طالبان کارکنوں نے پکڑلیا کہ تمہاری داڑھی نہیں اور کیمرہ ساتھ ہے تو اپنے بڑوں کے کہنے پر چھوڑدیا تھا۔ اُسامہ بن لادن اورالجزیرہ ٹی وی کو اس وقت بھی افغانستان میں تصاویر کی اجازت تھی ۔ اگر حامد میر جیو ٹی وی پر اس وقت ان تضادات کو اجاگر کرتا تو افغانستان اور پاکستان کی عوام کو شعور ملتا لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی دور میں طالبان کی مخالفت کا بیڑہ اٹھایا تو حامد میر نے یہ انکشاف کیا کہ” طالبان امریکہ نے بینظیر بھٹو اور جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنوائے تھے”۔ صحافت کا مشن قوم کو بروقت دیانتدارانہ شعور دینا ہے۔
پاکستان میں اسلامی جمہوری بنیاد پر انقلاب برپا ہو تو ملک وقوم میں خوشحالی کا طوفان آجائے،مایوسی کے شکار عوام اور مملکت کے ریاستی اداروں میں نئی روح پیدا ہوجائے۔ زن، زمین ،زر فتنہ اور آزمائش ہیں اور خوشحالی یا بدحالی کا اہم ذریعہ بھی۔ عورت کے اسلامی حقوق بحال ہوں تو اسلام کا ڈنکا بجے گا۔ اسلامی مزارعت سے پاکستان دنیا میںبہت بڑا زرعی ملک بن جائیگا۔ سود کا مکمل خاتمہ ہو تو معیشت کی ترقی میں اتنی تیزی آئے گی کہ پوری دنیا سود کے خاتمے پر متحد ومتفق ہوجائے گی۔
پاکستان کو جنت بنانے میں بالکل دیر نہیں لگے گی۔ جن لوگوں میں ڈاکٹر اور انجینئربننے کی صلاحیت ہو ،ان کو تعلیم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کیلئے تیار کیا جائے اورجن لوگوں کے دماغ موٹے ہوں ان سے محنت مزدوری کا کام لیا جائے تو ان کی صحت اور طبیعت دونوں ٹھیک رہیں گے۔ دریاکے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ،ایک کھانے پینے اوردوسرے کھیتی باڑی کیلئے ۔ گٹر لائن سے جنگلات آباد کئے جاسکتے ہیں۔ گومل ڈیم کے نیچے پختونخواہ اور پنجاب کے کئی علاقوں کو بڑے پائپوں کے ذریعے پینے کا شفاف ، تازہ اور صحت بخش پانی پہنچایا جاسکتا ہے۔اسی طرح دریائے کرم، دریائے کابل، تربیلہ ڈیم، دریائے جہلم وچناب اور دریائے راوی کو نہ صرف آلودگی سے پاک رکھا جاسکتا ہے بلکہ کھانے پینے اور کھیتی باڑی کیلئے الگ الگ معیاری پانی کا بھی بندوبست ہوسکتا ہے ۔ پانی سے سستی بجلی پیدا کرکے ملک وقوم کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے اور کارخانوں، فیکٹریوں ، ملوں کو پابند بنایا جاسکتا ہے کہ آلودگی صاف کرنے والی مشینریاں بھی لگانی ہوںگی۔
ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو بڑے پیمانے پر انتخابات جیت کر ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پرویز مشرف کوعدلیہ نے تین سال تک قانون سازی کی اجازت دی۔ ریاستی اداروں کا کسی سیاسی پارٹی کو سپورٹ کرنا مجرمانہ فعل ہے مگرحق کی آواز بلند کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا آئینی فریضہ ہے۔ سیاسی و مذہبی جماعتیں غنڈہ گردی سے ہرکسی کا جینا دوبھر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہم نے حلالہ کا مسئلہ اٹھایا، علماء نے حمایت شروع کی، پھر اخبار بندکرنے کا سرکاری حکم جاری ہوا اور دہشتگردوں نے گھر پر حملہ کرکے13شہداء کی سوغات دی۔صحافی محمد مالک نے ہم ٹی وی پر اس مسئلے پر پروگرام کاوعدہ کیا لیکن بہادری کا ایسا مظاہرہ نہیں کرسکاجس کا ہمارے سامنے اظہار کیا تھا۔اسلئے ریاست تحفظ کو یقینی بنائے۔
پاکستان74سالوں میں پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام،مارشل لاء اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے ذریعے چہرے بدلتا رہاہے لیکن برطانیہ کی کالونی سے تاحال نکل نہیں سکے ہیں۔ خلیفہ المسلین کیلئے صدارتی نظام کا تجربہ ناگزیر ہے تاکہ دنیا کے دل سے اسلام کا خوف جمہوری انداز میں نکلے اور بادشاہت بھی قائم نہ ہو۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

پاکستان احیائے اسلام کا مرکز ہے اور یہاں بسنے والی قومیں قیادت کی حقدار ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی

اسلام کی نشاة ثانیہ کا مرکز اور یہاں بسنے والی قومیں امامت کی حقدار
مولانا عبیداللہ سندھی نے اپنی تفسیر المقام المحمود کی سورة القدر کی تفسیرمیں بہت بڑاانکشاف کردیا تھا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا عبیداللہ سندھی نے کراچی کو اسلامی تحریک کا مرکز بنانے کا مشورہ دیا اور اگر کراچی میں یہ ممکن نہ ہو تو شکارپور سندھ کو مرکز بنانے کی تجویز رکھی تھی۔ آپ کا مشن اپنے استاذ اسیرمالٹا شیخ الہندمحمود الحسن کی تلقین پر قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ تھا۔ قرآن کے آخری پارہ عم کی تفسیر المقام المحمود میں سورة القدر کی تفسیر میں مولانا عبیداللہ سندھی نے زبردست انکشاف کیا ہے کہ
”سندھ، بلوچستان، کشمیر، پنجاب، فرنٹیئراور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب کی سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاة ثانیہ یہیں سے ہوگی ۔ اگر پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلے پر ہندو لے آئیں تو اس خطے سے ہم دستبردار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ اب اسلام کی نشاة ثانیہ عرب نہیں عجم سے ہوگی اور عجم کا مرکزی حصہ یہی ہے۔ سندھ کا احادیث میں ذکر ہے اور پنجاب کے پانچوں دریا اور دریائے کابل وغیرہ اس کا حصہ ہیں۔ حنفی مسلک کی بنیاد قرآنی تعلیمات ہیں اور امام ابوحنیفہ ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے اسلئے ایران بھی یہاں کی قیادت کو قبول کرلے گا”۔(المقام المحمود)
مولانا عبیداللہ سندھی نے جلاوطنی کی زندگی گزاری ،تحریک ریشمی رومال کا آپ حصہ تھے جس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور آپ کے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا عزیر گل مالٹا جیل پہنچائے گئے تھے۔1920میں شیخ الہند مالٹا جیل سے رہاہوکر ہندوستان واپس آگئے اور جیل میں قرآن کی طرف رجوع کا احساس پیدا ہوا تھا۔ دارالعلوم دیوبند اور مدارس نے آپ کی نصیحت اور وصیت کو نظرانداز کردیا کہ درسِ نظامی کو چھوڑ کر قرآن کی طرف رجوع اور فرقہ واریت کا خاتمہ کیا جائے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے شیخ الہند کے مشن کیلئے سکول وکالج کے طلبہ پر توجہ دینے کی تلقین فرمائی۔ شیخ الہند نے1920میں حکیم اجمل خان کی یونیورسٹی کا افتتاح کیا، اسی سن میں وفات پاگئے۔ جمعیت علماء ہند سیاسی ڈگر پر کانگریس اور جمعیت علماء اسلام مسلم لیگ کیساتھ ہوگئی اور مولانا انور شاہ کشمیری نے دارالعلوم دیوبند کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔مولانا الیاسنے تبلیغ شروع کردی۔ مدارس اور تبلیغی جماعت کے کارکنوں نے اپنے اپنے حساب سے دین کی خدمت اور فرقہ واریت کے بیج بونے میں بھی زبردست کردار ادا کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی کی تحریک دھری کی دھری رہ گئی۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے عمرکے آخری حصہ میں مولانا سندھی سے معافی مانگ لی اور یہ بھی واضح فرمایا کہ”میں نے مدرسے کی تدریس میں ساری عمر ضائع کردی، کیونکہ قرآن وسنت کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی فضول وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔
مولانا محمدالیاس نے عوام کے اندر دین کے فضائل کے ذریعے زبردست تحریک چلائی لیکن مدارس اور خانقاہوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے رجوع کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجہ اسلئے نہیں نکل سکا کہ قرآن کی طرف رجوع کے بجائے مولانا انور شاہ کشمیری کے طرز پر زندگی ضائع کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ علامہ سید محمدیوسف بنوری نے اپنے مدرسے کی بنیاد تقوے پر رکھی لیکن نصاب کی تبدیلی کا انقلاب برپا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حضرت حاجی محمد عثمان نے فرقہ وارنہ تشخص کے خاتمے کیلئے مسجد کانام الٰہیہ رکھا۔ مدرسے کانام محمدیہ رکھا، خانقاہ کانام چشتیہ ، یتیم خانہ کا نام سیدنا اصغر بن حسین رکھا اور خدمت گاہ کا نام قادریہ رکھا۔ ہزاروں مکاشفے دیکھنے والوں میں علماء کرام، تبلیغی جماعت میں چار ماہ لگانے والے اور اہلحدیث حضرات بھی شامل تھے۔
ایک مکاشفہ یہ بھی بیان ہوا کہ حضرت شیخ الہندمحمود الحسن نے مولاناالیاس کے ہاتھ سے حاجی محمد عثمان کی تاج پوشی کردی۔ مولاناسید محمد یوسف بنوری کی حاجی محمد عثمان سے دوستی تھی۔ مفتی احمدالرحمن ، مفتی ولی حسن ٹونکیحاجی عثمان کے ہاں آتے تھے۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر اور میرے استاذمولاناشیرمحمد کہتے تھے کہ ”مفتی ولی حسن میرے استاذہیں لیکن اپنے دشمن مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی اور مفتی رشید لدھیانوی کے ہاتھوں اپنے دوست حاجی محمد عثمان کے خلاف استعمال ہوگئے”۔ بڑے معروف مدارس کے علماء و مفتیان حاجی محمدعثمان سے بیعت تھے اور8بریگڈئیر،ایک کور کمانڈر نصیر اختر اورمیجر جنرل خواجہ ضیاء الدین بٹ بھی بیعت تھے۔ جس کو پھر بھاگنے کے بعد پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف بننے پرانتہائی ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اگر دارالعلوم کراچی1970میں جمعیت علماء اسلام کے خلاف سازش نہ کرتی تو جمعیت علماء پاکستان کیساتھ مل کر اقتدار میں بھی آسکتی تھی۔ اس فتوے کا اثر آج بھی جمعیت علماء اسلام کے خلاف مذہبی حلقوں میں موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اسلامی سوشلزم کے مقابلے میں مفتی محمود ، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبیداللہ انور اور مولانا عبداللہ درخواستی کی جماعت امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں پاکستان کو اسلامی نظام دے سکتی تھی۔کیونکہ یہ لوگ مولانا عبیداللہ سندھی سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ جماعت اسلامی نے امریکہ ہی کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ آخر کار مذہبی سیاسی قیادت سے بدظن مدارس نے جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ امریکی جہاد کا بیڑہ بھی اٹھالیا ۔ جماعت اسلامی کرائے کے مجاہد کی ماں اور جنرل ضیاء الحق اس کا باپ تھا اور امریکہ اس کا دادا تھا۔ جب امریکہ نے عاق کردیا ۔ جنرل ضیاء فوت ہوگیاتو مولانا فضل الرحمن سوتیلا باپ بن گیا۔ جماعت اسلامی کچھ عرصہ متحدہ مجلس عمل میں جمعیت علماء اسلام کیساتھ رہی اورپھر اپنے سارے ڈھانچے کے باوجود ایک کونے میں سمٹ گئی۔ ابMQMکے ساتھ ملکر کراچی میں بلدیاتی نظام کے نام پر توانائی حاصل کرنے میں لگی ہے۔
ملی یکجہتی کونسل میں اسکے پارٹنر جمعیت علماء اسلام س کا وجود محدود ہوگیا ہے اور اسلامی جمہوری اتحادمیں اسکے پارٹنر مسلم لیگ ن پر جمعیت علماء اسلام نے اپنا اثر جمالیا ہے۔متحدہ مجلس عمل کو چھوڑ کر تحریک انصاف کیلئے بھی جماعت اسلامی نے بیساکھی کا کردار ادا کیا تھا لیکن اب وہ آخری حربے کے طور پر الطاف حسین کے دریتیم کوکسی اشارے پر استعمال کرنا چا ہے گی۔ پہلے احتجاجی دھرنے کے بڑے بڑے بینروں پر جماعت اسلامی نے نام تک بھی نیک نامی کی وجہ سے درج نہیں کیا تھا لیکن جب پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے بڑا طعنہ دیا تو پھر جماعت اسلامی لکھ دیا گیا۔ بہروپ بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا ،اصلیت اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ مشعال خان کے بہیمانہ قتل پر سراج الحق کا اسلام کچھ اور تھا اور سری لنکن شہری کے قتل پر کچھ اور تھا۔ سلیم صافی جیو گروپ کے ناطے نوازشریف سے تعلق اور مولانا فضل الرحمن سے ہمدردی کے باوجود سخت سوالات کرلیتا ہے لیکن جب سراج الحق نے سری لنکن شہری پر اپنا مؤقف دیا تو سلیم صافی نے صحافت کا حق ادا کرتے ہوئے مشعال خان کے بارے میں رویہ کا سوال نہیں اٹھایا۔ جو صحافت، اسلام اور پشتو غیرت کا کوئی تقاضہ نہیں ہے لیکن جماعت اسلامی سے پرانی یاری کا حق ادا ہورہاہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی اور دار العلوم دیوبند کے ماننے والوں نے جب سود کو جائز قرار دیا ہے تو پھر لڑائی کس بات پر ہے؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب کی یہ فریادی نعت قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کودار العلوم دیوبند کا مہتمم بنانا چاہا اور شوریٰ نے نہیں بننے دیاتویہ نعت پڑھی

دارالعلوم دیوبند کے قاری طیب کی یہ فریادی نعت
قاری محمد طیب نے اپنے بیٹے کودار العلوم دیوبند کا مہتمم بنانا چاہا اور شوریٰ نے نہیں بننے دیاتویہ نعت پڑھی

نبی اکرم شفیع اعظم ۖدُکھے دِلوں کا پیام لے لو!
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہوئے ہیں سلام لے لو!
شکستہ کشتی ہے تیز دھارا، نظر سے روپوش ہے کنارہ
نہیں کوئی نا خدا ہمارا ، خبر تو عالی مقامۖ لے لو!
یہ کیسی منزل پہ آگئے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے
تم اپنے دامن میں آج آقا ۖ تمام اپنے غلام لے لو!
عجب مشکل میں کارواں ہے نہ کوئی جأ نہ پاسباں ہے
بہ شکل رہبر چھپے ہیں رہزن ، اٹھو ذرا انتقام لے لو!
کبھی تقاضہ وفا کا ہم سے کبھی مذاق جفا ہے ہم سے
تمام دنیا خفا ہے ہم سے تمہی محبت سے کام لے لو!
قدم قدم پہ ہے خوف رہزن زمیں بھی دشمن فلک بھی دشمن
زمانہ ہم سے ہوا ہے بدظن خبر تو خیرالانام لے لو!
یہ دل میں ارماں ہے اپنے طیب مزار اقدس پہ جاکے اک دن
سناؤں ان کو میں حال دل کا کہوں میں ان سے سلام لے لو!

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جنوبی وزیرستان میں پیپلزپارٹی کے رہنما سردار نجیب محسودکی شہادت اوروزیرستان محسود ایریامیں امن کی ضرورت

جنوبی وزیرستان میں پیپلزپارٹی کے رہنما سردار نجیب محسودکی شہادت اوروزیرستان محسود ایریامیں امن کی ضرورت

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب مسلسل پروپیگنڈہ ہوتا ہے تو سچ کی خبرپہنچنے سے پہلے جھوٹ گاؤں کے گاؤں بہالے جاچکا ہوتا ہے اسلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ” جب کوئی فاسق خبر لیکر آئے تو پہلے اس کی وضاحت طلب کرو اور اس کو اپنے میں سے اولی الامر کی طرف لے جاؤ تاکہ نقصان نہ اُٹھاؤ”۔ آج کل الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کا خطرناک ہتھیار فاسقوں کے ہاتھ میں آیاہے لیکن اس سے یہ فائدہ بھی ہے کہ باطل کے مقابلے میں حق کی وضاحت بھی ہوسکتی ہے۔
جس کے پاس طاقت اور اختیار ہوتا ہے وہ اپنے خلاف کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے لیکن سوشل میڈیا نے طاقتور لوگوں کا اختیار ختم کردیا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے پاک فوج کے خلاف بڑاپروپیگنڈہ کیا گیا۔ ایک بنگالی حسینہ کی پاکستانی فوجی عاشق کیلئے اپنے خاندان کی قربانی کا عنوان دیکر بھارت میں قید رہنے والے پاکستانی فوجی بریگڈئیر کاا نٹرویو لیا گیا ہے جس نے اپنی داستان پر کتاب لکھی ہے۔ ایک عیاش جرنیل جنرل یحییٰ خان کی کہانیاں دیکھ کر یہ بعید ازقیاس نہیں کہ کسی بنگالی حسینہ سے ایک فوجی جوان کو عشق ہوگیا ہو۔ جبکہ اس نے بھارت میں تشدد کے حوالے سے یہ بات کہی کہ” میرے چاروں ناخن ٹوٹے ہوئے ہیںاور متعصب ہندو سے جتنا بھی ہوسکا ،انہوں نے ہماری تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔باقی اس حوالے سے میں نے اپنی کتاب میں بھی کوئی بات نہیں لکھی اور میڈیا پر بھی کوئی بات نہیں کرتا ہوں لیکن یہ تأثر غلط ہے کہ پاک فوج کی بزدلی تھی اورسب اسی کی غلطی تھی۔لاوا پہلے سے تیار تھا”۔
جب ایک طرف یہ پروپیگنڈہ ہو کہ بھارت نے پاک فوجی قیدیوں کے چوتڑ پر ”جئے ہند” کی مہریں لگائی تھیں اور دوسری طرف اس پر بات کرنے کیلئے بھی ہمارا فوجی دانشور اور سپاہی تیار نہ ہو تو لوگوں میں اس غلط فہمی نے جنم لیا تھا کہ چوتڑ پر مہر لگانے کی داستان میں حقیقت تھی۔ حالانکہ ایسی پینٹ پہنائی گئی تھی جس کی پشت پر جئے ہند کی چھاپ تھی۔ یہ تذلیل کا انداز تھا اور اس پر بھی تبصرے کرنا بھی توہین آمیز بات تھی۔ جب ایک سیدھے سادے فوجی کو کہا گیا کہ سفید پینٹ کے چوتڑ پر سیاہ رنگ سے جئے ہند لکھاہواتھا تو اس نے غصہ ہوکرکہا کہ نہیں پینٹ سیاہ تھی اور اس پر لکھائی سفید رنگ کی تھی۔
اب یہاں تک بات پہنچی ہے کہ عام لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ93ہزار فوجی تو بہت بڑی بات ہے ۔اتنی برائلر مرغیوں کو پکڑنا بھی مشکل کام ہے۔ ہم نے بھی کبھی ذہنوں میں نہ صرف پروپیگنڈے پالے بلکہ برملا اس کا اظہار بھی کیا تھا لیکن اس مرتبہBBCکی وہ رپورٹ اردو ترجمہ کیساتھ دیکھ لی کہ جو اسی وقت بنائی گئی تھی۔ جنرل نیازی اور دوسرے فوجی افسران کے علاوہ انڈیا کے افسران کے بھی اس میں تأثرات ہیں اور صحافیوں کے بھی اسی وقت کے تأثرات ہیں۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے جذبات کا تناور درخت تیار ہوچکا تھا۔ جب ان کو جیتنے کے باوجود بھی اقتدار منتقل نہیں کیا گیا، جنرل نیازی کی بدتمیزی وبہادری میں بہت توازن تھا، اس وقت موقع پر اپنے اعصاب پر اس طرح قابو رکھنا بہت کمال، بہادری اور حوصلے کی بات تھی۔ اگر ہتھیار نہ ڈالے جاتے تو اپنے شہری علاقوں کو مزید بہت بڑی تباہی اور نقصان کا سامنا ہوسکتا تھا اور اس وقت ایک صحافی نے موقع پراس بات کا اظہار کیا تھا۔ ایک طرف باغی اور متعصب باغیوں کا سامنا تھا اوردوسری طرف بمباردشمنوں کاسامنا تھا ، اس کی ذمہ داری صرف اس وقت پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ حکومت و ریاست کی طویل پالیسی کا یہ نتیجہ تھا۔
مغربی پاکستان کے گلگت و بلتستان کے کئی گاؤں پر بھی1971ء میں قبضہ کیا گیا تھا جس کے خاندان کے کچھ افراد ادھر اور کچھ ادھر رہ گئے تھے۔ جرمنی کا چینل50سال بعد اس قبضے کا انکشاف پہلی مرتبہ عوام کے سامنے لارہاہے۔ یہ پشتو کے مشہور مقولے کے مطابق اہمیت کے قابل اسلئے نہیں تھا کہ جب پاکستان کا بڑا حصہ ہم سے جدا ہوگیا تو گائے کیساتھ اس کے بچھڑے کے جانے کی بھی خیر ہے لیکن سچائی سے ایک اعتماد پیدا ہوتا ہے اور جھوٹ ایک لعنت ہے۔
بنگلہ دیش میں سقوطِ ڈھاکہ کا بچہ آخر کار ایک دن پیدا ہونا ہی تھا اور قوم کے وسیع تر مفاد میں حقائق چھپانے کا بچہ بھی اپنی ولادت کے قریب ہے۔ جب ہم بچے تھے تو اندراگاندھی سے نفرت اور یحییٰ خان سے محبت ایک فطری بات تھی مگر جب شعور بڑھ گیا تو میڈیا کے ترانے ایک فراڈ لگے اور اب یہ فکر لگی ہے کہ ہماری دانست سے قوم میں ایک توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ وزیرستان میں پیپلزپارٹی کے رہنمانجیب محسود اور ڈیرہ اسماعیل خان میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ژوب کے شیرانی کا قتل ہوا۔ محسود قوم ماشاء اللہ سمجھدار اور بہادر ہے ۔ جب نقیب محسود کے قتل پر اسلام آباد میں دھرنا ہوا تھا تو یہ ایک حقیقت تھی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد قبائلی لوگ عمائدین سے زیادہ شیرپاؤ محسود ایڈوکیٹ کے کہنے پر واپس چلے گئے تھے۔ جبکہ بہت کم تعداد میں منظور پشتین کی قیادت میں چندا فراد نے فیصلہ کیا تھا کہ دھرنا جاری رہے گااور اس میں بڑی تعداد منتشر ہونے سے بے خبر رہنے والے سلمان خیل قبیلے کی تھی جو الیکشن لڑنے کی خواہش پر دھرنے میں لائے گئے تھے۔
منظور پشتین اور اسکے ساتھیوں کا اسلئے دھرنے کو ختم کرنے پر اعتراض تھا کہ جو لوگ تائید کیلئے آئے ہیں ان کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ مجھے اس میں مختصرتقریر کا موقع ملا تو میں نے کہا تھا کہ” اصل دھرنا اب شروع ہوا ہے۔یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے ” لیکن ساتھ ساتھ یہ روڈ میپ دینے کی بھی کوشش کی تھی کہ ریاست اور حکومت کو تعصبات اور گلے شکوے کے ذریعے نہیں بلکہ اپنا سمجھ کر اس منصب کو خود سنبھال لو۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف لاڈلی دُختر ہیں جنہوں نے کورٹ میرج کے ذریعے بغاوت کی ہے اور تم نرینہ بچے ہو اور تمہیں اس ریاست کا ولی وارث بنناہے جسکے آگے تم نے کبھی اُف نہیں کیا۔
آج شیرپاؤ محسود نے وزیرستان میںوہی بات کی، جو منظور پشتین کا بیانیہ تھا لیکن اس میں پھر وہی غلطی دہرائی ہے کہ قصور صرف اور صرف فوج کا ہے۔ جب وانا میں کانیگرم کے شریف النفس انسان تحصیلدار مطیع اللہ برکی اور اسکے ایک ساتھی ملازئی کے باشندے تحصیلدار کو انتہائی سفاکانہ انداز میں شہید کرکے ان کی لاشوں کو مسخ کیا گیا تو جیو ٹی وی کے نمائندے نے ڈاکٹر عبدالوہاب برکی سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں کس نے یہ کاروائی کی ہے؟۔اس نے جواب دیا کہ ہندوستان نے اتنے فوجی قید کئے تھے لیکن کسی کیساتھ یہ سلوک نہیں ہوا۔ امریکہ نے گوانتا موبے کے قیدی آزاد کئے تو کسی کیساتھ ایسا نہیں ہوا۔ ہندوستان اور امریکہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں ، کسی مسلمان کا بھی یہ کام نہیں ہوسکتا ہے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ کس نے کیا ہے؟لیکن جیو نے اس کو نشر نہیں کیاتھا۔
پھر علی وزیر کے پورے خاندان اور کوٹ کئی محسود ایریا سے خاندان ملک اور اس کی پوری فیملی کو شہید کیا گیا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے گلشاہ عالم برکی کو غائب کیا گیا جس کا بھائی آئی ایس آئی میں بریگیڈئیر کے عہدے پر تھا۔ فوج کی کانوائیوں پر حملے ہوتے تھے اور بڑی تعداد میں فوجی مار کر ایک شعبان نامی فوجی کو قید کیا گیا تھا جو اپنے ماموں کو بتارہاتھا کہ میری ماں کو پتہ نہ چلے ۔اگر اس وقت قبائل نے درست ایکشن لیا ہوتا تو بعد میں اتنے مسائل کا سامنا نہ ہوتا۔ شیرپاؤ محسود نے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان جیت گئے، ہماراGHQجیت گیا ، تحریک طالبان پاکستان جیت گئی لیکن ہم قبائل کی عورتوں کو پھلا دیا۔ اگرGHQچاہے تومفتی نورولی محسوداور طالبان رہنما ہیلی کاپٹر میں لاسکتے ہیں۔ ہم بندوق نہیں اٹھائیں گے۔ ہم باغی نہیں، آئی ایس آئی کے مخالف بھی نہیں ہیں۔ نور سعید نے کہا کہ ہم طالبان اور فوجیوں سے پوچھیں گے کہ کس جرم کی پاداش میں نجیب محسود کو قتل کیا گیا ہے؟۔ لیکن ہم نے بالکل بھی نہیں پوچھنا ہے۔ بندوق بھی ہم نہیں اٹھائیںگے۔ اگر ہم یونہی رہے تو ایک ایک کا جنازہ اٹھائیں گے۔ نجیب محسود کے قتل پر میرا خون جل رہاہے ۔ فوج کے پاس بیٹھے ہوئے طالبان ہمارے بچے، بھانجے اور بھتیجے ہیں۔ ہم نے علماء کے کہنے پر ہی ان کو بھیجا تھااور اس وقت ایک بڑے بالوں والا پنجابی اس کی تربیت کرتا تھا۔ ہماری قوم کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل فوج نکال سکتی ہے اور ہم نہیں نکالیں گے۔شیرپاؤ کے بیان میں تذبذب کا ہونا ایک مجبوری لگتی ہے۔
جب پشتون کلچر فنکشن کے موقع پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منظور پشتین پہنچا تو اس کو تقریر کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور اسٹیج پر جانے سے روکا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ مروت اور دوسری قوموں سے تعلق رکھنے والوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پہلے طالبان کے نام پر اپنی قوم کی عزت تار تار کردی اور اب قوم پرستی کے نام پر پھر اپنے محسود قبیلے اور پشتون قوم کا بیڑہ غرق کرنے سے شرم نہیں آتی ہے۔
رسول اللہ ۖ نے وحی کی رہنمائی سے تیرہ سال تک اپنی قوم کو مکی دور میں اپنا کردار ادا کیا اور دس سال مدنی دور میں لیکن پھر ایک انقلاب برپاکردیا ۔ جس کے بعد مسلمان عرب قوم نے مشرق ومغرب کی دونوں سپر طاقتوں ایران و روم کو شکست سے دوچار کردیا تھا۔ آج دنیا کو پھر سے مسلمانوں اور اسلام نے خوفزدہ کردیا ہے۔ فرانس کے واقعات سے پاکستان کے تحریک لبیک سے مذاکرات تک کا اختتام سری لنکن شہری کے بہیمانہ طریقے سے قتل پر ہوگیا۔ایک ضعیف حدیث ہے کہ من سبّ نبےًا من الانبیاء فقتلوہ ”جس نے انبیاء میں کسی نبی کی توہین کردی تو اس کو قتل کردو”۔ حالانکہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت بڑی گالی دیتے تھے اور قرآن نے ان کی خواتین کیساتھ نکاح کو جائز قرار دیا ہے۔
حنفی مسلک قرآن کے مقابلے میں ضعیف حدیث نہیں صحیح حدیث کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگانے کا معاملہ گالی سے بھی زیادہ سنگین تھا لیکن بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی گئی جو کسی عام عورت پر بہتان لگانے کی80کوڑے ہے۔ جبکہ زنا کی سزا100کوڑے ہے۔ اگر سورہ نور کی آیات کی تشہیر کی جائے تو پوری دنیا اس سے روشن ہوسکتی ہے۔ سیالکوٹ کا واقعہ ایک غیرملکی شہری کی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا اور اس سے پہلے مشعال خان کا واقعہ بھی بہت سنگین تھا لیکن اس وقت جماعت اسلامی کے سراج الحق اور دوسرے لوگوں کو نبی رحمت ۖ کا دین اوراسلامی تعلیمات کا آئینہ دکھائی نہیں دیا تھا۔ وزیرستان میں جو فضاء بنائی گئی تھی وہ وہی تھی جو سیالکوٹ میں بنی تھی لیکن اپنے قصور کو صرف دوسرے کے سر رکھنا بھی کوئی سمجھداری کی بات نہیں ہے۔
خان زمان کاکڑ ایک تعلیم یافتہ اورباصلاحیت جوان ہے جو پہلےPTMاورANPکی کشمکش میں لٹک رہاتھا اور پھر ایک عہدہ ملنے پر اپنا وزن مستقل عوامی نیشنل پارٹی کے کھاتے میں ڈال دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی ایسی متعصبانہ پالیسی نہیںلیکن خان زمان کاکڑ منفرد مقام رکھتا ہے۔ قوم کو باشعور شخصیات کی سخت ضرورت ہے اور خان زمان کاکڑ جیسے لوگ ایک بہت بڑا اثاثہ ہیں۔
قرآن وسنت نے آزادی کی آخری حد تک گنجائش دی ہے۔ خیبر امن کمیٹی کا سربراہ انتخابات میں قوم کو دھمکی دے رہاتھا کہ ” جس نے ووٹ ڈالا ،تو اس کی کھال ایسی اتاردیں گے جیسے مرغ کی اتاری جاتی ہے”۔ جبMQMنے ایک مرتبہ بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا تو بھی لوگوں کو دھمکی دی تھی کہ ووٹ کا حق استعمال کیا تو انگلیاں کاٹ دیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے لاڑکانہ سے ایک مخالف امیدوار کو کمشنر کے ذریعے اٹھالیا تھا۔ سیاسی پارٹیوں نے بدمعاش رکھے ہوتے ہیں۔ تحریک طالبان کے عروج کا دور سب نے دیکھ لیا تھا کہ جب سرکار کے لوگ بھی ڈرتے تھے اور مسلم لیگ ن نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمن بھی امریکہ کا ایجنٹ بن گیا ہے ،اسلئے کہ ریاست وحکومت کو خبردار کررہاہے کہ مارگلہ تک طالبان پہنچ گئے ہیں۔پاک فوج میں سپاہی تو دور کی بات ، اصحاب ثروت کیپٹن بھرتی ہونے کیلئے بھی تیارنہیں ہوتے ہیں ۔ کیپٹن صفدر کا بیٹا جنید صفدر بھی اب کیپٹن بننے کوتیار نہیں ہے۔ سنگلاخ جنگلات اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقہ میں جان پر کھیل کر ڈیوٹی دینا خالہ جی کا گھر نہیں۔ غریب فوجیوں کے بیٹوں کا کوئی کاروبار نہیں ہوتا اسلئے وہ کم تنخواہ اور مراعات کے چکر میں جاتے ہیں۔
ایک ایسی فضاء بنائی جارہی ہے کہ نوازشریف کو اقتدار منتقل کرنے کیلئے ہرقسم کا حربہ استعمال کیا جائے۔ حالانکہ واپڈا کے بلوں کو فوج کے حوالے کرنے سے لیکر دہشتگردی کے ہر محاذ پر نوازشریف نے فوجی پالیسی کا ساتھ دیااسلئے کہ اس کا جنم بھی مارشل لاء میں ہوا تھا۔ جب اے این پی اور پیپلزپارٹی طالبان کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں تو وہ نشانہ بنیں گے اور اس کو کسی اور کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جب تک فوج مجبور ہوگی تو وہ اس وقت تک اپنی حفاظت کیلئے دہشت گردوں کے روپ میں اپنے لوگوں کو پالنے کی پالیسی پر بھی گامزن رہے گی لیکن جب قوم اپنے میں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرے گی تو فوج بھی اپنی جان کی امان پائے گی اور کسی سرنڈر کو تحفظ نہیں دے گی۔
عالمی ایجنڈے کے تحت پہلے پشتون قوم کو طالبان کے نام پر تباہ کیا گیا اور پھر قوم پرستی کے نام پر اس کی تباہی کے منصوبے بن رہے ہیں۔ بات کا جواب اورگولی کا جواب گولی سے دئیے بغیر پوری قوم کی اصلاح کرنا ممکن نہیں ہے لیکن جب ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے تو لوگوں کے ذہن بدل سکتے ہیں اور اس میں ریاست کا اہم کردار ہوسکتا ہے۔ البتہ ہماری ریاست میں سب سے زیادہ کردار پاک فوج کا ہے اور سیاستدان بھی اس کے بنائے ہوئے گملوں میں پلے ہیں۔ ولی خان سے مولانا فضل الرحمن تک اسٹیلشمنٹ کی مخالفت کرتے ہوئے بھی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار مسلم لیگ ن کا ساتھ دیتے ہیں۔ قبائلی علاقہ جات کو اگر امریکہ کے کہنے پر ضم کیا گیا تو ن لیگ کا دور تھا اور مولانا فضل الرحمن حکومت کا حصہ بقدر جثہ تھے۔سی پیک کا مغربی روٹ مسلم لیگ ن کے دور میں تبدیل ہوا۔ کرک کے گیس کو اٹک منتقل کرنے کی کوشش مسلم لیگ کے دور میں ہوئی اور اس کا نام کرک کی جگہ اٹک رکھا گیا۔پارٹیاں نظریات اور قومی مفادات کی نہیں اپنے ذاتی معاملات کا تحفظ کرتی ہیں۔اللہ سب کو اب ہدایت بھی دیدے۔
وزیرستان میں امن کی بحالی کو قبائلی عمائدین، سرنڈر مجاہدین اور سول و ملٹری حکام، سیاستدان اور نوجوان قیادت مل کرممکن بنائیں تاکہ پھر سے ٹارگٹ کلنگ اور قیمتی شخصیات کے قتل کا سلسلہ جاری نہ ہو۔سردارنجیب محسود کہتا تھا کہ” یہاں امن کی بات کرنا منع ہے تاکہ ترقیاتی کام کے نام پر پیسہ ہڑپ کیا جائے”۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

جمہوریت ایک بہترین نظام ہے قرآن و سنت میں شوریٰ کا تصور جمہوریت کی بنیاد ہے لیکن ہمارے ہاں کی جمہوریت ڈکٹیٹر شپ سے بھی زیادہ اخلاقیات کی تباہی کا ذریعہ ہے پاکستان میں جمہوریت سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔

جمہوریت ایک بہترین نظام ہے قرآن و سنت میں شوریٰ کا تصور جمہوریت کی بنیاد ہے لیکن ہمارے ہاں کی جمہوریت ڈکٹیٹر شپ سے بھی زیادہ اخلاقیات کی تباہی کا ذریعہ ہے پاکستان میں جمہوریت سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے والوں نے پتھروں سے استقبال، مرغے کی طرح کھال اتارنے کی دھمکی اور قتل کرنے تک بات پہنچائی ہے۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈہ پور نے جلسہ عام میں کہا کہ اگر دوسرے الیکشن جیت بھی جائیں تو حکومت ہماری ہے، ہم بلدیات کے دفتروں میں ان کو گھسنے بھی نہیں دیںگے،صوبائی وزیر بلدیات بھی میرا بھائی ہے۔ اس کے علاوہ علی امین گنڈہ پور نے یہ بھی کہا ہے کہ مریم نواز کو مولانا نے اپنوں کیلئے حلال کیا ہے تو ہمارے لئے بھی اس کو حلال کرلے۔ جمعیت علماء اسلام کے ایک سخت مخالف نے علی امین کی زبان پر بہت سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف علماء کے ایک حامی نے کہا کہ ایک مولوی تقریر کررہاتھا کہ ہم نے علی امین گنڈہ پور سے پوچھا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہو؟۔ اس نے کہا کہ ہاں میں اس کو نبی مانتا ہوں۔ پھر ہم نے کہا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے تواس نے کہا کہ ہاں اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ گاؤں دیہاتوں کے لوگ ان گمراہیوں سے بچ گئے ہیں لیکن شہروں میں یہ بہت فتنے ہیں۔
ہماری حکومت،ریاست، سیاسی ومذہبی رہنماؤں اورکارکنوں کا یہ حال رہا تو لوگ کبھی اچھے دن نہیں دیکھ سکیں گے۔ جمہوریت میں ایکدوسرے کیخلاف غلیظ پروپیگنڈے کے بجائے شائستگی سے اپنی خوبیاں اور دوسروں کی خامیاں بھی بتائی جاتیں تو بھی مناسب نہیں تھا بلکہ جمہوریت کا اصلی تقاضہ یہ ہے کہ اپنی خامی اور دوسروں کی خوبیا ں بتائی جاتیں تو انتخابات کے ثمرات سے استفادہ ملتا۔ جب حضرت عمرنے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کیلئے پہل کی تھی تو حضرت ابوبکر کیلئے یہ ناگوار تھا اور جب حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی نامزدگی کا اعلان کیا تھا تو حضرت عمر کیلئے یہ بات ناگوار تھی۔ لوگوں کا ایک مزاج ہے کہ کوئی چڑھتے سورج کا پجاری ہوتا ہے اور کوئی قرابتداری کی محبت میں پاگل بنتا ہے اور کوئی خاندانی بنیاد پر ترجیحات میں پہلوان ہوتا ہے۔ کوئی اپنے استحقاق کیلئے زنجیریں توڑتا ہے۔
پیغمبر انقلاب خاتم الانبیاء والمرسلینۖ نے صحابہ کرام کا ہرقسم کی آلائشوں سے تزکیہ فرمایا تھا۔ تاہم انسان پھر بھی اپنی اپنی خصلت کی طرف رحجانات رکھنے سے باز نہیں آتا ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”اگر پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو مان لینا لیکن انسان اپنی فطرت سے ہٹ جائے تو نہیں ماننا”۔انسان ایک طرف ” احسن تقویم ” تو دوسری طرف ”خلق الانسان ضعیفا ”ہے۔ ایک طرف انسان مٹی سے پیدا کیا گیا اوردوسری طرف اس میں اللہ نے خود روح پھونک دی ہے۔ اعلیٰ علیین اور اسفل السافلین دونوں مقام انسان مکلف ہونے سے حاصل کرسکتا ہے ۔ لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا ”اللہ مکلف نہیں بناتا ہے کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق”۔ مکلف ہونے کا مطلب انسان کی استعداد ہے ، اگر انسان میں بہت اچھا کرنے کی صلاحیت ہو اور وہ اس کیلئے جدوجہد نہیں کرتا ہے تو یہ اپنے مکلف ہونے کا حق ادا نہیں کرتا ہے ۔ ایک آدمی میں چوکیدار بننے کی اور دوسرے میں دنیا کو بدلنے کی صلاحیت ہے تو دونوں سے اسکی پوچھ گچھ ہوگی۔
سورۂ بقرہ کی آخری آیت میں ترجمہ کرنے والوں نے اردو کی تکلیف مراد لیا ہے کہ ” اللہ انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے”۔ حالانکہ اس کا کوئی تُک نہیں بنتا ہے اسلئے کہ اللہ نے اس آیت میں ولاتحملنا مالا طاقة لنا کی دعا بھی سکھائی ہے کہ ” ہم پر ایسا بوجھ نہ لاد یں جس کی ہمیں طاقت نہیں”۔ اگر اللہ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا نہیں تو پھر ایسی دعا کیوں سکھاتا ہے؟۔ بوجھ تلے کوئی مرتا ہے، کوئی ذلیل اور خوار ہوتا ہے اور کوئی انتہائی مشقت اٹھاتا ہے۔ پہلی قومیں بھی عذاب کے بوجھ تلے تباہ ہوئیں اور اہل حق پربھی باطل نے بوجھ ڈالاتھا اور میری اماں محترمہ نے میرے بارے میں کہا تھا کہ ” اس کی مثال ایسی ہے جیسے گدھے نے اُونٹ کا بوجھ اٹھایا ہو”۔ وزیرستان اور گومل میں اونٹ اور گدھا بوجھ اُٹھانے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ انگریز نے پانی کی موٹروں کو ہارس پاور کانام دیا ہے اور قرآن میں گدھے اور گھوڑے کو سواری اور زینت کیلئے تخلیق کی بات ہے۔ حدیث میں شہروں کے اندر اتنی کھلی گلی چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا کہ جن میں دومال بردار اونٹ آسانی کیساتھ گزر سکیں۔ ہم آج کی دنیا میں بھی بہت پیچھے ہیں۔
جب نبی کریم ۖ پر قرآن نازل ہوا تو آپ ۖ کا کیا حال ہوا ہوگا اسلئے کہ اللہ نے فرمایا کہ ” اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو اس کوآپ دیکھتے کہ ریزہ ریزہ ہوکر اس میں ہل چل مچ جاتی،اللہ کے خوف سے”۔ بعض لوگ اپنی کم عقلی کے باعث غلام احمد پرویز کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر احادیث صحیحہ کا انکار کررہے ہیں۔ جن میں معروف اور بہت اچھے اہل حدیث عالم دین مولانا اسحاق فیصل آباد والے بھی شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ الم نشرح لک صدر ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک ”کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھولا اور آپ سے وہ بوجھ نہیں اٹھایا؟ جس نے آپ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی”۔ رحمت للعالمینی کا جتنا بڑا منصب تھا، اتنا زیادہ بوجھ تھا اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک طرف جاہل مشرکینِ مکہ کاتعصب تھا تو دوسری طرف یہوداور منافقین کی ریشہ دوانیاں تھیںاور تیسری طرف اعراب کا دیہاتی ، جاہل پن اور مفاد پرستی تھی اور چوتھی طرف اپنے مہاجرین وانصار کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور تعلیم وتربیت ، تزکیہ اور حکمت سکھانے کا مسئلہ تھا۔
جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا تو اللہ نے فرمایا کہ انا فتحنا لک فتحًامبینًا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتأخر ” ہم نے آپ کو کھلی فتح عطاء کردی ہے تاکہ آپ سے وہ بوجھ ہٹ جائے جو آپ کو پہلے اور بعد کے حوالے سے دامن گیر تھا”۔ اردو میں ”معاف کرنا” اور انگلش میں ایکسکیوز کے الفاظ بہت معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ جب کوئی اردو اور انگریزی نہیں سمجھتا ہوتو محاوروں کے ترجمے میں بہت غلطی کرے گا۔ ایک آدمی بھکاری سے کہتا ہے کہ ”مجھے معاف کرنا”۔ اب کوئی کم عقل اس کی توجیہ یہ پیش کرے کہ اس نے کوئی جرم کیا تھا اسلئے بھکاری سے میرے سامنے کھلے الفاظ میں معافی مانگ لی تو یہ اس کی زبان کو نہ سمجھنے کی غلطی ہوگی۔ مغفرت اور ذنب کے الفاظ عربی میں مختلف معانی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ سیاق وسباق کو دیکھ کر معانی کا تعین ہوتا ہے۔
اللہ نے قرآن میں واضح کیا ہے کہ انا عرضنا الامانة …….. ” بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں پراور زمین پر اور پہاڑوں پر تو انہوں نے انکار کیا کہ اس کا بوجھ اٹھائیں تو انسان نے اس کابوجھ اٹھالیا، بیشک وہ بہت اندھیرے اوربہت جہالت میں تھا”۔انسان کو اللہ نے مکلف ہونے کا بوجھ اٹھانے پر نادان قرار دیا ہے۔ مکلف ہونے کو ہی امانت قرار دیا ہے۔ انسان مکلف ہے۔ انسان اپنی فطرت سے ہٹنے والا نہیں ہے، اس کی چاہت ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس کو اختیارات مل جائیں۔ کسی بھی انسان سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ اس کی خواہش یہ ہو کہ پوری دنیا کے اختیارات اس کو مل جائیں لیکن وہ یہ پرواہ نہیں کرتا ہے کہ ایک معمولی ذمہ داری کا حق ادا نہ کرنے پر بھی اس کی نااہلی ثابت ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ اختیارات کے ملنے کے بعد وہ اپنی نااہلیت سے جان چھڑاسکے گا؟۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” جو اپنی چاہت سے کوئی عہدہ ومنصب مانگ لیتا ہے تواللہ اس کی مدد نہیں کرتا ہے لیکن اگر اس کو عہدہ ومنصب دیدیا جائے تو پھر اللہ بھی اس کی مدد کرتا ہے”۔ نبیۖ نے انسانی جبلت کو دیکھ کر اسکی اصلاح کیلئے فرمان جاری کیا تاکہ انسان زیادہ اختیارات اور منصب مانگنے کے چکر میں نہ پڑے لیکن جب اس پر کوئی ذمہ داری ڈالی جائے تو اس کو قبول کرنے سے انکار بھی نہ کرے۔ اس نظام زندگی کو اسی طرح سے بہت ہی اچھے انداز میں چلا یاجا سکتا ہے۔
نبیۖ کے وصال کے بعد اختیارات اور منصبِ خلافت کیلئے انصار نے اپنا اجلاس طلب کرلیااور اس طبقاتی تقسیم اور اختیارات کے حوالے سے خطرناک رحجان کو بھانپ کر مہاجرین کے کچھ سرکردہ لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ہنگامی اجلاس جس مقصد کیلئے منعقد ہوا تھا تو اس رحجان کا خاتمہ کردیا گیا اور حضرت ابوبکر سے بیعت کیلئے حضرت عمر نے ہاتھ بڑھائے اور پھر انصارومہاجرین نے آپ پر ہی اتفاق کرلیا۔ اہل بیت کے کچھ لوگوں کو اس ہنگامی فیصلے پر تشویش تھی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ اگر حضرت ابوبکر نے انصار سے بازی اسلئے جیتی کہ نبیۖ نے فرمایا تھا کہ ”ائمہ قریش میں سے ہوں گے” تو نبیۖ نے غدیر خم کے موقع پر حضرت علی کیلئے فرمایاتھا کہ” جس کامیں مولا ہوں تو یہ علی اس کا مولا ہے”۔اور فرمایا تھا کہ ”میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے میرے اہل بیت”۔ صحیح مسلم میں یہ واضح ہے کہ اہل بیت سے مراد ازواج مطہرات نہیں ہیں بلکہ نبیۖ کے دادا کے خاندان والے مراد ہیں۔
صحابہ کرام کی تعلیم وتربیت اور تزکیہ کرنے اور حکمت سکھانے کی وضاحت قرآن میں ہے وہ ایکدوسرے کی تکریم کرنا جانتے تھے اور حسن ظن رکھتے تھے مگر وقت کیساتھ ساتھ مختلف طرح کے رحجانات رکھنے والوں نے ان کے اختلافات کو اپنے اپنے مزاج کے مطابق مختلف رنگ میں پیش کرنے کی جسارت بھی کی ہے۔ نبی ۖ نے ان نفوس قدسیہ کا یہ نقشہ پیش فرمایا ہے کہ ” ایک زیادہ وجاہت رکھنے والے صحابی کے بیٹے کا دانت کم حیثیت رکھنے والے صحابی کے بیٹے نے توڑ دیاتو اس نے قسم کھائی کہ اس کے بدلے میں اپنے بیٹے کے دانت توڑنے نہیں دوں گا اور پھر دوسرے صحابی نے اس کو معاف بھی کردیا”۔ جس پر نبیۖ نے فرمایا کہ ”بعض لوگ اللہ کو اتنے پیارے ہوتے ہیں کہ اگر وہ قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم بھی پوری کردیتا ہے”۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب تک زبردستی سے اس کو بدلہ لینے کی حد تک مجبور نہیں کیا جاتا ہے وہ قانون کے ذریعے اپنے اوپر حد جاری کرنے کا بھی روادار نہیں ہوتا ہے اور حیثیتوں کے فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھتا ہے اور اس سے صحت مند رحجان بھی پیدا ہوتا ہے کہ قصاص اور حدود کے نفاذ سے دوسرے کا قتل یا اس کے اعضاء کو کاٹنے اور توڑنے سے زیادہ اچھی بات معافی ہے۔ غزوہ اُحدپر نبیۖ اور صحابہ نے زیادہ انتقام لینے کا کہا تو اللہ نے معافی کرنے کا حکم دیا۔
نبیۖ نے دانت توڑنے کی سزا سے بھی پرہیز نہیں کرنا تھا بلکہ دوسرے کو زبردستی سے بھی مجبور کرنا تھا لیکن جب معاف کردیا گیا تو انتہائی حسن ظن کا سبق بھی دیا گیا۔ حضرت سعد بن عبادہ نے بھی کہا تھا کہ میں قرآن کے حکم لعان پر عمل نہیں کروں گا بلکہ ایسی فحاشی کی حالت میں دیکھ کر قتل کروں گا۔ اس جذبے کی وجہ سے ان کو کافر ومرتد نہیں قرار دیا گیابلکہ اس کو اپنی رائے رکھنے کی آزادی دی گئی مگر اگر وہ قتل کرتا تو قانون کے مطابق اس کو سزا بھی دی جاتی۔ نبیۖ کی ریاست کا نظام بالکل سرتاپا رحمت تھا۔ کسی نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تو اس کے خلاف بھی جہادوقتال نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ریاست کی طاقت کو منوانا تھا اسلئے مانعین زکوٰة کے خلاف قتال کیا گیا۔ حضرت عمر پہلے بھی متفق نہ تھے جبکہ حضرت عمرنے آخر میں بھی اس بات کا اظہار کیا کہ ” کاش ! نبی ۖ سے ہم تین باتوں کاپوچھتے ۔ ایک یہ کہ زکوٰة نہ دینے والوں کے خلاف قتال ہے، دوسرا کہ آپ کے بعد کس کس کو خلیفہ بنایا جائے اور تیسرا کلالہ کی میراث کی مزیدتفصیل ”۔
حضرت عثمان کے خلاف بغاوت ہوئی۔ حضرت علی نے دارالخلافہ کوفہ منتقل کیا مگر وہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑا گیا۔ حضرت حسن امہ کے مفاد میں خلافت سے دستبردارہوئے جس کیلئے نبیۖ نے خوشخبری دی تھی۔ تیس سالہ خلافت کے بعد امارت قائم ہوئی اور آج پاکستان میں74سال بعد بھی اپنی اپنی پارسائی کے دعویدار سب ہیں لیکن ہمیں حقائق اور اپنی کمزوری کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں۔
جمہوریت کے نام پر مفادپرستی، گری ہوئی اخلاقیات ، نظریہ ضرورت اور قسم قسم کے ہتھکنڈے معاشرے ، حکومت اور ریاست کی مشکلات میں دن بہ دن اضافے کا موجب ہیں۔انسان ہونے کے ناطے ، ایک ملک سے تعلق رکھنے کے ناطے ، مسلمان ہونے کے ناطے، پڑوسی اور ایک خطے سے تعلق رکھنے کے ناطے ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ قرون اولیٰ کی تاریخ کو پھر سے دُہرادیں۔ قرآن اور سنت کی تعلیمات آج کے دور میں سمجھنے کی زیادہ آسانی ہے اسلئے کہ دنیا نے اب انسانیت کا سبق سیکھ لیا ہے اور ہمارے اپنے لوگ وحشیانہ پن کے شکار ہوگئے ہیں اور اس کے نتائج دنیا سے زیادہ ہم خود بھگت رہے ہیں۔ فرقہ پرستی، لسانی تعصبات اور گروہی مفادات نے انسانیت ، مسلمانوںاور اسلام کا دنیا میں تماشا بنادیا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

سلطنتِ عثمانیہ نے اپنا بینک ماتحت کیا توعالمی بینک نے پیسہ روک کر اسکا خاتمہ کردیا ۔مولانا فضل الرحمن ۔

جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کا سوشل میڈیا پر مختصربیان ہے کہ جب عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ نے اپنے بینک کو عالمی بینک کے تابع کردیا جب سلطنت عثمانیہ کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو عالمی قوتوں نے اپنے بینکوں سے بھی پیسہ نہیں لینے دیا جس کی وجہ سے ایک عالمی ایمپائر سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ جس کی حکومت عرب سے افریقہ تک پھیلی تھی۔ اتنی بڑی سلطنت بینکوں کے نظام کی وجہ سے گرگئی تو پاکستان کی کیا حیثیت ہے؟۔ پچھلے عرصے میں جب میں نے کہا تھا کہ پاکستان جب عالمی اداروں کا مقروض ہوگا تو پھر عالمی قوتوں کی کالونی کے علاوہ پاکستان اور کچھ نہیں ہوگا۔ جس پر ایک صحافی اینکر نے ٹوئٹ کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اتنا بے خبر ہے؟۔ پاکستان تو عالمی قوتوں کی کالونی بن چکا ہے اور اس کی خبر مولانا فضل الرحمن کو کیا نہیں ہے؟۔

تبصرہ: نوشتۂ دیوار …عبدالقدوس بلوچ
وزیر اعظم عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کیلئے پٹرول سستا کیا تھامگر مولانا فضل الرحمن کو بلدیاتی انتخابات کی واضح جیت مبارک ہو۔ جنرل ضیاء کا مارشل لاء تھا تو مولانا کہتے تھے کہ فوج آنکھوں کی پلکیں ہیں جو ملک کی زینت اور حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ پلکوں کا بال آنکھ میں گھسے تو برداشت نہیں ہوتا۔ اب تو تمام پلکیں گھس گئیں۔ یہ دلیل نہیں کہ ملک کی حفاظت فوج کرتی ہے تو حکمرانی کا حق بھی اسی کو ہے۔ چوکیدار کو تنخواہ اور اسلحہ دیا جائے اور وہ قابض ہوجائے تو یہ بدمعاشی ہے۔ مفتی محمود کی وفات کے بعدMRDمیں شمولیت کو علماء ومفتیان نے کفر قرار دیا، اسلئے کہ اس میں پیپلزپارٹی شامل تھی۔1985ء نشتر پارک کراچی میںMRDکے جلسے کاBBCنے کہا تھا کہ ”یہ جمعیت علماء اسلام کا جلسہ لگ رہا تھا”۔88ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے غلام اسحاق خان کو صدارت کیلئے ووٹ دیا اور جمعیت علماء نے نوابزادہ نصراللہ خان کو۔ پھر جب نوازشریف کو تحریک عدم اعتماد کیلئے اسامہ بن لادن کی طرف سے رقم مل گئی تو چھانگا مانگا میں منڈی لگائی، پیپلزپارٹی نے ارکان کو سوات کے ہوٹل میں رکھاتھا ۔ جے یو آئی ف کے ارکان اسمبلی کھلے عام اسلام آباد میں گھوم رہے تھے ،ان کو خریدنے کا تصور نہیں ہوسکتا تھا۔ بشریٰ بیگم کا سسر غلام محمد مانیکا وغیرہ نے مسلم لیگ کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو لیبیا کے صدر قذافی نے اسلامی یونیورسٹی جامعہ معارف الشرعیہ کیلئے رقم دینی تھی اور دھمکی دی کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا تو رقم نہیں ملے گی۔ مولانا کو اپنوں نے مشورہ دیا کہ یونیورسٹی بنانا زیادہ بہتر ہے لیکن مولانا نے اپنا ضمیر نہیں بیچا اور تحریک عدم اعتماد میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے آج تک یونیورسٹی کی بلڈنگ ادھوری ہے جس میں ایک چھوٹا مدرسہ چل رہاہے۔ پھر اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو نوازشریف کو لایا گیا اور اصغر خان کیس کا 16سال بعد فیصلہ ہونا تھا مگر اس کی فائل بند کردی گئی۔ پرویزمشرف وردی کو اپنی کھال قرار دیتاتھا مگر متحدہ مجلس عمل سے معاہدے کے تحت وردی اترگئی۔ اگر پیپلزپارٹی نہ ٹوٹتی تو مولانا فضل الرحمن کئی ووٹوں سے وزیراعظم بنتے۔ ق لیگ نے ایک ووٹ سے ظفراللہ جمالی ، چوہدری شجاعت اور شوکت عزیزکو وزیراعظم بنادیا تھا۔ پیپلزپارٹی میں جمہوری غیرت ہوتی توق لیگ کے مقابلے میں مولانا کو ووٹ دیتی۔ ایک سیٹ جیتنے والا کم عقل انسان عمران خان وزیراعظم بن گیا تو مولانا فضل الرحمن کیوں نہیں؟۔
مولانا فضل الرحمن کو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی طرح آخری وقت میں مسلم اُمہ کو قرآن سے استفادہ اور فرقہ پرستی سے کنارہ کشی کا واضح پروگرام دینا چاہیے شاہ ولی اللہ سے مولانا عبیداللہ سندھی تک کی روح قرآن و سنت سے زندہ کرسکتے ہیں۔ تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان کو حق کیلئے ایک پلیٹ فارم پر لانا اور بڑے پیمانے پر ووٹ لیکر نظام بدلنااور وزیراعظم بنناکوئی مشکل نہیں ہے ۔
خیبر پختونخواہ تبدیلی اور انقلاب کی علامت ہے لیکن اس سیاست میں عوام حصہ دار نہیں ،یہ پارٹیوں کا مسئلہ ہے۔ نوازشریف نے زرداری کے مقابلے میںIMFسے ڈبل قرضہ لیکر دفاعی بجٹ سے سودڈیڑھ گنا زیادہ کیا ،جس کی ہم نے نشاندہی کی تھی۔ عمران خان نے سودی رقم نوازشریف سے بھی دگنی کرکے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں تین گنا کردی ۔ جب ٹیکسوں کے تمام محصولات کے قریب سود ہو تو ملک کا نظام کیسے چلے گا؟۔ جن جرنیلوں ، سیاسی قائدین ورہنماؤں ، ججوں، سول بیوروکریسی کے افسران اور صحافیوں نے یہاں سے بے تحاشا پیسہ کماکر بیرون ملک انویسٹ کردیا، وہ اپنی آدھی رقم سودی قرضہ چکانے میں دیں اور آدھی پاکستان کی تعلیم وترقی میں لگائیں جس کی بنیاد پر یہاں امن امان کی فضاء قائم ہوگی اور ہماری ترقی بھی مثالی ہوگی۔ اگرIMFکے سودی قرضے کو اسلامی بینکاری کے اصولوں سے حیلہ کرکے نام نہاد اسلامی بنایا جائے تو کیا قوم و ملک کو ریلیف ملے گا؟۔ ہرگز نہیں! تو پھر اسلام کو کیوں بدنام کیا جا رہاہے؟۔ سودی نظام سے زکوٰة کی کٹوتی کو مفتی محمود سود اور مولانافضل الرحمن اس کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے۔ نام نہاد اسلامی بینکاری کے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن کم ازکم وفاق المدارس اور تنظیم المدارس کے سربراہ کے اہل نہ تھے۔ مدارس کو ڈکٹیٹرنہیںجمہوری اندازمیں چلانا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کے سودی حیلے کی اسکے استاذ مولانا سلیم اللہ خان سابق صدر وفاق المدارس اورعتیق گیلانی کے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر سابق صدر وفاق المدارس پاکستان سمیت شیخ الحدیث مفتی زر ولی خان اور تقریباً سب دیوبندی مکتب کے علماء نے مخالفت کی تھی۔ مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتے تھے کہ ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ ” خورے قیامت شو”۔ بہن قیامت ہوگئی۔ دوسری نے کہا کہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ ” ابا میں ملک شو” کہ میرا باپ ملک بن گیا۔ یعنی قحط الرجال آگیا کہ گاؤں والوں کو دوسرا چوہدری نہیں ملا تو میرا باپ چوہدری بنادیا گیا اور یہ قیامت کی نشانی ہے۔ مفتی محمود کے دور میں مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی محمد رفیع عثمانی نے سود سے زکوٰة کی کٹوتی کو جائز قرار دیا تو دونوں کی حیثیت نہ تھی۔ پھر سودکو جواز بخشا تو سب مخالف تھے۔ اگر مذہبی حیلہ سازوں کو آگے لایا جائے اور سیاسی اعتبار سے دوسری سیاسی جماعتوں جیسی روش اپنائی جائے تو پھر اسلام کے نام پر علماء ومفتیان سے لوگ نفرت کریں گے۔
موجودہ مذہبی،ریاستی اور سیاسی نظام ناکام ہے اور پاکستان سے انقلاب کیلئے ایسا پلیٹ فارم ضروری ہے کہ اگر حکومت نہ بھی ملے تو معاشرے میں مذہبی و معاشی بنیادپر انقلاب برپا ہوجائے لیکن جب سود اسلامی ہوجائے تو پھرکیا چیز غیر اسلامی ہوگی؟۔ جمعیت علماء ہند کے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ نے ضخیم کتاب لکھ کر سنت نماز کے بعد اجتماعی دعا کو بدعت قرار دیا۔ اندرون سندھ جمعیت علماء اسلام کے مراکز ہالیجی شریف، امروٹ شریف اور بیرشریف میں اسی بدعت پر عمل ہے۔ راشد محمود سومرو کے باپ دادا تذبذب کا شکار تھے کہ کیا سنت اور کیا بدعت ہے؟۔ خیبرپختونخواہ ، بلوچستان میں بھی دیوبندی اس بنیاد پر ایکدوسرے پر بدعتی اور قادیانی کے فتوے لگاتے تھے اور افغانستان میں بھی اس بدعت کا فتویٰ قبول نہیں کیا گیا تھا۔ تبلیغی جماعت والے رائیونڈ اور بستی نظام الدین میں ایسے تقسیم ہیں کہ ایکدوسرے کو اپنے مراکزمیں نہیںچھوڑتے اور دیگر ملکوں کی مساجد میں بھی ایکدوسرے کو نہیں چھوڑ تے ۔ فرقہ وارانہ جماعت بندی اور گروہ سازی کا راستہ قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنے سے رُک سکتا ہے۔
سود کی آیات نازل ہوئیں تو نبیۖ نے مزارعت کو سود قرار دیا۔ جاگیر دار اپنی زمینوں کو خود کاشت کریں تو حرام خوروں کی صحت ٹھیک ہو گی اور کاشتکاروں کو مفت زمین ملے تو غربت وبیروزگاری بھی ختم ہو گی۔ قرآنی آیات سے ہماری دنیا روشن ہوسکتی ہے۔ سودی نظام کے خلاف آگ چھوئے بغیر بھی قرآنی آیات کا چراغ بھڑک کر جل اٹھ سکتا ہے۔ ندیم احمدقاسمی کا شعر ہے کہ
رات جل اٹھتی ہے شدت ظلمت سے ندیم لوگ اس وقفہ ماتم کو سحر کہتے ہیں
تاریخ کا تاریک ترین اندھیرا ہے۔ مذہبی روایات ، تعلیمات،معاشیات، ریاستی معاملات، سیاسیات اور اخلاقیات سب کچھ انتہائی درجہ تباہ ہیں۔مفتی تقی عثمانی کے اکابر مولانا درخواستی اورجمعیت علماء اسلام کے رہنما کہتے تھے کہ انگریز نے تنخواہ دیکر اپنے جاسوس مولانا احتشام الحق تھانوی کو پڑھایاکہ معلوم کریں کہ دارالعلوم دیوبند میں بغاوت کی تعلیم دی جاتی ہے؟اس جاسوس نے لکھا کہ مجھے نااہل سمجھو یہاں بغاوت کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ پھریہ مشن ملا کہ دارالعلوم دیوبند کی ہر تحریک کی مخالفت کریں۔
حضرت مولانا مفتی محمود فرماتے تھے کہ دنیا کی امامت کیلئے دنیاوی اور دینی تعلیم دونوں ضروری ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا دینی تعلیم یافتہ طبقہ دین اور دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ اپنی فنی تعلیم سے بھی جاہل ہے اور اب جہالت کا غلبہ بڑھتا جارہاہے اسلئے کہ پہلے قابلیت پر ڈگری ملتی تھی اور اب پیسوں سے ڈگریاں لی جاتی ہیں۔ قومی اسمبلی کے کئی مرتبہ ممبر رہنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پاس ڈاکٹر کی ڈگری نہیں لیکن ڈاکٹر اسکے نام کیساتھ اس کی شناخت ہے۔
تین طلاق اور حلالہ کے حوالے سے عتیق گیلانی نے دھیان نہیں دیاتھا تو کئی واقعات پیش آئے مگر حلالہ کی لعنت کا فتویٰ نہ دیا، ایک ساتھی عیسائی سے مسلمان ہوا تھا اور اسکے چھوٹے بچے تھے۔ ایک نے اہلحدیث سے رجوع کا فتویٰ لیا تھا تو تنقید نہ کی لیکن کراہت تھی کہ اس نے اچھا نہیں کیا۔ ایک نے حلالے پر اصرار کیا تو اس کو منع کردیا لیکن اس نے پھر جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے فتویٰ لے لیا اس فتوے میں لکھا تھاکہ ” طلاق کا حق عورت اپنے پاس رکھے تاکہ جب طلاق لینا چاہے تو اس شوہر کو چھوڑ سکے”۔ جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتوے میں طلاق کا اختیار حلالہ کرنے والے لعنتی مولوی کے پاس رہتا ہے جس سے عورت کوجتنا مرضی وہ بلیک میل کرسکتا ہے اور خواتین اور حلالے کروانے والے اسکے شوہر اس کی بدمعاشی کا شکار ہونے کے بعد کسی سے اس کا تذکرہ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی مخالفت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلوی قندھاری نے کی تھی۔ دارالعلوم دیوبند سے نمازکی سنتوں کے بعد دعا بھی بدعت قرار دی گئی تو مولانا احمدرضاخان نے اس تحریک کو اکابر کیخلاف زہرقرار دیا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے ”بدعت کی حقیقت”میں فقہی تقلید کو بدعت قرار دیا۔ اس وقت حجاز پر وہابیوں کی حکومت نہیں تھی اسلئے مولانا احمدرضا خان بھی حرمین کے علماء سے فتویٰ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ دیوبند کے اکابر نے اس فتوے کے خوف سے اپنی دُم ایسی گھسیڑدی کہ آج تک نہ نکال سکے۔ بریلوی سے مفتی تقی عثمانی کا باپ اور استاذ دیوبند کیلئے زیادہ خطرناک تھے ۔70ء میں جمعیت علماء اسلام پر بھی کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعة الرشید دراصل دارالعلوم دیوبند کا مدِمقابل اور ضد ہیں۔اسلامی شعار کی حفاظت کیلئے دارالعلوم دیوبند کا وجود ناگزیز تھا لیکن اب سودتک بھی حلال کردیا گیاہے۔
جب نوازشریف کے دور میں دفاع کے بجٹ سے ڈیڑھ گنا صرف سودی رقم بڑھ گئی تھی تو فوج نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ لینا بھی چھوڑ دیا۔ پھر فوج نے ٹول ٹیکس وغیرہ کے ٹھیکے لینا شروع کردئیے۔ اگر نوازشریف سی پیک کے مغربی روٹ کو نہ بدلتا جو مولانا فضل الرحمن نے زرداری کیساتھ مل کر چین کیلئے طے کیا تھا تو آج اس پر گوادر سے چین کیلئے ٹریفک ہوتی۔ جس سے بڑی تعداد میں ٹول ٹیکس کی مدمیں بھی پیسہ آنا شروع ہوجاتا۔ اور ایران کیساتھ جو گیس پائپ لائن کا معاہدہ زرداری نے کیا تھا، اگر اس پر نوازشریف کے دور میں عمل درآمد ہوجاتا تو پاکستان کو بھی قطر سے مہنگی اور وقتی گیس لینے کی ضرورت نہ پڑتی اورہندوستان کوبھی گیس پاکستان کے راستے سے جاتی ۔ ایرانی گیس و تیل سے ہندوستان کو بھی امریکہ کے مقابلے میں اپنے قریب کیا جاسکتا تھا۔ آج روس سے بھارت نے دفاعی سسٹم خرید لیا ہے جس سے ہمارے میزائل کا خطرہ بھی نہیں رہے گا۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

 

تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کی طرف سے پابندی اور اس پرتبلیغی جماعت سمیت مختلف لوگوں کا ردِ عمل لیکن اصل بات اور اسکے اصل حقائق!

تبلیغی جماعت پر سعودی عرب کی طرف سے پابندی اور اس پرتبلیغی جماعت سمیت مختلف لوگوں کا ردِ عمل لیکن اصل بات اور اسکے اصل حقائق!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
چیف ایڈیٹر: اخبار نوشتہ دیوار کراچی

سعودی عرب نے تبلیغی جماعت اور دوسری تنظیموں پر کھلم کھلا اعلان کرکے نہ صرف پابندی لگائی ہے بلکہ جمعہ کے خطبات میں تبلیغی جماعت پر شدید الزام تراشی بھی کی ہے۔ شرکیہ عقائد کی تشہیر ، قبرپرستی، قرآن وسنت اور علماء حق سے دوری کے علاوہ ضعیف احادیث اور جھوٹے قصے کہانیاں سے عقائد بگاڑنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ تبلیغی جماعت کے نصاب میں پہلے فضائل درود شریف شامل تھا جس کا مولانا زکریا نے اپنی ”آپ بیتی” میں لکھا ہے کہ ” رسول اللہ ۖ نے خواب میں فرمایا کہ زکریا اپنے معاصرین میں فضائل درود کی وجہ سے سبقت لے گیا ہے”۔
تبلیغی جماعت نے سب سے پہلے سعودی عرب کے علماء اور حکمرانوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے نصاب سے فضائل درود کو نکال دیا اور تبلیغی نصاب کی جگہ اس کا نام بھی ” فضائل اعمال ” رکھ دیا۔ مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت کے ایک بہت اہم ساتھی مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے تبلیغی جماعت میں نہ صرف بہت ساتھ دیا تھا بلکہ ان کی کتاب ” موجودہ پستی کا واحد علاج ” بھی نصاب کا حصہ تھا ۔ جب مولانا الیاس کے انتقال کے بعد آپ کے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کاندھلوی کو تبلیغی جماعت کا امیر بنایا گیا تو صاحبزادہ حضرت جی مولانا یوسف نے جماعت میں کوئی وقت نہیں لگایا تھا لیکن اچھے عالم دین تھے اور جب وہ مولانااحمد علی لاہوری کے پاس گئے تو مولانا لاہوری نے ان سے فرمایا تھا کہ ” جس دن اس جماعت نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ دین کا بس صرف یہی کام ہے ۔ مدارس، خانقاہوں اور دوسری مذہبی وسیاسی جماعتوں کو اہمیت دینی چھوڑ دی تو اس کا زوال شروع ہوجائے گا”۔
حضرت جی مولانا محمد یوسف کے دور میں تبلیغی جماعت اپنی روح پر کاربند تھی لیکن جب مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا تو تبلیغی جماعت نے اپنے اصل کام سے انحراف شروع کردیا۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے سب سے پہلے مخالفت شروع کردی اور یہ لکھ دیا کہ ” پہلے بہت ساری چیزوں کی پابندی کیساتھ جماعت کو اس کام کی شریعت میں اجازت تھی لیکن اب بہت ساری خرابیاں کی وجہ سے تبلیغی جماعت اس بات کی اہل نہیں رہی ہے کہ شریعت میں اس ترتیب کیساتھ اس کو کام کرنے کی اجازت ہو”۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلوی مولانا الیاس کے ساتھی اور خلیفہ تھے۔علماء دیوبند کے اکابر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے مرید وخلفاء تھے اور بریلوی دیوبندی اختلافات میں 7اہم اور بنیادی مسائل پر انہوں نے کتاب بھی لکھی تھی جو دیوبندی وبریلوی دونوں مکتبۂ فکر کیلئے قابل قبول تھی۔ دیوبندی فکر کے لوگ ان سات مسائل کو بدعت اسلئے سمجھتے تھے کہ ” شریعت میں ان کا جواز تھا لیکن بہت سارے لوگوں نے ان کو فرض وسنت کا درجہ دے رکھا تھا”۔ جب تبلیغی جماعت کا بھی وہی حال ہوا تو مولانا احتشام الحسن کاندھلوی نے اس جماعت کے خلاف بھی شریعت کا تقاضہ سمجھ کر آواز اُٹھائی تھی لیکن تبلیغی جماعت نے اس آواز کو دبا دیا۔ اگر دیانتداری سے یہ آواز تبلیغی جماعت کے اکابر اور کارکن حضرتات عوام تک پہنچادیتے تو شاید تبلیغی جماعت بے اعتدالی سے ہٹ کر اعتدال پر آجاتی۔
جب تبلیغی جماعت اپنے ہٹ پر قائم رہی تو شیخ الحدیث مولانا زکریا اور آپ خلفاء نے تبلیغی جماعت کی اصلاح کیلئے کوشش شروع کردی۔ مولانا محمدالیاس کے اس قول کی تشہیر ایک خط کے ذریعے سے شروع کردی کہ ” اس جماعت کے دو پَر ہیں،ایک علم اور دوسرا ذکر۔ اگر جماعت میںعلماء ومشائخ کے کام کی اہمیت نہ رہے تو پھر اس کا مٹانے والے مولانا الیاس کے اصل نمائندے ہوں گے”۔ آج مولانا زکریا کے خلفاء اور مریدوں کی اکثریت تبلیغی جماعت کی سخت خلاف ہے۔
تبلیغی جماعت کے ایک اکابر مولانا جمیل احمد صاحب نے ایک مسجد کے امام کو اس پر بات پر اپنے فون پر بہت ڈانٹا ہے کہ” تمہارا عقیدہ علماء دیوبند کا نہیں ہے اسلئے کہ علماء دیوبند اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اللہ ۖ اپنی قبر میں اس دنیاوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں اور آپ برزخی حیات کے قائل ہیں اسلئے تمہارا عقیدہ علماء دیوبند کے خلاف ہے اور علماء دیوبند کے لبادے میں چھپ کر تمہیں مسجد کے انتظامیہ کو ہٹادینا چاہیے۔ تمہارے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ہے”۔
مولانا منظور مینگل نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ” حاجی عبدالوہاب کے سامنے ایک تبلیغی عالم نے کہا کہ حاجی عبدالوہاب کی روح عزائیل نے نکال دی توحاجی صاحب سے فرشتوں نے سوال کیا کہ تمہارا رب کون ہے؟، رسول کون ہے؟ اور تمہارا دین کیا ہے؟۔ حاجی عبدالوہاب نے کہا کہ مجھے مولانا الیاس، مولانا یوسف اور مولانا انعام الحسن کے پاس بستی نظام الدین پہنچادو۔ جس پر فرشتے بھی لاجواب ہوگئے اورحاجی صاحب کو انہوں نے دوبارہ زندہ کردیا”۔
نبیۖ نے فرمایا کہ ” المر ء مع من احب :آدمی اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے اس کی محبت ہوتی ہے”۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ قبر میں نبیۖ کی زیارت کرائی جائے گی اور پوچھا جائے گا کہ وماتقول فی ھٰذا الرجل ” اور اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہو؟”۔ مسلمان اس نبیۖ کو پہچان کر گواہی دے گا کہ خاتم النبین رحمة للعالمینۖ ہیںاور غیرمسلم کہے گا کہ” لاادری : میں نہیں جانتا ہوں” ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حاجی عبدالوہاب پر ایک کیفیت یہی طاری کردی ہو کہ موت کے بعد رب، نبی اور دین کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اس کو بستی نظام الدین بھارت کے اکابر کے علاوہ کچھ بھی سوجھائی نہیں دیتا ہو تاکہ وہ زندگی میں اپنا قبلہ درست کرلے اور تبلیغی جماعت کے اکابر اور اسکے کارکن اس سے عبرت پکڑ لیں۔ جب مولانا منظور مینگل نے بھی تبلیغی جماعت کے اہم ترین اکابر حاجی عبدالوہاب اور انکے اردگرد کے ماحول کے بارے میں یہ نشاندہی کی تھی تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے تھی کہ موت کے بعد دنیاوی حیات نہیں برزخی حیات شروع ہوتی ہے۔ اگر دنیاوی حیات ہوتی تو پھر نماز ، وضو، پوٹی پیشاب اور کھانا کھانے کی گنجائش بھی قبر میں چھوڑدی جاتی اور تعففن سے شاید عقیدہ بھی درست ہوجاتا ۔
سعودی عرب کے وہابی علماء کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ۖ اپنی قبر میں دنیاوی حیات نہیں بلکہ برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں تو تبلیغی جماعت اپنا عقیدہ سعودی عرب میں کیوں چھپاتی ہے؟۔ پہلے تبلیغی جماعت نے فضائل درود کی وجہ سے بہت سارے بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگوں کو اپنا شکار بنایا لیکن جب سعودیہ سے خوف کھانے کی وجہ سے اپنے نصاب سے ” فضائل درود ” کو نکال دیا تو مسلمانوں کی مشترکہ جماعت کی جگہ اس پر دیوبندی فرقے کا لیبل لگ گیا۔ بریلوی نے پھر اپنی دعوت اسلامی بنائی اور اہلحدیث نے بھی اپنی نئی تبلیغی جماعت بنائی۔
قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر ہے جس میں اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنا، ابرص کے مریضوں اور مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کرنا بھی شامل تھالیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ قرآن شرک کی تعلیم دیتا ہے اور اگر یہ قرآنی آیات نہ ہوتی تو محمد بن عبدالوہاب کے جاہل پیروکار اس کو بھی شرکیہ اعتقادات سمجھ کر قرآن کے واقعات پر پابندی لگوانے سے دریغ نہ کرتے۔ دیوبند کے اکابرین نے پہلے محمد بن عبدالوہاب کی سخت مخالفت کی تھی لیکن جب سعودیہ کی حکومت قائم ہوگئی تو ان کے علم ، کشف اور شرح صدر کا محور بدل گیا تھا۔ اگر اسلام میں قبر کی مخالفت ہوتی تو نبیۖ اور پہلے دو خلفاء حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی قبر کا حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں ہونا ہی اسلامی احکام کی بیخ کنی ہوتی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جس طرح انسان کی پیدائش، تخلیق اور اس کیلئے راستہ آسان ہونے کو احسان کے طور پر جتلایا ہے ، اسی طرح فاماتہ و اقبرہ اور اس کو پھر موت دیدی اور قبر دیدی کو بھی احسان کے طور پر شمار کیا ہے۔
تبلیغی جماعت کتنی پرامن اور غیر مضر ہے؟ ۔تو اس کا حال تبلیغی جماعت کے اندر ہی سے لیا جائے۔ ہندوستان میں اس کا عالمی مرکزبستی نظام الدین میں ہے۔ پاکستان میں اس کا مرکز رائیونڈ میں ہے۔ افریقہ میں بھی رائیونڈ کی جماعت والے بستی نظام الدین مولانا الیاس کے پڑپوتے مولانا سعد کی جماعت والوں وہاں کام نہیں کرنے دیتے ہیں جہاں ان کا بس چلتا ہے۔ جب یہ ایکدوسرے کے مراکز میں خود ایکدوسرے کو نہیں چھوڑتے ہیں اور جس مسجد میں ان کا غلبہ ہوتا ہے وہاں پر قرآن کا درس بھی نہیں ہونے دیتے ہیں تو دوسروں سے گلہ کرنے کے بجائے پہلے اپنے طرزِ عمل پر بھی غور کریں۔ بستی نظام الدین اور رائیونڈ کے مراکز میں اختلاف کے باوجود جس تبلیغی جماعت کے اکابر اور کارکنوں کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں تو یہ سچ قرآن میں اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ” اصل اندھا وہ ہے جو دل کا اندھا ہے”۔
سعودی عرب کے نمک خوار سعودیہ کی حمایت اپنے مفادات کی وجہ سے کرتے ہیں ، اگر دین کی بنیاد پر حمایت ہوتی تو حکومتی سطح پرفحاشی پھیلانے کے اقدامات کی سخت مخالفت کی جاتی ۔ اگر دین کی سمجھ ہوتی تو سعودی عرب میں جس طرح انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے غیرملکی مزدوروں کیساتھ بہت ناروارویہ رکھا جاتا ہے اور پاکستانیوں کیساتھ بہت زیادتیاں ہوتی ہیں تو پاکستان کی دینی جماعتیں اعلان کرتیں کہ مغرب اور مشرق میں سب سے بدتر ین لوگ یہی ہیں جو مسافرمجبور عوام کے حقوق کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں بلکہ قانونی طور پر اجنبی لوگوں کو اپنے انسانی حقوق سے محروم کررکھا ہے اور ان کا پیسہ بھی غلط طور پر کھاتے ہیں۔
جب سعودی عرب اہلحدیث والوں کو پیسہ دیتے تھے اور مساجد ومدارس بھی بناکر دیتے تھے تو بہت سارے حنفی دیوبندی خاص طور پر اور بریلوی عام طور پر اپنے مسلک اور عقیدے کو بدل رہے تھے۔ مولانا انورشاہ کشمیری کے پوتے نے بھی اپنا مسلک تبدیل کرکے اہلحدیث کا مسلک اختیار کرلیا۔ جب ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ سنی اختلافات کو ہوا مل گئی تو جمعیت علماء اسلام ف کے نائب صوبائی امیر مولانا حق نواز جھنگوی نے انجمن سپاہ صحابہ کے نام سے ایک نئی جماعت بناڈالی۔ سعودیہ نے ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے علماء سے شیعہ کے کافر ہونے کا فتویٰ بھی لگوادیا اور پھر جب سپاہ صحابہ کی مرکزی قیادت مولانا حق نواز جھنگوی، ضیاء الرحمن فاروقی اور دوسرے رہنما ہاتھ میں نہیں آرہے تھے تو مرکزی قیادت کو راستے سے ہٹادیا گیا اورپھر بات نہیں بن رہی تھی تو لشکر جھنگوی تشکیل دی گئی۔ جس رفتارسے لشکر جھنگوی نے ترقی پائی تھی ،اگر ہماری ایجنسیاں ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے توشاید دہشت گردی اس رفتار سے نہ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ عمران خان نے جب ایران کا دورہ کیا تھا تو اپنی ریاست کے اس کرتوت کا ذکر بھی افسوس کیساتھ کیا تھا۔
ایک آدمی نے شکایت کی تھی کہ میرا گدھا بہت سست چل رہاہے، اس کو تیزی کا کوئی نسخہ کھلا دو۔ حکیم صاحب نے گدھے کو پیچھے سے مرچ ڈال دی تو گدھا بہت تیز بھاگنے لگا تھا۔ گدھے کے مالک نے شکایت کی کہ اب گدھا بہت تیز بھاگ رہا ہے لیکن میں پہنچ نہیں پاتا ہوں۔ میرا بھی علاج کردو۔ حکیم صاحب نے اس کو پیچھے سے مرچ ڈال دی تو وہ بھی تیز بھاگنے لگا تھا۔ پھر ان کو پتہ چل گیا کہ یہ نسخہ کارآمد نہیں بلکہ بہت بیکار تھا۔ پہلے ہمارے ملک میں سعودی عرب کے خلاف بولنے کی بھی اجازت نہیں تھی لیکن اب حکیم صاحب کے نسخے کی کھل کر بہت مخالفت ہورہی ہے۔ چلو در آید درست آید۔ پاکستان کو فتنوں سے بچانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔
شیعہ، سنی، حنفی اہلحدیث اور بریلوی دیوبندی کے علاوہ تحریک طالبان ، داعش اور تحریک لبیک کی شکل میں مذہبی انتہاء پسندی کا دروازہ کبھی بھی ملک وقوم میں فساد برپا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سختی اور پابندی مسائل کا حل نہیں ہے۔ ڈالی ہوئی مرچیں بھی نکالنا ضروری ہیں اوراس پر مکھن لگانے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ ہمارا صحافی طبقہ صرف پیسہ کھاکر اپنے ملک اور اغیار کیلئے کام کرنا جانتا ہے اور کچھ نہیں۔
پرویزمشرف اور فوج کے خلاف جتنی باتیں کی جائیں کم ہیں لیکن کیا کوئی ایک بھی ایسا کلپ ہے کہ نوازشریف سے کسی نے پوچھا ہو کہ پارلیمنٹ میں لندن کی پراپر ٹی کے حوالے سے تحریری بیان جاری کیا تھا تو وہ کس کے کہنے پر کیا تھا؟۔ پھر اس کی تردید کیلئے جھوٹا قطری خط اور پھر اس سے دستبرداری کیسے اختیار کی تھی؟۔ جیو نیوز کا نوازشریف سے بہت اچھا تعلق ہے ، شاہ زیب خانزادہ نوازشریف کی صفائی میں اپنی صحافت کھپاتا ہے تو کم ازکم ایک سوال تو نوازشریف سے بھی بنتا تھا؟۔
ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب اور دیگر لوگ سوشل میڈیا پر پاک فوج کا دفاع نہیں کرتے ہیں بلکہ اُلٹا باشعور لوگوں میں نفرت کو بڑھاتے ہیں۔ اگر بنگلہ دیش کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن اور جنرل یحییٰ خان تھے تو پھر پاک فوج زندہ باد کا نعرہ نہیں بنتا ہے۔ اگر کسی کاقتل ہونا ہی اس کا برے انجام کو پہنچنا ہے توپھر جنرل ضیاء الحق کا حادثہ اور جنرل پرویزمشرف کا اپنے ملک میں نہ آسکنا کیا ہے؟ ۔ یزید کو پھر کہنے کا حق تھا کہ نبیۖ کے خانودے حضرت علی اور حسن و حسین اور کربلا کے لوگوں کا کیا انجام ہوا تھا۔ یہ کتنی کم عقلی کی بات ہے کہ ایک طرف ایک جنرل کو اسلئے سزا دی جاری ہے کہ اس نے امریکہ کو غلط معلومات فراہم کرکے بے گناہ قائلیوں کا خون کیا تھا اور ریٹائرڈمنٹ کے بعد امریکہ کا ایجنٹ بن گیا اور دوسری طرف ایک جنرل پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کو خفیہ معلومات فراہم کیں ؟۔ حالانکہ عدالت میں اس نے جنرل بلال اکبر کے واٹ سیپ پیش کئے کہ اعتماد میں لیاتھا اورجس کا الزام ہے وہ پہلے سے سب میڈیا پر موجود تھا اسلئے خفیہ معلومات پہنچانے کی بات بالکل غلط ہے۔ ایک باعتماد قیادت کی بہت ضرورت ہے۔ ہمارے سارے سیاسی قائدین بشمول وزیراعظم عمران خان آج کل عوام کو نوسر باز لگتے ہیں۔ اگر فوج اور ریاست سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو ریاست میںافراتفری کی فضاء سے عوام کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔ ریاست کو اپنا کردار کو درست کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
امجدشعیب نے اچھا کیا کہ بتادیا کہ ہندوستان نے بنگلہ دیش سے93ہزار صرف فوجی نہیں پکڑے تھے بلکہ31ہزار فوجی اور62ہزار سیولین تھے جن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ریاستی اداروں کے پاکستانی ہندوستان کے حوالے کئے گئے تھے۔ پہلے بہت سے باشعور لوگوں سے ہم سنتے تھے کہ فوج نے طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا۔ اللہ ہندوستانی فوج اور طالبان سے پاکستانی فوج کو سخت ترین شکست سے دوچار کرے۔ اب طالبان کے حامی پھر یہ کہتے ہیں کہ طالبان کی حمایت ہم فوج کی وجہ سے کررہے تھے۔ اللہ کرے کہ افغانی طالبان اور ہندوستان کے فوجیوں کے ہاتھ سے ہمارے فوجی چٹنی بن جائیں اور ان کی بیگمات ہمارے لئے رہ جائیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی زندگیاں مسلم لیگ اور ملا کی حمایت میں گزری ہے اور ب پیپلزپارٹی کے حامی بن گئے ہیں۔
امجد شعیب کی باتوں سے فضاء بدلنے والی نہیں ہے کیونکہ بنگلہ دیش آج اتنا مقروض نہیں ہے، جتنا پاکستان مقروض ہے۔ ہم سے پسماندہ بنگلہ دیش بھی آگے نکل گیا ہے۔ اگر ہماری ریاست نے ٹھان لی ہے کہ پنجاب کو مشرقی پنجاب سے ملا دینا ہے ، آدھے بلوچستان اور پختونواہ کو افغانستان کے حوالے کرنا ہے اور سندھ کو آزاد کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی قرضوں سے اس کی جان چھوٹ جائے تو عوام کو اعتماد میں لیکر شائستگی سے یہ کام کریں لیکن اگر پاکستان کو باقی رکھنا ہے تو اپنا رویہ بھی بدلیں۔ عوام پر قرضوں اور قبضوں کا بوجھ لادنے کے بجائے ان کوخوشحال بنائیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv