استاذ مفتی محمد نعیم مدظلہ العالی جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی نے بالمشافہہ ملاقات میں کہا کہ ’’ ایک خاتون صحافی اپنے شوہر کیساتھ آئی تھیں، اس نے کہا کہ مجھے شوہر نے ایک ساتھ تین طلاق دئیے۔ پھر ہماری صلح ہوگئی اور دارالعلوم کراچی نے فتویٰ دیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ اب مفتی صاحب آپ بتائیں کہ میں کس طرح ایک غیر آدمی سے ایک رات کیلئے نکاح کرکے اپنی شلوار نکال کر لیٹ سکتی ہوں کہ مجھے اپنے شوہر کیلئے حلال کردو۔ جب اس نے یہ بات کہی تو میں شرم کے مارے پانی پانی ہوگیا کہ یہ کتنی عجیب آزمائش ہے۔ واقعی اگر سوچا جائے کہ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کیساتھ یہ ہو تو کیا حال ہوگا؟‘‘۔ یہ تو محض الفاظ کی مار ہے، حلالے پردنیا میں جو ہورہا ہے۔ دنیا کی اقوام، مذاہب اور ممالک ہمیں حیرت میں دیکھتے ہیں۔کیا قرآنی آیت پردل وجان سے ایمان کی یہ کیفیت بن سکتی ہے؟۔ جس کو صورتحال کا سامنا ہو تو وہ کہے گا کہ ہمارے اجداد مسلمان نہ بنتے تو اچھا ہوتا۔ گائے کا پیشاب پینے سے زیادہ مشکل یہ ہے جسکا روز کسی حواء کی بیٹی کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کے ضمیرکو جگانا پڑیگا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ ایمان کے اعتبار سے عجیب مخلوق کون ہیں؟۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ملائکہ!۔ نبیؐ نے فرمایا کہ انکاایمان عجیب کیوں، وہ تو سب کچھ مشاہدہ کرتے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر انبیاء کا، نبیﷺ نے فرمایا: انبیاء کا ایمان عجیب کیسے ہوگا، ان پر وحی نازل ہوتی ہے تو صحابہؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ پھر ہمارا ایمان عجیب ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا: تمہارا ایمان کیسے عجیب ہوگا ، جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر ہم نہیں جانتے۔ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو علم ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے عجیب لوگ وہ ہونگے کہ جن کے پاس قرآن کے الفاظ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن پھر بھی انکا ایمان قرآن کی آیات پر تمہارے جیسا ہی ہوگا۔ ایک کو50 کا اجر ملے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ ہم میں 50 یا ان میں سے؟۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بلکہ تم میں سے 50 افراد کے برابر اجر ان کو ملے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ لوگوں پر ایک زمانہ آئیگا، جس میں اسلام کا صرف نام باقی رہ جائیگا، قرآن کے صرف الفاظ باقی رہیں گے، مساجد لوگوں سے بھری لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہونگے، ان سے فتنہ نکلے گا اور ان میں لوٹ جائیگا‘‘۔(عصرحاضر : مولانایوسف لدھیانوی) اللہ نے فرمایا: ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا وبای ارض تموت ’’بیشک اللہ کے پاس وقت کا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے، وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی نہیں جانتاکہ کل کیا حاصل کریگا اور کونسی زمین پر مرے گا‘‘۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ پانچ چیزیں غیب کی چابیاں ہیں‘‘۔ پڑھالکھا طبقہ سمجھتا ہے کہ آئین سٹائن کے نظریہ اضافیت نے قرآنی عقائد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مصنوعی بارش اور بارش کب برسے گی ؟،کے بارے میں قدامت پسند علماء کا عقیدہ خراب ہوا ۔ الٹراساونڈ نے ماں کے رحم میں بچے کی مکمل معلومات کو عام کردیاہے۔ مذہبی طبقات سمجھتے ہیں کہ عقیدہ خراب نہ ہوجائے اسلئے گدھوں کی طرح وقت کے سائنسی تجربات سے حادثات کی طرح آنکھیں بند کرلو۔ ابن عباسؓ نے کہا: ’’ قرآن کی تفسیرزمانہ کریگا‘‘۔ سورہ معارج میں اللہ نے فرمایا: فرشتوں اور روح کے چڑھنے کے دن کی مقدار 50 ہزار سال ہے۔ رسول اللہﷺ نے معراج میں مشاہدہ کیا۔ آئین سٹائن نے نظریہ اضافیت سے ریاضی کی بنیاد پر اس کی تصدیق کردی ۔ موٹی عقل والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وقت کا علم غیب کی چابی ہے۔ دن رات سے پتہ چلا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے، ماہ وسال سے سورج کے گرد زمین اور سورج چاند گرہن وغیرہ کے علم کا دروازہ کھلا ۔ بارش برسنے میں آسمانی بجلی ، آگ اور اولے برستے ہیں، بجلی کی تسخیر الیکٹرک کی دنیا میں نت نئی ایجادات غیبی چابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رحموں کا علم بھی غیب کی چابی ہے، فارمی حیوانات و فارمی نباتات سے نئی دنیا آباد ہے، جمادات میں ایٹمی ایجاد اورالیکٹرانک کی دنیا اسکامنہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلمانوں کا حال تو ان سست لوگوں کے لطیفے سے بدتر ہوگیا کہ ایک نے گھوڑ سوار سے کہا کہ اللہ واسطے، یہ بیر منہ میں ڈال دو، ساتھ میں پڑا ہوا دوسرا کاہل کہہ رہا تھا کہ نہیں ،اسکے منہ میں بیر بالکل نہ ڈالو، کل کتا میرے منہ پر پیشاب کررہا تھا تو یہ کتے کوزبان سے بھی نہیں روک رہا تھا۔ اس لطیفے سے بدترآج مسلم اُمہ کا حال ہے۔ ہم جان لڑاکر قرآن سمجھاتے ہیں کہ حلالہ نہیں مگر بعض لوگ پھر بھی مولویوں سے فتویٰ لیکر اپنی عزتوں کو لٹواتے ہیں۔مذہب کے نام پر غلط روش نے قرآن کی آیات سے مسلمانوں کا ایمان متزلزل کردیاہے اور الحمدللہ رب العالمین کہ ایک جماعت ایسی وجود میں آگئی ہے جو علم ، ایمان اور دین کو ثریا سے لاکر زمین میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرچکی ہے۔دین، ایمان اور علم سے انقلاب آئیگا۔ آج بھی رسم ہے کہ لڑکی نے شادی سے انکار کیاتو قتل کی گئی، منگیتر نے نکاح سے انکار کیااور قتل کی گئی، شوہر کیساتھ عورت نہیں رہناچاہ رہی تھی اور قتل کی گئی، شوہر نے طلاق دی ، دوسری عورت سے نکاح کیا اور طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اور قتل کی گئی۔ بے غیرتی کو غیرت کا نام دیکر معاشرے سے دین کو نکال دیا گیا ۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبی بن جائیگا، خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے۔ سردار سعد بن عبادہؓ نے کہا: میں قرآن کے حکم لعان پر عمل نہ کرونگابلکہ قتل کرونگا۔ نبیﷺ نے انصارؓ سے شکایت کی تو کہنے لگے کہ یارسول اللہ، یہ بڑی غیرت والا ہے، کبھی کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے نکاح نہ کیابلکہ کنواری سے کیا اور طلاق دی تو کسی اور سے نکاح نہ کرنے دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرتمند ہے۔ (بخاری) عالم اسلام میں بات پھیل گئی کہ سردار صحابہؓ نے بھی اپنی غیرت کو نہ چھوڑا، نبیﷺ نے بھی تائیدکی۔ غلط تشریح نے غیرت کے نام بیوی کو گھر سے نکلنے یا نکالنے کے بجائے قتل کرنے کی رسم برقرار رکھی۔ جوغیرتمند اللہ کی بات نہیں مان رہا تھا،وہ اتنا بے غیرت بنا کہ نارمل ماحول میں حلالہ کیلئے خود بیگم مولوی کے کہنے پر پیش کی۔ معاشرے سے تضاد ختم ہوگا تو دین کا ڈھانچہ ایمان کی روح سے زندہ ہوگا۔ صحیح علم سے ایمان اور دین کا رشتہ جوڑیں جس سے شدت پسندی، بے راہروی،جہالت، دہشتگردی اور گمراہی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ، شیخ الہند محمود الحسنؒ ، مولانا الیاسؒ اور حاجی عثمانؒ کا مشن فرقہ پرستی، مسلکی تعصب ،گروہ بندی اور جماعت پرستی نہ تھابلکہ حقیقی اسلام اور قرآن کی طرف دنیا کو دعوت دیناتھا۔ دارالعلوم دیوبند انڈیا میں پاکستانی جھنڈا جلاکر شرمناک نعرہ لگایا گیا ، یہ مذہبی طبقہ اچھوت ہندؤں سے بدتر ہے ۔ حدیث کی پیشگوئی دیکھ لیں کہ مساجد کے امام بدترین مخلوق ہونگے۔ سید عتیق گیلانی
کا جواب الجواب دارالعلوم قادریہ رضویہ سعودآباد ملیر
محترم جناب سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے اس ناچیز کے سوالات کا ’’الجواب‘‘ تحریر کیا۔میں نے بغور پڑھا۔میں یہ بات واضح کردوں کہ میری یہ تحریر حلالہ کے متعلق نہیں تھی ۔جیسا کہ آپ نے لکھا بلکہ قرآن مجید کی آیت230کی وضاحت کے متعلق ہے اور آپ جو اس آیت مقدسہ کی غلط تشریح پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں، اس کے رد میں ہے۔ اب آپ غور سے پڑھیں کہ آپ سے بڑے علماء کرام نے اس آیت کی کیا وضاحت کی ہے۔ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کا ترجمہ کیا ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے‘‘۔ حضرت آپ نے غور کیا کہ تیسری طلاق کے بعد عورت اپنے خاوند کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ اگر آپ اس ترجمہ سے مطمئن نہ ہوں تو جناب کی خدمت میں شاہ فہدآل سعودکی طرف سے حاجیوں کو پیش کیا جانے والا بطور ہدیہ قرآن پاک ہی کا ترجمہ اور تشریح ملاحظہ فرمائیں! ’’ پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے،تو اب اس کیلئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کے میل جول کرلینے میں کوئی گناہ نہیں بشرط کہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں جنہیں وہ جاننے والوں کیلئے بیان فرمارہا ہے۔ البقرہ آیت230 اب ذرا اس کی تشریح بھی پڑھ لیجئے،جو کہ اسی قرآن میں لکھی گئی اور جس کو آپ کے علاوہ عرب وعجم کا کوئی بھی عالم غلط نہیں کہتاہے: ’’ اس طلاق سے مراد تیسری طلاق مراد ہے۔ یعنی تیسری طلاق کے بعد خاوند اب نہ رجوع کرسکتا ہے اور نہ نکاح، البتہ یہ عورت کسی اور جگہ نکاح کرلے اور دوسرا خاوند اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے یا فوت ہوجائے تو اس کے بعد زوجِ اوّل سے اس کا نکاح جائز ہوگا‘‘ ۔ دیکھا حضرت ! آل سعود کے ھدیہ کردہ قرآن میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت حرام ہو جاتی ہے جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے، پہلے کیلئے حلال نہ ہوگی۔ اس تشریح میں شارح عدت کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں اسلئے آپ کی خدمت میں سید نعیم الدین کی تشریح پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ آپ لکھتے ہیں: ’’ تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہوجاتی ہے۔ اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو۔ یعنی بعدِ عدت عورت دوسرے سے نکاح کرے اور بعدِ صحبت طلاق دے، پھر عدت گزرے‘‘۔ نورالعرفان تشریح متعلقہ آیت230البقرہ اب قبلہ سید عتیق الرحمن صاحب ، آپ کی خدمت میں مولانا شیخ الہند محمود الحسن صاحب کا ترجمہ و شیخ الاسلام مولانا شبیر عثمانی کی تشریح پیش کر رہا ہوں۔ ’’ پھر اگر اس عورت کو طلاق دی یعنی تیسری بارتو اب حلال نہیں اس کو وہ عورت اس کے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوا، پھر اگر طلاق دے دے دوسرا خاوند توکچھ گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر باہم مل جاویں اگر خیال کریں کہ قائم رکھیں گے ،اللہ کا حکم ، یہ حدیں باندھی ہوئی ہیں، اللہ بیان فرماتا ہے،ان کو واسطے جاننے والوں کے‘‘۔ مولانا شبیر عثمانی صاحب اس کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ ’’ یعنی اگر زوج اپنی عورت کو تیسری بار طلاق دے گا تو پھر وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی تاوقت یہ کہ وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ اور دوسرا خاوند اس سے صحبت کرکے اپنی خوشی سے طلاق دیوے۔ اس کی عدت پوری کرکے پھر زوج اول سے نکاح جدید ہوسکتا ہے۔ اس کو حلالہ کہتے ہیں اور حلالہ کے بعد زوج اول سے نکاح ہونا جب ہی ہے کہ ان کو حکم خداوندی کے قائم رکھنے یعنی کہ ایکدوسرے کے حقوق ادا کرنے کا خیال اور اس پر اعتماد ہو۔ ورنہ ضرور نزاع باہمی اور اتلافِ حقوق کی نوبت آئے گی۔ اور گناہ میں مبتلا ہوں گے۔ تفسیر عثمانی تفسیرالبقرہ: آیت230 اب اس آیت کا ترجمہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا بھی دیکھ لیجئے۔ ’’ پھر اگر اس نے ( تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کیلئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کرلے، پھر وہ دوسرا شوہر بھی اس کو طلاق دیدے تو اب دونوں( یعنی پہلے شوہراور اس عورت پر) کوئی گناہ نہ ہوگا اگر وہ ( دوبارہ رشتۂ زوجیت میں) پلٹ جائیں۔ بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ اب وہ حدود الٰہی قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں جنہیں وہ علم والوں کیلئے بیان فرماتا ہے‘‘۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء اہلحدیث،دیوبندی اور بریلوی سب اس نکتے پر یکجا ہیں، بڑے منظم اور متحدہیں کہ آیت230 کا ترجمہ اور تفسیر سب نے ایک جیسی کی ہے۔کیونکہ وہ اہل علم ہیں،قرآن پاک کو سمجھتے ہیں،انہوں نے آیت نمبر230کا ایک ہی مطلب بیان کیا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے اور اس قت تک اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ پھر وہ بعد صحبت طلاق دیدے پھر عدت کے بعد پہلے شوہر کیلئے نکاح کرنا جائز ہوگا۔
حضرت مولانامفتی ریاض حسین صاحب کی دوسری تحریرکا جواب: از سید عتیق الرحمن گیلانی
محترم مفتی ریاض حسین دامت برکاتکم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، اللہ حق ہی کا بول بالا کردے۔ آیت230البقرہ کے ترجمہ میں ابہام نہیں، لیکن تیسری بار و تیسری طلاق میں فرق ہے۔امام ابوبکر جصاص حنفی رازیؒ نے لکھا: ’’2درہم اثنتان ہیں مرتان نہیں، 3طلاق اور3مرتبہ طلاق میں فرق ہے‘‘۔ احکام القرآن اصولِ الشاشی میں ہے’’ حتی تنکح زوجا غیرہ ( حتی کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے)آیۃ میں عورت خود مختار اورحدیث جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے ۔خبرواحد قرآنی آیت سے متصادم ہے ‘‘۔ امام مالکؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ،امام شافعی،ؒ جمہور فقہاء ؒ و محدثین ؒ واہل حدیث کے ہاں عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ نے اس حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیکر ٹھکرادیا اور یہی تعلیم پڑھ کر مولانا احمد رضا خان ؒ ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ علماء بنے ۔ کیا علماء شرمندہ ہیں کہ رسول اللہﷺ کی حدیث اور جمہور فقہاء ومحدثین کو ٹھکرادیا ؟۔ اگریہ تعلیم ہی غلط ہے تو بتادیجئے گا۔ امام ابوحنیفہؒ پر سید عبدالقادر جیلانیؒ نے فتویٰ لگایا۔ آیت230میں طلاق شدہ کا ذکر ہے۔ بیوہ کو بھی قرآن میں اذابلغن اجلھن مافعلن فی انفسھنخودمختار قرار دیا گیا۔ آیت سے حدیث کی ٹکرہو تو غلط ہے ۔ نالائق مقلد مسلک کو صحیح پیش نہ کرسکے۔ کنواری کا ولی ہوتا ہے، شادی کے بعد اسکا سرپرست اسکا شوہر ہے، بیوہ اور طلاق شدہ خود مختار ہیں، آیات واضح ہیں اسلئے امام ابوحنیفہؒ کا مسلک درست ہے ۔حدیث کا تعلق کنواری سے ہے۔ قرآن وحدیث اور جمہور و احناف کے تضادات ختم کئے گئے توکورٹ میرج کی غلط راہ کا دروازہ بھی بند ہوجائیگا۔ آیت230 میں طلاق کے بعدیہ ہے کہ’’اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے‘‘۔ آیت سے ولی کی اجازت یا رکاوٹ کا تعلق نہیں بلکہ جس نے طلاق دی ،وہ شوہر رکاوٹ بنتاہے۔ اسلئے واضح الفاظ میں عورت کو پہلے شوہر کی دسترس سے باہر کرنے کی انتہاء کردی۔ یہ آیت پوری دنیا کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ شہزادہ چارلس نے لیڈی ڈیانا کو طلاق دی تو فرانس حادثے پر قتل کا مقدمہ عدالت میں چلا ۔ بڑا مشکل ہے کہ کوئی بیوی کو طلاق دے اور پھر گلی محلے اور اقارب میں کسی اورسے اسکا ازدواجی تعلق برداشت کرے۔ غیرت گوارا نہیں کرتی۔ حیوان بھی یہ غیرت رکھتے ہیں۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورت کو جو تحفظ دیا ،وہ پوری دنیا کیلئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اگر شوہر طلاق دے، عورت رجوع نہ چاہتی ہو اور فتویٰ دیا جائے کہ ’’ طلاق کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے‘‘۔ تو بھی درست ہے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ظالم اور طاقتور شوہر اس فتویٰ کے باوجود یہ قدم اٹھالے کہ زبردستی سے حلالہ اور طلاق پر مجبور کرکے عورت دوبارہ اپنے پاس رکھ لے۔ ایساہوا ہے کہ حلالہ کے بعد عورت دوبارہ پہلے شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی مگر پہلے شوہر نے مولوی کی ہڈی پسلیاں توڑ کر زبردستی طلاق لی اور پھر نکاح کیا۔ انکے شوہر عدت میں اصلاح کی شرط پران کولوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں۔ البقرہ:228۔ اوریہ کہ ’’اگر تم کو دونوں کی جدائی کا ڈر ہو تو ایک رشتہ دار شوہر اور ایک بیوی کے خاندان سے فیصل تشکیل دو، اگر دونوں اصلاح چا ہیں تو اللہ ان دونوں میں موافقت پیدا کردیگا‘‘ ۔النساء: 35 صحابہؓ، تابعینؒ ، تبع تابعینؒ اور اسلافؒ نے قرآن کو سمجھا۔ میاں بیوی صلح کرلیتے تھے اور دونوں جانب کے رشتہ دار بھی فیصلہ کن کردار اد کرتے ۔ تنازع کیلئے قاضی، مفتی اور عالم کے پاس نہ جانا پڑتا تھا۔ اور قرآنی آیات پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تھا۔ یہ بہترین قرآنی تعلیم دنیا تک پہنچی تو ایک اسلامی معاشرتی انقلاب برپا ہوگیا ۔ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہ ہو تورجوع پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔قرآن، سنت ،حضرت عمرؓ نے بنیاد رکھ دی تھی۔ پھر مولفۃ القلوب کی زکوٰۃ ، زکوٰۃ پر قتال، حجِ قران یاتمتع سے روکنے اور اکٹھی 3طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کی بحث چھڑ گئی تو ائمہ اربعہؒ اور محدثینؒ کا مؤقف تھا کہ اکٹھی 3طلاقیں پڑ تی ہیں۔ اگر تنازع پر یہ فتویٰ نہ دیا جاتا اور شوہر کو رجوع کا حق رہتا تویہ قرآن کیخلاف ہوتا۔ عورت زندگی بھر عذاب کا سامنا کرتی، صلح نہ ہوتی تو شوہر کے نکاح میں رہتی۔ اسلئے یہ فتویٰ دینا حق بجانب تھا کہ اکٹھی تین طلاق بدعی واقع ہوجاتی ہیں ۔ اس فتویٰ کی وجہ سے خواتین کو بہت تحفظ مل گیا جو تاریخ کا حصہ ہے اور یہ عظیم الشان فتاوے اور فیصلے یقینی طورپر قابل فخر ہیں۔ یہ فتویٰ تین مرتبہ یا تین طلاق تک محدود نہیں تھا بلکہ طلاق صریح وکنایہ کے الفاظ کا ذخیرہ اور گھمبیر صورت میں طلاق کے جملے خواتین کی خلاصی کا ذریعہ تھے۔ مثلاً حرام کا لفظ کہہ دیا تویہ بھی بعض کی رائے میں تیسری طلاق تھی جس کے بعد شوہر پر عورت کے حرام ہونے کا فتوی دیا جاتا ۔ حالانکہ نبیﷺ نے حضرت ماریہ قبطیہؓ کیلئے حرام کا لفظ استعمال کیا جس پر سورۂ تحریم نازل ہوئی۔ واضح تھا کہ نہ تیسری طلاق ہے، نہ اس پر 3 بار طلاق کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود بخاری نے بھی بعض علماء کا اجتہاد نقل کیا کہ یہ تیسری طلاق ہے، حضرت علیؓ کی طرف بھی اس پر 3 طلاق کی نسبت کی گئی۔ پسِ منظر متازع صورتحال تھی اور عورت رجوع پر آمادہ نہ ہوتو سخت سے سخت فتویٰ قرآن کی روح کو زندہ کرنے کے مترادف تھا اسلئے کہ آیت کا یہ تقاضہ ہے کہ عورت کی طلاق سے جان چھڑائی جائے۔ متأخرین نے معاملہ بالکل اُلٹ دیا ۔ سلف صالحینؒ کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ ایسے حالات پیدا ہونگے کہ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہونگے اور گدھے فتوے دینگے کہ صلح کیلئے حلالہ کرنا ضروری ہے۔ اللہ نے واضح کیا کہ عدت میں صلح کی شرط پر رجوع کا شوہر حقدار ہے اور یہ کہیں گے کہ حلالے کا بکرا یہ حق رکھتا ہے۔ طلاق کے بعد عدت شروع ہوتی ہے طلاق بدعی واقع ہونے کافتویٰ درست ہے مگر جہاں تک معروف رجوع کا تعلق ہے تو اللہ نے سورۂ بقرہ کی آیات 224 سے232اور سورۂ طلاق کی پہلی 2آیات میں عدت کے اندر اور عدت تکمیل پر معروف رجوع کی وضا حت ہے۔اللہ نے منکر رجوع کا راستہ روکا تھا مگر فقہاء نے منکرات کی بھرمار کرکے رکھی۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو نبی ﷺ غضبناک ہوگئے ، رجوع کا حکم فرمایا، پہلے طہروحیض، دوسرے طہروحیض کے بعد تیسرے طہر میں یہ فیصلہ کرنے کا فرمایا کہ معروف طریقے سے روکو یا چھوڑ دو، یہی وہ عدت ہے جس میں اللہ نے طلاق کا امر کیا‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ ،امام ابوحنیفہؒ ،سید عبدالقادرجیلانی ؒ ، صحابی سلمان فارسیؓکردتھے۔ نبی ﷺ نے جسکے کاندھے پرہاتھ رکھ کر فرمایا کہ واٰخرین منھم لما یلحقوبھم سے اس کی قوم مراد ہے اگر دین، علم اور ایمان ثریا پر جائے توبھی ان میں ایک فرد یا چند افراد اسے لوٹادینگے۔ مولانا احمد رضا بریلویؒ قندھاری کے آباء توسیدشاہ محمد کبیرالاولیاءؒ اور پیرروشان بایزید انصاریؒ کانیگرم وزیرستان کے شاگرد اور مرید ہونگے۔ جس نے شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ کے پیرو کار اکابر دیوبند ؒ کو تقلید پر مجبور کیا ۔ رسولﷺ کو شکایت ہوگی کہ ’’ میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ شکایت اسلاف نہیں ناخلف جانشینوں کیخلاف ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان بھی کردبرکی ننھیال پر فخر کرتا ہے جو کانیگرم سے جالندھرگیا۔ میٹھے اسلامی بھائی مفتی ریاض حسین صاحب!ایک آیت پر سوئی اٹک گئی اور مجھے اس کا انکار کب ہے؟۔ اگر بحث حلالہ نہیں تو آیت کو اس دائرہ تک محدودکرنا ہوگا کہ اللہ کی واضح آیات کا انکار نہ کرنا پڑے۔ اللہ نے طلاق کی ایک عدت رکھی مگر مولوی نے شوہر کو تین عدتوں کا حق دیا۔ اسلئے کہ طلاق کے بعد آخر میں رجوع، پھر طلاق کے بعد آخر میں رجوع پھر طلاق تویہ مکمل تین عدتوں کا حق ہے۔ اللہ نے عدت میں اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق دیا تویہ حق چھین لیا۔ اللہ نے مرحلہ وار طلاقوں اور عدت کی تکمیل پر معروف رجوع کو واضح کیا اور فقہ کی کتابوں کو نالائق گدھوں نے منکررجوع سے بھر دیا۔ جو حلالہ کا سامنا کرتا ہے تو اسکا دین و ایمان ثریا پر پہنچتا ہے مگر اس کو قرآنی آیات میں باہمی صلح کیساتھ عدت میں عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کی حقیقت بتائی جائے تو اسکا دین و ایمان ثریا سے زمین پر لوٹ آئیگا۔ اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا تو ظہار پر عورت نے نبیﷺ سے مجادلہ کیاتھا۔ اللہ نے عورت کے حق میں فیصلہ دیا کہ ماں وہی ہے جس نے جنا، منہ سے بیوی ماں نہیں بن سکتی، یہ جھوٹ اور منکر قول ہے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں اسلام پھر اجنبی ہوچکا ہے، غلط فہمی سے مقام پر اثر نہیں پڑتامگر ہٹ دھرمی غلط ہے۔ اگر قرآن کی واضح آیات میں رجوع کی گنجائش کا پتہ نہیں لگتااور ضعیف احادیث کی مدد سے ڈھانچہ بدلنا ہو توسلام! نبیﷺ نے نبوت، خلافت، امارت، بادشاہت، پھر طرزنبوت کی خلافت کے ادوار کا ذکر فرمایاہے۔ جب دوبارہ خلافت قائم ہوگی تو اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ بالکل بدل جائیگا۔ طلاق کے مسائل پر فقہ کی حقیقت سے آگاہ کیا تو علماء ومفتیان کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ قیامت تک قائم کے واقعات مجھے اللہ نے دکھائے جیسے میں اپنی اس ہتھیلی کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ میرے لئے اس جیلان کو اللہ نے روشن کیا جیسے گزشتہ انبیاء کیلئے روشن کیا تھا‘‘۔ جیل سے دور مراد ہو تو جیلان اس کی جمع ہے اور ادوار مراد ہیں۔ اور اگر جیلان سے گیلان کی بستی مراد ہو تو یہ بھی ممکن ہے۔طالب جوہری نے اپنی کتاب’’ علامات ظہور مہدی‘‘ میں مہدی آخری زماں سے قبل کئی شخصیات کا ذکر کیا۔ خرسان سے دجال کے مقابلے میں حسنی سید کا ذکر کیا ہے ، بڑے دجال اور مہدی آخرزمان سے قبل اس حسنی سید کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ ’’ سید گیلانی ‘‘ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان دہشتگردوں کو خرسان کے اس دجال کا لشکر قرار دیا جسکا حدیث میں ذکرہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ میرے پاس اس اجنبی کو حاضر کیا گیا، میں نے دائیں اور بائیں جانب سے اس کی طرف التفات کیا تو نہیں نظر آرہا تھا مگر اجنبی۔ قرآن اس پر اپنی پوری عظمت کیساتھ روشن ہوا۔ اس کو ہزاروں نیکیاں ملیں اور ہزاروں خطائیں اس کی مٹادی گئیں، اس کی موت شہادت(اتمام حجت) کی موت ہوگی‘‘۔ ہونا یہ چاہیے کہ پاکستان کی حکومت عالم اسلام کے علماء ومفتیان اور تمام ممالک کے اصحاب اقتدار کو دعوت دے اور تبدیلی کا آ غاز اسلامی معاشرے سے شروع کردیا جائے۔ میری زندگی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وقف ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اگر اپنادین، ایمان اور علم چھوڑ کروہ راستہ اپنالوں جس سے علماء ومفتیان خوش ہوں اور دنیاوی مفادات اٹھاؤں تو میرا شمار بھی بلعم باعوراء کی طرح دنیا کو ترجیح دینے والے علماء میں ہوگا۔ پھر میری مثال بھی کتے کی ہوگی جو ہوشیار جانور ہے، ہیروئن، بارود اور چوری بھی دریافت کرتا ہے مگر کتا تو کتا ہی ہوتا ہے۔ جس کی قرآن نے مثال دی ہے۔ اللہ مجھے اور تمام سمجھدار علماء ومفتیان کو اس وعید سے اپنی امان میں رکھے۔ دین کیلئے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے مگر ہمارے ہاں خود قربانی دینے کے بجائے خواتین کی عزتوں کو ناجائز حلالہ کے نام پر قربان کیا جارہا ہے۔ گھر تباہ اور خاندان برباد کئے جارہے ہیں۔ قرآن نے یہود کے علماء کی مثال گدھوں کی بھی دی ہے۔ گدھا کم عقل جانور ہوتا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’یہ امت بھی سابقہ امتوں کے نقشِ قدم پر چلے گی‘‘۔ اگر گدھا اپنی خواہش پوری کرنے کیلئے کسی گدھی کو شکار کرنا چاہتا ہو تو پھر اس کے سامنے دلائل اور براہین کی بات غلط ہے۔ زانی اور زانیہ کوڑے کی زبان سمجھے ہیں، حلالے کے رسیا لوگ بھی کوڑوں کی سزا سے ہی بعض آسکتے ہیں۔میرا منصب بات پہنچانے تک محدود ہے۔ باقی اللہ ہی حافظ۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے نہیں ، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں سروں کو گنا کرتے ہیں کاٹا نہیں کرتے صحیح مسلم کتاب الامارت باب 673 قولہ ﷺ لا تزال طائفۃ من اُمتی ظاہرین علی الحق لا یضرھم من خالفھم رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گامخالفت کرنے والا نقصان نہیں پہنچائیگا۔ حدیث نمبر 4843۔۔۔۔۔۔عن سعد بن ابی وقاصؓقال رسول اللہ ﷺ لا یزال اہل الغرب ظاھرین علی الحق حتیٰ تقوم الساعۃ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔
صحیح مسلم کی مندرجہ بالا حدیث کا عنوان اہل حق کی وہ جماعت ہے جو حق پر قائم رہے گی اور کوئی مخالفت کرنے والا اس کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ اس باب کے عنوان کے تحت آخری حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب والے ہمیشہ قیامت تک حق پر قائم رہیں گے۔ عالم اسلام میں مملکت خداداد کو سب سے بنیادی اعزاز یہ حاصل ہے کہ یہ واحد ملک ہے کہ جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ واحد ایٹمی قوت ہے۔ تیسرا یہ کہ اس پر فرقہ واریت اور مسلکوں کی چھاپ نہیں۔ چوتھا یہ کہ اس میں سب سے زیادہ جمہوریت اور جمہوری نظام ہے۔ پانچواں یہ کہ اس میں مختلف قومیتیں اور لسانی اکائیاں ہیں۔ چھٹا یہ کہ جغرافیائی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت اسی کو حاصل ہے۔ ساتواں یہ کہ احادیث صحیحہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے ہندو فارس اور سندھ و خراسان کا ذکر ہے ۔ اس مملکت خداداد پر ان سب کا اطلاق ہوتا ہے۔ آٹھواں یہ کہ دنیا بھر سے اسلامی تعلیمات کیلئے طالب علم بڑے پیمانے پر یہاں علم کے حصول کیلئے آتے ہیں۔ نواں یہ کہ افواج پاکستان ، علماء و مفتیان پاکستان اور پاکستانی سیاستدانوں کو دنیا بھر میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ دسواں یہ کہ عالم اسلام کے مسلمان پاکستان کو اپنا مذہبی ، دنیاوی اور روحانی امام سمجھتے ہیں۔ امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی ؒ نے قرآنی انقلاب کیلئے حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کو بنیاد بناتے ہوئے قرآن کے آخری پارہ کی تفسیر ’’المقام المحمود‘‘میں سورۃ القدر کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹیئر(خیبر پختونخواہ) اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کے حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے مرکزی حصہ یہی ہے۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تب بھی ہم ان علاقوں سے دستبردار نہ ہوں گے ۔ ایران کے اہل تشیع بھی اس انقلاب کو قبول کرلیں گے اسلئے کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کئی ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے ۔ قرآنی تعلیمات کو امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کے تقاضوں کے مطابق ہی زندہ کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مجدد حضرت عمر بن عبد العزیزؒ تھے جنہوں نے خلافت راشدہ کے طرز پر حکومت کرنے کا انداز زندہ کردیا۔ عرب کی جگہ پر عجم سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی قرآن و سنت میں خبر ہے اور یہ پیشگوئی اس خطے سے پوری ہوگی ‘‘۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھااور پاکستان بننے سے بہت پہلے فوت ہوگئے تھے۔ پاکستان 27ویں شب رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کی رات کو معرض وجود میں آیا۔ اس میں جمہوری نظام کی تائید صحیح مسلم کی مندرجہ بالا روایت سے ہوتی ہے۔ جس کا تعلق حکومت کے حوالے سے کتاب الامارت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا اذا حکمتم بین الناس فاحکموا بالعدل ’’جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو‘‘۔ اور فرمایا اعدلوا ھواقرب للتقویٰ ’’انصاف کرو اور یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔ جب کوئی دو فریق کے درمیان فیصلہ کرنے سے اسلئے کترائے اور فیصلہ نہ کرے کہ یہ تقویٰ کا تقاضہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کردی اور فرمایا ہے کہ پہلو تہی کے بجائے انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’’حدود کو شبہات سے ساقط کرو‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرعی حدود میں انسانوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوتا ہے۔ چوری کردہ مال انسان کا حق ہوتا ہے لیکن اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا اللہ کا حق ہے۔ زنا کار کو کوڑے مارنا شرعی حد ہے لیکن یہ شرعی حد اللہ کا حق ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ’’اگر 100گناہگاروں پر شرعی حد جاری نہ ہو تو یہ اتنی بڑی زیادتی نہیں جتنی زیادتی ایک بے گناہ پر حد جاری کرنے سے ہے اس لئے شبہات سے حدود کو ساقط کرنے کا حکم ہے‘‘۔ جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ سے ایک خاتون نے شکایت کی کہ فلاں شخص نے مجھ سے جبری زیادتی کی ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے یقین کرنے کے بعد گواہوں کا کوئی مطالبہ نہیں کیا اور اس شخص کو سنگسار کرنے کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد میں وائل ابن حجرؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے اور مشہور کتاب ’’موت کا منظر‘‘ میں بھی زنا بالجبر کی سزا کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق میں ظالم ، خائن ، ڈاکو اور لٹیرے کو شبہات سے فائدہ پہنچانے کا کوئی حکم نہیں دیا گیاہے۔ فقہاء عظام نے شریعت کے نام پر بہت غلط قسم کے مسائل گھڑ لئے ہیں۔ ایک ضعیف العمر صحابیؓ نے اپنے بیٹے کی شکایت کردی کہ وہ خرچہ نہیں دیتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انت و مالک لابیک ’’تو اور تیرا مال تیرے والد کیلئے ہے‘‘۔بعض فقہاء نے لکھا کہ باپ بیٹے کو قتل کرے تو بدلے میں باپ کو قتل نہیں کیا جائے گا اسلئے کہ اس حدیث سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹا باپ کی ملکیت ہے۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ، بلکہ حدیث سے مراد یہ ہے کہ کسی پر دوسرے کو قتل کرنے کا الزام ہو لیکن دلائل اور قرائن سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہو کہ وہ قاتل نہیں بے گناہ ہو۔ اس شبہ کی وجہ سے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ فقہاء نے یہ بکواس بھی کی ہے کہ ماں بہن سے نکاح کیا جائے تو اس میں بھی جواز نہیں لیکن جواز کا شبہ ہے اسلئے اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ حالانکہ نبی علیہ السلام نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ ہمارے عدالتی قوانین میں صرف جھول نہیں بلکہ 180ڈگری کے زاوئیے سے عدل کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ اکرم راجہ اصغر خان کیس میں نواز شریف کو 100%مجرم ثابت کرتا ہے اور میڈیا میں خاندان کے افرادنے جو واضح بیانات دئیے اور پارلیمنٹ میں نواز شریف نے جس طرح کہا کہ میں بلاخوف تردید کہتا ہوں کہ میرے پاس سعودی و دوبئی کی اراضی 2005ء میں بیچنے اور لندن کے فلیٹ 2006ء میں خریدنے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جس کو میں عدالت اور ہر فورم پرثابت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اور پھر قطری خط میں بہت بھونڈے طریقے سے اس پارلیمنٹ کے بیان سے مکر گیا جس کو پاکستان کے اندر سب سے زیادہ مقدس ، بالادست اور سپریم قرار دیتا ہے۔ اسی طرح جو بابر اعوان آصف علی زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا وہ آج عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہوکر عمران خان کی صفائیاں پیش کررہا ہے۔ چوہدری اعتزاز ایک مشہور وکیل ہیں لیکن جب نواز شریف کی وکالت کررہے تھے تو پھر وکالت کا پیمانہ بالکل حقائق کے برعکس استعمال ہورہا تھا۔ قرآن میں حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمانؑ کا واقعہ ہے ۔ دونوں باپ بیٹے آصف زرداری اور بلاوہ بھٹو کی طرح تھے اور نا مریم نواز اور نواز شریف کی طرح۔ معاشرے قانون سے زیادہ اخلاقیات پر چلتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس دو فریق آئے ، ایک فریق کے جانوروں نے دوسرے فریق کی فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔ حضرت داؤد ؑ نے دونوں کی قیمت نکال کر فیصلہ کیا۔ فصل کے بدلے میں دوسرے فریق کو جانور حوالے کردئیے۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ اس طرح سے ایک فریق بالکل محروم ہوگا ، جب روزگار نہیں رہے گا تو چوری اور ڈکیتیوں پر مجبور ہوگا جس سے معاشرے میں بد امنی اور بد انتظامی پھیلے گی۔ یہ فیصلہ میں کرتا ہوں ۔ چنانچہ فصل والے کو جانور حوالے کردئیے کہ جب تک فصل اپنی جگہ پر نہ آئے تو اس کا فائدہ اٹھاؤ۔ دودھ ، اون ، گوبر کارآمد تھے۔ جانور والوں کو فصل حوالے کی کہ اپنی غلطی کی سزا بھگتو اور جب تک فصل اپنی جگہ پر نہ آئے اس کی خدمت پر مأمور رہو۔ اس دانشمندانہ فیصلے کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی تعریف کی ہے۔ جب ذو الفقار علی بھٹو نے کراچی والوں سے میرٹ کا روزگار چھین لیا تو کراچی میں بد امنی ، ڈکیتی ، چھینا جھپٹی، بھتہ خوری اور چوری سینہ زوری کی مصیبت آئی۔ پاکستان کی اشرافیہ نے دولت کو بڑے پیمانے پر لوٹا تو غریب عوام نے بیروزگاری میں حدود و قیود پھلانگنے کو اپنا وطیرہ بنالیا۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں کے اخلاقیات تباہ و برباد ہوگئے۔ قرآن میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو جس طرح پورا کرنے کی تلقین کی گئی ہے اسی طرح قوموں کی معیشت اور روزگار پر قبضہ کرنے کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دو عورتیں لکڑیاں کاٹنے گئی تھیں ، ایک عورت کا بچہ بھیڑیا لے گیا تو اس نے دوسری کا بچہ اٹھالیا ۔ حضرت داؤد ؑ نے اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کیا اور بچہ اسی کو دیا۔ حضرت سلیمان ؑ نے کہا کہ یہ فیصلہ میں کروں گا ، دونوں کی بات سن لی اور پھر اعلان کیا کہ میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا اسلئے بچے کو دو ٹکڑے کرکے بانٹتا ہوں۔ ایک نے کہا کہ مجھے یہ بھی منظور ہے ، دوسری نے کہا کہ میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوتی ہوں میں نے جھوٹ بولا تھا یہ میرا بچہ نہیں اسی کا ہے مگر اس کو دو ٹکڑے مت کرنا ۔ اپنی حکمت عملی سے حضرت سلیمان ؑ نے حقیقی ماں کو دریافت کرلیا اور بچہ سے دستبردار ہونے کے باوجود اسی کے حوالے کیا۔ بد قسمتی سے ہمارا عدالتی نظام اس قدر خراب ہے کہ اگر چیف جسٹس کو کیمروں کی آنکھ کے سامنے تھپڑ مارا جائے تو بھی وکیل اس شہادت کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ اگر مقصد عدل کا قیام ہو تو انصاف ملنے میں چند لمحات لگتے ہیں لیکن اگر مقصد قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے سے وکالت کا کاروبار چلانا ہو تو انصاف سے ایک عمر تک الجھنے کے مواقع ملتے ہیں لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک بہت سارا وقت اور پیسہ ضائع ہوجاتا ہے۔ نواز شریف پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ایک معینہ تاریخ کے اندر لندن فلیٹ کے ذرائع بتاتا ہے لیکن عدلیہ کے ججوں کو اتنی توفیق نہیں ملتی کہ کورٹ کے کٹہرے میں سچ اور جھوٹ کا پتہ لگا سکیں۔ پانامہ کا فیصلہ اقامہ پر دیا جاتا ہے اور عدلیہ کے جج صاحبان اس کے عوض اپنی پیٹھوں پر گالیوں کی چپت برداشت کرتے کرتے بیزار ہوجاتے ہیں۔ یہ عدالتی نظام نہیں ایک گھناؤنا کھیل ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلام میں حکومت کے حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت عدل و انصاف کی ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ اگر یہی عدالتیں قائم رکھنی تھیں تو اس کیلئے انگریزوں کے کالے غلام ججوں سے گورے حکمران انگریز خود بہتر تھے۔ جمہوری نظام کا طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ ایک جلسے سے قائدین باری باری خطاب کریں ۔ جمہوریت کو حرام کی کمائی نے یرغمال بنا یا ہے جو جمہوریت کی نفی ہے اور اسلام کو شدت پسندی نے یرغمال بنایا ہے جو اسلام کی نفی ہے
مدیر خصوصی نوشتۂ دیوار سید ارشاد نقوی نے کہا ہ کہ عمران خان دوسروں کو بے غیرت کہتا ہے مگر وہ کس قسم کی بے غیرتی ہے جو اس میں موجود نہ ہو؟۔نسل، رشتہ، سیاست، مذہب اور ہرقسم کی بے غیرتی کا عمران خان مرتکب رہاہے، پہلے دیوبندی مکتبۂ فکر کے مفتی سعید خان کا مرید ہوا کرتا تھا اسلئے کہ طالبان کا غلغلہ تھا، نعرہ حیدری و نعرۂ رسالت کے مقابلہ میں ایاک نعبد وایاک نستعینکو شعار اسلئے بنایا تھا۔ پھر درگاہوں کے جانشینوں سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے بابا فریدؒ کی قدم بوسی نہیں کی بلکہ بابا فریدؒ کے مزار پر جاننے والی بشریٰ پنکی کی امامت میں راہگزرمیں مرغا بن گئے۔ یہ طالبان سے توبہ کرنے کا اعلان تھا۔ جب لندن میں پاکستانی نژاد مسلمان میئر کا مقابلہ اسکے یہودی سالے سے تھا تو یہودی کا ساتھ دیا، اس میں ملکی اور مذہبی غیرت بھی نہیں۔وہ مغرب سے انسانیت سیکھنے کا درس دیتاہے لیکن مغرب میں ہوتا تو ریحام کو آدھا بنی گالہ، آدھی رقم اور آدھی جائیداد دینی پڑتی۔ اسلام میں یہ ہے کہ ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری لانی ہو تو پوراسیٹ اپ دینا پڑتاہے۔ سورۂ النساء میں آیت20 اور21میں عورت کو طلاق دینے کے احکام کا ذکر ہے۔ جب مرد کی طرف سے طلاق دی جائے تو پھر عورت کو اسکے گھر سے نہیں نکالا جاسکتاہے اور عمران خان جو درود شریف اور نبیﷺ کے کلمہ کا صحیح تلفظ بھی ادا نہیں کرسکتا ہے مگر نام آپﷺ کا لیتا ہے اور عمل کچھ اور کرتا ہے۔ اسکی مثال شطر مرغ کی کہاوت ہے جو اونٹ اور پرندہ دونوں کے ہونے کا دعویٰ کرتاہے لیکن جب کہا جائے کہ وزن اٹھاؤ تو کہتا ہے کہ میں پرندہ ہوں اورجب کہا جائے کہ پرواز کرو تو کہتا ہے کہ اونٹ ہوں۔ عمران خان اسلامی اور مغربی دونوں اقدار سے فارغ ہے ۔ اسلام بے گناہ لوگوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کی تائید نہیں کرتا لیکن جب طالبان کا زور تھا تووہ فوجیوں اور عوام کو شہید کررہے تھے اور عمران خان طالبان کا حمایتی تھا، جب طالبان کا زور عوام میں ختم ہوگیا تو اس بے غیرت نے یوٹرن لے لیا۔ کسی چوکھٹ پر مغرب کے پروردہ کو جبینِ نیاز جھکانے کا فن نہیں آتا مگر عمران خان کو قدرت نے ایسا تخلیق کیا ہے کہ بے شرمی و بے غیرتی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ریحام خان سے کہاتھا کہ سالگرہ کا تحفہ مانگ لیا تو طلاق دیدوں گا اور بشریٰ پنکی کے کہنے پر سجدہ زن مریدی بھی ادا کردیا۔ شیخ رشید کا کہاتھا کہ اس کو چپڑاسی بھی نہیں رکھوں اور وزیراعظم کیلئے نامزد کردیا تھا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ اس نے قرآن کے خلاف عدت میں شادی کی ہے لیکن پھر اس کو پارٹی میں لے لیا۔ پھر ٹکٹ نہیں دے رہاتھا تو ڈاکٹر عامر لیاقت نے دھمکی دی کہ راز کھول دوں گا، وہ راز کیا تھا کہ ختم نبوت کے معاملہ میں ن لیگ کیساتھ تحریک انصاف بھی شریک تھی، ٹکٹ دیا تو معاملہ ختم ہوا،عمران خان میں غیرت ہوتی تو ابن الوقتی کا یہ کردار ادا نہ کرتا۔ سیاسی جماعتوں کو زندگی بھر گالیاں دیتا رہاہے کہ بے غیرتوں کو ٹکٹ دیکر قومی اسمبلی میں اپنے نمبر بڑھاتے ہیں، پھر وہ بے غیرتی والا کام خود کیا۔ جب تک موروثی سیاست ہاتھ نہیں آئی تھی تو اس کو گالیاں دیں اور جہانگیر ترین کے بیٹے کا مسئلہ آیا تو بے غیرت بدل گیا اور جب جمائما خان کو طلاق بھی نہیں دی تھی تو اسکا معاشقہ کسی اور سے چل رہاتھا، یہ بھی بے غیرتی تھی، پھر ریحام کو طلاق دی اور پاکستان آنے پر بھی دھمکایا، یہ بھی غیرت نہیں بے غیرتی تھی۔ پھر دوست کی بیوی سے راہ ورسم بڑھاکر بشریٰ پنکی چھین لی۔ یہ سب بے غیرتی کے اقسام ہیں ۔ باپ کے بجائے ماں کا نام لیتا ہے۔ جالندھر کے برکیوں کو قبائل سے ملاکر خود کو نان پشتو سپیکنگ پٹھان کہتا تھا۔ یہ بھی بے غیرتی ہے، نیازی کہلانا ہی غیرت تھی۔ پاکستان کی قومی غیرت رکھنے والے لوگ نہیں ہیں ورنہ عمران خان کے وزیراعظم بننے پر لوگ خود کشیاں کرتے۔ عدلیہ کو غیرتمندی کا مظاہرہ کرکے نااہل کردینا چاہیے تھا۔ بنی گالہ کے جعلی کاغذات بنانے پر بھی صادق وامین نہ تھا اور بیٹی چھپانے پر بھی صادق وامین نہیں بے غیرت ہے اسکے بیوی بچے بھی اس کو اپنا مانتے ہیں مگر یہ نہیں مانتا۔
کوئٹہ( عبدالعزیز)کالم نگار نوشتۂ دیوار امین اللہ یوسفزئی نےPTMکے منظور پشتین کوخراج تحسین پیش کیا کہ پختون قوم میں شعوروبیداری کا اعزاز تیری قسمت میں لکھا تھا، جان پر کھیل کر دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ فوج نے خیر مقدم کیا اور کافی مطالبات بھی مان لئے۔ جب کسی میں کھل کر یہ پوزیشن لینے کی جرأت نہیں تھی کہ ناروا سلوک پر ہلکا سااحتجاج بھی کرسکے تو منظور پشتین نے قیادت کا حق ادا کردیا ہے۔ لال ٹوپی سے انقلاب آتا تو زید حامد لاچکا ہوتا، جس کو اللہ تعالیٰ ایک لمبی دُم سے نواز دیتا تو عوام اس کی حماقت سے بے خبر نہ ہوتے مگر اللہ تعالیٰ ستارالعیوب ہے۔ PTM کا یہ فیصلہ اچھا تھا کہ پارلیمانی سیاست میں حصہ نہ لے گی اور وجہ یہ نہ تھی کہ جمہوری نہیں بلکہ انقلابی جدوجہد کرنی ہے بلکہ وجہ یہ تھی کہ پارٹیوں کو PTM نے خفا نہیں کرنا ۔PTM کا ورکراپنی اپنی پارٹی کو سپورٹ کررہاہے۔ عمران خان نے علی وزیر کو اسلئے ٹکٹ کی پیشکش کی اور PTMکا منشور درست اور حقائق کے مطابق قرار دیا کہ اس تحریک کے ورکروں کی حمایت لینی تھی۔ جب جنگ اخبار میں لسانی فساد کو تقویت دی جارہی تھی تو یہ سرخیاں چھپ گئیں کہ ’’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’ سرکار ﷺ کا لحاظ تھا ورنہ قرآن بھی اردو میں اتارا جاتا‘‘۔ یہ لسانی ،قومی اور ملکی جذبہ انسانی فطرت ہے۔ اس میں محبت کی چاشنی ایمان اور تعصبات کی بیماری کفر کے مترادف ہے۔ پشتو شاعر نے کہا: ’’ لوگ کہیں کہ دوزخ کی زباں ہے ، میں جنت میں پشتو کیساتھ جاؤنگا‘‘۔ پختون کے علاوہ پاکستان کی تمام قوموں بلوچ، پنجابی، سندھی، سرائیکی، مہاجر اور کشمیری سب میں لامحدود خوبیاں ہیں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ بھی انشاء اللہ پاکستان سے ہوگی۔ کسی بزرگ نے مچھر کی تعریف کی کہ میں اس کو دل سے پسند کرتا ہوں، پہلے ایک کان میں سائرن بجاتا ہے، پھر دوسرے کان میں بجاتا ہے پھر پاؤں پر بیٹھ کر ہلکا کاٹ لیتا ہے، پھر بازو پر کاٹ لیتا ہے، پھر چہرے کو بھی کاٹنا شروع کردیتا ہے۔ جب تک تہجد کیلئے اُٹھ نہ جاؤں وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا ۔ ادیب نے جس وقت مچھر پر یہ مضمون لکھا اسوقت ڈینگی نہ تھا ورنہ تعریف میں احتیاط کرتا۔ بہر حال مضمون نگار نے لکھا کہ مچھر نے بزرگ کا قصہ سناتے ہوئے اپنی شرمندگی کا اظہار کیا کہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تب بھی اس کی ٹانگوں پر کاٹنے کا سلسلہ بھی جاری رکھتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا تعلق قریش سے تھا۔ اسماعیل ؑ اصلی عرب عرب عاربہ نہیں مستعاربہ تھے۔ عرب وعجم میں نسلی امتیاز ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام عجم تھے ، بنی اسرائیل و بنی اسماعیل نسلاً ایک البتہ قریش عرب کا حصہ بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ نبیﷺ کے آباواجداد کو پاکستان میں بھی آباد کرسکتا تھا لیکن عربی زبان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عربوں میں آباد کیا ۔ مشرقی ومغربی پاکستان میں کوئی مقامی زبان ایسی نہ تھی جسے قومی زبان قرار دیا جاتاتو اللہ نے چند سوسال پہلے لشکری زباں اردو کو وجود بخشا۔ عربی گرائمر دیکھنے کے بعدیہ اندازہ مشکل نہیں کہ اتنی فصیح و بلیغ زبان انسانی دسترس میں نہیں بن سکتی۔ اگر نبیﷺ وزیرستان کے محسود ایریا میں مبعوث ہوتے تو پختونوں کیلئے بھی وہ پشتو بہت مشکل ہے۔ ایک عالمی دین کیلئے ضروری تھا کہ عربی میں نازل ہوتا۔ اردو تو اس وقت دنیا میں موجود بھی نہیں تھی لیکن اردو کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میں مقامی زبانوں کو چھوڑکر اسی کو قومی زبان قرار دیا ۔ یہ سرکار کی نالائقی ہے کہ اب تک اس کو سرکاری زباں میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ ہوئی۔ محسوداور پاکستانی قوم میں موجودہ عربوں کے مقابلے میں زیادہ خوبیاں ہیں۔ اللہ نے سورۂ محمد میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا : ثم لایکون امثالکم ’’ وہ پھر تمہارے جیسے نہ ہونگے‘‘۔جب طالبان نے وہاں کے شریف لوگوں کوقتل کرنا شروع کیا اور فوج کے جوانوں کو نشانہ بنایا تو اس وقت یہ قوم خلعتِ افغانیت سے بقول اقبال کے عاری تھی۔ منظور پشتین کو یاد نہ ہوگا لیکن اسکے علاقے میں فوج کی پوری کانوائی کو قتل کیا گیا جس میں ایک فوجی شعبان بچ سکا تھا۔ جب حملے کی وجہ سے اس علاقے کو خالی کرالیا گیا تو ایوب نامی ایک شخص جٹہ قلعہ علاقہ گومل میں عتیق گیلانی کے کزن کی بیٹھک میں بچوں کیساتھ آیا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اسکا بھائی حملے میں شریک تھا۔ ایوب محسود نے بتایا کہ میری ہمدردیاں طالبان کیساتھ تھیں لیکن فوجیوں کیساتھ ظلم وستم دیکھ کر ان سے نفرت ہوگئی۔ شعبان نے پنجابی میں اپنے ماموں سے کہا تھا کہ میری ماں کو نہیں بتانا کہ میں گرفتار ہوا ہوں تو کلیجہ پھٹ رہا تھا۔ چینیوں کو اغواء کیا گیا تو اس آپریشن میں شعبان رہا ہواتھا۔ اس وقت قوم چند طالبان کو پکڑ لیتی تو یہ بیماری بڑھتی اور نہ قوم کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا۔ عتیق گیلانی کے گھر پر حملہ ہوا تو ایک طرف فوج کی بھرمار میں طالبان اسلحہ بردار گھومتے تھے۔ دوسری طرف کچھ عرصہ بعد فوج نے عتیق گیلانی کے عزیزکے گھر پر چھاپہ مارا اور طالبان کی پک اپ برآمد کرکے بارود سے اڑادی۔ آئی ایس آئی کے اہلکار نے خبر دی کہ اس کو خود کش کیلئے تیارکیا گیا تھا۔ عتیق گیلانی پر جب فائرنگ ہوئی تب بھی اس کو جلاوطن ہونا پڑا مگر بھائیوں اور رشتہ داروں نے طالبان کیساتھ مراسم بحال رکھے۔پاک فوج نے بہت غلطیاں کی ہونگی لیکن سب کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑیگا۔ پاک فوج کے جوان اپنی غربت کی وجہ سے معمولی تنخواہوں پر کام کرکے جان کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ وزیرستان ، پختون خواہ اور پاکستان میں امن کی بحالی پاک فوج کی نڈر قیادت جنرل راحیل شریف وجنرل باجوہ کی وجہ سے ممکن ہوسکی ۔ جنرل مشرف اور کیانی کے دورکی بات بھی چھڑجائے تو طالبان کیلئے پختون قوم کوہی قتل کرنا پڑتا، اور پختون ہی نہیں سب ہی طالبان کے بھر پور حامی تھے۔ وانا میں عوام مولانا نور محمد شہیدؒ کے خاندان کو پہلے سے فی کریٹ سبزی اور پھلوں پر ٹیکس دیتے تھے۔ اس گھرانہ کی زکوٰۃ نکال لی جائے تو وزیروں میں غریب نہیں رہے گا۔ امن کمیٹی کے افراد نہ ہوں تو فوج مقامی لوگوں میں امن کا قیام ممکن نہیں بناسکتی ہے اسلئے کہ دور دراز سے آئے ہوئے مسافر اہلکاروں کو کیا پتہ چلتا ہے کہ کون دہشت گرد ہے ؟ اور کون امن پسند؟۔ منظور پشتین نے اپنے بیان میں محسود ایریا میں موبائل نہ ہونے اور مشکلات کا ذکر کیا مگر جب لونڈا طبقہ غریب سپاہیوں کے چیک پوسٹوں پر نعرہ لگائیں کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ تو اپنے لئے وہ مزید مسائل پیدا کرینگے۔ محسود ایریا میں پھر سے شرپسندی نے سر اٹھالیا اور فوج کے سپاہیوں کو سختی کرنے کا آرڈر مل گیا۔ منظور پشتین ساتھیوں کیساتھ ایسا ماحول بنائیں کہ مہمان اور غریب سپاہیوں کے دل جیت لیں۔ فوج کو عوام کا خیال نہ ہو تو پاگل کتوں نے نہیں کاٹا ہے کہ غریب سپاہیوں کو ایک جنگلی، خطرناک اور پہاڑی علاقہ میں سڑکوں پر بٹھادیں۔ نوجوان بے دریغ پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ پھر امن کمیٹی کے نام پر سرنڈر طالبان کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ جو عوام کے خوف و ہراس اور فوج سے بداعتمادی کی فضاء کا فائدہ اٹھاکر لوٹ مار کرتے ہیں۔ اگر اپنی قوم کی مشکلات میں اضافہ کیا تو منظور پشتین اور PTMسے نفرت کی فضاء بنے گی۔ جو عوام کو سہولت دینے نکلے تھے اور مشکلات سے دوچار کیا تو فائدہ کیا ہوگا؟۔ ایوب محسود جٹہ قلعہ سے گیا تو ایک دن حلالے کا کیس مولانا شبیر برمی کے پاس لایا۔ عتیق گیلانی نے کہا کہ حلالہ سے عورت پہلے شوہر کیلئے جائز نہیں ہوسکتی یہ حرامکاری ہے ورنہ مولوی نے حلالہ کا فتویٰ دیا تھا۔ پھر شاید حلالہ کروایا بھی ہوگا لیکن حلالہ کی وجہ سے جو تکلیف اس خاندان کو پہنچی ہوگی ، یقیناًیہ تکلیف گیلانی خاندان کو قتل وغارت سے نہیں پہنچی۔ کاش! اسوقت گیلانی نے حلالہ کا مسئلہ حل کیا ہوتا۔ اب بھی اسلام سے معاشرتی نظام کے انتہائی ظالمانہ اور بھیانک معاملات کا رخ بدلا جاسکتا ہے اور اس کیلئے بفضل تعالیٰ ہم غرباء کو کافی حد تک کامیابی مل گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ لن ترضیٰ عنک الیہود و لا النصاریٰ حتی تتبع ملتھم’’یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی بھی راضی نہ ہونگے یہاں تک کہ آپ ان کے دین کے تابع بن جائیں‘‘۔ قرآن رسول اللہﷺ کے دور میں نازل ہورہا تھا تو ایک ایک کرکے مسخ شدہ حکم کو اللہ تعالیٰ اپنی اصلی حالت میں زندہ کررہاتھا۔ مثلاً توراۃ میں بوڑھے اور بوڑھی کیلئے زنا پر رجم کرنے کا ذکر تھا اور یہودو نصاریٰ کی شریعت میں شادی شدہ کیلئے سنگساری اور غیرشادی شدہ کیلئے 100کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انجیل میں کسی شرعی حد کا ذکر نہ تھا۔ سنگساری کے غیر فطری حکم سے بچنے کیلئے حضرت عیسیٰ نے یہ تجویز ی حکم دیا کہ ’’ جس نے خود زنانہ کیا ہو ، وہ پتھرماریگا‘‘۔ رسول ﷺ پر جب تک حکم نازل نہ ہوتا تھا تو اہل کتاب کے احکام پر عمل کرتے۔ جیسے بیت المقدس قبلہ اوّل تھا۔ یہود اپنے شرعی حدود پر عمل درآمد نہ کرتے تھے مگر اس خود ساختہ شریعت پر بضد بھی تھے۔ ایک آدمی کے بیٹے نے دوسرے کی بیوی سے زنا کیا اور بھیڑ بکریاں دینے پر فیصلہ کیا۔ پھر علماء نے اس کو بتایا کہ کنوارے بیٹے کی سزا 100کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے جبکہ اسکی بیوی کی سنگسار ہوگی۔ اسلئے رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلے کیلئے آگیا۔ نبیﷺ سے یہود ی عالم نے توراۃ میں رجم کا حکم چھپایا لیکن اسکی نشاندہی ہوئی تو اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ جب مسلمان مرد اور عورت نے اپنے خلاف زنا کی گواہی دی تو آپﷺ ان کو پہلے ٹالتے رہے اور پھر سنگسار کرنے کا حکم دیدیا۔ احادیث کے واقعات یہی ہیں جبکہ مختلف روایات میں انکا مختلف انداز میں تذکرے کی وجہ سے زیادہ لگتے ہیں، ان سے ایک اہم سبق یہ ملتاہے کہ نبیﷺ نے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا تھا اور مرد و عورت کے اوپر بھی یکساں طور پر حد نافذکی تھی۔ قرآن میں سورۂ النساء کے اندر خواتین کیساتھ نکاح کا بھی ذکر ہے اور متعہ و ایگریمنٹ کا بھی ذکر ہے۔ آیت:15 النساء میں بدکاری میں مبتلا عورت کو گھر میں نظر بند کرنے کا حکم ہے یہاں تک کہ موت سے مرجائیں یا اللہ ان کیلئے کوئی سبیل نکال دے۔ بدکار عورت پر گواہی کیلئے چار افراد کی گواہی بھی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ حکم ایسا ہے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ بھی اسکی افادیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ ایک عورت خراب ہوجائے تو دنیا بھر کا گند وہاں جمع ہوجاتا ہے۔ مسلمان غیر مسلم اور مردو خواتین سب ہی اس برائی کو روکنے کے حق میں ہوتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مرد اور عورت میں درجہ بندی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا تو وہی لوگ یہ تحریک بھی چلاتے ہیں کہ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف سخت قوانین بنائیں اور اس پرعمل بھی کرائیں۔ دونوں کا درجہ ایک ہے تو ہراسمنٹ کی چیخ وپکار کیوں؟۔ قرآن میں خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم ہے اور حدیث میں گواہی کے بغیر جب خاتون کیساتھ جبری زیادتی کرنے کا نبیﷺ کو یقین ہوا تو زنا بالجر والے کو سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا۔ ابوداؤد شریف میں اسکا ذکر ہے لیکن بعض علماء ومفتیان نے اس میں بھی ڈنڈی ماری ۔ کتاب ’’موت کا منظر ‘‘ میں بھی زنا بالجبر کیلئے سنگساری کے حکم کا ذکر ہے۔ پرویزمشرف نے زنا بالجبر کو تعزیزات میں اسلئے شامل کرنے کی کوشش کی تھی کہ جو عورت شکایت لیکر تھانہ میں جاتی ،اسی کو چار گواہ نہ ہونے کی صورت میں قید کرلیا جاتا تھا۔ منیزے جہانگیر نے کوٹ لکھپت جیل میں ایسی خواتین سے ملاقات کی تھی جن کو شکایت کرنے پر قید کیا گیا تھا۔ زرداری کے دور میں یہ قانون بدل دیا گیا۔ سورہ النساء کی آیت16میں دو مردوں کو بدکاری پر اذیت دینے کی سزا کا حکم ہے، پھر جب وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو معاملہ رفع دفع کرنے کا ذکرہے۔ قرآن کے اس واضح حکم پر بھی فقہ کی کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ لواطت کا حکم واضح نہیں ، کسی نے آگ سے جلانا اور کسی نے پہاڑ سے گرانے کی سزا کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ مدارس اور معاشرے کا ہرطبقہ اس آسان حکم پر عمل کرسکتا ہے۔ قرآن کی طرف توجہ دینے کے بجائے ہمارا سارا زور فقہ اور علماء کے خرافات کی طرف ہوتا ہے۔ تفسیر عثمانی وغیرہ میں لکھاہے کہ ’’سورۂ بقرہ آیت:15میں بدکاری پر چار گواہ مقرر کرنے کے بعد گھر میں نظر بند کرنے کا حکم اسوقت تھا جب قرآن کی سورۂ نور میں زنا کا حکم نازل نہ ہواتھا اور غیرشادی کیلئے 100کوڑے اور سال بھر جلاوطنی اور شادی شدہ کیلئے سنگساری کا حکم نازل ہونے کے بعد گھر میں نظر بند کرنے کا حکم منسوخ ہوگیا‘‘۔ حالانکہ اس تفسیر کی کوئی گنجائش نہیں ۔1: قرآن میں سنگساری کا کوئی حکم نہیں ۔ 2: بخاری میں ہے کہ سورۂ نور کے بعد سنگساری پر عمل کرنے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیاتھا۔ 3:سورۂ النساء میں متعہ والی یا لونڈی سے شادی کے بعد کھلی فحاشی پر عام عورت کی بہ نسبت آدھی سزا کاحکم ہے جس کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہے کہ پہلے لوگوں کیلئے بھی یہی سنت رائج رہی ہے اور یہ بھی کہ اللہ چاہتاہے کہ تم پر تخفیف کرے اسلئے کہ انسان کمزور ہے۔4:سورۂ النساء میں یہ وضاحت بھی ہے کہ اگر پہلوں کیلئے قتل انفس(سنگساری) یا جلاوطنی کی سزا کا حکم ہوتا تو اس پر عمل نہ کرتے لیکن بہت کم لوگ۔ جسکا مطلب سنگساری اور جلاوطنی کا حکم پہلے بھی اللہ نے نہیں دیا۔ سورۂ النساء کے بعد سورۂ المائدہ میں بڑی تفصیل ہے۔ 1: علماء و مشائخ کی طرف کتاب اللہ کی حفاظت کی نسبت ہے، پھر تھوڑے مول کے بدلے آیات کو بیچنے کی بات ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے والوں کو کافرقرار دیا گیا ہے۔ پھرجان کے بدلے جان ، آنکھ، ناک، دانت کے بدلے آنکھ، ناک، دانت اور زخموں کے بدلے کا ذکر ہے جو حکمرانوں سے متعلق ہے اور اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے والوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے۔ پھر اہل انجیل یعنی عوام کا ذکر ہے جن کو اللہ کے حکم پر فیصلہ نہ کرنے پر فاسق قرار دیا گیا ہے۔ علماء کے فیصلے سے شریعت بدل جاتی ہے اسلئے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا ہے، حکمرانوں کے غلط فیصلے سے انصاف کا قتل ہوتا ہے اسلئے ان کو ظالم قرار دیا گیاہے اور عوام کوفاسق قرار دیا گیا ہے۔ 2: سورۂ مائدہ میں یہ وضاحت ہے کہ یہود نے توراۃ میں تحریف کی ہے، ان کے پاس جو احکام محفوظ ہیں ان پر بھی عمل نہیں کرتے۔ محفوظ وہی احکام ہیں جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ توراۃ کے حوالے سے ہی حکمرانوں سے متعلق احکام کا ذکر قرآن میں کیا گیا۔ یہود نے بعض احکام میں ردوبدل سے تحریف کی ہے اور نبیﷺ سے کہاگیاہے کہ اگر آپ انکے درمیان فیصلہ نہ کریں تو یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ جو قرآن میں ہے وہی محفوظ ہے اور اگر وہ فیصلہ کرانا چاہتے ہیں تو اپنی کتاب سے ہی کردیں۔ اگر وہ اپنی کتاب سے فیصلہ کرانا چاہیں تو آپ ان کی کتاب سے فیصلہ نہ کریں کیونکہ اس طرح یہ آپ کو بعض ان احکام سے فتنہ میں ڈال دینگے جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا سرپرست نہ بناؤ(فیصلے کااختیار مت دو)۔ جو ان کو (اپنے فیصلے کا اختیار دیکر) سرپرست بناتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔ المائدہ میں مکمل تفصیل ہے، جو بہت سے حقائق سے پردہ اٹھانے کیلئے وانزلناالکتاب تبیاناً لکل شئی ہے۔ سورۂ النساء میں تفصیلی مضامین کا یہاں موقع نہیں ہے لیکن اس بات کیلئے یہ بھی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرہر آیت کا اپنی جگہ فصلت آیاتہ کہا ہے۔جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اپنی جگہ پر کوئی نقص نہیں رہ گیا ہے۔ اب آئیے ، اس بات کا ثبوت قرآن کریم کی ایک ایک آیت نے خود بھی دیا ہے۔البتہ قرآن کی بعض آیات بعض کیلئے تفسیر کی حیثیت بھی رکھتی ہیں اسلئے کہ ان میں تضاد نہیں۔ سورۂ النساء کی آیت 15 میں بدکارعورت پر چار گواہوں کی شہادت کے بعد گھر میں نظر بند کرنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اللہ اسکے لئے کوئی سبیل پیدا کردے۔ اس حکم میں مارنے کا حکم نہیں ہے۔ البتہ خود مرجائے یا کوئی سبیل نکل آئے اللہ کی طرف سے۔ سبیل نکلنے کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ شادی ہوجائے اور دوسرا یہ کہ شادی کیلئے کوئی میسر نہ ہو تو متعہ یا ایگریمنٹ کی راہ نکل آئے۔ عورت کی نسوانی خواہش کا جائز راستہ فطری طور پر بند نہیں ہوسکتا تھا۔ کسی بدکار عورت سے مستقل نکاح کیلئے کوئی تیار نہ ہو تو قرآن وسنت میں متعہ کی راہ کا بھی ذکر ہے۔ اگلے رکوع میں محرمات کے بعد پانچویں پارہ کی ابتداء میں ہی اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ نے فماستمتعتم کیساتھ الی اجل مسمیٰ کا بھی اپنی تفسیر میں واضح کیا تھا۔یعنی جس نے متعہ کیا ایک مقررہ مدت تک۔ اہلسنت کی تفاسیر میں اس کو غلط طور سے قرأت کا نام دیا گیا۔ امام شافعیؒ کے نزدیک کوئی خبر واحد حدیث تو معتبر ہوسکتی ہے لیکن کسی شاذ قرأت کو ماننا قرآن میں تحریف ہے۔ احناف اس کو الگ آیت کے حکم میں لیتے ہیں جو غلط ہے۔ جسطرح جلالین وغیرہ کی تفاسیر میں اضافوں کو قرآن نہیں قرار دیاجاتا ہے ،اسی طرح سے صحابہ کرامؓ کی تفسیری اضافوں کو بھی اسی حد تک رہنا چاہیے۔ قرآن اور اسلام کا سب سے بڑا کمال یہ بھی ہے کہ غلام اور لونڈی کیلئے ایک تو مستقل نکاح کی وضاحت بھی کردی ہے اور دوسرے اس تعلق کو مالک ومملوک سے بدل کر ایگریمنٹ میں تبدیل کردیا تھا۔ ایک شخص نے ایک لاکھ روپے میں لونڈی خرید لی اور دوسرے نے کفارہ کے طور پر یا زکوٰۃ کی مد میں غلام آزاد کرنا ہو تو اس رقم میں وہ غلام یا لونڈی آزاد کرسکتا ہے۔ غلام اور لونڈی کی حیثیت معاہدہ کی رہ گئی تھی۔ غلام کا آزاد عورت اور لونڈی کا آزاد مرد سے نکاح بھی ہوسکتا تھا۔ فتح مکہ کے موقع پر نبیﷺ نے ابوسفیانؓ وغیرہ کی بیگمات ، بیٹیوں اور بہنوں میں سے کسی کو بھی لونڈی نہیں بنایا البتہ متعہ کی اجازت دی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ یزید کے لشکر نے حضرت حسینؓ کے خانوادے کو کربلا میں شہید کیا مگر کسی کو لونڈی نہیں بنایا گیا۔ جزاء الاحسان الا الاحسان ’’ نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہے‘‘۔ اللہ نے فرمایا’’ مشرکوں سے نکاح نہ کرو، مؤمن غلام مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے، اور مؤمن لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہتر لگے‘‘۔ البتہ اگر مشرک سے بھی نکاح کرلیا تو یہ حرامکاری نہیں ہوگی۔ فتح مکہ تک حضرت علیؓ کی ہمشیرہ ام ہانیؓ اپنے مشرک شوہر کیساتھ رہیں۔ اللہ و رسولﷺ نے آپؓ پر حرامکاری کا اطلاق نہیں کیا۔ کوئی بدکار عورت ہو تو اللہ نے یہ وضاحت کی کہ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا ہے مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کردیا گیا ہے‘‘۔ (سورۂ النور) جب کوئی عورت معاشرے میں بگاڑ کا ذریعہ بن رہی ہو تو اس کیلئے زانی جوڑی دار ہو یا مشرک بہرحال اسکے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی بھی ترغیب ہے۔ یہ حکم بالکل عام طور سے فطری بھی ہے۔ معاشرے میں ایسے افراد کو ایک طرف کیا جانا چاہیے۔ اگر قرآنی احکام پر غور کیا جائے تو کوئی حکم ایسا نہیں، جس کو ناقابل عمل کہہ دیا جائے یا معاشرے میں معطل کرکے رکھا جائے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس پر کبھی غور کیا نہیں ہے۔ اگر زنا کار مرد اور عورت کیلئے یکساں طور پر 100،100 کوڑے کی سزا مقرر ہوتی تو بدفعلی بھی رُک جاتی اور سزاؤں پر عمل بھی آسان ہوتا لیکن افسوس کہ مسلمان بھی پہلے امتوں کے نقشِ قدم پر ہوبہو چل کر بے عمل بنے ہیں۔ یہود ونصاریٰ ہمارے رسول اللہﷺ سے اسلئے راضی نہ ہوسکتے تھے کہ ان کے دین میں قرآن کے برعکس سنگساری کی سزا تھی اور ایک سال جلاوطنی کی بھی۔ قرآن نے ان کو مسترد کردیا تھا۔ آج حالات بالکل بدل گئے ہیں، اگر آج ہمارا نظام قرآن وسنت کے مطابق غیرفطری سزاؤں سے ہٹ کر بن جائے تو یہود اور نصاریٰ کیلئے قابلِ قبول ہوں گی لیکن ہم وہاں پر کھڑے ہوگئے ہیں جہاں کل وہ کھڑے تھے۔ عملی طور پر تو کچھ کرنا کرانا ہے نہیں بس کتابوں قرآن کے خلاف غیرفطری سزاؤں پر ایک غلط رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ جاہل علماء ومشائخ ہیں۔ قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا: عسیٰ ان یبعثک مقامًا محمودًا’’ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی بعثت مقام محمود کردے‘‘۔ یہ دعا آذان کے بعد بھی پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبیﷺ کو مقام محمودعطاء کرے۔ حامد کا معنی ہے تعریف کرنے والا۔ محمود کا معنی ہے جس کی تعریف کی جائے۔ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ معراج میں بھی نبیﷺ نے تمام انبیاء کرام کو نماز کی امامت کرائی تھی اور قیامت میں بھی آپﷺ کے ہی چرچے ہونگے تو اس دعا کا مقصد کیا ہے اور آیت میں کس بات کی نشاندہی ہے؟۔ جب دنیا میں وہ خلافت قائم ہوگی جس سے آسمان وزمین والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔ یہ اسی دورمیں ہوگا کہ اپنے تو اپنے بلکہ دشمن اور نہ ماننے والے بھی آپﷺ کی تعریف کرینگے۔ دنیا میںیہی مقام محمود لگتا ہے اور اس کیلئے عملی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ جب اللہ نے روئے زمین پر اس خلافت کا وعدہ کیا تھا تو یہ بھی مقام محمود ہی ہے۔ ہر گلی کوچے کا ہر شخص آذان نہیں دے سکتا ہے، ایک مسجد میں ایک شخص نے ہی آذان دینی ہوتی ہے ،جس طرح حضرت سیدنا بلالؓ نے اپنے دور میں آذان دی البتہ اس آذان کیساتھ اس دعا اور تگ ودو میں ہر شخص خودکو شامل کرسکتاہے۔ قرآن میں بار بار بے حیائی، چھپی یاری اور فحاشی کی ممانعت ہے اور اس کی بہت زیادہ آبیاری بھی معاشرے میں ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں نکاح اور کھلے عام جس ایگریمنٹ کا تصور موجود ہے اگر ایران کے متعہ اور سعودی عرب کے مسیار سے ہٹ کر ہم قرآن وسنت کی روشنی میں عالم اسلام اور عالم انسانیت کے مسائل حل کرنا شروع کریں تو دنیا اسلام کی طرف چل کر نہیں، دوڑ کر بھی نہیں اُڑ کر بھی نہیں بلکہ آن ایئر لائیو نشریات کی طرح آئے گی۔ راتوں رات ایک ایسا انقلاب برپا ہوگا جس کو دنیا کی کوئی طاقت روکنے کا سوچے گی بھی نہیں۔یہ خوشخبری بھی ہے۔ جنت بھی حضرت آدم علیہ السلام کیلئے بغیر حضرت حواء علیہا السلام کے سکون کا ذریعہ نہیں تھا۔ قابیل نے حضرت ہابیل کو قتل کرکے انسانیت میں ہوس اور قتل کا بیچ بودیا تھا۔ ایک نبی کے بیٹے سے بڑھ کر ولی اور عالم کے بیٹے بھی نہیں ہیں۔ صاحبزادگی اس وقت ٹھیک ہے جب وہ صلاحیت، کردار اور صفات کا مالک ہو۔ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ نے خاندانی بنیادوں پر اقتدار پر قبضہ کئے رکھا۔ بادشاہوں کے علاوہ علماء اور صوفیاء کے خانوادوں نے بھی بے تاج بادشاہی کی ہے۔ قرآن اور عترت کی تلقین نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں کی تھی۔امت مسلمہ کا صرف یہ مسئلہ نہیں رہاہے کہ عترت رسول کو چھوڑ رکھا تھا بلکہ قرآن سے بھی تمسک نہیں رہاہے۔ قرآن میں حدث اکبر کیلئے نہانے اور حدث اصغر کیلئے وضو کا ذکر ہے۔ انواع واقسام کے عجیب وغریب فرائض گھڑے گئے۔ جنکا نہ سر ہے نہ پیر۔ کراچی کے مشہور عالم دین علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ نے روزے کیلئے مسئلہ بیان کیا تھا کہ’’ لیٹرین کرتے وقت آنت نکلتی ہے ۔ جس کو پھول کہتے ہیں۔ اس پھول کو دھویا جائے اور اندر جانے سے پہلے اس کو کپڑے سے سکھادیا جائے۔ اگر کپڑے سے سکھائے بغیر وہ پھول واپس اندر گیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا۔ تکلف کرکے اس پھول کو باہر رکھنا ہے جب تک سکھایا نہ جائے‘‘۔ حالانکہ یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا ہے اور قرآن وسنت میں روزہ ٹوٹنے کی ایسی کوئی مثال نہیں ہے۔ اب دعوتِ اسلامی کے مفتیان نے اس سے بھی بڑھ کر کہا ہے’’ کہ استنجے کیلئے کھل کر نہ بیٹھیں ورنہ مقعد کے ذریعے معدہ تک پانی پہنچ سکتا ہے اور روزہ ٹوٹ جائیگا، اسی طرح سانس لینے میں بھی احتیاط کی جائے۔ ورنہ اس سے بھی پانی معدہ میں مقعد کے راستے پہنچ کر روزہ ٹوٹ جائیگا‘‘۔ فقہ کا مسئلہ یہ تھا کہ اگر پچکاری کے پریشر سے پانی مقعد کے راستے پانی پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟۔ اگرچہ اب یہ ممکن ہوا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے اس بات کو ثابت کرکے دکھایا جائے کہ پچکاری کے ذریعے بھی معدہ تک پانی پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جب کسی بیمار کو یہ نوبت پہنچے تو پچکاری کے ذریعے سترکھلنا بھی نہیں چاہیے، اللہ تعالیٰ نے مریض کیلئے روزہ معاف کرکے کہا ہے کہ کسی اور دنوں میں رکھا جائے ، اللہ تعالیٰ تمہارے آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں چاہتاہے جو اللہ کی بات کو نہ سمجھے اور خود کو گولی کھانے کے بجائے پچکاری کیلئے مجبور کرے تو اس گدھے کو حقائق سے آگاہ کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ فقہ کی کتابوں میں کتاب الطہارت سے لیکر کتاب الصلوٰۃ، کتاب النکاح، کتاب الطلاق ، کتاب البیوع اور کتاب الحدود تک ایک ایک چیز میں اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا گیا ۔ جہری نمازوں میں سورتوں سے پہلے بسم اللہ تک نہیں پڑھی جاتی ہے۔ احادیث کی کتابوں میں رفع الیدین کی بہت کثرت کے باوجود اس پر عمل کرنے کو گمراہی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن ، احادیث اور فقہ کسی چیز کی بھی درحقیقت کوئی سمجھ نہیں رکھتے ہیں۔ بس اندھوں کی بھیڑ چال چل رہی ہے۔ دنیا میں نکاح کا قانون موجود ہے لیکن اس میں اتنی سختی ہے کہ مغرب والے نکاح سے زیادہ گرل وبوائے فرینڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کے برعکس نکاح و طلاق کا تصور اتنا بھیانک بنادیا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک، مذہب اور معاشرہ اس گھناونے تصورات کو قبول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ جس دن قرآن وسنت میں واضح کردہ نکاح و طلاق کے قوانین سامنے آگئے تو مسلمان ہی نہیں دنیا کا ہر مذہب اور ملک اسی کو اپنے ہاں رائج کردیگا۔ نکاح کیلئے حق مہر کا تصور ہے۔ غریب وامیر اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہی اس کو عملی جامہ پہناسکتے ہیں۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف دینا ہوگا۔ اور اگر حق مہر مقرر نہ کیا ہو تو غریب اپنی وسعت کے مطابق اور امیر اپنی وسعت کے مطابق دیگا اور باہمی رضامندی سے ایکدوسرے سے بھلائی بھی کی جاسکتی ہے بلکہ اللہ نے فرمایا کہ آپس میں بھلائی کو مت بھولو۔اس سے یہ واضح ہے کہ ہاتھ لگانے کے بعد پورے کا پورا حق مہر فرض بن جاتا ہے۔ کوئی بہت ہی کم عقل یا ڈھیٹ قسم کا مولوی اس بات کا انکار کرسکتا ہے۔ اگر اتنی سی بات کو دنیا پر واضح کردیں اور مسلمان اس پر عمل پیرا ہوجائیں تو خواتین کے حقوق کو بہت بڑی بنیاد مل جائے گی جو قرآن نے بہر صورت واضح بھی کی ہے۔ حق مہر کی مقرر کردہ مقدار کا قانون متعارف ہوجائے تو دنیا میں گرل فرینڈ رکھنے کا تصور کافی حد تک ختم ہوجائیگا۔ امریکہ وغیرہ میں طلاق مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے آدھی جائیداد سے محروم ہونا پڑتا ہے اسلئے لوگ نکاح کو ترجیحات میں نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ایک انتہاء یہ ہوتی ہے کہ نکاح کی صورت میں آدھی جائیداد جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور دوسری انتہاء یہ ہوتی ہے کہ لڑکی سے ہر قسم کے مراسم اور فائدے اُٹھانے کے باوجودکوئی چیز بھی نہ دی جائے تو اسکا حق نہیں سمجھا جاتا ہے۔ پھر نکاح کی دلدل میں کون خود کو پھنسائے گا؟۔ جبکہ اسلام نے نکاح کے علاوہ استمتاع کی صورت میں بھی معاوضہ دینے کا پابند بنایاہے۔ نکاح کی صورت میں عورت خلع لے یا مرد طلاق دے، دونوں صورتوں میں ذمہ داری مرد پر پڑتی ہے۔ حق مہر تو عورت ہی کا حق بہر صورت ہوتا ہے لیکن خلع کی صورت میں گھر بار اور جائیداد چھوڑ کر عورت کو نکلنا پڑتا ہے۔ طلاق کی صورت میں عورت کو مکان ، جائیداد اور کسی بھی چیز سے بے دخل نہیں کرسکتے ہیں چاہے اس کو حق مہر کے بہت سے خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں۔ سورہ النساء آیت :19 میں خلع کی وضاحت ہے اور آیت:20،21میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع میں بھی دی ہوئی چیزوں میں سے بعض چیزوں کو بھی ساتھ لیجانے سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب پائی جائے۔ الزام تراشی سے منع کیا گیا ہے اور لُعان کے بغیر اس کو حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ الزام کی بنیاد پر بیوی کے قتل کا معاملہ پہلے بھی عام تھا۔اسلام نے توچشم دید گواہی پر بھی قتل کی اجازت روا نہیں رکھی۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ میں لعان نہیں کروں گا بلکہ قتل کروں گا۔ نبیﷺ نے انصارؓ سے کہاکہ یہ تمہارا صاحب کیا کہتاہے؟۔ انصارؓ نے عرض کیا کہ اس سے در گزر کیجئے،یہ بڑی غیرت والا ہے، اس نے طلاق شدہ و بیوہ سے کبھی شادی نہیں کی، جسے طلاق دی اس کو کسی اور سے نکاح نہیں کرنے دیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں، اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔ (بخاری) نبیﷺ نے سچ فرمایا تھا اسلئے کہ بیوی تو دور کی بات ہے ،اپنی لونڈی ماریہ قبطیہؓ کیساتھ اسکے ایک ہم زباں پر شک گزرا تھا تو حضرت علیؓ سے کہا کہ اسے قتل کردو۔حضرت علیؓؓ حکم کی تعمیل کیلئے گئے اور اس کو ایک کنویں میں نہاتا ہوا پایا، جب اس کو باہر نکالا تو وہ مقطوع الذکر تھا جس پر اس کو چھوڑ بھی دیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم دیا کہ آپ ﷺ کی ازواج سے کبھی نکاح نہ کریں اس سے آپ کو اذیت ہوتی ہے۔ لے پالک کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کو معاشرے میں حرام سمجھا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا نکاح کرادیا تاکہ آئندہ مؤمنوں کو اس میں مشکل نہ ہو کسی رسم ورایت کو توڑنا بہت بڑی قربانی ہے۔ رسول اللہﷺ کا درجہ بہت بلند ان روحانی آزمائشوں کی وجہ سے تھا۔ یو ٹیوب کی جس گستاخانہ فلم کی وجہ سے شور مچا تھا، اس میں سورۂ تحریم کے قصے کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ آج بھی انواع واقسام کی اذیتناک باتیں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ یہ سلسلہ حمد وتعریف میں اس وقت ہی بدل سکتا ہے جب اسلام کا درست چہرہ عوام کے سامنے لایا جائے۔ دین ابراہیم ؑ سب کے نزدیک محترم ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت سارا ؑ کی وجہ سے لونڈی حضرت حاجرہ ؑ کو مکہ کے وادی غیر ذی زرع میں اللہ کے حکم سے چھوڑ دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہؓ کے حجرے میں حضرت ماریہ قبطیہؓ کیساتھ مباشرت کی تو حضرت حفصہؓ نے شدید شورواحتجاج کیا کہ مجھے کمتر سمجھا گیا۔ جس پر نبیﷺ نے فرمایا کہ چپ کرو، بس حضرت عائشہؓ سے بات چھپاؤ، میں نے اسے اپنے اوپر حرام کردیا ۔ حضرت حفصہؓ نے اس کو خوشخبری اور اپنی جیت سمجھ کر حضرت عائشہؓ کو بتادیا۔ انہوں نے مل کر ایک چال چلی اور دیگر ازواجؓ سے کہا کہ جسکے پاس نبیﷺ تشریف لائیں تو کہنا کہ منہ سے برگد کی بوآرہی ہے۔اس بات کو متعدد مرتبہ دوسری ازواجؓ نے دھرایا جسکے جواب میں نبیﷺ کہتے رہے کہ میں نے شہید کھایا ہے تو پھر وہ کہتیں کہ مکھیوں نے برگد گھایا ہوگا۔ بالآخر اس مآجرے کے نتیجے میں نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر شہد حرام ہے۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ نے سمجھا کہ ہم نے اس لڑائی میں نبیﷺ کو شکست سے دوچار کردیا ہے۔ اس پر سورۂ تحریم نازل ہوئی ۔ نبیﷺ سے فرمایا گیاکہ اپنی بیگمات کی رضا کیلئے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو اسے جسے اللہ نے آپ کیلئے حلال کیا ہے۔ یہ دونوں خواتین نبیﷺ پر غالب نہیں آسکتیں۔ اگر یہ توبہ نہ کرلیں تو اللہ ان سے بہتر ازواج بھی نبیﷺ کو دے سکتاہے جن میں کنواری و غیرکنواری کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ حضرت لوط ؑ اورحضرت نوحؑ کی بیگمات کافر تھیں اور حضرت مریمؑ و فرعون کی بیگم مؤمنہ تھیں۔ سورۂ تحریم میں حکم ہے جاہدالکفار و المنافقین واغلظ علیھم ’’ کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد کرو اور ان پر سختی کرو‘‘ ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ انبیاء ؑ حضرت نوح ؑ ولوطؑ نے اپنی کافر ومنافق بیگمات پر کس قسم کی سختی کی اور فرعون کی بیگمؓ و حضرت مریمؓ نے کس قسم کا جہاد کیا تھا۔ بارود سے اڑا دیا ، گلہ گھونٹ دیا ، زہر دیا ؟۔ یہ صرف مسلمانوں کو اعتدال کی راہ دکھانی تھی۔ حضرت نوح ؑ کوساڑھے نوسوسال تک کافروں کے پتھر کھانے پڑے۔جبکہ طائف میں نبیﷺ کو بھی پتھر مارے گئے۔ طائف کے میدان سے زیادہ سخت آزمائش نبیﷺ پر حضرت عائشہؓ کے بہتان کے حوالے سے تھی۔ ایک غیرتمند انسان کو ایسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے بڑا امتحان نہیں ہوسکتاہے۔ اس اذیت کی وجہ سے نبیﷺ کی شان کا اندازہ لگایا جاسکتاہے، عالم انسانیت کو قرآن وسنت کا درست ادراک ہوجائے تو خلافت علی منہاج النبوۃ کے قیام سے سب اتفاق کرینگے۔ حضرت ابراہیمؑ کے دور میں ممکن نہیں تھا کہ بیوی کسی لونڈی کو برابر سمجھے۔ نبیﷺ کی وجہ سے دنیا کو اللہ نے لونڈی وغلامی کے نظام سے ہی نجات دلانی تھی ،اسلئے قرآن میں وضاحت ہے کہ یہ اہل فرعون کا وظیفہ تھا جوبنی اسرائیل کو سخت آزمائش میں مبتلا کرتے تھے۔اللہ نے انسانیت کو عروج وکمال کا آخری درجہ عطاء کرنا تھا۔ معراج اس کا مشاہدہ تھا۔ عالمی خلافت اسکامنبع تھا۔ رسول اللہﷺ کو حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں نے کس قدر اذیت دی تھی؟۔اس کی سزا کیا تھی؟، ایک عام غریب و بے بس خاتون پر بہتان لگانے کی سزا بھی وہی 80کوڑے ہے۔ یہ مساوات انسانی کا کمال ہے۔ اسلام کے نظام انصاف ومساوات اور شریعت کو ایسا شخص لیڈ نہیں کرسکتا ہے جسکا اپنا خمیرہی اسٹیٹس کو سے ملوث ہو۔ سیاستدانو! کروڑوں اربوں میں ہتک عزت کا دعویٰ کرو لیکن انسان کی عزت برائے فروخت ہے اور نہ اسکا کوئی مول ہوتاہے۔ سورہ نور میں چار گواہ کا ذکر فحاشی کے ثبوت کیلئے نہیں بلکہ پاکدامن خواتین پر بہتان سے روکنے اور سزا دینے کیلئے ہیں۔ کسی معاشرے میں بہتان لگانے والے کیلئے یہ ممکن نہیں کہ کسی شریف خاتون پر چار گواہ لاسکے۔علماء اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی مت ماری گئی ہے۔ اسلام کو اجنبیت میں دھکیلنے والا فقہ بیان کیا جاتاہے لیکن نظام کے حوالے سے حقائق سامنے نہیں لائے جاتے ہیں۔ سورۂ نور میں اللہ نے افواہ پھیلانے والے گروہ کو بہت اچھے انداز میں تنبیہ فرمائی اور یہاں تک کہا کہ ’’اس بہتان عظیم کو اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہارے خیر ہے‘‘۔ ان قرآنی آیات پر قربان ہوجائیے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے بہتان میں شریک مسطحؓ پر احسان نہ کرنے کی قسم کھائی تواللہ نے فرمایا کہ ’’مؤمنوں کیلئے مناسب نہیں جب وہ مالدار ہوں کہ کسی پر احسان نہ کرنے کی قسم کھائیں‘‘۔ اسلام جس سپرٹ سے دنیا میں نازل ہوا تھا ،قرآن نبی ﷺ کااسوۂ حسنہ ہے۔ دنیا کو پتہ چلے کہ اسلام کا نظام معاشرت، نظام معیشت اورنظام حکومت ہی سب سے بہترین ہے تو قابل ترین لوگ قرآن وسنت کی طرف توجہ کرینگے۔ جس مذہبی طبقہ نے اسلام کو صرف اپنے کاروبار اور پیشے تک اسلام کو محدود کرکے رکھا ہے اس کی بھی آنکھیں کھل جائیں گی۔جن علماء ومشائخ میں خلوص ہے مگر سمجھ کی نعمت سے محروم ہیں جب ان کو نظر آئیگاکہ سورۂ جمعہ کی پیش گوئی کے مطابق آخر ی جماعت اہل فارس کی امامت میں حقائق سے پردہ اٹھارہی ہے۔ علم،ایمان اور دین کو ثریا سے واپس لایا جارہاہے تو وہ بلاامتیاز مسلک وفرقہ حق کی حمایت کریں گے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کے علماء اور دانشور عرصہ سے اس جماعت کی حمایت کررہے ہیں۔ ٹانک کے تمام معروف دیوبندی علماء کرام نے تحریری اور تقریری حمایت سے نوازا تھا جن میں مولانا فتح خانؒ نائب صوبائی امیر وضلعی سرپرست جمعیت علماء اسلام (ف) ، مولانا عبدالرؤفؒ گل امام ضلعی امیر جے یو آئی (ف) مولانا عصام الدین محسودؒ ضلعی جنرل سیکرٹری جے یوآئی (ف) مولانا غلام محمدؒ ضلعی امیر ختم نبوت،مولانا قاری محمد حسن شکوی شہیدؒ خطیب گودام مسجد، مولانا شیخ محمد شفیع ضلعی امیر جمعیت علماء اسلام (س) وغیرہ شامل تھے۔ اسکے باوجود طالبان دہشت گردوں نے علماء کرام کی حمایت کا خیال بھی نہیں رکھا تھا۔ پروفیسرغفور، ڈاکٹر اسرار ، مولانا نورانی ،علامہ طالب جوہری، مولاناشاہ فریدالحق،مولانا عبدالرحمن سلفی کے علاوہ ملک بھر سے تمام مذہبی فرقوں ومسالک اور شخصیات کی طرف سے تائیدات کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔ اتحادالعلماء کراچی کے صدر مولانا عبدالرؤف،جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا عبد الکریم بیرشریف، تربت کے مولانا عبدالحق بلوچ امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور کشمیر سے کوئٹہ اور پشاور سے کراچی تک ہرمکتبۂ فکر کے افراد اس میں شامل تھے لیکن اسکے باوجود مسلکوں اور فرقوں کے خوگروں نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا، ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ فرقہ واریت کو ختم کرنے میں بنیادی کردار اسی جماعت کا ہے اور اب بھی امید کی یہ ایک ایسی کرن ہے جس سے جاہلیت کے تمام اندھیروں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ مساجد ومدارس کے ارباب اہتمام ومساجد کو توجہ دینی ہوگی۔ حضرت مولانا حسام اللہ شریفی مدظلہ دارلعلوم دیوبند کے مولانا رسول خانؒ و علامہ سید سلیمان ندویؒ کے بھی شاگرد رہے ہیں۔ مولانا رسول خان کا تعلق ہزارہ سے تھا اور وہ مولانا قاری طیب ؒ دارلعلوم دیوبند کے مہتمم کے بھی استاذ رہے ہیں ، مولانا احمد علی لاہوریؒ نے مولانا حسام اللہ شریفی کو سوالات کے جواب دینے کی اجازت دی تھی۔برصغیر میں دار العلوم دیوبند کے سب سے بڑے اور مستند عالم دین کا اعزاز اس دور میں حضرت شریفی صاحب مدظلہ العالی کو حاصل ہے۔ آپ شریعت کورٹ و سپریم کورٹ کے مشیراور رابطہ عالم اسلامی کے رکن ہیں۔ عتیق
روزنامہ جنگ کراچی حضرت مولانا مفتی محمد حسام اللہ شریفی صاحب مدظلہ العالی و دامت برکاتہم العالیہ *رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ * ایڈیٹر ماہنامہ قرآن الہدیٰ کراچی اُردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ *مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان *مشیر شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ پاکستان * رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم مقرر کردہ وزارت امور مذہبی پاکستان * خطیب جامع مسجد قیادت کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس *کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی جنگ گروپ نے تحریر فرمایاکہ( ۱۳ رمضان المبارک ۱۴۳۹، 29-5-18) اللہ رب العزت نے اس دنیا میں مختلف انسان پیدا کرکے ان میں مختلف صلاحیتیں رکھی ہیں۔ یہ انسان کسی کارخانے اور فیکٹری میں نہیں ڈھلے اور تیار نہیں ہوئے کہ ایک ہی مشین میں ڈھلے ڈھلائے برآمد ہوئے ہوں اور ہر انسان تمام معاملات میں بالکل یکساں ہو۔ یہ انسان اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور ان میں مختلف استعداد اور صلاحیتیں رکھی ہیں تاکہ دنیا کا کاروبار چل سکے۔ کوئی شخص تحقیق اور ریسرچ کے کام میں مہارت رکھتا ہے، کوئی تصنیف و تالیف میں دلچسپی رکھتا ہے، کسی کو درس و تدریس سے شغف ہوتا ہے، کسی کو شعر و شاعری سے لگاؤ ہوتا ہے۔ غرض مختلف لوگ مختلف کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ مولانا عتیق الرحمن گیلانی قرآنی علوم و معارف میں گہری بصیرت رکھتے ہیں اور کتاب و سنت کے معارف میں تحقیق اور ریسرچ کے کام میں اپنے شب و روز بسر کرتے ہیں اور قرآن و حدیث سے انتہائی قیمتی اور گراں قدر معارف تلاش کرکے عامۃ المسلمین کے استفادے کے لئے پیش کرتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی بہت سی ایسی تحقیقات عام لوگوں کے سامنے لائے ہیں جن پر کسی بھی عالم کی پہلے نظر نہیں پڑی تھی اور جسے عام علماء نظر انداز کردیتے تھے۔ اب پھر انہوں نے نہایت قیمتی اور گراں قدر گوہر قرآن و سنت پر تدبر و تفکر کرکے برآمد کیا ہے۔ قصہ آدم و ابلیس قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے اور تفصیل کے ساتھ ابلیس لعین کے سازشی ذہن کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کے جد امجد حضرت آدم اور اماں حوا کو کس طرح ایک شجر کے پھل سے لذت آشنا کیا۔ یہ’’شجر‘‘ کون سا تھا اس ’’شجر‘‘ کی حقیقت سے مولانا عتیق الرحمن گیلانی نے پردہ اٹھایا ہے۔ اور اپنی تحقیق سے اہل علم و دانش کو چونکا دیا ہے۔ یہ سعادت اللہ رب العزت نے مولانا عتیق الرحمن گیلانی کیلئے مقدر کی تھی کہ وہ اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں اور عامۃ المسلمین کے غور و خوض کیلئے ایک اہم پیش رفت کریں کہ وہ ’’شجر‘‘ جس کا ذکر خالق کائنات نے اس دنیا کی پیدائش کے سلسلے میں کیا ہے وہ کون سا ’’شجر ممنوعہ‘‘ ہے۔ مولانا عتیق الرحمن گیلانی کے ذہن رسا نے وہ کام کیا ہے جس پر دوسروں کے ذہن کی رسائی نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ مولانا گیلانی کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمائے اور ہم عام لوگوں کو ان سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا ہے کہ اسلام کا معاشرتی نظام بہت بڑا اثاثہ ہے لیکن مدارس کے مفتی، ائمہ مساجد اور مذہبی جماعتیں وفرقے اپنے کاروبار کو توجہ دے رہے ہیں ،قرآن وسنت سے وہ رجوع کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ امریکہ ،کینیڈا اور یورپ ومغرب کے علاوہ دنیا بھر کے تمام جدید ممالک صرف اسلام کے قانونِ نکاح وطلاق اور خواتین کے حقوق معلوم ہوئے تو قرآن کی طرف پوری انسانیت کا رجوع ہوگا۔ عبادات کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اسلام کا معاشرتی نظام دنیا کے سامنے پیش نہ ہوسکا اسلئے دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک کے علاوہ مسلم ممالک بھی اسلام کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ سعودیہ نے جدت اختیار کرنے کو ترجیح دی اور ہم بھی حدود اور قیود کو پھلانگ رہے ہیں۔ دعلماء کرام اور مفتیانِ عظام اس بات پر وایلا مچارہے ہیں کہ مسلمان عوام ، حکومتیں ، دنیااورعالم انسانیت اسلام سے فاصلہ بڑھارہے ہیں لیکن وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہم نے نکاح وطلاق کے احکام قرآن وسنت سے واضح کئے مگر علماء کو فرصت نہیں کہ تھوڑی سی توجہ دیدیں۔ رسول ﷺ جو شکایت قیامت کے دن اللہ سے کرینگے کہ ’’میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘ تو کیا علماء و مفتیان خود کو اس شکایت میں بے گناہ ثابت کرسکیں گے؟۔ یہ تو کہا جاتا ہے کہ علماء اپنا وقت قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ میں لگاتے ہیں لیکن کیا اللہ کے قرآن اور نبیﷺ کی سنت کی طرف بھی کوئی توجہ دیتے ہیں؟۔ حضرت حاجی محمد عثمانؒ سے کراچی کے بڑے علماء کرام بیعت تھے، حضرت عثمان ؒ سے بعض کی دوستی تھی، مدارس کا اساتذہ طبقہ بھی بیعت اور حلقہ ارادت میں شامل تھا۔ اس خانقاہ سے اتحادِ امت کی آواز ابھر رہی تھی۔ نیکی اورتقویٰ کا اعلیٰ معیار قائم ہورہاتھا۔ پھر علماء ومفتیان نے چندافراد کے کہنے پر فتوے لگادئیے۔ حالانکہ جو الزامات لگائے وہ کیا وجہ تھی کہ چند سرمایہ دار مریدوں کو خلافِ شریعت کا تو پتہ چل گیا مگر علماء ومفتیان بالکل بے خبرہی رہے تھے؟۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جس شریعت اور تقویٰ پر عمل کررہے تھے۔ چند فتوؤں سے ایسی بھگڈر مچ گئی کہ ایک دنیا بدل گئی۔ داڑھیاں صاف ہوگئیں، ذکرو اذکار بند ہوا اور شریعت پر عمل موقوف ہوگیا۔ دینداری دنیا داری میں تبدیل ہوگئی اور آباد خانقاہ ویران ہوگئی۔ پارلیمنٹ میں جو ختم نبوت کے مسئلہ پر فارم سے حلف نامہ اسلئے ہٹادیا گیا کہ باقی سب معاملات میں بھی حلف نامے کو ختم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ ایمان مجمل و ایمان مفصل میں بھی حلف نہیں ۔ اصل معاملہ حلف نامہ سے قرضہ، جائیدادوغیرہ کی تفصیل ہٹانا تھا جس سے درست معلومات کا ہر امیدوار پابند ہوتا۔ لیکن اس میں سیاستدان کامیاب ہوگئے ہیں۔ مذہبی جذبات کو ختم نبوت کے نام سے بھڑکایا گیا تو اس کے نتیجے میں علامہ خادم حسین رضوی نے سرِ عام مغلظات بکیں ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ علماء ومفتیان اپنا نصاب بھی درست کرینگے اور اس میں بھی ایمان کیخلاف بڑی سازش کو نکالنے کیلئے اسی طرح جذبہ کا مظاہرہ کرینگے؟۔ ہم فرقہ واریت کے بالکل خلاف ہیں اور درسِ نظامی کو غلطیوں سے پاک کرنا صرف ہماری نہیں بلکہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہمارا مقصد کسی کی تحقیر وتذلیل نہیں۔ ہم صرف رسول اللہ ﷺ کی قرآنی شکایت پر اُمت مسلمہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور اسکے سب سے بڑے ذمہ دار علماء ومفتیان ہیں۔ باقی لوگ بھی اپنا دامن نہیں بچاسکیں گے اور اگر مسلمان قرآن کی طرف متوجہ ہوگئے تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوجائیگا۔ ہماری ریاست بھی حقائق کی طرف رجوع کرے تاکہ پاکستان کا مقصد حاصل ہو۔
اسلام نے بڑاکارنامہ انجام دیا کہ خواتین کو انکے حقوق کا تحفظ دیا۔عرب قبائل تھے جبکہ پاکستان میں بھی قبائلی معاشرہ ہے۔ 40ایف سی آر کا خاتمہ کردیا گیا۔ یہ قوانین بنیادی طور پر قبائلی رسم ورواج کے ہی مطابق تھے۔ آزاد قبائل اس آزادی پر فخر کرتے تھے۔ انگریزدور میں پورے ہندوستان پر غلامانہ قوانین مسلط تھے۔ انگریز کے جانے کے بعد جب پاکستان بن گیا تو آزاد ریاست کو آزادقبائل نے دل وجان سے قبول کیاتھا اور یہ احساس اُبھرا تھاکہ پاکستان میں اسلامی قوانین کے مطابق آئین سازی ہوگی اور غلامانہ دور کے قوانین بالکل ختم ہوجائیں گے لیکن آزادی کے ہیرو مرزاعلی خان نے کہا تھا کہ ’’ گدھا وہی ہے صرف اسکی پالان بدل گئی‘‘ یعنی پاکستان بننے کے بعد بھی کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں ہے بس نام بدل گیا۔ منظور پاشتین نے محسود تحفظ موومنٹ کو پھر پشتون تحفظ موومنٹ میں بدل دیا ۔جس کا ایک ہی پیغام تھا کہ ریاستی عناصر کی طرف سے ہونیوالے مظالم کا راستہ رک جائے۔ مظلوموں کی آواز سے ریاست میں ایک خوف پیدا ہوا اور اس خوف کے بعد 40ایف سی آر کا بھی خاتمہ کردیا گیا۔ پاک فوج چاہتی تو اپنے مختلف ادوار میں یا اپنے کٹھ پتلیوں کے ادوار میں اس قانون کا خاتمہ کرسکتی تھی۔ قبائل کو اپنے رسم ورواج کے قوانین سے کوئی تکلیف نہیں تھی اور نہ ہی وہ پاکستان کے سست و بدترین عدالتی نظام کے تحت انصاف کو قابلِ رشک سمجھتے تھے جو بدترین غلامی کی یاد گار ہے۔ البتہ امریکہ سے درآمد عبوری وزیراعظم معین قریشی نے یہ فیصلہ کیا کہ قبائل سے پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ ورنہ پہلے مخصوص قبائلی ملکان کی رائے سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتا تھا۔قریشی کے فیصلے نے پاکستان کے کرتے دھرتوں کا منہ کالا کیا۔آج عبوری حکومت بھی بہت کچھ کرسکتی ہے۔ قرآن میں ملاء القوم کا ذکر ہے جو انقلابی ابنیاء کرام ؑ کا راستہ روکتے تھے۔ یہ مذہبی پیشواء اور قبائلی ملکان انقلاب کا راستہ روکنے کیلئے شاہی دربار والی خدمت کر تے تھے۔ اسلام کی نشاۃ اول میں سردارانِ قریش اور بتوں کی مذہبی عبادت کے خوگروں نے انقلاب کا راستہ اسلئے روکا تھا کہ وہ غلامی کا نظام ختم کرنے اور انسانیت کو برابری کا درجہ دینا نہیں چاہتے تھے۔ مشرکینِ مکہ کا کوئی فرد یا چند افراد اپنے مذہب کو تبدیل کرکے عیسائی وغیرہ بننا چاہتے تو ان پر کوئی پابندی نہیں تھی، اسلام سے نہ صرف ان کی سرداری کو خطرہ تھا بلکہ یہودونصاریٰ کے مذہبی پیشواء بھی اپنی بے تاج اور لامتناہی اختیارات کی بادشاہی کو خطرات لاحق سمجھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آخری خطبۂ حجۃالوداع میں اعلان فرمایا کہ’’ کالے گورے، عرب عجم اور کسی کو کسی پر فوقیت نہیں، سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا، فضلیت کا معیارصرف تقویٰ ( کردار) ہے‘‘۔ یہ خطبہ نسلی اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر باطل زعم رکھنے والوں کے افکارپر کاری ضرب تھا۔ خلفاء راشدینؓ کے دور میں اسلام کا دنیا میں چرچا ہوا۔ اس وقت کی سپر طاقتیں قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اس کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رسول اللہﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ’’ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، یہ عنقریب پھر اجنبی بن جائیگا پس خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے ‘‘۔ پھربنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کی خاندانی بادشاہتوں کے ادوار میں اسلام بتدریج اجنبیت کی منزلیں طے کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے کہ مذہب کے نام پر جاہلوں کا چوپٹ راج ہے۔قبائل کا پڑھا لکھانوجوان طبقہ صرف ریاست سے نہیں بلکہ اسلام سے بھی بدظن ہوچکا ہے۔ریاست اور طالبان نے قبائل کا کلچر تباہ کیا اور اسکے بہت خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ قبائلی نوجوان کہتے ہیں کہ پوری دنیا میں ہمارا قبائلی کلچر اعلیٰ و ارفع ہے۔ جنوبی وزیرستان وزیر علاقے کا ایک ہجڑہ عام انسانوں کی طرح عزتدار ہے، تجارت کرتا ہے، دیگرقبائلی عمائدین کی طرح جرگوں میں شریک ہوکر فیصلے کرتا ہے، کوئی اس کو نیچ نگاہ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا ۔ آج ہجڑوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ مغرب میں بھی گراؤٹ کی نظرسے دیکھا جاتا ہے۔ انگریز کی ریاست نے یہاں قابض ہوکر ہمارا کلچر ایک سازش سے متأثر کیا ہے۔ اسلام اور ملاؤں نے بھی قبائل پر اثر انداز ہوکر اچھا نہیں کیا ہے۔ پختونوں کو اپنے حقوق، کلچر، تہذیب وتمدن اور قبائلی معاشرے کی آبیاری کیلئے اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ باچا خان کے بعدپشتون تحفظ موومنٹ پہلی شعوری کوشش ہے اور اس کیلئے ہمیں ہر قسم کی قربانی دینی ہوگی۔ ریاست کے زور پر ملائیت نے قبائلی نظام کو خراب کرنے پرنقب ڈالا، پھر فرنگیوں اور اب پنجابیوں نے ریاست کے ذریعے ہمارا نظام تباہ کردیا ۔ قبائلی جوانوں کا مدعا یہ تھا کہ حلالہ جیسی لعنت کو بھی اسلئے قبول کیا گیا کہ ملائیت کے پیچھے ریاست کی طاقت تھی اور ان تمام بکھیڑوں سے ہم نے اپنی جان چھڑانی ہوگی۔ کسی عالم کو خوب کھلانے پلانے کے بعد جس قسم کی حدودوقیود سے ماوراء گالیاں دو تو وہ ہنسی خوشی برداشت کرلیتا ہے۔ قرآن وسنت میں نکاح اور ایگریمنٹ کا ذکر ہے۔مجھ سے فون پرمولانا مفتی عبدالصمد اور مولانا ذی الشان نے بات کی تو وہ کہہ رہے تھے کہ ملکت ایمانکم کا مطلب لونڈی ہے اور لونڈی کا رواج ختم ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مترجمیں اور مفسرین نے لونڈی مراد لیا ہے لیکن الف سے ی تک اسلام کے واضح احکام کو اجنبی بنادیا گیا ہے، اسی طرح ملکت ایمانکم کے جملے کا بھی قرآن میں مختلف پیرائے میں ذکر ہے اور اس کا مفہوم بھی ایگریمنٹ بنتا ہے۔ غلام اور لونڈی کیلئے قرآن میں عبد و اَمۃ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن نے جاہلیت کی غلامی کا خاتمہ کرنے میں بتدریج اور زبردست کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب میں مسیار اور ایران میں جس متعہ کے نام سے ایگریمنٹ کیا جاتا ہے وہ دراصل قرآن وحدیث ہی کا تصور ہے۔ محسود مفتی عبدالصمد اور اسکے بھائی ذیشان کا اصرار تھا کہ آپ واضح اور مختصر الفاظ میں بتادیں کہ چکلے میں چلنی عورتوں پر ایگریمنٹ کا اطلاق ہوتاہے یا نہیں؟، اور اسلام میں اسکا جواز ہے یا نہیں؟۔ میں نے بتایا کہ کھلم کھلا اس بدکاری پرزنا کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ اگریمنٹ نہیں ہے۔ کورٹ میرج کے نکاح کی بھی ملاؤں نے غلط اجازت دیدی ہے اور بخاری کی حدیث میں یہ واضح ہے کہ باپ بیٹی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو نکاح نہیں ہوتا ہے ۔ جس پر محسودمفتی صاحب نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ پھر تو مجھ سمیت ہم سب حرامی ہیں،اسلئے کہ ہمارا یہی کلچر ہے کہ بہن بیٹی پر پیسہ لیکراس کی مرضی کے بغیر اسکا نکاح کردیتے ہیں، میری ماں کا بھی یہی نکاح ہوا تھا‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’ میں اس پر حرامی کا فتویٰ نہیں لگاتا ہوں البتہ جن خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر پیسہ لیکر بیچا جائے تو ان پر لونڈی کا اطلاق ہوتا ہے۔ میرے دوست مفتی زین العابدین محسود کوٹکئی جنوبی وزیر ستان کے مشہور علماء گھرانہ سے تعلق رکھنے والے نے بتایا کہ ایک محسود لڑکی لاہور ہیرہ منڈی سے میرے کزن نے چھڑائی جس کو اسکے والد نے نکاح کے نام پرکسی کو بیچ دیا تھا اور اس نے پھر چکلے کو بیچا تھا۔ خواتین کیساتھ بہت بڑی زیادتی ہے کہ والد اور بھائیوں اسکا حق مہر بھی کھا جائیں۔ ایگریمنٹ سے پہلے نکاح کا تصور بھی درست کرنا ہوگا۔ ورنہ کوئی اصلاح نہ ہوگی‘‘۔ محسود ، وزیراور پختون قوم میں ہزاروں خوبیاں ہیں جو کسی اور قوم میں نہیں لیکن جس طرح مشرکینِ مکہ جاہلیت میں بھی بہت سی خوبیوں سے مالامال ہونے کیساتھ ساتھ بہت سی خامیوں اور بے غیرتی والی صفات سے بھی آلودہ تھے ، اسی طرح وزیر ، محسود اور پختونوں میں بہت خامیاں ہیں۔ کسی قوم میں انقلاب برپا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی خامیوں کو دور کرنے اور اچھی صفات کو اجاگر اور مستحکم کرنے کی تحریک چلائی جائے۔ رسول اللہﷺ کی طرف سے قریشِ مکہ اور عرب کی جہالت کو ختم کرنے کی کوشش شروع ہوئی تو وہ لوگ دنیا بھر میں واحد سپر طاقت بن گئے۔ رسول اللہﷺ نے آخری خطبے میں دورِ جاہلیت کے حلف الفضول میں شمولیت کو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب قرار دیا ۔ حلف الفضول کیطرح قبائل معاشرتی اقدار قابلِ فخر قرار دیں تو یہ سنت رسول ﷺ کا فطری تقاضہ ہے۔ لیکن اپنی قوم سے ان خامیوں کو دور کرنے کی پُر زور تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے بیٹیاں اور بہنیں بک رہی ہیں اور مائیں لونڈیاں بن رہی ہیں۔ جس دن قبائل نے رسمِ بد کا خاتمہ کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے تو خواتین کی دعاؤں سے قبائل نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیائے انسانیت پر امامت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونگے۔ بصورت دیگر امریکہ و طالبان داعش یا پاکستانی ریاست کا نیا دور بہت کچھ نیا لیکر آئیگا۔ قبائل خواتین کو حق مہر سے بھی محروم کرنے کی کوشش کرینگے اور اپنی مرضی سے نکاح میں رکاوٹ بنیں گے اور ریاست ان کو تحفظ دیگی جس سے وہ اپنے معاشرتی اقداراور مذہب سمیت سب چیزیں بھول جائیں گے۔ اب تو وردی پر دہشتگردی کا الزام لگانے میں کامیاب ہوگئے ، پھر ملاگردی کا نعرہ بھی لگے گامگر کامیابی پھر بھی نہ ملے گی اورمزید بھی ذلت سے دوچار ہونگے۔ اب تو پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوان گانے گاتے ہیں کہ یہ کسی آزادی ہے۔ ہمارے گھر ویران ہورہے ہیں اور ہمارے نوجوان قتل ہورہے ہیں ۔گھروں کی تباہی جوانوں کے قتل کے بعد آخری چیز رہ گئی ہے،وہ عزت کی تباہی ہے اور اسکا سامنا بھی کرنا پڑیگا۔ بہن بیٹی کورٹ میرج کرے گی اور بیوی عدالت سے خلع لے گی۔ داعش، امریکہ اور طالبان نے قابو پالیا تو بھی عزتوں کی آزمائش کا سامنا ہی کرنا پڑیگا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے محسود اسٹوڈنٹ نے یہ اعتراف کیا کہ ’’ہمارے ہاں بہن بیٹیوں کو اسکا حق مہر نہیں دیا جاتا ہے بلکہ بھائی اور باپ اس سے اپنے لئے چیزیں خرید لیتے ہیں‘‘ ۔ ایک مہمند نے بتایا کہ ہمارے ہاں بالکل رضامندی سے رشتہ ناطہ ہوتا ہے، حق مہر کے پیسے کھانے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہ مہمند اپنے گاؤں میں ہماری کچھ کتابیں لیکر گیا جن میں حلالہ کے بغیر رجوع کا حکم واضح تھا اور وہاں کے کچھ علماء نے اس کی تائید کی اور کچھ مخالفت پر آمادہ ہوگئے، یہاں تک کہ مارکٹائی بھی آپس میں ہوئی۔ اس کتاب پر وہاں پابندی لگادی گئی۔ ایک شخص نے بیوی کا حلالہ اپنے بھائی سے وہاں کروایا تھا، اس نے کتاب کو پڑھ کر سمجھ لیا تو وہ کہہ رہا تھا کہ میں بھائی، بھابی اور بیوی سے آنکھیں ملانے کے قابل نہیں رہا ہوں۔ گھر سے مجھے جانا ہوگا یا بھائی کو گھر چھوڑنا ہوگا۔ جو مہمند قبیلہ کتا ب سے اتفاق رکھنے کے باوجود حلالہ کی لعنت کو روکنے پر اتفاق نہ کرسکتا ہو، وہ تو حق مہر کھانے والوں سے بھی زیادہ غیرت سے عاری ہے۔ محسودقوم کو پتہ چل جائے کہ حلالہ کے بغیر بھی رجوع ہوسکتا ہے تو وہ اس پر عمل درآمد روک دینگے۔ پاکستان اسلام کے نام پربنا مگرملاکو اسلام کا پتہ نہ تھا اسلئے انگریز کے قوانین اورقبائلی رسم و رواج سے ہمیں خاص طور پر خواتین کو آج بھی چھٹکارا نہیں مل سکا۔ ملاؤں کی قدامت پسندی اب مستقل مزاجی نہیں بلکہ ڈھیٹ پن میں بدل چکی ۔ مولانا فضل الرحمن جشنِ دیوبند کے نام پر بہت بڑے اجتماع کے پروگرام میں سلیم صافی کے سوال کا جواب دے کہ ’’ تصویر حرام اور قطعی حرام ہے مگر کیمرے کی تصویر کے بارے میں بعض لوگوں نے اختلاف کیا ہے اور ہم یہ موبائل پر ویڈیو بنانے والے اسی کا فائدہ اٹھارہے ہیں‘‘۔ مولانا اپنی اس حاضر جوابی پر وہ خود بھی دم بخود قہقہ لگاتا ہے اور دوسرے حاضرین بھی داد دیتے ہیں۔ عوام اس ڈھیٹ پن کے ویڈیو کلپ کو شغل کے طور پرایکدوسرے کوبھیجتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ علماء ومفتیان کا تو آوے کا آوا ہی بگڑ چکاہے۔ اتمامِ حجت کے بغیر کسی پر ڈھیٹ پن کا اطلاق نہیں ہوتا اور بفضل تعالیٰ قرآن وسنت کی روشنی سے دینِ فطرت کی فضا عام ہورہی ہے۔ بہت سے علماء ومفتیان کھل کر حمایت کررہے ہیں اور بہت سوں میں ہمت نہیں مگر چھپ کر تائید کررہے ہیں اوروہ دن دور نہیں کہ مدارس ومساجد سے دینِ فطرت کی صدا بلند ہوگی اور پاکستان میں ایک خوشگوار تأثر ابھرے گا۔ فرقہ واریت کا بھوت دفن ہوگا، علماء حق کا بول بالا ہوگا۔ تمام لسانی و مذہبی، سیاسی و عسکری قوتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر حقائق کی طرف رجوع کریں گی۔ پاکستان سے ابھرنے والا انقلاب اسرائیل وامریکہ اور بھارت سمیت پوری دنیا عرب وعجم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پختون قوم کا اس انقلاب میں بہت ہی بنیادی کردار ہوگا۔ بلوچ، سندھی، مہاجر اور پنجابی سب ہمارے شانہ بشانہ ہونگے۔ جب تک حق اور قانون کا پتہ نہ ہو اسوقت تک فضاؤں میں اندھوں کی طرح لاٹھی گھمانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ علماء نے پاکستان بنانے سے پہلے پاکستان بنانے کے بعد شریعت اور آزادی کی رٹ لگائی مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ بلوچوں نے قوم پرستی کیلئے قربانیاں دیں مگر نتیجہ کچھ برا نکلا۔ مہاجروں نے اقتدار کی سیڑھی تک رسائی بھی حاصل کرلی لیکن ’’بہت تلخ ہیں بندہ مزدور کے اوقات ‘‘ کو نہیں بدل سکے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور اسلام سب کیلئے قابل قبول ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ سے ٹیلی پیتھی نہیں مل رہی تھی مگر اسلام کا فطری پیغام ایک حد تک ان کی سمجھ میں آگیا جس کو وہ سمجھنا بھی نہیں چاہ رہے تھے اسلئے کہ قبائلی اقدار پر ان کو فخر تھا اور اسلام انسانی فطرت کی اچھائی کو جگہ دیتا ہے اور برائی کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے، اسلام جبر کا دین نہیں بلکہ واضح ہے کہ من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر (جو چاہے مؤمن بنے اور جوچاہے کفر اختیار کرلے)۔اچھا لگے تو یہ عقیدہ اپنالو۔ وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات اسلام کا معاشرتی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی ، علاقائی اور بین الاقوامی نظام کو ہمیں بھرپور سمجھنا ہوگا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ٹانک کی جامع مسجد میں یہ خطاب کیا تھا کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام سخت مذہب ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ایک شخص دوافراد مرد اور خاتون کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لیں تو جب تک شیشے کے بوتل میں انگلی کی طرح دیکھنے کی گواہی نہ دی کہ مرد کا عضو ء تناسل عورت کی اندام نہانی میں ڈھل چکا تھا تو اس کی گواہی معتبر نہیں ہوگی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ گوشت اور پوست کے مردو خاتون کو اس طرح دیکھا جاسکے؟۔ ہرگز نہیں۔ پھر ایک شخص دیکھ لے تو بھی اس کی گواہی معتبر نہیں ، دو افراد بھی دیکھ لیں تو بھی اس پرزنا کا اطلاق نہیں ہوتا،تین افراد بھی دیکھ لیں تو یہ معتبر نہیں۔ چار افراد دیکھ لیں، وہ بھی معتبرو تقویٰ دار ہوں، کسی خاتون کی گواہی بھی قابلِ قبول نہیں۔ کیا شریعت اسلامی حد جاری کرنے کیلئے رکاوٹ ہے یا حد جاری کرتی ہے؟۔ خوامخواہ اسلام کو اتنا سخت تصور کیا جاتا ہے۔ اسلام تو بہت نرم ہے‘‘۔ مولانا فضل الرحمن جن الفاظ میں اپنی تقریر کررہے تھے یقیناًعمران خان کے جس دھرنے کو مجراقرار دیتا تھا اس میں یہ جملے ادا نہیں ہوسکتے تھے ورنہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے جو خواتین شریک تھیں وہ سب اس اسلام کو سن کر شرم سے بھاگ جاتیں۔ حضرت آدم ؑ و حواء ؑ کے قصے کو جس شائستگی سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’جب مرد نے اپنی بیوی کو چادر اوڑھا دی، پھر اس کو ہلکا سا حملہ ہوا۔ پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اے ہمارے ربّ ہمیں صحیح سالم بچہ عطاء فرما۔ پھر اللہ نے بچہ دیدیا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگے‘‘۔ دنیا کی کسی تہذیب وتمدن میں اتنے مہذب الفاظ میں میاں بیوی کے تعلق کو اس طرح سے بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن جب کوئی کسی بیوہ یا طلاق شدہ سے شادی کرلے اور اس کی سابق شوہر سے بچیاں اسکے گھر میں جوان ہوجائیں اور اس کی نیت خراب ہوجائے تو بڑے سخت الفاظ میں کہا گیا کہ ’’ اگر تم نے ان کی ماں سے نکاح کیا اور ان میں تم نے ڈال دیا تو تمہارے لئے وہ بچیاں جائز نہیں اور اگر نہیں ڈالا ہے تو پھر تمہارے لئے جائز ہیں‘‘۔ قرآن ایک طرف مہذب الفاظ کی تعلیم دیتا ہے تو دوسری طرف منکر سے منع کرنے کیلئے ماں کے اندر ڈالنے اور نہ ڈالنے کی وضاحت کرکے انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے میں آسرا نہیں کرتا۔ افسوس کہ اتنے واضح الفاظ کے باوجود فقہ کی دنیا میں جو تضادکانصابِ تعلیم پڑھایا جارہاہے وہ بہت افسوسناک ہے۔ حرمت مصاہرت کے مسائل اور اختلافات نمایاں کئے جائیں تو دینی مدارس کے فارغ التحصیل اور پڑھنے پڑھانے والے کسی کو منہ تک دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے فقہ سے جو اسلام بیان کیا تھا وہ عوام میں فحاشی بڑھانے کا یا کم کرنے کاذریعہ ہے؟۔ رسول اللہ ﷺ کو قیامت میں شکایت ہوگی کہ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ہذالقرآن مھجورا ’’اے میرے ربّ ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ جب یہودی مرد اور عورت پر رسول اللہﷺ کی طرف سے حد اجراء ہوا تھا تو گواہی کے پیچھے ان کو چھٹکارا دلانے کی کوشش نہیں کی گئی تھی اور جب سورۂ النساء میں بدکاری کے باوجود عورت کو گھر میں نظر بند کرنے کا حکم تھا اور آگے جاکر لونڈی یا متعہ کی عادی سے نکاح کے فحاشی پر نصف سزا کا حکم تھا تو یہ حقیقت ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کا جو واقعہ لکھ دیا گیا تھا اور جس پر احناف اور جمہور کا شدید اختلاف بھی ہے لیکن واقعہ پر ازسرِ نو غور کرنا چاہیے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام سے زیادہ روشن خیالی کا تصور کوئی سیکولر دنیا بھی نہیں کرسکتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں گھومنے والے جوڑے اگر اسلام کی حقیقت جان لیں تو جسطرح تبلیغی جماعت نے 100سال تک نماز اور آذان میں خطبے میں لاؤڈاسپیکر کااستعمال نہیں کیا لیکن جب مولانا طارق جمیل کو تصویر کے جواز کا پتہ چل گیا تو ویڈیو کے ذریعے اسلام کی تشہیر شروع کردی ہے۔ اسی طرح قرآن وسنت میں ایگریمنٹ کا پتہ چل جائے اور سعودیہ کے مسیار کی معلومات مل جائیں تو جماعتوں کی تشکیل میں بھی اس پر عمل پیرا ہونگے ، لونڈے باز ڈرائیور اپنی گاڑیوں کے پیچھے ’’دعوت و تبلیغ زندہ باد‘‘ لکھتے ہیں۔ جائز طریقے پر ایگریمنٹ کی ضرورتمند خواتین سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے تو گاڑیوں کے آگے بھی’’ اسلام زندہ باد‘‘ کے نعرے لکھیں گے۔ اسلام ریئل ہے اور آئیڈیل بھی ہے ۔ قرآن و سنت کے حقائق کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ مولانا عبدالمنان ناصر نے بتایا تھا کہ ’’ پہلے حج میں عورت اپنے ساتھ محرم بنانے کیلئے مرغ کیساتھ نکاح کرلیتی تھی‘‘۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی معروف شخصیت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ’’اسلام آباد پولیس کے 90%افراد لوگوں کو کرایہ پر لڑکیاں سپلائی کررہے ہیں‘‘۔ دوبئی میں بھی پولیس والوں کا حال مختلف نہیں ۔ ہوٹلوں میں پولیس کا اپنا طے شدہ بھتہ ہوتا ہے۔ لاہور کا حال بھی دگرگوں ہے۔ عصمت فروشی کا دھندہ بھی ریاستی عناصر کی بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے تحت روا رکھا جائے تو کیا رہ جاتا ہے؟۔ جمعیت علماء اسلام کا سابق ایم این اے قاضی فضل اللہ چھوٹا لاہور صوابی پاکستان سے امریکہ پہنچا تو تاثرات یہ تھے کہ ’’حیوانوں سے انسانوں کی دنیا میں آیا ہوں‘‘۔ قرآن و سنت میں تمام انسانی ، معاشرتی ، ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا بہترین حل موجود ہے۔ کاش ! پاکستان کی عوام حقائق کی طرف توجہ دے دیں۔ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ و قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا مودۃ فی القربیٰ ’’کہہ دیجئے کہ مجھے تم سے قرآن پر کچھ نہیں چاہئے لیکن قرابتداری کی محبت کے تقاضوں پر عمل کا مطالبہ کرتا ہوں‘‘۔ اگر مشرکین مکہ اس پر عمل کرتے تو رسول اللہ ﷺ کو ہجرت نہ کرنی پڑتی۔ جب جاہل مشرکوں سے یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ اہل مکہ ہونے ، قریش ہونے ، عربی ہونے، پڑوسی ہونے اور عزیز و اقارب ہونے کے ناطے رسول اللہ ﷺ کے کچھ حقوق ہیں تو مشرکوں سے زیادہ مسلمانوں سے ان تمام رشتوں کے تقاضوں پر بھی عمل پیرا ہونا دین فطرت اسلام کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ والدین کیساتھ احسان کرو ، قرابتداروں کیساتھ بھی ، ان پڑوسیوں کے ساتھ بھی جو قرابتدار ہیں اور ان پڑوسیوں کیساتھ بھی جو اجنبی ہیں اور جو تمہارے ساتھ والے ہیں انکے ساتھ بھی احسان کرو اور جو تمہارے عہد و پیمان والے ہیں ان کیساتھ بھی احسان کرو۔ اسی طرح قرآن میں زکوٰۃ کیلئے بلا تفریق حادثات کا شکار ہونے والے ، مسافر ، غریب مساکین وغیرہ کا ذکر ہے جن میں غیر مسلم افراد مؤلفۃ القلوب کا خصوصی طور پر ذکر ہے۔ علاوہ ازیں اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے مستحقین پر خرچ کرو اور یہ اخلاقیات بھی ذکر کی ہیں کہ اگر کسی سائل کو دینے کے بعد طعنہ سے اذیت دینی ہو تو اس سے بہتر یہ کہنا ہے کہ صاف الفاظ میں منع کیا جائے اور معذرت طلب کی جائے۔ قرآن اصول اور اخلاقیات کی ایسی کتاب ہے جس پر عمل سے عروج حاصل کرسکتے ہیں۔