پوسٹ تلاش کریں

قرون اولیٰ سے عقیدت ہمارا ایمان ہے

سورۂ واقعہ، سورۂ جمعہ، سورۂ محمداور دیگر سورتوں میں صحابہ کرامؓ اور آخری جماعت کا ذکر ہے۔

السٰبقون السٰبقون اولئک المقربون.. ثلۃ من الاوّلین و قلیل من الآخرین

سبقت لے جانے والے…مقرب ہیں…پہلوں میں سے بڑی جماعت ، آخر میں تھوڑے

سبقت لے جانے میں اولین مہاجر و انصار میں سے اور جو ان کی اتباع احسان کیساتھ کریں

نبی کریم ﷺ نے تعلیم وتربیت اور تزکیہ و حکمت سکھاتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی جو جماعت تیار کی، اس کا ذکرقرآن کریم میں ہے ، سورۂ جمعہ میں ان کا بھی ذکر ہے کہ جو آخر میں ہیں اور پہلے والوں سے مل جائیں گے۔ احادیث میں وضاحت ہے کہ سلمان فارسیؓ کی قوم مراد ہے، مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے پارہ عم کی تفسیر میں سورۃ القدر کے ذیل میں لکھا کہ ’’سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹئیراورافغانستان کی قومیں سب امامت کی حقدار ہیں، اسلام کی نشاۃ ثانیہ یہیں سے ہوگی، اگر ہندو پوری دنیا کو بھی ہمارے مقابلہ میں لائیں تو اس سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے، حنفی مسلک کے مطابق قرآن سے رجوع ہوگا، اہل تشیع بھی قبول کرینگے‘‘۔ مولانا سندھیؒ قرآنی انقلاب کے داعی تھے، آپؒ نے فرمایا کہ’’ قرآن کا اصل معجزہ اللہ کی آیات کا وہ مفہوم ہے جس کا کسی بھی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اس کے ذریعہ سے کوئی بھی پستی اور زوال کی شکار قوم عروج وترقی کی منزل پائے، عربوں کو اسی معجزے نے عروج وکمال تک پہنچایا تھا، اسکے اولین مخاطب بھی عرب ہی تھے لیکن قرآن کا ایک خطاب عالمگیر انقلاب اور پوری انسانیت کیلئے بھی ہے، جب اسلام کی نشاۃ اول کا آغاز ہوا تو عربوں کی اچھائیوں کو برقرار رکھا گیا اور ان کے اندر موجود برائیوں کا خاتمہ کیا گیا، پھر نشاۃ ثانیہ ہوگی تو قرآن کا خطاب پوری انسانیت سے ہوگا، پھر دنیا بھر کے انسانوں کی اچھائی برقرار اور برائی کا خاتمہ کیا جائیگا۔یہ قرآن کا عالمگیر انقلاب دنیا تسلیم کریگی‘‘۔
صحابہ کرامؓ سے حسنِ عقیدت کے بغیر قرآن کی بنیاد پر انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔ جب اس بات کی نفی ہوگی کہ صحابہؓ کی بڑی جما عت ثلۃ من اولینکی کوئی حیثیت نہ تھی تو قلیل من الاٰخرین کی جماعت کیسے بن سکے گی؟۔ السابقون اولون من المہاجرین و الانصار کو نہ ماننارسول اللہﷺ کی قیادت اور قرآن پر عدمِ اعتماد کا اظہار ہے توپھر والذین اتبعوھم باحسان کے مصداق بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عربوں نے اسلام کی خدمت کی تو نبوت، خلافت، امارت کے ادوار میں دنیا پر چھاگئے۔ ترک کی خلافت عثمانیہ کے بادشاہ غیر عرب تھے، وہ اگر اسلام قبول نہ کرتے تو حکومت چل نہیں سکتی تھی۔ پھر ترکی خلافت کے خلاف بغاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ، اور امت مسلمہ برطانوی سامراج کے زیرنگیں ٹکڑیوں میں بٹ گئی۔ اقوام متحدہ میں قطرہ قطرہ دریا بنا مگر ہم سمندر ہوکر بھی چلو چلو بن گئے ہیں۔عرب وعجم مسلمانوں کو متحد کرنا ہوگا۔
ایک غلط فہمی کو دور کرنا ہوگا جو شیعہ سنی ،بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث میں موجود ہے۔ قرآن و سنت پر سب کی غلط فہمیاں دور کئے بغیر اتحاد واتفاق اور وحدت کا راستہ مصنوعی طور سے خلائی ستارے کی طرح ممکن نہ ہوگا لیکن حقیقی ستاروں تک پہنچنے کیلئے مصنوعی ستاروں کا سہارا لینا ضروری نہیں توبھی برا نہیں ہے۔ معراج کا سفر ہمیں امت مسلمہ کو عروج تک پہنچانے کا درس دیتا ہے۔ پاکستان میں دوسرے اسلامی ممالک کی طرح کسی ایک مسلک و فرقے کا ریاست پر قبضہ نہیں اور یہاں دوسرے ممالک کی طرح فرقہ وارانہ ریاستی دہشت گردی نہیں ہوسکتی ہے۔ ریاست اور عوام کا فرض ہے کہ اتحاد واتفاق اور وحدت کی فضاء پیدا کریں۔شاہ زیب خانزادہ نے تو اتنا بڑا الزام لگادیا ہے کہ’’ اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کی حکومت کو اسلئے ختم کیا تھا کہ وہ فرقہ وارانہ اور جہادیوں کو ختم کرنا چاہتے تھے ‘‘۔ اگر اس الزام میں کچھ نہ کچھ صداقت ہو ،تب بھی جنرل راحیل اور جنرل رضوان اختر پر یہ بھونڈا الزام لگاناغلط ہے کہ’’ ان کی لڑائی شریف برادران سے دہشتگردوں کو تحفظ دینے کی خاطر ہے ‘‘۔ شاہ زیب کو یہ وضاحت بھی زیب دیتی اگر جیوکے مالکان کی طرف سے اجازت ہو کہ ’’پھر شریف برادران بذات خود جن کے سپوٹر رہے ہیں ، وہ کسی سے ڈھکا چھپا معاملہ نہیں ہے اور اگر موجودہ پاک فوج کا کردار نہ ہوتا تو یہ دہشتگردوں کی کاروائیوں پر بھنگڑے ڈال کر دہشت گردوں کے ساتھی بنے رہتے۔آرمی پبلک سکول میں بچے مارے جانے پر بھی نوازشریف کا چہرہ اسلئے خوشی سے دھمک رہا تھا کہ عمران خان نے دھرنے کا بھنگڑہ چھوڑ دیا تھا اور جب باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو بھی سارے میڈیا چینل اسی کی موقع پر کوریج کررہے تھے اور شہباز شریف پی ٹی وی پر قوم سے نہیں کاروباری معاملے پر خطاب کررہے تھے،جس میں قومی جذبہ مفقود تھا‘‘۔

ڈان نیوز کی خبر کے پیچھے پسِ دیوار محرکات کیا لگتے ہیں؟… اداریہ نوشتہ دیوار

ڈان نیوز کی خبر نے پاکستان میں پاک فوج اور ن لیگ کے درمیان تناؤ کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ PTVکے چیئرمین عطاء الحق قاسمی کے سامنے یہ صورتحال بنے کہ فوج ن لیگ کے ہاتھوں ذلیل ہوگئی تو اپنے کالم میں لکھ دے گا کہ ’’نوازشریف اور شہباز شریف سے زیادہ شرافت کا معیار کسی میں بھی نہیں، ڈاکٹر طاہر القادری کے جوتے کے تسمے باندھے اور غارحراء کے بلندپہاڑ پر چڑھا دیا‘‘۔ اور اگر پتہ چلے کہ فوج نے ن لیگ کی حکومت ختم کرکے99ء کی پھر تاریخ دھرادی تو عطاء الحق قاسمی اپنے کالم میں ایک دوسرا مزاحیہ جملہ لکھ دے گا کہ ’’پہلے شریف برادران نے اسلئے اچھائی کی تھی کہ وہ گنجے نہ تھے، مصنوعی بالوں کے باوجود گنجا پن کی خاصیت تو ختم نہیں ہوتی ہے، کہتے ہیں کہ اللہ گنجے کو ناخن نہ دے۔ شریف برادران گنجے بن گئے اور حکومت کے ناخن بھی مل گئے،تو کم بختوں نے اسی علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے 14بندے پھڑکادئیے۔جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ جب حکومت پر ڈاکٹر طاہرالقادری کا زور پر پڑا، تو مشاہداللہ خان وغیرہ نے دبے الفاظ میں نہیں کھلے لفظوں میں بندے مارنے کا الزام بھی خفیہ والوں پر لگادیا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ ظہیر الاسلام کو جیو ٹی وی چینل نے پہلے سے بدنام کردیا تھا، اسلئے پاک فوج نے ن لیگ کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا۔ اصل شریف تو جنرل راحیل ہیں جو شرافت سے اپنی مدت مکمل کرکے جارہے تھے لیکن وقت سے پہلے آئی ایس آئی کے ڈی جی رضوان اختر کو ذلیل کرنا ضروری سمجھا گیا،تاکہ آنے والا نامزد جنرل چیف آف آرمی سٹاف پہلے سے بھیگی بلی بن کر رہے کہ جب جنرل راحیل جیسے مقبول اور دبنگ جرنیل کے سامنے آئی ایس آئی کے سربراہ کی بے عزتی کرکے جوتے کی نوک پر رکھا جن کی ضرب عضب کی خدمات میں پوری قوم ہی نہیں دنیا بھی معترف ہے تو آنے والے کی حیثیت سرحدوں کی چوکیداری کے علاوہ کچھ بھی نہ ہوگی اور قوم کے سامنے یہ کریڈٹ جائیگا کہ شہبازشریف نے فوج سے قوم کی جان چھڑادی ہے۔ سیاستدان اچھے ہوں تو اس میں برائی بھی نہ تھی مگر شریفوں نے خود تو پانامہ لیکس کی دولت اور لندن کے فلیٹ کی کرپشن کی تھی ، زرداری کے کرپشن پر شہباز شریف میں حبیب جالب کی روح جاگ جاتی تھی اور پانامہ لیکس پر اس کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ پہلے سعودیہ میں دس سال کیلئے معاہدہ کرکے جانے دیا گیامگر اس دفعہ کم ازکم بغیر ثبوت کے بھی زرداری کی طرح گیارہ سال جیل کی ہوا توکھائے وہ زرداری تو سرائیکی اسپکنگ بقول نثار کے’’ نسلی بلوچ بڑا پکا ہے‘‘۔ یہ تو چند مہینے کی قید میں پوری دنیا سے اپنی خفیہ دولت کو لاکررکھ دینگے۔ اور بیوروکریٹ ، میڈیا ہاؤسز اور جرنیلوں سے کرپشن پر سودابازی کی تھی، انکے راز بھی اگل دینگے، ڈاکٹر عاصم نے تو عدالت کے سامنے اعتراف نہیں کیا اور شاہ زیب خانزادہ نے انکشاف کیا کہ وہ جھوٹے مقدموں کی سزا بھگت رہا ہے، اسحاق ڈار نے تو 21صفحات پر مشتمل بیان دیکرعدالت میں اعتراف جرم کیاہے، بقول چوہدری اعتزاز احسن کے اگر زبردستی سے غلط بیانی ہو، تب بھی عدالت کے ذریعہ سے اعداد وشمار چیک کرکے درست نتیجہ پر پہنچا جاسکتا ہے۔ چوہدری نثار نے ڈاکٹر عاصم کے ویڈیو اعتراف کی بات کی تھی، اب میڈیا کے سامنے چوہدری نثار کو بھی نوازشریف کی جائیداد سے متعلق ان تضادات کے اعتراف پر مجبور کیا جائے جو میڈیا پر دکھائے جاتے ہیں‘‘۔
ڈان کے آرٹیکل پر حامد میر نے ن لیگ کے وزیر محمد زبیر، صحافی ضیاء الدین اور معروف وکیل حامد خان کو پروگرام میں بٹھایا تھا۔ جب نوازشریف اس بات پر سیخ پا تھا کہ پانامہ لیکس کے معاملہ پر جنرل راحیل کرپشن کے خلاف بیان کیوں دے رہا ہے ، اس بات کا حساب کون دیگا کہ ’’ مجھے ہتھکڑی لگائی گئی، میری حکومت ختم کی گئی‘‘ حالانکہ دونوں باتوں میں اس سے زیادہ جوڑ نہ تھا کہ گدھے سے کہا جائے کہ ’’تجھے کہاں پڑ رہی ہے اور آواز کہاں سے نکل رہی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ گدھے کا جسم ایک ہوتاہے ، مار جہاں بھی پڑے ، آواز تو جہاں سے نکلنی ہو وہاں سے ہی نکلے گی۔ فوج کو 12اکتوبر 99کے اقدام پر محصور ججوں نے عدالت سے استفعے دیدئیے تھے ، توثیق کرنے والے خود بھی سزا کھاتے، اسلئے پرویزمشرف دوسرے اقدام پر غداری کے مقدمے کا سامنا کررہے تھے، جو انسانی کے فطری ضمیر کے بھی منافی تھا۔ جبکہ اب تو چیف جسٹس نے پہلے خودہی اعلان کردیا ہے کہ ’’جمہوریت کے نام بادشاہت ہے‘‘ جسکے بعد عدلیہ کو بھی قید کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔صحافی ضیاء الدین کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو اس بات پر یاد رہے کہ جنرل راحیل کے خلاف نوازشریف کا بیان درست ہے، نوازشریف کے باپ نے نوازشریف کے بچوں کو رقم دیدی ہے تو اس میں نوازشریف کا کیا واسطہ ہے؟۔ یہی بیان نوازشریف قومی اسمبلی میں پیش کرتے اور عدالت کو مطلوبہ اختیارات دیتے تو بات ختم ہوجاتی لیکن شاید صحافی ضیاء الدین کی بات نوازشریف کو بھی اتنی اچھی نہیں لگی، نوازشریف سے جنرل ضیاء ، جنرل ضیاء بٹ اور صحافی ضیاء کی محبت قدرت کا تحفہ ہے لیکن ایک طرف حامد میر کے پروگرام میں صحافی ضیاء الدین کی باتوں پر قہقہے لگ رہے تھے تو دوسری طرف بدین کا گدھا میلہ دکھایا جارہا تھاجس میں گدھوں کو مکھن کھلانے اور گیارہ لاکھ تک قیمت لگانے پر بات ہورہی تھی۔ گدھوں کے ڈھینچوں ڈھینچوں ، مکھن کھلانے اور زیادہ قیمت لگانے اور حامد میر کے پروگرام میں مکھن لگانے ، قہقہے لگانے اور بے قیمتوں کو قیمتی ظاہر کرنا انسانون اور جانوروں میں مسابقت کی خاصی مماثلت لگتی تھی۔
شاہ زیب خانزادہ نے پروگرام کیامگر شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں انسان کی عزت خراب ہوتی ہے، چینل بدل سکتا ہے مگر عزت مشکل سے واپس آسکتی ہے۔ جب ڈان کی خبر درست ہے، جرم بھی نہیں، معمول کی بات ہے تو حکومت کیوں ایسا غلط اقدام اُٹھارہی ہے؟۔ جنرل کیانی کی ٹانگوں میں مرغا بن کر دہشتگردوں کاحامی شہباز شریف اتنا جرأتمند ہوجائے کہ جنرل راحیل شریف کے سامنے آئی ایس آئی کے چیف رضوان اختر کو ذلیل کردے تو اعلان کردے کہ یہ وہ شہبازشریف ہے جو صدر زرداری کو چوکوں میں لٹکانے اور سڑکوں پر لاش گھسیٹنے کی کھلی دہائی دیتا تھا ،اس با اختیار صدر سے آئی ایس آئی کے چیف کی بھی عزت زیادہ تو نہیں۔ عسکری ذرائع اگر خبر کو توڑ مروڑ کرکے پیش کرنے میں غلط بیانی سے کی بات کرتے ہیں تو شہباز شریف خود ہیرو کیوں نہیں بنتا کہ سابقہ ریکارڈ بھی درست ہوجائے؟۔ مگر لگتا یہ ہے کہ جھوٹ سے ہیرو بننے کی کوشش نے مشکل میں ڈالا ۔ یہ فوج اس سے مختلف ہے جس کی چاکری قریب کے دور میں شریف برادران کرتی رہی ہے۔ شریف برادری پاکستان کیلئے سچ مچ سیکورٹی رسک اسلئے ہے کہ ایٹمی پروگرام اور فوج کو بھی نام نہاد اسلامی بینکاری کے ذریعہ عالمی اداروں کے پاس گروی رکھنا ہوگا، اوریا مقبول جان کے اعصاب پر کیا سوار ہے کہ حرف راز میں جہاد ہند کی پیشگوئی کا کہا ’’ کراچی سے لاہور تک سندھ ہے ،ہندبھارت اس کو تباہ کردیگا اور پھر چین ہند کو تباہ کردیگا‘‘۔ محمد بن قاسمؒ نے سندھ خاتون کی عزت کے تحفظ کیلئے فتح کیا، چند دن پہلے نرسری کراچی سے عمران نامی24سالہ جوان کی خبر میڈیا پر چلی۔ جوبیگم کویکبار تین طلاق دے چکا تھا۔ ایک بچہ اپنے پاس رکھا، ایک بیگم کو دیا، حلالے کی بات پر خودکشی کرلی۔’’ اخبار جہاں‘‘ میں طلاق کے مسائل لکھنے والے مفتی حسام اللہ شریفیؒ جیو اور جنگ میں بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے چالیس سے زیادہ عرصہ کے بعد یکبارگی تین طلاق واقع کے فتویٰ سے رجوع کرلیا، جنگ اور جیو حلالہ کی بے غیرتی میں شریک مجرم ہے، عوام کی عزت کا پاس نہیں تو قوم کے مقتدر طبقے کی عزت خراب ہونے پر فرشتے ہنستے ہونگے۔

اکتوبر99نے ہمیں سی پیک دیا اور شریفوں کو مالدار بنایا… اداریہ نوشتہ دیوار

جنرل ضیاء نے مذہبی طبقہ کی کرایہ کے جہاد سے آبیاری کی۔ بینظیر کے آخری دور میں نصیراللہ بابر نے افغانستان میں طالبان کو تشکیل دیا۔ جنرل ضیاء کو محسن کہنے والے نوازشریف پر اسامہ لادن سے بھی پیسہ لینے کا الزام ہے، طالبان کے حامی شہباز شریف کی زبان سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنیوالے جرنیل پر بھی دہشتگردی کو پھیلانے کا الزم بڑا لغو ہے۔اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر 16سال بعد سپریم کورٹ نے ISIسے رقم لینا ثابت کیا ، حمیدگل مرحوم اقرارجرم اور سزا کی تمنا لیکر دنیا سے گئے۔ اگر ملوث اہلکاروں اور جماعتِ اسلامی وغیرہ کو عدالت مقدس گائے سمجھ کر ذبح کرنے کا حکم جاری نہیں کرسکتی ہے تو ن لیگ سامری کا بچھڑا بن کر ایسی آواز زر خریدمیڈیا کے چینلوں سے نکالنے میں کامیاب رہیگی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں بھی قوم کو گمراہ کیا جاسکے گا۔ جتنے سوال جواب کرنے ہوں عدالت عظمیٰ سورۂ بقرہ کے واقعہ کی طرح آخر مقدس گائے کو ذبح کرنے اور سامری کے بچھڑے کو سزا دیدے۔ پھر جمہوریت کے نام پر شاہی نظام کا خاتمہ کرنے میں بالکل ہی دیر نہ لگے گی۔
چیئرمین سینٹ رضا ربانی ،خورشید شاہ و دیگر اپوزیشن جماعتوں، حکومتی اتحاداور میڈیا کے اینکرپرسن حضرات کو اگر واقعی جمہوری نظام کا چلتے رہنے سے پیار ہو تو پھر ایک نکاتی ایجنڈہ لیکر کھڑے ہوجاؤ، عمران خان کا رونا دھونا بھاڑ میں جائے، سب یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ جنرل کیانی کیساتھ نوازشریف کالا کوٹ پہن کر عدالت میں گیاتھا، کیا قانون کی حکمرانی کیلئے چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہونا جمہوری سسٹم بچانے کا ذریعہ نہ ہوگا۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ 16سال بعد ہوا، عمل درآمد کی دیر ہے، ن لیگ سمیت ساری آمریت کی پروردہ جماعتوں کے قائدین نہ صرف سزا سے نااہل ہوجائیں گے بلکہ جمہوری نظام کو بھی زبردست استحکام ملے گا۔
جنرل راحیل سیاسی آدمی نہیں لگتے اور نہ سیاسی عزائم رکھتے ہیں، اگر وہ بعض دوسروں کی طرح دُم ہلانے والے ہوتے تو یومِ دفاع کے موقع پر جمہوری علمدار چیئرمین سینٹ رضا ربانی اور قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کو تقریب میں اپنے ساتھ کیوں بٹھاتے؟۔ جس سے برسر اقتدار حکمران بھیگی بلی بن کر رہ گئے تھے۔ جن دہشت گردوں کی آبیاری امریکہ نے اپنے مقاصد کی خاطر کی تھی ، وہ اپنے عزائم پر تاحال قائم ہے۔ ڈرون حملوں کے ذریعہ دہشت گردوں کو امریکہ ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان کو گرمائے رکھنا چاہتا ہے۔ القاعدہ، طالبان اور داعش میں پسند و نا پسندکے سلسلے کو جاری رکھنے والا امریکہ اور شیطانی قوتیں اس اسلامی آئین سے خائف ہیں جس کا ذکر علامہ اقبالؒ نے ’’شیطان کی مجلسِ شوریٰ‘‘ کے حوالے سے کیا تھا۔
وزیراعظم نوازشریف ! لوگوں نے مان لیا کہ ’’ کراچی آپریشن اور امن کی فضا ‘‘ اور ضرب عضب آپ کی حکومت کا تحفہ ہے۔سی پیک آپ کا کارنامہ تھا اور آپ نے لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔قرضے کے انبار نہیں اقتصادی ترقی کرلی لیکن سوئس اکاونٹ کیخلاف آسمان کو سر پہ اٹھانے والے! لوگوں کو کرپشن کیخلاف ایک کرنے، سوئس اکاونٹ اورپانامہ لیکس پر تضادات کو دور کرنے میں آخر قباحت کیاہے؟۔باقی سارے ایشوز کیساتھ یہ ایک ایشو بھی اطمینان بخش ہوجاتا۔
آپ نے دو دفعہ حکومت کی مگرگوادر کو چین سے ملانے کا خیال نہ آیا، 1999ء میں آپ کی حکومت گئی، آپ غریب و بے بس نے چوہدری اعتزاز احسن سے بھی کم ٹیکس دیا تھاپھر اللہ تجھ پر مہربان ہوا، پرویزمشرف نے تیری حکومت کیا ختم کی، ایک طرف پاکستان کی تقدیر بدلی ۔2002ء میں چائنہ کو گوادر دیاگیا۔ دوسری طرف تیری تقدیر بدلی اور بچے پانامہ لیکس اور لندن کے قیمتی فلیٹوں کے مالک بن گئے۔ پرویز مشرف کے دور میں جنرل راحیل جیسا جنرل ہوتا، جو گوادر چین کے سڑک پر صدر یا وزیراعظم کو جیپ میں بٹھاکر ڈرائیونگ کرتا تو گوادر اور چین کے درمیان روڈ بھی بن چکا ہوتا۔جنرل پرویز مشرف کو امریکہ کا غم نہ تھا،وہ قطر سے مہنگا ترین گیس کا معاہدہ کرنے کے بجائے ایران سے گیس پائپ لائن لاکرانڈسٹریوں اور گھروں کو سستے دام گیس کی سپلائی بھی شروع کردیتا۔اور کالا باغ ڈیم بناکرزیر زمین اور سطح زمیں پانی کے ذخائر سے پاکستان کوزراعت و سستی بجلی کی نعمت سے مالامال کردیتا۔
سندھ میں راجہ داہر ہو یا پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ۔ اچکزئی ،اسفندیار، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ نے نواب، سردار اور خان بننے کیلئے اپنی لنگوٹ کس رکھی ہے۔ الیکشن عوام کی رائے نہیں پیسے کا کھیل ضمیر کی سوداگری ہے۔ جمہوریت کا دم بھرنے والوں کی اگلی منزل بلاول بھٹوزداری اور مریم نواز صفدر عباسی کی آل اولاد ہے لیکن نوابوں ، سرداروں اور خانوں کواس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ شہنشائے معظم کے تخت پر گھوڑا ہو یا گھوڑی، گدھا ہو گدھی اور خچر ہو یا خچری؟۔ ان کو تو اپنی مراعات ملنے سے کام ہے۔ آزادی کے متوالوں غفار خان،صمد خان اچکزئی اور فقیر اے پی کو جرمنی کی مراعات نہ رہیں تو آزادی بھی بری لگی۔پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کاروبار ہے ، جس کمپنی کے شیمپو والے اس دوشیزہ کو اشتہار کیلئے زیادہ سے زیادہ پیسے دے وہ جعلی بالوں ، زیبائش وآرائش کے نسوانی حسن اور ناز ونخرے سے مالامال چال چلن کا مظاہرہ کریگی۔ میڈیا ہاؤسز کو اپنے کاروبار کیساتھ قوم کی بھی فکر کرنا چاہیے۔
’’جب جلانے کیلئے کچھ نہ ملا تو ماں نے اپنے لعل کی تختی جلادی‘‘ ۔ جنگلات کا تحفظ کیجئے ، محکمہ جنگلات ۔میڈیا کو لڑانے کیلئے کچھ نہ ملا تو جیو نیوز کی رابعہ انعم نے آفریدی و میانداد کو لڑایا، شعیب اخترنے صلح کو خیرکہہ کر ترجیح دی۔ سندھ حکومت نے ہیلمٹ ، ون ویلنگ پر جتنا خرچہ اشتہارات پر لگایا ،اگر تھوڑا سا خرچہ روڈوں پر بھی کردیتے تو وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سے کراچی کی عوام بھی محبت کرنے لگ جاتی۔ پہاڑی علاقوں میں پانی سڑکیں بہا لے جاتاہے، روزانہ نہیں تو چند دن بعد بڑے سیلابی فلڈ آتے ہیں۔لوگ رضاکاربن کر سڑک بنالیتے ہیں۔ قائد آباد کے پاس تھوڑی جگہ حکومت کی اپنی نااہلی کے باعث خراب ہوگئی ، دن رات گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ کاش وزیراعلیٰ اپنے والد کی روح کے ایصال ثواب کیلئے مرحوم کی نیک کمائی میں سے اس پر تھوڑی رقم خرچ کردیتا۔ یا میڈیااشتہار مفت میں چلائے اور یہ رقم حکومت کو کھڈوں پر خرچ کرنے کا کہے۔ گلشن حدید لنک روڈ کا پل عارضی بنایا جائے تو بھی عوام اور ٹرالرمالکان کو مصیبت سے چھٹکارا ملے۔ ٹرالروں کو بے وقت چھوڑدیاجاتاہے پھررینجرز اہلکار ائرپورٹ سے ماڈل ٹاؤن کی طرف جانیوالے مختصر رانگ وے پر عوام کو تنگ کرتے ہیں جس پرٹریفک پولیس بھی کچھ نہیں کہتی ۔ ریاستی اداروں کو عوام سے اپنا رویہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، پولیس اہلکار کتوں کی طرح لالچ کا رویہ رکھتے ہیں جس کی وجہ اپنے بچوں و افسروں کو پالناہے۔ رینجرز اہلکار عوام سے سرِ عام رقم ہتھیالینے کا رویہ نہیں رکھتے لیکن کینٹ سے گزرنے والے بے وقت غیرقانونی ٹرالے اور بڑے ٹرک نظر نہ آتے ہوں اور چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل والے سے قانون کی پاسداری کیلئے غیر اخلاقی رویہ پر گدھے لگتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ ہماری بدتمیز عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ سخت رویہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ بھی غنیمت ہے کہ پولیس والے بچوں کے پیٹ کیلئے ہی سہی لیکن کچھ نہ کچھ تو قانون کی پاسداری کرواتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کرائم پر قابو کیلئے ہی بڑی قربانیاں دیتے ہیں ۔ عدالتوں میں قوانین کے ذرئع مجرموں کو تحفظ نہ ملتا تھا تو ہمارے اداروں میں اچھے افسروں، سپائیوں اور اہلکاروں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوتا۔ جب محنت کے نتائج نہیں نکلتے تو اچھے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

میرامختصرخاندانی پسِ منظر اور میری جدوجہد

میرا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان و علاقہ گومل ٹانک سے ہے۔ محسود، وزیراور بیٹنی قبائل میں ہمارا خاندان عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ کانیگرم سے تحریک کا آغاز کیا تو ڈاکوؤں کا بڑا زور تھا۔ ایک مرتبہ کراچی سے آنیوالے ساتھیوں کو ٹانک سے کانیگرم کرایہ کی گاڑی پک اپ میں ڈاکوؤں نے روک لیا، ڈرائیور نے میرے والد پیر مقیم شاہ کا نام لیا کہ انکے مہمان ہیں تو ڈاکوؤں نے چھوڑ دیا۔ ہمارا خاندان ڈاکوؤں سے لین دین اور سرپرستی کی ساکھ والا نہ تھا۔ میرے پردادا سیدحسن عرف بابو ؒ کو محسود شمن خیل نے بروند وزیرستان میں اعزازی زمین دی تھی۔ جب انگریز نے برصغیر کو آزاد کرنے کا اعلان کیا تو افغانستان کے امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس کی جیل سے فرار ہوکر آیا، عبدالرزاق بھٹی مرحوم اس وقت کیمونسٹ تھے۔ جسکا تعلق شیخ اوتار ڈبرہ علاقہ گومل سے تھا، وہ امیرامان اللہ کے بیٹے کو بیٹنی خلیفہ دین فقیرکے پاس لیکر گئے،دین فقیر نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کو امیرامان اللہ کا بیٹا مطلوب ہے، صرف محسودقبائل کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ پناہ دیکر دونوں سے بچا سکتے ہیں۔ چنانچہ شمل خیل قبیلے کے سردار رمضان خان نے پناہ دی پھر ایک مرتبہ چھپ کر سفر کررہے تھے کہ حکومت کی مخبری سے ان کو گرفتار کرکے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں قید کیا گیا، اسی دوران عبدالرزاق بھٹی مولانا مودودی ؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرکے مسلمان ہوئے۔1913ء میں اسلامیہ کالج پشاور بنا تھا 1914ء میں والد مرحوم کے چچازاد پیرایوب شاہ ؒ اور دیگر عزیز اسمیں BAکے سٹودنٹ تھے۔
امیرامان اللہ خان نے 1919ء سے 1929ء تک افغانستان پر حکومت کی۔ حکومت کے قیام کیلئے جنوبی وزیرستان کانیگرم میں میرے دادا سیدامیرشاہ باباؒ کے گھر سے تحریک کا آغاز کرنے شام سے ایک عرب پیر سید سعدی شاہ گیلانی آئے، تو اس وقت اس کی داڑھی اور مونچھیں بھی نہ آئی تھیں۔ کانیگرم کے علماء نے ڈھول کی تھاپ پر جلوس نکالا، کہ پیر وں کے پاس انگریز میم آئی ہے، پھر علماء سے کہا گیا کہ طاقت کے زور کو چھوڑو، بیٹھو ، اطمینان کرلو کہ مسئلہ کیاہے؟۔ جب علماء سے عربی ، فارسی میں قرآن وسنت کے علوم پر بات ہوئی توپھر اپنے سگریٹ کے دھویں کو علماء کے چہروں پر سجی داڑھی کی طرف چھوڑ رہا تھا۔ امان اللہ خان کا رشتہ داریہ شامی پیر جرمنی سے رقم لیکر آیا تاکہ افغانستان میں حکومت قائم کی جائے۔پھر علماء اور مشائخ کی قیادت میں ایک بڑا لشکر تشکیل دیا گیا، جس نے افغانستان میں امیر امان اللہ کی حکومت قائم کی۔ افغانستان کا پہلا اخبار پیرایوب شاہ عرف آغاجانؒ کی ادارت میں جاری ہوا۔ انگریز کی سازش سے امیر امان اللہ کا تختہ الٹا گیا،وہ علماء جنہوں نے جانوروں کی طرح سوات میں خواتین فروخت ہونے کی منڈیوں کو کبھی اسلام کے منافی نہیں کہا، انہیں امیرامان خان کی بیوی کا لباس خلاف اسلام لگتا تھا۔ دوسری بار شامی پیر آیا تو راہ میں بمباری کرکے لشکر کو منتشر کیا گیا۔ سید ایوب شاہؒ کو امیرامان اللہ کی بیٹی سے شادی اور مال ودولت کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے انکار کردیا،البتہ اپنے اخبار میں حمایت جاری رکھی اسی وجہ سے افغانستان میں قید کی سزا بھگت لی۔ شامی پیر نے میرے داد کو جانشین و بڑا خلیفہ بنانے کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے گناہوں کو معاف کرادوں تو یہ بہت ہے، آپ کی خلافت کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا‘‘۔ پیرایوب شاہؒ نے جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھا تھا اور بہتوں کو جماعت میں شامل کیا، بچپن کے الیکشن میں مَیں نے سب سے پہلے ’’ترازو‘‘ کا نشان اٹھایا۔آزادی کے لیڈرز جرمن امدادسے مالامال تھے۔ محمود اچکزئی کو ہمارے عزیزپیریونس نے یونیورسٹی میں شکست دی تھی۔
جرمنی، فرانس، ناروے، سویڈن، عرب امارات اور چین جانے کا موقع ملا ہے مگرکہیں خواتین و حضرات کو اس قدر ایک دوسرے سے ہڈی پسلی ایک ہونے کی حد تک میل ملاپ نہ دیکھا جیسے خانہ کعبہ میں حجراسود چومنے کے دوران ایکدوسرے سے ملنے کا منظر ہوتا ہے۔ سعودیہ میں جنسی جرائم کی شرح خطرناک ہے، بیرون سے لائی جانے والی خدامہ کیساتھ باپ، بیٹے اور بھائیوں کی مشترکہ جنسی زیادتی حدِ تواتر کو پہنچی ہے اسلئے مسیار کے نام پر متعہ کی قانونی اجازت دی گئی ۔ مفتی عبدالقوی جیسے حلالہ کی لعنت کے خوگر آخرکارسرِ عام رنگ رلیوں سے جنسی تسکین کا فتوی ٰ دینگے۔
1983ء میں بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی اور جامعہ فاروقیہ سے طلبہ کو سکول کا امتحان دینے کیلئے جمعہ کے دن فاروق اعظم مسجد ناظم آباد میں ٹیوشن پڑھنے کے جرم میں نکالا گیا، جبکہ1923ء میں پیرمبارک شاہ گیلانیؒ فاضل دارالعلوم دیوبند نے کانیگرم وزیرستان میں ’’نوراسلام‘‘ کے نام سے پبلک سکول کھولا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے بڑے معروف استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے مالٹا سے رہائی پانے کے بعد 1920ء میں حکیم اجمل خانؒ کی پرائیوٹ یونیورسٹی کا افتتاح کیا تھا۔ شیخ الہندؒ نے مالٹاکی قید میں تجزیہ کرلیا تھا کہ ’’ مسلم اُمہ کو فرقہ وارانہ درسِ نظامی سے نکالنے اور قرآن کی طرف توجہ میں نجات ہے‘‘۔ اپنے مشن کیلئے علماء ومدارس سے مایوسی اور کالج کے طلبہ کوقرآن کی طرف متوجہ ہونے کی امید کا اظہار کیاتھا۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے مذہبی طبقات سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جابجا لکھاہے کہ ’’ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں، انہوں نے مذہب کو تجارت بنالیا ہے‘‘۔
میں نے بریلوی دیوبندی،جماعت اسلامی ،اہلحدیث اور شیعہ تضادکولیہ سکول کے دورمیں سمجھا، بغاوت کرکے مدارس کا علم حاصل کیا، دارالعلوم کراچی کورنگی میں چند دن کے بعدداخلہ کینسل ہوا، بنوری ٹاؤن پہنچالیکن وہاں داخلے بند تھے، دارالعلوم الاسلامیہ واٹرپمپFBایریامیں داخلہ میں لیا،مولانا یوسف لدھیانویؒ کے درس سے استفادہ کرنے الفلاح مسجد نصیرآباد جاتا،ایک مرتبہ پروفیسر غفور احمدؒ نے بھی وہاں تقریر کی تھی ،حالانکہ مولانا یوسف لدھیانویؒ کی کتاب’’ اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ میں مولانا مودودیؒ کے بارے میں غلام احمد پرویز و غلام احمدقادیانی کا قلم چھین لینے ، انبیاء کرامؑ اور حضرت عائشہؓ سے متعلق گستاخانہ لہجے کے ریمارکس بھی مجھے یاد تھے۔ مولانا لدھیانویؒ سے سنا کہ ’’ قرآن پر حلف نہیں ہوتا، اسلئے کہ یہ نقشِ کلام ہے، اللہ کی کتاب نہیں‘‘ تو مجھے احساس ہواکہ ہم عوام اور علماء کرام کے علم وسمجھ میں بڑا فرق بلکہ کھلا تضاد ہے، جامعہ بنوری ٹاؤن کے پہلے سال میں ایک قابل سمجھنے جانے مولانا عبدالسمیعؒ سے سرِ راہ بحث کا سلسلہ بڑھااور اس نے قرآن منگوایا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے؟، مجھے مولانا لدھیانویؒ کی بات یادآئی اور برجستہ کہا کہ ’’یہ اللہ کی کتاب نہیں بلکہ اس کا نقش ہے!‘‘، مولانا نے مجھے کافر کہا تو میں نے مولانا لدھیانویؒ کا حوالہ دیا، جس پر مجھے الزام دیا کہ’’ تمہارا مقصد دین کی تعلیم نہیں ہمیں ذلیل کرنا ہے، سب کچھ پڑھ کر آئے ہو‘‘۔ اس مباحثہ کو کافی سارے طلبہ نے سنا اور اسکے بعد علامہ تفتازانی کا نامانوس لقب میں نے اپنے لئے طلبہ سے سن لیا۔ حقیقت میں علماء ومفتیان درسِ نظامی کو سمجھنے سے قاصر ہیں صاحبِ ہدایہ نے اللہ کی کتاب کا نقش سمجھ کر ہی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز قرار دیا، مفتی تقی عثمانی نے جانے بوجھے بغیر اپنی کتابوں میں نقل کیا اور پھردباؤ پر نکالا تھا۔ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کے اجتماع کے اہتمام پر مولانا فضل الرحمن نے میرے سامنے مولانا عطاء اللہ شاہ کو شرکت کا کہا، مگرخفیہ طورپر مولانا عصام الدین محسود کو بھی روکنے کاکہا، یہی وجہ تھی کہ ڈیرہ کے علماء وعدے کے باوجود نہ آئے ۔ٹانک کے علماء سے مولانا فتح خانؒ نے میری وضاحت پر فرمایاکہ ’’میری داڑھی سفید ہوچکی، عتیق کی کیا عمر ہے؟، مگر آج اس جوان نے میری آنکھوں سے پٹیاں کھول دیں ہیں‘‘۔

نا اہل موروثی قیادتیں؟

bilaval-maryam-bachakhan1--OctobSpecial2016

ہماری قوم بدترین زوال وپستی کا شکار اسلئے ہے کہ سیاسی ومذہبی قیادتیں موروثی بنیادوں پر اپنی نااہلیت کے باجود سب پر مسلط ہیں، اسفندیاراوربلاول زرداری کا کوئی اپنی پارٹی میں ثانی نہ ہو، تو مریم نواز کو بھی ن لیگ کی قیادت سونپ دی جائیگی جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور نواسے کے سلسلوں کی کیفیت رہی ہے، پاکستان کے آئین میں ترمیم ہونی چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتیں ملکی انتخابات میں نااہل ہیں جن کے ہاں موروثی قیادت کا نظام ہے، نوازشریف پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے سعودی عرب چلا جائے اور پاکستان میں بغاوت ، جیل اور بدترین تشدد کا سامنا مخدوم جاوید ہاشمی کر رہا ہو مگر جب نواز شریف کو اقتدار مل جائے توجانشین مریم نوازبن جائے۔ مسلم لیگ ن میں اخلاقی، سیاسی اور انسانی اقدار کا فقدان نہ ہوتا تو یہ ن نہ ہوتی بلکہ اصل مسلم لیگ کا سربراہ جاویدہاشمی بن جاتا۔ جس نے تحریک انصاف میں جاتے ہوئے بھی اعلان کیا تھا کہ میری لاش لیگ کے جھنڈے میں دفن کی جائے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا تو بھی حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں صرف 75ارکان اسمبلی تھے ۔ 380ارکان میں سے اتنی کم تعداد کی شرکت کرنا اور ان کی بھی آپس میں مڈ بھیڑ یہ پتہ دیتی ہے کہ ہمارے سیاسی جماعتوں کی قومی معاملات سے کتنی دلچسپی ہے؟۔
بلاول بھٹو زرداری ٹی او آرکے مسئلہ پر اپوزیشن کی حمایت کیلئے مولانا فضل الرحمن سے مدد لینے گئے لیکن الٹا شکار کرنے کے بجائے خود ہی شکار ہوگئے۔ جس طرح اسکے والد آصف علی زرداری پاک فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی کے بعد بیان کے متن کی غلط تشریحات کرتے رہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نوازشریف اور انکل الطاف کے بارے میں اپنے بیانات کی غلط تشریحات کی اور شیر ڈیزل سے نہیں چلتا ، کی بھی تلافی کرنے کی کوشش کی ۔ ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر جو بلاول اپنے باپ کے خلاف شیخ رشید سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا تھا، ایک ملاقات اور ہواؤں کے رخ نے اس کی منزل اور قبلہ وکعبہ کو بدل دیا۔ بلاول بھٹو کی پارٹی میں پھر بھی کچھ تو سیاسی پختگی رکھنے والے رہنما ہیں لیکن پپا جانی کی اسیر مریم نواز کی پارٹی میں چند حاشیہ برداروں کے تسلط کے سوا کیا ہے؟۔ سید ظفر علی شاہ وغیرہ بھی کارنر کردئیے گئے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کیا آئندہ بلاول زرداری اور مریم نواز کے ہاتھوں میں اسلئے ہوگی کہ انکے باپوں کے بڑے کارنامے ہیں؟ بڑی سیاسی بصیرت کے مالک ہیں یا پانامہ لیکس اور سوئس اکاونٹ کے؟۔
جنرل راحیل شریف اور پاک فوج کے دل ودماغ میں جو بات بیٹھ جائے ، اس کو نکالنا آسان نہیں مگر نوازشریف کے بیٹے بیٹیاں ، نواسے پوتے ہیں، نواسی کی شادی ہوئی ، اسکے بھی بچے آجائیں گے لیکن اگر ملک وقوم ، اسلام اور ملت کیلئے قربانی کی بات آجائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے نواسے اور نواسی کو سیاسی قیادت کیلئے تیار کرنا ہے مگر اس کی قربانی نہیں دے سکتا۔ الطاف حسین پر کتنے بھی غداری کے الزامات لگائے جائیں ، پھر بھی وہ اپنی اکلوتی بچی کی قربانی اسلام، وقوم وملت اور اپنے ملک کیلئے دے دیگا۔ اسکے پروردہ سید مصطفی کمال اینڈ کمپنی نے بھی قربانی دینے کا فیصلہ کیا اور ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ؤں اور قائد ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی جانوں پر کھیلنے کیلئے میدان میں آئے۔ کراچی کے باسی روزانہ نہ جانے کتنے بڑے پیمانے پر مٹی اور آلودگی کھانے کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سب کرپٹ مافیا کی کارستانی ہے۔ الطاف حسین اور اسکے تربیت یافتہ برگشتہ گروہوں کو کراچی کا مہاجر طبقہ اسلئے بھگت رہا ہے کہ اس کو سانس لینے کی بھی کھلی فضا میں فرصت نہیں اور پانی ، بجلی، روڈوں کی خستہ حالی، ابلتے ہوئے گٹر کے سیلاب ، مہنگائی، بے روزگاری اور مسائل ہی مسائل نے ان کا جینا مرنا دوبھر کردیا ہے۔ دن میں پچاس مرتبہ الطاف قیادت چھوڑنے کی بات کرتا تھا تو ایک مرتبہ ایم کیوایم نے بھی اس کو فارغ ہی کردیا مگر اس سے کراچی کے عوام کے مسائل تو حل نہ ہوئے اور نہ ہونگے۔
کراچی کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی اور دہشت گردی تھا جس میں ایم کیوایم کا بھی پورا پورا حصہ تھا۔ رینجرز گذشتہ تیس سال سے کراچی کے مسائل حل نہیں کرپارہی تھی اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر پہلے ڈی رینجرز سندھ تھے ، فوج کے خلوص پر پہلے بھی شک نہ تھا لیکن باصلاحیت قیادت کے بغیر خلوص زیادہ کام نہیں آتا۔ پورے ملک اور کراچی میں پرامن فضا پاک فوج کی باصلاحیت قیادت اور خلوص کے نتیجے میں قائم ہے اور اس کو جاری رہنا چاہیے۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ ’’ بجلی پر کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ درست بات ہے لیکن جو سوچ سیاسی قیادت کی ہونی چاہیے ، اس کا اظہار پاک فوج کے ذمہ دار کی زبان سے ہورہا ہے۔ سیاستدان کو ملک وقوم کی فلاح وبہبود سے دلچسپی ہوتی تو آج پاکستان میں بجلی سستی ، سڑکوں کی حالت بہتر، تعلیم و صحت کے شعبوں میں ترقی اور داخلی و خارجہ پالیسی مثالی ہوتی، آئی ایم ایف کا اسحاق ڈار کو ایوارڈ دینا قابلِ شرم ہے کہ جس سے جان چھڑانے کا دعویٰ کیا وہی گلے پڑگیا

جنرل راحیل شریف ایک زبردست جرنیل؟

میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہ تأثر مل رہاہے کہ جنرل راحیل کے جانے کا وقت بالکل قریب میں ٹھہرگیاہے لیکن پاک فوج نے ان کی قیادت میں جو مثالی کردار اداکیا ہے، پوری قوم پر احسان کا فرض چکانے کا وقت آگیاہے،جنرل راحیل شریف نہ ہوتے تو نوازشریف کیا عمران خان کے وزیراعظم کی باری لگتی تب بھی دہشت گردی سیچھٹکارا نہ ملتا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت محترمہ بے نظیربھٹو شہید اور اے این پی کے رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین نہ پیش کرنا بڑی زیادتی ہے، ایم کیوایم نے بھی طالبان کیخلاف جو جاندارآواز اٹھائی تھی وہ بھی قابلِ ستائش تھی مگر کراچی میں ایم کیوایم کا ٹارگٹ کلر ونگ اور پیپلز پارٹی کی امن کمیٹی نے طالبان سے زیادہ بدامنی پھیلانے کا ارتکاب کیا، کورٹ نے سارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مسلح ونگ اور بھتہ خور مافیہ کی ٹھیک نشاندہی کی ۔
بلوچستان میں دہشت گردی کو عالمی اور بھارتی سپورٹ کے علاوہ مسلم لیگ ن سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوساٹیز کے نام پر این جی اوز کی حمایت بھی حاصل رہی، حالانکہ وہاں آزادی کے نام پر سیاسی جدوجہدکے بجائے بدترین قسم کی دہشت گردی ہورہی تھی۔ پورے ملک میں ہرقسم کی دہشت گردی کو پاک فوج نے جنرل راحیل کی قیادت میں بہت جرأت، بہادری اور حکمت کیساتھ سے ختم کرکے سیاستدانوں کیلئے ایک بہترین فضاء بنائی ہے لیکن دہشت گردوں نے وقتی طور سے چپ کی سادھ لی ہے، فوج کی طرف سے باگ ڈھیلی ہونے کی دیر ہے، یہ پھر اسی زور وشور سے پاکستان کو دیمک زدہ بناکر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے چکر میں ہیں، نوازشریف اور مودی عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر پاکستان اور بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔ آج اعلان ہوجائے کہ کشمیر الگ ملک ہے، پختون ، بلوچ ، سندھ، کراچی اور پنجاب الگ الگ ممالک ہیں تو نوازشریف کو اور نوازشریف کے کھلم کھلا اور درپردہ یاروں کو بڑی خوشی ہوگی۔ مودی بھارتی پنجاب کے سکھوں سے عالمی ایجنڈے کے تحت جان چھڑانے کی کوشش میں ہے اور نوازشریف نے مغل بادشاہوں اور راجہ رنجیت سنگھ کے طرز پر گریٹر پنجاب کا خوب دیکھ رکھا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ سیاستدانوں نے پاک فوج کو بھی کرپشن کا شہد چٹا دیاہے ، سیاستدانوں کی طرح فوج بھی کرپشن سے پاک نہیں لیکن فوج کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے، فوج کی تربیت پاکستانی سرحدات کی حفاظت اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہوکر کی گئی ہے، پنجاب کے لوگوں میں سب سے بڑی خوبی جمود کا شکار نہ ہوناہے مگر ان کی سب سے بڑی خامی پیسیوں کی ریل پیل کا انکے سر پر سوار ہوناہے۔ ہر وقت ایک ہی دھن کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟۔ یہ لالچ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کو ایک کرکے عالمی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مودی انتہاپسند ہندو ہے وہ پنجاب کے کم عقل سکھوں اور پاکستانی فوج سے جان چھڑانے کیلئے یہ قربانی دینے کا جذبہ رکھتاہے۔ محب وطن بھارتی رہنما لالوپرشادیو نے بیان دیا کہ ’’ کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے‘‘۔ تو میڈیا پر ایک جھلک کے بعد یہ خبر غائب کردی گئی۔ میڈیا زرخرید لونڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے جس کی کھائے اس کی گائے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات اب نہ رہی۔ میڈیا کا مالک سودابازی یا اپنے عزائم کی تکمیل کی پالیسی بنالیتاہے، ملازمین کو اس کی خواہش کے مطابق چلنا پڑتاہے۔ سیاسی جماعتیں بھی سیاست نہیں تجارت کرتی ہیں۔
جب پاک فوج کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی تھی، تب بھی ہم نے بفضل تعالیٰ اپنا فرض پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اخبار کے ادارئیے ، بڑی شہ سرخیاں اورآرٹیکل اسکے گواہ ہیں، طاقت کے حصول کیلئے دم ہلانے والے سیاستدان کتوں سے زیادہ برے لگتے ہیں لیکن اب حب الوطنی کا یہ تقاضہ ہے کہ کرپٹ، تاجر، ضمیر فروش ، اخلاقی دیوالیہ پن کے شکار اور اسلام و ملک سے بے وفائی کرنے والے حکمرانوں کو بے نقاب کیا جائے۔ عمران خان نے جو الفاظ شیخ رشید کیلئے استعمال کئے تھے ، اس سے زیادہ عمران خان خود بھی برے ہیں مگر اس وقت ان کی آواز سب سیاستدانوں کے مقابلہ زبردست ہے، کراچی وسندھ سے ایم کیوایم و پیپلزپارٹی ، بلوچستان سے بلوچ رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور مولانا محمد خان شیرانی کی صوبائی جمعیت اور پختونخواہ سے مولانا فضل الرحمن و اے این پی کے رہنما قومی سطح کے معاملات کرپشن اور بے انصافی پراگر اس اہم وقت میں نوازشریف پر دباؤ بڑھانے کیلئے اٹھ جاتے تو دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب کو بھی غنڈہ گردی سے پاک کردیا جاتا، اصغر خان کیس کے جرم میں مجرموں کو سزا ہوجاتی، جنرل پرویز اشفاق کیانی کی طرح جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہوتی تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجاتی ۔ نوازشریف نے پہلے بھی دھوکے دئیے ہیں اور مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا ہے۔مسلم لیگ(ن) کیلئے بھی جنرل راحیل ایک بہترین جرنیل ہیں جو حکومت کیخلاف سازش نہیں کرتے لیکن نوازشریف کو اپنے لئے ایک تابعدار جنرل کی ضرورت ہے گر یہ خواہش پوری ہوئی تو بہت برا ہوگا۔

قومی ایکشن پلان سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے تشکیل دیا گیا

مال ودولت ، اسٹیبلشمنٹ ، موروثیت کی پیداوار کی قیادت میں قومی ایکشن پلان کے ان نکات پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت ہی نہ نہیں جو حکومت سے متعلق ہیں اسلئے وقت ختم ہوگیا مگر سنجیدہ کوشش پرصرف غورہی کیا جارہاہے

قومی ایکشن پلان سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے سے تشکیل دیا گیا لیکن آخری وقت تک اسکے ان کو نکات کو سنجیدگی سے نہ لیاگیا جن کا تعلق سیاسی حکو مت سے تھا، کیونکہ دہشت گردی کیخلاف ذہن سازی کی مطلوبہ صلاحیت حکمرانوں میں موجودنہ تھی اور اپوزیشن رہنما بھی یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں، اسلئے فوج کی تشویش کاخاطر خواہ جواب کسی سے نہیں بن پڑا، کور کمانڈرکے اجلاس میں جب بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تو حکومت اپنی غلطی مان لینے کی بجائے سیخ پا ہوجاتی رہی ہے۔ حکومت، جمہوریت اور نوازشریف کے زبردست وکیل جیوکے معروف صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ ’’ طالبان، جہادی تنظیمیں، سپاہ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی وغیرہ کی قوت 10فیصد سے بھی کم اور مدارس ،مذہبی سیاسی جماعتوں جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان اور جماعت اسلامی کی طاقت90فیصد سے زیادہ ہے، اسلئے ان پر قومی ایکشن پلان کے تحت ہاتھ ڈالنے سے اسٹیبلشمنٹ،حکومت اور عدلیہ سب ہی ڈرتے ہیں۔قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق اسلئے عمل نہیں ہوسکتاہے‘‘۔
معاشرے کے ہر طبقہ میں شریف اور بدمعاش ہوتے ہیں، محلہ کے دو، تین بدمعاش سینکڑوں شریفوں پر حاوی رہتے ہیں ، ریاست کا کام یہی ہوتا ہے کہ بدمعاشی کے کردار کا خاتمہ کرکے انسانیت، شرافت اور اخلاقی اقدار کی حکمرانی قائم کی جائے۔ پاک فوج نے کراچی میں ایم کیوایم ، پختونخواہ میں طالبان اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی دہشت کا خاتمہ کرکے پاکستان کے کونے کونے میں ریاست کی رٹ بحال کردی لیکن پنجاب میں روایتی بدمعاشی بحال ہے۔ طالبان ، ایم کیوایم کے کارکن اور بلوچ قوم پرست ن لیگ اور تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی طرح کلہاڑی اور ڈنڈے لیکر اپنی قوت کا مظاہرہ نہیں کرسکتے ۔ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا تو بہت سے لیگی اور تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن روایتی لب ولہجے اور دہشت پسندی کے باعث پنجاب رینجرز کے حوالے ہوجاتے، پھر وہ بھی ایم کیوایم کی طرح ریاست کی رٹ مان کر عاجزانہ گفتگو پر مجبور ہوجاتے۔ جنرل راحیل شریف میں جرأت وبہادری ہے وہ پنجاب کے گلوبٹوں سے بھی طالبان، ایم کیوایم اور بلوچ قوم پرستوں کی طرح نمٹ سکتے ہیں مگر بھاری بھرکم پیسہ، جمہوریت سے زیادہ نوازشریف کی ذاتی فکر اور پاک فوج سے بدظنی کا یہ نتیجہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت قانون، اخلاق اور کردار کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتی ہے۔
ماڈل گرل ایان علی کے مقابلہ میں مریم نواز شریف زیادہ تفتیش کے قابل ہے، ڈاکٹر عاصم کے مقابلہ میں اسحاق ڈار نے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا ہے اور یوسف رضاگیلانی کا جرم اتنا بڑا نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کو عدالت نے نااہل قرار دیا ، جتنا نوازشریف کاہے اصغر خان کیس میں جمہوریت کے خلاف سازش اور پانامہ لیکس سے راہِ فرار اختیار کرنے میں۔ 16سال بعد اصغر خان کیس میں شریک ملزموں کو باقاعدہ مجرم قرار دیا مگر اس سے رقوم کی واپسی اور نااہل ہونے کی سزا نہیں دی گئی۔ جنرل راحیل شریف اور چیف جسٹس اپنے وقت پر رخصت ہوجائیں اور پاکستان کی ریاست میں نوازشریف کیساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو دوسروں کیساتھ ہوا ہے تو چوہدری افتخار کی طرح تعریف کرنے والے تنقید کرتے پھریں گے اور ان کی زبانوں کو روکنے کیلئے ہتک عزت کے دعوے کام نہ آئینگے۔
قوم کا اجتماعی ضمیر یہ تقاضہ کرتا ہے کہ طاقتوروں اور کمزوروں کو یکساں انصاف کے فراہم کرنے میں سب سے بڑا کردار جمہوری حکومت کا ہونا چاہیے لیکن جب جمہوریت کا اپنا سیٹ اپ غیر جمہوری ہوگا، مشاہداللہ خان، سعد رفیق، خواجہ آصف اور دیگر رہنما ؤں کو بی بی مریم نواز کے سامنے وہ اہمیت حاصل نہ ہو ، جسکے وہ مستحق ہیں اور وہ وزارتوں اور اپنے مفادات کے چکر میں اس پر راضی ہوں۔ بلاول زردای کے سامنے چودھری اعتزاز حسن، قمرزمان کائرہ، افضل چن وغیرہ سر نگوں ہوں تو عوام کو کونسی جمہوریت کا پیغام دینگے؟۔ کیا گھوڑے، گدھے اور کتے کو جعلی ڈگری کی طرح بھاری بھرکم پیسے دیکر موجودہ انتخابی نظام میں نہیں جتوایا جاسکتاہے؟، اس کا تجربہ کرکے دیکھ لیا جائے تو ضرور کامیاب ہوگا۔یقینی طورسے مارشل لاء مسائل کا حل نہیں لیکن جمہوری قوتیں عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ماضی میں بھی مارشل لاء کو روکنے کیلئے عوام نے اسلئے کوئی قربانی نہ دی کہ جمہوری حکومتیں جن جمہوری جماعتوں کی وجہ سے برسرِ اقتدار تھیں، ان میں بذات خود جمہوریت کی روح نہیں تھی۔ اب دن بدن مزید معاملہ تنزلی کی طرف ہی جارہا ہے۔
اگر جمہوری قوتوں نے قانون کی حکمرانی قائم نہ کی اور مارشل لاء کے ذریعہ سے بھی اس ملک کو سیدھی راہ پر لگانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی تو کراچی، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں پھر دہشت پسند بھی آزاد ہوکر اپنے لئے ان جمہوری جماعتوں سے انصاف مانگ لیں گے جن کے ساتھ مل کر پاک فوج نے ان کو کنارے لگایا تھا، پھر اس ملک کی بدحالی کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ ن لیگ نے سوئس اکاونٹ پر جس طرح تقریریں کیں، اب پانامہ لیکس پر دوسروں کو دھمکانے اور الزام لگانے کی بجائے کھلے دل سے جرم کی سزا کھانی چاہیے۔

اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

ہندو کے بارے میں مشہور تھا کہ ’’ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘، مودی سرکار نے اس کا بالکل الٹا نقشہ پیش کرتے ہوئے ایک ایسے موقع پر جب وزیراعظم نوازشریف نے کشمیر میں مظالم اور بھارتی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی تھی، اس عین موقع پر مودی نے سر پر دوپٹہ باندھ کر دھوتی سے باہر آنے کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ جب پاکستان کے دفاعی بجٹ کے برابر پاکستان سے بھارت پیسہ منتقل ہورہا ہے تو افواج پاکستان کے برابر مودی سرکار کو نوازحکومت کی فکر ضرور ہوگی اور جو کبوتر نوازشریف کی طرف سے مودی سرکار کے پاس پیغام لے کر گیا ہے یہ وہ منافقت کا کبوتر ہوسکتا ہے جو مودی سرکار نوازشریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر ہی چھوڑ کر گیاہو، کچھ دن پہلے دبئی سے پاکستان لائے جانے والے جن کبوتروں کی خبر میڈیا کی زینت بنی تھی ان بھی بھارتی کبوتروں کی اسمگلنگ کا معاملہ ہوسکتاہے۔

Molana_Fazluپچھلے دنوں سندھ میں جمعیت علماء اسلام نے ڈاکٹر خالد سومرو شہید کے قاتلوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے کیلئے کراچی میں مظاہرہ کیا تو اس میں پچاس بسیں تھرپارکر جیسے قحط زدہ علاقے سے لانے کی بات جے یوآئی ف کورنگی کے ذمہ داروں مولانا سیدعالم انصاری وغیرہ نے دارالعلوم کراچی کے پاس اجلاس میں کیا، یہ سب نوازشریف ہی کی طرف سے خرچے کا اہتمام لگتاہے،یہ تو ہوسکتاہے کہ بلوچستان کے وزراء اپنی حرام کی کمائی سے جمعیت علماء اسلام ف کے جلسوں کو کامیاب کریں لیکن سندھ والوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ یہ فوج کو اپنی قوت دکھانے کا مظاہرہ ہے، مفتی تقی عثمانی نے ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ کاساتھ دیا مگر اب اسحاق ڈار کیساتھ روابط کے نتیجے میں ترکی میں فوج کی ناکامی پر یکجہتی کا پیغام دیا گیا، مولانا فضل الرحمن نے دیر میں جلسہ کیا تو سعودیہ کی رقم کھا جانے اور قبائلی عوام کوان کی مرضی کے مطابق نظام دینے کی بات کی۔ جس نوازشریف سے پیسہ لیکر جلسہ کیا گیا اسی کیخلاف غلطی سے ’’گونواز گو‘‘ کے نعرے لگے تو جیو ٹی وی چینل نے دکھائے لیکن صحافیوں نے مولانا فضل الرحمن سے یہ سوال نہیں کیا کہ
قبائلی علاقوں کے کسی نمائندے کو حکومت نے اپنی کمیٹی میں شامل نہیں کیاہے تو اس سے بڑھ کر حکومت کا قبائل کیساتھ ظلم کیا ہوسکتاہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اس کا یہی جواب دیتا کہ یہ سوال قبائلیوں کا حق بنتا ہے کہ اٹھائیں، میں تو قبائلی نہیں ہوں، سلیم صافی قبائلی ہیں وہ یہ سوال اٹھارہے ہیں یہ ان کا حق بنتاہے، البتہ یہ صحافیوں کا کام نہیں سیاستدانوں کا کام ہے، مسلم لیگ کے قبائلی رہنما تو یہ سوال اٹھانہیں رہے اور ہم ان کے اتحادی ہیں اسلئے ہم بھی نہیں اٹھارہے ہیں۔ تحریک انصاف والوں کو بات کرنے کاحق ہے لیکن حکومت سنے یا نہ سنے یہ حکومت کا حق ہے۔ میراکام تواپنی جیب بھرنا ہے ، باقی قبائلی بھاڑ میں جائیں، میں صرف شرارت کرکے اپنا پیسہ حلال کرسکتاہوں جو نوازشریف نے عنایت فرمایا ہے، اسکے بدلہ میں کہہ سکتا ہوں کہ فوج نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن نہیں کیا ہے بلکہ قبائلی عوام کیخلاف کیا ہے، جس سے قبائل اور نوازشریف دونوں خوش ہونگے اور فوج پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
مولانافضل الرحمن سے سوال کیا جاتا کہ وزیراعظم نوازشریف نے عیدالفطر کو لندن میں پاکستان سے ایک دن پہلے سعودی عرب کیساتھ منایا اور عیدالاضحی کو اسکے بالکل برعکس امریکہ میں سعودیہ کے ایک دن پاکستان کیساتھ منایا، اس کی وجہ کیا تھی؟ مولانا فضل الرحمن فی البدیہ کہہ دیگا کہ مجھے نوازشریف کی وکالت کرنی ہے، اسلئے یہ راستے بنانے کیلئے مدلل شرعی مسائل بتانے پڑیں گے۔ جاویداحمد غامدی سے بھی یہ پوچھ لیا جائے تو وہ کہہ دینگے کہ یہ عوام اور علماء کی صوابدید کا مسئلہ نہیں ہے، یہ فیصلہ تو حکومت نے کرنا ہوتا ہے، لندن اور امریکہ میں جن کی حکمرانی ہے، اوباما وغیرہ ، عید کا فیصلہ وہاں انہوں نے ہی کرنا ہوتا ہے، لہٰذا نوازشریف نے عیدالفطر پاکستان سے ایک دن پہلے سعودیہ اور عیدالاضحی ایک دن بعد سعودیہ کے بعد پاکستان کیساتھ ٹھیک منائی۔ مفتی اعظم پاکستان بریلوی اور چیئرمین ہلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن اور مفتی اعظم پاکستان دیوبندی مفتی رفیع عثمانی بھی یہ فتویٰ دیں گے کہ مسئلہ یہی ہے اور پھر کسی اور کا فتویٰ نہیں چلے گا۔ اگر عمران خان بک بک کرے تو اس نے بھی اپنی صوبائی رویت کے مسئلہ میں حکومت کا جبر قبول کرلیا، پاکستان میں اتحاد سے عیدیں منائی گئیں۔ جب تک اقوام متحدہ کسی ملک کو تسلیم نہ کرے ، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور اقوام متحدہ میں مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ کا بنیادی کردار ہے، ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ و برطانیہ نے ہماری عیدوں میں بھی دلچسپی لینی شروع کردی ہے، سودی نظام کو اسلامی بنانے میں بھی انہی کی مہربانی ہے اور اسلامی خلافت کے قیام کی کوشش بھی انہی کی مرہونِ منت ہوگی۔
پاکستان کے سابق صدرپرویزمشرف نے کہا کہ ’’ امریکہ نے ہمیں استعمال کیا اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے‘‘۔ یہ غلط بات ہے، پاکستان نے اپنی مجبوری اور مفاد کی خاطر امریکہ کا ساتھ دیاتھا، اب امریکہ کا مفاد بھارت کیساتھ ہے تو بھارت ہی کا ساتھ دے گا۔ ہمارے حکمرانوں میں سیاسی حکمت عملی کا فقدان ہے، کل توشریف براداران کو زرداری کے سوئس اکاونٹ کیخلاف آواز اٹھانے میں کوئی جمہوریت کے خلاف سازش نظر نہیں آتی تھی مگر آج پانامہ لیکس میں نوازشریف کی کمپنیوں پر سازش نظر آتی ہے۔ عدالت نے تو زرداری کو بھی گیارہ سال تک قید میں رکھنے کے باوجود کوئی سزا نہیں دی تھی۔ اگر شریف برادری کو پاکستان سے محبت ہے تو دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے اپنے بچوں کو دولت سمیت پاکستان لائیں۔
پاکستان کی میڈیا کو اگر جمہوریت کی حمایت ،اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور قانون کی حکمرانی کا خیال ہو تو 16سال بعد سپریم کورٹ نے اسلامی جمہوری اتحاد کا جرم عدالت میں ثابت کردیا، یوسف رضاگیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہلی کی سزا دی جائے۔ عدلیہ بحالی تحریک سے زیادہ قانون کی حکمرانی کیلئے اس تحریک کی جان ہوگی،اسلئے افتخار چوہدری نے پہلے خود بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ عدالت کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر لاہور سے جی ٹی روڈ اور ساہیوال سے فیصل آبادکے راستے موٹروے، کوئٹہ سے ڈیرہ غازی خان کے راستے کراچی سے ملتان کے راستے اورپشاور سے اسلام آباد کیطرف ہلکا پھلکا مارچ کریں تو حکومت قانون کے سامنے گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ لوڈشیڈنگ کاوعدہ حکومت نے پورانہ کیا۔ عمران خان کی تقریرپر کیبل آپریٹر کی کارستانیاں بھی رہیں۔

اشرف میمن پبلشر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

شیعہ سنی فرقہ وارانہ اور دہشت گرد تنظیموں تحریکِ جعفریہ و سپاہ صحابہ ،سپاہِ محمداور لشکرِ جھنگوی، جہادی اور دہشت گرد تنظیموں نے پنجاب ہی سے جنم لیا تھا،
پورے پاکستان میں فوج نے دہشت گردی کیخلاف بھرپور اقدامات کئے لیکن پنجاب کوضربِ عضب (نبیﷺ کی تلوار) کی ضرورت پر بحث مباحثہ رہا
پنجاب کو قدرت نے مذہبی آزادی کی بھرپور انسانی و اسلامی فطرت ودیعت فرمائی، پنجاب کے برعکس پاکستان کے دیگر صوبے اس نعمت سے محروم ہیں،
اقبالؒ نے پنجابی مسلمان کوکہا مذہبی جدت پسند، یہ شاخ نشیمن سے اترتا بہت جلد، تحقیق کی بازی ہوتو شرکت نہیں کرتا، ہوکھیل مریدی کا توہرتابہت جلد

article_panjab

تقسیم ہند کے وقت زیادہ مظالم پنجاب کے سکھوں نے مسلمانوں پر ڈھائے۔ والدین اور اساتذہ سے مار کھانے والے کی سخت مزاجی فطری ہوتی ہے

پنجابی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان اپنی بیتی کے نتیجہ میں نظریاتی مخالفین اور اقلیتی صوبوں سے وہ سلوک نہ کریں،جو سکھوں نے انکی امی اور ابو کیساتھ کیاتھا

women-force-pml-ptiAshraf-Memon-Octob2016

پاکستان کے دیگر صوبوں اور علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کی آبادی زیادہ ہے۔ پنجاب کی عوام محنت کش، ذہین، جذباتی، سیاسی شعوراور مذہبی لحاظ سے پاکستان میں ’پہلے نمبر‘ کی حقدار ہے۔ علامہ اقبالؒ ، پیر مہر علی شاہ ؒ گولڑہ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ،فیض احمد فیضؒ ، حبیب جالبؒ ،نوابزادہ نصراللہ خانؒ ،شاکر شجاع آبادی اور دیگر شخصیات نے جنم لیا۔ میرا مقصد ایسے بنیادی نکات کو سامنے لانا ہے جن سے پنجاب میں خاص طورسے اور پاکستان میں عام طورسے مذہبی اور سیاسی شعور بیدار ہو۔ علامہ اقبالؒ کولوگ سیاسی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو مذہبی سمجھتے ہیں ، حالانکہ علامہ اقبالؒ سیاست سے زیادہ مذہب کے علمبردار تھے اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مذہب سے زیادہ سیاست کے علمبردار تھے، یہ حقیقت سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جب برطانیہ کی سلطنت پر دنیا میں سورج غروب نہ ہوتا تھااور دنیا بھر میں بالعموم اور برصغیر پاکستان میں برٹش امپائر کی غلامی کیخلاف جد وجہد جاری تھی تو علامہ اقبالؒ نے دس سال، دس مہینے، دس ہفتے، دس دن ، دس گھنٹے، دس منٹ کیا دس سیکنڈ بھی برطانیہ کیخلاف جدوجہد میں برطانیہ کی قید میں نہ گزارے مگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے دس سال جیل میں گزاردئیے۔ بخاریؒ نے چیخ چیخ قائداعظم ؒ محمد علی جناح کو مشرقی اور مغربی پاکستان کا نقشہ جلسۂ عام میں کلہاڑی کی مدد سے سمجھایا کہ دونوں کے درمیان بھارت حائل ہوگا، ہماری بری بحری اور فضائی افواج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گی، بنگال پر بھارت قبضہ نہیں کرسکتا، اسے الگ آزاد ملک بننے دو، پورا پنجاب لے لو، بمبئی تک سندھ لے لواور کشمیر کا مسئلہ سب سے پہلے حل کرو، یہ برطانیہ کی سازش ہے، ’’لڑاو اور حکومت کرو‘‘ کی جس پالیسی کے تحت انگریز نے قبضہ کیا، وہ پھر دوہرایا جائیگا اور ان کی بات آج سوفیصد درست نکلی۔ ان کی بات مان لی جاتی تو آج ہمارے حالات بھی بہت مختلف ہوتے، جنرل ایوب خانؒ کے زمانہ میں پاکستان نے جرمنی کو قرضہ دیا تھا، اس ملک کو بھٹو نے دولخت کیا، جنرل ضیاء الحق نے باقی ماندہ کو بھی ذبح کردیا۔نوازشریف اور زرداری کمپنیوں نے اس کی کھال اتاری، عمران اور طاہر القادری اس کوتکہ بوٹی کرنے کے درپے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاست کو بنیاد سے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بہت بڑا المیہ تھا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے سیاسی نظریات کو پنجاب میں دفن کیا گیا اور انکے مذہبی کردارکا روپ قوم کے سامنے رہا، نوابزادہ نصراللہ خانؒ نے بھی اپنی سیاست کا آغاز ’’مجلسِ احرار‘‘ سے کیا تھا، اسی کے تربیت یافتہ تھے،جب وہ جنرل ضیاء کی زندگی میں ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) میں بیش بہا قربانیاں دینے کے باجود پہلی مرتبہ جنرل ضیاء کے جانشین غلام اسحاق خان کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے تو سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعتوں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے علاوہ اصول پسندی کی علمبردار جماعت ’’پیپلزپارٹی ‘‘ کی بے مثال قائدآنسہ بینظیر بھٹو نے بھی نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کو ووٹ دئیے۔ مولانا فضل الرحمن کی ضرورت نہ ہوگی ورنہ اس کو بھی شہد چٹا دیا جاتا تو اپنے اصول بھول جاتا، یہ الگ بات ہے کہ غلام اسحاق خان نے پھر نوازشریف کی کرپشن بھی برداشت نہ کی اور اس وقت دونوں کی کرپشن کو بھانپ کر دونوں کی حکومتوں کو چلتا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وضاحت فرمائی ہے کہ’’ دین میں جبروزبردستی نہیں ہے‘‘۔ پنجاب کا یہ بہت بڑا کمال ہے کہ اللہ نے اس کو یہ حسین فطرت ودیعت کی ہے کہ دین میں زبردستی والے معاملہ کا تصور نہیں سمجھتے۔علامہ عنایت اللہ مشرقی، غلام احمد قادیانی، غلام احمد پرویز، مولانامودوی اورلاتعداد قسم کے مولوی ، پیرفقیر اور مذہب کے روپ میں رہنے والوں کو پنجاب کے وسیع دامن میں پناہ ملی۔ علامہ عنایت اللہ مشرقی سیاست اور عدم تشدد کے علمبردار تھے ،اسلئے ان کا صرف نام ہی باقی رہا۔ غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کی ذہنیت خالص مذہبی تھی اسلئے ان کو پنپنے کا خوب موقع ملا۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی غیرسیاسی خالص مذہبی ہیں اسلئے یاجوج ماجوج کی طرح بڑھ رہے ہیں اور انتہاپسند انہ اور احمقانہ نظریات کی ترویج کررہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی نے اپنے مذہبی روپ کو سیاست میں بدل ڈالا، تو اس کادائرہ سکڑگیا اور مخصوص حلقوں اور افراد تک محدود ہوگئی، رہی سہی جو ساکھ تھی اور قاضی حسین احمدمرحوم نے طبلے بجاکر تباہ کی۔ جن کو روس کے گورباچوف سے جماعتِ اسلامی کو تباہ کرنے کیلئے تشبیہ دی جاتی ہے۔
مذہب کیلئے پنجاب کی زمین زرخیز اور سیاست کیلئے سخت اور بنجر اسلئے ہے کہ سیاست میں مذہب کی طرح رواداری کی فضاء نہیں ،مذہبی جماعتِ اسلامی سیاسی بن گئی تو پنجاب کے کالجوں ا ور یونیورسٹیوں سے ملک بھر میں بدترین تشدد کی روایت ڈال دی۔ تحریک انصاف کے عمران خان کیساتھ ایم کیوایم اور طالبان نے کوئی ذاتی زیادتی نہیں کی لیکن کراچی یونیورسٹی میں عمران خان کیساتھ اسلامی جمعیت طلبہ نے جو کچھ کیا ، اس کا میں چشم دید گواہ ہوں، میں اپنی گاڑی میں عمران خان کو لیکر گیا تھا، وہاں سے جس طرح الٹے پاؤں بھاگنا پڑا، میری گاڑی کا شیشہ بھی توڑدیا گیا۔ پنجاب کے اندر تو عمران خان کو سنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ والوں نے الف ننگا کردیا تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنما امیرالعظیم کی اپیل پر بھی نہیں چھوڑا جارہا تھا جس پر انہوں نے شرمندگی کا بھی اظہار کیاتھا۔

force-pml-ptiAshraf-Memon-Octob2016

عمران خان نے رائیونڈ جلسہ میں مذہب کا ہتھیار استعمال کیا کہ’’ میں نے ایمان سیکھ لیا، پہلے میرے اندر ایمان نہ تھا ، ایمان آنے کے بعد اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا‘‘۔ پنجاب میں تحقیق کا مادہ نہیں ورنہ اسی محفل میں کہہ دیتا کہ’’ جس پرویز مشرف کو کرسی اور پیسہ کیلئے امریکہ کی غلامی کا نام دیکر گالی دی، جب امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاکر افغانستان میں امریکہ کی حمایت کی تھی تو اس وقت تم نے پرویزمشرف کی بھرپور حمایت کی تھی، جہاں تک وزیرستان میں فوج بھیجنے کی بات ہے تو وزیرستان پاکستان ہی ہے جہاں سے معصوم بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جاتاتھا، اگر شمالی سے پہلے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن راہِ نجات کو سیاستدانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوجاتی تو شرپسند عناصر کا صفایا ہونے میں اتنی دیر نہ لگتی، عمران خان نے تو ضربِ عضب کے بعد قبائلی پناہ گزینوں کو سہارا دینے کے بجائے مہینوں دھرنے کے مجرے میں بھنگڑے ڈالے۔اور پنجاب کے گلوبٹوں اور پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔ آرمی پبلک ا سکول کے واقعہ کے بعد دھرنے سے باعزت جان چھڑانے کیلئے ضرب عضب کی حمایت کا اعلان کیا۔
یہ احمقانہ بات ہے کہ بے ایمان پاک فوج امریکہ سے ڈرتی ہے باایمان عمران خان نہیں ڈرتا۔ اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مخلوق کے ظلم سے نہ ڈرا جائے۔ نبی کریم ﷺ شبِ ہجرت اسلئے چھپ کر نکلے کہ ظالم مشرکوں کا خوف تھا۔ اگر عمران خان نے یہودی جمائما خان سے نئے طرز کا ایمان سیکھا ہے تو اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت اور معجزات دئیے ، اسکے باوجود اپنی قوم کو لیکر فرعون کا ایسا مقابلہ نہیں کیا کہ اللہ کے علاوہ ظالم کا ڈر نہیں تھا بلکہ فرعون سے بھاگے اور فرعون پیچھا کررہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسکو ڈبودیا۔ قرآن کی تعلیمات کیخلاف عوام کو بیوقوف بنانا چھوڑ دیا جائے ۔ رائیونڈ کی تبلیغی جماعت 80 سال سے محنت کررہی ہے کہ ایسے لوگ پیدا کئے جائیں جن کا اللہ پر انبیاء کرام ؑ سے بھی بڑھ کر ایمان ہو مگرآج تک وہ خود بھی ایسا ایمان پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی اپنے رنگ میں دعوت اسلامی بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔
مولانا مودودیؒ نے مذہبی معاملات سے دامن چھڑا کر سیاسی میدان کا رُخ کیا اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے مذہب کی طرف توجہ دی، مولانا مودودی نے مسئلہ لکھا کہ دوبہنیں آپس میں جڑی ہیں تو قرآن کی آیت کے منافی اس کا ایک ہی آدمی سے نکاح کردیا جائے ، بخاریؒ نے اس کو قرآن کے خلاف سازش اور من گھڑت جھوٹ قرار دیا تھا۔ ختم نبوت کی تحریک میں گرفتاری دینے پنجاب سے کراچی کارکن آتے تھے، مساجد کے آئمہ تو پولیس کو اطلاع دینے کی دھمکی دیکر بھتہ مانگتے تھے، سرکاری ٹانگے مفتی اعظم مفتی شفیع ؒ و مولانا احتشام تھانوی ؒ تحریک کے درپردہ مخالف تھے۔

force2-pml-ptiAshraf-Memon-Octob2016

پنجاب کی زرخیز سرزمین سے قرآن و سنت کی تفہیم کا معاملہ شروع ہو تو کوئی جماعت بنانے کی ضرورت نہیں پڑیگی بلکہ عوام الناس ، تمام فرقے اور جماعتیں اپنی گروہ بندیوں کو بھول کر اسلام کی نشاۃ ثانیہ پر آمادہ ہونگی اور ایک بہترین فکر کو عملی شکل دینے میں پنجاب کی طرف سے پہل ہوگی تو تمام صوبے بھی اس کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ سیاسی لوگوں نے ایک دوسرے کیخلاف ڈنڈے اسلئے اٹھا رکھے ہیں اور کلہاڑیوں کی نمائش اس لئے ہورہی ہے کہ انکا ضمیر ، پارٹیاں اور قیادت ایکدوسرے سے مختلف نہیں۔ سب کو چند ٹکے بھی ملتے ہیں اور قیادت کیلئے وفاداری کے اظہار سے سیاسی موسم بھی گرما دیا جاتا ہے۔ دوسرے صوبے والے خوفزدہ نہ ہوں فرقہ واریت ، جہادی تنظیموں ، مذہبی انتہا پسندی ، شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرح سیاسی شدت پسندی کی وبا نہیں پھیلے گی۔ پنجاب کی مشہور کہاوت ہے کہ ’’جنہاں دے کاردانڑے،انہاں دے کملے وی سیانڑے‘‘ یعنی امیروں کے بیوقوفوں کو سمجھدار سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان کیساتھ معراج محمد خان تھے تو عمران خان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اب جہانگیر ترین اور علیم خان کی وجہ سے عمران خان بھی ہوشیار ہوگیا ہے،ایسی سیاست اور اسکی سوچ پر لعنت بھیجنی ہوگی اور یہ بات یاد رکھی جائے کہ میرا اپنا تعلق بھی تحریک انصاف سے رہا ہے۔ میں نے قومی اسمبلی کیلئے الیکشن بھی کراچی تحریک انصاف کی ٹکٹ پر لڑا ہے ، بہت قریب سے معاملات دیکھے ہیں۔
پنجاب میں خواتین کیخلاف تشدد کا بل پیش کرکے مولانا فضل الرحمن کے احتجاج پر غائب کردیا گیا ، حالانکہ قرآن میں خواتین کے نام پرایک سورت کا نام ’’النساء‘‘ ہے، جس کی آیت 19 اور 20 کو دیکھا جائے تو کسی بل کی ضرورت بھی پیش نہیں آئیگی۔ اللہ نے پہلے عورت کو شوہر کی مملوکہ بننے کی نفی کی ہے اور اسکو شوہر کا گھر چھوڑ کر الگ ہونے کی اجازت دی ہے اور پھر مرد کو ایک بیوی چھوڑ کر دوسری سے شادی کرنے کی اجازت دی ہے جس میں خواتین کے حقوق کی بھرپور وضاحت کی گئی ہے، سید عتیق الرحمن گیلانی نے عمران خان کے رہبر مولانا مفتی سعید خان صاحب کے سامنے ان آیات کی وضاحت بھی کی جن کے بارے میں غلط تفاسیر لکھ کر معاملہ بگاڑا گیا ہے۔ قرآن کا ترجمہ بالکل واضح ہے اورجو تفسیریں لکھی گئی ہیں ان میں ترجمے کو مسخ کرکے اسلام کو اجنبی بنادیا گیا ہے۔
اگر عورت شوہر کی مملوکہ نہ ہو اور اس کو شریعت نے شوہر کو چھوڑنے کی اجازت دی ہو تو کوئی شوہر اس پر بے تحاشہ مظالم تو بہت دور کی بات ہے کوئی ایسا رویہ بھی نہیں رکھے گا جو علیحدگی کا سبب بن سکے۔ پنجاب ، پاکستان اور ہندوستان و افغانستان ایران و عربستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں قرآن کی اس آیت کے ذریعے سے خواتین کو تحفظ حاصل ہوگا اور انقلاب کیلئے بہت بڑی بنیاد بنے گا۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تمام فرقوں کے مراکز ہی بھارت میں ہیں ، جہاں سے فرقوں اور جماعتوں کی ڈوریں بندھی ہوئی ہیں ان بیچاروں کو خود بھی معلوم نہیں کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں وہاں بندھا رہنا بالکل فضول ہے۔
مفتی شاہ حسین گردیزی نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کو پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف ؒ کا واحد مرید قرار دیا ہے جس کا تعلق علماء دیوبند سے ہے۔ انہوں نے مولانارشید احمد گنگوہیؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ’’ مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ نبی اور مہدی نہیں لیکن صالح مسلمان ہے‘‘ جس پر کفر کا فتویٰ لگانے میں بنیادی کردار سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تھا جن کے ہاتھ پر دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیریؒ سمیت سب نے امیر شریعت کے نام سے بیعت کی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں بہت ساری عبارات بھی یکساں ہیں، جنکے حوالے بھی مفتی سید شاہ حسین گردیزی نے دئیے ہیں۔ ویسے یہ بات درست ہے کہ علماء دیوبند نے بریلوی مکتبہ فکر کے اعلیٰ حضرت کی طرح کفر کے فتوؤں کی فیکٹریاں نہیں کھول رکھی تھیں اور اگر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ یہ کردار ادا نہ کرتے تو شاید مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار آج خود بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت و مہدویت کے دعویٰ سے دستبردار ہوکر مسلمانوں میں شامل ہوتے۔ قائد اعظم کا جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی شیخ الاسلام نے پڑھایا لیکن بریلوی اور قادیانی اس سے گریزاں رہے سیاسی و مذہبی شعور وقت کی ضرورت ہے۔
سعودی عرب کے ایما پر بھارت کے مولانا منظور نعمانی کے استفتاء کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کی طرف سے اہل تشیع کیخلاف ایک تفصیلی فتویٰ لکھا گیا جسمیں قرآن کریم کی تحریف ، صحابہ کرام کو کافر اور عقیدہ امامت سے ختم نبوت کا منکر قادیانیوں سے بدترکافر قرار دینے کی وضاحت کی گئی۔ مفتی ولی حسن ؒ ایک مجذوب ٹائپ کے انسان تھے ، مولانا یوسف لدھیانویؒ نے بھی فرمایا تھا کہ حاجی عثمان صاحبؒ کیخلاف میری طرف فتویٰ منسوب کرکے لکھا گیا ہے۔ اب سعودی عرب کے علماء کی شوریٰ نے اس قسم کے فتوؤں کی مذمت کردی ہے اور اس سے پہلے ’’اتحاد تنظیمات المدارس‘‘ کے نام سے شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی ، اہلحدیث کے مدارس اسلام کے نام پر اکھٹے ہوئے تھے۔
پنجاب کی عوام کو فرقہ واریت کیخلاف ٹھوس ثبوت کے ساتھ سمجھانے کی ضرورت ہے اور اسلامی احکامات کے حوالے سے پنجاب کے لوگ بالکل بھی دوسروں کی طرح سے گدھے پن اور کتے پن کا مظاہرہ نہیں کرینگے۔ عتیق گیلانی کے استاد مولانا بدیع الزمان ؒ کا تعلق رائیونڈ سے تھا اور انکے صاحبزادگان نے تین طلاق کی درست تعبیر کو سراہا ہے، بہت بڑی بات یہ ہے کہ سید عتیق الرحمن گیلانی کی حمایت اسکے باوجود تمام مکتبۂ فکر والے سر عام کررہے ہیں کہ سب کی جڑوں اور بنیادوں کو ہلا دیا ہے، یہ قرآن وسنت ہی کی طاقت کا کرشمہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے پیرحاجی عثمانؒ کو اپنے خلفاء اور مرید وں سمیت اپنے مکتب کے دوست علماء ومفتیان نے نشانہ بنایا اور ٹانک کے تمام دیوبندی سرگردہ علماء کی طرف سے کھلی حمایت کے باوجود طالبان نے بریلوی سمجھ کر ان کے گھر تباہ کو کیا۔
عمران خان جب کرکٹ کھیل رہا تھا تو عتیق گیلانی نے تحریک شروع کی تھی، سال با مشقت سزا کالے قانون 40ایف سی آر کے تحت ہوئی چارماہ کی قید 1991ء میں کاٹی۔ عتیق گیلانی نے 1979 سے چیچہ وطنی،لیہ ، کوٹ ادو میں سکول کے دوران ہی ساتویں سے دسویں تک مذہبی فرقوں کے خدوخال اور سیاست کے داو پیج کی شدوبد حاصل کرلی ۔ بھٹواور مفتی محمودکے متوالے و مخالف دو بڑے بھائی تھے۔ 82ء میں میٹرک کے امتحان سے پہلے کوٹ ادو سے لیہ اور پھر رائیونڈکی بودوباش کاتجربہ کرکے چیچہ وطنی کے دوست سے ملتے ہوئے کراچی میں مذہبی تعلیم و حاجی عثمان سے تصوف کی تربیت شروع کی، اور84ء میں طالبِ علمی کے دوران سہراب گوٹھ میں وزیراور محسود طلبہ کی ذہن سازی کیلئے جمیعۃ اعلاء کلمۃ الحق کے نام سے وزیرستان سے رسوم و رواج کی جگہ اسلامی قانون سازی پر فیصلوں کیلئے تحریک کا آغاز کیا۔ قید میں اور92ء میں قید سے رہائی کے بعد کتابوں کا سلسلہ جاری رکھا، شکارپور اور ملتان سے مشکلات کے دور میں تحریک جاری رکھی۔ پھر اپنے علاقہ میں پبلک سکول اور کراچی سے اخبار ضرب حق کا اجراء کیا، پھر کچھ عرصہ تک خاموش رہنے پر مجبوری کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ یہ محنت پنجاب میں ہوتی تو تناور درخت کی صورت اپنالیتی۔ کافی عرصہ سے پنجاب میں دفتر قائم کرنے کا ارادہ تھا، ہم کسی روایتی مخصوص جماعت بنانے کی بجائے قومی سظح کی تحریک چاہتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف نے مولانا فتح ..

جنرل راحیل شریف نے ستار ایدھی کو کراچی میں عزت دی۔ ٹانک کے بے لوث مولانا ، امن وامان کے ضامن کو بھی زبردست عزت دینی چاہیے ۔
میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے تحریک انصاف کے ایوب بیٹنی سے کہا ’’ یہودی کے ٹکٹ پر کھڑے تھے؟‘‘ ہم نے بتایا مولانا فتح خان کی مسجد دفتر تھا
جب خانہ کعبہ پر مہدی کے نام سے قبضہ ہوا، تو ٹانک شہر میں علماء، لیڈر اور رہنما مشن ہسپتال ٹانک کو لوٹنے کیلئے بپھرے تھے، مولانا فتح خان ؒ نے روکا

جنرل راحیل نے ستار ایدھی کو انسانیت کی بلاامتیاز خدمت پر قومی اعزاز سے دفنانے کی عزت بخشی ، عمران خان کو کراچی کے ڈیفنس میں پلاٹ دیا تو ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حضرت مولانا فتح خان صاحبؒ کا انتقال ہوا ، جنوبی وزیرستان اور ضلع کیلئے ٹانک شہر مرکزی حیثیت کا حامل ہے اگر مولانا فتح خان صاحبؒ نہ ہوتے تو ٹانک روز روز بلوؤں کا شکار ہوتا، مختلف ادوار میں مختلف مواقع پر بلوائی آتے اور شہر کے امن ومان کو خراب کردیتے، اقلیتوں کا فرقہ واریت، مذہب اور قوم قبیلہ کے نام پر جینا دوبھر کردیا جاتا، لوٹ مار ہوتی اور لوگوں کو دہشتگردی کا عام نشانہ بنایا جاتا لیکن سب تخریبی قوتوں کے سامنے مولانا فتح خان کی شخصیت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حائل رہی ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کے دور سے مولانا فضل الرحمن تک ٹانک میں جمعیت کے ووٹوں کی اکثریت رہی۔ مگر جمعیت کی مرکزی قیادت نے کبھی تومولانا فتح خانؒ کو ایک مرتبہ جیتوانے اپنا کردار ادا کیا ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی اشیرباد حاصل کی تو سرکاری سطح پر ڈسٹریکٹ خطیب کا عہدہ مولانا فتح خان سے چھین کر غیرمعروف ملا کو دینے میں بھی شرم وحیاء اور غیرت و حمیت سے کام نہ لیا، اپنے باپ کی دوستی کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا۔اپنی اخلاقی حیثیت کھونے کے بعد مولانا فتح خانؒ کو سامنے لایا۔
مولانا فتح خان ؒ نے مولانا فضل الرحمن کی منافقانہ چال چلن کو بھرپور طریقہ سے سمجھا مگر حدیث کے مصداق کہ المؤمن غر کریم ’’مؤمن دھوکہ کھانے والا معاف کرنے والا ہوتا ہے‘‘ ہمیشہ عفو و درگزر ، چشم پوشی اور غلطیوں پر گرفت کرنے کے بجائے صرف نظر سے کام لیا۔ ٹانک میں بریلوی، اہل تشیع ، اہلحدیث اقلیت اور دیوبندی مکتبۂ فکر والے اکثریت میں ہیں، عیسائی بھی ہیں۔ اگر مولانا فتح خان تخریب کاری والی ذہنیت رکھتے یا تخریب کارانہ ذہنیت کیخلاف ایک مضبوط بند کی طرح سے زبردست رکاوٹ نہ ہوتے تو ٹانک میں اقلیتوں کیساتھ وہ سلوک ہوتا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے شیعہ اور پنجاب میں عیسائیوں کی بستیاں جلانے کو دنیا بھول جاتی۔ شرو خیر کا مادہ ماحول میں گھٹتا اور بڑھتا ر ہتا ہے، ہرجگہ خیرکے نمائندے اور شر کے عناصر موجود ہیں مگر جب قیادت خیر کے نمائندوں کو نہیں شر کے عناصر کو مل جاتی ہے تو ماحول میں دنگا وفساد اور شرو فتنے کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔
ڈیڑھ سوسال پہلے اپرکانیگرم جنوبی وزیرستان میں شرپسند قیادت نے ہلا بول کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے تمام افراد کو مرد، خواتین، بوڑھے، جون اور بچے سب کو قتل کردیا تھا اور اتفاق سے ایکا دکا شیر خوار بچے رہ گئے تھے جن کی وجہ سے آج انکے ایک دو گھرانے موجود ہیں۔ لوگ سمجھتے ہونگے کہ ماتمی جلوس اور کالے کپڑوں کی وجہ سے کانیگرم کے باشندوں نے ایسا کیا ہوگا، لیکن یہ بات بالکل بھی نہ تھی، اسلئے کہ مارنے والوں نے کافی عرصہ بعد تک ماتم اور کالی قمیصوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ یہ صرف ایک برادری کو لوٹ مار کے بہانے قتل کرنے کا جذبہ تھا ۔ عوام سمجھے گی کہ کانیگرم جنوبی وزیرستان کے لوگوں نے کیا اپنا اجتماعی ضمیر کھو دیا تھا؟۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں، میرے والد پیرمقیم شاہؒ نے تقسیم ہند کے وقت بھی بنوں تک سے آنے والے ہندو خاندانوں کو لوئرکانیگرم شہر جنوبی وزیرستان میں کافی عرصہ تک پناہ دی تھی۔ جب حالات ٹھیک ہوگئے تو وہ لوگ بحفاظت گئے اور ابھی قریب کے دور میں کوئی غریب ہندو بسوں میں سفر کرکے میرے والد صاحبؒ سے ملنے آیا، جس کی ملاقات بڑے بھائی پیر جلال شاہ مرحوم سے ہوئی، دور کے مسافر کی دوسرے بھائیوں کو پتہ نہ چلنے کی وجہ سے خاطر خواہی مہمان نوازی نہیں ہوسکی جس کا سب کو بہت افسوس ہوا۔ بھارت جاکر بھی معذرت کرلیں تو سکون نہ ملے گا، اللہ یہ موقع پھر فراہم کردے تاکہ اس کا گلہ دور کردیں۔
وزیرستان اور ٹانک بڑی معتبر شخصیات اور ان کی عمدہ روایات کی وجہ سے امن وامان ، سکون و خوشحالی اور بھائی چارے و رواداری کی آماجگاہ رہے ہیں۔ ٹانک کے ڈگری کالج میں کسی پروفیسر کا پتہ چلا کہ وہ مرزائی ہے تو بڑی مشکل سے وہ جان بچانے میں کامیاب ہوا، ٹانک کے جذباتی عوام کی رہنمائی کیلئے بڑی شخصیات نہ ہوتیں تو پاکستان بھر میں اس کی شہرت فتنہ وفساد، جنگ وجدل اور ہنگامی آرائی کے حوالہ سے پہلے نمبر پر ہوتی۔ مولانا فتح خان ؒ ایک عرصۂ دراز سے ایک بلند مینار ، تناور اور پھلدار درخت کی طرح تھے۔ علمی اعتبار سے میں نے کوئٹہ سے لاہور، سوات سے کراچی تک سفر کرکے بڑے نامی گرامی علماء کرام کی زیارت، ملاقات اور شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے ، مدینہ یونیورسٹی میں تخصص( اسپشلائزیشن) پڑھانے والوں کی علمی حیثیت کو ملاقات کرکے بھی دیکھا ہے مگر مولانا فتح خان نوراللہ مرقدہ کی طرح کسی میں علمی قابلیت، معلومات کا وسیع ذخیرہ اور سمجھ بوجھ نہیں دیکھی۔ انکی وفات کے دن نمائندہ نوشتۂ دیوار خیبر پختونخواہ شاہ وزیرخان کافی عرصہ بعد خوش قسمتی سے وہاں تھے اور جنازہ میں بھی شریک ہوئے۔ اسکے فون پر صاحبزادے سے تعزیت بھی کرلی ، نیٹ پر ان کا کوئی نام اور تصویر نہ تھی۔مولانا فضل الرحمن پر رقم قربان کرنے کا اعلان نوازشریف نے کیا تھا جس کا افتتاح کرتے وقت مولانا فتح خانؒ کو بھی اپنی ساکھ کیلئے ساتھ لیا ہوگا، بہرحال قارئین کے ساتھ اخبار کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا مرحومؒ کی ایک تصویر مل گئی جو مولاناؒ کی شخصیت کی ایک جھلک ہے۔
مولانا فتح خانؒ سے بہت یادیں وابستہ ہیں، راز ونیاز کی گفتگو ہے، جس سے بہت گوشوں کی نقاب کشائی ہوتی ہے، حوصلہ افزاء ہیں، مولاناؒ کے توسط سے علماء حقانی سے عقیدت ومحبت بڑھتی اور علم وسمجھ کے ابواب کھلتے ہیں۔ مولاناؒ کا دور ایک طویل عرصہ پر محیط ہے، مولاناؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کئی مرتبہ کیا کہ ’’بہت عرصہ ہوا، میں ٹانک سے کانیگرم گیاتھا، والد صاحب مرحوم پیر مقیم شاہ نے کہا کہ ہم یہ دوست بیٹھے ہیں، دعوتوں میں یہ موجودافراد سب شریک ہونگے، سات دنوں کایہ شیڈول ہے، میں نے کہا کہ کل مجھے واپس جانا ہے، تو پیرصاحب نے فی البدیہہ کہا کہ اللہ آپ کو زندگی بھر نہ ٹھہرائے، ہمارے شغل کو خراب کردیا۔ وہ دن تھا اور آج کے دن تک کہ پھر کانیگرم میں رات نہیں گزاری ہے‘‘۔

pir_muqeem_shahنیٹ پرہمارے پڑوسی فہیم محسودولد خیربادشاہ مرحوم نے اپنے دادا اور ہمارے والد کی بہت پرانے دور کی تصویر لگائی ۔ بیچ میں دائیں سے بائیں جانب ان کی اور بائیں سے دائیں عصا ء اور گھڑی والی والد مرحوم کی تصویر ہے۔یہ وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے علاقے کی عزت اور امن قائم رہنے کا سکہ چلتا تھا، مولانا فتح خان کی مسجد متحدہ مجلس عمل کے وقت تحریک انصاف کا بھی آفس رہاتھا جب لوگ یہودی کہاکرتے تھے۔ وزیراعلیٰ خٹک ٹانک کا نام ’’فتح آباد‘‘ رکھ دے تو بہتر ہوگا۔