پوسٹ تلاش کریں

ڈاکٹر طاہر القادری پر تبصرہ

قرآن میں مشاورت کے بعد اللہ پر توکل کرنے کا حکم ہے،طاہرالقادری نے کہا کہ راحیل سے بھیک نہ مانگونگا

پھر یورپ سے بھیگ مانگنے نکلا، عمران خان سے پہلے رائیونڈ کا اعلان کیا پھر شریعت و جمہوریت کیخلاف قراردیا

پھر کہا عمران نے مشاورت نہ کی تھی،پھر کہا کہ ہم شرکت کرسکتے ہیں، پھر کہا علامتی شرکت بھی نہ کرینگے۔ واہ واہ

عقل ہوتی تو کہتا کہ ’’ عمرہ جاتی میں چائے کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کرکے ہمارے حوصلے کوشکست دیدی‘‘

’’ رائیونڈ طالبان کا نظریاتی قبلہ رہاوہاں ہم نہیں جاسکتے‘‘۔ اتنی گلاٹیاں تو پاکستانی سرکس میں چینی بھی نہ کھا تا ۔

 

ڈاکٹر طاہرالقادری نے دنیا دیکھی ، ایک منظم جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ اور تحریک منہاج القرآن کے بانی ہیں اور بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں، اس کے باوجود انقلاب کو بدنام کرنے کیلئے جو تماشہ طالبان نے لگا رکھا تھا، آخر کار وہ تو شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ و سیدا حمدبریلوی شہیدؒ کے پیروکار تھے اس لئے قربانی بھی دی لیکن اسلام کو عملی طور پر نافذ کرنے سے بھی بدنام کردیا، اب ڈاکٹر طاہرالقادری اسلامی انقلاب کے نظریہ کو بھی داؤ پر لگانے کیلئے میدان میں اتراتھا، ہربات میں قلابازی کھانے کو انقلاب کہنا عوام میں سلگتی ہوئی چنگاری کو بھجانے کے مترادف تھا۔ طلاق کے مسئلہ پر میڈیا میں تحریک منہاج القرآن والے عوام کو آگاہ کریں تو بھی لوگوں میں بڑی تبدیلی آئے اور ڈاکٹرطاہرالقادری کے سچے یا جھوٹے خوابوں کی تعبیر عمل میں آسکتی ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری یہ قضیہ بیان کرتا کہ تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا جاتی عمرہ کے بجائے رائیونڈجانے اور پھر نوازشریف کے گھرچائے پینے کی دعوت کا اعلان ہمیں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کرگیا۔ اگر نوازشریف کے گھر نہیں جانا تھا اور نواز شریف چائے کی دعوت دیتاتو پھر ہم کہاں کھڑے ہوتے؟۔ رائیونڈ تو طالبان کے اکابرین کا مرکز ہے، عمران خان کیلئے کوئی خطرہ نہیں لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسی تبلیغی جماعت کی وجہ سے طالبان پر بھی یہ فتویٰ لگادیا کہ ’’ جہنم کے کتے ہیں انکومارنا انسانیت اور شریعت کی خدمت ہے‘‘ ۔
ہماری ریاست، حکومت اور عوام کی قیادت جبتک اچھے ہاتھوں میں منتقل نہ ہو، ہر مداری اورجوکرقائدبالکل بازاروں میں منجن فروش،سنیاسی باوا اور بنگالی باباوغیرہ کے روپ میں اپنی سیاسی دکان چمکانے کی پریکٹس جاری رکھے گا۔ تاہم جسطرح بھٹو نے فیکٹریوں اور ملوں کو بحقِ سرکار ضبط کیا، جس سے قوم وملک کو بہت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس طرح سیاسی مداریوں پر پابندی لگانے سے قوم وملک کو نقصان پہنچ جائیگا۔ تاہم ریاستی اداروں کو کرپشن وغیرہ میں ڈاکٹر عاصم حسین و اسحاق ڈار اور نواز شریف و زرداری میں تفریق چھوڑنی ہوگی اور جس دن بڑے بڑوں پر یکساں گرفت کی گئی تو پوری قوم ساتھ ہوگی، فوج کو نواز شریف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے

عمران خان کی رائیونڈ مارچ پر تبصرہ

گوجرانوالہ میں لیگی غنڈوں نے گھیرا تو جاوید ہاشمی کی بہادری کام آئی، یہ شیخ رشید کو جگہ پر چھوڑکر بھاگ نکلا تھا

شیخ رشید اسلئے ڈاکٹر طاہرالقادری اور انکے ساتھیوں کی تعریف کرتا تھا، عمران کا امپائر سے بھی اعتماد اُٹھ گیا

جنرل راحیل شریف نے اپنا موڈ نہ دیکر بڑا اچھا کیا ہے،جس کتیا کوا قتدار کا جھانسہ دیاگیا ریلہ پیچھے لگتاہے

قائدین کو ماحول کی برائی نے لیڈر بنادیا ہے، تخریب کار پیسوں پر اورماحول کا فائدہ اٹھاکر اپنا رنگ بدلتے ہیں

عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی گردن اور دُم امپائر کی انگلی اُٹھنے کی خواہش میں بڑی ہلتی رہیں مگرجنرل راحیل نے ان کو اپنا موڈ نہیں دیا اور بہت اچھا کیا۔ اس کی وجہ سے پہلے بھی معاشرے میں خرابیاں جنم لیتی رہی ہیں۔ پنجاب کے سمجھداروغیرتمند و بہادر لوگوں میں یہ شعور بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ عوامی جذبے کا فائدہ اٹھاکر فرقہ واریت، طالبان کو کھلے عام سپورٹ کیا گیا لیکن پھر منہ موڑا گیا، خیر یہ قائدین میں شعور کا فقدان ہوسکتا ہے، وہ بھی عوام ہی تو ہیں، ماحول کی برائیوں نے ان کو لیڈر بنادیا تو یہ الگ بات ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے جس کو حکومت دینے کا جھانسہ دیا، وہ بے نسل کتیا کی طرح کتوں کے ریلوں کی قیادت کرنے لگی، یہی قائدین کی قیادت کا اصلی راز ہے کم عقلوں میں اورکوئی صلاحیت نہیں ہے۔
کیا نواز اورشہبازنے زرداری کے سوئس اکاؤنٹ میں60کروڑ ڈالرکیخلاف آواز ISIکے کہنے سے اٹھائی؟۔ جیو جنگ کے صحافی سہیل وڑائچ سے یہی کہا تھا، اپنے بچوں کا پتہ بھی نہیں کہ پانامہ لیکس میں کتنی رقم ہے؟۔ سیاستدانوں کے چہرے پر شرم و حیاء کے کوئی آثار نہیں ہیں، دولت مابدولت کے کھیل سے عوام کا بیڑہ غرق کردیں۔ پورا ملک انتہاپسندی ، شدت پسندی ، دہشتگردی کی زد میں تھانوازشریف ،عمران خان اسکی حمایت میں پیش پیش تھے، پیپلزپارٹی کے وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھماکے کے متأثرین سے کہا تھا کہ ’’ آنسو پونجھنے کیلئے ٹشو پیپر کے ٹرک بھیج دوں؟‘‘۔ سیاستدان اپنا چہرہ اور تخریب کار اپنا رویہ بدلتے رہتے ہیں۔
افغانستان میں روس آیا تو تخریب کار خاد کے ایجنٹ بن کر دھماکے کرتے رہے ۔ جنوبی وزریرستان کے مرکزی شہر کانیگرم کو عمران خان اپنا ننھیال قرار دیتا ہے، جہاں برکی قبیلہ رہتا ہے،جہاں کسی ملکی وغیرملکی کا کردار نہ تھا، تخریب کار پھر بھی رات کو بارود نصب کردیتے، صبح نماز کیلئے اٹھنے والے اور پانی لانے والی خواتین وحضرات کو خوامخواہ میں دھماکوں کا شکار کرنا چاہتے تھے۔ پھر شہر کی ٹینکی بن گئی تو اس میں ڈی ٹی ٹی ڈال دی اور پھر چوریاں بڑھ گئیں، پھر ڈکیتی اور اغواء کی واردتیں شروع ہوئیں۔ پھر طالبان کے دور میں تخریب کاروں، چوروں ، ڈکیتوں کا روپ بدلا اور طالبان بن گئے۔ کرایہ کے یہ ٹٹو اب اسکے ہیں جو انکو پیسہ دے، کتیا کتوں کا کھیل ختم کرکے انسانیت ہونی چاہیے۔

ایڈیٹر اجمل ملک کی تحریر

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی سب سے بڑی نعمت اپنی کتاب ’’ قرآن مجید‘‘ اور اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے رسول اللہ ﷺ کی اسوۂ حسنہ ’’سنت‘‘ کا تحفہ دیا ہے۔ علماء کرام اور مذہبی طبقات کی یہ بہت بڑی مہربانی ہے کہ مختلف ادوار میں آندھی آئے یا طوفان انہوں نے بڑا زبردست کارنامہ انجام دیا ہے کہ’’ہر دور میں ایمان کے ٹمٹاتے ہوئے دیا کو جلائے رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے‘‘۔ جس طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ عرب سے تین وجوہات کی وجہ سے محبت رکھو، ایک یہ کہ قرآن عربی میں ہے، دوسرا یہ کہ میں عربی ہوں اور تیسرا یہ کہ جنت کی زبان عربی میں ہے‘‘۔ نبیﷺ کی وجہ سے صحابہؓ اوراہلبیت سے محبت بھی احادیث میں ایمان کا تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے مذہبی طبقات سے انسیت اور محبت رکھنا بھی ایمان کا اولین تقاضہ ہے۔ خواہ یہ مذہبی طبقات ایک دوسرے سے تعصب، نفرت، عداوت اور انسانیت و اسلام کے منافی کتنے ہی جذبات واحساسات رکھتے ہوں۔ ان کی اپنے مسلک و فرقہ سے محبت ایمان اور دوسرے سے عداوت رکھنا اپنے ماحول میں تو ایمان واسلام ہی کا تقاضہ ہوتا ہے۔ یہی تو ان کی اصل ،بنیادی اور جوہری خوبی ہے۔ اللہ ہی کیلئے محبت وعداوت ہو تو اس سے بڑا ایمان کیا ہوسکتا ہے؟۔ صحابہ کرامؓ میں بھی اختلاف رہا ہے، جنگیں برپا ہوئی ہیں، ہزاروں لوگ ان میں قتل ہوئے ،رسول اللہﷺ نے فرمایاتھا کہ ’’ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو‘‘۔ جن عظیم لوگوںؓ نے اپنے کانوں سے حجۃ الوداع کی یہ نصیحت سنی ، وہ بھی ایک ماحول کی وجہ سے خود پر قابو نہ پاسکے۔ جن دس صحابہؓ نے جنت کی بشارت پائی تھی، حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی جنگوں میں ایک دوسرے کیخلاف حصہ لیا۔ حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ نے اسی میں شہادت پائی۔

cartoon-nawaz-sharif-Octob2016
ہمارے ہاں انتہا پسند اور شدت پسند مذہبی طبقات کو حقائق کی طرف متوجہ کیا جائے توپھر یہی لوگ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ذریعہ بنیں گے۔ مذہبی طبقات کو عوام میں پذیرائی بھی اسلئے نہیں ملتی کہ ان لوگوں میں مثبت سوچ کا فقدان اور منفی سوچ کا رحجان ہے۔ جبکہ سیاستدان عوام کو شعور دینے کی بجائے مفادات کی سیاست کرتے ہیں۔ سیاسی لیڈر شپ مذہبی جذبہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے۔افغانستان نیٹو کی افواج نے قبضہ کرلیا، طالبان اور عوام کو دربدر کردیا، خاندان تباہ ہوئے۔ بچوں، خواتین، بوڑھوں اور سب ہی بموں، دھماکوں اور بمباری کا نشانہ بنے یا بارود کی گن گرج سے لرزے، ترسے اور بدحال ہوئے۔ بے شعور اور عقل سے عاری عوام نے جانوں اور عزتوں کی تباہی اور بربادی کا احساس کرکے کبھی تواپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایاہوتا مگر نہیں لیکن کسی افغانی کے مرتد ہونے کی خبر سے تمام افغان نے زبردست احتجاج کیا۔ اگر پاکستان کے علماء اور مذہبی طبقات عمران خان کی سابقہ بیگم جمائماخان کیخلاف ارتداد یا غیرمسلم سے شادی کے نام پر تحریک چلاتے تو تحریک انصاف کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ملتا۔ افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی دینے والی کمپنیوں کو 75% کی رعایت پر مال ملتا تھا اور بعض کمپنیاں نیٹو کو سپلائی دینے کی بجائے مارکیٹ میں بڑا منافع رکھ کر وہ مال فروخت کردیتی تھی اور انکے کارندے نہیں چاہتے تھے کہ جن کمپنیوں سے مال لیا ہے اس کی معائنہ ٹیم افغانستان جاکر صورتحال کا پتہ لگائے، اسلئے عوام کو اکسانے کیلئے یہ ڈرامہ بھی رچایا جاسکتا تھا کہ کوئی مرتد ہوگیا ہے یا قرآن جلایا گیا ہے، یا گستاخی کی گئی ہے۔
مذہبی جذبے اور سیاست کو اپنے مالی اور تجارتی مفادات کیلئے استعمال کرنا بہت بڑا المیہ ہے۔ قرآن کریم نے اس کی جڑیں کاٹی ہیں۔ ایسے لوگوں کو بدترین جانور کتااور گدھا قرار دیا ہے۔ نوازشریف نے مذہبی جذبے سے ڈاکٹر طاہرالقادری کو غارِ حرا تک کندھے پر اٹھایا اور شہبازشریف نے طاہرالقادری کے جوتوں کے تسمے باندھنے اور کھولنے تک امریکہ کے سفر میں خدمت انجام دی تھی، یہ مذہبی جذبے اور خوبیوں کی بہترین دلیل ہے۔ اگرچہ شعور بیدار ہونے کے بعد اس جذبے کو بے شعوری ، جہالت اور اندھیر نگری کا اب نتیجہ کہا جائے، مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاست کی شروعات اپوزیشن سے کی تھی اور اب سوشل میڈیا پر اس کی تصویر کیساتھ یہ مذاق چل رہا ہے کہ ’’ ہر حکومت اپنے ورثہ میں دوسری حکومت کیلئے غربت، بے روگاری اور مولانا فضل الرحمن کو چھوڑ کر جاتی ہے‘‘۔یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ’’ہماری سیاست سے متأثر ہوکر امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صدارتی امیدوار ی سے ثبوت دیا ہے کہ سیاست کے ذریعہ سے بہترین تجارت بھی ہوسکتی ہے‘‘۔ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان ؒ نے کہا کہ ’’پاکستان میں نظریاتی سیاست کو تجارت میں بدلنے کا اصل بانی نوازشریف ہے‘‘۔ اب توماشاء اللہ مولانا فضل الرحمن بھی شانہ بشانہ ہیں جب مولانا فضل الرحمن اپوزیشن میں ہوتے تھے تو ان کو امت میں شعور بیدار کرنے کے سوا ملتا کیا تھا؟۔ آخر ان کی بھی ماشاء اللہ جان ہے، کسی کریانہ سٹور میں کھانے ، پینے کی اشیاء و اجناس ملتی ہیں۔ بطور مثال چوہا اگر دکان میں ایک معزز مقام رکھتا ہو، اور اس کیلئے کھانے کے تمام راستے بند ہوں اور صرف ترازو میں وزن ڈالنے کی اس کو اجازت ہو تو اپوزشن میں جانے کی مثال ایسی ہو ، جیسے لوہے کے وٹے میں چوہا اپناوزن ڈالے،حکومت کے پلڑے میں جان ڈالنے کی مثال اشیاء خورد ونوش کے پلڑے میں جانے کی طرح ہو تو چوہا بلکہ کوئی بھی جاندار، جانور اور انسان کس پلڑے میں اپنا وزن ڈالے گا؟۔ اگر لوہے کے وٹے کے پلڑے میں جانے سے دکاندار کا نقصان ہو اور کھانے پینے کی اشیاء میں وزن ڈالنے سے حکومت اور موصوف دونوں کا فائدہ ہو تو باڑ میں جائے عوام کی ایسی کی تیسی، انکے مفاد کا کیا ہے اور کس نے خیال رکھنا ہے؟۔ حکومت اپنے مفاد کی خاطر تگڑے قسم کے لوگوں اور بڑی ہستیوں کو اپنے ساتھ رکھے تو یہ مذہب اور سیاست کی سوداگری ہوگی جو ہوتی رہی ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’ علماء امت میں دین کی حفاظت کے امین اور محافظ ہیں جو دین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں جبتک یہ دنیا گھس نہ جائیں اور حکمرانوں سے خلط ملط نہ ہوجائیں، جب یہ دنیا میں گھس گئے اور حکمرانوں سے مل گئے تو انہوں نے اللہ سے خیانت کی۔ (عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں : مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ )
سید عتیق الرحمن گیلانی نے جس طرح سے درسِ نظامی کے نصاب میں قرآن کی تعریف اور طلاق کے مسئلہ میں حقائق سے پردہ اٹھایا ہے ، اگر عتیق گیلانی کے پاس حکومت، مدرسہ یا دنیاوی کوئی بڑا منصب ہوتا تو بڑے بڑے لوگ یقیناًاسلام ، قرآن و سنت، شریعت وفطرت اور وقت کے تقاضوں اور دنیا کے ماحول کو سمجھ کر پاکستان سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز کرنا ایک مذہبی فرض قرار دیتے۔ عتیق گیلانی کے خاندان نے اپنے دور میں کربلا کی قربانی دی۔ عتیق گیلانی نے فرقہ وارانہ تصورات کی کامیابی سے بیخ کنی کرکے قرآن وسنت کو جس انداز میں اجاگر کیا ، مدارس عربیہ، بنوری ٹاؤن ،مکتبِ دیوبند اور فقہ حنفیہ کے اکابراور اصاغرکیلئے یہ باعثِ فخر ہونا چاہیے تھا کہ ہماری فضائیں اس عظیم شخصیت کی گزر گائیں رہی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا عبدالکریمؒ بیرشریف لاڑکانہ سے لیکر جمعیت علماء اسلام ٹانک تک کے بہت سے اکابر واصاغر نے سید گیلانی کی تائید کی تھی، جمعیت علماء پاکستان کے پروفیسر شاہ فریدالحقؒ سے لیکر بہت سے بریلوی مکتب کے اکابر واصاغر نے سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری تک نے تائید کی ہے۔پروفیسر غفور احمدؒ ، مولانا عبدالرؤف اتحادالعلماء کے صدر ، جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا عبدالحق بلوچؒ سے مفتی علی زمان تک بہت لوگوں کی تائید حاصل رہی ہے۔ پروفیسر غفور احمدؒ کا بیان ضربِ حق کی زینت بنا تھا کہ سید عتیق گیلانی نے فرقہ پرستی کا مسئلہ حل کردیا، اب فرقہ پرست گدھ کی طرح پہاڑوں کی چوٹی پر بیٹھ کر اس کی مردار لاش کو نوچتے رہیں۔
اہلحدیث کے بہت سے اکابرین مولانا عبدالرحمن سلفی، مفتی عبدالرشیدؒ ، مولانا ارشد وزیر آبادی اور مولانا محمد سلفی سمیت بڑی تعدادمیں تائید کرتے ہیں۔ اہل تشیع کے علامہ طالب جوہری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ حسن ترابیؒ ، ڈاکٹر حسن رضوی، علامہ کرار نقوی وغیرہ بڑی تعداد میں اکابر واصاغر تائید کررہے ہیں۔ کالعدم سپاہ صحابہ اہلسنت و الجماعت کے مرکز جامع مسجد صدیق اکبر کے خطیب اور کراچی کے امیر علامہ ربنوازحنفی اور پشاور کے رہنماؤں تک کی تائیدات شائع ہوئی ہیں اور ہوتی رہی ہیں۔
اصل مسئلہ عتیق گیلانی کی تائید یا تردید کا نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کے مطابق عائلی اور معاشرتی قوانین سے لیکر ملکی و بین الاقوامی میں اسلام اور فطرت کے مطابق روح پھونکنے کا ہے۔ اگر میاں بیوی کے تعلقات، حقوق، نکاح اور خلع و طلاق کے حوالہ سے قرآن و سنت کے واضح احکامات سے روگردانی ہے ، خاندانوں کو تباہ کرنے اور حلالہ کی لعنتوں سے قرآن وسنت کے مطابق علماء ومفتیان اور دانشور و سیاستدان اور جج و ریاستدان اپنی عوام کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں تو ان سے کیا خیر کی توقع رکھی جائے گی؟۔ عمران خان نے جیسے باہوش و حواس قانونی پراسس سے جمائما خان کو طلاق دی ، ویسے ریحام خان کا معاملہ ہوتا تو عوام کو رہنمائی ملتی، ریحام خان نے کہا کہ ’’میری طلاق شرعی نہیں ‘‘ ، مسیج پر لندن میں اترتے وقت طلاق طلاق طلاق کے الفاظ کو شہرت ملی۔ مریم نواز کے حوالہ سے افواہوں کی گردش ہے ،یہ مسئلہ مفتیان کی وجہ سے بگڑا یا حکمران قانون اور شریعت کی پاسداری نہیں کرتے؟، اسے گھر کا مسئلہ کہنا غلط ہے۔ طلاق کے گھمبیر مسئلہ کی قرآن و سنت سے وضاحت بڑا کارنامہ ہے۔

سید عتیق الرحمن گیلانی کی ایک تحریر

یہ اقوام متحدہ اوردنیا کے سامنے وزیراعظم نوازشریف کو کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے پر دبانے،اپنی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے اور پاک فوج کو دنیا اوراپنی کرپٹ جمہوریت کے سامنے جھکانے کا بے دھوتی ننگا ڈرامہ ہے
ڈاکٹر بابراعوان نے ٹی وی چینل پر پاکستان سے بھارت میں ڈالروں کا پرنالہ کہہ کر بتایا کہ سن 20سو15,14,13کے تین سال میں پاکستان کے دفاعی بجٹ کے برابررقم بینک کے ذریعہ بھارت 14ارب ڈالرمنتقل ہوئے
اعوان نے چوہدری نثار کی ماتحت FIAسے 14ارب ڈالرکی وضاحت مانگی۔ وزیراعظم قوم کی امانت سوئس اکاونٹ میں 60کروڑڈالر اور پانامہ لیکس کی رقم لوٹادے۔ سرجیکل سٹرائیک کی گالی سے بھارت نے پدو مارا ہے

8th_coloumn_heading_pic_Octob2016

 

مزید تفصیل کیلئے اس لنک پر کلک کریں۔

تیز و تند عبد القدوس بلوچ

یوسف رضا گیلانی کو صدر مملکت کیخلاف خط نہ بھیجنے پر نااہل قرار دیا، اصغر خان کیس جرم میں نوازشریف اور شریک دیگر تمام افراد اور جماعتوں کوبھی نااہل قرار دیا جائے
پاکستان میں کرپشن، سیاسی ناہمواری اور فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ کرکے نہ صرف کشمیر بلکہ بھارت کے 20کروڑ مسلمانوں کے ذریعہ غزوہ ہند برپا کیا جاسکتاہے
شریف برادارن پنجاب کو مضبوط نہیں بنارہے پاکستان کو توڑنے کا بیج بورہے ہیں، فوج کمزور اور لوگ بدظن ہونگے تو پاکستان کوبھی خطرہ ہوگا ، عبدالقدوس بلوچ صفحہ:3

پاکستان میں ایک ڈرامہ شروع ہوتا ہے اور وہ ابھی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔ عدالت نے 16سال بعد اصغر خان کیس کا فیصلہ جاری کیا لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک طرف پیپلزپارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو محض اس بات پر نااہل قرار دیا تھا کہ ’’وہ صدرکیخلاف آئینی طور پر تحفظ سمجھ کر خط بھیجنے کا عذر پیش کررہاتھا‘‘، دوسری طرف اصغر خان کیس کے مجرموں کی سزا کو لٹکائے رکھا تاکہ شاید نوازشریف اقتدار میں آکر آخر نوکری میں توسیع دیدیں۔ شریف بردران نے حضرت علیؓ کی طرف منسوب سچا یا جھوٹا قول اپنے پلے باندھ دیا ہے کہ ’’کسی پر احسان کے بعد اسکے شر سے بھی بچو‘‘۔ یہی وجہ تھی کہ جلاوطنی کے دوران جاوید ہاشمی نے باغی بن کر سزائیں کاٹیں، ان کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی کاحامد میر کے پروگرام میں جسطرح سے مذاق اڑایا گیا، اس خاندانی عورت ذات کی بے بسی کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا مگر نوازشریف نے یہ خوف کھایا کہ جاویدہاشمی کیساتھ احسان کے بدلے میں بھی کوئی اچھائی کا برتاؤ کیا تو گلے پڑسکے گا، اسلئے اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کی بجائے برطانیہ سے چوہدری سرور کو لیکر آیا۔ چوہدری سرور نے بھی پنجاب کی گورنری کو لات ماری، اسلئے کہ کوئی انسانیت کا کام کرنے ہی نہیں دیتا تھا۔ تو شکریہ ادا کرنے کے بجائے ازخود گورنری سے علیحدہ ہونے پر احسان فراموشی کے طعنے شروع کردئیے۔
جنرل پرویز مشرف پر نوازشریف نے کوئی احسان نہیں کیا تھا بلکہ اپنی اہلیت کے مطابق مگر اپنے مقاصد کیلئے اپنی ترجیحات میں شامل کرکے چیف آف آرمی سٹاف کیلئے نامزد کیا، پھر مدتِ ملازمت سے پہلے ان کی غیرموجودگی میں برطرف کیا، جس پر پاک فوج نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ آج بھی عدالت میں درست کیس چلے تو نوازشریف کو قصوروار قرار دیا جائیگا۔ نوازشریف نے سبق نہ سیکھاہوتا تو جنرل راحیل شریف ہی نہیں جنرنیلوں کو لات لگاگر نکالنے کی لائن لگی ہوتی، جو جہانگیر کرامت کیساتھ ہوا، سنا ہے وہ شیخ برادری سے تعلق رکھنے والا کوئی بزدل جرنیل تھا جس کوڈرا دھمکاکر فارغ کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ ’’ اللہ گنجے کو ناخن نہ دے‘‘۔ نوازشریف کو ناخن مل گئے تو دور کی کہانی چھوڑیں، ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہرالقادری کو ڈرانے کیلئے وہ کیا جو کشمیر میں انڈیا کی فوج کررہی ہے۔ سندھ سے واحد قومی اسمبلی کے ممبر عبدالحکیم بلوچ نے وزارت، قومی اسمبلی ، ن لیگ کو کیوں چھوڑا۔ شریف برادران نے اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے علاوہ کسی کو اختیارات دئیے ہی نہیں ہیں۔ جو لوگ اسٹیبلیشمنٹ سے تنگ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف اچھا ہے یا برا مگر یہ واحد راستہ ہے کہ پنجاب کے اس جمہوری حکومت کو مستحکم کرکے فوج کو سیاسی مداخلت سے روکنا ممکن ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوری تجربوں سے قوم میں شعور بیدار ہوگا اور ووٹ کے ذریعہ سے ہی تبدیلی لانے کی روایت کو مستحکم کیا جائے، ورنہ ہر طالع آزما لٹھ کر میدان میں اترے گا اور کٹھ پتلی قسم کے لوگوں کو لیڈر بناکر ایک تماشہ جاری رہے گا۔
اس میں شک نہیں ہے کہ پاک فوج کی تربیت حکومت کیلئے نہیں ہوئی ہے، اور جب عوام کیلئے ان کو کردار دیا جائیگا تو بہت ساری غلطیاں سرزد ہوں گی، ظلم و زیادتی اور بربریت کا مظاہرہ ہوگااور اس کی وجہ سے عوام سیاسی حکومتوں کو زیادہ قابل ترجیح سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج کے بارے میں عوام مثبت یا منفی جیسے پروپیگنڈہ کرنا چاہیں تو انکے خلاف پروپیگنڈہ بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ’’یہ مذموم پروپیگنڈہ بھی کامیاب تھا کہ وہ اپنی خواتین کے ذریعہ ترقی کا راستہ ڈھوندتے ہیں اور بے غیرتی ، اغیار سے منظوری کے بغیر ان کی ترقی ممکن نہیں ہوتی ہے‘‘۔ یہ سب بکواسات کسی کی طرف سے اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ جو غیرت فوجی جرنیلوں میں ہوتی ہے وہ سیاسی قائدین میں بھی نظر نہیں آتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹوؒ ، زرداری، نواشریف اور عمران خان کے مقابلے میں جنرل ایوب ؒ ، جنرل ضیاء الحقؒ ، پرویزمشرف اور جنرل احیل شریف زیادہ غیرتمند نظر آتے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف نے تربت بلوچستان میں ڈیم اور روڈ بنائے، گوادر کو چین کے حوالہ کرنے کا اقدام کیا، ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک میں گومل ڈیم اور سڑکوں کی تعمیر کا سلسلہ جنوبی وشمالی وزیرستان تک پھیلایا، اشفاق کیانی کو بھی بڑا کریڈت جاتا ہے ۔ شریف برادارن اپنی تجارت کیلئے پنجاب کو مضبوط نہیں پاکستان کو توڑ رہے ہیں۔
گومل ڈیم کا سب سے قریبی شہر ٹانک اور اس ضلع کے علاقہ گومل، عمر اڈا، ملازئی وغیرہ ہیں، ڈیم سے 17میگاواٹ بجلی کی سپلائی بڑی مشکل سے خدا خدا کرکے اب شروع ہوئی ہے مگر ٹانک شہر اور اسکے ملحقہ علاقوں کو وہاں سے بجلی پیدا ہونے کی سخت سزا دی جاری ہے۔ ملازئی فیڈر، گومل کوٹ اعظم،عمراڈا سمیت بجلی کے تمام فیڈر ناکارہ ہیں، ٹانک شہر میں بھی بجلی کا بہت برا حال ہے، مولانا فضل الرحمن نوازشریف سے ملکرداورکنڈی کوجتوانے کی سزا دے رہا ہے۔ فیڈر کے افتتاح کے مسئلہ پرجمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی صدر مولانا عبدالرؤف ؒ گل امام نے ٹانک آنے پر دھمکی دے کر روکا تھا۔ عتیق گیلانی نے مولانا عبدالرؤفؒ کو نہ روکا ہوتا تو مولانا فضل الرحمن کیساتھ بہت برا ہوتا۔ ایک خاندانی اور اچھے آدمی کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے دوسروں کو اکسایا، ڈیرہ اسماعیل خان میں خلیفہ عبدالقیوم نے لڑائی کے دن ہی کہا تھا کہ ہمارے ساتھی کسی کے ورغلانے میں آگئے ہیں۔ مولانافضل الرحمن نے بھرپور مشن چلانے کے بعد جب ناکامی ہوئی اور ہمارا مشن جاری رہا تو عتیق گیلانی کے گھر پر آکر کہا کہ ’’میں ہمیشہ حمایت کرتا ہوں‘‘۔
یہ کہانیاں عوام کے سامنے آئیں تو جمہوریت کے علمبرداروں کے چہروں سے نقاب اٹھے گا۔ سید عتیق گیلانی نے کبھی نیٹو اور امریکی افواج کی حمایت نہ کی بلکہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنوں کے روپ میں ہمارے امن وامان کو خراب نہ کریں، مولانا معراج الدین شہیدؒ ایم این اے کے پرسنل سیکرٹری اختر گل محسود کے سامنے طالبان کے ترجمان مولوی محمد امیر گلشئی شمن خیل محسود سے کہا تھا کہ ’’ ہماری اپنی عوام امریکہ کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، ان سے اسلحہ اکٹھاکرکے تم کس کی خدمت کررہے ہو؟۔ اس نے کہا کہ ہم آئی ایس آئی والے نہیں ہیں، عتیق گیلانی نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ہونا مسئلہ نہیں ، میں بھی تمہارا ساتھ دوں گا لیکن جو تم کررہے ہو، اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے مقاصد پورے ہورہے ہیں،پھر طالبان کے امیر بیت اللہ محسود سے ملاقات کی بات طے ہوئی مگر چند دن بعد عتیق گیلانی پر فائرنگ کی گئی،پھر جب دوبارہ کچھ عرصہ بعد بھائی کی وفات پر جانا ہوا ، تو گھر سے نکلنے کے چند گھنٹے بعد حملہ کرکے طالبان نے کئی افراد کو شہید کیا۔
کافی عرصہ بعد مولانا فضل الرحمن نے تعزیت کیلئے گئے تو ٹانک کی مسجد میں صحاح ستہ کی وہ حدیث سنائی جسکے راوی حضرت ابوبکرؓ ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’ خراسان کی طرف سے ایک دجال کا لشکر آئے گا، جس میں ڈھال کی طرح گول چہرے والے اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے چہرے والے اقوام کے افراد ہونگے‘‘۔( جیسے ازبک اور پٹھان ہیں)۔ مولانا فضل الرحمن نے یہ روایت طالبان پر فٹ کردی، پھر عتیق گیلانی کے بھائی سے بھی اس روایت کا ذکر کیا، عتیق گیلانی کے بھائی پیرنثار نے کہا کہ ’’تم لوگوں کے پاس متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہے، یہ تمہاری ذمہ داری بنتی ہے کہ لوگوں کی حفاظت کرو، اگر یہ نہیں کرسکتے تو حکومت چھوڑ دو‘‘۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’’مجھے پتہ ہے میں نے آنے میں دیر لگادی ، اس وجہ سے آپ ناراض ہیں‘‘۔ پیرنثار نے کہا کہ ناراضگی کا بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مولانا عطاء الرحمن صاحب آپ کے بھائی ہیں، جنازہ بھی انہوں نے پڑھایا، پھر مسلسل کئی دنوں تک تشریف لاتے رہے، اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا تھا یہ بھی اپنے حق اور حدود سے زیادہ کیا۔ کسی نے پیرنثار سے کہا کہ آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اب اس موقع پر یہ بات نہ کرتے تو اچھا تھا، مولانا فضل الرحمن کے مدرسہ کے مہتمم مولانا سید عطاء اللہ شاہ نے کہا کہ ’’بالکل صحیح وقت پر اور صحیح موقع پر ٹھیک بات کی ہے‘‘۔ آخرسید توپھر سید ہوتاہے۔
زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ایک طرف مولانا فضل الرحمن کا وہ بیان صحافیوں نے شائع نہ کیا تو دوسری طرف یہ خبر مولانا عطاء الرحمن کی طرف سے شائع ہوئی کہ ’’ سیکیورٹی فورسس کا شرعی اور حکومتی فرض ہے کہ دہشت گردوں کو قتل کریں‘‘۔ اس سے زیادہ تعجب اس بات پر تھا کہ طالبان اس واقعہ کی وجہ سے اختلافات کا شکار تھے، آپس میں لڑنے مرنے اور مارنے تک بات پہنچی ہوئی تھی، تو مولانا فضل الرحمن نے ان دونوں کو متحد کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ سب سے بڑی تعجب کی بات یہ تھی کہ مولانا عطاء الرحمن بھی اپنے بھائی کے مشن سے بے خبر رہے ورنہ وہ کیوں جوشیلا بیان جاری کرتے۔ قوم مذہبی رہنماؤں اور سیاسی قائدین کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی دیکھ رہی ہے۔
فرقہ واریت ، شدت پسندی، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی مقبولیت کے دور میں ہم نے اللہ کے فضل وکرم سے آندھی اور طوفان میں عدل واعتدال، میانہ روی اور صراطِ مستقیم پر گامزنی کا راستہ چن کر قوم میں علم وکردار کی روشنی دوسروں کو بھی مہیا کی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام نہیں کرپشن کا پیسہ ایک دوسرے سے لڑارہے ہیں ، قومی اسمبلی کیلئے قانونی طور پر پندرہ لاکھ سے زیادہ رقم خرچ کرنا غلط ہے مگر علیم خان و ایاز صادق اور صدیق بلوچ و جہانگیر ترین کے درمیان مقابلے میں میڈیا پرکروڑوں و اربوں کا تخمینہ لگایا گیا، گری قیادت پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں کیا اخلاقیات کا کوئی معیار قائم کرسکے گی؟ ۔اگراسلام کو معاشرتی طور سے اپنایا گیا ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مسئلہ حل کیا گیا اور سیاست میں کرپشن اور ناہمواری کی فضاء ختم کی گئی تو پاکستان ناقابلِ تسخیر ہوسکتا ہے بلکہ بھارت کے مسلمانوں کی نظر میں بھی پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کا وقار اتنا بڑھ جائیگا کہ نہ صرف کشمیر کی آزادہوگا بلکہ حدیث کیمطابق بھارتی حکمران کو قید کر نے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں

عوام میں میڈیا کے ذریعے یہ شوشہ رہتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اچھی ہیں یا فوجی ڈکٹیٹر شپ؟۔ حالانکہ یہ سوال بالکل فضول ہے، دونوں ایکدوسرے کا نعم البدل نہیں بلکہ یکجان دو قالب ہیں، جس طرح جمہوریت کے دور میں کسی کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو کوئی عتاب رہتی ہے، اسی طرح فوجی ڈکٹیٹرشپ کے دور میں بھی بعض سیاسی جماعتیں اپوزیشن اور بعض اقتدار میں رہتی ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حزبِ اقتدار کا کوئی گٹھ جوڑ نہیں ، ن لیگ کو یہ بھی پسند نہیں، اس سے فائدہ اٹھاکر انقلاب کی ضرورت ہے مگر کیسے؟۔

 Raheel_Saharif_FebSpac2016

سیاسی جماعتوں سے کتوں کے ریلوں کی طرح عوام کیوں نفرت کرتی ہے؟

اگر ہماری سیاسی قیادت عوام سے ہوتی تو عوام کی حالت بھی بدل جاتی، عوام کی حالت بدلتی نہیں لیکن سیاسی قیادتوں، رہنماؤں اور انکے بچوں کی حالت ہی بدلتی رہی ہے۔ نوزشریف ، بھٹواور زرداری کے دوسرے بھی رشتہ دار ہیں کیا انکے بھی کاروبار ایسے چمک رہے ہیں،بچے ایسے دمک رہے ہیں یا یہ سیاست کا کرشمہ ہے کہ دونوں کا احوال ایکدوسرے سے بہت مختلف ہے؟۔نوازشریف کے بچوں میںآخر ایسی کونسی صلاحیت ہے کہ اپنے عزیز واقارب سے اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوا ؟ ،خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی سیاست کو تجارت سمجھ کر اسی جانب رخ کردیاہے۔ عمران خان نے سوچا کہ مولویوں کی طرح شریف برادران کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہسپتال کیلئے بھیک مانگنے اور کنگلا رہنے سے بہتر سیاسی جماعت بنانا ہے۔ پہلے کوئی پوچھتا نہ تھا مگر جب اقتدار کی خوشبو آنے لگی تو وہ لوگ جو موقع کی تلاش میں سیاستدانوں کا جتھایا کتوں کا ریلا بننے پر آمادہ رہتے ہیں وہی پیچھے میدان میں کود جاتے ہیں۔
قرآن نے انسان کو راہ پر لگانے کیلئے گدھے اور کتے کی ٹھیک مثالیں دیں۔
شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی وغیرہ کی اپنی حیثیت ، شخصیت ، قد کاٹھ، صلاحیت ،سیاسی خدمت اور نمایاں مقام بلاشبہ عمران خان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے مگر سیاسی جتھے میں شخصیت میں کمال کی بات نہیں ہوتی ، بس قیادت سے دلہنِ اقتدار کی خوشبو آنی چاہیے ، کتیا جو اورجیسی ہو، بڑے بڑے کتوں کو ریلے میں شامل ہونے کیلئے صرف مطلوبہ قیادت کا احساس ہوتا ہے۔وہ قد کاٹھ، رنگ نسل ،بوڑھی جوان، خصلت وکردار کو نہیں دیکھتے بلکہ اپنے وقتی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر ثابت کرتے ہیں کہ کتا آخربہت ہی کتا ہوتا ہے، دنیا کے ایسے طلبگار شخص کیلئے کتوں کی مثال قرآن میں زبردست ہے جن کو چھوڑ دیا جائے، تب بھی ہانپے اور بوجھ لاددیا جائے تب بھی ہانپے۔
ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، آصف زرداری، جنرل ضیاء ، پرویزمشر ف سب کے دورِ اقتدار میں قیادتوں کے گرد اسلئے لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے کہ لیلائے قیادت سے اقتدار کی خوشبو آجاتی تھی، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور چوہدری نثار نے کونسی اہلیت نوازشریف میں دیکھی ؟۔ جو کٹ کر دوسری قیادت کے ریلے میں شامل ہوا ،یا وقتی طور سے حالات برداشت کرکے بیٹھا رہا، اس کی بنیاد قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اپنے اپنے مفاد کا خیال تھا، شاہ محمود قریشی نے واضح طور سے ن لیگ کی قیادت اور عمران خان کے سامنے اپنے تقاضے رکھ لئے۔ شاہ محمود قریشی کو نوازشریف اپنے قریب رکھ لیتاتو ن لیگ میں ہی جاتا، وہ پہلے بھی مسلم لیگ میں تھا، مخدوم ہاشمی نے کہا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو کیخلاف جتنی گندی زباں وہ استعمال کرتا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ شاید شیخ رشید سے بھی بڑھ کر گالیاں دیتا ہوگا، پھر وہی جاویدہاشمی اور شاہ محمود قریشی جب عمران خان کی قیادت کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو شاہ محمود قریشی نے نعرہ لگایا کہ ’’ اوپر اللہ نیچے بلا‘‘ جسکی جاوید ہاشمی نے تائید کردی پھر جاویدہاشمی نے جب تحریکِ انصاف سے راستہ جدا کیا تو اس بات کا اظہار کردیا کہ’’ روزِ اول سے یہ احساس تھا کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟‘‘۔ جب شاہ محمود قریشی نے نعرے لگوائے کہ ’’باغی ہے یا داغی ہے‘‘ تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ تحریکِ انصاف شاہ محمودقریشی سے عہد لکھوا دے کہ اگر تحریک انصاف کو اس نے چھوڑا تو یہ نعرہ نہ لگوائے گا کہ ’’ اوپر اللہ ، نیچے دلا‘‘۔پارٹی بدلنے پر کتوں کیلئے قیادت کی اہمیت کتیا جیسی رہتی ہے۔ نوازشریف اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ریلے میں تھے،آج بھی کندھے پر غارِ حرا چڑھانے کیلئے ایک تنومند خرم نواز گنڈہ پور آمادہ نہ ہوگا۔ نوازشریف نے طاہر القادری کو چڑھایا تھا، وجہ صلاحیت تھی یا ضعف الطالب والمطلوب؟ عاشق و معشوقہ آج ایکدوسرے کو بہت نیچ اور کھوٹی نظروں سے دیکھتے ہیں؟۔ عامر فرید کوریجہ کو ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑنے پر گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں؟۔ عامر کوریجہ ہی نہیں ڈاکٹر دلدار قادری مرکزی جنرل سیکرٹری منہاج القرآن، مفتی عبدالمجید اشرفی اور مولانا غلام دستگیر افغانی بھی چھوڑ گئے تھے۔کارکن نہ بدلنے کا دعویدار ڈاکٹرطاہرالقادری رہنماؤں کے بدل جانے کی کہانی کیوں بھول گیا؟۔
قائدانہ صلاحیت کی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے قد آور رہنما اقتدار کی بُو سونگھ کر ساتھ رہتے ہیں ، کتوں کے ریلے کا نام لینا بار بار اچھا نہیں لگتا لیکن قرآن کی آیت کا ورد کرنے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، مخصوص قسم کے لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر کسی نظریاتی اہمیت کیوجہ سے قیادتوں کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اقتدار کی خوشبو کتیا قیادت کے پیچھے لگنے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ نوازشریف کیساتھ اقتدار میں شامل لوگ ایکدوسرے سے بہ تکلف بول چال بھی نہیں رکھتے ۔ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ ایکدوسرے پر غرانے سے بھی نہیں کتراتے مگر ایک ریلے کا حصہ ہیں، میں نے لیہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہاں رہنے کیوجہ سے رؤف کلاسرا مجھے کچھ زیادہ اچھے لگتے ہیں یا وہ باکردار اور نظریاتی صحافی ہیں ، بہرحال ان کو سننے سے دلچسپی ہے، وہ حق بات کہنے میں نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، برے وقتوں میں لوگوں کی اچھائیاں سامنے لاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کیخلاف چوہدری نثار نے کچھ بولا، تو جناب رؤف کلاسرا نے یاد دلادیا کہ ’’چوہدری نثار سے میں نے پوچھا تھا کہ کس سیاسی قائد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہو؟، چوہدری نثار نے کہا کہ میں دو شخصیات کے کردار سے متاثر ہوں، ایک خان عبدالولی خان اور دوسرے محمود خان اچکزئی‘‘۔
چوہدری نثار نے کہا کہ’’ رؤف کلاسرا نے مجھ سے زبردستی سے انٹرویو لیا تھا یعنی میں انٹرویو دینا نہیں چاہتا تھا‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ گاڑی یا سواری میں آدمی بیٹھنے پر آمادہ نہ ہومگر کوئی زبردستی کرکے بٹھا دے یا اصرار کرکے بیٹھنے پر مجبور کرے ،یہ ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کے منہ میں رؤف کلاسرا نے عبدالولی خان اور محمود خان اچکزئی کو زبردستی ٹھونس دیا ہو۔ اوریہ حیرانگی کی بات بھی نہیں اسلئے کہ مسلم لیگ جنرل ضیاء کی آمریت کا پاجامہ ہے ،جمہوریت پسند چوہدری اعتزازاحسن کا نام تو نہیں لے سکتے تھے، پھر سوال کا جواب دیا جاتا کہ قمر الزمان کائرہ اور منظور وٹو کیساتھ مل کر سیاست کیسے کی جاتی؟۔زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ قرار کہا اور چوہدری شجاعت و چوہدری پرویز الٰہی نے پیپلزپارٹی کی دشمنی میں نواز شریف کے ریلے میں شامل ہونا گوارا کیا تھا، مگر پھر چوہدری پرویزالٰہی راجہ پرویز اشرف کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ شیخ رشید کو ن لیگ والے قبول نہیں کرتے تو وہ برملا کہتاہے کہ’’ کوئی بھی آئے مگر نواز شریف کااقتدارختم ہو‘‘۔بھلے عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن ، بلاول یا کوئی بھی ہو، ریلے میں شامل ہونے کیلئے قیادت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، قیادت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔یہ حال اکثر سیاسی رہنماؤں اور خاندانوں کا ہے، دو سگے بھائی اسد عمراپوزیشن اور وفاقی وزیر زبیرحکومت کے ریلوں کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن بدلتے حکومتی ریلے میں شامل رہتا ہے، افتخارچوہدری نے بھی اپنی جماعت بنالی ہے۔دوسری ادلتی بدلتی قیادتوں کا معاملہ تو کسی سے مخفی نہیں رہا ہے لیکن جب سے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے اپنے رہنماؤں کی کُٹ لگوائی ہے اور پھر آہستہ آہستہ فضا بدل رہی ہے تو انکی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہیں ، عوام کو اگر سب سے نجات ملے تو سب خوش ہونگے۔ فیصل واوڈا نے جماعت بدلنے پر سوال کاجواب دیا کہ ’’ سیاسی کارکن رہونگا‘‘۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے پکڑ کر اچھا کیا۔ایسے لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کی دلہن بننے سے پہلے مایوں اور مہندی جتنی قربانی بھی نہ دی ہو،نظریہ نہ ہو،نوازشریف ، عمران خان، طاہر القادری اور مصطفی کمال جیسوں کو نچایا جاتا ہے اگراسٹیبلشمنٹ نے اس کھیل کو بند کردیا تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ سیاسی جماعتوں سے کتوں کے ریلوں کی طرح عوام کیوں نفرت کرتی ہے؟
اگر ہماری سیاسی قیادت عوام سے ہوتی تو عوام کی حالت بھی بدل جاتی، عوام کی حالت بدلتی نہیں لیکن سیاسی قیادتوں، رہنماؤں اور انکے بچوں کی حالت ہی بدلتی رہی ہے۔ نوزشریف ، بھٹواور زرداری کے دوسرے بھی رشتہ دار ہیں کیا انکے بھی کاروبار ایسے چمک رہے ہیں،بچے ایسے دمک رہے ہیں یا یہ سیاست کا کرشمہ ہے کہ دونوں کا احوال ایکدوسرے سے بہت مختلف ہے؟۔نوازشریف کے بچوں میںآخر ایسی کونسی صلاحیت ہے کہ اپنے عزیز واقارب سے اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوا ؟ ،خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی سیاست کو تجارت سمجھ کر اسی جانب رخ کردیاہے۔ عمران خان نے سوچا کہ مولویوں کی طرح شریف برادران کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہسپتال کیلئے بھیک مانگنے اور کنگلا رہنے سے بہتر سیاسی جماعت بنانا ہے۔ پہلے کوئی پوچھتا نہ تھا مگر جب اقتدار کی خوشبو آنے لگی تو وہ لوگ جو موقع کی تلاش میں سیاستدانوں کا جتھایا کتوں کا ریلا بننے پر آمادہ رہتے ہیں وہی پیچھے میدان میں کود جاتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی وغیرہ کی اپنی حیثیت ، شخصیت ، قد کاٹھ، صلاحیت ،سیاسی خدمت اور نمایاں مقام بلاشبہ عمران خان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے مگر سیاسی جتھے میں شخصیت میں کمال کی بات نہیں ہوتی ، بس قیادت سے دلہنِ اقتدار کی خوشبو آنی چاہیے ، کتیا جو اورجیسی ہو، بڑے بڑے کتوں کو ریلے میں شامل ہونے کیلئے صرف مطلوبہ قیادت کا احساس ہوتا ہے۔وہ قد کاٹھ، رنگ نسل ،بوڑھی جوان، خصلت وکردار کو نہیں دیکھتے بلکہ اپنے وقتی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر ثابت کرتے ہیں کہ کتا آخربہت ہی کتا ہوتا ہے، دنیا کے ایسے طلبگار شخص کیلئے کتوں کی مثال قرآن میں زبردست ہے جن کو چھوڑ دیا جائے، تب بھی ہانپے اور بوجھ لاددیا جائے تب بھی ہانپے۔
ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، آصف زرداری، جنرل ضیاء ، پرویزمشر ف سب کے دورِ اقتدار میں قیادتوں کے گرد اسلئے لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے کہ لیلائے قیادت سے اقتدار کی خوشبو آجاتی تھی، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور چوہدری نثار نے کونسی اہلیت نوازشریف میں دیکھی ؟۔ جو کٹ کر دوسری قیادت کے ریلے میں شامل ہوا ،یا وقتی طور سے حالات برداشت کرکے بیٹھا رہا، اس کی بنیاد قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اپنے اپنے مفاد کا خیال تھا، شاہ محمود قریشی نے واضح طور سے ن لیگ کی قیادت اور عمران خان کے سامنے اپنے تقاضے رکھ لئے۔ شاہ محمود قریشی کو نوازشریف اپنے قریب رکھ لیتاتو ن لیگ میں ہی جاتا، وہ پہلے بھی مسلم لیگ میں تھا، مخدوم ہاشمی نے کہا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو کیخلاف جتنی گندی زباں وہ استعمال کرتا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ شاید شیخ رشید سے بھی بڑھ کر گالیاں دیتا ہوگا، پھر وہی جاویدہاشمی اور شاہ محمود قریشی جب عمران خان کی قیادت کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو شاہ محمود قریشی نے نعرہ لگایا کہ ’’ اوپر اللہ نیچے بلا‘‘ جسکی جاوید ہاشمی نے تائید کردی پھر جاویدہاشمی نے جب تحریکِ انصاف سے راستہ جدا کیا تو اس بات کا اظہار کردیا کہ’’ روزِ اول سے یہ احساس تھا کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟‘‘۔ جب شاہ محمود قریشی نے نعرے لگوائے کہ ’’باغی ہے یا داغی ہے‘‘ تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ تحریکِ انصاف شاہ محمودقریشی سے عہد لکھوا دے کہ اگر تحریک انصاف کو اس نے چھوڑا تو یہ نعرہ نہ لگوائے گا کہ ’’ اوپر اللہ ، نیچے دلا‘‘۔پارٹی بدلنے پر کتوں کیلئے قیادت کی اہمیت کتیا جیسی رہتی ہے۔ نوازشریف اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ریلے میں تھے،آج بھی کندھے پر غارِ حرا چڑھانے کیلئے ایک تنومند خرم نواز گنڈہ پور آمادہ نہ ہوگا۔ نوازشریف نے طاہر القادری کو چڑھایا تھا، وجہ صلاحیت تھی یا ضعف الطالب والمطلوب؟ عاشق و معشوقہ آج ایکدوسرے کو بہت نیچ اور کھوٹی نظروں سے دیکھتے ہیں؟۔ عامر فرید کوریجہ کو ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑنے پر گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں؟۔ عامر کوریجہ ہی نہیں ڈاکٹر دلدار قادری مرکزی جنرل سیکرٹری منہاج القرآن، مفتی عبدالمجید اشرفی اور مولانا غلام دستگیر افغانی بھی چھوڑ گئے تھے۔کارکن نہ بدلنے کا دعویدار ڈاکٹرطاہرالقادری رہنماؤں کے بدل جانے کی کہانی کیوں بھول گیا؟۔
قائدانہ صلاحیت کی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے قد آور رہنما اقتدار کی بُو سونگھ کر ساتھ رہتے ہیں ، کتوں کے ریلے کا نام لینا بار بار اچھا نہیں لگتا لیکن قرآن کی آیت کا ورد کرنے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، مخصوص قسم کے لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر کسی نظریاتی اہمیت کیوجہ سے قیادتوں کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اقتدار کی خوشبو کتیا قیادت کے پیچھے لگنے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ نوازشریف کیساتھ اقتدار میں شامل لوگ ایکدوسرے سے بہ تکلف بول چال بھی نہیں رکھتے ۔ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ ایکدوسرے پر غرانے سے بھی نہیں کتراتے مگر ایک ریلے کا حصہ ہیں، میں نے لیہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہاں رہنے کیوجہ سے رؤف کلاسرا مجھے کچھ زیادہ اچھے لگتے ہیں یا وہ باکردار اور نظریاتی صحافی ہیں ، بہرحال ان کو سننے سے دلچسپی ہے، وہ حق بات کہنے میں نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، برے وقتوں میں لوگوں کی اچھائیاں سامنے لاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کیخلاف چوہدری نثار نے کچھ بولا، تو جناب رؤف کلاسرا نے یاد دلادیا کہ ’’چوہدری نثار سے میں نے پوچھا تھا کہ کس سیاسی قائد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہو؟، چوہدری نثار نے کہا کہ میں دو شخصیات کے کردار سے متاثر ہوں، ایک خان عبدالولی خان اور دوسرے محمود خان اچکزئی‘‘۔
چوہدری نثار نے کہا کہ’’ رؤف کلاسرا نے مجھ سے زبردستی سے انٹرویو لیا تھا یعنی میں انٹرویو دینا نہیں چاہتا تھا‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ گاڑی یا سواری میں آدمی بیٹھنے پر آمادہ نہ ہومگر کوئی زبردستی کرکے بٹھا دے یا اصرار کرکے بیٹھنے پر مجبور کرے ،یہ ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کے منہ میں رؤف کلاسرا نے عبدالولی خان اور محمود خان اچکزئی کو زبردستی ٹھونس دیا ہو۔ اوریہ حیرانگی کی بات بھی نہیں اسلئے کہ مسلم لیگ جنرل ضیاء کی آمریت کا پاجامہ ہے ،جمہوریت پسند چوہدری اعتزازاحسن کا نام تو نہیں لے سکتے تھے، پھر سوال کا جواب دیا جاتا کہ قمر الزمان کائرہ اور منظور وٹو کیساتھ مل کر سیاست کیسے کی جاتی؟۔زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ قرار کہا اور چوہدری شجاعت و چوہدری پرویز الٰہی نے پیپلزپارٹی کی دشمنی میں نواز شریف کے ریلے میں شامل ہونا گوارا کیا تھا، مگر پھر چوہدری پرویزالٰہی راجہ پرویز اشرف کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ شیخ رشید کو ن لیگ والے قبول نہیں کرتے تو وہ برملا کہتاہے کہ’’ کوئی بھی آئے مگر نواز شریف کااقتدارختم ہو‘‘۔بھلے عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن ، بلاول یا کوئی بھی ہو، ریلے میں شامل ہونے کیلئے قیادت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، قیادت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔یہ حال اکثر سیاسی رہنماؤں اور خاندانوں کا ہے، دو سگے بھائی اسد عمراپوزیشن اور وفاقی وزیر زبیرحکومت کے ریلوں کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن بدلتے حکومتی ریلے میں شامل رہتا ہے، افتخارچوہدری نے بھی اپنی جماعت بنالی ہے۔دوسری ادلتی بدلتی قیادتوں کا معاملہ تو کسی سے مخفی نہیں رہا ہے لیکن جب سے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے اپنے رہنماؤں کی کُٹ لگوائی ہے اور پھر آہستہ آہستہ فضا بدل رہی ہے تو انکی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہیں ، عوام کو اگر سب سے نجات ملے تو سب خوش ہونگے۔ فیصل واوڈا نے جماعت بدلنے پر سوال کاجواب دیا کہ ’’ سیاسی کارکن رہونگا‘‘۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے پکڑ کر اچھا کیا۔ایسے لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کی دلہن بننے سے پہلے مایوں اور مہندی جتنی قربانی بھی نہ دی ہو،نظریہ نہ ہو،نوازشریف ، عمران خان، طاہر القادری اور مصطفی کمال جیسوں کو نچایا جاتا ہے اگراسٹیبلشمنٹ نے اس کھیل کو بند کردیا تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔

مصطفی کمال کے بارے میں تجزیہ : اشرف میمن

اختلاف کو تحمل سے سننے اور جھگڑا نہ کرنے کے مشن کو گلی گلی ، محلے محلے ، شہر شہر ، گاؤں گاؤں ملک کے کونے کونے تک پہنچانا چاہیے

ڈاکٹر طاہر القادری ، عمران خان اور مصطفی کمال کا رویہ ایک جیسا ہے ، پی ایس پی کے رہنما اچھے مشن کو ہدف بنا کر مثلث تشکیل دیں

ڈاکٹر فاروق ستار کی تعلیم و تربیت اپنے والدین اور اساتذہ کے ذریعے سے اچھے ماحول میں ہوئی ہے جبکہ مصطفی …. اشرف میمن

ڈاکٹر فاروق ستار نیک والدین اور اچھے اساتذہ کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرکے ڈاکٹر بنے۔ الطاف حسین کا انکے کردار ، تعلیم ، ذہنیت ، بچپن ، لڑکپن ، جوانی اورزندگی کے مختلف مراحل پر کوئی اثر نہ تھا مگر اسکے برعکس مصطفی کمال کی گروتھ دیگر ماحول میں ہوئی۔ آج سمندر کے راستے کسی بھی فوجی یا عام آدمی کو انیس قائم خانی اور ڈاکٹر فاروق ستار میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو وہ ڈاکٹر فاروق ستار کیساتھ جانا پسند کریگا یا انیس قائم خانی کیساتھ؟۔ شاہ زیب خانزادہ کے ذمہ یہ سوال لگایا جائے۔ جناب مصطفی کمال ہی بتائے کہ اگر وہ روتے روتے بدحال ہوجائے اور قسمیں کھا کھا کر یقین دلائے کہ انیس قائم خانی ڈاکٹر فاروق ستار کے مقابلے میں بڑا معصوم ہے تو کیا کوئی اسکی بات پر یقین کرنے کیلئے تیار ہوگا؟۔ مصطفی کمال کی رگ و ریشے میں جو تعلیم و تربیت رچ بس گئی ہے ، اپنی ذات کو اسکے حصار سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اگر متحدہ قومی موومنٹ کو چندسالوں سے خصوصی طور پر نشانہ بنا کر ایک عرصہ سے رہنماؤں اور کارکنوں کا تزکیہ ہورہا ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی والوں کی قسمت جاگ گئی ہے لیکن دوسری طرف اگر انہی لوگوں کو پھر سے فری ہینڈ دیکر کراچی والوں پر مسلط کیا گیا تو اللہ تعالیٰ بھی ایجنسیوں کو معاف نہیں کریگا۔ پہلے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں سندھی قوم پرست ، مہاجر لسانی فسادات اور فرقہ واریت کو ہوا دی گئی ، پھر طالبانائزیشن کے ذریعے جی ایچ کیو سے لیکر ملک کے کونے کونے تک عوام اور اداروں کی ہتک کی گئی۔ اب جنرل راحیل شریف نے جہاں پختونخواہ ، بلوچستان اور کراچی میں ایک خوشگوار تبدیلی کا آغاز کیا ہے وہاں دوبارہ دوسرے قسم کے مسائل کھڑے نہ ہوں اور لگتا یہ ہے کہ سید مصطفی کمال نے تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہے ، اچھی بات ہے اگر مذہبی جماعتوں میں کوئی بھی پسند نہ ہو تو متحدہ قومی موومنٹ کے مقابلے میں نئی سیاسی صف بندی کے بجائے محفل مشاعرہ کا اہتمام کریں۔ اس سے قوم کی اچھی اصلاح ہوسکتی ہے، وہ نہ دوہرایا جائے جس کا سبق سیکھا گیا ہے۔ لوگ سیاست سے تو تنگ آگئے ہیں اور ڈرامہ بازی سے بھی۔
مذہبی جماعتیں اپنے مخصوص ڈھانچے میں رہ کر اپنا تشخص قائم رکھتی ہیں لیکن عوام کے اندر آکر اخلاقیات ، قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں انفرادیت اور جائز ناجائز کے حوالے سے قابل قدر کردار ادا نہیں کرتی ہیں۔ پاک سر زمین پارٹی میں رضا ہارون سمیت بڑے عمدہ اور اچھے لوگ ہیں ، قیادت کیلئے جذباتی ہونے سے زیادہ سنجیدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ شاہ زیب خانزادہ نے یہ سوال کیا کہ اگر پی ایس پی کے پاس بڑی تعداد میں عوام ہیں تو ضمنی الیکشن لڑ کر دیکھ لیں۔ اگر ضمنی الیکشن میں متحدہ کو بہت کم ووٹ پڑا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لوگ اب بھی الطاف حسین کو ہی مانتے ہیں یا اس کا کوئی اور مطلب لیا جائے۔ جس کے جواب میں مصطفی کمال جھنجھلا گئے اور قدرے ناراضگی سے کہا کہ ’’آپ لکھ کر رکھ لو ، لوگوں نے ہمارے لئے اپنی انرجی 2018ء کے الیکشن کیلئے جمع کر رکھی ہے ، اس میں لوگ بڑی تعداد میں نکل کر ہمیں ووٹ دینگے‘‘۔
اگر مصطفی کمال یہ کہتے کہ’’ فی الحال عوام کنفیوز ہیں ، آنے والے الیکشن میں ہمارے ساتھ ہونگے ‘‘ تو بہتر ہوتا۔ خدا کا خوف رکھنے والے مسلمان یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح چوزہ انڈے سے اپنے مخصوص وقت میں نکلتا ہے ، اسی طرح سے لوگوں نے ہمارے لئے ووٹ کی قوت کو محفوظ کرکے رکھا ہوا ہے اور وقت پر انڈہ ٹوٹے گا۔ مرکز میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا رویہ اور کراچی میں سید مصطفی کمال کا رویہ ایک ہی جیسا لگتا ہے ، انکو مثلث بنا کر ایک ہی پارٹی بنانا چاہیے۔ اگر ایک اچھا نظریہ لیکر پاک سر زمین پارٹی کی قیادت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا رُخ کرلیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سطح پر عوام کو سیدھے راستے پر لگانے میں کامیابی ملے گی۔ فرقے ، جماعتیں ، تنظیمیں ، پارٹیاں اور ان کے مختلف خول مسائل کا حل نہیں بلکہ عوام کو ان سے نکالنا ہی مسائل کا حل ہے۔ اقتدار کی سیڑھی پر لگنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اورآداب غلامی ، آداب مصلحت ، آداب منافقت ، آداب ۔۔۔نہ۔۔۔جانے کیاکیا کرنا پڑتاہے۔
آدھی عمر الطاف حسین کے فلسفے کو سمجھانے ، دفاع کرنے اور عام کرنے میں گزار دی اور باقی اس کی مخالفت میں گزرے تو زیادہ سے زیادہ حساب برابر ہوجائیگا۔ قرآن کی چند آیات جو طلاق سے متعلق ہیں اور سورہ نساء میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہیں اگر ان کا صرف ترجمہ دیکھ کر مضامین کو سمجھ لیا جائے اور اس کو مشن بنایا جائے تو میاں بیوی ، بچے ، رشتہ داروں کی سطح سے لیکر عالمی سطح تک اس تحریک کو پذیرائی مل سکتی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کی کتابیں ’’ابر رحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ دیکھ لی جائے اور علماء و مفتیان سے اس سلسلے میں ٹھیک گفتگو کی جائے تو اُمت مسلمہ بہت بڑے عذاب سے نجات پالے گی۔ جب خواتین کو بنیادی حقوق اللہ تعالیٰ نے دئیے ہوں اور علماء نے ان کو ان سے محروم کیا ہو تو ایسی ماؤں کی گود میں پلنے والے بچے بھی جس جبری خاندانی نظام کے تحت زندگی گزارینگے ، ان سے بھی آزاد نہیں غلام ذہنیت ہی متوقع ہوگی۔
ہم ایک دفعہ شروع میں ان حقائق کو بتانے کے حوالے سے حاضر بھی ہوئے تھے لیکن ہماری ملاقات نہ ہوسکی تھی۔ یہ بہت بڑی خدمت ہے کہ اگر خلوص نیت سے اس بات کی تشہیر کی جائے کہ مخالفین کی بات سنجیدگی سے سنو ، اختلاف کو باتوں کی حد تک رکھو ، لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کے ماحول سے کراچی اور پورے پاکستان کو نکالو۔ اس مشن میں ہم بھی پورا پورا تعاون کرینگے اور اس کو ملک کے طول و عرض میں گلی گلی ، محلے محلے ، شہر شہر ، گاؤں گاؤں اور سب جگہ پہنچانا چاہیے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے سے تجزیہ :سید ارشاد علی نقوی

متحدہ کا راج تھا، عوام کے سر پر ہڑتال کی تلوار لٹکی رہتی تھی، الطاف حسین نے متحدہ کی لیڈر شپ کو بھی پٹوایاتو وکالت جاری رہی تھی

واقعی اپنی اصلاح کرنی ہے تو متحدہ کے رہنما ؤں کو چاہیے کہ اس معاشرے کے بالکل شریف ، ایمانداراور نئے چہرے لیکر آجائیں

جس طرح جنرل نیازی انڈیا کی قید میں رہ کر اپنی 95ہزار قیدی فوجیوں کیلئے قیادت کا کردار ادا کرتا تو کیافائدہ ہوتا؟ ارشاد نقوی

ڈاکٹر فاروق ستار ، خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری پہلے مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالہ سے اپنے قائد الطاف حسین اور کارکنوں کی وکالت کرتے تھے، توبہ کا دروازہ اللہ تعالیٰ بند نہیں کرتا لیکن اچھے وقتوں میں اچھے اقدام اچھے لگتے ہیں، عدالتی نظام اور سیکورٹی طریقہ کار بھی قابلِ رشک نہیں۔ جس کو مجرم بنادیا مگر وہ مجرم نہ ہو اور مجرم کو انجام تک پہنچانے کے بجائے باعزت بری کردیا تو کونسا نظام ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نظام بھی درست نہیں اور سیاسی جماعتیں بھی 420کے کردار والی ہوتی ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں قتل وغارتگری کسی عوامی جماعت کیلئے بڑا مسئلہ نہیں ۔ پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قتل کیا جائے تو گواہ بھی نہ ملے۔ کسی جائز کام سے تھانہ جانا ہو، گاڑی کاانشورنس ہواہو اور سامان چوری ہوجائے تو بھی بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے لوگ حادثات میں ایک دوسرے کی مدد اسلئے نہیں کرسکتے تھے کہ پھر پولیس والوں سے جان نہیں چھوٹتی تھی۔اب عبدالستار ایدھی اور چھیپا وغیرہ نے یہ مشکل ہٹادی ہے لیکن باقی معاملات کو کون درست کرے گا؟۔
پہلے علاقہ کے ذمہ دار ، بڑے، محترم لوگ دیانت، سچ اور حقائق کی گارنٹی ہوا کرتے تھے، اب جو جتنا ڈھیٹ، نکما، بد دیانت، کمینگی میں گندھے ہوئے ضمیر کا مالک ہو۔وہی ذمہ دار، معتبر، محترم اور عزت مآب بنا پھرتا ہے۔ یہ صرف کراچی کی گلی کوچوں کی بات نہیں، مساجد، مدارس اور پاکستان کے کونے کونے میں پورے معاشرے کی یہی حالت ہے۔ ایسے میں کہیں سے تو انقلاب کا آغاز ہونا ہے۔ چپلقش بہت ہے، شیطان انسانوں کی خوشحالی پر خوش نہیں ہوتا ۔ ایسے دور میں جب ایم کیوایم کو بہت پریشانی تھی، نوشتۂ دیوار نے ان کو سہارا اور ڈھارس دیدی۔ راستہ صاف کیا اور بہت اچھے انداز میں دوسری سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے حملوں سے نجات دلائی ، غلطیوں کی بھی اچھے انداز میں نشاندہی کردی۔ ہوا کا رخ بھی بدل گیا ہے لیکن ہماری دعوت یہ ہے کہ اب ایک دوسرا رخ اختیار کرکے اصلاح کی طرف درست آنے کی کوشش کی جائے۔
مہاجروں کو ابوالکلام آزادؒ کے اقوالِ زریں سے گمراہ نہ کیا جائے،ڈاکٹر عاصم حسین کی شاہ زیب خانزادہ نے رپورٹ پیش کردی کہ’’ دہشت گردوں کا علاج ایک ڈرامہ تھا‘‘۔پیپلزپارٹی سندھ اور وفاق کی جماعت ہے، الطاف حسین نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی تھی، کارکن آنے سے روکتے تھے، حکومت نے نہیں روکا، ڈاکٹر عشرت العباد بھی مخصوص لوگوں کے نگاہوں میں بڑا قاتل، جرائم پیشہ اور سب کچھ تھا، الطاف حسین کا ہاتھ تھا تو گورنر بن گیا اور ہاتھ نہ رہا تو بھی طویل المدت گورنری کا ریکارڈ قائم کردیا۔ شیخ رشید کھل کر کہتا ہے کہ جنرل راحیل شریف زرداری کو ملک میں نہیں آنے دے رہا ۔ آئی ایس پی آر نے کبھی اسکی تردید نہ کی ، مہاجروں کو گلہ شکوہ نہیں مثبت انداز میں سوچنے اور انقلاب پر آمادہ کرنا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی نے کتنے لوگوں کوکراچی میں اپنی طرف مائل کیا ہے؟۔ سیاست کا ڈھانچہ پہلے بھی کراچی اور حیدر آباد کے مہاجروں نے بدلا تھا اور اگر متحدہ کے رہنما سیاست کے معیار کو تبدیل کریں توبہت اچھا رہے گا۔
127کی صوبائی نشست متحدہ ہار ی، یہ پہلے بھی پیپلزپارٹی کی تھی، جن80 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کو ڈاکٹر فاروق ستار نے تسلیم کیا ، ان میں 14،15ہزار ووٹ ملے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس میں پہلے متحدہ کس مارجن سے جیتی تھی، اگر پہلے متحدہ کو 60، 70ہزار ووٹ ملتے تھے تویہ اعلان کرنا چاہیے تھا کہ اب 25ہزار ملتے اور ہم جیت بھی جاتے توبھی اپنی ہار تسلیم کرلیتے ہیں۔ پہلے اشفاق منگی کی مدد سے یہ جیت گئے اور اب یہ ہم ہارگئے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ۔اس رویہ سے ان کی اخلاقی قدریں دوسروں کیلئے مثال بن جاتیں۔ ظفر ہلالی کا یہ کہنا کہ پہلے تم غلط کر رہے تھے، اب تمہارے ساتھ بھی ٹھیک ہورہا ہے مسئلہ کو مزید گھمبیر بنادیتا ہے۔ صحافت میں وکالت کرنا اچھی بات نہیں، گھوڑے گدھے کے سلوتری کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا جتنا ایک صحافی کے غلط رویہ پر اس کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔معقول بات یہ ہے کہ جس تعداد میں متحدہ کے ووٹ کم ہوئے ہیں وہ قابلِ غور ہے۔ پیپلز پارٹی کے جتنے بڑھے ہیں، وہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں ۔ اشفاق منگی والے مل گئے۔
یہ اچھی بات ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ خود کو بدلنے کا عزم لئے ہوئے ہے لیکن مجبوری کے باعث بدلنے سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔ ایک طرف بانی الطاف حسین اورلندن میں بیٹھے دیگر احباب کا دباؤ ہو ، دوسری طرف الطاف حسین سے محبت رکھنے والی عوام کا دباؤ ہو اور تیسری طرف ریاستی اداروں کا دباؤ ہو، چوتھی طرف دیگر سیاسی جماعتوں اور مصطفی کمال کا دباؤ ہو اور پانچویں طرف کارکنوں اور چھٹی طرف میڈیا کا دباؤ ہو تو مشکلات بڑھتی جائیں گی لیکن یہ الگ بات ہے کہ دباؤ ڈالنے والی قوتیں خود بھی بالکل ناکارہ پرزوں کی طرح ہیں۔
ایم کیوایم نے کھالیں جمع کرنے کا منع کیا ہے، کارکن عاجزی اور انکساری کیساتھ لوگوں سے کھالیں جمع کرکے غریب آبادیوں کے مکینوں تک صاف ستھرے طریقے سے پہنچادیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ زکوٰۃ اور فطرہ غریبوں کا حق ہے مگر اس کیلئے بھی بڑے بڑے اداروں نے اپنے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے سے حقداروں کو ان کے حق سے محروم کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کو پہلے سے چاہیے تھا کہ زور جبر نہیں خلوص سے عوام کی خدمت کرتے تو آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔ اگر مساجد کی سطح پر بھی ممکن ہو تو پرہیزگار لوگوں کے ذریعے ایسی کمیٹیاں تشکیل دینا مناسب ہوگا جہاں قربانی کی کھالیں ، زکوٰۃ ، خیرات اور چندے غریبوں تک پہنچ جائیں۔فاروق ستار نے کہا کہ ان سے کھالیں چھین لی گئیں مگر زبردستی پر دل کے کرب کا احساس ہونا مکافات عمل کا نتیجہ لگتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے تجزیہ: فیروز چھیپا

مولانا فضل الرحمن اعلان کریں کہ مفتی محمودؒ نے زکوٰۃ کے مسئلہ پر غلط کیا تھا، سود کے مسئلہ پر بھی مفتی تقی عثمانی کا مؤقف درست ہے

سیاست میں مفاد، پیسہ اور اقتدار کی خاطر ضمیر کی قربانی مسئلہ اسلئے نہ رہا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر دین کی حفاظت تو کریں

امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک متفقہ طور پر احادیث صحیحہ کیمطابق مزارعت جائز نہ تھی بعد میں…… فیروز چھیپا

مولانا فضل الرحمن نے اپنی زندگی کو اسلام کی خاطر سیاست کی نذر کردیا ، سیاست ایک عبادت ہے لیکن خیانت کی سیاست بڑی منافقت ہے ۔ مولانا فضل الرحمن مراقبہ کرکے یہ تجزیہ کریں کہ کیا کھویا کیا پایا؟۔ مفتی محمودؒ نے بھی سیاست کی اور اس سے پہلے مولانا آزاد ؒ ، شیخ الہندؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ وغیرہ نے بھی نظریاتی سیاست کی۔ بعض متحدہ ہندوستان کے حامی تھے اور بعض تقسیم ہند اور پاکستان کے حامی تھے۔ دونوں طبقے کانگریس اور مسلم لیگ کی طفیلی سیاست کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی حیثیت بھی اپنے بڑوں سے بڑی نہیں ہوسکتی۔ ایک مرتبہ مفتی محمودؒ کو اپوزیشن کی قیادت مل گئی تھی مگر ذو الفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں پلاٹوں کا سلسلہ شروع کیا تو مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے سوا ہر اپوزیشن رہنما نے پلاٹ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ مولانا فضل الرحمن جس ڈگر پر چل رہے ہیں اس میں بدعت ہے نہ جدت۔ بلوچستان میں اکثریت جمعیت علماء اسلام کے نمائندوں کی تھی جسکی وجہ سے بلوچستان کا وزیر اعلیٰ جمعیت علماء اسلام کا ہی بن سکتا تھا، مگر اس پر سودا بازی کی گئی اور صوبہ سرحد میں اقلیت والی جماعت کی بنیاد پر مفتی محمودؒ وزیر اعلیٰ بن گئے۔ الیکشن جیتنے کیلئے بھی دوسرے سیاسی امیدواروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے خود کو جتوانا اور اپنی جماعت کے افراد کو ہرانا بہت پرانا حربہ تھا۔
بنوں کی سیٹ پر جمعیت کا الیکشن لڑنے والے مولانا مطالبہ کرتے تھے کہ مولانا مفتی محمودؒ مرکز کے عہدیدار ہیں اسلئے میرے لئے بھی میرے حلقے میں آکر ووٹ مانگیں لیکن مفتی صاحب کا سیف اللہ برادران سے معاہدہ ہوتا تھا، ٹانک کی صوبائی نشست اور بنوں کی قومی نشست خفیہ طور پر دوسروں کو حوالے کردی جاتی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کھل کر اس طرح کے معاملات کریں تو وہ صراط مستقیم پر گامزن ہیں البتہ مفتی محمودؒ نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کرنے میں زبردست کردار ادا کیا ، زکوٰۃ کے مسئلے پر زندگی کی آخری گفتگو کی ، مفتی تقی عثمانی نے پان کھلادیا اور مفتی رفیع عثمانی نے بھی دورہ قلب کی خصوصی گولی حلق میں ڈال دی مگر جانبر نہ ہوسکے۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ہم دونوں بھائیوں کو چائے کی پیشکش کی لیکن ہم نے معذرت کی کہ دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ چائے نہیں پیتے۔ پھر مفتی محمودؒ کو پان کا بٹوا دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔پھر آگے گفتگو لکھی مگر پان کھلانے اور گولی کا ذکر نہ کیا۔ جبکہ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے ان دونوں باتوں کا بھی ذکر کیا تھا جس پر مفتی تقی عثمانی نے ان کو جھاڑ بھی پلائی تھی۔ پان خور وہ ہوتا ہے جو تمباکو والا پان کھاتا ہو۔ اپنے بزرگوں کو اصرار کرکے تمباکو والا پان کھلانا غلط ہے اور اچھے بچے ایسا نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی کو ایک جگہ پر دعوت کیلئے مدعو کیا جائے اور کھانے کے بعد مفتی تقی عثمانی سے پان لیکر مولانا فضل الرحمن کو کھلادیا جائے تو سارا معمہ حل ہوجائیگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مولانا نے ابھی تو پان کھاہی لیا ہو اور پتہ چلے کہ مولانا کلٹی۔ مفتی محمودؒ چھپ کر پان ضرور کھاتے ہو نگے اورمولانا فضل الرحمن کو پان کھلانے سے گریز کیا جائے۔ پان کے چھونے سے منہ پھٹنا یقینی ہوتا ہے ۔
طلاق کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمن نے اگر صحیح اسٹینڈ لیا تو چھوٹے موٹے بہت سے گناہ معاف ہوجائینگے۔ قرآن و سنت کے بنیادی مسئلے پر ذہن کھل جائے اور پھر بھی عقیدتمندوں کے گھر تباہ ہوں ، حلالوں کی لعنت سے دو چار ہوں اور اس پر چپ کی سادھ لی جائے تو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہت بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے مولانا فضل الرحمن مفتی محمودؒ کے مؤقف پر کھڑے تھے اور بینکوں سے کٹنے والی زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے ، پھر حکومتوں میں شامل ہوکر اپنے لوگوں کو زکوٰۃ کی کمیٹی کا چیئر مین بنانے کو ترجیح دی۔ بھوک کی حالت میں خنزیر کے گوشت کی بھی اجازت ہوتی ہے چلو ہم اس معاملے کو درست تعبیر پر محمول کرلیتے ہیں لیکن اتنا یاد رہے کہ درباری علماء نے ہمیشہ اسلام کے حلیہ کو بگاڑا ، پہلے تو علماء حق نے مزاحمت کی مگر بعد میں انکے جانشین آہستہ آہستہ رام ہوتے گئے، زکوٰۃ کے بعد سُود کا مسئلہ آیا، سارے علماء و مفتیان ایک طرف کھڑے ہیں اور مفتی تقی عثمانی اکیلے بینکوں سے معاوضہ لیکر سودی نظام کو اسلامی قرار دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن سیاسی مفادات کا خیال رکھیں مگر کچھ تو ایمان اور آخرت کیلئے بھی کریں۔ اسلام فطری دین ہے ،جسکوتاریخ کے ادوارمیں غیر فطری بنایا جاتارہا۔
امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ متفق تھے کہ زمین کو مزارعت ، بٹائی ، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا جائز نہیں اور اس کیلئے بہت سی احادیث صحیحہ بھی موجود ہیں۔ پھر علماء سُوء نے ان ائمہ حق کا ہی جانشین بن کر مزارعت کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ اسکی وجہ سے لوگ غلام بنتے تھے ورنہ اپنے اصل کے اعتبار سے ناجائز نہ تھا۔ حالانکہ آج بھی مزارعین غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود پہلے اسی فکر کے بتائے جاتے ہیں لیکن بعد میں وہ خود بھی ان جاگیرداروں ، نوابوں اور وڈیروں کی صفوں میں شامل ہوگئے جن سے لڑنے نکلے تھے۔
ایمان ، قرآن اور آخرت کیلئے نہ سہی ، دنیا ، سیاست اور مفاد کیلئے ہی اسلام کے فطری نظام کو دنیا میں رائج کرنے کو اپنا مشن بنالیں ، حلالہ کی لعنت سے اپنے ہی عقیدتمندوں ہی کو بچالیں۔
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ،اپنا تو بن
عوام کو فطری نظام کی دعوت دی جائے تو ملک کے کونے کونے سے خوش آمدید کی آوازیں ہی سنائی دیں گی اور بصورت دیگر عوام کے شعور پر زیادہ دیر تک پہرا لگانا ممکن نہیں ہے اور جب عوام کا شعور خود بیدار ہوجائے تو پھر علماء کو اپنے ٹھکانے بدلنے پڑیں گے۔ کراچی کے حالیہ احتجاج کے پیچھے نواز شریف کا پیسہ تو نہیں تھا تاکہ جمعیت کی نفری سے فوج کو ڈرایا جائے؟۔