پوسٹ تلاش کریں

قرآن و سنت کے مطابق طلاق کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ طلاق ایک اہم ترین معاشرتی معاملہ ہے

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ طلاق والی خواتین عدت کے تین مراحل تک اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں، اور ان کیلئے حلال نہیں کہ جو اللہ نے انکے رحموں میں پیدا کیا ہے کہ اس کو چھپائیں۔اور انکے شوہر اس مدت میں اصلاح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں‘‘۔(سورۂ بقرہ آیت: 228)۔ ایک بہت بڑا مغالطہ یہ ہے کہ شوہر کو آیت میں غیرمشروط رجوع کا حق دیا گیاہے ، حالانکہ ایسا نہیں ۔ شوہر کیلئے طلاق کا حق اور شوہر کیلئے رجوع کی گنجائش میں بہت نمایاں فرق ہے۔ عورت کا حق سلب کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔اگر شوہر کو رجوع کی گنجائش دینے کے بجائے غیرمشروط رجوع کا حق دیا جائے تو یہ عورتوں کا حق سلب کرناہے۔ میاں بیوی دونوں طلاق کے بعد آپس میں صلح و اصلاح پر رضامند ہوں تو یہ رجوع کی گنجائش ہے ، یکطرفہ ہو تو پھر شوہر کاحق ہے۔ وان خفتم شقاق بیھما فابعثوا حکمامن اہلہ وحکما من اہلہاوان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بیھما ’’ اگر تمہیں انکے درمیاں جدائی کا خوف ہو تو ایک حکم شوہر کے خاندان سے اورایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو، اگر وہ دونوں صلح چاہتے ہوں تو اللہ دونوں میں موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ دونوں کی چاہت نہ ہو توساتھ رہنے پر دنیا کی کوئی طاقت مجبور نہیں کرسکتی اور دونوں کی چاہت ہو تو انکے درمیان میں کوئی طاقت رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔ یہ معاشرتی مسئلہ ہے اور قرآن نے اس کو معاشرتی بنیادوں پر حل کرنے کا پورا نصاب بتایاہے اور احادیث صحیحہ مزید وضاحتوں سے بھرپور ہیں۔ سورہ بقرۂ آیت: 224 سے 232تک اور سورۂ طلاق کی پہلی دوآیات میں مسئلہ طلاق کے تمام معاشرتی پہلوؤں کی بھر پور نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ فقہاء نے اپنی منطقوں میں الجھ کر ہزاروں مسائل اور اختلافات گھڑنے کی عجیب وغریب صورتیں ایجاد کرلی ہیں۔ ہم نے بہت ہلکے پھلکے انداز میں ان حضرات کومسائل کے دلدل سے نکالنے کی کوشش کی ہے اور جب تک حلالہ کی لعنت کے نام اپنی مذموم حرکتوں سے یہ باز نہیں آئیں گے اور ہم زندہ رہیں تو سخت لہجے میں بھی حقائق کھول کر ضربِ حق لگانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انشاء اللہ العزیز الرحمن الرحیم المٰلک القدوس السلام الجبارالمتکبر الخاق الوہاب الرزاق الفتاح الودود
رجعت بالفعل کی جو صورتیں لکھ دی ہیں اگر ہم بتاتے تو شکایت ہوتی اسلئے کتاب سے ’’ فوٹو اسٹیٹ ‘‘ کرکے علماء ومفتیان اور عوام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔جن خواتین کی عزتیں حلالہ کے نام پر برباد کردی جاتی ہیں ، ان لوگوں کا دکھ، درد ، تکلیف اور بے عزتی کے احساس نے ہمیں مجبور کردیاہے کہ کھل کر اور بہت ہی کھول کرمعاشرے سے اس برائی کو ختم کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔

اگر کسی مفتی کی صاحبزادی اور داماد کو ڈرامہ میں پیش کرکے رجعت بالفعل کی صورتیں ٹی وی پر سمجھانا شروع کی جائیں تو مفتی صاحبان مجبور ہوکر عوام کی جان حلالہ سے چھڑانے پر راضی ہونگے۔ شہوت کی شرط پر مباشرت،دخول بالدبر، فرج کو اندر سے شہوت کیساتھ دیکھ لینا جب وہ تکیہ لگاکر بیٹھی ہو۔اور نیند میں بھی رجوع معتبر ہے۔ عورت بھی شہوت سے ہاتھ لگاکر رجوع کا حربہ استعمال کرسکتی ہے مگر اس کیلئے شرط یہ ہے کہ مرد یہ اقرار کرے کہ عورت میں شہوت تھی۔ عجب حماقت ہے کہ عورت کی شہوت ہوتو اسکا اقرار مرد کرے۔ جب ڈرامہ میں رجعت بالفعل کے انواع واقسام کی صورتیں سامنے آئیں گی تو علماء خود چیخ اٹھیں گے کہ ’’ قرآن کا معروف رجوع ٹھیک ہے۔ یہ بکواس کوئی دین و فقہ نہیں ہے، ہم کبھی حلالہ کی لعنت کا فتویٰ نہیں دینگے مگر ہمیں شرمندہ کرکے ہماری پولیں نہ کھولیں! ‘‘۔

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains-1

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains-2

mufti-abdul-jalil-qasmi-masail-e-talaq-talaq-se-ruju-ki-sharamnak-surtains-3

مفتی شفیع کے نالائق نواسے کا حاملہ عورت کو تین طلاق پر حلالے کا فتویٰ

darul-uloom-karachi-korangi-hamla-aurat-ko-talaq-per-halala-ka-fatwa

جامعہ دار العلوم کراچی کورنگی سے مفتی محمد شفیعٌ کے نالائق نواسے حسان سکھروی نے پھر حاملہ عورت کو تین طلاق پر حلالے کا فتویٰ دیا

دور جاہلیت کے حلالہ سے قرآ و سنت میں چھٹکارے کا پہلا طرز عمل

درسِ نظامی اصول فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں واضح ہے کہ ’’ جس طلاق میں حلال نہ ہونے کا ذکر ہے وہ اپنے ماقبل فدیہ دینے کی صورت سے حنفی مسلک کے نزدیک خاص ہے ‘‘۔

علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میں ابن عباسؓ کایہ قول نقل کیا ہے کہ ’’طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کی صورت دومرتبہ طلاق اور فدیہ سے خاص ہے‘‘۔

جاہلیت کا ایک غلط رواج ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ اور عدت کے اندر تاحیات باربار رجوع کی گنجائش تھی ۔ اس پر تفصیل کیساتھ اللہ نے سمجھایاہے کہ رجوع باہمی صلح سے مشروط ہے۔

اللہ نے تین طلاق کو الفاظ کے بجائے عدت کے تین ادوار میں طہرو حیض کیساتھ خاص کیا۔ رجوع کیلئے عدت رکھی اور حلالہ کی خاص صورت واضح کی

طلاق معاشرتی مسئلہ تھا اور قرآن نے معاشرتی انداز میں اسے حل کیا ہے۔ ایک طرف عورت کو طلاق کی صورت میں بھی اپنی مرضی سے شادی نہ کرنے دیجاتی تھی تو دوسری طرف رجوع کیلئے باہمی رضا مندی کے باوجود ان کورجوع نہیں کرنے دیا جاتا تھا اور حلالہ پر مجبور کیا جاتا تھا۔ سورہ بقرہ کی آیات میں بہت واضح انداز میں بھرپور وضاحتیں ہیں۔ پہلی وضاحت یہ کہ طلاق سے رجوع کا تعلق باہمی صلح اور رضامندی سے ہے۔ دوسری وضاحت یہ ہے کہ عورت پرعدت تک انتظار لازم ہے اورحمل کی عدت بچے کی پیدائش اور حیض کی عدت طہرو حیض کے تین ادوار ہیں۔ طہرو حیض کے تین ادوار کے دروان شوہر صلح کی شرط پررجوع کا زیادہ حقدار ہے ۔ سوال پیدا ہوگا کہ زیادہ حقدار کیوں کہا؟۔ جس کا جواب یہ ہے کہ خلع کی صورت میں نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’عورت ایک حیض کے بعد شادی کرسکتی ہے‘‘۔ شوہر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو عورت تین حیض نہیں ایک حیض کے بعد شادی کرسکتی ہے، جب شوہر غلام ہو تو حدیث میں آتاہے کہ شوہر کی طلاقیں دو اور بیوی لونڈی ہو تو اس کی عدت دو حیض ہے۔ عورت 3حیض سے عدت پوری کرے اور شوہر طہرمیں پرہیز سے3 مرتبہ طلاق دے۔یہ قرآن و سنت میں بالکل واضح ہے۔ کوئی آیت، حدیث ، صحابہؓ اور اماموں کاایسا قول نہیں کہ تین طلاق پرعدت تک انتظارکے بعد حلالہ کرنے کا حکم ہو۔ قرآن میں 2مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی گئی کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں۔ جب دونوں اور فیصلہ کرنیوالے با ہوش و حواس فیصلہ کریں تو پھر وہ چیز فدیہ کرنے میں حرج نہیں اور یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوزکرنیوالے ظالم ہیں۔ پھر طلاق دی جائے توعورت کیلئے دوسری جگہ مستقل شادی کا حکم ہے ، شوہر کیلئے رکاوٹ ڈالنا حلال نہیں ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اسکے بعد سورہ بقرہ کی آیت نمبر 231اور 232میں تسلسل کیساتھ پھر وضاحت فرمائی ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف طریقے سے جب دونوں باہمی رضامندی سے صلح کرنا چاہتے ہوں تو رجوع کرسکتے ہیں۔
قرآن میں باہمی رضامندی کی صلح کو ہی معروف طریقے کی رجوع قرار دیا گیا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اسکے بالکل برعکس منکر طریقے سے رجوع کو انتہائی بیوقوفی سے اُمت مسلمہ میں رائج کرنے کی بڑی بدعت ڈالی گئی ہے۔ حنفی مسلک کے کتب میں رجوع کیلئے نیت شرط نہیں، اگر شوہر رجوع نہیں کرنا چاہتا ہو مگر بے دھیانی میں شہوت کی نظر بیوی پر پڑ گئی تو رجوع ہوگا۔ اس سے بڑی بات یہ کہ نیند کی حالت میں بھی شوہر کا ہاتھ لگ جائے تو رجوع ہوگا۔ اس سے بڑی بات یہ کہ نیند میں ہاتھ لگنے کی صورت میں بیوی کی شہوت بھی معتبر ہوگی۔ فقہی کتابیں عجائبات سے بھری ہیں

دور جاہلیت کے حلالہ سے قرآ و سنت میں چھٹکارے کا دوسرا طرز عمل

سورۂ طلاق کی میں عدت کے اندر ہی رجوع کی تفصیل بتادی اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع اور ہمیشہ رجوع کا دروازہ کھلا رہنا واضح کردیا

ابوداؤد کی روایت میں مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی اُم رکانہؓ سے ابورکانہؓ کو سورۂ طلاق کا حوالہ دیکر حلالہ کے بغیر رجوع کرنیکا نبیﷺ نے حکم فرمادیا

عدت کی وضاحت کیساتھ باہمی صلح سے بار بار قرآن کی اجازت سے خود کو زبردستی سے اندھا کرنیوالے قیامت کو نابینا بن کر اٹھ سکتے ہیں العیاذ باللہ

اللہ نے فرمایا کہ ’’جو یہاں اندھا تھا وہ قیامت میں بھی اندھا رہے گا‘‘ ،خودکو اندھا بنانیوالا کہے گا کہ ’’ مجھے کیا ہوا کہ دیکھ نہیں رہا اور میں تو دیکھتا تھا‘‘۔

جب اللہ نے سورۂ بقرہ کی آیات میں بہت تفصیل سے واضح کردیا کہ تین طلاق کا تعلق طہرو حیض کی عدت میں تین مراحل سے ہے۔ ان مراحل میں صلح سے رجوع کا دروازہ بالکل کھلاہے۔ معروف طریقے سے رجوع کا مطلب بھی باہمی صلح ہے اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حلالہ کے تعلق کو عدت کے دوران دومراحل میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے تیسری مرتبہ رجوع کرنے کے بجائے طلاق کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی حدتک بھی محدود نہ کیا بلکہ مزید وضاحت بھی کردی کہ دونوں اور معاشرے نے باہوش و حواس یہ فیصلہ کردیا تو فدیہ دینے میں حرج نہیں اور ان حدود سے تجاوز کرنا جائز نہیں، اسی صورت طلاق دینے کے بعد شوہر کیلئے یہ اجازت نہیں کہ عورت کا نکاح کسی اور سے کرانے میں رکاوٹ ڈالے۔ اس کو اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے دیا جائے۔ سورہ بقرہ کی آیت 230سے پہلے اور بعد میں خوب وضاحت ہے کہ عدت سے پہلے اور عدت کے بعد باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے۔ 228،229اور231،232 کی آیات میں واضح ہیں۔ صاحبِ ہدایہ ، فتاویٰ شامیہ ، قاضی خان ودیگر فقہاء نے جس طرح سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا جواز لکھا تھا اور100فیصد غلط تھا، اسی طرح حلالہ کیلئے بھی تمام حیلے بہانوں کے حوالے قرآن وسنت اور شریعت و عقل کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ علماء وفقہاء نے حیلوں سے عوام کی عزتوں کو حلالہ کے نام پر تار تار کرناہے۔ خاندانوں کو تباہ وبرباد کرنا ہے۔ اسلئے سورۂ طلاق میں مزید وضاحت سے بتادیا کہ طلاق کا تعلق عدت کے مراحل سے ہے۔ تکمیل عدت پر رجوع کرو اور طلاق کا حتمی فیصلہ کرنے کی صورت میں دوعادل گواہ مقرر کرو۔ جو اللہ سے ڈرا، اللہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنادیگا۔ سورۂ طلاق بھرپور وضاحت کرتاہے مگر حلالہ والوں کو نشہ لگ گیاہے۔
حلالے کی لعنت نے فقہی کتابیں لکھنے والوں کے دماغ کو اتنا خراب کردیا ہے کہ قرآن کے روشن دلائل ان کے حلق سے نہیں اترتے۔ لیکن غیر فطری طلاقوں کے عجیب و غریب قسم کے مسائل پر ان کو یہی یقین ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سب کا سب درست ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
قرآن میں وضاحت ہے کہ شوہر کا بیوی پر عدت کا حق ہے اور بیوی کو عدت میں انتظار کا حکم ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ انسان کی فطرت بھی اس کو قبول کرتی ہے لیکن یہ فقہاء اور محدثین کا کمال ہے کہ کسی ضعیف روایت پر عجیب و غریب خلاء تک بلڈنگ تعمیر کرلی۔ ایک عورت کو شوہر ایک طلاق دیتا ہے اور دو اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے۔ پھر دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں سے ہزار اور ہزار سے زیادہ شادیوں تک نکاح کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو سب کی دو ، دو طلاقوں کی ملکیت عورت پر باقی ہونگی۔

کیا طلاق واقع ہونے کے بعد غیر محرم شوہر حلالہ کرسکا ہے، اُم معظم

kia-talaq-hone-k-baad-gair-mehram-shoher-halalah-kr-sakta-hai

اوکاڑہ : میں آپ کے بیانات کچھ عرصہ سے پڑھ رہی ہوں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں آپ نے جو حلالہ اور طلاق کے نقطہ کو واضح کیا ہے اس سے بہت سے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کام میں اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین
میرا سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہونے کے بعد حلالہ شوہر سے کرنے کی اجازت ہے ؟ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے بیان میں ایک واضح الفاظ میں کہا کہ طلاق واقع ہونے کے بعد شوہر نا محرم ہے تو حلالہ شوہر سے کرنے کی اجازت ہے۔ آپ اس بارے میں بتائیں کہ کیا ایسا کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ بات قرآن و حدیث کی روشنی سے ثابت ہے؟۔ اُم معظم اوکاڑہ پنجاب
جواب : قرآن میں جہاں شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے وہاں تو مروجہ حلالے کا کوئی تصور نہیں۔ میاں بیوی اور معاشرے میں موجود افراد کی طرف سے باہوش و حواس عدت کے مراحل میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری دفعہ علیحدگی کا فیصلہ ہو اور سب کا اتفاق ہو کہ آئندہ دونوں کے ملنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے جس سے اللہ کے حدود پامال ہوں اور سب اتفاق سے فیصلہ کریں کہ آئندہ خاتون کی سابقہ شوہر سے کوئی تعلق نہ جڑے تو پھر ایسی صورت پر ہی طلاق کے بعد شوہر کو حلال نہ ہونے کا اسلئے کہا گیا ہے تاکہ سابقہ شوہر اس عورت کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔ تفصیل صفحہ نمبر 6پر دیکھئے

طلاق کو علمائ نے اس قدر مشکل بنادیا کہ رجوع کی گنجائش بھی ختم کردی، ڈاکٹر ہما بقائی

dr-huma-baqai-teen-talaq-halala-ashraf-ali-thanvi-ahmad-raza-khan-barelvi-syed-atiq-ur-rehman-gailani

کراچی (ڈاکٹر احمد جمال)معروف اسکالر ڈاکٹر ہما بقائی صاحبہ نے کہا

: طلاق کے مسئلہ پر بالخصوص سنی مسالک میں جس طرح عمل کیا جارہا ہے اسے زحمت بنادیا گیا ہے۔ اسلام ایسا مذہب ہے کہ آسانی پیدا کرتا ہے۔ طلاق نا پسندیدہ ضرور ہے لیکن اس کی اجازت دی ہے اور معافی کا راستہ بھی ہے۔ اسے کچھ علماء نے اس قدر مشکل بنادیا ہے کہ رجوع کی گنجائش بھی ختم کردی ہے جبکہ اسلام میں بغیر حلالہ کے رجوع کی گنجائش موجود ہے۔ بہت ساری خواتین سے جب میں نے یہ بات کی جو اس مشکل مرحلہ سے گزر رہی ہیں

انہوں نے یہ بات آشکار کی کہ جس مولوی سے فتویٰ لینے جاؤ وہ اپنے آپ کو حلالے کیلئے پیش کردیتا ہے۔

اس معاملے میں تحقیق کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکے اور مردوں کو اور عورتوں کو نا کردہ جرم کی اتنی بڑی سزا ملے۔ معافی تو اللہ بھی دیتا ہے بڑے بڑے گناہ کرنے کے بعد اگر اللہ کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ بھی گناہ معاف فرمادیتا ہے۔
یہ اچھا ہے کہ آپ کا ادارہ اس حوالے سے تحقیق کر رہا ہے اور آگاہی کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی صاحب کافی عرصہ سے اس حوالے سے تحقیق کررہے ہیں اور اس کے نتیجے میں یہ کتابچہ (تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل) سامنے آیا ہے اور اچھا ہو کہ مزید تحقیق ہو۔

پنچایت کا 17 سالہ لڑکی کے ریپ کے فیصلے سے بدتر حلالہ کے فتوے ہیں. عتیق گیلانی

-mufti-taqi-molana-fazal-ur-rehman-maulana-maududi-Multan-on-panchayat's-orders-syed-atiq-ur-rehman-gailani

درجہ بالا تصویر میں مظفر گڑہ کا واقعہ ہے، 17سالہ لڑکی سے پنچایت نے بطور بدلہ ریپ کا فیصلہ کیا، چیچہ وطنی میں بھی 14سالہ لڑکی کا نکاح اس شخص سے بدلے میں کروایا جس کی بیوی سے زیادتی کی گئی۔ بادی النظر میں پنچایت کے فیصلے کا انسانیت کی توہین ہونا روزِ روشن کی طرح واضح ہے مگر اس کی وجوہات تک پہنچنا بھی ضروری ہے کہ آخر انسانیت کی روپ میں اتنا بڑا ظلم پنچایت کے فیصلے میں کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان کے جرم کی سزا دوسری بے گناہ خاتون کو دی جائے؟۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمن کو میڈیا میں چیلنج دیتا ہوں کہ قرآن و سنت ،درسِ نظامی اور فقہ حنفی کی واضح تعلیمات کے مطابق ایک ساتھ تین طلاق کے باوجود باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے حلالہ کی نہیں لیکن پھر بھی حلالہ کا ناجائز فتویٰ دیا جاتاہے۔ جو معاشرہ قرآن اور سنت کا پابند ہو ، پاکستان کے آئین میں بھی اس کی وضاحت ہو اور قرآن وسنت میں بار بار باہمی رضامندی سے رجوع کا حکم دیا گیا ہو مگر قرآن وسنت واضح ہوجانے کے بعد بھی کوئی ہٹ دھرمی پر قائم ہو اور جاہل لوگوں کو حلالے کا فتویٰ دے تو اس کا کیا علاج ہونا چاہیے؟۔ برما کے مظالم پر آواز اٹھانے والے یہ نہیں جانتے کہ دارالعلوم کراچی سے عزت کی تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں رک رہاہے؟۔ مولانا فضل الرحمن قرآن اور سنت کے علاوہ عزتوں کو تحفظ دینے میں اپنا کردار ادا کرے، چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب اور جسٹس آصف سعید کھوسہ حلالے کے گھناؤنے فتوؤں کا نوٹس لیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آیاہے کہ’’ طلاق کا تعلق الفاظ نہیں پراسیس کیساتھ ہے‘‘۔ یہ دین، انسانیت اور سپریم کورٹ کی بھی توہین ہے۔

ترجمان اسلام میں سیٹھو سے رقم لیکر حلالہ کرنیوالے مولویوں کے نام شائع ہوئے. قاری گل رحمان

qari-gul-rahman-maulana-ghulam-ghaus-bakhsh-hazarvi-molana-diesel-jamiat-ulema-e-islam-tarjuman-e-islam
کراچی (عبد الکریم ، محمد منیر) قاری گل رحمان ، سابق ایم این اے متحدہ مجلس عمل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آپ کا رسالہ ’’تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل‘‘ اور اخبار نوشتۂ دیوار پڑھ کر دل صاف ہوتا ہے اور دماغ خوشگوار ہوتا ہے۔ میں کوئی عالم تو نہیں ہوں مگر علماء کی خدمت میں رہا ہوں۔ علماء بڑے لوگوں کیلئے اسپیڈ بریکر ہیں جسے چاہتے ہیں ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ علامہ غلام غوث ہزاروی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے اور کراچی کے بڑے بڑے مولویوں کے نام بتایا کرتے تھے کہ وہ بڑے سیٹھوں سے رقم وصول کرکے ان کی بیویوں سے خود حلالہ کرتے تھے۔
اور دو دو تین تین دن اپنے پاس رکھ کر اچھی خاصی رقم بٹورتے تھے۔ ہفت روزہ ’’ترجمان اسلام‘‘ کے پرانے رسالوں میں ان مولوی حضرات کے نام بھی انہوں نے شائع کئے ہیں جو کہ جمعیت علماء اسلام کا رسالہ ہے۔ حلالے کی رقم وصول کرنا مولویوں کا ایک زبرست ٹوٹکا ہے۔ شاہ صاحب اور آپ لوگ میدان میں آئے ہیں جس سے دل بہت خوش ہوتا ہے۔ آج کل کے مولوی مہینے کے مہینے تنخواہ لیتے ہیں ان کو پڑھنے پڑھانے سے کوئی غرض نہیں اور جو مولوی پڑھاتے ہیں وہ کسی حد تک علم سیکھنے سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ حلالہ پیسے والے لوگ اور پیسے والے مولویوں کا کھیل ہے۔ درمیانہ اور غریب طبقے کا آدمی حلالہ کرانے پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ آپ کے اخبار جو کہ ماہوار ہیں اسے ہفت روزہ ہونا چاہیے۔ جس میں زیادہ لمبی چوڑی تفصیلات لکھنے سے گریز کرتے ہوئے مختصر اور جامع طریقے سے بات سمجھانے کی کوشش ہو تو بہتر ہوگا۔ میں نے آپ کے اخبار اور رسالے کے ذریعے سے کافی گھروں کو طلاق کی صورت میں جدا ہونے سے بچایا ہے۔

طلاق سے رجوع کیسے ہوسکتاہے؟،مفتی صاحب!

mufti-taqi-ruju-fatwa-hazrat-umer-hazrat-ali-imam-abu-hanifa-halala-teen-talaq-triple-talaq-quran-syed-atiq-ur-rehman-gailani
اس بات کی وضاحت کردیتا ہوں کہ شوہر نے اگر اکٹھی تین طلاق دیں تو میرا یہی فتویٰ ہوگا کہ طلاق واقع ہوچکی اور شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہیں، اسکے برعکس فتویٰ دینا بالکل 100فیصدغلط ہوگا کہ شوہر رجوع کرسکتا ہے اسلئے کہ قرآن وسنت ، خلفاء راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، ائمہ مجتہدینؒ اورعلماءِ حق کا یہ متفقہ فیصلہ بھی ہے اور فتویٰ بھی ہے کہ شوہریکطرفہ رجوع کا حق کھودیتاہے۔
مگر کیا ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے؟۔ اگر قرآن وسنت اور خلفاء رشدینؓ، صحابہؓ و ائمہ مجتہدینؒ کی طرف سے کوئی ہلکا سااشارہ بھی کوئی بتادے تو میں اس کاقائل ہوجاؤں گا۔کسی آیت میں نہیں کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دیدیں تو عدت تک انتظار کرنا پڑے گا اور پھر حلالہ کی خدمات کیلئے فتویٰ اور اس لعنت میں منہ کالا کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
بلکہ اسکے بالکل برعکس اللہ تعالیٰ نے ڈھیر ساری آیات میں وضاحت کردی ہے کہ عدت میں باہمی صلح کی شرط اور معروف طریقے سے رجوع ہے۔ ایک طرف قرآن میں بار بار وضاحت ہو کہ صلح کی شرط پر عدت میں رجوع ہوسکتا ہے ، عدت کی تکمیل پر معروف طریقے سے رجوع ہوسکتا ہے، معروف طریقے سے رجوع کرو، معروف طریقے سے رجوع کرسکتے ہو اور معروف طریقے سے رجوع کرسکتے ہو لیکن دوسری طرف قرآن کی ڈھیر ساری آیات کے واضح مطلب کو چھوڑ کر کسی کی منکوحہ کو مفتی اپنے فتویٰ کے ذریعے شکار کرنا چاہتا ہو۔ حنفی مسلک کے اندر عدت میں نکاح باقی رہتاہے لیکن حنفی مسلک کے مفاد پرست علماء ومفتیان قرآن کے برعکس فتویٰ دیں کہ صلح اور معروف طریقے سے بھی رجوع نہیں ہوسکتاہے تو یہ قرآن سے بہت بڑی اور کھلی بغاوت ہے ۔
جہاں تک احادیث صحیحہ کا تعلق ہے تو احادیث کے ذخیرے میں کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں کہ جس میں یہ فتویٰ دیا گیا ہو کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ کوئی حدیث قرآن کیخلاف کیوں ہوتی؟ اور اگر بالفرض ہوتو بھی قرآن کے مقابلہ میں ناقابلِ عمل ۔ یہی تو درسِ نظامی کی تعلیم ہے۔ جب ذخیرۂ احادیث میں ایسی حدیث نہیں کہ جس میں ایک ساتھ کی تین طلاق کو ناقابلِ رجوع قرار دیا گیا ہو یا حلالہ کے ذریعے رجوع کا حکم ہو تو پھر کتنا بڑا ظلم ہے کہ اسکے برعکس فتویٰ دیاجائے کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حدیث کی رو سے حلالہ کرنا لازم ہے؟۔
اصولِ فقہ کی تعلیم کا بنیادی تقاضہ ہے کہ فتویٰ قرآن وحدیث کے مطابق دیا جائے۔ صحابہؓ نے قرآن وسنت کو اپنی پہلی ترجیح بنالیا تواللہ نے چند سوسال تک مسلمانوں کو دنیا کے اقتدار کے قابل بنادیا۔ بنی امیہ و بنی عباس کے بعد خلافت عثمانیہ بڑے عرصہ تک چلی۔1924ء میں خلافت کا خاتمہ کرکے کمال اتاترک نے نئی ریاست کی بنیاد رکھ دی۔بنی امیہ، بنی عباس اور خلافت عثمانیہ کے علاوہ مغلیہ سلطنت ، عرب بادشاہت اور جمہوری ادوار میں کبھی کوئی عالم ومفتی حکمران نہ بن سکا ، اس کی بنیادی وجہ مُلاؤں کی قرآن وسنت کے احکام سے روگردانی ہے۔علماء درباری بن کر قرآن وسنت کا حلیہ نہ بگاڑتے تو مسلم اُمہ کبھی زوال کا ایسا شکار نہ بنتی۔ دوبارہ عالمی خلافت قائم ہوگی ۔قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اگر علماء ومفتیان جانے بوجھے بھی قرآن وسنت کیخلاف فتوے دینگے اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلیں گے تو خود بھی ذلت سے دوچار ہونگے اور امت مسلمہ کو بھی دوچار کردیں گے۔ اللہ نے استدراج کا ذکر بھی فرمایا، اپنی ظاہری ترقی کو انعام نہ سمجھیں۔ مفتی تقی عثمانی کے گھر کی خواتین کو بھی سکون نہیں ملا ہے۔وممن خلقنا اُمۃ یھدون بالحق وبہ یعدلونOوالذین کذبوا باٰ ےٰتنا سنستدرجھم من حیث لایعلمونOواُملی لھم ان کیدی متینOاولم یتفکروا مابصاحبہم من جِنۃ ان ھو الا نذیر مبینO اولم ینظروا فی ملکوت السمٰوٰت والارض وماخلق اللہ من شئی وان عسٰی ان یکون قد اقترب اجلھم فبای حدیث بعد یؤمنونOمن یضلل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم فی طغانھم یعمھونO ’’اورجن کو ہم نے پیدا کیا ،ان میں ایک جماعت حق سے ہدایت لیتے ہیں اور اسی سے فیصلہ کرتے ہیں اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ہم بتدریج لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اور میں ان کو ڈھیل دوں گا اور میرا داؤ مضبوط ہے۔ کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ان کے صاحب (ﷺ) کو کچھ جنون نہیں مگر وہ کھلا ڈرانے والاہے۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ زمیں و آسمان کی بادشاہی اور جو اللہ نے پیدا کیا ہے اس میں کوئی چیز؟۔ اور شاید قریب آگیا ہے ان کے وعدے کاو قت۔ پھر اس کے بعد وہ کس حدیث(بات) پر ایمان لائیں گے؟۔ جس کو اللہ گمراہ کردے، تو اس کیلئے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اللہ نے چھوڑ رکھا ہے، کہ وہ اپنی سرکشی کے اندھے پن میں ہچکولے کھائیں‘‘۔
جب مشرکینِ مکہ نے اپنی جہالت کا تسلسل کیساتھ مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل کا وقت ختم ہوگیا اور فتح مکہ کے بعد خلافت راشدہؓ اور اسکے بعد آج تک انکا نام ونشان بھی مٹ گیا۔ صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدینؓ نے حق اور ہدایت کی رہنمائی سے دنیا کو فتح کرلیا۔ اسلام سے پہلے عورت غلامی سے بھی بدتر زندگی گزارتی تھی۔ قرآن وسنت میں بیوی کو خلع کا حق دیا گیا، طلاق کے بعد بھی صلح کی شرط پر معروف رجوع کا حق دیا گیا۔ حضرت عمر فاروق اعظمؓ جب مسندِ خلافت پر جلوہ افروز تھے تو اس سے پہلے یہ معمول تھا کہ تین طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل طہرو حیض سے ہوتا تھا۔ جس کی قرآن وسنت میں وضاحت تھی۔ کوئی ایک ساتھ تین طلاق دیتا تب بھی ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ قرآن وسنت کے مطابق یہ معمول تھا کہ عدت تک عورت انتظار کرنے کی پابند تھی اور باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا رہتا تھا۔
جب میاں بیوی آپس میں باہمی رضامندی سے صلح کریں یا رشتہ دار ان کو صلح پر آمادہ کرلیں تو خوش اسلوبی اور معروف طریقے سے رجوع کرنے پر کوئی کس طرح سے اعتراض کرسکتا تھا۔ ایک خاتون نے تین طہرو حیض کے آخری حیض میں شوہر کا گھر چھوڑ دیا تو اعتراض ہوا کہ اس نے غلطی کی ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ’’ اس نے ٹھیک کیا ہے ، انتظار کے تین قروء سے مراد اطہار یعنی پاکی کے ایام کی تین مدتیں مراد ہیں‘‘۔ طلاق سے رجوع کیلئے فتویٰ فروش نہیں بیٹھے تھے جن سے رہنمائی طلب کی جاتی بلکہ قرآن وسنت صحابہ کرامؓ کے ماحول ہی کا اہم حصہ تھا۔زندگی کا محور قرآن وسنت کا منشور تھا۔
جب میاں بیوی کے درمیان علیحدگی طلاق کا مسئلہ چل رہا ہو تو سب سے زیادہ اہمیت میاں بیوی کی اپنی رائے، چاہت اور لائحہ عمل کی ہوتی ہے لیکن جب معاشرے کو یہ احساس ہوجائے کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کا خطرہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ایک فیصل شوہر کے خاندان سے اور ایک فیصل بیوی کے خاندان سے تشکیل دو، اگر ان دونوں کا ارادہ اصلاح کرنے کا ہو تو اللہ ان دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ جب تک معاملہ صلح اور اصلاح کی حد تک رہتا ہے تو اس کا تعلق معاشرتی معاملات سے ہوتا ہے۔ میاں بیوی صلح کریں یا معاشرہ اس میں کردار ادا کرے تو بات حکومت تک نہیں پہنچتی ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے ، قرآن وسنت نے صحابہ کرامؓ کو اس فطری دین کی بدولت تاریخ ساز عروج عطا فرمایا جس کی بازگشت ابھی تک دنیاکے اندر موجود ہے۔ قرآن وسنت اور مسلمانوں کی بدولت عورت کے معاملے میں دنیا بدل گئی اور’’ میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی‘‘ کی کہاوت نے حقیقت اور قانون کا روپ دھارلیا۔ جب حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک شخص نے فریاد کی کہ اس نے تین طلاق ایک ساتھ دئیے ہیں ، اپنی بیوی کو واپس لوٹانا چاہتاہے تو سب سے واضح بات یہ ہے کہ اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوتے تو پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس کیوں آتا؟۔ ظاہر بات ہے کہ عورت صلح کیلئے راضی نہ تھی اور تمام حربے آزمانے کے بعد بات حکومتِ وقت سے مدد لینے تک پہنچی تھی۔
حضرت عمرؓ نے قرآن وسنت اور عقل وفطرت کے خلاف فیصلہ نہیں دینا تھا اور آج بھی دنیا کی ہر عدالت وہی فیصلہ دے گی جو قرآن وسنت اور حضرت عمرؓ نے دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا ’’ اور انکے شوہر ہی اس مدت میں ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ اصلاح کرنا چاہتے ہوں‘‘۔ جب تنازعہ چل رہا ہو تو اصلاح کی کیا بات ہوسکتی ہے۔ جب قرآن تنازع کی صورت میں رجوع کا حق شوہر کو نہیں دیتاہے تو حضرت عمرؓ نے کیسے دینا تھا؟۔ حضرت عمرؓ نے نہ صرف قرآن کی بات پر عمل کرکے شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا بلکہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد جو رنجیدہ صورتحال پیدا ہوئی تھی اس پر بھی فرمایا کہ آئندہ کوئی ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو اس کو سخت سزابھی دی جائے گی۔
جب حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ کردیا تو حضرت علیؓ نے اس کی تائید فرمادی کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ درست ہے، کوئی شخص ایک ساتھ تین طلاق دیتاہے تو وہ اپنا حق کھو دیتاہے، پھر عورت رجوع پر راضی نہیں ہو تو وہ رجوع نہیں کرسکتاہے۔ اور ساتھ میں یہ وضاحت بھی کردی کہ ’’ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا بلکہ قرآن کے مطابق رجوع کرسکتے ہیں‘‘۔ افسوس کہ کم عقل علماء ومفتیان اور حلالہ کی ہوس میں مبتلاء رہبروں نے سمجھا تھا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتاہے بلکہ حضرت علیؓ کے اپنے مؤقف میں بھی کھلا تضاد سمجھتے تھے، حالانکہ حقیقت میں تضاد نہ تھا۔
دنیا کی کسی قوم کیلئے بھی قرآن وسنت اور خلفاء راشدینؓ کا یہ قانون بہت زبردست ہے کہ طلاق کے بعد عدت میں باہمی رضا اور صلح کے بغیر رجوع کا دروازہ بند ہو۔ البتہ جن معاملات کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہورہاہو، جو علیحدگی کے باعث ہوں، شکایات کے ازالے اور اصلاح کی شرط پر رجوع کی گنجائش ہو۔
اللہ نے اہل کتاب کو مخاطب کیا کہ ’’دین میں غلو نہ کرو‘‘۔ علامہ تراب الحق قادریؒ نے رمضان میں تقریر کی تھی ’’ روزے میں جب لیٹرین کیا جائے تو مقعد کے اندر کا حصہ نکلتاہے جو پھول کی طرح ہوتاہے، وہ پھول دھویا جائے تو کپڑے سے خشک کیا جائے ، خشک کئے بغیر اگر وہ پھول اندر داخل ہوا تو روزہ ٹوٹ جائیگا‘‘۔ ہم نے یہ خبر اپنے اخبار میں لگائی تھی، دعوتِ اسلامی کے مبلغ کی ویڈیو دستیاب ہے کہ ’’ روزے میں استنجاء کرتے ہوئے کھل کر نہ بیٹھو اور سانس زورسے نہیں آہستہ لو، ورنہ پانی اندر داخل ہوگا، روزہ ٹوٹ جائیگا‘‘۔
الم ےأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ وماانزل من الحق ولا یکونوا کالذین اوتواالکتٰب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم وکثیر منہم فٰسقونO اعلمواان اللہ یحی الارض بعدموتھا قد بیّیّنا لکم الاٰےٰت لعلم تعقلونO ان المصدقین والصدقٰت واقرضوا اللہ قرضاًحسناً یضٰعف لہم و لھم اجر کریمOوالذین اٰمنواباللہ و رسلہ اولئک ھم الصدیقون الشہداء عند ربھم لھم اجرھم ونورھم والذین کفروا و کذبوا باٰےٰتنا اولئک اصحاب الجحیمO ۔۔۔ ۔۔۔
’’ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ کی یاد میں گڑ گڑائیں؟۔ اور جو اللہ نے حق نازل کیا ( اس کی طرف متوجہ ہوکر اس کو قبول کرلیں)؟۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جن کو کتاب میں ملی تھی پہلے۔ پھر ان پر بڑی عمر گزر گئی ،تو سخت ہوگئے ان کے دل ، اور ان میں اکثر فاسق تھے۔ جان رکھو کہ بیشک اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اسکے مرجانے کے بعد۔ ہم تمہارے لئے کھول کرواضح کرتے ہیں آیات تاکہ تم عقل سے کام لو۔ بیشک قربانی دینے والے مردوں اور خواتین اور جو اللہ کو قرضِ حسنہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ضرب دیکر بڑھاتا ہے اور ان کیلئے عزت کا بدلہ ہے۔ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ، یہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اللہ کے نزدیک۔ ان کیلئے ان کا اجر بھی ہے اور ان کا نور بھی ہے۔ اور جولوگ کفر کریں اور ہماری آیتوں کو جھٹلا دیں تو وہ لوگ جہنم والے۔ جان رکھو کہ بیشک دنیا کی زندگی کھیل ، لہو ، زینت اور آپس میں ایکدوسرے پر تفاخر اور اموال واولاد میں بہتات کی باتیں ہیں، اس کی مثال بارش کی ہے جو اچھی لگتی ہے کفار کو، اس کا سبزہ ہے، پھر زور پکڑتاہے، پھر آپ دیکھتے ہو کہ زرد ہوگیا اور پھر ہوجاتا ہے روندا ہوا گھاس۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہے اوراللہ کی طرف سے مغفرت اور رضامندی۔ اور دنیا کی زندگی کیا ہے مگر غرور کی گزر بسر۔ دوڑو، اپنے رب کی معافی کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان وزمین کے عرض کی طرح ہے۔ جو تیار کی گئی ہے ،ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے ،دیدیتاہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ کوئی مصیبت نہیں پڑتی زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے جس کو ہم صورتحال میں پیدا کردیتے ہیں۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ یہ اسلئے تاکہ تم افسوس نہ کرو کہ جس کو تم کھو چکے ہواورتاکہ فخر نہ کرو جو اللہ نے دیا ہے۔اور اللہ پسند نہیں کرتا ہے ہر فخر کرکے اترانے والے کو ۔جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں‘‘۔(سورہ الحدید)
ان آیات میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی نشاندہی ہے۔ جس وقت تمام مسلمان اللہ کے احکام کی طرف متوجہ ہوئے اور دنیاوی زندگی کی لہوولعب، زینت اور آپس کے تفاخر کو چھوڑ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اہل کتاب کی روش کو چھوڑ دیا تو مسلمانوں کی دواقسام ہوں گی۔ ایک قسم وہ ہوگی جن کے ذریعے اللہ نے اپنے دین کو زندہ کیا ہو اور دوسرے وہ ہوں گے جنہوں نے بعد میں اس مشن کو اپنایا ہو۔ دونوں میں سے سبقت لے جانے والوں کو بھی اپنے کردار پر فخر کی ضرورت اسلئے نہیں کہ اس میں ان کا کوئی ذاتی کمال نہیں، محض اللہ کی عطا ہے، جس کا فیصلہ پہلے سے تقدیرالٰہی میں ہوچکا تھا۔ اور جن لوگوں نے پہلے کردار ادا نہیں کیا وہ بھی اس پر افسوس نہ کریں جو وہ کھوچکے ہیں۔ دونوں طبقات میں کوئی چیز قابلِ فخر اور اترانے کی نہیں ہے۔ رائٹر نے جو اسکرپ لکھ دی تھی اس کو اللہ نے منصہ شہود پر لانا تھا۔ مخالفین کی طرف سے مخالفت کا حق ادا نہ کیا ہوتا اور حق کا علمبردار طبقہ اپنے مؤقف پر ڈٹا نہ رہتا تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے دنیا میں حالات کبھی نہ بنتے۔ یہ اللہ کی اپنی حکمتِ عملی تھی جس کا ظہور ہوگیا۔مگر جولوگ فخر سے اتراتے ہیں اور خود بھی بخل سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں۔ یہ لوگ ناپسندیدہ اور اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ واقعہ میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خبر دی۔ لوگوں کی تین اقسام کا ذکر فرمایا ہے، دائیں جانب والے،بائیں جانب والے اور سبقت لے جانے والے۔سبقت لے جانوں والے پہلوں میں بہت اور نشاۃ ثانیہ میں کم ہونگے۔ دائیں جانب والے پہلے میں بھی بڑی جماعت ہوگی اور آخر والوں میں بھی بڑی جماعت ہوگی۔ تینوں کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ سورۂ الحدید میں پہلے وضاحت فرمائی ہے کہ لایستوی منکم من انفق من القبل الفتح وقٰتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقٰقلوا وکل وعداللہ الحسنٰی واللہ بماتعلون خبیرO ’’ برابر نہیں جنہوں نے فتح سے قبل خرچ کیا اور لڑائی لڑی ، ان لوگوں کا بڑا درجہ ہے ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور لڑے اور ہر ایک کے ساتھ اللہ نے اچھا وعدہ کیا ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتاہے‘‘۔ پھر دعوت دیتے دیتے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف متوجہ کیا ہے۔ کاش فتوحات کے دروازے کھلنے سے پہلے جوق در جوق مسلمان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف آجائیں اور اجر پالیں۔
پھر سورہ حدید کے آخرمیں فرمایا: لقد ارسلنا رسلنا بالبینٰت وانزلنا معھم الکتٰب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ بأس شدید ومنافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب ان اللہ لقوی عزیزO ولقد ارسلنا نوحاً وابراھیم وجعلنا فی ذریتھما النبوۃ والکتٰب فمنھم مھتد وکثیرمنھم فٰسقونO
’’ ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کیساتھ بھیجا، ہم نے انکے ساتھ کتاب نازل کی اور میزان ، تاکہ لوگ انصاف کیساتھ کھڑے ہوں،ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت معاملہ ہے اور لوگوں کیلئے منافع۔ تاکہ اللہ جان لے کہ کون اسکی مدد کرتاہے اوراسکے رسولوں کی، غیب پر ایمان رکھ کر۔ بیشک اللہ زبردست طاقتور ہے۔ بیشک ہم نے نوح کو بھیجا اور ابراہیم کواور ان کی اولاد میں نبوت رکھ دی۔ ان میں سے ہدایت والے بھی ہیں اور اکثر ان میں فاسق ہیں‘‘۔
ہدایت کیلئے دوباتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کی دی ہوئی میزان، جو انسانی فطرت میں ودیعت ہوتی ہے۔ جب انسان کا توازن بگڑ جائے تو وہ مرفوع القلم ہوتاہے۔ فہم وفراست کیلئے انسانی ذہن اور دل کی ساخت بھی قدرت کی عظیم عطاء ہے ۔والسماء رفعھا ووضع المیزانO الا تطعوا فی المیزان O واقیموا الوزن بالقسط و لاتخسرواالمیزانO نظام کائنات کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اگر بہت ہی معمولی قسم کا توازن بگڑ جائے تو ایک خوفناک تصادم سے سب کچھ ختم ہوجائے۔ ناپ تول کے ہر پیمانے سے معاشی نظام چل رہاہے۔ پیٹرول بجلی ، گیس، ٹیکسی کے میٹر، موبائل کے بیلنس، ادویات کی اجزاء ، روڈ و بلڈنگ میں ناقص کارکردگی سب کچھ میزان میں خسارہ ہے اور جس قوم کا معاشی سسٹم درست ہوتو اس کا معاشرتی اور عدالتی نظام پر بھی اثر پڑتا ہے ، معاشرتی اور عدالتی نظام میں بھی فطری تقاضا میزان ہی ہے۔ درسِ نظامی کے نصاب کی اصلاح شدت سے محسوس کی جارہی ہے، حکمرانوں کی کرپشن سے پہلے اسلام کی درست تصویر عوام کے سامنے لائی جائے۔ علماء حق کا احسان ہے کہ قرآن وسنت کی زبردست حفاظت کی مگراب سب کو اس پر عمل بھی کرنا پڑے گا۔
دنیا میں کرنسی کی قیمت میں بھی توازن ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی کرنسی کو متوازن رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ امپورٹ و ایکسپورٹ کے کاروبار کا دارومدار کرنسی کی مقامی قیمت پر ہوتاہے۔ پاکستان میں عرصہ سے ماہرین کی رائے میں پاکستانی روپیہ کی قیمت جبری طور پر اپنی اوقات سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ آنے سے دس دن پہلے آئی ایم ایف نے کہا کہ ’’ پاکستان اپنی کرنسی کی قیمت کم کردے‘‘۔ کرنسی کی مصنوعی قیمت بڑھانے سے ایکسپورٹ کا کاروبار ٹھپ ہوگیاہے، ملکوں کی ترقی میں ایکسپورٹ زیادہ اہم کردار ادا کرتاہے، اسلئے دوسرے ممالک اپنی کرنسی کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ روپے کی قیمت کم کردی جائے تو مہنگائی بڑھ جائے گی لیکن ملکوں کو دھوکے اور فراڈ سے چلانے کا خمیازہ بھگتنا پڑتاہے۔ اس وجہ سے حکمران کا دھوکہ باز اور فراڈیہ ہونا خطرناک اور فطری بات ہے۔
نااہل وزیراعظم کی موجودہ حکومت سے پہلے پاکستان کا مجموعی قرضہ 30 ارب ڈالر تھا اور اب 48ارب ڈالر تک پہنچ چکا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا دامن صاف تھا،گرچہ بھائیوں کو غلے میں پیسے لوٹادئیے ۔ زلیخانے جھوٹا الزام لگایا، حضرت یوسفؑ نے کہا کہ ’’میں اپنے نفس کوبری نہیں سمجھتااللہ نے بچایا‘‘ حضرت موسیٰ علیہ اسلام پر الزام لگا کہ خصیہ نہیں اسلئے چھپ کر نہاتاہے، پتھر نے کپڑے اٹھائے اور لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ کر الزام واپس لیا، الزام ختم ہونے کی جوقیمت چکائی جائے تو سودا سستا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ سے قتل بھی ہوا تھا لیکن اس کا مقدمہ نہیں چلا۔ ضمیر مطمئن نہیں تھا جبھی تو معجزات کے باوجود جانے سے ڈر لگ رہا تھا۔ اگر نوازشریف کو پاکدامنی کا دعویٰ ہے تو ٹرائل کورٹ کو اپنی بے عزتی نہ سمجھے اور اگر عزت کا خیال ہے تو اپنے تمام اثاثہ جات ظاہر کرکے قوم کو لوٹادے، زرداری بھی یہ کریگا، سول وملٹری بیوروکریسی بھی اپنی ساری دولت پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے پیش کردیں۔ عتیق گیلانی

تین طلاق کے حوالہ سے حقائق کا ایک واضح آئینہ

انسانوں کے دلوں اور سننے پر مہریں لگ جائیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ جائے تو رحمت للعالمین ﷺ کااُسوہ حسنہ اور قرآن کی وحی بھی اثرانداز نہ ہو ان الذین کفروا سواء علیھم اانذرتھم ام لم تنذرھم لایؤمنوں Oختم اللہ علی قلوببھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ
’’ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا، ان کیلئے برابر ہے کہ ان کو آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں،وہ ایمان نہیں لائیں گے، انکے دلوں اور قوت سماعت پر اللہ نے مہر لگادی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ‘‘۔ انسان کی سمجھ میں بات نہیں آتی کہ دلوں اور سننے پر مہر کا کیا مطلب ہے؟۔ آنکھوں پر پردہ کیسے ہوسکتاہے؟۔ جب کوئی حق بات سمجھنے کے باوجود مفاد پرستی، ہٹ دھرمی، ڈھیٹ پن اور بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا انکار کرتاہے تو یہ بات خود بخود سمجھ میں آتی ہے کہ دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ سے کیا مراد ہے!۔
قرآن میں اسلام کی نشاۃ اول کے بعد مختلف سورتوں و آیات میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کردار ادا کرنے والوں کاذکراوراحادیث صحیحہ میں وضاحت ہے ۔ فارس وخراسان اور سندھ وہند کی پاک سرزمین کے ہاتھوں فتح ہند کی بشارت سے لیکر بیت المقدس کی فتح تک کی تفصیل ہے، یہ سب نظر انداز ہو توبھی کوئی مسئلہ نہیں، پیش گوئی وقت پر پوری ہوتی ہے ، چاہے کوئی مانے یا نہیں مانے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم اللہ کی کتاب قرآن کریم کو محفوظ سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کرنے کیلئے عوام کو صحیح دعوت کیوں نہیں دیتے؟۔ صحابہ کرامؓ نے قرآن کی حاکمیت کو مانا تو دنیا کے امام بن گئے ۔ہم خوار ہوئے ہیں تارک قرآن ہوکر۔
حضرت عمر فاروق اعظمؓ کا فیصلہ اور حضرت علیؓ کا فتویٰ قرآنی تعلیمات کے عین مطابق تھا۔ میاں بیوی میں لڑائی، جھگڑا، طلاق، علیحدگی اور جدائی کا مسئلہ جہاں تک بھی جس نام سے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے عورت کیلئے عدت رکھ دی ہے اور اس عدت کے دوران باہمی رضامندی ، صلح اور معروف طریقے سے رجوع کا راستہ کھلا رکھاہے۔ میاں بیوی آپس میں راضی ہوگئے تو بھی یہ صلح ومعروف رجوع ہے اور معاملہ ہاتھ سے نکلنے کا اندیشہ ہو تو ایک ایک رشتہ دار دونوں کے خاندان سے فیصل مقرر کرکے بھی صلح و رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔
قرآن میں عدت کے تین مراحل میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلہ میں معروف رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنے کی وضاحت ہے۔ اگراس تیسرے مرحلہ میں طلاق کا فیصلہ برقرار رہے لیکن آخری لمحے جب تک عدت پوری نہ ہو، عورت دوسری جگہ شادی نہ کرنے کی پابند رہتی ہے بلکہ شوہر ہی اس کو صلح کی شرط پر لوٹانے کا حق رکھتاہے۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا (البقرہ:228)۔ رجوع کیلئے صلح شرط ہے۔ صلح اس صورت میں ہی ہوتی ہے جب دونوں فریق کو اختیار حاصل ہو۔ اللہ نے اسی لئے فرمایا کہ وان ارادا اصلاحا یوفق اللہ بینھما ’’اگر دونوں صلح چاہتے ہوں تو اللہ انکے درمیان موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ معروف رجوع کا تعلق بھی باہمی صلح اور فریقین کی رضامندی کیساتھ ہے۔ اللہ نے طلاق کے بارے میں فتویٰ دیدیا کہ ’’عدت میں عورت انتظار کی پابند ہے اور شوہر ہی صلح کی شرط پر عدت کے دوران رجوع کرسکتاہے‘‘۔ جب مولوی دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت قرآن کے اندر ہم نے محصور کرکے رکھی ہے، کوئی مسلمان بھی یہ جرأت نہیں کرسکتاکہ مُلا کی اجازت اور فتویٰ کے بغیر اپنی بیوی سے رجوع کرسکے اور عوام اسکے سامنے خود بھی لیٹ جائیں اور اپنی بیگمات کو بھی حلالہ کیلئے اسکے سامنے لٹا دیں تو ایسی بے غیرت قوم کی اللہ بھی پرواہ نہیں کرتا۔
بہت سے علماء ومشائخ ڈھیٹ نہیں بلکہ وہ اپنے مذہبی ماحول کی وجہ سے سمجھ رہے ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کرنا اللہ اور اسکے رسولﷺ کا حکم ہے، حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق کا حکم نافذ کرکے قرآن و سنت کو نظر انداز کیا ہوتا تو صحابہ کرامؓ کیسے اس پر خاموش رہ سکتے تھے؟۔بلاشبہ حضرت عمرؓ نے قرآن کے ہوتے ہوئے اجتہاد ی حکم ایجاد کرنے کی جسارت نہیں کی ۔ اہلحدیث اورشیعہ بکتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ نے اجتہاد کیایابدعت اختیار کی‘‘۔ جب قرآن کا واضح حکم موجود ہو تو اجتہاد شریعت نہیں کفر کا درجہ رکھتاہے۔ جبکہ حضرت عمرؓ نے اسی اصول پر عمل کیا کہ پہلے قرآن میں مسئلے کا حل دیکھا، قرآن میں مسئلے کا حل نہ نکلا تو نبیﷺ کی سنت میں تلاش کیا اور سنت میں نہیں ملا پھر اپنے طور سے اجتہاد کیا یا مشاورت سے مسئلہ حل کرنے کی طرف توجہ کردی۔
ایک شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیتا ہے، بیوی ناراض ہوکر گھر چلی جاتی ہے، عدت کے دوران اللہ نے صلح کی شرط پر رجوع کا راستہ کھلا رکھا ہے لیکن عورت رجوع پر آمادہ نہیں ، اسکے گھر والے بھی رجوع کیلئے کوئی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ، وہ برملا کہتے ہیں کہ آج ایک ساتھ تین طلاق دیدی ، کل کوئی حادثہ بھی پیش آسکتاہے، اس جذباتی سے رشتہ ناطہ جوڑنا نہیں چاہتے اور پورا خاندان صلح کے حق میں نہی۔ اگر شوہر زبردستی کرکے بیوی کو میکے سے نیزے و تلوار یا پستول و بندوق کے زور پر لانا چاہے تو فساد کا خدشہ ہوگا۔وہ بیوی کو لانے کے بجائے خود بھی موت کا شکار ہوسکتاہے۔ ایسی صورت میں شوہر حکمران سے فیصلے اور مدد کی توقع پر پہنچتا ہے۔ حکمران کا کام ہی عدل و انصاف کی فراہمی ہے۔ خلافت راشدہ میں فیصلے عدل ہی سے ہوتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے سامنے ایک نئی صورتحال سامنے آئی۔ معاملہ ایک ساتھ تین طلاق کا تھا اور عورت رجوع کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ اگر وہ خود راضی ہوتی یا اسکے خاندان والے صلح کیلئے رضامند ہوتے تو حضرت عمرؓ تک بات نہ پہنچتی بلکہ آپس میں رضامندی و صلح سے معاملہ طے کرلیا جاتا۔
اس واقعہ سے پہلے کوئی ایک ساتھ تین طلاق بھی دیتا تھا تو ایک طلاق قرار دی جاتی تھی، عدت کے تین مراحل میں تین طلاق کا تصور بالکل عام تھا، اب شوہر کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق کے بعدعورت کی طرف سے صلح نہیں ہورہی تھی تو مسندِ خلافت نے پہلے قرآن ،پھر سنت، پھر اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرنا تھا۔ حضرت عمرؓ کی آنکھوں سے فقہ واصول فقہ اور فتاویٰ کی کتابوں نے نہ تو قرآن چھپایا تھا اور نہ ہی سنت چھپائی تھی۔ قرآن میں اس معاملے کا بھرپور حل موجود تھا۔ اللہ نے شوہر کو صلح کی شرط پر رجوع کرنے کا حق دیا ، جبکہ عورت صلح پر رضامند نہیں تھی اسلئے حضرت عمرؓ نے عورت کے حق میں ہی فیصلہ دیدیا، اور ایسی ناچاکی کی صورت سے پھر بچنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ ’’جب کوئی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو ہم اس پر تین ہی نافذ کر دیں گے، جس چیز کی اللہ نے وسعت دی تھی اس کا غلط فائدہ اٹھایا جارہاہے‘‘۔ اگر حضرت عمرؓ کے علاوہ دنیا کی کوئی بھی منصف عدالت ہوتی تو یہ یہی فیصلہ جج نے کرنا تھا، اسلئے کہ جب عورت صلح پر رضامند نہ ہواور کوئی بھی جج اس کو مجبور کرے تو یہ قرآن و سنت ، عقل و فطرت اور عدل وانصاف کی خلاف ورزی ہوگی۔ دنیا کو عورت کا حق اور عدل وانصاف کا تقاضہ قرآن وسنت اور خلافتِ راشدہ نے سکھایاتھا۔
حضرت عمرؓ نے دارالافتاء کی مسند پر بیٹھ کر فتویٰ نہیں دینا تھا بلکہ مسندِ اقتدار سے عدل وانصاف کیلئے قرآن و سنت سے فیصلہ کرنا تھا، اگر عورت ایک طلاق کے بعد بھی صلح پر آمادہ نہ ہوتی تو قرآن کے مطابق حضرت عمرؓ نے یہی فیصلہ دینا تھا کہ شوہر یک طرفہ رجوع نہیں کرسکتا، اسلئے کہ قرآن میں مشروط رجوع کا حق ہی شوہر کو دیا گیاہے، طلاق کے بعد صلح کے بغیر شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا گیا۔ حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ قرآن پر عمل کرانے کی بہترین مثال تھا۔ پھر وقت کے شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور سب سے بڑے قاضی حضرت علیؓ نے فتویٰ دیا جو قرآنی آیات کے عین مطابق تھا کہ ’’ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد بھی باہمی رضا اور صلح سے رجوع ہوسکتاہے‘‘ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص حضرت علیؓ کے پاس فریاد لیکر آتا کہ اس نے ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہیں تو حضرت علیؓ اس کی داد رسی اس انداز میں فرماتے کہ’’ تونے اپنا حق کھودیا ہے اور وہ تجھ پر طلاق ہوچکی ہے‘‘۔ وجہ یہ تھی کہ اگر حضرت علیؓ نے فتویٰ دیا ہوتا کہ وہ رجوع کرسکتاہے تو وہ صلح کئے بغیر بھی رجوع کرلیتا، پھر عورت دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی تھی۔فیصلے کے برعکس فتویٰ دینا بڑے درجہ کی جہالت ہوتی۔
حضرت عمرؓ نے صلح نہ ہونے کی صورت میں طلاق کا فیصلہ برقرار رکھا ، شوہر کو غیر مشروط رجوع کا حق نہیں دیااور حضرت علیؓ نے صلح کی شرط پر رجوع کے فتوے کی وضاحت فرمادی اور انہوں بھی غیرمشروط رجوع کا حق نہیں دیا تھا۔ اگر بالفرض محال حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ دونوں متفق ہوجاتے کہ صلح کی شرط پر رجوع نہیں ہوسکتاہے تو قرآن پر پھر بھی عمل ہوجاتا اور دونوں کی بات بالکل رد کردی جاتی۔ قرآن کے واضح الفاظ کے مقابلہ میں کوئی واضح وصریح حدیث ہو تب بھی اس حدیث کو بھی رد کردیا جائے گا۔ درسِ نظامیں اسی بات کی ساری ٹریننگ دی جاتی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے ٹھیک اتفاق کیا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کا مؤقف درست تھا۔ اگر شوہر کو صلح کے بغیر کسی بھی طلاق کے بعد یک طرفہ رجوع کا حق دیا جائے تو یہ قرآن کے خلاف اور عورت کے ساتھ بدترین ظلم ہوگا۔
ائمہ اربعہ نے حکمرانوں کے ہاتھوں بہت مشکلات کی زندگی گزاری۔ آج بھی ان کا درست مؤقف عوام کے سامنے موجود نہیں۔ وہ مزارعت کو سود اور ناجائز قرار دیتے تھے،قرآن کی تعلیم اور عبادات پر معاوضہ ناجائز سمجھتے تھے لیکن بعد والوں نے درباری بن کر اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کردارادا کیا تھا۔ ان بیچاروں کو پتہ ہی نہ ہوگا کہ جب میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں تب بھی حلالہ کا فتویٰ میاں بیوی کے درمیان رکاوٹ بنے گا۔ قرآن کی جس آیت میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا ذکر ہے ، اس سے پہلے متصل تفصیل کیساتھ یہ وضاحت بھی ہے کہ دومرتبہ طلاق پھرمعروف رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر رخصت کرنے کا فیصلہ کیا تو پھر تمہارے لئے جوکچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے واپس لینا جائز نہیں مگر یہ کہ دونوں یہ خوف رکھتے ہوں کہ اگر وہ چیز واپس نہ کی گئی تو اللہ کی حدود پر دونوں قائم نہیں رہ سکیں گے اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، یہ اللہ کی حدود ہیں ،ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتاہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔پھر اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے جائز نہیں یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے شادی نہ کرلے۔۔۔‘‘۔
درسِ نظامی میں اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں حنفی مؤقف واضح ہے کہ اس طلاق کا تعلق متصل فدیہ کی صورت سے ہے۔ یہ اس طلاق کی ضمنی شئی ہے، دو مرتبہ طلاق سے اس طلاق کا براہِ راست تعلق نہیں ہوسکتا۔ رسول ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد اوتسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ علامہ ابن قیمؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر نقل کی ہے کہ ’’اس طلاق کا تعلق مرحلہ وار دو طلاقوں کے بعد تیسری مرتبہ طلاق میں بھی اس صورتحال کیساتھ خاص ہے کہ جب دونوں میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والوں نے مل کر فدیہ دینے کا فیصلہ بھی کیا ہو اور قرآن کا حکم اپنے سیاق وسباق سے ہٹانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ( زادالمعاد: علامہ ابن قیمؒ )۔
قرآن کی ایک آیت کو سیاق وسباق سے ہٹایا گیا تو باقی آیات سے رہنمائی بھی حاصل نہیں کی گئی۔ مفتی حسام اللہ شریفی کا نام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے رکھا تھا، مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ان کوشرعی مسائل کا جواب لکھنے کا حکم دیا تھا۔ کئی دہائیوں سے اخبارِ جہاں میں قرآن وسنت کی روشنی میں طلاق کا فتویٰ عام کتابوں کے مطابق دے رہے تھے مگر قرآنی احکام کو پہچانتے ہیں ،ان میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں۔ ضعیفی میں بھی غربت کی زندگی ہے، مکان بھی بالکل دب چکاہے ،پانی کے نکاس کا مسئلہ ہوگا، انکے بیٹے کو حیدر عباس رضوی نے بڑا بلیک میل کیا، یہانتک مکان بیچنے تک نوبت پہنچ چکی تھی۔سپریم کورٹ کے شرعی اپلٹ بینچ اور شرعی کورٹ کے مشیردیوبندی مکتب کے مفتی حسام اللہ شریفی بریلوی مکتب کے ابومسعود مفتی خالدحسن مجددی ، اہلحدیث کے علامہ ارشد وزیر آبادی، جماعت اسلامی کے مفتی علی زمان کشمیری اور اہل تشیع کے ڈاکٹر محمد حسن رضوی وغیرہ کی تائیدات حق کی حمایت میں تاریخ کی بہت بڑی مثال ہے، بریلوی اور دیوبندی علماء ومشائخ کھل تائیدات کررہے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی کھل کر خلاف ورزی کی تھی لیکن وہ جان بوجھ کر اپنے عزم کیساتھ اس میں خطاء کار نہ تھے جبکہ ابلیس نے تکبر اور جان بوجھ کر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی،یہ فرق ملحوظِ خاطر رہنا چاہئے۔
بھنور آنے کو ہے اے اہل کشتی ناخدا چن لیں
چٹانوں سے جو ٹکرائے وہ ساحل آشنا چن لیں
زمانہ کہہ رہاہے میں نئی کروٹ بدلتا ہوں
انوکھی منزلیں ہیں کچھ نرالے رہنما چن لیں
اگر شمس و قمرکی روشنی پر کچھ اجارہ ہے
کسی بیدار ماتھے سے کوئی تارِ ضیاء چن لیں
یقیناًاب عوامی عدل کی زنجیر چھنکے گی
یہ بہتر ہے کہ مجرم خود ہی جرموں کی سزا چن لیں
جفا و جور کی دنیا سنوردی ہم نے
زہے نصیب کہ ہنس کر گزار دی ہم نے
کلی کلی ہمیں حیرانیوں سے تکتی ہے
کہ پت جھڑوں میں صدائے بہار دی ہم نے
شریعت کی راہ میں بھول بھلیاں نہیں
دینِ حق کی عظمت نکھار دی ہم نے
علماء کرام و مشائخ عظام کو کھل کر میدان میں آنا چاہیے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اسلام کا مسئلہ طلاق کردار سازی کا ذریعہ

عربی میں عورت کو چھوڑدینے یا علیحدہ کرنے کا نام طلاق ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اس طلاق نے ایسی مذہبی کیفیت اختیار کرلی تھی جس میں شوہر چاہتا تو بیوی کو زندگی بھر حق سے محروم کرکے رکھ لیتا۔ طلاق دے دیتا اور پھر عدت کے خاتمے سے پہلے رجوع کرلیتا اور یہ بھی صورتحال تھی کہ بیک وقت تین طلاق دیتا تو رجوع نہیں کرسکتا تھا۔ اللہ نے شوہر کے اختیاری ظلم و جبر کو بھی ختم کردیا اور اس کیفیت سے بھی نجات دلادی کہ میاں بیوی باہمی رضا مندی سے رجوع نہیں کرسکتے تھے۔ طلاق کے حوالے سے دنیا نیوز کے معروف صحافی کامران خان نے ڈاکٹر ذاکر نائک ، جاوید احمد غامدی اور مفتی محمد نعیم کو اپنا اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ رمضان کا مہینہ آرہا ہے جس میں طلاق کے واقعات کی کثرت ہوتی ہے۔ اہل حدیث کے دار الافتاؤں میں سوالات کے انبار پڑے رہتے ہیں۔
طلاق کے حوالے سے قرآن میں سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ بقرہ کی 224 سے 232تک کسی بھی مسلک کے بڑے عالم دین کا صرف عوام ترجمہ ہی دیکھ لیں۔ ہمارا مؤقف کتاب ’’ابر رحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ میں بہت واضح ہے جس کی آج تک بڑے پیمانے پر بڑے بڑے علماء و مفتیان کی طرف سے بہت تائید ہوئی ہے مگر ان کی تردید کی جرأت آج تک کوئی نہیں کرسکا ہے۔ الحمد للہ کافی لوگوں کے مسائل بھی حل ہوئے ہیں اور امید ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء اور دنیا بھر کی تمام ریاستوں کی طرف سے اس کو بھرپور پذیرائی ملے گی۔ ہم یہاں پھر چند مغالطے ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اسلام نے نکاح و طلاق کے معاشرتی تصورات کو کچھ اہم اصلاحات کیساتھ متعارف کرایا ہے، نکاح و طلاق کی سب سے زیادہ اہمیت نسب کی حفاظت اور جائز و ناجائز کا تصور ہے۔ نکاح و طلاق میں شوہر و بیوی کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ نکاح اور طلاق میں جاہلانہ رسم و رواج کا بالکل جڑ و بنیاد سے خاتمہ کیا گیا ہے مگر بد قسمتی سے اسلام اجنبی بن گیا ہے۔
ایک شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاق دیتا ہے اور پھر عدت کے آخر میں بیوی کی رضا مندی کے بغیر رجوع کرلیتا ہے ، اسی طرح سے تین مرتبہ بیوی کو عدت گزارنے پر مجبور کرتا ہے تو کیا یہ حق اس کو شریعت نے دیا ہے؟۔ کم عقل علماء و مفتیان کہتے ہیں کہ اللہ نے ہی شوہر کو یہ حق دیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کو ایک ہی عدت کا حق دیا ہے تین عدتوں کا نہیں۔ پھر اگر شوہر اپنی بیوی کو زندگی بھر طلاق نہیں دے تو بھی کم عقل علماء و مفتیان کہتے ہیں کہ یہ حق شوہر کو اللہ نے ہی دیا ہے۔ بیوی خلع لینا چاہتی ہو مگر شوہر طلاق نہ دے تو بھی یہ کم عقل طبقہ کہتا ہے کہ اللہ نے شوہر کو یہ حق دیا ہے۔ قرآن کی تعلیمات کو چھوڑنے کا سب سے بڑا ذمہ دار طبقہ یہ علماء و مفتیان ہیں جنکو عوام قرآن و سنت اور دین و شریعت کا محافظ سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے قیامت کے دن اپنی اُمت کے خلاف شکایت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے جس سے علماء و مفتیان اندازہ لگاسکتے ہیں۔
و قال رسول ربی ان قومی اتخذوا ھٰذ القرآن مہجورا ’’اوررسول ﷺ فرمائیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 224میں یہ نکتہ واضح کیا کہ اللہ کو اپنی یمین کیلئے مت استعمال کرو ڈھال کے طور پرکہ تم نیکی نہ کرو گے ، تقویٰ اختیار نہیں کرو گے اور لوگوں کے درمیان مصالحت نہ کرو گے۔۔۔ عربی میں یمین کی جمع اَیمان ہے ۔ دائیں ہاتھ کو یمین کہا جاتا ہے اور جب کوئی عہد و پیمان کرتا ہے ، حلف اٹھاتا ہے ، کسی چیز کو حرام قرار دیتا ہے تو یہ سب کے سب یمین کی صورتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے وضاحت یہ کی کہ اللہ کو نیکی ،تقویٰ اور مصالحت نہ کرنے کیلئے عہد و پیمان میں ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرو۔ یہ ایسی وضاحت ہے کہ جب بھی میاں بیوی آپس میں ملنے پر راضی ہوں تو کوئی یہ فتویٰ نہیں دے سکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے منع ہے ، شریعت رکاوٹ ہے ، فقہ رکاوٹ ہے ، حدیث رکاوٹ ہے اور قرآن رکاوٹ ہے۔ کم عقل علماء و مفتیان کی ذہنیت پر اس آیت میں اللہ نے بینڈ (پابندی)لگادی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بیوی کو غصہ میں ماں کہہ دیا جاتا تھا ، حرام کہہ دیا جاتا تھا اور تین طلاق دی جاتی تھی ، نہ ملنے کی قسم کھالی جاتی تھی اور پھر پشیمانی کے بعد بھی مذہب کو آڑ بنا کر میاں بیوی ایکدوسرے کے قریب نہیں آسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سرخ لکیر ان تمام فتوؤں پر خط تنسیخ بنا کر کھینچ دی کہ اب اللہ کو ان معاملات میں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دو۔ اللہ کو پتہ تھا کہ انسان بتوں کو بھی پوجتا ہے ، چاند، تارے اور سورج کا بھی پجاری بنتا ہے ، گائے کو بھی پوجتا ہے ، احبار و رہبان علماء و مشائخ کو بھی رب کے درجے پر فائز کردیتا ہے۔ ڈھیٹ انسان کیلئے ایک جملہ کافی نہیں تفصیل ضروری ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 225 میں واضح کردیا کہ اللہ تمہیں لغو یمین سے نہیں پکڑتا بلکہ دل کے گناہوں سے پکڑتا ہے۔ پھر 226میں یہ بھی بتادیا کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے نہ ملنے کی ٹھان لے تو اس کیلئے 4ماہ ہیں اور اگر مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور پھر آیت 227میں یہ بھی بتادیا کہ اگر پہلے سے طلاق کا عزم تھا تو اللہ سننے جاننے والا ہے۔ پھر آیت 228میں یہ بھی بتادیا کہ طلاق شدہ کیلئے انتظار کی مدت تین مراحل یا تین ماہ ہے اور اس مدت میں شوہر صلح کی شرط پر رجوع کے حقدار ہیں۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اس کا اظہار نہ کیا تو اللہ تعالیٰ دل کے اس گناہ پر ضرور پکڑے گا اسلئے کہ طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عدت 3 کے بجائے 4 ماہ ہے اور یہ عورت کیساتھ زیادتی ہے۔ جب طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنیکی صورت میں عورت کی عدت ایک ماہ بڑھ جائے اور اس پر بھی اللہ کی طرف سے واضح طور پر پکڑکی وعید سنائی گئی ہو تو پھر شوہر کو زندگی بھر عورت کو رلانے کا حق اللہ کی طرف سے کیسے ہوسکتا ہے؟۔
عدت 4ماہ کی ہو یا 3ماہ کی لیکن اللہ تعالیٰ نے رجوع کیلئے بار بار عدت ہی کا حوالہ دیا ہے۔ عدت میں بھی رجوع کیلئے باہمی رضا مندی اور صلح کی شرط کو واضح کیا ہے۔ قارئین ! خود ہی قرآن کی آیات کا ترجمہ ہی دیکھ لیں۔ سورہ بقرہ کی آیت 228میں تین مراحل کی عدت اس صورت میں ہے جب عورت کو حیض آتا ہو اور اگر حیض نہ آتا ہو یا اس میں کوئی مسئلہ ہو تو پھر 3ماہ کی عدت ہے۔ 3طہر و حیض کا مجموعہ بھی 3ماہ بنتا ہے۔ اگر عورت کو حمل ہو تو پھر عدت کے 3مراحل میں 3مرتبہ طلاق کا کوئی تصور نہیں بنتا، 228میں یہ بھی واضح ہے کہ میاں بیوی کے حقوق بالکل برابر ہیں البتہ مردوں کو ایک درجہ زیادہ حاصل ہے۔ یہ بڑا درجہ ہے کہ شوہر طلاق دیتا ہے اور عورت انتظار کی عدت گزار تی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت 229میں یہ واضح کیا ہے کہ طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ واضح فرمادیا کہ 3مرتبہ طلاق سے مراد حیض کی صورت میں طہر و حیض کے 3مراحل ہیں۔ بخاری کی کتاب التفسیر سورہ طلاق کے علاوہ کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں حضرت ابن عمرؓ کے حوالے سے اس وضاحت کا مختلف الفاظ کے ساتھ ذکر ہے۔ ایک صحابیؓ کے سوال کے جواب میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اگر معروف طریقے سے رجوع کا پروگرام نہ ہو تو پھر طلاق کی صورت میں تمہارے لئے بیوی سے کچھ بھی لینا حلال نہیں جو بھی تم نے انکو دیا ہے، البتہ اگر دونوں اس بات پر متفق ہوں کہ اگر کوئی دی ہوئی چیز ایسی ہو جس کو واپس نہ کیا جائے تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ اس چیز کو واپس کئے بغیر یہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو عورت کی طرف سے اس چیز کا فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرتا ہے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر یہ تمہید مکمل کرنے کے بعد اللہ نے آیت 230میں واضح کیا کہ پھر اگر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ علماء و مفتیان اپنی کم عقلی کی وجہ سے قرآن کی ساری حدود کو پامال کرتے ہوئے یہ ایک جملہ پکڑ لیتے ہیں اور باقی آگے پیچھے سے کچھ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اسکے بعد آیت 231اور 232میں بھی عدت کے بعد رجوع کی گنجائش کو واضح کیا گیا ہے۔ دیوبندی بریلوی اصول فقہ کی متفقہ کتاب ’’نور الانوار: ملا جیونؒ ‘‘ میں بھی حنفی مؤقف کی وضاحت ہے کہ آیت 230میں اس طلاق کا تعلق 229میں فدیہ کی صورت سے ہے ۔ علامہ ابن قیم ؒ نے بھی ’’زاد المعاد‘‘ میں حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے تفسیر لکھ دی ہے کہ اس طلاق کا تعلق سیاق و سباق کے مطابق مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں فدیہ دینے کی صورت سے ہے۔ تفسیر کے امام علامہ جاراللہ زمحشریؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ اور سب سے بڑھ کر قرآن کی سورہ طلاق میں بھی اسی مؤقف کی ہی زبردست تائید ہے۔ ابو داؤد شریف میں حضرت ابو رکانہؓ اور حضرت اُم رکانہؓ کے حوالے سے بھی سورہ طلاق کا حوالہ دیکر نبی کریم ﷺ نے اسی مؤقف کی تائید فرمائی ہے۔
سورہ بقرہ اور سورہ طلاق کی آیات اور احادیث میں یہ مؤقف بالکل واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق طہر و حیض کے 3مراحل سے ہے۔ رجوع کا تعلق باہمی رضامندی اور عدت کی تکمیل کے حوالے سے ہے۔ عدت کی تکمیل سے پہلے عورت دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی اور عدت کی تکمیل کے بعد دوسری جگہ بھی شادی کرسکتی ہے اور پہلے سے بھی وہ رجوع کرسکتی ہے اللہ تعالیٰ کی آیات رجوع کیلئے معاون ، مددگار اور ترغیب کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں نے قرآن و سنت کو باہمی رضامندی کی راہ میں رکاوٹ بنالیا ہے یہ ان کی اپنی کارستانی ہے۔ جس طرح سے صاحب ہدایہ ، فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ شامیہ میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کی باتیں انتہائی گمراہ کن، کافرانہ اور مردودانہ ہیں اور اگر کوئی اس میں شک کرتا ہے تو پھر رمضان کی 27ویں شب میں تمام ٹی وی چینلوں کے سامنے ان گمراہ کن کتابوں کو لاکر ان کی تردید کی جائے یا ان کی تائید کیلئے سورہ فاتحہ کو توبہ نعوذ باللہ من ذٰلک پیشاب سے لکھنے ۔۔۔جس طرح سے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی بات فقہ کی مستند کتابوں میں ہونے کے باوجود انتہائی غلط اور گمراہ کن ہے اسی طرح سے یہ بھی غلط ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف بیک وقت تین طلاق پر کسی عورت کی عزت لوٹنے کا فتویٰ دیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے جھگڑے کی صورت میں شوہر سے طلاق کے بعد رجوع کا حق بالکل ٹھیک چھینا تھا۔ قرآن ایک طلاق کے بعد بھی صلح کے بغیر شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیتا۔ ائمہ اربعہ نے ٹھیک فیصلہ کیا کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے تاکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکے۔ مگر باہمی رضامندی سے رجوع کا حق قرآن و سنت میں نہیں چھینا گیا تو کسی اور کو یہ حق کیسے ہے؟۔ ٹی وی پر کوئی بھی عالم و مفتی ہمار اچیلنج قبول کرلے۔

تین طلاق کا اہم ترین مسئلہ اور اس کا آسان حل

تین طلاق کے مسئلے پر نت نئے مسائل کھڑے ہوتے رہے ہیں۔تین مرتبہ طلاق پر قرآن وسنت کا ایک معروف ڈھانچہ ہے جسے کوئی بھی سمجھ سکتاہے اور دوسرا منکرات کا پیش خیمہ تھا جس کو بڑے لوگ آج تک بھی سمجھنے سمجھانے سے قاصر ہیں لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے معروف کو چھوڑکر منکر پر طلاق کے ایسے مسائل کھڑے کردئیے کہ فرشتے بھی حیران ہونگے کہ آخر ابلیس کی ضرورت کیا ہے۔مذہبی لبادے میں شیاطین الانس کے خناس ہی کافی ہیں جن سے قرآن کے آخری سورہ میں آخری لفظ سے پناہ مانگی گئی ہے۔اللہ نے قیامت کے دن رسول ﷺ کی طرف قرآن میں یہ شکایت درج کی وقال رسول رب ان قومی اتخذوا ہذاالقرآن مھجورا
’’اور رسولﷺ فرمائیں گے کہ میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
طلاق کے مسائل کا آغاز کرنے سے پہلے اللہ نے فرمایا کہ ’’ اللہ کو اپنے عہدوپیمان کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرو، کہ تم نیکی نہ کرو، تقویٰ اختیار نہ کرو اورعوام میں مصالحت نہ کراؤ‘‘، مگر افسوس کہ پھر بھی اللہ کا نام لیکر میاں بیوی میں جدائی کرائی جاتی ہے اور تقویٰ اختیار کرنے کے بجائے حلالہ کی لعنت پر مجبور کیا جاتاہے، میاں بیوی صلح چاہتے ہیں لیکن علماء ان کے درمیان اللہ کو استعمال کرکے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ ہماری بات سمجھ میں آئی ہے لیکن ڈھیٹ بن گئے ہیں۔
قرآن میں طلاق کا لفظ جہاں استعمال ہوا ہے، اس میں حقائق بھی بالکل واضح ہیں۔ پہلی عدت چار ماہ بیان ہوئی ہے لیکن اگر طلاق کا عزم تھا تو اس پر پکڑ بھی ہوگی اسلئے کہ طلاق کے اظہار سے مدت چار کے بجائے تین مراحل (طہروحیض)یاتین ماہ کی وضاحت ہے۔طلاق کی عدت بچے کی پیدائش، تین طہرو حیض اور تین ماہ کی وضاحت قرآن میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ عورت خلع لے تو پھر اس کی عدت ایک طہرو حیض ہے۔ غلام کی دو طلاقیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مرتبہ کے طلاق کا تعلق ایک طہرو حیض سے ہی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کو نبیﷺ نے سمجھایا کہ ایک طہر میں ہاتھ لگائے بغیر بیوی کو رکھ لینا ایک مرتبہ کی طلاق اور دوسرے طہرو حیض میں رکھ لینا دوسری مرتبہ کی طلاق ہے اور تیسرے طہر وحیض میں رکھنے یا ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دینا تیسری مرتبہ کی طلاق ہے۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ حمل اور تین ماہ کی عدت سے تین طلاق کا کوئی تعلق بھی نہیں ۔ سورۂ بقرہ اور سورہ طلاق کی آیات میں عدت کے حوالہ سے طلاق اور رجوع کی زبردست وضاحت ہے ۔ حنفی مکتبۂ فکر کی سوچ بہت عمدہ ہے اور اسی بنیاد پر طلاق کا مسئلہ میں نے قرآن وسنت کی روشنی میں روزِ روشن کی طرح حل دیکھا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میرا اللہ زندہ بھی کرتاہے اور مارتا بھی ہے تو خدائی کے دعویدار وقت کے بادشاہ نمرود نے جواب میں کہاتھا کہ یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ ایک گناہگار کو چھوڑ دیا اور بے گناہ کو قتل کردیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ ’’میرا رب مشرق سے سورج طلوع کرتا ہے اور مغرب میں غروب کردیتاہے۔تو جو انکار کر رہا تھا وہ مبہوت بن کر رہ گیا‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ کے استاذ امام حمادؒ کا مسلک یہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع نہیں ہوتی ہیں ، جبکہ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک یہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ میں بہت واضح طور سے یہ کہتا ہوں کہ حضرت عمرؓ نے بالکل ٹھیک فیصلہ فرمایا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور ائمہ مجتہدین ؒ کا مسلک بھی% 100 درست تھا۔ اس پر ایک اضافہ یہ بھی کرنا چاہیے کہ شوہر ایک طلاق بھی دے تو اس کو یک طرفہ غیرمشروط رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں۔ البتہ عورت عدت تک دوسری شادی نہ کرنے کی پابند ہے اور اگر دونوں کی طرف سے صلح کی شرط پر رجوع کا پروگرام ہو یا دونوں طرف سے ایک ایک رشتہ دار مصالحت کیلئے کردار ادا کرے تو پھر رجوع پر پابندی لگانے کی بات غلط ہے۔ طلاق واقع نہ ہونے کا فتویٰ دینا غلط اسلئے ہے کہ پھر مرد رجوع کرلے اور عورت راضی نہ ہو توعدت کے بعد بھی شادی نہیں کرسکتی۔
جس منکر صورت کی قرآن و احادیث میں بالکل گنجائش نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی پہلا شوہر دو طلاق کی ملکیت کا مالک رہتا ہے ، اس ملکیت سے دستبردار بھی نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ طلاق عدت ہی میں واقع ہوسکتی ہے، ایسی منکر ملکیت قرآن و سنت اور انسانی فطرت کے بالکل منافی ہے اور اسی منکر صورتحال کی بنیاد کسی ضعیف حدیث پر رکھی گئی ہے ، اس حقیقت سے بڑے بڑے علماء ومفتیان ناواقف ہونے کے باوجود اس سمجھ سے قاصر ہیں کہ فقہ اور اصولِ فقہ کے سارے مسائل اس منکر صورتحال کی پیداوار ہیں۔ جس میں قرآن اور سنت کے منافی عدت سے پہلے رجوع کا راستہ باہمی رضامندی سے بھی رک جاتا ہے اور عدت کی مدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی کچھ طلاقوں کی منکر ملکیت باقی رہتی ہے۔