پوسٹ تلاش کریں

اللہ نے طلاق اور اس سے رجوع کا معاملہ جس طرح واضح کیا،اسی طرح صحابہ اور مفافقین کا معاملہ واضح کیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جس طرح سنی علماء ومفتیان قرآن کی واضح آیات سے محض اسلئے انحراف کررہے ہیں کہ انہوں نے اپنا ایک ماحول بنالیا ہے۔

اسی طرح سے شیعہ صحابہ کرام کے بارے میں واضح آیات سے اپنے ماحول کی وجہ سے بہت ہی واضح انحراف کررہے ہیں۔

سنی علماء ومفتیان طویل عرصہ سے طلاق اور اس سے رجوع کے مسئلے کو قرآن کی واضح آیات میں دیکھنے کا صرف نام لینے سے بھی بدک رہے ہیں۔ وہ قرآن کی آیات اور مسلمانوں کی عزت و حرمت کی پامالی کا لحاظ نہیں کرتے ہیں اور اپنے ماحول کو اس پر قربان نہیں کرسکتے ہیں۔ کیا ان کا ماحول، ان کا دھندہ اور معاشرے میں ان کی ساکھ قرآن اور مسلمانوں کی عصمت دری سے زیادہ عزیز ہے؟۔
سپاہ صحابہ اور اس کے سرپرست اہل تشیع کو قرآن سے مانوس کرنے کیلئے پہلے خود تو قرآن کی طرف متوجہ ہوں۔ استاذ مفتی محمد نعیم نے طلاق سے رجوع کا مسئلہ قرآن سے سمجھنے کے باوجود اعلان اسلئے نہیں کیا کہ جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی کو دیوبندی وفاق المدارس سے نکال دینگے۔ کیا وفاق المدارس اور علماء ومفتیان کی صفوں میں رہنا حمایت قرآن سے زیادہ اہم ہے؟۔ حلالہ کے نام پر عورتوں سے جبری مذہبی اور مسلکی متعہ کیا جارہاہے جاہل معاشرے کے جاہل افراد کوایک طویل عرصہ سے حلالہ کی لعنت کا شکار بنایا جارہاہے۔ جس دن سنی مکتبۂ فکر کے علماء ومفتیان اپنے لوگوں پررحم کھاکر قرآن وسنت کی طرف رجوع کا اعلان کر ینگے تو اہل تشیع کے علماء وذاکرین کو بھی یہ توفیق ملے گی کہ قرآن کی طرف رجوع کرکے اپنی مجالس میں صحابہ کرام کے فضائل اپنے لوگوں کے دلوں میں بٹھا دینگے۔
جب تک سنی اپنے ماحول کی قربانی نہیں دیں گے تو شیعہ سے اپنے ماحول کی توقع رکھنا بھی غیرت کا تقاضہ نہیں ہے۔ ایک عرصہ سے ہم نے قرآن وسنت اور اصولِ فقہ کی متفقہ تعلیمات سے طلاق اور اس سے رجوع کا مسئلہ واضح کیا ہے لیکن پھر بھی وفاق المدارس اور تنظیم المدارس ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مدارس ہمارے لئے واحد ذریعہ معاش، شہرت، اعتماداور عزت ہے۔ جب تک کوئی متبادل چیز سامنے نہ آئے اپنے ماحول سے کیسے ہم جدا ہوسکتے ہیں؟۔ پھر شیعہ کو بھی یہ مہلت دینی ہوگی۔
اہل تشیع کے مخالفین دو طرح کے ہیں۔ ایک ان کو صحابہ کرام کے دشمن اوربدترین گمراہ سمجھتے ہیں۔دوسرے ان کو ایران کے مجوسی اور وہ منافقین سمجھتے ہیں جنہوں نے اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر عرب اور مسلمانوں سے ایران کی اس شکست کا بدلہ لینا ہے جو صحابہ کرام نے کسریٰ ایران کو دی تھی۔ اول الذکر سپاہ صحابہ، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ہیں جنہوں نے محرم میںحضرت ابوبکر اورحضرت ابوسفیان کے حق میں کراچی کے اندر بڑے بڑے جلوس نکالے تھے اور یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یزید زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔ یہ لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ اہل تشیع صحابہ کرام میں سے کسی کی شان میں بھی گستاخی نہ کریں۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا نے معاویہ کے ساتھ حضرت نہیں کہا تو مجبوراً پھر حضرت معاویہ کہہ کر یہ وضاحت کردی کہ ”میں نے عمران خان کے الفاظ کو نقل کرتے ہوئے نام اس طرح لیا، میری یہ اوقات ہے کہ خلفاء کے حوالے سے کوئی بات کہہ دوں۔ نہ مجھے تاریخ کا زیادہ پتہ ہے”۔
اگر صحابہ کرام کے فضائل میں قرآنی آیات سے اہل تشیع کے علماء وذاکرین اپنی عوام کو آگاہ کرنا شروع کردیں تو پھر اہل سنت و اہل تشیع شیروشکر ہوجائیں گے۔ لیکن جب سنی طلاق سے رجوع کے مسئلہ پر قرآنی آیات کی طرف رجوع کرکے اپنی شادی شدہ خواتین کی عزت و ناموس اور غیرت و عصمت بچانے میں ماحول کی بھی قربانی نہیں دے سکتے تو شیعہ اپناماحول کیوں چھوڑیں گے؟۔
پہلے آپ اور پہلے آپ کا مسئلہ اس وقت تک دونوں فرقوں کے درمیان چلے گا کہ جب سعودیہ ،ایران ،پاکستان اور ترکی سمیت تمام مسلم ممالک کو یہودونصاریٰ اپنا غلام بنالیںگے۔ یا پھر عوام اور ہماری ریاستوں وحکومتوں میں شعور بیدار ہوگا۔ حلالے کی لعنت اور صحابہ کرام سے عنادکی بیخ کنی میں ایک بیدار قوم کی طرح کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان کو ریاست کے حساس اداروں نے اُمت مسلمہ کو مشکلات سے نکالنے پر آمادہ کیا ہے لیکن یہ ان دونوں حکومت وریاست کے بس کی بات نہیں ہے۔
کالعدم سپاہ ِ صحابہ اہل سنت کے علامہ احمد لدھیانوی نے پشاور میں وفات یوم صدیق اکبر کے موقع پر حکومت کو اپنا پیغام دیا کہ ہم کسی سیاسی جماعت(تحریک انصاف) کے اتحادی نہیں ۔ ا ہلسنت والجماعت (PDM) سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔ حکومت اپنے وزیروں اور مشیروں کا رویہ درست کرلے۔پہلے کالعدم سپاہ صحابہ عمران خان کے اتحادی کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمن کی ہر معاملے میں مخالفت کررہی تھی۔اب شیعہ مشیروں کا غلبہ لگتا ہے۔
اہل تشیع کے دوسرے مخالف غلام احمد پرویز کے ذہن سے تعلق رکھنے والا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ جو شروع سے شیعہ کو ایرانی مجوسیوں کی سازش سمجھتے ہیں۔ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ صحاح ستہ حدیث کی چھ کتابیں بھی اہل سنت کی نہیں ہیں بلکہ یہ ایرانی مجوسیوں کی سازش ہیں۔ جاوید احمد غامدی بھی صحیح بخاری ومسلم کی احادیث کو منصوبہ بندی سے ایک گہری سازش سمجھتے ہیں۔ امام خمینی نے کہا تھا کہ میری قوم نبیۖ کی قوم سے اچھی ہے۔ سورۂ محمد کے آخرمیں ثم لایکون امثالکم ” پھروہ تمہارے جیسے نہیں ہونگے” سے مراد ایرانی قوم کو صحابہ کرام کے مقابلے میں لیا ہے۔
پھر آخر میں سوال پیدا ہوگا کہ حضرت علی، حسن ، حسین اور بنوعباس تک رہنے والے بارہ امام بھی تو عرب تھے مگر ان ائمہ نے اپنا فرض پورا نہیںکیا۔ حالانکہ امام خمینی پر فرض بھی نہیں تھا تو انقلاب لایا۔ عراق پر امریکہ نے حملہ کیا تو شیعہ نے ساتھ دیا۔ سعودیہ پر امریکہ حملہ کرکے مکہ مدینہ شیعہ کے حوالہ کردینگے تو بنی امیہ نے مکہ میں حضرت ابوبکرکے نواسے عبداللہ بن زبیر ، نبیۖ کے نواسے حسین کوکربلا میں شہید کردیا توصحافی کو ٹکڑے کرنیوالے ولی عہد کو کیوں نہ مارا جائے؟۔ اگر ابھی نہ جاگے تو ہم ایک بہت ہی زیادہ تاریک خطرناک مستقبل کی طرف جارہے ہیں۔

طلاق و رجوع پر قرآن کی واضح آیات سمجھ کر حلالے کی لعنت کیخلاف اعلان کردیں توشیعہ صحابہ کو مان لیںگے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حنفی اپنے مسلکی اصولوں کے مطابق واضح قرآنی آیات سمجھ کر بھی حلالہ کی لعنت سے توبہ نہ کریں تو مؤمنین کیسے کہلائیںگے؟

میرے اساتذہ علماء ومفتیان حق بولیںگے مگر جاوید غامدی، شجاع الدین شیخ اور سراج الحق جیسوں کیلئے حق بولنامشکل ہوگا!

میںنے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، مولانا درخواستی کے مدرسہ آدم ٹاؤن نیوکراچی، مفتی کفایت اللہکے مدرسہ عربیہ فیوچر کالونی ،مولانا نصراللہ خان توحید آبادصادق آباداور مولانا محمد امین شاہو وام ہنگوکوہاٹ سے تعلیم حاصل کی اور اساتذہ کرام وطلباء عظام کے خلوص و ایمان کی دولت سے واقف ہوں۔ مفتی احمدالرحمن، مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا ادریس میرٹھی، مولانا محمدیوسف لدھیانوی ، مولانا محمد انور بدخشانی،مولانا بدیع الزمان، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، قاری مفتاح اللہ اور مفتی عبدالمنان ناصر وغیرہ کی شخصیات کوبہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔اکابر مولانا عبدالکریم بیر شریف ، مولانا خان محمد امیرمجلس تحفظ ختم نبوت کندیاں، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا محمد مراد منزل گاہ سکھر، مولانا عبدالصمد ہالیجوی ، مولانا غلا رسول سعیدی، مولانا شفاعت رسول نوری، ڈاکٹر طاہر القادری ،مولانا محمد امیر بجلی گھر ، مولانا امان اللہ حقانی مروت اور مولانا ایوب جان بنوری سمیت سینکڑوں علماء سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام میں بہت خلوص و اخلاق کا اعلیٰ معیار ہوتا ہے۔ مجھے مدینہ یونیورسٹی میں بھی پی ایچ ڈی (PHD)پڑھانے والے اساتذہ سے بات چیت کا موقع ملا ہے اور ان میں بات سمجھنے کی بھرپور صلاحیت دیکھی ہے۔
البتہ بعض اوقات لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں ، اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا شیرانی اور موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب کی مجبوریاں بھی میں نے دیکھ لی ہیں۔ حالانکہ یہ بااختیار وذمہ دار عہدہ ہے اگر اس پر آئندہ مفتی محمد سعید خان صاحب کو لگادیا جائے تو مجھے ان میں سمجھ ،خلوص، صلاحیت اور جرأت بھی لگتی ہے۔ وہ مولانا ابولحسن علی ندوی کے خلیفۂ مجاز ہیں اور انقلاب بھی ان کو بڑا اچھا لگتا ہے۔بااخلاق ، باکرادر اوراچھے انسان لگتے ہیں۔
مجھے پورا پورا یقین ہے کہ مخلص علماء ومفتیان نصاب کی تبدیلی کیلئے آج بھی دل میں تڑپ اور زبردست جذبہ رکھتے ہیں لیکن رائے عامہ ہموار کرنے کی دیر لگ رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب قرآن کی طرف رجوع کرنے کا اعلان مدارس ومساجد سے شروع ہوجائیگا۔ البتہ جن لوگوں نے اپنے لئے دین کے نام پر ایک مخصوص گروہ بنارکھا ہے وہ بہت ہٹ دھرم ہیں۔ میری ڈاکٹر اسرار احمد سے ملاقات رہی ہے وہ اپنے خلوص اور جرأت میں پہلے نمبر پر تھے لیکن انسان میں کچھ نہ کچھ نقائص اورکوتاہیاںبھی ہوتی ہیں۔ وہ ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ طلاق سے رجوع کے مسئلے کو سمجھ کر تھوڑی دیر توقف کے بعد حق کا اعلان ضرور کرتے۔
شجاع الدین شیخ نے تنظیم اسلامی کی امارت سنبھال کر ایک اچھے خاصے ادارے کو میرے خیال میں برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔واللہ اعلم بالصواب۔سراج الحق صاحب نے بھی جماعت اسلامی کی امارت سیدمنور حسن کی اچانک ہی جماعت اسلامی سے فراغت کی وجہ سے سنبھالی ہے۔ اب پتہ نہیں کہ ان میں بات سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں ہے؟۔ جماعت اسلامی کی اس معاملے پر کوئی مجبوری نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودوی نے جماعت اسلامی جس مقصد کیلئے تشکیل دی ،وہ اقامت دین کا فریضہ ادا کرنے کیلئے طاقت کا حصول تھا لیکن اب لگتا یہ ہے کہ اقامت دین کو بھول گئے ہیں حصولِ طاقت کے پیچھے ڈھول کی تھاپ سے لیکر یوم مئی کے دن لال ٹوپی پہننے تک ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کی طرف رجوع کرنیکی توفیق نہیں ہورہی ہے۔ اتحاد العلماء سندھ کے صدر مولانا عبدالرؤف صاحب بہت زبردست انسان تھے لیکن اب پتہ نہیں جماعت اسلامی میں کوئی ہے یانہیں؟ مگر دو دفعہ منصورہ جانے کے باوجود کوئی مجھے نہیں ملا ہے۔
جاوید احمد غامدی نے اکٹھی تین طلاق واقع ہونے کا لکھا تھا اور میں نے ان کے شاگرد ڈاکٹر زبیر احمد کو معاملہ بالمشافہہ سمجھایا بھی اور ان کو سمجھ میں بھی آیا لیکن پروگرام بند ہونے کے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے اس مؤقف کو بیان کرنے سے معذرت کرلی۔ جاوید احمد غامدی نے حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں میں مسلمانوں کو کسی ایک کی اولاد قرار دیکر کہا تھا کہ قرآن میں مختلف قوموں کی باریاں لگنے کا ذکر ہے۔ مسلمان اپنی باری گزار چکے ہیں اسلئے ان کو قیامت تک دوبارہ کبھی حکومت کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ لیکن جب ہم نے انہیں یاد دلایا کہ حضرت نوح سے ہم اور یہودونصاریٰ سب حضرت ابراہیم کی اولاد سے ہیں۔ تو جاوید غامدی نے اپنی غلطی کو برملا تسلیم کرنے کے بجائے کہ واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل کی اولاد شامل تھی۔ حضرت نوح کے مختلف بیٹوں میں ان کو تقسیم کرنا غلط ہے۔ لیکن غامدی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ اور اس میں ان کی کوئی مجبوری بھی نہیں تھی۔ ابھی اس نے اپنی غلطی کا درست جواب دینے کے بجائے یہ کہاکہ ”مسلمان کس لئے غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ہوسکے تو کوشش کرکے دیکھ لیں” ۔ حالانکہ مسئلہ یہ نہیں تھا بلکہ اصل بات حضرت ابراہیم کی اولاد کی غلط تقسیم تھی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ حدید میں مسلمانوں کے دو حصوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلے بھی عرب کا روم پر غالب ہونا مشکل تھا اور اب اہل کتاب پر دوبارہ غلبے کی بنیاد یہ ہوگی کہ انہوں نے لوہے کو جنگ کیلئے غلط استعمال کرکے تباہی پھیلادی۔ خوف وہراس سے دنیا کو نکالنے کیلئے لوہے کو منافع بخش چیز بنانے کے مشن پر پھر دوبارہ کامیاب ہونگے۔
جب سورۂ بقرہ میں آیات (222) سے (232) تک اور سورۂ طلاق کی پہلی2 آیات میں طلاق اور اس سے رجوع کی اتنی بہترین وضاحت ہے کہ ایک ان پڑھ انسان بھی ان سے رہنمائی حاصل کرکے ایک معاشرتی انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ علماء ومفتیان کی اکثریت تو مجبوریوں کا شکار ہے لیکن جاوید احمد غامدی کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اس کی ہٹ دھرمی کی صرف یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ قرآن کی طرف وہ رجوع کی دعوت دے گا تو پھر اس کے مطالعے اور اجتہاد کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی؟۔ علماء بیچارے تو تقلید کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور ان کی نوکری کا معاملہ ہے اور ان کی جگہ کسی دوسرے عالم یا مفتی کو بٹھاکر اس کی روزی پر قبضہ کیا جاسکتا ہے مگرغامدی تو پہلی وحی کی حدیث کے انکار سے لیکر پتہ نہیں کس کس حدیث کا برملا انکار کرتا ہے اور پھر کہتا بھی ہے کہ میں احادیث کو مانتا ہوں۔ غلام پرویز کی فکر پر منہ مارکر ڈکار نہیں لے رہاہے مگر نام بھی نہیں لیتا ہے
قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کا معاملہ بالکل واضح ہے۔ چار کتابوں میں ایک ایک چیز کی تفصیل لکھ دی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اور رجوع صلح کی شرط پر ہے۔ صلح نہ ہو تو دس حلالہ سے بھی اس عورت کو اپنے لئے حلال نہیں کرسکتا لیکن جب صلح کرنے کا پروگرام ہو تو عدت کے اندر اور عدت کے بعد رجوع کیلئے ڈھیر ساری وضاحتیں ہیںاور یہی درسِ نظامی کا تقاضہ ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کے اسکینڈل سے حلالہ کی لعنت کا فتویٰ زیادہ خطرناک و شرمناک ہے

مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کے اسکینڈل سے حلالہ کی لعنت کا فتویٰ زیادہ خطرناک و شرمناک ہے جسکا تدارک کرنا ہوگا

سید بلال قطب نے اگر واقعی مدرسے میں سات (7)سال تعلیم حاصل کی ہے اور پھر قرآن کی آیت وحلائل آبنائکم بیٹوں کی بیگمات کا بھی پتہ نہیں تھاتو نالائق کو اسلامی اسکالر بنانا کیسا تھا؟

حنفی مسلک یہ ہے کہ عدت میں نکاح باقی رہتا ہے ۔ قرآن میں اصلاح کی شرط پر عدت میں اور عدت کی تکمیل پر رجوع ہے مگرپھر بھی قرآن کیخلاف حلالہ کی لعنت پر مجبور کیاجاتا ہے

حریم شاہ اور مفتی عبدالقوی کے اسکینڈل نے الیکٹرانک، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر بدتمیزی کا ایک طوفان برپا کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”ہوسکتا ہے کہ جس چیز کو تم اپنے لئے برا سمجھتے ہو وہ تمہارے لئے خیر ہو”۔ عبدالقوی کا تعلق تبدیلی سرکار سے تھا۔ تحریک انصاف علماء ونگ کے صدر تھے اور اب اس کے چچا نے پریس کانفرنس کے ذریعے سے بتایا ہے کہ اسکے مفتی کا منصب بھی ختم کردیاہے۔

سید قطب نے علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور مولاناراغب نعیمی کیساتھ پروگرام میں بتایا ہے کہ اس نے خود بھی سات سالہ مدرسے کانصاب باقاعدہ پڑھاہے لیکن داڑھی اور مذہبی لبادہ نہ رکھنے کی وجہ سے اپنے ساتھ مولانا یا مفتی نہیں لگاتا ہے اور پروگرام میں علامہ طاہر اشرفی سے بھی فون پر سید قطب نے بات کی ہے۔

اگر علامہ راغب نعیمی حضرت مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے فرزند نہ ہوتے تو شاید ٹی وی (TV)اسکرین پر اتنا آنے کا موقع بھی نہ ملتا۔ ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پہلے کسی کے نام کیساتھ مفتی لگانے کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا۔ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے بہت فتوے دئیے ہیں لیکن ان کیساتھ کسی نے ”مفتی ” نہیں لکھا۔ جب مدارس میں باقاعدہ تدریس کا نظام شروع ہوا تو اس میں ایک عالم کو فتوؤں کیلئے خاص کردیا جاتا تھا اور اس کو مفتی اپنے فرائضِ منصبی کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔ پھر جب مدارس میں مزید تدریس کا عمل منظم ہوگیا تو پھر دارالافتاء میں زیادہ مفتی بیٹھنے لگے اور پھر باقاعدہ افتاء کا کورس بھی پڑھایا جانے لگا۔ اب لوگ کورس کرنے کی بنیاد پر بھی مفتی لکھتے ہیں۔

مفتی شاہ حسین گردیزی کے سامنے قاری اللہ داد صاحب کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ کسی نے قاری اللہ داد سے پوچھا کہ آپ مفتی ہیں تو قاری صاحب نے کہا کہ میں مفتی تو نہیں ہوں مگر مفتی کا باپ ضرور ہوں۔ ہمارے ہاں محاورہ ہے کہ اگر جانور گھر میں پلابڑھا ہو تو اسکے دانت دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دودانت یا چھ؟۔ اس کی عمر کا انسان کو پتہ ہوتا ہے۔ حریم شاہ وزیراعظم عمران خان، شیخ رشید، فیاض الحسن چوہان سے ہوتے ہوئے مبشر لقمان کے علاوہ سرکاری حساس مقامات میں اپنی ویڈیو اور اسکینڈل کا اظہار کرچکی ہے۔ تصاویر اور ویڈیو سے لیکر سب چیزوں میں ایڈیٹنگ بھی ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے جلسۂ عام میں کہا کہ ”عمران خان نے گھر کو ریگولرائز کیا ہے اور اب ایک دوسری چیز کا ریگولرائز کرنا باقی ہے”۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مولانا کی طرف سے ذاتیات پر حملے کو قابل افسوس عمل قرار دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پر ڈیزل اور عمران خان پر عدت میں شادی کرنے کے الزام میں کوئی صداقت ہے یا نہیں لیکن قوم کے سامنے بھرپور وضاحت بہت ضروری ہے ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت بھی ڈاکٹر نہیں لیکن اسکے ساتھ ڈاکٹر لکھنا جعل سازی ہے۔ تحریکِ انصاف میں شمولیت سے پہلے اس نے الزام لگایا کہ عمران خان نے عدت کے اندر شادی کی ہے۔ جیو ٹی وی چینل پر عمر چیمہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ثبوت ہیں کہ عمران خان کی بشریٰ بی بی سے عدت میں شادی ہوئی ہے۔ عمران خان وزیراعظم بن گئے لیکن عمر چیمہ کے اس چیلنج کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈاکٹرعامر لیاقت نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی مگر اپنے الزام کی کوئی تردید نہیں کی ۔

ہم نے لکھا ہے کہ ” صحیح حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض ہے اور سعودیہ میں اسی پر عمل بھی ہورہاہے”۔ اگر بشریٰ بی بی کی عدت طلاق کے حوالے سے پوری نہ ہو تو خلع کے اعتبار سے ضرور پوری ہوئی ہوگی۔صحیح حدیث ہے کہ عورت کا نکاح اپنے ولی کی اجازت کے بغیر باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ اسکا اطلاق کنواری پر ہوتا ہے اسلئے کہ قرآن میں طلاق شدہ اوربیوہ کو نکاح کیلئے آزاد قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے علماء کرام اپنے نصاب میں قرآن وحدیث کو ٹکراتے ہوئے صحیح حدیث کو بھی رد کردیتے ہیں حالانکہ قرآن کا مقصد طلاق کے بعد اپنے شوہر کی دسترس سے آزادی دلانا ہے ۔ اگر مفتی عبدالقوی صاحب حریم شاہ سے نکاح کرنے کے جھانسے میں نہ آتے بلکہ وہ اسکے باپ سے اجازت طلب کرتے تو سید زادی کو شہرت حاصل ہونے کے بعد اسکا عزت دینا بنتا تھا۔ مفتی عبدالقوی کس طرح کے انسان ہیں؟۔ عمران خان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمران خان کے دھرنے میں پھیرے دینے والی زویا علی کہتی تھی کہ عمران خان مجھ سے شادی کرلو۔ عائشہ گلالئی کو بھی لگا تھا کہ عمران خان اس سے شادی کرنے کے موڈ میں تھا لیکن اسکے نصیب کی بارش ریحام خان اور پھر بشریٰ بی بی پربرس گئی۔

اصل بحث معاشرے کی اخلاقیات اور شریعت کی ہے۔ مفتی سے بڑا رول ماڈل وزیراعظم ہے۔ دھرنے میں ہماری سول و ملٹری اشرافیہ کی خواتین اور دوشیزاؤں نے بھی عمران اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیروکاروں نے اپنی اپنی کلاس کی نمائندگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ تحریک انصاف کے ٹائیگروں نے اپنی ٹائیگرنیوں کو جس طرح سے بھنبھوڑا تھا وہ بھی قوم کے سامنے تھا۔ پھرجبری جنسی تشدد کا دائرہ بچوں اور بچیوں تک پہنچ کر تشدد سے لاش مسخ کرنے کی حدوں تک وسعت اختیار کرگیا۔ اب تو خواتین کا رونا بھی ختم ہوگیا ہے اسلئے کہ آنسو بہانا مذہبی لوگوں کی طرح محض تکلف تونہیں تھا۔

جہاں تک مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کے اسیکنڈل کا مسئلہ ہے تو اس پر علماء کیلئے کونسی شرمندگی کا مسئلہ ہے؟۔ عربی مقولہ ہے کہ وللناس فی مایعشقون مذاہب ”لوگوں کیلئے اپنی اپنی پسندیدہ چیزوں میں اپنے اپنے مشرب ہوتے ہیں”۔ علامہ اشرفی پر شراب کا اسکینڈل مشہور ہوگیا۔ فیصل آباد کے بڑے مدرسہ میں طلبہ نے جنسی تشدد پر شیخ الحدیث مولانا نذیر احمدکے خلاف آواز اُٹھائی تھی۔ مولانا سمیع الحق پر میڈم طاہرہ کا اسکینڈل مشہور ہوا تھا۔ نوازشریف پر طاہرہ سید کے اسکینڈل کی بازگشت تھی۔ سمیع ابراہیم نے مسلم لیگ کی رہنمامائزہ حمید،پرویزمشرف ، صدرزرادری کی ویڈیوز کا معاملہ اُٹھایا اور سچی بات یہ ہے کہ جب مریم نواز نے پی ڈی ایم (PDM)کے چندجلسوں میں بنوں، مالاکنڈ اور لورالائی میں شرکت نہیں کی تو یہ احسا س ہوا کہ ان علاقوں کا ماحول اتنا سازگار نہیں ہے کہ کوئی خاتون اس طرح اسٹیج پر مردوں کے مجمع میں خطاب کر سکے مگر جب اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے مریم نواز کیساتھ چند خواتین کو مردوں کی بہت قربت میں دیکھا تو بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کو اپنے لیڈر نوازشریف سے محبت ہے تو اس کا اظہار خواتین سے کچھ فاصلہ رکھ کرکیا جاسکتا ہے۔

بیت اللہ کے طواف میں بھی خواتین اجنبی مردوں کیساتھ ہڈی پسلی ایک کرکے حجرِ اسود کو چومتی ہیں تو ان کو شریعت اور اخلاقیات کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ علماء اور دانشوروں کو سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر حق کی آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہ کوئی معیاری اخلاقیات تو نہیں لیکن شریعت میں اس کی بھی اجازت ہے کہ بی بی بشریٰ نے شوہر سے خلع لیکر اپنے مرید سے شادی رچالی ہے مگر جوہوگیا سوہوگیا۔

جب حضرت عائشہ پر بہتان لگا تو یہ کتنا بڑا سانحہ تھا؟۔ جس کو افک عظیم کہا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اس کو اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے خیر ہے”۔ اس واقعہ سے سبق ملتا ہے کہ غلط گمان پر بہتان لگانا بڑا جرم ہے۔ غلط بات کی تشہیر بھی درست نہیں اور جب نبیۖ کی عزت وناموس پر بہتان اور اذیت ناک معاملہ آیا تو نبیۖ نے صحابہ کرام کوپھر بھی اشتعال نہیں دلایا ورنہ تو ان لوگوں کے ٹکڑے کردئیے جاسکتے تھے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ کسی پاکدامن عورت پر بہتان لگانا اتنا بڑا جرم ہے کہ سورہ نور میں زنا کی سزا سو (100)کوڑے اور بہتان کی سزا اسی (80)کوڑے ہے اور موجودہ دور میں اس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ام المؤمنین اور کسی غریب خاتون پر بہتان کی سزا قرآن نے ایک ہی رکھی ہے اور ہمارے ہاں جسکے پاس زیادہ حرام کی کمائی ہو وہ ہتکِ عزت کا بڑا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ غریب اور امیر کیلئے اسی (80)کوڑے کی سزا ایک جیسی ہے لیکن غریب کیلئے کم پیسوں کی سزا زیادہ اور امیر کیلئے کچھ نہیں ہے۔

اب آتا ہوں اصل مقصد کی طرف کہ انجینئر محمد علی مرزا، عمران خان کا بی بی بشریٰ سے خلع کے بعدنکاح اور مفتی عبدالقوی کا حریم شاہ سے اسکینڈل اتنی زیادہ بڑی بات نہیں ہے جتنی مفتی عبدالقوی کی یہ بات تھی کہ اگر کوئی محترمہ حلالہ کروانا چاہے تو میں اس کیلئے تیار ہوںکیونکہ جب مدارس میں علماء ومفتیان فتویٰ دیں گے کہ جب تک وہ عورت اس طلاق کے بعد کسی اور سے نکاح نہیں کرے گی تو پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہوگی۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ عورت کو حلالہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور علماء ومفتیان پھر بھی کسی منکوحہ عورت کو حلالہ کرنے پر مجبور کریں تو یہ حریم شاہ کیساتھ رنگ رنگیلے معاملات سے زیادہ گھناؤنا معاملہ ہے۔ جہاں سپریم ادارے پارلیمنٹ میں بھی اس قسم کی تقریریں ہوتی ہوں جو پیپلزپارٹی کے قادر پٹیل مراد سعید کے خلاف کررہے ہیں تو وہاں اخلاقیات کی اس قوم سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ” پس اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ اور شوہر سے نکاح کرلے”۔( آیت230سورة البقرة )

اس آیت میںتیسری طلاق کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ نبیۖ سے صحابی نے پوچھ لیا تھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ میں معروف رجوع کے بجائے او تسریح باحسان احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہی تیسری طلاق ہے جس کا ذکر آیت(229البقرہ) میں ہے۔ جس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ ” تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی ان سے واپس لے لو مگر جب دونوں اس خوف پر متفق ہوں کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور (اے فیصلہ کرنے والو!) اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ جو شوہر نے اس عورت کو دیا ہے کہ پھر وہ عورت کی طرف سے اس کو فدیہ کردیا جائے اور یہ اللہ کی حدود ہیں، ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ آیت(229)پھر اسکے بعد آیت (230)میں طلاق کا ذکر ہے۔

آیت (228)میں اللہ تعالیٰ نے عدت کے تین مراحل کا ذکر کیا ہے اور اس میں باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کرنے کی اجازت دی ہے۔ آیت(229)میں بھی تین مراحل اور تیسرے مرحلے میں معروف طریقے سے رجوع کی اجازت دی ہے۔ باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بنیادی طور پر عدت اور اصلاح سے عورت کے حق کو تحفظ دیا ہے۔ یعنی عدت کے بعد عورت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور طلاق سے رجوع کیلئے باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع شرط ہے۔ طلاق کا تعلق عدد سے نہیں عدت سے ہے۔ دو مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے جس کونبیۖ بھی واضح کرچکے تھے۔ یہ تصورہی غلط ہے کہ ایک عدد طلاق دی جائے اور عدت کے بعد بھی دوعدد طلاق باقی ہوں حتی کہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح کرلے تب دو طلاق باقی ہوں اور جب دوسرا طلاق دے اور پہلا نکاح کرلے تو سوال پیدا ہوکہ پہلا نئے سرے تین طلاق کا مالک ہوگا یا پھر پہلے سے موجود دو طلاق کا مالک ہوگا؟۔

طلاق سے رجوع کیلئے بنیادی شرط باہمی اصلاح اور معروف رجوع ہے جس کی وضاحت آیت(231)اور(232)البقرہ میں بھی متصل ہے۔ اگر ایک طلاق کے بعد عدت میں عورت راضی نہ ہو تو بھی شوہر کیلئے رجوع حرام ہے اور اگر عدت کی تکمیل کے بعد میاں بیوی باہمی اصلاح اور معروف رجوع پر راضی ہوں تب بھی حلال ہے اور جہاں تک آیت(230)میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر ہے تو اسکا مقصد عورت کو شوہر کی دسترس سے باہر نکالنا ہے۔ کیونکہ شوہر طلاق کے بعد عورت کو اس کی مرضی سے جہاں چاہے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے۔ اس آیت نے بڑے ظالم مردوں سے عورتوں کی جان چھڑائی ہے لیکن علماء وفقہاء نے حلالہ کی لعنت رائج کردی ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مذہبی مدارس میں سمجھ بوجھ کے باوجود حلالہ کرنے اور کروانے والے علماء و مفتیان لعنت کے مستحق ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اُولٰئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللَّاعِنُوْنَ (159) اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (160)
بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں جو ہم نے لوگوں کیلئے کتاب میں واضح کر دیاہے، یہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کر لی اوراس کا اعلان بھی کر دیا پس یہی لوگ ہیں کہ میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں، اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں۔سورہ بقرہ آیات 160-159

کتاب ”عورت کے حقوق” میں قرآن کی آیات اور احادیث اور اصولِ فقہ کے مسلمہ قواعد اور درس نظامی کے حوالے سے بالکل واضح کردیا ہے کہ اسلام نے جاہلیت کا حلالہ بالکل ختم کردیا تھا لیکن صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ کے بالکل برعکس اسلام اجنبی بنادیا گیا۔ پھر بہت بعد کے فقہاء نے نہ صرف حلالہ کا جواز نکالا ، بلکہ اس کو کارِ ثواب بھی قرار دے دیا ۔ آج مدارس قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف میاں بیوی میں تفریق اور حلالہ سینٹر بن چکے ہیں۔ جناب سینٹر مشاہداللہ خان ن لیگ کے رہنما سینٹ اور قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھائیں۔ مولانا فضل الرحمن کو ہمارے ساتھ میڈیا پر بٹھائیں۔ مدارس کے علماء ومفتیان نے بھی حقائق کو سمجھ لیا ہے لیکن بعض اپنے مفادات کی وجہ سے مجبور ہیں اور بعض حلالہ کی لذت آشنائی سے محظوظ ہیں۔ جب تک ان کو بلڈوزر کے نیچے کچلنے کا خوف نہ ہو ، یہ ملعون اللہ کے احکام کو ماننے کیلئے کبھی آمادہ نہیں ہونگے۔ عورت جہالت کی وجہ سے قرآن وسنت کی غلط تشریح وتعبیر کی وجہ سے ہی حلالہ کی لعنت کا شکار ہورہی ہے۔ مدارس کے دارالافتاء کی حالت دیکھی جائے تو خواتین نے ایک ساتھ تین طلاق کی وجہ سے فتوؤں کی لائن لگارکھی ہوتی ہے۔ بڑے مدارس کا باشعور طبقہ اور مفتی صاحبان اس گھناونے کھیل کو سمجھ چکے ہیں لیکن سانڈ قسم کے مفتیوں کی دارالافتاؤں میں حکمرانی ہے۔ ریاست جس طرح پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے نہیں ڈرتی لیکن مولانا فضل الرحمن کے مذہبی فتوؤں سے خائف ہے، اسی طرح مدارس کے شریف علماء ومفتیان بھی اپنے بدمعاش اور بدقماش طبقے سے عاجز نظر آتی ہے۔ ہماری مولانا فضل الرحمن سے استدعا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے اقتدار کی راہیں ہموار کرنے کے حوالے سے مذہبی کارڈ کو استعمال کرنے کے بجائے دین کی حقیقت سے حقیقی انقلاب کی طرف رجوع کریں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب” عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” مدارس کے جاہل علماء ومفتیان اور سیاست میں دین کی پاسبانی کی جگہ دنیا داروں سے مل کر خیانت کا ذکر ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں اقتدار کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ علماء ومفتیان نے سودی نظام تک کو جائز قرار دیا ہے۔ مولانا مفتی محمود ، شاہ احمد نورانی اور مولانا مودودی موجود ہوتے تو ”عورت کے حقوق” کتاب کی وضاحتوں کے بعد یقینا حقائق کو مانتے اور سودی نظام کو جواز فراہم کرنے کو اسرائیل کی تسلیم سے بھی بدتر قرار دیتے۔ جن کو دیکھ کرشرمائے یہود نے اسرائیل اور مسئلہ کشمیر کو اپنے جرائم چھپانے کیلئے ڈھال بنایا ہوا ہے۔ ان لوگوں کو پیرا شوٹ کے ذریعے وہاں پہنچایاجائے تاکہ جہاد کا حق اداکریں اور یہاں فضول کی قوالیاں نہ گائیں۔

خلع و طلاق کا درست تصور اجاگر ہوتا تو اجتماعی شعور نہ مرتا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خلع کا حکم سورة النساء آیت 19میں واضح طور پر دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ کند ذہن علماء نے اپنے نصاب میں آیت 229البقرہ سے خلع مراد لیا
فقہاء نے عورت کے حقوق کو نظر انداز کرکے قرآنی آیات کو تضادات کا آئینہ بنادیا۔ اس مرتبہ کے اخبار میں ادارئیے کے علاوہ زبردست علمی مواد ہے۔

عورت کو ترقی یافتہ ممالک نے مرد کے مساوی حقوق دئیے ہیں لیکن وہ عورت کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ جبکہ اسلام نے عورت کو مردوں سے کئی لحاظ سے بہت زیادہ حقوق دئیے ہیں۔ حق مہر اور خرچے کی ذمہ داری اسلام نے شوہر پر ڈالی ہے خلع اور طلاق کے جن مسائل کے بہت واضح اور ٹھوس حل قرآن وسنت میں نکالے گئے تھے،افسوس ہے کہ علماء نے عورت پر مظالم اور مسائل کے انبار ہی لگادئیے ہیں۔ قرآن وسنت بہت واضح ہیں مگر فقہاء نے بہت الجھاؤ اور مکڑی کے جالے بنالئے ہیں۔
عورت بڑی امیر کبیر ہو یا غریب غرباء ، اس پر بہتان کی سزا 80کوڑے ہیں۔ اگر جج کو یقین ہو کہ سچ بول رہی ہے تو جنسی طور پر ہراساں کرنے، زنابالجبر میں رسولۖ نے اکیلی عورت کی گواہی کو معتبر قرار دیا ۔ کئی بک اسٹالوں پر موت کا منظر نامی کتاب ملتی ہے جس میں زنابالجبر کی سزا سنگساری ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ تحفظ دیاہے جس کا حق ہر ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو ہونا چاہیے۔ مغرب کو حقیقی اسلام کا پتہ چل جائے تو عورت کو وہی حقوق کا قانون بنانے میں دیر نہیں لگائے گا۔

ایک آزمائش معراج اور دوسرا حلالہ ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امت کی یہ دو آزمائش ہیںایک واقعہ معراج اور دوسراقرآن میںشجرہ ملعونہ

ان نرسل بالاٰےٰت الا ان کذّب بھا الاولون واٰتینا ثمود الناقة مبصرةً فظلمو بھا ومانرسل بالاٰیات الاتخویفًاOو اذا قلنالک ان ربک احاط بالناس وماجعلنا الریا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن ونخوفھم فمایزیدھم الا طغیانًا کبیرًاO ” اور کوئی بستی نہیں مگر ہم اسکو ہلاک کرینگے قیامت سے قبل یا اسے عذاب دینگے سخت عذاب،یہ کتاب کی سطروں میں ہے اور ہم نے منع نہیں کیا کسی نشانی کو مگر اسے پہلے والے جھٹلاچکے اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی نظر آنیوالی پھر انہوں نے اس کیساتھ ظلم کیا اور ہم نہیں بھیجتے نشانی مگر ڈرانے کیلئے اور جب ہم نے کہا تیرا رب لوگوں پر حاوی ہے اور ہم نے نہیں بنایا خواب کو جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اورشجرہ ملعونہ قرآن میں اور ہم انکو ڈراتے ہیں ۔پس نہیں اضافہ کرتا انکا مگر بہت بڑی سرکشی میں”۔ (بنی اسرائیل آیات:58،59، 60)

 

واقعۂ معراج میں براق اور ہجرت کا مشکل ترین سفر صحابہ کے ایمان کی آزمائش

معراج پرفکری اختلاف مسئلہ نہیں تھا، کمزوری میں اللہ کی طاقت پرایمان حق تھا!

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میںمعراج کا واقعہ اور مختلف معاملات کاذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ولقد صرّ فنا فی ھٰذا لقراٰن لیذّکّروا و مایزیدھم الا نفورًاO ”اور تحقیق ہم نے مختلف پہلوؤں سے پھیر پھیر کر معاملات پیش کئے اس قرآن میںتاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگر راہِ فرار اختیار کرنے کا ”۔ (بنی اسرائیل آیت:41)اور فرمایا کہ” سات آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی اورکوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کی تعریف کیساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہومگر تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے ہو۔ بیشک وہ حلیم غفور ہے۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ اور جولوگ ایمان نہیں لاتے ،انکے درمیان چھپانے والا پردہ ڈال دیتے ہیں”۔ (بنی اسرائیل آیت: 44، 45)
اللہ نے یہ واضح کیا کہ لوگوں نے کوئی نشانی مانگ لی تو ہم نے ظاہر کردی مگر انہوں نے اس کا انکار کیا۔ ہم نے قوم ثمود کے سامنے اونٹنی رکھ دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ جبکہ ہم نے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کا احاطہ کیا ہے اور ہم نے جو خواب آپ کو دکھایا تو لوگوں کیلئے ایک آزمائش کا ذریعہ تھا اور آزمائش کادوسرا ذریعہ قرآن میں شجرہ ملعونہ ہے۔ ہم ان کوڈراتے ہیں ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگربہت بڑی سر کشی کا۔ آخر یہ دو باتیں امت کی آزمائش کیوں؟۔ اس بات کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے ان دو آزمائشوں سے پہلے انسانوں پراپنے غلبے کا ذکر کیاہے۔ جب واقعہ معراج پیش آیا تو نبیۖ مکی دور کی مشکلات میں تھے اور لوگوں کیلئے یہ بہت بڑی آزمائش تھی کہ کس طرح لمحہ بھر میں اتنا بڑا واقعہ ہوسکتا ہے۔ یہ لوگوں کے ایمان کا امتحان تھا۔حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام اس میں پورے اترے۔ کافروں نے اپنی ہٹ دھرمی سے نبیۖ کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ ایمان کا امتحان بن گیا۔ کیا حضرت ابوبکر نے واقعۂ معراج کی تصدیق کی تو صدیق اکبر کا لقب پایا؟۔نبیۖ کاہجرت کے موقع پر ساتھ دینا اس سے زیادہ بڑی بات تھی،اسلئے کہ معراج کے تیز رفتار براق پر سفر کرنے والے رسول اللہۖ کیساتھ رفیقِ غار نے جن مشکلات کا سامنا کیا تھا۔ غارِ ثورپر کوئی آج بھی چڑھتا ہے تو مشکلات کا احساس کرسکتا ہے۔ پھر نبیۖ کو کاندھے پر چڑھانا تاکہ تعاقب کرنے والے دشمن قدم مبارک کے نشانات کے ذریعے نہیں پہنچ سکیں۔ کوئی کافر ہوتا تو چیخ اُٹھتا کہ اپنے براق کو بلواؤ۔ حضرت علی کی ہمشیرہ حضرت ام ہانی کے گھر میں معراج کا واقعہ ہوا تھا۔ وہ بھی ابتدائی چندمؤمنات میں سے تھیںلیکن نبیۖ کو انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ واقعہ معراج کا ذکر نہ کریں اس سے صحابہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ حضرت ام ہانی نے اپنے مشرک شوہر کی محبت میں ہجرت بھی نہیں کی۔ جب مکہ فتح ہوا تو منکرین کو بھی یقین ہوگیا کہ بت مغلوب ہیں اور اللہ نے واقعی میں انسانوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اہمیت اس بات کی نہ تھی کہ واقعہ معراج جیتا جاگتا سفر تھا یا خواب تھا؟۔ بلکہ اللہ کا لوگوں پر غالب آنا ایمان تھا اور اس پر کسی صحابی یا صحابیہ نے شک کی گنجائش نہیں رکھی۔حضرت عائشہ اور حضرت ام ہانی اپنے عقیدہ معراج کے ظاہری یا خواب کی صورت پر اختلاف کرسکتی تھیں مگر اللہ کا لوگوں پر غالب آنا سب کے نزدیک یکساں یقینی تھا۔ حضرت عائشہ کی رائے یہ تھی واقعہ ٔ معراج خواب تھا اور جمہور صحابہ نے اس کو جاگتے کا واقعہ سمجھ لیا تھا۔ جب قرآن نے بھی اس کو خواب ہی قرار دیا تو اسکے خواب ہونے پر ایمان بھی کوئی کفر نہیں بلکہ عین اسلام ہے لیکن جب نبیۖ نے اس کو ظاہری حالت کا واقعہ بتایا ہو تو بھی اس پر ایمان لانااسلام کاتقاضہ تھا۔ تفسیر کے امام علامہ جاراللہ زمحشری بھی معتزلہ تھے ، سرسیداحمد خان اور غلام احمد پرویز تک معتزلہ سے متأثر تھے۔

 

نظریہ اضافیت سے معراج کا معمہ حل ہواہے لیکن شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے؟۔

قرآن میں اصل بات یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ اللہ کالوگوں پر احاطہ ہے۔ مسلمانوں کے مختلف فرقوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ لوگوں پر غالب ہے۔ غلبے کا یقین ایک بہت بڑا اثاثہ ہے جس کیوجہ سے جب حق با ت سمجھ میں آجاتی ہے تو لوگوںکا خوف دل میں مانع نہیں ہوتا ہے اور جب ماحول میسر ہوتا ہے تو اس ماحول کے مطابق اظہار ضروری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں اہل حق کے گروہ کے ذریعے ایک ماحول دنیا میں بناتا ہے۔ جس کے مقابلے میں باطل کو صرف آخرت ہی میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی شکست ہوجاتی ہے۔
واقعۂ معراج پر مسلمانوں کا ایمان کافروں کیلئے معمہ تھا مگر جب البرٹ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت دریافت کیا تو پھر یہ معمہ نہیں رہا۔ قرآن میں دوسری بات شجرہ ملعونہ ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے؟۔ جبکہ اللہ نے اسکے بعد آدم کو سجدے کے واقعے کا ذکرکیا ہے۔اللہ نے حضرت آدم وحواء کو حکم دیا کہ” اس درخت کے قریب مت جاؤ، پھر ظالموں میں سے ہوجاؤگے”۔ یہ کونسادرخت تھا؟۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں اللہ نے ایک درخت کے قریب جانے سے روکا اور قرآن میں یہ حکم دیا کہ لا تقربوا الزنا ”زنا کے قریب مت جاؤ”۔قریب نہ جانے کا حکم مشترک ہے، دیکھنا یہ ہے کہ دونوں سے مراد ایک ہے یا نہیں؟۔ شیطان نے کہا کہ کیا میں تمہیں شجرة الخلد (ہمیشہ رہنے والاشجرہ نسب ) بتادوں ،جسکا مُلک کبھی ختم نہ ہو؟۔ پھر دونوں کو ورغلایااور انکے کپڑے اتروادئیے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ کیا میں نے تم دونوں کو تمہارے اس شجر سے روکا نہیں تھا؟۔ انہوں نے عرض کیا ہم نے اپنے اختیار سے یہ نہیں کیا۔ اللہ نے قرآن میںروزہ کی حالت میں بیوی سے مباشرت کرنے سے منع کیاہے لیکن ایک صحابی نے بے بس ہوکر روزہ توڑ دیا تھا انسان کی یہ کمزوری ہے۔

 

قرآن میں شجرہ ملعونہ کا ادراک حدیث میں حلالہ کی لعنت سے بالکل ہوسکتا ہے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت آدم وحواء سے پہلا بیٹا قابیل پیدا ہوا تھاجس نے ظلم سے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا تو کیا شجرة الخلد یہی شجرہ تھا جس سے آدم وحواء خودکو نہ روک سکے تھے؟۔بخاری میں ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔ جب رمضان میںرات کو بھی یہ سمجھا جارہا تھا کہ بیگمات سے مباشرت جائز نہیں تو اللہ نے فرمایا کہ علم اللہ انکم تختانون انفسکم (اللہ جانتا ہے کہ تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہو) احل لکم لیلة الصیام ان تباشروھن( تمہارے لئے روزہ کی رات ان سے مباشرت حلال ہے)۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ” اے بنی آدم! تمہیں شیطان دھوکہ نہ دے کہ تمہیں ننگا کردے جیسے تمہارے والدین کو ننگا کیا تھا اور جنت سے نکلوادیا تھا”۔قرین قیاس لگتاہے کہ ناجائز تعلق ہی شجرہ ملعونہ اور شجرہ ممنوعہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن میں شجرہ ملعونہ کا اس امت کی آزمائش سے کیا تعلق ہے؟۔ حدیث میں حلالہ کرنے اور حلالہ کروانے والے پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے اور اُمت مسلمہ میں حلالہ کی لعنت کوشجرہ ملونہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن کی آیت میں اسکا ذکر اور اس امت کیلئے اسکا دوسری بڑی آزمائش ہونے کا کیا مطلب ہے؟۔
شیطان نے اتنے جوڑے جدا نہیں کئے ،اتنے خاندان تباہ نہیں کئے، اتنی بے راہ روی نہیں پھیلائی جس طرح قرآن، رحمان اور ایمان کے نام پر حلالہ کے حکم کی وجہ سے علماء ومفتیان اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ بہت لوگ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع کرنا چاہتے ہیں لیکن علماء ومفتیان اور اُمت مسلمہ میں مسلمان کا ماحول انکے درمیان حلالہ کے نام پر رکاوٹ ہے۔ حلالہ کی لعنت سے عزتوں کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں،آخر یہ کب تک چلے گا؟۔

 

بدرالدین عینی اور ابن ہمام نے نامعلوم بزرگوں کی بنیاد پر حلالہ کو کارِ ثواب کہا!

جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فحاشی سے منع کیا ہے مگر لوگ اس سے باز نہیںآتے ہیں۔اسی طرح سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حلالہ کی لعنت کا راستہ کھولا نہیں بلکہ روکا ہے لیکن مولوی ومفتی حضرات مذہب کے لبادے میں اس پلید شراب سے جان نہیں چھڑارہے ہیں۔
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔بریلوی مکتبۂ فکر کے مفتی شاہ حسین گردیزی کے پاس ایک بریلوی عالم دین آئے تھے ، مختصر نشست میں زیادہ بحث میں الجھنے کی گنجائش نہ تھی۔ اس نے کہاکہ حضرت آدم ایک نبی تھے اور شجرہ ممنوعہ کے پاس جانا گناہِ کبیرہ معلوم ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: الذین یجتنبون کبٰئر من الاثم والفواحش الا اللمم…… . .. . فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقٰیO”اور جو لوگ کبائر گناہ سے اجتناب کرتے ہیں اور فواحش سے مگر بے بسی کے عالم میں۔بیشک تیرا رب واسع المغفرت ہے۔وہ تمہیں جانتا ہے کہ تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین تھے۔ . پس اپنے نفسوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو۔ اللہ جانتا ہے کہ کون تقویٰ رکھتا ہے”۔(سورہ النجم : 32)
فقہ حنفی کے مشہورومعروف فقہاء علامہ بدر الدین عینی اور امام ابن ہمام نے اپنے نامعلوم بزرگوں سے نقل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ثواب کی نیت سے حلالہ کی لعنت کو کارِ ثواب قرار دیا۔ لیکن صدیاں گزرنے کے باجود کسی میں اتنی جرأت نہیں ہوسکی کہ ان معتبر ہستیوں کی بات عام کرنے کی جسارت کرتے۔ علماء ومشائخ نے توجہ نہیں دی اور بگلے آنکھیں بند کرکے مچھلیوں کا شکار کھیلتے رہے۔ جب اللہ نے شجرہ ملعونہ کا ذکر قرآن میں کیا ہے اور حدیث میں حلالے ہی کو لعنت قرار دیا گیا ہے تو یہ واقعی قرآن کے مطابق امت کیلئے آزمائش تو ہے۔ لذت بھی ایسی چیز کی جو انسان کی فطری کمزوری ہے جس کی وجہ سے ہمیں جنت سے بھی نکالا گیا ہے

 

بڑے بہادر علماء حلالہ کی لعنت کو سمجھ کر اکابر کے ڈر سے حق کا فتوی نہیں دیتے!

پاکستان میں حنفی مسلک کی اکثریت ہے۔ دیوبندی بریلوی علماء کا تعلیمی نصاب ہی امت مسلمہ کی جان حلالے کی لعنت سے چھڑاسکتا ہے لیکن افسوس کہ بڑے بہادر کہلانے والے علماء ومفتیان اندورنِ خانہ ہمارے مؤقف سے سوفیصد متفق ہونے کے باجود کسی اور سے نہیں اپنے مکتب کے علماء و مفتیان اصاغر واکابر سے خوف کھا رہے ہیں اور قرآن وسنت کے واضح مؤقف کو قبول کرکے امت کی جان حلالے کی لعنت سے چھڑانے کی ہمت نہیں کررہے ہیں۔ مؤمن کوشجرہ ملعونہ اور اس کی پشت پناہی والوں کے مغلوب ہونے پر یقین ہے۔ ایک طرف اللہ کے واضح احکام ہیں اور دوسری طرف اتخذوا احبارھم ورہبانہم ارباباً من دون اللہ کے علمبردار ہیں۔ بظاہر یہودو نصاریٰ کے نقش قدم پر چلنے والے بہت مضبوط ہیں لیکن اللہ کی ذات سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔جس دن طلاق سے رجوع اور آیت میں حلال نہ ہونے کا راز کھل گیا تو شجرہ ملعونہ کی پشت پناہی کرنیوالے مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہونگے مگر جنہوں نے غلطی سے معاملات خراب کئے ہوں اور ان کاقصد شیطان کی پیروی نہ ہو بلکہ غلطی سے شیطان کے جال کا شکار ہوگئے ہوں تو انسان خطاء کا پتلا اور اللہ حلیم غفور ہے۔
سورہ بقرہ آیت230: فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ ”پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ امت مسلمہ کے فقہاء اس آیت سے حلالہ کی لعنت کا حکم مراد لیتے ہیں اور اچھے لوگ حلالے کو لعنت سمجھ کر اس سے انتہائی نفرت بھی کرتے ہیں۔ یہ شجرہ ملعونہ واقعی بڑی لعنت اور بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ طلاق سے رجوع کیلئے جو توازن شوہر وبیوی کے درمیان رکھا ہے، جس دن امت مسلمہ نے اس توازن کو سمجھ لیا تو بات بنے گی۔

 

”میرا جسم میری مرضی” والیوں نے عورت مارچ میں بہادری کی بھی حد کردی!

سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ انسان، جانور، پرندے کے جوڑوں میں مقناطیس کی کشش کے علاوہ غیرت اور حمیت بھی ہے۔ انسانوں میں یہ فطرت نہ ہوتی تو ایک مرد اپنی بیگم سے بچے جنوانے کے بعد اس کو پھینک دیتا اور معاشرے میںعورت جانوروں یا مرغیوں کی طرح اکیلی بچے جننے اور انڈوں سے چوزے نکالنے کے بعد اپنے بچوں کا لشکر لے کر گھوم رہی ہوتی۔ جانوروں اور پرندوں میں شریف جانور بھی ہوتے ہیں جو غیرت رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو ماں باپ مل جل کر پالتے اور سنبھالتے ہیں۔ فاختہ اور کبوتر امن کی علامت ہیں اور اچھی نسل کی چیزوں میں جنسی بے راہ روی کا ماحول نہیں پایا جاتا ہے۔ نر ہرجگہ جنسی تشدد پر آمادہ ہوتا ہے اسلئے کوئی بھی بہادر مرغا کسی مرغی کو دیکھ کر اپنی جنسی تسکین اور تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ جب انسان اپنے مقام سے گرجاتے ہیں تو ان کو جانور بلکہ جانور سے بدتر کہا گیا ہے۔
اردو کی مشہور شاعرہ پروین شاکر نے اپنے شوہر کی بیوفائی کے باوجود جس عورت پن کا بڑا مظاہرہ کیا ہے جب تک اردو زبان زمین پر زندہ رہے، پروین شاکر کا نام بھی روشن رہے گا۔ مرد نے بھی اپنی عورت کیلئے قربانیاں دی ہیں اور وہ ساغر صدیقی کی صورت میں زندہ ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ” میرا جسم میری مرضی” کے عنوان سے عورت کے پیچھے جس طرح مافیا پڑگیا تھا تو یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ عورت مارچ میں جس طرح اسلام آباد کی عورتوں نے بہادری کی تاریخ رقم کردی ہے ۔ ایک طرف بپھرا ہوا مذہبی طبقہ تھا اور دوسری طرف نہتی خواتین کا بلٹ پروف کے بغیر پتھر کی پہنچ پر حوصلہ افزاء اسٹیج تھا، یہ کسی بدکردار اور بدعنوان عورت کی جرأت نہیں ہوسکتی تھی بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ ” قوم دب جاتی ہے تو اسے دبانے والا طبقہ آخری حد تک پہنچادیتا ہے۔ پھر اس میں مزید دبنے کی گنجائش نہیں ہوتی ہے”۔

 

سورہ بقرہ :224سے 232 سمجھ میں آجائیں تو قرآن کوپذیرائی ملے گی!

قرآن کی آیت230 البقرہ سے پہلے 224سے 229تک اپنے متن کیساتھ دیکھنے کی زحمت کی جائے اور پھراسکے بعد231اور 232البقرہ بھی دیکھ لی جائیں۔ پھر سورۂ طلاق کو بھی دیکھ لیا جائے۔ یاد رہے کہ درسِ نظامی میں حنفی اصول فقہ کی داخلِ نصاب کتابوں کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شجرہ ملعونہ کو کھل کر واضح کیا جائے تو اس آزمائش سے نہ صرف پوری امت مسلمہ سرخرو ہوکر نکلے گی بلکہ پوری دنیا میں اسلام کے معاشرتی نظام کے غلبے کا ڈنکا بجے گا۔عورت آزادی مارچ کی بات کرنے والی خواتین بھی قرآن ہی کو اپنانصب العین بنالیں گی اور سب سے زیادہ عزت عربی مدارس کے علماء وطلبہ کو اسلئے ملے گی کہ لوگ قرآن کا عربی متن سیکھنے کیلئے ان کو اپنا استاذ بنائیںگے۔ قرآن مردہ قوموں کی تقدیر بدل کر زندہ کردیتاہے۔
قرآن کی ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ میاں بیوی کی صلح میں رکاوٹ نہیں ہے۔اللہ الفاظ پر نہیں بلکہ دل کے نقصان دہ فعل پر پکڑتا ہے۔ طلاق کا اظہار نہ ہو تو ناراضگی کی صورت میں چار ماہ کی مدت ہے ۔ اگر طلاق کا عزم تھا تو یہ دل کا گناہ ہے جس پر پکڑبھی ہوگی اسلئے کہ طلاق کا اظہار کرنے کے بعد انتظار کی مدت تین ماہ ہے۔ ایک ماہ عدت بڑھنے کا گناہ ہے۔ طلاق پرعدت اور عدت کی تکمیل کے بعدباہمی رضامندی سے صلح کادروازہ کھلاہے اور جب عورت راضی نہ ہوتو عدت میں بھی صلح کا دروازہ بندہے۔ طلاق کی تین صورتیں ہیں ، دونوں کا منشاء جدائی کا ہوتو پھر سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں بلکہ اسکے باوجود بھی کبھی شوہر اجازت نہیں دیتا اور کبھی عورت شرم کرتی ہے اسلئے اس کاحکم آیت230 میں واضح ہے۔شوہر نے طلاق دی ہو اور عورت جدائی نہ چاہتی ہو تو اسکا حکم آیت231میں ہے۔ اور عورت نے طلاق لی ہوتوپھر اپنے شوہر کے پاس جاناچاہتی ہو تو اسکا حکم آیت232میں ہے

اسلامی نظریاتی کونسل کی تحقیقی کمیٹی میں عتیق گیلانی کی تحقیق طلاق و حلالہ پر کام ہورہا ہے. رانا شفیق خان پسروری

اسلامی نظریاتی کونسل کی تحقیقی کمیٹی میں عتیق گیلانی کی تحقیق طلاق و حلالہ پر کام ہورہا ہے، رانا شفیق خان پسروری
لاہور ( نادرشاہ، جاوید صدیقی ) ممبراسلامی نظریاتی کونسل ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل متحدہ مجلس عمل وایڈیشنل ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہلحدیث لاہور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کیساتھ جو معاملات ہوئے ہیں، پوری قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، قوم اور فوج ایک پیج پرہیں، فوجی سربراہ اور I.S.P.R نے بریفنگ دی تو وزیراعظم کو اپوزیشن سے بھی ملنا چاہیے تھا اورپائیلٹ کو پاکستان نے واپس کرناتھا تواتنی جلدبازی نہ کرتے۔ خارجہ سطح پر خامیاں سامنے آئی ہیں۔ چین کے تحفظات CPEC کے حوالے سے ہیں دوسری طرف OIC کے اجلاس میں انڈیاکو بلانا میری نظرمیں غلط تھا۔ شفیق پسروری نے کہا اسلامی نظریاتی کونسل میں سفارشات کا ڈھیر لگاہواہے ۔ قبلہ ایاز صاحب کے آنے سے یہ ہواہے کہ ہر چھوٹی سی چھوٹی بات کو بھی لیاجارہاہے ۔
طلاق و حلالے کے حوالے سے گیلانی صاحب نے جوتحقیق بھیجی ہے اس پر تحقیقی کمیٹی کام کررہی ہے اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل نے نکاح نامہ تیار کیا ہے، ذہن سازی کیجائے اورعوام کو آگاہی دیجائے۔ نیز طلاق کا قرآن کریم میں جوطریقہ ہے وہ سمجھایاجائے توحلالے کا وجودخودبخودختم ہوجائے گا ۔ گیلانی صاحب فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے بہت مثبت اندازمیں جدوجہد کر رہے ہیں۔ آخرمیں گیلانی صاحب کی خدمت میں یہی کہوں گا کہ آپ جس سنجیدگی سے کام کررہے ہیں وہ جاری رکھیں۔

 

آج کامران کیساتھ اور برصغیرمیں مسئلہ طلاق پر بات (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

نیٹ پر ’’آج کامران خان کیساتھ‘‘ میں طلاق کے مسئلے پر افسوسناک گفتگو دیکھ لی ، جس کا خاتمہ معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کی بات پر ہوا۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ جاوید غامدی بھی اس مسئلے میں قرآن وسنت کی نہیں تقلید ہی کی ترویج کررہے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے جدید تعلیم یافتہ جاہل ہیں۔ تمام نام نہاد مذہبی قدیم وجدید اسکالر قرآن کریم کی واضح آیات اور سنت کی تعلیم سے انحراف کے مرتکب ہورہے ہیں۔ قرآن وسنت میں طلاق کا مسئلہ جتنی وضاحت کیساتھ بیان ہوا ہے ،ایک کم عقل ، کند ذہن اور جاہل کو بھی اس کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی ہے۔ اتنی موٹی بات قرآن میں واضح کی گئی ہے کہ طلاق سے رجوع کا تعلق باہمی صلح اور عدت کیساتھ منسلک ہے۔ قرآن وسنت کی کسی آیت یا حدیث سے قطعی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد باہمی اصلاح و صلح کیلئے بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات بھی اسکا واضح اور فیصلہ کن ثبوت ہیں کہ عدت میں اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے معروف طریقے سے رجوع کا دروازہ بالکل کھلا ہے۔ سورۂ بقرہ کی جس آیت 230 کاحوالہ دیا جاتا ہے ،اس سے پہلے کی دو آیات 228 اور 229 میں یہ واضح ہے کہ طلاق کے تین مراحل تک خواتین کو انتظار کرنے کا حکم ہے اور تین طہرو حیض میں مرحلہ وار طلاقوں کے علاوہ عدت کے اندر باہمی اصلاح اور صلح سے رجوع کی گنجائش ہے اور پھر اسکے بعد آیت231 اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد بھی حلالہ کے بغیر رجوع کی وضاحت ہے۔ طلاق کی زیادہ سے زیادہ تین صورتیں ہوسکتی ہیں نمبر1: دونوں کا پروگرام ہوکہ ایکدوسرے سے علیحدہ ہوجائیں۔ مرحلہ وار دومرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں بھی طلاق کا فیصلہ کیا جائے ۔ جس کے بعد میاں بیوی دونوں اور فیصلہ کرنیوالے اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ آئندہ بھی رابطے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے اور اگر یہ خدشہ ہوکہ رابطے کی صورت ایسی چیز بن سکتی ہے کہ اگر واپس نہیں کی گئی تو دونوں ایکدوسرے کے جاندادیدہ ہونے کی بناء پر اللہ کے حدود پر قائم نہ ر ہ سکیں گے تو باوجود یہ کہ شوہر کی طرف سے کوئی دی ہوئی چیز واپس لینے کا کوئی جواز نہیں مگر اس صورت میں دونوں پر وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ۔ یہی وہ صورت ہے کہ جس میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا ہے کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے یا نہیں ؟، بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر اس طلاق کے بعد بھی اس عورت کو اپنی مرضی سے دوسرے کیساتھ نکاح کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟۔ اللہ تعالیٰ نے آیت229کے آخر میں اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے آیت230 میں واضح کیا ہے کہ ’’ اگر پھر اس نے اس کو طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے ،یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ اس آیت میں یہ واضح ہے کہ پہلا شوہر نکاح میں رکاوٹ بن سکتاہے تو اسکا راستہ روکا گیا ہے، جبکہ ہماری اصول فقہ کی کتابوں میں اس آیت سے اس حدیث کو متصادم قرار دیا گیا ہے کہ ’’ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے ، باطل ہے‘‘۔ حالانکہ طلاق کی یہ صورت بھی قرآن میں واضح ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ اللہ کی منشاء میں رکاوٹ عورت کا ولی نہیں بلکہ اس کا سابقہ شوہر دوسرے سے نکاح میں رکاوٹ بنتا ہے۔ نبیﷺ کیلئے بھی اللہ نے فرمایا کہ ’’ آپ کی ازواج سے کبھی نکاح نہ کریں ، اس سے نبی کو اذیت ہوتی ہے‘‘۔ بخاری شریف میں انصار کے سردارحضرت سعد بن عبادہ ؓ کے بارے میں بھی واضح ہے کہ ’’ عورت کو طلاق دینے کے بعد کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں دیتے تھے‘‘۔برطانوی شہزادہ چارلس نے بھی طلاق دی تو لیڈی ڈیانا کو فرانس میں مروادیا تھا ، جس کا مقدمہ عدالت میں چل رہاہے۔ ہمارا وزیراعظم عمران خان مشرقی غیرت کا دلدادہ نہیں بلکہ مغرب کی انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ جمائماخان نے عدت میں ہی بوائے فرینڈز سے پینگیں بڑھادی تھیں اور ریحام خان بھی دودھ کی دھلی ہوئی نہ تھی، جب عمران نے ریحام خان کو طلاق دی تو ریحام خان کو پاکستان آمد پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ طلاق کی اس پہلی صورت میں اللہ نے انسانیت کا عظیم درس دیا ہے کہ اس طرح سے جدائی کا معاملہ طے ہوگیا تو شوہر دوسرے شوہرسے نکاح میں رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ بخاری میں یہ واضح ہے کہ رفاعہ القرظی ؓ نے اپنی بیگم کو مرحلہ وار تین طلاقیں دیں۔ پھر اس کی بیگم نے دوسرے شخص سے نکاح کیا اور اس شخص کا نبیﷺ کو بتایا کہ ’’اسکے پاس دوپٹے کے پلو کی طرح چیز ہے‘‘۔ نبیﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ آپ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، تو نہیں جاسکتی ہو یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی تیرا شہد نہ چکھ لے اور تو اس کا شہد نہ چکھ لے‘‘۔ اس حدیث کو بنیاد بناکر قرآن کی آیات سے انحراف کیا گیاہے۔ حالانکہ حدیث میں واضح ہے کہ اب وہ عورت دوسرے شوہر کے نکاح میں آگئی تھی۔ حدیث میں نامردی کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے ،اس میں فقہ کے بیان کردہ شرائط کے مطابق حلالہ کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ وفاق المدارس کے سابق صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ نے لکھ دیاہے کہ ’’ یہ حدیث خبر واحد ہے اور اس وجہ سے قرآن کی آیت میں نکاح پر جماع کا اضافہ بھی حنفی مسلک کے مطابق نہیں ہوسکتا ہے‘‘(کشف الباری شرح بخاری) قرآن وسنت کے منافی خواتین کے حلالے کیلئے ہردم اپنی مٹھی گرم رکھنے والا طبقہ تمام حدود وقیود کو پامال کرتے ہوئے حلالے کا فتویٰ دیتا ہے تو اس نے ایک لذت بھی دیکھی ہوتی ہے اور اس حرامکاری کی لعنت سے اسکو دلائل نہیں بلکہ اس پر زنا کی حد جاری کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زناکار کیلئے سزا سے روکنے کی حکمت واضح کردی ہے کیونکہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ نمبر2:طلاق کی صورت یہ ہے کہ شوہر نے طلاق دی اور عورت جدائی نہیں چاہتی ہو تو عدت کی تکمیل پر بھی شوہر کو معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش ہے اور اس کا حکم سورہ البقرہ کی آیت231میں سورۂ طلاق کی آیت2میں واضح ہے لیکن اگر عورت راضی نہ ہو تو عدت میں بھی رجوع کی گنجائش اللہ نے نہیں دی ہے جو آیت228البقرہ میں واضح ہے۔ صلح سے مشروط رجوع اور معروف رجوع کا ایک ہی مطلب ہے۔ علماء ومفتیان نے مسلم امہ کو تباہ کردیا ہے۔ یہ علماء نہیں بلکہ ہٹ دھرم جاہل ہیں، قرآن کی وضاحتوں کے بعداس کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ نمبر3: طلاق کی صورت یہ ہے کہ عورت نے خلع سے طلاق لی ہو۔ علامہ تمنا عمادی نے اپنی کتاب ’’ الطلاق مرتان ‘‘ میں لکھ دیا ہے کہ’’ خلع کی صورت میں ہی عورت غلط کرتی ہے اور اس کو اس کی سزا حلالہ کی صورت میں ملنی چاہیے‘‘۔ جبکہ یہ بھی سراسر بکواس ہے۔ حلالہ کی لعنت ایک عورت کو سزا نہیں بلکہ نجیب الطرفین خاندانوں، معاشرے ، عالم اسلام اور انسانیت کی بھی یہ سزا ہے، ایک عورت کی عزت دری انسانیت کی عزت دری ہے۔ آیت232البقرہ میں خلع کی صورت میں بھی باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش واضح ہے۔اللہ سبھی کو ہدایت دے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

12 سال سے حلالہ کی لعنت کو قوم نہیں سمجھ رہی تو ملٹری کا کیا قصور ہے؟ سید عتیق الرحمن گیلانی

شبیزمائی خان (چاند خان) کے بیان پر تبصرہ
نفرتوں کی بنیاد پر جنم لینے والی تحریکیں جھاگ کی طرح اٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں ، اپنی قوم سے محبت ایمان مگر تعصبات کفر ہیں ۔ اداریہ صفحہ نمبر2ضرور پڑھئے
پاکستان سے پہلے انگریز کے دور میں اور انگریز کے دور سے پہلے مسلم دنیا کی حالت بہتر کیوں نہیں تھی؟ ۔ نیٹو نے افغانستان میں امن قائم نہیں کیا لیکن پاکستان میں امن ہے!
منظورپشتین نے اچھے موقع پر واضح کیا کہ ’’ افغانستان سے الحاق کے نعروں سے PTMکا تعلق نہیں، ہمارا یہ نعرہ ہے کہ ہمارے جوان قتل اور گھر برباد ہورہے ہیں‘‘اور بس!
فیس بک پر چاندمیاں کی گہری فکر و نظر، سنجیدگی ایمانداری سے فرض پورا کرنا اچھی بات ہے۔ کھلے دل و دماغ سے خیر مقدم کرنا چاہیے۔ علماء و فوج کے اعلیٰ افسران اس لمبی چوڑی ویڈیو کو ضرور سنیں، یہ فرد نہیں زمانے کے تاثرات ہیں۔ معروضی حقائق سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے۔ ایک ایک بات کا تفصیل سے جواب دینا ہوگا۔ حضرت عثمانؓ شہید کئے گئے تو مُلا ملٹری کاتصور نہ تھا۔ عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ کی جنگوں میں حضرت علیؓ و عمارؓاور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ نے لڑائی لڑی اور ہزاروں افراد اس کی نذر ہوگئے۔ حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’خبردار ! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘۔ جب 9/11کے بعد امریکہ نے افغانستان پر جنگ مسلط کی تو پاکستان کا بچہ بچہ امریکہ کیخلاف تھا۔ امریکہ نے عراق و لیبیا کو بھی تباہ کیا جو خوشحال ممالک تھے، جہاں ملٹری اور علماء کا وہ تصور نہ تھا جو شپیزمئی کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ وزیرستان میں وزیر اور محسودنے جنگیں لڑیں اور محسودومحسود اور محسود و بیٹنی ، محسود اور برکی قبائل نے بھی جنگیں لڑی ہیں۔
امریکہ نے روس کیخلاف مجاہدین کو تیار کیا پھر افغانستان ، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا، اسکے پیچھے آرمی یا علماء کا فتویٰ نہیں تھا ؟۔ معراج محمد خان جیسے باشعور، ملٹری مخالف سیاسی قائد امریکہ کیخلاف طالبان کو داد دے رہا تھا تو آرمی طالبان سے کس طرح وہ نفرت کرتی جو بہت بعد میں سبھی کے دل و دماغ پرچھاگئی؟۔ طالبان ختم اسلئے نہیں کیے گئے کہ پختونوں کو موت کے گھاٹ اتارنا پڑتا۔ اس ناگہانی حادثے نے فوجی جوانوں کو بڑی تعداد میں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح ہونے پر مجبور کیا۔گاؤں ملازئی ٹانک ، ڈیرہ اسماعیل خان کے قلعے میں راتوں رات 40سیکورٹی اہلکاروں کے گلے کاٹے گئے۔ بڑی تعداد فوجی جوان و آفیسرز کی جانوں سے گئی۔ خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی تو پختون طالبان تھے۔ اسکے پیچھے ملٹری تھی اور نہ علماء کرام تھے۔
امیر امان اللہ خان جدید تعلیم یافتہ تھے۔ پختون خواتین کی سوات میں منڈی لگتی ۔ گائے ، بھینس، بھیڑ، بکری کی طرح بیچنے کیلئے ملٹری سازش یا مُلا نے فتویٰ دیا؟۔ کانیگرم میں بھی دوخواتین کاتعلق سوات سے تھا۔پیر زبیراحمدشاہ امریکی صحافی بھی اسکا پوتا ہے۔ ملٹری یا مفتی مجبور کرتے ہیں کہ بہنوں، بیٹیوں کو حق مہر سے محروم کرکے فروخت کرو؟۔ کمالیہ پنجاب میں آج بھی لڑکیوں کی قیمت بھینسوں سے کم رپورٹ کی گئی ، ARYنیوز کی سرعام میں دیکھ سکتے ہیں۔ سب سے آسان کام کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا ہے ۔ تعصبات اُبھارنے سے ہدف آسانی سے مل سکتاہے۔شپیزمئی نے نسلی تعصبات کی نفی کی جویہ بڑااچھاتھا، اسلام نے غلام اور لونڈی کی اولاد کا فرق بھی مٹادیا تھا۔ عزت وذلت کی بنیاد کردار نہ کہ نسلی امتیازکی بنیاد پر۔سیدنا بلالؓ اور ابولہب وابوجہل میں کتنا بڑا فرق ہے ؟۔ یہ بالکل مناسب نہیں کہ کارکن کی حیثیت سے PTM کی لیڈر شپ پرکوئی اپنا وہ ایجنڈا مسلط کرتاپھرے جس کی خود ہمت نہ رکھتا ہو؟۔منظورپشتین نے اچھا کیا کہ ’’افغانستان سے الحاق کا نعرہ مسترد کیااور کہا کہ ہمارا نعرہ صرف یہ ہے کہ ہمارے جوان قتل ہورہے ہیں اور گھربرباد ہورہے ہیں۔ باقی نعرے لوگ اپنی طرف سے لگا رہے ہیںPTMکا ان سے تعلق نہیں‘‘۔
منظور پشتین نے اصلیت ثابت کردی کہ بھارتی جنگ کی گیدڑ بھبکی کے پیشِ نظر پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کردیاہے۔
12سال سے حلالہ کی لعنت کیخلاف 3 کتابیں، مضامین، ویڈیوزمیں قرآن کے دلائل دئیے کہ عدت میں و عدت کی تکمیل پرباہمی اصلاح سے رجوع ہے مگر اسکے باوجود یہ بے غیرت قوم کھڑی نہیں ہوتی ۔ پہاڑی ہونا قابلِ فخرتھا، حالانکہ کافی عرصہ سے میں وزیرستان نہ جاسکا۔ وزیرستان بچپن میں جاتا تو گرمی کے چند ماہ گزارتا۔ پہاڑی کو میدانی ،میدانی کو پہاڑی کہنا برا لگتا ہے۔ قرآن نے جہالت سے نکالا۔ قرآن کی گستاخی کرنیوالاشخص ہالینڈ میں مسلمان ہوگیا۔ ہم جہالت سے نکل گئے تو آرمی اورمُلا سیدھے ہوجائیں گے۔
بھارت متحدہ ہندوستان کا متمنی تھا لیکن مشرقی و مغربی پاکستان جدا ہوگئے ۔ وطن بھی ان کی گاؤ ماتا کی طرح ماں ہے۔ اب بنگلہ دیش پاکستان سے جدا ہے۔ پاکستان کی پاک سرزمین کو ہندو اگر گاؤ ماتا سمجھتے ہیں تو اس کے بچھڑے کشمیر سے بھی ان کو دستبردار ہونا ہوگا۔ کشمیر پر گرفت کے چکر میں بھارتی بنگال ، پنجاب کے سکھ وغیرہ کو بھی کھودیگا۔ پاگل کتے نے نہیں کاٹا ہے کہ وہ پاکستان پر حملے کی ہمت کرے۔

کیسے شوہر کی بیوی ماں اور بھابھی بنوں؟ حلالہ کے نام پر میرا مذاق ہے. شبینہ انڈیا

بھارتی میڈیا پر اس خاتون نے بتایا ہے، ویڈیو دیکھ لی جائے کہ اس کی 2009ء میں شادی ہوئی، 2011ء کو ایک ساتھ تین طلاق دی گئی اور پھر سسر شوہر کے باپ نے حلالہ کیا۔شوہر سے دوبارہ نکاح ہوا، 2017ء میں پھر طلاق ہوئی ۔اب کہتے ہیں کہ بھائی سے حلالہ کرو۔ ایک خاتون کس طرح اپنے شوہر کی کبھی ماں، کبھی بیوی اور کبھی بھابی بن سکتی ہے، حلالہ عورت کیساتھ زیادتی ہے، اس کو ختم ہونا چاہیے۔ قارئین یہ یاد رکھیں کہ سماء ٹی وی پر بھی سید قطب کے پروگرام میں مولانا جمیل آزاد نے کہاتھا کہ مجبوری میں سسر سے شادی ہوسکتی ہے اور یہ پروگرام رمضان کے افطار سے پہلے ہوا، پھر نشر بھی ہوتا رہا۔ اس بے غیرتی کا دھندہ جاری رہا تو علماء کا حال کیا ہوگا؟۔ ہم نے بار ہاواضح کیامگر علماء ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ،کتنی بے حسی ہے؟۔