پوسٹ تلاش کریں

In Gwadar a person violenced badly beaten slapped Wapda personnel Hafeezullah Baloch and SHO he was than identified as Saeed Baloch who belongs to Sirajul Haq Party Jamat e Islami.

Keywords: Gwadar, jamat e islami, siraj ul haq, siraj ul haq, siraj ul haq molana modudi, Mansoora, Gwadar, Gwadar, Gwadar, Gwadar, Molana Modudi, Mansoora, Mansoora, Mansoora, Mansoora


گوادر میں واپڈا اہلکار پر بہیمانہ تشدد کے بعد SHOکو تھپڑ مارنے والے بدمعاش کا تعلق جماعت andاسلامی سے ہے لیکن اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کا تماشہ لگارکھا ہے۔

Jamat E Islami

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جماعت اسلامی کے غنڈے سعید بلوچ نے واپڈا کے اہلکار حفیظ اللہ بلوچ (Hafeezullah Baloch)کو بجلی کاٹنے. پر اپنے soچار ساتھیوں سمیت شدید زدو کوب کرکے بہتand سخت زخمی کیا اور پھر جبso اس نے اپنی دکھ بھری فریاد. عوام تک پہنچائی تو جماعت اسلامی (molana modudi party jamat e islami)کے غنڈوں نے ایک ایب کے ذریعے اس کاand بہت سخت. مذاقso بھی اڑایا ۔ جب پولیس سعید بلوچ کے گھر پہنچی تو اس نے ایس ایچ او کو تھپڑ بھیand ماردیا۔ پھرso کپڑے بدلنے کے بہانے اپنے گھر میں داخل. ہوا لیکن اندر سے عورتوںso کے ذریعے پتھر پھینکنے اور چیخ. وپکار سے مزاحمت کی۔ دوسرے دن پولیس کو گرفتاری کا حکم ہوا تو یہ بہادر چارپائی کے نیچے گھس گیا، جب نظر آیا تو بھاگ کرغسل خانے میں گھس گیا اورand اندر سے. دروازہ لاکso کردیا۔ پولیس لاک توڑ کر گرفتار کرکے لے گئی تو شام کو عدالت سے ضمانت کروائی گئی۔

Jamat E Islami

صدر جماعت اسلامی (Molana Modudi/Sirajul Haq Party Jamat e Islami)بلوچستان عبدالحق ہاشمی اور. دیگر رہنماؤں نےand اسکے حق میں گوادر پہنچ کر ایک بڑی پریس کانفرنسand کی اور اس نے. کہا کہ ”میں پولیس، فوج ، ایجنسیوں اور کسی سے بھی نہیں ڈرتا ہوں”۔بتایا گیا کہ پہلے بھی ایجنسیاں اس کو اٹھاکر لے گئی تھیں اورکئی مہینوں تک غائب تھا۔

Jamat E Islami

جماعت اسلامی (Jamat e Islami)نے کراچی اور پنجاب کے کالجوں اور یونیورسٹیوںand میں غنڈہ گردی کاso ناسوربھر دیا تھا۔ باجوڑ خیبر پختونخواہ میں پختون روایات واقدار کے منافی محسن داوڑ (mohsin dawar)سے بھی ایک تقریب میں andبہت .بدتمیزیso کی تھی۔
باجوڑ میں پیپلزپارٹی کے اخونزادہ چٹان (akhunzada chattan) نے جماعت اسلامی(jamat e islami) کی طرف سےso ایک مہمان کیand ایسی بے عزتی کرنے پر جماعت اسلامی (jamat e islami)سے اپنے اتحاد. کو ختم کرنےand کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا مرکز سے بھی ہم یہ گزارش کرینگے کہ جماعت اسلامی (jamat e islami)جب تک. اس اقدام پر معافیand نہ مانگے توso اسکے خلاف بائیکاٹ کیا جائے۔ اس وقت PDMکا اتحاد بننے کا. سلسلہ جاری تھا اور ساری جماعتوں نے اپنا دباؤ جماعت اسلامی (jamat e islami)پر ڈالا تھا۔ ہمso نے بھی andاپنے اداریہ میں نہ صرفand جماعت اسلامی کی مذمت کی تھی بلکہ یہ بھی لکھ دیا کہ اخونزادہ چٹان (akhunzada chattan) نے جو شرمندگی. اُٹھائی ہے ، ہم اپنی طرف سے ان کو بھی ہمدردی کے قابل سمجھتے ہیں۔

TEST

جماعت اسلامی (jamat e islami) نے اس ردِ عمل پر اس. واقعہso کو رفع دفع کرنے پر بھی اس دباؤ کی وجہ سے زور دیا تھا مگر PDMمیں شمولیت سے محروم ہوگئی۔
لوگوں کا خیال تھا کہ محسن داوڑ کا تعلق PTM .سے ہے اور جماعت اسلامی (jamat e islami)اپنا نمک حلال کرنے کے چکرso میں ایسے اوچھے ہتھکنڈے. پر اتر آئی ہے مگر ہم نے لکھا تھا کہ یہ جماعت اسلامی (jamat e islami) کی سرشست. میں شامل ہےso اور وہ اپنی عادت سےso مجبور ہے۔ گوادر میں واپڈا کے اہلکار کو پٹوانے میں ایجنسی کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟۔ جماعت اسلامی (jamat e islami) نے غنڈہ گردی بھی کی اور پھر چیف آف گوادر (Gwader)کے نام سے سعید بلوچ (Saeed Baloch)کے حق میں. جلوس بھی soنکالا ہے۔ فلسطین وکشمیر میں مظالم کےso خلاف آواز اُٹھانے والے جب یہاں پر ظلم ، تضحیک ، جبر ، غنڈہ گردی اور سینہ زوری کی انتہاء کرتے ہیں تو اس سے ان کا منافقانہ چہرہ بھی عوام کے سامنے آتا ہے۔

انتہائی منظم و جمہوری جماعتso ہونے کے باوجود اس کا گراف اسلئے آئے روز گرتا جارہاہے. کہ شریف لوگوں کو صرف ٹائٹل کے طور پر ہیso رکھا جاتا ہے اور خفیہ طور. پر غلط سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔ جب جماعت اسلامی بلوچستان (jamat e islami) کے امیر مولانا عبدالحق بلوچ (Molana Abdul Haq Baloch)نے ہماری تحریک کی تائید کیso تھی جن کا تعلق تربت سے تھا اور علماء کرام میں مقبولیت بھی اپنے علم وعمل کی وجہ سے رکھتے تھے تو ان کو اپنے منصب سے بھی ہٹادیا گیا تھا۔

TEST

جماعت اسلامی (jamat e islami) نے پنجابیوں اور کراچی کے مہاجروں سے شرافت کا. معیار چھین لینے کے بعد پختون اور بلوچ کلچر کی یلغار شروع کردی ہے۔ یہso لوگ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں وی سی آر. منکرات کے نام پردوسروں سے چھین لینے کے بعد خود دیکھنا شروع ہو جاتے تھے۔ افغانستان (Afghan Jihad)میں جہاد لڑنے کی جگہso کلاشکوف کلچر تعلیمی اداروں میں. مسلط کیا تھا۔ ان کا کوئی دین اور مذہب نہیں ہے۔ بلوچ. غیرتمند قوم ہے اور اب یہ بدمعاشی کرکے پہلے گھروں سے اپنی خواتین کو پولیس کے سامنے استعمال کرتے ہیں اور پھر عوام کو گمراہ کرتے. ہیں کہ چادر اورچار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ اگر گوادر کے غیور عوام نے ان کے ہتھکنڈوں کو. سمجھنے اور روکنے کی بھرپور کوشش نہیں کی تو پھر ان کے اخلاقیات کا جنازہ نکلے گا۔

www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Reaction of PTI Senator Dost Muhammad Mehsud PTM Leader Alamzeb Mehsud and Masood Hayat Preghal on existence of land mines within mehsud area of Waziristan

KEY WORDS: PTM, SSP Rao Anwar, SENATOR PTI Dost Muhammad Mehsud, Naqeeb Ullah Mehsud, Naqeeb Ullah Mehsud, Naqeeb Ullah Mehsud, Mehsud Tribe,Mehsud Tribe, Mehsud Tribe, Waziristan,

کاش میں پشتون نہ ہوتا فلسطینی یا کشمیری ہوتا تو کوئی میرے لئے دو آنسو تو بہاتا۔ سینیٹر پی ٹی آئی (PTI)دوست محمد محسود(Dost Muhammad Mehsud) کا سینیٹ سے خطاب

آئل ٹینکر الٹ جاتا ہے (240)افراد پیٹرول چوری کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے تو( 40، 40 )لاکھ دئیے
کیماڑی میں گیس سے ہلاک ہونیوالوں کو( 25،25)لاکھ اور ہزارہ برادری کو (15،15)لاکھ روپے دئیے
ہمارا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ یہاں سینکڑوں لوگ لینڈ مائنز میں شہید ہوچکے ہیں یہ جوپی ٹی ایم(PTM) اینٹی پاکستان تو ٹھیک ہے مگر یہ ظلم اور نا انصافی کو دیکھ کر بنی ہے۔ فورا چیف منسٹر چلاجائے اور مرج ایریا میں انکو (40، 40)لاکھ اور ایک ایک نوکری دی جائے

TEST

رپورٹ: رقیب اللہ محسود، فیس بک، ویڈیو پی ٹی وی
تحریک انصافso کے سینیٹر دوست محمد محسود (Dost Muhammad Mehsud) نے سینٹ سے خطاب کرتےso ہوئے کہا میرا علاقہ جل رہا ہے میرا علاقہ تباہ ہورہا ہے۔ پرسوں لینڈ مائن کی وجہ سے ہمارے پھول جیسے تین بچے شہید ہوئے۔ سر جی! میرا کیا قصور because ہے کہ میں اس پاکستان مین پشتون ہوں ۔ میرے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے، کاش میں فلسطین PTM میں ہوتا، کاش میں کشمیر میں ہوتا تاکہ لوگ میرے لئے دو آنسو بہاتے۔ آج SSP Rao Anwar

میرے سینکڑوں لوگ لینڈ مائن کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں۔ سینکڑوں لوگ ٹانگوں سے معذور ہوچکے ہیں۔ کوئی ان کا پوچھنے والا نہیں ہے and، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ملتان میں ایک آئل ٹینکر (multan oil tanker accident)الٹ جاتا ہے وہاں کے (240) افراد پیٹرول چوری کرتے ہوئے ہلاک because ہوجاتے ہیں۔ ان کو حکومتand کتنی کمپنسیشن دیتی ہے؟۔ اسپیکر چیئر and مین صاحب(40,40)لاکھ روپے ایک ایک کے لواحقین کو دیا ہےso ۔ اسپیکر چیئر مین صاحب! ڈیڑھ سال پہلے کراچی میں ایک شپ تھیand اس سے گیس (keamari gas incident) خارج ہوئی۔ کوئی دس بیس because آدمی فوت ہوگئے تھے۔ اس کو حکومت نے( 25، 25 )لاکھ روپے دیا ہے۔

TEST

کوئٹہ میں جو ہمارے اہل تشیع شہید (quetta hazara killing)ہوئے تھے تینand چار and مہینے میں ان کے لئے. because پرائم منسٹرخاص طور پر گیا۔ ان کو ایک ایک. نوکری دی اور ساتھ میں( 15، 15)لاکھ روپے Dost Muhammad Mehsud کے چیک دئیے۔ ہمارا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہمارے and سینکڑوں لوگ لینڈ مائن میں so شہید ہوچکے ہیں۔ یہ پی ٹی. ایم (PTM)پشتون تحفظ موومنٹ اینٹی because پاکستان تو ٹھیک ہے لیکن and

یہ ظلم اور بے انصافی کو دیکھ کر بنی ہے۔ and نقیب. اللہ محسود (Naqeeb Ullah Masood)کا قتل ہوتا ہے،( 450)محسودوں and کو ایس ایس پی را ؤانوار (SSP Rao Anwar)نے قتل کیا. تھا اور زرداری(Asif Zardari) نے کہاandand تھا کہ یہ and سندھ کا بہادر بیٹا ہے۔ وہ بھی ابھی تک دندناتا ہوا پھر رہا ہے اس کا and بھی کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ دہشت so گردی کے خلاف جنگ (War on Terror) so پر جو ہماری آرمی نے قربانی دی ہے ان so پر آفرین ہے. اور میں شاباش دیتا ہوں کہ جہاں پر بھی کہیں بھی کسی قوم میں so تکلیف آتی ہے آرمی لبیک کرکے آجاتی ہے۔

لیکن میں اپنے علاقے کی بات کررہا ہوں ساتھ so وزیرستان so کا محسود ایریا کہ so PTM میں and وہاں چاقو بھی نہیں رکھ Dost Muhammad Mehsud سکتا۔ وہ چاقو بھی دیکھتے ہیں کہ. کہیں چاقو تونہیں لیکر جارہا ہے۔ وہاں پر میںسر کلہاڑا لیکر گھومتا ہوں۔ آئن سٹائن (Albert Einstein)سے کسی نے پوچھا کہ because تھرڈ ورلڈ وار(Third World War) کی کیا پوزیشن ہوگی؟ so ۔ تو اس ن.ے کہا کہ تھرڈ Mehsud Tribe ورلڈ وار کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے لیکن فورتھ ورلڈ because وار کلہاڑیوں اور پتھر سے لڑی PTM میں جائے گی۔ میرے گھر تباہ. و برباد ہیں۔ سروے کے نام پر ہمیں ورغلایا جارہا ہے ، because میری قوم and کو پیسہ نہیں دیا جارہا ہے۔

Dost Muhammad Mehsud

قربانیاں ہم نے دیں ہمارے آبا و اجداد نے اس because پاکستان کے لئے قربانیاں. دی ہیں۔ لینڈ مائن (Landmines killing people in Pakistan’s South Waziristan)کے سلسلے میں اگر حکومت نے نوٹس نہیں لیا ، میں حکومت کو یہ مشورہ دے رہا ہوں آرمی کو because یہ مشورہ دے رہا ہوں کہ خدا کے واسطے فورا کمپنسیشن. کا اعلان کردیں۔ فورا چیف منسٹر چلاجائے مرج ایریا میں اور (25، 25)لاکھ یا (40، 40)لاکھ فورا ان کو دے دیا جائے۔ اور باقی and سینکڑوں لوگ. جو شہید ہوئے ہیں یا Dost Muhammad Mehsud معذور ہوئے ہیں ان کیلئے ایک ایک نوکری کا بندوبست بھی کریں۔

دوسری میری آرمی سے اور پاکستان سے and یہ درخواست ہے کہ اس بلا کو جس and کو ایڈن اینمی کہا جاتا ہے اس سے نمٹنے. کیلئے چار پانچ سو ہمارے محسود نوجوانوں کو تین Dost Muhammad Mehsud چار سال کیلئے کنٹریکٹ پر بھرتی کرالیں ان کو چار چھ مہینے کی ٹریننگ دیں اینٹی مائن and کی کہ کس طرح کلیئر کئے جاتے ہیں اور ان کو تربیت یافتہ کتے دئیے جائیں۔ انشا اللہ یہ علاقہ پاک ہوجائے گا۔ یہ انتہائی and ضروری ہے اورحکومت پاکستان کو اس کا ترجیحی طور پر نوٹس لینا چاہئے۔
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv

Dost Muhammad Mehsud

Dost Muhammad Mehsud

ایسی تحریک کی ضرورت جو مذہبی اور کامریڈ طبقے کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے خطے کو بحران سے نکال دے

Comrade, Leftist, Khilafat, Khilafat e Usmania, PTM

ایسی تحریک کی ضرورت جو مذہبی اور کامریڈ طبقے کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے خطے کو بحران سے نکال دے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

خطے کے طالبان ہتھیار رکھ کر اسلام کے عظیم مشن کیلئے جمہوری بنیاد پر اپنا مشن منوائیں!

قرآنی آیات اور سنت سے پوری دنیا کی انسانیت پر ہونے والے مظالم کا راستہ روکیں

کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے علاوہ گھروں سے لیکر ریاستی ظلم وستم کو ختم کریں

اسلام نے دورِ جاہلیت میں علم کی روشنی سے دنیا میں اجالا کیا مگر مسلمان جہالت کی اندھیر نگری میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی کی تلاش میں لگے ہیں۔ جاہلوں کابڑا سردار علامہ اقبال تھا جو اپنی شاعری اور اسلام کے اجتہادی فکر میں نہ خوابیدہ تھا اور نہ بیدار تھا۔ اسلام کے واضح احکام میں دنیا کو جاہلیت کے اندھیروں سے نکالنے کی صلاحیت ہے ۔ ان پڑھ قوم نے منصبِ امامت پر بیٹھ کر قیصرو کسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست دی تو اس لکھے پڑھے دور میں قرآن کی آفاقی تعلیم ہمیں جبر وظلم کے نظام سے خلاصی کیوں نہیں دے سکتی ؟۔
کامریڈوں کو پتہ چل گیا ہے کہ روس، چین اور دنیا میں مارکس کا نظریہ فیل ہوچکا ہے اور سودی نظام ہی دنیا میں ظلم وجبر کا حربہ ہے۔ جب قرآن میں سود کی حرمت والی آیات نازل ہوئی تو نبیۖ نے زمین کو بھی مزارعت پر دینا سود قرار دے دیا۔ زمین کو مزارعت پر دینے سے جاگیرادارنہ نظام بنتا ہے اور اس سے عوام کو غلام بنانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ سودی نظام سے بھی معاشرے کے اندرعوام کی انفرادی اوراجتماعی زندگی اجیرن بنتی ہے اور عالمی بینک اور سودی نظام سے دنیا کے غریب ممالک کو غلام بنایا جاتا ہے۔ نوازشریف اور عمران خان سے لیکر مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی سب اس شیطانی نظام کے کارندے ہیں۔ احادیث صحیحہ میں مزارعت کو سود قرار دیا گیا ہے اور امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی متفق تھے کہ مزارعت سود، ناجائز اور حرام ہے۔ لیکن حیلہ ساز علماء ومفتیان اور درباری مولویوں نے اسلام کو بدل دیا تھا۔ جس طرح یہود کے مہرے سودی نظام کواسلامی بینک کا نام دیتے ہیں یہ شروع سے ہی درباری علماء کابڑا دھندہ رہاہے۔
اسلام کے معاشرتی اور اقتصادی نظام کو مذہبی طبقات نے تباہ کیا ہے ۔اگر درست اسلامی نظام سامنے لانے کی کوشش کی گئی تو یہ طالبان اور کامریڈوں کا متفقہ ایجنڈہ ہوگا اور جب پشتون تحفظ موومنٹ کو ہم نے مظلوم تحفظ موومنٹ بنانے کا مطالبہ کیا تھا تو ہماری بات نہیں مانی۔ ہم نے لکھا کہ (PDM) ا ور (PTM) اور جماعت اسلامی سب زوال کی ا نتہاء پر ہیں۔ پی ڈی ایم (PDM) اور ن لیگ کے ایجنڈے کا حشر سب کے سامنے ہے ۔ پی ٹی ایم (PTM) کے محسن داوڑ نے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کردیا۔ جے یو آئی کی بنیاد بلوچستان و پختونخواہ میں ہل گئی۔لیفٹ اور رائٹ کے نام پر قوم کو دائیں بائیں تقسیم کرنے والے چالاک وعیار لوگ کئی جماعتوں میں جماعتیں او ر پارٹیوں میں پارٹیوں کی تقسیم کے ایجنڈے پر لگ جاتے ہیں۔ نظرئیے اور عوام کیلئے کوئی مثبت کام کرنے کے بجائے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں ،حالانکہ ان کے پاس کوئی نظریہ ہوتا ہے اور نہ عوام کے مفاد کا کوئی ایجنڈہ۔ ایک ایسی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا جس کا ایک ایسا واضح ایجنڈہ ہو جو اقتدار تک پہنچنے کا وسیلہ بھی ہو اور اقتدار تک پہنچنے سے پہلے بھی عوام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا زبردست ذریعہ بن جائے۔
اسلام نے عورتوں، مزدوروں ، غلاموں، لونڈیوں اور قیدیوں کو جو حقوق دئیے تھے اور جس طرح سے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کیساتھ ساتھ اپنوں کا زبردست تزکیہ کردیا۔اپنوں کو حکمت اور معاشرت کی تعلیم دی اور کتاب کا دستور العمل دیا تواس نے پوری دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپاکردیا۔ قرآن وسنت کی تعلیم کا ایک آئینہ پیش کیا جائے تو دنیا حیران ہوگی کہ چودہ سو سال پہلے عورتوں کو یہ حقوق دئیے؟۔ کسانوں کو یہ حقوق دیدئیے؟ مزدوروں کو یہ حقوق دیدئیے؟۔ غلاموں اور لونڈیوں کی حیثیت بدل کر ان کو بھی نکاح کے حقوق دیدئیے ؟۔ جن غلاموں کی کوئی شناخت نہیں تھی ان کو اسلامی بھائی قرار دیدیا۔جن لونڈیوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو اللہ نے فرمایا کہ ”یہ تمہارے ہی جیسی ہیں اور اللہ تمہارے ایمان کو جانتا ہے” النساء ۔ مذہبی طبقے اور کامریڈوں کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کرکے پاکستان سے دنیا بھر کیلئے بہت بڑے انقلاب کا آغاز کیا جائے۔

افغانستان و پاکستان گڈ اوربیڈ طالبان کو علمی تربیت گاہ سے اعتدال کی راہ پر لاکر مشکل سے نکالا جاسکتا ہے؟

9/11, 9/11, 9/11 Altaf Hussain, Jamat e Islami, Afghan Taliban, Molana Fazl ur Rehman

افغانستان و پاکستان گڈ اوربیڈ طالبان کو علمی تربیت گاہ سے اعتدال کی راہ پر لاکر مشکل سے نکالا جاسکتا ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ایک ایسی فضاء آئی تھی کہ بہت سارے لوگ اپنے دینی جذبات سے طالبان بن گئے!

عام انسانی معاشرے کی طرح طالبان میں بھی اچھے برے ہرطرح کے افراد شامل تھے

جب اچھے طالبان کو زبردست راستہ دیا جائیگا تو بروں سے اس خطے کو چھٹکارا مل جائے گا

نبیۖ نے فرمایا کہ ” لوگوں کی مثال معدنیات کی ہے جو جاہلیت میں سونا،چاندی تھے وہ اسلام میں بھی سونا چاندی تھے اور جو جاہلیت میں کوئلہ تھے وہ اسلام میں بھی کوئلہ کی طرح ہیں”۔( مفہوم حدیث)
جب نائن الیون (9/11) کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیاتو پوری دنیا کے مسلمانوں کی ہمدردیاں طالبان کیساتھ امریکہ کے خلاف تھیں۔البتہ کچھ لوگ طالبان کے سخت گیر رویے کی وجہ سے انکے ذاتی مخالف تھے۔ آج امریکہ وطالبان کی دشمنی دوستی میں بدل گئی ہے اور طالبان کا رویہ بھی سخت گیر نہیں رہاہے۔ جب طالبان نے امریکہ کے سامنے سرنڈر ہونے کے بجائے مزاحمت کا فیصلہ کیا تو کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں تھا جو دل سے امریکہ کیساتھ اور طالبان کے خلاف ہوتا مگر کچھ لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوسکتی تھیں۔ جن کی مجبوریاں تھیں ان کاتعلق پاکستان اور افغانستان سے تھا۔ کچھ لوگ طالبان کے نظریہ ، مسلک اور عقیدے کی بنیاد پر خلاف تھے اور یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی نظروں میں طالبان کے گڈ وبیڈ ہونے کا اپنا اپنا معیار تھا۔ ان تضادات کی وجہ سے سب نے اپنے مفادات بھی اُٹھائے اور نقصا نات بھی اُٹھائے۔
کون ہارا؟ کون جیتا؟۔ انسان ہارا! شیطان جیتا!۔ اگر اسلام کی درست تعلیمات ہوتیں تو امریکہ نے افغانستان، عراق ، لیبیا ، شام اور پاکستان کو اس حال پر کبھی نہیں پہنچانا تھا جس طرح کی تباہی وبربادی سے ہم مسلمان گزرے ہیں۔ ستر (70) ہزار سے زیادہ لوگ دہشتگردوں کے ہاتھوں کام آئے ہیں اور دہشتگردی کے نام پر کتنے لوگ کام آئے ہیں شاید ان کا شمار بھی نہیں ہوسکا ہے۔ جب ایمان والے طالبان عام لوگوں کی زباں میں دہشت گرد بن گئے تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جس طرح تبلیغی جماعت میں بہت سے اچھے لوگ بھی اپنا وقت لگاتے ہیں تو بہت سے بدکرداروں کو بھی ٹھیک کرنے کیلئے تبلیغ میں بھیج دیا جاتا ہے، اسی طرح طالبان کو بھی بہت اچھے لوگوں نے بھی سپورٹ کیا اور اس میں شامل ہوگئے اوربہت بدکردار ، مکار اور بدمعاشوں نے بھی اس کواپنی پناہ گاہ بنایا۔ جن میں بہت اچھوں کے علاوہ ملوثی، ہم جنس پرست اور بھتہ خور سب شامل تھے۔
طالبان جسکے بھی وفادار ہیں وہ اپنا مخصوص حلیہ ، ٹائٹل اور شاخت کی نشانی رکھنے پر مجبور ہیں۔کہاوت ہے کہ ” میں کمبل کو چھوڑ رہا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہاہے”۔ ایک شخص نے دریا میں کمبل دیکھ کر چھلانگ لگا دی مگر جب ساتھیوں نے اس کی کشمکش کو دیکھا تو کہنے لگے کہ کمبل کو چھوڑ دو، کہیں اس چکر میں اپنی جان سے بھی نہ چلے جاؤ۔ اس نے جواب میں کہا ہے کہ میں کمبل کو چھوڑ رہا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہاہے۔اصل میں وہ کمبل نہیں ریچھ تھا۔ جس سے یہ کہاوت مشہور ہوگئی۔ طالبان نے اسلام سمجھ کر جس کمبل کو پکڑنا چاہا تھا تو اس سے اب انکی جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان میں بہت اچھے اچھے لوگ ایک لہر کی وجہ سے شکار ہوگئے تھے۔ اگر طالبان کی بانی پیپلزپارٹی اور حامی ن لیگ اور تحریک انصاف کو باری باری پاکستانی اقتدار میں لایاجاسکتا تھا تو طالبان کو بھی ایک مؤثر تعلیمی تربیتی نظام سے معاشرے میں موقع دینا انسانیت، اسلام اور پاکستانیت کا تقاضہ ہے۔ ملا عمر اور افغانستان کے طالبان نے وہی کیا تھا جو انہوں نے اپنی شریعت کی کتابوں میں پڑھا تھا۔ پاکستان کی سرزمین میں صرف ہمارے ریاستی ادارے ، عدلیہ،سول وملٹری بیوروکریسی،سیاسی حکمرانوں نے کفر ونفاق اور بدعملی کا لبادہ نہیں اوڑھ رکھا تھا بلکہ علماء اور مذہبی طبقات بھی اسکا شکار تھے۔
پہلے جب طالبان کے جنازے ہوتے تھے تو بہت سے لوگ ان کی خوشبو بھی سونگھ لیتے تھے ۔ لیکن پھر جب لوگوں میں شعور بڑھ گیا تو لوگوں کو خوشبو آنا بھی بند ہوگئی ۔ الطاف بھائی کی تصاویر بھی درختوں کے پتوں پر عوام کو نظر آتی تھیں اور گوہر شاہی بھی عقیدتمندوں کو چاند میں دکھتا تھا جو دراصل چاند کی کالک ہوتی تھی۔

مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، مفتی منیب الرحمن تمام مذہبی طبقات قرآن کی دو آیات کیلئے ایک کمیٹی بنادیں

Molana Fazl ur Rehman, Mufti Muneeb Ur Rehman, Jamat e Islami, Molana Modudi, Surah An-Nisa, Surah Al-Baqarah

مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، مفتی منیب الرحمن تمام مذہبی طبقات قرآن کی دو آیات کیلئے ایک کمیٹی بنادیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ بقرہ کی آیت(229)اور سورۂ النساء کی آیت(19) کی وضاحت کئی مسائل کا بڑاحل ہے

افغانستان، فلسطین اور کشمیر کی فکر کرنے والوں نے مسلمانوں کو کس حال پر پہنچادیا ہے؟

عورتوںکو قرآن نے کیا حقوق دئیے ہیں اور مذہبی طبقات نے اس کا کیا حشر کردیا ہے؟

سورۂ بقرہ کی آیات (222) سے (232) تک میں عورتوں کے حقوق اور طلاق کے مسائل کی زبردست تفصیل ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ وانزلنا الکتٰب تبیانًا لکل شئی اور ہم نے کتاب ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے نازل کی۔ ایک ایک آیت میں حیران کن عالمِ انسانیت کی تقدیر کی کایا پلٹ دی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ مذہبی طبقے نے یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ کی طرح انسانی فطرت کے عین مطابق دین کو اپنی جانور صفت جگالی سے چبا چبا کرکھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنادیا ۔ یہ شکر ہے کہ قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے دادا پیرمولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ” حیلہ ٔ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے کہ ” اگر شوہر بیوی کو تین طلاق دیدے تو بیوی اس پر حرام ہے۔ پھر اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہوں کی ضرورت ہوگی اور اگر اسکے پاس دو گواہ نہ تھے اور شوہر نے قسم کھالی تو عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر شوہر خلع پر بھی راضی نہ ہو تو پھر عورت حرام کاری پر مجبور ہوگی”۔ یہ مسئلہ فقہ کی کتابوں کا ہے ۔ اگر قرآن کا درست ترجمہ وتفسیر سمجھ میں آجاتا تو اس قسم کی واہی تباہی کے مسائل گھڑنے کی کبھی نوبت نہیں آسکتی تھی۔
خلع و طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ خلع میں غیر منقولہ جائیداد شوہر کو واپس کرنی ہوگی جبکہ منقولہ اشیاء اپنے ساتھ لے جاسکتی ہے اور طلاق میں منقولہ وغیرمنقولہ تمام اشیاء عورت کا اپنا حق ہیں۔شوہر نے بہت سارے خزانے دئیے ہوں تب بھی واپس لینے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ سورہ النساء کی (آیت19،20،21) میں یہ معاملات بالکل واضح ہیں۔ سورۂ بقرہ آیت (229) میں بھی طلاق کا معاملہ ہے جس میں تمام دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کا حلال نہ ہونا واضح ہے مگر ایسی صورت میں جب دونوں اور فیصلہ کرنے والے اس بات پر متفق ہوں کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں علیحدگی کے بعد ایسا رابطہ بن سکتا ہے کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں تو ایسی صورت میں صرف وہی دی ہوئی چیز کے فدیہ کرنے میں ان دونوں پرکوئی حرج نہیں ہے”۔
آیت میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد اس صورتحال کی وضاحت ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ”شوہر کی طرف سے دی گئی چیزوں میں سے کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں ہے لیکن جب دونوں ایک مجبوری پر متفق ہوں کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو ایسی صورت وہ چیز جس کو واپس نہ کرنے کی وضاحت ہے اور ایک مجبوری کے تحت فدیہ کرنے میں واپس کرنے کی گنجائش نکالی گئی ہے تو اس کو خلع کیلئے معاوضہ قرار دینا بہت بدترین قسم کی جہالت ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدمودودی نے اپنے ترجمہ وتفسیر ” تفہیم القرآن” میں اس جہالت کا بہت واضح الفاظ میں مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا تنخواہ دار مولوی طبقہ بھی سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود اپنی نوکری کی خاطر اس جہالت سے پردہ نہیں اٹھاتا ہے۔
جب ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تومقرر نصف حق مہر اور وسعت کے مطابق آدھا حق مہر ضروری ہے۔ ہاتھ لگانے اور بچے پیدا کرنے کے بعد باقی نصف حق مہر کی کیا حیثیت رہتی ہے؟۔ حق مہر شوہر کی طرف سے عورت کو راضی رکھنے کی سیکورٹی ہوتی ہے ۔جب عورت خلع یا طلاق کے مرحلے سے گزرتی ہے تو قرآن نے اسکے اختیار اور حقوق کو پورا پورا تحفظ دیا ہے لیکن ہمارا مذہبی طبقہ اتنا بے ایمان ہوچکا ہے کہ اللہ کے واضح احکام کو سمجھنے کے باوجود بھی اپنے مفاد کیلئے قبول نہیں کرتا۔جب مولوی نے عورت کے حقوق کو غصب کردیا ہے تو پھر مولوی پنجابی ہو تو جہیز کی لعنت کا خاتمہ اس کیلئے ممکن نہیں اور پختون ہو تو حق مہر کے نام پر بیٹی اور بہن کو بیچنے کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتا۔ قرآن وسنت سے لوگ بیگانہ اور مولوی اسپیئر وہیل ہے۔

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

American troops withdraw from Pakistan, Afghan Taliban, Molana Fazl Ur Rehman, 9/11,

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اب القاعدہ کے نام پر امریکی فوج کو افغانستان میں کھیلنے کی اجازت پاکستان سے نہیں دے سکتے۔ مولانا فضل الرحمن

پارلیمنٹ نے” پرویزمشرف کی امریکی فوج کو اجازت منسوخ کردی تھی” جنرل کیانی راضی تھے۔سینیٹر مشاہد حسین سید

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ”عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا” لیکن پہلے اڈوں کااب کیا بنے گا؟

یکم مئی کو افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہونا تھا پھر ستمبر(2021) تک نئی ڈیڈ لائن ہے۔ میڈیا نے معید یوسف کو امریکی امور کاماہر پیش کیا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے سرکاری معاملات اس کو ہی سونپ دئیے ہیں۔ جنیوا میں امریکن ذمہ دار نے معید یوسف سے ملاقات میں کیا بات طے کی ؟ امریکہ کا بیان آیاکہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ قطر اور ازبکستان میں امریکہ کے پاس فوجی اڈے ہیں لیکن وہ سی پیک اور چین اور بھارت کے تنازعہ میں بھارت کا ساتھ دینے کیلئے پاکستان میں اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے اسلئے کہ جنگ ہوتو چین سے امریکہ کے اڈے بھارت میں محفوظ نہ ہونگے اور پاکستان میں امریکہ کی حفاظت پاکستان پر ہوگی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ’ ‘ نائن الیون (9/11)کے بعد پرویزمشرف نے (2001) میں اڈے دئیے۔ سلالہ کا واقعہ ہوا تو پیپلزپارٹی دور میں رضا ربانی کی زیرِصدارت پارلیمانی کمیٹی نے یہ مشترکہ فیصلہ کیا کہ امریکہ سمیت کسی غیرملکی فوج کو پاکستان سے کسی دوسرے ملک پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی متفق تھے۔ ستمبر(2021) کو امریکی فوج افغانستان سے نکلے تو معاہدہ ختم تصور ہوگا جونائن الیون (9/11)کیلئے ہوا تھا”۔پچاس (50) ہزار سے زیادہ فضائی حملے کئے تو امریکہ نے(2004) میں یہاں سے آپریشن بند کیا اسلئے کہ ضرورت نہ تھی اور پہلے سے بند آپریشن کیلئے یہ جھوٹا تیر مارا گیا تھا جو فخر سے بتایا جارہاہے؟۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں کہا: ” عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا ”۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اڈے بنارکھے تھے تو اس کو پاکستانی اڈوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اگر افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستانی اڈوں کو دوبارہ آباد کریگا تو پاکستان کیخلاف جہاد ہو گا۔ امریکی کیمپوں سے پشت پناہی ہوگی ،پاکستان مکافات عمل کا شکار ہوگا۔ امریکہ کی کرپٹ فوج کو اُمت مسلمہ کے خلاف کاروائی میں بڑے ٹھیکے ملتے ہیں۔ اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار ہوتا ہے۔افغانستان اور پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی فوج کو بھی کچھ مفاد ملتا ہے۔ جنگل کے طاقتور جانوروں کی طرح گوشت کا وافر حصہ بڑے ترقی یافتہ ممالک کی فوجیں کھا جاتی ہیں اور پسماندہ ممالک کی فوجوں کو لگڑ بگڑ کی طرح بچی کھچی ریزگاری پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے مؤقف پیش کیا کہ” پاکستان سے افغان طالبان کیخلاف امریکہ کو سازش نہیں کرنے دینگے۔ اب القاعدہ کے نام پر دوبارہ ڈرامہ نہیں چلے گا”۔ پی ڈی ایم (PDM)کے اجلاس پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔
اوریا مقبول جان نے کہا کہ امریکہ میںنائن الیون (9/11)کے وقت آئی ایس آئی (ISI) کا چیف جنرل محمود بھیک مانگنے کیلئے گیا تھا لیکن امریکی حکام نے بھیک دینے سے صاف انکار کیا تھا، دوسرے دن نائن الیون (9/11) کا واقعہ ہوا توامریکی سی آئی اے کے چیف نے جنرل محمود کو روتے ہوئے گلے لگایااور امریکی امداد کے عوض پاکستان نے اڈے دینے اور بھرپور مدد کرنے کو اپنے لئے غنیمت سمجھ لیا تھا۔ دھمکی سے بات منوانے کا افسانہ غلط تراشا گیا ہے۔ یہ تو ازراہ تفنن ایک اضافی جملہ تھا اور کچھ نہیں۔
اوریا مقبول جان نے بتایا کہ ہمارا فیصلہ غیرت یا خوف نہیں مالی ضرورت پر ہوتا ہے۔ ملٹری وسول اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ، سیاستدان ، میڈیا اپنی اپنی منڈیوں کے ہیرے ہیں لیکن ہیرہ منڈی خوامخواہ بدنام ہے۔ امریکی سینیٹر نے کہا تھا کہ ”پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچتے ہیں”۔ جنرل محمود نے دھرتی ماں کو بیچا تو تبلیغی جماعت میں گناہوں کی تلافی کرالی۔ کوئی مزاروں اور زیارتوں سے گناہوں کی تلافی کراتا ہے ۔بلا سو چوہے کھاکر حاجی بنتاہے۔ بھلے شاہ نے کہا: تسبیح پڑھی مکاراں والی تے داڑھی کیتی چھٹی۔ اے ملا تیرے کولوں ککڑ چنگا۔
جج، سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹ ، ملااور صحافی کسی کا ایسا کردار نہیں جو حبیب جالب کی روح کو زندہ کرے۔ کوئی کہتاہے کہ پاکستان برائے فروخت ہے ،کوئی کہتا ہے کہ انصاف برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ فتویٰ برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ جہاد برائے فروخت ہے، کوئی کہتاہے کہ سیاست برائے فروخت ہے ۔ اب ہمارا معیار یہ ہوگیا کہ عامر لیاقت، مراد سعیداور فیاض الحسن چوہان جیسے بھانڈلیڈر بن گئے۔ لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ کنجروں کو کمی پہلے بھی نہیں تھی مگر اب عمران خان کی شکل میں ان کو اپنا لیڈر بھی مل گیا ۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف ملالہ یوسفزئی کو اسرائیل کاا یجنٹ کہا گیا کہ اس نے صرف عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی بات کیوں کی؟ ، ظالم اسرائیل کی مذمت نہیں کی تو دوسری طرف چالیس اسلامی ممالک کے فوج کے سپاہ سالار کو عربوں کیساتھ تلوار اٹھاکر ناچتے ہوئے دکھایاگیا کہ اسرائیلی حملوں پر جشن منارہا ہے۔

پشتون، ترک، ہند نے اسلام قبول کیا، سپین پرچھ (6) سوسال حکومت مگر یورپ نے اسلام قبول نہ کیا؟۔ رقیب اللہ محسود!

پشتون، ترک، ہند نے اسلام قبول کیا، سپین پرچھ (6) سوسال حکومت مگر یورپ نے اسلام قبول نہ کیا؟۔ رقیب اللہ محسود!
محسود وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان میں بڑی تعداد میں ہیں لیکن متحد نہیں ہوتے۔حیات پریغال

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

رقیب اللہ محسود نے سوال کا جواب مانگا اور یہ سوال اٹھا کیوں ہے؟ اور اس کا تسلی بخش تو نہیں مگر سرسری جواب دینے کی اپنی سی کوشش کی ہے، ہمارا مقصد شعور کی منزل کو آگے بڑھانا ہے!

حیات پریغال نے مکین میں ایف سی اھکار خٹک کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد میں دھرنے سے خطاب کیا جو حق بجانب ہیں لیکن اپنی قوم سے جو گلہ کیا ہے، اس پر توجہ دلائی ہے !

محترم رقیب اللہ محسود اپنے فیس بک میں لکھتے ہیں جسکا خلاصہ ہے کہ ”پشتون اور ترک قوم نے اسلام قبول کیا، ہندوستان کے لوگوں نے اسلام کو قبول کیا لیکن یورپ نے اسلام کو قبول نہیں کیا؟۔ حالانکہ مسلمانوں نے سپین پر چھ (6) سو برس حکومت کی ہے۔ کیا پشتون کا کوئی مذہب نہیں تھا اور یورپ میں لوگوں کے پاس اپنا مذہب تھا؟۔ میں بھی اس پر لکھ سکتا ہوں لیکن میرے پاس علم کی کمی ہے اسلئے میری چاہت ہے کہ آپ اس موضوع پر کچھ لکھیں”۔
جواب : میرا خیال یہ ہے کہ پشتون لکھے پڑھے جوانوں کو احساس ہوا ہے کہ طالبان نے ہمارا کلچر تباہ کیا ،اسلام کے نام پر قتلِ عام کیا، پشتو نوں کی نیک نامی کو پاکستان اور دنیا بھر میں بدنام کیا تو یہ سوچ پیدا ہوگئی کہ ایسے مذہب کو آخر ہمارے آباء واجداد نے قبول کیوں کیا ؟۔ مصیبت سے ہماری جان ایک عرصہ سے نہیں چھوٹ رہی ہے۔ حوروں کی تلاش میں خود کش حملے آوربے گناہ لوگوں میں دھماکے کرکے کئی افراد شہید کرتے، جس کی وجہ سے گھر، خاندان اور علاقے میں صف ماتم بچھ جاتا تھا اور کسی کو یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کس گناہ کی پاداش میں وہ مارا گیا، اس کا گھر اجڑ گیا؟۔ بس اسلام پسندوں کی کاروائی کے علاوہ مجرم کا بھی کوئی پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ گڈ طالبان اور انکے ماموں سے جان نہیں چھٹتی ہے اور یہ ایک دومہینے اور سال کی بات نہیں بلکہ بہت عرصہ سہتے سہتے گزر گیا ہے۔
اگر آپ کے احساسات کو کچھ غلط رنگ دیا ہو تو پیشگی بہت معذرت۔ آج جو حال اسلام کے نام پر مسلمان شدت پسندوں نے اختیار کیا ہے ،کبھی اس سے ملتا جلتا حال یورپ کا بھی تھا۔ کوئی خواہ کتنا ہی اسلام سے تنگ ہو لیکن اسلام کے چھوڑنے پر اس کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ پورے افغانستان کی امریکہ اور نیٹو نے اینٹ سے اینٹ بجادی مگر عام افغانیوں میں اشتعال نہ پھیلا لیکن جب ایک افغانی کے مرتد ہونے کی خبر افغانستان میں پھیل گئی تو پورا ملک کئی دنوں تک احتجاجی مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ سے بند رہا تھا۔
یورپ مذہبی تعصبات کا شکار تھا تو وہ اسلام کو قبول نہیں کرسکتا تھا؟۔ جس طرح آج ہم مذہبی تعصبات کا شکار ہیں اور اپنا مذہب بدلنے کا سوچ نہیں سکتے۔ جب یہود حضرت عیسیٰ کو والدالزنا اور حضرت مریم کوزانیہ کہتے تھے اور عیسائی ان کو خدا اور خداکی بیوی کہتے تھے تو اسلام نے مشرکانہ اور گستاخانہ عقائد کی خواتین سے نکاح کی اجازت دیدی۔ اہل کتاب مسلمانوں کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کو قبول نہیں کرتے تھے۔ یورپ میںنسلی امتیاز نہ تھا۔ افریقہ میںنسلی امتیاز تھا تو وہاں اسلام کو تیزی کیساتھ قبول کیا گیا۔ امریکہ میں نسلی امتیاز کی وجہ سے کالے گوروں کے مقابلے میں اسلام قبول کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی نسلی امتیاز تھا ،یہاں زیادہ تر اچھوت، دلت اور نچلی ذات کی وجہ سے لوگوں نے اسلام کو قبول کیا ہے۔ بہت قصائی قریش بن گئے، تیلی عثمانی بن گئے ، میراثی درانی بن گئے۔آج برصغیر میں مسلمان ہونے والوں میں سے کوئی اچھوت اور دلت دکھائی نہیں دیتا۔ جب چنگیز اور ہلاکو نے خلافت عباسیہ کے مرگز بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو درندہ صفت قوم نے مفتوح قوم کے اخلاقیات سے بھی کچھ سیکھا اور اسلام قبول کرکے ہی وہ دنیا میں کامیاب خلافت عثمانیہ کے نام پر اقتدار کرسکتے تھے،اسلئے ترک قوم نے اپنے وسیع ترمفاد میں اسلام قبول کیا تھا۔ جس طرح شیعہ سنی اور دیگر مسالک کے علماء اپنی دنیا کے وسیع ترمفاد میں اپنا مذہب تبدیل کرلیتے ہیں۔ سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزار لونڈیاں تھیں جن میں ہررنگ ونسل اور عمر کی حوریں شامل تھیں۔ اگر وہ چنگیزی رہتے تو شاید اس کی قوم اتنی بڑی تعداد میں حرام سراؤں کو بھرنے کی اجازت نہ دیتے۔
پشتونوں کی یہ روایت اور فطرت رہی ہے کہ جب کوئی اس کو اپنی مدد کیلئے پکارتا ہے تو بہت فراخ دلی سے اس کی مدد کرنے کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔ جب حضرت خالدبن ولید نے پشتونوں سے مسلمانوں کیلئے کفار کیخلاف مدد مانگی تو پشتون لشکر کی شکل میں مدد کو پہنچ گئے۔ فتح کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے لیکن وہ شخصیت پرستی کا دور تھا۔ نبیۖ کی شخصیت پر ایمان لائے۔کلمہ، نماز، ختنہ ، پردہ ودیگراحکام تبلیغی جماعت نے سکھادئیے۔ تبلیغ والوں نے لطیفہ مشہور کیا کہ مولوی نے فضائل بیان کئے کہ ایک ہندو کو کلمہ پڑھانے کا یہ اجر ملے گا۔ پٹھان نے کہا کہ یہ تو بہت سستا سودا ہے اور تلوار لیکر نکلا ، راستے میں ہندو مل گیا تو اس کو زمین پر پٹخ دیا کہ خو کلمہ پڑھو۔ ہندو نے کہا کہ میں اسلام قبول کرنے کی نیت سے نکلا تھا، کلمہ پڑھادو تو میں پڑھ لوں۔ پٹھان کو خود بھی کلمہ نہیں آتا تھا تو کہا کہ جاؤ منحوس مجھ سے بھلادیا۔ پاکستان بھی کلمہ کے نام پر بناتھا مگر پٹھان کی طرح کلمہ خود بھی نہیں آتا تھا۔ کشمیر میں لڑائی کی ضرورت پڑی تو پٹھانوں نے قائداعظم کی دعوت کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھ لیا۔ جب افغانستان اور پاکستان سمیت پوری دنیا نے القاعدہ اور طالبان کو کچلنے کا فیصلہ کیا تو پٹھانوں نے ازبک، چیچن، عرب اور سب کو پناہ دینا اپنا اعزاز سمجھ لیا۔ مسلم لیگ کے سینٹر مشاہداللہ خان نے ہمارے اخبار کو بیان دیا کہ ”حلالہ اسلام میں نہیں ہے، یہ لوگ قوالی سن کر مسلمان ہوئے ہیں، ورنہ کہیں بھی حلالہ نہیں ہے”۔ باچا خان گاندھی کیساتھ متحدہ قومیت پر متفق تھے ، علامہ اقبال نے متحدہ قومیت کی وجہ سے شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی پر ابولہب کا فتویٰ لگایا تھا۔ جب باچا خان ہندوستان گئے تھے تو جنگ اخبار میں میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا ۔ولی خان نے جواب دیا کہ ” اگر ہمارے آبا واجدا د تمہارے اجداد کو مسلمان نہ کرتے تو تمہارا نام طفیل محمد کی جگہ طفیل سنگھ ہوتا۔ امید ہے کہ اس مختصر تبصرے سے خوش ہونگے ۔ محسود قوم کا خاص طور پر اور پختون قوم کا عام طور شعور اجاگر کرنا ہوگا۔صحابہ نے مشکلات برداشت کرکے دنیا کی امامت کی تو محسود قوم کا بھی انتخاب ہواہے۔
معروف شخصیت حیات پریغال نے مکین میں ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں شہید نوجوانوں کے دھرنے سے خطاب میں کہا جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ” محسود قوم نے خاص طور پر، پشتون قوم نے عام طور پر خوشی کی خبر کافی عرصہ سے نہیں سنی ہے۔ موت کی خبرہے اور لاشوں کا مسئلہ ہے، ٹارگٹ کلنگ ہے ۔ ایک خاتون کو گھر میں قتل کیا گیا تھا، ایک شخص دوبئی سے آیا تھا اس کو قتل کیا گیا، ایک شخص اپنی بیوی کے کٹے ہوئے بال لفافے میں لیکر آیا تھا۔ اب یہ دو جوانوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ انکے والدین نے محسود قوم کو اپنے بچوں کی لاشیں دیدیں لیکن لوگ اکٹھے نہیں ہوئے۔ محسود قوم کا ننگ وناموس خراب ہورہاہے، سب مشکلات میں ہیںلیکن کوئی کھیل رہے ہیں اور کوئی بازاروں اور دکانوں میں لگے ہیں۔ یہاں بہت کم لوگ آئے ہیں۔ پھر بات کرتے ہیں کہ نقیب کے والد نے بیٹے کی قیمت وصول کرلی۔ جب قوم حال تک پوچھنے کیلئے تیار نہ ہو اور طعنے دینے میں پیش پیش ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟۔
وزیرستان، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور پورے پاکستان میں محسود قوم کی بڑی تعداد ہے لیکن ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہے۔ بیس (20) سے پچیس (25) ہزار افراد قتل ہوگئے اور جس طرح مکین بازار میں پنجروں سے مرغیاں کٹ رہی ہیں اسی طرح ہم بھی مارے جائیںگے اگر متحد نہیں ہوئے۔ ہم نہیں کہتے کہ آئین کو چھوڑ کربغاوت کا قدم اُٹھاؤ لیکن اپنے قتل پر کوئی مؤثر احتجاج تو کرو۔ متحد ہوجاؤ، کب تک ہم ان مشکلات کو برداشت کرتے رہیںگے؟۔جب تک اپنے خلاف ہونے والے ظلم پر متحد نہیں ہونگے تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ایک بچے کو ماں پیٹ میں رکھ کر پیدا کرتی ہے، بچپن سے اس کو بڑی مشکلوں سے بڑا کرتی ہے۔ باپ دھوپ کے اندرمحنت مزدوری کرکے اس کو جوان کرتا ہے لیکن ان جوانوں کو ماردیا جاتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ ان جوانوں کی لاشوں کو والدین نے قوم کے حوالے کیا لیکن قوم کے افراد یہاں نہیں پہنچے۔ ہم ہر جگہ ہر کسی کے پاس ہر واقعہ پر پہنچ جاتے ہیں اسلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری طرف سے کوئی کمی کوتاہی نہیں ہے۔ جب قوم کے سپرد لاشیں کی جائیں اور قوم ننگ کا مظاہرہ نہ کرے اور پھر باتیں بنائے کہ پیسے لے لئے ہیں تو یہ بہت افسوس کی بات ہے”۔
قابلِ صد احترام حیات پریغال نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بالکل سوفیصد درست ہیں۔ محسود قوم کیساتھ جتنی زیادتی ہوئی ہے اور جتنی ہورہی ہے تو اس پر اہل وزیرستان، پشتون قوم ، پاکستان اور عالمِ انسانیت کی طرف سے بجا طور پر بہت ہمددردی کی مستحق ہے۔ریاستِ پاکستان کی طرف سے اب بھی یہ مسئلہ ہے کہ وزیرستان کے شناختی کارڈ پر ریاستی اہلکاروں کے تیور بدلتے ہیں۔
میرا تعلق وزیرستان سے تھا، کراچی سے معروف اخبار نکالتا تھا اور طالبان کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اسکے باجود حکومتی اہلکاروں نے بھی میرے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔ اپنی ذات کے اعتبار سے گلہ کرنا میرا شیوہ نہیں۔
فطرت کے مقاصد کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی
جو فقیر ہوا تلخئی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
جب مجھ جیسے معروف انسان کیساتھ ریاستی اہلکاروں کا سلوک ایسا تھا جس کو دہشتگردوں نے حملے کرکے عوام سے لاتعلق ہونے پر مجبور کیا تھا تو محسود قوم پر کتنے مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہونگے؟۔ چونکہ حیات پریغال نے قوم سے گلہ کیا ہے اسلئے کچھ گر کی باتیں بتاتا ہوں۔ ہمارے عزیز ٹانک میں رہتے ہیں ۔ ان کا جوان بیٹا ناجائز سرگرمیوں میں پڑگیا تو والدین نے خود گولی سے اُڑا دیا۔ اگر وہ اپنے ہاتھ سے اس فتنے کو ختم نہ کرتے تو ایک نہیں کئی بیٹے کھودیتے۔ محرومی کا گلہ الگ کرتے، بے عزت الگ ہوتے، عوام اور ریاست دونوں کی طرف سے نفرت کا شکار بنتے۔ یہ طعنے دینے کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ ہم پر حملہ ہوا تو اس کی پلاننگ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہمارے عزیزوں کے ہاں ہوئی۔ حملے کے باجود قریبی عزیز کے پاس دہشتگردوں کا آنا جانا تھا اور جب آئی ایس آئی نے چھاپا مارکر طالبان کی پک اپ کو اڑادیا، طالبان کے سپوٹر کو لیکر گئے تو ہم نے ان کی جان چھڑائی۔ جب تک اپنے اندر کی خرابی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیںاس وقت تک ریاست بھی ہماراپیچھا نہیں چھوڑے گی اور لوگوں کی ہمدردی اور متحد ہونے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔ ہم سے محسودقوم کو ساتھ لاکر طالبان نے معافی مانگی تھی لیکن جس دن میرا بس چلے گا تو پوری قوم سے عرض کروں گا کہ طالبان نے ہمارے ساتھ جو کیا تھا اگر اس پر ہمیں معافی دیدو تو یہ تمہاری مہربانی ہوگی اور اگر کچھ قرض سمجھتے ہو تو اس کیلئے بھی ہم تہہ دل سے تیار ہیں اسلئے کہ طالبان کی سپورٹ ہمارا مجرمانہ کردار تھا اور یہ اسلئے نہیں کہ میں گمراہ تھا کیونکہ ٹانک اور پاکستان کے مشہور علماء نے مجھے تحریراور تقریر سے سپوٹ کیا تھا تو چند بدکرداروں کا اسلام پر اجارہ نہیں تھا مگر مجھے اپنے ذاتی کردار اور غلطیوں کی وجہ سے اللہ نے مشکلات سے گزارا تو اس نے ٹھیک کیا ۔ اگر قوم نے مشکلات سے جان چھڑانی ہے تو اپنے سرنڈر اور کلنڈر دہشت گردوں کو خود سنبھالنا ہوگا۔اور اگر ہماری طرح تم لوگ بھی دہشتگردوںاور ان کی حمایت کرنے والوں سے اچھا تعلق رکھوگے تو پھر گلہ خود سے کرنا۔ غالب نے کہا کہ
غالب خوش ہوا مسجد ویراں کو دیکھ کر
کہ میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے
ہم پر جو گزری سو گزری ، قوم کازیادہ برا ہوا۔گدھا کنویں سے نہ نکالا جائے تو پانی صاف نہ ہوگا۔ پیغلے یعنی کنواری لڑکیوں کی طرح جوانوں کے شوقیہ بال ہیں، خدا کرے کہ لمبے ناخن بھی رکھیں لیکن قوم کی فکرہے تولاشوں پر گلے سے کام نہیں بنے گا بلکہ اپنی حالت بدلنی ہوگی اور محسود قوم میں یہ صلاحیت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

نماز میری نماز ہے نہ وضو کوئی وضو آتی ہے انقلاب کی مسلسل کوئی خوشبو

ایک وقت تھا جب روز روز دھماکے ہوتے تھے، کچھ مخصوص طبقے محفوظ تھے لیکن اب فسادات برپاہونے کا ایسا خدشہ ہے کہ یہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کون کس کو کیوں مار رہاہے؟، پاکستان اور پوری دنیا میں خون خرابے کے خطرات ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کرونا (COVID-19)نے غریبوں کو بے حال اور امیروں کا کاروبار تباہ کیا ، ہمیں باہر سے زیادہ اندر کے معاملات سے بڑاخطرہ ہے ، سیاسی جماعتیں سکیورٹی رسک کا کام کررہی ہیں!

قرآن کے بڑے بڑے اور واضح احکام کی طرف رجوع کرنے میں سب مسلمانوں اور عالمِ انسانیت کی بھلائی ہے لیکن مسلمان قوم اس آسان فطری راستے کی طرف نہیں دیکھ رہی ہے

نماز میری نماز ہے نہ وضو کوئی وضو
آتی ہے انقلاب کی مسلسل کوئی خوشبو
دریائے دہشت سے پیر نہ سوکھ پائے
کر گیا میرا وطن پھر کوئی لہو لہو
عالمگیر فتنوں کا ہے یہ علاج
قرآن جو کہے وہی کرو تم ہُو بہُو
دل رکھتے ہیں نہ دماغ، جگر اور نہ روح
جس میں نہ ہو انقلاب وہ سر نہیں ٹوٹے کدو
عشق مصطفی سے انکار نہیں اے سرکار
نظام مصطفی سے فرار ہے تجھے رو برو
اہل سیاست و صحافت کا یہ کردار
لڑتا ہے روز سرِ شام بدخو سے بدخو
سفیر نکالنا تھا تو نکال چکے ہوتے
خون خرابے کی فضاء بنائی کو بہ کو
جو وعدے کا پاسدار نہیں وہ دین دار نہیں
عاشقوں کے چرچے ہیں اب چار سُو
پان کھاؤ یا چقندر، اے باتوں کے سکندر!
منہ کو خون لگا، آئی درندے کی بدبو
یہ پارلیمنٹ ہے یا کوئی بکرا منڈی؟
اسپیکر، سابق وزیراعظم بھی ہیں دوبدو
امن کا دامن چھوڑا، سلامتی کا بھگوڑا
قتل و غارت کی لگ رہی ہے جستجو
کلاسرا کی کتاب ”ایک قتل جو ہو نہ سکا”
دیکھ لو مگرمچھ کے چند آنسو
سلمان تاثیر قتل ہوا شہباز تاثیر اغوائ
بکتا رہا جوں مارنے کا بازار میں شیمپو
شرم ہے نہ غیرت، حیاء نہ انسانیت
گونج رہی ہے بس، بھانڈوں کی گفتگو
مذہبی ہو یا سیاسی، فوجی ہو یا صحافی
قریہ قریہ چپہ چپہ نکٹو نکٹو
گیدڑ بھبکی مارے لومڑی کا بچہ
شیرو ویرو کوئی نہیں یہ خرو گیدڑو
ناموس رسالت کے نام پر بھی سیاست؟
بھونکو نہیں، کرو ڈھینچو ڈھینچو
عتیق کس پر کرے عوام بھروسہ؟
بس نام باقی رہ گیا اللہ ھو اللہ ھو
پاکستان اوردنیاکی یہ فضاء نہ بن جائے کہ مذہبی، نسلی، لسانی، طبقاتی، نظریاتی بنیاد پر عوام کو پتہ نہ چلے کہ کون کس کو کیوں مار رہا ہے؟۔ پختونخواہ بلوچستان،کراچی کے بعد پنجاب کو خطرات لاحق ہیں۔ COVID-19 نے دنیا کا کاروبار تباہ کردیا ۔ غربت وافلاس اور نفرتوں کی ہرجانب دھوم مچی ہے۔ جسکا جتنا بس چلتا ہے وہ اپنی محرومی اور جہالت کا اتنا ہی دوسروں سے انتقام لیتا ہے۔شرافت کی زباں صرف مجبوری کی حد تک ہے اور تھوڑا بہت موقع ملتا ہے تو فرعون، ہامان اور قارون کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔
احتجاج کرنا مغربی طرز عمل ہے اور احتجاج اسی وقت کیا جاتا ہے جب عوام کے جذبات مشتعل ہوں۔ اوریا مقبول جان نے فرانس کے سفیر کو نکالنے کیلئے تین ماہ کے بعد پر معاملہ ڈال کرثابت کرنے کی کوشش شروع کردی کہ یہ حکومت اور تحریک لبیک کا ذاتی معاملہ ہے ،پاکستان کی عوام اور دوسری پارٹیوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں پھر تین ماہ بعد دو ماہ مزید وقت دیدیا۔ پانچ ماہ بعد اگر فرانس کا سفیر نکال بھی دیا جاتا تو یہ وہ تھپڑ ہوتا جو لڑائی ختم ہونے کے بعد یاد آتا ہے۔
پنجاب پولیس اور لبیک کے کارکنوں کا خون بہانے کے بعد یہ قرار داد پیش کرنی تھی تو لبیک کے قائد ین کا مواخذہ کرنا چاہیے۔ عشق رسولۖ کسی نے اپنی سیاسی مقبولیت کیلئے استعمال کرکے مخلص کارکنوں کے خون سے بے وفائی کا مظاہرہ کیا ہو تو یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ جو یہ کہتا تھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالے بغیر ہم لاشیں دفن نہیں کرینگے اس نے اس حقیر سی قرارداد پرمعاملہ طے کرلیا؟۔
اگر کارکنوں کو فرانس کے سفیر کو نکالنے سے کام نہیں تھا بلکہ اپنے قائدین کا حکم ماننا تھا تو پھر یہ عشق رسول نہیں ان قائدین سے وفاداری ہے جنہوں نے تحریک لبیک یارسول اللہ سے اپنا نام بدل کر تحریک لبیک پاکستان رکھ دیا ہے۔
جب کئی دنوں تک فتنہ وفساد کا بازار گرم تھا تو اوریامقبول جان بلے کی طرح مگرچوہے کے بل میں دودھ پی کے سویا رہا۔ پھر جب قتل وغارت کے بعد اس تحریک پر پابندی لگ گئی تو سوشل میڈیا پر بیان داغ دیا کہ ”پاکستان کو سازش کیلئے بنایا گیا تھا تاکہ سیکولر فوج اور سول بیروکریسی اسلام کے نام پر پہلی مرتبہ بننے والی تحریک لبیک پر پابندی لگائے۔ طالبان کو عالمی قوتوں نے ختم کردیا”۔ اوریا مقبول جان کو سو چوہے کھا کر حاجی بننا تھا؟۔ نوکری چھوڑکر طالبان کے پاس جاتے۔طالبان کے جہاداور تحریک لبیک کے عشق پر مفت میں پھوسیاں مارکر کریڈٹ لیتاہے؟۔ بیشک طالبان نے امریکہ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور امریکہ سے دوستی پر پاکستان اور افغانستان میں جو جہاد یا فساد کرسکتے تھے وہ کیا لیکن تم جیسے لوگوں نے کیا کیا ؟۔ باتوں کے سکندر کھانے کے چقندر تمہیں کیا پتہ ہے کہ پختون قوم ، پاک فوج، افغانستان اور پاکستان کے لوگوں نے اس کی کیا قیمت چکائی ہے؟۔ نوازشریف اور عمران خان بھی طالبان طالبان کرتے تھے لیکن انکے اصل چہرے بے نقاب ہوگئے۔ کٹھ پتلی کی آذان مرغی کی آذان ہے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ جب مرغی آذان دے تو اس کو ذبح کردو۔ مولانا فضل الرحمن اورمسلم لیگ ن نے جس بیانیہ کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم (PDM) سے نکالا تھا وہ بیانیہ نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان بھی کھلے عام موجود تھا۔
مریم نواز نے کھل کر کہا کہ عمران خان کو ہم مدت پوری کرنے دینگے۔ جس کے جواب میں پیپلزپارٹی کے چوہدری منظور نے کہا ہے کہ ” اب ہمیں سمجھ میں بات آئی ہے کہ پی ڈی ایم (PDM) کو کیوں توڑا تھا؟ لیکن ن لیگ یہ واضح کرے کہ جب حکومت کو نہیں گرانا تھا تو لانگ مارچ کا ڈرامہ کیوں کیا ؟”۔
پہلے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز ٹو چین رہتے تھے لیکن اب فاصلہ نظر آتا ہے اسلئے کہ مریم بی بی حمزہ شہباز کیساتھ ٹو چین ہوگئی ۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف وہ بیانیہ کہاں گیا جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو نکال باہر کرنے کا دعویٰ کیا تھا؟۔
شہباز شریف نے کہا کہ ”سترسالہ بوڑھا ہوں۔ضمانت پر رہا، علاج کیلئے بیرون ملک جانے دیا جائے ،پہلے بھی واپس آگیا” تو یہ نوازشریف کے منہ پر زوردار طمانچہ تھا کہ اسٹیبلیشمنٹ کی گدھاگاڑی میں دونوں کھوتوں کی طرح زندگی بھر جتے رہے ہیں۔ جیو ٹی وی کی رپورٹ کارڈ میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟۔ شاہ زیب خانزادہ نے سوالات اٹھانے کی زحمت کیوں گوارا نہیں کی؟۔
حکومت و تحریک لبیک نے اپنی دُموں کو باندھ کر زوردارپدو مارا، تو فضاء میں بدبو پھیل گئی۔ ن لیگ ، جے یو آئی اور پیپلزپارٹی لاوڈ اسپیکر لگاکر اس کی گونج سے دنیا کو آگاہ کررہی ہیں لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر واقعی اتنے عاشق رسول ہیں اور ناموس رسالت پر ایمان ہے تو ن لیگ دور میں ختم نبوت پر کیوں حملہ کیا؟۔ جب فرانس نے گستاخی کرلی تو تم نے اپنا احتجاج اس وقت کیوں تحریک لبیک کیساتھ شامل نہیں کیا؟۔ حکومت کو شکست دینے کیلئے جو اندازاپنایا جا رہا ہے ،اس سے ملک وقوم میں پھر قتل وغارتگری کی فضا ء ہموار ہورہی ہے۔
تحریک لبیک کے قائد حافظ سعد رضوی کو گرفتار کرکے حکومت نے اشتعال پھیلایا لیکن پنجاب پولیس کیساتھ جو تحریک لبیک کے کارکنوں نے کیا وہ انتہائی قابلِ مذمت تھا اور اگر تھانہ پر حملہ کرکے پولیس ورینجرز کے اغواء پر بھی راست اقدام نہ اٹھایا جاتا تو بھیگی بلی بننے والی تحریک لبیک کی شوریٰ اپنی حدوں کوپار کر دیتی۔ احتجاج نبیۖ کی سنت یا قرآن کا حکم نہیں ۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگاتو رئیس المنافقین عبدللہ بن ابی کو شہر بدر نہیں کیا گیا۔ بیشک خون کی ہولی کھیلنے کا سارا کریڈٹ نااہل اور جاہل حکمرانوں اور وزیروں کے سر ہی جاتا ہے لیکن اتنا پتہ چل گیاہے کہ جان لڑانے والے جان کی امان پاکر کیسے بیٹھ گئے ہیں؟۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

کالعدم تحریک لبیک کا دھرنا ختم!۔۔۔۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو نے پنجابی پختون فسادات کیلئے لاشیں گرائیں تھیں،ماڈل ٹاؤن لاہورنوازشریف اور شہباز شریف نے اپنے اقتدار کیلئے لاشیں گرائیں۔طاہر القادری اور عمران خان نے پولیس افسر کی پٹائی، پی ٹی وی (PTV) پر قبضہ اورپارلیمنٹ پر حملہ کیا ، تحریک لبیک و عمران اتحادی تھے مگر دشمن بن گئے۔
فرانس کے سفیر کو نکالنے کیلئے 3ماہ کا معاہدہ دلّوں نے کیاپھر2ماہ کا معاہدہ دلّوں کے دلّوں نے کیا۔امجدخان نیازی نے پارلیمنٹ میں جو قرار داد پیش کی وہ جنرل نیازی کا بنگلہ دیش میں بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے اور مولانا عبدالستار نیازی کی تحریک ختم نبوت میں داڑھی منڈانے کی تضحیک سے بھی زیادہ جمہوری پارلیمنٹ کا مضحکہ خیز منظر تھا۔ مذہبی اور فوجی حلقے کو ہمیشہ تضحیک وتوہین ، طعن وتشنیع اور تنقید وتردید کا نشانہ بنایا گیا۔ اب پارلیمنٹ میں حکومت واپوزیشن کے اس روئیے نے جمہوریت کی دُم کے نیچے سے گوبرکو فوارے کی طرح پوری قوم اور دنیا کے سامنے خارج کرکے رکھ دیا، جو انقلاب کے بغیر صاف نہ ہوگا۔
سیاست میںمنافقت کی انتہاء اور مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا اس سے زیادہ بھیانک منظر شایدہی تاریخ نے کبھی دیکھا ہو۔ جے یو آئی اور ن لیگ اس بات پر سیخ پا تھیں کہ تحریک لبیک سے معاہدہ کیوں ہوگیا؟۔ حالانکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور مولانا اسعد محمود کو اس بات کا خیرمقدم کرنا چاہیے تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک کا معاہدہ ہوگیا کہ ” فرانس کے سفیر کو نکالنے پر بحث کی جائے”۔ اور تحریک لبیک نے مان لیا کہ یہ قرار داد آزاد رکن کی حیثیت سے پیش ہوگی۔ میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی؟۔ مظاہرین پر امن منتشر ہوگئے تو ن لیگ اور جے یو آئی کو کیا تکلیف ہے؟۔ منافق صحافیوں نے مؤکلوں کی فیس کا حق نمک ادا کیا اور یہ نہیں کہا کہ” فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطالبہ کرنے والے پر امن طور پر منتشر ہوگئے تو ہمیں کیا پریشانی ہے؟”۔جب جے یو آئی اور ن لیگ نے بڑاپریشربنالیا توپیپلزپارٹی بھی کود گئی مگریہ نہ دیکھا کہ اس سیاست کا انجام آخر کار وہ قتل وغارت ہوگی جس کا تصوربھی نہیں ہوسکتا۔
قتل وغارت کے بعد ریت کی ناک بنائی گئی۔ دونوں سرکے بل مرغے بن کر دُم سے دُم باندھ کرگو خارج کرگئے۔ اگر ن لیگ یا جے یو آئی کا مسئلہ ہوتا تو وہ پہلے فریق بن جاتے۔ پرائے گو برپر پدو مارکر مزید گوبر خارج کیا۔جب پولیس اور سادہ لوح کارکنوں کا خون بہایا گیا تو جے یوآئی اور ن لیگ جنازوں میں شرکت کرتے مگر پارلیمنٹ میںفساد برپا کرنے کی غرض سے مشاورت کے بعد پہنچے۔ اسپیکر اسد قیصر کا اپوزیشن کیساتھ ایسا رویہ ہوتا ہے کہ اگر پٹائی بھی لگے تو شاید لوگوں کو تعجب نہ ہوگا ، مہذب ممالک میں ایسی فضاء بنتی ہے لیکن شاہد خاقان عباسی کا اس مرتبہ اسپیکر اسد قیصر کو جوتا مارنے کی دھمکی دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر اسد قیصر غیرتمند پختون ہوتا تو کم ازکم مائک اسکے سر پر مارتا کہ یہ کیا بکواس کرتے ہو؟۔ یا اسمبلی سے باہر نکالتا اور نہیں تو اسپیکر کی کرسی اور اسمبلی کو لات مار کر چھوڑ دیتا کہ جہاں عزت نہیں وہاں اس کرسی پر وزیرداخلہ شیخ رشید کی زبان میں لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں ، لعنت بھیجتا ہوں۔
پیپلزپارٹی ، ن لیگ ، جے یو آئی نے اظہار یکجہتی کیااور لبیک کی شوریٰ نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ تحریک لبیک کے رہنماکارکنوں کے ہاتھوں مار کھائیں گے۔ قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیرنکالنے کا پلے کارڈ مسلم لیگ ن نے اٹھایا اور نعرہ لگایا کہ تاجدار ختم نبوت زندہ باد ۔ حکومت نے وعدہ خلافی کی، پنجاب پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنوں کا خون بہانے کے بعد پسپائی اختیار کی گئی تو پنجاب میں بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوسکتاتھا ۔ ن لیگ کو انتقام لینے کا موقع ہاتھ آگیا۔ دلیل کی بنیاد پر عوام کو قائل نہ کیا تو مذہبی سیلاب بہت کچھ بہا سکتا ہے۔ ن لیگ کی حکومت آئی تو لیڈر نشانہ بنیںگے کہ تمہاراضمیر جاگ گیا؟ اوریا مقبول جان نے معاہدہ کرواکر کہا کہ” پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ایمان کا پتہ چل جائیگا”۔ حکومت نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مخالفت کے باوجود فوج کے تحفظ کا بل پاس کیا تو کیا فرانس کا سفیر نہیں نکال سکتی تھی؟۔عوام کا جذبہ ٹھنڈا ہونے تک معاہدہ کیوں کیا؟ دوسروں کو دلّے کہنے والوں نے دلّا گیری کی کیا کسر باقی چھوڑی؟۔ ن لیگ کے ایم این اے (MNA) پرویز کو ڈاکٹر نعیم باجوہ نے غلطی سے امتحان میں دوسرا بندہ بٹھانے پر پکڑا تو اسکا عابد شیرعلی نے کیا حشر کیا؟۔سوچئے!

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

اگر دنیا دیکھے کہ سورۂ نور میں حضرت عائشہ پر بہتان کی وہی سزا ہے جو عام خاتون کی ہے تو گنبد خضراء کو سجدہ اسلئے نہیں کرینگے کہ نبیۖ نے فرمایا” اے اللہ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا” عمران خان بھی پاکپتن کی طرح کلٹی ہوجاتا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن کے عادلانہ نظام کیلئے اقتدار میں آنا ضروری نہیں ہے ، مولانا عبدالشکور بیٹنی قومی اسمبلی میں کسی من گھرٹ یا ضعیف حدیث کو قرآن کہنے کے بجائے سورۂ نور کی آیات پیش کریں

نبیۖ نے نبوت کے دعویدار گستاخ ابن صائد دجال کے قتل کی اجازت نہ دی جبکہ یہاں اسلام کو جاہل بلیک میلنگ کیلئے استعمال کرتے ہیںاورارباب اختیاربھی پشت پناہی کرتے ہیں

علامہ اقبال نے اپناکہا تھاکہ ” مجموعۂ اضداد ہوں اقبال نہیںہوں”۔ ہمارا حال بھی ” مجموعۂ اضداد” سے مختلف نہیں ۔” فرقہ بندی ہے اور کئی ذاتیں ہیں”۔ سنجیدگی سے مسائل کا حل نہ نکالا تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ جس قائدا عظم کے پاکستان کی بات وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف و جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالشکور بیٹنی کے مقابلے میں کی تو اس کا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی ، وزیر قانون ہندو، پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے جو اپنے وقت پر ریٹائرڈ ہوگئے ، پہلا مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب خان تھا جس نے صدر پاکستان سکندر مرزا سے اقتدار چھین کر پاکستان پر قبضہ کیا، مادرملت فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہراکر غدار قرار دیا اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو وزیرخارجہ بناکر سیاست کی پہلی نئی جنم بھومی کا آغاز کیا اور پھرجنرل یحییٰ خان قزلباش جیسا عیاش آرمی چیف آیا۔ قائداعظم کا پاکستان دولخت ہوا، حقیقی جمہوریت میں شیخ مجیب نے اقتدار سنبھالنا تھا لیکن بھٹو نے ادھر ہم اُدھر تم سے یہ پاکستان دولخت کردیا اور فوج نے ہتھیار ڈال کر مشرقی پاکستان بھارت کے حوالہ کردیا۔ پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جمہوری اسلامی آئین (1973) ء میں بن گیا لیکن بھٹو مارشل لاء کا پالتو تھا اسلئے بدترین قسم کی ڈکٹیٹر شپ کی ذہنیت بھی رکھتا تھا۔ لاڑکانہ میں اپنے خلاف الیکشن لڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی، حالانکہ اس کی جیت یقینی تھی، کراچی سے جماعت اسلامی کے رہنما نے الیکشن کیلئے کاغذات جمع کرانے چاہے تو کمشنر کے ذریعے اغواء کیا۔ جمہوری قیادت کو جیل میں ڈال کر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دیدیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں نے جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء وقتی طور پر قبول کیا مگر سیاسی جماعتوں نے ایم آر ڈی (MRD)کے نام پر جدوجہد شروع کی ۔ نوازشریف کو تحریک استقلال سے اٹھاکر ضیاء الحق نے گودی بچہ ، الطاف بھائی کو قوم پرست بچہ، جماعت اسلامی کو جہادی بچہ بنایا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر جنرل ضیاء کے باقیات کو (1990) میں حکومت دلائی گئی تو جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمدتک سے معاملہ خفیہ رہا۔ (93) الیکشن میںجماعت اسلامی نے ”قاضی آرہا ہے” کی مہم چلائی مگربینظیراقتدار میں آگئی اور مولانا فضل الرحمن اتحادی تھے۔ نواز شریف پرلندن فلیٹ کا مقدمہ بن گیا۔ مرتضیٰ بھٹو کو مارنے کے بعد بینظیر کی حکومت ختم کی گئی اورنوازشریف کو اقتدار دیا گیا توسیاسی قائدین کو اسمبلی سے باہر رکھا گیا۔ نوازشریف نے فوج کے آرمی چیف پرویز مشرف پر پیٹھ پیچھے وار کیا لیکن فوج نے اس کو ناکام بناکر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل ایوب کی ڈکٹیٹر شپ سے ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء کی ڈکٹیٹر شپ سے نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ سے عمران خان پروان چڑھا ۔ جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کی حمایت عمران خان کررہاتھا تو تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان مخالفت کررہا تھا۔ پرویزمشرف کے دور میں متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ اقتدار اور اپوزیشن میں تھے۔ پھر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں میں مولانا فضل الرحمن بھی شریکِ اقتدار تھا۔ نوازشریف دور میں ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو قومی اسمبلی نے بل پاس کیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مجھے خوف تھا کہ کہیں میری صدارت میں بل سینیٹ سے پاس نہ ہوجائے۔ چیئرمین سینیٹ کی غیر حاضری میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی حیثیت سے مجھے مرزائی نواز بل پر دستخط کرنے پڑتے، یہ شکر ہے کہ بل پاس نہیں ہوا۔ پھر حکومت نے قومی اسمبلی و سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں بل پیش کیا تو شیخ رشید نے جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کو پکارا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو تم جواب کیا دوگے؟۔ شیخ رشید نے قائداعظم کا نام نہیں لیا بلکہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہی نے ختم نبوت کیلئے قربانی دی تھی۔ پھر تحریک لبیک والوں نے فیض آباد چوک پر قربانی دی توعمران خان نے بھی ان کا ساتھ دیا، مسلم لیگ ن کو اپنے ذمہ دار وزیر کو فارغ کرنا پڑگیاتھا۔
آئین پاکستان میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے لیکن قرآن کے جو احکام نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پوری دنیا کو بھی اندھیر نگری سے نکال سکتے ہیں تو ان پر کوئی سیاسی ، مذہبی جماعت یاشخصیت اور صحافی بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے شاگرد مفتی زبیر نے بول نیوز پر کہا کہ اسلام نے تمام انبیاء کی گستاخی پر سزائے موت رکھی، حالانکہ یہ سراسر جھوٹ اور جہالت ہے۔ یہود عیسیٰ علیہ السلام پرولد الزنا اور حضرت مریم پرزنا کا بہتان لگاتے تھے ۔جب گستاخانہ اعتقاد رکھنے والی یہودن سے اسلام نے نکاح کی اجازت دیدی تو قتل وغارت ، تشدد اور شدت پسندی کے خاتمے کا اصل سبب دنیا میں اسلام بنا تھا۔ حضرت عائشہ پر بہتان لگا۔ حضرت حسانبن ثابت، حضرت حمنا بنت جحش اور حضرت مسطح شامل تھے تو ان کو قتل کا حکم نہیں دیا بلکہ جو سزا ایک عام خاتون پر بہتان لگانے کی اسّی (80) کوڑے ہیں وہی سزا ان کیلئے بھی تھی۔ گستاخ کفار کوپتہ چلے تو گنبد خضراء کو سجدہ کرینگے لیکن ہمارے نبیۖ نے فرمایا کہ ” اے اللہ ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہیں بنانا”۔یہ دعا نہ ہوتی تو وزیراعظم عمران خان بشریٰ بی بی کی ہدایت پربابافریدپاکپتن کی راہداری کی طرح گنبدخضراء پر کلٹی ہوسکتاتھا۔
ڈرامہ باز وںکی بیگمات پر زنا کا بہتان لگے تو قتل یا اربوں کی ہتکِ عزت کا دعویٰ کرینگے مگر نبیۖ کی توہین پر جھوٹ بولیں گے کہ ناموس پرہم قربان لیکن فرانس کا سفیر نہیں نکال سکتے۔ حکومت وریاست اور سیاسی ومذہبی رہنماؤں کو بروقت سچ بولنے کی ضرورت ہے ورنہ فتنہ وفساد سے سب تباہ ہوسکتے ہیں۔ آج عاشق رسول اپنے قیدی چھڑانے کی فکر میں ہیں اور سیاستدان حالات سے فائدہ اٹھاکر عشق رسول کے جذبات کا دورہ پڑنے کی ڈرامہ بازی کررہے ہیں۔
جنرل باجوہ کی صحافیوں سے ملاقات مسائل کا حل نہیں۔ صحافیوں نے جنکا کھانا ہے انکا گن گانا ہے۔ ریاست مدینہ کیلئے سورۂ نور کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ اندھیرے کو لاٹھی گولی کی سرکار نہیں روشنی ہی بھگاسکتی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ستائیس (27) رمضان کوسورۂ نور قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی۔

NAWISHTA E DIWAR May Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat