عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات 4:اسلامی احکام اور خواتین کے حقوق کی وضاحت جب تک اللہ تعالیٰ کے احکام کی درست وضاحت عوام کے سامنے نہیں آئے گی یہ قوم کبھی بھی فلاح کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکے گی۔ جب اسلام نے لونڈی اور غلامی کے نظام کو حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی بنیادیں فراہم کی ہوں۔ سورۂ النساء آیت19میں پہلے کسی بھی خاتون کو خلع کا حق دیا ہو اور پھر آیت20،21میں شوہر کو طلاق کا حق دینے کیساتھ یہ وضاحت بھی کردی ہو کہ عورت کے مالی اور اخلاقی حقوق بالکل محفوظ ہوں۔ مگر اسکے برعکس عورت سے نہ صرف خلع کاحق چھین لیا بلکہ آیت کے مفہوم کو مسخ کرنے کی کوشش بھی کی۔ خواتین کو خلع کاحق نہ دینا لونڈی بنانے بلکہ زنا بالجبر کو قانونی طور پر رائج کرنے کے مترادف ہے، طلاق شدہ اور بیوہ خواتین کو اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کی قرآن نے اجازت دی اور کنواری کیلئے حدیث میں ولی کی اجازت ضروری ہے مگر لڑکی کا والد لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کرائے تو اس کو بھی حدیث میں ناجائز قرار دیا گیا ۔جیسے چیئرمین نیب کیلئے حکومت اور اپوزیشن لیڈر کی رضامندی اور اتفاق ضروری ہے ویسے کنواری لڑکی اور باپ کی مرضی ضروری قرار دینے سے بڑا اچھا اثر مرتب ہوتاہے۔ کورٹ میرج کا فتنہ قرآن وسنت کے احکام کو درست نہ سمجھنے کا شاخسانہ ہے۔ جب قرآن وسنت کے خلاف اپنی بیٹی اور بہن وغیرہ کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کروایا جائے تو زنا بالجبر سے بدتر اسلئے ہے کہ یہ چند لمحات کا جبر نہیں بلکہ زندگی بھر کا جبر ہے جو لونڈی بنانے سے بھی بدتر ہے، کم نہیں۔ خواتین کے حقوق قرآن وسنت سے اُجاگر ہوں تو علامہ اقبالؒ کے وہ اشعار عوام اور خواص کو اچھی طرح سمجھ میں آئیں جو’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے کہ شیطان کو آئین پیغمبرﷺ سے کیوں خوف تھا۔شوہر کو طلاق پر ایک درجہ اضافی دیا گیا ہے توحق مہر بھی بیوی کی رضامندی سے شوہر کے ذمہ ہے۔ اور فضل کی بنیادشوہر کا محافظ ہونا اور مال خرچ کرنے کی بنیاد پرہے۔ بیوی کھلائے پلائے تواس کی فضیلت ہے البتہ شوہر پھر بھی محافظت کی وجہ سے اپنی فضیلت رکھتا ہے۔ نکاح و طلاق اور خلع کے حوالہ سے قرآنی آیات ترجمہ و درست مفہوم کیساتھ دنیا کے سامنے آئیں تو ہمارا معاشرہ آئیڈل بن جائیگا ۔ خواتین جج، ڈاکٹر، پروفیسراور دیگر عہدوں پر پہنچ کر شادی اسلئے نہیں کرتیں کہ نکاح کے نام پرشوہر کی بدترین غلامی کا شکار نہیں ہونا چاہتی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ۔ خاتون افسر اور شوہر نوکر چاکر ہو تودونوں کی اپنی اپنی حیثیت پر اثر نہیں پڑیگا۔ عورت خلع لینا چاہے تو اسکی عدت بھی تین طہروحیض کے بجائے حدیث صحیحہ میں ایک حیض ہے۔ حدیث قرآن سے متصادم نہیں۔ عورت کو حمل ہو تو اسکی عدت بچے کی پیدائش ہے جسکا دورانیہ حیض سے کم بھی ہوسکتا ہے۔حدیث میں لونڈی کی عدت دو حیض قرار دیا گیا لیکن اس حدیث کوآیت سے متصادم سمجھنے کے بجائے حنفی مسلک کا معیار قرار دیا گیا۔ قرآن و سنت میں تضادہر گزنہیں ہے۔
عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات 3: غلامی سے چھٹکاراکے ذرائع اور محرکات عبد کا لفظ بندگی کیلئے بھی ہے اور غلامی کیلئے بھی۔اسلام نے عالم انسانیت کو روحانی طور پر جھوٹے معبودوں کی غلامی سے نجات دلادی تو دوسری طرف انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر آزادی کی نعمت عطاء کردی ۔ صحابہؓ نے اپنا نصب العین بتادیا کہ لنخرج العباد من عبادۃ العبادالی رب العباد ’’ہمارا کام یہ ہے کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالیں ربّ کی غلامی کی طرف لائیں‘‘۔ رسول اللہﷺ نے اپنے غلام کو بیٹا قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابیؓ کا نام عبدالکعبہ تھا تو تبدیل کردیا۔ انسان تو انسان اللہ کے گھر بیت اللہ کی بھی غلامی اور عبادت جائز نہیں۔یہ حقیقت تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد غلامی کی زندگی گزاررہی تھی۔ اسلام نے بتدریج ماحول بدل ڈالا۔ زمین کی مزارعت ختم کردی ۔ جس دین میں مزارعت جائز نہ ہو اس میں غلامی کا جواز کہاں رہتاہے۔ سود کو اللہ اور اسکے رسول کیساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا، سود میں انسان کی گردن کو مالی بوجھ میں جکڑا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر اموال وفصل میں غریبوں کیلئے عشروزکوٰۃ اور غیرمسلم رعایا پر خراج وٹیکس تھا۔ حاکموں کو رعایا کیلئے مالک نہیں خادم بنایا گیا۔ نبیﷺ نے سیدالقوم خادمھم کے الفاظ متعارف کروائے تاکہ سفر کی حالت میں کوئی اپنی امارت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ ایک صحابیؓ نے غصہ میں آکر لکڑیاں جمع کرکے آگ لگانے کے بعد اس میں کودنے کا حکم دیا لیکن صحابہؓ نے کہا کہ ’’ہم نے کودنے کیلئے نہیں آگ سے بچنے کیلئے اسلام قبول کیا ہے‘‘۔ مسلمانوں کی مساجد، بازاروں اور عوام کے درمیان بارودی جیکٹ میں پھٹنے والوں کی رگ رگ میں خوئے غلامی نہ سمائی ہوتی تو اپنے امیر کے غلط حکم کو کبھی نہ مانتے۔جس معاشرے میں غریب کی بیٹی کیساتھ زبردستی سے اجتماعی زیادتی ہو اور اس کا مداوا نہ ہوتو یہ اس سے زیادہ قابلِ افسوس ہے کہ کوئی بے گناہ خودکش حملے کی زد میں آئے۔ شہادت تو مطلوب و مقصود مؤمن ہے، حادثاتی موت کا شکار ہونیوالے شہید کی منزل پالیں تو اس سے بڑی کیا خوش قسمتی ہے لیکن جنسی زیادتی کا شکار ہوناکوئی ایسی قربانی نہیں جس پر فخر یا صبر کیا جاسکے۔ مردوں کی غلامی سے بدتر لونڈی بنانے کا نظام تھا۔ پنجرے میں پالے ہوئے پرندوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ بے گھر ہوکر بھوک سے بھی مرجائیں گے، انسانوں کو بھی دورِ جاہلیت میں غلامی کے بندھن سے نکالنے کی بتدریج ضرورت تھی،اسلام نے وہی کیا لیکن افسوس کہ ہم نے پھر خواتین کو لونڈی کی طرح جکڑا، مزارعت و سودی نظام کو پھر سے شروع کیا۔جس طرح آج کے دور میں سودی نظام کو اسلام کی شلوار پہنائی گئی ۔ اسی طرح سے مزارعت کو اسلام کی روح کے خلاف جواز بخشا گیا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام شافعیؒ ، امام مالکؒ متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے ، احادیث میں مزارعت کوسود و ناجائز قرار دیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’جو مرد کمائیں وہ مردوں کا حصہ ہے اور جو عورتیں کمائیں وہ عورتوں کا حصہ ہے‘‘۔ مزارعین خاندان کے خاندان غلام ہیں۔ قرآن و حدیث اور ائمہ مجتہدین کے بعد کونسے علماء نے اجتہاد کیا کہ ’’مزارعین سے ان کی محنت کی کمائی چھین لی جائے؟‘‘۔ اجتہاد کا دروازہ بھی بند تھا اور یہ قرآن وسنت کے مقابلے میں کوئی اجتہاد تھا یا دین میں تحریف کا ارتکاب تھا ؟۔ جیسے آج سودی نظام کو جواز پیش کرنے کا خود ساختہ حیلہ بنایا گیا ہے۔ ناجائز اختیار کی شکل میں حکمرانی، ناجائز منافع خوری کی شکل میں سرمایہ داری ، ناجائز مزارعت کی شکل میں جاگیرداری نے دنیا میں غلامی کے نت نئے ماڈل تیار کرلئے ہیں۔ خواتین کے حقوق غصب کرکے گھر کی لونڈی سے بدتر حالت پر پہنچادیا ہے۔ خواتین سے جبری زیادتی کو دنیا کا ہر شخص بہت برا سمجھتا ہے مگر اسکے عوامل اور وجوہات کو سمجھنے کیلئے تھوڑے سے معروضی حقائق کو بھی دیکھنا پڑیگا۔ جب تک اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائیں گے تو اس سے دنیا کو نجات بھی کبھی نہیں مل سکے گی۔ جنسی میلان انسانی فطرت ہے۔ عربی میں شجرہ درخت کو کہتے ہیں، شجرۂ نسب پشت درپشت سلسلہ نسب کو کہتے ہیں۔ انسانی شجرۂ نسب حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام تک پہنچتا ہے۔ حضرت ہابیل اور قابیل حضرت آدم ؑ کے بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا قابیل ناخلف ، نافرمان اور سرکش تھا، اس نے ناجائز جنسی میلان کی وجہ سے چھوٹے بھائی حضرت ہابیل ؑ کو قتل کیا، کوے سے دفن کا طریقہ سیکھا اور افسوس کیا کہ میں کوے جیسا بھی نہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دور میں بادشاہ مسافرکی بیوی چھین کر زیادتی کرتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی بیوی حضرت سارہؑ کا فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ بادشاہ کے حوالہ کرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں عزت کی حفاظت کیلئے دعاکی۔ بت توڑنے پر جھولے کے ذریعے آگ کے الاؤ میں جانے سے بڑی آزمائش یہ تھی۔ اللہ نے عزت کی حفاظت کی اور ساتھ میں حضرت حاجرہؑ بھی تحفہ میں دی جو کسی بادشاہ کی بیٹی تھی لیکن اس کو لونڈی بنایا گیا تھا۔ جاہل بادشاہ کا دوسروں کی تذلیل کا یہ انوکھا طریقہ تھا کہ بہن، بیٹی اور ماں کی عزت بحال رکھتے تھے مگر بیوی کی عزت دری کردیتے تھے تاکہ دوسرا پھر سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔ سوتیلے باپ، داماد اور بہنوئی کا رشتہ عزت کا ہوتاہے لیکن بیگم کیساتھ کسی دوسرے کی نسبت انسانی غیرت کا مسئلہ ہے ، بیگم بھی سوتن بہت مشکل سے برداشت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سارہ ؑ کے ضرر سے بچانے کیلئے حضرت حاجرہؑ کو وادئ غیر ذی زرع میں چھوڑنا پڑا، حضرت ابراہیم ؑ کے پڑپوتے حضرت یوسفؑ کو سوتیلے بھائیوں نے ویران کنوئیں میں ڈالا۔ عزیز مصر کی بیگم نے یوسف ؑ پر ہاتھ ڈالا لیکن مالک سے خیانت کرنے کو حضرت یوسف ؑ نے اللہ کے فضل سے مسترد کردیا۔ بچہ سازش کا پردہ چاک کرگیا مگر طاقتور نے غریب الوطن یوسف ؑ کو جیل میں ڈالا، جہاں سے خواب کی تعبیر نے اقتدار کی منزل تک پہنچایا۔ بنی اسرائیل میں بہت ملوک اور انبیاء کرامؑ آئے، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمان ؑ انبیاء تھے اور بادشاہ بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا مقابلہ کیا۔ فرعون کی آل نے بنی اسرائیل سے مظالم کی انتہاء کررکھی تھی۔ انکے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور خواتین کو لونڈیاں بنانے کیلئے زندہ رکھتے تھے، یہ بنی اسرائیل پر اللہ کی طرف سے سخت ترین آزمائش تھی۔ جس سے اللہ نے نجات دی۔ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث فرمایا جن کیلئے حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت دعا فرمائی۔اللہ نے لونڈیاں بنانا قرآن میں آلِ فرعون کا وظیفہ قرار دیا تھا تو رسول اللہﷺ کی بعثت اسلئے نہیں فرمائی تھی کہ آل فرعون کا مشن پورا کرنے بنی اسرائیل کو پھر سے لونڈیاں بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ جب دنیا کی اقوام کے ذہن میں یہ بات ہو کہ مذہبی طبقے نے قبضہ کرکے ان کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو لونڈی بناناہے تو وہ شدت پسند وں کی پشت پناہی کرکے مسلمانوں پر ہی مسلط کرنے کی سازش کرینگے تاکہ اسلام کا نام ونشان ہی دنیا سے مٹ جائے۔ سواتی طالبان کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں کہ انہوں نے زبردستی سے خواتین سے شادیاں کیں۔ البتہ وزیرستان کے طالبان نے یہ بڑا کارنامہ انجام دیا تھا کہ بعض خاندان میں روایتی بنیاد پر لڑکیوں کو زبردستی مرضی سے شادی نہیں کرنے دی جاتی تو انہوں نے اس غلط رسم کو توڑنے میں تھوڑاکردار ادا کیا۔ کوئی عورت کسی سے شادی پر راضی نہ ہو اور اس کو روایات کی بنیاد پر زبردستی سے مجبور کرنا لونڈی بنانے سے بھی زیادہ برا ہے۔ خلیل جبران ایک عیسائی فلاسفر اور مصلح تھے مگر ایسے لوگ رنگ ونسل اور مقامی روایات اور مذہبی رسم ورواج سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ لبنان کے عرب تھے مگر پھرمغرب میں بس گئے ، وہ کہتے ہیں کہ آسمانی شادی وہی ہے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کیساتھ باہمی رضامندی سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں۔ جہاں ماحول کا جبر مجبور رکھتا ہو شادی کاوہ تصور ناجائز اور غلط ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’دین وہ تھا جو عیسیٰ ؑ اور طہ محمد ﷺ لیکر آئے تھے ، بعد والوں نے اپنی خواہشات کو دین کا نام دیدیا‘‘۔ جو بات 20ویں صدی ہجری میں ایک عیسائی اصلاح پسند کہہ رہا تھا وہ ایک مسلمان عربی عالم ابوالعلاء معریٰ نے ہزار سال پہلے کہی تھی۔ لیکن ابوالعلاء وقت کی تلخیوں سے تنگ آکر گوشہ نشین بن گئے تھے اور معاشرے سے آخری حد تک بدظن ہوکر تفردات کا بھی شکار ہوگئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’اسلام نے لونڈیوں کا نظام ختم کردیا تھا لیکن عربوں نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو نیت خراب ہوگئی اور پھر لونڈیاں بنانا شروع کر دیں‘‘۔ قرآن میں اللہ نے بے نکاح خواتین ، نیک غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم دیا : وانکحوا الایامیٰ منکم و صالحین من عبادکم وایمائکم جب لونڈیوں کی شادی کرانے کا واضح حکم ہو تو لونڈیاں بنانے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اللہ نے محرم خواتین کی فہرست کے آخر میں فرمایا کہ والمحصنٰت من النساء الا ما ملکت ایمانکم ’’اورشادی شدہ بیگمات مگر جن سے معاہدہ کرنے کے تم مالک بن جاؤ‘‘۔ جن خواتین نے مکہ سے ہجرت کرکے اپنے شوہروں کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تو اللہ نے فرمایا کہ ’’ ان کو واپس مت لوٹاؤ، لاھن حل لھم ولاھم یحلون لھن یہ خواتین ان شوہروں کیلئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں، ان سے باہمی رضاکیساتھ حق مہر ادا کرکے نکاح بھی کرسکتے ہو‘‘۔وہ خواتین جو ہجرت نہ کرسکیں، مشرک شوہروں کیساتھ رہیں ، ان پر حکم کا اطلاق نہ ہوتاتھا۔ فتح مکہ کے موقع پرحضرت علیؓ نے اپنی بہن حضرت اُمّ ہانیؓ کے شوہر کو قتل کرنا چاہا تووہ رسولﷺ کے پاس پناہ کیلئے پہنچ گئیں، نبیﷺنے پناہ دیدی مگر وہ شخص مکہ چھوڑ کر نجران چلاگیا اور عیسائی بن گیا۔ نبیﷺ نے ام ہانیؓ سے نکاح کیلئے فرمایا مگر آپؓ نے کہا کہ میرے بچے ہیں اسلئے شادی نہیں کرسکتی، جس پر نبیﷺ نے آپؓ کی تعریف فرمائی اور پھر آیت میںیہ حکم نازل ہوا کہ ’’ جن رشتہ دار خواتین نے اسلام قبول کرنے کے بعد ہجرت نہیں کی ، ان سے آپﷺ نکاح نہ کریں اور پھر فرمایا کہ اسکے بعد کسی سے بھی نکاح نہ کریں خواہ وہ آپ کو بھلی لگے‘‘۔
عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات 2:برابری اور مساوات کی بنیاد پرعزتوں کی حفاظت اللہ نے فرمایا کہ ’’اور اللہ کیلئے عزت ہے اور اسکے رسول ﷺکیلئے ہے اور مؤمنوں کیلئے ہے‘‘۔ آیت کا مقصد ہے کہ دنیاوی رعب ودبدبہ، اسباب اور چاپلوسی کو عزت سمجھنے والے حقیقت کی آنکھیں کھولیں۔ ایک خاتون نے رسول اللہﷺ سے مجادلہ کیا جس کا ذکر سورۂ مجادلہ میں ہے تو رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی قراردیکر توہین رسالت کا حکم اللہ نے جاری نہیں کیا جیسا کہ انگریز نے توہین عدالت کیلئے رائج کررکھاہے بلکہ اللہ نے خاتونؓ کے احتجاج کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخش دیا۔ جب رسول اللہﷺ نے اپنی لونڈی حضرت ام المؤمنین ماریہ قبطیہؓ سے حرمت کی قسم کھالی تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ تحریم میں فرمایا کہ ’’ جس کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے، اس کواپنے اوپر کیوں حرام کررہے ہو ،اپنی ازواج کی مرضی تلاش کرنے کیلئے؟‘‘۔ نبیﷺ نے قیامت تک اس تعلیم وتربیت کو اپنے لئے انسلٹ (توہین) قرار نہیں دیا۔ بہت بڑی بد نصیبی ہے کہ ہم ایمان، علم اور تربیت کے فقدان کی وجہ سے معمولی معمولی باتوں کو توہین سمجھ کر ناراض ہوجاتے ہیں۔ خود ساختہ عزتوں کے پجاریوں کیلئے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ نبیﷺ نے بدر ی قیدیوں پر فدیہ لینے کا فیصلہ کیا تو اللہ نے صحابہ کو ڈانٹ پلائی، پھر اُحد کی شکست کا سخت بدلہ لینے کا فیصلہ کیا تو بھی اللہ نے منع فرمایا بلکہ معاف کرنے کا حکم بھی دیا۔ رئیس المنافقین ابن ابی کا جنازہ پڑھایا تو اللہ نے منع فرمایا۔ منافقین نے دھوکہ سے70قاریوں کو شہید کیا تو نبیﷺ نے اپنے دست مبارک انکے خلاف دعا کیلئے اٹھائے، جس پر اللہ نے منع فرمادیا۔ الغرض عدل اور اعتدال کیلئے قدم قدم پر رہنمائی سے اللہ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ کواعلیٰ ترین مقام ومنزلت سے نوازا۔لیکن ہمارے ہاں لوگ اپنی خواہشات کے پجاری ہیں۔ واقعات غلط پیش کرنے سے اسلام اجنبی اور بیگانہ بن گیا۔ اسلام کی حقیقت دنیا کے سامنے آجائے تو دنیا اس طرح اسلامی حکومت کے قیام پر متفق ہوگی جیسے کوئی خاتون اپنے لئے کسی شوہر کا انتخاب کرکے اپنا حق مہر بھی معاف کردیتی ہے اور شوہر خوشی خوشی اس کو کھا بھی سکتاہے۔ جب دنیا میں اسلامی نظام کی حقیقت کا راز کھل جائیگا تو کارٹونوں کے توہین آمیز خاکوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے دل کی بھڑاس نکالنے کے بجائے ساری دنیا کا ایک ایک فرد بلاتفریق رنگ ونسل اور مذہب ونظریہ نبیﷺ کی عظمت کو سلام کریگا۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خبر قرآن وسنت میں ہے ۔ عالمی اسلامی خلافت کا قیام عمل میں آئے تو یہی وہ مقام محمود ہوگا جس کا وعدہ اللہ نے نبیﷺ سے کیا ہے۔ جس کی دعا ہر آذان کے بعد تسلسل کیساتھ مانگی جارہی ہے اور اس پر بڑا اجروثواب ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اپنی تفسیر ’’المقام محمود‘‘ میں سورۂ قدر کے ضمن میں پنجاب، سندھ، کشمیر، بلوچستان ، فرنٹئیر اور افغانستان میں بسنے والی تمام قوموں کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں امامت کیلئے حقدار قراردیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مسلک حنفی کے ذریعے قرآنی تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھائیں گے تو اہل تشیع بھی اس کو قبول کرلیں گے ، کیونکہ امام ابوحنیفہؒ ائمہ اہلبیت ؒ کے شاگرد تھے اور مولانا سندھیؒ نے حضرت شاہ ولی اللہؒ کی فکر کو بنیاد بنایا تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن کا ترجمہ تھا۔ میرے بھائی پیرنثار احمد شاہ نے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودؒ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ میری لائبریری میں کونسی کتاب سب سے اچھی ہے ؟۔ مفتی محمود صاحبؒ نے قرآن اٹھاکر کہا کہ ’’یہ‘‘۔ کاش حقائق سامنے آجائیں۔ جان کے بدلے جان کی طرح عزت میں امتیاز نہیں ۔ کسی پاکدامن پرزنا کا بہتان بڑی ہتکِ عزت ہے۔ سورۂ نور میں زنا کی سزا 100 بہتان کی 80کوڑے ہیں۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگا تو یہ سزا مقرر کردی۔ اسلامی انقلاب کیلئے یہ آیت کافی ہے۔ کہاں اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا مقام اور کہاں حکمران طبقے کی عورتیں؟۔ آصف زرداری الطاف حسین اور نوازشریف سے اتحاد اپنی اور ان کی بیٹیوں کا نام لیکر کرتا ہے۔ معمولی بات پر اربوں روپے میں ہتک عزت کا دعویٰ ہوتاہے اور غریب کی عزت ٹکے کی بھی نہیں جنکے نام پر سیاست ہوتی ہے ، ان کی عزتوں کو لوٹا بھی جاتا ہے تو مجرموں کو تحفظ ملتاہے۔ اسلئے کہ طاقتور کے ذریعے سے سیاستدان نے ووٹ اور نوٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ 100کوڑوں سے بے حیائی کا خاتمہ، 80کوڑوں سے بہتانوں کا تدارک ہے۔ قیمت لگے تو عزت عزت نہیں بلکہ برائے فروخت فحش اداکاروں کا فریم ورک ہے۔ غریب آدمی کیلئے 10لاکھ کیا10ہزار بھی بڑی سزا اسلئے ہے کہ یہ اس کی ماہانہ تنخواہ ہے جس سے گھر کا چولہا جلتا ہے، دن کا روزہ رکھ سکتاہے لیکن مہینے کا فاقہ اسکے بچے برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ امیر کیلئے 10 لاکھ، 10کروڑ اور 10ارب بھی بڑی سزا نہیں ۔ جبکہ کوڑوں کی سزا سب کیلئے برابر ہے۔تعلیمی اداروں کا کام صرف تعلیم نہیں تربیت بھی ہے۔ تادیبی کاروائی کے نام پر کیڈٹ کالجوں میں سخت سے سخت سزاؤں پر پابندی لگائی جائے لیکن جب عدالت میں بڑے لیڈر معذرت اور غیر مشروط معافی مانگ لیں تو اس سے قوم کی تربیت نہ ہوگی، سخت غلطی کرنے پر مرغا بناکر چھترول کیا جائے اور عوام کی ایک جماعت کو اس پر گواہ بھی بنایا جائے جس کیلئے میڈیا بہتر پلیٹ فارم ہے تو قوم کو سیکھنے کیلئے بہت کچھ ملے گا۔ آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ کے دروازے کو توڑا، پی ٹی وی پر حملہ کیا، پولیس افسر کی پٹائی لگائی اور نوازشریف نے پارلیمنٹ میں قوم کے سامنے جھوٹ بکا اور سپریم کورٹ کے ججوں نے اسلئے نا اہل قراردیا کہ بیچارے اسکی نااہلیت کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے تو بڑے لیڈروں کو قوم کے سامنے مرغا بنانے سے قیامت نہ ٹوٹے گی بلکہ قوم غلطیوں پر سزا کھانے سے بہت کچھ سیکھے گی۔ خورشید شاہ نے پارلیمنٹ میں درست کہا کہ وزیروں کو غیر حاضری پر کھڑا رکھ کر سزا دی جائے، جس کی حکومتی رکن نے تائید کرنے کے باوجود یہ جواب دیا کہ ’’ٹانگ کا درد ختم نہ ہوگا بلکہ ٹانگ درد کی عادی بن جائے گی‘‘۔کیا فوج پارلیمنٹ کو ڈسپلن سکھائے گی؟۔ غریب بیچارہ شک کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنتا ہے، قید و بند کی زندگی گزارتا ہے اور لیڈری چمکانے والے جرائم پیشہ عناصر آزاد پھرتے ہیں،اس سے قوم کی تربیت نہ ہوگی،بڑوں کو جرم پرسزا دینی ہوگی۔انگریز گیا مگر اسکا نظام نہ گیا، اسلام میں اہلیت کا تصور تھا، انگریز میرٹ کا لحاظ رکھتا ہوگا مگر ہمارے ہاں رشوت اور اقرباء پروری نے میرٹ کا خاتمہ کردیا۔ مجرم کو انگریز A کلاس B کلاس Cکلاس غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے دیتاتھا، یہی اسٹیٹس کو ہے،عمران خان انگریز کی مثال دیکر اسٹیٹس کوختم کرناچاہتاہے۔ جب بہتان لگانے پر عملی سزاؤں سے بالکل برابری اور مساوات کا تصور قائم ہوگا تو عوام کے اندر خود اعتمادی کا تصور اُجاگر ہوگا۔ غریب بھی سمجھے گا کہ معاشرے میں ہماری بھی کوئی عزت ہے۔ بڑے لوگوں کو سرِ عام سزا دی جائے تو جھوٹ اور بہتانوں کا طوفان تھم سکے گا، نام نہادسیاسی رہنماؤں نے انتہائی منافقانہ وکالت سے قوم کا بیڑہ غرق کردیاہے اور اس سے قوم کا مستقبل تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف جارہاہے۔ پیشہ ور غنڈوں کے ذریعے خوف وہراس اوراچھے لوگوں کو غنڈہ گردی پر لگادینا زیادہ برا ہے۔ عیسائی جمعدار پاکدامن خاتوں کی عزت کسی بڑے عالم، مفتی اور حکمران کی بیوی، بیٹی ، ماں اور بہن سے کم نہیں۔ مسلمان اس سے نکاح کرسکتاہے اور اس پر بہتان کی سزا اُم المؤمنین نبیﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہؓپر بہتان جتنی ہے جو خلیفۂ اول ابوبکرؓ کی صاحبزادی تھیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے بہتان پر قریبی رشتہ دار حضرت مسطحؓ سے آئندہ مالی تعاون نہ کرنے کی قسم کھائی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میں سے جو اولی الفضل یعنی مالدار ہیں، ان کیلئے مناسب نہیں کہ غریبوں سے دست کش رہنے کی قسم کھائیں۔ اپنے احسان کا سلسلہ جاری رکھیں۔ غلام احمد پرویز نے حدیث کے واقعے کا انکار کرکے اسلامی مساوات کی نفی اورانگریز کی غلامانہ بیوروکریسی کی عکاسی کی اور فرقہ وارانہ منافرت کا بیج بویا کہ’’ یہ شیعہ عجم کی سازش تھی کہ حضرت عائشہؓ پر بہتان کا واقعہ گھڑ لیا، یہ کسی عام خاتون کا واقعہ تھا۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگایا جاتا تو اذیت رسولؐ کے مرتکب واجب القتل ہوتے‘‘۔سول بیورو کریسی میں موجود اکثریت نے پرویز کا فلسفہ قبول کیاکہ افسر وماتحت کی عزت برابر نہیں تو اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان کو عام خاتون کے برابر کیسے قرار دیا جائے؟۔ ان کی میم صاحبہ غریب کی بچیوں پر ظلم وتشدد کی انتہاء کردیں اور غریب کی بچی کو آہ کرنے کی جرأت اور سسکی لینے کی اجازت بھی نہ ہو تو وہ اسلامی مساوات کا نظام علماء اور غریب غرباء کے سامنے کیسے قبول کریں گے؟۔ درباری علماء تو درباری ہوتے ہیں مگر علماء حق کو صداقت کا علم بلند کرتے ہوئے اسلامی مساوات کا نعرہ بلند کرنا ہوگا۔ پھر دیکھوگے کہ اسلامی لبادے میں منافقت کرنیوالا اسلام کی مخالفت کریگا اور جن کو ملحد وبے دین،کمیونسٹ اور سیکولر کہا جاتاہے وہی اسلامی مساوات کا جھنڈا بلند کرنے میں اسلامی تحریک کے بالکل شانہ بشانہ ہونگے۔ اسلام کی غیر فطری تشریح کی گئی ۔ بہتان لگانے والے چار سے زیادہ ہوں تب بھی ان کو سزا دی جائے گی۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں میں سر فہرست عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا لیکن مشہور شاعر حضرت حسّانؓ ، مسطحؓ، حمنہؓ اور زیدؓ بن عارفہ بھی اس میں شامل تھے جن کو 80،80کوڑوں کی سزائیں دی گئیں۔ سزا میں مخلص صحابہؓ اور منافقؓ برابر تھے۔ بہتان میں عدد پورا کرنے کو ثبوت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ سزا میں اصل بات یہ ہے کہ مجرم سے جرم سرزد ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ سے خاتون نے شکایت کردی کہ اس کیساتھ فلاں نے زبردستی سے زنا کیا تو رسول ﷺ نے اس کو پکڑ نے اور سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ یہ نہیں کیا کہ اس مظلوم خاتون سے گواہ مانگے ہوں اور چار گواہ پیش نہ کرسکنے پر اُلٹا اس کو بہتان کے 80کوڑے مارنے کا حکم جاری کیا ہو۔ اسلام اور فطرت سے جاہلوں نے ’’الٹاچور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کی قانون سازی کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ’’ دریا کے کنارے کتا بھی پیاس سے مرجائے تو میرا مواخذہ ہوگا‘‘۔ اور یہاں روز روز کسی حواء کی بیٹی جبری زیادتی سے اپنی عزت کھو بیٹھتی ہے ، شنوائی تو دور کی بات ہے ان کو بہتان کی سزا بھی نام نہاد اسلامی قانونِ شہادت کے نام پر کھانی پڑتی ہے۔ قرآن میں خواتین کیساتھ زیادتی کرنے پر قتل کی وضاحت ہے کہ اللہ کی سنت پہلے سے رہی ہے کہ فاینما ثقفوا فقتلوا تقیلا ’’جہاں بھی پائے گئے قتل کئے گئے‘‘۔ نبیﷺ نے اس پر عمل بھی کیا ۔عورت سے زبردستی کی زیادتی کوئی غیرت مند قوم برداشت نہیں کرسکتی ۔بد قسمتی سے حقائق کے برعکس نام نہاد اسلامی قوانین بنائے گئے اسلئے تو سپریم کورٹ کو شریعت کورٹ پر ترجیح دی گئی ہے۔ ججوں نے بھی موجودہ قوانین اور اصلاحات پر بالکل عدم اعتماد کا اظہار کرنا شروع کردیا ۔فللہ الحمد والشکر جل جلالہ عم نوالہ وصل وسلم علی حبیبہ مذہبی جماعتیں دینی علوم سے جاہل ہیں، کسی کی آلۂ کار بن چکی ہیں اور طاقتور کے مقابلہ میں غریب کیلئے کھڑا ہونا اپنے مفاد کے خلاف سمجھتی ہیں اسلئے علماء حق اور عام لوگوں کو غریب کے حقوق کیلئے اسلامی مساوات کا نعرہ لگانا ہوگا۔ اس نعرے میں غیر مسلم اقلیت یا اکثریت کیخلاف کوئی تعصب نہیں، انسانی فطرت کے مطابق یہ وہ مساوات ہے جس پر پوری دنیا کے انسان بلاتفریق مذہب، رنگ، نسل اور علاقہ سب کے سب متفق ہوسکتے ہیں بلکہ دنیا بھر کے لاچار ، مظلوم اور بے بس طبقے ہی نہیں سب ہی کے دل وروح کی آواز ہے جسکی گونج پاکستان سے اُٹھ کر مشرق مغرب اور شمال جنوب کے تمام برِ اعظموں میں یکساں مقبولیت کے ساتھ سنائی دیگی اور یہی شیطان کی سازشوں کو مکڑی کے جالوں کی طرح اُڑادیگی۔حقائق سامنے لائے جائیں تو اسلامی خلافت کیلئے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی اندازہے مشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات 1: جان کے بدلے جان اورناک، کان، دانت….. اللہ نے فرمایا: یاایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ،الحر بالحر والعبد بالعبد والانثیٰ بالانثیٰ ،فمن عفی لہ من اخیہ شئی فاتباع بالمعروف وادا ء الیہ باحسان، ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ فمن اعتدیٰ بعد ذلک فلہ عذاب الیم O و لکم فی القصاص حیاۃ ےٰأولی الاباب لعلکم تتقون O اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا بدلہ ہے آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام ، عورت کے بدلے عورت، پس جس کو اپنے بھائی کی طرف سے کوئی چیز معاف کردی جائے۔ تو معروف کااتباع کرنا ہے اور اس کی طرف دیت احسن طریقہ سے ادا کرنا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے۔ اسکے بعد جو حد سے تجاوز کرے تو اس کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ،اے عقل رکھنے والو!، شاید تم تقویٰ اختیار کرلو۔( البقرہ: آیت178,9) دور جاہلیت میں طاقتور اور کمزور کے درمیان مقتول کے بدلے حد سے تجاوز تھا اسلئے آزاد، غلام اور خواتین کا بدلہ اپنی حدود میں محدود کردیا گیا۔ آزاد قبائل میں طالبان کی آمد سے پہلے امن تھا۔ اسلحہ کی بھرمار میں جھگڑا ہوتا مگر قتل سے گریز ہوتا اور وجہ قصاص کا قانون تھا۔ طاقتور کمزور کو اسلئے نہ مارسکتا تھا کہ پولیس، عدالت اور غلامی کیلئے بننے والے قوانین کے نقاب میں چھپ سکے۔ پھرطالبان نے بد امنی کی انتہاء کردی اور اب پاک فوج نے مثالی امن قائم کررکھا ہے۔ قرآن کے اندرجان میں تفریق نہیں۔ تورات کے حوالہ سے اللہ نے فرمایا کہ ’’ہم نے ان پر لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان،آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان،دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ قصاص (برابر) ہے۔ جو اللہ کے نازل کردہ احکام پر فیصلہ نہیں دیتے تو وہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔(المائدہ:45) ہمارا آئین پابند ہے کہ قرآن وسنت سے متصادم قانون نہ بنے ،قرآنی آیات کے مطابق قانون بنے۔ طاقتور اور کمزور میں تمیز کئے بغیر قاتل کو قتل کیا جائے، ناک اور کان کاٹنے والوں کے ناک کان کاٹے جائیں ، آنکھ پھوڑنے والے کی آنکھ پھوڑی جائے، دانت توڑنے والے کا دانت توڑا جائے ،ٹانگ پر گولی مارنے والے کی ٹانگ پر گولی ماری جائے، ڈنڈے سے سر توڑنے والے کا ڈنڈے سے سر توڑا جائے، پیٹ میں چھرا گھونپ دینے پر چھرا گھونپ دیا جائے تو سب بدمعاشوں کو راستے پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ناک کاٹنے پر جیل کی سزا سے جرم نہ رُکے گا۔ جیل جانیوالا قید پر فخر کریگا لیکن جب بدلے میں ناک کاٹی جائے تو مجرم چلتا پھرتا عبرت کا نشان بن جائیگا اور جرم بالکل رُک جائیگا۔ سب انسانی جان برابر ہیں۔ یہودنے یہ حکم بدل ڈالا اورغیریہود کے بدلے یہودی کے قتل کو نکال دیا، یہی جمہور مالکی، شافعی ، حنبلی نے کہا کہ مسلمان کو غیر مسلم کے بدلے میں قتل نہ کیا جائیگامگر امام ابوحنیفہؒ نے قرآن کے واضح حکم میں تحریف کو ناکام بنادیا۔ رسول اللہﷺ نے ریاستِ مدینہ میں یہود کیساتھ میثاق مدینہ کا آئین بنایا۔ تب بھی یہی قانون مساوات کی بنیاد تھا۔ طاقتور کمزور کو حیثیت نہیں دیتا لیکن ریاست کا کام ہے کہ کمزور کا بدلہ طاقتور سے لے ۔ صحابیؓ کے بیٹے نے دوسرے صحابیؓ کے بیٹے کا دانت توڑ دیا۔ صحابیؓ نے کہا کہ ’’اللہ کی قسم! میں بیٹے کے دانت کو اسکے دانت کے بدلے توڑنے نہ دونگا۔ نبیﷺ نے قرآن کے مطابق اسکے بیٹے کا دانت توڑنا تھا۔ مگر دوسرے صحابیؓ نے خود ہی معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کے نزدیک اتنے پسندیدہ ہوتے ہیں کہ اگر وہ قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کرلیتاہے۔(بخاری) یہ انسانی فطرت ہے کہ آخری حد تک اپنی ذات اور اقرباء کو بچائے مگر حکومت کا فرض بنتاہے کہ وہ مساوات قائم کرے۔ صحابیؓ نے انسانی جبلت کے مطابق سزا سے مقدور بھر بچنے کی کوشش کی ۔ اس وجہ سے صحابیؓ پر طعن کرنا غلط ہے۔فتح مکہ کے موقع پر مشرک کیساتھ نکاح میں رہنے پر حضرت علیؓ نے بہن کو مجرم سمجھا جس نے مؤمن ہوکرمشرک سے لاتعلقی اور ہجرت کا فرض پورا نہ کیا مگرقتل اسکاشوہر کرناچاہا،اس وجہ سے حضرت علیؓ پر طعن کرنا غلط ہوگا۔ قصاص سے انکار کے باوجود نبیﷺ نے اس صحابیؓ کو اس قدر مقدس قرار دیا کہ اس کی ناجائز قسم کو بھی اللہ کے ہاں مقبولیت کا درجہ دیا؟۔ حالانکہ یہ تعجب کی بات نہیں!۔ دانت توڑنے سے بڑا جرم قتل ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قومی عصبیت میں غلطی سے ایک شخص کو قتل کیا ،پھر پتہ چلا کہ اپنی قوم کا فرد ہی غلط ہے یہ تو قرآن کا قصہ ہے۔ ’’آگ لینے گئے اور پیغمبری مل گئی‘‘ بلکہ قتل کرکے گئے اور پیغمبری مل گئی۔ قافلہ لینے گئے اور بدری جہاد کی فضیلت مل گئی۔ ہوسکتاہے کہ یہود کے علماء نے اسی واقعہ کی وجہ سے اللہ کے قانون کو بدل ڈالا ہو کہ یہودی کو غیر یہودی کے بدلے قتل نہیں کیا جائیگا۔ اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ مجرم کومعصومیت کے لبادے میں معاف نہ کرے بلکہ قتل کے بدلے قتل، اعضاء کے بدلے اعضاء اور زخموں کے بدلے قصاص کا یکساں اور برابری کا قانون نافذ کردے۔ قرآن و احادیث کے واقعات کا پسِ منظر سمجھنے کی ضرورت ہے اور کسی واقعہ کے مخصوص پسِ منظر کو چھوڑ کر عمومی قوانین سے انحراف کرنا بہت بڑی گمراہی ہے۔ فرعون کو بھی مولانا طارق جمیل نے عادل کہا ، حالانکہ ہزاروں بچوں کو اقتدار کی خاطر قتل کرنیوالا عادل نہیں ہوسکتا۔ حضرت موسی ؑ سے غلطی کی بنیاد پر اس شخص کا قتل ہونا اس پسِ منظر میں انوکھی بات نہ تھی۔ اگرایک عادلانہ نظام ہوتا تو حضرت موسیٰ کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ لواحقین دیت لیکر معاف کردیتے۔ ہزاروں بے انصافیوں کے سامنے یہ چھوٹی بات ہرگز التفات کے لائق نہ تھی مگر اللہ نے پھر بھی اس کو فروگزاشت نہیں کیا ۔فرمایاکہ ’’اے موسیٰ ڈرو مت، بیشک ہمارے مقرر ہونیوالے رسول نہیں ڈرتے مگر جس نے ظلم کیا ‘‘۔ عدل وانصاف میں جان کے بدلے جان ، اعضاء کے بدلے اعضاء اور زخموں کا بدلہ صرف اسلامی ممالک نہیں بلکہ دنیا بھر کی ضرورت ہے۔امریکہ اوریورپ میں پھر سفیدفام دہشت گردوں کا فتنہ سیاہ فام اور مسلمانوں کیخلاف اٹھ کھڑا ہے۔ درندے اور گزندے نما انسان کا تعلق جہاں سے ہو، حکمران طبقے سے ہو یا عوام سے، کسی رنگ ونسل کی بنیاد پر ہو یا مذہب و ریاست کی بنیاد پر قاتل کو قتل کی سزا دی جائے تو روئے زمین پر امن قائم ہوگا۔ کوئی پُرامن اور سلیم الفطرت انسان اللہ کے قانونِ فطرت کا انکار نہیں کرسکتا جو اللہ نے تورات کے حوالہ سے قرآن میں لکھ دیاہے۔ اچھے اچھے بھی خود کو قانون کے حوالہ نہیں کرتے مگر قیام امن کا راستہ یہی ہے۔ یہود، نصاریٰ، مسلمان اور تمام مذاہب اور لادین طبقات اس پر متفق ہوکر بہتر ین ریاست وجود میں لاسکتے ہیں۔ یہی وہ خلافت ہوگی جس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔جس کا ذکر قرآن کی آیات اور احادیث میں واضح طور سے موجود ہے۔ قتل کے بدلے قتل نہ ہو بلکہ قاتل تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعت اسلامی، جہادی تنظیموں اور کسی بھی لبادے میں منہ چھپائے تو دنیا میں عدل کا نظام قائم نہیں ہوسکتا۔ حدیث کی روایت میں 100افراد کو قتل کرنیوالے کے بارے میں معافی کی بات درست اسلئے ہے کہ وہ معافی کیلئے ہرقیمت چکانے پر تیار تھا۔ اگر عدل وانصاف کا نظام ہوتا اور اقرارِ جرم پر اس کو قتل کردیا جاتا تو اس کی توبہ قبول ہونے میں فرشتوں میں جھگڑا اور اللہ کیلئے زمین کی پیمائش بدلنے کی ضرورت نہ تھی اور نہ مزید قتل کی نوبت نہ آتی۔اگرمذہبی جماعتیں بھی نہ صرف قاتلوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوں بلکہ وہ کھلم کھلا دہشتگردوں کو ہم عقیدہ ،ہم مسلک اور ہم مشرب سمجھ کر انکو سپورٹ کرتے ہوں، ریاستی ادارے ان پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے انکی حفاظت پر مأمور ہوں، مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت کے رہنما کایہ زورِ خطابت فون کی گھنٹیوں پر نشرہو کہ ’’زنا کو گناہ سمجھتے ہیں، نماز کا چھوڑ دینا زنا سے بڑا جرم ہے۔رشوت کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں، نماز کا چھوڑدینا رشوت سے بڑا جرم ہے۔ قتل کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم ہے‘‘۔ کہاوت ہے کہ ’’کتیا چوروں سے مل گئی ،پہرہ دیوے کون‘‘۔ریاست بھی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ مولانا مودودی نے لکھا کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنیوالا مرتد ہے اور وجہ یہ ہے کہ حدیث ہے کہ’’ جو حج کی استطاعت رکھتا ہو اور حج نہ کرے تو اس کی مرضی ہے کہ عیسائی بن کر مرے یا یہودی بن کر‘‘۔ علماء نے کہا کہ فقہ کی کتابوں میں حج نہ کرنیوالے کو فاسق اور حج کے منکر کو کافر کہاگیا۔ مولانا مودودی ؒ نے کہا کہ فقہ کے مقابلے میں حدیث کو مانتا ہوں جب مرتد کوواجب القتل قرار دیا جائے توکئی واجب القتل ہونگے۔ حالانکہ قرآن میں متعدد بار کفر اور اسلام قبول کرنے کی تکرار پر بھی قتل کا حکم نہ دیا گیا۔ احادیث میں بڑوں کی توقیر نہ کرنے والے، چھوٹوں پر رحم نہ کھانے والے کے بارے میں بھی کہا گیا کہ وہ ہم میں سے نہیں۔ ملاوٹ کرنیوالے وغیرہ کیلئے بھی یہی الفاظ ہیں،آپس میں لڑنے پر بھی کفر کا فتویٰ ہے لیکن قرآن میں لڑنے کے باوجود نہ صرف مؤمن قرار دیا گیاہے بلکہ صلح کا بھی حکم ہے۔ فقہ میں بے نمازی کی سزا پر قتل سے لیکر زدو کوب اور قید تک مختلف سزائیں مقررہیں۔ فقہ سمجھ کا نام ہے فضول بکواس دیکھنے اور اس کا رٹا لگانے کا نہیں۔ صحابہؓ کی عظمت پر لڑنا جھگڑنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان اسلامی احکام کو زندہ کرنا مسائل کا حل ہے جن پر عمل کرکے صحابہ کرامؓ اسلام کی عظمت رفتہ کے تابندہ ستارے بن گئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کا اختلاف جن غلط فہمیوں کا نتیجہ تھا اور حق وناحق کا فیصلہ بھی روشن دلائل سے ہوسکتاہے لیکن شیعہ سنی کا وہ کاروباری مذہبی طبقہ کون راستے پر لائیگا جنکے بچے تعصبات کی آگ بھڑکانے سے پل رہے ہیں۔حضرت عائشہؓ پر بہتان لگا تو مصیبت میں کس نے ساتھ دیا؟ لیکن اللہ نے وحی کے ذریعے بری کرنے کا اعلان فرمایا، حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ پر قرآن میں تحت الشجرہ بیعت الرضوان میں حضرت علیؓبھی تھے۔ آخری ایام میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ پچھتائے کہ’’ غیرجانبداری کا فیصلہ غلط تھا، مجھے حضرت علیؓ کا ساتھ دینا چاہیے تھا‘‘۔
خلفاء راشدین حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓاور حضرت حسنؓ کا 30 سالہ دورمبارک تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دور کو بہترین قرار دیا تھا۔ مدینہ کے سات فقہاء میں حضرت ابوبکرؓ کا پوتا اور نواسہ بھی شامل تھا۔پوتا حضرت قاسمؒ بن محمد بن حضرت ابوبکرؓ اور نواسہ عروہؒ بن زبیرؓ تھے۔پھر تبع تابعین کا دورتھا ۔ائمہ مجتہدینؒ کو ہم چار اماموں کے نام سے جانتے ہیں۔حضرت عمر فاروق اعظمؓ اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے بارے میں بھرپور طریقے سے وضاحت مسلم اُمہ کے اتحاد کیلئے سنگِ میل ہوگی۔ان حضرات کی غلط وکالت نے بیڑہ غرق کردیا۔ خانہ کعبہ سے پہلے قبلہ اول بیت المقدس تھا۔ تحویل قبلہ کی طرح بہت سے احکام بدل گئے جن پر پہلے عمل کیا گیا ۔ سخت ترین طلاق یہ تھی کہ شوہر بیوی کو ماں سے تشبیہ دیتا تھا۔ جسکے بعد حلالہ سے بھی حلال نہ ہوتی تھی۔ سورۂ مجادلہ میں اس کی اللہ نے بھرپور وضاحت کردی۔ اہل کتاب کے ہاں یہ رائج تھا کہ شادی شدہ کو زنا کرنے پر سنگسار کردیا جاتا اور کنواروں کو 100 کوڑے ، ساتھ میں ایک سال جلاوطنی کی سزا دی جاتی تھی۔ سائنس کے ذریعے دنیا کو زمین سے آسمان پر پہنچانا آسان مگر مذہبی اور دنیاوی رسوم کو ملیامیٹ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ قرآن میں بیوی کو بدکاری پر دیکھنے میں لُعان کاحکم ہے مگر قتل کردیا جاتا ہے۔ مذہبی احکام اپنے اصل کے اعتبار سے کچھ ہوتے مگر پھر مذہبی طبقوں کی طرف سے تحریف اور تبدیلی کا شکار ہوجاتے تھے۔ یہودنے لعان کے بجائے قتل کیلئے حکم بدل ڈلا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کی کٹر مذہبی ذہنیت کا مقابلہ کچھ اس طرح سے کیا کہ ’’ زنا کے مرتکب شادی شدہ کو سنگسار کیا جانے لگا تو فرمایا کہ سب سے پہلا پتھروہ مارے جس نے خود زنا نہیں کیا ہو‘‘۔( بائبل) یہ کام حضرت عیسیٰ ؑ خود بھی کرسکتے تھے مگر مقصد اس خود ساختہ مذہبی حد سے جان چھڑانا تھا۔ان کے پاس اقتدار نہیں تھا اسلئے حکمت سے کام لیا تھا۔ رسول اللہﷺ کے سامنے ایک یہودی اپنا مقدمہ لیکر آیا کہ میراغیر شادی شدہ لڑکا دوسرے کی بیوی سے زنا کا مرتکب ہوا۔ میں نے 100بکریوں پر فیصلہ کیا۔ پھر علماء نے بتایا کہ تمہارے لڑکے کو 100کوڑے اور سال جلاوطنی کی سزا ہوگی اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائیگا۔ یہود نے آیت رجم کو انگلی سے چھپایا مگر نشاندہی ہوگئی تو رسول ﷺ نے اس پر عمل کروادیا۔ ایک مسلم خاتون نے اپنے اوپر زنا کی گواہی دی، رسول ﷺ نے سالوں سال ٹالا مگر خاتون آخر پھر حاضر ہوئی کہ’’بچہ دودھ نہیں روٹی سے پل رہاہے‘‘۔ نبیﷺ نے پھرسنگساری کا حکم دیا۔ یہود ونصاریٰ رجم کے حکم پر عمل نہیں کرتے تھے، بیوی کو زنا پر ماردینے کا عام رواج تھا۔ لُعان کاحکم نازل ہوا تب بھی حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ ’’میں قرآن کے حکم پر عمل نہیں کروں گا ، بیوی کو قتل کردوں گا ‘‘۔ حکم سے اس طرح واضح انکار یہود نے بھی حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے کیا ہوگا۔ توراۃ میں رجم سے مراد سنگسار کرنا نہیں بلکہ لعن طعن کرنا ہی ہوگا۔ جیسے شیطان رجیم ہے کیونکہ بوڑھا 100کوڑے سے مر سکتا ہے اور دین میں قتل کرنے کی اس طرح سے اجازت ہوتی تو لُعان کرنے کا حکم نہ اترتا۔ خاتونؓ سنگسار ہوئی توحضرت عمرؓ نے مذمت کی کہ اپنی اور خاندان کی تذلیل کردی ۔نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ اس خاتونؓ کی توبہ ایسی قبول ہے کہ اگر سب مدینہ والوں پر اسکو بانٹ دیا جائے تو سب کے گناہ معاف ہوں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ مجرم خود کو قانون کے حوالہ کرکے سزا بھگت لے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔سزا پر عمل ہوتو دوسرے اس سے عبرت بھی پکڑتے ہیں۔ پھر ایک شخصؓ نے خود پر گواہی دی اور بار بار اقرارِ جرم پر اس کو بھی سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا۔ وہ بھاگ رہا تھا تو حضرت عمرؓ نے جانور کی بڑی ہڈی مار کر قتل کیا۔ نبیﷺ کو بتایا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ بھاگ رہا تھا تو جانے دیتے‘‘۔ حضرت عمرؓکو احساس ہوا کہ غلط ہوگیا۔ پھر کسی نے چار مرتبہ اقرارِ جرم کیا تو نماز کا وقت ہوگیا، نماز کے بعدجب کسی میں ہمت نہ تھی کہ سنگسار کرنے کے حکم پر عمل کیلئے آواز اٹھاتاتو حضرت عمرؓ نے ہمت کرکے عرض کیا کہ اس شخص نے اقرار کرلیا ، اس کو سنگسار کیا جائے تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’اس کو جانے دو، اس نے نماز پڑھ لی اور توبہ کی ہے‘‘۔یہ چند واقعات ہیں، سورۂ نور میں زنا پر100کوڑے کی سزا واضح ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ صحابی سے پوچھا گیا کہ ’’ رسول ﷺ نے اسکے بعدکسی کو سنگسار کیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ‘‘۔ جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ سورۂ نور میں کوڑوں کے حکم کے بعد اس پر عمل نہیں ہوا۔ یہ حکمت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہودی خاتون اور مسلمان خاتون کے بعد مسلمان مرد پر بھی سنگساری کا یکساں حکم جاری فرمایا۔ غیرمسلم اور مسلم پر برابری کی سطح،اس طرح مرد اور عورت پر برابری کی سطح نے معاشرے کے چہرے سے منافقت کا کردار ختم کردیا تھا۔ ہمارے یہاں تو سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ عورت کنواری ہو تو بھی ماری جاتی ہے اور اگر مرد شادی شدہ ہو تو بھی نہیں مارا جاتاہے۔ الزام کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیتوں کی بستیاں جلادی جاتی ہیں اور ایکدوسرے پر شرک وگستاخی اور واجب القتل کے فتوے لگاگر بھی دُم پیچھے سے دبائی جاتی ہے اور اس منافقانہ کردار کی وجہ سے لوگ معاشرے میں مذہبی طبقات سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ سنگساری کا عمل رُک گیا مگرغیرشادی شدہ کو100کوڑے کے بعد سال کیلئے جلاوطن کرنے پر حنفی مسلک اور باقی تینوں مسلکوں میں اختلاف رہا۔ چونکہ قرآن میں اس حکم کا ذکر نہیں اسلئے حنفی مسلک میں ایک سال کی جلاوطنی شرعی حد نہیں ، اگر نبیﷺ ، خلفاء راشدینؓ سے اس پر عمل کا ثبوت ہو تب بھی یہ تعزیز ہے جو حکمران اپنی طرف سے تجویز کرتا ہے لیکن حد اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔حنفی مسلک روایت پرست اور تقلیدی ذہنیت کا حامل نہیں ۔ قرآن کے مقابلہ میں روایات کو ترجیح نہ دینا تقلید واجتہانہیں اور نہ ہی دین سے انحراف بلکہ اصولِ دین کا تقاضہ ہے اسلئے امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ’’ کوئی حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہ میرا مذہب ہے‘‘۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ ’’قرآن اور اہلبیت ایکدوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ حدیث‘‘۔ امامیہ کہتے ہیں کہ’’ اہلبیت سے مراد موجودہ دور میں عرصہ ہزار سال سے غائب امام مہدی ہیں‘‘۔ اسلئے ان کو اس الزام کا سامنا کرنا پڑتاہے کہ وہ اصلی قرآن کو بھی امام کیساتھ پردہ غیب میں سمجھتے ہیں۔ اسماعیلی ، بوہری اور حوثی بھی اس عقیدے کی وجہ سے امامیہ شیعہ کو گمراہ سمجھتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی طرح امام بھی غائب نہیں ہوسکتا ،جبکہ امامیہ شیعہ ان دوسرے شیعہ فرقوں کو اس طرح کافر سمجھتے ہیں جس طرح مسلمان قادیانیوں کو سمجھتے ہیں۔قائداعظم آغا خانی تھے اور دیوبندی نے جنازہ پڑھایا تھا۔ اہلحدیث حنفی کو بدترین گمراہ سمجھتے ہیں جبکہ ’’ جماعت المسلمین ‘‘ اہلحدیث کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ دیوبند سے الگ ہونیوالے پنج پیری علماء دیوبند کو توحید میں ڈھیلا سمجھتے ہیں اور مسعود عثمانی اور کمال عثمانی والے پنج پیری کو بھی خائن سمجھتے ہیں۔ اس تفریق وانتشار کے پیچھے علم سے زیادہ جہالت کارفرماہے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ رسولﷺ کا وصال ہوا تو بڑے آدمی کا کسی عورت کی چھاتی سے لگ کر دودھ پینے کی10آیات بکری نے کھاکر ضائع کردیں۔ حنفی اس حدیث کو قرآن میں تحریف کا ذریعہ سمجھتے ہیں اسلئے مسترد کرتے ہیں۔ اہلحدیث کو یہ حدیث اپنے مسلک کو سپورٹ کرنے کیلئے اچھی لگتی ہے ۔ان کا مسلک ہے کہ’’بڑا آدمی عورت کا دودھ پی سکتا ہے ، اسکے بعد وہ عورت سے پردہ نہ کرے۔ البتہ اس سے شادی کرسکتا ہے‘‘۔اہلحدیث کا یہ مسلک فطرت اور قرآن وسنت سے متصادم ہے مگر بدترین تقلیدی ذہن والے اہلحدیث حقائق کو نہیں سمجھتے ہیں۔ کیا حدیث سے قرآن کی تحریف لازم آتی ہو تب بھی اس کو مانا جائیگا؟۔ اگر آیات ضائع ہونے کیلئے بکری نے کام دکھایا تو پھر کیا باقی بچا؟۔ اہل تشیع کی کسی کتاب میں نہیں کہ’’ قرآن چالیس پارے کاتھا، دس پارے بکری کے کھانے سے ضائع ہوگئے‘‘۔ مگر بے تکا الزام لگادیا گیا اور اہلحدیث اور درسِ نظامی پڑھانے والے دیوبندی بریلوی خود چور نکلے کہ ’’دس آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں‘‘ ۔ عقل کے اعتبار سے کمزور ڈٹ گئے کہ ’’ہم اہلحدیث ہیں‘‘ اور یہ نہیں سوچا کہ ’’ جب اجنبی آدمی سے عورت کیلئے قرآن میں چھاتی کا ابھار چھپانا بھی حکم ہے تو عورت چھاتی سے پھر دودھ کیسے پلاسکتی ہے؟۔ لمبی لمبی داڑھیوں والوں سے کوئی بعید نہیں کہ ہم مسلک خواتین کو آمادہ کرلیں کہ ضائع شدہ آیات اور احادیث کی روایات کی سنت کو زندہ کرنے کیلئے ان کی گود میں لیٹ کر چھاتیوں سے دودھ پینا شروع کردیں۔ اگر دنیا میں اس سنت پر عمل کا آغاز ہوا تو عاشورہ محرم کے اندر شیعوں کے ماتمی جلوس کو لوگ بھول جائیں گے۔ امام ابوحنیفہؒ نے جمہور کیخلاف کھڑے ہوکر اُمت کو گمراہی پر جمع ہونے سے بچایا تھا۔ شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک یہ ہے کہ مرد چار مرتبہ گواہی دے تب اس پر شرعی حد نافذ کی جائے گی اور عورت ایک مرتبہ بھی گواہی دے تو حد جاری کرنے کیلئے کافی ہے کیونکہ یہ مستند حدیث میں مذکور ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ کے مسلک والے کہتے ہیں کہ ایک روایت کا ذکر مسئلہ حل کرنے کیلئے کافی نہیں، اس عورت کے واقعہ کی تفصیل موجود ہے حد ٹالنے کیلئے کتنی بار لوٹادیا گیا؟، کس قدر غلط بات ہے کہ مرد کیلئے چار مرتبہ اقرار اور عورت کیلئے ایک بار اقرار کافی ہو؟۔ حالانکہ دوسری طرف عورت کی گواہی بھی آدھی مانتے ہو؟، حد کیلئے پھر عورت کی گواہی سرے سے قابلِ قبول بھی نہیں تو عورت کا 4 مرتبہ اقرار بھی قابل قبول نہ ہونا چاہیے تھا یا اس کی طرف سے 8مرتبہ اقرار ضروری ہونا چاہیے تھا۔ اہلحدیث کی طرح اس جمہور کا بھی عقل کا پیمانہ کچھ زیادہ لائق اعتماد نہیں تھا البتہ اہلحدیث اور انکے اخلاص پر شک کی گنجائش نہیں ۔علم، شعور و آگہی کی دنیا میں وہ سب اختلافات ختم ہوسکتے ہیں جو جہالت اور تعصبات کا شاخسانہ ہیں۔آج کے اہلحدیث ہوشیار بن گئے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تقلید کا بندھن توڑنے کی کوشش کی اور دیوبند ی اکابرؒ ان کی راہ پر چلنا چاہتے تھے کہ بریلوی مکتب کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلویؒ کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی۔ حسام الحرمین کے خوف سے المہند علی المفند کتاب اپنی وضاحت کیلئے لکھنا پڑگئی تھی۔ جس طرح دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث سب شاہ ولی اللہؒ پر اعتماد کرتے ہیں مگر سب نے ایکدوسرے سے راہیں جدا کرلی ہیں۔ ازل سے یہی کچھ ہوتا آیاہے۔ سب سے زیادہ قابل اعتماد ذریعہ قرآن پھر سنت ہے، خلافت راشدہ، امام ابوحنیفہ ؒ اور اکابرؒ کا سلسلہ بھی معتبرتھامگر عملی طورپر قرآن وسنت کا راستہ ہی مشعلِ راہ ہوسکتا ہے ۔ لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے پہلے تمام معبودوں کی نفی پھر اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں۔مذہبی پیشواء جب قرآن وسنت کی رہنمائی کا حق ادا کریں تو علماء سے بہتر مخلوق نہیں جو انبیاء ؑ کے وراث ہیں اور اگر اپنی ذات اور اپنے بڑوں کو معبود کا درجہ دیں تو مخلوق میں بدترین ہیں۔ علماء حق اور علماء سوء کا سلسلہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی واضح شکل اختیار کرتا رہاہے۔زکوٰۃ کے مسئلہ سے سود کو معاوضہ کے تحت جواز بخشنے کی حد تک سرکاری مرغے مفتی منیب و تقی عثمانی آج بھی موجودہیں۔ حضرت عمرؓ کے دور میں فتوحات کے دروازے کھل گئے، بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوگئے۔ خوشحالی میں انسان کو جنت میں بھی نافرمانی سوجھ جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے وقت کے بدلتے تیور دیکھے تو منبر پر چڑھ کر کہا کہ ’’ زنا کا کیس آیا تو سنگسار کردونگا، اگرمجھے ڈرنہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کیاہے تو میں رجم کا حکم قرآن میں لکھ دیتا‘‘ ۔ یہ بخاری میں ہے اور بخاری قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب ہے۔ پھر بصرہ کے گورنرمغیرہؓ ابن شعبہؓ کے خلاف 4افراد زنا کی گواہی دینے کیلئے آگئے۔ ایک نے گواہی دی تو حضرت عمرؓ کا رنگ اڑگیا۔ دوسرے نے گواہی دی تو حضرت عمرؓ بہت پریشان ہوگئے اور تیسرے کی گواہی کے بعد حضرت عمرؓ کی پریشانی انتہاء تک پہنچ گئی۔ چوتھا آیا تو حضرت عمرؓ نے اظہار کیا کہ ہوسکتاہے کہ اسکے ذریعہ اللہ اس صحابیؓ رسولؐ کو اس ذلت سے بچائے۔ جب گواہی دینے لگا تو حضرت عمرؓ نے دھاڑ کر کہا کہ ’’بتا ،تیرے پاس کیا ہے؟‘‘۔ راوی نے کہا وہ اس زور کی دھاڑ تھی کہ میں بیہوش ہونے کے قریب پہنچ گیا۔چوتھے گواہ زیاد بن ابوسفیانؓ نے کہا کہ ’’ میں نے دیکھا کہ اس عورت کے پاؤں صاحب کے کاندھے پر گدھے کے کانوں کی طرح پڑے ہوئے تھے اور اسکی چوتڑ نظر آرہی تھی‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ گواہی نامکمل ہے اور باقی تینوں کو بہتان لگانے کی پاداش میں80،80کوڑے لگادئیے۔ پھر ان کو پیشکش کردی کہ’’ اگر تم کہو کہ جھوٹ بولا تھا تو تمہاری گواہی آئندہ قبول کی جائے گی‘‘۔ ان 4گواہوں میں صرف ایک صحابیؓ حضرت ابوبکرہؓ تھے۔ وہ ڈٹ گئے کہ میں نے سچ کہا تھا، آئندہ میری گواہی قبول نہ کی جائے تومجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ 2گواہوں نے جھوٹ کا اعتراف کرلیا کہ ایسی گواہی بھاڑ میں جائے جہاں لینے کے دینے پڑیں اوریہ واقعہ فقہاء کے درمیان قانون سازی کی بنیاد بن گیا۔ بخاری میں بھی گواہوں کے ناموں کی وضاحت ہے۔ حنفی مسلک میں حضرت عمرؓ کی پیشکش غلط تھی اسلئے جھوٹی گواہی ہو توآئندہ قرآنی آیت کے مطابق کبھی بھی اس کی گواہی قبول نہ کی جائے گی جبکہ باقی تین امام کے نزدیک حضرت عمرؓ کا مؤقف درست تھا، توبہ کے بعد گواہی قبول کی جائیگی۔ واقعہ بظاہر اتنا شرمناک ہے کہ پارلیمنٹ میں زیربحث نہیں آسکتا۔ اس واقعہ اور قانون سازی پر ائمہ مجتہدینؒ کیا حضرت عمرؓ کا دفاع کرنا بھی انتہائی دشوار تھا، اسلئے علماء اسلامی قانون سازی کیلئے اس واقعہ کا ذکر نہیں کرسکتے ہیں لیکن گدھے کی طرح آنکھیں بند کرکے سڑک پر کھڑا ہونے سے رواں ٹریفک کی زد سے خود کو نہیں بچا سکتے ہیں۔ یہود کے نقش قدم پر چل کر کمثل الحمار یحمل اسفارا کی روش سے ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے سنگساری کے حوالہ سے جو کچھ تعلیم وتربیت پائی تھی اسکا یہی نتیجہ ہوسکتا تھا کہ سنگسار کرنے کے بجائے ہوشیاری دکھانے والوں کو ہی سبق سکھایا جائے۔ امام شافعیؒ ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے کہا ہوگا کہ حضرت عمرؓ پر لعن طعن غلط ہے یہ اس تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا جو رسولﷺ سے سیکھا تھا۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے حضرت عمرؓ کی طرف سے گواہوں کو اس طرح کی پیشکش کو غلط سمجھا۔مگر مسلکوں کی تقلید کرنے والوں کی بالکل ناجائز وکالت کا نتیجہ ہے کہ بعد والوں نے قانون سازی کو غلط رنگ دیدیا تھا۔پاکستان کا آئین قرآن و سنت کا پابند ہے اور قرآن کی درست وضاحت علماء کا فرض اورقانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے،پارلیمنٹ علماء کو بلواکر آغاز کرے۔ زنا کرنے پر سنگساری کی سزا کا حکم قرآن میں نہیں۔ اگر شادی شدہ وکنوارے مرد اور عورت کی زنا پر100کوڑے لگانے کے حکم کی ترویج اور اشاعت کی جائے تو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل سے بچایا جاسکتاہے اور طاقتورمرد حضرات پر حد نافذ کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکتاہے اور پھر لوگ اپنے اوپر حد نافذ کروانے کا حوصلہ بھی کرینگے۔ شیعہ ماتمی جلوس میں زنجیر زنی سے نہیں خود پر شرعی حد نافذ کرکے محرم کی 10تاریخ کو حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ ، حضرت حسینؓ ، امام جعفر صادقؒ اور امام مہدئ غائب کی خوشنودی حاصل کرینگے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا طبقہ بھی اپنے گناہگار ہونے کے اعترافی قصیدے گانے کیساتھ ساتھ شرعی حد جاری کرکے ایمان کی دولت کا ثبوت دینگے۔ صحابہؓ نے شرعی حدود کے اجراء کیلئے خود کو پیش کردیا تھا۔طالبان دوسروں پر خود کش کرنے کے بجائے خود پر شرعی حد جاری کروائیں تواسلام دنیا میں پھر سے زندہ وتابندہ ہوگا۔ بیت المقدس پر قابض اسرائیلی یہودیوں کے سامنے مسلمان خود کو پیش کریں کہ توراۃ کے مطابق ہم پر سنگساری کا حکم جاری کریں تو یہود فلسطین چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ۔ یہ بھول جائیں کہ امریکہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے ، پاکستان سے اسکا گلہ یہی ہوسکتا ہے کہ افغانستان کی طرح دہشت گردوں کے جتھے تم بھی پالو۔ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گرد ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ پالنے کیلئے امداد فراہم کی تھی۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اس کا ثبوت ہے جو دہشت گردوں کا مدر پلانٹ تھا، بینظیر بھٹو کو اسلئے راستے سے ہٹایا گیا کہ اس نے انکشاف کیا تھا کہ دہشت گردوں کو 2سو ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ چوہدری نثار نے غیر ملکیوں کو رجسٹریشن کا پابند بنادیا اسلئے راستے سے ہٹادیا گیا۔ حامد کرزئی کو امریکہ کی پالیسی سمجھ میں آئی تو تنقید شروع کی اورپھر ہٹادیا گیا۔جنرل راحیل اور جنرل باجوہ کے کردار کے بعد امریکہ ہم سے ناراض ہے۔ حضرت عمرؓ کا کردار کسی کیلئے قابلِ تقلید یا تنقیدہے مگرآپ کی جو تعریف خالص اہل تشیع کی کتاب ’’ نہج البلاغہ‘‘ میں حضرت علیؓ نے کی، اس سے زیادہ کے سنی بھی قائل نہیں۔ یہ شکر ہے کہ اللہ کے احکام میں سب سے زیادہ سخت حضرت عمرؓ کے ہاتھ سے اللہ نے سنگساری کی سزا میں آخری کیل ٹھونک دی ۔ حضرت علیؓ کی یہ بات خلوص پر مبنی تھی کہ ’’اگر موقع ملے تو یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں پر اپنی اپنی کتابوں کا حکم نافذ کردیں‘‘۔ ہوسکتاہے کہ مسلمانوں پر سنگسارکرنے کا نہیں اللہ کی کتاب کے مطابق 100کوڑے لگانے کا حکم جاری کرتے۔ لیکن اللہ کو یہ بھی منظور نہیں تھااسلئے کہ توراۃ میں بھی سنگسار کرنے کا غیرشرعی اور غیرفطری حکم نہ تھا ۔ جب قرآن میں وضاحت نہیں تھی تو بھی رسول ﷺ اس پر عمل سے حتی الامکان پہلو تہی برت رہے تھے اور جب قرآن میں وضاحت آگئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں تفصیل سے بتایا کہ قرآن محفوظ ہے اور یہود نے توراۃ میں تحریف کی ہے۔ اگر وہ اپنی کتاب سے فیصلہ کرنے کا کہہ دیں تب بھی ان کی کتاب سے ان کو فیصلہ نہ دیں اسلئے کہ جو تمہارے پاس ہے اس کی وجہ سے اپنی کتاب سے بھی فتنہ میں پڑجاؤگے۔ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا ولی نہ بناؤ۔۔۔‘‘۔ ولی سے مراد فیصلے کا اختیاردینا ہے۔ جیسے کنواری لڑکی کا ولی اس کا باپ ہوتاہے۔ دوست بنانا مراد نہیں۔ اہل کتاب سے شادی کی اجازت ہے تو اس سے بڑھ کر کیا دوستی ہوسکتی ہے۔ مسلمان یہود ونصاریٰ کو اپنے فیصلے کا اختیار دینگے تو وہ ان پر سنگساری کا حکم نافذ کردینگے۔ مسلمان کے پاس یہود ونصاریٰ بھی آئیں گے تو قرآن کے مطابق ان کو سنگسار نہیں کیا جائیگا بلکہ کوڑے مارے جائیں گے۔ آج دنیا میں داعش خواتین پر سنگسار ی کا حکم جاری کرکے اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ علماء اُٹھ کر حقائق کی وضاحت کردیں۔داعش والے طالبان کی طرح علماء کی غلط تعبیر سے نادانستہ استعمال ہورہے ہیں۔ قرآن میں شادی شدہ لونڈی کیلئے نصف سزا کا حکم ہے اور نبی کریمﷺ کی ازواج کو دوگنی سزا کا حکم بتایا گیاہے۔ 100کا نصف 50اور دگنا200ہے لیکن سنگساری میں نصف اور دگنے کا کوئی تصور نہیں ۔ قرآن نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ’’ اللہ نے اہل کتاب کو اپنی جانوں کے قتل اور جلاوطنی کی سزا کا حکم نہیں دیا ،یہ انکا خود ساختہ حکم تھا‘‘۔ اللہ نے اس بات کو واضح کردیا کہ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پریہ حرام کردیا گیا ہے‘‘ ۔ اس آیت میں واضح ہے کہ نکاح کرنے والے مردو عورت اور مشرکوں سے اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے باوجود ان سے زندگی کا حق چھین لینے کا حکم نہیں دیا ۔ علماء نے لکھا کہ’’ اس آیت کا حکم اس آیت سے منسوخ ہے جس میں بے نکاح خواتین، صالح غلام اور لونڈیوں کے نکاح کرانے کا حکم دیا گیاہے کیونکہ اس میں زنا کار اور اچھے سب شامل ہیں‘‘۔ حالانکہ زناکاری کے ماحول سے بچنے کیلئے ہی اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیاہے۔اور اگر مسلک کا تقاضہ ہوتا تو سورۂ بقرہ کی آیت اور حلالہ سے متعلق روایت کو منسوخ قرار دینا مناسب سمجھا جاتا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اپنی طرف سے اسلام کو قابلِ عمل بنانے کی تجاویز پیش کی ہیں چنانچہ لکھاہے کہ ’’سنگساری کا حکم توراۃ میں تعزیر تھا ۔ ان تک اس حکم کو محدود کیا جائے جن کی ازدواجی زندگی بحال ہو، طلاق شدہ اور بیوہ اور جن مردوں کی بیوی طلاق یامرچکی ہو ان کو سنگسار نہ کیا جائے‘‘۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے توراۃ کی آیت کو لفظی اور معنوی اعتبار سے من گھڑت قرار دیا۔ بوڑھے اور بوڑھی پر رجم کا حکم ہو تواس کی زد میں جوان کنوارے اور شادی شدہ نہیں آتے اور بوڑھے کنوارے زد میں آتے ہیں (تدوین القرآن) جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ نے ’’تدوین القرآن‘‘ پر اپنا مقدمہ بھی لکھ دیاہے۔نصاب تعلیم کی غلطیوں اور کفر کو مان کر بھی حق قبول نہ کرنازیادتی ہے۔ اگر اللہ کی حدود کو قائم کرنے والا حکمران فاسق وفاجر ، منافق اورکافر ہو تب بھی عدل کا نظام قائم ہوگا مگرکوئی بڑا پارسا، متقی و پرہیزگار اور عالم فاضل بھی حکمران ہو تو اللہ کے حدود کو قائم نہ کرنیوالا عدل وانصاف کے تقاضے پر پورا نہیں اترسکتا۔ یہ بحث چھوڑ دی جائے کہ کون خلیفہ تھا اور کون ہو، اسلام کی اصل تصویر سامنے لائی جائے توخلافت قائم ہوگی۔جس دن ہم نے قرآن وسنت کے معاشرتی احکام کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا تو پارلیمنٹ اور عدلیہ سے بھی قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کا سلسلہ شروع ہوگا۔ سورۂ بقرہ آیت230میں جس طرح حلال نہ ہونے کا ذکر ہے اس سے قبل اور بعد کی آیات میں عدت میں رجوع ، مرحلہ وار طلاقوں اور مکمل پسِ منظر کا بھی ذکرہے، سورۂ طلاق اور ابوداؤد کی روایت میں وضاحت ہے ۔ ساغرصدیقی نے سلطان باہو ؒ کے اشعار کاترجمہ کیا جس میں علم اور علماء کو بہرہ گونگا قرار دے دیا تھا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی
مولانا فضل الرحمن پرتضحیک کے نشتر چلتے ہیں،کہاگیاکہ وہ گذشتہ حکومت کی بیوہ، موجودہ کی منکوحہ اور آنے والی کی منگیتر ہے۔ نہیں یہ عزتدار کیلئے ہے وہ تو داشتہ کی طرح ہے۔ مولانا فضل الرحمن خود کو منصور سمجھ کر انا الحق کا نعرہ لگائے تو شبلی کا پھول بھی برداشت کرنا ہوگا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا ! اب واپس آجاؤ ، عزت کا وہ راستہ نہیں جس پر آپ چل پڑے
ہاروت ماروت فرشتے تھے جو لوگوں کو جھاڑ پھونک سکھاتے تھے، میاں اور بیوی میں جسکے ذریعے تفریق ہوجاتی اور وہ بتاتے تھے کہ ہم فتنہ ہیں اور اس کی تاثیر سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا مگر اللہ کے حکم سے۔ جن علماء نے قرآن وسنت کا تقاضہ سمجھ کر طلاق کے غلط تصورسے میاں بیوی میں جدائی کرائی، وہ محترم ہیں لیکن اگر قرآن وسنت میں ایسا نہ ہو اور حقائق واضح ہونے کے بعد بھی ناجائز تفریق اور حلالہ کا فتویٰ جاری رکھیں تو ایسی ہٹ دھرمی پر حکومت، اپوزیشن اور میڈیا اپنا کردار ادا کریں۔ جنگ گروپ کے مفتی حسام اللہ شریفی صاحب کی طرف سے طلاق اور حلالہ کے مسئلے پر وضاحتیں آچکی ہیں،اسلئے GEOپر یہ اہم مسئلہ ضرور اٹھایا جائے، تاکہ اخبارِ جہاں اور روزنامہ جنگ میں غلطیوں کا ازالہ ہوجائے۔ARY، آج، دنیا، بول، پاک، نیوز1،24، 92 ،DAWNودیگر چینلوں پر اس اہم ا یشو کو اٹھانے کی ضرورت ہے۔ علماء کرام نے پہلے تائید کرکے ثابت کیا کہ وہ بہت زیادہ قابل احترام ہیں۔ ہمیں کوئی شوق نہیں کہ بڑے علماء ومفتیان کی تذلیل کریں مگر جن خواتین کو ناجائز حلالے کے فتوے دئیے جاتے ہیں وہ ہماری مسلمان مائیں، بہنیں، بیٹیاں ہیں۔ ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ خاموش رہیں۔علماء کرام کو خاموشی کا روزہ توڑنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم سپریم کورٹ کی عدالت میں فریق بناکر طلب کریں گے۔ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ میں البقرہ:230 کا حوالہ ہے مگر متصل آیت:229 میں دو مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ چھوڑنے کا بھی ذکرہے اورباہوش وحواس دونوں اور فیصلہ کرانے والوں کی طرف سے جدائی کی وضاحت ہے، عورت کی طرف فدیہ حلال نہ ہونے کے باوجوداس صورت میں جائز ہے کہ دونوں کو آئندہ رابطہ کرنے پر اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا خوف ہو۔ اس طلاق کا تعلق اس سے متصل صورتحال سے ہے ۔ علماء اللہ کے حدود کو توڑکر فتویٰ دیتے ہیں۔ آیات228اور231،232میں بھی عدت کے اندر اور عدت کے بعد باہمی رضا سے رجوع کی وضاحت ہے اور حدیث میں عدت کے اندر حلالہ کے انتظار کا فتوی نہیں۔ ایک طرف دارالعلوم کراچی کی شائع کردہ کتابوں میں شادی بیاہ میں لفافے دینے کی رسم کو سود اور اسکے 70سے زیادہ وبال اور گناہوں میں کم ازکم گناہ ماں کیساتھ زنا کے برابر قرار دیاگیاہے،جسکے خلاف انکے اپنے عقیدت مند بھی عمل پیرا ہیں۔ معروف تاجر محمود رنگون والا کے ہاں بھی یہ رسم جاری ہے، جہاں اشرف میمن کی مفتی رفیع عثمانی سے ملاقات ہوئی۔
دوسری طرف سارے مدارس والے موجودہ نام نہاد اسلامی بینکاری کو سود قرار دیتے ہیں لیکن یہ لوگ معاوضہ لیکر جواز کے فتوے جاری کئے ہوئے ہیں۔ ضمیر کے سوداگرجادوگر کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے یایہ سب کچھ اللہ پر ہی چھوڑدیں؟۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی و مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی علم وسند کے اعتبار سے ماشاء اللہ دونوں کی شہرت خوب ہے۔ ہاروت و ماروت فرشتے ، جھاڑ پھونک سے ’’ میاں بیوی کے درمیان تفریق کرتے تھے، اللہ کی طرف سے وہ فتنہ تھے‘‘۔حلالہ کی ضرورت نہ ہوتو اسکی نشاندہی ضروری ہے۔ یاجوج و ماجوج کا کام یہ بتایاگیاہے کہ ہر بلندی سے پستی کی طرف آئیں گے سب چیزیں چٹ کر جائیں گے۔ اللہ نے کسی عالم کے بارے میں فرمایا ’’ اسکے پاس علم تھا ، اگر ہم چاہتے تو اس کو علم کے ذریعے بلندی وعروج کی منزل پر پہنچاتے مگر اس نے زمین کی پستی کو پسند کیا ۔ اس کی مثال کتے کی ہے ، اگرآپ اس پر بوجھ لاد دیں، تب بھی ہانپے اور چھوڑ دیں، تب بھی ہانپے ‘‘۔ اگر عالم دین اپنے علم کا درست استعمال کرے تو اللہ ترقی وعروج عطا فرماتا ہے اور جو بھی اپنے علم کا غلط فائدہ اُٹھاکر زمین کی زندگی کو دائمی سمجھ لیتاہے تو اس کی مثال پھر کتے کی طرح بن جاتی ہے۔ مذہب کوکاروباربنادیا جائے توچندہ، زکوٰۃ، صدقہ، خیرات، فتویٰ فروشی اور حلالہ کی لعنت کے ذریعے انسان ہر بلندی سے پستی کا سفر کرتاہے ،جو ہرچیز چٹ کرجاتاہے۔ یاجوج اور ماجوج کا کردار ان علماء کابھی ہوسکتاہے جن کا سفر بلندی سے پستی اور ہر چیز چٹ کرجانے کا ہو۔سنریہم آےٰتنا فی الآفاق و فی انفسہم عن قریب ہم اپنی نشانیاں آفاق اور انکے نفسوں میں دکھائیں گے۔ اللہ کی آیات آفاق اور انفس کی موجودہ دنیا میں ہم بھی پاسکتے ہیں۔ مولانا یوسف بنوریؒ نے فتویٰ فروشی اور مذہب کو کاروبار بناکر کسی مفاد کو ترجیح نہ دی ۔ مولاناسیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ ، مولانا الیاسؒ ، مولاناتھانویؒ ، مدنیؒ ، سندھیؒ ، کشمیریؒ ، شیخ الہندؒ گنگوہیؒ ، نانوتویؒ اورانکے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجرمکیؒ سے اختلاف ہوسکتاتھا، انکا آپس میں بھی تھا مگرانکے خلوص وایمان پرخود غرضی و دنیا طلبی کی تہمت نہیں لگائی جاسکتی ۔ مذہب فروشوں کو ا نکے بلند مقام کی جانشینی کا دعویٰ نہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ کہاں وہ اللہ والے ؟، کہاں یہ مفاد پرست؟۔ مؤمن کاتعارف یہ ہے: ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ ’’بیشک اللہ نے مؤمنوں سے جنت کے بدلے ان کی جانیں اور اموال خرید لئے‘‘ وہ مذہبی طبقے جو اپنی جان و مال کے بدلے اللہ سے جنت کا سودا کئے بیٹھے ہوں، انکا ادراک کرنامشکل کام نہیں۔ صحابہؓ ، علماء ومشائخ ؒ اور مجاہدینؒ کی قربانیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے دوسرا وہ مذہبی طبقہ ہے جس کا یاجوج ماجوج کی طرح عروج سے پستی کاسفر تھا: ولاتشتروا بآےٰتی ثمناً قلیلاً وایای فاتقون۔’’ اور میری آیتوں کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے مت بیچواور مجھ سے ڈرو‘‘۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی تجدید واحیائے دین میں مدارس، خانقاہوں اور تبلیغی جماعت کے کردار کو دنیا نظر انداز نہیں کرسکتی لیکن کیا یہ سب کچھ اسلئے تھا کہ بڑی داڑھیاں رکھ کر، مذہبی لبادے اور عالیشان مذہبی عمارتیں بناکر دین کی حفاظت ، عوام کی عزتوں کی حفاظت اور اپنی آخرت کی حفاظت کے بجائے اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں؟۔ اور جہنم کی طرح ہل من مزید ’’کیامزید بھی ہیں‘‘کی آواز لگائیں؟۔چندہ کی بے تحاشا مہم سے یاجوج ماجوج کا منظر دکھائی دے، غریب و مستحق عوام تک خیرات، صدقہ ، فطرہ اور زکوٰۃ کی رقم نہ پہنچے؟ ۔ یہ بلندی نہیں پستی کا سفر ہے، اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اپنے لئے مانگنا بھی برا ہے تو دین کے نام پر دنیاوی مقاصد حاصل کرنا زیادہ بدتر ہے بنوری ٹاؤن کے افتتاحی تقریب میں کہا جاتا ’’ دنیا کو دنیا کی راہ سے حاصل کرنا برا نہیں۔ دین کو دنیا کا ذریعہ بنانا بہت برا ہے۔ طلبِ دنیا ہو تو مدرسہ چھوڑ دو۔‘‘ حاجی عثمانؒ کے مرید وں کا آپس میں بھی نکاح پر فتوی پوچھاگیاتو جامعہ بنوری ٹاؤن نے فتویٰ دیاکہ ’’منسوب باتیں غلط ہیں تو فتویٰ نہیں لگتا، نکاح تو بہر حال جائز ہے‘‘۔ مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کے تائیدی دستخط تھے۔ دارالعلوم کراچی سے سوال تھا کہ نکاح منعقد ہوجائیگا یا نہیں؟۔ مفتی تقی عثمانی ورفیع عثمانی نے لکھا ’’ نکاح منعقد ہوجائیگا،مگربہتر ہوگا کہ انکے بارے میںآگاہ کردیں‘‘۔ مفتی رشیداحمد لدھیانوی کے ہاں سے سوال جواب ایک ہی قلم سے لکھا گیا کہ’’ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟ عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا‘‘۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے سابقہ فتوے کیخلاف دستخط کردئیے جو ایک مجذوب و معذور شخصیت تھی اور مفتی تقی عثمانی و رفیع عثمانی نے لکھ دیا کہ’’ نکاح جائز نہیں ،گو منعقد ہوجائے‘‘۔ میں نے دارالعلوم کراچی میں نماز مغرب اور جامعہ بنوری ٹاؤن میں نمازِ عشاء کے بعد اعلانیہ فتویٰ چیلنج کیا۔ تبلیغی جماعت کی تربیت نے اعلان اور مجدد ملت حضرت حاجی عثمانؒ کی صحبت نے ایمان سکھا یاتھا ۔ جائز نکاح کو حرامکاری کہا جائے تو جسکے سینے میں دل ہو وہ کتنا تڑپ اُٹھے گا؟۔ ایک خاتون نے بارگاہ رسالت ﷺ میں جرأت کرکے مجادلہ کیا تو وحی کے ذریعے فتوے کی دنیا میں ایسا انقلاب آیا جو قیامت تک قرآن کے سینے (28پارہ سورۂمجادلہ)میں وضاحت کیساتھ محفوظ رہے گا۔ بے خبر علماء ومفتیان! اس کو ذرا دیکھ لیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا:’’ جان پر آئے تو مال کی قربانی دیدو۔جان سے زیادہ مال قیمتی نہیں مگرعزت جان سے بھی زیادہ اہم ہے۔ عزت کیلئے جان اور مال دونوں قربان کردو۔ معاشرتی اقدار یہی ہیں کہ عزت پر جان کی بھی بازی لگائی جائے۔ ایمان کا درجہ سب سے اُونچا ہے، جب ایمان پر بات آئے تو جان، مال اور عزت سب کو ایمان پر قربان کیا جائے‘‘۔یہی دستور ہے ورنہ اوندھے منہ نماز میں رکوع اورسجدے بہت مشکل ہوتے۔ طالبان ، القاعدہ، لشکر جھنگوی، داعش اور ساری انتہاپسند تنظیموں کیلئے یہ اقوال زریں کا بہت بڑا اثاثہ ہے جس کا ذکر قرآن میں بھی جابجا ہے، ایمان کیلئے ایک خود کش حملہ آور اپنی جان کی بازی اسی لئے لگاتاہے کہ ایمان سے زیادہ قیمتی چیز کا کوئی تصور نہیں۔ ایک نوجوان شادی شدہ کا سال، ڈیڑھ کیلئے تبلیغی جماعت میں جانا خود کش حملے سے زیادہ مشکل کام ہے لیکن وہ اپنے ایمان کیلئے یہ قربانی دیتاہے اور دنیا ومافیہا کو چھوڑ کر مذہبی علوم کی خدمت اور صوفیانہ روحانی ماحول کیلئے وقف ہوجانا تبلیغی جماعت میں سال اور ڈیڑھ سال لگانے سے بھی زیادہ بھاری اور دشوار کام ہے۔ مذہبی لوگ اپنے تئیں جو جان ومال اور وقت کی قربانیاں دیتے ہیں وہ یقینابہت زیادہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کے پاؤں کی گرد کو خاکِ شفاء سمجھ کردھو کرپیا جائے تو بڑی سعادت ہے ، وہ سفلی جذبہ سے انسان کو پاک کرکے بلند وبالا مقام تک پہنچادیتے ہیں۔ اللہ انسان کو احسن تقویم کا اعزاز دینے کے بعد اسفل السافلین کے نچلے درجہ پر پہنچا دیتاہے مگرایمان وعمل صالح بچنے کا ذریعہ ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ فی اسفل سافلین الا الذین امنوا وعملوا الصالحات فلھم اجر غیر ممنون فما یکذبک بعد بالدین أالیس اللہ باحکم الحاکمین انسان اپنے مذہبی طبقات ہی کے ذریعے ممکن سمجھتا ہے کہ ایمان و عمل صالح کی دہلیز پر پہنچ کرنچلے درجے کی انسانیت اور ہمیشہ کیلئے جہنم سے وہ اپنے رہنماؤں کی بدولت ہی بچ سکتاہے۔ایمان کی دولت سے زیادہ قیمتی سوغات کا تصور کوئی مذہبی طبقہ نہیں رکھتا ہے۔ خود کش حملہ قربانی ہے، اس سے بڑھ کر قربانی یہ ہے کہ نوجوان بیوی بچوں کو چھوڑ کر سال ، ڈیڑھ کیلئے تبلیغی جماعت میں نکلے اور اس سے بڑی قربانی یہ ہے کہ کوئی اپنی دنیا کو قربان کرکے علم وتصوف کیلئے ہی وقف ہو۔ جان دینا شہید کی قربانی اور جان کھپانا صدیق کی قربانی ہے ۔ انبیاء کرام ؑ کے بعد صدیقین و شہداء اور صالحین کا درجہ ہے۔ صالحین بہت ہیں لیکن صدیقین اور شہداء کا درجہ کسی کسی خوش قسمت اور بڑے نصیب والے کو ہی ملتاہے۔ صالح بندوں سے محبت رکھنا بھی ایمان کی علامت ہے۔ عربی شاعر نے خوب کہا ہے کہ اُحب الصالحین ولست منھم لعل اللہ یرزقنی صلاحا ’’ میں نیک لوگوں سے محبت رکھتا ہوں مگر خود ان میں سے نہیں ہوں۔ ہوسکتاہے کہ اس کی برکت سے اللہ میری اصلاح کردے‘‘۔ اصلاح کوئی معمولی بات نہیں ۔ حدیث کے حوالہ سے علماء نے لکھا کہ ’’ اللہ امام مہدی علیہ السلام کی اصلاح ایک رات میں فرمادیگا‘‘۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے مذہبی طبقوں سے معذرت کیساتھ وہ کونسی قربانی ہوسکتی ہے جو علماء ومشائخ، صالحین، مجاہدین، شہداء اور صدیقین سے بھی بڑھ کر ہو؟، اپنے گریبان اور بند قباؤں کو چاک کرکے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ ایک تبلیغی جماعت کا کارندہ نصاب کے مطابق زندگی بھر اپنے معمولات جاری رکھے تو یہ بڑی ہے یا یہ بڑی قربانی ہے کہ یکم دم تین طلاق دینے پراپنے بچوں کی ماں کو ایک رات، ایک گھنٹہ اور ایک لمحہ حلالہ کی غرض سے پیش کردے؟۔ ایک مجاہد جان کی قربانی دیکر بڑی قربانی دیتاہے یا اگر وہ حلالہ کیلئے اپنی ماں کو پیش کردے؟ اور ایک عالم ومفتی اور شیخ الطریقت زندگی وقف کرنے سے بڑی قربانی دیتاہے یا یہ کہ اس کی بال بچوں والی بیٹی کو ایک رات کیلئے حلالہ کی لعنت کا سامنا کرنا پڑے تو بڑی قربانی ہے؟۔ لوگ ایمان کی خاطر حلالہ کی قربانی تک دیتے ہیں لیکن عزت دیکر اجر وثواب کے مستحق بنتے ہیں یا لعنت ملامت اور دنیا و آخرت کی تباہی مول لیتے ہیں؟؟؟۔ جسکے پاس ضمیر، غیرت اور عزت نام کی کوئی چیزہو، وہ بغیر جواز کے حلالہ کا کبھی کوئی فتویٰ دینے کا تصور نہیں کرسکتا لیکن جس نے ضمیر کھودیا ہو اس کا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایمان کیلئے عزت کی بڑی قربانی دیکر بھی ایمان محفوظ رہ سکتاہے تو ضرور فتویٰ دیجئے۔ دارالعلوم کراچی کے محمود اشرف عثمانی نے فتویٰ میں اضافہ کیا کہ ’’ ورنہ نکاح ممکن بھی نہیں ‘‘۔ یہ واضح ثبوت ہے کہ علمی صلاحیت سے محروم جدی پشتی جاہل طبقہ تیسری نسل میں یہانتک پہنچ چکاہے کہ ممکن و ناممکن نکاح اور الفاظ و جملے کی تمیز سے بھی عاری ہے۔حلالہ سازشی نکاح ہے، دیگر مسالک اسکے ذریعے حلال ہونے کے قائل نہیں مگر حنفی مسلک کی خاص رعایت سے نکاح بہرحال نکاح ہے، سازشی ہو یا مستقل؟۔ بعض عدت کی شرط کا لحاظ رکھے بغیر نکاح ودخول کے ذریعے حلالہ کردیتے ہیں تو حنفی اصولوں سے جاہل علماء ومفتیان کا طبقہ یہ نہیں مانتا، حالانکہ نکاح کی قیدبھی محض تکلف ہے اسلئے کہ حنفی مسلک میں زنا بھی نکاح ہے۔ نکاح کیلئے سازشی گواہ اور سازشی ملا کی ضرورت نہیں۔ رسول ﷺ نے نکاح کا اعلان دعوت ولیمہ سے کیا،(بخاری) علامہ ابن رشدؒ نے کتاب ’’ بدایۃ المجتہد نہایۃ المقتصد‘‘ میں لکھاہے کہ امام حسنؓ کے نزدیک نکاح کیلئے گواہ شرط نہیں۔ البتہ اس کا اعلان ضروری ہے، حضرت ابن عباسؓ نے حدیث روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ نکاح کیلئے دوعادل گواہ مقرر کردو‘‘۔ حنفیوں کے نزدیک یہ خبر واحد حدیث معتبر نہیں ہے۔ نکاح کیلئے دو فاسق گواہ بھی کافی ہیں۔ قرآن و حدیث کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟۔ جبکہ قرآن میں عدت کی تکمیل پر دو عادل گواہوں کا حکم ہے ۔ جو کوئی خبر واحد حدیث بھی نہیں مگر حلالہ کی لعنت کے خاتمے کیلئے قرآن کو معتبر کہا تو اپنے آباء اجداد کے کرتوت کا کیا بنے گا؟۔ فقہ کی کتابوں میں اس پر بحث ہے کہ اگر عدت میں عورت نے شادی کرلی اور دوسرے نے بھی طلاق دیدی تو عورت کی عدت ایک ہوگی یا دو عدتیں گزارنی پڑیں گی؟۔ہم حلالہ کا وہ شرعی مسئلہ فقہ کی کتابوں سے ثابت کرینگے کہ عدت وانتظار کی بھی کوئی ضرورت نہ ہوگی، لیکن جب قرآن وسنت میں حلالہ کے بغیر بھی رجوع کرنے کی نہ صرف گنجائش ہو بلکہ اس کی بار بار وضاحت کی گئی ہو تو حلالہ کا فتویٰ دینا بڑا سخت جرم ہے۔ ہم نے کتاب ’’ابر رحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ میں تفصیل سے وضاحت کردی۔ پھرکتابچہ ’’ تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل ‘‘ بھی پیش کردیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے مظفر گڑھ کے واقعہ پر ازخود نوٹس لیامگر حلالہ پنچایت کے فیصلے سے زیادہ سنگین ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ دیا ’’ طلاق کا تعلق الفاظ سے نہیں بلکہ باقاعدہ پراسیس مکمل کرکے طلاق دی جاسکتی ہے، لہٰذا بیوی کو خرچہ دیا جائے‘‘۔ سورۂ طلاق میں بھی پراسیس مکمل کرکے دوعادل گواہوں کومقرر کرنیکا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ دنیا کو ہماری ریاست کی جہالت کا کیسے پیغام جاتاہے کہ خرچہ کیلئے برسوں سے طلاق معتبر نہیں مگر ریاستی نظام ایسا ہے کہ قرآن وسنت کے خلاف جاہل مفتیوں کو جاہل عوام کی عزتیں لوٹنے کیلئے کھلا چھوڑ دیاہے؟۔ دارالعلوم کراچی کا یہ فتویٰ قرآن وسنت کیساتھ تودجل ہے ہی، علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی توہین ہے۔ مذہبی جماعتیں ، مدارس، عدالتیں ،عوام جب تک حلالہ کی لعنت سے چھٹکارا نہیں پالیتے ہیں ، ان میں کوئی غیرت نہیں جاگ سکتی ہے۔ میڈیا چینل پر بھی اس کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اخبار جہاں جنگ گروپ کے مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ کی طرف سے حلالہ کی مخالفت کے باوجود جنگ و جیو والے ان کو اجاگر نہیں کرتے ہیں۔ میڈیا کی شامت اسی وجہ سے آسکتی ہے۔ ہر دم بک بک کرنیوالے میڈیا کو فرصت نہیں۔
پاکستان میں مذہبی و سیاسی جماعتیں ایک ہی طرح کے ملتے جلتے منشور صرف رجسٹریشن کیلئے بناتی ہیں، عوام تو بہت دور کی بات ہے جماعتوں کے قائدین اور بڑے رہنما بھی اس سے واقف نہیں ہوتے۔ برسرا قتدار آنے کے بعد منشور زیرِ بحث نہیں آتا۔ ایسے منشور کا خاکہ تیار کرنا ضروری ہے کہ اقتدار سے پہلے بھی عوام اور پسے ہوئے طبقات تک اس کا فائدہ پہنچے اور اقتدار میں آنے کے بعد اس پر عمل نہ ہو تو عوام کے اندر شعور بیدار ہوکہ یہ جماعت امین ہے نہ صادق بلکہ منافق ،اسلئے دوبارہ وہ عوام کی طرف سے ووٹ لینے کا رخ کرنے پر زندہ وتابندہ نہیں بلکہ شرمندہ رہے۔ قرآن کی آیات یا اس کا ترجمہ حوالہ جات کیساتھ ایک نصاب کی طرح پوری قوم کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔محرم رشتوں کی وضاحت ہے کہ ’’ ان کیساتھ نکاح مت کرو جنکے ساتھ تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے گزر چکا۔ تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں اور بیٹی، بہن، بھائی وبہن کی بیٹی، خالہ، پھوپی، دودھ پلانے والی ماں،وہ سوتیلی بیٹی جو تمہارے گھر میں پلی بڑھی جس کی ماں میں تم نے ڈالا ہے ، اگر اسکی ماں میں نہیں ڈالاہے تو تمہارے لئے جائز ہے۔ تمہارے بیٹے کی بیوی اور یہ کہ دوبہنوں کو جمع کرو اور عورتوں میں سے محصنات مگر جن کے معاہدے کے تم مالک بن جاؤ‘‘۔ چوتھے پارے کا آخر میں پانچویں پارے کے ابتدائی جملے تک محرمات ایک فہرست ہے ،ان کا سمجھنا سمجھانا ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ محرمات کا معلوم نہ ہونا بڑی جہالت ہے۔ عام طور پر ان پڑھ لوگ بھی محرمات جانتے ہیں۔ یہ دورِ جاہلیت کی بات تھی کہ باپ کی لونڈی اور سوتیلی ماں سے بھی نکاح کیا جاتا تھا ،بڑی بات تھی کہ اللہ نے پہلے کے معاملے سے درگزر کی وضاحت کردی۔ حقیقی بیٹے کی بیوی کو بھی محرم قرار دیا۔ منہ بولے بیٹے کی سورۂ احزاب میں بھرپور وضاحت ہے کہ وہ حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوسکتے۔ اتنی وضاحتوں کے باوجود مولانا آزاد جمیل نے سماء ٹی وی پر 15 رمضان المبارک کو افطار کے پروگرام میں کہا کہ ’’ بہو کی سسر سے شادی ہوسکتی ہے۔ تفصیل سے اس پربات بھی ہوئی‘‘۔ پروگرام سحری کے نشرِ مقرر میں بھی چلا۔ مولانا آزادجمیل آخری سحری تک’’ بول ٹی وی ‘‘ پر جلوہ افروز رہے۔ تعجب صرف مولانا آزاد جمیل کی جہالت پر نہیں تھا بلکہ سید بلال قطب اور ساتھ میں بیٹھے ہوئے شیعہ علامہ پر بھی تھا کہ انہوں نے بھی فوری طور سے لقمہ نہیں دیا کہ قرآن وسنت، فطرت وانسانیت اور عقل وفہم کیخلاف کیا بکواس کررہے ہو؟۔ اسلامی اسکالروں اور علامہ کہلانے والوں کی جہالت کا یہ عالم ہو تو عام تعلیم یافتہ اور ان پڑھوں میں کتنی جہالت ہوگی؟۔ یااہل الکتاب لا تغلوا فی دینکم ’’ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو مت کرو‘‘۔اللہ کا یہ حکم مان لیتے اور دین میں ہم اہل کتاب کی طرح غلو افراط وتفریط میں مبتلاء نہ ہوتے تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ میں جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا تو ترجمہ پڑھانے والے استاذ مفتی محمدولی خانؒ نے بتایا کہ ’’ خواتین فتویٰ پوچھنے آتی ہیں کہ داماد سے ناجائز تعلق کے بعد بیٹی کا داماد سے رشتہ قائم رہتاہے؟‘‘۔حنفی مسلک میں جائز وناجائز دونوں صورتوں میں حرمت مصاہرت قائم ہوجاتی ہے۔ ناجائز تعلق توبہت دور کی بات غفلت، نیند اور وہم وگمان میں بھی نہ ہو تب بھی اگر شہوت سے ہاتھ لگ گیا تو رشتہ ختم ہوجاتاہے، نصاب میں پڑھایا جاتاہے کہ ساس کی شرمگاہ اگر شہوت سے باہر سے دیکھ لی تو عذر ہوگا لیکن اس کی شرمگاہ کو اندسے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمت قائم ہوجائے گی۔ بیوی کیساتھ مباشرت اور ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد اصولی طور سے میاں بیوی میں بھی اولاد کے ناطے رشتہ ازدواج کا تعلق ناجائز بن جاتاہے لیکن ضرورت کی وجہ سے جائز قرار دیا گیاہے۔ یہ انواع واقسام کی بکواس اصولِ فقہ کی کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ ٹانک شہر کے بہت بڑے عالم مولانافتح خانؒ کے پاس اس مسئلہ پر بات کرنے کیلئے ملک مظفر شاہ کانیگرم کی جانی پہچانی شخصیت کو بٹھایا تو مولانافتح خانؒ نے فرمایا کہ’’ پیر صاحب زورآور آدمی ہے، میں کیا کہہ سکتا ہوں‘‘۔ ملک مظفر شاہ کو یہ مغالطہ ملا کہ حقیقت کے خلاف شاید میں اپنی من مانی کررہا ہوں۔ فقہ حنفی میں اس قدر غلو کہاں سے آئی؟۔ حقیقت ومجاز کے اصول میں ہے کہ نکاح کا لفظ میل میلاپ کے معنی میں حقیقی ہے، مباشرت جائز ہو یازناہو حقیقی نکاح ہے۔اور شرعی عقدمیں نکاح کا لفظ مجازی ہے۔ حقیقت کی موجودگی میں مجازی معنی مراد نہیں لیا جاسکتاہے۔ حقیقی ومجازی معنی میں یہ فرق ہے کہ حقیقت کی نفی نہیں ہوسکتی ہے، مجازی کی نفی ہوسکتی ہے۔ شیر حقیقت میں جانور ہے تو نہیں کہا جاسکتاہے کہ شیر شیر نہیں ہے۔ بہادر آدمی کو شیر مجازی طور پر کہا جاتاہے تو نفی ہوسکتی ہے کہ بہادر آدمی شیر ہے کہ بہادر ہے اور شیر نہیں ہے کہ جنگلی نہیں۔ فقہ حنفی کو مزید تقویت دینے کی میرے اندر اللہ کے فضل سے صلاحیت ہے ۔ قرآن کہتاہے کہ جو سوتیلی بیٹیاں تمہارے گھر میں پلی بڑھی ہیں ، ان کی ماؤں میں اگر تم نے ڈالا ہے تو تم پر حرام ہیں اوراگر ان میں نہیں ڈالا ہے تو جائز ہیں۔ کہا جاسکتاہے کہ مجازی معنیٰ نکاح سے زیادہ حقیقی معنی میں حرمت کی صلاحیت ہے،اسلئے کہ مجازی معنیٰ عقد سے حرمت کی نفی اور حقیقی معنیٰ داخل کرنے سے حرمت کا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔ جبکہ امام شافعیؒ کے نزدیک ناجائز تعلق سے حرمت مصاہرت زنا سے بھی ثابت نہیں ہوتی۔ فقہ میں آسمان زمین کا فرق اور اصولِ فقہ میں سمجھنے کا فقدان بہت بڑا مسئلہ ہے۔کیا شریعت میں ایسی تفریق ہوسکتی ہے کہ عورت فتویٰ لیکر آئے کہ داماد پر ناجائز نیند، غفلت یا نشہ میں ہاتھ لگ گیا تو بیٹی کارشتہ حرام ہوگیا۔ اور دوسرے مسلک والا کہے کہ نہیں ناجائز مباشرت سے بھی رشتے پر اثر نہیں پڑتا ہے؟۔ علماء کرام اور مفتیان عظام اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر نصاب کو درست کریں۔ قرآن میں عفوو درگزر ہے ، جائز وناجائز کی حقیقت بھی ہے اور اخلاقیات کا درس بھی ہے۔ جب صحابہ کرامؓ کو آبا کی منکوحہ سے پہلے کے نکاح کا درگزر فرمایاتو نصاب کی غلطی پر بھی درگزر فرمائے گا۔ یہ تمہاری بہت بڑی کم عقلی ہے کہ تم یہ پڑھاؤ کے آبا کی موجودگی میں دادا کی منکوحہ مراد نہیں لی جاسکتی ہے تو ہم اس کو قرآن کی آیت سے نہیں اجماع سے ثابت کرتے ہیں۔ باپ دادا میں کوئی فرق نہیں اور تمہارا عقدنکاح کو مجازی اور مباشرت کو حقیقی نکاح قرار دینا بھی انتہائی جہالت ہے۔ لغت کا تعلق معاشرتی زباں سے ہوتا ہے۔ حضرت آدم ؑ و حواءؑ ، ہابیل قابیل سے لیکر ہردور میں نکاح و زنا کا الگ الگ تصور ہرمعاشرے میں موجود ہے۔مباشرت کو حقیقی اور عقدِ نکاح کو مجازی کہنے کا نصاب تلف کرنا پڑے گا۔ ہاتھ لگانے سے کے نکاح و طلاق اور ہاتھ لگانے کے بعد کے نکاح و طلاق میں فرق قرآن نے خود واضح کیا ہے۔ ابنۃ الجونؓ کا واقعہ بخاری میں ہے مگر جس حدیث میں رسول اللہﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے بھی زیادہ ایک خاتون کیساتھ حسنِ سلوک اور خواتین کی آزادی کیلئے انتہا درجہ کی عملی قربانی دینے کی مثال قائم فرمائی اس پر جس طرح انتہاء درجہ کی غلط تشریح کو وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی معتبر شرح میں نقل کیا ہے جو علامہ ابن حجرؒ کے حوالہ سے ہے تو اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے محمدی بیگم کاقصہ بھی پیچھے چھوڑ دیاہے۔ عائشہ گلالئی نے جو عمران خان پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایاہے جس پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بن گئی ہے تو احادیث صحیحہ کی غلط تشریحات کا آئینہ بھی عوام کو دکھایا جائے جس کا اثر نہ صرف پاکستان کے ملحد طبقے پر پڑے گا بلکہ دنیا میں اسلام کا مذاق اڑانے والے بھی سیدھی راہ پر آجائیں گے۔جب تک ہمارے دینی مدارس کے نصاب کی اصلاح نہ ہوگی کوئی مسئلہ حل نہ ہوگا۔ وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات بیہودہ اور انتہائی فحش قسم کے اشتہارات میں گزر بسر کرنے والی قوم کہے گی کہ قرآن کی زباں میں محرمات کی آیات کو نصاب میں کیسے شامل کیا جاسکتاہے؟۔ سوتیلے بچوں کی ماں میں ڈالنے والی بات اخلاقی قدروں کی معیار پرپورا نہیں اُترسکتی ہے۔ جن بچوں میں پرندوں، جانوروں ،انسانوں اور ٹی وی فلموں ڈراموں کے جنسی رحجانات اور حقائق کا شعور ہوتاہے ،ان کیلئے بچیوں کی سوتیلی ماں کی کھلی وضاحت اخلاقی اقدار کے مثبت رحجانات کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ نے کھلے لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے زنا کے قریب نہ جانے کا حکم دیا ۔چونکہ ایک مؤمن ومسلمان کیلئے انتہائی بداخلاقی کی کیفیت ہے کہ اس نے کسی بیوہ یا طلاق شدہ سے شادی کی ہو اور اس کی چھوٹی بچیاں بھی ہوں جو اس کے گھر میں پل کر جوان ہوئی ہوں۔اور پھر اس کا ارادہ خراب ہوجائے کہ وہ اس کی اپنی بیٹیاں تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے غلیظ خیالات کے دماغ پر زور دار ضرب لگانے کیلئے فرمایا کہ’’ جن کی ماؤں سے نکاح کرنے کے بعد ان میں ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو جائز ہیں‘‘۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی بیوہ یا طلاق شدہ سے نکاح کرے اور اس کی بیٹیاں جوان ہونے تک اس کیساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہ کرے۔ یہ صرف اخلاقی طور سے چوٹ مارنے والی بات ہے، مگر فقہاء نے یہ مسئلہ نکال دیا کہ ماں سے نکاح کرنے کے بعد اگر ہاتھ نہیں لگایا ہو تو اس کو چھوڑ کر بیٹی سے نکاح کیا جاسکتاہے اور بیٹی سے نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے چھوڑ دیا جائے تب بھی اس کیساتھ نکاح جائز نہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتاہے کہ بیٹی سے نکاح کے بعد بیٹی کو چھوڑ کر اس کی ماں سے نکاح کیا جائے۔ قرآن کے پاس الفاظ کی کمی نہیں تھی لیکن مذمت کیلئے اللہ نے دخول کے الفاظ کو استعمال کیا ہے ورنہ دوسری جگہ اللہ نے مشرک جوڑے کے بارے میں کس قدر اچھے الفاظ میں میاں بیوی کے تعلق کا نقشہ کھینچا ہے۔ فرمایا:’’جب اس نے اس کو ڈھانپ لیا تو اس کو حمل ہوا خفیف سا حمل،پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں میاں بیوی نے دعا کی کہ ہمارے رب ہمیں تندرست بچہ عطا فرما، جب اللہ نے تندرست بچہ دیا تو وہ اللہ کیساتھ شریک ٹھہرانے لگے‘‘۔ قرآن وسنت سے فقہی مسائل کے اختلافات کا متفقہ حل نکالنے میں بالکل دیر نہیں لگے گی مگر نیت اور عملی کردار کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ مدارس کو چاہیے تھا کہ یہ اخبار طلبہ کو خریدکر دیتے اور سب کو اپنی اپنی مطلب کی چیز اور علم کا خزانہ سمجھاتے۔ مغرب کی یونیورسٹیوں کی طرح مجھے درس کیلئے بلاتے ، تاکہ دماغی کاوش کی صلاحیتیں ان میں منتقل کرنے میں کوئی دیر نہ لگتی ۔ جب تک اپنے فریضہ کیلئے اپنی جدوجہد نہ کرلوں تو قبر کی مٹی میں نہ علمی جواہرات میرے کام کی ہیں نہ کسی اور کی۔ طلبہ کرام!، میں نے تمہاری طرح مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ نصاب کو سمجھنے کیلئے شروحات کے سہارے لئے ، اساتذۂ کرام سے سوال وجواب کئے، نصاب پر تنقید کرنے کے حوالہ سے حوصلہ شکنی کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مدارس کی محبت میرے دل اور میری روح میں بسی ہوئی ہے۔ مجھ پران مادر علمیہ کا احسان نہ ہوتا تو میں اسلام کی خدمت کرنے کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ اللہ نے فرمایا: انمایخشی اللہ من عبادہ العلماء ’’ بیشک اللہ سے اسکے بندوں میں سے علماء ڈرتے ہیں‘‘۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ علماء کا خوف معتبر ہے۔ جو جاہل اللہ سے ڈرتا ہو لیکن حلال کی جگہ حرام اور حرام کی جگہ حلال سمجھ کر عمل وکردار ادا کررہا ہو تو اس کا خوف اللہ کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ سمت درست نہ ہو توحج پر جانیوالا مکہ مکرمہ خانہ کعبہ کے بجائے ایران کے جعلی کعبہ پہنچ جائیگا جو ابھی نقلی طور پر بنایا گیاہے اور پھر اس کی پوزیشن جاہل عوام میں بالکل تبدیل بھی ہوسکتی ہے اسلئے کہ جہاں شبیہ کو تقدس کا درجہ حاصل ہووہاں بڑی مشابہت کا معاملہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پچھلے محرم میں یہ تقریر سامنے آئی تھی کہ یہ جھوٹ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ۔ بلکہ پاکستان ذوالجناح نے بنایا تھا۔ قائداعظم کے داد ا نے ذوالجناح کی منت مانگی تھی ، جس کو ذوالجناح نے بیٹا دیا،اسلئے اس کا نام پونجا جناح رکھ دیا۔ بعض کراچی والے جس طرح کراچی کو کرانچی کہتے ہیں ،اس طرح پوجا کو پونجا کردیا گیا تھا۔ ہم نے پچھلے محرم میں تبصرہ لکھ دیا تھا کہ پاکستان بھارت کے 22 صوبوں میں کسی ایک صوبے کے برابر بھی نہیں اور کشمیر کی آازدی بھی ادھوری ہے۔تو بھارت کے ہندو بھی کہہ سکتے ہیں کہ ذوالجناح کے مقابلے میں ہماری گاؤ ماتا نے بڑا بھارت دیدیا ہے اور کل ایران کا جاہل طبقہ نہیں بلکہ پاکستان کے مقبول ذاکر بھی کہیں گے کہ ایران کعبے کی شبیہ کیلئے وجود میں آیاتھا ، وجہ اس کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ سعودیہ کیساتھ ہے اسلئے امام مہدی غائب کے ظہور کیلئے ایک ایسا کعبہ ضروری تھا جس میں خروج کیلئے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قرآن وسنت حقائق کے ادراک کیلئے بہت بڑا معیار ہیں۔ حرمت مصاہرت پر فقہی اختلاف کا یکسر خاتمہ ہوسکتاہے۔ اصول سے غلط نتائج نکالنے کے بجائے درست مسائل کا استنباط کیا جائے جس کا خلاصہ عوام کے سامنے رکھا جائے تو معاشرے پر اسکے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ نکاح کا معاہدہ جب تک نتیجہ خیز حد تک پہنچ کر ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی حد تک نہیں پہنچے تو وہ ادھورا ہی رہے گا۔ اس کامقرر کردہ حق مہر نصف ہوگا اور عورت پر عدت نہیں ۔ عدت نہ ہو تو اس پر نکاح کی تکمیل پر پہنچنے کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ عربی میں بعل اس شوہر کو ہی کہتے ہیں کہ جس نے بیوی سے ازداوجی تعلق بھی قائم کرلیا ہو، صرف نکاح والے کو بعل نہیں کہتے۔ ہماری اصطلاح میں جس کو منگنی کہا جاتاہے ،وہی درحقیقت شرعی اور زبانی نکاح ہے ۔رخصتی کے بعد ازدواجی تعلق کے قیام پر ہی ہاتھ لگانے کا اطلاق ہوتاہے۔ ازدواجی تعلق کے بعد پورے حق مہر اور عدت گزارنے کا معاملہ بھی آتاہے۔ حضرت ابنۃ الجونؓ سے رسول اللہﷺ نے نکاح ، حق مہر اور معاملات طے کیے، خلوت صحیحہ کے بعد ہاتھ لگائے بغیر رخصت فرمایا تو حضرت عمرؓ کو پتہ چلا کہ اس نے دوسری شادی کی ہے تو بہت ناراض ہوکر پہنچے۔ ابنۃ الجونؓ نے کہا کہ مجھ پر اُمّ المؤمنین کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ میں رسول ﷺ کے حرم میں داخل ہوئی ہوں۔ جس پر حضرت عمرؓ نے چھوڑ دیا۔ قرآن و سنت کا آئینہ مسلکی اختلافات کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ حرمت مصاہرت کیلئے نکاح اور دخول کا مجموعہ بنیاد بنے تو کسی مسلک کا اختلاف بھی نہیں رہے گا اور غیر فطری مسائل سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ جب قرآن میں نکاح کیساتھ دخول کا مسئلہ بھی واضح ہے تو اس سے زیادہ وضاحت نہیں ہوسکتی ہے۔ فقہی مسائل کو معاشرہ سمجھ کر عمل کرے توبہت مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ بیوی شوہر سے لڑ پڑے اور کہہ دے کہ میرا ہاتھ غلطی سے شیر خوار بچے کیساتھ شہوت سے لگ گیا تو میاں بیوی کا نکاح نہ رہے گا۔اسی طرح بیٹا باپ سے لڑ ے اور کہے کہ میں نے شہوت کیساتھ بہن یا ماں کو ہاتھ لگادیا تو ماں باپ کا نکاح نہیں رہے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ ایک مدرسہ کے مفتی نے مجھ سے کہا : ’’حرمت مصاہرت کے مسائل پر بڑے علماء میں تشویش ہے ، وہ اس مشکل سے نکلنے کی راہ دیکھ رہے ہیں‘‘۔ وہ مفتی صاحب خودکو مفتی تقی عثمانی کا ہم پلہ اسلئے سمجھتے ہیں کہ دارالافتاء کے رئیس ہیں۔درسِ نظامی اور فتاویٰ کی کتابوں کا ترجمہ موجودہے، کوئی بھی معمولی تعلیم والا کہیں سے عبارت تلاش کرلے گا۔ اصل مسئلہ صلاحیت کا ہوتاہے، اگر کوئی اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے موجودہ سودی نظام کو جواز بخشے گا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی یہ مختلف ادوار میں اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کیلئے ہوتا رہاہے۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی اجنبیت کے سیاہ ترین بادلوں کے باوجود نصاب پر توجہ دے اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کردے۔ پہلے کوئی محنت کرتا تھا تو کاتب کے ذریعے حق کا پیغام نہیں پہنچ پاتا تھا۔ پریس اور موجودہ میڈیا کا دور بعد کی پیداوار ہے۔ شاہی درباروں میں حق اور اہل حق کی جگہ نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ پابند سلاسل رہتے ۔ آج کمپیوٹر کی کتابت ، پریس اور سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ ورنہ ہمارے لئے بھی کلمۂ حق بلند کرنا آسان نہ تھا۔ مہدی، نبوت اور خدائی کے دعویدار بناکر مار دئیے جاتے اور قبر پر تختی لگادی جاتی کہ مہدی اور نبوت کا دعویٰ کرنیوالا اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ تبلیغی جماعت کا پروپیگنڈہ سیل متحرک ہوکر گلی کوچوں اور کونے کونے میں پیغام پہنچادیتا کہ ہماے ا ایک برگشتہ جادوگر ، ستمگر، گمراہ اور انتہائی دھوکہ باز فراڈی انسان حاجی عثمان نے پیری کے لبادے میں لوگوں سے فراڈ کیا اور یہ عتیق الرحمن اسی کا چیلہ تھا ۔اہل حق کا دشمن، علماء کرام کا گستاخ، اکابرین کی عظمتوں کا منکر اور نئے دین کا مدعی انتہائی خطرناک بدمعاش تھا۔ اپنی ساری صلاحیت شیطانی قوتوں میں خراب کردی، داڑھی اور دینی لبادے سے بھی آخر محروم ہوگیا تھا۔ بعض لوگ سمجھتے ہونگے کہ یہ عتیق گیلانی ہے تو بہت اچھا انسان ، اسکے ایسے جانثار ساتھی ہیں جو بہادری اور جوانمردی میں ایک تاریخ رقم کررہے ہیں۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر مشکل اوقات میں جو قربانیاں دے رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ لیکن یہ ملامتی صوفی کی علامات ہے جس میں ہروقت کوئی نہ کوئی ایسی بات، ایسا جملہ اور ایسے معاملات اٹھائے جاتے ہیں کہ لوگ ملامت کی گردان ہی جاری رکھتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملامتی صوفی کو چھوڑئیے ،حقائق کی طرف دیکھئے۔ ایک انسان کی جان بچانا انسانیت کو زندہ کرنا ہے۔ حلالہ کی لعنت سے ایک خاتون کی عزت بچانا ساری دنیا کی عزت بچانا ہے ۔ قرآنی آیات کے احیاء سے مردہ قوم کے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑنا شروع ہوجائے گی ۔ ہمارا ہدف پاکستان اور اسلامی دنیاہی نہیں بلکہ ہم دنیا بھر میں اس خلافت علی طرزِ نبوت کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں جس سے آسمان اور زمیں والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔تقریباً 27سال کا عرصہ ہوا، نقشِ انقلاب شائع کرتے کرتے۔ اور اب یوٹیوب پرپہلی تقریر دی ہے ،جو اوکاڑہ کی مختصر تقریب میں کی ہے۔اس میں میرا ٹھنڈا اور دھیمہ لہجہ مت دیکھو بلکہ قرآن وسنت کی ترویج اور فرقہ واریت کے خاتمہ کا انداز دیکھ لو۔ زمانہ جاہلیت میں ایک طرف باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیتے تو دوسری طرف منہ بولے بیٹے کی بیوہ سے نکاح ناجائز سمجھتے۔ یہ قصے نہیں قرآنی آیات ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں کم عمر لڑکیوں کے نکاح پرپابندیوں کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ جہاں جنسی آزادی ہو، 12، 13سال کی لڑکیاں ماں بننے کامعمول ہو وہاں 16،18اور20سال کی عمر تک شادی پر پابندی دورِ جاہلیت سے بڑی جہالت ہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا صدر غلام مصطفی جتوئی الیکشن ہارگیا اورسینئر نائب صدر کی بنیاد پر مولانا سمیع الحق وزیراعظم بننے کے حقدارتھے مگر پھر صوبائی رہنما نوازشریف وزیر اعظم بن گئے۔ مولانا سمیع الحق پر میڈم طاہرہ کا سکینڈل بنا۔ اصغر خان کیس کے حقائق کو سامنے لایا جائے تاکہ نوجوں نسل نظریاتی بن جائے۔ پھانسی کے بعد ذو الفقار علی بھٹو کے ختنہ کی بھی تلاشی لی اور اگر شریف النفس سرائیکی جنرل باجوہ اور نواز شریف کے ہمدرد چیف جسٹس ثاقب نثار کی موجودگی میں لاہوری وزیر اعظم کی تلاشی نہ لی گئی تو لاہور ی سپوت اور جیو کے حامد میر یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ پاکستان تخت لاہور ہے۔ مذہبی وسیاسی مسائل نے قوم کو گھیرے میں لیا ہے۔ اس منشور کی ضرورت ہے جو درست راہ پر لگادے۔ منشورکی قرآنی آیات کی تلاوت مساجد میں خوش الحان قاریوں سے کروائی جائے۔ جید علماء سلیس ترجمہ کریں۔ سحر بیان خطیب عوام کو سمجھائیں۔ دانشوراس کی حکمتوں کو عوام میں منتقل کریں۔ مدارس علماء اور طلبہ کو بھیج دیا کریں، تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان اور دیگر چھوٹی بڑی تنظیمیں اپنی اپنی خدمات موثر طریقہ سے انجام دیں۔
1: للذین یؤلون من نساءھن تربص اربعۃ اشہر فان فاؤا فان اللہ غفور رحیمOوان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO ’’اورجو لوگ اپنی عورتوں سے نہ ملنے کی قسم کھالیں، ان کیلئے چارماہ کا انتظار ہے، اگر آپس میں مل گئے تو اللہ مغفرت والا رحم کرنے والا ہے ۔ اور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو اللہ سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔ البقرہ: 226،227 اس آیت سے پہلے اللہ نے وضاحت کی کہ اللہ تمہیں لغو قسم سے نہیں پکڑتا۔ مگر جو تمہارے دلوں نے گناہ کمایا ہے۔ دلوں کا گناہ یہ ہے کہ طلاق کا عزم تھا تو اس کا اظہار کیوں نہیں کیا؟۔ اسلئے کہ طلاق کے عزم کا اظہار کرنے پر عدت تین ماہ ہے اور عزم کا اظہار نہ کرنے کی وجہ سے ایک ماہ مدت بڑھ گئی۔ 2: المطلقٰت یتربصن بانانفسھن ثلاثۃ قروء ۔۔۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحا’’طلاق والی 3مرحلے تک انتظار کریں۔ (3طہروحیض یا3ماہ تک) اور ان کے شوہروں کو اس مدت میں ان کو صلح و اصلاح کی شرط پر لوٹانے کی اجازت ہے‘‘۔ البقرہ: 228 مندرجہ بالا آیات میں طلاق کی زیادہ سے زیادہ انتظار کی عدت 4ماہ اورکم ازکم 3ماہ واضح کی گئی ہے اور عدت سے رجوع کا تعلق بھی جوڑ دیا گیاہے۔ کیا کوئی اس سے منکر ہوگا کہ اللہ نے رجوع کا تعلق عدت سے نہیں جوڑا؟۔ خلفاء راشدینؓ فیصلہ اور فتویٰ سب سے پہلے قرآن سے دیتے تھے۔ جب حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک ساتھ تین طلاق کا تنازعہ پہنچاتو عورت رجوع پر آمادہ نہیں تھی اور شوہر رجوع کرنا چاہتا تھا، حضرت عمرؓ نے قرآن اور سنت سے فیصلہ دینا تھا، یہی فطرت کا تقاضہ بھی تھا کہ عورت کی رضا کے بغیر رجوع نہیں کرسکتا، دنیا کی ہر عدالت یہی فیصلہ دیتی ہے۔ حضرت علیؓ کا بھی تنازع میں یہ فتویٰ تھا لیکن حضرت علیؓ نے یہ وضاحت بھی فرمادی کہ باہمی رضامندی سے ایک ساتھ تین طلاق کے باوجود بھی رجوع ہوسکتاہے۔ عورت پر یہ بڑا احسان تھا کہ اس دور میں اس کی مرضی کا فیصلہ دیا گیا، مردوں کی جہالت اس قدر تھی کہ بس چلتا تو اپنی بیوی کا حلالہ کرواکر بھی اپنی جاگیر سے نہ نکلنے دیتے۔ اب بھی یہ معاملہ چل رہاہے لیکن حضرت عمرؓ نے حلالہ کروانے پر بھی سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا۔ عورت راضی نہ ہو تو رجوع کا فتویٰ دینا بہت بڑی زیادتی ہے مگر عورت راضی ہو اور قرآن میں اجازت ہو تو حلالہ کا فتویٰ دینا بے غیرتی ہے۔ 3: الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ’’طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقہ سے روک لینا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے‘‘۔ البقرہ:229۔ یہ آیت اس سے پہلے والی آیت کے تناظر میں ہے کہ عدت کے طہرو حیض کی صورت میں تین مراحل ہیں۔ پہلے دو مرتبہ کی طلاق کا تعلق عدت کے پہلے دو مرحلوں سے ہے۔ نبیﷺ نے حضرت عمرؓ کے عرض کرنے پر عبداللہ ابن عمرؓ کو غضبناک ہوکر یہی مسئلہ سمجھایا تھا۔ بخاری کی احادیث ہیں۔ معروف رجوع کا معنی بھی باہمی رضا صلح و اصلاح کی شرط ہے اور اس سے رجوع کی وہ منکر صورتیں مراد نہیں جو فقہ کی کتابوں میں شافعی اور حنفی مسلکوں میں اختلافات کے حوالہ سے درج ہیں ایک کے نزدیک نیت نہ ہو تو مباشرت سے رجوع نہ ہوگا اور دوسرے کے نزدیک نیند میں شہوت سے ہاتھ لگ جائے تو بھی رجوع ہوگا، عورت اور مرد کسی کی بھی شہوت معتبر ہوگی ۔ 4: ولایحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شئی الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ و ان ختم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیماافتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدوداللہ فأولئک ھم الظلمونOفان طلقہافلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ’’اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لو ۔ الا یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر اللہ کی حدود پر دونوں قائم نہ رہ سکیں گے۔ اور اگر (اے جدائی کا فیصلہ کرنے والو) تم یہ خوف رکھو کہ وہ اس چیز کو واپس کئے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، جو ان سے تجاوزکرے تو وہی لوگ ظالم ہیں اور اگر اس نے طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرلے‘‘۔ البقرہ:229،230۔ آیات کے ربط اور ترتیب کی بڑی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرتا، سوائے غلام احمد پرویز کے، وہ اپنی ڈگڈگی بجاتا ہے۔ آیت229کا پہلا حصہ آیت 228کی وضاحت ہے۔ تیسرے مرحلہ کی عدت میں رجوع کا ارادہ ہوتو معروف رجوع کیا جاسکتاہے، اور چھوڑنے کا پروگرام ہو تو تسریح باحسان ہی تیسرے مرحلہ میں تیسری طلاق ہے۔ لیکن تیسرے مرحلے میں تیسری طلاق دی تو بھی عدت میں رجوع سے اسلئے نہیں روکا جاسکتا ہے کہ قرآن میں تضاد نہیں اور عدت میں باہمی رضامندی سے ہی رجوع کو اللہ نے واضح کردیاہے۔ چونکہ ایک تو مرد عورت کو طلاق کے بعد بھی دوسری جگہ مرضی سے شادی نہیں کرنے دیتاتھا اور دوسرا یہ کہ علماء نے حلالہ کی لعنت کو امت پر مسلط کرنا تھا تو اللہ نے اس کا تدارک کرنے کیلئے ایک بیانیہ و مقدمہ بھی وضاحت کیساتھ بیان کردیا۔ جو حلال نہ ہونے سے پہلے بالکل ہی متصل ہے، فقہ حنفی کی اصولِ فقہ میں اس طلاق کو اسی فدیہ کے مقدمہ سے جوڑا گیاہے، علامہ ابن قیمؓ نے بھی حضرت ابن عباسؓ کی یہی تفسیر نقل کی ہے۔ 5: اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ’’جب تم عورتوں کو طلاق دو،اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو معروف طرح سے رجوع کرلو یا معروف طرح سے روک لو‘‘،231 6:و اذا طللتم النساء فبلغن اجلھن فلاتعضلوھن ان ینکحن اذا تراضوا بیھم بالمعروف ’’اور جب عورتوں کو طلاق دو،اور وہ عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو مت روکو کہ اپنے شوہروں سے ازدواجی تعلق قائم کریں، جب وہ آپس میں معروف طرح سے راضی ہوں۔ البقرہ :232 7:اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن…… لاتخرجوھن من بیوتھن والایخرجن الا ان تأیین باحشۃ مبینۃ لعل یحدث بعد ذلک امراOواذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او فارقوھن بمعروف واشھدوا ذی عدل منکم (سورۂ طلاق ، آیات 1اور2)۔ کیا کوئی حدیث قرآن کی آیات کے منافی ہوگی؟۔
ایک سے زائد شادیاں خاتون کے خط میں ایک کمی ہے وہ یہ کہ عورت میں ممتا کا جذبہ بھی ہوتا ہے ۔ خاتون اس عمر تک پہنچتی ہے جس میں قرآن کے مطابق نکاح کی رغبت نہیں رہتی لیکن بڑھاپے میں بھی ماں کیلئے سب سے بڑا اثاثہ اسکی اولاد ہوتی ہے ، خاتون بانجھ ہو تو اس کا دکھ جنسی خواہش سے زیادہ قابل رحم ہوتا ہے۔ عورت فطری طور پر شادی میں اولاد کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
ایک خاتون کادرد بھرا خط لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعدہ ہوش وحواس میں لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔ میری عمر جب20 سال ہو گئی تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میرا شوہر ایسا ایسا ہو گا۔
ہم مل جل کر رہیں گے پھرہمارے بچے ہونگے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کرینگے وغیرہ وغیرہ. اور میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنیوالے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کروا دیتی۔اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا….!!! یا اللہ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ۔۔۔۔۔اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی انکے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی ہے ۔مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔ خوشی یا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔ وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ایک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گھر میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو میں نے بھی اپنی پیاری بھابھی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نے کچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنے سے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں،اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی۔ ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پتہ تھا کہ آپ کبھی بھی دوسری شادی والے مرد کو قبول نہیں کریں گی۔ آپ تو دوسری شادی کرنے والوں کے سخت خلاف ہیں.. میں نے کہا نہیں بھائی نہیں! اب وہ بات نہیں! جب سے میں نے بھابھی جان کے پاس قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے،سیرت نبوی پڑھی ہے تو قرآن وحدیث کے نور سے میرے دماغ کی گرہیں کھلنا شروع ہوئیں اورمجھے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمتیں سمجھ آنے لگیں،اب تو میں کسی مرد کی دوسری کیا تیسری یا چوتھی بیوی بننے کیلئے بھی خوشی سے تیار ہوں۔۔۔اور میں نے جو اب تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کی اس پر میں استغفار کرتی ہوں۔اللّہ کی قسم! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور ﷺاور صحابہؓ کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ، بیوہ،غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کی شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔!!! ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری:ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَرھوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالہم …ترجمہ: یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے(بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لیکر آئیگی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ ﷺنے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتایا ہے۔ اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے!اچانک زور دار سیلاب آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنے کے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے اور مرنے دیں.تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟حکومت انہیں کیا کہے گی؟کیاحکومت انہیں شاباش دے گی؟یا دوسری صورت:اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت اسے کیا کہا جائیگا۔؟کہیں اس معاملے میں ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا…!!! قال اللہ تعالیٰ:فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ….(سورہ النسا۔ آیت نمبر 3) قرآن میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آتا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔ مثلاً اگر آپ اپنے ملازم کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے۔ اسکی دلیل حضور ﷺ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھئے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے.پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ جلوس کی شکل میں نکل کر مردوں کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہہ رہی تھیں:تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا ….کہ اے مردو! اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو،تین تین، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو..ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول ﷺ کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھیں پھر آپؐ نے اتنے نکاح فرمائے۔ اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کواللہ تعالیٰ نے شوہر سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بے نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بے نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کیوجہ سے گناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے.. آپ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کیساتھ آپکا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔اللہ سے ڈریے ۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کا ذریعہ بن جائیں ۔ اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو! خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو آپ پر کیا بیتے گی؟ ذرا سوچئے! حدیث کی رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگیں۔ لہٰذا جیسے آپ کو شوہر اور بچوں کیساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کیلئے بھی یہ پسند کیجئے اور اگر آپ کو قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیلئے قبول کیجئے ۔پھر اللہ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجئے۔ میری پیاری بہنو! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اور دار الانعام ہے۔ اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ انکا اندزہ نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آپ کو اس سلسلے میں آنے والی مشکلات، مشقتوں اورتکلیفوں کو بھلا دے گی۔ میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔ ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں:زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔ زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت آسان ہوسکتی ہے۔ سوکن رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔ پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ہی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ اسکے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کریگا تو اس طرح آپ خود کشی اور غلط راستوں پر چلنے والی مجبور بہنوں کو حلال راستہ فراہم کرنے کا ثواب پاسکتی ہیں۔اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔ میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سے سمجھئے.. اللہ کیلئے تمام رسوم ورواج (جوخود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں۔ اکثررسوم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجئے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجئے۔ یہ تو حضور ﷺکا ارشادِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو … چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کیلئے اور لڑکی والے لڑکے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجئے اور دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کیلئے کافی ہوجاتا ہے۔ ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ فقط و السلام آپکی گمنام بہن منقول