پوسٹ تلاش کریں

فوج نے مٹکا توڑا اور بکرا بچایا مگر سراج الحق کہہ رہا ہے کہ بکرے کو بھی ذبح ہونے دو. اشرف میمن

matka-sirajul-haq-jamaat-islami-zibah-hekmatyar-syed-munawar-hassan-sheikh-rasheed
پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے سراج الحق کے بیان پر تبصرہ کیا کہ ملک کی حفاظت صرف فوج نہیں بلکہ سیاسی ومذہبی جماعتوں ، عوام اور تما م سرکاری اداروں کا فرض ہے۔ یہ فوج پر احسان اور نہ اس وجہ سے دُم ہلانے کی ضرورت۔ جماعت اسلامی کب فوج کیساتھ نہ تھی؟،سید منورحسن کو ایک بیان پر ہٹادیا گیا، امریکہ نے پاکستان کو مجبور کیا کہ افغانستان میں اسکا ساتھ دے تو پوری قوم امریکہ مخالف تھی اور لوگ فوج پربرس رہے تھے۔ماہنامہ ضربِ حق اس وقت فوج کی مجبوری سے عوام کو آگاہ کرتاتھا اور آپس کی لڑائی سے منع کر رہا تھا۔ کم عقلوں کے ہاں بکرے کا سر مٹکے میں پھنسا تو پہلے بکرا ذبح کردیا ، جب سر نہ نکلا تو مٹکا بھی توڑا، پھر خوشی منائی کہ ہم کامیاب ہوگئے۔ فوج نے عقل کا مظاہرہ کیا مٹکا توڑا، بکرا بچالیا۔ اب سراج الحق کہتاہے کہ بکرا بھی ذبح کردو، جماعت فوج کیساتھ ہے۔ عراق و لیبیااور افغانستان کیساتھ جماعت تھی مگر اس کا یار گلبدین حکمتیار نیٹو کیساتھ ہے۔ شیخ رشید نے ٹھیک کہا کہ معاملہ گھمبیر ہے ،امریکہ کے ساتھ 40اتحادی ہیں، بھارتی سازش نا کام بنانا ضروری ہے، بھڑکیاں مارنا رہنماؤں کے کام ہیں سینے پر گولی کھانا کسی اور کا کام ہے۔ جماعت اسلامی قرآن وسنت کے معاشرتی ، قانونی اورشرعی مسائل کواجاگر کریگی تو لوگ اسلامی اقتدار کی طرف توجہ دیں گے۔صرف سیاست کرنی ہو توپھراسلامی نام کو ہٹادیں۔

میں نے مارچ 1988 میں رپورٹ دی تھی کہ جونیجو فارغ، جنرل ضیاء قتل…. میجر عامر

major-amir-junejo-prime-minister-iji-isi-mujibur-rahman-shami-dunya-news

نمائندہ نوشتۂ دیوار کوئٹہ امین اللہ نے کہا: میجر عامر نے سلیم صحافی سے کہا کہ IJIبنانے میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔ میں نے سول اور ملٹری تعلقات کیلئے قربانی دی مگر مجھے پھر بھی سزا ملی۔ اجمل جامی ومجیب شامی کے پروگرام میں کہا کہ میں نے مارچ1988میں رپوٹ دی کہ جونیجو حکومت ختم کی جائے گی اورضیاء الحق کو حادثے کا شکار کرکے پیپلزپارٹی کو لایا جائیگا ، یہ معلومات مجھے امریکیوں کیساتھ اٹھتے بیٹھتے باتوں کے دوران معلوم ہوئیں۔ جونیجو کو ایران کیخلاف استعمال کیا جانا تھا مگر نہیں ہورہا تھا ،اسلئے ہٹایا جانا تھا، جنرل ضیاء نے ایٹم بم کو مکمل کیا اور وہ بھی ایران کے خلاف کام نہیں آسکتاتھا(فوج میں شیعہ بہت ہیں) اسلئے ہٹایا جانا تھا اور بینظیر بھٹو کو حکومت میں لاکر ہی استعمال کرنا تھا۔ میجر عامر نے کہا کہ میں فوج سے ہٹادیا گیا تو اسکے بعد مجھے میڈیا سے پتہ چلتاہے اور بس۔ بینظیر بھٹوقتل کے بعد میڈیا پر پہلی بار یہ بات آئی کہ میزائل کی ٹیکنالوجی ان کا کارنامہ تھا جسکے بغیرایٹم بم بیکار تھا۔ اسکا مطلب یہی ہوا کہ IJIبنانے والے استعمال ہوگئے۔ جس کی زبردست تحقیق ہونی چاہیے، نوازشریف پر کرپشن کا الزام لگا تھاجوپانامہ سے ثابت ہوا۔ بینظیر بھٹو نے طالبان بنائے دل سے راضی نہ تھی کہ کابل پر قابض ہوں اور پھر نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کئے۔ بیرونی ہاتھ کیساتھ اپنے کرتوت کا بھی جائزہ لینا ہوگا ہم اچھے ہوں تو ہمارے حق میں سب اچھا ہوگا

ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ نے مانگا مگر مولانا مسعود اظہر کو نہیں کیوں؟ حقائق کیا ہیں؟

rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheed

rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheed-mulla-mansoor

مولانا مسعود اظہر کوجامعہ بنوری ٹاؤن کی طالب علمی سے جانتا ہوں، مخلص ،باصلاحیت و فاشعاراورتابعدارمگران میں بغاوت ایڈونچر رسک لینے کا شائبہ تک نہ تھا۔وکیل کیس لڑتا ہے اورخطیب فن کا جادو جگاتاہے،مقابلے کی تقریر وں میں مسعوداظہر اوّل انعام جیتا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے پاکستان سے لیجاکر 80سال قید کیا۔ ڈاکٹر عافیہ نے رسک لیا ہوگا، تب ہی امریکہ نے سزا دیدی ۔ جبکہ مولانا مسعود اظہر رسک لینے والے نہ تھے اسلئے امریکہ نے طلب کیا نہ کوئی سزا دی، یہ حقائق ہیں جو عوام وخواص نہیں سمجھتے ہونگے۔ مولانا بھاری جسامت، نرم ونازک شخصیت کا مالک ہے ، اچھے خطیب مگر مردِ میدان نہیں۔
مدرسہ میں پڑھتا تھا تو ان کی وفاداری اور تابعداری پر حاسدین کو چمچہ گیری کاگمان تھا ۔ میں اسے اور وہ مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھتا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ میں اس کے راستے پر ایک مجاہد اور وہی میری جگہ ایک محقق ہوتا۔ اتفاق سے دونوں نے بالکل رانگ روٹ اختیار کیا۔ مجھے منزل ملی اور نہ اسے۔ میری تحقیق اگر وہ حسنِ تکلم سے پیش کرتا تو مدارس میں انقلاب آجاتا اور میں جہاد کی راہ پر چلتا تو دنیا کو فتح نہ بھی کرتا مگرجان لڑا دیتا، مدارس میں انقلاب نہ جہاد میں سرخروئی، البتہ تحقیق بغاوت ، ایڈونچر اوررسک بھی ہے، مجاہد کیلئے اطاعت شعاری لازمی ہے۔ سکھ فوجی نے افسر کو رائے دی کہ تہبند اور کرتہ فوجی وردی ہونی چاہیے، سب نے قہقہ لگایا۔ پوچھا سردار جی کیوں؟، پنجابی میں کہا:’’جس نے نوکری کرنی ہو تو پیچھے سے اٹھائے گرنہیں کرنی تو آگے سے اٹھائے‘‘۔ مجاہد کیلئے رعایت اور ڈسپلن کا پابندی ضروری ہے، صلح حدیبیہ اور پرویز مشرف کا امریکہ سے معاہدہ فوجی ڈسپلن کی مثالیں ہیں، حضرت خالد بن ولیدؓ سے نبیﷺ نے برأت ،حضرت ابوبکرؓ نے درگزر کی اورحضرت عمرؓ نے برطرف کیاتھا۔ سیاسی اختلاف کیلئے بدری قیدی پر فدیہ وحدیثِ قرطاس ، مذہبی فتویٰ میں تحقیق اور ایڈونچر کیلئے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کھلے ثبوت ہیں۔
مسعود اظہر کو مکہ میں بزرگ نے حکم دیا کہ بھارت کا دورہ کرلو۔ نامور مجاہد صحافی جس کا جہادی رسالہ میں نام چھپ رہا تھا ، کیسے وہاں رسک لیتا ؟۔ یہ اطاعت شعاری کا قرینہ تھا۔ بڑوں کا ماننا ایڈونچر نہیں تعمیل حکم ہے۔ خانقاہ کے امیر شفیع بلوچؒ نے ادریس بھائی سے کہا: شاہ صاحب کو یثرب پلازہ پہنچادو۔ بائیک پر بیٹھا ،بڑامعجزہ لگاکہ ہانپتے کانپتے مجھے مطلوبہ مقام تک پہنچادیا۔ میں نے پوچھ لیاکہ موٹر سائیکل اچھی چلانی نہیں آتی؟۔اس نے کہا کہ آتی ہی نہیں، پہلی مرتبہ چلائی ۔ میں نے کہا کہ پھر خدا کے بندے! خود بھی مرنا تھا اور مجھے بھی مارنا تھا؟۔ کہنے لگا کہ امیر کا حکم تھا۔ یہ ایڈونچر نہیں کمالِ اطاعت ہے، مولانا مسعود اظہر بھارت حکم سمجھ کر گئے، پھر پکڑے گئے۔ تہاڑ جیل سے تازہ حالات پر ضرب مؤمن میں ہر ہفتہ سوگ بھری تحریر نشر ہوتی تو عجیب لگتا کہ بھارت میں اتنی آزادی کس طرح ہے؟۔
رہا ئی کے بعد اخبار میں بیان آیا کہ ’’انڈیا جیل میں 12سرنگیں کھود یں، میری سائز کی بھی ایک تھی‘‘۔ میں نے لکھا کہ کیا ایک سرنگ تیرے سائز کی کافی نہ تھی؟اور شبہ ظاہر کیا کہ مولانا بے خبری میں امریکہ و بھارت کیلئے استعمال نہ ہو۔ کوئٹہ میں قاضی حسینؒ سے ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ا مین اللہ کا کہا کہ یہ اس اخبار کا نمائندہ ہے جس میں وہ آرٹیکل چھپا ۔ قاضی صاحبؒ بڑی گرم جوشی ملے مگرملی یکجہتی کونسل کا امیر شیعہ کا فر یا مسلمان پر سوال برامان گئے۔
مولانامسعود اظہر نے کہا کہ 40رضاکار بن لادن نے ذاتی بادی گارڈ قبول کرلئے۔ جنگ گروپ کا مفتی جمیل خان سرپرست تھا اورمفتی نظام الدین شامزئی نے حامد میرسے کہا کہ ایک جہادی تنظیم واشنگٹن سے براستہ رابطہ عالم اسلامی مکہ سے پیسے لیکر علماء کو خرید تی ہے باز نہ آئی تو اسکا بھانڈہ پھوڑدونگا۔ حامد میر نے لکھا: اگر باز نہ آئی تو بھانڈہ پھوڑ دینا۔
مشرف پر حملہ میں فوجی و جیش والے سزا یافتہ ہیں۔ مشرف مولانا مسعود اظہر کو پاکستان دشمن کہتاہے۔ ملاضعیف سے لیکر ڈاکٹر عافیہ تک لاتعداد کو امریکہ کے حوالہ کیا۔9/11 میں مفتی جمیل کوبرطانیہ نے پکڑ کر امریکہ کو حوالہ کیا مگر امریکہ نے چھوڑدیا ۔ افغانستان پر حملہ ہوا تو پاکستان استعمال ہوگیااور پاکستان پر حملہ ہوا تو بھارت آگے آئیگا۔مولانایوسف لد ھیانویؒ کے نام پر روزنامہ جنگ نے لکھا کہ’’ حضرت عیسیٰ ؑ کے چاچے نہیں تھے مگر پھوپھیاں تھیں‘‘ شور اٹھا تو مولانا لدھیانویؒ نے لکھا کہ’’ میری تحریر نہیں‘‘۔ پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی علماء نے مفتی اعظم مفتی ولی حسنؒ کے نام ’’شیعہ کافر‘‘ کے فتوے پر دستخط کئے۔حالانکہ جامعہ کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندراس حق میں نہ تھے ، مولانا محمد بنوری شہیدکیا گیا۔ امریکیCIAمنصوبہ براستہ سعودیہ و بھارت پاکستان آیا ۔ حاجی عثمانؒ پر فتویٰ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے بتایا کہ مفتی رشید و مفتی جمیل کی سازش تھی مگر حق بولنے کی جرأت نہیں۔ سب راز ٹی وی پر فاش کریں توCIAکا پتہ چلے۔

کیا واقعی افغانستان بہانہ اور پاکستان نشانہ تھا؟ عتیق گیلانی

qurbani-frontline-kutya-nato-dog-k-electric-hakeem-ullah-mehsood-bait-ullah-mehsud-black-water-haqqani-network

امریکہ نے القاعدہ نمبر1،نمبر2، اچھے طالبان، برے طالبان ، اچھی جہادی تنظیمیں، بری جہادی تنظیمیں ، آزاد ی کیساتھ گھومنے اور پابندی لگنے کے شکار گروپوں اور بلیک واٹر کی بھرمار سے خطے کا بیڑہ غرق کردیا ۔ بینظیر بھٹو ، شوکت عزیز، پرویزمشرف ، GHQ، مولانا فضل الرحمن، شیخ رشید اور قاضی حسین وغیرہ کی حفاظت مسئلہ تھا۔بیشک پاکستانی ریاست نے ضمیرکی قربانی اور عوام کالانعام کی قربانی دی۔ عید قربان پر بھیڑ بکری ، دنبے بکرے بیل اور اونٹ قربانیاں دیتے ہیں ان کا گوشت کھالیا ، آلائشوں کو دفن کردیا، حلال کی اس قربانی کے بعد قصائی و بیوپاری اگلے موسم کا انتظار کرتے ہیں۔ بکرے ، گائے اور اونٹ بلند آواز سے چیختے ہیں کہ ہم تیار ہیں مگر حقائق سے وہ لاعلم ہوتے ہیں۔ دوسری حرام کی قربانی ہے جو کتیا ضرورت اور مجبوری سے کتوں کے ریلے کیلئے دیتی ہے ۔بدمست کتیااس کیفیت میں اپنے پرائیوں کو کاٹتی ہے پھر رنگ برنگے بچوں کی حفاظت اور پرورش کا بوجھ اٹھاتی ہے، آوارہ کتوں کی بہتات ہو تو مارنے کی مہم شروع ہوجاتی ہے ۔ کتیا مارے تو ماں کو تکلیف پہنچتے گی، بچے حرامی ہوں تو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنا قبول کرے مگرماں مارنے کا دل گردہ نہیں رکھتی ۔پولیس ، عدالتوں ، حکومت کے اداروں بلکہ پرائیویٹ kالیکٹرک کی ستائی ہوئی عوام کی حالت جانوروں سے بدتر ہے۔ ریاست کا سلوک عوام سے کتیا ماں جیسا ہوتا تو بہتر ہوتا۔ حضرت حسن بصریؒ نے 10صفات کا ذکر کیا ہے جو مؤمن میں کتوں جیسی ہوں۔
ابوالعلاء معریٰ کو تیتر شکار کرکے دیالیکن اس نے کہا کہ توتیتر نہیں باز ہوتا تو شکار کرتا۔
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
امریکہ نے افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام کے بعد پاکستان پر مہربانی کا فیصلہ کیا۔ جنرل راحیل و جنرل باجوہ نے پاکستان سے کھیل ختم کیا تو امریکی پیٹ میں مروڑ اٹھا کہ افغانستان کی طرح پاکستان میں نیٹو، داعش ، طالبان اور اقسام و انوع کے لشکر ہوں کیونکہ پروگرام خطے میں تادیر رہنا ہے۔ چوہدری نثار نے اسلام آباد 400 مکان میں رہائش پذیر افراد کو رجسٹریشن کا پابند کیا تو فخریہ انداز میں بیان کیا۔ حکومت اور پاک فوج کا دہشتگردی کے خاتمہ پر اختلاف نہیں۔ پہلے امریکہ کی جنگ سمجھا لیکن بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تو سب نے کہا: یہ ہماری جنگ بن چکی۔ بلیک واٹر اور حقانی نیٹ ورک کی بھرمار پربہت خوشی تھی مگر پاکستان سے دہشت گرد اور دہشتگردی کا خاتمہ ہونے لگا تو امریکہ کے تیور بدلے۔
قبائل پہلے انگریز سے لڑے ،اگر نیٹو نے حملہ کیا تو عوام زمین کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ رینجرز کو قبائل بھیجا جائے جو پولیس کی طرح ہے۔ فوج دشمن سے نمٹنا جانتی ہے۔ طالبان نے قبائلی عوام کا دل بٹھادیا۔ فوج کو بہتر سلوک کرنے کی ضرورت ہے ورنہ توقبائل نیٹو سے لڑنے کے قابل بھی نہ ہونگے۔ پاکستان نے اپنی حفاظت کیلئے کالعدم لشکریں پال رکھی ہیں، سرکاری ملازم کیلئے ممکن نہیں کہ خطے میں دھشتگردی پر انکے بغیر قابو پاسکے۔ اپنے ہمدرد سے لڑنا شروع کیا تو نئے محاذسے نئی جنگ چھڑ جائے گی۔ یہ بدمعاشی اپنی مجبوری ہے۔
BBC.COMپر یہ خبر نشرہوئی تھی کہ بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود کو افغانستان میں نیٹو نے گرفتار کیا۔حکیم اللہ محسود مقامی لوگوں اور بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث پایاگیا تو دوسری طرف امریکہ کو بھی مطلوب تھا اسکا کزن نیٹو نے پکڑکر پاکستان کو حوالے کیا۔ پاکستان امریکہ سے پوچھتا کہ حکیم اللہ کو گرفتار کرنے کے بعدکیوں چھوڑا ؟ ۔اخبار جہاں کے شمارہ میں بینظیر کے قتل کے بعد طالبان کو پیسے دیتے ہوئے برطانوی فوج کو رنگے ہاتھ پکڑنے کا ذکر بھی تھا۔ پاکستان امریکی امداد لیتا تھااسلئے امریکی مرضی پر دہشتگردوں کو پال رہا تھا ۔ بھارت افغانستان میں اپنا پیسہ خرچ کر رہا ہے اسلئے امریکہ کی طرح دہشت گرد پال سکتا ہے۔بینظیر بھٹو کارکنوں کی خوشی کیلئے بلڈ پروف سے باہرنہ لہراتی تو دہشتگرد کامیاب نہ ہوتے۔ جن لوگوں کو جرم کے الزام گرفتار کیا تھا، ضروری نہیں کہ وہ مجرم ہوں۔حنیف پاڑہ چنار وغیرہ کو 135سال قید کی سزا الذوالفقار تنظیم کے الزام میں دی گئی ، حالانکہ بیگناہ تھے جبکہ زرداری کو کرپشن میں12سال گرفتاری کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ عدالت کا نظام درست نہ ہوا تو انصاف کیلئے سب کا اپنا اپنا پیمانہ ہوگا۔
دفاعی تجزیہ نگارجنرل ر امجد شعیب نے حامد میر کے پروگرام میں بتایاکہ پٹھان کوٹ حملے کے بعد مولانا مسعود اظہر پر الزام لگاجب پاکستان کی ایجنسیوں نے تحقیق کی تو بھارت کو 10میں6دہشتگردکے نام معلوم ہوسکے جو گجرات میں حملہ کرنیوالے تھے۔ مغربی ملک کی ایجنسی اسکے پیچھے تھی، انڈیا نے ہمارا شکریہ بھی اداکیا۔ پاکستان و بھارت امریکی CIA کا نام کیوں نہیں لیتے؟،جہادی امریکی ایجنڈا پورا کررہے ہیں یا یہ اسلام کی خدمت ہے؟۔
مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو سامنے آنکھوں کے آتا ہے

امریکہ اور نیٹو کو موقع دینے کے بجائے جنرل باجوہ کردار ادا کرے، اجمل ملک

barma-muslim-zulam-lieutenant-commander-imran-awan-steel-town-karachi-gulshan-e-hadeed

ایڈیٹرنوشتہ دیوار اجمل ملک نے کہاکہ: 14اگست پر آرمی چیف جنرل باجوہ کا اعلانیہ سرحد پر جھنڈا لہرانا بڑی جرأت ہے جسکا اظہار لیفٹیننٹ رکمانڈر عمران اعوان نے بھی اسٹیل ٹاؤن گلشن حدیدکی تقریب میں کردیا۔ امریکہ نے کہا کہ’’ پاکستانی ماں کو بھی بیچتے ہیں‘‘۔ جنرل باجوہ نے امریکی سفیر سے کہا : امداد نہیں احترام چاہیے ۔تو 70سالہ تاریخ کوبدلا، گالی کا جواب تک نہ دیا گیا۔یہودیوں پر برما میں یہ انسانیت سوزظلم ہوتا توبھی عالم اسلام اقدام اٹھاتا ۔ جنرل باجوہ محمد بن قاسم بن کر برماکے غریب، بے بس اور بے توقیر مسلمانوں کے تحفظ کیلئے اقدام اٹھائیں، عالم اسلام اور دنیا بھر کے اچھے انسانوں کی بھی ہمدردیاں ساتھ ہونگی،کربھلا ہو بھلا۔ سعودیہ، امارات، ایران قطر افغانستان تمام اسلامی دنیا اور چین وروس کو متحرک کریں، بنگلہ دیشی کیمپ میں ایدھی، چھیپا، سیلانی، عالمگیر وغیرہ مدد فراہم کریں ۔ پاکستان میں مقیم برمیوں کو شہریت دیں، غرباء سے شناختی کارڈ اورپاسپورٹ کی رقم بٹورنے والوں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دیں۔ نوازشریف کی اولاد ودیگر افراد غیرملکی شہری بنے تو عرصہ سے برمیوں کو شہریت نہ دینا نظریۂ پاکستان ہے؟، برما میں قیامِ امن کا آغاز منافقانہ کھیل اور بدامنی کے خاتمے کا ذریعہ ہوگا۔ انشاء اللہ
وزیرخارجہ سمجھتاہے کہ نوازشریف کو لینے طیارہ پاکستان کی اجازت سے آیا تھا، برمیوں کی اجازت ملے تو پاکستان طیارہ بھیجنے کو تیار ہے۔ شاہ زیب کے پروگرام میں وزیر خارجہ کی تضاد بیانی سے پاکستان کا بیڑہ غرق ہوگا۔

نا اہل وزیراعظم نواز شریف اپنے حقیقی والد میاں شریف اور روحانی باپ جنرل ضیاء الحق کیساتھ

badrooh-general-zia-ul-haq-shair-e-mashriq-rooh-e-muhammad-sheeraza-musalman-mian-sharif-nawaz-2

نا اہل وزیراعظم نواز شریف اپنے حقیقی والد میاں شریف اور روحانی باپ جنرل ضیاء الحق کیساتھ کھڑا فریاد کررہا ہے کہ مجھے پرویز مشرف کی بدروح نے نکال دیا، شہید ضیاء الحق اپنی روح سے مدد فرما۔ جبکہ بقول اقبالؒ : اے روح محمدؐ
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر اب توہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے

جنرل ایوب خان 1958 میں وزیر خارجہ ذو الفقار علی بھٹو……

establishment-of-pakistan-zulfiqar-ali-bhutto-benazir-bhutto-ayub-khan-dictatorship-raag-alapna-2

جنرل ایوب خان 1958میں وزیر خارجہ ذو الفقار علی بھٹو، بچوں بے نظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو اور صنم بھٹو کیساتھ ۔اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا راگ الاپنے والے نام نہاد جمہوری لیڈروں کی پرورش جمہوری ماحول میں نہ ہوئی تھی اسلئے جمہوریت کے لبادے میں ان قائدین میں ڈکٹیٹر شپ پنہاں رہی۔

یا اللہ یا رسول نواز شریف کی قربانی ہو قبول: مریم نواز

qatar-nawaz-sharif-taliban-maryam-nawaz-asma-shirazi-imam-supreme-court-syed-atiq-ur-rehman-gailani

نوشتہ دیوار کے مالیاتی امور کے چیف محمد فیروز چھیپا نے کہا

 ن لیگی رہنما، شریف خاندان اور مریم نواز کو چاہیے کہ وہ اپنارونا رونے کے بجائے مظلوم خواتین کیلئے آواز بلند کرے۔  اسی میں عزت بھی ہے، فرض اور قوم کا قرض بھی۔  تمام پارٹیوں و میڈیا کی چند خواتین رہنماؤں کے ذریعے مظلوم خواتین کے حقوق کیلئے کام کیا جائے تو زبردست انقلاب کا ذریعہ ہو گا۔ سپریم کورٹ کے سامنے ایک بیوہ خاتون کہہ رہی تھی کہ میری جوان بیٹیاں ہیں انکی عزتوں کو خطرہ ہے اسلئے اپنے اکلوتے بیٹے کے کیس سے دست بردارہورہی ہوں۔  ایک بھی مذہبی و سیاسی جماعت نہیں تھی جو ساتھ دینے کیلئے کھڑی ہوجاتی کیونکہ ہرایک نے ظالم طبقوں سے ووٹ لیکر اقتدار تک پہنچنا ہوتاہے۔

اسلام نے خواتین کو وہ حقوق دیئے جس کا کسی ۔۔۔

 سیکولر مغربی معاشرے میں آج بھی تصور نہیں ہوسکتاہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں مدارس، مذہبی طبقے اور ریاست نے بھی انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ ہمارا ملکی قانون ہے کہ عورت طلاق شدہ اور بیوہ ہونے کے بعد بھی کوئی مرد سرپرست فارم میں ظاہر کرے۔ مریم نواز بھی باپ کے زیر سرپرستی کی وجہ سے زیرکفالت کاشکار ہوئی۔ عدالتوں اور میڈیا میں مریم نواز توکبھی مریم صفدر کا چرچا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ۔

جب ہمارا ملک کسی خاتون کو اپنی شناخت۔۔۔

 و خود مختاری بھی نہیں دیتا ہو تو اسکے دوسرے حقوق کس حد تک محفوظ ہوں گے؟۔ اسلام نے بیوہ و طلاق شدہ کو آزاد وخودمختار قرار دیا ہے۔  مگر افسوس کہ جمہور ائمہ شافعیؒ ، مالکیؒ اور حنبلیؒ کے علاوہ اہلحدیث کا بھی مسلک ہے کہ کوئی بیوہ و طلاق شدہ بھی خود مختار نہیں، اس کیلئے ولی ضروری ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح درست نہیں۔  جبکہ حنفی مسلک میں کنواری کو بھی ولی کی اجازت کا ملنا ضروری نہیں ۔

افراط و تفریط کی وجہ سے ہم قرآن سے ہٹ گئے۔ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ بھی بھول گئے۔  بھٹکی ہوئی آہو کو چاہیے کہ وہ مسلم اُمہ کو سوئے حرم کی طرف لے جائے۔  قرآن وسنت کی واضح ہدایت کے باوجود علماء نے طلاق کے بعد رجوع کا دروازہ بند کر رکھاہے۔  اور حلالہ کی لعنت کے نام پر صرف خواتین نہیں سارے خاندان کی عزت کو تباہ کیا جارہاہے۔ اس کا راستہ روکنے کیلئے بہادر خواتین کو میدان میں آنا پڑیگا۔  حلالہ کروانے کی اکثریت جاہل غریب اور بے بس ہوتی ہے۔  مذہبی قائدین سمجھ کے باوجود اُن پر رحم نہیں کرتے۔

آئندہ آنے والے بارہ امام جن پر امت کا اجماع ہوگا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں قرآن اور میرے اہل بیت : صحیح مسلم

نقش انقلاب کو بڑا کرنے کیلئے تصویر پر کلک کریں

httpzarbehaq.comwp-contentuploads201705Naqsh-e-Inqalab-bara-imam-shia-sunni-hadith-quran-islam-pakistan-allama-iqbal-triple-talaq-ispr-ghq-syed-atiq-ur-rehman-gailani2.jpg

مولانا نصر اللہ کے بیان پر عبد القدوس بلوچ کا تبصرہ

quaid-e-azam-joined-congress-year-ulmaa-with-congress

کراچی (عبد الشکور) مولانا نصر اللہ امام و خطیب جامع مسجد معصب ابن عمیر چمڑہ چورنگی (03333405517) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قیام پاکستان مقصد محض آزادی کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی نقطہ نظر اسلامی معاشرہ تھا مگر بدقسمتی سے قائد اعظم جیسے منافقین کے ہاتھ باگ دوڑ دے دی گئی جنہوں نے کانگریس سے مل کر منافقانہ رویہ اپنایا کہ آج تک اہل پاکستان ذلیل و خوار ہیں لہٰذا ایک ایسے معاشرے کی از سر نو تشکیل کی ضرورت ہے جو ہر قسم کے منافقانہ رویوں سے پاک جس میں آئین حدیث شریف اور قانون قرآن ہو۔ اور معاشرتی برائیاں بھلے جتنی بھی ہوں پھر یہ ہوا کے تنکے کی طرح اڑ جائیں گی۔ اور ہم سب من حیث القوم سکھ کا سانس لے سکیں گے ورنہ آج کل جس جمہوریت کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے یہ محض ایک تباہی و بربادی ہے جس کی زندہ مثال موجودہ نظام ہے اس موجودہ نظام کے خاتمے کے بغیر ہماری زندگی اجیرن ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کے لوگوں کو اس نظام کے خاتمے اور جنازے کو کندھا دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

تبصرہ نوشتہ دیوارتیز و تند عبد القدوس بلوچ

جناب مولانا صاحب !علماء و مفتیان ایک طرف قائد اعظم کے ساتھ تھے اور دوسری طرف گاندھی اور نہرو کے ساتھ تھے۔ مدارس پر کس نے پابندی لگائی ہے کہ وہ اپنے نصاب میں غلطیوں کی اصلاح نہ کریں؟۔ مجلس احرار کے قائد مولاناسید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے پہلے پاکستان کی مخالفت کی مگر پھر جب پاکستان بن گیا تو فرمایا کہ ’’مسجد بننے پر پہلے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو پھر اس کا تقدس ، اس کی حفاظت اور اس کی آبادی بھی ضروری بن جاتی ہے‘‘۔ آپکا بیان بہت معذرت کے ساتھ ایسا ہے جیسے آپ اپنے مسجد کے بانیوں کو اور اس کے رکھوالوں کو برا بھلا کہو کہ وہ منافقین ہیں لیکن دوسروں کو برا کہنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ علماء ہی ذمہ دار ہیں۔ قدوس بلوچ