پوسٹ تلاش کریں

یوم خواتین کے موقع پر کچھ لڑکیوں کا بیہودہ پوسٹرز اٹھانا لمحہ فکریہ ہے۔ ایڈیٹر اجمل ملک

جہاں بغیر ماں باپ کے جھولے والیاں بچیاں جوان ہورہی ہیں ،وہ اپنا رنگ، ڈھنگ اور اپنی محرومیوں کا انتقام بھی معاشرے سے ضرور لیں گی۔
ایران میں متعہ کے نام پر قحبہ خانے ہیں ، سعودی عرب میں مسیار کے نام پرعورت کی عزت افزائی ہورہی ہے، دبئی میں جسم فروشی کا کھلے عام کاروبار ہے
پاکستان میں بااثر طبقات ،ریاست کے اہلکاراورحکومت کے نمائندے مکروہ دھندوں سے غریب بچیوں کی جسم فروشی میں حصہ وصول کرتے ہیں
مدارس میں لواطت اور حلالے کا کاروبار چل رہاہو تو کیا ہمارے اس معاشرے کو دہشت گردوں کے ذریعے سے سیدھا کرنے کی کوشش کی جائے گی؟۔
موجودہ دور کی جنسی بے راہ روی نے سابقہ ادوار کی رکھیلوں اور داشتاؤں کی داستانوں کو بھی مات کردیا ہے ،ہم پر حملہ آور مغربی تہذیب کا راستہ قرآن کا نظام ہی روک سکتاہے
اگر لونڈی بنانے اور حلالے کی لعنت دیکھی جائے تو مغربی تہذیب انسانیت کیلئے غنیمت معلوم ہوگی ۔ مسلمانوں کو اپنا درست لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ،ورنہ مسلمان بہت مارا جائیگا
نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر ملک محمد اجمل نے کہاکہ لمحہ فکریہ ہے کہ یوم خواتین پر لڑکیوں نے بیہودہ پوسٹر سے طوفان برپا کیا۔جہاں بغیر ماں باپ جھولے والی بچیاں جوان ہورہی ہیں توپھریہ مناظرہونگے۔ ایران میں متعہ کی ہیرہ منڈی، سعودیہ کا مسیاراور خواتین کا استحصال، دبئی میں کھلے عام دھندہ، پاکستانی بااثر طبقہ اپناحصہ وصول کرتاہے۔ بچیاں اغواء ہوجاتی ہیں۔ مدارس میں لواطت اورحلالہ کی باتیں بھی رکھیلوں اور داشتاؤں سے بدتر ہیں۔ لونڈی بنانا خطرناک ہوگا۔ جنگ جمل میں ساتھیوں نے لونڈی بنانے کاکہا توعلی ؓ نے فرمایا: ام المؤمنین ؓ لونڈی ہونگی؟۔ یہ خوارج تھے۔ امریکی سازش داعش خلافت کے ذریعے مسلمات کو لونڈی بنانے سے پہلے پاکستان، افغانستان، سعودیہ، ایران، ترکی وغیرہ نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو مسلمان کوبہت ذلیل کیا جائیگا۔ مولانا عبیداللہ سندھی ؒ نے لکھا: ’’غیرقوم کی خواتین لونڈیاں ہوتی تھیں‘‘۔ پاکستان میں بنگالی خواتین کی حیثیت نہیں تھی،سعودیہ میں غیرملکی خادمہ لونڈی ہوتی ہے۔ قرآن و سنت میں نکاح و ایگریمنٹ کا قانون ہے۔اسلام میں نکاح کا قانون قوموں ومذاہب کیمطابق ہے۔مولانا سندھی ؒ نے لکھا: ’’قرآن کا پہلا مخاطب مسلم، دوسرا الناس۔ نشاۃ اول میں عرب خوبیوں کو برقرار، خامیوں کا خاتمہ ہوا۔نشاۃ ثانیہ میں عالم انسانیت کی خوبیوں کو قبول اور خامیوں کا خاتمہ کیا جائیگا‘‘۔ غلام رسول سعیدی ؒ نے لکھا’’ غلام ولونڈی بنانا برائی تھی اب اجازت نہیں‘‘۔ ماملکت ایمانکم کا اطلاق متعہ، مسیار، رکھیل، داشتہ اورگرل فرینڈ ز کی قانونی شکل پر ہوگا لیکن غلام و لونڈی بنانے کو قرآن نے آل فرعون کا عمل بتایا۔ قبلہ ایاز صاحب کی سرپرستی میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش پر عالم اسلام کے تمام مسلمان متفق ہونگے۔

آخر ایسا کیوں نہیں کہ ہندو لڑکے سے اسلام قبول کرواکے پیروں نے اپنی بیٹیوں کی اس سے شادی کرادی ہو؟

اسوقت سندھ کے اندر،اس سے پہلے کئی ہندو بچیوں کو اغواء کرکے زبردستی اسلام قبول کرواکے انکی شادیاں مسلمان بچوں سے کیں
جو معصوم بچی لیڈر منتخب ، ووٹ نہیں کرسکتی ، شناختی کارڈ ، اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکتی اسکا مذہب بدلنا،شادی کرنا کمیونٹی چھوڑنا کیسے تسلیم
ہمارا مذہب اسلام اسکی اجازت نہیں دیتا ہمارے مسلمان بھائیوں بہنوں کو سوچنا چاہیے کہ انکے مذہب کی تضحیک اڑائی جارہی ہے
یہ مسئلہ مسلمانوں کا ہے انکے مذہب کا مذاق اڑایا جارہا ہے دوسرا ان سندھیوں کا ہے جن کی قوم پر بن آئی ہے غیر ت کا مسئلہ ہے۔
کراچی (سوشل میڈیا ) سندھ کی ہدیٰ بھرگری بلوچ نے ویڈیو پیغام میں کہا :اس وقت سندھ کے اندر اور اس سے پہلے کئی بار ہندو بچیوں کو اغوا کرکے زبردستی اسلام قبول کرواکے ان کی شادیاں مسلمان بچوں کیساتھ کی گئیں۔ سندھ کی عوام، سندھ کی قوم کافی عرصے سے خود کو ایک پروگریسو، سیکولر اور صوفی کہلاتی ہے، اس طرح کی پریکٹسز سندھ کے وقار کو مجروح کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کررہی ہیں، میرے خیال سے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اب تک اکیسویں صدی کے اندر بھی عورتوں کو as a collateral damage یا as a commodity (اشیاء) Trade کرتے ہیں یا بطور instrument کے استعمال کرتے ہیں کہ مذہب کی بات آتی ہے ،فرقہ واریت کے اندر ہم دیکھتے ہیں کہ victim ہمیشہ عورت کو بنایا جاتا ہے ، نشانہ ہمیشہ عورت کو ہی بنایا جاتا ہے۔ اس وقت اگر ہم اس پورے مسئلے کو دیکھیں تو ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ جو پیر ہے وہ کافی عرصہ سے اس طرح کی حرکت میں ملوث رہا ہے۔ یہ کئی بچیوں کیساتھ اس طرح کی حرکتیں کرچکا ہے لیکن افسوس کہ پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ جس نے کوشش بھی کی تھی کہforced conversion (جبری تبادلوں)کیخلاف قانون پاس کروا سکے اور وہ قانون اسلئے مسترد ہوگیا کیونکہ مُلوں کے کچھ عناصر کو یہ بات گوارہ نہ تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہپاکستان کا قانون ہے، مسلمان دوسرے مذہب میں کنورٹ نہیں ہوسکتا تو یہی قانون آخر ہندوؤں کیلئے کیوں نہیں ؟ دوسری بات کہ اگر کسی ہندو کا مسلمان ہونا consider ہو تو اسکی کوئی عمر متعین کیوں نہیں کی؟ جو معصوم بچی اپنا لیڈر منتخب نہیں کرسکتی ووٹ نہیں کرسکتی، شناختی کارڈ نہیں بنوا سکتی 18سال سے کم، بینک کا اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکتی، زندگی کے چھوٹے سے فیصلے نہیں لے سکتی، اسکا مذہب بدلنے کا فیصلہ اسکا 18سال سے کم مسلمان سے شادی کا فیصلہ (decision)، اسکا گھر اپنی کمیونٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ ، اسکا اپنی زندگی کے بارے میں self determination ، یہ سارے decision (فیصلے) آخر کس طرح سے صحیح مانے جارہے ہیں اور کس بنیاد پر انہیں justify کرکے پریس کانفرنس بلائی جارہی ہے؟۔ تیسری بات کہ اگر قانون کے تحت 18سال اور 17سال سے کم عمر کی بچیوں کی شادی نہیں ہوسکتی تو کس قانون کے تحت ان دونوں بچیوں کی شادیاں کی گئیں اور شادیاں کروانے والوں کیخلاف جو کاروائی ہونی چاہئے تھی وہ اب تک کیوں نہیں ہوئی؟۔ چوتھی بات یہ کہ آخر یہ مذہب قبول ہندو لڑکے کیوں نہیں کررہے؟۔ آخر یہ بچیوں ہی کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟۔ آخر ایسا کیوں نہیں ہوا کہ کسی گاؤں سے اٹھ کر کسی دس پندرہ سال کے معصوم بچے کسی لڑکے نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ مجھے اسلام قبول کرنا ہے اور ان پیروں نے اسے اسلام قبول کروا کر اپنی ہی بیٹیوں کی شادی اسکے ساتھ کروادی ہو، آخر ایسا کیوں نہیں ہوا؟۔ اگر کسی ہندو لڑکے کو اسلام قبول کرنے کے بعد کوئی مسلمان اپنی بیٹی نہیں دیتا لیکن وہیں پر یہ بات بالکل ٹھیک سمجھتا ہے کہ ایک ہندو بچی کو مسلمان کروا کر اپنے بیٹوں کیساتھ اس کی شادی کروادی جائے۔ یہی پر ہی ان مُلوں کی، ان پیروں کی، ان فقیروں کی سب سے بڑی جو مکاری ہے وہ ہمارے سامنے آجاتی ہے انکا مقصد مذہب کی خدمت کرنا نہیں ۔ ہمارا مذہب اسلام اس کی اجازت ہی نہیں دیتا، میں تو کہتی ہوں ہمارے مسلمان بھائی اور بہنوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی مذہب کی کس طرح کی تضحیک اڑائی جارہی ہے ان کو چاہیے کہ اسکے خلاف بات کریں۔ آپ کو اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی کو اغوا کریں، اغوا کے بعد زبردستی مذہب قبول کروائیں۔ وہ بچی پریس کانفرنس کے دوران رو پڑی ہے۔ یہ کونسی پسند کی شادی ہے یا یہ پسند آخر consider بھی کیسے ہوگی جس کی شادی کی ابھی عمر نہیں ۔ میرے خیال سے سب سے بڑا کردار ہمارے tokan representative (ٹوکن کی نمائندگی ) کو ادا کرنا چاہیے جو سینٹ میں ہیں۔ جن میں کرشنا کوہلی شامل ہیں، جن کو پیپلز پارٹی آگے لیکر آئی ہم نے ان کی بڑی حوصلہ افزائی کی کہ وہscheduled caste سے خاتون کو لے کر آئے اور سینٹ میں جگہ دی، پھر سینٹ کا ایک سیشن چیئر بھی کروایا بہت شکریہ بہت اچھی بات تھی لیکن یہ چھوٹے چھوٹے سے ٹوکن representative اور ٹوکن participations جو یہ کروارہے ہیں جو ٹوکن لیڈر شپ یہ دکھارہے ہیں اس سے سندھی اور ہندو کمیونٹی کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ دوسری بات سندھی اور ہندو کمیونٹی یہ ایک کمیونٹی ہے یہ ایک قوم ہے اور اب یہ مسئلہ ہمارے قومی شعور کا اور قومی شناخت کا ہوگیا ہے کہ کیا اب ہم تیار ہیں کہ ہم اپنے سیکولر ہونے کا پروگریسو ہونے کا باشعور ہونے کا اور صوفی ہونے کا جو اسٹیٹس ہے اب ہم وہ گنوائیں؟ یا ہم تیار ہیں کہ سندھ کو ان مُلاؤں اور پیروں کے ہاتھوں میں دیں جنہیں کئی سال پہلے ہمارے صوفی، ہمارے شاعر، ہمارے فلسفی رد کرچکے ہیں۔ کیا ہم تیار ہیں اس دن کیلئے کہ جب اس دھرتی سے شاہ، سچل اور اس طرح کے جو صوفی ہیں جو یہاں سے پیدا ہوئے تھے وہاں سے اب اس طرح کے مُلا، دہشتگرد اور غنڈے پیدا ہونگے؟۔ خدارا! ہمیں چاہئے کہ پیپلز پارٹی اور ہماری سندھ گورنمنٹ سے یہ کہیں اور یہ درخواست کریں اس مُلائیت کے پیچھے جو سیاست کی دکان چلتی آرہی ہے اسے بند کریں اوران لوگوں کیلئے آواز اٹھائیں جن کی نمائندگی کا پارلیمنٹ، سینٹ اور اپنی اسمبلی میں ہے۔ان ہندو لیڈرز جو پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی ٹکٹ پر اس وقت اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں انہیں چاہئیے کہ اگر اس مسئلے کے اوپر ان بچیوں کی بازیابی کے اوپر کوئی اس طرح کا قانون نہیں پیش کرتے تو میرے خیال سے انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔ وہ بری طرح سے فیل ہیں اپنے لوگوں کی نمائندگی کرنے میں۔ میرے خیال سے یہ مسئلہ ہندو کمیونٹی کا نہیں، مسلمانوں کا ہے کیونکہ انکے مذہب کو بہت ہی برے طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اسکا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ دوسرا ان سندھیوں کا ہے جن کی قوم کے اوپر بن آئی ہے ان کی قومی شناخت خطرے میں ہے۔ میرے خیال سے پیپلز پارٹی کو اسکے لحاظ سے کچھ قوانین مرتب کرنے چاہئیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے ایک پریشر گروپ کی طرح ان کو پش کریں اور ان کی اس حرکت کیخلاف جتنا بھی ہم بات کرسکتے ہیں ہم کریں اور ہم اسے ایک ہندو کمیونٹی کا مسئلہ سمجھ کر ڈیل نہ کریں بلکہ ایک سندھی کمیونٹی کا مسئلہ سمجھ کر ڈیل کریں کیونکہ اب یہ ہماری قومیت اور ہماری شعوری غیرت کا سوال بن چکا ہے۔ خواتین کے حقوق کی سوشل ایکٹوسٹ سندھ کی ہدیٰ بھرگری بلوچ کی ایک ویڈیو یوم خواتین کے حوالے سے آئی ہے جس میں اس نے وضاحت کی ہے کہ ایک ہجڑے نے لکھا تھا کہ ’’کھانا میں گرم کروں گی بستر تم گرم کردینا‘‘۔ ہم خواتین جس طرح تیسری جنس سے نفرت کرتے ہیں اور مرد جس طرح کے جملے ان پر کستے ہیں ، جس طرح ان کو سمجھا جاتا ہے اور جو ان کا ماحول ہوتا ہے تو وہ اس طرح ہی کی باتیں کریں گے۔ جب تک مرد رنگے ہاتھوں پکڑا نہ جائے تو اس کو کوئی بدکار نہیں کہتا لیکن کوئی عورت اپنے حق کیلئے نکلتی ہے تو اس پر الزام لگادیا جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو اور مریم نواز کی مثال لے لیں۔ یہ الزام مرد ہی لگاتے ہیں۔ اگر کسی نے یہ کہہ دیا کہ ہم اگر بدچلن ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے حقوق کیلئے ہم پر جو الزام لگاتے ہو لگاؤ لیکن اس مرتبہ خواتین نے پچھلے سال سے بڑی تعداد میں اپنے حقوق کیلئے مظاہرہ کیا ہے۔ ہر قسم کی خواتین ہر طبقے سے نمائندگی کررہی تھیں۔ ہم نے اپنی جیب کے خرچے سے یہ ریلیاں نکالیں۔ این جی اوز اور پارٹیوں سے مدد نہیں لی۔ اگر اس طرح خواتین اپنے حقوق کیلئے نکلیں تو آئندہ آنے والے وقت میں وہ ہر میدان میں اپنے حقوق کا تحفظ کرپائیں گی۔

نفرت کی گنجائش نہیں محبت کے سواء خواہش نہیں…….عتیق امن و سلامتی کا قرآں بہترین حوالہ ہے

میں ہندی کی وہ بیٹی ہوں جسے اردو نے پالا ہے
اگر ہندی میری روٹی تو اردو میرا نوالہ ہے

یوم خواتین 8مارچ 2019کے موقع پر لتاحیا نے اپنے کلام میں کہاکہ:بہت me too , me too چل رہا ہے اور بہت اسکا غلط استعمال بھی ہورہا ہے تبھی ایک نظم کہی ہے :جب تک اس سے کام ملنے کی اُمید تھی وہ روز اس سے ملنے جاتی تھی، ہر طرح کا رشتہ نبھاتی تھی جسمانی بھی روحانی بھی۔ ایک دن گرما گرم خبر پڑھنے کو ملی کہ اس نے اپنے بوائے فرینڈ پر بلتکار کا کیس کردیا ہے۔ آروب اور ہتھیہ روگ کا سلسلہ یونہی چل رہا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اگر وہ اسے کام دے دیتا تو وہ کیس نہ کرتی۔ Given Takeکی پارٹی یونہی چلتی رہتی۔ کیونکہ اس نے اسے کام نہیں دیا ہے اسلئے اسے لگ رہا ہے کہ ارے میرا تو ریپ ہوگیا ہے۔ جانے یہ کیسی محبت ہے۔ جہاں ان دیکھی محبت کی جاتی ہے لیکن یہ بات ہم جیسے جاہلوں کو سمجھ میں نہیں آتی ہے ، لیکن اتنا ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ ریپ اور کمپرومائز میں فرق ہوتا ہے۔ کم سے کم ڈکشنری میں تو یہی لکھا ہے ۔
مجھے پاک و ہند سے محبت قانونِ فطرت نرالا ہے
حیا کی غزلوں کا ہر شعر قدرت کا جوالہ ہے
جب ہیں دونوں ایک ماں باپ کی سگی بہنیں
پاک ہے ہماری ماں تو بھارت بھی اپنی خالہ ہے
انگریز نے طلاق دی تو سوکناہٹ کا بھی نہیں جواز
مگر یہاں سازِ سامری کا ولولہ وہاں سازِ گوسالہ ہے
وہ برہمن دل سے مؤمنہ زباں و عمل سے صادقہ
مگر اچھوت نسل مفتی یہاں پر بھی بنیا سالا ہے
یہاں کے لوگ ہیں شیر تو وہاں کے ہرن خیر
جانوروں سے بھی بہت بدتر دونوں کا گوالا ہے
ایک برصغیر، ایک آب وہوا ،ایک جیسے شہر دیہات
یہاں لاہور، کراچی ، وہاں پر دلی اور انبالہ ہے
سمندر سرزمین ڈھنگ ایک، نسل و رنگ بھی ایک
ایک فضا وہاں گنگا جمنا یہاں کوہ ہمالہ ہے
ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے شیر و ہرن دیس میں کبھی
شیر چھوڑ دے درندگی غزالہ تو پھر غزالہ ہے
امریکہ نے ہمیں برباد کیا وسائل پر قبضے کا فساد کیا
جنگ کے جنون کی سیاست بڑا شرم ناک مسالہ ہے
کہیں کل بھوشن کی ہے کھل کر در اندازی
کہیں حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا بقالہ ہے
ہزار سال کعبے کا جگر رہا بتوں کا مندر
وہ صنم صنم کرتے ہم صمد صمد آیت کوتوالہ ہے
ہر مذہب کی تائید ہر عبادتگاہ کی تمجید
کلام پاک سچے تبلیغ کا آخری رسالہ ہے
اسلام کی دیوانی حیا نے کھپائی اپنی جوانی
یہاں بھی اب کوئی کوئی انسانیت کا متوالا ہے
تالی ایک سے نہیں بجتی ملاؤ دونوں ہاتھوں کو
ہماری بہن حیا کی بیٹی ہوئی پیدا ملالہ ہے
بھارت میں نیتا کے خلاف بہت اُٹھتی ہے آواز
یہاں بھی منظور پشتین، ہزارہ کی جلالہ ہے
ظلم و جبر کے نظام کا ہوا چاہتا ہے اب خاتمہ
حقدار کو ملے گا حق، نظامِ عدل لا محالہ ہے
دونوں طرف سے آئیں گے کبھی اچھے رہنما
اِدھر نیازی، اُدھر مودی کی حکومت بد خصالہ ہے
اگر ایٹم بم کا عذاب آیا پیغام امن کا پلٹا کھایا
تو وجہ ریاستی دہشت، سبب لعنت حلالہ ہے
اپنا مذہب کاروبارِ ریاست ان کا غضب پرستارِ سیاست
برائے نام یہ اور وہ حکومت عالمی استعمار کی دلالہ ہے
جسٹس مرکنڈے کی تقریر اور حیا کی شاعری
ایک بلبل کا فغاں تو دوسری گل لالہ ہے
وہ پاکستان نہ آئیں تو ہم نے بھارت ہے جانا
ہاتھ ہمارے قلم اور نہ پیروں میں چھالہ ہے
جنگ کا جنوں رکھتے ہیں، لڑتے نہیں پرکھتے ہیں
متعصب بے شرم بے غیرتوں کا منہ کالا ہے
لپٹے گی یہ جمہوری بساط باشعور ہیں شش جہات
ٹرمپ ، مودی اور نیازی نے اقتدار سنبھالا ہے
انسانیت، تعلیم اور اقدار سب کا ہوا ہے خاتمہ
ذہنوں میں اندھیر نگری اور دلوں پر تالا ہے
بے روز گاری، غربت، ظلم، جبر سب تخت تاراج
لونڈے لپاڑوں کی آوازیں رنڈوا بنی گالہ ہے
شدت ہے نفرت ہے جہالت ہے وکالت ہے
مفاد پرستی ہے، خود پرستی ہے جانوروں سے پالا ہے
دینِ ابراہیم، دینِ نوح دین اسلام ہے ایک
نشاۃ ثانیہ کا آغاز جشن ڈیڑھ ہزار سالہ ہے
نفرت کی گنجائش نہیں محبت کے سواء خواہش نہیں
عتیق امن و سلامتی کا قرآں بہترین حوالہ ہے

حقوق نسواں کی واضح قرآنی آیات واحادیث پر اجنبیت کا بہت بڑا پردہ آگیا

سمجھا جاتا ہے کہ اللہ نے عورت کو خلع کا حق نہیں دیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ، بکواس اور لایعنی ہے۔ غلطی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مذہبی طبقے نے نصاب، تفسیر، حدیث کی کتابوں میں سورۂ البقرہ آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا تصور دیا۔ حالانکہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا تصور نہیں ہوسکتا ہے۔ خلع میں تو ایک طلاق اور عدت کے ایک مرحلے کا تصور نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا، جس پر آج بھی سعودیہ اور دیگر مسالک والے عمل پیرا ہیں۔ ہمارے نصاب میں بالکل غلط طور پر حدیث صحیحہ کو قرآن کیخلاف گردانا جاتا ہے کہ ’’ قرآن نے طلاق کی عدت تین مراحل یا تین ماہ مقرر کئے ہیں تو حدیث صحیحہ کی وجہ سے یہ قرآن کا واضح حکم منسوخ تصور ہوگا‘‘۔ حالانکہ حمل کی صورت میں تین مراحل کی یہ عدت نہیں ہے اور حدیث میں غلام کی دو طلاق اور لونڈی کی دو حیض کی عدت کو بھی احناف قرآن کے برعکس تسلیم کرتے ہیں۔
دو،تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ۔ البقرہ آیت: 229میں یہ واضح ہے کہ ’’ طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے‘‘۔علامہ غلام رسول سعیدی ؒ بریلوی تنظیم المدارس اور مولانا سلیم اللہ خان ؒ دیوبندی صدر وفاق المدارس نے اپنی بخاری کی شرح میں یہ حدیث نقل کی کہ صحابی ؓ نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ تسریح باحسان تیسری طلاق ہے‘‘۔ جب حضرت عمر ؓ نے نبی ﷺ کو خبردی کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی عورت کو حیض میں طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور پھر ابن عمر ؓ سے فرمایا کہ رجوع کرلو۔ پاکی کے دور میں پاس رکھو یہانتک کہ اسے حیض آجائے۔ پھر پاکی کا دور آجائے اور اسے حیض آجائے۔ پھر پاکی کادورآجائے تو پھر اگر روکنا چاہتے ہو تو روک لو اور طلاق دینا چاہتے ہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو، یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا امر کیاہے‘‘۔ کتاب التفسیر سورۂ طلاق بخاری، کتاب الاحکام ، کتاب العدت اور کتاب الطلاق بخاری میں یہ روایت ہے اور صحیح مسلم میں تواکٹھی تین طلاق کا ذکر بھی ہے۔
اگر دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں معروف طریقے سے رجوع کیا تو بات ختم ہوجاتی ہے لیکن اگر تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ بھی طلاق دیدی تو اللہ تعالیٰ نے اسکے بعد فرمایا کہ ’’ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ الا یہ کہ دونوں کو یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور اگر تمہیں ( اے فیصلہ کرنے والو!) خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر نہیں قائم رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرتا ہے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں ۔ (البقرہ آیت229)
آیت میں مرحلہ وار جدائی کے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے بعد یہ حکم بیان کیا گیا ، جس سے خلع مراد لینے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ افسوس کہ کم عقل لوگوں نے جو کتابیں لکھ ڈالیں ہیں ،ان کو درسِ نظامی کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ چنانچہ اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ حنفی مؤقف یہ ہے کہ آیت230میں فان طلقہا (پھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرلے) کی ’’ف ‘‘تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے اسلئے اس طلاق کا تعلق خلع(فدیہ) کی صورت سے ہی ہے جبکہ امام شافعی ؒ کے نزدیک اس طرح دومرتبہ طلاق کے بعد خلع تیسری طلاق بن جائے گی اور پھر اگلی تیسری طلاق کی گنجائش نہ رہے گی، اسلئے یہ خلع (فدیہ )کی صورت جملہ معترضہ ہے۔ احناف اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ خلع کوئی مستقل طلاق نہیں ہے بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی مقدمہ ہے جس سے شوافع کے اعتراض کا جواب ہوجاتا ہے۔
حالانکہ دو تین مرتبہ طلاق کے بعد نہیں بلکہ ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی خلع کا تصور باقی نہیں رہتاہے۔ قرآن وحدیث میں واضح ہے کہ تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دیا ہوا مال واپس لیناغلط ہے۔ صرف اس صورت میں کسی ایسی چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جب دونوں کو اس کی بنیاد پر میل ملاپ اور اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا خطرہ ہو اور فیصلہ کرنے والے بھی یہی خدشہ سمجھتے ہوں۔ یہ طلاق کی وہ صورت ہے جس میں باہوش وحواس مرحلہ وار جدائی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔علامہ ابن قیم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ کی یہی تفسیر نقل کی لیکن اس کو بھی خلع کی کتاب میں نقل کیا ہے۔( زادالمعاد: جلد4)
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اس آیت میں الجھاؤ کے پیشِ نظر مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے ترجمہ و تفسیر کا ایک جگہ حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ یہ آیت بالکل واضح ہے لیکن مذہبی طبقے نے مسلکی وکالت کی نمک حلالی کیلئے تعصب میں الجھ کر حقائق سے غفلت کا مظاہرہ کیا، ابن قیم ؒ احناف کی تردید میں اندھے پن کا شکار تھے۔ یہ کونسا فقہ اور قرآن فہمی ہے کہ قرآن شوہر کو اپنے دئیے ہوئے مال کو بھی واپس نہ لینے کا حکم دے رہا ہو اور علماء آیت کے واضح مفہوم کے برعکس عورت کو اپنا مال ومتاع دینے کو بھی اس آیت کی بنیاد پر جواز دیتے ہوں؟۔ اس آیت کا خلع سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔ علماء وفقہاء نے غلط تفسیر وفقہی مسائل سے اسلام کو اجنبیت کی انتہاء پر پہنچادیا ہے۔ جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے تقریباً1435سال پہلے دی تھی۔علامہ تمنا عمادی ؒ ایک حنفی المسلک مولوی تھے ،انہوں نے حنفی مسلک کی بنیاد پر الطلاق مرتان کتاب لکھ دی اور انکارِ حدیث کا فتنہ بھی اسکے بعد پیدا ہوا۔ پھر بہت سے اسکالر علماء وفقہاء کی فقہ دانیوں سے اپنی تفہیم کشید کرنے میں لگے۔
خلع یہ ہے۔’’ تم عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھواور نہ اسلئے ان کو روکو، کہ جو کچھ تم نے انکو دیا، اس میں بعض واپس لو۔ مگریہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ ان سے (خلع کے باوجود) اچھا سلوک کرو، ہوسکتا ہے کہ تمہیں وہ بری لگیں اور اللہ تمہارے لئے اسمیں بہت سا خیر رکھ دے‘‘۔ (سورۂ النساء آیت:19)
اس آیت میں بھی اسلام کی اجنبیت کو برقرار رکھتے ہوئے غلط تفسیر لکھ ڈالی۔ممکن نہیں کہ اللہ عربی کی کھلی زبان میں اتنی بڑی غلطی کرے کہ ان جملوں کے انہی الفاظ میں الگ الگ قسم کی خواتین مراد لے۔ علماء نے یہ تفسیر کی ہے کہ ’’ عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھو ‘‘ سے مراد ایام جاہلیت میں خاندان کی بیوہ خواتین مراد ہیں۔ اور ’’ ان کواسلئے مت روکو کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لومگر یہ کہ کھلی ہوئی فحاشی کے مرتکب ہوں‘‘ سے مراد اپنی بیگمات ہیں حالانکہ علماء کی فاش غلطی ہے۔ یہ تفسیر عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان کی بھی نہیں ہوسکتی جبکہ عربی میں دوسرے جملے کی ضمیر کا مرجع پہلے جملے کی خواتین ہی ہیں۔ علماء نے مغالطہ اسلئے کھایا کہ انکے نزدیک شوہر تین طلاق کا مالک ہوتا ہے اور اللہ نے نکاح کا عقدہ شوہر کے ہاتھ ہونے کی وضاحت کی ہے۔ جبکہ یہ دونوں باتیں محض مغالطے کا نتیجہ ہیں۔ شوہر تین طلاق کا مالک ہوتا تو بیوی لونڈی کی طرح اس کی ملکیت ہوتی۔ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے شوہر طلاق دے تو اللہ نے فرمایا کہ ’’تمہارا ان پر عدت کا کوئی حق نہیں جس کو تم گنو‘‘۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ’’ شوہر ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دے تو اس کا بیوی پر عدت کا حق ہے‘‘۔ تین طلاق کی ملکیت کے غلط تصور نے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا ہے۔ اگرایک طلاق دی جائے اور عدت کے بعد بھی دو طلاقوں کا تصور باقی رہے ،یہاں تک کہ عورت دوسری جگہ نکاح بھی کرلے اور پھر وہاں سے طلاق کے بعد یہ بحث کیجائے کہ پہلا شوہر نئے سرے سے 3 طلاق کا مالک ہوگا یا پہلے سے موجود بقیہ دو طلاقوں کا؟۔ اگر عوام کے سامنے یہ حقائق آگئے تو سمجھیں گے کہ علماء کو پاگل کتوں نے تو نہیں کاٹا ہے جو اس طرح کی بکواس پڑھتے اور پڑھاتے ہیں؟۔ دوسرا مغالطہ اس آیت سے لگاکہ شوہر نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو پھر بھی اس پر آدھا حق مہر ہے۔ اگر عورت آدھے کو معاف کردے یا مرد نے پورا حق مہر دیا اور وہ اپنا آدھا حصہ بھی چھوڑدیتا ہے جسکے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں شوہر نے ہاتھ لگانے سے پہلے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اسلئے وہ پورا حق مہر بھی معاف کردے تو زیادہ مناسب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ’’مرد ہی میں نکاح کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے‘‘۔ اس سے زیادہ واضح الفاظ میں اللہ تعالی نے عورت کی طرف پکے معاہدے نکاح کے میثاق غلیظ کی نسبت کردی ہے۔
فرمایا کہ ’’ اگر تم میں کوئی کسی ایک عورت کے بدلے دوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہے اورکسی ایک کو چھوڑ نا چاہتا ہے تو اس کو اگربہت سارا مال بھی دیا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں،ان کو محروم کرنے کیلئے بہتان مت باندھو۔ کیا تم بہتان باندھوگے؟ حالانکہ وہ تم ایکدوسرے سے بہت قربت حاصل کرچکے ہو اور بیشک انہوں نے تم سے میثاق غلیظ (بہت پکا مقدس عہد) لیا ہے ‘‘۔(النساء آیت 20اور21) اسکا یہ مطلب نہیں بن سکتا کہ عورت ہی نے مضبوط عہد لیاہے اور وہی اس کی مالک بھی ہیں۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے نصف حق مہر ہے تو ہاتھ لگانے کے بعد پورے حق مہر کیلئے مزید کیا وضاحت کی ضرورت باقی رہتی ہے؟۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنے ’’ آسان ترجمۂ قرآن ‘‘ میں پہلی مرتبہ تفسیر کے علاوہ ترجمہ میں بھی تحریف کردی ۔ لکھ دیا کہ ’’ حق مہر مراد ہے‘‘۔ حالانکہ سورۂ بقرہ اور سورۂ النساء میں حق مہر کے علاو ہ دی ہوئی چیزیں مراد ہیں۔
مفتی تقی عثمانی کو اللہ نے نئی زندگی دی اور کھل کر اپنی غلطی کے اعتراف سے مخلوق خدا کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔

خواتین کے حقوق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی فقہاء وعلماء کی سمجھ سلب ہوگئی

سورۂ بقرہ کی آیات222سے 232تک سارا زور عورت کی اذیت اور اسکے حقوق کے تحفظ پر ہے لیکن علماء نے مقصد اور نصب العین کو ہی مدِ نظر نہ رکھا تو آیات کی تفسیر پر فقہی اختلافات کا بہت بڑاپردہ ڈال دیا۔
آیت222البقرہ میں عورت کی دو چیزوں اذیت اور طہارت کا ذکر ہے اور اذیت کے مقابلے میں توبہ اور ناپاکی کے مقابلے میں طہارت والوں کا ذکر ہے لیکن علماء وفقہاء نے اذیت کو نظر انداز کرکے گند مراد لیا۔ یہ خواتین کی حق تلفی کا پہلامرحلہ ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ’’ تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں ، جہاں یا جیسے چاہو انکے پاس آؤ‘‘۔ آیت223۔اثاثہ کی جگہ ترجمہ ومفہوم کھیتی کردیا ، جسکے جانوروں سے بھی کم حقوق ہیں ۔ اس طرح پہلی آیت میں اذیت کا غلط ترجمہ کیا تو اس آیت میں عورت کیساتھ لواطت پر بیہودہ فقہی اختلافات کا راستہ اپنالیا۔ صحابہ کرام ؓ اور ائمہ عظام ؒ تک اس پر حلال وحرام اور کفرو اسلام کے اختلافات نقل کردئیے ہیں۔
آیت:224میں اَیمان(عہدوپیمان) سے مرادلاتعلقی ، طلاق اورصلح کیلئے ہرطرح کی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ایسی صورت کی نفی ہے کہ میاں بیوی یا کسی بھی افراد کے درمیان صلح نہ کرنے کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ’’ اللہ تمہیں لایعنی عہدوپیمان سے نہیں پکڑتامگر جو تمہارے دلوں نے کمایا‘‘۔آیت225 اس میں طلاق صریح وکنایہ کے تمام لغو الفاظ شامل ہیں۔ اللہ نہیں پکڑتا مگر بیوی پکڑسکتی ہے،اسلئے کہ اسکے حق کا معاملہ ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ تین چیزوں کی سنجیدگی اور مذاق معتبر ہے۔ طلاق، رجوع اور عتاق‘‘۔ اصولِ فقہ میں اس آیت پر حنفی شافعی اختلاف بالکل غلط ہے۔ یمین کا لفظ عام ہے۔ عہدو پیمان اور حلف سب شامل ہے۔ سورۂ مائدہ میں کفارہ کیلئے اذا حلفتم کی وضاحت ہے۔نکاح سے زیادہ بڑا عہدوپیمان کیا ہے؟۔ مگر اس کو توڑنے پر کفارہ نہیں ۔ کفارہ صرف حلف کی صورت میں ہوتا ہے۔
آیت: 226میں ایلاء بیوی سے ناراضگی کا ذکر ہے جس میں طلاق کا کھلے لفظوں میں اظہارنہ کیا جائے تواس صورت میں طلاق کے اظہار سے ایک عدت ایک ماہ زیادہ ’’چار مہینے‘‘ ہے۔ اس مدت میں دونوں کو خوشی سے صلح کی وضاحت ہے اور آیت:227میں واضح ہے کہ ’’ اگر طلاق کا عزم تھا تو سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ یعنی طلاق کا عزم دل کاگناہ ہے جس سے عورت کی عدت میں ایک ماہ کا اضافہ ہوگا اور اس پر اللہ کی پکڑ ہے۔ آیات میں معاملہ بہت واضح ہے لیکن حنفی مسلک میں چار ماہ بعد طلاق ہوگی اور جمہور کے نزدیک چار ماہ بعد بھی نکاح قائم رہے گا۔ اس بھیانک اختلاف کی واحد وجہ یہ ہے کہ عورت کا حق جو قرآن کا بنیادی مقصد ہے ان ظالم فقہاء نے بالکل نظر انداز کردیا۔ چنانچہ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ شوہر نے اپنا حق استعمال کرلیا اور دوسرا سمجھتا ہے کہ شوہر نے پھر بھی اپنا حق استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ اللہ نے عورت کا حق محفوظ کیا تھا کہ طلاق کے اظہار کے بعد تین طہروحیض یا تین ماہ کی عدت ہے اور طلاق کا اظہار نہ ہو تو چار ماہ کی عدت ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ ’’ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو رجوع کا حق ہے‘‘۔( آیت:228البقرہ ) تو صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ اتنے پاگل تو نہیں تھے کہ صلح کیلئے وہ کسی عدالت، حکمران اور مفتی سے رجوع کرلیتے؟۔ جبکہ اللہ نے یہ واضح کردیا تھا کہ ’’ اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جدائی کا خدشہ ہو تو ایک حکم فیصلہ کرنیوالا شوہر کے خاندان اور ایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو، اگر دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان میں موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ (النساء آیت:35) جس سے یہ واضح پتہ چلتا ہے کہ طلاق کے بعد صلح کیلئے عدت میں کسی سے فیصلہ اور فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں اور میاں بیوی آپس میں صلح کریں ۔ صلاحیت سے محروم ہوں تو ایک ایک رشتہ دار تشکیل دیدیں لیکن عدالت سے فیصلہ اور مفتی سے فتویٰ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اتنے خاندان اسلئے تباہ اور اتنی عزتیں اسلئے لُٹ رہی ہیں کہ امت نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہی شکایت قیامت کے دن کرنی ہے۔ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ہذا قراٰن مھجوراً ’’رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ امت میں عوام سے زیادہ ان خواص اور علماء ومشائخ کی پکڑ ہوگی جنہوں نے قرآنی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ بھی نہیں دی اور وہ فقہی مسالک کے اختلافات اور فرقہ واریت کے مسائل میں الجھتے اور عوام کو الجھاتے رہے ۔
فقہ وتفسیر کی کتابوں میں تضادات و اختلافات کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صنفِ نازک کو تحفظ دیا ہے اور انہوں نے خواتین کے حقوق کو سلب کرنے پر ہی اپنا زور صرف کرڈالا ہے۔ مغرب نے خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دئیے ہیں لیکن اسلام نے خواتین کو مردوں سے زیادہ حقوق دیدئیے ہیں۔ درجہ اسلئے نہیں دیا کہ عورتوں کے حقوق سلب کئے ہیں بلکہ درجہ کا احساس دلاکر خواتین کو زیادہ حقوق دئیے ہیں۔ درجہ یہ ہے کہ شوہر طلاق دیتا ہے اور عورت عدت تک انتظار کرتی ہے۔ یہ انتظار خواتین کے حق میں زیادہ فائدہ مند ہے۔ جب میاں بیوی جدا ہوتے ہیں تو عورت کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسلئے اللہ تعالیٰ نے مرد پر حق مہر کا فریضہ عائد کردیا ہے۔اگر دنیا کے سامنے یہ واضح ہوجائے کہ ’’ حق مہر دونوں کی باہمی رضا شوہر پر ضروری ہے‘‘۔ خلع کا حق عورت کو اور طلاق کا حق مرد کو حاصل ہے۔ اگر عورت خلع لے تو ایک حیض کے بعد اس کی عدت پوری ہوگی اور گھر سے اس کو نکلنا ہوگا۔دی ہوئی غیرمنقولہ جائیداد، گھر ، باغ اور دکان وغیرہ سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اگر شوہر طلاق دے تو منقولہ وغیر منقولہ تمام دی ہوئی جائیداد چاہے خزانے دیدئیے ہوں سب سے شوہر کو ہاتھ دھونا پڑینگے۔ سورہ البقرہ: 229،سورۂ النساء: 20اور سورۂ طلاق آیت:1میں گھر کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے مگر فحاشی کی صورت میں عورت گھر سے نکل بھی سکتی ہے اور اس کونکالا بھی جاسکتا ہے۔ اگر عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور عورت کا اپنا کوئی گھر نہ ہو تو مکمل ایک سال تک شوہر کے عزیز واقارب پر عورت کی ذمہ داری پڑتی ہے۔ اسلام کے یہ قوانین قرآن کی واضح آیات میں موجود ہیں۔
مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں جو قوانین ہیں وہ برابری کے نام پر انسانی فطرت اور انصاف کے منافی ہیں۔ عورت امیر ہو تو طلاق کے بعد اس کو اپنی آدھی جائیداد شوہر کو دینی پڑتی ہے اور مرد امیر ہو تو عورت نے جدائی کا فیصلہ کیا ہو تب بھی شوہرکو آدھی جائیداد دینی پڑتی ہے۔ سویڈن میں اشرف میمن کے ایک دوست نے ایک رات مہمان نوازی کی تھی اور اس نے اپنی بیگم کو طلاق دی تھی لیکن اپنے گھر تقسیم کرنے کے بجائے بیوی کو گفٹ کردیا تھا۔ عمران خان نے جمائماخان کو طلاق دی تو اس کی جائیداد میں حصہ سے انکار کردیا تھا۔ وہاں کے جج نے عمران خان کے اس اقدام کو سراہا تھا۔ مغرب کا یہ قانون غیرفطری اور غلط ہے اور اس قانون سے خوف کھاتے ہوئے بہت لوگ شادی نہیں کرتے بلکہ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے چکر میں رہتے ہیں۔
اگر قرآن کے فطری اور منصفانہ قوانین کا پتہ چلاتو پوری دنیا میں اسلام کا معاشرتی نظام رائج کیاجائیگا۔ قرآن نے طلاق کا بڑی وضاحت کیساتھ ذکر کیا۔ اگر میاں بیوی مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے نتیجے پر پہنچے کہ آئندہ رابطے کی کوئی صورت نہ رکھی جائے۔ جرگہ بھی یہی سمجھتا ہو تو مسئلہ یہ نہیں کہ رجوع ہوسکتاہے یا نہیں؟۔ بلکہ طلاق کے بعد شوہر عورت کو دوسرے شوہر سے مرضی کے مطابق نکاح نہیں کرنے دیتا۔ عورت تو ایسی کمزور چیز ہے کہ کسی مرد کی منگیتر بن جائے تو منگنی ٹوٹنے پر بھی مرد کو غیرت آتی ہے کہ کسی اور سے شادی نہ ہو اور اگر وہ کسی اڑوس پڑوس ، دوست اور احباب کے ہاں نکاح کرتی ہے تو مرد پر یہ گراں گزرتا ہے۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے بہت واضح الفاظ میں عورت کا یہ مسئلہ حل کردیا کہ اس طلاق کے بعد دوسری جگہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے کے بغیر پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہونے کی وضاحت کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے عنقریب دین کے اجنبی ہونے کی خبردی تومسئلہ طلاق اجنبیت کا شکار ہوا۔ حضرت عمر ؓ، صحابہ کرام ؓ ، ائمہ مجتہدین ؒ اور سلف سالحین ؓ نے قرآن کی اس روح کو سمجھ کر عورت کی جان خلاصی پر زور دیا اور مختلف صورتوں پر یہ حکم لگادیا کہ عورت پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرے۔ یہانتک کہ اکٹھی تین طلاق پر اور لفظ حرام پر بھی یہی حکم لگادیا۔ مسئلہ عورت کی جان خلاصی تھا۔ بعد والوں نے باہمی رضا سے رجوع ناجائز قرار دیا اور حلالہ کی لعنت کیلئے حیلے تراشنے اور مواقع تلاش کرنے کے درپے ہوگئے یہانتک کہ 950ھ اور980ھ میں وفات پانے والے علامہ بدرالدین عینی حنفی و علامہ ابن ہمام حنفی نے ثواب کی نیت سے حلالہ کی لعنت کو باعثِ ثواب بھی قرار دیا۔ اگر یہ لوگ قرآن کو دیکھتے تو ڈھیر ساری آیات میں بغیرحلالہ رجوع کے واضح احکام مل جاتے۔ زیادہ سے زیادہ اخلاف نالائقین سے یہ حسنِ ظن رکھنے کی گنجائش ہے کہ وہ حلالے کیلئے حیلے بہانے نہیں بلکہ اپنی نالائقی کے سبب قرآن سے واضح احکام تلاش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ علامہ انورشاہ کشمیری ؒ نے آخر یہ اعتراف کرلیا کہ ’’ ساری زندگی قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں ضائع کردی‘‘۔ اللہ کے رسولﷺسے دیوبندی، بریلوی ، شیعہ اور اہلحدیث کو محبت ہے تو قیامت کے دن شکایت سے بچنے کیلئے قرآن کی طرف آئیں۔ وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجوراً ’’اور رسول(ﷺ قیامت کے دن) کہیں گے اے میرے ربّ ! بیشک میری قوم نے ا س قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘

ڈیڑھ ہزار سالہ جشن اسلام کانفرنس اکتوبر 2019 ء لاہور انشاء اللہ

منشور:انسانی حقوق: قرآن اورخطبہ حجۃالوداع 

قرآن نازل ہوا تو انسان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا تھا۔ عباد غلاموں کو کہتے تھے۔ غلام و لونڈی نکاح کے حق سے محروم تھے۔ جس پر غلامی کا دھبہ ہوتا اسکے ساتھ مشرکینِ مکہ کے جاہل نکاح گوارا نہ کرتے تھے۔ لونڈی نکاح کے حق سے محروم تھی۔ بیوہ اور طلاق شدہ خواتین کو نکاح کیلئے ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔
بھارت کے ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے نے اپنی تقریر میں سامعین سے کہا کہ ’’ تم جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہو، میں تمہیں جاہل سمجھتا ہوں۔ آپ کی تعلیم بالکل برائے نام ہے۔ آج اگرتمہاری بیٹی کسی دلت(اچھوت) سے شادی کرنا چاہے تو تم اس کو فوراً قتل کر ڈالوگے اور پھر تم ایک انسان نہیں حیوان بن جاؤگے، تمہاری تعلیم دھری رہ جائے گی ، میں تمہیں پڑھا لکھا نہیں بلکہ جاہل ہی سمجھتا ہوں ، کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں ۔ اپنا دعویٰ چھوڑ دو‘‘۔
قرآن اور نبی کریم ﷺنے جاہل عوام کو انسانیت کے مقام پر کھڑا کردیا۔ مسلمان قرآن کو ترک کرکے پھر حیوان سے بدتر بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے انسانوں کو جانور بلکہ ان سے بدتر قرار دیا۔ انگریز عدالتیں ظالم کے ظلم کو نہیں روک سکتی ہیں۔ ظلم کے خاتمہ کیلئے انسان کو حیوان کے درجے سے نکال کر انسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انسان و حیوان میں بنیادی فرق ظلم ہے۔
ارشادِنبوی ﷺ ’’ خبردار ظلم نہ کرنا ، خبر دارنہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا۔ مسلمانو! اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مضبوط تھام لو۔ مسلمانو! تمہارا مال، تمہاری جانیں اور تمہاری عزتیں حرمت والی ہیں۔ کسی مسلمان کے مال میں سے کچھ لینا جائز نہیں، ہاں اگر وہ راضی ہو۔ مسلمانو! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ نماز پڑھنے والے اس کی پرستش کریں لیکن وہ تمہارے اندر رخنہ اندازی کریگا‘‘۔
آخری خطبے کے الفاظ ،منکر اور معروف کے کچھ جملے1991ء میں ہم نے پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں لاؤڈ اسپیکر سے سنائے۔ وقت کیساتھ ساتھ ہمیں تحقیق سے پتہ چلا ،کہ تصویر ناجائز نہیں تو ہم نے کھلے دل کیساتھ اپنے اخبار اور کتابوں میں مؤقف بھی بدل دیا۔ آج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن کو رسمی طور پر قبول کیا لیکن عملی طور پر نہ صرف عام مسلمانوں نے بلکہ مدارس کے نصاب اور مروجہ مسائل میں مذہبی طبقہ بھی قرآن سے بالکل بے خبر ہے، فرقہ وارانہ مسائل پر لڑنے والوں نے قرآن کی اس تعلیم کو ترک کردیا جو انسان کو حیوان کے درجے سے نکال کر درست مسلمان بناتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وانکحوا الایامیٰ منکم والصالحین من عبادکم وایمائکم ’’اور نکاح کراؤ، اپنی طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا اوراپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا‘‘۔ قرآن کا یہ اعجاز تھا کہ محروم طبقات کا نام لیکر ان کے نکاح کا اہتمام کرنے کاپورے معاشرے کو حکم دیا۔ ایک ہندو بیوہ یا طلاق شدہ خاتون مسلمان ہوجائے تو اسکے ساتھ شادی کرنے کیلئے ہم تیار نہیں ہوسکتے ہیں لیکن جوان بچیاں گھر سے بھاگ کر شادی کرلیں تو پھر یہ قربانی دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ سندھ کے اندر دوبہنوں کا اسلام قبول کرنا اور دو شادی شدہ افراد کا انکے ساتھ نکاح کرنا ایک تازہ مثال ہے۔
سندھ میں کتنی طلاق شدہ و بیوہ خواتین شادی کیلئے ترستی ہونگی۔ پاکستان ودنیا بھرمیں کتنی طلاق شدہ وبیوہ ماحول کو بگاڑ رہی ہونگی مگر انسے مسلمان شادی نہیں کرتے۔ سعودی عرب نے اس گھمبیر مسئلے کا حل مسیار نسبتاً زیادہ مدت تک متعہ کی اجازت سے نکال دیا۔ ایران میں متعہ کے نام پر خواتین کو لونڈیوں سے بھی بدتر بنادیا گیا۔ ہیرہ منڈی کی خواتین پھر بھی گناہ اور توبہ کے تصور سے کچھ نہ کچھ سدھرنے کی بھی اُمید رکھتی ہوں گی لیکن متعہ ومسیار کا تصور بظاہر مغرب کے گرل فرینڈز سے بدتر اور انسانیت کی تذلیل ہے ۔ دبئی میں فحاشی کے سرِ عام اڈے ہیں اور پاکستان کی حالت سب سے بدتر اسلئے ہے کہ ریاست کے اہلکار بھی دلائی میں نہ صرف شریک ہیں بلکہ شریفوں کو بھی کراچی کے ساحلِ سمندراور لاہور کے ہوٹلوں میں پھنسانے کے جھانسے استعمال کرتے ہیں۔
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے برائیوں کواچھائیوں سے ہی بدلنے کا ٹھیکہ خود بھی اٹھایا ہے ۔مسلمانوں اورانسانوں کو بھی بار بار یہ ترغیب دی ہے۔ قرآن وسنت میں نکاح اور ایگریمنٹ کا جائز تصور موجود ہے۔ اور اسلام نے دنیا کے ہرقوم ومذہب کے اندر انکے قانونی نکاح اور بدکاری کے تصور کو درست قرار دیا۔ ہندو جو نکاح کرتے ہیں ، اسلام میں وہ قابلِ قبول اور دنیا کے تمام مذہب کے قوانین اور تصورات درست ہیں۔ دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماؤں سے بھی نکاح کیا جاتا تھا تو اللہ نے منع فرمایا اور واضح کیا کہ مگر جو پہلے ہوچکا ہے۔ آج ایران ، سعودی عرب اور مغربی ممالک میں جو نکاح اور ایگریمنٹ کا تصور ہے وہ بھی قابل قبول تو ہے لیکن بہتر کیا ہے؟۔ اس پر بحث اور مکالمے کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن نے لونڈی بنانے کے طریقۂ کار کو آل فرعون کی کارکردگی قرار دیا ۔ ظاہر ہے کہ قرآن اس کی حمایت کررہا تھا، نہ ہی مسلمانوں کو آل فرعون کی راہ پر ڈال رہا تھا، تاہم مروجہ برائی کو قبول کرکے اس کو درست راہ پر ڈالنے کی بنیاد ڈالی۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا،وہ ایک نیشنلسٹ مسلمان تھے ۔ انکے دماغ میں غلام ولونڈی کے حوالے سے قرآن کا یہ نقشہ بیٹھ گیا تھا کہ ’’ غیرقوم کو لوگ اہمیت نہیں دیتے ۔پردیسی قوم سے تعلق رکھنے والی خواتین لونڈیاں تھیں۔ قرآن میں اپنی قوم کی زیادہ سے زیادہ چار اور غیرقوم سے لاتعداد لونڈیوں سے ایگریمنٹ کا تعلق واضح ہے‘‘۔ علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے لکھ دیا کہ ’’ قرآن میں برائی کے بدلے برائی ہے، دنیا غلام و لونڈی بناتی تھی تو اسلام نے بھی اجازت دیدی اور اب جبکہ پوری دنیا اس بات پر متفق ہوچکی ہے کہ لونڈی اور غلام بنانا غیر قانونی ہے تو اسلام بھی کسی کو اب لونڈی وغلام بنانے کی اجازت نہیں دیتا ‘‘۔
اگر ایک ہندو اپنی قوم کے دلت اچھوت کو نچلے درجے کا انسان سمجھتا ہے۔ سفید فام گورے کالے انسانوں کو قانونی طور پر نہیں لیکن حیوانیت کے جذبے سے غلام سمجھتے ہیں اور ہمارے سیاستدان، علماء ، فوجی افسران ، بیوروکریٹ ، جاگیردار اور سرمایہ دار غریبوں و خواتین کو اچھوت ولونڈی کا درجہ دیتے ہیں تو قرآنی قوانین اور اخلاقیات سے ہم نے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔
اسلام نے اللہ کے سواء غیروں کی بندگی کا تصور لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر ختم کر دیا۔ البتہ عوام کے دل ودماغ کا لحاظ رکھتے ہوئے غلاموں کیلئے ’’عباد‘‘ کا لفظ استعمال کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ’’ مؤمن عبد( غلام) مشرک سے بہتر ہے ،اگر چہ تمہیں اچھا لگے اور مؤمنہ لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہتر لگے‘‘۔قرآن مجیدمیں رسول اللہﷺ کا خلق عظیم انسانیت کیلئے اعلیٰ نمونہ قرار دیا گیا لیکن ہم قرآن وسنت کے بنیادی قوانین سے بھی بالکل عاری ہوچکے ہیں۔مینار پاکستان میں تمامِ مکاتب کے علماء کرام ، دانشور اور عوام کو مشترکہ دعوت ہے۔ حقائق کے چند نمونے ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل 2019، صفحہ نمبر2اور4پر دیکھ لیجئے گا۔

فاروق اعظم ؓ کے فیصلے یاائمہ اربعہ ؒ کے فتوے اختلاف؟ (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

اگر حضرت عمر فاروق اعظم ؓ کے فیصلے اور ائمہ اربعہ ؒ کے فتوے سے قرآن کی کوئی آیت یا نبیﷺ کی کوئی حدیث ٹکرائے تو ہم ایسے فیصلے اور فتوے کو جوتوں کی نوک پر رکھنے کے قائل نہیں بلکہ بفضل تعالیٰ تاریخ کے اوّلین علمبردار ہیں۔ ہم نے نہ تو حضرت عمر ؓ پر ایمان لانے کا کلمہ پڑھا ہے اور نہ ائمہ اربعہ ؒ ہمارے کسی ایمانِ مفصل کا حصہ ہیں۔ شیعوں نے حضرت علی ؓ کا کلمہ پڑھا ہے تو ہمارے اور ان کے درمیان پھر کوئی فرق بھی باقی نہیں رہے گا۔ شیعہ بھی قرآن وسنت سے اپنے متصادم عقائد ومسالک سے دستبردار ہونے کیلئے کوئی دیر نہیں لگائیں گے۔ میاں بیوی میں تنازعہ چل رہا ہو تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ طلاق کے بعد عدت کے اندر ہی اندر باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کرلیں۔ قرآن نے عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر بار بار معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش واضح کردی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عزیز واقارب سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں جدائی کے نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں تو ایک ایک حکم دونوں خاندان سے تشکیل دیا جائے اور اگر ان کا ارادہ ہو کہ اصلاح ہوجائے تو اللہ تعالیٰ موافقت کی راہ پیدا کردے گا۔ میاں بیوی کا یہ مسئلہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور اگر وہ آپس میں صلح کرنے یا جدائی کی بات پر پہنچتے ہیں تو اس میں حکومت یا مفتی کی مداخلت کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جب یہ دونوں ناکام ہوں۔ تنازعہ بڑھ جائے تو پھر حکومت سے فیصلہ لینے اور مفتی سے فتویٰ لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ صلح کیلئے تو میاں بیوی خود معروف طریقے سے راضی ہوں یا ایک ایک رشتہ دار دونوں طرف سے کردار ادا کرلے تو بہت ہے۔ تنازعہ کی صورت میں حکمران کے پاس فیصلہ لیجانے یا مفتی سے فتویٰ مانگنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کے پاس بھی شوہر کی طرف سے متنازعہ مسئلہ پہنچا تھا۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ تنازعہ کی صورت میں شوہر کو رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ ممکن نہ تھا کہ حضرت عمر ؓ قرآن کے منافی فیصلہ دیتے اور صحابہ کرام ؓ اس پر اپنا ردِ عمل ظاہر نہ کرتے۔ صحابہ کرام ؓ کے اجتماعی شعور میں یہ بات واضح تھی کہ اگر میاں بیوی راضی ہوں تو کسی سے فیصلہ یا فتوی لینے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ اگر تنازعہ چل رہا ہو تو یہی فیصلہ کیا جائیگا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی فتوی دیا جائیگا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ قرآن وسنت کا بھی یہی تقاضا ہے اور انسانوں کی کوئی جماعت اور کوئی عدالت اس فطری قانون سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے بالکل ٹھیک فیصلہ دیا تھا اور عورت کی جان چھڑائی تھی کہ مرد کو رجوع کا حق حاصل نہیں۔ ائمہ اربعہ ؒ نے بالکل ٹھیک فتویٰ دیا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ لیکن یہ سب بھول گئے کہ یہ فیصلہ اور فتویٰ تنازع کی حالت میں تھا۔ ان غریبوں کو کیا پتہ تھا کہ بعد میں لوگ قرآن وسنت کی واضح تعلیمات سے بالکل عاری ہوجائیں گے اور باہمی صلح کیلئے بھی قرآن سے رہنمائی لینے کے بجائے ان علماء وفقہاء کے دروازے پر دستک دیں گے کہ ہماری صلح ہوسکتی ہے یا اس کیلئے ایک مرتبہ بیوی کی فرج کا خراج پیش کرنا پڑیگا؟۔ جس نے دیکھا کہ ’’ہم خرما وہم ثواب کا کام ہے‘‘ تو اللہ کے واضح احکام کو اس طرح وہ پسِ پشت ڈال گیا جس طرح حضرت آدم ؑ نے واضح طورپرمنع ہونے کے باوجود شجرۃ الخلد کا ذائقہ چکھ لیا تھا۔ انسان کھانے پینے میں بے بس نہیں ہوتا لیکن بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے ایک صحابی رسول نے اپنا روزہ بھی توڑ دیا تھا۔ کراچی میں علماء ومفتیان کے پاس زیادہ تر اپنے گھر اور بیوی بچے نہیں ہوتے ہیں اور وہ حلالہ کے اتنے خوگر بن چکے ہیں کہ مدارس کے ارباب اہتمام بھی انکی خونخواری سے گھبراتے ہیں۔ حلالہ کی لعنت پر ان کی آنکھیں چڑھ جاتی ہیں لیکن ملعون اور دلّے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں اگر ایٹمی جنگ سے انسانیت دھوان بن گئی تو اس میں بڑا کردار حلالہ کی لعنت میں ملوث لوگوں کا گھناؤنا کردار ہوگا۔ پاک فوج اپنی ذمہ داری سرحدات پر پوری کرسکتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی معصوم افواج کا کوئی قصور نہیں ہے۔ پاک فوج نے حملہ آور پائلٹ کو زندہ گرفتار کرکے واپس کیا اور انسانیت کی تاریخ میں مثالی کردار ادا کیا۔ یہ مولوی اور مفتی ہیں جواس درجے گر چکے ہیں کہ قرآن کے منافی اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اپنے عقیدتمندوں کی عزتوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ عقیدت مند ہیں جو نہ صرف اپنی ہی بیگمات کو انکے سامنے حلالہ کی لعنت کیلئے پیش کرتے ہیں بلکہ اگر یہ علماء ومفتیان حکم دیں تو حق کی آواز کو بلند کرنے والوں کو شہید بھی کرڈالیں۔ ہم نے مارچ، اپریل اور مئی 2007ء کے ماہنامہ ضربِ حق کراچی میں اپنی آوازحلالہ کی لعنت کے خلاف اُٹھائی تھی۔مئی2007ء کو ہمارا اخبار بھی بند کیا گیا تھا اور 30مئی 2007ء کو میری موجودگی کی اطلاع پر ہمارے گھر پر اٹیک کیا گیا اور13 افراد کو شہید کردیا۔ حملہ آور وہی لوگ تھے جن کی اعتقاد ،مسلک یہ تھا کہ اگر وہ اپنی بیگمات یا انکے باپ انکی ماؤں کو یا بھائی انکی بھابیوں کو اکٹھی تین طلاق دیدیں تو حلالہ کی لعنت سے گزرنا پڑیگا۔ ہم آج بھی ان دونوں ہی طبقات کو خیرخواہی کی بنیاد پر سمجھار ہے ہیں کہ قرآن کے احکام کی بیخ کنی کی گئی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے سچ فرمایا’’ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو برا سمجھو اور اس میں خیر ہو،تمہارے لئے‘‘۔ جب تک یہ جاہل طبقے ایکدوسرے کو حلالہ کی لعنت پر آخری حد تک نہیں پہنچائیں گے انہوں نے اہل حق کی بات نہیں سننی ہے اسلئے بہتریہی ہے کہ اس لعنتی عمل سے گزر کر زیادہ سے زیادہ بے غیرت بن جائیں اور پھر کبھی حق کی بات سننے کیلئے بھی تیار ہوجائیں گے۔ ہم نے محسود قوم کو بھی طالبان کے حوالے سے کافی متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جب تک وہ اپنے گھر بار اور جان ، مال اور عزتوں کی قربانی تک نہ پہنچے تو ہماری باتیں ان کو ٹھیک نہیں لگتی تھیں۔میرے اپنے بھائی صاحبان بھی طالبان کی حمایت میں ہم سے لڑتے تھے تو انہوں نے اس کا مزہ چکھ لیا۔ میرے رشتہ دار بھی طالبان کے بڑے حامی تھے اور اب ان کو غبار ہٹنے کے بعد پتہ چل گیاہے کہ وہ کتنے پانی میں تھے۔ طالبان کی وجہ سے جاہلانہ غیرت ہماری قوم سے نکل گئی ہے لیکن حلالہ کی لعنت سے قوم کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے ویسے بھی کم بے غیرت نہیں ہیں، زیادہ تر علماء ومفتیان ان کو ہی شکار بنالیتے ہیں۔ یہ غریب اس کو اللہ کا حکم سمجھ رہے ہیں۔ جاوید احمد غامدی کی مثال بھی ان یہودی علماء کی طرح ہے جن پر گدھے کی طرح کتابیں لادی گئیں ۔ قرآن کا حکم حضرت عمرؓ اور ائمہ اربعہؒ نے منسوخ کیا اور نہ کرسکتے تھے بلکہ تنازعہ میں ان کی بات قرآن کے مطابق تھی۔ اکٹھی100 طلاق کے بعدباہمی صلح پر قرآن میں رجوع کی گنجائش واضح ہے۔ رجوع کا تعلق عدت اور اسکی تکمیل سے ہے۔ اللہ نے اسلئے رجوع کا تعلق عدت کی تکمیل سے رکھا ہے تاکہ یہ مذہبی گوپال لوگوں کو گمراہ نہ کرسکیں۔سید عتیق الرحمٰن گیلانی

پختون کا اصل مسئلہ امن تعلیم اور ترقی ہے. چاند خان

اگر مُلا گردی کے بجائے اصل اسلام بحال نہ ہوا اور ملٹری کے بجائے اقتدار عوام کو منتقل نہ ہوا تو آنیوالے وقت میں بہت گھمبیر صورتحال بن سکتی ہے۔
پختون وبلوچ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ مہاجر ، سندھی ، بلوچ، پنجابی کی قیادت وہ پختون یا بلوچ کریں جنکے خاندان سے کئی افراد شہید ہوئے ہیں

فیس بک (Shpezmy Khan) پشتوکے چاند خان نے بیرون ملک اپنا جو تجزیہ پیش کیا ، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور دلیل کا جواب میں دلیل اور جذبے کا جواب جذبے سے دینا ہوگا۔ چاند میاں کی تقریر میں درد اور صاف گوئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مُلا گردی کی جگہ اصل اسلام کا تصور بحال نہیں ہوتا اور ملٹری ڈکٹیٹر شپ کی جگہ عوامی اقتدار نہیں آتا تو یہ خطہ اسی طرح پسماندہ ، بد امنی اور فسادات کا شکار رہیگا۔ بصورت دیگر شعور و آگہی کی جنگ برپا کرنی ہوگی۔ جو قانون کی حکمرانی سے تمام ظالم وجابرفوجیوں اور ملاؤں کو عدلیہ کے ذریعے کڑی سے کڑی سزا دے اور اگر دال میں کچھ کالا کالا نہیں تو میڈیا کو آزادی کیوں نہیں دی جارہی ہے؟۔ چند افراد کی سزا سے پور ی قوم امن و خوشحالی اور تعلیم و ترقی کے سفر پر گامزن ہو گی۔ قرآن کا نام سن کر کمیونسٹ غصہ میں آتے ہیں، یہ بھی غلط ہیں،اسلام کا تصور مسخ ہے، مساجد و مدارس کی اصلاح اور درس نظامی کو قرآن کے مطابق تبدیل کرنا پڑیگا۔ پی ٹی ایم والے بڑے پر عزم ہیں،وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ ان میں یہ طاقت نہیں کہ مُلا گردی کا مقابلہ کرسکیں۔ مرتد ، گستاخ اور دیگر فتوؤں کے پیچھے ملٹری کی طاقت ہے۔ جتنی تباہی و بربادی یہاں ہوئی ہے اسکا کڑا احتساب کرنا ہوگا۔ بلوچ ، مہاجر ، سندھی، پنجابی اور تمام مظلوم اکھٹے ہوں۔ اور تعلیم یافتہ پختون کی قیادت میں سب کو چلنا ہوگا۔ الزامات اور مشکلات آئیں گی لیکن یہ سفر ایک تبدیلی پر ختم ہوگا۔اگر اسکا راستہ روکا گیا تو پھر سخت خانہ جنگی ہوگی۔ شپیزمائی کی ویڈیو بہت لمبی اور الفاظ بہت سخت ہیں۔ یہ ذہنیت سمجھ کر ا سے جواب نہیں دیا گیا تو منفی انقلاب آسکتا ہے۔ 

خیر کیسے غالب آتی ہے اور پھرشر کیسے غالب آتا ہے؟

دور جاہلیت میں شر ہی شر کا غلبہ تھاتو اللہ تعالیٰ نے نبی آخر زمان حضرت محمد مصطفی رحمۃ للعالمین ﷺ پر اپنی آخری کتاب قرآن کو نازل فرمایا۔ گنتی کے چند صحابہ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کیساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ بدر و اُحد اور تبوک و حنین کے غزوات اور صلح حدیبیہ و فتح مکہ تک کے واقعات میں ایک باکردار جماعت تیار ہوئی اور مختصر عرصہ میں اپنے دور کی سپر طاقتوں قیصر اور کسریٰ کو شکست سے دوچار کردیا۔ خلافت راشدہ کے بعد امارت و بادشاہت کی وجہ سے شر کی طاقت نے خیر کی قوت کو اس قدر کمزور کردیا کہ چنگیز کے پوتے ہلاکو خان کی یلغار نے عباسی خلافت کے پایہ تخت بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ لسانیت پرست پختون و بلوچ چنگیز خان و ہلاکوخان کی طرح پاکستان کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو مسلح پیشہ ور فوج سے ٹکر ان کو مزید نیست و نابود کرسکتی ہے۔ لیکن اگر سرکار دو جہاں رحمۃ للعالمین ﷺ کے طرز پر اپنی قوم سے اصلاح کی تحریک کا آغاز کیا جائے تو نہ صرف پاکستان میں ایک مثبت انقلاب آسکتا ہے بلکہ پورے خطے میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کا ایک اسلامی بلاک بھی بن سکتا ہے۔
ان ممالک سے درست سمت پر ایک حقیقی اسلامی انقلاب کا آغاز ہوگا تو دنیا کی سطح پر عرب اور تمام اسلامی ممالک سمیت ایک عظیم تبدیلی آسکتی ہے۔ مغرب اور تمام ترقی پذیر ممالک بھی اسلام کے درست معاشرتی نظام سے متاثر ہوکر اپنی سوچ کو بدل دیں گے۔ دنیا میں مسلمانوں کی عزت اسلام کی حقیقی تعلیمات سے بحال ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ایسی خلافت قائم کرے گا کہ زمین و آسمان والے دونوں کے دونوں اس سے خوش ہونگے۔ بھارت پاکستان کو کشمیر تحفے میں پیش کریگا۔ اور بیت المقدس کی آزادی کسی خونریز جنگ کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ ملا عمر کی حکومت سے پہلے مجھے ایک مجاہد نے کہا تھا کہ ایک جہادی تنظیم آپ پر اعتماد کرتی ہے اور وزیرستان میں اسلامی مدرسے اور جہاد کے مرکز کیلئے ڈیڑھ کروڑ ریال کی رقم تیار پڑی ہوئی ہے اور باقی ماہانہ خرچے بھی دئیے جائیں گے لیکن میں نے کہا تھا کہ ہم کسی کے ہاتھوں میں استعمال ہونے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔
کانیگرم جنوبی وزیرستان میں چوریوں اور ڈکیتیوں کا آغاز ہوا تو ڈکیت نے سام سرائے سے ایک پک اپ چھین لی اور کڑمہ کی طرف اغوا کیا۔ علاؤ الدین نامی ایک غریب شخص نے ڈکیتوں پر فائر کھولنے کیلئے کلاشنکوف اٹھائی تو وہاں پر موجود افراد نے اس کو گالی دی کہ ہمیں مروادو گے۔ گاڑی اغوا ہونے کے بعد وہ افراد علاؤالدین کیساتھ علاؤ الدین کی گاڑی میں مخالف سمت لدھا رپورٹ درج کرنے گئے۔ اغوا کی گئی گاڑی وانہ کے وزیروں کی تھی۔ رات گیارہ بجے واپس سام سرائے میں علاؤ الدین اور اسکے ساتھ دوسرے افراد گاڑی کھڑی کرکے نکل گئے۔ کانیگرم قوم کے مشیران نے دعویٰ کیا کہ اغوا کار گاڑی لے جارہے تھے تو وہ کسی کالے رنگ والی گاڑی سے ایک شخص سے آمنا سامنا کرنے پر ملے تھے۔ یہ شخص علاؤ الدین ہوسکتا ہے۔ علاؤ الدین نے کہا کہ 40 افراد میرے گواہ ہیں اسلئے مجھ پر قسم نہیں بنتی۔ بڑوں کو سمجھایا گیا کہ یہ زیادتی ہے لیکن بڑوں نے کہا کہ طاقتور چوروں کیلئے راستہ بنارہے ہیں۔ پھر جب طاقتور چوروں کو قسم اٹھانے کا کہا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ بڑے بھی قسم اٹھائینگے۔ جس کی وجہ سے طاقتور چوروں کو قسم کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکا۔ پھر علاؤ الدین کے بھائی عبد الرشید کو چوروں کیخلاف کمیٹی کا صدر بنایا گیا۔ عبد الرشید نے رات کو تاریکی کا فائدہ اٹھا کر پورے لشکر میں سے ایک چور کو پکڑا اور آواز لگائی کہ ایک میں نے پکڑ لیا ہے اور باقی کوئی بھی بچ کے نہ نکل سکے۔ یہ سن کر دوسرے چور بھاگ گئے۔ اس چور کو مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرکے سارے چوروں اور چوریوں کی بھرپور نشاندہی کی گئی۔ لیکن پھر کسی چور سے بھی کسی طرح کی پوچھ گچھ تک نہ کی گئی۔
پولیٹیکل انتظامیہ نے چوروں کیخلاف اقدامات پر زور دیا تھا تو قومی لشکر نے علاؤ الدین اور عبد الرشید کے گھر کو اسلئے لوٹ لیا تھا کہ وہ چور ہیں۔ یہ لوگ بعد میں طالبان بن گئے اور عبد الرشید نے مجھ سے کہا تھا کہ طالبان کیخلاف اٹھنے کی اجازت ہو تو یہ بڑے ظالم ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ امریکہ کیساتھ ہی جہاد کرنا چاہیے۔ پھر معلوم نہیں ہوسکا کہ عبد الرشید کو امریکیوں نے مارا یا طالبان نے خود ہی بیچارے کو شہید کردیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ کانیگرم شہر میں استعمال کے پانی کا بھی بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔ خواتین و حضرات مشکل سے پانی بھر بھر کے لے جاتے تھے۔ پھر پہلی مرتبہ حکومت نے بڑی ٹینکی بنا کر گھروں میں نلکوں کا بندوبست کیا تو کسی نے ٹینکی میں ڈی ٹی ٹی ڈال کر تخریب کاری کی۔ رات کی تاریکی میں بعض لوگ راستوں میں مائن دفن کرتے تھے جس سے کچھ لوگ صبح نماز وغیرہ کیلئے جاتے ہوئے معذور ہوگئے۔ یہ طالبان کی آمد سے بہت پہلے کی تخریب کاری تھی۔ اس طرح چوروں اور ڈکیتوں نے وزیرستان میں لوگوں کا جینا دوبھر کردیا تھا۔
عوام میں اسلام کا جذبہ تھا اور طالبان کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے بڑا کردار مل گیا۔ عوامی مقبولیت کیساتھ طالبان میں بدمعاش اور ڈکیت بھی شامل ہوگئے۔ حاجی زانگبار لنگر خیلؒ کے خاندان کا ایک فرد میرے پاس آیا کہ نمرجان کا بیٹا ممتاز طالبان میں شامل ہوا ہے۔ وہ ہم سے مطالبہ کررہا ہے کہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دو کہ ہمارے خلاف پولیٹیکل انتظامیہ کو کچھ لکھ کر نہیں دیا ؟۔ جبکہ ہم نے کورے کاغذ پر دستخط کئے تھے۔ اب ہم کیا کریں؟۔ میں نے مشورہ دیا کہ تم بھی طالبان میں شامل ہوجاؤ اور اس کے شر سے بچو۔ پھر یہ لوگ طالبان کے بڑے حامی بن گئے۔ اس طرح بہت سے لوگوں نے ڈر کے مارے اپنا لبادہ بدلا تھا۔
ساہیوال کے واقعہ میں سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر بندے مار دئیے تو ڈیوٹی پر موجود لوگ ریاست سے کیسے چھپ سکتے ہیں؟۔ریاست نے ہی انکو بچانے کیلئے ایسے پاپڑ بیلے ہیں کہ دنیا پریشان ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ قتل خطاء اور قتل عمد میں کیا فرق ہے؟۔ اگر مقتولین سے دشمنی کی کوئی وجہ نکلے تو یہ قتل عمد ہے ورنہ قتل خطاء اور نا اہلی ہے۔ کراچی میں دہشتگردی اور ڈکیتی کو کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کا کردار جب قابل تحسین بنا تو دو واقعات قتل خطا ء کے ہوگئے۔ ایک سے بالکل غلطی میں گولی چل گئی اور دوسرے نے بھاگتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور پر فائر کیا تو گولی لگ گئی۔ میڈیا نے آسمان سر پر اتنا اٹھایا کہ رینجرز کی غلطیوں کو بھی دھو ڈالا۔ اسی طرح کوئٹہ میں ایک واقعہ کی میڈیا نے خوب تشہیر کی۔ جس دور میں کوئی مقامی افراد کوئٹہ کے راستے سے افغانستان آنے جانے سے کتراتے تھے تو ایسے میں غیر ملکی نو مسلم خواتین کیا کرنے آجارہے تھے؟۔ یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جنرل باجوہ اورتبدیلی کے برخوردار جناب وزیر اعظم عمران خان نے اگر پارلیمنٹ اور علماء و مشائخ کی مدد سے اسلام کے معاشرتی نظام کو ٹھیک کرنے کا تہیہ کرکے اقدام اٹھایا تو گھر ، محلہ ، شہر اور گلی کوچوں اور سڑکوں جنگلوں میں انقلاب کی گونج سنائی دے گی۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور گھر کی سطح سے بین الاقوامی سطح تک معاشرے کو درست کرتا ہے۔ عتیق گیلانی

طالبان اور فوجیوں کے دورِ جاہلیت سے پہلے کا واقعہ!

جنوبی وزیرستان خیسورمحسود ایریا میں ایک شخص دبئی سے آیا۔ ایک رات اسے تمام گھروالوں سمیت قتل کیا گیا۔ قاتلوں کا سراغ ملا ، تو بے خبر رکھ کر سب نے حملہ کرکے مارڈالا۔ ایک بوڑھے کو غم منانے کیلئے چھوڑ دیا۔ خیسور پل پر ان کی لاشوں کو کئی دن تک لٹکائے رکھا۔ یہ وزیرستان تھا جس میں طالبان و فوج کی آمد سے پہلے مظالم کیخلاف لوگ یہ سلوک روا رکھتے۔آج پھر تقاضہ ہے کہ عوامی اعتماد بحال ہو۔ عوام قیام امن میں کردار ادا کریں۔ علامہ اقبال نے جن توقعات کا اظہار کیا، ان پر پورا اترنے کیلئے اچھا ماحول قائم ہو،ورنہ پختون اور پاکستان مزید مشکلات کا شکار ہونگے۔ طالبان سے پہلے بھی بے غیرت تھے لیکن قوم کا اجتماعی شعور تھا۔قوم میں وہ شعور ہوتا تو طالبان پنپتے اور نہ مصیبت کا سامنا قوم کو کرنا پڑتا۔ یہ نہ ہو کہ اب پختون اور فوج کو کسی مزید آزمائش سے گزارا جائے۔
سانحہ ساہیوال میں مشکوک کردارکے پیچھے بے گناہ افراد کی جانیں گئیں۔ یہ پنجاب کی تربیت یافتہ پولیس تھی۔ پولیس و فوج کی تربیت میں فرق ہے۔ پولیس کی تربیت عوام کو کنٹرول اور فوج کی تربیت دشمن سے نمٹنے کیلئے ہوتی ہے۔ قبائلی علاقہ میں انگریز کو نقصان پہنچا تو عوام سے دشمن کا سلوک روا رکھنے کیلئے پولیس کی بجائے فوج کو کردار دیا گیا۔ انگریز کے بعد قبائل نے بھی سکون کا سانس لیا لیکن پھر طالبان اور القاعدہ کی شکل میں قبائل اور پختونوں کی تباہی کا سامان کیا گیا۔ علی وزیر قومی اسمبلی اور منظور پشتین عوامی سطح پر پختون عوام کے مستقبل کی تحریک چلارہے ہیں۔ وزیرستان سے MNA بن جانا عوامی مقبولیت ہے۔ سوشل میڈیا پر پٹھان فوجیوں نے دونوجوانوں پر تشدد کرکے زنجیروں اور بیڑیوں میں منظور پشتین کو انڈیا اور امریکہ کا ایجنٹ کہنے پر مجبور کیا۔ کیا اس سے فوج کی ساکھ بڑھے گی؟۔ منظور پشتین اسرائیل یا بھارت میں تو نہیں بیٹھا ہے۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں کو طالبان نے امریکہ کی امداد سے توڑ کر قیدی آزاد کرائے؟۔ مولانا فضل الرحمن نے طالبان دجالی لشکر کی حدیث نمازِ جمعہ کی تقریرمیں سنائی مگرعالمی و مقامی میڈیا نے کوریج نہیں دی۔محسودقوم بدظن ہے، وہ منظور پشتین کے پیچھے بھی وردی یا مشکلات دیکھتی ہے، اسلئے عوامی سطح پر قرآن کی قسم کھانے پر بھی عوام میں اعتماد بحال نہیں ہورہاہے ۔منظور پشتین کو بادشاہی محسودکے بغل میں بیٹھ کر بھی محسودوں کو جلسے میں لانے کیلئے کامیابی نہ ملی۔محسود قوم اٹھ جائے تو ساری مشکلات جلدختم ہوسکتی ہیں۔لیکن طالبان کے نام پر دھوکہ کھانے والے قومی تعصبات کے نام پر دھوکہ کھانے کیلئے اب تیار نہیں ہیں۔ محسودوں میں مشرکینِ مکہ کی طرح غیرتمندوں کی کثرت، بے غیرتوں کی کمی ہے۔اگر یہ قوم اعتماد کیساتھ اُٹھ گئی تو نہ صرف پختون اور خطے کی مشکلات کا خاتمہ ہوسکتا ہے،بلکہ عالمِ انسانیت کے مسائل بھی حل ہونگے۔ہم نے پہلے بھی اس خوف کی وجہ سے آنکھیں بند کرکے زبان کو قابو میں نہیں رکھا کہ آزمائش میں پڑجائیں گے اور آج بھی خیرخواہی کی بنیاد پر قوم کو مشکلات پیدا کرنے کیلئے نہیں مشکلات ختم کرنے کیلئے اٹھانے کی بات کررہے ہیں۔