پوسٹ تلاش کریں

تم نے صدیوں سے اسلام کو یرغمال بنا کے رکھا ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

71 سال سے منے کے ابا نے غلام بنا کے رکھا ہے۔مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن کا سوشلل میڈیا کنونشن سے خطاب کراچی( فیس بک) مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ رسول اللہﷺ نے مسجد کی امامت اور سیاست کی وراثت بھی چھوڑی۔ یہ غلط ہے کہ سیاست کو برا سمجھا جائے۔ اللہ نے آدمؑ کو خلیفہ بنایا۔ حضرت آدم ؑ کوعلم کی بنیاد پر فضلیت دی۔ علم میں دنیا اور آخرت کی تقسیم غلط ہے۔ علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند کو غلط تقسیم کیا گیا۔ مسجد کی امامت کیلئے مخصوص حلیہ ضروری ہے، جب تک داڑھی، پگڑی ، ٹوپی اور لبادہ نہ ہو تو کوئی مسجد کے مصلحے پر کھڑا نہیں ہوسکتا، نہیں تو نذیرلغاری مسجد کی امامت کرکے دکھا دے۔ اور مقبول جان کا بڑاعلم ہے، انیق احمد کا بہت اچھا علم ہے لیکن امامت نہیں کرسکتا۔ایک معمولی درجہ کا ناظرہ قرآن پڑھنے والا جب داڑھی رکھ لیتا ہے، مخصوص حلیہ بنالیتا ہے تو مسجد کی امامت کا حقدار بن جاتا ہے۔ اسلام پہلے عبودیت سکھاتا ہے اور جو اس عبودیت میں پختہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ خلافت کے قابل بن جاتا ہے۔ جب خلافت کی ذمہ داری مل جاتی ہے تو اسکے فرائض منصبی بدلتے ہیں۔ پھر مخلوق کی خدمت اسکی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے ووٹ تو اسلام کیلئے دیا تھا اور اب مجھ سے خدمت نہیں مانگو۔ کورٹ کچہری اور تھانہ جانا میرا کام نہیں ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ بعض لوگ آج مغرب کے پروپیگنڈے کا شکار ہیں کہ اسلام میں موروثی نظام نہیں، مغرب کا حسب نسب نہیں ہوتا، اسلام میں حسب نسب ہے۔ پیغمبر اپنے دور کے شریف نسب میں مبعوث ہوتے تھے۔ حضرت سلمان ؑ حضرت داؤودؑ کا بیٹا تھا۔ جنکا کوئی اپنا حسب نسب نہ ہو،وہ لوگ موروثی نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ البتہ اعمال صالحہ ضروری ہیں، حضرت نوحؑ نے کہا کہ ’’ میرے بیٹے کو بچالو، تو اللہ نے فرمایا کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ،اسکا عمل صالح نہیں ‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ نے عبودیت کی تکمیل کی۔ایک اللہ کی طرف لوگوں کو بلایا۔ بتوں کو توڑا، آگ میں ڈالے گئے ۔اللہ کے سامنے چند کلمات کہے اور پھر اس میں پورے اترے تو اللہ نے امام بنادیا۔ آپ ؑ نے عرض کیا کہ میری اولاد میں بھی ،فرمایا: میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا‘‘۔ جب تک فوج کا اقتدار ختم نہیں ہوتا تو ہم یومِ آزادی نہیں منائیں گے، دھاندلی بھی کروائی جاتی ہے اور پھر دھاندلی والے کا نام لینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک عورت کو سمجھایا گیا کہ شوہر کانام نہیں لیتے، وہ نماز میں سلام پھیرتی تو رحمۃ اللہ کی جگہ منے کا ابا بولتی۔ جس پر سب نے دل کھول کر قہقہ لگایا۔ مولانا نے کہا کہ ’’جب الیکشن میں بھی دھاندلی سے ہرا دیا جائے تو ہم اپنا مقابلہ جاری رکھیں گے‘‘۔ پوری تفصیل کیلئے سوشل میڈیا پر دیکھ لیں ، ہم نے خلاصہ پیش کردیا ہے تاکہ تبصرہ ہوسکے۔

مولانا فضل الرحمن کے بیان

71سال سے منے کے ابا نے یرغمال بنا کے رکھا ہے

پر تبصرہ

تم نے صدیوں سے اسلام کو یرغمال بنا کے رکھا ہے

مولانا فضل الرحمن کی سیاست اسمبلی کی رکنیت کی مار ہے، پہلی بار نہ ہارے ،اگر ٹانک سے بیٹے کو کھڑا نہ کرتے تو سیٹ جیت لیتے۔ پچھلی بار بیٹا اسمبلی میں نہیں پہنچ سکا تو شاید بیگم نے ڈانٹ دیا ہوگا کہ مفتی محمود کے دوسرے بھی فرزند اور پوتے ہیں ، اگر بیٹے کو اسمبلی میں نہیں پہنچایا تو یہ وراثت گھمبیر ہوسکتی ہے۔ بڑے چھوٹوں کیساتھ زیادتی کا مرتکب کرتے ہیں۔ شیطان نے حضرت آدمؑ کو سجدہ اسلئے نہ کیا کہ ابلیس نے عبادت ، حلیہ، بڑائی اور خدمات کو پیشِ نظر رکھا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، حضرت یوسف ؑ سے بھائیوں نے کیا سلوک کیا؟۔ اکابر چھوٹوں کے ساتھ یہ سلوک رکھتے ہیں۔ 1970ء میں شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان کو مفتی محمودؒ اور اسکے ساتھی چھوٹے اور بے نسب لگتے تھے اسلئے ان پر کفر کا فتوی داغا گیا؟۔ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پر مولانا محمد امیر بجلی گھر کی تقریر سنی ہے جسمیں وہ کہتا ہے کہ ’’ مسجد کے امام کا بیٹا اہلیت رکھتا ہو تو اسی کو امام بنایا جائے۔ مولانا فضل الرحمن جانشینی کی اہلیت رکھتا ہے تو مفتی محمود ؒ کی جگہ پراسی کو بیٹھنا چاہیے‘‘۔ حالانکہ جے یوآئی کوئی موروثی جماعت تو نہیں تھی، مفتی محمود کے باپ دادا نے تو نہیں بنائی تھی۔ مولانا بجلی گھر جے یو آئی کے رہنما تھے۔ بنوری ٹاؤن کے طالب علم مولانا عبدالرزاق ژوبی نے کہا کہ یہ خطیب بکواس میں وقت ضائع کرینگے تو میں چٹ لکھ دیتا ہوں تو مولانا فضل الرحمن کی تعریف کریں۔ اسوقت مولانا پر دوسرے علماء و مفتیان نے کفر کا فتویٰ لگایا۔ مجھے بذاتِ خود مولانا بجلی گھر نے کہا کہ اتحاد امت بہت اچھا خواب ہے لیکن مولانا سمیع الحق اور فضل الرحمن بھی ایک نہ ہونگے۔ ٹانک میں JUI کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن مفتی محمود ؒ اور مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ بارگیننگ کی ۔ رسول اللہﷺ کے جانشین ابوبکرؓ اور خلافت راشدہؓ میں موروثی نظام نہ تھا، بنو امیہ و بنوعباس نے موروثیت سے خلافت کو برباد کیا ۔بلوچستان میں جے یوآئی جیتی مگر قوم پرستوں کو اقتدار دیا گیا، سرحد میں جے یوآئی کی نمائندگی نہ تھی تو وزیراعلی مفتی محمود ؒ کو بنوایا۔ MMA کے اقتدار میں علماء کی بھرمار تھی مگر چھوٹی داڑھی رکھواکر اکرم خان درانی کو وزیر اعلیٰ بنوایا گیا۔ جمعیت علماء اسلام نے فیصلہ کیا کہ انتخابی سیاست نہیں کرینگے ، بندوق اٹھانے کی بات مختلف اوقات میں اٹھائی تھی۔ پاک فوج نے ڈر محسوس کیا کہ یہ خطرناک ہوگا۔ اسلئے جب مولانا فضل الرحمن نے لاہور مینار پاکستان کی دہلیز پر اہم اعلان کرنا تھا تو اس کو روک دیا گیا حالانکہ یہ فیصلہ اجتماعی مشاورت سے ہوا تھا۔ جے یوآئی نے ماہنامہ میں لکھاتھا کہ ’’ احمد شاہ مسعود ایشاء کا سب سے بڑا کمانڈر ہے‘‘۔ جب افغانستان میں امریکہ نے خانہ جنگی کاپروگرام بنایا تو مولانا فضل الرحمن کے کارکن شمس محسود نے احتجاجی جلسے میں لہو گرمایا کہ ’’ احمد شاہ مسعود اتنا عیاش تھا کہ اس نے کہا کہ عیاشی کی کوئی صورت میں نے نہیں چھوڑی ، بس یہ رہ گیاکہ کوئی عورت میرے سامنے بچہ جننے کی کیفیت سے گزر جائے اور پھر اس نے وہ نظارہ دیکھ لیا تھا‘‘۔ جاہل عوام کو اس طرح ورغلانے سے بھی نہیں شرماتے تھے۔ مسجد کی امامت کوئی منصب نہیں رہا بلکہ پیشہ بن گیا ہے، پہلے عزت اور وقار کی نگاہ سے لوگ دیکھتے ، اب تومسجد کی امامت ہی نہیں مذہبی لبادے کی لیڈر شپ کو بھی نکمے قسم کے لوگوں نے اتنا بدنام کردیاہے کہ اس لبادہ میں لیڈری کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ امام الہندمولاناآزادؒ کی داڑھی چھوٹی تھی مگر علم تھا، اب بڑے ریش والے کیاجاہل ہیں؟۔مولانا کی پوری تقریر تضادات کا مظاہرہ ہے مگر لٹو کی طرح گھومنے والے کی کسی نے پکڑ نہیں کی، علی گڑھ اور دارالعلوم دیوبند پڑھے لکھے جاہلوں کی بہتات ہے مگرکوئی ان پر گرفت نہیں کرتا۔ عمران خان کو اسلامی جمعیت طلبہ کے جاہلوں نے پنجاب یونیورسٹی میں گریبان سے پکڑا۔

عمران خان کے برگشتہ ساتھی بیت اللہ بیٹنی کا تہلکہ خیز ویڈیو بیان

بیت اللہ بیٹنی کا ویڈیو پیغام، عمران خان کے برگشتہ ساتھی کا تہلکہ خیز بیان پہلے پی ٹی آئی کا دوپٹہ اپنے گلے میں ڈالا تھا

السلام علیکم خوش آباد رہو۔ پی ٹی ایم کے ساتھیو! موجودہ پروپیگنڈہ میں آپ کو بیدار ہونا چاہیے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ علماء خاموش ہیں، فتویٰ نہیں دے رہے۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو فتویٰ جاری کرنا چاہیے کہ جہاد ہوگا۔ Retreat (پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے) نہ کرنا چاہیے، اسلام میں Retreat نہیں، انکے فتوے افغانستان کے جہاد میں پشتونوں کو لیجانے ہیں۔ انکا فتویٰ ہے کہ تورخم کو بند کرنا جائز ہے۔ یہ فتویٰ نہیں ہوتا کہ انڈیا سے ہم لڑینگے۔ فتویٰ ہوتا ہے کہ وزیرستان کے معصوموں کیلئے دعا ناجائز ہے اور یہ ذکر کہ وہاں مائن لگے ہیں یہ ناجائز ہے۔ مولانا مسعود اظہر نے سخت زبان استعمال کی ہمارے عظیم لیڈر منظور، پشتونوں، ولی خان ،ہم کامریڈز کے بارے میں۔ ہم نے خود کو بیچنا نہیں ۔ پشتونو! خود کو نہ بیچو!۔ اس دور میں آپ کو پھر کوئی ایندھن نہ بنائے۔ ہم ضرور ساتھ دینگے مگر دیکھیں گے یہ لڑتے یا نہیں؟۔ اربوں روپے دفاع پر خرچ مگرآؤٹ پٹ نہیں۔ وہ ہمیں یا ہم ان کو قبضہ کریں لیکن ضرور کریں۔ اتنا بڑا بجٹ، ٹینک، میزائل، توپیں ، طالبان اور مجاہدین بنانا،اُ دھر سے انہوں نے بھی بنائے، آخر ان کا استعمال ہونا چاہیے۔ ہم امن کی بات کریں تو ہمارا امن ان کو پسند نہیں آتا۔ خیبر ٹی وی پر ہمارے مشر بولتے ہیں تو امن والوں کو یہ چھوڑتے نہیں تو جنگ میں جاؤ ۔ جتنا غصہ افغان باونڈری پر آتا ہے اتنا غصہ ادھر بھی دکھانا پڑیگا ورنہ ہم کہیں گے کہ تم ادھر بھی پشتون اور اُدھر بھی پشتون کو مروا رہے ہو۔ دیکھو اُدھر سے انکا پنجابی بھائی پیدا ہوا، جنہوں نے سب سے زیادہ پاکستان کی مخالفت کی، مسلمانوں کو قتل کیا لیکن یہ پھر بھائی بنتے ہیں۔ واہگہ بند نہ کیا مگر طورخم ، چمن کو بند کرتے ہیں۔ وزیرستان کی راہ بند کردیتے ہیں۔ یہاں کارڈ تھا وہ دیکھتے تھے تاکہ لگے کہ ہم فلسطینی اسرائیل میں جاتے ہیں، اپنے ملک میں۔ ان کو تو آزادی ہم نے دلوائی تھی۔ ان مولویوں کی آواز آنی چاہیے فیس بک میں میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔ جتنے بھی پشتون ہیں پھر نہ کہیں ہم میں لیڈر نہ تھے یا خبردار نہ کیا، لڑائی ضرور ہوگی، میری Prediction (پیشگوئی) کبھی غلط نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات ہے کہ پوری دنیا اس میں کوشش کریگی۔ یہ لڑائی کوئی نہیں روک سکتا۔ ابھی غزوہ ہند کا موقع آگیا۔ آگے بڑھنا چاہے مگر چھپ رہے ہیں، مولانا مسعود اظہر کو فرنٹ لائن پر بھیجنا چاہیے، انکے بچوں کو بھی لیجانا چاہیے، اگریہ چلے گئے تو میں آؤں گا کیونکہ ابھی شوق پیدا ہوگیا۔ اگر یہ نہیں جاتے تو ہم سمجھیں گے کہ پشتونوں کو مروانے کیلئے اسلام کا استعمال ہے، یہ لبادہ ہے اور ہم کو چکی میں پسوارہے ہیں۔ ہماری ترقی، معیشت ، ہر چیز پر ۔۔۔ اور ہم اتنا بڑا بجٹ تیار کرتے ہیں۔ روز روز کا معاملہ لازم فائنل ہونا چاہیے۔ ہم نے تو بال سفید کئے، آنیوالی نسلیں اچھی رہ سکیں ،پشتونوں کا خون اتنا ارذاں نہیں کہ پی ٹی ایم کو نیچے کردیگا اور پی ٹی ایم ختم ہو گی۔ پی ٹی ایم ہی مستقبل ہے۔ ہم وہ نہیں کہ لیٹ جائیں۔ چند جرنیل پالیسی بنائیں اور ہم پر مسلط کریں؟۔ پارلیمنٹ میں بحث ہو ،پالیسی بنے تو ٹھیک ہے۔پورے پاکستان کا دماغ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہے، بارہویں پاس یا نالائق جرنیلوں کی پالیسی سے گھٹن ہو رہی ہے۔اُدھرمشرف بیٹھا ہے اور جنرل راحیل اِدھر سلام نہیں دیتا، عربوں کوسیلیوٹ مارتا ہے۔ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں انہی کا ہاتھ ہے۔ جرنیلوں کا ہاتھ ہے۔ جنرل ضیاء ، جنرل ایوب کا ہاتھ ہے، سویلین کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں، دعویٰ ہے کہ اگر ہم نہ ہوں تو سیاستدان پاکستان توڑ دینگے۔ اگر اتنی فکر ہے تو ملک کو سیاستدانوں نے بنایا، جرنیلوں نے نہیں بنایا، ابھی باری آئی تو یہ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا، لڑائی میں تو نقصان ہوتا ہے۔ جہاد کا فلسفہ یہی ہے کہ مرینگے یا مار ینگے۔ یہ جو فلسفہ آپ نے تیار کیا، پشتونوں کیخلاف 70سال استعمال کرکے استحصال کیا اور ابھی آپ کرانا چاہتے ہو۔ ابھی ادھر پتہ نہیں کس کس کو اسلحہ دیا اور کس کس معصوم پشتون کو ذلیل کروارہے ہو۔ کل تو ایک ترکستان بیٹنی تھا وہ مسلمان ہوگیا۔ الحمد للہ اللہ تعالیٰ سب کو یہ دن دکھائے۔ ترکستان بیٹنی! میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر آپ نے مجھے بھی مارا ہوتا اور مجھ سے پوچھتے کہ آپ ابھی مسلمان ہوگئے تو میں کہتا ٹھیک کیا آپ نے۔ انسان غلطی کرتا ہے۔ ابھی وقت ہے صحیح راہ پر آنے کیلئے۔ تمام گل خانوں کو کہتا ہوں کہ صحیح راہ پر آجاؤ، اپنی حیثیت منواؤ کہ تم پشتون ہو، تمہارے ساتھ پراکسی کھیلی جاتی ہے اور آئین ہے، آئین کو مسخ کرکے قبائل پر ظلم کرتے ہیں ۔ یہ انتہا ئی ظالم ہیں۔ چند کو FC میں بھرتی کرکے پشتونوں کا سارا مال اُدھر خرچ کرتے ہیں۔ پوری زندگی پڑھایا کہ ادھر جہاد ہوگا، غزوہ ہند ہوگا اور موقع آتا ہے تو فتویٰ نہیں جاری کرتے۔ عجیب تماشہ ہے ڈھول بجا بجا کر شادی کا ٹائم آتا ہے تو نکاح نہیں پڑھاتے۔ فتویٰ دیا کہ افغانستان میں جہاد ہے اور دنیا کے مسلمانوں نے کہا کہ نہیں بھائی بھائی قتل ہورہے ہیں اور ملک کے سارے چیدہ چیدہ علماء نے کہا، حالانکہ محمد خان شیرانی اور بہرام خان بھی ہے اس طرح کے علماء کو ہم نہیں کہتے۔۔۔ اچھے بہت اعلیٰ، نمبر ون علماء کو جانتا ہوں۔ وہ دیکھو کوئی ہسپتال میں داخل، کوئی ادھر بیمار ہے، کوئی ادھر چھپ رہا ہے، جس نے دعوے کئے، اب آگے بڑھیں۔ یہ ادھر منظور کی آئی ڈی کو ہیک کرتے ہیں کہ منظور کو خیبر ٹی وی پر نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے ہمیں زندگی دی۔ یہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ گل خانوں کو تھوڑا سوچنا چاہیے۔ ہم ان کیلئے کام کررہے ہیں بنگلہ دیش کدھر پہنچ گیا دیکھ لو۔ اس کی معیشت کتنی مضبوط ہے۔ فوج نے ہمیں ہر لحاظ ، ہر سوچ کیساتھ دلدل میں پھنسایا۔ آپ کو سمجھ نہیں آرہی ہے بیوقوف کی طرح ہم انکے پیچھے جائیں۔ یہ ہمیں پالیسی بناکر دیں۔ ہمارے ذہین شخص بھٹو کو نہ چھوڑا، فاطمہ جناح کو نہ چھوڑا، قائد اعظم کو 1935کے قانون پر عمل نہ کرنے دیا، شیخ مجیب کو حکومت کرنے نہ دی، پانچ فٹ چھ انچ کا قد رکھ کر بنگالیوں کو فوج سے آؤٹ کیا، 1947سے لیکر1971 تک انتخابات نہ کرائے۔ انڈیا کو تین دریا دئیے۔ کشمیر میں 1948میں لڑنے سے انکار کیا ۔ امریکہ سے پیسے لیکرافغانستان میں روس کیخلاف نقلی جہاد لڑا ۔ یہ کرایہ دارہیں۔ ابھی موقع ہے یہ Retreat کررہے ہیں۔ مجھے بتائیں کیا کروں بٹن نہیں دبا سکتے؟ میں دباتا ہوں ٹریگر، مجھے لیجاؤ۔ مار دونگا فائر مگر اسٹارٹ کرنا ہے۔ آپ کو سب دیکھ رہے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ زیادہ ہیں وہ طاقتور ہیں ہم کم ہیں۔ حضور ﷺ کے جہاد 3 سو ہوتے، وہ3 ہزار ہوتے۔ کبھی اکیلے حضرت علی ؓ ہوتے۔ سبحان اللہ۔ قربان ہوں ان ناموں پر۔ یہ نام نہاد جو داڑھی رکھ کر اسلام کو غلط استعمال کرتے ہیں، وزیرستان آتے ہیں، شیعہ سنی کو لڑاتے ہیں ان کو ہم نے دیکھنا ہے۔ مجھے اگر کوئی پاور ملی نا انشاء اللہ تعالیٰ یہ راہ حق ہے تو پھر سب کے سامنے احتساب ہوگا۔ مقدمہ بھی سب کے سامنے ہوگا۔ جیسے درانی کے گھر سے کل سونا اور نوٹ نکلے تو کسی جرنیل کے گھر سے کوئی سونا اور نوٹ کیوں نہیں نکلتا؟ وہ فرشتے ہیں؟۔ انہوں نے اس ملک کو نہیں لوٹا؟۔ جب لڑنے کا ٹائم آتا ہے تو ہم امن کی آشا کرتے ہیں۔ وہ دھمکیاں دیتے ہیں تو تم کہہ رہے ہو وت مار وت مار۔ افغانستان والے ایک سپاہی کو ماردیتے ہیں تو آپ کہتے ہو ہم بدلہ لیں گے۔ اُدھر آپ کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے اِدھر آپ کو بہت کم غصہ آتا ہے۔ دونوں طرف پشتون اور مسلمان ہیں، کیا پشتون مسلمان نہیں ؟۔ پتہ ہے یہ سب۔۔۔ پالیسی والے ہیں۔ انکے پاس دلائل نہیں، یہ کہتے ہیں ہم تمہیں مار دینگے ہم نے بہت ساروں کو مارا۔ پتہ ہے بہت ساروں کو مارا، بنگالیوں کو بھی مارا، تم نے سب کو مارا لیکن تم نے حاصل بھی بہت کچھ کیا ۔ تم نے وزیرستان میں 70ہزار گھر گرائے لیکن تم نے بہت محلات بنائے ،تم بنگلہ دیش سے Economically آگے بڑھ گئے۔ تم نے ہمیں طعنے دئیے، 33بلین ڈالر امریکہ سے لئے ، نام نہاد جہادسٹ پیدا کئے ۔ کچھ کر نہیں سکتے تو آرام سے بیٹھ جاؤ۔شریفوں والی زندگی گزارو۔ کرنا ہے تو پھر کرو۔ ایٹم بم ہے آپکے پاس۔ یہ نہ بتانا کہ دنیا غرق ہو جائے گی ہم غرق ہوجائیں گے وہ غرق ہوجائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اسٹارٹ کرینگے تو کون ختم کریگا؟ ۔ یہ سوچ پھر نہیں چلے گی۔ اگر ملک کو آگے بڑھانا ہے تو پھر لازماً نان اسٹیک ہولڈر جتنے ہیں آرام سے بٹھانا ہوگاکہ ادھر بیٹھ جاؤ۔ 18 بلین ڈالرلیتے ہو، نان اسٹیک ہولڈر بھی پیدا کرتے ہو۔ پھر انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے جواب بھی نہیں۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے۔ پھر تگڑا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ہم حیران کرینگے، کیسے حیران کرینگے؟۔ میرا ذہن ہے کہ جتنی پالیسی بنائی یہ صرف بجٹ کاچکر ہے یہ اٹھارویں ترمیم ختم کراتے ہیں تاکہ مرکز میں پیسہ آئے اور خیبر پختونخواہ ، سندھ اور بلوچستان مٹی کھائیں اور ہم پیسہ اٹھالیں، اور سوشل اکنامک نہ ہو۔ سیکورٹی زون بنایا ہے ہمیں۔ تگڑے ہیں کہ بیت اللہ خان کو پکڑ لو جیل میں ڈالو، عالم زیب کو ڈالو، منظور کی آئی ڈی بند کرو، عارف وزیر کو ڈالو، ولایت خان کو ڈالو، ان کو مارو، پشتونوں کے گھر گراؤ، بڑے تگڑے تھے، اسوقت تو دلائل نہ دئیے ۔ یہ نہ کہا کہ امن کی آشا ہوگی۔ اب امن یاد آیا۔ ہمیں تو برباد کردیا ابھی بربادی کرو، تاکہ نئی دنیا بنے، ویسے بھی تبدیلی ہوتی ہے، اگر ہم بیس کروڑ نہ رہیں تو نہ رہیں دنیا میں لوگ ہیں، مسلمان بھی زیادہ بنیں گے۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں اگر لیڈ کرتا تو انشاء اللہ آپ کو پتہ چل جاتا کہ پشتون واقعی میں ایسے ہیں، لیڈر شپ ایسی ہوتی ہے۔ ابھی ہم کچھ کر نہیں کر سکتے۔ آپکے ہاتھ میں ہتھیار ہے، آپ آگے بڑھو۔ لڑائی ہوگی، وہ لڑائی نہ روکیں گے، یاد رکھنا چاہیے، کسی کو دو نمبر بات نہ کرنی چاہیے۔ سٹیک والی بات ہے انہوں نے سٹیک کیا ہے وہ لڑینگے۔ پتہ ہے مودی لڑیگا، مودی بہت بڑا حرامی ہے، اس کی سوچ لڑاکو ہے وہ چاہتا ہے کہ میں ہسٹری میں رہوں اس کو تھوڑا غرور ہے مگر علماء ابھی فتویٰ نہیں دیتے، ہماری سوئی اٹک گئی کہ ادھر جہاد اناؤنس کرینگے، ہم سب جائیں گے کیونکہ میری ماں کو بھی بڑا مرنے کا اور شہادت کا شوق ہے، یہ شہادت صرف خیبر پختونخواہ میں ہونا چاہیے۔ ادھر پشتون ہو تو شہادت ملے۔ ان کو نہیں شہادتیں چاہئیں۔ مجھے سننے کا حوصلہ رکھیں، جانتا ہوں کہ یہ لڑائی نہیں کرسکتے۔ خواہ مخواہ غزوہ ہند کا ڈھنڈورا کرتے ہیں، یہ سوچ ہے کہ لوگوں کو پھنسا کر رکھیں۔ کاش! آج یہ آگے بڑھتے اور فتویٰ آتا کہ جہاد اناؤنس ہوگیا، انڈیا کیخلاف جہاد ہے۔ تمام علماء پاکستان فتویٰ دیتے کہ انڈیا کیخلاف جہاد فرض ہوچکا ہے۔ تو پھر ہم بھی تیاری پکڑ لیتے کیونکہ سال میں کبھی کبھار تو ہم بھی وضو کرتے ہیں۔ علماء جیسے مولانا مسعود اظہر ہے، مولانا حافظ سعید ہے، زید حامد ہیں جو غزوہ ہند کا ڈھنڈورا لئے پھرتے ہیں، مولانا طاہر اشرفی کی طرف سے کوئی خاص پیغام نہیں ملا ورنہ ہم بھی چلتے۔ کم از کم بہت نالائق پٹھان ہوں تھوڑا مجھ میں بھی حوصلہ آجاتا لیکن یہ خود چھپے ہیں ہم کیسے چلے جائیں۔ امن کی آشا کی بات لاکھ کریں مگروہ اٹیک کرینگے۔ مجھے انکے دما غ کا پتہ ہے انڈیا کا ماحول جانتا ہوں۔ انڈین کیا سوچتے ہیں پتہ ہے مگر ہمارے علماء چپ ہیں یہ فتویٰ دیں اور شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں تو بات بنے۔ بہت شکریہ سب کا، ناراض نہیں ہونا۔ زندگی خراب ہے ورنہ موت نے تو کسی کو دھوکہ نہیں دیا ۔ یہ زندگی انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ موت کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیتی جیسے جاؤ، موت مل جائے گی۔ اللہ آپ کو خوش اور امان میں رکھے۔ پھر بھی میں کہتا ہوں لڑائی ہوگی ،حالات ٹھیک نہیں۔ بڑی بڑی طاقتیں آئیں گی ، مودی چاہتا ہے کہ لڑائی ہو۔ وہ تاریخ میں زندہ رہناچاہتاہے۔ ان کو بھیجا احسان اللہ احسان کو، راؤ انوار کو، کم از کم ادھر سے تو یہ لوگ اعلان کردیں کیونکہ یہ تو ہیرو ہیں ۔ احسان اللہ احسان اعلان کردے کہ بھئی جہاد ہوگا۔ مگر کہیں چھپا ہوگا بیچارہ۔ راؤ انوار بھی چھپا ہوگا، یہ اصل میں کیا کرتے ہیں؟، کہیں غریب پشتون ملا تو اس کو گریبان سے پکڑا، آپ نے اس کو پکڑ لیا توبس؟، پھر آپ ان بیچاروں کو قتل کراتے ہیں اور آپ کی کوشش بس یہ ہوتی ہے کہ کسی کو قتل کرواور بالخصوص وہ پشتون ہو تو اس کو مارنے میں بھی آپکو بڑا مزا آتا ہے۔ اور یہ آپ کو پتہ ہے کہ کتنے بے گناہ پشتون لوگوں کو آپ نے مارا ہے۔

***2016 میں بیت اللہ بیٹنی پی ٹی آئی کیلئے اڈیالہ جیل گیا جہاں دل کا دورہ پڑا جس پر اسد عمر نے عیادت کی***

بیت اللہ بیٹنی نے کل عمران خان کے حق میں اور سیاستدانوں کیخلاف کیا کہا تھا؟ کیا فصلی بٹیر ہر تحریک کے اُفق پر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بدلتے آئیں گے اور لوگوں میں اپنی بولتی کا جادو جگائیں گے؟

دوستو! سلام! جو مجھے سنتے ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ لازمی سنیں۔ ضرور شیئر کریں۔ آج میں آپ کو وہ حقیقتیں بتاؤں گا کہ پاکستان کی سیاست میں کیا ہوا تھا؟۔ میں شروع کرتا ہوں ڈی آئی خان سے جہاں پر 40لوگ مارے گئے۔ بذات خود فائرنگ وزیر اعلیٰ سرحد عنایت اللہ خان گنڈہ پور نے کی۔ وہ ایسے ہی گھومتا تھا بھٹو کی حکومت تھی۔ جناب اکبر خان ڈی ایسی پی نے استعفیٰ دیا اور اس کو پکڑا نہیں۔ اور اس کو جسٹس سسٹم میں گھسیٹا نہیں گیا تھا۔ اسکو بلٹ پروف گاڑی پیپلز پارٹی نے Provide کی تھی۔ دوسرا 12اکتوبر کو ایم کیو ایم ، جنرل پرویز مشرف نے جو قتل عام کیا اور پھر اے این پی والوں نے پختونوں کے سر پر پیسہ لیکر ان کو معاف کیا۔ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہاں انسان قتل ہوتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جس طرح آپ نے ماڈل ٹاؤن میں دیکھا ایسے کیس اس سے پہلے بھی ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وہ جو کہتے تھے کہ ہم ڈرنے والے نہیں وہ باہر بیٹھے ہیں۔ میں ان ظالموں سے پوچھتا ہوں کہ یہ مولانا فضل الرحمن کے والد بھی اس وقت حیات تھے ان سب کو یہ واقعات معلوم تھے لیکن انہوں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ یہ آج عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے انہوں نے آج تک کوئی ایماندار شخص زندگی میں دیکھا ہی نہیں۔ ان سے اُن کا واسطہ ہی نہیں پڑا۔ لہٰذا سب سے درخواست ہے آپ پہچانیں۔ شاہی سید آپ نے پیسے لئے ہیں، پختونوں کے سر کی قیمت اور سودے بازی آپ نے کی ۔ سب سے درخواست ہے ان ظالموں سے بچو۔ یہ ہمیں بیچنا چاہتے ہیں ،مختلف برادریوں میں مختلف فرقوں میں بانٹ کر یہ ہم پر حکومت کرینگے لیکن کتنے قتل عام ہوئے آج تک اس پر مقدمہ چلا؟۔ عنایت اللہ خان گنڈہ پور پر؟۔ کس پر چلا تھا؟۔ یہ مانتا ہوں کہ اسکے بیٹے نہایت معزز ہیں۔ اللہ جنت نصیب کرے۔ اسرار اللہ خان کو سب کو بڑے معزز ہیں۔ انہوں نے سارے صلحے کئے لیکن حکومت نے اور اس وقت کی لیڈر شپ نے اس پر کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا۔ خدا حافظ۔ سنئے بیت اللہ خان کو، آپ کو میں بتاؤں گا سیاست کیا ہوتی ہے۔

شاعرہ لتا حیا کی نعتیں :ریٹائرڈچیف جسٹس مرکنڈے (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

بھارت میں اردو کی معروف شاعرہ لتا حیا کی غزلیں ، نعتیں ، انقلابی شاعری اور انسانیت کا درد ایسا ہے کہ جیسے اسلام کی روح یہ ہندو خاتون عوام کے دلوں کو گھول گھول کر پلارہی ہو۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے کی حق گوئی سے ایک نیا ولولہ بیدار ہوا چاہتا ہے۔خالد خواجہ اور کرنل امام کو طالبان نے کیوں قتل کیاتھا، اسکے کیا عوامل تھے؟مگر لتا حیا کی شاعری ، انسانیت دوستی اور مسلمانوں سے محبت اور اچھوت نسل سے ہمدردی دیکھ کر دل میں تمنا پیدا ہوتی ہے کہ ہمارے جو اسلام اور پاکستان کی معروف شخصیات ہیں۔ اوریا مقبول جان، رستم شاہ مہمند، زید حامد،عمران خان ،نوازشریف، لونڈے لپاڑے، مولانا فضل الرحمن، معروف سیاستدان اور علماء ومفتیان بھی خالد خواجہ اور کرنل امام کی طرح طالبان کے ہتھے چڑھتے تو زیادہ برا نہ ہوتا۔ لتا حیا ایک بھارتی ہندو خاتون ہے اور اُس شدت پسند ہندوانہ ماحول میں اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت کی جو خدمت کررہی ہیں، ہمارے ہاں یہ لوگ اسلام کے نام پر اپنی فالتو قسم کی پھکیاں بیچ رہے ہیں۔ ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے کو آسمان کے فرشتے بھی شاباش دیتے ہونگے جو بھارتی معاشرے میں شدت پسند ہندو، تعلیم یافتہ طبقے اور میڈیا کی ایسی خبرلیتا ہے کہ انسان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ یہ بھی اس دور کا انسان ہے؟ ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو برصغیرپاک وہند کو تعصبات ، جہالت اور تمام بھونڈے ہتھکنڈوں کی گرفت سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ہی بحروبر کے طوفانوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ ظھرالفساد فی البروالبحر بما کسبت ایدی الناس’’خشکی وسمندر میں فساد برپا ہوا،انسانوں کے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کے سبب‘‘۔ مودی اور شدت پسندانہ تعصب کا زہر اگلنے والوں کو لتاحیا و قابل احترام چیف جسٹس مرکنڈے شعور کی شعاعوں کے ذریعے جہالت کی اندھیر نگری سے نکال رہے ہیں۔ جب جہالت، اندھیرا اور موت معاشرے پر طاری ہوجاتی ہے تو اس کیلئے جن مسیحاؤں کی ضرورت ہوتی ہے انکا کردار روشنی، علم اور حیات کی آبیاری ہوتی ہے۔ جسم کی طرح انسانوں کی روحوں اور دلوں پر بھی موت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے تو اس کو زندہ کرنا بہت مشکل کام ہوتاہے اور ہر معاشرے اور قوم میں مسیحاؤں کا اصل کام مردہ روحوں اور دلوں میں حیات پیدا کرنی ہوتی ہے۔عسکری قوتیں جانیں لے سکتی ہیں مگر مُردوں میں جان نہیں ڈال سکتی ہیں،البتہ جانیں بچانے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ پاک فوج نے بھارتی پائلٹ کو گرفتار کرکے تشدد سے بچایا۔ یہ انسانیت ہی اصل کام کی چیز ہے۔ قوت مدافعت کے بغیر قومیں زندہ نہیں رہ سکتی ہیں۔ لوگوں کی زندگی بچانے کیلئے شرپسندوں سے قوتِ مدافعت کا استعمال بھی بہت ضروری ہے، پاک فوج نے حملے کے بدلے میں حملہ کرکے شاطر دشمن کو مناسب سبق سکھا دیا ہے۔ بھڑکیں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ،شرافت سے کام ہونا چاہیے۔ جنگ کا جنون مسائل کا حل نہیں لیکن جب چیف جسٹس مرکنڈے اور لتا حیا جیسی شخصیات اپنی عقل وفکر، علم وعمل اور شعوروآگہی سے اتمامِ حجت کا بہت واضح کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کے سربراہان اور اصحابِ اختیار اس پر کان دھرنے سے گریز کرتے ہیں تو ذلت ورسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار کو چاہیے کہ صورتحال معمول پر آتے ہی لتاحیا اور چیف جسٹس مرکنڈے کو پاک سرزمین پر آنے کی دعوت دیں۔ ان سے گزارش کریں کہ علم وآگہی ، درد ومحبت اور دل وروح کی غذاء یہاں بھی لوگوں کی بہت سخت ضرورت ہے۔یہاں بھی ہندوؤں کی طرح اسلام کے نام پر ایمان کا جعلی چورن بیچا جارہاہے جس میں شفاء نہیں زہر ہے، علم نہیں جہالت ہے، روشنی نہیں اندھیرا ہے ،اسلام نہیں ابہام ہے اور ایمان نہیں کفران ہے۔ اوریا مقبول جان کا تصور افسانوی کوئل کی طرح ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ کوّؤں کے گھونسلے میں اپنے انڈے دیتی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے طالبان والقاعدہ کے لشکر کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ جس میں ہتھوڑے جیسے لمبوترے چہروں والے پٹھان اور ڈھال جیسے گول چہرے والے ازبک وغیرہ تھے۔ اوریا مقبول جان اور مولانا فضل الرحمن سوشل میڈیا کے کنونشن سے ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے بھی ایکدوسرے کیساتھ دجل وفریب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر یاجوج ماجوج کے لشکر کو میڈیا قرار دیا جائے تو پھر یہی دجال میڈیا میں کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر اس سے مراد دجالی لشکر ہے جو خراسان کی طرف سے بلندی سے آکر میدانی علاقوں میں ہر گھاٹی سے حملہ آور تھے تو بھی حقائق کو سمجھنا مشکل نہ تھا۔ دارالعلوم دیوبند و جمعیت علماء ہند کے وقت سے طالبان کے کردار تک اوریا مقبول جان اور مولانافضل الرحمن کا نظریاتی اختلاف ایکدوسرے کی عقیدتوں کی بالکل نفی کرتا ہے اورپھر بھی ایک اسٹیج سے عوام کو دجل وفریب کا پیغام دیتے ہیں۔ امریکہ نے شکست کھائی یا نہیں کھائی ؟ ہمیں اس سے کیا؟،لیکن افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور پاکستان کی عوام کی جان ومال اور عزتوں کا دنیا میں جنازہ نکال دیا ہے۔ اوریامقبول جان اس وقت بیوروکریسی میں اینکر پرسن کا کردار ادا کررہا تھا، اس کی ذات پر آنچ اسلئے نہیں آئی کہ یہ بک بک مسلسل تسبیح ومناجات کررہا تھا یا سبّ وشتم کے بینڈ باجے بجارہا تھا کہ بیوروکریسی نے پاکستان کا بیڑہ غرق کیا ہے ، فوجی بیچاروں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ یہ خوارج کا وہ کلمہ ہے جسکے بارے میں حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’ بات حق ہے مگر یہ اس سے باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔ اس وقت بھی جس بیوروکریسی نے ریاست اور عوام کو گمراہ کیا تھا تو اوریا مقبول جان خود بھی بہت منافقت کیساتھ اسی کا حصہ رہے ہیں۔ ملاعمر کو تو کرنل امام اپنے شاگرد کہتے تھے اور پٹھان کی تعریف کرتے تھے تو پٹھان کے دل سے دعانکلتی تھی کہ ’’ایک دفعہ تم بھی انکے ہاتھوں میں پڑجاؤ اور پھر ایک دن شکار ہوگئے‘‘۔ اوریا مقبول بھی انکے ہاتھوں لگ جاتے اور پھر وہی کہلواتے کہ بولو کہ یاجوج ماجوج تو وہی دجالی لشکر ہے جسکا یہ پتہ نہیں چل رہاہے کہ امریکہ اور پاکستان مخالف ہیں یا انکے حامی ہیں؟۔ہمیں طالبان کی حمایت یا مخالفت سے کوئی غرض نہیں لیکن اس بات کا احساس ہے کہ یہ لوگ مفت کی منافقت کررہے ہیں۔ پہلے قوم کو گمراہ کیا تو اب اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ بخاری میں آخری خطبے کے حوالے سے ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا ہے جس نے دجال سے قوم کو تنبیہ نہیں کی ہو۔ خبردار ! میں بھی تمہیں دجال کے فتنے سے آگاہ کررہا ہوں۔ اگر تم یہ نہیں سمجھ سکو کہ دجال کون ہے؟تو اللہ دجال کو جانتاہے، دجال ایک آنکھ کا کانا اور اس کی دوسری آنکھ انگور کی طرح ہے۔ تمہاری جان کی حرمت ایسی ہے جیسے اس شہر (مکہ ) میں، اس ماہ (ذی الحج)اور اس دن(عرفہ) کی حرمت ہے، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایکدوسرے کی گردن مارنے لگو‘‘۔ لتاحیا اور مرکنڈے بھی ان لوگوں سے ہزار درجہ بہتر انسان ہیں جو مسلمان کی حیثیت سے دجالیت، فریب اور خون خرابے کی حمایت کررہے تھے۔

شپیزمائی خان اور منظور پشتین اپنی سوچ اور فکر کو بدلیں! (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

کانیگرم جنوبی وزیرستان کے پیرمبارک شاہ نے 1920ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پبلک سکول بنایا جو آج بھی موجود ہے۔ قبائلی علاقہ جات کو تعلیم کے نام سے جتنے فنڈز ملتے ہیں وہ قبائل عوام پر خرچ کرنے کے بجائے کھا لئے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اسکے احتساب کی بات کی جائے تو پختون ہی گلٹی ہونگے، اسی طرح سندھ و بلوچستان کی کیفیت ہے۔ ریاست دشمن نہیں بلکہ قوم کے بڑے اپنی قوم سے دشمنی کے مرتکب ہیں۔ علی وزیر اور محسن داوڑ نے ایک میڈیا بیان میں وضاحت کی کہ ’’ہم عدمِ تشدد کی پالیسی پر آخری دم تک گامزن رہیں گے‘‘۔جبکہ منظور پشتین نے کہا کہ ’’میں اس مٹی کا بیٹا ہوں، مٹی عدم تشدد کی بات کریگی تو عدم تشدد کرینگے اور مٹی تشدد کی بات کریگی تو تشدد کرینگے‘‘۔حضرت علیؓ ابن تراب نہیں ابوتراب تھے۔ مٹی کے بیٹے اور مٹی کے باپ میں اتنانظریاتی فرق ہے جتناہندواور مسلم میں ہوتا ہے۔ ہندو پر جس کی حکومت بھی آئی وہ اپنی جگہ پر غلام کی طرح کھڑا رہاتھا۔ ابوجہل وابولہب مٹی کے بیٹے تھے ،وہ اپنا سر کٹا گئے لیکن اسلام قبول نہیں کیا۔ مسلمانوں نے مکہ سے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت کی۔ حضرت علیؓ نے مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تھا۔ انگریز نے لکھ دیا کہ’’ محسود بھیڑیے، وزیر چیتے اور بیٹنی قبائل گیڈر کی طرح ہیں‘‘۔ ادریس شہید کی شہادت پر اور وانا میں ایک جھڑپ کے دوران وزیروں نے ثابت کردیا کہ وہ چیتے ہیں۔ بیت اللہ بیٹنی نے PTM سے پہلے PTIکے پلیٹ فارم سے جو بیان ریکارڈ کرایا ہے اور PTI میں ایک معمولی احتجاج پر جیل میں دل کا دورہ پڑا تھا تو اپنے تضادات سے گیدڑ کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ بھیڑیے کی صفت یہ ہے کہ جب تک تحفظ کا یقین نہیں ہوتا تو وہ شکار پر حملے کی جرأت نہیں کرتا ۔ اسلئے لوگ شیر اور چیتے کہلانا چاہتے ہیں۔ محسودقبائل کی تین شاخوں میں بہلول زئی اور منزئی کی بہادری اور شمن خیل کی سیاسی صلاحیت تھی۔ سردار امان الدین نے قومی لشکر بنایا تو پہلے اپنے چچازاد کاگھر گرایا، پھر دوسری قوموں سے لڑائی مول لی تو اپناقومی لشکر بھی گرفتار کرادیا۔ اگر منظور پشتین مٹی کا بیٹا ہے تو وزیرستان کی مٹی پر زیادہ عرصے کی بات نہیں ماضی قریب کا قصہ ہے ۔ پہلے پوری قوم ایک ڈاکوگو خان کی قیادت پر اکٹھی ہوگئی۔ رضا گو خان اور TTFکا آج نام لینے والا بھی کوئی نہیں ۔ پھر قوم میں بدمعاشی عروج پر پہنچ گئی تو گلساخان کی قیادت میں بدمعاشوں کیخلاف لشکر تشکیل دیاگیا۔ گلسا خان امریکہ اور بیٹنی قبائل کو چیلنج کررہاتھا۔ پھر طالبان آگئے تو مٹی کی اولاد طالبان بنی۔ محسود نے طالبان کی قوت سے فائدہ اٹھاکر بیٹنی کا ستیاناس کردیا۔ پھر قاری زین الدین کی قیادت میں شمن خیل اوربیٹنی نے دوسرے محسودوں اور طالبان گروپ کیخلاف ترکستان کی قیادت میں قتل وغارتگری کا بازار گرم کردیا۔ آج پھر ترکستان بیٹنی گیدڑ کی آواز نکال رہاہے کہ پاکستان اور اسلام کے نام پر 186افراد کو اپنے ہاتھوں سے شہید کیا ۔ مٹی کا بیٹا ہر دور میں ہواؤں کے رخ پر چلتا ہے تو مختلف انداز میں استنجوں کے ڈھیلے کی طرح استعمال ہوجاتا ہے۔ ژوب اور وانہ سے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان آنے والی گاڑیاں شمن خیل کے علاقہ میں بارشوں کے فلڈ سے راستے میں کئی گھنٹوں تک رُک جاتی تھیں تویہ ایک دو دن یا مہینہ دو مہینے کی بات نہیں ہوتی تھی۔ بھوکے مسافروں کیلئے ہوٹل بھی نہیں تھے، آس پاس کے گھر والے اتنے مہمانوں کو پہنچ نہیں سکتے تھے، بچوں نے وہاں مسافروں کو روٹیاں بیچنی شروع کردیں تو ایکدوسرے کی ضرورت تھی۔ اس وجہ سے وہاں کے شمن خیل برادری پر کوئی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ محسود کی روایات سے ہٹ گئے لیکن جن محسودوں کے گھر سڑک سے میلوں دور تھے ،ان کو اس حرکت پر یہ لوگ اچھے نہ لگتے تھے۔ شمن خیل لدھا و مکین کی طرف بھی رہتے ہیں۔ ایک پاگل محسود جام دین سے کسی نے پوچھا کہ ’’ محسود قوم میں مرد زیادہ ہیں یا خواتین؟‘‘۔ جام دین نے کہا کہ ’’ شاعر کے شمن خیلوں کو مردوں میں شمار کریں تو مرد زیادہ ہیں اور عورتوں میں شمار کریں تو عورتیں زیادہ ہیں‘‘۔اقبال سے محمد علی جوہر نے کہا کہ تم میدان میں قربانی کیوں نہیں دیتے؟۔ اقبال نے کہا کہ ’’اگر قوال وجد میں آگیا تو قوالی کون گائے گا‘‘ ۔عقلمندوں کیلئے اشارہ کافی ہوتاہے۔ شپیزمائی خان نے میرے ویڈیو بیان پر واضح کیا کہ ’’ اس نے افغانستان کو امریکہ سے فائدہ اٹھانے کی بات کی تھی جسطرح آئی ایس آئی نے افغان وار سے فائدہ اٹھایا‘‘۔ یہ بات PTMکے جوانوں سے نہیں افغانستان کے حکمران سے کرنی چاہیے تھی تو بات واضح ہوتی۔ شپزمائی خان نے کہا کہ ہمارا اصل مقابلہ امریکہ سے ہے ، استعمار کیخلاف افغانستان کے وہ علاقے زیادہ مفید ہیں جہاں نیٹ کام نہیں کرتا۔ ایک طرف امریکہ سے مدد اور دوسری طرف اس کا نیٹ سے مقابلہ اپنے اندر بڑا تضاد رکھتا ہے۔ شپیزمائی خان نے کہا کہ چاند میاں لاہور اور کراچی میں تنقید کا نشانہ بنتا ہے ۔ ہم شپیزمائی کہتے ہیں جو مذکر ہے ،دوسرے اس کو شپیزمئی کہتے ہیں جو مؤنث ہے۔ میںیہ واضح کردیتا ہوں کہ اگر شپیزمائی خان کو میری بات سے دکھ پہنچا ہے تو میں دل کی گہرائی سے معافی مانگتا ہوں۔ توہین کی غرض سے نہیں محبت سے میں نے چاند میاں لکھا تھا، بولٹن مارکیٹ کراچی کے صدر کا نام بھی چاند میاں ہے، گوجرانوالہ میں ایک بہت معزز ، معتبر اور پیارے شخص کا نام خالد ہے لیکن چاند میاں سے مشہور ہے۔ عربی میں سورج اور چاند کو شمس وقمر کہتے ہیں۔ یہ نام ہر زبان میں ہوتے ہیں۔ شمس عربی مؤنث اور قمر مذکر ہے۔ لفظی مذکر ومؤنث کوئی مسئلہ نہیں ۔ طلحہ، موسیٰ ، عیسیٰ کے آخر میں مؤنث ہی کی علامت ہے۔ امامہ مؤنث ہے اور مردو عورت دونوں کیلئے نام ہے۔ ایک صحابیؓ کا نام بھی امامہ تھا۔ شپیزمائی خان کا بہت اچھا ذہن ، مطالعہ اور فطرت ہے لیکن ایک ماحول کے ذریعے سے ایکدوسرے کی بات سمجھ سکتے ہیں۔ اگر شپیزمائی خان PTMاور افغانستان کی بجائے پاکستان اور بھارت کوہی مخاطب کریں تو ان کو بہت سے فالورز مل سکتے ہیں۔ آئی ایس آئی کو گالی دینے کا اس سے زیادہ کچھ فائدہ نہیں کہ PTMوالے آپ کی بات سنیں۔ مجھ پر شک کیا گیا ہے کہ میرے رابطے جرنیلوں سے تو نہیں؟۔ میراشپیزمائی خان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ امریکہ یا یورپ کیلئے کام کرتے ہیں۔ وہ اچھے انسان ہیں اور اپنے ہی دائرہ کار میں اچھائی کی کوشش کرتے ہیں۔ زبردستی سے شادی کا تصور صرف ہمارا کلچر نہیں بلکہ سندھی، بلوچ، پنجابی اور کراچی کے مہاجروں کے علاوہ ہندوستان کا بھی یہ مسئلہ ہے۔ پختونوں کی جن خامیوں کا ذکر شپیزمائی خان کرتے ہیں تو اسے پتہ ہونا چاہیے کہ تبلیغی جماعت اور علماء کرام کی بدولت ان میں بڑی تبدیلی کے اثرات بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ پشتون ایریا میں دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بنائی جائے اور دنیا بھر سے ماہرین بلاکر اس میں تعینات کئے جائیں تو ہماری ہی نہیں بلکہ عالم اسلام اور انسانیت کی دنیا بھی بدل جائے گی۔علامہ اقبالؒ نے لکھ دیا ہے کہ پشتون فطرت کا ترجمان ہے اور افغان کو کرائے کا قاتل بھی کہا ہے۔

بھارتی فوج ریہرسل میں کوے سے انڈے گرانے پر شرم کرے۔ عبد القدوس بلوچ

رحیم شاہ مروت ہے پنجابی نہیں، UCناظم ن لیگ کا عوامی نمائندہ ہے وردی والا نہیں۔ پیپلز پارٹی لسانیت کا رنگ نہ دے۔ پختون غلط نعرے نہیں لگائیں۔
بھارتی فوج ریہرسل میں کوے سے انڈے گرانے پر شرم کرے۔ عبد القدوس بلوچ
سود کے 73گناہوں میں سے کم از کم گناہ حدیث کے مطابق اپنی ماں کیساتھ زنا ہے ۔ پاکستانی آئین میں سودی قرضوں کی گنجائش نہیں مگر ہم سودی بھیک مانگے جارہے ہیں
کوئی مجبوری میں عزت بیچتا ہے۔ پاکستان ایران کے تیل و گیس سے اپنی عزت بچاسکتا ہے مگرنہیں بچاتا، دشمن بھارت کو اسکے ذریعے سے رام کرسکتا ہے مگر نہیں کرتا ہے۔
کراچی (نمائندہ خصوصی) عبد القدوس بلوچ امیر ادارہ اعلاء کلمۃ الحق نے کہا کہ کشمیر میں بھارت مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔مودی نے ہندو انتہاپسندی سے جو دہشتگردی پھیلا ئی ہے اسکا سیکولر بھارت میں کوئی جواز نہیں ۔ بھارت حماقت کرے تو پاک فوج مقبوضہ کشمیر پر قبضہ میں دیر نہ لگائے ۔ بنگلہ دیش کا بدلہ بھارتی فوج سے چکانا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے سرینگر سے ہماری فوج اور قبائلیوں کو نکال کر کشمیریوں سے استصواب رائے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ جنرل راحیل مسلم افواج سے بھارت کو کشمیر سے نکالیں۔ کیلئے اقوام متحدہ سے حق کی بات منوالیں۔ وقت آگیا کہ دنیا فلسطین وکشمیر کا حق تسلیم کرے اور ظلم و ستم کے نظام کا خاتمہ ہو، بھارت اپنی ریہرسل میں کالے جہازوں سے سفید رنگ کے بم برسا کر لگتا ہے جیسے مودی جی کوّے سے انڈے پھینک رہا ہو، بھارت شرم کرے۔ ہمارے چھوٹے ایٹم بم پاکستان پر حملہ آور لشکروں کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا نے جنگ سے مسلم اُمہ کو نہیں خود کو بھی برباد کیا ۔پاکستان کا آئین قرآن وسنت ہے، سود خور یہودی مافیااور بکا ہوا مفتی طبقہ سودی قرضے سے پاکستان کا بیڑہ غرق کریگا۔ سودکے 73 گناہ میں کم ازکم گناہ ماں سے زنا ہے(حدیث) کوئی مجبوری میں عزت بیچتاہے،پاکستان ایرانی تیل وگیس سے اپنی جان و عزت کو بچاسکتاہے ، دشمن بھارت کو قابو کرسکتا ہے مگریہودی لابی پاکستان کو مقروض بنائیگی اور ہم بے تول کشکول بن جائیں گے۔ 

تاریخ کے اوراق: حبیب جالب

1962ء کا دستور
ایوب خان کے مارشل لاء کیخلاف آواز اٹھانا بڑے ہی حوصلے کی بات تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ ایوب خان کے خلاف میرے علاوہ کسی نے آواز اٹھائی تھی۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
وہ چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
یہ نظم سننے کے دوران جو لوگ سہمے بیٹھے تھے وہ اب نعرہ زن ہوگئے بآواز بلند داد دی اور بار بار ایک ایک بند کو سنا۔
مولانا بھاشانی
میں نے بھٹو سے پوچھا کہ ’’مولانا بھاشانی کو شیشے میں کیسے اتارا تھا؟‘‘۔ بھٹو نے کہا کہ ’’بھئی وہ قصور میرا ہے۔ میں نے مولانا بھاشانی سے کہا کہ ہم چین کی طرف جا رہے ہیں، تم مادر ملت کیساتھ امریکہ کی طرف جارہے ہو۔ پھر میں نے اسے پیسے دئیے‘‘۔ ۔۔۔مولانا بھاشانی مشرقی پاکستان کے مقبول ترین رہنما تھے اور بی ڈی الیکشن میں انکے امیدوار کامیاب بھی ہوگئے تو پھر محترمہ فاطمہ جناح کیوں ہاریں؟ ۔ یہ سوال مدتوں ہم دوستوں کو پریشان کرتا رہا۔ اس وقت سنا یہی تھا کہ ایوب خان نے بھٹو کی معرفت مولانا بھاشانی سے کوئی سودا بازی کرلی تھی۔ ۔۔۔
ہماری نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما مولانا بھاشانی پر تنقید سے سخت پریشان تھے۔ ایک بار مولانا بھاشانی کو گھیر لیا ۔ اجمل خٹک اور ولی خان نے تو سخت الفاظ میں ان باتوں کا ذکر کیا جو مولانا کے بارے میں ہورہی تھیں۔ مگر مولانا جواب دینے کے بجائے ٹالتے رہے۔ ولی خان نے کہا :’’بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ آپ نے پیسے لئے ہیں‘‘۔
’’ولی خان تم پختونستان مانگتا ہے ادھر آؤ ہم تمہاری مدد کریگا‘‘۔ مولانا بھاشانی نے ٹالتے ہوئے کہا۔
ولی خان نے جواباً کہا : ’’یہاں پختونستان کی بات نہیں ہورہی ہم تو صرف نام پختونستان مانگتے ہیں تم بتاؤ تم نے بھٹو صاحب سے پیسے لئے تھے؟‘‘۔۔۔۔
اپوزیشن لیڈر بھٹو
ایوب خان کا عہد میرے دل و دماغ پر ایک سزا کے طور پر گزرا ہے، ہماری پارٹی (نیپ) مغربی پاکستان کے ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی تھی۔ نیپ خیال کے اعتبار سے ذہین لوگوں کیلئے بڑی قابل قبول تھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ’’مجھے نیپ کا مرکزی جنرل سیکرٹری بناؤتومیں نیب میں شامل ہوجاؤں گا‘‘۔ ہم نے کہا کہ جمہوری پارٹی کا یہ کام نہیں کہ کسی کو عہدہ دے، ہمارے ہاں الیکشن ہوتاہے اور الیکشن کے ذریعے کوئی بھی منتخب ہوسکتا ہے۔
باچاخان
باچاخان آئین ساز اسمبلی کے ممبر تھے اور قائد اعظم نے انہیں اپنے ہاں چائے پر بلایا۔ قائد اعظم نے کہا کہ ’’آج میرا پاکستان مکمل ہوا ہے‘‘۔ باچاخان نے قائد اعظم کو بھی دعوت دی اور یہ بھی کہا ’’جس ایمانداری اور دیانت سے میں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اسکی کچھ وجوہات تھیں لیکن اب پاکستان بن گیا، اپنے ماننے والوں کو بھی آپ کے سامنے پیش کروں گا اور ان کو کہوں گا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ملکر کام کریں‘‘۔ قائد اعظم کی باچاخان سے ملاقات طے ہوگئی تھی جسے انگریز آئی جی اور قیوم خان نے ایک سازش کے تحت نہ ہونے دیا۔
ان سے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جائیگا اور وہ آپ کو مار دیں گے۔ قائد اعظم بانی پاکستان ایک انسان تھے انہیں مافوق البشر قرار دینا غلط بات ہوگی۔ انسان خطاء کھا سکتا ہے قائد اعظم سے کوئی غلطی سرزد ہونا فطری عمل تھا۔ وہ باچا خان کی دعوت پر نہیں گئے اور انکے انتظار میں کھڑے لوگوں پر قیوم خان نے گولی چلوادی تھی۔ 700 سو آدمی مر گئے تھے۔ باچاخان کو گرفتار کرلیا گیا اور وہ متحدہ ہندوستان میں بھی بار بار قید ہوئے۔ اب پاکستان میں بھی انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں، قائد اعظم کو وہاں کس نے قتل کرنا تھا؟، ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے تمام سرحد کا دورہ کیا تھا ولی خان کی صدارت میں مادر ملت کا جلسہ بھی ہوا تھا۔ ولی خان نے الیکشن میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ باچاخان نے بھی مادر ملت کی حمایت کی تھی تو انہیں کسی نے قتل نہیں کیا۔ مادر ملت سرحد کے دورے پر جب تشریف لے گئیں تو ان کا شاندار استقبال ہوا۔ انکے ہاتھ دنبوں پر لگوا کر انہیں ذبح کیا گیا۔ یہ وہاں کی رسم ہے تو یہ بات غلط تھی کہ قائد اعظم کو وہاں کوئی پریشانی ہوتی یا ایسا کوئی واقعہ پیش آتا۔ (یہ خاکی وردی والے فوجی کا کام نہ تھا بلکہ انگریز پولیس آئی جی اور قیوم خان کا کام تھا۔ہر بات کا الزام فوج پر لگتا ہے۔قیوم خان کا انتخابی نشان ببر شیر ہوتا تھا جو آج ن لیگ کا ہے۔ )
شہید
کسی ڈکٹیٹر کو اپوزیشن نے نہیں اتارا بلکہ فوج نے آکر اتارا ۔ ایوب خان کو بھی اس کی فوج نے اتارا ۔ ضیاء الحق کو بھی اپوزیشن نے نہیں اتارا بلکہ فرشتہ اجل نے اُتارا۔
چنگیز خان شہید ہلاکو شہید ہے
آیا جو اس زمین پہ ڈاکو شہید ہے
جو اس نگر میں کرکے مرا ’’ کُو‘‘ شہید ہے
کاذب کے واسطے ہے ہر اک روز روزِ عید
کیا کیا نہ اہل صدق کی مٹی ہوئی پلید
کہئے یہی یقیں سے شیطان عظیم ہے
جو بھی ہے اس کے تابع فرماں عظیم ہے
ہر بو الہوس ہے معتبر و باوفا یہاں
ہر رہزن ہے رہبر و میر کارواں
ہر رہزن ہے خاک نشینوں کا ترجماں
لوگ اپنے قاتلوں کے ہیں عشاق میری جاں
نہ تو بھٹو کو شہید اور نہ ہی ضیاء الحق کو شہید مانتا ہوں۔ میں تو حسن ناصر کو شہید مانتا ہوں۔ بھٹو کی پھانسی کیخلاف میں نے بیان دیا، بھٹو صاحب نے کہا ہوگا کہ ’’اوئے تم کیا عجوبے ہو احمد رضا قصوری کو فکس نہیں کرسکتے۔۔۔‘‘ جیسے بھٹو کے عہد میں مولانا نورانی کا گریبان پکڑا گیا ۔ بھٹو نے یہ تو نہ کہا ہوگا کہ گولی ماردو اور انہوں نے جاکر گولی ماردی۔ جو نواب احمد خان کو لگ گئی۔ بھٹو کی پھانسی کا کیس کسی طرح نہ بنتا تھا۔ ہر چند کہ میرا بارہ سال کا بچہ طاہر عباس مرا، اسکا سوئم تھا، میں سوگوار بیٹھا تھا کہ بھٹو نے مجھے جیل میں ڈالا۔ میری بیوی آج تک اس کو نہیں بھولی۔ پیپلز پارٹی میں یہ خوبی ہے یا خامی کہ بھٹو فیملی سے اندھی عقیدت ہے۔ ہر پارٹی میں یہ ہوتا ہے لیکن عبد الولی خان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ سینٹرل ورکر کمیٹی میں ہر ایک کی بات سنتے ہیں لیکن طاقت سے اپنی بات منوالیتے ہیں۔ لیکن جو بھی کرنا چاہتے ہیں ،پارٹی کے اندر جمہوری انداز سے طے کرتے ہیں۔ بزنجو کیخلاف پارٹی میں اسوقت پچاس ساٹھ تقریریں ہوئی تھیں جب آئین کے مسئلے پر بھٹو کیساتھ گفتگو چلی تھی اور معاہدہ ہوا۔ بزنجو ولی خان سے اختلاف رکھتے تھے۔ وہ کسی صورت بھٹو کیساتھ کنفڈریشن کے حق میں نہ تھے۔ بزنجو صاحب میرے ساتھ جیل میں تھے تو انہوں نے کہا ’’بھئی میں ولی خان کی قید میں ہوں بھٹو کی قید میں نہیں‘‘۔
گوالیا رکا مشاعرہ
وہاں مشاعرے میں جب میں نے یہ شعر پڑھے
خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں
وہاں علامہ انور صابری احراری ہوا کرتے تھے وہ فوراً مائک پر آئے اور کہا کہ واہ واہ کیا شعر کہا ہے کہ
خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں
’’ جالب نے جو چودہ سال پاکستان میں گزارے ۔ یہ اس کی کہانی اور داستان ہے ‘‘۔وہ جب مائک سے ہٹے تو میں نے کہا ’’شعر کبھی کبھی علامہ حضرات کے سر سے بھی گزر جاتا ہے۔ شعر انٹرنیشنل ہے ۔ خدا پاکستان ہی میں نہیں ساری دنیا میں ہے اسلئے پاکستانی سیاست کے پیش نظر تو شعر نہیں کہا ۔ جیسے علامہ صاحب نے پاکستانی خدا کو Exploitکرلیا تو یہ سراسر Exploitation ہے‘‘ دوسرے دن ایک نیشنلسٹ کہنے لگا کہ ’’کل تو آپ نے کمال کردیا ، علامہ انور صابری کو بہت اچھا جواب دیا۔ آپ تو بڑے باہوش آدمی ہیں ورنہ آپ کا تو پاکستان میں داخلہ بند ہوجاتا۔ اس نے تو سوچی سمجھی سازش کی تھی‘‘۔ میں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ کہاں کیا بات کرنا چاہیے۔ ہم دونوں ملکوں کے عوام کے حق میں بات کرتے ہیں۔ مجھے پاکستان کے عوام نے پیار دیا تو ہندوستان کے عوام بھی مجھے پسند کرتے ہیں میں نے انڈیا میں یہ بات محسوس کی ہے کہ جنگ نہ ہندوستان کے عوام کیلئے بہتر ہے اور نہ پاکستان کے عوام کیلئے سود مند ہے۔ ہم اس منافرت اور جنگ و جدل کے خلاف ہیں۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا مضبوط رشتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ابلیس نما انسان
اجمل خٹک کے ایک انٹرویو میں آیا کہ مرتضیٰ بھٹو کو کہا گیا کہ اون کرنا ہے۔ ورنہ اس کا یہ کام نہیں تھا۔ بہر کیف ضیاء الحق کو بہانہ مل گیا حکومت کا،مخالفین کو اندر کرنے کا۔ جمہوری عمل کو روکنے کا۔کراچی پریس کلب نے خط لکھا کہ آپ کوئی تازہ نظم لکھ کر لائیں۔ میں نے یہ نظم لکھی تھی۔
بندے کو خدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر ، دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ درو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
یہ اہل حشم یہ دارا و جم سب نقش بر آب ہیں اے ہمدم
مٹ جائینگے سب پروردہ شب اے اہل وفا رہ جائینگے ہم
ہو جاں کا زیاں پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
حق بات پر کوڑے زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہے کہ سہمے بیٹھے ہیں خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم اس دکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
ہر شام یہاں شام ویراں آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاں
صحرا کو چمن بن کو گلشن بادل کو ردا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
اے میرے وطن کے فنکارو ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
اور یہ قطعہ بھی سنا دیا
وہ کہہ رہے ہیں محبت نہیں وطن سے مجھے
سکھارہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے
میں بے شعور ہوں کہتا نہیں ستم کو کرم
یہی خطاب ملا ان کی انجمن سے مجھے
ضیاء الحق کے کارندوں نے سب سیاسی لوگوں کو پکڑ لیا ، ایم آر ڈی بن چکی تھی میاں محمود علی قصور ی انکے لڑکے فلمی ایکٹر محمد علی ، فیض صاحب کے داماد شعیب ہاشمی ، سوشلسٹ پارٹی کے سی آر اسلم سب کو کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے وہ کوٹ لکھپت جیل لے کر گئے۔ وہاں تقریباً سبھی لوگ تھے باقی آہستہ آہستہ آتے گئے۔ نصر اللہ خان بہاولپور میں نظربند تھے۔ پنجاب کے دوست مختلف جیلوں میں بند تھے۔ یہاں بھی ملاقات کے وقت سی آئی ڈی والے موجود ہوتے تھے۔ ہم کسی کا نام نہیں لیتے تھے، اشاروں کنایوں میں گفتگو کرتے کہ ’’بھئی فلاں سے قرض لے آؤ‘‘ نام لینے سے وہ پھنس سکتا تھا۔بے حد مشکل زندگی تھی ،بچے بے آسرا، میں جیل میں تھا۔ بیوی ملاقات کیلئے آئی میں نے کوٹ لکھپت جیل میں یہ غزل لکھی تھی ۔
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی
اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں میرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت میری جاں تھی
گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی
یکساں ہیں میری جان قفس اور نشیمن
انساں کی توقیر یہاں ہے نہ وہاں تھی
شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا
عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی
صیاد نے یوں ہی تو قفس میں نہیں ڈالا
مشہور گلستان میں بہت میری فغاں تھی
تو ایک حقیقت ہے میری جاں میری ہمدم
جو تھی میری غزلوں میں وہ اک وہم و گماں تھی
محسوس کیا میں نے ترے غم سے غم دہر
ورنہ میرے اشعار مین یہ بات کہاں تھی
میری کتاب ’’ سر مقتل ‘‘ ایوب خان دور میں ضبط ہوئی، ضیاء الحق دورمیں میری ایک اور شاعری کی کتاب ’’گنبد بے در‘‘ ضبط ہوگئی تھی۔ یہ عالم تھا کہ ہر طرف خاموشی تھی۔ ہماری آواز باہرتک نہ جاتی تھی۔ ضیاء دور بہت خوفناک تھا لگتا تھا جیسے ہم ساری زندگی جیل میں لڑتے رہیں گے۔ پھر معافی ناموں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ’’باؤنڈسسٹم ‘‘کے تحت اس کے خلاف میں نے ایک نظم لکھ دی تھی کہ
دوستوجگ ہنسائی نہ مانگو موت مانگو ، رہائی نہ مانگو
عمر بھر سر جھکائے پھرو گے مل رہا ہے جو بار ندامت
دل پہ کیسے اٹھائے پھرو گے اپنے حق میں برائی نہ مانگو
ہم ہیں جن کے ستم کا نشانہ مت کہو ان سے غم کا فسانہ
پھر کہاں جم گھٹا یہ میسر بن گیا ہے قفس آشیانہ
اب قفس سے جدائی نہ مانگو موت مانگو رہائی نہ مانگو
رات سے روشنی مانگنا کیا موت سے زندگی مانگنا کیا
ظلم کی ظلمتوں سے میری جاں جوت انصاف کی مانگنا کیا
غاصبوں سے بھلائی نہ مانگو موت مانگو رہائی نہ مانگو
یہ نظم جیل سے باہر چلی گئی۔ اس کی سزا مجھے یہ دی گئی کہ مجھے میانوالی جیل بھیج دیا گیا اور وہاں پھانسی کی کوٹھڑی میں ڈال دیا۔ بڑی بھیانک جیل تھی۔ ہم بنیان اور جانگیا پہنے سلاخوں سے لگ کر ہوا کے جھونکے کے منتظر ہوتے۔ سامنے دیوارکیساتھ چھت ملی ہوئی تھی اور چھوٹے چھوٹے روشندان بہت اوپر تھے۔ پنکھے کو ہوا لگتی توکچھ ٹھنڈی ہوا آتی۔ لیکن پنکھا مسلسل گرم ہوا پھینکتا اسلئے بند کرنا پڑتا تھا۔ شدید تپش اور برا حال ۔ سانس لینا بھی دوبھر ہوتا تھا۔
میانوالی جیل
ایک دفعہ ہم جیل کے صحن میں بیٹھے، یہ چھوٹا سا صحن تھا اسمیں تھوڑی چھاؤں تھی، اسسٹنٹ جیلر آیااور ہمیں دیکھ کر کہا کہ ’’جالب صاحب یہاں بڑے بڑوں کے کپڑے اتر جاتے ہیں‘‘۔ کیونکہ ہم بنیان اور جانگیا پہنے ہوئے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ ’’یہ بھی آپ کا حسن نظر ہے‘‘۔ وہ پھر کچھ دن ہم سے ملنے نہیں آیا۔
ایک دن جیلر نے کہا کہ ’’آپ کو شاعری نہیں کرنے دی جائے گی۔ نہ ہی آپ کو کاغذ قلم کی سہولت دی جائے گی‘‘۔ میں نے کہا نہ دینا میں تو بہت سادہ چیز کہتا ہوں۔ سادہ سادہ الفاظ میں۔ آپ کا یہ جو سپاہی ہے رات کو اسکے کان میں سناؤں گا ۔ صبح وہ سارے شہر میں عام ہوجائے گی۔ وہ کہنے لگا ’’میری آپکے ساتھ لائل پور سے واقفیت ہے‘‘۔ میں نے کہا میں آپ کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔ ٹھیک ہے آپ نے اپنا فرض ادا کردیا آپ نے اپنا کام کردیا اور ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ میں نے وہاں ایک غزل لکھی ۔
بکھیری زلف جب کالی گھٹا نے
نظر میں پھر گئے بیتے زمانے
جنوں کچھ اور بھی نکھرا ہمارا
بگاڑا کچھ نہ صحرا کی ہوا نے
میانوالی میں کرکے قید مجھ کو
بہت احسان کیا اہل جفا نے
ہوا اس شہر میں محروم پیدا
لکھے اس نے یہاں دل کے فسانے
بنایا شیرجاں ریگ رواں کو
محبت سے محبت آشناں نے
مجھے مٹنے دکھائی دے رہے ہیں
یہ زنداں اور یہ مقتل پرانے
گریں گی نفرتوں کی سب فصیلیں
یہاں گونجیں گے الفت کے ترانے
میانوالی میرا ، لاہور میرا
مجھے لگتے ہیں سب منظر سہانے
قفس میں مر چلے تھے ہم تو جالب
بچایا ہم کو آواز لتا نے
کراچی بدر
جس دن میں ہسپتال میں داخل ہوا تھا اسی شام پولیس مجھے پکڑنے آگئی تھی۔ انہوں نے مجھے گورنر کے آرڈر کے تحت کراچی بدر کرنا تھا۔ پولیس نے ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی سے بات کی کہ ’’ہم حبیب جالب کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر پولیس ہسپتال میں داخل نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر ادیب نے کہا کہ ’’میں مریض کی خراب حالت کی وجہ سے نہیں چاہوں گا کہ آپ ان کو اٹھا کر لے جائیں۔ ٹھہرئے میں پہلے مریض سے پوچھتا ہوں‘‘۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ گورنمنٹ کے خرچ پر لاہور جانا چاہتے ہیں تو باہر پولیس کھڑی ہے اگر یہاں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کی خدمت کیلئے ہر طرح سے حاضر ہوں۔ میں نے ان سے کہا آپ میرا علاج کریں میں یہیں رہوں گا وہ پولیس کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ مریض تو Moveبھی نہیں کر سکتا ہے پولیس نے کہا کہ ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ Move نہ کریں۔ چونکہ دوسرے دن ضیاء الحق کی آمریت کیخلاف جلوس نکلنا تھا ،مجھے شریک ہونا تھا یہ خبر چھپ چکی تھی ۔ میری حالت بہت خراب تھی اور اس قابل نہیں تھا کہ جلوس میں شامل ہوکر نعرے بازی کرسکوں۔ یہ وہ دور تھا جب ضیاء الحق نے ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا ہوا تھا پریس کلب میں ایک جلسہ تھا وہاں میں نے ریفرنڈم پر یہ نظم سنائی تھی۔
ریفرنڈم
شہر میں ہو کا عالم تھا
جن تھا یا ریفرنڈم تھا
قید تھے دیواروں میں لوگ
باہر شور بہت کم تھا
کچھ باریش سے چہرے تھے
اور ایماں کا ماتم تھا
مرحومین شریک ہوئے
سچائی کا چہلم تھا
دن انیس دسمبر کا
بے معنیٰ بے ہنگم تھا
یا وعدیٰ تھا حاکم کا
یا اخباری کالم تھا
دیکھئے معلومات کا ذخیرہ(جالب بیتی : حبیب جالب)
مولانا فضل الرحمن کا کردار
کراچی کے تمام بڑے مدارس جامعہ بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی ، جامعہ فاروقیہ اور دیگر علماء نے جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کی حمایت میں شرعی فتویٰ دیا تھا۔ ان پر حیرت تھی کہ سیاسی معاملے میں یہ نااہل فتوے کیوں دیتے ہیں؟۔ مولانا فضل الرحمن کا تعلق سیاست سے تھا اور انہوں جمہوریت کیلئے قربانیاں بھی دی تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ ’’ پاک فوج ملک کیلئے آنکھوں کی پلکوں کی طرح زینت بھی ہے اور حفاظت کا ذریعہ بھی۔ پلکوں کے بغیر آنکھیں بدنما بھی لگتی ہیں اور غیرمحفوظ بھی ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب پلکوں کا ایک بال بھی آنکھوں میں گھس جائے تو ناقابل برداشت ہوتا ہے، مارشل لاء کی صورت میں تمام پلکیں آنکھوں میں گھس گئی ہیں۔ ان کو آنکھوں سے نکالنا ضروری ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت کا فریضہ پاک فوج انجام دیتی ہے تو ملک پر حکمرانی کا حق بھی اسے ملنا چاہیے۔ ملک کی حفاظت کیلئے ان کو معاوضہ ملتا ہے اور اگر کوئی چوکیدار گھر کی حفاظت کرے اور پھر وہ بندوق لیکر کھڑا ہوجائے اور مالک مکان کو یرغمال بنالے۔ اور اس کیلئے یہ دلیل دی جائے کہ مکان کی حفاظت بھی وہ کرتا ہے اور اس پر اختیار کا حق بھی اس کو حاصل ہے تو کیا کوئی اس دلیل کو مانے گا؟۔ قوم نے فوج کو بندوق اسلئے نہیں دی ہے کہ وہ قوم پر تھان کر حکومت کرے۔ یہ اسکے حلف کی خلاف ورزی ہے۔ فوج کا کام سرحدوں کو محفوظ بناناہے۔ اپنی عوام پر اس کو آئین حکمرانی کا حق نہیں دیتا۔ ہمارا پیپلزپارٹی کیساتھ اختلاف ہے۔ وہ جمہوری ایجنڈہ سے جو نظام قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں ، ہم انکا مقابلہ اسلامی نظام کے ذریعے سے کرینگے۔ عوام انہیں کو ووٹ دے یا ہمیں منتخب کرے۔ گیند عوام کی کورٹ میں ہوگی مگر اب تو گیند چھن گئی ہے اور اب ہمارا مشترکہ فرض بنتا ہے کہ پہلے تیسرے فریق سے بال چھین لیں۔ فوج نے ایک ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے،اسکے لئے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے ۔ اسلئے ہمارا سیاسی جماعتوں سے اتحاد ہواہے‘‘۔

پاکستان کی بنیاد کو ہلانے والے جنرل ایوب، بھٹو اور مولانا بھاشانی

پہلے دو چیف انگریز تھے ۔ پہلا مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب تھا جس نے طاقت اور دھاندلی سے اقتدار سنبھالا۔
پاکستان کے پہلے جمہوری قائد ذو الفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب کیلئے دلالی کی اور مولانا عبد الحمید بھاشانی کو خریدا۔
پاکستان کی نمبر ایک بڑی سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے مولانا عبد الحمید بھاشانی نے بک کر مادر ملت کو ہروایا
مدیر منتظم نوشتہ دیوار نادر شاہ نے یہ تحقیقی جائزہ پیش کیا جو پاکستان کے مقبول ترین اور جمہوریت پسند عوامی شاعر حبیب جالب نے ’’جالب بیتی‘‘ میں لکھا ہے۔ جنرل ایوب خان آرمی چیف نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد اگرچہ اے ڈی اور بی ڈی ممبروں کے ذریعے بنیادی جمہوریت کو متعارف کرایا مگر انکے مقابلے میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کھڑی تھیں جو الیکشن جیت گئی تھیں۔ جنرل ایوب کیلئے جو ایک دلال کی حیثیت سے استعمال ہوا تھا اسے ہم قائد عوام ذو الفقار علی بھٹو کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ پیسوں پربکنے والی شخصیت مولانا عبد الحمید بھاشانی کی تھی۔ جرنیل خریدتا ہو ، سیاسی لیڈر اسکی دلالی کرتا ہو اور مذہب کا نمائندہ مولانا بکتا ہو تو عوام بیچاری کیا کرسکتی ہے؟۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور مولوی خود بھی قرآن سے دور ہے۔ اگر خواتین کے حقوق ، نکاح و طلاق اور حق مہر کے چند مسائل عوام کو اچھی طرح قرآن و سنت سے سمجھائے جائیں تو بکنے ، جھکنے اور دلالی کے سارے معاملات سے حکومت اور عوام کو زبردست چھٹکارا مل جائیگا، ماں بہن اور بیٹی و بیوی کی حق تلفی سے جبری نظام قائم ہے۔

مراد سعید، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت خالی پاکستان میں نہیں بھارت میں بھی ہیں۔ 

پاکستان جتنے کا تیرا رکھشا بجٹ (دفاعی بجٹ) ہے نا، اتنے کی شیونگ ہمارے یہاں مرد کروالیتے ہیں ۔ جتنے کے بم تم لوگ بنارہے ہو نا، اتنے کے بچے پٹاخے پھوڑدیتے ہیں ہمارے یہاں دیوالی میں۔ نواز شریف پاکستان کا سب سے امیر انسان 9ہزار کروڑ کا اسامی، اس سے زیادہ ہمارے یہاں لیکر بھاگ جاتے ہیں ۔ ایک بات اور جتنی تمہارے یہاں آبادی ہے اس سے زیادہ ہمارے یہاں جیل میں قیدی ہیں اگر سب کی سزا معاف کردی جائے تو یقین مانو صبح تک پورا پاکستان صاف کردیا جائے گا۔ اب شروع تم نے کیا ہے جو کھیل خون سے وہ مہا شیوراتی پر تمہاری بھسم سے ختم ہوگا ۔ ایڈوانس میں ہیپی مہا شیوراتی بھارتی اداکارہ

تلاش گمشدہ………مجھے شرم آتی ہے

پاکستان کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگے گا۔ آپ مجھے بتائیں کہ قائد اعظم کسی سے بھیک مانگ سکتا تھا۔ تو کیا عمران خان کبھی کسی سے بھیک مانگے گا؟ عمران خان مرجائے گا لیکن کبھی بھیک نہیں مانگے گا۔ اگر عمران خان آپ کا پرائم منسٹر ہو اور بھاگا پھرے دنیا میں پیسے مانگتے ہوئے میں خود کشی کرلوں گا بجائے پیسے مانگنے کے۔ پاکستان میں جب تحریک انصاف حکومت میں آئے گی تو اس کا پرائم منسٹر نہ کبھی کسی کے سامنے بھیک مانگے گا نہ قرضے مانگے گا۔ مجھے اتنی شرم آتی ہے جب میں ان حکمرانوں کو دیکھتا ہوں سعودی عربیہ جاکر ہاتھ پھیلا کر بیٹھے ہیں مجھے شرم آتی ہے۔ دوسرے ملکوں سے جاکر بھیک مانگیں۔ اور آئی ایم ایف آئے ہمیں بتائے کہ بجلی کی قیمت اتنی بڑھادو بیشک لوگ مریں۔ اور ہمیں حکم کرے کبھی بجلی بڑھادو کبھی گیس بڑھادو کبھی فلانی چیز بڑھادو۔ مجھے شرم آتی ہے۔ یہ ملک وہ ہونا چاہیے جو نیا پاکستان میں دیکھتا ہوں اس کے اندر انشاء اللہ ہم امداد کریں گے غریب ملکوں کی۔ ہم ان کو پیسے دیں گے۔ ہمیں عظیم قوم بننا ہے بھکاریوں کی طرح بھیک مانگنے سے کبھی کوئی قوم عظیم نہیں بنتی۔ 

اسلام دین فطرت ہے، منافق کیلئے اسمیں کوئی جگہ نہیں

صحابہ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کے خواب پر یقین و ایمان رکھ کر عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے۔ حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے مذاکرات کیلئے حضرت عثمانؓ کو بھیجا۔ دشمنوں نے شرارت کی اور افواہ اڑادی کہ سفیر اسلام حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا گیا۔ احرام کی چادروں میں لپٹے ہوئے مسلمان لڑنے کیلئے نہیں آئے تھے لیکن مشرکین مکہ نے ان کی غیرت کو آخری حد تک چیلنج کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے حضرت عثمانؓ کا بدلہ لینے کیلئے بیعت لی۔ جس پر اللہ نے فرمایاکہ’’ اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں کے اوپر تھا۔ بیشک اللہ ان سے راضی ہوا جنہوں نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی‘‘۔ پھر مشرکین مکہ نے جب اس نزاکت والے معاملے کو سمجھا تو صلح حدیبیہ پر آمادہ ہوئے۔ طالبان نے بھی بے سرو سامانی کے باوجود امریکہ کے B52طیاروں اور ہتھیاروں کو چیلنج کیا تھا۔
جب کچھ خواتین مکہ سے فرار ہوکر مدینہ پہنچیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں واپس کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہمارے معاہدے میں صرف مردوں کیلئے بات ہوئی تھی۔ جسکی اللہ نے بھی قرآن میں حمایت کردی۔ جب مشرکین نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑتے ہوئے مسلمانوں کے حلیف کافر قبیلے بنو خزاعہ کے خلاف بنو بکر کی مدد کی تو نبی ﷺ نے اپنے کافر حلیف قبیلہ کا بدلہ لینے کیلئے مکہ کو فتح کیا۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ ظالم کافروں کو اس حد تک پہنچادو کہ ذلیل ہوکر جزیہ دیں۔ جب 9/11کا واقعہ ہوا تو امریکہ نے اقوام متحدہ کی اجازت سے ہی افغانستان پر حملہ کیا۔ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے کوئی چارہ نہیں تھا کہ امریکہ کا ساتھ نہ دیتا۔ جبکہ افغانستان کی طالبان حکومت کو اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ پاکستان میں انکار کی صلاحیت بھی نہیں تھی۔
مولانا مسعود اظہر تہاڑ جیل میں تھے تو اتنی آزادی پاکستان کی ذرائع ابلاغ میں بھی حاصل نہ تھی جتنی انڈیا کے جیل میں حاصل تھی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ مسعود اظہر دہشتگرد ہے اس نے مجھ پر بھی حملہ کروایا۔ پرویز مشرف مولانا مسعود اظہر کو امریکہ کے حوالہ کرتے یا انڈیا کے لیکن پھر بھی مولانا مسعود اظہر کے مشن پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا تھا۔ تہاڑ جیل میں بھی آزادی تھی اور امریکہ نے ملا ضعیف کو بھی آخر کار چھوڑ دیا۔ بھارت اپنا رویہ بدلے ، کلبھوشن ہی دہشتگرد ہے۔ امریکہ کے ہاتھ میں نہ کھیلے اور نہ نقل اتارے۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔
رستم شاہ مہمند نے کہا کہ ’’ اسلام کی ہزار سالہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی خاتون کو اس طرح سے کافروں کے حوالے کیا گیا ہو جس طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جنرل پرویز مشرف نے حوالے کیا۔ میرا رابطہ رہتا تھا اور مجھے بتایا گیا کہ ایک خاتون کی چیخوں کی آواز بگرام ایئر بیس افغانستان میں آتی ہے تو میں نے کہا کہ معلوم کرو کہ افغانی ہے یا پاکستانی؟۔ مجھے بتایا گیا کہ پاکستانی خاتون ہے جس کے ساتھ امریکی فوجی جبری جنسی تشدد کرتے ہیں۔ ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مجھے پاکستانی افسروں نے امریکی فوجیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے مجھے ننگا کیا اور مجھ پر چڑھ گئے، یہ شرمناک کھیل پاکستانیوں نے دیکھا اور اتنا بھی نہیں کہا کہ ہمارے سامنے سے ملا ضعیف کو ہٹا لو اور پھر جو کرنا ہو مرضی ہے۔ پرویز مشرف نے انسانیت اور مسلمانوں کو داغدار کردیا‘‘۔
رستم شاہ مہمند اگر اسی وقت ڈاکٹر عافیہ کی بات پر استعفیٰ دیدیتا تو شاید امریکی حکام تک ڈاکٹر عافیہ کی داد رسی ہوجاتی۔ برسوں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا پتہ بھی نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں ہے؟۔ رستم شاہ مہمند اگر بتادیتے تو کم از کم انکے لواحقین کو اطمینان تو ہوتا کہ امریکیوں کی قید میں ہے۔پھر شاید وزیر اعظم عمران خان کی طرح پروپیگنڈے سے اہل خانہ کو یہ اطمینان بھی ہوجاتا کہ مغرب میں انسان رہتے ہیں۔ امریکی ڈاکٹر عافیہ سے جانوروں والا سلوک نہیں کرتے ہونگے۔
رستم شاہ مہمند نے ہٹلر کا قول اپنے لئے درست نقل کیا کہ ’’ذلت کے ماحول میں غیرت کی توقع نہیں ہوسکتی ‘‘۔ اپنی ریاست کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے سب کو ملکر فتوؤں سے لیکر عدالتی نظام تک اور پولیس سے لیکر اعلیٰ آرمی ایجنسیوں تک باہمی مشاورت سے ضروری ہے۔ آزادی بڑی نعمت ہے اور اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام قابل اصلاح ہے لیکن نہ ہونے سے پھر بھی بہت بہتر ہے۔ پشاور میں آرمی اسٹیدیم ایک بہت بڑا پارک تھا لیکن عدالت نے اس کا قبضہ آرمی سے چھڑایا۔ آرمی میں بہت خامی ہوسکتی ہے مگر پاکستان کا استحکام آرمی کی بدولت ہے۔ جب ہم پر مشکل وقت تھا ، طالبان نے دہشتگردی کی بدترین واردات کرکے مائن بھی بچھائے تھے تو متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے مائن صاف کرنے کی سرکاری اسکواڈ سے بھی انکار کیا۔ ہم نے پرائیویٹ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی خدمات حاصل کیں۔ رات کی تاریکی میں بھاگتے ہوئے طالبان بارودی سرنگیں بچھا سکتے تھے تو سالوں سال وزیرستان میں رہائش پذیر دہشتگردوں نے بھی کتنی بارودی سرنگیں بچھائی ہوں گی؟۔ یہ تاریخی حقائق کوئی مٹا نہیں سکتا ۔
فوج نے پی ٹی ایم کے مطالبے پر جنوبی وزیرستان محسود ایریا سے بارودی سرنگوں کو صاف کیا اور منظور پشتین نے اس کو سراہا تو یہ ٹھیک بات تھی۔ وہ لوگ جو اپنے ملک سے باہر بیٹھ کر حقائق سے بے خبر ہیں اور ہر بات میں پنجاب اور فوج کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ان کو بیرون ملک امن و امان کی فضا ء میں مفت کے نعرے لگانے کے بجائے اپنے ملک میں آکر ہمت دکھانی چاہیے۔ منظور پشتین نے ڈان نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پی ٹی ایم پختونوں کی قومی تحریک ہے اور پی ٹی ایم کی کوئی رائے نہیں کہ قبائلی علاقہ جات پختونخواہ کیساتھ ضم ہوں یا الگ صوبہ بنے۔ پی ٹی ایم دونوں کے حق میں ہے۔ البتہ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ پختونخواہ کیساتھ ضم ہو‘‘۔ جو لوگ منظور پشتین کے نام اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پاکستان کو پنجاب کی حکومت کہتے ہیں اگر ہمت ہو تو منظور پشتین کو بدنام نہ کریں۔ اگر آج منظور پشتین نے ان لوگوں کے حوالے سے کوئی درست وضاحت پیش نہیں کی تو کل وہ منظور پشتین کیلئے بھی گل خان کے نعرے لگائیں گے۔ منظور پشتین نے ایک مشکل وقت میں اپنی محسود قوم کے تحفظ کیلئے کام کیا اور پھر جب اپنی قوم کے لوگ ملکان اور علماء کیساتھ چھوڑ کر چلے گئے تو اپنی تحریک کو محسود تحفظ موومنٹ کی جگہ پشتون تحفظ موومنٹ کا نام دیا۔ اگر یہ تحریک مظلوم تحفظ موومنٹ کے نام سے کام کرتی تو بلوچ ، سندھی ، مہاجر، پنجابی سب اس جھنڈے تلے اکھٹے ہوتے اور عمران خان کی جگہ منظور پشتین آج ملک کا وزیر اعظم ہوتا۔
خوشگوار تبدیلی کیلئے قرآن کی عظیم تعلیمات کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور علماء قرآن و سنت سے برگشتہ ہیں۔ اگر پختون قوم طالبان کو وقت پر پہچان لیتی تو اس قدر مشکلات کا شکار نہ ہوتی۔ اب بھی وقت ہے کہ علماء کرام کو راستے پر لانے کیلئے پاکستانی قوم ایک زبردست تحریک چلائے۔خامیوں کی کوئی اصلاح کرنا چاہتا ہو تو استنجے کے بغیر قوم کی امامت نہیں کرسکتا ہے۔ پہلے اپنی ہی خامیوں پر نظر مشکل سے جاتی ہے جو انقلاب کیلئے بنیاد ہے۔سید عتیق گیلانی