پوسٹ تلاش کریں

آرمی چیف راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہیں، گھکڑ منڈی کے علامہ زاہد الراشدی و دیگر ذرائع سے سوشل میڈیا کی افواہ غلط ثابت ہوئی ہے۔ قرآن کی آیت سچ ثابت ہوئی ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی

انگریز کے جانے کے بعد بھارت اور پاکستان میں فوج ، عدلیہ اور بیورو کریسی کا نظام جوں کا توں ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن اسلامی نظام تو بہت دور کی بات ہے ہماری مملکت خدا داد میں فلاحی ریاست بھی قائم نہ ہوسکی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح آغاخانی ، پہلے دو آرمی چیف انگریز ، پہلا وزیر خارجہ قادیانی اور پہلا وزیر قانون ہندو تھا۔ 1971 ؁ء میں سقوط ڈھاکہ پیش آیا، باقی ماندہ مغربی پاکستان میں ذو الفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا، آخر کار 1973 ؁ء میں پہلی مرتبہ پاکستان کو اسلامی جمہوری آئین ملا۔ پہلے ختم نبوت کی تحریک والوں پر بغاوت کے مقدمات قائم ہوئے ، تحقیقاتِ عدالت پنجاب کے نام سے حکومت نے جو کتاب شائع کی ، اسمیں جسٹس منیر کی سربراہی میں مرزائی اور ان کو تحفظ دینے والوں کو اصل مسلمان اور انکے مخالف فسادی قرار دئیے گئے، جن کو اسلام اور مسلمانوں کی تعریف کا بھی پتہ نہیں تھا۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کا نمازِ جنازہ پڑھایا لیکن وزیرخارجہ سر ظفراللہ نے یہ کہہ کر جنازہ پڑھنے سے انکار کیا کہ ’’ایک کافر کا جنازہ مسلمان نہیں پڑھ سکتا یا پھر ایک کافر مسلمان کا جنازہ نہ پڑھے‘‘۔
ذوالفقار علی بھٹو نے تحریکِ ختم نبوت والوں کی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان میں قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا قانون بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلائی گئی ہے کہ غیرمسلم فوج میں بریگیڈئر کے عہدے سے زیادہ ترقی نہیں کرسکتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج میں ترقی کیلئے قادیانیت کا مذہب ترک کردیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے سسر جنرل رحیم کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ کٹر قادیانی تھے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا عبد الکریم بیر شریفؒ لاڑکانہ کا اصرار تھا کہ جنرل ضیاء الحق قادیانی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے علماء کی تحریک پر نہ صرف قادیانیت سے برأت کا اعلان کیا تھا بلکہ قادیانیوں پر سخت ترین پابندیاں بھی لگادی تھیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے رشتے ناطے اپنے کزن پارسیوں سے تھے۔ قائد اعظم کو تعلیم بھی انکے والد کے دوست کراچی کی معروف پارسی شخصیت نے ہی لندن میں دلائی تھی۔ پاکستان بنتے وقت بنگلہ دیش اور چاروں صوبوں میں کسی کو بھی اُردو نہیں آتی تھی۔ سر آغا خان نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کی قومی زبان عربی ہو، تاکہ قرآن و سنت اور عرب ممالک سے روابط پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ ہمارے ارباب اختیار نے اردو کو مسلط کرکے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو کھودیا۔ 69سال ہوگئے کہ قومی زبان اردو کو سرکاری زبان نہ بناسکے۔ سرتاج عزیز بھارت سے بے آبرو ہوکر نکالا جاتا ہے تو انگریزی میں تقریر کرکے عوام سے نہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوتا ہے۔ میڈیا پر اردو میں ترجمہ کرکے لکھا گیا کہ افغان صدر اشرف غنی کا بیان قابل مذمت ہے اس بیان سے اس کی گھبراہٹ واضح ہوتی ہے۔ سرتاج کا دماغ شاید چل گیا ہے ، جب افغانستان اور دنیا کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان سے دراندازی ہوتی ہے تو یہ کہنا کہ ’’اشرف غنی کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ گھبراہٹ طاری ہے‘‘ سے وہی مؤقف واضح ہوتا ہے جس کا ہمارے بزرگ وزیر خارجہ نے ازالہ کرنا تھا۔اگر ہم افغان صدر کو ڈرانا چاہتے پھر یہ بیان درست ہوتا۔ ہماری دیرینہ خواہش یہ ہے کہ ہم سے انکا خوف نکل جائے۔
پاکستان کی تاریخ میں اگر رانا بھگوان داس کو ایک عرصے تک مستقل چیف جسٹس بنادیا جاتا تو عدالت کی تاریخ میں سب سے زیادہ انصاف اور قانون کیمطابق فیصلے ہوتے۔ انگریز آرمی چیف کی قیادت میں پاک فوج نے قبائلیوں کی مدد سے سرینگر تک کشمیر کو فتح کرلیا تھا۔ پھر سیاسی قیادت نے اقوام متحدہ کے آسرے پر پاکستانی افواج اور قبائلیوں کو واپس بلالیاپھر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، پہلے مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب خان نے بیوروکریسی کے صدر کو معطل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا اور ذو الفقار علی بھٹو کو وزیر خارجہ بنادیا۔ بھٹوکو اپنے محکمے اور ملک میں قادیانی کی طاقت کا اندازہ تھا اسلئے مذہبی طبقوں کو قادیانیوں کے خلاف تحریک کی کھلی چھوٹ دے دی۔ پاکستان کی بنیاد ہی مکس ملغوبہ تھا۔ سیکولر لوگوں نے اسلام کے نام پر عوام میں مذہبی منافرت کی بنیاد رکھ دی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ اگر شریعت میں اللہ کے سوا کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم کرتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ کمزور کو طاقتور سے نہ لڑانے کی یہ بہترین حکمت عملی ہے۔ صحافت و سیاست کے شعبے میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے کہ اگر آرمی چیف کو سجدے کی بھی ملک میں روایت ہوتی تو بہت سارے قطار اندر قطار کھڑے رہتے۔ مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں بھی درباری ملاؤں اور حکومت کے دست و بازو نے سجدہ تعظیمی کا ارتکاب کیا تھا۔ جنرل رحیم کے داماد جنرل ضیاء الحق نے جو احسانات نواز شریف اور اسکے خاندان پر کئے تھے ، احسان کے بدلے میں احسان کے طور پر ہی نہیں بلکہ سُود جیسے بدترین گناہ کے طور پر بھی اگر نواز شریف جنرل قمر باجوہ کو چیف آف آرمی اسٹاف بناتا تو قابل تعریف تھا۔ لیکن اگر اس نے پاک فوج کو کمزور پوزیشن پر لانے کیلئے کسی بدنیتی کا مظاہرہ کیا ہے تو اسکے نتائج بھی خود ہی بھگتے گا۔ بھارت میں سکھ نالاں ہیں اور باغیانہ ذہنیت رکھتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر سکھ ہی آرمی چیف بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں پر بغاوت کا کوئی الزام نہیں ہے بلکہ پاکستان بنتے وقت قادیانیوں نے بھارت کے قادیان کو چھوڑ کر ربوا چنیوٹ پنجاب کو اپنا مرکز بنایا۔ جب طالبان ، مجاہدین اور پاک فوج کے جوان قبائلی عوام اور پاکستانیوں پر مظالم ڈھاتے تھے تو شریف برادران اور عمران خان وغیرہ کی ہمدردیاں طالبان سے ہوتی تھیں۔ عوام کے سمجھدار لوگوں میں یہ سوچ بھی موجود تھی کہ فوج میں قادیانیوں کا غلبہ ہے اور جان بوجھ کرخاص طور پرپختون اور عام طور پردوسری قومیتوں کے لوگوں کو قادیانی ذہنیت کی خاطر تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔ جنرل راحیل شریف سے عوام کی محبت اسلئے بڑھی کہ ملک میں اس فتنے و فساد کا ایک حد تک قلع قمع کردیا گیا ہے۔
حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ کی مشاورت سے اپنے دور حکومت میں جو نظام تشکیل دیا اس میں پولیس ، فوج ، عدلیہ اور بیت المال وغیرہ میں دوسرے ممالک سے استفادہ لیا گیا۔ آج شدت پسند بھی اغیار کے فوجی تعلیم و تربیت اور جدید آلات سے ہی مدد لیتے ہیں۔ پاکستان بہت نازک موڑ پر کھڑا ہے ، میڈیا کا کردار عدل و اعتدال کے قیام کے بجائے افراط و تفریط پھیلانا رہ گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ جب کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو اور اس کو سمجھنے میں دشواری ہو تو اولی الامر سے تصدیق کرواؤ ۔ آج فاسق فاجر میڈیا کا فائدہ اٹھا کر جس طرح سے ہوش ربا خبریں پھیلاتے ہیں اور ملک میں جو صورتحال موجود ہے اس کے کچھ بھی نتائج نکل سکتے ہیں۔ بڑے علماء کرام اپنے نصاب تعلیم میں کفر کے مترادف مضامین کو تسلیم کرنے کے باوجود تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے توعام مسلمانوں سے کیا توقع ہوگی؟ ۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے داعش کے اوپر احادیث کو فٹ کیا تو انہی احادیث میں یہ بھی ہے جو مولانا یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺکے آئینہ میں‘‘ نقل کیا ہے کہ ’’لوگوں پر ایک وقت ایسا بھی ضرور آئیگا جب کمینہ ابن کمینہ کو بہت معزز سمجھا جائیگا‘‘۔ موجودہ دور کی وہ شخصیات جنہوں نے محض اپنی چالاکیوں سے ایسا مقام حاصل کیا ہے کہ ہر قسم کی الٹی سیدھی ہانکتے ہیں مگر پھر بھی انکی سیکورٹی پر خاطر خواہ پیسے خرچ کئے جاتے ہیں۔ کوئی ان سے درست بات پوچھتا بھی ہے تویہ جواب دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے ہیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

سیاسی بے چینی کا حل سیاستدان خود کیوں نہیں نکالتے؟

آصف علی زرداری نے 11سال جیل میں گزارے مگر عدالت سے سزا نہ ہوئی ۔ نواز شریف نے سعودیہ جلاوطنی کے دوران جیو ٹی وی اور جنگ کے مشہورصحافی سہیل وڑائچ سے انٹریو میں کہا کہ ’’ زرداری کیخلاف کیس آئی ایس آئی کے کہنے میں آکر بنائے تھے‘‘ ۔ جب بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری کو حکومت ملی تو پھر نوازشریف اور شہباز شریف نے زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا مرتکب قرار دیا اور پیٹ چاک کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریر شروع کردیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ میں جھوٹ بولا ؟۔ زرداری کی قیدکا ذمہ دار کون تھا؟، دوبارہ بھی فوج کے کہنے پر شور برپا کیا تھا یا یہ سب بکواس اور غلط بیانی ہے؟۔ اگر زرداری جرم ثابت ہونے سے پہلے جیل میں سزا کاٹے، دنیا بھر کی گالیاں، مغلظات اور دھمکیاں کھائے تو وہی سلوک پانامہ لیکس کے بعد اپنے لئے بھی برداشت کرلو۔ جب سوئس اکانٹ پر زرداری کو گالیاں دی جارہی تھیں تو لندن جائیداد اور پانامہ لیکس کی دولت سے نوازشریف اور شہباز شریف بے خبر تھے یا یہ ضمیر کی آواز تھی؟۔ اگر زرداری کی ہتک نہیں تو تمہاری عزت کیا بہت انوکھی ہے؟۔ یہ طے کرنا بھی عزت کے خلاف لگتا ہے کہ مریم نواز صفدر کی بیگم ہے یا نہیں رہی ؟،غریب کی عزت لٹ رہی ہے۔علماء گونگے ہیں ،فتویٰ دیا جاتاکہ قرآن میں طلاق شدہ کی شادی کرانے کا حکم ہے اور شادی شدہ کا تعلق چھپانا جائز نہیں۔
پاکستان کی تعمیر نو کیلئے بچوں کو مال ودولت سمیت بلالو، تاکہ ان کی خداداد صلاحیتوں سے قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔ مجرم سے حقائق اگلوانے کیلئے تفتیشی حکام الگ الگ بیان لیتے ہیں مگر تمہارے بچے وکیلوں سے مشاورت کیساتھ میڈیا پر بھی بات کیلئے تیار نہیں۔ متضاد بیانات سے سچ یا جھوٹ کا پتہ چل چکاتھا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ خاتون نے اسحاق ڈار کیساتھ پریس کانفرنس میں کہہ دیاکہ ’’جدید دور میں احتساب کرنا مشکل کام نہیں رہا‘‘۔ وزیراعظم اخلاقی ، قانونی ، شرعی ، سیاسی ہر قسم کی ساکھ کھوچکے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ تمام تضادات کے باوجود عدلیہ کو غلاظت کا ایسا ڈھیر سمجھ رکھا ہے جہاں غلیظ سے غلیظ تر انسان کو بھی چھپنے کا مواقع مل سکے، عدلیہ کو کسی کا داغ دھونے کی بجائے ڈٹ کر ایسے فیصلے کرنے چاہیے کہ عدالت کو مجرم اپنی پناہ گاہ سمجھنے کی بجائے رعب ودبدبہ اور گرفت کا ذریعہ سمجھیں، چیخ کر مجرم پکاریں کہ’’ عدالت میں معاملہ لیجانے کی بجائے ہم پر رحم کیا جائے‘‘۔
شہبازشریف اتناکہہ دیتا کہ ’’میں نے ہمیشہ جنرل کیانی کی ٹانگوں میں سر دیا، پرویز مشرف سے مخاصمت کا بھی حامی نہ تھا، نواز شریف کی طرح میں نمک حرام نہیں کہ جس نے گود میں پالا ، اسکے منہ پر پاؤں رکھوں‘‘۔ تو بات بالکل ختم ہوجاتی۔ فوج کیخلاف صاف مؤقف تھا کہ ’’ہم تیرآزمائیں اور تم جگر آزماؤ‘‘ ،جب ہوا کا رخ بدل گیا تو پھر ’’تم تیر آزماؤ، ہم چوتڑ آزمائیں‘‘۔بھائیوں کا مسئلہ نہ ہوتا تو ن لیگ کئی گلوبٹ قربان کرچکی ہوتی، عاصمہ جہانگیر اور مولانا فضل الرحمن بتائیں کہ گلوبٹ اور پرویز رشید سے زیادہ شہبازشریف اور نوازشریف استعفیٰ کے مستحق نہ تھے؟۔

اداریہ نوشتہ دیوار

دہشتگردی، ڈان کی خبر اور سیاسی واقعات و حالات
اوبامہ نے 10سال تک دہشت گردی جاری رہنے کا بیان اسوقت دیا، جب جنرل راحیل نے 2016ء کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا معاملہ اور ڈان کی خبر پر حکومت اور کورکمانڈرز کانفرنس کے درمیان تنازع ہے ۔ کرپشن کے الزام پر شہباز شریف نے عمران خان کیخلاف تقریراور 26ارب ہرجانہ کاعلان کردیا۔ میڈیااور لواحقین نے پولیس سینٹر میں دہشت گردی کانشانہ بننے والوں پر سوال اٹھایا تھا۔ محمود اچکزئی خاموش ہیں، مولانا فضل الرحمن کو انڈیا کی بارڈر پر خلاف ورزی نظر آئی۔ واقعہ دنیا میں کہیں بھی ہوسکتا ہے مگر سازش کا سوال پولیس وحکومت پر اُٹھ رہا ہے جسمیں ن لیگ اور اچکزئی شامل ہیں تو پھر کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی؟۔گرتی ہوئی لاشوں کا بھی کوئی ہوش ہے یا نہیں؟، اگر شہبازشریف اپنے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ڈان نیوز کی خبر پریہ سنجیدگی اورکھل کروضاحت کرنے میں کیارکاوٹ تھی؟۔عدلیہ کے ذریعے الزامات ثابت کرنے ہیں توصد رزرداری کو 11سال جیل میں رکھنے کے باوجود کیوں گالیاں دیں؟۔ سویئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس دونوں قومی دولت ہیں۔ شرافت اور عدالت کا تقاضہ ہے کہ قومی قیادت کو قومی دولت لانے کا پابند بنایاجائے۔مریم نواز نے ایک کھرب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا کہ ڈان کی خبر میں ملوث ہونے کا الزام لگایا مگر جب پوری فوج کی مٹی پلید کرنے کی خبر بناکر شائع کی گئی تو حکومت اپنی فوج کیلئے ازخود کھڑی نہ ہوئی، کیوں؟۔
اگر جھوٹی خبر بدنیتی سے فیڈ کی گئی توپاک فوج کی عزت برائے فروخت نہ ہوگی جس کی قیمت عدالتوں کے ذریعہ شہباز شریف سے وصول کی جائے بلکہ اس پر قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہیے۔ اے آر وای پر عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا کہ ’’یہ حکومت نوازشریف کو جنرل کیانی کے وقت میں فوج نے عطاء کی ‘‘۔ دھاندلی کا الزام سب جماعتوں نے لگایا۔جیوپر حامد میر نے ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ پشاور کے حلقہ سے عمران خان کیلئے بھی دھاندلی کے کھلے ثبوت پیش کئے تھے۔ موسمی پرندے پی ٹی آئی کے ایاز صادق وغیرہ اور ق لیگ والے ن لیگ کی طرف پرواز کررہے تھے تو سمجھدار لوگ تبصرہ کررہے تھے کہ ن لیگ کو حکومت دینے کا فیصلہ ہواہے، ہارون الرشید نے کہا کہ ’’عمران خان بروقت امریکہ اور برطانیہ کو اعتماد میں لیتا۔۔۔ ‘‘۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ایماء پر اسٹیبلشمنٹ سلیکشن کرتی ہے، جمہوریت کاخوامخواہ میں ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
ہمارے حکمران جمہوری ہوں یا فوجی امریکی اور برطانوی ایجنڈے کو لیکر چلتے رہے ۔ یہ دیکھا جائے کہ جنرل کیانی کے دور میں پاکستان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سب سے زیادہ دہشت گردوں کے حامی رہے ، الیکشن میں انکے علاوہ سب کیلئے مشکلات تھیں۔ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں اور پھر پیپلزپارٹی کے پیچھے نوازشریف اور عمران خان ہاتھ دھوکر پڑگئے۔جنرل راحیل نے پچھلی باریوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں چےئرمین سینٹ رضاربانی اور امسال اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو ساتھ بٹھالیا۔جس سے حکومت کے وزراء کے چہرے اترے تھے ۔ ہارون الرشید کوکہنا پڑا کہ راحیل آرمی چیف کیلئے بالکل نااہل تھے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کو شیخ رشید، عمران خان اور پارٹی کے کارکن اور رہنماؤں سے کھلے عام معافی مانگنی چاہیے کہ ایک یو ٹرن مشرق و مغرب یا شمال اور جنوب کا ہوتا ہے، یہ تو بلندی سے پرواز کا رخ موڑ کر اپنی شخصیت ، جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پاتال میں گھسیڑ دینا تھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ ’’جہاں علامہ طاہرالقادری جائے،میں بھی وہاں جاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری نے عوام سے رائے مانگی ،عوام اسلام آباد کادھرنا دیکھ چکے تھے، اسلئے شریف برادران پر زیادہ دباؤ ڈالنا مناسب سمجھا، رائے آئی کہ اسلام آباد نہیں رائیونڈ جانا ہے۔ شیخ الاسلام نے رائیونڈ کا اعلان دبنگ انداز میں کیا۔یعنی اب علامہ طاہرالقادری کیلئے واپسی کی گنجائش نہ رہی۔ شیخ رشید، جمعیت علماء پاکستان کے ڈاکٹر زبیر الخیری و دیگر بھی تھے۔اتنی قلابازی کھانے پر رقم لینے تک کے الزام لگ گئے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذوقِ تقریر مثالی ہے، کوئی اہم اعلان کرنے سے پہلے اپنی لاش پر مرثیہ پڑھنے کی حد تک جاتے ہیں،جلسۂ گاہ میں سامعین اور ٹی وی پر دیکھنے والوں کا علان کرتے کرتے خون خشک کردیتے ہیں، دماغ کی دہی بنادیتے ہیں، عمران خان نے کوفت اٹھاکر اپنے فسٹ کزن کے اعلان کا انتظار کیا جب اس نے اعلان کیا تو عمران خان نے بھی رائیونڈ کا اعلان کردیا۔ پھر علامہ طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کرکے اپنے بیٹوں کو ساتھ میں بٹھاکرقائد کی حیثیت سے اعلان کیا کہ ’’ رائیونڈ جانا تو دور کی بات ہے اس راستہ پر جانا بھی شریعت میں جائز نہیں اور میں اس کو شریعت اور جمہوریت کیخلاف سمجھتا ہوں‘‘۔ اتنا بڑا یوٹرن لینے سے علامہ کی شخصیت کے سارے بھیدکھل گئے۔ علامہ نے بڑی متضاد قسم کی قلابازی کھائی۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’مشاورت کرلو، جب عزم کرلو تو پھر اللہ پر توکل کرو‘‘۔ علامہ نے مشاورت اور اللہ پر توکل کا اعلان کیا مگر پھر جانے کو ناجائز قرار دیا، جیسے شیخ الاسلام نہ ہوں بلکہ نئے نئے مسلمان بن گئے ہوں۔ پھر پینترے بدلتا رہا کہ نیاماڈل ٹاؤں کا واقعہ کروایا جارہا تھا، اپنے بندوں کو خود مار کر ہم پر مقدمات بنانے تھے؟۔
جب اس طرف کا رخ کرنے کو بھی اسلام اور جمہوریت کے منافی قرار دیاتو یہ اپنے کارکنوں کو ہی نہیں ، عوام اور شیخ رشید و دیگر کو بھی روکنے کے مترادف تھا، پیپلز پارٹی والے تو اخلاقیات کے منافی قرار دیتے تھے ، اس نے تو عمران خان اور شیخ رشید کے عزائم پر بھی سوالیہ نشان بنادیا،عوام کو جمہوریت اور اسلام کا فتویٰ بتادیا۔ عمران خان نے اسلئے سوچا ہوگا کہ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ شیخ رشید تو ایک بار نہیں بار بار منجھا ہوا ہے۔ نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، پرویز مشرف اور ہرقسم کے لوگوں کا دفاع کرنے میں حالات کے مطابق مگن رہتاہے، دھلے دھلائے ہانڈی کی طرح وسیع ظرف اور بڑا تجربہ ہے۔ اس کی کوشش پہلے عمران خان کو نرمی دکھانے میں ناکام رہی۔ عمران خان نے خود یہ بھی کہا تھا کہ میں تو شیخ رشید جیسے گندے آدمی کو چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ پھر طاہرالقادری نے یورپی یونین سے مدد لینے کا بہانہ بنایا اور شاہ دولہ کے چوہے کے دماغ میں یہ بات نہ رہی کہ میں نے راحیل شریف سے بھیک نہ مانگنے کا فیصلہ کیا تھا ، یورپ کوئی خدا تو نہیں ۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے سعید غنی کو کہنے کاموقع دیا :’’ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے‘‘۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جنرل راحیل جارہا تھا مگر کمال کمینگی سے شریف برادران نے داؤ پیچ کھیل کر اپنے دامِ فریب کا خود ہی شکار ہوگئے۔ اگر فوج کا ارادہ خراب ہوتا تو طاہرالقادری یورپی یونین کیلئے فرار ہونے کے بجائے راحیل شریف پر اعتماد کا اظہار کرتا۔ اسکا اتنا بڑا یوٹرن لیناکہ اگر جہاز ہوتا تو پرخچے اڑ جاتے مگر علامہ بڑے مستقل مزاج یا ڈھیٹ ہیں کہ پرواہی نہیں کرتے۔ عمران خان نے ٹالنے کی بڑی کوشش کی مگر بالاخر30اگست کو جلسہ کیا۔نوازشریف نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے ذریعہ کھلے عام دھمکیاں دیکر واپس لیں۔ علامہ طاہر القادری کو ڈرانے کیلئے ماڈل ٹاؤن کا واقعہ کرایاتھا، 14شہداء کی لاشوں کے باوجود طاہرالقادری کو خطرہ تھایا فوج کو ملوث کرنا چاہتے تھے کہ امارات ائرلائن یرغمال بن گئی؟۔ عمران خان کا دل اور دماغ ایک ہے، جیسے پچھلے دھرنے میں شادی کا اعلان کیا، اس طرح 30اگست کے جلسے میں پھر تاریخ دیدی۔ یہ تو نوازشریف اور شہباشریف کی غلطی سے 6اکتوبرمیں ڈان کی خبر سے ماحول بدل گیا۔ورنہ اسلام آباد کا اعلان دوسری جماعتوں سے شرکت کی توقع پر کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کیلئے یہ نوازشریف کے گھر پر مظاہرہ نہ تھا۔ بلاول بھٹو نے 27دسمبر کا اعلان کیا لیکن جب ماحول کی تبدیلی دیکھ لی تو کہا کہ ’’7نومبر کو احتجاج کرنے کیلئے اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں‘‘۔ سب سیاسی جماعتوں میں قلابازی کھانے میں عمران خان اور طاہرالقادری کو کوئی دیر نہیں لگتی ہے۔

یہ کراچی ہے، مہاجر کیا سوچتے ہیں، کیا سوچنا چاہئے؟

نوشتۂ دیوار کے سینئر کالم نویس عبدالقدوس بلوچ نے کراچی کی صورتحال کو موضوع سخن بناکر کہاہے کہ: ان کارٹونوں سے ایک عام مہاجر کے ذہن کی درست عکاسی ہورہی ہے، ایک طرف وہ یہ سوچتاہے کہ بہ تکلف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جارہاہے حالانکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر غدار صرف کسی ایک کو قرار دیا جارہاہے۔دوسری طرف الطاف حسین اور ڈاکٹر فاروق ستار ڈگڈگی بجاکر مہاجروں کو نچارہے ہیں اور سب ہی اپنے احکام صادر کر رہے ہیں۔کل تک ایکدوسرے پر جان نچھاور کرنیوالوں کو ہوا کیا ؟۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے قائدین، کچھ رہنما اور کچھ کارکن رہتے ہیں ،باقی عام عوام الناس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، بس ان کو اتنا پتہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری قیادت ہے اور اس کی جماعت کو ہم اپنی نمائندگی کیلئے ووٹ دیتے ہیں، ہردکھ سکھ میں ہمارے رہنماکام آتے ہیں اور وہ ہماری شناخت ہیں۔ ایم کیوایم کا دعویٰ درست تھا کہ پڑھی لکھی عوام میں پارٹی اور قائدِ تحریک الطاف حسین کی پذیرائی دوسروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے، ایم کیوایم کی اس صلاحیت نے کراچی پر بہت برے اور اچھے دنوں میں اپنی حکمرانی برقرار رکھی ۔ مصطفی کمال کی پی ایس کو گورنر سندھ نے بے سروپاکہا۔ ایم کیوایم کی ساری قیادت نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کردیا، جس کی لندن سے بھی تائید ہوئی اور پھر سندھ اسمبلی سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کی بھی ایم کیوایم سے تائید کروائی گئی۔ جسکے بعد ایم کیوایم لندن نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا۔ گورنر سندھ کو مصطفی کمال بے غیرت اور رشوت العباد اور عشرت العباد نے مصطفی کمال کو گٹھیا اور مفادپرست کہا۔ ایک عام مہاجر کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون بھلاہے اور کون بُرا ہے؟۔
ایک زمانہ تھا کہ بلوچوں میں سب سے زیادہ مہمان نواز، ملنسار، وفادار اور اچھے لوگ لیاری کے بلوچ ہوا کرتے تھے، پھر سیاسی لوگوں نے اپنا مفاد اٹھاکربدمعاشوں کو لوگوں پر مسلط کردیا، پھر لیاری کی شناخت بھی شناسا ؤں کیلئے مسخ ہو گئی۔ یہی صورتحال کراچی کیساتھ پیش آئی۔ پاکستان بھر میں جہاں کراچی کا باشندہ جاتا تو اس کو بہت عزت ملتی تھی۔ پھر اس قوم پر وہ طبقہ مسلط ہوا، جس نے شناخت بدل ڈالی۔ پہلے پاکستان کا دارالخلافہ کراچی تھا اور جب نہ رہا تب بھی کراچی سے حکومت کی تقدیر کے فیصلے ہوتے تھے۔ لالو کھیت کے باشندے کہتے تھے کہ ’’ہم بادشاہ گر ہیں، جسے چاہیں اقتدار کی کرسی سے اتار لیں‘‘۔ پھر معاملہ بدل گیا تو لالوکھیت کے باشندے لیاقت آباد کے نام سے بھی اپنی عزت بحال نہ کرسکے۔ ایک معزز گھرانے سے نبیل گبول کا تعلق تھا اور جب پہلی مرتبہ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی بن گئے تو ہمارے شاہ صاحب کی ایک کتاب پر ان کا تائیدی بیان شائع ہوا۔ پھر ذوالفقار مرزا نے ماحول خراب کیا تو لیاری میں ان کیلئے جانا مشکل ہوگیاتھا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی چھوڑی، ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کرلی، پھر وہاں سے بھی نکل گئے۔
کراچی کی سیاست میں نبیل گبول کے خاندان کا1930ء سے ممتاز مقام تھا لیکن اب وہ موجودہ دور میں بے عزت سیاستدانوں سے عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ بلاول ، عمران، نواز شریف ، الطاف اور دیگر لیڈروں کی عزت ان جیسوں نے بنائی جن کا اپنا قدبہت اونچاتھا اور یہ لوگ درست قیادت کا انتخاب کریں گے تو قوم، ملک اور مسلمانوں کی تقدیر بھی بدل جائیگی۔ الطاف حسین نے سوبار کہا کہ ’’میں قیادت چھوڑتا ہوں‘‘ پھرکارکن منالیتے۔ اب پوری پارٹی نے کہا کہ ’’ قیادت ڈاکٹر فاروق ستارکرینگے ‘‘ تو الطاف بھائی کو چاہیے تھا کہ کہتے’’ میرا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیاہے‘‘، شروع میں درست کہا ،توقائم رہتے۔ لندن کے چند رہنما بیان بازی کا سلسلہ جاری نہ رکھتے تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں مہاجر متحداور خوشحال رہتے۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور بدزبانوں سے نجات مل جاتی اور وقت آتا تو غلط فہمیاں بھی دور ہوجاتیں۔ بانی بڑی عمر میں پہنچ کربھائی سے حاجی الطاف حسین بن جاتے۔ دل گرفتہ بددعاؤں کے بجائے پاکستان، قوم و ملت اور عالم انسانیت کو دعائیں دیتے۔ اگر عمران خان عظیم طارق کی شخصیت سے بہت متأثر تھے تو الطاف حسین سے بھی متأثر ہوتے۔قائد تحریک نے اس کی کونسی بلی ماری تھی۔پھرزہرہ شاہدہ ماری گئی تب بھی عمران خان نے کافی عرصہ بعد ہیلی کاپٹر پر کراچی آنے کے باوجود تعزیت تک نہیں کی۔ عمران خان نیازی سے زیادہ والدہ کی وجہ سے برکی قبیلے کی نسبت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جس طرح بلاول اپنے آپ کو زرداری سے زیادہ بھٹو سمجھتا ہے۔ کانیگرم سے برکی قبیلے کے گلشاہ عالم برکی نے عمران خان کیلئے بڑی قربانی دی تھی جو طالبان کے ہاتھوں زندہ غائب ہوا، لیکن عمران خان نے اس پر بھی طالبان کی کوئی مذمت نہیں کی، اگر عمران خان اور نوازشریف کے بچوں کو طالبان ذبح کردیتے یا زندہ غائب کردیتے یا دھماکوں میں ماردیتے توان کو دہشت گردی کی حمایت پر عوام کے دکھ کا پتہ چلتا۔ ضرب عضب کے بعد بھی نوازشریف کی طرح عمران خان نے بھی قومی ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں کیاجس کی وجہ سے پختونخواہ میں طالبان دہشت گردوں نے بھتے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور پولیس بالکل لاتعلق رہی۔ الطاف حسین واحد قائد تھے جس نے اپنے کارکنوں سے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو چائینہ کٹننگ پر پٹوایا۔ یہ الگ بات ہے کہ کارکنوں نے قائد سے نہیں پوچھا کہ ’’منی لانڈرنگ کی رقم تم سے برآمد ہوئی ہے‘‘۔ عمران خان اپنے سسر گولڈ سمتھ سے بہت متأثر ہیں اسلئے برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ برطانیہ نے امریکہ کا نوکر بن کر عراق تباہ کیا اور چوری پکڑی گئی تو ٹونی بلیئر کو کیا سزا دی؟۔ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس غلط چلایا تھا یا سزا میں 400بیسی سے کام لیا؟۔ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو برطانوی فوجی افغانستان میں طالبان کو رقم دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
لندن میں بیٹھنے والے جی حضوری کے عادی بن چکے ہیں، ان کوکیا معلوم کہ کراچی کی عوام روز روز ہڑتال سے تنگ تھی، لندن کی کھلی فضاؤں میں الطاف حسین اور دوسرے رہنما اندازہ نہیں لگاسکتے، ڈاکٹر عمران فاروق کی موت تو اپنی جگہ لیکن جس کسمپرسی میں کنونیئر رہے وہ بھی کوئی کم معمہ نہیں ،اب الطاف کوبھی یہی دن نہ دیکھنے پڑجائیں!۔ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی موت سے زیادہ تلخ تھی ۔کراچی کی بہادر عوام کو اگر بڑی بڑی قربانیاں دینے پر مجبور کرنے کے بجائے مہذب طریقے سے آگے بڑھایا جاتا تو آج کراچی کا مہذب طبقہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا۔ مصطفی کمال الطاف کے حصار سے نہ نکل سکا، تقریرہی کرنی ہے تو عوام کو تبلیغ میں بھیج دیا جائے،گھڑی گھڑی بداخلاقی کامظاہر ہ کس اخلاق کی تعلیم ہے ؟۔ کراچی کااصل مسئلہ پسماندگی ہے۔ سندھ کے دارالاخلافہ کراچی کی حالت بہتر ہوتی اور دیگر علاقے پسماندہ ہوتے تو دیہات کا مطالبہ نیا صوبہ ہوتا، الٹی گنگا اسلئے بہہ رہی ہے کہ دارالخلافہ کی حالت خراب ہے، سندھ کی رقم سے دبئی آبادہے، کراچی اور شہری آبادی پر پیسہ نہیں لگ رہا تو دیہاتوں کی کیا حالت ہوگی؟۔ سلجھے مہاجر بے وفا نہیں، الطاف بھائی کے پٹوانے کے باوجود رہنما ڈٹے رہے ۔ عوام علماء کے واعظ سن کر الطاف سے مانوس تھی مگر قائد کی غلطی اور معافی کا نہ رُکنے والا سلسلہ رہنماؤں اور پارٹی کیلئے بڑاتضحیک آمیز تھا، کامران خان نے ٹی وی پر الطاف کا کلپ دکھایا تو رضاہارون کی حالت قابلِ رحم تھی،روٹی حلال کریں مگر لندن میں الطاف کو غلط مشورے دیکر مہاجروں کا بیڑہ غرق نہ کریں،الطاف حسین اسی کی سزا بھگتے ہیں۔ عبد القدوس بلوچ (تیز و تند)

فیروز چھیپا مہتتم ماہنامہ نوشتہ دیوار کا تبصرہ

نوشتۂ دیوار کے مہتمم فیروز چھیپا نے عدالتی نظام پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے کہ: وقت آگیا ہے کہ گھسے پٹے قوانین کااز سرِ نو جائزہ لیا جائے اعلیٰ عدلیہ نے کچھ دن پہلے جب مظہرحسین کو 19سال بعدبری کردیا تو وہ دوسال پہلے انتقال کرچکا تھا۔ دوسری خبریہ بھی سامنے آئی کہ سپریم کورٹ نے دو بھائیوں کو بری کردیامگر ان کو سزائے موت بھی دی جاچکی ۔یہ قوانین کے شاخسانے ہیں یا غفلت کے مے خانے ہیں ؟۔ نہیں کچھ نہیں،نقاب اٹھ چکاہے، یہ طاقت کے بہانے ہیں، کمزوری کے افسانے ہیں انگریزنے اپنی حکومت چلانے کیلئے جو عدالتی نظام بنایا ہے، اسکے ترازو میں کمزور اور طاقتور کا توازن برابر نہیں ۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کئی صفحات پر تحریری اقرارِجرم کرلیاپھرچھوٹ بھی گیا۔ غلام اسحاق خان اور اسحاق ڈار میں کتنا فرق ہے؟۔ کیاکوئی غریب بھی اقرارِ جرم کے بعد باعزت بری ہوجاتا؟ آصف زرداری نے اپوزیشن میں 11سال جیل میں بسر کئے، طاقت کا توازن بگڑنے کی دیر ہے پھر نوازشریف پر پانامہ لیکس کے علاوہ بہت سے دوسرے لیکس کے مقدمات بھی چلنے کے فیصلے ہونگے۔ ڈاکٹر عاصم ، میئر کراچی وسیم اختر و دیگر باعزت بری ہوکر سمجھوتہ ایکسپریس میں پاکستان کی بھارت میں نمائندگی کریں گے اور بھارت کے ’’را‘‘ ایجنٹ کے مقدمات نواز شریف اور اسکے شریک اقتدار بھگت رہے ہونگے۔کمزور اور طاقتور میں بڑا فرق ہے۔ ادنیٰ سے لیکر وزیراعظم و صدرمملکت کے منصب تک عدلیہ عوام کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے بے نیاز ہوکر اپنے نظام عدل کے ترازو میں جھول کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے اور جب آنکھ کھل جاتی ہے تو بے انصافی ، ظلم اور جبر کے خون میں ڈبکیاں لے لے کر کمزور اپنی جان سے گزر چکا ہوتا ہے اور محب وطنوں کی قبروں سے ہمارے عدالتی نظام پر آوازکسی جاتی ہے کہ
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ا
دہشت گردوں سے متعلق خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام پر چیئرمین سینٹ نے اپنا ووٹ پارٹی کی امانت قرار دیکر روتے ہوئے دیا تھا۔ دہشت گردوں سے بڑی طاقت وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ سے غریب دہشتگردوں کیخلاف فیصلے کی توقع رکھی جاسکتی تھی مگر ن لیگ سمیت تمام جمہوری قوتوں کیخلاف عدلیہ سے انصاف کی توقع نہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہورمیں چودہ افرادکے قتل کا کیس رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہشت گرد پہاڑوں سے چھپ کر حملہ کرتا تھا۔ پنجاب کا وزیر قانون رانا ثناء اللہ کھل کر مونچھ کوگلہری کی دُم بناکر ہلاتا ہے۔ کراچی میں ایم کیوایم کی جمہوریت پاکستان کی کسی سیاسی جماعت سے کم تر نہ تھی لیکن کراچی میں قتل و غارت پر کبھی عدلیہ کی طرف سے اس وقت سزاؤں کا امکان نہ تھا، جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے خلاف کھل کر میدان میں نہ آئے۔
ن لیگ کیخلاف پرویزمشرف برسرِ پیکار تھے تو دنیال عزیزنے نوازشریف پرمحلات میں رہنے کے باوجود 400اور600روپے ٹیکس دینے کی بات حامد میرکے پروگرام میں اسحاق ڈار کے سامنے کی تھی جسکے کلپ دوسرے ٹی وی چینل پر دکھائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ طاقت کامرکز ہے تو دانیال عزیز سے سب کے سامنے بیان جاری کروایا جائے کہ ’’پہلے اس نے کس مجبوری کے تحت یہ بیانات دئیے تھے؟‘‘۔ اسطرح سے چوہدری نثار، حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، کلثوم نواز اورنوازشریف کے درمیان جو متضاد بیانات میڈیا پر چل رہے ہیں ، ان کا پارلیمنٹ میں صاف ستھرا جواب دیا جائے۔ نہیں تو عدالت اپنے چہرے پر کالک ملنے کیلئے تو نہیں بلکہ کالک صاف کرنے کیلئے وزیراعظم سے کہہ دے کہ ’’پہلے ایک وزیراعظم خط نہ بھیجنے کے مسئلہ پر نااہل قرار دیا جاچکاہے، جو اس کا ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ صدر مملکت کو آئینی تحفظ دینے کا معاملہ تھا۔ یہ تمہارا نہیں تو تمہارے بچوں کا معاملہ ضرور ہے، پانامہ کو اپنے بچوں کے خلاف خط لکھنے کے مسئلہ پر تم سے کوئی توقع نہیں، اسلئے خط لکھنے کیلئے اپنے منصب کو چھوڑ دو،جان کی امان ہو تو نیب والے جائیداد میں نام کا لحاظ نہیں کرتے۔ تم خود کو اپنے بچوں سے جدا نہیں کرسکتے، یہ کوئی نوکری ، چوری، دہشت گردی یا دوسرا معاملہ نہیں بلکہ کاروبار کا معاملہ ہے اور خاندانی کاروبار میں کسی کی خود مختاری کا مسئلہ نہیں ہوتا ۔ جدی پشتی کاروبار میں بچے باپ سے الگ کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ ارشد شریف نے اے آر وائی نیوز پر نیب کے آفسر کے سامنے پورا ریکارڈ پیش کیا ہے جو نیب میں بھی موجود ہے جس میں جاوید کیانی کا بھی اہم کردار ہے‘‘۔
ہمارے عدالتی نظام میں دوسرے ریاستی اداروں کی طرح بہت سی خامیاں ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی افادیت سب سے زیادہ ہے، دوسرے تمام ریاستی اداروں سے زیادہ عدالتوں سے انصاف کی توقع ہوتی ہے، جج کے ہاتھ قانون کیساتھ بندھے ہوتے ہیں، بعض اوقات وہ انصاف دے سکنے کے باوجود انصاف نہیں دے پاتا، پانامہ لیکس پر عدلیہ نے وزیراعظم کے خط کایہ جواب دیاتھا کہ ’’ اختیارات کے بغیر اس کو عدلیہ میں لانے کی ضرورت نہیں‘‘۔ تحریک انصاف کے کیس پر رجسٹرار نے جواب دیا کہ ’’یہ مضحکہ خیزہے‘‘۔ پھر اس کو سماعت کیلئے منظور بھی کیا، نوازشریف کا خیر مقدم کرنے باوجودیہ کہنا کہ ’’ عدالت نے نوٹس بھیجا ہے طلب نہیں کیا ہے‘‘۔ اس بات کی غمازی ہے کہ کن حالات میں وزیراعظم کا رویہ عدلیہ سے کچھ بھی ہوسکتاہے؟۔بسا اوقات عدلیہ ایک کمزورو غریب انسان کے سامنے بھی قانون کی وجہ سے بے بس ہوتی ہے اور کسی طاقتور کو بھی چاہت کے باوجود انصاف فراہم نہیں کرسکتی جو قابلِ غور ہے۔یہ بات قابلِ تعریف ہونے کے باوجود انتہائی قابل مذمت بھی ہے کہ ’’طاقتور کی طرح کمزور بھی قانون کا فائدہ اٹھاکر اپنے جرائم کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے‘‘۔ دہشت گردوں کیخلاف اسی لئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں آیا، سیاستدان اپنے خلاف کبھی بھی متفق نہ ہونگے البتہ عدلیہ نے نظریۂ ضرورت کے تحت جو فوجی مارشل لاؤں کو جواز بخشا تھا، اب نظریۂ ضرورت کے تحت سیاستدانوں کیخلاف انصاف کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کرنے ہونگے۔ شہباشریف نے علیم خان اور جہانگیر ترین کیخلاف الزام نہیں ثبوت فراہم کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ عدالت کو عوام کے سامنے ان سارے مسخروں کو سدھارنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ پھر وہ غریب جن کی عزتیں تک پنجاب و سندھ میں محفوظ نہیں، خود کش حملہ آورں کی صفوں میں شامل ہوکر سب کوختم کردینگے۔
عدالتوں پر پہلے بھی ن لیگ والے حملہ آور ہوچکے ہیں۔ فوج کے ساتھ متنازع خبر کی بنیاد پر حکومت کا کمزور ہونا عدالت کیلئے انصاف فراہم کرنے کا سنہری موقع ہے جسکا عدالت کو بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انصاف کرنا چاہیے۔ نوازشریف نے کھل گلہ کیا تھا کہ پانامہ لیکس پر فوج کرپشن کے خلاف بات کرنے کے بجائے مجھے تحفظ کیوں نہیں دے رہی ہے۔ اگر عدالت نے انصاف نہیں کیا تو پھر فوج اپنی خبر کا بدلہ لینے میں مارشل لاء بھی لگاسکتی ہے۔ پھر جمہوریت کے علمبرداروں نے بھی مٹھائیاں ہی بانٹنی ہیں۔ فیروز چھیپا

اشرف میمن پبلشر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

حکومت نے پہلے فوج کوناجائز دبایا کہ ’’ہم تیر آزمائیں تم جگر آزماؤ‘‘ مگر جب فوج کا دباؤ بڑھا تو پسپائی اختیار کی کہ ’’تم تیر آزماؤ ، ہم چوتڑ آزمائیں‘‘۔فرقہ واریت کا حل دیکھئے (اداریہ)
قوم حقائق کو دیکھ لے، اگر منتخب حکومت مظلوم ہو تو اس کا بھرپور ساتھ دیا جائے لیکن اگر حکومت نے واقعی کوئی انتہائی غلط حرکت، کمینگی، منافقت، بے غیرتی اوربد دیانیتی کابھرپور مظاہرہ کیا ہوتوعبرت آموزسبق ہی سکھایاجائے

potitcs-in-pakistan
جب ڈی جی آئی ایس آئی نے پنجاب میں شہبازشریف کی شکایت کا مثبت جواب دیا اورنوازشریف رکاوٹ بنے تو حقیقت کے برعکس خبر کے تین انتہائی مضرو خطرناک مقاصد ہوسکتے ہیں
1:بین الاقوامی، علاقائی، مقامی سطح پر فوج کو حقائق کے برعکس رگڑنا،2:حکومت کیلئے فوج کو ذاتی نوکر بنانے کی بدترین سازش،3: دہشت گردوں کوتحفظ فراہم کرنے کی بہت ہی غلیظ، ناپاک اور بدترین کوشش کاایک خفیہ راستہ

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہا: ڈان نیوز کی خبر کو وزیرداخلہ نے دشمن کا وار قرار دیا اور حکومت نے آدھا سچ کہا، وزیر اطلاعات پرویز رشید کو فارغ کیا ۔ صحافی نسیم زہرا مصدقہ خبردی کہ’’ شہباز شریف نے ڈی جی آئی ائس آئی سے کہاکہ حافظ سعید اور مولانا اظہر کے بندوں کو پولیس پکڑتی ہے، تمہارے لوگ رکاوٹ بنتے ہیں۔رضوان اختر نے کہا کہ میں ساتھ جاتاہوں، کوئی بھی رکاوٹ نہ ڈالے گا۔ نواز شریف نے کہا :پہلے دیگر تین صوبے میں جاؤ،پنجاب میں اب نہیں پہلے یہ شکایت تھی ۔ خوشگوار موڈ میں ہی بات ہوئی۔ جھوٹ لکھا گیا کہ رضوان اخترو شہباز شریف کی تلخی ہوئی‘‘۔ جس پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جب تردید ہوئی تو بات ختم ، فوج کی کیا تذلیل ہوگئی؟۔ نسیم زہرا نے کہا کہ حکومت خود کہہ رہی ہے، وزیرداخلہ کا بیان آیا، پرویزرشید کو ہٹا دیا اور حکومت بچہ ہے کہ رات کو بھآؤ کرکے فوج ڈرائے۔ عاصمہ نے کہا: بالکل یہی بات ہے، میں وزیراعظم ہوتی تو استفعا دیتی کہ خود ہی سنبھالو۔ محترمہ عاصمہ جمہوریت کی حامی اور مارشل لاء کی مخالف ہیں مگر رضوان اختر پنجاب میں دہشت گرووں کیخلاف تعاون کیلئے تیار تھے تو کہانی شائع کرانے کا مقصد کیا تھا؟آدھا سچ کہنے کے اثرات کیا تھے؟۔ 1:پہلے عالمی قوتین دہشت گردوں کو پال رہی تھیں اور اب دنیا اس سے تنگ آچکی ہے، جنرل راحیل کی قیادت میں فوج نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، اپنی عوام، پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی سطح پر حقیقی نیک نامی حاصل کی مگر کہانی نے قربانیوں کا بیڑہ غرق کرکے صرف فوج کے امیج کونہیں پاکستان کو بھی بڑا نقصان پہنچایا، اسلئے کہ کٹھ پتلی سیاستدان اور فوج نے مل کر امریکہ کی ایماء پر شدت پسندوں اور دہشتگردوں کو فروغ دیاتھا، راحیل شریف نہ ہوتے تو یہ کھیل جاری رہتا اور غلط فہمی کی فضاء باقی رہتی، مشرف کشمیری مجاہدین کو بار بار ضرورت کہہ چکے تھے، سب کو آدھے سچ کے نام پر جھوٹی کہانی کا یقین ہوچکا تھا۔ حکومت کے حلیف مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی، محمود اچکزئی نے پہلے ہی کھل کر دہشت گردوں کو پالنے کا الزام فوج پر ہی لگایاتھا، پولیس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا تو بلوچستان میں پولیس سینٹر پر حملہ کی سازش پر خاموشی کیوں ہے؟۔ جبکہ صوبائی حکومت ن لیگ اور محمود خان اچکزئی کی ہے۔ میڈیا پر بڑے زور وشور سے لواحقین نے یہ مسئلہ اٹھایا کہ چند دن پہلے ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد پھر خوامخواہ بلوایا گیا؟۔ وکیلوں کو فوج کے کھاتے میں ڈالنے والے قوم کے سامنے اپنا احتساب کیوں نہیں دکھاتے؟۔ دوسری مرتبہ واقعہ سے تو مزید لوگوں کا غصہ بڑھنا چاہیے تھا۔ جب رضوان اختر نے پنجاب میں دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے پورا تعاون دینے کی بات کردی تو شریف برادران پیچھے کیوں ہٹے؟۔ حلیف جماعتوں کو چاہیے کہ پوری قوم کے سامنے ان کو کھڑا کردیں ، اگر فوج کی طرف سے جھوٹ بناکر ان کو دیوار سے لگانے اور جمہوریت کیخلاف سازش ہورہی ہے تو پوری قوم کو کھڑا کردیں اور حلیفوں سے کہہ دیں کہ پسپاہی پر پسپاہی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر معاملہ اسکے بالکل برعکس ہو تو پھر فوج کیساتھ اس طرح سے کھڑے ہوجائیں کہ ڈکٹیٹر کی اولادوں کو بھی یاد رہے۔ حکومت نے اگر غلط کہانی گھڑکر کمینگی، بے غیرتی اور ذلالت کا بھرپور مظاہرہ کیاہے تو ان کو معاف کرنا قوم، ملک اور ملت کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ دہشتگردوں کے یارو ں کو ایک دھکااور دو۔
2: شریف برادران کی طرف سے اس کہانی کا دوسرا خطرناک مقصد یہ ہوسکتاہے کہ مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر اچھی شہرت یافتہ فوجی قیادت کو جھوٹی کہانی سے بھیگی بلی بناکر خود کو حقیقی شیر ثابت کیا جائے ، انسانی روپ میں جنگلی بادشاہ بن کر پاکستان میں جنگلی شہنائیت کا خواب پورا کیا جائے۔ پہلے بہادری سے حکومتیں قائم ہورہی تھی، اب پیسوں کا کھیل بن گیاہے۔ جب جنرل راحیل جیسے بے لالچ، دبنگ اور نڈر کے سامنے آئی ایس آئی کے ڈی جی کی ایسی تیسی کی جاسکے تو آنیوالی فوجی قیادت بالکل ذاتی غلام بن کر رہے۔ جب فوج کا ڈر بھی نہ رہے گا تو لوگوں کو ڈرانے کیلئے ذاتی بیئریر ہٹانے کے بہانے ماڈل ٹاؤن کی طرح قتل و غارت کا بازار گرم کرنے اور گلوبٹوں کو استعمال کرنے سے بھی شرم نہ آئے گی اور کورٹ کے آرڈر پر بھی ایف آئی آر کو درج نہیں کیا جائیگا، جبتک دھرنے کے ذریعہ ہوا نہ نکالی جائے آرمی چیف مداخلت نہ کرے۔ دوسری طرف اتنے بزدل کہ ایس ایس پی اسلام آباد کو سرِ عام پیٹنے پر بھی کوئی غیرت نہ کھائیں۔حکومت کے حلیف اُٹھ کھڑے ہوں اور موجودہ فوجی قیادت کو نہ صرف سپورٹ کریں بلکہ جنرل راحیل کو 7فیڈ مارشل کی حیثیت سے 3سال کی توسیع کا اہتمام کریں، تاکہ پاکستان کو دنیائے اسلام اور انسانیت کا بہترین ملک بنایا جاسکے۔ وزیراعظم کا دومرتبہ منتخب ہونے پر دس سال کا عرصہ پورا ہوتا ہے مگر اس پر بھی ان بادشاہوں کا جی نہیں بھرتا۔ پھر موروثی سلسلے بھی چلتے ہیں۔ حقیقی جمہوریت کی طلب ہوتوقانون کی حکمرانی ضروری ہے۔عدالت گیلانی کی طرح نواز وشہباز کو ناہل قرار دے تو لیگی خود ہی راہ ہموار کردینگے۔
3: من گھڑت کہانی کا آخری اور تیر بہدف مقصد یہ تھا کہ آدھا سچ سے کالعدم تنظیموں اوردہشت گردوں کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ جنرل راحیل شریف اور میجر جنرل رضوان اختر پنجاب میں تمہارا خاتمہ چاہتے تھے، ہم نے تمہارے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کام کیا اور ان کو تمہارے خلاف اقدام کرنے سے روک دیا۔ جس طرح لیاری گینگ وارکے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران عذیر بلوچ کی وفاداری کا حلف اٹھاتے تھے، پنجاب میں مقامی سطح پر مسلم لیگ ن کے رویہ کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کیلئے اسکی نوبت بھی آسکتی تھی۔ یوسف رضاگیلانی پر بھی اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں الیکشن کے دوران دہشت گرد ساتھ گمانے کا میڈیا پر ن لیگ والوں نے درست الزام لگایا ہوگا۔ جس طرح ایم کیوایم کے رہنماؤں کی الطاف حسین کا پٹائی لگوانے کے بعد یہ طرزِ عمل بناکہ بعض پارٹی چھوڑ کر چلے گئے اور بعض نے تہیہ کرلیا کہ کراچی سے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ گورنر سندھ کو اسلئے پارٹی سے نکال دیا گیا۔ مصطفی کمال کی پارٹی بنی اور ڈاکٹر فاورق ستار کی قیادت میں ایم کیوایم نے بالآخر اپنے قائد سے ناطہ توڑ ا، اسی طرح پنجاب کی کالعدم تنظیمیں بھی اپنے شدت پسند وں سے جان چھڑانے کے چکر میں ہونگی مگر مسلم لیگ ن میں اتنی ہمت نہیں ۔ جیسے ضرب عضب سے پہلے فوج سے موقع مانگا تھا جسکے بعد دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، اس سے زیادہ ن لیگ کو پنجاب کاشدت پسند طبقہ پیارا نہیں لیکن ڈر ضرور لگتاہے۔ اگر فوج کو دبانے میں یہ کامیاب ہوگئے تو پھر یہ دہشت گردوں کا فرار طبقہ بھی واپس آئیگا اور جمہوریت ، سیکولرازم ، فوج مخالف ، انسانیت کا علبردار طبقہ ہی نتائج بھگتے گا۔پھر مصلحت پسند مجاہدقیادت اور فرقہ پرستوں کی بھی خیر نہ ہوگی۔دہشت گردوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے پالتو سیاستدانوں کا محاسبہ بھی پاک فوج ہی کو کرنے دو، ورنہ افتخار چوہدری کی حمایت پر جیسے پچھتاوا کام نہ آیا، پھروہی حشر ہوگا۔عاصمہ جہانگیر، مولانا فضل الرحمن، مولانا شیرانی، محمود اچکزئی وغیرہ اب تو بالکل ریٹائرڈ ہونے کی عمر کو پہنچ گئے ہیں۔ فوج اور عدلیہ کو درست سمت اپنے قبلہ کا تعین کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ ایم کیوایم، دہشت گردوں اور بلوچ شدت پسندوں کے یاروں اور سہولت کاروں کو بھی جانے دیں۔ پھر عمران خان سے علیم خان اور جہانگیر ترین کی دولت ہٹ جائے اور ن لیگ سے کرپشن کا پیسہ واپس لیا جائے تو قوم خود ہی درست قیادت کا انتخاب کرلے گی، کھلے دشمنوں سے منافقت کرنے والے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ نوازشریف خفیہ طور سے 22اگست سے پہلے ایم کیوایم کے ساتھ تھے، ضربِ عضب سے پہلے طالبان کو بھی سپورٹ کیااور بلوچ شدت پسندوں کے بھی ساتھ تھے۔
نواز شریف اور عمران خان کو ذبح کیا جاتا یا بچوں کو اڑادیا جاتا تو یہ کیا پھرحمایت کرتے؟ ، جان کی امان کیلئے ہی انہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔دہشت گردوں کے اصل سہولت کاروں کو پکڑا جائے تو عمران خان اور نوازشریف سے بڑے سہولت کار کون تھے؟۔ ایم کیوایم سے زیادہ تحریک انصاف کے دور میں بھتہ وصول کیا گیا، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑے گئے۔جمہوری حکومتوں کے پاس اختیار نہ تھا تو اقتدار کو لات کیوں نہ ماری؟۔ پہلے سارے پٹھان طالبان یا طالبان کے حامی تھے، فوج سب کو تو نہ مارسکتی تھی؟، پھرضرب عضب سے پہلے پٹھان بھی طالبان سے تنگ آچکے تھے مگرعمران خان گلوبٹوں کو طالبان کے حوالہ کرنے کی دھائی دیتا تھا، سی پیک پر عمران خان اور خٹک نے کیا پاؤڈر اور افیون کا نشہ کیاتھا۔اشرف میمن

اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

نوازشریف دوباروزیراعظم بن چکاتھا، سی پیک پرویزمشرف کا کارنامہ تھا ،اگر نوازشریف نہ آتا تو مغربی روٹ بن چکا ہوتا ، تجارتی سرگرمیاں بھی شروع ہوچکی ہوتیں

ایم کیوایم کی طرح پھوٹ پڑے تو گھر کے افراد بھی نااہلی کے گواہ بن جائیں،آلو کی قیمت کم اور بجلی کی قیمت کا جھوٹ سے غلط بتانے پر زرخرید میڈیاخبر کیوں نہیں لیتا؟

سوات کے امیر مقام سے کراچی کے الطاف ، پنجاب کے لوہار اور سندھ کے زردار تک قوم پر مسلط قائدین حدیث کیمطابق روبیضہ (گرے پڑوں) سے توقع نہیں ۔

ایڈیٹرنوشتۂ دیوار اجمل ملک نے کہاکہ : نوازشریف پہلے بھی دومرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں مگر سی پیک نہیں بنایا، کسی اور کی حکومت ہوتی تو مغربی روٹ بن چکا ہوتا، ، مشرقی روٹ پر دھند کا ڈیرہ ہوتا ہے، گوادر سے لاہور کیلئے بھی مغربی روڈمحفوظ اور شارٹ کٹ تھا،پنجاب کی آبادی مزید ماحولیاتی آلودگی کی متحمل نہیں،بجائے صحن کے کم عقل گھرکی چھت پرباغ اُگارہاہے۔ وزیر اعظم کی اہلیت اور دیانتداری کیلئے دور جانے کی ضرورت نہیں،یہ دیکھا جائے کہ ملک چلانا تو بڑی بات کیا یہ اپنا گھر چلانے کے لائق بھی ہے؟، آلو کی قیمت کا اعلان کیا ’’80روپے کلو تھا، اب 25 روپے ہوگیا،یہ بھی زیادہ بتا رہا ہوں ورنہ مجھے 20 روپے بتایاگیا‘‘۔ قوم نااہل وزیراعظم کیخلاف کیوں اُٹھ کھڑی نہ ہوئی؟۔ کسی احمق ترین سے پوچھ لو، تو وہ بھی بتادے گا کہ آلو کی قیمت کا تعلق موسم سے ہے، پنجاب میں فصل کا وقت ہوتاہے تو قیمت بہت گرجا تی ہے ،جب نااہل حکمران کی وجہ سے ایکسپورٹ نہ ہو، آلو زیادہ کاشت ہو تو کسان اپنی محنت اور لگائی ہوئی رقم بھی کھودیتا ہے‘‘ جس وزیراعظم کو یہ پتہ نہ ہو، وہ کرپشن کا سہارا لئے بغیر مالدار کیسے بن سکتاہے؟، یہ بیان کیا نااہلیت کیلئے کافی نہیں؟۔ عدالت میں یہ ثبوت نہیں چلتا کیونکہ ہماری قوم اہلیت کے مفہوم سے عاری لگتی ہے۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
عوام کواہلیت کا پتہ نہیں، چھوٹے سر والی عوام نواز شریف کی طرح آلو ، بڑے سر والی عوام شہباز شریف کی طرح کدو جیسے ہیں دونوں کو آمروں نے ہی قوم پر مسلط کیا۔ بالکل جھوٹ سے بجلی کا یونٹ 18سے کم کرکے 10 روپے بتایا؟ وزیر اعظم کی نا اہلی کیلئے یہ جھوٹ کافی نہیں؟۔عدالت لوٹا ہوا پیسہ اورعمرہ جاتی محل لاہور کے متأثرین کو دلادے
ہوئے ہم جو مرکے رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کہیں جنازہ اٹھتا ، نہ کوئی مزار ہوتا
بے رحمانہ احتساب ناگزیر ہوچکا۔وزیراعظم کی نااہلی کیلئے اصغر خان کیس کا16سال بعد فیصلہ کافی تھالیکن سامری کایہ بچھڑا مقدس گائے کی اولاد ہے اسلئے سزا نہ ہوئی۔ عاصمہ جہانگیر کی بات سوفیصد درست ہے کہ’’ دو خدا مل جائیں تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے‘‘۔ باقی تین صوبوں میں تو 3خداؤں کا عقیدۂ تثلیث کا چل رہاہے۔ فوج ، عدلیہ اور تختِ لاہور کی جمہوریت تینوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ الطاف حسین کی تصویر پر عدلیہ کی پابندی لگانے کا کیس عاصمہ جہانگیر لڑ رہی ہیں۔اللہ نظرِ بد سے بچائے ، دہشت گردی کا گرد بھی نہ لگے لیکن محمود خان اچکزئی بیان دے تو فروغ نسیم اس بات کو فروغ دیتاہے کہ وکلاء اچکزئی کا کیس نہیں لڑینگے، کیوں؟۔ الطاف حسین کی وکالت کرنیوالاسینیٹر فروغ نسیم محمود خان اچکزئی اور الطاف حسین میں یہ تفریق اسلئے روا رکھتا ہے کہ ایک کتنے معاملات میں ملوث ہو مگر کبھی تو فوج کو بھی دعوت دیتاہے اور دوسرے کا جرم جمہوریت کا راگ الاپنا ہے؟ ۔ ریاست ماں ہے مگر تختِ لاہور اور اسٹیبلشمنٹ کوماں باپ کہنا حماقت ہے۔ دونوں کے ازدواجی تعلق سے باقیوں نے اولاد کی طرح نہیں جناہے۔ بلوچستان میں60سے زیادہ پولیس میں بھرتی ہونے والے جواں شہید ہوئے مگرجیوٹی وی کے ٹیبل ٹاک میں مباحثہ ہورہاہے کہ باپ(فوج) وزیراعظم کو جھاڑ دانٹ پلائے تو مسئلہ نہیں لیکن اگر ماں (وزیراعظم) نے باپ (فوج) کو ڈانٹ پلادی تو اس کو محلے میں پھیلانے سے گھر کی بدنامی ہوتی ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ بیوی تو دور کی بات یہ تو لونڈی بھی نہیں بلکہ ناجائز تعلق کے نتیجہ میں یہ سیاست میں لائے گئے ہیں۔ فوج نہ لائے تو یہ ریاست کے وزیراعظم ہاؤس میں داخل بھی نہ ہوں۔
دہشت گردوں کے سہولت کارڈاکٹر عاصم حسین اور میئر کراچی کی ضمانت ابھی مشکل سے ہوگئی۔ بلوچستان اور پختونخواہ میں تو پہلے سے فوج کا اقتدار ہے۔عمران خان کو نیا مہرہ نہ بننے دیا جائے، آرمی پبلک سکول پر حملے کیخلاف جلوس کو بھی پشاور شہر میں پولیس نے روکا جو نقاب پوشوں اور وردی والوں کا خوف عوام کے دلوں سے نکالنے کے نعرے لگارہے تھے، ملزم ڈاکٹر عاصم سے بڑا مجرم اسحاق ڈار ہے اور ملزم ماڈل ایان علی سے بڑی ملزم مریم نواز ہے۔ دہشت گردوں سے زیادہ مضبوط اسٹیبلشمنٹ کی ربڑ اسٹمپ پنجاب کے کٹھ پتلی سیاستدان ہیں اگر عدلیہ نے بچھڑے کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کردیا تو مقدس گائے بھی ذبح ہوجائے گی۔ پھر عدلیہ کو اپنے ساتھ بھی انصاف کرنا پڑیگا۔ڈوگر اور افتخارچوہدری کے معاملات کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ بڑے بڑے مگر مچھ دھرلئے جائیں تو قوم خوشحال ہوجائے گی۔
عدلیہ فوج سے مل جائے تختِ لاہور بھی ہل جائے سامری کا یہ بچھڑاہے غریب عوام کھل جائے
عدالت اور ریاست کی قوت مل کر بال بچھوڑے کو باہر سے بلوائیں اور پھر آئی سی ایل میں نام ڈال کرنااہلی کا حکم جاری کریں،اگر وزیراعظم نے قانونی طور سے پانامہ کی حکومت کو خط لکھنا ہے تو وزیراعظم اپنے بچوں کیخلاف انصاف نہیں کرسکتا۔ یوسف رضاگیلانی کو صدر زرداری کے خلاف خط نہ لکھنے پر نااہل قرار دیا گیا، جمہوریت برقرار رہی، فوج عدالت کو تحفظ فراہم کرے، چڑھ دوڑنے کا ٹریک ریکارڈ پہلے سے موجود ہے۔ کیاکھلے عام جھوٹ اور بد دیانتی پر آئین کے کسی دفعہ سے نواز شریف کو عدالت عظمیٰ دفع نہیں کرسکتی ؟۔اگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی از خود نوٹس لیتے تو بھی ایم اکیوایم کی طرح یہ بکھر جاتے اوروزیراعظم کی نااہلی کی گواہی شہبازشریف، نصرت شہباز، کلثوم نواز، مریم نواز، صفدر عباسی ، حمزہ شہباز، حسن نواز اور حسین نواز سمیت زرخرید میڈیا کے اینکر اور حکومت کے مشیراور وزیر بھی انشاء اللہ ضرور دینگے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ مریم کا سرپرست صفدر عباسی ہے یا باپ کی کفالت ہے؟۔
وزیراعظم کے جھوٹ پر ’’ کامران خان کیساتھ‘‘میں وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا کہ ’’فی یونٹ3 روپے‘‘ کمی کی ۔ یہ وزیراعظم کا میڈیا پرقوم سے جھوٹ کااعتراف ہے، سوال پوچھا کہ 3 فیصد کمی کہاں؟ تومصدق ملک نے کہا کہ ’’65فیصد آبادی 100 یونٹ سے کم بجلی خرچ کرتی ہے،3فیصد کی کمی ان کیلئے ہے‘‘ احسن اقبال تومٹھاس کیلئے کریلا گھول دیتا کہ ’’80فیصد کے پاس بجلی نہیں، 80فیصد لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، بہت سولربھی لگ گئے ہیں، بدچلن اعداد وشمارنکالے جائیں تووزیراعظم صاحب کی بات بالکل ٹھیک ہے ،نہیں تو کورٹ میں چیلنج کرو، یہ مدت تو نکال جائیں گے‘‘۔بجلی کی قیمت موبائل فون کی طرح بہت کم ہوسکتی ہے مگر انہوں تیزرفتار بجلی میٹروں سے عوام کا خون ہی چوسنا ہے۔23فیصد بجلی چوری کے باوجود Kالیکٹرک کا28ارب کا منافع ہے، پہلے بہت خسارہ ہورہاتھا۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے مختلف کمپنیوں کو بجلی دینے کی بات کرکے عوام کے دکھ سکھ کا خیال رکھنے کا ثبوت دیا ہے ، عوامی نمائیدوں نے حکومت کو خدمت کے بجائے منافع بخش تجارت سمجھ رکھا ہے ۔منحوس منافع بخش تجارت کیلئے لڑتے ہیں۔
کوئی اور اتنی واضح غلط بیانی کا مرتکب ہوتا تو میڈیا اسکا چھلکا اتار دیتی مگر یہ حکومت کا میڈیا کو پیسہ کھلانے یانااہل صحافت کا نتیجہ ہے ۔وزیراعظم گھر کے افراد، کسی وزیر اور مشیر سے مشاورت کرتا تو بھی ان حماقتوں کا مرتکب نہ ہوتا۔ اگر تابعدار فوج اسکے ہاتھ چڑھ گئی تو پھر ملک وقوم کا اللہ ہی حافظ ہے، جاتے جاتے جنرل راحیل اور رضوان اختر کی توہین کیوں کی؟۔یہ سوال ہی غلط ہے۔ شیخ سعدی کا غالباً شعر ہے کہ سبق نہ دہد کم ذات را کم ذات چوں عاقل شود گردن زدد استاذ را ’’ کم ذات کو سبق نہ دو، کم ذات جونہی عاقل بنے استاد کی گردن مار دیتاہے‘‘۔ جنرل ضیاء اور فوج نوازشریف کے محسن ہیں مگر سب سے زیادہ فوج کو ذاتی غلام بنانے کے پیچھے نوازشریف لگا۔ مارشل لاء مخالف محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، زرداری اینڈ کمپنی سے لیکر 22اگست سے پہلے کی ایم کیوایم بلوچ شدت پسند اور طالبان سب سے مفاد کی خاطر دوستی رہی۔ زرداری قابلِ تعریف نہیں لیکن جس طرح بینظیر بھٹو نے سوات پر جھنڈا لگانے اورحملے کے باوجود اپنی جان قربان کرنے کیلئے پیش کردی، اسی طرح سے زرداری نے وہ کردکھایا، دہشت گردوں کیخلاف شہید ہونے پر خراج عقیدت پیش کی، سوات کا آپریشن کروایا۔ مسلم لیگ (ن) میں سب سے زیادہ جمہوریت ، اصول پسند ، بہادر اور قدرے بہتر ظفر علی شاہ نے اسلئے مولانا فضل الرحمن کو امریکہ کا ایجنٹ کہاتھا کہ’’اس نے طالبان کو اسلام آباد تک پہنچنے کی طرف توجہ دلائی ‘‘۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے لکھا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن ایک خود کش سے مر نہیں سکتا اور دو طالبان ضائع نہیں کرنا چاہتے‘‘ ۔ڈاکٹر شاہد مسعود کراچی کے دھماکے کو شہرت کیلئے بینظیر بھٹو کا اپنا کیا دھرا قرار دیتا تھا، پھر بینظیر کی موت کا آصف زرداری کو ذمہ دار قرار دیا ، زرداری نے پی ٹی وی کا چیئرمین بنادیا تو شاہد مسعود نے خود کو کٹرجیالا بتانا شروع کیا ۔ زرداری جانتا تھا کہ اس نے اے آر وائی چینل کے پیٹ میں چھرا گھونپ کر جیو چینل کا رخ کردیا، پھر زرداری نے چوتڑ پر لات مارکر نکالا، توجیونے خوب ذلیل کیا۔سوچکر کاٹ کر اب اے آر وائی پر بیٹھنے میں شرم بھی نہیں آتی۔
سیاست و صحافت اگر اخلاقی معیار کے بجائے ابن الوقتی اور ذلت کا کھیل بن جائے تو قوم کو کون عروج کی منزل کی طرف لے جائیگا؟۔ جنرل راحیل اور ڈی جی آئی ایس آئی کو جاتے جاتے کیوں دولتی لگادی؟۔ شریف برادران جمہوریت کیخلاف جنرل ضیاء سے اشفاق کیانی تک فوج کی ٹانگوں میں اپنا سر دیتے ہیں اوربرسرِ اقتدار ہوکرفوج کیخلاف ہرہتھکنڈہ استعمال کرکے کہتے ہیں کہ’’ہر دور میں ڈگڈی بجانے والا آجاتاہے‘‘۔ ڈگڈی بجانے کے علاوہ کوئی پیشہ برا نہیں، سید بھی ڈگڈی کا پیشہ اختیار کریگا تو میراثی کہلائے گا،آج تو پیسے والے میراثیوں کو بھی یہ قوم کسی غریب سے زیادہ عزت دیتی ہے، کمائی کے جائز ذرائع عزت ہیں، زرداری نے ق لیگ کو چھوڑ کر حکومت کا موقع فراہم کیا، شہبازشریف نے پنجاب پر گرفت مضبوط کی تو ڈکشنری میں ایسی گالی نہ تھی جو زرداری کیلئے استعمال نہ کی گئی ہو۔ جب تنگ آکر زرداری نے کہا کہ ’’ نوازشریف کے سر میں لوہار کا دماغ ہے ‘‘ تو ن لیگی کہہ رہے تھے کہ ’’اس حد تک ہم نہیں گرسکتے ‘‘۔ یعنی منافق، چور، ڈکیت،، بدمعاش اور چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی تمام تقریروں سے بھی یہ ’’لوہار‘‘ بڑی گالی تھی حالانکہ کہہ دیتے کہ لوہار اور زردار میں زیادہ فرق نہیں، کہا جاتاہے کہ’’ سو سنار کی ایک لوہار کی‘‘۔مگر معاملہ الٹا ہوگیا ، سو لوہار کی ایک زردار کی۔جو رویہ زرداری سے شریف برادران نے اختیار کیا، وہی انکا وطیرہ تھا، حدیث میں آتا ہے کہ ’’چرواہے بڑی بلڈنگوں پر مقابلہ اور فخر کرینگے‘‘۔ اور ’’ روبیضہ (گرے پڑے نکمے لیڈر،عوام کی تقدیرکا) فیصلہ کرینگے‘‘۔ سیاست و صحافت عمدہ لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر سوات کے امیر مقام سے کراچی کے الطاف ، پنجاب کے لوہار اور سندھ کے زردار تک جن لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچی ، یہ حدیث کی پیش گوئی کے عین مطابق ہے۔پرویزمشرف کے دور میں ان فوجی افسران کی فہرست شائع ہوئی جو لال کرتی کے پیداوار تھے۔ چوہدری اعتزاز احسن نے عدالت سے سزایافتہ نواز شریف کو بری کروا یا، ججوں اور مؤکلوں کیلئے پارٹی سے فاصلہ بنایا،اب جہانگیرترین کے وکیل بن گئے تو کہاکہ ’’عدالت نے پہلی مرتبہ ن لیگ کیخلاف فیصلہ دیا ‘‘۔ حبیب جالب نے اشعار کہے ’’ہر بلاول ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے‘‘۔تو محترمہ نے کہا ’’یہ مجھ پر تنقید ہے کہ ملک مقروض کردیا اور نام لیوا غرباء کے پیر ننگے ہیں‘‘اعتزاز احسن نے غلط سمجھایا کہ ’’جالب نے تیری تعریف کی‘‘۔ یہ بھٹو کی بیٹی کا حال تھا جو مشکل ترین دور میں خوگرِ حمد جالب سے اپنے دورِ اقتدار میں تھوڑا سا گلہ بھی نہ سن سکی، پھر زرداری کے بلاول کا کیا حال ہوگا جس نے جعلی بھٹو بنکر مرتضیٰ بھٹو کے یتیم بچے ذوالفقاربھٹو سے قیادت چھینی ؟۔ شیخ رشید کے سامنے طاہر القادری نے رائیونڈ کا اعلان کیا، پھر اسکو اسلام و جمہوریت کیخلاف قرار دیا، لندن میں ملنا گوارا نہ تھا،کرنِ امید نے سورج مکھی کے پھول سے سورج کا ٹوٹا رشتہ جوڑا، کنٹریکٹ میرج کا فتویٰ تحریک انصاف کے شیخ الاسلام مفتی عبدالقوی کا تھا، نکاح خواں شیخ رشید کو پرانے ن لیگی ساتھی بھڑوا کہہ رہے ہیں ،صبح وشام مفاد کی خاطر تقدیریں بدلنے والے اقبالؒ کے مؤمن نہیں ۔ کردار کے غازی متعہ کی پیداوارحضرت عبداللہ بن زبیرؓ ہوں یا لال کرتی کے پیداوار، ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں، علم وکردار نسلی عیب کومٹاتا ہے۔ بلال حبشیؓ ،صہیب رومیؓ، سلمان فارسیؓ اور ابوجہل، ابولہب،ابن ابی کی فضلیت و رذالت قوم ونسل، قبیلے وزباں سے نہیں کردار کی بنیاد پرمتعین ہوئی ہے ،قوم کو پیسے نہیں کردارکا قائد چاہیے۔
عمران خان نے ہیلی کاپٹر کی ضرورت کے بغیر بھی اسلام آباد سے کراچی کا سفر کیا تھا، خیبر پختونخواہ کے جلسے میں بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتا، لیلائے اقتدار کتیاقیادت مایوں میں دلہن کی طرح بیٹھ گئی اور اپنے کارکن ورہنماؤں باراتیوں کو پاس ہی بلالیا، پرویز خٹک رات بھر لٹک گئے اور لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل کھانے سے پہلے اعلان کردیا کہ ’’مبارک ہو‘‘۔ یہ الفاظ فسٹ کزن طاہرالقادری سے مستعار لئے تھے۔ جس نے خود بھی اس بے خودی میں موت کا مزہ چکھاتھا اسلئے عمران خان کی سیاسی موت پربھی اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھ لیا۔شیخ رشید گولیاں کھاکر سوگئے مگرطاہرالقادری کے جملے کونامناسب کہا۔ تحریک انصاف کے دوگروپ ہیں گھانس والے اور ڈانس والے ۔ گھانس والوں نے رات کو موٹروے پر جھاڑیوں میں آگ لگاکر آنسو گیس کے شیل کھائے،ڈانس والوں نے بڑی تعداد میں نکل کر رنگ وراگ کی محفل سجاکر تماشہ انجوائے کیا۔ وسعت اللہ خان نے حکومت کے کریک ڈاؤں پر کہا کہ ’’قوال کوخود ہی وجدآگیا‘‘۔ غالباً اکتوبر 1920کا زمانہ تھا، محمد علی جوہر اور شوکت علی لاہور میں جلوس کی قیادت کررہے تھے، علامہ اقبال انارکلی کے ایک چوبارے میں رہتے تھے، جلوس دیکھنے کیلئے بالکونی میں کھڑے ہوگئے،تو جوہرنے بلند آواز سے اقبال کو مخاطب کرکے کہا کہ آو! تمہارے کلام نے ہمارے سینوں میں آگ لگادی ، تم ہمارا تماشہ دیکھ رہے ہو، آؤ ہماری قیادت کرو۔ اقبال نے جواب دیا : جناب میں قوم کا قوال ہوں، اگر میں بھی حال میں مبتلاہواتوقوالی کون کریگا؟‘‘۔ عاصمہ جہانگیر اورمولانا فضل الرحمن اپنے سوز کو سامری کے ساز جیو ٹی چینل سے نہیں ملائیں، دہشت گردوں کاایک بڑا سہولت کار نواز شریف سزاپائے تو عمران خان بھی نہ بچے گا،ایک پَر ناکارہ ہو تو دوسرا بھی بیکار ہے، ایکدوسرے پر الزام لگانے والے شریفوں اور عمران خانیوں کے علاوہ فضل الرحمانیوں اورزردایوں سمیت سب کو قوم کٹہرے میں دیکھنا چاہتی ہے ۔ اجمل ملک

جانِ استقبال ارضِ پاکستان ہے مگر کیسے؟

یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز، پوری دنیا میں خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام یہاں سے ہوگا۔
جیو ٹی چینل نے طلاق کے مسئلہ پر پاکستان کی سپریم کورٹ کا اہم ترین فیصلہ کیوں نہ اٹھایا؟
بھارت کے موذی سرکار سے جیو کی کیا دوستی ہے کہ جو سازش وہاں تیار ہوئی یہاں اٹھائی گئی
اس خلافت کی خوشخبری نبیﷺ نے دی ہے جس سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا ہے اور اسلام کے نفاذ میں ہی اس کی بقاء ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات نکاح و طلاق سے لیکر بین الاقوامی دنیا کے ساتھ معاملات کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اسلام کی ریاست مدینہ منورہ میں پہلی مرتبہ قائم ہوئی تھی جس میں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے انمٹ دستور واضح ہیں، یہود و منافقین اور مشرکین مکہ سے بڑھ کر اسلام دشمن کون ہوسکتے ہیں؟۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ریاست کے داخلی اور خارجی اُمور پوری دنیا کے سامنے اُسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ پیش کرکے رکھ دئیے۔ کوئی گمراہ فرقہ یا منافقت کرنے والا کتنا بھی اپنے حدود سے تجاوز کرے لیکن رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی اور اسکے ساتھیوں تک نہیں پہنچ سکتا اور مشرکین مکہ و یہود مدینہ سے بڑھ کر کسی ریاست میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺسے دشمنی کا تصور نہیں ہوسکتا ہے۔
جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حالات اس قدر بگڑے کہ عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرامؓ حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی ایکدوسرے کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا اور ہزاروں مسلمانوں سمیت ان کو بھی ان فتنوں کی وجہ سے شہید ہونا پڑا ، تو حضرت امام حسنؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خوشخبری کے مطابق کردار ادا کیا اور مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائی۔ آ ج ہمارے پاس قرآن کے الفاظ کے علاوہ ایسا کچھ بھی نہیں کہ اس دور میں اُمت مسلمہ کے اندر بے پناہ منافرتوں کو ختم کرسکیں۔ پاک فوج کا کام سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے لیکن پوری قوم امریکہ کے بدترین کردار کے سبب آپس میں تقسیم ہوکر قتل و غارت گری کا شکار ہوئی۔ جب پاک فوج کی موجودہ قیادت نے کمان سنبھالی تو طاقت کے زور سے مختلف قسم کے دہشت گردوں کی لگائی آگ کو بجھانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جنرل راحیل شریف نے کشمیر کو تقسیم ہند کا نا مکمل ایجنڈا قرار دیا تو اللہ نے کشمیر کی آزادی کیلئے مقبوضہ کشمیر کی عوام کو اٹھایا۔ مودی نے موذی بن کر مختلف طریقے سے حملے شروع کردئیے۔ اب یہ وار کردیا کہ ’’سرکار کی مدعیت میں تین طلاق اور حلالہ ‘‘ کے حوالے سے ایشو اٹھایا تاکہ پاکستان میں اس حوالے سے بیداری کی لہر کو دبانے میں اپنے دوستوں کی مدد ہوسکے۔ یاد رہے کہ تین طلاق کے مسئلے پر بھارت میں بہت پہلے دیوبندی ، بریلوی، جماعت اسلامی اور اہل حدیث کے بڑے اکابر نے 70 کی دہائی میں بڑا سیمینار منعقد کیا تھاجس کی روداد تین طلاق کے حوالے سے پاکستان میں بھی ایک کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے۔
پاکستان کے بڑے مدارس میں بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام کی طرف سے تین طلاق کے مسئلے کو حل کرنے پر مثبت ردِ عمل ملا ہے۔ سورۂ طلاق میں نبی ﷺ کو مخاطب کرکے عوام کو طلاق کے احکام بتائے گئے ۔ اس طرح سورۂ احزاب میں نبی ﷺ کو مخاطب کرکے علماء کو سمجھایا گیا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں کافروں ،منافقوں کی اتباع نہ کرو۔ جو حکم اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے اسی کا اتباع کریں۔ مدارس کا نصاب مغلیہ دور سے پہلے نہ تھا۔ درس نظامی کسی مولوی نظام کی طرف منسوب ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے صاحبزادوں کے شاگرد حضرت مولانا فضل حق خیر آبادیؒ اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ میں علمی اختلاف تھا جس کی وجہ سے بریلوی دیوبندی اختلافات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے گئے۔ مولانا فضل حق خیر آبادی ؒ نے انگریز کے سامنے بہت جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرکے کالے پانی کی سزا میں اپنی جان کی بازی جیتی اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے بھی خلافت کے قیام کی کوشش میں راجا رنجیت سنگھ کے جابر سپاہیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کی۔ آج یہ دونوں طبقے عالمی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مقامی طور پر درست کردار ادا کرتے ہوئے ایک اور نیک ہوسکتے ہیں، دونوں مکتبہ فکر کے مدارس کا نصاب ایک ہے اور اس نصاب کو درست کرنے میں زیادہ وقت بھی نہ لگے گا۔ اللہ نہ کرے کہ پاکستان بھی افغانستان ، عراق ، لیبیا ، یمن، شام اور دیگر ممالک کی طرح فتنوں کا شکار ہوں۔ذیل کے نقشہ میں اہلسنت کا موقف ہے ،اہل تشیع کے علامہ طالب جوہری نے بھی سید گیلانی کا ذکر پیشگوئی میں کیا ہے۔

قرون اولیٰ کی تاریخ دہرانے کا یہ دور ہے

شاہ اسماعیل شہیدؒ ، مولاناآزادؒ ، مولانا مودودیؒ ،ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوانؒ وغیرہ کا اتفاق تھا
موجودہ دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی، حدیث کی روشنی میں پاکستان مرکز!
دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اتنی مذہبی اور سیاسی آزادی نہیں جتنی پاک سرزمین شاد باد میں!
قوم ملک سلطنت ،پائندہ تابندہ باد،مرکزیقین ،نشانِ عزم عالیشان،سایہ خدائے ذوالجلال

قرآن و احادیث صحیحہ پر امت مسلمہ کا آج بھی پاکستان کی سرزمین سے اتفاق ہوسکتا ہے۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ مسلمانوں میں لڑائی ہو تو ان بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔روس اور امریکہ شام میں مسلمانوں کو بمباریوں کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن مسلمان خود انکے درمیان صلح کرنے سے قاصر ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے دور میں کیا کچھ نہ ہوگا، امریکی بش نے افغانستان و عراق کو نشانہ بنایا، اوبامہ نے لیبیا اور شام میںیہ مشن آگے بڑھادیا۔ ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟‘‘ کا انتظار کئے بغیر پاکستان کو چاہیے کہ ایران اور سعودیہ کو قریب کرکے یمن اور شام سمیت دنیا بھر میں تفریق وانتشار کا شکار ہونے والے مسلمانوں کومزید تباہی وبربادی سے بچائے۔
اہل تشیع کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے بھرپور اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اسلام صرف محرم کے عاشور میں ماتمی جلوسوں کا نام نہیں، ایک چھوٹی سی کربلا سے ہم بھی گزرے اور اب بھی کربلائے عصر کی تنہائیوں میں اگر کسی کو حق کی خاطر جینے اور باطل کو چیلنج کرنے کا منظر دیکھنا ہو تو اہلبیت میں سید عتیق گیلانی کو دیکھ سکتے ہو۔ یہ فخر نہیں اللہ کا فضل ہے۔ یہ اللہ کا محض کرم ہے ورنہ مجھ میں ایسی بات ہے اور نہ میری یہ اوقات ہے۔ امام حسینؓ سے پہلے امام حسنؓ اور حضرت علیؓ بھی تھے اور حضرت حسینؓ کے بعد بھی اہل تشیع کے 9اماموں کا کردار ہے۔ اہل تشیع نے خود کو دور کرتے کرتے اتنامحدود کردیاکہ اہلسنت بخاری شریف کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب قرار دیتے ہیں اس میں ائمہ اہلبیت کیساتھ ’’علیہ السلام‘‘ اور حضرت فاطمہ کیساتھ ’’ علیہا لسلام ‘‘ لکھاہے۔ اگر دوری نہ ہوتی تو بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی بھی نہ بنتی کہ ’’شیعہ علیہ السلام کہنے لکھنے کی وجہ سے گمراہ ہیں‘‘۔
نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی وفات پر جتنی تعریف کی ہے اس سے زیادہ کے سنی بھی قائل نہیں ہیں، اہل تشیع کو جرأت سے کام لیکر یہ تشہیر کرنا ہوگی کہ حضرت علیؓ نے یہ تقیہ نہیں کیا تھا۔ یزید کیخلاف اگر ممکن ہوتا تو حضرت حسینؓ کربلا سے واپسی کی راہ لیتے۔ حضرت حسینؓ نے یزید کیخلاف بعد میں آواز اٹھائی ، پہلے جب حسنؓ و حسینؓ حضرت عثمانؓ کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے نے پیچھے سے پھلانگ کر حضرت عثمانؓ کی داڑھی میں ہاتھ ڈالا، یہ شیعہ سنی کی لڑائی پہلے بھی نہ تھی اور آج بھی اس کو فرقہ واریت کا رنگ دینا غلط ہے۔ نبی ﷺ نے آخری خطبہ میں فرمایا:مجھ سے پہلے انبیاء نے دجال کے فتنے سے اپنی اُمتوں کو خبردار کیا۔ اگر تم دجال کو نہ پہچان سکو تو اللہ اس کو جانتاہے، اس کی آنکھ انگور کے دانے کی طرح ہوگی، خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ مسلمانوں کی عزتیں، ان کی جانیں اور انکے مال حرمت والے ہیں۔ جس طرح آج کا دن (یوم عرفہ)، اس مہینے ( ذی الحج)، اس شہر(مکہ) کی حرمت ہے۔ (بخاری شریف)
اس حدیث صحیحہ میں دجال کا تعارف یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی شناخت کرنا بھی مشکل ہوگا، جب ایک کانا برا لگتا ہو تو اس کی سیدھی آنکھ کو بھی انگور کے دانے سے مذمت کیلئے تشبیہ دی جائے گی۔ دجال کی معرفت آسان ہو ،تو اسکے بنیادی معنیٰ سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس کی شناخت اس حدیث میں اللہ کے علاوہ انسانوں یا مسلمانوں کیلئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بتائی گئی ہے۔ البتہ اس دجال کی بڑی علامت اور واضح نشانی یہ بتائی کہ وہ اور اس کا لشکر مسلمانوں کی جان، مال اور عزت کی حرمت ختم کردینگے۔ پہلے زمانے میں بھی خوارج نے حضرت علیؓ اور اماں عائشہ صدیقہؓ کے درمیان جنگیں برپا کرنے کی خدمت انجام دی، نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ مختلف ادوار میں نکلتے رہیں گے، ان کا آخری لشکر دجال سے ملے گا، احادیث میں ان کی بہت سی نشانیوں کا ذکر ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی ایک روایت ہے کہ خراسان کی طرف سے دجال نکلے گا جس کے پیروکار ایسی قومیں ہوں گی، جنکے چہرے ڈھال کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے۔ (ابن ماجہ) مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریر میں خراسان کی حدیث میں دجال کو موجودہ دہشت گردوں کا لشکر بتا کر فٹ کیا تھا۔