ماہنامہ نوشتہ دیوار کے مالیاتی امور کے مہتمم فیروز چھیپا نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمائش کی ہے کہ حضرت مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی عرصہ چالیس سال سے زیادہ جنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں قرآن و سنت کی روشنی میں نکاح و طلاق اور دیگر شرعی مسائل کے جوابات دیتے رہے ہیں ۔ مفتی صاحب کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر اور حنفی مسلک سے ہے ۔ ان کا نام بھی شیخ العرب و العجم مولانا حسین احمد مدنی نے رکھا ہے اور ان کو 1962ء میں مولانا احمد علی لاہوری ؒ نے اپنی طرف سے مسائل کے جواب کا فریضہ سونپا تھا۔ روز روز کراچی ، ملک بھر اور دنیا کے کونے کونے میں طلاق کے مسائل رونما ہورہے ہیں ، نکاح ٹوٹا نہ ہو ، حلالہ کی ضرورت نہ ہو اور فتویٰ حلالہ کا دیا جائے تو اس سے آسمان اور زمین والے لرزتے ہونگے۔ جیو اور جنگ گروپ کا فرض بنتا ہے کہ مفتی حسام اللہ شریفی کی طرف سے تائید اور تصدیق کے بعد قرآن و سنت کے مطابق طلاق کے مسائل کی عوام میں زبردست طریقے سے تشہیر کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر میاں بیوی کے درمیان جدائی اور حلالہ کے معاملات سامنے آتے ہیں میڈیا بھی حق کو پوشیدہ رکھنے کا ذمہ دار ہوگا ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی اور لاہور، کراچی ، پشاور ، اسلام آباد اور کوئٹہ کے چیف جسٹس حضرات سے اپیل ہے کہ وہ شریعت کورٹ کے مشیر اور سپریم کورٹ کے مشیر حضرت مفتی حسام اللہ شریفی کی تائید اور تصدیق سے مرتب ہونے والی قرآن و سنت کی تحقیقات پر فیصلہ صادر کرنے کیلئے خصوصی طور پر مشاورتی اجلاس بلوائیں یا جو بھی ان کا طریقہ کار ہے۔ اور قرآن و سنت کے ذریعہ سے طلاق اور خلع کے مسائل حل کرنے کے احکام پاکستان بھر میں نافذ کردیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔ جب قرآن و سنت سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عورت خلع کی حقدار ہے اور مرد کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق کا تصور صرف اس صورت میں ہے جب بیوی صلح کیلئے راضی نہ ہو۔ اسکے علاوہ رجوع کی گنجائش ڈھیر ساری آیات سے ثابت ہے۔ جو لوگ صلح و رضامندی کے باوجود طلاق ، حرمت اور حلالہ کا فتویٰ دیتے ہیں وہ قرآن و سنت کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اگر قانون کی طاقت سے ان ظالموں کو نہ روکا گیا تو قیامت میں ذمہ دار بچ نہ سکیں گے۔ سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل ایک مجلس کی تین طلاق پردنیا بھر کے علماء کو بلوا کر فتویٰ طلب کیا تھا جس میں علامہ ابن تیمیہ کے فتویٰ کے برعکس حنفی فقہ کے مطابق ایک ساتھ تین طلاق کے فتوے پر اتفاق کیا گیا۔ اس میں شاید اہل تشیع کو اپنے حدود میں رکھنے کا بھی خیال رکھا گیا۔ رابطہ عالم اسلامی تحقیقات قرآن و سنت کے رکن حضرت مولانا مفتی حسام اللہ شریفی کی طرف سے جس تحقیق کی زبردست تائید و تصدیق ہوئی ہے اس میں دوسرے مسالک کی طرح اہل تشیع اور اہل حدیث کی فکر کو بھی بہترین انداز میں رد کردیا گیا ہے۔ اگر رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ دوبارہ اس فکر پر غور کرلے تو امید ہے کہ نہ صرف ایک ساتھ تین طلاق کے غلط فتوے سے رجوع کا معاملہ سامنے آئے گا بلکہ ایک طرف حضرت عمر فاروقؓ کے اقدام کی زبردست تائید ہوگی کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر شوہر رجوع کا حق کھودیتا ہے تو دوسری طرف قرآن و سنت ہی کا بول بالا ہوگا اور تمام فرقے اور مسالک اس کے سامنے بہت خوشی کے ساتھ نہ صرف سرنگوں ہوں گے بلکہ اتحاد و اتفاق اور وحدت ملی کا بھی مظاہرہ کریں گے۔ امت مسلمہ کیلئے یہ اقدام قرآن و سنت کی طرف رجوع کا زبردست ذریعہ ہوگا۔
فوجی، سیاستدان، عام آدمی، پڑھالکھا،ان پڑھ، ڈاکٹر،انجینئر، سائنسدان، بینکار اور مذہبی طبقہ سے تعلق رکھنے والا بالکل عام وہ شخص جو مولوی نہ ہو یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ اسلام فطری دین ہے جسے ہر فرد بخوبی سمجھ سکتا ہے مگرمولوی کے دل پر اللہ نے تالا لگا دیا ہے ۔غیر مسلم سکھ، ہندو، یہودی، عیسائی، بدھ مت ، مجوسی اور دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے انسانوں کو اسلام پوری آب وتاب کیساتھ سمجھ میں آجائیگا مگرعلماء ومفتیان کی اکثریت زنگ آلودہ دل، ضد، ہٹ دھرمی، کوتاہ ذہنی،قاصر دماغی ، مفادپرستی، فرقہ وارنہ عصبیت ، طبقاتی عناد ، کورنگاہی اور معصومانہ حماقت کے سبب اسلام کو سمجھنے میں دیرلگادیگی، جانور تو سب ہی جانور ہیں لیکن گدھا ضرب المثل ہوتاہے، اللہ نے یہود ی علماء کو گدھے سے تشبیہ دی اور نبیﷺ نے انکے نقش قدم پر چلنے کی پیشگوئی فرمائی تھی جو بالکل درست ثابت ہورہی ہے اور آج تمام طبقے اپنے احوال میں علماء سمیت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ عورت صنفِ نازک اور مرد طاقتورہے، دونوں میں لڑائی ہوتو عورت زبان کی تیز اور مرد ہاتھ چھوڑہوگا۔ یہ ایک غیرمعمولی کیفیت ہوتی ہے کہ زبان درازی کے مقابلہ میں ہاتھ چلنے اور مارکٹائی تک بات پہنچ جاتی ہے۔اگراللہ شوہر پر پابندی لگادیتا کہ بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے تو باتونی لڑائی کا بازار گرم ہوتا اور زندگی اجیرن بن جاتی،چرب زبانی کا مقابلہ ہاتھ سے ہوتا ہے، اللہ نے شوہر کو اجازت دیدی واضربوھن ’’اور انکو مارو‘‘۔ ایک عام انسان سوچتا ہے کہ نعوذباللہ یہ کتنا ظلم ہے کہ اللہ نے شوہر کو ٹھنڈا کرنے کی تعلیم دینے کی بجائے الٹا بیوی کو مارنے کا حکم دیا ، مذہب سے زیادہ سیکولر و سوشلسٹ نظام میں عافیت ہے لیکن کیا وہاں عورت پر تشدد نہیں کیا جاتا ہے؟۔ اسلئے تویہ قوانین بھی بنائے گئے ہیں کہ ’’عورت مار کھانے کی بجائے فوری طور سے پولیس کو اطلاع کردے‘‘۔ قرآن نے حکمت اور فطری تقاضوں کو پورا کرکے عورت کو شوہر کی مار سے بچانے کا نسخۂ کیمیا بتادیا۔ شوہر کی بیوی سے دشمنی نہیں ہوتی ،مارکٹائی اور تشدد کی عادت فطری تعلیم سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے پہلے مرحلے میں شوہر کو پابند بنایا کہ وہ بیوی کو سمجھائے۔ پھر دوسرے مرحلہ میں بستر الگ کرلے، پھر تیسرے مرحلہ میں مارنے کی بات ہے۔یہ مارنا سزا نہیں بلکہ عورت کی توہین ہے۔کوئی معزز انسان اپنی توہین و اہانت برداشت نہیں کرسکتا۔ہلکی ماربھی رسوائی ہے۔ بدکاری پر100کوڑے کی سزا میں مؤمنوں کے ایک گروہ کوگواہ بنانے کا حکم جسمانی سزا سے زیادہ روحانی اذیت اور شرمندگی کا احساس ہے۔ عورت کی سرکشی کا خطرہ ہو اور مار سے اطاعت کرلے توفرمایا:’’ ان کیلئے (مارکٹائی ، باتیں سنانے کی) راہیں تلاش نہ کرو‘‘۔اللہ نے یہ بھی فرمایاہے کہ ’’اگر ان دونوں میں جدا ہونے کا خوف ہو تو دونوں طرف سے ایک ایک رشتہ دار کو فیصلے کیلئے حَکم بنایا جائے۔۔۔‘‘ فوج کی حکمرانی اسلئے غلط ہے کہ انکی تربیت دشمن کیلئے ہوتی ہے ،انکا عوام سے برتاؤ اچھا نہیں ہوسکتا ، البتہ سیاسی قائدین آمریت کی پیداوارہیں۔ ریاست ماں جیسی مگرماں انسان نہیں کتیا جیسی ہے ، ریاست کے اہلکاروں کا اپنی عوام سے سلوک کتوں کے بچوں کا ہوتاہے،اگرہم قرآن کیمطابق مہذب بن کر ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو انکے حقوق دینگے تو ہماری ریاستی اداروں کا رویہ بھی درست ہوگا، کشمیر وفلسطین اور سب ہی آزاد ہونگے۔ بیوی کوشوہر کی شکل ،کرداراور سلوک پسند نہ ہواورچھوڑنے کی اجازت ہوتو شوہر ایسا سلوک روانہ رکھے گا کہ عورت اسکو چھوڑ کر جائے،رویہ کی وجہ سے شکل بھی بری لگتی ہے۔ یہ اسلام نہیں کہ شوہر کے ہرطرح کے ناروا رویے کے باوجود لفظِ طلاق کا پابند بنایا گیا ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ نکاح کا عقدہ بہت مضبوط اور شوہر کا اختیار ہے لیکن اس دائرہ اختیار کے بھی حدود ہیں۔ طلاق کی ایک صورت الفاظ کی ہے، دوسری صورت عمل سے طلاق کی ہے ، پہلے اللہ نے طلاق کی عملی صورت کو واضح کیا اور پھر طلاق کے اظہار کو واضح کیا ۔پہلے اللہ نے عورت کی طرف سے شوہر کو چھوڑنے کی وضاحت کی پھر شوہر کی طرف سے بیوی کو چھوڑنے کے اختیار کی وضاحت کی۔ ہاں ہاں! مولوی سمجھے گا نہ مانے گا۔مذہبی طبقہ تو قرآن وسنت کیخلاف ایک طلاق کے بعددوطلاقوں کے باقی رہنے کا تصور دوسری شادی کے بعد بھی رکھتا ہے حالانکہ دو مرتبہ طلاق کاتعلق طہروحیض کے ادوار سے واضح ہے۔ قرآن گنجلک،الجھی ہوئی اور بھول بھلیوں کی کتاب نہیں بلکہ اسکی آیات بینات کی فصاحت و بلاغت اتنی واضح ہے کہ عام انسان بھی بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے فرمایا: عورتوں کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو!،اور اسلئے ان کو نہ روکو، کہ جو تم نے انکو دیااس میں سے بعض واپس لے لو، الایہ کہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ انکے ساتھ اچھا معاملہ کرو، اگر وہ تمہیں بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے‘‘(سورۂ النساء آیت19)۔ ہٹ دھرم اورغیرت وحسِ انسانی سے عاری علماء کی اکثریت کے علاوہ اس آیت کے افہام وتفہیم کا ادراک ہر بنی نوع انسان بخوبی کر سکتا ہے۔ پہلے واضح فرمایا: عورت کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو، بیوی کی ملکیت کا تصور باطل قرار دیا، پھر وہ چھوڑ کر جانا چاہیں تو اسلئے نہ روکو ،کہ دی ہوئی چیزمیں سے بعض واپس لے لو مگر فحاشی کی صورت مستثنیٰ ہے۔ عورت کھلی فحاشی کی مرتکب نہ ہو تو شوہر کی طرف سے بعض دی ہوئی چیزوں سے محروم کرنے کے اقدام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔ ایسے موقع پر بیوی پر غصہ و بدسلوکی کا اندیشہ ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ بری بھی لگیں مگر اللہ نے پوری صورتحال کا زبردست طریقے سے احاطہ کرکے تمام پہلوؤں کو واضح کردیاہے کہ ’’پھر بھی انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، وہ تمہیں بری لگ رہی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے‘‘۔ بالفرض عورت شوہر سے نباہ نہیں کرنا چاہ رہی ہے، چھوڑ کر جانا چاہ رہی ہے تو اس کو انا کا مسئلہ بناکر بدسلوکی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ٹھنڈا پانی پی کر برداشت کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس طرح چھوڑ کر نہ جائے یا اس کیلئے رکاوٹ پیدا کی جائے اور کل کلاں عزت تارتار ہوجائے، زندگی اجیرن رہے، بدمزگی کی صورتحال دائمی طور سے رہے تو اس کی بجائے ان کو حسنِ سلوک سے چھوڑنے کی بات میں بہت سارا خیرپنہاں اور چھپا ہوا نہیں بلکہ عیاں اور واضح ہے۔ غیرت یہ ہے کہ عورت کی وفاداری مشکوک ہوجائے تو بھی چھوڑنے میں لمحے کی دیر نہ لگائی جائے لیکن جب عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہو اور شوہر اس کو رکنے پر مجبور کرے تویہ شوہر کی غیرت نہیں حد درجہ بے غیرتی بھی ہے، اللہ نے اس آیت میں غیرت ہی کی تعلیم دی ہے مگر بے غیرت قسم کے معاشرے میں بے غیرتی کو ہی بڑی غیرت سمجھ لیا جاتاہے ۔ مذہبی طبقہ کی اکثریت کو چھوڑ دو، یہ قرآن سمجھنے کی صلاحیت سے ہی خود کو عاری کرکے دل اور دماغ پر زنگ چڑھا چکی ہے، کسی حسنی اور حسینی مہدی اور امام برحق کے انتظار میں ان کو بیٹھے رہنے دو،جو گمراہی کے قلعے مدارس اور ان زنگ آلودہ دلوں کو فتح کرے گا۔ اگلی آیت میں اللہ نے شوہر کو بیوی چھوڑنے کی اجازت دی فرمایا : ’’اگرکوئی بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہے تو اگر کسی ایک کو بہت سارا مال دیا ہو تو بھی اس میں سے کچھ لینا جائز نہیں ۔کیا تم بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کے ذریعہ سے بعض مال واپس لوگے؟‘‘۔ (آیت20سورۂ النساء)۔ عورت چھوڑ کر جانا چاہے تو بھی دیے ہوئے مال میں بعض کی واپسی کو صرف فحاشی کی صورت میں مستثنیٰ قرار دیا ، اسی آیت کے ذیل میں خلع کی احادیث کو درج کرنا تھا، عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہوتو اس کو خلع کہتے ہیں۔شوہر چھوڑ نا چاہتا ہوتو بہتان لگاکر عورت کو بعض چیزوں سے محروم کرنے کے کھلے گناہ سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: کیا تم ان پر بہتان لگاؤگے اور وہ تم سے لے چکیں میثاق غلیظ پکا عہدوپیمان۔ آیت21 اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے میثاقِ غلیظ لینے کا ذکر کیا ہے اور بیوی کا شوہر کو امانت سونپ کر رازداری کے مقدس عمل کو بھی میثاقِ غلیظ قرار دیا ہے۔ کم عقل علماء و مفتیان نے نکاح کے اس مقدس عہدوپیمان کی ضد کو طلاق مغلظہ کا نام دیکر اسکے مفہوم کا بھی ستایاناس کردیا ہے۔ یہ بیوقوف ہٹ دھرم اورانتہائی معصوم احمق طبقہ کہتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا عورتوں کو مغلظہ یعنی اپنے اوپر غلیظہ بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق نہیں نکاح میں مباشرت کے مقدس عمل کو ہی میثاقِ غلیظ (پکا عہدوپیمان) قرار دیا تھا۔ جو اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کی مثال دینی بھی مشکل ہے۔ عدت تک قائم رہتا ہے، عدت حمل کی صورت میں ہو وضع حمل تک اور طہرو حیض کی شکل میں ہو تو تینوں مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے باوجود عدت کے خاتمے تک باہمی رضامندی اور صلح سے معروف طریقے پر اللہ نے بار بار روجوع کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ البقرہ،النساء، المائدہ، الاحزاب، المجادلہ اور سورہ طلاق کی آیات کو دیکھا جائے تو عالم انسانیت قرآن کی عظیم انسانی منشور کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیگی۔ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک اقرب الی الحق اسلئے ہے کہ اللہ نے ایلاء پر چار ماہ کے انتظار کا حکم دیا اور طلاق کے عزم کے باوجود اظہار نہ کرنے پر مواخذے کی وضاحت کی ۔ علامہ ابن قیم اور جمہورائمہ و محدثین کے نزدیک نعوذباللہ چار ماہ کا انتظارمحض ایک شوشہ، فضول اور بکواس ہے، جبتک شوہر طلاق نہ دے عورت چارماہ کیا زندگی بھر انتظار کریگی۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ نے کہا’’ چارماہ تک انتظار عزم کا اظہار ہے اسلئے طلاق ہوجائیگی‘‘۔ قرآن میں اختلاف کی گنجائش نہیں، عورت کے حق کابیان ہے کہ طلاق کے اظہار کی صورت میں تین مراحل یا تین ماہ انتظار کرنے کی پابند ہے اور عزم کا اظہار نہ کرنے پر ایک ماہ کا اضافہ ہے اگر عورت کاحق ملحوظِ خاطر رہتا توآیت میں اختلاف کی گنجائش نہ رہتی۔مرد طلاق دے اور عورت انتظارکی پابندہو تو اس سے بڑھ کر درجہ کیاہوسکتاہے؟۔ حقوق نسواں کی بحالی سے مغرب اسلام کی طرف راغب ہوگا اورہر قسم کا غلام آزادی پر آمادہ ہوگا۔
معراج محمدخان نے پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے علاوہ اپنی پارٹی بھی بنائی تھی لیکن وہ ایک کامیاب لیڈر اور ناکام سیاستدان تھے۔ محترم لال خان زیادہ بڑے اور قدآور شخصیت لگتے ہیں جو اپنے مضبوط نظریات کا بیباک انداز میں پرچار کرتے ہیں۔ میری بلوچ رہنمایوسف نسکندی مرحوم سے ملاقات ہوئی تھی جو پہلے تبلیغی جماعت سے والہانہ انداز میں وابستہ تھے اور پھر برگشتہ ہوکر کمیونسٹ بن گئے اور ہماری حمایت میں ایک بیان بھی دیا تھا۔ میں نے مذہب کے حوالہ سے اتنی بات سامنے رکھی کہ ایک آدمی پنج وقتہ نماز کسی لالچ کے بغیر پڑھ لے، زکوٰۃ دے اور دیگر عبادات روزے رکھے،حج وعمرہ کرے توکیا کسی جماعت ، کسی نظریے اور کسی تحریک کوایسے کارکن مل سکتے ہیں؟۔ ایک بلوچ یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ تازہ وضو کرکے نماز پڑھارہا ہو، اس کی ریح خارج ہوجائے اور پھر سب کے سامنے وضو ٹوٹ جانے میں انتہائی شرم محسوس کرکے بھی نماز چھوڑ دے؟ ، یہ مذہب کا کمال ہے کہ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر نماز چھوڑ کر چلاجاتا ہے۔ میری باتوں سے یوسف نسکندی ؒ نے بھی اتفاق کیا اور پھر مجھے اپنے شاگرد سلیم اختر سے ملنے کا حوالہ دیا۔ سلیم اختر سے ملاقاتیں رہیں ان کا کہنا تھا کہ پہلے آپ سے ملاقات ہوجاتی تو میں اسلام چھوڑ کر کمیونسٹ نہ بنتا۔ ان کے ذریعہ امداد قاضی سے ملاقات کا پروگرام عاصم جمال کے ہاں بنا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹا سا کتابچہ ملا،جو کمیونزم سمجھنے کا ایک بنیادی قاعدہ تھا۔ اس کتابچے کا خلاصہ اور اس کی تردید پر میں نے ماہنامہ ضرب حق میں ایک مضمون لکھا۔ کتاب کا مصنف بیمار ہوگیا،اسلئے جواب نہیں لکھ سکتا تھا۔ سلیم اختر نے کہا کہ تمہاری باتوں کا جواب دینے کی صلاحیت صرف جنگ کے صحافی نجم الحسن عطاء میں ہے، چناچہ نجم الحسن عطاء نے تفصیل سے گھما پھرا کر تحریر لکھ دی، جسکے جواب میں ہم نے بھی کچھ لکھ دیا، آخر کار ان کہنا تھا کہ میرا دماغ بھی گھوم گیا۔ کمیونسٹوں کیساتھ مکالمے کی ضرورت ہے اور علماء ومفتیان کیساتھ بھی مکالمے کی ضرورت ہے، کمیونسٹوں نے معاشی نظام اور علماء ومفتیان نے اسلام کا بیڑا غرق کیا ہے، دونوں میں مخلص افرادکے خلوص پر شک نہیں مگر غلط بات پر اڑنابیکار ہے۔ شیخ الاسلام، مفتی اعظم اور بڑے القاب والوں نے سودی نظام کو اسلام کا نام دیا ہے تو پھر غیراسلامی آخر کیا ہے؟۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرامؑ کو مبعوث فرمایا، قرآن میں ان کی زبانی بار بار یہ کہلوایا : قل الاسئلکم علیہ اجرا ’’کہہ دو، اس پر میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا‘‘۔جب صوفیاء کرام نے اللہ اللہ کے ورد پر کوئی اجر نہیں مانگا تو عوام میں دین کی برکت سے خلوص آگیا۔ متقدمین علماء کی اجماعی رائے تھی کہ قرآن پڑھانے، نماز پڑھانے ، تبلیغِ دین پر معاوضہ جائز نہیں، اسلئے کہ حدیث میں منع کیا گیا تھا۔ پھر متأخرین علماء نے رائے قائم کرلی کہ دین کی تبلیغ، قرآن پڑھانے اور نماز پڑھانے وغیرہ پر معاوضہ جائز ہے۔ بعد ازآں مذہب نے پیشہ کی صورت اختیار کرلی۔اب آج اگر دین کو بطور پیشہ کے استعمال نہ کیا جائے تو دین کے نام پر مدارس اور بہت سی رونقیں ختم ہوجائیں گی اوراس میں شک کی گنجائش نہیں کہ مدارس کو پیشہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حد تو یہ ہے کہ حلالہ کی لعنت بھی پیشہ بن گئی، سود کامعاوضہ بھی پیشہ ہے، طلاق کا فتویٰ بھی پیشہ ہے،قرآن خوانی بھی پیشہ ہے، طلبہ کی تعداد،مدرسہ کی رونق بھی پیشہ،اہتمام بھی پیشہ، تدریس بھی پیشہ اور چندہ بھی پیشہ۔ کوئی سکول و کالج اشتہار اسلئے شائع کرتاہے کہ وہ تعلیم کوبطورِ پیشہ استعمال کرتا ہے اس کا مالک خوب کماتا ہے مگر مدرسہ کا بھی یہی حال ہوتا ہے، اشتہارات کی ضرورت ہوتی ہے تو لکھا جاتا ہے کہ ’’داخلہ جاری ہے، قیام ، طعام، ماہانہ مفت معقول وظیفہ، مفت علاج معالجہ اور قابل مدرسین کی خدمات فلاں درجہ تعلیم کی سہولت موجود ہے‘‘ ،دوسری طرف طلبہ کی تعداد،مدرسین کی تنخواہیں اور اخراجات پورا کرنے کیلئے چندے کی ضرورت پر ایسازور دیا جاتا ہے،جیسا اللہ کہیں لٹ گیا ہو،طلبہ بھوک سے مرر رہے ہوں،اساتذہ نڈھال اورمہتمم بدحال ہو۔ پہلے سکول کالج میں امیرزادے پڑھتے تھے اور مدارس میں غریب غرباء لیکن اب مدارس کے منافع بخش کاروبارنے غریبوں کو بھی امیر بنانا شروع کردیا اور پیسے والے لوگ بھی بچوں کے اچھے مستقبل کیلئے مدارس کارُخ کررہے ہیں اور مدارس کے مہتمم کے بچے اچھے اچھے سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاسؒ نے تبلیغ کے کام کی بنیاد اس بات پر رکھی کہ چندہ نہ ہو،لوگ اپنی جان، اپنامال اور وقت اللہ کی راہ میں خرچ کریں لیکن جماعت پر سود خور قسم کے لوگ قابض ہوگئے جو پہلے دیسی طریقے سے حیلے کرکے سودی کاروبار میں ملوث تھے اور اب مفتی محمد تقی عثمانی کے فتوے کے سہارے پر سودی کاروبار کی ترویج کررہے ہیں ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے بھائی مولاناصوفی عبدالحمیدصاحب نے اپنی کتاب ’’مو لانا عبیداللہ سندھیؒ کے علوم وافکار‘‘ میں بہت پہلے ان کا یہ نقشہ کھینچا تھاکہ ’’منافع خور سمگلر قسم کی ذہنیت کے لوگوں کااس جماعت پرقبضہ ہوگیا ہے‘‘۔ جنرل راحیل شریف ضربِ عضب میں دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کی بات کرتے ہیں مگر یہ معلوم ہے کہ تبلیغی جماعت دہشت گردوں کی سب سے بڑی سہولت کار ہے، جب آرمی پبلک سکول پشاور کا واقعہ ہوا تھا تب بھی جماعت کے افراد اس ذہن سازی میں مشغول تھے کہ ’’ دہشت گردوں نے بہت ہی اچھا کام کیا ہے‘‘۔ جماعت کے لوگوں کو باقاعدہ منافقت کی زبردست ٹریننگ دی جاتی ہے کہ کس کس طرح پینترے بدلتے رہنے کا نام حکمت ہے، علماء کے خلاف یہ زہر اگلتے ہیں لیکن علماء کے اکرام کی بھی تعلیم دیتے ہیں، بدترین قسم کی فرقہ وارانہ اور متعصبانہ ذہنیت کی آبیاری کرتے ہیں اور بات اتفاق واتحاد اور عدمِ منافرت اور فرقہ واریت کی مخالفت کی کرتے ہیں۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ بہت لوگوں میں اچھا جذبہ اور اخلاص بھی ہے لیکن اچھا جذبہ اور خلوص خوارج میں بھی تھا اور موجودہ دور کی خارجیت کی تمام نشانیاں بدرجہ اتم ان میں موجود ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے لوگ صوفیت کے علمبردار تھے،وہابی اور دیوبندی مکتبۂ فکر کی تجدیدِ دین کیخلاف ردِ عمل کے طور پر ان میں تعصب اور منافرت کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، تبلیغی جماعت میں لگے ہوئے پنجاب کے 80%سے لوگ بریلوی مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔ وزیرستان کے پہاڑوں میں محسود اوردامان(دامن) میں بیٹنی قوم تبلیغی جماعت کوپہلے نئے دین کے علمبردار سمجھتے اور سخت مخالفت کرتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ اتنا بڑھ گیا کہ عوام نے سمجھا کہ ہم اور ہمارے آبا واجداد پہلے دین سے عاری تھے اور تبلیغی جماعت نے نماز، وضو، غسل اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا ہے، اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ مذہبی لبادے، حلیے اور مذہب کی زبان میں گفتگو تبلیغی جماعت ہی کی مرہونِ منت ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ حقیقت میں ہم خلوص سے بھی گئے اور غسل، نماز وغیرہ کے فرائض و مسائل کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ لطیفہ ہے کہ گاؤں والوں کو کچھوا مل گیااور وہ اس کو پہچانتے نہ تھے، اپنے سردار کے پاس لائے کہ یہ کیا ہے؟،سردار جی اسے دیکھ کر پہلے روئے ، پھر ہنسے ،پوچھاگیا کہ روئے اور ہنسے کیوں؟، سردارجی نے کہا کہ ہنسا تو اسلئے کہ تم لوگ کتنے نالائق ہو، اس کا پتہ نہیں، رویا اسلئے کہ مجھے خود بھی پتہ نہیں کہ یہ کیا ہے۔ اب یہ ہے کہ اس کے آگے گندم کے دانے ڈالو، اگر اس نے کھالیا تو یہ کبوتر ہے اور نہیں کھائے تو پھر جو بلا بھی ہے سو ہے۔اللہ کی قسم ! کہ مذہبی طبقات نے دین کا وہ حشر کیا ہے جسکا عکس اس لطیفے میں موجود ہے۔ شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث دوسروں کے حال پر ہنسنا شروع کردیں گے اور اپنے حال پررونا شروع کردیں گے۔انکے ہوشیار اور بڑے علماء کا حال اس لطیفے میں مذکور اس سردار جی سے مختلف نہ پائیں گے جو دین کا تصور شناخت کیلئے اتنا رکھتے ہیں کہ جیسے سردار جی نے کہا کہ کچھوا کے سامنے گندم کا دانہ ڈال دو ، کھالیا تو کبوتر ہے اور نہیں کھایا تو جو بلا بھی ہے سو ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی کے بارے میں مفتی کفایت اللہ نے ایک میڈیاچینل پر کہا کہ’’ اس وقت روئے زمین پر شیرانی صاحب جتنا بڑا عالم کوئی نہیں ہے‘‘۔ ایک مرتبہ مولانا شیرانی صاحب کے پاس پہنچا تو وہاں مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن بھی بیٹھے ہوئے تھے، پاکستان کے بارے میں مولانا صاحبان ایسی گفتگو کررہے تھے جیسے کچھوا سے ناواقف سردارجی کی روح ان میں بول رہی ہو کہ ’’پاکستان ایک عجب الخلقت ریاست ہے‘‘۔نووارد کی طرح مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تمہارا پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔ موقع کو غنیمت سمجھ کر میں نے پہلے قرآن سے کتاب کی تعریف بتائی کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ الذین یکتبون الکتاب بایدیھم ’’وہ لوگ جو کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘۔ یعنی کتاب ہاتھ سے تحریر کی جانے والی چیز کا نام ہے۔ پھر کتاب کی تقدیس کا ذکر کیا: والقلم ومایسطرون’’ قسم ہے قلم کی اور جوسطروں میں ہے‘‘ ۔ ذٰلک الکتاب لاریبہ فیہ ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شائبہ تک نہیں ہے‘‘۔اللہ کی پہلی وحی میں علّم بالقلم’’قلم کے ذریعہ سکھایا‘‘ کا ذکر ہے، مگر علماء درسِ نظامی کی تعلیم میں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ مصحف ( کتابی شکل میں) قرآن اللہ کی کتاب نہیں۔اس پر حلف بھی نہیں ہوتا، اس کی ابتداء بسم اللہ بھی مشکوک ہے، جب تم لوگ اللہ کی کتاب کی تعریف میں اس قدر کھلی بددیانتی اور غلط فہمی میں مبتلا ہو تو پاکستان پر کیا بحث کروگے؟، مولانا عطاء الرحمن نے پشتو کی کہاوت سنائی کہ ’’بھوکا روٹی کیلئے بدحال تھا توکسی نے کہا کہ پھر وہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا‘‘۔ ہم پاکستان کی بات کر رہے تھے اور یہ اپنے مطلب کی بات کرگیا۔ یہ اس جماعت کا حال ہے جو ’’کتاب کے نشان پرالیکشن میں حصہ لیتی ہے اور الیکشن میں آیت کا حوالہ دیتی ہے کہ یایحیےٰ خذ الکتاب بقوۃ ’’اے یحیےٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو‘‘۔جو ریاست میں حصہ دار بننے کیلئے ہمہ وقت بیتاب اور کوشاں رہتی ہے۔ کتاب کو پکڑنے کی بجائے کتاب کے ذریعہ سے ریاست سے قوت حاصل کرتی ہے۔ عمران خان کے رہبر مفتی محمد سعیدخان نے بھی اپنی کتاب ’’ریزہ الماس‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ جس طرح قرآن میں ضرورت کے طور سے خنزیر کا گوشت کھانا جائز ہے، اسطرح کچھ شرائط کیساتھ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ خنزیر کا گوشت جسم کا حصہ بن جاتا ہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھا جائے تو جسم کا حصہ نہیں بنتا‘‘ ( یعنی قرآن کی بات فقہ حنفی سے زیادہ بدتر ہے نعوذ باللہ) جن فقہاء صاحبِ ھدایہ کی کتاب تجنیس، فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ شامیہ میں لکھا ہے کہ ’’سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘۔ تو وہ تحریری شکل میں اس کو اللہ کا کلام بھی نہیں مانتے تھے اور موجودہ دور کے اُلو کے پٹھے تو یہ بھی نہیں سمجھتے کہ یہ جو پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ ’’ مصحف تحریری شکل میں اللہ کی کتاب نہیں، یہ محض نقوش ہیں جولفظ ہیں اور نہ معنیٰ‘‘۔ (نورالانوار: ملاجیونؒ )۔ اس کا معنیٰ کیا ہے، کچھوے والے لطیفے میں جو معقولیت ہے ان میں اتنی بھی ہوتی تو کسی نتیجے پر پہنچتے۔ یہ تو پڑھتے ، پڑھاتے جارہے ہیں اور اتنی خبر بھی نہیں کہ اس سے وہ بالکل جاہل ہیں مگر انہوں نے توپیٹ پوچا کرنی ہے، بیوی بچے یا اپنی عزت پالنی ہے اور کیا کرنا ہے؟۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ سے قرآن میں فرمایا: ولاتنکحوا مانکح اٰباکم من النساء الا ما قد سلف ’’اور تم نکاح مت کرو جن عورتوں سے تمہارے آبا نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے ہوچکا‘‘۔ حنفی مکتبۂ فکر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ حقیقی معنیٰ موجود ہو تو مجاز پر عمل نہیں ہوسکتا ۔ ابا کے اصل معنی باپ ہیں اور مجازی طور پر اسکا اطلاق دادا پر بھی ہوتاہے۔قرآن کی اس آیت میں دادا کی منکوحہ عورتیں مراد نہیں ہوسکتیں، ان کی حرمت ہم اجماع سے ثابت کرتے ہیں۔ نکاح کے اصل معنی ملنے کے ہیں اور یہاں شرعی عقد نکاح مراد نہیں بلکہ زنا بھی نکاح ہے۔ اگر غلطی سے نیند میں شہوت کا ہاتھ کسی محرم پر لگ گیا تو یہ بھی نکاح ہے ،اس کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہوگی اور بیوی شوہر پر حرام ہوجائے گی اور اگر ساس کی شرم گاہ کو باہر سے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی اسلئے کہ وہ معذور ہوگا لیکن اگر ساس کی شرم گاہ کو اندر سے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی اور بیوی کو شوہر پر حرام ہونے کا فتویٰ دیا جائیگا۔(نورالانوار: ملاجیونؒ )۔ اگر کچھواگندم کھائے اور اس کو کبوتر کہا جائے توبات اتنی غلط نہ ہوگی جتنا علماء نے درسِ نظامی کے نصاب میں اسلام کا حال کیاہے ۔اللہ نے باربار قرآن میں طلاق کے بعد معروف طریقہ سے رجوع کی وضاحت کی ہے۔ شافیوں کے نزدیک نیت رجوع کیلئے شرط ہے،نیت کے بغیر مباشرت کرنا بھی رجوع نہیں۔ حنفی مسلک میں نیت شرط نہیں، شہوت سے نظر لگ جائے تو بھی طوعاً وکرھاً رجوع ہے اور نیند میں شہوت سے لگ جائے تو بھی رجوع ہے اور شہوت کا اعتبار شوہر کا بھی ہے اور بیوی کا بھی ہے۔ معروف رجوع کو مذہبی طبقات نے منکر بناکر رکھ دیا ہے۔ غسل اور وضو کے مسائل سے لیکر ایک ایک مسئلہ معروف کی جگہ منکرات کا آئینہ ہے۔ مولانا شیرانی سے میں نے پوچھا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ’’ اور انکے شوہر ہی عدت کے دوران رجوع کاحق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ صلح کرنا چاہیں ‘‘ تو کیا کوئی ایسی حدیث یا آیت ہے جو عدت کے دوران اسکے برعکس رجوع کا حق منسوخ کردے؟، مولانا شیرانی صاحب نے کہا کہ طلاق آپ کا موضوع ہے ہم کسی اور موضوع پر بات کرلیتے ہیں، نماز پر گفتگو کرلیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس سے اور اچھی بات کیا ہوسکتی ہے؟۔ آپ کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے، کل آپ کو حکومت مل جائے تو بے نمازی کو کیا سزا دوگے؟۔ دوفقہی اماموں کے نزدیک بے نمازی کو قتل کیا جائیگا، ایک کے نزدیک قیداور زودوکوب کیا جائیگا، تو جب نماز کی سزا کا ذکر قرآن وسنت میں نہیں تو اپنی طرف سے اس کا جواز ہے؟، خوف سے نماز پڑھی جائے تو ایسی نماز کا اعتبار ہوگا؟، کوئی بے وضو اور حالتِ جنابت میں نماز پڑھ لے تو؟، مولانا شیرانی نے کہا کہ نماز کے فضائل پربات کرنا مقصد تھا ،میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت میں کسی کو چلہ یا چارماہ کیلئے بھیجو، میں یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ اتنا پکا نمازی بن جائیگا کہ نبیﷺ اور صحابہ کرامؓسے غزوۂ خندق میں نمازیں قضاء ہوئیں مگر اس سے اس حال میں بھی نہ ہوگی۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ میں اس بات کی تائید کرتا ہوں ۔ مولانا شیرانی نے پھر معیشت کو موضوع بناکر ایک لمبی چوڑی داستان سناڈالی، میں نے کہا کہ اخروٹ یا کوئی چیز گنتی کے حساب سے درجن کے مقابلہ میں دو درجن سود نہ ہو لیکن وزن کے حساب سے کلو کے مقابلہ میں دو کلو سود ہو، تو اس کا دنیا کے سامنے کیا حل پیش کریں گے؟۔ ظاہر تھا کہ جواب نہ دارد۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا یہ حال ہے تو دوسروں کا بھی بہت آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جہاد کرکے مسلم مالک کے ڈھانچے تباہ کئے لیکن انکے مقابلہ میں دہشت گردوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا،تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔علماء کی بجائے بہادرکیمونسٹ رہنما اسلام سمجھ کر اسکی تبلیغ کرتے تو طالبان ایسے ہیرو ہوتے کہ پوری انسانیت ان کی شانہ بشانہ ہوتی لیکن علماء نے اسلام کا بیڑہ غرق کرکے ان بہترین اصل مجاہدین کوحقیقی دہشت گرداور خارجی بنادیا ہے۔ سید عتیق الرحمٰن گیلانی
دنیا میں ایک طرف امریکہ اور اتحادی ریاستیں ہیں جو دہشت گردی کی روک تھام کیلئے ایک ہی نعرہ لگارہی ہیں تودوسری طرف دہشت گردی ختم نہیں ہورہی ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔ ریاستوں کی منافقت یا مجبوری کی یہ حالت ہے کہ سب ایک دوسرے پر الزامات بھی لگارہے ہیں، اچھے اور برے دہشت گردوں کے بھی تصورات موجودہیں اور دہشت گردوں کی شر سے بچنے کیلئے دہشت گردوں کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔اس گھناؤنے کھیل میں ہیروئن اور اسلحہ کا کاروبار کرنے والے جو فائدہ حاصل کررہے ہیں انہوں نے اس کو جاری وساری رکھنا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے سے ایران سے آنے والے طالبان کے امیر ملااختر منصور شہید کرتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے، جہنم رسید یا جنت کو پارسل کردیتا ہے؟۔ یہ فیصلہ کرایہ کے جہادکے بانی امریکہ کے ایماء پر ہمارے ریاستی اداروں اور میڈیا کے کرتا دھرتا لوگوں نے کرنا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’ پاکستان کی سرزمین پر یہ ڈرون حملہ قبول نہیں اور اس کیلئے مذمت کے الفاظ بہت معمولی ہیں‘‘۔ اگر ہمارے پاس قیادت کا فقدان نہ ہوتا تو جنرل راحیل شریف کو اس طرح کے بیان کی ضرورت نہ پڑتی۔ ضربِ عضب کے دوران بھی شمالی وزیرستان میں ڈرون ہوتے تھے، ایران پاکستان کی طرح امریکہ کا نہیں کھاتا۔ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کے بڑے اڈے کو ختم کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ اسکے پیچھے ہم نہیں افغانستان میں موجود نیٹوکی افواج دہشت گردوں کو پال کر اپنے مقاصد حاصل کررہی ہیں۔ میڈیا کو سوال کرنا تھا کہ نیٹو افغانستان کی سرزمین پر کیا کررہا ہے؟۔ دہشت گردوں کو پال رہا ہے، ہیروئن کی اسمگلنگ کررہا ہے یا اس خطہ میں حالتِ جنگ کو دوام دیکر دنیا بھر کی طرح یہاں امریکہ کو اسلحہ فروخت کرنے کا ریکارڈ توڑنے کا موقع فراہم کررہا ہے؟۔ اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کا فلسفہ امریکی سی آئی اے کی سرپرستی میں ہمارے ریاستی ڈھانچوں کے ذریعہ سے عام کیا گیا ۔ عوام کے جذبات کو امریکہ بھڑکارہا ہے اور اس کی آلۂ کار قوتیں دہشت گردی کی آبیاری کررہی ہیں۔یہ اتفاق نہیں کہ ملامنصور کو امریکہ نے ڈرون حملے سے مارا اور افغانی عمر متین کو امریکیوں سے بدلہ لینے کا موقع ملا بلکہ یہ اس جنگ کو جاری رکھنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔شیطان خوفزدہ ہے بقول علامہ اقبالؒ کے الحذر آئینِ پیغمبرؐ سے سوبار الحذر حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفرین اگر یہ آشکارا ہوا تو سب کچھ دھرا کا دھرا رہ جائیگا۔ اسلئے اس امت کو ذکر صبح گاہی میں مست رکھو اور مزاج خانقاہی میں پختہ تر کردو‘‘۔( شیطان کا اپنی مجلسِ شوریٰ سے خطاب: علامہ اقبالؒ )۔ ہمارا حال یہ ہے کہ پرویزمشرف کے دور میں عورتوں کو جبری جنسی تشدد سے بچانے کا قانون لایا گیا کہ ’’اس کو حدود سے نکال کر تعزیرات میں شامل کیا جائے،اسلئے کہ چارمرد گواہوں کو اکٹھے لانا بہت مشکل کام ہے، جس کی وجہ سے کوئی مجرم سزا نہیں پاسکتا ‘‘۔ اس پر مفتی محمد تقی عثمانی نے مخالفت میں ایک بہت ہی بھونڈی تحریر لکھ دی جس کو جماعتِ اسلامی نے پملفٹ کی شکل میں بانٹا، اسکے جواب میں سید عتیق الرحمن گیلانی نے بہت مدلل انداز میں تردیدلکھ دی جو ہم نے شائع کردی لیکن اس کو مذہبی حلقوں، ہماری ریاستی اداروں اور حکومت واپوزیشن نے کوئی اہمیت بھی نہ دی۔ مفتی تقی عثمانی کی تحریر کا خلاصہ یہ تھا کہ’’ اللہ نے سورۂ نور میں زنا کی حد بیان کی ہے اس میں جبری زنا اور زنا برضا کی کوئی قید نہیں‘‘۔ حالانکہ یہ سراسر بکواس ہے، اللہ نے زنا برضا کی وضاحت کی ہے’’مرد یا عورت میں سے کوئی بھی زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو 100کوڑے کی سزا ہے‘‘۔ علماء ومفتیان کا وطیرہ ،تعلیم اور تربیت ہی یہ ہوتی ہے کہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں وہاں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ مطلق حکم بیان کیا ہے، اس میں کوئی قید نہیں ہے، حالانکہ وہ یہ دھوکہ منافقوں کی طرح خود کو بھی دیتے ہیں اور اپنے عقیدتمندوں اور عوام کو بھی دیتے ہیں۔ قرآن میں بالکل واضح ہے کہ جو مردیا عورت فحاشی کا ارتکاب کرے، یہ جبری نہیں بلکہ برضا ورغبت کی بات ہے۔ جہاں تک جبر کی بات ہے تو اللہ نے واضح کردیا ہے کہ جو لونڈی زبردستی سے بدکاری پر مجبور کی جائے تو اس پر اسکی پکڑ نہ ہوگی بلکہ اگر کلمۂ کفر پرکسی کو مجبور کیا جائے تو بھی اللہ نے اس کو مستثنیٰ قرار دیا ۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو زبردستی سے تنگ کرنے والوں کو مدینہ سے قریب کے دور میں نکالنے کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے بھی ایسے لوگ ہوا کرتے تھے، فاینما ثقفوا فقتلوا تقتیلاً ’’ پھر جہاں بھی پائے گئے،تو وہ پھر قتل کئے گئے‘‘۔خاتون نے رسول اللہﷺ کو شکایت کردی کہ ایک شخص نے زبردستی سے اس کی عزت لوٹی ہے،نبیﷺ نے اس شخص کو پکڑ لانے اور سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ وائل ابن حجرؓ کی یہ روایت ابوداؤد کے حوالہ سے مشہور کتاب ’’موت کا منظر‘‘ میں زنا بالجبر کی سزا کے عنوان سے ہے۔بعض روایتوں میںیہ اضافہ ہے کہ ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا کہ’’ اس نے نہیں میں نے یہ کام کیا ہے تو نبی ﷺ نے پہلے کو چھوڑ کر اس کو سزا کا حکم دیا۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت اور قرآن سے یہ واضح ہے کہ زنا بالجبر کی سزا 100 کوڑے نہیں بلکہ قتل ہے اور یہ کہ جج یا قاضی کوچار گواہوں کی بجائے دل کا اطمینان ہونا چاہیے کہ یہ جرم ہوا ہے۔ کوئی بھی کسی عورت سے زبردستی جنسی زیادتی کی اس سزا کو فطرت کے منافی نہ قرار دیگا جو قرآن وسنت میں موجود ہے۔ علماء ومفتیان ایک طرف غیرت کے نام پر عورت کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں اور معاشرے میں اس کو سپورٹ کرتے ہیں تو دوسری طرف زبردستی سے جنسی تشدد کیلئے شرعی حدود اور چار گواہوں کو لازم قرار دیتے ہیں جو قرآن وسنت کے بالکل سراسر منافی ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کیلئے اسی حدیث کا حوالہ دیا جس میں ایک عورت کی ہی گواہی قبول کی گئی۔ سید عتیق گیلانی کی حق بات قبول کی جاتی توآج جنرل راحیل کو اس قدر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا بلکہ دنیا بھر میں مسلمان سکون، عزت اور ایک فعال کردار کی زندگی گزارتے۔ گیلانی صاحب نے مفتی عثمانی کو حدیث کے کھلے مفہوم سے انحراف پر مرغا بننے کا مشورہ دیا تھا۔ جماعتِ اسلامی اپنی منافقانہ کردار کی وجہ سے پسِ منظر میں جارہی ہے۔ ڈاکٹر فرید پراچہ جماعتِ اسلامی کے اہم رہنما ہیں، وہ میڈیا پر قرآن کی اس آیت کو رسول اللہ ﷺ کی اذیت سے جوڑ رہے تھے جس میں خواتین کو تنگ کرنے کے حوالہ سے قتل کی وضاحت ہے۔حالانکہ نبیﷺ کی اذیت کا ذکر اس سے پہلے والے رکوع میں ہے، جس میں قتل کا کوئی حکم نہیں ہے، لعنت کا مستحق تو جھوٹے کو بھی قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان سے بڑھ کر نبیﷺ کو کیا اذیت ہوسکتی تھی؟ مگر بہتان لگانے والے صحابہؓ حضرت حسانؓ، حضرت مسطح ؓ اور حضرت حمناؓ وغیرہ میں سے کسی کو قتل نہ کیا گیا بلکہ جب حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ اس اذیت کی وجہ سے اپنے عزیز مسطح کی مالی اعانت کا احسان نہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں ایسا کرنا مؤمنوں کی شان کے منافی قرار دیتے ہوئے روکا اور حکم دیا کہ احسانات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں زناکار مرد وعورت کیلئے شادی شدہ یاغیر شادی شدہ کی قید کے بغیر 100کوڑے سزا کا حکم دیا ، جس پردل میں رحم کھانے سے روکا گیا اور مؤمنوں کے ایک گروہ کو گواہ بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسکے برعکس توراۃ میں شادی شدہ بوڑھے مردو عورت کو زنا پر سنگسار کرنے کا ذکر ہے۔ علامہ مناظر احسن گیلانی ؒ نے قرآن کے مقابلہ میں توراۃ کے تحریف شدہ حکم کو مسترد کردیا ہے اور ان کی کتاب ’’تدوین القرآن‘‘ پر بنوری ٹاؤن کراچی کے عالم نے حاشیہ لکھ دیا ہے جوبازار میں دستیاب ہے۔ توراۃ کا حکم لفظی اور معنوی اعتبار سے بہت ناقص اور ناکارہ ہے۔ اگر جوان شادی شدہ بھی زنا کریں تو اس کی زد میں نہیں آتے اور بوڑھے شادی شدہ نہ ہوں تب بھی زد میں آتے ہیں،جو بوڑھے نکاح کے قابل نہیں رہتے تو زنا کہاں سے کریں گے؟۔ صحیح بخاری میں ایک صحابیؓ سے پوچھا گیا کہ ’’سورۂ نور کی آیات کے بعد کسی زناکار کو سنگسار کیا گیا؟۔ تو جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں کہ اسکے بعد کسی کو بھی سنگسار کیا گیا ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں شادی شدہ لونڈی کیلئے آدھی سزا کا حکم دیا ہے تو سنگسار ی میں آدھی سزا نہیں ہوسکتی۔ البتہ 100 کی جگہ 50 کوڑے ہیں، امہات المؤمنین ازواج مطہراتؓ کو مخاطب کرکے دوہری سزا سے قرآن میں ڈرایا گیا ہے تو 100کا دگنا200ہیں، سنگساری میں ڈبل سزا کا تصور نہیں ہوسکتا۔ یہود کے ہاں شادی شدہ کیلئے سنگساری اور غیرشادی شدہ کیلئے 100کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا تھی۔ قرآن میں قتل اور جلاوطنی کی سزا کا سورۂ نور میں کوئی تذکرہ نہیں بلکہ بہت تاکید کیساتھ صرف 100کوڑے کی سزا سے یہود کے ہاں رائج قتل اور جلاوطنی کی سزاؤں کی تردید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈی کو آدھی سزا کے پسِ منظر میں ہی یہ وضاحت بھی قرآن میں کردی ہے کہ ہم نے پہلے والوں کو قتل نفس اور جلاوطنی کی کوئی سزا نہیں دی تھی۔یعنی یہ ان کی طرف سے گھڑی ہوئی سزائیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ’’ اگر یہ اہل کتاب اپنی بات کا فیصلہ کرانے کیلئے آپکے پاس آجائیں اور آپ انکے درمیان فیصلہ کرنے سے انکار کردیں تو یہ آپکو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں‘‘۔ پھر فرمایاکہ ’’ انہوں نے اپنی کتاب میں تحریف کی ہے اور آپکے پاس جو حکم ہے وہ محفوظ ہے۔ ان کو فیصلہ کرکے دینا ہو تو ان کی کتاب سے نہیں اپنی کتاب کے مطابق فیصلہ کرو۔ اگر ان کو انکی کتاب سے فیصلہ کرکے دیا ،تب یہ آپ کو اپنی کتاب سے بھی فتنہ میں ڈال دیں گے‘‘۔ اور پھر اسی تناظر میں اللہ نے فرمایا کہ ’’ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنے اولیاء مت بناؤ، جو انکو ولی بنائے تو وہ انہی میں سے ہے‘‘۔ ولی سے مراد عام دوستی نہیں بلکہ مذہبی معاملہ وحدود میں ان کو اختیار سپرد کرنا مراد ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ ’’جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکا ح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے‘‘۔ علماء ومفتیان ومذہبی بہروپیوں نے مشہور کیا کہ’’ یہود ونصاریٰ سے دوستی قرآن میں منع ہے‘‘۔ پاکستان کی فوج ، حکومت، ریاست اور سعودیہ سے بڑھ کر امریکہ کے دوست بلکہ چاکری کرنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ مگر مذہبی بہروپیوں نے کبھی بھی یہ فتویٰ نہیں لگایا ہے کہ یہ ان کے دوست ہیں اور انہی میں سے ہیں۔ بلکہ روس کیخلاف جہاد کے نام پر استعمال ہونے والے امریکیوں کو اہل کتاب کہتے تھے اور روس کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ملحد اور ماں ، بہن ، بیٹی کو نہیں پہچانتے ہیں، حالانکہ چین بھی روس ہی کا نظریہ رکھتا تھا لیکن وہ پھر امریکہ سے بھی زیادہ اچھا دوست تھا۔ جب یہود ونصاریٰ کی پاکدامن خواتین سے قرآن نے شادی کی اجازت دی ہے تو دوستی کی کیوں نہیں؟۔ کیا بیوی سے بڑھ کر دوستی کا کوئی تصور ہوسکتا ہے؟۔ جس بات سے قرآن نے منع کیا تھا کہ ان کو ولی مت بناؤ، اس کی وجہ تو صاف ظاہر تھی کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو بدل دیا تھا، اگر ایک مؤمن اپنی بیوی یا کسی دوسرے کو سنگسار کرنا چاہتا تو اللہ کے قرآن میں اسکی اجازت نہ تھی اور توراۃ میں یہ تحریف شدہ حکم موجود تھا۔اللہ نے ان سے فیصلہ کروانے کیلئے یہودونصاریٰ کو ولی اور حاکم بنانے سے منع کردیا۔ اب تو یہودونصاریٰ کو ولی بنانے سے منع کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی ، اسلئے کہ مسلمانوں نے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر قرآن کے حکم میں توراۃ کے ذریعہ مذہبی نصاب میں تبدیلی کردی ہے۔ مذہبی طبقات کی حکومت قائم ہوگئی تو سنگسار کرنے پر ہی عمل ہوگا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں بیوی کو کھلی ہوئی فحاشی کے ارتکاب پر قتل کرنے کا حکم نہ دیا بلکہ گھر سے نکالنے اور اس کو نکلنے کی اجازت دی، اس کے خلاف گواہی دینے پر لعان کا حکم دیاتھا جس پر نبیﷺکے دور میں ایک مرتبہ عمل بھی ہوا۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کا کھل اس آیت کے خلاف عمل کرنے کے اعلان کا بھی بخاری شریف میں ذکر ہے۔ مذہبی طبقہ کو شرم بھی نہیں آتی ہے کہ کھل کر اللہ کے حکموں سے انحراف کو عوام کے سامنے بیان کرنے سے ڈرتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کی حمایت قرآن کا حکم نہیں بلکہ جاہلانہ غیرت کا نتیجہ ہے۔ مذہبی طبقہ نے پرائے گو پر پاد مارنے کے کارنامے ہمیشہ انجام دئیے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کی اجازت ہو تو پھر مدارس اور مساجد میں بچوں کیساتھ جبری جنسی زیادتی پر قتل کا فتویٰ دیا جائے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے دوست شیخ الحدیث مفتی نذیر احمد جامعہ امدادالعلوم فیصل آباد کیخلاف کئی طلبہ نے روتے ہوئے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بننے کا مسجد میں اعلان کیا۔ علماء وفقہاء نے یہ بکواس لکھ دی ہے کہ لواطت کی سزا کا ذکر قرآن وسنت میں نہیں، اسلئے اس پر آگ میں جلاکر مارنے یا دیوار گرانے کے ذریعہ سزا پر اختلاف ہے۔ حالانکہ قرآن میں اذیت دینے کا ذکر ہے، البتہ زبردستی سے زیادتی کی سزا تو کسی خاتون کے مقابلہ میں بچے یا مرد کیلئے بھی قتل ہی ہونی چاہیے۔ علماء ومفتیان نے اسلام کو اپنے گھر کی کھیتی سمجھ کر کھانے یا اجاڑنے کو اپنا حق سمجھ رکھا ہے،جس کی جتنی مذمت کی جائے بہت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی ہے کہ طلاق کے بعد عدت میں بھی شوہر کو مشروط رجوع کا حق حاصل ہے، صلح کی شرط پر ہی رجوع ہوسکتا ہے۔ اسکے بعد کوئی کم عقل انسان بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ’’عدت کی تکمیل پر شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق دے‘‘۔ جہاں ایک طرف رجوع کیلئے صلح کی شرط واضح کرنے کے بعد کہاگیا ہے کہ عدت کی تکمیل پرشوہر معروف طریقہ پر رجوع کرے یا اس کومعروف طریقہ سے چھوڑدے۔ علماء ومفتیان عقل کے اندھوں بلکہ دل کے اندھوں نے کہا ہے کہ شوہر کو مطلق رجوع کا حق حاصل ہے لیکن عدت میں باہمی رضامندی سے بھی یہ مطلق رجوع کا حق ان کو اس وقت نظر نہیں آتا جب حلالہ کروانے کی بات آرہی ہو۔ لوگوں کو حقائق کا پتہ چلے تو یہ نہیں کہ دوسرے لوگ بلکہ اپنے عقیدتمند ہی قرآنی آیات کو جھٹلانے والوں سے حساب لیں گے۔ ایک عرصہ سے ہم نے طلاق کے مسئلہ پر حقائق عوام اور علماء کرام کے سامنے رکھے، بہتوں کی سمجھ میں بات بھی آئی لیکن محض ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، جو بے وقوف ،کم علم ، جاہل اور بے خبر ہیں ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ بڑے بڑوں کا یومِ حساب قریب ہے، ان کو بہت ڈھیل مل چکی ہے اور درجہ بدرجہ استدراج کا عمل ان کو گرفت سے بچانے کیلئے نہیں ، اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے، کافر، مشرک، ہٹ دھرم اور سب ہی لوگ اللہ کی مخلوق ہیں، ایک طبقہ کواتمامِ حجت کے بعد بھی اچھی خاصی ڈھیل دینا اللہ کی ہمیشہ سنت رہی ہے۔ اگر وہ وقت پر حق کا ساتھ دے کر خود کو بچالیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ مغفرت اور بہت رحم کرنے والا ہے۔مگر دین کے نام پر لوگوں کے گھروں کو تباہ کرنے، بلاجواز حلالہ کی لعنت پر مجبور کرنا اور قرآن وسنت کے مقابلہ میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا بہت سنگین جرم ہے، ایسے لوگوں کے چہروں سے نقاب ہٹانا ضروری ہے اور یہ ہماری مجبوری ہے، اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ کرکے جینے سے مرجانا مہنگا سودا نہیں ہے۔ 1: یہ بات ذہن نشیں بلکہ دل نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازواجی تعلق قائم ہونے کے بعد طلاق کیلئے عدت کا لازمی تصور رکھا ہے۔ عدت کا یہ حکم صرف صلح ورجوع کی گنجائش کیلئے ہی ہے جس کی اللہ نے بار بار قرآن کی مختلف سورتوں کی بہت سی آیات میں کھل کر وضاحت فرمائی ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کے ایک دوسرے پر برابر حقوق کی وضاحت ہے البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ ہے۔ یہ درجہ بالکل واضح ہے اسلئے کہ شوہر طلاق دیتا ہے اور بیوی عدت گزارتی ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا درجہ ہوسکتا ہے؟۔ شوہر کو صلح کی شرط پر ہی رجوع کا حق دیا گیا ہے، بیوی راضی نہ ہو تو شوہر اس کو عدت میں بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ عدت میں رجوع کے حق کی وضاحت اسلئے ہوئی ہے کہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ بھی شادی کرسکتی ہے لیکن باہمی رضامندی سے عدت کے بعد بھی رجوع اور ازدواجی تعلق کو معروف طریقہ سے قائم رکھنے کی اجازت اللہ نے واضح کردی ہے بلکہ رکاوٹ ڈالنے سے منع کیا گیا ہے اسی میں معاشرے کیلئے تزکیہ اور پاکی کا ماحول ہے۔یہ وضاحتیں قرآن کی سورۂ بقرہ اور سورۂ طلاق میں تفصیل سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ 2: طلاق مرد کا حق ہے اور خلع عورت کا حق ہے۔ طلاق اور خلع دونوں میں زبردست مغالطہ مذہبی طبقات نے کھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں صرف طلاق ہی کا ذکر کیا ہے مگر افسوس کہ مغالطہ سے وہاں خلع مراد لیا گیا۔ جس کی وجہ سے قرآن کی واضح آیات کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر ایسا پیش کیا گیا ہے، جس کا سیاق وسباق سے معنوی اور لفظی اعتبار سے کوئی تعلق بن ہی نہیں سکتا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر229الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ، ولایحل لکم ان تأخذوا ممااتیتموھن شئی الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ شئی فلا جناح علیھما فیمافتدت بہ تلک حدود اللہ فل تعتدوھا ومن یتعد حدوداللہ فأولئک ھم الظٰلمون (طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقہ سے روکنا یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے)۔ اس آیت کا یہ حصہ اس سے قبل آیت نمبر228کی ہی تفسیر ہے، جس میں عدت کے تین مرحلوں کی وضاحت ہے۔ اللہ نے اس میں فرمایا کہ حمل کی صورت نہ ہو تو عدت کے تین مراحل ہیں، حمل کی صورت میں عدت حمل ہوتی ہے، حمل کا تین مراحل سے تعلق نہیں ۔ عدت کا تعلق حمل سے ہو یا طہر وحیض کے تین مراحل سے بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس میں رجوع کو صلح کی شرط پر شوہر ہی کا حق قرار دیا ہے۔ بخاری کی احادیث میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وضاحت ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق طہرو حیض کی عدت میں طلاق کے عمل سے ہی ہے۔طلاق کے الفاظ اور اس میں اختلاف کا گورکھ دھندہ قرآن وسنت نہیں بعد کے ادوار کی پیداوار ہے جس میں اختلافات کے انبار ہیں۔ اگر شوہر نے عدت کے تین مراحل میں رجوع کا فیصلہ کرلیا تو مسئلہ نہیں اوراگر طلاق کا فیصلہ کیا تو پھر اس صورت میں آیت کے دوسرے حصہ میں اس کی مکمل تفصیل ہے جس کا خلع سے کوئی تعلق نہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر یہ دونوں کو خوف ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہ کی گئی تو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے اوراگر تمہیں( اے فیصلہ کرنے والو!) یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں جو عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کی جائے، یہ اللہ کی حدود ہیں،ان سے تجاوز مت کرو، جو اس سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔ آیت کا یہ دوسرا حصہ مقدمہ ہے اس طلاق کی صورت کیلئے جس کا ذکر اور وضاحت آیت نمبر230میں فوراً ہے کہ فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ’’ اگر پھر اس کو طلاق دی تو اس کیلئے اس کے بعد حلال نہیں ، یہاں تک کہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے۔۔۔‘‘۔ شوہرایسا ظالم ہوتا ہے کہ جب ایسی طلاق ہوجائے جس میں آئندہ ملنے کی کوئی راہ نہ چھوڑی جائے تب شوہر عورت کو مرضی سے دوسرے شوہر کا حق نہیں دیتا، سعد بن عبادہؓ تو انصار کے سردار تھے،جو طلاق کے بعد بھی بیوی کو شادی نہ ہونے دیتے تھے، برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے لیڈی ڈیانا کو قتل کروایا، جبکہ ریحام خان نے عمران خان سے طلاق کے بعد برملا کہا کہ’’ پٹھان کو جان پر کھیلناآتاہے ،پاکستان آئی ہوں‘‘۔ عمران خان نیازی ضرورہیں مگر روایتی غیرتمند نہیں، اگر ریحام کسی مخالف سے شادی کرنا چاہتی اوربنی گالہ کے محل میں عمران خان نے ایک کمرہ دیا ہوتا اور اگر عمران خان کہتا کہ میں کنگلا ہوں تو طلاق کے حتمی فیصلہ پر وہ کمرہ ریحام کی طرف سے فدیہ کرنے پر دونوں اور سب کا اتفاق ضرور ہوجاتااسلئے کہ آئندہ ملنے جلنے اور ساتھ رہنے پر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہنے سے ڈرتے۔ 3:اللہ نے سورہ النساء میں خلع کا ذکر فرمایا : لاترثوا النساء کرھا فلا تعضلوھن۔۔۔ ’’اور عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اوران کو مت روکو(جانے سے) تاکہ بعض وہ چیزیں ان سے واپس لے لو جو تم نے ان کودی ہیں مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں۔۔۔‘‘۔ اس آیت میں علماء ومفتیان جس فریب ودجل سے کام لیا ہے، اللہ کی پناہ۔النساء سے مرادیہاں اپنی بیویاں ہی ہیں، اللہ تعالیٰ نے بار بار النساء سے آیات میں بیویوں کا ذکر کیاہے، دوسری مراد ہوتی تو پھر کیونکر کہاجاتا کہ اسلئے ان کو مت روکے رکھو کہ جوتم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے بعض واپس لو مگر اس صورت میں واپس لے سکتے ہو جب کھلی ہوئی فحاشی میں مبتلا ہوں۔خلع کے مسائل اور احادیث کو اس آیت کے ضمن میں لکھا جاتا تو قرآنی وضاحت سے معاشرتی مسئلے حل ہوتے۔ پاکستان واحد وہ نظریاتی ، اسلامی اور جمہوری ملک ہے جہاں مسلک، قرآن کی درست تعبیر اور فکر کی مکمل آزادی ہے لیکن افسوس کہ اسکا فائدہ نہیں اٹھایاگیابلکہ عوام کو دام فریب میں الجھایاگیا اور اسلام کے نام پر ریاست اور معاشرے کو دھوکہ دیاگیا، اس میں سب سے زیادہ قصور ہٹ دھرم علماء ومفتیان کا ہے۔جنرل راحیل شریف نے عوامی سطح پر اگر علماء حق کو ٹی وی اسکرین پر موقع دیا تو عوام کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر تمام سیاسی قیادتوں اور مذہبی بہروپیوں کو بہا لے جائیگا۔ پاکستان اور اُمت کی قسمت جاگے گی، سیاسی اشرافیہ سے نجات کے دن بہت ہی قریب لگتے ہیں۔ اجمل ملک
رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ۔ مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان ، مشیر شریعت بنچ سپریم کورٹ حکومت پاکستان۔ کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی (جنگ گروپ) ایڈیٹر ماہنامہ ’’قرآن الہدیٰ‘‘ کراچی۔ اردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم ، مقرر کردہ وزارت امور مذہبی حکومت پاکستان خطیب جامع مسجد قیادت ، کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس بلڈنگ کراچی
تحریر فرماتے ہیں : بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وحدہ و الصلوٰۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ عائلی معاملات میں طلاق ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس سے خاندانوں کے بناؤ اور بگاڑ پر بہت اثر پڑتا ہے ۔ محترم سید عتیق الرحمن گیلانی نے اس مسئلہ پر بہت تحقیق کی ہے اور اس پر ایک تفصیلی کتاب ’’ابر رحمت‘‘ کے نام سے بھی مرتب کی ہے ۔ زیر نظر مسئلہ میں بھی سید صاحب نے بہت تحقیق سے کام لیا ہے اور مدلل و مفصل جواب عنایت فرمایا ہے۔ سید صاحب کے اس جواب کی میں پوری طرح تصدیق کرتا ہوں اور اس سے پوری طرح متفق ہوں۔ ھذا ما عندی و العلم عند اللہ سبحان اللہ تعالیٰ اعلم و اتم راقم محمد حسام اللہ شریفی ۲۰ شعبان المعظم ۱۴۳۷ھ ، 28 مئی 2016ء ،
اظہار تشکر
حضرت مولانا مفتی حافظ محمد حسام اللہ شریفی دامت برکاتہم العالیہ کا نام شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ العزیز شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند و صدر جمعیت علماء ہند نے رکھا تھا۔ حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری قدس سرہ العزیز سے بیعت تھے اور شیخ القرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس سرہ العزیز نے آپ کو1962 ء میں اپنے نام کے ساتھ شرعی مسائل کا جواب لکھنے کا فرمایا تھا۔ حضرت مفتی شریفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو قرآن کریم سے خاص محبت ہے اور اس حوالہ سے ایک بہترین کتاب بھی تحریر فرمائی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب ساتویں آٹھویں جماعت گورنمنٹ ہائی اسکول لیہ پنجاب میں پڑھتا تھا تو لائن سپرڈنٹ فیض محمد شاہین مرحوم نے خدام الدین کے مجلد رسالے دئیے تھے جس میں مولانا احمد علی لاہوریؒ کے بیانات مجلس ذکر سے میں نے استفادہ کیا تھا۔ فیض محمد شاہین مرحوم علامہ سید عبد المجید ندیم دامت برکاتہم کے خاص ساتھی تھے۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید ؒ کے ساتھ بھی ایک ہتھکڑی میں گرفتارکئے گئے تھے۔ ہم نے تحریک شروع کی تو مولانا عبد الکریمؒ بیر شریف امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان ، حضرت مولانا سرفراز خانؒ صفدر گکھڑمنڈی گجرانوالہ اور حضرت مولانا خان محمد ؒ کندیاں امیر تحریک ختم نبوت پاکستان ، حضرت مولانا محمد مراد ہالیجویؒ منزل گاہ سکھر اور دیگر بزرگوں سے حمایت اور دعائیں لی تھیں۔ آج اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بقیۃ السلف حضرت مولانا مفتی حافظ محمد حسام اللہ شریفی دامت برکاتہم العالیہ تائیدسے نوازرہے ہیں،توگویا حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ کی بھی تائید مل رہی ہے جن کا انتقال 1964ء میں ہوا تھا جو میری پیدائش کا سال ہے۔ حضرت مفتی شریفی صاحب مدظلہ العالی میری پیدائش سے پہلے شرعی مسائل کے حوالہ سے جس مؤقف کا اظہار فرماتے آئے ہیں دنیا بھر سے سوال کے مروجہ فقہی جوابات کے باوجود یہ ان کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ تحقیق پر اپنا مؤقف تبدیل کردیا ہے۔ اہل حق کی یہ زندہ اور تابندہ نشانی ہیں۔ یہ دُور نظر نہیں آتا کہ زمانہ بدل جائیگا لیکن یہ قابل فخر ہے کہ بقیۃ السلف حضرت شریفی مدظلہ العالی نے تائید فرمائی جو حضرت لاہوریؒ کی براہِ راست تائید ہے۔عتیق گیلانی
زکوٰۃ اپنے ہاتھوں سے مستحقین میں تقسیم کریں غریبوں کے حق پر مافیاز نے قبضہ کر رکھا ہے
مستحق کو زکوٰۃ دی جائے تو رقم مارکیٹ میں آتی ہے اللہ تعالیٰ نے اسلئے زکوٰۃ کو مال بڑھانے کا ..
لوگ رمضان میں زکوٰۃ دیتے ہیں، مگر خیال نہیں رکھتے کہ مستحق کو زکوٰۃ پہنچتی بھی ہے یا نہیں؟۔ اگر غریب غرباء کو زکوٰۃ دی جائے تو قوم کی مشکلات ختم ہونگی۔ غریب ضروریات کیلئے فوراً مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں جوکاروبارکے پہیہ کو گھمادیتا ہے، نتیجہ میں فائدہ کاروباری طبقہ کا بھی ہوتا ہے، تجارت میں ڈھائی فیصد سے زیادہ کماتے ہیں، اسلئے اللہ نے فرمایا کہ صدقات سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب لوگوں کی زکوٰۃ غریب عوام تک پہنچنے کی بجائے ا کاؤنٹ سے دوسرے ا کاؤنٹ کو منتقل ہو تو زکوٰۃ کے مقاصد بھی پورے نہ ہونگے،غریب کو بھی فائدہ نہ ہوگا اور زکوٰۃ دینے والے معاشرہ کو بھی اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ جس طرح رکوع اور سجدے اللہ کیلئے کرنے کی بجائے بتوں کو کئے جائیں تو اس کا فائدہ نہیں بلکہ ایک رسم عبادت ہے جو انسان اپنی عبودیت کا ذوق پورا کرنے کیلئے کرتا ہے مگر حقیقت سے بے خبر انسان کو اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ بڑے امیر علماء و مفتیان کی صفوں میں زکوٰۃ کے مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کے قائدین اوررفاعی اداروں کے نام پر کرنے والے بڑے لوگ بھی شریک ہوگئے ہیں۔ جب تک کاروباری طبقہ اپنا قبلہ درست نہ کریگی ، علماء جس طرح سے حلالہ مسلط کرنا اپنا حق سمجھتے تھے، اسی طرح سے انہی کی زکوٰۃ و خیرات کو انکے خلاف بدمعاش طبقہ استعمال کریگا۔ غریب کے پیٹ میں دو وقت کی روٹی اور جسم ڈھانپنے کا کپڑا نہیں لیکن وہ پیسہ اشتہارات شائع کرنے میں استعمال کرنے والوں کو ذرا بھی شرم، حیاء اور غیرت نہیں آتی ۔ غریب کے حق پر شخصیات بلڈنگ ، اداروں اورگینگوں کی تعمیر واشاعت ہوگی تووہ نالائق ،بیکار، ظالم، جابر، بدمعاش، بے رحم اور استحصال کرنے والا طبقہ انہی تاجروں اور مالدار طبقے پر بھی مسلط ہوگا، بحر و بر میں فساد لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہوتا ہے۔ غریب کا حق چھیننے سے دریغ نہ ہو تو یہ قوم کی اور کیا بھلائی کرینگے۔ جماعت اسلامی نے الخدمت سے زکوٰۃ اور جمعیت سے بدمعاشی کاآغازکیا، پھردوسرے بھی اس راہ پرچل پڑے۔ نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ لینے سے انکاراورخودہی ضرورتمندوں تک پہنچانے کا حکم دیتے پھر اللہ نے حکم فرمایا کہ ’’ ان سے زکوٰۃ لے لیا کرو،یہ ان کیلئے تسکین کا ذریعہ ہے‘‘۔ رسولﷺ نے اللہ کا حکم مانا لیکن اپنے اور اپنے اقرباء پر زکوٰۃ کو حرام کردیا۔ علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ سال کی زکوٰۃ سے زیادہ مدرسہ کیلئے نہ لیتے تھے اور طلبہ کو ہی ہرماہ وظیفہ ہاتھ میں دیتے ،جو مدرسہ کا کھاتے ،وہ طعام کی مد میں کچھ رقم مدرسے میں جمع کرتے۔ دارالعلوم کراچی والے زکوٰۃ کے خود منصف اور وکیل بنتے، مفتی تقی عثمانی کا سود کو معاوضہ لیکر جائز دینے سے پہلے بھی علماء حق اور علماء سوء کی فہرست ہے۔ غریب کو زکوٰۃ کا مالک بنانا ضروری ہے، وہ تعلیم و علاج پرخود خرچہ کرے،پھرغربت اور گینگ ختم ہونگے۔
اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ خواتین بلارنگ ونسل اور مذہب کے تمام انسانوں کے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پر بحال کردئیے، فضیلت کا معیار تقویٰ و کردار کو قرار دیا، انسانی حقوق پامال کرنے کو ناقابلِ معافی جرم کہا
نکاح، طلاق، رجوع، خلع کے واضح احکام کو معروف سے مذہبی طبقہ نے منکرمیں بدل دیا، مسلم معاشرہ بتدریج تنزلی اور اسلام ا جنبیت کا شکار بنتا چلاگیا۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے اصلاح اسی طرح سے ہوگی جیسے پہلے ہوئی تھی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا تھا، یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ اسلام کے معروف شرعی احکام کو منکرات میں بدلا جائے تو اسلام اجنبی بن جائیگا ،
علامہ سیدیوسف بنوریؒ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ کے استاذ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث علامہ انورشاہ کشمیریؒ نے لکھا : ’’ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے۔۔۔‘‘فیض الباری۔معنوی تحریف کی مثالیں سمجھ لو!،
مفتی تقی عثمانی نے بینک کا سود جائزاور شادی بیاہ میں لفافہ سود قرار دیا۔آسان ترجمۂ قران کے نام سے پہلی مرتبہ طلاق کی آیات کی تفسیر میں نہیں بلکہ ترجمہ میں بھی تحریف کا ارتکاب کیا، معنوی تحریف سے معروف کو منکر بنایا گیا
اسلامی نظریاتی کونسل میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے سماء ٹی وی چینل سے رئیس کا پروگرام تھا، مفتی نعیم، مفتی عبدالقوی، ماروی سرمد، سمیعہ راحیل قاضی مہمان تھے۔اسکرین پر سورۂ النساء کی ایک ادھوری آیت اور اس کا ترجمہ دکھایا گیا۔پوری آیت اورترجمہ: یاایھاالذین اٰمنوالایحل لکم ان ترثوا النساء کرھاو لاتعضلوھن لتذھبوا ببعض ما اٰ تیتموھن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شئیا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیراO ’’ اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ اپنے بیویوں کے زبردستی مالک بن بیٹھو اور ان کو مت روکے رکھو تاکہ تم لے اُڑھو،بعض ان چیزوں کو جوتم نے ان کو دی ہیں مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں، اور انکے ساتھ سلوک کرو ،اچھائی سے اور اگر تم انہیں برا سمجھتے ہو تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا جانو اور اس میں تمہارلئے اللہ خیر کثیر بنادے‘‘۔ اس آیت میں زبردست معنوی تحریف کی گئی ، اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں النساء بیویوں کو قرار دیا ہے، اس آیت میں بھی بیوی کے علاوہ کوئی غیر عورت مراد ہوہی نہیں سکتی، اسلئے کہ اپنی بیوی کو ہی چیزیں دی ہوتی ہیں،جب وہ چھوڑ کر جانا چاہتی ہے تو ان میں سے بعض چیزیں واپس لینا اپنا حق سمجھاجاتاہے،اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں بعض چیزوں کو واپس لینا مستثنیٰ قرار دیا ،جب وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں۔اگر بیویاں چھوڑ کر جانا چاہیں تو ان کے بارے میں وضاحت ہے کہ انکے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو، ان کو اسلئے بھی مت روکے رکھو کہ بعض دی ہوئی چیزیں ان سے واپس لو، اگر چھوڑ کر جانے کی وجہ سے تمہیں بری لگیں تو ان کے چھوڑ کر جانے کو برا مت سمجھو۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر بنادے۔ اس سے بہتر بیوی مل جائے، اس کو روک کر زبردستی سے مالک بن بیٹھو تو تمہاری عزت کہیں تارتار نہ ہوجائے۔ اسی میں مصلحت ہے کہ چھوڑدو۔ علماء وفقہاء نے اس آیت میں معنوی تحریف کرکے النساء (عورتوں) سے دوالگ قسم کی عورتیں مراد لی ہیں۔ آیت کے پہلے حصہ سے رشتہ داروں کی بیوائیں مراد لی ہیں کہ ان کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو، ان کو اپنی مرضی سے جہاں چاہیں شادی کرنے دو اور ان کو جو تم نے چیزیں دی ہیں وہ واپس مت لومگر یہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں، آیت کے دوسرے حصہ سے اپنی بیگمات مراد لی ہیں کہ انکے ساتھ اچھا سلوک کریں، اگر تمہیں بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ اچھا سلوک کرنے سے اللہ تمہارے لئے خیر کثیر بنادے، اولاد ہو اور حالات بدل جائیں وغیرہ۔ حالانکہ یہ سراسر غلط ہے اسلئے کہ دوقسم کی خواتین کی طرف ایک ہی ضمیر سے الگ الگ خواتین کی طرف کیسے نسبت ہوسکتی؟،یہی معنوی تحریف ہے۔ علماء وفقہاء یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شوہر کو کیسے مخاطب کیا جاسکتا کہ بیوی کا زبرستی سے مالک مت بن بیٹھو،شوہر بیوی کے ایک طلاق نہیں تین طلاق کا مالک ہوتا ہے۔ایسی انوکھی ملکیت دنیا کی کسی اور چیز میں ہوہی نہیں سکتی، جس طرح طلاق کی ملکیت کا مکروہ اور انتہائی منکر تصورعلماء وفقہاء نے بنارکھا ہے۔ عقل دنگ رہ جائیگی ، فطرت کو پسینہ آجائیگا اور روح تڑپ اُٹھے گی کہ معروف اسلام کو ایسا منکر بنانے کا تصور کیسے کرلیا گیا؟۔ شوہر تین طلاق کا مالک ہے، ایک طلاق بیوی کو دیدی، عورت کی دوسری شادی ہوئی ، پہلا شوہر پھر بھی بقیہ دو طلاق کا مالک ہے۔ دوسرے نے طلاق دی اور پہلے سے پھر شادی ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر بدستور سابق بقیہ دو طلاق کا مالک ہوگا یا نئے سرے سے تین طلاق کا مالک ہوگا؟۔ ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ بقیہ دو طلاق کا مالک ہوگا۔ یہی مسلک حضرت ابوہریرہؓ، حضرت علیؓ ، حضرت ابی کعبؓاور حضرت عمران بن حصینؓ کی طرف منسوب ہے جس کی طرف جمہورائمہ فقہ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، محدثینؒ اور امام ابوحنیفہؒ کے بعض شاگرد گئے ہیں۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ اور امام ابوحنیفہؒ انکے مخالف گئے ہیں کہ نکاحِ جدید سے پہلا شوہر نئے سرے سے تین طلاق کا مالک ہوگا۔ یہ کوئی معمولی اختلاف نہ تھا بلکہ جیسے فرض کیا جائے کہ صحابہؓ کی طرف جھوٹ سے نسل کی نسبت کرنے والا علماء کا کوئی گروہ ہو، جسکے آباء واجداد میں سے کسی نے عورت کو اس طرح طلاق دی اور پھر دوبارہ شادی کرلی ہو تو پھر ایک طلاق کے بعد بعض کے نزدیک عورت کو مغلظہ قرار دیا جائیگا اور بعض کے نزدیک وہ رجوع کے بعد بدستور بھی بیوی ہوگی۔ بعض کا مؤقف ہوگاکہ شوہر سے اس کا تعلق حرام کاری والا ہے اور بعض دوسری جگہ نکاح کرے تو اس تعلق کو حرام کاری قرار دینگے، کیا اسلام میں ایسے شکوک وشبہات کی گنجائش ہے؟۔ دور کی بات نہیں کرتا، ہمارے مرشد حاجی محمدعثمانؒ کے مریدو معتقد کے بارے میں فتویٰ دے دیاگیا کہ ’’نکاح جائز ہے، منعقد ہوجائیگا، جائز نہیں، اس نکاح کا انجام کیا ہوگا عمر بھر کیلئے حرام کاری اور اولاد الزنا، یہ نکاح جائز نہیں گو منعقد ہوجائے‘‘۔ ان پر مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے دستخط بھی ہیں، میں دارالعلوم کراچی میں نمازباجماعت کے بعد اعلان کرکے ان کو چیلنج کیا لیکن وہ وہاں سے دم دباکر بھاگ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی طرف من گھڑت احادیث منسوب ہوسکتی ہے تو کیا صحابہ کرامؓ اور فقہی اماموں کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے کوئی شرم، حیاء اور غیرت آتی؟۔ اگر یہ سچ ہے تو نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’ اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا ہے اور عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا ، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ تین طلاق کی ملکیت کایہ تصور ہی سراسر باطل ،قرآن و سنت کے واضح احکام سے متصادم اور انسانی عقل و فطرت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ اسلام نے طلاق کے عمل کیلئے عدت کا تصور دیکر علیحدگی کا بہترین انداز دنیا کے سامنے پیش کیا۔ شوہر تین طلاق کا مالک نہیں بلکہ عدت کا حقدارہوتا ہے اور مذہبی طبقات نے انتہائی کفرو گمراہی، کم عقلی وبد فطری کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کے معروف کو منکر میں تبدیل کردیا ہے۔یہ صحابہ کرامؓ اور ائمہ مجتہدینؒ کی طرف سے نہیں تھا امام ابوحنیفہؒ نے بھی ایلاء میں چار ماہ کے انتظار کی مدت کو طلاق کا عمل قرار دیا لیکن پھر بعد میں امام ابوحنیفہؒ کے نام پر غلط اور من گھڑت مسائل بنائے گئے۔
اس میں سارے مذہبی طبقات کو ملوث قرار دینا سراسر زیادتی ہے۔ سب میں سمجھ بوجھ ، عقل و ذہن اور صلاحیت نہیں ہوتی ہے، مفتی تقی عثمانی نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے معاوضہ لیکر سودی نظام کو جائز قرار دیا ہے اور شادی بیاہ کے رسم میں لفافہ سود قراردیا ۔ مفتی عبدالرؤ ف سکھروی جیسے لوگ وعظ کرنے لگے :’’ شادی میں نیوتہ یا سلامی کی رسم سود ہے اور اسکے ستر گناہ ہیں، ستر وبال ہیں اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماہ سے زنا کے برابر ہے‘‘۔ اس کو کتاب کی شکل شائع بھی کردیا گیا۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ ایک طرف بینک کے سود کو جائزکیا تودوسری طرف لفافہ کی رسم کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو ماں سے زناکے برابر قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے فرمایا لاتمنن فتکثر ’’ احسان اسلئے نہ کریں کہ زیادہ بدلہ ملے گا‘‘۔ یہ مالی معاملات کے حوالہ سے نہیں بلکہ نبی کریمﷺ کے مشن کے حوالہ سے ہے اسلئے کہ جب کوئی بھی انسان قوم کی بھلائی کیلئے ان سے اچھائی کے حوالہ سے تحریک شروع کرتا ہے تو فطری طور سے توقع رکھتا ہے کہ اس کا بدلہ خیر کثیر کی شکل میں ہی ملے گا لیکن جو جاہل، ہٹ دھرم اور ہڈ حرام ہوتے ہیں ان کی طرف سے اکثر خلافِ توقع نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلئے اللہ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ احسان سے بھلائی کی توقع نہ رکھیں۔ اس کو سود کی تعریف میں شامل کرنا معروف کو منکر بنانا ہے، تحفہ تحائف سے محبت بڑھتی ہے اسلئے نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اور محبتوں کو بڑھاؤ‘‘۔ حکومت ڈنڈے کے زور پر نہیں لیکن اپنی ذمہ داری سمجھ کر علماء کرام کے درمیان صحیح طریقہ سے راہ ہموار کرکے پارلیمنٹ میں مکالمے کا اہتمام کروائے تو بہت سارے معاشرتی مسائل سے چھٹکارا مل جائیگا۔ دین ومذہب ایک روحانی اور اخلاقی قوت ہے ، آدمی بڑی قربانی دیدیتا ہے لیکن اپنا ایمان بچالیتا ہے۔اسلام عظیم دین ہے اور مسلمان عظیم قوم ہیں، مذہبی طبقات حلالہ کروائیں، زنجیر زنی کروائیں، تعصبات کے انگارے لوگوں کے دل و دماغ میں ڈال دیں اور خود کش حملے کروائیں عوام مذہب کی ہرطرح کی قربانیاں دیدیتے ہیں۔ اگر علماء ومفتیان کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر معاشرتی حقوق کو بحال کردیا جائے تویہ اتنا بڑا انقلاب ہوگا کہ بھارت،روس، امریکہ، پورپی یونین، برطانیہ کے علاوہ سعودیہ اور ایران کو بھی پاکستان کی امامت میں اقتداء کرنے پر مجبور کردیگا، افغانستان کیساتھ بھی اسی وجہ سے نہ صرف معاملات ٹھیک ہونگے بلکہ طالبان و افغان حکومت بھی پاکستان کی ہاں و ناں کو مانیں گے۔ ماروی سرمداور مفتی نعیم ، سمیعہ راحیل اور مفتی عبدالقوی ایک ہونگے ۔ تازہ واقعہ ہے کہ مری میں ایک 19سالہ لڑکی کو رشتہ کے تنازع پر جلادیا گیا، یہ واقعہ کوئی انوکھا نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اقدار کا وہ نمونہ ہے جو جاہلانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرتی اقدار کو تحفظ دینے کیلئے اسلام کو ٹیشو پیپر بنایاہے۔ اسلام نے جاہلانہ معاشرتی روایات کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھالیکن مسلمانوں نے جاہلانہ رسوم کو ختم کرنے کی بجائے حیلے بہانے سے اسلام کا نام لیکر ان کو تحفظ دیا ہے۔ اسلام نے بیوی اور لونڈی میں تفریق کی تھی،بیوی منکوحہ ہوتی ہے مملکوکہ نہیں۔قرآن کہتا ہے کہ زبردستی سے بیوی کا مالک مت بن بیٹھو، علماء وفقہاء نے قرآن کی آیت کے الفاظ کو توتبدیل نہیں کیامگر اس کے معانی اور تفسیر کو تبدیل کردیا۔ یہ صرف مدارس تک بات محدود نہیں جماعتِ اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی نقوی اور بلکہ غلام احمد پرویز کے پیروکاروں نے ان سے بھی بدتر کردار ادا کیاہے، مدارس والوں سے زیادہ جماعتِ اسلامی کو سیاست کی پڑی ہے۔ سورۂ النساء کی آیات میں الصلح خیراور اسکے سیاق وسباق کی پوری وضاحت ہے جس سے صلح ہی مراد ہے لیکن مولانا مودودی ؒ نے اس سے ’’ خلع‘‘ مراد لیا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سورۂ بقرہ کی جس آیت میں طلاق کے بعد فدیہ کا ذکر ہے اس سے مراد خلع نہیں بلکہ علیحدگی کی ایک خاص صورتحال کا ذکر ہے مگر پھر بھی اس سے خلع مراد لیا ہے، اور حنفی علماء کے مقابلہ میں علامہ ابن تیمیہؒ کے شاگرد علامہ ابن قیمؒ کی عقل پر ہنسی آئیگی جس نے ’’خلع‘‘ کے بارے میں اپنی انتہائی کم عقلی کا مظاہرہ صرف اسلئے پیش کیا ہے کہ وہ حنفی مسلک کی تردید کرنا چاہتے تھے۔ معلومات کا ذخیرہ اور مخلص تھے مگر عقل نہ دارد۔ امام ابوحنیفہؒ اپنے دور میں قرآن کیلئے جس طرح کھڑے ہوئے ، یہ دین اور حق کو تحفظ دینے کا بہترین ذریعہ تھا، اگرچہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں ان کا مؤقف سوفیصد غلط تھامگر ضعیف اور من گھڑت روایات کے مقابلہ میں انہوں نے زبردست کردارادا کیا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ مثلاً قرآن اور صحیح حدیث میں واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق کی عدت کے تین پیریڈ تین طہر ہیں، جس طرح تین دن تین روزے رکھے جائیں تو عدد میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی ہے مگر احناف نے خود ساختہ طور سے قرآن میں 3کے عدد کو تحفظ دینے کیلئے حیض مراد لئے۔ جس طرح روزہ کی ابتداء دن کے شروع سے ہوتی ہے رات کو روزہ مکمل ہوجاتا ہے، اسی طرح نبیﷺ نے طہر میں پرہیز کو ایک مرتبہ طلاق قرار دیا۔ غلام کی دو طلاق اور لونڈی کی دو حیض عدت سے بھی مراد یہی ہے کہ غلام دو طہروں کی پرہیز کریگا تو یہ دو طلاق ہیں اور لونڈی تین کی بجائے دو حیض تک انتظار کریگی۔ ان باتوں کو مزید وضاحت کساتھ ایک کتابچہ میں پیش کررہا ہوں لیکن علماء ومفتیان اور عوام کو یہ توجہ دلانا ضروری ہے کہ اسلام کے معروف احکام کو واضح کرنے کے بعد نہ صرف مسلمان بلکہ دنیا بھر کے انسان بھی ان کی طرف لپکیں گے اور سب اسلام کی طرف آئیں گے۔ عتیق گیلانی
عوام سمجھتے ہونگے کہ شاہی خاندانوں کی طرح علم کی مسند پر بیٹھنے والے مشہورو معرف علمی خانوادے بھی علم وسمجھ کے بہت بڑے پہاڑ تھے۔انکو معلوم نہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی وراثت خاندان واہلبیت ، درہم ودینار اور بادشاہت وگدی نشین کی روایت کو قرار دینے کی بجائے ’’علم‘‘ کوہی اپنی وراثت اور انبیاء کرام کی وراثت قرار دیا۔لوگوں کو کیا معلوم ہے کہ خاندانی بادشاہت سے زیادہ اپنا بدترین دھندہ اور کاروباربناکر اسلامی علوم کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ علم کاروبار اور وراثت نہیں بلکہ اس کے ذریعہ سے انسانی معاشرہ اپنا فرض پورا کرتا ہے، فرض کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے۔ قرآن وسنت اور فقہ وفتویٰ کمرشل ہوا تو دنیا کی ہر چیز کمرشل کردی گئی۔ یہ سیاستدانوں اور این جی اوز کا کمرشل ہونا بھی غلط ہے مگر جس قوم نے دین ومذہب کو کمرشل کردیا ہو ، اسکے اندر اخلاقی قدریں کہاں سے پنپ سکیں گی؟، منبر ومحراب کے بعد جہاد اور خود کش حملے بھی کمرشل کردئیے گئے۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ شیعہ واہلحدیث بھی راہوں سے ہٹے ہوئے ہیں لیکن دیوبندی بریلوی جس مسلکِ حنفی اور حضرت عمر فاروقؓ کے حوالہ سے تین طلاق کے دعویدار ہیں، یہ لوگ نہ صرف قرآن وسنت سے اس معاملہ میں ہٹ گئے ہیں بلکہ حضرت عمرؓ، اجماعِ امت اور حضرت امام ا بوحنیفہؒ کے علاوہ مسلک سے بھی دھیرے دھیرے ہٹ کر گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ گئے ہیں، میں خود بھی پہلے اس کا شکار تھا اور اب دوسروں کو بھی سمجھانے کی صلاحیت قرآن و سنت اور فقہ و فہم کی برکت سے رکھتا ہوں، اہل تشیع اور اہل حدیث ہمارے پیچھے چلیں گے انشاء اللہ۔ مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ’’ زبردستی کی طلاق‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ’’ ہر عاقل بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، خواہ وہ غلام ہو یا اس پر زبردستی کی جائے،اس کی طلاق صحیح ہے۔ نہ کہ اس کا صرف اقرار طلاق، اور بحر الرائق میں ہے کہ زبردستی سے مراد زبان سے طلاق کی ادائیگی ہے، اگر اس پر مجبور کیا جائے کہ اپنی عورت کو طلاق لکھے اور اس نے لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی(ردالمختار، کتاب طلاق) ایک شخص کو پٹائی اور قید کے ذریعہ طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا، اس نے طلاق لکھ دی تو اس کی عورت پر طلاق نہ ہوگی۔(عالمگیری ، باب الطلاق باب الکتابت)۔ طلاق میں بنیادی چیز مرد کا اپنے اختیار کا مختارانہ استعمال ہے۔اگر کوئی شخص ریوالورکی نوک پرطلاق دلواتا ہے تو مرد اپنی جان بچانے کیلئے بڑے نقصان کے مقابلہ میں چھوٹے نقصان ۔۔۔طلاق۔۔۔کو اختیار کرتا ہے، ا سکی اگرچہ مرضی شامل نہیں ہے مگر اختیار شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں صرف تحریر جو اقرار طلاق ہے ، اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ اسلامی قانون (نکاح ، طلاق، وراثت ،صفحہ:210,211) مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی۔ ناشردارالاشاعت کراچی ۔ملنے کے پتے، دارالاشاعت اردو بازار کراچی، مکتبہ دارالعلوم کورنگی کراچی۔ ادارہ معارف کورنگی ، ادارہ اسلامیات انار کلی لا ہور۔ کتاب کاتعارف، مصنف کا علمی مقام، خاندانی پسِ منظر اور اساتذہ و سرپرتوں کی فہرست علمی خدمات ، عوام وخواص میں شہرت درج ہے۔سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق کو زبردستی کی صورت میں اقرار قرار دینا اور اس کا غیرمؤثر ہونا اس وجہ سے درست ہے کہ فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ عالمگیریہ کا حوالہ دیا گیا ہے؟۔ اللہ نے معاہدے کو معتبر قرار دینے کیلئے فلیکتب لکھنے کا حکم دیا ہے مگر یہ گدھے کی اولاداپنے درسِ نظامی میں بیوقوفی کایہ درس دیتے ہیں کہ لکھی ہوئی اللہ کی کتاب قرآن، اللہ کی کتاب نہیں۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد سات قاریوں کے قرآن ہیں، کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو لفظ ہے نہ معنیٰ۔ عربی میں کتاب کا لفظ لکھائی سے مأخوذ ہے ، اردو میں کتابت کا لفظ بھی عربی سے لیاگیا ہے۔ جیسے اردو میں لکھائی کی وجہ سے کتاب کا نام’’ لکھت‘‘ ہوتا اور کوئی بیوقوف اور گدھے کا بچہ کہتا کہ لکھت کتاب نہیں کیونکہ لکھائی لفظ ہے نہ معنیٰ۔ یہ علماء و مفتیان کا کہنا ہے کہ اللہ کی کتاب پر ہاتھ رکھ قسم کھائی جائے تو قسم نہیں ہوتی البتہ زباں سے کہا جائے کہ’’ اللہ کی کتاب کی قسم‘‘ تو قسم منعقد ہوگی اور کفارہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔ قرآن میں کتاب کی تعریف ہے الذین یکتبوں الکتاب بایدیھم ثم یقولوں ھذا من عنداللہ’’ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے کتاب کو لکھ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ اللہ نے پہلی وحی میں علم بالقلم قلم کے ذریعہ علم سکھانے کی بات ہے۔ اللہ نے قلم اور سطروں لکھے کی قسم کھائی ہے والقلم ومایسطرون ۔جاہل مشرک بھی کتاب کو سمجھتے تھے،اکتتبھا بکرۃ واصیلا کہتے تھے،یہ علماء ومفتیان اُلوکے پٹھے دنیا بھر کے چندے کھاکھاکر قرآن ہی کا نہیں انسانی عقل وفطرت کا انکار کرتے ہوئے انتہائی ہٹ دھرمی وڈھٹائی کیساتھ اس کفریہ تعلیم اور بیوقوفی پر قائم ہیں۔ مولانا فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے زبردستی کی طلاق میں تحریر کو اقرارلکھ کر مغالطہ کھایا ہے، نقش قرار دیکر الفاظ ومعانی کی نفی کرتا تو زبردستی کیا رضامندی میں بھی معتبر نہ ہوتی، اسلئے کہ جب قرآن کے الفاظ یہ گدھے لفظ ومعنیٰ نہیں مانتے تو پھر کونسی تحریر کی کوئی شرعی حیثیت ہوسکتی ہے؟۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی فقہ کی کتابوں میں سب سے معتبر نام ’ہدایہ‘ کے مصنف کی طرف سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے اس شرط پر جائز قرار دینے کا حوالہ دیا تھا کہ یقین ہوکہ علاج ہوجائیگا۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے اس پر اضافہ کیا کہ حرام سے علاج میںیقین کی شرط کے حوالہ سے احقر(گدھے سے زیادہ بدترحقیر) نے امام ابویوسفؒ کی کتابوں کامطالعہ کیا مگر’’ مجھے کہیں یہ یقین کی شرط نہیں ملی‘‘۔ ہماری طرف سے اخبار ضربِ حق کراچی میں اس پر بھرپور احتجاج کے بعد مفتی محمدتقی عثمانی نے روزنامہ اسلام اور ہفت روزہ ضرب مؤمن میں اعلانیہ طورسے اپنی کتابوں’’ تکملہ فتح الملہم‘‘ اور ’’ فقہی مقالات جلد چہارم‘‘ سے یہ عبارت شکریہ سے نکالنے کا اعلان کردیا مگر پھر فتاویٰ شامیہ سے یہ عبارت کون نکالے گا؟۔ اور اصل بات یہ ہے کہ صاحبِ ھدایہ نے سورۂ فاتحہ کو ناک سے نکلنے والی نکسیرخون اور پیشاب سے علاج کیلئے یقین کی شرط پر جائز کیسے قرار دیا؟۔ صاحب ہدایہ مفتی تقی عثمانی کی طرح نالائق نہ تھاکہ لگام سے چلتا اور ڈنڈے سے راہ بدلتا، وہ فقہ واصولِ فقہ کو سمجھتا تھا، جب قرآن پر تحریری شکل میں اللہ کے کلام کا اطلاق نہ ہوتو سورۂ فاتحہ بھی تحریری شکل میں لفظ ہوگی نہ معنیٰ ۔ پھر علاج میں یقین کی شرط پر اسکے نزدیک لکھنے میں حرج نہ تھا۔ دم تعویذ والے ہندؤ کی اولاد بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ مندروں میں بت پرستی کے علاج کے یقین اور انگریزی ادویات کے یقین کا کوئی جوڑ آپس میں نہیں مگر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے تعویذ کے یقین اور دواکے یقین کے درمیان اتنابڑا فرق بھی نہ سمجھا،امام ابویوسفؒ نے حرام سے علاج کیلئے دواؤں میں ظاہر ہے کہ یقین کی شرط کا ذکر نہ کیا تھا،تعویذات کی دنیا تو یقین و گمان کے تخمینے پر ہی چلتی ہے۔ جس مفتی تقی عثمانی کی موٹی عقل اتنا کام نہ کرتی ہو، وہ اس قابل ہے کہ سودی نظام کو اس کے ڈھینچو ڈھینچو پر جائز قرار دیا جائے؟۔ آج حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے پاس اقتدار ہوتا تو ان علماء ومفتیان کے چوتڑوں کو لوہے کے سریہ گرم کرکے داغا جاتا کہ خبردار اگر تمہیں اسلام کا نام استعمال کرنے کی جرأت ہو ئی۔ بقول علامہ اقبالؒ کے کہ انہوں کے نام قبروں کی تجارت کرکے کیا نہ بیچوگے صنم مل جائیں گر پتھرکے یہ تو ہندؤں سے بھی بدتر ہیں۔ انقلابی طالبان کو حقائق کا پتہ چلتا تومجھے مارنے کی بجائے ناجائز حلالہ پر عزتیں لوٹنے والوں کو عدالتیں لگاکر الٹا ذبح کردیتے۔