پوسٹ تلاش کریں

عدالتی نظام کی اصلاح

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ، آئین میں قرآن وسنت کو بالادستی حاصل ہے اسلام ہی نہیں ہر ریاست کا بنیادی فریضہ عدل وانصاف کا قیام ہوتاہے۔ اسلام کا ایک پہلو یہ ہے کہ توحید کے عقیدے کے مطابق نبیﷺ کی سنت کو لائحہ عمل بناکر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالا جائے۔ دین میں جبر وزبردستی نہیں ۔ مشرک وکافر مسلمان پر جبروظلم کرکے اسکے ایمان میں رکاوٹ ڈالے تو اللہ نے قرآن میں زبردستی کے کلمۂ کفر کو بھی معاف کیاہے،اسلام جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیتا کہ وہ مسلم کو زبردستی سے کافر بنائیں تو تم بھی زبردستی کرکے ان کا مذہب بدل ڈالو۔ صلح حدیبیہ رسول اللہﷺ کی مجبوری نہ تھی بلکہ یہ معاہدہ اسلام کی روح کے مطابق تھا کہ ’’کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مکہ جائے تو اس کو واپس نہ کیا جائے اور کوئی مشرک مسلمان ہوجائے اور مدینہ میں مسلمانوں کے آغوش میں آجائے تو اس کو پھر واپس لوٹا دیا جائے‘‘۔ جو دل سے مسلمان ہوں اور ان کو پابند کیا جائے کہ والدین کی آغوش میں رہو تو یہ اسلام کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ تلقین ہونی چاہیے کہ اسلام نے والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچپن، جوانی ادھیڑ عمر اور ایک حد تک بڑھاپا بھی اپنے مشرک باپ آزر کے سایہ میں گزارا، بت فروش باپ سے تلخ بات کی نوبت بھی نہ آئی، باپ کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔
مولانا منیراحمد قادری نے پچھلابیان دیا کہ ’’رسول اللہﷺ کو گالی دینے پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے باپ کے منہ پر تھپڑ مارا تھا‘‘۔ ہوسکتاہے مگر عائشہ صدیقہؓ پر جو بہتان لگا تو نبیﷺ کیلئے اس سے زیادہ اذیتناک واقعہ نہیں تھا، اللہ نے فرمایا کہ ’’مؤمنوں کی یہ شان نہیں کہ جنکو اللہ نے مالامال کیا ہو، وہ قسم کھائیں کہ مستحق لوگوں سے ہم مالی تعان نہ کرینگے، اپنا احسان جاری رکھو‘‘۔ کیونکہ ابوبکرؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں کیساتھ احسان نہ کرینگے، جن میں اپنا قریبی رشتہ دار حضرت مسطحؓ اور معروف نعت خواں حضرت حسانؓ بھی شامل تھے۔ابن ماجہؓکی روایت ہے کہ ’’نبیﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے والد حضرت ابوقحافہؓ کو خضاب لگانے کا حکم دیا تھا‘‘۔
اسلام کے عادلانہ نظام کی اس سے بڑی کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا ایک ہی ہے۔ عدالت میں کس اسلام کے قانون کے تحت امیر کی ہتک عزت اربوں اور کھربوں میں ہے اور غریب کی عزت ٹکے کی نہیں؟۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دوواقعے قرآن و حدیث میں موجود ہیں جن میں عدالت عظمیٰ سے انصاف میں غلطی ہوئی اور نچلی عدالت نے انصاف کا تقاضہ پورا کیا۔ اگر انور ظہیر جمالی کو پانامہ لیکس پر انصاف کی سمجھ نہ آتی تو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ یا بلوچستان کے جسٹس فائز عیسیٰ کو معاملہ سپرد کردیتے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کیا ، ایک کے جانور نے دوسرے کی فصل کو نقصان پہنچایا ۔ فصل و جانور کی قیمت ایک جتنی تھی اسلئے حضرت داؤد علیہ السلام نے فصل والوں کو نقصان میں جانور دیدئیے، حضر ت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح سے ایک قوم محروم ہوجائے گی، اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔ چنانچہ فصل کو اپنی جگہ تک پہنچانے کی ذمہ داری جانور والوں کے ذمہ لگادی اور جانور انکے حوالہ کئے جن کی فصل کو نقصان پہنچا تھا کہ جب تک اس کا فائدہ اٹھائیں، ایک پر محنت ڈال دی اور دوسری کے نقصان کا ازالہ کردیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے سوفیصد درست کہا کہ ’’نیب کرپشن کی سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے‘‘ لیکن اگر عدالتی نظام جلد انصاف فراہم کرتا تو نیب کی ضرورت نہ ہوتی۔ عدالت کا کام قانون کے مطابق طاقتور اور مجرم کو تحفظ فراہم کرنا بن جائے تو اس سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے دو خواتین نے مقدمہ پیش کیا جن کا ایک بچے پر دعویٰ تھا، حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی صوابدید و ضمیر کیمطابق فیصلہ کیا جو غلط مگر قابلِ گرفت نہ تھا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔دونوں کی بات سن کر فیصلہ کیا کہ ’’بچے کو دو ٹکڑے کرتا ہوں‘‘ ، جو مقدمہ جیت چکی تھی کہہ رہی تھی کہ بچے کو دو ٹکڑے کردو، مجھے قبول ہے اور جو خاتون مقدمہ ہار چکی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ ’’میں دستبردار ہوں بچہ سلامت رہے، میں نے جھوٹ بولا تھا، یہ میرا بچہ نہیں، اسکا ہے جو اس کو ٹکڑے کرنیکی بات کررہی ہے‘‘۔ فیصلہ اسکے حق میں ہوا، جو دستبردار ہوئی۔ قانون کیاہے، وزیراعظم اپنے باپ اور بچوں سے انصاف کی خاطر دستبردار ہیں یا معاملہ کچھ اورہے؟۔نوازشریف نے عمران خان کا باپ نہیں مارا ، عدالت عمران خان کا وکیل ہی بھگادے، اگر عدالت کو خوف ہو تو دہشت گردوں کی طرح فوجی عدالت قائم کی جائے اور عدالت کو خوف نہ ہوتو پوری قوم کی خاطر نوازشریف سے ابتداء کرکے کسی کو بھی نہ چھوڑے۔

اسلامی دنیا کو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرنا ہوگی. عتیق گیلانی

عالم اسلام میں بادشاہت، جمہوریت، ڈکٹیٹر شپ اور فرقہ واریت کا دور دورہ ہے۔ القاعدہ، طالبان، داعش اور فرقہ واریت کے علاوہ ہمارے ریاستی نظام بھی عوام کیلئے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ افغانستان،عراق، لیبیا، شام کے بعد ایران، سعودیہ اور پاکستان کی باریاں بھی آسکتی ہیں، ہم سے زیادہ خوش فہمی کا شکار تباہ ہونے والے وہی ممالک تھے۔ ہم پرچاروں طرف سے دشمن کا گھیراؤ ہے۔ ایران، افغانستان اور عرب ممالک کی پاکستان سے زیادہ بھارت سے دوستی ہے۔ چین کے ترقی یافتہ علاقے سمندرکے ذریعہ سے دنیا میں ملے تھے تو دنیا میں کونسی تبدیلی آئی ہے؟۔ گوادر سی پیک کے ذریعہ چین کاپسماندہ ایریا دنیا سے مل جائیگا تب بھی دنیا میں کونسا بڑا انقلاب آئے گا؟۔ روس کے خلاف جب دنیا افغانستان میں جنگ لڑرہی تھی تو بھی راہداری پاکستان کے ذریعہ تھی اور جب نیٹو نے طالبان کیخلاف جنگ لڑی تب بھی راہداری کی یہی راہ تھی۔ البتہ پاکستان نے اب راہداری کے ذریعہ دوسروں کی جنگ لڑنے کے بجائے مثبت راستے کا سفر شروع کیا ہے اور اللہ کرے کہ خیر سے تبدیلی آئے۔
بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ چکا ہے، اسلئے تسلسل کیساتھ بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جنرل راحیل شریف کے دور میں ملک کی داخلی صورتحال بہت بہتر ہوئی۔ طالبان، بلوچستان اور کراچی کے حوالہ سے جو کامیابی ریاست کی رٹ بحال کرنے میں ملی اس کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ پاکستان بدریج بد سے بد حال تک جیسے پہنچ چکا تھا، اس میں قوم کے کسی ایک فرد یا ادارے کا کردارنہ تھا بلکہ پوری قوم زوال کی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے جمہوری جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگی قیادتوں کو جبری جلاوطن کر دیاتھا، عدالتوں کو پرغمالی بنالیالیکن فوجی قیادت عوام کی اصلاح نہ کرسکی تھی۔
جمہوریت اور عدالتیں بحال ہوئیں تو عدالت نے سیاست شروع کردی اور پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دیا، اگر اصغر کیس کے ذریعہ انصاف کے تقاضے پر عمل پیرا ہوکر یوسف رضا گیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہل قرار دیا جاتا تو قوم کا عدلیہ پر بے انتہااعتماد بڑھ جاتا۔ ریاست کی رٹ صرف فوجی طاقت سے ہمیشہ کیلئے بحال نہیں رہ سکتی ہے۔ عوام کے اعتماد کیلئے زیادہ اہمیت عدل و انصاف کے نظام کی ہوتی ہے۔پختونخواہ کے طالبان، بلوچستان کے قوم پرست اور کراچی کی ایم کیوایم سے زیادہ معاشرتی ظالمانہ نظام کا پنجاب میں راج ہے۔وزیردفاع وپانی وبجلی خواجہ آصف اور اقبال کے شہرسیالکوٹ کا تازہ واقعہ ہے کہ’’ دلہن کو اجتماعی زیادتی کا شکار بنایاگیا، شور مچانے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پولیس مجرموں کی پشت پناہی کررہی ہے‘‘۔ شور مچانے اور تشدد کا نشانہ بننے سے ڈر کر چپ کی سادھ لینے والوں کی کتنی ان گنت کہانیاں ہوں گی؟۔ یہ اس وقت پتہ چلے گا جب مظلوموں کا ظالموں کیخلاف انقلاب آئیگا۔ سیاسی جماعتیں عوامی نہیں بلکہ آشیرباد رکھنے والوں کی داشتائیں ہیں۔
القاعدہ، طالبان داعش کے علاوہ کراچی کی ایم کیوایم، بلوچی قوم پرست اور اندرون سندھ کی پارٹیاں زمانے کے جبر سے وجود میں آئی ہیں۔ امریکہ کا مجاہدین کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دینے سے القاعدہ بن گئی، افغانستان میں مجاہدین تنظیموں کی بدمعاشی سے مجبوری میں طالبان آگئے، امریکی حملے کی وجہ سے پاکستانی طالبان وجود میں آگئے، عراق پر حملے بعد شام میں کاروائی کی وجہ سے سنی مکتبۂ فکر کو ریلف مل گئی تو دولت اسلامیہ عراق وشام تشکیل پائی ،جو داعش کے نام سے دنیا میں پھیل گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بقول امتیاز عالم کے پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے اردو اسپکینگ مہاجروں کو کاٹ کر سند ھیوں سے ملا دیا تو ایم کیوایم کیلئے بنیاد بن گئی۔نجم سیٹھی نے پنجاب کے ظلم کی داستان نہری نظام کی شکل میں بیان کی ہے جس سے سندھ بنجر بن گیا اور احساسِ محرومی کالا باغ ڈیم میں رکاوٹ کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسائل کے باوجود عوام کی غربت کا مسئلہ بغاوت تک لے گیا۔ پاکستان سے عالمی اسلامی خلافت علی منہاج النبوۃ کا آغاز ہوجائے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
مدارس کے نصاب کی اصلاح سے کم عقل لوگوں کے چنگل سے اسلام کی تعبیرو تشریح پر اجنبیت کے پردے ہٹ جائیں گے۔ لونڈی بنانے کے نظام کو قرآن نے آلِ فرعون کا اختراع قرار دیاہے، امریکہ نے عافیہ صدیقی کو قید کرکے لونڈی بنانے سے بھی بڑی سزا دی ہے۔ طویل المدت قید انسانیت کی بہت بڑی تذلیل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شرافت پر بڑا دھبہ ہے۔

کیا مغربی جمہوری نظام کفر ہے یا نہیں؟ عتیق گیلانی

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو خلافت کا حقدار قرار دیاہے، ابلیس اپنے تکبر کے باعث راندۂ درگاہ ہواتھا، فرشتوں نے اللہ سے اختلاف کرکے اعتراض اٹھایا کہ ’’یہ خلیفہ زمین میں فساد پھیلائے گا، خون بہائے گا اور قتل و غارتگری کریگا‘‘ لیکن اللہ کے فرمان پر سب نے سجدہ بھی کرلیا مگر ابلیس نے سرتابی کی۔ حضرت آدمؑ نے جنت میں اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور پھر ان کو زمین میں اتارا گیا تو بڑے بیٹے قابیل نے چھوٹے بھائی کو قتل کردیا۔ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں بنی اسرائیل میں نبوت وخلافت کا سلسلہ جاری رہا، پھر اللہ نے آخری نبیﷺ کی بعثت فرمائی۔ انصار ومہاجر اور قریش واہلبیت میں خلافت کے مسئلہ پر اختلاف واعتراض بالکل صحیح تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی شخصیت میں بڑے جامع تھے۔ بشریت، رسالت اور اولی الامر کے حوالہ سے آپﷺ کا اسوہ حسنہ انسانیت کی رہنمائی کیلئے بہترین نمونہ تھا۔ شادی، طلاق، اولاد، رشتہ داری اور معاشرے میں انسانی ضروریات کے تمام معاملات سے آپﷺ کی بشریت اعلیٰ صفات سے مالامال اور بہترین نمونہ تھی۔ رسالت کا تقاضہ تھا کہ آپﷺ کی وحی کے ذریعے رہنمائی ہو، مذہبی ماحول نے جو گہرے اثرات معاشرے پر ڈالے تھے اس کا نتیجہ تھا کہ جب ایک خاتون نے اپنے شوہر کی طرف سے شدید ترین طلاق ظہار کے مسئلہ پر مجادلہ کیا تو اللہ نے وحی کے ذریعے رہنمائی فرمائی جس کی تفصیل سورۂ مجادلہ کی آیات اور تفسیرو احادیث کی کتابوں میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مشاورت کا حکم بھی دیا تھا اور غزوہ بدر میں اکثریت کی مشاورت کے باوجود فدیہ کا فیصلہ ہوا،تو اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی۔ غزوہ احد کا فیصلہ اپنی منشاء کے خلاف شہر سے نکل کر باہر لڑنے کا فیصلہ کیا اور حدیث قرطاس کی وصیت سے مزاحمت پر دستبردار ہوئے۔ اس تعلیم و تربیت کا عملی نتیجہ یہ تھا کہ صحابہؓ اختلاف کے باوجود بھی نظامِ خلافت پرمتحد ومتفق رہے۔نبیﷺ نے انفرادی طور پر فرمایا: ’’امام قریش میں ہونگے‘‘ اور ’’بارہ خلفاء قریش سے ہونگے جن پر امت اکٹھی ہوجائے گی‘‘۔ یہ احادیث مستقبل کی پیش گوئی اور اخبار تھے۔ خلافت عثمانیہ عرصۂ دراز تک قائم رہی لیکن وہ قریشی نہیں تھے۔ ذیل کے نقشہ میں احادیث کا آرٹ دیا گیاہے۔ اور مغربی جمہوریت پر لوگ متفق ہوں تو یہ کفر نہیں بلکہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ ’’ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے‘‘۔ اس حدیث سے مغربی جمہوریت ہی مراد ہوسکتی ہے۔ انتقال اقتدار کا سب سے پرامن اور عوام کے اختیار کا بہترین راستہ جمہوری نظام ہے، یہ الگ بات ہے کہ جمہوریت کی روح مفقود ہے، حضرت امام حسنؓ نے اکثریت کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کی تو حدیث میں بھی آپؓ کی تائید ہے کہ ’’میرے اس فرزند کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کا اتحاد ہوگا‘‘۔ رسول اللہ ﷺ سے اولی الامر کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ نے اختلاف کیا، خلفاء راشدینؓ نے اپنی رائے سے اختلاف کیلئے روڑے نہیں اٹکائے مگراب جمہوری پارٹیوں کے قائدین و رہنما ڈکٹیٹر شپ اور موروثیت کی پیداوار کی وجہ سے خچروں اور تیسری جنس کی طرح لگتے ہیں۔
روزنامہ جنگ میں یہ شہ سرخی لگی کہ ’’حامد سعید کاظمی نے اقرار جرم کرلیا‘‘ مگر شام کو حلف دیکر حامد کاظمی انکار کررہاتھا۔ حامد میر نے کہاتھا کہ شہباز شریف ڈان کی خبر پر پریشان تھا، پھر راحیل شریف پر توسیع کا الزام لگادیا ، کل یہ نہ کہے کہ راحیل شریف کو شہباز نے جھاڑدیا ، جیسے عرفان صدیقی نے حامد میر کے پروگرام میں صدر تارڑ کی جرنیلوں کے سامنے بہادری کا ذکر کیا ۔ صحافت مقدس پیشہ ہے، فواد چوہدری پرویزمشرف ، پیپلزپارٹی کے بعد تحریک انصاف میں آیا، کیایہ جائز صحافت ہے؟۔اگر صحافت کا پیشہ ٹھیک ہوجائے تو انقلاب آسکتاہے۔باقی دھرنے کے دوران حامد میر لیگیوں کا مذاق اڑا رہا تھا کہ میرے پاس پناہ لے رہے تھے۔ ڈان کی خبر پر بھی پیروں کو پکڑنے کی باتیں میڈیا پر ہورہی تھیں۔ حکمرانوں کے پاس حکومت کرنیکی اخلاقی قدریں نہیں، اسلئے کہ ڈکٹیٹر ، موروثیت اور کرپشن کی پیداوار ہیں۔بس چلے تو گردن کو بھی پکڑ لیتے ہیں :بے بسی میں ٹانگیں بھی جکڑ لیتے ہیں۔

Naqsh-e-Inqalab-October-special2016

داعش کے پیچھے مغرب یا نظریہ خلافت؟ عتیق گیلانی

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں الماوردی کی کتاب’’ الاحکام السلطانیہ‘‘ کا تذکرہ ہے، علماء کا طبقہ اس کتاب کے نام اور احکام سے بالکل بے خبر ہے۔ ہزارسال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھی گئی یہ واحد کتاب تھی جو اس موضوع پر معروف و مشہور ہے۔ اس کتاب میں مسلم اُمہ کا اجتماعی فریضہ لکھا گیاہے کہ ’’ ایک خلیفہ مقرر کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ ’’ ایک ، دو یا چند افراد کے پہل کرنے سے خلیفہ مقرر ہوجائیگا اور پھر تمام مسلمانوں پر اس کی اطاعت فرض ہے‘‘۔ کتاب میں خلیفہ کے شرائط و صفات کا بھی ذکرہے۔ جن میں قریشی ہونا اور اعضاء کی سلامتی شامل ہے۔ جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے داعش کے امور پر مہارت رکھنے والے نے بتایا کہ ’’ داعش نے ملاعمر کے امیر المؤمنین بننے کو اسلئے مسترد کیا کہ وہ قریشی نہ تھے اور آنکھ سلامت نہ تھی‘‘۔
جس طرح کسی ملک میں بادشاہ یا وزیراعظم کی تقرری کے بعد عام باشندوں کیلئے رمضان کے روزے رکھنااور بقرہ عید کی قربانی ذبح کرنا بھی حکمران کے مقرر کردہ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے تابع ہوجاتا ہے اور سودی نظام بھی علماء ومفتیان کے فتوے سے حلال ہوتاہے،اسی طرح داعش کے خلیفہ اور انکے علماء ومفتیان جس قسم کے احکام بتاتے ہیں اور جو فتوے دیتے ہیں دنیا بھر میں ابوبکر البغدادی کی تقرری اور مقرر کردہ امیروں کا حکم چلتاہے اور اس کو سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جیسے اسماعیلیہ آغا خانیوں کا اپنا امام ہے، داودی بوہرہ کا اپنا امام ہے، میرا خیال ہے کہ اہل تشیع نے بھی ایرانی انقلاب اور امام خمینی کے بعد ہی پاکستان میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستانی قوم کی طرف سے سپاسنامہ میں خلافت موومنٹ اور کمال اتاترک کا تذکرہ کیا ، علامہ اقبال ، خلافت موومنٹ اور پاکستان کا حوالہ دیا لیکن اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کن متضاد پگڈنڈیوں پر چل کر قدم ڈگمگارہے ہیں اور نہ ہی زبان لڑکڑارہی ہے، جاہل تو ہوتے ہی لٹ مار ہیں، قومی اسمبلی کا سپیکر غیر جانبداری کا حلف اٹھاتاہے مگر ہمارے سپیکر صاحب غیر جانبداری کے فرض سے ناواقف۔
بہرحال طیب اردگان نے مسلم امہ کو قریب کرنے کی بات کرکے داعش کو مغرب کے کھاتہ میں ڈال دیا تو بھی حقائق کا ان کو پتہ ہوگا مگر جس طرح اپنے سیاسی حریفوں کے سکول پاکستان میں بند کرادئیے جن میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی تعلیم نہیں تھی، فوجی بغاوت پر بھی فتح اللہ گولن نے کہا تھا کہ ’’ہم خود ہمیشہ فوجی بغاوت کے خلاف رہے ہیں اور ہم نے ان کے تشدد کا خود بھی سامنا کیاہے تو ہمارا ہاتھ کیسے ہوسکتاہے؟‘‘۔ پاکستان ، ترکی ، امریکہ اور دنیا بھر میں مغربی جمہوریت سے الزام تراشیوں کے سلسلے جاری ہیں۔داعش کے سخت ترین حریفوں کا داعش میں شمولیت کو امریکہ اور مغربی سازش قراردینا نادانی ہے، یہ درست ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں بھی گڈ اور بیڈ کا تصور تھا،ایک نمبر اور دونمبر والوں کی عام شہرت تھی لیکن داعش ایک سازش نہیں بلکہ خلافت کا فلسفہ و نظریہ ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء کے ایک بہت بڑے پروگرام میں خلافت کی احادیث کو اپنی جماعت پر فٹ کیا اور تسلسل کیساتھ اپنے مشن کی اس طرح سے تشہیر بھی کرتے رہے۔ مولانا نیاز محمد قریشی (جو سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی کے کزن ) نے یہ تقریر ’’آذانِ انقلاب‘‘ کے نام سے شائع کی۔ بریلوی مکتبۂ فکر علامہ عطاء محمد بندھیالویؒ نے خلافت کو شرعی فریضہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق بھی قریشی نہیں، مسلمانوں خلیفہ کا تقرر شرعی فریضہ ہے جو قریشی ہو۔ ڈاکٹرا اسرار کے ایک پروگرام میں علامہ طاہرالقادری اور دوسرے میں حزب التحریر اور المہاجرون تنظیم کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ خلافت کیلئے امام کا تقرر ہے اور امام کاتعلق سرحدوں سے بالاتر زمانہ کیساتھ ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ قادیانی بھی اپنے امیر وامام کی تقرری پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان کی ریاست کو خلافت کا اعلان کرنا ہوگا۔ زندگی آساں گر حوصلہ بڑا ہے، منزل بڑی ہے تو امتحان کھڑا ہے ۔ خلافت سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے۔

اسلاف ہمارے لئے سرمایہ افتخار کیوں؟ عتیق گیلانی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لااکراہ فی الدین ’’دین میں جبر کا کوئی تصور نہیں ‘‘۔ کسی کوزبردستی سے منافق تو بنایا جاسکتاہے لیکن مؤمن نہیں۔ منافق کادرجہ فی درک الاسفل من النار’’جہنم کا نچلا ترین ہے‘‘۔ایسا کوئی ماحول بنانا جس سے تشدد کے ذریعے منافقت کی راہ ہموار ہو اسلامی تعلیمات، فطرت اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ظلم وجبر، تشدد وزبردستی کا ہر گز نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی فرقہ واریت کا شدید ترین مسئلہ رہاہے لیکن اسلام نے اس کا حل قتل وغارت اور ظلم وتشدد سے پیش نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو قرآن میں تحفظ دینے کی تعلیم دی۔ صوامع، بیع، صلوٰت اور مساجد میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کی سند جاری کرکے مجوس،یہود ونصاری اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کیاہے۔ یہ کسی مخصوص وقت کیلئے نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے آیات ہیں اور جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں تو اس وقت کے یہود ونصاریٰ ، مجوس و صابی موجودہ دور کے مقابلے میں زیادہ گمراہ تھے۔ دنیا میں عذاب کے بھی مستحق اسلئے تھے کہ اس وقت انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، جن سے اتمام حجت بھی ہوجاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ’’ اور ہم عذاب نہیں دیتے ہیں یہاں تک رسول کو مبعوث نہ کردیں‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی، یہود نے بے انتہا مظالم کردیے، گستاخانہ ذہنیت کی انتہا کری مگر جب اسلام نازل ہوا تو عیسائیوں کو مشرکانہ اور یہود کو گستاخانہ ذہنیت کے باوجود برداشت کرنے کی تعلیم دی اور اللہ نے فرمایا: ان الذین اٰمنوا والذین ہادووالنصٰری والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر لھم اجر فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے، اور جولوگ یہودی ہیں اور نصاریٰ ہیں اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لائے تو ان کیلئے اجرہے ، نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
جس اسلام نے صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کے دل ودماغ میں بے پناہ وسعتیں پیدا کردیں، اسکے نام سے ہم نے جبروتشدد کی ایسی پگڈنڈی بنائی کہ دنیا کے مختلف ومتضاد مذاہب تو بہت دور کی بات ہے، اگر آیت میں انکی جگہ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کو رکھا جائے تب بھی فرقہ بندی کے خوگر اس ایمانی مٹھاس سے اتنا ہی پرہیز ضروری سمجھتاہے جتنا شوگر کا مریض قدرت کی عظیم نعمت مٹھاس سے۔ یہی حال رہا تو بعیدنہیں کہ جنت میں انواع واقسام کے مٹھاس سے دوسرے تو مانوس ہوکر خوف وغم سے آزاد بھی رہیں، تعصب سے قرآنی آیات کا کھل کر انکار کرنیوالوں کی قسمت میں جہنم کا شجرہ زقوم ہو۔ اللہ و آخرت پر بھی ایمان کے بعد اچھا عمل صدیقین، شہداء اور صالحین کی صف میں شامل کرتا ہے اور اچھے اعمال کے بغیر دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے والے ان لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے جو مرد ہوکر بھی ایکدوسرے کیساتھ جنسی عمل کے عادی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’ ان دونوں( فاعل مفعول) کو اذیت دو، اگر توبہ کریں تواللہ در گزر کرنے والاہے‘‘۔
صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے تشدد اور نفرت کی ایسی آگ نہیں بھڑکائی تھی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر دوسروں کے خلاف قتل وغارتگری اور جنگ وجدل کا بازار گرم ہو۔ اسلام افہام و تفہیم اور اچھے انداز کی تعلیم وتربیت سے جانی دشمن کے سامنے بھی ایسے انداز میں بات کرنے کی تلقین کرتاہے کہ جس سے وہ گرم جوش دوست بن جائے۔ انبیاء کرامؑ ،صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہوں پر چل کر صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے اختلاف کو تشدد میں بدلنے سے بچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ مثالی تھا۔ حضرت عثمانؓ نے مسند پر شہید ہونا قبول فرمایالیکن فساد نہیں پھیلایا، حضرت علیؓ نے منصب سے دستبردار ہونے کی بات قبول کرلی مگر خوارج نے بغاوت کردی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہﷺ نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی صلح حدیبیہ میں قلم زد کیا‘‘ ۔ مگروہ نہ مانے اور کہا کہ ’’قریش بحث کرنے کے عادی ہیں‘‘۔اللہ نے میاں بیوی کے درمیان ایک ایک حکم دونوں طرف سے مقرر کرنے کاحکم دیالیکن تحکیم کو کفر قرار دیاگیا۔ صلح حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ قائم رہتے تو حضرت عمرؓ کے دور تک مسلمان اسی پر کاربند رہتے۔ دنیا میں عدل کے قیام کیلئے اسلام سے زیادہ پرامن جدوجہد کی مثال نہیں ملتی ہے۔

داعش کافتنہ صحیح حدیث میں واضح ہے، ڈاکٹرطاہر القادری

امام بخاری کے استاذ نعیم بن حماد کی کتاب’’الفتن‘‘ میں داعش کی نشاندہی موجود ہے

آج تک میرے سیاسی اور مذہبی مؤقف کی کسی نے کبھی تردید نہیں کی ہے البتہ اختلاف کیا ہے

علامہ طاہرالقادری نے نشتر پارک کراچی کے جلسہ میں داعش کے حوالہ سے رسول ﷺ کی احادیث کا حوالہ پیش کیا، حدیث کوپورا نقل نہ کیا۔ قارئین کے سامنے رکھ دیتے ہیں: عن علی ابن ابی طالبؓ قال: اذا رأتم الرایات السود فالزموا الارض، فلا تحرکوا ایدیکم ولاارجلکم ثم یظھر قوم ضعفاء لایؤبہ لھم،قلوبھم کزبر الحدید، ھم اصحاب الدولۃ، لایفون بعھد و لا میثاق، یدعون الی الحق و لیسوا من اہلہ اسماء ھم الکنیٰ و نسبھم القریٰ وشعرھم مرخاۃ کشعور النساء حتیٰ یختلفوامابینھم ثم یؤتی اللہ حق من یشاء
( حدیث نمبر573، الفتن نعیم بن حماد)
ترجمہ’’ حضرت علیؓ سے روایت ہے فرمایا: جب تم کالے جھنڈوں کو دیکھو، تو زمین کو لازم کرلو، پس اپنی زبانوں اور ٹانگوں کو حرکت نہ دو، پھر ایک قوم ظاہر ہوگی جو کمزور ہوگی جن کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا اور انکے دل لوہے کے ٹکڑے کی طرح ہونگے، وہ اقتدار والے ہونگے،جو پورا نہ کرینگے کسی عہد اور معاہدے کو۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر اہل حق میں سے نہیں ہونگے،انکے نام کنیت والے ہوں گے،انکی نسبت شہروں کی طرف ہوگی،انکے بال عورتوں کی لٹکے ہوئے ہونگے،یہاں تک کہ ان کا آپس میں اختلاف ہوگا ، پھر اللہ جس کو چاہے گا حق دیدے گا‘‘۔
کالے جھنڈے طالبان اور القاعدہ نے اٹھائے، اس دور میں یہ حالت تھی کہ گوشہ نشینی کی زندگی اور زبان اور ٹانگیں نہ ہلانے کا حکم درست لگتا تھا، امریکہ نے حملہ کیا توبہت کمزور تھے،ان کا ٹھکانہ نہ تھا،انکے دل لوہے کی طرح سخت تھے،اصحاب دولہ اسلئے تھے کہ طالبان کی حکومت تھی اور امریکہ، پاکستان، قطر، یورپی یونین اور سب ہی ممالک ان کی پشت پناہی کررہے تھے ،بینظیر بھٹو کو ماراگیا، بینظیر نے انکو ڈالروں کے تنخواہ دار ہونے کا کہاتھا۔ ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر شائع ہوئی تو اسکے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ برطانوی فوج کے سپاہیوں کو افغان فوج نے رنگے ہاتھوں پکڑا جو طالبان کو پیسے دے رہے تھے اور ردِ عمل میں شرمندہ ہونے کے بجائے ہنس رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بھی منی لانڈرنگ میں با عزت بری کردیا گیا۔ اغیار ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران ٹولے کو ایک ہاتھ میں رکھتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں باغیوں کو پالتا ہے۔ یہ الزام نہیں۔
امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تو کورکمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ ’’ ہم اکیلے نہ تھے یعنی تم بھی شریکِ جرم تھے‘‘۔ آج تک سب کی طرف سے ایکدوسرے پر الزام کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے، اگر یہ گروپ آپس میں یہ کھیل ختم کرنے کیلئے نہ لڑتے تو حکومتوں نے ان کو پالنے کا سلسلہ جاری رکھنا تھا۔ جنرل راحیل کی قیادت میں اسکا خاتمہ ہواہے لیکن اب بھی یہ کھیل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔
حکومت ، اپوزیشن اور ریاستی اداروں میں اگر خلوص ہو تو نہ صرف بھٹکے ہوئے طبقات کی اصلاح ہوسکتی ہے بلکہ پاکستانی قوم دنیا کی امامت کی حقدار بن سکتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق جمعیت علماء ہند سے ہی نہ تھا بلکہ وہ کانگریس کے بھی رکن تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’قرآن کے نزول کے وقت اس کے مخاطب عرب تھے ، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت قرآن کا مخاطب پوری دنیا ہوگی ، جو اچھائیاں عرب میں موجود تھیں ، انکو باقی رکھا گیا اور برائیوں کو ختم کردیا گیا۔ نشاۃ ثانیہ کا زمانہ آئیگا تو دنیا بھر میں اچھائیوں کو باقی رکھا جائیگا اور برائیوں کو ختم کردیا جائے گا‘‘۔نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، فرنٹیئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں موجود ہیں ، یہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لئے آئے پھر بھی ہم اس مرکزی حصے سے دستبردار نہ ہونگے‘‘۔
غسل کے تین فرائض سے تین طلاق کی تعبیر تک ، قرآن کی تعریف سے لیکر اجماع و قیاس تک نصاب کے نام پر مدارس میں بھی عجیب منطق پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا منیر احمد قادری نے لکھا’’مولانا یوسف لدھیانوی نے توبہ کی ؟ ، آسیہ ملعونہ کی کیا سزا ہے؟ اور حضرت ابوبکرؓ کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو منہ پر تھپڑ مارا ‘‘۔ نبی ﷺ نے ابن صائد کو قتل نہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ نے تھپڑ مارا ، پھر ہم بھی نئے سرے سے سوچیں؟۔ نادر شاہ

ناکام عدالتی نظام کی وجہ سے طالبان اور شدت پسند: اشرف میمن

1916ء سے 2016ء تک لاہور ہائیکورٹ میں کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا تو عدلیہ میں جرگہ سسٹم کیوں نہیں رکھا جاتا

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ پانامہ لیکس پر کیمرے کی آنکھ عدالت کے ججوں کو دیکھ رہی ہے۔ماضی بعیداور ماضی قریب میں عدالت عظمیٰ اور اسکے ججوں کا کردار ایک سیاہ باب ہے۔ ججوں نے عدالت کیساتھ اپنا منہ بھی کالا کیا ہے۔جسٹس ڈوگر کیخلاف شہبازشریف کی تقریروں کی گونج اب بھی لوگوں کے کانوں میں موجودہے۔یہ پاکستانی ریاست اسلام کے نام پر بنی ہے اور اس میں جرنیل، جج اور جرنلسٹ کی آزادی اور غیر جانبداری بہت ضروری ہے۔ جانبدارانہ کردار اپنے پیشہ ،ملک وقوم سے غداری ہے۔ اب زمانہ بدلاہے اگر عدالت عظمیٰ نے سوئس اکاونٹ کیخلاف خط نہ لکھنے پر ایک وزیراعظم کو ناہل قرار دیا اور دوسرے کو بچایاتو ڈوگرکا جو حشر کیا گیا تھا،وہی جسٹس جمالی کا بھی ہوگا، شہباز کی شوبازی سے زیادہ مؤثر انداز میں قوم پرست اور شدت پسند حبیب جالب کی شاعری سے عوام کے دل و دماغ گرمائیں توپھرملکی سلامتی خطرے میں پڑجائیگی، شاکر شجاآبادی کی شاعری کالجوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہے، وہ کہتاہے کہ جن مساجدمیں اللہ کی عبادت اورمخلص نمازی ہیں وہ بیت اللہ ہیں اور جو ملاؤں کے کاروبار ہیں ان کو گرادو۔ اوپر انصاف کا جھنڈا ہے اور نیچے انصاف بکتا ہے، ایسی عدالتوں کو عملے کیساتھ اُڑادو‘‘۔ اگر عدلیہ بچوں کی طرح چھٹیوں پر نہ جائے تو …
عدالت میں قطری شہری کا جو خط پیش کیا گیا ، عدالت ،وکیل اور جج جانے نہ جانے لیکن دنیا جانتی ہے کہ معاملہ اب سیاہ وسفید کی طرح سامنے آگیاہے۔ عرب حکمران بادشاہ ہوتے ہیں یا شہزادے، ججوں کا نعیم بخاری پر قہقہ لگانا کسی وجہ سے ہوگا ۔ خوبصورت ہونا شہزادے یا شہزادی کی علامت ہواور بادشاہوں کا چوپٹ راج ہو تو بادشاہ عوام کی بیگمات بھی چھین لیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ جلیل القدر نبی نے اپنی بیگم حضرت سارہؑ کو جھوٹ بول کر زوجہ کے بجائے اپنی ہمشیرہ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے عزت بچائی اور خدمت کیلئے لونڈی حضرت حاجرہؓ بھی دیدی،جو حقیقت میں ایک شہزادی تھی۔ بادشاہ کے ظالمانہ دور میں یہ تمیز مشکل ہوتی ہے کہ شہزادی اور لونڈی میں فرق کیا ہے؟۔ نعیم بخاری خوبصورتی کو شہزادے کیلئے معیار سمجھتے ہیں تو ان کی سابقہ بیگم طاہرہ سید بڑی شہزادی ہوگی جو شاہِ وقت نوازشریف کے کرتوت سے چھن گئی تھی۔ ججوں نے شاید نعیم بخاری کے معصومانہ جواب پرتاریخی پیرائے میں قہقہ لگایا ہوگا؟۔ مظلوموں کی بے بسی پر توہینِ عدالت سے پیشگی معذرت کیساتھ ہنسنابھی منع نہیں۔ جنتی عیش میں شجرۂ ممنوعہ سے انسان نہیں رُکتا، حضرت داؤدؑ اورسلیمان ؑ انبیاء کو بادشاہت ملی ہے تو مجاہد اوریا کی خوبصورت بیگم کو بھی ہتھیالینے اور ملکہ سبا بلقیس کی ٹانگوں کے قصے بن گئے۔ اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ ’’ایک بھائی کے پاس 99دنبیاں ہوں اور دوسرے کے پاس ایک ، اور وہ یہ بھی ہتھیالیناچاہے تو کیساہے؟‘‘ ۔
نوازشریف کی معصومیت حماقت ہے،اللہ کی ذات پاک ہے، معصومیت کی تشریح حقائق کے منافی ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے شادی کی خواہش ظاہر کی اور پھر کہا کہ ’’میرے ازدواجی تعلقات خوشگوار ہیں‘‘۔ یعنی دوسری شادی کا جواز ناخوشگواری کے باعث ہے، حالانکہ انکے والد مفتی محمودؒ نے خوشگوار تعلق میں بھی دوسری شادی کی۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ سے فرمایا :’’ اب کوئی شادی آپ نہ کریں چاہے کوئی خاتون شادی کیلئے اچھی بھی لگے‘‘۔ شادی کی چاہت ، شادی کا کرنا معصومیت کیخلاف نہیں ۔ نوازشریف کی معصومیت پر وسیم بادامی کے بقول معصومانہ سوال ہے کہ ’’قطری شہری کا خط آپ کا وکیل اکرم شیخ عدالت میں لایا؟، اکرم شیخ کا یہ کہنا درست ہے قومی اسمبلی کی تحریری تقریر میں حوالہ بھول گئے ؟۔تو لیجئے آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔ قطری شہری کا خط گرفت کیلئے کافی ہے، سرمایہ کاری پریہ نہیں کہا جاتاکہ ’’مجھے آگاہ کیا گیا‘‘ بلکہ دستاویزی ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ کہنا کہ’’ مجھے آگاہ کیا گیا ‘‘ کھلے الفاظ میں جھوٹ کا بہت بڑا پلندہ ہے ۔قطری خط بذاتِ خود ثبوت نہیں بلکہ تابوت ہے‘‘۔
وکلاء اور ججوں کے پاس تعلیم کی ڈگریاں ہونگی اور تعلیم کی ڈگری سے زیادہ کاروباری معاملہ کا لکھت پڑھت سے تعلق ہوتاہے۔ ایکزٹ کی طرح دنیا بھر میں جعلی اسناد بکتی ہیں بنوں میں علماء کی اسناد بکنے کا مسئلہ مشہورہے۔ قابلیت کا پتہ ڈگری کے بغیر بھی چلتاہے۔ ملک ریاض نے ڈگری کے حامل لوگوں کو ملازم رکھاہے۔ نوازشریف کا سب سے بڑا اعزاز محنت کرکے کمانا تھا۔ جب پکی پکائی تازہ روٹی قطری شہزادہ دیتا تھا تو پھرنوازشریف اور اسکے خاندان کا کیا کمال ہے؟۔ پھر کس بات پر حمزہ شہبازفخر کرتاہے کہ ’’میں ایک مزودر کا بیٹا ہوں‘‘۔ مزدوری سے اونچی اڑان ہوتی تو پاکستان میں بہت سے لوگوں کی حالت بدل جاتی۔ بعض لوگوں کی بدلی ہے مگر ا نکے پاس ثبوت بھی ہیں۔ وہ فوجی ڈکٹیٹروں کیساتھ مل کر حکومتوں کے ذریعے کرپشن نہیں کرتے رہے ہیں۔ کاروباری معاملہ ہو تو اللہ نے قرآن میں اس وقت بھی انصاف کی حامل تحریر کا حکم دیا تھا جب کاروباری معاملے میں عام بینکوں وغیرہ کا رواج بھی نہ تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میاں شریف نے کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر ہی اتنی بڑی کاروباری رقم قطری شہری کو دی ہو؟۔ دستاویزی ثبوت کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ مجھے آگاہ کیا گیا بلکہ دستاویزی معاملہ پیش کیا جاتاہے۔ ججوں نے اگر معاملہ الجھانا ہے تو وکالت کے پیشے کی مہارت کے ثبوت کیلئے ضروری ہے کہ جتنا ممکن ہو معاملہ الجھایا جائے اور کسی جج کی اہلیت کیلئے وکالت کا تجربہ ہی بڑی بنیاد ہوتاہے۔ وزیراعظم کی وکالت کرنی ہو تو حماقت بھرا خط مسترد کیا جائے کہ چور کا اپنے ہاتھوں کو خودہی کاٹنے کے مترداف ہے اور اسے حضرت یوسفؑ کے حسن میں ہاتھ کاٹنے والی خواتین کی معذوری قرار دیاجائے۔ عدالت پہلی فرصت میں خط ہی مسترد کردے اور وکیل دوبارہ اسکی تصدیق کیلئے مہریں ثبت کرکے نہ لائے۔ مخالف وکیل خط کے دلیل کا حوالہ دے تو اکرم شیخ کہہ دے کہ ’’غلطی سے یہ خط لایا گیا، وزیراعظم پارلیمنٹ میں بھولا نہ تھا بلکہ میرے مؤکل نے اس خط کو مسترد کیا ہے‘‘ اور اگر عمران خان کے وکلاء نے معاملہ جیتنا ہے تو خط کا قضیہ فیصلہ کن قرار دیں۔ جج شہزادے کی تشریح پرنہیں وکیل کی نااہلی پر قہقہے لگاتے ہونگے۔ ججوں کی چاہت ہوگی کہ قانون کی اندھیر نگری نے ہاتھ باندھے ہیں، قومی دولت کو مال غنیمت سمجھ کرلوٹنے والا عدالت کی گرفت میں آجائے ۔عدالت کا فیصلہ وزیراعظم کے حق میں یا خلاف ہو، دونوں صورت میں پاکستان شاندار مستقبل کی طرف پرواز کریگا، معصوم کوئی بھی نہیں لیکن وزیراعظم کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہے، بے دریغ قرضوں سے عوام پر ٹیکس بڑھ گیاہے، ایک عام مزدور کی تنخواہ 10سے12ہزار کرنے پر بھی فخر کرنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے اتنی رقم میں مہینے کے اخراجات پورے کرکے دکھائیں۔ علی احمد کرد کاکہنادرست ہے کہ وزیراعظم غریبوں سے ہی ہونا چاہیے،ملک کا 2فیصدامیر طبقہ 98% غریبوں کامسئلہ سمجھنے سے قاصرہے ۔کرپٹ حکمران کرپشن ہی کرسکتے ہیں
شاہ ولی اللہؒ نے نظام کو پلٹنے کی بات کی تھی، عدالت کے اس فیصلے سے نظام کا کایاہی پلٹ جائیگا۔

ایم کیوایم کا جن بوتل میں یا سرکٹی لاش بن گئی ہے؟:فیروز چھیپا

مہاجر نے کراچی سے ہمیشہ غریبوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ایم کیو ایم پاکستان ، لندن اور PSP چلے کارتوس ہیں

نوشتۂ دیوار کے مہتمم فیروز چھیپا نے کہاہے کہ کراچی میں امن وامان کی بحالی کیساتھ ایک ایسی فضاء قائم ہوئی ہے جہاں امیدومایوسی کا اظہار ہورہاہے۔ پاکستان کے طول وعرض کو دیکھا جائے تو ایسی قیادت نہیں جو کراچی کو اس فضاء سے نکالنے میں کامیاب دکھائی دے ۔ بکھری ایم کیوایم کے رہنماؤں کو حوصلہ کرنا چاہیے، چلے کارتوس کے خول ہیں، تاہم مہاجر زندہ دل ہیں۔ مہاجرقوم میں بے پناہ صفات ہیں۔ کراچی سے ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ قومی و صوبائی اسمبلی میں گئے ہیں۔ جب بھی کوئی قومی سطح کی تحریک چلی ہے ،ہمیشہ کراچی کے زندہ دل لوگوں نے اس میں بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مصطفی کمال کی پارٹی ہو یا ایم کیوایم پاکستان و ایم کیوایم لندن یہ پارٹیاں بہت پہلے بن کر اپنے منطقی انجام تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔ جب کسی قوم میں نبی کریم ﷺ کی عظیم شخصیت بھی موجود تھی تو اللہ تعالیٰ صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے باوجود بھی وحی کے ذریعے سے رہنمائی فرماتا تھا۔ کراچی میں ایم کیوایم لندن کے وہ کارکن جنہوں نے براہِ راست اپنے قائدالطاف حسین کے شب وروز اور معمولاتِ زندگی کو کافی عرصہ سے دیکھا نہیں ہے ان کا جذباتی لگاؤ فطری طور پر بہت زیادہ ہوگا۔ ان کے برعکس جن کا ملنا جلنا رہتا تھا وہ اتنا جذباتی لگاؤ نہیں رکھتے تھے۔ زیادہ تر مہاجروں کی مثال پیرکے مریدوں یا فوجی سپہ سالار کے سپاہیوں کی ہوتی ہے۔ وہ جزا وسزا کے خوف سے زیادہ حکم کی پاسداری کرنا ہی جانتے ہیں اور کسی قوم کیلئے اس وقت یہ بڑی کامیابی کی ضمانت ہے جب اس کی قیادت محفوظ ہاتھوں میں ہو۔جرمن قوم کی قیادت ہٹلر کے ہاتھوں میں تھی اور قوم کا اس پر بے پناہ اعتماد تھا، اکثر اوقات رہنماؤں کے مقابلے میں یہ حقیقت سامنے آتی تھی کہ ہٹلر ہی کی بات ٹھیک ہوتی تھی۔ جب ہٹلر نے آخر میں سب کیساتھ قوم کو لڑایا تب بھی ان کو ہٹلر کی بات کے درست ہونے کا یقین تھا لیکن عظیم قوم جرمن کا بیڑہ غرق ہوا، تو پتہ چلا کہ ہٹلر کا دماغ ہی چل گیا تھا۔ الطاف حسین عظیم انسان ہوسکتے ہیں لیکن پیغمبر تو نہیں ہیں؟۔
کراچی میں الطاف حسین کی قیادت ماننے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور قائد خود بھی اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ہی ایمان رکھتے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور مہاجرقوم نے اسلام کی وجہ سے ہی بھارت سے پاکستان ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تربیت کا جو معیار قرآن وسنت کے ذریعے دنیا کے سامنے متعارف کرایا ہے ، وہ صرف کلمہ پڑھ لینے کا نام نہ تھابلکہ اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت اور فرمان برداری کانام اسلام ہے۔ قرآن میں روزہ رکھنے کیلئے طلوع فجر سے رات تک کا واضح حکم ہے ۔ اگر مسلم اُمہ کی فوجی یا مریدی کی تربیت ہوتی تو جہاں سورج چھ ماہ تک غروب نہیں ہوتا،وہاں روزہ رکھنے سے مسلمان مرجاتے لیکن اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ مؤمن وہ ہیں ’’ جو اللہ کی آیات پر بھی بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرپڑتے ہیں‘‘۔ یہ بھی سورۂ مجادلہ میں ہے کہ اللہ نے عورت کا نبیﷺ سے جھگڑا سن لیا اور پھر اسی کے حق میں فیصلہ بھی دیدیا ۔غزوہ بدر کے موقع پر فدیہ لینے پر اکثریت کی مشاورت کے باوجود جب نبیﷺ نے فیصلہ کیا تو اللہ نے نامناسب قرار دیا اور حضرت عمر فاروقؓ کے مشورے کی توثیق کردی۔ عمر فاروقؓ نے حدیث قرطاس کے مسئلے میں رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ تو مسلمانوں نے قرآنی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں اس اختلاف کو گستاخی سمجھ کر قتل یا بغاوت کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ الطاف حسین نے بار بار قیادت سے دست برداری کے اعلانات کرکے یہ تربیت کردی تھی کہ مائنس ون فارمولے پر عمل ہوجائے تو ایم کیوایم کے رہنما اور کارکن مایوس نہ ہوں۔ ریاست کی یہ پالیسی بہت اچھی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہی بلاامتیاز کاروائی کا کہہ رہی ہیں۔ ایم کیوایم حقیقی کو پہلے میدان میں اتارا گیا، پھر بیت الحمزہ کو ملیامیٹ کردیا گیا تھا۔ اب ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردئیے گئے لیکن مسئلہ کا حل ریاستی جبر نہیں بلکہ سیاسی قیادت ہے۔
ریاست کی رٹ صرف کراچی نہیں بلکہ سب سے پہلے سوات میں بحال کی گئی تھی۔ پھر جہاں جہاں خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں ریاست کی رٹ نہیں رہی تھی وہ بحال کی گئی۔ کراچی میں بھی ایم کیوایم کے سیکٹر انچارج فیصلے کرتے تھے۔ اگر کراچی کی ایم کیوایم اور طالبان سے عوام بھی بہت خوش ہوتی تو ریاست کو مداخلت کی ضرورت نہ پڑتی۔ گورنر سندھ سعیدالزمان صدیقی نے موجودہ عدالتی سسٹم سے بچنے کیلئے عوام میں اپنا ایک فورم متعارف کرایا تھا جو اپنی مدد آپ کے تحت جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے کے فلسفے پر بنایا گیا تھا۔ جب ایم کیوایم کے مقابلہ میں پیپلزامن کمیٹی کا وجود عمل میں لایا گیا، طالبان گروپ بھی کراچی میں بھرپور طریقے سے متحرک تھے، دوسری مذہبی و سیاسی جماعتوں کے حوالہ سے بھی عدالت نے فیصلہ دیدیا تو ریاست کو سب کیخلاف حصہ بقدر جثہ کاروائی کرنی پڑگئی۔ اب بھی ایم کیوایم ختم نہیں ہوئی ہے اور الطاف حسین کی مقبولیت میں بھی کمی نہیں آئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ہمارے ساتھیوں کو22اگست سے پہلے کہا تھا کہ ’’ جنرل احسان الحق(ر+آئی ایس آئی چیف) کو الطاف بھائی کے پاس بھیجا جائے تو معاملہ ٹھیک ہوجائیگا اور اگرچہ اب اس تجویز پر عمل کرنے سے فائدہ ہوتاہے یا نہیں لیکن الطاف حسین کی قیادت کے بغیر یہ نہ سمجھا جائے کہ ایم کیوایم کا جن بوتل میں بند کیا گیاہے۔ اگر اس سر کٹی لاش نے بھوت بن کر کاروائیاں شروع کردیں تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔الطاف بھائی کو چاہیے کہ اگر ایم کیوایم پاکستان کی موجودہ قیادت پر ہی اپنے اعتماد کا بھرپور اظہار کردیں تو مہاجر قوم مشکل سے نکل سکتی ہے۔ مہاجر قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے اس نظام کی تبدیلی بڑی ضروری ہے جسکی وجہ سے ایم کیوایم بن گئی تھی۔ ایم کیوایم نہیں تو دوسرے کون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟۔

نشان حیدر، نشان ذی النورین، نشان فاروق اعظم، نشان صدیق اکبر… حنیف عباسی

نوشتۂ دیوار کے نمائندے حنیف عباسی نے اعلیٰ فوجی اعزازات کے حوالہ سے پارلیمنٹ، حکام کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ نشانِ حیدر سے بڑھ کردوسرے سول وملٹری اعزاز بھی قانون کا حصہ بنائے جائیں۔ ملک وقوم کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ملک ریاض کو نشانِ ذی النورین سے نوازا جائے۔ تاکہ دیگر لوگ بھی اپنا سرمایہ باہر سے اپنے ملک میں لگانے میں دلچسپی اور عزت و اعزاز سے ترغیب پائیں۔ جنرل راحیل نے مشکل ترین ہنگامی صورتحال میں ملک کو کھڈے لائن سے بچایا، اسلئے ان کو 7سٹار نشانِ صدیق اکبر دیا جائے، تاکہ قومی خدمات کے حامل افراد کو سادگی کے نام پر بیوقوف نہ کہا جائے۔اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پرفوج کا استحکام وقت کا تقاضہ ہے، جنرل زبیر ملک کے استحکام کیلئے نشانِ فاروق اعظم کا بنیادی کارنامہ انجام دیں ۔خلفاء راشدینؓ کے نام سے قومی اعزازات ملی یکجہتی کیلئے ضروری ہیں۔جنرل یحیےٰ خان کو بھی بالکل ہنگامی صورتحال کا سامنا تھا، اگر اس وقت قومی اعزازات میں رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے بغیر بھی نشانِ ذی النورین، نشانِ فاروق اعظم اور نشانِ صدیق اکبر ہوتے تو سقوطِ ڈھاکہ مشرقی پاکستان بچانے میں جنرل یحیےٰ خان کو اہل تشیع ہونے کے باوجود نشانِ صدیق اکبر پر بڑا فخر ہوتا۔
قومی اعزازات سے فرقہ واریت کو ختم کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ پاک فوج پاکستان کے استحکام کیلئے بنیادی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے، نشانِ حیدر کا تعلق صرف محاذِ جنگ سے ہے۔ پاکستان میں جنگی محاذوں سے زیادہ مارشل لاؤں کے ادوار مسلط رہے ہیں جن سے پاک فوج کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچاہے۔ کرپشن کے حوالہ سے بھی یہ ادارہ دوسرے لوگوں سے مختلف نہیں رہا، جنرل راحیل شریف کی آمد سے قبل یہ زوال کے انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ پاکستان کے دوانگریز آرمی چیف سمیت جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک مقامی جرنیلوں کو عزت و احترام سے نہیں دیکھا جاتا، جنرلوں کی اولاد اور جنرلوں کے پیداوار سیاستدان بھی جرنیلوں کو سرِ عام برا بھلا کہتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے نہ صرف قوم اور بین الاقوامی عزت واحترام کا مقام حاصل کیا بلکہ حکومت اور اپوزیشن سمیت ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں میں بھی بڑی عزت پائی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی باوقارشخصیت نے پہلی مرتبہ آرمی چیف کے منصب پر فائز ہوکر نہ صرف یہ کہ زبردست عزت کمائی بلکہ اس منصب کو بھی جنرل راحیل کی وجہ سے عزت حاصل ہوئی ہے۔
جب آنیوالے وقت میں یہ کہا جائے کہ عزت پیسوں سے ملتی ہے، جنرل راحیل نے کرپشن کی عزت حاصل نہیں، منصب کا فائدہ نہ اٹھایا، مارشل لاء نہیں توسیع ہی لے لیتے تو صداقت ، کردار، شجاعت اور عدالت کے تقاضے پر عمل کرنے والی قوم میں امامت کے صفات کبھی پیدا نہ ہوں گے بلکہ ہمارے اندر پست ذہنیت کی پسماندگی سرائیت کر جائے گی۔ جو قومیں نوسربازوں، کرپٹ اور چالاک وعیار لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں وہ قوم ہمیشہ تنزلی کا شکار رہتی ہے۔ جنرل راحیل نے قومی ترقی کیلئے سادگی سے ہنگامی بنیادوں پر جو کارنامہ انجام دیا ہے ،اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ جنرل زبیر حیات جوائنٹ چیف آف سٹاف کی حیثیت سے ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے قوم کے انتظام و انصرام میں حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے احساسات پیدا ہوں۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے کمال ایمان سے کرپشن اور بدا نظامی کا راستہ روکنے میں اپنا کردار ادا کیا تو حضرت فاروق اعظمؓ نے بہترین انتظامی اجتماعی عدل وانصاف کا نظام کھڑا کرکے دنیا کی ہیت کو بدل ڈالا تھا۔ شارعِ فیصل کراچی کی ایک طرف فضائیہ اور دوسری طرف نیوی ہے۔ عوام کیلئے وسیع بہترین سڑکوں کی ابتداء کی جائے تو جنرل زبیرحیات اپنے عہدے کو بہت زبردست عزت بخش سکتے ہیں، شارع فیصل کے دونوں اطراف بہترین مارکیٹ، آفس، ہوٹل اور رہائش گاہوں سے فضائیہ اور نیوی کو بھی بڑی آمدن حاصل ہوگی۔ کراچی شہر کا حلیہ بھی بالکل بدل جائیگا۔ جب شہر کچرے سے کچراچی بن جائیگا تو سب کا نقصان ہوگا۔ پاک فوج نے کراچی کے امن کیلئے بہترین اقدامات اٹھائے ہیں لیکن اندرون سندھ، پنجاب اور دوسرے شہروں کا بھی کوئی خاص مزہ نہیں ہے۔ جب پاک فوج بہترین طریقے سے بنیادی اقدامات اٹھائے گی تو دیرپا امن اور خوشحالی مقدر بنے گی۔
قومی اعزاز کیلئے ملک ریاض کا نام بھی اسلئے لیا کہ ان کے ذریعے بیرون ملک مقیم لوگ اپنے سرمایہ باہر سے پاکستان میں لگارہے ہیں۔جب تعمیری سوچ کو اعزاز کیساتھ بڑھایا جائیگا تو بہت کرپٹ لوگ بھی اپنا سرمایہ باہر سے پاکستان لانے میں عزت محسوس کریں گے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں میں لوگوں کو توبہ کرنے اور اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے تو عوام میں تخریب کاری کی بجائے تعمیری سوچ کو پذیرائی حاصل رہتی ہے۔ باعزت روزگارسے ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ ایک شخص ملک ریاض ملک کی تعمیر وترقی اور روزگار کی فراہمی میں اتنی بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں تو پاک فوج نے بھی اس میدان میں زبردست پیش قدمی کرنی ہوگی۔ جنرل زبیر حیات اپنے منصب کے لحاظ سے جو خدمات انجام دے سکتے ہیں وہ آرمی چیف کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ آرمی چیف بری فوج کا سربراہ ہوتاہے، نیوی اور فضائیہ کے سربراہوں کی حیثیت اسلئے نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے کہ ان کا عملہ زیادہ نہیں ہوتاہے۔ جنرل زبیر حیات کو قسمت سے آرمی چیف بھی بڑے خاکسار، ملنسار اور بڑوں کیلئے مثالی تواضع وانکسار رکھنے والی شخصیت جنرل قمر جاوید باجوہ ملے ہیں جن کی ہرممکن مدد حاصل رہے گی۔قرضوں سے ملک نہیں چل سکتے۔ پاک فوج اپنی مدد آپ کے تحت بڑے ہی منافع بخش ، حوصلہ افزاء اور تعمیرملت کے بنیادی پروگرام میں بہترین حصہ لے کر دفاع کے بوجھ کو بھی اپنے کاندھوں پر اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرقہ وارانہ سوچ سے بالاتر پاک فوج کواپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کیساتھ طبقاتی کشمکش کے بجائے تعمیرِ ملت پر بھی اپنی توجہات مرکوز کرنی ہوگی اور مارشل لاء کی طرف جانے کے بجائے اپنی عوام سے مضبوط تعلقات مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔جنرل راحیل نے ساتھیوں کیساتھ جو بنیاد رکھ دی ہے اس پر تعمیرکی بہت ضرورت ہے ۔

عمران خان نے محرم الحرام میں نکاح کیا یا متعہ؟ ارشاد علی نقوی

عمران خان شیعہ مخالف طبقوں کو محرم کے نکاح پر اپنا ہمنوا بناتا ہوگا اور اہل تشیع سے کہتا ہوگا کہ میں نے متعہ کیا تھا

نوشتۂ دیوار کے ڈیزائنرسیداشاد علی نقوی نے موجودہ دور کے فراڈ سیاسی قیادتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ مفاد پرستوں کے ہاتھوں قوم کے اخلاق، کردار ، اقدار، سیاست اور لیڈر شپ سب کچھ تباہ ہوں تواس کی ذمہ داری کس پر پڑے گی؟۔عمران خان نے نکاح کیا تھا لیکن کس ڈرامہ بازی سے کہہ رہا تھا کہ تبدیلی آئیگی اور میں شادی کروں گا۔
آصف علی زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کا کہاتھا اور پھر اس کی غلط تعبیریں کرتے ہوئے بھی نہ شرمایا، نوازشریف اور شہباز شریف نے جب زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا تو معلوم ہوتا تھا کہ حبیب جالب کی روح ان میں جاگ گئی ہے لیکن پانامہ لیکس سے اپنے پاجامے بھی لتھڑے نظر آئے تو قوم کو پتہ چلا کہ انسان اور سیاستدان دوسروں کے خلاف نہیں بول رہے تھے بلکہ کتے بھونک ، گدھے ڈھینچو، ڈھنچو کررہے تھے۔ عمران خان دونوں کو جس طرح سے منافق، بے غیرت، بے شرم، ملی بھگت اور سازباز کا مرتکب قرار دے رہاتھا تو عوام محسوس کررہی تھی کہ عمران خان سیدھا، باغیرت، شرم و حیاء رکھنے والا، صاف ستھرااور بالکل پاکیزہ کردار رکھنے والا انسان ہے لیکن جب اسکی فائل کھلی ہے تو اس سے بڑا ڈرامہ باز کوئی نہیں لگتاہے۔ ہر چیز کی حد ہے مگر عمران خان نے رسی توڑدی ہے۔ 14اگست 2014ء کو عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا تاریخی دھرنا شروع ہوا تھا۔ اس دوران محرم الحرام اور عیدالبقر بھی آئے ، 31اکتوبر کو7محرم الحرام کی تاریخ تھی۔ریحام خان کے ساتھ نکاح کی خبر میڈیا میں جنوری کو دی گئی۔ مفتی سعید خان نے نکاح کے بارے میں جنوری میں میڈیا سے کہا کہ ’’ میں عمران خان کے بہاف پر کہہ رہا ہوں کہ ابھی عمران خان کا نکاح ہواہے‘‘۔ جب ریحام خان نے طلاق کے بعد انکشاف کیا کہ 31اکتوبر شادی کی سالگرہ تھی اور تحفہ مانگنے پر مجھے طلاق ملی تھی تو میڈیا نے مفتی سعید خان سے پوچھا کہ شادی کب ہوئی تھی؟۔ 31اکتوبریاپھر جنوری کو؟، مفتی سعیدخان نے کہا کہ ’’ 7محرم کو نکاح ہوا تھا، اس کے مطابق تاریخ دیکھی جائے‘‘۔ پھر میڈیا نے مفتی سعیدخان کے کلپ بھی چلائے۔ مفتی سعید خان کے کہنے میں کہ عمران خان کے بہاف پر کہہ رہا ہوں اور قطری شہزادے کے خط میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ جھوٹ کی بنیاد پراگر کوئی قومی اسمبلی اور سیاسی جماعت کی قیادت کیلئے نااہل ہوسکتاہے تو دونوں کو نااہل کیا جائے۔
دھرنے کے دوران ضرب عضب شروع تھا تو عمران خان ایک طرف امپائر کی انگلی اٹھنے کی دھائی دے رہا تھا تو دوسری طرف پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالہ کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ آج میڈیا پر انکشاف ہورہا ہے کہ دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی چیف ظہیر الاسلام کا کردار تھا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جیوٹی وی چینل پر روزسنگباری کی جاتی تھی۔ انصار عباسی نے بھی کہا تھا کہ ’’دھرنے کے پیچھے آرمی چیف نہیں لیکن کچھ لوگ خود کو آرمی چیف سے زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں‘‘۔یہ بھی عجیب معاملہ تھا کہ دھرنے میں عمران خان کو چاہنے والی لڑکیاں سرِ عام شادی کی پیشکش کرتی تھیں، روز روز کی گہماگہمی ایک تماشہ ہوتا تھا، جب شادی کرہی لی تھی تو اس کو چھپانے کی ضرورت کیا تھی؟۔ پھر ڈرامہ بازی کی ضرورت کیا تھی کہ ’’تبدیلی آئے گی اور شادی کروں گا‘‘۔ ایسا ڈرامہ تو کسی بھی سیاسی قیادت نے نہیں رچایا ہے۔ دوسروں کو ڈرامہ باز کہنے کی اس قدر جسارت اور خود اتنا بڑا ڈرامہ رچانے میں کوئی مشکل محسوس نہیں ہوئی؟۔ آصف علی زرداری نے سیاسی اداکار کے لقب سے ٹھیک یاد کیا تھا لیکن سیاسی اداکاری تو اب اس کا اپنا بیٹا بھی کررہاہے۔ سیاست ادکاری کی آرٹ ہو تب بھی قوم کے جاہلوں سے کھیلنے میں زیادہ حرج نہیں ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی ایک سیاسی اداکارہی تھا جس کی نقل موجودہ سیاسی قیادتیں اتار رہی ہیں۔
اصل مسئلہ قلابازیاں کھانے، غیراخلاقی حرکتیں کرنے اور دوسروں کو ڈھٹائی سے موردالزام ٹھہرانے کیساتھ اپنی ایسی حرکات ہیں جن کی کوئی توجیہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ 7محرم کو نکاح سے طالبان ، لشکر جھنگوی اور داعش کو پیغام دیاگیا کہ عمران سے زیادہ اہل تشیع کا کوئی مخالف نہیں، عام سنی بھی محرم خصوصاً عاشورے میں نکاح اور شادی سے اجتناب کرتے ہیں۔ شادی کی بھی جائے تو اس کو چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جب طالبان کا غلغلہ تھا تو عمران خان انکی بڑی ڈھٹائی سے تائید کرتا تھا، طالبان کا دور نہ رہا تو جلسے میں ’’نعرۂ حیدری :یا علی‘‘کی آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں۔ ایاک نعبد وایاک نستعین کے بجائے اب یاعلی مدد کے نعرے بھی لگ جائیں تو مسئلہ نہیں لیکن قوم کے سامنے اس بات کی وضاحت تو کم ازکم کی جائے کہ ’’پہلے متعہ تو نہیں کیا تھا؟‘‘۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ طالبان کو اس نکاح سے جو پیغام دیا جارہاتھا اس کو اہل تشیع کے سامنے یہ دوسرا رنگ دینے میں بھی حرج محسوس نہیں کرینگے۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے سربراہ مفتی عبدالقوی کا ویڈیو پیغام الیکٹرانک ، سوشل اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے پہنچ چکا تھا۔ایک حرکت سے اس کو نکال دیا گیا تو کیا تحریک انصاف کے سربراہ کیلئے کوئی اخلاقی معیار شرط نہیں ہے؟۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بیوی کے نازیبا تصویروں پر بھی امریکی قوم کو بہت اعتراض ہے لیکن عمران خان کس قسم کی مٹی سے بنایا گیا انسان ہے کہ اپنے لئے کسی اخلاقی معیار کو خاطر میں بھی نہیں لاتا ہے؟۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں میڈیا کو اس شرط پر تو اشتہارات نہیں دیتیں کہ عمران خان کا چہرہ بے نقاب نہ کیا جائے؟۔ سیاسی جماعتوں کی بہادری ملا، طالبان اور فوج سے نہ ڈرنے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ سیاسی رہنماؤں اور قائدین کیخلاف بولنے سے ہیجڑوں کو بھی ڈر نہیں لگتا۔سینٹر مشاہداللہ خان نے سماء ٹی وی چینل پر فیصل قریشی کے پروگرام میں کہاتھا کہ ’’ عمران خان پرائے بچے پال رہا ہے‘‘۔ مبشرلقمان نے دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا کہہ کر اصل یہودی قرار دینے پر چیلنج کررکھاہے۔ قلابازی کھانے والے دانیال عزیز اور عمران خان کے کردار پر یہودبھی شرم کھا رہے ہوں۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے اس کردار کی بنیادپر کہا کہ ’’جسے دیکھ کر شرمائے یہود‘‘۔
قوم کو شعور وآگہی دینا صحافتی فریضہ ہے۔ کسی جماعت کی وکالت اورکسی کیخلاف محاذ آرائی کرنا صحافت کے بنیادی فریضے کے منافی ہے۔ قوم کے شعور کو بیدار کرنے کا فرض نبھانا چاہیے۔ سیاسی قائدین قوم کیلئے رول ماڈل ہوتے ہیں اور ان پر تنقید کرنا انکے ذاتیات کا مسئلہ نہیں ۔ قوم کے سامنے خود کو قیادت کیلئے پیش کرنیوالا اپنی معاشرتی زندگی کو ذاتیات نہیں کہہ سکتا،لیڈر کی ذات پبلک پراپرٹی ہوتی ہے۔جج، جرنیل اور جرنلسٹ جانبدار بن جائے تو اس کا منہ ہی کالا ہے۔