پوسٹ تلاش کریں

عمران علی کے اکاؤنٹ کی خبر نکال رہا ہوں:‌ڈاکٹر شاہد مسعود

imran-ali-ke-account-ki-khabar-nikal-raha-hun-dr-shahid-masood

سائل :ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب !بیچ چوراہے یہ آپ کیا کررہے ہیں؟
ڈاکٹر شاہد مسعود کا نرالہ جواب: عمران علی کے اکاؤنٹ کی خبر نکال رہا ہوں
سائل: اگر تحقیق کرنا میرا کام ہو اور تلاش بسیار کے باوجود اس میں کوئی خبر نہیں مل سکی تو جناب کیا ہوگا؟
ڈاکٹر شاہد: میں اپنی خبر پر قائم ہوں ، مجھے اپنے پیٹ کے کیڑوں کی خبر ہے اگر آج نہیں ملی تو 6ماہ بعد سہی
سائل: آپ اپنے اس بدبودار خبر کے ذریعے سے صحافت کو بدنام کررہے ہیں ، جیو پر واویلا مچا ہوا ہے۔
ڈاکٹر شاہد: اسی گارڈ فادر سے تو میں نے یہ سیکھا ہے ، حامد سعید کاظمی کے اقرار جرم کی خبر اسی نے لگائی تھی
سائل: مہم جوئی کیلئے آپکے مزاج سے جیو ٹی وی چینل جوڑ کھارہا تھا تو بھاگ کر پی ٹی وی کیوں گئے؟
ڈاکٹر شاہد: بینظیر بھٹو پر کارساز دھماکے اور زرداری پر بینظیر کو قتل کرنے کا الزام لگایا تھا وہی کام آیا تھا۔
سائل: آپ نے من گھڑت خبر پھیلا کر سوشل میڈیا کے جھوٹوں کو بھی مات دی تو حاصل کیا ہوا؟
ڈاکٹر شاہد: میں ان سب کا امام بن گیا ، اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر قافلے ملتے گئے کارواں بنتا گیا۔
سائل: آپکی عزت ، وقار ، توقیر ، احترام ، برد باری ۔۔۔شرم ، حیاء ۔۔۔ اعتماد ۔۔۔ پر کوئی اثر نہ پڑا؟
ڈاکٹر شاہد: نہیں نہیں میں اس جنگل میں منگل اور منگل میں جنگل تھا۔ پہلے سے کسی شمار و قطار میں نہ تھا ۔
سائل: اگر خبر جھوٹی ثابت ہوئی تو آپ کو کیا سزا ملنی چاہئے؟ ۔ اپنے لئے خود ہی کوئی سزا تجویز کرلیجئے۔
ڈاکٹر شاہد: جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ پھانسی دیجئے گا مگر نواز شریف کو پارلیمنٹ کی غلط بیانی پر سزا ملی؟
سائل: ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب! معاف کیجئے گا ، آپ جیو ٹی وی چینل اور نواز شریف کو کیوں گھسیٹتے ہیں؟
ڈاکٹر شاہد: تاکہ مجھے دوبارہ جیو میں ملازمت ملے یا پی ٹی وی کا چیئر مین بنادیا جائے ورنہ چھوڑونگا نہیں
سائل: آخری اور بے لاگ سوال یہ ہے کہ جناب آپ کی دُم کو کس نے قابو میں رکھ کر یہ خبر لیک کی ہے؟
ڈاکٹر شاہد: کوئی اتنا پاگل نہیں ، یہ میرے اپنے اندر کا کیڑا ہے اور کیڑوں کی بیماری کافی لوگوں کو ہے۔

سینٹ انتخابات کے بعد نااہل نواز شریف کو اسمبلیوں سے اہل قرار دیا جائیگا. اجمل ملک

sanet-intikhabat-ke-baad-na-ehal-nawaz-sharif-ko-assembly-se-ehal-qarar-dia-jae-ga-ajmal-malik

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر اجمل ملک نے اپنا تجزیہ پیش کیا کہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کون لڑ رہا ہے ؟ ۔ جیو رپورٹ کارڈ میں صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ ’’شہباز شریف کو ن لیگ نے وزیر اعظم بنا کر غلطی کی ، یہ اب ٹوڈی بن گئی ‘‘۔ مظہر عباس نے کہا کہ ’’مسلم لیگ میں وہ جینز نہیں جسکی آپ توقع رکھ رہے ہیں‘‘۔
جب حدیبیہ مل کافیصلہ ہوا اور عمران خان کو اہل، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا : ہم بابے ہیں ،ہمیں بُرا نہ کہو، ہم پر دباؤ ہوتا توپھر حدیبیہ مل کا فیصلہ تمہارے حق میں نہ کرتے۔ دوسرے جج نے اپنے ریمارکس میں یہ لکھا کہ ’’نواز شریف و عمران خان کے کیس میں فرق تھا‘‘۔ نوازشریف نے کہا کہ وہی ہوا،جس کی شکایت ہم کررہے تھے کہ صرف نوازشریف کو ہٹانے کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام ہورہا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ججوں کواپنی صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تجزیہ نگار مزاحمت کی سیاست کی توقع کررہے تھے لیکن شہبازشریف کو وزیراعظم نامزد کرنے ، سینٹ سے الیکشن کیلئے بل پاس اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی طرف سے جمہوریت کی حمایت پر فضاء بہت بدلنے پر اتفاق رائے نظر آرہی تھی لیکن ابھی بڑا کھیل باقی ہے۔ عمران خان کی سیاسی بصیرت اور تجربہ زیرو ہے۔ پہلے کہتا رہا کہ این آر او نہیں کرنے دینگے لیکن حدیبیہ پیپر ملز کا سپریم کورٹ میں کھل جانا ہی NRO تھا۔وہ بیوقوف خوشی منارہاتھا کہ اب شہباز شریف بھی جائیگا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے بہت اچھا کیا کہ نیب سے کہا کہ رجسٹرار نے غلطی سے مجھے اس بینچ میں شامل کیا، میں فیصلہ دے چکا ہوں۔ سپریم کورٹ کیس کھولتا توبھی یہ این آر اوتھا کیونکہ پانچ ججوں نے فیصلہ دیاتھا کہ نیب یہ کیس دوبارہ کھول دے۔ نیب لاہورہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے چکر لگاگر توہین عدالت کررہاتھا۔ نیب میں اتنی تپڑ ہوتی تو یہ کریمنل کیس سپریم کورٹ میں سننے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ ن لیگ کی قیادت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ نیب کو مردہ لاش قرار دینے والی سپریم کورٹ اب اسی کو تحقیقات کا حکم دے رہی ہے، لاش کیا تحقیق کرے گی؟۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے سماعت شروع کی تو عدالت نے حیران کن پابندی لگائی کہ ’’میڈیا میں یہ کیس زیرِ بحث نہ لایا جائے‘‘ پھر نیب سے کہا کہ مدت گزرگئی یہ کیس نہیں کھولا جاسکتاہے۔ اور اسکا قصہ ختم ہے، بار بار عدالتوں میں گھسیٹنا شریف برادران کیساتھ زیادتی ہے۔ شہازشریف نے اس کو ویلکم کیا اور عدل و انصاف کی جیت قرار دی۔ نوازشریف کومائنس ون ہی لگا۔ عمران خان نے کہا کہ اچھا ہوا،میرا مقابلہ وزیراعظم کے ایک مضبوط امیدوار شہبازشریف سے ہوگا مجھے کمزور کپتان کیساتھ کھیلنے میں مزا نہیںآتا۔ NROقبول نہ کرنیوالے عمران خان کو NRO میں مزہ آنے لگا ۔ دوسری طرف لگتایہ ہے کہ میاں نوازشریف کو باور کرایا گیا کہ ساری زندگی آپ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر گزاری، عدلیہ پر پریشر برقرار رکھو۔ فوج کے سپہ سالار اچھے آدمی ہیں۔ فوج کو برا بھلامت کہو، مارچ میں سینٹ کے انتخابات ہونگے تو سینٹ میں اکثریت ہوگی۔ پھر بل پاس کردینگے کہ عدالت کا نااہل پارٹی صدارت کی طرح قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبرز اور وزیراعظم ، وزراء اور وزیراعلیٰ کیلئے نااہل نہیں۔ بھارتی پھولن دیوی نے ڈکیٹی کی تاریخ رقم کر کے جیل سے الیکشن جیتا۔ آمروں نے اپنی بے ایمانی کو چھپانے کیلئے سیاستدانوں پر صادق وامین کی شرط لاگو کی اور عدالتوں سے جس کو چاہا نااہل اوراہل قرار دینے کی سازش کی راہ کھولی۔
جہانگیرترین اہل ہوگاتو عمران خان کوبے انتہا خوشی ہوگی کہ چمک والے لوگ آئے تو میرے ستاروں میں روشنی آ گئی۔ یہ لوگ عدالت سے نااہل ہونگے تو مکھیاں بھی نہ مار سکوں گا۔ پیپلزپارٹی اورباقی سیاسی جماعتیں ترمیم کیخلاف نہ جائیں گی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار افتخار چوہدری نہیں کہ خود کو بے نقاب کرکے کسی کھیل کا حصہ بنے۔ اسکے بعد جمہوریت کے خلاف سازش ہوئی تو تمام سیاسی کارکن جمہوریت کیلئے کھڑے ہونگے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اشارہ دیا کہ پارلیمنٹ اصلاحات کرے تو عدلیہ سیاست کے چکر میں نہیں پھنسے گی۔
کھیل یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں شہباز شریف اور مرکزی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جائے۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں 14افراد کی ہلاکت کا مسئلہ اور ختم نبوت کا معاملہ اہم اہداف ہیں۔ زرداری نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ایک ایسے وقت میں ملاتات کی تھی جب ن لیگ کو ہٹانے کیلئے یہ اہم ذریعہ سمجھا جارہاتھا۔ زرداری کا یہ کہنا بڑا معنی خیز تھا کہ ’’پہلے تو ہماری کوشش ہوگی کہ یہ لوگ الیکشن کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہار مان جائیں‘‘۔ جسکا یہی مقصد ہوسکتا تھا کہ جو قوتیں ن لیگ کی حکومت کو گرانا چاہتی ہیں اب زرداری ان کیساتھ مل گئے ہیں۔ زرداری نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے کہا کہ ’’اب حکومت کو میں گرا کر دکھاتا ہوں۔ کیسے گراتا ہوں ، یہ مجھ پر چھوڑ دو‘‘۔ سیاست نام دورنگی کا ہے۔ زرداری نے سوچا ہوگا کہ جو قوتیں ن لیگ کو گرانا چاہتی ہیں اگر انہوں نے گرانے کا فیصلہ کرلیا تو ن لیگ کی حکومت کو گرانے کاکریڈٹ اسی کو جائیگا، اوراگر حکومت کو گرانے کا پلان نہ رہا تو زرداری نے اپنے بیان کو سیاسی دغا بازی قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ میری سیاست کو سمجھنے کیلئے PHDکی ضرورت ہے۔ حکومت کی طرف سے ختم نبوت کے مسئلہ پر دھرنے والوں سے جو معاہدہ کیا گیا،اس میں سازش کرنیوالوں بے نقاب کرنے کا وعدہ تھا جس کی مدت پوری ہوگئی۔ اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے ایک طرف دھرنے کا الزام فوج پر لگادیاتو دوسری طرف یہ ریمارکس دئیے کہ انوشہ رحمان کو بچاکر وزیر قانون زاہد حامد کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ حکومت کی طرف سے ن لیگ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق نے کہاکہ ’’بہت ہوشیاری سے سازش کی گئی جس کو پکڑلیاگیا، اور یہ رپوٹ سابق وزیراعظم نوازشریف کو سپرد کردی گئی‘‘۔ حکومت میں شامل مولانا فضل الرحمن نے میڈیا پر بتایاکہ ’’ ہم نے اس سازش کو ناکام بنایا، امریکہ کو سازش کرنے والوں نے اس کی کامیابی کی اطلاع بھی دی تھی‘‘۔ اس کیس کے اہم کردار سینٹرحافظ حمداللہ نے کہا کہ ’’ ہم خود کو بری الذمہ اسلئے نہیں سمجھتے کہ حکومت کا حصہ ہیں مگرحکومت کیساتھ اپوزیشن نے بھی آواز اٹھانے پر ختم نبوت کے مسئلہ پر میرا ساتھ نہیں دیا، راجہ ظفر الحق کے کہنے پر زاہد حامد ختم نبوت کے مسئلہ پر مجھ سے متفق ہوگئے‘‘ حکومت اور اپوزیشن نے جان بوجھ کر یا غفلت کا ارتکاب کیا؟، قومی اسمبلی میں شیخ رشید نے ختم نبوت کیلئے آواز اٹھائی جو تحریکِ انصاف اور پیپلزپارٹی کیلئے بالکل بھی توجہ کے قابل نہ تھی۔ جماعت اسلامی کے طارق اللہ نے ساتھ دیا۔ جمعیت علماء اسلام ف حکومت کا حصہ تھی اسلئے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کو گھاس ڈالی گئی تو تحریک کا حصہ بنیں گی اور کہیں گی کہ تحریک نظام مصطفی میں قادیانی اصغر خان سے مل کر بابائے جمہوریت ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کو چلتا کردیا تو بابائے اسٹیبلشمنٹ نوازشریف کی حکومت کو چلتا کرنے میں کیا حرج ہے؟۔ مہروں کے علاوہ اور یہ کچھ کرنہیں سکتے ہیں۔

آزاد قبائل گلگت اٹک میانوالی کو پختونخواہ میں شامل کیا جائے. فاروق شیخ

azad-qabail-gilgit-atak-mianwali-ko-pakhtunkhwa-me-shamil-kia-jae-farooq-shaikh

نوشتۂ دیوار کے نمائندہ خصوصی فاروق شیخ نے کہا کہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے ،اب عوام تک گیلانی صاحب کا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست پہنچے گا۔ نوازشریف کیلئے محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن بیربل اور ملادوپیازہ کا کردار ادا کرنے سے گریز کریں۔پنجاب کی بہت بڑی آبادی اور علاقے کے باوجود صرف 25سینٹروں کا حق اور پختونخواہ کے چھوٹے سے علاقہ اور معمولی تعداد کے لوگوں کیلئے بھی 25سینٹروں کا کوٹہ غلط بات ہے۔ قبائلی علاقوں کے علاوہ گلگت بلتستان، اٹک ، میانوالی اور بھکر تک کا علاقہ بھی خیبر پختونخواہ کا حصہ بنایا جائے۔ شمالی علاقہ جات کو الگ صوبہ بنایا گیا تو گلگت بلتستان کے لوگ ٹیکسوں پر احتجاج کررہے ہیں، پختونخواہ کا حصہ بنتے تو ٹھیک ہوتا۔ ہمارا یہ المیہ ہے کہ کرپشن میں مبتلا ء افراد صوبوں کے نام پر کھانچوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ آزاد قبائل پہلے سے تقریباً پختونخواہ کا حصہ ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ،پشاور اور سیٹل علاقوں میں کمشنری نظام کے تحت مرج ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ کا تعلق کمشنر اور صوبائی گورنر سے ہوتاہے۔ پاکستان کی آزادی کیلئے آزاد قبائل نے افغانستان کیلئے قربانیاں نہیں دی تھیں۔ پیرسوہاگہ اسلام آباد سے تھوڑی دور آگے پختونخواہ ہی شروع ہوتاہے۔ گلگت بلتستان بھی چترال کی طرح پختونخواہ ہی کا حصہ ہیں۔ اٹک ، میانوالی کو بھی پنجاب میں غلط طریقے سے شامل کیا گیاہے، یہ سارے علاقے انتظامی طور پر پختونخواہ ہی کا حصہ بنائے جائیں۔ جب کالاباغ ڈیم پختونخواہ کا حصہ بن جائیگا تو کم لوگ اسکے بنانے پر اعتراض کرنا بھی بند کردینگے۔
انتظامی اعتبار سے پنجاب کا حجم کم ہونے سے پنجاب پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ فائدہ ہی پہنچے گا۔ پاکستان کیخلاف سازش کرنے والوں کو پتہ چل جائیگا کہ قبائلی علاقوں میں شورش برپا کرنے کے ذریعے سے علیحدگی کے جو خواب دکھائے گئے وہ بالکل ملیامیٹ ہوگئے تو 100سال پہلے سازشی سوچ رکھنے والوں کو بھی سازش کرنے سے ہاتھ اٹھانے پڑیں گے۔ ہمارا یہ خطہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز ہے۔ پاکستان ایک ہی ملک ہے اور اس میں صوبائی، لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کے علاوہ جن سیاسی منافرتوں کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے ان کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر سے سستی بجلی کے علاوہ صاف شفاف پینے کا پانی اور ٹیوب ویلوں کے بغیر زرعی زمینوں کا پانی بھی میسر آئیگا۔ زیرزمین پانی کے ذخائر میں بھی بے حد اضافہ ہوگا۔ کراچی کو نہروں کے ذریعے سے پانی سے مالا مال کیا جاسکتاہے۔غریب آبادی کیا ڈیفینس میں بھی پانی نہیں ہے۔ وقتی مفادات کے بجائے قوم وملک اور ملت کے وسیع تر مفاد میں پاکستان کو عالم اسلام و عالم انسانیت کیلئے عظیم تر بنانا ہوگا۔ برمی بنگالیوں کو فوری طور سے پاکستان کی شہریت دی جائے اور افغانستان کے حالات کو بہتر بنانے میں مدد کریں تاکہ افغانی زبردستی سے بد دل ہوکر نہیں اپنی خوشی سے اپنے ملک میں آباد ہوجائیں ۔ پاکستان کے تمام شہروں کو ازسرِ نوتعمیر کرنے کے جدید نقشے بنائیں جائیں، جس میں وسیع روڈ، گلیاں اور جدید سے جدید تر تمام انتظامات ہوسکیں۔ایک شخص ملک ریاض نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی نئی نئی دنیا آباد کر رکھی ہے تو ہماری ریاست اور حکومت میں اتنی طاقت کیوں نہیں؟۔ بس قیادت اور خلوص کا فقدان ہے۔

سندھ حکومت سے گزارش از محمد حنیف عباسی

riasat-awam-ki-maa-hoti-hei-riasat-k-moot-se-hum-preshan-hein-Haneef-Abbasi

ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے اور ماں کا احترام بہت ضروری ہے، آج کل کراچی کی سڑکوں پر جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں جس سے عوام کو بڑی اذیت ہے۔
محترم وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ صاحب! آپ کی خدمات کا اعتراف ہے ، کراچی کی سڑکوں پر آپکی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ تعمیراتی کام ہوئے ہیں۔ جو قابل ستائش ہیں۔ وزیرستان کے ایک محسود عالمگیر خان نے گٹر کے ڈھکنوں پر سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی تصاویر بنا کر بہت توہین آمیز سلوک کیا تھا۔ میں اس کا قائل ہرگز نہیں ہوں مگرعوام کہہ رہی ہے کہ ریاست کی مُوت (پیشاب) سے ہم پریشان ہیں۔ خدارا مہربانی کرکے بلدیاتی اداروں کو فعال بنائیں تاکہ ریاست کی بے ادبی سے عوام کی زبانیں محفوظ رہیں۔ گستاخی معاف اور توجہ کرنے کا شکریہ۔

بیت المقدس کو یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کا مشترکہ مرکز بنایا جائے. فیروز چھیپا

baitul-muqaddas-ko-yahoodi-o-nasara-aur-muslims-ka-mushtarka-markaz-banaya-jae-Feroz-chhipa

نوشتۂ دیوار کے مالیاتی امور کے منتظم اعلیٰ محمد فیروز چھیپا نے اپنے بیان میں کہاہے کہ یہ موقع ہے کہ عالم اسلام اور عالم انسانیت اپنے اندر امن وسلامتی کی فضاء قائم کرے، امریکہ نے ایک طرف اسرائیل کی حمایت میں دنیا کا امن خطرے میں ڈالاہے تو دوسری طرف وہ افغانستان میں منشیات اور دہشتگردی کی فضاء قائم کرکے پاکستان ، ایران اور بھارت کو تباہ کرنے کے درپے ہے،اسلام کا نام لینے والا جہادی طبقہ افغانستان یا وزیرستان سے بیت المقدس تک امن مارچ کا علان کرے۔ مسجدِ اقصیٰ کو گرانے و ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے دنیا کا امن تباہ ہوگا۔ عتیق گیلانی کی تقایر ویڈیو کے ذریعے عام ہونگی تو دنیا کا نقشہ بدلے گا۔ جمعہ کو مسلمان،ہفتہ کو یہودی اور اتوار کو عیسائی ہی بیت المقدس میں عبادت کریں تو سب سازش ناکام ہوگی۔ فلسطین کی حمایت کرنیوالا طبقہ بیت المقدس میں اپنے سفارت خانے کھول دے اور مسلمانوں کے امن مارچ کا حصہ بن جائے تو امن بحال ہوجائیگاجامع مسجد نور جوبلی میں بریلوی مکتبۂ فکر کے مولانا شفیع اکاڑوی ؒ خطیب وامام ہوتے تھے۔ حاجی محمد عثمانؒ کے بیان کی وجہ سے وہاں دیوبندی بریلوی اتحاد کی فضا تھی۔ پھر دونوں میں پھڈہ شروع ہوا، حکومت کی مداخلت سے اب دیوبندی جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں اور بریلوی جمعہ کے بعد صلواۃ وسلام پڑھتے ہیں۔ مولانا اکاڑوی گلزارِ حبیب سولجزبازار منتقل ہوگئے تھے جو دعوتِ اسلامی کا پہلا مرکز تھا، پھر فیضانِ مدینہ کے نام سے مرکز پرانی سبزی منڈی کراچی منتقل ہوا۔ پاکستان میں ایسی فضاء کی ضرورت ہے کہ عبادتگاہوں پر قبضے کرنے کی مہم جوئی ختم ہو، اور دنیا بھر میں بھی عبادتگاہوں کا تصور تجارتگاہوں و سیاسی مقاصد کیلئے نہ ہو۔ مساجد کو دوسرے مکاتبِ فکر والے رونق بخشنے کیلئے آزاد ہوں۔ قرآن وسنت اور شریعت وطریقت کے سلسلے آباد رہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی امریکہ کی طرح ایک اسٹیج سے عوام کو دعوتِ خطاب دینے کا اہتمام کیا جائے تو سیاست نکھر ے گی اور دین کو بھی تفرقوں سے پاک کرنے کی راہ ڈھونڈی جائے۔
مذہب اور جہاد کاروبار بن جائے تو دنیا میں کبھی امن نہیں آسکتاہے۔ بیت المقدس تمام انسانیت کیلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان، یہود اور نصاریٰ اس میں عبادت کا آغاز کرینگے اور دنیا بھر سے لوگ زیارت کیلئے آئیں تومذہبی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔پھر دنیا بھر میں ریاستوں پر بیٹھے قصائی نما ظالم اور جابر حکمرانوں کے ہاتھوں سے بھی کھیل خود بخود نکلے گا۔ یہ کونسی بات ہے کہ اسرائیل نے اپنا پارلیمنٹ تل ابیب میں نہیں بیت المقدس میں بنایا ہے، امریکہ نے وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا ہے تو ایک دن ترکی بھی اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کردیگا۔ ترکی کو امریکہ سے پہلے اپنا سفارت خانہ وہاں اسلئے منتقل کرنا چاہیے تھا کہ فلسطینیوں کی مدد ہوسکتی تھی،وہ اسرائیل کو تسلیم کرچکا ہے تو فلسطین کی مددکیا صرف قراردادوں سے ہوسکتی ہے؟۔ جب ہم عیسائیوں کو اپنے ساتھ شریک کرینگے تو فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔ یورپ یونین، برطانیہ اور عیسائی دنیا کے پاس طاقت ہونے کے باوجود اپنے مرکز بیت المقدس کیلئے وہ سیاسی حکمت عملی کے طور پر مسلمانوں کو استعمال کررہے ہیں مگر مسلمانوں کے پاس حکمت عملی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

امریکہ و اسرائیل کیخلاف بھارت کی حمایت اور کلبھوشن کی فیملی سے ملاقات زبردست اقدام ہے. اشرف میمن

america-israel-ke-khilaf-india-ki-himayat-aur-kalbhoshan-ki-family-se-mulaqat-zabardast-iqdaam-hei-Ashraf-Memon

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہاہے کہ ایک طرف بھارت نے امریکہ واسرائیل کی مخالفت کرتے ہوئے کمال کردیا کہ ہماری قرارداد کی اقوام متحدہ میں حمایت کی تو دوسری طرف پاکستان نے جاسوس دہشتگرد کلبھوشن کی ماں اور بیوی سے انسانی ہمدردی کے تحت ملاقات کرواکر مثالی کردار ادا کیا، ٹاؤٹ قسم کی میڈیا نے ان قدامات کووقعت نہیں دی بلکہ بے وقعت بنانے کی کوشش کی جو افسوفسناک ہے۔ انسانیت کی خیر خواہی، عالمی امن سے جڑی ہوئی ہے، علاقائی امن بھی بنیادی بات ہے۔ پاک بھارت تناؤ کم کرنے اور دشمنی کو دوستی میں بدلنے کیلئے ہمیں حدیبیہ پیپرملزنہیں صلح حدیبیہ جیسے معاہدوں کی ضرورت ہے۔ سیدعتیق گیلانی کے بیانات ویڈیو کے ذریعے سے تمام اسٹیک ہولڈر دیکھ سکتے ہیں جس میں قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کو امامت کے مقام پر فائز کرنے کی بھیفکر اجاگر ہوتی ہے۔ سازشوں میں گرفتار سیاسی قائدین کاقومی بیانیہ ہی درست نہیں ۔ ریاست پاکستان اور حکومت نے اچھا کیا کہ انسانی بنیاد پر کلبھوشن کووالدہ اور بیگم سے ملاقات کا موقع دیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ریاستوں کے اصولوں کے خلاف ہو، دنیا میں کہیں ایسانہ ہوتا ہو،اس کو اے آروائی کے سمیع ابراہیم و دیگر صحافی سازش کا نام دیں۔ کلبھوشن کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی و امریکی ایجنسی ایم آئی 6اور سی آئی اے ودیگر ممالک کے ایجنٹ کا نام دیں اور ملاقات کو دباؤ قبول کرنے کا نتیجہ قرار دیں لیکن پاکستان کو ایک دو نہیں100قدم آگے بڑھ کر اسلام کاروشن چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا۔ اقوام متحدہ میں عالمی ضمیر کی نمائندگی سے پاکستان کو عالم انسانیت کی امامت کا شرف مل گیا ہے۔ دنیانے اس کی حمایت کی ہے، بھارت بھی اس میں شامل ہے۔ جس کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت تھی لیکن ہماری میڈیا نے اس کو اجاگر کرنے کا حق ادا نہیں کیا، یہ ہمارے قومی بیانیہ کا حصہ تھا مگر ہم چوک گئے۔ عتیق گیلانی نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے ضرورت تھی کہ اسکے بدلے میں کلبھوشن کو رہا کردیا جائے۔ یہ وہی عتیق گیلانی ہے کہ جس نے لکھاتھا کہ ’’کلبھوشن کو مارنے کی ہمت نہیں تو بھارت کے بارڈر پر باندھ دو،تاکہ روز روز سرحدات کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کا اپنا گولہ اسی کو لگ جائے۔
کلبھوشن ایک دہشت گردہے لیکن اگر ایک ہفتہ تک اس کی ملاقات کیلئے اسکی بیگم ،ماں اور بچوں کو پاکستان بلایا جائے تو اس سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں امامت کے قابل بن جائیگا اور دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی، ریاستوں میں تناؤ اور کھچاؤ کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا۔ بھارت میں کلبھوشن کا پورا خاندان بھی پاکستان کی بہترین سفارت کاری کریگا۔ پھر کلبھوشن کو پاکستان میں آزادانہ نقل وحمل کی اجازت دی جائے ، جلسے جلوس میں وہ پاکستان کی تعریف اور بھارت کی مذمت پر بھی مجبور نہ کیا جائے اور پھر اس کو ایران ، عرب امارات اور برطانیہ کا آزادانہ دورہ بھی کرایا جائے۔ پھر عالمی عدالت انصاف میں وہ اپنے جرم کا اعتراف کرے اور پاکستان اس کو معاف کردے۔ دنیا کوپیغام دیا جائے کہ دہشتگرد جاسوس کیساتھ بھی اسلام اچھے رویے کی اجازت دیتا ہے۔ دہشت گرد کے انسانی حقوق کو اسلام نے یہ تحفظ دیا ہے، دہشت گرد کی بیوی کے حقوق بھی بحال کرنا ایک اچھا اقدام ہے، دہشت گرد کی ماں اور بچوں سے اچھا سلوک روا رکھنے میں کوئی عیب نہیں بلکہ شرفِ انسانیت ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گردوں،قیدیوں اور جرائم پیشہ افراد کو اچھے سلوک کی بنیادپر راہِ راست پر لانا بہت آسان ہے۔ کلبھوشن سے یہ رویّہ اختیار کیا گیا تو دنیا بھر پر اسکے بہترین اثرات مرتب ہوں گے، اور پاکستان کی سلامتی کے علاوہ پورے خطے اور عالم انسانیت پر اسکے اچھے اثرات سے اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آئیگا۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے پاکستان کے شانہ بشانہ ہونگے اور دہشتگردوں کو ذہنی شکست کا زبردست سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کا شکریہ جس نے تھوڑی دیر کیلئے ہمیں جگادیا. ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف کا سینٹ میں خطاب

MQM-Leader-Sanator-Barrister-Saif-speech-in-Senate-on-Jerusalem-issue

اسلام آباد (انٹرنیٹ ویڈیو ریکارڑنگ) پاکستان کے ایوان بالا قانون سازسینٹ سے ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے چیئر مین سینٹ رضا ربانی کی اجازت سے جو خطاب کیا ، اس نے رضا ربانی ، ارکان سینٹ ، پوری پاکستانی قوم اور اُمت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سورہ بقرہ کی آیت کا حوالہ دیکر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اُمت وسط کا کردار اُمت مسلمہ کو دیا ہے ، جسکی تفسیر میں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس کا انفرادی و قومی اپنا کردار ہوگا تو وہ اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کا فریضہ ادا کرسکے گی۔ پہلے یہ کردار بنی اسرائیل کے پاس تھا، اب اُمت مسلمہ نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے ، میں جرأت کرکے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے تھوڑی دیر کیلئے ہمیں جگا دیا مگر ہم سوائے شور شرابہ کے کچھ نہیں کرسکتے، جذباتی تقریریں کرلیں گے لیکن یہ جوش و خروش کسی کام کا نہیں ہوگا۔ اسرائیل اور امریکہ پر لعن طعن کرنیکے بجائے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ڈینمارک ضلع پنڈی جتنا ملک ہے۔ کارٹون کے مسئلے پر ہم اس کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے۔ فیض آباد چوک پر چند مولوی کا دھرنا ہم منتشر نہ کر سکے انکو پیسے بھی دئیے۔ تو امریکہ کا ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے؟۔ میرے پاس امریکہ کے دو سال کا ویزا ہے ، میں اس کو ختم نہیں کرسکتا تو اور کیا کرلوں گا؟۔ سینٹ میں جن لوگوں کے پاس امریکہ کے ویزے لگے ہوئے ہیں وہ ان کو پھاڑ کر ضائع کردیں پھر تقریر کریں۔ بندروں نے ڈگڈگی بجانے والوں کیخلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا تو کسی نے بتایا کہ تم ان کی ڈگڈگی پرناچنا پہلے بند کردو ، پھر انکے خلاف جو کچھ کہنا ہو کہو۔ صلاح الدین ایوبی کی تاریخ پڑھو ، مکہ مدینہ کے حکمرانوں اور عربوں نے انکی مدد اسلئے نہیں کی کہ وہ کرد تھا، پاکستان کے علاوہ سارے اسلامی ممالک اسرائیل سے تعلقات کیلئے ترس رہے ہیں۔ بیرسٹر سیف نے جو کچھ کہا نیٹ پر ان کی ویڈیو دیکھنے کے قابل ہے ضرور دیکھئے۔

خراسان قبائل سے بیت المقدس تک امن مارچ میں دنیا کی نجات ہے. عبد القدوس بلوچ

khurasan-qabail-se-bait-ul-muqaddas-tk-amn-march-mein-dunya-ki-nijaat-hei

نوشتہ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہاہے کہ سیاست تجارت نہیں حکمت کا نام ہے۔ دنیا میں پاکستان ،امریکہ، بھارت، اسرائیل، برطانیہ اور دیگر بہت سے ممالک نے سیاست کو خدمت کے بجائے تجارت بنالیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے گماشتہ سیاستدانوں نے امن و امان کے بجائے دہشت گردی سے امن عالم کو خطرات سے دوچار کردیاہے۔ نیٹو کی فورس بالعموم، امریکی فوج بالخصوص ہیروئن کی تجارت کرتی ہے۔ دہشتگردی اس کاروبار کا صرف ماسک ہے۔ پاکستان کی پوری قوم کا المیہ تھا کہ اس مکروہ کاروبار کو سمجھ نہ سکی۔ تاہم پھر بھی پاکستانی ریاست اور عوام نے بھرپور انداز میں دہشتگردی کاخاتمہ کردیا۔پاکستان کو ملک خداداد بجا طور پر کہا جاتا ہے ۔ امریکہ کا مکروہ چہرہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ خراسان سے بیت المقدس تک احادیث صحیحہ میں اس لشکر کا ذکر ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی یہانتک کہ وہ بیت المقدس میں فتح کا جھنڈانصب کردینگے، امریکہ کو گلہ ہے کہ ڈبل گیم ہوا مگر ا الزام صرف پاکستان پر لگانا درست نہیں ۔ہم نے تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح سے دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کردئیے ۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کیا کررہے ہیں؟۔ روس کیخلاف جہادی امریکہ نے پالے اور پاکستان کو استعمال کیا، پھر امریکہ نے پاکستان سے لڑائے اور ختم کرائے اور کہا کہ’’ پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں‘‘۔ داتا کی نگری میں ہم ہیرہ منڈی بن گئے تھے تو لعن طعن بھی بجا تھی۔ اب پاکستان کی ریاست بدل گئی تو یہ ان کو برداشت نہیں۔ ہم اپنی غلطیوں کے سبب اپنا معاوضہ بھی نہیں مانگ سکتے۔ استعمال ہونے کا جو طے شدہ معاوضہ تھا وہ بھی نہیں مل رہاہے۔ چلو متعہ کے پیسے نہیں دینے تو مت دومگر دھمکیاں دینے اور سبق سکھانے کی باتیں مت کرو۔ اب کرنے کا کام کیا رہ گیاہے؟۔ اگر امریکہ اور نیٹو کی افواج افغانستان میں ڈبل گیم کر رہی ہیں یا ناکام ہیں تو اس کا ذمہ دار پاکستان کیوں ہے؟۔ صرف اس سوال کا ہمیں بھی اور پوری دنیا کو جواب چاہیے۔ دہشتگردی کی آڑ میں ہیروئن کا مکروہ کاروبار ہورہاہے تو ذمہ دار کون ہے؟۔کیا امریکہ ،اس کی افواج اور تاجر گماشتے اس سے لاعلم ہیں؟۔دنیا بھر میں بدامنی کے پیچھے اسلحہ اور ہیروئن کا ناجائز کاروبار ہے۔
دنیا میں سب سے بڑی سپر طاقت امریکہ اور اس کا بغل بچہ اسرائیل ہے۔ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے پاکستان کے قبائل یا افغانستان سے ایک لشکر تشکیل دیا جائے، جس میں دنیا بھر سے ہر طرح کے لوگوں کی نمائندگی ہو۔ یہ لشکر دنیا میں امن کی خاطر ایک امن مارچ کرے۔ قرآن میں مجوس، یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کی حفاظت کا پیغام ہے۔ بیت المقدس پر دنیا تقسیم ہے۔ تمام جہادی طبقات قرآن کے مطابق بیت المقدس کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے اس امن مارچ کا حصہ بنیں۔ بیت المقدس کا تقدس سب ہی کو عزیز ہے، خاص طور سے اہل کتاب مسلمانوں اور یہودونصاریٰ کیلئے اس کی اہمیت ہے۔ جمعہ کے دن مسلمانوں ہی کو عبادت کرنے دی جائے، ہفتہ کو یہود اور اتوار کو عیسائیوں کو موقع فراہم کیا جائے۔ جب دنیا کے تمام لوگوں کیلئے بیت المقدس کے حوالہ سے دلچسپی ہے۔ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم ناکام ہے اور دنیا کو دہشت گردی کے خون آشام سے دوچار کردیا گیاہے تو اس مشکل سے نکلنے کیلئے دنیا نے کوئی امن مارچ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
اگر بیت المقدس کے شہر میں اسرائیل کی پارلیمنٹ ہے جس کو امریکہ نے اسرائیل کا داراخلافہ تسلیم کیا ہے اور اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تو پھر امریکہ کا ساتھ دینے والے گمنام ممالک بھی چوہدری بن سکتے ہیں جس طرح پہلے پاکستان و دیگر ممالک بن گئے تھے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما امیرمقام، دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی طرح نئے نئے لوگ پرانی پارٹیوں پر قبضہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جس طرح پیپلز پارٹی تحریک انصاف ودیگر جماعتوں کے اصل کارکنوں ورہنماؤں کی جگہ نئے اور مفاد پرست لوگ لیتے رہے ہیں۔ خراسان سے ایک لشکر بیت المقدس تک تشکیل دیا جائے اور اس کے مقاصد بھی واضح ہوں۔ اقوام متحدہ، نیٹو، دنیا بھر کے ممالک اور جہادی قوتوں کی اعلانیہ حمایت اس کو حاصل ہو تو ابلیس لعین کہے گا کہ انسان آج میرے ہاتھوں سے پھسل گیا ہے۔ برہمن نے اچھوت کی قدر نہیں کی تو اسلام نے ان کوقبول کرکے اپنے اندر اعلیٰ مقام دیا، امریکہ کا بارک حسین اوبامہ کا انتخاب حضرت بلال حبشیؓ کی قدر دانی تھی۔

جب قرآن کو قرآن نہ مانا جائے تو اسلام کے خلاف اس سے بڑی سازش کیا ہوسکتی ہے؟

dars-e-nizami-me-hei-keh-quran-se-murad-quran-ke-nuskhe-nahi-yeh-nuqoosh-hein-jo-na-lafz-hein-na-maani-hukumat-or-riasat-notice-le

جمہوری نظام کا تعلق اقتدار سے ہے، آئین میں طے تھا کہ 15سال تک انگریزی چھوڑ کراردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائیگا اور تمام قوانین اسلام کے مطابق ہونگے۔ پارلیمنٹ کی اکثریت کو آج بھی انگریزی نہیں آتی مگر پھر بھی 44سال سے تمام سرکاری دستاویزات کو اردو میں نہ بدلا گیا اور نہ بدلنے کا کوئی پروگرام ہے۔ حافظ حمداللہ نے بتایا کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی ساز ش ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت کوئی دوسری جماعت اس کیلئے کھڑی نہ تھی۔ جمعیت علماء اسلام نے خود بھی اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ عمران خان نے اقتدار کیلئے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین سے بھی ملاقات کی تھی اور پارلیمنٹ میں ان کیلئے وعدہ بھی کیا تھا۔ اس وعدے کے مطابق شاہ محمود قریشی نے پارلیمنت میں اس ترمیم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی، شیرین مزاری و عمران خان نے بھی اس ترمیم کے علاوہ دوسری چیزوں پر اعتراضات اٹھائے۔ ان سب کے خیال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ قادیانی تھے اور ان کی ناراضگی مول نہ لے سکتے تھے۔ شیخ رشید اور جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی میں اس ترمیم کے خلاف آواز اٹھ گئی مگر کسی کی کان پر جوں نہ رینگی، جب پاک فوج کے ترجمان نے یہ وضاحت کردی کہ ’’آرمی ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہ کریگی‘‘ توحکومت نے یوٹرن لیامگر بات دھرنے تک جاپہنچی۔
میڈیا ،پاک فوج، سیاستدانوں اور علماء ومفتیان کی توجہ ہم اپنے اخبار اور کتابوں کے ذریعے سے مسلسل اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرتے رہے ہیں کہ اسلامی مدارس میں قرآن کی تعریف میں تحریف کا ارتکاب کیا گیاہے لیکن جس طرح ختم نبوت کی ترمیم کے مسئلہ پر جلاؤ گھیراؤ ہوا، اس طرح جلاؤ گھیراؤ سے پہلے مخلص شخصیات اور اداروں کواپنا کردار ادا کرنا پڑیگا۔ سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، تحریک طالبان اور مختلف دھڑوں کی افزائش کے بعداب تحریک لبیک یارسول اللہ نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ طالبان بریلوی مکتبۂ فکر والوں کو مشرک قرار دیکر قرآن کا حکم سمجھ کر قتل کرتے تھے، بریلوی دیوبندیوں کو گستاخ قرار دیکر ان کو قتل کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ کے قتل پر بریلوی مکتبۂ فکر نے خوشی میں میٹھائیاں بانٹیں تھیں۔
بریلوی دیوبندی کے علاوہ حنفی اہلحدیث کے نام پر بھی فرقہ وارانہ شدت موجود ہے۔ فرقہ وارانہ شدت پسندی کا عسکری ونگوں سے بھی گٹھ جوڑ ہے۔ تحریک طالبان مجھ پر بریلوی کا ٹائٹل لگارہی تھی اسلئے میرا گھر تباہ کیا گیا، اگرچہ جمعیت علماء اسلام ف و س اور ختم نبوت کی ضلعی قیادت اور ٹانک کے تمام دیوبندی علماء تحریری اور تقریری حمایت بھی کرتے تھے۔ مذہبی جنونیت علم نہیں جہالت کی وجہ سے ہی پروان چڑھتی ہے، علم کو عام کرنے کیلئے نصاب کو درست کرنا ضروری ہے۔ مدارس کی مقبولیت بھی اسی میں ہے۔
جب مدارس میں قرآن کی یہ تعریف پڑھائی جائے کہ کتاب وہ قرآن ہے جو مصاحف میں لکھاگیاہے مگر اس سے مراد کتابت کی شکل میں موجود قرآن نہیں ، یہ نقش ہے جو نہ الفاظ ہے اور نہ معنیٰ ہے۔ تو سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ انوکھی تعریف کہاں سے لائی گئی ہے۔ کتاب تو وہی ہوتی ہے جو کتابت کی صورت میں موجود ہو۔ کوئی ان پڑھ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے؟، بچہ اور بچی بھی سمجھ رکھتے ہیں کہ کتاب کیا ہے؟ اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔
کتاب کی یہ تعریف قرآن مجید سے نہیں بلکہ علم الکلام سے لی گئی ہے۔ علم الکلام وہ علم ہے جس کو گمراہی قرار دیکر امام ابوحنیفہ ؒ نے تائب ہوکر فقہ کی طرف توجہ فرمائی تھی۔ یہ کس قدر ڈھیٹ پن ہے جس میں آنکھ بینائی، کان سننے ، دماغ سوچنے اور دل سمجھنے سے محروم ہیں کہ یہی کہاجاہے کہ کتاب سے مراد قرآن المکتوب فی المصاحف ’’ جومصاحف میں لکھا گیاہے‘‘ ہے مگر قرآنی نسخوں میں لکھاگیا مراد نہیں ہے کیونکہ وہ تو محض نقوش ہیں۔ چناچہ فقہ کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر کہا جائے کہ قرآن کی قسم تو حلف کا کفارہ دینا پڑیگا مگر قرآن کے مصحف پرہاتھ رکھنے سے حلف منعقدنہیں ہوتا کیونکہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔
اس سے بڑھ کر یہ بات بھی ہے کہ فقہ حنفی کی معتبر کتب میں لکھا گیاہے کہ سورۂ فاتحہ یا دیگر آیات کو علاج کیلئے بول یعنی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی کتابوں ’’ تکملہ فتح الملہم ‘‘ اور ’’ فقہی مقالات‘‘ میں لکھ دیا تھا کہ’’ صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس میں لکھاہے کہ اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائیگا تو سورۂ فاتحہ کو بھی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ میں نے کوشش کے باجود امام ابویوسفؒ کی کتابوں میں یقین کی شرط نہیں پائی‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے دعوتِ اسلامی کی مہم جوئی سے گھبرا کر روزنامہ اسلام اخبار میں مضمون لکھ کر اپنی کتابوں سے اس کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ مگرفتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ قاضی خان میں تاحال یہ عبارات موجود ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی شرح صحیح مسلم میں اتنا لکھاکہ ’’علامہ شامیؒ سے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ ان کے دل میں قرآن کا بڑا تقدس تھا‘‘۔ تو بریلوی مکتب کے علماء نے ہی علامہ سعیدیؒ کا گریبان پکڑا تھاکہ تم نے علامہ شامی کے خلاف یہ جسارت کیسے کردی۔
تحریک انصاف کے ایک مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ کیس میں ریمانڈ پر ہیں تو دوسرے مفتی سعید خان نے بھی اپنی کتاب’’ ریزہ الماس‘‘ میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب لکھنا نہ صرف جائز قرار دینے کا دفاع کیا ہے بلکہ یہانتک لکھ دیا ہے کہ قرآن میں خنزیر کا گوشت بوقت ضرورت جائز ہے تو وہ جسم کا حصہ بھی بنتاہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جسم کا حصہ نہیں بنتاہے۔ یہ کتاب 2007 میں شائع ہوئی ۔ مفتی سعید خان سے بالمشافہ علماء کی مخالفت بھی کی۔
قرآن میں ہے :الذین یکتبون الکتاب بایدیہم ’’جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں‘‘۔ کتاب وہ ہے جو ہاتھ سے لکھی جاتی ہے۔ وقلم ومایسطرون ’’قسم قلم کی اور جو کچھ سطروں میں لکھاہے اس کی قسم ‘‘۔ اصول فقہ اور فقہ کی کتابوں میں قرآن وسنت کیخلاف واضح مواد نے علماء ومفتیان کو گمراہی میں ڈال دیاہے۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے موجودہ دور میں مساجد کے علماء کو احادیث کی بنیاد پر بدترین مخلوق اور مدارس کے مفتیوں کو جاہل قرار دیاہے جبکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں علماء کے اٹھ جانے سے علم کے اٹھنے و جاہلوں کا رئیس بننے کی اس حدیث کو چار امام کے بعدہی تمام آنیوالے علماء پر فٹ کیاہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ٹھیک بات کہی ہے گو اسکا ارادہ باطل ہے۔ جیسے حضرت علیؓ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’ ان کی بات درست ہے مگر وہ اس ٹھیک بات سے باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔
اپنی کتابوں’’ ابررحمت ،تین طلاق کی درست تعبیر اور تین طلاق سے رجوع کا خوشگوارحل‘‘ میں پیچیدہ مسائل کے آسان حل کی کوشش کی ہے جسکی تمام مکاتبِ فکر نے تائید بھی کردی ہے۔ بڑے بڑوں نے گدھوں کی طرح آنکھ بند کرکے سمجھ رکھاہے کہ مذہب کی تجارت چل رہی ہے مگر ڈریں اسوقت سے جب مکافات عمل شروع ہوگا اور پھر ہمارے بچانے سے بھی یہ سب بچ نہ پائیں گے۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ نے جس علم الکلام کو گمراہی قرار دیا تھا وہ اصول فقہ میں قرآن کے خلاف سازش یا غلطی سے شامل ہواہے تو اس کو نصاب سے خارج کردینا چاہیے تھا، جس کی ہم نے بار بار زبردست طریقے سے نشاندہی کی۔ جب قرآن میں بسم اللہ کے وجود کو صحیح قرار دینے کے باوجود مشکوک کہا جائے تو قرآن پر ایمان باقی نہیں رہتا، جہری نمازوں میں جہر سے بسم اللہ پڑھنے پر امام شافعیؒ کو رافضی قرار دیاگیا اور منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا تو آج خطرہ ہے کہ جہری بسم اللہ پر خود کش نہ ہوجائے۔ افراتفری کی فضاء سے علماء اور حکمرانوں کو سخت نقصان پہنچے گا جو آرام سے کھا پی رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی رفیع عثمانی اتنی مہربانی کریں کہ اپنی اپنی کتابوں میں حدیث کے ادھورے حوالہ کی عوام کے سامنے صرف وضاحت کردیں تاکہ گونگا شیطان یا علم چھپانے کی وعید سے بچ جائیں اور 12امام کادرست نقشہ بھی سب کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے بھی اپنی کتاب ’’تصفیہ مابین شیعہ و سنی‘‘ میں لکھا کہ’’ بارہ امام آئندہ آئینگے‘‘۔ جس حدیث میں آخری امیر کو واضح کیا گیا ہے اسی میں قحطانی امیر سے قبل والے مہدی کی بھی وضاحت ہے۔ اجنبی کیلئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اس پر قرآن اپنی عظمت کے ساتھ روشن ہوگا‘‘۔ آج ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔

الطاف حسین نے مشکل میں ایم کیو ایم کو چھوڑا جبکہ فاروق ستار نے ہر دور میں‌مقابلہ کیا. ارشاد نقوی

dr-farooq-sattar-or-mqm-ne-surah-fatiha-ko-peshab-se-likhne-ke-khilaf-awaz-uthai-aaj-halala-ke-masle-per-bhi-hum-awaz-hun

نوشتہ دایوار کے خصوصی ایڈیٹر ارشاد نقوی نے مشترکہ پریس کانفرنس کو اہل کراچی کیلئے خوش آئند قرار دیکر کہا کہ نکاح ابھی ٹوٹا نہیں ۔ اس میں تضاد نہ تھا کہ اتحاد کا نام ایم کیو ایم نہ ہوگا اور ایم کیوایم کی شناخت قائم رہے گی۔ قائدین چہرے بدلیں تو شناخت چھوٹے گی، ایم کیوایم کی مصنوعات قائدین کے چہرے بدلنے کے بغیر ممکن نہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی ایم کیوایم میں بھی ہمیشہ اپنی شناخت رہی ہے اور ایم کیوایم پاکستان اب سیاسی پارٹی بن گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے سایہ میں ہی کوئی مافیا بن سکتاہے۔ جماعتِ اسلامی پر سایہ رہا تو کالج و یونیورسٹی میں جمعیت ایک مافیا تھی۔ طالبان یا جہادی و فرقہ وارانہ قائدین اسٹیبلشمنٹ کے بغیر مافیا نہیں بن سکتے تھے۔ ذوالفقارمرزا کی قیادت میں عذیربلوچ اور امن کمیٹی مافیا بن گئی لیکن عمران خان اسکے خلاف منہ نہیں کھول سکتا البتہ بندر کی طرح دم اٹھاسکتاہے۔ الطاف کی تعریف اسلئے نہیں کی جاسکتی کہ اسٹیبلشمنٹ کی چاکری کی لیکن مصطفی کمال جب تک پٹا نہ تھا الطاف بھائی پر جان نچھاور کرتاتھا، یہ بھی اسکا احسان ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت کو پٹوادیا تھا تو یہ نیک بن گئے، اب ایک بننے میں بھی دیر نہ لگائیں اور کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں۔