پوسٹ تلاش کریں

پروفیسر ارمان لونی شہید معروضی حقائق کے تناظر میں

پروفیسر ابراہیم لونی شہید عظیم انسان تھے۔ ان کی شہادت سے بڑا خلاء پیدا ہوا، جس کو پورا کرنے کیلئے پی ٹی ایم کے پاس متبادل نہیں۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو چاہیے کہ چترال سے لیکر زیارت تک ماتمی ریلی نکالیں جیسے اہل تشیع محرم کے دنوں میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت پر ماتم کرتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ نے یزید کیخلاف قربانی دی تو آپکی ہمشیرہ حضرت زینبؓ نے آپ کی تحریک کو اپنے بیانات سے زندہ رکھا۔ پروفیسر ابراہیم لونی شہید کی ہمشیرہ وژانگہ محترمہ اس ورثے کی واحد علمبردار ہیں۔ پی ٹی ایم کے قائدین و رہنماؤں میں کوئی بھی ایسا نہیں جو جواں سال ہمشیرہ کو اپنے ساتھ میدان میں نکالنے کی جرأت کرے۔
پروفیسر ابراہیم لونی نے کوئٹہ پریس کلب میں اپنے ساتھ پختون اور بلوچ خواتین و حضرات کو مشعال خان کے حق میں مظاہرے کیلئے کھڑا کیا اور کہا کہ ’’ہم سب مشعال ہیں۔ کوئی آئے اور ہمیں قتل کردے۔ پیچھے سے وار کرنا مردانگی نہیں بلکہ جس کو قتل کرنا ہے سامنے آئے۔ مشعال خان پر گستاخی ثابت نہ تھی اور جنہوں نے ان کو شہید کیا وہ اگر مرد ہیں تو عدالت میں کہہ دیں کہ ہم نے قتل کیا ۔ مشعال خان کی فیس بک آئی ڈی قتل ہوئی اس کا کمرہ قتل ہوا، جو بے گناہی کے نشانات تھے۔ عدالت تین دن توبہ کرنے کا موقع دیتی ہے۔ مشعال کو تین گھنٹہ کا موقع دیا ، ایک گھنٹہ کا موقع دیا ، ایک منٹ کا موقع دیا اور آدھے منٹ کا موقع دیا ؟‘‘۔ یہ تقریر کوئٹہ پریس کلب میں جرأت کا مظاہرہ کرکے پروفیسر ارمان لونی نے کی ۔ یہ پی ٹی ایم کی قیادت کا فرض بنتا کہ مردان اور صوابی میں مشعال کے حق میں مظاہرہ کرتے، جہاں انکے والدین، بہن بھائی بے یار و مددگار تنہا کھڑے تھے۔ اسلئے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ پروفیسر ابراہیم لونی شہید کا متبادل موجود نہیں ۔
پروفیسر ابراہیم لونی شہید کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ مردان کی اس یونیورسٹی میں کوئی پنجابی نہیں تھا۔ پنجابی غیرتمند قوم ہے ، وہ کسی مجرم کو بھی اس طرح تنہائی میں سزا نہ دیتی۔ غازی علم الدین شہید اور ممتاز قادری شہید نے اپنا جذبہ استعمال کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی اور اپنے اقدام سے مکرنے کا مکروہ کام بھی نہیں کیا۔ یہ وہ بے غیرت پٹھان تھے جنہوں نے ایک بیگناہ کو کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر انتہائی غلیظ حرکت کی اور پھر اقرار جرم سے بھی گریز کیا۔ پروفیسر ابرہیم ارمان لونی شہید اگر پنجاب میں پیدا ہوتے تو عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی طرح زندگی بھر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھتے اور کوئی ان کو شہید نہ کرتا۔ یہی مناسب ہوگا کہ پی ٹی ایم والے اہل تشیع کی طرح ماتمی جلوسوں سے ارمان شہید کو اب زندہ رکھیں۔ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے خطاب میں پاکستان کو امریکہ کے سامنے سرنڈر ہونے کا اچھا طعنہ دیا ہے اور اچھا کیا ہے کہ امام خمینی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ عراق میں امریکیوں کا استقبال کرنے والے میر جعفر میر صادق کا کردار اہل تشیع نے ادا کیا تھا۔
اے این پی کے اندر دوقسم کے لوگ ہیں ایک مذہبی اقدار کے بہت پابند اور دوسرا طبقہ کمیونزم کے خیالات سے متاثر۔ افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر پہلے کسی دوسری پارٹی میں کام کررہے تھے اور پھر اے این پی کا حصہ بن گئے۔ ان کو مذہب سے دور طبقہ کہا جاسکتا ہے۔ مشعال خان کے والد اقبال خان بھی اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اقبال خان ایک روشن خیال اور ترقی پسند پشتو شاعر بھی ہیں اور ان کی خوبی یہی ہے کہ لسانی تعصبات پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں کہ سوال اٹھانے کا راستہ جاری رکھنا چاہیے۔ وہ ایک محب وطن پاکستانی اور اچھے انسان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھی۔ مجھے یہ سن کر بڑا افسوس ہوا کہ مشعال خان کی شہادت پر بھی انکے گھر کے دروازے کے قریب مسجد میں اشتعال انگیز آوازوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اگرچہ اقبال خان اور ان کے گھرانے کے افراد کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن مسجد کے امام کو پھر بھی شریک غم ہونا چاہیے تھا۔
وزیرستان میں زام پبلک اسکول کے پرنسپل عارف خان محسود نے جلسہ عام میں اللہ کی ذات پر سوالات اٹھائے تھے لیکن کسی نے ان کا گریبان تک نہیں پکڑا تھا۔ بعد میں فالج کا شکار ہوئے تو سچے پکے مسلمان بن گئے۔ یوسف نسکندی سے ملاقات کے بعد سیلم اختر اور پھر ایک 75سالہ عاصم جمال سے ملاقات ہوئی تھی۔ عاصم جمال مذہب کی مخالفت میں تمام حدوں سے گزر جاتے تھے۔ لیکن پھر مکالمے کے بعد اس بات پر آئے کہ نماز پڑھنے کی خواہش کرنے لگے اور بتایا کہ وہ پہلے 22 پارے کے حافظ بھی تھے۔ مکالمہ جاری رکھنے، سوالات اٹھانے سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اللہ کے سامنے سوالات اٹھائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خضر کے سامنے بھی سوالات اٹھائے تھے۔ یہ ایک باطل اور فرسودہ جملہ تھا کہ ’’اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں ، اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں‘‘۔ ایسے میں تو سوالات کا سلسلہ دفن ہوجاتا ہے۔ یہ اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ جب انسان کو اپنے مسلک اور عقیدے پر اعتماد نہ ہو۔
ساہیوال میں پنجابیوں کے ہاتھوں پنجابیوں کا قتل ایک حادثہ تھا۔ کراچی اور سندھ میں رحیم شاہ کے ہاتھوں ایک سندھی اور باجوڑ کے پختونوں کا قتل بھی ایک حادثہ تھا۔ ہر بات کو وردی سے جوڑنے کی بات ہوگی اور پنجابیوں سے تعصبات کو ہوا دی جائے گی تو یہ دال گلے کی نہیں۔ پاکستان کی ریاست کو چاہیے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کرکے مجرموں کو قرار واقعی سزا بھی دے، ایک وقت تھا کہ لیاری پر بھتہ خوروں کی ریاست چل رہی تھی جب آپریشن کی بات ہوتی تو عوام کا ایک سیلاب نام نہاد سرداروں کے تحفظ کیلئے سامنے آجاتا تھا۔ یہ بدمعاش ہر دور میں ہر کہیں ہوتے ہیں لیکن جب ان کو سیاستدانوں کی پشت پناہی اسلئے حاصل ہوتی ہے کہ عوام میں اپنی ساکھ قائم رکھ سکیں تو معاشرہ برباد ہوجاتا ہے۔ طالبان کے فکر و عمل سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن جوانوں نے جس طرح اپنی جانوں پر بارود باندھ کر قربانیاں دیں اور نہ صرف پورے خطے کو بلکہ مشرق و مغرب کو ہلا ڈالا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ محمود غزنویؒ اور ابدالیؒ کے باپ دادوں اور پردادوں میں بھی اتنی ہمت نہ تھی لیکن جب وقت کے ساتھ جوش ہوش میں بدل گیا تو آج طالبان سرنڈر گھومتے پھر رہے ہیں جن کو سلنڈر کہا جاتا ہے۔ دین کے نام پر آخرت میں حوریں پانے کیلئے خود کو بارود سے اڑانا زیادہ مشکل نہیں لیکن دنیا بنانے کیلئے اپنی زندگی قربان کرنا مشکل کام ہے۔ کمیونسٹ انسان دوست ہوتے ہیں لیکن آخرت کی امید نہ رکھنے کی وجہ سے دنیا کی بزدل ترین مخلوق دیکھنی ہو تو یہ کامریڈ نظر آئیں گے۔ مجھے ذاتی طور پر علماء سے زیادہ کامریڈ اسلئے اچھے لگتے ہیں کہ اگر علماء کی طرح کامریڈوں کے بس میں ہوتا تو یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے اسلام کے نام پر حلالوں کی لعنت میں ملوث نہ ہوتے۔ محسود اور پختون قوم سے طلاق کی حقیقت دنیا کے سامنے لائیں۔ انڈیا کی پارلیمنٹ میں ہندو خاتون نے قرآن کا طلاق فطری اور دنیا کیلئے قابل قبول قرار دیا ہے۔

جواں سال منظور احمد پشتین کو بہت ہوشیار رہنا چاہیے 

شمالی وزیرستان درپہ خیل میں منظور احمد پشتین نے قبائلی کلچر ڈے سے اپنے خطاب میں بڑی پیاری باتیں کیں مگر تعصب غلط تھا۔ ایک نوجوان جب جذباتی ماحول کی نذر ہوجاتا ہے تو معروضی حقائق سے زیادہ جذبات پر یقین رکھتا ہے۔ منظور احمد پشتین نے روایتی قبائلی عقل و فکر ، علم و تدبر اور فطری صلاحیتوں کا ثبوت دیتے ہوئے انتہائی خوش اسلوبی اور متانت کے ساتھ تقریر کی۔ پاک فوج نے اچھا کیا ہے کہ قبائلی عوام کے اعتماد کو بحال کرنیکی راہ ہموار کردی ہے، دہشتگردوں کے ظلم و ستم نے جو ڈر ، خوف اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کی تھی اس کا واحد حل ایک ایسی قومی تحریک تھی جو لوگوں کو انکے اقدار کی طرف بہتر انداز میں لوٹائے۔
کافی عرصے سے ملک بھر میں بالعموم اور قبائلی علاقہ جات میں بالخصوص کچھ اس قسم کی تحریکوں نے جنم لیا تھا کہ قبائل کی سطح پر لوگ اپنے خونی رشتوں کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دیں۔ ملکی سطح پر اعوان قومی تحریک کی مثال دی جاسکتی ہے۔ محسود و برکی قوموں کے علاوہ کانیگرم کے پیروں نے بھی اپنا ایک سیٹ اپ بنالیا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ اپنے قبیلے سے محبت انسان کی فطرت و ایمان کی علامت ہے۔ بین الاقوامی طورپرخاندانی اقدار کو بحال کرنے کی تحریک اٹھے تو عالمی قوتیں ان کو سپورٹ کریں گی۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے مشورہ سے اللہ کے پیغمبر سے کہا کہ’’ اللہ نے جو عذاب ہم پر نازل کرنا ہو نازل کردے ، پتھر برسائے تو ہم مرہم پٹی کرلیں گے ،بیماری دے تو ایکدوسرے کی بیمار پرسی اور جنازے پڑھیں گے۔ جو کوئی مصیبت ہم پر اللہ نازل کردے ہمیں کوئی خطرہ نہیں اور ہم اللہ کو نہیں مانتے وہ جو عذاب نازل کرنا چاہے بیشک نازل کردے ۔ ہاں صرف آپس میں لڑانے کا عذاب ہم پر مسلط نہ کرے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں‘‘۔
اللہ کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے وعدہ کے باوجود اس عذاب کو ٹال دیا اور اللہ نے فرمایا کہ یہ میری نا فرمان اور کافر قوم ہے لیکن جو مشاورت سے ایک بات انہوں نے کی یہ میری بھی پسندیدہ بات ہے۔ عالم انسانیت کی تاریخ میں ایک واحد قوم حضرت یونس ؑ کی تھی جس پر عذاب کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے ٹال دیا۔ اگر اعوان قوم سے قبائلی علاقہ جات تک اپنے قبیلہ کے لوگوں سے محبت ، اخوت و بھائی چارے کا ماحول قائم کرنے کے پیچھے وردی ہو تو بھی یہ زبردست اور بہترین بات ہے۔ اپنی قوم سے محبت رکھنا ایمان اسلئے ہے کہ اللہ نے نبیؐ سے فرمایا کہ مشرکین مکہ سے کہہ دو قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا مودۃ فی القربیٰ ’’ کہہ دیجئے کہ میں تجھ سے اس دینی تحریک پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر قرابت داری کی محبت‘‘۔ یہ آیت مکی ہے جسکے اولین مخاطب مشرکین مکہ تھے۔ قرآن ہمیشہ کیلئے ہے اسلئے حدیث صحیحہ میں اس آیت کی تفسیر میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے اہل بیت کی محبت بھی مراد لی گئی ہے۔ دونوں تفسیر میں کوئی تضاد نہیں ہے اور دونوں فطرت کا عین تقاضا ہیں۔
مشرکین مکہ میں غیرت اور بے غیرتی کے مسائل تھے۔ قرآن میں ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے۔ یہ غیرت بھی اپنے حدود سے نکلی ہوئی تھی۔ دوسری طرف بخاری کی روایت ہے کہ لوگ اپنی بیگمات کسی اچھے نسل والوں کے حوالہ کرتے جب ان کو حمل ہوجاتا تھا تو واپس لے لیتے تھے تاکہ ان کا نسب اچھا ہوجائے اور یہ پھربے غیرتی کی انتہا تھی۔ قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عرب جاہلوں کی اصلاح کردی تو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آنے والی قیامت تک صحابہ کرامؓ کی وہ ممتاز اور بلند درجہ جماعت تیار ہوئی جس کی کوئی مثال پہلے ادوار میں ملتی ہے اور نہ بعد کے ادوار میں اس کا کوئی امکان ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سے عربوں میں کسی قومی جذبے کی تحریک چلانے کا حکم نہیں دیا تھا ورنہ انکے نقائص اور بے غیرتیاں کبھی ختم نہیں ہونی تھیں۔
اگر مشرکین مکہ قرابتداری کی محبت کا پاس رکھتے تو مسلمانوں کو کبھی حبشہ اور پھر یثرب ہجرت کرنے کی کبھی ضرورت نہ پڑتی۔ جب مشرکین مکہ سے قرابت کی محبت کا تقاضہ قرآن کا حکم اور فطری بات تھی تو کوئی قوم بھی اپنوں سے محبت کی تعلیم کو ایمان اور فطرت کا تقاضہ سمجھ سکتی ہے۔قرآن نے مشرکین مکہ کے باطل عقائد اور بے غیرتی والے رسم و رواج کو چیلنج کیا تو انہوں نے قرابتداری کی محبت کا بھی پاس نہیں رکھا۔ جس طرح اپنی قوم اور اپنی زبان سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے اسی طرح دوسروں سے نفرت اور تعصبات بے ایمانی اور کفر کا تقاضہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ لکل قوم ھاد ہر قوم کیلئے ایک ہدایت دینے والا ہوتا ہے۔ پختونوں کیلئے مشہور شاعر رحمان بابا ؒ کی حیثیت ہدایت کار کی ہے لیکن فلموں اور ڈراموں کی وجہ سے ہدایت کار کی اصطلاح بری لگتی ہے۔ اس عظیم شاعر کی پوری شاعری پختون قوم کی فطرت اور انسانیت کا شاہکار ہے۔
پختون قوم کے سب سے بڑے سیاسی لیڈر خان عبد الغفار خانؒ و عبد الصمد خان اچکزئی شہیدؒ تھے جنہوں نے انگریز سے آزادی کیلئے قربانیاں دیں لیکن ان کے سیاسی اور قومی نظرئیے کا قبلہ کابل نہیں دہلی تھا۔ دو قومی نظرئیے میں وہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی بجائے متحدہ ہندوستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہ یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ اپنے پڑوسی پنجابی ، سندھی اور بلوچوں سے الگ ہوکر پختونستان کی الگ مملکت بنالیں۔ جب سیاسی لیڈر شپ وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے جھوٹے مقدمات بنا کر بلوچ اور پختون قیادت کو بغاوت کے مقدمے میں قید کرکے حیدر آباد جیل میں مقدمہ چلایا تو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا ء نے ان کو رہائی دلائی۔ اس کے پیچھے قابلِ فخر وردی تھی لیکن نا مردی نہیں تھی۔
قبائلی علاقوں میں فوج ، پولیس اور عدلیہ کا کوئی تصور نہ تھا لیکن عالمی المیہ تھا کہ بڑی تعداد میں امریکہ کی مزاحمت کرنے والے پہنچ گئے۔ وزیروں نے ان کا خیر مقدم کیا اور اپنے ہاں ان کو ٹھکانے دئیے ۔ کمزور لوگوں نے اپنی جگہ بنانے کیلئے طاقتور لوگوں کو ٹھکانے لگانا شروع کردیا۔ علی وزیر کی خاندانی حیثیت تھی اسلئے انکے خاندان کو شہید کردیا گیا۔ منظور پشتین و محسن داوڑ کا کوئی بڑا خاندانی بیک گراؤنڈ نہیں تھا اسلئے وہ طالبان سے زیادہ متاثر نہ ہوئے۔ یہ لوگ اپنی قوم کا درد لے کر اٹھے اور ان کو معروضی حقائق کے مطابق تعصبات کی آگ بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے لکھا ہے کہ ’’سندھ ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹیئر اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کی حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ انہی قوموں نے کرنی ہے۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آئے تو بھی ہم اس خطے سے دستبردار نہیں ہونگے‘‘۔ (المقام المحمود: تفسیر عم پارہ۔ امام انقلاب مولانا سندھیؒ )
قائدPTMمنظور پشتین کو چاہیے کہ علماء ومفتیان کے سامنے حقوق نسواں کو رکھیں۔ اگر پختونوں میں اصلاحات کا عمل ہو تو باقی قوموں کیلئے بہت آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ اپنے کارکنوں کو قرآنی تعلیمات کی طرف راغب کریں، یہ وقت کا بہترین تقاضہ ہے، دینداری صرف آخرت نہیں بلکہ دنیابھی میں کام آتی ہے۔

بھارت کی پاکستان سے ممکنہ جنگ کے خطرات و نتائج 

بھارت میں جمہوری نظام ہے، سیکولر بھارت میں ہندوستان کی بقاء ہے اور فرقہ پرست، متعصبانہ ذہنیت اور ہندو ازم بھارت کیلئے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ جب من موہن سنگھ بھارت کا وزیراعظم تھا تو کارگل کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنیوالے بلکہ کریڈٹ لینے والے جنرل پرویزمشرف نے پاکستانی مجاہدین کا راستہ روکا تھا۔ پرویز مشرف کے دست راست وفاقی وزیرجسے بھارت نے ویزہ دینے سے انکار کیا تھا،شیخ رشید نے کہا تھا کہ ’’ مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کے مجاہدین سے تنگ تھے، وہاں جاکر کشمیریوں سے آدمی پوچھے کہ ان مجاہدین سے لوگ کتنے تنگ ہیں اور کس قدر مصائب کا شکار ہیں، حکومت نے اچھا کیا ہے کہ مجاہدین پر وہاں سے پابندی لگادی ‘‘۔ شیخ رشید کا بیان وعدہ معاف گواہ کی طرح نہیں تھا بلکہ یہ سلطانی گواہی ہے، لیکن یہ چاپلوسی اور غلط بیانی نہ تھی۔ کشمیر کے مجاہدین جو جانوں کا نذرانہ پیش کررہے تھے تو ہندوستانی فوج بدلے میں کشمیری خواتین کی عزتوں تک کو لوٹ لیتے تھے۔ مجاہدین کی اپنی مائیں بہنیں تو وہاں نہیں ہوتی تھیں۔ شیخ رشید نے کشمیری مسلمانوں کے دکھ درد کو صحیح سمجھ لیا تھا۔ مجاہدین کی بجائے کارگل جیسی کاروائی سے کشمیر کو آزاد کرنے پر پرویزمشرف کو یقین آیا تھا۔
جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کا سلسلہ بالکل بند کیا تواسکا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیریوں نے آزادی کی تحریک تیز کردی۔ مودی سرکار نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تو کشمیریوں کی طرف سے پھولوں کے گلدستوں کی امیدکیوں کی جاسکتی ہے؟۔ کشمیری مجاہدین کو ہوسکتا ہے کہ بھارتی فوج یا خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے خود اتنا بارود فراہم کیا ہو،اسلئے کہ ایک طرف بدترین تشدد سے دنیا بھر میں اس کا چہرہ بڑا بدنام ہوا۔ دوسری طرف پاکستان پر مداخلت کے امکانات نہیں رہے ہیں۔اگر کشمیر پر ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں تو کیا کشمیری مجاہدین کو کسی اور کی ترغیب سے خود کش کرنیکی ضرورت پڑ سکتی ہے؟۔ پاکستان پر امریکن ڈرون حملے ہوتے تھے، ازبک کمانڈروں کی یلغار ہوتی تھی اور بڑے پیمانے پر قبائلی پاک فوج سے تنگ تھے تو بھی عوام نے چپ کی سادھ لی تھی جب باہر سے مداخلت کا سلسلہ بند ہوا ، تو قبائل میں پشتون تحفظ موومنٹ نے جنم لیا۔ چیک پوسٹوں پر سختی ختم کرنے کا مطالبہ ہوا۔ مائن صاف کرنے کا مطالبہ ہوا۔ دونوں مطالبے پر عمل کا آغاز ہوا۔ PTMکے بے روزگار جوانوں کو ایک شغل مل گیا۔ چندوں اور شہرت نے منہ کی مٹھاس میں اضافہ کردیا۔ بین الاقوامی قوتوں نے پذیرائی بخش دی مگر فوج نے برداشت کا مادہ ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ کشمیر میں لوگوں کو مظاہروں کا موقع دیا جاتا تو روز روز اپنے بازار بند اور کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے آخر تنگ آجاتے، جس طرح کراچی میں عوام ایم کیوایم کے جلسے جلوس اور ہڑتالوں سے تنگ آچکے تھے۔بھارت میں مودی سرکار کی حکومت نہ ہوتی اور کشمیریوں پر مظالم کا حکم بھارتی فوج کو نہ ملتا تو حالات ایسے خراب نہیں ہوسکتے تھے۔ بھارتی آزاد میڈیا اور اپوزیشن رہنما اور ہندوستان کی خالق پارٹی کانگریس مودی سرکار پر اسلئے تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ اگر وہاں آزاد میڈیا اور آزاد سیاست نہ ہوتی تو مودی سرکار فوج کو پاکستان سے جنگ کا حکم دے چکی ہوتی۔
جنگ کوئی بڑی نعمت ہوتی تو خوشحال عراق اور لیبیا بدحال نہ ہوتے۔ اب تو افغانستان کے لوگ بھی تنگ آمدبہ جنگ آمد سے تنگ آمد بہ امن آمد ہوچکے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ عالمی طاقتوں کی خواہش ہے کہ لسانیت کے نام پر ایک نئی اور تازہ جنگ شروع ہو۔ بیرون ملک سے ایجنڈے پر تیزی سے عمل دکھائی دیتاہے اور اگر اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کامیاب ہوگئی تو یہ خطہ ایک بار پھر جنگ کا سامنا کریگا۔ بیرونی لڑائی سے اتنا نقصان نہیں ہوتاجتناآپس کی خانہ جنگی سے ہوتا ہے۔ ریاست اور عوام کی لڑائی میں جو تباہی بربادی قوم کی ہوتی ہے،اس کی واضح مثال افغانی ہیں۔ دربدر خاک بہ سرافغانی اور بارود کے ڈھیر سے کھنڈر افغانستان کی سرزمین عبرت ہے جس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت نے اگر پاکستان پر جنگ مسلط کردی تو اس خطے کی آگ کو بجھانے کا اختیارحکمرانوں کے ہاتھ سے نکل جائیگا۔ امریکہ کو چین سے خطرات ہیں اور ان خطرات سے نمٹنے کا ایک علاج ہے کہ ہندوستان و پاکستان میں لڑائی ہوجائے ۔ کشمیر کا تنازعہ عالمی قوتوں نے پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رکھا تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کے اس تنازعہ کا حل ضروری ہے ، عالمی قوتوں کو موقع ملنے کی یہ واحد وجہ ہے۔برصغیر پاک وہند کے لوگ اپنے عظیم نسلی اور علاقائی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران ، افغانستان اور عرب امارات و سعودی عرب کو بھی بھارت سے مسئلہ نہیں۔ پاکستان اور بھارت اپنے دیرینہ مسئلہ کشمیر کو حل کریں تو دونوں ملک کی عوام اور ریاستیں ڈھیر ساری خوشیوں سے مالامال ہوسکتی ہیں۔ زید حامد نے ٹھیک کہا ہے کہ’’ اگر 7لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کا راستہ نہیں روک سکتی تو بھارت کو چاہیے کہ اپنی افواج کو کھیتی باڑی کے کام پر لگادے‘‘۔ دنیا کی کوئی بھی فوج ہو اس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ پاکستان میں جنرل ایوب ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کے عہدے پر قبضہ جمائے رکھا تو ایک طویل دورانیہ تک پاک فوج کی اعلیٰ قیادتیں اپنے حقوق سے بھی محروم رہیں۔ نچلا طبقہ تو صرف حکم کا پابند ہوتا ہے۔ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہوسکا تو اس میں فوج کا کوئی قصور نہیں ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے اپنے مفادات کیلئے ملک اور قوم کو بری طرح سے استعمال کیا۔ ذو الفقار علی بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان کو اقتدار کے مواقع ملے اور اس طرح سے دیگر کئی سیاسی و غیر سیاسی رہنما وزیر اعظم اور صدر کی حیثیت سے آئے گئے۔ مشرقی و مغربی پاکستان میں جنرل ایوب خان نے اے ڈی ،بی ڈی ممبروں کے چناؤ سے عوامی جمہوریت کا ایک بہترین آغاز کیاتھامگر بھٹو کے ذریعے فاطمہ جناح کیخلاف دھاندلی سے سیاست تباہ کی اور پھر مجیب الرحمن اور ذو الفقار علی بھٹو نے ملک کو دو لخت کرنے میں کردار ادا کیا۔
سول بیورو کریسی نے انگریز کے جانے کے بعد نہ سیاسی شعور ابھرنے دیا اور نہ ہی مذہبی تصورات کیلئے کوئی بنیادی کام ہونے دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن سول و ملٹری بیوروکریسی سے زیادہ بے شعور اور اسلام سے بے بہرہ ہمارے مدارس اور علماء و مفتیان تھے۔ شعور کی دولت عام ہوجائے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات سے لوگ آگاہ ہوں تو سب ٹھیک ہوجائیگا۔ بھارت کا با شعور طبقہ کبھی بھارتی فوج کو جنگ آزمائی کی طرف دھکیلنے کی کوئی کوشش نہیں کریگا۔ کم عقل دونوں طرف سے موجود ہوتے ہیں لیکن ایٹمی طاقت اور غربت کے مارے ہوئے لوگوں کو جنگ کی ہولناکیوں کی طرف لے جانا بہت خطرناک ہوگا۔ بھارت ہندو ازم اور جنگی جنون کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔
پاکستانی پارلیمنٹ طلاق کے مسئلہ پر قرآن کے مطابق بحث کا آغاز کرے تو بھارت سے صلح کی راہ ہموار ہوگی اسلئے کہ غیرفطری طلاق انسانی المیہ ہے۔

نوشتہ دیوار کی طرف سے جنرل باجوہ ، عمران خان اور منظور پشتین کے نام اہم پیغام جس سے مثبت انقلاب کا آغاز ہوسکتا ہے

جب طالبان ریاست پر حملے کررہے تھے،مساجد، مدارس اور بازاروں، مہران ائربیس کراچی، جی ایچ کیو پنڈی اور آئی ایس آئی ملتان کے دفتر پر حملے اور ہرچند روز بعد بڑا دھماکہ ہوتا تو اس وقت پختون کیلئے طالبان قابلِ فخر تھے ۔ طالبان کی حمایت پر متحدہ مجلس عمل کو بڑے پیمانے پر پختونوں نے جتوایا۔ یہ الگ بات تھی کہ پختونخواہ کا وزیراعلیٰ بننے کے لائق کوئی مولوی نہ تھااسلئے اکرم خان درانی کو داڑھی رکھ کر وزیراعلیٰ بنوایا گیا۔ ہنگو میں خود کش حملہ ہوا تو وزیراعلیٰ درانی نے الزام لگایا کہ ’’یہ امریکہ نے کروایا ہے‘‘۔ بس پھر کیا تھا ؟۔ اکرم خان درانی کے چچا و فیملی کے دیگر افراد پر طالبان نے حملہ کرکے شہید کردیا ۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ میں اس میڈیا پر ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا جو یہ کہے کہ ان کو طالبان نے ہلاک کیا، اسلئے کہ مزید نقصان کا خدشہ تھا۔ پختون قوم طالبان کے سامنے اسلئے لیٹی ہوئی تھی کہ ہرقوم ، ہرقبیلے، ہر خاندان اور ہرجگہ سے یہ نعرہ لگتا تھا کہ ’’ ہر گھر سے طالب نکلے گا اور کوئی نہ بچے گا ہر ایک کو ماریگا‘‘۔ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں جن کو ختم نہیں کرسکے اور پاک فوج نے امن کی فضاء بنائی ہے تو اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ گودیں بھی اجاڑ دی ہیں جہاں سے طالبان کی پرورش ہورہی تھی۔ طالبان کا خوف نکل گیا تو یہ نعرہ لگانا شروع کردیا ہے کہ
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
پختون طالبان نے جس طرح ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پختون طالبان کی بہادری پر فخر کرتے تھے ۔ خاص طور پران مسنگ پرسن کے لواحقین جنہوں نے پی ٹی ایم کی محفلوں کو رونقیں بخشی ہیں۔ کل یہ فوج پر خود کش کرتے تھے اور آج نعروں کی شکل میں اپنا بغض نکال رہے ہیں۔کل مذہبی لبادے انکی پشت پناہی کررہے تھے آج لسانی تعصبات والوں کے وارے نیارے ہیں۔ کل امریکہ مذہب کے نام پر پختونوں اور فوج کو لڑا رہا تھا اور آج لسانیت کے نام پر پشت پناہی ہے۔کل بھی پختونوں کی بربادی کے منصوبے تھے اور آج بھی پختونوں کی بربادی کے منصوبے ہیں۔ کل کم عقل نوجوان طالبان تھے اور آج کم عقل پی ٹی ایم کے کارکنان ہیں جن کو تھوڑی سی خوشگوار فضاء بھی ہضم نہیں ہورہی ہے۔
کل طالبان کے جنازے میں مائیں بہنیں اعلان کرتی تھیں کہ مجھے بھی خود کش کرنا ہے ، آج پی ٹی ایم کی ریلیوں میں مائیں بہنیں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے رونق افروز ہوتی ہیں۔ پختونوں نے طالبان کی شکل اپنائی تو وہ امریکہ سے پاکستان تک سب کچھ ہلاکے رہ گئے۔ پاکستانی ریاست کو یہ اسوقت بھی پیارے تھے جب ملک کا چپہ چپہ دھماکوں سے لرزتا تھا اور آج بھی ان لاڈلوں کو وہ نعرہ لگانے کی اجازت ہے جو کسی اور کو نہیں ہے۔
بلوچوں نے لسانیت کے نام پر زیادہ سے زیادہ کبھی ویران بلوچستان میں کوئی ریلوے کی ٹریک اڑادی یا کوئی اکا دکا واقعات کرلئے تو ریاست نے ان پر جبرومظالم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ مسخ شدہ لاشوں سے مسنگ پرسن کی کہانیوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ عرصہ سے چل رہاہے۔ فرقہ پرست اور جہادی تنظیموں نے بلوچوں کو لپیٹ میں لیاہوا ہے۔ اگر پختونوں کیساتھ یہ شروع ہوا تو طالبان دور کو بھول جائیں گے۔ بلوچ، پنجابی اور سند ھیوں کو ایسی رعایت حاصل نہیں ہے جو پختونوں کو پاک فوج دیتی ہے۔ دوسری قوم کے لوگ دھرنے میں کھلے عام آزادی اور فوج کے خلاف نعرے لگائیں گے تو ان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا مگر یہ پختون لاڈلے ہیں لاڈلے۔
بلوچ سرما چار آزادی کیلئے جانوں کی قربانیوں کے علاوہ پردہ دار خواتین کو روڈوں پر لانگ مارچ سے بازاروں میں دھرنوں تک کیلئے نکالنے پر بھی غیرت نہیں کھا رہے ہیں۔ حالانکہ بلوچ دوسری قوموں کی فلم کو اپنی زبان میں ترجمہ کرنے پر بھی ہنگامے کرتے اور سینماؤں کو جلادیتے تھے۔ اگر بلوچی روایات کی حفاظت نہ ہوسکے تو بلوچستان آزاد ہوجائے تو اس بلوچستان کو بلوچوں نے کیا کرنا ہے؟۔ پ بلوچوں اور پختونوں سے گزارش ہے کہ ریاست سے گلے شکوے کا انداز بدل دو، خود کو ایسا مت قرار دو جیسے منکوحہ بیگم شوہر سے یا اغواء شدہ عورت اغواء کار سے شکایت کرتی ہے۔ عالمی قوتیں تمہیں استعمال کرکے پاکستان کو بخرے کرنے میں کامیاب ہوں تو تمہاری بھی خیر نہیں ہوگی۔
گھر میں بچوں کو ماں باپ سے اور بیگم کو شوہر سے شکایت ہوتی ہے لیکن گھر کا ماحول خوش اسلوبی سے درست کیا جاتا ہے تو اسکے اچھے نتائج نکلتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے گھر کو برباد کرتے ہیں تووہ کبھی سکون کی زندگی نہیں پاتے۔
پی ٹی ایم نے نعرہ لگایا کہ ’’ہمیں زندگی چاہیے۔ ہمارے گھر ویران، جوان قتل ہورہے ہیں یہ کیسی آزادی ہے‘‘۔ جی ایچ کیو سے کہا گیا کہ شکایات کا ازالہ ہونا چاہیے۔ منظور پشتین نے کہا کہ کافی ریلیف مل گئی لیکن راؤ انوار کی گرفتاری اور سزا باقی ہے۔ منظور پشتین نے کہا کہ ’’ کافی مسنگ پرسن رہاہوئے مگر ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ گناہگار ہو یا بے گناہ عدالت کے سامنے پیش کرو‘‘۔ فوج نے یہ جواب نہ دیا کہ جو عدالت راؤ انوار کو سزا نہیں دے سکتی وہ تمہارے گناہگاروں کو بھی سزا نہیں دیگی۔ راؤ انوار کیلئے جوعدالت قبول نہیں تو اپنے گناہگاروں کیلئے کیسے ہے؟ ۔ اسلئے کہ فوج کے پاس چھڑی ہے دلیل نہیں۔ اگر عدالت نے دہشتگردوں کو سزائیں دیتیں تو فوجی عدالت کی کیا ضرورت تھی؟۔ احسان اللہ احسان کو عدالت میں پیش کیا جائے تو بھی وہ عدم ثبوت سے رہا ہوجائیگا۔ جو لوگ احسان اللہ احسان کی طرح ہیں مگر ان کی شہرت نہیں ہے انہیں ہم تمہارے مطالبے پر رہا کررہے ہیں نا؟۔
پی ٹی ایم دلیل کیساتھ اپنے تضادات بھی ختم کرے۔ راؤ انوار نے طالبان سے پہلے مہاجروں کی دہشت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ، ملک اسحاق کے علاوہ پنجاب پولیس نے اب بے گناہ کو ساہیوال میں قتل کیا تو پنجابی ریاست کیخلاف تحریک نہیں چلارہے ہیں۔ رحیم شاہ نے سندھی کو قتل کیا تو سندھ میں پختونوں کیخلاف نفرت پھیل گئی۔ پنجابیوں کیخلاف نفرت انگیز نعرے لگانے سے پختونوں کا چہرہ خوشنما نہیں بنے گا۔ فوج کیخلاف نعرہ لگانا ہے تو ان شہداء کو بھی دماغ میں رکھو ، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پختون قوم کو دہشت کی بدترین فضاء سے نکالا۔ افغانی پختون طالبان ہیں اور پی ٹی ایم والوں کی اکثریت لسان پرست کمیونسٹ ہیں، اگردونوں ساتھ ہوگئے تو پنجابی فوج دوبارہ بچانے بھی نہ آئے گی اور عالمی طاقتوں کو خوشی ہوگی کہ پختون آپس میں مرکھپ کر ختم ہورہے ہیں۔ یورپ میں بیٹھے پختون آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے پختون بھائیوں کو پھر سے مشکلات کا شکار کرنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو قربان نہ کریں۔
ریاستِ پاکستان پختونوں پر اعتماد کرکے اچھا کرتی ہے۔ سخت نعروں کے باوجود برداشت کرتی ہے تو جانتی ہے کہ یہ قوم ہر مشکل میں ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ اتنی قربانی کسی نے پاکستان کیلئے نہیں دی جو پختونوں کی طرف سے دی گئی ۔حیات کی والدہ پر پختونوں کا گرینڈ جرگہ ہوا تو اس میں پہلی تقریر ملک جلال وزیر نے کی تھی۔ جذبات کے ماحول میں بھی کہا کہ ’’ہم پہلے تحقیقات کرینگے، پھر اگر فوج کا افسر یا سپاہی مجرم ثابت ہوئے تو ان کو سرِ عام قرارِ واقعی سزا دی جائے۔ ہم آج بھی فوج کیساتھ کھڑے ہیں اور ہندوستانی فوج سے انکے ساتھ شانہ بشانہ لڑیں گے‘‘۔
بقول صحافی حسن نثار کے ’’لونڈے لپاڑوں نے جمہوریت کے نام پر حکومت میں آکر اودھم مچایا ہوا ہے۔ ان کی شکلیں دیکھ لو۔ فیاض الحسن چوہانا، شیخ رشیدا، مراد سعیدا، چوہدری فوادا، یہ تبدیلی لائیں گے؟۔خاک تبدیلی آئیگی ، میں نے زندگی میں پہلی غلطی کی کہ ان کو سپورٹ کیا ہے، مجھے کیا پتہ تھا کہ عمران خان بھی لونڈے لپاڑوں کا امام تھا لیکن فوج نے اچھا کہ ان لونڈے لپاڑوں سے وزیراعظم اور وزیروں کے منصب کو اپنے گھٹیا مقام تک پہنچایا ہے۔
حسن نثار کے چھوکرے ارشاد بھٹی اپنی لکھی ہوئی یا کہیں سے لکھوائی ہوئی تحریر پڑھ کر واضح کرسکتا ہے کہ ’’ ریاست ، اس شیخ رشید پر کوئی اعتماد کریگی جو غیرت مند برملا کہتا ہے کہ ایٹم بم کے دھماکے ہم نے کروائے۔ نواز شریف بھی ڈر رہا تھا، فوج بھی ڈررہی تھی، بس میں تھا، راجہ ظفرالحق اور گوہر ایوب تھے۔ ہم تینوں نے ہمت تھی اور یہ کریڈٹ کسی اور کو نہیں جاتا۔ تمہیں کیا پتہ ہے کہ جب دھماکے کا وقت آیا تو میں نے دستر خوان پر رکھا ہوا کھانا چھوڑ دیا اور فلائٹ پکڑ لی تو پہلا کام یہ کیا، بیرون ملک میڈیا دیکھا کہ خیریت ہے؟۔ کیونکہ ایٹم بم سے خطرہ تھا کہ کہیں بھی اسکے ریزے بکھر سکتے ہیں، کہیں پٹاخے پھٹے تو میری بھی پھٹ جائے گی‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیخ رشید کو جان اتنی پیاری ہے کہ پورے پاکستان کی تباہی کیلئے ایٹمی دھماکے کردئیے لیکن جان بچا کر گئے۔ افواج پاکستان کی سلامتی کا بھی خیال نہیں رکھا؟۔ شیخ رشید منہ پھٹ ہے لیکن شیخ رشید سے پختون باغی زیادہ بھروسہ کے قابل ہیں!!! سننیے جناب سننیے!۔ فواد چوہدری کو دیکھ لیجئے، جس نے بچکانہ سیاست کا آغاز پرویز مشرف کی گودمیں چھاتیوں سے لگ کر دودھ پینے سے کیااور پرویز مشرف نے اس کی انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھایا۔ پرویزمشرف کا سایہ اُٹھ گیا تو لڑکپن زرداری کے گود میں گزاردی اور جوان ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوا اور اب میرے استاذ محترم اس کو لنڈا لپاڑا کہہ رہاہے ، خدا کا بھی کچھ خوف کرو۔
یہ سنہرے ادوار تو استاذ محترم حسن نثار نے بھی گزارے ۔ زیادہ دور نہیں جائیے۔ جب الطاف حسین کا طوطی بول رہا تھا اور روزانہ کی بنیاد پر فوج کے کور کمانڈروں کو دعوت دیتا تھا کہ اللہ ، رسول کا واسطہ ٹیک اور کرلو، ان سیاستدانوں سے ہماری جان چھڑا دو، تو حسن نثار کہتا تھا کہ الطاف حسین ٹیچر ہے، لیڈر ایسا ہونا چاہیے جو کراچی کی عوام کواپنی تقاریر کے سحر کی گرفت میں رکھے۔ حالانکہ کراچی والے الطاف حسین کی تقریر کو سن کر مارے شرم کے پسینہ پسینہ ہوجاتے تھے۔ ریاست نے حسن نثار کی آواز میں وزن دیکھا اور الطاف حسین کے لیکچرز پر پابندی لگادی۔ جب آصف علی زرداری کو اقتدار مل گیا تو حسن نثار کہتا تھا کہ ’’ یہ بلوچ ہے، بینظیر بھٹو سادہ سندھی تھی یہ بلوچ بڑا سخت جان ہے ،سب کو چنے چبوادے گا‘‘۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ استاذ محترم نے عمران خان پر اعتماد کرکے قلابازی کھائی بلکہ حسن نثار اسلئے تو علامہ اقبال کو بھی گالیاں دیتا ہے کہ حسن نثار ، لقمان ، حامد میر اور لاہوریوں کا پول کھول دیا کہ تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ، یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد‘‘۔
ٹھہرئیے ابھی مزید کچھ سنیے اور حوصلہ رکھیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت جو جعلی ڈاکٹر بھی نہیں، اس نے الطاف کا ساتھ دیا لیکن مشکل پڑی تو سیاست سے توبہ کرلی۔ پھر تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے مکمل پر تول لئے۔ عمران خان نے مجبوری کے تحت لفٹ نہ دی تو اس پر عدت میں شادی کے الزام سے لیکر کیا الزام تھا جو نہیں لگایا؟۔ تاہم پھر فضاء بدلی اور عمران خان نے قبول کیا اور عامر لیاقت نے اس سیاسی سفر کو آخری قرار دیدیا۔ جب ٹکٹ کیلئے خطرہ پیدا ہوا تو ڈاکٹر عامر کے ضمیر نے عمران خان کیخلاف محاذ کھولنے کی انگڑائی لے لی لیکن ٹکٹ سے طبل جنگ بجنے سے بچت ہوگئی۔ اس ڈاکٹر عامر لیاقت پر بھروسہ کرنے کیلئے پاک فوج کو پاگل کتے نے کاٹا ہے کیا؟۔ یہ تو دیسی کارتوس ہے جو شکار سے زیادہ شکاری کی آنکھ پھوڑ سکتاہے۔
چلیں چھوڑئیے ، اب آئیے ذرا، پی ٹی ایم کے نعرے کی طرف کہ جو دہشت گردی ہے ، اسکے پیچھے وردی ہے، اس میں بھی لاجک ہے اور میں بتاتاہوں کہ کیا لاجک ہے؟۔ پرویزمشرف کی حکومت ، ق لیگ اور اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن سب کے سب ایک پیج پر تھے تو یہ طالبان کے حامی تھے،اسلئے یہ نعرہ لگانا درست ہے کہ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے۔کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف و شوکت عزیز پر بھی حملے ہوئے مگر یہ حقیقت ہے کہ پورے ملک میں وردی والوں کی حمایت سے طالبان کھلے عام دندناتے پھرتے تھے، سرِ عام بھتہ وصول کرتے اور یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کو ملتان اور لاہور سے افغانستان اغواء کیا تھا تو یہ نعرے لگانا اس وجہ سے بنتے ہیں اور برداشت کئے جاتے ہیں۔انکے نشانات مٹانے کے خوف سے ساہیوال کا واقعہ ہواہے۔ جن کے ثبوت منظرِ عام پر کوئی نہیں لاسکتا ہے۔
حوصلہ کرو،ابھی مزید سنو۔ نصیراللہ بابر اور رحمن ملک نے امریکہ کے کہنے پر طالبان بناے۔بینظیر بھٹو تو طالبان کا شکار ہوگئی لیکن پیپلزپارٹی کی عظیم خدمات کے صلے میں پہلا حق ان کا بنتا تھا کہ جمہوریت کی بحالی کے بعد اس کو حکومت بھی دی جاتی۔ پھر نوازشریف ، شہازشریف اور عمران خان پر طالبان سب سے زیادہ بھروسہ کرتے تھے۔ اسٹیبلیشمنٹ نے شہباز کو حکومت دی جو کہتے تھے کہ ہم طالبان کے ساتھی ہیں، طالبان پنجاب میں دھماکے نہ کریں۔ اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کا صفایا ہواتھا اور عمران خان کو اگلی صوبائی حکومت انعام میں دی گئی تھی۔ پھر عمران خان کو پتہ چلا کہ مرکز میں بھی مجھے حکومت مل سکتی تھی اور نواز حکومت کیخلاف دھرنے شروع کردئیے۔خطاب کے دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی عمران خاں دھمکیاں دیتا۔ پھر طالبان کی حمایت کرنے والے عمران خان کو ہی میڈیا چینلوں اور خلائی مخلوق کے ذریعے کھلے عام اقتدار میں لایا گیا۔ حقائق واضح ہیں کہ دہشتگردی کے پیچھے وردی ہے اسلئے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو باری باری اقتدار میں لایا گیا ہے۔
ُپی ٹی ایم والے کہہ سکتے ہیں کہ ارشاد بھٹی نے یہ سارا نقشہ درست پیش کیا مگر دنیا جانتی ہے کہ اگر طالبان کے آگے یہ ہماری باصلاحیت ریاست بے بس بھی تھی، مل جل کر بھتے وصول کرنے پر مجبور سہی لیکن پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے والے اور پی ٹی وی پر قبضہ کرنے والے طاہرالقادری اور عمران خان کے پیچھے کونسی طاقت تھی؟۔ بجلی کے بل جلانے اور سول نافرمانی کا اعلان کرنیوالے عمران خان میں اتنی جرأت نہ تھی کہ لوگ پشاور سے پنجاب پولیس کے تشدد کو برداشت کرتے کرتے شہد کی بوتل سمیت بنی گالہ پہنچ گئے لیکن عمران خان شیخ رشید کی کوشش سے بھی اپنے گھر سے نیچے نہیں اترسکا۔ ریاست عمران اور اس کی ٹیم پر کیا اعتماد کریگی؟۔ وہ چوہان جس پر ٹکٹ بیچنے کا الزام لگا تو قرآن کھول کر ویڈیو بنائی اور شیخ رشید سمیت پوری ٹیم کو غیرت ، حمیت سے عاری اور گندی ذہنیت کا حامل قرار دیکر دنیا بھر کی مروجہ گالیوں سے نوازا۔ اگر فیاض الحسن چوہان میں غیرت ہوتی تو اس ٹیم کا حصہ نہ بنتا۔ مراد سعید سے لیکر فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت تک نہ صرف خود لونڈے لپاڑے ہیں بلکہ اپنے جیسے بڑے بڑے کھیپ کی قیادت بھی کررہے ہیں۔ ہم نے جو نعرہ لگایا ہے تو اس کی گواہی اس پاک دھرتی کا بوٹا بوٹا، پتہ پتہ دے رہاہے، فیض آباد دھرنے پر تو عدالت نے وہی نعرہ اپنی دبی زبان میں لگایا ہے جس کا ہم سخت لہجے میں اظہار کررہے ہیں۔
خاتون اول کا ویڈیو پیغام قوم نے سن لیا ہوگاکہ
’’میرا پہلا شوہر شریعت کا بہت پابند ہے۔ طلاق دیتے ہوئے عدت بھی گھر پر گزارنے کا کہا تھا، جب گھر چھوڑ دیا تو میری عدت پوری ہوگئی۔ عمران خان کی زندگی میں آنے کے بعد میرے اندر تبدیلی آئی اور عمران خان میں بھی تبدیلی۔ عمران خان نے ریحام کو لندن جاتے ہوئے مسیج پر شریعت کیخلاف طلاق دی تھی۔ عمران کی روح سعید تھی اور اس نے جمائما کو شریعت کے مطابق طلاق دی اور پھر اس کی روح بھٹک گئی ۔میری طرف غلط منسوب کیا گیا کہ خواب میں رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ عمران خان سے شادی کرلوں۔ اگر چاہتی تو عدت کے فوراً بعد بھی شادی کرتی مگر میں نے سات مہینے تک مزید صبر کیا۔ تبدیلی عمران خان کے ذریعے سے آئیگی لیکن اس میں دیر لگ سکتی ہے‘‘۔ خاتون اول کے بیان سے پتہ چلتاہے کہ ریاست مدینہ بننے والی ہے، یہ شادی لو میرج ہو یا ارینج میرج دونوں کی تقدیر میں شریعت تھی۔ عمران خان میں یہ تبدیلی آگئی ہے کہ پردہ دار خاتون سے شادی کرلی، اس سے زیادہ تبدیلی کیا ہوگی؟ اور خاتون اول میں یہ تبدیلی آئی کہ باشرع شوہر کے باوجودعمران سے شادی کیلئے بات طے ہوگئی، شریعت کے مطابق پردے کا اہتمام شروع ہوگیا، دونوں کی تبدیلی حیرت انگیز تبدیلی ہے۔
البتہ اگر یہ لوگ قرآن کریم کی آیات نکاح، طلاق اور خلع کے حوالہ سے سمجھ لیں اور معاشرے کو حلالہ کی لعنت سے نجات دلادیں تو مدینہ کی ریاست کا بڑا زبردست آغاز ہوسکتا ہے۔ روز روز مدارس کے فتوؤں سے لوگوں کی عزتیں برباد ہورہی ہیں۔ گھر برباد ہورہے ہیں۔ اگر ریاست اور پی ٹی ایم کے لوگ گھروں کو تباہی اور عزتوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو قرآن کریم کی طرف علماء کو متوجہ کرکے حلالہ سے بچانے کیلئے ایک زبردست کردار ادا کریں۔
اے شام بتا تو کتنی دُور ہے
آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنا دور ہے

پی ٹی ایم حقائق کو سامنے رکھ کر قوم کی خدمت کیا کرے!

پختون تحفظ موومنٹ ان نوجوانوں کی تحریک ہے جنکے اندر انسانیت کا درد ہے۔ ریاست اور فوج کیخلاف اس ماحول میں اٹھنا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ حبیب جالب جیسے لوگ کھونے سے پہلے ریاست حکمران طبقہ اور ادارے بیدار ہوجاتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ PTMکی صدا کو سکرات الموت لاحق ہوچکی تھی لیکن حیات کی توتلی زبان نے اس میں حیات پیدا کردی۔ رہی سہی ساکھ عالم زیب محسود کی گرفتاری نے پوری کرلی۔ عالم زیب کو پی ٹی ایم کا روح رواں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ دنیا کی کوئی طاقت اب اس مشن کو روک نہیں سکتی ہے۔ جان ومال کے نقصانات ہوئے تھے تو قوم اپنی غلطیوں کو سمجھ کر اسکا خمیازہ بھگتنے کیلئے ذہنی طور پر تیار تھی مگر عزت وغیرت کے مسئلہ پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے۔ بے غیرتی کی بنیادیں طالبان نے ڈال دی تھیں۔ وزیرستان کی سرزمین پر مقامی اورغیرملکی دہشت گردوں نے روایات واخلاقیات کو پہلے سے تباہ کردیا تھا اور بہتی گنگا میں پاک فوج نے بھی اس بدترین نجاست میں بھرپور حصہ لیا ہے ۔
اللہ کے دربار میں عوام، فوج اور طالبان مجرم ہیں۔ہرکوئی اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرے تو معاملہ الجھتا رہے گا۔ پہلا بڑا مجرم میں ہوں اسلئے کہ میرا موقف درست یا غلط تھا مگر عوام سمجھنے سے قاصر تھے اور میں نے عوام کے سامنے کماحقہ حقائق پیش نہ کئے۔ جسکے نتیجے میں میرے خلاف اشتعال تھا۔ طالبان نے خلوص کیساتھ جو کرنا تھا وہ کیا۔ پہلی بار مجھ پر فائرنگ ہوئی تو میرے بہادر بھائی ، عزیز اور پڑوسی نے موقع پر پہنچ کر مجھ پر احسان عظیم کیا ،انکی جان بھی جاسکتی تھی پھر فائرنگ کے بعد طالبان کی نقل وحرکت میرے گھر اور عزیزوں میں موجود رہی اور یہ انکے دینی جذبے کا نتیجہ تھا۔ قبائلی روایات کے مطابق مجھ پر فائرنگ کے بعد ان کو آنے کا موقع دینے کا کوئی شرعی، قانونی، اخلاقی اور قبائلی جواز نہ تھا مگر خلعت افغانیت سے عاری میرے گھر، عزیز و اقارب نے دین سمجھ کروہ کیا جو انتہائی ناروا تھا۔ غلطی تھی بھائی کی وفات پر گیا۔ طالبان نے رات کی تاریکی میں حملہ کرکے 13 افراد شہید کئے۔ گھر کے افراد ، عزیز اور مہمان خواتین وحضرات شامل تھے۔ عوام میں طالبان سے نفرت کی فضاء پھیلی مگر اس کے باوجود قریبی عزیزوں کے گھروں میں طالبان کا آنا جانا رہا۔ یہ دینی جذبہ تھایا خلعتِ افغانیت سے عاری تھے؟۔ جب فوج نے چھاپہ مارا اور طالبان کی پک اپ کو بارود سے اڑادیا تو طالبان کی آمدورفت ختم ہوئی۔ اگر اسکے باوجود وہ طالبان کی مدد کرتے تواس غیرت پر مجھے بھی فخر ہوتالیکن بھینسوں کے باڑے کو شیروں کے پنجرے کا نام نہیں دیاجاسکتا ۔
پھر طالبان وہاں دھماکہ کرتے اور فوجی ہمارے پڑوسیوں کو چھوڑ کر ہمارے رشتہ داروں کو پکڑ تے تو لگتا یہ تھا کہ فوج زیادتی کررہی ہے لیکن یہ کوئی نہ کہتا کہ ہم بھی بے غیرتی کی انتہاء کو پہنچے ہیں۔ محسود اور وزیر ہم سے زیادہ طالبان کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ دوسروں کی بے غیرتی کو سمجھنے کیلئے اپنوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ دہشتگردوں کی حمایت کرنیوالوں سے جو سلوک پاک فوج نے روا رکھا، صحیح بات یہ ہے کہ کوئی اور ہوتا تو بہت برا سلوک کرتا۔ بی بی سی کے مطابق امریکی فوج نے ایک افغانی مرد سے جنسی تشدد تک کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ پاک فوج نے ایک بدمعاش عطاء اللہ کو سپورٹ کیا جس نے طالبان کو علاقہ گومل سے ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا لیکن جب پاک فوج نے پکڑ لیا کہ چوری ڈکیتی میں ملوث ہے تو اس کوپکڑ کر مار دیا تھا۔ اس پر طالبان نے بھی حملے کئے تھے لیکن وہ بہادری سے طالبان کے خلاف لڑتا رہا تھا۔یہ مثال ہے کہ عطاء اللہ کو طالبان نہ مارسکے مگر بہتوں کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
PTMکے منظور پشتین کا یہ نعرہ بہت اچھا ہے کہ جو ظلم کرے ہم انکے خلاف ہیں۔ طالبان نے کوٹکئی سپین کئی رغزئی کے مقام پر خاندان ملک کو شہید کیا اور پھر انکے بیٹے اور گھر کے افراد پر حملہ کرکے 7افراد کو شہید کیا جن میں حافظ قرآن بچی بھی شامل تھی۔ مرزاعالم خان کے بیٹے کو شہید کیا، پھر انکو اور ان کی فیملی کے کافی افراد شہید کردئیے۔ خلعت افغانیت سے عاری وزیر و محسود تماشہ دیکھتے رہے۔ جو حال ہمارے بے غیرتوں کا تھا وہی انکا تھا۔ گلشاہ عالم برکی کو طالبان نے اغواء کیا تو کانیگرم کے برکی بیت اللہ محسود کے پاس شیروں کی طرح پہنچے، اس نے کہا کہ ہمارے پاس نہیں ۔ اگر کانیگرم شہر سے طالبان کے عمل دخل کو ختم کیا جاتا تو غیرت کا تقاضہ پورا ہوتا مگر برکی قوم بھی خلعت افغانیت سے بالکل عاری تھی۔
محسود کے مشران طالبان کیساتھ معافی اور فیصلہ کرنے آئے لیکن جس تاریخ کو کانیگرم میں طالبان نے مجرموں کو سزا سنانے کا وعدہ کیاتھا، اس دن محسود قوم کو طالبان نے کانیگرم آنے سے روکا، اسلئے کہ خلعتِ افغانیت سے عاری تھے۔ بے غیرتوں کیساتھ پاک فوج نے جو سلوک روا رکھا وہ درست تھا، جب شریف شرفاء کہلانے والے بھی پاک فوج کے تشدد کا نشانہ بن گئے اور غریب غرباء طالبان سے بالکل مناسب سلوک کیا تو اس پر پاک فوج انعام واکرام کی مستحق ہے۔ جب قبائل کے پاس اسلحہ تھا اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت انہوں نے نہیں کی بلکہ ظالمان طالبان کومختلف طرح سے ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر بھی ساتھ دیتے رہے ،جن کی کاروائیوں سے پاکستان کا چپہ چپہ لرزتا رہاہے۔ راؤ انوار نے ایم کیوایم کے کارکنوں اور طالبان کو قابو نہ کیا ہوتا تو کراچی کا امن بحال نہیں ہوسکتا تھا ، پاک فوج نے وزیرستان کی گھاٹیوں اور سنگلاخ پہاڑوں میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش نہ کئے ہوتے تو دہشتگردوں نے قبائل کی ماں بہنوں کو لونڈیاں بنانا تھا۔ پاک فوج نے قبائل کیلئے مسیحا کا کام کیا۔
ایک وزیر نوجوان نے جس طرح سے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’ میری مائیں بہنیں بیٹھی ہوئی ہیں،اگر تم کہو تو میں ان کو تمہارے سامنے لاتا ہوں، جنکا پردہ ہفتے میں چار بار ٹوٹتا ہے اور عزتیں نیلام ہوتی ہیں،پرائے زبان والے یہ سب کرتے ہیں ،تم سے بھی یہ پردہ اور شرم نہیں کریں گی…..‘‘یہ بھی خلعتِ افغانیت کے اتر جانے کی دلیل ہے۔ ورنہ غیرتمند پہلے گولی کی زبان میں جواب دینے سے کم کوبے غیرتی سمجھتے تھے۔نہتے بچوں و خواتین کیساتھ یہ بڑی زیادتی ہے۔
قبائلی عوام کی طرح طالبان میں بھی اچھے برے موجود تھے اور اب بھی ہیں، پاک فوج بھی دودھ کی دھلی ہوئی نہیں ، اچھے فوجی افسران اورسپاہیوں کے ساتھ ساتھ برے لوگوں کی بھی ان میں کمی نہیں۔ کراچی کے آپریشن میں جن پولیس والوں نے کاروائیاں کی تھیں ان کو چن چن کر قتل کیا گیا لیکن ایک فوجی نے بے اعتدالی کی تھی تو پاک فوج نے اس کو خود ہی سزا دیکر پھانسی پر لٹکادیا تھا۔ آج اگر وزیرستان سے کسی کو نامزد کرکے سزا کا مطالبہ کیا جارہاہے تو پاک فوج اسے بھی قرارِ واقعی سزا دے۔ آپریشن میں بہت بے گناہ لوگوں کیساتھ بھی زیادتیاں ہوئی ہیں اور اس کا ازالہ کرنے کیلئے کسی ایک دو کو سزا دی جائے تو اس سے پشتون قوم اور پاک فوج کے درمیان اعتماد اور عزت کا رشتہ بڑھے گا۔ پنجاب میں ایک واقعہ پر لوگ آپے سے باہر آسکتے ہیں۔ اگر پختونوں میں لاوا پکتا رہا تواسکا نتیجہ بہت برا نکل سکتا ہے۔ ریاستیں قوم کے اعتماد کے بغیربالکل نہیں چل سکتی ہیں۔
یہ خیال رہے کہ میجر دریا خان پختون ہو اور جب اس کو سزا دی جائے تو پھر پختون ہی تحریک چلائیں کہ پنجابیوں کو سزا نہیں دی جاتی ہے ، پختون کیساتھ یہ زیادتی ہے۔ جب کانیگرم میں طالبان نے مجرموں کو سزاکی بات کی تھی تو انہوں نے غلط جاسوسی کے الزام میں ہمارے بعض عزیزوں کو نامزد کیا اور وہ کہہ رہے تھے کہ 13افراد کے بدلے 2تم مارچکے ہو،11کا شمار ہم پورا کرینگے لیکن ہم نے سوچا کہ غریب اور کمزور لوگوں کو سزا کا فائدہ نہ ہوگا اور غلط جاسوسی کے نام پر ہمارے عزیزوں کومارینگے تو کل باتیں ہونگی کہ انہی کو بدلے میں بھی ماردیا۔ پہلے طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کا عزم تھا کہ قاری حسین ، حکیم اللہ محسود اور تمام ذمہ دار افراد کو قصاص میں قتل کیا جائیگا اور پھر قاری حسین نے کہا کہ تمہارے کہنے پر میں نے اپنے بے گناہ پڑوسی خاندان ملک اور اسکے گھر والوں کو مارا تھا تو تم بھی قصاص میں قتل کئے جاؤگے۔ جس پر طالبان نے اپنا مؤقف ہی بدل ڈالا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل نوازشریف اور شہبازشریف ہیں مگر اقتدار ملا تو خاموش ہوا ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی خاموشی اختیار کرلی ۔

پاکستان میں اسلامی تعلیم کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی!

طالبان اسلام کے نام پر اٹھے تھے ۔ معروف صحافی حامد میرنے بہت دیر کی یہ کہتے کہتے کہ ’’ طالبان امریکہ کا منصوبہ تھا، بینظیر بھٹو کو امریکن رابن رافیل نے قائل کیا کہ وہ امیرالمؤمنین ملاعمرمجاہد کی تائید کریں۔ رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کی ایماء پر ملاعمر سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ آپ نے میرے خلاف کالم لکھا؟۔ میں نے کہا کہ رابن رافیل آپ کی حمایت کرتی ہے تو آپ کو امریکی جاسوس کیسے نہ سمجھوں؟، ملاعمر نے کہا کہ وہ عورت ہے یا مرد؟۔ میں نے کہا کہ عورت تو ملا عمر نے یوں پیشانی پر ہاتھ مارا اورکہاکہ ایک عورت میری حمایت کرتی ہے؟۔ پھر کہا کہ میں آپ کی امریکہ کے سب سے بڑے دشمن سے ملاقات کرادوں تو یہ وعدہ کرتے ہو کہ آپ لکھیں گے کہ میں امریکی ایجنٹ نہیں۔ میں نے کہا کہ کون ہے وہ؟۔ تو ملاعمر نے کہا کہ اسامہ بن لادن!۔ میں نے اس کیساتھ پھروعدہ کیا ۔ پھر پاکستان آنے کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے مجھے اسامہ بن لادن سے ملا دیا۔ یوں یہ انٹرویوآئی ایس آئی کی وجہ سے نہیں بینظیر بھٹو کی مہربانی سے ہوا تھا۔ طالبان کے ایشو کو آئی ایس آئی نے بعد میں اپنے حق میں استعمال کیا۔ اسامہ بڑا سادہ بندہ تھا۔ اسکے جتنے فوٹو چل رہے ہیں وہ سب میرے کہنے اور ہدایات پرہی بنائے گئے تھے، میں کہتا کہ اس طرح اسلحہ لگاکر تصویر نکالو، کبھی اسکے پیچھے کتابیں رکھ دیتا تھا۔ انٹرویو کرنیوالی پی ٹی وی کے چینل Aٹی وی کی اینکرپرسن نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ اسامہ تیرے اشارے پر ناچتا رہا؟۔ حامد میرنے کہا کہ ناچنا تو میں نہ کہوں گا لیکن وہ ایک بہت سادہ بندہ تھا، دنیا میں جو اس کا امیج بناہواہے یہ انہی تصویروں کی وجہ سے ہے۔ اینکرپرسن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صحافی جس کو جس انداز میں پیش کرتے ہیں وہ ویسے نظر آتا ہے‘‘۔
حامد میر کسی دور میں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ملاعمر کے خلاف کالم لکھنااور پھر رحمن ملک اور نصیراللہ بابر کے ذریعے ملاعمر اور پھر اسامہ سے ملاقات سی آئی اے کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا، میں نے تو ملازم کا کردار اداکیا۔جنگ نے مفتی محمدحسام اللہ شریفی کو بھی نکال دیا ہے، میری تنخواہ بھی امریکی سی آئی اے دے رہی ہے۔ پاکستان کی فوج اتنی کمزور تو نہیں کہ مجھے مارنا چاہے اور مجھے نہ مارسکے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی کوئی اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اسامہ اور ملاعمر کے نام پر امریکہ نے پوری مسلم دنیا کو تباہ کردیا اور حامد میر اب پیپلزپارٹی کا گراف گرانے کیلئے انٹرویو دے رہاہے؟۔ واہ پنجابی واہ !۔ اللہ تجھے پوچھے گا۔یہ الفاظ اس پٹھان کے لبوں پر اس وقت جاری ہونگے کہ جب عالمی سازشیں ایک نیا کھیل کھیلنے کی تیاری میں لگ چکی ہیں۔ پختون قوم اور پاک فوج کے اندر موجود مخلص جاہل لوگ یا عالمی دلال ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیلنے کی تیاری میں لگ چکے ہیں۔ہم نے طالبان کے نام پرسازش سے پہلے بھی خبرادر کیا تھا مگر جذباتی ماحول میں میرے خاندان نے بھی میری مخالفت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آج پھر اپنے پختون اور مسلمان بھائیوں سے کہتا ہوں کہ سازشوں کے جال میں پھنس جانے سے پہلے ہوش کے ناخن لو۔ ایک دفعہ فتنہ برپا ہوگا تو رہی سہی امن کی زندگی بھی ہاتھ سے نکلے گی۔
اگر پاکستان کی فوج نے پختون علاقہ سے نکلنے کا اعلان کردیا یا پختون قوم کو اٹھ کر پنجاب سے اپنا الگ وطن بنانے کا اعلان کرنا پڑا تو نہتے پختونوں کو داعش و طالبان کے مسلح دہشتگرد وحشی جانوروں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائیگا۔ ٹارگٹ کلنگ سے پھر پشتون قوم ایسی دبک جائے گی کہ اس مرتبہ آواز اٹھانے کے قابل بھی نہ رہے گی۔ بھری محفلوں میں بہادری کی بھڑکیاں مارنے والوں کی غیرت و ایمان کو طالبان نے اچھی طرح سے جانچ لیا ہے۔ امریکہ قطر میں ہمیشہ طالبان سے رابطے میں رہاہے۔ وہ شکست کا اعلان کرکے کہے گا کہ طالبان سے ہم نہ لڑسکے، طالبان کو انعام میں افغانستان اور پختونخواہ وبلوچستان کا پختون ایریا دیدے گا۔ سرائیکی، پنجابی اور بلوچ اور سندھی اپنے اپنے الگ ممالک بنالیں گے اور کسی کو بھی پاکستان ٹوٹنے کا دکھ بھی نہیں ہوگا۔ سیاستدان اور اسٹیبلیشمنٹ یہ کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کرینگے کہ مقروض پاکستان سے جان چھڑانے میں ہمارا کمال تھا۔
پھر پانی سر سے گزرنے کے بعد حامدمیر جیسے دیگر صحافی انکشافات کرینگے کہ عمران خان کا ورلڈ کپ جیتنا، طالبان کی حمایت اور پاکپتن کے مزار پر سجدہ سب کچھ پلانٹڈ اور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سے لکھا ہوا اسکرپٹ چل رہاتھا۔ اسلامی بلاک کا آغاز کرنے پر بھٹو کو نشان عبرت بنانا بھی کھیل کا حصہ شمار ہوگا اور جنرل ضیاء الحق نے لسانی تعصبات سے پیپلزپارٹی کو اس قدر دھچکا نہیں پہنچایا جتنا آصف زرداری سے بھٹو خاندان کو زرداریوں میں بدلنے کے پلان سے پہنچایا۔ ایک ایک بات کا انکشاف ہوگا تو اسلامی مدارس کے نصاب کو بھی سازش کے تحت جاری اور ساری کرنے کے انکشافات سامنے آئیں گے۔ پھر قوم سنبھل نہ سکے گی اور جس اسلام سے دنیا ڈرتی تھی اس کا دنیا سے ابلیسی نظام کے ذریعے مکمل خاتمہ کرے گی۔علامہ اقبالؒ نے ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے لکھاہے کہ ابلیس کو اصل خوف امت کی بیداری اور اسلام کے آئین سے ہے۔
اگر پختون گرینڈ جرگہ وزیرستان اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ واقعی اسلام اور غیرت کیلئے مخلص ہیں توخواتین کے حقوق اور حلالے کی لعنت اور بے غیرتی کے مسائل حل کریں۔ پاکستان کی فوج امریکی امداد پر دلالی کرتی ہو اور پختونستان کا نعرہ لگانے والے حق مہر کے نام پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بیچیں تو پھردونوں سے کوئی توقع رکھنا بالکل عبث ہے۔ جعلی اسلام، جعلی پاکستانیت اورجعلی پشتو غیرت ایک گھناؤنا کاروبارِ سیاست ہے جسکے اچھے نتائج کبھی نہیں نکل سکتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم قبلہ ایاز صاحب نے طلاق سے رجوع اور حلالہ کی لعنت ختم کرنے کے دلائل پر سنجیدگی کا اظہار کیا تھا مگر اب تک خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے ہیں۔ پختون گرینڈ جرگہ قرآن وسنت کے قوی دلائل سمجھ لیں تو حلالہ کی بے غیرتی سے نہ صرف پختونوں کی بلکہ عالمِ انسانیت کی جان چھڑائی جا سکتی ہے۔ شدت پسند طالبان اور دہشت گرد بھی درست اور اعتدال کے راستے پر آسکتے ہیں۔ اگر اسلامی تعلیمات کی گردن مروڑی گئی ہے تو اسلام کا کوئی قصور نہ تھا بلکہ ہردور کے بے غیرت شیخ الاسلاموں نے ریاست میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار خود کو ثابت کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔ احادیث صحیحہ میں قرآن کی تعلیم پر معاوضے کی اجازت نہ تھی اور پہلے ادوار میں سلف صالحین کا اس پر اجماع تھاکہ قرآن کی تعلیم پر معاوضہ نہیں لیا جاسکتا۔ بعد والوں نے اس کو پیشہ کاروبار بنادیا۔ احادیث صحیحہ کا پورا ذخیرہ مولاناسیدمحمد یوسف بنوریؒ کے داماد مولانا طاسین ؒ نے نقل کیا کہ زمین کو مزارعت، بٹائی اور کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا۔ امام ابوحنیفہؒ ،امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں لیکن مولانا طاسین ؒ نے گوشہ گم نامی میں زندگی گزار دی۔ دینی مدارس نے ان کی کتابوں کو عوام میں ہوا بھی لگنے نہیں دی۔ آج طلاق کے مسئلہ پر مدارس نے چپ کی سادھ لی ہے۔ علماء ومفتیان جلد ازجلد حقائق کی طرف رجوع کریں ورنہ مشکلات آئیں گی۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہ ﷺ نے پختون قیسؓ عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیا

مؤلف کتاب کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد کراچی نے تاریخی حوالہ جات سے لکھا ہے کہ ’’ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق بخت نصر نے انہیں حکم دیا کہ ملک شام سے نکل جائیں بلکہ جس جس علاقے پر میری حکومت ہے وہاں نہ رہیں۔ جو لوگ ان کی نگرانی پر مامور تھے انہوں نے اس قافلہ کو بخت نصر کی بادشاہت سے نکال کر غور ، غزنی ، کابل، کوہ فیروزہ اور قندھار کے پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیل دیا جو اقلیم پنجم و ششم میں شمار ہوتے ہیں اور خراسان و کوہستان کے صوبے میں شامل ہیں۔ اس طرح افغنہ کی اولادوں نے (موجودہ) ایران و افغانستان کے علاقوں میں سکونت اختیار کی اور وہیں کے ہورہے۔ان کی آل اولاد بڑھتی گئی اور اپنی کثرت کی وجہ سے ان لوگوں نے کافر قبیلوں کے خلاف متواتر جنگیں لڑیں اور اکثر و بیشتر پر فتح حاصل کرکے کوہستان کا سارا علاقہ اپنے زیر نگیں کرلیا۔ یہ علاقہ ولید بن عبد الملک بن مروان کے سپاہ سالار حجاج بن یوسف ثقفی کے بھانجوں عماد الدین محمد قاسم اور محمد ہارون کے آنے تک ان کے قبضہ میں رہا۔ ہارون اور عمادالدین نے سنہ 88ہجری میں (یعنی آٹھویں صدی عیسوی) کیج اور مکران کا علاقہ فتح کیا اور سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کے آنے تک یہ لوگ اسی علاقے میں سکونت پذیر تھے۔ یہاں چونکہ افغنہ کا ذکر پھر آگیا اسلئے مناسب ہے کہ اس کو مکمل کرلیا جائے۔ چنانچہ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق: ’’اہل دانش و بینش سے پوشیدہ نہ رہے کہ تاریخ نویسوں خصوصاً صاحب ’’مجمع الانساب‘‘ و ’’اصناف المخلوقات‘‘ (تاریخی کتابیں، محمد بن علی شہانکارہ ئی نے 743ھ /1342ء میں اور نصیر الدین طوسی متوفی 672ھ میں تصنیف کی تھیں)نے لکھا ہے کہ جب بخت نصر نے بنی اسرائیل اور آصف و افغنہ کی اولادوں کو جن کی تعداد سارے قبیلوں سے زیادہ تھی ، ملک شام سے نکال دیا تو ان میں سے ایک گروہ ملک عرب میں آبسا۔ انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اگر حضرت داؤد ؑ و سلیمانؑ کے بنائے ہوئے خانہ خدا یعنی بیت المقدس کی زیارت اور اس میں خدا کی عبادت سے محروم ہوگئے ہیں اور یہ سعادت ہم سے چھن گئی ہے تو کم از کم حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی سعادت کو تو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیونکہ یہ پاک گھر نبی آخرزماں کی جائے پیدائش بھی ہوگا۔ اگر ہمیں سرور انبیاء ﷺ کی زیارت نصیب نہ بھی ہوئی تو ممکن ہے کہ ہماری اولادوں کا بخت یاوری کرے اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور زیارت و صحبت سے شرف یاب ہوں۔ اسلئے انہوں نے مکہ معظمہ میں بلکہ حرم پاک میں سکونت اختیار کی۔ انہیں عرب کے لوگ بنی اسرائیل اور بنی افغان کہتے تھے۔ (حضرت خالد بن ولیدؓ اسی قبیلے میں سے تھے )۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایران کی تسخیر کی ۔ ان دو خوش نصیب و نیک بخت جوانمردوں کی ہمت سے نوشیرواں کی نسل کا آخری بادشاہ یزد جرد بمقام یزد قتل ہوا اور چار ہزار سات سو سال کے بعد عجم کی وسیع سلطنت اسلام کو منتقل ہوئی۔ خواجہ نعمت اللہ ہرطی لکھتے ہیں ’’جوینی نے ’’تاریخ جہانکشا‘‘ میں حمد اللہ مستوفی نے ’’تاریخ گزیدہ‘‘ میں ، محمد بن علی شبانکارہ ئی نے ’’مجمع الانساب‘‘ میں اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے ’’تاریخ اصناف المخلوقات ‘‘ میں اس طرح لکھا ہے کہ جب جمال محمدی ﷺ کے آفتاب جہاں تاب کی شعاعیں چار دانگ عالم میں پھیلیں اور دنیا کی تاریکی کے بادل چھٹنے لگے اور عرب گروہ در گروہ مدینہ منورہ آکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو خالد نے بھی اسلام قبول کیا اور اس سعادت سے مشرف ہوکر بنی اسرائیل ، بنی افغان اور بنی اعمام کو جو غور کے نواحی پہاڑوں میں بستے تھے ایک خط لکھا جس میں خالد نے ان قبیلوں کو پیغمبر آخر الزماں کی تشریف آوری ، اسلام کی حقیقت اور اپنے ایمان کی خبر دی۔ خالد بن ولیدؓ کا یہ خط جب اس قوم کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنے سرکردہ آدمیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا بنی افغان کا سب سے بڑا سردار قیس نامی ایک شخص تھا جسکا شجرہ نسب 37واسطوں سے ملک طالوت اور 45واسطوں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک پہنچتا تھا۔۔۔ الغرض جب افغانوں کی یہ جماعت مدینہ پہنچی تو حضرت خالدؓ کی وساطت سے حضور سر ور کائناتﷺ کی خدمت میں شرف یاب ہوئی اور دولت اسلام سے مالا مال ہوئی۔ نبی ﷺ نے اس جماعت کیساتھ ہر طرح سے شفقت فرمائی، انمیں ہر ایک کانام پوچھا اسکے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیس عبرانی نام ہے اور ہم عرب ہیں پھر کمال شفقت سے قیس کا نام بدل کر عبد الرشید رکھا اور فرمایا چونکہ تم لوگ ملک طالوت کی اولاد ہو جسے حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’ملک‘‘ کے خطاب سے یاد کرکے عزت بخشی اسلئے بہتر ہے کہ تمہیں لوگ ملک کہا کریں۔ آپ ﷺ فتح مکہ کیلئے روانہ ہوئے تو خالدؓ اور عبد الرشیدؓ دونوں کو آپ ﷺ کے ہم رکاب ہونے کا شرف حاصل تھا۔ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی جماع کو حکم دیا کہ وہ عبد الرشیدؓ کے زیر کمان جہاد میں شریک ہوں۔ اس جماعت کے سب لوگوں نے جانثاری کا ثبوت دیکر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور قریش مکہ کے 70 کافر خالدؓ اور اس جماعت کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ فتح کے بعد خالدؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ملک عبد الرشیدؓ کی بہادری اور جوانمردی کے واقعات بتائے یہ سن کر آپ ﷺ کی زبان مبارک پر برملا یہ الفاظ جاری ہوئے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ اس مرد کی آل و اولاد کو بہت فروغ بخشے گا۔ اس حد تک کہ اس کے قبیلے کی طاقت باقی قبیلوں سے زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے وحی کے ذریعے سے آگاہ کیا گیا کہ اسلام کی خدمت کیلئے اس قبیلے کی کثرت و استحکام کو وہ بنیادی حیثیت حاصل ہوگی جو کشتی اور جہاز کے نیچے والی اس لکڑی کو حاصل ہوتی ہے جس پر کشتی یا جہاز کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ اس لکڑی کو سمندروں کے رہنے والے لوگ ’’بتھان‘‘ کہتے ہیں۔ اسلئے عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیتا ہوں‘‘۔ کثرت استعمال سے یہ لقب بتان یا بتھان سے فارسی کے اثر سے پتھان پھر پٹھان ہوگیا اور آج افغان و پاکستانی سرحدی قبائل اپنے آپ کو پٹھان کہنے پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ انکے رویوں میں وہی بنی اسرائیل یا یہودیوں والی جھلک پائی جاتی ہے اور دینی عقائد میں بھی وہ سوچنے و سمجھنے اور تفکر و تحریر سے عاری ہیں، اور باپ دادا کی پیروی یا تقلید پر ہی اڑے رہتے ہیں۔
بنی اسرائیل یا یہود کے پٹھان بننے کے بعد اب ہم پھر تاریخ کے اس باب کی طرف پلٹتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہود کی سرکشیاں شام کے علاقے میں بہت بڑھ جاتی ہیں حتیٰ کے وہ جلیل القدر رسول عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنی منافقانہ بد اعمالیوں سے سولی پر لٹکا کر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان پر 70عیسوی میں رومن عیسائی کی افواج عذاب بنا کر مسلط کر دیتا ہے وہ نہ صرف یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں بلکہ انکی مرکزی عبادتگاہ جو تقریباً پانچ سو سال پہلے پارس کی مدد سے دوبارہ تعمیر کی گئی تھی کو زمیں بوس کر دیتے ہیں۔ اسی تباہی کے بعد آج تک کوئی بھی اس عبادتگاہ یا ہیکل سلیمانی کو دوبارہ یا سہ بارہ تعمیر نہ کرسکا۔ وہاں اب کچھ عرصہ قبل کھدائیوں کے نتیجہ میں کسی دیوار یا نبو کے کے آثار ملے ہیں جسے دیکھ دیکھ کر یہودی وہاں کھڑے ہوکر روتے ہیں۔ (چنانچہ اس آثار کا نام ہی ’’دیوار گریہ‘‘ پڑ گیا ہے Wailing Wall) اور ایک اور نبی یا مہدی کے آنے کیلئے دعائیں کرتے ہیں ۔ جس طرح انہی کے پروردہ ایک فرقہ کے لوگ’’ ادرکنی یا صاحب الزماں‘‘کی نہ صرف دعائیں کرتے ہیں بلکہ یہ دعا لکھ لکھ کر آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا یا سمندر میں بہاتے ہیں اور خواب دیکھتے ہیں کہ عراق کے غار میں تقریباً 12سو سال سے چھپا ہوا مہدی نیلا عمامہ پہنے ہاتھ میں دو دھاری اور دو شاخہ تلوار لئے ظاہر ہورہا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی کے دو ہزار سال سے تباہی کے باوجود بیوقوف مسلمان اور انکے ملا اس کو مسجد اقصیٰ کا نام دیتے ہوئے اسے قبلہ اول قرار دیتے ہیں جبکہ اس عبادتگاہ کا اپنا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قبلہ اول بنایا ہوا تھا (اول بیتٍ 96/3)۔ القرآن الحکیم قراء تی تحریف، مؤلف کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد
تبصرہ سید ارشاد نقوی
کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد نے اپنی کتاب پر اپنا پتہ بھی درج نہیں کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ قرآن کی مختلف قرأتوں کا انکار کیا گیا ہے اور اس کو قرآن کیخلاف ایک سوچی سمجھی مگر ناکام سازش قرار دیا گیاہے۔
الفاظ کی ادائیگی اور لہجوں کا اختلاف مختلف زبانوں میں ہوتا ہے۔ عرب امارات کے اس معروف ملک کو شارقہ اور شارجہ کہا اور لکھا جاتا ہے۔ مصری حاجی جنت مانگنے کی دعا میں اللہ سے گنا مانگتے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ قاری عبدالحق صاحب کہتے تھے کہ مصری حرم میں دعا مانگتے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ جنت مانگو، گنا نہیں مانگو، جو اسطرح کھایا جاتا ہے۔ بعض افریقی لیلۃ القدر کو لیلۃ الغدر تلاوت کرتے ہیں۔ اکثربنگالی جنت کو زنت کہتے ہیں،ولاالضالیں کی ادائیگی پر پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مسجد محراب سے دو حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ عربی میں لفظ لفظ کلمہ پڑھنے کے بھی چار اقسام کی ادائیگی ہے۔فوج کو پوج، فوز اور پاکستان کو فاکستان کہنے والے بھی کثرت سے موجود ہیں۔
کیپٹن صاحب کی تصنیف اچھی کاوش ہے اور قرآن کی وجہ سے حدیث کا انکار درست ہے۔اہلحدیث اور دیوبندیوں کے حوالہ سے اگر واقعی کسی سازش کا ادراک ہے تو سامنے آنا چاہیے۔ جب شیعہ گمراہ ہیں اور سنی احادیث بھی غلط ہیں تو پھر صحیح کون ہے؟۔ اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔ تاریخی غلط بات کو درست ماننا اور صحیح احادیث کا انکار کرنا کوئی منطق ہے؟۔ قیس عربی نام تھا، جاہلیت کے مشہور عربی شاعر امرء القیس تھا، عربی قصہ مجنوں لیلہ میں مجنوں کا نام بھی قیس تھا ۔ہوسکتا ہے کہ نبیﷺ نے اس قوم کو رشید بنانے کیلئے قیس کا نام عبدالرشید رکھا ہو۔ اگر خطاب یہ ہو توبھی ممکن ہے۔ آج کوہ سلمان پر تختِ سلمان اور قیسے غر( قیس کا پہاڑ) اور عبدالرشید کانام اور قبر موجود ہے۔ کیپٹن صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث کی وجہ سے غلط پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ سورۂ جمعہ ، سورۂ واقعہ اور سورۂ محمد میں بھی پیش گوئی موجود ہے۔
ملیر کینٹ کراچی سے ریٹائرڈ فوجی صوبیدار بشیر احمدکے بیان نوشتۂ دیوار میں شائع ہوئے ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف اخباری تراشے بھیجے تھے کہ وہ کہتا ہے کہ ہمیں جمہوری پاکستان چاہیے، جہادی پاکستان نہیں چاہیے۔ حالانکہ جہاد اللہ کا حکم ہے اور جمہوری نظام شرک ہے مگرجب اس سے ہم نے پوچھ لیا کہ پاکستان کا نام اسلامیہ جمہوریہ ہے اور یہاں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام ہے ،کیا آپ مجاہدین کو پاکستان کیخلاف جہاد کرنے کا کہتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ حق سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے تو بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔اس کی بولتی بند ہوگئی اور پھر اس کو بتایا کہ نبیﷺ نے حدیث قرطاس لکھوانے کی بات فرمائی لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ’’ ہمارے لئے قرآن کافی ہے‘‘۔ غدیر خم کے موقع پر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جسکا مولی ہوں ، علی اس کا مولی ہے لیکن مسلمانوں نے جمہوری بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ (صحیح مسلم)حدیث سے جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے ۔ بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں، اسلام اپنی ذات پر نافذ کرنا چاہیے اور جہاد کو نظرا نداز کردیا۔
ایک فوجی حدیث کا منکر ہے اور تاریخ سے متاثر ہے اور دوسرا حدیث کو مانتا ہے لیکن خود جہاد نہیں کرتا اور جمہوریت کو شرک قرار دیتا تھا لیکن جب جہاد کا سوال پوچھا تو گونگا شیطان بننے کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑی کم عقلی ہے کہ جو لوگ جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ جمہوریت کاتحفظ کرنے والے اداروں کو جہاد کے نام پر تحفظ بھی دیتے ہیں۔ ملک میں بہت افراتفری ، منافقت اور نااہلیت کی وجہ جاہلیت اور ذاتی مفادپرستی کے شاخسانے ہیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوجی مہم جوئی کے دوران قتل کئے تو نبیﷺ نے فرمایا تھاکہ ’’اللہ میں خالد کے فعل سے بری ہوں‘‘۔ابنِ نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے دورِابوبکرؓ میں شادی رچائی تو عمرؓ کایہ مشورہ تھا کہ سنگسار کیا جائے مگر حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ کو کافی قرار دیا کہ ’’خالدؓبن ولید کی اب ضرورت ہے‘‘۔

منظور پشتین، عمران خان،نواز شریف، محمود اچکزئی اور الطاف حسین سے گزارش: اشرف میمن

نوشتۂ دیوار کے اشرف میمن نے کہا کہ سائیکل چوری پر پولیس اتنا تشدد کرتی ہے کہ مجرم نہ ہو توبھی اعترافِ جرم کرلیتا ہے کہ بہت سائیکلیں چوری کیں۔ یہ تحریک چلائی جائے کہ سیاسی قبلہ بدلنے، مذہبی مسئلہ اگلنے اور کرپشن کی بات پر میڈیا کے سامنے وضاحت کا موقع دیا جائے، عوام کو مطمئن نہ کرسکیں تو تازہ درخت کے ڈنڈے کاٹ کر اس پر برسائے جائیں ۔ نوازشریف کو موقع دیا جائے کہ پارلیمنٹ میں تحریری بیان اور پھر اس سے مکرنے کی معقول وجہ بتائے، اگر نہ بتاسکے تو ڈنڈے سے میڈیا پر اُگلوایا جائے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیاپر جھوٹ بولنے پر بھی ہو اور فرائض منصبی کے بجائے جرائم پیشہ ریاستی عناصر کو بھی عوام کے سامنے کیا جائے۔فواد چوہدری کو بھی پارٹیاں بدلنے کی سزاہو اور الطاف حسین جو فوج کو اقتدار کی دعوت دیا کرتا تھا اس پر بھی سزا ہو۔ اس سے انقلابی سیاست کا آغاز ہونے میں دیر نہ لگے گی۔

ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیا گیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟ اگر پی ٹی ایم ان کیلئے کھڑی ہوتی تو…..


منظور پشتین نے قائداعظم یونیورسٹی میں فیس بک پر کہاکہ ’’وٹس ایپ کھولوں تو بہت پیغامات ہیں کہ خواتین سے زیادتی اور لڑکوں کو بھی نہ چھوڑاگیا‘‘۔ چوتڑ تک بال کس کام کیلئے رکھے؟۔ٹانک سے پختون لیڈی ڈاکٹر رضیہ کو اغواء کیا۔ ماردھاڑ لوٹ مار اور ظلم پر فخرتھا۔ ڈی آئی خان میں لڑکی کو ننگا کیاگیا، پنجاب و سندھ میں کیا نہ ہوا؟، اگرPTMان کیلئے کھڑی ہوتی تو اپنی عزت کا طبلہ بجانے یا اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے کی قیمت پرکم ازکم آج چپہ چپہ سے پوری قوم انکے ساتھ کھڑی ہوتی۔

پی ٹی ایم کیلئے کامیابی کا زینہ ایم ٹی ایم ہے

PTM کی بنیاد مظلومیت ہے،یہ MTMہو تو جان آئے۔ چند افراد ہر شہر میں پہنچتے ہیں مگر عوام ساتھ نہیں دیتی ۔ پنجابی تعصب کی بدبو شامل ہو تو انسانیت و اسلام کی مٹھاس نکل جاتی ہے۔ بلوچ تعصب نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف قربانی دیتے تو پاکستان پر انکا راج ہوتا۔ غیرتمند قبائل پر جبری زیادتی ہو تی تو کلہاڑی کاوار ہوتا۔ طالبان کی آڑ میں وہ غلطیاں فوج نے کیں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہے ۔ڈی آئی خان وبنوں جیل کوتوڑا گیاتو فوج سے عوام ہتھیار چھین لیتی کہ ملک وقوم کی حفاظت بے غیرت تم نہیں ہم کرسکتے ہیں۔قصور میں جبری زیادتی کا ریکارڈ میڈیا سامنے لایا مگر ریاست کو کوئی غیرت نہ آئی۔ بے غیرت جرنیل اور سیاستدانوں نے قوم کا بیڑہ غرق کیاہے۔