پوسٹ تلاش کریں

میرا وطن لہو لہو ہے ن لیگ دہشتگردوں کی ساس اور پی ٹی آئی ان کی بہو ہے

noon-league-and-pti-action-plan-imran-khan-nawaz-shareef-siraj-raesani-zainab-ptm-aman-foundation-mastung-incident

امیرادارہ کلمۃ الحق قدوس بلوچ نے کہا بلوچستان و پختونخواہ میں خون کا کھیل کھیلا گیا۔ مستونگ واقعہ پر عمران خان نے پروگرام میں بلوچوں کے خون پر افسوس کا اظہار تک نہ کیا۔ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف نے بلوچوں کا خون قابلِ افسوس نہ سمجھا۔ عمران خان میں انسانیت نہیں۔ یہ بندر کی طرح ڈنڈے پر چڑھتا ہے، قلا بازیاں کھاتاہے ، تماشے دکھاتا ہے۔ ن لیگ کا بھی یہی حال ہے۔عالمی قوتیں اقتدار میں لاکرانہیں استعمال کرتی ہیں ۔قوم کو جاگنا ہوگا۔
پاکستانی میڈیامخصوص ایجنڈے کے تناظر میں مختلف سیاسی قائدین، رہنماؤں، دانشوروں اور شخصیات کو کوریج دیتا ہے۔بلوچستان میں خود کش دھماکے سے70افراد کی شہادت اور سینکڑوں زخمی ہونے کی خبر آئی۔ شہیدوں کی تعداد 85بتائی گئی ، میڈیا کا فوکس مریم نواز، نواز شریف کا جہاز تھا اور مخالفت وموافقت کی خبریں چل رہی تھیں۔ کچھ میڈیا چینل عوام کو توجہ دلاتے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور خون کی ضرورت کی اطلاع دیتے، مگر بلوچوں کے خون کو اہمیت کے قابل نہ سمجھا ۔ صرف آرمی چیف کی طرف سے آئی ایس پی آر نے ایک تعزیتی بیان جاری کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ یہ ملک ایک وفادارو محبِ وطن سیاسی قائد نوابزادہ سراج رئیسانی سے محروم ہوا۔ باقی میڈیا کو یہ فرصت ہی نہیں ملی کہ رہنماؤں کو تعزیت کرنے کی تکلیف دیتے۔ میڈیا کے مختلف چینلوں پربھی تجزےۂ نگاروں کو مریم نواز اور نوازشریف کا طیارہ اترنے ہی کی فکر تھی ۔ کوئی ان کے جیل جانے کا غم منارہاتھا، حوصلہ بڑھارہا تھا، سیاسی اعتبار سے ن لیگ کو تقویت پہنچنے کی بات کررہاتھا اور کوئی ان پر لعن طعن اور جیل جانے کی خوشیاں منارہاتھا۔
وہ صحافی بھی تھے جو احساس دلارہے تھے کہ اس واقعہ کے بعد سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کی ضرورت تھی۔ پھولوں سے شہبازشریف کو منع کرنا چاہیے تھا، عمران خان کو پروگرام میں احساس کی ضرورت تھی کہ مستونگ میں قیامت صغریٰ برپا ہوئی ، ہم اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میڈیا کو ریج میں واقعے کو بھرپور اہمیت دینی چاہیے تھی لیکن یہ احساس بہت کم تعداد میں اجاگر ہوا۔ ن لیگ یا تحریک انصاف کے قائدین اس کو اہمیت دیتے تو ان کے پُجاری میڈیا چینل بھی لگ جاتے اور لہو لہو مستونگ کے لوگوں کی داد رسی ہوجاتی، ان کو حوصلہ ملتا، ان کے زخموں کو مرہم ملتا کہ ہمارا دکھ درد بانٹنے والے بہت ہیں اور اس حادثہ میں اصحابِ اقتدار نے ہمیں یاد رکھا ہے۔
اگر ہمارے اصحابِ سیاست سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنایا، ن لیگ کی حکومت گرا کر اقتدار کا مزہ چکھ لیا تو پنجاب کے سیاستدانوں نے کبھی یہ غلطی نہیں کی؟۔ کیا اسلام ، انسانیت اور پاکستانیت ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم بھی بے حس ہوجائیں؟۔ اگر فرقہ واریت، لسانیت کے نام پر ہمارے ہاں قتل وغارتگری ہوئی ہے تو کھل کر اس کا اظہار کرو تاکہ ٓائندہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میڈیا کے پاس نوازشریف اور مریم نواز کا ایشو نہ ہوتا تو بہت ہمدردی دکھائی جاتی، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش تھی کہ کوریج کی بھوکی میڈیا نے بلوچوں کے اس بڑے واقعہ میں ساتھ نہ دیا۔ بلوچستان میں فرقہ واریت اور لسانیت کے نام پر کھیل کھیلا جارہا تھا تو میری قوم خاموش تھی۔ ہزارہ برادری کوآنسو پونچنے کیلئے ٹرک میں ٹشو پیپر بھیجنے کی بات کی جاتی تھی۔ مسافر مارے جاتے تھے، اس بربریت کا دکھ درد اللہ تعالیٰ نے دِکھانا تھا۔ اس میں معصوم لوگ لپیٹ میں آگئے ہیں۔ دل سے دکھ درد محسوس کر رہا ہوں۔ شکر ہے کہ میڈیا کو فراغت بھی نہ ملی ورنہ ماؤں اور بہنوں کی چیخ و پکار بھی چینلوں پر دکھائے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانیوں سے بلوچوں کی عزت رکھ دی۔ ان کی چیخ وپکار کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
پختونوں نے دھماکہ کے بعد نعرہ لگایا ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ اسلئے میڈیا نے دھماکہ کے بعد کے مناظر دکھانے سے گریز کیا۔ ان کی چیخ وپکار بھی اسلئے میڈیا پرنہیں دکھائی جاسکی ، ورنہ تو میڈیا نے اپنی ریٹنگ کیلئے بہت کچھ کرنا ہوتاہے۔ پنجاب میں عوام کی عزتیں تک بھی محفوظ نہیں تو چیخ وپکار دکھانے سے فرق نہیں پڑتا۔ سعودیہ میں لڑکی سے زیادتی کرنیوالوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیو نیٹ پر موجود ہے۔ اگر قصور کی زینب کے گرفتار مجرم کو قرآن کے مطابق قتل اور حدیث کیمطابق سنگسار کیا جاتا تو بہت خواتین کی عزتیں محفوظ ہوجاتیں۔ مستونگ کی عوام شکر کریں کہ انکے ساتھ یہ واقعات نہیں ہوئے جو پنجاب میں بڑے پیمانہ پرہورہے ہیں۔
پہلے عزتوں جانوں کا، اسکے بعد کرپشن کامعاملہ ہے۔ عزتوں و جانوں کا تحفظ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا نہیں۔ کرپشن ایجنڈا نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ’’ نتھیا گلی میں وزیراعلیٰ کے محل میں اپنے خرچے پر رہا ہوں‘‘۔ (تعلیمی ادارہ نہ بنایاتوکرایہ اداکرتے) سلیم صافی نے جیونیوز پر کروڑوں کا حساب بتایا تھا کہ ڈیڑھ ڈیڑھ، ڈھائی ڈھائی اور ساڑے تین تین لاکھ چائے پر سرکاری خزانے سے خرچ کیا۔ پی ٹی آئی کی جماعتی سرگرمی پر پختونخواہ کی عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنے سے بڑی کرپشن کیا ہوسکتی ہے؟۔ یہ اچھا وطیرہ ہے کہ دوستوں پر سرکاری خرچہ کرو اور دوستوں سے اپنے اوپر خرچ کراؤ؟۔
کراچی سے ایک ’’امن ‘‘ کے ملازم فاروق نے اپنی انتظامیہ سے کہا کہ مستونگ میں ایمبولینس بھیجو،مگر اسکے نالائق ذمہ داروں نے کہا کہ جب تک ہم سے درخواست نہیں کرینگے ہم نہیں بھیجیں گے۔ایک گھر کے 15افراد شہید ہوگئے ہیں، ایک گھر میں خواتین اور بچیاں رہ گئیں، کوئی مرد ہی نہیں بچا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو سوات سے پشاور اور پھر بیرون ملک پہنچاکر موت کے منہ سے نکالا۔ نوابزدہ سراج رئیسانی پاکستان سے محبت اور بھارت سے نفرت کی سیاست کرتا تھا لیکن پھر بھی اس کی جان بچانے کی کوشش نہیں ہوئی۔دشمن تو دشمن ہوتا ہے مگر گلہ دوستوں سے ہوتا ہے۔ عمران خان اور نوازشریف وہ دلے اور بے غیرت ہیں جو بلوچوں کے زخم پر مرہم کے بجائے نمک ہی چھڑکتے ہیں۔ افواجِ پاکستان اس بات کا خیال رکھے کہ PTMوالے ناراض ضرور ہیں لیکن بے غیرت نہیں ہیں اگر کبھی ملک وقوم کو ضرورت پڑی تو منظور پشتین سب کی قیادت کریگا۔ناراض بلوچ بھی غیرتمند ہیں اور جب ان کا گلہ شکوہ ختم کرنے کیلئے درست پالیسی تشکیل دی جائے گی تو پاکستانی ریاست کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے یہ بے غیرت سیاسی جماعتوں اور میڈیا کا کام نہیں ہے۔

ریاستی معاملات ٹھیک ہونگے یاپھرایک انقلاب آئیگا؟

maulana-yousuf-ludhyanvi-amir-liaquat-fake-phd-certificate-gadha-imran-khan-shaukat-khanum-hospital

پاکستان ہی نہیں دنیا کی تمام ریاستوں کا بھی آوے کا آوا بگڑ چکا ہے۔ دنیا کو جانے انجانے ایک انقلاب کی راہ پر اللہ تعالیٰ نے ڈال دیا۔ امریکہ نے اسلامی دنیا کو تباہ کردیا، لیکن اسلام اور مسلمانوں کا خوف اسکے دل سے نہیں جارہاہے۔ یورپ ، مغرب اور دنیا بھر میں ایک انجانے انقلاب کا خوف لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہے۔ روس کا نظام انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں تھا تو چاروں شانوں وہ چِت ہوا۔ چین نے انقلابی روح بدلی اور بدترین سرمایہ دارانہ نظام پر اپنا انحصار شروع کردیا۔ پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ بوسیدہ ہوچکا ہے اور سیاست کا طرزِ عمل اخلاقیات کی تباہی کا ساماں لیکر سب کچھ سبوتاژ کررہاہے۔ وکالت میں کلائنڈ بدلنے سے وکیل کا ضمیر بدل جاتا ہے، سیاستدان اور صحافی بھی بے ضمیر ی کی تاریخ رقم کرنے لگے ہیں۔ حقائق کو میڈیا پر نہیں لایا جارہاہے مگر پھر بھی ایک حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارے میں اچھے لوگوں کی قطعی طور سے کوئی کمی نہیں ۔
علماء ومفتیان اور مذہبی طبقات کو یہ بہت بڑا کریڈٹ جاتا ہے کہ اپنے اپنے عقیدے، فرقے اور مسلکوں سے ان کی وابستگی بہت لازوال ہے۔ زمین جنبد یا نہ جنبد گل محمد نہ جنبد۔ (زمیں ہلے یا نہ ہلے مگر گل محمد نہیں ہلتا) کے مانند قدامت پسند علماء کرام ومشائخ عظام اپنی روش پر دنیا کی پروا کئے بغیر چل رہے ہیں۔ اس حقیقت کیساتھ ایک دوسری بڑی خوشخبری بھی دنیا کو مل رہی ہے کہ ہرمکتبۂ فکر کے اکابرین و مذہبی طبقات کی طرف سے ماہنامہ نوشتۂ دیوار کے مضامین ، ادارئیے، کالم، خبروں اور تبصروں کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ کوئی اظہارِ خیال کرنے کی جرأت کرلیتا ہے اور کوئی خاموشی سے حمایت کرنے پر اکتفاء کرتا ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ نے اپنی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں میں‘‘ ایک حدیث لکھ دی کہ ’’ ایک وقت آئیگا کہ جب اہل اقتدار کی جانب سے سب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر وہ جس نے اللہ کے دین کو پہچان لیا، پھر اس کی خاطر زبان، ہاتھ اور دل سے جدوجہد کی۔ یہی ہے وہ جس کیلئے پہلے سے پیش گوئیاں ہوچکی ہیں(جو سبقت والوں میں شامل ہوا)۔ دوسرا وہ ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اس کی برملا تصدیق بھی کردی۔ تیسرا وہ ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچانا مگر حق کا اظہار کرنے سے ہچکچایا۔ جس کو اچھا کام کرتے دیکھا تو اس سے محبت رکھی اور کسی کو باطل عمل کرتے دیکھاتو اس سے نفرت کی لیکن ان تمام چیزوں کو چھپانے کے باوجود بھی وہ نجات پاگیا‘‘۔
موجودہ دور میں ایک سر بکف مجاہدین کی وہ جماعت ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچاننے کی سعادت حاصل کی اور پھر زبان ، ہاتھ اور دل سے اس کی خاطر جدوجہد کی ، یہ سب میں سبقت لے گئے ہیں۔ دوسرے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والوں کاوہ جمع غفیر ہے جو کھل کر ان کی حمایت کررہے ہیں۔ تیسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو اللہ کے دین کی معرفت رکھتے ہیں اوراہل حق سے محبت رکھتے ہیں اور اہل باطل سے بغض رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی ان تمام باتوں کو چھپاتے ہیں ان کیلئے بھی اس حدیث میں نجات کی خوشخبری موجود ہے۔ جب انقلاب آئیگا تو یہ سب لوگ کھل کر سامنے آئیں گے۔ ہمیں ان کی عزت وتوقیر کرنی ہے۔
طلاق و حلالہ ، خواتین کے حقوق اوردرسِ نظامی کے نقائص کا معاملہ سب ہی کو سمجھ آگیا ہے، بڑے مدارس کے ارباب فتویٰ وتدریس بھی فرقہ واریت کو بھول کر ہم سے کھل کرو چھپ کر اتفاقِ رائے کا اظہار فرمارہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے زمین میں خلیفہ بنایا تو اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے علاوہ اقتدار کیلئے کوئی دوسرا قبیلہ، قوم، رشتہ داراور دوسرے طبقے کے انسان موجود نہیں تھے۔ طبقاتی تقسیم اور اقتدار کا معاملہ بعد میںآتا ہے۔ پہلے گھر سے ہی اقتدار کا معاملہ ٹھیک کرنا ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، پاکستان کا آئین خاطر خواہ اسلامی تعلیمات سے واقفیت کو لازم قرار دیتاہے جبکہ عوام ، سیاستدان، سیاسی علماء اور نام نہاد مذہبی اسکالر تو بہت دور کی بات ہے، اسلامی تعلیمات کی تدریس کیلئے زندگی وقف کرنے والے بھی بنیادی اسلامی تعلیمات سے بھی بے بہرہ اسلئے ہیں کہ علم، دین اور ایمان احادیث صحیحہ کی پیش گوئیوں کے مطابق اٹھ چکے ہیں۔
وہ علماء کرام اور مفتیان عظام جنہوں نے کسی موضوع پر کتاب لکھ ڈالی ہے تو اس کو بھی علم نہیں جہالت سے بھر دیا ہے۔فقہ کی کتاب الطہارت میں لکھے گئے جو غسل اور وضو کے مسائل ہیں وہ بھی قرآن وسنت اور صحابہ کرامؓ سے انحراف کے مترادف ہیں۔ دین کی تکمیل ہوچکی تھی تو غسل اور وضو میں فرائض گھڑنے اور ان پر اختلافات کی کہاں گنجائش تھی۔ نہانے اور وضو میں فرق ہر انسان جانتاہے بس حالت جنابت سے نہانے کو غسل اور وضو ٹوٹنے کی صورت میں وضو کرنا عملی کام تھا جس میں فرائض و اختلاف گھڑنا امت کاوقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
قرآن وسنت میں نکاح وطلاق، خواتین کے حقوق اتنے واضح ہیں کہ صرف ان کی بنیاد پر گھر، محلہ اور معاشرے کی درست رہنمائی کی جائے تو ایک انقلاب کا آغاز ہوجائیگا۔ سیاستدانوں سے الیکشن میں صرف یہ مطالبہ کیا جائے کہ زمینوں کو خود کاشت کرو،یا مزارعت کے بجائے کاشتکاروں کو مفت دو، تو پورے ملک کا طبقاتی نظام درست کرنے کیلئے ایک بڑی بنیاد فراہم ہوجائے گی۔ مزارع غلام نہ رہے گا اور اپنے ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکے گا جو قابل انجنیئر، ڈاکٹر، سائنسدان اور تمام شعبائے تعلیم میں قابلیت حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو ملک، قوم اور سلطنت ترقی کی راہ پر گامزن ہونگے۔ بلاول بھٹو زرداری، بختاورزرداری، آصفہ زرداری، حسن نواز، حسین نواز، مریم نواز اور دیگر بااثر طبقے کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ کر بھی اپنی تعلیمی فیس کا ضیاع کرتے ہیں اور اس کیلئے بول ٹی وی چینل کے ’’ایگزیکٹ‘‘ نے جعلی تعلیمی اسناد کا کامیاب راستہ نکالا تھا جس پر مغرب کے اداروں نے عرب ممالک پر بھی تجربات کئے تھے۔
عربی لطیفے کی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ کسی تعلیمی ادارے نے جاہل بدو سے کہا کہ تعلیمی سند برائے فروخت ہے،اگر لوگے تو تمہاری شخصیت بدلے گی، پی ایچ ڈی ڈاکٹر کہلاؤگے، تو بدو نے کہا کہ 2 سند دے دینا کیونکہ ایک میں اپنے لئے خریدوں گا اور دوسرا اپنے گدھے کیلئے‘‘۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کے پاس ڈاکٹر کی ایسی کوئی سند ہوگی اور ان اسناد سے سیاستدانوں کے گدھے جیسے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ قرار دیا جائے تو ان کی شخصیتوں میں فرق نہ آئیگا۔ البتہ غریب غرباء کے باصلاحیت بچوں کو تعلیم کے مواقع مل جائیں تو ملت کی تقدید بدل کر رکھ دینگے۔
جب مزارعت کا سودی اور ناجائزسسٹم ختم ہوجائیگا تو مزدور کی مزدوری بڑھ جائے گی، نوکر پیشہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا مجبوری بن جائے گی۔ محنت کشوں کو اپنی محنت کا درست صلہ مل جائے تو غربت، چوری، ڈکیتی، عزتوں کی پامالی اور بہت سی برائیوں میں فرق آئیگا۔ عمران خان شوکت خانم کے نام پر دنیا بھر سے جو غرباء کا فنڈز کوٰۃ کے نام پر ہتھیاتا ہے، اگر شوکت خانم کے اشتہارات کا پیسہ بھی غریبوں پر خرچ کیا جائے تو لوگ کینسر سے زیادہ سختی کے حالات سے نکل آئیں۔

پاکستان کی نظریاتی ریاست ( حقائق کے تناظرمیں)

quaid-e-azam-congress-party-habib-jalib-abdul-sattar-khan-niazi-mqm-taliban-bhutto-sharab-par-pabandi

پاکستان کے دامن میں خلوص کے سوا کچھ نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔ ہندوؤں کا متعصبانہ رویہ دیکھ کر مسلم لیگ کی کیمپ میں شامل ہوگئے۔ مسلم لیگ کیا تھی؟۔ نفرت پھیلانے میں انگریز سرکار کی ایک وفادار کٹھ پتلی جماعت!۔ البتہ اس میں نظرےۂ خلافت کے علم بردار محمد علی جوہر اور علامہ اقبال جیسے جدوجہد کرنے والے مخلص لوگ بھی تھے۔ قائداعظم نے بھی کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد شروع کردی۔ فرقہ وارانہ اور سیاسی مذہبی جماعتوں نے کھل کر پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعرے کی زبردست مخالفت شروع کی۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں مجھے ہے حکمِ اذاں لاالہ الااللہ
مشرقی اور مغربی پاکستان وجود میں آگیا، کیونکہ ایک طرف ایک قومی نظریہ تھا جو متحدہ ہندوستان کا تقاضہ کررہاتھا اور دوسری طرف دوقومی نظریہ تھا، ہندومسلم دو الگ الگ ملتیں ہیں جو ہندوستان کی تقسیم اور نظریۂ پاکستان کا تقاضہ کررہاتھا۔ 2013ء کے الیکشن پر تحریک انصاف کا الزام تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور چوہدری افتخار کی قیادت میں فوج اور عدلیہ نے مل کر ن لیگ کو دھاندلی سے جتوایا اور اب ن لیگ الزام لگارہی ہے کہ فوج اور عدلیہ مل کر ن لیگ کو آؤٹ اور تحریکِ انصاف کو اقتدار میں اِن کررہی ہے۔ 2013ء میں دونوں میں کانٹے کا مقابلہ ہورہاتھا اسلئے پتہ نہیں چل رہاتھا کہ اقتدار ن لیگ کو ملے گا یاتحریک انصاف کو مگر دونوں اسٹیبلشمنٹ کی منظورِنظر جماعتیں تھیں۔ طالبان کے جگری یار وں میں پتہ نہیں چل رہاتھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا گودی بچہ کون بنے گا؟۔ ایم کیوایم، پیپلزپارٹی، اے این پی اور طالبان کی سرپرست سمجھی جانے والی مذہبی جماعتوں جمعیت علماء اسلام اور جماعتِ اسلامی کی قیادت بھی دہشت گردوں کے نشانے پر تھیں۔
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف اور اسٹیبلشمنٹ کٹھ پتلی بیانیہ ہمیشہ رہاہے مگر اس کو حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب پاکستان بن گیا تو سیاسی قیادت محمد علی جناح، فاطمہ جناح، نوابزادہ لیاقت علی خان اور بیگم راعنا لیاقت علی خان پر مشتمل تھی۔ قائد اعظم فوت ہوگئے۔ لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا۔ پاکستان پر سول بیوروکریسی کی حکومت تھی۔پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے۔ مہاجر بڑی تعداد میں بھارت سے آئے تھے، بعض نے محسوس کیا کہ اسلام محض دھوکہ تھا اور جنکے پاس باہر جانے کی گنجائش تھی وہ پاکستان چھوڑ کر چلے گئے۔ ہندؤں کی جگہ زمین و مکان کے غلط کلیموں و قبضہ نے پاکستان میں بے ایمانی ، بے انصافی اور دھوکہ بازی کی بنیاد رکھ دی۔انگریز کی بدترین غلام سول وملٹری بیوروکریسی کو اقتدار مل گیا، نااہل لوگ بڑی پوسٹوں پرآئے جسکے نتیجے میں سیاسی ، نظریاتی اور اسلامی لوگوں کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑا کہ انگریز نے بھی وہ مظالم نہ کئے ۔ ختم نبوت کی تحریک میں شامل لوگوں کو غیرمسلم و غدار قرار دیا گیا ۔ مولانا عبدالستار خان نیازی کو خوف کے مارے داڑھی منڈوانی پڑگئی۔ لیگی علماء ومفتیان نے ختم نبوت والوں کو کانگریس کا ایجنٹ، ملک اور اسلام کا غدار کہنا شروع کیا تھا۔
حبیب جالب اور مولانا عبدالستار خان نیازی کی دوستی تھی، حبیب جالب کی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ ’’ مولانا عبدالستار خان نیازی میرے پاس آتے تھے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں فرمایا کہ’’ جالب کو میرا سلام دینا‘‘۔ حبیب جالب نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’ بھٹو نے سب سے بڑی غلطی یہ کی تھی کہ شراب پر پابندی لگائی تھی اور اس کی سزا اس کو مل گئی، کیونکہ شراب واحد وسیلہ تھا کہ جو پی کر آمروں اور ظالموں کے سامنے حق کی آواز بلند کی جاسکتی تھی‘‘۔ جبکہ قرآن میں شراب کے اندر منافع کا ذکر ہے اور ابتدائے اسلام میں اس پر پابندی نہیں تھی اور ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے سے بڑا فائدہ شراب کا نہیں ہوسکتا ۔
جب پاکستان میں سول بیوروکریسی نے انصاف اور اسلام کا کباڑہ کیا تھا تو جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن اگر وہ اقتدار پر قابض ہوں تو اچھی ریاست ، سیاست اور صحافت کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ فاطمہ جناح پر بھی ایجنٹ کے الزامات لگے۔ سول بیوروکریسی میں مہاجرین اکثریت تھی اور سیاست ولی خان، غوث بخش بزنجو، عبدالصمد خان اچکزئی شہید، عطاء اللہ مینگل ، حاکم علی زرداری ، جالب اور نوابزادہ نصر اللہ خان ومفتی محمود جیسے قائدین کے ہاتھوں میں تھی۔جنرل ایوب کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کو میدان میں لایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور مہاجرین کی سول اسٹیبلشمنٹ کا ناطہ توڑ کر سندھ اور پنجاب کا گٹھ جوڑ کرادیا۔ مہاجروں کی سول بیوروکریسی کو بڑے پیمانے پر اقتدار سے باہر کیا۔ بھٹونے غلام سول بیوروکریسی کے قبضے سے اقتدار چھڑانے کیلئے میرٹ کا بھی خاتمہ کردیا۔ کوٹہ سسٹم سے نالائق طبقوں کو اقتدار میں آنے کا موقع دیا۔ پھر بنگلہ دیش نے آزادی حاصل کرلی اور بھٹو نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالا، بڑی تعداد میں قید ہونے والی پاک فوج کو بھارت کی قید سے آزادی دلائی گئی۔
قائداعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو قائدِعوام کا خطاب ملا۔ بھٹونے قادیانی کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا، اسلامی کانفرنس سے اُمہ کو اکٹھا کرنے کا آغاز کیا، اتوار کی جگہ جمعہ کی سرکاری چھٹی کی، افغانستان میں روس کیخلاف مجاہدین کی تربیت شروع کی، ایٹم بنانے کا اقدام اورسیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر عوام کی دہلیزتک پہنچاکر دم لیا مگر ایک آمر کا تربیت یافتہ جمہوری کیسے بن سکتاتھا؟، الیکشن میں لاڑکانہ سے اپنے خلاف کاغذاتِ نامزدگی داخل کرانے پر جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ خالد کھرل کے ذریعے اٹھاکر بند کرادیا ۔
جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ اُلٹ دیا تو تمام سیاسی جماعتوں کے قائد بغاوت کے مقدمے میں قیدو بند کی زندگی گزار رہے تھے۔ جنرل ضیاء نے رہائی دلائی تو جنرل ضیاء الحق نے قائد جمہوریت کے نام پر محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا دیا اور پھر خود ہی اس کی حکومت کو تحلیل بھی کردیا۔ سیاسی جماعتوں نے ایم آر ڈی بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی۔ جنرل ضیاء حادثی موت کا شکار ہوگئے تو بینظیر بھٹو کو اقتدار مل گیا لیکن اس نے صدارتی امیدوار کیلئے نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو نوازشریف کیساتھ مل کر سپورٹ کیا۔ غلام اسحاق نے پہلے بینظیر بھٹو اورپھر اسلامی جمہوری اتحاد کے نواز شریف کی حکومت کو چلتا کردیا، پھر پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو اپنے صدر فاروق لغاری نے بینظیر کو چلتا کردیا اور پھر دو تہائی اکثریت سے ن لیگ کی حکومت آئی تو جنرل مشرف کو ہٹایا گیا لیکن جنرل ضیاء الدین بٹ کو گرفتار کرکے ن لیگ کی حکومت ختم کردی گئی۔
پھر جنرل پرویز مشرف کے ریفرینڈم نے عمران خان کا تحفہ پاکستان کو دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے میرٹ کی تباہی اور کوٹہ سسٹم سے مہاجر تحریک کی بنیاد رکھ دی، جنرل پرویزمشرف نے امریکہ کی حمایت کرکے طالبان دہشت گردوں کی بنیاد رکھ دی۔ ضیاء الحق نے افغان مجاہدین اور نصیراللہ بابر نے طالبان بنائے تھے۔

وانا جنوبی وزیرستان میں امن کمیٹی اور پی ٹی ایم کے درمیان فوج نے لڑائی روکی. آصف غفور

ispr-major-general-asif-ghafoor-good-taliban-ptm-manzoor-pashtoon-adiala-jail-baba-farid-imran-khan-murgha

Asif-Manzoor

دارہ اعلاء کلمۃ الحق کے جنرل سیکرٹری محمد فاروق شیخ نے کہا سوشل میڈیا پر برپا انقلاب کا راستہ روکنا ممکن نہیں۔ رمضان میں وانا وزیرستان کے عوام نے فوج کو دھکے دئیے، فائرنگ کرنیوالے گڈ طالبان کی طرف دھکیلا، پشتو میں گالی دے کر کہا کہ ہمیں گولی مارو۔گڈ طالبان کے دفاتر کو آگ لگادی، وردی والوں کے سامنے جنرل باجوہ اور آصف غفور ، کرنل جنرل سب کو دہشتگرد قرار دیا۔ نیٹ پر عجیب وغریب مناظر کی ویڈیوکلپ چل رہی ہیں۔ دنیا بھر میں اسلام آباد سے گرفتار PTM کے کارکنوں کی رہائی کیلئے مظاہرے اور سوالات اٹھائے گئے کہ سوات سے وزیرستان تک طالبان نے قتل وغارت کا بازار گرم کیا، ملا فضل اللہ فوج کو کافر قرار دیتا ، عدلیہ اور جمہوری نظام کو کفر قرار دیتا، میڈیا میں خبروں کی بھرمار ہوتی، FM ریڈیو چلتا، سکولوں کو اڑایا جاتا اور بچیوں کی تعلیم پر پابندی لگادی مگر ریاست نے ان کو غدار نہیں کہا، پروپیگنڈہ نہیں کیا، میڈیا پر پابندی نہیں لگائی اور دوسری طرف PTMاور اسکے قائد منظور پشتین کا چہرہ ہے جس نے امن کا جھنڈا اٹھایا، آئین کی بات کرتا ہے۔ تحفظ دینے کا مطالبہ کررہاہے۔ کوئی گولی، لاٹھی، پتھر اور ہاتھوں میں مٹی کے کنکر تک نہیں اٹھائے ۔ پھر بھی غدار، را کا ایجنٹ، کافر قرار دیا جارہاہے۔ منظور پشتین نے کہا کہ جو کام طالبان دہشت گرد کرتے تھے ،یہ وہی کررہے ہیں ،دونوں دہشت گرد ہیں۔ جیل میں جاتے اور نکلتے وقت قیدیوں کے حوصلے بلند اور خوش تھے۔ بلوچوں نے ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھائے، ایم کیوایم اقتدار کی دہلیز تک بار بار پہنچی مگر PTM نے کالے سفید جھنڈوں سے جس پر امن انداز میں پذیرائی حاصل کرلی۔ اسکا راستہ تشدد سے روکا گیا تو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑیگا۔یہ عوام کی بہادری، جرأت، جسارت اور دلیری کا ایک ایسا تاریخی کارنامہ ہے کہ اس کی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملتی ۔ اگر فوج کرفیو نہ لگاتی تو گڈ طالبان کے خلاف سرتاپا احتجاج عوام سب کا قلع قمع کردیتے۔ سوال ہے کہ 27افراد کورہا کیا جو بغاوت اور غداری کے سخت ترین مقدمے میں قید تھے لیکن وہ باہر آکر بتارہے تھے کہ اڈیالہ جیل میں 5ہزار قیدیوں کا بہت برا حال تھا جن میں 3500پٹھان تھے جو معمولی معمولی دفعات کے تحت قید تھے لیکن ان کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جنہوں نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ دیا، PTV قبضہ پر مبارکباد کا تبادلہ کیا، پولیس کی درگت بنائی اور تھانے سے زبردستی ساتھی چھڑالئے ۔ ان کو اڈیالہ جیل ایک رات کیلئے بھی نہ بھیجا۔ عمران اپنی بیگم کیساتھ بابا فریدؒ کے مزار پر مرغا بننے کے بجائے یہ اعلان کرے کہ مجھ سے اور PTMکے ورکرز سے جو امتیازی سلوک ریاست نے کیا ، بھرپور مذمت کرتا ہوں اور ہم ریاست کی اس ذہنیت کو بدل ڈالیں گے۔ صرف علی وزیر کی حمایت کرنے پر معاملہ کبھی درست سمت نہیں جائیگا۔

Asif--Ghafoor-Pic

میجرجنرل آصف غفور نے کہا: ’’کچھ نے فوج کے خلاف نعرہ لگایا، جس پر مقامی افراد نے ان کو طلب کیا، دونوں فریق کے درمیان جھگڑا شروع ہوا۔ فوج نے لڑائی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی بچی نہیں مری ۔ کہا جارہاہے کہ فوج یا طالبان نے فائرنگ کرکے بندے مارے ۔ ہم اس نبیﷺ کے امتی ہیں جو خود پر سہہ کر معاف کردیتے تھے۔ فوجی وردی پہننے سے کوئی پاک نہیں ہوجاتا ، ان کی بھی غلطی ہوسکتی ہے‘‘۔ قتل وغارتگری کرنیوالے کس کے پیڈ لوگ تھے ؟ ۔ پتہ پریس کانفرنس بتارہی ہے۔ حقائق کے تناظر میں اس نعرے سے نہیں روکا جا سکتا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ ISPR کی پریس کانفرنس غلط فہمی کا ازالہ نہیں بلکہ اعترافِ جرم ہے۔ انگوراڈا سے شکئی تک وزیرستان کی چار تحصیلوں کے وسیع علاقہ میں کرفیو نافذ رہا مگر الیکٹرانک و پریس میڈیا سے عوام کو خبر بھی نہ پہنچنے دی گئی۔ پریس کانفرنس میں بھی نہیں بتایا تو عوام اس نتیجے تک پہنچنے پر مجبورہونگے کہ’’ دال ہی کالی ہے‘‘۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں پختونوں نے احتجاج کا جو انداز اپنایا ، اسکا دنیا پر کیا اثر مرتب ہوگا؟۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان اور دنیا کے کسی کونے کھانچے میں اس خوبصورتی کیساتھ آزادی، ریاست سے تصادم اور فوج کے خلاف نعرے نہیں لگے ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی ہے لیکن کوئی حادثہ پورے خطے کا نقشہ بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گا۔ یہ کون لوگ ہیں؟۔ گھربار، افراد، قبیلہ اور علاقہ کی قربانی دینے والے سالوں سال سے در درکی ٹھوکر کھانے والے قبائلی عوام ۔ انگریز کے دور میں بھی اور آزادی کا جھونکا آنے کے 70سال بعدبھی ریاستی قوانین اور ڈسپلن کے دائرے سے آزاد قبائل ۔ محراب گل افغان کے نام سے علامہ اقبال نے محسود، وزیر اور شیرشاہ سوری کا تذکرہ کیا اور انقلاب کی نوید سنائی ہے۔ پاکستان اسلام کیلئے بناتھا۔ جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو انٹر پول سے اپنی دولت سمیت لایا جاتا تو زرداری اور نوازشریف کی دولت بھی بیرون ملک سے لانے میں دشواری نہ ہوتی۔ زرداری نے کتنی بڑی بات صرف میڈیا ٹرائیل پر کہی کہ اینٹ سے اینٹ بجا دینگے۔ نوازشریف کتنی دولت لوٹ کر لے گیا؟۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں اپنی جھوٹی صفائی پیش کردی اور عدالت میں رپورٹ دینے کا چیلنج مخالفین کو دیا۔ جب عدالتوں میں کیس چلا، ثبوت نہیں ملا تو فوج پر غلط پشت پناہی کا الزام لگادیا اور بنگلہ دیش کی طرح پنجاب الگ کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ قبائل نے کھایا پیا کچھ نہیں، قربانیوں پر قرنیاں دیں۔ تذلیل پر تذلیل برداشت کی۔ ایک علاقہ میں آپریشن کا اعلان ہوتا، عوام دربدر ہوتے۔ طالبان دوسرے علاقے میں منتقل ہوتے، علاقہ کلیئر قرار دیا جاتا تو عوام کیساتھ طالبان بھی پہنچتے۔ زیادہ تر عوام ہی آپریشن میں جیٹ طیاروں کی زد میں آتے۔ یہ سلسلہ لمبے عرصے تک چلا۔ عوام کی تکلیف پر منظور پشتین نے تحریک شروع کردی جو مقبول ہوگئی۔
منظور پشتین کے خاندان کو نہ فوج نے نقصان پہنچایا ہے نہ طالبان نے۔ وہ عوام اور اپنی قوم کے درد کیلئے اٹھا ہے۔ البتہ علی وزیر کے بڑے جوان بھائی فاروق کو طالبان نے شہید کیا۔ پھر انکے والد کو شہید کیا پھر خاندان کے 17 افراد کو شہید کیا گیا۔ پاک فوج نے بھی انکی مارکیٹوں کو مسمار کردیا۔ شریف خاندان ہے، کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے۔ اپنا پیٹرول پمپ تھا۔ کاروبار تھا اور بڑی جائیداد کے مالک ہیں۔ شرافت جرم بن گئی ۔ فوج اور طالبان نے خوامخواہ دشمن سمجھ لیا۔
منظور پشتین کا تعلق غریب گھرانے سے ہے۔ علی وزیرنے محسود تحفظ موومنٹ کا ساتھ دیا تھا تاکہ وزیروں کے محسود بھائی تاریخ کے بدترین جبروظلم سے نکل سکیں۔ علی وزیر نے خود یہ درد محسوس کیا تھا۔ جہانگیرترین اور عمران خان کی جوڑی جدا ہوسکتی ہے ۔ عمران خان بیگم بدلنے میں شرم محسوس نہیں کرتا تو رہنما ء کی تبدیلی کوئی بات نہیں۔ علی وزیر اور منظورپشتین ایک ہیں۔ اگر اس تحریک کو کالے سفید جھنڈوں کیساتھ دنیا میں پذیرائی مل گئی تو کشمیر سے فلسطین کی آزادی تک دنیا کے مسائل حل ہونگے۔ کاش ! ہمارا برسر اقتدار طبقہ اور یہ لوگ ایک اور نیک ہوجائیں۔

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف اور کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کیلئے عدل و انصاف کے پیمانے الگ الگ ہیں

imran-khan-general-kayani-justice-iftikhar-chaudhry-nawaz-sharif-nazaryati-hijra

نوشتۂ دیوارکے ایڈیٹر اجمل ملک نے کہا: کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف اور کٹھ پتلی بیانیہ رکھنے والی جماعتوں کے درمیان عدل وانصاف کے پیمانے مختلف ہیں۔ نوازشریف نے ساری زندگی کٹھ پتلی کی طرح گزاری، اب بھی شہباز شریف کو ن لیگ کا صدر بناکر کٹھ پتلی بننے کی راہ ہی ہموار کررہا ہے۔ 2013کے الیکشن میں ٹی وی چینل پرNA1پشاور سے دھاندلی کی خبر آئی اور گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی تمام جماعتیں کہتی تھیں کہ کھلا دھاندلا ہوا۔ اب تو انتخابات سے قبل ہی شور برپاہے۔ شہبازشریف طالبان سے کہتا کہ پنجاب میں دھماکے نہ کرو، ہم تمہارے ساتھی ہیں اور عمران خان ضرب عضب کے بعد تک پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالہ کرنے کی بات کرتا تھا۔ بڑی مشکل سے آرمی پبلک سکول واقعہ پرشمالی وزیرستان آپریشن کیلئے اتفاق رائے پیدا ہوا۔ اور اب بے شرمی سے دہشتگردی کے خاتمے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ جنکو دہشتگردوں کی حمایت پر چوکوں پر لٹکانا چاہیے تھا انکو باری باری اقتدار دیا جارہاہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا کمال ہے جو بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی ہے۔ ’’یہ جوسیاست گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘۔ بلوچوں کے بعد پختونوں کو کھودیا گیا تو پاکستان کا نقشہ بدل جائیگا۔ جبر کی زنجیر سے امریکہ بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ آزادی کے بعد سول وملٹری اسٹیبلشمنٹ نے نالائق سیاستدانوں کے ذریعے سے ملک وقوم کا بیڑہ غرق کردیا ۔بیویوں سے وفا نہ کرنیوالا پاکستان سے کیا وفا کرے گا؟۔ مخلص کارکنوں، جماعت کے رہنماؤں اور قائدین سے جس نے وفا نہیں کی وہ ملک وقوم کا کیسے وفادار ہوسکتا ہے؟۔ووٹ اور نوٹ کی خاطر کونسا ڈرامہ نہیں رچایا ہے؟۔ غریب کارکنوں ، نظریاتی قائدین اور اے ٹی ایم مشینوں تک سے کوئی طبقہ وہ نہیں ہے جس سے بے وفائی کا مظاہرہ نہیں کیا ہو؟۔ وزیراعظم بننے کیلئے طالبان سے وہ بریلوی مکتب کی طرف بھی یوٹرن لے لیتا ہے۔ لوٹوں کے طوفان میں لٹو بننے والا نظریاتی نہیں ہوسکتا ہے۔ ہر الیکشن میں اس نے نظریے سے یوٹرن لیا ہے اور پھر پشیمانی کا اظہار بھی کرتا رہاہے۔ میجر رجنرل ظہیر الاسلام عباسی سیدعتیق الرحمن گیلانی کے پاس گومل گئے تھے تو وہاں ایوب خان بیٹنی سے ملاقات ہوئی۔ عباسی صاحب نے ایوب بیٹنی سے کہاکہ آپ نے عمران یہودی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا؟۔ عتیق گیلانی نے عباسی صاحب سے کہا کہ ضلع ٹانک میں JUIکا سب سے بڑا مرکز مولانا فتح خان کی جامع مسجد ہے اور جو دونوں کا مشترکہ مرکز تھا۔ مشکل حالات میں ایوب بیٹنی نے عمران خان کا ساتھ دیا تھا ،اگر آزاد حیثیت سے وہ الیکشن لڑتے تو جیت جاتے مگر عمران خان کیلئے خود کو ہرادیا۔ پھر ٹانک سے تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے دیرینہ کارکن داور خان کو ٹکٹ دیدیا اور ایوب بیٹنی سے ناطہ توڑ لیا۔داورخان کنڈی بھی شریف انسان ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی سیاستدانوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ نوازشریف70سالہ عمر میں محمود خان اچکزئی کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ ’’اب میں بھی 100%نظریاتی ہوگیا ہوں‘‘۔ 70سالہ ہجڑا کہے اب میں پیٹ سے ہوں تو ممکن ہے کہ ہو مگر کٹھ پتلی 70بار جنم بھومی کے عقیدے کے مطابق بھی کبھی نظریاتی نہیں بن سکتاہے۔ البتہ نظریاتی لوگوں کو خراب کرنے کی بیماری لگا سکتاہے۔

خلائی مخلوق بیت الخلائی لوٹوں کے ذریعے نجاست اسمبلی میں لارہی ہے

khalai-makhlooq-bait-ul-khala-lota-tarian-imran-khan-daughter-bagal-baccha-nawaz-sharif-iqama-issue-

نوشتۂ دیوار کے پبلیشر اشرف میمن نے کہا امریکہ وبرطانیہ کا کھیل ٹی وی چینلوں پر نظر آتاہے، خلائی مخلوق کرشمے دکھارہی ہے۔ مستقبل میں عمران خان روتا نظر آئیگا کہ میں صادق و امین نہیں،میری امریکن بچی ٹیرن سیتا اور برطانوی بچے سلیمان و قاسم صادق وامین ہیں۔ ان کو اقتدار دیا جائے۔ ریحام CIA کی سازش کا نتیجہ تھی توآنیوالی جمہوریت میں مریم نواز کا مقابلہ ٹیرن عمران سے ہوگا ۔ سیاستدانوں نے قومی اخلاقیات کا جنازہ نکالا۔ آئین کو بدلا جائے یاان سیاسی قائدین، رہنماؤں اور الیکٹ یبل کو جو آئین کے دفعات پر بالکل بھی پورے نہیں اترتے ہیں۔ بیت الخلاء کے لوٹوں کے پاس زبان نہیں اور موجودہ دور میں شیخ سعدی جیسا دانشور بھی نہیں جو لوٹوں کو زبان دیکر بات کرے۔ ورنہ لوٹے بھی کہتے کہ ہم ناچیز ضرور ہیں لیکن کام کتنا عمدہ انجام دیتے ہیں؟۔ قدرتی طور پر انسان سے نکلنے والی نجاست کو ہم صاف نہ کریں تو مقتدی کی نماز ہو اور نہ امام امامت کے قابل ہو۔ اب تو دنیا مسلم شاور کا نام دیتی ہے۔ یہ جو سیاستدان ہیں یہ تو ڈسٹ بین اور کچرا کنڈی سے بھی بدتر ہیں اسلئے کہ معاشرہ ان کی ضرورت سمجھتا ہے۔ عمران خان رسول اللہ ﷺ کا نام لیتا ہے مگر کام سب الٹے کرتا ہے۔ یتیموں نے مسجد نبوی کیلئے اپنی زمین دی تو نبی ﷺ نے نہیں لی۔ شوکت خاتم کیلئے ڈیفنس فیز 9کراچی میں جنرل راحیل نے جو زمین دی ہے وہ فوج کے شہدا کے بچوں کو لوٹادیں ۔ ڈیفنس کے پلاٹ سب سے پہلے افواج پاکستان کو منتقل ہوتے ہیں پھر اسکی فائل دوسرے خرید سکتے ہیں ، ڈیفنس کے پورے فیز 9کو شہدا کے بچوں کو دینا چاہیے تھا۔

imran-khan-cartoon

ہمارے علاقہ ٹانک کے عتیق گیلانی حق گوئی میں اپنی مثال آپ ہیں. مولانا مفتی گل حلیم شاہ

district-tank-jui-mufti-gul-haleem-shah-makkah-madina-akora-khattak-nowshera-allama-iqbal-mashriq

نوشہرہ(نادرشاہ،جاویدصدیقی) سابقہ ممبر صوبائی جنرل کونسل J.U.I وجنرل سیکریٹری J.U.I نوشہرہ، مہتمم دارالعلوم ذکریا گنڈیری رسالپور مفتی گل حلیم شاہ نے نمائندہ نوشتہ دیوار سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کا اخبار ضرب حق اور نوشتہ دیوار عرصہ دراز سے پڑھ رہاہوں ۔ آپ لوگ بہت اچھے انداز میں حق کی آواز بلندکررہے ہیں ۔ گیلانی صاحب کے حوالے سے میں یہی کہوں گا کہ دارالعلوم اکوڑہ خٹک کے مفتی محمد فریدنے کتاب سلسلہ نقشبندیہ کی ساتویں فصل میں لکھاہے کہ ایسے لوگ اقتدارکے لائق ہیں جوکسی بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ کیاکہیں گے، ملامت کریں گے یا مشکلات سے دوچارہوں گے بس وہ اپنی بات پورے زوراور سچائی کے ساتھ بیان کردیتے ہیں اوریہی بات مجھے اورمیرے رفقاء کوضرب حق کی بہت پسندتھی کہ گیلانی صاحب حق بات ببانگ دہل بیان کردیتے ہیں ۔ ہم اپنی مجالس میں یہ بات کہتے تھے کہ ہمارے علاقے ٹانک کے مولاناعتیق گیلانی حق گوئی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ میں نے تیرہ سال جمعیت علماء اسلام (ف) میں خدمات دیں ہیں اسکے علاوہ تحریری میدان میں نجات کے نام سے پرچہ نکالتے تھے ، مولانا عبدالوہاب فاروقی کی زیرادارت ، ہمارامقصدبھی تمام استحصالی نظاموں سے نجات تھا۔ J.U.I نے صدسالہ جشن دیوبندکا پروگرام کیاتوہم نے اپنے حوالے سے ایک کتاب تیارکی ، مولانا فضل الرحمن کو دکھایا کہ یہ ہم چھاپناچاہتے ہیں ، مولانا نے وہ مسودہ ہم سے لیکراپنے نام سے شائع کردیا، اس پر ہم لوگوں نے جمعیت کو چھوڑدیا کیوں کہ یہ مفادپرستوں کا ٹولہ ہے جو جمہوریت کے نام پر اسلام دشمنی کررہاہے ۔ موجودہ جمہوریت بہترین طرزکا کاروباربن چکاہے۔ مفتی صاحب نے ایک سوال پرکہاکہ خلافت اسلامیہ کاقیام ہی مسلمانوں کیلئے نجات کا ذریعہ ہے ۔ احادیث مبارکہ میں سیاہ جھنڈوں والے لشکرکا ذکرہے توسیاہ جھنڈے والاوقت قریب آگیاہے ۔ میں2011 ؁ میں حرمین شریفین گیا، میں نے مکہ ، مدینہ کے پہاڑ ، گھاس پھوس، فصلیں ، مٹی دیکھی ، میں بالکل وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ رہاہوں کہ بعینی یہ علاقے ڈیرہ اسمٰعیل خان، ٹانک ، قرب وجوار کے علاقے مکہ ومدینہ جیسے ہیں ، یہاں کے پہاڑ، گھاس، مٹی وغیرہ بالکل ویسے ہی ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کو مشرق کے انہی علاقوں سے ٹھنڈی ہوا اور انقلاب کی خوشبو آئی ہے جسکا ذکراقبال نے اپنے اشعارمیں کیاہے ۔ آخر میں درس نظامی کے حوالے سے کہاکہ صرف ونحو وغیرہ رہنے چاہیے لیکن لایعنی سوالات جواٹھاتے ہیں اورفضول بحث ہیں ان کو یکسرختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے طالب علم کا ذہن منتشر ہوتا ہے اوروہ اصل یعنی قرآن و حدیث سے رہ جاتاہے۔ بحرحال درس نظامی کونئے سرے سے درستگی کی ضرورت ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کے گلے شکوے

manzoor-pashteen-establishment-ansar-sahaba-muhajir-sahaba-zainab-case-check-post-in-tribal-areas-naseem-suicide-attacker-

ایک مرتبہ انصار کے جوان طبقے نے گلے شکووں کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مشرکین مکہ نے بہت برا سلوک کیا ، ہجرت پر مجبور کیا گیا اور ہم نے مہاجر بھائیوں کو قربانیاں دیکر عزت دی ۔ آج اسلام نے ترقی کی ہے اور مال غنیمت باٹنے کا وقت آیا تو انصار کے مقابلے میں مکہ کے مہاجر ین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو شکایت پہنچی تو انصار کے بزرگوں کو طلب کیا اور پوچھا کہ اس میں کوئی حقیقت ہے؟ ۔بزرگ انصار نے کہا کہ ہمیں شکایت نہیں لیکن جوان طبقے میں تشویش کی اطلاع ملی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معاملہ سنجیدہ لیا اور سارے انصار کو طلب فرمایا۔ مہاجرین کے آنے سے قبل حالات بھی دریافت کئے اور موجودہ حالات کا بھی پوچھا۔ انصار نے کہا کہ ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے ، پہلے اوس و خزرج لڑتے تھے ، مدینہ کے یہود ہم پر حاوی تھے ، حالات ہمارے بد سے بدتر تھے لیکن اب تمام گھروں میں امن و سکون اور خوشحالی ہے۔ پھر شکایت کے بارے میں مطمئن کیا کہ جو لوگ گھر بار چھوڑ کر مکہ سے آئے ہیں پہلے تم لوگ ان کی مدد کرتے تھے اور اب مال غنیمت سے ان کی مدد کی جاتی ہے۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ نئے مسلمان ہونے والوں کو ان کی ضروریات کے مطابق مال غنیمت سے کچھ مال ملے اور میں تمہارا بن جاؤں؟۔ جس پر انصار کی طرف سے آہ و بکا ، چیخ و پکار اور زار و قطار رونے کی آواز بلند ہونا شروع ہوئی اور وہ بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ رضینا باللہ رباً و بالاسلام دیناً و بمحمد نبیاً ’’ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں ، ہم اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں‘‘۔ سارے گلے شکووں کا ماحول ختم ہوا۔
منظور پشتین نے پشتون تحفظ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اسٹیج پر انتظامیہ کے محسود جوان کی آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسو ؤں کو میں نے خود دیکھا جس کو میں اس وقت بھی نہیں پہنچانتا تھا اور اب بھی مجھے نہیں پتہ کہ وہ کون تھا لیکن وہ کہہ رہا تھا کہ ’’پیر صاحب ! آپ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے لیکن ہم نے اپنے بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کی جو دردناک اور نہ ختم ہونے والی کہانیاں دیکھی ہیں وہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہیں‘‘۔ پچھلے دنوں قصور کی زینب کا واقعہ بڑا دردناک تھا ، اس سے پہلے سندھ کی غریب دوشیزہ کا وڈیرے کے ہاتھوں قتل کا واقعہ ہوا۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو ننگا کرکے گھمانے کا واقعہ پیش آیا۔ پھر کوہاٹ کی طالبہ کو شادی سے انکار پر قتل کیا گیا ، پھر فیصل آباد میں واقعہ پیش آیا ۔ اس سے پہلے بھی خواتین کیساتھ زیادتیوں کی داستانیں میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ البتہ چیچہ وطنی میں کسی مجذوب بچی نے پٹاخے خریدے تھے اور اس کو آگ لگی تھی جس میں زیادتی یا جلانے کا کوئی قصہ نہیں تھا ۔ سیاسی رہنما ان غریب والدین کو معاوضہ دلانے کے چکر میں ڈرامہ رچانے کا کہہ گئے تھے۔ میڈیا نے حقائق سے پردہ اٹھانے کے بجائے بہت غلط رپورٹنگ کی تھی۔
منظور پشتین نے کہا ہے کہ ہم نے وزیرستان سے چیک پوسٹوں کو ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ پاک فوج کے سپاہی چیک پوسٹوں کو مزید بڑھادیں ۔ ہمارا صرف یہ مطالبہ تھا کہ عوام سے اچھا سلوک کیا جائے اور اگر چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے۔ جو لوگ ہم پر تنقید کررہے ہیں ہم ان کو ویلکم کہتے ہیں۔ تنقید ہمارے لئے اصلاح کا ذریعہ ہے۔ مشاورت سے ایک درست سوچ پروان چڑھتی ہے اور ہم اس کے خواہاں ہیں۔ میڈیا میں ہم پر تنقید کے بجائے بہت غلط سلط الزامات لگائے گئے ہیں اور ہمیں چند ایک کے سوا کوئی بھی سپورٹ نہیں کررہا ہے۔ میڈیا کو اپنے عمل پر بہت سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ ہم ملک دشمن نہیں بلکہ اپنے حقوق کی بات دستور کے اندر رہتے ہوئے کرتے ہیں۔ فاٹا میں پاکستانی دستور کا نفاذ چاہتے ہیں۔ منظور پشتون نے کہا ہے کہ قاری محسن کو میرا بھائی بتایا جارہا ہے حالانکہ اس کا تعلق میری تحصیل سے بھی نہیں ہے۔ میرا تعلق طالبان سے ثابت ہوجائے تو جو سزا دیں وہ قبول ہے۔ ایک اور الزام لگایا جاتا ہے کہ نسیم میرا بھائی ہے جو 2007ء میں خود کش حملوں کا ماسٹر مائنڈڈ تھا۔ یہ بات درست ہے کہ نسیم میرا بھائی ہے لیکن اس کی پیدائش 2011ء کو ہوئی ہے اور اب وہ 7 سال کا ہے اور تیسری جماعت کا طالب علم ہے۔منظور پشتین ایک معتدل مزاج اور اچھے انسان ہیں۔ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کرنے والے پاکستان اور اسلام کے خیر خواہ ہوں تب بھی بیوقوف ملک قوم سلطنت اور مسلمانوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔
ہماری منظور پشتین سے اتنی استدعا ہے کہ اپنی قوم سے محبت اسلام کا تقاضا ہے اور اپنی قوم کیلئے تعصب نہ صرف کفر و جہالت بلکہ اپنی قوم سے دشمنی کے بھی مترادف ہے۔ جو پشتون ہوکر پشتونوں سے محبت نہیں کرتا وہ دوسری زبان والوں سے محبت کے دعوے میں بھی جھوٹا اور مکار ہے۔ اسی طرح بلوچ ، پنجابی ، سرائیکی اور سندھی و مہاجر بھی اپنوں سے محبت رکھے تو وہ دوسروں کیلئے اثاثہ ہے اور اپنوں سے نفرت والے دوسروں سے بھی محبت نہیں رکھ سکتے ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ بن گئی تو آخر کار متحدہ قومی موومنٹ میں بدل گئی۔ سوات کے پختون سینیٹر سیف کو متحدہ نے سینٹ میں بھیجا ، میاں عتیق کا تعلق پنجاب سے ہے اس کو بھی متحدہ نے سینٹ میں بھیجا۔ نبیل گبول بلوچ ہے متحدہ قومی موومنٹ نے اس کو عزیز آباد کے حلقے سے قومی اسمبلی کا ممبر بنوایا۔ جب ریاستی ادارے بھرپور طریقے سے الیکشن میں دھاندلی نہیں ہونے دے رہے تھے تب بھی عزیز آباد سے متحدہ کے کنور جمیل نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔ الطاف حسین نے پاک فوج کے جرنیلوں کو سیاستدانوں کیخلاف دہائیاں بھی دیں اور مسلم اُمہ میں ایک خلیفہ مقرر کرنے پر زور بھی دیا۔ البتہ یہ بہت برا کیا کہ ایک مہذب قوم کے مہذب افراد کو تہذیب کے دائرے سے نیچے اتارا۔ جس کے نتیجے میں کارکنوں نے سر عام پھر رہنماؤں کی پٹائی بھی لگادی۔ اب جب متحدہ قومی موومنٹ کا جلسہ ہورہا تھا تو پھر ڈاکٹر فاروق ستار کی تقریر کے دوران مہاجروں کا ترانہ جاری رکھا۔ کوئی مہذب قوم کسی مہمان کے ساتھ بھی ایسا سلوک روا رکھے تو اقتدار کے لائق نہیں رہتی۔
پختون تحفظ موومنٹ کی یہ ابتدا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے کارندوں کی طرف سے پاک فوج کے ترجمان اور پنجابیوں کیلئے غلیظ زبان کا استعمال نہ روکا گیا تو یہ تحریک سر اٹھانے سے پہلے مغلظات بکتے ہوئے اوندھے منہ الٹی پڑی دکھائی دے گی۔ جن تھوڑے بہت لوگوں کی ہمدردیاں انہیں حاصل ہیں وہ بھی نہ رہیں گی۔ کراچی میں مہاجر پشتون فسادات کے بدبودار نعرے سے انسانیت نے دم توڑ دیا تھا۔ پختون مہاجروں کے مقابلے میں زیادہ مہذب نہیں لیکن آج وہی الطاف حسین منظور پشتین کے جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے مہاجروں کو حکم دیتا ہے ، یہ نہ ہو کہ کل منظور پشتین پنجابیوں سے معافی تلافی کیلئے ان کی ٹانگیں پکڑ رہا ہو۔ PTMکے تعلیمیافتہ کارکن اسلام کی بنیاد پر پختون اور ملاؤں کی اصلاح کریں تو ہماری ریاست اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی اصلاح بھی ہوجائے گی۔ عتیق

اسلام کی نشاۃ ثانیہ سندھ پنجاب فرنٹیئر بلوچستان کشمیر سے ہوگی: مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ

ubaid-ullah-sindhi-sindh-punjab-army-chief-journal-ayoub-zulfiqar-ali-bhutto-1973-1977-daish

محمد فیروز چھیپا ڈائریکٹر فنانس نوشتۂ دیوار اور ادارہ اعلاء کلمۃ الحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مرتبہ پاکستان سعودی عرب سمیت پوری دنیا میں لیلۃ القدر ایک ہی دن میں منائی جائے گی۔ اللہ کرے کہ ہمیشہ کیلئے رمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی پوری دنیا میں ایک ہی دن منائی جائے۔ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا تھا ، اب 70سال ہونے کو ہیں مگر غلامی سے آزادی نہیں مل سکی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا یہ اتفاق تھا کہ قائد کا مزار مغربی پاکستان میں تھا۔ مشرقی پاکستان ہم نے کھودیا لیکن مقبوضہ کشمیر کا قبضہ نہیں چھڑا سکے۔ پاکستان میں پہلے دو آرمی چیف انگریز تھے اور پھر پہلا پاکستانی مسلمان فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان تھا۔ جس نے میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا کو صدارت سے الگ کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور پھر ذو الفقار علی بھٹو قائد جمہوریت کو جنم دیا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ باضابطہ انتخابات ہوئے تو اسکا سارا کریڈٹ جنرل ایوب کو جاتا ہے۔
پاکستان میں سیاست کی علمبردار پارٹیاں جمہوریت سے بالکل بے خبر تھیں۔ اے ڈی اور بی ڈی ممبروں کے ذریعے وہ بنیادی جمہوریت جنرل ایوب خان نے مہیا کی جس میں قوم کے اندر جمہور ی شعور کا آغاز ہوا۔ پاکستان میں لوگ خانوں و نوابوں کو جانتے تھے یا منجمد سیاسی قیادتوں کو جانتے تھے۔ جب 1971ء میں پہلی مرتبہ عام انتخابات ہوئے تو جمہوری قوتوں نے پاکستان کو دو لخت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ جنرل ایوب کی باقیات ذو الفقار علی بھٹو پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ صحافیوں اور سیاستدانوں کیخلاف بڑے سخت اقدامات اٹھائے۔ ذو الفقار علی بھٹو آدھا تیتر اور آدھا بٹیر تھے۔ فوج کے تربیت یافتہ اور عوامی نمائندے تھے۔ 1973ء میں پہلی مرتبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا عوامی آئین مرتب ہوا۔ قادیانی بھی اس کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دئیے گئے۔ قائد کے پاکستان میں پہلے بے قاعدگیاں تھیں یا بعد میں بغاوت کی گئی ہے ؟ ۔
احرار کے قائد سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے اپنی زندگی کھپادی کہ انگریز ہندوستان سے نکل جائے اور قادیانی کافر قرار دئیے جائیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے بار بار اپنے خطبات میں تنبیہ کی تھی کہ انگریز اس خطے میں لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اسلئے کشمیر کا مسئلہ تقسیم ہند کیساتھ حل ہونا چاہیے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وفات کے کافی عرصہ بعد ختم نبوت کا مسئلہ عوامی طاقت سے یا ریاست کی رعایت سے حل ہوگیا لیکن کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ جس پاکستان میں ختم نبوت کیلئے جگہ نہیں تھی اور جو لوگ ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے پر بھی قید و بند ، بغاوت اور دیگر مقدمات کا سامنا کرتے تھے اس پاکستان میں قرآن ، اسلام اور مسلمانوں کیلئے کتنی گنجائش ہوسکتی تھی؟۔ عرصہ ہوا کہ قومی زبان اردو کو ہم سرکاری زبان انگریزی کی جگہ پر نہیں لاسکے۔ جیوے جیوے پاکستان ۔ یہ فوج ہی کی سازش تھی یا سیاستدانوں کی نالائقی تھی ؟۔ جتنی حکومت فوج کی رہی ہے اتنی جمہوری حکومت بھی اقتدار میں رہی ہے۔
ذو الفقار علی بھٹو پر کفر کے فتوے لگ رہے تھے اور اس نے جمعہ کی چھٹی بحال کی ، اسلامی کانفرنس میں مسلم اُمہ کی قیادتوں کو پاکستان میں اکھٹا کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ امیر المؤمنین جنرل ضیاء الحق کے لے پالک نواز شریف نے جمعہ کی چھٹی ختم کی ، الیکشن کے فارم میں ختم نبوت کے خلاف سازش کی اور جب کرپشن میں سزا ہونے کا خوف دامن گیر ہوا تو فوج اور عدلیہ کے خلاف بے پر کی اڑانے لگے۔ شاباش !۔
پاک فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کو دُم سے اٹھاکر قوم پر مسلط کردیا۔ جس کی وجہ سے عوام تو عوام ساری سیاسی قیادتوں کو بھی بغاوت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق نجات دہندہ کی طرح آئے اور سیاسی قائدین کو بھٹو کی قید سے رہائی دلائی۔ پھر جنرل ضیاء حادثے کا شکار ہوئے اور نواز شریف کو فوج نے تیار کرلیا۔ نواز شریف کو یہ بھی پتہ نہیں کہ 70 سالوں کی بات درست نہیں ۔ 1970ء سے 1977ء تک بھٹو نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا ۔ اسکے بعد جنرل ضیاء کا رونا درست نہیں اسلئے کہ جنرل ضیاء الحق کا سب سے بڑا لے پالک نواز شریف خود تھا۔ جنرل ضیاء کے بعد 1988ء سے 1998ء تک یہی نواز شریف لے پالک مہرے کا کردار ادا کررہا تھا۔ حقیقت پسند ی کا تقاضہ یہ ہے کہ نواز شریف دوسروں کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے بلکہ سینہ کوبی کرکے خود ماتم کرتے کہ میں اُلو کا پٹھا تو استعمال ہوگیا اب عمران خان کو اُلو کا پٹھا نہیں بننا چاہیے تھا۔
نواز شریف اور عمران خان کے علاوہ زرداری اور دیگر اہل سیاست سے عوام بہت بد ظن ہیں ۔ جب عوام اٹھے گی تو لوٹوں کی بساط لپیٹے گی۔ لوٹوں کے امام نواز شریف اور عمران خان ہی ہونگے اور باقی سیاستدانوں کے حالات بھی مخفی نہیں ہیں۔
علماء کرام اور مفتیان عظام کے حالات بھی بد سے بدتر ہیں اور قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہوسکتا ہے اور اس کی نشاندہی بہت تفصیل کے ساتھ گاہے بگاہے ہم کر رہے ہیں۔ شرعی حدود کا مسئلہ ہو ، نکاح کا مسئلہ ہو ، ایگریمنٹ کا مسئلہ ہو ، طلاق کا مسئلہ ہو ، قرابتداروں اور ہمسایہ کے حقوق کا مسئلہ ہو اور درس نظامی کی خامی کا مسئلہ ہو ، فرقہ واریت کا مسئلہ ہو اور سیاسی و جہادی مسائل ہوں سب کا حل ہم وقتاً فوقتاً پیش کرتے رہتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کی طرف سے کھل کر ہماری تائید بھی ہورہی ہے۔ اگر مساجد کی سطح پر سید عتیق الرحمن گیلانی کو دعوت دی جائے اور پیچیدہ مسائل کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہاں ہم اسلامی نظام کے نفاذ میں کامیابی حاصل کرلیں۔ ایک دفعہ بھٹو کو آزمایا گیا ، جسکے نتائج عوام نے دیکھ لئے تھے پھر نواز شریف کو آزمایا گیا اور اسکے بھی نتائج سامنے آگئے ۔ اب عمران خان کو آزمانے کی ضرورت نہیں ہے ، مساجد و مدارس ایک بہت بڑی طاقت ہیں ، قرآن و سنت طاقت کا سرچشمہ ہے جس نے پہلے دور میں مشرکین مکہ کو جہالت سے نکال کر عروج عطا کیا۔ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اس وقت شکست دی جب وہ سپر طاقت تھے۔ خلافت راشدہ ، بنو اُمیہ ، بنو عباس ، خلافت عثمانیہ کا طویل دورانیہ اسلام کی نشاۃ اول کا کارنامہ تھا۔ اب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز انشاء اللہ مملکت خداداد پاکستان سے ہوگا۔ اسکے لئے ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو زندہ کرنا ہوگا۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا۔ اس نے قرآن کے احکام کو زندہ کرنے کیلئے اپنی سی کوشش کی تھی اور یہ پیشنگوئی کی تھی کہ اسلام کا آغاز عرب سے ہوا تھا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ قرآن و سنت کی پیشن گوئیوں کے مطابق عجم سے ہوگا اور اس کیلئے سندھ ، پنجاب، بلوچستان، فرنٹیئر، افغانستان اور کشمیر میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کے حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تو بھی ہم اس خطے سے دستبردار نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان کی یہ فکر مختلف کتابوں میں درج ہے اور خاص طور پر ان کی تفسیر المقام محمود کی سورۃ القدر میں یہ سب کچھ اتفاق سے لکھا گیا ہے جبکہ پاکستان بھی لیلہ القدر کی رات کو معرض وجود میں آیا تھا اور مولانا سندھیؒ پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت معلوم ہوتی ہے۔ سورہ جمعہ ، سورہ محمد، سورہ واقعہ اور دیگر آیات کے علاوہ بخاری و مسلم وغیرہ کے روایات میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہت وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔
پاک فوج ، عدلیہ ، سیاستدان ، صحافی ، عوام ، دانشور ، علماء اور تمام طبقات اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے خواہاں ہیں ۔داعش نے بھی اپنا ٹھکانہ افغانستان میں بنالیا ہے۔ داعش مخفف ہے اس کے نام دولت اسلامیہ عراق و شام کا مگر یہاں تو عراق و شام نہیں افغانستان اور پاکستان ہیں۔ جس دن اسلام کا حقیقی چہرہ عوام کو دکھایا گیا تو جنگجو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ امریکہ بھی اس خطے سے اپنی بے بسی اور پسپائی کا اعتراف کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ ہندوستان کے ناپاک عزائم بھی خاک میں ملیں گے اور اسرائیل بھی حق کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ سعودی عرب اور ایران بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کیلئے تیار ہونگے۔
بکری اور شیر ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اور دعوت اسلامی و تبلیغی جماعت ایک ساتھ جماعتیں نکالیں گی۔ مجاہدین دشمنی کو چھوڑ کر آپس میں شیر و شکر ہوں گے ۔ جماعت اہل سنت کے قائدین ، رہنما اور کارکن امامیہ اور تحریک جعفریہ کے ساتھ باہم دوستیاں رچائیں گے۔ مشرق و مغرب ، شمال و جنوب اور تمام بر اعظموں سے اسلام کا ماڈل دیکھنے کیلئے انشاء اللہ لوگ یہاں آئیں گے ۔ علامہ اقبال کے خواب پورے ہونگے۔
دلیل صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی
عروق مردۂ مشرق میں خونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریاہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مؤمن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابی
اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل!
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کمیابی
تڑپ صحنِ چمن میں آشیاں میں شاخساروں میں
جدا پارے سے ہوسکتی نہیں تقدیرِ سیمابی
وہ چشمِ پاک بھی کیوں زینتِ برگرستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی
ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کردے
چمن کے ذرے ذرے کو شہیدِ جستجو کردے
سرِ شکِ چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا
کتابِ ملتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
ربود آں ترکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خوں تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

عمران خان پاک فوج کے منہ پر کالک مل رہا ہے، اشرف میمن

imran-khan-lotaism-pak-fouj-pervez-musharraf-referendum-imran-molvi-nawaz-shareef-molvi-shahbaz-shareef-molvi-talban-mma-ptm-namaz-e-janaza

پبلشر نوشتۂ دیوار تحریک انصاف کے سینئر صوبائی سابق صدر اورامیدوار قومی اسمبلی محمد اشرف میمن نے کہا ہے کہ عمران خان میں شرم اور غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ایک طرف وہ پرویزمشرف کی بدنامِ زمانہ ریفرنڈم کا حامی تھا اور دوسری طرف امریکہ کے آگے فوج کے جھکنے کی مخالفت اور طالبان کی طرف سے فوج اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کھل کرحمایت کررہا تھا۔ جب فوج پر قومی ، اخلاقی اوربین الاقوامی دباؤ تھا تو عمران خان اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی طرح پاک فوج کا مورال گرانا چاہتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے جب مشرکین کی جہالت اور طاقت کا پلڑہ بھاری تھا اور امیر حمزہؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ جیسی بہادر شخصیات نے اسلام قبول کرلیا تو اللہ نے قتال کا حکم نہیں دیا اور اولی العزم صحابہؓ نے طعنہ زنی نہیں کی کہ اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں جو بزدلی اور مشرکین کے آگے سر جھکانا ہے بلکہ صلح حدیبیہ کے معاہدے پر کوئی بھی راضی نہ تھامگر صحابہؓ نے اپنی سیاست نہیں چمکائی تھی۔
یہ بہادری نہیں منافقت تھی کہ دہشتگردی کا دور دورہ تھا تو عمران خان ، نوازشریف اور شہباز شریف مولوی اور۔
تف ہے ایسی سیاست اور حماقت پر۔ تحریک انصاف آج کل پاک فوج کی عائشہ گلالی بنی ہوئی ہے۔ وہ تو پھر تحریک انصاف کا اپنا چہرہ تھا اور ایک پُر کشش خاتون تھی ، سیاست کے میدان میں فواد چوہدری اور دیگر ان سے کئی درجہ پارٹی بدلنے والے وہ کردار ہیں جو وقت اور حالات کیساتھ بدلتے بدلتے بے شرم و بے غیرت بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان پہلے زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا اور اب عمران خان کی کھاتا ہے لیکن وہ ایک پروفیشنل وکیل بھی ہے۔ وکیل ، صحافی اور سیاستدان سب ہی شرم وحیاء کے پہاڑ کو عبور کرکے غیرت کا جنازہ نکالتے ہیں اور عظیم اخلاقیات اور قومی اقدار کو تعفن کی فضاء میں دفن کرتے ہیں تو قوم کا انجام کیا ہوگا؟۔ جب قوم کی اخلاقی قدریں بحال نہیں رہتیں تو ایک بہت بڑا انقلاب قوموں کو سدھار سکتا ہے۔
نوازشریف پارلیمنٹ میں تحریری بیان پڑھ کر سناتا ہے کہ یہ ہیں اللہ کے فضل و کرم سے وہ اثاثے جن سے لندن کے فلیٹ خرید لئے۔ کورٹ میں قطری شہزادے کا عجیب خط آجاتاہے ۔ لیگی رہنما کہتے ہیں کہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں استثنی حاصل ہے کہ جھوٹ پر اس کی پکڑ نہ ہوگی۔ جس پارلیمنٹ نے صادق و امین کو ضروری قرار دیا ہو وہاں جھوٹ کا استثنیٰ کیسے ہوسکتا تھا؟۔ آئین میں کردار اور کریکٹر کو بھی ضروری قرار دیا گیاہے لیکن یہ سمجھا جارہاہے کہ کریکٹر سے مراد کرکٹر ہے؟۔عمران خان واقعی کرکٹر تو ہے۔ بہادری کی بات کرتاہے توکراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے جس طرح بھاگنے پر مجبور کیا تھا اسکا میں چشم دید گواہ ہوں۔ طالبان دہشتگردوں نے نہ صرف فوج بلکہ پختون قوم اور تمام ریاستی اداروں کو جتنے بڑے پیمانے پر بہت بڑا نقصان پہنچایا، جس کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ عمران خان نے ہمیشہ ان غنڈوں کی حمایت جاری رکھی۔ آج بھی طالبان کا غلبہ ہوجائے تو یہ فوج کیخلاف کھڑا ہوگا اور طالبان پسپا ہوجائیں تو فوج کیساتھ کھڑا ہے، منظور پشتین نے PTMکے پلیٹ فارم آواز اٹھائی تو پاک فوج نے چیک پوسٹوں پر نرمی کا مظاہرہ کیا، پھر عمران خان منظور پشتین کی حمایت کررہاتھا اور جب فضانے رخ بدلا تو آل راؤنڈر نے بیٹنگ کے بجائے بالنگ شروع کی، یہ وقت ایسا نہیں کہ پاکستان کی قیادت انتہائی نااہل اورناقابل اعتبار افراد کے سپرد کرنے کی حماقت کی جائے۔ جو عمران خان طالبان کے وقت میں فوج کے دفاع میں ایک لفظ بولنے سے بھی خوف کھاتا تھا، خدانخواستہ اگر بین الاقوامی سازش کا بحران آگیا تو عمران خان اور لوٹا سیاسی قیادت کوئی قربانی نہیں دینگے بلکہ جہاں طاقت ہوگی وہاں عمران خان کھڑا ہوگا۔نوازشریف اور شہباز شریف کے علاوہ زرداری بھی پاکستان کی سیاست ہی کو اپنی تجارت سمجھ رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے ایم ایم اے کو ن لیگ کیلئے خفیہ طور پر پراکسی بنالیا ہے، سراج الحق نے بھی اپنے مفاد میں اسکو قبول کرلیا ہے۔ مینار پاکستان میں لاہوری اتنی بڑی تعداد میں پہنچ گئے تو یہ مذہبی جماعتوں کے ووٹر نہ تھے بلکہ نوازشریف کے چاہنے والوں کا جمع غفیر تھا۔ مولوی نکاح ، نمازِ جنازہ بھی پیسوں کی خاطر پڑھاتے ہیں ۔کالج ویونیورسٹی کے طلبہ کے ذریعے عوام میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرنیکی سخت ضرورت ہے۔ سیاسی سر گرمیوں کیلئے گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی محنت کی جائے تو عوام میں ایک شعور والے انقلاب کی تحریک اٹھ سکتی ہے، کھولی سیاست کا دور خود بخود ختم ہوگیاہے۔