پوسٹ تلاش کریں

یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟

یاجوج نے کہا : یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟۔
ماجوج نے جواب دیا: ابے ! بتادیا تو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی کہیں توہین نہ ہوجائے!
یاجوج : اس مرغی صاحبہ کے سر کی قسم اگر توہین عدالت کا خوف ہو تو بلا جھجک کہیو کہ جیو ٹی وی چینل کی ہوسٹ ہے جوکبھی ’’ہم سب اُمید سے ہیں‘‘ کا پروگرام کرتی تھی نہ جانے اب کیا مسخرے کرتی ہے
ماجوج: جیو کے پروگرام کی اب کسی اور سے یاری ہوگئی ہے، اب نواز لیگ ، عدالت اور جمہوریت کی تثلیث کی دیوانی ہے۔ ایک دفعہ ماڈل ایان علی کی طرح جیو بھی پھنس گئی تو جان نہیں چھوٹ رہی
یاجوج: یار اصل بات کا جواب دو اگر پانامہ انڈے پر بیٹھی مرغی عدالت نہیں تو کیا پھر مرغا بنچ ہے ؟
ماجوج: اپنی عدالت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ مجرم کو پکڑنا اس کیلئے آسان نہیں، اگر بنچ نے مرغا بن کر اذان سحر شروع کردی تو پھر یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا جو مجاہد کی اذاں اور شاہین کا جہاں ہوگا۔
یاجوج: ابے! تمہیں کرگس کے جہاں میں ملاں کی اذاں سے اس قدر نا اُمیدی کیوں ہے؟ ۔جب روٹین کا معاملہ چل رہا ہے تو ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ وکالت کی مشق کرنے والے سے بھی کبھی مشک کی خوشبو آسکتی ہے؟۔
ماجوج: علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مجذوب فرنگی مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی کے تخیل کو بدنام کیا مگر جہاں ہرنیں رہتی ہیں وہاں سے تمہیں نا اُمید نہیں ہونا چاہیے۔ نوشتۂ دیوار سے ایسی فضاء بن رہی ہے کہ مُلاؤں کی ان طاقتوں سے جن سے ریاستیں ڈرتی ہیں اب یرغمال اسلام کو بازیاب کیا گیا تو مرغے کیا کبوتر سے تن نازک میں بھی شاہیں کا جگر پیدا ہوگا۔

اسلامی تہذیب و تمدن اورہمارے اقتدار کا ایک آئینہ

افغانستان کے مشہور بادشاہ امیر امان اللہ خان 1919ء تا1929ء اپنی بیگم ثریا کے ساتھ جرمنی1928ء میں مندرجہ بالا تصویر میں نمایاں ہیں۔ وزیرستان کے لوگوں کا اس وقت لباس سے بہت مختلف تھا۔ عام لباس کو ایسا سمجھا جاتا جیسے شلوارقمیص کے مقابلے میں پینٹ شرٹ کا تصور ہے۔ وزیرستان میں روایتی پردہ و برقعہ نہ تھا مگر سفید شٹل کاک کو قبول عام کا درجہ حاصل تھا ،کالا برقعہ فیشنی برقعہ کہلاتا تھا۔ طالبان شدت پسند قائدین حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کے گاؤں کوٹ کئی جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا زین العابدین جس نے ایم اے بھی کیا تھا اور پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ تھا۔ طالبان کا قاضی بھی رہا ۔ اس نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن کے گھر کی خواتین فیشنی برقعہ پہنتے ہیں‘‘۔ جس پر میں نے جواب دیا تھا کہ ’’ یہ غیر اسلامی نہیں ہے‘‘۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ کہتے تھے کہ مفتی تقی عثمانی کے گھر کی خواتین بھی دارالعلوم سے باہر نکلتے ہی برقعہ اتار دیتی ہیں۔مولانا سندھیؒ روایتی پردے کو غیر شرعی کہتے تھے۔
کچھ عرصہ قبل برقعوں کا تصور بھی نہ تھا۔ خواتین روایتی پردہ بھی نہ کرتی تھیں، معاشرہ کی اشرافیہ میں چوٹی کے لوگوں کا پردہ ہوتا تھا ، جن میں نواب، پیر اور بڑے لوگ تصور کئے جانے والے پردہ کرتے تھے مگر وہ بھی شرعی پردہ نہ تھا بلکہ ہندوستانی روایات کی پاسداری تھی، بہت قریب کے دور میں شرعی پردے کا تصور بھی اجاگر ہوا، ایسے شرعی پردے کا وجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قدیم اسلامی معاشرے میں بھی نہیں تھا۔ نبی ﷺ کی ازواجؓ کو خاص طور سے مخالب کرکے پردے کا حکم اللہ نے اسلئے دیا کہ آپﷺ کے دروازے پر ہر قسم کا دوست، دشمن، منافق، کافر ، جان پہچان والا اور اجنبی دستک دیتا تھا۔ آج جس کسی کی بھی ایسی حالت ہوتی ہے تو اس کے گھر کی خواتین احتیاط برت رہی ہوتی ہیں۔
حضرت عائشہؓ کی طرف سے ایک جہادی و سیاسی لشکر کی قیادت اور حضرت زینبؓ نے جس طرح واقعہ کربلا پر احتجاج کا مظاہرہ کیا، یہ سنی اور شیعہ کیلئے لازوال مثالیں ہیں۔ جب حج کے موقع پر طواف اور کعبہ میں ایک ساتھ خاندان سمیت نماز پڑھی جاتی ہے تو اپنا روایتی اسلام سب بھول جاتے ہیں۔ اگراسلامی شدت پسند مغربی خواتین کو روایتی پردے پر مجبور کریں اور خلافت کے قیام کے بعد انہیں لونڈیاں اور اپنی بیبیاں بناکر نیم برہنہ لباس پہنے کا مظاہرہ کروائیں تو دنیا ہماری اس حرکت پر حیرانی سے کہیں مر نہ جائے۔نبیﷺ کے دور میں تو شلوار یہود کا لباس تھا لیکن نبیﷺ خود نہیں پہنتے تھے البتہ پہلے سرکے بال مشرکین مکہ کے طرز پر مانگ نکال کر پیچھے کی طرف گنگی کرتے تھے اور بعد میں یہود کی طرح آگے کی جانب گنگی کرنے لگے، پھر آخر میں پہلے کی طرح پیچھے کی جانب گنگی کرنے لگے (بخاری) ۔ بلوچوں میں گھیر والی شلوار قومی لباس ہے اور پنجابیوں کا تہبند قومی لباس ہے، اس طرح کسی کی شلوار قمیص اور کسی کی پینٹ شرٹ قومی لباس ہے۔ مذہبی لوگ اگر سنت پر عمل پیرا ہوں تو انکے لئے مخصوص پہچان کے بجائے عوامی لباس پہننا ہی سنت ہے۔ مولانا مودودیؒ پہلے کلین شیو تھے ، پھر چھوٹی داڑھی اورپھر علماء کے اصرار پر لمبی داڑھی رکھ لی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعلق پنجاب سے تھا ساری زندگی شلوار پہنی اور آخر بڑھاپے میں سنت زندہ کرنے کیلئے دھوتی پہننا شروع کی۔ حدیث میں کچی اینٹوں کے تکلف کی مخالفت تھی اور شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ نے سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے کچی اینٹوں سے تکلف کرکے اپنا مکان بنوایا۔ سبز عمامے پیلے رومال رنگ رنگیلے لباس نبیﷺاور صحابہؓ کے طرزِ عمل کی نفی اور فرقوں کی خاص شناخت ہے۔اسی طرح مونچھ اور داڑھی مخصوص تراش خراش کا معاملہ بھی ہے۔علماء و مفتیان کی اکثریت ہمیشہ بادشاہوں کی درباری رہی ہے اور بادشاہوں کا حال مختلف ادوار میں کسی سے مخفی نہیں رہا ہے۔
پاکستان کا قانون یہ ہے کہ ریاستی اداروں کے ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک سیاست نہیں کرسکتے۔ جنرل ایوب ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے ملازم ہوکر بھی سیاست کی اور سیاستدانوں کی اکثریت انکی پیداوار ہے۔ جنرل راحیل کیلئے کسی این او سی کی قانونی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن جب پاکستان کے اندر باہر سے ملازم معین قریشی لاکر وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے تو ہمارا جنرل راحیل باہر ملازمت کیوں نہیں کرسکتا؟۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پر حکومت کی تذلیل اس لئے تو نہیں ہورہی ہے کہ عوام سے راجا داہر کا بدلہ اتارنے جیسا سلوک ہورہا ہے؟۔

مسلم امہ دہشت گردی کا شکار کیوں ہے؟ حقائق جانے بغیر دہشتگردی پر قابو پانا مشکل ہے: عتیق گیلانی

مسلم اُمہ اور دنیا دہشتگردی کا شکار کیوں ہے؟۔ ہم دہشتگردوں کی حمایت کا تصور بھی نہیں کرسکتے مگر حقائق جانے بغیر دہشتگردی پر قابو پانا مشکل ہے۔ اسلام میں ایک رحمن کا تصور ہے اور دوسرا شیطان کا۔ شافعیؒ و مالکؒ بڑے امام اور مشہور ہستیاں ہیں، انکے نزدیک نماز قضاکرنے پر قتل کاحکم ہے۔ نمازکی عبادت اللہ اور بندے کے درمیان تعلق ہے، کوئی مجبور کرے تو بے وضو اور بے غسل بھی نماز پڑھی جائیگی اور اگربندوں کے خوف یاریا سے نماز پڑھی جائے تو یہ اللہ کی نہیں بندوں کی عبادت ہوگی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمد خان شیرانی نے کہا: ’’طلاق کا مسئلہ چھوڑ یں، نماز پر بات کرلیتے ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا : بہت اچھا، آپ کا تعلق سیاسی جماعت سے ہے، کل اقتدار میں ہوں تو بے نمازی کو کیا سزا دینگے؟۔ اگر بے نمازی کی سزا قرآن و سنت میں ہوتی تو چار ائمہ کا اس پر اختلاف کیوں تھا؟۔ خوف سے پڑھی جائے تویہ نماز ہوگی؟۔ مولانا شیرانی نے کہا :میرا مقصد نماز کے فضائل پر بات تھی۔ میں نے کہا: اس کی ضرورت نہیں،صحابہؓ سے غزوہ خندق میں متعدد نمازیں قضاء ہوئی تھیں ، تبلیغی جماعت میں وقت لگاتے تو کوئی نماز قضاء نہ ہوتی، نبیﷺ کو خندق میں چھوڑ دیتے۔ مولانا شیرانی نے کہا: یہ درست ہے، معیشت پربات کرلیتے ہیں (کافی دیر گفتگو کے بعد)میں نے کہا :درجن کے بدلے دو درجن اخروٹ سود نہ ہومگر کلو کے بدلے دو کلو سودہوتو یہ منطق دنیا کو کیسے سمجھ آئیگی؟، ذرا بتاؤتوسہی!۔
بے نمازی کو قتل کرنے کا فتویٰ دینے والے مقدس ہوں تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پامال کرنیوالے کافرو ظالم طبقے کیخلاف خود کش حملے کرنیوالوں مجاہد ہیں یا دہشت گرد ؟۔ زبردستی سے کلمۂ کفر پر مجبور کیا جائے تو اللہ اس پر نہیں پکڑتا، اگر بے نمازی کو قتل کرنیوالے بڑے امام تو نظام کیلئے قربانی دینے والے زیادہ مقدس نہ ہونگے؟۔ میرا گھر ہوا تو بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل بھی توڑ ے،GHQپرقبضہ کے علاوہ کیا کچھ نہ ہوا؟۔ مولانا فضل الرحمن نے حضرت ابوبکرؓ سے منقول صحاح ستہ کی حدیث کے مطابق دہشتگردوں کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تو کسی میڈیا چینل نے وہ بیان نشر نہ کیا بلکہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کالم لکھ دیا: ’’مولانا فضل الرحمن پر مجاہد خود کش کرنا چاہتے ہیں مگر ایک خود کش سے مارا نہیں جاسکتا اور دو طالبان اس پر ضائع نہیں کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ آج ڈاکٹرشاہدمسعودکی حیثیت دھوبی کے کتے کی ہے، جو گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔ عطاء الحق قاسمی پی ٹی وی پر حامد میر کا گن گا رہاہے تو وہ ڈاکٹرشاہد مسعود کا بھی گن گاتا رہاہے۔حامد میر نے مولانا فضل الرحمن کو جشنِ دیوبند کانفرنس کے بعد اسامہ کی دھمکی دی، مولانا عطاء الرحمن کے جواب میں لکھا: ’’شیشہ کے گھرسے پتھر نہ پھینکنا، مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لو،GHQ کون لیکر گیا ؟‘‘حامد میر اور عطاء الحق قاسمی کا یہ تأثرغلط ہے کہ حامد میر وہ مجاہد ہے جو دہشتگردوں اور فوج کے نشانے پر رہ کر بہادری سے جی رہاہے۔ اعترافِ جرم قوم کا نشانِ منزل ہو تو بات بنے۔ شدت پسندی کو اسلام سمجھ کرہم نے آبیاری کی تو اس کی تلافی کیلئے وہ نہ کرسکے جسکا حق تھا، انھم یکیدون اکیدًا واکید کیدًا ’’ دشمنون نے اپنی چال چلی اور اللہ نے اپنی چلی‘‘، اسلام کے عادلانہ نظام پر نہ صرف مسلمان بلکہ عالمِ انسانیت بہت خوشی سے متفق ہوگی۔
اگر نوازشریف و شہباز پولیس و گلوبٹوں سے بندوں کو قتل کروائیں تو ریاستی دہشتگردی سے ان کا جرم زیادہ نہیں جو ظالمانہ نظام ختم کرنے کیلئے سربکف ہیں، جن کو اداروں نے پالا، نواز شریف اور عمران خان نے انکی کھل کر حمایت کی ۔ جنرل راحیل سے پہلے فوج کا مورال اپنے کرتوت سے ڈاؤن تھا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت جیسے لوگ اپنی عزت نہ بچاسکے، جن کا حال یہ تھا کہ الطاف بھائی کی ٹانگوں میں سر دیا تو الطاف جیسا لیڈر دنیا میں کوئی نہ تھا اور ذرا ہٹ کر دیکھا تو رویہ بدل دیا۔ سلمان حیدر کا کہا کہ انڈیا میں ہے مگرکسی نے نہ پوچھا کہ گھر کیسے پہنچا؟۔الطاف بھائی کارویہ بدلنا پڑیگا کہ اپنوں کو شہید اور دوسرے کوہلاک کہو، افغانستان کی مسجد میں جمعہ پڑھنے والا بم سے ہلاک اور اپنا حادثے کا شکار ہو تو شہید؟۔
سب سے غلطیاں ہوئیں مگر خودسے زیادہ دوسروں کیلئے ایماندارانہ جواز کی ذہنیت رکھتے ہیں،خود سزا کھالی، دوسروں کیلئے سزا کی تجویز نہیں۔ ہم سے زیادہ قوم کو سزا مل گئی ۔ افغانستان اپنے لئے دہشتگردوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا تو ہمارے لئے کیا کریگا؟۔ افغانی دَلّے حکمران و عوام نے اغیار کیلئے اپنے وطن، قوم اور ملت کی قربانی دی اور ہمارے دَلّوں نے بھی وہی کیا۔ کسی پراحسان کے بجائے اپنے مفاد کیلئے خود کو اور دوسروں کو بھی تباہ کیا۔ ایکدوسرے کے گھر میں گند کو احسان کہنا حماقت ہے۔غلامانہ ذہنیت والے صحافی اور سیاسی ومذہبی لیڈر قوم کی رہنمائی کریں تو تباہی و بربادی کیلئے یہی کافی ہے۔ ایران اور پاکستان کیخلاف سازشوں کا آغاز ہوچکا۔سعودیہ پر بھی بُرا وقت ہے۔ ہم نے غیرتمندو بے غیرتوں کو دہشتگرد بنایا، مولوی فضل اللہ کوسوات میں کس نے بغل میں پالاتھا؟۔ خواجہ آصف نے حافظ سعیداورپرویزمشرف نے مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیا۔ محمود خان اچکزئی جو کہتا تھا وہی کیا جارہاہے اور ایجنٹ ہونے کی گالیاں بھی صرف اسی کو دی جارہی ہیں۔ پوری قوم کی حمایت طالبان کو حاصل تھی تو فوج نے کیا کرسکتی تھی؟ نیٹو نے بھی اپنی رسم و راہ بنالی تھی، طالبان کے جذبے سے عالمی قوتوں کے عزائم خاک میں مل گئے۔
کالعدم تنظیموں سے ریاست مخالفین کوقابو کرتی ہو ،حکمران کا کردار قابلِ ستائش نہ ہو، با صلاحیت صحافی بکاؤ مال بنے تو ناکارہ مجاہد، ناکارہ صحافی، ناکارہ سیاستدان کے بل بوتے پرریاستی مشنری چلتی ہے۔اندھیر نگری چوپٹ راج میں قوم کے خون پر خرچے شاہانے ہوتے ہیں۔ بڑوں کے باہر ٹھکانے،غیرت و ضمیر کے الگ پیمانے ہوتے ہیں۔انسانی اقدارومذہبی روح سے بیگانے ان ماڈلز نے نمائش کے چکر لگانے ہوتے ہیں۔اغیار کیلئے ایکٹنگ کے افسانے چہرے جانے پہچانے ہوتے ہیں، مفاد پرست چالاک سیانے وہاں جاتے ہیں جہاں دانے ہوتے ہیں۔ رہنما اور لیڈر دجال سے زیادہ کانے ہوتے ہیں۔ مکھیوں کی بیٹھک رستے ناسور کے خزانے ،ابن الوقت قلابازی کے زمانے ہوتے ہیں۔ مخدوم شاہ محموداور مخدوم فیصل حیات جیسے آستانے ،مولانا فضل الرحمن کے بہانے اقتدار کے ٹھکانے ہوتے ہیں۔ دانیال عزیز،امیرمقام ، جہانگیر ترین،فوادچوہدری ہر دور کے ہرجانے ہوتے ہیں۔ لیگ و پیپلز پارٹی نے اپنے معاملے مکانے ہوتے ہیں۔جماعتِ اسلامی کی خدمات کسی کے ہاتھ بٹھانے ،عمران خان کے مسکے امپائر کے انگل اٹھانے ہوتے ہیں۔ کس کے ہاتھ پر قوم اپنا لہو تلاش کرے کہ سبھی نے پہن رکھے دستانے ہوتے ہیں۔ مجرم رہنماہرجگہ کھسیانے اور متعصبانہ جذبے عوام میں بھڑکانے ہوتے ہیں۔ آذانِ سحر سے ہو آغاز تو خواب بھی سہانے ہوتے ہیں،نسیم صبا چلے توگُلوں پر بلبلوں کے گیت چہچہانے ہوتے ہیں ۔دارارقم انقلابیوں کے آشیانے ا وربوجہل بولہب کی نظر میں رحمت للعالمینﷺ دیوانے ہوتے ہیں۔ وماصاحبکم بمجنون اے پاک حرم کے باسیو! یہ تمہاری بھول تھی کہ تمہارے صاحب مستانے ہوتے ہیں۔ہردورمیں سازش کے الگ الگ تانے بانے ہوتے ہیں، ڈور ڈنگر سے بدترانسان سدھانے اورانسانی فطرت کے جوہر جگانے ہوتے ہیں۔پہلے طعنے ہی طعنے اورپھر ترانے گانے ہوتے ہیں۔ عتیق گیلانی

پہلی ہجرت مکہ سے مدینہ کی تھی ،دوسری ہجرت اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے کرنی ہوگی۔عتیق گیلانی

مسلم اُمہ نے اسلام کی نشاۃ اوّل کیلئے پہلی ہجرت مکہ سے مدینہ کی تھی ،دوسری ہجرت اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے کرنی ہوگی۔ صلح حدیبیہ کے معاہدہ پرمکہ فتح ہوا، دوسرامعاہدہ پوری دنیا فتح کرنے کیلئے کرنا ہوگا۔ایک میثاقِ مدینہ کیا تھا، دوسرا میثاقِ فلسطین کرنا ہوگا۔
مسلمانوں کی جان، مال اور عزتوں کا بازار لگاہواہے، دنیا میں مسلم ریاستیں تہس نہس کرکے قتل وغارت گری، فتنہ و فساد، لوٹ مار ، تباہی وبربادی اور ہجرتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی کی آنکھ نہیں کھل رہی ہے۔ اقوام متحدہ یہودی لابی کی لونڈی اور امریکہ اس کا غلام ہے۔ مسلم اُمہ کیخلاف سازشوں کا سلسلہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کعبہ کی تعمیر کا مقصد نبیﷺ کیلئے مرکز تھامگر بہت تلخ ہوئے بندہ مسلماں کے اوقات تو اللہ نے ہجرت کا حکم دیا، بیت المقدس کی تعمیر کا مقصد مسلمانوں کا قبلہ نہ تھا، جب قبلہ تھا تو قبضہ نہ تھا اور جب اپنا رخ موڑا تو قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ 6ھ میں صلح حدیبیہ اور10ھ میں نبیﷺ کا وصال ہوا ، 10سال تک صلح حدیبیہ کے معاہدے میں سخت ترین شرائط کو مسلمانوں نے قبول کیا۔ نبیﷺ کی پوری زندگی، حضرت ابوبکرؓ کا پورا اور حضرت عمرؓ کا آدھا دورِخلافت اسی صلح میں گزرتے۔ صلح حدیبیہ کو مشرکینِ مکہ نے توڑا، مسلمانوں کے حلیف بنوخزاعہ کیخلاف مشرکینِ مکہ نے اپنے حلیف بنوبکر کی مدد کی۔ مسلمان نے کافر حلیف قبیلے کیلئے اس معاہدے کو برقرار رکھنا غلط سمجھا۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ وزارتِ خارجہ کیلئے بہترین مثال ہے۔یہود کیساتھ میثاقِ مدینہ بھی مثالی تھا لیکن یہود اس کی پاسداری نہ کرسکے۔ پھراسی طرز پر میثاق و صلح کی ضرورت ہے جس سے مسلم اُمہ کی معراج ہوگی۔
پہلی نشاۃ پر ہجرت، میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ کی طرح موجودہ دور میں یہ اقدامات اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ ہونگے، اسلام سے پہلے حلفِ فضول کے معاہدے پر نبیﷺ بعد میں فخر کرتے تھے اور اس کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ اگر میثاقِ مدینہ اور صلح حدیبیہ دشمن نہ توڑتے تو دنیا کی سطح پر اسلام کی مدد سے ایک جاندار اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آتاتو اس کا کردار موثر بھی ہوتا۔آج فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم مظلوموں کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ قبلہ اوّل سے عیسائیوں کومسلمانوں سے زیادہ دلچسپی ہے، یہود کی طرح عیسائیوں کا بھی موجودہ مرکز بیت المقدس ہے۔ ہم نے اتنی قربانی تو خانہ کعبہ کیلئے بھی نہیں دی جتنی بیت المقدس کیلئے دے رہے ہیں۔ حقائق کو باہوش وحواس سمجھنا ضروری ہے، کہیں نادانستہ سازشوں کاہم شکار تو نہیں ہورہے ہیں؟۔
مکہ سے حبشہ و یثرب ہجرت کے وقت جتنی ناسازگار حالت مسلمانوں کی تھی ، اب نہیں رہی ۔ اگر بیت المقدس پر حدیبیہ کے طرز کا معاہدہ کیا جائے ۔ تین دن زیارت کی اجازت پر انتظام کو یہود کے حوالے کیا جائے جو مشرکینِ مکہ سے بہرحال بہتر ہیں، بھلے نیام میں تلوار کی اجازت بھی نہ ہو ۔ پوری دنیا سے اتنے لوگ زیارت کرینگے کہ فلسطینیوں کی غربت دور ہوجائیگی۔ سعودی عرب بھی مقابلہ میں عمرہ کیلئے خصوصی سستاپیکج کا اعلان کردیگا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ یہود کہیں کہ اتنے بے غیرت ہم بھی نہیں، بیت المقدس کا انتظام بھی تم سنبھالواور توراۃ نہیں قرآن کے مطابق ہمارے لئے بھی فیصلے کرو۔پھراس خلافت کی پیش گوئی پوری ہو، جس سے آسمان وزمین والے دونوں خوش ہونگے۔
ہم سے زیادہ یہود کے دشمن وہ عیسائی ہیں جو پسِ پردہ بیٹھ کریہود سے مسلمانوں کو لڑارہے ہیں ، ہٹلر بھی مسلمان نہیں عیسائی تھا ۔مسلمان لڑنے اور مرنے کے بجائے پُرامن ماحول میں اسلام کے بنیادی مقاصد اور نظام کو اُجاگر کریں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ خود اسلام سے ناواقف و بیگانے ہیں اور دنیا میں اسلام کے نفاذ کیلئے سر بکف انجانے ہیں۔ پاکستان اسلامی قومیت کی بنیاد پر بنا تھا، ہم برمی اور بنگالیوں کو پاکستانی قومیت نہ دے سکے جبکہ کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، سپین، اٹلی ، ناروے، سویڈن ، ڈنمارک ، آسڑیلیا سمیت دنیا بھر میں پاکستانی اور دیگر مسلمانوں کو وہاں کی قومیت مل گئی ہے۔ عرب ممالک اور خاص طور سے سعودیہ میں انسانی اور کاروباری حقوق کا بھی بڑا المیہ ہے۔
اسلام کا تقاضہ ہے کہ شخصی و انفرادی طور سے انسان اعلیٰ اخلاقی قدروں کامالک بنے، ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم سب سے زیادہ اکرام کے لائق تم میں اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ معاشرتی و اجتماعی طور سے انسان دنیا میں عادلانہ نظام کا پابند ہے جس کا رتبہ انفرادی تقویٰ پر بھاری ہے ۔ اعدلوا ھو اقرب للتقویٰ عدل قائم کرو، یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے۔ مسلمان اسلام سے نابلد ہونے کی وجہ سے اپنی ساکھ کھوچکا ، مسلم امہ آج مختلف شکلوں میں قربانیوں کے باوجود ترقی و عروج کی منزل کے بجائے زوال و انحطاط کی طرف اسلئے جارہی ہے کہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی قرآن وسنت کی نہیں اپنے ماحول، فرقے اور مسلکوں کی تابع بن کر رہ گئی ۔ جب تک ہم خود کو نہ بدلیں، اللہ بھی ہماری حالت نہ بدلے گا ۔صراط مستقیم کی نشاندہی سے منزل کی جانب گامزن ہو نگے۔ فطرت کے حسین شاہکارقرآن و سنت پر چلنے سے کوئی مائی کا لعل انحراف نہیں کرسکتا۔ جاہلانہ تعصبات اور مفاد پرستانہ رویوں کو خیرباد نہ کہا تو کسی کی خیر نہیں ہوگی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اقتدار نہیں ملا، اسلئے حکومت کے مذہبی احکام کا انجیل میں تصور نہیں، مکی زندگی میں اسلام کیلئے بھی قتال اور حکومتی احکام نازل نہیں ہوئے۔ مدنی زندگی میں بھی میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ اسلام کا نمونہ تھے اور آج پھر ہم نے اپنے زنگ آلودہ نظام کو قرآن وسنت سے زندہ کرناہے۔ اسلامی نظام دنیا میں عزت اورجان ومال کا زبرست محافظ ہے۔کوئی کسی خاتون کی عزت پرزبردستی سے ہاتھ ڈالے تو قتل کیاجائیگا۔ چند مجرموں کو سرِ عام سزا دی ہوتو خواتین کی عزت کوپامال کرنے کاکوئی خطرہ نہیں رہے گا ۔ دہشت گرد حملوں سے یہ زیادہ خطرناک اور سنگین مسئلہ ہے۔ فوجی عدالتوں میں ہی اس کی سزاملے مگر کھلے عام چوکوں پر لٹکاکردے۔ کسی پاک دامن خاتون پر بہتان لگایا جائے تو اس کی سزا80کوڑے ہوں۔ کوئی اپنی بیوی کو بھی فحاشی کی مرتکب پائے تو قتل نہیں کرسکتا۔ البتہ گھر سے نکال دے یا عورت خود نکلے۔ اسلام بے غیرتی بھی نہیں سکھاتا اور قانون بھی ہاتھ میں نہیں لینے دیتا۔اگر کوئی کسی کو بھی غیرت کے نام پر قتل کردے تو غیرت کا تقاضہ یہ نہیں کہ دوسرے کو قتل کرکے اپنی زندگی کیلئے بھیک مانگی جائے۔ قرآن کے مطابق قتل کیلئے قتل کے قانون پر عمل کرنا ہوگا۔ جب امیر غریب، طاقتور کمزور اور مرد عورت کی عزت اور جان کو اسلامی معاشرے میں تحفظ مل جائیگا تو امریکہ ، اسرائیل ، بھارت اور روس کے شہری بھی اپنے ہاں اسلامی نظام کا مطالبہ کرینگے اور جمہوری بنیاد پر ہم وہاں جیت سکتے ہیں۔
انفرادی ذہنیت فرقہ واریت کا شکار ،معاشرتی نظام اسلام سے دور، ریاستی ڈھانچہ غلامی کا عکاس اور حکمرانوں نے سیاست کو تجارت بنایا ہو تو دنیا کیلئے اچھا ماڈل پیش کرنے کے بجائے ہم خود ہی دوسروں کیلئے قابلِ رحم ہونگے۔ عظیم انقلاب کیلئے پردۂ غیب سے کوئی نہ آئیگا ،شاہ ولی اللہؒ نے کہا : فک النظام ’’نظام کی کھایہ پلٹ دو‘‘۔اقبال ؒ نے کہا کہ دنیا کو ہے اس مہدئ برحق کی ضرورت ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار۔بڑے بڑے اقدامات سے اسلامی نظام کی زنگ آلود مشینری کودوبارہ رواں کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔

حضرت مولانا عبد الکریم عابد کے بیان پر عتیق گیلانی کا تبصرہ

کراچی (ڈاکٹرجمال) حضرت مولانا عبد الکریم عابد(جمعیت علماء اسلام مرکزی شوریٰ کے رکن، صوبائی سرپرست خطیب و امام مہتمم مسجدو مدرسہ مدنیہ گلشن اقبال ) نے کہا کہ اس وقت امت کو ایک کیا جائے ، اتحاد کی اشد ضرورت ہے مگر ہمارا میڈیا فرقہ واریت اختلافی مسائل کی اشاعت کو ترجیح دیتا ہے۔ نوشتۂ دیوار میں اکثر کسی نہ کسی قابل احترام شخصیت کیخلاف اختلافی نکتہ نظر ہوتا ہے، اختلاف ہر ذی علم کا فرض مگر شائستہ انداز میں لکھا جائے نہ کہ شخصیت پر توہین آمیز تنقید کی جائے۔ نوشتۂ دیوار کے مضامین کا انداز یقیناًاچھے پہلو بھی ہیں ایک حد تک مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے مگر گزارش ہے کہ شائستہ انداز میں دلائل کی بنیاد پر اختلاف ہو اور جس کو اللہ نے مقام دیا ہو وہ ملحوظِ خاطر رہے، اسلام کی یہی تعلیم و تربیت ہے کہ مخالف کی بھی توہین نہ کی جائے بلکہ ان کو مقام دیا جائے۔ سوال کے جواب میں کہا کہ طلاق کے مسئلے پر نوشتۂ دیوار کے مضامین سے اہلسنت و الجماعت کے اکابر اور عوام تک اچھا تاثر قائم نہیں ہورہا۔ یہ مواد جو تحقیق کیساتھ شائع ہوا اس میں نئی بات نہیں بلکہ صدیوں سے یہ اختلافات علماء کرام میں چلے آرہے ہیں۔ گزارش ہے کہ علماء کرام سے ہزار اختلاف کے باوجود احترام کو ترجیح دی جائے اختلاف سے انکار ،نہ ہی اختلاف بری چیز ہے ۔ تنقید برائے اصلاح ہو، تنقید برائے توہین نہیں ہونی چاہیے۔

تبصرۂ نوشتۂ دیوار

حضرت مولانا عبدالکریم عابد صاحب!
محترم جناب کی رہنمائی کا کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں؟دومرتبہ آپ سے ملاقات کا شرف رہا ہے، اسلئے جناب کے خلوص سے آگاہ ہوں۔ بلا شبہ جو تحریرفرمایا، اسکے ہر ہر لفظ میں سچائی ہے اور بہت احترام کیساتھ ہمارا اختلافی نقطۂ نظر بھی۔ جن خیالات کا پر خلوص انداز میں اظہارفرمایا، یہ اکثریت کی شکایت ہے۔ ہمارے اخلاق کردار، طرزِ تحریر اور اوقات کی تو بالکل کوئی حیثیت نہیں، اسلئے اپنا دفاع تو نہیں کرسکتے، جورہنمائی کی کرم نوازی ہے اس کا شکریہ تہہ دل سے ادا کرتاہوں
البتہ آپ جانتے ہیں کہ رحمۃ للعٰلمینﷺ نے تو بڑے زبردست اخلاق، کردار اور اوقات سے زندگی کے 40سال نبوت سے قبل13سال مکی اور8سال فتح مکہ سے پہلے مدنی زندگی گزاری، وہ جو فتح مکہ کے بعد فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے، امیرمعاویہؓ، عکرمہؓ بن ابی جہل صحابہؓ تھے ، بڑی شان رکھتے تھے، حمزہؓ کا کلیجہ نکالنے چبانے والے وحشیؓوہندؓ کی خدمات ہیں مگر قرآن نے انکے اقوال زریں کو محفوظ کیا ’’ کیاہم اپنے الھہ کو ایک مجنون شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں گے‘‘۔
19سال تک حضرت ابوسفیانؓ کی بیگم حضرت ہندؓ نے نبیﷺ سے سخت نفرتوں کا اظہار کیا مگر جب مکہ فتح ہوا، حالات بدل گئے تو نبیﷺ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی مگربڑی تعداد میں یہ فوج درفوج مسلمان ہونے والوں کا ماحول بدلا، جو توہین امیز رویہ نظر آتا تھا وہ اعلیٰ اخلاق لگنے لگا۔ قرآن نے اہل کتاب سے متعلق کہا کہ ’’انہوں نے مشائخ و علماء کو اللہ کے علاوہ رب بنالیا تھا‘‘ نبیﷺ نے وضاحت کی کہ حلال وحرام کا خود ساختہ معیاربنایا ، یہی رب بنانا تھا۔ جن علماء نے وقتافوقتا اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ شادی کی رسم نیوتہ کو سود اور ماں کے زنا سے بڑھ کر گناہ قراردیا، دوسری طرف اسلام کے نام پر بینکنگ کو جواز بخشاہے۔ جمعیت علماء اسلام پہلے روزی روٹی حلال کرکے مزاحمت کرتی تھی اب لیٹ گئی تو ہمارا رویہ یقیناًحق کی آواز بلند کرنے پربہت گستاخانہ لگتا ہوگا ،وقت کا انتظار کرتے ہیں عسیٰ ان یکون قریبا ۔ قرآن پر پرانے قصے کہانی کا الزام لگا۔ دلائل کو پرانا کہنے پر خوشی ہے کہ نئے دین کا الزام نہ لگا ۔ علماء کا نصاب پراعتماد اٹھ گیا۔آپ نے مہربانی فرمائی تھی کہ مدرسین سے بات کروائی، میں نے کہا: بات سن لو، اگر میرا مؤقف نہ مانا تو لکھ دیتا ہوں کہ اپنا مؤقف چھوڑ دونگا مگرانہوں نے کہا: ’’یہ شرط جائزنہیں‘‘۔ وقت بتائیگا کہ حلالہ کو کارِ ثواب کہہ عزت لوٹنا توہین آمیز تھا یا لعنت کو بے غیرتی کہنے والے گستاخ؟۔ طلاق کے مسئلہ پر اتنا واضح مؤقف کہاں کس نے لکھا؟ عتیق گیلانی

محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روئے پر اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹراجمل ملک نے محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روپے پر تبصرہ کیا کہ: کالا قانون 40ایف سی آرکی کیا حیثیت ہے؟، محترم اچکزئی اس کے ذریعے قبائل کو افغانستان سے الحاق کی دھمکی دیکر اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنیکے چکر میں تو نہیں ؟۔ پیریونس شاہ کے ہمراہ پیر عبدالواحد کی حال میں اچکزئی سے ملاقات ہوئی ، پیر عبدالواحد نے نوشتۂ دیوار سے مطالبہ کیا کہ یہ ہم قبائل سے زیادتی ہے کہ 40 ایف سی آر کو ختم کرکے قبائل کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جانے لگا تومحمود اچکزئی رکاوٹ بن گئے۔ وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخواہ سے الحاق کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کردی۔سرحد نام انگریز کی سازش تھی، جسے بدلنے کیلئے نوازشریف تیسری بار وزیراعظم کی شرط پر راضی ہوا۔ قبائلی علاقہ کیخلاف کوئی نیا ڈرامہ تو نہیں کھیلا جارہا؟ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو،ٹل، کوہاٹ، پشاور اور دیر پختونخواہ کے سیٹل علاقے قبائل کیلئے مرکز اور سر کی حیثیت رکھتے ہیں ، جہاں کمشنریاں ہیں ، کمشنرکے ماتحت پولیٹیکل ایجنٹ کام کرتا ہے۔ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کی بات دُموں کا گلدستہ بنانے کے مترادف ہے۔
محمود خان اچکزئی ومولانا فضل الرحمن کے سیاسی ومذہبی اکابر متحدہ ہندوستان کے حامی تھے، ان کی حب الوطنی پر شک انتہائی لغوبات ہے۔ پاکستان کی مخالفت کرنیوالوں کے اسلام سے محبت پر شک اسلئے کیا گیا کہ انہوں نے اسلام پر حب الوطنی کو ترجیح دی ۔ عبدالغفارر خان،شہید عبدالصمد خان، غوث بخش بزنجو ، حبیب جالب،فیض احمد فیض اور مفتی محمودکی حب الوطنی ان صحافیوں کی سند کا محتاج ہرگز نہیں جو کتوں کی طرح کسی کے ہُش پر پیچھے پڑتے ہیں۔ پرویزمشرف نے کہا کہ عالمی قوتوں کے کہنے اور تعاون سے ہم نے طالبان بنائے ۔ محمود خان اچکزئی کے جرأتمندانہ بیانات اسمبلی کے فلور پرہیں اورجو ببانگِ دہل کہتے تھے کہ ہمارے خفیہ ادارے امریکی سی آئی اے سے زیادہ ہوشیار نہیں ، انکے تعاون سے جہادی گروپوں کی افزائش ملک ، قوم، ملت کیلئے بہت نقصان کا باعث ہے۔ آج ان کی باتیں ہو بہو درست ثابت ہوئی ہیں، جس سے کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔
برطانیہ نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا تو افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کیا۔ ایک طرف متنازعہ کشمیر کا محاذ چھوڑا، دوسری طرف افغانستان سے یہ معاہدہ ایک خاص مدت کیلئے کیا۔ قبائل نے انگریز کیخلاف آزادی کیلئے جتنی قربانی دی، اتنی پورے برصغیر پاک وہند کے تمام سیاسی لوگوں نے بھی نہیں دی ،علماء کافتویٰ غلام ہندوستان کیلئے تھا کہ رہنے سے نکاح ٹوٹ جائیں گے، جس سے قوم پرستوں کے سرخیل عبدالغفار خان نے بھی قبول کرکے افغانستان ہجرت کی تھی۔ قبائل نہ تو افغانستان کا حصہ تھے اور نہ انگریز کی وہ دسترس تھی کہ علماء نکاح ٹوٹنے کے فتوے دیتے۔ قوم پرست کہتے ہیں کہ جاہل علماء کا فتویٰ بالکل غلط تھا ۔مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ خانہ بدوشوں پر وہ فتویٰ لاگو نہیں ہوتا۔میرے آباء واجداد اس کی زد میں نہیں آتے، مولانا محمد خان شیرانی قبائل کا سہارا لے گا لیکن اسلامی نظریاتی کونسل میں اس فتوے پر بحث کی جائے جس کی وجہ سے کتنوں کے نکاح باقی نہیں رہے ہونگے؟۔ قبائل نے افغانستان میں قوم پرستوں کے ہیروامیر امان اللہ خان کی حکومت قائم کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا جو جرمنی کی مدد سے افغانستان پر قابض ہوا تھا۔ کانگریس کی مدد بھی جرمنی کررہی تھی اسلئے قوم پرستوں پر انگریز دور سے ایجنٹ کا الزام لگتارہا ہے۔ انکا یہ کہنا درست تھا کہ انگریز سے حب الوطنی کی سند ضروری نہیں۔ انگریز گیاتو قبائل نے پاکستان کو دل وجان سے قبول کیا، اگر پاکستان فیصلہ کرتا کہ قبائل کو اپنے سے جدا کرنا ہے، تو بھی یہ واضح حقیقت ہے کہ قبائل افغانستان میں شامل نہ ہوتے۔ افغانی بیچارے خود شورش زدگی کے ہمیشہ شکار رہے ہیں۔ انگریز دور میں قبائل افغانستان کا حصہ نہیں بنے تو آج کیسے بن سکتے ہیں؟۔ سندھ و ہند کی طرح قبائل اور افغانستان بھی الگ تھے ۔سندھ (پنجاب وکشمیرتک تھا) کو ہند کا حصہ قرار دینے کیلئے برطانیہ جیسی عالمی قوت کی ضرورت تھی تو قبائل کو افغانستان سے ملانے کیلئے اس سے بڑی طاقت درکار ہوگی۔روس افغانی قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا، نیٹو بھی ناکامی کا سامنا کر رہاہے۔ پاکستانی قبائلی علاقوں پر منصوبہ بندی سے دہشتگردوں کا قبضہ کروایا گیا مگر قبائل کی اپنی بھی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ بھگت رہے ہیں۔ امریکہ نے دہشتگردوں کو ٹرینڈکیا، حمایت کی فضاء ہموار کی اور وہی پکڑ نے کے بعد ہیرو بناکر چھوڑ رہاہے، جب قبائل میں امریکہ مجاہدین کی تلاش میں آیا تو عبداللہ محسود کو گوانتا ناموبے سے ہیرو بناکر چھوڑ دیا ۔ عبداللہ محسود کے فرشتوں کو پتہ نہ ہوگا کہ افغانستان سے امریکہ نے پکڑا، پھر وہیں چھوڑا کہ پھر پاکستان سے لڑنے کا کیا تُک بنتاہے؟۔ مگرعبداللہ محسود نے شعوری طور سے پاکستان کیخلاف اسلئے خود کش تیار کئے کہ چاچا پرویز مشرف خیر خوشی سے یا بامر مجبوری امریکہ کا اتحادی تھا۔ طالبان کے بڑے مخالف فیصل رضاعابدی نے میڈیا پر بتایا کہ اسلام آباد میں امریکی فوج کیلئے بڑا کمپاؤنڈ تیار ہورہاہے تو یہ طالبان کے حامی مجاہدین ، علماء اور سیاستدان امریکیوں کیخلاف یہاں احتجاج کیوں نہیں کررہے ہیں؟۔ فیصل رضا عابدی کی یہ گفتگو نادانستہ ان طالبان کی حمایت کا ذریعہ ہے جو پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں۔اس لاشعوری جنگ سے چھٹکارا پانے کیلئے ضروری ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل پر قابو پائیں۔ جنرل راحیل لاہوری ہیں، عاصمہ جہانگیر، مبشر لقمان فخریہ کہتے ہیں کہ ہم لاہوری ہیں، جنرل ضیاء الحق آرائیں تھے مگر بھٹو کو کیسے ٹانگا؟۔ جنرل قمر باجوہ بہادر جٹ ہیں، ان کی ملنساری کی وجہ بھکر سے تعلق ہے۔ شہباز شریف نے پچھلا الیکشن بھکر سے لڑا مگر وہاں کی کوئی خدمت نہ کی۔ رؤف کلاسرا جیسے یہ لوگ قسمت کے شاکی ہیں۔ دہشتگردوں کو پہلے کبھی ایسا نشانہ نہ بنایا گیا، پاکستان و افغانستان میں جٹ آرمی چیف نے اپنی بات سچ ثابت کرکے 100 سے زیادہ مار دئیے، ٹانک کے دور دراز علاقے پنگ میں عصمت اللہ شاہین کاگروپ مارا مگر ہزار کارنامے کے باوجودآرمی چیف یہ نہیں کہہ سکتے ’’میں بھکری ہوں‘‘ سرائیکی جفاکش ،وفا شعاراور ملنسارلوگ ہیں، مولانا شیرانی کا فوج سے متعلق 9/11 سے پہلے بیان تفصیل سے شائع کیا تووہ قدرے ناراض ہوئے۔ ریاست،قوم اور وطن کو مشکلات سے نکالنے کی ضرورت ہے ۔مولانا شیرانی اسلام اور نوکری کاحق اد کریں ۔اجمل ملک

آرمی چیف و جوائنٹ چیف کا کمال. نادر شاہ

ہم نے متعددبار شاہراہ فیصل کو وسیع کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ عوامی امنگوں کے مطابق پاک فوج کی قیادت نے شاہراہ فیصل کے فٹ پاتھ کو روڈ میں شامل کرنے کا کام شروع کرادیا ہے۔ عوام کو بہت تکلیف تھی اور پاک فوج کی قیادت کے اس اقدام سے عوام کے دلوں میں پاک فوج کی عزت ، محبت اور وقار میں بہت اضافہ ہوگا۔ اگر فی الفور پی ایف کے برج کی توسیع کرکے دونوں طرف سے اس پر یوٹرن کا راستہ بنایا جائے اور ڈرگ روڈ کو سگنل فری کیا جائے تو ٹریفک کی روانی میں بہت تیزی آئیگی۔ ڈرگ روڈ کی ریلوے لائن کے جمپ کوختم کیا جائے تو بھی ٹریفک کی روانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا،بلوچ کالونی کا پل بھی گرانے کے بجائے وسیع کرکے شارع فیصل پر یو ٹرن بن سکتاہے۔ PAF اور نیوی کیلئے عالمی سطح کے نقشے تیار کرکے کاروباری مراکز اور رہائشگاہوں کا اہتمام کیا جائے تو کراچی کا حسن دوبالا ہوگا اور پاک فوج کیلئے معقول کمائی کاا چھا ذریعہ ہوگا۔ ملک ریاض فرد واحد ہے اور بحریہ ٹاؤن کراچی کے وسیع رقبہ پر دوبئی طرز کی تعمیر ملک کی خدمت ہے۔ بحریہ ٹاؤن سے ایک نیا شہر آباد ہوا ہے لیکن کراچی کے خاص گارڈ گفٹ سمندری آب و ہوا سے وہ محروم ہے۔ آس پاس کے تمام روڈ وسیع و عریض ہونگے تو اس جگہ کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، فی الوقت فٹ پاتھ کی توسیع بھی روز مشکلات سہنے والی عوام کیلئے بڑی خدمت ہے، اللہ جزائے خیر دے۔ نادر شاہ

چوتھی نسل کا جواب مودی کی طرف سے تحفہ ہے. حنیف عباسی

رحمن ملک کو اللہ کی شان تھی کہ سورۂ اخلاص پڑھنا بھی نہ آیاپھر کس طرح مانا جائے کہ رحمن ملک پر وحی یا الہام ہوا؟،22سال پہلے رحمن ملک نے کہا کہ ’’ لندن کے فلیٹ شریف خاندان کے ہیں‘‘۔نواز شریف کے زیر کفالت تین افراددرج تھے کلثوم نواز ، مریم نواز ، نواز شریف۔جسکا جواب نہیں ملا ، تیسرا صفدر عباسی تھا؟۔اندراج وزیر اعظم نے کیا جواب عمران دے؟۔ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں کہا کہ 2005ء کو سعودیہ کی وسیع اراضی والی مِل بیچ دی اور اس سے حاصل ہونے والے خطیر رقم سے 2006ء میں لندن فلیٹ خرید لئے۔ انکے ثبوت اللہ کے فضل سے موجود ہیں، بات نکلی ہے تو دوددھ کا دودھ پانی۔۔۔ ‘‘ اگر جمہوری روح ہوتی تو خواجہ آصف نے نوازشریف کوسنانا تھاکہ کوئی شرم حیاء۔۔۔
قطری خط میں لکھاگیا کہ وزیراعظم بڑے بھولے بھالے ہیں، ڈھڑلے سے جھوٹ بولنے پر جھجک ہونی چاہیے۔ مجھے یہ آگاہ کیا گیا ہے کہ ’’ میاں شریف نے ہمیں 12ملین درہم دئیے، اس رقم کو ہم نے واپس کیا تو حسین نواز نے اس سے لندن کے فلیٹ خریدے‘‘، یہ نوازشریف کے تین نسل کا حساب ہے اور اگر چوتھی نسل مریم نواز کی بیٹی کے جہیز کا معاملہ اٹھا اور غلط بیانی سے کام کی ضروت پڑی تو بھارت سے وزیراعظم مودی کا خط آسکتاہے کہ میں نے تحائف دئیے یا پردادا کی رقم انویسٹ تھی۔ بڑی جائیداد بناکر ن لیگ قوم کی خدمت کررہی ہے یا لوٹ مار کا بازار گرم کیاہواہے؟ ۔ حنیف عباسی

جماعت اسلامی ہماری دم چھلہ ہے. خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کہا کہ ’’قیامِ پاکستان سے جماعتِ اسلامی غلط سائیڈ پر کھڑی رہی،پتہ نہیں چلتا کہ اسکے قبلے کا رُخ کہاں ہے؟۔ سراج الحق مجھ سے باربار پوچھتارہا کہ فوج آپ کیساتھ ہے؟۔ مرکز میں ہماری اپوزیشن کرتی ہے اور کشمیر میں ہماری دُم چھلہ ہے‘‘۔ جنرل ضیاء کی مجلس شوریٰ میں خواجہ آصف کے والد چیئرمین اورجماعت اسلامی دُم چھلہ تھی۔ اسلامی ریفرینڈم، جنرل ضیاء کی وفات کے بعد برسی کے موقع پر اور اسلامی جمہوری اتحاد تاریخ کے ہر موڑ پر جماعت اسلامی دُم چھلہ رہی ہے تو طعنے سہنے پڑینگے۔ 24نیوز چینل پر سراج الحق نے خواجہ آصف کو بڑا کہہ کراپنے لئے اور خواجہ آصف کیلئے جھوٹا کہنا نامناسب قرار دیا اور کہا کہ ذہن پر زور ڈالامگر مجھے یاد نہیں آرہا کہ میں نے کب یہ بات کی اور یہ بھی کہا کہ میں جماعت کاذمہ دار ہوں مجھے جواب دینا مناسب نہیں۔ IJIمیں جماعتِ اسلامی استعمال ہوئی اور جنرل سیکرٹری پروفیسر ٖغفور نے حامد میرسے جیو پر کہاتھا کہ ان کو بعد میں پتہ چلا۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے سینئر مولانا سمیع الحق نے نوازشریف کو قیادت دی تو میڈم طاہرہ کے سکینڈل کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا نور محمد ؒ نے اسلامی نظام کیلئے کئی سال جیل کاٹی، نوازشریف کی عزت افزائی سے وہ فلموں کے سنسر بورڈ کے وزیربن گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے پتّے کو منصوبہ بندی سے ہی اتفاق ہسپتال میں نکالا گیاہے ۔ آج شیخ رشید نے طعنہ دیا ، کل خواجہ آصف کاطعنہ سہنا پڑیگا۔ فیروز چھیپا

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عبد القدوس بلوچ (تیز و تند) کا بیان

نوشتۂ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہا کہ ’’حکمران کے قول وعمل میں تضاد ہے، وزیرستان کے طالبان نے رات کی تاریکی میں حملہ کیااور13افرادکو شہیدکردیا ۔اپنے ہلاک شدگان کو ساتھ لیجاکر رات کی تاریکی میں دفن کردیا ۔ اسکے مقابلہ میں ماڈل ٹاؤن لاہور کا واقعہ زیادہ واضح تھا، پولیس نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے 14افراد کو شہید کردیا۔ لاہور کے واقعہ میں رانا ثناء اللہ ، شہباز شریف کو نوازشریف اور چوہدری نثار نے ذمہ دار قرار نہ دیا۔طالبان امیر بیت اللہ اوردیگر رہنماؤں نے قاری حسین اور حکیم اللہ کو ذمہ دار قرار دیاتھا۔ جنہوں نے قصاص کیلئے خود کو پیش کرنے کیساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا کہ تم بھی قصاص کیلئے تیار ہوجاؤ، اسلئے کہ تمہارے کہنے سے ہم نے بہت بے گناہوں کا خون کیا۔ اپنے گاؤں کے شریف انسان ملک خاندان کو انکے گھر والوں سمیت تمہارے حکم پر شہید کردیا، انکے قصاص کیلئے تم بھی تیار ہو؟۔ جس پر طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔ طالبان چاہتے تو انکار بھی کرسکتے تھے اور اس وقت حکومت کا بھی ان پر کوئی دباؤ نہ تھا۔ اگر مسلم لیگ ن ان طالبان کی تعریف نہ کرے جنہوں نے قربانی دی تو کیا اپنی تعریف کریگی ؟ جو لوٹ کر قوم کا سارا مال کھا گئے اور ڈکار بھی نہیں لے رہے ؟۔ قومی ایکشن پلان پر جن طالبان کیخلاف عمل ہوا، انکے سہولت کار سیاستدان و حکمران ان سے کئی درجے بدتر ہیں، جو قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ذمہ دار تھے، اچھا ہوا کہ جنرل راحیل وقت پر چلے گئے ورنہ انکی مخلصانہ سرگرمی شکوک کا شکار بن جاتی۔ ٹھنڈے مزاج جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں عدلیہ نے انصاف سے وزیراعظم کا فیصلہ کیاتو عاصمہ جہانگیر یہ نہ کہیں گی کہ ’’ عدلیہ اور فوج دو خدا مل گئے ‘‘ اب تو پنجاب کے پنج تن پاک کی پاکدامنی کا دامن بھی پاک نہ رہاہے۔ راجہ رنجیت سنگھ نے بھی ایسی کرپشن نہ کی ہوگی۔ الفاظ کا احترام عمل سے مشروط ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور انکی جماعت کے رہنما ہزاربار کہیں کہ ’’ محترم قاتل صاحب!، محترم ڈاکو صاحب!، محترم کرپٹ صاحب‘‘۔یہ الفاظ کی پاکیزگی کاثبوت نہیں ۔ طالبان نے اپنی قوم کو تباہ کیا اور موقع ضائع کیا ورنہ ان سے توبہتر ہوتے۔خرم نواز گنڈہ پور نے کہا کہ’’ طالبان میں فرشتہ صفت انسان بھی ہیں اور شیطان بھی‘‘۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا: پولیس ایکٹ1821 ؁ء کے اختیار ات سے 21ویں صدی کے انصاف کی توقع غلط ہے جبکہ سندھ پولیس کے قاتل اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔خرم نواز گنڈہ پور کی بات بھی درست تھی کہ طالبان میں ہرقسم کے لوگ ہیں، آئی جی سندھ خواجہ کی بات بھی درست ہے کہ پولیس کے اندر اصلاحات کئے بغیر معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی اور جب پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد نہ ہو تو بات نہیں بنے گی۔ خیبر پختونخواہ کی پولیس کو آزاد سمجھا جائے تو اس کی وجہ صوبائی حکومت کا کمال بھی ہوسکتاہے مگروہاں پاک فوج کی وجہ سے سیاسی عمل دخل بھی نہیں ہوسکتا۔اے ڈی خواجہ کے کمالات بھی کراچی میں رینجرز اور سندھ حکومت پر پاک فوج کے دباؤ کانتیجہ ہے۔ عدلیہ نے بھی ان کو بحال کرنے میں اپنا زبردست کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ ریاستی اداروں کے افراد کو عوام کے مقابلے میں جرائم پر بڑی سزا دی جائے تو اسکے اچھے نتائج نکلیں گے اور پاکستان کی ریاست اتنی مستحکم ہوگی کہ دنیا میں کوئی ملک اس کا مقابلہ نہ کرسکے گا۔
پنجاب پاکستان کیلئے ایک بہت بڑ اثاثہ ہے۔ پاک فوج کی وہاں باقی صوبوں کے مقابلے میں شاید کوئی گنجائش بھی نہیں نکلتی ہے کہ اپنا کوئی کردار ادا کرسکے۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف اپوزیشن یا حکومت میں ہوں ، پاک فوج کی اعلیٰ قیادتوں سے راز ونیاز کا معاملہ رہتاہے۔ پنجاب پولیس نے اتنا بڑا سانحۂ ماڈل ٹاؤن رونما کردیا لیکن قربانی کا بکرا گلو بٹ بن گیا۔ گاڑیوں کے شیشے توڑنے والا مجرم مگر انسانی جانوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکے۔ پنجاب پولیس کو ایسا استعمال کیا گیا جیسے لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے سپریم کورٹ پر ہلا بول دیا تھا۔اگر یہی حال رہا تو طالبان اور ایم کیوایم کے علاوہ دوسری شکلوں میں بھی ریاست کے خلاف کھڑی ہونے والی قوتیں پیدا ہوں گی۔
بلوچستان ، پختونخواہ اور کراچی کے آسودہ حال لوگ پنجاب اور اندورن سندھ کے بدحال لوگوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے حالات کو بدلنے کیلئے پنجاب اور اندرون سندھ میں بہت محنت کی ضرورت ہے۔ جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے سارے گڑھ پنجاب میں ہیں لیکن وہ بڑے سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔ بلوچ اور پٹھان پہاڑوں اور صحراؤں کی وجہ سے سخت طبیعت اور مزاج کے مالک ہوتے ہیں۔بلوچ کی تاریخ انتقامی کاروائی میں سنگدلی کی رہی ۔جبکہ ایم کیوایم کی تشکیل نے کراچی کے شریف مہاجر کو بھی سفاک بنادیا۔ فوج، عدلیہ اور پولیس ہمارے لئے اس وقت بہتر ہیں جب ہم اپناکردار درست کرلیں۔ اسلام نے مشرکینِ مکہ جیسے جاہل اور مدینہ کے منافقین کی سرشست کو بدلنے میں عظیم الشان کامیابی کا مظاہرہ کیا۔ رئیس المنافین عبداللہ بن ابی کے بیٹے سچے صحابی تھے، ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ نے دل وجان سے اسلام قبول کرکے اپنا سابقہ اسلام دشمنی کاحساب چکا دیاتھا ۔
بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور اداروں کے کردار کو درست نہج پر نہیں لایا جاسکا اور انگریز سے آزادی کے بعد عروج حاصل کرنے کے بجائے مزید تنزلی کا شکار ہوگئے مگر مایوسی کفر ہے۔ ہم نے اس کلچر کو بدلنا ہوگا کہ زور وزبردستی، جبرو تشدد اور ظلم وتعدی سے بڑا انقلاب آسکتاہے۔ اس کلچر کو بھی بدلنا ہوگا کہ کرپشن کے ذریعہ پیسے کماکر لیڈرشپ قوم کو دی جائے۔ سیاسی اشرافیہ قوم کے سامنے بے نقاب ہے ، اس قوم کو دھوکے میں رکھنا ممکن نہیں ۔ سیاسی جماعتوں نے مغلیہ دور کی خاندانی امارت قائم کررکھی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت راجہ رنجیت سنگھ سے بھی بدتر ہے اور پیپلزپارٹی راجہ داہر سے بدتر کردار ادا کررہی ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سارے اثاثے آل اولاد سمیت باہر ہیں اور یہ یہاں برٹش امپائر کی طرح عوام کو غلام کی طرح استعمال کرنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کررہے ہیں۔
طالبان، بلوچ قوم پرست ،ایم کیوایم کی طرح ریاست پنجاب کے ارباب اقتدار کا بھی محاسبہ کرے، ورنہ اس دفعہ شدت پسندی کی لہر غریبوں کے ہاں سے اٹھے گی اور پھریہ بھول جاؤ کہ ریاست اس پر قابو پاسکے گی،سب کچھ بہالے جائے گی۔ نوازشریف کا پہلوان بیٹا حسین نواز عوام کے بچوں کیساتھ پڑھتا تو اس کی صلاحیتوں کو قوم دیکھ لیتی۔ جنرل راحیل شریف نے جس ٹرسٹ کا اعلان کیا ہے، اس سے ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان کے سنگم پر ایک تعلیمی اکیڈمی بنائیں تو شہداء کے بچوں کا مستقبل بہتر ہوسکتاہے۔ ہم نے گومل میں کبیر پبلک اکیڈمی بنائی تھی تو اس میں امیروں کے پہلوان بچوں کے مقابلے میں غریبوں کے بچے زیادہ باصلاحیت تھے۔ قوم اس وقت ترقی کرسکتی ہے جب غریبوں کو تعلیم کے یکساں مواقع ملیں۔ قابلیت والے جدید تعلیم سے آراستہ ہوں اور صلاحیت سے عاری اپنی اوقات میں رہیں تو قوم عروج کی منزل دیکھے گی۔نوازشریف کے بیٹے جتنے بڑے کاروباری خودکو کہہ رہے تھے ، قطری شہزادے کے خطوط نے ان کی مٹی پلید کرکے رکھ دی۔مجیب الرحمن شامی اپنا تأثر قوم کو بتائیں کہ حسین نواز میں ماشاء اللہ کتنی صلاحیت تھی؟۔ یہ لیاری میں گدھا گاڑی چلاتا تو اس کا دماغ بھی تیز ہوجاتا اور صحت بھی بورے اٹھانے سے تندرست رہتی۔ قوم کاچوری پیسہ کھانے پر عزت خراب ہوگئی وہ بھی بچ جاتی۔سعد رفیق کو اپنا رزق حلال کرنے کیلئے غصہ نہ کھانا پڑتاتھا۔عدلیہ ن لیگ کی کارکن تو نہیں بن سکتی ہے۔ جج بیمار ہوسکتے ہیں ، فیصلے میں تاخیری حربے استعمال کرسکتے ہیں ۔ رحمن ملک جب ایف آئی اے کے ملازم تھے تو سپریم کورٹ کے حکم سے تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنایا تھا ، اگر معزز جج صاحب عمران خان کے وکیل پر ہنسیں گے کہ وہی رحمن ملک جو وزیر تھے تو اس سے جج کی عزت میں یقیناًکوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ کوئی بھی سرکاری افسر یا ملازم فارغ ہو تو دوسال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سیاسی کردار کو سرکاری ملازم رکھا جائے۔ ججوں کی تقرری سوالیہ نشان ہے، زرداری کے دور میں افتخار چوہدری نے جو جج لئے تھے وہ سب ن لیگ کے قریب سمجھے جاتے تھے اور چیف جسٹس ثاقب نثار کا معاملہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں، خواجہ آصف نے جان بوجھ کر سابقہ کردار پر میڈیا میں تبصرے پر شرم نہیں کی ۔ قدوس بلوچ