پوسٹ تلاش کریں

حلالہ کے حوالہ سے غلط فتویٰ اور ایسی طلاق کی وضاحت

الطلاق مرتٰن بامساک بمعروف اوتسریح باحسان ولایحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیموھن شےءًاالا ان یخافاان لایقیما حدوداللہ ،فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھافیما افتدت بہ ،تلک حدوداللہ فلا تعتدوھا ومن یتعدحدوداللہ فأولئک ھم الظٰلمونOفان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ۔۔۔ ’’طلاق دو مرتبہ ہے، پھر معروف طریقہ سے رجوع ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے، اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم ان سے لو جو کچھ بھی ان کو تم نے دیا ہے مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔اور اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو عورت کی طرف سے فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں،ان سے تجاوز مت کرو، جو اللہ کی حدود سے تجاوزکرتا ہے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں، پس اگر اس نے پھر طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘۔
ان آیات میں واضح طور پر دو مرتبہ طلاق کے بعد ایک صورت معروف طریقہ سے رجوع کرنے کی ہے، اگر معروف رجوع کی بجائے فقہاء کے منکر رجوع کا پتہ عوام کو چل جائے تو علماء ومفتیان کے علم وعقل پر تعجب کااظہار کرینگے اور دوسری صورت احسان کیساتھ رخصت کرنے کی ہے، احسان کیساتھ رخصت یہ ہے کہ طلاق کے بعد ان کو انکے حق سے زیادہ دیا جائے۔ اگر اس طرح سے تیسری طلاق کے بعد بھی انکو رخصت کیا جائے اور عدت کی تکمیل پر دو عادل گواہ بھی مقرر کئے جائیں تب بھی اللہ نے رجوع کا راستہ نہیں روکا ہے جس کی تفصیل سورۂ طلاق میں موجود ہے۔ پڑھے لکھے لوگ ہی نہیں علماء ومفتیان بھی ان پر غور کرلیں۔
علاوہ ازیں ایک مزید خاص قسم کی طلاق جسکے بعد حلال نہ ہونے کو واضح کیا گیا ہے جس کا مقدمہ بھی اللہ تعالیٰ نے وضاحت کیساتھ بیان فرمادیا ہے وہ کیا ہے؟۔ رخصت کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ’’ تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی انکو دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر یہ دونوں کو خوف ہو کہ اس چیز کو واپس کئے بغیر اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے‘‘۔ ذرا غور کیجئے کہ علیحدگی کا فیصلہ اس انداز سے ہورہا ہے کہ دونوں باہوش وحواس سمجھ رہے ہیں کہ دونوں کے درمیان رابطے کی کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے کہ ایک دوسرے کے راز سے آشنا کے ملنے کی کوئی صورت نکلے تو اللہ کی حدود پامال ہونے کا خدشہ ہو۔ ویسے تو دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں مگر دوسرے بڑے حرام میں پڑنے سے بچنے کیلئے اس چیز کا واپس کرنا مجبوری کی حالت میں حلال بن جائے۔
بسا اوقات میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل نہ دیکھنے پر جذباتی یا سنجیدہ طور سے پہنچ جاتے ہیں۔ دونوں اپنی راہ الگ کرلیتے ہیں تو بھی ان کا یہ فیصلہ ایسا وقعت نہیں رکھتا ، اسلئے اللہ نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ فیصلہ کرنے والوں کو بھی حصہ دار بنایا تاکہ میاں بیوی کا جذباتی یا باہوش و حواس فیصلہ اس ملعون عمل کا ذریعہ نہ بن سکے، چنانچہ اللہ نے مزید حدود قیود کی وضاحت کرتے ہوئے فیصلہ کرنے والوں کو بھی علیحدگی کے اس عمل میں برابر شریک ہونے کی شرط لگادی فرمایا’’ اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر گناہ نہیں کہ( دی ہوئی چیزوں) میں سے کوئی چیز عورت کی طرف سے فدیہ کیا جائے۔یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو، جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔پھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے‘‘۔
یہ تو اپنی جگہ پر بہت بڑی حیرت کی بات ہے کہ حلالہ کے حوالہ سے اللہ نے جو حدود مقرر کئے ہیں ان کو کس طرح سے پامال کیا جارہا ہے۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس قرآن سے دلیل نقل کی جاتی ہے اسکے سیاق وسباق کو بھی عوام کے سامنے لایا جاتا۔ ان حد بندیوں کا ذکر ہوتاجن سے حلال نہ ہونے اور دوسری جگہ نکاح کو ضروری قرار دیا جاتا۔ قرآن کودرست طریقہ سے پیش کیا جائے تو لوگ قرآن اور انسانیت کی عظمت کا اعتراف کرینگے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن اور وفاق المدارس کی میرے پاس اصول فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ کی سند ہے جو درس نظامی میں شامل ہے، اسمیں حنفی مسلک کے مؤقف کی یہ وضاحت ہے کہ ’’ اس طلاق فان طلقہا فلاتحل لہ میں ’’ف‘‘ تعقیبِ بلامہلت کیلئے آتا ہے، لہٰذا لامحالہ اس کا تعلق دومرتبہ طلاق کے بعد سے براہِ راست نہیں بلکہ عورت کی طرف سے فدیہ دینے کی ہی صورت سے ہے‘‘۔اگر’’نورالانوار‘‘ کا مؤقف غلط ہے تو عام اعلان کیا جائے۔
حنفی مؤقف قرآن کریم کے حوالہ سے بڑا حساس ہے، قرآن کے مقابلہ میں تو واضح احادیث کیخلاف بھی مدارس میں حنفی مؤقف پڑھایا جاتا ہے۔ اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ ہمیں مولانا بدیع الزمانؒ نے پڑھائی تھی اور ’’اصول الشاشی‘‘ بھی انہوں نے پڑھائی تھی۔حنفی مسلک کے علاوہ دوسرے مسالک میں بھی قرآن کو حدیث پر ترجیح ہے لیکن حنفی مسلک دوسروں کے مقابلہ میں بہت ممتاز ہے۔ مولانا بدیع الزمانؒ ایک عالم دین ، ایک مفسر،ایک محدث ،ایک فقیہ اور ایک ولی کامل بھی تھے۔ انہوں نحو ،ترجمۂ قرآن اور تفسیر بھی پڑھائی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ روزانہ ایک رکوع کاترجمہ وتفسیردیکھ لیا کریں بے سمجھے زیادہ تلاوت سے یہ بہتر رہے گا۔
اصول فقہ شروع کرنے سے پہلے سمجھا جایا تھا کہ قرآن و حدیث میں تضاد ہو تو پہلے انکے درمیان تطبیق کی کوشش کرنی ہوگی اور تطبیق نہ ہوسکے تو قرآن پر عمل کیا جائیگا اور حدیث کو ترک کردیا جائیگا۔ پھر جب اصول الشاشی کا پہلا سبق شروع ہوا، جس میں قرآن کی آیت حتی تنکح زوجاً غیرہ کے مقابلہ میں من نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحہا باطل باطل باطل کا درس دیا گیا ہے کہ قرآن کی آیت میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت کی گئی ہے کہ یہاں تک کہ وہ نکاح کرے۔ جس سے عورت کا خود مختار ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن حدیث میں اس کی نفی کی گئی ہے کہ جس نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے،ان دونوں میں سے کوئی ایک مؤقف ہی درست ہوسکتا ہے، حدیث کی تطبیق نہیں ہوسکتی ہے لہٰذا حدیث کو ترک کردیا جائیگا اور قرآن پر عمل ہوگا۔ (اصول الشاشی)
میں نے اسی وقت زمانہ طالب علمی میں عرض کیا تھا کہ قرآن کی آیت سے اس حدیث کی تطبیق ہوسکتی ہے ۔ آیت میں طلاق شدہ عورت مراد ہے جسکے احکام بھی کنورای سے مختلف ہوتے ہیں، حدیث سے کنواری مراد لی جائے کیونکہ شادی کے بعد عورت کا سرپرست اس کا شوہر ہوتاہے اور طلاق شدہ یا بیوہ ہونے کے بعد وہ خود مختار ہوجاتی ہے۔ استاذؒ کے پاس کوئی معقول جواب نہ تھا ۔بات آئندہ پر رہ گئی تھی۔
مفتی نعیم صاحب بھی میرے استاذ ہیں ، معید پیرزادہ دنیا ٹی وی میں پروگرام کا آخر دیکھ سکا جس میں مفتی صاحب نے ایک معروف وکیل خاتون کاحوالہ دیاکہ اس نے کہا کہ ’’ یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کے دوران لڑکا لڑکی خود ہی پسند کا رشتہ کرلیں تو والدین کی ذمہ داری بھی ختم ہوجاتی ہے، وہ معاشرہ قائم کیا جارہا ہے جو خالص مغربی تہذیب والا ہے، اگر اسلامی اور مغربی تہذیب دونوں سے آشنا لوگوں کو بلواکر قانون سازی کی جائے تو بہتر ہوگا‘‘۔ اگر مفتی صاحب حنفی مؤقف کو حدیث پر ترجیح دینے کی تعلیم دیتے ہیں تو خاتون وکیل رہنما اور مدرسہ کی تعلیم میں ویسے بھی ہم آہنگی ہے۔حالانکہ قرآن و سنت میں جس طرح کا متوازن معاشرہ کرنے کی وضاحت تھی اس معروف کو منکر بنانے میں سب بڑا کردار علماء ومفتیان کا عمل وکردار ہی نہیں بلکہ جہالت، گمراہی،انا پرستی، کفرسازی کا وہ تعلیمی نصاب ہے جو یہ بیچارے سمجھتے نہیں۔ عتیق گیلانی

بہشتی زیور اور بہار شریعت میں طلاق کے مسئلہ پر روگردانی

جن علماء ومفتیان کے نصاب تعلیم درسِ نظامی میں اللہ کی کتاب کا حلیہ بگاڑ کر رکھا گیا، وہ سود، طلاق اور دوسرے معاملات کی درست تشریح وتعبیر کرنے کی کوئی صلاحیت رکھتے ہیں؟۔ علماء ومفتیان کی شکل میں جو جاہل طبقہ اللہ والوں کا گزرا ہے ان کو میں عالم ومفتی کی حیثیت سے نہیں مانتا، البتہ صالحین سمجھ کر ان لوگوں سے ضرور محبت کرتا ہوں۔ان سے بغض وعناد رکھ کر اذیت دوں تو اللہ کیساتھ اعلانِ جنگ ہوگا
احب الصالحین ولست منہم لعل اللہ یرزقنی صلاحا
میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں مگر ان میں سے نہیں ، ہوسکتا ہے کہ اللہ میری اصلاح فرمادے۔ حاجی محمد عثمانؒ سے حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ اور مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ تک اولیاء اللہ کا جوسلسلہ فقہ کے امام حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ اور دیگر اماموں اور تابعین میں مدینہ کے سات فقہاء اور صحابہ کرامؓ حضرت فاروق اعظمؓ اور صدیق اکبرؓکے توسل سے جو سلسلہ رسول ﷺ سے ملتا ہے، میں حق چار یارخلفاء راشدینؓکو حفظ مراتب کیساتھ ،چاروں فقہی امام کو برحق سمجھتے ہوئے خود کو انکے فیضان سے استفادے کا محتاج سمجھتا ہوں۔
تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی والے دیوبندی بریلوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مخلص ہونے کے باوجود علم سمجھ کر جہالتوں کے دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حضرت مولانا الیاسؒ نے خلوص کیساتھ تبلیغ کا کام شروع کرکے اخلاص کا ایک شجرہ طیبہ لگایا اور آج اس بیج کے پھل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایاتھا کہ ’’دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’ایمان اخلاص ہے‘‘۔ متقدمین علماء چاروں امام کے نزدیک قرآن سکھانے اور عبادت پرمعاوضہ جائز نہ تھا، متأخرین نے جائز قرار دیا مگر ہردور میں تاریخ کے وہ درخشندہ ستارے رہے ہیں جنہوں نے معاوضہ وصول کرنے کی بجائے بہت تکالیف اور مصیبتیں برداشت کرکے دین کی تبلیغ کی تھی اور ان میں چاروں فقہی امام، محدثین ، ائمہ اہلبیت، امام غزالی، مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ اور بہت بڑی تعداد میں غیرمعروف اجنبی ہستیاں بھی شامل ہیں۔
جہاں فتویٰ فروشان اسلام اور مذہب کو دھندہ بنانے والوں کی کمی نہ تھی وہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے ٹمٹماتے ہوئے شمعوں کو دلوں کی کڑہن سے سینہ بہ سینہ منتقل کرنے والا سلسلہ حق ہردور میں موجود رہا ہے، یہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ صحابیؓ کا ذاتی کردار کیا رہا ہے مگر جن آنکھوں نے نبیﷺ کی زیارت کی تھی، ان کی عقیدت واحترام کیلئے صاحبِ ایمان ہونا کافی ہے، اگر ذوالخویصرہ جیسے کسی گستاخ سے عقیدت ومحبت نہیں ہوسکتی تو جن کی نظر میں کسی کا کردار ذوالخویصرہ کی طرح یا اس سے بھی بدتر ہو، ان پر عقیدت و احترام کو لازم قرار دینا کوئی فرض نہیں۔
حضرت عمرؓ کی طرف علماء ومفتیان نے یہ منسوب کیا ہے کہ پہلے کوئی بیوی سے تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہتاتو اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہوتی تو اس کی بات قبول کرلی جاتی اور اس کو بیوی سے رجوع کی اجازت مل جاتی مگر پھر حضرت عمرؓ کے دور میں لوگ خائن ہوگئے، تین طلاق کی نیت ہوتی تب بھی کہتے کہ ایک طلاق کی نیت تھی، اسلئے حضرت عمرؓ نے اپنے دور کے دوسال بعد حکم جاری کردیا کہ ’’جو ایک مجلس میں طلاق طلاق طلاق کہے گا، اس کو رجوع کی اجازت نہ ہوگی‘‘۔ اگر واقعی یہی معاملہ تھا ۔اس پر صحابہ کرامؓ، چاروں امام بالخصوص حضرت امام ابوحنیفہؒ اور تمام دیوبندی بریلوی اکابر کا اجماع ہوچکا ہے تو بسم اللہ مجھے بھی کسی اختلافِ رائے اور تنازعہ کھڑا کرنے کا شوق نہیں ہے اور نہ ایسی حیثیت کہ لوگ میری مان لیں۔
لیکن اگر اس سے دیوبندی مکتبۂ فکر کی مشہور کتاب مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ’’بہشتی زیور‘‘ اور بریلوی مکتبۂ فکر کی مشہور کتاب’’بہار شریعت‘‘ کو اتفاق نہ ہو تو پھر مجھے حضرت عمرؓ اور اسلاف کو بدظنی سے بچانے میں کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں ؟۔ یہ مسئلہ ان دونوں مشہور کتابوں میں ہے کہ ’’ اگر شوہر نے طلاق طلاق طلاق کہہ دیا تو بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی لیکن اگر نیت ایک طلاق کی ہوگی تو پھر ایک طلاق واقع ہوگی، شوہر کو رجوع کا حق ہے مگر بیوی پھر بھی سمجھے کہ تین طلاق ہوچکی ہیں‘‘۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس بات پر حضرت عمرؓ نے فیصلہ کردیا، اجماع کا تصور بھی قائم ہوگیا، پھر اللہ کے ولیوں کو انحراف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟، کیا چاروں امامؒ اور سلف صالحینؒ یہ تصور بھی کرسکتے تھے کہ شوہر کو طلاق سے رجوع و نکاح کے برقرار رکھنے کا فتویٰ دیا جائے اور بیوی کو تین طلاق کا فتویٰ دیا جائے؟۔
اس قدر حماقت و بیوقوفی تو گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے ان پڑھ چرواہے بھی نہ کریں گے۔ 1000سال پہلے ابوالعلاء معریٰ ایک عربی عالم گزرے ہیں کہتے ہیں کہ’’ لوگوں کی دوقسمیں ہیں ایک وہ جن کے پاس عقل ہے مگر انکا کوئی دین نہیں،دوسرے وہ جنکا دین ہے مگر انکے پاس کوئی عقل نہیں‘‘۔ جب اسلامی علوم پر زوال اور انحطاط کا دور آیا تو مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بقول ’’ اس دور کی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا گیا، جو عقلمند لوگوں کو بھی کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام میں طلاق کے ہر پہلو کو قرآن میں واضح کردیااور پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث سے اس کی وضاحت بھی فرمادی جسکے بعد عقل کیلئے کوئی بھٹکنے کی گنجائش نہ تھی مگر نہ جانے کہاں کہاں غیرفطری طور سے کم عقلی اور بیوقوفی کے گھوڑے نہیں ڈھینچو ڈھینچوکی انتہائی خراب آوازیں نکال کرگدھے دوڑائے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’’ جتے دی کھوتی اتے ان کھلوتی‘‘ جہاں کی گدھی تھی اس جگہ آکر کھڑی ہوگئی۔ امت مسلمہ کو جن جہالت کے اندھیروں سے اسلام نے نکالا تھا، قریب کے دور میں اسلام کو پھر اجنبی بنادیا گیا اور امت اسی اندھیر نگری کا شکار ہوئی۔
حضرت عمرؓ نے ایک ایسے دور میں جب خواتین پر غلامی کی زنجیریں دوبارہ کسنا شروع کردی گئیں، قرآن و سنت کی روح کے عین مطابق عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا تھا۔ مشہور مقولہ ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی۔ میاں بیوی میں جھگڑا ہو تو قرآن و سنت میں اس کا حل موجود ہے۔ شوہر نے کہہ دیا کہ تجھے تین طلاق یایہ کہ تجھے طلاق طلاق طلاق، پھر بیوی ساتھ میں رہنے کیلئے راضی نہیں تو شریعت میں کیا تصور ہے اور عقل وفطرت کا کیا تقاضہ ہے کہ کیا فیصلہ ہونا چاہیے؟۔ حضرت عمرؓ کا فیصلہ 100،200نہیں بلکہ 300فیصد درست تھا، اسلئے کہ محض طلاق دینے کے بعد بھی عورت راضی نہ ہو تو شوہر کو قرآن نے رجوع کا کوئی حق نہیں دیا ہے۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا ’’اورانکے شوہروں ہی کو اس عدت میں لوٹانے کا حق ہے بشرط یہ کہ صلح کا پروگرام ہو‘‘۔یہ بڑا المیہ ہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حقدار قرار دیاگیا لیکن علماء و مفتیان اور فقہاء و محدثین نے صلح کی شرط بھوسہ سمجھ کر کھالی،صلح کے بغیر بھی رجوع کا حق دیا۔ حضرت عمرؓ کی عظمت کو دنیا سلام کرتی ہے، شیعہ بھی انشاء اللہ ضرورکریں گے۔حضرت عمرؓ کا یہ اقدام قرآن کی روح کے مطابق عورت کے حق کا تحفظ تھا۔
حضرت علیؓ اور حضرت ابن عباسؓ کا اس بات سے اتفاق نہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد صلح پر بھی پابندی لگائی جائے، مگر عورت راضی نہ ہوتی تھی تو انہوں نے بھی یہی فیصلہ اور فتویٰ دیا کہ ’’شوہر ایک ساتھ تین طلاق دینے کے بعد عورت کو نہیں لوٹا سکتا، اسلئے کہ حکومت عورت کیساتھ کھڑی تھی‘‘۔ یہ کسی مجبوری کا فتویٰ نہیں تھا بلکہ قرآن وسنت کی روح کے مطابق تھا، اسلئے کہ عدت میں صلح نہ ہوسکے تو عورت پھر دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے، ائمہ مجتہدینؒ اور امام ابوحنیفہؒ نے بھی اسی وجہ سے طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دیا مگر یہ تو وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ میاں بیوی کے راضی ہونے کے باجود بھی عدت میں رجوع کی اجازت نہ ہو گی اور حلالہ پر مجبور کیاجائیگا۔