پوسٹ تلاش کریں

فاروق اعظمؓ اور امام اعظمؒ کا زبردست انوکھا دفاع: عتیق گیلانی کی تحریر

’’ زانی اور زانیہ کی سزا 100کوڑے ہے‘‘۔ سورۂ نور۔ شادی شدہ و غیر شادی شدہ کافرق نہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا : ’’ اس میں زنابالرضا و زنا بالجبر کافرق نہیں‘‘۔ حالانکہ زنا بالجبر میں عورت کا جرم ہے ،نہ اس کی سزا۔ جبکہ مرد کا جرم بھی بڑا اوراسکی سزا بھی بڑی۔ صحابیؓ سے پوچھاگیاتھا کہ سورۂ نور کے بعد سنگسار کرنے کی سزا دی گئی؟، تو جواب دیا تھاکہ مجھے پتہ نہیں۔( صحیح بخاری)
توراۃ میں ہے الشیخ و الشیخۃ اذا زنیا فارجمھما ’’جب بوڑھا و بوڑھی زنا کریں تو دونوں کو سنگسار کردو‘‘۔ علامہ مناظر احسن گیلانیؒ نے لکھا: ’’بوڑھا و بوڑھی غیرشادی شدہ بھی زد میں آتے ہیں، جوان شادی شدہ بھی زد میں نہیں آتے۔ قرآن میں کوڑوں کی سزا ہے، یہ یہود کی اختراع ہے ،قرآن کے واضح حکم کے بعد اس پرعمل بہت بڑی زیادتی ہے۔ بے عمل علماء نے مذہبی تعلیم کا حصہ بناکر یہودو نصاریٰ کی طرح اللہ کے احکام میں تحریف وتبدیلی کا ارتکاب کیاہے، اس کو نصاب سے خارج کیا جائے‘‘۔(تدوین القرآن)
مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا ’’ سنگساری کا حکم توراۃ میں تعزیر تھا‘‘۔متکبر غریب اور بوڑھے زناکار کی حدیث میں سخت مذمت ہے۔ موسیٰ علیہ السلام سے بھی یہ نقل ہوگا،پھر یہود نے توراۃ میں تعزیر لکھی ہوگی۔ قرآن میں خواتین کو زبردستی نشانہ بنانے والوں کو قتل اور حدیث میں زنابالجبر پر بھی سنگساری کی سزا کا ذکر ہے۔ بعض دفعہ معاملات ایکدوسرے سے خلط ملط ہوجاتے ہیں۔
جن میں حکم نازل نہ ہوتانبیﷺ اہل کتاب کیمطابق حکم کرتے (بخاری) سورۂ مجادلہ میں ظہار، قبلہ بیت المقدس، خاتون و مرد کا اپنے پر گواہی کے بعد سنگساری کا حکم مثال ہیں۔ نبیﷺ نے چاہاتھا کہ سنگساری سے بچ جائیں، جب پتہ چلا کہ مرد بھاگ رہا تھا تو آپﷺ نے فرمایا : اسے بھاگنے دیتے۔
زنا پر حد جاری کرنا روز کا معمو ل نہ تھا ۔ اکا دکا واقعہ سے روایات کی بھرمار ہے۔ حضرت عمرؓ اللہ کے احکام میں زیادہ سخت تھے۔ اپنے غیرشادی شدہ بیٹے کو کوڑے لگوانے لگے تو بیگمؓ نے سفارش کی کہ ’’کوڑے لگانیوالا آدمی بدلو‘‘۔ جس پر وہ جان سے بھی گیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نبی ﷺ نے سنگسار کرایا ، اگر الزام نہ لگتاکہ عمر نے اضافہ کیا تواس کو قرآن میں لکھ دیتا۔ عمرؓکو بھنک پڑی تو سخت وعید سناکر حالات پر قابو پانا چاہا ۔ سنگساری کے غیرفطری حکم پر عمل مشکل تھا اسلئے اللہ نے عمرؓ کے ہاتھوں ہی ا سکی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ چنانچہ مغیرہ ابن شعبہؓ کے حوالہ سے چارگواہ آگئے، پہلے کی گواہی پرعمرؓ کا رنگ پیلا پڑ ا، دوسرے کی گواہی پر عمرؓ کی پریشانی میں اضافہ ہوا اور تیسرے کی گواہی پر عمرؓ کی پریشانی انتہاء کو پہنچ گئی۔ چوتھے گواہ زیاد کو آتے دیکھ کریہ ترغیب دی کہ اسکے ذریعے اللہ اس صحابیؓ کو رسوائی سے بچائیگا۔ وہ گواہی دینے لگا تو حضرت عمرؓ نے زور سے دھاڑ کر کہا :’’بتا تیرے پاس کیاہے؟‘‘۔ راوی نے کہا کہ وہ اتنے زور کی چیخ تھی کہ قریب تھا کہ خوف کے مارے میں بیہوش ہوجاتا۔زیاد نے کہا: میں نے دیکھا: عورت کے پاؤں اسکے کاندھے پر گدھے کے کانوں کی طرح پڑے تھے ۔تو عمرؓ نے کہا:’’ بس گواہی مکمل نہ ہوئی‘‘۔ باقی تینوں کو بہتان کے 80، 80کوڑے لگادئیے اور پیشکش کی کہ اگر اقرار کرلو کہ جھوٹی گواہی دی تو آئندہ تمہاری گواہی قبول ہو گی۔گواہوں میں صحابی صرف حضرت ابوبکرہؓ تھے جو اپنی بات پر ڈٹ گئے کہ’’ میں نے درست گواہی دی، آئندہ میری گواہی قبول نہ کی جائے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں‘‘۔ باقی افراد نے سمجھا کہ بھاڑ میں جائے، یہ قانون اور گواہی کہ مجرم بچ جائے اورالٹا ہمیں کوڑے کھانے پڑیں۔ چنانچہ دونوں نے اقرار کیا کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔
بخاری میں بھی یہ واقعہ ہے، امام مالکؒ ،امام شافعیؒ اور امام احمد حنبلؒ جمہور متفق تھے کہ حضرت عمرؓ کی پیشگش درست تھی ، بہتان پر توبہ کے بعدگواہی قبول کی جائے گی مگر امام ابوحنیفہؒ نے کہا کہ ’’ولاتقبلوالھم شہادۃ ابدًاقرآن میں جھوٹی گواہی کے بعد ہمیشہ کیلئے گواہی قبول نہ کرنا واضح ہے، اسلئے گواہی قبول نہ کی جائیگی‘‘۔ اسلام میں قانون سازی کیلئے یہ واقعہ بذاتِ خود بہت بڑا المیہ ہے ،عمرؓ کا طرزِ عمل قرآن کے منافی قرار دیکر امام ابوحنیفہؒ نے حق ادا کیا۔ عمرؓ کے رویے کو قابلِ تحسین کہنے کا قانونی، شرعی اور اخلاقی جواز نہیں مگر اس غلط طرزِ عمل نے اسلام کو بڑے حادثہ سے بچایاکیونکہ سنگساری کا حکم قرآن کے بالکل منافی تھا، اگر اس پر نیک نیتی سے عمل ہوجاتا تو اسلام کی حفاظت بھاڑ میں جاتی۔ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک جزئی شق کیلئے اثاثہ ہے مگر عمرؓ کایہ غلط طرزِ عمل اسلام کیلئے بڑا کارنامہ ہے، جس پر شیعہ کا ہنگامہ ہے۔بدری قیدیوں کے قتل کا صائب مشورہ حضرت فاروق اعظمؓ کا اتنا بڑا کارنامہ نہ تھا جتنااس واقعہ کی وجہ سے اسلام کو ابدی تحفظ مل گیاہے۔اسلام کو احکام ہی سے زندہ کیا جاسکتاہے۔
عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کوحد ٹالتے دیکھا، ایک آدمی نے اقرار کیاتو نماز کا وقت ہوا، عمرؓعرض کیا :اس نے اقرار کیا،تو نبیﷺ نے فرمایا :اس نے توبہ کی ۔ حضرت عمرؓ سنگسار کرتے تومسلمان اس عظیم حادثے کا شکار ہوتے جسے قرآن نے عظیم میلان قرار دیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے حضرت عمرؓ اور جمہور کیخلاف شہادت کے مسئلے پر قرآن کی آیت کے الفاظ کو تحفظ دیکر عظمت کا حق ادا کیا۔ حضرت عمرؓ نے نادانستہ اللہ کے فضل سے توراۃ کے مقابلے میں قرآن کے واضح حکم کی حفاظت کا اہتمام کیا۔امام اعظمؒ نے عمرؓکا فعل یاجمہور کا مسلک نہیں دیکھاتو کیا قرآن کے مقابلے میں کوئی چیز احناف یا کسی مسلمان کی ترجیح ہوسکتی ہے؟۔
اللہ نے فرمایاکہ ’’جب لونڈی کو نکاح میں لاؤ، پھر اگر کسی فحاشی کی مرتکب ہوں تو ان کیلئے آزاد خواتین کے مقابلے میں آدھی سزا ہے‘‘۔ یعنی100کے بجائے50۔ غیرشادی شدہ لونڈی کی یہ سزا ہوتی توثابت ہوتا کہ شادی شدہ کی الگ سزا ہے مگرشادی شدہ لونڈی کی نصف سزا یہ وضاحت ہے کہ اسلام میں سنگساری کی سزا نہیں ۔ ازواج مطہراتؓ کیلئے کھلی فحاشی پرقرآن میں دہری سزا کی وضاحت ہے جو ڈبل سنگساری نہیں200کوڑے ہی ہوسکتے ہیں۔
شادی شدہ کیلئے سنگساری، غیرشادی شدہ کیلئے سال جلاوطنی کی سزا ہوتی تو کم لوگ عمل کرتے۔ ولوکتبنا علیھم ان اقتلوا انفسکم اواخرجوا من دیارکم مافعلوہ الا قلیل منھم ’’اور اگران پر ہم اپنی جانوں کا قتل اور جلاوطنی کی سزا لکھ دیتے تو اس پر عمل نہ کرتے مگر ان میں سے بہت کم‘‘۔ یہود نے سنگساری وجلاوطنی کی خود ساختہ سزا پر عمل نہ کیا ،ہم نے بھی قرآن کے برعکس سزا کا تصور قائم کرکے عمل نہ کیا۔کوڑوں کی سزاقتل کے مقابلہ میں جان بچانے کی مہم ہے جو آج بھی ایک کارگر نسخہ ہے لیکن قرآن سے انحراف کیا گیا۔

قرآن وسنت میں زنا بالجبرکی حد وتعزیر کا اہم مسئلہ: عتیق گیلانی

عورت بدکاری کے الزام پر قتل کی جائے ۔مرد زبردستی خاتون کی عزت دری کرے تو اس کو تحفظ ملے۔ عورت قانون کے بغیر غیرت کے نام پر قربان ہے اور مجرم مرد کو شریعت کے ذریعہ جان کی امان ہے۔ کیا یہ رحمان کا شاخسانہ ہے یا شیطان کا افسانہ ہے؟۔خود کش حملے میں ہزاروں شہید زندہ وتابندہ ہیں اور جنسی تشدد کا نشانہ بنے والی خاتون خود اور خاندان والے بھی شرمندہ ہیں ۔ عورت کی عزت دری پر عرش ہلتاہے مگر بے ضمیر داڑھی والے کی ناک پراحتجاجًا جوں نہیں رینگتی ہے اور نہ ہی بال والے اور گنجے کے کان پر جوں رینگتی ہے۔
بچی کے مقابلے میں بچے کی پیدائش پر ماں بہنیں زیادہ خوش ہوتی ہیں اور مشرکینِ مکہ کے حوالہ سے بچی کی پیدائش پر حالتِ زار کا قرآن نے جس انداز میں تذکرہ کیا ہے کہ ’’ جب بچی کی خبر سنائی جاتی ہے تووہ سوچتاہے کہ اس طرح ذلت وشرمندگی کیساتھ اس کو برداشت کرلے یا اس کو مٹی میں دفن کردے‘‘۔ عورت کو زندہ دفن کرنا، زندگی بھر طلاق نہ دینا یا ایک دم فارغ کرکے رُلانااس معاشرے میں خمیر کی طرح شامل تھا۔ اسلام نے صنفِ نازک کے تمام مسائل کو اس احسن انداز میں حل کیا جس کی حقیقت سے آج دنیا واقف ہوجائے تو خواتین اپنے مسائل کے حل کیلئے پوری دنیا میں اسلامی نظام کو ووٹ دیں گی۔
کوئی اپنی بیوی سے زیادہ کسی پر غیرت نہیں کھاسکتا۔ اسلام نازل ہوا تو معاشرے میں جاہلیت ایسی سرایت کر گئی تھی کہ سبقت لے جانیوالے انصار کے سردارحضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ قرآن کی آیت میں لُعان کے حکم پر میں عمل نہیں کرونگا بلکہ قتل کردونگا۔ نبیﷺ کی شکایت پر انصارؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سے درگزر فرمائیے ، یہ بہت غیرت والا ہے، ہمیشہ کنواری سے شادی کی، کبھی بیوہ یا طلاق شدہ سے شادی نہ کی اور جس کو طلاق دی اس کو کسی اور سے شادی نہیں کرنے دی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں اس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔(صحیح بخاری)
برطانیہ کی بادشاہت کے وسیع حدود پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن برطانوی راج نے بھی تعزیرات ہند میں مردوں کے سامنے گھٹنے ٹھیک دئیے۔ شوہر بیوی کو ناجائز تعلقات پر قتل کرتا تھا تو انگریز کی حکومت نے اس پرقانونی چھوٹ دیدی تھی۔حضرت عمرؓ نے بھی اس شخص کو سزا نہ دی جو بیوی کیساتھ کسی کو بدکاری کی حالت میں دیکھ کر قتل کرگیا۔ پہلے رسول اللہ ﷺ نے تلوار سے فیصلہ کرنے کا حکم صادر فرمایاتھامگر جب اللہ نے وضاحت کی تو پھر قتل کرنے پر قتل کی حد نافذ فرمادیتے چاہے سعد بن عبادہؓ ہوتا یا کوئی اور۔ غیرت کا تقاضہ یہ ہرگزنہیں کہ کسی کی زندگی کا خاتمہ کرکے پھراپنی زندگی کی بھیک مانگی جائے۔ قتل کے بدلے قتل کا قانون انسانی فطرت ہے۔ توراۃکے حوالہ سے قرآن میں بھی ہے اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’قصاص میں تمہاری زندگی ہے‘‘۔
قانون ہمیشہ کمزوروں کی ضرورت ہوتاہے اور طاقتوروں کو اس سے لگام دی جاتی ہے۔ عورت کمزور ہے ، ایک طرف قرآن نے اس کو شوہر کی غیرت سے انتہائی ناگوار صورتحال کے باوجود تحفظ دیا اور دوسری طرف زبردستی کے زنا پر مرد کو قتل کرنے کا قانون متعارف کرایاہے۔ کمزورعورت کی عزت طاقتور مرد زبردستی سے لوٹ لے تو سزا قرآن وسنت میں قتل ہے۔دنیا کو اسلام کے فطری قوانین سے آشنا کیا جائے تو کوئی انسان ایسا نہیں ہوگا جو اس کو قبول کرنے سے انکار کردے۔لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
مردخاتون کا قتل اسلامی غیرت سمجھے اور عورت کیساتھ زبردستی سے زیادتی کی جائے تو چار شرعی گواہ لانے کو ضروری سمجھا جائے۔ انسان یہ خیال کرتاہے کہ عورت کی سزا سنگساری ہے تو قتل کیلئے قانونی الجھنوں میں نہیں پڑتا ۔جب یہی ریت پڑجائے کہ شادی شدہ خواتین کیلئے قتل ہے تو غیرشادی شدہ کے قتل کیلئے بھی یہ روایت پڑجاتی ہے۔ طاقتور قانون سے بالاتراور کمزورقانون کی گرفت کا نشانہ بنتے ہیں توانسانی ضمیر کانے دجال کی آنکھ سے دیکھنے کا عادی بنتاہے، دجال دجل سے ہے، یہ بڑا دجل ہے کہ طاقتور کیلئے قانون تحفظ فراہم کی ضمانت اورکمزور کیلئے گرفت کا باعث ہو۔ اورنگزیب عالمگیر نے بھائیوں کو قتل کیا اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ’’ بادشاہ پر حد جاری نہیں ہوتی ‘‘۔ یزید سے لیکر برطانوی سامراج اور موجودہ سپر طاقت تک قانون کمزور نہیں طاقتور کو تحفظ دیتارہاہے۔جو لوگ برطانوی عدل کو مثالی قرار دیتے ہیں یہ نری بکواس ہے۔ الطاف حسین مجرم نہ تھا تو کیس بنایا کیوں ؟اورتھا توپھر چھوڑا کیوں؟۔
گھر میں مرد بادشاہ ہے،جو اپنی گرفت کیلئے قانون برداشت نہیں کرتامگر یہ سمجھتاہے کہ کوئی اسکی بیگم سے زبردستی زیادتی کرے تواسے قتل کیا جائے۔ یہ قانون دنیا کے ہر غریب امیر ، ادنیٰ اعلیٰ اور بلاتفریق رنگ، نسل اور مذہب سب کیلئے یکساں ہو۔ اسلامی دنیا کے علاوہ غیرمسلم بھی اس قانون کا خیرمقدم کرینگے۔ اقبال ؒ نے اس کو ’’حافظِ ناموسِ زن‘‘ قرار دیا ۔ قرآن میں سابقہ امتوں کے حوالہ سے بھی اس فطری قانون کا ذکرہے ۔ فرمایا: اینما ثقفوا فقتلوا تقتیلا ’’جہاں بھی پائے گئے قتل کئے گئے‘‘۔ وائل ابن حجرؓ کی روایت میں ہے کہ نبیﷺ کے سامنے ایک خاتون نے کسی کی شکایت کردی کہ اس نے زبردستی سے اسکے ساتھ بدکاری کی ہے۔ نبیﷺ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیدیا۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ ایک عورت کی گواہی کو علماء حد جاری کرنے کیلئے ناکافی سمجھتے ہیں تو جواب یہ ہے کہ علماء نبیﷺ کی شریعت کو نبیﷺ سے زیادہ تونہیں جانتے ہیں۔ اگر پھر بھی اپنی ضد پر ہی اڑے رہتے ہیں تو یہ بات بہرحال انکی سمجھ میں آجائیگی کہ قرآن و سنت میں زنا بالجبر کیلئے تعزیراً قتل کی سزا ہے۔ نوشتۂ دیوار کی اہم شخصیت محترم شاہد علی نے بتایا کہ 1996 میں وہ کمپنی کی نمائندگی کیلئے ہانگ کانگ گئے تو وہاں کسی نے پوچھا کہ:کیایہ سچ ہے کہ کسی خاتون سے زبردستی زیادتی ہو تو اسلام میں چار مرد گواہ لائے گی؟۔
کتنی باعثِ شرم، بے غیرتی ، بے ضمیری ، بے حیائی اور بدفطری کا معاملہ ہے کہ جولوگ خواتین کو غیرت کے نام پرقتل کرنے کی بڑھ چڑھ کر تائیدکرتے ہیں وہی اس شرعی سزا کو شریعت کے منافی سمجھنے کی وکالت کرتے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں زنابالجبر کو حدود سے نکالنے کی بات اسلئے تھی کہ مجرم شرعی گواہوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں تو مفتی تقی عثمانی اور جماعتِ اسلامی نے باقاعدہ مہم چلاکر اسکی مخالفت کی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ اس جرم کی سزا قتل و سنگساری کی تجویز پیش کردے اور اطمینان بخش شکایت اور کسی بھی معقول دلیل کو شریعت کا عین تقاضہ اورکافی قرار دیدے۔

کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں…..

kanzul-iman-masjid-fatwa-triple-talaq

کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں کہ
شوہر (محمد یوسف ولد محمد انور) کا بیان : میری شادی 10ستمبر 2000ء میں ہوئی ، شادی کے بعد ہم ساتھ رہے ۔ 6 سال پہلے میں نے اپنی زوجہ کا نام لے کر ایک طلاق دی ، الفاظ یہ تھے ’’میں شائستہ کو طلاق دیتا ہوں‘‘ اسکے بعد ہم ساتھ رہے ، عدت کے اندر رجوع ہوگیا تھا۔ پھر اسکے بعد اکثر لڑائی جھگڑے میں یہ الفاظ کہتا کہ میں طلاق دیدوں گا ۔ ایک سال پہلے بھی یہ کہا میں طلاق دیدوں گا اور کچھ روز قبل بروز جمعہ (07-10-2016 ) بیوی کو ایک طلاق دی۔ الفاظ یہ تھے’’جا میں نے طلاق دی‘‘ ان دو طلاقوں کے علاوہ میں نے کبھی کوئی طلاق نہیں دی۔ جبکہ میری بیوی کا کہنا یہ ہے کہ میں نے تین طلاقیں دیدی ہیں۔ اس مسئلے کا حل شریعت کے مطابق بتائیں تاکہ میں اپنا رشتہ قائم رکھ سکوں۔ میری چار بیٹیاں ہیں ۔ دوسری طلاق کے بعد میں نے ابھی تک رجوع نہیں کیا ۔
بیوی (شائستہ بنت محمد اقبال) کا بیان: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیدی ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک ساتھ نہیں دیں بلکہ 6 سال پہلے انہوں نے میرا نام لے کر کہا تھا کہ میں نے شائستہ کو طلاق دیدی ہے۔ اسکے 15دن بعد ہم نے رجوع کرلیا تھا۔ پھر ایک سال بعد پہلے انہوں نے لڑائی کے دوران کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ پھر ہم نے ایک مہینے کے اندر رجوع کرلیا تھا اور اب بروز جمعہ (07-10-2016) انہوں نے پھر کہا کہ جا میں نے تجھے طلاق دی۔ میں حلفیہ طور پر بیان دیتی ہوں کہ اس طرح انہوں نے مجھے تین طلاقیں دیدی ہیں مگر میرے شوہر دو طلاق قبول کرتے ہیں ۔ اب میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟۔
نوٹ: شوہر اور بیوی دونوں نے دار الافتاء اہلسنت میں آکر اپنے بیانات دئیے ہیں اور شوہر نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ اس نے 6سال پہلے ایک طلاق دی تھی اور اب (07-10-2016) ایک طلاق دی ہے۔ اس طرح صرف دو طلاقیں دی ہیں۔ تیسری طلاق نہیں دی۔ بیوی جو ایک سال پہلے کے واقع کا کہہ رہی ہے ، اس وقت میں نے کہا تھا کہ میں تجھے طلاق دیدوں گا۔ اس کے علاوہ کبھی کوئی طلاق نہیں دی۔ بیوی کے پاس اپنے بیان (ایک سال پہلے والی طلاق) پر کوئی شرعی گواہ نہیں۔
سائل محمد یوسف ولد محمد انور ( شو مارکیٹ، نشتر روڈ کراچی)۔ شناختی کارڈ نمبر 42301-3475150-3
بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اللٰھم ہدایۃ الحق و الصواب
پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر اپنے حلف میں سچا ہے تو دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئی ہیں اور دو طلاقیں رجعی کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر بغیر نکاح کے اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعے رجوع ہوسکتا ہے۔ اور عدت کے اندر رجوع کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہر دو گواہوں کی موجودگی میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا۔ اگر اس طریقے سے رجوع نہ کیا بلکہ فعل سے کیا تو رجوع ہوجائے مگر اس طرح رجوع کرنا مکروہ و خلاف سنت ہے۔ اور رجوع کرنے کے بعد اسے صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔ پھر کبھی ایک طلاق دی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اور شرعی حلالے کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ اور شوہر کے بیان کے مطابق یہ الفاظ کہ میں تمہیں طلاق دیدوں گا ، اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوئی کیونکہ یہ طلاق دینا نہیں بلکہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے، اور اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ بیوی کے بیان کے مطابق تینوں طلاقیں واقع ہورہی ہیں۔ وہ اسطرح کہ 6سال قبل پہلی طلاق واقع ہوئی ، ایک سال قبل ان الفاظ ’’میں نے تجھے طلاق دی ‘‘سے دوسری طلاق واقع ہوئی ،اب مورخہ (07-10-2016)کو تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔ اب شوہر اور بیوی کے بیان میں تضاد ہے کہ شوہر تیسری طلاق کا انکار کررہا ہے جبکہ اسکے برعکس بیوی کے بیان کردہ الفاظ سے تینوں طلاق واقع ہورہی ہیں تو اس صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ بیوی اپنے بیان پر نیک ، صالح ، پرہیزگار، پابند شرع گواہ پیش کرے جو کہ یہاں موجود نہیں۔ نیز گواہوں کے بیانات اور ان کی تحقیقات کے مطابق فیصلہ کرنا قاضی کا کام ہے۔ لہٰذا جب گواہ موجود نہ ہوں یا گواہوں کے مطابق طلاق کا حکم ثابت نہ ہوسکے تو دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ شوہر قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے تین دفعہ یہ الفاظ نہیں کہے تو اسکی قسم کو مان لیا جائے گا اور اسکے حلف دینے کے سبب عورت کو اس کی زوجہ ہی قرار دیا جائے گا اور نکاح ٹوٹنے کا حکم نہیں دیا جائیگا۔
عورت کے لئے حکم : لیکن اگر عورت بالیقین جانتی ہے کہ مرد نے اسے تین طلاق دیدی ہیں اور اب وہ انکار
کرتا ہے تو عورت ہرگز ہرگز مرد کے ساتھ نہ رہے ۔ اور چونکہ شوہر کے بیان کے مطابق دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئی ہیں اور شوہر نے ابھی تک رجوع بھی نہیں کیا لہٰذا عورت عدت پوری کرے ، اگر شوہر عدت کے دوران کسی طرح بھی رجوع نہیں کرتا تو عورت عدت گزار کر آزاد ہوگی ، نکاح سے نکل جائیگی ، جہاں چاہے شادی کرسکتی ہے۔ اسی شوہر سے دوبارہ نکاح نہ کرے کہ عورت کی بیان کے مطابق تو تین طلاقیں واقع ہورہی ہیں اور تین طلاقوں کے بعد شرعی حلالے کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اگر شوہر عدت میں کسی بھی طرح رجوع کرلیتا ہے تو پھر عورت شوہر کے بیان کے مطابق اسکے نکاح میں رہے گی۔مگر عورت پر لازم ہوگا کہ ہر ممکن طریقے سے اس سے دور بھاگے اور اسے خود پر اختیار نہ دے۔ اس سے طلاق لے ، چاہے مہر چھوڑ کر یا اور مال دے کر اور اگر شوہر زبردستی اس سے میاں بیوی کے تعلقات قائم کرے تو دل سے اس پر راضی نہ ہو۔ اور اگر یہ راضی ہوگئی تو گناہگار ہوگی اور دل سے راضی نہ ہو تو گناہگار نہ ہوگی۔
ضروری تنبیہ: اگر شوہر نے واقعی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہے تو اس پر لازم ہے کہ بیوی کو چھوڑ دے۔ ورنہ ایسی صورت میں اس کے قریب گیا تو صریح حرام و گناہ کا مرتکب ہوگا۔ اور شرعی حلالے کے بغیر اس عورت کو نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ اور جھوٹا حلف اٹھانا قیامت کے دن یقیناًاسے کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور اگر بیوی اپنے بیان میں جھوٹی ہے تو سخت گناہگار ہوگی۔ اور جھوٹا بیان ہونے کی صورت میں فتویٰ اسے بھی کام نہ دے گا۔ دو طلاق کے بارے میں اللہ عزو جل ارشاد فرماتا ہے (الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان) ترجمہ کنزالایمان: یہ طلاق (جس کے بعد رجعت ہوسکے) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا‘‘۔ پھر تیسری طلاق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظن ان یقیما حدود اللہ )ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے۔‘‘
بہار شریعت میں ہے ، :رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے۔ اور عورت کو بھی اسکی خبر کردے کہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ اور اگر کرلیا تو تفریق کردی جائے۔ اگرچہ دخول کرچکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا۔ اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کئے یا گواہ بھی کئے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ و خلاف سنت ہے۔ مگر رجعت ہوجائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہوگئی مگر مکروہ ہے۔ اسے چاہیے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے ۔‘‘ (بہار شریعت ، جلد 2 ،صفحہ 170-171 )۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں ’’اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دوں گا طلاق نہ ہوگی۔ و ھٰذا ظاہر جدا ، وفی جواھر الاخلاطی فقال الزوج طلاق سیکتم طلاق سیکتم انھا ثلاث لان می کنم یتمحض للحال وھو تحقیق بخلاف قولہ کنم لا نہ یتمحض للا ستقبال و بالعربیۃ قولہ اطلق یا یکون طلاقا دائر بین الحال و الاستقبال فلم یکن تحقیق مع الشک الخ‘‘۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12، ص588)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال کیا گیا کہ اگر زوجین میں طلاق کی بابت اختلاف ہو خاوند منکر اور بی بی طلاق کا ثبوت دینا چاہتی ہو تو ثبوت کا کیا طریقہ ہے ؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا ’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی…ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا۔ اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی۔ اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی‘‘، (فتاویٰ رضویہ جلد 12، ص 253,252)
مزید ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں ’’اگر واقع میں تین طلاقیں دی ہیں عند اللہ عورت اس پر حرام ہوگئی ہے۔ بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ قال اللہ تعالیٰ : فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ اور اس کا انکار اللہ عزو جل کے یہاں کچھ نفع نہ دے … اگر ان میں ایسے گواہ نہ ہوں اور عورت کے سامنے طلاق نہ دی ہو تو عورت اس سے حلف لے۔ اگر وہ حلف دے کہ میں نے طلاق نہ دی تو عورت اپنے آپ کو اس کی زوجہ سمجھے اگر اس نے حلف جھوٹا کیا تو وبال اس پر ہے۔ اور اگر خود زوجہ کے سامنے اسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے۔ اگرچہ اپنا مہر چھوڑ کر ، یا اور مال دے کر ، اور اگر وہ یوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اپنے اوپر قابو نہ دے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کبھی اپنی خواہش اس کے ساتھ زن و شوکا برتاؤ نہ کرے۔ نہ اسکے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو پھر وبال اس پر ہے۔ لا یکلف اللہ نفس الا وسعھا‘‘(فتاویٰ رضویہ ، جلد12، ص 424-423 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔ و اللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم عز وجل و صل اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کتبہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی ابو عبد اللہ محمد سعید العطاری المدنی
الجواب صحیح العبد المذنب محمد فضیل رضا العطاری عفی عنہ الباری
اللہ نے یہ ظالمانہ فتویٰ مسلط نہیں کیا بلکہ انسانوں نے خود اس طرح کی شریعت بنانے کا ظلم کیا، جس کا تدارک فرض ہے۔ عتیق گیلانی

kanzul-iman-masjid-fatwa-triple-talaq-2

دارالافتاء جامعہ العلوم السلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی :عطاء اللہ ۲۷،۲،۱۳۸ھ/۱۷۲۷(فتویٰ نمبر)

السلام علیکم ! ہماری شادی کو 12سال ہوگئے ۔2سال بعد نشے کی حالت میں لڑائی ہوئی، اس حالت میں ان سے میں نے کہا’’مجھے طلاق چاہیے اور لے کر رہوں گی‘‘انہوں نے کہا ’’ جا، دی، دی، دی غرق ہوجا‘‘۔ میں اپنے گھر آگئی۔ 2مہینے بعد ہم نے رجوع کرلیا۔پھر دوبارہ3، 4سال بعد دوبارہ لڑائی ہوئی۔ نشے میں سسر کے سامنے اور انہوں نے(شوہر نے) سسر سے کہا کہ ’’یہ جائے گی تو میں اسے طلاق دیکر بھیجوں گا‘‘۔میں گھر سے نکل گئی۔ (آیا، اس صورت میں طلاق پڑگئی؟)۔ گھر والوں کے بیان سے طلاق ہوگئی۔ میں نے عدت بھی کی۔6ماہ بعد معلوم کروایا، تو کہا کہ نکاح ٹوٹ گیا۔ہمارا دوبارہ نکاح ہوا۔ ہم ساتھ رہنے لگے اور اب 4ماہ پہلے انہوں نے نشے میں کہا ’’میری طرف سے طلاق ہے، جا دی، کیا کرلے گی؟، جو کرنا ہے کرلے۔
آپ ہماری رہنمائی کرکے بتائیں کہ ہم کیا کریں؟۔ ہمارے والدین کہتے اور سمجھتے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہے۔ کیا ہم شرعی طور پر دوبارہ رجوع کرسکتے ہیں یا پھر حلالہ کی صورت میں؟؟؟۔ اور اگر حلالہ ہوا تو کن صورتوں میں ہوگا؟؟۔ ہمارے تین چھوٹے بچے ہیں۔ جن کی خاطر ہم دوبارہ رضامندی کیساتھ دل سے توبہ کرکے دوبارہ رہنا چاہتے ہیں۔ کاشف حبیب، کورنگی کراسنگ اللہ والا ٹاؤن، 31.Bکراچی،فون:0315 8566993, 0323 3249241
الجواب حامدًاو مصلیاً صورت مسؤلہ میں سائلہ نے جب اپنے شوہر سے کہا کہ ’’مجھے طلاق چاہیے اور لیکر رہوں گی‘‘ ، اور شوہر نے اسکے جواب میں کہا’’ جا! دی، دی دی‘‘ تو شوہر کا اس طرح کہنے سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، نکاح ختم ہوچکاہے۔ اب رجوع جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا، حلالہ شرعیہ کے بغیر جتنا عرصہ ساتھ رہے، یہ سب ناجائز و حرام تھا، علیحدگی کے بعد دونوں پر توبہ واستغفار لازم ہے۔ عالمگیری میں ہے: وفی المنتقیٰ امرأۃ قالت لزوجہا طلقنی فقال الزوج قد فعلت طلقت ۔(فتاویٰ عالمگیری: ۱/۳۵۶، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق)وفیہ أیضاً : وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقہا او یموت عنہا. (ج: ۱/۴۷۳)۔ امداد الفتاویٰ میں ہے : یہ زبان سے کہا ہے کہ میں نے طلاق دیدی دیدی دیدی ،کروجو کچھ کرتی ہو.. بعد تحریر جوابِ ھذا غور کرنے سے معلوم ہوا کہ مطلب اس شخص کا یہی ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں (امدادالفتاویٰ ۲ /۴۳۰،۴۳۱) فقط واللہ اعلم۔۔۔ کتبہ عطاء اللہ المنصور المتخصص فی الفقہ الاسلامی جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوریؒ ٹاؤن کراچی نمبر5۔ ۷/۳/۱۴۳۸ھ 7دسمبر2016ء الجواب صحیح مفتی ابوبکر سعیدالرحمن۔ مفتی محمد شفیق عارف
مفتی صاحبان نے یہ جواب دیا کہ پہلی بار دوسال بعد ہی تین طلاق پڑچکی ہیں،دوماہ بعد رجوع کرنا غلط تھا، اسکے بعد ازدواجی تعلقات حرام کاری اور اولاد ناجائز کا نتیجہ ہیں۔ یہ فتویٰ قرآن وسنت کیمطابق بالکل لغو اور غلط ہے۔نشے کی حالت میں طلاق کا فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ طلاق اصلاً نہیں ہوتی،شراب کی وجہ سے بطورِ سزا یہ حکم دیا گیاہے،یہاں شراب کے نشے کا بھی ذکرنہیں ہے، فقہاء کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنی طرف سے طلاق نہ ہونے کے باوجود حلالہ کی سزا دیں۔ اسلام کو اجنبیت میں دھکیلنے والوں کے دن گنے چنے لگتے ہیں۔مشرکین مکہ کی جہالت میں دو مشہور جرائم تھے ایک میاں بیوی کے درمیان جدائی اور دوسرا بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا۔ زندہ دفن کرنے کی رسم تو ختم ہوگئی ہے لیکن میاں بیوی کو جدا کرنے کے حوالہ سے بہت ساری آیات کے باوجود اس غلط رسم کو بوجوہ جاری رکھاگیا، اہل علم ودانش اور اصحابِ حل وعقد کا فرض ہے کہ مخلوقِ خدا کی رہنمائی کرنے کا حق ادا کریں۔ عتیق گیلانی

binori-town-mosque-fatwa-triple-talaq

بہت ہی معذرت کے ساتھ چند گزارشات

بہت سے علماء کرام کے بیانات شائع نہ ہوسکے ، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ علماء کرام اور بیانات دینے والے حضرات کے خیالات کو ضرور شائع کریں۔ ہمارے قارئین ان کے افکار سے محروم رہ گئے ہیں ۔ ماہنامہ اخبار میں گنجائش بھی بہت کم ہوتی ہے لیکن ہماری اپنی بھی خواہش ہے کہ قارئین تک معتبر لوگوں کے تاثرات ، اعتراضات اور مختلف خیالات بھی پہنچ جائیں۔
پاکستان میں بڑے دینی مدارس، اعلیٰ عدالتیں ، ریاستی ادارے ، سیاسی و مذہبی جماعتیں .. سب ہی غریب عوام اور پسے ہوئے طبقات کے دکھ درد سے بیگانہ نظر آتے ہیں۔ مدارس کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی غریب ، جاہل اور ان پڑھ اپنے گھریلو مسئلہ لے کر آتا ہے تو مفتی صاحبان کا فتویٰ گھر توڑنے ، پریشانی میں اضافہ اور حلالہ کا شکار کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ کمزوروں کے ساتھ شروع سے یہ رسم چلی ہے۔ اعلیٰ عدالتی فیصلوں میں بڑوں کو ہی ریلیف ملنے کی روایت چلی ہے اور ظالم کے سامنے مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے جس ماحول کی ضرورت ہے اس کا دنیا میں کوئی دور دور تک نشان منزل دکھائی نہیں دیتا۔ ظلم سے ڈوبی ہوئی یہ دنیا گلی محلے سے لیکر عالمی سطح تک جس نظام سے بندھی ہے وہ ظلمات بعضھا فوق بعض اندھیروں پر اندھیرے کے مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طاقت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا لیکن جب اللہ تعالیٰ کے کھلے احکام سے علماء کو انحراف کرنے میں عار محسوس نہ ہو اور ہماری ریاست انصاف نہ کرسکے تو اور کسی کی کیا غلطی۔

غیرت کے نام پر قتل…

مذہبی طبقوں کی بڑی بے غیرتی ہے کہ غیرت کے نام پرعورتوں کے قتل کی حما یت اور زنابالجبر کی سزا میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور یہ سب اسلئے ہے کہ غیرت کے نام پر انہی کو قتل ہونا چاہیے جو مرد ہوکربھی بدفعلی کرواتے ہیں۔بچوں کیساتھ زبردستی جنسی زیادتی کرنے والوں کو غیرت کے نام پر قتل کی قانون سازی ہوتو بے غیرتوں کی غیرت جاگ اُٹھے گی۔ذرا سوچئے کہ کیا یہ اسلام ، غیرت، انسانیت، فطرت، رسم ورواج اور کسی بھی نام پر قاعدہ قانون ہوسکتاہے کہ عورت اپنی مرضی سے کہیں غلطی کرے یا اس پر شبہ کیا جائے تووہ غیرت کے نام سے قتل کردی جائے اور جب کوئی مرد کسی خاتون کو زبردستی سے زیادتی اور ہوس کا نشانہ بنائے تو قانون مرد کو تحفظ دے؟،حال ہی میں زنابالجبر کے خلاف اسمبلی سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مشترکہ قانون سازی کی تو پیپلزپارٹی کے ’’کو چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری ‘‘ کی طرف سے اس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ’’اب کوئی زنابالجبر کا مجرم قانون کے شکنجے سے بچ نہ سکے گا‘‘ اور ’’جماعت اسلامی کے امیر متحدہ مجلس عمل پختونخواہ کے سابق سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے بیان جاری کیا کہ’’ یہ اسلام کے خلاف سازش ہے، باہمی رضامندی سے اسلام قتل کو معاف کردیتاہے‘‘۔
پاکستان کی مذہبی جماعتوں میں سب سے گٹھیا کردار جماعتِ اسلامی کا ہمیشہ سے رہا ہے، یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بالکل ناواقف، خفیہ طاقتوں کی ایجنٹ، مذہبی جذبہ اور سیاست کو محض طاقت کے حصول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی عادی مجرم رہی ہے ۔ منصورہ میں بیٹھنے والی جماعتِ اسلامی کا اجتماعی ضمیر بالکل مرچکا ہے۔ نام نہاد شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے سود کے عالمی نظام کو اسلام قرار دیا تو جماعت اسلامی کا اس پر کیا ردِ عمل سامنے آیا؟۔ علماء دیوبند کے تمام مدارس نے مفتی تقی عثمانی کے فتویٰ کو مسترد کیا مگر جماعتِ اسلامی نے سرمایہ دارانہ نظام اور امریکہ کی ایجنٹ ہونے کا تسلسل برقرار رکھا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرویزمشرف کے دور میں زنابالجبر کو حدود سے نکال کر تعزیرات کا حصہ بنایا گیا تو مفتی تقی عثمانی نے بہت ہی جاہلانہ طرز عمل سے اس کو اسلام کیخلاف سازش قرار دیا، اورجماعتِ اسلامی نے اس کو پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا، جس کا میں نے مکمل اور مدل جواب لکھ کر شائع کردیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کیساتھ زبردستی کی بے حرمتی کے بارے میں فاین ما ثقفوا فقتل تقتیلا ’’ جہاں پائے گئے قتل کئے گئے‘‘ کی وضاحت کی ہے، جماعتِ اسلامی کے جاہل ڈاکٹر فرید پراچہ نے اس کو قرآن میں لفظ ومعنیٰ کی تحریف کرتے ہوئے توہین رسالت اور اذیت رسول کیساتھ جوڑ دیا تھا، حالانکہ یہ اذیت رسول کاذکر بھی اس رکوع میں نہیں بلکہ اس سے پہلے والے رکوع میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک خاتون نے کسی کی شکایت کی تو رسول اللہﷺ اس کو سنگسار کرنے کا حکم فرمایا، حضرت وائل ابن حجرؓ سے روایت اس حدیث کو ’’موت کامنظر‘‘ نامی کتاب میں بھی ’’زنا بالجبر کی سزا‘‘کے عنوان سے ہی نقل کیا گیاہے۔ قرآن نے بالکل واضح کردیا ہے کہ ’’زنا بالجبر کی سزا گذشتہ امتوں میں بھی قتل ہی رہی (جسمیں کوئی روایتی گواہوں کے رسم پورے کرنے کے بجائے) جہاں بھی پائے گئے قتل کردئیے گئے‘‘۔ آج قرآن وسنت کا یہ قانون دنیا کے اجتماعی ضمیر کے سامنے رکھا جائے کہ زنابالجبر کی سزا قتل اور سنگساری ہے تو پوری دنیا اس کو قبول بھی کریگی اور دنیا میں خواتین کیساتھ جبری زنا کے تصور سے بھی لوگ گھبرائیں گے۔ کوئی غیرتمند انسان اس کی مخالفت بھی نہ کریگا۔اگر حکومت پارلیمنٹ میں یہ قانون لائے کہ بچوں کیساتھ زیادتی پر بھی سزا ہو،اور مدارس میں قومی ایکشن پلان کے تحت سروے کیا جائے، ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تو اس سے مدارس پر بدمعاش اور بدکردار لوگوں کے تسلط کا بالکل خاتمہ کرنے میں سہولت ہوگی۔
عورت اپنے جنسی میلان کی وجہ سے خراب ہوجائے تو یہ قابلِ فہم ہے لیکن مردوں کا ملوثی ہونا انسانی فطرت کے منافی ہے، لڑکوں کوغلط عادت پڑے تو غیرت کیوں نہیں کھائی جاتی ہے؟۔ مدارس اور معاشرے میں لواطت کی بدفعلی کو پروان چڑھایا جاتاہے ،کیا اس میں غیرت کے نام پر قتل کی اجازت ہوسکتی ہے؟۔ جس مذہبی طبقے میں اسلامی علوم کیلئے وقف ہونے والے بچوں کو جبری زیادتی کا نشانہ بنانے پر کوئی غیرت نہ کھائی جائے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی قانون سازی کے حق میں ہو، اس ماحول کے مارے ہوئے طبقے خاتون کیساتھ زبردستی کی زیادتی کرنے والے کو سزا دلوانے میں کیسے کردار ادا کرسکتے ہیں؟۔
اسلامی قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن مذہبی طبقات کے اجتماعی ضمیر کو جگانے کیلئے جس ماحول کی ضرورت ہے، اس کی فراہمی قومی ایکشن پلان کے تحت ہی ریاست کی ذمہ داری ہے، مدارس کے نصاب اور ماحول کو اسلام، انسانیت اور فطرت کے مطابق بنانے میں جس دن مقتدر اداروں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کردیا تو پاکستان سے اس اسلامی نظام کا آغاز ہوگا جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ دہشتگردی کاخاتمہ ہوگا بلکہ عالمی قوتیں بھی اسلام کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہونگی۔

اسلام دین فطرت ہے غیرفطری اختلاف سے جان چھڑانی چاہیے

وضووغسل سے معاشرتی نکاح و طلاق triple talaq اور معاشی احکام تک اسلامی شعائر رائج ہیں جو قرآن وسنت میں موجودہیں مگران احکام کے غیرفطری تضادات سے علماء بھی آگاہ نہیں،بوقتِ ضرورت مطالعہ کرکے دیکھ لیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں انکی بھی قطعی کوئی ضرورت نہ تھی مگر مذہبی طبقات کے ذاتی مفادات ہیں جس سے ان پیچھا چھڑانے کی ضرورتہے۔عربی میں غسل نہانے کو کہتے ہیں، انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کو بھی نہانا آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے سے پہلے نہانے کا حکم دیا ہے اور دوسری جگہ وضو کا حکم دیتے ہوئے حالتِ جنابت میں اچھی طرح سے پاکی کا حکم دیا ، جس سے نہانا ہی مراد ہے لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے اس پر انواع واقسام کے اختلافات کا بیج بودیا، جو مدارس کے علاوہ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی کی مجالس میں عوام کو رٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بے نمازی کیلئے قرآن و سنت میں کسی سزا کا حکم نہیں، فقہی مسالک میں قتل، قید اور کوڑوں کی سزاؤں کے احکام پر اختلافات پڑھائے جاتے ہیں، نوجوان طبقہ ان احکام کی وجہ سے داعش، طالبان ، حزب التحریر اور دیگر تنظیموں میں شامل ہوکر اسلام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو پتہ چل جائے کہ ان بکواسات کا اسلام محض علماء ومفتیان کی تجارت اور فقہاء کے پیٹ کا غبار ہے تو یہی نوجوان طبقہ محنت کا رخ موڑ کر اپنے اپنے ممالک میں ظلم و جبر کے خلاف عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا ۔ میرے دوست مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید مذہب کے نام بغاوت کے علمبردار نہیں بلکہ ریاست کے آلۂ کار ہیں۔ ریاست ان باغیوں کیخلاف اقدامات اٹھاتی ہے جن میں اسلامی نظام کیلئے بغاوت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ مذہب کے قدرِ مشترک میں باغی گروہوں اور ان گروہوں میں جو ریاست کے وفادار ہیں ، باہمی طور سے ہمدردیاں ہیں۔ غسل اور وضو فطری ہیں، نماز فطری ہے مگر ان پر اختلاف اور سزاؤں کا نفاذ غیرفطری ہے۔ ہماری ریاست ، حکومت اور سیاستدانوں کا سب سے بڑا فرض تھا کہ مدارس کے نصاب پر سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مثبت اقدامات اٹھاتے اور کور کمانڈز کانفرنس ، عدلیہ اور حکومت اس پر بہتر تجاویز اور احکام جاری کرتے۔
ایک بچہ بھی کتاب، قلم ، غسل، وضو، نماز، ماں باپ اور رشتہ داروں کے مضبوط تعلق نکاح اور طلاق triple talaq، علیحدگی اور ناراضگی سے لیکر زکوٰۃ، حج اور عمدہ حکومت کے معاملات کو سمجھتا ہے۔ اسلام کے دینِ فطرت ہونے کی یہ سب سے بڑی خوبی ہے کہ جس معاملہ کو بھی اس کی حقیقی صورت میں پیش کیا جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دنیا میں کسی معقول انسان کو اسکے قبول کرنے میں تھوڑا بھی تأمل ہو۔ نکاح وطلاق کے اسلامی احکام بالکل فطری تھے لیکن مذہبی طبقات نے اس کا وہ حلیہ بگاڑ دیا ہے کہ غیرمسلم تو درکنار، دوسرے فرقوں کے لوگوں کا معاملہ بھی چھوڑدو، اپنے مسلک اور خود پڑھنے پڑھانے والا طبقہ بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کرے تو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے میں ہرگز تھوڑی دیر بھی نہ لگائے۔ اسلام ہرقوم، ملک اور مذہب کے قانونی جوڑ ے کا نکاح قبول کرتاہے، قانونی علیحدگی کو طلاق قرار دیتا ہے اور اپنے نکاح و طلاق کیلئے ایسے قوانین پیش کرتاہے کہ دنیا کے کسی قوم ومذہب، ملک وملت اور رسم ورواج کے اندر اس کا درست تصور پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسی بنیاد پر بھی اسلامی نظام کو سمجھنے اور اس کو نافذ کرنے اور رائج کرنے پر برضا ورغبت آمادہ ہوجائے گی، اور اسلام نہ بھی قبول کریں لیکن نہ صرف عالمی اسلامی خلافت کی تمنا کرنا شروع ہوجائیں گے بلکہ عملی طور پر اپنے اپنے ممالک میں اس کی جدوجہد کا بھی آغاز کردینگے۔
کتاب’’ابر رحمت‘‘ میں نہ صرف طلاق triple talaq کا مسئلہ ہے بلکہ درسِ نظامی کی بنیادی خامی کو بھی اُجاگر کیا گیاہے، اختصار کیساتھ عدالتی معاملات، فرقہ وارانہ مسائل کا حل اور نظریاتی اور سیاسی معاملات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ triple talaq کے مختصر سے کتابچہ میں فرقوں اور مسالک سے بالاتر قرآن وسنت کا ایسا نقشہ پیش کیا گیاہے جس کے اعتراف میں سب یک زباں ہیں لیکن بہت سی مقتدر شخصیات اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنے ارادتمندوں اور عقیدتمندوں کی عزتوں سے کھیلنے کا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں کو خود کش حملہ آوروں، سرعام دہشت گردانہ کاروائیوں ،فتنہ وفساد ، کشت و خون کی ہولی کھیلنے اور پرتشدد کاروائیوں میں ملک وقوم کی تباہی سے مسئلہ نہ تھا اور نہ کبھی وہ اپنی زباں پر حرفِ شکایت لائے ہیں ، ان کو مسلمانوں کے گھر برباد ہونے اور عزتیں لٹنے سے بچانے میں ہمارے الفاظ کا لہجہ سخت لگتا ہے، تب بھی ہم اپنے رویہ پر نظر ثانی کرسکتے ہیں جس کا ہم نے بار بار اس شرط پر اعلان بھی کیا ہے کہ علماء و مفتیان قرآن و سنت اور عقل وشریعت کے منافی اپنی طرف سے جاری وساری گھروں کو تباہ کرنے اور حلالہ کی لعنتوں کا فتویٰ ترک کردیں۔ نصاب میں غیرفطری اختلافات کو چھوڑ کر اسلام کی درست تعلیمات سے مدارس کے طلبہ کو روشناس کرائیں جس سے مسلم قوم کا رخ فرقہ واریت، دہشگردی اور منفی رحجانات کی بجائے اسلام دینِ فطرت کی طرف ہوجانے میں کوئی دیر نہ لگے۔
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq

اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

مسلمانوں میں ایک عرصہ سے یہ رویہ رہا ہے کہ میاں کی طرف سے بیوی کوکسی لفظ کے استعمال پر علماء ومفتیان کی طرف بھاگنا پڑتا ہے کہ ’’ طلاق ہوئی یا نہیں اور اس میں حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟‘‘۔ عوام نے شروع سے اقتدار پر خود قبضہ کیا، بنی امیہ اور بنوعباس کے ادوار سے مذہبی طبقہ بھوسی ٹکڑیوں پر گزارا کررہا تھا، حکمران کی آنکھیں پھرنے سے فقہاء کی دنیا تاریک ہوجاتی تھی۔ حکمران تو اپنے لئے اپنے باپ کی لونڈیوں پر دل آنے کی صورت میں بھی فقہاء سے حلال کروالیتے تھے۔ جن علماء حق کے اپنے وسائل ہوتے تھے، ان کو کسی نہ کسی بہانے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور جودرباری حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہوتے تھے وہ عیش اڑانے کیساتھ ساتھ دین کا حلیہ بگاڑنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مزارعت کے بارے میں احادیث صحیحہ ہیں کہ زمین کو بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا سود اور ناجائز ہے۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اورامام شافعیؒ اس بات پر متفق تھے کہ احادیث صحیحہ کے مطابق زمین کو مزارعت پر دینا سود اور ناجائز ہے لیکن جاگیرداروں اور درباری علماء و فقہاء نے حقائق کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔ آج احادیث اور ائمہ مجتہدینؒ کے متفقہ مسلک پر عمل ہوجائے تو پاکستان کی تقدیر بدل جائیگی۔ غریب کیلئے سیاستدان اور حکمران کچھ بھی نہ کریں صرف زمین میں محنت کا ان کو مالک بنادیں تو ایک بڑا انقلاب بھرپا ہوجائیگا۔ کامریڈ لال خان کے پندرہ روزہ’’ جدوجہد ‘‘ میں کمیونسٹوں کا جومنشور لکھا گیا ہے وہ بھی ایک بڑا فراڈ ہے ، ایک شق میں مزارعہ کو زمینوں کا مالک بنانے کالکھا ہے اور دوسری شق میں زمینوں کی اجتماعی ملکیت اور اجتماعی مزارعت کا لکھاہے، یعنی مزارعین زمینداروں کی بجائے سرکارکے ملازم ہونگے۔روس اور چین میں جو نظام ناکام ہواہے ،اس کا تجربہ پاکستان میں کرنے کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
چلو مزارع کمزور ہے اور زمیندار طاقتور مگر اپنی عورت کی عزت تو اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ہمارا ایک برگشتہ پیربھائی تھا، مسجد الٰہیہ سوکواٹر کورنگی کراچی میں خادم تھا، مولانا نورالحق، اس نے حلالے کو دھندہ بنارکھا ہے، ہمارے ساتھیوں کی موجودگی کا بھی لحاظ نہ کیا، ایک غریب آیا کہ بیوی کو طلاق کیلئے یہ الفاظ استعمال کئے، اس سے پوچھا کہ تیری کتنی تنخواہ ہے؟، اس نے کہا کہ تیس ہزار، اچھا ہوجائیگا، بیس ہزار روپے لاؤ اور بیوی کو میرے پاس رات کو چھوڑ جاؤ۔ دوسرے سے ہاں تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ اس نے کہا یہ الفاظ استعمال کئے ہیں ، کیا کام کرتے ہو؟، فلاں کام، اچھا تم دس ہزار لاؤ اور پرسوں رات اپنی بیوی کو یہاں چھوڑ جاؤ، حلال کردوں گا۔ یہ دھندے کتنے لوگوں نے جاری رکھے ہونگے؟۔
ایران میں ایک دوست مولانا عبداللطیف بلوچ ہیں جو دارالعلوم کراچی سے فاضل ہیں، خیرالمدارس ملتان میں پڑھتے تھے تو ملتان میں ہمارا دفتر تھا اسلئے ملاقات ہوجاتی تھی ایک مرتبہ وہ میرے ساتھ ٹانک اور وانا بھی گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کا ہمارے ہاں جلسہ تھا ، پھر مولانا نور محمد سے بھی ہم وانا میں مل کر آگئے۔ کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی تو طلاق کے مسئلہ پر بات چیت کا یہ نتیجہ نکلا کہ انہوں نے بتایا کہ ’’ہمارے ہاں ایک مولوی نے عورت کا حلالہ کیا، چند دن بعد اس عورت کو دیکھا اور پوچھا کہ تمہیں مزہ آیا تھا یا نہیں؟۔ اس نے کہا کہ مزہ تو نہیں آیاتھا۔ مولوی نے کہا کہ پھر تم حلال نہیں ہوئی ہو،اسلئے کہ حدیث کے الفاظ میں ایکدوسرے کامزہ چکھ لینے کی شرط ہے۔ پھر دوبارہ اس کے ساتھ معاملہ کیا اور پوچھا کہ اب مزہ آیا تو اس عورت نے کہا کہ ہاں، تو اس کے حلالہ کو درست قرار دیا۔ جب ہمیں پتہ چلا تو اس مولوی کو پکڑا کہ خبیث تم نے یہ کیا کیا ہے؟۔ مولوی نے بتایا کہ عدت تو میں بھولا تھا، جب اس سے کہا کہ تم اس عورت کو حق مہر دو، تو اس نے کہا کہ میرے پاس ایک تمن (روپیہ)بھی نہیں ہے‘‘۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا اللہ داد صاحب ژوب کے صاحبزادے مولانا عزیزاللہ نے ہمارے ساتھیوں عبدالعزیز اور امین اللہ کو بتایا کہ ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ کتابچے سے میری ایک دیرینہ تشویش کا مسئلہ حل ہوگیا ہے، ہماری قوم بات بات پر طلاق کا لفظ استعمال کرتی ہے چائے اور کرائے کے پیسے دینے پر بھی دونوں طرف سے طلاق ڈالی جاتی ہے، ظاہر ہے کہ کسی ایک کو طلاق پڑجاتی ہوگی ۔ ایسے میں ہماری قوم کے نکاحوں کی پوزیشن کیا ہوگی؟۔ تعلق اور پیداوار جائز یا ناجائز ہونگے؟۔ اس کتاب نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ یہ صرف کاکڑ قوم کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ پٹھان زیادہ تر اس معاملے میں یہی روش اختیار کرتے ہیں۔
قرآن میں صلح ومصالحت اور نیکی وتقویٰ کے کاموں میں کیلئے رکاوٹ ڈالنے اللہ نے اپنی ذات کے استعمال سے روکنے کے بعد بڑے مفصل انداز میں طلاق کا مسئلہ واضح کردیا ہے، سب سے پہلے یہ وضاحت کی ہے کہ لغو قسموں پر اللہ نہیں پکڑتا مگر دلوں کی کمائی پر پکڑتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی عورتوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی ہو ان کیلئے چار کا انتظار ہے۔ اگر پھر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا تو اللہ سنتا اور جانتا ہے۔ آیت میں خواتین کے حق کی وضاحت ہوئی ہے کہ چارماہ سے زیادہ انتظار کی زحمت نہیں دی جاسکتی ہے، طلاق دینے اور پڑنے کی چیزنہیں بلکہ علیحدگی کا عمل ہے۔ چار ماہ سے زیادہ انتظار تو بہت دور کی بات ہے اگر اس ناراضگی میں بھی پہلے سے طلاق (چھوڑنے ) کا عزم تھا تو اس دل کے گناہ پر اللہ کی گرفت ہوگی۔ اسلئے کہ طلاق کے اظہارکی صورت میں انتظار کی مدت کم ہے۔
پھر اللہ نے طلاق والی عورتوں کیلئے تین مرحلوں تک انتظار کا حکم دیا ہے، جسمیں شوہر ہی کو صلح کی شرط پر بیوی کو لوٹانے کا حقدار قرار دیا ہے۔ حدیث میں یہ مرحلے پاکی کے ایام اور حیض کے حوالہ سے واضح کئے گئے ہیں، میڈیکل سائنس کے علاوہ انسانی فطرت وعقل بھی ان مرحلوں کے ادراک سے آگاہ ہے۔ اللہ نے میاں بیوی کے یکساں حقوق اور شوہر ایک درجہ فضیلت دینے کو واضح کیا ہے اور اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہوگی کہ شوہر چھوڑنے کا اعلان کردے اور بیوی عدت کا انتظار کرے؟، ان تین مراحل کے پسِ منظر میں تین مرتبہ طلاق کا تصور واضح ہے جس میں اللہ نے بار بار رجوع کی گنجائش کو عدت کی تکمیل سے واضح کیا ہے، سورۂ طلاق میں رجوع نہ کرنے کی صورت میں دوعادل گواہوں کا بھی ذکرہے، تاکہ عورت کے مالی معاملہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس کو نکاح کا پیغام بھی دینا چاہے تو دے سکے۔ قرآن نے بیوہ اور طلاق شدہ کے علاوہ اپنی صالح لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان احکام پر عمل اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب معاشرے میں عدت کے بعد عورت کا باقاعدہ دوسرے شوہر سے فارغ ہونا واضح ہو۔
قرآن میں اللہ نے جہاں ایک خاص صورتحال میں میاں بیوی کے درمیان باہوش وحواس علیحدگی جس میں فیصلے کرنے والوں کا بھی کردار ہو اور سب متفق ہوں کہ شوہر کی طرف سے دی گئی اشیاء میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں مگر جب سب کو یہ خدشہ ہو کہ کسی خاص چیز کو واپس کئے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو بیوی کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے اور شوہر کی طرف سے لینے میں دونوں پر حرج نہ ہوگا، یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرتا ہے تووہی لوگ ظالم ہیں اس مخصوص صورتحال میں علیحدگی یعنی طلاق کے بعد اس عورت کا پہلے سے نکاح اس وقت تک درست نہیں جب تک دوسرے سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ کاش علماء ومفتیان آیات پر غور کرکے اپنے فتوؤں پر نظر ثانی کردیں تو بات بن جائے۔

سید عتیق الرحمن گیلانی کی ایک تحریر

supreme_court_oct2016

سپریم کورٹ کے فیصلے اور علماء ومفتیان کے فتوے میں اتنا بڑا تضاد کیوں ہے؟ ، قائدین قرآن وسنت کے مطابق عوام کیلئے عملی طور سے رول ماڈل کیوں نہیں بنتے ہیں؟
قرآن میں کفرواسلام اور بہت بڑے معاملے میں بھی درجہ بہ درجہ ، مرحلہ وار، باقاعدہ عدت اور پروسیس کا ایسا تصور نہیں جو اللہ تعالی نے طلاق کے حوالہ سے واضح کیاہے
ایلاء و ناراضگی میں چار ماہ کی عدت کا حکم دیا، جس میں باہمی رضامندی سے صلح و رجوع ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ عورت کی تکلیف کے باعث انتظار کاپابند نہیں بنایا گیا،
طلاق کے اظہار کی صورت میں عدت کے تین مراحل یاماہ کا پابند بنایا جسمیں صلح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا حقدار قرار دیا، عدت تک کیلئے طلاق اور اسکو گننے کا حکم دیا،
بیوی کو اسکے گھر سے نکالنے اور نکلنے کو منع کیاالا یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہو، عدت کی تکمیل پر رجوع نہ ہوتوالگ کرنے کے فیصلہ پر دو عادل گواہ مقرر کرنے کا حکم دیا،

6column(2)-octboer2016

کوئی بھی طلاق دینے کے بعد شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق حاصل نہیں تھا، مصالحت کیلئے ایک ایک رشتہ دار مقرر کرنا اسوقت ممکن ہے جب بیوی کو صلح نہ کرنے کااختیار ہو۔
قرآن وسنت کو ہر سلیم الفطرت انسان قبول کررہا ہے، مذہبی طبقہ بھی اسکو قبول کریگا۔ صفحہ:2

مزید تفصیل کیلئے اس لنک پر کلک کریں

مفتی حسام اللہ شریفی نے مکتب دیوبند اور حنفی مسلک کو سلسلہ حق کا نمونہ بنایا ہے۔ارشاد نقوی

ستمبر کے پہلے عشرے میں 10 ستمبر 2016ء کو انشاء اللہ نئی تصنیف ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ منظر عام پر آجائے گی۔ علماء اور مفتیان حضرات اس کو غور سے پڑھیں اور ضد ، انا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ انکے اپنے حق میں بہتر نہ ہوگا۔ غلط فہمی میں فتویٰ دینا اور بات ہے اور حق واضح ہوجانے کے بعد ضد پر ڈٹ جانا بالکل ہی الگ بات ہے ، ہمارے دل میں علماء کرام اور مفتیان عظام کیلئے بھی بہت احترام ہے ۔ مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی نے دنیا بھر میں طلاق کے حوالے سے مروجہ فقہی مسائل کے مطابق جوابات دئیے لیکن انہوں نے حق کے مقابلے میں اپنی دیرینہ کاوشوں کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ یہی علماء حق کی زبردست نشانی ہے ، علماء دیوبند کے اس سرخیل کے علاوہ بریلوی مکتب ، اہلحدیث اور اہل تشیع کے نامور علماء کی طرف سے بھی اپنے مؤقف پر ایسے واضح تبدیلی کے فیصلے پر اہل حق ہی کا اطلاق ہوگا۔ مفتی حسام اللہ شریفی نے مکتب دیوبند اور حنفی مسلک کو سلسلہ حق کا نمونہ بنایا ہے۔ دوسرے مکاتب فکر کے چھوٹے بڑے علماء بھی تائید کررہے ہیں اور انشاء اللہ عنقریب سارے مکاتب فکر کے مشاہیر علماء اتفاق کرینگے۔ ارشاد نقوی