پوسٹ تلاش کریں

تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل

حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کا مسک برحق
قرآن کریم کی آیات اور احادیث صحیحہ کے عین مطابق متفقہ حل
دنیا کو ہے اس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ زلزلۂ عالم افکار
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
ایک ساتھ تین طلاق حضرت عمرؓ کے مطابق واقع ہونے اور حضرت علیؓ کے مطابق واقع نہ ہونے کا مؤقف قرآن کریم کی آیات کے عین مطابق 100%درست ہے اور ائمہ اربعہ حضرت امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا متفقہ مسلک بھی 100%درست ہے، اہل تشیع اور اہل حدیث کا مسلک بھی درست ہے لیکن افسوس کہ معاملے کو حقائق کی روشنی میں دیکھنے کے بجائے بعض فقہاء نے بلا وجہ حلالے کی لعنت سے اُمت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ شکاعت فرمائیں گے کہ ’’اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ (القرآن)

کتاب پڑھنے کیلئے ٹائٹل پر کلک کریں

تین طلاق کی درست تعبیر

خوشخبری’’ تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ شائع ہوچکی ہے جس میں طلاق اور خواتین کے حقوق کے مسئلے کو اس انداز میں اٹھایا گیا ہے کہ کسی کیلئے اختلاف کی گنجائش نہیں رہی ۔ مدارس کے ارباب فتویٰ اور دانشور حضرات خصوصی طور پر کتاب کے مندرجات کو غور سے پڑھیں ، انشاء اللہ قرآن و سنت کے حوالے سے اس مسئلے پر فطرت کے مطابق بہترین رہنمائی ہوگی۔ جس سے نہ صرف امت مسلمہ بلکہ دنیا کی تمام دوسری قوموں کو بھی قرآن اور اسلام کے معاشرتی نظام کی طرف راغب ہونے کا زبردست موقع ملے گا۔ اگر علماء و مفتیان اعلانیہ طور پر ایک ساتھ تین طلاق پر صلح نہ کرنے کے غیر فطری مسئلہ سے دستبردار ہوجائیں تو آئندہ مختصر کتابچہ میں صرف قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کو نقل کرکے بڑی تعداد میں شائع کیا جائیگا اور اس میں کسی کیلئے خفت اور شرمندگی کا احساس بھی نہ ہوگا۔ ہمارا مقصد مسلمانوں کے گھر اور عزتوں کو بچانا ہے۔ بصورت دیگر عنقریب ہم انشاء اللہ العزیز ذمہ دار علماء ومفتیان کو عوام، میڈیا اور عدالتوں کے کٹہرے میں لا کھڑا کردینگے۔ مسلمانوں کی عزت اور قرآن و سنت کے مقابلہ میں ہٹ دھرموں کو حیثیت دینا اپنی دنیااور آخرت تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ازماہنامہ نوشتۂ دیوار کراچی

وہ تعبیر جس پر اہل حق متفق ہوں اور اہل باطل بھی تعبیر کی غلطی کا اعتراف کریں
بہشتی زیور و بہار شریعت میں تین طلاق کا غلط مسئلہ اور دار العلوم کراچی کے غلط فتوے کی تردید
دیوبندی بریلوی مسالک کی مشہور کتب میں تین طلاق کا یہ مسئلہ عقل، فطرت، قرآن و سنت، حضرت عمر اور چاروں امام کے منافی
کہکشاوں کی گردش اور ثریا کی جھرمٹ میں گرفتار درخشندہ ستاروں کی قید سے آزاد تحریر

کتاب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

عورت کے حقوق – عورت کے حقوق کی بنیاد پر دنیا میں عظیم انقلاب برپا ہو سکتا ہے

اسلام نے دنیا میں جو انقلاب برپا کیا تھا آج بھی
عورت کے حقوق
کی بنیاد پر دنیا میں عظیم انقلاب برپا ہوسکتا ہے
مصنف: سید عتیق الرحمن گیلانی
اس کتاب کا نام پہلے تین طلاق سے بغیر حلالہ کے ہی رجوع پر انقلابی تحریر تھا لیکن چونکہ خواتین کے حقوق بالکل نظر انداز کئے گئے ہیں۔ قرآن نے جو حقوق دئیے ہیں وہ معاشرے میں ان کو نہیں مل رہے ہیں۔ مغرب نے عورت کو مساوی حقوق دئیے ہیں جو خواتین کے ساتھ ظلم ہیں۔
نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن مقررکردہ حق مہر کا نصف دینا ہوگا۔
حق مہر شوہر کی وسعت کے مطابق ہوگا۔ امیر پر اسکے مال ودولت اور غریب پر اس کی حیثیت کے مطابق۔ یہ حق مہر عورت کی سیکورٹی ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے آدھا حق مہر ہو تو جماع کرنے کے بعد صرف پورا حق مہر نہیں بلکہ یہ وضاحت قرآن میں ہے کہ گھر عورت کا ہی ہوتا ہے۔ مرد اگر طلاق دے گا تو گھر بھی عورت کیلئے چھوڑ دے گا۔
عورت کو خلع کا بھی مکمل حق حاصل ہوگا۔ خلع میں اس کو حق مہر کے علاوہ شوہر کی طرف سے دی گئی منقولہ اشیاء ساتھ لے جانا اس کا حق ہوگا۔ لیکن غیر منقولہ دی گئی اشیاء مکان، دکان ، گھر ، باغ وغیرہ سب کچھ چھوڑ کر جانا ہوگا۔
طلاق میں مکان اور منقولہ وغیر منقولہ اشیاء دی ہوئی تمام اشیاء کی مالک عورت ہی رہے گی۔ اسلام نے عورت کی ناماموس کو وہ تحفظ دیا جس کے حقوق کو دیکھ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ ماں کے قدموں تلے واقعی جنت ہے۔
وزیرستان کے لوگ بیشک میری کتاب پر تمام علماء اور قوانین کے ماہرین کو دعوت دیں اور پھر فیصلہ کرلیں کہ یہ حقوق انکے بنتے ہیں یا نہیں؟۔ پھر اس پر عمل درآمد کیلئے ایک لائحہ عمل تشکیل دیں۔قرآنی آیات کی تعلیم اور عمل کے مناظر سوشل میڈیا پر لوگ دیکھ لیںگے تو پوری دنیا دوڑ کر وزیرستان کے لوگوں کے اسلام ، ایمان اور انسانیت کو تہہِ دل سے سلام پیش کرے گی۔ عرب چھوٹی بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے اور ہم نے ان کو قرآن اور انسانیت کے ان حقوق سے محروم کرکے زندہ گاڑھنے سے بھی برے حال پر پہنچایا ہوا ہے۔ ایک قبائلی اس بات کو زیادہ اچھی طرح سے سمجھ سکتا ہے۔عورت کو قانونی طور پر زیادہ تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ نبی کریمۖ نے اپنی ذات کے حوالہ سے ہمارے لئے ہی قربانیاں دی ہیں۔ اماں عائشہ پر بڑا بہتان لگایا گیا تو اس کی سزا80،80کوڑے دی گئی اور یہی سزا ایک عام غریب عورت پر بھی بہتان لگانے کی ہے اور اس بات کو قبائلی معاشرہ زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ انگریز کے نظام میں مال ودولت کے لحاظ سے اونچ نیچ کا تصور تھا اور لوگوں سے اسلام کے اعلیٰ اقدار و قوانین بالکل اوجھل ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو حقیقی اسلام کا قلعہ بنادے،آمین

کتاب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ابرِ رحمت – قرآن و سنت کی روشنی میں نئ فیصلہ کن تحقیق

طلاق کی ملکیت کا باطل تصور
ایک مولانا نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، عدت کے بعد ایک مفتی سے اس کا نکاح ہوا. حنفی فقہ میں وہ مولانا بھی بدستور دو طلاق کا مالک ہے، مفتی نے دو لاق دے کر عدت ہی میں رجوع کرلیا تو اب مفتی ایک طلاق کا مالک ہے اور پہلا شوہر مولانا دو طلاق کا. اگر طلاق کی ملکیت کا یہ غیر فطری تصور درست ہے تو مشترکہ مملوکہ بیوی پر پہلے شوہر دو طلاق کے مالک مولانا کا زیادہ حق ہے یا دوسرے شوہر ایک طلاق کے مفتی کا؟
اے نا معقول: شوہر طلاق کا مالک نہیں بلکہ طلاق اور اسکی عدت کا حق رکھتا ہے اور رجوع کا تعلق بھی عدت سے ہے

کتاب ابر رحمت پڑھنے کیلئے ٹائٹل پر کلک کریں

Statement of Malala Yousafzai on Nikah, Who is LAL KURTI? What is disclosed by Ansar Abbasi? Journal\ist Haroon Ur Rasheed, Hassan Nisar, Orya Maqbool Jan and Biography of Hamid Mir.

Keywords: Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Reham Khan, Hareem Shah, Qandil Baloch, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Malala Yousafzai, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Ansar Abbasi, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Orya Maqbool Jan, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Mufti Qavi, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah, Hareem Shah.

ملالہ کا نکاح پر بیان برطانیہ کے غیر اسلامی قانون کی وجہ سے بالکل درست ہے،تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن وسنت میں مردوں کیلئے عورتوں سے نکاح کے علاوہ اوماملکت ایمانکم (جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں۔)ایگریمنٹ اور متعہ ومسیار کی بھی زبردست وضاحت ہے۔
برِ صغیر میں برطانوی سامراج کے وقت فوجی چھانیوں کیساتھ لال کرتی کے نام پر بدکاری کے اڈے قائم کئے گئے، جن سے وہ پود تیار ہوئی ہے جس کو آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے۔

Malala Yousafzai


اسلام میں آج بھی اتنا دم خم ہے کہ پوری دنیا میں عالمی خلافت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر پرنسپل جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹان. کراچی نے ہماری تحریک so کیلئے اپنی تحریری رہنمائی میں یہ لکھ دیا تھا کہ ”امام مالک کا قول ہے کہ اس امت کی اصلاح نہیں ہوسکتی مگر جس. چیز سے پہلے اس کی اصلاح ہوئی تھی۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات اور اس پر عمل کرنے کا ماحول پیدا so کرنا۔ اسلام کی. نشا ثانیہ کیلئے کوشش کرنے والوں کو امام مالک کے اس قول کو سامنے رکھتے ہوئے پہلے قرآن وسنت کی تبلیغ اور پھر اس کو عملی شکل دینے کیلئے ایک ماحول بنانا ہوگا تو وہ کامیاب ہوں گے”۔

Malala Yousafzai


اللہ نے فرمایا کہ ”اہل فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل so اور عورتوں کی عزت لوٹنے کیلئے ان کو زندہ رکھتے تھے اور یہ سخت ترین عذاب اور اللہ کی طرف سے بڑی. آزمائش تھی”۔ جب so مکہ فتح ہوا تو نبیۖ نے سب کو آزاد قرار دیدیا اور مسلمانوں کو تین دن قیام اور اس میں متعہ کرنے کی اجازت دیدی۔ ایک صحابی اپنے ساتھی کیساتھ کسی عورت سے متعہ کی تلاش میں نکلے۔

TEST

ایک عورت مل گئی تو اس نے ایک صحابی کے ساتھ ایگریمنٹ so تھا ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس چادر تھی لیکن اس کی حالت بہتر نہیں تھی مگر میری شکل زیادہ اچھی. تھی اور ساتھی کے so پاس چادر اچھی تھی مگر اس کی so شکل اچھی نہ تھی۔وہ عورت کبھی میری چادر اور شکل کی طرف دیکھتی اور کبھی ساتھی so کی چادر اور شکل کی طرف دیکھتی۔ آخر کار اس نے میرا انتخاب کرلیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ (صحیح مسلم)

TEST

حدیث سے واضح ہے کہ اسلام .نے لونڈی بنانے so کی جگہ پر باہمی رضا سے نکاح کئے بغیر متعہ (ایگریمنٹ)کی اجازت دی تھی اور یہ حرام کاری نہیں تھی۔ وہ عورت متعدد so مردوں کیساتھ حرامکاری کرکے بہت ساری چادریں کما سکتی تھی۔ جب انگریز نے ہندوستان کو آزاد کردیا توجاہلیت کی یادوں so کو تازہ کیا گیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ ”اس کی ماں دو بہنوں کیساتھ نانی غلام فاطمہ کیساتھ ہجرت کر رہی تھی تو بس so سے ہندوں. اور. سکھوں نے سب مردوں کو اتارکر قتل کردیا۔

پھر عورتوں کو زبردستی سے اپنے ساتھ لے جانے لگے۔ نانی غلام فاطمہ نے so بیٹی سے کہا کہ اپنی بہنوں کیساتھ لاشوں میں چھپ جا۔ اور خود اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگل میں بھاگ گئی۔ کسی نے آخری so مرتبہ .دیکھا کہ ایک چھڑی لیکر دشمنوں کیساتھ لڑرہی تھی لیکن دشمنوں نے اس کو قابوکرلیا اور اپنے ساتھ لے گئے”۔ اس طرح کی بہت ظالمانہ داستانیں ہیں ۔

Malala Yousafzai


افغانستان، عراق، شام، اردن، لیبیا اور so فلسطین وکشمیر کے بعد اللہ نہ کرے کہ پاکستانیوں سے قدرت انتقام لے لے۔بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں مظالم کی so بہت داستانیں رقم کی گئی ہیں۔عورت کیساتھ جہیز کے نام پر پنجاب میں کتنا ظلم ہوتا ہے؟ یہ کتنی غیر فطری .بات ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے نکاح so میں دیا جائے اور ساتھ میں جہیز کی ڈیمانڈ بھی رکھے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے شوہر اپنی بیگم اور سسرال والوں کو لوٹتا رہے؟۔ پشتون معاشرے میں چندلاکھ کے عوض لڑکی بیچ دی جاتی ہے جیسے جانوروں .اور so لونڈیوں کے حقوق ہوتے ہیں وہی نام نہاد آزاد خواتین کے حقوق ہوتے ہیں۔

TEST

اسلام کے نام پر مذہبی طبقے نے عورت کے حقوق کا بیڑہ so غرق کردیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ”حیلہ ناجزہ” میں لکھ دیا کہ ”اگر شوہر. بیوی کو تین طلاق دے تو اس پر so بیوی حرام ہے۔ اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہ پیش کرنے ہونگے اور اگر وہ دو گواہ نہیں پیش کر سکے اور شوہر نے حلف. اٹھایا تو عورت اس پر حرام ہے مگراسکی بیوی ہے۔ عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر خلع نہ ملے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہے۔ جب so شوہر اسکے ساتھ مباشرت کرے تو اس پر دل سے راضی نہ ہو اور لذت Malala Yousafzai حاصل نہ کرے،پھر وہ گناہگار نہ ہوگی”۔آج بھی اس طرح کے فتوے بڑے مدارس والے دیوبندی بریلوی دے رہے ہیں۔

Malala Yousafzai


اسلام میں واضح ہے کہ اگر. میاں بیوی رشتہ ازدواج میں so منسلک ہوں تب بھی شوہر کو اپنی بیوی پر زبردستی کا حق حاصل نہیں تو کس طرح کوئی مرد کسی عورت کو زبردستی سے so حرامکاری پر شرعا مجبور کرسکتا ہے؟۔ اسلام کی کایا پلٹ دی گئی۔ رہی سہی کسر لال کرتی کی پود نے پوری کردی۔ صحافی ہارون so الرشید، حسن نثار، اوریامقبول جان وغیرہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے لال Malala Yousafzaiکرتیوں کا مزاج پایا ہے۔ حامد میر نے .کہا کہ”جب لاہور میں so سکول پڑھتا تھا تو مخلوط تعلیمی نظام میں لڑکے اور لڑکیاں چھپ چھپ کر باتیں کرتے تھے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں؟۔ اب پتہ چل گیا کہ کیا باتیں کرتے تھے”۔

Malala Yousafzai

پر ہیرہ منڈی کو لاہور کے کوچے گلیوں میں پھیلانے so کے تذکرے اورپارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک کی کتابیںدستیاب ہیں۔ مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے قائدین زندہ دلانِ لاہور کو جلسوں. اور عام Malala Yousafzaiاجتماعات میں مخاطب کرکے بڑا لطف حاصل کرتے ہیں۔

Malala Yousafzai


جب انگریز میموں کی خدمت. غلام بٹ مین so کرتے تھے تو علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ”خاکسارتحریک” کے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ سلیوٹ کرکے انکے ساتھ ان کا دستی سامان اٹھائیں۔ جب انگریز رخصت ہوا تو محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی قائدین بن گئے۔ قائدکی بیٹی دینا جناح نے بھاگ کر پارسی so کزن سے شادی رچالی۔ جبکہ آپ کی بہن مادرملت فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قوم کی سیاسی اور اخلاقی قیادت. سنبھال لی۔ بیگم صاحبہ کو اعزازی جرنیل کا درجہ دیا گیا تھا۔ جس طرح 90کی دہائی میں معین قریشی اور پھر شوکت عزیز کو پرویزمشرف so کے دور میں لایا گیا، اسی طرح محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے امپورٹ کیا گیا تھا۔

Malala Yousafzai

ذوالفقار علی بھٹو نے صدر سکندر مرزا کی بیگم .کی کزن بیگم so نصرت بھٹو سے شادی رچائی اسلئے ریاست کے اہم منصب کا موقع مل گیا اور جنرل ایوب خان نے میرجعفر کے پوتے سکندرمرزا so کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا .تو بھٹو نے جنرل ایوب Malala Yousafzaiکوا پنا ڈیڈی بناکر ساتھ دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی soطور پر نوازشریف وغیرہ کوجنم دیا تھا۔ نوازشریف ایک لمبی .مدت تک اسٹیبلیشمنٹ کا پٹھو بن کر کھیلتا رہاہے اور اب بھی اسی so ڈگر پر ہی چل رہاہے لیکن اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ذریعے سے جعلسازی کی سیاست کرتاہے جو اسکے ایک بٹ مین کیپٹن صفدر کی بیگم ہے۔ پیپلزپارٹی، ق لیگ،ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان ہرسیاسی طوفان میں لوٹوں کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں بنتی ہیں۔

TEST

درباری ملا اور جماعت اسلامی اسلام سے کام نہیں رکھتے بلکہ اقتدار کے چکر میں بستے ہیں۔
قرآن نے نکاح کیلئے شوہروں پر ان کی وسعت کے so مطابق حق مہر کو فرض کردیا۔ دورِ جاہلیت کے غلاموں، لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم قرآن نے دیا۔ نکاح میں وسعت کے so مطابق حق. مہر کے علاوہ عورت کے پالنے اور انصاف فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی شوہروں پرڈال دی۔ اگر ان کو یہ خوف ہو کہ وہ عدل نہ کرسکیںگے تو ایگریمنٹ کی اجازت دی۔ ایگریمنٹ میںباہمی رضامندی سے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ مالدار عورت ایگریمنٹ میں so اپنے خرچے سے مرد کوبری الذمہ بھی کرسکتی ہے۔ایک افسر کی بیوہ بیگم کو اچھا خاصا پینشن سرکار کی طرف سے ملتا ہے اور اگروہ کسی سے شادی کرلے تو وہ پینشن سے محروم ہوگی اور نہیں کرے تو اپنی فطری جنسی خواہش ناجائز طریقے سے کرے گی؟۔

TEST

قرآن کریم اسلئے نہیں ہے کہ دور کے so تقاضوں کو دیکھ کرتبدیل کیا so جائے اور پھر اس کو اجتہاد کا نام دیا جائے بلکہ قرآن کریم زمانے کی تنگ دستی کی چیرہ سازیوں اور وسعت .کی رعنائیوں میں یکساں طور پر رہنمائی دیتا ہے۔ انگریز نے فوجیوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے لال کرتیوں so کو سامنے لایا تھا تاکہ. اپنے اہل وعیال سے دور فوجی اپنی خواہشات کی ناجائز تکمیل کرسکیں۔مگر اسلام نے جائز طریقے سے so قرآن وسنت میں وہ تصور دیا تھا کہ اگر اس کو درست معنوں میں جاری رکھا جاتا تو مسلم حکمرانوں کی حرم سراں اور داشتاں سے بدنامی کبھی بھی نہ ہوتی۔

TEST


لال کرتی کے باسی صرف so وہ نہیں جو چھاونی کے قریب آبادہیں بلکہ فوج کی ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنیوالے سیاستدان، جج، صحافی، مجاہدین، پیرانِ طریقت ، شیخانِ حرم .مولوی ،سول بیورو کریسی اور وہ سبھی لوگ ہیں جن کی سرشست میں لال کرتی کا کردارادا کرنے کا جذبہ ہے .مگر فوج کے وہ افسران اور سپاہی اس سے بالکل بھی پاک ہیں جنہوں نے لال کرتیوں کو استعمال کرنے کے بجائے اپنا فرض منصبی ادا کیا ہے۔وہی پاک فوج زندہ باد۔

TEST


جیو رپورٹ کارڈ کے صحافی مظہر عباس ایک فوجی جرنیل کے بھائی ہیں لیکن وہ لال کرتی والے نہیں ہیں اور حسن نثار ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق. کی قید میں رہے۔ ایک اسلامی لبرل ترقی پسنداور جمہوریت کے مایہ ناز کھلاڑی ہونے کے باوجود بھی اس کی صحافت لال کرتی والی ہے۔

TEST

لال کرتی کے باسیو! تم نے ملالہ کی so بات پر آسمان سر پر اٹھالیا جو عالمہ ہے نہ مفتی اور نہ کوئی مذہبی شخصیت لیکن تحریک انصاف علما ونگ کے صدر مفتی عبدالقوی. کے مذہبی فتوں اور کردار پر کوئی بات نہیں کی اسلام کا نام استعمال کرکے سودی نظام کو جائز قرار دیا گیا مگر تمہیں اسلام یاد نہیں آیا؟۔

TEST


قرآن وسنت میں لونڈی بنانے کی so جگہ لونڈی آزاد کرنے اور ان .کا نکاح کرانے کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف نکاح کے علاوہ معاہد ے کا بھی تصور دیا گیا ہے۔ جب عورت اور مرد نکاح کے معاملات سے .خود کو آزاد رکھ کر باہمی جنسی تعلق چاہتے ہوں تو جس طرح لونڈی سے ایگریمنٹ so کا تصور تھا اسی طرح آزاد عورت سے بھی ایگریمنٹ کا تصور قرآن وسنت نے دیا تھا۔ خلافت عثمانیہ میں سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزارلونڈیاں اسلام کے احکام نہیں تھے لیکن. کسی مسلمان لڑکی کا یورپ میں قانونی نکاح کے غیر فطری اور غیر اسلامی اثرات سے بچنے کیلئے کاغذ پر دستخط کرنے سے بچنا کوئی غیر اسلامی یا غیر اخلاقی بات نہیں ہے۔

TEST

شرعی نکاح تحریری ایگریمنٹ نہیں ہے اور شریعت کے نام پر. نکاح کے حوالہ سے جس طرح کے شرمناک مسائل گھڑے گئے اور معاشرہ اس کا شکار ہے،اگر دنیا کے سامنے یہ پیش کیا جائے تو سب سے پہلے مسلمان مولوی کی اس خود ساختہ شریعت سے بغاوت کا اعلان کرینگے اور پوری دنیا اسلام کی درست تعلیمات کے .مطابق اپنے قوانین بھی بدلیں گے۔ نکاح وطلاق کے غلط نام نہاد شرعی مسائل ومعاملات نے سب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ شریعت میں نکاح عقد کا نام ہے جنسی تعلق کا نہیں۔ مولوی کی شریعت میں جنسی تعلق کو نکاح کہتے ہیںچاہے وہ حرام ہو۔ انصار عباسی نے .قرآن پر ایسی جھوٹی تہمت لگادی کہ بیوی کے کسی کیساتھ ناجائز تعلقات ہوں تو بستر الگ کرنے کا حکم ہے مگر اسکے خلاف کسی نے کچھ نہیں کہا۔

TEST


سعودی عرب کا مسیار،ایران کا so متعہ اور مغرب کا گرل .وبوائے فرینڈز کوئی ایسی تثلیث نہیں جن میں کسی قسم کا کوئی فرق ہو۔ نکاح کی قانونی حیثیت سے بچنے کا so یہ حربہ ہے جو کوئی قابلِ تعریف چیز بھی نہیں ہے لیکن بامر مجبوری اجازت دی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ قانون کو درست کرکے آرمی so چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ اس سے پہلے تمام جرنیلوں کے قبضے اور انکے ریفرینڈم آئین اور دستور کے خلاف تھے۔ بھٹو، نوازشریف .اور عمران خان کی سیاسی جماعتوں اور مذہبی ولسانی گروہوں سمیت وہ تما م لوگ لال کرتی کے پود کی حیثیت رکھتے ہیں جو کسی طرح بھی بقول شیخ رشید کے گیٹ نمبر(4 GHQ)کے گملے میں پلے ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ دہشتگردوں کو پناہ اور so بے گناہوں. کو سزا نہ دی جائے تو لال کرتی کے باسی پیچھے پڑگئے۔ورنہ حریم شاہ، ویناملک،مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت کے پجاری ملالہ کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟۔

TEST


صحافی و سیاستدان اپنے لئے مفتی عبدالقوی وقندیل بلوچ، ریحام خان، جمائما خان، ویناملک، حریم شاہ اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کاا سلام پسند کرتے .ہیں لیکن افغانستان، پختونخواہ اور کوئٹہ بلوچستان کیلئے طالبان کا وہ اسلام پسند کرتے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم، وکلا، سکولوں، مساجد، پبلک so مقامات اور گھروں پر خود کش حملے کئے جائیں۔ یہ لوگ اب نوازشریف ومریم نواز کو ہیرو اور پاک فوج کو زیرو بنارہے ہیں۔اگر اصل غلط ہے تو کم اصل کیسے درست ہوسکتا ہے؟۔جعلی جمہوری لیڈر شپ اس قوم کیلئے موت کا پیغام ہے۔

zarbehaq.com zarbehaq.tv