پوسٹ تلاش کریں

قرآن کی روشنی میں شیخ ابن عربی کی فکرکا تجزیہ

شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا:”یہ خلیفہ یہ پہاڑ سردار۔ یہ مقام اس جھکنے اور حرمت والی جگہ پر۔یہ تمام مخلوقات کی قیادت کررہاہے باوجود اسکے کہ اس کی قیادت ظاہر نہیں ہوئی ۔ جب ایک بچھڑا اور بت ظاہر ہوگا آنکھوں کے سامنے ۔جس کا خوف قوم کے اعصاب پر سوار ہوگا۔ جس کا سامنا موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا جو وہ جانتے ہیں۔ نظر آنے والی چیز حرام ہے جب نظر آئے۔ بصیرت کی آنکھ میں ہر چیز کی اصل عدم ہے”۔

کیا بنی نوع انسان پر امام مہدی کا انقلاب آئے گا؟۔ شیخ محی الدین ابن عربی کی فکر کا ہم قرآن سے جائزہ لیتے ہیں۔

ولقد کرمنا بنی اٰدم و حملنا ھم فی البر و البحر و رزقناھم من الطیبات و فضلناھم علی کثیر ممن خلقناتفضیلًاOیوم ندعو ا کل اناس باماھم فمن اوتی کتابہ بیمینہ فاولئک یقرء ون کتابھم ولا یظلمون فتیلًاO

” اور ہم نے بنی آدم پر کرم کیا ہے اور ہم نے خشکی اور سمندر میں اسے سوار کیا اور پاک چیزوں میں سے روزی دی اور ہم نے بہت ساری مخلوقات پر اس

کو فضیلت بخشی واضح فضیلت۔ اس دن تمام لوگوں کو پکارا جائے گا انکے امام کیساتھ۔ پس جس کو دائیں ہاتھ سے اعمال نامہ ملے گا تو وہ اپنی اعمال نامہ پڑھے گا اور اس پر ذرا ظلم نہیں کیا جائے گا”۔

سورہ بنی اسرائیل کی آیات70،71میں کوئی انسان اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ موجودہ دور میں خشکی اور سمندر کی سواریوں کی جو حالت ہے وہ واضح ہے اور انسانوں کو بہت سی مخلوقات پر فضیلت کا اقرار ہر ایک کوہے۔ اصل بات امام مہدی کی جس کی فردانیت کا ذکر شیخ ابن عربی اور حاجی عثمان نے کیا تھا لیکن علامہ زمحشری صاحب کشاف نے ”امام ” سے مائیں مراد لیا۔ جومعتزلی اچھا آدمی تھا لیکن ضعیف حدیث کو دیکھا اور صحیح کو نظر انداز کیا ۔آیت میں اصحاب الشمال کا نہیں؟۔ اسلئے کہ اصحاب الیمین کو اہلیت کے مطابق ذمہ داریاں دی جائیں گی اور ان پر ظلم نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نا اہل کو ان پر ترجیح نہیں دی جائے گی لیکن اہلیت سے زیادہ بڑا منصب بھی نہیں ملے گا۔ اسی نے تو عالم انسانیت کا بیڑہ غرق کیا ہے ۔ امام مہدی کا کام عدل کا قیام اور توازن کی بالکل برابری ہوگی جو انسانیت کیلئے ہوگا۔

من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرة اعمٰی و اضل سبیلًاO”

جواس میں اندھا وہ آخرت میں اندھا ہے اور زیادہ گمراہ ”۔(بنی اسرائیل:72) اسلام کی نشاہ اول کا اندھا اسلام کی نشاة ثانیہ میں بھی اندھا ہوگا ۔جیسے فتح مکہ میں معاف، ویسے اسلام کی نشاة ثانیہ میں برا سلوک نہیں ہوگا۔ حضرت ابوبکر نے خلافت کا منصب سنبھالا تو ابوسفیان نے کہا : ”علی اجازت دے تو ابوبکر سے مسند چھیننے کیلئے مدینہ کو پیادہ اور سواروں سے بھر دوں؟”۔ علی نے کہا کہ ابھی اسلام کی دشمنی سے باز نہ آیا؟۔ ابوسفیان خود کو ابوبکر سے زیادہ حقدار سمجھتا تھا۔

و من اعرض عن ذکری فان لہ معیشةً ضنکًا و نحشرہ یوم القیامة اعمٰیOقال رب لم حشرتنی اعمٰی و قد کنت بصیرًاO

” اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی تنگ ہوگی اورحشر کریںگے قیامت کے دن ہم اس کا اندھا۔کہے گا کہ اے میرے رب میرا حشر کیوں اندھا کیا جبکہ میں تو دیکھتا تھا”۔( طہ:124،125)

مہدی کے رکن و حرم کے مقام سے مراد خانہ کعبہ نہیں بلکہ وحی پر ثابت قدمی اور من گھڑت مسائل کیلئے جھکنا نہیں ہے۔

ولا لو ان ثبتنا ک لقد کدت ترکن الیھم شیئًا قلیلًاOاذًا لاقناک ضعف الحیاة و ضیف الممات ثم لا تجد لک علینا نصیرًاOو ان کادوا لستفزونک من الارض لیخرجوک منھا و اذًا لا یلبثون خلافک الا قلیلًاOسنة من ارسلناقبلک من رسلنا ولا تجد لسنتا تحویلًاO

” اور اگر آپ کو ہم ثابت قدم نہ رکھتے اور تحقیق آپ ان کی طرف تھوڑا سا جھک جاتے تو پھر ہم آپ کو زندگی اور موت میں کمزوری کا مزہ چکھا دیتے اور ہم پر کوئی مدد گار نہ پاتے ۔ اور اگر ان کا بس چلتا تو وہ تجھے زمین سے دھکیل دیتے تاکہ اس سے آپ کو نکالتے اور پھر یہ بھی زندگی نہ گزارتے مگر تھوڑی۔ یہ سنت ہے جن کو ہم نے تم سے پہلے بھیجا اور ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے”۔

بنی اسرائیل کی آیت74تا77میں رکن جھکنے کو کہتے ہیں۔

دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل
عذاب دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا مثل خلیل
فریب خوردہ منزل ہے کارواں ورنہ
زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحیل
نظر نہیں تو میرے حلقہ سخن میں نہ بیٹھ
کہ نکتۂ ہائے خودی ہیں مثل تیغ اصیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہاں حجاب دلیل
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
تیرے لئے ہے میرا شعلۂ نوا قندیل
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
کھلے جاتے ہیں اسرار نہانی
گیا دورِ حدیث لن ترانی
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار
وہی مہدی وہی آخر زمانی
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اللہ نے تدبیرکے اوپر پورا پورا زور اور پھر تقدیر کا زبردست معاملہ کہ رائٹر پہلے ہی سب کچھ لکھ چکا اسلئے اِترانے اور فخر کی اجازت بھی نہیںدی

اللہ نے تدبیرکے اوپر پورا پورا زور اور پھر تقدیر کا زبردست معاملہ کہ رائٹر پہلے ہی سب کچھ لکھ چکا اسلئے اِترانے اور فخر کی اجازت بھی نہیںدی

ایمان و اسلام کی ضد کفرونفاق اور مصدق کی ضد مکذب ہے۔ویل للمکذبین جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے۔ کفر ونفاق سے زیادہ مکذب اور مصدق وصدیق کا مدمقابل۔

سورہ الحدید میں اسلام کی نشاة ثانیہ واضح ہے۔ الم یأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ ومانزل من الحق ولایکونوا کالذین اوتوا لکتاب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم و کثیر منھم فاسقون
”کیاایمان والوں کیلئے وقت نہیں پہنچا ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کیلئے خشیت اختیار کرلیں اور جو حق نازل ہوا ہے؟اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی اور پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر لوگ فاسق بن گئے”۔ (الحدید:16)

یہ آیت اسلام کی نشاة ثانیہ کی دعوت ہے جو جاوید غامدی کی فکرکو کالعدم کرتی ہے کہ مسلمان اپنا دور گزار چکے ہیں ۔ شیطان مذہب کو صرف دنیاوی مفادات کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

سورہ الحدید آیت17میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبر ہے:
اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینا لکم الایات لعکم تعقلون
”خوب جان لو! کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد ۔ ہم نے تمہیں کھول کھول کر آیات کو واضح کردیا ہے ہوسکتا ہے کہ تم عقل سے کام لو”۔

یہ اسلام کی نشاة ثانیہ کیا ہی زبردست حوصلہ افزا خبر ہے۔

ان المصدقین والمصدقات واقرضوااللہ قرضًا حسنًا یضاعف لھم ولھم اجر کریمOوالذین اٰمنوا باللہ ورسلہ اولٰئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم لھم اجرھم و نروھم والذین کفروا و کذبوا باٰیاتنا اصحاب الجحیمO

” بیشک تصدیق کرنے والے مرد اور عورتیں اور اللہ کو اچھا قرضہ دینے والوں کیلئے دگنا کیا جائے گا اور ان کیلئے عزت والا بدلہ ہوگا اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں تو وہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اپنے رب کے ہاں،ان کیلئے ان کا اجر ہے اور ان کا نور ہے اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں ہماری آیات کو تو وہ لوگ جحیم والے ہیں”۔ (الحدید18،19)

مذہبی طبقہ مکذب کو سمجھتا ہے لیکن مصدق کو نہیں اور جنت اور جحیم کا تعلق دنیا، عالم برزخ اور قیامت کے بعد سبھی سے ہے۔

جب حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑ دیا تو کفار نے کہا کہ قالوا ابنوا لہ بنیانًا فالقوہ فی الجحیم ” کہنے لگے کہ ایک جگہ بناؤ اس کیلئے اور جحیم میں ڈال دو”۔(الصافات97)
اعلموا انما الحیاة الدنیا لعب و لھو و زینة و تفاخر بینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد کمثل غیثٍ اعجب الکفار نباتہ ثم یھیج فتراہ مصفرًا ثم یکون خطامًا وفی الاٰخرة عذاب شدید و مغفرة من اللہ و رضوان وما الحیاة الدنیا الا متاع الغرورO
” جان لو!بیشک دنیا کی زندگی کھیل تماشہ، تزئین اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر اور مال واولاد میں زیادتی ہے۔جیسے کہ بارش اچھی لگے کفار کو کھیتی کیلئے پھر (پانی نہ ملنے پر) سوکھ جائے تو اس کو پیلا دیکھے پھر وہ تنکے بن جائے۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی اور دنیا کی زندگی کیا ہے مگر دھوکہ دینے کا سامان ”۔ (الحدید:20)

دنیا کی زندگی عالم برزح کے سامنے ایسی ہے جیسے ماں کی پیٹ سے دنیا میں بچہ نکلتا ہے لیکن اس میں شعور نہیں ہوتا۔ایک فارسی کاقول ہے کہ جب تم دنیا میں آئے تو تم رورہے تھے اور لوگ ہنس رہے تھے جب تم دنیا سے جاؤ تو ایسا کردار ادا کرو کہ لوگ رو رہے ہوں اور تم ہنس رہے ہو۔

سابقوا الی مغفرةٍ من ربکم و جنةٍ عرضھا کعرض السماء ولارض اعدت للذین اٰمنوا باللہ و رسولہ ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم

”دوڑو! اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض جتنا ہے جو تیار کی گئی ہے ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا دیتا ہے۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے ”۔(سورہ الحدید:21)

نیک روحین اعلیٰ علیین اور بدکی اسفل السافیل میں ۔سورہ النباء میں یوم فصل انقلاب کا میقات ہے۔پھر عالم برزخ کا بھی واضح ذکر ہے جہاں ایک طبقہ احقاب ( حقب80سال) پیپ اور گرم اسفل رزق پائیں گے اور نیک لوگوں کو آسمانوں کی بلندیوں میں اچھی عزت والی روزی ملے گی۔

کھربوں کہکشاں کو ماننے والے سے کہا جائے کہAIسے ماضی ،حال اور مستقبل فلما دیاہے تو مان جاتا ہے لیکن قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ہے؟۔اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں رائیٹر کی طرح کتاب میں سب کچھ لکھ دیا ہے اور دنیا میں جس قالب کی نمائندگی ہے یہ کردار ہم نے عالم ارواح میں اپنے لئے خود ہی چن لئے ہیں۔ جاوید غامدی نے اپنا کردار خود چن لیا اور میں نے بھی خود چن لیا اور ہر بندے نے خود چنا ہے۔

واذ اخذ ربک من بنی اٰدم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالو ا بلی شھدنا ان تقولوا یوم القیامة انا کنا عن ھذا غافلین

” اور جب تیرے رب نے عہد لیا پیچھے سے جوانکی اولادیں ہیںانکی اپنی ذاتوں سے کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟۔انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں۔ اسلئے کہ تم قیامت کو یہ نہیں کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے ”(سورہ اعراف:172)
ایک چھوٹی قیامت تو یہاں بھی برپا ہونی ہے۔ ابوجہل ، ابولہب اور ابوبکر وعلیاور ان کی اولادیں مجبور محض نہیں تھیں ۔ جو کردار اپنے لئے منتخب کیا تھا اس میں وہ اپنی مرضی سے اپنا کردار ادا کررہے تھے۔

مااصاب من مصیبة فی الارض و لافی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذٰلک علی اللہ یسیرO
” کوئی مصیبت زمین میں نہیںپہنچتی ہے یا نہ تمہاری جانوںکو مگر لکھی ہوئی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس کو نمودار کریں بیشک یہ اللہ پر آسان ہے”۔ (سورہ الحدید:22)
تلک الایام ندوالھا بین الناس

” یہ دن ہم لوگوں میں بدلتے ہیں” سے حضرت نوح کے تین بیٹے مراد لینا غامدی کی ہفوات ہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ فتح مکہ اور کربلا اس کے مصداق تھے۔ اب عالم اسلام اور امریکہ ویورپ کا منظر ہے۔

لکیلا تأسوا علی مافاتکم ولاتفرحوا بما اٰتاکم واللہ لا یحب کل مختالٍ فخورٍO

” تاکہ جو چیز تم کھو دو،اس پر افسوس نہ کرواور جو تمہیں ملے اس پر اتراؤ نہیں۔ اللہ پسند نہیں کرتا ہرشیخی خوراترانے والے کو۔ (سورة الحدید:23)

قرآن مصیبت اور نعمت کی تقدیر سے نفسیاتی امراض دور کرتا ہے کہ نہ واویلا مچاؤ اور نہ اتراؤ۔بس قربانیاں دیتے جاؤ۔

الذین یبخلون و یأمرون الناس بالبخل و من یتول فان اللہ ھو الغنی الحمیدO

”جو بخل کرتے ہیں اور بخل کی تلقین کرتے ہیںاور جو منہ موڑے تو اللہ بے پروا تعریف کے لائق ہے”۔ (سورہ الحدید:24) بخل صرف مال کا نہیںہوتا ہے بلکہ حق بات کی تائید نہ کرنا بھی بخل ہی ہے۔

لقد ارسلنا رسلنا بالبینات وانزلنا معھم الکتاب و المیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیزO

” تحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا دلائل کیساتھ ااور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگوں میں انصاف کیساتھ کھڑے ہوں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت حرج ہے اور لوگوں کیلئے منافع تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس کی مدد کرتا ہے اور رسولوں کی غیب کے باوجود بھی۔ بیشک اللہ زورآور غالب ہے”۔ (الحدید25)

غیب پر ایمان کا امتحان ہے۔ افغانستان ،عراق،یوکرین، غزہ اور دنیا کو تباہ کردیاگیا ۔ہم لوہے کو نفع بخش بنائیں گے۔

یا ایھاالذین اٰمنوا اتقواللہ و اٰمنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نورًا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور رحیمOلئلا یعلم اھل الکتاب الا یقدرون علی شی ئٍ من فضل اللہ و ان الفضل بیداللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیمO

”اے ایمان والے لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرواور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ،تمہیں دی ہیں اپنی رحمت سے دو حصے۔ اور تمہارے لئے نور بنایا ہے جس کے ذریعے تم چلتے ہواور تمہاری مغفرت کرتا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔ تاکہ اہل کتاب یہ نہیں سمجھ بیٹھیں کہ مسلمان اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قادر نہیں ہیں۔بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔ (الحدید:28،29)

اسلام کی نشاة اول میں ایمان کا نور تھا اور نشاة ثانیہ میں بھی نور ہے۔ نبیۖ نے فرمایا: اتقوا فراسة المؤمن انہ ینظر بنوراللہ ”مؤمن کی فراست سے ڈرو، بیشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے”۔ بخاری ، مسلم وغیرہ سورہ جمعہ میں واٰخرین منھم لما یلحقوبھم ” اور ان سے آخرین جو پہلے سے مل جائینگے ” کی تشریح حدیث میں ہے کہ ”اگر دین، ایمان اور علم ثریا پربھی ہوں تو یہ لوگ وہاں سے لائینگے”۔ سورہ بنی اسرائیل میں اللہ نے نبیۖ کو تنبیہ کردی کہ ”اگر اللہ چاہے تو پھرنازل وحی کو اٹھالے اور پھر تم اللہ کے سوا کسی کو مدد گار نہ پاؤ مگر اس کی رحمت ہے ”۔ موجودہ دور میں جاوید غامد ی اور مفتی تقی عثمانی اور امت مسلمہ کے دوسرے ہم جیسے لوگ اس قابل تھے کہ قرآن کو اٹھالیا جاتا مگر اللہ نے رسول خاتم الانبیائۖ کی برکت سے یہ محفوظ رکھا ہے۔ دین، علم اور ایمان کی پھر ترویج ہورہی ہے۔

جس طرح آج یہودی دیوار گریہ پر روتے ہیں۔ شیعہ بھی امام مہدی غائب کیلئے فریاد کرتے ہیں۔ علماء ومشائخ بہت ہی خلوص کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہیںلیکن قرآن اور انقلاب کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ یہی حالت جب راہبوں کی تھی تو پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ۖ سے کیا زبردست فرمایا تھا کہ

ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغداة والعشی یریدون وجھہ ماعلیک من حسابھم من شی ئٍ وما من حسابک علیھم من شیئٍ فطردھم فتکون من الظالمینOو کذٰلک فتنا بعضھم ببعضٍ لیقولوا اھٰولآء من اللہ علیھم من بیننا الیس اللہ باعلم بالشاکرینOواذا جاء ک الذین یؤمنون باٰیاتنا فقل سلام علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمة انہ من عمل منکم سوئً بجھالة ٍ ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیمOوکذلک نفصل الایات و نستبین سبیل المجرمینOقل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھواء کم قد ضللت اذًا وما انا من المھتدینOقل انی علی بینةٍ من ربی وکذبتم بہ ان الحکم الا للہ یقص الحق وھو خیر الفاصلینOقل لو ان عندی ما تستعجلون بہ لقضی الامربینی و بینکم واللہ اعلم بالظالمینOوعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھاالا ھو و یعلم مالبروالبحروماتسقط من ورقةٍ الا یعلمھا ولا حبةٍ فی الظلمات الارض و لا رطبٍ ولا یابسٍ الا فی کتابٍ مبینO

” اور جو لوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں ان کو مسترد مت کروجو اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ تمہارے ذمہ انکے حساب میں سے کچھ نہیں اورانکے ذمہ تمہارے حساب میں کچھ نہیں۔پس اگر تم نے ان کو مسترد کیا توظالموں سے ہوجاؤگے۔ اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایاتاکہ یہ لوگ کہیں کہ کیا یہ لوگ ہیں ہمارے درمیان جن پر اللہ نے فضل کیا۔کیا اللہ شکر گزاروں کو جانتا نہیں ہے؟۔اور جب ہماری آیات پر ایمان لانے والے آپ کے پاس آجائیں تو کہو کہ تم پر سلام ہو۔تمہارارب خود پر رحمت کو لکھ چکا ۔بیشک جو تم میں سے نادانی سے برا کرے پھر توبہ کرے اور اصلاح کرے تو بیشک وہ غفور رحیم ہے اور اسی طرح ہم آیات کو جدا جدا کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔کہہ دو کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ بندگی کروں جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ۔ کہہ دو میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا پھر تو تحقیق کہ میں گمراہ ہوجاؤں گا اور میں ہدایت پانے والوں میں نہیں رہوں گا۔ کہہ دو میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور تم نے اس کو جھٹلایا اور جس کی تمہیں جلدی ہے میرے پاس نہیں۔حکم صرف اللہ کا چلتا ہے۔وہ حق بیان کرتا ہے اور وہ بہترین امتیاز پیدا کرنے والا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میرے بس میں ہوتا جس کی تمہیں جلدی ہے تو معاملہ انجام کو پہنچ چکا ہوتامیرے اور تمہارے درمیان۔اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔ اور اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیںکوئی نہیں جانتا مگر وہ۔جانتا ہے جو بھی خشکی اور سمندر میں ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ جانتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کی اندھیر نگریوں میں نہیں اور نہ تری اور خشک میں مگر وہ کھلی ہوئی کتاب میں ہے”۔(الانعام:52تا59)

اللہ کو مخلوق سے بہت محبت ہے۔ مذہبی طبقہ جوش و جذبات میں جہالت سے غلط اقدام بھی اٹھائے تو دروازہ بند نہیں کرتا۔ حاجی عثمان کی خانقاہ میں صبح وشام لوگ ذکر واذکار میںہونگے اور بڑی سکرین کو تعلیمی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا تو دنیا بھر سے علماء کرام اور عوام قرآن کو سمجھنے آئیں گے۔ انشاء اللہ

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

فیض احمد فیض نے قرآن و حدیث کی یہ ترجمانی کی ہے:

ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم وستم کے کوہِ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حرم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی حاضر بھی جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

زمین دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی سورہ الفجر کی آیت اذا کت الارض دکا دکا کی ترجمانی ہے۔
جب دروازے پر دستک دی جائے تویہی دک دک مراد ہے جب دل کانپ جاتا ہے۔ سورہ فجر میں ماضی و مستقل کا انقلاب ہے اور حجر سے مراد عقل ہے جبکہ ابن حجر عسقلانی اور ابن حجرمکی عقل کے لحاظ سے تھے اور ہم نے پتھر بنادئیے ۔ حق بھی یہی تھا اسلئے کہ دونوں انتہائی کم عقل تھے۔ عسقلانی نے شافعی مسلک کی بنیاد پر قرآن وسنت سے انحراف کیا جبکہ مکی نے شیعہ کے خلاف کتاب لکھ کر مزید بھی سخت کردیا۔حق سامنے آیا تو باطل نہیں ٹھہر سکتا،یہ طے ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جنوری2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

عورت کے حقوق کا بہترین قرآنی چارٹر

عورت کے حقوق کا بہترین قرآنی چارٹر

1: حق مہر شوہر کے وسعت کے مطابق عورت کی سیکیورٹی ، تحفظ اور انشورنس ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی آدھا حق مہر دینا ہوگا۔ ہاتھ لگانے کے بعد گھر کی مالکہ عورت ہوگی۔ شوہر طلاق دے تو شوہر کو گھر سے نکلنا ہوگا۔ اگر عورت خلع لے توعورت کو گھر اوردی ہوئی غیرمنقولہ جائیداد چھوڑنا پڑے گی لیکن حق مہر اور دی ہوئی لے جانے والی چیزیں عورت کا حق ہوگا۔ اولاد بھی مشترکہ ہوگی اور کسی کو نہیں ستایا جائیگا۔
2: طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عورت4مہینے کی عدت کے بعد فارغ ہوگی۔ جہاں بھی چاہے گی شادی کرسکتی ہے اور طلاق کے اظہار کی صورت میں3حیض وطہر یا تین ماہ اور خلع میں ایک حیض کی عدت ہے۔ عورت جب چاہے ، شوہر کو چھوڑ کر خلع کا حق رکھتی ہے۔ آیت229البقرہ کی تشریح غلط کی گئی ہے اورسورہ النساء آیت19کے مطابق عورت کو نہ صرف خلع کا حق حاصل ہے بلکہ مالی حقوق کا تحفظ بھی ہے۔
3: اسلام میں حلالے کی کوئی سزا نہیں ہے۔ جرم مرد کرے اور سزا عورت کو ملے؟۔ ایسی شرمناک سزا کو اسلام تو بہت دور کی بات ہے ہندو مذہب کی فطرت بھی قبول نہیں کرتی۔ مرد کو پھدو مارنے کی سزا دی جائے تو مرکر بھی قبول نہیں کرے گا تو عورت کو حلالہ کی لعنت سے سزا دینا اسلام نہیں مولوی کی سازش ہے۔
4: عورت کو حق مہر اور جہیز کے نام پر معاشرے میں نیلام کرنے کا راستہ روکا جائے تو کیمرے کی آنکھ کے سامنے اور پیچھے بدکاری کے سارے دھندے ختم ہوجائیںگے۔ پشتون عورت کو ہی پورا پورا حق مہر دے اور پنجابی جہیز لینے کی لعنت کو ختم کردے۔ اسلامی حقوق بحال نہیں کئے گئے تو دہشتگردی کا عذاب آئیگا۔
5: بیوہ اور طلاق شدہ کو نہ صرف نکاح کی اجازت دی جائے بلکہ ایک ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ معاشرے میں کوئی جوان اور ادھیڑ عمر کی ایسی عورت بغیر نکاح کے نہیں رہے جس کو نکاح کی ضرورت ہو۔ اس سے معاشرے پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوںگے۔ اگر کسی بڑے افسر، عزتدار اور سردار کی بیگم کو دوسرے شوہر کی وجہ سے سرکاری مراعات اور عزت پر زد آتی ہو تو پھر ایگریمنٹ کا ماحول قائم کرنا قرآنی حکم ہے۔
6: جس پشتون اور عرب معاشرے میں عورت کا حق مہر بھی باپ کھائے تو اس میں دوسرے حقوق کا کیا تصور قائم ہوسکتا ہے؟۔ عرب میں اسلام نافذ ہوا اور پٹھانوں نے اسلام کیلئے خود کش تک کی قربانیاں دیں لیکن اپنی خواتین کو حقوق نہیں دے سکے۔ عرب کے ہاتھوں اسلام کی نشاة اول ہوئی تھی لیکن یزید کے بعد پھر کربلا، مکہ اور مدینہ میں ظلم کے بازار گرم کئے گئے اور آج تک موروثی نظام سے جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔
7: اسلام نے عورت کو مخلوط مسجد، خانہ کعبہ کے طواف، صفا ومروہ کی سعی (دوڑ) اور جہاد میں شامل کرکے دنیا کو سب سے پہلے روشن خیالی کا درس دیا۔ دارارقم کے40افراد میں حضرت ابوبکر کی صاحبزادیاں حضرت اسمائ ، حضرت عائشہ اوردیگرخواتین شامل تھیں۔ مکہ اور مدینہ سمیت دنیا بھر میں خواتین کیلئے گھروں میں رفع حاجت کا کوئی طریقہ نہیں تھابلکہ عورتیں رفع حاجت کیلئے شہر سے باہرجاتی تھیں ۔ہماراکانیگرم جنوبی وزیرستان دنیا کا پہلا شہر ہے جہاںخواتین کیلئے گھروں میں رفع حاجت کا بندوبست تھا۔
8:اسلام میں جمہوری اقتدار ہے۔ نبی ۖ نے اپنا جانشین نامزد نہیں کیا یا نامزد نہیں کرنے دیا گیا۔ حضرت ابوبکر کی خلافت کو عوام کی اکثریت نے قبول کیا ۔ ابوسفیان نے طاقت سے ہٹانا چاہا مگر علی نے اس کو اسلام کے حق میں بہتر نہیں سمجھا۔سنی اور اعتدال پسند شیعہ حضرت علی کے مؤقف پر ہیں اورشدت پسند شیعہ و شدت پسند سنی ابوسفیان ، ذوالخویصرہ اور خوارج کے مؤقف پر کھڑے ہیں۔ نبیۖ نے حضرت فاطمہ کیلئے فدک کے جائیداد سے مسلمانوں میں یہ نصیحت چھوڑ دی ہے کہ بیٹیوں کو باپ اپنی زندگی میں نہ صرف اپنا حصہ دے بلکہ عملی طور پر اس کے سپرد بھی کردے تاکہ بعد میں داماد اور بیٹے جائیداد پر لڑتے نہ پھریں۔
9: علی کیخلاف حضرت عائشہ نے جنگ کی قیادت کی تھی۔ علی کے مقابلے میں یہود، مشرکین ، فارس کے مجوسی اور روم کے یورپی عیسائی نہیں آسکتے تھے تو کون مقابلہ کرسکتا تھا؟۔جب بھی مرد مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں تو عورتیں میدان میں اترتی ہیں۔ حضرت ام عمارہ نے جنگ احد میں دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ جب خواتین کو ڈاکٹر، سائنسدان، فوجی ٹریننگ اور ہر میدان میں مواقع دئیے جائیںگے تو قوم ترقی کرے گی۔
10:اللہ نے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں قدرتی ایسی صفات رکھی ہیں جس سے معاشرے میں توازن پیدا ہوسکتا ہے۔اللہ نے فرمایا: قانتات صالحات حافظات للغیب بما حفظہ اللہ ”خواتین تواضع اختیار کرنے والی ہوتی ہیں۔ فطری طور پر نیک ہوتی ہیں۔ عزت کی حفاظت کرتی ہیں غیب کی حالت میں بھی جو اللہ نے ان میں ودیعت کررکھی ہے”۔ یورپ اور مغرب کے مقابلے میں ہم جنس پرستی کے رحجانات ہمارے ہاں اسلئے زیادہ ہیں کہ مردوں میں حفاظت کا مادہ نہیں ہوتا ہے۔ قرآن میں قوم لوط کی تباہی کا ذکر ہے جو مرد وں کی جنس پرستی کا نتیجہ تھا۔ کسی قوم پر عورت کی جنس پرستی کی وجہ سے عذاب نہیں آیا تھا۔ جاہلیت کے غلط مذہبی رسوم کو اسلام نے ختم کیاتھا ،انبیاء کرام مذہب کے غلط رسوم کی اصلاح کیلئے آئے تھے۔

نوٹ: اس آرٹیکل کو مکمل پڑھنے کیلئے متصل عنوانات والے آرٹیکل
” مرد وں کاعورتوں پر درجے کا مطلب؟” اور
” معاشرے میں گرد آلودہ مذہبی فضائیں!” ضرور پڑھیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv