پوسٹ تلاش کریں

اربوں ڈالر کا تانبا چین منتقل ہواہے حامدمیر

اربوں ڈالر کا تانبا چین منتقل ہواہے حامدمیر

اس کا سارا حساب کتاب نیٹ پر دینا چاہیے کہ50فیصد منافع مرکز اور50فیصد صوبے کو منتقل کیا گیا؟

اربوں ڈالر کا تانبہ شمالی وزیرستان سے چین منتقل ہورہا ہے ،ایک ٹرک دہشتگردی کا شکار نہ ہوا، سوال بنتا ہے؟ سوال یہ بھی کہ وہ پیسہ کہاں ہے؟۔
ہم بتارہے ہیں آج کی سب سے بڑی خبر کہ پاکستان کے پاس6ٹریلین ڈالرز کے معدنی ذخائر ہیںیہ ذخائرجوآپ کو میرے پیچھے شمالی وزیرستان کے علاقے محمد خیل میں نظر آرہے ہیں۔
حامد میر: اگر6ٹریلین ڈالرز کی ورتھ کے منرلز ہیں تو ہمارے مسئلے حل ہوسکتے ہیں؟
انجینئر ذیشانFWO:یہ دوسرا سب سے بڑا تانبے کا ذخیرہ ہے پاکستان میں۔
حامد میر: محمد خیل سے ہم سالانہ کتنے پیسے کماسکتے ہیں؟
انجینئرFWO:ہم نے ابھی تک کوئی22ہزار ٹن تانبہ پچھلے تین ساڑھے تین سال میں چائنہ ایکسپورٹ کردیا۔ تقریباً30سے35ملین ڈالرز ریونیو جنریٹ کرچکے ہیں۔ محمد خیل کے اس پروجیکٹ میں3.5ملین ٹن کا ذخیرہ ہے، ابھی تک1.1ہم نکال چکے اور مزید2.5ملین ٹن کا ذخیرہ ہے۔ اوراس پروجیکٹ میں70فیصد محمد خیل گاؤں شمالی وزیرستان کے لوگ ہی یہاں کام کررہے ہیں۔ پروجیکٹ کے ریوینیوز کا50فیصد ہم یہاں لوکل کمیونٹی پر خرچ کررہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بہاولپور یونیورسٹی کا ایک اور پہلو بھی ہے

بہاولپور یونیورسٹی کا ایک اور پہلو بھی ہے

مریم اکرام سوشل میڈیا(social media influencer) ہیں۔ اپنا چینل بھی چلارہی ہیں۔ اینکر پھٹ پڑی لڑکیوں کو ذمہ دار قرار دے دیا۔ مزید کیا خوفناک انکشافات کئے سن کر حیران ہوجائیں گے توبہ۔
ماں باپ بچوں کو ہاسٹلز، فلیٹوں میں بھیجتے ہیں تو گند شروع ہوتا ہے وہاں سے۔ جو شریف ہے جب وہ دیکھے گی ناں کہ دوسری ساتھ بیٹھی ہوئی رات کو روم میں آرہی ہے بڑے بڑے شاپنگ بیگز لیکر آرہی ہے کہ یہ میں نے ڈریس لئے، میرے بوائے فرینڈ نے یہ فون دیا ۔ للی پنجی ہیں خدا کی قسم ان کو بولنے کی تمیز نہیں۔ جاہل خاندان سے تعلق رکھنے والیوں نےiPhoneرکھے ہیں انکے باپ نے کڈنیاں بیچ کر دیے ہیں ان کو؟۔ وہی شریف لڑکیاں جن کی بات کررہے ہیں۔ شرافت ختم کرکے فونز لئے، ڈریسنگ سینس کو بہتر کیا، دیہات کی زیادہ تر لڑکیاں اس لائن میں آتی ہیں جن کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں بدنام ہوتی ہیں اسلئے شرافت تو ہاسٹل اور فلیٹ میں جاکر ختم ہوجاتی ہے۔ جب میں نے سنا تو مجھے پتہ تھا کہ ہمارے ملک کی لڑکیاں انتہائی گندی ہیں، اگر ان کی ویڈیو ہیں یا بلیک میل کیا جارہا ہے تو وہ کچھ نہ کچھ کررہی تھیں۔ کچھ ویڈیو میں سب کچھ کررہی ہیں،کپڑے اتار رہی ہیں کیمرہ سامنے ہے۔ یہ یونیورسٹی کی لڑکیاں ہیں تو یہ میرے لئے کوئی شاکنگ نہ تھا کہ5500لڑکیوں کی غلط ویڈیوز پر بلیک میل کیا جارہا ہے۔ اگر کچھ ہے تو بلیک میل کیا جارہا ہے۔
سوال: ویڈیوز سامنے آنے کے بعد جو شریف بیچاری لڑکیاں ہیں ان کی زندگی پر تو یہ ویڈیوز اثر انداز ہورہی ہے خاص کر اس یونیورسٹی کی لڑکیوں پر؟۔
مریم اکرام: آج تک شریف لڑکی کی ویڈیو تو سامنے نہیں آئی ہے جس میں کسی لڑکے کو تھپڑ مارا ہو۔ مرضی ہو تو سب کچھ کرالینا ہے۔ مرضی نہیں تو اگلا بدتمیز ہے۔ یہاں پر ہم شریف بن جاتے ہیںاور جہاں پر شرافت ختم ہوجاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم نے رہنا بھی یہیں ہے اور ہم سب کچھ کریں گے بھی۔ آپ نے کہا کہ کچھ شریف وہاں پر ہوں گی اگر ان کی ویڈیوز نہیں تو ان کے اندر وہی اعتماد ہے اور وہ اپنے گھر والوں کے اندر اسی طرح فخر کے ساتھ ہیں کہ بھئی ہم ان میں ملوث نہیں، ہماری ویڈیوز نہیں، اس گارڈ کی غلطی نہیں جس کے پاس ویڈیوز ہیں بلکہ ان لڑکیوں کی غلطی ہے جن کی ویڈیوز ہیں۔ اور کس طرح کی ویڈیو ہیں وہ وہی جانتے ہیں میں نے نہیں دیکھیں۔ البتہ دو تین ویڈیو نظر سے گزری ہیں جو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کروں گی۔ تو یہاں پر شرافت اور گندگی دونوں سائڈ پر ہوجاتے ہیں اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ جگہ گندی ہے یہاں پر کچھ لوگ ایسے ہیں تو اپنے والدین کے ساتھ شیئر کریں، آپ وہاں سے نکل جائیں یونیورسٹی بدلیں آپ پرائیویٹ کرسکتے ہیں، بہت کچھ کرسکتے ہیں تو گند سے آپ کو نکلنا ہے۔ شرافت وہاں پر ختم ہوگئی ہے۔ یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران کو سزا ملنی چاہیے کیونکہ انہوں نے اس طرح کے کام وہاں پر ہونے دئیے ہیں۔
سوال: ایک خاتون گاؤں سے آتی ہے کیا وجہ ہے ایک شریف فیملی سے تعلق ہو یہاں پر آکردنوں میں چال چلن بدل جانا کیا اتنا آسان ہے اپنے کو تبدیل کرنا کیا پیسہ اتنا ضروری ہوگیا کہ کوئی بھی آفر کرے آپ مان جائیں؟۔
مریم اکرام: ایک گندی مچھلی پورے تالاپ کو گنداکرتی ہے آپ کے روم میٹ میں پانچ سے سات لڑکیاں ہیں ان میں سے ایک بھی گندی ہے ناں تو اس نے آپ کو بھی گندا کردینا ہے۔ اس نے ڈنر، لنچ پر جانا ہے ، اسٹیٹس مینٹین رکھنا ہے اپنا آپ کے پاس نہیں تو کب تک اسکے ساتھ لڑیں گے۔ اپنا دفاع کیسے کریں گے کس طرح روکیں گے کہ اس کے پاس سب کچھ ہے میرے پاس نہیں ہے آخر کار رہنا تو آپ کو وہیں پر ہے۔ والدین وہ خرچہ پورا کر نہیں سکتے۔ تو جب گاڑیوں میں وہ گھوم رہی ہے آپ کو گھومنے کیلئے رکشہ بھی نہیں مل رہا ہے اسلئے یہ چینج ہوجاتی ہیں۔ میں ایک آفس میں کام کرتی تھی2016سے18تک میں نے کام کیا ہے وہاں پر ایک لڑکی تھی اس کی عمر19سال ہوگی اور اس نے بتایا کہ میں پچھلے تین سال سے طوائف(prostitute)کے طور پر کام کررہی ہوں طوائف ہوں نہیں کیونکہ میرے ماں باپ کہتے ہیں کہ پیسے لاؤ پیسے لاؤ پیسے لاؤ۔ پہلے وہ ماں باپ سے پیسے لیتی تھی دیتی نہیں تھی جب اس نے پیسہ کمانا اور لوگوں کے پاس جانا شروع کردیا میں نے کہا کیوں کرتی ہو؟۔ اس نے کہا میں اسلئے کرتی ہوں کہ ہر مرد کی ہوس ہے۔ ہر مرد نے کہنا اور کرنا یہی ہے۔ تو جب اس نے آفر کرانی ہے تو میں خود آفر کرادیتی ہوں کہ ہاں ٹھیک ہے اوکے فائن۔ پیسہ دو بولو کتنا پیسہ دیتے ہو؟۔بڑے بڑے برانڈز کے مالکان کے ساتھ اسکے تعلقات تھے کہ اگر میں ان برانڈز کا بھی نام لوں تو ان کے اوپر لعنت ہے ۔ آفس جاب وہ9سے5تک کرتی تھی تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ یہیں سے کماتی ہوں وہاں پر تو اس کی تنخواہ تھوڑی سی تھی اور گھر پر مہینے کا ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھجوانا بہت بڑی بات تھی۔ تین چار سال بعد میں اس سے ملی تو کہنے لگی سب اجڑ گیا۔ حالانکہ وہ بچی پڑھنے آئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے اس نے کہا کہ جاب کررہی ہوں۔ پھرپیسے گھر بھیجنے شرو ع کردئے پھر گھر والوں کو بھی پیسوں کی ہوس لگ گئی ۔
سوال: نشہ ہاسٹلز پر پہنچانے کیلئے کوئی نا کوئی تو لوگ ہوں گے عام لڑکی کی رسائی تو نہیں ہے تو نشہ آور چیزیں کیسے پہنچتی ہیں وہ بھی آئس نشہ؟۔
مریم اکرام: اگر آپ کرائم اور نشہ آور چیزوں پر بات کرتے ہیں،گینگ کو پکڑتے ہیں تو خود پھنستے ہیں اسلئے میں نے کافی عرصے پہلے ان سب چیزوں کو چھوڑ دیا، میں انکے اوپر رپورٹنگ کرتی ہی نہیں۔ڈرگز کیلئے ایک ہی بندہ ہوتا ہے جسکے پاس یہ آتے ہیں۔ اور کیٹگرائز ہوتے ہیں کہ اس ایریا میں ہم نے ہی بیچنے ہیں۔ ہاسٹل کی جو مین سپریڈنٹ ہوتی ہے جو گیٹ پر بیٹھتی ہے ان اینڈ آؤٹ دیکھتی ہے اصل میں تو وہprostituteاورproviderہے۔ جو رات کو باہر نکلنے کی اور باہر سے اندر آنے پر اجازت بھی دیتی ہے۔ ڈرگز ان تک بھی پہنچاتی ہے اور اس کا پیسہ خود بھی رکھتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے اپوزٹ ہاسٹل ہیں وہاں پر یہ سب کچھ ہوتا تھا اور جو نیچے بیٹھی ہوتی تھی ہیڈ لڑکیاں شروع شروع میں اس سے ڈرتی تھیں کہ وہ پکڑلے گی وہ آنے نہ دے گی وہ جانے نہیں دے گی حالانکہ ملواتی ہی بندوں سے وہ تھی بڑے بڑے بندے آتے تھے اور سب سے زیادہ کام وہیں پر چل رہا ہے۔ لڑکیوں کو ہاسٹل کی ہیڈ ہی ڈرگس مہیا کرتی ہے۔ وہی سب سے پیسے لیتی ہے۔ اگر ہیڈ اچھا ہو تو سب آگے چیزیں نہیں پہنچ سکتیں۔جیسے ہاسٹلز میں کنڈی لگانا الاؤ نہیں ہوتا جس کا مطلب ہے کہ آپ کبھی بھی اندر داخل ہوسکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ لڑکیاں کیا کررہی ہیں۔ دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں تو پھر کیوں دیکھیں ؟۔ پیسہ چل رہا ہے وہاں پر اور شریف ماں باپ کے بچے جب تک یونیورسٹیز میں آتے رہیں گے۔لاہور، کراچی، اسلام آباد ، بہاولپور جہاں جائیں گند ہے اور رہے گا جب دیکھ بھال نہیں کریں گے۔
سوال: یہ واقعہ آخری ہے یا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے؟
مریم اکرام: ہوتے رہیں گے نہیں ہورہے ہیں۔ یہ سامنے آیا۔ بیک اینڈ پر کونسا ہے یہ نہیں پتہ۔ کتنی لڑکیاں یہ سوچ رہی ہیں کہ شکر ہے ہمارا ڈیٹا سامنے نہیں آیا۔ یار شکر ہے میرا نام نہیں آیا اس بار بچ گئی۔ بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ شکر ہے ساڈی یونیورسٹی دا نئی ہویا ،شکر اے ساڈے ہوسٹل تے چھاپا نئی پیا۔ یہ کام چل رہا ہے ، چلتا رہے گا، بہاولپور یونیورسٹی سامنے آئی۔بہت واقعات سامنے نہیں آئے ۔ اگر آئیں گے تو آپ پھر انٹرویو کررہے ہوں گے اور میں بھونک رہی ہوں گی ہماری کس نے سن لینی ہے؟۔ ہمارا نظام کبھی بھی صحیح نہیں ہوگا کیونکہ نظام بنانے والے ہی خراب ہیں تو ہم کیسے خود کو صحیح کرسکتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا!

پرویزمشرف کے دور میں سیکولر بل منظورہوا!

حافظ حسین احمد اگر سورۂ نور میں لعان کی آیت کا حکم دیکھ لیں تو عوام کو ورغلانے کا جذبہ بالکل نکل جائیگا!

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بل پاس ہوتا ہے کہ آپ کی بیٹی، آپ کی بیوی، آپ کی بچی، آپ کی خاتون کسی کیساتھ جائے نہ آپ اسے روک سکتے ہیں نہ آپ اس کے خلاف تھانے میں جاسکتے ہیں نہ آپ اس کو سزا دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے بات ہوئی کوشش کی گئی، مفتی تقی عثمانی کو ڈالا گیا۔ چوہدری شجاعت کو ڈالا گیا۔ مشرف نہیں مان رہا تھا کہ ہم پر دباؤ ہے امریکہ کا۔ اس بل کو منظور کرنا ہوگا، عورتوں کو آزادی دینی ہوگی۔ ہمارا اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں فیصلہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن جوش میں آئے اورفرمایا کہ اگر یہ بل پاس ہواقومی اسمبلی میں تو ہم اسی وقت قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر باہر جائیں گے۔کہا تھا ،نہیں کہا تھا؟۔ بل پیش ہوا۔ پیپلز پارٹی نے مشرف کا ساتھ دیا۔ میں مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچاکہ آپ نے کہا تھا کہ اسمبلی کی چھت پر اللہ کے99نام لکھے ہیں ہمیں اس کی قسم ہے کہ اگر یہ بل پاس ہوتو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسمبلی کو چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاگل نہ بنیں سیاست میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے اپنا ہاتھ چھڑا دیا میں باہر نکلا اور آج تک باہر ہوں۔

__حافظ حسین احمد جناب پر نوشة دیوار کا تبصرہ__
لعان کا حکم سورۂ نور میں نازل ہو اتو سعد بن عبادہ نے اس پر عمل سے انکار کردیا ۔ اگر لعان کا حکم قرآن ہے کہ بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑکر قتل نہیں کرسکتے اور نہ سزا دے سکتے ہیں تو دیکھنا پڑے گا کہ کیا غلط اور کیا صحیح ہے؟۔ کہیں اسلام کا حکم تو علماء اور مذہبی طبقات نے غلط نہیں سمجھ لیا ہے؟۔ اس پر مشاورت کریں!۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

مولانا جمال دین کی وارننگ اور ساتھ شکریہ!

مولانا جمال دین کی وارننگ اور ساتھ شکریہ!

باجوڑ کا سانحہ ایسا ہے کہ سننے کیلئے کان تیار نہیں دیکھنے کیلئے آنکھیں شرمارہی تھیں۔ جناب محترم! میں خود اس پروگرام کا چیف گِیسٹ تھا۔ ہوسکتا تھا کہ میں آج یہاں نا ہوتا لیکن مائوں، یار دوستوں کی دعائوں ، اللہ کے فضل سے مجھے اللہ نے بچایا،وہاں کا منظر تو بیان کرنے کا نہیں۔ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی کی، دعا کی، جتنے ساتھیوں نے پیغامات بھیجے ، ان سب کا میں مشکور ہوں۔ لیکن میں حکومت اور ذمہ دار لوگوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر اس کاروک تھام نہ ہوا، قبائل اپنے لیے راستہ اختیار کرلیںگے کیونکہ ڈپٹی اسپیکر! ہمارے پاس وزیر اعلیٰ بشمولِ چیف سیکرٹری آئے تو وہاں پر ایک بندے نے ان سے کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے تین سوالوں کے جواب دے دیں یا ان لوگوں کے ساتھ بامعنی با مقصد مذاکرات کرلیں اس طرح نہ ہو جس طرح پہلے ان لوگوں کو آنے دیاپھر مذاکرات چھوڑ دیے ۔اگر وہ نہیں کر سکتے، مصلحت نہیں سمجھتے یا آپ لوگ مجبور ہیں وہ نہیں کر سکتے تو آپ ان کیساتھ جنگ کرلیں۔ آپکی ذمہ داری ہے ہماری حفاظت۔ عوام کے ٹیکسوں سے آپ کو تنخواہ دی جاتی ہے اور ہماری حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اگر جنگ نہیں کر سکتے یاکرنا نہیں چاہتے ہو یاپھر آپ لوگوں کو ہماری شہادتیںمتضاد معلوم ہورہی ہوں تو خدا را ہم منت سماجت نہیںکرتے۔ آپ نکل جائیں، یہ علاقے خالی کرلیںتو ہم اپنی حفاظت خود کر سکتے ہیںانشاء اللہ یہ ہمیں کچھ نہ کر سکیں گے۔ باجوڑ میں ایسا گھر نہ رہا جہاں جنازہ نہ اٹھایا گیا۔ جس گھر میں نماز کیلئے گیا، میزبان کہہ رہا ہے کہ میرا ایک بھانجا، ایک بھتیجا شہید ہوا ۔وہ مناظر ہم نے دیکھے پھر بھی باجوڑ کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف نعرہ نہ لگایا، جھنڈے نہ جلائے، سرکاری املاک پر حملہ نہ کیا وفاداری کا ثبوت دیا لیکن جو لوگ حکومت کے وفادار ہیں،ہم ان کو تحفظ نہیں دے سکتے۔آپ یقین کریں وہاں کوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا، لوگ بہت مجبور، بہت تنگ آ چکے، لاشیں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، خدارا قبائل پر رحم کرلیں اس سے پہلے کہ قبائل ایسے اقدام پر مجبور ہو جائیں کہ پھر حکومت کیلئے بہت مشکلات ہوں گی۔ وہ ایسا قدم اٹھائیں گے کہ پھر کوئی برداشت نہ کر سکے گا۔ آج ہمارا قبائلی جرگہ ہے دیکھیں وہ کیا فیصلہ کرتاہے۔ جس طرح اور پاکستانی حفاظت کے حقدار تو قبائلی بھائی بھی حفاظت کے حقدار ہیں، ان کی بھی حفاظت کی جائے۔ محترم ڈپٹی اسپیکر! میں قائد محترم مولانا فضل الرحمن کا بے حد مشکور ہوںکہ اپنے کو ہلاکت میں ڈال کر وہاں پہنچے شہداء کے ورثاء سے ملے تعزیت کی دلاسہ دیا۔ ماشاء اللہ جمعیت علماء اسلام کے کارکنان ، شہداء کے وارث بجائے یہ کہ مولانا ان کو دلاسہ دیتے وہ قائد محترم کو فرمارہے ہیں کہ مولانا صاحب! ہم نے آپ کیساتھ عہد کیا، ہم اس کیلئے تیار تھے شہادت کیلئے تیار ہیں، ہمارے قائد بھی حیران ہوئے اور رشک کررہے تھے کہ ہمارے جیسے کارکن پاکستان نہیں بلکہ دنیا میں بھی کسی کو نہیں ملے، میں ان کارکنوں کو داد دیتا ہوں اور قائد محترم کو یقین دلاتا ہوں کہ فاٹا کا ہر ایک کارکن، ہر مشر آپ پر فداء ہے، آپ حکم کریں گے ہم لبیک کہہ کر آپ کے پاس حاضر ہوں گے اور میں وزیر اعظم کا بھی مشکور ہوں کہ پشاور آکر شہداء کی تعزیت کی اور شہداء کیلئے20،20لاکھ روپے کا اعلان کیا وہاں خود عیادت کیلئے آئے، گورنر کے پی غلام علی کا مشکور ہوں کہ اسی وقت ہمارے ساتھ رابطہ کیا ہیلی کاپٹر ہائر کیا۔ انہی کی وجہ سے بیماروں کو ہیلی کاپٹر میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا جو خدمت انہوں نے کی وہ بے مثال ہے اورچیف سیکریٹری جب بھی ان سے بات ہوئی ہے فون کیا ہے انہوں نے فوراً لبیک کہا ہے بہت تعاون کیا ہے تو میں ان کا بھی بے حد مشکور ہوں اور انتظامیہ کا بھی۔ تو لہٰذا میں ایک بار پھر ایک بیمار کے پاس لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گیاتو انہوں نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب! آپ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہمارے دو بھائی شہید ہوئے اور میں یہاں زخمی پڑا ہوں کہ اللہ پاک مجھے بچالے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ قبائل آخری حد تک پہنچ چکے ہیں ذمہ دار ادارے سوچ لیں، قبائل کبھی بھی یہ بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں کہ اس کا مقابلہ امریکہ نہیں کر سکتا تھا،48ملک نہیں کر سکتے تھے۔ ہم مجبور ہیں، یہ نہیں کرسکتے ہیںیہ قبائل کبھی بھی اس کیلئے تیار نہیں، وہاں بارڈر بھی لگا ہوا ہے یہ کس طرح آتے ہیں۔ جیکٹ ایک منٹ میں تیار نہیں ہوتی، اس میں تو میرے خیال میں کئی دن لگتے ہیں۔ یہ کہاں سیٹ ہوتا ہے یہ کہاں اس کو چھپ کر بناتے ہیںیہ باتیں لوگ ماننے کیلئے تیار نہیں ،اگر سلسلہ نہ روکا جائے تو قبائل وہ قدم اٹھائیںگے پھر حکومت کیلئے مشکل ہوگا میں حکومت اور اداروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا نا ہو کہ پھر پاکستان کیلئے مشکل ہو۔ خدا را! قبائل پر رحم کریں قبائل کو اپنا سمجھیںیہ اپنے لوگ ہیں۔ خدا کی قسم اگر کوئی بندہ پاکستان سے وفادار ہے تو قبائل پاکستان سے ہزار گناہ زیادہ وفادار ہیں، آپ وفاداری کو کیوں نہیں اہمیت دیتے ہیں؟اس کو وفادار کیوں نہیں سمجھتے ہیں؟اس کو بے وفائی پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے؟ اس کو جان پے کیوں گھسیٹا جارہا ہے؟تو لہٰذاقبائل پر رحم کرلیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

دہشتگرد اب خوارج بن چکے :مفتی عبدالرحیم

دہشتگرد اب خوارج بن چکے :مفتی عبدالرحیم

یہی وہ لوگ جن کا احادیث میں ذکر ہے اور جنہوں نے حضرت علی کو شہید کردیا تھااب علماء شہید کردئیے

کیا جب عوام ، مدارس، مساجد ، سیاسی پارٹیوں اور افغانوں کے علاوہ اپنوں کو شہید کیاتھا تو یہ مجاہد تھے؟

باجوڑ میں سانحہ ہوا بہت افسوسناک ، رات بھر نیند نہ آئی۔ بہت طبیعت پریشان رہی۔ کیسا وقت ہے کہ علماء اور طلباء تھے وہاں۔ چھوٹا سا علاقہ ہے آپ نے سنا ہوگا کہ بہت بڑا علاقہ نہیں۔ چھوٹے سے علاقے میں60،70جنازے اٹھے۔ ہر گھر میں شہید ہیں زخمی ہیں اس وجہ سے عورتیں بیوہ ہورہی ہیں بچے یتیم ہورہے ہیں، ماں باپ پریشان ہیں۔ دین کے نام پر خود کش حملے ہو رہے ہیں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہدایت دے۔ اللہ نے جو ہمیں دین کی سمجھ دی اس کو لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔ کون لوگ مولانا حسن جان کو شہید کررہے ہیں۔ جس نے تقریباً55مرتبہ بخاری شریف پڑھائی۔ اتنے بڑے شیخ الحدیث وہ کئی مرتبہ یہاں تشریف لائے۔ وہ صرف پاکستان کے شیخ الحدیث نہ تھے وہ عالم اسلام کے ان شیخ الحدیث میں تھے جو بالکل ٹاپ کے تھے۔ بہت اللہ نے ان کو علم عطا فرمایا ۔ بہت نیک بہت اللہ والے ان کو شہید کیا۔ شیخ الحدیث مولانا نور محمد وانا والے مسجد میں درس قرآن دے رہے تھے، خود کش حملہ کیا، مسجد کو خون سے نہلادیا کتنے لوگ اس میں شہید ہوگئے۔ مولانا معراج الدین بہت بڑے مدرس تھے ، بہت نیک تھے بہت آنا جانا تھا ان کو شہید کیااور یہ وہ لوگ ہیں جن کی انہوں نے ذمہ داری قبول کی۔ باجوڑ میں پچھلے سال ہمارے جامعہ کے سابق استاذ مفتی بشیر احمد کو شہید کیا اس بات پر کہ آپ فوجی کو کافر کیوں نہیں کہتے؟۔ ان کا ایک بچہ بڑا مجھ سے رابطے میں بھی رہتا تھا۔ اردو جانتا نہیں تھا بہت ہی نیک بچہ تھا اس سال رمضان میں اس کو بھی شہید کردیا۔ اتنے بے رحم لوگ۔ مولانا فضل الرحمن پر4مرتبہ خود کش حملہ ہوا ۔قاضی حسین احمد پر حملہ ہوا۔ مولانا طارق جمیل کو دھمکیاں دیں۔ مولانا تقی عثمانی نے مجھے فرمایا کہ مجھے ڈیڑھ سو سے زیادہ دھمکیاں دی ہوں گی۔ مجھے20سال ہوگئے اس پر بات کرتے ہوئے مجھے بھی بہت دھمکیاں دیں، بہت زیادہ مختلف طریقوں سے کوشش بھی کی انہوں نے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے دین میں ان کے بارے میں کچھ بھی احکامات نہیں ہوں گے؟ اگر آپ دیکھیں احادیث میں دین میں ، فقہاء نے جو کچھ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ جتنے گمراہ فرقے ہیں ان میں سب سے زیادہ احادیث میں صراحتاً اور بہت تفصیل کیساتھ ذکر آیا ہے وہ خوارج کا ہے۔22،23ان کی علامات بتائی گئی ہیں۔ اتنی تفصیل کسی فرقے کے بارے میں حضور اکرم ۖ نے نہیں بتائی۔ فرمایا: یہ خوارج اٹھتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ختم کرتا رہے گا۔ پھر اٹھتے رہیں گے پھر ختم کرتا رہے گا۔ یہاں تک کہ یہ دجال کا ساتھ دیں گے۔ علامات میں20احادیث صحیح و حسن ہیں باقی جو اقوال ہیں صحابہ کرام یا روایات جن میں ضعف ہوتا ہے وہ الگ ہیں ۔ بعض علماء نے خوارج سے متعلق علامات والی روایات کو متواتر کہا۔ اتنی تفصیل سے، آپ لوگوں کو پتہ ہے اس کا ؟۔ کیوں نہیں پتہ؟ ، اتنا خون بہہ رہا ہے یہاں۔ اتنے لوگ یہاں مارے جارہے ہیں اتنی بربادی ہورہی ہے۔ تو آپ کیا پڑھتے ہیں یہاں؟ میں علماء اور طلبہ سے پوچھتا ہوں۔ آپ کا خون کون لوگ بہا رہے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ ایسے نو عمر ہوں گے۔ خوارج کی علامات حدثاء الاسنان بہت بڑی عمر کے نہ ہوں گے نو عمر ہوں گے۔ سفھاء الاحلام عقل کے لحاظ سے کمزور ہوں گے، عمر کم ہوتی ہے تو تجربہ کم ہوتا ہے۔ یقتلون اھل الاسلام و یدعون اھل الاوثانصحیح مسلم ۔ اہل اسلام کو قتل اور مشرکین کو چھوڑیں گے۔ فرمایا: اتنے نیک ہوں گے کہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی۔ تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلوں میں کچھ نہیں ہوں گے۔ تمہاری قرأت ان کی قرأت کے مقابلے میں، صحابہ کرام سے فرمارہے ہیں۔ مسلمانوں کی تکفیر کریں گے اور تکفیر کرنے کے بعد مسلمانوں کے خون کو حلال اور ان کے اموال کو حلال سمجھیں گے۔ ابن عمر نے فرمایا: شر الخلق کائنات کے بدترین لوگ ہوں گے۔ فرمایا: وہ آیات جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں یجعلون فی اہل الاسلام ان کو اہل اسلام پر منطبق کرکے تکفیر کریں گے۔ بہت زیادہ عبادت گزار اور بڑے محنتی ہوں گے۔ ابن عباس ان سے مناظرے کیلئے گئے یہ وہ لوگ تھے جو حضرت علی کی تکفیر کرتے تھے اور ان سے وہ لڑے۔ عبد اللہ ابن خباب ایک صحابی تھے وہ کہیں مل گئے ان سے تو بات چیت کی کہ آپ عثمان غنی اور علی المرتضیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں تو ان کو اچھا سمجھتا ہوں اس بات پر ان کو شہید کیا۔ ان کی اُم ولد حاملہ تھی ،اُم ولد تو جانتے ہیں؟ جب باندی سے بچہ ہوجاتا ہے تو وہ اُم ولد ہوجاتی ہے اسکے احکام الگ ہوتے ہیں۔ وہ حاملہ تھی اس کا انہوں نے پیٹ چیر کر شہید کیا۔ اسی علاقے میں کسی عیسائی کا خنزیر چر رہا تھا تو خوارج میں کسی نے اس کو مار دیا تو انہوں نے بڑی توبہ استغفار کی اس پر اور اس سے جاکر معافی مانگی کہ تمہارا خنزیر ہمارے ہاتھوں سے قتل ہوگیا۔ اور یہ فرمایا کہ لوگ ان کو بہت نیک سمجھیں گے اور وہ اپنے عجب میں مبتلا ہونگے کہ بہت نیک ہیں۔ مسلمانوں کی طاقت کو توڑیں گے یہ بھی حدیث آتا ہے۔ اب دیکھیں عراق و شام میں کیا حالت ہوگئی ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں اور عزتیں کس طریقے سے لٹ رہی ہیں؟۔ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہورہا ہے۔ فرمایا: یہ اسلام سے ایسے نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکلا ہوتا ہے تو ان سے تو لڑنے کا حکم ہے۔ ایک روایت میں ہے کلاب النار یہ جہنم کے کتے ہونگے جو لوگ ان کو قتل کریں گے بہت مبارک لوگ ہوں گے۔ اور جو انکے ہاتھوں مارے جائیں گے بہت بڑے شہید ہوںگے۔ اتنا بڑا باب صحاح ستہ اور سیرت میںموجود ہے صحابہ کرام سے اور پھر عقائد میں بہت تفصیل سے پورا معاملہ پڑھایا جاتا ہے۔ ہم صرف زبانی جمع خرچ پر لگے رہتے ہیں۔ ان چیزوں کو دھیان سے پڑھنا چاہیے۔ ”العقیدة الطحاویة” سنا ہے نام وہ پڑھ لیں اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ شرح العقائد میں کیا لکھا ہوا ہے مجھے بہت دکھ ہے اس بات کا کہ مذہب کے نام پر اتنی بڑی خونریزی اور یہاں کوئی بولنے کیلئے تیار نہیں، کیوں نہیں بولتے؟۔ انسانی جان تو بہت بڑی ہے۔ طلباء علماء کرام کو مارنا یہ کیسا دین ہے؟۔ پاکستان پھر بھی کافی کچھ بچا ہے کیونکہ یہاں فوج مستحکم تھی۔ عراق، شام ، لیبیا،الجزائر، یمن، صومالیہ، اور سوڈان میں جاکر تو دیکھیں کچھ نہیں بچا ہے وہاں۔ ایک دفعہ ایک عرب شخص ملتزم پر دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ بہت زیادہ اس نے چیخ و پکار اور آہ و فریاد کی تو میں نے پوچھا کہ کیا مشکل ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہم لیبیا سے ہیں روزانہ پانچ سو لوگ قتل اور ہماری عزتیں لٹتی ہیں کوئی نہیں جو ہماری فریاد سنے۔ نا میڈیا، ناOICاور نااور کوئی ایسے ممالک ہیں جہاں انسانوں کے بارے میں بات ہو۔ ہم کو پوری دنیا نے لاوارث چھوڑ دیا۔ ہم ذلیل، قتل ہورہے ہیں تویہ ایک جگہ بچی ہے کہ ہم یہاں پرآکر اللہ کو پکاریں۔ اللہ ہدایت دے ،پاکستان کو سلامت رکھے ۔ جو شہید ہوئے اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے۔جو زخمی ہیں اللہ ان کو صحت عطا فرمائے۔ شہداء کے گھر والوں کے بچے ، خواتین، ماں باپ اللہ ان کو صبر عطا فرمائے اور اللہ ان کو تباہ و برباد کرے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

یزیدی خاتون بہار اور3بچوں کا براحال؟

یزیدی خاتون بہار اور3بچوں کا براحال؟

مذہب انسانیت سکھاتا ہے،اسلام دین فطرت ہے، اسلام کے نام پر غیر انسانی سلوک کا بہت بڑا المیہ!

پاکستان میں علماء ومفتیان نے اسلامی منشور کو عام نہیں کیا تو پھر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوسکتا ہے

2015میں بہار اور انکے3بچوں کو پانچویں بار فروخت کیا گیا تھا۔ وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے ہاتھوں ان بہت سی یزیدی خواتین میں سے ایک ہے جنہیں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے2014کے اوائل میں شمالی عراق کے ضلع سنجار کے ایک گاؤں پر حملہ کے نتیجے میں قید کیا تھا۔ دولت اسلامیہ عراق میں گذشتہ6ہزار سال سے آباد یزیدی مذہبی فرقے کے پیروکاروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔یہ تحریر ریچل رائٹ کی ہے جسے سحر بلوچ کی زبانی سن رہے ہیں۔ بہار کا خیال ہے کہ ان کے گاؤں پر حملے کے دوران ان کے شوہر اور بڑے بیٹے کو گولی مار کر قتل کردیا گیا ہوگا۔ اور انہیں کسی اجتماعی قبر میں دفن کردیا گیا ہوگا۔ بہار کو یاد ہے کہ کس طرح وہ اور ان کے کم عمر بچے ایک کمرے میں قطار میں کھڑے تھے اور زار و قطار رورہے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو انکے سر قلم کر دیں گے۔ اگرچہ انہیں قتل تو نہیں کیا گیا لیکن اس کے بجائے فروخت کردیا گیا۔ اور بہار کے مطابق یہ وہ وقت تھا جب ان کی دہشت ناک کہانی کا آغاز ہوا۔ گاؤں پر حملے کے بعد وہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے میں ان کی ذاتی ملکیت بن چکی تھیں۔ اب بس جنگجوؤں کی خدمت کرنا تھی۔ وہ جب چاہتے مجھے ان کی بیویوں کی طرح برتاؤ کرنا پڑتا، جب چاہتے تب مارتے تھے۔ بہار کے مطابق ان کے بچوں کو جن کی عمریں10سال سے کم تھیں ان کو بھی مارا پیٹا گیا جبکہ ان کی بیٹی کے چہرے پر رائفل کے بٹ مارے گئے۔ اس کے بعد وہ ایک ہاتھ سے دوسرے جنگجو کے ہاتھ فروخت ہوتی رہیں۔ جبکہ ان کے چوتھے مالک کا نام ابو خطاب تھا جو ایک تیونسی شہری تھا۔ بتایا کہ ہم اسکے گھر پر رہ رہے تھے۔ وہ میری خدمات مختصر عرصے کیلئے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کیلئے دو ٹھکانوں پر صفائی ستھرائی کے کام کرنے کیلئے بھی دے دیتا تھا۔ تمام جگہوں پر میں کام کرتی، صفائی ستھرائی کرتی تھی ، جب چاہتے میرا ریپ کردیتے۔ یہ وہ وقت تھا جب عراق میں ہر وقت فضائی حملے ہوتے تھے۔ دولت اسلامیہ کے جنگجو اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ ہتھیار پکڑے بمباری کے خوف سے چھپ رہے تھے۔ ایک افراتفری کا عالم ہوتا تھا۔ یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی۔ پھر ایک دن جب بہار اور انکے بچے ابو خطاب کے گھر پر تھے تو ایک سفید کار اسکے گھر پر پہنچی جس کی کھڑکیوں کے شیشے سیاہ تھے۔ ڈرائیور لمبی داڑھی کیساتھ سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔ وہ دولت اسلامیہ کے بہت سے جنگجوؤں کی طرح ہی نظر آتا تھا۔ اسے دیکھ کر بہار کو احساس ہوا کہ انہیں اور انکے بچوں کو ایک بار پھر فروخت کیا جا رہا ہے۔ صورتحال سے مغلوب ہوکر بہار نے بچی کچی ہمت جمع کی اور اس شخص پر یہ سوچتے ہوئے چیخ پڑی کہ انہیں فروخت کرنے کے بجائے اب مار دیا جائے کیونکہ وہ مزید برداشت نہیں کرسکتی۔ لیکن آگے جو ہوا وہ ان کی زندگی بدلنے والا تھا۔ گاڑی میں انہیں اور انکے بچوں کو بٹھا کر اس شخص نے گاڑی چلادی۔ گاڑی چلاتے ہی ڈرائیور نے کہا کہ میں آپ کو کہیں اور لے جارہا ہوں۔ بہار کو معلوم نہ تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟۔ وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ آیا اسے اس آدمی پر بھروسہ کرنا چاہیے یا نہیں؟۔ جب وہ بے چین ہونے لگی تو اس شخص نے گاڑی روکی۔ اور اپنے فون پر کسی کو کال کی۔ اس نے پھر فون بہار کے حوالے کردیا۔ دوسری طرف سے آنے والی آواز ابو شجاع کی تھی۔ جس کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ اس نے بہت سی یزیدی عورتوں اور بچوں کو بچانے کا انتظام کیا۔ ابو شجاع سے بات کرکے انہیں معلوم ہوا کہ ڈرائیور نے اگرچہ انہیں خرید لیا مگر اب انہیں اور ان کے بچوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ بہار کو شام میں رقہ کے قریب ایک تعمیراتی جگہ پر لے جایا گیا انہیں اس مقام پر چھوڑ دیا گیا اور بتایا گیا کہ ایک آدمی آئے گا اور کوڈ ورڈ سید کہے گا۔ جس کے جواب میں انہیں اسکے ساتھ جانا ہوگا اور ایسا ہی ہوا ۔تھوڑی دیر میں ایک شخص وہاں موٹر سائیکل پر آیا اور وہی کوڈ ورڈ بولا،بہار اور انکے تین بچوں سے کہا کہ وہ اس کی موٹر سائیکل پر سوار ہوجائیں۔ اس شخص نے کہا کہ سنو! ہم دولت اسلامیہ کے علاقے میں ہیں۔ یہاں ان کی چوکیاں ہیں اگر وہ آپ سے کچھ پوچھیں تو ایک لفظ نہ کہنا تاکہ وہ آپ کا یزیدی لہجہ پہچان نہ سکیں۔ بہار کا کہنا ہے کہ وہ شخص انہیں اپنے گھر لے گیا۔ وہ وہاں ہمارے ساتھ بہت اچھے سے پیش آئے ہم نے غسل کیا، ہمیں کھانا اور درد کش ادویات دیں اور کہا کہ آپ اب محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ایک اور شخص نے بہار اور انکے بچوں کی تصویریں بنائیں اور ابو شجاع کو بھیج دیں تاکہ یہ ثابت ہو کہ انکے پاس صحیح لوگ پہنچے ۔ پھر اگلی صبح تقریباً3 بجے اس خاندان کو بیدار کرکے کہا کہ وہ دوبارہ سفر کیلئے تیار ہوجائیں۔ جس شخص کے گھر وہ رہ رہی تھی اس نے بہار کو اپنی والدہ کا شناختی کارڈ دیا اور کہا کہ اگر کوئی روک کر پوچھے تو کہنا کہ وہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے پاس لے جارہی ہیں۔بہار بتاتی ہیں کہ ہم دولت اسلامیہ کی بہت سی چوکیوں سے گزرے لیکن کسی نے ہمیں نہیں روکا۔ آخر کار وہ شام عراق کی سرحد پر واقع گاؤں پہنچ گئے جہاں بہار کی ملاقات ابوشجاع اور انکے بھائی سے ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں تباہی کے دہانے پر تھی بس مجھے یاد نہیں کہ اسکے بعد کیا ہوا؟۔ ابو شجاع جنہوں نے بہار کی بازیابی کا انتظام کیا وہ واحد شخص نہیں تھے جو دولت اسلامیہ کے ہاتھوں اغوا ہونیوالی خواتین اور بچوں کے بارے میں فکرمند تھے ۔ تاجر بہزاد فرحان نے یزیدی خواتین اور بچوں کو بچانے اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے جرائم کو ریکارڈ کرنے کیلئے کنیت نامی ایک گروپ قائم کیا تھا ۔ کنیت کو یہ اطلاع ملی کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو اغواء شدہ یزیدی خواتین اور بچوں کی آن لائن خرید و فروخت کررہے ہیں۔ خاص طور پر ٹیلیگرام (telegram) پر۔ بہزاد کہتے ہیں کہ ہم آن لائن گروپوں میں جعلی ناموں سے یا دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ناموں کے ساتھ شامل ہونے لگے۔ عراق کے کرد علاقے میں اپنے دفتر کی دیوار پر ٹیلی گرام (telegram) چیٹس کے اسکرین شاٹ کی طرف اشارہ کیا۔ ان میں سے ایک انگریزی میں ہے جس میں ایک لڑکی برائے فروخت کا اشتہار ہے اشتہار کی عبارت کچھ یوں تھی”12سالہ لڑکی کنواری نہیں ہے مگر بہت خوبصورت ہے ”۔ شام کے علاقہ رقہ میں موجود اس لڑکی کی قیمت13ہزار ڈالر لکھی گئی تھی۔ اسکے بعد انہوں نے مجھے لڑکی کی تصویر دکھائی، جو لیدر کے صوفے پر پرکشش انداز میں بیٹھی تھی۔ بہزاد کا کہنا ہے کہ ان ٹیلی گرام چیٹس سے انہیں یہ تفصیلات معلوم ہوتی تھیں کہ مغوی یزیدی خواتین کو کہاں رکھا گیا۔ ہم وہاں کے آس پاس رہنے والے لوگوں سے رابطہ کرتے اور انہیں ان مغویوں کے پتہ لگانے کا ٹاسک دیتے۔ یزیدیوں کیلئے دولت اسلامیہ کے علاقوں میں داخل ہونے کا عمل بہت خطرناک تھا۔ اسلئے مغویوں کے ریسکیو کا کام سگریٹ اور شراب کے مقامی اسمگلروں کے ذریعے ہوتا تھا۔ بہزاد کہتے ہیں کہ اسمگلر یہ کام پیسے کے عوض کرتے تھے۔ یہ ان کا واحد مقصد تھا۔ بہت سی یزیدی لڑکیوں کو واپس خریدنے کیلئے ہزاروں ڈالر ادا کئے۔ بہار کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے خریدنے اور آزاد کروانے پر تقریباً20ہزار ڈالر لاگت آئی۔ ان کی عمر اب40سال ہے لیکن وہ اپنی عمر سے بہت بڑی نظر آتی ہیں۔ انکے سر کے اسکارف کے نیچے زیادہ تر بال سفید ہوچکے ہیں۔ وہ آزاد ہونے کے بعد گذشتہ8سال سے ایک کیمپ میں رہ رہی ہیں۔ اپنے خیمے کے فرش پر ایک پتلے گدے پر بیٹھی وہ اپنے لاپتہ کنبے کے افراد کی تصویر کا البم نکالتی ہیں۔ وہ حقیقت میں نہیں جانتیں کہ ان کے شوہر اور بڑے بیٹے کا کیا بنا؟۔ اسکے ساتھ بار بار ریپ کئے جانے کے صدمے نے انہیں جسمانی اور جذباتی طور پر بہت کمزور اور بیمار کردیا ہے۔ انکے بچ جانے والے بچے اب بھی انکے ساتھ ہیں۔ بہار بتاتی ہیں کہ انکے بچے اب بھی صدمے میں ہر وقت پریشان رہتے ہیں۔ میری بیٹی کو مار پیٹ کے نتیجے میں کافی زخم آئے تھے مگر مجھے لڑتے رہنا ہے اور چلتے رہنا ہے۔ اور اس وقت جس حالت میں ہم لوگ رہ رہے ہیں وہ زندہ لاش ہونے کے مترادف ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

بدامنی کی بدترین فضائ

بدامنی کی بدترین فضائ

سعودی عرب میں ایران سے صلح کے بعد حرمین کے اندر جمعہ کے خطبے میں حضرت علی کے فضائل بیان کئے گئے۔ افغانستان میں امن و امان کے قیام کیلئے یہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں طالبان رہنما حضرت حسین کے علم کو لگانے کی رسم میں اہل تشیع کیساتھ شریک ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ میں اتنا بڑا واقعہ ہوا اور بدامنی کی فضاء میں اب آئی جی صلاح الدین محسود کا بھائی حبیب محسود اغواء کے بعد ڈرائیور سمیت قتل ۔ لاشیں منزائی کے قریب بر آمد ۔یہ خبر واٹس ایپ پر ابھی ابھی ملی۔ ایک انسان کا بے گناہ قتل انسانیت کا قتل ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

قاضی حسین احمد بڑامنافق و قوم پرست ہے

قاضی حسین احمد بڑامنافق و قوم پرست ہے

جیونیوز پر ”جرگہ” میں سلیم صافی نے حکیم اللہ محسود کی ویڈیونشر کی، جو سوشل میڈیا پرپھر گردش کر رہی ہے !

حکیم اللہ محسود کی کیا رائے تھی جماعت اسلامی کی قیادت کے بارے میں؟۔ آئیے آپ کو اس کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔سلیم صافی : جرگہ جیونیوز
حکیم اللہ محسود: … وہ قاضی حسین احمد جس پر پاکستانی طبقہ ناز کرتا تھا، پاکستان کے مدرسین ناز کرتے تھے، پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ناز کرتا تھا، وہ قاضی حسین احمد کھلم کھلا ٹی وی پر سلیم صافی کے پروگرام میں اعلان کرتا ہے کہ پاکستان میں جہاد ، جہاد نہیں فساد ہے، پاکستان میں فدائی عملیات فساد ہے۔ افغانستان میں جہاد، جہاد ہے ، حالانکہ کرزئی کا اتحاد بھی امریکیوں کے ساتھ اور پاکستان کا اتحاد بھی امریکیوں کے ساتھ ہے، کرزئی حکومت امریکہ کی دوست اور پاکستانی حکومت بھی امریکہ کی دوست ہے۔ جیکب آباد کے اڈے پر امریکی ، بلگرام میں امریکی، بلوچستان میں امریکی، اے قاضی حسین احمد ہمیں فرق واضح کردو کہ افغانستان کے جہاد کو کیوں جہاد کہہ رہے ہو اور پاکستان کے جہاد کو کیوں فساد قرار دیتے ہو۔ میں نے تمہیں پہچان لیا کہ تم وطن پرست ہو، وطن کی حفاظت چاہتے ہو،اسلام کی حفاظت نہیں چاہتے، مسجد و مدرسے کی حفاظت نہیں چاہتے، اپنااقتدار قربان نہیں کرسکتے، اسلام سے محبت نہیں ، سیکولر نظرئیے کے مالک ہو۔ میں کبھی بھی آپ کے قول پر اعتماد نہ کروں گا، تمہارے انٹرویو پر اعتماد نہ کروں گا، تمہاری ترجمانی پر اعتماد نہ کروں گا۔ پاکستان کا قانون کفری ہے، اس پر فیصلے کرنا کفر ہے۔ اسکے کفر ہونے کی دلیل اللہ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے سورة المائدہ44،45،47،ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلٰئک ھم الکافرون ان کفری قانون کے مطابق جس نے فیصلہ کیا وہ کافر ہے،فاؤلٰئک ھم الفاسقون وہ فاسق ہے، فاؤلٰئک ھم الظالمونوہ ظالم ہے۔ یہ وہ قانون ہے جس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو شہید کردیا، یہ وہ نظام ہے جس نے شریعت کا نعرہ لگانے والے طلباء کو دریا میں پھینک دیا، یہ وہ قانون ہے جس نے سوات میں شریعت کا نعرہ لگانے والے طلباء کو درختوں سے لٹکادیا، یہ وہ قانون ہے جس نے سوات کے شریعت پسند طلباء کو دربدر کردیا، ان کی عورتیں کیمپوں میں پڑی ہیں، سوات کی عورتیں جیلوں میں ہیں، مہاجر ہوگئی ہیں، ان میری بہنوں کی بے عزتی ہوئی۔ واللہ، باللہ ، تاللہ، پاکستان کی حکومت کو معاف نہیں کروں گا۔ اس نظام کو معاف نہیں کروں گا ۔ ان سب دشمنوں کے سامنے میرا نعرہ ہے کہ دنیا میں غیرت مند لوگوں کے دو ہی کام ہوتے ہیں، یا شہید ہوجاتے ہیں یا پھر فتح و کامیابی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

پاکستان میں50کھرب کاخزانہ ۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر

پاکستان میں50کھرب کاخزانہ ۔ آرمی چیف سیدعاصم منیر

سربراہ پاک فوج کا تاریخی اعلان۔ معاشی انقلاب کا وقت آن پہنچا۔
ہمیں جوائن کیا ہےGTVنمائندہ خصوصی متین حیدر صاحب نے۔ بتائیے گا کس طرح سے خوش آئند دیکھتے ہیں آرمی چیف نے تاریخی خطاب کیا ہے۔
متین حیدر: معدنیات پر انیقہ صحیح پوائنٹ آؤٹ کر رہی تھیں۔ اگر منرل کے شعبے کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے، گلگت بلتستان سے لیکر بلوچستان میں جو چھپے معدنی ذخائر ہیں ان کی مالیت50کھرب ڈالر بنتی ہے۔ صرف5فیصد بھی نکال لیا جائے تو پاکستان معاشی طور پر بہت بہتر ہوسکتا ہے۔ تمام تر قرضوں سے نجات مل سکتی ہے اور اسی طرف آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اشارہ کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ذرا اپنے ملک پر نظر تو ڈالیں برف پوش پہاڑوں سے لیکر صحراؤں کی وسعت تک ، ساحلی پٹی ،سے میدانی علاقوں تک اس سرزمین میں کیا کچھ نہیں؟۔ ہمارا خوشحالی کے راستے پر گامزن رہنا ہی استقامت ہے۔ قرآنی آیات کا حوالہ دیا علامہ اقبال کے اشعار کا ذکر کیا کہ
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہماری زمین معدنیات سے مزین ہے، استفادہ کیلئے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ خزانے دریافت کریں۔ پہلے ایگریکلچر پر فوکس کیا گیا ٹیکنالوجی میں بہت پوٹینشل ہے۔ ریکوڈک گیم چینجر ہوسکتا ہے۔یہ منصوبہ شروع ہوچکا۔ گلگت اور بلتستان، پختونخواہ اور بلوچستان میں ہر قسم کی معدنیات ہیں۔ ٹیکنالوجی اور انوسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ جو ڈائریکشن اب ہے اس پر ہم چلے تو پاکستان میں معاشی انقلاب برپا ہوسکتا ہے، غیر ملکی کمپنیاں بھی کمائیں گی ، ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو منافع ملے گا اور (social corporate responsibility) جہاں معدنیات ہیں وہاں بہت زیادہ ترقی ہوگی۔ کالجز ، ہیلتھ سینٹرز بنیں گے، مقامی روزگارمیں اضافہ ہوگا پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بڑا انقلاب اورغیر معمولی تبدیلی آئیگی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

شیعہ بھائی نہیں کافر ہیں مولانا منظور مینگل

شیعہ بھائی نہیں کافر ہیں مولانا منظور مینگل

کرائے کے مفتی کو مفتی اعظم پاکستان کس نے بنایا؟، شیعہ قرآن کو نہیں مانتے ،تم ان کو مسلمان کہتے ہو؟

مولانا منظور مینگل کی بات کا جواب جذبات نہیں دلائل سے دیں تو مفتی تقی عثمانی کی جان چھوٹے گی!

کرائے کا مفتی کہتا ہے کہ ”شیعہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں پاکستان میں جو شیعہ ہیں ان کو ہم کافر نہیں کہتے: مفتی رفیع عثمانی”۔ تو تو ایران گیا نہیں، میں گیا ہوں ،انکے بڑے بڑے پوپ ،پادری ان سے میں مل چکا۔ تو نے نہیں دیکھا تیرے بڑوں نے بھی نہیں دیکھا۔ میں ایران کے عالمی مقابلوں میں گیا۔ تجھے کیا پتہ؟ پتہ نہیں کس نے مفتی اعظم بنادیا۔ تو کہاں سے مفتی اعظم پاکستان ہے؟ قرآن کے دشمن تیرے بھائی؟، صحابہ کو مرتد کہہ رہے ہیں وہ تیرے بھائی؟ اللہ کی اہانت کررہے ہیں تیرے بھائی؟، جو نبی ۖ کی توہین گستاخی کررہے ہیں تیرے بھائی ؟ جو علی کا نام سہارا اور اہل بیت کا نام لیکر خلق خدا کو دھوکہ دے رہے ہیں ، اللہ کی قسم علی کا کیا کہنا، علی حافظ قرآن۔ علی ایسا کہ کمپیوٹر بھی مقابلہ نہیں کرسکتا ،علی کو قرآن استحزر مستحزر۔ علی کو علوم قرآن مستحزر۔ آپ اور پوری دنیا کو چیلنج ہے ایک شیعہ بڑے سے بڑا مولوی لاؤ جو قرآن کے10صفحے سنا سکے۔ اس قرآن کو کوئی بھی ان میں سے یاد نہیں کرتا اسلئے کہ اس قرآن کا جمع کرنے والا حضرت عثمان ہے۔ عثمان اور ابوبکر نے یہ قرآن لکھوائے۔ ابوبکر اور عمر سے ان کو دشمنی ہے۔ قرآن کو ابوبکر، عمراور عثمان نے جمع کیا، ہم اس کو ہاتھ نہیں لگائیں گے، حفظ نہیں کریں گے ، اس میں تحریف ہوچکی۔ اصل قرآن امام زمانہ امام مہدی لیکر آئیگا۔ اصل قرآن آئیگا تو یہ اس کو حفظ کریں گے۔ ہمارا جو مولوی ہے شیعوں سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ ارے بھائی ! میری زندگی گزر گئی سنیوں کے مدرسے میں لیکن میں نے یہ مستقل باب دیکھا ہی نہیں تھا کہ اہل بیت کے فضائل کیا ہیں؟۔ نبی ۖ کے نواسوں کے فضائل کیا ہیں؟ نبی کی بیویوں کے فضائل کیا ہیں؟۔ نبی کی بیٹی کے فضائل کیا ہیں؟، علی کے فضائل کیا ہیں؟، یہ چیز تو اہل سنت چھپارہے ہیں۔ اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں چھپاتے نہیں ، ایسے پڑھاتے ہیں کہ یہ سوچ نہیں سکتا۔ آپ آجائیں گھنٹوں کے گھنٹے مستقل ہمارے پاس مناقب حسین ہے ، مناقب حسن ہے، مناقب علی ہے، مناقب فاطمہ ہے ۔ یہ بخاری، ترمذی، نسائی، ابوداؤد میں۔ جھوٹا ہمارا سنی مولوی دجال یہ کیوں جھوٹ بولتا ہے کہ سنیوں کے یہاں یہ چیزیں نہیں؟۔ پھر علی کا وارث میں یا شیعہ؟۔ حسن حسین کا وارث میں ہوں یا وہ کالی پگڑی والا جس کا چہرہ کالا اور اللہ نے اندر سے دل بھی کالا کیا، ان کا وارث میں یا یہ لوگ ؟۔ انکے وارث ہم ہیں یہ قرآن ہاتھ میں لو اور مجھے اشارہ کرو پڑھ لو کسی جگہ سے ۔ خدا کی قسم انہیں قرآن نہیں آتا ۔ ہمارے کرائے کا مفتی بھی کہتا ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں پاکستان بنانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

___مولانا منظور مینگل کے بیان پر تبصرہ ___
آرمی چیف سید عاصم منیر ہمیں مولانا منظور مینگل کیساتھ بٹھادیں۔ جب وہ درسِ نظامی اور اپنے استاذ مولانا سلیم اللہ خان کی کتاب ” کشف الباری ” میں موجود قرآن کی تحریف کے عقیدے سے اعلانیہ توبہ کرے گا۔ تواس اقدام سے شیعہ سنی منافرت ختم ہونے کا آغاز ہو گا۔ منظور مینگل پنجابیوں کو غیرت سے عاری سمجھتا ہے مگر اس کا دماغ کھل جائے گا کہ اصل بے غیرتی کیا ہے؟۔اس نے کہا کہ ایک پنجابی عورت نے اپنے خاوند کو تھپڑ مارا ۔ میں نے پنجابی شاگرد سے کہا کہ یہ بلوچ ہوتا تو بیوی کو مارتا یا کم ازکم تین طلا ق دے کر چھوڑ دیتا۔
ایک بلوچ دوست کو جب حلالہ کی لعنت سمجھ میں آگئی تو اس نے بتایا کہ گاؤں میں ایک امام نے حلالہ کیا، عرصہ بعد عورت نظر آئی تو پوچھا کہ مزہ آیا تھا؟۔ عورت نے کہا کہ نہیں!۔ امام نے کہا کہ پھر حلال نہ ہوئی ، دوبارہ جماع کیا کہ مزہ آیا؟۔ عورت نے کہا کہ ہاں!۔ بے غیرتی یہ تھی ۔منظور مینگل نے اقبال کے اشعار میں” بڈھے بلوچ کی نصیحت ” پڑھی اور نہ مرد کامل سے فیض پایا۔ غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ ودومیں۔ حاصل کسی کامل سے یہ ہنر کر۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv