پوسٹ تلاش کریں

امام عبید اللہ سندھیؒ کے نام پر’’فکرشاہ ولی اللہ‘‘ تنظیم کی گمراہی اور قرآن و سنت کی درست تعبیر: تحریر عتیق گیلانی

shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-londi-muta-nikah-agreement-zina-biljibr-haq-e-meher

مولاناعبیداللہ سندھیؒ کو امام انقلاب تھے ، انکے بعض افکار سے اتفاق اور بعض سے اختلاف ہے۔ انہوں نے انقلاب کی کوشش کی ہے۔ کسی بات کا معقول جواب نہ ہو تو علماء اور مذہبی طبقہ گمراہی کا فتویٰ لگاتا ہے۔ مولانا سندھیؒ جید عالم تھے مگر آپ نے علماء و مذہبی طبقے کو ناقابلِ اصلاح و سخت الفاظ سے نوازا۔
مولانا سندھیؒ نے لکھا: ’’ شریعت میں بھائی سے بھی اپنی بیوی کا پردہ کرایاجاتاہے ، ہندوستان میں رائج پردہ شرعی نہیں۔ یہ ریاو شرفاء کا پردہ ہے جو خود کو عوام سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کی خواتین بھی عام خواتین سے بدتر ہیں جن کو یہ جھوٹا زعم و تکبر ہے کہ ہم عوام پر فوقیت رکھتے ہیں، عوام کیلئے رائج پردہ ممکن نہیں۔ یہ پردہ غلط ہے۔ جس قوم میں یہ پردہ رائج ہے ان میں زنا کے بجائے لواطت رائج ہے۔ زنا منع ہے مگر غیرفطری نہیں، لواطت صرف منع اور غیر فطری بھی ہے، اسلئے نام نہاد پردے کا تصور ختم کردینا چاہیے۔( تفسیرالہام الرحمن: مولاناعبیداللہ سندھیؒ )
مولانا سندھیؒ نے قرآن و اسلام کا حکم نہیں، اپنی ہی منطق بیان کی ہے۔ ایک جماعت ’’ فکر ولی اللّٰہی‘‘ کے نام سے مولانا سندھیؒ کی منطق پر کام کررہی ہے۔ ان کو گلہ ہے کہ’’ عتیق گیلانی اور اسکے ساتھی علماء کیخلاف سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں مگر علماء ان پر فتویٰ نہیں لگاتے ہیں جبکہ ہم انکے ہیں، ہم پر کفرو گمراہی کا فتویٰ لگاتے ہیں‘‘۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی‘‘۔ علماء کرام و مفتیانِ عظام اُمت کی اجتماعی ضمیر کی سب سے بڑی آواز ہیں۔سید مودودیؒ ، مولانا سندھیؒ ، غلام احمد پرویزؒ اور دیگر نابغۂ روزگار ہستیاں رہی ہیں لیکن علماء و مفتیان نے انکی گمراہانہ ذہنیت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
رسول اللہﷺ پر ہی وحی کا سلسلہ ختم ہوا، غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور غلطیوں کی وجہ سے اسکے مقام اور مرتبہ پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ حضرت آدمؑ کو جس شجرہ کے قریب جانے سے منع کیا تھا کہ ’’ بھوکے ننگے نہ ہوجاؤ‘‘ اور شیطان نے ہمیشہ والے اور نہ ختم ہونے شجرہ کا بتایا تو حضرت آدمؑ نے مغالطہ کھایا اور جنت سے نکالے گئے مگر ان کے مقام پر اثر نہیں پڑا۔ خلیفۃ الارض کا منصب پہلے سے متعین تھا اور اللہ نے وہاں پہنچادیا۔
مولانا سندھیؒ نے لکھا :’’ قرآن وسنت میں جن غلاموں و لونڈیوں کا ذکر ہے ،ان سے مراد دوسری قوم والے ہیں، جہاں ایک قوم کی اجتماعیت ہوتووہاں دوسری قوم والے لونڈی و غلام ہوتے ہیں۔ اپنی قوم کی چار خواتین کا ایک سے نکاح کی گنجائش ہے لیکن دوسری قوم کی لاتعداد اور بے شمار خواتین سے جنسی تعلق رکھنا جائز ہے کیونکہ وہ لونڈیاں ہے‘‘۔ پاکستان دو قومیتوں کے نظرئیے پر بنا تھا پھر بنگالیوں کو غلام ولونڈی کی طرح سمجھا گیا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیااور بڑی رسوائی کا سامنا ہوا۔
مولانا سندھیؒ کی فکر اس بحث کا نتیجہ جو چل رہی تھی کہ قوم مذہب سے بنتی ہے یا وطن سے؟۔ علامہ اقبالؒ و مولانا مدنیؒ اور مولانا آزادؒ و مولانا تھانویؒ کی طرف سے شرعی مباحثے ہورہے تھے، پاکستان بنا تو رات گئی بات گئی، نظریات بھی دفن ہوگئے۔
دورِ جاہلیت میں غلام اور لونڈی کا تصور تھا۔ غلام کو عبد اور لونڈی کو اَمۃ کہا جاتاتھا۔ قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔ قرآن اللہ کے سوا معبودوں کو نہیں مانتا۔ ایک طرف انکی نفی کرتاہے۔ دوسری طرف عبد نظام کی وجہ سے دوسرے انسان کا غلام ہوتا تھا تو اس غلامی کی حیثیت کو ایک معاہدے میں بدل دیاتھا۔ ایک آدمی کو اپنی گناہوں کا کفارہ ادا کرنا ہوتا تھا تو جتنے پیسوں کیوجہ سے لونڈی یا غلام گروی ہوتے تھے ان کی گردنیں چھڑا دی جاتی تھیں۔ آقا کا عبد سے تعلق اپنے پیسوں کی حد تک ہوتا تھا۔
ملکت ایمانکم قرآن میں لونڈی و غلام کیساتھ خاص نہیں بلکہ پڑوسی ، قرابتدار ، مسافر، کاروبار ی شراکت دار وغیرہ کے علاوہ مختلف انواع واقسام کے عہدوپیمان پر بھی اسکا اطلاق ہوتا ہے۔ متعہ ومسیار اور ایگریمنٹ بھی اس میں شامل ہے۔ قرآن وسنت میں یہ معاہدہ ہے۔ کچھ آیات ملاحظہ فرمائیے!
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلکََتْ أَیْمَانُکُمْ (النساء:3)’’اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہ کرسکوگے تو ایک ہی سے شادی کرلو یا جو تمہاری عہد و پیمان والی ہوں‘‘۔ امام سندھیؒ کے نزدیک پاکستان میں ایک شخص چار خواتین سندھی، بلوچ، پشتون اور پنجابی سے شادی کرسکتا ہے لیکن ان سے زیادہ نہیں، البتہ بنگالی، ازبک، عرب، یورپین اور دیگر اقوام کی لاتعداد کی حیثیت لونڈی کی ہوگی۔ اس طرح انکے مردوں کی حیثیت بھی غلاموں کی طرح ہوگی، عرب میں بھی یہی صورتحال رائج ہے۔ لیکن مغرب میں ایک شادی اور بہت سی گرل فرینڈز کی حیثیت عہد وپیمان والیوں کی ہے، اسلام میں نکاح کے علاوہ متعہ مسیار والیوں کی تشریح پر سعودی عرب اورایران کو متحد کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں عادلانہ نظام ہوگا۔ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ( النساء:24)اوربیگمات خواتین سے مگر جو تمہاری عہد وپیمان والی ہوں‘‘۔عرب کے بادشاہ اور بڑے لوگ اپنی طلاق شدہ اور بیوہ بیگمات سے بھی شادی نہیں کرنے دیتے ہیں۔ خواتین بھی بعض اوقات اپنا اسٹس برقرار رکھنے کیلئے بیوہ ہونے کے باوجود کسی ایرے غیرے سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ہیں اور ڈھنگ کا کوئی رشتہ ملتا نہیں ہے۔ رشتہ کرنے پر وہ فوت شدہ شوہر کی مراعات ، پینش، جائیداد سے محروم ہوجاتی ہیں تو انکے ساتھ نکاح کرنے کی حرمت کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اپنی مراعات سے محروم نہ ہوں۔ ایک بڑے سرکاری افسر کی بیوہ سے شادی کا دعویٰ کیا جائے اور وہ حقیقت مان لے تو مراعات سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ متعہ سے مسئلہ نہ ہو گا۔ قرآن زمان ومکان کی تنگیوں سے بہت بالاتر ہے۔ فَمِنْ مَا مَلَکَتْ أَیمَانُکُمْ مِنْ فَتَیاتِکُمُ الْمُؤْمِنَات( النساء:25)’’پس تم میں سے وہ جوان مؤمن خواتین جو معاہدے ولی ہوں‘‘۔آیت میں یہ پسِ منظر بیان کیا گیا ہے کہ ہر لحاظ سے قابلِ قبول آزاد لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین نکاح کیلئے میسر نہ ہوں تو پھر ان لونڈیوں یا متعہ کرنے والیوں سے بھی نکاح کرسکتے ہو۔ جب تم ان سے نکاح کرلو، تو ان کو بھی کمتر مت سمجھو۔ تم بعض بعض سے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو جانتا ہے کہ نفس کی پیاس بجھانا اور اپنی فوقیت دکھانا تمہارا کام ہے، ایسا قطعی نہیں ہونا چاہیے۔
وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ فَآتُوھُمْ نَصِیبَھُمْ ( النساء: 33)اورجن سے تمہارا پختہ معاہدہ ہوتو ان کو ان کا حصہ دیدو‘‘۔ اس میں وراثت کے اعتبار سے ہرقسم کا ایگریمنٹ شامل ہے اور جن خواتین نے مردوں سے کوئی ایگریمنٹ کیا ہو یا مردوں نے خواتین سے کوئی پکا معاہدہ کیا ہو، وراثت میں اس کی قانونی حیثیت کو قرآن نے واضح کیا ہے وراثت کے قانون میں جو وصیت اور قرضہ کا ذکر ہے، یہ معاہدہ بھی اسی کے ضمن میں ہے اور حضرت ابراہیمؑ نے اپنی بیوی حضرت ساراؑ اور ان کی اولاد کو اپنی ملکیت ، جائیداد اور گھر کا وارث بنایا، لونڈی حضرت حاجرہؑ کو وادی غیر ذی زرع میں معصوم بچے اسماعیلؑ کساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہؓ نے بھی ایک لونڈی کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ سورۂ تحریم میں ان کی وجہ سے وہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ جس نے انسانیت کی تاریخ کو بدلا۔ حقائق سامنے آگئے تو کارٹون بنانیوالے سورۂ تحریم کی بنیاد پر اسلام قبول کرینگے۔ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ( النساء:36)اور پڑوسی اور مسافر اور جو تمہارے عہدو پیمان والے ہوں۔یہ آیت انسانی حقوق کے حوالہ سے عالمی نوعیت کی ہے۔ پڑوسی ومسافر کیساتھ تحریری معاہدہ نہیں مگر انکا حق ہے۔ زکوٰۃ کے مصارف میں حادثات کا شکار ہونے والوں کا بھی ذکر ہے۔ دنیا کی سطح پر عالمِ انسانیت کے تمام مظلوم ومجبور وں کی مدد اس میں شامل ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ اپنے مشرک حلیفوں کی وجہ سے نبیﷺ نے توڑ دیا تھا۔ حلف الفضول کی تائیدپر نبیﷺ نے خوشی کا اظہار فرمایا تھا۔
أَوْ بَنِي أَخَوَاتِھِنَّ أَوْ نِسَاءِھِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُھُنَّ او التابعین غَیر اُولِی الاربۃ مِن الرِجَال( النور:31)’’یا بھانجوں سے یا اپنی عورتوں سے یا جنکے عہد کی وہ مالک ہوںیا وہ تابع آدمیوں میں سے جو عورتوں میں رغبت نہ رکھتے ہوں‘‘۔
اس آیت میں پردے کاحکم ہے جن میں محارم کا ذکرہے۔ غلام سے زیادہ ملکت ایمانھن سے مرادایگریمنٹ والے مراد لینا جائز ہے۔ جب کسی آزاد عورت کا غلام سے نکاح ہو یا کسی بالادست عورت کا تعلق کسی کمزور حیثیت والے مرد سے ہو جائے تو معاہدے کی ملکیت کی نسبت عورت کی طرف ہوگی، مریم نواز کیپٹن صفدر کی بیگم ہے لیکن شوہر بااختیار نہیں۔
وَالَّذِینَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوھُمْ ( النور: 33)اور عہد والوں میں لکھت کا معاہدہ کوئی چاہتے ہوں تو ان سے مکاتبت کرو۔اس آیت غلاموں کو آزاد کرنے کے حوالے سے معاہدے کی بات نہیں ہوسکتی ہے، اسلئے کہ غلام کو آزاد کرنے میں ویسے بھی خیر ہے۔ بیوہ و طلاق شدہ کیلئے کوئی آزاد میسر نہ ہو تو مؤمن غلام بھی بہتر ہے۔ اگر غلام بھی صرف پیسے لیکر متعہ کرنا چاہتے ہوں تو پھر اس میں خیر کا پہلو نظر آئے تو ان کے ساتھ مکاتبت تحریری معاہدہ کرنا چاہیے، کیونکہ کل وہ آزاد ہوگا تو اولاد کے حوالہ سے عورت کو پریشانی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کسی غریب سے بھی معاہدے میں متعہ کے حوالہ سے بہت سی چیزیں طے ہوسکتی ہیں۔
یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ( النور:58)’’اے ایمان والو! تم سے اجازت طلب کریں جنکے تم عہدوپیمان کے مالک ہو‘‘۔ اس آیت میں غلام مرد ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ غلاموں کو ایک معاہدے کی شکل میں قانونی حیثیت دی گئی ،تاکہ ان سے عبد جیسا رویہ ختم ہو ۔
ھَلْ لَکُمْ مِنْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاکُمْ ( الروم:28)کیا جن سے تمہارا معاہدہ ہے ان میں کوئی تمہارا شریک ہے جو ہم نے تمہیں رزق دیا ؟۔یہاں پر کاروباری شریک مراد ہے۔اپنے حصے میں کوئی شراکت دار کو شریک نہیں سمجھتا۔وَلا تَجعلُو ا اللہ عُرضَۃ لِایمَنِکُم اَن تَبرُوا و تتقوا و تصلحوا بین الناس (البقرۃ: 224) اور نہ بناؤ،اپنے معاہدوں کیلئے اللہ کو ڈھال کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور عوام کے درمیان مصالحت کرو۔یہ آیت طلاق کی حقیقت کیلئے ایک بنیادی مقدمہ ہے۔ ایلاء، اکٹھی تین طلاق، ظہار، حرام اور طلاق سے متعلق جتنے صریح وکنایہ الفاظ ہیں اس میں ایک عام حکم جاری کیا گیا ہے کہ میاں بیوی صلح کیلئے راضی ہوں تو کسی قسم کے الفاظ کو اللہ کا نام لیکر انکے درمیان رکاوٹ کی بات نہ کرو۔ یہ نیکی ، تقویٰ اور مصالحت میں اللہ کے نام پر کوئی رکاوٹ قرآن کے منافی ہے اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جہانتک آیت230کاتعلق ہے تو اس سے پہلے اور بعد میں نہ صرف رجوع واضح ہے بلکہ یہ وہ صورتحال ہے جب دونوں ملنا نہ چاہتے ہوں۔ لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِي أَیْمَانِکُمْ ولکن ےؤاخذ کم بماکسبت قلوبکم البقرۃ: 225 نہیں پکڑتا اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے مگر پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے۔اس میں صریح وکنایہ کے الفاظ پرفیصلہ دیا گیاہے کہ علماء کے پیچھے گھومنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
اِن الذِینَ یَشتَرُون بِعَھد اللہِ وَاَیمانِھم ثَمَناً قَلِیلاً اُولئک لَا خِلاقَ لَھُم فِی الاٰخِرۃِ، آل عمران: 77 بیشک جو لوگ تھوڑی قیمت لیتے ہیں اللہ کے عہد اور اپنے عہد و پیمان سے انکا آخرۃ میں حصہ نہیں ۔ انسان اللہ سے ہرنماز میں بار بار وعدہ کرتا ہے اگر وہ اللہ کے قوانین کو توڑ کر غلط فتوے دیتا ہے تو اس کا آخرت میں بالکل بھی کوئی نہیں ہوگا۔ تدبر کرو!۔ لایؤاخذکم اللہ با للغو فی ایمانکم ولٰکن یؤاخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم او کسوتھم او تحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام ثلاثۃ ایامٍ ذٰلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم واحفظوا ایمانکم کذٰلک یبین اللہ لکم اٰیتہٖ لعلکم تشکرون (المائدہ: 89)’’نہیں پکڑتا ہے اللہ تمہیں تمہارے لغو عہد پر لیکن جب تم اپنے عہد کو پختہ کرچکے ۔ تو اسکا کفارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے،اوسط درجے کا جو تم اپنے اہل کو کھلاتے ہویا انکا کپڑا،یا کسی کی گردن کو آزاد کرنا ہے ، یہ تمہارے عہدوپیمان کا کفارہ ہے جب تم قسم اٹھاؤ۔ اور اپنے عہدو پیمان کی حفاظت کرو، اس طرح اللہ واضح کرتا ہے اپنی آیات کو ، ہوسکتاہے کہ تم شکر ادا کرو‘‘۔
فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں یمین کو صرف قسم قرار دیا گیا اور بہت فضول قسم کے اختلاف وتضاد کے مسالک ہیں،قرآن کاترجمہ وتفسیر میں بھی اپنے غلط افکار ڈال دئیے گئے ۔ یہ واضح ہے کہ پختہ عہدوپیمان کو توڑنا گناہ ہے لیکن اس پر کفارہ نہیں ہے اور جب ایمان حلف کے معنی میں ہو تو اس پر کفارہ ہے۔ یمین قسم کو بھی کہتے ہیں اور محض عہد کو بھی۔ یہ قرآن میں واضح ہے۔
واللہ فضلکم فی الرزق بعضکم علی بعض فَمَا الَّذِینَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِھِمْ عَلَیٰ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ فھم فیہ سوآء ( النحل:71)اور اللہ نے تمہیں میں بعض کو بعض پر رزق میں فضلیت دی ہے۔ جن لوگوں کو بالادستی ہے اپنے عہد وپیمان والوں کو انکے رزق کو لوٹانے کی تووہ اس میں برابر کے شریک ہیں۔’’ اس آیت کے ترجمہ وتفسیر میں بھی بڑا مغالطہ کھایا گیاہے۔اس میں وضاحت ہے کہ اگر کاروبار میں دوافراد شریک ہوں ۔ ایک کام ایک کرے اور دوسرا کام دوسرا کرے تو جب ایک کو منافع زیادہ ملے تو اس میں جس سے عہد و پیمان ہوا ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔سیاق وسباق سے یہی اخذ ہوتا ہے لیکن آیت کا سوالیہ نشان بنایا گیاہے کہ کیا غلام بھی تمہارے ساتھ تمہارے رزق میں شریک ہیں پھر کیوں شرک کا ارتکاب کرتے ہو؟۔اس سے پہلے انسان کو رذیل عمر کی طرف لوٹنے کی خبر ہے اور اپنے شریکار کو برابر کا حصہ دینے کیلئے واضح کیا ہے کہ کیا تم اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہو؟۔ پھر ازواج اور بیٹوں وپوتوں کا ذکر کیا ہے۔ جس کا مطلب کاروبارمیں دھوکہ سے روکنا ہے۔ کاروباری شریک کا دھوکہ سے منع کیا گیاہے۔ واوفوا بعہداللہ اذا عٰھدتم اذاوَلا تَنقُضوا الاَیمانَ بَعد تَوکِیدھا (النحل:91)اورپورا کرو اللہ کیساتھ عہد کو جب تم عہد کرواور اپنے عہدکو نہ توڑ و،اس کو پختہ کرنے کے بعد اس آیت میں ایمان سے مراد عہدہی ہے لیکن قسم مراد لیاہے۔
تَتَّخِذُونَ أَیْمَانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ أَنْ تَکُونَ أُمَّۃٌ ھِيَ أَرْبَیٰ مِنْ أُمَّۃٍ ( النحل:92)کہ عہدوپیمان کو واردات بناؤ کہ ایک فریق دوسرے سے زیادہ نفع حاصل کرلے۔اس میں قسم کے ذریعہ سے نفع حاصل کرنا بھی ہے اور وعدوں سے بھی سیاستدانوں کی طرح دھوکہ دینا مراد ہے۔
وَلَا تَتَّخِذُوا أَیْمَانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِھَا ( النحل:94)اورنہ بناؤاپنے عہدوپیمان کو واردات آپس میں کہ گراوٹ کا ذریعہ بنے قدم جمنے کے بعد اور پھر تم برائی کے مزے کو چکھ لو ، بسبب اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے۔ اور تمہارے لئے برا عذاب ہوگا۔یہ اخلاقی تربیت ہے کہ جھوٹے وعدوں اور قسموں کو دھوکہ بازی کا ذریعہ نہ بناؤ۔
إِلَّا عَلَیٰ أَزْوَاجِھِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ فَإِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُومِینَ ( المؤمنون:6)جواپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں یا جن سے معاہدہ ہو تو ان پر ملامت نہیں۔وَمَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّہُ عَلیکَْ ( الأحزاب:50)اور وہ جوتیرے معاہدہ کی ہوں جو اللہ تجھے عطا کرے۔ قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم لکی لا یکون علیک حرج و کان اللہ غفور اً رحیماً ( الاحزاب:50)بیشک ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مقرر کیا ہے،ان پر ان کی بیویوں کا حق مہراور جن سے ان کا عہدو پیمان ہوا ہے ان کا اجر۔ تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ غفور اور رحیم ہے۔
ولایحل لک النساء من بعدوَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ ( الأحزاب:52)اوراسکے بعد آپ کیلئے عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ انکے بدلے کوئی کرلیں اگرچہ ان کا حسن آپ کو اچھا لگے مگر جو آپ کی لونڈی ہو۔ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِھِنَّ وَلَا نِسَاءِھِنَّ وَلَا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُھُنَّ ( الأحزاب:55) اور نہ انکے بھتیجوں سے ،نہ انکی خواتین اورنہ انکی لونڈیوں سے۔ قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ أَیْمَانِکُمْ وَاللَّہُ مَوْلَاکُمْ ( التحریم:6)اور اللہ نے مقرر کیا ہے تمہارے عہد کوحلال کرنا اوروہ تمہارا مولا ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت ماریہ قبطیہؓ کو اپنے اوپر حرام قرار دیا تھا ، اس کو ایمان قرار دیا گیاہے۔ تحلۃ کفارہ کو بھی کہتے ہیں لیکن نبیﷺ نے اس کا کفارہ نہیں دیا۔ اسلئے کہ یہاں کفارہ مراد نہیں بلکہ عہد کو حلال کرنا مراد ہے۔
إِلَّا عَلَیٰ أَزْوَاجِھِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُھُمْ فَإِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُومِینَ ( المعارج:30)مگر اپنی بیویوں پر اور جوان کی عہدوپیمان والی ہوں تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔
اصولِ فقہ ، فقہ، تفاسیر کی کتابوں میں قرآن کے مجموعی الفاظ پر نظر دوڑانے کے بعد علمی نکات اخذ کئے ہوتے تو بہت بڑے مغالطے، اختلافات اور تضادات میں مبتلا نہ رہتے۔ غلطی ہونا بڑی بات نہیں لیکن غلطیوں پر اصرار کرنا ابلیسی عمل ہے۔
فقہاء نے قسم کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ 1:یمین لغو 2: یمین غموس،3: یمین منعقدہ۔ کس مسلک میں کس قسم پر کفارہ ہے اور کس پر نہیں؟۔ اختلاف کی حقیقت سمجھ کر ہنسی آئے گی۔ یہی نہیں بلکہ سورۂ بقرہ کی آیت229 اور 230 کے درمیان اتصال اور جوڑ پر جس طرح پاگل پن کامظاہرہ کیا گیا ہے ان کو دیکھ شیخ چلی کے لطیفے بھی بھول جاؤ گے۔ قرآن نے وضاحت کیساتھ مسائل واضح کردئیے ہیں ان سے پہلوتہی برتنے کیلئے جان بوجھ کر حماقت کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔
متحدہ مجلس عمل کے علماء اور مذہبی جماعتوں کو اگر اسلام کی فکر ہے تو تمام مکاتبِ فکر کیلئے قابلِ قبول مسائل کا حل عوام کے سامنے پیش کریں،میری خدمات حاضرہیں اور مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے صرف ووٹوں کی زکوٰۃ لینی ہے اور اتحاد کے نام پر دوسری جماعتوں سے پیسہ بٹور رہے ہیں، اپنے اداروں کیلئے خیرات ، صدقہ اور زکوٰۃ لینا بھی انکا مقصد ہے۔ تاہم پشتون تحفظ موومنٹ کی طرح ہم درست مقاصد کیلئے ان کو بھی سپورٹ کرینگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انقلاب آسکتاہے۔
سعودیہ عرب کی حکومت اسلامی تہذیب وتمدن کیلئے سب سے بڑی ماڈل تھی لیکن اب سینما، جوئے کے اڈے اور خواتین کی ریس وغیرہ کے علاوہ تمام حدود وقیود سے نکل رہے ہیں۔ اگر انکے علماء ومفتیان حکومتی فنڈپر صرف قرآن وسنت کی خدمت کرتے تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ پاکستان میں بالعموم پنجاب میں بالخصوص افسوسناک صورتحال ہے۔ روز بچے و بچیوں کو جبری جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا جا رہا ہے۔ سزاؤں کا کوئی اتہ پتہ نہیں، جرائم کی تشہیر سے جرائم میں اضافہ ہواہے اور نہ کریں تو مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ جبری نظام ہم نے گھر سے سیکھ کر معاشرے میں تشکیل دیا ۔ قرآن کی واضح آیات کے مطابق عورت کو گھر چھوڑنے اور خلع کیلئے حدیث میں ایک حیض کی عدت کافی ہو تو کوئی بیوی کو ایک تھپڑمارنے کی ہمت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ اسلئے کہ عورت چھوڑ کر جاسکتی ہو تو مردتھپڑ نہیں مارے گا۔
اسلام میں جبری زنا کی سزا قتل اور سنگساری ہے۔ پاکستان میں عرصہ تک شکایت کرنے والی خواتین کو بھی قیدکردیا جاتا کہ گواہ لاؤ حالانکہ نبیﷺ نے متأثرہ خاتون سے گواہ طلب نہیں کئے، سچ کا یقین ہونے پر سزا کا حکم دیا لیکن پرویز مشرف کے دور میں مفتی تقی عثمانی نے من گھڑت دلائل دئیے تھے۔
ہمارے ہاں جب خاتون نکاح میں ہو تو اسکے حقوق اتنے غصب کئے گئے ہیں کہ ایک لونڈی بھی اسلام نے اسقدرغلامی میں نہیں پھنسائی ہے۔ طلاق کے بعد بھی نہ بسانے کا ارادہ ہو تو بھی دوسری جگہ شادی کرنے پر مار دیا جاتاہے۔ اس سے بڑی اور بدترین غلامی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ دوسری جانب اس کووہ حقوق حاصل نہیں ہوتے جو ایک منکوحہ کے طلاق کے بعد بھی ہوتے ہیں بلکہ حقوق کے لحاظ سے پھر وہ متعہ والی عورت سے بھی بدتر بنتی ہے۔ خلع کیلئے بھی منہ مانگی قیمت جائز ہوتی ہے۔

مولانا آزادؒ کی تجاویزاورہماری خوش اسلوبی کافائدہ: اداریہ نوشتہ دیوار کالم 4 صفحہ 2 شمارہ اپریل 2018

triple-talaq-in-islam-halalah-maulana-muhammad-khan-sherani-molana-yusuf-binori-agreement-marriage-nikah-mut'ah-mufti-mehmood-kathputli

مولانا ابوالکلام آزادؒ کے نظرئیے اور داڑھی کی تراش سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان کی قابلیت کا انکار مخالف بھی نہیں کرتا، مولانا آزادؒ بھارت کے وزیرِ تعلیم تھے تو علماء کے سامنے تجویز رکھی’’ جن کتابوں کو درسِ نظامی میں پڑھایا جاتا ہے یہ زوال کے دور کی ہیں۔ اسلامی علوم کو عروج ملا ،پھرعلوم کا زوال ہوا تو ساتویں صدی ہجری میں انتہائی پستی کا دور آیا۔ تفتازانی وغیرہ نے وہ کتابیں لکھیں کہ مغلق عبارات کی خود شروحات لکھ دیں۔ شکایت ہے کہ علماء میں استعداد نہیں لیکن یہ کتابیں علماء کو کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہیں۔ یہ نصاب نہ بدلا تو علماء فراغت کے بعد استعداد نہیں علم وعقل سے بھی محروم ہونگے‘‘۔ آزادؒ کی تجویز کے بعد نصاب کی تبدیلی پر بازگشت رہی ہے لیکن اس پر عمل کی مطلوبہ صلاحیت نہ تھی۔ آزادؒ نے لکھ دیا کہ ’’ اصولِ فقہ میں کمزوریاں ہیں اگر کسی اہل عقل کی نظر پڑگئی تو اسکا ڈھانچہ زمین بوس ہوجائیگا‘‘۔ جمعیت علما اسلام کے مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے کہا: ’’ آپ نیا نصاب تشکیل دیں تو میں ذمہ لیتا ہوں کہ اسی کو علماء پڑھائیں گے‘‘۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل بن گئے تو میں نے متعدد بار ملاقات کی، تین طلاق اور حلالے کا مسئلہ سلجھانے پر پر زور دیا مگر ان کو فرصت یا جرأت نہیں تھی یا خواتین کی عزتوں اور شرعی مسائل کی اہمیت نہ تھی۔
امام ابوحنیفہؒ کیخلاف اسماعیل بخاریؒ اور سید عبدالقادر جیلانیؒ نے بڑا سخت لہجہ استعمال کیا تھا۔ مولانا آزادؒ پر مولانایوسف بنوریؒ نے زندیق کا فتویٰ لگادیا۔فتوے سے دونوں قسم کے اکابر ؒ پر فرق نہیں پڑتا۔ اکابرؒ تو اکابرؒ تھے، صحابہ کبارؓ میں شدید علمی وعملی ، سیاسی اور مذہبی اختلافات تھے۔ صحابہؓ سے بڑھ انبیاءؓ تھے۔ موسیٰ ؑ و ہارون ؑ انبیاء سگے بھائی تھے، موسیٰ نے ہارون ؑ کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑ ا تو جھگڑا جائیداد کانہیں مذہبی تھا۔ موسیٰؑ نے کہا کہ ان کو شرک کیوں کرنے دیا؟۔ ہارون ؑ نے کہا کہ تیری غیر موجودگی میں تفریق اور پھوٹ سے بچانا تھا، دیوبندی و بریلوی کے اکابر ایک ہیں ۔ مفتی شاہ حسین گردیزی نے لکھا ’’دیوبندی اکابرؒ نے عاشورہ میں شہدائے کربلا کا تذکرہ بدعت قرار دیا اور بریلوی اکابرؒ نے جواز بخشا تھا لیکن نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بریلوی اکابرؒ زیادہ کامیاب رہے اسلئے کہ پہلے بڑی تعداد میں اہلسنت کے تعزئیے نکلتے تھے اور پھر بعد میں اہلسنت کے تعزئیے بہت کم ہوگئے‘‘۔
بریلوی دیوبندی معرکۃ الآراء مسئلہ نور وبشر کا ہے مگر بریلوی مقبول کتاب ’’ بہار شریعت میں انبیاء کرام ؑ کیلئے بنیادی عقیدہ یہ لکھاہے کہ انبیاء کرامؑ بشر ہوتے ہیں‘‘۔ دیوبندی مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب ’’نشر طیب فی ذکر حبیبﷺ‘‘ کی پہلی فصل ’’نبی ﷺ کے نور‘‘ پر لکھ دی کہ ’’کائنات میں سب سے پہلے نبیﷺ کا نور پیدا ہوا ‘‘۔ مناظرانہ بحث، ایکدوسرے کیخلاف نفرت کی ضرورت نہیں لیکن کچھ نے منافرتوں سے شہرت کمائی، یہ ذریعہ معاش نہ ہوگا تو سب ٹھیک ہوجائیگا۔
استاذ گرامی جامعہ بنوری ٹاؤن کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مدظلہ العالی کی طرف سے ہماری تحریک کے حوالے سے میری ایک کتاب میں آپ کی تحریرہے جس میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خواہش والوں کی حضرت امام مالکؒ کے قول سے رہنمائی ہے کہ ’’ اس امت کی اصلاح نہ ہوگی مگر جس چیز (قرآن وسنت) سے اس امت کی پہلے اصلاح ہوئی ہے‘‘۔ جب تک تعلیمی نظام درست نہ ہو تو علماء اور صلحاء سے بھی بات نہیں بنے گی۔ اکابرین ؒ نے علم و تقویٰ میں کمی نہ چھوڑی مگر علم اور تقویٰ جاتا رہاہے ۔ نصاب کی غلطیوں کو درست کیا تو رشدوہدایت کے چراغ روشن ہونگے اور مساجد ومدارس مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے حقیقی اسلامی اور روحانی مراکز ہونگے جنکے منبر ومحراب اوربلندمیناروں سے حقیقی محبت ہوگی اوردل کی عقیدت سے علماء اور صلحاء کو لوگ چومیں گے۔ عقیدت ومحبت کا جذبہ بھی ٹھیک استعمال ہوگا۔
سعودیہ میں مذہب کا کردار نیست و نابود ہوا۔ عوام نے مذہب سے بغاوت کا راستہ اپنایا ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں دوسری سیاسی جماعتوں کیلئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کرکے گزارہ کرتی ہیں لیکن کام علماء ومفتیان کے حیلے تراشنے نے خراب کیا ہے۔ مفتی محمودؒ نے زکوٰۃ کے مسئلے پر حق کی آواز اٹھائی لیکن دارالعلوم کراچی کے مفتیان نے حیلہ تراشا۔ سود ی بینکاری کو اسلامی قرار دیا اور سارے علماء کی مخالفت نے دم توڑ دیا۔ اگر سوداسلامی ہو تو اسلامی نظام کیلئے کوشش نہیں ہر چیز کا نام بدل دیا جائے،اسلام نے اجنبیت کا بڑا سفر طے کیا،سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔
قرآن میں جنسی تعلق کے جائزطریقے 1نکاح اور2 معاہدہ ہیں۔ یمین عہد و پیمان کوبھی کہتے ہیں۔ لونڈی سے نکاح اور معاہدہ اور آزاد عورت سے بھی نکاح اور معاہدہ ہوسکتا ہے۔ ملکت ایمانکم کا جملہ قرآن میں مختلف پیرائے میں آیا ہے۔ لونڈی کیلئے اَمۃ اورغلام کیلئے عبد کا لفظ ہے۔ ملکت فعل ایمانکم اسکا فاعل ہے۔ یعنی جنکے مالک تمہارے معاہدے (ایگریمنٹ) بن جائیں۔ اس جملے کی درست وضاحت کیلئے قرآن کی آیات ہیں جن کی نشاندہی کے بعد علماء کرام ، مفتیان عظام اور قارئین پر واضح ہوگا کہ یہ جملہ قرآن میں معاہدہ کیلئے بھی استعمال ہوا ہے۔ کسی عورت کا شوہر گم ہو اور چار سال بعد اس کو عدتِ وفات کے بعد دوسرے شخص سے شادی کی اجازت ملے۔ کچھ عرصہ بعد پہلا شوہر نمودار ہوجائے تو مسئلہ کیا ہوگا؟۔ دوسرے شوہر سے اسکا نکاح نہ ہوگا بلکہ اس کی حیثیت ایک معاہدے کی ہوگی ، اگر عورت اس کو برقرار رکھنا چاہے تو بھی اس کی گنجائش ہوگی اور اگر عورت معاہدے کو ختم کرنا چاہے تو بھی اجازت ہوگی۔ یہ صورت اس وقت بھی پیش ہوگی کہ جب کوئی عورت لونڈی بن جائے یا وہ دارالکفر کو چھوڑ کر مسلمان بن جائے اور پھرکوئی شخص اس سے معاہدہ کرلے ۔ پہلا شوہر اسلام قبول کرلے اور عورت پہلے شوہر سے ہی اپنا نکاح باقی رکھنا چاہے تو دوسرے شوہر سے اسکے تعلق کی حیثیت معاہدے کی ہوگی۔ یہ اسلام کا کمال ہے کہ قرآن نے لونڈی کو بھی نکاح اور ایگریمنٹ کی اجازت دی تھی۔البتہ ایگریمنٹ کے لفظ کو لونڈی کیساتھ خاص کرنے کا کوئی جوا زنہیں تھا۔
امریکہ کی ایرانی نژاد خاتون نے ایک ضخیم کتاب لکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بڑا غلط تأثر پیش کیا۔ نکاح،متعہ اور لونڈی سے جنسی تعلق اور قوانین پیش کرکے اسلام اور اُمۃ کو بدنام کیا۔حالانکہ امریکہ اور مغرب میں نکاح و ایگریمنٹ کے قوانین بالکل غیرفطری ہیں جس سے مغرب بہت معاشرتی مسائل کا شکار ہے۔ اسلام کا درست تصور انقلاب عظیم کا بہت بڑا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور اسکا کریڈٹ مدارس کو جائیگا، اسلئے کہ میں اپنے علم کا سرمایہ افتخار اپنے اساتذہ کرام ، حنفی مسلک اور اصولِ فقہ کی تعلیمات کو سمجھ رہا ہوں۔ مدارس نے قرآن وسنت کے علاوہ مسالک کے درمیان تقابلی جائزے کا میدان کھلا نہ رکھا ہوتا تو قرآن وسنت کی درست تعبیر تک دماغ کبھی نہ پہنچتا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء ، اسلاف وا خلاف ، اساتذہ کرام کی جو قدر ومنزلت میرے دل میں ہے وہ اپنے والدین اور پیرومرشد کی بھی نہیں۔علماء حق نے رشدوہدایت کا چراغ ہرمشکل دور میں جلائے رکھا۔ ٹمٹماتا ہوا یہ دیاپوری دنیا کو روشن کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے لیکن ہم نے قرآن وسنت کی طرف رجوع نہ کیا تو ذلت ورسوائی مقدرہوگی۔لباس واطوار،طلاق، خلع، نکاح، معاہدہ، پردہ اور دیگر معاملات پر قرآن وسنت سے رہنمائی لینی بہت ہی ضروری ہے ۔ سید عتیق گیلانی

قرآن وسنت کی تعلیم سے دنیا میں انقلابِ عظیم برپا ہوا: اداریہ نوشتہ دیوار کالم 3 صفحہ 2 شمارہ اپریل 2018

halala-ki-lanat-khawateen-ki-behurmati-fatwa-agreement-marriage-tehreef-e-quran-maulana-anwar-shah-kashmiri-

بڑی اہم بات ہے کہ مفسرین نے بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں جسے علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے معنوی تحریف کا نام دیا ۔فقہ کی کتابوں میں مکاتبت سے مراد یہ ہے کہ کوئی غلام معاہدہ لکھ کر پیسوں سے خود کو آزاد کردے، مفسرین نے یہی مکاتبت مراد لی ہے، حالانکہ قرآن کی اس آیت میں غلام کو پیسے دینا واضح ہے جو اسی صورت میں ہوسکتاہے کہ کسی خاتون خاص طور سے بیوہ و طلاق شدہ کو آزاد شخص نکاح کیلئے میسر نہ ہو تو غلام کو پیسے دیکر بھی معاہدہ ہوسکتاہے۔ غلام کو آزاد کرنے میں خیر کا تصور لینا کتناغلط ہے۔ کیایہ کہا جاسکتا ہے کہ’’ اگر آزادی میں خیر ہوتو ہی آزادنہ کرو؟‘‘۔
آگے اللہ نے فرمایا:’’ اور ہم نے تمہاری طرف واضح آیات نازل کی ہیں جیسے تم سے پہلے گزرنے والوں کیلئے نازل کی تھیں۔ تقویٰ والوں کیلئے نصیحت ہیں ۔اللہ زمین اور آسمانوں کا نور ہے۔ اسکے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے ۔چراغ ایک قندیل(شیشے) میں ہے،قندیل گویاموتی کی طرح کا ایک چمکتا ہوا تارا ہے۔اس میں مبارک درخت زیتون کا تیل جلایا جاتاہے نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے۔ ………….. ‘‘ (سورۂ نور آیت32سے 35)۔ ان آیات کی روشنی انسانی فطرت کو ایسا متأثر کرسکتی ہے جو عظیم انقلاب کا ذریعہ ہے۔ مشرقی و مغربی تہذیب کا قرآنی آیات پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔اللہ نے واضح کردیا ہے۔
شوہر کی گمشدگی پر 80 اور 4سال کا بڑا تضاد غلط تھا۔ اللہ نے فرمایا: وانزلنا الکتاب تبیانا لکل شئی ’’اور ہم نے کتاب نازل کی ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے‘‘ تو کیا اللہ کی کتاب میں شوہر کی گمشدگی جیسے اہم مسئلے کا حل بھی موجودنہ تھا؟۔
عورت گمشدہ شوہر کیلئے خود انتظار کرنا چاہتی ہو تو مسئلہ نہیں۔ قیامت تک نکاح قائم رہتا ہے یوم یفر المرء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبتہ و بنیہ’’ اس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے، ماں سے، باپ سے، بیوی سے، بچوں سے‘‘۔ ناراضگی میں انتظار 4ماہ ہے، طلاق میں 3ماہ یا تین مرحلے ( 3طہرو حیض)اور وفات میں 4ماہ 10 دن۔ شوہر کی گمشدگی پر لامحدود یا غیر فطری انتظار نہیں ہوسکتا ۔
اسلام کا بڑا کمال ہے کہ طاقتور سے زیادہ کمزور کیلئے رعایت ہے۔ سورۂ النساء آیت 19میں پہلے عورت کیلئے حق خلع پھر مرد کیلئے آیت20، 21میں خواتین کے حقوق کیساتھ طلاق کی وضاحت کی ۔ حدیث میں غلام کی دو طلاق، لونڈی کی عدت دو حیض اور خلع میں عورت کی عدت ایک حیض ہے۔ جب شوہر کی موجودگی میں خلع کا حق عورت کو ہے تو شوہر کی گمشدگی میں خلع کا حق بدرجہ اولیٰ ہے۔ قرآن وسنت کے باوجود خاتون کو شوہر کی گمشدگی پر بڑے عرصہ تک مجبور کرنا بہت بڑا المیہ ہے۔
خلع و طلاق میں فرق معاملات کا ہے۔ خلع میں عورت کو شوہر کا گھر چھوڑنا ہے اور طلاق میں مرد کو ہر دی ہوئی چیز سے دستبردار ہونا ہے۔ اگر عورت شوہر کی گمشدگی پر خلع لینا نہ چاہتی ہو اور طلاق کی خواہش بھی نہ رکھتی ہو لیکن جنسی تسکین چاہتی ہو توپھر مسئلہ ہوگا مگر یہ مسئلہ بھی محرمات کی فہرست کا آخری جملہ حل کردیتا ہے۔ مملوکہ بننے کے بعد شوہر والی عورت کو جائز قرار دیا گیا ہے،تو اس سے زیادہ شوہر کی گمشدگی پر اس آیت سے عورت کیلئے دوسرا نکاح یا متعہ ومسیار کرنے کی گنجائش نکلتی ہے۔
اصولِ فقہ میں قرآن وسنت پر تفریعات ہیں۔ حقیقت ومجاز میں ’’ نکاح وطی کیلئے ہے عقد کیلئے نہیں ‘‘ کو پڑھا جائے تو دماغ کے شریانیں پھٹ جائیں گی۔ نکاح اور زناعرفِ عام، لغت اور شریعت میں ایکدوسرے کی ضد ہیں جو آدم ؑ و حواء ؑ ، ہابیل وقابیل سے لیکر موجودہ دور کے تمام انسانوں میں رائج ہے۔ لغت کا تصور معاشرے سے الگ نہیں ۔ معاشرے کی بنیادی اکائی میں میاں بیوی کے درمیان نکاح ہے۔حنفی مسلک نے بہت نامعقول انداز میں یہ تصور دیا کہ لغت میں نکاح کا معنیٰ ملاپ ہے ، عورت اور مرد کا یہ ملاپ جائز نکاح سے ہو یا زنا سے دونوں صورت میں نکاح ہے۔ جبکہ امام شافعیؒ شرعی نکاح مراد لیتے ہیں۔ (نورالانوار)حقیقت ومجاز کی یہ وضاحت ہے کہ باپ کیلئے باپ کا لفظ حقیقت اور دادا کیلئے مجاز ہے، باپ کیلئے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ باپ نہیں لیکن دادا کیلئے کہا جاسکتا کہ وہ باپ نہیں۔ شیر جنگل کے جانور کیلئے حقیقت اور بہادر آدمی کیلئے مجاز ہے۔ جب حقیقی معنیٰ مراد لیا جاسکے تو مجازی معنیٰ مراد نہیں ہوسکتا۔ لاتنکحوا مانکح آبائکم من النساء ( نکاح نہ کرو، جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہو) میں حقیقی معنیٰ لغت کے اعتبار سے ملاپ کا ہے جس میں نکاح و زنا شامل ہیں ۔سوال ہے کہ آباء سے مراد پھر صرف باپ مراد لیا جائیگامگر دادا نہیں تو جواب یہ ہے کہ دادی سے نکاح کی حرمت کو اجماع سے ہم حنفی ثابت کرتے ہیں ،قرآن سے نہیں۔( قوت الاخیار شرح نورالانوار)
اگر علماء اصولِ فقہ کو سمجھتے تو حلالہ کے نکاح میں حقیقی معنیٰ ملاپ قرار دیتے کہ زنا سے حلالہ ہوجاتاہے جس کیلئے عقدِنکاح اور عدت شرط نہیں ۔بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہوتا کہ حقیقی معنیٰ کے ہوتے ہوئے مجازی معنیٰ مراد ہوہی نہیں سکتا، اور حقیقی معنیٰ ملاپ اور زنا ہے اور مجازی معنیٰ عقدِ نکاح ہے۔تو اصولِ فقہ کے قاعدے کے مطابق حقیقت کے ہوتے ہوئے مجاز مراد نہیں ہوسکتا اسلئے عقدِ نکاح سے عورت حلال نہیں ہوسکتی بلکہ صرف اور صرف زنا سے ہی حلال ہوسکتی ہے۔ ملا جیونؒ کی انتہائی سادگی پر حضرت مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب مدظلہ العالی بہت لطیفے سنایا کرتے تھے۔
حلالہ کو نبیﷺ نے لعنت، جمہور فقہاء نے اسے زنا قرار دیا۔ جس سے عورت پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہوسکتی۔ احناف کی نظر میں حلالہ کا جواز نہ تھا اور نہ حلالہ سے عورت پہلے شوہر کیلئے حلال ہوسکتی تھی۔ بعض احناف نے حیلہ سے جائز کہا مگرانکے پاس کوئی مستند حوالہ نہ تھا ۔قرآن وسنت تو بہت دور کی بات ہے۔ علامہ ابن ھمام اور علامہ بدرالدین عینی نے غیر معروف بعض مشائخ اور لایعنی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ یہ لوگ 900 ہجری میں آئے ہیں اور حنفی مسلک کے اصول وفروع سے کوئی حوالہ نہیں دے سکے ہیں۔انہوں نے حلالہ کو کارِ ثواب کہنے کا کارنامہ بھی انجام دیا ہے۔
مولانا سلیم اللہ خانؒ نے لکھا کہ ’’حلالہ کیلئے جس حدیث میں جماع کا ذکرہے، وہ خبر واحد ہے۔ احناف خبر واحد کی وجہ سے قرآن پر اضافہ نہیں کرتے ،پھرحلالہ کیلئے صرف نکاح کافی ہونا چاہیے تھا ؟ ،جواب یہ ہے کہ حنفی حدیث سے جماع کو ثابت نہیں کرتے بلکہ نکاح کا معنیٰ جماع ہے‘‘۔( کشف الباری فی شرح صحیح بخاری)
سعودیہ نے ابن تیمیہؒ کے تین طلاق سے رجوع کا فتویٰ ختم کیا ۔پھر گھمبیر صورتحال سے مسیار کے نام سے متعہ کی اجازت دی مگر گھمبیر مسائل حل نہ ہوئے۔ محرمات سے تعلقات کا مسئلہ در پیش تھا تو مغرب کی آزادی کیلئے کھلم کھلا اقدامات شروع کردئیے ہیں۔ قرآن وسنت مسائل کا حل ہیں۔ نبی ﷺ نے متعہ کی اجازت اور آیت کا حوالہ دیا: لاتحرموا مااحل اللہ لکم من الطیبات ’’ جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا، اسے حرام نہ کرو‘‘۔(بخاری) نبیﷺ نے حلت کو اللہ کی طرف منسوب کیا، اللہ نے قرآن میں منع کیا کہ اپنی طرف سے حلال اور حرام کی نسبت اللہ کی طرف نہ کرو۔ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے اور متعہ کی حرمت حضرت علیؓ کی طرف غلط منسوب ہے۔ گدھا، گھوڑا اور خچرکوئی نہ کھاتا تھا۔دومرتبہ حرمت کا تصور غلط ہے ۔ حضرت عمرؓ کے ابتدائی دور تک متعہ جاری تھا۔( صحیح مسلم)

اسلام کو اجنبیت سے نکالنے کی ٹھوس راہ اور حنفی مسلک: اداریہ نوشتہ دیوار کالم 2 صفحہ 2 شمارہ اپریل 2018

Larki-ki-shadi-uski-marzi-k-bina-karna-saudi-arabia-londi-nikah-court-marriage-daf-bajana-binori-town-madrassa-fatwa

حنفی اصول ہے کہ پہلے قرآن وسنت میں تطبیق( موافقت پیدا کی جائیگی) اگر تطبیق نہ ہو تو قرآنی آیت پر عمل اور حدیث کو ترک کیا جائیگا۔ اصول الشاشی کا پہلا سبق یہی ہے کہ حدیث اور جمہور کیخلاف عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر درست ہے۔ کورٹ میرج کیلئے حنفی مسلک بنیاد ہے جو درسِ نظامی کا حصہ ہے۔
نکاح کیلئے حدیث میں دو عادل گواہی کا ذکر ہے اور قرآن میں طلاق کیلئے بھی دو عادل گواہوں کا حکم ہے۔ قرآن کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلاق کے گواہ کا خاتمہ کردیا تو معاشرے میں اسکے بھیانک نتائج نکلے۔ بھاگی لڑکی شادی کرلے تو نکاح کیلئے دوعادل گواہ کی شرط تھی اور شریف اس نکاح پر گواہ نہیں بن سکتے۔ اسلئے دوسری حدیث کو بھی فقہ میں روند ڈالا گیا۔ چنانچہ حدیث کے منافی دوفاسق گواہ بھی کافی قرار دئیے گئے مگر حدیث نے غیرفطری راستہ روکنے کیلئے مزید پابندی لگائی ہے کہ دف بجاکر نکاح کا علان کرو تاکہ سب جان لیں کہ نکاح ہوا، کیونکہ نکاح خفیہ یاری نہیں ۔ فقہاء نے اسکا بھی توڑ نکالا اور دوفاسق گواہ کو اعلان قرار دیا ۔ پوری دنیا میں شادی کیلئے بدمزگی کے واقعات کورٹ میرج، مارکٹائی ، قتل وغارت نہیں۔ جسکے مناظر یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ علماء ومفتیان خاص طور پر جامعہ بنوری ٹاؤن والے پاکستان بلکہ دنیا بھر سے بڑے علماء ومفتیان کو دعوت دیں اور یہ مسائل حل کریں۔
حنفی مسلک اور قرآن کے مطابق عدت میں نکاح قائم رہتا ہے۔قرآن نے عدت میں باہمی رضامندی اور عدت کی تکمیل پر بار بار رجوع کی گنجائش دی۔ رجوع نہ کرنے کی صورت پر دوعادل گواہ بھی مقرر کرنے کا حکم دیا جبکہ ایک حدیث نہیں کہ قرآن کے برعکس عورت کو طلاق کے بعدعدت میں حلالہ کا حکم ہو، ایک عورت نے عدت کی تکمیل کے بعد دوسرا نکاح کیا ۔تووہ حدیث قرآنی آیات کے منافی نہیں۔
حضرت مولانا بدیع الزمانؒ نے اصولِ الشاشی کا پہلا سبق پڑھایا تو میں نے یہ سوال کیا کہ ’’قرآن وسنت میں تطبیق ہے، آیت سے طلاق شدہ عورت کو نکاح کی اجازت اور حدیث سے کنواری مراد لی جائے۔ کنواری و طلاق شدہ وبیوہ کے احکام بھی مختلف ہیں؟‘‘۔ استاذ محترم کو میری بات پسند آئی اور ہلکا تبسم کیا اورپھر فرمایا کہ ’’اگلی کتابوں میں جواب ملے گایا خود کسی نتیجہ پر پہنچوگے، یہ ابتدائی کتاب ہے‘‘۔ بیوہ کیلئے واضح ہے کہ لاجناح علیکم ما فعلن فی انفسھن ’’تم پر گناہ نہیں کہ (بیوہ عدت کے بعد) اپنی جانوں کے بارے میں جو فیصلہ کریں‘‘۔ طلاق شدہ وبیوہ قرآن میں آزاد ہوں تو حدیث سے اجازت کا پابند بنانا غلط ہوگا ۔ حدیث کنواری تک محدود ہو جو آیت سے متصادم نہیں تو احناف اور جمہور کو بھی اعتدال پر آنا ہوگا۔
جب بیوہ و طلاق شدہ کو آزاد اور کنواری کو ولی سے اجازت کا پابند بنایا جائے تو مسالک کیساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں بھی اس اعتدال کا چھوٹے سے لیکر بڑی سطح تک خیرمقدم کیا جائیگا۔ خواتین کے حقوق کی حفاظت کا ببانگِ دہل منبر ومحراب سے اعلان کیا جائے تو دنیا بھر کی خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی اپنی بہنوں اور بیٹیوں کیلئے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔ بخاری میں ہے کہ’’ باپ اگر بیٹی کی اجازت کے بغیراسکا نکاح کردے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے‘‘۔ کنواری بیٹی اور اسکا باپ پابند ہو تومعاشرے میں اعتدال آئیگا جو پوری انسانی دنیاکیلئے قابلِ رشک ہوگا۔
آیات اور احادیث صحیحہ میں قطعی طور پر تضاد نہیں ۔ قرآنی آیات کو بھی مسالک نے اپنی ناسمجھی سے متضاد بنانے میں اپنا بنیادی کردار ادا کیا ۔ آیات میں طلاق شدہ وبیوہ کیلئے کھل کر خود مختار ہونے کا ذکر ہے، آیت وانکحوالایامیٰ منکم و الصٰلحین من عبادکم وایمائکم (اورنکاح کراؤ طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا اور نیک غلاموں و لونڈیوں کا ) میں اللہ نے انکے نکاح کی ترغیب دی۔ الایمکنواری کے مقابلے میں طلاق شدہ وبیوہ کو کہتے ہیں۔ مگر ان کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی طرح نہیں کہ انکا اختیار اس آیت سے ختم سمجھا جائے ۔ البتہ عام طور پر معاشرے میں بیوہ وطلاق شدہ خواتین کے نکاح کا احساس نہیں ہوتا ہے اسلئے معاشرے پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اگر وہ خود شرم و حیاء ، عفت و عصمت اور شوہرو بچوں کا احساس رکھ کرشادی کیلئے اقدام نہ اٹھاسکتی ہوں تو معاشرہ یہ کردار ادا کرے۔
ممکن نہیں کہ قرآن نے بیوہ وطلاق شدہ کو خود مختار اور محتاج بھی قرار دیا ہو۔ اس آیت میں لونڈی و غلام کا بھی ذکر ہے ،قرآن کی دوسری آیت میں واضح ہے کہ فانکحوھن باذن اہلھن ’’ ان سے انکے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو‘‘۔ قرآن میں تضادنہیں بلکہ تمام حدود و قیود کھل کر واضح ہیں۔ ایک آیت سے ثابت کرنا کہ نکاح کرانے کا حکم ہے تو وہ اجازت کی پابند ہیں اور دوسری آیت سے ان کی آزادی ثابت کرنامسلکی تضادات اور افراط وتفریط ہے اعتدال کی راہ سے امت ہٹ گئی ۔ قرآن امت وسط کو افراط تفریط نہیں اعتدال و صراط مستقیم کی راہ بتاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ وانکحوالایا میٰ منکم والصٰلحین من عبادتکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنیھم اللہ من فضلہ واللہ واسع العلیمOولیستعفف الذین لایجدون نکاحًاحتی یغنیھم اللہ من فضلہ والذین یبتغون الکتٰب مماملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرًا واٰتوھم من مال اللہ الذی اتٰکم ولاتکرھوافتےٰتکم علی الابغاء ان اردن تحصنًا لتبتغواعرض الحیاۃ الدنیا ومن یکرھن فان اللہ من بعد اکراھن غفور رحیمO ان آیات میں بیوہ وطلاق شدہ خواتین اور نیک غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرنے کا حکم ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ ان کو مالدار بنادے گا۔ پھرفرمایا کہ جولوگ نکاح تک پہنچ نہیں رکھتے ، ان کو پاکدامنی کی زندگی گزارنی چاہیے یہانتک کہ اللہ ان کو مستغنی کردے۔ بیوہ وطلاق شدہ سے نکاح کیلئے کوئی آزاد تیار نہ ہو تو اللہ نے کہا کہ’’ مشرک سے غلام بھی بہتر ہے‘‘۔ اگر کوئی غلام کسی آزاد عورت سے معاہدے کے مطالبہ پر راضی ہو تو اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اس میں خیر نظر آئے تو یہ معاہدہ بھی کرلینا چاہیے اور جو اللہ کی طرف سے عطاء کردہ مال میں سے اس کودیدو۔ بیوہ وطلاق شدہ اور غلام ولونڈی کی بات کے بعد اللہ نے کنواریوں کا مسئلہ بھی حل کیا۔ فتیات سے مرادلڑکیاں ہیں جن کو مرضی سے شادی نہ کرنے دیجائے یا زبردستی سے جہاں چاہت نہ ہو وہاں شادی پر مجبور کردیا جائے۔ سعودی عرب جیسے ملک میں بھی بیٹی کی قیمت وصول کرکے اسکی مرضی کے بغیر شادی کی جاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’لڑکیوں کو بغاء(زنا یا بغاوت) پر مجبور نہ کرو، اگر وہ شادی کرنا چاہتی ہوں تاکہ تم اپنا دنیاوی مفاد اس میں تلاش کرو، اور جس نے ان کو زبردستی سے مجبور کیا توان کی مجبوری کے بعد اللہ غفور رحیم ہے‘‘۔
لڑکی بغاوت کرے یا چھپ کر تعلق رکھے تو سرپرست بھی ذمہ دار ہوگا اگر لڑکی کی اسکی چاہت کے بغیر زبردستی سے شادی کردی تو اس ناجائز پر اللہ معاف کریگا۔ احادیث کو قرآن کی تفسیر میں لکھاجاتا تو معاشرے پر اچھے نتائج مرتب ہوتے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ قرآنی آیات کی بھی غلط تشریح کی گئی ۔عرب آج بھی اپنی بیٹیوں کو بیچتے ہیں۔ قرآن کی یہ تعلیم نہیں کہ’’ لونڈی پاکدامن رہنا چاہے تو ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر مجبور کیا تو اللہ غفور رحیم ہے‘‘ پھر عذاب الیم شدید العقاب کالفظ ہوتا۔

فیصل آباد کی طالبہ عابدہ کا 4 روز اجتماعی زیادتی کے بعد قتل پاکستان کے منہ پر کالک ہے: عتیق گیلانی

Rapists-murderers-of-Faisalabad-university-student-still-at-large-justice-for-abida-ptm-manzoor-pashteen-ispr-general-asif-ghafoor

چیف ایڈیٹر نوشتۂ دیوار عتیق گیلانی نے کہا پنجاب کے دل جڑانوالہ فیصل آباد میں ایک طالبہ عابدہ کو اغوا کرکے 4روز اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے کی خبر تمام پاکستانی اداروں عدلیہ ، سول و ملٹری بیروکریسی ، پولیس ، سیاسی حکومتوں کے ذمہ دار افراد کے منہ پر کالک ہے۔ 4روز تک تھانے میں رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی۔ طالبات کے احتجاجی کمیپ کو بھی پولیس نے سپوتاژ کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔ منظور پشتین اپنے نوجوان طالبعلم ساتھیوں کے ساتھ پختونوں کا رونا دھونا چھوڑ کر پنجاب کی غریب عوام کی داد رسی کیلئے پہنچ جائیں۔ یہ محض ایک حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ پنجاب کے بچے اور بچیاں بدمعاش سیاسی مافیا کی وجہ سے روز روز جنسی تشدد ،بے دردی سے قتل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسکاتدارک کرنے کیلئے محمد بن قاسمؒ ، صلاح الدین ایوبیؒ اور محمود غزنویؒ کو قبروں سے اٹھ کر نہیں آنا ہے۔ سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ ’’جان پر آئے تو مال قربان کردینا ، عزت پر آئے تو پھر جان قربان کردینا اور ایمان پر آئے تو جان مال عزت سب قربان کردینا‘‘۔ پنجاب کے فرقہ وارانہ عناصر اور پختونخواہ کے جن شدت پسند طالبان نے اپنے خون سے اس چمن کو رنگین کردیا تو انکے گمان میں دین ، اسلام اور ایمان کیلئے قربانیاں دی گئیں۔ سینکڑوں سال سے حلالہ کے نام پر لوگ اپنی عزتوں کو ایمان پر قربان کررہے ہیں۔ منظور پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم اور متحرک کارکن و رہنما خان زمان کاکڑ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر دیکھا جس میں وہ پنجابی اور پختون کی جنگ اور تعصبات کیلئے بات کررہے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا سب سے گھناؤنا کردار نواز شریف جیسے لوگوں کی پیداوار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹوں نے ہمیشہ عوامی قیادت ابھرنے کے راستے روکے ہیں۔ پنجاب سے چھوٹے صوبوں اور سرائیکی کی نفرت بلاوجہ نہیں ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور ISPRنے حالیہ بیان میں کہا کہ ’’امریکہ کو سپر طاقت بنانے میں ہمارا مثبت کردار ہے‘‘۔ فوجیوں کو سیاست نہیں آتی۔ جن کو فوج کا ٹاؤٹ سمجھا جاتا ہے وہ دوسروں پر امریکہ نواز ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ جب تک ایسے فالتو یا پالتو ٹاؤٹوں کو لگام نہ دی جائے پاک فوج کے اجتماعی ضمیر کو درست سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا ۔ کراچی میں موبائل فون چھیننے والوں کا قلع قمع ہو یا بلوچستان میں بغاوت کی سرکوبی ہو یا پختونخواہ میں طالبان کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہو، ان میں ریاست کو عوام سے بھی شکایت ہوسکتی ہے اور عوام کو ریاست سے بھی شکایت ہوگی لیکن پنجاب کے اندر جو کچھ ہورہا ہے ایسی زیادتی دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آرہی ہے۔ ایک سال میں 41بچے اپنے والدین نے بھوک و افلاس اور ٹینشن کی وجہ سے قتل کئے ہیں۔ دورِ جاہلیت سے بھی بدترین حالات دوہرائے جارہے ہیں۔ جب میرے گھر کے مرد و خواتین ، رشتہ دار ، امام مسجد ، گھر کے خادم اور مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے آفریدی ، مروت ، جٹ اور محسود مہمانوں کو بھی شہید کیا گیا تو ریاست و حکومت بھی تماشہ دیکھ رہی تھی اور محسود قوم کے قبائلی عمائدین بھی طالبان کی معافی کیلئے دہشتگردوں کیساتھ آئے تھے۔ مجھے میرے بھائی نے دلاسہ دینے کیلئے کہا کہ ’’اگر ہمارے اس واقعہ کی وجہ سے قوم کو دہشتگردی سے نجات ملتی ہے تو یہ ہمارے لئے سستا سودا ہے‘‘۔ میں نے جواب میں کہا کہ ’’پنجاب میں خواتین کیساتھ جس طرح سے جنسی زیادتیاں ہورہی ہیں ، اصل ظلم وہ ہے اور جب تک ان کو تحفظ نہ ملے ہماری حالت کبھی ٹھیک نہ ہوگی‘‘ ۔ یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں کیساتھ زیادتی ہوتی ہے ان کا جذبہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں دہشتگردی کا واحد واقعہ ہمارا تھا جس پر طالبان نے باقاعدہ نہ صرف معافی مانگی بلکہ مجرموں کو شریعت کے مطابق سزا دینے کا اعلان بھی کیا۔ اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان نے مجھے نظریاتی طور پرمخالف سمجھ کر نشانہ بنایا اور باقی قتل و غارت انہوں نے نظریات کیلئے نہ کئے، حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کی اپنی گاؤں میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔ ملک خاندان بہت شریف النفس اور گاؤں کے معتبر شخص تھے۔ جب انکو شہید کیا گیا تو انکے بیٹے نے کہا کہ میں قاتلوں کو پہچان گیا ہوں ، ان کو پکڑ کر باندھ لوں گا اور پوچھوں گا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟۔ ملک خاندان کے بیٹے نے گاڑی اسلئے لی کہ کوئی اپنی گاڑی میں لفٹ دینے سے ڈرتا تھا۔ پھر ان کو بھی گھر کے افراد کیساتھ شہید کیا گیا جن میں ایک حافظہ بچی بھی تھی۔ محسود قوم کے اندر غیرت نہیں رہی تھی جبکہ کانیگرم کی برکی قوم اٹھ گئی اور اپنے اغوا کردہ فرد گلشا عالم خان کا طالبان کے مرکزوں میں جاکر پوچھا۔ جب طالبان پورے ملک میں تباہی مچارہے تھے تو ایک مرتبہ میرے من میں بھی بات آئی کہ اپنے گھر کے افراد کے ذریعے ان پر خود کش حملے شروع کروں اور ایک ایسی تحریک اٹھاؤں کہ محسود قوم کے تمام افراد کو جہاں کہیں بھی ملے نشانہ بنا ڈالوں کیونکہ جب وہاں لاشیں جائیں گی تو یہ لوگ خود ہی انکے ٹھکانے ختم کرنے پر مجبور ہو نگے۔ جب دوسروں پر ان کو فرق نہیں پڑتا تو قوت مدافعت کا یہ فطری طریقہ قرآن میں بھی ہے مگر ایک بھائی نے کہا کہ بے گناہ لوگ بھی مارے جائینگے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ میں نے کہا کہ فتنہ ختم کرنے کیلئے لازم ہے کہ ان کو احساس ہوجائے ، گناہگار جہنم میں اور بیگناہ جنت میں چلے جائیں گے۔ دوسرے بھائی نے کہا کہ ’’ایک بے گناہ بھی مارا جائے تو میں اپنی آخرت خراب نہیں کرسکتا‘‘۔ پھر میں نے سوچا کہ نقاب پوشوں کو کون ،کہاں اور کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے؟۔ ایک موقع پر جب طالبان نے کہا کہ تمام مجرم افراد کو ہم ماردینگے تو بھائی نے کہا کہ ہم معاف کردینگے اسلئے کہ اتنی خون ریزی ہماری وجہ سے ہو تو لوگ ہم سے بھی نفرت کرینگے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ ایک بھائی نے کہا کہ اب طالبان کیخلاف جہاد بنتا ہے تو میں نے عرض کیا کہ جب ذاتی دشمنی شامل ہو تو یہ جہاد نہیں بنتا۔ جس طرح حضرت علیؓ نے کافر کو چھوڑ دیا تھا۔
یہ سب باتیں عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ کے جوان بھڑکیاں مارنے کے بجائے اصل کام کی طرف توجہ دیں۔ مسجد کا امام اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اسکے پاس ایمان کی دلیل ہوتی ہے۔ حلالہ کے حوالے سے ہم نے علمی بنیادوں پر تصفیہ کردیا کہ ’’اب بے غیرتی کی ضرورت نہیں‘‘۔پختون ، پنجابی ، سندھی، بلوچ اور مہاجر علماء کرام کے ساتھ ملکر شعور کی تحریک چلائیں۔ جبری جنسی زیادتی کے خلاف اور مروجہ ریاستی و حکومتی ڈھانچہ بدلنے کی تحریک چلائیں۔ جب قوم کے سامنے خواتین اور عوام کے حقوق کی بات آئے تو سب سے پہلے مدارس ، جامعات ،اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ ملکر اپنا کردار ادا کریں۔ گورنمنٹ کے ملازم کی ریٹائرمنٹ 60سال پر ہوجاتی ہے ۔ قومی اسمبلی ، سینٹ ، وزیر اعظم، صدر، صوبائی اسمبلی وزیر اعلیٰ ، گورنر اور یونین کونسل و ضلع کونسل و میئر وغیرہ کیلئے بھی زیادہ سے زیادہ 60سال کی عمر مقرر کی جائے۔ زیادہ سے زیادہ 63سال کی عمر تک سرپرستی کرنیوالے عہدوں پر فائز ہونے کی گنجائش ہو۔ قرآن میں بھی ایک حد سے زیادہ عمر بڑھنے کے بعد انسان کی سمجھ بوجھ ختم ہونے کی نشاندہی ہے لیکن ہمارے ہاں حکمرانوں میں اقتدار کی ہوس کبھی پوری نہیں ہوتی۔ پاکستان میں عزتوں اور جانوں کے تحفظ کیساتھ ساتھ جو لوگ بھی ملک کو لوٹ کر لے گئے ہیں اور قرضوں کو عوام اپنے ٹیکسوں سے چکا رہے ہیں ان کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا بھی ضروری ہے۔ میڈیا پر جرائم کی تشہیر ہوتی ہے اور سزاؤں کا کوئی رواج نہیں ہے جس کی وجہ سے روز بروز جرائم بڑھ رہے ہیں۔ فرسودہ عدالتی نظام اور بے ضمیر ججوں کو حقیقت نظر نہیں آتی.

زینب قتل کے مجرم عمران علی کو علماء کی گھڑی ہوئی شریعت کےمطابق کوئی سزا نہیں ہوسکتی

zainab-murderer-imran-ali-ulama-islam-dna-punjab-police-supreme-court-of-pakistan

نوشتۂ دیوار کے ڈائریکٹر فنانس فیروز چھیپا نے کہا: اگر عمران علی غریب نہیں کسی امیر کا بیٹا ہوتا تو وکیل پیسہ کمانے کیلئے برسوں کیس کو اعلیٰ عدالتوں میں لٹکائے رکھتا اور بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا۔ علماء بھی شریعت کے تحفظ میں نکلتے کہ شریعت کیخلاف زینب اور دیگر بچیوں کے قاتل عمران علی کو سزا دینا شریعت کو بدلنے کا بڑاجرم ہے۔ پاکستان میں روز روز کسی بچی کیساتھ زیادتی کے بعد قتل کی خبر آتی ہے۔ پہلے لوگوں میں اتنی ہمت ہوتی تھی کہ ایسے گھناؤنے جرائم پر خود بھی سزا دینے سے نہیں کتراتے تھے اور معاشرے کی سطح پر کسی میں اتنے گھناؤنے جرائم کی ہمت بھی نہیں ہوتی تھی۔ اب جرائم پیشہ افراد سیاستدان اور اکابر علماء بن گئے ہیں۔ ضمیر نام کی کوئی چیز ان میں نظر نہیں آتی ہے۔ بڑے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور غریبوں کو قانون کے شکنجے میں ناجائز سزا بھی دلوائی جاتی ہے۔ معاشرہ تباہی کے کنارے پہنچ گیاہے۔

hussain-nawaz-panama-leaks-qatari-khat-zainab-murderer-imran-ali-nawaz-sharif-isi
سید عتیق الرحمن گیلانی علماء کرام، سیاستدانوں ، صحافیوں اور عوام کے علاوہ اداروں میں بیداری کی روح پھونکنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔کوئی ذاتی مخاصمت نہیں ہے۔ ذاتیات سے بالاتر ہوکر ملک وقوم ، عالمِ اسلام اور عالمِ انسانیت کی سوچ رکھتے ہیں۔ تمام لسانی اکائیوں اور مسلکی تعصبات سے پاکیزہ سوچ کو پروان چڑھارہے ہیں اور سب کیلئے قابلِ قبول ہیں۔ اس سے پہلے کہ ملک کی سطح پر کوئی عذاب نازل ہو، افغانستان ، عراق، لیبیا اور شام کے بعد خدانخواستہ پاکستان کی باری آئے اور سب کے سب راؤ انوار کی طرح بلکہ ان سے بدتر زندگی کی اس نگر میں پہنچ جائیں کہ مشکلات سے نکل نہ سکیں، احوال کی اصلاح کیلئے کمربستہ ہوجائیں اور پاکستان میں پُر امن اور پرسکون ماحول کا فائدہ اٹھاکر ایک حقیقی انقلاب لائیں۔ غریب اور ناداروں کا غم کھانیوالے لیڈران میں غیرت ہوتی تو تین تین شادی کرنیوالا عمران خان کوئی ایک شادی کسی غریب لڑکی سے کرلیتا جو اپنی پسماندگی دور کرناچاہتے ہیں ۔

قتل کی سزا قتل اور جبری زنا کی سزا بھی قتل ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت:61میں یہ سزا بالکل واضح ہے۔ فیروز چھیپا

yeh-maluoon-hein-jahan-paye-jayen-pakar-kr-qatal-krdia-jaye-surah-ahzab

نوشتۂ دیوار کے ڈائریکٹرمالیات محمد فیروز چھیپا نے کہا: پاکستان اسلام کے نام پر بنامگر خوفناک حد تک جبری زیادتی کے چونکا دینے والے نمایاں واقعات کا تناسب بڑھ رہاہے۔ اس کا حل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ قتل کی سزا قتل اور جبری زنا کی سزا بھی قتل ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت:61میں یہ سزا بالکل واضح ہے۔ یہ انسانی فطرت اور غیرت کا بھی تقاضہ ہے۔ بدفطرت و بے غیرت مذہبی طبقہ نے قرآن کی اس آیت سے واضح روگردانی کی۔ جماعتِ اسلامی کے ڈاکٹر فرید پراچہ نے اس آیت کو توہین رسالتؐ پر فٹ کردیا حالانکہ اس آیت سے آگے پیچھے کی آیات میں خواتین کی بے حرمتی ہے،اگر مدارس ومساجد کے علماء ومفتیان اُٹھ کھڑے ہوں، زنابالجبر کے حوالہ سے قرآن و سنت کے مطابق قتل اور سرِعام سنگساری کاحکومت سے مطالبہ کریں تو عوام کے دلوں پر راج کرنا شروع کردینگے۔ پھر مدارس ومساجد سے بھی اس برائی کا خاتمہ ہوگا اور مسلمانوں کی عبادتگاہیں پھر اخلاق، کرداراور بھروسے کے مراکز بن جائیں گی۔ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہیں مگرکردار سازی کیلئے سزا کا قانون ضروری ہے۔منصورہ لاہوربھی فرید پراچہ کی تردیدکردے۔
دنیا کی کوئی ریاست بھی سزا کے قانون کے بغیر نہیں چلتی ہے۔قرآن و حدیث میں سزا کا قانون موجود ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مذہبی طبقے نے اس قانون کا حلیہ بگاڑ دیا۔ پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کے نام نہاداسلامی قانون سے جان چھڑانے کیلئے اس کو تعزیرات میں شامل کرنے کا کہا گیا تو مفتی تقی عثمانی اور جماعتِ اسلامی نے طوفان کھڑا کردیا کہ قرآن میں تحریف کا ارتکاب ہورہاہے۔ صحافی منیزے نے ٹی وی چینل پر بتایا کہ ’’ کوٹ لکپت جیل میں وہ کئی ایسی خواتین سے ملی ہیں جن کیساتھ جبری زیادتی کی گئی تھی لیکن شکایت کی تو تھانہ میں بند کرکے جیل بھیج دیا گیا کہ اچھا تمہارے ساتھ کچھ ہوا ہے تو اس شکایت کا نتیجہ بھی بھگت لو۔ پھر پیپلزپارٹی کے دور میں یہ قانون ختم کیا گیا اور اب شکایت کرنے پر سزا نہیں ملتی‘‘۔
یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک خاتون سے جبری زیادتی ہوجائے اور شکایت کرنے پر سزا بھی اسی کو دی جائے؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اس طرح نکلنے کا حکم دیا ہے کہ’’ چادر کا حصہ اپنے اوپر ڈالیں تاکہ پہچانی جائیں کہ شریف ہیں۔ اور ان کو اذیت نہ دی جائے۔ مدینہ میں منافق اور جنکے دلوں میں مرض ہے نہیں رہیں گے مگر کم عرصہ۔ پھر آپ ان سے نمٹ لوگے۔ یہ ملعون ہیں جہاں بھی پکڑے جائیں ان کو پکڑ کر قتل کیا جائے گا۔ یہ اللہ کی پہلی قوموں میں بھی سنت رہی ہے‘‘۔ سورۂ احزاب آیت61میں اللہ تعالیٰ نے جبری زنا کی سزا واضح کی ہے اور نبیﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اس پر عمل بھی کیا ہے۔ ایک خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے کسی شخص کی شکایت کردی کی اس نے راستے میں پکڑ کر چادر میں لپیٹ لیا اور جبری زنا کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو پکڑ کر لانے کا حکم دیا اور پھر سنگسار کرادیا۔ قرآن میں قتل کا حکم زنا بالجبر اور حدیث میں سنگساری کا حکم بھی زنا بالجبر ہی کیلئے ہے۔ جب مسلمانوں نے اس سزا کے نفاذکو ترک کردیا تو قرآن وسنت کے احکام مختلف فقہی مسالک میں اختلاف در اختلاف کا شکار ہوگئے۔ پاکستان نہیں امریکہ و اسرائیل اور دنیا بھر کے انسانوں کے سامنے زنا بالجبر کی یہی سزا تجویز کی جائے تو عالم انسانیت کے تمام لوگ جمہوری بنیادوں پر متفقہ طور پر اس کو نافذ کردیں گے۔مفتی محمد تقی عثمانی نے لکھ دیا تھا کہ’’ سورۂ نور کی آیت میں زنابالجبر اور زنا بالرضا کی سزا میں کوئی فرق نہیں ۔ دونوں کیلئے حد کا ذکر ہے‘‘۔ حالانکہ سورۂ نور کی آیت میں زنا بالرضا ہی کا حکم واضح ہے اسلئے کہ مرد وعورت کو ایک ہی سزا صرف اسی صورت میں دی جاسکتی ہے کہ جب وہ دونوں راضی ہوں۔ عورت پر جبر ہو تو اس کو سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ البتہ سورۂ نور کی آیت میں شادی شدہ و غیر شادی شدہ کی کوئی تخصیص نہیں ۔ شادی شدہ لونڈی کا قرآن میں نصف سزا کا حکم ہے جو50کوڑے بنتے ہیں تو اس سے شادی شدہ آزاد کیلئے بھی100کوڑے سزا متعین ہوجاتی ہے۔ سورۂ نور کی آیت کے بعد بخاری شریف کی روایت کے مطابق کسی کو بھی سنگسار نہیں کیا گیا ۔ قرآن نے واضح کردیا کہ قتل کا حکم صرف زنا بالجبر کیلئے ہی ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر ’’ آسان ترجمہ قرآن‘‘ میں سورۂ احزاب کی اس آیت کی غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ ’’ جب مسلمانوں کی ریاست مستحکم ہوجائے تو منافقوں سے بھی کافروں جیسا سلوک روارکھا جائیگا ‘‘۔ حالانکہ قتل کا تعلق اس بنیاد پر بیان کیا گیاہے کہ جو عورتوں کو ستائیں، یہی منافق ہیں۔

مفتی طارق مسعود کے بیان پر حیرت ہوئی: مولانا ابو الاسعد محمد حجازی، فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی

mufti-tariq-masood-ke-bayan-per-hairat-hoi-molana-abul-asaad-hijazi-jamia-binori-town-karachi

کراچی (صدیق، عزیز) مولانا ابو اسعد محمد حجازی خطیب و امام جامع مسجد ریکسر کراچی ، فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے کہا کہ فحاشی منکرات کو کھلی چھٹی اور دین پر عمل کرنا بہت اور مشکل حق بات کہنا مشکل ہوتا جارہا ہے شیخ سعدی ایک بستی میں گئے کتے بھونکنے لگے آپ نے زمین سے پتھر اٹھانے کی کوشش کی تاکہ کتوں کو بھگادیا جائے لیکن پتھر زمین میں جمے ہوئے تھے شیخ سعدی فرمانے لگے عجیب لوگ ہیں کتے کھلے چھوڑے ہوئے ہیں اور پتھر باندھے ہوئے ہیں یہ حال ہے باطل کو کھلی چھٹی ہے اور حق والوں پر روز بروز پابندیاں لگائی جارہی ہیں ابھی بھی وقت ہے مسلم قرآن اور سنت کو اپنا ئے تو ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے چاہے وہ شادی بیاہ ہو یا طلاق و حلالے کے مسائل ہوں قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ بین الاقوامی حالات دیکھیں ہر طرف مسلمانوں پر زوال آیا ہے۔ مفتی طارق مسعود کا بیان پڑھ کربڑی حیرت ہوئی یہ تو کاروبار سمجھ لیا ہے اللہ سے توبہ کریں اور لوگوں کو بتائیں بغیر حلالے کے باہمی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔ قرآن میں اللہ نے بار بار فرمایا ہے۔ جب شوہر اور خاتون راضی ہوں تو باہمی رضامندی سے اللہ نے رجوع کو آسان کردیا، اگر کوئی اس کو مشکل بناتا ہے تو یہ اللہ کی کتاب کو چیلنج کررہا ہے معاذ اللہ۔ اللہ تعالیٰ علماء کرام کو دین کی سمجھ عطا فرمائیں۔ نفسانیت اور مفاد پرستی جیسی بیماریوں سے ہمیں بچائے اور حق بات کہنے اور اس پر استقامت کی دعا کرتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ و دیگر علماء نے مبشرات لکھی ہیں. ارشاد نقوی

shah-waliullah-aur-digar-ulama-ne-mobasherat-likhi-hein-Irshad-Naqvi

نوشتۂ دیوار کے مدیر خصوصی سید ارشاد علی نقوی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ مولانا نور البشر برمی فاضل دارالعلوم کراچی ،مدیر اعلیٰ مھد عثمان بن عفان 36Bلانڈھی اور مولانا عدنان نقشبندی نے مسجدالٰہیہ سوکواٹر کے ناجائز قبضہ گروپ کی دعوت پر وہاں 25دسمبر کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاجی عثمانؒ نے دیوار پرجو بشارت لکھوائی تھی وہ غلط تھی جس کو آپ نے مٹادیا ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بھینس دودھ دیتی ہے تو اسکی مالیش بھی کی جاتی ہے، انسان کو جس مقصد کیلئے پیدا کیا گیا،وہ پورا ہونا چاہیے۔ مولانا نور البشر اور مولانا عدنان نقشبندی کو معلوم نہیں ہے کہ جوبشارت دیوار پر لکھ دی گئی تھی ،وہ حاجی عثمانؒ نے خود ہی اپنے وقت میں اسی وقت مٹادی تھی، جب آپؒ کے مریدوں نے بغاوت کی تھی۔ اسطرح کی بشارتوں پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’ الدر الثمین فی مبشرات النبی الامینﷺ ‘‘ ہے۔جس میں چالیس مبشرات کا ذکر ہے۔ ایک میں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے لکھاہے کہ ’’ عصر کی نماز کے بعد میں ذکر کے مراقبہ میں بیٹھا تھا اور اس دوران نبیﷺ تشریف لائے ، مجھے ایک چادر اوڑھادی جس سے مجھ پر علوم کی باریکیاں کھل گئیں‘‘۔ (الدر الثمین)
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ایک کتاب ’’اخبار الاخیار‘‘ لکھی ہے جس کا ترجمہ دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مولانا سبحان محمود صاحب نے کیا تھا ۔ جس میں لکھاہے کہ ’’ جب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تقریر کرتے تھے، تو سارے انبیاء کرامؑ اور اولیاء عظامؒ اس میں موجود ہوتے تھے۔ نبیﷺ بھی آپ کی حوصلہ افزائی کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے‘‘۔( اخبارالاخیار)
شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کے خلیفہ نے مکاشفات پر مبنی کتاب لکھی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ ’’ شیخ الحدیث بیمار تھے ، نماز باجماعت کیلئے مدینہ میں مسجد نبوی ؐ نہیں جاسکے تو نبیﷺ تشریف لائے اور آپﷺ نے حجرے میں ظہر کی نماز شیخ الحدیث کو باجماعت پڑھائی۔ (بھجۃ القلوب: صوفی اقبال)
مولانا بدر عالم مہاجر مدنیؒ نے لکھ دیا ہے کہ ’’ تصوف کے شیخ فرماتے تھے کہ اگرمیں لمحہ بھر بھی نبیﷺ کو نہ دیکھوں تو خود کو زمرہ مسلمین میں شمار نہ کروں‘‘۔( ترجمان السنۃ)
مولانا نورالبشر اور مولانا عدنان نقشبندی میں تھوڑی سی بھی ایمانی غیرت ، دینی حمیت ہوتی تو ان کابرین کے نام پر چندے بٹورنے کے بجائے جنکے مشاہدات ان کو گمراہی اور کفر لگتے ہیں ، مسعود الدین عثمانی کیساتھ کھل کر مل جاتے۔ ان کو یہ پتہ نہیں کہ جس وقت حاجی عثمانؒ نے یہ بشارت لکھوائی تو کراچی کے سارے مدارس کے علماء ومفتیان حاجی عثمانؒ سے عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے تھے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق فاضل دارالعلوم دیوبند بھی حاجی عثمانؒ کے خلیفہ اور مرید تھے۔ مشاہدات کی حیثیت خوابوں کی طرح ہوتی ہے لیکن اس کی کیفیت جیتے جاگتے کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگر یہ کفر وگمراہی اور شرک وجہالت ہے تو تمام اکابرین پر بھی فتویٰ لگانا پڑیگا جن کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کرامؑ کی امامت کی تھی، ابوجہلوں نے آپﷺ پر فتوے لگائے تھے، اب علماء ومفتیان خود کوحق پرست ثابت نہ کرسکیں تو ان کو انبیاء کرام کا جانشین کہلانے کا کوئی حق نہیں ۔جامعہ فاروقیہ کے شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ خود تھے اور مولانا نور البشر نے خود کووہاں کا جعلی شیخ الحدیث مشہور کررکھا ہے۔ اگر اتنی بڑی خدمت مل گئی تھی جو اپنے منہ میاں مٹھو کو نصیب نہیں تھی تو چھوڑ کیوں دی؟۔
مولانا نورالبشر کو چاہیے کہ ہر چند دنوں کے بعد کسی برمی کا مسئلہ آتا ہے جو حلالہ سے متعلق ہوتا ہے کہ طلاق کے حوالہ سے غیرت کا مظاہرہ کرکے اپنی جاہل عوام کی عزتوں کو تحفظ فراہم کر دے۔ اکابرینؒ کی بشارتوں کا معاملہ اور حقائق کتابوں میں لکھنا جائز تھے تو دیوار پر بھی کوئی قباحت نہیں تھی۔ مولانا عبدالحقؒ نے دارالعلوم کراچی کے طالبعلم مولانا زین العابدین سے اس وقت کہا تھا جب عتیق گیلانی طالب علم تھے کہ’’ حاجی عثمانؒ سب سے زیادہ اسی کو چاہتے ہیں لیکن ہمیں راز کا پتہ نہیں‘‘ ۔

شامی عورتوں کے آج ترکی میں اڈے چل رہے ہیں. اللہ اپنے پاکستان کی حفاظت کرے. عبد القدوس بلوچ

iman-mazari-ki-taraf-se-fouj-per-laanat--k-bad-imran-khan-ne-fouj-ki-taieed-shuru-krdi

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبد القدوس بلوچ نے کہا: صحافی حقائق بتانے کے بجائے فٹبال کے پلیئر کی طرح مخالف سائڈ پر گول کے چکر میں ہیں۔ رونالڈو ہے تو کوئی میسی۔ جیو کے طلعت حسین و شاہ زیب خانزادہ بھی کھلاڑی ہیں۔ طلعت کو جھوٹ سے بھی شرم نہیں آئی کہ بھٹو نے کہا: ختم نبوت نہیں ختم حکومت کا مسئلہ ہے۔جبکہ قومی اتحاد یا نظام مصطفی کی قیادت کا بھٹو سے ختم نبوت پر اختلاف نہ تھا۔ اصغر خان قادیانی اور نوازشریف اسکی جماعت میں تھے اور ضیاء الحق کے بیٹے انوار الحق کا سسر جنرل رحیم بھی قادیانی تھا۔ جنرل ضیاء کا حکومت پر قبضہ ہوا تو دھرنوں کے بغیر بھی ختم نبوت کے مسئلے پر گھٹنے ٹیکے اور سخت آرڈیننس نافذ کردیا جب قادیانی مشکلات کا شکار ہوئے ، تویورپ میں پناہ لی، امریکہ و یورپ کویہی تکلیف ہے جو قادیانی سے آئینی دفعہ ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ ن لیگی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے اعلان کیا: ’’بڑی ہوشیاری سے سازش کی گئی تھی‘‘۔ جن کو سازش کا ذمہ دار قرار دیا ان کو سیاہی سے مٹادیا تھا جو میڈیا پر دکھایا گیا۔جسٹس صدیقی نے کہاکہ اصل مجرم انوشے رحمان کو بچاکرزید حامد کو قربانی کا بکرا بنایا۔ بیرسٹر ظفر اللہ میں سازش چھپانے کی صلاحیت ہے۔ اگر راجہ ظفر الحق کو ہی عدالت بلالے تو سازش کی تہہ تک پہنچنے میں وقت نہ لگے ۔ جسٹس صدیقی نے حکومت کو دھرنا ہٹانے کا حکم دیکر اچھا کیا، ورنہ مہینوں اور سالوں عوام اذیت کا شکار رہتے۔ غیر مسلح پولیس و ایف سی کے اندر یہ صلاحت نہیں کہ دھرنے والوں کو ہٹاسکے ۔ جسٹس صدیقی جوان ہیں ، اگر ڈنڈا بردار ہوکر کسی ڈنڈا بردار سے مقابلہ ہو تو پتہ چلے کہ حکومت کی رٹ طاقت سے ممکن ہے۔ طاہر القادری و عمران خان کے دھرنے میں پی ٹی وی پر قبضہ میں رینجرز کے جوانوں کو دیکھ کربلوائی ہٹے۔
شورہوا کہ عدالت کے پیچھے فوج ہے اور کھلاڑی صحافیوں نے نوازشریف کے دماغ میں ہوا بھری جس سے حکومت ساکھ کیساتھ اپنا دبدبہ بھی کھو بیٹھی۔جسٹس صدیقی کا یہ ذہن بن گیا کہ دھرنوں کے پیچھے فوج ہے، اسلئے ریمارکس دئیے کہGHQ کے سامنے کوئی دھرناکرے تو فوج کیا کریگی؟ تحقیق کی جائے کہ دھرنے والوں کو آنسو گیس کی گنیں کس نے دیں؟آرمی چیف و رینجرز کو ثالث نہیں کورٹ مارشل ہونا چا ہیے۔ہوسکتا ہے کہ میں قتل یا غائب کردیا جاؤں۔ جسٹس صدیقی کو چاہیے تھا کہ پیسے بانٹنے پر وضاحت طلب کرتے۔یہ انکا بڑا خلوص ہے کہ خود کو آزمائش میں ڈال کریہ ریمارکس دیئے ۔ ظالم و مظلوم کی آنکھ مچولی کا کھیل عدالت میں صدابہار ہے، جس قوم کے ججوں کا ضمیر جاگ جائے تو جبر و ظلم کا خاتمہ ہوکر رہتا ہے۔جج کی بیگم کو غریب بچی پر ظلم کرتے پکڑا گیا مگر وہ کیس دب گیا۔ جنرل راحیل نے فوج میں کرپشن ختم کرنے کی کوشش کی تو فوج پر اسکا اچھا اثر مرتب ہوا۔ نواز شریف نے جنرل راحیل سے دھرنوں کیلئے مدد مانگی تو خورشید شاہ پارلیمنٹ میں گرجے کہ یہ کیا کیا؟۔ اب خورشید شاہ نے خود ہی حکومت کو مشورہ دیا کہ فوج سے مدد لو۔ اس سیاست سے کیا مسائل حل ہونگے؟۔ افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بنانے کیلئے پیپلز پارٹی نے آرمی چیف جنرل کیانی کا کردار مان لیا، بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کی سیاست ہے۔ جلاؤ گھیراؤ ہوا تو سب پکے مسلمان بن گئے۔ حافظ حمد اللہ نے آواز اٹھائی تھی تو کسی کے کان پر جوں نہ رینگی، اگر اسوقت چیئر مین سینٹ ، عمران خان اور پیپلز پارٹی و ن لیگ ہوش کے ناخن لیتے تو جمہوریت کی زلفیں موالیوں کی طرح پریشان نہ رہتیں۔ پارلیمنٹ کا کام یہ تھا کہ مشاروت کرکے قوم کو اعتماد میں لیا جاتامگر پارلیمنٹ سازش کی معترف ہو تو اس سے بڑا فراڈ سیاست کے نام پر کیا ہے؟ اور جمہوری قائدین نااہلی کے مسئلہ پر الجھ گئے اور ختم نبوت کا مسئلہ دھرنے کے ذریعے بحران کی صورت اختیار کرگیا۔
صحافیوں کا کام قوم اور اداروں کی درست رہنمائی ہے۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا ، جمہوریت کی بڑی خوبی ہے کہ اس میں لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ جنرل ضیاء نے جب حکومت اور اپوزیشن کو دھوکہ دیکر اقتدار پر قبضہ کیا تو جب تک خدائی موت نہ مرا ، اس وقت تک عوام اس سے اقتدار واگزار کرنے میں ناکام رہی۔ فوج حکومت کے کہنے پر گولیاں بھی مارتی تو یہی مدح سرائی ہونی تھی کہ فوج پہلے سے اس سازش کیلئے کھڑی تھی۔
ن لیگی حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ شہباز شریف اور نواز شریف پہلے سے ذمہ دار عناصر کو برطرف کرنے کا اعلان کرچکے مگر دو ہزار کے دھرنے پر کوئی وزیر مستعفی ہوتا تو یہ تماشہ روز روز دیکھنے کو ملتا۔ معاملہ بگڑ ا تو جمہوریت کا تقاضہ تھا کہ ملک و قوم کے عظیم مفاد میں دھرنے والوں کا مطالبہ مانا جاتا۔ اپوزیشن نے 2013ء کے الیکشن کو سازش قرار دیا مگر وہ نہ سمجھتے تھے کہ اداروں پر تنقید کرنا کوئی بری بات ہے ۔ عمران خان نے تو افتخار محمد چوہدری سے معافی بھی مانگ لی تھی جسکے بعد مکرنے پر حامد خان بھی ناراض ہوگئے تھے۔ ضمیر ، شرم ، غیرت اور حیاء کی ساری حس تباہ و برباد ہوگئی ہے۔
نواز شریف کوئٹہ کے جلسے میں محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کا حساب چکادے۔ محمود اچکزئی نے وفاداری مشکل وقت میں وقف کر رکھی تھی ،مولانا فضل الرحمن ڈولفن کی طرح بڑی مہارت سے دونوں طرف ناچ رہے تھے۔ اگر زرداری سے کہا تھا کہ نواز شریف کو دھوکہ دیا ہے تو مولانا فضل الرحمن سے بھی کہنا چاہیے کہ زرداری کے دوست نے نواز شریف کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ میری بات کا بہت مذاق اڑایا گیا کہ کیوں نکالا ؟ ۔ مولانا فضل الرحمن سے پوچھتا ہوں کہ کس نے امریکہ کو ختم نبوت کی ترمیم کے بارے میں خبر دی کہ ہم نے کارنامہ کرکے دکھایا۔مولانا! تمہیں بتانا پڑیگا۔ ابھی تو ہماری حکومت ختم نہیں ہوئی کہ تم نے جنازہ پڑھانا شروع کیا۔ جسٹس شوکت صدیقی بھی مولانا فضل الرحمن کو طلب کرکے پوچھ لے کہ کس نے امریکہ کو سازش کامیاب ہونے کی خوشخبری سنائی ، تمہاری جان کو خطرہ نہیں لیکن تم نے بہت ساری جانوں کو خطرات میں ڈالا اور کئی لوگ اسی وجہ سے موت کے شکار ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن ایک زبان میں ایک طرف کہتے کہ ختم نبوت کے قلعے پر حملہ ہوا اور دوسری طرف پانامہ کو سازش قرار دیتے۔ نواز شریف کیخلاف یہ کیس تو عدالتوں و نیب میں پہلے سے موجود تھے جس پر سیاست اور طاقت کی گرد تھی جس کو سازش قرار دیا جارہا تھا مگر پارلیمنٹ میں کیسے سازش ہوگئی؟۔ اس کا جواب چاہیے۔
بعض صحافیوں کیلئے گدھے سے جھوٹ کا دودھ نچوڑنا بھی مشکل نہ ہوگا مگر اچھے صحافیوں کی بھی کمی نہیں ۔ مظہر عباس اچھے صحافی ہیں ،اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالتے ہیں مگر یہ کہنا درست نہیں کہ ’’آئی ایس آئی کو رپورٹ دینی چاہیے تھی کہ حساس معاملہ ہے اور اس مہینے میں اسکے مضمرات کچھ بھی نکل سکتے ہیں‘‘ اسلئے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال بار بار کورٹ کے سامنے اور میڈیا پر یہ بات دہراتے رہے تھے۔ ایجنسی کا کام خفیہ رپورٹوں کا ہوتا ہے۔ رد الفساد ملٹری کا کام ہے۔ دھرنے حکومت کے دائرہ کار میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مرکز اورسراج الحق صوبائی حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے دھرنا نہ کر سکے۔ جمہوری نظام کی دُم پکڑ کر چلنے والی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام نے خود سمیت تمام جماعتوں کے منہ پر بھی اسلئے کالک مل دی ہے کہ سازش کی نشاندہی کے باوجود اس کفر کو ووٹ بھی دیا۔
میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی؟ ، جب حکومت اور دھرنا والوں نے فوج کو ثالث بناکر فیصلہ کرلیا تو ؟۔ دھرنے والے پنجابی بدمعاش سیاسی رہنماؤں اور گلو بٹوں سے لڑ سکتے ہیں تو لیگی کارکن عدالتوں پر بھی چڑھ دوڑنے کی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ ان کا تو سارا گلہ شکوہ یہی تھا کہ فوج ہمیں ضمانت دے کہ اگر اپنے آپے سے باہر آنیوالے ججوں کی مرمت کرنا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔ عدالت کو کٹھ پتلی قرار دینے والے ن لیگی رہنماؤں کی یہی آرزو ہے کہ فوج عدلیہ کو تحفظ نہ دے تو ہم ماڈل ٹاؤن کی طرح انکی اینٹ سے اینٹ بجادیں۔ دھرنے والے ن لیگ کی اپنی پالیسی کے نتیجے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جیو کی صحافی رابعہ انعم نے اپنے پروگرام ’’لیکن‘‘ میں یہ بات بہت اچھے انداز میں اٹھائی کہ شہباز شریف خود ہی سازش کرنیوالے وزیر کو نکالنے کا مطالبہ کررہے تھے تو دھرنے والوں کا کیا قصورہوسکتاہے؟۔
دھرنے والوں کا ن لیگ نے کھلم کھلا فوج پر الزام نہیں لگایا مگر عدلیہ پر الزام لگائے، کیا کوئی مدعی سست گواہ چست کا کردار تو ادا نہیں کررہا ؟ عدلیہ ، فوج ، سیاستدان، مذہبی طبقے اور علماء بڑے پکے مسلمان ہیں تو مدارس کے نصاب کا بھی نوٹس لیں جس میں قرآن کیخلاف کفریہ تعلیم ہے۔ طلاق کے مسئلے پر بڑا انحراف کرکے خواتین کی عصمت دری اور لوگوں کے گھر تباہ کئے جاتے ہیں۔حکومت ، عدلیہ اور فوج دھرنے والے سمیت تمام مذہبی سیاسی جماعتوں ، تنظیموں اور مدارس سے پوچھیں کہ کیا اس طرح کا نصاب پڑھانا جائز ہے یا نہیں؟۔

iman-mazari-ki-taraf-se-fouj-per-laanat--k-bad-imran-khan-ne-fouj-ki-taieed-shuru-krdi-2

شیریں مزاری کی بیٹی نے جسطرح پاک فوج پر لعنت کی ہے تو یقیناًقادیانیوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے ۔ اس لعنت کو سوشل میڈیا نے خوب پھیلادیا ،اور جس طرح کے ماحول میں جس کی برینواشنگ ہوتی ہے وہی اسکی زباں سے نکلتاہے۔مرزائی سربراہ کی ویڈیو آئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ تحریک انصاف قائم ہوئی تو عمران خان نے ووٹ کیلئے نمائندہ بھیجا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اگر تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں کو پتہ چلتا تو ن لیگی رہنماؤں کی طرح عمران خان کے گھر پر بھی ہلا بول دیا جاتا۔ عمران خان نے اس خوف سے نکلنے پر صبح دو رکعت شکرانہ ادا کیا۔ شیرین مزاری کی بیٹی کے بیان سے جان چھڑانے کے جتن میں وقت گزارنے کے بعد فوج کے اقدام کی خوب مدح ا سرائی کی۔ اگر ختم نبوت کا مسئلہ عالمی سازش ہو تو تحریک انصاف اس کا حصہ تھی اور مذہبی مسئلہ تھا تو جمعیت علماء اسلام ذمہ داری سے بچ سکتی ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی۔
اگر یہ کوئی سازش نہیں تھی اور غفلت سے یہ سب کچھ ہوا ہے تو اسلام کے ٹھیکہ داروں نے بھی غفلت میں درسِ نظامی کے نصاب پر ابتک کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ پارلیمنٹ میں دونوں مسئلوں کا موازنہ کیا جائے کہ کس کی زیادہ اور کس کی کم غفلت ہے تو یقیناًعلماء و اولیاء کی غلطی بھی معلوم ہوجائے گی۔انبیاء کرامؑ معصوم ہیں ، ان کی وحی سے رہنمائی ہوتی ہے۔کئی معاملا ت میں قرآن نے رسول ﷺ کی رہنمائی فرمائی ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا طرزِ عمل اور شیطانی وحی محمدی بیگم کے حوالے سے بھی انتہائی شرمناک تھی۔ نبی ومھدی تو دور کی بات ہے کوئی اچھے انسان بھی ہوتے تو کسی خاتون پر اسطرح سے زبردستی زور نہ ڈالتے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو نبیﷺ نے خواب میں دیکھا کہ اللہ نے آپؐ سے شادی کرائی تو فرمایا کہ میں نے سوچا کہ اللہ کی طرف سے ہے تو پورا ہوگا اور شیطان کی طرف سے ہوگا تو پورا نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری)
فرقہ واریت میں مبتلاء عناصرکوجو نفرت ایکدوسرے سے ہے، وہ مرزائیوں سے نہیں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ قرآن وسنت پر ہمارا ایمان ہے۔ختم نبوت کے منکر ہم نہیں بلکہ دیگر مسلمان ہیں اسلئے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں دوبارہ آئیں گے۔ یہی ختم نبوت سے انکار ہے۔ قرآن میں اللہ نے جس طرح شہداء کیلئے فرمایا کہ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیاجاتا ہے۔اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کیلئے فرمایاکہ ان کو اللہ نے اٹھالیااور وہ یقیناًقتل نہیں ہوئے، لیکن قرآن میں یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ پوچھا جائیگا کہ آپ ؐنے یہ تعلیم دی تھی کہ تجھے اورتیری ماں کو دوالہ بنایا جائے تو وہ کہے گا کہ جب تک میں ان میں موجود رہا تو اے اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ میں نے یہ تعلیم نہیں دی اور جب تو نے مجھے وفات دیدی تو مجھے کوئی پتہ نہیں‘‘۔ قرآن جبکہ ان بڑے بڑے لوگوں کا بھی یہ نظریہ ہے جنکا مرزائیوں سے دور کا واسطہ نہ تھا کہ قرآن کا تقاضہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو فوت سمجھا جائے۔ علامہ اقبال نے غلام قادیانی کو مجذوبِ فرنگی کہا لیکن اس بحث کو شیطانی چال کہاکہ ابن مریم مر گیا یا زندہ جاویدہے، امت کی کس عقیدے میں نجات ہے۔ پھر علامہ اقبال کا ایک بیٹا بھی قادیانی بن گیا۔ جب قادیانیوں پر پابندی نہیں تھی تو بہت کم لوگ قادیانی بنتے تھے اور پابندی لگی تو بڑے پیمانے پر قادیانی بن رہے ہیں۔ علماء اور فوجی افسران ہمارے پیر بھائی تھے اور ان سب کے ایمان کا ہم نے تماشہ دیکھاہے۔