پوسٹ تلاش کریں

پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے لوگ تنگ تھے تحریک انصاف کا حکومت میں‌آنا قدرت کا کرشمہ ہے: اجمل ملک

tehreek-e-insaf-hamid-mir-mma-mullah-military-alliance-imran-khan-maulana-fazal-ur-rehman-election-1985-boycott-taliban-nawaz-sharif-zardari-bailout-prime-minister-house

ایڈیٹر نوشتۂ دیوارمحمد اجمل ملک نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اچھے کی امید رکھنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت اثرو رسوخ اور بھاری بھرکم پیسوں سے نتائج برآمد کرے یا مقتدر قوت مرضی کا نتیجہ۔ بہر حال ڈگری ڈگری ہے جعلی ہو یااصلی کی طرح جمہوری نظام بھی جمہوری نظام ہے۔ بدمعاشی ہویا پیسوں سے یا مقتدر قوت کے اشاروں پر، عوام بڑی مشکل سے ووٹ کیلئے نکلتے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔1985ء کاالیکشن ہوا تو سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالا، تاکہ سیاسی جماعتوں سے جان چھوٹ جائے۔ محمد خان جونیجو کو قائدجمہوریت کہا گیا، پھر جنرل ضیاء کو جلن ہوئی، حکومت ختم کردی، جنرل ضیاء کے پرخچے اُڑ گئے تو جمہوریت بحال ہوگئی ۔ 1988سے 2018 تک پیپلزپارٹی، ن لیگ نے باریاں لگائیں۔ عوام نے MMA کو ووٹ دیا۔ پیپلز پارٹی دو لخت تھی، مولانا فضل الرحمن کو ظفر جمالی نے ایک ووٹ سے ہرایا۔ ن لیگ ، عمران خان نے MMAکو ووٹ دیا مگر ملٹری ملا الائنس مشہورہوا۔حامد میربھولا مگر بھارتی صحافی کویادہے ۔ MMA ٹوٹ گئی ، مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد پر خود کش حملے ہوئے۔ عمران خان پھر بھی طالبان کیساتھ رہا۔ حامد میر بھارتی صحافی کو بتاتا کہ عمران خان اکیلا طالبان کا حامی نہ تھا، نواز شریف بھی شامل تھا۔ زرداری کی حکومت آئی تو مولانا فضل الرحمن نے ڈولفن کی طرح اس میں چھلانگ لگائی۔ ن لیگ اور پی ٹی آئی کو دہشتگردوں نے 2013کے الیکشن میں کھلی چھوٹ دی ۔ ن لیگ حکومت میں مولانا فضل الرحمن نے پھر چھلانگ لگا دی ۔ حکومتوں کا مزا لیا،جمہوریت کو چلنے دیں، جمہوری نظام کے نام پر خاندانی بادشاہت کو انجام تک پہنچے پراللہ کی قدرت خوش ہوگی۔ عمران خان کے اصول بے نقاب ہوگئے ۔پہلی تقریر کرتا کہ’’ اکثریت نہیں،اپوزیشن کرونگا، دوبارہ الیکشن کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘ تو عزت بچتی۔ نواز شریف کی طرح قرضہ لیا تو جمہوریت کی آخری اُمید بھی عالمی سازش کا حصہ ہوگی۔خبریہ ہے کہ بڑا قرضہ ملے گا اور امریکہ نے اب بیل آؤٹ کا طعنہ بھی پاکستان کو دیا ہے ۔ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ کا عہدہ اہمیت نہیں رکھتابلکہ قومی خدمت ضروری ہے۔اگر تانگے مانگے سے سادہ اکثریت حاصل ہو جائے تو کوئی ترمیم نہ لائی جاسکے گی۔ محسن جگنو کا وزیراعلیٰ پنجاب اور محسن داوڑ کا وزیراعظم بننے کے بعد یہ معمہ حل ہوجائیگا کہ سرائیکی صوبہ بن جائے۔ گورنرہاؤس، وزیراعلیٰ ہاوس، وزیر اعظم ہاوس اور باقی تمام اداروں کے بڑوں کے اخراجات کو کم کیا جائے۔زرعی زمینین کاشت کرنیوالوں کو محنت اور کمائی کیلئے دی جائیں تو روس و چین بھی اسلامی نظام کے قریب آ جائیں گے۔

دو گھنٹے میں شاہ محمود قریشی کا نتیجہ آیا جبکہ دوسرے اور تیسرے دن بھی گنتی کا سلسلہ جاری رہا. اشرف میمن

shah-mehmood-qureshi-dawn-news-noon-league-pti-zardari-sohail-warraich-mazhar-abbas-the-party-is-over-imran-khan-wusatullah-khan-mubashir-zaidi-hamid-saeed-kazmi-amir-liaquat-bol-news-altaf-ahmed

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہا پچھلی بار ہوا کارُخ ن لیگ کا تھا موسمی پرندوں نے الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کو چھوڑ ا، ن لیگ میں شامل ہوگئے۔ زرداری کیخلاف میڈیا نے ہوا بنائی ۔ مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب ’’دی پارٹی از اوار‘‘ میں کہا کہ ’’الیکشن سے پہلے دھاندلی میں فضا ایسی بنائی جاتی ہے کہ رُخ کسی کی طرف ہو، جیو اور باقی چینلوں میں یہ فرق ہے کہ ہم سچ یا جھوٹ کہنے پر مجبور نہیں، ہم دیکھ لیتے ہیں تب اپنی مرضی سے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہتے ہیں۔ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، ابھی بڑاسفر باقی ہے، یہ جمہوریت کی جیت ہے کہ الیکشن کے ذریعے مقتدر طبقہ کسی کو اقتدار دینے پر مجبور ہوا، کتاب کے نام سے کہانی کا پتہ چلتاہے، نوازشریف کو ناقابل برداشت سمجھا گیا، کل عمران خان بھی ناقابلِ برداشت ہوسکتے ہیں‘‘۔ ڈان نیوز پر ’’ ذرا ہٹ کے‘‘ میں بتایا ’’ ظفراللہ جمالی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کو ایک ووٹ سے ہرایا گیا۔ پانچ آزادمزید ارکان آئے تو اُن سے کہاگیا کہ بس آپ کی ضرورت نہیں، جمالی کو زیادہ ووٹ مل گئے تو ہاتھ سے نکل جائیگا‘‘۔وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی صحافت میں بڑے معتبر نام ہیں۔جیو، ڈان و دیگر چینل اور صحافیوں کو اللہ سلامت رکھے۔ یہ بڑی نعمت ، احسان اور غنیمت ہیں عوام کا شعور بڑھا رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ نے سب سے بڑی سرخی لگائی ’’حامد سعید کاظمی نے کرپشن کا اعتراف کرلیا‘‘ کرپشن کا اعتراف کیا تھا؟ ۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں جن دستاویزی ثبوتوں کا دعویٰ کیا،درست تھے؟۔ ایک ایسا پروگرام صحافی حضرات پوری قوم کے سامنے رکھیں کہ عوام کا شعور بڑھے اور عوام کا صحافت ریاست ، عدالت اور سیاست پر اعتماد بحال ہو ۔ مظہر عباس اچھے صحافی ہیں جو لکیرکے ایک طرف ہیں، ڈاکٹر عامر لیاقت دوسری طرف ہیں۔ عامر لیاقت ڈاکٹر نہیں،جھوٹ کا کریڈٹ جیو کو جاتا ہے۔ عامر لیاقت نے اعتراف کیا کہ ’’ بول نیوز نے جھوٹ کہلوایا ، دل آزاری پر معذرت چاہتا ہوں‘‘۔ حامد سعید کاظمی پر اعتراف جرم کو جس انداز میں پھیلایا گیا تھا،کیا یہ جیو، جنگ کی غلط فہمی ہوسکتی تھی؟ ، نوازشریف کی طرف سے پارلیمنٹ کے بیان کو جیو، جنگ نے اس انداز میں پیش کیا جو اسکا حق تھا؟۔ صحافت کا یہ طریقہ واردات قوم کے مفاد میں ہے؟۔ یہ قابلِ فخر ہے؟۔ یہ غلط فہمی کا ہی نتیجہ ہے؟۔ ذاتی ، مالی اور دوستانہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی مہم جوئی قوم، ملک ، سلطنت اور صحافت کا مفاد نہیں ہوسکتا ۔ جیو دونوں قسم کی مہم جوئی پر عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہوگی۔وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی بتائیں کہ جو معیار آپ لوگ دوسروں کے بارے میں رکھتے ہیں ،کیا اپنے بارے میں بھی سوچا ہے؟۔ قومی اسمبلی کے ممبر وں کا غائب ہونا نظر کیوں نہ آیا؟۔ جمالی ایک ووٹ سے جیتا اور مولانا فضل الرحمن ایک ووٹ سے ہارا تھا ،یہ 5 ارکان کون تھے؟، کہاں گئے اور کس کو ووٹ ڈالا؟۔ایک ووٹ سے ہار جیت کا مسئلہ تھا اور 5آزاد ارکان پارلیمنٹ ایسے بے وقعت ہوئے تو ان کا نام گینزا بک ریکارڈ میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ خلائی مخلوق تو نظر نہیں آتی مگر یہ تو آج بھی دریافت ہوسکتے ہیں، سوشل میڈیا اور بے پر کی باتیں اُڑانیوالے اعترافِ جرم کے مرتکب ڈاکٹر عامر، سزایافتہ ڈاکٹر شاہد مسعود بیڈ صحافیوں کی فہرست میں لکیر کی دوسری جانب ہیں مگر وسعت اللہ خان ، مظہر عباس تو گڈ صحافیوں میں سرِ فہرست ہیں۔اعتراف جرم یا سزا ہونی چاہیے؟۔ جیوکی مہم جوئی سے اسٹیبلشمنٹ کے ہمدردوں کا رخ بھی ری ایکشن میں بدل گیا۔ صحافت میں وکالت کا کریڈت جیو جنگ کو جاتا ہے۔ ری ایکشن میں ARY نیوز اچھا ہوا کہ ن لیگ کی اپوزیشن میں آئی۔ جیو جنگ مہم جوئی کرتے کہ نوازشریف پارلیمنٹ میں جھوٹ پر مجبور نہ تھا اور قطری خط کھلا فراڈ ہے تو کوئی ن لیگ کیخلاف کھڑا نہ ہوتا۔جنگ جیو جھوٹی مہم جوئی نہ کرتے کہ حامد کاظمی نے اعتراف کیا تو دوسروں کو مہم جوئی کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ پاؤں کی انگلی کانوں کو لگاکر معافی مانگی جاسکتی تو بھی دریغ نہ کریں۔ن لیگ کی مخالفت اور پی ٹی آئی کی حمایت میں فضا کے رُخ بدلنے میں جیو جنگ کی بے شرمی سے مہم جوئی کا وطیرہ بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔ صحافت کپڑے اتارکر شیشے میں شفاف طریقے سے بے شرمی کا مظاہرہ نہ کرتی تو صحافت کا ماحول ردِ عمل میں اتنا گھٹیا اور گھناؤنا نہ ہوتا۔ ن لیگ کی حکومت تھی۔ صحافت نے حکمرانوں کی غلطیوں کو اجاگر کرنا ہے ، حکمرانوں کے حق میں مہم جوئی کرنا بہت ہی غلط ہے۔جیو اور جنگ نے پیپلزپارٹی کیخلاف غلط مہم جوئی کی اور جمہوریت کو سخت نقصان پہنچایا، ن لیگ کے حق میں جب غلط مہم جوئی کی تو جمہوریت کو اور زیادہ نقصان پہنچا یاہے۔ اسکے شاگرد اس روش پر چل کر مزید کیا گل کھلائیں گے؟۔اسٹیبلشمنٹ جبر ہے مگر عوام کی مجبوری بھی ہے۔ عوام طالبان،ایم اکیوایم اوردیگر سیاسی پارٹیوں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ف ، جماعت اسلامی اور جس کسی کو تھوڑا اختیار دیتے ہیں توانکے آمرانہ شکنجوں میں پھنستے ہیں، پھر اسٹیبلشمنٹ ہی عوام کی جان کو عذاب سے چھڑا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف احمد معقول انسان لگتے ہیں، ہر سوال کا جواب خوش اسلوبی سے دیا، ہمارا بھی ایک سوال ہے جو شاید کسی نے نہ کیا کہ ٹھیک ہے سسٹم نے کام نہیں کیا جس کی وجہ سے نتائج کا اعلان بعد میں کرنا پڑا۔ یہ بتادیں کہ گنتی تسلسل سے جاری تھی؟۔ گنتی تو ہوچکی تھی اور پولِنگ ایجنٹوں کو نتیجہ دیا گیا تھا، جس سے کامیاب اور ناکام افراد کو اپنا پتہ چلتا۔ کامیاب امیدواروں نے خرچہ کیا، اہتمام کیا مگران کو اپنی کامیابی کی خبر کچھ انداز سے ملی کہ مسلسل گنتی جاری رہی اور ڈیلیوری کا آپریشن دیر تک چلتا رہا، اتنی دیر میں مرغی شطرمرغ کا انڈہ دے سکتی تھی، اگر الیکشن کمیشن کا قصور نہیں تو سوال کا جواب دے۔ مارشل لاء دور میں ریفرینڈ م پر بھی سوالات اٹھتے تھے۔

shah-mehmood-qureshi-dawn-news-noon-league-pti-zardari-sohail-warraich-mazhar-abbas-the-party-is-over-imran-khan-wusatullah-khan-mubashir-zaidi-hamid-saeed-kazmi-amir-liaquat-bol-news-altaf-ahmed-2

مولانا فضل الرحمن کا بیٹا ممبر قومی اسمبلی، ایک بھائی سینیٹر، دوسرا ممبر صوبائی اسمبلی، تیسرا بھائی الیکشن کا کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان سے امیدوار ہے

muttahida-majlis-e-amal-maulana-fazal-ur-rehman-sirajul-haq-allama-sajid-mir-sajid-naqvi-owais-noorani-siddiqui-kulachi-khan-muhammad-sherani-mehmood-khan-achakzai

ٹانک ( شاہ وزیر سرحدی)جمعیت علماء اسلام کے سابق سرگرم کارکن، مرکزی شوریٰ کے رکن اور ضلعی عہدیدار پیر نثار احمد شاہ نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل قائدین کو اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کا موقع دیا ہے۔ ہمارا بڑا مسئلہ فرقہ واریت ہے، بریلوی، دیوبندی، شیعہ اہلحدیث اور جماعت اسلامی سب اتحاد کا حصہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمن، علامہ ساجد میر، علامہ ساجد نقوی، مولانا اویس نورانی اور سراج الحق کو چاہیے کہ ایک ملک گیر تبلیغی دورے کا آغاز کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے جمہوریت کی بہت خدمت کرلی لیکن دین کی خدمت کیلئے اب تک فراغت اور موقع نہیں مل سکاہے اور دیگر جماعتوں نے بھی اسمبلیوں کے اندر اور اسمبلیوں کے باہر کردار ادا کرلیا۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو پتہ ہے کہ دوبارہ الیکشن میں وہ زیادہ خسارے میں ہونگے، وہ صرف جمہوریت ہی کیلئے آواز اٹھارہے ہیں مگر جمہوریت ، سیاست اور اقتدار کا کھیل چلتاہی رہے گا۔ ملتے جلتے منشور، کردار، ذہنیت، خواہشات اور عزائم رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا ہردور میں دُم چھلہ بن کر رہنا بھی کوئی زندگی ہے؟۔ کیا اس سے دنیاو آخرت کو ٹھیک کرنے میں پیش رفت ہوسکتی ہے؟۔ بہت کچھ کرکے دیکھ لیا۔ صرف آخرت کی فکر باقی رہ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی عمر بھی اب بہت ہوگئی ہے، بیٹا بھی قومی اسمبلی میں پہنچ گیا ہے، ایک بھائی سینٹر، دوسرا صوبائی اسمبلی کا ممبر اور تیسرا بھائی بھی امیدوار تھامگر اکرام اللہ خان گنڈہ پور کی شہادت سے الیکشن ملتوی ہوگئے۔سیاست میں خاندان کے اتنے سارے افراد کا کردار بہت ہے، جانشینی کیلئے بیٹا بھی سیاسی فرض ادا کرتا رہے گا۔ بھائیوں نے بھی ہرسطح پر ایک جگہ پائی ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن نے اب خود کو اسلام کی تبلیغ اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے وقف کیا تو ایک زبردست اسلامی انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ مولانامحمد خان شیرانی نے پہلے جمہوری سیاست کو خیرباد کہنے پر راضی کیا تھا اور اس مرتبہ الیکشن میں حصہ بھی نہیں لیاہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی ناک کٹانے کیلئے ہی اسکے صاحبزادے کو بھی جتوایا گیا ہو۔ باشعور لوگوں میں مولوی کا کردار بادشاہوں اور نوابوں والا بھی بہت معیوب ہے ۔محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں جمعیت والوں کو دھاندلی سے جتوایا ہے تو سیٹ سے دستبردار ہوکر محمود اچکزئی کو جمہوریت کی بحالی کیلئے قیادت سونپ دیں۔ انکے بھائی اور رشتہ داروں نے بھی بہت سیاسی فائدے جمہوری نظام سے اٹھائے ہیں۔ مجید اچکزئی کبھی ناکام نہیں ہوا مگر غریب پولیس اہلکار کو شہید کرنے کے بعد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو اسکی رہائی پر پھول نچھاور کرنا یتیموں کے زخم پر نمک پاشی تھی۔ نوازشریف کے قافلے میں جس ڈرائیور نے بچے کو قتل کیا جس کو ن لیگ اپنا پہلا شہید کہہ رہے تھے،اسکے ڈرائیور کا ریاست نے پتہ نہ چلایا۔مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، علامہ ساجد میر ، علامہ ساجد نقوی اور مولانا اویس مشترکہ تبلیغی دورہ تشکیل دیتے ہوئے اس قوم کی وہ خدمت کرسکتے ہیں جو پارلیمنٹ، اقتدار، پولیس اور فوج کی طاقت سے ممکن نہیں۔ لوگوں کو صرف اپنی شکلوں کی زیارت نہ کروائے بلکہ فرقہ واریت کے اہم مسائل کو اجاگر کرکے ان کا حل بھی پیش کریں۔ جہری نمازوں میں کسی وقت بسم اللہ کو جہر سے پڑھنے پر پابندی تھی لیکن اب کوئی ایسی بات نہیں ، درسِ نظامی کا تعلیمی نصاب بھی درست کریں اور نمازوں میں بسم اللہ بھی جہر سے پڑھنا شروع کریں۔ قومی ایکشن پلان پر اربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔اہل تشیع واہلحدیث سے زیادہ حنفی مسلک میں طلاق کے بعد باہمی رضامندی سے حلالہ کے بغیر رجوع کا مسئلہ واضح ہے اور اسکے ڈھیر سارے دلائل قرآنی آیات میں موجود ہیں۔آخری پیغمبرحضرت محمدﷺ پر نازل قرآن مسائل کا بہترین حل ہے۔ سورۂ مجادلہ میں نبیﷺ نے ظہار کا مسئلہ ایک خاتون کو بتایا مگروحی خاتون کے حق میں نازل ہوئی ۔ کیا مفتیان کرام کیلئے یہ مشعل راہ نہیں کہ اپنی رائے پر قرآن کو ترجیح دیں اورکیا کوئی امام نبیﷺ سے خود کو بڑا کہہ سکتا ہے؟۔ بدری قیدیوں پر فدیہ کے مسئلے پر بظاہر آیت نبیﷺ اور اکثریت کی رائے کے خلاف نازل ہوئی تو کیا جمہور اور اسکے قائدین بھی یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ بھی غلطی پر ہوسکتے ہیں۔ ایک نابینا صحابی عبداللہ بن مکتومؓ کی آمد نبی کریمﷺ پر ناگوار گزری تو قرآن نازل ہوا۔ کیا ہم بھی اپنے رویوں میں نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور قرآنی آیات کے عملی نمونے برداشت کرنے کو تیار ہوسکتے ہیں؟۔
اہلسنت کے چھ کلمے کس نے بنائے؟ ۔ علماء کو پتہ نہیں اور عوام کو رٹانے میں الجھائے رکھا۔غسل، وضواور نمازکے فرائض اور واجبا ت بعد کی ایجاد اور ان پر اختلافات ہیں جنکا صحابہؓ کے دورمیں وجود نہ تھا۔ شیعہ کلمہ وآذان میں حضرت علیؓ کے حوالے سے اضافہ کرتے ہیں یہ انکے اپنے اصولوں کے منافی ہے۔ ایک ایسا متعصب طبقہ بھی ہے جسکے سامنے کہا جائے کہ اللہ کا وجود تو محض ایک افواہ ہے اصل میں تو حضرت علیؓ ہی خدا اور عرش پر بیٹھا ہے تو بھی ان کی تمنا ہوگی کہ اس سے بڑا مقام دینا چاہیے، سب شیعہ ایسے نہیں، اگر انکے سامنے بات رکھی جائے کہ شیعہ اصولوں کا تقاضہ ہے کہ کلمہ وآذان میں حضرت علیؓ کے بعد امام حسنؓ کا نام لیا جاتا، پھر امام حسینؓ کا ، اسی طرح بارہ امام کا اپنے اپنے دور میں کلمہ پڑھا جاتا اور آذان میں نام لیا جاتا تو درست ہوتا لیکن موجودہ دور کے امام کو چھوڑ کر حضرت علیؓ کا نام لینا شیعہ اصولوں کے منافی ہے۔ حقائق تک رسائی کی تعلیم دی جائے تو پھر شیعہ سنی کی مرضی ہے کہ نماز میں جہری بسم اللہ اور کلمہ وآذان میں اسلامی تعلیمات کے مطابق چلتے ہیں یا نہیں لیکن تعصبات کے غبارے سے ہوا بالکل ہی نکل جائے گی۔

پاکستان اور اسلام لازم وملزوم مگر ایک مظلوم ایک محروم

mirza-ghulam-ahmad-qadiani-allama-iqbal-imam-mehdi-tablighi-jamaat-isi-cia-afghan-jihad-gulbadin-hikmatyar-shakil-afridi-molana-masood-azhar-manzoor-pashtoon-molana-tariq-jameel-jannat-ki-hoor

پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، اسلام اس کی بقاہے اور اسلام کے بغیر یہ فنا ہے لیکن جس اسلام کے نام پر یہ بنا ہے جو ایمان اس کی روح ہے جو دین اسلام اس کا ڈھانچہ ہے ،وہ بھی معدوم ہے اسلئے پاکستان مظلوم اور اسلام محروم ہے۔
انتخابات ہورہے ہیں لیکن اسکا نتیجہ کیا نکلے گا؟۔ کوئی جماعت کامیاب ہوگی اور کسی شخصیت کو وزیراعظم بنایا جائیگا۔ کسی تفریح گاہ میں مسافروں کا گھوڑے پر سواری کی طرح باری باری اسٹیبلشمنٹ کے گودی بچے تھوڑی دیر کیلئے بادشاہت کا مزہ چکھ لیتے ہیں اور پھر دھاندلی دھاندلی کا شور اٹھتا ہے۔ 70سالوں سے نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ چل رہاہے۔ پاکستان مظلومیت کی آخری حدوں کو چھور ہاہے اور اسلام اجنبیت سے محرومیت کی آخری حدوں کو چھورہاہے۔ انگریز نے نبوت کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلئے سپورٹ کیا تھا کہ اس نے جہادکی منسوخی کا اعلان کررکھا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے اشعار میں کہا کہ’’ مجذوبِ فرنگی نے بہ اندازِ فرنگی مہدی کے تصور کو اس ملک میں بدنام کردیا ہے‘‘۔ کسی طبقے نے کہا کہ’’ تبلیغی جماعت نے جہاد کیخلاف عملی اور ذہنی طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کے ناکام مشن کو کامیابی سے ہم کنار کردیا‘‘۔ دہشتگردوں کا سلسلہ شروع ہوا تو تبلیغی جماعت اس کی سب سے بڑی پناہ گاہ تھی۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے سودی نظام کو اسلامی بینکاری کے نام سے جواز بخشا ہے۔
آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے نے مجاہدین پالے تھے اور جہاد کی دنیا میں گلبدین حکمتیار کا بہت بڑا نام تھا۔ آج افغانستان میں گلبدین حکمتیار امریکی افواج کی گود میں بیٹھ گیا۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کے بارے میں پرویز مشرف الگ الگ رائے رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے مانگا تو ایک عورت زاد بھی پرویز مشرف نے حوالہ کردی ، حالانکہ شکیل آفریدی کی طرح ایک پاکستانی کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا تھا۔ وہ بھی بچوں کی ماں ایک خاتون۔ امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بجائے مولانا مسعود اظہر و حافظ سعید کو مانگا ہوتا تو بھی پرویزمشرف نے خوشی خوشی ان کو حوالہ کردینا تھا لیکن شاید امریکہ نے پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دینے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔
سودی نظام بھی مشرف بہ اسلام ہوگیا اور سود کی مد میں ادا کی جانے والی رقم دفاع کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے ہر شاخ پر اُلّو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ پاکستان قرضوں میں دب گیا اور اسلام کو سودی نظام نے رگڑ کر رکھ دیا ہے۔ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور۔پاکستان کو کرپٹ فوجی جرنیلوں، بیوروکریٹوں، ججوں اور سیاستدانوں نے کھالیا ہے۔ اس کے ڈھانچے پر اب بھی گدھ منڈلارہے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عوام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اسلام اپنے بیٹے شیخ الاسلام کے باپ کا نام تھا جوکب کا مرچکا ہے۔ اسلام، ملک اور جمہوریت کے نام پر دھوکہ ہی دھوکہ ہے ، ایک تماشا لگا ہوا ہے جس میں جو اپنا منہ میٹھا کرلیتا ہے اس کو تماشا گاہ اچھا لگتا ہے اور جسکے ہاتھ کچھ نہیں آتا وہ چیختا چلّاتا ہے کہ لُٹ گئے، پِٹ گئے، مرگئے، غرق ہوگئے اور ظلم ہی ظلم ہے۔
منظور پشتین PTMکا قائد ہے، اللہ نہ کرے کہ وہ مشکلات کا شکار ہوں۔ اچھا خطیب ہے، اپنی قوم کا درد رکھتا ہے، بہادر ہے، اس کا نظریہ اسلام،پاکستان اور پختونوں کا بہترین اثاثہ ہے۔ اس کی للکار میں جان اور ایمان ہے۔ عوام کی عدالت میں سب سے آسان کام ان کی منہ پر ان کی تعریف کرکے دوسروں کے خلاف جذبات کو ابھارنا ہے۔ جب طالبان اور علماء ومفتیان امریکہ پر لعن طعن کرکے اسلامی غیرت کو ابھارتے تھے تو’’ ہرگھر سے طالب نکلے گا تم کتنے طالب ماروگے‘‘ ۔ پھر’’ افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر ہر خودکش ہے چمکتا ہوا تارا‘‘ سے امریکہ کا نقصان کیا یا نہیں کیا مگر اپنی قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ۔ داعش کی طرف سے ایک نئی جنگ کا محاذ کھلنے والا ہے ۔ مولانا طارق جمیل حوروں کا جو نقشہ پیش کرتا ہے کہ 70لباس ہونگے، اس میں دھڑکتا ہوا محبت سے بھرپور دل مچلتا نظر آتا ہے، ایک سے دوسرا لباس اتارتے اتارتے اس کی خوبصورتی میں بے انتہاء اضافہ ہوجاتا ہے۔جنسی جذبات کوبھرپور طریقے سے بھڑکایاجاتا ہے جوانسان اپنے ضمیر،ایمان، انسانیت اور اقدار کو پامال کرتے ہوئے جبری جنسی تشدد اور بچیوں کو مارنے تک سے باز نہیں آتا،اگر اسکے سامنے حوروں کایہ نقشہ پیش کیا جائے تو وہ اس تک پہنچنے کیلئے خود کش کرنے سے کبھی گریز نہ کریگا۔
جب تین بار اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی رہنے والا نوازشریف کہتاہو کہ انگریز نکل گیا مگر مٹھی بھر فوجیوں نے ہمیں دبوچ کررکھا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی کھلے عام اسٹیبلشمنٹ کیخلاف شکایت کررہا ہو، مشہورمیڈیا کے چینل میں بیٹھے معروف صحافی بھی اپنی جان پر کھیل کر فوج کے خلاف اپنا بیانیہ پیش کررہے ہوں تو فوج کیلئے اسکے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے صحافیوں میں زید حامد، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے لوگوں کا سہارا لیں۔داعش نے وار کیا تو اس کی روک تھام کیلئے سب سے مضبوط اور آہنی دیوار PTMہی کی ہوسکتی ہے۔ علاقہ گومل کا ایک نامی گرامی بدمعاش عطاء اللہ نے طالبان کا حملہ کئی بار اپنے گھر پر ناکام بنایا مگر ملازئی میں سیکورٹی فورس کے 40جوان ایک طالب کو نہیں مارسکے۔ 39کو موقع پر ذبح کردیا گیا اور ایک نے بھاگ کر جان بچائی تھی۔ فارس وروم کی سپر طاقتوں نے اسلامی جہاد کے جذبے کا سامنا نہ کیا تو ایک ایسی فوج جسکے سپاہی غربت کے مارے جان پر کھیل کر نوکری کررہے ہوں کہاں سے خود کش حملہ آوروں کے سامنے جان کی بازی لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟۔ جو لوگ نیٹوافواج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں ان کا رخ جب ہماری طرف ہوگا تو اسلامی جذبے سے ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ۔ ہمارے پاس اسلام کے نام کے سوا کچھ نہیں ، معیشت، معاشرت، سیاست،سول و ملٹری بیوروکریسی، بہت غلیظ قسم کا عدالتی نظام اور طبقاتی ولسانی تفریق اور بس۔
منظور پشتین اپنی قوم سے مخاطب ہوتا کہ طالبان کی تحریک آئی تو تم نے والہانہ انداز میں قربانیاں نہیں دیں بلکہ اپنی قوم کو تباہ وبرباد کیا، پاکستانی ریاست نے تمہارے جذبات کا خیال رکھا مگر تم نے امریکہ کے بجائے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اگر اس وقت اپنے چوروں اور ڈکیتوں کو ، لوفروں اور لونڈوں کو جذباتیوں اور خیراتیوں کو کنٹرول کرتے تو ہماری ریاست بھی مشکلات کا شکار نہ ہوتی اور تم بھی دربدر نہ ہوتے تو قوم اسکی تلخ بات بھی سن لیتی اور ان میں شعور بھی اجاگر ہوتا۔ اسلام آباد دھرنے میں قوم بھاگ کھڑی ہوئی اور منظور پشتین کو حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہ تھا۔ ہم نے شامِ غریباں کی کیفیت سے دوچار پست حوصلے میں جو روح پھونکی اسکی گونج آج انکے جلسوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ہم ظاہری وباطنی اور اندورنی وبیرونی ایجنٹوں پر لاکھوں لعنت بھیج کر ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ اسلام کو زندہ کئے بغیر پاکستان کو ماں کاکوئی لعل نہیں بچاسکتا۔ اسلام کو کسی نے نہیں علماء ومفتیان نے تباہ کیا ہے اور وہی اسلام کو بچا بھی سکتے ہیں۔

نیب اور عدلیہ کے قانون میں تضاد کی وجہ سے نوازوں کو نوازا جاسکتا ہے

nab-hazrat-umar-judiciary-of-pakistan-imam-abu-hanifa-model-town-incident-rao-anwar-qatari-khat-mashal-khan

نوشتۂ دیوارپرنٹنگ کے مہتمم عبدالکریم نے کہا ہے کہ نیب اور عدلیہ کے قوانین کا فرق سب کو معلوم ہے۔ نیب میں ذرائع آمدن سے زاید اثاثے کا مطلب چوری ہے۔ عدلیہ میں چوری کے ٹھوس ثبوت ہی کے ذریعے سزا ہوسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قانون یہ تھا کہ عورت کوشوہر کے بغیر حمل ہوجائے تو یہ زنا ہے اور اس پر حد ہوگی ۔ باقی اماموں جمہور کے برعکس امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک حمل سے حد جاری نہیں ہوگی۔ حضرت عمرؓ ودیگر جمہور کا قانون نیب والا تھا اور امام ابوحنیفہ کا مسلک عدلیہ والاتھا۔ مخالف کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن نے بھی نوازشریف کو بہت رقم دی تھی تو اس سے بھی لندن کے فلیٹ اسوقت خریدسکتے تھے۔ ماڈل ٹاؤن پر کسی کو سزا نہیں ہوئی ۔ راؤ انوار ضمانت پر رہا ہوگیا، مشال خان کو قتل کرنے والے رہا ہوگئے تو نوازشریف اور مریم نواز کو بھی اگر الیکشن کے بعدرہائی دینی ہے تو الیکشن سے پہلے دیدینی چاہیے تاکہ یہ تأثر زائل ہوجائے کہ عمران خان کیلئے میدان صاف کرنے کے نام پر ایک ڈراما رچایا گیا ہے۔ نوازشریف کو چاہیے کہ کھلے عام کہہ دے کہ اسامہ کا نام لے نہیں سکتا تھا اسلئے قطری خط کا سہارا لیاتھا اور آصف علی زرداری کو 11سال جیل کی سزا کھلائی ، اب میں یہی سزا خود بھی بھگت رہا ہوں اور معافی کی اپیل بھی نہیں کرونگا تاکہ اخلاقیات کا سبق قوم کو میرے ذریعہ ملے۔ مریم نواز کو رہا کرو تاکہ وزیراعظم بن جائے پھر اسٹیبلشمنٹ کی غلامی کرونگا اور ہم نے اس ملک میں ہی رہنا ہے۔

آرمی چیف نے نقیب اللہ محسود کے جرم میں راؤ انوار کو سزا کی دہائی دی مگر راؤ انوار کی ضمانت ہوگئی

naqeebullah-mehsud-rao-anwar-daish-qamar-javed-bajwa-siraj-raisani-imran-khan-bilawal-bhutto-shahbaz-sharif

مدیر مسؤل نوشتۂ دیوار نادرشاہ نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی ریاست ہر لحاظ سے مستحکم ہو، جمہوریت مضبوط ہو، انسانیت کا راج ہو، عدل وانصاف قائم ہو اور دنیا میں پاکستان عالمی اسلامی خلافت کی بنیاد بن جائے۔ دنیا بھر کا ریاستی اور عدالتی نظام اپنا اعتماد کھورہاہے۔ داعش کا ایجنڈہ خلافت کا قیام ہے جو اسلامی فریضہ ہے۔ اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نقیب محسود شہید کے والد سے تعزیت میں راؤ انوار کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کریں اور پھروہ ڈرامائی انداز میں نمودار ہوکر پیش ہوں۔ عدالت سے ضمانت مل جائے ۔ سزا کے امکانات ختم ہوجائیں تو کیا نقیب محسود کا بچہ بھی داعش سے تربیت حاصل کرکے پولیس سے انتقام لے گا؟۔ پولیس ماڈل ٹاؤن لاہور میں کھلے عام قتل کرے لیکن وزیراعلیٰ پر دہشت گردی کا مقدمہ نہ بنے اور ایک شخص نوازشریف کو جوتا مارے اس پر ساتھیوں سمیت دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جائیں؟۔ عالمی قوتیں ملکوں کو تباہ کرکے دہشتگردی کی راہیں ہموار کررہی ہیں اور ہماری ریاست بھی نا انصافی میں بے بسی کی مثال بن کر شدت پسندوں کیلئے راہ ہموار کرتی ہے۔ سندھ پنجاب،بلوچستان،خیبرپختونخواہ کا مسئلہ نہیں بلکہ غریب کی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے کا مسئلہ ہے۔ سیاسی عدم مساوات کا مسئلہ ہے، ظلم وجبر اور بے توقیری کا مسئلہ ہے، ریاست کا غلط ہاتھوں میں جانے کا مسئلہ ہے۔ جمہوری شخصیات بے اوقات ہیں۔ مذہب کوبلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ قابل لوگوں کی بے قدری ہے۔چرب زبانی ہی سیاست ہے۔ایمان،تنظیم،اتحادکا فقدان ہے۔کتنے وہ بے بس ہیں جو اندھیرنگری کی موت مرتے ہیں، کتنے دھماکوں میں لقمہ اجل بنتے ہیں؟۔ اہل اقتدار کو ہوش ہے کہ نہیں؟ یایہ بھی خاندانی منصوبہ بندی کامنظم پروگرام ہے ؟۔
شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کی تقاریر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس ملک کیلئے اتنی ہی قربانی ہم دے رہے ہیں جتنی کوئی اور دے رہاہے۔ جب پاکستان کا جھنڈا کوئی نہیں لگاسکتا تھا تو ہم نے گھروں پر لگایا سینے پر گولی کھانے کی قیمت پر ہم نے 14اگست کے جلوس مستونگ اور نوشکی وغیرہ میں نکالے جہاں کبھی یہ جلوس نہ نکلے تھے۔ مگر پھر بھی میرے بڑے بھائی کے سینے پر لگے ہوئے پاکستانی بیج کو چھین کر نکالا گیا، ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آپ ہمیں کہاں دھکیلنا چاہتے ہو؟۔ سراج رئیسانی کی یہ تقریر حیران کن ہے۔ اس پر کوئی تحقیق ہوگی اور مجرم اپنے انجام کو پہنچ سکے گا؟۔ اگر سراج رئیسانی نے منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا تو بھی تحقیق لازمی ہے اور اگر ان کو ناجائز تنگ کیا گیا ہے، تب بھی اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
150سے 220افراد کی شہادت کا واقعہ بہت دلخراش ہے۔ اس سے زیادہ خراب اور گھناؤنی بات یہ ہے کہ ہمارا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سراج رئیسانی کے جنازہ پر پہنچ گئے تو عمران خان اور شہبازشریف کو بھی تعزیت یاد آگئی ۔ وہ بھی پہنچ گئے حالانکہ اس بڑے سانحہ کے بعد بھی عمران خان نے اسلام آباد میں سیاسی تقریر کی اور واقعہ پر افسوس کا اظہار تک بھی نہیں کیا۔ آرمی چیف کو پتہ ہوتاکہ ہمارے بے غیرت سیاستدان ہارون بلور کے جنازے پر بھی نہیں پہنچیں گے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہاں پر بھی جنازے میں پہنچ جاتے۔ آرمی چیف کی تعزیت کے بعد ہی بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہارون بلور کی تعزیت یاد آگئی تھی۔ عوام الناس نے گھاس نہیں کھائی ہے۔ معاملے کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ شہبازشریف نے اپنی ساکھ بحال رکھنے کی مجبوری سے ائرپورٹ جانے کا ڈرامہ رچایا ، جیب کے پیسوں سے پھول نچاور کرنے کا اہتمام کیا تھاورنہ کینٹ کے راستے ویسے بھی ائیرپورٹ جانا ممکن نہیں تھا۔ وہ مریم نواز کا استقبال کرکے اپنی خاندانی اقدار ملیامیٹ کرنے کے حق میں بھی نہ ہوگا مگر دوسروں کی عزتیں اچھالنے اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا انجام اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دکھاتا ہے۔یہ وقت کی بڑی سزا ہے۔
نقیب شہید کے علاوہ دیگر بندے بھی ہیں جن کوپنجاب سے لایا گیا تھا۔راؤانوار غائب نہ تھا بلکہ کوئی اس کو لیکر گیا ہوگا کہ باقی راز مت کھولو، نقیب شہید کے کیس میں رہائی دلانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ راؤ انوار پہلے بھی کہہ رہا تھا کہ میں اکیلا نہیں ہوں ، دوسروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔زنا بالجبر میں عمران علی، ریاستی اہلکاروں میں راؤ انوار کے علاوہ تمام ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دی گئی تو ملک سے بدامنی، عذاب اور پریشانی کی کیفیت میں وہ کمی آئے گی کہ دنیا حیران ہوگی کہ یہ کیسا پاکستان تھا؟ اور کیسا بن گیا ہے۔جب تک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی درست کوشش نہ ہوگی تو سب کو مصائب ،آزمائش اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ ہمارا مقصد شعور کی بیداری کا رحجان بڑھانا ہے

اصل جرم مریم نواز؟ یا نواز شریف کو بار بار وزیر اعظم بنانے والوں کا ؟

establishment-of-pakistan-asghar-khan-case-smile-of-maryam-nawaz-tv-channels-saudi-arabia-humayun-akhtar-jihad-war-tarbooz-bair-ka-tree

سیکرٹری جنرل اعلاء کلمۃ الحق فاروق شیخ نے کہا ہے کہ آج مریم نواز کو نیب عدالت نے نوازشریف کے جرم میں معاونت پر7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ جیل کی سزا پانے والی مریم نواز مطمئن ہے اور مسکرارہی ہے کہ مجھے سزا دینے والوں کا یہ حق بنتا ہے کہ اصل مجرموں کو بھی کوئی سزا دیں۔ اصل مجرم کون ہے؟ اصغر خان کیس میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کو بنانے والے کون تھے؟، وہ خود بھی اپنے جرم کا اقرار کرتے ہیں۔ 1990ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی گئی اور نواز شریف کو لایا گیا۔ اس حکومت نے کرپشن سے 1993ء میں لندن فلیٹ خریدے۔ اسوقت مریم نواز کی عمر کرپشن کی نہیں ایک دوسری قسم کا جذبہ تھا، کیپٹن صفدر سے نکاح کیا تھا۔ والدین کی رضا بقول چینلے اس میں شامل نہ تھی۔ غلام اسحاق خان نے نوازشریف کو کرپشن کی بنیاد پر برطرف کیا اور پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو رحمن ملک نے ایف آئی اے سے تمام بینک اکاونٹ کی تفصیلات پکڑ لی۔ پھر وہ کونسی قوت تھی کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو ختم کرکے نواز شریف کو دوتہائی اکثریت دلائی۔ مرتضی بھٹوکو شہید کرکے زرداری کو11سال تک جیل میں قید رکھا۔ پھر پرویزمشرف سے پھڈہ ہوا تونوازشریف کاتختہ الٹ دیا تھا۔ مریم نواز کو عربوں کی منت کرکے اپنی گھریلو زندگی تباہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور منی لانڈرنگ کے ریکارڈ نکالنے کے بعد دوبارہ دفن کردئیے۔واپسی پر نواز شریف کوبالکل بری قرار دیا۔
پیپلزپارٹی کے5سالہ دور اقتدار میں نوازشریف کے شانہ بشانہ کھڑی رہنے والی قوت خلائی مخلوق نہ تھی تو کون ہے؟۔جس نے پختونخواہ میں تحریک انصاف، بلوچستان میں قوم پرستوں، سندھ میں پیپلزپارٹی،پنجاب اور مرکز میں مسلم ن لیگ کو حکومت دلائی۔ کیا مریم نوازشریف ہی مجرم ہے اور اتنی لمبی داستان رقم کرنے والوں کا کوئی قصور نہیں تھا؟۔جب افتخار چوہدری کو پرویزمشرف نے کہا تھا کہ تمہارے اوپر الزامات ہیں اور اس جرم پر استفعیٰ دیدو تو اس وقت بھی ہم نے ماہنامہ ضرب حق میں یہ لطیفہ فرنٹ صفحہ پر جلی حروف سے لکھا تھا کہ پرویزمشرف نے چیف جسٹس کو درست کہا ہوگا مگر وہ اپنا حال بھی دیکھ لے۔ جسکا اندازہ اس لطیفے سے لگایا جائے کہ ایک بادشاہ کو اکلوتی بیٹی کیلئے داماد چاہیے تھا۔ اس نے یہ شرط رکھی تھی کوئی ایسی چیز وہ کھلادے جو بادشاہ نے نہیں کھائی ہو لیکن اگر وہ کھائی ہو تو پھر لانے والے کے پشت میں وہ چیز ڈالی جائے گی۔
چنانچہ ایک شخص اپنی قسمت آزمائی لیکر جارہاتھا تو اسکے آنکھوں میں آنسو بھی تھے اور خوب ہنس بھی رہاتھا۔اس کی وجہ لوگوں نے پوچھی تو کہنے لگا کہ رویا تو اسلئے کہ مجھے بہت تکلیف ہوئی کیونکہ ایک بڑے سائز کی بیر لیکر گیا تھا۔ وہ پیچھے سے ڈال دی گئی تو شرمندگی و ذلت کا احساس بھی ہوا اور تکلیف بھی ہوئی۔ ہنس اسلئے رہا تھا کہ میرے بعد والے کے پاس بڑے سائز کا تربوز تھا، میں نے سوچا کہ اس غریب کا کیا بنے گا؟۔ مریم نواز کو معاونت کرنے پر جو7سال کی سزا دی گئی ہے ، تو جن لوگوں نے 1993ء سے پہلے ، 1993ء کے بعد ریاست وعدالت کے زور پر جس طرح کی معانت نوازشریف سے کی ہے اس کی سزا تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بھی زیادہ 100سال کی بنتی ہے اورجب عدلیہ، صحافت، ریاست اور عوام آزاد ہونگے تو پھر راج کرے گی خلقِ خدا اور تخت اچھالے جائیں گے۔
جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کا مطالبہ تو فواد چوہدری بھی کررہاہے کہ اس کو آسٹریلیا سے واپس لایا جائے۔ نواز شریف تو ایک تربیت یافتہ پروردہ ہے اسلئے اپنے ساتھ کرپشن میں ملوث فوجیوں کی بات نہیں کرتا ہے۔ ہاتھوں کی کمائی سے انقلاب آنیوالا ہے۔ ریاست ایم کیوایم کو کھلی چھوٹ نہ دیتی تو مہاجر قوم کی شرافت داؤ پر نہیں لگتی۔ گینگ وار کو سپورٹ نہ کیا جاتا تو بلوچ بدنام نہ ہوتے اور پنجاب میں کم نسل و بے غیرت لوگوں کو سیاست میں نہیں دکھیلا جاتا تو سیاست بدنام نہ ہوتی اور نہ غیرتمند پنجابی قوم پر مفادپرستی کے دھبے لگتے۔ جب ایاز صادق کو پتہ چلاتھا کہ ن لیگ کو حکومت ملے گی تو اپنے دیرینہ دوست عمران خان کی تحریک انصاف کو چھوڑ کر ن لیگ میں چھلانگ لگا دی۔ ہمایون اختر کے باپ اخترعبدالرحمن نے جہاد وار میں جو کمایا تھا نوازشریف اور اس سے پہلے پرویزمشرف کے بغل میں چھپ رہا تھا اور اب عمران خان کی گود میں گیا ۔ بلاتفریق احتساب اسلامی جمہوری عوامی انقلاب کا فرض ہوگا۔صحافی اپنا وقت اور ضمیر ضائع کررہے ہیں۔

عمران خان غدار نہیں مگر اس احمق کا غداروں سے زیادہ خطرناک کردار ہے. زید حامد

zaid-hamid-kangaroo-kids-idiot-imran-khan-nawaz-sharif-khud-sakta-fouji-kangroo-bacha-gang-war-pakistan

بینظیر ، نواز شریف ، اسفندیار، محمود اچکزئی ،مولانا فضل الرحمن امریکی ایجنٹ اور غدار ہیں، عمران خان غدار نہیں مگر اس احمق کا غداروں سے زیادہ خطرناک کردار ہے ، پہلے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت، اب PTMکے علی وزیر کو سپورٹ کیا ۔ خود ساختہ فوجی کینگرو بچہ زید حامد اور اس گینگ وار کے دیگر ساتھی دوسری طرف پشاور بم دھماکے میں ’’یہ جو دہشتگردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے ‘‘ کی آواز سوشل میڈیا میں عام ہورہی ہے ۔ ریاست اور سیاست ناکام ہیں اب ایک معتدل اور توانا آواز سے پاکستان کو مستحکم اور اسلام کا قلعہ بنانا ہوگا۔

بلور خاندان نے مسلسل قربانی دی. سراج رئیسانی محب وطن سیاستدان تھا. آرمی چیف

bilour-family-terrorism-in-balochistan-khalai-makhlooq-zaid-hamid-manzoor-pashtoon-asif-ghafoor-Imran-khan-falls-off-stage

ایڈیٹرنوشتۂ دیوار اجمل ملک نے کہاکہ بشیر بلورایک بہادر شخصیت تھی، بہادری کی جتیے جاگتی تصویر بن کر ہر حادثے میں پہنچ جاتے تھے۔ بشیر بلور کے فرزند ہارون بلور نے بھی شہید ابن شہید بن کر جمہوریت کا حق ادا کردیا ۔ 2013ء کے الیکشن میں عمران خان نے نوازشریف کو غلیظ گالیوں سے ہر محفل، ہر جلسے اور ہر پریس کانفرنس میں یاد کیا۔ ساری انتخابی مہم گالی گلوچ تھی لیکن جب اسٹیج سے گرکر زخمی ہوگئے تو نواز شریف نے انتخابی مہم کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ میاں نوازشریف کے اس اقدام سے عوام خوش ہوگئی کہ سیاسی قیادت میں ابھی اخلاقیات کی رمق باقی ہے، ہارون بلور کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تو اخلاقیات بھول گئے تھے اسلئے شہبازشریف نے جنازہ ہی کے دوران میڈیا کے سامنے اپنا منحوس چہرہ دکھانا لازم سمجھا۔ شاید یہ بتانا چاہ رہا تھاکہ دہشت گرودں کے اس واقعہ سے ہم پر اثر نہیں پڑا ۔ جب یونیورسٹی پر دہشگرد حملہ ہوا تھا تب بھی شہباز شریف نے ایک تقریب سے اپنا خطاب کیا تھا۔ جس کی ہم نے اس وقت بھی نشاندہی کی تھی۔ لوہار اور کھلاڑی سیاست کے بجائے اپنے کام میں مشغول ہوتے تو قوم کا بیڑہ غرق نہ ہوتا۔سیاسی جماعتوں کے قائدین میں اگرانسانیت، غیرت اور معاشرتی قدریں ہوتیں تو ہارون بلور کے جنازہ میں سب کے سب شریک ہوتے۔ تعزیت کیلئے بھی آرمی چیف کو پہل کرنی پڑی۔ بلوچستان دھماکہ میں میڈیا کے رویے پرعوام کو بہت غصہ آیا تھا۔ ہزاروں لعنت بھیجنے کی بات کو آوازِ خلق اور نقارۂ خدا سمجھو۔ عمران خان شہباز ونوازشریف سمیت سبھی نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ دہشتگردی ختم کرنے کا سیاسی قائدین کریڈٹ لے رہے تھے مگر اب ان کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ دہشتگرد کسی فرد کو بھی چھوڑنے والے نہیں، اپنی اپنی باری کا انتظار کرنا ہے، بہادری سے جان دے یا پھربزدلی ہی دکھائے۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اپنی طرف سے پوری صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی ترجمانی کا بھرپور حق ادا کرتے ہیں۔ جب ملک میں دو مقبول جماعتیں ایکدوسرے پر آرمی کی پشت پناہی سے اقتدار حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہوں تو باقی لوگوں کیلئے فوج کی صفائی بھی سمجھ سے بالاتر نظر آتی ہے۔ آصف غفور نے کہاکہ خلائی مخلوق کا ہمیں نہیں پتہ لیکن ہم اللہ کی مخلوق ہیں۔ ایک طرف پاک فوج کیخلاف کھل کر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگ ہیں جن کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ ان کو روکا کیوں نہیں جاتا؟۔ تو فوج کے ترجمان آصف غفور نے کہا: ’’کسی کے ذہن کو ڈنڈے کے زور سے نہیں بدلا جاسکتا ہے، یہ لوگ تھک جائیں گے اور ہمیں کوئی ملک کی سطح پر سیکیورٹی کا خدشہ ہوگا تو ایکشن لیں گے، اس کے علاوہ میڈیا کی آزادی سے لوگوں میں شعور وآگہی آتی ہے‘‘۔
جب پاک فوج اپنے مخالفین کی روک تھام کو نہیں روکتے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان سے محبت کا دم بھرنے والوں کی راہوں کو روک لے؟۔ نبیﷺ نے کسی بات پرفرمایا کہ ’’ شیطان جھوٹا ہے مگر یہ بات اس کی سچ ہے‘‘۔ زید حامد نے عمران خان کا کہا کہ میں اس کو غدار نہیں کہتا مگر ملک دشمنوں سے زیادہ یہ ملک کو نقصان پہنچائیگا‘‘۔ چلو ! اچھا ہے کہ سیاستدانوں میں کسی ایک کو تو غدار نہیں کہا اور اس بات میں بھی شک نہیں کہ نادان دوست ہوشیار دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ جو صحافی ہوشیار ہیں اور وہ ہر بات میں فوج کے پیچھے پڑنے سے باز نہیں رہتے ان سے زیادہ زید حامدجیسے لوگ ہی پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر دونوں طبقے سے شعور میں اضافہ ہورہاہے۔ دونوں پر پابندی کی ضرورت نہیں ۔
پاک فوج پاکستان کے استحکام کا بنیادی ادارہ ہے۔ اگر فوج نہ ہو تو ریاستِ پاکستان کا وجود نہ رہیگا، یہ نہیں کہ فوج غلطی سے پاک ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا کٹھ پتلی بنایا گیا۔ پھر نوازشریف کو بھی بنایا گیا اور اب حد ہوگئی ہے کہ عمران خان جیسے کو بنایا جارہاہے۔ غلطیوں کا تسلسل باشعور لوگوں میں ہی نہیں زید حامد جیسے احمقوں میں بھی بڑا شعور اجاگر کررہاہے۔ عمران خان سے زیادہ شریفوں کی منافقت خطرناک ہے۔ شہبازشریف جنازہ کے موقع پر دکھا رہاتھا کہ بلور کی شہادت سے لاتعلق ہیں ، مریم نواز الزام لگارہی تھی کہ فوج ہماری وجہ سے ملک کو تباہ کررہی ہے۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔ سراسر موم ہو یا سنگ ہوجا۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر تو لہوبول اٹھے گا آستین کا۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نواز و شہباز شریف کا منافقانہ رویہ ہے تو عمران خان بھی حق لاشریک نہیں البتہ PTMکے جوانوں کو اگر زبردستی سے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی تو بھی ان کی مظلومیت پکار اُٹھے گی۔ سیاسی قائدین میں ڈکٹیٹرشپ ہے ، منظورپشتین اپنی ڈکٹیٹر شپ کا ماحول قائم نہ ہونے دیں تو کامیابی ملے گی۔