پوسٹ تلاش کریں

بقیہ :اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہترین ومستند ترین نمونہ

کراچی سے کانیگرم جنوبی وزیرستان تک علماء ومفتیان نے جو کردار ادا کیا اسکو تاریخ کے اوراق میں جگہ ملے یا نہ ملے اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے لیکن الحمد للہ ہے ہمارا کردار اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ثابت ہورہاہے۔ پہلے میرا بھی علماء کرام و مفتیان عظام سے محض عقیدت واحترام کا تعلق تھا، اب یہ تعلق محض رسمی حد تک نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوچکا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سابقہ مرکزی امیر مولانا عبدالکریمؒ بیرشریف لاڑکانہ ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمدؒ کندیاں میانوالی ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ گوجرانوالہ اور انکے صاحبزادے مولانا زاہدالراشدی کے علاوہ دیوبندی بریلوی اہلحدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ کے بڑے نامور علماء کرام و سرکاری افسران نے بڑی تعداد میں ہماری بھرپور طریقے سے زبردست حمایت کی ہے۔ جن میں سندھ کے چیف سیکرٹری فضل الرحمن،ایف آئی اے کے داریکٹر، آئی جی ڈی آئی جی سندھ اور دیگر ذمہ دار عہدوں پر فائز شامل ہیں۔ کسی بھی تحریک اور جماعت کو ایسے مختلف الخیال لوگوں کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں کھل کر ایسی حمایت کرنے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا ہے۔
ٹانک کے تمام مشہور علماء کرام مولانا فتح خانؒ ، مولانا عبدالرؤفؒ گل امام، مولانا عصام الدین محسود، جمعیت علماء اسلام (ف)مولانا غلام محمد ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا شیخ محمدشفیع ضلعی امیرجمعیت علماء اسلام(س)مولانا قاری محمد حسن شکوی خطیب گودام مسجد ٹانک و مہتمم مدرسہ شکئی جنوبی وزیرستان وغیرہ نے کھل کر ہماری حمایت کی مگرقاضی عبدالکریم کلاچی نے کھل کراور مولانا فضل الرحمن نے چھپ کر وار کیا۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے سب کے سامنے گھر پر آکر کہا تھا کہ ’’میں نے ہمیشہ حمایت کی ہے‘‘۔ حالانکہ جب ٹانک کے معروف علماء نے تحریر ی حمایت کا اعلان کیا اور تبلیغی جماعت نے انکے خلاف فضاء کو خراب کرنا شروع کردی توہم نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے تمام دیوبندی مکتبۂ فکر کا پروگرام رکھنے کی تجویز رکھی سب متفق ہوگئے مگر مولانا فضل الرحمن نے مولانا عصام الدین محسود سے کہا کہ یہ پروگرام نہ ہونے پائے۔ انہوں نے پوچھ لیا کہ کیوں؟، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’’پھر روتے ہوئے میرے پاس نہیں آنا ، میرے پاس کوئی جواب نہیں‘‘۔
مولانا عصام الدین محسود نے مجھے بتادیا ۔ میں خود مولانا فضل الرحمن کے پاس گیا ، پہلے اس نے بات ٹالنے کی کوشش کی اور پھر مدرسہ کے منتظم مولانا عطاء اللہ شاہ سے کہا کہ آپ شرکت کرلیں۔ مولانا فتح خان کو میں نے صورتحال سے آگاہ کیاتو یہ طے پایا کہ ٹانک کے علماء کے کھانے کا اہتمام مولانا عصام الدین محسودکے ذمہ لگانا ہوگا تاکہ مولانا فضل الرحمن کے دباؤ سے وہ کہیں غائب نہ ہوجائیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کی دعوت مولانا فتح خان کے ذمہ ہوگی۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئی بھی نہیں آسکا تھا لیکن ٹانک اور مضافات کے علماء کرام کی اچھی تعداد شریک ہوئی۔ میں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کردی تو مولانا فتح خان نے اٹھ کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میری داڑھی سفید ہوگئی ہے، عتیق میرے سامنے بچہ ہے لیکن اسکے علم نے میری آنکھوں سے پٹیاں کھول دی ہیں۔۔۔‘‘۔ مولاناعبدالرؤف مولانا غلام محمد اور دیگر نے بھرپور طریقے سے میرے حق میں تقریریں کردیں۔ جمعیت علماء اسلام کے ذمہ دار عہدوں پر مولانا فتح خان، مولانا عبدالرؤف، مولانا عصام الدین تھے۔
مولانا شرف الدین کی اس وقت کوئی حیثیت نہیں تھی تاہم اس نے اعتراض اٹھایا تھا کہ عہدے مانگنا جائز نہیں، تم خود خلیفہ بننا چاہتے ہو۔ میں نے جواب دیا کہ خلافت حلوے کی پلیٹ نہیں کہ کوئی فرد اس کو اٹھائے اور بھگا کرلے جائے۔ 20افراد مار دئیے جائیں تب 21واں شخص خلیفہ بن جائے تو یہ سستا سودا ہوگا۔ اورجہاں تک عہدہ مانگنے کی بات ہے تو جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو اللہ نے ہجرت کرنے اور اقتدار کو مددگار بنانے کی دعا کا حکم دیا۔ جب خلافت قائم نہ تو اس کا قیام ضروری ہے البتہ خلافت قائم ہوجائے تب عہدہ مانگنے کی ممانعت ہے ،الیکشن کے دور میں ووٹ مانگنے کیلئے جمعیت علماء اسلام کتنے پاپڑ بیلتی ہے اور حکومتوں میں شامل ہونے کیلئے اس کا رویہ کتنا انوکھا ہوتا ہے۔ اسلام کی رو سے اس طرح کی تنظیم سازی جائز بھی ہے یا یہ کسی اور کے اتباع کا شاخسانہ ہے؟۔ پھر مولانا شرف الدین نے کہا کہ آپ اپنے اخبار میں تائیدی بیانات دیتے ہو مخالفت والے شائع نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ میرا اخبار آپ کے مخالفانہ سوالات اور اعتراضات کیلئے ہی وقف ہے۔ آپ لکھیں ہم شائع کریں گے۔ اس نے کچھ دنوں کا وقت لیا مگر مہینوں پھر چھپتا رہا۔ آخر کار میں اسکے مدرسے تجوڑی میں پہنچ گیا ، بعد میں کسی سے کہا کہ خدا کیلئے میری جان چھڑائیں۔ پھر ہم نے کبیر پبلک اکیڈمی میں ایک پروگرام رکھ لیا۔ مولانا فتح خان ، مولانا عبد الرؤف ، مولانا عصام الدین اور مولانا غلام محمد وغیرہ نے بہت کھل کر جلسہ عام میں ہماری تحریک کی حمایت کی جس کو ہم نے اپنے اخبار ضرب حق میں شہ سرخیوں کیساتھ شائع کیا۔ لوگ علماء اور اکابرین کی حمایت سے مطمئن ہوتے ہیں مگر ہمارے حاسدین نے مخالفت میں شدت پیدا کردی۔
مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے ساتھیوں کیخلاف علماء کو بھڑکایا ، سپاہ صحابہ کے کارکنوں سے ہمارے ساتھیوں کی لڑائی ہوئی تو خلیفہ عبد القیوم نے بتایا کہ یہ پلان کسی اور کا تھا ہمارے کارکن استعمال ہوگئے۔ اسی دن مولانا فضل الرحمن ہمارا پچھلا اخبار لیکر ٹانک گئے اور جن علماء کی تقاریر شائع ہوئی تھیں ان پر دباؤ ڈالا۔ مولانا عبد الرؤف نے بتایا کہ میں نے مولانا کو کہا کہ ہم عتیق گیلانی کو جانتے بھی نہ تھے آپ نے متعارف کرایا، اب اس میں خامی کیا ہے ؟، اگر کوئی بات ہے تو آپ آرام سے بیٹھ جائیں ہم نمٹ لیں گے لیکن اگر کوئی بات نہیں تو خواہ مخواہ حسد کرنا درست نہیں ہے۔ پھر مولانا عبد الرؤف ضلعی امیر جمعیت علماء اسلام ٹانک نے اپنا زبردست تائیدی بیان قلم بند کرکے علامہ اقبال کا یہ شعر بھی لکھ دیا تھاکہ
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے
قاضی عبد الکریم کلاچی نے اپنے خط میں مولانا شیخ محمد شفیع کو لکھا تھا کہ آپ کی طرف سے عتیق گیلانی کی تحریری اور مجلس عام میں تقریری حمایت پر مجھے دکھ ہوا ہے، باقی (مولانا فضل الرحمن والے)تو ایسے ہیں کہ قادیانیوں کا بھی استقبال کرینگے۔ عتیق گیلانی پر گمراہی کا فتویٰ مہدی کی وجہ سے نہیں لگتا یہ تو کوئی بات نہیں بلکہ اہل تشیع کے کفر پر امت کا اجماع ہوچکا ہے یہ شخص اس اجماع کا منکر ہے اسلئے گمراہ ہے۔ مولانا عبد الرؤف کا بیان ضرب حق کی زینت بنا تھا جس میں قاضی عبد الکریم کو اپنی بھونڈی حرکتیں چھوڑنے کی تلقین کی گئی تھی۔ میں نے قاضی عبد الکریم کے جواب میں لکھا تھا کہ تمہارا فتویٰ سعودی عرب کے حکمرانوں پر بھی لگتا ہے اسلئے کہ غیر مسلم کا حرم میں داخلہ ممنوع ہے۔ جس کے بعد قاضی عبد الکریم نے مولانا عبد الرؤف سے معافی مانگ لی تھی کہ میں غلطی پر تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ہم نے جان بوجھ کر قاضی عبد الکریم کو عتیق گیلانی سے لڑایا تاکہ اس کے فتوے کند ہوجائیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے ہمارے گھر پر مولانا گل نواز محسود کے مجھ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’’میں نے اسکی کبھی مخالفت نہیں کی ہمیشہ اسکی حمایت کرتا ہوں۔ ‘‘ اہل تشیع، اہل حدیث،دیوبندی اور بریلوی علماء ومفتیان کی لمبی فہرست ہے جنہوں نے ہماری حمایت کی ہے لیکن درپردہ حسد کا مسئلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔

عدالتی فیصلہ عدالت کے منہ پر کالک….. اشرف میمن کا بیان

نوشتہ دیوار کے پبلشر اشرف میمن نے کہا پانامہ لیکس پرعدالتی بینچ نے عدلیہ ، وزیر اعظم اور عدلیہ سے توقعات رکھنے والوں کے منہ پر کالک ملی ہے۔ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے نظام مصطفی ﷺ کی ضرورت ہے۔ دو ججوں نے وزیر اعظم کو کرپٹ اور نا اہل قرار دیا، تو تین ججوں نے دو ماہ کیلئے ادھورا احرام پہنا کربڑا حاجی بنادیا ہے۔ عدالتی بنچ کوئی پانچ ٹانگوں والا گدھا یا فیصلے سے وزیر اعظم کو شیر کے بجائے گدھا بنادیا ؟ ، بالفرض تین جج نا اہلی کا فیصلہ کرتے تو ن لیگ کے رہنما فیصلے کو من و عن قبول کرتے؟۔ وزیر اعظم اور ن لیگی رہنما واضح طور پر کہتے ہیں کہ عوام نے منتخب کیا ،عوام ہی ہٹا سکتے ہیں، جسکامطلب ہے کہ چار جج بھی نا اہلی کا فیصلہ کرتے تو پانچویں ٹانگ کے زور پر وزیراعظم نے عدالتی فیصلہ نہیں ماننا تھا بلکہ پانچوں جج بھی فیصلہ کرتے توعدالیہ کو بھی گدھا قرار دیا جاتا کہ یہ خوامخواہ میں ڈھینچو ڈھنچو کررہاہے۔ فوج نے پہلے ڈان لیکس پرایکشن لیا مگر کیاڈھینچو ڈھنچو سے معصوم کو ڈرایا تھا؟لگے گا کہ فوج گدھی تھی جو ڈھنچو ڈھنچو کر رہی تھی،پہلے عاصمہ جہانگیر حکومت کو کہتی تھی کہ تم بہو بن کر رہو،ریٹائرڈ فوجی خود کو شوہر اور حکومت کو بیوی کہتے تھے۔ اب قوم کو کیا غرض ہے کہ ڈھینچو ڈھینچو گدھا کرے یا گدھی ؟عوام تماشہ دیکھ رہی ہے کہ ن لیگ نے ذو الفقار علی بھٹو کی غیر جمہوری برطرفی اور عدالتی فیصلے سے وزیر اعظم کی موت کو قبول تھا، بینظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کیا تو بھی عدالتی فیصلہ مان لیامگر اپنے خلاف عدالت پر چڑھائی کردی ، یوسف گیلانی کو برطرف کیا تو بھی نواز شریف نے خیر مقدم کیا، حالانکہ یوسف گیلانی نے بے اختیاری میں چھینک ماری تھی جبکہ پانامہ کے پاجامے نے جو دستیاب دست تھے ،سب اگل دئیے۔
سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، وزیر اعظم پارلیمنٹ میں شیر کی طرح دھاڑا ،قوم کے سامنے قطری شہزادے کے بغیر اپنے خون پسینے کی کمائی کا حساب دیامگر عدالت نے شیر کے پنجے توڑ دئیے تو پارلیمنٹ کے بیان کو ڈھینچو ڈھینچو کہنے میں عافیت ہے۔ شیر کے پنجے اور گدھے کی پچھلی دو لتی مضبوط ہوتے ہیں، خان عبد القیوم خان کی مسلم لیگ کا نشان بھی شیر تھا۔ پشتو والے اسکے بارے میں شعر کہا کرتے تھے
شیر دے ربڑ شیر دے چہ در بزہ نہ شی
ٹول پاکستان بہ پاکیزہ نہ شی
ترجمہ: تمہارا شیر ربڑ کا شیر ہے کہیں یہ پھٹ نہ جائے۔ توپھر پورا پاکستان سے صاف نہیں کیا جاسکے گا۔(مملکت خدادا واقعی گند سے بھرگئی)
وزیر اعظم نواز شریف کی کانگریس و جمعیت علماء ہند کے محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن سے دوستی ہوگئی ۔ امریکی دوست کی طرح یہ لوگ مشترکہ گدھے کے نشان پر انتخاب لڑیں ۔ جسکا بڑا فائدہ یہ ہے کہ ڈھینچو ڈھینچو کئے جاؤ ، زور دار ہوا بھی خارج کرو مگر کسی کی کوئی پرواہ نہ کرو۔ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں نے پہلی مرتبہ وزیر اعظم کو اس طرح سے نا اہل اور کرپٹ قرار دیا ہے مگر اسکے باوجود اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ جیسے خواجہ آصف نے عمران خان کیخلاف پارلیمنٹ میں تقریر کی کہ کوئی شرم بھی ہوتی ہے،کوئی حیاء بھی ہوتی ۔۔۔اخلاق کا بھی تقاضہ
شاعر ملت علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
پولیس اہلکار،سول وملٹری بیوروکریسی، عدالتی ججوں میڈیا بلیک میلروں، سیاستدانوں ، غریب و امیر طبقوں ، ڈاکٹروں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی طے کرچکے ہیں کہ اقبال کے سراغ زندگی کا مطلب یہ ہے کہ خوب بے غیرتی کیساتھ کرپشن کرو، اشتہارات میں خادم اعلیٰ شہبازشریف اور وزیراعظم نواز شریف قوم کیلئے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں،کرپشن کے عالمی الزام کے بعد عدالتی فیصلوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس یہی جینے کا مزہ ہے ،جہاں بس چلے حلال و حرام کی تمیز نہ کرو، پیسہ ہو تو عوام ووٹ دیتی اور گلو بٹ پنجاب پولیس جان لیتی ہے۔ عدالتی فیصلہ سیاسی ہے، مریم نواز کانام جی آئی ٹی میں نہیں۔ اللہ ہماری حالت ،عدالت، سیاست کو اسوقت بدلے گا جب ہم خود کو بدلنے کیلئے اٹھیں۔پانچ ججوں میں سے دو نے نا اہل قرار دیا ہے اور تین ججوں نے فیصلہ التوا میں ڈالا ہے۔ اگر پھر دو جج اہلیت اور بے گناہی کا فیصلہ کریں اور ایک جج درمیانی راہ اپنائے تو پھر؟۔ جیو پر ن لیگ کے رہنما نے کہا کہ 13 میں سے 8سوال میاں شریف اور 5حسین نواز سے ہیں جبکہ نواز شریف اور اسحق ڈار بیگناہ ہیں۔ حسین نوازنے میڈیا کے سامنے جھوٹ بولا تھا کہ قرض لیکر کاروبار شروع کیا، اور وزیر اعظم نے جو تقریر پارلیمنٹ یا اسکے علاوہ کہیں کی ہے تو اسکو استثنیٰ حاصل ہے۔ قوم حیران ہے کہ عدلیہ کے ترازو کو گدھے کی پانچویں ٹانگ سے تشبیہ دے یا پھر وزیر اعظم کیلئے سمجھے کہ وہ گدھے کی ٹانگ سے نہ صرف جمہوریت ، عدلیہ کو ہنکاتا ہے بلکہ ڈان لیکس میں پاک فوج کی بھی ایسی کی تیسی کرتا ہے
بھنور آنے کو ہے اے اہل کشتی نا خدا چل لیں
چٹانوں سے جو ٹکرائے وہ ساحل آشنا چن لیں
زمانہ کہہ رہا ہے میں نئی کروٹ بدلتا ہوں
انوکھی منزلیں ہیں کچھ نرالے رہنما چن لیں
اگر شمس و قمر کی روشنی پر کچھ اجارہ ہے
کسی بے درد ماتھے سے کوئی تار ضیاء چن لیں
یقیناًاب عوامی عدل کی زنجیر چھنکے گی
یہ بہتر ہے کہ مجرم خود ہی جرموں کی سزا چن لیں
(ساغر صدیقی)

امریکی عزائم اور سبھی کے جرائم… یہ نازک ملائم اور چابک بہائم

behzad-azam

inqalabi-ashaar-bande-ko-khuda-kia-likhna-syed-atiq-ur-rehman-gailani

inqalabi-ashaar-bande-ko-khuda-kia-likhna-syed-atiq-ur-rehman-gailani-1

inqalabi-ashaar-bande-ko-khuda-kia-likhna-syed-atiq-ur-rehman-gailani-2

masood_azhar_Shamzai

جب میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتا تھا، مدارس میں ان طلبہ کو باغی سمجھا جاتاتھا جو بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں شریک مولانا فضل الرحمن کو گمراہ نہ سمجھتے تھے۔ شریعت بل کی حمایت نہ کرنے پر حاجی محمد عثمانؒ نے جمعہ کے وعظ میں سخت لہجے سے کہا ’’ بڑے مفتی کے بیٹے نے شریعت بل کو نہ مانا تو اس کا نکاح کہاں باقی رہا؟‘‘۔ مریدوں کی چیخیں نکل گئیں اور میری بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی۔ موقع ملا تو میں نے اپنے مرشد حاجی عثمانؒ سے عرض کیا کہ مارشل لاء بذاتِ خود نظام ہے، شریعت بلوں سے نہیں نظام سے آئیگی تو انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی فرمایامیرے پاس علم نہیں۔ ریفرنڈم کے موقع پر خانقاہ میں جب میں علماء کے فتوے کی مخالفت کررہاتھا تو مجھ سے اپنے اساتذہ مرید علماء نے کہا کہ ’’حاجی عثمان آپ کو حلقہ ارادت سے خارج کردینگے‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’ایسا نہیں ہوگا، سیاست دارالافتاء کے مفتی اور خانقاہ کے صوفی کا کام نہیں‘‘۔جب کسی نے حاجی عثمانؒ کو ریفرنڈم کے فتوے کا پوچھا تو جواب دیا کہ ’’فتوؤں کو چھوڑ دو،تم 8سال سے آزماچکے ، اپنے ضمیر سے پوچھ لو، میرا دل نہیں مانتا کہ یہ شخص اسلام نافذ کریگا‘‘۔ جمعیت علماء اسلام کے مولانا شیرمحمدؒ کو میں نے بتایا تو خوش ہوگئے کہ علماء سے تو ایک صوفی زیادہ سمجھ دار ہے۔
جامعہ فاروقیہ میں مفتی نظام الدین شامزئی جمعیت (ف) میں تھے مفتی تقی عثمانی اپنے مرشد ڈاکٹر عبدالحی ؒ کو جنرل ضیاء کے بیٹے اعجازالحق کا نکاح پڑھانے لے گئے جسکی قادیانی جنرل رحیم کی بیٹی سے شادی تھی تو ہمارے اساتذہ نے مفتی تقی عثمانی کے اس روش پر افسوس کا اظہار کیا تھا، جب ڈاکٹر عبدالحیؒ کی میت کو دارالعلوم کراچی میں کندھا دینے جنرل ضیاء آیا تو میرا دل ہوا کہ کوئی پتھر،اینٹ یا کوئی مارنے کی چیز نظرآئے تو اٹھاکر ماردوں کوئی چیز نہیں ملی تو آنکھوں میں مٹی اٹھاکر پھینکنے کی طرف دھیان گیا مگر پھر سوچا کہ ڈاکٹر عبدالحیؒ کی میت کی بے حرمتی نہ ہوجائے ، البتہ جنرل ضیاء کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے گھورا تھا، پھر اسکی وجہ سے سب کو میت سے ہٹادیا گیا مگر میں نے اس کا فائدہ اٹھاکر دیر تک کندھا دیا، وردی والوں کے علاوہ صرف میں عام آدمی سادہ کپڑوں والا تھا۔ جب علماء ومفتیان نے ہمارے مرشد حاجی عثمانؒ پر فتویٰ لگایا تو میں افغانستان میں حرکۃ الجہاد الاسلامی کے مولانا خالد زبیر شہید کیساتھ جہاد میں تھا۔
پوچھ گچھ کی گئی کہ کیسے آنا ہوا، بتایا کہ جہاد کو جنت کا مختصر راستہ سمجھ کر خود ہی آیا ہوں، وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے سوا باقی سب امریکہ کے ایجنٹ ہیں، میں نے قبائلی علاقہ سے خلافت کی تجویز پیش کی ،مرشد حاجی عثمانؒ کا بتایا کہ ان کی بھی یہ خواہش ہے اور کراچی کے بڑے مدارس اور فوج کے بڑے افسروں کی بڑی تعداد انکے حلقہ عقیدت میں شامل ہے۔روسی توپوں کی بھرمار میں بے خوف مجاہدین کا مشاہدہ اپنی عملی شرکت سے کیا۔جب مولانا مسعود اظہرکو بتایاتھا کہ مولانا زرولی کو حاجی عثمانؒ پر تہمت لگانے کی وجہ سے ڈرا کر آیا ہوں تو خوش ہوکر کہا کہ مفتی زرولی خان نے مولانا یوسف لدھیانوی کیساتھ یہ کیاتھا، مگر پھرجب حاجی عثمان پرفتویٰ لگانے کے بعدمیں نے علماء ومفتیان کو سرمایہ داروں کا ایجنٹ کہا تو مولانا اظہر ان کا دفاع کرنے آیا وہ میرے مہربان، مجھ سے ہمدردی اور بڑی محبت بلکہ عقیدت تک رکھنے والی شخصیت تھی۔ اس نے کہا کہ حاجی عثمانؒ کے اپنے سندیافتہ پہنچے ہوئے افق کے چاند کیوں مخالف ہوگئے؟، میں نے کہا کہ شیطان سے زیادہ پہنچا ہوا کون ہوسکتاہے؟۔ بعض صحابہ بھی مرتد ہوگئے تھے، قاری شیر افضل خان نے کہا کہ ’’میں اتنا جانتا ہوں کہ جو شخص دارالافتاء کے سامنے مفتیوں کو سرمایہ داروں کا ایجنٹ کہہ رہا ہے ، یہ باطل پر نہیں ہوسکتا‘‘۔ مولانا مسعود اظہر نے بعد میں کہا کہ اس اعدایہ فیل کو چھوڑدو، پہلے لوگ رشک کرکے تمہاری طرف انگلیاں اٹھاکر کہتے تھے کہ ’’ یہ بھی طالب علم ہے۔ اب تمہارا حلیہ دیکھ کر طلبہ خوف کھاتے ہیں کہ حاجی عثمان کا مرید دندناتا پھررہاہے ، کہیں کسی کو پیٹ نہ ڈالے‘‘۔
کچھ دنوں بعد مولانا مسعود اظہر کوپتہ چلا کہ میں نے علماء ومفتیان سے حاجی عثمان کے مغالطے پر اکابرین کیخلاف فتویٰ لیکر پھانس لیا، جسکی فوٹو اسٹیٹ پریہ شعر نقل کیا کہ ’’ہم ضبط کی دہلیز سے اترے تو سمجھ لو پھر شہرِ پُر اَسرار میں تم چل نہ سکو گے‘‘۔ مولانا مسعود اظہر مجھ سے خفا خفا لگ رہے تھے، دور سے دیکھ کر کنی کترائی اور ملاقات کا موقع نہ دیا۔ پھر مولاناجہا د پر گئے تو مفتی رشیدلدھیانوی کی سرپرستی میں چلنے لگے، جامعہ بنوری ٹاؤن نے ان کا نام اپنے مدرس کی حیثیت سے خارج کردیا، مفتی رشید نے مولانا بنوری ؒ کو بھی ستایا تھا، جمعیت علماء اسلام پر فتویٰ لگانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، مولانا مسعود اظہرجب انڈیا کی جیل میں بند ہوئے تو مجھے بڑا دکھ پہنچا مگرجب مفتی رشید لدھیانویؒ پر نوازشریف کی حکومت نے ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو تہاڑ جیل سے ضربِ مؤمن میں مفتی رشید کیلئے مولانا مسعود اظہر کا رونا دھونا شائع ہوا۔ میرا ماتھا ٹھنکا کہ مجھے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں لکھنے کی اجازت نہیں تھی تو بھارت نے کیسے اجازت دی کہ مضمون لکھتے رہو؟ پھر مولانا مسعود اظہر کی ڈرامائی رہائی ہوئی، بارہ سرنگوں کی بات آئی کہ اسمیں ایک مولانا کے سائز کی بھی تھی تو میں نے اپنے اخبار ضرب حق میں لکھ دیا کہ ’’اس سائز کی ایک سرنگ سب کیلئے کافی نہ تھی‘‘۔ مولانا نے نئی جماعت کا اعلان کرتے ہی ہزاروں کی تعداد میں مجاہد ین شامل ہونے اور اسامہ بن لادن کی طرف چالیس ذاتی باڈی گارڈ قبول کرنے کا مژدہ بھی میڈیا کو سنایا تھا۔
میں نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ’’یہ امریکی سی آئی اے کی کوئی بڑی سازش ہوسکتی ہے‘‘۔ جیش کے سرپرست مفتی جمیل خان کا تعلق جنگ گروپ سے تھا، 9/11کے دن امریکہ سے وہ برطانیہ پہنچا توبرطانیہ نے واپس امریکہ کے حوالے کردیا، جس کوجلدہی چھوڑ دیا گیا،حامد میر جب اوصاف کا ایڈیٹر تھا تو اپنے اداریہ میں لکھا کہ ’’مفتی نظام الدین شامزئی نے کہا کہ بعض مجاہد ین رابطہ عالم اسلامی مکہ کے ذریعے واشنگٹن سے رقم لاکرعلماء کو خرید رہے ہیں، اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا بھانڈہ پھوڑ دونگا‘‘۔ ہم نے پرزور انداز میں آواز اٹھائی کہ ڈرو مت حق بتادو مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔ پرویز مشرف نے بہت لوگوں کو امریکہ کے حوالہ کرکے گوانتانا موبے بھیجا لیکن مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد بھی نہ بھیجا۔ ڈان لیکس کے بعد فوج اورحکومت کا ایکدوسرے پر کالعدم تنظیم کے حوالہ سے الزام کوئی خفیہ بات نہیں۔ جنرل (ر) امجد شعیب وغیرہ نے بھی مولانا مسعود اظہر کو انڈیا کی طرف سے الزامات لگانے کے بعد مشکوک قرار دیا تھا۔
مولانا مسعود اظہر پر مفتی رشید نے جہاد کے بجائے مال ودولت بنانے کا الزام لگایا توجواب میں مولانا اظہر نے کہا کہ ’’ اس نے ہمارے اکابر پر بھی فتوے لگائے تھے‘‘۔ مولانا اظہر پہلے سے مفتی رشید کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کردیتے تو اداکارہ نیلو اور ممتاز سے زیادہ مولانا اظہر کیساتھ یہ بات جچتی۔ مفتی محمودؒ کو اقبال کی شاعری بڑی اچھی لگتی تھی اور اقبال کو چاہتے بھی تھے لیکن مولانا حسین احمد مدنی کے خلاف اشعار کی وجہ سے کبھی اپنی تقریر میں علامہ کے اشعار نہیں پڑھے۔ اب یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ مولانا مسعود اظہر کو امریکہ بہانا بناکر حملہ کردے۔مجھے اس بات کا یقین ہے کہ مولانا اظہر مغالطہ کھا سکتے ہیں ، اپنوں کیلئے استعمال ہوسکتے ہیں مگر غیر کے ایجنٹ کبھی نہیں ہوسکتے۔ محلاتی سازشوں کاشکار ہونے سے پہلے مولانا مسعود اظہرنے طلاق کے مسئلہ پر حق کا ساتھ دیا تو بھارت میں ایک اصلاح پسند عالمِ دین کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند اور بریلوی کے تمام مدارس کو تین طلاق کی مصیبت سے آزاد کرسکتے ہیں، جس سے کشمیر کی آزادی بھی ممکن ہوگی۔ مسلم خواتین کو فتوؤں کے ذریعے عزت دری سے بچایا جائے تو اس سے بڑا جہاد اور اسلامی نظام کی خدمت نہیں ہوسکتی۔ محمد بن قاسمؒ نے ایک خاتون کی عزت کیلئے سندھ فتح کیا ۔ عتیق گیلانی

shan-mother-neelo

لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو(اطہر مسعود ، بانڈھ ،نیٹ سے)
اب تو خیر اچھے خاصے ’’مرد‘‘ بھی حکمرانوں کے اشارہ اَبرو پر رقص کرتے نہیں شرماتے اور کئی تو ایسے ہیں کہ کئی حکومتیں گزر گئیں ان کا پیشہ نہیں بدلا لیکن ایک وقت تھا کہ عورتیں اور وہ بھی ڈانسر‘ جنہیں ہمارے ہاں بڑی تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے‘ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود حکمرانوں کی محفلوں میں ناچنے سے انکار کردیتی تھیں۔جنرل ایوب خان کا اقتدار عروج پر تھا‘ شاید شاہ ایران کو خوش کرنے کیلئے محفل سجائی گئی۔ اس وقت کی نامور ایکٹریس اور ڈانسر نیلو کو بلایا گیا اس نے انکار کردیا جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا حبیب جالب نے لکھا
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
چار مصرعے تھے جو بعد میں فلم ’’زرقا‘‘ کا ٹائٹل سانگ بنے‘ گانا مہدی حسن نے گایا۔ فلم نے بزنس کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ریاض شاہد جن کی نیلو سے شادی ہوچکی تھی فلم کے ہدایتکار تھے۔ اس شادی کا ایک نشان آج کا ہیرو شان ہے جو ایک تقریب میں جنرل پرویزمشرف کے سامنے اس طرح رقص کررہا تھا کہ اس کی والدہ بھی کیا کرتی ہوں گی133.؟
ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایک ایسی ہی محفل لاڑکانہ میں سجائی۔ اس وقت کی خوبرو ترین اداکارہ ممتاز کی طلبی ہوئی‘ انکار پر تھانے لے جانے کی دھمکی دی گئی‘ جالب نے جو بھٹو کا معروف عاشق تھا لکھا
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو

mumtaz-actress

قصرِشاہی سے یہ حکم صادر ہوا ، لاڑکانے چلو ۔۔۔۔۔۔ورنہ تھانے چلو
اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو، گیت گانے چلو ۔۔۔۔۔۔ورنہ تھانے چلو
منتظر ہیں تمہارے شکاری ،وہاں کیف کا ہے سماں
اپنے جلوؤں سے محفل سجانے چلو، مسکرانے چلو ۔۔۔۔۔۔ورنہ تھانے چلو
حاکموں کو بہت تم پسند آئی ہو ،ذہن پر چھائی ہو
جسم کی لو سے شمعیں جلانے چلو، غم بھلانے چلو ۔۔۔۔۔۔ورنہ تھانے چلو

Habib-Jalib-Ashaar2

خانہ بدوش مولانا فضل الرحمن درباری مُلا بننے کے بعد

اللہ تعالیٰ نے سورۂ قریش میں دنیا کی معززترین عرب قوم قریش کو مخاطب کرتے ہوئے خانہ بدوش قرار دیا ، خانہ بدوشی عیب نہیں، اسلام و فطرت کے منافی بھی نہیں، غیرت و حمیت کی بھی خلاف نہیں البتہ قافلے میں بوڑھے، جوان، خواتین و حضرات اور بچے بچیوں کا چلنا مشقت ضرور ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اجداد بھی خانہ بدوش تھے۔ مسلمانوں کا عظیم اجتماع ’’حج‘‘ ہوتاہے جہاں لوگ دنیا بھر سے خاندان سمیت بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے Dچوک کی طرح تو خواتین کا مظاہرہ نہیں کرنا تھا ، ہمارے مرد حضرات خواتین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مخلوط نظام کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ جیو کی پالیسی نہیں ہوگی ورنہ سلیم صافی حج کا حوالہ دیکر مولاناکا قہقہہ رونے میں بدل سکتے تھے۔
اسلام میں خواتین کیساتھ زیادتی کے علاوہ قوم لوط کے غیر فطری عمل کو بھی بہت مذموم قرار دیا گیا ہے۔ مدارس کے نصاب میں شامل ’’مقاماتِ الحریری‘‘ میں لڑکے کیساتھ زیادتی پر بہت شرمناک سبق ہے جس میں جوزر علیہ شوزر ہے، جوزر لڑکے اور شوزر رومال کو کہتے ہیں ، یعنی وہ لڑکا جس پر رومال تھا۔ ابوزید اپنا حلیہ بدل کر اس پر دعویٰ کرتاہے کہ اس نے میرے لڑکے کو مارا تھا، قاضی کے سامنے گواہ پیش نہیں کرسکتا تو لڑکے سے اپنے الفاظ پر قسم کھلاتا ہے کہ پھڑکنے والے گال سے لیکر آنکھوں اور لبوں تک کی تعریف کرکے انتہائی بیہودگی کا یہ لفظ بھی کہتاہے کہ ’’میری دوات قلموں سے ایسی ہوجائے‘‘۔ جس پر لڑکا قسم سے انکار کرتا ہے اور وہ شخص ابوزید اس قاضی کے جذبات کو بھی مشتعل کردیتا ہے اور اس کو لڑکے سے برائی کی دعوت کا دھوکہ دیکر پیسے بٹورتاہے۔ پھر انکشاف کرتاہے کہ یہ لڑکا اس کا اپنا ہی بیٹاہے۔بنوری ٹاؤن میں اس کتاب کے ہمارے استاذ مفتی نعیم تھے۔ جب میرے ایک بھائی نے ایک مولوی کا کہا کہ ’’اس بے غیرت نے اپنے بیٹے کو استعمال کرنے کیلئے چھوڑ رکھاہے‘‘ تو مجھے اتنا غصہ آیا کہ میرا پروگرام بنا کہ رات کو بھائی کو قتل کردونگا، بھائی کو میری دل آزاری کا احساس ہوا، اور مجھ سے بڑی شدت سے معافی مانگی۔ بعد میں بھائی جے یو آئی میں شامل ہوا، پھر جب میں باقاعدہ مدارس میں پڑھنے لگا تو پتہ چلا کہ علماء میں اچھے برے ہوتے ہیں۔ میرے والد نے ایک نواب کی علاقہ عمائدین کی طرف سے تعریف پر کہا’’اس نے لڑکوں سے زیادتیاں کی ہیں کونسا اچھا کام کیاہے؟‘‘۔ اس نواب نے تبلیغی اجتماع کیلئے اس قسم کا اظہارِ خیال کیا تھا اور اب مولانا فضل الرحمن عمران خان سے سیاسی اختلاف کا اظہار ضرور کریں ، پہلے جمعیت کا شاعر امین گیلانی نوازشریف کیخلاف عابدہ حسین اور تہمینہ دولتانہ کا نام لیکر مولانافضل الرحمن کے جلسے میں عوام کو بھڑکاتاتھااسلئے کہ محترمہ بینظیر سے دوستی تھی، اب مولانا مریم نواز کا دفاع کرینگے جو سیاست کرنی ہو کریں لیکن اسلام کا نام بدنام نہ کریں،سب اپنے اپنے قماش کو درست کریں۔

امام مہدی کا کردار اور عصر حاضر کی احادیث

حدیث نمبر72۔ عنوان ’’خدا کی زمین تنگ ہوجائے گی‘‘۔ ترجمہ ’’ حضرت بوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں میری امت پر ان کے حاکموں کی جانب سے ایسے مصائب ٹوٹ پڑینگے کہ ان پر خدا کی زمین تنگ ہوجائیگی، اس وقت اللہ تعالیٰ میری اولاد میں سے ایک شخص( مہدی علیہ الرضوان) کو کھڑاکرینگے، جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دینگے جس طرح وہ پہلے ظلم وستم سے بھری ہوئی ہوگی، ان سے زمین والے بھی راضی ہونگے، آسمان والے بھی، انکے زمانہ میں زمین اپنی تمام پیداوار اُگل دے گی، وہ ان میں سات یاآٹھ یا نو سال رہیں گے‘‘درمنثور ج:6ص:58 عصر حاضر حدیث ۔۔۔ مولانا لدھیانویؒ
حدیث نمبر36’’ ارباب اقتدار کی غلط روش کے خلاف جہاد کے تین درجے‘‘
عن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ انہ تصیب اُمتی فی اخر زمان من سلطانھم شدائد لاینجو منہ الا رجل عرف دین اللہ فجاھد علیہ لسانہ ویدہ وقلبہ، فذٰلک الذی سبقت لہ السوابق ، ورجل عرف دین اللہ فصدّق بہ ، ورجل عرف دین اللہ فسکت علیہ ، فان رای من یعمل الخیر احبہ علیہ ،وان رای من یعمل بباطل ابغضہ علیہ ، فذٰلک ینجو علی ابطانہ کلہ ( رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، مشکوٰۃ شریف صفحہ 438) عصر حاضر صفحہ 43
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانے میں میری امت کو ارباب اقتدار کی جانب سے بہت سختیوں کا سامنا کرنا پڑیگا، ان سے کوئی نجات نہیں پائے گا مگر وہ شخص جس نے اللہ کادین پہچانا اورپھر اس کیلئے اپنی زبان،اپنے ہاتھ اور اپنے دل سے جدوجہد کی، یہ وہ شخص ہے جس کیلئے پہلے سے ہی پیش گوئیاں ہوچکی ہیں۔ اور وہ شخص جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اسکے ذریعے سے تصدیق کرنے کا اعلان بھی کیا، اور وہ شخص جس نے اللہ کا دین پہچانا اور پھر اس پر خاموشی اختیار کرلی، کسی کو اچھا عمل کرتے دیکھ لیا تو اس سے محبت رکھی اور کسی کو باطل عمل کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے دل میں بغض رکھا۔ یہ شخص اپنے معاملات کے چھپانے یعنی حق کا اظہار نہ کرنے کے باوجود بھی نجات پاگیا۔
جب حاجی عثمانؒ پر فتوے لگے تو کچھ لوگوں نے حقائق کو سمجھنے کے باوجود محبت و بغض کا معاملہ چھپائے رکھا، جس کی مثال مولانا یوسف لدھیانویؒ خود بھی تھے، کچھ لوگوں نے برملا ساتھ دیا ، پھر جب حاجی عثمانؒ کاوصال ہوا تو اللہ کے فضل سے سب سے پہلے ہم نے خلافت کی احیاء کیلئے اللہ کے دین کو پہچان کر جدوجہد کا آغاز کیا،وہ زبان، ہاتھ اور دل کے تمام مراحل طے کرلئے جس کی درج بالا حدیث میں پیشگوئی ہے۔ بہت سے لوگوں نے دین کی حقیقت کو پہچان کر ہماری کھل کر تائید فرمادی اور بہت سے لوگوں نے ہمارے اچھے عمل کو دیکھ کر ہم سے دل میں محبت رکھی اور مخالفین سے بغض رکھا۔ اس حقیقت کے بغیر دنیا میں ہم بڑے مشکلات کا شکار ہوتے۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہمیں ارباب اقتدار کی جانب سے مشکلات کا کوئی سامنا نہیں کرنا پڑا۔
جب دین کو پہچان کر اس کیلئے دنیا میں زبردست جدوجہد کی جائے تو اسلام کی خاصیت ہی ایسی ہے کہ دنیا میں ایسا نظام عدل وانصاف قائم ہوگا کہ جس سے آسمان اور زمین والے سب خوش ہونگے۔ ایران کا شیعہ اور افغانستان کا دیوبندی انقلاب اسلئے دنیا میں ناکام ہوئے کہ وہ اللہ کے دین اسلام کو پہچاننے سے خود بھی قاصر تھے۔ جمعیت علماء اسلام کا کارکن معراج کاکڑ ولد باز محمد خان کاکڑ کچلاک شہر بلوچستان اپنی جماعت سے اسلئے باغی بن گیا کہ جمعیت علماء قرآن وسنت کیلئے کوئی کام نہیں کرتی، اس نے رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا کہ پاکستان خراسان کی طرف سے امام مہدی کا ظہور ہوگا اسلئے کام کرو، حدیث کے مطابق وہ سیاہ جھنڈے لگارہا تھا تو لوگوں نے اس پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا۔ پھر اس نے جھنڈے پر چاند اور تارے بھی بنالئے۔ خواب میں نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’یہ کیا ہے؟۔ تو اس نے عذر پیش کردیا کہ لوگ شیعہ کی تہمت لگاتے ہیں‘‘۔ علماء اور صوفیاء نے امام مھدی کے حوالے سے اپنے اپنے حلقۂ ارادت کوبہت گمراہ کررکھا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنے استاذ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے حوالہ سے لکھ دیا کہ ’’ اب دنیا میں اصلاح کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوگی، مزید بگاڑ بڑھتا جائیگا، ایک امام مہدی کی شخصیت ایسی ہوگی کہ وہ اپنی بلند ترین روحانی قوت کے بل بوتے پر پوری دنیا کے حالات بدل سکیں گے‘‘۔ یہ صرف مولانا اشرف علی تھانوی اور شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کی بات نہیں بلکہ علماء وصوفیاء کی اکثریت کا یہی گمراہانہ عقیدہ ہے جسکی وجہ سے لوگ مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں سے زیادہ گمراہ ہیں ، کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر رسول اللہ ﷺ تک کوئی ایسی شخصیت نہیں آئی ہے جو اپنی روحانی قوت کی بنیاد پر ساری دنیا کے حالات کو بدل سکے ہوں۔
مھدی کے ذریعے سے دنیا کی حالات میں تبدیلی کی بڑی بنیاد کسی روحانی شخص کا ظہور نہیں ہوگا بلکہ زمانے کا عروج اور قرآن وسنت کے ذریعے دین کی پہچان اس انقلاب کا ذریعہ بنیں گے۔ بنی آدم انسان کو غلطی کا پتلا کہا جاتا ہے، حضرات انبیاءؑ تو معصوم ہوتے ہیں ، مہدی معصوم بھی نہیں ہوگا، بلکہ جس رات انقلاب آئے گا تو اسی رات کو اس کی اصلاح ہوجائے گی۔ جس طرح حدیث میں اس کی وضاحت ہے مگر اس کا بھی علماء نے غلط مفہوم بیان کیا ہے کہ ایک رات میں اس کو صلاحیت سے نوازا جائیگا، ایک حدیث میں آتا ہے کہ’’ میرے اہلبیت میں سے ایک شخص ضربیں لگائے گا یہاں تک کہ لوگ حق کی طرف آنے پر مجبور ہوں‘‘۔ ضرب لگانے میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو یہ خطاء کی دلیل ہے ،ضرب کی ضرورت نہ رہے توپھر اس کو اصلاح کرنے میں بھی حرج نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرون اولیٰ میں بھی مسلمانوں کو انتقام میں اعتدال سے ہٹنے کو منع فرمایا تھا تو آخری دور میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنے والے بھی اپنی ضربوں میں اعتدال سے ہٹ سکتے ہیں۔
پاکستان میں سیاست اور مذہب کو خدمت کے بجائے زیادہ تر خالص تجارت بنالیا گیاہے۔ خدمت پر لڑائی بھڑائی نہیں ہوسکتی ہے۔ مساجد ومدارس اور سیاسی اور مذہبی جماعتیں خدمت پر نہیں تجارت، شہرت، دادا گیری اور لیڈر شپ پر لڑرہی ہیں اور جب تک کوئی ایسی قیادت وجود میں نہ آئے کہ مذہب اور سیاست کو تجارت سے پاک کرکے خدمت کا جذبہ اجاگر کرے اسوقت تک گروہ بندیوں اور تنزل کا خاتمہ نہیں ہوسکتاہے۔ شریف خاندان کی عزت کا کچومر اتر گیا لیکن قیادت نہیں چھوڑ رہا ہے، یہی حال دوسروں کا بھی ہے۔پانامہ کے عدالتی فیصلے میں دو ججوں نے لکھا کہ وزیراعظم نااہل ہے۔ تین نے لکھا کہ اتنے عرصہ سے ہم جس کیس کو سن رہے تھے، یہ ہمارا اختیار ہی نہیں کہ وزیراعظم کی نااہلیت کافیصلہ کرسکیں ۔پھر جی آئی ٹی کے نام پر دھوکہ کیوں دے رہے ہیں؟۔ وزیراعظم نے ٹھیک کہا کہ عوام نے عدالتی برطرفی کیلئے منتخب نہیں کیا مگر یہ بات وہ دوسرے وزیراعظموں کیلئے بھی کرتے؟ عدلیہ وزیر اعظم کو باہرسے پیسہ لانے کا حکم دے باقی سارا معاملہ حل ہوجائیگا۔جنکا باہر پیسہ ہواور وہ پاکستان میں سیاست کریں تو انکی فیملی کا پیسہ یہاں ہوناچاہیے۔ عتیق گیلانی

مشال کا قتل یا بے گناہ شہادت کا معمہ کیسے حل ہو؟

اگر مشال خان مجرم تھا تو اس کی عبرتناک ہلاکت موم بتی جلانے والوں کیلئے عبرت ہے، کوئی مشعلِ راہ نہیں، اس نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں ارکان پارلیمنٹ کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ وزیراعظم قوم کے سامنے جھوٹی صفائی پیش کرے، کوئی ریاست کا قلع قمع کرنے کی بات کرے، کسی پر جس قسم کی بھی تنقید کی جائے تو کسی عدالت میں اس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتاہے۔ مسلم لیگ ن کے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ’’جب دوسروں کو ہم ایسے بیان پر غدار کہتے ہیں، الطاف حسین کو غدار کہتے ہیں تو اسی رویہ پر عمران خان کو غدار کیوں نہیں کہہ سکتے؟‘‘۔ جس پرتحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے میاں جاوید لطیف کومُکا کی سوغات رسید کردی۔ عمران خان نے کہا کہ’’ اگر میں ہوتا تو اس کو قتل کردیتا، پٹھان گولی کھا سکتاہے لیکن گالی برداشت نہیں کرسکتا ہے‘‘۔
مشال خان کے قتل پر سب سے مضبوط اسٹینڈ عمران خان نے لیا مگر پھر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جن سیاسی رہنماؤں کی برداشت کا یہ عالم ہو ،کہ غدار کہنے پر بھی قتل کرنے کی بات کرکے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں تو پھر اس قوم کے جوانوں میں یہ برداشت کہاں سے آئے گی کہ ’’رسول اللہ ﷺ کی توہین اور گالی کے مرتکب کو قانون کے حوالے کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرلیں؟‘‘۔ غدار کی گردان تو سیاستدان کا وظیفہ ہوتاہے ، مراد سعید کو میاں جاوید لطیف نے جو عمران خان کو اپنی بہنیں سپلائی کرنے کی گالی دی تھی تو میاں جاوید لطیف اور خواجہ سعد رفیق نے یہ گالی گواہی میں تبدیل کی کہ ’’ہم نہیں کہتے کہ جو کہاوہ سچ تھا یا جھوٹ؟مگر ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے‘‘۔ پھر حامد میر نے جیو پر مراد سعید کو لیگی رہنمادانیال عزیز کیساتھ بٹھا کرہنسی مذاق کا ماحول دکھایا تو دنیا نے دیکھ لیا کہ اس الزام کاکوئی سنجیدہ اثر نہ تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ پٹھان گالی برداشت نہیں کرتا ،باقی بہت کچھ برداشت کرتاہے۔
مشال مجرم تھا تو دیوث تھا اسلئے کہ ذاتی جذبے کو متأثر کرنابھی غلط ہے، ماں بہن کی گالی پر بھی اشتعال میں اقدامِ قتل کیا جائے تو مقتول کو معصوم کا درجہ نہیں ملتا۔ رسول اللہﷺ کی توہین کا حق کسی کو بھی نہیں دیا جاسکتا، کوئی بھی ایسی مہم جوئی فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہے جسکے غلط مقاصد ہوں۔ حق کا علمبردار قربانی سے مشعلِ راہ بنتاہے ،باطل اپنی دنیااور آخرت کی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اب سوال یہ نہیں کہ مشال مجرم تھا یا نہیں؟۔مجرم نہیں تھاتوبھی سزا تو اس کو ملی۔ سوال یہ ہے کہ جنہوں نے مجرم سمجھ کر قتل کیاوہ خود کو کیوں چھپا رہے ہیں، کیا ممتاز قادری ؒ جیسی عزت کے طلبگار خود کو چھپاکر عزت بناسکتے ہیں؟غازی علم الدین ؒ نے راجپال کو مارا، تو اقرارِ جرم سے انگریز کے سامنے بھی نہیں گھبرایا لیکن مردان کے مردِ میدان فخریہ ویڈیو بناکر کیوں خود کو چھپا رہے ہیں؟۔ ممتاز قادریؒ نے پنجابی ہوکر غیرت کا مظاہرہ کیا تو یہ پٹھان ہوکر کیوں غیرت کے تقاضوں پر عمل کیوں نہیں کرتے؟۔
مشال خان کے سوگوار والد اقبال خان اور بردبار خاندان ہمدردی کا لائق نہیں بلکہ بہت داد کا بھی قابل ہے جس نے جرأت وبہادری کی مثال قائم کردی، بیٹے کو بے گناہ قرار دیا، مجرموں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ اور عبدالولی خان یونیورسٹی کو اپنے بیٹے کے نام پر منسوب کرنے کی تجویز پیش کردی۔ بہادری کامظاہرہ ابوجہل کو بھی تاریخ میں امر کردیتاہے۔ جن والدین کے اچھے یا برے سپوتوں نے مشال کو قتل کرنے کے بعد بھی مسخ کرکے لاش کی بے حرمتی سے دریغ نہ کیا ، میرے بیٹے اس کا حصہ ہوتے اور مجھے انکے حلالی ہونے کا یقین ہوتا تو انکی اس بزدلی پر ہزاروں لعنت بھیجتاکہ بے یارومدد گار لاش کیساتھ بہیمانہ سلوک کے بعدچھپنے کا کیا جواز ہے؟۔ جس کو تم نے توہین رسالت کا مرتکب سمجھ کر قتل کیااور مرنے پر بھی جذبے کی تسکین نہیں ہورہی تھی ،ننگاکرکے لاش سے انتقام لیتے رہے تو اگر قانون تم کو معاف بھی کردے تو خود کشی کرکے عالمِ برزخ میں بھی اس کا پیچھا کرو، اسلام کی طرف سے خود کشی کے عدمِ جواز کا مسئلہ اسلئے نہیں کہ اسلام میں لاش کیساتھ بدسلوکی بھی جائز نہیں ۔ رسول اللہﷺ کے نام پر غیرت اچھی لگتی ہے، بے غیرتی نہیں۔
دنیا میںیہ پیغام پہنچا کہ الزام کی تحقیق کے بغیر رسول اللہﷺ کی توہین کے نام پر بے گناہ قتل ہوا، سرِ عام ویڈیو بنانیوالے تحفظ کے طلبگار ہیں تو مسلمان اور پٹھان کی غیرت پر بہت سوالات اٹھیں گے، یورپ وامریکہ کے عیسائی قانون میں ویسے بھی قتل کا بدلہ قتل نہیں۔ چیف جسٹس نے طیبہ تشدد کیس میں بھی تشدد کرنیوالی جج کی اہلیہ سے سوال تک نہیں پوچھا بلکہ طیبہ کو لاوارث بچوں کے مرکز میں داخل کردیا۔ قبائل میں ابھی تک 40ایف سی آر کا قانون ختم نہیں۔پشتون قوم اسلام اور غیرت کی بہت بڑی علمبردار ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ کر امریکہ کے حوالے کرنیوالے بے غیرت ریاستی اہلکاروں نے بھی اسلام کا سہارا لیا،قومیں غیرت سے زندہ رہتی ہیں ۔ اگر ریمنڈ ڈیوس کو اکرام وانعام دیکر رخصت کیا جاتا کہ ہمارے لاہور، ملتان، کراچی اور کوئٹہ وپشاور سے لوگ اغواء ہوجاتے ہیں تم نے شجاعت کی مثال قائم کردی تو ہمارا قومی وقار بلند ہوجاتا لیکن صداقت، شجاعت اور عدالت نام کی کوئی چیز ہمارے بے غیرتوں کے پاس نہیں ورنہ ہم دنیا میں کب سے امامت کے منصب پر بیٹھ جاتے؟۔
قبائلی علاقہ میں طالبان نے اسلام کو تو زندہ نہیں کیا بلکہ پختون کی غیرت کو بھی تباہ کردیا، اب لویہ جرگہ کے ذریعے مشال خان کے والد اور قاتلوں کے وارثین یہ تاریخی فیصلہ کردیں کہ قاتل ، قتل کی سازش کرنیوالے، اشتعال دلانے والے سب کو کٹہرے میں کھڑا کرکے ورثاء خود ہی گولی مارنے کیلئے اقدام کریں اور اگر والد کی طرف سے معافی مل جائے تودیت یا بلامعاوضہ معاف کر دیا جائے،اس سے دنیا میں اسلام ، پٹھان، پاکستان اور انسان کی طرف سے فطرت کیمطابق پیغام جائیگا۔ امریکہ نے افغانستان میں بڑا بم گرا نے کے بعد پاک فوج کو پراکسی جنگ ختم کرکے جو سفارتی طریقہ اختیار کرنے کا پیغام دیا جسکی پاک فوج نے تردید کی ، اسکے بعد حالات گھمبیر سے گھمبیر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، قوم کے اندر بڑے اعلیٰ پیمانے کے اخلاقیات اور اقدار کے بغیر کوئی ریاست کچھ بھی نہیں کرسکتی ہے۔
مشال خان کے قتل کو مخصوص چینل سازش نہ قرار دیتے تو عمران خان نے بھی اس کو سازش نہیں قراردینا تھا، اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت کے بعد نوازشریف و مریم نواز کو مذمت کا خیال آگیا، توہین رسالت کیلئے قربانی دینے والے مزید جرأت کا مظاہرہ کرتے تو نمازِ جنازہ پڑھانے کی بھی نوبت نہ آتی اور نمازجنازہ پڑھانیوالا طبقہ ماردیا جاتا تو پولیس اور فوج بھی اپنے ہیڈکواٹروں میں دبک جاتی۔ یزید نہیں طالبان کے دور میں بھی لوگوں نے مظالم کے آگے بے بسی کا مظاہرہ دیکھا، فضل اللہ اور حکیم اللہ نے بہت کچھ ریاستی سرپرستی میں کیا تھا ۔جھوٹ کی سیاست و صحافت قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ امریکہ افغانستان میں آیا تو ان میں منافقت کے بیج بودئیے اور ہماری طرف رخ ہوا تو ہماری ریاست مرغا بن کرہی انکے سامنے کھڑی ہوجائیگی۔ مسلم قوم کو دنیا کی لالچ اور موت کے خوف نے بزدل بنادیاہے، اعلیٰ اخلاقی اقدار کیلئے بکبک کرکے بکنے والے بے غیرت صحافی کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔اسلام اور قومی مفاد کا نام لینا جوک بن گیا۔

عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ کی کتاب پر بعنوان عرض ناشر مولانا جلال پوری لکھتے ہیں’’ رسالہ ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں ‘‘ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کی اسی افادیت کے پیشِ نظر اُسے ۱۴۰۵ھ میں کتابی شکل میں شائع کیا گیا ، جسے اللہ تعالیٰ نے بے حد مقبولیت سے نوازا، اور بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں شائع اور تقسیم ہوا۔اب جبکہ کمپیوٹر کمپوزنگ کا دور ہے تو احباب کا اصرار ہواکہ۔۔۔
*عربی متن پر اعراب لگاکر ۔۔۔* اب ترجمہ کا لفظ بڑھایا گیا۔ ۔۔۔*سابقہ ایڈیشنوں میں جہاں کہیں عربی یا اردو کی کتابت کی اغلاط تھیں۔۔۔ * احادیث کے متن کو اصل سے ملاکر اس کی تصحیح کردی گئی ہے۔۔۔ *احادیث کے نمبرات کو واضح کرنے کیلئے ان کو چوکٹے میں واضح کردیا گیا ہے۔
اگرچہ ناقص کا ہر کام ناقص ہوتاہے ، تاہم بہتر سے بہتر کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو امت کی راہ نمائی اور ہماری اصلاح کا ذریعہ بنائے آمین ۔خاکپائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ سعید احمد جلال پوری ۲۰/۲/۱۴۲۵ ھ
’’پیش لفظ‘‘ کے عنوان سے مولانا یوسف لدھیانویؒ کا مقدمہ قابلِ غور ہے۔
دورِ حاضر کو سائنسی اور مادی اعتبار سے لاکھ ترقی یافتہ کہہ لیجئے لیکن اخلاقی اقدار روحانی بصیرت، ایمانی جوہر کی پامالی کے لحاظ سے یہ انسانیت کا بدترین دورِ انحطاط ہے۔ مکر وفن، دغا وفریب، شر وفساد، لہو ولعب، کفر ونفاق اور بے مروّتی ودنائت کا جو طوفان ہمارے گرد وپیش برپا ہے، اس نے سفینۂ انسانیت کیلئے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔ خلیفۂ ارضی (بنی نوع انسان) کی فتنہ سامانیوں سے زمین لرز رہی ہے اور بحر و بر ، جبل و دشت اور وحوش و طیور ’’ الامان والحفیظ!‘‘ کی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے،اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں، لمحہ بہ لمحہ اس جاں بلب مریض کی حالت متغیر ہوتی جارہی ہے، یہ دیکھ کر اہلِ بصیرت کایہ احساس قوی ہوتا جارہاہے کہ شاید اس عالم کی بساط لپیٹ دینے کا وقت زیادہ دور نہیں۔ ذیل میں احادیث نبویہ ( علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام) سے ایک آئینہ پیش کیا جارہا ہے جس میں دورِ حاضر کے تمام خدو خال نظر آتے ہیں اور علماء ، خطباء ، حکام اور عوام سبھی کے قابلِ اصلاح اُمور کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، اس کی جمع وترتیب سے مقصود کسی خاص طبقہ کی تنقیص نہیں، لالچ صرف یہ ہے کہ ہم اس شفاف آئینہ میں اپنا رخِ کرداردیکھ کر اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔
یہ سلسلہ ماہنامہ بینات میں شروع کیاگیاتھا، اورمندرجہ بالا ابتدائیہ بھی اس کی قسطِ اوّل میں آیاتھا۔ ۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ اسے قبول فرمائے اور تمام فتنوں سے امت کی حفاظت فرمائے ۔ واللہ ولی التوفیق محمدیوسف لدھیانوی۱۵/۱۰/۱۴۰۵ھ
1: ہلاکت کا خطرہ کب؟۔ عن زینب بنت جحشؓ قالت۔۔۔ قیل : انھلک و فینا الصالحون ؟، قال : نعم اذا کثر الخبث ’’ حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا : کیا ہم ایسی حالت میں بھی ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں؟۔ فرمایا: ہاں جب خباثت کی کثرت ہوجائے ۔ بخاری ج۲، ۱۰۴۶۔ مسلم ج۲، ۳۸۸
عصر حاضر کی یہ پہلی حدیث ہے۔ جب جمعیت علماء اسلام کے اکابرین پر مفتی رشید احمد لدھیانوی، مفتی محمد شفیع، مولانا سلیم اللہ خان وغیرہ نے کفر والحاد کا فتوی لگایا تھا تو علامہ یوسف بنوریؒ نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ یہ1970ء کی بات تھی۔ پھر حاجی عثمانؒ پر علماء ومفتیان نے جب فتویٰ لگادیا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ حاجی عثمان کوئی اچھے انسان ہونگے ، پیسہ کھاکر یہ فتویٰ لگایا ہوگا جیسے70میں کیا تھا۔ جب میں نے علماء ومفتیان سے ایسا فتویٰ لیا ہے جس میں وہ حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت عبدالقادر جیلانیؒ ، علامہ یوسف بنوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ پر کفر والحاد اور قادیانیت کے فتوے لگاکر پھنس رہے تھے تومولانا فضل محمد نے کہا کہ مفتی رشید نے علامہ یوسف بنوریؒ کو بہت ستایا تھا، حدیث قدسی ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے میرے ولی کو اذیت دی ، میرا اس کیساتھ اعلانِ جنگ ہے۔اب مفتی رشید احمد لدھیانوی اس کی سزا بھگت رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے کہا تھا کہ’’ دنبے کو آپ نے لٹادیا، چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے ، اس کو ذبح کردینا، اگر ٹانگیں ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے‘‘علماء ومفتیان جمعیت کے رہنماؤں سے بھیک مانگ رہے تھے کہ ’’ ہم پھنسے ہیں ، کسی طرح سے ہمیں بچاؤ‘‘۔مفتی رشید لدھیانوی کے جانشین مفتی عبدالرحیم کی وہ تحریراور فتویٰ ان لوگوں کیلئے وبال جان اور عذاب بن کر رہ گیا تھا۔
ہفت روزہ تکبیر کراچی کو انہوں نے خود مہیا کیا تھا جس پر ثروت جمال اصمعی نے لکھاکہ ’’یہ فتویٰ حاجی عثمان کے خاص مرید سید عتیق الرحمن گیلانی نے لیا، جنکے اس قسم کے عقائد ہوں تو حکومت کو اس پرپابندی لگانی چاہیے‘‘۔ مگر علماء اپنے دام میں صیاد کی طرح پھنس گئے تو مفتی تقی عثمانی نے اپنے ذمہ معاملہ لیا، مفتی تقی عثمانی نے حاجی عثمانؒ کے وکیل کی طرف سے نوٹس کے جواب میں لکھا کہ ’’ہم نے نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا‘‘۔ پھر تکبیر کراچی نے لکھا کہ ’’ اگرعلماء کی طرف سے کوئی بے احتیاطی ہوئی ہے تو غلط بیانی کے بجائے اعتراف میں عزت ہے‘‘۔ ہم چاہتے تو عوام میں ان کو بہت خراب کرسکتے تھے لیکن ہمارا طرزِ عمل پھر بھی ادب واحترام اور بہت پردہ پوشی والا ہی رہا ۔ حاجی عثمانؒ نے ثبوت دیا کہ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ورنہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی چاہت بھی تھی کہ انکی عزت خراب ہوجائے۔
پھر ایک شخص نے مختلف الفاظ میں مفتیان سے الگ الگ فتویٰ لیا ، جس میں وہ حاجی عثمانؒ کے مریداور ہونے والے داماد کو شریعت کا پابند بتاتے ہوئے نکاح کے جواز اور منعقد ہونے کا فتویٰ پوچھ رہا تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا کہ ’’نکاح بہرحال جائز ہے، جو فتویٰ منسوب ہے، وہ درست نہیں تو فتویٰ نہیں لگتا‘‘۔ اسرار، مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی ولی حسن ٹونکی کے دستخط تھے۔ دارالعلوم کراچی سے نکاح منعقد ہونے کا لفظ پوچھا گیا تو فتویٰ لکھ دیا کہ ’’نکاح منعقد ہوجائیگامگر بہتر یہ ہے کہ علماء نے جو فتویٰ لگایا ہے، انکے حالات سے آگاہ کیا جائے‘‘۔ مفتی رشید لدھیانوی کی دارالافتاء نے نکاح کے ناجائز ہونے کا فتویٰ لگادیا۔ پھر تینوں فتوؤں کے بعد مفتی رشید لدھیانوی کے شاگرد نے ایک ہی قلم سے سوال وجواب فتویٰ لکھا کہ ’’ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟، عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا‘‘۔ پھر مجذوب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے بھی دستخط کردئیے، مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی نے لکھ دیا کہ ’’نکاح جائز نہیں، گومنعقد ہوجائے‘‘۔ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ فاروقیہ میں تھے تو حاجی عثمانؒ کے حق میں فتویٰ دیا اوربنوری ٹاؤن آئے تو دارالعلوم دیوبند انڈیا کی طرف سے ہمارے حق میں اور علماء ومفتیان کی مخالفت آئی تو مفتی شامزئی نے کہا کہ ’’ابھی میں نیا نیا آیا ہوں اسلئے رسک نہیں لے سکتا ہوں‘‘۔ مفتی رشید کی خباثت کا طوطی بول رہا تھاتو امت کے اکابر اور پھر عوام کی ہلاکت کا جو سلسلہ شروع ہوا، اسے عصر حاضر کی پہلی حدیث کی روشنی میں دیکھ لیجئے۔ قیوم آباد کے قریب محمودآباد کے ایک مولانا نے بتایا کہ ’’امریکی کونصلیٹ کا ملازم اور مفتی رشید کا مرید کہتاہے کہ مفتی رشید کیلئے جو گناہ کئے، اللہ مجھے معاف نہیں کریگا‘‘۔