پوسٹ تلاش کریں

ہمارے مرکزویٹی کن سٹی سے برداشت اور امن کی بات کی گئی جبکہ اسلامی مرکز (سعودیہ)سے ایک سو بلین کے ہتھیاروں کاسودا کیا گیا: مسیحی خاتون اسکالر

اہل کتاب میں سے اکثروں کی چاہت یہ ہے کہ کسی طرح تم کو ایمان کے بعد کافر بنادیں۔ بسبب اپنے دلی حسد کے، اس کے بعد کہ ان کیلئے حق ظاہر ہوچکا ہے ۔ سو تم درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہےO اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ ۔ اور جو کچھ آگے بھیج د و گے اپنے پاس سے بھلائی تو اللہ کے پاس اس کو پاؤ گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ،سب دیکھتا ہےO اور کہتے ہیں کہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے مگر جو ہوں یہود یا نصاریٰ ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہیں ۔ کہہ دیجئے کہ کوئی دلیل لے کر آؤ اگر تم سچے ہوO کیوں نہیں جس نے تابع کردیا اپنا منہ اللہ کیلئے اور وہ نیک کام کرنے والا ہے تو اس کیلئے اسکے رب کے پاس اجر ہے۔ نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہونگےO اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ نہیں ہیں کسی راہ پر اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود نہیں ہیں کسی راہ پرباوجود یہ کہ وہ کتاب پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے انہی کی طرح بات۔ اللہ فیصلہ کرے گا،قیامت کے دن، ان کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکے کہ اس میں اس کا نام لیا جائے۔ اور کوشش کرے ان کو ویران کرنے میں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ داخل نہ ہوں گے ان مساجد میں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کیلئے دنیا میں ذلت ہے اور ان کیلئے آخرت میں بڑا عذاب ہےO اور اللہ کیلئے مشرق اور مغرب ہے سو جس طرف تم منہ کرو وہاں اللہ کی توجہ ہے ، بیشک اللہ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے O (سورہ البقرہ : آیات109تا 115)

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا کہ کہیں مجھے نہ پہنچ جائے۔ میں نے کہا کہ ہم جاہلیت و شر میں تھے پھر اللہ نے یہ خیر بھیجی۔ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہے؟ فرمایا کہ ہاں! میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے؟ فرمایا کہ ہاں! اور اس میں دھواں ہے۔ میں نے کہا : اس کا دھواں کیا ہے؟ فرمایا: لوگ میری سنت کے بغیر راہ پر چلیں گے اور میری ہدایت کے بغیر ہدایت اپنائیں گے ، ان میں اچھے بھی ہونگے اور برے بھی۔ میں نے کہا : کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟ فرمایا: ہاں! داعی ہونگے جو لوگوں کو جہنم کے دروازوں پر دعوت دینگے جو انکی دعوت قبول کریگا اسکو اس میں جھونک دینگے۔ میں نے کہا : ذرا انکا حال تو بیان فرمائیے۔ فرمایا: وہ ہمارے چمڑے میں ہونگے اور ہماری زبان بولیں گے ۔ میں نے کہا اگر میں انکو پاؤں تو کیا حکم ہے ؟ ،فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام سے مل جاؤ۔ میں نے کہا اگر مسلمانوں کا امام ہو اور نہ انکی جماعت تو پھر؟، فرمایا: ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ ، چاہے تمہیں درخت کی جڑ چوس کر پناہ لینی پڑے، یہاں تک کہ موت آجائے۔ (مشکوٰۃ، بخاری، عصر حاضر ، مولانا یوسف لدھیانویؒ )

جب سے میں نے اس مسیحی خاتون اسکالر کی یہ تحریر پڑھی ہے مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اسکی تردید کروں تو کس طرح، تائید کروں توکس طرح ؟ ۔ مسیحی خاتون اسکالر لکھتی ہیں ’’امریکی صدر نے دو مذاہب کے مراکز کے دورے کئے ہیں۔ ایک سعودی عرب جو مسلمانوں کا مرکز ہے اور دوسرا ویٹی کن سٹی جو کہ ہمارا ہے۔ ہمارے مرکز سے برداشت اور امن کی بات کی گئی اور ہمارے رہنما نے امریکی صدر کو دنیا میں پائیدار امن کیلئے کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا۔ اسلامی دنیا کے مرکز سے عدم استحکام اور بدلے کی بات کی گئی اور امریکی صدر کو جنگوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ہمارے مرکز سے دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل کی نشاندہی کی گئی جبکہ اسلامی مرکز (سعودیہ)سے ایک سو بلین کے ہتھیاروں کاسودا کیا گیا اور وہ ہتھیار دوسرے اسلامی ملک پر استعمال کے غرض سے خریدے گئے۔ ہمارے مرکز سے غربت کے خاتمے اورسماجی انصاف کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ اسلامی مرکز سے امیروں کو امیروں نے امیرانہ تحائف دینے کے باوجود اسلامی دنیا میں عدم استحکام ، غربت سے دوچار شہریوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا اور ان کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی جو اسلامی دنیا میں جنگوں سے بری طرح متاثر ہیں۔ کیا یہ فرق وہ ہے جسے آسانی سے نظر انداز کیاجائے؟

پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے ایک منشور کی ضرورت

موسمیاتی تبدیلیوں ، پانی کے ذخائر،ماحولیاتی آلودگی ، اسلحہ کی دوڑ دھوپ سازش کے تحت فرقہ وارانہ لڑائی اور مضبوط اداروں کو سازش کے تحت کمزور کرنیکا رویہ خاص طور سے بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ ریاست کی مضبوطی اداروں سے اور اداروں کی مضبوطی دیانتداری، میرٹ اور اپنے کام سے کام رکھنے میں ہی ہے۔ سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک وقوم کے بجائے اپنا کاروبار چمکارہے ہیں۔
1: تعلیمی نظام کے نصاب کو درست کرنیکی ضرورت ہے، بھاری بھرکم بستے اور بڑی بڑی فیسوں نے قوم کے بچوں ، نوجوانوں اور نسلوں کے مستقبل کوداؤ پر لگادیا ہے۔ اچھے نصاب اور بچوں کے معیار سے تعلیمی قابلیت کے اساتذہ قوم کی ضرورت ہیں۔ اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ اورطلبہ کی زیادہ سے زیادہ فیس بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے۔ جس سے قوم تباہ ہورہی ہے، سکول مالکان کی ناجائز منافع خوری المیہ ہے، تعلیم کاروبار نہیں خدمت ہے،اساتذہ کو کسمپرسی سے نکالنا اور طلبہ کو سستی تعلیم دینا ضروری ہے۔ نصاب تعلیم بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بجائے بوجھ بنتا جارہاہے جسکی وجہ سے نقل اور جعلی ڈگریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قوم کی نااہلی کیلئے ہمارا تعلیمی نظام اپنا کردار ادا کرنے میں سب سے آگے ہے۔
قدرت نے پاکستان کو بے پناہ دولت سے نوازا ۔ پانی اور ہر موسم کی آب و ہوا، میدانی و پہاڑی سلسلہ ، دشت وصحرا، عرب وعجم اور مشرق ومغرب کے اس سنگم پر واقعہ ہونا جس میں دنیاکیلئے اسکی بہت بڑی اہمیت ہے۔حکمران قذاقوں کی طرح لوٹ مار کے بجائے قوم کے بہتر مستقبل کیلئے سوچیں۔ہم گرمی میں پہاڑی، سردی میں میدانی علاقے کا موسم انجوائے کرنیوالے تعلیمی ادارے بناسکتے ہیں جو کم خرچ بالا نشیں ہونگے، وزیرستان کے بھی ایسے مدارس ہیں۔اگر مدارس کا نصاب درست کرلیا تو اسکے بہت مثبت اثرات پڑینگے۔ قرآن وسنت سے معاشرہ مالا مال ہوگا، تو عالم اسلام ہی نہیں پاکستان دنیا کی امامت بھی کریگا۔
2: پہاڑی علاقوں سے آنیوالا شفاف پانی ڈیموں کے ذریعہ ذخیرہ کیا جائے تو زیرزمین پانی کے ذخائز میٹھے پانی سے مالامال ہونگے۔ سستی بجلی پیدا ہوگی توعام لوگ پاکستان میں اے سی اور ہیٹر کا استعمال کرکے دنیا کے جہنم سے بچ سکیں گے اور پانی کو ہر طرح کی آلودگی سے بچانے کیلئے انتظام ہوگا تو صحتمند معاشرے پر حکمران فخر کرسکیں گے۔ ملیں، کارخانے اور فیکٹریاںآلودگی پیدا کریں توا ن کو فی الفور کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے منتقل کیا جائے۔ بلوچستان کی غیرآباد زمیں آباد اور باقی پاکستان کو آلودہ پانی سے نجات ملے گی۔ دنیامیں کیا ہورہاہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟۔ جس طرح انسانی جسم قدرت کا حسین شاہکار ہے۔ کھانے پینے اور ہگنے وپیشاب کرنیکی راہیں ایک ہوجائیں توپورا جسم بدحال ہوجائے۔ ان حکمرانوں کی مسیحائی کے سہارے بیٹھنا زیادتی ہے جو قوم کی تباہی کو پیشہ بناچکے ،پاکستان کے اندر میٹھے پانی کی اتنی صلاحیت ہے کہ کراچی کی ندیاں شفاف پانی سے مالامال ہوں۔ بڑی سڑکوں پر گرین بیلٹ، نہریں اور چھوٹی سڑکوں پر نالے بنیں اور عوام فائدہ اٹھائیں۔ ابھی تو کچی آبادی کیا، متوسط طبقے بھی نہیں ڈیفنس والے بھی پانی سے محروم ہیں۔ سندھ کی زرعی آبادی کیلئے کالاباغ ڈیم ضروری ہے، سندھ کو نہری نظام کے ذریعے بنجر ہونے سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ دریائے سندھ کبھی طوفان نوح اور کبھی کربلا کا منظر پیش کرتا ہے، دنیا آسمانی پانی کی تسخیر پر عمل پیرا ہے اور ہم بہتے پانی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں۔کالاباغ ڈیم بن جائے تو جب دریا خشک ہوتاہے توپورادریا ڈیم بن سکتاہے، نہ صرف دریا بلکہ جگہ جگہ بڑے مصنوعی ڈیم بنادئیے جائیں تو پاکستان سرسبزوشاداب ہوگا، باغات و جنگلات کی وجہ سے بارشیں برسیں گی ،پانی کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا، نہری نظام اور گندے نالوں کا جال پاکستان کو فطری زندگی سے مالامال کردے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ ہم نے پانی سے ہر جاندار کو زندگی بخشی ہے‘‘ ۔پانی کا مسئلہ حل کئے بغیر بہتر مستقبل کا خواب پورانہ ہوگا۔
3: پاکستان کے شہری علاقوں میں سڑکوں پر ہجوم کا معاملہ روزانہ خوامخواہ کی اذیت ہے۔ جہاں سرکاری املاک ہوتے ہیں وہاں بھی سڑک انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ سرکار عوام کی خادم ہو تو سب سے پہلے سرکاری املاک کی بہت بڑی کٹوتی کرکے راہ دکھائی جائے کہ جہاں عوام کو تکلیف نہ ہوگی وہاں زمین اور مارکیٹوں کا بھاؤ بھی نسبتاً بہت زیادہ ہوگا۔ گورنمنٹ کے اداروں کیلئے زمین کونسا بڑا مسئلہ ہے، لینڈ مافیا سے مل کر حکومت اور عوام کے املاک پر قبضے کا سلسلہ کب سے جاری ہے؟، مقتدر طبقہ اپنے مفاد میں اندھا ہونے کے بجائے قومی مفاد اور عوام کے مفادات کا بھی خیال رکھے ،لیاری ایکسپریس وے کے مکینوں کوگھروں سے محروم کیا جارہاہے اور بدلے میں 50ہزار روپے دئیے جارہے ہیں؟۔ کیا غریبوں کی بدعا ان لوگوں کو نہیں لگے گی؟۔ حکومت کیلئے مشکل نہ تھا کہ فلیٹ یا گھر بناکر دیتی مگربے حس اور مفاد پرست طبقہ حکمرانی کے مزے لیتاہے۔ منصوبہ بندی کرکے تمام شہروں کی شاہراہوں کو وسیع کیا جائے، ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ شریعت میں قبرستان اور مساجد کو بھی راستہ بڑا کرنے کیلئے مسمار کیا جاسکتاہے۔ پنجاب کی آبادی بہت بڑی ہے، جنوبی پنجاب کو ملتان سے اسلام آباد تک موٹر وے کے ذریعے میانوالی کی صراط مستقیم سے ملایا جائیگا تو اسکا فائدہ کراچی سندھ اور کوئٹہ بلوچستان کشمیر ، گلگت بلتستان، ہزارہ کے علاوہ پنجاب کو بھی ہوگا ٹریفک کی آلودگی سے بچت ہوگی۔ بڑی مقدار میں فیول اور انرجی بچے گی۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں کو بہترشاہراہوں کے ذریعے ملایا جائے توپوری قوم موسم کیمطابق پاکستان کے ہر علاقہ سے فائدہ اٹھا ئیگی۔ بابائے قوم گرمی کی چھٹیاں زیارت میں گزارتے تھے، حکمرانوں نے پہاڑی علاقوں میں محلات بنا رکھے ہیں تو عوام بھی اپنی اوقات کے مطابق گرمیوں کا موسم پہاڑی علاقے میں گزارسکتے ہیں۔
4: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خداداد صلاحیتیں دی ہیں، کوئی ذہنی صلاحیت رکھتاہے اور کوئی جسمانی صلاحیت رکھتاہے۔کوئی بھی قوم ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو ذہنی کاموں پر لگادیتی ہے اور جسمانی صلاحیت والوں کو جسمانی صلاحیت پر لگادیتی ہے تو وہ بلندی وعروج حاصل کرلیتی ہے اور جو اسکے برعکس جسمانی صلاحیت والوں کو ذہنی اور ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو جسمانی کام پر لگادیتی ہے تو وہ گراوٹ و پستی کا شکار ہوجاتی ہے۔ نوازشریف اور شہباز شریف میں قائدانہ صلاحیتیں نہ تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کو پروان چڑھایا جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں صلاحیت تھی تو ایوب خان نے ان کا درست انتخاب کیا تھا، جب بھٹو نے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا اورایوب خان کو چھوڑ دیا تو عروج کی منزل حاصل کی مگر ڈکٹیٹر کے اثر نے خوئے جمہوریت کھو دی۔ اب بلاول بھٹو زرداری، حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز میں قائدانہ صلاحیت تو دور کی بات ذہنی صلاحیت بھی نہیں اور ملالہ یوسف زئی میں ایک غریب کی بچی ہونے کے باوجود قائدانہ صلاحیت ہے۔ جب امیر وغریب کو تعلیم کے یکساں مواقع مل جائیں تو ذہنی صلاحیت امیر وغریب کے بچے میں ہو تو قوم کو قابل ڈاکٹر، انجینئراور تعلیم یافتہ طبقہ ملے گا۔ جن میں ذہنی صلاحیت نہ ہو تو وہ قوم پر نالائق بن کر بھی بوجھ نہیں بنے گا۔ جاگیردار کا بچہ ذہنی صلاحیت سے محروم ہوکر ڈاکٹر بنے اور غریب کا بچہ ذہنی صلاحیت سے مالامال ہوکر بھی کھیتی باڑی کرے تو قوم کا مستقبل کبھی نہیں بن سکتاہے۔ پاکستان میں مزارعت پر پابندی لگائی جائے تو جاگیردار زمین کاشت کریگا یا مزراع کو مفت میں دیگا۔ جس مزارع کو مفت میں کاشت کیلئے زمین مل جائے تووہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دلواسکے گا۔ والدین بچوں کو تعلیم دلاسکیں تو بچوں پر مزدوری نہ کرنے کی پابندی لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔پھر بلاول زرداری، حسن و حسین نواز جیسے لوگ کھیتی باڑی کرینگے اور قابل لوگ آگے آئیں گے۔
5: میاں بیوی ، حکمران رعایا اور طاقتور کمزور کے حقوق کا تعین ہوجائے اور معاشرہ شعور سے مالامال ہوجائے تو ظلم وجبر کا خود بخودخاتمہ ہوگا اور اعلیٰ اخلاقی قدریں تہذیب وتمدن کا حصہ بن جائیں گی۔ النساء کی آیت19میں عورت کو خلع کا حق اور20میں شوہرکوطلاق کا حق اجاگر کیا جائے تو99%شوہروں کے غیر اخلاقی اور تشدد کے رویہ میں فرق آئیگا۔ اس طرح طلاق کی درست تعبیر سامنے لائی جائے تو 100%عوام رمضان کے مہینے میں تین عشرے کی طرح تین مرتبہ طلاق اور آخری عشرے میں مساجدمیں اعتکاف کی طرح حلالہ کا مسئلہ سمجھ میں آجائیگا۔ حقوق کا مسئلہ حل ہوگا تو لوگ قرآن کے وعظ سے مستفید ہونگے۔

کوئٹہ سے سوات تک علماء اُٹھ جائیں

کوئٹہ (عبد العزیز، محمد زبیر) کچلاک کے معراج خان ولد ملک باز محمد خان کا تعلق جمعیت علماء اسلام (ف) سے تھا۔ پھر الگ ہوا کہ جمعیت نے قرآن و سنت کے بجائے دنیاوی اقتدار کو اپنا نصب العین بنالیا ۔ پھر خوابوں کی بشارت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حکم ملاکہ امام مہدی کیلئے تحریک خراسان پاکستان کی بنیاد پر کام کرے۔ وہ بڑے درد ناک انداز میں پشتو اشعار پڑھتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے ۔ ہمارا کالا جھنڈا ہے جو خوبصورت بلند ہے ۔ حق کی یہ نشانی ہے۔ پانچ اس میں ستارے ہیں اور دوسرا یہ کہ چاند اس میں واضح ہے۔ میں کتاب سے بولتا ہوں ، بڑی قیامت کے باب سے مسلم عالی جناب !مشکوٰۃ ، ترمذی ، ابن ماجہ میں یہ لکھا ہوا ہے ، جانان ﷺ کی حدیث ہے ، تحریک خراسان کی ہے ، یہ بہت بڑا بخت ہے اے مسلماں!۔ اے اُمت! اگر تم شامل ہوجاؤ ، یہ امام مہدی کا لشکر ہے ۔ یہود ہوں کہ نصاریٰ ، بیت اللہ کے اوپر قابض ہیں اور وہ سچے گمراہ ہیں۔ بیت المقدس پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہے۔ سب ایک بات پر متفق ہوجاؤ ۔ تو کفر کی سرداری ٹوٹ جائیگی ۔ حق تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے ۔ قرآن کو دہشت گرد کہا جائے، یہ فرعونی دعویٰ ہے۔ میں طالب خراسان کا ہوں ، پورے جہان کیلئے اٹھ کھڑا ہوں، میں بے بس و کمزور ہوں۔ اللہ آپ مدد کرو ، مدینہ پریشان ہے۔
جولائی 1999ء میں ضرب حق کی مین لیڈ لگی مولاناامیر حمزہ بادینی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام (س) نے فرمایاکہ عتیق گیلانی کی حمایت کے بارے میں کچھ دوستوں سے مشورہ کیا لیکن دوستوں نے اجازت نہیں دی۔اللہ کے فضل سے حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی 25اپریل 1999ء کومدینہ منورہ میں استخارہ کیا ، مجھے بشارت ہوئی کہ سید عتیق الرحمن گیلانی اُمت مسلمہ کا خیر خواہ ہے۔ مولانا بادینی نے علماء کرام ، بزرگان دین اور عوام سے کہا کہ وہ ملکر شاہ صاحب سے تعاون فرمائیں۔ حال ہی میں ٹانک وزیرستان کے مولانا عصام الدین محسود نے گیلانی کے اہداف کو درست اور علماء کی روش کو غلط قرار دیا تھا۔

فیصل رضا عابدی سے ملاقات

کراچی( اجمل ملک چیف ایڈیٹر) پہلے ڈاکٹر احمد جمال کے ہمراہ سید فیصل رضاعابدی سے ملاقات ہوئی۔ پھر گیلانی صاحب کیساتھ ملاقات کی۔ کچھ اہم نکات سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے، ہمارا مقصد غلط فہموں کو دور کرکے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ فیصل عابدی ایک دلیر مذہبی اور سیاسی کارکن ورہنما ہیں۔ اُمید ہے کہ درست مؤقف سمجھ میں آیا تو پیش بھی کرینگے۔ فیصل رضاعابدی نے یہ بتادیا کہ ناسا کی رپورٹ ہے۔’’ 2023ء میں پوری دنیا پر ایک مسلمان حاکم ہوگا۔ وہ امام مہدی ہی ہوسکتے ہیں‘‘۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ بہت جلد اس سے پہلے ہی یہ ہوجائیگا۔ مگر ہمیں کچھ حقائق کی طرف دیکھنا ہوگا۔ شیعہ سنی کی لڑائی اس بات پر ہوگی کہ تراویح بدعت یا ماتم بدعت ہے تو بات نہیں بنے گی،فیصل رضا عابدی نے کہاکہ یہ منافقت ہے کہ جو رسول کی آل پر درود نہیں بھیجتے۔ نماز میں ہم سلام کہتے ہیں اور نماز کے بعد اہلبیت کو علیہ السلام نہیں کہتے۔ رضی اللہ عنہ اور سلام میں یہ فرق ہے کہ جو پہلے کافر تھا، پھر مسلمان ہوا تو اس سے اللہ راضی ہوا، علیہ السلام اس کیلئے ہوتا ہے جس کو پہلے سے اللہ نے پاک قرار دیا ہو، آیت تطہیر جنکے بارے میں نازل ہوئی۔ جن کو مباہلہ میں بھی اہلبیت قرار دیا گیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ حق علی کیساتھ ہے اور علی حق کیساتھ ہے، جس نے علیؓ سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی۔ جس نے علیؓ سے جنگ کی وہ رضی اللہ عنہ کیسے رہا۔ اس پر لعنت بھجیں گے یا رضی اللہ عنہ کہیں گے؟۔ گیلانی صاحب نے بتایا کہ فرعون کی اولاد نہ تھی مگر قرآن میں آلِ فرعون سے مراد اسکے پیروکار ہیں۔ علیؓ سے لڑائی کے بارے میں تاریخی واقعات ہیں، احادیث پر اتفاق اور اختلاف ہے لیکن قرآن پر تو کوئی اختلاف نہیں۔ سورۂ مجادلہ میں عورت کا نبیﷺ سے جھگڑے کا ذکرہے جس میں اللہ نے وحی بھی عورت کے حق میں اتاری، بدری قیدیوں پر فدیہ لینے کی مشاورت ہوئی، علیؓ اور دیگر صحابہؓ کی اکثریت کا مشورہ یہ تھا کہ فدیہ لیا جائے۔ حضرت عمرؓ کا مشورہ تھا کہ فدیہ نہ لیں تو اللہ نے وحی اتاری کہ ’’ نبی کیلئے یہ مناسب نہ تھا کہ اسکے پاس قیدی ہوں یہانتک خوب خون زمین پر بہادیا جاتا‘‘۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شیعہ ایڈوکیٹ سے میں نے کہا کہ تمہارا یہ عقیدہ کہ اگر امام کہے کہ کل میں یہ کام کرونگا تو یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ خلاف ورزی کرے لیکن قرآن میں نبیﷺ کے بارے میں ہے کہ اصحاب کہف کی تعداد کے وعدے پر وحی بند ہوئی ۔ جس پر اس نے کہا کہ میری سوچ بدل گئی ہے مگر چند دن بعد ان کو شہید کردیا گیا۔
فیصل رضاعابدی نے سلام کا فلسفہ ٹھیک پیش نہیں کیا، نماز میں نبیﷺ پر سلام کے بعدہم خود پر اور صالحین بندوں پر سلام کی دعا کرتے ہیں۔سلام تو ایکدوسرے اور اہل قبور کو بھی کرتے رہتے ہیں۔ صحابہؓ کو رضی اللہ عنہ کی سند قرآن نے دی اور سلام تو عام لوگوں کے علاوہ جاہل کو بطورِ مذمت بھی پیش کیا جاتاہے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہیگا تو بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گا۔ اللہ توقیق عطاء کرے۔جامعہ اسلامیہ کلفٹن کے مہتمم مفتی محی الدین کے صاحبزدے مفتی طلحہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ طلاق کے مسئلہ پر امت پریشان ہے اگر سید عتیق الرحمن گیلانی کی ہمارے مدرسے کے علماء ومفتیان کی ٹیم سے ایک ملاقات ہوجائے تو بہتر ہوگا۔ گیلانی صاحب وہاں طے شدہ وقت کیمطابق ہمارے ساتھ گئے لیکن مفتی طلحہ صاحب کہیں جنازے پر گئے تھے ، انکے والد مفتی محی الدین سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت اور دیگر مسائل کیلئے دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوری ٹاؤن ہیں ، ہم ان مسائل پر بات نہیں کرتے، گیلانی صاحب نے نصاب پر فقہ حنفی کے مسلک کے حوالہ سے بات کرنے کا کہا لیکن انہوں نے کہا کہ اتھارٹی میری ہے اور جب میں اس کی اجازت نہیں دیتا تو جامعہ اسلامیہ کے اساتذہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ہیں۔
گوجرانوالہ میں ہم مفتی خالد حسن کے پاس گئے وہاں ہمیں بڑا حوصلہ ملاتھا، ہمارا پروگرام نصرت العلوم جانے کا بھی تھا مگراقبال صاحب نے دعا کرانے کی بات پرا حوال سے آگاہ کیا تو ہماری ہمت ٹوٹ گئی، ایک دوست کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افسر خالد عمر سے ملاقات کی تھی اگلے دن پھر ملاقات کرنی تھی مگرپھرہم چلے گئے، اکابر علماء تعاون کریں تو خوشگوار ماحول پیدا ہو، اجمل ملک

اداریہ نوشتۂ دیوار(ملکی مافیا کا قومی بیانیہ)

صدر ممنون نے قومی اسمبلی میں کہا ’’ قومی بیانیہ کو پوری قوت سے متحد ہوکر پیش کرنا ہوگا‘‘ مگر قومی بیانیہ ہمارے ٹی وی ٹاک شوز پر مختلف خبروں اور تجزیوں میں بزبانِ حال یہ ہے کہ
اسٹیبلشمنٹ اور انکے کارندے پیپلز پارٹی کو بھارت ، محمودخان اچکزئی کو ایران اور مولانا فضل الرحمن کو افغانستان جبکہ ن لیگ کو امریکہ سمجھتے ہیں۔ زرداری نے 11 سال جیل کاٹی ، 450کھرب کرپشن اور دہشتگردوں کا سہولت کارڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میں رہا۔ ن لیگ نے ڈان لیکس میں فوج کو ناکوں چنے چبوادئیے تو اسٹیبلشمنٹ کے رضاکار وں نے کہا کہ اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن ن لیگ کیساتھ ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ امریکہ پاکستان تباہ کرتا تو ایران و افغانستان کو تکلیف ہوتی؟۔ گدھے گدھی کا رومانس بھی جنگ لگتاہے۔
محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے نزدیک فوج ن لیگ کے ہاتھوں جتنی ذلیل و خوار ہوجائے تو مضائقہ نہیں، اسلئے کہ ن لیگ کی فوج سے امریکہ وپاکستان کی بڑی دوستی ہے۔ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ۔نام نہادجمہوریت ،عدلیہ اور فوج ایکدوسرے کو ذلیل کرنیکی کوشش کرینگے تو دوسرے تالی بجائیں گے۔ پرویز مشرف اردو اسپیکنگ مہاجر تھا تو گومل ڈیم و تربت ڈیم بنایا ،بھاشاڈیم اور گوادر سی پیک کی بنیاد رکھی ، کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے، بلوچستان اور وزیرستان کے دور دراز علاقوں میں ترقیاتی کام کئے، ملک کو قرضوں سے چھٹکارا دلایا ،سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاکر پاکستان کو عالمی قوتوں سے بچایا۔ اشفاق کیانی پر خود کش حملہ نہ ہوا۔ کرپٹ جرنیل کو میڈیا نے بڑاامیج دیکر پیش کیا ۔ جنرل راحیل شریف نے کرپٹ مافیا کو لگام دینے کی کوشش کی اور فوج کے کردارکوبڑی حد تک بہتر بنایا۔
ن لیگ فوج کو اس حد تک زیر اثر لائی کہ آئی ایس پی آر نے رد الفساد کابیان دیا کہ ’’10 دہشتگرد مارے گئے، 3فوجی شہید ہوئے اور خود کش جیکٹ برآمد ہوئے‘‘۔ تو روزنامہ دنیا میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بھی خبر لگی کہ ’’واہ کینٹ میں خود کش جیکٹ کیسے پہنچے؟، یہ سب جانتا ہوں مگر ایک ذمہ دار عہدے پر ہونے کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کرسکتا ‘‘۔ ڈان لیکس کچھ بھی نہیں اسکے مقابلے میں لیکن کسی نے اس کو نہیں اٹھایا۔ شیخ رشید کو مولانا فضل الرحمن کی حیثیت افغانستان اور محمود خان اچکزئی کی ایران کی لگتی تھی اسلئے کہا اگر ڈان لیکس پر فوج نے قدم اٹھایا تو مولانا فضل الرحمن فوج کیخلاف نہیں جائیں گے، فوج خود لیٹ گئی تو مولانا فضل الرحمن کیا کرتے؟۔قومی بیانیہ کردار سے بنتاہے، گفتار سے نہیں۔
شہباز شریف جسطرح سابق صدر زرداری کو چوکوں پر لٹکانے ، سڑکوں پر گھسیٹنے اور انواع و اقسام کی گالی گلوچ سے نوازتا ، ڈوگر کیخلاف جالب کے اشعارگا کر دستوراور آئین کو نہ مانتا حالانکہ اسکی صوبائی حکومت بیساکھی پر کھڑی تھی تو موجودہ حکومت کے خاتمہ پر نہال ہاشمی اور وزراء کا رویہ کیا ہوگا؟۔ افتخار چوہدری کی عدالت میں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر جنرل اشفاق کیانی کیساتھ پیش ہوا ، جسٹس سجاد علی شاہ پر ہلہ بول دیا، جسٹس قیوم کو خرید لیا ۔ بھٹو کی پھانسی پر جنرل ضیاء کی برسیاں مناتا، اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی سے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر پیسے لئے، تو یہ کونسا مذہب ،نظریہ اور یہ کونسی سیاست ہوسکتی ہے؟۔
ن لیگی رہنما کبھی نہ کہتا کہ’’ آئی ایس پی آر جنرل باوجوہ اب بندوق کی نالی میں رسی ڈال کر صاف کریگا ‘‘ اگر ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر نعیم اللہ باجوہ کی بے عزتی پر ایکشن لیتا۔ ن لیگ کے ایم این اے پرویز خان کورنگے ہاتھوں پکڑلیا تو گلو بٹ سے زیادہ سزا کے لائق ڈاکٹر نعیم اللہ باجوہ کو ڈانٹنے پر عابد شیر علی تھا۔مارشل لاء کے گودی بچے ن لیگ کا وطیرہ ہے کہ انکے گناہوں سے چشم پوشی نہ کرنا بھی جرم ہے، اب یہ جے آئی ٹی اور عدلیہ کیخلاف چیخ و پکار اور دہشت مچائے ہوئے ہیں۔ یہ جمہوری کلچر نہیں مافیا سے بھی بڑا کردار ہے۔
کسی نے آنکھوں میں دھول کیا جھونک ڈالی اب میں پہلے سے بھی بہتر دیکھتا ہوں
قومی بیانیہ یہ ہے کہ عدلیہ نے 2/3سے مہینوں فیصلہ محفوظ رکھ کر عدالت نہیں سیاست کی اور پھر جے آئی ٹی بناکر مریم نوازکا نام نکال دیا۔ پارلیمنٹ کی تقریرکے ثبوت اور قطری خط کے تضادنے وزیراعظم کا احرام کھول دیا۔ کتاب سے صفحات غائب نہ تھے بلکہ جھوٹ کا پلندہ تھا۔ عدلیہ نے روزانہ کی بنیاد پر جو سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد کافی وقت لگایا، یہ سب انصاف نہیں بلکہ نام نہاد سیاہ غلاف تھا۔ جن کو جے آئی ٹی قبول نہ تھی وہ اس کی حمایت میں آگئے، ججوں سے سوال پوچھا جائے کہ تم نے سیاست کرنی ہے یا عدالت؟، اب تو خواجہ سعد رفیق یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو سازش اور سیاست قرار دیتاہے۔ یہ بتایا جائے کہ فوج ، عدلیہ اور ن لیگ سب مل کر مافیا کا کردار ادا نہیں کررہے ہیں؟۔ یہ سب آپس میں ایک ہیں، صرف عوام کی آنکھوں میں زیادہ دھول ڈالنے کی ضرورت اسلئے ہے کہ ’’ الیکٹرانک میڈیانے شعور کو بیدار کیاہے‘‘۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد اس کا بیٹا اور یوسف رضا گیلانی کا بیٹا اغواء ہوا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ڈاکٹر عاصم پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگا۔ ذوالفقار مرزا نے عذیر بلوچ کو پالا، زرداری پر الزام لگانے سے پہلے مرزا کو کیوں نہیں پکڑا گیا؟۔پیسوں سے بھری کشتیاں پکڑی گئیں تو پیسے کہاں گئے؟۔ کیا مافیا مل کر اس کو کھارہا ہے؟۔ ن لیگ کی فوج اور عدلیہ کے سائے میں پلنے اور نمک حرامی کی تاریخ رہی ہے۔جلاوطنی کے بعد نوازشریف آیا تورؤف کلاسرانے سکیورٹی فورسز کا لکھ دیا کہ ’’ ایک ڈکٹیٹر کے کہنے پر سپاہیوں نے کتوں کی طرح سابق وزیر اعظم کو گھسیٹا‘‘ ۔ اسوقت کوئی ن لیگی رہنما اور کارکن ائیرپورٹ نہ آیا۔دوبارہ نوازشریف آیا تو نعروں کے جواب میں کہا ’’چپ کرو، تم کہتے تھے کہ نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر مجھے ہتھکڑی پہناکرلیجایا جارہا تھاتو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا‘‘۔بھڑکیاں مارنے والوں نے میاں شریف کا جنازہ بھی نہ پڑھا ۔دھرنے کے موقع پر ن لیگی وزارء پناہ کیلئے حامد میرکے گھر گئے تھے۔ ڈوب مرنے کومیراجی چاہتاہے ، شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ڈان لیکس کے مسئلہ پر پاک فوج کو فتح کرنے کے بعد عدلیہ اور جے آئی ٹی کے ارکان کیلئے تسلسل کیساتھ جوزبان وزراء استعمال کرر ہے تھے ،جوشیلے مہاجر نہال ہاشمی نے کلمہ پڑھ کر کہا کہ’’ میں نے کسی کو دھمکی نہیں دی‘‘ ۔ اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ میں خوب کہا کہ ’’ضرورت پڑتی ہے تو یہ لوگ ٹانگ بھی پکڑ لیتے ہیں،ویسے تکبرو رعونت سے انکے گردنوں میں سریہ ہوتا ہے‘‘۔ ماڈل ٹاؤن میں بندے ماردئیے لیکن غریبوں کو انصاف نہ مل سکا۔ اب طاقتور فوج بھی ڈان لیکس کے معاملہ میں مظلوم عوام کی صفوں میں کھڑی ہوگئی ہے۔
امامت کے قابل بننے سے پہلے قوم کا تزکیہ ہے، پرویزمشرف کا دور تزکیہ میں گزرگیا، فوج کے جونئیر لوگ طالبان کے ہاتھوں شہید ہوتے مگر جواب نہیں دے سکتے تھے اسلئے کہ قوم طالبان کیساتھ کھڑی تھی ، ڈان لیکس کے معاملے پر فوج کے بڑوں کا بھی تزکیہ ہوگیا۔ بلوچستان کی بلوچ عوام، کوئٹہ میں ہزارہ اور دیگر لوگوں کا تزکیہ، قبائلی علاقہ جات و کراچی کی عوام اور عدلیہ کے ججوں کا تزکیہ اوراے این پی کے قائدین وکارکنوں کا تزکیہ، مساجد وامام بارگاہوں کا تزکیہ بھی ہوچکاہے۔ انقلاب کے ذریعہ پنجاب شریف کا بھی تزکیہ ہوگا۔شہباز شریف یہ کہنے کے بجائے کہ سپریم کورٹ صرف ایک شریف خاندان کا احتساب نہ کرے یہ کہتاکہ ’’پہلے ہمیں سڑکوں پر گھسیٹا ،چوکوں پر لٹکایا جائے، دوسروں کی باری بھی آجائیگی‘‘۔
قرآن کو عملی جامہ پہنانے کا نام سنت ہے۔ جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت سے انقلاب برپا ہوگا۔ سفر میں 2، 3 افرادجارہے ہوں تب بھی ایک کو امیر بنانے کا حکم ہے، نمازکی امامت تربیت ہے، مختلف ممالک کے حکام بھی شریعت کا تقاضہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے پہلے قرآن، پھر سنت اور پھر اجتہاد کے ذریعے فیصلے کا کہا تونبیﷺ نے پسند فرمایا۔ قرآن کو چھوڑ کر احادیث کو مسلک بنایااور احادیث کو چھوڑ کر اجتہادی مسائل کی تقلید کی۔ یہ الٹی گنگا سیدھی کرنی ہوگی۔ گھر کاسربراہ مرد ہوتا ہے لیکن شوہر بیوی اورباپ بچوں کا مالک نہیں ۔ حکمران اوررعایا کے ایکدوسرے پر حقوق ہوتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کے مطابق میاں بیوی کے درمیان حکمرانی اور حقوق کا درست تصور پیش ہوگا توملکی معاملات میں بھی حکمران ورعایا کے حقوق کا درست تعین ہوگا اورپھر عالم اسلام ہی نہیں، دنیا کے انسان بھی قرآن کے مطابق طلاق اور خلع کا معاملہ رائج کرینگے۔ علماء کرام علمی حقائق کی طرف توجہ دیں اور جاہلوں سے چھٹکارا پائیں۔ ایجنٹ علماء ومفتیان ، مذہبی سیاستدان اور مجاہدین آخرت نہیں دنیا کے طلبگار ہیں۔

فوج کا قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا بڑے انقلاب کی ابتداء ہے. ملک اجمل

نوشتہ دیوار کے ایڈیٹرمحمد اجمل ملک نے ڈان لیکس پر تبصرہ کیا کہ یہ نئی صورتحال قوم کو نجات دلانے کاذریعہ ہے۔ فوج نے ڈان لیکس کا فیصلہ مسترد کرنے کے بعد قبول کرکے شعور کا ثبوت دیا ہے، سرحدات کی تشویشناک صورتحال کے علاوہ اپوزیشن کا منافقانہ طرزِ عمل اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی طرف سے ردالفساد کیخلاف ہرزہ سرائی ریاست کی تباہی کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن سکتا تھا۔ چوہدری نثار نے یہ کہہ کر کہ ’’مجھے ذمہ دار عہدے کی وجہ سے اس بات کی اجازت نہیں کہ کچھ بول سکوں‘‘ بہت کچھ بول دیا ۔ ڈان لیکس سے زیادہ سنگین معاملہ وزیرِ داخلہ کایہ بیان تھا۔ ریاستی اداروں کو قوم اور حکمرانوں کی تائید کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئی ایس پی آر کا ڈان لیکس کے فیصلے کو مسترد کرنا فطری بات تھی لیکن جب حکومت و اپوزیشن دونوں نے مل کر آئی ایس پی آر کا بیان مسترد کردیا تو پاک فوج کیلئے عزت کا راستہ یہی تھا کہ جیسے تیسے فیصلے کو قبول کرلیا جائے۔ جن لوگوں کی چاہت یہ تھی کہ آرمی حکومت کا دھڑن تختہ کرے، فوج نے ان کی خواہش کی تکمیل نہ کرکے بہت اچھا کیا، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بہت تحمل و بربادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت اور کسی اور کیخلاف انتقامی کاروائی نہیں کر رہے ہیں۔ بھاگے ہوئے زرداری واپس آگئے ، مریم نواز بھی خیر سے واپس آجائیں گی۔ ڈان لیکس کی جعلی رپورٹ کا اصل موضوع منظر عام پر نہیں تھا بلکہ میڈیا پر پاک فوج کا ٹرائیل ہورہا تھا۔ اصل بات یہ تھی کہ شہباز شریف نے ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر کو ڈانٹا تھا یا نہیں؟۔ شہباز شریف جنرل راحیل کے سامنے خواب و خیال میں بھی جسارت نہیں کرسکتا۔ مریم نواز نے ایک تیر سے دو شکار کئے، ایک فوج سے انتقام ،دوسرا شہبازکو قربانی کابکرا بناناچاہا مگر سب تدبیریں الٹی ہوگئیں۔
ڈان لیکس کا اصل معاملہ یہ تھا کہ شہباز شریف اتنا بڑا ڈان نہیں کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ڈانٹ ڈپٹ کرسکے۔ پاک فوج کو اس نازیبا حرکت پر غصہ آیا تھا۔ حکومت نے خود بھی اس کو بہت بڑی سازش قرار دیا، جب کئی مہینوں کے بعد ان لوگوں کو مجرم قرار دیا گیا جو اس کھیل کا حصہ بھی نہیں تھے تو آئی ایس پی آر نے اس کو مسترد کیا، اپوزیشن لیڈرسید خورشید شاہ نے آئی ایس پی آر کے بیان کو معقول قرار دیا لیکن آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر اور اعتزاز احسن کا بیان آیا کہ ’’ آئی ایس پی آر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وزیراعظم کے فیصلے کو مسترد کردے‘‘۔ حالانکہ اس بیان کی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے بھی تردید کی تھی۔ آئی ایس پی آر تو ایک فریق تھا مگرچوہدری نثار نے کس طرح وزیراعظم ہاؤ س سے جاری ہونے والے بیان کی تردید کی تھی؟۔ چوہدری نثار نے آئی ایس پی آر کے بیان کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ گدھے سے کسی نے پوچھا کہ ڈھینچو ڈھینچو کیوں کرتے ہو؟۔ تو اس نے کہا کہ لوگوں کو ڈراتا ہوں۔ پھر پوچھا کہ ٹیٹ کیوں مارتے ہو؟، تو اس نے کہا کہ خود بھی تو ڈرتا ہوں۔ چوہدری نثار نے اپنے بیان میں دونوں کام کئے تھے۔
حکومت عوام کو بچوں کی طرح بے شعور نہ سمجھے۔ وزیراعظم ہاؤس اور جی ایچ کیو کے درمیان اس لڑائی کو اس طرح کا رنگ دیناغلط ہے کہ گویا یہ گدھا اور گدھی کا کوئی جنسی اسکنڈل تھا، گدھے کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ دانت نکال کر گدھی پر چڑھ دوڑتا ہے، گدھی لاتیں مارتی ہے ، دیکھنے والے اس گھمسان کی جنگ سے پریشان ہوکر سمجھتے ہیں کہ کمزور جنس اپنی جان سے جائیگی، اچانک پھر پتہ چلتا ہے کہ سیٹلمنٹ ہوگئی ہے اور قصہ ختم۔ کہتے ہیں کہ گدھے کی محبت لات مارناہے۔ فوج اور حکومت کے درمیان جس ڈرامائی انداز میں رومانس کا کھیل اپنے اختتام کو پہنچاہے وہ بڑا انوکھا طرزِ عمل ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کا بیان قانون کی بالادستی اور طاقتور ترین ادارے فوج نے اس کو قبول کیا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ طاقتور لوگ قانون کو مانتے نہیں۔ پاک فوج نے قانون کی بالادستی تسلیم کرکے قوم کو نئی راہ پر ڈالا ہے۔ یہ زبردست انقلاب کا پیش خیمہ ہے کہ طاقتور ترین ادارے نے قانون کی بالادستی قبول کرلی ہے۔ اس کی مثبت انداز میں بڑے پیمانے پر اتنی تشہیر کرنے کی ضرورت تھی کہ ہر طاقتور اپنی سطح پر قانون کے سامنے جھک جائے لیکن افسوس کہ اس کو منفی انداز میں پیش کرکے قوم ، ملک اور سلطنت کا جنازہ نکالا جارہا ہے۔جب مسلمانوں کو غزوہ بدر میں فتح کے بعد تنبیہ کی گئی کہ’’نبی کیلئے یہ مناسب نہ تھا کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ خوب خون بہاتے، تم دنیا چاہتے ہو، اللہ آخرت چاہتاہے، اگر پہلے سے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تو سخت عذاب دیتا، جن لوگوں سے فدیہ لیا گیا، اگر انکے دلوں میں خیر ہے تو اللہ اسکا بہتر بدلہ دے گا اور اگر انکے دلوں میں خیانت ہے تو اللہ ان سے نمٹ سکتا ہے‘‘۔ قرآن کی وحی سے یہ مسلمانوں کا تزکیہ ہورہاتھا، ان کو حکمت عملی کی تعلیم دی جاری تھی پھر جب مسلمانوں نے غزوہ احد میں شکست کھائی تو بدلہ میں تجاوز کرنے کی قسمیں کھانے لگے لیکن اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہیں زخم لگا ہے تو ان کو بھی پہلے لگ چکا ہے۔ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ وہاں تک نہ لے جائے کہ تم عدل نہ کرو اور انہوں جتنا کیا ہے ، اتنا ہی تم بھی کرسکتے ہو، اگر معاف کردو، تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے، معاف ہی کردو اور معاف کرنا بھی اللہ کی توفیق کے بغیر تمہارے لئے ممکن نہیں‘‘۔ شکست میں بھی تزکیہ ہی کیا جارہا تھا، پھر جب مسلمانوں کا اچھا خاصا تزکیہ ہوگیا، حکمت سیکھ گئے تو صلح حدیبیہ کامعاہدہ ہوا، جو مسلمانوں کیلئے قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں تھا لیکن اللہ نے اس کو فتح مبین قرار دیدیا۔
کوئی بھی ایسا ماحول نہیں چاہتا جس میں اپنی خواہشات کے برعکس معاملہ سامنے آجائے مگر اللہ تعالیٰ اس سے انسانوں کو دوچار کردیتا ہے۔ امریکہ سے جنگ لڑنے والے طالبان کی پشت پر مسلمان ہی نہیں پوری دنیا بھی خفیہ طور سے کھڑی تھی ، نیٹو کو شکست دینا آسان نہ تھا مگر مجاہدین نے سینہ سپر ہوکر زبردست قربانیاں دیں۔ ان لوگوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ تزکیہ وحکمت سے محروم تھے اس لئے ایک اچھے موقع کا غلط فائدہ اٹھایا، خود کو بھی تباہ کیا اور اپنے چاہنے والوں کو بھی تباہ کیا۔آج ن لیگ کو ایک موقع ملا ہے ،پاک فوج تو ریاست کی ملازم ہے ، کوئی کسی کا ذاتی غلام ہو تب بھی اسکے ساتھ زیاتی کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ جب دھرنے کے موقع پر نوازشریف نے راحیل شریف سے کردار ادا کرنے کی گزارش کی تو خورشید شاہ نے گرج برس کر کہا کہ ’’یہ تم نے کیا کیا؟‘‘ نواز شریف نے کہا کہ ’’میں نے جنرل راحیل سے کوئی کردار ادا کرنے کیلئے نہیں کہا‘‘، آئی ایس پی آر نے پھر وضاحت کردی لیکن خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ وزیراعظم کا کام حکم دینا ہوتا ہے درخواست کرنا نہیں‘‘۔ حالانکہ وزیراعظم کا کام اپنی حدود وقیود کے اندر رہ کر حکم دینا تھا اور دھرنے کو روکنا، ان سے بات چیت کرنا اور سیاسی طور سے ڈیل کرنا فوج کی ذمہ داری تھی اور نہ ہی اس کا وزیراعظم حکم دے سکتے تھے۔ ن لیگ عدالتوں پر تو چڑھ دوڑنے اور آرمی چیف جہانگیر کرامت کو ذلیل کرکے ہٹانے کا قصہ بھی رکھتی ہے اور اگر پرویزمشرف بھی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے نہ بچتے تو آج مغل بادشاہوں کی طرح نوازشریف پاک فوج کو بھی ذاتی غلام بنالیتی۔ فوج طاقتور ادارہ ہے اور اس کی تاریخ ’’حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے‘‘ رہی ہے۔جس پریس کانفرنس کے ذریعے سے ڈان لیکس کے فیصلے کو قبول کرلیا ، تو قبول اور مسترد کرنے میں قانونی اعتبار سے کوئی فرق نہیں ۔جو سیاستدان، نامی گرامی وکیل اور صحافی یہ کہتے ہیں کہ آئی ایس پی آر کو رپورٹ مسترد کرنے کا حق نہیں ، ان کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ قبول کرنے کا بھی حق نہیں، بس وزیراعظم ہاؤس سے برآمد ہونے والا اعلامیہ وہ دلہن ہے جسکو مسترد اورقبول کرنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتاہے۔ ن لیگ نے میڈیا ہاؤس کو خرید کر جس قسم کا ماحول پیدا کیا ، اس میں ایک آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا الجھ جانا بعید از قیاس نہیں تھا۔ گدھے گدھی کا جنسی منظر نامہ ایسارومانس ہوسکتا ہے جس میں کاٹنے اور دولوتیاں مارنے کے بعد عوام سے کہا جائے کہ ہم محبت کررہے تھے اور تم نے ہمیں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ یہ فوج کے کافی حد تک تزکیہ کی دلیل ہے کہ وہ اپنے اوپر تاریخ کی سخت ترین تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کررہی ہے۔ مریم نواز کا نام رپورٹ سے نکالنے کے جواب میں آئی ایس پی آرکے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔ وزیراعظم ہاؤس کیلئے اس سے بڑی شکست اور کیا ہوسکتی ہے کہ رنگ میں لڑنے والے کھلاڑی میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوئی بلکہ یہ پہلی نوراکشتی تھی جس میں رنگ سے باہر افراد کے نام شکست خوردہ اور سزا یافتہ ہیں۔ جسکا اظہار طارق فاطمی، راؤ تحسین اور پرویز رشید نے بھی کیا ۔ یہ جمہوریت کی فتح نہیں شکست ہے کہ آمروں کی طرح غلط فیصلہ مسلط کیا گیا جس پر آئی ایس پی آر بھی بجا طور سے مسکرائے ۔ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے سچ کہا کہ ’’یہ کسی کی شکست و جیت نہیں بلکہ قوم کی جیت ہے‘‘۔ قوم کی جیت اسلئے ہے کہ ہمیشہ طاقتور اپنی طاقت کے زور پر اپنا حق چھین لیتا ہے لیکن اس مرتبہ پاک فوج نے بھی طاقتور ہونے کے باوجود اپنے حق کیلئے زور نہیں لگایا۔اگر یہ جمہوری وطیرہ بن جائے کہ جرم کوئی کرے اور سزا کسی کو دی جائے اور وزیراعظم ہاؤس کا یہ فیصلہ ہو کہ طاقتور فوج کو بھی انصاف نہ مل سکے تو پھر اس سے بڑھ کر ظلم وجبر کی انتہاء کیا ہوسکتی ہے؟۔ قوم کا خیر خواہ طبقہ اس بات پر بجا طور سے خوش ہے کہ جن کمزور لوگوں کو طاقتور اچھوت سمجھ کر ظلم و زیادتی کا نشانہ بناتے تھے، آج فوج بھی ہمارے ساتھ شاملِ حال ہوگئی ، جس سے مظلوموں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا غلط ہے کہ ’’ ڈان لیکس پر بال کی کھال نہ اتاریں‘‘ اسلئے کہ کھال تو اترگئی ہے ، صرف بال ہی رہ گئے ہیں۔ کھال کے بغیر بالوں کی اتنی بھی حیثیت نہیں ہوتی ہے جتنی دہشت گرد اپنے عروج کے دور میں جعلی داڑھی اور جعلی بال لگایا کرتے تھے۔
عمران خان نے عدالت اور فوج سے جو توقعات وابستہ کررکھی تھیں تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جمہوری معاشرے میں جہاں عوام کا ضمیر پیسوں سے خریدا جاتا ہو ، وہاں سب ہی دولت کی چمک کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔ جب عمران خان نے اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن خود بنی گالہ کے گھر سے بھی باہر نہیں آئے تو تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو فوج پر سوشل میڈیا میں تنقید کے تیر چلانے سے پہلے اپنے قائد کی بھی بھرپور خبر لینی چاہیے۔ مسلم لیگ کا ایم این اے اپنی قیادت پر تنقید کی جرأت کرکے یہ بھی کہے کہ ’’چوہدری نثار نے اپنی بیٹی کو بھارت سیف گیمز کیلئے بھیجا تھا‘‘ ، تو چوہدری نثار کی طرف سے اعتزاز احسن کو ذاتیات پر جواب دینے سے زیادہ مناسب یہ تھا کہ اپنی بیٹی کی عزت پر حملہ کرنے کا جواب دیتا، اگر سندھ میں رینجرز عذیر بلوچ کے سرپرست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو کچھ نہ کہے اور پیپلزپارٹی کی قیادت آصف زرداری کو ٹھیس پہنچانے کیلئے اس کے ساتھیوں کو انتقام کا نشانہ بنائے اور پھر چوہدری نثار بیان دے کہ ہم اپنی فورسزز کیساتھ کھڑے ہیں اور جب ڈان لیکس پر فوج سے معاملات خرابی کا شکار ہوں تو ردالفساد میں بھی وزیرداخلہ پاک فوج پر الزام تراشی کرے تو یہ حکومت اور اپنی ریاست کو ذاتی غلام کی طرح سمجھنے سے کم نہیں ہے۔
میرے دوست خالد نے بتایا کہ 1985ء میں نوازشریف وزیراعلیٰ بنے تو والد کے دوست نے بتایا تھا کہ ایک ہندوکی مل تھی، جس میں میاں شریف کا چاچا ملازم تھا، اس نے1937ء میں میاں شریف کو بھی منشی کی حیثیت سے وہاں بھرتی کروایا، تقسیم کے بعد حالات خراب ہوگئے تو ہندو بھاگااور مل کی چابی میاں شریف کے پاس تھی، اس طرح وہ اس کا مالک بن گیا۔ پھر کراچی میں کسی میمن سے وہ فرم خرید لی جس کو انگریز ملازم چلاتا تھا، فرم لاہور منتقل کردی، انگریز چھٹی پر جارہا تھا تو اپنا کام کسی کو نہیں سکھا رہا تھا لیکن شریف پر اعتماد کرکے اپنا کام سکھایا، پھر چھٹیوں کے بعد آیا تو اس نے آنکھیں پھیر لیں۔ شریف برادران بیرونِ ملک سے اپنی پراپرٹی پاکستان منتقل کریں کہیں الطاف بھائی کی طرح دولت سے محروم ہی نہ کردیا جائے۔ابن انشاء کی روح سے معذرت کیساتھ
کل چودہویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
کل فیصلے کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
دو نے کہا یہ چور ہے اور تین بولے رُک جا ذرا
سب جو وہاں موجود تھے ناچا کئے گایا کئے
گلو ترا بلو ترا احسن ترا خواجہ ترا
عزت کی تو بس خیر ہے آتی ہے یہ جاتی ہے یہ
اس فیصلے سے جو بھی ہوا بس بچ گیا عہدہ ترا
تجھ پر قلم پھیرا نہیں باقی کسی کو گھیرا نہیں
کیسے بچا سمدھی ترا بیٹی تری بیٹا ترا
JIT بھی ڈھونڈ لے قبر پہ جاکر پوچھ لے
باقی کسی کا کیا گناہ بس پھنس گیا باوا ترا
عامر بڑا ’’ممنون‘‘ ہے کیسا عجب قانون
مل بھی تری، ول بھی تری پھر بھی نہ اک پیسہ ترا

مشال خان کے قاتلوں کا جذبہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ کیسے بن سکتا ہے؟ عتیق گیلانی

میں (عتیق گیلانی) نے لاہور ، اوکاڑہ ، گوجرانوالہ ، اسلام آباد ، پشاور ، نوشہرہ، مردان اور صوابی کا مختصر دورہ کیا ، اتحاد العلماء جماعت اسلامی نے جو پشاور میں علماء و مشائخ کانفرنس منعقد کی اس میں بھی مختصر شرکت کی۔ مشال خان کے والد سے بھی معلومات لیں۔ اسکے والد نے بتایا کہ ’’پورا گاؤں زیدہ صوابی گواہ ہے کہ میرے بیٹے نے کبھی کسی سے کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کیا ، عام آدمی کو بھی کبھی گالی نہیں دی۔ رسول اللہ ﷺ کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ پانچ وقت کا نمازی اور روزانہ قرآن کی تلاوت کرتا تھا۔ بس ایک غریب کا بیٹا تھا ، اسکی قابلیت کی اسکو سزا دی گئی۔ میرے بیٹے کیساتھ جو ہوا سو ہوا مگر کسی اور غریب کے بیٹے کیساتھ ایسا نہ ہو۔ اسلئے میں برسر اقتدار طبقہ سے انصاف چاہتا ہوں، مولانا فضل الرحمن نے ٹھیک بات کہی، البتہ کچھ علماء اسکی پارٹی کے شرپسندی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے شریف علماء بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں ہم اور مولانا فضل الرحمن اکھٹے تھے، میں نے مفتی محمودؒ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، اس واقعہ پر بہت لوگ دور دور سے افسوس کا اظہار کرنے آئے‘‘۔ مولانا فضل الرحمن کی ویڈیو یو ٹیوب پر ہے ، مولانا شجاع الملک کا بیان بھی موجود ہے۔ دونوں بیانات میں تضادات ہیں اور ان تضادات کو سنجیدگی سے ختم کرنے کا تہیہ کیا جائے تو اسلام و پاکستان کا پوری دنیا میں بول بالا ہوسکتا ہے ، علماء کرام کسی کا دُم چھلہ نہ بھی بنیں تو عوام کا جم غفیر انکو اقتدار میں لائیگا، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام ہی کی بنیاد پر پاکستان رہیگا۔
مولانا فضل الرحمن نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’’ اس پارٹی کو بیرونی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں سازش کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اس نے سب سے پہلے قادیانیوں سے مدد لی۔ اس واقعہ میں مشال خان کو یونیورسٹی کے ساتھیوں نے الزام کی بنیاد پر قتل کیا ، اگر تحقیق کے بعد ثابت ہوجائے کہ الزام غلط تھا تو ہم اسکے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگر ثابت ہوجائے کہ الزام درست تھا تب بھی قاتلوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں تھا۔ یہ ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ اسمبلی میں اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ توہین رسالت کا قانون درست ہے مگر اسکا غلط استعمال روکا جائے۔ حالانکہ یہ اسوقت کہا جاسکتا ہے کہ جب قانون کا غلط استعمال ہو جبکہ یہاں تو قانون کا استعمال ہوتا ہی نہیں اگر ہوتا تو اس قسم کے واقعات بھی پیش نہ آتے‘‘۔
مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور اپنی بات کو گول مول پیش کرنے میں بڑی مہارت کی شہرت رکھتے ہیں۔ اگر وہ اسلام کی خاطر نہیں اپنے سیاسی مخالف کو ٹھکانے لگانے کی خاطر بھی یہ کہتے کہ ’’عبد الولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ کا تعلق تحریک انصاف سے ہے ، جب مشال خان نے انتظامیہ کیخلاف کرپشن پر آواز اٹھائی تو اس پر توہین رسالت کے حوالے سے جھوٹا الزام ایک تیر سے دو شکار تھے، ایک اپنے کرپشن کو چھپانا اور دوسرا توہین رسالت کے حوالے سے طالب علموں کے جذبات کو غلط استعمال کرکے دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنا تھا تاکہ اس قانون کی پاکستان سے چھٹی کرائی جائے‘‘۔ مولانا فضل الرحمن مشال خان کے والد سے تعزیت کرنے پہنچ جاتے اور ان کو پورا پورا انصاف دلانے کی یقین دہانی کراتے تو بڑی تعداد میں عوام کے دل جیت لیتے۔ ایک طرف موم بتی گروپ علماء سے نفرت کا اظہار کرے اور دوسری طرف علماء اپنے اقدام کے سبب لوگوں کی نظر میں انتہائی گراوٹ کا شکار ہوں تو یہ ملک و قوم کیلئے بہت بڑا المیہ ہے۔
مولانا شجاع الملک نے اپنے جلسہ میں مذہبی طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا بیانیہ بہت اچھے انداز میں پیش کیا کہ ’’دنیا بھر میں قتل ہوتے ہیں ، ظلم و جبر کا بازار گرم ہوتا ہے مگر اقوام متحدہ، بیرونی ممالک اور ہمارے حکمران طبقات اور میڈیا ٹس سے مس نہیں ہوتا لیکن جب توہین رسالت کے مرتکب کو سزا دینے کی بات ہوتی ہے تو سب ایک زباں ہوکر شور مچاتے ہیں۔ جب اصلاحات کے حوالے سے مجھے ہری پور جیل جانا پڑا ،تو پھانسی کی چکیوں میں مردانیوں کی اکثریت تھی، 134 میں سے 128پھانسی کے منتظر مردانی تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کہ تم نے ماں کو گالی دی ہے اور میرے کتے کی توہین کی ہے اسلئے قتل کرتا ہوں۔ جب رسول اللہ ﷺ کی توہین پر ایک قتل ہوا تو یہ دنیا کھڑی ہوگئی کہ بڑا جرم ہوگیا ہے۔ حالانکہ اگر مشال مجرم نہ بھی تھا تو چھوڑ دیتے کہ چلو اچھا ہوا کہ ایمان اور اسلام کیلئے مردانیوں نے یہ قربانی دی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی شلوار نکل گئی مگر بہت سوں کی نکلی ہے تو ایک اسکی بھی نکل گئی تو کیا ہوا؟۔ کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ہمارے بہت محترم شخصیت مسجد کے امام نے اس کو لوگوں سے بچا کر پولیس کے حوالے کیا۔ لوگوں نے مولانا کی گاڑی بھی جلادی اور وہ اب تک عوام کے خوف سے مفرور ہیں۔ اس ملک میں قانون کسی اور کیلئے نہیں ہے صرف مولوی کیلئے ہے اور مولوی پاسداری بھی کرے تو بھی اس کو ٹھکانہ نہیں ملتا۔ ہم اس کارنامے پر مشال خان کے قاتل غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اگر مشال خان کے جرم کا کوئی گواہ نہیں تو حاضرین تم سب اسکے گواہ ہو ، سب نے کہا کہ ہاں ہم گواہ ہیں‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا شجاع الملک نے اپنے ایمانی جذبات کا بہت بہادری کے ساتھ اس وقت اظہار کیا کہ جب قانون نافذ کرنے والے مشال خان کے قاتلوں اور انکو اشتعال دلانے والوں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف تھے۔ ایک طرف میڈیا نے وہ مناظر دکھائے جب تحریک انصاف کے جلسوں میں کارکن کسی لڑکی کو بھنبھوڑ رہے تھے تو دوسری طرف تحریک انصاف کا نمائندہ کونسلر ، یونیورسٹی انتظامیہ اور کالج کے لڑکے مشال خان کو مذہبی جذبے کے تحت قتل کرکے تشدد کا نشانہ بنارہے تھے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے دونوں مظلوموں سے ہمدردی کا اظہار کیا لیکن ایک میں انصاف کے تقاضے پورے ہوئے یا نہیں دوسرے کا بھی پتہ چل جائیگا۔ مولانا شجاع الملک نے اپنے قائد مولانا فضل الرحمن کی طرح اس موضوع پر اپنی سیاست چمکانے کے بجائے صرف اور صرف مذہبی جوش و خروش اور جاہ و جلال کا مظاہرہ کیا ہے جو خوش آئند ہے۔
سورہ فاتحہ کے بعد اللہ نے سورہ بقرہ کی ابتداء میں بسم اللہ کے بعد فرمایا: ذٰلک الکتٰب لاریب فیہ ہدی للمتقین ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں شک نہیں ہدایت دیتی ہے متقیوں کو‘‘ ۔ حضرت عمرفاروق اعظمؓ کیلئے رسول اللہ ﷺ نے ہدایت کی دعا فرمائی۔ اس دعا میں عمرو بن ہشام ابوجہل بھی شامل تھا۔ ابو جہل ایک سیاسی و مذہبی قائد تھا۔ اس نے ایک اجتماع میں عوام کو بھڑکایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے ، بھائی کا بھائی سے جھگڑا ہے اور بیٹے کا باپ سے۔ اس فتنے کو ختم کرنے پر قوم کی طرف سے 100اونٹوں کا انعام دیا جائیگا‘‘۔ حضرت عمرؓ ایک جذباتی انسان تھے مگر ان کے دل میں لالچ نہیں تھی۔ تلوار نیام سے نکال کر رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی غرض سے روانہ ہوئے تو راستے میں کسی نے خبر دی کہ تمہارا بہنوئی بھی اسلام قبول کرچکا ہے۔ حضرت عمرؓ نے رُخ موڑا ، بہنوئی اور بہن کی پٹائی لگانی شروع کی ، جب استقامت کا مظاہرہ دیکھا تو کہا کہ مجھے بھی قرآن کے اوراق دکھادو ، بہن نے کہا کہ تم پہلے غسل کرلو۔ قرآن کا پڑھنا تھا کہ حضرت عمرؓ کی کیفیت بدل گئی اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عمرؓ کے ذریعے سے اسلام کو کھلم کھلا وہ تقویت ملی جس کی وجہ سے آپ کو فاروق اعظم کا خطاب مل گیا تھا۔
سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ کو شہید کرکے کلیجہ نکالنے والے وحشیؓ اور کلیجہ چبانے والی ہندہؓ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی، جن کا چہرہ بھی رسول اللہ ﷺ سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اس مشال خان کے واقعہ کا جو بھی پس منظر ہے ، قاتلوں کیساتھ اسکے کوئی ذاتیات نہیں تھے ، جن لوگوں نے قتل کے بعد بھی انتہائی سلوک کیا ان میں بہر حال دین ، مذہب اور رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی کا جذبہ کار فرما تھا۔ مولانا شجاع الملک کی سوچ مردان کے حوالے سے ماحول کا حصہ ہوسکتی ہے مگر قرآن کسی ایک بے گناہ کے قتل کو تمام انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اگر کسی مخالف مکتبہ فکر کی عوام یہ غلط پروپیگنڈہ کریں کہ مولانا شجاع الملک توہین رسالت کا مرتکب ہے اور اسکے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جائے جو مشال خان کیساتھ روا رکھا گیا تو مولانا شجاع الملک کے لواحقین بھی ہمدردی کے لائق ہونگے۔ اسلام میں لاش کیساتھ مسخ کرنے کا سلوک ناجائز ہے تو کوئی مولانا اس کو جواز نہیں بخش سکتا۔ شلوار کا نکلنا اس کیلئے بہت بڑی توہین ہے جس کی عادت نہیں بگڑی ہو۔ جس کی عادت رہی ہو اس کیلئے واقعتا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ مشال خان بے گناہ تھا یا مجرم تھا، سوال یہ ہے کہ قاتلوں نے جس جذبے کے تحت اسکے ساتھ یہ سلوک کیا ہے وہ جذبہ ٹھیک تھا یا غلط؟۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ درست جذبے کواجاگر کرکے اسکا غلط استعمال روکا جائے، مولانا فضل الرحمن کی یہ بات درست ہے کہ توہین رسالت کے قانون کیخلاف سازش ہورہی ہے، مگر بات قانون کے درست یا غلط استعمال کی نہیں بلکہ اس جذبے کو غلط استعمال کرنے کی ہے، اگر مشال خان نے توہین نہیں کی تھی اور مولانا فضل الرحمن اسکے ساتھ کھڑے ہیں اور قاتلوں کو مجرم ہی سمجھتے ہیں تو مولانا شجاع الملک اور مولانا فضل الرحمن کے تضادات کو کیسے دور کیا جائیگا؟۔
ایک بہت بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت وحشیؓ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعے ہدایت دیدی مگر علماء اور مذہبی طبقات کی اکثریت ہدایت پانے کی توفیق سے کیوں محروم ہیں؟۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اقتدار اور دولت کی لالچ نے ان کو ہدایت سے محروم کیا ہے۔ حضرت امیر حمزہؓ کو شہید کرنے والے وحشیؓ نے بھی لالچ میں کارنامہ انجام دیا تھا مگر پھر بھی ان کو ہدایت مل گئی۔ دولت اور اقتدار کی لالچ تو بہت لوگوں کو ہوتی ہے۔ انصارؓ و مہاجرینؓ ، عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ کے بعد بنو اُمیہ ، بنو عباس اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں بڑے اور اچھے لوگ بھی دولت اور اقتدار کی لالچ میں مبتلا ہونے کے باوجود ہدایت سے محروم نہیں رہے۔ جبتک اتمام حجت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ بھی کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا وما کنا معذبین حتیٰ نبعث رسولاً ’’اور ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے مگر جب کسی رسول کو مبعوث کردیں‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد رسالت کا سلسلہ ختم ہوچکا اور اب عوام و خواص کی اکثریت کسی امام ہدایت یا امام مہدی کیلئے چشم براہ کھڑی ہے۔
میں نے جمعیت علماء اسلام کے سابقہ ضلعی امیر ، سرپرست اعلیٰ اور صوبائی نائب امیر مولانا فتح خان مرحوم کے سامنے یہ بات رکھی کہ اجتہاد کی تعریف کیا ہے؟۔ انہوں نے فرمایا کہ جو قرآن و حدیث میں نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ بسم اللہ قرآن و حدیث میں ہے اور اس پر اجتہاد کی گنجائش ہے؟۔ فرمایا کہ بسم اللہ قرآن و حدیث میں ہے اور اس پر اجتہاد کی گنجائش نہیں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ مساجد میں جہری نمازوں میں بسم اللہ کو جہر کیساتھ نہیں پڑھا جاتا ہے ، درس نظامی میں ہے کہ درست بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شبہ ہے ۔ تو کیا پھر ذٰلک الکتاب لاریب فیہ پر ایمان باقی رہتاہے؟۔ مولانا فتح خان نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ امام مالک کے نزدیک بسم اللہ قرآن کا جز نہیں اسلئے فرض نماز میں اس کا پڑھنا جائز نہیں، امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کا بھی جز ہے اسلئے اسکے بغیر نماز نہیں ہوگی جبکہ حنفی مسلک میں یہ مشکوک ہے تو کیا بسم اللہ پر اجتہاد کی گنجائش ہے؟۔ مولانا فتح خان نے کہا کہ جو بات آپ کررہے ہیں اگر میں یہ بات کروں تو مسجد میں ہی مجھے مار دیا جائیگا۔ چھوٹے مولوی قرآن پر ایمان رکھتے ہیں مگر درس نظامی کو نہیں سمجھتے اور جو بڑے سمجھتے ہیں وہ چھوٹوں سے گھبرارہے ہیں۔
مشال خان کا والد مضبوط اعصاب کا مالک ہے ، اگر وہ قاتلوں کو فی سبیل اللہ معاف کرکے صرف یہ مکالمہ کرلے کہ ہمارا قرآن پر ایمان ہے ، جو مولوی حضرات اپنے نصاب میں قرآن کے بارے میں یہ پڑھاتے ہیں کہ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلاً متواترا بلا شبہ ’’جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے ، آپ ﷺ سے تواتر کیساتھ بغیر کسی شبہ کے نقل ہوا ہے۔‘‘ سے مراد قرآن کے لکھے ہوئے نسخے نہیں ۔ فتاویٰ قاضی خان ، فتاویٰ شامیہ میں صاحب ہدایہ کی طرف منسوب ہے کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے اور قرآن کی کچھ آیات موجودہ قرآن میں شامل نہیں جو غیر متواتر ہیں ۔ قرآن کی توہین پر مشال کے قاتل یہ سبق پڑھانے والے علماء کو بھی سزا دینگے ؟ ۔ اگر درس نظامی سے یہ تعلیم نکالی جائے تو علماء کو بھی ہدایت مل جائے گی۔

اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہترین و مستند ترین نمونہ

سورۂ واقعہ میں السٰبقون السٰبقون کی دو جماعتوں کا ذکر ہے ، جومقرب ہیں، پہلوں میں بڑی جماعت اور آخر میں تھوڑے سے۔ جبکہ دوسرے درجے میں اصحاب الیمیں کا ذکر ہے ، جن کی میں پہلوں میں بھی بڑی جماعت ہے اور آخر والوں میں سے بھی بڑی جماعت ہے۔قرآن میں سبقت لے جانیوالوں کیلئے آخر میں قلیل من الاٰ خرین کا ذکر ہے اور اصحاب الیمین کیلئے بھی آخر میں بڑی جماعت کا ذکر ہے۔ ان دونوں درجات کی حامل جماعتوں کی احادیث میں بھی بھر پور طریقے سے وضاحت ہے۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کو آخری دور میں حکمرانوں کی طرف سے سختیاں پہنچیں گی، ان میں سے کوئی محفوظ نہ ہوگا مگر وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اسکے ذریعے زباں، ہاتھ اور دل سے جہاد کیا، یہ وہ ہے جو سبقت لے جانے والوں میں شامل ہوگیا، فذٰلک الذی سبقت لہ السوابق، دوسرا وہ شخص جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اسکے ذریعے سے تصدیق بھی کردی۔ تیسرا وہ شخص ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچان لیا، پھر کسی کو خیر کا عمل کرتے دیکھا تو اس سے محبت رکھی اور باطل عمل کرتے دیکھا تو اس سے دل میں بغض رکھا، یہ شخص حق کو چھپانے کے باوجود بھی نجات کا مستحق ہے۔ مشکوٰۃ، ص438۔ عصر حاضر ۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ
بفضل تعالیٰ ہم نے 1988ء میں حاجی محمد عثمانؒ کیخلاف معروف علماء ومفتیان کے غلط ، گمراہ کن اور مفادپرستی کی بنیاد پر دئیے جانے والے فتوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔بہت سے علماء ومفتیان نے کھل کر اعلانیہ ہمارا ساتھ دیا اور بہت سے درپردہ ہمارے ساتھ تھے، پھر ہم نے 1991ء میں روزنامہ جنگ کراچی، کوئٹہ، لاہور سے ایک اشتہار دیکر باقاعدہ خلافت کے قیام کا اعلان کیا۔خلافت پرالمارودی کی کتاب’’الاحکام السلطانیہ‘‘میں واضح ہے کہ ’’عالم اسلام کے تمام مسلمانوں پر ایک امام کا تقرر فرض ہے۔ جہاں سے جو لوگ بھی پہل کریں دوسرے تمام مسلمانوں پر اس کی اتباع ضروری ہے اور اسکے مقابلہ میں جو امام کھڑا ہو،اس کی گردن ماری جائے‘‘۔ کتابچہ ’’ خلافت علی منہاج النبوۃ کے وجود مسعود‘‘ لکھ کر شائع کیا،کانیگرم وزیرستان کے مولانا اشرف خان کو اپنے مشن کا بتایا تو بہت خوشی کا اظہار کیا، مولاناشاداجان نے کہا کہ مولوی محمد زمان کوقائل کرلو تو مسئلہ نہیں بنے گا۔ مولوی محمد زمان کو تفصیل سے بتایا کہ ہمارے ہاں فتنہ وفساد کی جڑ دومتوازی قوانین ہیں، جس کو شریعت کا قانون مفاد میں لگتاہے وہ فریق شرع کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہتاہے، جس کو پشتو کے قانون کے مطابق مفاد میں لگتاہے وہ روایتی قانون سے چاہتاہے۔ جب کسی بات پر اتفاق نہیں ہوتا تو قتل وغارت تک بات پہنچتی ہے، جب ایک قانون متعین ہوگا تو فتنہ وفساد کی جڑ ختم ہوگی، جب شرع کی حدود نافذ ہونگی تو وزیرستان جرائم کے بجائے امن اور امان کا گہوارہ بن جائیگا۔ قبائل میں اسلامی ریاست کا نمونہ پاکستان کیلئے مشعل راہ ہوگا۔ یوں پورا پاکستان ، افغانستان اور ایران سے اسلامی خلافت کا آغاز ہوگا، ہندوستان کے مسلمان بھی ہمارے ساتھ اٹھ کھڑے ہونگے اور بھارت کے حکمرانوں کو شکست دینگے۔ پھر عرب اور دنیا کے تمام مسلمان ریاستوں کو شریک کرکے عرب کو مرکز بنادینگے۔ مگر حدود کے نفاذ کا اعلان کرنے سے پہلے کانیگرم کے علماء، تبلیغی جماعت کے کارکن اور پیر لوگ یہ اعلان کرینگے کہ سب سے پہلے شریعت پر عمل کیلئے ہم اپنے گھروں سے ابتداء کرینگے، اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو حق مہر کے نام پر بیچیں گے نہیں، جو بھی حق مہر ہوگا، وہ عورت کو دینگے۔ دوسرا یہ کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینگے۔ تیسرا یہ کہ گھر سے شرعی پردہ شروع کرینگے ۔ مولوی محمد زمان نے شرعی حدود کے اجراء کی حمایت کی لیکن گھر سے شریعت پر چلنے کی بات کو مشکل قرار دیا۔ ہم نے کہا کہ جب اپنی بہن بیٹی کو اس کا حق مہر اور وراثت میں حصہ دینا مشکل ہو تو دوسروں پر شرعی حدود کا اجراء کیسے آسان ہوگا؟یہ منافقت ہوگی اسلام نہ ہوگا۔ پھر تبلیغی جماعت کے چند افراد میرے پاس آئے اور ایک نے پہلے یہ مسئلہ پوچھا کہ میرا بیٹا کراچی میں ٹائیر پنکچرکا کام کرتا ہے ، اس کی کمائی میرے لئے جائز ہے؟۔ میں نے کہا کہ اپنے کاروبار میں دھوکے سے حرام نہ کماتا ہو تو بالکل جائز ہے۔ پھر پوچھا کہ میری بہو، بیٹیوں اور بیوی کو شرعی مسائل کا پتہ نہیں، رائیونڈ سے مستورات کی ایک جماعت آتی ہے اورمیرے گھر کی خواتین کو مسائل سکھاتی ہیں توکیا جائز ہے؟، میں نے کہا کہ بالکل نہیں۔ اس نے کہا کہ کیوں؟۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اپنے نفسوں واپنے اہل عیال کو آگ سے بچاؤ‘‘ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، رائیونڈ سے آنے والی مستورات کی نہیں اور وزیرستان کے حالات بہت خراب ہیں، لوگ آغواء ہوجاتے ہیں، خواتین کی جماعت کو اغواء کرلیا گیا اور ان کو زیادتی کا شکار بنایا گیا تو ایک اور جماعت پیدا ہوگی۔ پھر توتبلیغی جماعت نے ہمارے خلاف پروپیگنڈے کی تمام حدود کو پار کیا۔ قادیانی، بریلوی اور شیعہ کے تمام الزامات لگادئیے۔ ایک دن مسجد کا امام نہیں تھا تو ایک تبلیغی آگے بڑھا، ملک ظفر شاہ نے اس کو پکڑ کر پیچھے دھکیل کر کہا کہ چلہ لگاکر جعلی ادویات کا میڈیکل اسٹور بھی کھول لیتے ہو، میرا کہا کہ ایک عمر علم کی تعلیم میں لگادی ہے اور مجھے نماز کیلئے آگے کردیا۔ میں نے نماز پڑھادی تو نماز کے بعد اعلان کیا کہ میرے خلاف انواع واقسام کے پروپیگنڈے چل رہے ہیں وضاحت اسلئے کررہا ہوں کہ جنہوں نے میرے پیچھے نماز پڑھ لی ہے ان کو تشویش نہ رہے۔ ہمارا تعلق مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مولانا الیاسؒ سے ہے جو نام سے ان کو نہیں جانتے ، بہشتی زیور کے مصنف اورتبلیغی جماعت کے بانی۔ قادیانی ، بریلوی اور شیعہ کا پروپیگنڈہ کرنے والوں میں اتنی غیرت ہونی چاہیے کہ مجھے گریبان سے پکڑلیں۔ تبلیغی جماعت کے قیام کا مقصد لوگوں کو شرعی احکام کی طرف راغب کرنا تھا، لوگ یہاں چند فٹ کے فاصلے پر ننگے نہاتے ہیں ، آنے والے مہمانوں کے علاوہ فرشتوں کو اس ننگے مناظر پر شرم آتی ہوگی، فضائل کی تعلیم فرض ،واجب، سنت نہیں بلکہ مستحسن عمل ہے مگر جب فرائض کی تعلیم اور حلال وحرام کی تربیت نہ ہو تو یہ نام کی دینداری رہ جاتی ہے۔ اس پر تبلیغ کے امیر گل ستار نے کہا کہ ’’مفتی زین العابدین کا فتویٰ ہے کہ تبلیغی جماعت کا موجودہ کام فرض عین ہے‘‘۔ پھر مسجد میں یہ بات طے ہوئی کہ جو غلط ہوگا اس کو کانیگرم بلکہ وزیرستان سے نکالیں گے۔تبلیغی جماعت والوں کی کوشش تھی کہ میری غیرموجودگی میں علماء کو جمع کیا جائے اور میرے خلاف اور اپنے حق میں متفقہ فیصلہ لیا جائے۔ جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے بیماری کا بہانہ کرکے بتوں کو توڑا تھا، مجھے بھی حکمت سے کہنا پڑا کہ ’’میں جارہاہوں‘‘۔ میرانشاہ میرا آنا جانا رہتا تھا۔ جب گھر میں چھپ گیا تو دوسرے دن تبلیغی جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام علماء کا اجلاس ہماری مسجد میں ہوگا۔ میں نے اپنے بھانجے اور گومل کے امام حافظ عبدالقادر شہیدؒ کو بھی ٹیپ ریکارڈر کیساتھ بروقت پہنچنے کی اطلاع کردی۔ جب علماء کا اجلاس شروع ہورہا تھا تو میں بھی نمودار ہوگیا۔ پھر ان کی پریشانی کی انتہاء نہ رہی۔ میرا کہنا تھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ لوگ میری وجہ سے اکٹھے ہوئے ہیں، مجھ سے بات نہیں کرنی تو مجھے ویسے بھی میرانشاہ جانا ہے ، چلا جاؤں گا، انہوں نے کہا کہ ہم مشورہ کرکے بتادیتے ہیں کہ آپ سے بات کریں یا نہیں۔ پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ مسجد کے عقب میں چھوٹے کمرے میں عوام کے بجائے مختصر محدود افراد کے سامنے بات کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ غلط ہے، عوام کے سامنے ہی بات ہوجائے مگر وہ نہیں مانے۔پھر بات کو ٹیپ کرنے کیلئے میں نے اصرار کیا کہ کراچی کے معروف علماء ومفتیان نے ہمارے مرشد حاجی عثمانؒ سے دھوکہ کیا تھا، ملاقات کا اہتمام کرکے من گھڑت استفتاء کے چشم دید گواہ بن گئے۔ تم لوگوں نے خود بھی اس بات پر مناظرہ کیا تھا کہ سنت کے بعد دعا بدعت ہے یا مباح؟، فارسی میں فیصلہ سنانے کے بعد دونوں طرف سے ڈھول کی تھاپ پر اپنی اپنی جیت کا اعلان کیا تھا اور اس بنیاد پر قادیانیت کا فتویٰ بھی مولوی محمدزمان نے مولانا شاداجان پر لگایا تھا۔ جس کا وہ اعتراف کرکے کہہ رہے تھے کہ اب ایسا نہیں ہوگا، فیصلہ تحریری شکل میں لکھ دیا جائیگا۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’’آپ نے مہدی آخر زمان کا دعویٰ کیا ہے؟‘‘۔ میں نے کہا کہ جب میں نے مدینہ دیکھا تک نہیں، اس مہدی کی پیدائش مدینہ اور چالیس سال کی عمر میں خروج مکہ میں ہوگا ، اسکا نام محمد اور والدین کے نام آمنہ اور عبداللہ ہونگے تو میں کیسے یہ دعویٰ کرسکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ مہدی صرف وہ ایک ہے۔میں نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب ’’منصبِ امامت‘‘ دکھادی کہ ’’مہدی آخرزمان سے پہلے مہدیوں کا سلسلہ ہوگا، جن میں سے ایک خراسان کا مہدی ہے‘‘۔ جمعہ خطبات میں بھی خلفاء راشدینؓ کو مہدی کہاجاتاہے۔ پھر انہوں نے میری طرف سے یہ باتیں لکھ کر دستخط کئے کہ ’’میں نے مہدی آخر زمان کا دعویٰ نہیں کیا اور تبلیغی کام مستحسن ہے‘‘۔ سب کے دستخط کئے مگر پھر تحریر دینے سے انکار کرکے مسجد کی امامت اور نیا دین چھوڑ دینے کا مشورہ دیابقیہ صفحہ 2 نمبر1

اسلام کی نشاۃ اول کا بہترین و مستند ترین نمونہ

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں السابقون الاولون من المہاجرین و الانصار کا ذکر کیا، وہاں انکے ساتھ رضی اللہ عنھم و رضو عنہ کی سند کا بھی ذکر فرمایاہے ۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ انہی کے نقش قدم پر ہوسکتی ہے و الذین اتبعوھم باحسانکی سعادت اس وقت مل سکتی ہے جب پہلوں کے بارے میں حسن ظن کا عقیدہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نشاندہی بھی فرمائی ہے کہ ثلۃ من الاولین و قلیل من الاٰخرین پہلوں میں بڑی جماعت اور آخر والوں میں سے تھوڑے وہ ہونگے جو سبقت لیجانے میں سبقت لے جائینگے۔ اللہ نے ان کو اولٰئک المقربون مقرب ہونیکا درجہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ جمعہ میں بھی اللہ نے صحابہ کرامؓ کو قرآن کی تعلیم و تربیت اور حکمت و تزکیہ کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم اور آخر والے جو ان پہلوں سے ابھی نہیں ملے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے حوالے سے فتح مکہ سے قبل اور فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے پر مختلف درجات کا ذکر ہے۔ بدری صحابہؓ اور غیر بدری صحابہؓ میں بھی فرق تھا۔ عشرہ مبشرہ کے دس صحابہؓ سب میں ممتاز تھے۔ عشرہ مبشرہؓ میں چار خلفاء راشدینؓ کی امتیازی حیثیت بھی ایک مسلمہ بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے وقت انصارؓ و مہاجرینؓ کے درمیان خلافت کے مسئلے پر اختلاف شروع ہوا ، حضرت علیؓ تجہیز و تکفین میں لگ گئے اور انصارؓ نے خلافت کیلئے ایک مجلس کا اہتمام کر رکھا تھا جہاں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ پہنچے۔ مکالمہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی بیعت پر اکثریت کا اتفاق ہوا ، فتنہ و فساد ہوتے ہوتے بچ گیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بعد حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد کردیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد خلافت کا مسئلہ شوریٰ کے سپرد کردیا۔ حضرت عثمانؓ کو شوریٰ نے مقرر کردیا اور جب حضرت عثمانؓ کو شہید کیا گیا تو حضرت علیؓ ہنگامی حالت میں خلیفہ نامزد ہوگئے۔پھر حضرت عثمانؓ کے قاتلین سے بدلہ لینے کے مسئلے پر حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ و طلحہؓ و زبیرؓ کے درمیان جنگیں برپا ہوئیں۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کا تعلق بھی عشرہ مبشرہ سے تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے حدیث قرطاس میں ایسے وصیت نامہ کا ذکر کیا تھا جس کے بعد امت گمراہ نہ ہو لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ حضرت عمرؓ نے بعد میں فرمایا تھا کہ کاش! ہم رسول اللہ ﷺ سے تین باتوں کا پوچھ لیتے ، ایک آپؐ کے بعد خلیفہ کون ہو، دوسرا زکوٰۃ نہ دینے والوں کیخلاف قتال ، اور تیسرا کلالہ کی میراث۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ اپنی بیگمات کو مساجد میں آنے سے نہ روکا جائے۔ غیر مسلم یہود و نصاریٰ بیگمات کو بھی انکی عبادت گاہوں میں جانے سے نہ روکنے کا حکم دیا تھا۔ آج جس طرح فیملی پارک آباد ہیں اس وقت مساجد اور عبادتگاہیں آباد ہوا کرتی تھیں۔ آج جس طرح مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں حضرات و خواتین ، بچے اور بچیاں نماز و طواف میں شریک ہوتے ہیں اسوقت مسجد نبوی اور دوسری مساجد کو بھی اسی طرح آباد رکھا جاتا تھا۔ معروف شاعر شاکر شجاع آبادی نے اپنے اشعار میں کہا ہے کہ جن مساجد میں مخلص نمازی ہیں وہ زمین پر بیت اللہ ہیں اور جو مولوی کی تجارت گاہیں بن گئی ہیں انکو ڈھایا جائے۔ عدالتوں کے بارے میں کہا ہے کہ اوپر انصاف کا جھنڈا ہے اور نیچے انصاف بکتا ہے ایسی عدالتوں کو بمع عملہ کے گرادیا جائے۔ شاکر شجاع آبادی بہت ہی مقبول شاعر ہیں وہ کہتے ہیں کہ سنی مشرک ، شیعہ کافر اور وہابی منکر ہیں لہٰذا اے کافر !تم ہی جنت پانے کی تیاری کرلو۔ علماء و مفتیان کرام کو حقائق کی طرف آنے کی ضرورت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے فرمایا تھا کہ میرے ساتھ جو حج کرلیا وہ کافی ہے ، میرے بعد حج نہیں کرنا۔ جب حضرت عمرؓ نے اپنی زوجہؓ کو مسجد میں جانے سے روکنے کیلئے رات کو خفیہ طور سے چھیڑا ، جسکے بعد انہوں نے مسجد میں جانا یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اب مسجد میں جانے کا زمانہ نہیں رہا۔ عربی مقولہ ہے کہ الناس علی دین ملوکھم عوام اپنے حکمرانوں کے طرز عمل پر چلتے ہیں۔ صورتحال اس وقت یہ بنی کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ ﷺ حیات ہوتے تو خواتین کو مساجد میں جانے سے خود روک دیتے، جب مساجد میں خواتین کا آنا رُک گیا تو ایک درشتی کا سا ماحول پیدا ہوا۔ حضرت عمرؓ کی مسجد میں شہادت کے بعد حضرت عثمانؓ کو گھرمیں محصور کرکے شہید کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا و من اظلم ممن منع مسٰجد اللہ ان یزکر فیھا اسمہ و سعٰی فی خرابھا اولءٰک ماکان لھم ان یدخلوھا الا خائفین لھم فی الدنیا خزی و لھم فی الاٰخرۃ عذاب عظیم O ’’اور اس سے بڑا ظالم کون ہے کہ جو منع کرے اللہ کی مساجد سے کہ اس میں اس کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگ ان مساجد میں داخل نہیں ہوں گے مگر خوفزدہ ہوکر ۔ ان کیلئے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بہت بڑا عذاب ہے‘‘( البقرہ : آیت 114)۔
رسول اللہ ﷺ نے آخری خطبہ میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ جب ماحول بگڑ گیا تو بات اس حد تک پہنچی کہ بنو اُمیہ کے حجاج کے مقابلے میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ خوارج سے مدد مانگتے تھے اور خوارج حضرت عثمانؓ کو برا بھلا کہنے کی شرط پر مددکیلئے تیار تھے۔ درج بالا آیت سے پہلے یہود و نصاریٰ کی اس کیفیت کا ذکر ہے جس میں وہ دوسروں کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے بارے میں خوش فہمیوں کا شکار ہیں۔ آج اگر بیت اللہ کی طرح مسلمان اپنے گاؤں ، محلہ اور شہروں کی مساجد کو آباد کریں تو اُمت کی اصلاح کیلئے یہ زبردست اقدام ہوگا۔ جن کالج ، یونیورسٹیوں ، دفاتر، ہسپتال ، ایئر لائن اور پبلک مقامات پر مخلوط نظام سے بگاڑ پیدا ہورہا ہے اگر روزانہ کی بنیاد پر پنج وقتہ نماز سے ماحول کی تبدیلی کا آغازکرینگے تو مسلم امہ کو دنیا کی ساری قومیتوں اور مذاہب پر عالم انسانیت میں فوقیت حاصل ہوگی۔ بصورت دیگر امت مسلمہ کے صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ سے ہماری عقیدت برقرار رہے گی کیونکہ ان کو سند قرآن نے دی ہے لیکن مسلم امہ کی اکثریت جس طرح سے بے راہ روی کا شکار ہوگی اسکے مناظر کا اندازہ سب اپنے گھروں میں ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات سے لگا سکتے ہیں۔
قرآن و سنت میں بہت سی ایسی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے فیصلے کے برعکس آیات نازل کیں۔ جیسے سورہ مجادلہ میں خاتون کا ذکر ، بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینا ، عبد اللہ ابن ابی منافق کا جنازہ پڑھانا، فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ کرنے کے باوجود حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت اُم ہانیؓ سے شادی کرنے کی خواہش۔۔۔ خلفاء راشدینؓ کے دور میں بھی اختلاف کا معاملہ رہا۔ مشرکین مکہ زمانہ حج میں عمرہ کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ نے حج اور عمرہ کرنے کی اجازت دیدی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حج کیا ، اس میں عمرہ کا احرام بھی ساتھ باندھا ۔ حضرت عمرؓ نے حج کیساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کو روکا۔ حضرت عمران بن حصینؓ نے کہا کہ جب اللہ نے حکم نازل کیا اور نبی ﷺ نے اس پر عمل کیا تو اس کے بعد کوئی ایسا حکم نازل نہیں ہوا کہ منع کیا گیا ہو۔ جس نے روکا ، اس نے اپنی رائے سے روکا۔ احادیث کی کتب میں تفصیلات ہیں۔ ابن عمرؓ سے کہا گیا کہ تمہارے والد کی رائے یہ تھی تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد نہیں رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لایا ہوں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ حیرت ہے کہ تم پر پتھر کیوں نہیں برستے کہ رسول ﷺ کے مقابلے میں عمرؓ اور ابوبکرؓ کی بات کرتے ہو۔ بخاری شریف میں حضرت عثمانؓ سے حضرت علیؓ کے الجھنے کا معاملہ بھی مذکور ہے۔ حنفی مسلک یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کی بات کو قرآن و سنت کے مقابلے میں کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ باقی مسالک حضرت عمرؓ کی بات کو ترجیح دیتے ہیں۔
اہل تشیع کہتے ہیں کہ عمرؓ نے قرآن و سنت کے مقابلے میں مشرکین مکہ کا مذہب رائج کرنے کی کوشش کی۔ فقہی مسالک کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ مسئلے مسائل رٹنے کے علاوہ سمجھ بوجھ کا اس میں کوئی کام نہیں۔ جب حنفی اپنے مسلک کی وکالت کرتے ہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ وہ بھی اہل تشیع کی طرح حضرت عمرؓ کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ حالانکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد بھی اچھے کلمات سے ان کی تعریف اور توصیف کی جس کا نہج البلاغہ میں ذکر ہے، حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ مسلم اُمہ مشقت میں مبتلا ہوجائے گی ، اگر واحد سنت سمجھ کر حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھا جاتا تو قیامت تک لوگ بڑی مشقت میں پڑ جاتے۔ حج کے دنوں میں پہلے سے لوگ پہنچ جاتے ہیں اگر کئی کئی دنوں تک وہی احرام سنت سمجھ کر زیب تن رہتا تو مکہ کے لوگ حاجیوں کی بدبو سے بھاگ جاتے۔ حضرت عمرؓ قرآن و سنت کی تعلیمات سے نہیں لڑ رہے تھے بلکہ لوگوں کی جہالت سے لڑ رہے تھے، صحابہؓ کس بات پر لڑ رہے تھے اور آج کے مذہبی طبقات کن کن باتوں کے مباح و بدعت ہونے پر لڑ رہے ہیں؟۔ داڑھی کی لمبائی ، مونچھ کی کٹائی ، چوتڑ تک سر کے بال یا گنجاپن ۔ زاغوں کے تصر ف میں ہے شاہیں کا نشیمن

عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

عن حذیفہؓ قال: کان الناس یسئلون رسول اللہ ﷺ عن خیر و کنت اسئلہ عن الشر مخافۃ ان یدرکنی، قال : قلت یا رسول اللہ! ان کنا فی جاہلیۃ و شر فجاء نا اللہ بھٰذا الخیر، فھل بعد ھٰذا الخیر من شر؟ قال: نعم! قلت : وہل بعد ذٰلک الشر من خیر ؟ قال: نعم ! و فیہ دخن، قلت : وما دخنہ؟ قال: قوم یستنون بغیر سنتی و یہتدون بغیر ھدیتی، تعرف منھم و تنکر، قلت فہل بعد ذٰلک الخیر من شر؟ قال: نعم! دعاۃ علیٰ ابواب جہنم، من اجابہم الیھا قذفوہ فیھا، قلت یا رسول اللہ! صفہم لنا، قال ھم من جلدتنا و یتکلمون بالسنتنا! ، قلت: فما تأمربی ان ادرکنی ذٰلک؟، قال: تلزم جماعۃ المسلمین و امامہم! قلت فان لم یکن لہم جماعۃ ولا امام؟ قال: فاعتزل تلک الفرق کلہا ولو ان تعض باصل شجرۃ حتیٰ یدرکک الموت و انت علیٰ ذٰلک (مشکوٰۃ، بخاری، عصر حاضر)
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا تاکہ مجھے شر نہ پہنچے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! بیشک ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ نے اس خیر (اسلام)کو ہمارے پاس بھیجا ۔ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟، فرمایا : ہاں! ۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی؟۔ فرمایا: ہاں! اس میں دھواں (آلودگی) ہوگی۔ میں نے پوچھا : وہ دھواں کیا ہے؟۔ فرمایا: لوگ میری سنت کے بغیر راہ اپنائیں گے اور میری ہدایت کے بغیر چلیں گے۔ ان میں اچھے بھی ہوں گے اور برے بھی۔ میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟۔ فرمایا: ہاں! جہنم کے دروازے پر کھڑے داعی ہونگے جو ان کی دعوت قبول کریگا اس کو اسی میں جھونک دینگے ۔ میں نے عرض کیا: ان کی پہچان کرائیں۔ فرمایا : ہمارے لبادے میں ہوں گے اور ہماری زبان (مذہبی اصطلاحات) بولیں گے ۔ میں نے عرض کیا : اگر میں انکو پالوں تو کیا حکم ہے؟۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام سے مل جاؤ ۔ عرض کیا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ ان کا امام تو پھر؟۔ فرمایا : ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ اگرچہ تمہیں درخت کی جڑ چوس کر گزارہ کرنا پڑے۔ یہاں تک کہ تمہیں موت پالے اور تم اسی حالت پر رہو۔ (عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں)
اس حدیث میں صفحہ نمبر 4پر موجود نقش انقلاب کی بھرپور وضاحت ہے۔ اسلام کے آغاز میں نبوت اور خلافت راشدہ کا دور تھا جس کے آخر میں عشرہ مبشرہ نے بھی گھمسان کی جنگ لڑی۔ اس دور کا خیر اور شر دونوں واضح تھے۔ پھر اسکے بعد خیر میں دھواں نمودار ہوا۔ یہ دھواں امارت ، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے اختتام تک بتدریج بڑھتارہا، اس خیر کے دور میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی، جن میں علماء صوفیاء اور ہر طرح کے حکمران شامل تھے۔ اس دور کے بالکل اختتام پر دوبارہ طرز نبوت کی خلافت کے قیام سے پہلے شر کا وہ دور آیا ہے جس میں مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں مذہبی لبادے اور مذہبی زبان میں لوگوں کو جہنم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کے ساتھ ملنے کا حکم ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نماز ، وضو اور غسل وغیرہ کے فرائض نہیں سکھائے ، خلافت راشدہ کے دور میں بھی چاروں خلفاء نے اس قسم کی فضولیات پر اپنا اور اپنی قوم کا وقت ضائع نہیں کیا۔ اسی دھوئیں کے دور میں نبی ﷺ کی سنت اور ہدایت کے بغیر فرقہ واریت اور مسلکوں کے اپنے اپنے چشمے لگائے گئے۔ ان من گھڑت ہدایت اور سنت کے طریقوں سے اسلام کا چہرہ بتدریج اجنبیت کا شکار بنتا چلا گیا۔ ان میں کچھ اچھے نیک ، صالح ، اللہ والے اور حق کے علمبردار تھے اور کچھ بد ، بدکار، طاغوت کے بندے اور باطل کے علمبردار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرائض اور واجبات کیلئے کوئی حلقے نہیں لگائے اور جن لوگوں نے نیک نیتی کیساتھ یہ تعلیم عام کردی کہ غسل کے احکام کیا ہیں اور اس میں نت نئے فرائض وغیرہ دریافت کرلئے مگر درباری بن کر حکمرانوں کی ایماء پر اہل حق کا خون جائز قرار دینے کے فتوے نہیں لگائے تو بھی ان کا کردار اپنی شخصیتوں کی حد تک نیک و صالح اور اہل حق کا رہا۔ انکی ہدایت اور سنت کو پھر بھی بجا طور سے نبی کریم ﷺ کی ہدایت اور سنت نہیں کہہ سکتے۔
امام ابو حنیفہؒ پر حکمرانوں کو شک تھا کہ پس پردہ حضرت امام حسنؓ کی اولاد عبد اللہ اور ابراہیم کی بغاوت کی تائید کررہے ہیں تو ان کو جیل میں زہر دے کر شہید کیا گیا۔ امام ابو حنیفہؒ کی ساری زندگی علم کلام کی گمراہی میں گزری اور پھر آخر میں توبہ کرکے وہ فقہ اور اصول فقہ کی طرف رُخ کرکے شمع ہدایت کے چراغ جلانے لگے۔ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ اور خلفاء راشدین کے فیصلوں کو بھی رد کرنے میں ذرا تامل سے کام نہ لیا۔ ان کی شخصیت اہل حق کیلئے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ نے بڑی استقامت کیساتھ حق کا علم بلند کرنے میں مقدور بھر کوشش کی۔ حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور حضرت امام جعفر صادقؒ بھی اپنے اپنے طرز پر نبی ﷺ کی سنت کو ہر قیمت پر تحفظ دینے کے زبردست علمبردار رہے ۔ ان کے پیروکاروں نے اپنے اپنے طرز پر فقہ و مسالک کی تدوین کا کام کیا۔ نبی کریم ﷺ کی سنت اور ہدایت کو زندہ کرنے کیلئے دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو تاریخ کے ادوار میں اسلام کے سورج پر پڑنے والے دھوئیں کا سراغ لگ سکے گا۔ موجودہ دور میں بات یہاں تک پہنچی ہے کہ سب کو پیٹ کی لگی ہوئی ہے یا پھر خود کش دھماکوں اور گرنیٹ کا خوف دامن گیر ہے۔ مساجد ، خانقاہ اور امام بارگاہ میں وہ لوگ براجمان ہیں جنہوں نے مذہب کو محض دنیاوی مفاد کا ذریعہ بنادیا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کی خدمات کا انکار اسلام کے سورج سے پھوٹنے والی روشن کرنوں کا انکار ہے۔ تاہم اسلام کے سورج کو آلودہ کرنے میں بھی سب نے اپنا اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے علم الکلام (علم العقائد) سے توبہ کرکے قرآن کریم کی بیش بہا خدمت انجام دی مگر اس طریقے ہدایت اور سنت کو نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔ علم کلام کا یہ مسئلہ تھا کہ تحریری شکل میں اللہ کی کتاب قرآن کا نسخہ اللہ کا کلام نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کا آغاز ہی قلم کے ذریعے سے انسان کو تعلیم دینے سے کیا ہے اور سورہ بقرہ میں الذین یکتبون الکتٰب بایدیھم ’’جو لوگ کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘( کتاب ہاتھ سے لکھی جانے والی چیز ہے ) مشرکین مکہ جانتے تھے کہ صبح شام لکھوائی جانے والے چیز کا نام کتاب ہے۔ ان پڑھ اور جاہل بھی یہ سمجھتا ہے کہ کتاب موبائل ، میز اور جگ نہیں لیکن علم کلام سے اپنی گمراہی مقدر ٹھہری۔ اُصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کے نسخے کلام اللہ نہیں اور ان پر حلف اٹھانے سے حلف نہیں ہوتا۔ پھر گمراہی کے کالے بادل وقت کیساتھ گہرے ہوتے گئے تو یہاں تک لکھا گیا کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مستند سمجھے جانیوالے مذہبی مدارس گمراہی کے گڑھ اور قلعے بن چکے جو اپنے نصاب سے گمراہی کو نہیں نکال سکتے۔ علم کی سند جہالت اور مدارس کے نصاب پر ڈٹ جانا ہٹ دھرمی کے سوا کیا ہے؟ ۔امام نہ ملے تو درخت کی جڑ چوسنا بہتر رزق ہے۔
آج بڑے مدارس کے علماء ومفتیان اور مذہبی وسیاسی جماعتوں کے رہنما حق کی خاطر کھڑے ہوجائیں تو اسلامی انقلاب میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔
عن عبد اللہ ابن مسعودؓ ان رسول اللہْ ﷺ قال: ما من نبی بعثہ اللہ تعالیٰ فی اُمۃٍ قبلی الا کان لہ من امتہٖ حواریون و اصحاب یاخذون بسنتہٖ و یقتدون بامرہٖ ثم انھا تخلف من بعدہٖ خلوف یقولون مالا یفعلون و یفعلون مالا یؤمرون ومن جاہدھم بیدہٖ فھو مؤمن ومن جاہدھم بلسانہٖ فھو مؤمن ومن جاھدھم بقلبہٖ فھو مؤمن ولیس وراء ذٰلک من الایمان حبۃ خردلٍ (صحیح مسلم)
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اللہ نے مبعوث فرمایا اس کی اُمت میں کچھ مخلص اور خاص رفقاء ضرور ہوا کرتے تھے جو اس کی سنت کی پابندی اور اسکے حکم کی پیروی کرتے، پھر انکے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور وہ کام کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہیں ہوتا تھا۔ پس جو شخص ہاتھ سے انکے خلاف جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور جو زبان سے انکے خلاف جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور جو دل سے انکے خلاف جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ (عصر حاضر حدیث نبویؐ کے آئینہ میں۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ )
ہمارا ایک دوست امین اللہ خانپور کٹورہ میں اخبار کا گشت کررہا تھا ، ایک شخص نے کہا کہ میں مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کا نواسہ ہوں۔ ہمارے مدرسے میں یہ میٹنگ بھی ہوئی ہے کہ عتیق الرحمن مفتی تقی عثمانی اور مفتی شامزئی کیخلاف لکھتا ہے اسکے لئے کوئی پروگرام بنائینگے، اگر مجھے ملے تو میں اس کو کلاشنکوف سے قتل کردونگا۔ امین اللہ بھائی نے کہا کہ میں تمہیں اس کے پاس لے جاتا ہوں پھر قتل کرنا ہو یا خود کش کرنا ہو میں نشاندہی کردیتا ہوں، تو وہ شخص کہنے لگا کہ تمہارا کوئی قصور نہیں ہے تم تو اخبار بیچتے ہو ، میرا اختلاف تم سے نہیں ، امین اللہ بھائی نے کہا کہ میں اخبار بیچتا نہیں ہوں بلکہ یہ میرا مشن ہے۔ تو اس نے کہا کہ مجھے معاف کرنا آپ کی دل آزاری ہوئی ہے۔
جب مفتی تقی عثمانی نے ہمارے مرشد حاجی محمد عثمانؒ پر فتوے لگائے تھے تو مولانا عبد اللہ درخواستی ؒ کے نواسے مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید حاجی عثمان صاحب سے بیعت ہوئے تھے۔ ان کے بڑے بھائی مفتی حبیب الرحمن درخواستی نے حاجی عثمانؒ کے حق میں فتوے دئیے تھے۔ جب وہ میرے مشکوٰۃ کے اُستاذ تھے تو اپنے بھتیجے امداد اللہ کو میرے ذمہ لگایا تھا جو تقریباً ہر روز مدرسے سے چھپ کر فلم دیکھنے جاتا تھا۔ اب اس نے بھی بہاولپور میں اپنا مدرسہ کھول رکھا ہے۔ جب انوار القرآن کا طالب علم تھا تو اس وقت بہت بیکار لوگ بھی وی سی آر پر فلمیں نہیں دیکھتے تھے مگر مدرسے میں جمعرات کو کرائے پر وی سی آر لایا جاتا تھا اور میں نے ڈنڈے کے زور پر ان کو روکا تھا۔ اس وقت مدرسے کے تمام اساتذہ اور طلباء اس کے گواہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس عالم کی مثال کتے سے دی جس نے علم نہیں دنیا کو ترجیح دی۔ کتوں میں بھی کچھ نسلی کتے ہوتے ہیں جوپرایا اور دشمن کا نہیں کھاتے لیکن قرآن میں گلی کوچوں کے اس کم اصل کتے کا ذکر ہے جو ہر حال میں ہانپتا ہے۔ ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک گمراہ مولوی اور مردود صوفی تھا لیکن اس کو بھی کوئی اتنی نشاندہی کرتا کہ نصاب میں اس قسم کی مغلظات ہیں تو وہ بھی ان مغلظات کیخلاف ہوجاتا۔ موجودہ دور اس دہانے پر کھڑا ہے کہ یا کوئی انقلاب کا امام بن کر مسلمانوں کی جماعت کو ان گمراہانہ تصورات سے بچائے یا پھر سب فرقوں سے الگ تھلگ ہوکر مذہب کے نام پر پلنے کے بجائے جنگل میں نکل جائے چاہے درخت کی جڑیں چوس کر گزارہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے کہ ہم نے ان ناخلف جانشینوں کیخلاف نہ صرف علمی اور عملی جہاد کا آغاز کیا ہے بلکہ مسلم اُمہ کی ایک بھاری اکثریت بھی ہر مکتبہ فکر سے ہماری ہم نوابن گئی ہے۔
ہمارے ساتھیوں کو اگر اللہ تعالیٰ نے کامیابی بخشی تودنیا ان کو سورہ واقعہ کے اندر موجود قلیل من الاٰخرین کے طور پر سمجھے گی۔ سورہ جمعہ اور سورہ محمد میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے جو آیات ہیں احادیث میں ان کی وضاحت کی گئی ہے۔ پاکستان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے بنا تھا اور یہ بہت اچھا ہوا کہ مولوی حضرات اقبال و قائد اعظم کیخلاف تھے ورنہ اسلام کے نام پر اس ملک کا کباڑہ کیا جاتا۔ جن لوگوں نے کھل کر ہماری حمایت کی ہے اور وہ دنیا سے جاچکے ہیں اور جو کھل کر ہماری حمایت کررہے ہیں اور وہ دنیا میں موجود ہیں تو ان کا شمار سورہ واقعہ کے مطابق اصحاب الیمین میں ہوگا جو پہلے دور میں بھی کثرت سے تھے اور اس دور میں بھی کثرت سے ہیں۔ دین کو پہچاننے کے بعد ہاتھ ، زباں اور دل سے جہاد کے مختلف مراحل سے ہم بفضل تعالیٰ گزر چکے ہیں۔ حدیث میں پہلا درجہ انہی کو دیا گیا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اس کے ذریعے زبان ہاتھ اور دل سے جہاد کیا۔ دوسرا درجہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اعلانیہ اس کی تصدیق بھی کی اور تیسرا درجہ ان لوگوں کاہے جن میں اعلانیہ حمایت کرنے کی جرأت نہ تھی مگر دل ہی دل میں خیر کا عمل کرنے والوں سے محبت رکھی اور باطل کا عمل کرنے والوں سے بغض رکھا۔ انکے بارے میں بھی وضاحت ہے کہ وہ اپنے اس پوشیدہ عمل کے باوجود بھی نجات پائیں گے۔ بہت سے بزرگ علماء دین کل بھی ہم سے محبت رکھتے تھے اور دنیا سے اسی طرح سے رخصت ہوگئے۔ آج بھی بفضل تعالیٰ بڑے بڑے اکابر ہیں جو ہم سے دلی محبت رکھتے ہیں مگر ہمت نہیں کرسکتے۔ اخبار میں ان لوگوں کے بیانات بھی منظر عام پر آتے ہیں جو اعلانیہ ہماری حمایت کررہے ہیں۔ ان کی اس ہمت میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے اور بہت سے لوگوں کو ان کی بدولت اعلانیہ حمایت کی ہمت عطا فرمائے۔ اصل معاملہ عوام کی جہالتوں کا بھی ہے، آج ایک عالم نمازمیں قرآن وسنت کے مطابق سورۂ فاتحہ اور قرآن کی دیگر سورتوں اور آیات سے پہلے جہری بسم اللہ پڑھنا شروع کردے تو عوام کی طرف سے بغاوت کا خطرہ ہوگا۔
انقلاب کیلئے جہری نماز میں جہری بسم اللہ سے آغاز کرنا ہوگا۔ بنی امیہ کے دور میںیہ المیہ پیش آیا کہ جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنے والوں کوحضرت علیؓکا حامی قرار دیا جاتا تھا، امام شافعیؒ نے جہری بسم اللہ کو لازم قرار دیا تو ان کو رافضی قرار دیکر منہ کالا کرکے گدھے پر گمایا گیا، حضرت امام ابوحنیفہؒ کی موت جیل میں ہوئی ، حضرت امام مالکؒ کیلئے مشہور ہے کہ ان کے فقہ کو رائج کرنے کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے انکار کردیا۔ امام مالکؒ کی طرف یہ منسوب ہے کہ فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہ سمجھتے تھے، حنفی مسلک میں یہ پڑھایا جاتاہے کہ ’’ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے‘‘(نورالانوار)۔صحیح بات یہ ہے بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک اتنا قوی ہے کہ اسکے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتا‘‘( توضیح تلویح) درس نظامی کی یہ دونوں کتابیں دیوبندی وفاق المدارس و بریلوی تنظیم المدارس کے وفاقی بورڈ کا حصہ ہیں۔ آج مذہبی جماعتیں مدارس کے اپنے کفریہ نصاب کو درست نہیں کرسکتیں تو دنیا میں کیا اسلامی نظام کے نفاذ کا کام کرینگی۔ مولانا فضل الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن نالائق طلبہ تھے تو فیل ہوتے تھے،ان کو اسلام کی کوئی فکر نہیں۔ ان خود ساختہ ٹھیکیداروں کے چنگل سے اسلام کو بازیاب کرانا ہوگا۔کسی بادشاہ کو بھکارن پسند آگئی اور اس سے شادی کرلی،جو محل میں کھانا نہیں کھارہی تھی، بادشاہ کو پریشانی لاحق ہوئی تو وزیر نے سمجھایاکہ محل کے کونوں روٹی کے ٹکڑے پھیلادیں تو کھا جائیگی۔درباری مُلاؤں کو بھی انقلاب کا مزہ نہیں آتا بلکہ ٹکڑوں پر پلنا اچھا لگتاہے۔