پوسٹ تلاش کریں

کوئی پانچ سال کی بچی نہیں چھوڑتا، پدر شاہی بلا بن چکی جو عورت کے خون پر پلتی ہے، عصمت شاہجہان

پریس کلب میں عصمت شاہجہان کا خطاب
( (بلال خان، علی خان، شاہجہان ،عبید خان، اسفند یار وزیر ) کامریڈ عصمت شاہجہاں صدر وومین ڈیموکریٹک فرنٹ، عورت آزادی مارچ 2020اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کہا : سلام دوستو! ساتھیو! آپ سب کی جرأت کو لال سلام۔ آج دہشت و وحشت کے خوف کو جو آپ لوگوں نے توڑا آپ سب کو لال سلام۔ اور آج سیکولر پاکستان کا فیصلہ ہوگیا!۔

اسلام آباد،  پاکستان کا پولیٹکل سینٹر اسٹیج ہے اور پھر یہ پریس کلب پر لڑائی پانچ دن سے جاری رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این او سی ہمیں بھی دی گئی اور ان کو بھی دی گئی۔ یہ کیوں کیا گیا؟ان سوالات پر میں بعد میں آؤں گی لیکن آج جشن کا دن ہے اپنی بات رکھنا چاہوں گی اس مارچ کے حوالے سے۔ سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتی ہوں ان تمام آرگنائزرز کا جنہوں نے ہمیں مکمل سپورٹ دی۔ ساتھ میں جو آرگنائزنگ کمیٹی ہے جنہوں نے دن رات کام کیا ان کی محنت کو اس خوف کو توڑنے کیخلاف آج نکلنے پر ان کو سلام پیش کرتی ہوں۔ میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن کو خط لکھا کہ ان کو این او سی دیدیں ،میں باقی جو اسلام آباد کی لیفٹ  کی پارٹیاں ، وومن ایکشن فورم خاص طور پر ہمارے ساتھ کھڑی رہی اور عوامی ورکر پارٹی کی ٹیم انتھک ہمارے ساتھ کھڑی رہی۔ بھلے وہ سیکیورٹی کا مسئلہ ہو یا بینر پوسٹر ہو، یا گاڑی ہو، ہر جگہ وہ کھڑے رہے اورر ساتھ ہی ساتھ لیفٹ کی جن پارٹیوں اور تنظیموں کے لوگ آئے ہیں انکا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں،  اور تمام لوگ جو آج یہاں اکھٹے ہوئے۔پورے پاکستان کو جو آج یہاں سے پیغام جارہا ہے ان سب کو میں ایک بار پھر لال سلام پیش کرتی ہوں۔

ساتھیو! یہ آج پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں عورت نکلی ہے، پاکستان میں دہائیوں سے عورت مزاحمتی سیاست میں ہے اور سڑکوں پر ہے۔ بھلے وہ ایوب خان کے دور میں طاہرہ مظہر علی خان کی ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن ہو جسکا ہم تسلسل ہیں،  یا وہ ویمن ایکشن فورم ہو جس نے ضیاءکی  آمریت کو للکارا۔یا ہیلتھ ورکرز ہوں اور لیڈی ٹیچرز ہوں جنہوں نے پاکستان میں  آئی ایم ایف  کی کٹوتیوں کیخلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔یا ہماری بلوچ بہنیں ہوں جو مسخ شدہ لاشوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف کھڑی رہی ہیں۔ یا ہماری پشتون بہنیں ہوں، جنکے گھروں میں لیویز کے اہلکار گھس جاتے ہیں۔ بہت ساری مزاحمتی تحریکیں چلتی رہی ہیں اور ہم انہی مزاحمتی تحریکوں کا تسلسل ہیں۔ریاست پاکستان نے نہ صرف ان مزاحمتی تحریک کو کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ عورتوں، محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کے زخموں کے اندر پنجے گاڑے بیٹھی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی، کیوں کی گئی ؟ جو پیچھے نظر آرہا ہے وہ کیا ہے؟

ہم سمجھتے ہیں کہ رائٹ ونگ جب عورت کو موبیلائز کرتا ہے یہ بنیادی طور پر پدر شاہی مفادات کیلئے کرتا ہے۔ تو پاکستان میں ایک جنونی پدر شاہی کی تشکیل کی گئی کیونکہ جنگی مفادات کیلئے ایک جنگجو اور ظالم لڑنے والا مرد چاہئے تھا۔ وہ masculinity (مردانگی) اس ریاست نے تشکیل دی۔ اس جنگ کے لئے  جو لٹریچر، مواد ، کتابیں، ویڈیوز، نظرئیے اور ہتھیار لائے گئے وہ نظریئے، ہتھیاراور کتابیں اب چلتے چلتے چلتے ہماری گلی اور محلوں میں پہنچ چکی ہیں۔ اور اب کوئی پانچ سال کی بچی بھی نہیں چھوڑتا۔ اب پدر شاہی ایک جنونی عفریت اور بلا بن چکی ہے جو عورت کے خون پر پلتی ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ جو لوگ اس عورت کے جسم سے مماثلت رکھتے ہوں ان کی بھی خیر نہیں چاہے وہ صنف آزاد ہمارے خواجہ سرا بہن بھائی ہوں یا نابالغ بچے ہوں۔ تو تاریخ کے اس پڑاؤ میں ہم یہاں پہنچے ہیں کہ جنگ کیلئے جس پدر شاہی کو تشکیل دیا گیا اب وہ ایک عفریت بن چکی ہے۔ اور اس عفریت کے پیچھے ایک اور عفریت کھڑی ہے اور وہ ہے جنگی اقتصاد اور اسکے پیچھے سامراجی عفریت کھڑی ہے۔ اب یہ کئی جنگیں ہیں جو ہمیں لڑنی ہیں۔

ہم تاریخ کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہم نے ایک راستہ چننا ہے۔ یا صنفی انقلاب کا یا جنسی اور پدر شاہانہ بربریت کا۔ میں اسلام آباد کے اس اسٹیج سے پورے پاکستان کو پیغام دیتی ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ ہم نے وہ راستہ چننا ہے، ایک راستہ ہم کو چننا ہے اور ہم کو سخت فیصلہ کرنا ہے اور ہم کو منظم تحریکیں چلانی ہوں گی۔ یہ وقتی اور کبھی کبھار کی ون ڈے مارچ سے کچھ نہیں ہونے والا۔ منظم تنظیموں میں آئیں اور کام کریں جو بھی آپ کے نظرئیے کے قریب ہو اس میں ضرور آئیں۔

میں اسلام آباد میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا میں اس کی بھی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ آج کے دن ہمیں بتایا گیا کہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے یونٹس میں تحریک لبیک ،شریعت کونسل اور جمعیت علماء اور سپاہ صحابہ کے لوگ گئے،  اور انہوں نے کہا کہ” اگر آپ گئے، تو آج پھر آپ ادھر رہیں گے کیسے”؟ تو انہوں نے ہمیں فون کئے ، کہ ہم نہیں آسکتے، کیونکہ ہمیں یہاں رہنا ہے۔ منصوبہ یہ تھا ،کہ محنت کش آبادی سے عورتوں کو نہ نکالو۔ اور اس مارچ کو بدنام کرو کہ یہ تو مڈل کلاس این جی او مافیا ہے۔ تو محنت کش عورتوں کو آج نہیں آنے دیا گیا ۔ہم اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ ہماری گاڑیوں  کے ڈرائیوروں کو مارا گیا ،اور یہ ہماری چوتھی گاڑی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں دھمکیاں دی گئیں ، ویڈیو ز بھیجے گئے۔ اور ہمیں پیغام دیا گیا کہ اگر آپ نکلیں گے،تو ہم دو بجے وہاں ہوں گے، یہ کردیں گے ،وہ کردیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہم بہت خوش ہیں۔ خوش اس بات پر ہیں کہ آج آپ وہ بات کررہے ہیں جو ہم کرتے رہے ہیں۔ آج آپ کو عورت کے سوال پر بولنا پڑ رہا ہے۔ ہم اتفاق کرتے ہیں جماعت اسلامی نے جو چارٹر ریلیز کیا ہے  کہ ہم یہ چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں ،عورت کو جائیداد میں حصہ دو۔

ہم آخر میں کچھ میڈیا کے بارے میں کہنا چاہتے ہیں ۔پاکستان کے میڈیا نے پچھلے مارچ کے دو پوسٹر اٹھائے،  تقریباً ہر شو میں ایک مولوی کو بلایا مولوی   ہاتھ نہ آیا،  تو ملوانی کو بلایا ،اور ان   پربات کی۔ایک وطیرہ بنایا ہے ،پاکستان کی ریاست اور اس کے میڈیا نے ۔کہ سوشلسٹوں کو  کفار کہو، قوم پرستوں کو غدار کہو اور عورتوں کو بدچلن کہو۔ یہ کلنک لگانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔اور میڈیا بھی یہ سن لے کہ آپ چار اشتہار چلاتے ہیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فیمنسٹ تحریک کی عورتیں آئیں گی اور آپ کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اسی سے چلے گی کہ  ایک پوسٹر پر بات ہوگی۔ دیکھ لیں گے آج عورتیں کیا کہہ رہی ہیں۔ اور یہ پوسٹر پڑھ لیں۔ اور خبردار جو کسی نے اب پوسٹر کی بات کی!

آخری بات کہنا چاہتی ہوں کہ یہ ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ پاکستان کی ریاست اور اسٹبلشمنٹ بھی سن لے۔ جو پچھلے چار پانچ دن سے ہمارے اوپر کریک ڈاؤن اور ہمارے اعصاب کو جو پیرالائز کرنے کی کوشش کی گئی ،وہ سن لیں کہ یہ سب ساتھ ہیں ،ہم سب ساتھ ہیں،ہم سب ساتھ ہیں،  ہم سب ساتھ ہیں۔

 آخر میں  بس  کہنا  چاہتی ہوں کہ یہ جو این جی اوکی فنڈنگ کا برا الزام لگا ہے، اور جو لوگ یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ یہ فنڈنگ کس کی ہے؟ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ پیغام بھیجا کہ آپ  پہلے یہ بتائیں کہ  آپکی فنڈنگ کس کی ہے؟۔ تو میں نے کہا کہ فنڈنگ تو آپ لیتے ہیں ۔تینتیس ملین ڈالر کی  جنگ کے لئے فنڈنگ آپ نے لی، غیرممالک سے خیرات آپ نے لی،دنیا بھر سے قرضے آپ نے لئے۔ اور جب ہم لوگ اس  فنڈنگ کے  خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آپ بولتے ہو کہ فنڈنگ کس نے کی؟  ہم نے ہزار پانچ پانچ دو دو سو روپے جمع کرکے یہ سارا انتظام کیا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو این جی او کا ڈرامہ کرکے ہم پر الزام لگارہے ہیں۔ ہم مزاحمتی تحریک ہیں کان کھول کر سن لیں سب۔ آئندہ کسی نے یہ کہا کہ ہم این جی او ہیں ، این جی او کی فنڈنگ ہے، یا فارن فنڈنگ ہے، سب کو اطلاع  عامہ ہے،کہ ایک دھیلا بھی ہم نے کسی سے لیا ہو۔آج اسٹیج پر یہ بتارہی ہوں۔ اور یہ این جی او کی فنڈنگ کا الزام جو ہے ،   "پروجیکٹ جہاد” کا یہ خود کھاتے رہے ہیں۔ اور این جی اوز کا بھی کھلاتے رہے ہیں۔ وہ بھی پروجیکٹ جہاد کی وجہ سے آج یہاں تھیں۔ کچھ تو ہیومن رائٹس کے نام پر آگئیں۔ لیکن مذہبی این جی اوز کی جو فنڈنگ ہوئی وہ تو بالکل ہی مطلب ……۔ تو ہم ان کو ایکسپوز کرنا چاہتے ہیں ۔ہماری کوئی فنڈنگ نہیں ہے۔ آخری بات رکھنا چاہتی ہوں کہ ہماری کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے جدوجہد جاری رہے گی!

 اور ہم ایک ہی ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان پاکستان میں "عورت ایمرجنسی ڈکلیئر کرے۔ جب تحریک لبیک سے بات ہوسکتی ہے ، سپاہ صحابہ سے بات ہوسکتی ہے تو فیمنسٹ تحریک سے کیوں بات نہیں ہوسکتی؟ ہم سے بات کرو ہم تنگ ہیں۔ ہمیں مارا جارہا ہے۔ ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔

عورت آزاد،سماج آزاد۔ عورت آزاد،  سماج آزاد۔ جب تک عورت تنگ رہے گی ، جنگ رہے گی، جنگ رہے گی۔ عورت آزادی مارچ،  زندہ باد،زندہ باد۔

تبصرۂ تیز وتند قدوس بلوچ

ہمارا مقصد کمزوروں کو تحفظ دینا ہے۔محترمہ عصمت شاہجہان کا یہ خطاب پچھلے شمارے کے فرنٹ پییج پر مین لیڈ کیساتھ لگا تھا۔ اس شمارے میں بھی ہم نے شائع کیا۔ محترمہ عصمت نے ٹی وی اینکروں کو بڑی درست نشاندہی کی کہ پچھلے سال کے ایک دو پوسٹر پر بات کی گئی لیکن اس مرتبہ تو یہ پوسٹر بڑی تعداد میں تھے اور زیادہ قابلِ اعتراض تھے۔ بھگدڑ مچ گئی تو غلط پوسٹر اٹھانے والے بھاگ بھی گئے۔ جب ہم خالی دوسروں پر تنقید کو اپنا وطیرہ بنانے کے بجائے اپنی بھی اصلاح پر توجہ دیںگے تو بات مؤثر ہوگی۔ ہم نے خواتین کے حقوق کیلئے جو آواز اُٹھائی تو یہ تاریخ کا بڑا روشن باب ہے اور اسی سے انقلاب کا رستہ کھلے گا۔اور یہ افراد نہیں بلکہ قوم کی اجتماعی جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔

 

 

قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں

علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کی انتہائی بدترین اور بہت ہی قابلِ رحم حالت

مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے علماء ومفتیان کا بڑا نمائندہ اجلاس طلب کیا اور ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کیلئے کراچی پریس کلب میں میڈیا کے صحافیوں کے سامنے اپنے انتہائی بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا۔ تحریری اعلامیہ مفتی تقی عثمانی نے پڑھ کر سنایا تو اس میں ایک مطالبہ رکھا گیا تھا کہ مساجد سے لاک ڈاؤن کی پابندی ختم کی جائے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ آج سے لاک ڈاؤن ختم ہے۔ Continue reading "قرآن،پاکستان اور عالمی پیشین گوئیاں”

وزیراعظم آج تک اپنا کوئی وعدہ پورانہ کرسکا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

لاہور ،اسلام آباد اور ملتان میں ”میٹروبس” کو تنقید کا نشانہ بنانے والے عمران خان نے پشاور کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیاہے۔ ملتان میں میٹروپر فلائی اوور کی وجہ سے سستے علاقے بھی متأثر نہیں ہوئے جبکہ پشاور میں واحد اور مہنگاترین یونیورسٹی روڈ تباہ کرکے رکھ دیا گیا۔ پختونخواہ پولیس کے بلند دعوے کئے گئے مگر پختونخواہ میں فوج تعینات کی گئی۔
آئی ایس پی آر نے میڈیا، علمائ، میڈیکل اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون کا شکریہ ادا کرکے بڑا اہم پیغام قوم کو دیدیا کہ ” کرونا جیسی آزمائش سے پہلی مرتبہ واسطہ پڑا ہے”، یہ کریڈٹ پاک فوج کو ہی جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ذریعے وائرس اتنا جلدی نہیں پھیل رہاہے جتنا دنیا میں پھیل گیا۔ یہ حکومت کی غفلت ہے کہ ایران و دوسرے ممالک سے وائرس امپورٹ ہوا، خارجہ وداخلی پالیسی غلط نہ ہوتی تو لاک ڈاؤن کا سامنا نہ کرناپڑتا۔ علماء اور تبلیغی جماعت کو ڈنڈے کے زور پر نہ روکا جاتا تو یہ رُکنے والے نہ تھے۔ قرآن میںنمازِ خوف واضح ہے جس سے وائرس پھیلنے کا اندیشہ نہیں رہتالیکن سودی نظام کو جواز بخشنے والے مفتی اعظموںاور شیخ الاسلاموں کو آیت البقرہ239دکھائی نہیں دی۔
ایران، تبلیغی جماعت اورعلماء و مفتیان اپنی اپنی جہالت پراوروائرس پھیلانے کے ذمہ دار طبقے اپنی غفلت پر معافی مانگیں۔ وزیراعظم، زلفی بخاری ، شاہ محمود قریشی اور ذمہ دار طبقات مجرمانہ غفلت پر صرف معافی ہی نہ مانگیں بلکہ جرمانہ اداکریں۔ پوری قوم لاک ڈاؤن کی سزا اسلئے بھگت رہی ہے کہ وائرس زدہ افراد کو لایا گیا اور اس شر سے بچنے کی تدبیربھی نہیں کی گئی۔
مولانا فضل الرحمن نے مذہبی حلقوں کی اصلاح کے بجائے تعصبات کا رنگ دیدیا ،وہ خود بھی جاہل ہے،اسلئے عمران خان جیسے لوگ برسراقتدار آگئے ہیں۔

پاکستان دنیا کی امامت کرسکتاہے لیکن کیسے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج، عدلیہ،بیوروکریٹ، سیاستدان، صحافی، علمائ، عوام الناس اور تمام طبقات میںاستعدادو صلاحیت،اچھائی اورشعور وآگہی کی کمی نہیں۔انسانیت،اسلام اور اپنی قوم سے والہانہ محبت میں پاکستانیوں کا ثانی نہیں لیکن ان کو وہ مواقع نہیں ملتے ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔ پارلیمنٹ میں پہنچنے کے ذرائع پیسہ، اقرباء پروری،فرقہ وارانہ رنجش، لسانی تعصبات اور طاقت کے سرچشموں کی اشیرباد ہے۔ دولت کمانے کے جائز ذرائع مفقود ہیں تو ناجائز ذرائع لامحدود ہیں۔ جعلی فتوؤں، جعلی تعلیم، جعلی ادویات، جعلی اشیاء خورد ونوش اور جعلی ڈگریوں سے لیکر جعلی سیاستدانوں اور علماء ومفتیان تک سب نے قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔لوٹوں کے ذریعے وزیراعظم اور چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور ناکارہ پارلیمنٹ وایوانِ بالا کے ذریعے آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے لیکر اُوپر سے نچلی سطح تک آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ عدالتی نظام ہرسطح پر بالکل ناکام ہے۔نوازشریف ملک سے باہر گیا مگر وزیراعظم کچھ نہیں بتاسکتا ہے کہ کس کے کہنے پر گیا؟۔ کل لاک ڈاؤن یا کرونا کے پھیلاؤ سے نقصان ہوگا تو اس کی ذمہ داری ایکدوسرے پر ڈالی جائے گی۔ عمران خان نیازی اینڈ کو لمٹیڈکمپنی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جس نے اس نالائق نوازشریف کی قدر لوگوں کو یاد دلادی جس نے کھل کر پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنے اور قطری خط پیش کرکے اس سے انکار کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ کرونا کے کریک ڈاؤن میں غائب رہنے والے سیاستدانوں کو قوم جان چکی ہے کہ انتخابات کے دور میں کس طرح برساتی مینڈکوں کی طرح ٹراتے نظر آتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کی افادیت بالکل ختم ہوچکی ہے لیکن ریاستی نظام بھی عوام کو فائدے پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اسلئے نظام کی تبدیلی کے بغیر پاکستان نہیں چل سکتا ہے۔

حکومت، عدالت اور ہماری پیاری ریاست!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حکومت پر براجمان حکمران اپنا حکم جاری کرتے ہیں کہ ” ناجائزمنافع خوری پر دکانداروں کو قید وجرمانہ کی سزا دی جائے”۔ مجسٹریٹ ریڑی بان، چھابڑی فروش اور جھگی نمادوکانوں پر چھاپہ شریف مارتے ہیں اور بہت ہی مشکل حالات میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے والے ناکام امیدوار نے بھی پونے دوکروڑ روپے خرچ کئے تھے اور کامیاب ہونے والے نے یقینا زیادہ خرچہ کیا تھا لیکن اس الیکشن میں نوازشریف نے آئی ایس آئی سے 95لاکھ وصول کئے تھے۔
پھر جب نوازشریف کی حکومت کرپشن پر ختم کردی گئی اور پیپلزپارٹی نے بدنام لندن فلیٹ کاکیس بنایا۔ پھر ن لیگ کو اقتدار میں لایا گیا اور پیپلزپارٹی پر کیس بن گئے۔ پرویزمشرف کی حکومت میں بھی لندن فلیٹ کا کیس چلا، پھر سعودیہ جلاوطن ہونے کے بعد کیس ختم ہوا۔ جب پھر زرداری کی حکومت آئی تو شہبازشریف نے چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹ گھسٹ کر مال نکالنے کی جذباتی تقریریں کیں۔ پھر ن لیگ کی حکومت آئی اور نوازشریف نے میڈیا کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی اپنے تحریری بیان میں 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدنے کا ٹوپی ڈرامہ رچایا۔ پھر قطری خط پیش کیا اور پھر قطری خط سے بھی لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ایسے میں قوم اور ہماری ریاست نے مل جل کر عمران خان کوہی اقتدار کے لائق سمجھ لیا اور عدالت نے صادق امین کے طور پر اندھوں میں راجہ سمجھ کر قبول کیا۔
آج ہماری پیاری ریاست نے پھر سے چینی اور آٹا بحرانوں میں قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی تبدیلی سرکار کے چہیتوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔ پرویزمشرف کے دور سے اب تک جہانگیر ترین، خسروبختیار اور مونس الٰہی سب وہی چہرے ہیں چشم بد دور۔واہ نیازی واہ!

وزیراعظم عمران خان نیازی کی بے نیازیاں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پوری دنیا ایک عالمی وبا سے دوچار ہے اور عمران خان نیازی کہہ رہاہے کہ ” مخالفین کوہمیشہ کیلئے ختم کردیںگے، مخالفین تنقید ہی کرسکتے ہیں اور کچھ نہیں، جب آپ کام کریںگے تو پھر تمہارے حلقے بالکل پکے ہوجائیںگے”۔ غریب دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہا ہے مگر عمران نیازی سیاسی حلقوں کو پکا کرنے کی فکر کررہاہے۔ واہ جی واہ۔ ایک ایک بات سے عمران خان ثابت کررہاہے کہ تبدیلی کا ڈھونگ محض بکواس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اللہ نے موقع بھی دیدیا ہے اور ڈھیل بھی۔ چینی اور آٹا بحران کی رپورٹ میں تحریک انصاف کا ٹریڈمارکہ نمبر ون نکلا۔
جب تحقیقات کا آغاز ہوا تھا تو صادق اورامین کی ڈگری لئے گھومنے والے عمران خان کی طرف سے وضاحت سامنے آئی تھی کہ جہانگیرترین کا نام اس میں شامل نہیں ، رپورٹ شائع ہوگئی تو سب سے زیادہ فائدہ اُٹھانے میں جہانگیر ترین پہلے نمبر پر نکلا ہے۔ یہ وہی عمران ہے جو عاشورے میں خفیہ نکاح کرنے کے بعد اس دھرنے میں کہہ رہاتھا جب پارلیمنٹ کادروازہ توڑاگیا، سپریم کورٹ کی گیلری میں کپڑے سکھائے جارہے تھے اور تبدیلی سرکار امپائر کی انگلی پر ناچ رہی تھی کہ ”تبدیلی آگئی ہے ، میں شادی کروں گا”۔ جھوٹا شادی کرچکا تھا اور اتنی شرم کا تکلف بھی محسوس نہیں کیا کہ ”شادی سے کیا تبدیلی آگئی ہے؟”۔ قادر پٹیل کی اسمبلی میں تقریر کے جواب میں مراد سعید ضرور کہہ سکتا تھا کہ ” شادی کرونگاتو واقعی بہت بڑی تبدیلی تھی”۔
چینی اور آٹا بحران سے فائدہ اٹھانے کی آفیشل رپورٹ شائع ہوئی ہے لیکن نان آفیشل کا معاملہ اس سے کئی گنا ہوگا۔ اب ”کرونا” بحران میں پھر عوام کو دھکیل کر فائدے اٹھانے کا ہی بازار گرم کیا جارہاہے۔ بلڈرز مافیا کو کھلے میدان میں بلیک منی کو وائٹ کرنے کی دعوت گناہ دی جارہی ہے۔ان بطش ربک لشدید سے بالکل بے نیازی برتی جارہی ہے۔

بنی اسرائیل کی عوام میں بڑے پیمانے پر جلیل القدر حضرات انبیاء کرام ؑ کی بعثت کا سلسلہ

حضرت ابراہیم ؑ ،اسحاق علیہ السلام ،یعقوب علیہ السلام ،یوسف علیہ السلام ، داود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ،یحییٰ علیہ السلام ، مریم علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام ذوالقرنین، حکیم لقمان،طالوت وغیرہاللہ نے فرمایا :’’ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو،جو میں نے تم پر کی اور میں نے جہان والوں پرتمہیں کوفضیلت دی‘‘دنیاوی فضیلت کا سکہ آج اسلئے برقرار ہے کہ تسخیر کائنات کا نظریہ قرآن نے دیا مگرنفع بخش سائنسی ایجادات انکا مقدربنیںرسول اللہ نے فرمایا: ’’ اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے‘‘۔ قرآن نے جمہوریت اور اخلاقی نظام دیامگرعمل انہوں نے کیابنی اسماعیل ؑ کی اولاد میں رحمۃ للعالمین محمد ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ ختمرحمۃ للعالمینﷺ کی بعثت ہوئی تو یہودونصاریٰ کی مذہبی حالت ایسی تھی جیسے آج شدت پسندمسلمان فرقوں اور علماء کی ہےقرآن اور نبی رحمۃ للعالمینﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی دنیا میں پھیل گئی تو اہل مغرب نے مذہبی شدت پسندی کو خیربادکردیاپہلے اسلام دینِ فطرت کے مقابلے میں یہودونصاریٰ نے اپنی عوام کو غرق کردیا ، آج ہم بھی انکے نقش قدم پر چل رہے ہیںمغرب نے مذہبی شدت پسندی ترک کرکے امامت کا مقام حاصل کیا، ہم شدت پسندی سے خود کو ذلیل کرنے پر تل گئے۔طاقت میں بہت آگے مغرب کے عیسائی چاہتے تو اپنا قبلہ بیت المقدس مسلمانوں اور یہودیوں سے چھین کر اور مسلمانوں کے قبلہ کو سکینڈوں میں ملیامیٹ کرسکتے ہیں۔ چاہیں تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک کو تہس نہس کرکے انکے مردوں کو مار ڈالیں اور خواتین کو لونڈیاں بنادیں۔ مسلمانوں و ہندؤں نے خواتین کو انسانی حقوق سے محروم کیا ۔ اگر رشتے ناطے کی محبت ، اقدارکا پاس اورمذاہب سے عقیدت نہ ہو تووہ مغرب کی غلامی کو بھی یہاں کی نام نہادآزادی سے بہتر سمجھیں گے ۔ حکمرانوں،اشرافیہ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے جہنم سے نکلنے کیلئے اغیار کی حکومتوں کو غنیمت اور اپنی تقدیر کا عروج قرار دیں۔ برصغیر پاک وہند کے بارے میں یہ درست ہے کہ سکندر اعظم سے برطانوی سامراج تک یہاں کی عوام پر رومیوں نے حکومت کی، عربوں، ایرانیوں ، ترکوں ، افغانیوں ، سکھوں اور پٹھانوں نے حکومت کی اور جو بھی باہر سے آیا تو اس نے فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ لیکن یہ تجزیہ کوئی نہیں کرتا کہ یہاں خوار غریب عوام اور خواتین کیساتھ کیا رویہ رکھا گیا؟۔ جو دوسرے حکمران اس سے زیادہ مظالم کی داستان رقم کرتے اور مزید ستم ڈھاتے؟۔پاکستان کے قبائلی علاقہ جات نسبتاً آزاد منش، خوشحال اور فطرت کے ترجمان تھے۔ جس طرح عربوں سے فاتح لوگوں نے تاریخ میں کوئی غرض نہیں رکھی تھی۔ خوبی خامیاں عربوں اور پختون قبائل میں تھیں لیکن علامہ اقبال ؒ نے رسول اللہﷺ کو بندۂ صحرائی اور آنیوالے مجاہدکومردِ کوہستانی کا خطاب دیتے ہوئے بہت واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہفطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانیپورے برصغیرپاک وہند میں آزاد قبائل نے سب سے زیادہ انگریز کی مزاحمت کی تھی اور خاص طور پر وزیرستان کے لوگوں نے۔ہمارے حکمران مرغا بن کے بھی امریکہ کے بوٹ چاٹنے کیلئے تیار ہوجاتے لیکن آزاد منش قبائل نے قربانیوں کا پہاڑ اپنی بربادیوں پر کھڑا کردیا ۔ ہمیں غیروں نے نہیں اپنوں کی سازش، لالچ اور جہالتوں نے تباہی وبربادی کے کنارے پرپہنچادیا۔ طالبان ریاست کی غلطی سے غلط سمت پر استعمال ہوئے اور اب پی ٹی ایم کو بھی غلط سمت استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔ منظور پشتین اتنا کہہ دے کہ ’’نیوزی لینڈ کے دہشت گرد کی ماں نے مطالبہ کیا ہے کہ میرے بیٹے کو سزائے موت دی جائے ۔ پختونوں میں بے غیرت دہشت گردوں کی ایک بھی غیرتمند ماں ایسی نہیں جو کھل کر سامنے آئے اور کہے کہ میرا حرام زادہ بیٹا دہشت گرد تھا اور اچھا ہوا کہ انجام کو پہنچ گیا یا اس کو انجام تک پہنچایا جائے۔وہ مائیں یہ نہیں کرتیں تو فوجیوں کے ہاتھوں سے ان کا ٹھنڈا ہونا بہتر ہے جن کو طالبان نے گرم کیا ہوا تھااسلئے کہ دہشتگردی پر اوس پڑی ہے‘‘۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو چاہیے کہ پہلے اپنی کڑک مرغیوں سے گندے انڈے پھنکوادے۔ پھر یہ بات ریاست میں نہیں دنیا بھر میں جگہ پکڑے گی کہ’’ اللہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ہمارے حکمرانوں کی طرح مسلمان بنانے کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو اس کی طرح ایک اچھا انسان بنائے‘‘۔ ہماری ریاست ڈرامہ کرتی ہے ، نوازشریف کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے اور عمران خان کو بھی۔ جیسے طالبان سے لڑبھی رہی تھی اور اس پر مر بھی رہی تھی، یہی حال منظور پشتین اوراسکے ساتھیوں کے رویے سے بھی لگتا ہے۔ ڈبل پاٹ، ڈبل گیم اور ڈبل پالیسیوں سے ملک وقوم اور مذہب وملت کو تباہ کیا گیا اور ان کھیلوں سے باز آکر سیدھی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔طالبان کی مصنوعی فضاء سے جان چھوٹی مگر لسانیت کا رنگ بہت خطرناک ہے۔ حق کیلئے آواز اٹھانے سے زیادہ ان لوگوں کو دبانے کا ماحول وہ بگاڑ پیدا کررہاہے اور لوگ پھراس ڈبل گیم سے بہت مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک سب سے زیادہ انبیاء کرام ؑ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں مبعوث فرمائے۔سب سے زیادہ مذہبی لوگ یہودو نصاریٰ تھے مگر وہ تحریف کی بدولت اس قدر اپنی فطرت مسخ کرچکے تھے کہ اللہ کو اپنا آخری رسولﷺ عرب میں پیدا کرنا پڑا ۔ اور قرآن میں یہ وضاحت کردی کہ ’’اے نبی! یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی ہرگزہرگز بھی راضی نہ ہونگے یہانتک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں‘‘۔رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ اور انکے پجاری عوام جہاں کھڑے تھے، آج ہمارے علماء ومشائخ اور عوام بھی انکے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ جب یہودو نصاریٰ کے اپنے مذہبی خداؤں بقول قرآن مجید کے احبارو رھبان کو مغرب کی باشعور عوام نے بالکل سائیڈ لائن پر لگادیا توانہوں نے دنیا میں عروج وترقی کی منزل بھی پالی ہے۔آج عرب علماء، ایرانی حکومت ،برصغیر کے بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ تمام مذہبی طبقے یہودونصاریٰ کی طرح اپنی فطرت بھی مسخ کرچکے ہیں۔اُمید کی کوئی کرن ان سے پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ ایک بڑی کہانی ہے جسکے مختصر دو اسکرین شارٹ ملاحظہ فرمائیں۔ بڑھیا کے کم عقل پوتے کو شہزادی کی گڑیا مل گئی۔ بڑھیانے پوتے کو سلایااور صحن میں چنے بکھیر دئیے۔ وہ اٹھا تو بتایا کہ چنوں کی بارش ہوئی ہے۔ بادشاہ نے قیمتی گڑیاکی منادی کرائی تو لڑکے نے بتایا کہ مجھے ملی ہے۔ دادی نے کہا کہ جھوٹ ہے، اس کو پوچھو کہ کس دن کا واقعہ ہے، لڑکے نے کہا کہ جس دن چنے کی بارش ہوئی تھی۔پھرپوتے نے دادی سے اپنی شادی کامطالبہ کیا تو دادی نے کہا کہ کوئی لڑکی پسند آئے تو اس کو کنکر مارو، اگر و ہ ہنسے تو رشتہ مانگ لوں گی۔ لڑکے نے شہزادی کو کنویں کے کنارے کنکر مارا، وہ کم عقل کی حرکت پر مسکرائی لیکن لڑکے نے بڑا پتھر سر پر دے مارا تاکہ خوب ہنسے۔ اپنی دادی کو بتایا کہ لڑکی نے مجھے بڑا پسند کیا مگر وہ ہنستے ہوئے خوشی سے کنویں میں گر گئی۔دادی نے کنویں میں بکرا، گدھا اور دنباپھینک دئیے۔ بادشاہ نے گمشدہ شہزادی کی برآمدگی پر انعام کابڑا اعلان کیا تو لڑکے نے ماجراء سنایا۔ بادشاہ نے لڑکے کو کنویں میں اتارا۔ لڑکے نے کہا کہ بادشاہ تمہاری بیٹی کے جسم پر اون تھا؟۔ بادشاہ نے کہا کہ ہاں، دم تھی،کیا اسکے سینگ تھے؟۔ بادشاہ ہاں ہاں کرتا رہا۔ چارپاؤں، بڑے بڑے کان کے بعد آخر اس کا ہاتھ گدھے کے ذکر پر لگا تو کہا کہ تیری بیٹی کا اتنا بڑا ذکر تھا؟۔ بادشاہ بڑا شرمندہ ہوا ،اور کہا کہ خبیث بس کرو بس کرو، میری کوئی بیٹی نہیں اور اس کو کنویں سے جلدی نکلوادیا۔جب نبیﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوا، اسلام اجنبیت کا شکار ہوا تو بادشاہ کا دل اپنے باپ کی لونڈی پر آگیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ کسی عورت کو ہاتھ لگانا بھی نکاح کی طرح ہے ،باپ کی لونڈی جائز نہیں۔ امام ابویوسف نے حیلہ بتایا کہ لڑکی کی گواہی قابلِ قبول نہیں، لونڈی کی بات ہی مسترد کرو، کہ تمہارے باپ نے اس کو ہاتھ بھی لگایا ہے۔ پھر آنے والوں نے حرمت مصاہرت کے مسائل کو اسطرح دریافت کیا ، جس طرح بڑھیا کا کم عقل پوتا کنویں میں شہزادی کی خبر بادشاہ کو دے رہا تھا۔ نیند میں غلطی سے ساس کیساتھ جماع حرمت مصاہرت ہے اورہاتھ لگنا بھی حرمت مصاہرت ہے، اپنی بیوی کیساتھ مباشرت اور بچے کی پیدائش کے بعد اصولاً حرمت مصاہرت ہے لیکن ضرورت کی خاطر بیوی جائز ہے۔ ساس کی شرمگاہ کواگر باہر سے شہوت کیساتھ دیکھ لیا تو عذر ہے لیکن اندر سے دیکھ لیا تو حرمت مصاہرت ہے۔ ملاجیون کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ برصغیر پاک وہند کے کم عقل پڑھ اور پڑھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انگریز کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرواکر ملا سے جان چھڑائی۔پہلے تعلیم ملاؤں کی رہین منت ہوتی تھی ،اب انگریزی تعلیم ہے۔انگریز کو معلوم ہے کہ جب تک شام وعراق میں داعش کے ذریعے مسلمانوں کی اپنی خواتین کو نکاح بالجہاد کا فلسفہ نہیں سمجھائے، جس میں پنج وقتہ نماز کی طرح ایک خاتون کے دن میں پانچ شوہر بدل بدل کر ریپ کروایا جاتا ہے، تب تک ان کو سمجھ یہ بات نہیں آئے گی کہ مغرب کی خواتین کو لونڈی بنانا بھی برا ہے۔ آج میڈیا میں داعش کی اس کارکردگی پر پرد ہ ڈالا گیا ہے۔ اوریا مقبول جان جانتا ہے کہ ایک دفعہ بیوروکریسی سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد وہ دوبارہ اس نظام کا حصہ نہیں بن سکتا ہے وہ کوشش میں ہے کہ کوئی نیا سیٹ اپ آجائے تاکہ پھرنوکری کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو اور آدمی کی سوچ اپنے ماحول سے آگے جا بھی نہیں سکتی ہے۔اوریا مقبول نے ملاؤں کی حکومت میں نوکری کا خواب دیکھاہے۔جب یہودونصاریٰ کے مذہبی گروہ ناقابلِ اصلاح ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے عرب ان پڑھوں کا انسانیت کیلئے انتخاب کیا اور دنیا کو عربوں کے ذریعے انسانیت کا درس دیا۔ یہ وہ عرب تھے جن کے ہاں حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ بنی اسرائیل کے مذہبی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو قدرت نے بھی مسترد کردیا تھا۔ جب ان کی خواتین کو عربوں نے لونڈی بنایا تب انکے دل ودماغ بھی کھل گئے اور پھر مسخ شدہ مذہب کو ترک کرکے عروج کی منزل پر پہنچ گئے۔آج اہل مغرب کی فطرت وہ نہیں۔اسلام کی نشاۃ اول عربوں کے ذریعے ہوئی تھی اور قرآن کا پہلا مخاطب مسلمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ کا لفظی تحریف سے حفاظت کا ذمہ خود لیا،اسلئے کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔ جسطرح ابراہیم ؑ کے بعد عربوں میں دین اجنبی بن گیاتھا، اس طرح حضرت نوح ؑ کے بعد سے ہندوؤں میں دین اجنبی ہے۔ قرآن کا دوسرا مخاطب عوام الناس اور عالم انسانیت ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی شائبہ تک بھی نہیں ۔ رسول ﷺ کی سیرت طیبہ اعلیٰ نمونہ اور قرآن نبیﷺ کی سیرت ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ نبیﷺ نے کسی مجبوری میں نہیں بلکہ دین کے تقاضے کے عین مطابق کیا تھا۔ اگر مشرکین مکہ اس کو نہ توڑتے تو یہ فتح مبین کا معاہدہ دس سال تک حضرت عمرفاروق اعظم ؓ کے دورِ خلافت تک قائم رہتا۔ مکہ کو جس انداز سے فتح کیا وہ بھی انسانیت کیلئے جیت اور بہت بڑا سبق تھا لیکن اگر معاہدہ برقرار رہتا تو اسلام زمین میں جڑ پکڑ لیتا اور اتنے کم وقت میں فتنے وفساد کا بازار گرم نہ ہوتا اور نہ خلافت راشدہ امارت وبادشاہت میں بدل جاتی۔صلح حدیبیہ کی ایک اہم شق یہ بھی تھی کہ ’’ کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مشرک بن جائے تو مشرکین اسے مسلمانوں کو واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن اگر کوئی مشرک مسلمان بن جائے تو مسلمان اس کو واپس لوٹا دیں گے‘‘۔ آج مغرب نے جاہل مسلمانوں کیساتھ یہ شق مانی ہوئی ہے کہ اگر تم کسی کو عیسائی نہیں بننے دیتے ہوتو خیر ہے لیکن ہمارا کوئی عیسائی مسلمان بنتا ہے تو اس کو اپنے پاس رکھ لو۔ دین کا تعلق روح اور دل کیساتھ ہے۔ جب کوئی دل سے ہی مسلمان نہ ہو تو اس منافق کے دھڑ کو لیکر مسلمانوں نے کیا کرنا ہے؟۔ منافق جہنم کے نچلے درجے میں ہونگے جبکہ مشرک وکافر ان سے کہیں بہتر ہونگے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جذباتی صحابہ کرام ؓ نے وقت پر نبیﷺ کی بصیرت کو نہیں سمجھا ۔اللہ نے مسلمانوں کو قرآن میں یہ گنجائش دی کہ ’’ اگر زبردستی سے جاہل ان کو کلمۂ کفر بکنے پر بھی مجبور کریں تو ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘۔ سندھ میں ہندو بچیاں اسلام قبول کریں تو انکے والدین ، گھر ،محلے ، رشتہ داروں اور کمیونٹی والوں کو اس کرب کی کیفیت سے گزارنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتاہے۔ بچیاں اپنے گھر میں رہیں اگر وہ دل سے مسلمان ہیں اور زبان سے اقرار نہیں کرسکتی ہیں تو بھی مسئلہ نہیں۔ پاکستان، اسلام ، سندھ اور عالمِ انسانیت کی بہادر بیٹی ہدیٰ نے جو آواز اٹھائی یہ اسلام کی روح اور سندھ و پاکستان کیلئے باعثِ افتخار ہے۔ والدین کے دل چھلنی کرنے سے نہیں بلکہ انسانیت کا دل جیتنے سے قرآن ، نبیﷺ کی سیرت اور انسانیت کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ مولوی، پیر اور فقیر پہلے درسِ نظامی کے گند کو صاف کردیں۔ علامہ خادم حسین رضوی نے بی بی آسیہ کا نام لینا چھوڑ دیا۔ دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر قبضہ کیا لیکن ربوہٰ پر قبضہ نہیں کیا۔ علامہ خادم حسین رضوی ربوہٰ کو فتح کرکے دکھائیں تومحمود غزنوی کے بیٹے بن سکیں گے۔ آج جن کی دم اٹھااٹھاکراستعمال کیا جارہاہے کل یہ ربوہٰ پر چارج ہوکر ہلا بول دیں گے۔ فوج نے دہشت گردوں کو پختونوں پر چھوڑ دیا تو خود بھی محفوظ نہیں رہی اور پختونوں نے دہشت گردوں کو فوج پر چھوڑا تو خود بھی نہ بچ سکے اور یہ مکافاتِ عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جو مسلمان دنیا بھر میں دہشت گردی کی فضاؤں کو بڑا کمال سمجھ رہے تھے انہوں نے نیوزی لینڈ کے ایک واقعہ پر طوفان اٹھا دیا۔ انصاف یہ نہیں کہ اپنے ساتھ زیادتی پر واویلا کیا جائے اور دوسرے کیساتھ زیادتی کو اپنا حق سمجھا جائے۔ سوشل میڈیا پر فضول پروپیگنڈے بھی انسانیت کے بالکل منافی ہیں۔ISI کا نام استعمال کرنے والوں کودھر لیا جائے۔غزوہ ہند کا مطلب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے جدوجہد اور دوسرے نہیں اپنے حکمرانوں کو ہی پکڑکر طوق وسلاسل میں جکڑنا بھی ہوسکتا ہے۔جس طرح ہندو اپنے ویدوں سے دور ہیں اس طرح مسلمان قرآن وسنت سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ جس طرح مشرکین مکہ نے اسلام قبول کرکے قرآن کی نشاۃ اول میں بنیادی کردار ادا کیا، اسی طرح ہندو انسانیت کی بنیاد پر اسلام کو سپورٹ کرکے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی طرح ہمارے مذہبی طبقات بھی اپنی انسانی فطرت کھو چکے ہیں۔ اگر ہماری اپنی ریاست ان کی پشت پناہی چھوڑ دے تو غیرتمند عوام کے ہاتھوں یہ ایک دن حلالہ کی لعنت پر ایسے شکار ہوجائیں گے جیسے نیوزی لینڈ کے معصوم اور بے گناہ نمازی ہوئے تھے۔ اب انکے دانت کھٹے ہیں ،پہلے انکے دلائل کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوتاتھا اور اندھے ایکدوسرے کے خلاف لاٹھی چلاتے تھے۔ اب وہ دلائل سے بالکل عاری ہوچکے ہیں۔ اپنی کتابوں اور مبلغ جہالت کا دفاع بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ اپنے خراب انڈوں پر بیٹھ کرپاگل کڑک مرغی کی طرح کٹ کٹ کرکے اپنا ہی وقت ضائع کررہے ہیں۔ جذبات کی شکار عوام کو حقائق کا پتہ چلاتو وہ مولوی صاحبان کو بھی شعور کی دولت سے نوازیں گے۔

عالمِ اسلام کو خلافت علی منہاج النبوۃ قائم کرکے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنا ہوگا

قرآن وسنت کے منشور سے امت مسلمہ بالکل بہرہ مند نہیں ۔ سودی نظام کو پہلے آئین پاکستان میں بھی تحفظ حاصل تھا اور پھردیوبندی شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی وبریلوی مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے حیلے سے بھاری معاوضے لیکراسلامی مدارس کے ذریعے بھی سودی نظام کو جواز بخشنا شروع کردیا ۔ رسولﷺ نے زمین کی مزارعت کو بھی سود قرار دیا تھا۔ علماء ومفتیان اور شیوخ الاسلام ومفتیانِ اعظم کے حربے کوئی نئے نہیں بہت پرانے ہیں جن سے وہ اپنا اُلو سیدھا کرکے اسلام کو اجنبیت کا شکار بناتے چلے گئے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کراچی میں شادی بیاہ کی رسم میں لفافہ کو سود اور اسکے 70سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ کو اپنی ماں سے زنا کے برابر قرار دیا۔ ان لوگوں کو حلالہ کی لعنت سمجھانے پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اسلئے کہ انکے مصنوعی تقوے کا عالم انتہائی درجہ کے بھیانک تضادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایاتھا کہ فلاتمنن فتکثر ’’اسلئے احسان نہ کرنا کہ زیادہ بڑا بدلہ ملے گا‘‘۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ انقلابی قوم کی خیرخواہی کا احسان کرتے ہیں تو انکے بدلنے کی اُمید بھی رکھتے ہیں۔ نبیﷺ کو بھی احسان کے بدلے اچھے کی اُمید تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سے یہ اُمید رکھنے کی توقع سے منع فرمادیا۔ جس طرح آج ہم قوم کو حلالہ سے بچانے کی بات کرکے اچھے کی امید رکھتے ہیں لیکن ڈھیٹ علماء ومفتیان کی ڈھٹائی کا عالم ہم نہیں سمجھتے ہیں۔ اگر علامہ خادم حسین رضوی کو پتہ چل جائے کہ مفتی تقی عثمانی نے اس آیت کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کی ذات پر سود کا گھناؤنا الزام لگادیا ہے تو بھی حکومت کی پشت پناہی سے ڈر کر عشق رسول ﷺ کا ثبوت نہیں دینگے۔
1: نبیﷺ نے کسی خوف یا لالچ میں صلح حدیبیہ کادس سالہ معاہدہ نہیں کیا تھا بلکہ یہی دین ،ایمان ، اسلام کا تقاضہ تھا۔ منافق جہنم کے نچلے حصہ میں ہوگا۔ اگر کوئی منافق اسلام چھوڑ کر مکہ چلا جاتا تو مسلمانوں کا فائدہ بھی اسی میں تھا۔ وہ منافق بھی نچلے درجے سے نکل کر جہنم میں اوپر آجاتا۔ اگر مسلمان مشرکوں کو واپس کیا جاتا تویہ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں تھا۔ یہ تبلیغ کا زبردست ذریعہ تھا۔ اگر کسی کو کلمۂ کفر پر مجبور کردیا جائے تو قرآن میں اس پر گرفت نہ ہونے کی وضاحت ہے۔ آج عیسائی طاقت کے باوجود جاہل مسلمانوں سے یہی رویہ رکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو عیسائی نہ بننے دیا جائے اور عیسائیوں کو مسلمان بننے دیا جائے تو مسئلہ نہیں۔
2:اگر مشرکینِ مکہ حدیبیہ کا معاہدہ نہ توڑتے تو مسلمان اس کو دس سال حضرت عمر ؓ کے دور تک قائم رکھتے اور شاید مزید توسیع بھی کردیتے۔ فتح مکہ پراچھائی یہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمنوں سے اچھا سلوک کیا اور برا یہ ہوا کہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے بعض لوگوں کو قتل کیا ،جس سے نبیﷺ نے برأت کا علان فرمایا۔ جولوگ فتح مکہ کے بعد بھیڑ چال میں مسلمان ہوگئے تو نبیﷺ کے وصال کے بعد گاؤں کے گاؤں مرتد بھی بن گئے اور حضرت ابوبکر ؓ نے مشکل سے ان پر قابو پایا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے عدت میں شادی بھی رچالی، حضرت عمر ؓ نے سنگسار کرنے کا مشورہ دیا لیکن حضرت ابوبکر ؓ نے تنبیہ کردی۔ یہی وجہ تھی کہ خلافت راشدہ کے دور میں حضرت عثمان ؓ اور پھر حضرت علی ؓ شہید ہوگئے ، حضرت حسن ؓ کو دستبردار ہونا پڑا۔ سانحہ کربلا برپا ہوگیا۔ خلافت بنوامیہ ، بنوعباس اور پھر ترکی خاندان کی لونڈی بن کے رہ گئی تھی۔
3: مشرکین مکہ سے مسلمانوں کی قرابتداریاں تھیں اسلئے ان سے نکاح کو واضح الفاظ میں منع کیا گیا،جنکے مقابلے میں غلام مرد سے مسلمان عورت اور لونڈی سے مسلمان مرد کو زیادہ قابل ترجیح قرار دیا ۔ نسل سے کردار کو ترجیح دی گئی۔ یہ مذہبی مسئلہ نہیں تھا بلکہ انسان کے اعلیٰ اخلاقی کردار کی بات تھی۔ مشرک تو عیسائی بھی تھے جو تین خداؤں کا عقیدہ رکھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں انتہائی گستاخانہ عقیدہ رکھنے والے یہود بھی کافر تھے لیکن ان کی خواتین سے نکاح کی کھلی اجازت دی گئی۔ حضرت علی ؓ کی بہن حضرت ام ہانی ؓ پہلے اسلام کو قبول کرچکی تھیں لیکن ہجرت نہیں کی اور فتح مکہ تک مشرک شوہر کیساتھ رہی۔ نبیﷺ نے اسکے کہنے پر اسکے شوہر کو پناہ بھی دی اور کسی نے اس تعلق پرحرامکاری کا فتویٰ بھی نہیں لگایا تھا۔ علماء ومفتیان کو سمجھانا پڑیگا۔
4: نکاح کیلئے عورت کا راضی ہونا ایک بنیادی حق ہے۔ کوئی باپ بیٹی کا نکاح اسکی مرضی کے بغیر کردے تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔صحیح بخاری کا یہ عنوان ہے۔ اگر معاشرے کو مذہبی تبلیغ کے ذریعے پابند کیاجاتا تو کوئی بچی گھر سے بھاگ کر شادی نہ کرتی۔ جب معاشرے میں بڑی سطح پر اس کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکیاں بھاگ کر شادیاں کرتی ہیں۔ نبیﷺ نے اس نکاح کو باطل قرار دیا جو ولی کی اجازت کے بغیر ہو۔ نکاح کیلئے دو صالح گواہ ضروری قرار دئیے اور دف بجاکر نکاح کے اعلان کا حکم دیا لیکن علماء ومفتیان نے قرآن وسنت کو نظر انداز کرتے ہوئے غیرفطری معاملات کو مذہب کے نام سے جائز قرار دیا۔ سسرالی رشتہ دار وں کا اللہ نے بطور احسان نسبی رشتہ داروں کی طرح ذکر کیا مگر دشمنی مول لینے کا تماشہ لگایاجاتا ہے۔
5:جب دنیا میں لونڈیوں اور عباد( غلاموں )کی رسم تھی تو اللہ تعالیٰ نے بیوہ وطلاق شدہ کے علاوہ لونڈی اور غلاموں کا نکاح کرانے کا بھی حکم دیدیا۔ جس طرح آزاد مشرک سے غلام اور آزاد مشرکہ لونڈی سے نکاح کو ترجیح قرار دیا،اسی طرح آزاد عورت سے غلام کے نکاح کی صورت بھی بتادی۔ اسکے علاوہ اپنی جوان لڑکیوں کو بھی چھپ کربدکاری یا کھل کر بغاوت پر مجبور نہ کرنیکا حکم دیاجب وہ نکاح کرنا چاہتے ہوں۔ کیونکہ قرآن سے رہنمائی لینے کے بجائے فقہی مسالک کی وکالت پر لکھی جانے والی کتابیں مدارس کے نصاب میں موضوعِ بحث بن گئی اسلئے قرآن کی واضح آیات کے احکام بھی لوگوں سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔ علماء کرام نے اگر جرأت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں بھی برکت عطاء فرمائیگا۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سودی نظام کو جواز بخشنے والے مذہبی قوتوں نے اسلام اور غریب کا دامن چھوڑ کو خود کو بہت کمزور بنادیا۔
6: میاں بیوی کا نکاح ہو تو اسلام نے صرف مردوں پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ جہیز کی رسم ایک لعنت ہے۔ حق مہر اتنا معقول ہونا چاہیے کہ مرد نکاح کو کھلواڑ بنانے سے دریغ کرنے پر مجبور ہو۔ مفت میں عورتیں ملتی ہی رہیں گی تو مرد بڑے مزے لے لے کر عورتوں سے کھلواڑ کرنے کے جرائم بھی کرتے رہیں گے۔ حق مہر لڑکی کا اپنا حق ہوتا ہے۔ پختون قوم کو حق مہر کھانے کی بے غیرتی سے نجات دلانی ہوگی اور پنجابیوں کو جہیزکی لعنت سے چھٹکارا دلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔ پاکستان کی عوام میں خوبیاں زیادہ اور نقائص کم ہیں لیکن وہ اپنے نقائص سے نجات حاصل کرنے کی کوشش نہ کرینگے تو اپنی خوبیوں کا بھی پھرپور فائدہ نہ اٹھاسکیں گے۔
7: ہاتھ لگانے سے پہلے عورت کو طلاق دی جائے تو نصف حق مہر دینا ہوگا لیکن باہمی رضامندی سے کوئی معاف کرنا چاہے یا پورا دینا چاہے تو بھی آپس میں ایکدوسرے کیساتھ اچھائی کا سلوک نہ بھولیں۔عورت پر ایسی صورت میں کوئی عدت نہیں ۔ جس سے یہ بھی واضح پتہ چلتاہے کہ شوہر عدت کا حقدار ہوتا ہے۔ 3طلاق کی ملکیت کے تصور سے عورت کی حیثیت لونڈی سے بھی بدتر بن جاتی ہے۔ لونڈی کو مذاق میں کہا جائے کہ آزاد ہے تو وہ آزاد ہوجاتی ہے لیکن عورت کو طلاق دی جائے اور پھر اس سے کہا جائے کہ ایک دی ہے تو بھی اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے۔ دو مرتبہ طلاق کہنے سے بھی جان نہیں چھوٹ سکتی ہے۔ فقہ نے اس مسئلے کو اتنا پیچیدہ بنادیا ہے کہ اچھے اچھوں کا دماغ بھی گھوم جاتا ہے۔ طلاق سے رجوع کیلئے صلح کی شرط ہے اور یہی معروف رجوع ہے جس کا قرآن میں بار بارعدت کے اندر، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے بعد بڑی وضاحتوں کیساتھ سورہ بقرہ اور سورہ طلاق میں زبردست ذکر ہے۔ علماء ومفتیان ان وضاحتوں کے بجائے یا تو فقہ کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں یا حلالے کے چکر میں اپنی جنسی خواہش کی پیاس بجھادیتے ہیں۔
8: عورت کو اللہ تعالیٰ نے خلع کا حق دیا ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ کی آیت229میں نہیں بلکہ سورہ النساء کی آیت19میں ہے۔ خلع میں حق مہر کے علاوہ شوہر کیطرف سے دی گئی اشیاء زیورات، رقم اور گاڑی وغیرہ سب منقولہ چیزیں لیجانے کا بھی حق ہے۔ شوہر اسلئے نہیں روکے کہ بعض چیزوں سے وہ دستبردار ہوجائے ۔ البتہ فحاشی کی صورت میں بعض اشیاء سے محروم کرسکتا ہے لیکن اس کیلئے کھلی فحاشی میں مبتلاء ہونے کیلئے شوہر کی طرف سے عدالت کے سامنے لعان کے حکم پر عمل کرنا پڑیگا۔خلع میں عورت کی عدت صرف ایک حیض ہے۔
9: شوہر کو طلاق کا حق ہے لیکن طلاق کے بعد حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ اور غیرمنقولہ دی ہوئی جائیداد کو بھی واپس نہیں لے سکتا ہے اور حق تلفی کیلئے بہتان لگانا بھی بڑی بے غیرتی ہے۔ سورہ النساء آیت20,21 اگر دنیا میں قرآن کا قانون نافذ کیا جائے کہ مرد طلاق دیگا تو وہ عورت کو گھر سے بے دخل نہیں کرسکتا بلکہ اپنے لئے کوئی متبادل بندوبست کریگا تو پوری دنیا قرآن کے احکام کو من وعن نافذ کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔
10:حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون ؑ کو سراور داڑھی سے پکڑا کہ سامری کے گوسالہ پر قوم کوشرک سے منع کیوں نہ کیا؟، مسلمان بھائی فرقہ واریت پر ایکدوسرے سے دست وگریبان ہیں، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ نے بریلوی دیوبندی مکاتبِ فکر کو سر اور داڑھی کے بالوں سے باندھنے کی کوشش کی۔ حاجی عثمان ؒ کے مرید نے دل ودماغ سے سب کو باندھنے کا کارنامہ انجام دینا ہے۔ انشاء اللہ العزیز۔ سیدعتیق الرحمن گیلانی

برصغیر پاک و ہند میں گائے کے دودھ اور پیشاب پر صلح کا معاہدہ کیا جائے: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے پبلیشر اشرف میمن نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کابازار گرم ہے، بھارت کو عوام کی بد دعائیں لے ڈوبیں گی۔ پاک فوج مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے اب راست اقدام اٹھائے۔ عوام شانہ بشانہ لڑیگی۔ لتا حیا کی شاعری وبھارتی ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے کی سوچ برصغیر پاک وہند میں پھیلائی جائے اور ساتھ ساتھ اس پر صلح ہو کہ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کیا جائے اور برصغیر پاک وہند میں گائے ذبیح کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ گاؤ ماتا ہندوؤں کا مقدس دیوتا ہے۔ اسکا دودھ مسلمانوں، پیشاب مودی جیسے متعصب ہندوؤں کو پلایا جائے۔ پاکستان اور بھارت میں صلح کیلئے ہر ممکن معاہدہ کیا جائے ، مقبوضہ کشمیر میں انسانوں اور گائے کا خون نہ بہانے سے امن قائم ہو تو بہتر رہے گا۔ پاک بھارت میں انشاء اللہ ایٹمی جنگ نہیں ہوگی بلکہ یہ ناچاقی دونوں ملکوں میں دوستی کا ذریعہ بنے گی۔ بھارت کو منانے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کو اس حد تک گرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اس سے مودی کے اندر غرور اور تکبر و جہالت کا جذبہ مزید بڑھے گا۔

ایٹمی جنگ ہوگی تو کیوں اور نہیں ہوگی تو کیوں نہیں ہوگی؟ ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک

برصغیر پاک و ہند پر ایٹمی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اگر ایٹمی جنگ ہوگئی تو اس کا سبب کیا ہوگا؟۔ اور اگر جنگ کے خطرات ٹل گئے تو وجوہات کیا ہوں گی؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اگر عورت کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ نصف حق مہر دینا ہوگا اور اگر حق مہر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق حق مہر دینا ہوگا۔ اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ماہنامہ ’’اشاعۃ التوحید و السنۃ‘‘ پنج پیر صوابی نے انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے مدرسے کیلئے چندے کی رقم طلب کرنے کی ترغیب دی تھی۔ یہ میجر عامر کے بھائی شیخ القرآن مولانا طیب صاحب کے زیر سرپرستی نکلتا ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر ہے تورخصتی اور کئی سالوں کے بعد طلاق دینے پر پورا حق مہر کیسے فرض نہ ہوگا؟۔ ایک بہت بدھو شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام دی ہوئی چیزوں کی بھی وضاحت کی ہے کہ کوئی چیز واپس نہیں لی جاسکتی۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’دی ہوئی چیزوں سے مراد حق مہر ہے‘‘۔ اس نے یہ تفسیر لتا حیاء کو بھی بھیج دی تھی۔ سورہ نساء آیت 20، 21میں واضح طورپر اللہ نے فرمایا کہ ’’طلاق کی صورت میں دی ہوئی چیز نہیں لی جاسکتی ‘‘۔ اور سورہ بقرہ آیت 229میں یہ بھی واضح ہے کہ ’’جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں الا یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اوراگرتمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اسکے بغیر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔ یہ بھی طلاق کی صورت ہے۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو مرتبہ طلاق کے بعد آیت 229 تسریح بالاحسان ہی قرآن میں تیسری طلاق ہے۔ خلع کی صورت سورہ نساء آیت 19میں واضح ہے۔ جہاں عورت کو نہ صرف خاوند چھوڑنے کا حق دیا گیا ہے بلکہ منقولہ اشیاء کو ساتھ لے جانے کی وضاحت بھی ہے۔ لتا حیا کو قرآن کی صحیح تفسیر پیش کی جاتی تو تمام کٹر ہندو بھی اسلام قبول کرنے میں باک نہیں سمجھتے۔ حلالہ کی لعنت اور گائے کی وجہ سے جب انسانوں کا قتل ہوتا ہے تو بر صغیر پاک و ہند ایٹمی عذاب کے مستحق بنتے ہیں اور اگر ان کی اس لعنت سے جان چھڑائی جائے تو ایٹمی جنگ کا عذاب اللہ تعالیٰ ٹال دے گا۔