پوسٹ تلاش کریں

فوج کیخلاف نواز شریف کا بیانیہ درست مگر ساتھیوں سمیت اپنی سیاست اور کرپشن کا حساب دیں.

nawaz-sharif-corruption-accountability-army-journal-isi-akhrar-abd-ur-rehman-khwaja-asif

اعلاء کلمۃ الحق AKHکے نومنتخب سیکرٹری جنرل محمدفاروق شیخ نے کہاہے کہ نوازشریف کا بیانیہ درست ہے کہ فوج کا سیاست میں مداخلت کا بالکل خاتمہ ہونا چاہیے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا سائیکل، پھر شیرپر چڑھنے والا جنرل جیلانی و ضیاء کا روحانی بیٹاتھا،جب کورٹ سے کرپشن کی سزا مل رہی ہو تو یہ توبہ ملک الموت کے نظر آنے کی صورت میں قبول نہیں ہوسکتا۔ جنرل ضیاء نے مالی کرپشن نہ کی تو اعجازالحق کے پاس پیسہ نہیں ۔ نوازشریف اور اسکا خاندان کرپشن کیلئے سیاست میں آیااور نظرئیے کا خاتمہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی فوج سیاست میں لائی مگر وہ نظریاتی تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ نے کہا تھا کہ ’’ نوازشریف نے سیاست کو تجارت میں بدل دیا‘‘۔ نظریات کی تجارت نہیں ہوتی ۔ آئی ایس آئی کے سربراہ اختر عبدالرحمن نے پیسہ بنایا تو فرزندانِ اختر نواز شریف کیساتھ ہیں۔ کرپٹ لوگوں کا کونسا نظریہ ہے؟۔کالوخان امیر مقام جماعت اسلامی،پرویز مشرف اور اب نوازشریف کیساتھ ہے۔مریم نواز کو شرم بھی نہیں آتی کہ فارمی بیل کیساتھ کھڑی ہوکر نظرئیے کی بات کرے مگر بات امیر مقام کی نہیں ابا حضور سے لیکر نئے پرانے ساتھی تمام فہرست ہی ماشاء اللہ ہے۔
لوٹاکریسی، خلائی مخلوق اور غیرنظریاتی سیاست کا خاتمہ ممکن ہے لیکن اپنی ذات، خاندان اور پارٹی سے آغاز کرنا ہوگا۔ آج نوازشریف کہہ دے کہ سیاست میں میرا اپناوجودہی خلائی مخلوق کا مرہون منت ہے ، میں نے جو کرپشن کی ، میرے خاندان اور ساتھیوں نے جو کرپشن کی ہے۔ اللہ کے حضور بھی معافی مانگتے ہیں اور عوام و سرکاری ادارے بھی معاف کردیں۔ سارا کرپشن کا پیسہ ہم اس ملک وقوم کو واپس کرنے کا اعلان کرتے ہیں پھر یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ مارشل لاء کی تیار کردہ یہ سیاسی قیادت اب کبھی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ہے۔ ہماری جگہ دوسری کٹھ پتلی سیاسی قیادت عمران خان کا راستہ عوام روک دے۔ یہ حقیقی نظریاتی سیاست کا آغاز ہوگا۔ نوازشریف دھمکیاں دینے کے بجائے ان کرپٹ جرنیلوں کا نام لے جنہوں نے بڑا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا ہے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرڈمنٹ سے پہلے جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو آسٹریلیا سے انٹرپول کے ذریعے لانے کی الیکٹرانک میڈیا پر سلائیڈ چلی تھی مگر اس پر عمل در آمد نہ ہوسکا۔ سیاستدان اور سول وملٹری بیوروکریسی کے افسران نے اپنا جائز وناجائز سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ہو تو ان کو واپسی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوازشریف نے بری طرح سے ملک کو قرضوں میں پھانس دیا ہے۔جو لوگ قوم اور وطن کیلئے بیرون ملک سرمایہ کو لانے کی قربانی نہیں دے سکیں تو ان کو پھانسی پر لٹکانے کی نہیں کرش مشین میں ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ نشانِ عبرت بن جائیں۔ ایک چھوٹے سے طبقے نے عوام کو بدحال کرکے رکھ دیا۔ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کے فارم سے جائیداد کی تفصیل کے کوائف بھی نکال دئیے ہیں جن کو اصلاحات کا نام دیا جارہاہے۔ نوازشریف، جہانگیر ترین ، خواجہ آصف جس بنیاد پر نااہل ہیں اب کوئی نااہل نہ ہوسکے گا۔
عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے حکمران کی ساحری کا انداز بدل رہاہے۔ پانچ سال میں جتنا قرضہ لیا گیا، تاریخ میں مجموعی طور پر بھی اتنا قرضہ نہیں لیا گیا تھا۔ نوازشریف ڈراونے خواب کے مناظر دکھا رہاہے کہ مجھے قرضہ دیا گیا، 5ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی اور میں ہی اس ملک میں بے انتہا کرپشن کیلئے سب سے بڑی بنیاد ہوں۔ ساری نادیدہ قوتیں مجھ سے فائدہ اٹھائیں ورنہ میں بھی ان کی کرپشن کے پردے چاک کردوں گا اور اس بیانیہ کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے۔ نوازشریف نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں تمام اداروں سے بات کیلئے تیار ہوں۔ اس کو کسی نے جواب نہیں دیا کہ مابدولت! جب فوج کی حکومت تھی پرویزمشرف سے معاہدہ کرکے باہر گئے، اسوقت تیری حکومت کا خاتمہ ہوچکا تھا اب تو تیری حکومت بحال ہے۔اب کسطرح اور کس سے مذاکرات کرنے ہیں؟۔ اب خلائی مخلوق کا دور نہیں تو مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟۔ بس چلتا ہے تو گریبان میں ہاتھ ڈالتا ہے اوربس نہیں چلتا تو بہت کچھ پکڑتا ہے کہ نہیں؟۔
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’جس پر احسان کرو، تو اسکے شر سے بچنے کی تدبیر بھی کرو‘‘۔ یہ کمینے لوگوں کے حوالہ سے ہوسکتا ہے۔ پاک فوج نے نوازشریف پر احسانات کی بھرمار کی تھی اور اب تو اسکے شر سے بچنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ جن فوجیوں نے کرپشن کی تھی یا جو آج بھی کررہے ہیں ان کا بھانڈہ پھوڑنے میں کوئی دیر نہیں لگانی چاہیے لیکن فوج کا ادارہ وطن کا محافظ ہے اور اسکی اکثریت عوام کی طرح مظلومیت کی چکی میں پِس رہی ہے۔

ممبئی حملہ امریکہ سی آئی اے اسرائیلی موساد اور بھارتی را کی سازش تھی. عبد القدوس بلوچ

mumbai-attack-26-11-elias-davidsson-books-american-cia-israeli-mossad-indian-raw-agent-dawn-leaks-masood-azhar

جمعیت اعلاء کلمۃ الحق پاکستان AKHکے نومنتخب امیر عبدالقدوس بلوچ نے اپنے بیان میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جب ممبئی حملہ امریکی CIA، اسرائیلی موساد اور بھارتی را نے کروایا تھا تو اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا بڑی گھناؤنی سازش ہے۔ یہ بڑا عجیب ڈرامہ ہے کہ نوازشریف اپنے مؤقف پر ڈٹا ہواہے اور ن لیگ کہتی ہے کہ ہمارا کم عقل قائد درست کہتا ہے لیکن اسکا مؤقف پیش کرنیوالا میڈیا بڑا مجرم ہے۔ یہ انوکھاتضاد حکمران پارٹی کا مؤقف ہے۔جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے حملہ کیا ہے یا نہیں کیا ہے؟اور یہ قومی راز ہے تو حقائق پر ڈالنے والوں کو استعال کیا جارہا ہے اورجب باؤ لا ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر حملہ آور ہوگا تو افغانستان، عراق، لیبیا کے بعد یہ سب سے بڑا ہدف ہوگا۔ قرضوں کے انبار نے اپنی معیشت کا ستیاناس کردیا ہے۔ سیاستدان بھی لوٹوں سے مسلم شاور بنتے جارہے ہیں۔ پاک فوج بھی جال میں پھنس رہی ہے۔ عوام نے بھی 70سالوں میں دھوکے ہی دھوکے دیکھے ہیں ۔ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے ،انجام گلستان کیا ہوگا؟، پاکستان کیلئے افراد کی قربانی دینی ہوگی اورحقائق سے پردے اٹھانے ہونگے۔ ورنہ خدانخواستہ کچھ بھی نہ بچے گا۔
ڈان لیکس کے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے آجاتے تو آج مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کا تعلق کس سے ہے؟۔ مولانا مسعود ازہر نے کہا تھا کہ انڈیا ایک بزرگ کے کہنے سے گیا تھا جو سعودیہ میں ملا تھا۔ تہاڑ جیل سے جو آزادی مولانا مسعود ازہر کو ملی تھی ، اتنی آزادی پاکستان میں بھی اسکوحاصل نہیں۔ ہفت روزہ ضرب مؤمن میں تازہ احوال پر لمبے لمبے خطبات شائع ہوتے تھے۔ 12سرنگیں جیل میں ہی کھودی گئیں تھیں جن میں مولانا کے سائز کی بھی ایک سرنگ تھی اور مولانا ازہر نے نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو اسامہ بن لادن نے انکے 40 کارکن اپنے ذاتی بارڈی گارڈ کے طورپر قبول کئے تھے جو تقاریر اور میڈیا کی زینت بن گئے۔ پرویز مشرف جب مولانا مسعود ازہر کو ٹھیک بھی نہیں سمجھ رہا تھا تو کیا وجہ تھی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے مانگا لیکن مولانا ازہر اور حافظ سعید کو نہیں مانگا تھا؟۔ پرویزمشرف کے دور میں مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایاگیا تھا اور شیخ رشید میڈیا پربرملا کہتا تھا کہ ’’ کشمیری مجاہدین سے مقبوضہ کشمیر کے عوام بیزار ہیں اسلئے ان پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں‘‘۔ گارگل میں پہلی مرتبہ پاک فوج نے بھارت سے سیاچن و بنگلہ دیش کا بدلہ اتارنے کی کوشش کی ۔ کرنل شیر خان کو نشانِ حیدر بھی دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں ہم اپنے بدن کا لازمی جزؤ سمجھتے ہیں۔ پرویزمشرف پر بھی قاتلانہ حملوں میں کالعدم تنظیموں کے کارکن اور فوج کے آن ڈیوٹی سپاہی ملوث تھے۔
امریکی سی آئی اے نے اپنے تیار کردہ پود کے ذریعے سے جو ممبئی حملہ کروایا تھا، اس میں اسرائیلی موساد اور بھارتی را شامل تھے۔ جرمن اور بھارتی صحافیوں کی تیار کردہ رپورٹوں میں اس کا بھرپور انکشاف ہے لیکن ہمارے حکمران ، سیاستدان حقائق بتانے سے ڈرتے ہیں۔ حامد میرنے ایڈیٹرروزنامہ اوصاف کی حیثیت سے انکشاف کیا تھا کہ مفتی نظام الدین شامزئی نے یہ کہا کہ’’ کچھ جہادی تنظیمیں واشنگٹن سے رابطہ عالم اسلامہ مکہ کے ذریعے پیسہ لاکر علماء کرام کو خرید رہی ہیں اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو ان کا بھانڈہ بیچ چوہرائے پھوڑ دوں گا‘‘۔
نوازشریف نے اسامہ بن لادن سے بھی پیسے لئے تھے اور ایٹمی دھماکے نہ کرنے کیلئے بھی 5ارب ڈالر کی پیشکش برائے فروخت نوازشریف کو ہوئی تھی مگر قوم کو بے خبر رکھا گیا تھا۔ ڈان لیکس میں خبر کو غلط رنگ دینے پر پاک فوج ناراض تھی۔ شہباز شریف نے غصہ کرنے اور ڈانٹنے کی جھوٹی ہمت نہیں کی تھی مگر اس بات پر تبادلۂ خیال ہوا تھا کہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کی بیخ کنی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ فوج نے کہا تھا کہ ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں، یہ سول حکومت کا کام ہے۔جھوٹی بھڑک بازی کی خبر ڈان لیکس میں شائع ہونے پر فوج ناراض ہوگئی تھی اور نوشتۂ دیوار میں اس وقت پورے حقائق سامنے آئے تھے۔
ممبئی حملے کے دہشتگردوں کومودی نے ٹھکانہ دیا،سعودی عرب سے اہتمام کیا گیا۔ پاکستان مکمل تعاون کیلئے تیار تھا مگر بھارت نے کوئی تعاون نہ کیا۔ امریکی CIAکا نام لینا مشکل تھا، ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی سازش ہے۔ جیو، جنگ اور دیگر میڈیا چینل و اخبارات حقائق کو سامنے لانے سے ڈرتے ہیں یا اس سازش کا حصہ ہیں؟۔حافظ سعید اور مولانا ازہر ڈاکٹر عافیہ کی قربانی سے نہیں شرمائے تو ملک کی خاطر قربانی دے دیں۔

نوشتۂ دیوار کی طرف سے جوابی بیانیہ

ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal-nato-mujahideen-iblees-russia

ڈبل مائنڈ یادوہری ذہنیت سے جو منافقانہ کردار پاک فوج نے ادا کیاوہی حالت محسوداور پختون کی تھی۔ ورنہ اتنی ذلت، خواری، مصیبت اور مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ منظور پاشتین اپنی قوم کو استعمال ہونے کے حوالہ سے جو رعایت دیتا ہے وہی رعایت وہ فوج کو بھی دے۔ یہ کسی بے ضمیر سیاستدان اور جعلی ادا کار کی بات نہیں کہ ’’ایسا نہیں چلے گا‘‘ بلکہ حق کیلئے ہر قسم کی قربانیوں کی تاریخ کرنیوالوں کا مدعا ہے۔ ہم منظور پاشتین کی بہادری، صلاحیت اورجوانمردی کو تہہ دل سے سلام پیش کرتے ہیں، انکے اردگرد لوگ مخلص اور قوم کا درد رکھتے ہیں۔ ایک ایسی قیادت کی پختون بلکہ پاکستان، مسلمانوں اورانسانیت کو ضرورت ہے جو حق اور انسانیت کیلئے ہر ظالم ، جابر، ڈکٹیٹر اور وحشی جانوروں کیخلاف آواز اٹھائے۔ ہمارا معاشرہ جانوروں سے بدتر ہوچکا ہے ۔ بچیوں سے زیادتی کرکے انتہائی بے دردی کیساتھ ماردیا جائے تو مشرکین مکہ کی جاہلیت ہم پر لعنت بھیجتی ہوگی ۔ کیا اسکے پیچھے بھی کوئی وردی ہے؟۔ ایک وقت تھا کہ کہا جاتا تھا کہ ’’سمندر میں دومچھلی بھی لڑ پڑیں تو امریکہ اس میں ملوث ہوگا‘‘۔ مذہب کے نام پر تعصبات پھیلانے میں اس سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہ تھا مگر لسانیت ، قومیت اور وطن کے نام پر تعصبات کے پیچھے روس اور کمیونزم کا ہاتھ ہوتا تھا۔ شیطان نے دیکھ لیا کہ مذہب کے نام پر ہتھیار وں کا سکہ اب چلنے والا نہیں تو قوم پرستی کا بیانیہ شروع کردیاہے ۔ علامہ اقبالؒ نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان پر ان حقائق کو لکھا تھا کہ ’’الحذر آئین پیغمبر سے سوبار الحذر ۔ حافظ ناموس زن، مرد آزما ، مرد آفرین ‘‘ابلیس نے کہا : ’’ مزدوکیت فتنہ فردا نہیں اسلام ہے‘‘۔ وہ اسلام نہیں جو امریکہ نے جہاد کے نام پر روس کیخلاف استعمال کیا اور جو’’سودی نظام کو مشرف بہ اسلام کیا جارہاہے‘‘ وہ اسلام بھی نہیں جو نیٹو کی آغوش میں مجاہدین ہیں۔پاک فوج نے اگران کو آج کھلی چھوٹ دی تو منظور پاشتین ریلے سمیت یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں میں چھپتے پھرینگے۔ جنونی تو افغانستان میں امریکہ کی حکمت عملی سے بیٹھے ہیں۔ سرغنہ گلبدین حکمتیار امریکہ کی گود میں بیٹھ گیا ۔ جس کی بہادری پر حلف اٹھایا جاتا تھا۔ الزام اورتہمت کا بازار ختم کرکے سنجیدہ کوشش سے پختون پوری دنیا کو امن دے سکتی ہے۔ پاک فوج کی طرح محسودقوم نے بھی بڑا مغالطہ کھایا اور آزمائش کی چکی میں پس کر صلح حدیبیہ کے شرائط ماننے کیلئے آمادہ ہوگئے ۔ یہ پتہ نہیں کہ منظور پاشتین فوج کیخلاف ہے یا اسکے پیچھے بھی وردی ہے؟۔ کیونکہ فوج سے لڑنیوالے طالبان کے پیچھے وردی تھی تو آواز اٹھانے والے پر بھروسہ کرنا مشکل ہے،البتہ یہ حقیقت ہے کہ منظورپشتین نے فوج کی خامی پر ایسے وقت میں آواز اٹھائی جب سب نے مظلوم عوام کو نظر انداز کیاتھا۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ عمران خان جنکے خلاف بات کرتا ہے انکے خلاف ہجڑہ بولنے کی جرأت رکھتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ریاست پر مشکل گھڑی آگئی تو یہ ہتھیار ڈالنے والوں کا ساتھی ہوگا۔ پرویز خٹک نے نشہ کرکے پنجاب کی پولیس کا رات بھر سامنا کیا اور عمران خان نے نشہ کرکے بھی بنی گالہ کے گھر سے نیچے اترنے کی جرأت نہیں کی ۔ حالانکہ شیخ رشید نے بڑی دھائی دی مگر مسلم لیگی کی گیدڑ بھبکی سے عمران خان ڈر گیا ۔ منظور پاشتین کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے دستور کے عین مطابق ہمیں انصاف دیا جائے۔ دلیل سے زمینی حقائق کو سمجھ کر بات کرنی ہوگی۔
پاکستان کے سیٹل ایریا میں عدالتی قوانین انگریز نے زبردستی سے عوام اور اداروں پر مسلط کئے تھے۔ گرمیوں میں کورٹ کی بچوں کی طرح چھٹیاں بڑی مثال ہیں جبکہ آزاد قبائل نے 40FCR اپنی مرضی سے قبول کیا تھا۔قبائلی قانون کے تحت عتیق گیلانی نے 1991ء میں جیل کاٹی تھی ۔ پھر عتیق گیلانی کے گھر پر حملہ ہوا تو طالبان نے کانیگرم جنوبی وزیرستان کے جرگہ میں کہا کہ ’’13 افراد ہم نے شہید کئے ہیں، 2 افراد ہمارے مارے گئے ۔11افراد کا حساب رہتا ہے تو 11افراد ہم چن کر دینگے تم ان کوبدلہ میں ماردینا‘‘۔محسود طالبان پشتو اور اسلامی قانون دونوں کی بنیاد پر یہ عدالت لگائے بیٹھے تھے۔
جب جنگ ہوتی ہے تو میدانِ جنگ میں عدالت نہیں لگائی جاتی ہے البتہ جنگ بندی کے بعد فیصلے ہوتے ہیں۔ قرآن میں ایک قانون یہ ہے کہ مجرم کو سزا دی جائیگی اور مجرم کے بدلے میں کسی اور کو قتل نہ کیا جائیگا۔ دوسرا یہ ہے کہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام ، مرد کے بدلے مرد، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائیگا۔ قبائل میں قرآن کا دوسرا قانون نافذ تھا اور اگر یہ قانون نہ ہوتا تو لوگ بیکار افراد سے دوسروں کے اچھے قتل کرواتے اور بدلہ کیلئے اس کو حاضر کردیتے۔ قبائل میں اسی لئے امن بھی قائم تھااور بھول کر بھی حتی الامکان قتل سے پرہیز کیا جاتا تھا۔ ٹانک اورمیرانشاہ وغیرہ میں تبلیغی اجتماع ہوتا تھا تو طالبان جنگ بندی کا اعلان کردیتے اور پھر سرکاری عمارات، بازاروں ، گھروں اور مساجد ومدارس کو خودکش دھماکوں سے نشانہ بناتے تھے۔ بچے ، خواتین، بزرگوں اور کسی بھی طبقے کا کوئی لحاظ نہ کرتے۔ ایسے ہتھیار ابھی ایجاد نہیں ہوئے کہ مجرم نشانہ بن جائے اور بے گناہ افراد کو بچایا جاسکے۔جب بہادر فوجیں میدان میں اتر کر لڑاکرتی تھیں تو اس وقت عوام کو بچانا ممکن ہوتا تھا۔ جب گھروں میں گھسے ہوئے دہشتگرد عوام کو نشانہ بناکر چھپ جائیں تو فوجی کاروائیوں پر عدالتیں نہیں لگا کرتی ہیں۔

منظور پاشتین کا فوج کے خلاف بیانیہ

ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal

منظور پاشتین کی تقاریر ، سوشل میڈیا پر پختون تحفظ موومٹ کا پروگرام اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پر گہماگہمی مچی ہے۔ کراچی سے سوات اور کوئٹہ سے لاہور تک ایک بھونچال ہے۔اسلام آباد سے اٹھنے والا نعرہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘دنیا میں سنا جارہا ہے۔ منظور پاشتین کے ساتھیوں کے دل ودماغ میں صرف فوج نہیں بلکہ یہ نعرہ بھی ہے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے ملا گردی ہے‘‘۔ لیکن اتنا حوصلہ نہیں کہ کھل کر اسکا اظہار کریں۔ امریکہ نے وردی اور وردی نے مجاہدین ور طالبان کو استعمال کیا ۔امریکہ نے یوٹرن لیا توپاک فوج کو بھی مجبوراً اپنا رخ بدلنا پڑا۔ فوج کا ذہن تقسیم ہوا۔ اس منتشر ذہنیت سے بڑا نقصان اٹھایا۔ طالبان کو مارتے تو قوم ناراض ہوتی اور پالتے تو امریکہ ناراض ہوتا۔ منافقانہ ذہنیت نے فوج کرپٹ بنادیا، جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کی وسیع جائیداد سے سپاہیوں کاکھلے عام ڈیزل وپیٹرول بیچنے کاتماشہ دنیا نے دیکھ لیا۔ جنرل راحیل شریف نے کرپشن کیخلاف اقدامات اٹھائے، دہشتگردی کادونوں ہاتھوں سے کھیلے جانے والے کھیل کاخاتمہ کردیا۔ جنرل قمر باجوہ نے رہی سہی کسر بھی نکالی، حالات معمول پر آگئے ،شریف الطبع بہادر آرمی چیف جنرل باجوہ نے دہشت گردوں کے دور دراز کے ٹھکانوں کابھی خاتمہ کیا تو منظور پاشتین نے فوج کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔ اس میں شک نہیں کہ فوج کا دماغ سیاسی نہیں ہوتا اور جب وہ سیاست میں حصہ لیتی ہے تو سیاست کا بیڑہ غرق کردیتی ہے۔ جنرل ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا تو بھٹو نے قائدِ عوام بن کر بدترین ڈکٹیٹرشپ کی انتہا کردی تھی۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو لاڑکانہ میں الیکشن کیلئے کاغذات جمع کرنے پر بھی گرفتار کیا تھا اور بلوچستان کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے ساری سیاسی قیادت ہی باغی قرار دیکر جیل میں قید کرلیا۔ بھٹو لیڈر نہیں سیاسی مہرہ تھا۔ فوج نے خودلایا تھا ، خودہی قوم کی جان چھڑائی، کیفر کردار تک پہنچادیا۔ فوج نے پھرایک مہرہ محمد خان جونیجوکی شکل میں تلاش کیا اور پھر اسکی بساط لپیٹ دی ۔اتفاق اسٹیل میں نوازشریف کے آہنی اعصاب تیار ہوئے، جو لمبے عرصہ تک چلے، زنگ آلود نہ ہوسکے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں یہ مہرہ کام آیا ، پھر تمام سیاسی قائدین کو اسمبلی سے باہر کرکے دوتہائی اکثریت مل گئی اور پھر سعودی عرب کی جلاوطنی کے دوران بھی اس لوہے کے چنے کو زنگ نہ لگا اور واپسی پر پیپلزپارٹی کے خلاف استعمال ہوا۔ پھر اس کو انتخابات کی آڑ میں حکومت دلائی گئی لیکن جس فوج نے اپنے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ اٹھایا تو اس کیلئے وہ کیسے سہارا بن سکتی تھی؟۔ نوازشریف کو دکھ ہے کہ مہرہ تبدیل کرکے عمران خان کو کیوں لایا جارہاہے۔ شہبازشریف بہتر خدمت کرسکتا ہے۔ مریم نواز سدھی ہوئی نہ تھی اسلئے پارٹی صدارت کیلئے انتخاب نہ کیا۔فوج کو امریکہ واسرائیل اور یورپی ممالک نے استعمال کرکے پھینکا۔ اپنے پالتو سیاسی مہروں اور مجاہدین کی طرف سے مشکل کا سامنا ہے تو منظور پاشتین نے پشتون قوم کا نعرہ بلند کرکے ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ مشکل گھڑی میں ایک طرف امریکہ کے بجائے روس سے دوستی کے متمنی فوج کو یہ توقع نہ تھی کہ قوم پرست اور کمیونسٹ عناصر اسکے خلاف کھڑے ہونگے بلکہ وہ منظور پاشتین اور انکے دوستوں سے اچھی توقعات رکھتے لیکن قسمت کا کھیل ہے کہ مذہبی طبقے اور سیاسی مہروں سے فوج کا تعلق ختم ہوگیا تو اسرائیل و امریکہ بھارت کیساتھ کھڑے ہیں اور کمیونسٹ بھی مخالف ہیں، مذہبی جنون IJI کے نام پر نواز شریف کو استعمال کیاگیاجواپنی حیثیت کھوبیٹھا اور اب عمران خان نئے مہرے کا کردار ادا کررہاہے۔ فوج کو پتہ چل رہا کہ ہرشاخ پر اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ منظور پاشتین نے ایسے وقت پر آواز اٹھائی ہے جب ہر طرف سے فوج کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ عمران خان اپنی بیگمات سے وفا نہ کرسکا تو اس پر کون بھروسہ کریگا؟۔ منظور پاشتین کیخلاف گلی کے جانے پہچانے کتوں نے بھونکنا شروع کیا مگر ان کی سنتا کوئی نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی دلیری سے مشکلات کھڑی کی گئی ہیں۔ گولی لاٹھی کی سرکار کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ یہ کرائے کے لوگ نہیں بلکہ ضمیر کی آواز پر اپنا ہدف سوفیصد نشانہ پر لے رہے ہیں۔ مشکل گھڑی میں حق کی وکالت کرنا بہت دشوار ہے مگر ضروری ہے۔ منظور پشتین نے پاکستان کی بہت طاقتور فوج کیخلاف آواز اٹھائی ہے تو یہ بہادری ہے۔ فوج کو اس کی غلطی پر غریب عوام کیلئے متنبہ کرنا ایسا نہیں جیساکہ اب نوازشریف اپنے مفادات کیلئے ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کی رٹ اپنے مفاد کیلئے لگارہاہے۔ قوم کو تکلیف ہو تو فوج کو اس تنبیہ پر احسان مند ہونا چاہیے اور ضرور ہوگی مگر!

منظور پشتین پر علی محمد خان کے بیانیہ کا سب ہی کیلئے قابلِ قبول جوابی بیانیہ

malala-yousuf-manzoor-pashteen-asma-jahangir-imran-khan-taliban-army

منظور پشتین نے پوری ریاست اور اسکی لے پالکوں کو جتنا بڑا ٹف ٹائم دیاہے وہ میرے لئے بہت باعثِ حیرت ہے۔ ڈاکٹر شاہددانش کا اپنا مزاج ہے۔ 24چینل کے پروگرام میں ایک انوار الحق کاکڑ اورایک ریٹائرڈ برگیڈ ئیر کی باتیں بہت معقول تھیں۔ جنگوں کی حالت میں انسانی حقوق کے پیمانے بالکل ہی عام حالات سے مختلف ہوتے ہیں اور کور کمانڈر منظور پشتین سے مذاکرات کیلئے ٹیم تشکیل دے چکے ہیں اور سیاسی حکومت عدالتوں میں کرپشن کی پیشیاں بھگتنے میں مصروف ہیں جن کا کام مذاکرات تھالیکن تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کی باتیں سن کر سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آدمی ہنسے یا روئے؟۔ علی محمد خان منظور پشتین کے پرامن ساتھیوں سے گولی کھاکر شہید ہونے اور پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہونے کی وصیت کرکے کہہ رہا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا بے غیرت ماموں بھی بنگلہ دیش میں ہتھیار ڈال گر انڈیا کی جیل کاٹ کر آیا تھا اور آج میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ جنرل نیازی کی طرح ہتھیار ڈالنے کیلئے ہر وقت دستہ بستہ عمران خان نیازی کی لیڈرشپ میں کام کررہا ہوں۔ یہ اچھے رشتے ہیں لیکن بھارت کی جیل کاٹنے میں فخر کی کونسی بات ہے؟۔ مشرقی پاکستان نہیں بچایا تو بقیہ بچانے کیلئے یہ کہنا چاہیے تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ یہ غلطی ہوگئی اور اب مجھے منظور پشتین کیا امریکن فوج بھی آئے تو میں گولی کھالوں گا مگر سرنڈر ہونے کی غلطی نہیں کروں گا۔
منظور پشتین کے دادا نے کشمیر کے جہاد میں1948ء میں حصہ لیا تھا اور سری نگر تک فتح کے جھنڈے گاڑھ دئیے تھے ۔مگر نوابزادہ لیاقت علی خان کی بیگم راعنا لیاقت علی خان کو فوج کے جرنیل کا عہدہ دیا گیا تھا اور اس کی سازش سے مقبوضہ کشمیر کوپھر بھارت کے حوالے کیا گیا۔ پاک فوج کو ان بے غیرت سیاسی رہنماؤں سے ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے کہ جب طالبان کا مقابلہ پشتو ن قیادت قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی خان، بشیربلور شہید، میاں افتخار حسین ، محمود خان اچکزئی ، ملالہ یوسف زئی اور افضل خان لالہ مرحوم کررہے تھے تو ن لیگ اور تحریک انصاف کے بے غیرت رہنما ان پر امریکی ایجنٹ کا الزام لگاتے تھے۔ فوج ضرب عضب کے مقدس مشن میں مگن تھی اور عمران خان دھرنوں بلکہ مجروں سے خطاب کے دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے۔ جب فوج کی لاشیں چھپ چھپاکر دفن کی جارہی تھیں تو آصف زرادی نے شہید کہنے کی جرأت کرلی۔
فوج ان بے غیرتوں کی غلط بیانی سے مغالطہ کھا جاتی ہے اور بسا اوقات مکڑے کے جال میں مکھی کی طرح پھنس جاتی ہے۔ خوشامد بھی تو ایک بڑا کارآمد ہتھیار ہے۔ فوج نے جس طرح ایک وقت تک بے غیرت سیاستدانوں کی فوج ظفر موج کو پالا تھا ،ایک بے غیرت کی جگہ دوسرا زیادہ بے غیرت لے لے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ منظور پشتین غیرتمند باپ اور غیرتمند دادا کی غیرتمند اولاد ہے وہ کسی کٹھ پتلی کا کردار ادا نہیں کرسکتا ہے۔ اس بات کا عوام کو اطمینان ہوجائے کہ منظور پشتین کے پیچھے فوج کا ہاتھ نہیں تو عوام کا ٹھاٹھے مارتا ہواسمندر سیاسی بڈھے ہجڑوں کو شکست دیگا۔ جس طرح ہجڑے جواں ہوں تب بھی ان میں جنسی خواہش نہیں ہوتی ہے لیکن کشش ہوتی ہے اور اپنی حرکتوں سے لوگوں کو مغالطہ دیتے ہیں کہ ان میں بھی خواہشات ہیں۔ اسی طرح سیاسی قائدین اور بیشتر رہنماؤں میں عوام کاکوئی درد نہ ہوتا تھا مگر عوام کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ اب تو ان سیاسی قائدین اور رہنماؤں کی حالت بڈھے ہجڑوں کی طرح ہے جو صرف انسانی بنیادوں پر قابلِ رحم نظر آتے ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور قرآن پاک میں جہاں نبی پاک پیغمبرآخر زمانﷺ اور مقدس صحابہ کرامؓ کی اصلاح کا مثالی کارنامہ انجام دیا گیا ہے ۔ نبیﷺ کو عبداللہ بن مکتوم ایک نابینا صحابیؓ کے آنے پر عبس وتولیٰ ان جاء ہ الاعمیٰ نازل ہوئی۔ آیات کا مقصد یہی تھا کہ آنیوالے وقت میں جو خود کو مقدس گائے قرار دیکر اصلاح کی کوشش کو ناقابلِ برداشت کہے تو اس بے غیرت اور بے ایمان خوشامدی کا بھی پتہ چلے۔
پاک فوج نے منظور پشتین کی تحریک کا شروع میں خیرمقدم کیا تھا اور چیک پوسٹوں پر معاملات بھی درست کردئیے تھے۔ اور یہ فوج کے مفاد ہی میں تھا۔ لوگوں نے طالبان کے کردار کی وجہ سے دھوکہ کھایا ہے اور ان کے ذہنوں میں سازش کا خدشہ تھا اسلئے منظور پشتین سے زیادہ تر دور دور ہی رہے لیکن اب معلوم ہوگیا ہے کہ واقعی یہ انکے دل کی آواز اور عوام کی ہمدردی ہے جو زبردست مقبولیت کا ذریعہ بنے گی۔ فوج کی طرف سے تھوڑی بہت مخالفت سے عوام میں غلط فہمیاں دور ہوگئی ہیں۔ عوام ایک سیاسی قیادت کی ضرورت ہے اور پشتون نہیں بلکہ بلوچ، سندھی اور مہاجروں کے علاوہ سب سے زیادہ مظلوم پنجابی ہیں۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ پنجاب کے غریب اور مظلوم عوام منظور پشتین کی قیادت کیلئے ترس رہے ہیں۔ غریبوں کی عزتیں لٹ رہی ہیں مگر پُر تکلف کھانوں، ہیلی کاپٹروں اور پروٹول کے شوقین لیڈر وزیراعظم کا خواب دیکھنے کیلئے مررہاہے۔منظور پشتین کی غلط باتوں اور بیانیہ کا جواب الزامات لگانے سے عوام کو نہیں مل سکتا ہے بلکہ معقول طریقے سے بات کا جواب بات سے دینا پڑیگا۔
منظور پشتین کہتا ہے کہ’’ مجھ سے کہا گیا کہ طالبان کیخلاف بیانات دینا شروع کردو تو پوری قوم تمہاری قیادت ماننے کیلئے تیار ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ملالہ یوسف زئی نے طالبان کے خلاف بیانات دئیے، طالبان نے گولی ماردی ، تم نے اس کی آمد پر بھی بلیک ڈے منایا ۔ تمہیں پشتونوں سے دشمنی ہے۔ تم نے ہمیشہ دوسروں کی جنگ صرف پیسوں کی لڑی ہے اور ہم پر بھی یہی گمان رکھتے ہو کہ کسی کی جنگ پیسوں کیلئے لڑ رہا ہوگا ۔ میں تمہارے دل ودماغ کی سوچ کو معذور سمجھتا ہوں۔ تمہاری اس سے زیادہ سوچ نہیں ہے اور نہ میں سمجھا سکتا ہوں‘‘۔
کھڈوں کیلئے الزام تراشی کے سوا دوسری کی بات سوجھتی ہی نہیں ہے۔ منظور پشتین کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ پشتون قوم سے تیری محبت ایمان کی علامت اور سلیم الفطرت ہونیکی نشانی ہے، یہ تجھ پر اللہ کا فضل ہے کہ اپنی قوم کیلئے آواز اٹھادی ہے ورنہ ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ عمران خان نے گلشا عالم برکی کیلئے بھی نہ پوچھا جس نے مشکل وقت میں عمران خان کو یہودیت کے طعنے برداشت کئے۔ ہاں قوم کی محبت اور تعصب میں بہت بڑا فرق ہے۔ تعصب بے ایمانی کی نشانی ہے۔ جن لوگوں نے ملالہ کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ پختون وپنجابی کا مسئلہ نہیں تھا، یہ رنگ دینا تعصب ہے۔ عاصمہ جہانگیر پنجابی تھیں ان کو بھی تنقید سے پنجابی ہونے کی وجہ سے چھٹکارا نہیں مل سکا۔ عاصمہ جہانگیر نے جس بہادری سے ہرقوم وزبان اور طبقے کیلئے آواز اٹھائی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ تعصبات کا پیمانہ لامحدود ہے اور عدل کا دامن پھر ہاتھ سے نہ صرف نکلتا ہے بلکہ بڑے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ مہاجروں اور بلوچوں کی قوم پرستی اور تعصبات سے سبق سیکھنا چاہیے حضرت ابوبکرؓ نے تعصبات سے نجات حاصل کی تھی تو قریش کے کمزور قبیلے سے تعلق کے باجودخلیفہ اول بن گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہؓ انصار کے سردار تھے مگر تنہائی کا شکار ہوگئے۔ سابقین الاولین سے ہمیں سبق سیکھنا ہوگا۔
پاکستان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہے۔ نوازشریف ومریم نواز سارا دن عدلیہ اور فوج کے خلاف بک بک کرتے ہیں اور سارے ٹی وی چینلوں بشمول پی ٹی وی کوریج بھی ملتی ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ نوازشریف نے فوج کو کینگرو سمجھ رکھا ہے۔ ایک عمر تک تو فوج نے اپنے بچے کو بوڑھے ہونے کے باوجود بھی اٹھائے اٹھائے گھمایا اور اب عمران خان کی چاہت ہے کہ فوج کینگرو بن کر اس بڈھے ہجڑے کو بھی اٹھائے گھومے۔
منظور پشتین نے اپنے دلیر، بہادر اور جوانمرد ساتھیوں کے ذریعے سے مظلوم پشتونوں کے دل کی آواز وہاں تک پہنچائی، جہاں سے داد رسی بھی ہوئی ہے۔ میرانشاہ اور میرعلی کے تاجر اپنا حق مانگنے سے بھی ڈرتے تھے۔ یہ سب کھدڑی لیڈر شپ ہی کا کمال تھا کہ عوام بزدل بن گئے تھے۔ اب منظور پشتین نے ہی قیادت کرنی ہے اگر وہ شہید کردئیے گئے تو علی وزیر زیادہ خطرہ ثابت ہوگا اور ان کو شہید کیا گیا تو خان زمان کاکڑ جیسے جوانوں کو میدان میں اتارا جائیگا۔ فوج بیچاری تو حکموں پر چلتی ہے مگر اصل مسئلہ سیاسی لیڈر شپ کا ہے۔ لے پالکوں اور دُم چھلوں سے جان چھوٹ جائے گی تو فوج سے عوام کی محبت بڑھے گی۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

دہشت گردی کی اصل کہانی: ایک وزیرستانی کی زبانی

manzoor-pashteen-ghq-shahid-khakan-black-water-shahid-masood-ratan-bai-ptm-shabbir-ahmed-usmani
میں سید عتیق الرحمن گیلانی سکنہ کانیگرم تحصیل لدھاجنوبی وزیرستان ایجنسی، و جٹہ قلعہ گومل تحصیل وضلع ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان پختونخواہ کویہ اعزاز حاصل ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ اسلام آباد کے دھرنے میں پہلی مرتبہ یہ برملا نعرہ لگایا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے،اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔پھر اخبار کی شہہ سرخی کی ذیلی بھی لگادی۔فوج کی پشت پناہی کے بغیر پاکستان میں انسان تو دور کی بات ہے چیونٹی کے لشکر میں اپنی قوم کا ہمدردیہ نعرہ نہیں لگاسکتا جو حضرت سلیمان ؑ کے دور میں چیونٹی نے کہا : ’’ بچو! کہیں سلمان کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالے‘‘۔
منظور پاشتین کی پہلی تقریر نقیب اللہ محسود کیلئے وزیرستان کے ایک جرگہ کے دوران موجود ہے جس میں ایک معمر شخص کہتا ہے کہ’’ پولیٹیکل ایجنٹ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ چلیں فوج کے افسروں سے بات کرتے ہیں‘‘۔ منظور پاشتین اچانک عوام کی طرف سے نمودار ہوتا ہے اور اپنی تقریر میں کہتا ہے کہ ’’ کراچی میں اب ایک کتنا پیارا جوان ماردیا گیا ، میں نے چھ سات طلبہ ساتھیوں کیساتھ آواز اُٹھائی ہے تاکہ یہاں سے بارودی سرنگین صاف کی جائیں۔ دہشتگردی کا واقعہ ہوتا ہے تو پورے علاقے کی عوام کو سزا دی جاتی ہے۔مجھے پہلے بھی روکا گیا کہ آپ نہیں آیا کریں مگر میری بے بسی ہے ،بس آجاتا ہوں۔ مجھے پہلے فوج گرفتار کرکے لے گئی اور اپنے ساتھیوں کے احتجاج پر مجھے چھوڑ دیا گیا۔ ہم اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے، ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، اسلام آباد اور GHQ کے سامنے تک یہ سلسلہ لیکر جائیں گے۔ ہمارے لوگ قانون سے واقف نہیں ہیں۔ پاکستان کا یہ قانون ہے کہ کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے کے بعد 24گھنٹوں میں اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائیگا۔چاہے وہ گناہگار ہو یا بے گناہ ہو۔ بہت بے گناہ لوگ لاپتہ ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ زندہ ہیں یا ماردئیے گئے ہیں۔ پولیس ، فوج اور خفیہ ادارے سب قانون کے پابند ہیں۔ ہم آئین کے مطابق ہی اپنے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ منظور پاشتین کی اس تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ قبائلی عمائدین پہلے بھی اس باغی جواں کی طرف سے چیونٹی کیطرح قوم کی ہمدردی کیلئے آواز اٹھانے سے بیزار تھے اور خوف وہراس کا شکار تھے۔
نقیب اللہ محسود کیلئے کراچی میں جو دھرنا دیا گیا تھا وہ حکومت کے دباؤ پر ختم کیا گیا لیکن اسلام آباد دھرنے کے اصل محرک منظور پاشتین اور اسکے ساتھی تھے۔ یہ جھوٹ بولا گیا کہ کراچی کا دھرنا اسلئے ختم کیا گیا کہ اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوں گے۔ اسلام آباد دھرنے کے اسٹیج پر جوان طبقے کا قبضہ تھا لیکن عوام سب کے سب بہت جذبات میں تھے۔ پاکستان کے حق میں کوئی ہمدردی والی بات کرنے کا ہلکا سا اشارہ دیتا تو مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوجاتی تھیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ملاقات میں کہا کہ ’’ہم خود بھی فوج سے تنگ ہیں۔ منتخب وزیراعظم سے طاقتور کون ہوگا؟ ، پہلے بھی نوازشریف کے برسراقتدار خاندان کی جس طرح سے توہین کی گئی۔ کود کر گرفتار کرلیا، ہتھکڑی پہناکر گھسیٹاگیا ، جلاوطنی پر مجبور کیا گیا۔ اب دوبارہ نوازشریف کو نااہل کیا گیا، یہ سب فوج ہے‘‘۔ عمائدین کیلئے وزیراعظم کی زیارت ، فوج کے ڈراؤنے چہرے کی نقاب کشائی بہت تھی جو سب کو راتوں رات احتجاج ختم کرنے پر مجبور کر گیا لیکن منظور پاشتین اور بہت ہی کم ساتھیوں نے شامِ غریباں میں بھی اپنا دیا جلائے رکھا۔ جب میں نے دیکھا کہ عوام پر مایوسی اور خوف کی کیفیت طاری ہے تو ان کو حوصلہ دینے کیلئے نعرہ لگوایا کہ ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ جس سے اسٹیج کے منظم افراد میں مارے خوف کے بھگڈر سی مچ گئی۔ میری تقریر کا ایک ایک لمحہ منتظم افراد کے اوپر پہاڑ سے زیادہ بھاری گزر رہا تھا۔ میں نے واضح کیا کہ میں حقائق بتاؤں گا، ڈرو نہیں ،میں تمہیں لڑاؤں گا نہیں۔ میں نے تقریر کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعرسے کیا۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یابندہ صحرائی یا مرد کوہستانی
اور اس کا اختتام اس بات سے کیا کہ قبائل ریاست کی نرینہ اولاد ہیں۔بیٹے مار بھی کھاتے ہیں، بے عزتی بھی برداشت کرتے ہیں لیکن والدین کے سامنے اُف نہیں کرتے۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ والدین کے سامنے اُف نہیں کرنا۔ قبائل نے اتنی مشکلات برداشت کیں مگر اُف نہیں کی اور آج بھی یہ اُف کرنے نہیں آئے ہیں۔ یہ وہ نہیں جو کہتے ہیں کہ ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ ریاست نے جن کو اقتدار دیا ہے وہ ریاست کی زنانہ اولاد ہیں، ان کی حیثیت ان بیٹیوں کی طرح ہے جن کو والدین ناز سے پالتے ہیں اور پھر وہ بھاگ کر کورٹ میرج کرلیتی ہیں اور یہ بیٹیاں بھٹو، نوازشریف اور عمران خان ہیں۔ بیٹوں پر سختی کی جاتی ہے تو اس نے اپنے باپ کا منصب اور ذمہ داریاں اٹھانی ہوتی ہیں۔ مجھے موقع نہیں دیا گیا ورنہ بہت تفصیل سے ایک روڈ میپ دیتا کہ انقلاب کیسے آتا ہے۔
جو فقر ہوا تلخئ دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
جب پورے ملک میں بلیک واٹر کے کارندوں اور طالبان کو آزادی ہو ، لیکن شریف لوگوں کیلئے جینا حرام ہو۔ اسلام آباد کی سول بیوروکریسی کے افسر جعلی نمبر پلیٹ اپنے سرکاری گاڑیوں پر لگانے میں مجبور ہوں اور وزیراعظم یوسف گیلانی و گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے بھری محفل میں ملتان اور لاہور سے اغواء ہوکر افغانستان پہنچ جائیں تو پاک فوج کی پاکی اور صلاحیت کو سلام کیا جائے یا پھر اس دہشت گردی کے پیچھے وردی کو ملوث قرار دیا جائے؟۔ پنجاب کے کھدڑے اس حقیقت کو کھلے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ غلامانہ ذہنیت پر مجبور ہیں لیکن آزاد قبائل کی آواز کو برطانیہ بھی نہ دبا سکا تھا جسکے اقتدار پر سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ جب امریکہ نے پاک فوج پر حقانی نیٹ ورک کا الزام لگایا تو پاک فوج کی کور کمانڈرز کانفرنس میں باقاعدہ یہ جواب دیا گیا کہ ’’ہم اس میں اکیلے نہ تھے یعنی تمہاری وردی والے امریکی سی آئی اے بھی اس میں شریک تھی‘‘یعنی دونوں نے مل کر یہ گیم کھیلا ہے۔
جب پہلی مرتبہ وزیرستان کے مجاہدکیمپ پر بمباری ہوئی تو گورنر اورکزئی نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کو پشاور میں بلالیا۔ جنرل اورکزئی نے بہت تفصیل کیساتھ بتایا کہ وزیر علاقہ سے محسود علاقہ میں ازبک کس طرح کہاں کہاں اور کس کس کے پاس رُکے اور کیا کیا ہوا۔ مولانا عصام الدین محسود نے یہ رام کہانی کی داستان سن کر کہا کہ گورنر صاحب! میں معافی چاہتاہوں جو معلومات آپ کے پاس ہیں ، یہ ہمارے پاس بھی نہیں۔ ازبک کی ساری کہانی آپ نے بتادی۔ جب قبائل کے قریب ازبکوں کا کیمپ بھی تھا تو آپ نے ان کو کیوں نشانہ نہیں بنایا۔ قبائل کے بجائے ازبک کے کیمپ پر بمباری کرنی تھی؟۔ جس پر گورنر جنرل اورکزئی نے ناراضگی سے کہا کہ ’’ اگر ہم نشانہ نہ بناتے تو امریکہ بناتا‘‘۔ یہ جرگہ ختم ہونے کے بعد وہاں کہا گیا کہ ’’مجلس امانت ہوتی ہے ،اس مجلس کی بات کو باہر نہیں کرنا ہے لیکن کچھ غیرتمند لوگوں نے کہا کہ قوم کیساتھ غداری کی امانت کو ہم نہیں مانتے اور حقائق باہر بتادئیے۔ ہم نے اخبار ماہنامہ ضرب حق کے اہم اداریوں میں ان حقائق کو کھول دیا تھا۔ جس کی سزا بھی ہم نے بھگت لی ہے۔
سینٹر مولانا صالح شاہ نے بتایا کہ ’’شکئی وانا میں ایک مولوی دین سلام کو ازبک کو پناہ دینے پر فوج اٹھاکر لے گئی اور وہ مسجد میں ازبک کو گالیاں دے رہا تھا، جنہوں نے اس کے پاس رہائش اختیار کی تھی۔ پہلے تو وہ ازبک کا انکار کرتا تھا اور جب ویڈیوز دیکھ لیں تو پھر اس نے ازبک کے ترجمان کو بھی پہچان لیا جو وہی فوجی تھا جس نے پہلے لمبی داڑھی رکھ لی تھی اور پھر مونڈلی تھی ‘‘۔ ازبک رہنما طاہر یلدوشیف کو امریکہ نے غلطی سے گرفتار کرکے پھر چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنی کتاب میں ایک طرف یہ لکھ دیاتھا کہ ’’ امریکہ کو غاروں میں اسامہ حرکت کرنے پر بھی نظر آسکتا تھااسلئے کہ جدید ترین آلات سے تلاش جاری تھی اور اس نے دوسری طرف یہ بھی لکھ دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی کیمپ کے پاس قبائل کا بڑا لشکر پہنچ گیا جو امریکی فوج کا کباڑا کرنے والا تھا‘‘۔ یعنی یہ بڑا لشکر امریکہ کی نظروں سے پوشیدہ رہا اور غاروں میں اسامہ حرکت کرنے پر نظر آسکتا تھا۔ تضادات کے اس بانی صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کو جن شرمناک الفاظ میں معروف صحافی عطاء الحق قاسمی نے بڑا خراج عقیدت پیش کیا تھا وہ ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے لئے قابلِ فخر سمجھ رہا تھا۔ زرد صحافت کے کرتے دھرتے آج دونوں زیر عتاب مگر شرمندہ نہیں۔میڈیا پر حقائق سامنے لائے جائیں۔
بھائی پیر امیرالدین سابق کمشنر بنوں نے کسی بات پر کہا کہ ’’چیونٹی کو بھی کموڈ میں بہانے سے وہ ڈرتے ہیں ‘‘ کسی اور موقع پر کہا کہ ’’ اگر ریاست اپنا مفاد سمجھ کر اپنے لوگوں کو بھی قتل کرے تو بڑے مفاد کیلئے چھوٹا مفاد جائز ہے‘‘۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر فوج نے ملک بچانے کیلئے امریکہ کی تمام پالیسیوں کو مان کر ہمارا کباڑہ کردیا ہو تو ہزاروں نہیں لاکھوں خون بھی معاف ہیں اور اگر وہ ضمیر، غیرت اور ایمان سے پاک ہو اور پیسوں کی خاطر ملک تباہ کیا ہو تو بھی ایسوں سے گلہ کرنا اپنی ذات کی توہین ہے۔ بے ضمیر فوج اور بے ضمیر طالبان کے سامنے حق کی آواز اُٹھاؤ لیکن بے غیرت بن کر عورتوں کی طرح غم کا بین مت بجاؤ۔ اگر مجھے محسود قوم سے دشمنی ہوتی اور اپنا انتقام لینا چاہتا تو بھی محسود قوم کی اتنی بے عزتی نہ کرتا کہ ان سے کہتا کہ نقیب کی تصویر اٹھاؤ اوریہ مرثیہ گاؤ کہ یہ کیسی آزادی ہے؟۔ مجھ میں بھی محسود خون دوڑتا ہے۔ میری نانی محسود تھی،جس دن پیدا ہوئی تو انگریز نے بمباری کرکے گھر کے اکثر افراد شہید کئے تھے۔
پہلی مرتبہ وانا میں کانیگرم کے تحصیلدار اور ایک ملازئی کے تحصیلدار کو انتہائی بے دردی سے شہید کرکے مسخ کیا گیا اور لاشوں کو کنویں میں پھینک دیا گیا، مشہور یہی ہوا کہ ازبک اور مقامی دہشتگردوں نے فوجی کرنل کو چھوڑ دیا اور انکو ماردیا۔مطیع اللہ خان کا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان سے تھا ۔ پوری فیملی بہت ہی شریف ہے اور مطیع اللہ شہیدؒ کی شرافت مثالی تھی۔ اسکے چچاڈاکٹر عبدالوہاب سے جیو ٹی وی نے انٹرویو لیا کہ’’ آپ کے نزدیک یہ کون ہیں؟‘‘ اس نے یہ جواب دیا کہ ’’ بھارت کے ہندو یہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ بنگال میں قید ہونے والے فوجیوں میں سے کسی کیساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ امریکہ بھی یہ نہیں کرسکتا گوانتا ناموبے کے قیدی یہاں موجود ہیں ۔ مسلمان بھی ایسا نہیں کرسکتے۔ پھر کیا کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کس نے کیا ہے؟‘‘۔ جیوٹی وی چینل اگر امریکہ کا پٹھو نہ تھا تو اس کو ڈاکٹر عبدالوہاب کا یہ انٹرویو بار بار اپنے چینل پر اسی وقت دینا تھا۔ جب کوئٹہ میں غیرملکیوں کو اپنے خوف سے چوکی پر مارا گیا تو میڈیا نے آسمان سر پر ہی اٹھالیا تھا ۔ حالانکہ اپنا تجزیہ دے سکتے تھے کہ مقامی لوگوں میں بھی وہاں گھومنے کی ہمت نہیں ہے تو غیرملکی کس باغ کی مولی تھے اور کیا کرنے آئے تھے؟۔
جب کسی قوم کی سینٹرل کمان صحیح ہوتی ہے تو اس طرح بے تکے اندازمیں اپنی قوم اور ریاست کا کباڑا نہیں کیا جاتا ۔ کراچی دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال تھا ۔ کراچی رینجرز کے سپاہی کے ہاتھوں سے غلطی سے گولی چل گئی اور وہ لٹیرا ماراگیا جو خواتین کو جعلی پستول سے خوفزدہ کرکے پرس چھین لیتا تھا۔ اس قتل خطاء پر پھانسی کی سزادی گئی اور پھر جھوٹی خبر چلائی گئی کہ صدرمملکت نے معاف کردیا۔ جس کی پھر تردید بھی آگئی۔ ایم پی اے مجید اچکزئی نے جس طرح پولیس والے کو کھلے عام شہید کرکے راہِ فرار اختیار کی اور پھر رہائی پر پھول برسائے گئے ایک پختون کی حیثیت سے مجھے بھی شرم آتی ہے اور جب نااہل نوازشریف کے قافلے نے ایک بچے کو روند ڈالا، جسکا پرچہ بھی بہت معمولی ہے اور قبل از گرفتاری ضمانت بھی ہوجاتی ہے لیکن ابھی تک اس صاحب کا کوئی سراغ بھی نہ لگ سکاہے۔
منظور پاشتین پر افغانی کا الزام غلط ہے ۔ وزیرستان اس وقت بھی آزادی کی جنگ لڑرہا تھا ،جب افغانستان آزاد تھا اور ہندوستان پنجاب اور پختونخواہ کے سیٹل ایریا تک غلامی میں بندھا تھا۔ ہمارے ریاستی ادارے فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی انگریز کے وفادار غلام تھے۔ منظور پاشتین وزیرستان کی وہ ٹیٹھ زبان بولتا ہے کہ دوسرے پختون اس کو سیکھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ منظور پاشتین پر افغانی کا الزام لگانے والے نہیں جانتے کہ منظورپاشتین کا قبیلہ، خاندان اور شاخ در شاخ ایک قوم کا حصہ ہیں۔ البتہ قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں جھوٹے شجرہ نسب کی شہرت ہے۔ ٹھٹھہ کے قریب جھرک کو قائداعظم کا گاؤں کہاجاتا تھا لیکن نیٹ پر بھی یہ معلومات دستیاب نہیں۔ سندھی، اردو اور ہندی کوئی زبان قائداعظم کو نہیں آتی تھی۔ تحریک انصاف کے نومولودرہنما جسے عمران خان نے عدت میں شادی کے بعد جنم دیا ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے شہباز شریف کی قائداعظم کی انگریز ہیٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ قائداعظم کے کپڑے بھی استری کیلئے برطانیہ جاتے تھے، تمہاری کیا حیثیت ہے ان سے ملنے کی‘‘۔ پھر وہ بول ٹی وی سے نکال دئیے گئے تو اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’بول نے مجھ سے لوگوں کی بے عزتی کروائی ہے، میں ان سے معذرت چاہتا ہوں، وہ میری نہیں بول کی پالیسی تھی‘‘۔ یہ بتایا جائے کہ برطانیہ کپڑے استری کیلئے بھیجنے کی بات بھی قائداعظم کی تعریف میں آتی ہے یا یہ قائداعظم کے خلاف بھی سازش ہے؟۔ اسکی تائید اور تردید میں دلائل کی بہت ضرورت ہے۔ یہ بڑی سازش ہے جس سے بڑی دل آزاری ہوئی ۔
پاک فوج کے رہن سہن پر تنقید کرنے والے قائداعظم کے تکلفات کے بعد کس طرح تنقید کرینگے؟۔ سیاسی رہنماؤں کو بیرون ملک علاج پر تنقید والے استری کیلئے کپڑے لیجانے کے بعد کیا تنقید کرسکیں گے؟۔ قائداعظم کی اہلیہ اس کی کزن رتن بائی پارسی تھی۔ اسلام بھی قبول نہ کیا تھا۔ پارسی عورت کا نکاح پارسی مذہب کے مطابق مسلمان سمیت کسی اہل کتاب سے نہیں ہوسکتا ہے۔ جب اس کی وفات ہوئی تو قائداعظم اس کی میت لیکر آغا خانی جماعت خانے میں گئے ۔ جماعت خانے کے ذمہ دار نے کہا کہ ’’رتن بائی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اس کی نمازہ جنازہ یہاں نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔ قائداعظم نے سر آغا خان سے کہا تو اس نے اپنے مذہبی رہنما کی تائید کردی۔ اس وقت قائداعظم کو بریلوی مکتبۂ فکر کے امام احمد رضاخانؒ بھی مسلمان نہیں مانتے تھے۔ دیوبندسے مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے تھانوی گروپ نے قائداعظم کو سپورٹ کیا۔ اسلئے علامہ شبیرا حمد عثمانی نے قائداعظم کا جنازہ پڑھایا ۔ ’’تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک‘‘ کتاب میں پنجاب کے چوہدری غلام نبی نے زبردست داستان لکھ ڈالی ۔ جس میں لیگی قائدین اور علماء کے پول بھی کھول دئیے ہیں۔
جب ریاستِ پاکستان قادیانیوں کی حامی تھی تو پاکستان میں ختم نبوت زندہ باد کانعرہ لگانا بھی جرم تھا اور جس طرح جنرل نیازی نے بنگال میں ہتھیار ڈالے تھے اس سے زیادہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے ختم نبوت تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے ڈارھی مونڈی تھی۔ عمران خان بلاوجہ نیازی کے بجائے کانیگرم کے برکی قبائل سے اپنا رشتہ نہیں جوڑ رہا ہے۔ حالانکہ اسکے ماموں بھارت کے جالندھر ی برکی ہیں۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ریاست پاکستان کی پالیسیوں نے ملک وقوم کو آزاد ہونے کے بعد بھی غلامی سے دوچارکرکے رکھا ہے۔ گورے انگریز جانے اور کالے انگریز کے مسلط ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ۔ منظور پاشتین کے اندر محسود قوم کا درد تھا لیکن محسودوں نے اس کو قبول نہ کیا ، پھر پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے اپنی تنظیم کو وسیع کردیا۔ اب اگلی منزل اس کی مظلوم تحفظ موومنٹ لگتی ہے۔ پنجاب سے دوسرے صوبے اور قوموں کو بڑی شکایت ہے ۔ پختون، سندھی، بلوچ اور مہاجر کے علاوہ سرائیکی بھی نالاں ہے۔ گلے شکوے علاج نہیں بلکہ مفلوج ہونے کی راہیں ہیں۔ بلوچ قوم نے بڑی قربانیاں دیں مگر خود کو مزید غلام بنادیا ہے۔بلوچ، مہاجر، سندھی اور اے این پی سے تعلق رکھنے والے پختونوں کی خوشامد دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔PTMنے دوسری قوموں کی بات بھی شروع کردی۔
پاکستان کی ریاست اس بات سے ہرگز خوفزدہ نہ ہو کہ پختون قوم افغانستان سے ملے گی۔ افغانستان کے لوگ خود کو امریکہ کی نیٹو اور دہشت گردوں کی نیٹو سے نہیں بچاسکتے ہیں تو ہمیں کیا تحفظ دیں گے؟۔ البتہ مولانا محمد خان شیرانی امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان و سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ افغانستان کو ظاہر شاہ کے حوالے کیا جائیگا اور محسود ایریا کو عالمی دہشت گردوں کے حوالے کیا جائیگا۔ اگر پوری منصوبہ بندی کیساتھ ازبک کے ذریعے محسود ایریا میں شریف لوگوں کی نسل کشی کی گئی ہے اور منظور پشتین کو ریاست نے منصوبہ بندی اور سازش سے کھڑا کیا ہو تاکہ پاک فوج خود اس علاقہ کو دہشت گردوں کے سپرد کردے تو کچھ بھی بعید از قیاس نہیں ۔قائداعظم محمد علی جناح کو مارنے، لیاقت علی خان کو شہید کرنے اور فاطمہ جناح سے مناقشہ کرنے کے نام سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو ، زرداری اور نوازشریف تک سب کو فوج کے نامہ اعمال میں ڈالا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء سے پرویز مشرف تک ایم کیوایم کے کارناموں کو فوج کے کھاتہ میں ڈالا جاتا ہے۔جہادی تنظیموں اور فرقہ وارانہ دہشت گردی سب ہی کچھ پاک فوج کے سیاہ کرتوت بتائے جاتے ہیں۔ تمام ادارے پاکستان کے ہیں مگر صرف فوج ہی کو پاک کہہ دیا جاتا ہے لیکن کس کس الزام سے فوج پاک ہے ؟۔ اس کی وضاحت آج تک کوئی نہیں کرسکا ہے ۔
منظور پشتین پہلے تو افغانی نہیں اور یقیناًنہیں ہے لیکن بالفرض افغانی ہو بھی تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نبیﷺ مکہ کے تھے اور ہجرت کرکے مدینے چلے گئے، جو اسلام کے نام نہاد علمبردار بنتے ہیں وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ افغانستان اور وزیرستان کا فاصلہ حرمین شریفین مکہ مدینہ سے بہت کم ہے۔ پہلے جن لوگوں نے اسلام کے نام پراپنے مفادات کیلئے ملک تقسیم کرکے حقیقی آزادی کیلئے کچھ نہیں کیا بس صرف ہندؤں سے نفرت کرنا سیکھ لی۔ اب افغانستان سے کیوں نفرت ہے؟۔ تمہاری کوئی دونمبر عورت بھی حادثے میں مرجائے تو شہید اور افغانستان میں جمعہ کے دن نمازی بھی شہید کردئیے جائیں تو ہمارا میڈیا اس کو شہید لکھنے کی جرأت نہیں کرتا جاں بحق نہیں ہلاک کہتا ہے۔ یہ بھی شکر ہے کہ انکے لئے آنجہانی نہیں کہا جاتا، یہ نفرت کے بیج کبھی ختم بھی ہونگے یا اپنے دال روٹی کیلئے نفرتوں کے بیج کا سلسلہ جاری رہے گا؟۔
انسان میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں۔ اپنی خامی اور دوسرے کی خوبی کو یاد کرکے زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا رہنما علی محمد خان کہتا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ میرے ماموں نے بنگال میں ہتھیار ڈال کر پاکستان کیلئے بھارت میں قید کاٹی تھی حالانکہ جان کی بازی لگاکر ہتھیار نہ ڈالتے تو فخر کی بات ہوتی۔ عمران خان جنرل نیازی کی وجہ سے اپنے ساتھ نیازی نہیں لکھتا۔ کل کو بریلوی مکتبۂ فکر والے اُٹھ کر کہیں گے کہ مولانا عبدالستار خان نیازی نے ختم نبوت کیلئے داڑھی صاف کرنے کی قربانی دی تھی۔ انسانوں کو نسلی عصبیت سے روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زمین کا خلیفہ بنانے سے پہلے نافرمانی کرائی تھی اور ہمارے نبی آخر زمان رحمت للعالمین ﷺ کائنات کی بنیاد تھے ۔ قریش اپنے کردار کے سبب سب سے شریف تھے جس میں نبیﷺ کی بعثت ہوئی مگر بخاری شریف میں حضرت حاجرہؓ کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا ہے کہ قریش آسمان کی اولاد ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ سے بڑی ہستی کس کی ہوسکتی ہے جن کی طرف یہود، نصاریٰ اور مشرکین اپنی نسبت کرتے تھے؟ اور اہل کتاب بنی اسماعیل ؑ کو اپنے سے کمتر سمجھتے تھے کہ لونڈی کی اولاد تھے۔ حالانکہ حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا کردار کس سے پوشیدہ ہے ؟۔ جنکے باپ، دادا اور پردادا سب انبیاء تھے۔حضرت ابراہیم ؑ پر جھگڑا شروع ہوجائے تو ایک بیوی کو اہل کتاب لونڈی کہہ دیں گے اور دوسری کی بھی توہین ہوگی کہ اگر کہا جائے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے بدکار اور ظالم بادشاہ کے حوالے کیا تھا۔ بس اللہ نے عزت بھی بچائی اور تحفہ میں ایک شہزادی حضرت حاجرہ ؑ بھی ملی۔بادشاہ کی عادت یہ تھی کہ بہن اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ نہیں بناتا تھا۔ اسلئے حضرت ابراہیم ؑ نے بیوی کاکہاتھا کہ ’’یہ میری بہن ہے‘‘ حضرت حاجرہؓ بھی شہزادی تھی اسلئے ان کی عزت بھی محفوظ تھی۔ جب حضرت یوسف ؑ سے عزیز مصر کی بیوی نے بدکاری چاہی تو اس کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا۔سوال یہ ہے کہ ظالم بادشاہ بیوی کی عزت کو کیوں خراب کرنا چاہتا تھا؟۔
ایک مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی جو تبلیغی جماعت میں چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اسلام میں حلالے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ علماء خان، نواب ، بادشاہ اور چوہدری وڈیرے کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ جب کسی بہانے سے مولوی کہتا کہ تمہارے بیوی تم پر حرام ہوگئی اور اسکا حلالہ کردیتا تو وہ بادشاہ ، خان ، نواب اور وڈیرہ اس مولوی کے سامنے آنکھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا تھا‘‘۔ بادشاہ بھی اسلئے بہنوں اور بیٹیوں کے بجائے بیگمات سے بدکاری کرکے مخالف کو سرنگوں کرنا چاہتا ہوگا۔ مولوی حضرات نے حضرت یوسف ؑ کی بجائے اس ظالم بادشاہ کی روحانی اولاد بن کر غلط دھندہ شروع کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرنے کے بعد فرمایا کہ ’’ تم آزاد ہو۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ‘‘۔ اگر اس وقت زبردستی ابوسفیان کی بیگم کو لونڈی بناکر عزت لوٹنے کی اجازت دی جاتی تو کربلا کے بعد اہل بیت کی خواتین بھی اپنی عزتوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی تھیں۔ تاریخ کا ایک ایک واقعہ سبق آموز ہے اور قرآن واحادیث کے قصوں میں بہت بڑا سبق ہے۔ ایک دوسروں کے طعن وتشنیع کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنی کمی کوتاہی پر نگاہ رکھ کر چلیں گے تو اپنے لوگوں اور انسانیت کا بیڑہ پار ہوجائیگا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسے سیاستدان اور صحافیوں پر کون اعتماد کریگا؟۔ بول چینل پر الزام لگایا اور پھر وہاں بیٹھ گیا۔ عمران خان سے متعلق کہا کہ عدت میں نکاح کیا ہے، قرآن کی روح سے یہ ناجائز اور حرامکاری ہے۔ پھر دوہفتے بعد اس کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ ایک ڈاکٹر عامر لیاقت نہیں بلکہ لنڈے بازار میں ایسے نام نہادصحافیوں، سیاستدانوں اور علماء کی کوئی کمی نہیں ہے۔میڈیا چینلوں پر انکی بھرمار رہتی ہے۔
منظور پشتین پر الزامات کی بوچھاڑ نے منظور پشتین کی اچھی شہرت کو چار چاند لگادئیے کیونکہ عوام کو معلوم ہوگیا کہ گلی کے معروف کتوں کا انکے پیچھے پڑ جانا اچھائی کی علامت ہے ۔ علی محمدخان ، عمران خان، ڈاکٹر عامر لیاقت ، سمیع ابراہیم، شیخ رشید کی طرح بہت سے لوگ وہ ہیں جن سے کہا جائے کہ تمام قومی اسمبلی اور ارکان سینٹ نے مغالطہ سے ختم نبوت کیخلاف سازش کی ہے مگر مارشل لاء لگ چکا ہے اور تمہیں چھوڑ کر سارے صحافی اور سیاستدانوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا ہے تو یہ لوگ کھدڑوں کے کپڑوں میں ناچ گانے کی محفلیں بھی سجائیں گے ،خوشی کی شادیانے بجائیں گے کہ رسول اللہﷺ کی ختم نبوت پر ہماری جان بھی قربان ہے لیکن اگر ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا والد کٹر قادیانی تھا اور فوج نے سلامی دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بے غیرت کہیں گے کہ ’’ اب قبر پر کھڑے ہوکر ہم سلام بھی پیش کرینگے۔ اسکے قبر کی مٹی خاکِ شفاء ہے جس نے ایک آرمی چیف کو جنم دیا ہے‘‘۔ عمران خان کی بیگم جمائماخان کی طرح کوئی خاتون اسلام قبول کرکے اسلام چھوڑ دیتی یا غیرمسلم آشناؤں سے آشنائیاں کرتی تو بہت سے ٹی وی چینل غیرت اور اسلام کا جذبہ ابھارنے میں عوام کو مشتعل کرتے۔ نوازشریف کی بھی خواہش تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد جب اسکے ختنے کی تصویر نکالی گئی تو ختنہ نہ ہوتا تاکہ اس کوہندو ثابت کیا جاتا۔ انگریزوں کے کتے نہلانے کی الزام تراشی تو نوازشریف نے کی ہے۔
نوازشریف بھی بڑا ڈھیٹ انسان ہے۔ 70سال کی عمر میں نظریاتی بھی ایسا بن گیا ہے کہ پارٹی صدارت کیلئے مریم نوازکے بجائے ایک مہرے شہبازشریف کا انتخاب کیا ہے اور ماروی میمن کو جاتے جاتے بھی وزارت تھمادی، مشاہد حسین کو آتے ہی سینٹر بنادیا گیا اور چوہدری نثار سے ناراض ہوکر بھی اس کی سب باتیں مان لیں۔ پرویز مشرف کو طعنہ دیا گیا کہ بیماری کے بہانے عدالت میں نہیں آتا لیکن اپنے بچوں اور اسحاق ڈار کو باہر رکھا ہوا ہے۔ جب نوازشریف اور شہباز شریف کی گرفتاری کا وقت آئے تو اپنی ماں کو اسٹینڈ بائی رکھا ہوا ہے۔ پھر حسن اور حسین نواز کی طرح دونوں نواز اور شہباز اپنی ماں کی تیمارداری کا فریضہ انجام دیں گے۔ پاکستان بھی کیا خوب ملک ہے ، قانون بنانے اور قانوں کے محافظ ہی قانون شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ باقی پر بھی کوئی افتاد نہیں پڑی ہے۔ چیف جسٹس کی جائے پاخانہ کو بھی کوئی کاٹ ڈالے تو بیس سال تک اس کو سزا نہیں ہوسکتی ہے اور بیس سال بعد شواہد ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے اور باعزت بری ہوجاتا ہے۔پھر عدلیہ معذرت خواہ ہوتی ہے۔
منظور پشتین کے بارے میں بتایا گیا کہ جانوروں کے ڈاکٹر کی تعلیمی ڈگری اسکے پاس ہے۔ اگر چہ ہمارے معاشرے میں جانوروں ہی کی پوزیشن ہے بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ھم کالانعام بل ھم اضل ’’ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ زیادہ بدتر ہیں‘‘۔بچیوں کیساتھ زیادتی کے بعد قتل کا معاملہ اور بے گناہوں کیساتھ بہت بڑی زیادتیاں ، ریاست اور دہشتگردوں کی کاروائیوں کے علاوہ معاشرتی برائیاں ظلم وستم کی انتہاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جابرانہ نظام سے ایک بہترین انقلاب کے ذریعے سب عوام کی جان چھڑائے۔ معاشرتی اصلاحات کا بڑا کارنامہ اس قوم میں انقلاب کا ذریعہ بنے گا۔ منظور پشتین کے پاس وکالت کی ڈگری ہوتی یا کسی وکیل ساتھی سے مشورہ کرتے تو پاکستان کے قانونی پہلو زیادہ بہتر سمجھ سکتے تھے۔ ویسے یہ جنگ قانون کی جنگ نہیں اخلاقیات کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جب کسی قوم کا اخلاقی معیار گر جاتا ہے تو قانون کی حیثیت نہیں رہتی۔
کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ڈیڑھ سوسال پہلے ہزارہ برادری والوں کو ماردیا گیا تھا۔ انکے خاندان کے باقیات ایک دو بچے ماؤں کے پیٹ میں زندہ بچ سکے تھے۔ کوئٹہ کی ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والے آج اپنا رونا رورہے ہیں۔ 150 سال قبل کو نسی طالبان گردی اور فوجی وردی تھی؟۔ ہزار سال قبل یعقوب بن اسحاق کندی معروف سائنسدان گزرے ہیں۔ جو ہارون الرشید اور مامون الرشید کے زمانے میں تھے۔ طب میں دواؤں کی مقدار کا تعین انہی کا مرہون منت ہے۔ دنیا ان کو بڑا مسلم سائنسدان مانتی ہے اور انکی کتابوں سے تراجم کئے گئے ۔ ایک بدخشانی نے اس کو بے دین سمجھ کر قتل کرنا چاہا اور ان کو پتہ چل گیا ۔ چاہتا تو خود قتل یا گرفتار کرادیتا لیکن اپنے پاس بلایا اور حقائق سمجھائے کہ سائنس اسلام کے خلاف نہیں ۔ پھر بدخشانی نے یعقوب کندی سے سائنس کے میدان میں استفادہ کیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کو دہشت گرد نے شہید کیا اور حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہی شہید ہوئے تھے۔ ہر بات کو فوجی وردی کے کھاتے میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں بارودی بم رکھ کر بے گناہ لوگوں کو بہت پہلے معذور کیا گیا۔ شہر کے پانی کے ٹینک میں زہر ڈالا گیا تھا۔ مکین شہر میں کوئی آواز لگاتا تھا کہ 2ہزار روپے کے بدلے مجھ سے کوئی قتل کروائے۔ طالبان کی آمد سے پہلے بھی بد امنی ، شرانگیزی اور دہشت گردی ہوتی تھی اور اس کی تمام ذمہ داری ہمارے معاشرتی نظام پر تھی۔
سام سرائے کانیگرم سے ایک پک اپ اغوا ہوئی، غریب علاؤ الدین نے اغوا کاروں کی مزاحمت کرنا چاہی کہ یہ ہماری بے عزتی ہے کہ وزیر قبائل کی پک اپ ہمارے سرائے سے کوئی لے جائے۔ پھرکئی افراد کے ساتھ اپنی پک اپ میں رپورٹ درج کرنے لدھا گیا۔ رات 11بجے سام سرائے میں گاڑی کھڑی کی ۔ پھر کانیگرم کے قبائلی عمائدین نے چوری وارداتوں پر قسم اٹھانے کیلئے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا علاؤ الدین پر الزام لگایا۔ ڈکیت وزیر کی پک اپ کو مخالف جانب لے گئے ۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ ڈکیتوں کیساتھ کالے کلر کی پک اپ والے کی سرِ راہ ملاقات ہوگئی اور علاؤ الدین کی پک اپ کا رنگ بھی کالا ہے۔ علاؤ الدین نے کہا کہ میرے چالیس گواہ ہیں ، اغوا کار مخالف جانب گئے اور میں دوسری جانب رپوٹ کے کیلئے گیا۔ میرے بھائی پیر نثار نے کہا کہ اس کو قسم پر مجبور کرنا غلط ہے اس کے پاس گواہ بھی ہیں ۔ عمائدین نے کہا کہ دوسروں کیلئے راہ کو ہموار کرنا ہے۔ پھر جن کیلئے راہ ہموار کرنی تھی انہوں نے قسم بھی نہیں اٹھائی۔ پھر علاؤ الدین کے بھائی عبد الرشید نے چور رات کی تاریکی میں پکڑ لیا اور مسجد کی لاؤڈ اسپیکر پر اقرار کروایا ۔ مگر چور کا کچھ نہیں بگاڑا گیا۔ علاؤ الدین اور رشید کے گھر وں کو مسمار کیا گیا اور انکے سامان کو قومی لشکر نے لوٹ لیا۔ ان مظالم کو سامنے رکھا جائے اور پھر غریب طبقے کی طرف سے طالبان کی شکل میں انتقامی کاروائی پر غور کیا جائے ۔ وردی والوں پر کوئی بات ڈالنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکا جائے۔
جب وزیرستان ، ٹانک اور ملک بھر میں طالبان کاروائیاں کررہے تھے تو ہم میزبانی کرتے تھے لیکن جب طالبان نے ہم پر حملہ کرکے 13افراد شہید کردئیے تو ہمیں طالبان برے لگے۔ میرا بس چلے تو اپنی قوم ، ریاست، ملک کی عوام اور دنیا سے کہہ دوں کہ جو ہمارے ساتھ ہوا ، اگر اس پر معاف کردو تو یہ تمہاری مہربانی ہے۔ اگر پھر بھی ہمارا جرم معاف نہیں ہوتا تو جو سزا دینا چاہو ہم حاضر ہیں۔ اگر معافی مل جائے تو ہم ان سب کو معاف کردیں جو اس واقعہ میں ملوث تھے۔ پھر قوم سے بھی اپیل کریں کہ معافی تلافی کریں اور جو معاف نہیں کرنا چاہتا تو وہ نشاندہی کرے ، میں اسکی قیادت کرونگا۔ قوم کو مصیبت سے چھٹکارا دلانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ماتمی جلوس کوئی حل نہیں۔

جاوید چودھری کے کالم پرایڈیٹر نوشتۂ دیوارملک اجمل کا تبصرہ

javed-chaudhry-columns-taliban-cia-biryani-ki-rehri-islamabad-nawaz-sharif

جاوید چودھری صاحب، آپ جو حقائق آج بیان کر رہے ہیں اسے دنیا عرصہ سے جانتی ہے۔ ہمارے جیسے چھوٹے اخبار کے چیف ایڈیٹر سید عتیق الرحمن گیلانی ماضی میں عرصۂ دراز تک ان حقائق کو عوام تک پہنچاتے رہے ہیں کہ افغان جنگ اور طالبان وغیرہ یہ CIA کا کھیل ہے اور اسی جُرم میں 2007 میں ٹانک کے علاقے گومل میں طالبان نے ان کے گھر پر حملہ کر کے گھر کے 13 افراد کو شہید کر دیا تھا اور بھی کئی سیاستدان اور صحافی اس پر بات کرتے رہے ہیں حیرت ہے آپ اسلام آباد میں بیٹھ کر بے خبر رہے اور آپکو *افغانیوں کا لہو* آج 3 اپریل 2018 میں یاد آیا۔
جسوقت CIA یہ سارا ڈرامہ کر رہی تھی آپ کا ضمیر سویا ہوا تھا اور آج نواز شریف سے لفافہ لیکر یہ کالم لکھا ہے تاکہ فوج کو بدنام کیا جائے اور عوام سے فوج کو لڑوانے کی سازش کامیاب ہو ۔
ہم کوئی فوج کے تنخواہ دار صحافی نہیں ہمیں معلوم ہے جسوقت 2007 میں طالبان نے ہمارے چیف ایڈیٹر کے گھر پر حملہ کیا تھا اسوقت ہماری ریاست طالبان کی پشت پر تھی لیکن اسوقت حالات کچھ اور تھے ساری قوم طالبان کو صحیح سمجھتی تھی، ہم حقائق کی صحافت پر یقین رکھتے ہیں اداروں اور عوام کو لڑوانے والی کسی قوت کے آلہ کار نہیں بنیں گے لیکن تمہیں یہ قوم اچھی طرح سے پہچان چکی ہے تم نواز شریف کے PayRollپر ہو اسلئے نواز شریف کے چور بیٹوں کے بارے میں یہ تشہیر کرتے ہو کہ ’’وہ تو ہر وقت وضو میں رہتے ہیں‘‘ ۔ جنرل حمید گل کی فیملی نے پریشانی میں اس سے اپنا دکھ بیان کیا ہے اور اس دلال شخص نے ان کا سودا کر لیا۔ اس حقیقت کا اعتراف جنرل حمید گل کے نظریات سے اختلاف کرنے والے بھی کرتے ہیں کہ وہ ایک نظریاتی شخص تھا پیسے نہیں بنائے، اگر دولت بنائی ہوتی تو کیا آج اسکے بچے اسکی پینشن کیلئے لڑتے۔جاوید چودھری ! شہزادہ بندر بن سلطان جسکا حوالہ دیکر آپ نے یہ سارا سازشی کالم لکھا ہے وہ کتاب تو 2006 میں چھپ گئی تھی اوراگر آپ وااقعی اتنے لاعلم صحافی ہیں توپھر آپ کفارے کے طور پر اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر بریانی بیچنے کی ریڑھی لگا لیں اور اس پر بورڈ لگا دیں کہ’’ میں اس قوم سے معافی چاہتا ہوں میں ساری زندگی وہ کام کرتا رہا جس کا میں اہل نہیں تھا ‘‘۔پھر تو شاید آپکو معافی مل جائے ورنہ یہ جان لیں کہ اب اس قوم کے مظلوم طبقات جاگنا شروع ہو گئے ہیں اور اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کیساتھ کیا ہوگاتو پھر ساری عمر آپ نے تاریخ کے اوراق سے نکال کر جو قصے اور کہانیاں بیان کی ہیں اُنہیں اُٹھا کر دیکھ لیں کہ جب کوئی قوم حقیقی انقلاب کیطرف بڑھتی ہے تو آپ جیسے بے ضمیر لوگوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔آپکو یقیناُ اپنے ہی کالموں میں اس کا جواب مل جائے گا۔

جن سیاستدانوں نے جتنی پارٹیاں بدلی ہوں انکے ساتھ اتنے لوٹوں کے سٹار بنائے جائیں

stars-of-loty-politicians-change-of-parties

نکل کر ڈرائنگ روم سے باتھ روم میں، لوٹا سیاست اب رسمِ شبیری ادا کررہی ہے۔منظور پاشتین 12 مئی کراچی کے جلسے میں تعصبات اورگلے شکوے کی زباں نہیں حقائق پر مبنی متوازن خطاب کریں۔ رمضان کی چھٹیوں کا اعلان نہ کریں، سیاست افضل جہاد اور بہترین عبادت بھی ہے۔ لاہور کی طرح کراچی میں مغرب وعشاء بلکہ ظہرو عصر نمازوں کو بھی یکجاکردیں۔ مسلم کی روایت میں چار نماز کو یکجا کرنے کا ذکر ہے، صحابہؓ کی جماعت نے عصرومغرب اکٹھی پڑھی تو نبیﷺ نے تنقید نہ کی، سنت کو زندہ کریں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین: تحریر محمد اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار

arm-chief-journal-qamar-jawed-bajwa-ptm-mnzoor-pashteen-editor-muhammad-ajmal-malik-supreme-court-marvi-memon-irshad-bhatti-hasan-nisar-abdul-haseeb-mqm-ayoub-khan-panama-leaks-isi

انسان ماحول سے بہت متأثر ہوتا ہے۔ بدر واُحد اور صلح حدیبیہ کا ذکر قرآن وسنت میں جلی عنوانات کیساتھ موجود ہے۔ قرآن وسنت مسلمانوں کیلئے عمومی طور پر اور پاکستانیوں کیلئے خصوصی طور پر مشعلِ راہ ہونے چاہیے۔ گھر بار چھوڑ کربے سر وسامانی کی حالت میں ہجرت کرنیوالے صحابہؓ نے نبیﷺ کی قیادت میں تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا۔ حال میں سپریم کورٹ کی ججمنٹ میں قرآن کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیاہے اور 100 بااثر شخصیات پر معروف مصنف کی معروف کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جب تک درست پسِ منظر پیش نہ ہو بات سمجھ نہیں آسکتی ہے، کسی چیز کے ادراک کیلئے ماحول سمجھنا ضروری ہے۔
امتحان اگر معلوم ہو تو امتحان نہیں ہوتا۔ ساری زندگی جس طرح اداروں کے احترام میں نوازشریف نے کھپائی ہے، اس کا منظر روز مختلف چینلوں پر عوام دیکھتے ہیں۔ جب افتخار احمد کی طرف مریم نواز کے حوصلے، جرأت اور شاطربیانی کو داد دی گئی تو ارشاد بھٹی نے ماروی میمن کے پروگرام میں کہا کہ میں خود بھی پنجابی ہوں مگر اس ڈھٹائی پر مجھے شرم آتی ہے، یہ کونسا طرزِ عمل ہے کہ دن رات جھوٹ بولو، اداروں کو کرپشن پر قربان کردو۔
ایک دوسرے ٹی وی چینل پر حسن نثار نے سرائیکی صوبے کے حوالہ سے کہا کہ ’’ ایم کیوایم کے عبدالحسیب نے صوبوں پر کتاب لکھی تھی جس کو پڑھنے کے بعد میں نے کئی کالم بھی لکھے اور میں نجیب الطرفین پنجابی ہوں ، میری والدہ اور والد دونوں پنجابی ہیں لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم نے سبق نہیں سیکھا‘‘۔ پنجاب کے ان باسیوں کے علاوہ وسعت اللہ خان، مبشر زیدی اور ضرار کھوڑو جیسے لوگ ایک مخصوص نظام اور مخصوص ذہنیت سے بہت مایوس ہیں لیکن اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو سلامت رکھے۔
سرائیکی صوبے کی ڈیمانڈ اسلئے درست نہیں کہ وہ پسماندہ ہیں ، پسماندگی پر سندھ کے تھر اوربلوچستان کے پسماندہ بہت سے علاقوں کو صوبہ بنانے کی تجویز آسکتی ہے بلکہ پنجاب ملک کا 60 سے 65 فیصد ہے۔ باقی صوبوں یا علاقوں سے وزیراعظم منتخب ہوتا ہے تو وہ 35سے 40فیصد کا حکمران ہوتا ہے پنجاب کا وزیراعلیٰ 60 سے 65فیصد پر حکومت کرتاہے۔ پاکستان کا توازن برقرار رکھنے کیلئے صرف یہ ضروری نہیں کہ پنجاب کے کم ازکم 2 صوبے بنائے جائیں بلکہ اٹک سے بھکر تک پختونخواہ میں شامل کیا جائے۔ ڈیرہ غازی خان کاکچھ علاقہ اور آبادی کو بلوچستان میں شامل کیا جائے۔ کچھ علاقے کو سندھ کا حصہ بنایا جائے اور اسلام آباد سے دارالخلافہ اور پنڈی سے GHQ بھی پاکستان کے مرکز میں میں منتقل کیا جائے۔ تاکہ کوئٹہ لاہور اور پشاور کراچی کیلئے درمیانی اور مرکزی جگہ ہو۔ قائداعظم کے وقت میں ملتان کو دارالخلافہ بنایا جاتا تو جنرل ایوب خان اس کو ہزارہ کے قریب اسلام آباد منتقل کرنے کی زحمت نہ کرتے۔
پاکستان میں تمام دریاؤں کو ڈیم بنایا جاسکتا ہے اور سیورج کے گٹرکو بھی پینے کے پانی سے الگ کیا جاسکتاہے۔ سستی بجلی بھی پیداکی جاسکتی ہے اور آئندہ سب سے بڑی ترجیح یہی ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کی مشاورت سے مشرکین کا شام سے آنیوالے قافلے کو لوٹنے کا پروگرام بنایا۔بہت کم تعداد میں معمولی اسلحہ کیساتھ جب مطلوبہ مقام پر پہنچے تو قافلہ نکل چکا تھا اور کئی گنا بڑا لشکر مقابلے کیلئے موجود تھا۔ اس امتحان میں صحابہؓ اور نبیﷺ نے اللہ سے خوب دعائیں مانگیں۔ اللہ نے فرمایا کہ لڑانے کیلئے میں نے دونوں کو ایکدوسرے سے کم دکھایااور ایسا نہ کرتا تو تم لڑنے سے گریز کرتے۔ تلواروں کے سامنے جانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔ ہمارے ریٹائرڈ دفاعی تجزیہ نگار بن کر ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں مگران کی ٹرینگ فوجی ہوتی ہے،ان کو نیٹو اور طالبان کے درمیان پیرا شوٹ سے اتار دیا جائے تو پتہ چل جائیگا کہ یہ کس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ٹی وی پر پھسکڑیاں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا، میدان میں پتہ چلتاہے۔
بدر کے میدان میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے بھی مدد کی اورموسمی حالات بھی مسلمانوں کے موافق کردئیے۔ 313 مجاہدین نے ہزار کو بدترین شکست دیدی۔70مار دئیے اور 70کو قیدی بنالیا۔ مدینہ میں مشاورت ہوئی کہ قیدیوں سے کیا سلوک کرنا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت سعدؓ نے مشورہ دیا کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے وہ اس کو قتل کردے۔ باقیوں نے یہ مشورہ دیا کہ اپنی قوم کے افراد ہیں، کل ان کو ہدایت بھی مل سکتی ہے۔ ہمیں مال کی ضرورت بھی ہے، فدیہ لیکر چھوڑ دیتے ہیں۔
نبیﷺ کو فدیہ کا مشورہ پسند آیا۔ پھر اللہ نے وحی اتاری کہ ’’نبی (ﷺ) کیلئے یہ مناسب نہیں کہ آپکے پاس قیدی ہوں، یہانتک کہ زمین میں خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر پہلے سے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تو بہت سخت عذاب نازل کردیتا۔ جن لوگوں سے فدیہ لیکر چھوڑ دیاہے اگر انکے دل میں خیر ہے تو اللہ اس سے زیادہ ان کو دیگا اور اگر انکے دلوں میں خیانت ہے تو اللہ ان سے پھر نمٹ لے گا‘‘۔
نبیﷺ زار وقطار رورہے تھے کہ مجھے نازل ہونے والے عذاب کا نقشہ بھی اللہ نے دکھا دیا ، اگر عذاب نازل ہوتا تو عمرؓ اور سعدؓ کے علاوہ کوئی نہیں بچتا۔ کہاں وہ بدر کا غزوہ اور کہاں یہ نوازشریف، اسکی صاحبزادی اور حواریوں کی جنگ؟۔ اللہ کی طرف سے ٹھیک فیصلہ آیا کہ پہلے شام کے قافلے سے جو جنگ شروع کی تھی ،اب اسکو فدیہ لینے پر ختم کررہے ہو؟ ن لیگ نے تو لندن کے فلیٹ ، پانامہ کی دولت اور نہ جانے کیا کیا 22 کروڑ عوام کیلئے بنایا ہے ۔ اب بھی عوام کی جنگ لڑرہے ہیں۔
قرآن وسنت کی تعلیمات اسلئے ہیں کہ جب صحابہؓ نے شام کے قافلے کا قصد کیا، فدیہ لینے کا مشورہ دیا اور اللہ نے کہا کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتاہے تو کسی اور کیلئے اس بات کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ مجھے ذات کیلئے نہیں عوام کیلئے جنگ لڑنی ہے۔ ارے تمہارے رائیونڈ کے محل، پانامہ کی دولت اور لندن کے فلیٹ وغیرہ سے بہترین ہسپتال، تعلیمی ادارے ، بجلی بنانے اور دیگر اشیاء کے کارآمد کارکانے بن سکتے تھے۔ مگر تم نے اپنا خیال رکھا۔ ساری زندگی جن سازشوں میں گزاری اس کی بیماری ہوگئی ہے ، سازش کوئی بھی نہیں کررہا ہے۔
نبیﷺ اور صحابہؓ نے وحی کے بعد محسوس کیا کہ اس دفعہ وہ ہاتھ آگئے تو نہیں چھوڑنا ہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ غزوۂ احد کی باری آگئی اور مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچنے کا سامنا ہوا، صحابہؓ میں بعض بھاگے۔ اللہ نے فرمایا:ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل أفان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’ اور محمد کیا ہیں مگر ایک رسول، آپ سے پہلے رسول گزرچکے ہیں ،اگر آپ فوت ہوجائیں یا قتل کردئیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔ نبیﷺ اور صحابہؓ نے کہا کہ ہم سخت انتقام لیں گے، حضرت امیر حمزہؓ کے بدلے 70کے ساتھ ایسا برتاؤ کرینگے۔ اللہ نے فرمایا: اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے ان کو بھی پہنچا ہے۔ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ۔ اگر ان کو معاف کردو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے بلکہ معاف ہی کردو اور معاف کرنا بھی تمہارے لئے اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
شریف برادری کی اصلاح اس وقت ہوگی جب کوئی ان کا فرد کہہ دے کہ آصف علی زرداری نے بھی تو 11سال جیل میں گزاردئیے۔ سعودیہ میں سہیل وڑائچ سے کہا کہ ISIکے کہنے پر غلطی کی تھی اور پھر پیٹ پھاڑ کر، سڑکوں پر گھسیٹ کر اور چوکوں پر لٹکاکر سزائیں دینے کے اعلان کئے تھے۔ جب وہی زبان عمران خان نے استعمال کی تو تمہیں اخلاقیات یاد آگئے۔ فیصلہ چوکوں کے بجائے عدلیہ لے جانے کی تجویز بھی خود پیش کی تھی حالانکہ عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ عدالت کے دلدل میں نہیں پھنسنا چاہیے تھا۔ پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟، جن سوالات کے جوابات مانگے گئے تھے وہ اب بھی دیدینا تو اگر سچے ہو تو عوام کی عدالت میں سرخرو ہوجاؤ گے۔
یہ بات عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بدر کے فدیہ پر اسلئے ڈانٹ پڑی تھی کہ صحابہؓ کو کتاب کی تعلیم دینی تھی، انکا تزکیہ کرنا تھا اور حکمت کی تعلیم دینی تھی۔ حکمت یہی تھی کہ اللہ نے فدیہ کو رد نہیں کرنا تھا بلکہ مشرکوں کے دل میں خوف بٹھانا تھا کہ آئندہ نبیﷺ نے بھی معاف نہیں کرنا ہے۔ غزوہ احد میں اللہ نے پھر صبر وتحمل کی تعلیم دی۔ پھر اللہ نے خواب میں دکھایا کہ مکہ میں عمرہ کیلئے جاتے ہیں۔ نبیﷺ کے خواب پر ایمان رکھ کر صحابہؓ نے عمرے کیلئے احرام باندھے۔ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے توکچھ اور معاملے کا سامنا ہوا۔ جنگ کی خواب و خیال میں بھی تیاری نہ تھی ۔ عبادت کی غرض سے آئے تھے لیکن ان کو خبر دی گئی کہ ان کا سفیر حضرت عثمانؓ شہید کردئیے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں جنگ کیلئے مجبور ہونا کس قدر آزمائش تھی؟۔ نبیﷺ نے ایک درخت کے نیچے بدلہ لینے کی بیعت لی۔ اللہ نے وحی اتاری کہ جن لوگوں نے آپکے ہاتھ پر بیعت کی ہے انکے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
پھر حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ جھوٹی نکلی۔ صلح حدیبیہ کا معاملہ ہوا، جس کو اللہ نے فتح مبین قرار دیا، حالانکہ صحابہ کرامؓ کے جذبات بالکل مختلف تھے۔ پھر وہ دن بھی دیکھنے کو مل گئے کہ حضرت عثمانؓ کو مدینہ میں تختِ خلافت پر شہید کیا گیا۔
انسان ماحول سے متأثر ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کو درست معلومات بھی مل جائیں اور فیصلہ بھی درست کرلے۔ یہ معلومات مقدمہ کے طور پر بیان کررہا ہوں تاکہ آرمی چیف اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان کسی غلط فہمی کے نتیجے میں قوم کا نقصان نہ ہو۔ نوازشریف اور عمران خان کی شخصیات ہرگز اس قابل نہیں کہ ملک وقوم کو درست طرف لے جائیں۔یہ بڈھے بڈھے اب سیاست کی بجائے کوئی ریٹائرمنٹ والا کام کریں۔ سیاست میں جوان دماغ اور قابلیت کی ضرورت ہے۔ سیاست ایک تجارت بن گئی ہے۔ ڈراینگ روم سے باتھ روم کے لوٹوں تک بات پہنچ گئی ہے۔ کوئی شریف آدمی یہ ڈرامہ بازی نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔اور بہروپئے یہ کام کررہے ہیں۔ جسکے پاس جتنے شرمناک لوٹوں کی تعداد ہوتی ہے وہ اتنے اسٹار کالیڈر ہوتا ہے اسکے پیٹ اورپیٹھ پر اتنے لوٹوں کے نشان بنانے ہونگے ۔
روزوں میں بنوں والوں کا دماغ کام نہیں کرتا اور لوگ قتل ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ مسلح بدمعاش گروپ آیااور اعلان کیا کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ نہیں کرتا تو ان کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ وہ گروپ گیا تو تھوڑی دیر میں دوسرامسلح جتھہ آیا اور اسی چوک پر اعلان کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ کرتاہے تو اس کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ بنوں والوں کی مثال اب ہمارے فوجی بھائیوں پر پوری اترتی ہے۔ ایک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’ جنرل اشفاق کیانی انتہائی بے غیرت وبے ضمیر انسان تھا، حامد میر بھی CIA کا ایجنٹ ہے۔ ملالہ یوسفزئی کو امریکہ کے کہنے پر تیار کیا گیا۔ فوج میں بھی ایسے بے غیرت اور بے ضمیر عناصر تھے جنہوں نے جنرل اشفاق کیانی کا ساتھ دیا، اور ایک بڑے منصوبے کے تحت ملالہ یوسفزئی کو تیار کرکے بھیجا گیا لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل راحیل شریف کے اس پرتحفظات تھے، انہوں نے اس ڈرامہ کی مخالفت کی تھی‘‘۔ اس بیان کے بعد میجر عامر پنچ پیر صوابی کا ایک بیان آیا’’ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے گورنری ٹھکرادی۔ اغیار کے ایجنڈے پر جنرل راحیل شریف نے پٹھانوں کو قتل کیا، 4ہفتے میں جنگ ختم کرنے کا کہا تھا لیکن اب چار سال ہوگئے ہیں وہ خود سعودیہ میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے۔ میں نے امریکہ کی سازش پر پٹھانوں کو قتل کرنے سے انکار کیا ، سب سے بڑا ظالم اور قاتل راحیل شریف تھا‘‘۔ دونوں طرف سے فوج ہی کو برا بھلا کہا گیاہے۔
پاکستان تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک بریگڈئیر کا بیٹا یہ الٹی سیدھی تقریر کررہاتھا کہ جس کا کوئی ربط اور ضبط نہیں تھا لیکن ایک بات واضح تھی کہ ’’میں پشاور میں کھڑے ہوکر کہہ رہا ہوں کہ قوم کی بیٹی ملالہ نہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے‘‘۔ ٹھیک ہے لیکن اس میں فوج کے تحفظ اور بدظنی دور کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اگر ملالہ ایجنٹ ہے تو بھی اشفاق کیانی اور فوج کو کریڈت جاتا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیرو ہے تو بھی پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف نے اس کو امریکہ کے حوالہ کرکے اپنا منہ کالا کیا تھا۔ اس سے فوج کے بارے میں اچھا تأثر قائم نہیں ہوتاہے۔
جس طرح سیاستدان بے سُر کے ڈھول بجاتے ہیں اسی طرح فوجیوں کی تعریف کرنیوالے بھی بے پر کی اڑاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ریاست اور سیاست دونوں کمزور ہوتے ہیں مگر جوان کے بچوں کو کوئی پرواہی نہیں ہے۔ پرتعیش کھانوں اور آرام دہ جگہوں سے اٹھ کر بحفاظت تقریریں کرنے والوں کی عقل بھی ماری گئی ہے ۔ قوم کو بنانے کیلئے قرآن وسنت سے ہی استفادہ کرنا پڑے گا۔ فوجی کیپٹن بھرتی ہوتا ہے اور آرمی چیف تک پہنچنے سے پہلے صرف آرڈر ہی کو سمجھتا ہے۔ کوئی وردی ہی کو اپنی کھال قرار دیکرپرویزمشرف کی طرح بیٹھ جاتا ہے تو اس کو اپنے حق کیلئے بھی سالوں سال تک اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے۔ جب آرمی چیف بن جاتا ہے تو آدھی آزاد نوکری سکتے میں گرزرتی ہے اور بقیہ ایک آدھ سال رہ جاتا ہے تو اسکے ریٹائرڈمنٹ کا وقت پورا ہونے لگتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی قیادت کا بحران آیا ہواہے۔ PTM کی اتنی بڑی حیثیت نہیں کہ ا سے ملک کو خطرہ لاحق ہو۔ اس سے اعتدال پر لانے کیلئے وہاں کے عوام بھی اپنا کردار ادا کریں گے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جو سیاستدان بہت پیسہ خرچ کرکے بھی باشعور عوام کو جلسے جلوس میں نہیں لاسکتے ہیں، یہاں کا ماحول دیکھنے کے بعد قوم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا۔ فوج کی طرف سے انکے کندھے پر بزرگوں کو ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تو جن کو ساری زندگی شعور نہیں مل سکا ہے وہ بھی سمجھ بوجھ لے لیں گے۔ درد مند وں کو پختون تحفظ موومنٹ کے ذریعے ڈھارس مل گئی تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی عوامی تحریکوں سے لوگوں میں مایوسی کی فضا ختم ہوگی۔ کسی کے خلاف نفرتوں سے اسکے جذبے کارخ غلط راستے کی طرف مڑ سکتا ہے۔ اگردلوں میں بغض رہ جائے تو بھی یہ پوری قوم کا نقصان ہے۔
منظور پشتین کو محسودوں کی اجتماعیت بھی قبول نہیں کرسکتی۔ اگر محسودوں نے قبول کیا تو وزیر کہاں قبول کرینگے؟۔ وزیر بھی قبول کرلیں تو بیٹنی کہتے ہیں کہ محسود پیغمبر بھی بن جائے تو اس کو قبول نہیں کرینگے۔ وہ اعتماد بھی نہیں کرتے کہ یہ بک جاتے ہیں اور اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی خان، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ کہاں قبول کرینگے؟۔ منصوبہ انکے خلاف سیاسی جماعتوں کا تھا مگر فوج استعمال ہوگئی۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو تعصبات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ پاک فوج انکے بارے میں اپنا رویہ بالکل بدل دے۔ یہ ایک فکروشعور کی تحریک ہے اور اسکے دل و دماغ کو بھی شعور وآگہی سے درست کیا جاسکتا ہے۔
بندوق کا مقابلہ بندوق اور فکر کا مقابلہ فکر سے کیا جاسکتاہے اور اگر کسی غیر ملکی فنڈنگ کا پتہ چلے تو کوئی مسئلہ نہیں ان سے وہ فنڈ چھینا جائے، ہماری ریاست کا قرضہ اس سے چکایا جائے ۔ اُوچھے ہتکنڈوں سے یہ ملک اس تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کیساتھ پٹھان اورمحسود ہی خاص طور پر ملوث تھے۔ منظور پشتیں کے گرد وہی لوگ دکھ، درد لیکر پہنچ جاتے ہیں جو کسی نہ کسی غلط سر گرمیوں میں ملوث تھے۔ عام عدالتوں سے سزائیں مل سکتی تھیں تو فوجی عدالتوں کا جواز نہیں ہوتا۔ یہ فوج ہی کمال ہے کہ پختونوں کو طالبان سے اب نجات دلانے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئے ہیں، بلوچستان اور کراچی کا امن لوٹانے میں بھی پاک فوج نے تاریخ ساز کام کیا ہے۔ پختونوں، بلوچوں اور کراچی کے مہاجر عوام کو فوج کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہیے۔آج بھی پاکستان کے شہری علاقوں سے پاک فوج کا رعب ودبدبہ اور دہشت ہٹ جائے تو اپنے معاشرے کی تباہی کیلئے بیرونی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کی ریاست میں پاک فوج واحد ادارہ جسے اللہ قیامت تک سلامت رکھے جس نے ریاست کے نظام کو سہارا دیاہے، طاقت کے بغیر کوئی ریاست ریاست کہلانے کے قابل نہیں۔
ہاں ریاست کو صرف طاقت کے بل بوتے پر کنٹرول کرنا بھی انتہائی غلط ہے، پھر آزادی نہیں غلامی کا تصور پیدا ہوتاہے اور جب پیپلزپارٹی ، ایم کیوایم اور اے این پی پر طالبان نے امریکہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگادیا اور دہشت گردانہ حملے شروع کردئیے تو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف طالبان سے عقیدت ومحبت اور یکجہتی کا اظہار کررہے تھے لیکن جب دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شروع ہوا توبہت افسوس کیساتھ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر عاصم حسین پر سہولت کار کے الزامات لگائے گئے۔ جن مریضوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا گیا تھا تو میڈیا نے سروے میں بتایا کہ وہ بھی بالکل عام لوگ تھے جن کو پتہ بھی نہیں تھا کہ انہی پر دہشت گردی کاالزام لگاکر ڈاکٹر عاصم حسین کو تین ماہ کیلئے رینجرز اٹھاکر لے گئی ہے۔
بندے کے پاس مال شال ہو تو وہ ریمانڈ میں بھی مار نہیں پیار کھاتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے بھی کہہ دیا کہ ہسپتال میں جو آتا ہے اس کا علاج کرنا ہمارا کام ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں؟۔ البتہ قصور کے ایک بے قصور شخص نے پولیس تشدد سے چھوٹی بچی کیساتھ زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تو اس کو پولیس ہی نے قتل بھی کردیا اور اسکے بھائیوں رشتہ داروں پر مقدمات قائم کرکے خاموش بھی کردیا گیا۔ عوام کیلئے عدالت بھی کسی کام کی نہیں ۔ اداروں کی طرف سے زیادتی پر ایکشن تو بہت دور کی بات ہے، مظلوم کو پیشیاں بھگتنے میں بھی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں اسلئے کہ ہمارا معاشرتی نظام بھی بہت زیادہ گراوٹ کا شکار ہے۔ مشال خان کے والد جس طرح سے بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہتے ہیں اگر آرمی چیف ان کے سرپر ہاتھ پھیرنے چلے جاتے تو بہت سی جماعتیں کتیا کی طرح اقبال خان کے پاس دُم ہلاتی نظر آتیں۔ اب بھی پاک فوج کا ہی دبدبہ ہے ورنہ دوپولیس اہلکار ان کی کیا حفاظت کرتے؟۔
پختون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین بذاتِ خود ایک اچھا انسان ہے ، اس کے اردگرد جمع ہونے والوں کی اکثریت اچھے لوگوں کی ہے۔ ان میں محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ اور پھر مظلوم تحفظ موومنٹ میں بدلنے کی صلاحیت بھی ہے،کچھ ہی سڑیل، بدبوداراور متعصب لوگوں کا گھیرا اس تحریک کو نقصان پہنچارہاہے مگرخیر کی روشنی برائی کے اندھیرے پر غالب آسکتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے برخودار سارا دن فوج کی برائی کریں جس میں انکی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ پرویزمشرف ہی کا پروردہ عمران خان فوج کی تعریف کرے تو فوج کی بھی آنکھ نہیں کھل سکتی ہے اور قوم بھی بتدریج خرابیوں کا شکار بنے گی۔
ماحول میں مشاورت اور مخالف رائے کو برداشت کرنے پر معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ امریکہ کردار سے سپرطاقت بنا ہے۔ بھارت نے من موہن سنگھ کے دور میں کھربوں ڈالر سے ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا اور ہم US AEDکے زکوٰۃ کی رقم کیلئے ترستے ہیں۔ فوج سے محبت رکھنے والا میڈیا یہی راگ الاپتا رہتا ہے کہ جمہوری حکمران امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور ہمارا ڈی جی آئی ایس پی آر بیان دیتا ہے کہ ’’ امریکہ کو ہم نے مثبت انداز میں سپر طاقت بنایا‘‘۔ارے ! اتنی قربانی پر تو کشمیر آزاد ہوجاتامگر تمہارا دماغ نہیں ۔ قوم کی آزادی کیلئے آزاد عوام سے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ ادارے فوج، عدلیہ، سول بیوروکریسی وغیرہ موجود تھے، پہلے انگریز کے ملازم تھے اور ملک آزاد ہوا تووہ بھی اس کی برکت سے آزاد ہوگئے۔ چیف جسٹس کسی بھی مثبت کام سے قابلِ تعریف بن سکتے ہیں لیکن نظام کو نہیں بدل سکتے۔ عراق کی عدلیہ صدام حسین کیساتھ کام کررہی تھی، جب امریکہ نے قبضہ کیا تو اسی عراقی عدالت نے صدام حسین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔ امریکہ کو مجاہدین اپنے جذبے سے نانی اماں کی یاد نہ دلاتے تو افغانستان، پاکستان اور اسلامی ممالک کو بڑی مشکل سے دوچار کرتے، قوم جذبہ جہاد سے زندہ رہ سکتی ہے، اداروں کا احترام بھی خوف نہیں بلکہ معروضی حقائق کی بنیاد پر لازم ہے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی بھی سب سے بڑا جہاد ہے۔ قوم کی بیداری کیلئے مظلوم پنجاب کا اٹھنا بھی بہت ضروری ہے۔ بعض طالبان نما افراد سے منظور پشتون کو شکایت ہے لیکن جبتک قوم کے اپنے افراد فوج کیساتھ نہیں ہونگے تو دہشتگروں سے وہ مقابلہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کیلئے پہچان ممکن نہیں ہے۔