پوسٹ تلاش کریں

علماء اور حکمرانوں سے خصوصی گزارش

asif-ali-zardari-nawaz-sharif-maulana-fazlur-rahman-imam-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafai-imam-hanbal-halala-teen-talaq-triple-talaq(2)

حنفی مسلک کے مدارس دیوبندی بریلوی کا نصابِ تعلیم ایک ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کی بنیادی تعلیم کا محور و مرکز اصولِ فقہ ہے۔ بہت کم لوگ اصولِ فقہ کی دقیق، مغلق اور منطقی زباں کو سمجھتے ہیں، تاہم اصولِ فقہ کی کتابوں کے تراجم ہوچکے ہیں اور ان کو سمجھنے کی دشواری کا معاملہ ختم ہے۔ نصاب کی تبدیلی کی بازگشت ہے مگر چوہوں کی مجلس شوریٰ بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے سے کترارہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سرکاری پلیٹ فارم سے اس نیک کام کا آغاز ہوگا تو دنیا کی سطح پر خوشیوں کا طوفان اُمنڈ آئیگا۔
امام ابوحنیفہؒ نے اپنا سارا عہدِ شباب علم الکلام کی گمراہی میں گزارا اور پھر توبہ کرکے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ علم الکلام سے اصول فقہ محفوظ نہیں ۔ اصولِ فقہ میں کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کے چار اصول ترتیب وار ہیں۔ اللہ کی کتاب سے پانچ سو آیات مراد ہیں جو احکام سے متعلق ہیں،باقی آیات قصص و مواعظ ہیں۔ اگر علماء پانچ سو آیات میں سے غسل، وضو، نکاح، طلاق اوررجوع کے احکام طلبہ کو پڑھاتے تو مسائل کا شکار نہ ہوتے۔ قرآن میں ہے۔ ولا جنباً الا عابریٰ السبیل حتیٰ تغتسل ’’ اور نہ حالتِ جنابت میں نماز کے قریب جاؤ مگر یہ کہ کوئی مسافر ہو،یہاں تک کہ نہالو‘‘۔ اس حکم میں مسافر کیلئے غسل کے بغیر تیمم سے بھی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ اجازت میں حکم فرض نہیں مباح کا درجہ رکھتاہے۔ حضرت عمرؓ نے سفر کے دوران حالت جنابت میں تیمم سے نماز نہیں پڑھی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ آپ نے ٹھیک کیا ہے۔ حضرت عمارؓ نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو نبیﷺ نے فرمایاکہ ہاتھ اور چہرے پر مسح کافی تھا۔ پھر اللہ نے وضو کی تفصیل بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔ ظاہرہے کہ وضو کے مقابلہ میں نہانا ہی اچھی طرح پاک ہونا ہے جس کا پہلے ذکرہے۔ دنیا میں انسان تو کیا چرندے اور پرندے بھی نہانا جانتے ہیں۔ صحابہؓ وضوو غسل کرنا جانتے تھے مگر فضول کے فرائض پر اختلافات سے وہ بے خبر تھے۔ آج مسلمانوں کو پھر قرون اولیٰ کا دور زندہ کرنا ہوگا تو لوگوں کی اصلاح ہوگی۔میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب نے میری ایک کتاب پر حضرت امام مالکؒ کا یہی قول نقل فرمایا ہے۔ اصولِ فقہ کی کتابوں میں قرآن کی غیر معقول تعریف سے ایمان سلامت نہیں رہ سکتاہے۔
المکتوب فی المصاحف، المنقول عنہ نقلا متواترا بلاشبۃ کتاب کی یہ تعریف ہے کہ ’’جو مصاحف میں لکھی ہوئی ہے، نبیﷺ سے متواتر نقل کی گئی ہے، کسی شبہ کے بغیر‘‘۔ یہ تعریف ہوتی تومعاملہ ٹھیک تھا مگر اسکی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ مصاحف میں لکھی سے مراد کتاب نہیں، یہ تو نقوش ہیں جونہ لفظ ہیں اور نہ معنی بلکہ یہاں 7قاریوں کے الگ الگ قرآن مرادہیں۔ اسلئے فقہ کا مسئلہ ہے کہ مصحف پر حلف اٹھانا حلف نہیں ہوتا اور شامی، قاضی خان، صاحب ہدایہ نے لکھ دیا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ حالانکہ ان بکواسات کا تعلق علم الکلام سے تھا جس سے امام اعظم ؒ نے توبہ کی تھی مگر پھر بھی وہی گمراہی ہے۔ پہلی وحی کاآغاز اقراء اور تعلیم بالقلم سے ہواتھا: والقلم ومایسطرون سے مصحف قرآن کا حلف معتبر ہے اور الذین یکتبون الکتاب بایدیھم سے واضح ہے کہ کتاب لکھی ہوئی چیزکا نام ہے۔
لکھا ہے کہ متواترکی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں۔ جو قرآن پر اضافہ ہے۔ بلاشبہ سے بسم اللہ کے نکلنے کا ذکر ہے جس سے قرآن بلاشبہ نہیں رہتا۔ حالانکہ علم الکلام کو عمل دخل دینے کے بجائے کتاب کی تعریف میں آیات کا حوالہ دینا تھااور قرآن کی حفاظت میںآیات کا حوالہ دینا تھا جن میں کمی بیشی اور شک وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ امام شافعیؒ کے ہاں خبرواحد حدیث دلیل ہے مگر مشہورو خبر واحد آیت کا وجود اسلئے نہیں کہ قرآن کی حفاظت پر پھر ایمان باقی نہیں رہتاہے۔ امام شافعیؒ نے اہل اقتدار سے ذلت اٹھائی ، ان پر رافضی کی تہمت لگائی گئی۔ امام ابوحنیفہؒ کوجیل میں زہر دیا اور ائمہ کرام کے نام لیواؤں نے بعد میں مزید غلو سے کام لیاہے۔
بنی امیہ کے دور میں ایک طرف اسلام پھیل گیا تو دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں بعض مسائل میں جبر کی فضاء بنائی گئی، چنانچہ جہری نمازوں میں بسم اللہ پڑھنے کو حضرت علیؓ کی شدت سے منسوب کیا گیا۔ جو جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھتے،وہ حکومت کے غدار سمجھے جاتے۔ اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف سے بسم اللہ کو اسلئے مشکوک بناکر خارج کیا گیا ہے۔ آج دور بدل چکاہے اگر ائمہ مساجد جہری نمازوں میں بسم اللہ جہر سے پڑھنا شروع کریں تو قیامت نہیں بہت بڑا انقلاب آئے گا۔
امام ابوحنیفہؒ سمیت تمام ائمہ کرامؒ نے قرآن کو پہلی ترجیح دی، جس کی وجہ سے وہ احادیث مسترد ہیں جن کی وجہ سے قرآن پر حرف آتا ہے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ جب نبیﷺ کا وصال ہوا، تو 10آیات بڑے آدمی کا دودھ پینے کے حوالہ سے تھیں جن کو بکری نے کھا کر ضائع کردیا۔ اہلحدیث ان روایات کو بھی حدیث سمجھتے ہیں۔ انکے مسلک میں یہ ہے کہ بڑا آدمی اگر عورت کا دودھ چوس کر پی لے تو اس عورت سے وہ پردہ نہ کرے لیکن شادی کرسکتاہے۔اسی طرح وہ بچیوں کا ختنہ بھی مستحسن سمجھتے ہیں
جن احادیث سے قرآن کی تحریف کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے ان پر ایمان رکھنے سے قرآن پر ایمان نہیں رہتا ہے۔ مسلمانوں کا یہی اعلان ہے کہ قرآن میں کسی حرف کی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے تو اپنی تعلیمات کا نصاب بھی درست کرنا پڑے گا۔ قرآن میں وضاحت ہے کہ اللہ کے کلام پر باطل آگے سے حملے میں کامیاب ہوسکتاہے نہ پیچھے سے۔ بسم اللہ پرآگے کی طرف سے حملہ ہے، قرآن میں موجود ہے مگر نماز اور نصاب میں معاملہ مشکوک بنایا گیا۔
قرآن کی آخری دو سورتیں الفلق اور الناس کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ نے اپنے مصحف میں نہیں رکھا، وہ اس کو قرآن میں داخل نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ پہلے ہاتھ سے قرآن لکھا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف عرصے تک موجود رہا۔ پہلا اور آخری صفحہ پھٹ کر ضائع ہوگئے، جس طرح عام طور سے ہوتا ہے، جس نے دیکھ لیا تو اس نے یہی بات کردی کہ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف دیکھا ، لیکن اس میں سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتیں نہیں تھیں۔ اگرچہ بعض نے یہ بھی لکھاہے کہ ابن مسعودؓسورہ فاتحہ کو بھی نہیں مانتے تھے مگر نماز کے اندر فاتحہ کی شمولیت سے یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوسکتی تھی اسلئے آخری دو سورتوں پر حملہ کیا گیا تھا کہ حضرت ابن مسعودؓ ان کے منکر تھے۔ العیاذ باللہ، قائداعظم کا جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا ۔ تفسیر عثمانی میں بھی حضرت ابن مسعودؓ کی طرف سے ان آخری سورتوں پر شیطانی حملے کا ذکر ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس پر تفصیل سے انتہائی نامعقول بحث درج کی ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کو قرآن کے بارے میں اپنی غلط تعلیم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔لوگ اسلئے علماء کے علمی معاملات سے دور بھاگتے ہیں کہ ان کو اپنے ایمان کی سلامتی بھی خطرے میں لگنے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کی شکایت قرآن میں نقل کی ہے کہ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ ’’ میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
اللہ نے فرمایا کہ قیامت میں ہرشخص کو اسکے امام (سربراہ) کیساتھ بلایا جائیگا۔ یوم ندعوا کل اناس بامامھم بعض نے مغالطہ کھایا اور سمجھا کہ امہاتھم یعنی ماؤں کیساتھ بلانے کا ذکر ہے۔ چناچہ وہ حدیث بھی گھڑ لی کہ ’’قیامت میں سب کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائیگا لیکن حضرت عمرؓ بڑی غیرت والے ہیں صرف ان کو انکے باپ کے نام سے پکارا جائیگا۔
جب اصول فقہ میں قرآن کی تعریف میں علم الکلام کی گمراہی پڑھائی جائے گی۔ قرآن کے علاوہ بھی قرآن کا تصور پڑھایا جائیگا اور اس میں شک وشبہ کی تعلیم ہوگی تو ایسے قرآن کی طرف کون آئیگا جس سے الٹا انسان کا عقیدہ اور ایمان خراب ہو؟۔
قرآن کی تعریف میں سب سے پہلے قرآن کی آیات کے ذریعے کتاب کا معنیٰ درست کرنا ہوگا، پھر ان آیات کو درج کرنا ہوگا جن میں قرآن کی حفاظت کا ذکر ہے، ان روایات کو درج کرکے مسترد کرنا ہوگا جن سے تحریف کا عقیدہ پیدا ہوتاہے۔ یہ صاف ستھری ذہنیت علماء وطلبہ کو قرآن پر عمل کی طرف راغب کریگی۔ اصول فقہ میں ہے کہ قرآن الفاظ اور معانی دونوں کا نام ہے لیکن پھر امام ابوحنیفہؒ کی طرف یہ منسوب ہے کہ فارسی میں نماز پڑھنا جائز بلکہ افضل ہے۔ ایک طرف فقہ کی تعلیم میں فارسی میں نماز پڑھنے کا جواز لیکن دوسری طرف حضرت شاہ ولی اللہؒ پر فارسی ترجمہ کرنے پر کفر ، مرتد اور واجب القتل کے فتوے لگائے گئے جس کی وجہ سے دوسال تک ان کو روپوش ہونا پڑا۔ پھر جب علماء کو بات سمجھ میں آگئی، شاہ ولی اللہؒ کے بیٹوں نے اردو میں قرآن کے ترجمے کئے۔ علماء نے مختلف زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا تو پنجابیوں اور پٹھانوں کے سنگم پر مشترکہ آبادی میں غرغشتو کے عالم نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کردیا تو ان پر فتوے لگائے گئے کہ پشتو میں ترجمہ کرکے کفر کیا ہے۔
جب علماء کرام کے نصاب میں ایسی تعلیم نہیں ہوگی جو طلبہ میں صلاحیت پیدا کرلے تو نالائق پیدا ہونگے اور کوئی لائق ہوگا تو اس کو بروقت پہچاننا مشکل ہوگا۔یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے پہلے کہا تھا کہ ’’ آپ نصاب مرتب کرلیں تو میں مدراس میں پڑھانے کی ذمہ داری لیتا ہوں مگر مجھے ان کی بات پر یقین نہیں آیااور نہ ان کی اتنی حیثیت تھی اوراسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق کے مسئلہ پر تفصیل بتائی ، اپنی کتاب پیش کی مگر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان بھی تھے تو میں نے قرآن کی تعریف پر اصول فقہ کی تعلیم کا بتایا۔ مولانا عطاء الرحمن بنوری ٹاؤن میں فیل ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے تھے۔ جبکہ میں شروع سے نصاب کی تعلیمات پر جاندار تنقید کرتا تھا۔
درسِ نظامی کی آخری تفسیر بیضاوی تھی جس میں لکھا ہے کہ ’’ الم کی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بھی کہا گیاہے کہ الف سے اللہ ، لام سے جبریل اور میم سے محمد مراد ہیں۔اللہ نے جبریل کے ذریعے یہ کتاب محمدﷺ پر نازل کی ‘‘۔ میں نے استاذ مولانا شبیر احمد رحیم یار خان سے کہا کہ اس تفسیر میں دو تضاد ہیں۔ پہلا یہ کہ جب صرف اللہ ہی کو پتہ ہے کہ الم سے کیا مراد ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ اس سے یہ مراد ہے اور دوسرا یہ کہ الف اللہ کا پہلا حرف اور مم محمد کا پہلا حرف ہے تو جبریل کا بھی پہلا حرف ہونا چاہیے تھا پھر الف جیم میم کیوں نہیں؟۔ استاد نے کہا کہ عتیق کی بات صحیح اور بیضاوی کی تفسیر غلط ہے۔
اصولِ فقہ کی کتاب ’’اصول الشاشی ‘‘ کا پہلا سبق ہے: حتی تنکح زوجاً غیرہ آیت میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے ، لہٰذا جس حدیث میں عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر باطل قرار دیا گیا وہ قرآن کی آیت سے ٹکراتی ہے، اس پر عمل نہیں ہوگا۔ حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ کا ذکرہے، قرآن و حدیث میں ٹکراؤ نہیں ۔کنواری کا ولی باپ ہوتاہے، شادی کے بعد شوہر سرپرست بنتاہے، طلاق یا شوہرفوت ہو توعورت خود مختار بنتی ہے۔ وزیراعظم نے زیرِ کفالت افراد میں مریم نواز کا ذکر کیا۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیرِ غور ہے۔ ولی اور مولا کے معنی دوست بھی ہیں اور سرپرست و صاحبِ اختیاربھی عورت کا ولی اس کا والد ہوتاہے یا شوہر ۔ اور دونوں کا تعلق منقطع ہوجائے تو پھر اس کو خود مختار کہتے ہیں۔ ولی کے معنی صرف دوست کے نہیں، قرآن میںیہود و نصاریٰ کو اولیاء بنانے سے روکا گیاہے تو اختیار دینا منع کیا گیاہے، دوستی سے نہیں روکا گیا ہے،والمحصنات من اہل الکتاب حل لکم اوراہل کتاب میں پاکدامن خواتین سے شادی کی اجازت ہے۔
یہود ونصاریٰ کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے تو بیوی سے بڑھ کر دوستی نہیں ہوسکتی ہے۔ بیوی بچوں کی ماں ہوتی ہے، اس سے دشمنی تو نہیں کی جاسکتی ۔ دہشتگرد اسلئے مسلم حکمرانوں کو اسلام دشمن سمجھتے ہیں کہ ان کی عیسائی حکمرانوں سے دوستی ہے اور یہ انکے نزدیک قرآن سے بغاوت کا درجہ ہے۔ جب ہمارے علماء اور حکمران طبقہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی آگاہ نہ ہو تو اسکے نتیجے میں افراتفری کی فضاء کبھی بھی ختم نہیں ہوگی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کوئی پنڈورہ بکس نہیں کھلے گا۔ مشکل کو قابو کرنیکا درست راستہ علم ہے جہالت نہیں۔ حضرت علیؓ میں تمام صلاحیتیں تھیں اور نبیﷺ کے بعد انصار وقریش کی طرح خلافت کے حقدار ہونے کا معاملہ درست تھا۔ نبیﷺ کی چاہت بھی ٹھیک تھی لیکن یہ منشاء الٰہی نہیں تھی۔ پھر خلافت کے علاوہ مساجد، مدارس ، خانقاہوں پر بھی موروثی نظام کے اثرات مرتب ہوئے۔ خلافت راشدہ کو اللہ نے موروثیت کی بیماری سے پاک رکھنا تھا۔ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں، چندہ سے بننے والے ٹرسٹ، مدارس اور سب چیزوں کو عوامی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اب تو پارٹیاں حکومتوں کو بھی اپنی وراثت بنانے میں مشغول ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کے علاوہ دوسرے بھی ریاستی اداروں سے مل کر حکومتی کاروبارپر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عدالت اس وقت نااہل تھی کہ جب آصف علی زرداری کو11سال جیل میں رکھا مگر چوری کا مال بھی نہیں پکڑ ا۔ اب تو اس میں اہلیت آگئی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور تحقیقات کرکے کرپشن ثابت بھی کی جائے گی اور سزا بھی دی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایسا بھی لوگ کرتے ہیں کہ بڑے غبن، چوری اور ڈکیٹی کے بعد کچھ عرصہ جیل جاتے ہیں وہ کاروبار ہی یہ کرتے ہیں۔ عدالت صرف اتنا بھی کرے کہ نوازشریف اور تمام ذمہ دار عہدوں پر رہنے والوں نے باہر اثاثے بنالئے ہوں تو ان کو جائز وناجائز کی بحث سے پہلے اپنی آل اولاد اور دولت سمیت اپنے ملک میں لانے پر مجبور کردے۔
سیاسی کارکن اور سیاسی رہنماؤں کو یہ بھی کر گزرنا ہوگا کہ موروثی قیادت اہلیت بھی رکھتی ہو تو قیادت کسی اور تجربہ کار اور اہل شخص کو سپرد کردی جائے۔ امریکہ میں ایک شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر نہیں بن سکتاہے تو ہمارے ہاں بھی نسل در نسل اس جہالت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ استعداد والے لوگوں کی بہت حق تلفی ہوتی ہے۔ عمران کا ہسپتال بھی موروثی نہیں ٹرسٹی ہونا چاہیے، مدارس پر بھی موروثیت کا قبضہ ختم کرنا ہوگا اور اس بات میں تفریق ضروری ہے کہ جو ذاتی ملکیت ہوتی ہے وہ کیا ہے اور عوام کا چندہ لیکر بنانے والے اداروں کی حیثیت کیاہے؟۔ کسی آدمی نے اپنی زمین پر اپنے پیسوں سے مسجد بنادی توملکیت ختم ہوجاتی ہے، کانیگرم جنوبی وزیرستان میں میرے باپ دادا نے ایسا کیاہے لیکن اس کا اختیار عوام کے پاس ہے۔
جب انسان میں مفاد کا نہیں خدمت کا جذبہ ہوتاہے تو خدمت پر کوئی لڑائی نہیں ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی، ایم کیوایم اور ن لیگ جھاڑو لیکر صفائیاں شروع کردیں پھر دیکھیں کہ اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ اس طرح ایم این اے، سینٹ، ایم پی اے، بلدیاتی اداروں کے کونسلر اور تمام ذمہ دار عہدوں وزیراعظم اور صدر مملکت خدمت کا جذبہ رکھ کر کام کریں تو بہتان تراشی اور اخلاق باختہ گالیوں کی نوبت نہیں آئیگی۔ ماتحت ملازم ڈیوٹی پر مجبور ہوتے ہیں لیکن بڑے گریڈ کے افسروں کو حکومت مجبور نہیں کرسکتی ہے۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بہت اچھے انسان ہونگے مگر جب صوبائی حکومت کا اختیار بھی ہے اور وہ نہیں چاہتی ہے کہ آئی جی کے عہدے پر وہ کام کرے تو آئی جی کواس خدمت کی کرسی پر لات مارنا چاہیے۔ اس سے ان کی ذات اور عہدے کا وقاربھی مجروح ہورہا ہے۔
نوازشریف کیساتھ اگر اسٹیبلشمنٹ کی کوئی لڑائی ہے تو عوامی اختیار کیلئے حکومت سے زیادہ حکومت سے باہر رہ کر جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتاہے۔ عہدے سے چپک جانے میں وہ عزت نہیں جو اس کو ٹھکرانے سے ملتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو خلافت کی کوئی لالچ نہیں تھی ، ان کا دور بھی بڑے اطمینان سے گزرا۔ امام حسنؓ نے خلافت کی مسند چھوڑی تو اللہ نے عزت سے نوازا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان پیدا ہی خلافت کیلئے کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردے؟۔ انا عرضنا الامانت علی السمٰوٰت واالارض و الجبال فابین ان یحملنہا و اشفقن منھا وحملھا الانسان انہ کانا ظلوما جہولا ’’بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا،آسمانوں زمین اور پہاڑوں پر مگر انہوں نے امانت اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے امانت اٹھالی، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل تھا‘‘۔ انسان کو مکلف بنایا گیاہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اختیار دیا گیاہے۔ اختیار اس کی جبلت کا حصہ ہے، جتنا اختیار مل جائے اس کو پورا کرنے کیلئے بہت ساروں کی اگر کوئی دم ہوتی تو اٹھائے اٹھائے گھومتے کہ مجھے یہ اختیار چاہیے مگراللہ نے بنی نوع انسان آدم علیہ السلام کی اولاد پر کرم کیا اور عزت سے نوازا ۔ انسان کی عزت اور اختیار اسکے ہاتھ میں ہے اسلئے اللہ نے فرمایا کہ لایکلف اللہ نفس الا وسعہا لہا ماکسبت و علیھا مااکتسبت ’’ اللہ نے کسی نفس کو مکلف نہیں بنایا ہے مگر اسکے دائرے وسعت کے مطابق، پھر وہ اچھا عمل کرتا تو اس کو اجر ملتاہے اور برا عمل کرتاہے تو اس کی سزا بھگت لیتا ہے‘‘۔
اس آیت کا بھی غلط مفہوم نکالا گیا کہ اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے۔ حالانکہ اگلے جملے میں دعاہے کہ ہم پرہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔ آیات کا غلط مفہوم مرتب کرنے پر ہماری قوم مشکلات کا شکار ہے۔ غریب و مظلوم طبقے انسانیت کے ظلم وجبر اور تشدد کا شکار بنتے ہیں تو کہا جاتاہے کہ اللہ نے جو بوجھ ڈال دیا ہے اس کو برداشت کرنا چاہیے۔
سابق ایم این اے صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو نے بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو نشے میں دھت ہوکر قتل کیا تو بیوہ نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی مجبوری بتائی کہ میری بیٹیاں ہیں ان کی عزتوں کو خطرہ ہے اسلئے کیس سے دستبردار ہورہی ہوں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ن لیگ کی حکومت کھڑی ہوجاتی اور بیوہ کو انصاف دلاتی تو مخلوقِ خدا خوش ہوتی، اللہ بھی راضی ہوجاتا۔ تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے اس غریب بیوہ کا ساتھ نہیں دیا۔ طاقتور خاندانوں کے ذریعے جمہوری جماعتوں کو طاقت میں آنا ہوتاہے، اسلئے غریب اور مظلوم عوام بے بسی سے مظالم سہنے کا شکار رہتے ہیں۔
اصول فقہ کی ’’نورالانوار‘‘ میں ثلاثۃ قروء 3ادوار پر ریاضی کی غلط بحث کی گئی ہے۔ عدت کے 3ادوار کا تعلق طلاق کے 3مراحل سے کیسے بنتاہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے ابن عمرؓ پر ناراضگی کا اظہار کیا، اور قرآن میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کے مراحل سمجھائے۔ اگر اس حدیث کو قرآن فہمی کیلئے بنیاد بنایا جاتا تو طلبہ، علماء، عوام کے دماغ کھل جاتے۔ حضرت عمرؓ نے اسلئے اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیکر فرمایا کہ’’ اس کو طلاق کا بھی پتہ نہیں تو خلافت کے امور کیسے چلائے گا‘‘۔علماء ہمیشہ سے نااہلی کا شکار اسی لئے رہے کہ طلاق کے مسئلے میں بھی مار کھاگئے تھے، وزیراعظم کو مریم نواز کے زیرسرپرستی کا پتہ نہ تھا تو کاروبارِ حکومت کیلئے ان کی اہلیت الیکشن کمیشن نے کیسے تسلیم کرلی؟، الیکشن کمیشن کے اس ذمہ دار عملے کوبرطرف کیا جائے تومیرٹ پر بھرتی کرنے کے موقع بھی پیدا ہونگے۔

مذہبی سیاسی اسلامی منشور ایک ایسی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے…..

siyasi-mazhabi-jamat-ka-manshoor-maulana-fazlur-rahman-imam-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafai-imam-hanbal-halala-teen-talaq-triple-talaq-syed-atiq-ur-rehman-gailani

مذہبی سیاسی اسلامی منشور ایک ایسی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے جس کی تاثیر سے بنگلے والے اور جھونپڑی والے برابر برابر اپنے معاشرتی اور معاشی مسائل قرآن و سنت کے عین مطابق حل کریں جو آنے والے الیکشن میں نئے چہروں کے ساتھ نہ صرف پاکستان اور اسلامی دنیا بلکہ مشرق، مغرب، شمال، جنوب تک ایسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو جس سے اہل آسمان و زمین خوش ہوں۔

جسٹس کھوسہ نے ٹھیک کہا کہ قانون گدھا ہوتاہے مگر جج گدھا نہ بنے، بشیر نور

justice-khosa-remarks-supreme-court-aitzaz-ahsan-kulsoom-nawaz-panama-leaks-case-hawa-kharij-hona-election-commission-of-pakistan

جسٹس کھوسہ کے اس فیصلے پر ن لیگ نے مٹھائیاں بھی بانٹیں تھیں۔ جن چینلوں اور صحافیوں نے نوازشریف کی وکالت کا ٹھیکہ اٹھا رکھاہے ان کی ساری محنت کا محور روزی روٹی حلال کرنے کے گرد گھومتی ہے۔ عورت ایک ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور تمام رشتوں کے علاوہ کوئی رشتہ نہ بھی ہو تو بہت ہی قابلِ احترام ہوتی ہے۔ وہ جس کنڈیشن میں بھی ہو مرد کیلئے اس کو نگاہِ بد سے دیکھنے کا کوئی واز نہیں ہے اور اس کو خود بھی اپنے ناگفتہ بہ لباس کے باوجود یہ حق پہنچتاہے کہ کوئی نظر گاڑھ کر دیکھے تو اس کو برا لگے مگر جب دعوتِ گناہ اس کا پیشہ بن جائے تووہ عزت کھو دیتی ہے، وکالت کا پیشہ ہی ایسا ہے کہ سلمان راجہ اور اعتزاز احسن جیسے قابلِ احترام شخصیات بھی نواز شریف کے کیس میں90 کے زوایے سے گھوم جاتے ہیں، سیاست میں پارٹی بدلنے پر بھی ایسا ہوتاہے جن کا صحافی لطف اٹھاتے ہیں مگر صحافیوں کا پیشہ بالکل جداہے۔ انہیں یہ اجازت نہیں کہ جانبداری کریں۔ گدھے کو جعلی ڈگری مل سکتی ہے ، پیسوں کے زور پر گدھا منتخب ہوسکتا ہے۔وزیراعظم بن کر گدھا عدالت سے کہے کہ مجھے تم نااہل نہیں کر سکتے تو یہ ڈھینچو ڈھینچو سے ججوں کو ڈرانا ہوگا۔ عدالت نااہل قرار دے اور وہ زور دار ہوا خارج کرکے کہے کہ میرے ساتھ زیادتی ہے تو گدھا آخر گدھا ہی ہوتا ہے، قرآن نے کس کی مثال گدھے سے دی جس نے کتابیں لاد رکھی ہوں۔ الیکشن کے فارم میں نواز شریف نے تین زیرکفالت افراد کا ذکر کیا۔ کلثوم ، مریم،وہ خود۔ کیاالیکشن کمیشن میں پوچھنے کی اہلیت نہیں کہ کوئی اپنے زیرکفالت کیسے ؟۔ مریم کنواری نہیں بال بچے دار تھی۔ بچی کی شادی بھی وہیں ہوئی ۔ بھٹوسے لیکر گیلانی تک ہر وزیراعظم کی نااہلی پر بنگڑے ڈالنے والا شرم وحیاء رکھتا تو یہ نہ کہتا کہ پہلے نظریاتی نہ تھاجب جونیجو کا ساتھ نہ دیا اور جنرل ضیاء کی برسیوں پربھٹو کو انگریز کے کتے نہلانے کا کہتا۔
پنجاب کا بھنگی طالبان کی حالت دیکھنے کابل گیا۔ دیکھا دیکھی نماز پڑھنے مسجد پہنچا۔ رکوع میں زور دار ہوا خارج کردی۔ لوگ ہنس ہنس کر مسجد سے بھاگے۔ بھنگی نے امام سے پوچھا کہ وضو ٹوٹ گیا؟ امام نے کہا کہ ہاں!۔ اس نے کہا کہ ہوا بہت کم نکلی ہے۔ امام نے کہا کہ جاؤبابا وضو تمہارا ٹوٹ گیا ، اس نے بار بار اصرار کیا کہ کیا وضو ٹوٹ گیا ہے حالانکہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ کچھ ٹی وی چینل، کچھ صحافی، کچھ وکیل اور کچھ مولانا بھی فنی نکات تلاش کررہے تھے کہ کسی طرح امام صاحب اپنی رائے بدلے، بے وضو نماز کے صحیح ہونے کا فتویٰ دے مگرامام اقرارجرم اور دھماکے کی آوازکوکیسے نظراندازکرتا؟۔
جیومیں حامد میر رجل رشید نکلا، جس نے اعتراف کیا کہ عدالت عظمیٰ نے پہلی مرتبہ خلاف توقع ٹھیک فیصلہ دیا ۔ اگر عدالت کو ڈرانے سے ججوں کو اکسانے کا کام نوازشریف نہ کرتاتو روایت برقرار رہنے کا خطرہ بدستور موجود تھا۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے نوازشریف کو نااہل کروایا مگر جیو کا کردار بھی کم نہ تھا۔پانامہ نے پاجامہ اتارا، دو ججوں نے نااہل کرکے چڈا اتارا۔ پھر جی آئی ٹی نے پیمپر اتارا لیکن جیو مسلسل چیخ رہا تھا کہ سبحان اللہ مشک وعنبر اور گلاب و چنبیلی کی خوشیو سے سارا وطن معطر ہورہاہے۔خلق خدا کو تعفن و بدبو کا سامناتھا۔ جج اپنے منہ پر کالک ملتے یا نواز شریف کے منہ پر ۔ جے آئی ٹی کے ارکان پر ن لیگ نے اتناغصہ اتار دیا کہ ججوں کواتفاقِ رائے سے وزیراعظم کے منہ پر ہی کالک ملنی پڑی۔ کس منہ سے نظر ثانی کی اپیل میں جارہے ہیں؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ وسعت اللہ خان نے فیصلہ آنے سے پہلے اچھا لطیفہ سنادیاکہ میراثی جاگیردار کے پاس گیاتومہمان میراثی اپنی اوقات سمجھ کر نیچے زمین پر بیٹھ گیا، جاگیردار نے اوپر بیٹھا دیا ۔میراثی نے کچھ پیسے کمالئے تھے، بیٹے کو بھی تعلیم دلائی تھی، جاگیردار نے کہا کہ کیسے آنا ہوا؟۔ میراثی نے کہا کہ زمانہ بدل گیا، رشتوں کا معیار بھی بدلا ہے، میرا بیٹا لکھا پڑاہے اگر اپنی بیٹی کا رشتہ دیدو۔ جاگیردار نے اپنے آدمیوں سے اس بات پر خوب پٹھائی لگوادی۔ پھر میراثی اپنی پگڑی اور دھوتی شوتی سنبھال کر جب گھر سے باہر نکلا تو واپس آکر کہنے لگا کہ کیا میں رشتے کا انکار سمجھ لوں؟۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ وزیراعظم کو کوئی نکال نہیں سکتا، اب کہا جاتا ہے کہ کوئی روک نہیں سکتا۔ بادی النظر میں ن لیگی رہنما بہت خوش ہیں۔ 90کی دہائی سے 25سال ہوگئے ہیں کہ لندن کے عالیشان فلیٹوں کا حساب مانگا جارہاہے مگراصلی کاغذات تک نہیں دکھا رہے ہیں، میڈیا پر تسلسل کیساتھ متضاد جھوٹ بولا گیا، پارلیمنٹ میں جھوٹ کا پلندہ تحریری شکل میں نوازشریف نے سنانا شروع کردیا تواس دوران خواجہ سعد رفیق بہت غصہ دکھائی دے رہا تھا، حالانکہ خوش ہونا چاہیے تھا کہ ثبوت دیا جارہاہے مگرخواجہ صاحب کو پتہ تھا کہ یہ ثبوت نہیں بھوت ہے۔ حقائق کے منافی تقریر کادفاع میڈیا میں بڑا مشکل ہوگا، عدالت میں ناممکن ہوگا۔ جے آئی ٹی کے ارکان کو اسلئے قصائی کہا جارہاتھا کہ قربانی کا چھرا صاف دکھائی دے رہاتھا۔ فوج کے سربراہ بھی دھیمے مزاج کے انتہائی شریف النفس جنرل قمر باجوہ، آئی ایس آئی کا چیف بھی شکوک وشبہات سے بالکل مبرا، سپریم کورٹ کاچیف جسٹس بھی کسی سازش کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ اپنی اکثریت والی حکومت، عالمی قوتوں سے بھی اچھے مراسم، احتجاجی تحریک کا بھی گلوبٹوں سے مقابلہ مشکل نہ تھا، میڈیا چینل بھی بھرپور ساتھی اورمشہور اینکر پرسن بھی اپنی شہرت کی بلندیاں اپنی جان نچاور کررہے تھے مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے کامران، مجیب الرحمن شامی، شاہ زیب خانزادہ کتے بلے بن کر مری ہوئی بھینس کے تھنوں سے لگے چوس چوس کر عوام کو دھوکہ دیتے ہوں کہ ماشاء اللہ کیا دودھ کی نہریں ہیں، حالانکہ صحافی کا کام وکالت کرنا نہیں ہوتا ۔ جیو کے محمد جنید کے پروگرام میں عدالت کے متفقہ فیصلے پر جواب میں حامد میر نے کہا کہ حکومت کو پہلے سے پتہ تھا کہ اس کو نااہل ہونا ہے مگر سیاسی بیانات دے رہی تھی کہ ہم نااہل نہیں ہونگے، تو جنید نے ہاتھ کو اس انداز سے دکھایا کہ جیسے حامد میرنے جیو کا سار گیم خراب کردیا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کی دلیل مثالی ہوا کرتی تھی مگر اب یہ کہنے سے بھی نہیں شرمایا کہ ’’ نوازشریف نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی اسلئے نااہل قرار دیا، اگر تنخواہ لے لیتے تو نااہل نہ ہوتے‘‘۔ حالانکہ عدالت نے کہا ’’کہ مقدمہ یہ تھا کہ خاندان کے اثاثے مشترکہ ہیںیہ ثبوت ہے باپ بیٹے کا ملازم نہیں، تنخواہ کا حساب کتاب نہیں، جو ڈھونڈرہے تھے وہ سراغ مل گیا‘‘۔ لندن فلیٹ کیا رحمن ملک کی عزت افزائی اور نیب کو سچا ثابت کرنے کیلئے 2006ء میں خرید لئے؟۔اصغر خان کیس 1990ء میں آئی ایس آئی سے پیسے لئے۔ پھر حکومت بناکر کرپشن کی ، کرپشن کی وجہ سے حکومت کا خاتمہ ہوا۔ شکرہے کہ یہ نہ کہاکہ کون شریف؟، کون حسن ، کون حسین، کون مریم، کون کلثوم؟… عدالت نے وہی کیا جو نوازشریف کو پرویز مشرف نے سعودیہ بھیجاتھااسلئے ن لیگ خوش اور شرمندہ ہے، عدالتی کاروائی نے بہتوں کی صلاحیت اور ضمیر سے پردہ اٹھا دیاہے۔ بشیر نور :سعودی عرب

مشرف کیساتھ ڈیل کی طرح نواز شریف عدالتی فیصلے پر خوش اور شرمندہ ہیں، اشرف میمن

panama-leaks-pakistan-pervez-musharraf-hudaibiya-paper-mill-hazrat-umar-hazrat-abubakar-syed-atiq-ur-rehman-gilani

نوشتۂ دیوار کے پبلشراشرف میمن نے کہا کہ جمہوری نظام شخصیت پرستی نہیں مشاورت سے امور طے کرنے کا نام ہے۔ نوازشریف کے جو مالی سکینڈل میڈیا پرآئے۔کچھ اخلاقی قدریں ہوتیں تو شریف فیملی کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ تھی، اقامہ کی ملازمت ہم جیسا بھی وقار کیخلاف سمجھے ۔بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لینے کی بات بھی بے شرمی ہے۔ مغربی جمہوریت سے بڑھ کر ہمارا اسلامی نظام ہے۔ شکست میں صحابہؓ کے پیر اکھڑ گئے، فرمایا: ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’اورمحمد کیا ہیں؟۔مگرایک رسول ، آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے ، اگر آپ فوت ہوں یا قتل کیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھروگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے تلوار اٹھائی جوکہے کہ آپﷺ کا وصال ہوا تو اسکی گردن اڑادوں گا، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو آپﷺ فوت ہوچکے، جو اللہ کو پوجتا ہے تو وہ زندہ اورپر موت طاری نہیں ہوتی۔ صحابہؓ کی حددرجہ عقیدت اور نظریاتی پختگی نے دنیا میں عرو ج پر پہنچادیا۔ کوئی نااہل وزیراعظم سے پوچھتا، پارلیمنٹ میں کہاکہ سعودیہ کی فیکٹری بیچ کرلندن فلیٹ خریدلئے جسکے تمام ثبوت موجود ہیں۔ اگر عدالت میں پیش نہ کرسکے تو کارکنوں کو بتادو۔ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا ثبوت ہے کہ باپ بیٹے میں مالی تفریق نہیں۔ اقامہ نہ کاروبار بلکہ کالا دھن سفید کرنیکا دھندہ تھا۔ ٹرائل میں تیرا کیا بنے گا؟، کالیا!۔ میڈیا اپنے پیسے سے تجھے ماردیگی ۔
بقیہ نمبر1 : نوازشریف کا کردار: اشرف میمندانیال ، طلال ، گلوبٹ، مولانا فضل الرحمن، میر شکیل الرحمن کو نوازشریف سے کیا عقیدت ہے؟۔ روزروزپارٹی ،موقف اورقبلے بدلنے والوں سے توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں؟۔
جمہوریت کیلئے مغرب کی طرف نہ دیکھو۔ اسلام جمہوری عمل کا بڑابنیادی ڈھانچہ ہے۔ نبیﷺ چچازاد و داماد حضرت علیؓ کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتے تھے۔ خفیہ نہیں کھلم کھلا اعلان کردیا :من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ’’جس کا میں مولا ہوں یہ علی اسکا مولیٰ ہے‘‘۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ رسول ﷺ پر یہ وحی تھی ۔ وماینطق عن الھوی الا وحی یوحیٰ ’’آپ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے مگر جو وحی کی جاتی ہے‘‘۔ شیعہ نے مغالطہ کھایا ہے۔ اللہ کاحکم تھا کہ وشاور ھم فی الامر ’’ان سے خاص امر میں مشاورت کریں‘‘۔
علیؓ کامولیٰ ہونا وحی نہیں ۔ آپﷺ کی یہ خواہش ضرور تھی جس کا برملا اعلان کردیا۔ پھر نبیﷺ نے قلم اور کاغذ منگواکر فرمایا کہ ’’ میں ایسی وصیت لکھ دیتا ہوں کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہاکہ ’’ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ علاوہ ازیں نبیﷺ نے فرمایا: میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی سے تھاموگے کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیت‘‘(مسلم، ترمذی)
رسول اللہﷺ کے وصال پر قریب تھا کہ انصار وقریش میں خلافت پر جھگڑا ہوجاتا۔ حضرت ابوبکرؓ ہنگامی بنیاد پر منتخب ہوئے۔ آپؓ نے حضرت عمرؓ کواپنے بعد نامزد کردیا۔ شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو نامزد کردیاتھا اور حضرت علیؓ کے وقت حالت بہت بگڑچکی تھی۔ حضرت حسنؓ دستبرداراور حضرت حسینؓ نے کربلا میں شہادت پائی۔ حضرت علیؓ کی سخت اپوزیشن اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ نے کی۔ حضرت امام حسنؓ نے خود مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ اسلامی جمہوری معاشرے کی بنیاد تھی کہ عوام کا دل رسول اللہﷺ کی عقیدت سے لبریزتھا مگر خلافت راشدہ کااقتدار متفرق شخصیات اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے حضرات کے ہاتھ میں رہا۔ جوں جوں اسلام کی روح اُمت کی اجتماعیت سے نکلتی چلی گئی توں توں آمر کے خانوادے بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی خلافت کی شکل میں آگئے۔ علماء ومشائخ نے بھی اسلام سے دور ہوکر نالائق نا خلف اولاد کو اپنا جانشین بنانا شروع کردیا۔نبیﷺ نے علم کی میراث چھوڑی، مدینہ العلم کا باب بہترین قاضی کاخانوادہ بھی مسند سے محروم رہاتھا۔
مسجد،مدرسہ، خانقاہ ،مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں اور جماعتیں شخصی ملکیت نہیں خاندانی تسلط کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو موروثی رنگ نہیں دیا۔ دارالعلوم دیوبند میں بھی موروثی نظام نہیں۔ قاری طیبؒ نے بیٹے مولانا سالم قاسمی کو مہتمم نامزدکیا تومزاحمت ہوئی پھردارالعلوم دیوبند بٹ گیا۔ تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ کے بعد مولانا یوسفؒ نہیں مولانا احتشام الحسنؒ ؒ کوامیر بنادیتی تو تبلیغی جماعت انقلاب لاچکی ہوتی۔ اب حاجی عبد الوہاب کا مولانا الیاسؒ کے پوتے یا پڑپوتے سے جھگڑابھی چل رہاہے۔
مذہبی وسیاسی جماعتوں ، مدارس، مساجد، خانقاہوں ، سماجی تنظیموں میں خلافتِ راشدہ کے طرز پر تبدیلی آجائے تو بہتری آسکتی ہے۔ رسول ﷺکے اہلبیت سے بہتر خانوادہ تھا؟، مگر حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کا تعلق بنی ہاشم سے نہیں تھااور مشکل صورتحال میں حضرت علیؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے کردار ادا کیا۔پاکستان میں مذہبی وسیاسی جماعتوں اور اداروں کا رول ماڈل اسلام ہو۔
شریف خاندان کو مشکل کا سامنا تھا تو جاوید ہاشمی نے قربانی دی۔ نواز شریف نظریاتی ہے تو سیدیوسف رضا گیلانی کیخلاف کیوں گیا تھا ؟ اب کیا اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا یا یہ بھائیوں کا جھگڑا ہے۔ فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کو باقاعدہ وضاحت کرنا چاہیے کہ سیاست ن لیگ یا ش لیگ کا داخلی معاملہ ہے۔مشہور ہے کہ خوشحال خٹک سے اسکی ماں نے کہا تھا کہ بیٹا تیری زبردست شخصیت ہے لیکن اگر قد تھوڑا سا لمبا ہوتا۔ خوشحال نے اس کا یہ جواب دیا کہ ماں جی! میرا قد بالشت بھر مزید چھوٹا ہوتا لیکن کسی خٹک سے مجھے نہ جنا ہوتا۔کیا خواجہ آصف بھی کہے گا کہ’’ جتنی بھی پاک فوج کی مخالفت میں سر پھوڑی کروں مگر بات نہیں بنتی اسلئے کہ ماں نے اس باپ سے جننا، جو جنرل ضیاء کے شوریٰ کا چیئرمین تھا۔ میراقائد نوازشریف ہے جس کی ہڈیوں کا گودا بھی مارشل لائی ہے ، چوہدری نثار کا دوست شہبازشریف مسلط کردیا ۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ جیو اور چاپلوس صحافی ہمیں کتنا دھکیل دیں، عاصمہ جہانگیر کم بخت مرتی بھی نہیں، انوشہ اور تہمینہ کی چوڑیاں نواز اور شہباز کو پہنادو مگر سچ نہ بولیں گے ۔ معاہدہ کرکے سعودیہ جانے پر خوش اور شرمندہ تھے تو اب بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے‘‘۔
خواجہ آصف منہ پھٹ قائد کو کھری کھری سنائے تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ ایمان ،اسلام ، پاکستان اور سیاستدان کا یہی تقاضہ ہے۔

قانون سے کوئی بالاتر نہیں. عاصمہ جہانگیر کا بیان اور تبصرہ

asma-jahangir-gulu-bat-shahbaz-sharif-model-town-case-army-chief-javed-qamar-bajwa-syed-atiq-ur-rehman-gailani

عاصمہ جہانگیر کی بات 100%درست ہے کہ اگر فوج کی طرف سے تحفظ کا یقین نہیں ہوتا تو ججوں نے نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ نہیں دینا تھا۔ واقعی نہیں دے سکتے تھے اگر عدلیہ کی پشت پر ریاست کی قوت نہ ہو تو بوڑھے ججوں کے اندر مولا جٹوں ، گلوبٹوں اور موٹے گینگ نکٹوں سے کشتی کرنے کی صلاحیت تو نہیں !۔ ضعیف العمری و ییرانہ سالی میں محترمہ سٹیا گئیں یا مُلا کی طرح معاوضے کی آذان دے رہی ہیں؟۔ نوازشریف، شہبازشریف اور تمام ن لیگی رہنما عدالت کیخلاف سینہ سپر تھے۔ آرمی چیف کی وضاحت درست تھی کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آیاتو قابلِ عمل ہونا چاہیے۔ کیا آرمی چیف اور نوازشریف کے رشتہ دار آئی ایس آئی چیف یہ کہتے کہ نوازشریف ہمارا لاڈلہ بچہ ہے ، بگڑا ہوا ہے تو کیا ہوا؟۔ ماڈل ٹاؤن کی پولیس کے ہمراہ گلو بٹ نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے ڈنڈا برسایا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے ، گولی کا نشانہ بننے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں زخمی، معذور اور 14شہید ہوگئے۔ کیایہی نوازشریف کو ملنے والے فوجی بٹ مین بھی ادا کرتے تو اچھا ہوتا؟۔
آپ چاہتی کیا ہیں؟۔ کرپشن پر پہلی مرتبہ ہی ہاتھ پڑنے والا ہے تو پیٹ میں درد شروع ہوا، اپنا دوپٹہ نواز شریف کو پہنادیں، شہباز شریف کی ہیٹ پہن کر شاہد خاقان عباسی کی جگہ پر خود وزیر اعظم بن جائیں۔ پھر ججوں کو اٹھا کر جہاں پھینکنا چاہیں وہاں پھینک دیں۔
دوججوں نے پہلے ہی نااہل قرار دیا تھا جس پر مٹھایاں تقسیم کی گئیں۔ سلمان اکرم راجہ اپنی وکالت سے پہلے کہہ رہاتھا کہ پارلیمنٹ اور قطری خط کے تضاد پر جج وزیراعظم کو نااہل کرسکتے ہیں، یہ ان کا صوبدید ہے کہ نااہل کریں یا چھوڑدیں۔ 62،63کے اطلاق میں فرق ہے۔ ایک شخص اپنے طورپر دن بھر بدبودار پھوسیاں مارتا رہے مگر جب وہ نماز پڑھے گا تو وضو کے ٹوٹنے پر مقدس مسجد سے جانا پڑے گا۔ پھر جب نماز کی امامت کررہا ہو اور پھر زوردار ہوا کی آواز بھی گونج اُٹھے تو خود ہی نماز چھوڑ کر کسی کو نائب مقرر کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہ عوام اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوں اور جب تک کوئی کان سے پکڑ کر نکال باہر نہ کرے وہ ڈٹا رہے۔ محترمہ ذرا سوچئے!
عاصمہ جہانگیرومولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے تھے کہ بہت مال نکلے گامگر اقامہ نکل آیا۔ مال کے چارجزلگانا ٹرائل کورٹ کا کام ہے جس میں اپیل کا بھی حق ہوگا۔

کلمانٹ دوشیزہ کا بیرون ملک خواتین کے اجتماع سے خطاب۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا !

کلمانٹ دوشیزہ کا بیرون ملک خواتین کے اجتماع سے خطاب۔ وطن کی مٹی گواہ رہنا ! میری لوہے کی بھٹی تھی گواہ رہنا ! اگر جے آئی ٹی اور عدلیہ نے آرمی کے اشارے پر میرے خلاف فیصلہ دیدیا تو گواہ رہنا! ۔میرے ایک چوتڑ پر عدلیہ اور دوسرے پر آرمی کا نشان ہے گواہ رہنا!۔ایک موقع آیا تھا کہ میں نے پرویز مشرف کو ہٹایا تھا گواہ رہنا!۔ اور پھر اس موقع سے فائدہ اٹھاتا اور ایگریمنٹ کرکے نہ جاتا تو میرے چوتڑوں پر آرمی اور عدلیہ کے نشانات مٹ جاتے گواہ رہنا!۔ اب مجھے وہی ہراساں کررہے ہیں جنہوں نے کندھے دیکر میرے دونوں کولہوں کو داغدار کیا گواہ رہنا! میں نے سراسیمگی میں میڈیا پر ، پارلیمنٹ میں اور قطری خط کے ذریعے کنپٹی پر بندوق رکھنے سے غلط بیانی کی، گواہ رہنا رہنا!۔

خبر کی تفصیلات پڑھنے کیلئے نیچے ہیڈنگ پر کلک کریں

کلمانٹ دوشیزہ نواز شریف کو فوج نے ہراساں کرکے متضاد بیانات لئے ہیں۔ قدوس بلوچ

کلمانٹ دوشیزہ نواز شریف کو فوج نے ہراساں کرکے متضاد بیانات لئے ہیں۔ قدوس بلوچ

کلمانٹ دوشیزہ نواز شریف کو فوج نے ہراساں کرکے متضاد بیانات لئے ہیں۔ قدوس بلوچ

نوشتۂ دیوارتیز وتند کے معروف کالم نگار قدوس بلوچ نے پامانہ لیکس پر سیاسی جماعتوں کی قیادت ، اے آر وائی نیوز کے عارف حمید بھٹی ،سمیع ابراہیم ،صابر شاکر و دیگر چینلوں کے ان اینکر پرسن کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں حکومت کے کرپٹ مافیا کو بے نقاب کرنے میں اپنا پورا پورا زور لگایا۔ نوازشریف سیدھے انداز میں اپنی پوری دولت قوم کے سامنے پیش کرکے اپنی تضاد بیانی، جھوٹ اور کرپشن پر معافی مانگیں توہماری سیاست بدلے گی، قوم بھی بدلے گی، یہ ملک بھی بدل جائے گا اورہماری ریاست بھی بدلے گی۔ زرداری اور کرپٹ حواری سب اس پر مجبور ہونگے۔ بھتہ خوری،چوری ، رشوت خوری سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا۔(بقیہ صفحہ3نمبر11)
اس کنواری عورت کو جس کی شادی کی عمر گزری ہو،بلوچی میں کمانٹ کہتے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتاہے کہ فوج کا اس وقت عدلیہ پر کوئی دباؤ ہے کہ نوازشریف کو پانامہ کیس میں ٹنگا دیا جائے۔ جمہوریت کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف عدلیہ بالکل کسی مصلحت ، مصالحت اور نظریۂ ضرورت کو سامنے رکھنے کے بجائے ضمیر سے فیصلہ دے اور جب آزاد عدلیہ اپنا یہ کردار ادا کرے گی تو اس سے جمہوری کلچر کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ فوج کی مخالف سمجھی جانے والی آپا محترمہ عاصمہ جہانگیر کی بہادری، جمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کیلئے جو جدجہد ہے اس کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن اگر ان کو نوازشریف کا وکیل بنایا جائے تو کیا وکالت کریں گی؟۔ کیا وہ کہہ سکتی ہیں کہ میڈیا پر فیملی اور دوست سیاسی رہنماؤں کے اتنے سارے متضاد بیانات فوج نے کنپٹی پر بندوق رکھ کر ان سے کہلوائے تھے؟۔ کیا پارلیمنٹ میں لکھی تحریر پھانسی کی کال کوٹھری میں فوج نے زبردستی سے تیار کروائی تھی؟۔ کیا قطری شہزادے کے خط میں سنی سنائی حوالہ جات لکھ کر فوج نے زبردستی مجبور کیا تھا؟۔ کیااس کلمانٹ دوشیزے کا یہ رونا دھونا کوئی مانے گا؟۔ عاصمہ کو میڈیا پر میرے یہ سوالات کوئی پوچھے اور جواب طلب کرے تو بات بن جائے۔
اگر آمریت کو سپورٹ کرنے والے سیاسی جماعتوں اور شخصیات پر قانوناً پابندی لگائی جائے تو سر فہرست نوازشریف و شہباز شریف کے نام آئیں گے۔ پنجاب کی عوام سب سے زیادہ پسماندہ ہے اور اس کے سب سے بڑے ذمہ دار دونوں بھائی اور ان کی فیملی ہے۔ دوسرے لوگوں کو کھلونے بم سے اسلئے مارا جاتاہے کہ بڑے ہوشیار ہوتے ہیں اور بچے شکار بنتے ہیں۔ پنجاب کی عوام اسقدر پسماندہ ہیں کہ کھلے پیٹرول پر جاہلوں کی بھیڑ دیکھ کر بھی ذرا خوف نہیں کھایا۔ بعض یہ بکواس کرتے ہیں کہ چوری کررہے تھے ، ان کو شرم بھی نہیں آتی تھی کہ ٹرائلر گرگیا اور یہ لوٹ مار میں لگے تھے‘‘۔ حالانکہ پیٹرول ضائع ہورہاتھا، یہ چوری تھی، نہ بھتہ تھا، نہ چھینا جھپٹی۔ نقصان دے نہ ہوتا تو بالکل جائز ہوتا کہ زمین میں جانے کے بجائے عوام کے کام آتا۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر دھماکے کا خوف لئے بھاگ گئے ہوں گے کہ یہ انسان ہیں یا کوئی جانور، جو اتنی بڑی تعداد میں آرہے ہیں۔ کوئی ہوشمند اور قابل سیاستدان ہوتا تو اس واقعہ کی وجہ سے سیاست سے ریٹائرمنٹ لیتا کہ جہاں کئی دہائیوں تک حکمرانی کی ہو وہاں لوگوں کا اس طرح سے جہالت کا ارتکاب کرنا حکمران کی بڑی نااہلی ہے۔
شہباز شریف اس موقع پر کرپشن کو نہ بھولا اور زرداری کا نام لئے بغیر حادثے کے شکار ہونے والوں کے لواحقین سے کہا کہ ’’ یہ سب کرپشن کی وجہ سے ہوا ، جسکی وجہ سے تعلیم میں کمی آئی ہے‘‘۔
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
رہزنی ، غارتگری ، بیداد کی تشہیر ہے
عاقبت ہے سر برہنہ آبرو نخچیر ہے
نعرۂ حق و صداقت لائق تعزیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک شب اجڑا کسی بابا کی بیٹی کا سہاگ
اُڑ گئی پھولوں کی خوشبو ڈس گئے کلیوں کو ناگ
ظلمتوں میں سورہے چاندنی راتوں کے بھاگ
آدمیت ان دنوں اک لاشۂ تقدیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک بیچارے نے دم توڑا شفا گھر کے قریب
برق کے جھٹکے سے ٹھنڈا ہوگیا اک بد نصیب
لاریوں کے ٹکر سے مرگئے کتنے غریب
آج ہر مظلوم کی فریاد بے تاثیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک محلہ سے کسی کا لاڈلہ گم ہوگیا
وائے قسمت ایک بورھے کا عصا گم ہوگیا
کارواں سے بانگِ درا گم ہوگیا
یہ سب نظام جبر کی ایک زنجیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
چھن گئی مزدور کی پونجی بھرے بازار میں
اور مجرم ہوگئے مفرور فوراً کار میں
روز چھپتی ہیں بھیانک سرخیاں اخبار میں
دیکھئے اک خود کشی کی داستان تحریر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
زندگی کرتی ہے جرموں کی تجارت آج کل
چیختی ہے شرافت راہگذاروں پر آج کل
علم کے ماتھے پر جہالت آج کل
آج بے نام ونشان اسلاف کی توقیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
ایک نابغہ حاجی عثمانؒ ، ایک فتویٰ، ایک الزام
غم دوراں! اے غم دوراں تجھے میرا سلام
زلف آوارہ ، گریبان چاک ، مستانی نظر
ان دنوں یہ تھا ہماری زندگانی کا نظام
فتوے چھوٹ کر دارالفتویٰ میں بکھر پڑے
میں نے پوچھا جو مشائخ سے اکابرؒ کا مقام
کہہ رہے ہیں چند بچھڑے مریدوں کے نقش پا
ہم کریں گے انقلاب جستجو کا اہتمام
پڑگئیں میرے روشن جبیں پر سلوٹیں
یاد آکر رہ گئی وہ بے خودی کی ایک شام
تیری عزت ہو کہ میری غیرت کی چاندنی
تاریخ کے ادوار میں ہر چیز کے لگے ہیں دام
ہم بنائیں گے یہاں ساغر نئی تصویر شوق
ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام

مجید اچکزئی ، جمشید دستی اور بہالپور وپاڑہ چنار کے واقعات میں فرق کیوں؟ اشرف میمن

پبلشرنوشتۂ دیوار محمد اشرف میمن نے کہا: یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ریاست اور حکومت کا قبلہ الگ الگ ہوتاہے۔ کوئٹہ میں نامعلوم کی معلومات نہ ہوتیں تو یہ بھی ایجنسیوں کے اس کھاتے میں ڈال دیا جاتا جو دھماکوں کے بعد افواہیں پھیلادی جاتی ہیں کہ خفیہ ہاتھ ملوث ہے۔ مجید اچکزئی نے جرأت کی یا مجبوری کی وجہ سے اعتراف کرنا پڑا؟۔ نامعلوم افراد پر ایف آئی آر درج کرنے سے پتہ چلنا چاہیے اگر محمود اچکزئی نے مطالبہ کردیا کہ اسی روڈ پر کھڑا کرکے مجرم کو یہی سزا ملنی چاہیے تو اسکے نتیجہ میں انقلاب آئیگا۔ کراچی کی سڑکوں پر12مئی کا واقع پرویز مشرف کے دور میں ہوا تو محمود خان اچکزئی بہت اچھا بولتے تھے کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ انسان، پٹھان اور مسلمان فطرت کے تقاضے پر چلیں تو دنیا امن و امان کا گہوارہ بن جائے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہوسکتاہے کہ اپنا استنجاء چھوڑ کر دوسرے کا عضو دھونے لگ جائے۔ اپنا گند سب کو خود ہی صاف کرنا پڑتاہے۔ 9/11کا واقعہ امریکہ میں ہوا، لیکن تباہ افغانستان ، عراق ، لیبیا اور دیگر ممالک کوکیا گیا جسکی وجہ سے مرض بڑھتا گیا ،جوں جوں دوا کی۔
محمود خان اچکزئی سب سے پہلے اپنے مجرم کو سزا دلانے میں پیش پیش رہے تو اپنی قوم اور پھر سب کا بھلا ہی بھلا ہوگا۔ پھر وہ نوازشریف کو بھی کہہ سکے گا کہ بابا ، آمریت کے دور میں کرپشن کی تو اس کی سزا بھی بھگت لو، طالبان تو اپنی شریعت کی بات کرتے ہیں تم نے تو ساری زندگی آمر کے گود میں گزاردی، جنرل ضیاء الحق خود کرپٹ نہیں تھا تو اس کا بیٹا بھی آپکے ساتھ نہیں ، اختر عبدالرحمن کی فیملی نے کرپشن کی تھی تو وہ آپکے ساتھ ہیں۔ آنکھیں نہ دکھاؤ اور نہ گھماؤ، سیدھا سیدھا حساب دو اور چلتے بنو تاکہ جمہوریت پر قوم کا اعتماد بحال ہوجائے۔ خوشحال کسان ،خوشحال پاکستان کے مد میں جو رقم اشہارات پر خرچ کردی ہے تاکہ میڈیا کو خریدا جاسکے ، اگر اس کا آدھا حصہ بھی غریبوں پر خرچ کیا جاتا تو کم از کم ان لوگوں میں اتنا شعور ہوتا کہ پیٹرول لینے کیلئے اس بے تحاشی کا کبھی مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ افریقہ کے جنگلی انسانوں کو بھی پتہ ہوگا کہ پیٹرول کیلئے جاہلوں کی ایسی گہماگہمی بہت غلط اور آگ کے دریا میں کودنے کے مترادف ہے۔ ہر پیٹرول پمپ پر سگریٹ کی ممانعت لکھی ہوتی ہے۔ شہباز شریف فرنگی ہیڈپہن کر قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ طالبان کے حامیوں کو کس طرح اپنا رنگ ڈھنگ بدلنا آتاہے اور جاہلوں کے سامنے جھوٹی سلیمانی ٹوپی پہننا بھی آسان ہے۔ سوشل میڈیا پر تعصب کو ہوا دینے کی بات ٹھیک نہیں ہے البتہ جاہل میں جہالت کی وجہ سے ہی تعصب ہوتاہے۔
پنجاب سے ووٹ ملتے ہیں جس کی وجہ سے اقتدار کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ پاڑہ چنار کا تعلق قبائلی علاقہ سے ہے وہاں کے نمائندے ویسے بھی اپنا ووٹ فروخت کرتے ہیں تو عوام کو خوش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جو بھی قومی اسمبلی کا نمائندہ بن کر آئے اسکے دام لگادئیے جائیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس قوم کی مشکلات اس وقت دور ہوں گی کہ جب ریاست اپنا کام کرے گی اور حکومت اپنا کام کرے گی۔ غریب و امیر ، طاقتور و کمزور اور حکومت و اپوزیشن کی بات اپنی جگہ پر مگر ریاست طاقتور ہو تو بات بنے۔ حکومت خود ہی ریاست کو طاقتور بنانے سے ڈرتی ہے۔ حکمران اگر ریاست کو خود تسلیم کریں تو ہی ریاست طاقتور ہوگی۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر مرکزی و صوبائی نامزد اور مجرم حکمرانوں کو ٹانگ دیا جاتا تو پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے، پی ٹی وی پر حملہ اور پولیس افسربری طرح زدوکوب پر مجرموں کو ضرور اور کھلے عام سزائیں بھی مل جاتیں۔ عدلیہ پر حملے، چیف جسٹس کو خریدنے اور آمریت کی حمایت کرنے پر سیاستدان نااہل قرار دئیے جاتے تو صاف ستھرے لوگوں کا اقتدار میں آنا بہت آسان ہوجاتا، ریاست بھی مضبوط ہوتی اور جمہوریت بھی مستحکم بن جاتی۔
آمریت کے پروردہ سیاستدانوں سے جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے کی امید نامعقول منطق ہے۔ نوازشریف نے اپنے بچوں کے اثاثوں سے ہی لاتعلقی کا اعلان نہیں کررکھا ہے بلکہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میرے بچے پاکستانی نہیں لندنی ہیں، ہم چاہیں تو وہ عدالت کے کہنے پر جوابدہ بھی نہیں ہوں گے۔جس طرح زرداری کے سوئس اکاؤنٹ بھی پاکستانی نہ تھے لیکن کرپشن کا پیسہ واپس لانے کا مطالبہ ہورہاتھا اسی طرح جن لوگوں نے کرپشن کے پیسوں پر باہر تعلیم اور نیشنیلٹی حاصل کی ہے وہ بھی قوم کو پورا پورا حساب دینے کے پابند ہیں، جو کرپٹ فوجی، بیوروکریٹ و جرنلسٹ ہیں وہ انہی کیساتھ ہیں سب کو پکڑنے کی بات بالکل درست ہے۔ جمشید دستی نے ایک دفعہ پانی کھول کر جس قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اس کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے ، وہ رونے کیساتھ ساتھ اس وقت ہنسے گا بھی سہی جب پانامہ لیکس میں شریف فیملی کو بھی اس طرح پنجاب پولیس عوام کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنائے۔ زرداری کی زبان کاٹنے والے شریفوں کو مچھر کاٹنے کی تکلیف کبھی نہیں بھولتی ۔ جنرل راحیل ہی نہیں پاک فوج کی موجودہ قیادت نے بھی دہشت گردی کا شکار ہونے والے پاڑہ چنار کے متاثرین کو بڑی اہمیت دی لیکن سیاسی قیادت ڈھیٹ بن گئی ہے، حالانکہ قومی یکجہتی سیاسی قیادت کا فرض بنتاہے۔ مودی سرکار کی دوستی کو نبھانے کیلئے ہندو کی تقریبات میں شرکت کرکے رنگ پھینکنے کی دعوت دیتے ہو لیکن دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے پاس نہیں جاتے۔ آخرکیوں؟۔عقیدہ کی جنگ اس بات پر ہے کہ کوئی جنت میں جائیگا کوئی جہنم میں، شرک کو اللہ معاف نہ کریگا۔ نوازشریف کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کہ جنت وجہنم کا فیصلہ ہم نے نہیں کرنا۔ عقیدہ میں زبردستی نہیں مگر جنت جہنم کی بنیاد پر بات ہے، پاڑہ چنار جنت کو دہشتگردوں نے جہنم بنا دیا اور تم نے پوچھا تک نہیں؟، جھوٹے!تمہاری کرپشن سے پنجاب کے عوام شعلوں کی نذرہوئے۔

وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں کا عمدہ کردار اور مفتی منیب الرحمن پر سخت برہمی کا اظہار. پیر عبد الواحد

پیرعبدالواحد شاہ نے جنوبی وزیرستان کے حالات نوشتۂ دیوار کو فون پر بتائے۔ پہلے تو عوام کو پاک فوج کے جوانوں سے تلاشی کی وجہ سے بہت شکایت رہتی تھی۔ اکادکاکمینہ ہے مگر سب کاعمومی رویہ بہت زبردست ہے، چیک پوسٹوں پر فوجی روزہ رکھتے تھے ۔عید کے موقع پر زبردستی سے مہمان فوجی سپاہیوں کو حلوے کے ڈبے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کیا۔ وانہ شہر سے فوجی جوانوں نے سودا منگوایا تو ان پر چار سو روپے نکلتے تھے جو زبردستی سے وہ بھی دے دئیے۔ مفتی منیب الرحمن پربہت برہم تھے کہ ہمیشہ غلط فیصلہ کرتاہے۔مرتا بھی نہیں کہ جان چھوٹ جائے۔ ظاہر ہے کہ روزہ اللہ کی عبادت ہے اور عید کے دن شیطان کا روزہ ہوتا ہے جو انسانی شکل میں پاکستان پر مسلط ہے وہ سب کیلئے عبادت نہیں سزاہی ہوسکتی ہے۔
پوری دنیا میں چاند ایک ہی ہوتا ہے ، اگر دنیا کا فیصلہ غلط ہو تو حج بھی موقوف کردیا جائے تاکہ عوام کی عبادت خراب نہ ہو، اگر سعودیہ غلط ہلال کا اعلان کرتی ہے تو اس کی مخالفت ایک شرعی اور اخلاقی فرض ہے۔ ہمارے ہاں یہ تماشا دیکھنے کو ملتا ہے کہ جہاں محکمہ موسمیات اعلان کرتی ہے کہ بادل کی وجہ سے اسلام آباد میں چودھویں کا چاند کیا ساڑھے بارہ بجے بادل میں دن کو سورج بھی نظر نہیں آسکتا لیکن ٹی اے ڈی اے کے چکر میں ہلال کمیٹی کے اراکین چیئرمین سمیت وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ پورے ملک کے میڈیا پر مختلف شہروں سے نمایاں چاند کی تصاویر نشر ہوتی ہیں لیکن ہلال کمیٹی نے اپنا نمبر دیا ہوتا ہے کہ اس پر گواہی دیں۔ کیا شریعت مفتی کی اتنی محتاج ہے؟ اگر ٹی وی کوریج دینا چھوڑدے تو بھی یہ ڈھیٹ اور بے غیرت بننے سے جلد باز آجائیں گے۔

جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور کو پیغام حق

جماعت اسلامی انقلابی ہے تو طلاق و خلع کے حوالہ سے تحقیق انقلاب ہی کابڑا پیش خیمہ ہے

لاہور(تنویر)ہماراوفد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور گیا۔نجم محمود، ذکاء اللہ، محمد اجمل ملک اور سید عتیق الرحمن گیلانی نے تحقیق وتجزیہ کے شعبہ میں ایک خٹک صاحب سے بات کی جو اس شعبے کے نائب تھے۔ طلاق کے حوالہ سے ان کو کتاب دی جسکے نتائج کا انتظار ہے،انکا کہنا تھا کہ طلاق کتنوں کا مسئلہ ہے؟۔ عتیق گیلانی نے کہا: ایک انسان کا بے گناہ قتل انسانیت کا قتل ہے تو ایک عورت کی بے حرمتی انسانیت کی بے حرمتی ہے، اگرجماعت اسلامی نے طلاق وخلع کے حوالہ سے قرآن وسنت عام کرنے کا اعلان کیا تو خواتین ووٹ دیں گی۔