پوسٹ تلاش کریں

دہشتگردی اور سیاست گردی کا گٹھ جوڑ: ملک محمد اجمل ایڈیٹر نوشتہ دیوار

تحریر:ملک محمد اجمل ایڈیٹر نوشتۂ دیوار
پشاور میں نبوت کے دعویدار مرزائی کو قتل کیا گیا تو سوشل میڈیا سے لیکر عوامی جلسے جلوسوں تک ایمانی جذبوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر چشم فلک نے دیکھا۔یہ اس فرد کو اسلام سے نکلنے کی سزا دی گئی یااپنے مذہب مرزائیت سے ارتداد کی سزادی گئی؟۔ گند کی نالی میں کھڑا ہوا شخص یہ جرم کرلے کہ ایک بالٹی مزید گندا پانی اپنے اوپر ڈال دے تو کیا اس جرم کی سزا کیلئے خوشیوں کے شادیانے بجائے جاسکتے ہیں اور مجرم جب قادیانی تھا تو اس نے نبوت کا دعویٰ کرکے اپنی مرزائیت سے بغاوت کا ارتکاب کیا تھا؟۔
سیاستدان 72سالوں سے غلامانہ نظام کا حصہ ہونے کے باوجود جب تک حکومت کے اندر ہوتے ہیں تو سب ٹھیک نظر آتا ہے لیکن جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ان کو غلامانہ نظام کا غم کھاتاہے۔ پرویزمشرف اور نوازشریف ”دونوں میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے ”کا نعرہ لگانیوالے پاکستان کے عدالتی نظام سے بھاگے ہوئے ہیں۔ پاک فوج پہلے پرویزمشرف سے گزارش کرے کہ یہاں آکر اپنے اعمال کا حساب دے ۔ن لیگ نوازشریف سے گزارش کرے کہ یہاں آکر اپنے اعمال کا حساب دے۔
پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ لیکن حکمرانوں نے پارلیمنٹ میں کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کی جس سے لگے کہ ہم نے انگریز کے نظام سے چھٹکارا حاصل کیا ہے۔ جنرل جیلانی نے نوازشریف کا بیج بویا۔ جنرل ضیاء الحق نے گود لیا۔ آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر وزیراعظم بنایا۔ غلام اسحاق خان نے اس کو کرپشن کی بنیاد پر نکال دیا۔ لندن فلیٹ کا قصہ اسی وقت سے معرض وجود میں آیا مگر تیسری بارمنتخب وزیراعظم نوازشریف نے پوری قوم سے تحریری پارلیمنٹ میں جھوٹ بھونکا تھا۔ پھر قطری خط لکھ کر ملک اور قوم کو بین الاقوامی بدنامی سے دوچار کیا اور پھر قطری خط سے مکر کر ہٹ دھرمی کے ریکارڈ توڑ دیے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے خود سومناتی قرار دیدیا ہے اور ہماری قوم سورج پرست ہے اسلئے کہ زمین سورج کا حصہ ہے اور انسان مٹی کی پیدوار ہے۔چڑھتے سورج کی پوجا عوام کی مجبوری الاصل ہے۔
پاک فوج اور اس کی ناپاک پیدا وار کا جھگڑا اس وقت تک جاری رہے کہ جب داعش اور طالبان کی لڑائی دوبارہ میدان میں لڑی جائے۔ کچھ لوگ طالبان کیساتھ اور کچھ داعش کیساتھ کھڑے ہونگے۔ پھر اس نظام سے تنگ عوام جس طرح ن لیگ اور فوج کی جنگ میں بٹے ہوئے ہیں اس طرح داعش اور طالبان میں بٹ جائیں گے۔ جب قوم خمیرہ بنے گی تو داعش اور طالبان کا بھی لڑتے لڑتے دم نکل جائیگا۔ پھر طالبانِ خیر اُٹھ کھڑے ہونگے اور اس ملک کو درست اسلامی نظام سے روشناس کرائیںگے۔ اب تو اگر داعش وطالبان کا نظام آبھی جائے تو درست نہیں ہوگا۔
ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خالد خان نے جس طرح مرزائی امت کے مرتد کو قتل کیا اور قوم نے خوشیوں کے شادیانے بجائے اور جس طرح اسٹیبلیشمنٹ اور ن لیگ کے وفادار خود کو تمام گناہوں سے پاک سمجھتے ہیں اور دوسرے کو ناپاک سمجھتے ہیں ، اسی طرح خالد جان اور اس کی حمایت کرنے والوں کا جذبہ پاکیزہ ہے اور اسی طرح طالبان اور داعش کا جذبہ بھی ایمانی ہے۔
کسی نے کہا کہ سید عتیق الرحمن گیلانی اپنے زمانہ سے دس سال آگے کی سوچ رکھتے ہیں اسلئے لوگ سمجھ نہیں پاتے اور دوسرے تو کیا ہماری سمجھ جواب دے جاتی ہے۔ زمانے کے رُخ کو بدلنا مشکل کام ہے۔ جب سورج کی طرف زمین کا رُخ ہوتا ہے تو دنیا کو دن دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کو اسلام ہی کی بنیاد پر بنایا گیا تھا اور اسلام ہی کی بنیاد پر بچایا جاسکتا ہے مگرمحمود خان اچکزئی کومولانا فضل الرحمن کے امام انقلاب کا نعرہ لگانے میں دیر لگ گئی ہے۔ اصل امامہ انقاب تو مریم نواز شریف ہیں۔ جسکے پاپا جانی نے ا س وقت بھی محمود اچکزئی ، عمران خان اور جماعت اسلامی کو دھوکہ دیا تھا کہ انتخابات سے بائیکاٹ کرواکے خود الیکشن لڑلیا تھا۔
یہ وہی نوازشریف ہیں جو لکھے ہوئے معاہدے سے ڈھٹائی کیساتھ مکر رہے تھے کہ کوئی معاہدہ ہے تو دکھاؤ۔ اور یہ وہی تو ہیں جو ائرپورٹ پر نوازشریف زندہ باد کا نعرہ لگانے پر جھاڑ رہے تھے کہ چپ کرو، تم نعرے لگاتے تھے کہ قدم بڑھاؤ، نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ جب مڑ کر دیکھا تو پیچھے کوئی بھی نہیں تھا۔ حالانکہ موصوف معاہدے کرکے جارہے تھے۔
عمران خان کے تضادات بھی بیشمار ہیں۔فوج کا بھی متنازعہ کردار تاریخ کا بڑا حصہ رہاہے۔ نوازشریف کا پیدا کرنا بہت بڑا جرم تھا۔ عمران خان کو سپورٹ کرنا بھی اس سے کم جرم نہیں۔ اگر سیاسی ڈائیلاگ شروع ہوجائے تو پہلے پہلے ملک سے باہر سیاستدانوں،ججوںاور جرنیلوں کو اولاد اور جائیداد سمیت ملک کے اندر بلانا ہوگا ۔
پارلیمنٹ میں سیاست نہیں تجارت کا بازار گرم ہے۔ عدالتوں میں انصاف مل نہیں رہا ہے بلکہ بِک رہا ہے۔ فوج ملک کی خدمت نہیں کررہی ہے بلکہ قیادت کی تشکیل اور اپنے کاروبار کا غم کھارہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ، نواز شریف ، عمران خان سب نے کٹھ پتلی بن کر کردار ادا کیا۔
قائداعظم محمد علی جناح اور نوابزادہ لیاقت علی خان سے لیکر غدارشیر بنگال کے پوتے سکندرمرزا تک مسلم لیگی قیادت نے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو غدار بنایاتھا اور مسلم لیگ کی نااہلیت کے سبب جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرکے بھٹو کو تشکیل دیا۔ بھٹو نے قائدعوام کا خطاب پایا تو ساری اپوزیشن کو پھانسی گارڈ میں بھر دیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے اپوزیشن کی جان چھڑائی اور نوازشریف کو پرومٹ کیا کیونکہ محمد خان جونیجو اس فوجی کیفے ٹیریا میں مس فٹ تھا۔
جنرل ضیاء الدین خواجہ نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں پرویزمشرف کا آرمی چیف بننے کا کوئی چانس نہیں تھا لیکن نواز شریف نے وہی کام کیا جو بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو کمزور اور عاجز سمجھ کر کیا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ کارگل میں پہلی باربھارت سے پاکستان نے بدلہ لیا۔ کرنل شیرخان کا نشانِ حیدر اس کا ثبوت ہے لیکن نسیم زہرہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نوازشریف نے انڈین سے کہا تھا کہ ہم پرویزمشرف سے حساب لیںگے۔ جب نوازشریف نے چھپ کر پرویزمشرف پر وار کردیا تویہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ فوج آپس میں ہی لڑلڑ کر تباہ ہوجائے لیکن نوازشریف کے مقررکردہ آرمی چیف نے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دیدی۔ جب نوازشریف نے آرمی چیف جنرل راحیل کو منتخب کیا تو پاک فوج نے پہلی مرتبہ اپنے اندر سے کرپشن کو ختم کرنے کے اقدامات اُٹھائے۔ عدالت نے نوازشریف سے حساب مانگا تو نواز شریف کو برداشت نہیں ہوا۔ حالانکہ جب عدالت میں کرپشن کے خلاف فوجی وردی کیساتھ کالا کوٹ پہن کر نوازشریف گئے تھے تو یہ ٹھیک تھا۔ یوسف رضاگیلانی اور زرداری کی جمہوریت پسندنہیں تھی لیکن اپنی کرپشن پاک لگتی تھی۔
کافی عرصہ خاموشی توڑنے کے بعد اس آرمی چیف کو موردِ الزام ٹھہرانے کی یہ وجہ معلوم ہے کہ کرپشن پر ڈیل نہیں ملی ہے اور اب طوفان برپا کردیا ہے۔ پنجاب پر ہمیشہ انگلی اُٹھتی تھی کہ ٹاؤٹ کا کردار ادا کیا جارہاہے لیکن اگر مریم نواز اس داغ کے دھونے کا نام لیکر اپنے باپ کی بڑائی بیان نہ کریں تو امامہ انقلاب کہلانے کی مستحق ہوگی۔ نوازشریف خود تو بیمارہیں لیکن اسکے فرزندوں کو تو ایسی بیماریوں کا سامنا نہیں؟ لیکن ان کو بھی بٹھارکھا ہے۔صحافت نے جانبداری کاریکارڈ توڑ کر وکالت کابازار گرم کررکھا ہے لیکن سوشل میڈیا کے دور میں جھوٹ کی دال گلانہ کسی کے بس کی بات بھی نہیں ہے۔ اب اسلامی انقلاب ہی واحد راستہ ہے لیکن اسلامی انقلاب معاشرے اور گھر کے نظام سے شروع ہوکر عالمی سطح تک حالات بدلنے کی صلاحیت کا نام ہے اور ہمارے خیال کے مطابق وہ صلاحیت سید عتیق الرحمن گیلانی میں موجود ہے،اس لئے نہیں کہ شخصیت کا کمال ہے بلکہ اسلئے کہ اسلام میں یہ کمال موجود ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے دائیں طرف مریم نواز بائیں طرف بلاول بھٹو زرداری اور آگے اویس نورانی اور پیچھے محمود اچکزئی ہیں۔ حافظ حسین احمد نے کہاہے کہ مولانا عبدالغفورحیدری نے بریگڈئیر سے کہا تھا کہ مجھے وزیراعلیٰ بنا دیں۔ صادق سنجرانی کی طرح حیدری نے اسپیکر بننے کی کوشش بھی فرمائی تھی۔امام انقلاب اقتدار کی دہلیز پر اپنا حصہ بقدر جثہ نہیں مانگتا ہے۔ جن بیساکھیوں کیخلاف انقلاب لانا ہے ، انکے سہارے انقلاب نہیںلاسکتے۔ البتہ ہلچل مچاؤ۔ اجمل ملک: ایڈیٹرنوشتۂ دیوار

گستاخانہ کارٹونوں کے معاملے پر ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا مؤقف بدلا اور علامہ خادم حسین رضوی نے چندوں کا حق ادا نہیں کیا

فرانس نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرکے گالی دینے کو آزادیٔ رائے کانام دیا ہے جو بہت قابلِ مذمت ہے ۔ جب بھی کسی مسلمان کو موقع ملے گا تو کاروائی کرکے دکھائے گا۔البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری کو علامہ خادم حسین رضوی اسلئے گالیاں دیتا ہے کہ پہلے توہینِ رسالت پر پاکستان میں ایک مؤقف تھا اور اب کینیڈا کے شہری بننے کے بعد اپنا مؤقف یکسر بدل دیا ہے۔ اس سے تو اچھا کینیڈا کا حکمران ہے جس نے کسی طبقے کے جذبات کو آزادیٔ رائے نہیں قرار دیا ہے۔ جب آسیہ کو حکومت نے ملک سے باہر بھیج دیا تو ریاست کے خوف سے علامہ خادم حسین رضوی نے بھی چندوں کا حق ادا نہیں کیا ۔مولانا سمیع الحق کو قتل کیا گیالیکن علماء کا ردِ عمل نہیں آیا۔فرانس کے خلاف بھی توقع سے بہت کم ردِ عمل آیابلکہ فرانس کے خلاف احتجاج کرنیوالے بینک منیجر کو توہین رسالت کے بہتان پر شہید کیا گیا تو لوگوں کے جمِ غفیر نے تھانے پر قبضہ کرلیا۔ چھلانگیںلگاتے ہوئے مجاہد گارڈ کو عقیدت سے ایک استقبال کرنے والے شخص نے ہاتھ لگایا تو گارڈ زمین پر خوف کے مارے گرنے لگا تھا۔ جب اسلام کا نزول ہورہاتھا تو یہودونصاریٰ کے مذہبی عناصر اتنے شدت پسند تھے کہ اہل کتاب کا ایک طبقہ حضرت عیسیٰ کو زنا کی اولاد اور دوسرا طبقہ آپ کی ماں کو خدا کی بیوی کہتاتھا۔ اسلام نے دونوں طرح کے اعقتادات رکھنے والی خواتین سے نکاح کی اجازت دی اور مسلمانوں کی اولاد کو یہ تعلیم دی کہ ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ اس سے بڑھ کر تحمل وبردباری کی تعلیم یہ تھی کہ اماں عائشہ پر بہتان لگانے والوں کو وہی سزا دی جو قیامت تک کسی ادنیٰ عورت پر بہتان لگانے کی ہے۔ اگر دنیا کو اسلام کی عظمت کا پتہ چل جائے تو فرانس سمیت پوری دنیا میں رحمة للعالمینۖ کو مسلمانوں سے زیادہ احترام کی نگاہوں سے دیکھا جائیگا۔ 20گریڈ کے افسر اور چوکیدار کی عزت برابر نہیں ہے اور قوم کی دولت لوٹنے والے سیاستدانوں کی عزت کھربوں میں ہوتی ہے لیکن کارکن کی عزت کوڑی کی نہیں۔ اسلام نے جو مساوات قائم کی تھی اس کی مثال دنیا کے کسی نظام میں نہیں ہے لیکن اسلام بیان کرنے سے مذہبی لوگ دُم گھسیڑنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ تھوڑی بہت تفصیلات ادارایہ صفحہ نمبر2پر دیکھ لیجئے گا۔

خلافت کامختصر تصور: تحریر سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہ ۖ کے بعد تیس سالہ خلافت راشدہ ، پھر امارت، پھر بادشاہت، پھر جبری حکومت پھر طرزِ نبوت کی خلافت کا وہ تصور ہے جس سے آسمان وزمین والے سب خوش ہونگے۔دنیا کی سپر طاقت امریکہ میں جمہوریت کا نتیجہ خانہ جنگی کی نوبت تک پہنچ چکاہے۔ پاکستان میں بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے ایکدوسروے کو چوکوں میں گھسیٹنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ پھر عمران خان نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب سوات میں طالبان کو اپنا موقع مل گیا تھا تو ایک بریلوی پیر کو شہید کرنے کے بعد قبر سے نکالا تھا اور اس کی لاش کو چند دن چوک پرلٹکادیا تھا۔
پشاور کے حالیہ دھماکے میں مدرسے کے مہتمم نے بتایا کہ” داعش کا جلال الدین نامی شخص کسی مدرسے کے مہتمم کا داماد ہے جس نے کئی لوگوں کو ذبح کیا ہے اور یہ تکفیری لوگ ہیں”۔ جماعت اسلامی کے امیر سنیٹرسراج الحق اور MNA مشتاق صاحب مہتمم کی پریس کانفرنس میں دائیں اور بائیں جانب کھڑے تھے لیکن پشتو زبان کا اردو ترجمہ بھی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نہیں پہنچایا۔ یہ خیانت ہے یا خوف کا نتیجہ ہے مگر یہی کام دہشتگردی کے عروج کے دور میں بھی ہوتا رہاہے۔ پیپلزپارٹی ، اے این پی اور مولانا فضل الرحمن دہشت گردوں کی کھل کر مخالفت کرتے تھے اور ن لیگ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی توپوں کا رخ کبھی بھی دہشت گردوں کی طرف نہیں ہوا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردوں کو حدیث کا حوالہ دیکر خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا مگر اس وقت میڈیا دہشت گردوں کی حامی تھی۔ آج بھی مولانا فضل الرحمن نے وہی مؤقف اختیار کیا ہے جو اس نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جمہوریت کے حق میں اختیار کیا تھا۔ اس وقت مولانا فضل الرحمن پر مدارس نے کفر وگمراہی کے فتوے لگائے تھے اور آج مولانا کے حق میں دیوبندی مدارس کی اکثریت کھڑی نظر آرہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے PDMکے سربراہ کی حیثیت سے مدارس کے ایک اصلاحی بیان میں فرمایا ِکہ ”جب مفتی محمود ہندوستان میں صد سالہ جشن دیوبند کانفرنس میں گئے تو اتنا بتایا کہ آزادی سے دوسال پہلے ہندوستان گیا تھا اور اسکے بعد پہلی مرتبہ بھارت جارہاہوں۔ پھر بعد میں ایک تحریر پڑھی جس میں لکھا تھا کہ ہندوستان میں علماء کا ایک اجلاس1945ء کو ہوا تھا جس میں مولانا زکریا بھی تھے اور مفتی محمود کا نام بھی اس میں تھا۔ علماء نے ہندوستان کی سرزمین پھر امارت شریعہ کے بارے میں شرعی رائے لینی تھی۔ مفتی محمود نے اس وقت اپنی رائے دی تھی کہ امارت شریعہ کیلئے قوت نافذہ کی حیثیت ایک رکن کی ہے اور اس کے بغیر شرعی امارت قائم نہیں ہوسکتی ہے”۔
مفتی محمود نے اپنی رائے سے علماء کے جم غفیر کو رہنمائی فراہم کی تھی۔ امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری کو بھی لقب اسلئے ملا تھا کہ وہ ہندوستان میں حکومتِ الٰہیہ کا قیام چاہتے تھے۔ جب متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت تھی تو بھاری اکثریت سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومت کو اتنا اختیار بھی نہیں دیا گیا کہ اردو زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے سکے۔ وزیراعلیٰ کے خاندان پر طالبان نے حملہ کیا تو اکرم خان درانی نے میڈیا پر بیان جاری کیا کہ جس نے حملے میں طالبان کا نام لیا تو اس پر ہتک عزت کا دعویٰ کروں گا۔ جب مجھے ٹارگٹ کرنے کیلئے طالبان نے میرا گھر نشانہ بنایا تو جمہوری حکومت کی کوئی رٹ نہ تھی ،ہماری حفاظت کیلئے پولیس نہیں فوج کھڑی تھی۔ طالبان بارودی سرنگ اور بم دفناکر گئے تھے تو حکومت نے بم ڈسپوزل اسکواڈ تک دینے سے انکار کردیا تھا۔ پرائیوٹ ادارے سے خدمت لینی پڑی تھی۔ ایسے میں امیرطالبان کے پاس قوت نافذہ تھی لیکن جمہوری حکومت اور پاکستانی ریاست کے پاس نہیں تھی۔ عوام کے تیور طالبان کیخلاف اس واقعہ کے بعد بدل چکے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردوں کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا اور مولانا عطاء الرحمن نے بیان دیا کہ سیکورٹی فورس کی صرف حکومتی وریاستی ذمہ داری نہیں بلکہ شرعی فریضہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کو مار دیں۔ جس کے بھی ڈاکٹر شاہد مسعود کے کالم طالبان کے حق میں اور مولانا فضل الرحمن کے خلاف چھپ گئے ۔ پھر پیپلزپارٹی اورANP کے دور میں جب طالبان کے مارگلہ کے پہاڑ تک پہنچنے کی خبر مولانا فضل الرحمن نے دی تو ن لیگ کے رہنما مولانا فضل الرحمن کو امریکہ کا ایجنٹ قرار دینے لگے۔ طالبان نے عمران خان اور نوازشریف کو اپنی طرف سے نمائندگی کرنے کیلئے نامزد کیا تھا۔ پنجاب میں کاروائیاں نہ کرنیکی شہباز شریف کا کھلا بیان تھا۔
مفتی محمود کے انتقال کے بعد جب مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء اسلام کی قیادت سنبھالی تو ایک بیانیہ یہ تھا کہ عقیدے کو بدلنے کیلئے دعوت کی ضرورت ہے اور نظام کو بدلنے کیلئے بندوق اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ انبیاء کی سنت ہے مگر علماء جہالت کا مظاہرہ کرکے بالکل الٹ چلتے ہیں، دوسرا بیانیہ یہ تھا کہ جمعیت علماء جماعت ہے اور احادیث میں اس جماعت سے ہٹنے کی وعیدوں پر اپنے مذہبی اعتقادات کا زور دیتے تھے۔ جب 1945ء میں ہندکے علماء نے امارت شریعہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تومفتی محمود نے رکاوٹ ڈال دی، جب مولانا فضل الرحمن نے اپنی جماعت پر امارت شریعہ کا اطلاق کیا اور الیکشن کی سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کردیا تو پاک فوج نے ڈرا دھمکا کر فیصلے کے اعلان سے روک دیا تھا۔ پھر جب ہم نے ایک کتاب ” اسلام اور اقتدار” میں مولانا فضل الرحمن کو سمجھا دیا تو اپنی جماعت کو امارت شریعہ کا مؤقف چھوڑ دیا۔
وزیرستان کو اللہ نے اتنی حیثیت دیدی کہ پاکستان کی ریاست سے لیکر امریکہ تک اس کی دھاک دنیا میں بیٹھ گئی لیکن اس طاقت کا درست استعمال کرنے کے بجائے اپنی قوم کو تباہ وبرباد کرنا شروع کردیا۔ لیڈی ڈاکٹر تک کو اغواء برائے تاوان میں لے گئے۔ محسود قوم کی ناک کاٹ دی ۔ اب بھی وہ بے غیرت ہیں جو ان نکمے ، بدقماش و بدکردار طالبان پر اپنی فیک آئی ڈی سے فیس بک پر فخر کرتے ہیں لیکن اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ پنجاب میں پختون کے خلاف نفرت کی فضاء نہیں ہے اور اگر ایک دفعہ ہوا دی گئی تو پختونوں کیساتھ تاریخ میں مہاجر قومی موومنٹ کے مظالم بھول جائیںگے اسلئے کہ کراچی میں بہت علاقوں میں وہ اپنا ہولڈ رکھتے تھے۔ پنجاب میں پختون کا سارا کاروباری طبقہ ہے۔ پختونوں نے طالبان بن کر ناکامی کا ثبوت دیا لیکن اگر پنجاب کے لوگ طالبان بن گئے تو پھر انکا راستہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ سرنڈرطالبان سے بھی وزیرستان کے نام نہاد قبائلی ملکان کی حیثیت کمزور تھی جن پر حکومت اور ریاست کا انحصار ہوتا تھا۔ سرنڈر طالبان نے زبردستی سے پاکستان کا قومی ترانہ گایا ہے اسلئے اسلام کے وفادار نہیں ہوسکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے۔
اگر داعش اور طالبان نے مل کر آپس میں لڑنے کے بجائے عوام کی فلاح وبہبود اور اسلام کا درست تصور سمجھ کر اس پر عمل کرنا شروع کیا تو پاکستان کی ریاست اور عوام بھی ان کو جمہوری بنیادوں پر پذیرائی بخشیںگے۔ خود کش حملے دشمن کو کمزور کرسکتے ہیں لیکن عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتے ہیں۔ وزیرستان کی عوام میں آج بھی قوت نافذہ ہے اور جب وہ ہیروئن ومنشیات کو روک سکتے ہیں جس پر دنیا کو قابو کرنا مشکل ہے تو اسلام کی فطری تعلیم بھی نافذ کرسکتے ہیں۔ جب کس کے دل ودماغ اوروہم وگمان میں خلافت کا تصور نہیں تھا تو ہم نے وزیرستان سے اس کو شرعی فریضہ سمجھ کر اُٹھانے کی کوشش کی تھی اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء ہماری حمایت کررہے تھے۔ دیوبندی مکتبۂ فکر ٹانک کے تمام اکابر علماء نے کھلی مجالس، جلسہ ٔعام میں ہماری حمایت کی تھی۔ اخبارات اور کتابوں میں تائیدات کی تفصیل بھی چھپ گئی تھی لیکن مولانا فضل الرحمن اور اسکے بھائیوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں علماء اور ریاستی مشنری کو استعمال کیا اور ہم پر وہ فتویٰ لگوایا جس سے ہم نے ان کو بچانے میں مدد کی تھی پھر جب ناکامی ہوئی تو گھر پر آکر جھوٹ بولا کہ ”ہم نے ہمیشہ حمایت کی ہے”۔ اسکے بعد بھی جمعیت کے باغی مولانا عبدالرؤف کی مزاحمت سے ہم نے ہی بچایا تھا اور آج ایسے وقت میں ایک دفعہ ریاست ، حکومت اور اس اپوزیشن کو خبردار کرتا ہوںکہ اسلام خیرخواہی کانام ہے اگر یہ وقت ہاتھ سے نکل جائیگاتوپھر رونا بھی کام نہیں آئیگا۔ امن کی فضاء بہت کچھ کہنے کی رعایت کیلئے سازگارہے۔
اسلام کی درست تعبیر پیش ہوجائے تو ملحدین اسلام کو بطورِ نظام قبول کرنے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ پوری دنیا اس خلافت کیلئے راضی ہوجائے گی جسے سب خوشی کی بنیاد پر قبول کرینگے۔ ریاست، حکومت اور اپوزیشن بہت زیادہ تضادات کا شکار ہے اور اس سے فساد کے علاوہ کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی

اسٹیبلیشمنٹ اورجمہوریت کی لڑائی میں آخری منزل!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ایمان کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک اقرار باللسان دوسری تصدیق بالقلب۔یعنی زبان سے اس کو تسلیم کرنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا۔
رسول اللہ ۖ کے دور میں اعرابی عرب نے اسلام قبول کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قالت الاعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولٰکن قولوا اسلمنا ”اعرابیوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے ۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا”۔ قرآن میں اعرابیوں کے حوالے سے کئی آیات میں کہیں فرمایا کہ ”کفر اور نفاق میں اعرابی بہت سخت ہے جو اردگرد اور اہل مدینہ میں سے ہیں”۔ کہیں فرمایا کہ ” اعراب میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں”۔ عرب ادب کی کتابوں میں ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ”امام نے جہری نماز میں وہ آیت پڑھی جس میں ان پر تنقید ہے تو ایک اعرابی مقتدی نے ڈنڈا مارا ۔ پھر امام نے وہ آیت پڑھی جس میں اعرابیوں کی تعریف ہے تواعرابی نے کہا کہ ڈنڈے نے تجھے سیدھا کیاہے”۔ سوال یہ ہے کہ اعرابی کی نماز ڈنڈا مارنے سے ٹوٹتی یا تائید کا جملہ کہنے سے؟ لیکن اس بحث کی ضرورت نہیں ۔ اچھے اعرابی بن جا یئے۔
70سالوں میں ہمارے فوجی حکام اور جمہوری اعرابیوں نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا ہے تو یہ دونوں طبقے اعرابی تھے۔ ان دونوں میں اچھی بری دونوں قسم کی صفات تھیں۔ کبھی مارشل لائی جمہوریت تھی تو کبھی جمہوری مارشل لاء تھا۔جب قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو ساری اپوزیشن جیل میں تھی اور جمہوری لیڈربغاوت کے مقدمات کا سامنا کررہے تھے۔اگر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نہ آتا تو ہوسکتا تھا کہ ولی خان ، بزنجواور حبیب جالب وغیرہ سب پھانسی کے تختے پر لٹکادئیے جاتے۔ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء الحق کی صحبت میں سیاست کے داؤ وپیچ سیکھنے والی بھٹو کی پیپلزپارٹی اور نوازشریف کی مسلم لیگ ن کس طرح جمہوری ذہنیت رکھ سکتے تھے؟۔ جبکہ رسول اللہ ۖ کے دورمیں اعرابی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ الاعراب اشد کفر ونفاقًا ”اعرابی کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں ”تو جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل ضیاء الحق ، جنرل بیگ سے لیکر پرویزمشرف تک اور جنر ل اشفاق پرویز کیانی سے لیکر جنرل قمر جاوید باجوہ تک فوجی حکام اور ان کے رفقاء کار جمہوری پارٹیوں کے قائدین کا کیا کہہ سکتے ہیں؟۔ ان میں ضرور اچھے اچھے لوگ بھی ہونگے لیکن نماز پڑھانے والے امام کو معقول تنخواہ اور ڈنڈا رسید ہوگا تو وہ دوسری طرح کی آیت پڑھنے پربھی مجبور ہوں گے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ فوجی حکام اور جمہوری پارٹیوں دونوں کا مزا نہیں ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ جنہوں نے ملک کو کھالیا ہے وہ اصولوں کی نہیں مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ہاتھیوں کی لڑائیوں میں ملک کے غریب طبقے کا نقصان نہ ہو، جن کو اپنی دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں ملتی۔ اپوزیشن کی موجودہ تحریک میں کھانے کے دانت نوازشریف اور دکھانے کے مولانا فضل الرحمن ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی ڈھکے چھپے نہیں کھلے ڈھلے گیم کھیلے جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے پرویزمشرف دور میں پختونخواہ کی حکومت سنبھال رکھی تھی۔ اس وقت این جی اوز دکھانے کے دانت تھے اور بلیک واٹر کھانے کے دانت تھے۔ بیرون ملک سے پاکستان بہت بڑی امداد آئی تھی۔ سندھ کراچی ، بلوچستان، خیبر پختوانخواہ اور پنجاب پورے پاکستان کا حلیہ تبدیل ہوگیا۔یہ پرویزمشرف کا کمال نہ تھا بلکہ غیرملکی ایجنڈے پر پختون قوم کو تباہ کرنے کی قیمت تھی۔ محمود خان اچکزئی کی بات سوفیصد درست ہے کہ بلوچ، سندھی اور پنجابیوں سے گلہ ہے کہ ہمارے پشتون قوم کو تباہ کرنے کی قیمت ریاست وصول کررہی تھی ۔ چیچن ،ازبک اور عرب دہشت گرد بسائے گئے اور پختونوں کی لیڈر شپ، گھر بار اور علاقے تباہ کئے گئے اور کسی نے پشتونوں کے حق میں کسی بڑے شہر میں مظاہرہ نہیں کیا۔ بہت بجا بات ہے لیکن اس وقت تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر MQM نے کراچی میں مظاہرہ ازبک چیچن کے حق میں کیا۔ قاضی حسین احمد نے بھی الطاف بھائی کا بڑا شکریہ ادا کیا تھا۔ اس دور میں مولانافضل الرحمن سمیت سب نے پختون کے خون سے آنے والے مال ودولت میں اپنا منہ گندہ کیا تھا۔ پورے پاکستان میں اس دور کے اندر بہت ریکارڈ ترقی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے فوجی حکام اور سیاستدان وہ پیسہ بیرون ملک منتقل نہ کرتے اور اپنی ذات پر لگانے کے بجائے ملک وقوم ہی پر لگاتے تو پختون کا خون بھی معاف ہوتا۔ سب سے زیادہ قربانی میرے گھر کے خون سے ہوئی ہے۔ میں نے اپنے اخبار ضربِ حق میں اس بات کی مخالفت کی تھی کہ بڑی سازش کے تحت بمباری کرکے قبائلی مجاہدین کا کیمپ تباہ کیا گیا جب کہ بالکل قریب میں ازبک کا کیمپ چھوڑ دیا گیا۔ جس کا انکشاف گورنر خیبر پختونخواہ جنرل اورکزئی نے جمعیت علماء اسلام کے مولانا عصام الدین محسود کے سوال پر جواب میںکیا تھا۔
جب فوج کہتی ہے کہ ”ہم جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں ” تو زبان کی حد تک بھی جو مارشل لائی نظام کی تائید نہیں کرسکتے تو مدعی سست گواہ چست کی حماقت کرنے والے ٹاؤٹ اگر تنخواہ دار نہیں تو اپنی بکواس سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا نقصان فوج کو وہی پہنچارہے ہیں جو سب سے زیادہ حمایت کا دم بھرتے ہیں۔ صحافی وہ بھی کہلاتے ہیں کہ اگر ابھی اپنا بیانیہ پیش کرنا چاہیں تو بڑی بے شرمی سے کہہ سکتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ بے چارے تو ایکسٹینشن کے حق میں نہیں تھے۔ یہ تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مجبور کیا کہ اگلا جرنیل کوئی خر دماغ بھی ہوسکتا ہے جو مارشل لاء کے نفاذ سے بھی دریغ نہ کرے اسلئے مدتِ ملازمت بڑھادی۔ جمہوری حلال زادے جو حرام کا نمک حلال کرنے کیلئے بکتے ہیں وہ نوازشریف سے پیسہ لیکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فوج نے ن لیگ کے رہنماؤں کو اسلئے لندن بھیج دیا تھا کہ نوازشریف جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن کی حمایت نہ کریں تو وہیں پر ڈاکٹر عمران فاروق کی طرح دو چار اینٹ مارکر ٹھکانے لگادینا۔جس طرح پارلیمنٹ میں لندن کے فلیٹ کی جھوٹی کہانی پڑھنے پر جنرل شریف اور بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے عدالت میں قطری خط لکھنے اور پھر واپس لینے پر نوازشریف کو مجبور کیا تھا۔ عوام سب جھوٹ کو سمجھ رہی ہے۔
طالبان و بلیک واٹر کی شکل میں ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کی بلا بہت مشکل سے اس قوم کے سر سے ٹل گئی تو اب داعش اور طالبان کے نام پر ایک اور مژدہ سنایا جارہاہے۔ شیعہ سنی، مہاجر سندھی ، بلوچ پشتون، سرائیکی پنجابی اور فوجی جمہوری جنگ وجدل کے علاوہ عورت اور مرد کے درمیان بھی تعصبات بڑھ رہے ہیں۔ محسن داوڑ کی باجوڑ میں جماعتِ اسلامی کے نوجوانوں کی طرف سے بے عزتی مہمان ہی کی نہیں میزبان کی بھی بے عزتی تھی، اسلام ہی کی نہیں پختون قوم کی بھی بے عزتی تھی۔ مسلمان ہی کی نہیں انسان کی بھی بے عزتی تھی۔ جماعتِ اسلامی کا یہ بڑاخراب ٹرینڈ ہے۔ جب عمران خان کو پنجاب یونیورسٹی میں الف ننگاکرنے کی خبریں تھیں تو جماعتِ اسلامی پنجابی رہنماامیرالعظیم نے اسلامی جمعیت طلبہ کی مذمت کی لیکن جماعت اسلامی کے پختون رہنما ؤں میں یہ اخلاقی جرأت بھی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ”پیسہ آگیا ہے” تو پیسہ کیلئے سب ہوتا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے اس خطے اور اسلام کو عالمی قصاب خانہ بنانے کی وضاحت کردی۔
اللہ کا شکر ہے کہ قاتلانہ حملوں میں دونوں قائدین بال بال بچتے رہے ہیں۔ دونوں نے سیاسی میدان میں اتنا کچھ کمالیا ہے کہ مینڈک تو ایک موسم سے دوسرے تک اپنی چربی پر گزاراہ کرتا ہے مگر یہ لوگ زندگی بھربسہولت گزر بسر کرسکتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اتنے بڑے بڑے فنڈز قوموں کو خریدنے کیلئے بیرون ملک سے آتے ہیں، البتہ افغان حمایت جہاد سے بہت لوگ گنگا میں نہائے اور طالبان مخالف فساد میںبہت لوگ جمنا میں نہائے۔ آنے والی سونامی میں پوری قوم کو ڈبونے کا کام بھی ہوسکتا ہے ۔جب مولانا فضل الرحمن کو نیب کا نوٹس ملااور آرمی چیف سے ملاقات کی خبر آئی تو 500ارب ڈالرز کی قسطوں کے معاملے سے پردہ بھی اُٹھادیا۔
صحافت کی دنیا میں حامدمیر گل سربد کی حیثیت رکھتا ہے۔ مفتی نظام الدین شامزئی کے حوالے سے روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں انکشاف کیا تھا کہ” رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے واشنگٹن امریکہ سے جہادی تنظیموں کو ڈالر آرہے ہیں جو علماء کرام کو خریدتے ہیں۔ اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو ہم چوراہے کے بیچ میں بھانڈہ پھوڑ دیںگے”۔ حامدمیر نے لکھا تھا کہ ” اگر واقعی یہ لوگ باز نہیں آئیں تو بھانڈہ پھوڑ دینا چاہیے”۔ وسیم بادامی کا معصومانہ سوال یہ ہے کہ جب پیسہ آرہا تھا تو بھانڈہ پھوڑنے نہ پھوڑنے کا کیا تُک بنتا تھا، پھوڑ ہی دینا چاہیے تھا۔ اگر علماء کو نہ خریدتے تو صحافیوں کو بھی خرید سکتے تھے؟۔ پھر حامد میر نے PTVکے ایک چینل ATVپر پیپلزپارٹی کی آخری دورِ حکومت میںانکشاف کیا کہ” بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر طالبان جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنائے تھے”۔ ہوسکتا ہے کہ اسی دباؤ کے نیچے زرداری نے اشفاق پرویز کیانی کو ایکسٹینشن بھی دی ہو۔ صحافیوں سے لیکر سیاستدانوں ،جرنیلوں ، مجاہدین اور علماء تک کس کس پر اعتماد کیا جائے؟۔
صحافت کا شعبہ کرائے اور غلط وکالت کرنے کا نہیں ۔قوم کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیساتھ سب سے زیادہ نقصان بھی صحافت سے پہنچتا ہے۔ ماضی میں جنگ کا دعویٰ تھا کہ وہ حکومتیں گرانے اور قائم کرنے میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔ جنگ اور جیو نے جتنی مار فوج سے کھائی ہے تو اس سے زیادہ فوج کو نقصان پہنچایاہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جھوٹا نواز بھی ریاست کا شوہر بنتا جارہاہے۔
میں سچ بولوں گی اور ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
کرپشن کے حوالے سے ن لیگ کے قائد نوازشریف پر عوام، سیاسی قیادت، صحافت، پارلیمنٹ اور عدالت سب گواہ ہیں، جنرل ضیاء الحق سے لیکر جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن دینے تک اس کا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے ۔ ماڈل ٹاؤن میں چودہ بندوں کے قتل سے آصف زرداری کا پیٹ چاک کرکے سڑک پر گھسیٹنے اور چوک پرلٹکانے کے بیانات تک اور مولاناطارق جمیل سے ملاقات اورمولانا فضل الرحمن سے لاہور میں نوازشریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کی طرف سے ملاقات سے گریز کرنے تک اسکے پلیٹ لیٹس کے اُتار چڑھاؤ کا سارا DNA معلوم ہے۔ مؤمن ایک سوراخ سے دودفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے ۔ اگر مولانا فضل الرحمن اسلام آباد کے دھرنے میں گلہ کرتے کہ جمعیت کے کاروان نے کراچی سے لاہور تک سفر کیا ۔
ہم چھالے چھالے پیروں ان سے ملنے آجاتے ہیں
وہ پھولوں جیسے ہاتھوں ہم پر پتھر برساتے ہیں
مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی نے سندھ میں چھوڑ کر رخصت کردیا تھا اور ن لیگ نے لاہور میں بھی ملنا گوارا نہیں کیا ۔ اسفند یار ولی خان مولانا کی آمد سے پہلے اسٹیج پر تقریر کرکے چلے گئے۔ البتہ محمود خان اچکزئی نے اول سے آخر تک اسلام آباد میں بھرپور ساتھ دیا۔ عربی میں مچھلی اور گوہ کے تضاد کو ضرب المثل سمجھا جاتا ہے۔ اسلئے کہ مچھلی پانی سے نہیں نکلتی اور گوہ خشکی میں رہتی ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کا بہت بڑا اسٹیک ہے۔ محمود خان اچکزئی اگر حکومت میں ہوتے تو جمعیت کو باہر رکھتے اور جمعیت حکومت میں ہوتی تو اچکزئی باہر ہوتے۔ اس دفعہ دونوں مرکز اور بلوچستان حکومت سے باہر ہیں۔
اگر اگلے الیکشن میں مولانا فضل الرحمن مرکز اور اچکزئی صاحب بلوچستان کے اقتدار پر آجائیں تو امید ہے کہ سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ آرمی نے بین الاقوامی بلا سے بچنے کیلئے یہ قربانی دی کہ طالبان سے امریکہ کو مروانے کیلئے چھوڑ دیا جس کی وجہ سے پوری ریاست یرغمال بن گئی۔ پشتون قوم تباہ ہوئی ۔ ملک کو بڑی سطح پر اقتصادی اور اخلاقی نقصان پہنچا۔ جب تک عمران خان آرمی کے خلاف بھرپور طریقے سے بولتا نہ تھا تو لوگوں کو اس پر اعتماد بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ ایم کیو ایم پر جناح پور کے الزام لگاکر ان کی قوت کو کراچی میں پاش پاش کیا گیا لیکن پھر الطاف بھائی کی جماعت کراچی اور ملک کی ایک مضبوط قوت بن گئی۔ ہمارا مدعا یہ ہے کہ قرآن مسئلے کا حل ہے اور سنت اس کا عملی نفاذ ہے۔ دنیا ہمیں تباہ کرنے پر تلی ہے ۔اس سے بچنے کا واحد راستہ اسلام کا حقیقی چہرہ عوام اور دنیا کو دکھانا ہے اور بس۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

پختونخواہ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے تجاویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
ہر گھر میں طالبان میزبان کوئی مہمان تھے۔ بوڑھے، عورت ، بچے جوان سبھی قدردان تھے۔ لوگ دھماکوں، خود کش سے پریشان تھے۔ ہم دلیری پر شادمان تھے۔ پاکستان پر قبضہ اپنے ارمان تھے۔ فضل الرحمن ، عمران خان ایک طالبان خان تھے۔ اپنے سر کی خیر مانگتے جب طوفان تھے ۔کشتی ڈوب جاتی تو قصور وار بادبان تھے۔
آج وزیرستان کاایک محسودپشتو کی اس زبان میں فیس بک پر کہہ رہاہے جس کو دوسرے پختون بھائی سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں کہ ”طالبان پھر آگئے ہیں، اب زیادہ نہیں کم ہیں، ہم ان کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اگر یہ پھر بڑھ گئے تو پھر جرگہ اور دھرنا سب کچھ بھول جاؤگے۔ یہ صرف مارنا اور ذبح کرنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔ خود کش حملوں کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ ان کی فکر کرو، وقت سے پہلے پہلے”۔
فضل خان ایڈوکیٹ پر کچھ دن پہلے قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اللہ تعالیٰ حفظ وامان میں رکھے۔ اسکے کھلے خط کی ایک ایک سطر اپنے بچے کے غم میں دل کے خون سے لکھی ہوئی ہے جس میں بچے کی ماں کا بھی درد پورا پورا جھلک رہاہے۔ ہم وہ نہیں کہ دوسرے کے دکھ پر بے حسی کا مظاہرہ کریں اور فتوے لگانے میں ملوث ہوجائیں لیکن حقائق کو بہت مشکل وقت میں بھی سچائی کیساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پوری پختون قوم کا جذبہ طالبان کیساتھ تھا اسلئے قتل وغارت کے باوجود ہماری ریاست ، فوج ، پولیس، عدالت اور جمہوری حکومت سب بے بس نظر آتے تھے۔ فضل خان ایڈوکیٹ صاحب! اگر 2014ء میں تمہارے معصوم پھول کی شہادت سے تمہارا اپنا ضمیر جاگ گیا تو بھی بڑی بات ہے۔ جب آرمی نے فیصلہ کیا کہ طالبان کو شمالی وزیرستان سے بھی بے دخل کرنا ہے تو ردِ عمل کا پہلے سے خطرہ تھا۔ عمران خان 2014ء میں پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دیا کرتاتھا۔ شمالی وزیرستان میں احتجاجی مظاہرین کی لاشیں گھروں تک پہنچ گئیں لیکن معذرت کیساتھ احتجاج کی نمائندگی کرنے والے علی وزیر اور محسن داوڑ زندہ وتابندہ ہیں۔ شمالی وزیرستان کے ڈاکٹر گل عالم وزیر پہلے بھی اپنے قبیلے کے بڑے خان تھے اور آج بھی ہیں۔ پہلے طالبان کے ساتھی نہیں بلکہ بہت بڑے دلال تھے اور اب PTMکے بڑے رہنما ہیں۔ پہلے مذہب کے نام پر امریکہ نے پختونوں کا کباڑا کیا تھا اوراب قوم پرستی کے نام پر کررہی ہے۔ وائس آف امریکہ ، BBCاور اسکے تمام ذیلی ذرائع ابلاغ کے ادارے قوم پرستی کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں۔ پختون اب مذہب نہیں تو قوم پرستی کے نام پر ایک دفعہ پھر قربانی کیلئے تیار ہورہاہے لیکن جب اس دام کا شکار ہوںگے تو اپنی تمام کوتاہیاں دوسروں کے کاندھے پر ڈالیںگے۔ میرا وائس آف امریکہ نے انٹرویو لیا لیکن نشر نہیں کیا گیااور میں نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ نشر نہیں ہوگا، جس طرح جیو نے ہمارا پروگرام ریکارڈ کرنے کے بعد نشر نہیں کیا۔
ہماری ایک عزیزہ اور رشتہ دار نے اپنے لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے خون میں نہلادیا اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ وہ دوسروں کیلئے فسادی کا کردار ادا کرسکتا تھا۔ بھارت میں بھی ISISداعش والے پہنچے ہیں تو کیا بھارت نے ان کو اپنا مہمان ٹھہرایا ہواہے؟۔ اگر بھارت کی ریاست مسلمانوں کو تباہ کروانے کیلئے یہ سب کچھ امریکہ کے کہنے پر کررہی ہے تو مسلمانوں کو خود استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور جب داعش کا دہشتگرد پکڑا جائے اور بیگم صاحبہ کہے کہ ” دہشت گردی کا منصوبہ تھا اور میں منع کررہی تھی لیکن میری بات نہیں مانی اور اب اس کو معاف کیا جائے”۔
وزیرستان وقبائل میں پہلے بھی اغواء برائے تاوان وقتل کے کیس ہوتے تھے پھر طالبان کو ایکس ٹینشن ملی تو اپنی فطرت دکھادی۔ دیپالپور پنجاب میں بال بچے دارخاتون ایڈوکیٹ دوسری مرتبہ اغواء ہوئی تویہ ریاستی سازش ہے؟۔ بلوچوں کے گھر جلانے والے پشتو زبان بولتے ہیں۔ میرے دوست واحباب بلوچ بھی ہیں۔ ایک تعزیت میں بیٹھاتھا ۔ پختونوں کا بلوچوں کے ہاتھ قتل بڑی خبر تھی۔ بلوچوں نے کہا کہ یہ ایجنسیوں کا کام ہے۔ میں نے کہا کہ میری گھر والی کا چاچا تربت کا بلوچ ہے ، اس کو پٹھان سمجھ کر بلوچ قتل کررہے تھے۔اپنی غلطی کو ایجنسی کے سر ڈالنا مسئلے کا حل نہیں ۔ایف سی میں وہی لوگ بھرتی ہونگے جن کا کوئی قتل ہواہوگا۔ وزیرستان میں فوج پرحملہ ہوا تو منظور پشتین کے پڑوسی نے بتایا کہ” ایک پنجابی سپاہی شعبان زندہ بچا تھا تو اس نے PCOسے ماموں کو فون کیا کہ قید ہوں، میری ماں کو نہیں بتانا۔ اس خون خرابے کے بعد طالبان سے نفرت ہوگئی”۔اگر اس وقت محسود قوم اٹھ کر دہشتگردی کا خاتمہ کرتی تو بہت برے دن نہ دیکھنے پڑتے۔
جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر اور سپاہ ِ صحابہ کے مولانا نیاز محمد ناطق بالحق سے میری جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اچھی دوستی تھی۔ مولانا مسعود اظہر کہہ سکتا ہے کہ ”میری پچھاڑی اللہ نے بنائی ہے تو کیا اس کا تقدس کعبہ سے زیادہ ہے؟”۔ چوتڑ کو خوشبو لگانے والا ابوجہل فصاحت وحکمت کی بات کرتا تھا لیکن مؤمن عزت کو اللہ نے اپنی عطاء قرار دیاہے ۔ ایک بلوچ بڈھا غصے میں کعبہ مادر، کعبہ مادر کہتا تھا تو ایک چھوٹی بچی نے پوچھا کہ اسکا کیا مطلب ہے؟۔ اس نے کہا کہ مجھے کیا پتہ؟۔ ہندوستان میں امریکہ داعش کے ذریعے دہشت گردی پھیلائے۔ اور ہمارا مولانا مسعود اظہر کعبہ مادر اعتراف کرکے احسان اللہ احسان کی طرح محفوظ مقام پر جائے پھر پتہ چلے کہ امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر نے پاکستان کی ریاست اور بھارت دونوں کو تباہ کرنے کیلئے اپنا پلان بناکر ڈرامہ رچایا تھا۔ فوجی افسران غداری میں تختہ دار پر چڑھ گئے مگریہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا کے امریکی ایجنٹوں کو جب ہماری ریاست نہیں پکڑ سکتی ہے تو فوج میں بیٹھے ہوئے لوگ کس طرح سے کسی کے دسترس میں آسکتے ہیں؟۔بھارت میں مولانا مسعود اظہر آزادی سے ہر ہفتے حالاتِ حاضرہ پر ضربِ مؤمن میں لکھتاتھا، اس سے سازش کی بد بوآرہی تھی۔بھارت میں بھارتی ریاست، امریکی سی آئی اے اور وہ مسلمان خاندان جو داعش کیلئے کام کرتا ہے سب ملکر بھارت اور مسلمانوں کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں لیکن مسلمان سیدھے ہیں۔
وزیرستان کی عوام اور منتخب نمائندے پاک فوج کیساتھ مل کر کھلے عام اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھیں۔ حکومت، فوج اور عوام ایک پلیٹ فارم پر مجرموں کو پکڑیں اور کسی بھی ایسے گڈ یا بیڈ کو اجازت نہ دیں جو اپنے ماں باپ سے الگ رہتا ہو۔ جب عوام ریاست کیساتھ بھرپور تعان کرینگے اور اپنے بھائی، بچے اور احباب دہشت گرد کو اپنے ہاتھوں سے انجام تک پہنچائیںگے تو امن وامان کا معاملہ بالکل حل ہوگا۔
بلوچ بڑی تعداد میں مرکھپ گئے اور اب آئندہ اپنی نسل بچانے کی فکر میں لگ گئے ہیں۔ ایک بے گناہ بلوچ سے پہلے ایک بے گناہ پشتون کے قتل پرردِ عمل آتا تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔وزیرستان میں قتل وغارت کے شروع میں طالبان پر قابو پایا جاتا تو اتنی تباہی وبربادی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ PTMکے لوگوں کو پتہ ہے کہ صرف فوج کی مخالفت سے طالبان ان کی حمایت کرینگے لیکن جب دوبارہ قومیت کے نام پر یہ کھیل شروع ہوگا تو کسی کے پاس جنت میں جانے ، حوریں پانے کا بھی کوئیسرٹیفکیٹ نہیں ہوگا۔ پشتون غیرت کے نام پر اپنی بیٹیوں، بہنوں، بیویوں اور ماؤں کو اسلامی حقوق دینا شروع کریں تو اس جبر سے نکلنے میں مشکل نہیں ہوگی جو ہم اور پوری دنیا پر مسلط ہے۔ کہیں ایک اور ڈرامے کاہم شکار نہ ہوجائیں۔
فیزبک پر پڑھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں
پختونخواہ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے تجاویز

سندھ کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کیلئے ایک تجویز!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
سندھی و مہاجر اپنی الگ الگ تہذیب وتمدن کیساتھ رہتے ہیں۔ مہاجر وطن ہندوستان چھوڑ کر سندھ میں آباد ہوئے اور سندھی پرانی تہذیب کیساتھ رہتے ہیں۔ ایک شیعہ بچہ داد لینے کیلئے کہتا ہے کہ لیڈر دو تھے، ایک محمدۖ اور ایک حسین ۔ جب محمدۖ نے دن کے وقت لوگوں کو بلایا تو کوئی نہیں آیا اور حسین نے رات کی تاریکی میں جانے کا کہا تو کوئی نہیں گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑا لیڈر کون تھا؟۔
مہاجر بے وطن نہیں،پوراپاکستان مہاجر کا وطن ہے۔سندھی، پنجابی، پختون اور بلوچ اپنے اپنے علاقوں میں رہ سکتے ہیں اور ایکدوسرے پر اپنے علاقوں میں بھی رہائش کے دروازے بند کرسکتے ہیں۔ لیکن مہاجر پورے پاکستان کے باسی ہیں۔
مہاجرصوبہ سندھ کی تقسیم پر بن سکتا ہے جو سندھیوں کیلئے قابلِ قبول نہیں۔ اگر کراچی کو صوبہ بنالیا تو سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں فساد بھڑک سکتے ہیں۔ بھارت سندھ سے لگا ہے۔ فسادات کے بعد بنگلہ دیش جیسی صورتحال سندھ میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ کچھ کٹھ پتلی قسم کے سمیع ابراہیم جیسے صحافی خود کو ملٹری اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنٹ ظاہر کرکے نادانستہ طور پر پاکستان کو بحران کی طرف گھیسٹ رہے ہیں۔ فواد چوہدری نے بہت غلط کیا ہوگا کہ اسکے چشمے کو مکا مار کر توڑ دیا تھا لیکن ایسی حرکت نہیں کرنا چاہیے کہ غلط تجاویز اور پروپیگنڈے سے ملک وقوم کو نقصان ہوجائے۔
رسول بخش پلیجو کے گلے شکوے سوشل میڈیا پر پھیل گئے تو انور مقصود نے بھی بہت اچھا بیان لکھ کر مہاجر بھائیوں کو حقائق سمجھانے کی زبردست کوشش کی۔ معاملہ اس وقت صلح ، امن و آتشی اور بھائی چارے کی طرف آئیگا کہ جب ایک دوسرے کی خوبیوں اور فوائد کی طرف نظر کرینگے اور اپنی خامیوں کو اجاگر کرکے اپنی قوم سے ہوا نکالیںگے۔ جب مہاجر صوبے کی بات عروج کی طرف بڑھ رہی تھی تو ایک عورت یا لڑکی کی طرف سے سوشل میڈیا پر بیان آیا جس نے اپنا تعلق حیدر آباد سے ظاہر کیا تھا اور سوشل میڈیا پر جعلی ایڈرس بھی ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق الطاف بھائی سے تھا۔ اور بہت مؤثر تحریر لکھی تھی کہ ” اپنا صوبہ بنانے سے اگر مسائل حل ہوتے تو بلوچستان اور پختونخواہ کے لوگ خوشحال ہوتے اور ریاستی جبر اور غلامی کا رونا نہ روتے۔ مہاجروں کو کراچی الگ صوبہ بناکر دیا تو ان کو مزید زیادہ مار پڑے گی۔ یہ بالکل کٹھ پتلی بن کر رہ جائیںگے۔ ہم پاگل نہیں کہ مہاجر صوبہ بنائیںگے بلکہ ہم الطاف بھائی کی قیادت میں سندھو دیش بناکر دم لیںگے”۔ الطاف بھائی کے کارکن عتاب میں ہیں اور ان سے اس قسم کے بیانات خلافِ توقع نہیں۔ پھر الطاف بھائی کا بیان بھی سامنے آگیا ،جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ”ہم نے پہلے بہت بڑی غلطی کردی کہ اپنا وطن ہندوستان چھوڑ دیا ۔ اب ہم سندھی ہیں، ہمارا کوئی دوسرا وطن نہیں ، سندھ سے غداری کی غلطی نہ کرو”۔ یہ معمول کی بات لگی کہ الطاف بھائی ہر اس قدم کی مخالفت کرینگے جسکے پیچھے وہ خود اور اس کی پالیسی کا عمل دخل نہ ہو۔ پھر ہندوستان کی اسمبلی میں پہلی بار سندھی زبان میں تقریر ہوئی اور ایک کروڑ سندھیوں کی ہندوستان میں نشاندہی اور سندھ کے مشترکہ اقدار منجو دھڑو وغیرہ کا ذکر کیا گیا۔ ہندوستان کے پنجاب میں سکھوں کیساتھ پہلی مرتبہ مراسم قائم کئے گئے۔ امریکہ کا حکمران طبقہ اسلحہ سازوں کا ایجنٹ ہے اور اس خطے کے ٹکڑے کرکے گریٹ پنجاب کیساتھ سندھ ، بلوچستان اور پختونخواہ میں بڑے پیمانے پر خونریزی کا چکر چلانا چاہتا ہے۔ ریاست کے دلال قوم پرستوں پر ایجنٹ کا الزام لگاکر خونریزی کی راہ مزید ہموار کررہے ہیں اسلئے کہ ایجنٹ ہونے کا کردار سب سے زیادہ پاکستان کی ریاست نے ادا کیا ہے۔
جب تک ہماری ریاست ہوش کے ناخن نہ لے اور عوام میں بیداری کی لہر نہ دوڑائی جائے ہم ایک نامعلوم اور بہت خطرناک منزل کی طرف جارہے ہیں۔ ایک نوکر پیشہ ملازم اور کٹھ پتلی سیاستدان کو اپنے ماحول کے نشے میں بات اسوقت تک سمجھ نہیں آتی جب تک اس کو سرکے بل پٹخ کر اس کی دنیاتبدیل نہیں کی جاتی۔ ہنوز دلی دور است ۔ ”ابھی دہلی دور ہے ” کی کہاوت بہت پرانی مشہور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کا زبردست نقشہ سورۂ نور میں کھینچاہے واذادعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم مغرضونO ” اور جب ان کو اللہ اور اسکے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ ہو تو ان میں ایک گروہ ٹال مٹول کرتا ہے” ۔ سندھ لینڈمافیا کا مرکز ہے۔ پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ سیکولر ازم ہے۔ اسلامی سوشل ازم کا نعرہ بھٹو نے لگایا تھا۔ آج قرآن وحدیث اور فقہ کے جمہوری مسالک کے مطابق مزارعت کا نظام سندھ میں ختم کیا جائے تو پورے پاکستان نہیں بلکہ دنیا میں انقلاب آئیگا۔ مزارعین کو مفت کی زمین کاشت کیلئے مل جائے تو سندھی عوام کی تقدیر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ عوام کو اسلام بھی چاہیے اور اپنا مفاد بھی اور اسلامی مزارعت میں دونوں باتیں ہیں لیکن سیاسی پارٹیاں اور اسٹیبلیشمنٹ دونوں اس میں وہی فریق ہیں جو اسلام سے اعراض میں قومی مفادات کو نظر انداز کرکے اپنے ذاتی وخاندانی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
اللہ اگلی آیات میں فرماتا ہے کہ ” اگر بات انکے حق میں ہو تو اس میں مطیع اور فرمانبردار ہونے کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا انکے دلوں میں مرض ہے یا یہ شک میں ہیں؟ یا ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اسکے رسول ان پر خوف مسلط کردیںگے؟۔ بیشک یہی لوگ ظالم ہیں۔ مؤمنوں کی بات یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ انکے درمیان فیصلہ ہو تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اطاعت کرلی۔ اور یہی لوگ فلاح والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے اور اللہ سے ڈرے اوراس کا پرہیزگار بنے تو یہ لوگ کامیاب ہیں اور یہ لوگ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیںکہ ان کو آپ حکم دو تو سب گھروں سے قربانی کیلئے نکل کھڑے ہونگے ،ان کو کہہ دیجئے کہ قسمیں مت کھاؤ، معروف اطاعت کرو، بیشک اللہ جانتا ہے جو تم عمل کررہے ہو۔ ( سورۂ نور آیات۔ آیات48تا53)
جو عام معاملات میں لینڈ مافیا، کرپشن، ظلم وجبر اور ہرطرح کی حرام زدگیوں میں ملوث ہیں وہ ملک وقوم اور اسلام پر مشکل وقت آن پڑنے پر قربانیوں کی قسمیں کھاتے ہیں اور جوش وجذبے کے مظاہرے کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ پر تھپڑ مارا ہے کہ قسمیں مت کھاؤ، معروف اطاعت کرو۔ وقت پر تمہارے بدلنے کی ضمانت تمہاری قسمیں اور عہدوپیمان نہیں ۔ جسکا تم نے حلف اٹھایا، اس کی پاسداری بھی تم سے نہیں ہوتی۔ جب قوم کو محکوم، مجبور، مظلوم اور بہت پسماندہ رکھا جاتا ہے تو ان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ایک حکمران اپنی جگہ سے ہٹ جائے اور دوسرا آجائے۔ بنگلہ دیش پاکستان کی بنیاد تھا لیکن پھر آزاد ہوگیا تو آج خوشحال ہے۔ مزارع مزارع ہی رہے گا تو وہ ملک وقوم کیلئے کیوں قربانی دے گا؟۔ محنت کش خون پیسنے کی کمائی سے پیٹ نہیں پال سکتا تو کیوں بیوقوف بنے گا کہ سیاستدان نے ملک کو لوٹا ہے یا فوجی اسٹیبلیشمنٹ، عدالتی اسٹیبلیشمنٹ اور سول اسٹیبلیشمنٹ نے؟ اور کس کی حکومت آئے اور کس کی جائے؟۔ یہ درست ہے کہ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں بیرونی اور اندرونی قرضے نہیں بڑھے لیکن دونوں ادوار میں امریکہ کی جنگ لڑکر قوم کا اخلاقی اور جسمانی دیوالیہ بھی نکال دیا گیا اور افراد نے بہت کمایا لیکن قوم کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔ مہاجر سندھی بھائی بھائی زندہ پائندہ باد

بلوچستان کے مسائل کی بنیاد اور انکے حل کی ایک تجویز

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
حیات بلوچ کا بے گناہ قتل پوری پاکستانی قوم کا قتل ہے، تمام بلوچوں کا قتل ہے اور سب بے گناہوں کا قتل ہے اور پوری انسانیت کا قتل ہے۔ ایک جوان کی وجہ سے ماںباپ کا گلستان اُجڑتاہے ،بیوی بچوں کی دنیا برباد ہوجاتی ہے۔ انسان کوئی بھی ہو اسکے قتل سے زمین وآسمان پر اس وقت لرزہ طاری ہوتا ہے جب اس بے گناہ کے خون سے زمین رنگین ہوجاتی ہے۔ اسی لئے تو اللہ کی بارگاہ میں فرشتوں نے کہا تھا کہ زمین میں فساد پھیلانے اور خون بہانے والی قوم کو کیوں پیدا کررہے ہو؟۔
کعبہ کا مقام ہے کعبہ حضرت ابراہیم نے بنایا، انسان کو اللہ نے بنایا ہے۔ حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ کی لشکر کشی پر خون خرابے کا ماحول پیدا نہ کیا تو اللہ نے ایسا پوتا دیا جو رحمة للعالمینۖ کے نام پر دنیا کیلئے اُسوہ ٔ حسنہ ہے۔ آپۖ نے حضرت امیرحمزہ، سیدنا فاروق اعظم، علی حیدر کرار وابوبکر صدیق اکبر اور حضرت عثمان جیسے جانثاروں کے ہوتے ہوئے مکہ میں خون خرابے کے بجائے ہجرت کو ترجیح دی۔ صلح حدیبیہ کے معاہدے میں دس سال تک خانہ کعبہ کو 360 بتوں کی بھرمار کے باوجود مشرکینِ مکہ کے حوالے کیا۔ جب ابوجہل نے نبیۖ کو گالی گلوچ دی تو امیر حمزہنے ابوجہل کو للکارا کہ ” او چوتڑ پر خوشبو لگانے والے بزدل! تجھ میں یہ ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بھتیجے کو گالی دی”۔ (سیرت النبی ۖ:الرحیق المختوم)
حضرت عمر اسکے بعد اسلام لائے اور اس وقت حضرت امیر حمزہ نے اسلام کو قبول بھی نہیں کیا تھا۔ اگر اس وقت مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوتا تو دہشت سے لوگوں کا بہت برا حال ہوسکتا تھا لیکن مکی دور میں جہاد کی اجازت نہیں تھی۔ فاروق اعظم نے اسلام قبول کیا تو اعلانیہ آذان بھی دی اور ہجرت بھی اعلانیہ کی تھی۔ چھاپہ مار جنگ کی اجازت ہوتی تو بدر میں مردار ہونے والے سردار مکی دور میں مارے جاچکے ہوتے۔
حیات بلوچ کی شہادت پہلی نہیں، بہت بڑی تعداد میں بلوچوں کے جوان بوڑھے، خواتین اور بچے شہید ہوئے ہونگے لیکن حیات کیمرے کے سامنے آگئے اور بہت ساروں کی تشدد زدہ لاشوں پر کوئی آواز بھی نہیں اُٹھ سکی۔ وجہ یہ ہے کہ جب ریاست کیخلاف کچھ نوجوانوں نے ہتھیار اُٹھالئے۔ ان کا بس چلتا ہے تو ریاستی اہلکاروں کو مارنے میں آسرا نہیںکرتے ۔جب ریاستی اہلکاروں کی زد میں آتے ہیں تو ریاست بھی ان سے دشمنوں جیسا رویہ روا رکھتی ہے۔ عدالت ، قانون اور انسانیت کی جگہ چھاپہ مار کاروائیاں ہوںتو زور آزمائی میں ایکدوسرے سے آگے نکلناہوتا ہے۔ کب تک یہ جنگ جاری رہے گی اور مزید کتنے بے گناہ اس جنگ کی آگ میں جھونک دئیے جائیںگے؟۔ اسکے آغاز اور خاتمے کا کچھ پتہ نہیں۔ اللہ کرے کہ ظالم اپنے ظلم سے رُک جائے ،حق وصداقت اور امن وامان کا پرچم جلد بلند ہو۔
آصف علی زرداری جب صدر مملکت اور پاک فوج کے آئینی سربراہ تھے تو انہوں نے بلوچوں سے معافی مانگ لی تھی مگر کس بات پر معافی مانگی تھی،اس کی کوئی خبر کسی کو نہیں ۔ جب تک پتہ نہ چل جائے کہ جرم کیا تھا؟۔ اس وقت تک اس معافی میں کوئی وزن بھی رہتا ہے۔ پھر تو استغفار اللہ ہی کی بارگاہ میں کرنا چاہیے۔ بندوں سے معافی مانگی جاتی ہے تو جرم کے ارتکاب پر ہی مانگی جاتی ہے۔
جب ذوالفقار علی بھٹومرکز میں وزیراعظم ،بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل اور پختونخواہ میں مفتی محمود وزیراعلیٰ تھے تو بھٹو نے بلوچستان اسمبلی توڑ کر گورنر راج قائم کیا ۔عطاء اللہ مینگل کو ہٹاکر اکبربگٹی کوگورنر بنادیا ۔ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کو ہٹا کٹھ پتلی گورنر نامزد ہوا، اسلئے کہ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی اکثریت کو حکومت کا حق تھا۔ مفتی محمود نے ساز باز کرکے بلوچستان میں حکومت نیشنل عوامی پارٹی کو دی اور خود سرحد کے وزیراعلیٰ بن بیٹھے۔ اگر بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی حکومت بنتی اور سرحد میں نیپ کاوزیر اعلیٰ خان عبدالولی خان ہوتے، تو جس طرح پنجاب سرکاری مسلم لیگ کا مرکزتھا اور سندھ پیپلزپارٹی کا مرکز ہے،اسی طرح پختونخواہ عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان جمعیت علماء اسلام کا مرکز بنتے۔ اگر یہ مفاد پرستی کی ساز باز نہ ہوتی تو آج پختونخواہ میں مذہبی جماعتوں کے بجائے قوم پرستوں کی حکومت ہوتی اوربلوچستان میں جمعیت علماء اسلام اور مذہبی جماعتوں کا اقتدار رہتا سرحد میں کٹھ پتلی حکومت مذہب کے نام پر قائم ہوئی اور بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت قوم پرستی کے نام پر قائم ہوئی تو کٹھ پتلی تماشے کا جمہوری بنیادوں پر آغاز ہوگیا۔ جمہوریت کٹھ پتلی بن گئی تو قوم پرستوں نے اقتدار کیلئے ریاست سے قوم کو لڑانے پر غور شروع کیا اور مذہب پرستوں کے دماغ میں دہشت گردی نے جنم لیا۔
مریم نوازکے شوہر صفدراعوان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”ذوالفقار علی بھٹو نے مرزائیوں کو کافر قرار دیا ، بھٹو شہید کو سلام پیش کرتا ہوں، فوج میں قادیانی بھرے پڑے ہیں، بھٹو کو قادیانیوں نے شہید کیاہے”۔
کوئی صفدر اعوان سے یہ پوچھنے والا نہیں تھا کہ جس بنیاد پرجنرل ضیاء الحق کی مخالفت کرتے ہو، اسی کی پیداوار تمہارا یہ ٹبر ہے جس میں نوازشریف،شہباز شریف اور مریم نواز شامل ہیں، اگر بھٹو کو جنرل ضیاء الحق پھانسی نہ دیتا اور شریف برادران کی سیاسی پرورش نہ کرتا تو آج ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اعوان کسی پرائیویٹ کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کی خدمت انجام دے رہا ہوتا۔ اگرکیپٹن صفدر اعوان میں سیاسی بصیرت ہوتی تو وہ قومی اسمبلی کے فلور پر بیان دیتے ہوئے کم ازکم حقائق پر بھی بہت غور کرتے۔
حیات بلوچ شہیدکے پسِ منظر میں کٹھ پتلی قوم پرست سیاسی لیڈر شپ کا دامن بھی صاف نہیںہے۔ ریاست سے ملی بھگت کیساتھ خون دینے اور خون لینے کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے محفوظ مقامات پر بیٹھ کر پالیسی بیانات دینے کا معاملہ ہے۔ آزاد بلوچستان کا خواب دیکھنے والے اب درست کہتے ہونگے کہ ریاست بلوچوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے لیکن اپنا اور اپنے بچوں کو جنگ سے دور رکھ کر جنگ کی حمایت کرنے والے بھی معصوم خون کو بہانے میں بالکل برابر کے شریک ہیں۔ کوئی شک وشبہ نہیں کہ بلوچ بہادر، انسانی اقدار کے سب سے بڑے محافظ اور بہت شریف ، باغیرت، باضمیر اور سیاسی سمجھ بوجھ سے مالا مال لوگ ہیں ۔ ان کی جرأتمندی ، بہادری اور غیرت بہت مثالی ہے اور پاکستان میں قوم کی حیثیت سے یہ لوگ ہی سب سے زیادہ احترام ، عزت اور بہت پیار دینے کے لائق ہیں۔ ریاست کے کرتوت ایسے ہیں کہ اگر اتنی غیرت دوسری قوموں پنجابی، سندھی اور پختون میں ہوتی تو بنگلہ دیش سے بہت پہلے ہندوستان کی مدد سے نہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر فوج، پولیس، عدالت اور سول بیوروکریسی سمیت سب کو پکڑکر انگریز کی غلامی سے آزادی دلانے میں ستر سال ضائع نہ کرتے۔ قبائل مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کی فوج سے آزاد کرسکتے تھے تو کیا اتنی بڑی عوام اپنی ریاست کو سیدھا نہیں کرسکتی تھی؟۔
بلوچوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ بندوق رکھ کر سیاسی راستہ اپنائیں تاکہ بلوچ قوم خونریزی کے اس عذاب سے نکل جائے اور اچھا انقلاب برپا ہوجائے۔ اسلامی منشور سے عرب کے صحراء سے نکلنے والے تہبند کے لباس میں ملبوس ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں۔ آج بھی حج وعمرہ کیلئے احرام تہبند کا لباس پہننا پڑتاہے تو بہت بڑی بڑی گھیر والی شلوار پہننے والے غیرتمند بلوچ بھی اسلام کی بنیاد پر دنیا فتح کرسکتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فتح مکہ کیلئے سب سے بڑی بنیاد بن گیا تھا کہ نہیں؟۔

مریم نواز شریف اور نیب کا کیس کیاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
نوازشریف نے اپنے دورِ حکومت میں سیاسی ٹرک استعمال کرتے ہوئے جو رائیونڈ کی زمینیں سستی کرکے مریم نواز کے نام پر لیں تھیں تو اب بدمعاشوں کو اکٹھا کرکے نیب کے دفتر میں سرکاری افسران کو ہراساں کیا گیا ہے۔ جس ملک میں جج بک جاتے ہوں۔ کسی کے خلاف کیس کی سماعت ہورہی ہو اور وہی جج عمرے ساتھ کرتا پھرے۔ کھانوں کی نشست میں رہائش گاہوں پر اسکے حق میں ویڈیو بنائے۔ پھر کسی اور سے خیر کی توقع کیا کی جاسکتی ہے؟۔
پاکستان زرعی ملک ہے ۔یہاں خوراک سب سے زیادہ سستی ہوسکتی ہے۔ جس طرح عرب میں تیل سستا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے کہ جسکا آئین اسلامی و جمہوری ہے۔ جب قرآن میں سود کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہۖ نے زمین کو مزارعت پر دینے کو سود قرار دیتے ہوئے منع فرمایا۔ کئی احادیث ہیں جہاں زمین کو مفت دینے یا اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب پاکستان میں محنت کشوں کو مفت زمینیں دی جائیںگی تو محنت کش طبقہ عروج وترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
علامہ اقبال نے اسلئے یہ نظم ” فرشتوں کے گیت” کے نام پر لکھی تھی کہ دنیا کی تاریخ میں کمیونزم ایک بڑا انقلاب برپا کرنے جارہا تھا۔ مولانا محمد علی جوہر اور اسکے بھائی کا اخبار بھی ” کامریڈ” کے نام سے نکلتا تھا۔ جنہوں نے خلافت کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلائی تھی۔” اماں بولی ۔جان بیٹا خلافت پر دے دینا” انہی کی ماں تھی۔
مولانا ظفر علی خان کا اخبار ” زمیندار” اور مولانا حسرت موہانی بھی مسلمان کمیونسٹ تھے۔ کانگریس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ ” انگریز کی دی ہوئی جاگیر آزادی کے بعد بحقِ سرکار ضبط ہوگی ، اسلئے کہ انگریز کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہندوستان کی زمین اپنے وفاداروں اور اپنی قوم کے غداروں میں تقسیم کرے”۔ پاکستان کے خانوں، نوابوں اور جاگیرداروں نے اسلام کی خاطر نہیں اپنی جائیداد کے تحفظ کیلئے تقسیم ہند اور پاکستان کا ایجنڈہ قبول کیا تھا۔جب پاکستان پر مختلف مافیاز نے قبضہ کرنا شروع کیا تو لینڈمافیا اور سیاستدان ایک نئی شکل میں میدان کے اندر اترے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کوئی عالم دین یاپی ایچ ڈی ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔ ان کا خلوص، زبان کی فصاحت اور ایمان کا جذبہ اپنی جگہ پر لیکن انہوں نے کہا کہ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام مالک کی رائے تھی کہ مزارعت جائز نہیں ۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے ،جب بات رائے کی آتی ہے تو پھر سود کی لعنت کو بھی رائے سے جواز مل جاتا ہے۔جو اللہ اور اسکے رسول ۖ کیساتھ اعلان جنگ ہے۔
جس دن پاکستان میں اتنی تھوڑی سی قربانی دیدی کہ جاگیرداروں کو مجبور کیا کہ اپنی زمینیں خود کاشت کرو یا مزارعین کو مفت میں دو تو روس کا راستہ دنیا نے آخر روک لیا مگر پوری دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا۔ جب کوئی کاشتکار اس قابل بن سکے گا کہ وہ اپنا سہل کاروبار کرسکے تو اپنے بچوں کو کاشتکاری کی مصیبت میں ڈالے گا۔ یہ اللہ کی زمین مخلوقِ خدا کیلئے غریب سے امیر بننے کا بہت بڑا ذریعہ بن جائیگی۔ حسن نواز، حسین نواز اپنی زمینیں خود کاشت کرینگے تو صحت بھی اچھی بن جائے گی۔کاشکاروں کی جگہ بلاول بھٹو ، بختا ور اور آصفہ کھیتی باڑی کرتے تو غریبوں کے دکھ درد کا پتہ چل جاتا۔ پاکستان خوراک کی ایکسپورٹ سے امیر بن جاتا۔

دنیا نئے نظام کی تلاش میں پھر جنگ کے دھانے پر؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
امریکہ اور چین میں دنیا کی معاشی سرگرمی پر ایکدوسرے سے جنگ ایک نئی صورتحال کو جنم دے رہی ہے۔ قرآن میں سورۂ نمل موجود ہے جو اس چیونٹی کے نام پر ہے جس نے اپنی قوم کو آواز دی کہ” اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ، سلیمان کا لشکر آرہاہے ۔وہ تمہیں کہیں پاؤں تلے روند نہ ڈالے”۔ اپنی قوم کے مفاد میں یہ تاریخی جملہ چیونٹی کی زباں سے نکلا تو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک قرآن میں اس کواتنی عزت بخشی کہ انسانوں کیلئے ایک عمدہ مثال بنادیا۔ مقتدر طبقات کی حالت اور سوچ یہ ہے کہ جب عالمی جنگ میں ہماری حیثیت چیونٹیوں کی ہے تو کس لشکر کے بوٹوں سے چمٹ کر فوجی لنگر سے کچھ بچی کھچی خوراک مل سکتی ہے؟۔ روس اور امریکہ کی جنگ تھی تو یہ امریکہ کیساتھ کھڑا تھا اور افغانستان و بھارت روس کیساتھ کھڑے تھے۔ آج امریکہ نے بھارت کو اپنا گودی بچہ بنالیا تو پاکستان کسی دوسری گود کی تلاش میں ہے۔
جب کعبہ پر ہاتھیوں سے حملہ ہورہا تھا تو رسول اللہۖ کے دادا عبدالمطلب نے کہا تھا کہ ”میں اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کررہا ہوں، کعبہ کا مالک اس کی خود ہی حفاظت کریگا ۔ میرے لئے اونٹ تلاش کرکے کوئی نہیں دے گا”۔ بت شکن ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی بنیاد پر کعبہ کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن اس میں 360بت نصب کردئیے گئے تھے۔ رسول اللہۖ کی بعثت ہوئی تو کعبہ کو بتوں سے بھرا ہوا چھوڑ کر مدینہ ہجرت اختیار کرلی۔ بدر اور احد کے غزوات کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی کیا تھا لیکن آخر فتح مکہ پر بات پہنچ گئی۔ جب عرب کو شرک کی جگہ توحید، جاہلیت کی جگہ اسلام اور انسانیت کا سبق مل گیا تو وہ دنیا کے امام بن گئے۔ ہم دوسروں کی جنگ بھی قومی مفادات کے نام پر لڑتے ہیں لیکن جب بلی تھیلی سے باہر نکلتی ہے تومعاملہ کچھ اور ہوتا ہے۔ افغان وار امریکی سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے لڑی لیکن پاکستان کے فوجی حکام آرمی چیف، صدر ،امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل اختر عبدالرحمن سمیت حادثے کا شکار ہوئے تو نتیجے میں کوئلے کی دلالی کی بات کرنے والے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھ میں کیا آیا تھا؟۔ البتہ اختر عبدالرحمن نے اپنی اولاد کیلئے حق حلال کی وہ کمائی چھوڑی جو امریکہ نے جنگ کیلئے بھیجی تھی۔
ایک تبلیغی جماعت کا فرد کہہ رہاتھا کہ ”ہم کیسے مسلمان ہیں۔ امریکہ سات سمندر پار سے افغان مہاجرین کیلئے امداد اور خوراک بھیجتا ہے اور ہم یہاں کھا جاتے ہیں؟”۔ رستم شاہ مہمند اور اوریا مقبول جان ان مذہبی خطیبوں کی طرح ہیں جن کو اچھا معاوضہ ملتا ہے تو بہت اچھے جذبے ، جوش وخروش اور ایمانی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ عناصر کو اپنوں اور بیرونی امداد نہیں ملے تو پھر اس جوش سے فسادات تک بات نہیں پہنچے گی۔ ہماری ریاست نے دوسری مرتبہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ مل کر طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ لڑی۔ پوری قوم تباہ ہوگئی لیکن آسٹریلیا میں جزیرہ خریدنے کی خبر اشفاق پرویزکیانی کی بتائی جاتی ہے۔ جو پرویز مشرف کے دور میں آئی ایس آئی کا چیف تھا اور آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ مدت پوری کرنے کے بعد دوسری مدت کیلئے بھی آرمی چیف بنادیا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قوم کو طبقاتی تقسیم میں گھسیٹنے کی بجائے اپنی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہماری اپنی حالت صحیح ہوگی تو ہم ہر جگہ سرخرو اور خوشحال ہوں گے۔

پچھلے 41برس سے پاک افغان تعلقات کی ایک داستان: سید عثمان الدین گیلانی

میرا تعلق پکتیا صوبے افغانستان سے ہے اور میں ایک سید خاندان سے ہوں ہمارے آباؤ اجداد کی پشتون عورتوں سے شادیاں ہوتی چلی آرہی ہیں۔ میرے بڑے چاچا کی کابل میں سپیئر پارٹس کی دکان تھی جو وہ جرمنی سے امپورٹ کرتے تھے اچھا خاصا کاروبار جاری تھا روسیوں نے جب ملک پر قدم رکھا تو دکان کم داموں میں فروخت کرکے ان کے خلاف جنگ میں لوکل عوامی لوگوں کے کمانڈر بنے پشاور میں مجاہدین کے لیڈرز کے دفاتر ہوا کرتے تھے جہاں سے ان کو اسلحہ ملتا تھا چند دفعہ وہاں جا کر ہی چاچا جو معاملات سے پتہ چل گیا تھا کہ یہاں تو لیڈرز اپنے مفاد کے بندوں کو رکھتے ہیں اور اسلحہ دینے میں اپنی چوری کرتے ہیں۔ بہرحال اس نے جنگ جاری رکھی جنگ کے دوران ہمارے خاندان نے کرم ایجنسی ہجرت کی تھی اور اللہ کے فضل سے لوکل لوگوں سے بہت اچھی دوستی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے عزت کے میدان میں علاقے میں شہرت بھی دی تھی۔جس کا ثبوت یہ تھا کہ سن 2000 میں جب ہم افغانستان واپس لوٹے تو دادا سے ملنے بہت سے کرم ایجنسی کے لوگ بھی آتے تھے۔ 1990 کے شروعات کے سالوں میں جب ڈاکٹر نجیب کی حکومت کا پانسہ الٹ گیا تو مجاہدین کے لیڈرز نے کابل کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے آپس میں سول وار شروع کی جن کی خودغرضی اور قتل و غارت دیکھ کر ہی میرا چاچا اس نتیجے پر پہنچا کہ جو جہاد ہم نے کیا وہ دراصل جہاد نامی فساد تھا۔ 2001 میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں پشاور آیا اور پڑھتے پڑھتے یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی میں” international relations ” نامی سبجیکٹ تھا جس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا۔ ہمیں 18 صدی کے فلاسفر Maciavelli کی فلاسفی متعارف کرائی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مقصد حاصل کرنے کیلئے انسان کو کوئی بھی ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے خواہ وہ غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیچرز ہمیں کہہ گئے کہ تب سے بین ال اقوامی تعلقات میں ” self interest first” کی ڈپلومیسی چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے پر آمادگی کے لیے جنرل ضیاء نے امریکہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جنگ جیتنے پر پاکستان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق formulate کرے جسے achieve کرنے کے لیے روس کے نکلنے کے بعد مجاہدین کو ڈاکٹر نجیب کے خلاف سپورٹ کیا گیا اور بعد میں 1996 کو طالبان موومنٹ تشکیل کیا گیا جو اسی سوچ کا تسلسل تھا۔
طالبان نے تاجک،ازبک اور ہزارہ جن کا ان سے طرز حکومت پر اختلاف تھا ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون ہی صرف اسلام کی پہچان قرار پائے اور تاجک، ازبک اور ہزارہ کے ساتھ نفرت پشتونوں میں پھیل گئی۔ جس کا ثبوت یہ تھا کہ نا صرف افغانستان کے پشتونوں میں منبر کے ذریعے یہ ذہنیت پھیل گئی بلکہ پاکستان میں بھی یہی حال تھا۔ مسلمان افغانستان سے آتے ہوئے لوگوں کو جب پولیس اور ایف سی گاڑی سے اتارتے تو پشتونوں کو چھوڑ دیتے اور تاجک،ازبک اور ہزارہ کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔ یہی حال شہروں میں رہنے والی ان اقوام کے افراد کا تھا نہ صرف پولیس بلکہ کچھ عوام بھی ان سے نفرت کرتی تھی۔ میں خود بھی اسی ذہنیت کا شکار تھا اور میں نے پشاور میں رہتے وقت تعلیمی اداروں میں ان کو کبھی دوست نہیں بنایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ بھی ایک تاجک ہی تھے۔ یہ سلوک دیکھ کر جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں ان لوگوں کی حکومت قائم کی تو انہوں نے صرف افغان پشتونوں سے بدلہ لینے کا بھرپور جذبہ دکھایا بلکہ پاکستان کے بارے میں بھی یہی حال رہا جسکا فائدہ انڈیا نے لیا۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان نے نہ صرف روس کے آنے سے قبل بار بار پاکستان کو دھمکیاں دیں بلکہ پاکستان بنتے وقت مخالفت بھی کی اور ان دونوں اطراف سے تلخی کی اصل بنیاد 1893 کی ڈیورنڈ لائن معاہدہ تھا جو انگریز چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے زندگی کے زیادہ تر ایام پاکستان میں گزارے ہیں اور افغانستان کو مکہ اور پاکستان کو مدینہ مانتا ہوں۔ پاکستان کے لوگ افغانستان کی نسبت زیادہ نرم طبیعت کے اور باشعور ہیں کیونکہ نہ صرف 300 سال انگریزوں کے ساتھ اور خلاف جدوجہد میں تحریکوں میں institution کا حصہ رہنے کے ساتھ ساتھ 73 سالہ پاکستانی جمہوریت سے گزرے ہیں بلکہ پاکستان زیادہ diverse اور جامع ہونے کے ناطے ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہے جبکہ افغانستان 18 صدیوں سے لیکر 1978 تک دو قبائل (درانی اور غلزائی) خاندانوں کی موروثی monarchies (شاہی حکومت)کا شکار رہا ہے اور جمہوری عمل اور سیاست سے عوام کو دور رکھا گیا تھا۔
1978 سے لے کر 2001 تک کمیونسٹ غلزائی پشتون تھے، ڈاکٹر نجیب بھی اسی قبیلے سے جبکہ ملا عمر درانی قبیلے سے تھا۔ کل اگر افغان یہ کہتے تھے کہ پاکستان پر انگریزوں نے حکومت کی ہے اس لحاظ سے ہم اس سے برتر ہیں تو خدا نے برطانوی انگریز کے کزن امریکی انگریز کی حکومت افغانوں پر قائم کر کے اسکا جواب دے دیا ہے اور حساب برابر ہوا ہے۔ اب اگر پاکستانی عوام یہ سمجھتی ہے کہ افغان آرمی مرتد ہے کیونکہ وہ یہودو نصاری کی صف میں کھڑی ہے تو انکو اس پر غور کرنا ہوگا کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف انگریزوں کی فوج میں رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر ترکی کی خلافت عثمانیہ کا تختہ بھی الٹا ہے۔ اگر وہ مرتد نہیں تھے تو یہ کیسے ہو؟؟؟ اس لیے یہ امید رکھنا بہتر ہوگا کہ حالات کچھ ایسے بن سکتے ہیں جو امریکہ کو انگلستان کی طرح جانے پر مجبور کر دے۔
افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں میں بہت زیادہ چیزوں میں مشابہت ہے اور ہونی بھی چاہیے اگر ایک قوم ہے تو۔ اسکا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ افغانستان کے علاقے خوست پکتیا اور غزنی کا رہن سہن، لباس،کھانا پینا، لہجہ اور دیگر رسومات تقریبا شمالی و جنوبی وزیرستان ، خیبر ، اورکزئی اور کرم ایجنسی سے ملتا جلتا ہے اور بہت سے قبائل بارڈر کے پار نہ صرف مشترک آباؤ اجداد کے دعوی ہیں بلکہ بارڈر کے دونوں طرف ایک قوم کے لوگ بھی رہتے ہیں جیسے منگل،وزیر اور بنگش۔ اسی طرح ننگہار (جلال آباد) کے رہائشی یوسف زئی اور قندہار اور ہلمند کے رہائشی بلوچستان کے پشتونوں کے قریب تر ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف روس کے حملے سے پہلے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی کاشت نہ ہونے کے برابر تھی البتہ اسمگلنگ ہوتی رہتی تھی کیونکہ زیادہ تر بارڈر پڑوس تھا مندرجہ بالا بحث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اخذ ہوتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں جسکا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں جسکی اصل بنیاد انگریز کا چھوڑا ہو مسئلہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ ہمیں ایک امت کے ناطے اصل اسلام جو اخوت اور بھائی چارے پر زور دیتا ہے کی طرف معاملات کو موڑنا چاہئے۔ جیسا کہ آیت ہے ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں مت پڑو ” اور حدیث ہے کہ مسلمان امت ایک جان کی مانند ہے جیسے جسم کے ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو دوسرا بھی محسوس کرتا ہے۔